چند روز قبل اخبار پڑھتے ہوئے دو اشتہارات پر نظر پڑی۔ ایک کا متن یہ تھا: ’’ہمیں ایک ریستوران کے لیے مستعد اور خوبرو ہوسٹس درکار ہے۔ چاک و چوبند ہونے کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی مہارت رکھتی ہو‘‘۔ دوسرا اشتہار کچھ اس طرح کا تھا:’’ ہمیں اپنے شوروم کے لیے سیلزگرل کی ضرورت ہے۔ کم از کم تعلیم انٹرمیڈیٹ تک۔ امیدوار اپنی درخواست کے ساتھ حالیہ پاسپورٹ سائز فوٹو بھی ارسال کریں‘‘۔
دو ایسے کام جن کے لیے مرد زیادہ موزوں ہو سکتے ہیں، صرف خواتین سے درخواستیں طلب کرنا اور ’خوبروئی کا تقاضا‘ ظاہر کرتا ہے کہ مقصد ان کی نسوانیت کو اپنی تجارت چمکانے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ غالباً جن مالی مفادات کی بھینٹ چڑھانا مقصود ہے، وہ معمولی شکل و صورت کی خواتین سے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ ضروری ہے کہ ان کے خدوخال گاہکوں کے لیے زیادہ دل کش ہوں، ان کی مسکراہٹیں ریستوران میں زیادہ سے زیادہ ہوس پرستوں کو جمع کرنے اور ان سے زیادہ سے زیادہ پیسے وصول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ عورت کا فطری تقدس پامال ہوتا ہے تو ان کی بلا سے۔ معاشرے میں ہوس پرستی کا جزام پھیلتا ہو تو پھیلا کرے۔ اس سے ان مغربی تہذیب کے کارندوں کو کوئی غرض نہیں۔ ان کے نزدیک عورت کا مصرف ہی یہی ہے کہ اس کے خدوخال سے عمومی لطف اندوزی کا سامان فراہم کیا جائے۔
یہ ہیں مغربی تہذیب کی وہ چنگاریاں، جو ہمیں چاروں طرف سے گھیر رہی ہیں۔ گھر کی چار دیواری کی’قید‘ سے نکال کر’آزادی‘ کے بعد اس کے نزدیک عورت کا مصرف کیا ہے، وہ ان چند الفاظ سے عیاں ہے۔ عورت کا مقام و مرتبہ بڑھانے اور اسے ’آزادی‘ دلانے کا دعویٰ کرنے والی یہ تہذیب ہرگز نہیں پسند کرتی کہ کوئی عورت اپنے گھر میں شوہر یا والدین کی خدمت کا فریضہ انجام دے یا اپنے بچوں کی تربیت کرے۔ یہ اس ظالم تہذیب کی رُو سے’ ذلت، رجعت پسندی اور دقیانوسیت‘ ہے۔ لیکن وہی عورت اگر جہازوں میں یا ریستورانوں میں روزانہ سیکڑوں اجنبیوں کے لیے ناشتے یا کھانے کی ٹرے سجا کر لائے یا دکانوں پر کھڑی ہوکر مال بیچا کرے اور اپنی اداؤں سے گاہکوں کو دکان کی طرف متوجہ کرے تو یہ عین’ عزت اور روشن خیالی‘ ہے۔
یہ ملت اسلامیہ کے تمام مؤثر حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ حکومت ہو یا عوام، علما ہوں یا دانش وَر، دینی جماعتیں ہوں یا فلاحی انجمنیں، ان سب کو اس موضوع پر سنجیدگی کے ساتھ سوچنےکی ضرورت ہے کہ خواتین کے کردار سے متعلق ہمارا معاشرہ کس رُخ پر جا رہا ہے؟ اور اگر اس سمت میں اسی رفتار سے چلتے رہے تو رفتہ رفتہ کہاں جا پہنچیں گے؟ ساتھ ہی یہ سوال بھی ابھرتے ہیں کہ اس نام نہاد آزادی کے ذریعے قوم کی خواتین کو بالآخر کس منزل پر پہنچانا مقصود ہے؟ کیا عورت کے لیے بے وقعتی، اخلاقی پستی اور گراوٹ کی وہی منزل طے کرلی گئی ہے، جو مغربی عورتوں کی ایک بھاری تعداد کا مقدر بن چکی ہے؟ ایسی منزل کہ جس پر پہنچنے کے بعد نہ صرف عورت نسوانیت کا جوہر کھو بیٹھتی ہے، بلکہ فطرت سے بغاوت کے نتیجے میں خاندانی نظام کی بھی چولیں ہل کر رہ جاتی ہیں۔
اب حالت یہ ہے کہ سڑکیں صاف کرنے سے لے کر ہوٹلوں میں گاہکوں کے بستر بچھانے تک دنیا کا کوئی ایسا چھوٹے سے چھوٹا کام نہیں رہ گیا، جو عورت کے سپرد نہ ہو۔ بچے ماں کی آغوشِ تربیت کو ترس رہے ہیں اور گھر اپنی منتظمہ کے وجود کی رونق سے محروم اور ویران پڑے ہیں، لیکن سڑکیں، دکانیں اور بازار عورت کے حسن و جمال سے سجے ہوئے ہیں۔
مغرب میں یہ سارا کھیل ’آزادی نسواں ‘ کے نام پر ہی کھیلا گیا ہے۔ اس کے لیے عورت کے چار دیواری میں ‘مقید‘ ہونے کا افسانہ گھڑا گیا اور اس افسانے کو گلی گلی عام کر کے وقت کا فیشن بنادیا گیا کہ اس کے خلاف لب کشائی فرسودگی اور دقیا نوسیت کی علامت بن گئی۔ اس طرح عورت کو گھر سے کھینچ کر سڑکوں، دکانوں، ریستورانوں میں خدمت گزاری اور افسران بالا کی نازبرداری کے فرائض سونپ دیے گئے۔ یہی نعرہ آج ہمارے یہاں بھی لگ رہا ہے اور اسی آزادیِ نسواں کے پُرفریب نعرے کے ذریعے ‘ خوبرو عورتوں ‘ سے ریستورانوں میں بیرے کا کام کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی جا رہی ہیں۔ اگر خدا نخواستہ یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو مغربی معاشرے کی تمام تر لعنتوں کے ہم تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
استدلال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ قومی تعمیر و ترقی کے دور میں ہم اپنی نصف آبادی کو عضوِ معطل بنا کر نہیں رکھ سکتے۔ یہ بات اس شان سے کہی جا رہی ہے کہ گویا ملک کے تمام مردوں کو کسی نہ کسی کام پر لگا کر مردوں کی حد تک ’مکمل روزگار‘ کی منزل حاصل کرلی گئی ہے۔ قوم کے خاندانی نظام کی بنیادیں سنبھالنے والی، اپنی آغوش میں مستقبل کو تربیت دینے والی، اور تقدس، پاک بازی اور عفت و عصمت کی اعلیٰ ترین قدروں کی آبیاری کرنے والی عورت کو ’عضوِ معطل ‘ قرار دینا مغرب کی اس الٹی منطق بلکہ جاہلانہ حرکت کا کرشمہ ہے۔ جس کی نظر میں کام کا آدمی بس وہی ہے جو زیادہ سے زیادہ پیسے کمائے، خواہ اس کے بعد وہ ملک بھر میں اخلاقی کوڑھ پھیلاتا پھرے۔ جو آدمی پیسے کما کر نہ لائے وہ ’عضو معطل‘ ہے خواہ معاشرے کی اخلاقی اور روحانی تعمیر میں وہ کتنا ہی بلند کردار کیوں نہ ادا کر رہا ہو۔
ہمارے معاشرے میں اسلام کا نام تو روزانہ بڑی شدّومد کے ساتھ لیا جاتا ہے، لیکن عملاً ہم جس رُخ پر جا رہے ہیں وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کی نہیں، بلکہ نیو یارک اور ماسکو کی سمت ہے۔ اسلام نے اپنی اصلاحی مہم کا آغاز گھر سے کیا ہے، کیوںکہ گھر ہی وہ بنیادی پتھر ہے جس پر تمدن کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اس گھر کا بنیادی ستون عورت کو قرار دے کر اسے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ’’اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور جاہلیت اولیٰ کی طرح بناؤ سنگھار کر کے باہر نہ پھرو‘‘۔ (سورہ نور)
لہٰذا، جب تک عورت کے صحیح مقام کو سمجھ کر اسے یکسوئی کے ساتھ ان فرائض کی انجام دہی کا موقع فراہم نہیں کیا جائے گا، جو فطرت نے اسے سونپے ہیں اور جن پر معاشرے کے بناؤ اور بگاڑ کا سارا دارومدار ہے، اس وقت تک اسلامی معاشرے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ ایک طرف اپنا مقصد دعوتِ دین اور اسلامی معاشرے کا قیام قرار دیا جاتا ہے اور دوسری طرف اس معاشرے کے بنیادی ستون، عورت کو وہ مقام دیا جارہا ہے، جہاں اس پر صرف مادہ پرست مغربی معاشرہ تعمیر ہوسکتا ہے، روحانی اقدار پر مبنی معاشرہ ہرگز نہیں۔
انسان کی دنیاوی زندگی کو پانچ اَدوار میں تقسیم کیا جاتا ہے: نومولودیت (infancy)، بچپنا (childhood)، بلوغت (adolescense)، جوانی (adulthood) اور بڑھاپا (old age)۔ زندگی کے ان تمام مراحل میں انسان اپنے آپ کو مختلف حالات سے لڑتا ہوا پاتا ہے۔ویسے بھی زندگی ایک جہدِ مسلسل کا نام ہے، چاہے وہ دودھ پیتا بچہ ہو یا کوئی نوجوان، ہر کسی کو اپنی زندگی گزارنے کے لیے آس پاس کے ماحول سے کسی نہ کسی صورت میں نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ نومولود بچہ گھر کا چشم و چراغ ہوتا ہے۔ اُس کے ساتھ والدین اپنی زندگی کی بہت سی اُمیدیں وابستہ کرتے ہیں ۔ فطری جذبۂ اُلفت و محبت کے سایے میں وہ پروان چڑھتا ہے۔
