مضامین کی فہرست


اپریل ۲۰۲۳

کووڈ کا قہر کسی حد تک کم تو ہوا ہے، لیکن ابھی تک ہم میں سے بہت سے لوگ اس سے ملنے والے اندوہ ناک دردوغم سے اُبھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمارے اس لیکچر کا موضوع ہے  Things That Can & Cannot Be Said [’کہی جانے اور نہ کہی جاسکنے والی باتیں‘]۔  یہ میری ایک مختصر سی کتاب کانام ہے، جو میں نے جان کیوسک (John Cusack)کے ساتھ مل کرلکھی ۔یہ روس کے ایک سفر کی تفصیل پر مشتمل ہے، جو ۲۰۱۳ء میں ہم نے ماسکومیں موجود ایڈورڈ اسنوڈین (Edward Snowden) سے ملاقات کے لیے کیا تھا۔

یہاں پر یہ واضح کردوں کہ ایڈورڈ اسنوڈین، جنگی جرائم کو بے نقاب کرنے والے وہ مشہور صحافی تھے، جنھوں نے ’ویت نام جنگ‘ [۷۵-۱۹۵۵ء] کے دوران امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) کی تواتر سے کی گئی دروغ گوئی کو دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ دنیا کے سامنے اُجاگر کیا تھا۔

اسنوڈین نے برسوں پہلے خبردار کر دیا تھا کہ ہم بالکل بے خبری کی حالت میں،جیسے کوئی نیند میں چل رہا ہو، آہستہ آہستہ جبر و قہر کے ساتھ نگرانی کرنے والی ریاستوں (Surveillance)  کے دور میں اپنے ایک نہایت عزیز چھوٹے سے دوست، موبائل فون کے ساتھ داخل ہورہے ہیں۔ یہ چھوٹا سا ہمارا دوست اب ہمارے جسم کے ایک اہم عضو (Vital Organ)کی طرح، ہماری زندگی کا ایک حصہ بن گیا ہے۔

یہ موبائل فون ہر وقت ہماری نگرانی کرتا رہتا ہے اور ہماری پل پل کی نہایت ذاتی حرکات و سکنات تک کی مسلسل ترسیل کرتا رہتا ہے اور انھیں ریکارڈ کرتا رہتا ہے، تاکہ ہر وقت ہماری نگرانی کی جاسکے، اور بہ آسانی ہمارا تعاقب کیا جاسکے۔ اس طرح ہم پر مکمل قابو حاصل کر کے ہم کو کسی بھی شک و شبہے سے بالاتر ایک معیاری قسم کا ’فرماں بردار‘ پالتوبنایا جاسکے۔ یہ صرف حکومتیں ہی نہیں کر رہی ہیں بلکہ ہم سب بھی ایک دوسرے کے ساتھ کر رہے ہیں۔

تصور کیجیے کہ اگر آپ کا جگر یا پِتّاصحیح کام نہیں کر رہا ہے تو ڈاکٹر آپ سے یہی کہے گا کہ آپ ایک موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ بس سمجھ لیجیے کہ ہماری یہی حالت ہے۔ اب ہم اپنے اس دوست نمادشمن ’فون‘ کے بغیر تو کچھ نہیں کر سکتے، لیکن یہ ستم گر ہمارے اندر سب کچھ کر رہا ہے۔ میں آج اپنی بات ’کہی جانے اور نہ کہی جا سکنے‘ والی باتوں سے شروع کروں گی اور اُس کے بعد اپنی اس جانی پہچانی اور خوب صورت دنیا کے بکھرنے کا ذکر کروں گی۔

یہ سال اُن لوگوں کے لیے بدتر تھا، جنھوں نے وہ باتیں کہی تھیں یا کی تھیں،جن کا کہنا یا کرنا منع تھا۔ اس دوران ہندستان کی جنوبی ریاست کرناٹک میں اسکول میں پڑھنے والی مسلم بچیوں نے اپنی مسلم شناخت کے ساتھ جب اپنے کلاس روم میں حجاب پہنا تو شدت پسند ہندوؤں نے اُن کو جسمانی طور پرہراساں کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہندو اور مسلمان صدیوں سے مل جل کر رہتے چلے آرہے ہیں، لیکن حال ہی میں انتہائی خطرناک حد تک یہ سب تقسیم اور متحارب (polarise) ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف ایران میں ۲۲سالہ مہسا امینی ’گشت ارشاد‘ (اخلاقی پولیس) کی حراست میں قتل ہو گئی کہ اس نے حکومت کی ہدایت کے مطابق اسکارف نہیں پہنا تھا۔ اس کے بعد جو احتجاجی مظاہرے ہوئے، ان میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں۔

ان دونوں واقعات — میں دو متضاد باتیں نظر آتی ہیں۔ عورتوں کو زبردستی حجاب پہننے پر مجبور کرنا،یا حجاب نہ پہننے پر مجبور کرنا دراصل دونوں ہی جبر کے مترادف ہیں۔

اگست میں (شیطانی ہفوات کے مصنف) سلمان رشدی پر نیویارک میں حملہ ہوا، تو امریکا اور یورپ کے سربراہان مملکت نے پوری قوت (robustly) سے رشدی کی حمایت کی، اور بعض نے تو اس موقعے سے فائدہ ا ٹھاتے ہوئے یہ تک بھی کہا ہے کہ His fight is our fight    ’اس کی لڑائی ہماری لڑائی ہے‘۔

اسی دوران جولین اسانژ،جس نے ان ممالک کے اُن فوجیوں کے خوف ناک جرائم کا پردہ فاش کیا تھا، جنھوں نے جنگوں میں لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیاتھا،وہ اس وقت تشویش ناک حد تک خرابیٔ صحت اور بیماری کی حالت میں ’ہزمیجسٹی بیلمارش جیل‘ [لندن] میں قید ہے،اور امریکا کے حوالے کیے جانے کا انتظار کررہا ہے، جہاں اسے موت کی سزا یا عمر قید ہوسکتی ہے۔

لہٰذا ہم کو رشدی پر اس حملے کو ‘تہذیبوں کے تصادم’یا’جمہوریت بمقابلہ تاریکی‘ جیسی فرسودہ اصطلاحات اورکلیشے (Cliche) میں ڈھالنے سے پہلے توقف اور تحمل سے کام لینا ہوگا،کیوں کہ ’آزادیٔ اظہار‘کے نام نہاد ’بشارتی اماموں‘(Evangelists) کی سربراہی میں کیے گئے حملوں میں تو لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ان لاکھوں میں ہزاروں ادیب و شاعر اور دوسرے فنکار بھی شامل ہیں۔

جہاں تک بھارت سے خبروں کا تعلق ہے،تو جون ۲۰۲۲ء میں، یہاں کی برسرِ اقتدار ہندو نیشنلسٹ پارٹی،بی جےپی کی ترجمان نُوپور شرما نے،جوکبھی ٹی وی کے ٹاک شو ز میں مستقل اپنے تحکمانہ اوردھمکانے والے انداز کے ساتھ نظر آتی تھی، اس نےپیغمبر اسلام [صلی اللہ علیہ وسلم] کے خلاف نہایت ہی غیرمناسب تبصرے کیے تھے،جن کا واحدمقصد صرف جذبات کو بھڑکانا ہی تھا، جس پر بین الاقوامی طور پر کافی شور مچا تو اس کے بعد وہ پبلک لائف سے غائب ہوگئی۔ اس کے بعد کچھ مسلمانوں نے ’سر تن سے جدا‘کے نعرے لگائے اور انڈین نسل پرست حکومت سے ’اہانت رسول‘ کا قانون پاس کرنے کا مطالبہ شروع کیا۔ شاید ان [مسلمانوں]کو اس بات کا احساس نہیں تھا کہ [مودی] حکومت کے لیے یہ تصادم کی فضا کس قدر خوشی کا باعث ہوسکتی ہے۔

گذشتہ مہینے مَیں بنگلور میں اپنی دوست لنکیش (Gauri Lankesh) کے قتل کی پانچویں برسی پر اپنے تاثرات کا اظہار کرنے کے لیے گئی تھی۔وہ ایک صحافی تھیں، جن کو ان کے گھر کے باہر،ہندو شدت پسندوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ان کا قتل،ان متعدد ہلاکتوں میں سے ایک تھا، جوغالباً ایک ہی بدنام گروہ نے انجام دیے تھے۔ اسی طرح ڈاکٹر نریندر دابھولکر (Dabholkar) جو ایک مشہور معالج ہونے کے ساتھ مشہور و معروف دانش ور بھی تھے، ان کو۲۰۱۳ء میں گولی مار کر ہلاک کیاگیا تھا۔کامریڈ گووند پانسرے (Pansare)،جو ایک ادیب تھے ان کو۲۰۱۵ء میں گولی مار ی گئی تھی، اور کنّڑزبان کے ماہر پروفیسر ایم ایم کلبرگی (Kalburgi)کو اسی سال اگست میں گولی ماری گئی تھی۔

صرف قتل کرنا ہی سینسر شپ کا واحد طریقہ نہیں ہے، جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ ہمیں صرف حکومت کی طرف سے ہی نہیں بلکہ سڑکوں پر ہجوم کے ذریعے، سوشل میڈیا پرٹرولنگ کے ذریعے اور ستم ظریفی یہ کہ خود میڈیا کے ذریعے نشانہ بھی بنایا جاتاہے۔

انڈیا کے سیکڑوں ٹی وی نیوزچینل جو ہفتے میں سات دن اور ۲۴گھنٹے نشریات پیش کرتے ہیں، جنھیں ہم اکثر ’ریڈیو روانڈا‘کہتے ہیں،اُن پر ہمارے بے لگام ٹی وی اینکرزمسلمانوں اور ’ہندوتوا‘ کے سامنے کھڑے ہونے والے لوگوں کے خلاف نہایت غصے میں چیختے، چلّاتے، بھڑکاتے نظر آتے ہیں اور سوال کرنے یا کسی طرح کا اختلاف کرنے والوں کو برطرف کرنے، گرفتار کرنے اور سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ان لوگوں نے بغیر کسی جوابدہی کے، بعض لوگوں کی زندگی کو اور ان کی ساکھ کو پوری طرح سے تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے۔سماجی کارکن،شاعر، ادیب، دانش ور، صحافی، وکیل اور طلبہ تقریباً ہرروز گرفتار کیے جارہے ہیں۔

جہاں تک کشمیر کا سوال ہے، اس سے متعلق وادی سے کوئی خبر باہر نہیں آسکتی، کیونکہ وہ ایک وسیع و عریض جیل (Giant Prison) کی مانند ہے۔ جلد ہی وہاں شہریوں سے زیادہ فوجی نظر آسکتے ہیں۔کشمیریوں کی کوئی بھی خبر،چاہے وہ نجی ہو یا عوامی، دُنیا کے سامنے نہیں آسکتی۔ یہاں تک کہ ان بے نوائوں کی سانسوں کی ردھم تک پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔وہاں اسکولوں میں گاندھی سے محبت کے پیغام کی آڑ میں،مسلمان بچوں کو ہندو دھارمک بھجن گانے کی تعلیم دی جارہی ہے۔

آج کل جب کبھی میں کشمیر کے بارے میں سوچتی ہوں تو نہ جانے کیوں، مجھ کو یاد آتا ہے کہ بہت سی جگہوں پر تربوز کو چوکور سانچوں میں اُگایا جا رہا ہے، تاکہ وہ گول ہونے کے بجائے چوکور ہوں، جن کا ڈھیر لگانے میں آسانی ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر میں بھارتی حکومت، بندوق کی نوک پر یہی تجربہ تربوزوں کے بجائے انسانوں پر کر رہی ہے۔

