مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۲۵

مقبوضہ جموں و کشمیر کے سری نگر میں مسلمانوں کے لیے مقدس درگاہ حضرت بل کے کتبے ’پر اشوک لاٹ‘ کا سرکاری نشان کنندہ کرنے پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ کچھ مقامی افراد نے ’جموں و کشمیر وقف بورڈ‘ کے خلاف احتجاج کیا ہے،جب کہ پتھر کے کتبے پر مہاراجا اشوک کے نشان کو توڑنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ یہ واقعہ ۵ستمبر جمعہ کے دن پیش آیا۔ دوسری جانب حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) نے کہا ہے کہ ’ہمارے مزارات ایمان، عاجزی اور اتحاد کی علامت ہیں، ان مقامات کو عبادت گاہ ہی بنے رہنا چاہیے، تقسیم کی جگہ نہیں‘ ۔ 

 کچھ عرصہ قبل درگاہ حضرت بل کی تعمیرِ نو کا کام شروع ہوا تھا۔ اس دوران وہاں سنگ بنیاد پر اشوک کی لاٹ کا نشان بنایا گیا تھا، جس پر لوگوں میں ناراضی کی لہر پھیل گئی۔ مشتعل لوگوں نے اسے توڑنے کی کوشش بھی کی۔ اس واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں۔ سری نگر کی یہ درگاہ اور مسجد مسلمانوں کے لیے بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ صدیوں پر محیط روایت کے مطابق یہاں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’موئے مبارک‘ ہے۔ اس درگاہ کی تعمیرِ نو مسلم اوقاف ٹرسٹ کے شیخ محمد عبداللہ کی نگرانی میں ۱۹۶۸ء میں شروع ہوئی اور کام ۱۹۷۹ء میں ختم ہوا۔  

’موئے مقدس‘ کو پہلی بار سنہ ۱۶۹۹ء میں کشمیر لایا گیا۔ پہلے اسے نقش آباد صاحب میں رکھا گیا اور پھر بعد میں اسے حضرت بل لایا گیا۔ ہر سال شب معراج اور میلاد النبی کے خاص موقعوں پر ریاست بھر اور دُور دراز کے علاقوں سے لوگ اس مسجد میں رکھے ہوئے ’موئے مقدس‘ کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ 

توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد بی جے پی حکومتی اہل کار درخشاں اندرابی نے جمعے کی شام میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسے افسوس ناک کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ’قومی نشان کو توڑنا جرم ہے۔ یہ ایک سیاسی جماعت کے غنڈے ہیں جنھوں نے ایسا کیا ہے‘۔ ان کا اشارہ بظاہر نیشنل کانفرنس کی جانب تھا۔ انھوں نے ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: ’قانونی طور پر قومی نشان کو نقصان پہنچانا جرم ہے۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی کی جائے گی اور ان پر درگاہ میں داخلے کے لیے تاحیات پابندی عائد کر دی جائے گی ‘‘۔ 

حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنما اور ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ’پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ نشان پتھر پر لگانا بھی چاہیے تھا یا نہیں؟‘ انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کسی مذہبی تقریب یا مذہبی مقام پر ایسا نشان استعمال ہوتے نہیں دیکھا۔ کیا کوئی مجبوری تھی کہ حضرت بل کے اس پتھر پر یہ نشان استعمال کیا گیا؟‘ سوال یہ ہے کہ ’پتھر لگانے کی کیا ضرورت تھی، کیا مرمت کا کام کافی نہیں تھا؟ اگر کام ٹھیک ہوتا تو لوگ خود کام کو پہچان لیتے‘۔ انھوں نے کتبہ لگانے والوں سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’مندر، مسجد، گرودوارہ، یہ تمام مذہبی مقامات ہیں جہاں قومی نشان کے استعمال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان مقامات پر قومی نشان کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ سرکاری پروگراموں میں سرکاری نشانات کا استعمال کیا جاتا ہے‘۔ 

 اس سے قبل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) نے درخشاں اندرابی کے الزام کے جواب میں سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا: ’یہ امر انتہائی تشویشناک ہے اور درگاہ حضرت بل کے اندر کسی جاندار (شخص یا جانور) کی تصویر یا علامتی نشانی کا استعمال اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ ہزاروں عقیدت مندوں کے لیے ایک محترم مقام ہے اور توحید کے اصول کے مطابق اس طرح کی نشانیوں کا استعمال ممنوع ہے۔ عقیدت مندوں کے لیے یہ معمولی بات نہیں، بلکہ اس کا ان کے مذہبی جذبات سے گہرا تعلق ہے‘۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ ’وقف کوئی نجی ملکیت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ٹرسٹ ہے جو عام مسلمانوں کے تعاون سے چلتا ہے۔ اسے لوگوں کے عقیدے اور روایت کے مطابق ہی چلایا جانا چاہیے‘۔  

نیشنل کانفرنس نے اپنے بیان میں وقف بورڈ کی چیئرپرسن اندرابی کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’ہم ایسے نمائندوں کو دیکھ رہے ہیں جو منتخب نہیں ہوئے، انھیں جموں و کشمیر کے لوگوں کی حمایت حاصل نہیں ہے، بلکہ انھوں نے از خود اس مقدس مقام پر ایک اعلیٰ عہدہ سنبھالا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف اس درگاہ کے تقدس کی توہین ہے، بلکہ احتساب اور خاکساری جیسے بنیادی اصولوں کا مذاق بھی ہے۔ یہ بات پریشان کن ہے کہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معافی مانگنے کے بجائے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ دریں اثنا، نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان ایم ایل اے تنویر صادق نے کہا کہ ’درگاہ پر کسی جاندار کی تصویر لگانا اسلام کے خلاف ہے کیونکہ اسلام میں بت پرستی کی ممانعت ہے‘۔کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا غلط ہے۔ ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام میں بت پرستی کی سختی سے ممانعت ہے۔ یہ کوئی سرکاری عمارت نہیں ہے، یہ ایک درگاہ ہے‘۔  

پی ڈی پی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کو پیش آنے والے اس واقعہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: ’یہ درگاہ پیغمبر اسلام سے متعلق ہے، لوگ یہاں کسی قسم کی گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔ مسلمانوں کے لیے ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے، وہاں اس قسم کی گستاخی سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ لوگ اس نشان کے خلاف نہیں ہیں لیکن اسلام میں بت پرستی کی ممانعت ہے۔ اس لیے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اسے یہاں کیوں نصب کیا گیا؟‘  

انھوں نے کہا: ’یہ کہنا غلط ہے کہ لوگوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جانا چاہیے۔ میرے خیال میں ان کے خلاف ۲۹۵- اے کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے کیونکہ یہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی توہین کے مترادف ہے‘۔ انھوں نے وزیراعلیٰ سے ایکشن لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا: ’اس واقعے کا اوقاف ذمہ دار ہے کیونکہ وہاں کے تمام لوگ مسلمان ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ انھوں نے سنگ بنیاد (کے کتبے) میں ایسی چیز کیسے رکھی جسے اسلام میں حرام سمجھا جاتا ہے‘۔ جمعہ کو انڈیا بھر میں عید میلاد النبی منائی گئی لیکن جموں و کشمیر میں اس کے لیے سنیچر کو سرکاری چھٹی دی گئی۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک سابق پوسٹ میں کہا کہ انتظامیہ کا جمعہ کی چھٹی کو سنیچر کی چھٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انھوں نے سرکاری پریس کی طرف سے چھپنے والے کیلنڈر کی تصویر شیئر کی جس میں عید میلاد النبیؐ کے چاند کی رویت کی بنیاد پر ۵ستمبر کو چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔ 

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس نسبت سے مختلف بیانات گردش میں ہیں: ’مسلمان کی وفاداری قوم سے نہیں بلکہ ان کے ایمان سے ہے‘ ۔ بہت سے لوگ مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اشوک لاٹ کی تین شیر والی علامت کوئی مذہبی علامت نہیں ہے۔  آنند رنگناتھن نے لکھا: ’اشوک کا نشان انڈیا کی نمائندگی کرتا ہے، خدا کی نہیں، یہ ایک آئیڈیل کی تصویر ہے۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے درست کہا تھا: ’مسلمان کی وفاداری اس کی قوم سے نہیں بلکہ ان کے ایمان سے ہے‘۔ 

 عارف اجاکیا نے لکھا: ’اسلام کو بچانے کے لیے انھوں نے درگاہ سے اشوک کا نشان ہٹادیا ہے لیکن وہ وہی نشان کعبہ اور مدینہ کے دورے کے دوران اپنے سینے کے قریب رکھتے ہیں جو ان کے پاسپورٹ اور بینک نوٹوں پر ہوتا ہے۔ یاد رکھیں آپ اشوک کے نشان کے بغیر حج پر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے‘۔ اس کے جواب میں حسن وانی نامی ایک صارف نے لکھا: ’ہر چیز کو آپس میں نہ ملائیں۔ پہلی بات یہ کہ مسجد کی دیوار پر کوئی تصویر یا نقش و نگار لٹکانا اسلامی شریعت میں قطعی طور پر ناجائز اور حرام ہے، جب کہ اپنی جیب میں پیسے یا پاسپورٹ رکھنا ایک الگ بات ہے۔ جذبات کو بھڑکانے اور سیاسی ماحول کو گرمانے کے لیے اس کا سیاسی مقاصد کے لیے فائدہ اٹھانا، ان دونوں حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے اور یہ بات حماقت سے کم نہیں!‘  