تاہم، جب زندگی کے آخری مرحلے میں انسان پہنچتا ہے تو وہ عملاً نومولودیت کے عالم میں واپس جا پہنچتا ہے، جس کو ہم بڑھاپے کے نام سے جانتے ہیں۔انسانی زندگی کے سائیکل کا یہ ایسا مرحلہ ہے، جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ قرآن پاک میں بھی اسی چیز کا تذکرہ کچھ اس طرح سے کیا گیا؛’’اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمھاری پیدایش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمھیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمھیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا‘‘(الروم۳۰: ۵۴)۔ بڑھاپا ان تمام مراحل میں ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے، جس کو انسان نہ چاہتے ہوئے بھی آنے سے روک نہیں سکتا۔ انسان بہت ساری مشکلات سے دوچار ہوتاہے ۔ جسمانی ، نفسیاتی، سماجی اور مالی ، کسی نہ کسی صورت میں انسان دوسروں پر انحصار کرتا ہے۔ جسمانی سہارے اور مالی ضروریات کا وہ متلاشی ہوتا ہے۔ یہ کمی کسی نہ کسی صورت میں پوری ہونے کی سبیل بھی نکلتی ہے، لیکن نفسیاتی ضروریات کا زندگی کے اِس مرحلے میں شاذ ہی کسی کو احساس ہوتا ہے ۔ یہاں پر ہم کچھ بات سماجی و نفسیاتی ضروریات کے متعلق کریں گے۔
پچھلے سال کی بات ہے کہ ایک یورپی نوجوان جوے (Joe)نے بزرگوں کی سماجی و نفسیاتی ضروریات اور ان سے وابستہ حالات و کوائف کو سمجھنے کے لیے طے کیا کہ وہ پورے ایک ہفتے ایک ایسی جگہ پر گوشہ نشین ہو گا، جہاں اُسے نہ کسی سے بات کرنے کا موقع ملے اور نہ کسی سے ملنے جلنے کا۔ اس تجربے کا مقصد یہ تھا کہ ہم جو بزرگوں سے اتنے دور ہوتے جارہے ہیں کہ اُن سے اب بات کرنے کی بھی فرصت نہیں ہے، یہ دیکھا جائے کہ بزرگ حضرات اپنی زندگی کے یہ آخری ایام کن حالات و کوائف سے دوچار ہوکر گزارتے ہیں۔ اپنے اِس تجربے کے دوران انھوں نے ایک ایسے گھر کا انتخاب کیا جہاں پر کھانے پینے اور کھیلنے کودنے کے لیے تو سب کچھ موجود ہے ، لیکن صرف انسان اور انسانی روابط نہیں ہیں، جن سے کہ وہ کسی نہ کسی صورت میں بات کر سکتا ہو۔ اس صورتِ حال میں رہتے ہوئے وقفے وقفے سے ایک ویڈیو بھی بناڈا لی، جس میں وہ بہت زیادہ گھبرایا ہوا نظر آتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’ دیانت داری سے بتائوں، مجھے یہ تجربہ بہت مشکل لگ رہا ہے‘‘۔
اگلے دن جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو کہتا ہے کہـ’ ’جب میں صبح جاگا تو ہمیشہ اپنی عادت کے مطابق موبائل فون کو چیک کرنا چاہا، جو عام حالات میں نارمل ہوتاہے ، لیکن یہاں پر میرے پاس کوئی فون یا ذرائع ابلاغ مہیا نہیں ہیں، اس سے سخت مایوس ہوا۔ مجھے لگتا ہے کہ اصل معاملہ ہماری زندگیوں کو منضبط کرنے والی ٹکنالوجی کا نہیں ہے ، بلکہ انسانی رشتوں کا ہے۔ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ زندگی کی اصل غرض و غایت انسانوں کا باقی انسانوں کے ساتھ ایک رشتے کا احساس ہوتا ہے‘‘۔ یاد رہے ایک بڑے عالی شان بنگلے میں انسانوں کے بغیر ہر طرح کی آسایش کی چیز اِس نوجوان کو مہیا ہے۔ انھی حالات میں وہ اپنی ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں مزید کہہ رہا ہے کہ’ ’میں باہر کی دنیا میں رہنے والے لوگوں کی آوازیں سن سکتا ہوں ، جو کہ اپنے دن کے کام کا آغاز کرنے کے لیے اپنے اپنے مقامات کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں۔ مجھے یہ چیز بہت کھٹک رہی ہے کہ لوگ باہر کی دنیا میں کام کر رہے ہیں اور میں یہاں اکیلا پڑا ہوں‘‘۔
اگلی رات آتے وقت مذکورہ نوجوان کہتا ہے کہ ’’مجھے لگتا ہے مجھے سونا چاہے ، کیوں کہ میرے لیے دن کا نہ کوئی آغاز ہوتا ہے اورنہ کوئی اختتام، بس بیٹھا رہتا ہوں کچھ بھی کام نہ کرتے ہوئے‘‘۔ اگلے دن صوفے پر بیٹھے مذکورہ نوجوان کہتا ہے کہ’’ بس میں اپنی زندگی کے ایام گن رہا ہوں۔ میں انسان نما مشین(robot) میں تبدیل ہو چکا ہوں۔ اب، جب کہ میں یہاں پر کوئی کام کیے بغیر اور کسی انسانی رابطے کے بغیر اپنی زندگی ایک مشین کی طرح جی رہا ہوں، تو غیر ضروری خیالات کا ہجوم میرے دماغ میں یلغار کرتا ہے جو پھر میرے لیے ایک نہ بیان کرنے والی پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں‘‘۔
ایک ہفتے تنہائی میں گزارنے کے بعد جب جوئے کو باہر کی دنیا میں لے جایا گیا تو اس سے ایک بزرگ نے پوچھا کہ: ’’کیا لگ رہا ہے اب آپ کو ایک ہفتہ کسی انسانی رشتے یا سماجی رابطے کے بغیر زندگی جینے میں ؟‘‘ جس کے جواب میں اس نوجوان نے کہا:’’ میں اپنے آپ کو خوش رکھنے کے لیے بہت زیادہ کوشش کر نے کے بعد بھی خوش نہ رکھ سکا اور میرے اندر ایسی نفسیات پیدا ہوگئی، جس سے مجھے احساس ہو ا کہ مجھ جیسا فرد اکیلا،تن تنہا اور الگ چھوڑ دیا گیا ہے، اور میرا اِس دنیا میں زندہ رہتے ہوئے بھی کوئی وجود نہیں ہے‘‘۔اس کے بعد بزرگ مذکورہ نوجوان سے کہتے ہیں کہ:ـ’’ ڈھائی سال پہلے میری بیوی کا انتقال ہوا، جس کے بعد میرے پاس کوئی بھی، ہمسایہ، رشتہ دار ، دوست، حتیٰ کہ کوئی انسان تک نہیں آیا، جس سے کہ میں باتیں کرتا ، اپنے دکھڑے سناتا، حالاںکہ یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ دنیا میں آئے ہوئے ہر ایک انسان کو بڑھاپے کا یہ مرحلہ پار کرتے ہوئے ایک نہ ایک دن کوچ کرنا ہی ہے‘‘۔
پوری دنیا میں ہمارے بزرگ حضرات مختلف حالات سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ ہرکوئی انھیں بوڑھا سمجھ کر ان کی سنی اَن سنی کر رہا ہے۔’ ’اس کے نتیجے میں بے چارے بوڑھے پتا نہیں آخر میں کیا کیا بہانے بھی گھڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ہر روز کسی نہ کسی بیماری کا بہانہ بناتے ہیں، نئے نئے مطالبے کر رہے ہوتے ہیں، اور جو آجائے اُس سے پورا پورا دن مغز کھپائی کرتے رہتے ہیں کہ کہیں مختصر بات کے بعد وہ چلا نہ جائے‘‘۔ سمجھنے والی بات ہے کہ کیا وجہ ہے کہ بزرگ حضرات ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں اور جس کے جواب میںہمارا رویہ اُن کے ساتھ مردم بے زاری کا کیوں ہوتا ہے؟ کوئی بھی مسئلہ بذاتِ خود جنم نہیں لیتا ہے، بلکہ اُسے مختلف پہلو جنم دیتے ہیں۔ یہی حال بزرگوں کے اِس رویے کاہے۔
جیسا کہ اوپر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بڑھاپے میں انسان بچے کی طرح بن جاتا ہے اور عادات و اطوار بھی بچوں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ جس کی صرف ایک ہی وجہ ہوتی ہے کہ بڑھاپے میں انسان کو بالکل بچے کی طر ح دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، لامحالہ ہمیں بھی اُن کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی ضرورت ہے۔بیماری خود بخود کسی انسان کو گلے نہیں لگالیتی۔ پہلے اُس کی آمد کے لیے انتظامات کیے جاتے ہیں، بزرگوں کو معاشرے سے الگ سمجھا جاتا ہے، اُن سے کسی کو بات کرنے کی فرصت نہیں ہوتی، اُن کی ضروریات کی کوئی قدر نہیں کی جاتی، نتیجتاً وہ اُن بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جنھیں ہم جیسے بھاگتے پھرتے جوان اُن کی ’بہانہ سازی‘ قرار دیتے یا سمجھتے ہیں۔ ٹکنالوجی سے منضبط موجودہ دور کے انسان کے پاس اپنی آسایش و آسانی کے لیے تو بہت سے آلات موجود ہیں، لیکن یاد رکھنے کے قابل یہ بات ہے کہ ٹکنالوجی کبھی انسان اور انسانی رشتے کی جگہ نہیں لے سکتی۔ نہ صرف اپنے بزرگ والدین کو بلکہ دنیا کے کسی بھی انسان کو اگر رشتے کے احساس سے محروم رکھا جائے، تو وہ دولت یا سہولیات کی فراہمی کے باوجود ایک نیم مُردہ لاش کی طرح بن کر رہ جائے گا۔ بزرگ حضرات کے لیے انسانی رشتوں کا یہ مرہم بدرجہ اُتم اہمیت کا حامل ہے۔ اگر اپنے لاڈلے بچے کے لیے انسان اِس امید کے ساتھ کہ یہ بچہ زندگی کے آخری مرحلے میںمیرا سہارا بن جائے گا اپنی راتوں کی نیندیں حرام کر سکتا ہے، تو کیا وجہ ہے والدین کے انھی جیسے احسانات کو بھلا کر ہم اُن کی سماجی و نفسانی ضروریات کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے؟
عالمی تنظیم براے صحت (WHO)کے مطابق دنیا بھر میں ۲۰ فی صد سے زیادہ بزرگ لوگ کسی نہ کسی شدید ذہنی پریشانی میںمبتلا ہیں۔ ۶ء۶ فی صد بزرگ صرف اور صرف اس وجہ سے جسمانی طور ناکارہ ہوچکے ہیں، کہ وہ نفسیاتی الجھنوں میں جکڑے گئے ہیں۔نفسیانی بیماریوں میں سب سے زیادہ عام بیماری بھولنے کی ہے ، جسے dementia کی اصطلاح سے جانا جاتا ہے اور جس نے بزرگوں کی بڑی تعداد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق بزرگوں کی طرف سے شکایت کردہ تکالیف کی بنیادی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم اُن کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھتے ہیں۔ نرم گوشہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسے ہم بچوں کو اکیلا اور تن تنہا نہیں چھوڑتے ہیں، اور قدم قدم پر انھیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ کوئی ان سے بہت سارا پیار کرتا ہے اور اُن کی ضروریات کا خیال بھی رکھتا ہے۔