شمالی ہندستان،یعنی گنگا کی وادی میں،تلواربردار ہندوؤں کی بھیڑ، سادھو ؤں کی قیادت میں، جسے میڈیا بطور مصلحت ’دھرم گُرو‘ [مذہبی قیادت]کہتا ہے، وہ برسرِعام نعرے لگاتی ہے:’’ریاستی استثنا کے ساتھ مسلمانوں کی نسل کشی (Genocide) کی جائے اور مسلم خواتین کےساتھ زنا بالجبر (Rape)کیا جائے‘‘۔

ہم نے دن دہاڑے مُسلم کش (Genocidal) ہجومی قتل و غارت (Mob Lynching) کا مشاہدہ تو بار بار کیاہے، اور اس کے ساتھ ہی تقریباً ایک ہزار مسلمانوں کا قتل عام (غیر سرکاری اندازے کے مطابق مرنے والوں کی تعداد دو ہزار کے قریب تھی)،اور اس سے قبل ۲۰۰۲ء میں گجرات میں اور۲۰۱۳ء میں مظفر نگر میں سیکڑوں [مسلمان] لوگوں کی ہلاکت کے المیے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ دونوں قتل عام انتخابات کے انعقاد سے عین پہلے ہوئے تھے۔

ہم نے دیکھا کہ جس شخص کی صوبائی وزارتِ اعلیٰ کے دوران گجرات میں قتل عام [۲۰۰۲ء] ہواتھا، وہی نریندر مودی،اپنی پوزیشن کو ’ہندوئوں کے دل کا راجا‘ کی حیثیت مستحکم کرنے کے بعد ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ سنبھالنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا۔ جو کچھ المیہ موصوف کے اُس دورِ اقتدار میں ہواتھا، اس کے لیے اس نے کبھی کوئی اظہارافسوس نہیں کیا،اور نہ کبھی کوئی معذرت چاہی۔ ہم نے  تو ہمیشہ موصوف کو خطرناک قسم کے طنزیہ اور مسلم مخالف جملوں اور بیانات سےاپنی سیاسی حیثیت کو چمکاتے ہوئے دیکھا ہے۔

پھر اس سے بڑھ کر المیہ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ملک [انڈیا] کی سب سے اعلیٰ عدالت [سپریم کورٹ] نے انھیں،ہر طرح کی ذمہ داری سے قطعی طور پر بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔ ہمیں یہ دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے کہ،نام نہاد آزاددنیا کے رہنما، انھیں ایک ’جمہوریت پسند سیاست داں‘ کے طور پر گلے لگاتے ہیں۔

 یہ مختصر مضمون اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہےکہ دُنیا کی طاقتوں نے اہلِ فلسطین پر جو مجرمانہ خاموشی اختیار کی تھی اوربالخصوص مسلم ممالک کی حکمران قیادتوں نے اس ضمن میں ظالم طاقتوں کے خلاف بظاہر احتجاجی مگر فی نفسہٖ اعانتِ مجرمانہ کا رویہ اختیار کیا تھا، اسے اللہ کے بھروسے پر فلسطینیوںنے اپنی جدوجہد اور قربانیوں سے ناکام بنا کر مسلسل آگے بڑھنے کا راستہ بنایا۔ یہی ماڈل اہل کشمیر کو اپنانا ہے، جس پر بلاشبہہ وہ کام تو کر رہے ہیں، مگربہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ پاکستان، جس کی یہ ذمہ داری تھی اس کی حکومتیں اس میدان میں اپنی قرار واقعی ذمہ داری ادا نہیں کرسکیں۔ اس لیے لازم ہے کہ کشمیری بھائی اپنی عملی اور سیاسی جدوجہد کے ساتھ ابلاغی محاذ پر سرگرم ہوں۔ (ادارہ)

دُنیا بھر میں فلسطینی اور فلسطینیوں کے حامی کس کے خلاف لڑرہے ہیں، اور اسرائیل کے حامی کس کے لیے لڑ رہے ہیں؟ اس مسئلے کی حقیقت یہ جملہ واضح کر رہا ہے: ’’ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ چیلسیا اور ویسٹ منسٹر ہسپتال نے غزہ کے بچوں کے بنائے ہوئے آرٹ کے فن پاروں کو نمایش سے ہٹا دیا ہے‘‘۔

یہ اسرائیل کے حامی وکیلوں کے گروپ ’یوکے لائرز فار اسرائیل‘ کے ہوم پیج پر شائع ہونے والی ایک خبر کا خلاصہ ہے۔ یہ اس گروپ کا ہی کارنامہ قرار دیا جارہا ہے کہ جس نے مغربی لندن کے ایک ہسپتال کی انتظامیہ کو غزہ کے پناہ گزین بچوں کے تخلیق کردہ آرٹ کے چند فن پاروں کو ہسپتال سے ہٹانے کے لیے کامیابی سے قائل کیا۔

بچوں کے فن پاروں کو ہٹانے کی اپنی مہم کے پیچھے چھپی منطق کی وضاحت کرتے ہوئے، اس گروپ کے ترجمان نے کہا: ’’ہسپتال میں یہودی مریض اس نمایش سے اپنے آپ کو ہدف اور تنقید کا نشانہ سمجھتے تھے‘‘۔ یاد رہے، آرٹ کے چند فن پاروں میں مشرقی یروشلم میں گنبد صخرا کی نمایندگی، فلسطینی پرچم اور دیگر علامتیں تھیں جن سے شاید ہی کسی کو نشانہ بنایا جاسکتا ہو۔ وکلا گروپ کے مذکورہ بالا مضمون میں بعدازاں ترمیم کرکے اس کا جارحانہ خلاصہ ہٹا دیا گیا، حالانکہ یہ اب بھی سوشل میڈیا کے ذریعے سب لوگوں کو میسر ہے۔

یہ کہانی جتنی مضحکہ خیز لگتی ہے، حقیقت میں یہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے دُنیابھر میں شروع کی گئی فلسطین مخالف مہم کا نچوڑ بھی ہے۔ جہاں تک فلسطینیوں کا تعلق ہے، وہ بین الاقوامی قانون میں تسلیم شدہ بنیادی انسانی حقوق، آزادی اور خودمختاری کے لیے لڑ رہے ہیں، جب کہ اسرائیل نواز کیمپ فلسطینیوں کی ہرچیز کے مکمل خاتمے کے لیے لڑ رہا ہے۔

آج کچھ لوگ اسے فلسطینیوں کی ثقافتی نسل کشی یا فلسطینیوں کی نسل کشی کہتے ہیں، جب کہ فلسطینی، اسرائیل کے قیام ہی سے اس اسرائیلی طرزِ عمل سے واقف ہیں۔ درحقیقت اسرائیل اور اس کے سرپرستوں نے جنگ کی حدود کو دُنیا کے کسی بھی حصے میں، خاص طور پر مغربی نصف کرہ تک پھیلا دیا ہے۔ اسرائیل اور یوکے لائرز اور ان کے اتحادیوں کا غیرانسانی سلوک واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے، تاہم صرف یہ گروپ نہیں جو اس الزام کا مستحق ہو۔ یہ وکلا اسرائیلی نوآبادیاتی ثقافت کا تسلسل ہیں جوفلسطینی عوام کے وجود کو سیاسی، صہیونی اور نوآبادیاتی نقطۂ نظر کے ساتھ دیکھتے ہیں، جس میں پناہ گزین معصوم بچوں کا فن بھی شامل ہے، اور اسے اسرائیل کے ’وجود کے لیے خطرہ‘ سمجھتے ہیں۔

کسی ملک کے وجود اور کم عمر معصوم بچوں کے فن کے درمیان تعلق مضحکہ خیز لگتا ہے، مگر یہ دیکھا جاسکتا ہے___ لیکن اس کی اپنی ہی عجیب منطق ہے۔ جب تک ان پناہ گزین بچوں میں خود کو فلسطینی کے طور پر پہچاننے کے لیے خود آگاہی ہے، جب تک وہ ایک فلسطینی کے طور پر شمار ہوتے رہیں گے، ان کی پہچان کا کوئی انکار نہیں کرسکے گا۔ اسی مثال کو دیکھیے کہ لندن کے ایک ہسپتال میں مریض اور عملے کے لیے اسرائیل کے مقابلے میں یہ اجتماعی فلسطینی شناخت بھلانا ممکن نہیں۔

فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے فتح کا مطلب دو بالکل مختلف چیزیں ہیں جنھیں یکجا نہیں کیا جاسکتا۔ فلسطینیوں کے لیے فتح کا مطلب فلسطینی عوام کی آزادی اور وہاں سب بسنے والوں کے لیے برابری ہے، مگر اسرائیل کے لیے فلسطینیوں کے مٹانے کے ذریعے ہی فتح حاصل کی جاسکتی ہے۔ ان فلسطینیوں کے وجود کو مٹادینے میں اسرائیل اپنی کامیابی دیکھتا ہے، جو جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اعتبار سے فلسطینی شناخت کا حصہ ہوں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ چیلسیا اور ویسٹ منسٹر ہسپتال اب فلسطینیوں کی شناخت مٹانے کے اس المناک عمل میں سرگرمی سے شریکِ کار ہیں۔ بالکل اُس طریقے سے جیسے ورجن ایئرلائنز ۲۰۱۸ء میں دبائو کے سامنے جھکی اور جب اس نے اپنے مینو سے ’فلسطینی پکوان‘ ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت مذکورہ کمپنی کی یہ حرکت فلسطینی- اسرائیلی تنازعے کا ایک عجیب واقعہ لگتی تھی، حالانکہ حقیقت میں یہ کہانی اس تنازعے کی اصل نمایندگی کرتی تھی۔

اسرائیل کے لیے ، فلسطین کی جنگ تین بنیادی اُمور کے گرد گھومتی ہے: زمین کا حصول، فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنا، اور تاریخ کو دوبارہ لکھنا۔

پہلا کام تو ۱۹۴۷ء کے بعد نسلی قتل و غارت (cleansing) اور فلسطین کی نوآبادیاتی محکومی کے عمل کے ذریعے حاصل کیاجاچکا ہے۔ نیتن یاہو کی موجودہ انتہاپسند حکومت صرف اس عمل کو حتمی شکل دینے کی اُمید کر رہی ہے۔ دوسرا کام تسلسل کے ساتھ نسلی تطہیر سے زیادہ ہمہ پہلو ہے، اور وہ یہ کہ فلسطینیوں کے بارے میں آگاہی اور ان کی اجتماعی شناخت کو ثقافتی نسل کشی کے ذریعے شناخت سے محروم کرنا ہے ۔تیسرے یہ کہ اسرائیل نے کئی برسوں کی جارحیت کے نتیجے میں تاریخ کو دوبارہ لکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن اب اس کام کے برعکس فلسطینیوں اور ان کے اتحادیوں نے استقامت سے سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت کے ذریعے اسے چیلنج کرنا شروع کیا ہے۔

