گفتگو کا موضوع عالمِ اسلام ہو یا اُمت ِمسلمہ، ایک بنیادی سوال یہ اُٹھایا جاتا ہے کہ ہم بات کس اُمت مسلمہ کی کر رہے ہیں اور کیا اس کا کوئی حقیقی وجود بھی پایا جاتا ہے یا یہ محض ایک نظری مسئلہ ہے؟ گو، گذشتہ چند ماہ میں پیش آنے والے واقعات نے نہ صرف اُمت مسلمہ کے وجود کے عینی شواہد فراہم کر دیے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس بات کو بھی پایۂ ثبوت تک پہنچا دیا ہے کہ اُمت مسلمہ میں جان ہے، حرکت ہے، فعّالیت ہے اور وقت کے جباروں اور بیرونی قوتوں کے پروردہ حکمرانوں اور ان کے ظالمانہ نظام کو اُکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ اُمید کا دمکتا سورج بھی اگر بعض مایوس ذہنوں میں جو زندگی کا صرف تاریک پہلو دیکھنے کے عادی ہوں اُمید کی کرن روشن نہ کرسکے اور عوامی صحافت کے مایوس کن تبصروں کے زیراثر قنوطیت کے طلسم سے نہ نکال سکے، تو قصور روشنی کا نہیں ان کی اپنی فکرونگاہ ہی کا ہوسکتا ہے۔
اُمت مسلمہ وہ اُمت ہے جسے روزِ اول سے اس کے خالق و مالک نے توحید کے اصول کے پیش نظر دو حوالوں سے اپنے کلام عزیز میں بیان فرمایا ہے۔ اوّلاً: کل بنی نوع آدم کو حضرت آدم علیہ السلام کی ذُریت ہونے کی بنیاد پر اُمت واحدہ فرما کر اس عالم گیر اصول کی تشریح کر دی کہ تمام انسان اصلاً ایک خاندان سے ہیں۔ ان کے رنگوں کا اختلاف، زبانوں میں فرق کا پایا جانا، ان کے قد، غذا، لباس وغیرہ میں بظاہر تنوع پایا جانا ایک ظاہری معاملہ ہے۔ قرآنی عمرانیات اور علم الانسان میں نہ کسی گورے کو کسی کالے پر، نہ کسی امیر کو کسی غریب پر، نہ کسی نام نہاد اعلیٰ منصب والے کو کسی بظاہر کم حیثیت والے فرد پر کوئی فوقیت حاصل ہے۔ تمام انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں ، اس لیے تمام انسانیت ایک اُمت واحدہ ہے:
وَ مَا کَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا ط (یونس ۱۰:۱۹) ابتدائً سارے انسان ایک ہی اُمت تھے، بعد میں انھوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے۔
یٰٓـاََیُّھَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط اِِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ o (الحجرات ۴۹:۱۳) لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔
گویا اُمت ِمسلمہ نہ کسی زبان سے وابستہ لسانی گروہ ہے، جس کا غلط اعادہ اکثر مغربی تجزیوں میں بجاے اُمت مسلمہ کے ’عرب دنیا‘ کہہ کر کیا جاتا ہے۔ نہ یہ کوئی نسلی اُمت ہے کہ اسے عرب یا عجم کے کسی قبیلے سے منسوب کیا جائے، اور نہ یہ کوئی جغرافیائی اُمت ہے کہ اسے ایشیائی، افریقی یا وسط ایشیائی لوگ کہا جائے۔
قرآن کریم اس اُمت کو صرف اس کے اللہ کی بندگی اور حق و صداقت پر قائم ہوجانے کی بنا پر اس کے اخلاقی عمل کی بنیاد پر اُمت مسلمہ قرار دیتا ہے۔ اسی بنا پر یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اس میں بڑائی کا معیار تقویٰ، پرہیزگاری، عملِ صالح اور عملِ خیر ہے۔ جو ان صفات میں دوسروں سے بڑھ کر ہوگا وہ اللہ کی نگاہ میں عزت کا مستحق ہوگا اور وہی اس دنیا میں اللہ کا زیادہ محبوب بندہ ہوگا۔
قرآن کریم نے اُمت مسلمہ کے اس صفاتی پہلو کے پیش نظر اُمت مسلمہ کی تعریف ہی یہ بیان کی ہے کہ یہ وہ اُمت ہے جو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقصد سے وجود میں لائی گئی ہے: کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ (اٰل عمران ۳:۱۱۰) ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘۔ اس سے قبل اسی سورۂ مبارکہ میں فرمایاگیا تھا: وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِط وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَo (اٰل عمران ۳:۱۰۴) ’’تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی ہونے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے‘‘۔
ان دونوں آیات پر اس تناظر میں غور کیا جائے کہ آغاز میں اُمت ِانسانی ایک تھی۔ ایک ماں باپ کی اولاد کا نظریۂ حیات، عقیدہ اور عمل مختلف نہیں ہوسکتا لیکن وقت کے گزرنے اور تعداد میں اضافہ ہونے اور فطری طور پر سیروسفر اور ضروریاتِ زندگی کی تلاش و حصول کے نتیجے میں دُوردراز علاقوں میں جاکر بس جانے کی بنا پر عقیدہ و عمل کے اختلاف صدیوں کے عمل کی بناپر وجود میں آگئے۔ انسانیت کو دوبارہ قریب لانے کے لیے یہ امر منطقی ہے کہ اسے پھر اپنے خالقِ حقیقی کی طرف بلایا جائے اور اس کی بندگی کی دعوت دے کر دلوں کو جوڑا جائے۔ اس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ کا مقصدِ وجود ہی یہ بیان فرمایا کہ یہ وہ اُمت ہے جو بھلائی، خیر، معروف اور حق کی طرف بلاتی ہے اور برائی، ظلم، ناانصافی اور جہالت کو دُور کرنے اور مٹانے کے لیے اپنے تمام وسائل کا استعمال کرتی ہے۔ گویا قرآن کریم نے اُمت مسلمہ کی تعریف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مقصد کو بھی واضح طور پر بیان فرما دیا کہ اس کا مقصد محض اقتدار، محض دولت، محض تسلط نہیں ہے بلکہ معروف اور حق کا پھیلانا اور برائی کا مٹانا ہے۔ یہ ایک مشن رکھنے والی اُمت ہے، اور اگر اسے وسائلِ حیات پر قدرت اور حکومت و اقتدار کے حصول کی دعوت دی گئی ہے تو وہ بھی اس مقصد کے حصول کے لیے طریقہ اور تدبیر کی حیثیت سے ہے۔
اس اصولی وضاحت کے بعد قرآن کریم اُمت مسلمہ کے نصب العین کے حوالے سے واضح رہنمائی کرتا ہے اور اسے ایک متحرک، بااصول اور بامقصد افراد کی جماعت قرار دیتے ہوئے نیکی کے قیام، حق و صداقت، عدل و اخوت کے نظام، اللہ رب العزت کی حاکمیت کے قیام یا دوسرے الفاظ میں اقامت دین کو اُمت مسلمہ کا نصب العین قرار دیتا ہے۔
قرآن کریم کا یہ امتیاز ہے کہ وہ ایک اصطلاح یا ایک مختصر جملے میں علم و عرفان کے ایک ذخیرے کو بیان کردیتا ہے۔ چنانچہ جب وہ یہ کہتا ہے کہ اقامت دین کی جائے تو ان دو الفاظ میں ایک انقلابی منشور فراہم کردیتا ہے جس کا شعور حاصل کرنا اور جسے عملاً اللہ کی زمین پر عملاً نافذ کرنا اُمت مسلمہ کا نصب العین اور ہدف قرار پاتا ہے۔
قرآن کریم اس نصب العین کو مسلمان کے بنیادی عقیدے سے وابستہ کرتا ہے اور اللہ پر ایمان کا پہلا تقاضا قرار دیتا ہے۔ ایک فرد جب شعوری طور پر اِس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اس نے اردگرد کے بے شمار خدائوں کو چھوڑ کر، ان سے اپنے آپ کو کاٹ کر صرف اور صرف خالق کائنات کی بندگی میں دے دیا ہے، تو پھر یہ اقرارِ عظمت و حاکمیت اُس کے دل و دماغ کی دنیا تک محدود نہیں رہتا۔ پھر اس کا کھانا پینا اوڑھنا بچھونا، آرام کرنا اور سعی و عمل، دوستیاں اور دشمنیاں، پسند و ناپسند، غرض ذاتی معاملات ہوں یا معاشی اور معاشرتی، یا سیاسی اور بین الاقوامی، ہرہرمعاملے کا فیصلہ کرتے وقت یہ دیکھنا ہوگا کہ ایسا کرنے سے رب کریم، حاکم ارض و سما ناراض ہوگا یا خوش۔ وہ شعوری طور پر پکار اُٹھے: قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَo (الانعام ۶: ۱۶۲-۱۶۳) ’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا اور سب سے پہلے سرِاطاعت جھکانے والا مَیں ہوں۔
حدیث شریف میں ایک شخص کے ایمان لانے کو اُس کے عمل سے وابستہ کرتے ہوئے یوں فرمایا گیا ہے کہ: ’’جس نے اللہ کے لیے دوستی کی اور اللہ کے لیے دشمنی کی اور اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روک رکھا، اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کرلی‘‘(عن ابوامامہ، بخاری)۔ گویا ایک شخص کا قول و عمل ہی نہیں بلکہ اس کی پسند و ناپسند کا اللہ تعالیٰ کی خوشی کاتابع ہو جانا ہی اس کے عبد اور بندے ہونے کا ثبوت ہے، ورنہ وہ مسلمانوں جیسے نام کے باوجود اپنے رب کا باغی ہی رہتا ہے۔
خاندان پر اس جواب دہی اور مسئولیت کو ایک حدیث صحیح میں یوں بیان فرمایا گیا ہے: ’’تم میں سے ہرشخص محافظ و نگران ہے، اور اس سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی جو اس کی نگرانی (مسئولیت) میں دیے گئے ہیں۔ پس امیر جو لوگوں کا نگران ہے، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی اور مرد اپنے گھر والوں کی نگران ہے، پس اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی اور بیوی شوہر کے گھر اور اولاد کی نگران ہے، اور اس سے اولاد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی (عن ابن عمر، بخاری، مسلم)۔ گویا انفرادی سطح پر اقامت دین کے ساتھ ساتھ اپنے گھر اور اہلِ خانہ کے حوالے سے دین کی ہدایات کا نفوذ اُمت مسلمہ کے ہر فرد کا نصب العین ہے۔