اب اگر اپنے بچے کے لیے انسان اتنی ساری مصیبتیں اٹھاتا ہے، تو موجودہ دور کے معاشرے کے اس دور کو کیا ہوگیا ہے کہ اپنے بزرگ والدین کے بے پناہ احسانات کے باوجود ہم انھیں اپنے لیے بوجھ سمجھ رہے ہیں؟ایک تحقیق کے مطابق بڑھاپے میں بھولنے کی بیماری (dementia) کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے بزرگوں سے بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ کسی بوڑھے انسان سے اگر دن میں محض اس کے بچے ایک گھنٹے تک اس کے پاس بیٹھ کر دو چار باتیں کرلیں اور سن لیں تو ممکنہ حد تک بھولنے کی بیماری کو روکا جاسکتا ہے۔ گھر کے اندر داخل ہونے کے بعد اگر ان سے بھی سلام دُعا ہوجائے ، ان کو بھی اس بات کا احساس دلایا جائے کہ کوئی اُن کی بھی عزت کرتا ہے، انھیں کوئی اضافی چیز نہیں سمجھتا، انھیں بھی اپنے معاشرے کا نہایت اہم حصہ تصور کرتا اور سمجھتا ہے ، تو نہ کسی بیماری پر زیادہ پیسے خرچ کرنے کی ضرورت پڑے گی، اور نہ گھر کا ماحول دگرگوں ہونے کا خطرہ پیدا ہوگا۔ اتنا ہی نہیں آخرت کے اندر بھی اس عمل کے بدلے جنت کے انعام کے ملنے کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، بھلا اُن سے بڑھ کر اور کون سچا ہوسکتا ہے؟
ہر زمانے کے اپنے وسائل اور اپنے مسائل ہوتے ہیں، لیکن بنیادی قدروں میں ردوبدل نہیں ہوتا۔ ہمارے اس عہد میںسوشل میڈیا ایک نیا وسیلۂ ابلاغ وخبر ہے۔ اس وسیلے سے وابستہ جس کلچر نے جنم لیا ہے اسے ہم ’منقول کلچر‘ کہہ سکتے ہیں۔ یعنی اپنے طور پر کوئی چیز لکھنے یا تشکیل کرنے سے زیادہ، دوسروں کی چیزوں کو نقل کرنے کا کلچر۔
منقول کلچر کا جو رُوپ ہمارے سامنے آیا ہے، اس میں دو خرابیاں حددرجہ ہیں:ایک یہ کہ ہمیں خبر، پوسٹ یا تحریر کے مصنف کا علم نہیں ہوتا کہ جس کی بنیاد پر اس کے جعلی یا غلط ہونے کی صورت میں مواخذہ کیا جاسکے۔ اس کمی کے باعث احتساب یا اصلاح ممکن نہیں ہوتی۔ دوسرے، تحریر کے خالق کو اس کے حق سے محروم کر دینا بھی بڑی زیادتی کی بات ہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر یہ کلچر بہت عام ہو گیا ہے کہ لوگ مصنف کا نام دینے کے بجائے ’منقول‘ لکھ دیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اخلاقی ذمہ داری پوری ہو گئی۔ اکثر ایسی پوسٹس یا پورے پورے مضامین فیس بک اور واٹس اَیپ پر نظر آتے ہیں، جو بہت محنت سے لکھے گئے ہوتے ہیں لیکن مصنف کا نام موجود نہیں ہوتا۔ اگر بھیجنے والے سے پوچھا جائے کہ یہ کس نے بھیجا ہے؟ تو وہ کہتا ہے ہمیں خود کسی نے فارورڈ کیا تھا۔ اچھا لگا تو ہم نے آگے بڑھا دیا۔ سوشل میڈیا پر رائج اس رواج اور چلن کو ہم ’منقول کلچر‘ کا نام دیں گے۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ مصنف کے نام کے بجاے ’منقول‘ لکھ دینے سے وہ ’فکری ملکیت‘ (Intellectual property) کی چوری کے اخلاقی جرم سے بری ہو جاتے ہیں۔ حالاںکہ چوری چوری ہوتی ہے چاہے وہ مفاد عامہ کے لیے مخلصانہ نیت سے ہی کیوں نہ ہو۔ ’منقول‘ کا یہ استثنا صرف اس صورت ممکن العمل ہے، جب تحریر کی اشاعت ناگزیر ہو اور مصنف کا نام معلوم ہونے کا کوئی طریقہ نہ ہو۔ مثلاً تحریر ماضی بعید میں لکھی گئی ہو اور کسی وجہ سے سر ورق یا مصنف کا نام پڑھا جانا ممکن نہ ہو۔ لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ پورا پورا مضمون کاپی کر کے بڑے خلوص سے مصنف کے نام کی جگہ ’منقول‘ لکھ کر پوسٹ کو پھیلا دیا جاتا ہے اور چوںکہ پھیلانے والے کا ذوق بہت اچھا یا سنسنی خیز ہوتا ہے تو پیغام (post) عام (viral) ہو جاتا ہے، لیکن مصنف اپنے استحقاق سے محروم ہو جاتا ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’کوئی فاسق [گناہ گار ] تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو‘‘ (الحجرات ۴۹:۶)۔اب سوال یہ ہے کہ ’منقول پوسٹ‘ میں تو خبر لانے والے کا نام ہی نہیں معلوم ہوتا۔ ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ اس کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔ جہاں تک کاپی رائٹس کا تعلق ہے، تو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں یہ ایک حق ہے کہ کسی قسم کے آرٹ (تحریریں، موسیقی، مجسمہ سازی، نقاشی و صورت گری، آرٹ کی تعریف میں شامل ہیں) کی تخلیق کرنے والا اس کی اشاعت سے متعلق فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے، یعنی اس کے نام سے شائع ہونے کی صورت میں بھی اس کی اجازت لینا ضروری ہے، اِلّا یہ کہ ٹیکسٹ کی تھوڑی بہت مقدار کاپی کی جائے یا مصنف نے خود استعمال کی اجازت دی ہو۔ اس پس منظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی کیا یہ قوانین لاگو ہوتے ہیں یا نہیں؟ اس معاملے کی بہت سی باریکیاں ہے، جنھیں سمجھنا اتنا آسان نہیں۔ پھر بھی ہم سوشل میڈیا پر اس کی خلاف ورزی سے متعلق کچھ بنیادی باتوں کو زیر بحث لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مصنف کا نام پوسٹ (پیغام) پر نہ ہونے کے نقصان کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ شہرقصور میں بچی زینب کے قتل کے سلسلے میں ایک معروف اینکرپرسن کے انکشافات سے پہلے ڈارک ویب کے حوالے سے ایک پوسٹ راقمہ کو بغیر نام کے موصول ہوئی۔ تحریر بہت پختہ، مربوط اور دلائل سے بھر پور تھی جس میں مصنف نے مالی پیش قدمی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر ڈیٹا ٹریفک کی جانچ کے ذریعے تفتیش کی بہت معقول تجاویز پیش کی تھیں، جن پر عمل سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی تھی کہ واقعی اس قتل کا تعلق چائلڈ پورنوگرافی کے انٹرنیشنل مافیا سے ہے یا نہیں۔ قصور میں پہلے بھی اس نوعیت کا ایک گھناؤنا اور رُسوا کن جنجال (اسکینڈل) سامنے آچکا تھا، اس لیے اگر ایسا ہوتا تو یہ کوئی اچنبھا شمار نہ ہوتا۔ انٹرنیٹ کے آغاز سے ہی (بلکہ اس سے پہلے بھی) بہت سے ممالک میں ایسے گروہ پکڑے جاچکے ہیں، جو بچوں کے ساتھ بد فعلی کرکے ان کی ویڈیوز بناکر انھیں مختلف طریقوں سے مارکیٹ کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ لیکن تحریر پر نام نہ ہونے کی وجہ سے میں نے اس روایت (اسٹوری) کو آگے منتقل کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
چند دن بعد ’دلیل‘ نامی آن لائن نیوز آؤٹ لیٹ پرایک صحافی جمیل فاروقی کی اس سے ملتی جلتی تحریر سامنے آئی۔ چونکہ صحافی کا نام موجود تھا اور ’دلیل‘ ایک قابل اعتماد آن لائن اخبار ہے، اس لیے میں نے اسے اپنے فیس بک پیج پر بغیر کسی تبصرے کے پیش کیا۔ کچھ ہی دیر بعد لندن میں مقیم میری ایک کالم نگار دوست کا اعتراض سامنے آیا کہ: اس روایت کردہ مضمون میں جس ہندستانی لڑکی رادھا کی کہانی بیان کی گئی ہے، اس کا ذکر انٹرنیٹ پر کہیں موجود نہیں۔ میں نے گوگل سے تصدیق کی تو ان کی بات صحیح نکلی۔ ایسے کسی کیس کا تذکرہ ہندستانی اخبارات میں موجود نہیں تھا۔ اب چوںکہ آن لائن ’دلیل‘ اور مصنف ذمہ دار تھے، اس لیے میں نے پوسٹ حذف کرنے کے بجاے ’دلیل‘ کو تبصرہ (کمنٹ) بھیج دیا۔ ’دلیل‘ کے ایڈیٹر نے فوراً اس کا جواب دیا کہ: ’یہ صحافی ٹی وی پر اوریا مقبول کے ساتھ پروگرام کرتے ہیں اور مستند صحافی ہیں۔ ان سے پوچھ لیتے ہیں۔ اگرچہ جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔ ان شاء اللہ خبر کے غلط یا صحیح ہونے کی صورت میں سچ سامنے آ جائے گا، بلکہ معروف اینکرپرسن ڈاکٹر شاہدمسعود کم از کم عدالت کے سامنے جواب دہ ہوئے اور یوں ثبوت فراہم نہ کرپانے کی صورت میں ڈیڑھ دو ماہ میں سچ سامنے آ گیا۔ اگر یہی پوسٹ ’منقول‘ ہوتی تو ہم کسی کا مواخذہ کرنے کے بجاے صرف ہوا میں تیر تکّے چلاتے رہتے اور بہت سے لوگ اس پر یقین کرتے بلکہ کر رہے تھے۔ ایسی جعلی خبروں سے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے۔ ایک عام آدمی کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی آتی ہے۔ وہ مایوسی میں بہتر فیصلہ کرنے کی اہلیت کھو دیتا ہے۔