بہت سے صارفین نے اسے جہاد کا طرزِ عمل کہا ہے ، جب کہ کئی افراد نے اسے تنگ نظری سے تعبیر کیا ہے اور کچھ نے سوال اُٹھایا ہے کہ اسے دوسرے مذہبی مقامات پر کیوں نہیں لگایا جاتا؟ بہت سے ہندو اس واقعے کو مسلمانوں کی انڈیا سے وفاداری پر سوالیہ نشان کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ فلٹریشن نامی ایک صارف نے لکھا: ’اشوک، بودھ مت کے پیروکار تھے۔ اشوک کی لاٹ مہاتما بودھ کی تعلیمات سے متاثر ہے۔ جنھوں نے مسلمانوں کی عقیدت کے مقام حضرت بل میں اشوک کی علامت کو لگایا وہ مذہبی انتشار کو ہوا دینے کے ذمہ دار ہیں‘۔ 

عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس ۱۵ ستمبر ۲۰۲۵ء کو دوحہ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد ۹ ستمبر کو قطر کے دارالحکومت پر اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتِ حال پر غور اور جارحیت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، ملائیشیا اور ایران کی جانب سے تجاویز تو پیش کی گئیں، مگر کوئی ٹھوس عملی منصوبہ سامنے نہ آیا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے اور ’عرب اسلامی ٹاسک فورس‘ کی تشکیل کی تجویز دی، مگراسرائیل کے خلاف سفارتی مہم کی کوئی حکمت عملی بیان ہوئی نہ ٹاسک فورس کے خدوخال واضح کیے گئے۔ 

  • ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیل پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی بات کی، لیکن ان کی تقریر میں آذربائیجان سے اسرائیل کو تیل کی ترسیل روکنے جیسے کسی عملی اقدام کا ذکر نہ تھا۔ واضح رہے کہ یہ تیل ترک بندرگاہ جیحان (Ceyhan) سے اسرائیلی ٹینکروں پر لادا جاتا ہے۔  ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے مسلم ممالک سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی اپیل کی، مگر مصر، اردن، بحرین، مراکش، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے اس پر کوئی آمادگی ظاہر نہ کی۔ 

قطری امیر کا خطاب: جوش، حقیقت اور بے بسی 

اجلاس سے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا خطاب سخت اور جوشیلا تھا۔ انھوں نے اسرائیلی حکومت کو ’’اقتدار کی جنونیت، تکبر اور خون کی پیاس میں مبتلا‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ثالثوں پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کو امن میں کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ وہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔قطری امیر نے غزہ میں جاری جنگ میں ۶۵ ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کا ذکر کیا اور نیتن یاہو کی توسیع پسندانہ سوچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے شامی زمین پر قبضہ کیا اور اب جنوبی لبنان سے انخلاء پر تیار نہیں۔تاہم، قطری قیادت کی گفتگو عملی بے بسی کا شکار رہی۔ اربوں ڈالر کے امریکی و برطانوی دفاعی نظام کی موجودگی میں اسرائیلی طیارے حملہ کر کے چلے گئے اور قطر کو ان کی آمد کی آہٹ تک محسوس نہ ہوئی۔ 

ایران پر اسرائیلی حملوں اور یمن میں اسرائیلی مداخلت یا تباہی کا براہِ راست ذکر قطری امیر کی تقریر میں نہیں آیا۔حالانکہ اسرائیل اور امریکا نے ایران اور یمن میں وحشیانہ کارروائیاں کی ہیں۔خطے میں ان حملوں پر شدید ردِعمل بھی موجود ہے۔قطر، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کا ذکر نہ کرنا شاید سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہو، جب کہ یمن کے معاملے پر خلیج یکسو نہیں اور ان ممالک کی سفارتی کشیدگی سے خود کو باہر رکھنے کے لیے امیرقطر نے گفتگو میں احتیاط برتی۔ 

خلیج تعاونی کونسل کا اعلان ۔۔ دفاعی اتحاد یا علامتی بیانیہ؟ 

خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے اپنےاجلاس میں مشترکہ دفاعی نظام کو فعال کرنے اور فوجی کمان کا اجلاس دوحہ میں بلانے کا اعلان کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ خلیج کونسل کے کسی ایک رکن پر حملہ، تمام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد جی سی سی کے ترجمان ماجد محمد الانصاری نے بتایا کہ خلیجی ممالک کی فوجی قیادت کے درمیان مشاورت جاری ہے تاکہ علاقائی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا جاسکے۔ 

اوآئی سی اور عرب لیگ کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔بیان میں اسرائیل کی جانب سے قطر کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی ہوا،لیکن اس سلسلہ میں کسی تزویراتی حکمت عملی کا ذکر سامنے نہ آیا۔ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ 

OIC کی تاریخ، زوال اور متبادل کی تلاش 

اسلامی تعاون تنظیم (OIC)کا قیام ۱۹۶۹ء میں مسجد اقصٰی کی آتشزدگی کا ردعمل تھا۔ تاسیس کے وقت اس کا مقصد مسلم ممالک کا اتحاد، مظلوموں کی آواز بننا اور عالمی سطح پر اسلامی دنیا کے مفادات کا تحفظ طے پایا تھا لیکن نصف صدی بعد OIC عملاً مفلوج ہو چکی ہے۔اس کی قراردادیں صرف کاغذی بیانات، اجلاس صرف رسمی تصاویر اور قیادت خلیجی طاقتوں کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے۔ 

کوالالمپور کانفرنس بطور متبادل؟ 

تنظیم کو فعال بنانے کے لیے ۱۸ سے ۲۰ دسمبر ۲۰۱۹ء کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایک چوٹی کی کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس میں ترکی، ایران، قطر اور دیگر مسلم ممالک کے رہنماؤں، دانش وروں اور اسکالرز نے شرکت کی تھی۔اس کانفرنس کا مقصد مسلم دنیا کو درپیش مسائل، اسلاموفوبیا، معاشی پس ماندگی، اور سیاسی انتشار کا حل اور اسلامی تنظیم کی غیر مؤثر حیثیت کے متبادل پر غور کرناتھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیٹھک کے تجویز کنندگان میں سب سے اہم کردار پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کا تھا، لیکن سعودی دباؤ کے باعث عین وقت پر پاکستان نے شرکت سے معذرت کر لی، جس نے مسلم دنیا میں نئی سفارتی صف بندی اور قیادت کے بحران کو مزید واضح کر دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو امت کی قیادت کا موقع ملا، مگر خان صاحب نے ریال کی سفارت کاری کو ترجیح دی۔ 

یہ اسلامی تعاون تنظیم کو فعال کرنے کا آخری موقع تھا جو ضائع کردیا گیا اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی پر امت کی قیادت کا عزم لے کر بننے والی تنظیم، غزہ کی نسل کشی، قطرپر حملے اور فلسطینی قیادت کے قتل پر صرف بیانات جاری کر رہی ہے۔ تنظیم کی قیادت ان ممالک کے زیرِ اثر ہے جنھوں نےاسرائیل سے تعلقات بڑھائے اور اب تنظیم کو اپنے مفادات کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔حالیہ عرب-اسلامی سربراہی اجلاس میں اسرائیل کے ’بزدلانہ‘ حملے کی مذمت تو کی گئی، مگر کوئی ٹھوس سیاسی یا اقتصادی منصوبہ سامنے نہ آیا۔ خلیج تعاون کونسل نے مشترکہ دفاعی نظام کی بات تو کی، مگر عملی مزاحمت کا کوئی نقشہ پیش نہیں کیا گیا۔ 

کیا اُمتِ مسلمہ نئی قیادت، نئی صف بندی اور نئی مزاحمت کے لیے تیار ہے؟ یا تنظیم کو تاریخ کا ایک ناکام تجربہ مان کر اسرائیل اور امریکا کے سامنے ہتھیار رکھ دینے ہی میں عافیت سمجھی جائے گی؟ 

حال ہی میں بنگلہ دیش میں کچھ ایسے حیرت انگیز واقعات پیش آئے ہیں جنھوں نے لوگوں کو دنگ کر دیا۔ کچھ لوگ اس سے مایوسی میں ہیں، جب کہ کچھ لوگ سیاسی اور سماجی زندگی میں زلزلے اور کچھ اپنے خیال کے مطابق اس میں تباہی دیکھ رہے ہیں۔ یہ واقعہ ہے بنگلہ دیش میں طلبہ و عوام کی بغاوت کے بعد بدعنوان اور فاشسٹ حسینہ حکومت کا تختہ اُلٹا دیا جانا اور اسلامی نظریۂ حیات کو فروغ دینے والی طلبہ تنظیم ’اسلامی چھاترو شبر‘ کی بحالی، خاص طور پر ڈھاکا اور جہانگیر نگر یونی ورسٹیوں میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں اسلامی چھاتروشبر کی شاندار فتح۔ گذشتہ پندرہ برسوں کے دوران اسلامی چھاترو شبر کو ختم کرنے کے لیے ہر طرح کا الزام، ریاستی جبر اور پارٹی دہشت گردی سے جڑا ظالمانہ سلوک کیا گیا۔ یہاں تک کہ کچھ نام نہاد علما، جو یہ مانتے ہیں کہ اسلام کا دائرئہ کار صرف خانقاہوں اور مزاروں تک محدود ہے، نہ کہ سیاست یا ریاستی انتظام میں بھی، وہ بھی اس ظلم میں شامل تھے۔ شبر کی حالیہ فتح نے ان کے اس نظریے کو غلط ثابت کیا اور نہ صرف طلبہ سیاست بلکہ قومی سیاست کو بھی متاثر کیا، جس سے بائیں اور دائیں بازو کے لوگوں کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ 