حدیث شریف نے اس اصلاحِ معاشرہ کے فریضے کو واضح الفاظ میں یوں سمجھایا ہے کہ ’’وہ شخص جو اللہ کے احکام کو توڑتا ہے اور وہ جو اللہ کے احکام کو توڑتے ہوئے دیکھتا ہے مگر اسے ٹوکتا نہیں، اس کے ساتھ رواداری برتتا ہے، ان دونوں کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کچھ لوگوں نے ایک کشتی لی اور قرعہ ڈالا۔ اس کشتی میں اُوپر نیچے مختلف درجے ہیں۔ چند آدمی اُوپر کے حصہ میں بیٹھے اور چندنچلے حصے میں۔ جو لوگ نچلے حصہ میں بیٹھے تھے وہ پانی کے لیے اُوپر والوں کے پاس سے گزرتے تاکہ دریا سے پانی بھریں تو اُوپر والوں کو اس سے تکلیف ہوتی۔ آخرکار نچلے حصے کے لوگوں نے کلھاڑی لی اور کشتی کے پیندے کو پھاڑنے لگے۔ اُوپر والے حصے کے لوگ ان کے پاس آئے اور کہا: تم یہ کیا کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہمیں پانی کی ضرورت ہے اور دریا سے پانی اُوپر جاکر ہی بھرا جاسکتا ہے اور تم ہمارے آنے جانے سے تکلیف محسوس کرتے ہو، تو اب کشتی کے تختوں کو توڑ کر دریا سے پانی حاصل کرلیتے ہیں۔ حضوؐر نے یہ مثال بیان کر کے فرمایا: اگر اُوپر والے نیچے والوں کا ہاتھ پکڑ لیتے اور سوراخ کرنے سے روک دیتے تو انھیں بھی ڈوبنے سے بچا لیتے اور اپنے آپ کو بھی بچا لیتے۔ اور اگر انھیں ان کی حرکت سے نہیں روکتے اور چشم پوشی کرتے ہیں تو انھیں بھی ڈبوئیں گے اور خود بھی ڈوبیں گے۔ (عن نعمان بن بشیر، بخاری)
اس خوب صورت مثال سے واضح ہے کہ اگر معاشرے میں برائی پھیلے گی ، وہ فحاشی ہو، بدامنی ہو، چوری ہو، بداخلاقی ہو، یا جھوٹ اور بے ایمانی ہو، تو معاشرے کا ہر فرداس سے متاثر ہوگا۔ اگر معاشرے میں بھلائی، معروف اور حق پھیلے گا تو معاشرے کے ہر فرد کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔ اسی طرح اگر نفسانفسی کی بنا پر معاشرے کی اصلاح نہ کی گئی تو جو لوگ چشم پوشی کر رہے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیں گے۔
قرآن کریم بار بار اپنے ماننے والوں کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ کدھر جارہے ہیں، این تذھبون۔ اصل حاکم و مالک کو بھول کر عارضی اور بذاتِ خود مجبور ’خدائوں‘ کی طرف کیوں مدد کے لیے دیکھتے ہیں، جب کہ اصل حامی و ناصر، قوت والا اور تمام انسانوں کی ضروریات پورا کرنے والا صرف اور صرف اللہ رب کریم ہے، جس کے ہاں تمام انسانوں کی حاجات پوری کرنے کے بعد بھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ اللہ کی طرف رجوع اور زمین پر اس کی حاکمیت و اقتدار کو قائم کرنا، گویا اُمت مسلمہ کے نصب العین کا چوتھا تقاضا ہے اور اس کی تکمیل کے بغیر وہ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتی۔
اسلام جس تبدیلیِ نظام کی دعوت دیتا ہے، وہی انبیاے کرام ؑکی دعوت کا نقطۂ آغاز رہا ہے۔ چنانچہ تمام انبیاے کرام نے ایک ہی بات کی دعوت دی: یعنی وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ (النحل ۱۶:۳۶) ’’ہم نے ہر اُمت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اس کے ذریعے سے سب کو خبردار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو‘‘۔ اگر اُمت مسلمہ اپنے نصب العین کے حصول کے لیے یکسو ہوکر جدوجہد کرے گی تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کو کم تعداد میں ہونے کے باوجود باطل قوتوں کی کثرت پر بھی غلبہ دے گا۔ قَالَ الَّذیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوا اللّٰہِ کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً م بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ o (البقرہ ۲:۲۴۹)’’لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انھیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے، انھوں نے کہا: بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے‘‘۔
اقامت دین کے لیے جدوجہد میں بالعموم کفر اور ظلم کی کثرت کو دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ حق اتنے بڑے ہجوم پر کیسے غالب آئے گا؟ شیطان وساوس کے ذریعے اس احساس کو بعض اوقات نفسیاتی یقین تک پہنچا دیتا ہے۔ قرآن کریم اس کارد کرتے ہوئے ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ اہلِ ایمان کو اس مقابلۂ حق و باطل میں دل مضبوط کر کے اپنے رب پر اعتماد کر کے اپنی قوت کو بازی پر لگانے میں کوئی تردّد نہیں کرنا چاہیے۔ یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ ط اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ o (انفال ۸:۶۵) ’’اے نبیؐ! مومنوں کو جنگ پر اُبھارو۔ اگر تم میںسے ۲۰ آدمی صابر ہوں تو وہ ۲۰۰ پر غالب آئیں گے اور اگر ۱۰۰آدمی ایسے ہوں تو منکرینِ حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے‘‘۔
پہلا یہ کہ کفر کی کثرت انھیں حق کے قیام اور دین کی سربلندی کی جدوجہد سے غافل نہ کردے۔ اس لیے فرمایاگیا کہ اے نبیؐ! انھیں مسلسل جدوجہد اور جہاد پر اُبھاریے۔
دوسری بات یہ سامنے آتی ہے کہ اُمت مسلمہ کا اپنے نصب العین کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ایک بابرکت عمل ہے کہ اس میں اللہ کی مدد سے ۲۰ صابر و باشعور ۲۰۰ بے شعور افراد پر غالب آئیں گے۔ گویا اصل بنیاد تعداد (quantity)نہیں ہے بلکہ کیفیت (quailty) ہے۔ اسی لیے جو اصطلاح مجاہدین کے لیے یہاں استعمال کی گئی وہ صابروں کی ہے، یعنی وہ اسلامی کارکن جو مقصدِحیات کے شعور کے ساتھ مسلسل مشکلات میں اپنے کام میں لگے رہتے ہیں، جو مخالف قوتوں کی تعداد سے خائف نہیں ہوتے بلکہ اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے مستقلاً استقامت کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔ یہی وہ صابرین، مجاہدین اور متقین ہیں جن کی کامیابی کا وعدہ اللہ رب العالمین فرماتے ہیں۔
آخری بات یہاں یہ سمجھائی جارہی ہے کہ مخالف افراد وہ ہیں جو شعور نہیں رکھتے، جب کہ اقامت دین کی جدوجہد میں شامل افراد کو زندگی کے مقصد کا شعور ہے، اور وہ نصب العین سے آگاہ ہیں۔ وہ حدِ نگاہ تک نہ صرف اپنے مقصد و ہدف سے آگاہ ہیں بلکہ مستقل طور پر منزل پر نگاہ جمائے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شبہہ اور تذبذب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت پر پورے اعتماد کے ساتھ اپنے وسائل کی کمی کے باوجود انھیں اس دنیا اور آخرت میں کامیابی پر پورا یقین ہے۔
نصب العین کا یہ ادراک اور وژن کا نہ صرف واضح ہونا بلکہ اس پر عین الیقین ہی وہ بنیاد ہے جو عمل میں تبدیل ہوتی ہے تو مشکلات کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں، اور ظلم و طغیان کی آندھیاں زمین بوس ہوجاتی ہیں، اور اللہ کی نصرت دائیں سے اور بائیں سے، اُوپر سے اور نیچے سے آکر اپنے صابر بندوں کو کامیابی سے ہم کنار کرتی ہے۔
اہلِ کتاب کے سیاق و سباق میں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی نصرت و رحمت کے حوالے سے غور کرنے والوں کے لیے اہم مواد فراہم کرتا ہے:
وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰھُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ o وَلَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ طمِنْھُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ ط وَ کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ سَآئَ مَا یَعْمَلُوْنَo (المائدہ ۵: ۶۵-۶۶) اگر (اس سرکشی کے بجاے)یہ اہلِ کتاب ایمان لے آتے اور خداترسی کی رَوِش اختیار کرتے تو ہم ان کی بُرائیاں اِن سے دُور کردیتے اور اِن کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے۔ کاش انھوں نے تورات اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ ایسا کرتے تو ان کے لیے اُوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست رَو بھی ہیں، لیکن ان کی اکثریت سخت بدعمل ہے۔
گویا اعتصام بالقرآن والسنہ وہ نسخہ ہے جس کے نتیجے میں اُمت مسلمہ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرسکتی ہے۔ اللہ کا جو وعدہ اہلِ کتاب سے ہے وہی اُمت کے ان افراد سے ہے جو نصب العین کا شعور رکھتے ہوں اور صبرواستقامت کے ساتھ اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف ہوں۔
قرآن و سنت کے مثبت اور تعمیری نقطۂ نظر پر غور کیا جائے تو بعض اوقات شیطان انسان کو جن حیلوں، بہانوں سے اقامت دین کی جدوجہد کے حوالے سے مایوسی، نااُمیدی اور نصب العین کے بارے میں شکوک میں مبتلا کرنا چاہتا ہے، ان کی قلعی کھل جاتی ہے۔ کبھی وہ یہ کہتا ہے کہ کفروطاغوت اور فحاشی کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مقابلہ اتنی مختصر جماعت کے ساتھ کب تک کرو گے؟ بہتر ہے وقت کے دھارے کے ساتھ بہنا سیکھو۔ جو جھوٹ، مکر اور فریب کی سیاست عام سیاسی بازی گر کرتے ہیں، تم بھی وہی کرو کہ کامیابی کا راستہ یہی ہے۔ کبھی وہ کہتا ہے کہ اس فتنے کے دور میں اضطراری طور پر ایسے بہت سے کام کیے جاسکتے ہیں جو عام حالات میں شریعت کے منافی ہیں۔ کبھی وہ اس طرف لے جانا چاہتا ہے کہ مکمل دین کی اقامت کی جگہ دین کی بعض وہ تعلیمات جن پر کسی کو اعتراض نہ ہو، انھیں اختیار کرلیا جائے۔ چنانچہ اُمت مسلمہ کے ادوارزوال میں عموماً روحانیت اور قلبی کیفیات پر زیادہ توجہ ہوجاتی ہے، اور طاغوتی نظام کو ایک مجبوری کے طور پر پہلے گوارا اور بعد میں بلااِکراہ قبول کرلیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا دائرہ نماز کے فرائض و واجبات اور مکروہات کی تفصیل تک محدود ہوجاتا ہے اور معاشی، معاشرتی، ثقافتی معاملات میں شیطان اور اس کی ذُریت کو چھا جانے کا پورا موقع فراہم کردیا جاتا ہے۔
