سلیم منصور خالد


ہر معاشرے کی سماجی اور قومی زندگی میں شہریوں کو متعدد مشکلات اور مختلف چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ سنجیدہ، دوراندیش اور سمجھ دار لوگ اور ان کی قیادتیں، یقینا ان مشکلات کو دور کرنے اور معاشرے میں پھیلی اُلجھنوں کا مداوا کرنے کے لیے بہتر سے بہتر حل تلاش کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتی ہیں۔ صبرو تحمل، فکری بیداری، نظم و ضبط اور دلیل کے ساتھ راستہ بناتی اور حصولِ منزل کی شاہراہ پر چلتی ہیں۔

اس کے برعکس عجلت پسند قوتیں، معاشرے کی ان ہی کمیوں اور کمزوریوں کو لے کر، مبالغے کی یلغار اور جذبات کی آگ کے الائو کو اس حد تک بڑھا دیتی ہیںکہ حالات خود ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ بعض بدنصیب تو ان شعلوں کو بھڑکانے کے لیے اپنے ہاتھوں اپنوں تک کو بھی اس کش مکش کی بھینٹ چڑھانے سے باز نہیں آتے۔

جون ۲۰۲۶ء کے پہلے عشرے میں آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں اسی نوعیت کے افسوس ناک مناظر دیکھنے میں آئے۔ جہاں سراسر ایک آئینی اور سماجی مسئلہ تصادم کا پیش خیمہ بن گیا۔ مگر افسوس کہ آزاد کشمیر حکومت اور سول انتظامیہ اس چیلنج کا کامیابی سے جواب دینے کے بجائے، عجلت پسندی میں اس طرح اُلجھ کر رہ گئی کہ حالات کا تلخ اور منفی پہلو سارے منظرنامے پر حاوی ہوگیا۔ یوں منفی بیانیے کو بے جا طور پر عالمی سطح پر پذیرائی ملنے کا موقع مل گیا۔

پریشان کن صورتِ حال کا بنیادی سبب

آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہر صاحبِ ضمیر انسان کا دل رنجیدہ ہے۔ خون جس کا بھی بہے، اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں انسانی جان کا ضیاع ایک اجتماعی المیہ ہوتا ہے اور اس پر سیاست کے بجائے تدبر، احتساب اور سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلاشبہ آزاد کشمیر میں یہ منظرنامہ ایک غیرذمہ دارانہ سیاسی کھیل کا نتیجہ ہے کہ جس میں گذشتہ برسوں حزبِ اختلاف اور حکومت نے مل کر اقتدار کے مزے لوٹے۔ خاص طور پر گذشتہ پانچ برسوں میں چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ اس مدت میں چونکہ حزبِ اختلاف نے اپنا منصبی کردار ادا نہیں کیا، اور اقتدار کی ’میوزیکل چیئر‘ کا ایک کردار ہی بنی رہی، اس لیے اپوزیشن کا کردار اس کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ کسی بھی ریاست میں اضطراب کو کم کرنے کے اصل ذمہ دار بہرحال ریاست کے حکمران ہوتے ہیں۔ اور یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل کو بروقت سمجھے، اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرے اور ایسے حالات پیدا نہ ہونے دے جن سے تصادم، انتشار اور خون ریزی جنم لے۔لیکن افسوس کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور حکومت سازی سے منسلک کردار اس صورتِ حال کو سنبھال نہیں سکے۔

عوامی ایکشن کمیٹی جس نے آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مسائل اور مطالبات کی بنیاد پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بنیادی ایجنڈے پر احتجاج اور جواب در جواب تشدد حاوی ہوتا گیا۔ بدقسمتی سے آج اس کے پلیٹ فارم پہ چند علیحدگی پسند داخل ہوکر ایسے مطالبے کرنے لگے ہیں، جیسے 

  • آزاد کشمیر سے ’غیرملکی فورسز‘ کا انخلا کیا جائے 
  • آزادکشمیر اسمبلی سے مہاجرین کی نشستیں ختم کی جائیں 
  • آئین سے الحاق پاکستان کی شق نکال دی جائے 
  • ممبران اسمبلی کے حلف سے الحاق پاکستان کی نسبت ختم کی جائے
  • پاکستان کی ’عمل داری‘ ختم کی جائے 
  • الگ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کیے جائیں، وغیرہ وغیرہ۔ آزاد کشمیر کے عوام کے معاشی اور سماجی مسائل کو حل کرنے کی ایک قابلِ قدر اور معقول جدوجہد میں ان باتوں کی شمولیت نے ماحول سخت تلخ بنادیا ہے۔ 

ابتدا میں جب عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کے مسائل پر جدوجہد کا آغاز کیا تھا تو جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے اس کے ساتھ نہ صرف یکجہتی کا اظہار کیا، بلکہ ساتھ بھی دیا۔ لیکن جیسے ہی اس پلیٹ فارم سے ان نکات کو کبھی دھیمی اور کبھی بلندآواز میں کچھ لوگوں نے اپنی تقریروں اور سوشل میڈیا کا حصہ بنانا شروع کیا اور ایک قدم آگے بڑھ کر تشدد کا راستہ اپنایا تو یہ طرزِعمل دیکھ کر جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے ایکشن کمیٹی سے علیحدگی اور دُوری کا اعلان کردیا۔ تاہم، ایکشن کمیٹی کے آئینی اور جائز مطالبات کی جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی حمایت کی تھی اور مستقبل میں بھی جائز مطالبات اور پُرامن جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گی۔جماعت اسلامی آزاد کشمیر، تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ ایسے کسی منفی نعرے کی حمایت نہیں کر سکتی، جو پاکستان کی سلامتی اور جہادِ آزادی کے لیے صدمے کا باعث بنے۔

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص بارہ نشستیں ایک عرصے سے سیاسی اور آئینی بحث کا موضوع بنتی چلی آ رہی ہیں۔ ان نشستوں کے طریقِ انتخاب میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کی بنیاد پر اور حکومت سازی میں ان کے کردار پر تلخ آراء پائی جاتی ہیں۔ یہ تو ہوا اس مسئلے کا ایک پہلو۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان نشستوں کا وجود خود مسئلۂ کشمیر کا نتیجہ ہے۔ اگر مسئلۂ کشمیر حل ہو چکا ہوتا تو نہ یہ نشستیں وجود میں آتیں اور نہ یہ تنازع پیدا ہوتا۔یہ نشستیں دراصل اُن لاکھوں کشمیریوں کی سیاسی شناخت اور تاریخی جدوجہد کی علامت ہیں، جو۱۹۴۷ء کے بعد اپنے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقوں سے محروم ہوئے، اور آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے منتظر ہیں۔ اس لیے بارہ نشستوں کا معاملہ محض انتخابی یا انتظامی مسئلے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلۂ کشمیر کی تاریخ، تاریخی جدوجہد اور کشمیریوں کے سیاسی تشخص کا مظہر ہے۔

حکومت آزاد کشمیر کا مطلوبہ کردار

آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی کا موقف یہ ہے کہ انڈیا کی جانب سے اگست۲۰۱۹ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور اسمبلی کو پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت اور اسمبلی قرار دیا جائے اور اس مقصد کے لیے حکومتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے ضروری آئینی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں۔

اسی طرح آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی نے پاکستان میں

  •  مقیم مہاجرین کی نشستوں کے تعین کو ووٹرز کی تعداد سے منسلک کرنے،
  •  جموں اور وادی کی تخصیص ختم کرنے، lترقیاتی فنڈز اور تقرریوں و تبادلوں کے اختیارات کے خاتمے،
  • حریت کانفرنس، متحدہ جہاد کونسل اور مہاجرین ۱۹۸۹ء کی نمائندگی،
  • کابینہ کے حجم میں کمی، lمیرٹ پر تقرریوں، lعدالتی اصلاحات،
  • نظامِ زکوٰۃ و عشر کی بہتری اور شفافیت، lپن بجلی کے وسائل سے عمومی استفادے،
  • خوراک اور لائیو اسٹاک میں خود کفالت، lصحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات،
  • بلدیاتی اداروں کے استحکام، lآمدورفت کے انفراسٹرکچر کی ترقی،
  •  میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ڈرائی پورٹ کے قیام،
  • منگلا ڈیم کے متاثرین کے مسائل کے حل، 
  • عوامی نمائندوں کی مراعات کے خاتمے، 
  • کشمیر پراپرٹی کے تحفظ جیسے اہم نکات بھی اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں پیش کر کے عوام کے دُکھ درد اور جائز مطالبات کو زبان دی ہے۔ ان مسائل میں سے متعدد کا تعلق براہِ راست عام آدمی کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ جب کہ بجلی، صحت، انصاف، روزگار، انفراسٹرکچر، مقامی حکومتوں اور گڈ گورننس کے حوالے سے پیش کی گئی یہ تجاویز سنجیدہ غور و فکر اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کا تقاضا کرتی ہیں، تاکہ منفی پراپیگنڈے، جذباتیت اور اشتعال انگیزی پر مبنی سیاست سے بچا جا سکے۔

حُریت کانفرنس کا رِدعمل

مقبوضہ جموں و کشمیر کی جماعت اسلامی جو آزاد کشمیر جماعت اسلامی سے بالکل جداگانہ نظام، قیادت اور پروگرام رکھتی ہے، اس کی تقریباً ساری قیادت گذشتہ آٹھ، نو برسوں سے جیلوں میں قیدہے اور اس پر ظالمانہ پابندی عائد ہے۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں جماعت اسلامی سے وابستگان نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور آج بھی سخت آزمائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے لاکھوں کشمیری تہہِ تیغ کیے جا چکے ہیں۔ان کے لیے مسئلۂ کشمیر کی نظریاتی اساس پر کسی قسم کا حملہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

ممتاز کشمیری راہنما غلام محمد صفی، کنونیر کل جماعتی حریت کانفرنس نے آزادکشمیر کے حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے بجاطور پر کہا: ’’ہم جموں وکشمیر میں جس حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ جدوجہد صرف مقبوضہ کشمیر کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ مقبوضہ کشمیر، آزاد جموں وکشمیر، گلگت، بلتستان اور اس پوری ریاست کے لیے ہے، جس ریاست کا ایک حصہ آزاد جموں وکشمیر بھی ہے۔ اس لیے مقبوضہ جموں وکشمیر میں طویل جدوجہد کرنے اور انڈین فورسز اور حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو برداشت کرنے اور بربادی و تباہی کا سامنا کرنے والے لوگ جب یہ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ہم تو ایک بڑے حق حقِ خودارادیت کی بات کرتے ہیں، مگر دوسری طرف بدقسمتی سے ایک مخصوص طبقہ اس پوری ریاست کے صرف ایک حصے میں کچھ حقوق کی بات کرتا ہے تو انھیں یہ بات بہت عجیب لگتی ہے۔ وہ مسئلہ جو سب کا مشترکہ اور سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور جس پر برس ہا برس سے ایک جدوجہد جاری ہے، اور جس کی بنیاد پر انڈیا، جموں وکشمیر کے عوام پر ظلم ڈھاتا رہا ہے اور آج بھی ظلم ڈھا رہا ہے، اسے نظرانداز کرکے یہ بات کی جا رہی ہے۔

’’ ہم یہ سمجھتے ہیں آزاد کشمیر کے افراد کے جائز روز مرہ کے مسائل اور حقوق بلاشبہ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر یاد رہنا چاہیے کہ حقِ خود ارادیت اپنی جگہ مرکزیت کا حامل مسئلہ ہے۔ لیکن جب اس بڑے مسئلے کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور اُٹھانے کی جدوجہد میں دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہوجائے تو پھر بات بگڑ جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ ہوں یا آزاد کشمیر کے بھائی، ہم سب کی یہی کوشش رہی ہے کہ ہم دُنیا بھر کی ہرپارلیمنٹ، ادارے، تھنک ٹینک، ابلاغ عامہ کے پلیٹ فارم اور دانش وروں کے مراکز میں جاکر انڈیا کے مظالم کو اُجاگر کریں اور کشمیریوں کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے بیان کریں۔ مگرآج آزاد کشمیر میں چند لوگوں نے عجلت پسندی اور چند مقامی مسائل کی بنیاد پر پاکستان کو، انڈیا کے ہم پلہ کہنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا کے بدترین اور انسانیت سوز مظالم، یوں لگتا ہے کہ پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

’’اس پس منظر میں ہم حریت کانفرنس کی طرف سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے آزاد کشمیر کے بھائیوں کا یہ مسئلہ تشدد اور تصادم اور مبالغہ آمیزی سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ مسئلہ حل ہو گا تو بات چیت کے ذریعے سے ہوگا۔ حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان اور ایکشن کمیٹی، کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ پُرامن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ پیش کردہ مطالبات میں سے بہت سے پہلے ہی مان لیے گئے ہیں، اور جو مطالبات قانونی اور آئینی ہیں، ان کو بہرحال آئینی اداروں ہی میں بیٹھ کر حل کرنا ہوگا۔ اس طرح جگ ہنسائی کا کھیل ختم کر کے، حقِ خودارادیت کی جدوجہد پر متحدومتحرک ہونا ہوگا‘‘۔

جماعت اسلامی پاکستان کا موقف

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن صاحب نے آزاد کشمیر کے ان واقعات پر واضح الفاظ میں کہا ہے:

  • یہ بات ہر صاحب ِ اختیار کے ذہن میں پیوست رہنی چاہیے کہ عوامی اُمنگوں کو کچلنے اور سیاسی نظام کو جکڑنے کے نتیجے میں ایسی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے کہ جس سے پورے قومی موقف اور وجود کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔اس لیے حکومتی ذمہ داروں کو ایسے کھیل میں قوم کو اُلجھانے سے باز رہنا چاہیے۔
  • پاکستان، کشمیری بھائیوں کا ہے اور کشمیر، پاکستان سے کوئی الگ اکائی نہیں ہے۔ یہ باہم ایک ہی وجود ہے۔اس لیے انھیں ایک دوسرے پر اعتماد کرکے اور ایک دوسرے کے دُکھ درد کا ساتھی اور ہمدرد بن کر راستہ نکالنا اور منزل کی طرف چلنا ہوگا۔
  • ہم سب پر لازم ہے کہ کشمیر اور اہل کشمیر کے حقِ خودارادیت کے مسئلے کو مرکزی موضوع بنائیں، اور اُس کے حصول کی طرف پوری توجہ مرکوز رکھیں۔
  •  روزمرہ کے مسائل کا حل باہم مذاکرات اور افہام و تفہیم میں ہے۔ بُرا بھلا کہنے، تعصب پھیلانے اور گولی چلانے میں تباہی کے سوا کچھ نہیں، اور نہ بدامنی پھیلانے اور جواب در جواب تشدد سے کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے۔
  •  کشمیر کے نوجوانوں پر یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ پورا پاکستان اُن کے لیے کھلا ہے۔ تعلیم، ملازمت، ہنر، تجارت وغیرہ کے لیے ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ 
  •  مقامی مسائل جن طبقوں نے پیدا کیے ہیں وہ صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں ہیں، بلکہ پورا پاکستان اور پاکستان کے شہری اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان طبقوں کی گرفت کمزور کرنے اور اختیار حاصل کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ ایک جگہ کے لوگ دوسرے مقام کے ہم وطنوں ہی کے خلاف نفرت اور دشنام کا راستہ اختیار کریں۔

بحران سے نکلنے کا راستہ

آزاد کشمیر میں درپیش صورتِ حال سے نکلنے کے لیے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھنا چاہیے:

  •  جائز مطالبات پیش کرنا، ایکشن کمیٹی کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن اس کے ساتھ سیاسی و احتجاجی عمل کو پُر امن رکھنا بھی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
  • آزاد کشمیر کے بعض مقامات پر عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم، آنسو گیس، فائرنگ، حساس اداروں کا گھیراؤ اور انسانی جانوں کا ضیاع سخت باعثِ تشویش ہے۔ خون جس کا بھی بہے، وہ پوری قوم کا نقصان ہے اور اس کے ذمہ داروں کا تعین قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق بہرصورت ہونا چاہیے۔ ان سانحات کی عدالتی تحقیقات، ذمہ داران کے تعین کے لیے حکومت ِ پاکستان، حکومت ِ آزاد کشمیر اور سیاسی قیادت کے مابین فوری مشاورت اور تعاون ہونا چاہیے۔ یہی پہلا قدم معاملے کا کوئی پائیدار حل نکال سکتا ہے۔
  • تحریکِ آزادیٔ کشمیر اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کرنے والا خطۂ آزاد جموں و کشمیر نہ صرف اس تحریک حقِ خودارادیت کا عظیم بیس کیمپ ہے بلکہ انڈین ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کی رگِ جاں بھی ہے۔ اس خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کشمیر کاز اور پاکستان کے قومی مفادات کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
  •  موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے انتظامی مشینری اور سیاسی قیادت کو مفادات کی سیاست اور اقتدار کی کش مکش سے بلند ہو کر جرأت مندانہ، جمہوری اور مصالحانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ 
  • مہاجرین کی نشستوں اور ان کی نمائندگی کےموجودہ نظام کار پر تنقید ایک فطری امر ہے۔ جس پر تصادم نہیں بلکہ باہمی مشاورت سے اصلاحات ہونی چاہییں اوردیگر متنازع امور کو بھی مذاکرات اور آئینی ذرائع سے ہی حل کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
  •  آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ موجودہ صورتِ حال کا بہترین حل انتخابات کے بروقت اور منصفانہ انعقاد میں ہے۔ انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر مزید خرابیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے انتخابات ہر صورت اپنے مقررہ نظام الاوقات کے مطابق منعقد ہونے چاہییں۔ مطالبات پیش کرنے والے، جمہوری عمل کا حصہ بنیں اور ایوان میں پہنچ کر قانون سازی کے ذریعے متنازع معاملات حل کریں۔
  • ایک طرف ریاستی اصلاحات، گڈ گورننس اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ذمہ دارانہ پیش رفت ہونی چاہیے، تو دوسری طرف آزاد کشمیر کے امن، استحکام، مسئلۂ کشمیر کے بنیادی مقدمے اور پاکستان کے ساتھ تاریخی و نظریاتی رشتے کو ہر حال میں مقدم سمجھنا اور رکھنا چاہیے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاسی توانائی کا بڑا حصہ ایک دوسرے کو زیر کرنے، سیاسی برتری ثابت کرنے اور اختیارات کی کش مکش میں صرف ہو رہا ہے، جب کہ بنیادی مسئلہ پس منظر میں دھکیلا جا رہا ہے۔ اگر اس توانائی کا نصف بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف سیاسی، سفارتی اور عوامی جدوجہد پر صرف کیا جائے تو کشمیر کا مقدمہ کہیں زیادہ مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ جب قومیں اپنا اصل مقصد بھول جاتی ہیں تو چھوٹی چھوٹی چیزیں اصل مقصد کی جگہ لے لیتی ہیں۔

اصل توجہ مرکزی مسئلے پر مرکوز رہنی چاہیے۔کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں، بھارتی تسلط کے خاتمے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل پر پوری قوت صرف ہونی چاہیے۔

اختلاف اور احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ لیکن جذبات میں بے قابو ہو کر شاخوں کے جھگڑے میں جڑ کاٹنے پر چڑھ دوڑنا نہایت نامناسب ہے۔ کشمیر کا مقدمہ صرف ایک خطے کا تنازع نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے حقِ خودارادیت، شناخت اور انصاف کا مقدمہ ہے۔ اس مقدمے کی کامیابی کا تقاضا یہ ہے کہ باہمی اختلافات کو آئینی دائرے میں رکھ کر حل کریں اور قومی مفادات اور تاریخی ذمہ داری کو کبھی فراموش نہ کریں جو آزاد کشمیر کے ہرہرشہری اور تمام سیاسی و اجتماعی قوتوں کے کندھوں پر ہے۔(س م خ)