۱۹۴۷ء میں ہماری پہلی آزادی کے بعد مغربی پاکستان میں جماعت اسلامی کی سرگرمیاں فوری طور پر شروع ہوئیں، لیکن موجودہ بنگلہ دیش اور اُس وقت مشرقی پاکستان میں اس کی سرگرمیاں ۱۹۵۰ء کے عشرے میں شروع ہوئیں۔ اس وقت علما کی ایک بڑی تعداد یہ تسلیم کرتی تھی کہ اسلام میں سیاست کا کوئی مقام نہیں اور مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی نے اپنی دعوت اور پروگرام کے ذریعے ریاست اور معاشرے میں ایمان دار اور قابل لوگوں کو متعارف کروانے کے نام پر سیاست میں جو دخل اندازی کی ہے، وہ ایک غلط عقیدہ ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد دستور سازی کے لیے برپا ہونے والی تحریک میں جماعت اسلامی کا کردار اہم تھا۔ اس سے پاکستان کے دونوں بازوئوں میں جماعت کئی سیاسی جماعتوں کی آنکھوں میں کانٹا بن گئی۔ اسی دوران پنجاب میں قادیانی مسئلہ اٹھا۔ قادیانی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ اس دوران فسادات پھوٹ پڑے اور لاہور میں مارشل لا نافذ ہوا۔ اس موقع پر مختلف مکاتب فکر کے علما کی ایکشن کمیٹی نے قادیانیوں کے خلاف ڈائریکٹ ایکشن جدوجہد کا اعلان کیا، مگر پُرتشدد ڈائریکٹ ایکشن سے جماعت اسلامی نے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ مگر دوسری طرف دلیل کے میدان میں مولانا مودودی نےقادیانی مسئلہ کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا، جس میں انھوں نے قادیانیوں کے رہنما مرزاغلام احمد قادیانی کی متعدد تحریروں کے حوالوں سے ثابت کیا کہ وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے اور خود کو نبی کہتے ہیں، لہٰذا قرآن و سنت کی روشنی میں وہ مسلمان نہیں ہیں۔ اس مقالے کی وجہ سے مولانا مودودیؒ کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی، لیکن ملکی و غیر ملکی علما اور سربراہان مملکت کے احتجاج کے بعد یہ سزا معطل ہوئی اور بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے اسے منسوخ کر دیا۔ 

۱۹۵۸ء میں مشرقی پاکستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر شاہد علی کے خود اپنے ہی بنگالی مخالفین کے ہاتھوں قتل کے بعد اکتوبر میں جنرل محمد ایوب خاں نے مارشل لا نافذ کردیا۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ جماعت اسلامی کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا۔ ۱۹۶۲ء میں مارشل لا ختم ہوا تو جماعت اسلامی نے سب سے پہلے خود کو بحال کیا اور اپنی سرگرمیاں جاری کیں۔ جماعت اسلامی اپنے قیام سے ہی ایک منظم، قانون پسند، اور عوام دوست تنظیم رہی ہے۔ اس کی کوئی خفیہ سرگرمیاں نہیں تھیں، اور اس کے کارکن ایمانداری اور وفاداری کے معیار پر لوگوں کی نظر میں قابلِ احترام تھے۔ 

جنوری ۱۹۶۴ء میں جنرل ایوب خاں کی زیرقیادت پاکستانی حکومت نے جماعت اسلامی پر پابندی لگادی۔ جماعت اسلامی نے اس پابندی کے خلاف مشرقی پاکستان ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔ حکومت اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی،اور جسٹس محبوب مرشد کی سربراہی میں مشرقی پاکستان ہائی کورٹ نے پابندی کو غیر قانونی قرار دیا۔ مگر مغربی پاکستان ہائی کورٹ نے پابندی برقرا رکھی۔ تاہم، سپریم کورٹ نے مشرقی پاکستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے، پاکستان بھر میں پابندی ختم کردی۔ 

دسمبر ۱۹۷۰ء میں عوامی لیگ نے پورے انتخابی عمل پر قبضہ جماکر من مانا نتیجہ لیا۔ سول نافرمانی کی، پُرتشدد بغاوت کی، انڈیا نے اس کی مدد کی، اور پاکستان ٹوٹ گیا۔ اس طرح مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ شیخ مجیب نے اقتدار سنبھالتے ہی جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شنگھو سمیت تمام مذہبی جماعتوں پر پابندی لگا دی۔ پھر ۱۹۷۵ء میں آئین کی چوتھی ترمیم کے ذریعے انھوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو غیر قانونی قرار دے کر صرف ایک جماعت’ بکسال‘ ( BKSAL) قائم کی جو ’بنگلہ دیش کرشک سرامک عوامی لیگ‘ کا مخفف ہے، اور اپنے آپ کو اس کا تاحیات صدر قرار دیا۔ انھوں نے دوجماعتی اور دو سرکاری اخبارات کے علاوہ تمام اخبارات کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔  دسمبر۱۹۷۱ء کے بعد بھی جماعت سمیت تمام اسلامی جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں کو راکھی باہنی نے بغیر کسی مقدمہ کے قتل کیا۔ اسی دوران ۱۵؍ اگست ۱۹۷۵ء کو شیخ مجیب ایک فوجی بغاوت میں مارے گئے۔  ان کے زوال کے بعد دیگر جماعتوں نے نئے سرے سے رجسٹریشن کے بعد اپنا کام شروع کیا۔ فروری ۱۹۷۷ء میں اسلامی چھاترو شبر قائم ہوئی اور ایمان داری، قابلیت، اور حُبِ وطن کی بنیاد پر ایک معاشرتی ڈھانچا کی تعمیر کے لیے طلبہ میں کام شروع کیا۔ ۱۹۷۹ء میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے بھی نئے سرے سے کام شروع کیا۔ لیکن ان کا کام کبھی آسان نہیں رہا۔ شروع سے ہی انھیں سرکاری سرپرستی میں دائیں اور بائیں بازو کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ جماعت اسلامی اورشبر کے کارکنوں پر قتل، عصمت دری، آتش زنی، اور دہشت گردی کے ہزاروں نہایت بیہودہ جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ کئی جگہوں پر جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے گھر اور کاروبار کو بلڈوزر سے مسمار کردیا گیا۔ ۱۹۹۲ء میں نہایت گھنائونے الزامات سب سے پہلے راجشاہی یونی ورسٹی میں پھیلائے گئے۔ اس وقت میرے ایک ساتھی جناب شفیق الرحمٰن حکومت میں ڈپٹی سیکرٹری تھے۔ انھوں نے راج شاہی میں اس الزام کو سراسر جھوٹا افسانہ قرار دیا اور افسوس کا اظہار کیا۔ 

ہماری یونی ورسٹیوں میں ’اسلامی چھاتروشبر ‘پرپابندی تھی۔ ان کے لیے وہاں کوئی انسانی حقوق نہیں تھے۔ ساٹھ کے عشرے میں مَیں خود ڈھاکا یونی ورسٹی کا طالب علم تھا، لیکن ’اسلامی چھاترو شنگھو‘ کی سرگرمیوں میں حصہ لینا مشکل تھا۔ شہید محمد عبدالمالک میرے جونیئر بھائی تھے، جنھیں اگست ۱۹۶۹ء میں شہید کر دیا گیا۔ اس سے پہلے کا ایک واقعہ ہے۔ ۱۹۶۲ء میں، مَیں نے ڈھاکہ کالج انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لیا۔ اس وقت پرنسپل جلال الدین احمد تھے۔ میں اس وقت پاجامہ پہنتا تھا، وہ ہمیں انگریزی کی کلاس پڑھاتے تھے۔ ایک دن کلاس میں مجھ سے پوچھ بیٹھے: ’تم مولوی ہو؟‘ میں نے کہا:’’نہیں سر‘‘۔ انھوں نے صاف کہا:’’یاد رکھو! میرے کالج میں مُلّامولوی کی کوئی جگہ نہیں‘‘۔ حالات کی سنگینی کا آپ اس سے اندازہ لگائیں! 