فلسطینیوں کو ڈیجیٹل میڈیا کے عروج سے بہت زیادہ فائدہ پہنچاہے، جس نے اسرائیلیوں کے سیاسی اور تاریخی بیانیے کی مرکزیت کو ختم کرنے میں حصہ ڈالا ہے۔ کئی عشروں سے اسرائیل اور فلسطین کی تشکیل کے بارے میں عام فہم مرکزی دھارے کو بڑی حد تک اسرائیل کی طرف سے منظور شدہ بیانیہ کے ذریعے کنٹرول کیا گیا تھا۔ جو لوگ اس بیانیہ سے منحرف ہوئے ان پر حملے کیے جاتے اور ان کے تشخص کو مجروح کردیا جاتا اور ہمیشہ ’سامی دشمنی‘ کا الزام لگایا جاتا۔ اگرچہ اب بھی یہ ہتھکنڈے اسرائیل کے ناقدین پر چلائے جارہے ہیں، لیکن اب ان کے نتائج اتنے مؤثر نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر اسرائیل کے لیے یوکے لائرز کی ’خوشی‘ کو بے نقاب کرنے والی ایک ٹویٹ کو ٹویٹر پر آن کی آن میں۲۰ لاکھ لوگوں نے پڑھا اور پھر دُنیا بھر میں لاکھوں مشتعل برطانوی اور سوشل میڈیا صارفین نے ایک مقامی کہانی کو فلسطین اور اسرائیل پر دُنیا بھر میں سب سے زیادہ زیربحث موضوع میں تبدیل کردیا۔ اس طرح بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے وکلا کی ’خوشی‘ میں حصہ نہیں لیا، جس کے نتیجے میں گروپ کو اپنے مضمون پر نظرثانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایک ہی دن میں لاکھوں لوگوں کو فلسطین اور اسرائیل پر ایک بالکل نئے موضوع سے متعارف کرایا گیا: ’ثقافت کو مٹانا‘۔ اس طرح لائرز گروپ کی’فتح‘ ایک مکمل شرمندگی اور پسپائی میں بدل گئی ہے۔

فلسطینی موقف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سوشل میڈیا کے اثرات کی بدولت، اب اسرائیل کی ابتدائی فتوحات کے برعکس اثر ہورہا ہے۔ ایک اور حالیہ مثال ہارورڈ کینیڈی اسکول میں ہیومن رائٹس واچ کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ کو فیلوشپ کی پیش کش واپس لینے کا فیصلہ تھا۔ جنوری میں کینتھ روتھ کی فیلوشپ اس کی اسرائیل پر ماضی کی تنقید کی وجہ سے منسوخ کردی گئی تھی۔ ایک بڑی مہم، جو چھوٹی متبادل میڈیا تنظیموں کی طرف سے شروع کی گئی تھی، اس کے نتیجے میں روتھ کو دنوں میں بحال کردیا گیا۔ یہ اور دیگر معاملات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل پر تنقید کرنا اب کسی کیریئر اور مستقبل کا اختتام نہیں بن رہا، جیساکہ ماضی میں اکثر ہوتا تھا۔

اسرائیل فلسطین پر اپنے قبضے کو کنٹرول کرنے کے لیے پرانے حربے استعمال کرر ہا ہے مگر رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں یہ ناکام رہا ہے کیونکہ وہ روایتی ہتھکنڈے آج کی دُنیا میں کام نہیں کرتے، جہاں معلومات تک رسائی کی مرکزیت ختم کردی گئی ہے اور جہاں کوئی بھی سنسرشپ گفتگو کو کنٹرول نہیں کرسکتی۔

فلسطینیوں کے لیے یہ نئی حقیقت دُنیا بھر میں اپنی حمایت کا دائرہ وسیع کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔ اسرائیل کے لیے، مشن ایک غیر یقینی ہے،خاص طور پر جب ابتدائی فتوحات، گھنٹوں کے اندر، ذلّت آمیز شکست میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔(عرب نیوز، ۶مارچ ۲۰۲۳ء)

ترکیہ کے گیارہ صوبوں میں جس طرح زلزلے نے قہر برپا کیا، اسی پیمانے پر شمالی شام کے چھ صوبوں کا ۶۰ہزار مربع کلومیٹر علاقہ بھی اس کی زد میںآگیا۔ مگر بین الاقوامی برادری جس تیزی کے ساتھ ترکیہ میں مدد لے کر پہنچی، شاید ہی کسی کو ان شامی علاقوں کے متاثرہ افراد کی مدد کرنے یا ان کی اشک شوئی کرنے کی توفیق ہوئی۔ ترکیہ کے حتائی صوبے کے سرحدی قصبہ ریحانلی سے صرف ۱۲ کلومیٹر دُور بال الحوا کراسنگ پوائنٹ پر ۴۲سالہ شامی شہری محمد شیخ نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی اور اپنے ہم وطنوں کی قسمت پررو رہا ہے۔ وہ ۱۲سال قبل حلب یا الیپو سے جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کرکے ترکیہ میں پناہ گزین ہو گیا تھا اور اب اپنے رشتہ داروں کی خیریت جاننے اور زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں مدد کرنے کے لیے واپس جا رہا تھا۔ وہ شکوہ کر رہا تھا: ’’ہماری زندگیاں تو پہلے ہی پچھلے ۱۲برسوں سے جنگ و شورش کی نذر ہوگئی تھیں۔ پھر کورونا وبا نے ہمیں نشانہ بنایا۔ اس میں جوں ہی کمی آگئی تو ہیضہ اور خشک سالی نے اس پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اب زلزلے نے توہماری زندگیاں برباد کرکے رکھ دی ہیں‘‘۔

رومی دورِ حکومت کی کئی ہزار سالہ پرانی سڑک ، جس نے تاریخ کے کئی اَدوار دیکھے ہیں، اس پر اقوام متحدہ کے ٹرکوں کا ایک کاروان امدادی سامان لے کر رواں تھا۔ ترکیہ کی سرحد کے پار شام کے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ’’امدادی ٹیموں، نیزبھاری اوزاروں اور سامان کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہم کو اپنے ہاتھوں سے ملبہ کو ہٹا کر زندہ بچنے والوں کو نکالنا پڑا‘‘۔ اقوام متحدہ کے مطابق ملبے سے اب تک صرف ۶ہزار لاشیں نکالی جا سکی تھیں، جن میں شام کے حاکم بشار کے مخالفین کے زیرقبضہ شمال مغرب میں ۴ہزار۴سو لاشیں ملی تھیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق۲ہزار ۷سو ۶۲ سے زائد عمارتیں منہدم ہوچکی ہیں۔ شام کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’رسپانس کوآرڈینیٹرز گروپ‘،  جس کے ترکیہ میں دفاتر ہیں ، نے کہا کہ خطے میں ۴۵  فی صد انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ سے لوگ شکایت کر رہے تھے۔ اس کی جانب سے پہلا امدادی ٹرک چار دن بعد تباہ شدہ شہر دیر الزور پہنچا، تو مکینوں نے اقوام متحدہ کے جھنڈوں کو اُلٹا لٹکا کر احتجاج درج کروایا۔ بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے شام کے صدر بشار الاسد نے ۱۰ فروری کو حزب اختلاف کے زیرقبضہ علاقوں میں انسانی امداد بھیجنے کا اعلان تو کیا تھا، مگر یہ امدادی سامان نو دن بعد بھی نہیں پہنچا تھا۔ ان کے وزیروں کا کہنا تھا کہ انھوں نے امداد تو روانہ کی تھی ، مگر عسکریت پسند گروپ حیات تحریر الشام کے سربراہ ابومحمدالجولانی نے ان امدادی رضاکارگروپوں میں شامل افراد کی جانچ پڑتال کرنے میں کافی وقت صرف کردیا۔ ان کو خدشہ تھا کہ شامی حکومت شاید امدادی ٹیموں کی آڑ میں انٹیلی جنس اور کمانڈو اہل کار بھیج رہی ہے۔

’وائٹ ہیلمٹس‘ نام سے شامی شہری دفاع گروپ کے لیے کام کرنے والی رضاکار سورمر تمر نے مجھے بتایا: ’’زلزلہ آنے کے کئی روز بعد تک ملبوں سے انسانی ہاتھ نمودار ہوکر ہاتھ ہلاہلا کر مدد کی دہائی دے رہے تھے۔ منجمد کرنے والی سردی کے دوران بھی ملبو ں سے انسانی چیخ پکار کی آوازیں آرہی تھیں۔ یہ ہولناک یادیں اور آوازیں مجھے ساری زندگی پریشان کرتی رہیں گی۔پھر جب ہم ان تباہ حالوں میں سے کسی کا ہاتھ پکڑتے تھے تو وہ ہاتھ ہی نہیں چھوڑتے تھے۔ ان کو خوف ہوتا تھا کہ اگر انھوں نے ہاتھ چھوڑا تو ہم ان کو چھوڑ کر آگے بڑھ جا ئیں گے ‘‘۔

اپنے آنسو پونچھتے ہوئے تمر نے کہا:’’سچ تو یہ ہے کہ مجھ کو ایسے کئی ہاتھ چھوڑنے پڑے، کیونکہ ملبہ ہٹانے اور ان کو نکالنے کے لیے کوئی سامان نہیں تھا۔ ہم آگے بڑھ کر دیکھتے تھے کہ ننگے ہاتھوں سے کون سا ملبہ ہٹایا جاسکتا ہے او ر کون سی جان بچائی جاسکتی ہے۔ اور پھر دو دن بعد ان ملبوں سے انسانی آوازیںآنا بند ہوگئیں‘‘۔اُس وقت تک علاقے میں کوئی امدادی ٹیم نہیں پہنچ پائی تھی۔ میں ان تمام مرنے والوں سے معافی مانگتی ہوں، جنھیں ہم بچانے میں ناکام رہے‘‘۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ’’صرف پہلے ۷۲گھنٹوں میں پانچ فی صد علاقے میں ریسکیو کا کام ہوسکا‘‘۔

زلزلے کے بعد پہلے ۷۲گھنٹوں ہی میں کسی زندہ وجود کو ملبہ سے نکالنے کا امکان موجود رہتا ہے۔ ’وائٹ ہیلمٹس‘ کے سربراہ رائد صالح نے بتایا: ’’ہم نے بے بسی کے ساتھ بہت جدوجہد کی کہ زندہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔ مگر مناسب آلات کی کمی ہماری اس بے بسی کی ایک بڑی وجہ تھی، لیکن قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم نے اپنی سی پوری کوشش کی۔ تاہم، اقوام متحدہ کا غفلت برتنا بہت صدمہ خیز ہے۔ ان علاقوں میں ہزاروں شامی خاندان منفی درجہ حرارت میں سڑکوں پر یا ایسے خیموں میں زندگی گزار رہے تھے ، جن میں کمبل ، بستر یا گرمی کا کوئی انتظام نہیں تھا‘‘۔ مغربی ادلب صوبہ کے گاؤں امرین کے ندال مصطفےٰ بتا رہے تھے: ’’اپنی پوری فیملی کے ساتھ پہلے تین دن ہم نے کھلی سڑک پر گزارے۔ باب الحوا کی سرحد کے اس پار، ادلب صوبے میں تقریباً ۴۰ لاکھ افراد آباد ہیں، جن میں ۲۸ لاکھ ایسے افراد ہیں ، جو جنگ زدہ علاقوں سے ہجرت کر کے آئے ہیں‘‘۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۱ءسے اب تک شام کے تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے شمال مغرب میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ۵۳ لاکھ ہے۔ تقریباً ڈ یڑھ کروڑ شامی شہری جنگ اور سخت مغربی پابندیوں کی وجہ سے شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ ترکیہ کا یہی متاثرہ جنوبی علاقہ ان کے لیے ایک ڈھال تھا، مگر زلزلہ کی وجہ سے ترکیہ کے اس خطے کا انفرا اسٹرکچر تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ ترکیہ میں ۳۵ لاکھ رجسٹرڈ شامی پناہ گزینوں میں سے ۱۷ لا کھ زلزلے سے متاثرہ صوبوں میں رہتے ہیں۔