_______________

 

۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کی صبح ایران پر بلااشتعال اسرائیلی امریکی حملے کے نتیجے میں رہبر اسلامی جمہوریہ ایران علی خامنہ ای کے اہل خانہ اور ۱۸۰ طالبات کی شہادت پر جہاں دُنیا بھر میں احتجاج ہوا، وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی شدید احتجاج ہوا۔ کیونکہ یہ حقیقت سبھی کے سامنے بے نقاب ہے کہ انڈیا، اسرائیل کا طرف دار، حلیف اور سہولت کار ہے اور اس حملے سے دو روز قبل نریندر مودی نے اسرائیل میں صہیونی نسل پرست حکومت کے ساتھ گہرے تعاون کا اعلان اور ہرسطح پر تعاون کا وعدہ کیا تھا۔ 

اس پس منظر میں جموں و کشمیر میں احتجاج کی یہ لہر محض غم اور اشتعال کے ایک لمحے سے کہیں زیادہ گہری اہمیت رکھتی ہے۔ یہ درحقیقت اس مظلوم خطے کے نفسیاتی منظر نامے میں ایک خاموش مگر واضح تبدیلی کا پیغام ہے۔ ۲۰۱۹ء کے بعد سے، مقبوضہ کشمیر کی روزمرہ زندگی پر خوف کی ایک بھاری چادر تنی ہوئی تھی۔ وہ سڑکیں جو کبھی جدوجہدِ آزادی کے اظہار سے گونجتی تھیں، اب نگرانی، گرفتاریوں، قتل و غارت، تشدد کے زیرِ اثر ایک بے چین خاموشی میں ڈوب گئیں کہ اختلافِ رائے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ تاہم، اب جو کچھ سامنے آیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ یہ فضا ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف دبا دی گئی تھی۔ 

اس احتجاج میں جو بات سب سے نمایاں دکھائی دی وہ محض اس کی وسعت نہیں، بلکہ اس کی نوعیت ہے۔ اگرچہ فوری اشتعال کشمیر سے دور الم ناک واقعات سے جڑا ہوا ہے، لیکن بین الاقوامی معاملات سے جڑے اس زمینی ردِعمل نے ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جو کہیں زیادہ مقامی اور پائے دار ہے۔ لوگ ایک اکائی کے طور پر باہر نکلے اور ان مسلکی تقسیموں سے بالاتر ہو گئے جو اکثر ان کی شناخت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ اتحاد بذاتِ خود ایک وزن رکھتا ہے۔ یہ اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو نچلی سطح پر برقرار رہا اور دوبارہ ظاہر ہونے کے لیے کسی موقعے کا منتظر تھا۔ 

اس میں سب سے زیادہ متاثر کن منظر سری نگر کے لال چوک میں ہجوم کا نمودار ہونا تھا۔ گذشتہ سات برس سے انڈیا اس جگہ کو ہندو توا غنڈوں اور مقامی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اپنی فتح کی علامت کے طور پر استعمال کرتا آرہا تھا۔ عام لوگوں کا اس جگہ اچانک دوبارہ پوری قوت سے ظاہر ہونا دراصل یادداشت، جذبات اور عوامی آواز کی بحالی کا مظاہرہ تھا۔ جب ایسی جگہ دوبارہ زندہ ہوتی ہے، تو وہ ایک ایسا پیغام دیتی ہے جسے آسانی سے دبایا نہیں جا سکتا۔ 

اس لمحے کو محض 'احتجاج ' قرار دینا اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ یہ دراصل جمود توڑنے کا پیغام ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ خوف جب ذہنوں میں جڑ پکڑ لے تو وہ راتوں رات ختم نہیں ہوتا۔ لیکن جب لوگ اس کے باوجود قدم اٹھانا شروع کر دیں، تو یہ پہلے آہستہ آہستہ اور پھر اچانک مٹ سکتا ہے۔ یہی چیز اس لمحے کو اہم بناتی ہے۔ یہ بلاشبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاموش کرانے کے لیے بنائے گئے انڈین جابرانہ ریاستی ڈھانچے، کشمیریوں کے بنیادی عزم کو بجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ 

اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی تنظیم سازی یا کسی ایک بیانیے کی رہنمائی کے بغیر پروان چڑھا ہے۔ یہ جذبہ پہلے سے موجود تھا، جو عوام کے تجربات اور تلخ یادوں میں بسا ہوا تھا۔ جو چیز بدلی، وہ اس کا اُبھر کر سامنے آنا تھا، اور جب ایسا جذبہ نظر آنے لگے، تو یہ ان لوگوں کے لیے ناقابلِ انکار چیلنج بن جاتا جو اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ 

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سب کچھ بدل چکا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ کشمیر ایک بے رحم فوجی قبضے تلے سانس لے رہا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود، اس طرح کے لمحات اپنے فوری سیاق و سباق سے کہیں آگے تک گونج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ان کی اجتماعی قوت اور اخلاقی و اصولی موقف کی یاد دلاتے ہیں، اور ایسا کرتے ہوئے، وہ اس تصور کو بدل دیتے ہیں کہ کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔ 

اس لحاظ سے، یہ محض ایک عارضی واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کنٹرول اور خاموشی کی تہوں کے نیچے، کشمیر کے بنیادی سیاسی اور جذباتی دھارے پوری طرح زندہ ہیں۔  

دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیری صحافی عرفان معراج کی رہائی کا پُرزور مطالبہ کیا ہے اور۲۰۲۰ء سے حراست میں لیے گئے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائی کا بھی مطالبہ دُہرایا ہے۔ 

’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کی قیادت میں ۳۴ سول سوسائٹی تنظیموں کے ایک اتحاد بشمول ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘، ’ہیومن رائٹس واچ‘، ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘، ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ ان وولنٹری ڈس ایپیئرنسز‘ اور دیگر نے ۱۹مارچ کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا: عرفان معراج کو ۲۰مارچ ۲۰۲۳ء کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انڈین پینل کوڈ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں لیا تھا۔ سری نگر میں مقیم آزاد صحافی اور میگزین ایڈیٹر عرفان معراج نے کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل پر بڑے پیمانے پہ لکھا ہے اور انڈین ایکسپریس، الجزیرہ، ساؤتھ ایشین اور ڈوئچے ویلے سے قلمی تعاون کیا ہے۔ 

بیان میں کہا گیا ہے: جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی کے نزدیک دونوں کے خلاف الزامات ’سیاسی طور پر بنائے گئے‘ اور ’من گھڑت‘ ہیں۔ہماری تنظیمیں بھارتی حکام سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے ظالمانہ قوانین کو ختم کریں اور جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی اور میڈیا کے لیے ایک سازگار ماحول قائم کریں تاکہ وہ آزادانہ اور خودمختار طور پر کام کر سکیں‘‘۔ 

مزید یہ کہا ہے:’’بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ انڈین حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے فرائض کی پاسداری کرے۔ عرفان معراج، خرم پرویز اور دیگر تمام حراست میں لیے گئے انسانی حقوق سے محروم کارکنوں کو رہا کرے‘‘۔ 

انڈیا کے معروف ڈیجیٹل نیوز نیٹ ورک دی وائر نے بہت پہلے رپورٹ کیا تھا کہ عرفان معراج کو ایک تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری کے دوران پہلے این آئی اے آفس بلایا گیا اور پھر حراست میں لے لیا گیا، جیسا کہ ان کے خاندان نے بتایا۔ 

ان کے والد عرفان معراج الدین بھٹ نے ۲۰۲۳ء میں گرفتاری کے ایک دن بعد اخبارنویسوں کو بتایا تھا: ’’میرا بیٹا ایک کہانی پر رپورٹنگ کر رہا تھا جب انویسٹی گیٹرز نے ان کے موبائل پر کال کی اور کہا کہ صرف پانچ منٹ کے لیے آفس آ جائو۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسے گرفتار کرکے دہلی بھیج دیا گیا ہے‘‘۔ 

گرفتاری پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لاولور، ایمنسٹی انٹرنیشنل، پریس کلب آف انڈیا اور دیگر حقوق اور آزادیٔ اظہار کی تنظیموں نے اس لاقانونیت پر شدید تنقید کی تھی۔ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف یو اے پی اے کے استعمال پر بار بار تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ آزاد میڈیا کی رپورٹنگ میں کشمیر میں صحافیوں کو پولیس کی طرف سے طلب کرکے، پوچھ گچھ کرنے اور ہرایک سے ’اچھے رویے‘ کے پیشگی ضمانت ناموں پر دستخط کرنے کا مطالبہ کرنے کے متعدد واقعات دستاویزی طور پر سامنے آئے ہیں۔ 

’اسکرول ڈاٹ‘ کے مطابق: چار صحافیوں کو سری نگر میں پولیس اسٹیشنوں پر بلاکر دھمکایا گیا۔ نیوز لانڈری نے رپورٹ کیا ہے: گذشتہ سال میں تقریباً ۲۵کشمیری صحافیوں کو بار بار پوچھ گچھ کے دوران ہراساں کیا گیا۔ 

دی وائر سے وابستہ صحافی جہانگیر علی کا فون پولیس نے ضبط کرلیا۔ اس مقصد کے لیےنہ تو کوئی ایف آئی آر کاٹی گئی، نہ وارنٹ جاری ہوئے اور نہ کسی عدالت کا حکم سامنے آیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات اور الیکٹرانک آلات رکھنے کے عالمی تسلیم شدہ اصولوں کے برعکس یہ اقدام کیا گیا۔ 

۱۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فری لانسرز اور مقامی اخبارنویس جموں و کشمیر میں نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کا شکار ہیں۔دوسری طرف لوگوں کے ذاتی فون اچانک اُچک کر انتظامیہ تفتیش شروع کر دیتی ہے۔ عوامی سطح پر اس چیز نے سخت اضطراب پیدا کردیا ہے۔ 

انڈیا اور جموں و کشمیر میں کالعدم تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھی خواتین کے لیے سزا کا حکم نامہ فوجداری قانون،اصولِ قانون (جیورس پروڈنس)،اور آئینی آزادیوں کے سنگم پر ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔۲۴مارچ ۲۰۲۶ء کو دہلی کی ایک عدالت نے محترمہ آسیہ اندرابی کو عمرقید اور ان کی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو تیس تیس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ سیّدہ آسیہ اندرابی صاحبہ دُختر مرحوم ڈاکٹر سیّد شہاب الدین یاسین اندرابی (عمر۶۴سال) نے ہوم اکنامکس میں بی ایس سی کرنے کے بعد ایم اے عربی پاس کیا ہے۔ ناہیدہ نسرین صاحبہ دُختر مرحوم شیخ نورالدین (عمر ۵۸ سال) نے ایم ایس سی زوالوجی اور ایم اے اسلامیات کیا ہے، جب کہ فہمیدہ صوفی دُختر مرحوم محمد صدیق صوفی (عمر ۴۵ سال) بی ایس سی پاس ہیں۔ 

جج چندر جیت سنگھ کی عدالت کے جاری کردہ فیصلے کا گہرا مطالعہ، بالخصوص پیرا گراف ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور ۱۶ ایک ایسی منطق کو ظاہر کرتے ہیں جو مسلّمہ قانونی اصولوں سے ہٹ کر غیر مذہبی، عصبیتی اور موضوعی (subjective) میدان میں داخل نظر آتی ہے۔ 

اس فیصلے کے مرکزی تصور میں دو شدید تر عوامل (Aggravating Factors) موجود ہیں: پہلا، اقامتِ دین‘ کی دعوت و تبلیغ اور دوسرا، ملزمان کا اپنی ان سرگرمیوں پر ندامت کا فقدان۔ ان دو عوامل پر فیصلے کی بنیاد استوار کرنا باریک بین جائزے کا متقاضی ہے۔ 

پہلے بات کرتے ہیں ’اقامتِ دین‘ پر۔ عدالت یہ درج کرتی ہے کہ سزا یافتہ خواتین سے وابستہ ’تنظیم دخترانِ ملت‘ (DeM) ’اقامت ِ دین کی علَم بردار‘ تحریک ہے۔ تاہم، اس دعوے سے قطع نظر، فیصلے میں اس تصور کی نہ تو کوئی بامعنی تعریف کی گئی ہے اور نہ اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پھر اس کی فکری تعبیر اور تاریخ سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا گیا، نہ مسلّمہ تشریحات کا کوئی حوالہ دیا گیا ہے، اور نہ عقیدے اور غیر قانونی طرزِ عمل کے درمیان فرق کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔ 

اس کے بجائے، عدالتی استدلال ایک متعصبانہ بنیاد پر کھڑا نظر آتا ہے۔ عدالت نے خود اس تصور کی گہرائی میں اترنے کے بجائے، قاضی عبدالودود (پی ایچ ڈی اسکالر) اور ڈاکٹر محمد معاویہ خان (اسسٹنٹ پروفیسر، اسلامیہ یونی ورسٹی بہاولپور، رحیم یار خان کیمپس، پاکستان) کے ایک مقالے بعنوان ’اقامت ِ دین کا مفہوم اور عصری عہد میں اس کا نفاذ‘ پر تکیہ کیا ہے جو ’الحیات ریسرچ جنرل‘ ۲۰۲۵ء میں شائع ہوا۔اس غیرمعیاری ماخذ پر انحصار کئی خدشات کو جنم دیتا ہے۔ 

عدالتوں سے، خاص طور پر حساس مذہبی یا نظریاتی تصورات سے نمٹتے وقت، یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستند اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ علمی کاموں سے استفادہ کریں۔ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور پروفیسر خورشید احمد جیسے بلندپایہ مفکرین کی کتب میں اقامت ِ دین پر علمی ذخیرہ موجود ہے۔ 

یہ تحریریں اس تصور کو ایک وسیع تر اخلاقی، سماجی اور ریاستی و قانونی فریم ورک کے اندر پیش کرتی ہیں، جن کی بنیاد پر اکثر اخلاقی اصلاح، فلاحِ عامہ اور روحانی نظم و ضبط پر مبنی ایک ’طرزِ زندگی‘ کو پیش اور بیان کیا جاتا ہے۔مگر یہ فیصلہ اس بھرپور فکری روایت کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔ 

اس کے برعکس، یوں لگتا ہے کہ ایک نسبتاً غیرمعروف اور نہایت ثانوی درجے کے تعلیمی مقالے کو آن لائن سرچ کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ سابقہ انڈین عدالتی نظائر کے ساتھ اس کا تضاد نمایاں ہے۔ ۱۹۹۵ء کے ’ہندوتوا‘ کے بارے فیصلے میں، چیف جسٹس جے ایس ورما کے ماتحت سپریم کورٹ نے ’ہندوتوا‘ کو ایک ’طرزِ زندگی‘ قرار دیا تھا، جس کے لیے مولانا وحید الدین خان جیسی معروف شخصیات سمیت تشریحات کے ایک وسیع حلقے سے استفادہ کیا گیا تھا، نہ کہ خود کو کسی محدود اور غیرمعروف مآخذ تک محدود رکھا گیا۔ 

تاہم، یہاں پر ’اقامت ِ دین‘ کو ایک خاص (مجرمانہ) نیت کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے، بغیر یہ دیکھے کہ کیا واقعی یہ تصور بذاتِ خود لازمی طور پر غیر قانونی ہے؟ اس طرح کے تجزیے کی عدم موجودگی میں ایک وسیع مذہبی تصور کو محض استغاثہ کے بیانیے میں ضم کر دینے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ 

یہ نکتہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب اسے فیصلے کے پیرا گراف ۱۰ تا ۱۲ میں استغاثہ کے ان دعوؤں کے ساتھ پڑھا جائے، جن میں پاکستان سے سازش، نظریاتی حرکیات اور غیر قانونی مقاصد کی تشہیر کے لیے میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ لیکن یہ محض دعوے ہیں، جن کے لیے غلط نیت کا ثبوت اور ان کے واضح نتائج کا پیش کیا جانا ضروری ہے۔ انھیں محض ایک موہوم مذہبی تصور کی بنیاد پر نہیں باور کیا جاسکتا، جو ابھی تک غیر واضح اور متنازع ہے۔ 

خواتین نے دفاع کرتے ہوئے اپنی تحریری گذارشات میں اس خلا کو بڑی درستگی کے ساتھ اجاگر کیا۔ یہ دلیل دی گئی کہ استغاثہ مبینہ افعال اور کسی حقیقی نقصان کے درمیان کوئی ٹھوس نتیجہ یا براہِ راست تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ موقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی نمایاں ضرر اور نقصان کی عدم موجودگی سزا کے تعین میں ایک اہم تخفیفی عنصر (Mitigating Factor) ہونی چاہیے۔  

تاہم، فیصلے میں اصولی، قانونی اور منطقی بنیاد کے بجائے نظریاتی فریم ورک کو وزن دیا گیا ہے۔اس عدالتی استدلال کا دوسرا ستون کھڑا کیا گیا ہے ’ندامت کا فقدان‘ ۔یہ دلیل مساوی طور پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ 

’انڈین تعزیری قانون‘ واضح ہے کہ سزا متناسب، انفرادی حالات کے مطابق اور معروضی عوامل پر مبنی ہونی چاہیے۔ عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سزا سناتے وقت عمر، صحت، پس منظر اور جرم کے اصل نتائج، جیسے تخفیفی حالات کو مدنظر رکھیں۔ 

خواتین نے اپنی دفاعی گذارشات میں اس بات کو دُہرایا کہ سزا دینا کوئی مشینی عمل نہیں ہے بلکہ اس میں انصاف اور تناسب کا عکس نظر آنا چاہیے۔ 

’ندامت کا فقدان‘ 

اس کے باوجود، فیصلے میں برملا ندامت کی عدم موجودگی کو سزا میں اضافے کے لیے ایک فیصلہ کن عنصر قرار دیا گیا ہے۔یہ سوچ اور فیصلہ کئی لحاظ سے تشویش ناک فکر کی نشان دہی کرتا ہے۔ ندامت فطری طور پر ایک موضوعی امر (Subjective Factor) ہے نہ کہ قانونی استدلال۔ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جسے آسانی سے ناپا یا پرکھا نہیں جاسکتا۔ مگر اسے ایک مرکزی حیثیت دینا ملزم کو اس بات کی سزا دینے کے مترادف ہے جس پر وہ یقین رکھتا ہے یا جس کا اظہار نہ کرنے کا وہ انتخاب کرتا ہے، بجائے اس کے جو قانوناً ثابت ہو چکا ہے۔ 

یہ خود کو مجرم ٹھیرانے کے خلاف حق (Right Against Self-incrimination) اور اس وسیع تر اصول پر بھی سوالات اٹھاتا ہے کہ مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے فیصلے کا انحصار شواہد پر ہونا چاہیے، نہ کہ قیاس کردہ ظن و تخمین پر۔ 

سیاسی فکر، مجرمانہ نیت یا کشمیر اور اقامتِ دین کا قانونی پہلو 

فیصلے کا ایک اور تشویشناک پہلو کشمیر کی نسبت سے ملزمان کے سیاسی موقف کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ استغاثہ نے مسئلہ کشمیر پر ان کے بیان اور نظریاتی کمٹمنٹ کو انڈیا کی خودمختاری کے خلاف ایک بڑی سازش کے طور پر پیش کیا ہے۔تاہم، فیصلے کے پیراگراف ۱۶ کے مطابق زیرحراست خواتین کی سیاسی رائے اور پُرتشدد طرزِ عمل کے درمیان تعلق متعین نہیں کیا جاسکا۔ وکلائے دفاع نے مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان کی سرگرمیاں نظریاتی اظہار اور ایک دیرینہ قومی سیاسی متنازع مسئلے پر تبصرے تک محدود تھیں، نہ کہ براہِ راست پُرتشدد کارروائیوں سے منسوب۔ 