اسی دوران مجھے ڈارک ویب کے بارے میں برکت علی برق صاحب کی ایک تحریر واٹس ایپ پر موصول ہوئی۔ تحریر میں ڈارک ویب سے متعلق جتنے تشویشناک قصے سنائے اور دعوے کیے گئے تھے ان میں سے کسی کے ماخذ (source) کا حوالہ موجود نہیں تھا۔ اب اس کا فیصلہ قاری کرسکتے ہیں کہ بھلا ایسی کسی تحریر پر ہمیں کتنا بھروسا کرنا چاہیے؟
برکت علی برق نامی مصنف کی بظاہر معقول، مگر دی گئی معلومات ماخذ کے بغیر تحریر کسی اخبار یا رسالے میں کیوں نہ آئی اور صرف سوشل میڈیا پر کیوں گردش کر رہی ہے؟ اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رہے کہ سوشل میڈیا پر باقاعدہ ایجنڈے کے تحت با معاوضہ کام کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ ان لکھاریوں کی مالی مدد کون کرتا ہے، اور مالی معاونت کرنے والوں کے مقاصد کیا ہوتے ہیں؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔
کچھ لوگ ایمان کی حد تک ان روایات اور تحریروں پر یقین کرلیتے ہیں، جو ان کا پسندیدہ صحافی یا پسندیدہ فیس بک لکھاری سامنے لے کر آئے۔ ایک عام آدمی کو یہ آگاہی دینے کی اشد ضرورت ہے کہ آپ کا پسندیدہ اینکر ہو یا سوشل میڈیا کی کوئی پوسٹ، اگر یہ فرد ماخذ کا حوالہ اپنے مضمون میں نہیں دے رہا تو ایسی خبر بظاہر کتنی ہی کارآمد اور اچھی کیوں نہ ہو، اسے مسترد کر دیں۔ استثنا صرف اس صورت میں ہے جب کوئی معقول وجہ موجود ہو۔
عملی سطح پر صورت حال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے دانش وروں ،یہاں تک کہ صحافیوں تک سے یہ بات کریں تو وہ کہتے ہیں کہ:’’ اگر خبر پر نام موجود نہ ہو تو ’منقول ‘کہہ کر آگے پھیلادینے میں کیا حرج ہے؟ ہمیں بھی تو کسی نے فارورڈ کی تھی۔ اصل میں میسج بہت اچھا ہے تو سوچا اس کو اپنی حد تک محدود (hold)رکھنے کا کیا فائدہ؟ اس لیے ’منقول‘ لکھ کر آگے پھیلا دیتے ہیں‘‘۔ بظاہر یہ ایک معقول دلیل ہے کہ کسی چیز کا فائدہ زیادہ ہو اور نقصان کم، تو اسے اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن کیا واقعی فائدہ زیادہ ہے؟ یا اس اصول کو چھوڑ دینے کے نتیجے میں ہم جعلی خبروں اور پوسٹوں کی حوصلہ افزائی کرکے معلومات رسانی کے نام پر جھوٹ، انتشار، غیبت اور تہمت لگانے کا کام کر رہے ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ، مولانا رومیؒ، یہاں تک کہ صلاح الدین ایوبی ؒ تک سے جو دل چاہتا ہے منسوب کردیا جاتا ہے اور کہلوا لیا جاتا ہے۔ اگر ماخذ کے بارے میں پوچھا جائے تو اچھے خاصے پڑھے لکھ لوگ یہ جواب دیتے ہیں کہ: ’کیا ہوا اگر مولانا رومی کا قول نہیں، قول تو اچھا ہے‘۔ گویا کہ ایسے اقوال مارکیٹ میں لانے والے اپنے آپ کو مولانا رومی سے زیادہ سمجھ دار سمجھتے ہیں۔ کسی عام مرے ہوئے شخص کے منہ سے بھی اپنی مرضی کی بات کہلوانا انتہائی قبیح طرزِ عمل ہے۔ اس لیے ہمیشہ ریفرنس اور ماخذ پر اصرار کریں، اور یہ نہ سمجھیں کہ ’منقول کلچر‘ میں سب جائز ہے۔
کیا کوئی اچھی ’منقول‘ یا نامعلوم پوسٹ نظر آنے سے ہم پر یہ واجب ہو جاتا ہے کہ ہم اسے آگے پیغام در پیغام کریں؟ حالاں کہ اسے آگے پھیلانا اخلاقی اصولوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت بھی ممنوع ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی تیس شقوں میں سے ایک کاپی رائٹس (جملہ حقوق محفوظ)سے متعلق ہے۔ یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں کاپی رائٹس کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے؟ یعنی زندہ رہنے کے حق، ملکیتی حق اور انصاف کے حق کے ساتھ کاپی رائٹس کو چارٹر میں شامل کیا گیا ہے۔
ہم میں سے کتنے لوگوں کو اس بات کا احساس ہے کہ مال کی طرح تخلیق بھی جایداد میں شمار ہوتی ہے، اور تخلیقی ملکیت کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں ،اور آپ کسی کا ایک جملہ بھی اگر نقل کرتے ہیں تو آپ اخلاقی اور قانونی طور پر اس کا نام، یعنی ریفرنس دینے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
ہمارا عذر یہ ہوتا ہے کہ ’’کیا ہوا اگر ہم نے پبلک کے فائدے کے لیے آگے شیئر کر دیا تو۔ اسی لیے تو لکھا تھا اس نے، اور ہمیں تو خود فارورڈ کیا تھا کسی نے‘‘۔پہلی بات تو یہ کہ ’عذر گناہ بد تر از گناہ است‘ والی بات ہے۔ چوری چاہے اپنے فائدے کے لیے ہو یا پبلک کے فائدے کے لیے چوری ہی ہوتی ہے۔ اور آپ چاہے چیز کسی کے گھر سے چرائیں یا سڑک پر پڑی ہو اُٹھا لیں اور اسے بغیر تحقیق کیے فلاح کے واسطے بانٹنا شروع کر دیں تو وہ چوری ہی رہے گی۔
علمی دنیا اور صحافت کا ایک مروجہ اصول یہ بھی ہے کہ ایک جملہ بھی پرنٹ یا انٹرنیٹ پر آنے کے بعد بائی ڈیفالٹ کاپی رائٹ ہو جاتا ہے۔ حوالے کے ساتھ بھی ایک دو جملوں سے زیادہ کاپی کرنے سے پہلے مصنف سے اجازت لیں اور حوالہ اور لنک ضرور دیں۔ سوشل میڈیا پر چوںکہ اکثر سائٹس پہ شیئر کی سہولت (آپشن) موجود ہوتا ہے تو اس بٹن کو دبا کر مشینی طور پر شیئر کرنے کی بائی ڈیفالٹ اجازت ہے۔ اگر اسی پوسٹ یا تحریر کو آپ ’کاٹ جوڑ‘ کر کسی وجہ سے اپنی وال، سائٹ یا صفحے پر ڈالنا چاہتے ہیں، مثلاً کسی چھپے ہوے مضمون کے کچھ جملے آپ ٹیکسٹ کی صورت تعارف کے لیے شیئر کرنا چاہتے ہیں، تو یاد رہے یہ جملے تعداد میں اتنے نہیں ہونے چاہییں کے کوئی ان کو پڑھنے کے بعد مضمون پڑھنے کی زحمت ہی نہ کرنا چاہے۔ مضمون کا لنک شامل ہونا چاہیے، تاکہ جو بندہ پورا مضمون پڑھنا چاہے، اسے وہاں وہ پڑھ سکے۔ اگر کسی کتاب کے جملے نقل کیے گئے ہیں تو وہ بھی اتنی تعداد میں نہیں ہونے چاہییں کہ آپ پوری کتاب ہی بیان کر دیں۔ کتاب اور مصنف اور ہو سکے تو پبلشر کا نام بھی دیں، تاکہ اگر کوئی خرید کر کتاب پڑھنا چاہے تو پڑھ سکے۔
ہمارے ہاں علمی یا ’فکری ملکیت‘ کے حقوق سے عموماً لوگ واقف نہیں ہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض دینی حلقوں میں مصنفین انکسار کا مظاہرہ کرتے ہوے اپنا نام تحریر کے آخر میں لکھتے ہیں۔ یہ طریقہ اصولی طور پر سراسر غلط ہے۔ کتاب پر مصنف کا نام ہمیشہ سر ورق پر ہوتا ہے، کبھی آخری صفحہ یا پشت پر نہیں ہوتا۔ نام آخر میں لکھنا بھی چوروں کی حوصلہ افزائی کا با عث بنتا ہے۔ بہت لمبی پوسٹ میں ویسے بھی لوگ نیچے جا کر مصنف کا نام پڑھنے کی زحمت کم ہی کرتے ہیں۔
ایک اور تاویل یہ پیش کی جاتی ہے کہ: ’’کیا ہو گیا اگر کسی کی تحریر اس کی اجازت اور نام کے بغیر ہم نے پبلک میں شیئر کر دی ہے۔ تحریر کا مقصد تو یہی تھا کہ لوگ اسے پڑھیں اور وہ پورا ہوگیا۔ الله مصنف کو اور شیئر کرنے والے کو جزا دے‘‘۔ یہ سب ہماری عمومی سوچ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ایک ہزار روپے کے جوتے کی قدر و قیمت کا تو احساس ہے۔ اسی لیے ہم اسے مسجد سے چرانے والے کو بُرا سمجھتے ہیں، مگر ہمیں کسی کی گھنٹوں یا ہفتوں یا چند برسوں کی دماغ سوزی اور محنت سے لکھے گئے مضمون کی قدر نہیں۔ بقول شخصے جن قوموں کی نظر میں جوتے کی اہمیت ہو اور دانش وَر یا لکھاری کی محنت کی نہیں، اسے اسی طرح جوتے پڑنے چاہیں جیسے آج ہر طرف سے پڑرہے ہیں۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں گنتی کے لکھاریوں کو اپنی تحریروں کا معاوضہ ملتا ہے، وہاں مصنف سے اس کی تخلیق کے حقوق اور ملکیتی حق بھی چھین لینا ظلم ہے۔ لیکن ٹھیریں قصور صرف نام حذف کر کے’ منقول‘ لکھنے والے کا نہیں۔ اس کا بھی ہے جو نامعلوم پوسٹ ملنے پر ’منقول‘ لگا کر اپنی ذمہ داری سے بری ہوتا ہے، اور ہر اس فرد کا بھی جو ان نا معلوم اور ’منقول‘ پوسٹوں کو آگے شیئر کرتا ہے۔