 امدادی اداروں کے مطابق اگرچہ کئی عرب ممالک اور بین الاقوامی انسانی امداد کے کئی اداروں نے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امداد پہنچائی تھی، مگر یہ امداد اپوزیشن کے زیراثر شمال مغربی شام تک نہیں پہنچ سکی، جہاں ۸۵ فی صد متاثرہ افراد رہ رہے ہیں۔ رسپانس کوآرڈینیٹرز گروپ نے الزام لگایا کہ ۹۰ فی صد امداد حکومت کے زیر قبضہ علاقوں میں تقسیم کی گئی۔ ۲۰۱۴ء میں ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انسانی امداد کی ترسیل کے لیے شام میں چار بارڈر کراسنگ کی منظوری دی تھی۔ مگر اب لے دے کے صرف باب الحوا ہی قانونی طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں واحد سرحدی گزرگاہ رہ گئی ہے۔

زلزلہ کی وجہ سے مقامی آبادی پریشان حال تو تھی ہی، کہ اسی دوران شامی حکومتی افواج اور باغی افواج کے درمیان حلب کے نواح میں جھڑپوں کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پر  خوب گولہ باری کی۔ جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگنا پڑا۔ سیریئن ابزرویٹری فار ہیومن رائٹس میں اس جنگ کی نگرانی کرنے والے کارکن ابو مصطفےٰ الخطابی کا کہنا تھا کہ اسد فورسزکی بیس ۴۶ سے گولہ باری شروع ہوئی اور انھوں نے مغربی حلب کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ عطریب قصبہ ،کفر اما ، کفر تال اور کفر نو دیہاتوں میں بھی شدید جھڑپیں ہوئیں۔ یاد رہے کہ عطریب اور اس کے نواح میں زلزلے کے نتیجے میں ۲۳۵؍ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور متعدد افراد ملبے کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ ایسے وقت میں اس طرح کی مسلح جھڑپوں سے ابتدائی امدادی کام بھی نہیں ہوسکے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو شامی زلزلے کے دوران ملبے میں دب کر مارے گئے اور کئی روز تک ہاتھ ہلا ہلا کر مدد کی دہائی دے رہے تھے، ان کا خون بین الاقوامی برادری اور شامی متحارب گروپوں کے ہاتھوں پر ہے۔

سات عشروں سے کشمیری اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے جان کی بازی لگارہے ہیں، اور دوسری طرف انڈیا کی کبھی نام نہاد سیکولر حکومتیں اور کبھی فاشسٹ حکومتیں انھیں کچلتی اور ان کی اولادوں کو عذاب کی مختلف صورتوں میں دھکیلتی چلی آرہی ہیں۔ نئی دہلی کے سفاک حکمرانوں نے جب یہ دیکھا کہ مسلم دُنیا کے دولت مند ممالک اُن کی نازبرداری کرتے ہوئے انڈین تجارت، کلچر اور دفاعی تعاون تک کے لیے بچھے جارہے ہیں، تو اُنھوں نے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و وحشت کے پہیے کو تیز تر کردیا۔ جنوری ۲۰۲۳ء میں جب کشمیر شدید برف باری اور بارشوں میں گھرا ہوا تھا، ظلم اور توہین کی ایک نئی یلغار سے اہل کشمیر کو اذیت سے دوچار کیے جانے کا آغاز ہوا۔ یہ ہے سری نگر سمیت کشمیر کے تمام اضلاع میں، سرکاری املاک پر ’تجاوزات‘ کے نام پر سالہا سال سے مقیم کشمیری مسلمانوں کی دکانوں اور گھروں کو بلڈوزروں کے ذریعے مسمار کرنے اور شہری زندگی کے آثار کچلنے کا وحشیانہ عمل۔ اس پر نعیمہ احمد مہجور نے اخبار دی انڈی پنڈنٹ (۱۷فروری) میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’عنقریب مقامی آبادی کا ایک حصہ سڑکوں یا گلی کوچوں میں پناہ لے رہا ہوگا یا روہنگیا مسلمانوں کی مانند لائن آف کنٹرول کی جانب بھاگنے پر مجبورہوگا‘‘۔

سری نگر سے بی بی سی کے نمایندے ریاض مسرور نے ۱۸فروری ۲۰۲۳ء کو رپورٹ کیا: ’’انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں مقبول احمد اُن ہزاروں بے گھر کشمیریوں میں شامل ہیں، جنھوں نے برسوں کی جدوجہد کے بعد دو کمروں کا گھر تعمیر کیا۔ ایسی بستیوں کو حکومت کی طرف سے بجلی، پانی اور سڑکوں جیسی سہولت بھی میسر ہے، مگر اب اچانک کہا جارہا ہے کہ تم سب ناجائز قابضین ہو‘‘۔

 حکومت کی طرف سے ’ناجائز‘ یا ’غیرقانونی‘ قرار دی جانے والی تعمیرات کو گرانے کی مہم زوروں پر ہے اور ہر روز حکومت کے بُلڈوزر تعلیمی اداروں، دکانوں، مکانوں اور دیگر تعمیرات کو منہدم کررہے ہیں۔ اس نئی مہم کے تحت کسی کی دکان جارہی ہے، کسی کا مکان اور کسی کی زرعی زمین چھینی جارہی ہے۔ مقبول احمد کہتے ہیں:’’ہماری تین نسلیں یہاں رہ چکی ہیں۔ ہم کہاں جائیں؟ یہاں کے لوگ خاکروب یا مزدور ہیں۔ اگر یہ گذشتہ ۷۵برس سے غیرقانونی نہیں تھے تو اب کیسے ناجائز قابضین ہوگئے؟ یہ کون سا انصاف ہے‘‘۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کے مقامی کشمیری لیڈر الطاف ٹھاکرے نے اس صورتِ حال سے لاتعلق ہوکر کہا:’’بابا کا بلڈوزر تو چلے گا‘‘ حالانکہ عالمی نشریاتی اداروں کی دستاویزی رپورٹوں میں تباہ شدہ گھروں کے ملبے پر کھڑی عورتیں فلک شگاف فریادیں کرتی نظر آتی ہیں کہ ’’ہمارے ساتھ انصاف کرو ، ہمیں برباد نہ کرو‘‘۔

نئی دہلی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ حکومت نے گذشتہ تین سال کے دوران زمین سے متعلق ۱۲قوانین ختم کیے ہیں، ۲۶قوانین میں تبدیلیاں کی ہیں اور ۸۹۰ بھارتی قوانین کو جموں کشمیر پر نافذ کر دیا ہے۔اکتوبر ۲۰۲۲ء میں ’’جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن تھرڈ آرڈر‘‘ نافذ کیا گیا، جس کا مقصد مقامی کشمیریوں کو زمین سے بے دخل کرکے ، سرزمین کشمیر کو پورے ہند کی چراگاہ بنانا ہے۔ اس کے بعد دسمبر ۲۰۲۲ء میں ’لینڈ گرانٹس ایکٹ‘ نافذ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تعمیرات کو ناجائز قرار دینے کا یہ سارا فساد برپا کیا گیا ہے۔

ان مسلط کردہ ضابطوں کے مطابق کہا جارہا ہے: ’’کوئی زمین یا عمارت پہلے اگر لیز پر دی گئی تھی تو حکومت حق رکھتی ہے کہ وہ پراپرٹی واپس لی جائے‘‘۔ سرینگر، جموں اور دوسرے اضلاع میں تقریباً سبھی بڑی کمرشل عمارتیں لیز پر ہی تھیں، اب وہ لیز ختم کی جارہی ہے۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ’’سابق وزرا، بڑے افسروں اور حکومت کے حامی تاجروں کی عمارات کو چھیڑا نہیں جارہا۔ مقامی صحافی ماجد حیدری کے بقول: ’’ان بلڈوزروں کا نشانہ صرف غریب مسلمانوں کی جھونپڑیاں ہیں‘‘۔ ’بلڈوزر مہم‘ سے مسلمانوں کی آبادیوں میں سخت خوف پایا جاتا ہے اور کئی علاقوں میں احتجاج بھی ہوئے ہیں، مگر احتجاجیوں کی فریاد سننے کے بجائے ان کو بُری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لوگ بجاطور پر سمجھتے ہیں کہ ’’یہ زمینیں حاصل کر کے انھیں پورے انڈیا کے دولت مند لوگوں میں فروخت کر دیا جائے گا‘‘۔پہلے یہ بات خدشہ تھی، اب عملاً یہ سب کچھ ہورہا ہے۔

روزنامہ دی گارجین،لندن(۱۹مارچ ۲۰۲۳ء) میں آکاش حسان نے سری نگر سے اور حنان ایلس پیٹرسن نے نئی دہلی سے ایک مشترکہ رپورٹ میں اسی نوعیت کے حقائق پیش کیے ہیں۔

۵۲ برس کے فیاض احمد کا کھردرا باغ میں ۳۰سال پرانا گھر بھی بغیر کسی وارننگ کے منہدم کردیا گیا تو انھوں نے کہا: ’’یہ سب حربے کشمیریوں کو دبانے کے لیے برتے جارہے ہیں‘‘۔ ۳۸سال کے سہیل احمد شاہ اُس ملبے کے سامنے صدمے اور مایوسی کی کرب ناک تصویر بنے کھڑے تھے، جو دوعشروں سے اُن کا ذریعۂ معاش تھا۔ وہاں وہ اپنی ورکشاپ میں کام میں مصروف تھے کہ ایک ناگوار کرخت آواز سنی، جو دراصل اُن کی ٹین کی چھت کو چڑمڑ ہونے سے پیدا ہورہی تھی، اور وہ چھت اُن کے اُوپر گرا چاہتی تھی کہ بمشکل بھاگ کر جان بچاسکے۔انھوں نے بتایا: ’’نہ ہمیں کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ کوئی پیشگی اطلاع دی گئی۔ ہم مدتوں سے کرایہ دے کر یہاں روزی روٹی کماتے تھے، اور اب تباہ ہوکر یہاں کھڑے ہیں‘‘۔

سری نگر شہر میں پرانی کاروں کے پُرزوں کی مارکیٹ میں اس نوعیت کی تباہی کے آثار بکھرے دکھائی دے رہے ہیں، جسے حکومت ’زمینیں واپس لینے‘ کا نام دے رہی ہے، حالانکہ کشمیر میں رہنے والے اسے ایک مذموم اور مکروہ مہم قرار دے رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندونسل پرست نریندرا مودی وسیع ایجنڈے کے تحت کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل، بے گھر اور بے روزگار کرکے نقل مکانی پر مجبور کرنے میں مصروف ہے۔ یاد رہے، واحد کشمیر ہی وہ علاقہ ہے، جہاں مسلمان واضح اکثریت رکھتے ہیں اور اس پہچان کو ختم کرنا آر ایس ایس کے پیش نظر ہے۔