اب سے پندرہ برس پہلے شیخ حسینہ نے اقتدار میں آتے ہی جماعت اسلامی اور چھاتروشبر کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس کے لیے کروڑوں روپے خرچ کر کے جماعت اسلامی اورشبر سمیت اسلامی جماعتوں کے خلاف لاکھوں کتابچے چھاپ کر پوری دنیا میں تقسیم کیے گئے۔ جماعت اسلامی اور شبر کے مرکزی دفتر سے لے کر گراس روٹ تک تمام دفتروں کو بند کر دیا گیا۔ جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتروشبر کے رہنما خاندان سے دُور خفیہ ٹھکانوں پر رہ کر کام کرنے پر مجبور ہوئے۔ کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں طلبہ کلاسز یا امتحانات نہیں دے سکتے تھے۔ مختلف مسلم ممالک کی حکومتوں اور ان کی یوتھ تنظیموں کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ شبر کے طلبہ سے تعاون نہ کریں۔ بنگلہ دیش کے سفارت کاروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ ان پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر خطوط بھیجیں۔ مجھے ان خطوط کی کاپی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ہمارے ایک بڑے پڑوسی ملک نے اس سلسلے میں ان ظالمانہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔ 

اب تبدیل شدہ حالات میں وہ واویلا کر رہے ہیں کہ ’بنگلہ دیش پاکستان بن گیا ہے‘۔ اس واویلا میں ہمارے کچھ صحافی، سیاسی، اور ثقافتی رہنما بھی شامل ہو گئے ہیں۔ اس مہم میں بدنامِ زمانہ مصنفہ اور بھارت کی سرپرستی میں پلنے والی تسلیمہ نسرین بھی نظر آتی ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ملک کے لوگ کردار اور اخلاقیات کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے۔ 

کراچی کے ایوانِ صدر میں دستخطوں کی تقریب میں ساگوان کی چمکتی میز کے گرد صدر پاکستان ایوب خان اور ان کے دائیں پہلو میں بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور بائیں طرف ورلڈ بینک کے ولیم الیف بیٹھے ہوئے تھے۔ 

’اس معاہدے نے شاید ’ایک اور کوریا‘ بننے کے امکانات کو ختم کر دیا۔‘ آج سے ٹھیک ۶۵ برس قبل ۱۹ ستمبر ۱۹۶۵ء کو سندھ طاس معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بارے میں یہ الفاظ انڈین محقق اور مصنف اتم کمار سہنا نے اپنی کتاب Indus Basin: Uninterrupted میں لکھے ہیں۔ 

۱۹۵۰ء کے عشرے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر پر جاری تناؤ اور کش مکش کے بارے میں معروف امریکی تکنیکی ماہر ڈیوڈ للی نتھیل نے دونوں ملکوں کے دورے کے بعد ’Collier‘ نامی میگزین کے لیے اپنے مضامین میں کشمیر کے مسئلے کو امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے دوسرا ’کوریا‘ کہا تھا اور دونوں ملکوں کے مابین آبی تنازعات کے حل کا نظریہ پیش کیا۔ 

للی نتھیل امریکی ٹینیسی ویلی ڈیویلپمنٹ پلان کے ذریعے امریکا کے جنوب مشرقی حصے میں ڈیموں اور آبی ذخائر کے انتظام کے ذریعے سیلابوں پر قابو پانے اور زراعت کی بہتری کے منصوبے کے سربراہ رہ چکے تھے۔ 

انھیں سندھ طاس معاہدے کے اتفاق رائے تک پہنچانے والے ابتدائی معاہدوں کا معمار کہا جاتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے پانیوں کو غیر سیاسی اور تکنیکی بنیادوں پر ترقی دینے اور ان کے استعمال کے بارے میں ان کے فارمولے نے ورلڈ بینک کی ثالثی اور سہولت کاری میں دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازع کو حل کرنے کی طویل سفارتی کوششوں کو بنیاد فراہم کی تھی۔ 

پانی پر جنگ کی دھمکی 

اپریل ۲۰۲۵ءمیں انڈیا نے پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت کے فالس فلیگ واقعے کے اگلے روز انڈین وزیراعظم مودی نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔ جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان آبی ذخائر اور پانی کی ملکیت کے حوالے سے ایک زبانی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ان کے اس بیان پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور اپنے پانیوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہر حد تک جانے کا عندیہ ظاہر کیا۔ پھر بہت جلد یہ تنائو ایک محدود نوعیت کی حقیقی جنگ میں بدل گیا۔ 

پاکستان کے سکیورٹی اور سفارتی منظر نامے پر انڈیا کی ’آبی جارحیت‘ اور ’پانی کو ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کرنے جیسی اصطلاحات کے استعمال سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی اور تناؤ کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ 

مگر اگست ۲۰۲۵ء کے وسط میں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی مقدار اور ملکیت پر ایک دوسرے سے نبرد آزما دونوں ہمسایوں کے سرحدی علاقوں میں شدید بارشوں نے بدترین سیلابوں کو جنم دیا۔سرحد کی دونوں جانب بپھرے پانیوں نے ’سندھ طاس معاہدے‘ کے بارے میں روایتی موقف اور تکنیکی دعوؤں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نئے سوالات اُٹھا دیئے۔ یہ سوالات کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والے موسمی اثرات اور تبدیلیوں کے بارے میں ہیں۔ 

اس معاہدے کی رو سے مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا، جب کہ راوی، ستلج اور بیاس کے مشرقی دریاؤں کا انتظام اور استعمال انڈیا کے حوالے کیا گیا۔ 

جغرافیائی طور پر پاکستان دریاؤں کے بہاؤ کے زیریں حصے میں اور انڈیا اس کے اوپری حصے میں واقع ہے۔سندھ طاس کے سارے دریا انڈیا کے علاقوں سے بہہ کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ ستلج ،جہلم ،چناب اور راوی پاکستان اور انڈین پنجاب کے بڑے حصے کو آب پاشی کا پانی مہیا کرتے ہیں۔ ان کا منبع ہمالیائی پہاڑی سلسلوں کے دامن میں ہے۔ 

اس سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے ان دریاؤں سے منسلک نالوں اور معاون دریاؤں میں پانی کی مقدار حد سے بڑھ گئی۔ جس سے مشرقی اور مغربی پنجاب کی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آگئی۔ مقبوضہ کشمیر سمیت پنجاب کے دونوں حصوں میں درجنوں شہر پانی میں ڈوب گئے۔ 

پاکستان اور انڈیا اس معاہدے کے بارہ ابواب اور آٹھ ضمیموں میں درج عبارتوں اور اصطلاحات کی تشریح اپنے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق کرتے ہیں۔ اس معاہدے کو ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔البتہ اس کی شرائط اور ترامیم کے لیے آرٹیکل ۱۰ موجود ہے، جو دونوں ملکوں کی رضامندی سے معاہدے کی نئی شکل کے خد و خال واضح کرتا ہے۔ 

ماحولیاتی تبدیلیوں کے معاہدے پر اثرات 

جب سندھ طاس معاہدے پر اتفاق ہوا تو اس وقت سندھ طاس کے علاقے میں سرحد کے دونوں طرف پانچ کروڑ لوگ آباد تھے لیکن اب اسی علاقے میں ۳۰ کروڑ کے قریب افراد بستے ہیں۔ اس نظام میں سے ۹۳ فی صد پانی آب پاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لیے خوراک، پینے کا پانی اور توانائی کا حصول اور سب سے بڑھ کر آبادی میں اضافے سے ’سندھ طاس‘ کا علاقہ ماحولیاتی اور معاشی مسائل کے گرداب میں ہے۔ 

جنوبی ایشیا میں پانی کے ذخائر پر جنم لینے والی کش مکش کے جائزے پر مبنی کتاب Hydro Politics and Water Wars in South Asia کے مصنف اقتدار حسین صدیقی کے مطابق انڈیا کے لیے اس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ اسے ۱۹۴۷ء میں ریڈ کلف ایوارڈ کے ذریعے ملنے والے آبی ذخائر کے ہیڈورکس کے علاوہ مشرقی دریاؤں کا اضافی پانی بھی مل گیا۔ جس کی وجہ سے وہ بھاکرا اور نانگل ڈیمز مکمل کر سکا اور راجستھان نہر اور راوی بیاس نہر جیسے منصوبے شروع ہو سکے ۔مگر اس دوران انڈیا میں یہ احساس جڑ پکڑنے لگا کہ تمام دریاؤں کے ہیڈورکس ان کی ملکیت میں واقع ہیں مگر انڈس سسٹم کا صرف۲۱ فیصد پانی اسے ملتا ہے۔ 

مصنف کے خیال میں دوسری جانب پاکستان میں شروع سے ہی اس معاہدے کے حوالے سے منقسم رائے موجود رہی ہے۔ ایک طبقے کے خیال میں پاکستان نے اس معاہدے سے دو دریاؤں کا پانی کھو دیا،جب کہ دوسرے کے خیال میں دو دریاؤں کے پانی سے محرومی کے باوجود پاکستان نے متبادل نہری نظام اور پانی ذخیرہ کرنے میں خاطرخواہ کامیابیاں حاصل کیں۔ دو بڑے ڈیموں، چھ بیراجوں، آٹھ رابطہ نہریں اور ۲۵۰۰ ٹیوب ویلوں کی تنصیب اس معاہدے کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ 

۱۹۶۰ء میں جب اس معاہدے کی شرائط و تفصیلات طے کی گئیں تو ماحولیاتی تبدیلیوں کا موجودہ تصور اس وقت موجود نہ تھا۔ ڈینیل ہاینز برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی تاریخ دان کی تحقیق کے موضوعات میں پاکستان اور انڈیا کے آبی ذخائر کی تقسیم بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے ان کی کتاب Rivers Divided: Indus Basin Waters ’سندھ طاس معاہدے‘ کی تاریخ اور مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔ 

