اہلِ کشمیر ایک طویل مدت سے بھارتی فوج کے ظلم و جبر، انسانیت سوز مظالم اور انسانی حقوق کی بے دردی سے پامالی کا سامنا کر رہے ہیں۔ جسمانی اذیتوں، معاشی مصائب کے ساتھ ساتھ نفسیاتی ٹارچر بھی سہ رہے ہیں۔ خاص طور پر بھارتی فوج کے ہاتھوں مسلمان خواتین کی تذلیل اور بے حُرمتی کا سامنا کرنا انتہائی اذیت ناک عمل ہے۔ ان حالات میں کشمیری خواتین کا جدوجہد آزادی کو جاری رکھنا اور مردوں کی ہمت بندھائے رکھنا عزیمت کا بے مثال نمونہ ہے۔
کشمیری خواتین آج کن مصائب سے دوچار ہیں، خاوندوں کے شہید ہوجانے یا لاپتا ہوجانے کے نتیجے میں بیوگی اور نیم بیوگی کی جس کیفیت سے وہ دوچار ہیں، کن معاشی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں، لاپتا افراد کی تلاش میں بھارتی انتظامیہ کے ظالمانہ رویوں اور انسانیت سے گری ہوئی حرکات کا کیسے سامنا کر رہی ہیں، نیز کمانے والے افراد کے شہید یا لاپتا ہوجانے کے نتیجے میں گھروں کو چلانے اور بچوں کی پرورش اور تربیت کے لیے کن مشکلات اور کیسے کیسے ذہنی و نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں___ ان گرفتاریوں، ہلاکتوں اور کشمیر کی مظلوم عورت کو درپیش مسائل کی یہ دکھ بھری داستان افشاں راشد نے Widows & Half Widows (بیوائیں اور نیم بیوائیں) کے عنوان سے تحریر کی ہے (ناشر: Pharos Media، نئی دہلی، بھارت۔ صفحات: ۱۹۲۔ قیمت: ۱۵ڈالر)۔ افشاں راشد معروف صحافی ہیں اور سری نگر سے تعلق رکھتی ہیں۔
بھارت کے اس سفاکانہ ظلم و ستم کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق ۱۹۸۹ء سے اب تک ایک لاکھ سے زائد مرد، جب کہ ۲ ہزار سے زائد خواتین شہید ہوچکی ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد افراد گرفتار ہیں، ۳۲ہزار سے زیادہ خواتین بیوہ اور تقریباً ۲لاکھ بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ ان حالات میں خواتین کی ایک بڑی تعداد ذہنی دبائو اور ذہنی امراض سے دوچار ہے۔ خاص طور پر اُن خواتین کو شدید ذہنی اضطراب کا سامنا ہے جن کے خاوند خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں طویل عرصے سے لاپتا ہیں اور نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟گویا ان کی حالت ’نیم بیوہ‘ کی سی ہے! وہ اپنے خاوندوں کی پنشن بھی نہیں لے سکتیں کہ خاوند کا تصدیق نامۂ وفات (death certificate) نہیں پیش کرسکتی ہیں۔ وہ اس اُمید پر جی رہی ہیں کہ ان کے خاوند زندہ ہیں۔ وہ دوسری شادی بھی نہیں کرسکتی ہیں کہ اس طرح مصیبت زدہ خاندان کی معاشی کفالت سے محروم ہوجاتی ہیں۔بچے کس خوف و ہراس سے دوچار ہیں اور جوان بچیوں کے تحفظ کے لیے مائیں کس طرح پریشان ہیں، ان سارے مسائل کی وضاحت بھی مختلف کشمیری خواتین کے مصاحبوں ( انٹرویو) کے ذریعے اس کتاب میں کی گئی ہے۔
کشمیر میں بیوگی اور نیم بیوگی کی حالت سے دوچار مظلوم خواتین اور یتیم بچے کسمپرسی سے دوچار ہیں۔ کمانے والے افراد کی شہادت یا لاپتا ہوجانے کے نتیجے میں معاشی بوجھ خاندان کے بزرگوں کے کاندھوں پر آن پڑا ہے اور پیرانہ سالی کے باوجود محنت مشقت کر کے وہ کنبے کو پالنے پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟ اس کتاب میں طاہرہ نامی خاتون کا تذکرہ ہے جس کا خاوند گذشتہ سات برس سے لاپتا ہے۔ ہاجرہ کا ذکر ہے جس کے چار میں سے تین بیٹے شہید ہوچکے ہیں، جب کہ چوتھا بیٹا لاپتا ہے۔ پروین جس کا بیٹا ۱۹سال سے لاپتا ہے لیکن وہ اُمید کا دامن تھامے ہوئے اس کی بازیابی کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اعداد وشمار اور حقائق پر مبنی یہ کتاب بہت سی تصاویر سے بھی مزین ہے۔ پوری کتاب ایسی بہت سی مظلوم خواتین کی داستانِ الم پر مبنی ہے جسے پڑھ کر دل دہل جاتا ہے اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلتے ہیں۔ سیکڑوں کی تعداد میں ایسی کشمیری خواتین ہیں جو انصاف کی منتظر ہیں! (Kashmir's Suffering Women ، ڈاکٹر اے جی خان، ملّی گزٹ، دہلی، ۱۵ جولائی ۲۰۱۱ئ)
بھارتی دانش ور خاتون ارون دتی راے اور کئی دوسرے صحافیوں نے بھی اہلِ کشمیر پر مظالم کے خلاف آواز اُٹھائی ہے اور اجتماعی قبروں کی نشان دہی کی ہے۔ اب کشمیری خود بھی سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے براہِ راست اپنے اُوپر روا رکھے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں اور دنیا کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔ اس طرح دنیا کو براہِ راست حقائق جاننے اور بھارتی پروپیگنڈے کی حقیقت کا علم ہونے لگا ہے۔
کشمیری خواتین ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیرڈ پرسنز (APDP) کے تحت منظم ہورہی ہیں جو خواتین کے حقوق اور لاپتا افراد کی بازیابی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ یہ تنظیم احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ ان خواتین کے مسائل کو بھی عدالت میں اُٹھا رہی ہے جن کے خاوند لاپتا ہیں اور وہ تصدیق نامہ وفات نہیں پیش کرسکتی ہیں۔
’اے پی ڈی پی‘ نے ایک رپورٹ Half Widow, Half Wife (آدھی بیوہ، آدھی بیوی) کے نام سے شائع کی ہے جس میں ایسی خواتین کے حالات و واقعات پیش کیے گئے ہیں جن کے خاوند لاپتا ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ پولیس ایسی خواتین کے ساتھ کس ہتک آمیز رویے سے پیش آتی ہے۔ نوجوان بچیوں کے تحفظ کے لیے کشمیری مائوں کو کیسی کیسی پریشانیوں کا سامنا ہے، مارے خوف کے کہ نہ جانے کون رات کو آن دھمکے، مائیں سو نہیں پاتی ہیں۔ تعلیم یافتہ بچیوں کو ملازمت کے حصول میں ہزارہا دقّتوں کا سامنا ہے۔ بعض عورتیں گھروں میں کام کر کے بھی گزارا نہیں کرپاتیں، اور برقع پہن کر بھیک مانگنے پر مجبور ہیں کہ کہیں پہچانی نہ جائیں۔ اگر خواتین حکومتی ریلیف فنڈ لینے کے لیے مجبوراً جاتی ہیں تو اپنی عزت کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ نوجوان بیوائوں کے ناموس کے تحفظ کے لیے ساس اپنے ۱۲سالہ بیٹے سے جوان بیوہ بہو کی شادی کے لیے مجبور ہے۔ (کشمیری خواتین کی دردناک اپیل، مطبوعہ: ویمن اینڈ فیملی کمیشن جماعت اسلامی پاکستان، منصورہ، لاہور)
افشاں راشد نے Widows & Half Widows کے ذریعے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑا ہے کہ وہ کشمیر کے مظلوم عوام خصوصاً خواتین کی داد رسی کے لیے آواز اُٹھائے،نیز بھارت پر عالمی دبائو ڈالا جائے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالی کو روکے اور اہلِ کشمیر کو جینے کا حق دے۔ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اہلِ کشمیر کی اخلاقی تائید اور مالی تعاون کے ساتھ ساتھ حق خود ارادیت کے حصول کے لیے عالمی راے عامہ کو ہموار کرے، نہ کہ بھارت کو ’پسندیدہ ملک‘ قرار دے کر اہلِ کشمیر کے ساتھ غداری کی مرتکب ہو!
عینی شاہد بیان نہ کرتے، تصاویر او رویڈیو نہ دکھا دیتے تو یقین نہ آتا۔ آپ خود ہی دیکھ کر بتادیجیے کہ کیا اشرف المخلوقات ایسا کرسکتا ہے؟ یہ کپڑے پر بنی بشار الاسد کی جہازی سائز کی ایک تصویر ہے ، جسے بیچ میدان کے زمین پر بچھا دیا گیا ہے، اس کے چاروں کناروں پر اس کے درجنوں حامی اور فوجی اس تصویر کے سامنے سجدے میں پڑے ہیں اور درو دیوار پر لکھا ہے:لا الٰہ الا بشار۔ ایک اور منظر میں گھنی داڑھی والے ایک باریش نوجوان پر تشدد کیا جارہا ہے۔ لاٹھیوں، ٹھوکروں اور تھپڑوں کی بارش ہورہی ہے اور ایک سورما، زمین پر گرے اس نوجوان کی گردن پر اس طرح پاؤںجمائے کھڑا ہے کہ سنت نبوی مکمل طور پر جوتے کے نیچے روندی جارہی ہے، اس عالم میں نوجوان کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ کہے: بالروح بالدم نفدیک یا بشار،’’میرا جسم و جان تم پر فدا یا بشار‘‘۔ اس طرف دیکھیں یہ ایک طویل قطار ہے۔ یہ صرف بچوں کی لاشوں کی قطارہے اور ان سب کو گولیاں مار کر نہیں، باقاعدہ گردنیں کاٹ کر ذبح کیا گیا ہے۔ اور یہ دیکھیں یہ ایک لمبی کھائی ہے، لیکن یہ کھائی نہیں ایک اجتماعی قبر ہے، جس میں درجنوں لاشیں دفن کی جارہی ہیں___ آخر کون کون سا منظر دیکھیں گے، نہ دیکھنے کا یارا ہے اور نہ بیان کرنے کا حوصلہ!