جمہوری نظامِ عدل میں، کسی سیاسی نظریے کو رکھنا یا اس کا اظہار کرنا، —خواہ وہ ریاست کے سرکاری موقف کو چیلنج ہی کیوں نہ کرتا ہو، —بذاتِ خود مجرمانہ فعل نہیں بن سکتا، جب تک کہ اس کا تعلق واضح طور پر اشتعال انگیزی یا غیر قانونی اقدام سے نہ جڑا ہو۔ 

کشمیر کے تناظر میں یہ بحث اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم اسے تاریخی اور سفارتی حقائق کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ کشمیر کو عشروں سے عالمی سطح پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تصفیہ طلب مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادیں، بالخصوص قرارداد نمبر ۴۷، اس مسئلے کے سیاسی حل اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق فیصلے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ 

انڈین قیادت کا اپنا ریکارڈ بھی اسی موقف کی تائید کرتا رہا ہے۔ تحریک آزادی کے لیڈر اور پہلے انڈین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بین الاقوامی فورمز پر کیے گئے وعدوں سے لے کر، بی جے پی سے وابستہ انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘ کے فلسفے تک، اور ۹جولائی ۲۰۱۵ء کے ’اوفا اعلامیے‘ (Ufa Declaration) تک، —جہاں انڈیا اور پاکستان نے تمام باہمی حل طلب مسائل پر بات چیت کے عزم کا اعلان کیا، —یہ سب اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہاں ایک سیاسی مسئلہ موجود ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت بھی جب آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کو حاصل کرنے کی بات کرتی ہے، تو وہ بالواسطہ یہ بات ہی تسلیم کر رہی ہوتی ہے کہ جغرافیائی اور سیاسی حدود ابھی حتمی نہیں ہیں اور ایک باہم تنازع موجود ہے۔ 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست خود اسے ایک حل طلب مسئلہ تسلیم کرتی ہے، تو کسی شہری یا گروہ کی جانب سے اسی مسئلے پر ایک الگ سیاسی یا نظریاتی موقف رکھنا ’مجرمانہ سازش‘ کیسے بن سکتا ہے؟ جمہوری نظامِ عدل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی نظریہ تشدد پر نہیں اکساتا یا اسے بزورِ شمشیر دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، محض اس سوچ یا نظریے کو رکھنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور نہ اس کو ’ندامت کے فقدان‘ کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ 

کشمیر کو حل طلب مسئلہ ماننے اور اقامت دین کے فلسفہ پر اعتقاد رکھنے سے بھلا کیسے کوئی مجرم بن سکتا ہے؟ 

اقامت ِ دین کے تصور کو مجرمانہ رنگ دینا بھی قانونی تضادات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف انڈیا میں ہندو راشٹرا یا ہندو دیش بنانے کی مہمات کو بعض اوقات حکومتی سرپرستی یا آشیر واد حاصل ہوتا ہے اور اسے ایک ’تہذیبی حق‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اقامتِ دین جیسے مذہبی و اخلاقی تصور کو —جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی اور اخلاقی اصلاح کا نام ہے، اسے کیسے انڈین —ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ 

قانون کی نظر میں یہ دوہرا معیار، عدل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر ’ہندوتوا‘ کو ایک طرزِ زندگی (Way of Life) کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے، تو اقامت ِ دین کو، جو کہ اپنی اصل میں روحانی بالیدگی اور سماجی بہبود کا داعی ہے، محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مجرمانہ نیت سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ جب تک استغاثہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس نظریے کے تحت براہِ راست کسی پُرتشدد کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی، اسے سزا کی بنیاد بنانا دراصل ’فکری آزادی‘ کو قید کرنے کے مترادف ہے۔ کسی سیاسی تنازعے پر سرکاری موقف سے ہٹ کر رائے رکھنا ’اختلافِ رائے‘ (Dissent) تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے ’غداری‘ یا ’دہشت گردی‘ سے وابستہ کرنا آئینی حقوق کی روح کے خلاف ہے۔ 

دفاعی گذارشات میں کئی تخفیفی عوامل ریکارڈ پر لائے گئے: سزا یافتہ افراد کی ڈھلتی عمر، ان کا تعلیمی پس منظر، ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور یہ حقیقت کہ وہ پہلے ہی تقریباً آٹھ سال قید کاٹ چکی ہیں۔ یہ کوئی معمولی انحرافِ عدل و اخلاق کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ مذکورہ عوامل اس اصولِ تناسب (Principle of Proportionality) کی روح ہیں جو جدید نظامِ سزا کی بنیاد ہے۔ 

پھر کسی واضح نقصان کا ثبوت نہ ہونے کا مسئلہ بھی اس میں موجود ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ ریکارڈ سے بھی مبینہ افعال اور کسی حقیقی بدامنی یا تشدد کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ فوجداری قانون میں، خاص طور پر سنگین جرائم میں، ایسا تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ 

اس لیے مجموعی طور پر، یہ فیصلہ بنیادی اور تشویش ناک سوالات کو جنم دیتا ہے۔ 

کیا کوئی عدالت ایک پیچیدہ مذہبی تصور کی تشریح کے لیے کسی محدود اور گمنام علمی مآخذ پر بھروسا کر سکتی ہے؟ کیا اقامتِ دین جیسے وسیع مذہبی نظریے کو اس کے مسلّمہ معانی پر غور کیے بغیر مجرمانہ نیت کا ثبوت مانا جا سکتا ہے؟ اور کیا ’ندامت کی عدم موجودگی‘ عمر، صحت اور واضح نقصان کی کمی جیسے معروضی تخفیفی عوامل پر بھاری پڑ سکتی ہے؟ 

ایک آئینی جمہوریت میں، عدالتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے نفاذ اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے درمیان ایک باریک توازن برقرار رکھیں۔ لیکن جب عدالتی استدلال عقیدے اور جرم، یا ثبوت اور تشریح کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتا ہے، تو وہ توازن خطرے میں پڑجاتا ہے۔ 

اس فیصلے سے پیدا ہونے والے خدشات اور مابعد اثرات صرف ایک کیس تک محدود نہیں ہیں۔ یہ اس بات کے مرکزی نکتے سے بحث کرتے ہیں کہ عدالتیں نظریات کی تشریح کیسے کرتی ہیں؟ ملزمان کی نیت کا اندازہ کیسے لگاتی ہیں؟ اور انصاف و تناسب کے اصولوں کا اطلاق کس طرح کرتی ہیں؟ اور تعصب اور عدل شکنی کی راہ پر چلتے چلتے عدل کو قتل کرنے کی آلۂ کار بن کر رہ جاتی ہیں؟ 

بنگلہ دیش اس وقت قومی زندگی کے نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف تیرھویں قومی انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے، تو دوسری جانب ان انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے والی قوتوں کی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔عوامی لیگ کی ۱۵ سالہ فسطائی حکومت کے خاتمے (اگست ۲۰۲۴ء) کے بعد دستور، قانون اور حکومتی انتظام کے تضادات پوری قوت سے اُبھر کر سامنے آئے، جنھیں درست کرنے کے لیے ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری حکومت نے ڈیڑھ سال کے دوران بہت سی کوششیں کیں، مگر یہ چیلنج اس قدر گہرا، ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ہے کہ عبوری حکومت، خواہش کے باوجود اس کام کو تسلی بخش طریقے سے انجام نہیں دے سکی۔  

اس کے چار اسباب تھے: پہلا یہ کہ حکومت میں شامل افراد پہلے سے کوئی ریاستی و انتظامی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ دوسرا یہ کہ بیش تر افراد مختلف این جی اوز کے پس منظر سے متعلق تھے، جن میں فکری ہم آہنگی نہیں تھی کہ وہ مل کر زیادہ اعتماد سے کام کرتے۔ تیسرا یہ کہ انھیں اس چیز کا احساس تھا کہ ان کے پاس عوام کا مقبول مینڈیٹ نہیں، جس کے سبب وہ زیادہ پُراعتماد اقدام نہ کرپائے، اور چوتھا یہ کہ پورے ریاستی نظام میں، عوامی لیگی اور انڈین اثرات کے تحت اہل کاروں سے اپنی بات منوانا مشکل ثابت ہوا۔ 

یہ وہ اسباب تھے کہ جنھوں نے انتخابات سے قبل قومی سطح پر قانون اور ضابطے کی درستی اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے منظم ڈھانچے کو بے نقاب کرنے کے لیے اصلاحات کا خواب شرمندئہ تعبیر نہ ہونے دیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ۱۲فروری کو انتخابات کے روز ایک جانب لوگ اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کو ووٹ دیں گے، تو دوسری جانب آئینی اصلاحات کی نسبت سے چند بنیادی نکات پر ریفرنڈم میں اپنی رائے دیں گے۔ 

عوامی لیگ کے قومی جرائم کے سبب، عبوری حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی ہے، جس کے بعد عملاً میدان میں دو قوتیں برسرِ انتخاب ہیں: ایک بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP: بی این پی)اور دوسری بنگلہ دیش جماعت اسلامی۔  

قومی زندگی میں بی این پی کی گہری جڑیں ہیں، اور تین مرتبہ حکومت میں رہنے کا تجربہ رکھتی ہے۔ اسی طرح ڈیڑھ ماہ قبل اس کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء کا انتقال ہوا تو تدفین کے موقعے پر بلاشبہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہوا۔ ان کے بیٹے طارق رحمان (پ: ۱۹۶۵ء) ایک طویل مدت کی جلاوطنی کے بعد ملک میں واپس آئے اور اب وہ پُراعتماد حیثیت سے پارٹی کے سربراہ ہیں۔ ملک میں آمد کے موقعے پر عبوری حکومت نے عملاً انھیں ایک سربراہ کی طرح پروٹوکول دیا، جس سے انتخابات میں حکومت کی غیر جانب داری کے دعوے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس چیز کو تمام حلقوں نے محسوس کیا ہے اور قومی سطح پر اس پہ اعتراض بھی اُٹھایا ہے۔ لیکن ریاستی انتظامی ڈھانچے نے فی الحقیقت انھیں مستقبل کے حکمران کے طور پر ہی سمجھنا اور پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔  

پارلیمنٹ کے تین سو کے ایوان میں دو سو سے زیادہ نشستوں پر بی این پی نے نمائندے کھڑے کیے ہیں۔ طارق رحمان نے انتخابی مہم میں جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہورہے ہیں، لیکن جس تاثر کے ساتھ بی این پی انتخابات جیتنے کا دعویٰ رکھتی ہے، اُس نسبت سے لوگ جلسوں میں نہیں آرہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں بی این پی اور جماعت اسلامی کم و بیش برابر یا کسی جائزے میں بی این پی قدرے بہتر نتیجے کے ساتھ نمایاں نظرآتی ہے، مگر بہت کم فرق کے ساتھ۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ بی این پی کی تائید کے لیے کمیونسٹ لابی، ہندو برادری کے طاقت ور گروہ، عوامی لیگ کے حامیوں کی بڑی تعداد، این جی اوز کی مشینری اور اس کے ساتھ ساتھ انڈیا کے مؤثر حلقوں کی آشیرباد واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ اسی سول اور فوجی انتظامیہ کے ساتھ میڈیا کے فعال عناصر بھی اس کی جانب جھکائو رکھتے ہیں۔ 

دوسری جانب جماعت اسلامی ہے، جس کے دامن میں خلوص، محنت، دیانت، خدمت اور ملک و قوم کے لیے قربانیوں کی بہترین روایت ہے۔ اس کی بے داغ قیادت نے قوم میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔بلاشبہ ملک بھر میں سب سے بڑے انتخابی جلسے جماعت اسلامی ہی کے ہورہے ہیں، جس کی تائید کے لیے نو چھوٹی بڑی جماعتیں شریک کار ہیں۔ ان پارٹیوں میں طلبہ کی ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ (NCP)بھی شامل ہے۔  

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعت اسلامی اور اس کے اتحاد کی حمایت کرنے والوں میں چالیس سال سے کم عمر کے رائے دہندگان کی بڑی تعداد شامل ہے۔ پھر یہ پہلو بھی سامنے رہے کہ یونی ورسٹیوں کے تمام انتخابات جماعت اسلامی کی حامی ’اسلامی چھاترو شبر‘ کے اُمیدواروں نے واضح اور بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے، اور اپنے مدمقابل ’چھاترو دل‘ (بی این پی کے حامی طلبہ) کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ گویا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد جماعت اسلامی کی جانب ووٹ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ حالانکہ گذشتہ کئی عشروں سے جماعت اسلامی کے خلاف ابلاغی، نصابی اور قومی سطح پر ہمہ گیر مہم کی سرپرستی کی جاتی رہی ہے۔ اسی طرح اب سے چند روز قبل علما کے ایک معروف گروپ نے جماعت اسلامی کے اتحاد سے الگ ہوکر انتخابات میں اُترنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یقینا جماعت اسلامی کے حامی ووٹروں کی قوت تقسیم ہوگی۔ 

جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن (پ:۱۹۵۸ء) قومی سطح پر ایک مرکزی راہ نما کے طور پر اُبھرے ہیں۔ ان کی تقاریر میں ٹھیرائو، تدبر، وسعت ِ نظری اور سنجیدگی نے عوام و خواص میں گہرا تاثر قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب انتخابی تقاریر اور عوامی پروگراموں میں الزام تراشی اور مخالفین پر طعن و الزام کے بجائے مثبت انداز سے اپنا پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ جس میں انصاف، سماجی فلاح اور معاشی استحکام کو مرکزیت حاصل ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی انتخابی مہم قدم قدم پر مالی وسائل کی کمی کے ساتھ چلتی دکھائی دیتی ہے اور بی این پی کی مہم شاہانہ اخراجات کا نمونہ ہے۔ 

مبصرین کی رائے ہے کہ اگر انتخابات غیر جانب دارانہ ہوں تو جماعت اور بی این پی برابر، برابر نشستیں لیں گی، اوریہ بھی ممکن ہے کہ جماعت اسلامی سادہ اکثریت حاصل کرلے۔  لیکن دھاندلی سے یہ نتیجہ تبدیل کرکے بی این پی کی جانب جھکایا بھی جاسکتاہے۔ تاہم جماعت اسلامی نے یہ پیش کش کر رکھی ہے کہ وہ کامیابی کی ہرصورت میں قومی حکومت بنا کر تعمیروترقی کے لیے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ 

وطن عزیز میں ’طاقت اور اختیار کا کھیل‘ اپنی تمام کثافتوں کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ دیکھنے میں چلاآرہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کھیل کے کھلاڑی غالباً ہرآن یہی سوچتے ہیں کہ ’طاقت و اختیار‘ کا کب کتنا مزید حصہ حاصل کرنا ہے۔ باقی رہی قوم اور قوم کے روزمرہ اُمور، یا مستقبل کے معاملات، تو اُن کے بارے میں جب فرصت ملی تو سوچ لیا جائے گا۔ 

قوم کے اعصابی مراکز پر فائز قوتیں چاہے وہ سیاسی ہوں یا عسکری، عدالتی ہوں یا سول، اپنے کردار سے کم و بیش اسی کھیل میں کبھی تیزگامی اور کبھی سُست رفتاری اختیار کرنے کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ مقتدر طبقوں کی یہی وہ لَت تھی جس نے قیامِ پاکستان کے بعد دستور بنانے میں قوم کے نوسال ضائع کردیئے، اور انھی ۹برسوں میں ایسے ایسے امراض قومی وجود کو لاحق ہوگئے کہ پہلے انھوں نے دسمبر۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ دکھایا، اور پھر باقی پاکستان کو بھی مسلسل خطرات کے گرداب میں رکھا ہے۔ یہ پریشان کن تبصرہ بے وجہ نہیں۔ اس لیے کہ سیاسی قوتوں کی آمریت پسندی اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کبھی عسکری قوتوں سے گٹھ جوڑ اور کبھی اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ سازباز کا چلن سب کے سامنے ہے۔ یہ سب ’بے زبان‘ قوم کی تاریخ کے سیاہ باب ہیں۔ 

اس تمہید کا ایک تلخ پہلو فروری۲۰۲۴ء کے وہ انتخابات بھی ہیں، جن میں عدالت عظمیٰ کے ذریعے ایک پارٹی کا نشان سلب کرکے قبل اَز انتخابات دھاندلی کا ظلم شامل کیا گیا، اور پھر من پسند لوگوں کو ’فارم ۴۷‘کے کٹھولے میں بٹھا کر پارلیمنٹ میں پہنچایا گیا۔ مشہور کہاوت ہے کہ ’غلطی کبھی بانجھ نہیں رہتی، وہ نئی غلطی کو جنم دیتی ہے‘۔ یہی کام یہاں بھی ہوا کہ سالِ انتخابات ۲۰۲۴ء ختم ہونے سے پہلے ہی ۲۶ویں ترمیم کا ایسا ڈول ڈالا گیا کہ جس نے خود آئینی ترمیم کے طریق کار کو ہی مشکوک نہیں بنایا، بلکہ اُس کے متعدد منفی نتائج بھی سیاسی و قانونی کلچر کی خرابی کی بنیاد بنے، اور اس کی ضربِ کاری کا اصل نشانہ اعلیٰ عدلیہ ہی بنی۔ چونکہ اس ترمیم میں بدنیتی کے کئی عوامل موجود تھے، اس لیے ’ھل من مزید‘ کی پیاس نے ۲۰۲۵ء کے خاتمے تک ۲۷ویں آئینی ترمیم کی یلغار کرادی۔ یہ ترمیم کیا ہے؟جزوی چیزوں کو چھوڑ کر درحقیقت عدل و انصاف پر ایک غیراسلامی، غیراخلاقی اور غیر جمہوری خودکش حملہ ہے۔ 

اس ترمیم میں عدلیہ کو مقتدرہ کے ہاتھوں یرغمال بنانے اور مسلسل دہشت زدہ رکھنے کا بارود رکھا گیا ہے، اور مقتدرہ کے کچھ مناصب پر فائز افراد کو ’تاحیات استثناء‘ دے کر، اسلام اور انصاف کے اصولوں کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔ پھر اس ترمیم کے ذریعے ’قراردادِ مقاصد‘ کی روح کچل کر رکھ دی گئی ہے۔’قراردادِ مقاصد‘ تحریک پاکستان کے لیے مسلمانانِ برصغیر کے عمرانی معاہدے کی غماز اور آئینِ پاکستان کی بنیاد ہے۔جو واضح طور پر متعین کرتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے، اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقررہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے۔اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے، لہٰذا مملکت تمام حقوق و اختیاراتِ حکمرانی عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اللہ کی امانت کے طور پر استعمال کریں گے، اور متفقہ قومی دستور نے کہا ہےکہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا، اور اگر کوئی ایسا متصادم قانون ہوگا تو چیلنج کرکے تبدیل کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ قائم کیے گئے ہیں۔ 