اس طرح اچھے پیغام (message) کو چند ناظرین(viewers) کے لیے ہم چوری شدہ پیغام کو (جس میں مصنف کا نام نکال دیا ہوتا ہے)آگے روانہ کرکے، اخلاقی سطح پر ایک غلط حرکت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ایسی ہر پوسٹ کے عام (وائرل) ہونے سے چور کے حوصلے بڑھتے ہیں اور اس اچھی پوسٹ یا مضمون کے اصل مصنف کی حق تلفی ہوتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ بے چارے چور صاحب یا صاحبہ کو معلوم بھی نہیں ہے کہ وہ کوئی غلط کام کرتے ہیں۔ وہ تو اپنی دانست میں نیکی کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔
دل چسپ بات یہ کہ جب میں نے اپنی فیس بک کی ٹائم لائن پر ’منقول کلچر‘ کے خلاف اسٹیکرز (چھوٹے چھوٹے پیغامات)کے ذریعے آگاہی دینا چاہی توایک خاتون کے علاوہ جو کسی غیرملکی یونی ورسٹی میں اُردو پڑھاتی ہیں، کسی نے اس اصول کو قبول نہیں کیا۔ عام طور سے سیکڑوں فالوور رکھنے والے پڑھے لکھے خواتین اور حضرات کا خیال تھا کہ اپنے نام سے، کسی دوسرے کی پوسٹ شیئر کرنا تو اخلاقی لحاظ سے غلط ہے مگر اگر نام نہیں معلوم تو کیا کریں؟ یہ کسی نے نہیں بتایا کہ ایسی پوسٹ کو شیئر کرنا یا فارورڈ نہ کرنے سے کون سا فرض رہ جاتا ہے کہ چوری کو مباح کر لیا جائے؟
ایک صاحب جو بیرون ملک کسی یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے، ان کا پہلا رد عمل یہ تھا کہ: ’’اگر معروف مصنف کا لکھا ہوا مضمون ہے تو نام ضرور دینا چاہیے‘‘۔ گویا غیر معروف مصنف کی پوسٹ یا تحریر استعمال کرنا جائز ہے۔ بعد میں بحث کے بعد وہ تھوڑے بہت قائل ہوئے تو بھی ان کا کہنا تھا:’’ ’منقول‘ لکھ دینا بھی اچھی خاصی احتیاطی تدبیر ہے۔کم از کم لوگ پوسٹ پر اپنا نام تو نہیں لکھ رہے۔ پہلے معاشرے کو اس کا عادی ہونے دیں پھر مزید اصول بتائیں‘‘۔
حد یہ ہے کہ حدیث کی تدوین کرنے والے اوّلین محدثین کا واسطہ دے کر بھی سمجھانے کی کوشش کی، کہ حوالے اور سند کے اصول سے تو دنیا کو روشناس ہی ہمارے بزرگوں نے کیا ہے، اور ہم ہی وہ قوم ہیں جسے نہیں معلوم کے حوالہ کسے کہتے ہیں اور اس کی اہمیت کیا ہے؟ مگر سوئی وہیں اٹکی رہی کہ اگر نام نہیں معلوم تو آخر کیا کریں۔
یہ بھی سمجھایا کہ جب پوسٹ بنانے والے کا نام نہیں ہوگا تو جھوٹی خبر، غلط روایت، تاریخی واقعہ یا افواہ پر کسی کا بھی محاسبہ نہیں ہو سکے گا، مگر یہ کلچر اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ اس کے مقابلے میں قرآن و سنت کے حوالے بھی ناکام ہیں۔
دنیا میں ہمیشہ علمی، تخلیقی اور تحریری کاموں پر تخلیق کار کا نام تحریر کیا جاتا رہا ہے اور مسلمانوں نے خاص طور پر اس قدر کو رواج دیا۔ اگر یہ نہ کرتے تو آج نہ ہمیں الجامع الصحیح پر امام بخاری کا نام ملتا اور نہ تفسیر ابن کثیر پر ابن کثیر کا اور ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا ممکن نہ ہوتا کہ مستند اورغیر مستند کتب کون سی ہیں۔ اگرآپ بخاری سے کوئی حدیث پڑھیں تو آپ کو روایت کی پوری لڑی نظر آئے گی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سے حدیث ہم تک کیسے پہنچی۔ دراصل یہ اصول آج بھی تحقیق کی دنیا میں رائج ہے کہ آپ اپنے تحقیقی مقالے میں ماخذ کا حوالہ ضرور دیتے ہیں۔ یہی اصول صحافت میں بھی رائج ہے اور شفافیت (ٹرانسپیرنسی) کہلاتا ہے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں، بڑے پیمانے پر لوگ خبر بنانے اور اسے پھیلانے میں شریک ہیں، اوروہ بھی اکثر بے سوچے سمجھے۔ ایک عام شہری کو ہی نہیں، اسکول کے بچے کو بھی ذمہ دارصحافت کے اصولوں کی تربیت دینا آج کی اہم ضرورت ہے کہ غیر ذمہ دار صحافت فرد کے ساتھ ریاست اور معاشرے کو بھی کمزور کرتی ہے۔ اسی لیے دین اسلام نے چودہ سو سال پہلے اس کے اصول متعین کر دیےتھے کہ معاشرہ فکری بے راہ روی اور معلوماتی انتشار کا شکار نہ ہو۔
جینا ہیسپل ماضی میں پُرتشدد ہتھکنڈے استعمال کرنے کی تردید کر کے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی نئی سربراہ مقرر ہو گئی ہے۔ لیکن عراق کے قیدخانے ابوغریب میں رقم کی گئی ظلم کی داستانوں نے امریکی تاریخ پر جو بدنما داغ چھوڑے ہیں، وہ مٹ نہیں سکتے۔
ایک شخص اس تشدد کا چشم دید گواہ ہے۔امریکی ریاست پنسلوینیا کے علاقے مارٹن برگ میں پیزا کی دکان کی پارکنگ میں ایک دیو قامت سفیدفام شخص جیرمی سیوٹس میرے برابر میں آن کھڑا ہوا۔ ہم باہر کھلے آسمان تلے اس لیے آ کر محوِ گفتگو ہوئے تاکہ ماضی کے ان مظالم پر اس طرح بات کر سکیں کہ کوئی ہماری آواز نہ سن لے۔
جیرمی سیوٹس کو قیدیوں کی تصاویر بنانے کے جرم میں ایک سال سزا سنائی گئی تھی۔ کارپارک میں ہونے والی گفتگو کے دوران شور سے بچنے کے لیے مجبوراً ہم قریبی ریستوران کے ایک خاموش گوشے میں بیٹھ گئے۔
عراق میں ابوغریب جیل میں مظالم کی تفصیلات ۲۸؍اپریل ۲۰۰۴ء کو سامنے آئی تھیں۔ سیوٹس اور دوسرے فوجیوں کی جانب سے بنائی گئی قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز رویے اور تشدد پر مبنی تصاویر امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس پر نشر ہوئیں تو عالمی انسانی ضمیر پر بوجھ بن گئیں۔
ایک تصویر برہنہ قیدیوں کے ڈھیر کی تھی، جنھیں اس صورت میں ایک دوسرے کے اُوپر ڈال کر قبیح جنسی حرکات کرنے اور مختلف غیر انسانی اور غیرفطری انداز اختیار کرنے کے لیے جبری طور پر مجبور کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک تصویر تو طویل عرصے تک لوگوں کے ذہن پر نقش ہو کر رہی گئی تھی۔ یہ تصویر امریکی فوجی خاتون لینڈی اینگلند کی تھی، جو ایک قیدی کے گلے میں پٹا ڈال کر گھسیٹ رہی تھی۔ ایک اور تصویر جو اس اسکینڈل کی سنگینی کو ظاہر کرتی تھی، وہ ایک ایسے قیدی کی تھی، جسے ایک بکسے پر کھڑا کیا گیا تھا اور بجلی کے ’جھٹکے برداشت کرنے کے لیے‘ اسے بجلی کی تاریں تھمائی ہوئی تھیں۔
ابوغریب میں تعینات بہت سے دوسرے امریکی فوجیوں کی طرح جو اس سکینڈل میں ملوث پائے گئے، سیوٹس کا تعلق بھی ایک دیہی علاقے سے تھا۔ سیوٹس،پنسلوینیا کے علاقے ہنڈمین میں پلا بڑھا تھا۔ اس کی والدہ فریڈا ایک سٹور میں ملازم ہے اور والد ڈینیل ویتنام میں تعینات رہ چکا تھا۔ ڈینیل کا گذشتہ برس انتقال ہو گیا۔ خاندان کے افراد نے تعزیت پر آنے والوں سے کہا کہ: ’’آپ پھول خرید کر لانے کے بجاے ان کی بیوہ کو نقد رقم دے دیں، تاکہ وہ اپنے شوہر کی تدفین کے اخراجات پورے کر سکے‘‘۔
اس انفرادی گفتگو کے بعد جب میں سیوٹس کے گھر گئی ، تو اس کے ایک پڑوسی کلایٹس نے بتایا: ’’یہ بڑا مہذب بچہ تھا۔ اگر سیوٹس سے کوئی کچھ مدد کے لیے کہتا تھا تو یہ نتائج کی پروا کیے بغیر فوراً تیار ہو جاتا‘‘۔کوریائی جنگ میں شرکت کرنے والے ۸۶سالہ ہرمن رالنگ نے کہا کہ:’’سیوٹس، عراق میں یقیناً احکامات پر عمل کر رہا ہو گا، اس لیے اس کو سزا دینا ناانصافی تھی۔ اگر تم اس کی جگہ ہوتے تو تم بھی وہی کچھ کرتے، جو حکم دیا جاتا۔ بہرحال جنگ ایک عذاب ہوتا ہے‘‘۔
۳۸سالہ سیوٹس نے بتایا کہ: ’’میں بچپن ہی سے اپنے والد کی طرح فوجی بننا چاہتا تھا۔ ۱۸ برس کی عمر میں فوج میں شامل ہوا تو شروع سے مہم جوئی کے راستے پر چل نکلا۔ آٹھویں ملٹری بریگیڈ میں شامل ہوا تو ۲۰۰۳ء میں عراق بھیج دیا گیا۔ عراق پہنچنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد مجھے بغداد کے قیدخانے ابوغریب میں تعینات کر دیا گیا، جہاں مکینک اور ڈرائیور کے طور پر کام کرنے لگا۔ تب اس قیدخانے میں دوہزار کے قریب مرد، خواتین اور بچے قید تھے۔ جن میں بہت سے بےگناہ تھے اور ان کا کسی نوعیت کی مسلح جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ سب حادثاتی طور پر پکڑے گئے تھے۔ انھی دنوں امریکی حکومت نے فوج کے زیرِ انتظام قید خانوں میں سخت تفتیشی طریقوں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔ اس وقت کے نائب صدر ڈک چینی نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد کہا تھا:’’ امریکا کے لیے ہر تاریک حربہ اپنانا جائز ہے‘‘۔