یہ کوئی ایک آدھ دن کی بات نہیں، ۱۵ مارچ ۲۰۱۱ئسے لے کر آج تک گزرنے والا ہر لمحہ، مسلمان شامی عوام کے لیے قیامت کا لمحہ ہے۔ گھر، مسجدیں، بازار اور انسان، اور تواور باغات، مویشی، کھیت اور کھلیان کچھ بھی اور کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ لیکن ۴۹ برس کی ڈکٹیٹر شپ کے بعد یہ پہلا موقع آیا ہے کہ قتل و غارت کے نتیجے میں لوگ خوف زدہ ہوکر نہیں بیٹھ گئے۔ پہلی بار عوام نے خوف کی فصیلوں کو ریزہ ریزہ کردیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر اب ان تمام قربانیوں کو رائیگاں جانے دیا گیا، تو پھروہ کبھی ایک آزاد شہری کی حیثیت سے سانس نہ لے سکیں گے۔
شام کے موجودہ حالات کا جائزہ لینے سے پہلے آئیے ذرا گذشتہ صدی کا سرسری جائزہ لیں۔ ۹مئی ۱۹۱۶ء کو ہونے والے سایکس پیکو معاہدے کے تحت پورے مشرق وسطیٰ کو ٹکڑیوں میں بانٹ دیا گیا۔ ۳۰ستمبر ۱۹۱۸ء کو آخری عثمانی افواج بھی شام سے نکل گئیں۔ فرانس قابض ہوگیا۔ اپریل ۱۹۴۶ء میں فرانسیسی استعمار سے بھی نجات مل گئی۔ اپریل ۱۹۴۷ء میں وہاں بعث پارٹی کی باقاعدہ تاسیس عمل میں آئی۔ اسی سال ملک میں انتخابات ہوئے تو بعث پارٹی کے بانی میشل عفلق اور صلاح بیطار جیسے اس کے تمام لیڈر ناکام ہوگئے۔
۳۰مارچ ۱۹۴۹ء کو حسنی الزعیم کی سربراہی میں فوجی انقلاب آگیا، پورے عالم عرب میں یہ پہلا انقلاب تھا۔ پھر ایک کے بعد دوسرا سفاک خود کو قوم کا محبوب ترین لیڈر ثابت کرنے پر تلا رہا۔ حسنی الزعیم کو ہی دیکھ لیجیے۔اگست ۱۹۴۹ء میں ۹۹ئ۹۹ فی صد ووٹ حاصل کرلینے والے بزعم خود ’ہر دل عزیز‘ لیڈر کا اگلے ہی مہینے نہ صرف تختہ اُلٹ گیا، بلکہ اسے پھانسی پر لٹکادیا گیا۔ ۱۵نومبر ۴۹ء کو دوبارہ عام انتخابات ہوئے، حکمران پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں الاخوان المسلمون کو چار نشستیں حاصل ہوئیں جن میں شام میں اخوان کے بانی مصطفی السباعی بھی شامل تھے، جب کہ بعث پارٹی کا صرف ایک رکن منتخب ہوا۔ اسی ایک سال کے اندر اندر دسمبر ۴۹ء میں وہاں تیسرا انقلاب آگیا۔
۱۹۵۲ء میں الاخوان المسلمون سمیت اکثر سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور پھر مسلسل کئی انقلابات کے بعد ملک سے بعث پارٹی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں اور مذاہب و ادیان کا ناطقہ بند کردیا گیا۔ ۱۹۶۳ء میں بعثی انقلاب نے اقتدار سنبھالا، حافظ الاسد اس کا اہم حصہ تھا۔ ۱۹۶۶ء میں اس نے مزید اختیارات کے لیے پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کردی، خود وزیردفاع بن بیٹھا، اور پھرنومبر ۱۹۷۰ء میں ایک اور انقلاب کے ذریعے مکمل اقتدار سنبھال لیا۔ وہ دن اور آج کا دن، اسد خاندان کا اصرار ہے کہ شامی عوام سانس بھی اس کی مرضی اور اجازت سے لیں۔
مکافات عمل ملاحظہ ہو کہ دو سال بعد حافظ الاسد بیمار ہوا تو اسی رفعت الاسد نے اپنی اسی سیکورٹی فورس کے ذریعے بھائی کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ رفعت کو فرار ہوکر یورپ میں پناہ لینا پڑی، اس کی خصوصی فوج ختم کردی گئی۔
اس خاندان کے دور جرائم کی تفصیل بہت طویل ہے۔ لیکن صرف ڈیڑھ دو سال کے عرصے میں ہونے والے درج بالا چند واقعات ۴۹ برس پر محیط درندگی کی ہلکی سی جھلک دکھا رہے ہیں۔ اس قتل عام کے علاوہ اسد خاندان کا اصل ہدف اور اولین ترجیح ملک میں بعث ازم کی جڑیں گہری کرنا تھی۔ یہ نظریہ عرب قومیت اور اشتراکیت کا ملغوبہ ہے۔ بعث ازم کو (نعوذ باللہ) اللہ اور اس کے رسولؐ سے بھی بالاتر درجہ دے دیا گیا تھا۔ حافظ الاسد کا ایک شاعر ہرزہ سرائی کرتا ہے:
آمَنْتُ بِالْبَعْثِ رَبًا لَا شَرِیْکَ لَہٗ
وَبِالْعُرُوبَۃِ دِیْنًا مَالَہٗ ثَانِی
(میں بعث ازم کے رب لا شریک ہونے، اور عرب ازم کے لاثانی دین ہونے پر ایمان لایا)۔ بعث پارٹی کا شعار ہے: أمۃ عربیۃ واحدۃ ذات رسالۃ خالدہ ،’’ ابدی پیغام رکھنے والی عرب اُمت واحدہ‘‘۔ پورے ملک کا نظام اسی بعثی مرکز و محور کے گرد گھومتا ہے۔ دستور کی دفعہ ۸ کے مطابق’’ بعث پارٹی ریاست اور معاشرے کی اکلوتی رہنما پارٹی ہے‘‘۔ کسی دوسرے کو پارٹی بنانے کی اجازت نہیں ۔ دستور کی دفعہ ۸۳ کے مطابق صدارتی انتخاب کا طریق کار یہ بتایا گیا ہے کہ ’’بعث پارٹی کے علاقائی ذمہ داران کسی ایک شخص کو صدارتی اُمیدوار نامزد کریں گے، پھر وہی صاحب خود عوامی ریفرنڈم منعقد کرواتے ہوئے منتخب صدر کہلائیں گے‘‘۔
جبر پر مبنی تدبیریں دوام دے سکتیں توفرعون کا اقتدار اور قارون کی دولت کبھی ختم نہ ہوتی۔ ظلم کا نظام بظاہربہت محکم لیکن حقیقتاً بہت بودا ہوتا ہے، بالآخر ظالم ہی کی گردن ناپتا ہے: وَ لَا یَحِیْقُ الْمَکْرُالسَّیِّیُٔ اِلَّا بِاَھْلِہٖ(الفاطر ۳۵:۴۳)،’’بُری چال بالآخر چلنے والے ہی کے گلے پڑتی ہے‘‘۔ زین العابدین، حسنی، قذافی اور علی عبداللہ صالح پر بھی یہی حقیقت صادق آئی۔گذشتہ ۱۴ماہ میں بشارحکومت نے بھی عوامی تحریک کچلنے کی بھرپور کوششیں کیں، لیکن تحریک ختم ہونے کے بجاے مضبوط سے مضبوط تر ہوئی۔ یہ ۱۹۸۲ء نہیں ہے کہ پورا شہر تہ تیغ کردیں اور ذرائع ابلاغ کو قریب تک نہ پھٹکنے دیں۔ ۲۰۱۲ء کی عوامی تحریک کا اصل ہتھیار کیمرا، موبائل فون اور انٹرنیٹ ہے۔ پل پل کی خبر سیٹلائٹ فون کے ذریعے دنیا کے سامنے آجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہادتوں کی تعداد ’صرف‘ جی ہاں صرف ۱۵ ہزار افراد سے زائد ہے۔ ذرائع ابلاغ نہ ہوتے تو اقتدار کی خاطر پوری قوم بھی موت کی نذر کرنا پڑتی، تو سفاک بعثی نظام دریغ نہ کرتا۔
شامی عوام کی اصل بدقسمتی یہ نہیں کہ ان پر ایک درندہ نظامِ حکومت مسلط ہے، ان کے بقول ان کی اصل محرومی یہ ہے کہ ان کے بھائیوں نے انھیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ الاخوان المسلمون کے سربراہ محمد ریاض شقفہ کے بقول انھوں نے پہلے دن سے اپنی تحریک کو پُرامن رکھنے پر زور دیا ہے۔ لاکھوں عوام کا ۹۵ فی صد غیر مسلح ہے اور عوامی طاقت کے ذریعے ہی تبدیلی لاناچاہتا ہے۔ سفاک حکمران روز اول سے طاقت استعمال کررہا ہے۔ اب ایک طرف ٹینک اور وحشیانہ بمباری ہے اور دوسری جانب خالی ہاتھ عوام۔ یہ درست ہے کہ بے تیغ عوام کو آتش و آہن شکست نہیں دے سکا، لیکن ا ب معاملات فیصلہ کن موڑ تک آن پہنچے ہیں۔ شامی فوج کی ایک بہت بڑی تعداد بشار کا ساتھ چھوڑ کر ’الجیش الحر‘ آزاد فوج کے نام سے منظم ہوچکی ہے، لیکن ان کی اکثریت بھی ہتھیاروں کے بغیر ہے۔ مسلم دنیا کسی عملی مدد سے عاجز ہے۔ رہا امریکا اور عالمی برادری تو اس کے بیانات اور اجلاس تو بہت ہیں لیکن اس کے اہداف کی فہرست میں کہیں یہ بات نہیں ہے کہ عوام کو بچانا اور ان کی مدد کرنا ہے۔ اسرائیل کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے ان کا اصل ہدف یہ ہے کہ بشار کے بعد بھی وہاں اپنی گرفت کیسے مضبوط کی جائے۔ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ قتل عام کو طول ملے یہاں تک کہ بشار کے بجاے بذات خود شیطان بھی آجائے تو شامی عوام اسے قبول کرلیں۔ ایک کے بعد دوسرے اجلاس اور مسلسل وفود ارسال کرنے کا نتیجہ مزید خوں ریزی کی صورت میں ہی نکل رہاہے۔ لاکھوں ڈالر کے خرچ اور ابلاغی طوفان کے بعد سیکورٹی کونسل نے ۲۱؍اپریل کو ۳۰۰ غیر مسلح فوجی مبصرین بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ نگران تین مہینے تک اس امر کا جائزہ لیں گے کہ بشار انتظامیہ نے عوام کو کچلنے کے لیے کہیں بھاری اسلحہ تو استعمال نہیں کیا۔ گویا مزید تین مہینے تک تباہ و برباد کرنے کا لائسنس دے دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے اسی طرح کے نگران ۱۹۴۸ء سے کشمیری عوام کے ’تحفظ‘ کا فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں۔