اقامتِ دین کا مفہوم مکمل دین کی اقامت ہے، یعنی چاہے کوئی معاملہ ذاتی زندگی سے متعلق ہو یا معاشرت سے یا معاش و سیاست سے، ہرہرشعبۂ حیات میں قرآن و سنت کی ہدایات و تعلیمات کو بغیر کسی معذرت کے نافذ کرنا ہی اقامت ِ دین ہے۔ اقامت دین کے جن پانچ مراحل کا ذکر اُوپر کیا گیا ہے، یہ الگ الگ کرنے کا کام نہیں ہے بلکہ ان سب کو متوازی طور پر کرنے کا نام اقامت دین ہے۔ نصب العین کا شعور، ترجیحات کا تعین، حکمت عملی کی تشکیل اور قریب المیعاد اور طویل المیعاد منصوبہ بندی وہ ذرائع ہیں جو اقامت دین کی جدوجہد کو کامیابی سے ہم کنار کر سکتے ہیں۔ تحریکِ اسلامی کے لیے اس پُرآشوب دور میں اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اپنے نصب العین کے پیش نظر ایسی حکمت عملی وضع کرے جو بغیر کسی مفاہمت، معذرت یا مقصدِحیات سے انحراف کے، قوم کو اعتماد، یک جہتی اور صبرواستقامت کے ساتھ ترقی کی طرف لے جاسکے۔
یہ خبر ملاحظہ کیجیے: ’’اسلام آباد میں آج کل واشنگٹن کی اس تجویز پر غور ہو رہا ہے کہ افغانستان میں مقیم امریکا اور ناٹو افواج کا مالی بوجھ اُٹھانے میں مسلم ممالک بھی شرکت کریں‘‘۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ایک اہل کار نے ۱۹؍اپریل ۲۰۱۲ء کو یہ بات دی ایکسپریس ٹربیون کو بتائی۔امریکی منصوبے میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے: پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک ہرسال ایک خاصی رقم افغان سیکورٹی فنڈ میں دیں تاکہ ۲۰۱۴ء تک اور ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی افغانستان کی قومی سلامتی کی افواج (ANSF) پر صرف کی جاسکے۔
’’وزارتِ خارجہ کے اہل کار نے نام نہ بتانے کی شرط پر تجویز کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ناٹو نے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ بین الاقوامی برادری افغانستان میں ’دہشت گردی‘ جڑ سے اکھاڑنے میں مالیات فراہم کرکے حصہ لے۔ اس اہل کار کے مطابق پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کی کوشش میں حصہ لینے کے لیے رضامند ہے۔ لیکن وہ تنبیہہ کرتا ہے کہ ملک کو اس تجویز پر غور کرنے میں خصوصی احتیاط (extra care) کرنا پڑے گی، کیوں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف امریکا کی عالمی لڑائی کی حمایت کرنے کی وجہ سے پہلے ہی تحریکِ طالبان پاکستان اور دوسرے جنگجوئوں کے غیض و غضب کا سامنا کر رہے ہیں۔
’’مئی ۲۰۱۲ء میں شکاگو میں جو سربراہ کانفرنس ہورہی ہے اس میں طے کیا جائے گا کہ اے این ایس ایف کو اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے کس قسم کی مدد دی جائے۔ افغان افواج کی حیثیت، ان کی تربیت کے انتظامات اور دیگر متعلقہ مسائل پر اس کانفرنس میں غور کیا جائے گا۔ افغانستان میں متعین ناٹو کی زمینی افواج کا بل ادا کرنے کے لیے یورپی ریاستوں کی نارضامندی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ یہ کام وہ تقریباً ایک عشرے سے کر رہے ہیں۔ ناٹو کے سیکرٹری جنرل نے اپنی ۲۰۱۱ء رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ ممبر ممالک بجٹ میں اپنا مالی حصہ کم کررہے ہیں ۔ اپنی قسم کی اس پہلی رپورٹ میں انھوں نے کہا ہے کہ حالیہ معاشی بحران کی وجہ سے دفاعی اخراجات غیرمعمولی طور پر کم ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۲۸ میں سے ۱۸ حلیف ممالک کے دفاعی سالانہ بجٹ ۲۰۱۱ء میں ۲۰۰۸ء سے بھی کم ہیں۔ مزید کمی کا اعلان کیا جاسکتا ہے، یا ان کے بارے میں پیش گوئی کی جاسکتی ہے، جب کہ ناٹو سے باہر بہت سے ممالک کی دفاعی صلاحیت اور بجٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
’’آسٹریلیا کے نیشنل ٹائمز نے لکھا ہے کہ’’امریکا نے بتایا ہے کہ افغان افواج اور پولیس کے لیے ۱ئ۴ ارب ڈالر سالانہ درکار ہوں گے، لیکن افغانستان میں کئی سال سے کافی کچھ خرچ کرنے کے بعد ناٹو ممالک اپنا ہاتھ کھینچنا چاہتے ہیں‘‘۔ (دی ایکسپریس ٹربیون، لاہور، ۲۰؍اپریل)
یہ خبر کسی تبصرے کی محتاج نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے لیے مسئلہ امریکا کی چاکری نہیں، اس چاکری کو پاکستان کے غیور عوام کا قبول نہ کرنا ہے۔ اگر عوام کا غیظ و غضب قابو کیا جاسکے تو وہ ہر طرح حاضر ہیں۔ ہمارے نادان دوست سمجھاتے ہیں کہ ہم امریکا سے اپنے اخراجات وصول کرلیں گے، کنٹینروں پر ٹیکس سے کمائی کرلیں گے، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کی مد میں کچھ مانگ لیں گے، لیکن شاطر امریکا تو آیندہ کئی برس تک اپنا خرچ بھی ہمارے کندھوں پر ڈالنا چاہتاہے، اور ہم اس کے لیے تیار ہیں!
امریکا ہمارا کیسا دوست اور حلیف ہے، اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ وزیر خارجہ امریکا نے فرمایا ہے کہ اگر پاکستان نے ایران سے پائپ لائن تعمیر کرنے کی ’کوشش‘ کی تو ہم اس پر پابندیاں لگادیں گے جس سے اس کی ڈگمگاتی معیشت مزید بے حال ہوجائے گی۔
ہم ایران پر پابندیاں لگائیں اور پاکستان اس سے معاہدہ کرے، یہ مجال!
اب بولیں ہماری وزیر خارجہ حنا ربانی کھر صاحبہ!!
مستقبل کا مؤرخ جب آج کے پاکستان کی اور خصوصاً عدلیہ کی تاریخ لکھے گا ، تو موجودہ سپریم کورٹ کے ازخود، یعنی سوموٹو (suo moto) نوٹس کو خصوصی مقام دے گا۔ اس لیے کہ سپریم کورٹ نے اپنے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے معاشرے کے معلوم نہیں کن کن دائروں میں انصاف دینے اور اصلاح کرنے کی ’حتی المقدور‘ کوشش کی ہے۔ اسی سلسلے میں ان تین نومسلم خواتین فریال بی بی، حفصہ بی بی اور حلیمہ بی بی کا مسئلہ حل کرنا بھی ہے جس پر سندھ کی ہندو آبادی اور ہماری سیکولر غیرحکومتی تنظیموں (این جی اوز) کی طرف سے بڑی گرد اُڑائی جارہی تھی اور پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کیا جا رہا تھا۔ سپریم کورٹ نے ان تین خواتین کو تین ہفتے دارالامان میں رکھا تاکہ وہ آزادانہ سوچ بچار کریں۔ پھر جب وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں تو انھیں موقع دیا کہ رجسٹرار کے کمرے میں بغیر کسی دبائو کے اپنے موقف کا حلفیہ بیان دیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اسلام برضا و رغبت قبول کیا ہے۔
ان خواتین کے اسلام قبول کرنے کی وجہ ہندو معاشرے کے خصوصی حالات ہوں یا کچھ اور، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کل پوری دنیا میں اسلام قبول کرنے کی ایک لہر ہے۔ جتنا جتنا اسلام کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، اتنا ہی لوگوں میں اسلام کی حقیقت جاننے کا شوق پیدا ہوتا ہے، اور جب وہ اس فطری دین کے قریب آتے ہیں تو اپنے ماضی کے مذہب کو ترک کرکے شعوری فیصلے کے تحت اسے قبول کرتے ہیں۔ اس پر دشمنانِ اسلام جو بھی واویلا کریں، وہ اسلام کے روشن چہرے کو گہنا نہیں سکتے۔ وہ حساب لگاتے ہیں کہ ۲۰۵۰ء تک یورپ یوریبیا (Euarabia) ہوجائے گا ۔ امریکا میں برطانیہ اور فرانس میں اتنے اتنے لوگ ہرسال اسلام قبول کر رہے ہیں، مسجدوں اور اسلامی مراکز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماسکو میں بھی نئی مسجدیں تعمیر ہورہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ خود بھارت کے بارے میں مسلسل خبریں آتی ہیں کہ وہاں ہندو بڑی تعداد میں مسلمان ہورہے ہیں لیکن ان چیزوں کی عام اشاعت نہیں کی جاتی کہ بھارت کی ’سیکولر‘ ہندو ریاست کا ردعمل اُبھر کر سامنے نہ آئے۔
پاکستان کے موجودہ حالات کچھ بھی ہوگئے ہوں، اس کے قیام کی جدوجہد، قیام کا مقصد، اس کا دستور، اس کی قراردادمقاصد، سب اسے ۲۰ویں صدی میں قائم ہونے والی اسلامی ریاست بتاتے ہیں جسے اس کے پہلے وزیراعظم کے بقول ’انسانیت کے لیے روشنی کا مینار‘ بننا تھا۔ ہمارے سفارت خانوں کو پاکستان کے مفادات کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ متعلقہ ملک میں دعوتِ اسلامی کے فروغ کی کوششیں بھی کرنا چاہییں اور انھیں اس کے لیے بجٹ ملنا چاہیے۔ خود پاکستان کے اندر ریاست کا یہ فریضہ ہونا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو بحیثیت مسلمان زندگی گزارنے کے لیے آسانیاں بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ غیرمسلموں کو اسلام کی طرف دعوت دے۔ کسی جبرو اِکراہ کے بغیر اگر وہ اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہیں تو اس کی سہولت بہم پہنچائے ،اور انھیں سابقہ مذہب کے علَم برداروں اور رشتہ داروں کے ظلم سے بچائے۔
حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ ایسا نہ ہو کہ غیرمسلم اقلیتیں اپنے بالغ افراد کو ظلم و جبر اور پابندیاں لگا کر اپنے مذہب سے وابستہ رکھیں اور انھیں ہدایت کے راستے پر جانے نہ دیں۔ سندھ میں تین بالغ ہندو لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے پر ان کی برادری کے مزاحمت کرنے کی کوئی توجیہہ بیان کی جاسکتی ہے، خواہ وہ معقول ہو یا نہ ہو، لیکن ہمارے مسلمان بھائیوں کو کیا تکلیف ہوئی کہ انھوں نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ پیپلزپارٹی کے ایم این اے ان کے وکیل بن کر آگئے۔ این جی اوز کو تو جیسے ’بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا‘ کے مصداق مزے آگئے اور بیرونی آقائوں کا نمک حلال کرنے کا موقع ملا۔ اپنے اسلام پر تو غالباً شرمندہ ہی ہوتے ہوں گے، لیکن ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ اپنے اثرورسوخ سے پاکستان میں ایسا قانون بنوا دیں کہ اقلیتی فرقے کا کوئی فرد اسلام قبول نہ کرسکے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کو سیکولر کہتے ہیں، آزادیِ راے کے علَم بردار ہیں لیکن اُسی حد تک جو وہ بتائیں۔ کوئی بالغ فرد اپنی آزادانہ راے سے اسلام قبول کرے تو یہ انھیں قبول نہیں۔ اس واقعے نے پاکستانی عوام کے سامنے ان کا حقیقی چہرہ کھول کر رکھ دیا ہے کہ یہ کہنے کو مسلمان اور پاکستانی ہیں، لیکن پاکستان کی اسلامی بنیادوں کا انکار کرتے ہیں اور تاریخ مسخ کر کے قائداعظم علیہ الرحمہ پر بہتان لگاتے ہیں کہ وہ سیکولر پاکستان کے علَم بردار تھے (العیاذ باللّٰہ)۔