ان کے مطابق امریکی ماہر للی نتھیل کی تجاویز کو ورلڈ بینک نے دونوں ملکوں کے درمیان پانی پر مذاکرات کے آغاز کی شرائط کے طور پر پیش کیا تھا۔ یہ تجاویز اس مفروضے پر مبنی تھیں کہ انڈس کے آبی وسائل دونوں ملکوں کی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ دریاؤں کو مشترکہ طور پر اس طرح منظم کیا جائے گا کہ پورے انڈس سسٹم کی ترقی ہوگی۔لیکن معاہدے کی چھ سے زیادہ دہائیاں گزرنے کے بعد یہ خطہ پانی کی بدترین قلت کا شکار ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے زیر اثر تیزی سے پگھلتے گلیشیئروں، برفانی تودوں کی ٹوٹ پھوٹ، بارشوں کے اوقات اور کمیت میں تبدیلی، کلاؤڈ برسٹ کی صورت میں ناگہانی آفات سندھ طاس میں پانی کے بہاؤ پر اثر انداز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ 

کیا مسائل کا حل نئے معاہدے میں ہـے؟ 

اس تناظر میں کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاہدہ دوبارہ تحریر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے خیال میں یہ معاہدہ اس مفروضے پر قائم تھا کہ ایک مخصوص مقدار میں پانی دریائے سندھ کے نظام سے بہتا رہے گا۔ لیکن ماحولیاتی اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے اس میں تغیر آچکا ہے جو کہ معاہدے پر نظرثانی کا جواز بن سکتا ہے۔ 

بین الاقوامی تعلقات اور عالمی قوانین کے پاکستانی ماہر اعجاز حسین نے معاہدے میں تبدیلی یا اسے ختم کرنے کے دلائل پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ ان کی کتاب Political and Legal Dimensions: Indus Water Treaty موسمیاتی تبدیلیوں کی مروجہ تعریف اور بین الاقوامی اداروں کی تحقیق اور سائنسی امور پر اختلافات کا جائزہ لیتی ہے۔وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل کے حل کے طور پر اس معاہدے کو ختم کرنے کے مخالف ہیں۔ ان کے خیال میں دونوں ملکوں میں پائے جانے والے سیاسی اختلافات اور سرحدی تنازعات اس نوعیت کے ہیں کہ ان کی موجودگی میں اگلی بار کسی اور معاہدے کا ہونا مشکل ہوگا۔تاہم وہ موسمیاتی مسائل کا حل انڈس ٹو کی صورت میں تجویز کرتے ہیں۔ 

پالیسی سازی کے انڈین ماہر اتم کمار سہنا کے مطابق: ’’موجودہ چیلنجوںسے نمٹنے کے لیے اس معاہدے کو کسی دوسرے معاہدے سے بدلنے یا منسوخ کرنے کا سوال ہی غیر منطقی ہے۔ مسائل کا حل خود سندھ طاس معاہدے میں موجود ہے۔معاہدے کی شک نمبر سات مستقبل میں تعاون کے وسیع امکانات کو سامنے لاتی ہے، جو کہ ’دریاؤں کی بہتر ترقی میں باہمی دلچسپی‘ اور ’دریاؤں پر انجینئرنگ کے کام کو سرانجام دینے‘ کے ذریعے ممکن ہے۔ اس کام کے لیے سندھ طاس کا درست اور نیا سروے درکار ہوگا ‘‘۔ 

کیا ایک نیا آبی تعلق قائم کرنے کی ضرورت ہے؟ 

پانی کے ذخائر پر ماحولیاتی اثرات کے ماہر ڈاکٹر پرویز عامر کے مطابق: ’’دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ تین سے پانچ سال تک سندھ طاس معاہدے کو ایک طرف رکھ کر اپنے آبی تنازعات کا جائزہ لیں۔ متنازع اُمور پر اَزسر نو غور کریں۔یہ معاہدہ زمین کی سطح پر موجود پانی کے متعلقہ امور کے بارے میں ہے، جب کہ زیر زمین پانی کی کیفیت اور مسائل کے بارے میں اس میں کوئی ذکر موجود نہیں۔ پاکستان کے بڑے شہروں کے زیر زمین پانی کے مسائل ماحولیاتی تبدیلیوں میں اضافے کا شاخسانہ ہیں۔ جس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق انڈس بیسن کے دریاؤں سے ہے۔ اس لیے پاکستان اور انڈیا کو اپنے سیاسی مسائل سے ہٹ کر تکنیکی اور سائنسی بنیادوں پر پانی کے معاملات کا جائزہ لے کر اس کے حل کی تخلیقی بنیادیں فراہم کرنی ہوں گی ‘‘۔ 

علاقائی اور عالمی طاقتوں کا کردار    

۶۵ برس قبل اس کا بنیادی تصور اس اصول پر قائم تھا کہ سندھ طاس کے پانیوں کے بہتر استعمال کو نہ تو مذہبی اور نہ سیاسی مسئلہ سمجھا جائے بلکہ یہ ایک قابلِ عمل انجینئرنگ اور کاروباری مسئلہ ہے۔ 

بدقسمتی سے ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد اس مسئلے کو سیاسی مسائل سے ہٹ کر خالصتاً تکنیکی معاملے کے طور پر دیکھنے کی سوچ میں کمی آئی۔ دونوں ملکوں کے سیاسی معاملات، اندرونی قوم پرستی کے تصورات اور علاقائی بالادستی سے جڑے شکوک و شبہات اس سے وابستہ ہوتے چلے گئے۔ 

انڈیا میں اس معاہدے کے دو ماہ بعد لوک سبھا میں اس پر تندو تیز سوالات اور تلخ بحث و مباحثہ ہوا۔ اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کو ایوان میں تلخ سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ 

ان پر تنقید کرنے والوں میں دھیمے لہجے اور منطقی انداز میں گفتگو کرنے والے ایک نوجوان پارلیمنٹیرین پیش پیش تھے جو بعد میں انڈیا کے وزیراعظم بنے۔ یہ اٹل بہاری واجپائی تھے جن کی جماعت بی جے پی نے ۲۰۱۵ءکے بعد انڈس واٹر ٹریٹی کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دے کر اپنے سیاسی اور انتخابی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ 

یہ حُسنِ اتفاق ہے کہ پاکستان میں بھی اس معاہدے پر تنقید اور اس کے مضمرات کا ذکر پہلی بار ۱۹۶۵ء کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر ہوا۔ اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان کو محترمہ فاطمہ جناح کے حامیوں نے انھیں پاکستان کے دریا انڈیا کے ہاتھ بیچنے والا قرار دیا۔ 

پالیسی سازی کے برطانوی ماہر ڈینیل ہینز معاہدے کی کمزوریوں کا جائزہ لیتے ہوئے ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کا تعلق معاہدے کے وقت چین اور افغانستان کو نظرانداز کرنے کے حوالے سے ہے اور جو پاکستان اور انڈیا کے پڑوسی ممالک ہیں۔ 

دریائے سندھ اور ستلج کے پانیوں کا ماخذ اور منبع تِبت کا سطح مرتفع ہے، جو چین کا حصہ ہے۔ یہ علاقہ جسے دنیا کی چھت کہا جاتا ہے سب سے زیادہ برفانی تودوں اور منجمد زمین کے ٹکڑوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ علاقہ سندھ طاس کے کُل کیچمنٹ ایریا کا ۱۴ فی صد مہیا کرتا ہے۔ 

دو ماہ قبل چین نے ارونا چل میں انڈین سرحد کے ساتھ دریائے برہماپترا پر دنیا کا سب سے بڑا پن بجلی کا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ دریا چین سے انڈیا میں بہتے ہوئے بنگلہ دیش کا رُخ کرتا ہے۔ پانی کے زیریں بہاؤ پر ہونے کی وجہ سے انڈیا نے اپنی آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔یہ اسی طرح کے خدشات ہیں جو پاکستان کی جانب سے دریائے چناب پر انڈین پن بجلی کے منصوبوں کی وجہ سے پانی کے بہاؤ میں کمی کے بارے میں ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔ 

پانی کے تنازعات کے حل کے بارے میں عالمی طاقتوں کے کردار کے بارے میں ڈاکٹر پرویز عامر کا کہنا ہے: ’’ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمالیائی خطے سے منسلک چینی علاقوں کے گلیشیئرز بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ پاکستان انڈیا اور چین کو یکساں طور پر درپیش ہے۔ اس سے نمٹنے کی تدابیر اس خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے مشترکہ اقدامات کا پلیٹ فارم بھی مہیا کر سکتی ہیں۔یہ تینوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ اور جدید ٹکنالوجی سے آبی وسائل کے سروے جیسے اقدامات کر کے کلائمیٹ چینج کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔ 

اس معاہدے کی تشکیل کے دوران پاکستان انڈیا اور عالمی بینک کے درمیان مذاکرات کے طویل دور ہوتے رہے۔ اس دور کے ورلڈ بینک کے صدر یوجین بلیک نے دونوں ہمسایوں کو معاہدہ نہ ہونے کے نتائج سے خبردار کرنے کے لیے پانی کے تنازع کو بارود کا ڈھیر قرار دیا تھا۔ 

معاہدے پر دستخطوں نے بہت سارے خطرات کو کم کر دیا، مگر انسانی سرگرمیوں اور قدرتی موسمی عوامل نے مل کر ۶۵برسوں بعد ہمالیہ کے خطے کے برفانی گلیشیئروں میں بارود کا ایک نیا ڈھیر جمع کر دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی چنگاریاں روز بہ روز اس ڈھیر کے قریب بڑھتی جا رہی ہیں۔ 