سیوٹس نے بتایا: ’’واشنگٹن میں حکام نے اسی سوچ کے ساتھ قوانین میں تبدیلیاں کیں، تاکہ تفتیش کے ان حربوں کو استعمال کیا جا سکے، جنھیں تشدد قرار دیا چکا تھا اور یہی طریقے ابوغریب کے قید خانے میں بھی آزمائے جانے لگے۔ قیدیوں کو بہیمانہ تشدد اور عذاب کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ بہت سے قیدی یہ خوفناک تشدد برداشت نہ کر سکے اور ہلاک ہو گئے۔ ایک تصویر ابوغریب کے قیدی منادل الجمادی کی پلاسٹک بیگ میں لپٹی لاش کی تھی، جو امریکی سی آئی اے کی قید میں تھے‘‘۔
سیوٹس نے قیدخانے میں آنکھوں دیکھے واقعات کی تفصیل بتائی: ’’نومبر۲۰۰۳ءکی ایک سرد شام کو مجھے چند انتہائی خطرناک قیدیوں کی جیل کے مخصوص حصے میں منتقلی میں مدد کی غرض سے طلب کیا گیا۔جب مَیں وہاں پہنچا تو راہداری میں مکمل طور پر برہنہ قیدیوں کو ایک دوسرے کے اوپر لیٹا ہوا دیکھا۔ چارلس گارنر، لینڈی اینگلند اور کچھ دوسرے فوجی ان بے بس قیدیوں کے اردگرد کھڑے بھرپور قہقہے لگا رہے تھے۔ مَیں جن قیدیوں کو ساتھ لایا تھا، انھیں بھی اسی طرح پہلے سے موجود قیدیوں کے ڈھیر پر ڈال دیا گیا‘‘۔
سیوٹس نے کہا: ’’وہاں موجود ہر [امریکی] ان سے یہ کہہ رہا تھا تم یہ [شرم ناک حرکت] کیوں نہیں کر سکتے اور تم وہ [غلیظ حرکت]کیوں نہیں کر سکتے؟ قیدیوں کی کراہوں اور چیخوں کے اس ہنگام میں مَیں نے دیکھا کہ فوجی ہتھکڑیوں کی وجہ سے ایک قیدی کے ہاتھ نیلے پڑنے لگے ہیں۔ مَیں نے چارلس گارنر سے کہا:اس قیدی کے تو ہاتھ کاٹنے پڑجائیں گے۔ گارنر نے اُس قیدی کی ہتھکڑیاں ڈھیلی کر دیں، جس سے اس کی تکلیف کچھ کم ہوئی اور ہاتھ میں خون کی روانی بحال ہو گئی‘‘۔
سیوٹس کے بقول: ’’گارنر نے مجھ کو ایک کیمرہ تھما دیا اور نارنجی لباس میں ایک قیدی، جس کے چہرے پر نقاب پڑا ہوا تھا، میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ گارنر نے ایک ہاتھ سے اس کا سر پکڑ لیا اور پوز بناتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے مکّا بنا لیا۔دراصل اس قیدی کا سر ایک جگہ ٹک نہیں رہا تھا۔ گارنر اس کا سر پکڑ کر تصویر کے لیے پوز بنا رہا تھا اور مَیں نے تصویر بنا لی۔ پھر پتہ نہیں کیوں اس قیدی کو گارنر نے ایک مکّا رسید کیا، اور بھرپور قہقہہ لگایا۔میں نے صرف ایک ہی تصویر بنائی تھی‘‘۔ سیوٹس نے یہ تفصیل کچھ اس طرح بیان کی، جیسے وہ کسی اور کی کہانی سنا رہا ہو۔
ابوغریب جیل کی یہ تصاویر جب ٹیلی ویژن پر نشر ہوئیں تو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا کہ: ’’تمام حقائق معلوم کیے جائیں گے اور جو بھی اس میں ملوث پایا گیا، اسے اپنے عمل کا جواب دینا ہو گا‘‘۔سیوٹس اور دس دوسرے فوجیوں کو اس ضمن میں سزا سنائی گئی۔ گارنر کو ۱۰سال قید، فریڈریکا کو آٹھ اور لینڈی اینگلند کو تین سال کی سزا سنائی گئی۔{ FR 644 }
اس اسکینڈل کے سامنے آنے پر عراق جنگ میں شریک ہونے والے بہت سے فوجیوں کے خیال میں امریکا نے اپنی اخلاقی ساکھ کھو دی تھی۔ ریٹائرڈ امریکی جرنیل سٹینلے میک کرسٹل کے مطابق:’’ ۲۰۰۴ءکے بعد ابوغریب میں ہونے والے مظالم کی تصویروں سے پیدا ہونے والے غصے کی وجہ سے بھی عراقی، امریکی فوج پر حملے کرتے تھے‘‘۔
اس قید خانے کو ۲۰۰۶ءمیں [امریکی کٹھ پتلی]عراقی حکام کے حوالے کر دیا گیا اور آٹھ سال بعد اسے بند کر دیا گیا۔ قید کاٹنے کے بعد جیرمی سیوٹس، پنسلوینیا واپس پہنچ گیا۔ اس نے بتایا: ’’ شروع شروع میں مجھے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہوتی تھی۔ یہاں آیا تو مجھے مکینک کے طور پر بھی نوکری نہیں مل رہی تھی۔ تب سے مَیں نے منشیات اور شراب کے عادی افراد کی نفسیاتی معاونت شروع کر دی۔ میں ان لوگوں سے جنگ کے دوران اپنی غلطیوں کے بارے میں بات کرتا تھا، جس پر مجھے بہت افسوس تھا۔ جو کچھ قید خانے میں ہمارے ہاتھوں ہوا، وہ ہولناک تھا، مگر ہم لوگوں نے اس سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔تاہم، بہت سے لوگ اب ان زخموں کا درد محسوس کرتے ہیں۔ ابوغریب کے قیدی علی القیسی نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ: ’’اس تشدد نے ہماری شخصیت کو کچل دیا ہے‘‘۔
سیوٹس کا کہنا ہے کہ: ’’ابوغریب نے ملک کو کچھ حد تک بدل دیا ہے۔ ۲۰۰۹ءمیں صدراوباما نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد اس نوعیت کے تشدد پر پابندی عائد کر دی تھی اور نئے قوانین وضع کیے، جن کے تحت تشدد کرنے والوں کو، چاہے وہ حکومت یا ٹھیکے پر فوج کے کام کر رہے ہوں، انھیں جواب دہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کے علَم بردار یہ کہتے ہیں کہ قوانین اور حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کے بعد بھی لوگ قیدیوں پر پہلے سے زیادہ تشدد کے حق میں ہیں‘‘۔
ابوغریب کی دہلا دینے والی تصاویر شرم ناک تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ دھندلی پڑ گئی ہیں۔ ان تصاویر کی وسیع پیمانے پر مذمت کے باوجود، حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ’پراجیکٹ گورنمنٹ‘ اور ’سائٹ‘ کی اہل کار کیتھرین ہاکنز کا کہنا ہے کہ: ’’تفتیش کے لیے پُرتشدد حربوں کے بارے میں لوگوں سے سوال پوچھا گیا تو اکثریت نے ان کے حق میں راے دی‘‘۔اسی طرح تازہ ترین راے عامہ کے جائزے کے مطابق: ’’دو تہائی امریکی، ایسے تشدد کو درست (justified) سمجھتے ہیں‘‘۔ صدر بش کی حکومت میں بحریہ کے جنرل کونسل کے عہدے پر رہنے والے ایل برٹو مورا کا کہنا ہے: ’’تشدد کو آپ تاریخ میں دفن نہیں کر سکتے، اس کی گونج باقی رہتی ہے‘‘۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۲۰۱۶ءمیں اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ :’’اگر مَیں صدر منتخب ہوگیا تو ’واٹر بورڈنگ‘ ' جیسے تفتیشی حربوں پر سے پابندی اٹھا لوں گا اور ایسے طریقوں کی اجازت دے دوں گا، جو ’واٹر بورڈنگ‘ { FR 645 } سے کہیں زیادہ ہولناک ہیں‘‘۔ تاہم، انتخابات میں کامیابی کے بعد ٹرمپ نے اپنا موقف تبدیل کیا اور کہا: ’’میں یہ فیصلہ اپنے وزیر دفاع جیمز میٹس پر چھوڑتا ہوں، جس کے خیال میں تشدد کرنا کوئی اچھی بات نہیں‘‘۔
امریکی قومی سلامتی کے نئے مشیر جان بولٹن نے حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ: ’’امریکیوں کو تشدد کے تمام طریقے استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اور کسی قیدی سے معلومات حاصل کرنے کے لیے میں '’واٹر بورڈنگ‘ ' کو دوبارہ رائج کرنے کے خیال پر غور کر سکتا ہوں‘‘۔
سی آئی اے کی نئی ڈائریکٹر جینا ہیسپل ایسے ہی ایک تشدد آمیز حراستی مرکز کی نگران رہ چکی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا خیال تھا کہ وہ بش حکومت کے دور میں تفتیش کے لیے پُرتشدد طریقے استعمال کرنے کے پروگرام میں شامل رہنے کی وجہ سے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے موزوں امیدوار نہیں۔مگر صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پیغام میں کہا: ’’اس خطرناک دُور میں ہمیں ایک موزوں ترین شخصیت میسر ہے۔ یہ ایک عورت، جسے ڈیموکریٹ نہیں چاہتے‘‘۔ جیناہیسپل نے اپنی نامزدگی کی سماعت میں وعدہ کیا ہے: ’’میں پُرتشدد طریقوں کو شروع نہیں کروں گی کہ یہ غلط طریقہ تھا‘‘۔
ابوغریب جیل اسکینڈل کے سامنے آنے کے تقریباً ۱۵سال بعد ایل برٹومورا کا کہنا ہے کہ: ’’سیوٹس کے خیال کے برعکس میرے خیال میں امریکا میں لوگوں کے دلوں میں کوئی نرم دلی پیدا نہیں ہوئی‘‘۔ایل برٹو مورا نے امریکی صدر اور کئی دوسرے سیاست دانوں کے اُن بیانات کی طرف اشارہ کیا، جن میں اُنھوں نے تشدد کے حق میں بات کی تھی۔ اگرچہ ابھی تشدد کے خلاف قانون موجود ہے، لیکن ایل برٹو مورا کا خیال ہے کہ: ’’اگر امریکا عراق کی جنگ کی طرح کسی اور جنگ میں اُلجھ گیا، تو وہ دوبارہ پُرتشدد طریقوں پر اتر آئے گا۔ ابوغریب سے یہی اُجاگر ہوتا ہے۔ ابوغریب اگر غلطی سرزد ہونے کی ایک مثال تھی، تو پھر اس ظلم (cruelty)کو دُہرائے جانے کی بھی بنیاد ہے‘‘۔[ماخذ: بی بی سی، امریکا /کینیڈا، ۱۶مئی ۲۰۱۸ء۔ اُردو ترجمہ: ادارہ]