تفہیم القرآن تحریر کرنے کے لیے مولانا مودودیؒ جو سخت محنت کیا کرتے تھے، اس کا ذکر خواجہ اقبال ندوی صاحب نے ان الفاظ میں کیا ہے:’’کلام اللہ کے منشا و مفہوم کو سمجھنے کا سب سے پہلا ذریعہ مولانا کے نزدیک خود کلام اللہ تھا۔ چنانچہ وہ اپنے کمرے میں آتے تو وضو کرکے آتے اور بیٹھنے کے ساتھ ہی متعلقہ حصے کی تلاوت شروع کردیتے اور بار بار اسی کو پڑھتے اور اس پر غوروفکر کرتے رہتے۔ مَیں نے مولانا کو چند رکوع کئی کئی گھنٹے تک بار بار تلاوت کرتے دیکھا ہے۔ یہ کام جب ہوجاتا تو یہی مضامین قرآن مجید میں جہاں جہاں آئے ہیں، ان سب کو مولانا اکٹھا کرلیتے اور ان پر غوروفکر کرتے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی تشریح کے لیے حدیث، سیرت، رجال اور تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے۔ پھر متقدمین سے لے کر معاصرین تک تمام تفاسیر کے مطالعے میں لگ جاتے۔ درمیان میں کہیں ضرورت ہوتی تو لُغت اور کلامِ عرب کی طرف مراجعت فرماتے۔ پھر صحفِ سماوی کے تمام نسخوں سے قرآن کے تقابلی مطالعے کے بعد آثارِ قدیمہ کی دریافتوں اور تاریخ کے پورے ذخیرے سے متعلقہ عہد کا مطالعہ فرماتے رہتے۔ غرض کوئی چیز چھوٹنے نہ پاتی، جو متعلقہ عہد کے حصہ پر کسی طور سے بھی روشنی ڈالتی ہو۔ یہ مولانا کے مطالعۂ قرآن کا پہلا دَور ہوتا۔ پھر وہ سکون کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت شروع کردیتے اور ایسے تمام سوالات لکھتے جاتے جو متعلقہ حصے کے مطالعے کے سلسلے میں ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوسکتے تھے۔ اب تمام سوالات کو سامنے رکھ کر تفسیر، سیرت، حدیث اور اَئمہ مجتہدین کی کتابوں کا مطالعہ شروع کردیتے اور ہفتوں یہ سلسلہ چلتا رہتا یہاں تک کہ مطالعۂ تفسیر، حدیث و سیرت کے کئی دَور مکمل ہوجاتے۔ قرآن فہمی کے سلسلے میں ان کا سب سے مضبوط سہارا اللہ کی توفیق اور اس کا فضل رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نواز دے، اور اپنی کتاب کے فہم کے مزید باب وا کردے۔ مطالعے کے بعد ترجمانی شروع ہوتی تو تمام ترجموں سے تقابل کرتے رہتے۔ کہیں اشتباہ ہوجاتا تو پھر مطالعہ شروع ہوجاتا۔ گویا عبارت میں حَک و جلا [تراش خراش] کا سلسلہ آخر تک جاری رہتا‘‘۔ (تذکرۂ سید مودودی، ج۲،ص ۳۰۴)
مولانا مودودی نے تفہیم القرآن کے اُس دیباچے میں جو انھوں نے نیوسنٹرجیل، ملتان میں ۱۱ستمبر ۱۹۴۹ء کو حوالۂ قرطاس کیا تھا، تحریرِ تفہیم کی غرض و غایت یہ بیان کی ہے: ’’میں ایک مدت سے محسوس کر رہا تھا کہ ہمارے عام تعلیم یافتہ لوگوں میں روحِ قرآن تک پہنچنے اور اس کتابِ پاک کے حقیقی مدعا سے روشناس ہونے کی جو طلب پیدا ہوگئی ہے اور روزبروز بڑھ رہی ہے وہ مترجمین اور مفسرین کی قابلِ قدر مساعی کے باوجود ہنوز تشنہ ہے۔ اس کے ساتھ میں یہ احساس بھی اپنے اندر پا رہا تھا کہ اس تشنگی کو بجھانے کے لیے کچھ نہ کچھ خدمت میں بھی کرسکتا ہوں۔ انھی دونوں احساسات نے مجھے اُس کوشش پر مجبور کیا جس کے ثمرات ہدیۂ ناظرین کیے جارہے ہیں‘‘۔(تفہیم القرآن، ج۱،ص ۵)
’عام تعلیم یافتہ لوگوں‘ تک اپنی تفسیر کو محدود کرنے کے بعد انھوں نے مزید وضاحت اس طرح کی: ’’اس کام میں میرے پیشِ نظر علما اور محققین کی ضروریات نہیں ہیں، نہ ان لوگوں کی ضروریات ہیں جو عربی زبان اور علومِ دینیہ کی تحصیل سے فارغ ہونے کے بعد قرآنِ مجید کا گہرا تحقیقی مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حضرات کی پیاس بجھانے کے لیے بہت کچھ سامان پہلے سے موجود ہے‘‘۔ (ایضاً، ص ۵-۶)
دوبارہ وہ اپنے ’عام تعلیم یافتہ لوگوں‘ کے عموم کی تخصیص اس طرح کرتے ہیں: ’’میں جن لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں وہ اوسط درجے کے تعلیم یافتہ لوگ ہیں جو عربی زبان سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں اور علومِ قرآن کے وسیع ذخیرے سے استفادہ کرنا جن کے لیے ممکن نہیں ہے، انھی کی ضروریات کو میں نے پیشِ نظر رکھا ہے۔ اسی وجہ سے اُن تفسیری مباحث کو میں نے سرے سے ہاتھ ہی نہیں لگایا ہے، جو علمِ تفسیر میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں مگر اس طبقے کے لیے غیرضروری ہیں‘‘۔ (ایضاً، ص۶)
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تفہیم کی تحریر کے آغاز پر کوئی ۲۷برس گزرنے کے بعد مولانا مودودیؒ کے ہاں ’عام تعلیم یافتہ لوگوں‘ اور ’اوسط درجے کے تعلیم یافتہ لوگوں‘ کی خدمت کے بجاے آیندہ نسل کے لیے کچھ کرنے کے جذبے نے جگہ لے لی۔ اس کی توضیح انھوں نے تکمیلِ ترتیب تفہیم القرآن کے موقع پر یوں کی:’’حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دو تین سال سے میں لوگوں سے اس بات کو کہتا تھا۔ لوگ چاہتے تھے کہ موجودہ زمانے کے سیاسی مسائل حل کرنے کے لیے میں دوڑ دھوپ کروں اور میں ان سے یہ کہتا تھا کہ پچھلی نسل کی جو خدمت میرے بس میں تھی، وہ میں کرچکا، اب مجھے آیندہ نسل کے لیے کچھ کرنے دیجیے۔ چنانچہ اسی خواہش کے تحت میں نے اپنی تمام توجہ اور محنت تفہیم القرآن کی تکمیل پر صرف کردی، یہ سمجھتے ہوئے کہ آیندہ نسلوں کو اسلام کے راستے پر قائم رکھنے میں یہ ان شاء اللہ مددگار ثابت ہوگی اور جب تک یہ موجود رہے گی ان شاء اللہ آیندہ نسلوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ نہیں رہے گا۔ آیندہ نسلوں کی خاطر ہی میں یہ کام کررہا تھا اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہے کہ نئی نسل کو یہ چیز پسند آئی اور اس کے اندر یہ مقبول ہورہی ہے‘‘۔ (ترجمان القرآن، اگست ۲۰۰۹ئ، ص ۳۷، بحوالہ ایشیا، جولائی ۱۹۷۲ء )
اپنے خطاب کے اس فقرے میں مولاناؒ نے اپنی تفسیر کے بارے میں بڑی خوش آیند باتیں کہی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ تفسیر دراصل ’آیندہ نسلوں‘ کے لیے لکھی گئی تھی، اس اُمید پر کہ وہ ان نسلوں کو اسلام کے راستے پر قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس سے بڑھ کر یہ بات کہ جب تک یہ موجود رہے گی ان شاء اللہ آیندہ نسلوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ نہیں رہے گا۔ الحمدللہ! ہوا بھی ایسا ہی۔ اس تفسیر کو پایۂ تکمیل کو پہنچے تقریباً ۳۷برس ہوچکے ہیں۔ وہ ابھی تک اُبھرتی ہوئی نسلوں کو اسلام کے راستے پر قائم رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔
یہی وہ قرآن سے ماخوذ توحید، رسالت، آخرت اور وحی وغیرہ پر قوی اور مؤثر استدلال ہے جو مخالف کو سکوت اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے اگرچہ وہ اسے موافق بنانے میں ناکام ہی کیوں نہ رہا ہو۔ یہی وہ طرزِ استدلال ہے جس کی وجہ سے مولانا مودودیؒ کو ’متکلم اسلام‘ کا خطاب دیا گیا تھا اور جس پر تقریباً سارے ہی مذاہب فکر کا اتفاق تھا اور آج تک ہے۔ ’متکلم‘ اسلام ایک عام اور جامع خطاب ہے جو زمان و مکان سے بالاتر ہے۔ لگے ہاتھوں اس خطاب میں، مولانا ؒ نے تفہیم کا سیرتِ نبویہ شریفہ اور احادیث نبویہ شریفہ سے تعلق بھی واضح کردیا تاکہ جو غلط فہمیاں ارادتاً پھیلائی جاتی ہیں ان کا سدباب کیا جائے: ’’تاہم آپ دیکھیں گے کہ میں نے قرآن مجید کا سیرت سے تعلق جگہ جگہ دکھایا ہے۔ پوری ریسرچ کرکے، پوری تحقیقات کر کے میں نے یہ معلوم کیا ہے کہ قرآن کی کون سی آیت اور کون سی سورت کس زمانے میں نازل ہوئی اور اس زمانے کے حالات کیا تھے۔ اس طرح سیرت کے ساتھ قرآن مجید کا تعلق میں برابر تفہیم القرآن میں ہر جگہ ابتدا سے لے کر آخر تک دکھاتا رہا ہوں‘‘۔ (ایضاً، ص ۳۹)
مولانا مودودیؒ نے اگرچہ اپنی تفسیر کو ذخیرۂ تفاسیر میں پہلی حرکی تفسیر قرار نہیں دیا ہے لیکن میرے نزدیک ابتدا سے لے کر آخر تک قرآن مجید اور سیرتِ نبویہ شریفہ کے درمیان قائم کردہ ربط و ضبط نے تفہیم کو ذخیرۂ تفاسیر میں پہلی حرکی تفسیر کی صفت عطا کی ہے۔ یہی وہ وصف و صفت اور خاصیت ہے جو اس کو دوام بخشے گی ان شاء اللہ، کیونکہ ساری دنیا میں چلنے والی اسلامی تحریکوں کو وہ راستہ دکھاتی رہے گی جس پر چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐکے جاں نثار ساتھیوں نے قرآنِ مجید کو ایک زندہ اور چلتی پھرتی حقیقت بنایا تھا۔