۲۰۱۴ء میں نئی دہلی میں مودی حکومت کی آمد کے ساتھ ہی انڈیا کے طول و عرض میں مسلم اقلیت کو ستم کا نشانہ بنانے کا مؤثر ذریعہ بلڈوزر رہے ہیں۔ اترپردیش، دہلی، گجرات اور مدھیہ پردیش میں فعال مسلمانوں کے گھروں کو تہس نہس کرنے کے لیے بلڈوزروں ہی کو ہتھیار کے طور پر برتا گیا ہے۔ جب اس بلا کا رُخ کشمیر کی طرف مڑا تو سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا:’’انہدام کی یہ مہم [کشمیر میں] لوگوں کو ان کے گھروں اور معاش و روزگار کے مراکز کو تباہ کرکے پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی ایک مکروہ چال ہے‘‘۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا: ’’انڈیا میں واحد مسلم ریاست کے شہریوں کے استحصال کی یہ نئی لہر درحقیقت ماضی کی زیادتیوں کا ہی تسلسل ہے‘‘۔کانگریس نواز نیشنل کانفرنس کے لیڈر فیصل میر کے مطابق: ’’بی جے پی جموں و کشمیر کو واپس ڈوگرہ دور میں لے جانا چاہتی ہے۔ بلڈوزر سے زمین ہتھیانا اور جائیداد چھیننا اسی پالیسی کا تسلسل ہے‘‘۔

اگست ۲۰۱۹ء میں مودی حکومت کی نسل پرست حکومت نے یک طرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت چھین لی اور ریاست کے دروازے تمام بھارتیوں کے لیے کھول دیئے کہ وہ یہاں جائیدادیں خرید سکتے ہیں اور یہاں کے ووٹر بن سکتے ہیں۔ یہ سب کام یہاں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے ہیں، تاکہ ووٹوں کا تناسب تبدیل اور من مانی حلقہ بندیاں کرکے، مسلم آبادی کو نام نہاد انتخابی عمل میں بے بس کر دیا جائے۔

ریاست جموں و کشمیر میں آزادیٔ اظہار سلب ہے، سیاسی نمایندگی تارتار ہے، اور کشمیر  اب دُنیا میں سب سے زیادہ فوجیوں کی موجودگی کا علاقہ بن گیا ہے، جس میں ہرچند کلومیٹر کے فاصلے پر مسلح فوجیوں کی چوکیاں موجود ہیں۔  سنسرشپ عائد ہے، جو کوئی سوشل میڈیا پر حکومتی ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، پولیس اسے فوراً گرفتار کرکے جیل بھیج دیتی ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں میں صحافیوں آصف سلطان، فہدشاہ، سجادگل اور عرفان معراج کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت اُٹھا لیا گیا ہے، جب کہ ہزاروں کشمیریوں کے سر سے چھت چھین لی گئی ہے۔دراصل یہ وہی ماڈل ہے جو اسرائیل نے فلسطینیوں پر مسلط کرکے عرب آبادی کا تناسب تبدیل کر دیا ہے، اور جسے برہمن نسل پرست، صہیونی نسل پرستوں سے سیکھ کر کشمیر میں نافذ کر رہے ہیں۔ مقامی شواہد کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران تقریباً سات لاکھ غیرکشمیری، یہاں لاکر آباد کیے جاچکے ہیں۔

ظلم کی اس سیاہ رات میں مظلوموں کے گھر روندے جارہے ہیں،وہ کھلے آسمان تلے حسرت کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ دُنیا کا میڈیا اور مسلمانوں کی حکومتیں، جماعتیں، ادارے اور سوشل میڈیا پر فعال نوجوان اس درندگی اور زیادتی کا کرب محسوس کرنے سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ معلوم نہیں کس قیامت کے ٹوٹنے کا انتظار ہے، حالانکہ ہزاروں کشمیری گھروں پر قیامت تو ٹوٹ بھی چکی ہے۔

 ما لک بن نبی ۱۳۲۳ھ/۱۹۰۵ء میں مشرقی الجزائر کے شہر قسنطینہ میں پیدا ہوئے اور  ۴شوال۱۳۹۳ھ/۳۱؍اکتوبر۱۹۷۳ء کو اپنے آبائی وطن الجزائر میں وفات ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم [۴۵-۱۹۳۹ء]کے بعد الجزائر کے بااثر علما، مفکرین، ادیبوں اور سماجی فلسفیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مالک بن نبی تاریخ، فلسفہ اور سماجیات کے میدان میں ایک امتیازی مقام رکھتے ہیں۔ انھوں نے پیرس سے انجینئرنگ کی بھی تعلیم حاصل کی۔ ان کی تحریریں مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہوتی رہی ہیں ۔ ان کی ایک کتاب الظاھرۃ القرآنیہ  (Phenomene Coranique) ۱۹۴۰ء کے عشرے میں بہت زیادہ مقبول ہوئی اور فرانسیسی تعلیم یافتہ طبقے میں اس کا بہت زیادہ چرچا رہا۔ ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۰ء کے درمیان الجزائر یونی ورسٹی سے وابستہ رہے۔

مالک بن نبی کی دلچسپی کا بنیادی مرکز و محور ’’اُمت مسلمہ کے زوال کے اسباب اور ان کا حل‘‘ ہے ۔اپنی تحریروں میں انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہب کس طرح انسان کی انفرادی زندگی اور سماجی تنظیم میں اثر انداز ہوتا ہے۔ مالک بن نبی، ابن خلدون[۱۳۳۲ء-۱۴۰۶ء]  اور آرنلڈ ٹائن بی [۱۸۸۹ء-۱۹۷۵ء] سے متاثر تھے ۔انھوں نے تاریخ، سماجیات اور نظریۂ تہذیب کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اپنی تحریروں میں وہ خصوصاً اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسلمان ایک لمبی مدت تک دنیا میں نمایاں مقام رکھتے تھے، لیکن اس کے بعد مسلمانوں نے زوال اور شکستہ ذہنیت کے ساتھ جینا شروع کر دیا۔ ان کے نزدیک اس شکست خوردہ ذہنیت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا سبب اسلام نہیں بلکہ خود مسلمان ہیں ۔انھوں نے اپنے بیان کردہ تہذیبی نظریہ میں مسلمانوں سے وابستہ اس قسم کے مسائل اور دشواریوں کی وجوہ اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

مسلم قوم کیوں زوال پذیر ہوئی؟ تہذیبی نظریہ کیا ہے؟ اور عصرحاضر میں مسلم دنیا کے جدید مسائل سے نپٹنے کے لیے کیا حل ہو سکتے ہیں؟ اسی نوعیت کے کچھ سوالات کا مالک بن نبی نے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

استعمار اور استعماریت

مالک بن نبی کا زیادہ تر کام نظریۂ تہذیب پر ہے۔ انھوں نے اس کو دو مستقل نظریوں میں تقسیم کیا ہے: پہلا نوآبادیاتی ہونا یا نوآبادیات کے قابل ہونا (Colonisibility)، اور دوسرا خود نوآبادیت (Colonialism) ہے۔ انھوں نے ان دونوں تصورات کو اُمت مسلمہ کے زوال کی وجوہ کے تناظر میں پیش کیا ہے۔

پہلی قسم نوآبادیات کی ہے اور یہ اُن داخلی عوامل پر مشتمل ہے ، جومسلم دنیا سے پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری قسم استعماریت ہے،یہ اندرونی عوامل پر منتج ہونے والے وہ خارجی عوامل ہیں، جنھیں  مسلم دنیا پر مسلط کیا گیا۔ اندرونی عوامل میں اخلاقیات، معاشرت، تعلیم، معیشت اور سیاست شامل ہیں،جب کہ خارجی عوامل انحراف، ذلت اور تباہی پر مشتمل ہیں۔

مالک بن نبی بیان کرتے ہیں کہ مسلم دنیا نے نئی زندگی کی شرائط کے ساتھ جینے کا ارادہ کیا اور بغیر کسی جانچ پرکھ اور تنقیدی جائزے کے مغربی اقدار اور ان کی سماجی زندگی کو اپنانے کی کوشش کی۔ مغربی اقدار اور غیر مناسب طرزِ زندگی، دونوں نے مسلمانوں میں اخلاقی اور سماجی دیوالیہ پن پیدا کیا، کیوں کہ یہ خود اہل مغرب کے اپنے معاشرے کے لیے موزوں نہیں تھا، چہ جائیکہ مسلمان قوم کے لیے مناسب ہوتا، جو اُن سے یکسر مختلف تھے۔ اس اخلاقی تنزلی نے امت مسلمہ کی فکری صلاحیت کو مفلوج کر دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم قوم فکر و عمل میں ناکام ہوتی چلی گئی اور یوں پسپا ہوتے ہوتے اس مقام پر پہنچ گئی، جہاں اقدار کے بجائے ظاہری تشخص اور رکھ رکھاؤ پہ زور دیا جانے لگا، تاکہ لوگوں کی نظر میں تو کچھ اچھی تصویر بنی رہے خواہ اندرونی حالت کیسی بھی ہو۔

مالک بن نبی نے الجزائر میں تعلیمی انحطاط ، معاشی تباہی اور سماجی زندگی میں احساسِ کمتری کی صورت حال کی نشاندہی ان تین جملوں میں کی تھی:l ہم کچھ نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم بے علم ہیں lہم اس بات کا ادراک نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم غریب ہیں lہم یہ کام نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم پر غیرمسلط ہیں۔

انھوں نے شدت سے محسوس کیا کہ ’’تعلیم کو معاشرتی طور پر مؤثر ہونا چاہیے اور لوگوں کو ناخواندگی کے بارے میں بتایا جانا چاہیے کہ یہ کمزوری معاشرے کے لیے مفید نہیں ہے‘‘۔ انھوں نے مزید پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر پڑھا لکھا آدمی بے کار ہے تو یہ ناخواندگی سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ پھر یہ کہ غربت کے ساتھ جہالت اور بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے‘‘۔ فرماتے ہیں: ’’دولت و ثروت با ہمی تعاون کو فروغ دینے کا ذریعہ ہونی چاہیے۔اصل ذمہ داری یہ نہیں کہ انسان پیسہ اکٹھا کرنے میں جُتا رہے اور امیر بن جائے،بلکہ اس دولت کا جائز اُمور میں استعمال ،افراد اور قوم کے فائدے کے لیے خرچ کرنا ہی حقیقی ذمہ داری ہے‘‘۔

اسی طرح ایک اور اندرونی مسئلہ جس کا مالک بن نبی نے خاص طور سے ذکر کیا، وہ ہے مسلم دُنیا کی سیاست۔ اس ضمن میں جس سیاسی طریق کا ر کو مالک بن نبی نے مناسب نہیں سمجھا، وہ صرف استعمار کی مذمت کرتے رہنا ہے۔اس کے بجائے وہ لوگوں میں ایسی بیداری لانے پر   زور دیتے ہیں کہ ’’قول کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے کیونکہ باطنی قوت ظاہری رکھ رکھائو سے زیادہ ضروری ہے‘‘۔ چنانچہ انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے: ’’مسلم قوم نے بدقسمتی سے اپنی حالت کو استعمار کے شکنجے سے نکالنے کے لیے بامعنی سطح پر فکر و عمل کے ایک متحرک اور فعال وجود میں تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی‘‘۔

