فروری ۲۰۱۸

فہرست مضامین

رسائل و مسائل

| فروری ۲۰۱۸ | رسائل و مسائل

Responsive image Responsive image

مسئلہ تقدیر

سوال : ایک شخص نے ایک عجیب اعتراض اُٹھایا ہے۔ اُن کا کہنا یہ ہے کہ: ’مذہب کی تعلیمات کے مطابق ہرشخص کی موت کا وقت معین ہے۔ اس میں کسی قسم کی تاخیر و تقدیم نہیں ہوسکتی۔ لیکن دوسری طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اقوامِ مغرب نے حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی اور بیماریوں کی روک تھام کرکے اپنی عمروں کی اوسط میں اضافہ اور شرحِ اموات میں کمی کرلی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمر کا بڑھانا گھٹانا اور موت کو ٹالنا ،انسان کے بس میں ہے‘۔ اس بات کو واضح کیجیے کہ ان دونوں باتوں میں سے  کون سی بات درست ہے؟ کیا زندگی کی مدّت اور موت کی گھڑی مقرر ہے یا اس میں  ردّ و بدل انسان کے بس میں ہے؟

جواب :آپ نے جو سوال کیا ہے، وہ دراصل ایک بڑے اور بنیادی سوال کا جزو ہے۔ وہ بنیادی سوال یہ ہے کہ انسان کس حد تک تقدیر اور مشیت الٰہی کے تحت مجبور اور بے بس ہے، اور کس حد تک اُسے ارادہ و عمل کی آزادی دی گئی ہے، اور کوشش سے مطلوب نتائج پیدا کرنا کس حد تک اُس کے امکان میں ہے؟ یہ سوال ایسا نہیں ہے کہ جس کا جواب آسانی اور اختصار کے ساتھ اثبات یا نفی کی صورت میں دیا جاسکے۔ اگر جواب میں یہ کہا جائے کہ انسان اپنی تقدیر کا خالق خود ہے اور کوئی بالاتر طاقت اُس کے افعال اور نتائج ِ افعال پر حاوی و مؤثر نہیں ہے، تو یہ بات بالبداہت غلط ہے۔

انسان جب اپنے آپ کو وجود میں نہیں لاسکتا تو جو اعمال اُس کے وجود سے صادر ہوتے ہیں، اُن کا فاعلِ مختار آخر وہ کیسے ہوسکتا ہے؟ پھر اگر یہ کہا جائے کہ انسان مجبورِ محض ہے اور اختیار و آزادی سے قطعی محروم ہے، تو یہ بات بھی صریحاً غلط اور خلافِ عقل و مشاہدہ ہے اور یہ دینِ اسلام کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

حقیقت ان دونوں انتہائوں کے بین بین ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایک خاص پہلو سے اور ایک دائرے کے اندر انسانوں کو ایک حد تک آزادی حاصل ہے اور یہ آزادی انسان اور پوری کائنات کے خالق ہی کی عطا کردہ ہے۔ لیکن اس کے دائرے سے باہر جاکر انسان کی آزادی ختم ہوجاتی ہے اور اُس کے سارے اعمال اور ان کے نتائج آخرکار مشیت ِ الٰہی کے تابع ہوکر رہ جاتے ہیں۔ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی یا مجبوری کے حدود کو ماپنے کی کوشش کرے یا یہ مسئلہ حل کرنے میں اپنا دماغ لڑائے کہ یہ جبرو اختیار ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جمع ہوسکتے ہیں؟

انسان جب تک انسانی حدود میں مقیّد ہے اور جب تک وہ مخلوق کے بجاے خالق نہیں بن جاتا، اُس وقت تک وہ اس پیچیدہ مسئلے کی تہہ اور کنہ تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ انسان کا کام یہ ہے کہ جس حد تک اُسے آزادی دی گئی ہے، اُس حد تک اُسے خالق کی رضا اور منشا کے مطابق استعمال کرے اور جن حدود سے آگے اُسے آزادی حاصل نہیں، وہاں وہ آزاد اور خودمختار ہونے کا اِدّعا نہ کرے۔

اِس اصولی بات کو سمجھ لینے کے بعد اب آپ عمر کے گھٹنے اور بڑھنے کے سوال پر خود    غور کریں۔ یہ بات آخر کس کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس شخص کی موت کے لیے کون سا وقت مقرر کیا تھا اور کسی خاص دور یا عہد میں کسی خاص قوم کی عمر کا اوسط اُس نے کیا متعین فرمایا تھا؟ اگر اس کا علم کسی کو نہیں ہے، تو پھر یہ دعویٰ خودبخود بے معنی ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے وقت پر فلاں شخص نہ مرسکا اور اُس نے یا کسی دوسرے نے، اُس کی عمر میں اضافہ کر دیا۔ یہ سب دراصل بے عقلی کی باتیں ہیں جو بہت سے لوگ بے سمجھے بوجھے کرتے رہتے ہیں۔