حالیہ ۲۷ویں ترمیم کے ذریعے دستور میں صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو فوجداری اور دیوانی مقدمات سے دیا گیا تاحیات استثناء سراسر قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ قرآن و سنت میں تویہ استثناء رسولِ معصوم عن الخطاء صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفائے راشدینؓ کو بھی حاصل نہیں۔یہ غیر اسلامی اور غیر عادلانہ دفعہ مسلّمہ جمہوری و مہذب اصولوں یعنی مساوات، عدل کی گردن اُڑانے کا اعلان بھی ہے اور اختیار بھی۔ یہ دفعہ اسلام کے ان اصولوں، جن میں سماجی انصاف اور برابری کے اصولوں کو مرکزیت حاصل ہے، پامال کرنے کی جسارت بھی ہے۔ 

مزید ملاحظہ فرمایئے کہ ۲۷ویں ترمیم بھی اسی طرح اناڑی پن، عجلت پسندی اور اَدھوری ڈرافٹنگ کی بھونڈی تصویر پیش کر رہی ہے، جس انداز سے ۲۶ویں ترمیم کی گئی تھی (غلطیوں اور اَدھورے پن کے اسی تسلسل میں اب ۲۸ویں ترمیم لانے کے لیے ذہن سازی کی جارہی ہے)۔ اس ترمیم کے مطابق ایک ’وفاقی آئینی عدالت‘ (فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جسے ۲۶ویں ترمیم میں چند حلیفوں کو غچہ دینے کے لیے واپس لیا گیا تھا، مگر ’زخم مندمل‘ ہونے اور اس دوران مزید پارلیمانی نمبر حاصل کرلینے کے بعد اب اس بلّی کو تھیلے سے باہر نکال لیا گیا ہے۔ اس نومولود عدالت کے جج حضرات کو اب انتظامیہ اور مقننہ مل کر چُنے گی اور ظاہر ہے چناؤ کے فیصلے کا وزن مقتدر قوتوں کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ایسی عدالت سے بھلا کوئی شہری، ریاست کی جابرقوت کے خلاف عدل کی اُمید کیسے باندھ سکتا ہے؟ جب کہ اس نومولود عدالت کو مقرر کرنے والی قوت وہی ہو، جس کے جبر یا ناانصافی کے خلاف اسے ایوانِ عدل میں دستک دینے کی ضرورت محسوس ہو؟ اسی طرح یہ عدالت ہو یا اعلیٰ عدلیہ، اس کے ججوں کی دوسری جگہوں پر منتقلی، تقرر یا برطرفی کے لیے کوئی واضح معیار مقرر نہیں کیا گیا، مگر بازو مروڑنے کا راستہ رکھا گیا ہے۔ ایسے فیصلوں کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل کی گئی ہے، جس میں انتظامیہ کا پلڑا بھاری ہوگا۔ 

یاد رہے، دستور کی دفعہ ۲۰۰ میں درج تھا کہ کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو دوسری جگہ تبدیل کرنے کے لیے، متعلقہ جج صاحب کی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے۔ لیکن موجودہ ۲۷ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جج صاحب کی مرضی کے بغیر بھی انھیں تبدیل کیا جاسکے گا، اور اگر وہ یہ حکم یا ہدایت ماننے سے انکار کریں تو اُن کے خلاف ۳۰ روز کے اندر ’اعلیٰ عدالتی کونسل‘ (SJC) میں تادیبی کارروائی ہوگی، اور انھیں کام کرنے سے منع کردیا جائے گا۔  

اس ’آئینی عدالت‘ کو غیرآئینی کام کرنے کے لیے یہ کہہ کر پوری سہولت بہم پہنچا دی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں سابقہ عدالتی نظائر (فیصلوں) کی پابند نہ ہوگی، ان کے سامنے سابقہ فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اس طرح انسانی سماج کے تجربات سے حاصل شدہ راہ نمائی کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ایسی صاف سلیٹ پر من پسند آئینی عدالت کو اختیارات کا ڈنڈا پکڑا کر، دراصل یہ بندوبست کیا گیا ہے کہ وہ پرانے ’ناپسندیدہ‘ تجربات کو نظرانداز کرنے کی ’شرمندگی‘ سے بچ سکیں۔ 

 ۲۶ویں ترمیم میں اس کج روی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ۹مئی ۲۰۲۵ء کو دس رکنی ’آئینی بنچ‘ نے سپریم کورٹ کے جولائی ۲۰۲۴ء کے اس فیصلے کو پلٹ کر کالعدم کردیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں پر مقدمے چلانا دستور کی دفعہ ۱۰-الف (منصفانہ مقدمے اور قانونی حق) کی خلاف ورزی ہوگی۔درحقیقت نئی ’آئینی عدالت‘ کا یہ وجود عدلیہ کی آزادی ختم کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ، پارلیمانی قانون سازی کے اسلامی اور عدالتی ریویو اور جائزے کے اختیار کو بھی سلب کرنے کا اعلان ہے۔ 

نومبر ۱۹۸۵ء میں ’آٹھویں ترمیم‘ اور دسمبر۲۰۰۳ء میں ’سترھویں آئینی ترمیم‘ میں شامل ۵۸(۲-الف) کا غیرجمہوری حق، مقتدر قوتوں نے مارشل لا کے فیصلوں کو تحفظ دینے کی دھونس برت کر حاصل کیا تھا کہ اس کے بغیر ان کے سابق دور کے فیصلے بے وجود ہوجاتے۔ لیکن اب ۲۶ویں اور ۲۷ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایسے فیصلوں کے لیے تو کوئی دبائو بھی موجود نہیں ہے، تو پھر پارلیمنٹ نے یہ غیرآئینی اور غیر جمہوری اور غیر عادلانہ اقدام کیوں کیے ہیں؟ 

ان ترامیم نے فی الحقیقت مستقبل کے معاشی اُمور کو بھی داغدار کر دیا ہے، اور قومی زندگی میں سیاسی ساکھ اور اعتماد کا بحران بھی پیدا کیا ہے۔ ان ترامیم سے انتظامی اور عسکری غلبے کو آئینی تحفظ ملنے سے طاقت وروں کے اختیارات اور قوت میں مزید اضافہ ہواہے، جب کہ جمہور کی طاقت میں بڑی کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس کے تقرر کے لیے میرٹ یا معیار کے بجائے انتظامیہ کی پسند و ناپسند کو راہ دی گئی ہے، جس سے عدل کے ایوان گروہ بندی اور سیاسی جھکائو کے اندھے گڑھے میں گرائے جاسکتے ہیں۔ آئینی بنچوں کی تشکیل میں سیاسی مداخلت کا سامان فراہم کرکے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو سوالیہ نشان بنا ڈالا گیا ہے۔ 

وطنِ عزیز میں جمہوری قدروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطلب معاشرے کو توازن سے روشناس کرانا ہے۔ لیکن اگر عدل کے حصول کا راستہ کھوٹا ہوگا اور رکاوٹ زدہ ہوگا تواس سے مایوسی پیدا ہوگی۔ اس کے لیے تمام طبقوں کو درست بات حکامِ بالا اور عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔تمام سیاسی اور دینی قوتوں کے ساتھ وکلا اور صحافیوں کو غیرجذباتی انداز سے اس ضمن میں اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔

دین سے وابستگی اور دین کی خدمت کی توفیق، اللہ تعالیٰ کے بہترین انعامات میں سے ایک انعام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر میںبہت سے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ سعادت عطا فرمائی ہے۔ انھی خوش نصیب قافلوں میں ایک معتبر قافلے کا نام جماعت اسلامی ہے، جو دُنیا بھر میںمعروف ہے۔ 

جماعت اسلامی اپنی دعوت اور اپنی منزل کے حصول کی جدوجہد میں، انبیائے کرام علیہم السلام کی اطاعت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قافلے کے اِتباع اور صلحائے امتؒ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنے والی ایک منظم تحریک ہے۔ 

جماعت اسلامی آج سے ۸۵ برس قبل ۲۶؍اگست۱۹۴۱ء کو لاہور میں قائم ہوئی تھی۔ آج یہ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سمیت پورے جنوب مشرقی ایشیا میں اپنا گہرا اثر و نفوذ رکھتی ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر اور ان کی قیادت میں جب اس قافلے نے سفر کا آغاز کیا تو اس میں صرف ۷۵ افراد شامل تھے۔ مگر ان کے خلوص اور دینی جذبے نے اس تحریک کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی کہ رفتہ رفتہ یہ کارواں عالم گیر صورت اختیار کرتے ہوئے فکروعمل کی دُنیا میں گہرے نقوش ثبت کرتا آرہا ہے۔  

جماعت کی تاسیس کے وقت بمشکل ۷۴ روپے سے بیت المال قائم ہو سکا۔ مگر اس قافلے کی رفتارِکار کی راہ میں نہ مالی وسائل آڑے آئے اور نہ افرادی قوت کی کمی کوئی نفسیاتی رکاوٹ پیدا کرسکی۔ اسلام کے یہ جاں نثار پورے ہند میں پھیل گئے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جماعت کے متعین کردہ مقاصد کے شعور سے مالا مال اور حکمت عملی سے وابستہ کارکنان کی اجتماعیت دنیا کے مختلف حصوں میں مصروفِ عمل ہے۔ اقامت دین کی جدوجہد کے ذریعے، اللہ کی رضا کے حصول اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں لاکھوں مرد و زن اور پیروجوان متحرک ہیں۔ 

جماعت اسلامی نے اسلام کی جو دعوت پیش کی اس کو قبول کرتے ہوئے ایک تعداد اس سے عملاً وابستہ ہوئی۔ دوسری بڑی تعداد نے اسے اچھا تو سمجھا، لیکن اس کے ساتھ وابستگی کا فیصلہ نہ کرپائی۔ اسی طرح ایک تیسری تعداد نے اس کا راستہ روکنے کے لیے الزام تراشی، اِتہام بازی اور ظلم و زیادتی کا طرزِعمل اپنایا۔ ان سبھی کے لیے ہم خیروعافیت کی دُعا کرتے ہیں۔ بہرحال، زندگی کے ان مختلف دائروں کے پہلو بہ پہلو جماعت اسلامی آج دنیا میں ایک حوالہ ہے، خیر، تعمیر اور حق کی گواہی کا، خدمت، خلوص اور امانت داری کا۔ اسی جماعت کا کل پاکستان اجتماع عام ۲۱-۲۳ نومبر ۲۰۲۵ء کو لاہور میں منعقد ہو رہا ہے۔ 

مسلم اُمہ اس وقت جن مصائب، بحرانوں اور غلامی کی نئی قسموں سے دوچار ہے، ان میں یہ اجتماع، زندگی بخش راہوں کو کشادہ کرسکتا ہے۔ وطن عزیز جن اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے، اُن میں ہم آہنگ جذبۂ عمل دے سکتا ہے۔ سیاسی ابتری، معاشی فساد اور ماورائے دستور حکمرانی کی حقیقت کو آشکار کرسکتا ہے۔ مخصوص این جی اوز کے ذریعے ملک و ملّت کی فکری و نظریاتی تخریب کا جو سامان کیا جارہا ہے اور شریعت ِ اسلامی پر حملہ آور ہونے کے لیے جس ’میٹھے زہر‘ کو نام نہاد ’مذہبی اسکالروں اور اصلاح پسندوں‘ کی سرپرستی کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے، اس فکری ارتداد سے باخبر رہنے کا اسلوب دیا جاسکتا ہے۔ 

آنے والا کل جن فکری، علمی اور کلامی چیلنجوں کے ساتھ یلغار کرتا چلا آرہا ہے، اس تباہی کا احساس بیدار کرنا پہلی ضرورت ہے۔ اس کا جواب دینے کے لیے میدانِ عمل میں آنا دوسری ضرورت ہے، اور عمل و رَدعمل سے بڑھ کر مثبت انداز سے ایک نظامِ فکر اور لائحہ عمل پیش کرنا تیسری اور سب سے اہم ضرورت ہے۔  

جماعتوں اور پارٹیوں کے اجتماعات میں مذہبی یا سیاسی ہنگامے ہوتے ہیں، لیکن ان سب سے بالکل مختلف انداز اور امتیازی شان کے ساتھ جماعت اسلامی کا اجتماع عام منعقد ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کی تنظیمی اور تحریکی زندگی میں مرکزی اجتماع کی کیا اہمیت ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں سے ۱۶۶کلومیٹر کے فاصلے پر دارالاسلام میں منعقد ہونے والے پہلے کُل ہند اجتماع میں ۱۹؍اپریل ۱۹۴۵ء کو فرمایا تھا: 

مختلف گوشوں سے، موجودہ زمانے کے پُر صعوبت سفر کی تکلیفیں برداشت کرکے یہاں جمع ہو کر آپ نے میری طاقت میں بھی اضافہ کیا ہے اور اپنی طاقت میں بھی۔ [اگر آپ] ایسا نہ کرتے تو میں اپنی جگہ کم زور ہو جاتا اور آپ اپنی جگہ۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ہماری یہ تحریک جو ایک بڑے عزم کا اظہار ہے، آپ اپنی جگہ ٹھٹھر کر رہ جاتی۔ آپ جب کسی ایک شخص کو، ایک مقصدِ عظیم کے لیے خود اپنا امیر بناتے ہیں، تو اس کی اطاعت کر کے دراصل اپنی ہی طاقت کو مضبوط کرتے ہیں، اور جتنی کم اطاعت کا ا ظہار آپ سے ہوگا، اس کمزوری کی وجہ سے آپ کی جماعت کی طاقت ضعیف ہوگی۔ [مگر] اس کے برعکس جس قدر زیادہ آپ کے قلب و دماغ پر اپنا مقصد حاوی ہوگا، اور جتنا زیادہ اپنے مقصد کی خاطر اطاعتِ امر کا صدور آپ سے ہوگا، اُسی قدر زیادہ آپ کا مرکز قوی ہوگا اور آپ کی تنظیمی طاقت زبردست ہوگی۔ 

مولانا محترمؒ نے اپنے خطاب میں اس چیز کی طرف توجہ دلائی ہے کہ: lآپ نے مالی، سفری اور صحت کی مشکلات برداشت کرکے یہاں جمع ہونے کا قدم اٹھایا lاس طرح آپ نے نظم جماعت، جماعت اور خود اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے lیوںآپ نے مقصدِ عظیم سے وابستگی کا اظہار کیا ہے lاوراطاعتِ نظم کا قدم اٹھا کر مقصد کی قوت میں اضافہ کیا ہے ___ دراصل یہی ہے وہ روح، جس کے تحت جماعت کے نظم کی دعوت پر ہم تمام کارکنان لبیک کہتے ہوئے اس اجتماع میں شرکت کریں گے۔ اس طرح ہم نظم ہی کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو بھی مضبوط بنائیں گے، ان شاء اللہ۔ 

جماعت اسلامی، قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی معاشرے اور اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سطحوں پر چھوٹے بڑے تنظیمی اجتماعات کا انعقاد معمول کا ایک مسلسل عمل ہے۔ اور یہی ذیلی اجتماعات جماعت کی ہم آہنگی، ترقی، تربیت اور ہمہ پہلو پھیلائو کا ذریعہ ہیں۔ مگر قومی سطح پر بڑے اجتماع کا انعقاد فکری، تربیتی، روحانی اور تحریکی تجدید کا طاقت ور مظہر بھی ہوتاہے اور ذریعہ بھی۔ اس بڑے اجتماع سے متعدد فوائد حاصل ہونے کی اُمید ہوتی ہے: 

  • اجتماع کے اختتام کے بعد کارکنوں کی زندگی میں اخلاقی، روحانی ، عملی اور تحریکی پہلوئوں سے نمایاں تبدیلی رُونما ہوتی ہے۔ 
  • یہ اجتماع، خالقِ حقیقی سے تعلق کو گہرا اور نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے عہد کو تازہ و توانا بناتا ہے۔ 
  • اجتماع موجودہ حالات میں دعوت کی راہ میں پیش آنے والے چیلنجوں کے جواب کے لیے راہ نمائی ہوتی ہے۔ 
  • اجتماع اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹوں کی نشاندہی اور ممکنہ راستے تجویز کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ 
  • اجتماع میں کارکنوں کو قرآنی تعلیمات اور نبویؐ ہدایات کے زیرسایہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی یاددہانی کرائی جاتی ہے۔ 
  • اجتماع میں دعوتی ذمہ داریوں اور معاشرتی اصلاح و سدھار کے لیے کارکنوں اور ذیلی نظم کو عزم و عمل کی سرشاری عطا ہوتی ہے۔ 
  • اجتماع سے وحدتِ فکر اور اجتماعیت کی یکجہتی میں مضبوطی و توانائی آتی ہے۔ 
  • اجتماع میں خاندان، گلی ، محلے، قصبے، گائوںاور شہر سے نوجوان اور مردو زن شرکت کرتے اور دین، دعوت، تحریک اور ملت کےمستقبل کا سرمایہ بنتے ہیں۔ 
  • اجتماع میں مختلف فکری، معاشرتی اور پیشہ وارانہ طبقوں کے افراد آتے، باہم ملتے اور مستقبل کو سنوارنے کے لیے عزائم کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ 
  • یہ اجتماع قومی، ملّی اور عالمی منظرنامے میں تحریک کی راہ نمائی کا پیغام بن کر شرکا کو لائحہ عمل دیتا ہے، کیونکہ یہ اجتماع نہ تو رنگ و نسل سے منسوب ہوتا ہے اور نہ علاقوں اور قومیتوں تک محدود تنگ نظری سے آلودہ ہوتا ہے۔ 
  • یہ اجتماع سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں ہوتا، بلکہ اس سے بالاتر رہتے ہوئے زندگی کی جامعیت کو حوالہ بناتا، اور فکر و عمل کے ہر پہلو پر برابر زور دینے اور معاملات کو سمجھنے، سمجھانے کا نقیب بنتا ہے۔ 
  • اجتماع: ایثار وقربانی، صبر و اخوت، ذکر و استغفار، بھوک پیاس اور تنگی ترشی میں وقار اور ربّ سے ملاقات کی تیاری کا سبق دیتا ہے۔ 

دوسرے لفظوں میں جماعت اسلامی کا اجتماع عام کوئی روایتی میلہ یا جلسۂ عام نہیں ہوتا، بلکہ یہ اسلامی تہذیب اور اسلامی کلچر کا روحانی و انقلابی عکس ہوتا ہے۔ اس لیے ہر سطح کےکارکنوں پر لازم ہے کہ وہ اجتماع میں شرکت کے لیے خود بھی شعوری طور پر تیار ہوں، اور اپنے اہل خانہ ، خاندان اور قریبی لوگوں کو بھی تیار کریں۔ 

سیّد مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اپریل ۱۹۴۵ء میں اسی طرح کے ملکی اجتماع میں فرمایا تھا: 

آپ کے اجتماعات میں خواہ کتنا ہی بڑا مجمع ہو، مگر خیال رکھیے کہ بھیڑ اور ہڑبونگ، اور شوروہنگامہ کی کیفیت کبھی رونما نہیں ہونی چاہیے۔ 

جو کام ہم نے اپنے ہاتھ میںلیا ہے، یعنی اخلاقی اصولوں پر دنیا کی اصلاح کرنا، دنیا کے نظم کو درست کرنا، اس کا تقاضا ہے کہ اخلاقی حیثیت سے ہم اپنے آپ کو دنیا کا صالح ترین گروہ ثابت کر دکھائیں۔ 

جس طرح ہمیں دنیا کے بگاڑ پر تنقید کا حق ہے، اسی طرح دنیا کو بھی یہ دیکھنے کا حق ہے کہ ہم انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر کیسے رہتے ہیں؟ کیا برتائو کرتے ہیں؟ کس طرح جمع ہوتے ہیں اور کس طرح اپنے اجتماعات کا انتظام کرتے ہیں؟ 