 استعمار کے خارجی عوامل کے حوالے سےمالک بن نبی، استعماری فلسفے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’استعمار جب بھی کسی ملک میں داخل ہوتا ہے ، فی الحقیقت اسے تباہ کردیتا ہے۔ اُن معاشروں کے محترم لوگوں کو ذلیل کر دیتا ہے اور ان کی یہ حالت کر دیتا ہے کہ ان میں اُمید کی کوئی رمق باقی نہ رہے ۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی حالت اور عمل کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلم دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ مغرب کی رفتار سست پڑ جائے یا ان کی حالت ایسی ہوجائے کہ اس میں کوئی جان باقی نہ رہے۔ حالانکہ مغرب نے تو یہاں دھاوا اس لیے بولا تھا کہ مسلمانوں کو  ان کے ماضی، حال اور مستقبل سے کاٹ کر رکھ دیں‘‘۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’استعماریت ایک طریق کار ہے، جس کا مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے، جس کے ذریعے ملک کے تمام اخلاقی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی اقدار کو تباہ کیا جا سکے‘‘۔ چنانچہ مالک بن نبی کے نزدیک ’’مسلم دنیا کے زوال کی بنیادی وجہ مسلم دنیا کا استعماریت کے لیے نوالۂ تر بن جانا ہے، اور بنیادی طور پر اس کی وجہ خود وہ مسلمان ہیں ،جنھوں نے فکری، سیاسی، تعلیمی اور معاشی میدانوں میں اپنی بے عملی کے ذریعے مغرب کی استعماری پالیسی کو قوت بخشی‘‘۔

تہذیب اور مذہب

مالک بن نبی لکھتے ہیں: ’’ہر تہذیب کی ابتدا کسی مذہب سے ہوتی ہے، جس سے معاشرے میں تہذیبی عمل کا آغاز ہوتا ہے، گویا کہ تمام انسانی تبدیلیوں کے سرے پر مذہب ہے۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ تمام تہذیبوں نے مذہب ہی کی آغوش میں انسان، مٹی اور وقت کو جوڑ کر ایک متنوع مرکب بنایا ہے ۔ تہذیب اپنے وسیع معنوں میں مذہب کے بغیر شروع نہیں ہوتی‘‘۔ لہٰذا مالک بن نبی کے مطابق ’’کسی بھی تہذیب میں ہمیں ان مذہبی بنیادوں کو تلاش کرنا ہوگا، جنھوں نے اس خاص تہذیب کو پروان چڑھنے میں مدد کی‘‘۔

’’تاہم، مذہب سماجی حقیقت کی تشکیل اور ترقی میں اس وقت تک اپنا سماجی کردار ادا نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ صرف اپنی مابعد الطبیعیاتی اقدار اور تعلیمات پر ہی قائم رہے۔ ایسا اس صورت میں ہوگا، جب نگاہ دُنیاوی معاملات سے بالاتر ہوگی اور ہم سب کچھ مادی دنیا سے پرے دیکھیں گے، اور اس مادی دُنیا میں اپنی ذمہ داریوں اور کردار کی ادائیگی سے انکار کریں گے‘‘۔مالک بن نبی کے نزدیک ’’مذہب سے مراد تمام مذاہب، نیم مذاہب اور نظریات ہیں‘‘۔ وہ ایک وسیع تر پس منظر میں کہتے ہیں کہ ’’مذہب ہروہ چیز ہے جو انسان کو آسمانی قوت اور سماجی فطرت سے جوڑتی ہے۔ ہر وہ نظریہ ان کے نزدیک مذہب میں شمار ہوتا ہے جو کسی بھی طرح معاشرے کے افراد کے مابین ایک ربط پیدا کرتا ہے اور ان کی زندگی کی ایک نئی سمت متعین کرتا ہے ‘‘۔

مالک بن نبی کہتے ہیں:’’قرآن کی روشنی میں، مذہب ایک کائناتی مظہر کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جو انسان کی فکر اور تہذیب کی تنظیم و ترتیب کا کام کرتا ہے جس طرح کشش ثقل (Gravity)مادے کو کنٹرول کرتا ہے اور اس کے ارتقا کے مدارج کا تعیین کرتا ہے۔ اسی طرح مذہب، کائنات کا ایک جزمعلوم ہوتا ہے جو روح اور جسم دونوں کا اصل قانون ہے ‘‘۔

بقول مالک بن نبی: ’’مذہب ان نظر یات کا منبع ہے جسے تہذیب اپناتی ہے۔ مذہب انسانی نفسیات کی محض روحانی اور ذہنی سرگرمی نہیں ہے، بلکہ یہ نوع انسان کے بنیادی مزاج اور کائناتی ترتیب دونوں کا ایک حصہ ہے، جو کائنات کی ساخت میں بہت مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کو محض چند اخلاقی اقدار میں محدود نہیں کیا جا سکتا، اور اسی طرح اسے انسان کی سماجی و ثقافتی ترقی کے ابتدائی مراحل میں بھی محصور نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

تہذیب کے اہم عناصر

تہذیب کا گہرائی سے مطالعہ اور تجزیہ کرنے کے بعد مالک بن نبی تہذیب کو پرکھنے کا ایک منفرد معیار پیش کرتے ہیں: ’’تہذیب تین چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے: انسان ، زمین اور وقت‘‘۔ اور آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:’’نظریۂ تہذیب میں انسانوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انسان ایک سماجی شناخت اور ایک فطری شناخت (جسمانی خصوصیات) رکھتا ہے۔فکری اور نفسیاتی خصوصیات سے پیدا ہونے والی سماجی شناخت تو ماحولیاتی اور تاریخی عوامل کے گرد بھی گھومتی ہے، یہی وجہ ہے کہ سماجی شناخت جگہ اور وقت کے مطابق بدلتی رہتی ہے ‘‘۔

مالک بن نبی کے نزدیک: ’’یہ عناصر جو تاریخی تحریکوں کا سبب بنتے ہیں ، نظریات، افراد اور اشیا کا منبع اور سرچشمہ ہیں۔لہٰذا اگر کوئی معاشرہ بگڑتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی تعمیر مذکورہ تین عناصر پر نہیں ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دو عناصر، افراد اور اشیا پر کام کرتا ہے مگر نظریات کو نظر انداز کردیتا ہے تو وہ فکرو عمل کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ گذشتہ تین صدیوں کے دوران مسلمانوں کی بے فکری اور بے عملی ہی مسلم دنیا کے زوال کا باعث بنی، کیونکہ ان کی تمام سماجی شکلیں جامد اور بے جان ہو چکی تھیں‘‘۔

جب مالک بن نبی مٹی اور سر زمین کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے وہ فطری خصوصیات کے بجائے اس کی سماجی اہمیت مراد لیتے ہیں۔اسی طرح وقت کا ذکر کرتے ہیں تو وہ اسے ایک سماجی نقطے کے طور پر دیکھتے ہیں ، ایسا سماجی محور یا نقطہ جو بذات خود ایک سماجی قدر ہے، جو اندرہی اندر سرگرم اور فعال خیالات کو متحرک کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’وقت کا صحیح استعمال کرنے میں مسلم دنیا مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ اسی طرح پختہ اور معنی خیز افکار و خیالات کو پروان چڑھانے میں بھی کسی طرح کامیاب نہیں ہو سکی۔جب کوئی ان تین چیزوں: انسان،زمین اور وقت پر حکمرانی کرتا ہے تو وہ ہرچیز کو مرکزومحور بناتا ہے۔ کسی بھی قوم کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ تاریخ پر نظر رکھے اور سائنس و ٹکنالوجی کے ساتھ ساتھ فکر و خیال اور فنون لطیفہ کے میدان میں بھی آگے بڑھے اور رفتہ رفتہ اپنے ان اصولوں اور اقدار کو بھی پیش کرے، جن سے اس قوم کی شناخت وابستہ ہے‘‘۔

مالک بن نبی کے افکار کو مزید گہرائی سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذہب کے سماجی کردار کو بنیادی طور پر ایک ایسی فعال اور متحرک شئے مانتے ہیں، جو اقدار کی منتقلی کی حمایت کرتی ہے، اور وہ اقدار جو تہذیب کے مختلف مراحل سے گزر کر اس کی فطری ہیئت سے ایک نفسیاتی حالت میں لے جاتی ہیں۔مذہب سب سے پہلے گوشت پوست سے بنے انسانی وجود کو ایک سماجی عنصر میں بدلتا ہے، پھر یہ ماہ و سال کی سادہ رفتار کو سماجی وقت میں بدل دیتا ہے،جس کی پیمائش اب گھنٹہ اور منٹ کے بجائے عمل اور جد و جہد میں کی جاتی ہےاور آخر میں مذہب عام مٹی کو جو بغیر کسی غرض اور شرط کے زیر استعمال ہوتی ہے، مکمل طور پرتکنیکی اعتبار سے ایک ایسی ہموار زمین میں تبدیل کر دیتا ہے، جو سماجی تبدیلی کی متعدد ضروریات کی تکمیل کر سکے۔اس طرح مذہب کو سماجی اقدار کے تغیرپذیر مادہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے‘‘۔

دوسرے لفظوں میں مالک بن نبی کے مطابق مذہب تین تبدیلیاں کرتا ہے :

  • سماجی تعلقات کے روابط کو متحد کرتا ہے
  • مشترکہ سرگرمی کو متحرک اور قابل عمل بناتا ہے
  • معاشرے میں افراد کے نفسیاتی رویوں کو تبدیل کرتا ہے۔

یہ بات مالک بن نبی کے نظریے میں صاف نظر آتی ہے کہ مذہب، سماج کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ ایسی سرگرمی انجام دے جو مشترکہ ہو۔ افراد کے سلوک اور رویہ میں ایسی تبدیلی لائے جس کے بعد وہ ایک خاص مقصد کے حصول میں کوشاں رہیں۔افراد اور معاشرے کی نفسیاتی تبدیلی کسی بھی سماجی تبدیلی کے لیے اولین شرط ہے اور یہ تبدیلی تین عناصر یعنی انسان، زمین اور وقت سے مل کر بنے ہوئے کسی بھی معاشرے کی تاریخی اور طبعی ساخت کے لیے لازمی ہے۔بلا کسی استثناء کے تاریخ میں تمام تہذیبیں مذہبی نظریات کے سائے میں پروان چڑھی ہیں۔

مالک بن نبی تہذیبی تصور کا خلاصہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ’’یہ اخلاقی اور مادی اشیا کا مجموعہ ہے، جو معاشرے کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے تمام افراد کے لیے وہ تمام سہولیات مہیا کرسکے، جو ان کی ترقی کے لیے معاون ہوں۔لہٰذا، اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو ایک کمیونٹی کے لیے ضروری ہیں جیسے فکری، روحانی اور ثقافتی، سیاسی، اقتصادی اور تکنیکی ضرورتیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ تہذیب کا تصور کہیں نہ کہیں ثقافت سےمربوط ہوتا ہے، اور ہر معاشرہ اپنے طور پر اسے نظریات اور تصور کی دنیا سے جوڑتا ہے، جس کی بدولت معاشرہ آگے بڑھتا ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ تہذیب، ثقافتی تبدیلیوں اور سماجی اصولوں کے ساتھ آتی ہے اور پھر یہ ایک ایسی طاقت بن جاتی ہے، جو معاشرے کی سمت اور رُخ طے کرتی ہے۔مذہب، تہذیب کا ایک اہم جزہے، جس کی وجہ سے معاشرے کا اخلاقی نظام وجود میں آتا ہے،اور جب اس اخلاقی نظام میں کوئی کمی آتی ہے تو اقدار میں بھی زوال آتا ہے اور پھر ہر طرف مسائل اور پریشانیاں ہی مسلط ہوجاتی ہیں۔

تہذیب کے مراحل

مالک بن نبی نے تہذیب کے مراحل کی درجہ بندی کرتے ہوئے انھی مراحل کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہے: lروحانی lعقلی lفطری۔