اسی حرکی تفہیم کا عربی پرتو، اور ذخیرۂ تفاسیر میں دوسری حرکی تفسیر سیدقطب شہیدؒ کے سرخ لہو کی سیاہی سے لکھی ہوئی نہایت ہی بلیغ و فصیح اور آبشار کی طرح دندناتی ہوئی تفسیر فی ظلال القرآن ہے۔ اس میں مولاناؒ کی نادرِ روزگار کتاب: قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں (الٰہ، رب، عبادت اور دین) کو جوں کا توں قبول کر کے اور مولاناؒ کی دوسری اہم کتابوں اسلام و جاہلیت، دین حق، جہاد فی سبیل اللّٰہ، تفسیر سورۃ النور اور سود، سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے سید قطب شہیدؒ نے فکرِ مودودی کو آسمانِ خلود کا چمکتا دمکتا ستارہ بنا دیا ہے۔ فی ظلال جب تک پڑھی جائے گی اس وقت تک فکرِ مودودی زندہ اور متحرک رہے گی اور اسلامی تحریکوں کی ظلال اور تفہیم کے ذریعے رہنمائی کرتی رہے گی۔ رحمہما اللہ تعالیٰ الابرار۔
رہا اس خطبے میں مولانا کا احادیث سے تفہیم میں استفادے کا ذکر، تو یہ ایک ایسے شخص سے بالکل ہی متوقع امر ہے جو بے دھڑک ختمِ نبوت کے دفاع میں پھانسی کے تختے پر لٹک جانے کے لیے بالکل تیار تھا کیونکہ احادیث ہی اس دین کی عملی تطبیق کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ اس لیے قرآن و حدیث کے چولی دامن جیسے تعلق کا انکار صرف کوئی احمق اور بدبخت ہی کرسکتا ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولاناؒ نے نہ صرف نوجوانوں بلکہ ہرمسلمان سے ایک نہایت پتے کی بات یہ کہی ہے کہ شعوری طور پر پڑھ لکھ کر اور سوچ سمجھ کر ایمان لانے کا ثمرہ کیا ہوتا ہے: ’’اگر کوئی شخص شعوری طور پر ایمان نہ لائے اور محض تقلیدی ایمان کے ذریعے سے نماز روزے بھی کرتا رہے تو آپ اس کی زندگی میں وہ تمام منافقتیں اور وہ تمام تضادات دیکھیں گے جو اس وقت کے عام مسلمانوں کے اندر، مسلمانوں کے لیڈروں کے اندر اور مسلمانوں کی بڑی بڑی جماعتوں کے اندر پائے جاتے ہیں… یہ صورتِ حال شعوری طور پر ایمان لانے سے باقی نہیں رہتی۔ پھر آدمی جو کچھ کرتا ہے سوچ سمجھ کر سچے دل سے کرتا ہے۔ وہ یکسو اور حنیف بن کر رہتا ہے، جیساکہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم ؑکی سب سے بڑی تعریف یہ کی گئی ہے، کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا، ایسا مسلمان جو یکسو تھا، ہر طرف سے مڑ کر ایک طرف کا ہوگیا تھا اور وہ شخص مسلم حنیف تھا‘‘۔ (ایضاً، ص۴۰)
مقالہ نگار صنعائ، یمن میں مقیم ہیں
اے فرزند! دنیا آزمایش و ابتلا کی جگہ ہے۔ اس کے ظاہر کو طرح طرح کی ملمع کاریوں سے مزین کیا گیا ہے۔ خیالی و وہمی خال و خط اور زلف و خد سے آراستہ ہے۔ دیکھنے میں شیریں اور تروتازہ لیکن حقیقت میں یہ دنیا ایک مُردار ہے۔ عطر لگایا ہوا، گندگیوں کا ایک ڈھیر ہے۔ مکھیوں اور کیڑوں سے بھرا ہوا ایک سراب ہے۔ آب نما اور ایک مٹھاس ہے زہریلی۔ اس کا باطن، ظاہر کے برعکس خراب و ابتر ہے، اور مزا یہ ہے کہ ان گندگیوں کے باوجود اس کا معاملہ اپنے چاہنے والوں کے ساتھ نہایت بُرا ہے۔ اس کا فریفتہ، دیوانہ و مسحور ہے اور اس کا گرفتار، فریب خوردہ و مجنون۔ جو بھی اس کے ظاہر پر ریجھا نقصانِ ابدی اس کے پلّے پڑا، اور جو بھی اس کی حلاوت و طراوت پر مائل ہوا ندامت سرمدی [دائمی ندامت]اس کے حصے میں آئی۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: دنیا اور آخرت سوکنیں ہیں۔ اگر ایک راضی ہوئی تو دوسری ناخوش۔ لہٰذا جس نے دنیا کو راضی کیا آخرت اس سے ناراض ہوئی۔ آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ اللہ ہمیں اور تمھیں دُنیا اور دُنیاداروں سے پناہ میں رکھے۔ آمین!
اے فرزند! اللہ تعالیٰ نے کمالِ مہربانی سے تجھے ابتداے جوانی میں توبہ کی توفیق عنایت کی تھی۔ مجھے معلوم نہیں کہ نفس و شیطان کے قبضے سے چھٹکارا پاکر تجھے توبہ پر ثبات و قرار میسر ہوا یا نہیں۔ بظاہر تو استقامت مشکل نظر آتی ہے کیونکہ موسم عنفوان جوانی کا ہے، دنیا کے اسباب میسر ہیں، اور نامناسب دوستوں، ہم نشینوں کی کثرت ہے۔ کام یہ ہے کہ فضول مباحات سے بچا جائے اور بقدر ضرورت پر اکتفا کی جائے، اور مباحات کا بقدرِ ضرورت استعمال بھی جمعیت خاطر کی نیت سے ہونا چاہیے تاکہ وظائف بندگی ادا کرنے میں تشویش پیدا نہ ہو۔ مثلاً کھانے کی غرض یہ ہے کہ اداے طاعات پر قوت و قدرت نصیب ہو، اور لباس کا مقصد یہ ہے کہ ا س سے جسم ڈھانپنے اور سردی گرمی دفع کرنے کا کام لیا جائے۔ اسی قیاس پر تمام ضروری مباحات کو سمجھنا چاہیے۔ اکابر نقشبندیہ قدس سرہم نے عزیمت کا عمل اختیار کیا ہے اور حتی الامکان رخصت سے اجتناب کرتے رہے ہیں۔ عزیمتوں میں ایک عزیمت یہ بھی ہے کہ بقدرِ ضرورت پر اکتفا کیا جائے اور اگر یہ دولت میسر نہ ہو تو مباحات کے دائرے سے نکل کر مشتبہ اور حرام چیزوں کی طرف ہرگز نہ جانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے کمالِ کرم سے مباحات اور نعمتوں کا دائرہ خود ہی بہت وسیع کردیا ہے۔ ان نعمتوں سے قطع نظر کون سا عیش اس بات کے برابر ہے کہ بندے کا مولیٰ اس کے کردار سے راضی ہو، اور کون سی جفا اس بات کے برابر ہوگی کہ اس کا آقا اس کے اعمال سے ناراض ہو۔ جنت میں اللہ کی رضا جنت سے بہتر ہے، اور دوزخ میں اللہ کی ناراضی دوزخ سے بدتر ہے۔ اللہ نے انسان کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کو پوری چھوٹ دے دی ہے کہ جو چاہے کرے۔ سوچنا چاہیے اور اپنی عقلِ دُور اندیش کو کام میں لانا چاہیے۔ کل قیامت میں ندامت و نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ کام کا وقت موسمِ جوانی ہے۔ جواں مرد وہ ہے جو اس وقت کو ہاتھ سے نہ جانے دے اور فرصت کو غنیمت سمجھے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ بڑھاپے تک اسے زندگی ہی نہ ملے اور اگر بالفرض بڑھاپے تک پہنچ گیا تو اطمینان میسر نہ ہو، اور اگر یہ بھی ہو تو ضعف اور سُستی کی وجہ سے کام نہ کرسکے۔
اس وقت اسباب اطمینان میسر ہیں۔ والدین کا وجود بھی اللہ کے انعامات میں سے ہے کہ اس نوجوان کی معیشت کی فکر بھی انھی کے سر ہے۔ موسمِ فرصت ہے اور زمانۂ قوت و استطاعت، پھر کس عذر کی بنا پر آج کو کل پر ٹالا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اداے طاعات میں تاخیر کرنے والے اور ’’عنقریب کروں گا، عنقریب کروں گا‘‘ کہنے والے ہلاک ہوئے۔ ہاں، اگر مہمات و معاملات دنیا کو کل پر چھوڑ دیں اور آج کو اعمالِ آخرت میں مشغول رکھیں تو کیا کہنا۔
عنفوان جوانی کے اس زمانے میں کہ دشمنانِ دین___ نفس و شیطان ___ کا غلبہ ہے، تھوڑے عمل کا بھی اتنا اعتبار ہے کہ ان کا غلبہ نہ ہونے کی صورت میں اس سے ۱۰ گنا عمل کا بھی نہیں۔ فوجی قواعد میں بھی دشمنوں کے حملے و غلبے کے وقت کارگزار سپاہیوں کی بڑی قدر ہے اور اس وقت ان کی تھوڑی دوڑ دھوپ اور کارگزاری بھی لائق اعتبار و نمایاں ہوتی ہے۔
اے فرزند! انسان جو موجودات کا خلاصہ ہے، اس کی تخلیق کا مقصد نہ لہوولعب ہے اور نہ کھانا اور سونا، بلکہ اس کی تخلیق کا مقصد اللہ کی بندگی، تواضع و انکسار، عجز و فقر اور بارگاہِ قدس میں ہمیشہ التجا و تضرع ہے۔ اللہ کی بندگی و عبادت سے مراد وہ عبادتیں ہیں جن کی تعلیم شریعتِ محمدیؐ نے دی ہے۔ ان عبادتوں کی منفعتیں اور مصلحتیں خود بندوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ ان سے خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اس لیے اوامر کی تعمیل اور نواہی سے پرہیز دل و جان کے جذبۂ احسان مندی اور کامل اطاعت و انقیاد کے ساتھ ہونا چاہیے اور اپنی پوری سعی صرف کردینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکمل استغنا کے باوجود صرف ہمارے فائدے کے لیے ہمیں اوامر و نواہی سے سرفراز فرمایا۔ ہم محتاجوں کو تو اس نعمت کا شکریہ پورے طورپر ادا کرنا چاہیے۔
اے فرزند! تم جانتے ہو، اگر دنیا کا کوئی زیردست اپنے کسی زیردست کو کسی خدمت پر سرفراز کرتا ہے تو اس حقیقت کے باوجود کہ اس خدمت کا نفع اس حاکم کو بھی ملنے والا ہے، وہ زیردست اس کے حکم کو کس قدر عزیز رکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ایک عظیم القدر شخص نے یہ خدمت اس کے سپرد کی ہے، اس لیے کامل احسان مندی کے ساتھ اس کو بجا لانا چاہیے۔ کیا مصیبت ہے کہ انسان کو رب ذوالجلال کی عظمت اس شخص کی عظمت سے بھی کم نظر آتی ہے کہ اس کے احکام کی بجاآوری میں کوشش نہیں کرتا۔ شرم کرنی چاہیے اور اپنے کو خوابِ خرگوش سے بیدار کرنا چاہیے۔ احکامِ الٰہی کی نافرمانی دو چیز سے خالی نہیں، یا شریعت کی خبروں کو جھوٹ سمجھتا ہے اور باور نہیں کرتا، یا دنیا والوں کی عظمت کے مقابلے میں اللہ کی عظمت حقیر نظر آتی ہے۔ اس بات کی شناعت اور خرابی پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے۔
اے فرزند! ایک ایسا شخص جس کی کذب بیانی کا بارہا تجربہ ہوچکا ہے، کہتا ہے کہ دشمنوں کی مسلح فوج فلاں قوم پر شب خون مارنے والی ہے۔ یہ سنتے ہی اس قوم کے عقل مند اپنی محافظت میں لگ جاتے ہیں اور اس بلا کو دفع کرنے کی فکر کرتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ خبردینے والا جھوٹ بولنے کا عادی ہے، مگر ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ جہاں خطرے کا وہم بھی ہو وہاں عقل مندوں پر احتراز لازم ہے۔ لیکن مخبرصادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوری تاکید کے ساتھ عذاب اُخروی سے خبردار کیا ہے، اس کے باوجود وہ کچھ بھی متاثر نہیں ہوتے اور ہوتے بھی ہیں تو اس کو دفع کرنے کی فکر نہیںکرتے، حالانکہ اس کو دفع کرنے کی تدبیر بھی مخبرصادق سے معلوم ہوچکی ہے۔ پس یہ کیسا ایمان ہے کہ سچے کی خبر، جھوٹے کی خبر کے برابر بھی اعتبار نہیں رکھتی!