شامی عوام کی تباہی پر سب سے زیادہ مسرت صہیونی ریاست کو ہے۔ اس کا واضح اندازہ ۲۲؍ اپریل کے صہیونی روزنامہ یدیعوت احرونوت سے ہوتاہے ۔ وہ اپنے ادارتی نوٹ میںلکھتا ہے کہ شام میں کوئی خانہ جنگی نہیں، ایک دینی جنگ ہے۔ اس کے بقول ۱۳۰۰ سال پرانا شیعہ سنی جھگڑا جو عثمانی خلافت کی کئی صدیوںتک دبا رہا ،اب دوبارہ زندہ ہوگیا ہے۔ ایک فریق مشرق وسطیٰ کو شیعہ بنانا چاہتا ہے اور دوسرا ۸۵ فی صداہل سنت کو ان کا فطری مقام دلوانا چاہتا ہے۔ اس تمہید کے بعد اخبار یہ نتیجہ نکالتا ہے: ’’اب ہمارے لیے یہ بات سمجھنا آسان ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ۱۰۰سال سے کم عرصے پر محیط جھگڑا، ساتویں صدی عیسوی سے جاری شیعہ سنی جھگڑے کی نسبت کس قدر ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ گویا اب ہمارے سامنے صرف شام کاکوئی اندرونی نزاع نہیں، جیسا کہ بعض اسرائیلی سمجھتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا دینی انتشار ہے۔ اس تنازعے کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں اور یہی سب سے اچھی بات ہے‘‘۔
اسد خاندان غلو کی حد کو پہنچے ہوئے علوی فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ کسی دینی نہیں بلکہ شخصی بتوں پر قائم بعثی ریاست کا بانی خاندان ہے۔ لیکن حالیہ تحریک میں ایران کی طرف سے بشارانتظامیہ کی ہمہ پہلو امداد نے پورے مسئلے کوفرقہ وارانہ رنگ دینے والوں کا کام آسان کردیا ہے۔ بشار اور اس کا باپ شاہِ ایران سے بد تر ڈکٹیٹر ہیں ۔ ایران کو اس کا ساتھ دینے کے بجاے مظلوم عوام کا ساتھ دینا چاہیے۔ خود ایران کے کئی اعلیٰ سطحی ذمہ داران بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیںلیکن بدقسمتی سے اس وقت عملاً بشار انتظامیہ کا سب سے بڑا مددگار ایران ہے اور اس کے بعد روس اور چین۔ یہ دونوں ملک اپنے اپنے اندرونی حالات کے تناظر میں عوامی تحریکات کا ساتھ نہیں دے رہے۔ تیونس اور مصر میں بھی ان کی پالیسی یہی تھی۔ لیکن کوئی صہیونی اور امریکی تجزیہ نگار روس اور چین کی مدد کے باعث شام کی تحریک کو، کمیونزم یا سوشلزم کے خلاف تحریک نہیں کہہ رہا، کیونکہ وہ شیعہ سنی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔ یہ طوفان اب عراق اور خلیج تک محدود نہیں رہا، شام اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں اسی جلتی پر تیل چھڑکا جارہا ہے۔ اس طوفان کو اسی صورت روکا جاسکتا ہے کہ اُمت کی توجہ اصل مسائل پر مرکوز رہے۔ اصل مسئلہ ظلم کا خاتمہ ، ڈکٹیٹر شپ سے نجات اور عوام کو ان کے حقوق دینا ہے۔ یہ قرآنی فیصلہ سب کے سامنے رہنا چاہیے کہ وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنقَلَبٍ یَّنقَلِبُوْنَ o(الشعراء ۲۶:۲۲۷)’’اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں‘‘۔
سوال: الحمدللہ میں ایک دین دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں۔ میری پانچ بچیاں ہیں۔ جب پہلی بچی ہوئی تو سسرال میں خوب خوشیاں منائی گئیں، دوسری اور تیسری بچی کی ولادت کے موقع پر بھی خوشی کااظہار کیاگیا ،لیکن کم کم، پھر جب چوتھی بچی ہوئی تو سسرال کے لوگوں کا انداز بدلنے لگا۔ کسی نے کھلے الفاظ میں کچھ کہا تو نہیں، لیکن دبی زبان میں اس خواہش کااظہار ہونے لگا کہ اب لڑکا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ نے پھرلڑکی دے دی۔ اب میرے ساتھ اس طرح برتاؤ کیاجانے لگا، گویا لڑکیوں کی پیدایش کی میں ہی قصوروار ہوں۔ اس طرح کے مشورے بھی کانوں میںپڑنے لگے کہ اگر لڑکا چاہیے تو میرے شوہر کو دوسری شادی کرلینی چاہیے۔ بہ راہِ کرم میری راہ نمائی فرمائیں۔
جواب:اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں جن نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے ایک نعمت اولاد ہے۔ اولاد انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ انھیں پاکر وہ خوشی محسوس کرتا ہے، ان کے دم سے اس کی زندگی کی رنگینیاں قائم رہتی ہیں۔ ان کی کفالت کے لیے معاشی جدوجہد کرنا اس پر بار نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ بعض انسانوں کو اولاد عطا کرتا ہے اور بعض کو کسی مصلحت یا آزمایش کے مقصد سے اس سے محروم رکھتا ہے۔ پھر جن کو اولاد عطا کرتا ہے ان میں سے بعض کو لڑکے اور لڑکیاں دونوں دیتا ہے، بعض کو صرف لڑکے اور بعض کو صرف لڑکیاں۔ کوئی مرد صاحب ِاولاد ہوگا یا نہیں،کوئی عورت بچہ جنے گی یا بانجھ ہوگی، کسی کے یہاں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں گی یا صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ، کسی کے صرف ایک اولاد ہوگی، وہ بھی لڑکا یا لڑکی ، یہ سب اللہ تعالیٰ کی طے کی ہوئی تقدیر پر منحصر ہے۔ اس میں کسی مرد یا عورت کی خواہش یا کوشش کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ سورئہ شوریٰ میں اس بات کو قطعی اور دو ٹوک الفاظ میں بیان کیاگیا ہے:
لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِِنَاثًا وَّیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَ o اَوْ یُزَوِّجُھُمْ ذُکْرَانًا وَّاِِنَاثًا وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآئُ عَقِیْمًا اِِنَّہٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ o (الشورٰی۴۲: ۴۹-۵۰) اللہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتاہے لڑکے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔
بعض معاشروں میں لڑکیوں کو لڑکوں سے کم تر حیثیت دی جاتی ہے۔ اسی بنا پر ان کی پیدایش پر نہ صرف یہ کہ خوشی کااظہار نہیں کیا جاتا، بلکہ انھیں بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ زمانہ نزول قرآن میں عرب کے بعض قبیلوں کا یہی حال تھا۔ ان کے یہاں لڑکی پیدا ہوتی تو وہ بڑی خفت محسوس کرتے اور ان میں سے بعض اسے زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ قرآن نے اس کانقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے:
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا وَّ ھُوَ کَظِیْمٌ o یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓئِ مَا بُشِّرَ بِہٖ اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ o (النحل ۱۶:۵۸-۵۹) جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر کَلَونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس بُری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے۔ سوچتا ہے کہ ذلّت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یامٹی میں دبادے؟