ہمارا کام صرف یہ ہونا چاہیے کہ ہم کو اللہ نے علم اور عقل کی جو طاقتیں دی ہیں، اُنھیں استعما ل کرکے ہم امراض کے علاج اور صحت کی حفاظت کے زیادہ سے زیادہ بہتر ذرائع مہیا کریں اور اُن کے مہیا ہوجانے پر اللہ کا شکر بجا لائیں۔ اِس سے آگے بڑھ کر کوئی چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم نہ کسی کو بیمار پڑنے دیتے اور نہ کسی کو مرنے دیتے ، لیکن مرض یا موت کو بالکل روک دینے پر نہ کبھی قدیم زمانے کا انسان قادر تھا، نہ آج کے زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا معالج یا سائنس دان قادر ہوسکتا ہے۔(جسٹس   ملک     غلام     علی )


عشر، زکوٰۃ اور سرکاری ٹیکس

سوال : ایک صاحب جو جج بھی رہ چکے ہیں نے ایک مجلس میں فرمایا: ’’عشر، زمینی پیداوار کے دسویں حصے پر اور زکوٰۃ جمع شدہ دولت کا صرف ڈھائی فی صد حصہ ہوتی ہے۔ مالیہ و آبیانہ، زمینی پیداوار کے نصف پر تشخیص کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جمع شدہ دولت پر بھاری انکم ٹیکس بھی لگایا جاتا ہے اور چوں کہ یہ رقم ریاستی بیت المال میں داخل ہوکر رفاہِ عامہ کےکاموں کے لیے خرچ ہوتی ہے، اس لیے زکوٰۃ اور عشر دینا لازم نہیں‘‘۔ کیا ان ریاستی ٹیکسوں کی موجودگی میں واقعی زکوٰۃ اورعشر دینا ضروری نہیں ہے؟

جواب :زکوٰۃ کے متعلق پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ٹیکس نہیں ہے بلکہ ایک عبادت اور رکنِ اسلام ہے، جس طرح نماز، روزہ اور حج ارکانِ اسلام ہیں۔ جس شخص نے کبھی قرآنِ مجید کو آنکھیں کھول کر پڑھا ہے، وہ دیکھ سکتا ہے کہ قرآن بالعموم نماز اور زکوٰۃ کا ایک ساتھ ذکر کرتا ہے اور اسے اُس دین کا ایک رکن قرار دیتا ہے، جو ہر زمانے میں انبیاے کرام علیہم السلام کا دین رہا ہے۔ اس لیے اس کو ٹیکس سمجھنا اور ٹیکس کی طرح اس سے معاملہ کرنا پہلی بنیادی غلطی ہے۔ ایک اسلامی حکومت جس طرح اپنے ملازموں سے دفتری کام اور دوسری خدمات لے کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب نماز کی ضرورت باقی نہیں ہے کیوں کہ انھوں نے سرکاری ڈیوٹی دے دی ہے، بالکل اسی طرح وہ لوگوں سے ٹیکس لے کر نہیں کہہ سکتی کہ اب زکوٰۃ کی ضرورت باقی نہیں کیونکہ ٹیکس لے لیا گیا ہے۔ اسلامی حکومت کو اپنے نظام الاوقات لازماً اس طرح مقرر کرنے ہوں گے کہ اُس کے ملازمین نماز وقت پر ادا کرسکیں۔ اسی طرح اُس کو اپنے ٹیکسوں کے نظام میں زکوٰۃ کی جگہ نکالنے کے لیے مناسب ترمیمات کرنی ہوں گی۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حکومت کے موجودہ ٹیکسوں میں کوئی ٹیکس اُن مقاصد کے لیے اُس طرح استعمال نہیں ہوتا کہ جن کے لیے قرآن میں زکوٰۃ فرض کی گئی ہے اور جس طرح اس کے تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔(جسٹس   ملک     غلام     علی )