'’ہندوتوا‘ یعنی ’ہندو نسل پرستی‘ کے نظریے پر قائم راشٹریہ سوائم سیوک سَنگھ (RSS) نے ۲۷ستمبر ۲۰۲۵ء کو اپنے قیام کے سو سال مکمل کیے ہیں۔ اگرچہ آر ایس ایس اپنا تعارف محض ایک ثقافتی اور سماجی تنظیم کے طور پر کرواتی ہے، تاہم ان برسوں کے دوران میں اس نے انڈیا کی قومی شناخت، سیاست، معاشرے، ریاستی ڈھانچے، اور پالیسی سازی کے عمل پر دور رس نظریاتی و عملی اثرات مرتب کیے ہیں۔ موجودہ حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (BJP)سمیت تین درجن سے زائد چھوٹے بڑے گروہ آرایس ایس کی چھتری تلے متفرق میدانوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان تمام گروہوں کا مجموعہ ' ’سَنگھ پریوار ‘ کہلاتا ہے۔ایک صدی پر محیط آر ایس ایس کا یہ سفر اپنی بنیاد سے جڑی ایک نسل پرستانہ تنظیم کی جدوجہد کی داستان ہے، جس نے وقت کے ہمہ قسم کے مد و جزر سے گزر کر مستقل مزاجی سے نہ صرف ہندوستان میں قبولِ عام حاصل کیا، بلکہ عالمی سیاست میں بھی اپنے نظریات کے زیرِ اثر مرتب کردہ پالیسیوں کے لیے جگہ بنائی۔ ہندونسل پرستی کے قبیح اثرات سے قطع نظر، آر ایس ایس کی اس صدسالہ جدوجہد میں کسی بھی نظریے کی بنیاد پر قائم تحریکات کے لیے سیکھنے اور سمجھنے کو بہت سے اسباق موجود ہیں۔ مزید برآں، آر ایس ایس کے سفر کی روشنی میں ہندوستان کے ماضی و حال کا تجزیہ اس کے مستقبل کی سمت جانچنے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ 

قیام اور ارتقا 

گذشتہ صدی کے ابتدائی عشرے انڈیا کے لیے انتہائی ہنگامہ خیزی کے حامل رہے۔ ایک طرف برطانوی تسلط سے آزادی کی آوازیں توانا تر ہو رہی تھیں، تو دوسری طرف مختلف حلقے قوم، قومیت، اور نسل پرستی(Nation, Nationhood and Nationalism)سے متعلق مباحث کو اپنے نظریات کا پیراہن پہنا رہے تھے۔۱۹۰۶ء میں مسلم لیگ کے قیام سے خائف ہندو طبقے نے کانگریس کی 'سیکولر ' قوم پرستی کو ہندو آبادی کی شناخت اور مفادات کے لیے ضرر رساں خیال کرتے ہوئے 'ہندو مہاسبھا کی شکل اختیار کی۔ ہندو مہاسبھا کا دائرہ کار بالعموم سیاسی تھا۔ چند ہندو زعماء بالخصوص ڈاکٹر کیشو بالی رام ہیڈگوار(م:۱۹۴۰ء)نے ایک قدم آگے بڑھ کر ہندوؤں کی سماجی و تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے ہندو قوم کو متحد، منظم اور عسکری طور پر مضبوط کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ڈسپلن اور جسمانی تربیت کا پروگرام مختلف علاقوں میں ہونے والے ہندومسلم فسادات کو دیکھتے ہوئے ترتیب دیا۔ اسی پروگرام کو زیادہ مربوط انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ہیڈ گوار نے ۲۷ ستمبر ۱۹۲۵ء کو آر ایس ایس کی بنیاد رکھی۔ 

آر ایس ایس کے صد سالہ سفر کو چار مختلف ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔  

پہلا دور ماقبل آزادئ ہندوستان کا ہے۔اپنے قیام کے ابتدائی بیس برسوں میں تنظیم نے اپنی جڑیں مضبوط کرنے اور تنظیم استوار کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس کے بانی سربراہ ہیڈگوار اور ان کے جانشین ایم ایس گولوالکر (م:۱۹۷۳ء) نےتنظیم کو تحریکِ آزادی سے دانستہ دور رکھا۔ گولوالکر کے خیال میں آر ایس ایس کا نظریۂ آزادی مذکورہ تحریک سے مختلف تھا۔ وہ برطانوی حکومت سے کش مکش کے بجائے ہندو مذہب و ثقافت کے دفاع کو آزادی کا درست راستہ خیال کرتے تھے۔ تحریکِ آزادی میں عدم شمولیت کی بنا پر آزادی پسند طبقات کی جانب سے آر ایس ایس کو برطانوی حکومت کے پروردہ اور سہولت کار کے طور پر دیکھا گیا۔ البتہ آر ایس ایس کے کارکنان نے تقسیم کے دوران مشرقی پنجاب اور دیگر علاقوں سے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے قتلِ عام میں فعال کردار ادا کیا۔ 

آر ایس ایس کا دوسرا دور جنوری ۱۹۴۸ء میں نتھورام گوڈسے کے ہاتھوں موہن داس کرم چند گاندھی کے قتل سے شروع ہوتا ہے۔ گوڈسے کی تنظیمی رفاقت کی بنا پر آر ایس ایس پر انگلیاں اٹھنا شروع ہوئیں تو ۴ فروری ۱۹۴۸ءء کو تنظیم پر پابندی لگا دی گئی۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل اور کانگریس حکومت میں موجود اپنے دیگر ہمدردوں کی مدد سے آر ایس ایس جولائی ۱۹۴۹ءء میں یہ پابندی ختم کروانے میں کامیاب رہی۔ جواباً سردار پٹیل کی شرط کے مطابق سنگھ نے پہلی بار انڈیا کے نئے آئین اور جھنڈے کو تسلیم کر لیا۔ پابندی کے تجربات کی روشنی میں تنظیم نے سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جَن سَنگھ نامی سیاسی وِنگ تشکیل دیا۔ اگلی تین دہائیوں میں آر ایس ایس اور جَن سنگھ نے ملکی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ۱۹۷۵ء میں اندرا گاندھی (م: ۱۹۸۴ء) کی جانب سے لگائی گئی ملک گیر ایمرجنسی کے دوران آر ایس ایس کو ایک بار پھر پابندی کے تجربے سے گزرنا پڑا۔ تاہم اندرا حکومت کے ساتھ اندرونِ خانہ گفت و شنید کے ذریعے آر ایس ایس قیادت اپنے اسیر رہنماؤں کے لیے کچھ سہولیات حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ۱۹۷۷ء کے انتخابات میں اپوزیشن اتحاد نےپہلی مرتبہ کانگریس کو شکست دے کر حکومت بنائی تو آر ایس ایس کےحصے میں خارجہ اور اطلاعات جیسی اہم وزارتیں آئیں۔ 

ہندو نسل پرستی کی اس تحریک کا تیسرا دور اسی اتحادی حکومت سے شروع ہوتا ہے۔ وزارتوں سے حاصل ہونے والے سیاسی و حکومتی تجربے نے آر ایس ایس کو وہ اعتماد بخشا جس کی مدد سے اس نے ۸۰ء اور ۹۰ء کے عشروں میں اپنے فرقہ ورانہ پروگرام کی تکمیل کی جانب تیزی سے پیش رفت کی۔ انڈین معاشرے میں آر ایس ایس اور اس کے نظریے کی حمایت میں بتدریج اضافہ ہوا۔ نفرت انگیز سیاست کے ذریعے سماجی خلیج گہری ہوئی، مذہبی اقلیتوں کے خلاف فسادات میں تیزی آئی، اور نتیجتاً آر ایس ایس کا سیاسی قد کاٹھ بڑھتا گیا۔  

’ہندوتوا‘ کی مقبولیت میں اضافے کی ایک نمایاں وجہ ملک کی بانی جماعت کانگریس کی دوغلی پالیسیاں اور اندراگاندھی دور کا آمرانہ طرزِحکومت بھی تھا جس نے عام آدمی کو متبادل امکانات کی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ اس خلا کو تیزی سے پُر کرتے ہوئے آر ایس ایس اور سَنگھ پریوار کی جماعتوں نے سماجی اور سیاسی سطح پر عام ہندو کی آواز بننا شروع کیا۔ اسی عرصے میں لال کرشن ایڈوانی کی قیادت میں ’رتھ یاترا‘ سے بابری مسجد کے انہدام کی مہم شروع ہوئی جو دسمبر ۱۹۹۲ء میں مسجد کی شہادت پر منتج ہوئی۔ یہ ملک گیر رتھ یاترا دراصل آرایس ایس کا نظریہ ملک کے طول و عرض تک پہنچانے کی مہم تھی جس کا پہلا منطقی انجام مسجد کی شہادت اور دوسرا سیاسی ڈھانچے میں آر ایس ایس کا نفوذ تھا جو آیندہ آنے والے ہر انتخابات میں نمایاں تر ہو کر سامنے آتا رہا۔ اس مہم کی صورت ہندو قوم پرست قیادت اور کارکنان رہے سہے سماجی، سیاسی، او ر ریاستی خوف سے بھی آزاد ہوگئے اور ان کی نظریاتی وابستگی اور اقلیت بیزاری میں مزید اضافہ ہوا۔  