لڑکیوں کے معاملے میں عہد جاہلیت کے بعض قبیلوں کی جو سوچ تھی، موجودہ دَور کے بہت سے معاشروں کی سوچ اس سے مختلف نہیں ہے۔ ان کے یہاں لڑکی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، اسی بنا پر اس کی پیدایش کی خبر سن کر پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ نکاح کے مسائل اور اس کے ہوش ربا مصارف، جہیز کی فراہمی کے لیے مطلوبہ خطیر رقم وغیرہ کے بارے میں سوچ کر آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے یہاں لڑکی پیدا ہی نہ ہو۔لڑکی پیداہونے پر قدیم زمانے میں اسے زندہ درگور کرکے اس سے پیچھا چھڑا لیا جاتا تھا۔ جدید جاہلیت نے اس کام کے لیے نئی نئی تکنیکیں دریافت کرلی ہیں، جن کی مدد سے دورانِ حمل میں ہی جنین کی جنس معلوم کرلی جاتی ہے اور لڑکی ہونے کی صورت میں ولادت کی نوبت ہی نہیں آنے دی جاتی، پہلے ہی اسقاط (abortion)کروادیا جاتا ہے۔ لڑکیوں کو لڑکوں سے کم تر سمجھنے کی سوچ، افسوس ہے کہ مسلمانوں میں بھی سرایت کررہی ہے۔کسی خاندان میں کئی لڑکیاں پیدا ہوجائیں تو عموماً اس کا ذمہ دار عورت کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ تصور کرلیا جاتا ہے کہ یہ عورت صرف لڑکیاں جننے والی ہے۔ اسی بنا پر اس طرح کا مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر لڑکا چاہیے تو مرد کو دوسری شادی کرلینی چاہیے، تبھی لڑکا پیدا ہوسکتا ہے۔ حالانکہ لڑکاپیدا ہونے میں نہ مرد کااختیار ہوتا ہے نہ عورت کا اور لڑکی پیداہونے میں عورت کا، کوئی قصور نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک خام تصور ہے کہ موروثی طور پر کوئی عورت صرف لڑکیاں پیدا کرنے والی ہوتی ہے اور کسی عورت سے لڑکے زیادہ پیدا ہوسکتے ہیں۔ اوپر قرآن کریم کی صراحت گزری کہ کسی کے لڑکا یا لڑکی پیدا ہونا محض اللہ تعالیٰ کی قدرت، توفیق اور تقدیر پر منحصر ہوتاہے۔اس سلسلے میں جدید میڈیکل سائنس سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ بہت سوں کے لیے حیرت واستعجاب کا باعث ہوں گی۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکا یا لڑکی پیداہونے میں اصل کردار عورت کا نہیں، بلکہ مرد کا ہوتا ہے۔
جسم انسانی کے تولیدی خلیّات (reproductive cells) میں ایک جوہر پایا جاتا ہے، جسے کروموسوم (chromosome) کہتے ہیں۔ ان میں تمام موروثی خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ انھی کے ذریعے بالوں کے رنگ، آنکھوں کے رنگ اور جنس کا تعیین ہوتا ہے۔ تولیدی خلیے میں کرو موسوم کے جوڑے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک جوڑا جنس (sex)کے تعیین کے لیے مخصوص ہوتاہے۔اسے sex chromosomeکہاجاتا ہے۔ یہ جوڑا دو طرح کے کروموسوم پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک کو X کروموسوم اور دوسرے کو Yکروموسوم کہتے ہیں۔
عورت کے بیضہ (ovum) میں سیکس کروموسوم کاجوجوڑا پایا جاتا ہے اس کے دونوں کروموسوم Xنوعیت کے ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر انھیں homogameticکہا جاتا ہے، جب کہ مرد کے نطفے (sperm) میں پایاجانے والا سیکس کروموسوم کا جوڑا دو الگ الگ نوعیت کے (X اورY) کروموسوم پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسی بنا پر انھیں Hetrogameticکہا جاتا ہے۔
استقرار حمل (fertilization) کے وقت عورت کے بیضے سے ایک کروموسوم نکلتا ہے، اسی طرح مرد کے نطفے سے ایک کروموسوم نکلتا ہے اور دونوں کے اتصال سے استقرار کا عمل انجام پاتا ہے۔ عورت کے بیضہ سے نکلنے والا کروموسوم ہر حال میں Xہوتا ہے، جب کہ اس سے ملنے والا نطفہ مرد کا کروموسومXبھی ہوسکتا ہے اور Yبھی۔ اگر عورت کے Xکروموسوم سے مرد کا Xکروموسوم ملتا ہے تو اس صورت میں لڑکی پیداہوتی ہے۔ اور اگر اس سے مرد کا Yکروموسوم ملتا ہے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اب عورت کے Xکروموسوم سے مرد کا (XاورY میں سے)کون سا کروموسوم ملے؟ اس میں انسانی کوشش کا کچھ بھی دخل نہیں ہوتا، یہ محض تقدیر الٰہی پر منحصر ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو کروموسوم جنین(foetus) کی جنس متعین کرتا ہے اور جس سے طے ہوتا ہے کہ آیندہ پیداہونے والا بچہ لڑکا ہوگا یا لڑکی، وہ مرد سے حاصل ہوتا ہے ،نہ کہ عورت سے۔
قرآن کریم نے اس سلسلے میں جو لطیف تعبیر اختیار کی ہے اس سے مذکورہ بالا سائنسی بیان کی تصدیق ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ (البقرہ۲:۲۲۳) ’’تمھاری عورتیں تمھاری کھیتی ہیں‘‘۔کھیتی کا کام یہ ہوتاہے کہ اس میں جو بیج ڈالاجائے اسے پروان چڑھائے اور اس کی اچھی پیداوار کرے۔ اگر کسی کھیت میں گیہوں کے بیج ڈالے جائیں گے تو اس سے گیہوں ہی پیدا ہوگا۔ اگر اس میں چنا یا جوار کے بیج ڈالے جائیں گے تو چنایاجوار ہی اُگے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ بیج تو چنا یا جوار کا ڈالا جائے اور امید گیہوں اُگنے کی رکھی جائے اور جب گیہوں نہ اُگے تو کھیت کو قصور وار قرار دیا جائے۔مفسرین کرام نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں یہی بات کہی ہے۔
علامہ زمخشریؒ (م:۵۳۸ھ) فرماتے ہیں:’’یہ مجاز ہے۔ اس آیت میں عورتوں کو کھیت سے تشبیہ دی گئی ہے اور ان کے رحم میں ڈالے جانے والے نطفے کو، جس سے نسل انسانی کا سلسلہ چلتا ہے، بیج کے مشابے قرار دیاگیا ہے‘‘ (الکشاف، ص ۴۳۴) ۔ امام فخر الدین رازیؒ (م:۶۰۶ھ) نے لکھا ہے:’’اس آیت میں عورتوں کوکھیتی بہ طور تشبیہ کہا گیا ہے ۔ گویا عورت زمین کے مثل ہے جس میں کاشت کی جاتی ہے، نطفہ بیج کے مثل ہے اور پیدا ہونے والا بچہ پیداوار کے مثل ہے‘‘(التفسیر الکبیر، ج۶،ص ۷۵)۔ یہی تشریح بعض دیگر مفسرین ، مثلاً علامہ قرطبی (م:۶۷۱ھ) اور علامہ ابوحیان (م:۷۴۵ھ) نے بھی کی ہے۔ (ملاحظہ کیجئے: الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، ج ۴، ص ۷، البحر المحیط لابی حیان الاندلسی، ج۲،ص ۱۸۱)
علامہ راغب اصفہانی (م: ۵۰۲ھ) نے اس موقع پر ایک نکتے کی بات کہی ہے: کھیتی کے لیے عربی زبان میں دو الفاظ مستعمل ہیں: ایک حرث اور دوسرا زرع۔ دونوں الگ الگ معنوں میں مستعمل ہیں۔ حرث کہتے ہیں زمین میں بیچ ڈالنے اور اسے کاشت کے لیے تیار کرنے کو۔ اور زرع کہتے ہیں زمین سے جو کچھ اُگے اس کی دیکھ بھال کرنے کو۔ سورۂ واقعہ کی آیات ۶۳-۶۴ میں یہ دونوں الفاظ الگ الگ معنوں میں آئے ہیں۔ یہاں سورۂ بقرہ کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے زرع کا لفظ نہیں، بلکہ حرث کا لفظ استعمال کیا ہے۔ گویا عورتیں کھیتی کے مثل ہیں، جس میں مرد بیج ڈالتے اور پیداوار چاہتے ہیں۔ (تفسیر الراغب الاصفہانی، ج ۱،ص ۴۵۸)
لڑکیوں کا وجود ان کے والدین کے لیے باعث خیر وبرکت ہوتا ہے۔ اس دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وہ زمانہ گیا جب تعلیم کو صرف لڑکوں کا حق سمجھا جاتا تھا اور لڑکیوں کو اس سے محروم رکھا جاتا تھا۔ یہ خیال کیاجاتا تھا کہ لڑکے بڑے ہوں گے تو کماکر لائیں گے اور لڑکیاں بڑی ہوں گی تو خود ان پر خرچ کرنا پڑے گا۔ اب لڑکیاں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں تو وہ دُنیاوی اعتبار سے اپنے والدین کے لیے بسااوقات لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہورہی ہیں۔ جہاں تک آخرت کا معاملہ ہے، لڑکیوں کی پرورش وپرداخت پر ان کے والدین کوجنت کی بشارت دی گئی ہے، جب کہ لڑکوں کی پرورش پر ایسی کوئی بشارت نہیں ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک کفالت کی وہ روزِ قیامت مجھ سے اتنا قریب ہوگا۔ یہ فرماتے ہوتے آپؐنے اپنی دو انگلیاں ملائیں‘‘(مسلم: ۲۶۳۱) ۔ حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جس شخص کی دو لڑکیاں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہے تو وہ اس کے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنیں گی‘‘۔(ابن ماجہ:۳۶۷۰)
اللہ نے جن لوگوں کو صرف لڑکیوں سے نوازا ہو اور وہ لڑکوں کے بھی خواہش مند ہوں، انھیں اپنی بیویوں کو قصور وار ٹھیرانے کے بجاے اللہ سے دُعا کرنی چاہیے کہ وہی حقیقی عطا کرنے والا ہے۔اولاد یا لڑکے یا لڑکیاں عطا کرنا اسی کے اختیار میں ہے۔ (ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی)
ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور اسلامک ڈویلپمنٹ بنک، جدہ کے سینیر ایڈوائزر ہیں۔ ان سے کسی مجلس میں سوال کیا گیا کہ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں علمی و تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے کچھ ضروری مشورے دیں۔ افادۂ عام کے لیے یہاں پیش ہیں۔ (ادارہ)