یقین حاصل کرنا چاہیے، کی صرف صورت اسلام نجات بخش نہیں۔ یقین کہاں ہے، ظن بھی نہیں بلکہ وہم بھی نہیں ہے کیونکہ عقل مند خطرے کے موقع پر وہم کا بھی اعتبار کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ نے کلامِ مجید میں فرمایا ہے: وَ اللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ (البقرہ ۲:۹۶)’’اللہ تمھارے اعمال کو دیکھ رہا ہے‘‘۔ اس کے باوجود لوگ بُرے اعمال میں مشغول ہیں۔ اگر ان کو معلوم ہو کہ کوئی حقیر شخص بھی ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہے تو یہ ہرگز عمل شنیع اس کی نظر کے سامنے نہیں کرتے۔ اس کا سبب دوامر سے خالی نہیں۔ اللہ کی خبر کو باور نہیں کرتے، یا اللہ کی اطلاع کا اعتبار نہیں کرتے۔ اس قسم کا کردار، ایمان کی علامت ہے یا کفر کی نشانی؟ ۱؎
اے فرزند! تم پر لازم ہے کہ ازسرِنو تجدید ایمان کرو۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے: ’’کلمہ لا الٰہ الااللہ کے ذریعے اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہو‘‘۔ نامرضیات حق سے توبۂ نصوح کا ازسرِنو اعادہ کرو۔ جن امور کو حرام قرار دیا گیا ہے اور ان سے نہی فرمائی گئی ہے، ان سے محترز و مجتنب رہو۔ پنج وقتہ نماز باجماعت ادا کرو، اگر قیامِ لیل___ تہجد___ میسر ہو تو زہے سعادت! مال کی زکوٰۃ دینا بھی ارکانِ اسلام میں سے ہے، اسے ضرور ادا کرو۔ زکوٰۃ ادا کرنے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے مال میں سے جو کچھ فقرا کا حق ہے ہر سال زکوٰۃ کی نیت سے الگ محفوظ کر دے اور پورے سال اس کو مصارفِ زکوٰۃ میں صرف کرتا رہے۔ اس طرح ہر مرتبہ اداے زکوٰۃ کی نیت ضروری و لازم نہ رہے گی، یعنی ایک ہی دفعہ زکوٰۃ کی نیت کرکے اس کو علیحدہ کرنا کافی ہوگا۔ (تمام فرائض کی طرح زکوٰۃ کی ادایگی کا بھی اصل طریقہ یہی ہے کہ اس کو اجتماعی طور پر ادا کیا جائے، لیکن جہاں کہیں اجتماعی نظم موجود نہ ہو، وہاں انفرادی طور پر ادا کرنے سے بھی زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔ مترجم)
اسی طرح تمام عبادتوں میں خیال رکھو، کسی عبادت کی ادایگی میں اپنے نفس کو ڈھیل نہ دو۔ بندوں کے حقوق ادا کرنے میں بھی سعیِ بلیغ کرو تاکہ کسی کا حق تمھارے ذمے باقی نہ رہ جائے۔ یہاں دنیا میں ان کا ادا کرنا آسان ہے، کل قیامت میں یہ آسانی باقی نہ رہے گی۔ وہاں کی جواب دہی مشکل اور ناقابلِ علاج ہے۔ احکامِ شرعیہ علماے آخرت سے پوچھنے چاہییں۔ ان کی باتوں میں تاثیر ہی دوسری ہے۔ ممکن ہے کہ ان کے کلام کی برکت توفیقِ عمل دے دے۔ علماے دنیا سے___ جنھوں نے علم کو مال اور جاہ و مرتبے کے حصول کا ذریعہ و وسیلہ بنا لیا ہے___ دُور رہنا چاہیے۔ ہاں، جہاں متقی علما موجود نہ ہوں وہاں بقدرِ ضرورت ان سے مسئلہ دریافت کرسکتے ہو۔
اے فرزند! یہ مسئلے اور نصیحتیں تمھیں پہلے سے معلوم ہوں گی لیکن مقصود عمل ہے نہ کہ صرف علم۔ جو بیمار اپنے مرض کی دوا جانتا ہے وہ جب تک اسے استعمال نہ کرے، صحت یاب نہیں ہوسکتا۔ یہ مبالغہ و تاکید بھی عمل ہی کے لیے ہے ورنہ علمِ بے عمل کے بارے میں تو یہ حدیث آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت میں سخت ترین عذاب اس عالم پر ہوگا جس نے علم کے مطابق عمل نہیں کیا۔ (مکتوبات امام ربانی، جلد۱، نمبر۷۳، زندگی، جولائی ۱۹۵۵ئ)
اسلام کی مختلف خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دین مصلحتوں اور حکمتوں پر مبنی ہے۔ اس کے لیے ’دین میں مصالح‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیے ہیں ان میں انسانوں کے لیے بے پناہ فوائد پوشیدہ ہیں۔ اگر ان احکام پر عمل نہ کیا جائے اور دین کو ترک کردیا جائے تو ان فوائد سے محرومی کے ساتھ طرح طرح کے نقصانات لاحق ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَا جَعَلَ عَلَیْْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ (الحج ۲۲:۷۸) ’’اور اللہ نے تمھارے لیے دین میں کوئی حرج نہیں بنایا ہے‘‘۔
قرآن و حدیث میں ایسی بے شمار نصوص ہیں جن میں احکام میں مصالح اور حکمتوں کی وضاحت کی گئی ہے اور علما نے اس پر مستقل کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں اسرار شریعت اور احکام کی علتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ ۱؎ علماے اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور اس کے احکام میں حکمت و مصلحت پائی جاتی ہے ۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: تمام اَئمہ و فقہا احکام شرع میں حکمت و مصالح کے اثبات کے مسئلے پر متفق ہیں۔ اس سلسلے میں قیاس کو نہ ماننے والوں اور کچھ دوسرے لوگوں نے اختلاف کیا ہے۔ ۲؎
جو لوگ احکام میں مصالح اور حکمتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے امام موصوف لکھتے ہیں:’’اہل سنت اللہ تعالیٰ کے احکام میں تعلیل (علت) کے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پسند کرتا ہے اور وہ راضی ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ ان کے نزدیک پسند کرنا اور راضی ہونا مطلق طور پر کسی چیز کا ارادہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ خاص ہے (یعنی کسی حکم کی بجاآوری رضاے الٰہی کے لیے ہونا اس کی علت قرار دی جاسکتی ہے)۔ بے شک اللہ تعالیٰ کفر ، فسق اور عصیان کو پسند نہیں کرتا، اگرچہ اللہ کی مشیّت و ارادے کے بغیر کوئی شخص ان افعال کو انجام نہیں دے سکتا‘‘۔(منھاج السنۃ النبویۃ، ابن تیمیہ،ج۱، ص۱۴۱)
ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ احکام میں علّت تسلیم کرنے کی صورت میں تسلسل اور دور لازم آئے گا اور اللہ تعالیٰ حکمت کا تابع قرار پائے گا ، جس سے وہ برتر و بالا ہے۔ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے امام موصوف لکھتے ہیں:’’یہ تسلسل مستقبل میں واقع ہونے والے واقعات کے بارے میں لازم آتاہے نہ کہ گذشتہ واقعات کے بارے میں ۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے کسی کام کو کسی حکمت کے لیے انجام دیا تو حکمت اس فعل کے بعد حاصل ہوگئی۔ اب اگر اس حکمت سے دوسری حکمت چاہی جائے تو یہ تسلسل مستقبل میں پیش آئے گا۔ اور وہ حاصل شدہ حکمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اور ایک دوسری حکمت کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ایسی حکمتیں پیدا کرتا رہتا ہے جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو دوسری حکمتوں کا سبب بھی بناتا رہتا ہے۔ جمہور مسلمان اور دوسرے فرقوں کے لوگ مستقبل میں تسلسل کے قائل ہیں، ان کے نزدیک جنت اور جہنم میں ثواب و عذاب ایک کے بعد ایک تسلسل کے ساتھ حاصل رہے گا‘‘۔(ایضاً)
امام موصوف دین میں مصالح اور حکمتوں کی موجودگی کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’جب فرد کو معلوم ہوگیا کہ فی الجملہ اللہ تعالیٰ کے دین (اوامر و نواہی) میں عظیم حکمتیں ہیں تو اتنی ہی بات اس کے لیے کافی ہے، پھر جوں جوں اس کے ایمان و علم میں اضافہ ہوگا اس پر حکمت اور رحمت الٰہی کے اسرار کھلتے جائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے: سَنُرِیْھِمْ آیٰـتِنَا فِیْ اْلآفَاقِ وَفِیْ أَنفُسِھِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (حٰم السجدہ۴۱:۵۳) ’’عن قریب ہم ان کو ا پنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ قرآن برحق ہے‘‘۔ یا جیساکہ ایک حدیث میں اس مفہوم کو مزید واضح کیاگیاہے: ’’اللہ بندوں کے حق میں اس سے زیادہ رحیم ہے، جتنا ماں اپنے بچے کے لیے رحم دل ہوتی ہے‘‘۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ، ج۸، ص۹۷)
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنی کتاب حجۃ اللّٰہ البالغۃ میں ان لوگوں کی پُرزور تردید کی ہے جنھوں نے احکام میں مصلحتوں کا انکار کیا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ احکام شرعیہ قطعاً حکمتوں اور مصلحتوں پر مشتمل نہیں ہیں … یہ خیال سراسر فاسد ہے اور سنت اور اجماعِ امت سے اس کی تردید ہوتی ہے‘‘۔ (حجۃ اللّٰہ البالغۃ، ص ۴-۵)
۱- اس سے معجزۂ قرآن کی طرح (جس کے معارضے سے انسان عاجز ہوگئے) شریعت کے معجزے کا اظہار ہوتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت تمام شریعتوں سے کامل تر ہے، اور اس میں ایسی مصلحتیں پیش نظر رکھی گئی ہیں جن کی رعایت کسی اور طریقے پر ممکن نہیں۔ یہ کامل شریعت ایک نبی اُمی کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔
۲- شریعت ِاسلامیہ پر کامل ایمان ویقین کے ساتھ اگر اس کی مصلحتیں بھی معلوم ہوجائیں تو اطمینانِ قلبی حاصل ہوتا ہے اور یہ طمانیت شرعاً مطلوب ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایمان کامل کے باوجود اللہ تعالیٰ سے اس کا مطالبہ کیا تھا ۔ چنانچہ اس کے لیے ان کے سامنے ایک معجزہ دکھا دیا گیا۔ ( البقرہ ۲: ۲۶۰)
۳- فروعی مسائل میں فقہا کے درمیان اختلافات رونما ہوئے ہیں۔ مصالح کے علم سے ان اختلافات میں کسی ایک مسئلے کو ترجیح دینے میں مدد ملتی ہے۔
۴- شریعت کے بعض مسائل میں بعض فرقوں کو شک ہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں شریعت کا حکم خلافِ عقل ہے اور جو چیز عقل کے خلاف ہو، اسے رد کردینا چاہیے، جیسے عذابِ قبر کے بارے میں معتزلہ کو شک ہے۔ اسی طرح قیامت میں حساب کتاب اور اعمال کے تولے جانے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے، اسے حساب لینے اور اعمال کو تولنے کی کیا ضرورت؟ غرض کہ اس طرح کے اور دیگرمسائل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خلافِ عقل ہیں۔ اس کا سدّباب اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ ان کے بارے میں مصلحتوں اور حکمتوں کو بیان کیا جائے، تاکہ شک کا ازالہ ہو۔(حجۃ اللّٰہ البالغۃ، ص ۸)
۱-متعلق فعل میں مصلحت شامل ہو، اگرچہ شریعت میں اس کی وضاحت نہ کی گئی ہو، جیسے عدل و انصاف کی مصلحت دنیامیں امن و امان کا قیام ہے اور ظلم اور ناانصافی فسادِ عالم کا سبب ہے۔ یہ مصلحت عقل اور شرع دونوں سے ثابت ہے۔
۲- شریعت نے جب کوئی حکم دیا تو اس کی بجا آوری ہی میں مصلحت ہے اور کسی چیز سے منع کیا تو اس سے احتراز کرنا ہی تقاضاے مصلحت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شارع کے حکم سے حسن و قبح کا تعین ہوتا ہے۔
۳- اللہ تعالیٰ کسی حکم کے ذریعے بندے کا محض امتحان لینا چاہتا ہو کہ وہ اس کی اطاعت کرتا ہے یا نہیں؟ حقیقت میں حکم کی تعمیل مقصود نہ ہو، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی قربانی کا حکم دینا، یا بنی اسرائیل کے تین افراد (گنجا، برص زدہ اور اندھے) کی آزمایش کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خصوصی نعمتوں کا اعتراف کریں اور راہ حق میں خرچ کریں۔ اس صورت میں حکمت نفسِ حکم میں ہے نہ کہ اس کی تعمیل کرنے میں‘‘۔ (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ، ج ۸، ص ۴۳۵- ۴۳۶)
علامہ ابواسحاق الشاطبیؒ فرماتے ہیں:’’احکام شریعت کا اصل مقصد دنیا و آخرت میں بندوں کے مصالح کی حفاظت ہے‘‘۔(الموافقات فی اصول الشریعۃ، ج۲، ص۶)
علامہ ابن قیم الجوزیۃؒ لکھتے ہیں:’’شریعت کی بنا اور اساس بندوں کے دنیوی و اُخروی مصالح اور حکمتیں ہیں اور وہ پوری کی پوری عدل، رحمت، حکمت اور مصلحت ہے‘‘۔(اعلام الموقعین عن رب العالمین، ج۳، ص ۳)
صَلُح ، یصلح ، صلاحاً وصلوحاً و صلاحیۃ کے معنٰی درست او رٹھیک ہونے کے ہیں۔ اسی سے مصلحت ہے اور اس کی جمع مصالح ہے۔ اس کی ضد فساد اور مفسدۃ ہے، جس کے معنی بگاڑ اور خرابی کے آتے ہیں۔ اس کے اصطلاحی معنٰی ہیں احکامِ شرع کا مصالح کے مطابق ہونا۔ اس میں جلبِ منفعت اور دفعِ مضرت دونوں پہلو شامل ہوتے ہیں ۔ علما نے مصالح کی تشریح مختلف زاویوںسے کی ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
’’منفعت کا حصول اور مضرت کا دفع کرنا مخلوق کی بنیادی ضروریات میںسے ہے اور خلق کی اصلاح اس امر پر ہے کہ ان کے مقاصد پورے کیے جائیں۔ یہاں اصلاح سے مراد وہ اصلاح ہے، جوشریعت کا مقصود ہے اور خلق کے حق میں شریعت کا مقصود پانچ امور ہیں: دین کی حفاظت، نفس کی حفاظت، عقل کی حفاظت، نسل کی حفاظت اور مال کی حفاظت۔ لہٰذا ہر وہ حکم یا طریقہ جو ان پانچ اصولوں کا ضامن ہوگا، مصلحت اور اصلاح کہلائے گا اور جس سے یہ اصول فوت ہوتے ہیں وہ طریقۂ مفسدہ کہلائے گا اور مفسدہ کو دفع کرنا واجب و لازم ہے‘‘۔(المستصفٰی فی علم الاصول، ج۱، ص ۲۸۶)
علامہ آمدیؒ مصلحت کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں:’’حکم کی مشروعیت کا مقصود یا تو کسی مصلحت و فائدہ کو حاصل کرنا ہے، یا کسی مضرّت کو دور کرنا، یا دونوں ہی مقصود ہیں‘‘۔(امام شاطبی کے ذکر کردہ مقاصدی قواعد- ایک تجزیاتی مطالعہ، ڈاکٹر عبدالرحمن ابراہیم کیلانی، ص۴۳، بحوالہ الإحکام للآمدی، ج۳، ص ۲۷۹)
مصالح دین کو مقاصدِ شریعت بھی کہا جاتا ہے۔ شیخ طاہر بن عاشورؒ مقاصدِ شریعت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’مقاصد شریعت ان معانی اور حکمتوں کو کہتے ہیں جنھیں شارع نے قانون سازی کے تمام یا اکثر حالات میں ملحوظ رکھا ہے، اس طور پر کہ اسے شریعت کے کسی خاص قسم کے حکم کے ساتھ مخصوص نہیں رکھا گیا ہے۔ لہٰذا اس میں شریعت کے وہ عمومی اوصاف اور اہداف بھی آتے ہیں جنھیں ملحوظ رکھنے سے شریعت پہلوتہی نہیں کرتی‘‘۔ (ایضاً، بحوالہ مقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ، طاہر بن عاشور، ص۵۱)
استاذ علال الفاسیؒ فرماتے ہیں:’’مقاصد شریعت ، شریعت کے اہداف اور ان اسرار و رموز کو کہتے ہیں جنھیں شارع نے تمام احکام میں ملحوظ رکھا ہے‘‘۔(ایضاً، بحوالہ مقاصد الشریعۃ ومکارمھا، علال الفاسی، ص۳)
ڈاکٹر یوسف حامد العالم نے مصالح کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:’’مقاصد شریعت ان مصالح و فوائد کو کہتے ہیں جو بندوں کو دنیا و آخرت میں حاصل ہوتے ہیں، خواہ یہ فوائد جلبِ منفعت کے ذریعے حاصل ہوں، یا دفعِ مضرّت کے ذریعے‘‘۔(ایضاً، بحوالہ المقاصد العامۃ للشریعۃ الاسلامیۃ، ڈاکٹر یوسف العالم، ص۷۹)
مصلحت کی بنیادی طورپر دو قسمیں ہیں: اُخروی اور دنیاوی۔ اخروی مصلحت سے مراد موت کے بعد آخرت میں اللہ کی رضا کا حصول، جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات ہے۔ دنیاوی مصلحت کا تعلق دنیاکی زندگی میں منفعت کے حصول یا دفعِ مضرّت سے ہے۔ جمہور فقہا نے دنیاوی مصالح کی تین قسمیں بیان کی ہیں: ۱- ضروریہ، ۲-حاجیہ، ۳- تحسینیہ۔ (الموافقات فی اصول الشریعۃ، ج ۲، ص ۸)
مصلحت ضروریہ کا معنیٰ ہے: وہ مصلحت جس کی رعایت کے بغیر انسان کی صحت مندانہ زندگی کا تصور ممکن نہ ہو۔ عصری اصطلاح میں اسے انسان کے بنیادی حقوق بھی کہہ سکتے ہیں۔ مصلحت ضروریہ کا دائرہ پانچ چیزوں پر محیط ہے: ۱- دین، ۲- جان، ۳- نسل، ۴- مال، ۵- عقل۔ ذیل میں ان کی اہمیت سے متعلق اسلام کا نقطۂ نظر پیش کیا جاتا ہے:
دین کی حفاظت کا تعلق صرف مرتد اور بدعتی کے حوالے سے ہی نہیں، بلکہ کفار و مشرکین کے حوالے سے بھی مطلوب ہے۔ چنانچہ ان میں سے جو لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ ہوں ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ دین کی حفاظت ہے، تاکہ کفر و شرک اور باطل ادیان غالب ہوکر مسلمانوں کے لیے فتنے کا باعث نہ ہوں۔وَاقْتُلُوھُمْ حَیْْثُ ثَقِفْتُمُوھُمْ وَأَخْرِجُوھُمْ مِّنْ حَیْْثُ أَخْرَجُوکُمْ وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقرہ ۲: ۱۹۱)، ’’ان سے لڑو جہاں بھی تمھارا ان سے مقابلہ پیش آئے اور انھیں نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے، اس لیے کہ قتل اگرچہ بُرا ہے، مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ بُرا ہے‘‘۔ حفاظت دین کے مفہوم میں شعائر دین ، مساجد، جماعت، سنت کی حفاظت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی شامل ہے۔
حفاظتِ جان کے مدِّنظر ہی شریعت میں قصاص کے احکام دیے گئے ہیں، جس میں نہ صرف جان کے بدلے جان کی دفعہ بیان کی گئی ہے، بلکہ معمولی چوٹ اور زخم ، حتیٰ کہ تھپڑ پر بھی قصاص کو مشروع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَکَتَبْنَا عَلَیْْھِمْ فِیْھَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْْنَ بِالْعَیْْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ (المائدہ ۵:۴۵)، ’’اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کردی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت، اور زخموں کا بھی برابر کا بدلہ ہے‘‘۔
ساتھ ہی قصاص کو انسانوں کے لیے حیات بخش قرار دیا گیا ہے: وَلَکُمْ فِیْ الْقِصَاصِ حَیوٰۃٌ یٰـآولِیْْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَo (البقرہ ۲: ۱۷۹)،’’عقل و خرد رکھنے والو، تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے‘‘۔