چوتھا دور ۲۰۰۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ اگرچہ ۲۰۰۹ء کے انتخابات میں کانگریس اپنی حکومت بچانے میں کامیاب رہی، تاہم آر ایس ایس اور اس سے وابستہ جماعتیں اسی عرصے میں اگلے انتخابات جیتنے کی تیاری میں لگ گئیں۔ آر ایس ایس کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات میں نامزد اپنے دوست نریندر مودی کو اسی دور میں وزارتِ عظمیٰ کے ممکنہ اُمیدوار کے طور پر متعارف کروانا شروع کر دیا تھا۔ کانگریسی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت پر بدعنوانی اور دفاعی معاملات میں نااہلی کے الزامات نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا اور یوں آر ایس ایس کے سیاسی چہرے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے راہ ہموار ہو گئی۔۲۰۱۴ء  کا لوک سبھا چناؤ اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس میں آر ایس ایس کی سیاسی تنظیم کو پہلی مرتبہ دو تہائی سے زائد اکثریت ملی۔ یہ دور گذشتہ تین اَدوار میں کی گئی کوششوں کے ثمرات سمیٹنے کا دور تھا جس سے آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں نے بخوبی فائدہ اٹھایا۔ 

مطلق العنان اقتدار  

 مودی حکومت کے زیرِ سرپرستی پہلے پانچ سال آر ایس ایس نے سماجی میدان میں اقلیتوں کو مرکزی دھارے سے خارج کروانے میں کامیابی حاصل کی۔ ہندو اکثریت کو مسلسل اس خوف میں مبتلا رکھا گیا کہ ان کی جان، مال، املاک، رسوم و رواج، عقائد، اور مجموعی شناخت مسلم اقلیت کے ہاتھوں خطرے میں ہے۔ اس ضمن میں 'گئو رکھشا '، 'لَو جہاد، اور سماجی و معاشی مقاطعے جیسی عوامی مہمات کا سہارا لیا گیا۔ گلی محلے میں 'فوری انصاف ' کے نام پر اقلیتوں کو خوف زدہ کرنے میں تیزی آئی۔ مسلمانوں، مسیحیوں اور دلتوں کے خلاف جرائم میں ملوث ہندو رہنماؤں اور کارکنوں کو مکمل ریاستی اور تنظیمی تحفظ فراہم کیا گیا۔ 

تاریخ کی تدوینِ نو (Re-writing History) کے نام پر نصابی کتب میں سے انڈیا کی مسلم شناخت کھرچنے اور خطے کی تہذیبی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے کرداروں کو بطور دشمن ، لٹیرا، اور قابض پیش کرنے کا عمل آگے بڑھایا گیا۔ مسلم سطوت کے نشان کھرچنے کی اس مہم کے تسلسل میں تاریخی شہروں، علاقوں، شاہراؤں اور عوامی مقامات کے نام تبدیل کرنے کا کام بھی جاری ہے۔ اِلہٰ آباد کا تاریخی شہر اب 'پریاگ راج ' اور بنارس کا نیا نام 'واراناسی ' قرار پایا ہے۔ بعید نہیں کہ کچھ عرصے میں بہت سے دیگر شہروں بشمول علی گڑھ کو بھی کسی ہندو نام سے منسوب کر دیا جائے۔ 

عوام کے ذہن میں اسلام اور مسلم تشخص مسخ کرنے کے لیے ریاستی سرپرستی میں فلم انڈسٹری کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔ ’کشمیر فائلز‘، '’۷۲ حُوریں‘ اور ’دی کیرالہ سٹوری‘ جیسی کئی زہرآلود پراپیگنڈا فلمیں حقائق اور تاریخی واقعات میں غلط بیانی کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو دہشت گردی کے ماخذ کے طور پر پیش کرتی ہیں اور مسلمانوں کو امن و ترقی کے لیے بڑا خطرہ بنا کر دکھاتی ہیں۔  

 ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۴ء تک کے پانچ سال آئینی اکھاڑ پچھاڑ سے عبارت ہیں۔ اگست ۲۰۱۹ء میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ قلم زد کرکے خطے کو ریاستی حیثیت سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اس سے مقبوضہ وادی پر انڈیا کا قبضہ مزید سخت کرنے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف مقامی آبادی کا توازن بگاڑنے اور معاشی و ابلاغی ناکہ بندی کے ذریعے کشمیر کی تحریکِ آزادی کو دبانے میں مدد ملی۔ ۲۰۱۹ء ہی میں انڈین سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے دیرینہ مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کے انہدام کو عملاً قانونی چھتری فراہم کر دی جس سے رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوئی۔  

 اسی عرصے میں شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹر فار سٹیزن شپ جیسی آئینی ترامیم کے ذریعے مقامی مسلم آبادی کو وجودی عدم تحفظ کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی ۔ شہریت ترمیمی قانون کی مدد سے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے مسلم اکثریتی پڑوسی ممالک کی اقلیتوں کو ان ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی چال بھی چلی گئی۔ان آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلم اور غیرمسلم حلقوں کے ساتھ سختی سے نمٹا گیا۔ شرجیل امام، عمر خالد ، گلفشاں فاطمہ جیسے کئی نوجوان طالب علم رہنما اسی اختلافی آواز کی بنا پر پانچ سال سے پابندِ سلاسل ہیں اور ان کے مقدمات کی شنوائی تو ایک طرف، ریاست ان کی ضمانت کی درخواستوں پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہونے دے رہی۔ ملکی سطح پر ان آئینی ترامیم کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے زیر انتظام بہت سی ریاستوں نے بھی اقلیت دشمن اور ہندو قوم پرستی پر مبنی قوانین منظور اور نافذ کیے۔ ان میں تبدیلیٔ مذہب اور گائے کے ذبیحے کی روک تھام کے قوانین خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ درج بالا تمام اقدامات فی الاصل راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کے دیرینہ ایجنڈے کا حصہ تھے جنھیں ریاستی مشینری کی مدد سے تیزی سے پورا کیا گیا۔  

مودی حکومت کی تیسری مدت عددی اکثریت کے لحاظ سے بی جے پی اور اس کی سرپرست آر ایس ایس کے لیے قدرے مشکل ثابت ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کو ان کی سیاسی ، سماجی اور معاشی بنیادوں سے محروم کرنے کا عمل جاری ہے۔ تیسری مدت کے آغاز ہی میں وقف ترمیمی قانون کے ذریعے مسلمانوں کی اربوں روپے مالیت کی پراپرٹی پر ریاستی عمل داری بڑھانے کا آغاز کر دیا گیا۔ مسلم اوقاف یعنی تاریخی مساجد ، فلاحی مراکز، عیدگاہیں، دربار، قبرستان، ہسپتال، اور تعلیمی ادارے بتدریج ریاستی نگرانی میں دیئے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں بنیادی فیصلہ سازی میں مسلمان تنظیموں، اداروں اور افراد کا کردار محدود ہو رہا ہے۔ 

مستقبل کی تصویر 

انڈین سیاست اور معاشرے میں جاری موجودہ رسہ کشی کا تجزیہ کیا جائے تو یوں لگتا ہے کہ اپنے ایجنڈے کے بہت سے مقاصد حاصل کرلینے کے بعد ’ہندوتوا‘ کی تحریک نئے اہداف کا تعین کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس تحریک کی اصل منزل ملک کو 'ہندوراشٹرا ' یعنی ہندو ریاست میں ڈھالنا اور کلاسیکی ہندو متون(مذہبی تحریروں) میں درج شدہ یوٹوپیائی خطوط پر ’اکھنڈ بھارت‘ ' کا قیام ہے۔ مذکورہ ’اکھنڈ بھارت‘ کی سرحدیں جنوبی ایشیا سے کہیں زیادہ وسعت کی حامل ہوں گی۔ تاہم، اس طویل مدتی منصوبے سے قطع نظر، اگلے کچھ عرصے میں آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیمیں بہت سے قلیل مدتی مقاصد کے حصول کی جانب سفر کرتی نظر آتی ہیں۔ 

گذشتہ برس کے انتخابی نتائج نے اس سفر میں وقتی رخنہ ضرور ڈالا ہے۔ ’ہندوتوا‘ تحریک میں موجود اندرونی دراڑیں بھی اُبھر کر سامنے آئی ہیں۔ تاہم، اس سے مجموعی سفر کی سمت تبدیل ہونے کا امکان کم ہے۔ مودی حکومت کے پاس اب بھی تین برس سے زائد کا عرصہ باقی ہے۔ اس عرصے میں مسلم پرسنل لا کا خاتمہ اور یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ ہندو قوم پرستوں کا ایک ممکنہ ہدف ہوگا۔ تاریخ کی تدوینِ نو اور مسلم تشخص کھرچنے کی مہم میں کمی آنے کا امکان بھی کم ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے رہنما ایک عرصے سے ملکی آئین کے دیباچے میں موجود 'سیکولر اور 'سوشلسٹ 'کی اصطلاحات پر انگشت نمائی کرتے آئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں یہ مہم تیز ہوئی ہے۔آئین کی سیکولر شناخت کا خاتمہ ہندو راشٹرا کے قیام کی راہ میں ایک اہم سنگِ میل ہوگا۔ اگرچہ موجودہ دورِحکومت میں ایسی کوئی آئینی تبدیلی بعید از قیاس ہے، تاہم عین ممکن ہے کہ موجودہ عرصہ عوامی رائے سازی کے لیے استعمال کیا جائے اور آیندہ انتخابات میں زیادہ بڑی اکثریت حاصل کرکے آئین کی سیکولر شناخت منہدم کر دی جائے۔ 