پہلی چیز جو ہماری نگاہ میں رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o اِنَّ مَعَ العُسْرِ یُسْرًا o (الم نشرح ۹۴: ۵-۶)’’پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے‘‘۔ تنگی یا مشکل سے مراد ہے محنت، کیونکہ محنت کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اگر آدمی محنت کرتا ہے تو اس کے بعد اس کا پھل ملتا ہے۔ اس کے بغیر زندگی میں کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے محنت کو اپنی عادت بنائیں، مثلاً اگر عربی نہیں آتی تو اسے سیکھنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ کسی ادارے میں جا کر ہی سیکھی جائے، گھر میں بیٹھ کر بھی سیکھی جاسکتی ہے۔ عربی سیکھنا تو ویسے بھی بہت ہی ضروری ہے کیونکہ جب تک آپ عربی نہیں جانیں گے تو قرآن کی مٹھاس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکیں گے۔ ترجمہ پڑھنا تو ایسا ہی ہے کہ آپ کے پاس شہد آیا اور کسی نے اُس کی شیرینی نکال دی اور باقی آپ کو دے دیا۔ عربی سیکھنا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔کتاب عربی کا معلّم جو کہ چار جلدوں پر مشتمل ہے، اس کام کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ آج کل تو عربی سیکھنے کے جدید طریقے سامنے آگئے ہیں جن سے عربی سیکھنا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ قرآن و حدیث کو عربی میں سمجھے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ عام آدمی کے لیے تو یہ نہیں کہا جاسکتا لیکن جو لوگ اسلامک اسٹڈیزمیں کام کر رہے ہیں،ان کے لیے عربی کے بغیر کوئی مفر نہیں ہے۔ اگر آپ عربی نہیں سیکھ رہے ہیں تو آپ اسلام کی اچھی طرح خدمت نہیں کرسکتے۔
جہاں تک تحقیق کا تعلق ہے تو اس کام میں محنت کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ اگر آپ اس کے لیے تیار نہ ہوں اور گھنٹوں کے حساب سے ٹیلی ویژن پر وقت صرف کریں، تو زندگی میں کچھ حاصل نہیں ہوسکتا اور خصوصیت سے علمی کام تو ہو ہی نہیں سکتا۔ ٹیلی ویژن سے حاصل شدہ معلومات محض وقتی ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں آپ کوئی کتاب پڑھتے ہیں تو وہ آپ کو یاد رہتی ہے۔ اگر کچھ پڑھا ہوا بھول گئے ہیں تو دوبارہ کتاب میں دیکھ سکتے ہیں۔ جتنا زیادہ مطالعہ کرسکیں، کیجیے۔ مطالعے کا بھی طریقہ یہ ہے کہ پڑھنے کے بعد نوٹس لیں۔ اگر لائبریری کی کتاب ہے تو اپنے کارڈ پر یا کسی اور جگہ نوٹس لے لیں ۔ اگر آپ کوئی مقالہ لکھ رہے ہیں تو اس کے نوٹس بنائیے۔ موضوع کی مناسبت سے پڑھیں اور نوٹس لیں۔ اس کے بعد اپنے خاکے(outline) کی مناسبت سے لکھیں۔ ہمارے ہاں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ تحریر کے معاملے میں پہلی کوشش ہی کافی ہے اور اس سے زیادہ بہتر تو لکھا ہی نہیں جا سکتا۔ اگر تکبّر کا عنصر آجائے تو وہاں علم کا خاتمہ ہو جاتا ہے، کیونکہ تکبّر اور علم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اپنے لکھے ہوئے کوکئی مرتبہ دہرائیں۔ گیل وریتھ جو کہ ایک بہت بڑا مصنف ہے، اُس کا کہنا ہے کہ میںاپنی تحریر کو کئی مرتبہ دہرانے کے بعد مطمئن ہوتا ہوں۔ اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ اس کام میں بہت وقت اور محنت لگتی ہے لیکن اس کے بغیر کام بھی نہیں بنتا۔ لکھے ہوئے کو خود بھی دہرائیں اور دوسروں کو تبصرے کے لیے دیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ تبصرے کے لیے دیتے ہیں تو صرف تعریف کی اُمید رکھتے ہیں۔ اگر آپ نے ان پر کوئی تنقید کردی تو ان کا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ یہ رویّہ ہوتو بہت زیادہ سیکھا نہیں جاسکتا۔ اس کے لیے بھی تیار ہونا چاہیے کہ اگر کوئی غلط قسم کی تنقید بھی کر دے تب بھی ناراض نہ ہوں۔ اچھی طرح غور کرکے دیکھیں کہ اس کی تنقید درست ہے یا نہیں۔ درست ہے تو اپنی تحریر کو بہتر بنائیں اور صحیح نہیں ہے تو اس کو چھوڑ دیں۔
کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اچھے رسالے کے لیے مقالہ لکھیں اور محنت سے لکھیں۔ اس کے بعد بھی اس چیز کے لیے تیار رہیں کہ مبصرین کے جو تبصرے آئیں گے اس کی مناسبت سے آپ اس میں بہتری لائیں گے۔ گویا سب سے پہلے محنت، بہت سا مطالعہ کرنا، اور خاص طور سے اگر کوئی مضمون لکھناہے تو اس سے متعلق چیزوں کا مطالعہ کرنا، نوٹس لینا، پھر مقالہ لکھنا، اس کو کئی بار دہرانا، لوگوں کو تبصرے کے لیے دینا، اور تبصروں کی مناسبت سے دہرانا ہے۔ پھر فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا کے مصداق آپ کو آپ کی محنت کا صِلہ مل جائے گا۔ آپ کو خوشی ہوگی جب آپ کا مقالہ کسی عمدہ رسالے میں چھپے گا، لوگ اس پر اچھے تبصرے کریں گے اور آپ کی عزت بڑھے گی۔ جو محنت کرنے اور تنقید سننے کے لیے تیار نہیں ہے وہ عالم نہیں بن سکتا۔ ایک تحقیقی ادارے سے وابستہ افراد کے لیے تو اور بھی ضروری ہے کہ وہ اپنا مطالعہ و سیع تر کریں۔ اگر ٹی وی دیکھتے ہیں تو اس کے دورانیے کو کم کریں اور وہ وقت مطالعے میں صرف کریں۔ شام کو گھر پر جا کر ضرور مطالعہ کریں۔ پڑھنے لکھنے والوں کے لیے تو فارغ وقت ہوتا ہی نہیں، انھیں سارا وقت محنت کرنی ہے۔ گھر جا کر بھی پڑھنا ہے، دفتر میں بھی مطالعہ کرنا ہے۔ چھٹی والے دن اور معمول کے دنوں میں بھی، فرق صرف یہ ہونا چاہیے کہ چھٹی کے دن آدمی گھر میں کام کرے اور اس کا دفتر آنے جانے کا وقت بچے۔ زندگی میں اپنے سامنے اسے نشانِ راہ کے طور پر رکھیں: ’’محنت کے بغیر کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا، اور محنت کے ذریعے سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے‘‘۔
باہر کے ممالک میں تحقیق کے لیے لوگ بہت زیادہ محنت کرتے ہیں جو ہمارے ہاں نہیں ہے۔یہاں لوگ محنت کرنے کو تیارنہیں ہیں۔ دوسرے ممالک میںلوگ اپنے مقالہ جات کو خود باربار پڑھتے ہیں، لوگوں کو بتاتے ہیں، تبصرے لیتے ہیں، لوگوں کے ساتھ اس پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں اور اس دوران میںنوٹس لیتے رہتے ہیں۔ ان کی روشنی میں مقالے کو مزید بہتر کرتے ہیں۔ یہ ایک اسکالر کی صفات ہیں۔ بعض اوقات آپ کی تحریر پر بہت سخت قسم کی تنقید بھی ہو سکتی ہے لیکن تنقیدکرنے والے سے ناراض ہوکر کام نہیں چل سکتا۔
بعض اوقات دفتروں کے اندر بھی لوگ ٹانگ کھینچتے ہیں، اور سازشیں بھی کرتے ہیں۔ ان چیزوں سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور جب تک اللہ نہ چاہے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ قرآن میں کئی مقامات پر اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بظاہر آپ کے خلاف کسی نے سازش ہی کی ہو، لیکن بعد میں آپ کو پتا چلے کہ یہ تو آپ کے حق میں بہت بہتر ہوگیا ۔ وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْج(البقرہ ۲:۲۱۶)،’’ممکن ہے تم ایک چیزکو ناپسند کرو اور وہ تمھارے حق میں اچھی ہو‘‘۔ خود میرے ساتھ بہت سے مواقع پر ایسا ہوا کہ شروع میں محسوس ہوا کہ جیسے یہ بہت بُرا ہوا لیکن بالآخر اس کا نتیجہ میرے حق میں ہی رہا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو ترقی نہ ملے اور آپ اپنے افسر کو بُرا بھلا کہنے لگیں لیکن ترقی دینے والا آپ کا افسر بالا نہیں بلکہ اللہ کی ذات ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو آپ کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا، اور اگر اللہ نے نہ چاہا تو کوئی ترقی دے نہیں سکتا۔ ہمارا یہ عقیدہ مضبوط ہو کہ جتنا ہمیں ملے گا، اللہ ہی کی ذات سے ملے گا، اور اسی کے سامنے آدمی دستِ طلب بھی دراز کرے، اوراُسی کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرے تو زندگی میں ترقی ہی ترقی ہے۔