اگر دنیا نے یہ دیکھا کہ ہمارے اجتماعات میں بدنظمی ہے، ہمارے مجمعوں میں انتشار اور شوروغل ہوتا ہے۔ ہمارے رہنےا ور بیٹھنے کی جگہیں بدسلیقگی کا منظر پیش کرتی ہیں۔ اور جہاں مشورے کے لیے جمع ہوتے ہیں، وہاں مذاق، قہقہے اور جھگڑے برپا ہوتے ہیں، تو دنیا خدا کی پناہ مانگے گی۔ 

اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے اجتماعات کے دوران نظم، باقاعدگی، سنجیدگی و وقار، صفائی و طہارت اور حسنِ اخلاق اور خوش سلیقگی کا ایسا مکمل مظاہرہ کریں، جو دنیا میں نمونہ بن سکے.... ایک منظم گروہ کی طرح اٹھیے اور بیٹھیے، کھائیے اور جمع ہو جائیے اور منتشر ہو جائیے۔ 

جہاں آپ جمع ہوں، وہاں آپ کی دیانت و امانت بالکل ایک محسوس و مشہود شکل میں نظر آنی چاہیے۔ [وہاں]کسی شخص کو اپنے سامان کی حفاظت کے لیے کسی اہتمام کی ضرورت پیش نہ آئے۔ جس کا مال اور سامان جہاں رکھا ہو، بغیر کسی نگران اور محافظ کے محفوظ پڑا رہے۔ 

بانی ٔ جماعت کے ان الفاظ میں اجتماع اور شرکائے اجتماع کے اخلاقی، تہذیبی اور ثقافتی پہلو کو انفرادیت بخشنے کا بہترین سبق موجود ہے۔  

اسی طرح سیّد مودودی علیہ الرحمہ نے معاشرے، ماحول، سوچ کے زاویے اور عمل کی دُنیا کی تبدیلی کا درس دیتے ہوئے فرمایا تھا: 

اس وقت ہماری حقیقی ضرورت یہ ہے کہ وہ سارانظامِ زندگی تبدیل کیا جائے، جو انگریز نے سرمایہ داری، استعماریت اور مادہ پرستی کی بنیاد پر قائم کیا تھا اور جو آج بھی جوں کا توں ہمارے ملک پر قائم ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، کوئی تکلیف، کوئی شکایت اور کوئی خرابی کُلی طور پر رفع ہونا ممکن نہیں ہے۔ خرابیوں کا اصل علاج یہ ہے کہ سارا نظام اپنی نظریاتی اور اخلاقی بنیادوں کے ساتھ بدلا جائے اور اس کو اسلامی، اخلاقی و نظریاتی بنیادوں پر قائم کیا جائے، جو اجتماعی انصاف کی ضامن ہوں۔ جب نظامِ زندگی بدلے گا تو عدل و انصاف خود قائم ہوجائے گا اور لوگوں کی مشکلات اور شکایات آپ سے آپ دُور ہوجائیں گی۔ 

اجتماع میں شرکت اور اجتماع کی تمام تر کارروائی اسی فرسودہ نظامِ کار کو بدلنے کی تمہید ہے۔ جب کہ اجتماع کے بعد کارکنوں اور شرکائے اجتماع کی اپنے اپنے مقامات پر واپسی ، ان شاء اللہ نظام کو بدلنے کی واضح حکمت عملی سے آگاہی اور جذبہ و تحرک کی سرشاری کا عنوان بنے گی۔ 

ایک ’غزہ‘ کا مقتل ساری دُنیا کے سامنے ہے، دوسرے ’غزہ‘ کے بارے میں خود اس کے ہمسائے میں  بسنے والے بھی بے خبر، لاتعلق یا مجرمانہ غفلت کاشکار ہیں۔ اس غزہ سے مرادہے مقبوضہ جموں و کشمیر پر ٹوٹنے والی قیامت اور لمحہ بہ لمحہ مسلط کی جانے والی برہمنی توسیع پسندانہ درندگی! 

دُنیا بھر میں عام لوگ بجاطور پر اہل غزہ کے غم کی ٹیسیں روح کی گہرائیوں تک محسوس کررہے ہیں، جو انسانی دردمندی کا ایک قیمتی پہلو ہے، جب کہ انھی قوموں کے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے حکمران، سنگ دلی کے عنوان اور ہرجگہ ظلم کے معاون ہیں۔ برہمنی سامراج نے دُنیا کے سامنے جھوٹ، دھوکے اور مادی مفادات کے لالچ پھیلا کر ان حکمرانوں پر اندھا پن مسلط کررکھا ہے۔ دوسری طرف قلم اور کیمرے نے بھی اپنی گواہی پیش کرنے کے بجائے اس سفاکیت کو بیان کرنے سے رخصت لے رکھی ہے۔ انڈیا نے ہمیشہ عالمی بحرانی حالات میں اپنےایجنڈے کے حصول کی کوشش کی ہے۔ نائن الیون کے افسوس ناک واقعے کے بعد، جب امریکی سربراہی میں دُنیا کی ریاستی قیادتیں، مسلمانوں پر چڑھ دوڑیں تو انڈیا نے ایک طرف کشمیر میں حُریت اور آزادی کی جدوجہد کو کچلنے میں شدت برتی، تو دوسری طرف خود انڈیا کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف ’ہندوتوا گردی‘ کی درندگی کو پروان چڑھایا۔ 


 

اس تحریر میں جموں و کشمیر میں ایک خاص انداز سے انڈین حکومت اور فوج کی اس پالیسی کو دیکھنے کے لیے کچھ تفصیلات دی جارہی ہیں، جو گذشتہ ڈیڑھ دو ماہ میں اخبارات اور ابلاغ کے دیگر ذرائع  سے سامنے آئیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف یہی کچھ روا رکھا گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ محض چندمثالیں ہیں۔ ان اطلاعات اور خبروں کو چند لفظوں کا مجموعہ سمجھ کر نظرانداز کرکے، سرسری طور پر دیکھ کر آگے بڑھ جانا انتہائی غفلت اور سنگ دلی ہوگی۔ کاش! پڑھنے اور جاننے والے، ان مظلوم کشمیری بھائیوں کے روز افزوں دُکھ کو محسوس کرسکیں۔ 

ان تفصیلات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس انداز سے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے صبح و شام گزر رہے ہیں:  

  •  ۱۶ جون: ضلع کپواڑہ (ماور بالاقلم آباد) میں انڈین انتظامیہ نے کشمیری حُریت رہنما عبدالحمید لون کی چار کنال پر آبائی زرعی اراضی ضبط کرلی، جنھوں نے انڈین مظالم سے تنگ آکر ۹۰کے عشرے میں آزاد کشمیر کی طرف ہجرت کی تھی۔ 
  •  ۱۷ جون: ضلع سرینگر (بادامی باغ) میں انڈین فوج کے ایک نائیک پی کمار نےاپنے کیمپ میں خودکشی کر لی۔ اس طرح گذشتہ چند برسوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں ذہنی دبائو کا شکار ہوکر خودکشی کرنے والے انڈین فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد ۶۳۰ ہو گئی ہے۔ 
  •  ۲۱ جون: ضلع بانڈی پورہ (کیتسن بنلی پورہ) میں ایک ناکے پر ایک عام شہری بشیر احمدکو گرفتارکرلیا ۔پہلگام میں دونوجوانوں پرویز احمد جوتھراور بشیر احمد جوتھر کو پہلگام فالس فلیگ میں ملوث کرکے گرفتارکرلیا۔ پہلگام فالس فلیگ کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں اب تک ۴ہزار سے زیادہ نوجوان گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ ضلع سانبہ (گائوں بڑودی) میں ایک خاتون سمیت چارافراد گرفتار کرلیے۔ 
  •  ۲۳ جون: انڈین فوج نے ضلع اودھمپور (بسنت گڑھ) کے رہائشی محمد شفیق کی آبائی زرعی اراضی ضبط کرلی، جب کہ محمد شفیق کو گذشتہ برس جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیاہے۔ 
  •  ۲۴ جون: سرینگر کےزیڈ بل میںامام بارگاہ کے مرکزی دروازے کے باہر سڑک پر اسرائیلی پرچم کی گریفٹی بنانے پر تین نو عمر بچیوں کو گرفتار کر کے تفتیش کی، بُری طرح ڈرایا دھمکایا اور مستقبل میں اسرائیل کے خلاف احتجاج نہ کرنے کا حکم دیا۔ 
  •  ۲۵جون: ضلع کپواڑہ (ہندواڑہ بگٹ پورہ نیو کالونی) میں جماعت اسلامی کے ایک کارکن محمد امین شاہ کے گھر میں گھس کر پولیس نے جائیداد کی دستاویزات ، دینی کتب، موبائل فون اور لیپ ٹاپ ضبط کر لیے۔ جموں میں پولیس نے ایک مسلمان کو جوتوں کے ہار پہنا کر پولیس گاڑی کے بونٹ پر بٹھاکر سڑکوں پہ گشت کرتے ہوئے انسانیت کی تذلیل کی۔  
  •  ۲۶ جون: ضلع ادھمپور (بسنت گڑھ) میں ایک جعلی مقابلے میں انڈین فوجیوںنے ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر دیاہے۔  
  •  ۲۷ جون: ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں تین کشمیری نوجوانوں عرفان محی الدین ڈار، محمد آصف خان اور گوہر مقبول راتھر کو گرفتار کرکے جموں، کوٹ بھلوال جیل میں ڈال دیا۔ 
  •  ۲۹ جون: انڈین افواج نے ضلع سرینگر میں ۳۲مختلف مقامات پر انسانی حقوق کے کارکنوںاور آزادی پسندوں کے گھروں پہ چھاپے مارے۔ ضلع سرینگر کے باہر ۱۶۵ مقامات پر چھاپے مارے اور بڑی تعداد میں جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے۔ 
  •  ۳۰ جون: ضلع راجوری (کیری) میں انڈین فوج نے دو کشمیری نوجوانوں کو شہید اور ایک کو گرفتار کر لیا۔ضلع پلوامہ (پامپور) میں محمد مقبول وانی نظربند کارکن کے گھر پر چھاپہ مارا اور موبائل فون، کمپیوٹر سمیت اہم دستاویزات اپنے قبضے میں لے لیں، اور گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی۔ 
  •  یکم جولائی: سرینگر ( لال چوک) میں لوگوں نے انڈین اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں کشمیری نوجوانوں کی طویل نظربندیوں کے خلاف مظاہرہ کیا تو پولیس نے متعددمظاہرین کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا، مقدمے قائم کیے۔ اسی طرح ضلع پلوامہ (ترال) میں تلاشی آپریشن کے دوران دو نوجوان گرفتار کر لیے ہیں۔ ضلع کولگام میں جغرافیہ کے پروفیسر اور معروف سماجی کارکن ڈاکٹر باری نائیک کو حراست میں لے لیا۔ 
  •  ۹ جولائی : ضلع کپواڑہ ( لولاب) میںایک کشمیری حریت راہنما غلام رسول شاہ کی ۵کنال ۳مرلے پر مشتمل زرعی اراضی کو ضبط کرلیا ہے ۔ضلع پونچھ کے ڈسٹرکٹ جیل میں انڈین پولیس نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے کشمیری سیاسی قیدیوں کو لاٹھی چارج کرتے ہوئے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ پونچھ ڈسٹرکٹ جیل میں کشمیری نظربندوں کو زبردستی داڑھیاں منڈوانے کا حکم دیاگیا اور جیل میں قرآن پاک کی تلاوت پربھی پابندی عائد ہے۔ 
  •  ۱۰ جولائی : ضلع پلوامہ سے ۵۴سالہ سجاد احمد شاہ ساکن کپواڑہ پنزگام کی لاش پُراسرار حالت میں کدل بل پامپورسے ملی ہے۔ 
  •  ۱۱ جولائی: میر واعظ عمر فاروق کو جامع مسجد سرینگرمیں نماز جمعہ اداکرنے کی اجازت نہیں دی اور گھر پہ نظربند کردیا۔ میرواعظ عمرفاروق، جامع مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے میں ۱۳جولائی ۱۹۳۱ءکے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے تھے۔ 
  •  ۱۲ جولائی : ضلع بانڈی پورہ (پتو شاہی) میں کشمیری مسلمان حاشر رفیق پرے نامی شہری کی ایک کنال اور ۱۸ مرلے سے زائد اراضی اور ایک رہائشی مکان ضبط کر لیا ہے ۔ جائیداد کی مالیت ساڑھے تین کروڑ ۵۹لاکھ (یعنی ساڑھے دس کروڑ پاکستانی روپے) ہے۔ 
  •  ۱۶ جولائی: ضلع بڈگام (ہروانی ، چیوہ اورکھاگ) منظور احمد چوپان کا دو منزلہ رہائشی مکان، محمد یوسف ملک کا دومنزلہ مکان اور۵ کنال۱۳مرلہ اراضی اور بلال احمد وانی کی ۱۹مرلہ زرعی اراضی سمیت تین جائیدادیںضبط کرلی گئی ہیں۔ضلع بانڈی پورہ میں بی جے پی سے وابستہ ایک سرپنچ کی مسلمانوں کے خلاف غنڈا گردی کے خلاف لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ 
  •  ۱۷ جولائی : ضلع بانڈی پورہ ( سنبل) میں انڈین فوجی نے ایک پی ایچ ڈی اسکالر محمدزبیرکی گاڑی کو بلاجواز ٹکر ماردی، جس کے نتیجے میں وہ شدیدزخمی ہوگئے، اور زخموں کی تاب نہ لاکر شہید ہوگئے۔  
  •  ۱۸ جولائی : ضلع بارہمولہ (سوپور)، کرال ٹینگ میں عرفان احمد انتوکی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ۔عرفان احمد انتو غیر قانونی طورپر جیل میں قید ہیں۔ انھیں آزادی پسند تنظیم مسلم لیگ کا رکن قرار دیتے ہوئے چھاپے کے دوران گھر سے کاغذات، موبائل فون اور لیپ ٹاپ قبضے میں لے لیے۔ 
  •  ۲۰ جولائی: انڈین فوج نے مختلف اضلاع سرینگر، بڈگام، پلوامہ اور گاندر بل میں حریت پسند کشمیریوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران دو درجن سے زیادہ افراد کو گرفتار کرلیا۔ گرفتارشدگان پر سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے رکھنے کا الزام ہے ۔ 
  •  ۲۱ جولائی: ضلع اسلام آباد (گنشی بل) سے منیب مشتاق شیخ کو چہرے کی شناخت کے نظام (FRS)کی مدد سے گرفتارکیا۔اسی طرح محمد طاہر اور حفیظ اللہ کو گرفتارکرکے کٹھوعہ ڈسٹرکٹ جیل اور بھدرواہ جیل منتقل کردیا گیا ۔ 
  •  ۲۳ جولائی : ضلع بانڈی پورہ کے علاقے گڈورہ میں انڈین فوج نےطارق احمد، بلال احمد اور مدثر احمد کو گرفتار کرلیا۔ 
  •  ۲۵جولائی: ضلع پونچھ (کرشناگھاٹی) میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں انڈین فوج کا ایک اہلکارللت کمار ہلاک،جب کہ ایک آفیسر(جے سی او) سمیت دو اہلکار زخمی ہو گئے۔  ضلع بارہمولہ (ربن سوپور) میں انڈین پولیس نے جاوید احمد ڈار کی تین کنال اور تین مرلہ اراضی اور رہائشی مکان ضبط کر لیا ہے۔ضلع کپواڑہ (بٹہ پورہ ہیہامہ) میں متوالی پسوال کی دوکنال ۱۴مرلہ اراضی، کپواڑہ ضلع (کرناہ) میں عبدالحمید شیخ کی تین کنال ۶ مرلہ ، خوشحال پٹھان کی ۱۸مرلہ،اور اسی ضلع کے علاقے نواگبرا میں منظور احمد شیخ کی دوکنال اور ۹مرلہ اراضی پر قبضہ کرلیا۔ ضلع جموں انڈین پولیس نے ۲۱سالہ کشمیری نوجوان محمدپرویز احمد کو ضلع کے نواحی علاقے سورے چک میں تلاشی کی کارروائی کے دوران جعلی مقابلے میں شہید کردیا۔پرویز کو اس وقت شہید کیا، جب وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ ستواری میں موٹر سائیکل پر جارہاتھا۔  
  •  ۲۸ جولائی : ضلع کپواڑہ (کرال پورہ) میں انڈین فوج نے ایک نوجوان ولی محمدمیرکو گرفتار کرلیا ۔ ضلع سرینگرکے علاقے داچھی گام علاقے میںمجاہدین اور انڈین فوج کے درمیان ایک معرکے میں تین مجاہدین کمانڈر سلیمان شاہ، ابوحمزہ اورجبران بھائی نے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرلیا۔ سرینگر کے ایک پہاڑی علاقےڈھگون میں انڈین فوجیوں نے خانہ بدوش گوجر قبائلیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔راجوری کے محمد لیاقت، محمد اعظم، شوکت احمد اور عبدالقادر کوایک فوجی کیمپ میں درجن بھر اہلکاروں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تینوں افراد نہایت تشویش ناک حالت میں زخمی پائے گئے۔ 
  •  ۳۰ جولائی : ضلع پونچھ (کسیلیان) میں جھڑپ کے دوران انڈین افواج نے دومجاہدین کو شہید دیا۔ 
  •  یکم اگست : ضلع شوپیاں (علیال پور) سے ایک ۴۰سالہ شخص ریاض احمدلون کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ ایک تلاشی مہم کے دوران ضلع راجوری میں ایک سرکاری سکول ٹیچر سمیت چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے، ضلع کولگام (دیوسر) میں جیل میں قید کشمیری محمداشرف کی منقولہ جائیداد، ایک کار اور دیگر املاک ضبط کرلیں۔ 
  •  ۲؍ اگست : ضلع کپواڑہ (ہائی ہامہ) میں ایک ۱۸ سالہ نوجوان محمد اسلم خان کی تشدد شدہ لاش قریبی جنگل میں پائی گئی۔ 
  •  ۳؍ اگست: انڈین فوج کے کرنل نے سرینگر ہوائی اڈے پر ہوائی کمپنی اسپائس جیٹ کے ملازمین کو بہیمانہ تشدد کانشانہ بنایا اور ایک ملازم کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی، جب کہ دوسرے ملازم کے جبڑے توڑ دیے گئے۔ یہ واقعہ سری نگر سے دہلی جانے والی پرواز کے بورڈنگ عمل کے دوران پیش آیا۔ ضلع اسلام آباد میں انڈین پولیس نے ایک کشمیری نوجوان منظور احمد کو، جوتین بہنوں کا اکلوتا بھائی اور اپنے بزرگ والدین کا سہاراتھا، دورانِ حراست شدید تشدد کا نشانہ بناکر شہید کردیا۔ یہ واقعہ ضلع کی جیل میں دورانِ حراست پیش آیا۔مسلسل تین دن تک تشویشناک حالت میں رہنے کے باوجود جیل حکام نےمنظور احمدکو بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی، جس کے باعث ان کی شہادت ہوئی۔ 
  •  ۶؍ اگست : انڈین دارلحکومت نئی دلی میںانڈین پولیس کے ’کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر‘ نے دوکشمیریوں محمد ایوب بٹ اور محمد رفیق شاہ نامی تاجروں کو لاجپت نگر سے گرفتار کیا۔ انڈین پولیس نے سرینگرکے عید گاہ علاقے میں ایک کشمیری نوجوان ریاض احمد کو دوران حراست بہیمانہ تشدد کرکے شہید کر دیا۔ نوجوان کےاس حراستی قتل پر علاقے کے لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اورانھوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ ضلع کٹھوعہ (بنی کے) کے رہائشی محمد اشرف کی ۵مرلہ غیر منقولہ جائیداد ضبط کرلی۔ کٹھوعہ ، ادھم پوراورسانبہ اضلاع میں حُریت پسندکشمیریوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے قابض حکام نے انڈین فوج کی ۲۵مزید کمپنیوں اور ’کوبرا‘ کمانڈوز کے دو یونٹ تعینات کر دیئے ہیں۔ جموں کی ایک خصوصی عدالت نے جماعت اسلامی کی فلاحی سرگرمیوں کے لیے فعال تین افراد کو گرفتار کرلیا، اور راجوری کے ایک ٹرسٹ کے خلاف فرد جرم عائد کردی ہے، اور پھر امیر محمد شمسی، عبدالحمید گنائی اور مشتاق احمد میر اور ’الہدیٰ ایجوکیشنل ٹرسٹ‘ کے خلاف خصوصی عدالتی حکم سنایا۔ 
  •  ۸؍ اگست: انڈین انتظامیہ نے ۲۵کتب پر پابندی عائدکردی۔ 
  •  ۱۱؍ اگست: ضلع کٹھوعہ کے سرحدی علاقے میں انڈین فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایک پاکستانی باشندے کو شہید کردیا ہے۔ 
  •  ۱۲؍اگست: ضلعی مجسٹریٹ سانبہ، آیوشی سوان نے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان بین الاقوامی جنگ بندی لائن سے ملحق دوکلومیٹر کے فاصلے پر دوماہ کے لیے رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے، جو رات ۱۰ بجے سے صبح ۵بجے تک مؤثر رہے گا۔ (بحوالہ ہندستان سماچار) 
  •  ۱۳؍ اگست: ضلع بانڈی پورہ میں تین کشمیریوںاشفاق احمد بٹ ،جمیل احمد خان اور منظور احمد ڈار کی دو کنال اور ۱۲مرلے پر مشتمل اراضی ضبط کر لی، جس کی مالیت دوکروڑ۱۱ لاکھ انڈین روپے ہے ۔پولیس نے تینوںافراد کو آزادی پسندسرگرمیوں سے وابستہ قرار دیا۔ ضلع بارہمولہ (اوڑی) میں  فوجی آپریشن کے دوران مجاہدین اور انڈین فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک انڈین فوجی ہلاک، جب کہ دیگر تین اہلکار زخمی ہوگئے۔ انڈین فوج نے آپریشن کے دوران گھروںمیں گھس کر خواتین اور بچوں سمیت مکینوںکو سخت ہراساں کیا اور قیمتی گھریلو اشیاءکی توڑ پھوڑ کی۔ 
  •  ۱۴؍ اگست: ضلع کپواڑہ (وجھہامہ اور گلگام) کے جنگلاتی علاقوں میں تلاشی آپریشن میں انڈین افواج نے تین نوجوانوں کو مجاہد تنظیم کے کارندے قرار دے کر گرفتار کرلیا۔ ضلع کولگام کی تحصیل دمہال ہانجی پورہ کے دیوسر اکہال کے جنگلاتی علاقے میںمجاہدین اور انڈین فوج کے درمیان ایک خونی معرکہ ہوا جو بارہ دن تک جاری رہا۔معرکے کے نتیجے میں مجاہد حارث نذیر ڈار ولدنذیر احمد ڈار ساکن راجپورہ ضلع پلوامہ، ذاکر احمد گنائی ولد غلام محی الدین ساکن متالہامہ کولگام اور عادل رحمان ڈینٹوولد عبد الرحمان ساکن گلاب باغ آرم پورہ سوپورسمیت چار مجاہدین نےمردانہ وار لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرلیا۔ جھڑپ کے دوران انڈین فوج کے دو اہلکارلانس نائیک پرتپال سنگھ اور کانسٹیبل ہرمندرسنگھ ہلاک، اور ایک درجن سے زائد فوجی زخمی ہوئے۔ اس کارروائی میں انڈین فوج نے ڈرونز، ہیلی کاپٹر اور ایلیٹ اسپیشل فورسز کو بھی استعمال کیا ۔  
  •  ۱۵؍ اگست: ضلع بانڈی پورہ کے گائوں کوئل مقام کے رہائشی ۵۵سالہ بشیر احمد گوجر کی لاش ایک باغ سے ملی ہے ۔وادی کے طول و عرض میں لوگوں نے انڈیا کے یومِ آزادی کو ’یومِ غلامی‘ اور ’یومِ سیاہ‘ کے طور پر منایا۔ انڈین فوج نے کپواڑہ، بانڈی پورہ، بارہمولا کے اضلاع میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔دس اضلاع میں سے خاص طور پر راجوری، پونچھ، کشتواڑ، ڈوڈہ، ادھمپور، کٹھوعہ میں سخت پابندیاں نافذ کرکے تلاشیاں لی گئیں اور راستوں میں مسافروں ہی کو نہیں بلکہ گھروں میں مقیم شہریوں تک کو نشانہ بنایا گیا۔ درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کیا، جس پر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا: ’’پہلگام فالس فلیگ کو جواز بنا کر جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہ کرنا انتہائی افسوس ناک ہے‘‘۔ 
  •  ۱۶؍اگست: حکومت نے ۹۱ سرکاری ویب سائٹس بند کردی ہیں، تاکہ شہری براہِ راست دفاتر میں پہنچ کر خوار ہوں (۲۵؍اگست تک ان غیرفعال، سرکاری ویب سائٹس کی تعداد ۱۵۰ تک پہنچ گئی)۔ 
  •  ۲۰؍اگست: بارہمولا (بنڈی پائین) کے آصف مقبول ڈار کے باغات اور مکانات ضبط کرلیے گئے۔ بجیہاڑ(گری) کے عادل حسین ٹھوکر کی غیرمنقولہ جائیداد ضبط کرلی گئی اور محاصرہ کرکے چھ افراد کو گرفتار کرلیا، وغیرہ وغیرہ۔ 