۱۶برس بیت چکےہیں مگربھارتی ریاست گجرات میں ۲۰۰۲ء کے مسلمان متاثرین کے لیے ’فسادات‘ جیسے کہ ابھی تھمے نہیں ہیں۔کتنی ہی قانونی لڑائیاں لڑی جاچکی ہیں،کتنے ہی برباد شدہ مظلومین انصاف کی تلاش میں دَر دَر کی ٹھوکریں کھاکر خاموش بیٹھ گئے ہیں۔جنھیں فسادات میں ملوث ہونے پر سزائیں دی گئی تھیں، ان میں سے کتنے ہی اب ’آزاد ‘فضا میں سانس لے رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں نروڈا پاٹیا (Naroda Patiya) میں ہولناک قتل عام کی مجرمہ گجرات کی سابق وزیر براے ترقی اطفال و نسواں، ڈاکٹر مایاکوڈنانی کو رہائی ملی ہے۔سیشن کورٹ نے کوڈنانی کو ۹۶مسلمانوں کے قتل عام کے لیے مجرم قرار دیاتھا، مگر گجرات ہائی کورٹ کو کوڈنانی کے ہاتھوں پرکسی مسلمان کے خون کے دھبے نظرہی نہیں آئے۔ رہے وہ بڑے سیاست دان، اعلیٰ پولیس افسراور اُونچے عہدوں پر فائز نوکرشاہی، جو گجرات میں ۲۸ فروری ۲۰۰۲ء کے مسلم کش فسادات کے منصوبہ ساز اورسازشی تھے،تووہ بھی تمام الزامات سے بچ نکلے ہیں۔
ان بنیادی سوالات کے جواب گجرات سے انڈین پولیس سروس (IPS) کے ایک اعلیٰ سابق افسر آربی سری کمار کی کتاب Gujrat Behind The Curtain (پس پردۂ گجرات) میں بڑی وضاحت کے ساتھ دیے گئے ہیں۔سری کمار کاکہنا ہے کہ مجرموں اورفسادیوں کو بچانے کے لیے قانون سے کھلواڑکیاگیا ، قانون کو توڑا مروڑا گیا اورجن ہاتھوں میں نظم ونسق کی ذمہ داری تھی، سیاسی آقاؤں نے انھی ہاتھوں کو یہ ذمہ داری سونپ دی کہ مجرموں اورفسادیوں کو بچانے کے لیے وہ جیسے بھی چاہیں قانون کی دھجیاں اڑائیں۔
آربی سری کمارفسادات کے ایام میں گجرات میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے منصب پر فائز تھے۔وہ محکمہ خفیہ کے سربراہ تھے۔جب انھوں نے یہ دیکھا کہ فسادات دانستہ کرائے جا رہے ہیں،منصوبہ بند ہیں اورساری سرکاری مشینری کا استعمال مسلمانوں کے خلاف کیا جارہاہے اور اس میں سرکاری افسر اور پولیس افسر سبھی، نریندر مودی کی حکومت کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں، تب انھوں نے آواز اٹھائی۔ اُس وقت ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندرمودی کو للکارا، اور بلاخوف و خطر فسادیوں کو بے نقاب کرنے کی مہم شروع کی۔ نتیجہ یہ کہ انھیں سرکاری عتاب جھیلنا پڑا،انتقامی تبادلے کے عذاب سے وہ گزرے، مقدمہ ہوا، مگرانھوں نے سچ سے منہ نہیں موڑا اور آج تک وہ ’گجرات۲۰۰۲ء‘ کی لڑائی لڑرہے ہیں۔
سری کمار نے انگریزی کتاب میں Gujrat Behind The Curtain لکھی۔ ہندی کے علاوہ اس کا اُردوترجمہ پس پردۂ گجرات کے نام سے ۱۳؍اپریل ۲۰۱۸ء کو ’فاروس میڈیا‘ نئی دہلی (ترجمہ: سیّد منصورآغا)نے شائع کیا ہے۔ ۲۵۰صفحات پر مشتمل یہ کتاب ۲۵۰بھارتی روپوں میں دستیاب ہے [برقی پتا:books@pharosmedia.com ]۔ کتاب کی بنیادان دوحقائق پر رکھی گئی ہے جسے سنگھی ٹولہ ابتدا ہی سے جھٹلاتا آرہاہے۔ایک تویہ کہ ’فسادات منصوبہ بند تھے ‘اور دوسرا یہ کہ’فسادیوں اورمجرموں کو بچانے کے لیے سرکاری مشنری کاغیر قانونی اورغیرآئینی استعمال کیاگیاـ‘۔
کتاب ۱۳؍ ابواب پر مشتمل ہے۔دوضمیمے اورایک’پیش لفظ‘ہے، جس میں آربی سری کمار نے کتاب لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے لکھاہے:’’ نہایت سفاکانہ، اقلیت کش تشددکی دل خراش وارداتوں کے مناظردیکھنے کے بعد میں نے تہیہ کرلیاتھا کہ میں اس تشددکے بارے میں ریاستی حکومت اوراس کے پیروکاربی جے پی کیمپ کی اس گمراہ کن تشہیر کو بے نقاب کروں گا کہ یہ سنگ دلانہ واقعات ہندوؤں کے ’اچانک بھڑک اٹھنے والے جذبات اورغیرمربوط واقعات‘ کانتیجہ تھے۔
’پیش لفظ‘ میں مصنّف سپریم کورٹ کی قائم کردہ ایس آئی ٹی (خصوصی تحقیقاتی ٹیم) اور کانگریس کاذکر کرتے ہیں: ایس آئی ٹی نے گجرات پولیس کی بی ٹیم کی طرح کام کیا اورذکیہ جعفری کی شکایت میں نامزد تمام ۶۲ ملزمان کو اپنی طویل رپورٹ میں پروانۂ بے گناہی عطا کردیا… کانگریس پارٹی اوراس کی سربراہی میں مرکزی حکومت کم سے کم ان امیدوں اورتوقعات کو بالکل بھی پورا نہیں کر سکیں جو فساد زدگان اورحقوقِ انسانی کے کارکنوں کو ان سے تھیں… سماج وادی حکومت نے بھی یوپی پولیس کے ان اہلکاروں سے شہادتیں حاصل کرنے کےلیے کچھ نہیں کیا، جو فروری ۲۰۰۲ء میں گجرات سے آنے والے رام بھگتوں اورکارسیوکوں کے جتھوں کی ایودھیا سے واپسی کے دوران ان کے ساتھ بھیجے گئے تھے اورگودھرا میں ٹرین آتشزدگی کے چشم دیدگواہ تھے‘‘۔
کتاب کے پہلے باب میں آربی سری کمار نے فسادات کی منصوبہ بندی کی تفصیلات پیش کی ہیں کہ: کیسے مشترکہ آبادیوں میں ہندوؤں کے مکانات اوردیگر املاک کی شناخت کے لیے ان پر کسی دیوی دیوتا کی تصویر بنا دی گئی، یامورتی نصب کردی گئی یا’اوم‘اور’سواستیکا‘کا نشان بنادیاگیا،تاکہ ’سنگھ پریوار‘ کے فسادی آسانی سے مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنا سکیں۔
دوسرے باب میں گودھرا ٹرین سانحے اورفسادات کاتفصیلی ذکر کیا ہے کہ: ’’۲۸فروری ۲۰۰۲ء کو وہ محافظ دستے کے ساتھ احمدآباد کی اپنی رہایش گاہ سے گاندھی نگر اپنے دفتر جا رہے تھے، تب مسلح ہجوم مسلم مخالف نعرے لگا رہاتھا اورپولیس غیر فعال اورخاموش تماشائی بنی ہوئی تھی‘‘۔ اس باب کاایک اہم حصہ ڈی جی پی کے چکرورتی سے ملاقات کی تفصیل پر مشتمل ہے: ’’ڈی جی پی مسٹر چکرورتی نے یہ ذکر بھی کیاکہ گودھرا سے واپس لوٹ کر ۲۷فروری کی دیر شام وزیر اعلیٰ (نریندرمودی)نے اپنی رہایش گاہ پر اعلیٰ افسران کی ایک میٹنگ طلب کی، جس میں انھوں نے کہا کہ عام طور سے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران پولیس ہندوؤں اورمسلمانو ں کے خلاف برابر کارروائی کرتی ہے،اب یہ نہیں چلے گا،ہندوؤں کوغصہ نکالنے کاموقع دیا جائے‘‘۔
آربی سری کمار فسادات روکنے،مسلمانوں کے اعتماد کو بحال کرنے اورمجرموں وفسادیوں کے خلاف کارروائی کرنے سے متعلق اپنی ان تدابیر وتجاویز کابھی ذکر کرتے ہیں، جن پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ چوتھے باب’گمراہ کن اطلاعات پر حق کی فتح‘میں چیف الیکشن کمشنر کے سامنے سرکاری دباؤمیں آئے بغیر، گجرات کی حقیقی صورتِ حال کی تفصیلات اورا س کے نتیجے میں اپنے خلاف سرکار کی انتقامی کارروائی کابھی ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’۲۰۰۲ء کے فسادات میں حکام کے مجرمانہ کردار کی شہادت، جن تین آئی پی ایس افسران راقم، راہل شرمااورسنجیو بھٹ نے کھل کر دی تھی، وہ ابھی تک انتقامی عتاب جھیل رہے ہیں، جب کہ دوانسپکٹروں کے علاوہ کسی کے خلاف فسادات میں مجرمانہ کردار ادا کرنے کے معاملے میں نہ توجرمانہ عائد کیا گیا اورنہ کوئی محکمہ جاتی کارروائی ہوئی‘۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر ڈاکٹرآرکے راگھون کی سربراہی میں بنائی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی)کو وہ ’خصوصی مدافعتی ٹیم‘کہہ کر اس کی کارکردگی اور غیرجانب داری پر سوالیہ نشان اُٹھاتے ہیں: ’’ذکیہ جعفری کی شکایت پر ایس آئی ٹی کلووزر رپورٹ ۲۶دسمبر ۲۰۱۳ءکو منظور کی گئی۔ یہ رپورٹ نہایت ناقص اورکھوکھلی ہے‘‘۔ سری کمار کے مطابق: ’’ذکیہ جعفری کی شکایت میں وزیر اعلیٰ (نریندرمودی) اور۶۲ دیگر ملزمان کو نسل کشی کے جرائم اورفساد زدگان کے لیے انصاف کی راہ روکنے کی غرض سے کریمنل جسٹس سسٹم میں ہیرا پھیری کے الزام اوراپنی انتظامی اورقانونی ذمہ داری ادا نہ کرنے کی بابت جواب دہی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایس آئی ٹی نے دلائل کا جو حصار کھڑا کیا ہے،وہ انتہائی بودا ہے‘‘۔یہاں پر مصنّف نے کلووزررپورٹ کی خامیوں کو بھی فرداً فرداً گنوایا ہے۔