قرآن مجید کے ترجمے اور تفسیر پر انگریزی میں بھی بہت سا علمی کام ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود انگریزی خواں حلقوں میں قرآنی تعلیمات سے عمومی غفلت اور بطور تذکیر و یاد دہانی عام فہم ترجمانی کی ضرورت ہے۔ زیرتبصرہ ترجمۂ قرآن اور مختصر تفسیر اسی ضرورت کے پیش نظر عام فہم زبان میں لکھی گئی ہے۔ اس کے مخاطب بنیادی طور پر طالب علم ہیں۔ اسی لیے بہت سے علمی مباحث کو زیربحث نہیں لایا گیا۔ مفسر کی کوشش ہے کہ آیاتِ قرآنی کے الفاظ اور مفہوم تک بات کو محدود رکھا جائے، اور تلاوتِ قرآن سے قاری کے ذہن میں جو تصویر اُبھرتی ہے، دل پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان پر توجہ مرکوز کی جائے۔ سورتوں کے باہم ربط اور نظم کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ انگریزی ترجموں اور تفاسیر کے عمومی اسلوب سے ہٹتے ہوئے آیات کا ترجمہ ایک تسلسل سے پیراگراف کی صورت میں دیا گیا ہے تاکہ قاری پر ایک مسلسل تحریر کا تاثر قائم ہوسکے۔ ترجمہ اور تفسیر کے بعد آخر میں خلاصے کے طور پر سورہ کے مرکزی مضمون اور اہم نکات کو اختصار سے بیان کردیا گیا ہے۔ ابتدا میں قرآن سے استفادے کے لیے بنیادی اصول بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اس طرح قاری قرآنی تعلیمات سے عام فہم انداز میں بآسانی آگاہ ہوجاتا ہے اور عمل کے لیے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ کہیں کہیں تفسیر میں طویل پیراگراف ہیں جنھیں مختصر کرنے کی ضرورت ہے۔
حامد عبدالرحمن الکاف مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ، بھارت سے فارغ التحصیل ہیں۔ آیاتِ قرآنی کے نظم پر تحقیقی کام کرچکے ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔ یہ عام فہم ترجمہ و تفسیر سکول اور کالج کے طلبہ کے علاوہ عام انگریزی خواں طبقے کو قرآن کے پیغام اوراس کی روح سے آشنا کرنے کے لیے مفید ہے۔ (امجد عباسی)
شیخ ابوبکر جابر الجزائری نے کتب سیرت کے گلستان رنگارنگ و خوشبودار میں ھذا الحبیب محمدؐ یامحب کے نام سے ایک اچھا اضافہ کیا ہے۔ قبل ازیں مصنف کی کتاب منہاج المسلم عالمِ اسلام سے داد پاچکی ہے۔ سیرتِ حبیبؐ کے بارے میں مصنف کا کہنا ہے کہ سیرت کے فن پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے لہٰذا مَیں نے اس کتاب کی جمع و ترتیب میں تکرار، طول اور اختصار سے اجتناب کیا، اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایک ایسا طریقۂ کار اختیار کیا ہے جو تقسیم ابواب اور تفصیل کلام کے حُسن و جمال کے ساتھ ساتھ نہایت جامع، بڑا واضح، بہت آسان اور اس فن میں ایک مثال ہے۔ کتاب کا ایک امتیازی وصف یہ بھی ہے کہ اس کے ہر گوشے کو نتائج و عبر کے تذکرے سے مزین کیا گیا ہے اور کوئی گوشہ بھی غالباً اس سے خالی نہیں۔ (ص۱)
عرب تہذیب و تمدن اور سیاسی و سماجی پس منظر کے ساتھ ہجرت سے وصالِ رسولؐ تک کے واقعات کو سنہ وار بیان کیا گیا ہے۔ رسولؐ اللہ کی ذات والاصفات کے زیرعنوان آپؐ کے شمائل، خصائل، معجزات، آداب اور آپؐ کے خاندان، اصحابِ خاص، آپؐ سے متعلق اشیا کا ذکر ہے۔ آخر میں رسولؐ اللہ کے ۱۰ حقوق بیان کیے گئے ہیں۔
سیرتِ حبیبؐ ایک ایمان افروز، محبت انگیز اور مستند کتاب ہے۔ترجمہ اچھا ہے، تاہم کچھ چیزیں دورانِ مطالعہ روانی کو متاثر کرتی ہیں۔بعض جگہوں پر اشعارکا ترجمہ چھوڑدیا گیا ہے۔ عربی عبارات پر اعراب نہیں لگائے گئے۔ نقشہ جات کسی دوسری عربی کتاب سے لیے گئے ہیں لیکن اُن کا ترجمہ نہیں کیا گیا۔ پروف کی اغلاط اور ٹائپ کاری کا اسلوب بھی توجہ طلب ہے۔ کتاب کی باب بندی بھی نہیں کی گئی۔ اگر ان امور پر توجہ دی جاتی تو کتاب کی پیش کش مزید بہتر ہوجاتی۔ اعلیٰ کاغذ پر عمدہ طباعت ہے۔(ارشاد الرحمٰن)
محمد بن قاسمؒ کے ہاتھوں سندھ کی فتح کے بعد، اسلامی دور میں سندھ میں اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت کے کام کا بھرپور آغاز ہوا۔ عرب علما کی آمد کے علاوہ مقامی اہل علم نے بھی اس علمی تحریک میں حصہ لیا اور دینی علوم اور عربی زبان میں مہارت بہم پہنچائی۔ علماے سندھ کے تذکرے ہمارے کلاسیکل عربی ذخیرے میں جا بجا بکھرے ہیں۔ عہد قریب اور بعید کے سیرو سوانح کے تذکرے کی کتابوں میں انھیں یک جا کرنے کی کاوشیں بھی کی گئیں۔ قدیم تذکروں میں میرمعصوم شاہ بکھری کی تاریخ معصومی، میر علی شیر قانع کی تحفۃ الکرام، معیار سالکان:طریقت اور مقالات الشعراء ،اور زمانہ قریب میں مولانا عبدالحی حسنی کی نزھۃ الخواطر، مولانا دین محمد وفائی کی تذکرہ مشاہیر سندھ (تین جلدیں، سندھی) اور مولانا قاضی اطہر مبارک پوری کی رجال السند والھند الی القرن السابع نمایاں ہیں۔ سندھ میں فقہی ادب کے ارتقا پر سندھ یونی ورسٹی کے استاد ڈاکٹر قاضی یار محمد (م:۱۹۸۶ئ) نے سندھ یونی ورسٹی میں۱۹۷۹ء میں ڈاکٹریٹ کی سطح کا مقالہ بھی پیش کیا تھا جو سندھی لینگویج اتھارٹی حیدر آباد سے ۱۹۹۲ء میں شائع ہوا۔
زیر نظر تذکرہ الفقہ فی السند بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ، جس میں مؤلف نے خطۂ سندھ، اس کے شہروں اورحکمر ان خاندانوں کے اجمالی تعارف اور پھر علم فقہ کے تعارف کے بعد منتخب فقہاے سندھ اور ان کی فقہی تالیفات کا تذکرہ کیا ہے۔ عصر حاضر میں تالیف کی گئی متعد دکتب اور ان کے مؤلفین کو بھی شامل کیا گیا ہے ، مگر کئی کتابوں کے متعلق معلومات بہت مختصر اور مبہم ہیں۔ اس موضوع پر تالیف سے قاری کو یہ امید ہوتی ہے کہ سندھ کے قدیم علما نے جو تالیفی خدمات انجام دی ہیں، ان کا تفصیلی تعارف اور جائزہ پیش کیا جائے، مگر یہاں دورِ جدید کے علما کی تالیفات زیادہ نمایاں ہیں۔ نیز علمِ فقہ کے تعارف میں بھی ایک حد تک تفصیل سے کام لیا گیا ہے۔ علامہ جعفر بوبکانی کی المتانۃ فی مرمۃ الخزانۃ کا نو صفحات (ص ۱۲۲ تا ۱۳۰)پر پھیلا ہوا تعارف پورے کا پورا محمداسحاق بھٹی کی برصغیر پاک و ہند میں علم فقہ سے حرف بہ حرف لیا گیا ہے مگر کہیں بھی اس کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ مؤلف اس سرقے کا کیا جواز پیش کریں گے؟ مجموعی طور پر کتاب سے اجمالاً ہی سہی، موضوع کا اچھا تعارف ہو جاتاہے ۔ (ڈاکٹر عبدالحی ابڑو)
معروف عالم، نقاد، اور دانش ور ڈاکٹر تحسین فراقی نے تدریسی ملازمت سے سبک دوشی کے بعد، مباحث کے نام سے ایک علمی شش ماہی مجلہ (یا کتابی سلسلہ) شروع کیا ہے۔ یہ سالہا سال سے ان کی اس سوچ بچار کا نتیجہ ہے کہ ایک ایسے تنقیدی، تحقیقی اور تجزیاتی مجلے کی ضرورت ہے جو ادب اور تہذیب کے منظرنامے پر اُبھرنے والے کچھ پریشان کن سوالوں سے قاری کو دوچار بھی کرے اور جوابات کی صورت میں اسے کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرے۔ (اداریہ)
زیرنظر پہلے شمارے میں تنقید، تحقیق، پاکستانیات اور معاصر ادب کے تجزیوں پر مشتمل دو درجن سے زائد مقالات اور تبصراتی مضامین شامل ہیں۔ امجدطفیل نے ’پاکستان کا تشخص اسلامی یا سیکولر‘ کے عنوان سے نہایت تفصیلی مضمون میں کہا ہے کہ پاکستان کا آئین پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست قرار دیتا ہے۔ انھوں نے سیکولر لبرل ’دوستوں‘سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے موقف کی تائید میں حقائق اور بیانات کو مسخ نہ کریں۔ طیبہ تحسین نے ہولوکاسٹ کے موضوع پر جناب ہارون یحییٰ کی کتاب The Holocaust Violenceکا تفصیلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ خودتحسین فراقی نے معروف جرمن مستشرق این میری شمل کی غالب شناسی پر مفصل تنقید پیش کی ہے جس میں ان کی علمی کاوشوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ان کی عاجلانہ افتادِ طبع اور اس کے نتیجے میں ان سے سرزد ہونے والے تسامحات کی نشان دہی کی ہے۔ مجلے کے ایک حصے میں بعض نادر اور قدیم ادبی کتابوں کا تعارف شامل ہے۔ ایک حصے میں مولوی عبدالحق، سید سلیمان ندوی، ڈاکٹر محمدحمیداللہ، مشفق خواجہ اور فیض احمد فیض کے غیرمطبوعہ خطوط شامل ہیں۔ (سیّد سلیمان ندوی کے بعض مکاتیب قبل ازیں فاران میں چھپ چکے ہیں)۔ متعدد اہم کتابوں پر تبصرے بھی دیے گئے ہیں۔