مالک بن نبی نے روحانی مرحلے کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس مرحلے میں مسلمانوں نے مذہب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا، یہاں تک کہ مسلم معاشرے کا ذہن، رویہ اور ان کی پوری زندگی مذہبی اور روحانی ہو گئی۔ یہ مذہب ہی تھا جس نےایک محرک کا کردار ادا کیا اور اقدار کو تبدیل کر دیا ۔ مذہب کی روح ہی انسانیت کو عروج و ترقی اور تہذیب کی تشکیل کا موقع دیتی ہے۔ پھر جب مذہب کی روح ختم ہو جاتی ہے تو تہذیب کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ دوسرا مرحلہ عقلی مرحلہ ہے۔ مالک بن نبی کے مطابق اس مرحلے میں معاشرہ ہرمیدان میں اپنے عروج کی انتہا پر تھا ۔ تاہم، اس مرحلے میں مذہب کے اثر و رسوخ میں کچھ کمی نظر آئی۔ تیسرا اور آخری فطری مرحلہ ہے ، اس کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ اس مرحلے میں معاشرے نے اپنا ایمان کھو دیا اور تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ گیا اور مسلم دنیا میں اخلاقی اور سیاسی زوال کا آغاز ہوا۔

روحانی مرحلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہو کر معرکۂ صفین پر ختم ہوا اور یہاں سے عقلی مرحلے کا آغاز ہوا۔ یہ مرحلہ ابن خلدون اور موحد خاندان کے خاتمے تک جاری رہا اور یہیں سے فطری مرحلہ کے طور پر مسلم دنیا میں نقطۂ زوال کا آغاز ہوا۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ مذہب تہذیب کا ایک بڑا عنصر ہے، یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ تمام سماجی تبدیلیوں کے لیے مذہبی اصلاح ضروری ہے۔ مالک بن نبی کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی اسلامی روح اور جدید دور کے تقاضوں کو یکجا کرنے سے ممکن ہوگی۔ وہ کہتے ہیں: ’’تہذیب و ثقافت ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک پُل کی مانند ہے اور یہ تہذیب کی تعمیر کے لیے ایک کارآمد ایجنٹ کے طور پر جسمانی اور روحانی اقدار کو اگلی نسل تک منتقل کرنے میں مدد کرتی ہے ۔ تہذیب کو اخلاقی نظام، جمالیاتی احساس، عملی منطق اور تکنیک کے ساتھ ایک متحرک خیال کے طور پر دیکھتے ہوئے حاصل کرنا ممکن ہے‘‘۔

مالک بن نبی کہتے ہیں: ’’مسلم دنیا کو بہت محتاط انداز میں اپنے معیار کو سامنے رکھ کر اور تنقیدی نگاہ کے ساتھ مغرب کو دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے متعلق صرف پڑھنے پر ہی اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ایک زندہ معاشرہ کے طور پر تجربہ و تحقیق کا کام کیا جائے‘‘۔ سیاست کا مقصد بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:’’سیاست کرنا تاریخ کے نفسیاتی اور مادی حالات کو تیار کرنا ، اور انسان کو تاریخ بنانے کے لیے تیار کرنا ہے‘‘۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے فلسفے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے لوگوں کو اپنے فرائض اور حقوق دونوں کو پہچاننے، الفاظ اور نعروں کی رو میں بہنے کے بجائے طریقے اور تکنیک کو بنانے اور سکھانے کی ضرورت ہے۔

مالک بن نبی، مسلمانوں کو اخلاقی، سماجی، نفسیاتی اور سیاسی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ بحیثیت اسکالر انھوں نے تہذیب و ثقافت کو انسانی ترقی، نئے خیالات پیدا کرنے اور ایک متحرک معاشرے کی تشکیل کے اہم عوامل کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ ان کے نزدیک سیاسی، معاشی، ثقافتی، سماجی اور نظریاتی آزادی ہی ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک ربط قائم کر سکتی ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کر سکتی ہے۔

مسلمان خاندانوں کو اپنے خاندانی کاروبار کے تسلسل، تقسیم دولت اور جانشینی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟موت برحق ہے۔ جب کاروبار یا خاندان کے سربراہ کا انتقال ہوتا ہے تو دو اہم امور پیش آتے ہیں:

  • پہلا یہ کہ ترکہ یا وراثت کی تقسیم (مالی معاملات جس میں اثاثہ جات، قرض، اور وصیت شامل ہے)، اور دوسرا یہ کہ جانشینی (انتظامی اور خاندان کی اقدار اور روایات کے معاملات)۔

اس سلسلے میں یہاں چند معاملات کی نشاندہی کریں گے۔ امید ہے کہ کاروباری خاندانوں کے سربراہ ان نکات پر غور کریں گے، مگر تفصیلات کے لیے ماہرین سے رابطہ ضروری ہے:

وراثت کی تقسیم

  • وراثت سے متعلق قانونی تقاضوں اور شرعی قوانین کو سمجھیں۔اس سلسلے میں فقہا اور قانونی مشیروں سے مشورہ کریں۔ اسلامی مالیات اور وراثتی قوانین کے ماہرین سے رہنمائی لیں۔
  • اگر دولت زندگی ہی میں تقسیم کردی گئی ہے تو صورت حال مختلف ہوسکتی ہے۔
  • کاروبار میں مصروف خاندان کے افراد کی حیثیت معاون ، ملازم یا شریکِ کاروبار کی ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اگر سربراہ کی زندگی میں طے ہوجائیں اور تحریر بھی ہوجائیں اور قانونی حیثیت بھی دے دی جائے، تو بہت سے فسادات اور اختلافات سے بچا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے اپنی ویب سائیٹ پر کافی رہنمائی کی ہے۔

کاروباری کی جانشینی

  • کاروبار کی جانشینی کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں۔یہ انتظامی معاملہ بھی ہے اور اختیاراتی معاملہ بھی، جو زن، زر، زمین اور زور ( چار ’ز‘) کے باعث سیاسی بن جاتا ہے اور کش مکش کا شکار ہوجاتا ہے۔رفیق ، فریق بن جاتے ہیں اور فریق جب لڑتے ہیں تو آخرکار خاندان کے لوگ فقیر بن جاتے ہیں۔ خاندان کے جن لوگوں کے ساتھ شراکت ہے، بہتر ہے اپنی زندگی ہی میں اس حوالے سے ان سے بات چیت کرکے، حصوں اور ذمہ داریوں کا تعین کریں، اس پر اتفاق رائے پیدا کریں اور تحریر میں لاکر اسے قانونی شکل دیں۔

خاندانی دستور یا آئین کی تیاری

  • ایک خاندانی آئین تیار کریں جو کاروبار کی اقدار، وژن اور مشن کا خاکہ پیش کرے۔جس میں تسلسل اور بقا کے لیے یہ معاملات شامل ہوں۔
  •  کاروبار میں شامل خاندان کے افراد کے لیے کردار اور ذمہ داریاں تفویض کریں۔
  •  فیصلہ سازی کے عمل میں خاندان کے تمام افراد کو شامل کریں۔
  • کاروبار کے لیے ملکیت کا واضح ڈھانچا قائم کریں۔اگلی نسلوں میں ملکیت کی تقسیم اور تبدیلی کا طریقِ کار بھی واضح کرلیں۔
  • اس بات کو یقینی بنائیں کہ کاروبار ضابطے کے تحت متعلقہ حکام کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔ معاہدۂ شراکت تحریری طور پر موجود ہے۔
  • کاروبار کی سمت، نصب العین، وژن، اور مشن کا تعین کریں۔
  • جانشینی کا منصوبہ بنائیں جو ملکیت اور انتظام کی منتقلی کا خاکہ پیش کرے۔ جانشین کو علم اور مہارت کی منتقلی کے لیے ایک منصوبہ تیار کریں۔ اس کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور اَپ ڈیٹ کریں۔
  • عمل کی نگرانی کے لیے ایک جانشین اور ایک غیر جانب دار مشیر مقرر کریں۔
  • اس سلسلے میں خاندان کے تمام افراد کی ضروریات اور خواہشات پر غور کریں۔قائدانہ انداز میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
  • خاندانی تنازعات کے حل کا لائحہ عمل تیار کریں۔اختلافات اور تنازعات میں فرق ہے۔ اختلاف سے نمٹنے کا طریقِ کار کیا ہوگا اور تنازعے کی صورت میں کیا کرنا ہے؟ اسے بھی تحریر میں لائیں۔ اس لیے کہ عدالتوں کے معاملات سے بچنے کے لیے اس دستاویز کی بڑی اہمیت ہے۔
  • کاروبار میں خاندان کے افراد کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اعلیٰ کارکردگی پر اعتراف کے لیے ایک نظام بنائیں۔کارکردگی کے جائزے کا طریق کار بنائیں۔
  • کاروبار میں شامل خاندان کے افراد کے لیے اخلاقیات اور طرزِ عمل کا ضابطۂ اخلاق بنائیں۔
  • کاروبار میں شامل خاندان کے افراد کی ریٹائرمنٹ کے لیے ایک منصوبہ تیار کریں۔خروج کا طریقِ کار بھی واضح کریں۔ کاروبار کی مالیت کا تعین کیسے ہوگا؟ اس کی بھی وضاحت کریں۔