آر ایس ایس نے انڈین معاشرے پر جو ہمہ جہت اور وسیع اثرات مرتب کیے ہیں، ان کا احاطہ کرنے کے لیے یہ چند صفحات قطعاً ناکافی ہیں۔ تاہم، یہ چیدہ چیدہ نکات اس چیلنج کی جانب اشارہ کرنے کے لیے کافی ہیں جن کا سامنا اس وقت انڈین معاشرہ بالخصوص اس کی مسلم شناخت کررہی ہے۔ اسلام کو ہندوستان میں اجنبی مذہب اور مسلمانوں کو 'گھس بیٹھیے ' قرار دے کر آر ایس ایس نے جو نظریہ سازی کی ہے، یہ اسی کے مظاہر ہیں کہ نہ صرف ہندونسل پرست بی جے پی مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی سے محروم کرنے میں کامیاب رہی ہے، بلکہ کانگریس جیسی بظاہر سیکولر جماعتوں کے لیے بھی ہندو ووٹر کو لبھانے کا آسان راستہ بھی ہندو قوم پرستی ہی باقی بچا ہے۔ 

اسلامی گھریلو زندگی کی بنیادی خصوصیات 

سوال:  نمونے کی اسلامی گھریلو زندگی کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں؟ کیا ہمارے ہاں موجودہ گھریلو زندگی اسلامی ہے؟ کیا شہر اور گائوں میں ایک ہی طرز کی گھریلو زندگی ممکن ہوگی؟  

جواب: ہماری گھریلو زندگی کی بنیادی خصوصیات اسلام کی رُو سے چار ہیں: lایک ’تحفظ نسب‘، جس کی خاطر ’زنا‘ کو حرام اور جرم قابلِ تعزیر قرار دیا گیاہے، پردے کے حدود قائم کیے گئے ہیں اور زن و مرد کے تعلق کو صرف جائز قانونی صورتوں تک محدود کر دیا گیا ہے، جن سے تجاوز کا اسلام کسی حال میں بھی روادار نہیں ہے۔l دوسرے تحفظ ’نظام عائلہ‘ جس کے لیے مرد کو گھر کا قوام بنایا گیا ہے، بیوی اور اولاد کو اس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور اولاد پر خداکے بعدوالدین کا حق سب سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ lتیسرے ’حُسن معاشرت‘ جس کی خاطر زن و مرد کے حقوق معین کر دیے گئے ہیں، مرد کو طلاق کے اور عورت کو خلع کے اور عدالتوں کو تفریق کے اختیارات دیے گئے ہیں، اور الگ ہونے والے مرد و زن کے نکاح ثانی پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے، تاکہ زوجین یا تو حُسنِ سلوک کے ساتھ رہیں، یا اگر باہم نہ نباہ سکتے ہوں تو بغیر کسی خرابی کے الگ ہوکر دوسرا بہتر خاندان بناسکیں۔ lچوتھے ’صلۂ رحمی‘ جس سے مقصود رشتہ داروں کو ایک دوسرے کا معاون و مددگار بنانا ہے، اور اس غرض کے لیے ہرانسان پر اجنبیوں کی بہ نسبت اس کے رشتہ داروں کے حقوق مقدم رکھے گئے ہیں۔ اس ’نظامِ عائلہ‘ کے اصولوں میں شہری اور دیہاتی کے لیے کوئی فرق نہیں ہے۔ رہے طرزِ زندگی کے مظاہر، تو وہ ظاہر ہے کہ شہروں میں بھی یکساں نہیں ہوسکتے، کجا کہ شہریوں اور دیہاتیوں کے درمیان کوئی یکسانی ہوسکے۔ فطری اسباب سے ان میں جو فرق بھی ہو، وہ اسلام کے خلاف نہیں ہے، بشرطیکہ بنیادی اصولوں میں رَد و بدل نہ ہو۔ (ترجمان القرآن، مارچ ۱۹۵۹ء) 

 

انسان کی شخصیت میں ’جسم‘ اور ’روح‘ کا کردار 

سوال : آپ نے لکھا ہے کہ انسانی جسم روح کا قیدخانہ نہیں ہے بلکہ یہ وہ سازوسامان ہے، جس سے ’روح‘ کام لیتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عملی زندگی میں انسان کی جس شخصیت کا ظہور ہوتا ہے، کیا وہ روح کا مظہر ہوتی ہے یا جسمانی قوتوں کا؟ 

جواب :انسان کی شخصیت دراصل ان دونوں چیزوں کے اظہار سے عبارت ہے، دونوں میں سے کسی ایک کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جسم ’روح‘ کے بغیر بے کار ہے۔ لیکن ’روح‘ بھی ’جسم‘ کے بغیر اپنی قوتوں کا اظہار نہیں کرسکتی۔ فرض کیجیے کہ ایک آدمی کا جسم کسی وجہ سے بالکل مضمحل ہوچکا ہے اور اس کے قویٰ جواب دے چکے ہیں، تو اس صورت میں ’روح‘ اپنی صلاحیتوں کے اظہار سے بالکل عاجز ہوگی۔ 

سوال:  کیا اس بات کا تعین کیا جاسکتا ہے کہ ’روح‘ اور ’جسم‘ میں سے انسانی شخصیت کی تشکیل میں زیادہ اہمیت کس کو حاصل ہے؟ 

جواب:  خالق نے ’روح‘ اور ’جسم‘ کی صلاحیتوں اور قوتوں کے درمیان ایک ایسا بے نظیر توازن اور حسین امتزاج پیدا کردیا ہے کہ کوئی شخص ناپ کر یہ نہیں بتا سکتا کہ انسان کی شخصیت کی تشکیل میں روح کا حصہ کتنا ہے اور جسم کا کتنا؟ اور ان میں سے کون سی چیز زیادہ اہم ہے اور کون سی کم اہم؟ دراصل انسان کی تخلیق، اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ایک بے مثال کرشمہ ہے۔ آپ دیکھیں کہ ایک بچّے کے اندر اخذ کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہوتی ہے۔ مثلاً بچپن میں وہ جس طرح اپنی مادری زبان سیکھتا ہے اور اس پر عبور حاصل کرلیتا ہے، بڑی عمر کا آدمی ہزار کوشش کے باوجود کسی زبان میں وہ مہارت پیدا نہیں کرسکتا۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ آدمی کے اندر وہ صلاحیت اس درجے میں باقی نہیں رہتی، جس درجے میں ایک بچّے کے اندر اپنی ابتدائی عمر میں موجود ہوتی ہے۔(آئین، ۲۹ مئی ۱۹۷۰ء) 

ایک عمل اگر دُنیا والوں کے نزدیک بڑا اچھا ہو، مگر خدا کے قانون کی پیروی اس میں نہ کی گئی ہو، تو دُنیا کے لوگ چاہے اس پر کتنی ہی داد دیں، خدا کے ہاں وہ کسی داد کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف ایک عمل ٹھیک ٹھیک شریعت کے مطابق ہوتا ہے اور بظاہر اس کی شکل میں کوئی کسر نہیں ہوتی، مگر نیت کی خرابی، ریا، خودپسندی، فخروغرور اور دُنیا طلبی اس کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے اور وہ اس قابل نہیں رہتاکہ اللہ کے ہاں مقبول ہو۔ 

جو لوگ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے ایسے نیک عمل کرنے کی توفیق طلب کرتے رہتے ہیں کہ جو اپنی ظاہری صورت میں بھی ٹھیک ٹھیک اللہ کے قانون کے مطابق ہوں اور حقیقت میں بھی اللہ سبحانہٗ کے ہاں مقبول ہونے کے لائق ہوں تو دُنیا میں [انھوں] نے جو بہتر سے بہتر عمل کیا ہے، آخرت میں ان کا درجہ اُسی کے لحاظ سے مقرر کیا جائے گا، اور ان کی لغزشوں، کمزوریوں اور خطائوں پر گرفت نہیں کی جائے گی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک کریم النفس اور قدر شناس آقا اپنے خدمت گزار اور وفادار ملازم کی قدر اس کی چھوٹی چھوٹی خدمات کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس کی کسی ایسی خدمت کے لحاظ سے کرتا ہے جس میں اس نے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو، یا جاں نثاری و وفاشعاری کا کمال کر دکھایا ہو۔ اور ایسے خادم کے ساتھ وہ یہ معاملہ نہیں کیا کرتا کہ اس کی ذرا ذرا سی کوتاہیوں پر گرفت کر کے اس کی ساری خدمات پر پانی پھیر دے۔ 

یعنی نہ اچھے لوگوں کی نیکیاں اور قربانیاں ضائع ہوں گی، نہ بُرے لوگوں کو ان کی واقعی بُرائی سے بڑھ کر سزا دی جائے گی۔ نیک آدمی اگر اپنے اجر سے محروم رہ جائے، یا اپنے حقیقی استحقاق سے کم اجر پائے تو یہ بھی ظلم ہے، اور بُرا آدمی اپنے کیے کی سزا نہ پائے، یا جتنا کچھ قصور اس نے کیا ہے اس سے زیادہ سزا پاجائے تو یہ بھی ظلم ہے۔( سیّدابوالاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن، اکتوبر ۱۹۶۵ء،  جلد۶۴، عدد۲، ص۲۶-۲۷)