بحیثیت مجموعی مباحث اُردو کے علمی اور ادبی مجلّوں میں ایک مختلف نوعیت کا مجلہ ہے جسے بڑی توجہ اور محنت سے مرتب کیا گیا ہے۔ فقط ذاتی ذوق و شوق اور کسی ادارے کی اعانت یا سرپرستی کے بغیر انفرادی کاوش سے ایسا مجلہ شائع کرنا ایک بڑی جسارت مگر بے حد قابلِ قدر اقدام ہے۔ کتابت، طباعت اور پیش کش معیاری اور مدیر کے صاحب ِ ذوق ہونے کی دلیل ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
پاکستان کا قیام جن مقاصد کے تحت عمل میں آیا، ان کے حصول کی کوششیں اوّل روز سے جاری ہیں۔ چنانچہ قیامِ پاکستان کے دو ہی مہینے بعد نومبر ۱۹۴۷ء میں وزارتِ تعلیم و تربیت کے زیراہتمام پہلی تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی قراردادوں کے یہ الفاظ لائق توجہ ہیں: ’’پاکستان میں تعلیمی نظام کی بنیادیں دینی قدروں، اسلامی عالم گیر اخوت، رواداری اور عدل و انصاف پر استوار ہونی چاہییں‘‘۔ اس کے بعد پاکستان میں بننے والی تقریباً تمام تعلیمی پالیسیوں میں، اسلامی نظریۂ حیات کی حفاظت، اسلامی اصولوں کے مطابق نظامِ تعلیم کی تشکیل، اسلامی اقدار کے نفاذ، اسلام اور پاکستان سے وفاداری، اسلام اور قرآن کے مطابق عملی قواعد کی بنیاد پر نصاب سازی، اور نظامِ تعلیم کی تیاری کو اساسی حیثیت حاصل رہی۔ زیرتبصرہ کتاب میں پاکستان کے نظامِ تعلیم کے اسلامی تشخص کی تفہیم کی کوشش کی گئی ہے۔
مصنف نے ۲۱ عنوانات کے تحت علم، تعلیم، مقاصد تعلیم،ذریعہ تعلیم، اسلامی تصورِتعلیم، مغربی تصورِتعلیم، نظام ہاے تعلیم کے تقابلی مطالعے، تعلیم کے جامع تصور اور مروجہ تعلیمی نظام کے اخلاقی انحطاط اور دیگر عنوانات پر نہایت موثر اور مدلل طریقے سے حقائق بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان میں ہر نئی حکومت نے مقاصد کی حد تک نظامِ تعلیم کی اسلامی شناخت برقرار رکھی ہے لیکن عملاً پاکستان میں تعلیم پہلے سرکاری تحویل میں تھی، پھر نجی ادارے قومیا لیے گئے۔ کچھ عرصے بعد نجی اداروں کی اجازت دے دی گئی، بعدازاں مالی منفعت کی خاطر تجارت بن گئی۔ اس تغیر و تبدل نے نظامِ تعلیم کو اُن مقاصد سے ہم آہنگ نہیں ہونے دیا، جو تعمیرپاکستان کی اسلامی بنیادوں میں کارفرما ہیں۔
اس بات پر تعجب کا اظہار کیاگیا ہے کہ پاکستان کے نظامِ تعلیم کی اسلامی سمت موجود ہونے اور اُسے آج تک باقی رکھنے کے بعد اب پورے نظامِ تعلیم کو سیکولر کیوں بنایا جا رہا ہے؟ آج جو لوگ پاکستان کے نظامِ تعلیم کی سیکولر تشکیل کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا یہ عمل غیرآئینی اور غیرمنطقی ہے۔کتاب نہایت سلیقے اور ترتیب سے تحریر کی گئی ہے۔ کتاب کے مضامین کی یاد دہانی کے لیے تعلیمی اصولوں کو مدّنظر رکھا گیا ہے۔ قرآنی آیات، احادیث، ماہرین تعلیم کی آرا اور مغربی مفکرین تعلیم کے اقوال سے مزین ہے۔(ظفرحجازی)
مصنف معاشیات کے استاد رہے ہیں۔ اسی دوران پاکستان کی معیشت کے مطالعے میں ان کی خصوصی دل چسپی پیدا ہوئی۔ ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے اردو کے ایک موقر روزنامے میں پاکستانی معیشت کے مسائل پر لکھنے کا آغاز کیا۔ ان کے کالموں میں پاکستانی معیشت کے بڑھتے ہوئے مسائل کی نشان دہی بھی موجود ہے اور ان کے حل کے لیے عملی تجاویز بھی۔ معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ پروفیسر صاحب نے ملک کے سماجی مسائل اور تعلیمی شعبے پر بھی خوب لکھا۔اس حوالے سے انھوں نے قوموں کے عروج زوال میں تعلیم کے کردار پر بھی بحث کی اور کھلی منڈی کی معیشت کے تعلیم پر اثرات کا جائزہ بھی لیا۔ معاشرے کی تعمیر میں استاد کے کردار اور ان کی ذمہ داریوں پر بھی لکھا اور حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی تعلیمی پالیسیو ں کاتجزیہ بھی پیش کیا۔نصاب سازی اور نصابات کی بہتری کے لیے تجاویز اور کوالٹی ایجوکیشن کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ یہ مضامین معلومات اور ملکی معاشی مسائل سے آگاہی کا ذریعہ بنے۔
مصنف نے پاکستانی معیشت کے تقریباً ہر پہلو پر قلم اٹھایا ہے۔ معیشت میں خود انحصاری کی ضرورت و اہمیت ،اس کے طریق کار، پاکستان میں ہونے والی زرعی اصلاحات اور ان کے نتائج، زرعی شعبے کے مسائل ، دیہی سطح پر پائی جانے والی غربت، سرمایہ کاری کے راستے کی رکاوٹیں اور ان کا حل ، ملک میں توانائی کے ذرائع ، خصوصا بجلی و گیس کی قلت، اور ان کی کمی پر قابو پانے کے لیے اقدامات ، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ان کے افراطِ زر پر اثرات ، پاکستان کی صنعتی پس ماندگی کی وجوہات، پاکستان پر بڑھتے ہوئے ملکی و غیر ملکی قرضے اور ان سے نجات کے طریق کار ، پاکستان کی کپڑے کی صنعت اور معیشت میں اس کے کردار، پاکستان کی معیشت پر سیاسی اثرات ، بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سمیت معیشت کے تقریباً ہر شعبے کے بارے میں اعدادو شمارکی روشنی میں اظہار خیال کیا گیا ہے۔یہ کتاب جہاں معاشیات کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے مفیدہے وہاں عام قارئین کے لیے بھی معلومات افزا ہے۔(میاں محمد اکرم)
عبیداللہ کیہر ایک تجربہ کار مسافر اور سیاح ہیں۔ ان کے سفرناموں میں کچھ مطبوعہ ہیں اور کچھ مشین بند یعنی ڈجی ٹل سفرنامے۔ ان میں سے ایک مطبوعہ سفرکہانیاں کے عنوان سے ہمارے سامنے ہے جس میں تقریباً ۳۰،۳۵ سفرنامچے جمع کیے گئے ہیں۔ یہ پاکستان، چین، ایران، آذربائیجان، سعودی عرب اور ترکی کے نئے پرانے اسفار اور مختلف اوقات میں عبیداللہ کیہر کی سیاحتوں کی مختصر رودادیں (یا مضامین) ہیں۔
یہ بے ساختہ تحریریں پانچ پانچ، سات سات صفحوں کی ہیں۔ ان میں باہمی ربط اور تسلسل نہیں کیوں کہ یہ الگ الگ علاقوں کی کہانیاں ہیں اور کہانیاں بھی ایسی جو کبھی کبھی اَدھوری رہ جاتی ہیں اور کیہرصاحب اُنھیں انجام تک نہیں پہنچاتے۔ روداد یا کہانی فقط بیانیے تک محدود رہتی ہے۔
عبیداللہ کیہر ایک خالص اور خوش باش سیاح ہیں۔وسط ایشیا یا چین کی طرف جانے والے سیاح، عام طور سے اِدھر سے جاتے ہوئے اور اُدھر سے آتے ہوئے کچھ نہ کچھ سامانِ تجارت لے چلتے ہیں، اس طرح وہ کچھ اخراجاتِ سفر نکال لیتے ہیں (حج کے مقدس سفر میں بھی ایک حد تک تجارت کی گنجایش ہوتی ہے) مگر شرعی و قانونی اجازت کے باوجود، عبیداللہ کیہر کے ’مذہب ِ سیاحت‘ میں اخراجاتِ سفر نکالنے کے لیے سامانِ سفر لے چلنا جائز نہیں۔ ان مختصر رودادوں کا تنوع قاری کے لیے دل چسپی کا باعث ہے مگر ان کا ادھورا پن لکھنے والے کی بے نیازانہ طبیعت کا مظہر ہے۔ عبیداللہ کیہر کی طبیعت میں نظیراکبرآبادی کے قلندرانہ مزاج کی کچھ کچھ جھلک نظر آتی ہے۔ جب وہ سیاحت کے لیے نکلتے ہیں تو جو سواری مل جائے، لے لیتے ہیں، جہاں سے جیسا کھانا میسر آئے، کھالیتے ہیں، البتہ کاروباری لوگوں اور حساب کتاب رکھنے والے ہم راہیوں سے انھیں پریشانی ہوتی ہے۔ ان کا اسلوب کہیں کہیں انگریزی الفاظ کے غیرضروری استعمال کی وجہ سے کھردرا ہے مگر مجموعی طور پر یہ سفرکہانیاں سادہ اور رواں بیانیے میں لکھی گئی ہیں۔