اسکولوں پر قبضہ 

۲۲؍اگست ۲۰۲۵ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا: 

’’چونکہ وزارتِ داخلہ، حکومتِ ہند نے ۲۸ فروری ۲۰۱۹ء اور بعدازاں ۲۷فروری ۲۰۲۴ء کے تحت جماعتِ اسلامی ، جموں و کشمیر کو ایک غیر قانونی تنظیم قرار دیا تھا۔ چونکہ ایجنسیوں نے ایسے متعدد اسکولوں کی نشان دہی کی جو براہِ راست یا بالواسطہ جماعت ِ اسلامی / ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ سے منسلک پائے گئے، اور چونکہ ان ۲۱۵؍ اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کے بارے ایجنسیوں کی جانب سے ان پر منفی رپورٹ دی گئی ہے۔جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ: ان ۲۱۵؍ اسکولوں کی انتظامی کمیٹیاں، متعلقہ ضلع مجسٹریٹ/ڈپٹی کمشنر کے زیرانتظام لی جائیں۔ متعلقہ ضلع مجسٹریٹ/ڈپٹی کمشنر، ان اسکولوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں‘‘۔ 

نسل پرست انڈین حکومت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں، رفاہی سلسلوں اور اخباروں پر پابندیاں لگانے کے ساتھ انھیں تباہ کرنے اور قبضے میں لینے کے لیے جارحیت کا ارتکاب کر رہی ہے، اور اسرائیل کے ماڈل پر قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی ہے۔ مذکورہ بالا حکم نامے میں جن تعلیمی اداروں پر قبضہ جمانے کا اعلان کیا گیا ہے، یہ تعلیمی ادارے عام لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیے ہیں اور ان میں پڑھایا جانے والا نصاب کوئی خفیہ کتابوں پر مشتمل نہیں۔ ان کے معیاری تعلیمی، تربیتی اور تدریسی ماحول سے یہاں کے لوگ خوش بھی ہیں اور اعتماد بھی کرتے ہیں۔ لیکن انڈین حکومت ہرسطح پر اور ہردرجے میں کشمیری مسلمانوں کو کچلنے کے لیے، ایک کے بعد دوسرا قدم اُٹھاتی چلی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حالیہ فیصلے کے خلاف کشمیر بھر میں غم و غصے کی لہردوڑ گئی ہے۔ 

پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (PDP)کی سربراہ، سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نئی دہلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے: ’فلاح عام ٹرسٹ‘ کے ۲۱۵؍اسکولوں پر قبضے کا حکم فوری طور پر واپس لیا جائے۔ یہ قدم بدترین ظلم کی ایک شکل ہے، جس کا مقصد کشمیری نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل کو سبوتاژ کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ زمین، وسائل اور ملازمتوں پر من مانی کرنے کے بعد اب اہل کشمیر کی تعلیم کو نشانہ بنانے سے ہمارے مستقبل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ ان اداروں میں ۵۱ہزار سے زیادہ معصوم بچوں کا مستقبل اور تعلیمی ترقی خطرے میں پڑگئے ہیں۔ حکومت اپنا یہ انتقامی فیصلہ فوری طور پر منسوخ کرے اور ٹرسٹ کو بغیر کسی مداخلت کے دوبارہ تعلیمی انتظام سنبھالنے اور تدریسی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دے‘‘۔ 

جموں و کشمیر میں ’اپنی پارٹی‘ کے سربراہ الطاف بخاری نے ’فلاح عام ٹرسٹ‘ کے اسکولوں پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’جماعت اسلامی سے کسی کا سیاسی اور نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن یہ بات ناقابلِ تردید ہے کہ ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ اسکولوں نے کئی عشروں کے دوران تعلیم کے شعبے میں مثبت اور قابلِ ستائش کردارادا کیا ہے، اس لیےموجودہ بلاجواز قدم کو واپس لیا جائے اور بچوں کے مستقبل سے نہ کھیلا جائے‘‘۔ 

’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ فرنٹ‘ نے اس قدم کو ’انتظامی زیادتی، انتقامی کارروائی اور عوامی اعتماد کی پامالی‘ قرار دیا۔ ’عوامی اتحاد پارٹی‘ کے لیڈر انعام النبی نے الزام لگایا: ’حکومت ۵۱ہزار سے زیادہ بچوں کے تعلیمی اور سماجی مستقبل سے کھیل رہی ہے‘‘۔ ’عوامی کانفرنس‘ کے صدر سجاد لون نے ان تعلیمی اداروں کو ’غریب طلبہ کے خدمت گار اور معیاری ادارے‘ قرار دیتے ہوئے، ان کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ 


گذشتہ ڈیڑھ دو ماہ کے دوران جن واقعات کی مختصر تصویر مضمون کے پہلے حصے میں پیش کی گئی ہے، اسے مقبوضہ جموں و کشمیر کے زمینی حقائق کا ایک معمولی حصہ سمجھاجائے کہ جو کسی نہ کسی صورت میں لوگوں کے سامنے آگیا ہے۔ ورنہ سلسلہ وار طریقے سے پورے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ ظالمانہ واقعات نہایت تسلسل، بڑی تیزی سے اور وسیع پیمانے پر،سخت بے رحمی سے ہورہے ہیں۔ جن سے دُنیا بھی بے خبر ہے، اور ’بیس کیمپ‘ (آزاد کشمیر) اور پاکستان بھی مجموعی طور پر احساسِ ذمہ داری کے معاملے میں بے حسی کی صورت پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ 

ریاست پاکستان اور آزاد کشمیر کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم و زیادتی کے بارے میں عوامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر، ابلاغی، سفارتی اور رفاہی سرگرمیوں میں اپنا قرارِواقعی کردار ادا کریں۔ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے اور دفاعی نظام پر بہرصورت یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار پوری قوت اور مکمل احساسِ ذمہ داری سے ادا کریں۔ یہی ذمہ داری تمام سیاسی اور دینی پارٹیوں کو ادا کرنی چاہیے۔ ابلاغِ عامہ کے اداروں اور یونی ورسٹیوں کو اس ضمن میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ 

پاکستان کے عوام جس طرح اُمت مسلمہ کے ہرملّی مسئلے پر تڑپتے اور اپنی آواز بلند کرتے ہیں، اسی طرح پوری اُمت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر مظلوم اہلِ کشمیر کا ساتھ دیں۔یہ نہ ہو کہ ’دوسرا غزہ‘ تڑپتا رہ جائے اور راوی اپنی اپنی جگہ سُکھ، چین، فتح کے شادیانے بجاتا رہے۔ 

ملک عزیز بڑی اُمنگوں اور کاوشوں سے وجود میں آیا۔ بڑی محنتوں اور بڑی قربانیوں سے آزادی کی منزل اور الگ وطن نصیب ہوا۔ خوش قسمتی سے ہمیں اُس نسل سے براہِ راست حالِ دل سننے اور پڑھنے کاموقع بھی ملا، جس نسل نے آزادی کا معرکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، جس کے افراد خون اور آگ کا دریا پار کر کے اپنی منزلِ پاکستان پر پہنچے تھے۔ بے بہا جذبوں سے لبریز اور ٹوٹے ہوئے خوابوں سے چُور، ان گواہوں میں کچھ کو دل برداشتہ پایا، کچھ کو حالات کا دھارا موڑنے کے لیے پُرعزم دیکھا۔ کچھ ایسے بھی تھے اور شاید ان کی تعداد زیادہ تھی، جنھوں نے سب کچھ بھلا کر آسائش و مال کی دوڑ کو اپنا مقصد ِ زندگی بنالیا۔ تحریک آزادی کے گواہوں پر مشتمل یہ تینوں طبقے اسی معاشرے میں متحرک اور فعال کردار ادا کرکے، ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں ربّ العالمین کی عدالت میں پہنچ گئے اور ہم انھیں سننے، دیکھنے والے بھی منزلِ وداع کے قریب آن لگے ہیں۔  

بنیادی سوال اپنی جگہ ہے کہ وطن عزیز کا کیا بنا؟ کیسے بنا؟ اور کون کس درجے میں ذمہ دار ٹھیرا؟ 

امرواقعہ ہے کہ بڑی جاں گسل جدوجہد کے بعد ملک کو آزادی نصیب ہوئی، اور پہلی نسل کے ایک حصے نے بے پناہ محنت کرکے ٹوٹتے خوابوں کو سنبھالا، بکھری اینٹوں کو اکٹھا کیا، قربانیاں دے کر دوسروں کو جینے کا درس بھی دیا اور عمل کرکے قوم کو سنبھالنے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ اس چھوٹی سی اقلیت کے احسانات کا پھل یہ ہے کہ وہ پاکستان جسے تحریک ِ پاکستان کے دوران دیوانے کا خواب کہا جاتا تھا، خواب سے حقیقت میں ڈھلتا ڈھلتا اقوامِ عالم کے نقشے پر ایک باوقار ملک کی صورت میں اُبھرا۔ 

محنت، دانش اور عزم سے سرشار اس اقلیت کے کارنامے برگ و بار لا رہے تھے کہ ان کے پیچھے تعاقب کرتے ٹڈی دَل فصل کو چاٹنے لگے۔ قربانیوں کے ہیکل اور ابتدائی تعمیری کاوشوں کی قوت نے گاہے ان حشرات کا منہ موڑا، اور ان کی تباہ کن رفتار کو روکا، مگر پھر بھی کئی بار یہ غالب آگئے۔ آج تک قوم، ملک اور سلطنت پاکستان اسی داخلی کش مکش سے گزر رہے ہیں، جب کہ بیرونی قوتیں مثل گدھ (Vulture) کوئی نہ کوئی حصہ اُڑانے کے لیے تاک لگائے بیٹھی ہیں۔ کچھ کامیاب رہی ہیں اور کچھ منتظر ہیں۔ 

ہمارے مشاہدے و تجزیے کے مطابق اس المیے کو جنم دینے اور مسلسل تقویت فراہم کرنے والوں میں سیاسی، انتظامی، سول، عسکری، عدالتی، صحافتی اور تعلیمی قیادتوں نے غیرذمہ داری کا راستہ اختیار ہی نہیں کیا بلکہ غیرذمہ داری کی بیماری کو چھوت کی طرح پورے معاشرے میں پھیلا دیا اور چھوت کی طرح پھلنے والی یہ بیماری اُس جاں باز اقلیت کی کاوشوں کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔ 

ملک ِ عزیز بنا تو واضح چیلنج کے طور پر معاشی بحران سے بچنا ممکن دکھائی نہ دیتا تھا، لیکن قائداعظم محمدعلی جناحؒ اور لیاقت علی خانؒ کی قیادت میں بننے والی پہلی حکومت نے بے پناہ محنت سے ملکی اقتصادی گاڑی چلانے کے لیے حیران کن کرشمے دکھا کر ثابت کیا کہ وہ اخلاص اور وژن کی دولت سے سرشار ہیں۔ تاہم، اسی قیادت کے دائیں اور بائیں، آگے اور پیچھے، خود انھی سے تعلق رکھنے والے مفاد پرست افراد اور گروہوں نے وہ دھماچوکڑی مچائی کہ تباہی کے آثار اور تھور کے زہریلے پودے اُگنے شروع ہوگئے۔ 

قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے پہلی دستور ساز اسمبلی میں ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کو تقریر میں بڑے دردِ دل سے اور واضح الفاظ میں چند بنیادی اُمور پر زور دیتے ہوئے فرمایا: 

دو چیزیں میرے ذہن میں ہیں، وہ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں: پہلی اور سب سے اہم بات جو زور دے کر کہوں گا،وہ یہ ہے کہ آپ خودمختار قانون ساز ادارہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ کس طرح فیصلے کرتے ہیں۔ ایک حکومت کا پہلافریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے، تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال اور اُن کے مذہبی عقائد کو مکمل طور پر تحفظ دے سکے۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت ہندستان جس بڑی لعنت میں مبتلا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ دُنیا کے دوسرے ممالک اس سے پاک ہیں، لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہماری حالت بہت ہی خراب ہے، وہ رشوت ستانی اور بدعنوانی ہے۔ دراصل یہ ایک زہر ہے، اور ہمیں نہایت سختی سے اس کا قلع قمع کر دینا چاہیے۔ 

چور بازاری دوسری لعنت ہے۔مجھے علم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں۔ آپ کو اس لعنت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ چور بازاری معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑاجرم ہے۔ جب کوئی شہری چور بازاری کرتا ہے تو میرے خیال میں وہ بڑے سے بڑے جرم سے بھی زیادہ گھنائونے جرم کا ارتکاب کرتاہے۔ یہ چور بازاری کرنے والے افراد باخبر، ذہین اور عام طور پر ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں، اور جب یہ چور بازاری کرتے ہیں تو میرے خیال میں انھیں بہت کڑی سزا ملنی چاہیے۔ اس بُرائی کو سختی سے کچل دینا ہوگا۔ یہ واضح کردوں کہ میں نہ احباب پروری اور اقربا پروری کو برداشت کروں گا، اور نہ کسی اثرورسوخ کو قبول کروں گا، جو مجھ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی، خواہ یہ اعلیٰ سطح پر ہو یا ادنیٰ پر، ہرگز ہرگز اسے گوارا نہیں کروں گا۔ 

اگر ہم مملکت پاکستان کو خوش و خرم اور خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تمام تر توجہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز کردینی چاہیے، بالخصوص عوام الناس اور غریبوں کی جانب۔ اگر آپ باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں گے تو کامیابی یقینا آپ کے قدم چُومے گی۔ 

اسی خطاب میں آگے چل کر قائداعظمؒ نے ملک میں بڑے پیمانے پر پھیلے ہندو مسلم خونیں فسادات کے ہولناک منظرکو پیش نظر رکھتے ہوئے، یہ فرمایا:  

اب اس مملکتِ پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ آپ مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب ، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبارِ مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ 