انتظامی اور مالی معاملات

  • کاروبار میں ایک مضبوط مالیاتی اور شماریاتی نظام کی موجودگی کو یقینی بنائیں ۔موجودہ زمانے میں کمپیوٹر سسٹم کی موجودگی نے معاملہ بہت ہی آسان بنادیا ہے۔ ڈیش بورڈ، اتھارٹی اور منظوری کا سسٹم موجود ہے، داخلی کنٹرول کا نظام موجود ہے، چیکنگ ہوتی ہے، ریوینو کی تکمیل کنٹرول میں ہے، پیدوار کے حوالے سے اِن پٹ اور آؤٹ پٹ کا جائزہ لیا جاتا ہے، ضائع ہونے والے مال ، اور فرق آنے کی تحقیق کا طریق کار موجود ہے۔بجٹ باقاعدگی سے بنایا جاتا ہے اور حقیقی اخراجات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مشاورت سے نظام چلایا جاتا ہے۔
  • ادارے کے فنڈز اور وسائل کے استعمال کے لیے واضح رہنما اصول قائم کریں۔
  • ماہانہ منافع کا تخمینہ لگا کر اور باہمی مشورہ کرکے فیصلہ کریں۔ تقریبات اور انفرادی اخراجات،  کاروبار سے چارج نہیں ہوں گے۔ یہ اخراجات افراد کی صوابدید پر ہیں، کاروبار کو متاثر نہ کریں اور نہ کاروبار سے اس معاملے میں غیر معمولی قرض لیں۔ حج اور عمرہ آپ کی انفرادی عبادات ہیں، آپ کی زکوٰۃ آپ کا انفرادی معاملہ ہے، لہٰذا کاروبار کے منافع سے چارج نہیں ہونے چاہییں۔آپ کی ماہانہ تنخواہ یا وصولی طے شدہ تناسب کے ساتھ ہوں گی۔ آپ دوسرے کے کیش فلو کے معاملات کو متاثر کرکے کاروبار کی رقم سے اپنی جائیدادیں نہیں بنائیں گے۔ فاضل کیش کو باہمی مشورے سے اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کریں۔
  • کاروبار کی کارکردگی کی نگرانی اور جائزہ لینے کے لیے ایک نظام تیار کریں۔
  • کاروبار پر تکنیکی تبدیلیوں کے اثرات پر غور کریں۔دور حاضر بہت تیزی کے ساتھ تبدیلی کی جانب گامزن ہے، ذرا سی تاخیر بہت دُور لے جائے گی۔
  • کاروبار کی املاک کے قانونی تحفظ کے لیے ایک منصوبہ تیار کریں۔ان کا باقاعدگی سے رجسٹریشن کروائیں اور بروقت تجدید بھی کروائیں۔
  • مستقبل میں کاروبار کو درپیش ممکنہ خطرات اور چیلنجز پر غور کریں۔رات کو چراغ بجھانے اور برتن ڈھانکنے کا حکم ہے۔یہ ’رسک مینجمنٹ‘ کی تعلیم ہے۔ گھر میں ہوں تو دروازے کو کنڈی لگانا اور گھر سے باہر ہوں تو تالا لگانا ضروری ہے۔ یہ احتیاطی تدابیر ہیں۔انھیں وسیع تناظر میں دیکھیں۔
  • غیر متوقع واقعات کے لیے ایک ہنگامی منصوبہ تیار کریں۔ خاندان کے لوگوں کے ساتھ مل کر ایسی مفروضہ صورت حال پر تبادلہ خیال کریں۔ اشارات بنائیں اور حکمت عملی وضع کریں۔
  •  کاروبار سے متعلق خطرات کے انتظام اور تخفیف کے لیے ایک نظام تیار کریں۔
  • کاروبار میں جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
  • خاندان کے افراد کو بیرونی مشیروں سے رہنمائی اور مشورہ لینے کی ترغیب دیں بلکہ مشاورت کو لازمی قرارد یں۔ چیک لسٹ میں شامل ہونا چاہیے کہ کیا متعلقہ فرد سے مشورہ لے لیا گیا ہے؟
  • خاندان کے اراکین کے درمیان ٹیم ورک اور تعاون کے کلچر کو فروغ دیں۔گفتگو کے طریقے، بات چیت کے انداز، آن لائن میٹنگز، میٹنگ کے ایجنڈا کی تقسیم اور تیاری، میٹنگ میں شرکت کے آداب، میٹنگ کے فیصلوں کا طریق کار، فیصلوں کو تحریر میں لانے کا طریق کار بھی بنائیں۔
  • خاندان کے افراد کو مسلسل سیکھنے اور ترقی کرنے کی ترغیب دیں۔تعلیم، تربیت،منصوبہ بندی، عمل درآمد اور جائزہ اور احتساب کا طریقہ وضع کریں۔
  • اگر قابلِ اطلاق ہو تو کاروبار کی توسیع کے لیے ایک منصوبہ تیار کریں،منصوبہ بندی کریں۔ ایک فرد کی ملازمت سے آپ سات افراد کی خوراک کی تقسیم کا باعث بنتے ہیں۔ دولت کمانے کی مہارت، کاروبار بڑھانے کی صلاحیت کے ذریعے آپ تقسیمِ رزق کے سلسلے کا حصہ بنتے ہیں۔
  • کاروبار میں خاندان کے افراد اور غیر خاندان کے افراد کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے کے لیے ایک نظام قائم کریں۔
  • اس بات کو یقینی بنائیں کہ کاروبار کے پاس کافی تکافل(اسلامی اور شرعی انشورنس کوریج) ہے۔
  • اہلِ خاندان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ صحت مند کام اور زندگی کا توازن برقرار رکھیں۔

منصوبہ بندی اور حکمت عملی

  • جائیداد اور سرمایہ کاری سمیت اثاثوں کی منتقلی کے لیے ایک منصوبہ تیار کریں۔
  • جانشینی کے منصوبے کے ٹیکس مضمرات پر غور کریں۔ٹیکس بچانے کے قانونی راستوں اور دستاویز کے لیے مشیروں سے مشورہ لیں۔
  • ٹیکس کی چوری سے بچیں، یہ ریاست کے ساتھ خیانت ہے۔ اسی انداز سے اپنے فوری مفاد کی خاطر ان تمام معاملات سے بچیں،جنھیں اخلاقی طور پر برا سمجھا جاتا ہے۔

دیگر امور

  • خاندان کے ارکان کے درمیان کھلے اور ایمان دارانہ رابطے کی حوصلہ افزائی کریں۔فیصلے تحریری ہوں تو اعتماد بڑھ جاتا ہے۔
  • ایک وقت میں ایک فرد بات کرے تو خاندان میں نظم و ضبط قائم رہتا ہے۔ اجتماعی اُمور اور معاملات میں رائے کی قربانی دینے کی کوشش کریں۔
  •  کاروبار میں خواتین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کریں۔ وراثت کے تحت انھیں ملنے والے حصے کو تحفظ دیں۔ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا ظلم جس میں تمام قسم کے طبقات شامل ہیں، وہ یہ ہے کہ عورتوں کو ان کا حق عدل اور انصاف کے مطابق نہیں دیا جاتا۔بلکہ جذبات اور محبت کے مکالمے بول کر اور واسطے دے کر ان سے ان کا حق معاف کرالیا جاتا ہے، اور پھر انسان اپنے آپ کو اس ظلم پر مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اور یہ بھی بھول جاتا ہے کہ زندگی، خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے۔ عورتوں کی ملکیت کی وضاحت کریں۔ترکہ کے حوالے سے کاروبار کی مالیت (ویلیوایشن) کراکے ورثا کے حصوں کا تعین کریں۔ ان کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے حق کا تحفظ کریں۔ان کی اپنی شرکت یا نمائندے کی شرکت کوتحفط فراہم کریں۔اگر وہ کاروبار میں خاندانی روایات اور دینی تقاضوں کے مطابق شریک ہونا چاہتی ہیں تو اس کا بھی موقع فراہم کریں۔کاروبار میں ان کی عملی شرکت کا انصاف کے مطابق معاوضہ دیں۔
  • خاندان کے ان افراد کو مدد اور وسائل فراہم کریں جو کاروبار سے باہر اعلیٰ تعلیم یا کیریئر کے مواقع حاصل کرنا چاہتے ہیں،بلکہ ماہرین کے ذریعے ان کی کیریر پلاننگ کی کوشش کریں۔

وسیع تر متعلقین پر اثرات

  • آپ کا کاروبار آپ کے لیے عملی طور پر ایک ریاست ہے اور آپ اگر کاروبار کے سربراہ ہیں تو پھر آپ کاروباری مملکت کے سربراہ ہیں۔ آپ اس ریاست کے امیرالمومنین ہیں۔ آپ راعی ہیں، آپ سے حساب لیا جائے گا۔
  • خاندانی کاروبار میں ملازمین اپنی زندگیاں لگادیتے ہیں۔ وہ آپ کی دنیا بنانے کے لیے اپنی دنیا اور اپنے خاندان کی قربانی دیتے ہیں۔ ان کا خیال رکھیں۔ انھیں بھی سرمایہ کاری کا موقع دیں۔ ان کی اولاد کی تعلیم اور ترقی کا خیال رکھیں۔ان کی ریٹائرمنٹ یا موت کے وقت اتنا دیں کہ ان کے گھر والے خوش ہوجائیں۔
  • کاروبار کی ساکھ اور امیج پر جانشینی کے منصوبے کے اثرات پر غور کریں۔کسی انسان کی موت، حادثہ، کوئی الزام، کوئی بیان، یا کوئی انٹرویو بہت نقصان کا باعث ہوسکتے ہیں۔
  • خاندان کے افراد کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک نظام قائم کریں۔
  • کاروبار اور خاندان کی کامیابیوں پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ اپنی کا میابیوں کی خوشی میں دوسروں کو بھی شریک کریں۔ جن لوگوں نے محنت کی ہے ان کی حوصلہ افزائی کریں، انھیں کریڈٹ دیں۔ ان کے گھر والوں کو اہمیت اور عزّت دیں اور ان کی دعوت کریں۔
  • اللہ کریم کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں رزق دیا ہے اور اس کی تقسیم کا باعث بنایا ہے۔ آپ روزگار کے ذریعے بھی رزق تقسیم کرتے ہیں۔ آپ ٹیکس دے کر بھی ریاست کے استحکام اور دفاع کے لیے تقسیمِ رزق کا باعث بنتے ہیں۔ آپ زکوٰۃ دے کر بھی تقسیمِ رزق کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آپ اپنی پیداوار، آمدنی یا نفع کی ایک شرح نکال کربھی انفاق کے نام سے تقسیمِ رزق کا باعث بنتے ہیں۔ زکوٰۃ کے علاوہ بھی اپنے اوپر کچھ لازم کریں۔

(رابطے کے لیے:basheerjuma@gmail.com)

کسی فعل کو بدعت ِ مذمُومہ قرار دینے کے لیے صرف یہی بات کافی نہیں ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ ہوا تھا۔ لغت کے اعتبار سے تو ضرور ہرنیا کام بدعت ہے۔ مگر شریعت کی اصطلاح میں جس بدعت کو ضلالت قرار دیا گیا ہے، اس سے مراد وہ نیا کام ہے جس کے لیے شرع میں کوئی دلیل نہ ہو، جو شریعت کے کسی قاعدے یا حکم سے متصادم ہو___  جس کا نکالنے والااسے خود اپنے اُوپر یا دوسروں پر اس اِدعا کے ساتھ لازم کرے کہ اس کا التزام نہ کرنا گناہ اور کرنا فرض ہے۔ یہ صورت اگر نہ ہو تو مجرد اس دلیل کی بنا پر کہ فلاں کام آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں ہوا، اسے ’بدعت‘ بمعنی ضلالت نہیں کہا جاسکتا۔

عہد ِ رسالتؐ اور عہد ِ شیخینؓ میں جمعہ کی صرف ایک اذان ہوتی تھی، حضرت عثمانؓ نے اپنے دور میں ایک اذان کا اور اضافہ کر دیا، لیکن اسے بدعت ِ ضلالت کسی نے بھی قرار نہیں دیا بلکہ تمام اُمت نے اس نئی بات کو قبول کرلیا۔ بخلاف اس کے انھی حضرتِ عثمانؓ نے منیٰ میں قصر کرنے کے بجائے پوری نماز پڑھی تو اس پر اعتراض کیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ صلوٰۃ ضحی کے لیے خود بدعت اور اِحداث کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اِنَّھَا لَمِنْ اَحْسَنِ مَا اَحْدَثُوْا  (یہ ان بہترین نئے کاموں میں سے ہے جو لوگوں نے نکال لیے ہیں)، بِدْعَۃٌ وَنِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ (بدعت ہے اور اچھی بدعت ہے)، مَا اَحْدَثَ النَّاسُ شَیْئًا اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْہَا (لوگوں نے کوئی ایسا نیا کام نہیں کیا ہے، جو مجھے اس سے زیادہ پسند ہو)۔ حضرت عمرؓ نے تراویح کے بارے میں وہ طریقہ جاری کیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں نہ تھا۔ وہ خود اسے نیا کام کہتے ہیں، اور پھر فرماتے ہیں: نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ (یہ اچھا نیا کام ہے)۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرد نیا کام ہونے سے کوئی فعل بدعت ِ مذ مُومہ نہیں بن جاتا بلکہ اسے بدعت مذمُومہ بنانے کے لیے کچھ شرائط ہیں۔ (رسائل و مسائل، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، ج ۶۰، عدد۱، اپریل ۱۹۶۳ء، ص۵۸-۵۹)