منظرنگاری کے اچھے نمونے بھی ملتے ہیں مثلاً ص ۵۰، ۷۲، ۷۶ وغیرہ ۔اگر وہ اپنے بقیّہ ڈجی ٹل (مشینی؟) سفرناموں کو بھی کاغذ پر اُتار کر کتابوں کی صورت میں پیش کریں اور زبان و بیان کی طرف تھوڑی سی توجہ دیں تو ان کا شمار اُردو کے قابلِ لحاظ اور معتبر سفرنامہ لکھنے والوں میں ہوگا، کیوں کہ ان کے ہاں ہمارے بعض نام وَر اور سفرناموں کے ڈھیر لگادینے والوں کی طرح کی بناوٹ اور تصنّع نہیں ہے۔ (ر- ہ)
سلمیٰ یاسمین نجمی معروف ادیب، افسانہ و ناول نگار اور نقاد ہیں۔ ان دنوں خواتین کے ماہانہ عفت کی ادارت بھی ان کے سپرد ہے۔
علامہ اقبال کی شاعری کا مطالعہ اس دور کی ضرورت ہے اور مختلف حلقوں کی طرف سے تفہیم اقبال کا تقاضا بھی کیا جاتا ہے۔ سلمیٰ صاحبہ نے اقبال کی بعض مختصر اور طویل نظموں کی تشریحات کا سلسلہ عفت میں شروع کیا تھا۔ اب اسے کتابی شکل میں مرتب کیا گیا ہے۔ یہ تشریحات، کلیاتِ اُردو کی ۱۲ منتخب نظموں کی ہیں۔ ہرنظم کا مختصر تعارف دینے کے بعد شعر بہ شعر تشریح کی گئی ہے۔ پاورقی حواشی میں مشکل الفاظ کے معنی دیے گئے ہیں، البتہ بہت سے مشکل الفاظ کے معنی (شاید انھیں آسان سمجھ کر) نہیں دیے گئے۔ نظموں کا پس منظر بھی مختصر ہے۔ قدرے زیادہ وضاحت ہوتی تو تفہیم نسبتاً آسان ہوتی۔
تشریحات سے پہلے سلمیٰ صاحبہ نے تمہیدی مضمون بعنوان ’ہمیں علامہ اقبال کو کیوں پڑھنا چاہیے‘ میں بتایا ہے کہ علامہ اقبال کی شخصیت اور فکر اور شاعری ایک جنریٹر کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ ہمیں ظلمات اور اندھیروں سے روشنیوں کی طرف لے آتی ہے۔ وہ کہتی ہیں اندھیرے سے روشنی میں آنا چاہتے ہو تو پھر علامہ کا کلام ہمارا بہت بڑا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ یہی اس کتاب کا جواز ہے اور یہی اس کا محرک ہے۔ ان کے خیال میں علامہ کو پڑھنا اور ان کی شاعری کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ اُمت مسلمہ سوز وسازِ رومی اور پیچ و تاب رازی سے تہی دامن ہوچکی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ہم میں وہی اضطراب اور قوتِ عمل پیدا ہوجائے جو علامہ کو بے چین اور بے قرار رکھتی تھی۔ تشریحات میں ایک توازن ہے، عام فہم ہیں اور راست فکری پر مبنی ہیں۔ (ر- ہ )
’پارلیمنٹ اور پاکستان کو درپیش چیلنج‘ (اپریل ۲۰۱۰ئ) جماعت اسلامی، اُس کے سینیٹرز اور خصوصاً پروفیسر خورشیداحمد صاحب کی کارکردگی، امانت و دیانت سے فرائض کی بجاآوری، متعین وقت کے بھرپور استعمال اور عوام اور بالخصوص اسلام کی بہترین ترجمانی کا ایک عکس ہے۔ کیا خوب ہوتا اگر ایم ایم اے دور کے (۲۰۰۲ئ-۲۰۰۸ئ) دوران جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان بھی اپنی کارکردگی کو انھی خطوط پر ضبط ِ تحریر میں لاتے تاکہ دوسری جماعتوں خصوصاً اتحادی جماعتوں کے ساتھ تقابل کیا جاسکتا۔
’فرقہ واریت، زہرقاتل‘ (اپریل ۲۰۱۲ئ) اتحادِ اُمت کے حوالے سے اہم تحریر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاداُمت کے حوالے سے سب سے بڑی ذمہ داری خود وارثانِ منبرومحراب پر عاید ہوتی ہے کہ وہ ہرقسم کے اختلافات کو بالاے طاق رکھتے ہوئے قرآن و سنت کے پیغام کو عام کریں اور اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ اپنائیں۔
’تبدیلی کی سمت اور منزل - مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست‘ (مارچ ۲۰۱۲ئ) میں لکھا گیا ہے کہ ’’خلافتِ راشدہ کے دور میں اگر کوئی شخص بیت المال کی کوئی رقم غلط خر چ کرتا تھا تو اس پر سخت کارروائی کی جاتی تھی، اور حضرت عمرؓ نے تو حضرت خالدؓ بن ولید جیسے جرنیل تک کو ۱۰ہزار درہم غلط طور پر استعمال کرنے کے جرم میں معزول کردیا تھا ‘‘ (ص ۸)۔ میرے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت خالدؓ نے جس وقت وہ رقم شاعر کو انعام دی تھی اُس وقت حضرت ابوعبیدہؓ امین الامت سپہ سالار تھے اور بیت المال اُن کی نگرانی میں تھا۔ پوری فوج کے سامنے جب حضرت خالدؓ سے اقرار کرایا گیا تھا تو انھوں نے بیت المال کے بجاے ذاتی جیب سے خرچ کرنے کا اعتراف کیا تھا جسے اسراف تو کہا جاسکتا ہے لیکن بیت المال کی رقم کا غلط خرچ نہیں کہا جاسکتا ۔ (الفاروق، شبلی نعمانی)
صوبہ پنجاب میں اُردو کے بطور ذریعۂ تعلیم پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس سال سے پورے صوبے کے پرائمری اور مڈل امتحان صرف انگریزی میڈیم کے تحت لیے گئے ہیں۔قومی اور مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔ اُردو ذریعۂ تعلیم پر پابندی کے نتیجے میں انگریزی میں حصولِ تعلیم میں دقّت کی وجہ سے بچے تعلیمی ادارے چھوڑ رہے ہیں۔ تعلیم مہنگی اور مشکل تر ہورہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہماری تہذیبی روایات کو نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔ اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانے اور ’اُردو ذریعۂ تعلیم‘ پر پابندی کے مضمرات سے آگاہی کے لیے ترجمان میں تجزیاتی مضمون کی اشاعت کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل تعلیم سے متعلق ہر اہم مسئلے پر مضامین آتے رہے ہیں۔
قارئین کی آرا کسی بھی مجلے کے لیے اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ اسی اہمیت کی بنا پر انھیں رسالے میں جگہ بھی دی جاتی ہے۔ ترجمان میں ’مدیر کے نام‘ سے کالم اگرچہ اس غرض کے لیے مختص ہے لیکن اس کے لیے صفحات کم ہیں۔ ان میں اضافے کی ضرورت ہے۔ اُردو میگزینوں میں ترجمان کی ویب سائٹ بھی ایک اچھی ویب سائٹ کے طور پر جانی جاتی ہے۔
مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ [صحابہ کرامؓ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم] نے کبھی اپنی زندگی میں مصنوعی درویشی پیدا کرنے کی کوشش نہیں فرمائی، اور نہ محض اِس غرض سے اپنے لباس، مکان اور خوراک کا معیار کم تر رکھا کہ دیکھنے والے ان کی فقیرانہ شان دیکھ کر داد دیں۔ وہ سب بالکل ایک فطری، سادہ اور معتدل زندگی بسر کرتے تھے، اور جس اصول کے پابند تھے وہ صرف یہ تھا کہ شریعت کے ممنوعات سے پرہیز کریں، مباحات کے دائرے میں زندگی کو محدود رکھیں، رزقِ حلال حاصل کریں اور راہِ خدا کی جدوجہد میں بہرحال ثابت قدم رہیں، خواہ اس میں فقروفاقہ پیش آئے، یا اللہ کسی وقت اپنی نعمتوں سے نواز دے! جان بوجھ کر بُرا پہننا، جب کہ اچھا پہننے کو جائزطریق سے مل سکے، اور جان بوجھ کر بُرا کھانا، جب کہ اچھی غذا حلال طریقے سے بہم پہنچ سکے، ان کا مسلک نہ تھا۔ ان میں سے جن بزرگوں کو راہِ خدا میں جدوجہد کرنے کے ساتھ حلال روزی فراخی کے ساتھ مل جاتی تھی وہ اچھا کھاتے بھی تھے، اچھا پہنتے بھی تھے اور پختہ مکانوں میں رہتے بھی تھے۔ خوش حال آدمیوں کا قصداً بدحال بن کر رہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پسند نہیں فرمایا، بلکہ آپؐ نے خود ان کو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کا اثر تمھارے لباس اور کھانے اور سواری میں دیکھنا پسند فرماتا ہے....
شاید لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی نعمتیں صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو خدا کا کام کرنے کے بجاے اپنا کام کرتے رہیں۔ رہے خدا کا کام کرنے والے ، تو وہ خدا کی کسی نعمت کے مستحق نہیں ہیں۔ یا پھر شاید ان کے دماغ پر راہبوں اور سنیاسیوں کی زندگی کا سکّہ بیٹھا ہوا ہے اور وہ دین داری کے ساتھ رہبانیت کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں، اس لیے کھاتا پیتا دین دار ان کو ایک عجوبہ نظر آتا ہے۔ (’رسائل و مسائل‘، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۳۸، عدد ۱-۲،رجب، شعبان ۱۳۷۱ھ، اپریل، مئی ۱۹۵۲ئ، ص ۱۰۵)