شادی کی سالگرہ

سوال : گزارش ہے کہ مجھے دین کی روشنی اور قرآن و حدیث کے حوالے سے ایک سوال کا جواب درکار ہے۔ اُمید کرتی ہوں کہ آپ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں گے۔ یومِ پیدایش یا شادی کی سالگرہ رسم کے طور پر منانا کہاں تک جائز ہے؟ اس رسم کو کرنے والا (جو ایک دین دار گھرانہ بھی ہے) صحیح راستے پر ہے یا اس کو پوری قوت سے انکار اور ختم کرنے والا درست راستے پر ہے؟اگر اس رسم پر عمل سے انکار کرنے پر جسمانی یا ذہنی اذیتیں ملتی ہیں اور مل رہی ہیں تو کیا اس کا اجر ہے یا نہیں؟ اس رسم کو  کس قوم نے جاری کیا تھا یا کیا ہے؟

جواب :شادی کی سالگرہ اور یومِ پیدایش (birthday) منانے کا اسلام کے مزاج اور تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام نہ ایسے کاموں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور نہ ایسے کاموں میں اپنے پیروئوں کے مال اور قوتوں کو صرف کرنا پسند کرتا ہے۔ بے شک یہ صحیح ہے کہ شادی کی سالگرہ یا یومِ پیدایش منانا کوئی ایسا منکر نہیں ہے کہ جس کے خلاف فتوے دیے جائیں یا اس کو مٹانے کے لیے مومنوں کو جہاد کے لیے منظم کیا جائے۔ لیکن بہرحال یہ سوچنا ضرور چاہیے کہ جس چیز کو اسلام نے کوئی مقام اور اہمیت نہیں دی ہے، جس کا ہماری دینی تاریخ میں کہیں ذکر نہیں ہے، آخر ایسے کاموں میں اپنی قوتیں اور وسائل کھپانے اور تقریبات کا موضوع بنانے پر اصرار کیوں ہے؟

ہمارا یہ پختہ ایمان اور عقیدہ ہے کہ روے زمین پر انسانی تاریخ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عظیم ہستی نہ آج تک پیدا ہوئی ہے اور نہ رہتی دُنیا تک پیدا ہوسکتی ہے۔ آپؐ کی عظمت و کمال کا خلاصہ یہ ہے کہ   ع    بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

اس بنیادی اور کھلی حقیقت میں جس کسی کو ذرا سا بھی شبہہ ہو، وہ اپنے ایمان کی خیر منائے۔ یومِ پیدایش منانے کی شریعت میں کوئی بھی حیثیت ہوتی تو بلاشبہہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے زیادہ مستحق تھے کہ آپؐ کا یومِ پیدایش منایا جاتا۔ دورِ رسالتؐ میں، دورِ خلافت راشدہؓ میں ایک عظیم تقریب کی حیثیت سے سرکاری طور پر اس کے منانے کی ہدایات اور ثبوت ملتا۔ لیکن  صحابہ کرامؓ تو اس بحث سے اس قدر بے تعلق رہے یا اس درجہ یہ چیز نظرانداز کی گئی کہ ہماری تاریخ متعین طور پر یہ بھی نہیں بتاتی کہ آپؐ کا یومِ پیدایش ۹ربیع الاوّل، ۱۲ ربیع الاوّل یا ۱۷ربیع الاوّل ہے___ اگر دین میں اس کا واقعی کوئی مقام ہوتا، اورملّت میں اس کا تعامل رہتا تو یومِ پیدایش کی تاریخ اسی طرح متعین ہوتی، جس طرح حج کی تاریخیں متعین ہیں اور پورا عالمِ اسلام حج کی تاریخوں پر متفق ہے۔