کتاب میں آربی سری کمار نے ایک بہت اہم اور بنیادی سوال اٹھایاہے؟’’۱۹۸۴ء کے سکھ مخالف فسادات کے چشم دید گواہ سکھ افسران نے، اور پھر۲۰۰۲ء کے گجرا ت قتل عام کے بعدمسلم افسروں واہل کاروں نے تفتیش کنندگان کے سامنے فساد کی سازش رچانے والے اور اس کا نفاذکرنے اورکرانے والے اعلیٰ سیاسی،انتظامی اورپولیس اہل کاروں کے خلاف سچی اور حقائق پر مبنی گواہی کیوں نہیں دی؟ وہ بتاتے ہیں: ’’چھے مسلم آئی اے ایس اورسات آئی پی ایس افسران دہلی کے سکھ افسران کی طرح اجتماعی کارپردازوں کے بارے میں قطعی خاموش رہے‘‘۔
ایک واقعہ،جو نروڈاپاٹیاقتل عام کاہے، اس کاسری کمار نے بڑا دل گداز ذکر کیاہے۔اسے پڑھ کر یہ سوال اٹھتاہے کہ صرف مایاکوڈنانی ہی کیوں، کیا وہ مسلم افسران بھی مجرم نہیں ہیں، جنھوں نے ’قتل عام‘کو ممکن ہونے دیا؟سری کمار تحریر کرتے ہیں: ۲۸فروری کی شام کے وقت جب میں آفس میں تھا، خورشید احمد(آئی پی ایس بیج نمبر۱۹۹۱)نے مجھے فون پر اطلاع دی کہ تقریباً ۴۰۰مسلم خاندان جو فسادیوں کی زدپرہیں، سیجاپورکے محفوظ کمانڈہیڈکوارٹر میں پناہ مانگ رہے ہیں۔مسٹر خورشید اس کمانڈہیڈکوارٹر کے کمانڈنٹ تھے جو کہ نروڈاپاٹیا سے متصل ہے، جہاں اس روز شام تک ۹۶مسلمانوںکو قتل کیاگیا۔کمانڈہیڈکوارٹرمحفوظ چار دیواری کے اندرہے اورمحافظ اس کی حفاظت پر تعینات رہتے ہیں۔وہ ان عام باشندوں کو ایس آرپی بٹالین ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے کے لیے واضح اجازت چاہتے تھے۔میں نے ان کو فوراًفیکس پر یہ ہدایت بھیج دی تھی کہ جو لوگ حفاظت کی خاطر اندرآناچاہتے ہیں انھیں آنے دیا جائے اوران کو خالی بیرکوں میں جگہ دے دی جائے۔ درحقیقت کمانڈنٹ مسٹرخورشید اوران کے نائب ڈی وائی ایس پی مسٹرقریشی ان مسلمانوں کو، جن کی جانیں یقینی طور سے خطرے میں تھیں کیمپ کے اندرداخل ہونے کی اجازت دینے کے جوکھم سے گھبرائے ہوئے تھے۔میں نے ان کو یقین واطمینان دلایا کہ: ’’میرے تحریری حکم پر عمل کرنے میں ان پر کوئی الزام نہیں آئے گا‘‘۔بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میرے تحریری حکم نامے کے باوجود کمانڈنٹ مسٹر خورشید احمد نے پناہ کے لیے منت سماجت کرتے بے سہارا، مظلوم اور نہتے مسلمانوں کو کیمپ میں داخلے کی اجازت نہیں دی تھی۔اطلاع یہ ہے کہ اس دن شام کو نروڈاپاٹیا میں جن ۹۶مسلمانوں کابہیمانہ قتل ہوا، یہ انھی میں سے تھے، جن کو کیمپ کے اندرپناہ دینے سے منع کردیاگیاتھا۔
بعد میں خورشید احمد سورت کے ڈپٹی کمشنر بنے۔ان کی اہلیہ شمیمہ(آئی اے ایس)ولساڈکی ضلع ڈویلپمنٹ افسراورسریندرنگرکی ضلع کلکٹربنیں۔اورڈپٹی کمانڈنٹ قریشی کو’امتیازی خدمات کے لیے صدرجمہوریہ ہند کا’پولس میڈل‘ملا۔اسی طرح دوسرے آئی پی ایس ،آئی اے سیداے ڈی جی پی بنائے گئے۔انھوں نے نریندر مودی کے لیے خوب کام کیا تھا اور پھر یہ بعد میں بی جے پی میں بھی شامل ہوئے۔ایک اورمسلم افسربعد میں مودی کے دفتر میں مشیر کے عہدے پر متمکن ہوئے۔
سری کمار نے ایسے ہی کئی اعلیٰ افسروں کے نام گنوائے ہیں، جنھیں فسادات کے دوران خون سے رنگے ہاتھوں ملزمان کو بچانے کے لیے ’انعام‘دیاگیا۔مزید ان افسران کے نام بھی گنوائے ہیں، جنھیں سچ بولنے پر سزا دی گئی۔ مصنف اپنے ذاتی مشاہدات اورسرکاری دستاویزات کو بطورثبوت استعمال کرکے ان چہروں کو بے نقاب کرنے میں پوری طرح سے کامیاب ہوئے ہیں جو ’گجرات ۲۰۰۲ء‘ کے فسادات کے منصوبہ ساز بھی تھے اورسازشی بھی۔ان میں اعلیٰ سرکاری افسران ہیں،پولیس افسران ہیں اورچوٹی کے سیاست دان ہیں۔سری کمار کی یہ دستاویزی کتاب مقننہ اور عاملہ کے شرمناک گٹھ جوڑ کو اُجاگرکرنے میں پوری طرح سے کامیاب ہے۔
جماعت اسلامی کے نزدیک پاکستان میں دراصل کسر اس چیز کی نہیں ہے کہ یہاں خدا اور آخرت اور رسالت کے ماننے والوں کی کمی ہے، بلکہ کمی اس چیز کی ہے کہ جس حق کو یہاں کے باشندوں کی اکثریت مانتی ہے وہ عملاً نافذ ہو، اور اسی پر ہمارے ملک کا پورا نظامِ زندگی قائم ہو۔ یہ کوئی معمولی کسر نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی کسر ہے، کیوں کہ اسی کی وجہ سے ہمارا یہ ملک ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود نہ اسلام کی نعمتوں اور برکتوں سے خود فائدہ اُٹھا رہا ہے، نہ دُنیا کے لیے اسلام کی حقانیت کا گواہ بن رہا ہے۔ اور یہ کسر اس لحاظ سے بھی کوئی ہلکی کسر نہیں ہے کہ اسے پورا کر دینا آسان ہو۔ اس کی پشت پر بہت سے طاقت ور اسباب ہیں، جنھیں سخت جدوجہد ہی کے بعد دُور کیا جاسکتا ہے:
ان سب پر مزید یہ کہ انگریز کے رخصت ہو جانے کے بعد جن لوگوں کے ہاتھ میں ہماری قومی زندگی کی باگیں آئی ہیں، اور جن کو اس نوخیز ریاست کی تعمیروتشکیل کے اختیارات ملے ہیں، وہ اگرچہ اسلام ہی کا نام لے کر برسرِاقتدار آئے ہیں، اسلامی دستور کا حلف لے کر ہی حکومت کی کرسیوںپر بیٹھے ہیں، اور دعویٰ یہی کرتے ہیں کہ ہم یہاں اسلام کے مطابق کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن نہ تو وہ اسلام کو جانتے ہیں ، نہ ان کی اپنی زندگیاں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ وہ اسلام کے طریقے پر خود عامل ہیں، اور نہ ان کا اب تک کا طرزِعمل یہ اُمید دلاتاہے کہ ان کے ہاتھوں یہ ملک کبھی فرنگیت کے راستے سے ہٹ کر اسلام کے راستے پر چل سکے گا۔
یہ ہیں وہ بڑے بڑے بنیادی اسباب، جن کی وجہ سے پاکستان میں اس کسر کو پورا کر دینا کوئی آسان کام نہیں ہے کہ یہاں کے باشندوں کی اکثریت جس چیز کو حق جانتی اور مانتی ہے، وہ یہاں عملاً نافذ ہو اور اسی پر یہاں کا پورا نظامِ زندگی قائم ہو۔([سیّدابوالاعلیٰ مودودی] ماہنامہ ترجمان القرآن، جلد۵۰، عدد۳، رمضان ۱۳۷۷ھ/ جون ۱۹۵۸ء،ص ۱۸-۱۹)
دو مختلف نظاموں میں کچھ چیزیں مشترک ہوتے ہوئے بھی، وہ الگ الگ نظام ہوتے ہیں۔ ان دونوں نظاموں کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں بیش تر چیزیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہوں، مگر اس کے باوجود ہم انھیں ایک نظام نہیں کہہ سکتے۔ دو مختلف نظاموں کا کسی ایک یا چند اُمور میں ایک دوسرے سے متفق ہو جانا بھی کبھی اُن کے ایک ہونے کی دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہی حال اسلام اور مغربی جمہوریت کا ہے۔
اس ضمن میں یہ چیز ذہن نشین رہے کہ کسی نظام کا اصل جوہر طریق نہیں بلکہ وہ اصولی و مقصدی روح ہوتی ہے، جو اُس کے اندر جاری و ساری رہتی ہے اور اسی روح کے متعلق ہم حکم لگاسکتے ہیں۔
(الف) مغربی جمہوریت میں حاکمیت جمہور کی ہوتی ہے اور اسلام میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مغربی جمہوریت میں کسی چیز کے حق و ناحق کا فیصلہ کرنے کا آخری اختیار اکثریت کو حاصل ہے ، مگر اسلام میں یہ حق صرف باری تعالیٰ کو پہنچتا ہے، جس نے اپنا آخری منشا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیا پر واضح فرما دیا۔ یہ اختلاف کوئی معمولی نہیں بلکہ اس کی بنا پر یہ دونوں نظام بنیادوں سے لے کر کاخ و ایوان تک ایک دوسرے سے مختلف ہوجاتے ہیں۔
(ب) اسلامی جمہوریت میں خلافت ایک امانت ہے، جو ہرمسلمان کو سونپی جاتی ہے، اور تمام مسلمان محض انتظامی سہولت کے لیے اُسے ارباب حل و عقد کے سپرد کردیتے ہیں۔ مغربی جمہوریت میں اصحابِ اقتدار صرف اپنی پارٹی [یا منتخب ایوان] کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی ریاست میں عوام کے نمایندے خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔
(ج) یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ اسلامی نظام صرف ایک طریق انتخاب تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے سارے معاملات میں اپنا ایک مخصوص نقطۂ نظر اور زاویۂ نگاہ پیش کرتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسولؐ اللہ کو آخری سند مان کر اپنی پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے___ پاکستان میں ’قراردادِ مقاصد‘ کے ذریعے اس اصول کو تسلیم تو کیا گیا ہے، مگر افسوس کہ اس کے نفاذ کے راستے میں ہرطرح کی رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ (’رسائل و مسائل‘ [پروفیسر عبدالحمید صدیقی]، ترجمان القرآن، جلد۴۹، عدد۳، ربیع الاوّل ۱۳۷۷ھ، دسمبر ۱۹۵۷ء،ص ۱۸۳-۱۸۴)