یہ خطبہ پاکستان کے قیام سے تین روز قبل دیا گیا ، اور اپنے پیغام و تصور کے اعتبار سے یہ ایک بہترین خطبہ تھا۔ لیکن ایک آنکھ سے دیکھنے والی ’دانش‘ نے اس کے ایک حصے پر اپنی توجہ مرکوز کرکے اسے من مانے معانی پہنانے کا کاروبار شروع کر دیا، اور قائد ِ محترم کی ۱۱؍اگست کی اس تقریر کے مجموعی پیغام کو نظرانداز کرکے اور اس کے آخری حصے کو سیاق وسباق سے کاٹ کر من مانا مطلب اخذ کرکے پیش کرنے کا کاروبار مسلسل چلایا جارہا ہے۔  

قائد نے ۱۱؍اگست کی اس تقریر میں کرپشن، بدعنوانی، امن و امان، چور بازاری اور اقربا پروری کے ناسوروں پر جس شدت سے نشتر چلایا، وہ اس مخصوص ’دانش‘ کو بالکل یاد نہ رہا یا اچھا نہیں لگا۔ حالانکہ اسی چیز نے ملک کے سیاسی،سماجی، معاشی اور آخرکار جغرافیائی منظرنامے کو بدنُما اور داغ دار بناکر رکھ دیا ہے۔ قائد نے قیامِ وطن سے پہلے ہی انگلی رکھ کر اُن امراض کی نشاندہی کی اور انھیں مٹانے کے لیے سخت ایکشن اور کچل دینے کا پیغام دیا۔ لیکن حیران کن حد تک ہماری سیاسی، فکری، عسکری، سول، عدالتی، انتظامی اور صحافتی قیادت کو ان میں سے کوئی بات بھی یاد نہ رہی، اور کبھی کسی کو قائد کے یہ الفاظ دُہراتے نہ دیکھا گیا اور نہ سنا گیا۔ 

البتہ اس خطبے کے آخر میں ’مسلم، ہندو رواداری‘ پر جو فرمایا، اس کے بارے میں یہ مقتدر طبقے بلائیں لیتے اور نہال ہوتے ضرور نظر آتے ہیں۔ جو غنیمت ہے کہ چلیے کسی حوالے سے قائد کے لیے کچھ توجہ اور کچھ تحسین کی گنجائش پیدا ہوئی۔  

قائد محترم کی اسی ۱۱؍اگست کی تقریر میں اسمبلیوں کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میںدی گئی ہدایات کی نسبت سے، ہمارے مخصوص دانش وَر طبقے میں مکمل خاموشی اور تغافل پایا جاتا ہے۔ آج ان اسمبلیوں کی جو حالت ِ زار ہے، اُن کے بارے میں سقراط کی معاصر یونانی اسمبلیوں جیسی کیفیت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، جو بقول سقراط: عوام کے مفاد میں سوچنے کے بجائے، ارکانِ اسمبلی کے مفادات کی نگہبان، اور ایسی ایسی تدابیر سوچنے کے اڈے ہیں کہ کس طرح اپنے مفادات کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنائیں۔  

ان اسمبلیوں کو قائد کے وہ جملے اپنی دیوار پر کندہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، جس میں اُنھوں نے بدعنوانی کے ان محافظوں کی سرزنش کی تھی۔ اَدھورے پن کا یہی تضاد ہماری قومی و سماجی زندگی کا گہرا ناسور ہے، جو رِستے رِستے سرطان بن چکا ہے۔ 

اسی تسلسل میں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ہمارے ہاں پائے جانے والے مخصوص سیکولر دانش وروں کو پاکستان کے بانیان پر مشتمل اسی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’قرارداد مقاصد‘ بھی سخت ناپسند ہے، جو اپنی جگہ جمہوریت، انصاف، رواداری اور تحفظ کی ضامن تاریخی دستاویز ہے۔ اس قراردادِ مقاصد کی بنیاد پر نہ تو کسی ظالم، غاصب اور بدعنوان فرد یا طبقے کو تحفظ ملا اور نہ اس قرارداد نے انھیں تحفظ دینے کا جھنڈا اُٹھایا۔ اس کے برعکس ان ’کرم فرمائوں‘ کو ۱۱؍اگست کو قائد کا وہ ہوشیار باش پیغام نظر نہیں آیا جس میں انھوں نے ’کرپشن‘ اور ’بدعنوانی‘ پر خبردار کیا تھا۔ 

آج پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ یہی بدعنوانی ہے۔ بدعنوانی ایک کثیرالجہتی شیطانی وجود کا نام ہے۔ بدعنوانی کے جسم سے: مالی بدعنوانی، میرٹ تباہ کرنے کی بدعنوانی، اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے کی بدعنوانی، اپنی منصبی ذمہ داری کو محنت و دیانت سے ادا کرنے کے بجائے دوسری ذمہ داریوں میں ٹانگ اُڑانے کی بدعنوانی، حق کی گواہی نہ دینے کی بدعنوانی، سچائی پر قائم نہ رہنے کی بدعنوانی اور مالی و مادی خوف میں مبتلاہونے کی بدعنوانی شامل ہے۔  

ذرا چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھیے کہ قائد کے اس فرمان کی دھجیاں کون کون اور کس کس حیلے سے اُڑا رہا ہے؟ شاید ہی کوئی چہرہ اس میزان پہ سرخرو نظر آئے۔ اگر رویہ یہی ہے اور یقینا ایسا ہی ہے، تو پھر ’یومِ آزادی‘ کو بطور ’یومِ تجدید ِ عہدو احتساب‘ منانا چاہیے۔  

دلچسپ بات یہ کہ پاکستان کی ’نظریہ ساز‘ سیکولر اقلیت کے نزدیک قائداعظمؒ کی ذات، کلام، فکر میں کوئی اور بات قابلِ ذکر نہیں۔ ظاہر ہے کہ قائداعظمؒ ۱۱؍اگست سے پہلے بھی زندہ، پوری تحریکِ آزادی چلا رہے تھے اور اس کے بعد بھی ایک برس زندہ رہے۔ انھوں نے تحریکِ پاکستان کے دوران بہت کچھ کہا اور قیامِ پاکستان کے بعد بھی فکری راہ نمائی دی۔ ایک سوچار مرتبہ ’اسلامی شریعت‘ سے وابستگی کو بطورِ دلیل اور بطورِ عہد دُہرایا۔ ان کی وہ تمام تقاریر ہر خاص و عام کی دسترس میں ہیں مگر مجال ہے کہ ہماری یہ ’فکری مقتدرہ‘ ان باتوں کو کچھ وزن دے۔ 

قائد نے مذکورہ تقریر قیامِ پاکستان سے تین روز پہلے کی تھی اور اسی قائد کی آخری تقریر یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو ہوئی، جس میں انھوں نے کراچی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا: 

معاشرتی اور معاشی زندگی کے اسلامی تصورات سے بنکاری کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں آپ جو کام کریں گے، میں دلچسپی سے اس کا انتظار کروں گا۔ اس وقت مغربی معاشی نظام نے تقریباً ناقابلِ حل مسائل پیدا کر دیئے ہیں، اور شاید کوئی کرشمہ ہی دُنیا کو اس بربادی سے بچاسکے، جس کا اسے اس وقت سامنا ہے۔ یہ نظام افراد کے اور قوموں کے درمیان ناچاقی دُور کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ مغربی دُنیا اس وقت میکانکی اور صنعتی اہلیت کے باوصف جس بدترین ابتری کا شکار ہے، وہ اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔مغربی اقدار، نظریئے اور طریقے، خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا، اور دُنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا، جس کی اساس و بنیاد انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچّے اسلامی تصور پر کھڑی ہو۔ اس طرح ہم مسلمان کی حیثیت سے اپنا مقصد پورا کرسکیں گے، اور بنی نوع انسان تک امن کا پیغام پہنچا سکیں گے۔ صرف یہی راستہ انسانیت کو فلاح و بہبود اور مسرت و شادمانی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔ 

یہ تقریر درحقیقت قوم کے نام قائد کی آخری وصیت کا درجہ رکھتی ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد دل پر ہاتھ رکھ کر گواہی دیجیے کہ قائد کا ایک ایک لفظ کیا پیغام دے رہا ہے؟ کیا یہ تقریر کوئی انتخابی خطبہ ہے؟ یا پھر یہ تقریر ایک معاشی لائحہ عمل پر چلنے کی پکار، دعوت اور حکم ہے؟ اور یہ بھی گواہی دیجیے کہ کیا اس تقریر کا منشا پاکستانی معیشت کو سود اور معاشی استحصال سے پاک اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کا پیغام نہیں؟ 

درحقیقت قائد کی ۱۱؍اگست کی تقریراسلامی ریاست کے ذمہ دار کی حیثیت سے بیان کی گئی ریاستی پالیسی تھی، جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق تھی اور اس کا آخری حصہ اسلامی ریاست کے غیرمسلم شہریوں کے تحفظ اور مذہبی اور سماجی حقوق  کے بارے میں اسلامی تعلیمات ہی کا اعادہ ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضع کردہ ’میثاقِ مدینہ‘ میں موجود ہیں۔  

۱۱؍اگست کو دستور ساز اسمبلی میں قائد کی صدارتی تقریر تھی، جب کہ تین روز بعد ۱۴؍اگست کودستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائدمحترم نے اپنے موقف کی مزید وضاحت فرما دی، جس میں وائسرائے ہند ماؤنٹ بیٹن نے قائد کو مغل بادشاہ اکبر کی مثال دے کر ’رواداری کا درس‘ دینے کی کوشش کی۔  

قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی کے اس باقاعدہ افتتاحی اجلاس میں ماؤنٹ بیٹن کی تقریرکا جواب دیتے ہوئے فرمایا:  

شہنشاہ اکبر نے تمام غیرمسلموں کے ساتھ رواداری اور حُسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس کی ابتدا آج سے تیرہ سو سال پہلے ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کردی تھی۔ آپؐ نے زبان سے ہی نہیں، بلکہ عمل سے یہودیوں اور مسیحیوں پرفتح پانے کے بعد نہایت اچھا سلوک کیا۔ ان کے ساتھ رواداری برتی اور ان کے عقائد کا احترام کیا۔ مسلمان جہاں بھی حکمران رہے، ایسے ہی رہے۔ ان کی تاریخ دیکھی جائے تو وہ ایسی انسانیت نواز اور عظیم المرتبت اصولوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، جن کی ہم سب کو تقلید کرنا چاہیے۔ (بحوالہ اسٹار آف انڈیا، ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء، قائداعظم: تقریر و بیانات، چہارم، مرتبہ: اقبال احمد صدیقی، بزمِ اقبال، لاہور، ۱۹۹۸ء، ص ۳۶۳، ۳۶۴) 

 قائداعظم نے اس خطاب میں اپنا موقف بالکل واضح فرما دیاکہ یہ بات مَیں کوئی آج نہیں کہہ رہا، اور نہ وائسرائے کی مثال کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں، بلکہ یہ بات میں نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی براہِ راست سنت سے اخذ کرکے کہہ رہا ہوں۔ قائد محترم کا یہ خطاب نوآموز سیکولر ’دانش‘ کی طرف سے ۱۱؍اگست کی تقریر کے اس حصے کو بنیاد بناکر پھیلائے جانے والے ابہام کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ 

قائدمحترم نے زندگی بھر فتوے کی زبان استعمال نہیں کی۔ وہ مشورے، راہ نمائی اور دعوتِ فکر دیتے تھے، ان سب چیزوں کا مرکز اپنی ذات کے بجائے ہمیشہ اسلام، قرآن، سیرتِ پاکؐ، اسلامی تہذیب، اسلامی شریعت اور قانون کو ہی قرار دیتے تھے۔  

بلاشبہ اسلام اور اسلامی شریعت کی تعبیر و تشریح کے لیے، شریعت کے مآخذ قرآن و سنت ہی ہمارے عمل کی بنیاد ہوں گے۔ علّامہ محمد اقبال ؒ ہوں یا قائداعظم محمد علی جناح ؒ، دونوں میں سے کسی نے اپنے آپ کو کبھی دین و شریعت سے بالاتر نہیں قرار دیا۔ ہمیں بھی یہی راستہ اختیار کرتے ہوئے اسلام اور تعمیرِ پاکستان کی منزل کے حصول کے لیے انھی مآخذ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔(س م خ( 

سات عشروں سے زیادہ عرصہ گزر چکا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم لوگ، انڈیا کے بے رحم تسلط تلے زندگی گزار رہے ہیں۔اُن کے چاروں طرف دہشت، بارود، گولی، بے حُرمتی، پھانسی، جیل، تذلیل اور انسانی زندگی کی بے توقیری روز کا معمول ہے۔اقوام متحدہ نے ۱۹۴۸ء سے ان کا خود ارادیت کا حق تسلیم کیا ہے ۔ لیکن نہ ویٹو کلب نے اپنے فیصلے کو نافذ کرایا اور نہ انڈیا نے عالمی برادری کے فیصلے کو کسی احترام کے قابل سمجھا۔ نتیجہ یہ کہ اس جبر کے خلاف جدوجہد میں، ۱۹۸۹ء سے اب تک تقریباً ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں کو جبری طور پر غائب کیا گیا،  حراست میں رکھا، یا بھارتی فورسز کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۴۷ (۱۹۴۸ء) — غیر جانب دارانہ رائے شماری کا مطالبہ کرتی ہے — ، اسے ایک طرف پھینکتے ہوئے، انڈیا نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی اور کشمیری آواز کو دبانے کا عمل جاری رکھا۔ اسی دوران ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو ایک سنگین موڑ لیا، جب وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰، اور ۳۵-اے کو منسوخ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ اس اقدام کے نتیجے میں فوجی لاک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، کرفیو اور طویل مواصلاتی بلیک آؤٹ ہوا۔ 

آج ۹ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی، خطے میں دندنا رہے ہیں۔ اس طرح کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوج زدہ علاقہ بن چکا ہے۔ ۲۰۱۹ء کے مذکورہ بالا کریک ڈاؤن کے بعد، ۱۳ ہزار سے زائد نوجوان کشمیریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (UAPA) جیسے سخت وحشیانہ قوانین کے تحت حراست میں لیا گیا، جو بغیر مقدمہ چلائے حراست کی اجازت دیتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی ۵۵۰ دن سے زائد عرصے تک بندش نے مواصلات، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور مقامی معیشت کو مفلوج کر دیا۔ 

ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کے نگران اداروں نے انڈیا کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔ ۲۰۱۹ء کے OHCHR رپورٹ میں وسیع پیمانے پر بدسلوکیوں کی تفصیل دی گئی،جن میں من مانی گرفتاریاں، تشدد، اور چھرّے والی بندوقوں کا استعمال، جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد شہریوں، جن میں زیادہ تر نابالغ تھے، مستقل اندھے ہو گئے۔ 

ان خدشات میں اضافہ کرتے ہوئے، انڈیا نے ۲۰۱۹ء سے غیر مقامی افراد کو لاکھوں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں ۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو خطے کی مسلم اکثریتی حیثیت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ ایسی آبادیاتی انجینئرنگ، چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، جو مقبوضہ علاقوں کی آبادی کی ساخت میں تبدیلی کی ممانعت کرتا ہے۔ 

اپریل ۲۰۲۵ء میں، پہلگام میں تشدد کے افسوس ناک واقعے کو بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف دشمنی بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ تاہم، پاکستان کے مضبوط سفارتی اور فوجی ردعمل نے اب تک مزید تصادم کو روکا ہے۔ اس کے باوجود، ’ہندوتوا‘ قوم پرستی کی شاہراہ پر چلنے والی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہٹ دھرمی پر مبنی اسٹرے ٹیجک جرم کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے، جو کشمیر کے اس تنازعے کے طے شدہ قانونی حل کے بجائے موت اور خون کی طرف دُنیا کو دھکیل سکتا ہے۔ 

انڈیا اور پاکستان دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک ہیں۔ کشمیر پر ایک بھی غلط قدم تباہ کن علاقائی یا عالمی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ عالمی برادری اب خاموش تماشائی بننے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، یورپی یونین، اور عالمی طاقتیں فیصلہ کن مداخلت کریں تاکہ طویل عرصے سے موجود ’اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل‘ (UNSC) کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ 

کشمیر صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں ہے، یہ عالمی برادری کی بے حسی کا جرم اور انڈیا کی علاقائی غنڈا گردی کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ انسانی حقوق، انصاف اور وقار کا سوال ہے۔ اگر دنیا نے اس تنازع سے نظریں پھیرنا جاری رکھا تو اس کے نتائج جنوبی ایشیا سے کہیں آگے جا سکتے ہیں، — جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا دنیا تباہی کو روکنے کے لیے اٹھے گی — یا اسی طرح خاموشی سے شریکِ جرم رہے گی؟ 

دُنیا بھر میں امن کو برباد کرنے اور انسانوں کے قتل عام میں دلچسپی رکھنے والی ریاست امریکا نے انڈیا کی درخواست پر، وہ جنگ جو انڈیا نے شروع کی تھی، اور اب خوفناک تباہی کا عنوان بن رہی تھی، رکوا دی۔درحقیقت اس پیش رفت کا دوسرا پہلو، امریکا کی جانب سے اپنے ایشیائی ’پولیس مین‘ ملک کو سبکی اور ذلّت سے بچانا بھی تھا۔ اسی مرحلے پر مختلف سطحوں پہ یہ نظریہ زور پکڑنے لگا کہ ’امریکی ثالثی‘ سے مسئلہ کشمیر حل کرا لیا جائے۔ 

ہمارے نزدیک ’امریکی ثالثی‘ کا آپشن اختیار کرنے سے کشمیر تنازعہ کے حل میں کئی ممکنہ تباہ کن نقصانات کشمیریوں اور پاکستانیوں کے لیے اُمڈ آئیں گے، خاص طور پر جب اسے سلامتی کونسل کی قراردادوں سے ہٹ کر دیکھا جائے گا۔ ذیل میں چند اہم نکات پیش ہیں: 

  • حقِ خود ارادیت کا موقف کمزور ہونا:سلامتی کونسل کی قرارداد ۴۷ (۱۹۴۸ء) کشمیریوں کے لیے آزادانہ رائے شماری کے ذریعے حقِ خود ارادیت کی واضح ضمانت دیتی ہے۔ ’امریکی ثالثی‘ اس اصول سے ہٹ کر دوطرفہ مذاکرات یا ایک مدت تک تنازع کو ’منجمد ‘ رکھنے جیسے حل پیش کر سکتی ہے، جو کشمیریوں کے بنیادی مطالبے کو نظرانداز کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ امریکی مفادات اکثر جغرافیائی سیاست اور طاقت کے توازن پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس لیے امریکا، کشمیریوں کی اُمنگوں کے بجائے بھارت کی علاقائی بالادستی کو ترجیح دے سکتا ہے بلکہ یقینی طور پر ایسا ہی ہوگا (یاد رہے ۱۹۶۲ء میں چین انڈیا تصادم میں مسئلہ کشمیر کے زمینی حل کے تاریخی امکان کو امریکی شاطرانہ ڈپلومیسی نے رُوبہ عمل نہ آنے دیا، اور پھر پاکستان کے ہاتھ باندھ کر مسئلہ کشمیر کو سردخانے میں دھکیل دیا)۔ 
  • انڈیا کی پوزیشن مضبوط ہونا:امریکا اور انڈیا کے درمیان اسٹرے ٹیجک شراکت داری (خاص طور پر انڈوپیسفک حکمت عملی اور چین کے مقابلے میں) انڈیا کو ’امریکی ثالثی‘ میں ایک مضبوط پوزیشن دے سکتی ہے۔ اس سے انڈیا کے غیر قانونی اقدامات، جیسے آرٹیکل ۳۵-اے اور ۳۷۰ کی منسوخی، پر عالمی تنقید کم ہو سکتی ہے۔ نام نہاد ’امریکی ثالثی ‘انڈیا کے ’داخلی معاملہ‘ کے بیانیے کو تقویت دے سکتی ہے، جس سے کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت کمزور پڑے گی۔ 
  • پاکستان کی سفارتی پوزیشن کا کمزور ہونا:پاکستان نے ہمیشہ کشمیر تنازعہ کو اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ’امریکی ثالثی ‘اس فریم ورک کو نظرانداز کر کے بلکہ توڑ پھوڑ کر پاکستان کی تاریخی سفارتی کوششوں کو کمزور کردے گی۔ 