پھر ہمیں کوئی سند نہیں ملتی کہ اللہ کے آخری رسولؐ نے کبھی شادی کی سالگرہ منائی ہو، جب کہ رسولؐ کی زندگی کو ہمارے لیے قرآن میں اسوئہ حسنہ قرار دیا گیا ہے اور آپؐ کی پوری زندگی ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح ہے۔ مغربی تہذیب سے متاثر بلکہ مرعوب ذہن نہ جانے اپنی روایات کے سلسلے میں اس درجہ احساسِ کم تری کا کیوں شکار ہیں اور کیوں اس خبط میں مبتلا ہیں کہ مغربی تہذیب کی کچھ باتوں کو اپنا کر اور اپنے ’روشن خیال‘ ہونے کا اس طرح ثبوت د ے کر ہی وہ معاشرے میں قابلِ احترام اور قابلِ عظمت ہوسکتے ہیں۔ احساسِ کم تری کے مریض، احساسِ برتری کی نمایش کرکے اپنے مرض کو چھپانے کی بھونڈی اور مضحکہ خیز کوشش کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جو قوم اپنے نظریات، اپنے ورثے اور اپنی روایات اور اقدار کی قدر نہیں کرتی، وہ دنیا میں کبھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھی جاسکتی۔ مرعوب ذہن کے ساتھ دوسروں کی نقالی کرنے والی قوم اپنے زوال کا مرثیہ تو پڑھ سکتی ہے، لیکن اس نقالی کے عمل سے وہ رفعت و عظمت کا کوئی مقام حاصل کرلے؟ یہ سراسر دھوکا اور خود فریبی ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ بعض صوم و صلوٰۃ کے پابند لوگ بھی، جو اپنے دین کی قدروں سے اور اس کے مکمل تصور سے ناآشنا ہوتے ہیں، وہ ان مراسم کا بھی اہتمام کرتے ہیں اور نماز روزے کی پابندی کرتے ہوئے اس غلط فہمی کا بھی شکار رہتے ہیں کہ ہم دین دار ہیں اور روشن خیال بھی۔ اس سے بڑھ کر وہ ان لوگوں کو تاریک خیال، مُلّا اور رجعت پسند سمجھتے ہیں، جو ان چیزوں کو بے ضرورت قرار دیتے ہیں۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے یہ بزعمِ خود روشن خیال لوگ، ایسے افراد کو ذہنی طور پر اذیتیں پہنچاتے ہیں اور اپنی زبان اور سلوک سے ان کی تحقیر و تذلیل بھی کرتے ہیں۔

اس معاملے میں تحقیر و تذلیل اور اذیت برداشت کرنے والے لوگوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ کیا ہوگا؟ تو اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ان کے طرزِعمل میں حکمت، اخلاص اور نیک نیتی ہے یا محض ضد اور محض اپنے ذوقِ دین داری پر اصرار۔ اصلاح چاہنے والوں کا کام دوسروں کو خطاکار ثابت کرکے مطمئن ہونا نہیں ہے بلکہ سوز و حکمت کے ساتھ اصلاح کی کوشش کرنا ہے۔

اصل بات تو یہ ہے کہ ملّت کے اندر سے اپنے منصب اور خیر اُمہ ہونے کا شعور ختم ہوتا جارہا ہے۔ وہ دوسری خود رو اُمتوں کی طرح ایک قوم بن کر رہ گئی ہے۔ اگر یہ شعور زندہ ہو کہ اللہ نے اس کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی رہنے والی ایک داعی اُمت کی حیثیت سے اُٹھایا ہے، تو اس کی قوتیں اور توانائیاں یقینا اپنے اصل مثبت کام میں لگی رہیں اور    اس طرح غیرضروری بحثوں اور اُمور میں قوتیں کھپانے اور ایسے مظاہرے کرنے کا موقع ہی نہ ملے کہ ایسے سوالات پیدا ہوں۔ ضرورت ہے کہ اس داعی اُمت کو دعوت الی الخیر کے منصبی فریضے پر لگایا جائے اور اس کا جینا اور مرنا اسی کام کے لیے ہو، تو اللہ گواہ ہے کہ دنیا کا نقشہ ہی بدل جائے۔(مولانا محمد یوسف اصلاحی)


مباح چیزوں کی نذر ماننا

سوال : میں نے نذر مانی تھی کہ میں اپنے بیٹے کی صحت یابی کے بعد ایک شان دار پارٹی دوں گی۔ اس کے بعد میرے ماموں ۱۰سال کے لیے جیل چلے گئے اور میں ۱۰سال تک یہ نذر پوری نہ کرسکی۔ کیا اب میں یہ نذر پوری کروں یا ممکنہ اخراجات کے برابر رقم صدقہ وغیرہ کروں؟

جواب :سب سے پہلی بات یہ ہے کہ نذر ان چیزوں کی ماننی چاہیے جن میں اللہ کی عبادت، اس کی خوش نودی اور تقرب کا پہلو موجود ہو، مثلاً: نمازیں پڑھنا یا روزے رکھنا وغیرہ۔

پارٹیاں دینے یا اس جیسے کسی دوسرے مباح کام کی اگر نذر مانی ہے، تو اس ضمن میں  علما کی دو طرح کی آرا ہیں: ایک یہ کہ اس نے جو اور جس شکل میں نذر مانی ہے وہی پورے  کرے گا،اور دوسری یہ کہ قسم کا کفّارہ ادا کرے، یعنی دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا غلام آزاد کرے۔ ایسا نہیں کرسکتا تو تین دن روزے رکھے۔ علما ے کرام نے ان دونوں صورتوں کا اختیار دیا ہے۔ اب آپ ان میں سے کوئی بھی ایک شکل اختیار کریں۔(علامہ یوسف القرضاوی