امریکا کی جانب سے غیر جانب دار(نیوٹرل) ثالث ثابت ہونا ، تاریخ کا ایک عجوبہ ہوسکتا ہے۔ درحقیقت وہ یقینا پاکستان ہی پر دبائو ڈالے گا کہ پاکستان اپنی اصولی اپوزیشن سے پیچھے ہٹے، بلکہ پسپا ہو۔ انڈیا کے ساتھ اس کے گہرے معاشی اور فوجی تعلقات پاکستان کے لیے غیر منصفانہ نتائج کا باعث بنیں گے۔  

  • کشمیریوں پر انسانی حقوق کے اثرات:’امریکی ثالثی ‘سیاسی سودے بازی پر مرکوز ہو سکتی ہے، جو کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں (جیسے من مانی حراستیں، ریاستی تشدد وغیرہ ) کو پس پشت ڈال دے گی۔جس سے کشمیر میں فوجی قبضے کو معمول کی کارروائی کے طور پر قبول کرنے پر اہل کشمیر اور پاکستان کو مجبور کیا جاسکتا ہے، بجائے اس کے کہ اس ظلم کو ختم کیا جائے۔ 
  • علاقائی عدم استحکام کا خطرہ:بظاہر تمام اعشاریے یہی بتاتے ہیں کہ ’امریکی ثالثی‘، انڈیا کے حق میں جھکاؤ رکھے گی، تو اس سے پاکستان میں عدم اطمینان بڑھتے ہوئے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ یک طرفہ امریکی کردار کو دیکھ کر چین اور روس بھی تنازعہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کشمیر عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگ کا میدان بن سکتا ہے۔ 
  • کشمیری عوام کی آواز کا دبنا:اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیری عوام کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، لیکن ’امریکی ثالثی‘ میں انڈیا اور پاکستان ہی کو حکومتی سطح پر مذاکرات کو ترجیح دی جائے گی، جس سے کشمیری عوام اور ان کے نمائندوں (جیسے حریت کانفرنس) کی آواز نظرانداز ہوسکتی ہے۔ ’امریکی ثالثی‘ تاریخی طور پر (جیسے اسرائیل-فلسطین مذاکرات میں) کمزور فریق کی نمائندگی کو کم بلکہ برباد کرتی ہے، جو آخرکار کشمیریوں کے لیے نقصان دہ ہو گا۔ 

تجاویز 

اقوام متحدہ کے فریم ورک پر قائم رہتے ہوئے پاکستان اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کے لیے زور دینا چاہیے، کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک تسلیم شدہ حل ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ’امریکی ثالثی‘ پر انحصار کرنے یا اسے اپنے ہاتھ کاٹ کر دینے کے بجائے، ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC) اور دیگر غیر جانب دار فورمز (جیسے یورپی یونین) کو متحرک کرکے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کے لیے دبائو بڑھایا جائے۔ 

کشمیریوں اور پاکستانیوں کو عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں (جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل) کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی یک طرفہ ثالثی کو چیلنج کیا جاسکے (حالات و واقعات نے ثابت کیا ہے کہ امریکا، ثالثی جیسے ’ڈرامے‘ میں ظالم فریق کا طرف دار ہی ہوتا ہے، اور مظلوم کو مزید کچلنے کے لیے شیرہوتا ہے، غزہ کا منظر آنکھوں کے سامنے رہے)۔ 

’امریکی ثالثی‘ سے کشمیریوں کا حقِ خود ارادیت، پاکستان کی سفارتی پوزیشن، اور خطے میں استحکام، خطرے میں پڑجائیں گے۔ یہ سفارتی عیاشی بھارت کے اقدامات کو جائز قرار دینے اور کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کا باعث بن جائے گی۔ انڈیا بظاہر لیت و لعل سے کام لے کر، آخرکار ’امریکی ثالثی‘ پر آمادہ ہوجائے گا، کیونکہ انڈیا کو معلوم ہے کہ یہ ثالث، فی الحقیقت اس کا فرنٹ مین ہی ہے۔ اس کے برعکس، اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت عالمی برادری کی شمولیت زیادہ منصفانہ اور پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔ 

اسی طرح سفارتی پسپائی اختیار کرتے ہوئے، انڈیا اپنی دوسری دفاعی لائن ’خودمختار کشمیر‘  یا ’تیسرے آپشن‘ کا دائو بھی کھیلنے سے نہیں چُوکے گا۔ اس جال میں پھنسنے سے بچنے کے لیے کشمیری قیادت، پاکستانی سیاسی و فوجی مقتدرہ اور رائے عامہ کو ہوشیار و بیدار رہنا ہوگا۔ گذشتہ ڈیڑھ دوسو سال کی تاریخ نے ایک بات تو بار بار ثابت کی ہے: ’’مسلمان، مذاکرات کی میز پر دھوکے میں آتا ہے اور مار بھی کھاتا ہے‘‘۔ 

منگل، ۲۷ مئی ۲۰۲۵ء کی صبح چیف جسٹس سید رفعت احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف بنگلہ دیش کے سات رکنی فل بنچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے اے ٹی ایم اظہرالاسلام کی رہائی کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس سید رفعت احمد کی سربراہی میں قائم سات رکنی بنچ نے ۸ مئی کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ۲۷ مئی کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی۔اس سے قبل، ۲۲ ؍اپریل کو اظہرالاسلام کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کے لیے عدالت نے ۶ مئی کی تاریخ مقرر کی تھی۔ مقررہ دن سماعت کا آغاز ہوا اور اظہرالاسلام کے وکیل نے دلائل دیے۔ جس کے بعد  عدالت نے ۸ مئی کو مزید سماعت کی، اور فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ۲۷ مئی کی تاریخ متعین کی گئی۔ 

اپیل کنندہ کی جانب سے وکیل محمد منیر نے دلائل دیے، جب کہ ان کے ساتھ سید محمد ریحان الدین بھی موجود تھے۔ ریاست کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اے آر حق اور پراسیکیوٹر غازی ایم ایچ تمیم نے دلائل پیش کیے۔ 

یاد رہے کہ ۳۰دسمبر ۲۰۱۴ء کو حسینہ واجد حکومت کی جانب سے قائم کردہ نام نہاد ’بین الاقوامی جرائم ٹریبونل‘ (ICT)نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے مرکزی سیکرٹری جنرل اے ٹی ایم اظہرالاسلام کو ’۱۹۷۱ء کی جنگِ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف انھوں نے ۲۸ جنوری ۲۰۱۵ء کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔بعد ازاں، ۳۱ ؍اکتوبر ۲۰۱۹ء کوبنگلہ دیش سپریم کورٹ نے ان کی سزائے موت برقرار رکھی، اور ۱۵مارچ ۲۰۲۰ء کو اس فیصلے کی باقاعدہ تفصیلی کاپی بھی جاری کر دی گئی، جس کے بعد اظہرالاسلام نے ۱۹ جولائی ۲۰۲۰ء کو نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ بعدازاں وہ مسلسل جیل میں قید رہے اور حسینہ واجد کی حکمرانی کے دوران ہروقت اُن پر سزائے موت کے باقاعدہ عمل درآمد کا خطرہ موجود رہا۔ مگر مشیت ِ خداوندی کے تحت، وقت گزرتا گیا، حتیٰ کہ اگست ۲۰۲۴ء میں سیاسی حالات تبدیل ہوئے اور ۲۶ فروری ۲۰۲۵ءکو سپریم کورٹ نے ان کی اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرکے فریقین کو دو ہفتوں کے اندر سمری جمع کرانے کا حکم دیا۔ سمری جمع ہونے کے بعد اپیل پر یہ سماعت ہوئی، اور فیصلہ سنایا گیا ہے۔  

بنگلہ دیش سپریم کورٹ کے مشاہدات  

۱- سپریم کورٹ نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمات میں ماضی میں دیے گئے فیصلوں کے ذریعے نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ پورے برصغیر کی فوجداری عدالتی نظام کی بنیادی ساخت کو بدل کر رکھ دیا گیا تھا، جو کہ ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم تھا۔ 

۲- سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جناب اے ٹی ایم اظہرالاسلام کو سزا دیتے وقت ان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد اور ثبوتوں کی منصفانہ جانچ کیے بغیر ہی سزائے موت سنادی گئی تھی۔ 

۳- سپریم کورٹ نے اسے ’تاریخ میں سچائی کے ساتھ ایک سنگین مذاق‘ (travesty of truth) قرار دیا، یعنی انصاف کے نام پر کھلم کھلا ناانصافی۔ 

۴-   عدالت کا کہنا تھا کہ زیرسماعت مقدمے میں جو شواہد اور ثبوت پیش کیے گئے ہیں، ماضی میں ان کی اپیل پر عدالت نے درست اور دیانتدارانہ جائزہ لینے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔ 

یہ امرواقعہ ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف ایک انفرادی مقدمے میں انصاف کی بحالی ہے بلکہ یہ بنگلہ دیش میں خصوصاً عوامی لیگی فسطائی حکومت کے دورِ حکمرانی میں عدالتی نظام میں ماضی کی سنگین لغزشوں، گناہوں اور جرائم کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ 

تشکر کے اس موقعے پر ڈاکٹر شفیق الرحمان، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا: ’’آج بنگلہ دیش کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کے فل بنچ نے ہماری نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے میں ہمارے قابلِ احترام مظلوم لیڈر اور ہمارے پیارے بھائی اے ٹی ایم اظہر الاسلام کو اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ کتنے صدمے کی بات ہے کہ اس طرح کی جعلی فیصلہ سازی سے ہمارے نہایت عظیم ساتھیوں اور ملّت و قوم کے راہ نمائوں کو پھانسیاں دے کر ہم سے جدا کردیا گیا۔اگر وہ رہنما جو ہماری قوم کے سرتاج ہیں، قومی بحران کے اس لمحے میں زندہ ہوتے تو اپنی دانش مندی، دُور اندیشی اور تجربے سے اس قوم کو راستہ دکھا سکتے تھے۔ کینگرو کورٹ نے انھیں ایک ایک کر کے مار دیا۔ آج دنیا میں کوئی بھی انھیں ہمارے پاس واپس نہیں لا سکتا۔ لیکن اللہ کے دین کے لیے ان کی قربانی اور خدمات ہمیشہ باقی رہیں گی‘‘۔ 

یاد رہے ان مقدمات کو نمٹانے میں لامحدود دھوکا دہی اور جعل سازی کا سہارا لیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سریندرکمار سنہا نے ستمبر ۲۰۱۸ء میں اپنی کتاب A Broken Dream: Rule of Law, Human Rights & Democracy میں اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے کس طرح جھوٹ کا سہارا لیا۔ اس وقت کی عدلیہ اور حکومت نے مشترکہ طور پر ایک منصوبہ بنایا کہ منظم طریقے سے جماعت کے ان مرکزی رہنماؤں کو قتل کیا جائے۔عدالتی ڈرامے کے ذریعے پھانسی پانے والا اللہ کی عدالت میں چلاگیا ہے۔ ان ظالموں نے اسی پر بس نہ کیا، بلکہ ان کے لواحقین اور گھروالوں کو بھی وحشیانہ طریقے سے مارا پیٹا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ عبدالقادر مُلّا کو جس رات پھانسی دی گئی، اسی رات ان کے گھر پر حملہ کیا، ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انھیں جنازے میں شرکت کی اجازت دینے کے بجائے دھکے دیتے اور تشدد کرتے ہوئے جیل میں ڈال دیا گیا۔ یوں پھانسیاں پانے والے تمام خاندانوں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیا گیا۔ 

قتل کاری کے اس عدالتی عمل کے دوران ’اسکائپ اسکینڈل‘ کو دیکھ کر پوری دنیا نے مذمت کی۔ ان مقدموں کے دوران دو ٹارچر سیل بنائے گئے: ایک کا نام ’سیف ہوم‘ تھا، اور دوسرے کا نام ’سیف ہاؤس‘ تھا۔ ’سیف ہوم‘ میں متاثرہ رہنماؤں کو ہراساں کیا گیا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر انھیں ’سیف گھر‘ میں رکھا گیا اور کئی دنوں تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جماعت کے کارکنوں نے اسے خاموشی سے برداشت کیا۔ احتجاج کی کوشش کی، مگر سیاسی غنڈوں کے حملوں کا انھیں سامنا کرنا پڑا۔ 

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مختلف رفاہی تنظیموں نے ان مقدموں کی مذمت کی۔ لیکن حکمرانوں اور ان کے پروردہ ججوں نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر منصفانہ مقدمات کی کارروائی چلی تو وہ قتل کی اجازت نہیں دے گی، مگر یہ بات کسی نے نہیں سنی۔ 

ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ ہمیں اپنے ملک سے محبت ہے۔ ہمارے پیارے لیڈر بھی اس ملک سے محبت کرتے تھے۔ اسی محبت کی وجہ سے انھوں نے ملک کی بہتری کے لیے جدوجہد کی۔ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ بنگلہ دیش میں صحت مند سیاست کا فروغ چاہتے تھے۔ نہ صرف انھوں نے سڑکوں پہ سیاسی جدوجہد کی بلکہ حکومت کا حصہ بننے کے بعد بھی انھوں نے حکومتی انتظام کو بہتر بنانے کی مثالی کوششیں کیں۔ پوری قوم گواہ ہے، دووزیروں نے مثالی انداز سے تین وزارتیں چلائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے پوری ایمانداری اور مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دیئے۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے عوام کے لیے روشن وصیت نامہ چھوڑا ہے اور شان دار مثال قائم کی ہے‘‘۔  

جب ہم ماضی میں دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ سارے بنگلہ دیش اور پوری دُنیا کے سامنے عوامی لیگی خصوصی عدالت میں کیس نمٹاتے ہوئے ان خاندانوں کی طرف سے کسی سے کوئی گواہی نہیں لی جن کے نام لے لے کر قتل کے مقدمے چل رہے تھے۔ بلکہ ایسے مقدمے کی بنیاد بننے والے ایک مقتول کا بھائی گواہی دینے آیا تو سادہ لباس پولیس نے عدالت کے احاطے میں اس فرد کو وکیل کی گاڑی سے کھینچ کر اغوا کرلیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور انڈیا کی سرزمین پر چھوڑ دیا گیا۔ وہ مذہباً ہندو اور عملاً سچّی گواہی دینے کی غرض سے عدالت پہنچنے کی کوشش میں طویل عرصہ جیل میں رہنے کے بعد وطن واپس آیا ہے۔ یہ گواہ علامہ دلاور حسین سعیدی کے حق میں گواہی دینے کے لیے آیا تھا۔ 

اظہر الاسلام کی موجودہ اپیل کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے کہا کہ ’’مطیع الرحمان نظامی کو ایک دن یا ایک منٹ بھی سزا دینے کی گنجائش نہیں تھی، مگر انھیں سزائے موت دی گئی۔ ان عدالتوں نے جماعت اسلامی کے لیڈروں پر ظلم کیا ہے۔ فیصلے پر عمل درآمد سے پہلے ہی سازشیں رچائی گئیں‘‘۔  

جماعت کے پھانسی پانے اور جیلوں میں انتقال فرمانے والے قائدین سب کے سب ثابت قدم تھے۔ وہ اپنے ایمان میں مضبوط تھے، وہ حق پر قائم تھے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہوئے پھانسی کے تختے پر کھڑے ہوگئے، یا جیل میں سسکتے رہے، لیکن ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انھوں نے یہ سکھایا ہے کہ اگر ایک باوقار قوم سچائی پر ڈٹی رہتی ہے تو پھانسی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ موت توصرف ایک بار آنی ہے، مگر وہ موت ذلت آمیز موت نہیں بلکہ بہادری کی موت ہونی چاہیے۔ ان کی شہادت اور موت بہادری کی موت تھی۔  

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا: ’’ان مقدمات کو چلاتے ہوئے بین الاقوامی روایتی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی اور ساتھ ہی ملکی قانون کی بھی پاسداری نہیں کی گئی۔ جو ثبوت قانون کے تحت موجود تھے ان پر بالکل عمل نہیں کیا گیا۔ حکمران طبقے کے لیے آئین کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا، قانون کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جن کے کہنے پر عدالت کی کارروائی چلی، انھی کی مرضی قانون تھا، انھی کی مرضی کا فیصلہ تھا۔ چاہے وہ قانونی ہو یا غیر قانونی۔ اس طرح جماعت اسلامی کو نشانہ بنایا گیا‘‘۔ 

معین الدین چودھری جنھیں انھی کینگرو عدالتوں نے سزائے موت سنائی تھی، ان کے مقدمے پر برطانوی سپریم کورٹ نے گذشتہ برس فیصلہ دیتے ہوئے لکھا تھا: ’’بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے مقدمات انصاف کے نام پر ایک سنگین مذاق ہیں۔ یہ فیصلے نہیں، یہ انصاف کی نسل کشی ہے۔ ان میں انصاف کا قتل عام کیا گیا ہے‘‘۔ انھوں نے ’کلنگ آف دی جسٹس‘ نہیں کہا۔ کیونکہ اگر یہ ایک ہی کیس ہوتا تو وہ کہتے کہ یہ قتل ہے، لیکن یہاں تو ایک سے زیادہ کیس تھے۔ اسی لیے برطانوی سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ’انصاف کی نسل کشی‘ ہے۔ لیکن اُس وقت کی بنگلہ دیشی عدالت نے ایسا نہیں لکھا تھا۔ تاہم، بنگلہ دیشی عدالت نے ۲۷مئی کو اپنے فیصلے کے ذریعے یہ بات دُہرائی ہے جو برطانوی سپریم کورٹ نے متعین کی تھی۔ 

جماعت اسلامی کے شہید قائدین میں: سابق امیر پروفیسر غلام اعظم، سابق نائب امیر ابوالکلام محمد یوسف، سابق امیر شہید مولانا مطیع الرحمان نظامی، سابق سیکرٹری جنرل شہید علی احسن محمد مجاہد، سابق اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل شہید قمر الزمان، سابق رکن مرکزی مجلس شوریٰ میرقاسم علی، سابق اسسٹنٹ سیکرٹری شہید عبدالقادر مُلّا، نائب امیردلاور حسین سعیدی، سابق نائب امیر سابق ایم پی مولانا عبدالسبحان رحمہ اللہ، سابق رکن مرکزی مجلس شوریٰ عبدالخالق رحمۃ اللہ علیہ، جنھیں ناحق قتل کیا گیا۔ وہ دنیا سے تو مٹ گئے ہیں، لیکن اہل حق کے دلوں سے نہیں نکل سکتے۔ اہل باطل نے اس قیادت کو انصاف کی نسل کشی کے ذریعے ختم کر کے ملک اور جماعت کو قیادت سے محروم کرنے اور عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کی ظالمانہ کوشش کی ہے، مگر ۲۷مئی کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ سچ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ سچائی بادلوں کو چیر کر روشنی کی چمک لاتی ہے اور وہ سچ آج دُنیا پہ ظاہر ہے۔