حفاظتِ نسل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کسی کے نسب کو متہم کیا جائے نہ بغیر پختہ ثبوت کے اس پر زنا کا الزام لگایا جائے، کیوں کہ اس صورت میں نسب کے تعین میں شبہہ پیدا ہوگا اور پیدا شدہ بچے کے مصالح فوت ہوں گے، نیز متہم شخص کی سماجی زندگی متاثر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَالَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُھَدَاء فَاجْلِدُوھُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوا لَہُمْ شَھَادَۃً أَبَداً (النور ۲۴:۴)، ’’اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر زنا کا الزام لگاتے ہیں اگر وہ چار گواہ نہ لاسکیں تو انھیں ۸۰ کوڑے مارے جائیں اور ان کی گواہی ہمیشہ کے لیے ناقابل اعتبار سمجھی جائے‘‘۔
ناجائز طریقے سے دوسرے کا مال کھانے کے مفہو م میں ہر وہ طریقہ شامل ہے جو شریعت اور عرف عام میں ناجائز ہو، چاہے وہ عیاں ہو یا خفیہ ۔ ایک حدیث میں ہے کہ: ’’جس نے چوری کا مال خریدا، یہ جانتے ہوئے کہ یہ چوری کا ما ل ہے، وہ اس کے گناہ اور برائی میں شریک ہوا‘‘ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر للمناوی، ج۶، ص ۶۴)۔ حفاظتِ مال کی غرض سے شریعت اسلامیہ میں چوری اور ڈاکا زنی کی سزا متعین کی گئی ہے۔ (المائدہ: ۳۳، ۳۸)، اور سود، جوا، ناپ تول میں کمی بیشی، بیع، غرر ، ذخیرہ اندوزی اور وہ تمام طریقے حرام قرار دیے گئے ہیں جن سے کسی فرد کو مالی نقصان لاحق ہوسکتا ہے۔
شریعت کے یہی وہ پانچ مصالح ہیں جنھیں ’مصالحِ ضروریہ‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان کی حفاظت کو شریعت نے لازم قرار دیا ہے اور ان کو پامال کرنے والے کے خلاف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں:’’ان پانچ اصولوں کی حفاظت ضروریاتِ انسانی میں شمار ہوتی ہیںاورمصالح خلق کا یہ اعلیٰ ترین درجہ ہے… ان مصالح کی حفاظت کی تاکید دنیاکے ہرمذہب اور مہذّب سوسائٹی نے کی ہے‘‘۔(المستصفٰی فی علم الاصول، الغزالی، ج۱، ص ۲۸۷- ۲۸۸)
علامہ ابواسحاق الشاطبیؒ ان مصالح کی اہمیت سے متعلق لکھتے ہیں:’’دین و دنیا کے مصالح کے قیام کے لیے یہ ضروری ہیں۔ اگر یہ مفقود ہوں تو سلامتی کے ساتھ مصالح دنیا قائم نہیں رہ سکیں گے، بلکہ انسانی زندگی میں فساد اور خلفشار رونما ہوگا اوراُخروی زندگی میں نجات و کامیابی سے محرومی ہاتھ آئے گی، جو سراسر نقصان اور خسران ہے‘‘۔(الموافقات فی اصول الشریعۃ، ج۲، ص۸)
مصلحت کی دوسری قسم، جس کی شریعت نے رعایت کی ہے، مصلحتِ حاجیہ ہے۔ اس سے مراد وہ مصلحت ہے جس کی رعایت سے انسانی زندگی میں سہولت پیدا ہو اور عدمِ رعایت سے تنگی اور مشقت لاحق ہو، مگر اس درجے میں نہ ہو، جیسا کہ مصالح ضروریہ کے فوت ہونے سے لاحق ہوتی ہے۔ امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:’’حاجیات کے معنیٰ یہ ہیں کہ ان کی ضرورت توسّع کے حصول اور تنگی کے ازالے کے مقصد سے ہوتی ہے کہ اگر وہ پوری نہ ہوں تو حرج اور مشقت لاحق ہو اور اگر ان کی رعایت ملحوظ نہ رکھی جائے تو مکلّف افراد فی الجملہ حرج اور مشقت میں مبتلا ہوجائیں، مگر وہ اس درجے میں نہ پہنچے کہ ان سے فساد روٗنما ہو، جیسا کہ مصالحِ ضروریہ کے نہ پائے جانے سے فساد رُونما ہوتا ہے‘‘۔(ایضاً، ۲/۱۰-۱۱، المستصفٰی،ج ۱، ص۲۸۹-۲۹۰)
اس تعریف کی روشنی میں علما نے مصلحت ِحاجیہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں: حاجیہ اصلیہ، حاجیہ مکمّلہ۔ یہ دونوں قسمیں تمام احکام، عبادات، معاملات، عادات اور جنایات میں موجود ہیں۔ عبادات میں مصلحت حاجیہ کی رعایت کی مثال احکام کی تعمیل میں رخصتوں کی موجودگی ہے، جیسے مجبور کے لیے کلمۂ کفر کہنے، اضطراری حالت میں مردار کھانے، پانی کی عدم موجودگی یا مرض کی صورت میں تیمم کرنے اور حیض و نفاس کی حالت میں نماز ترک کرنے کی رخصت دی گئی ہے۔ اسی طرح مریض ، مسافر، حاملہ اور مُرضعہ (بچے کو دودھ پلانے والی عورت)کو روزے دوسرے ایام میں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
معاملات میں مصلحت ِحاجیہ کی مثالوں میں کم سن بچی کے نکاح کے انعقاد کے لیے ولی کی شرط، خریدو فروخت ، اجارہ، مساقاۃ اور قرض کے لین دین کے معاملات کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چیز مصلحتِ ضروریہ میں سے نہیں ہے کہ اس پر عمل نہ کرنے سے انسان کے بنیادی حقوق پامال ہوتے ہوں، مگر زندگی کی بقا کے لیے یہ چیزیں ضروری ہیں۔ عادات میں مصلحتِ حاجیہ کی مثال شکار کا جائز ہونا اور کھانے پینے میں پاکیزہ چیزوں سے لطف اندوزی کا درست ہونا ہے۔
یہ مثالیں مصلحتِ حاجیہ اصلیہ کی ہیں۔ مصلحتِ حاجیہ مکمّلہ کی مثالوں میں مسافر اور مریض کے لیے دو نمازوں کو ایک وقت میں ادا کرنے اور حالتِ سفر میں قصر کی اجازت ، صغیرہ کے نکاح میں کفو کی رعایت، مہر مثل، قرض و رہن میں گواہی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
مصلحت کی تیسری قسم تحسینیہ ہے۔ اس سے مراد وہ مصلحت ہے جس کی رعایت سے احکام و اعمال میں حسن او رخوبی پیدا ہو اور عقلِ سلیم اس کا تقاضا کرے، لیکن عدمِ رعایت سے حرج اور تنگی پیدا نہ ہو۔ یہ مصلحت بھی عبادات، معاملات ، عادات اور جنایات میں پائی جاتی ہے۔ اس کی مثالیں یہ ہیں: نجاست کو زائل کرنا، پردہ کرنا، زیب وزینت اختیار کرنا، صدقہ و خیرات کرنا، کھانے پینے میں آداب ملحوظ رکھنا، غیر پاکیزہ چیزیں کھانے سے پرہیز کرنا، اسراف اور فضول خرچی سے بچنا، گندگی کی خرید و فروخت سے منع کرنا یا زائد پانی یا گھاس سے روکنا، غلام کو گواہی اور امامت و خلافت کے لیے نااہل قرار دینا۔ اسی طرح عورت کو امامت کے لیے نااہل قرار دینا، یا اس کے ازخود نکاح کرنے کی ممانعت، یا غلام کے بدلے آزاد کو قتل کرنے کی ممانعت، یا جہاد میں بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کو مارنے کی حرمت وغیرہ۔ (الموافقات، ج ۱، ص ۱۱-۱۲)
اُخروی مصلحت کے حوالے سے ایک بات یہ بھی جاننی چاہیے کہ اس میں رضاے الٰہی کا حصول، جنت میں داخلہ اور جہنم کی آگ سے نجات کے ساتھ تزکیہ و تربیت ِنفس، تہذیبِ اخلاق ، عبادات پر مشقتوں کی برداشت کی تربیت اور قواے شہوانیہ و غضبیہ پر کنٹرول وغیرہ مطلوب و مراد ہیں۔
مصالح کی تینوں قسموں میں مصلحت ِضروریہ بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور باقی دونوں قسمیں اس کی تابع ہیں۔ اگر مصلحت ِضروریہ مفقود ہوگی تو بہ درجہ اولیٰ مصلحت ِحاجیہ و مصلحت ِتحسینیہ بھی مفقود ہوں گی، لیکن اس کے برعکس کا وقوع لازم نہیں۔ مصالح کے حوالے سے دوسری اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ خواہشاتِ نفسانی کی تابع نہیں ہیں، یعنی خواہشِ نفس کو مصلحت قرار نہیں دیا جاسکتا، کیوں کہ شریعت اسی لیے آتی ہے کہ لوگوں کو ہواے نفس کی جکڑبندیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف لائے۔ (الموافقات، ج ۲، ص ۳۷-۳۸)
مصالحِ دین انھی اقسام میں محدود نہیں ہیں: دین میں مصالح اور حکمتوں کی تشریح میں علما نے عام طور پر انھی پنج گانہ مصالح کا تذکرہ کیا ہے اور ان میں تین درجات (ضروریہ، حاجیہ اور تحسینیہ) قائم کیے ہیں۔ مگر بعض علما نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مصالحِ دین انھی اقسام میں محدود و محصور نہیں ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی مصالح کی اقسام میں توسیع کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے امام ابن تیمیہؒ اورابنِ قیمؒ کے اقوال نقل کیے ہیں۔
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:’’بعض لوگ مصالح مرسلہ کو جان، مال، عزت و آبرو، عقل اور دین کے تحفظ میں محصور کردیتے ہیں، مگر ایسا کرنا صحیح نہیں ہے، بلکہ مصالح مرسلہ یہ ہیں کہ منافعے حاصل کیے جائیں اور مضرتیں دور کی جائیں … دنیا میں (جلب منفعت کی مثال) وہ معاملات اور سرگرمیاں ہیں جن میں عامۃالناس کی بھلائی مضمر ہو، خواہ ان سے متعلق کوئی حد شرعی مقرر کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو، اور دین میں (جلب منفعت کی مثال) وہ احوال و معارف، عادات اور زہد کی باتیں ہیں جن میں انسانوں کی بھلائی مضمر ہے جس سے شریعت نے منع نہ کیا ہو۔ جن لوگوں نے مصالح کو ان سزاؤں سے وابستہ کردیا جو فساد کو دور رکھنے کے لیے مقرر کی گئی ہیں یا جو اموال یا جسم انسانی کو محفوظ رکھنے کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان میں انھوں نے کوتاہی برتی ہے‘‘۔(مقاصد شریعت، ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی، ص۳۰)
ڈاکٹر موصوف نے روایتی فہرست میں اضافے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے: ’’ایک خیال یہ بھی ہے کہ مقاصد کی روایتی فہرست پنج گانہ دین، جان، عقل، نسل اور مال میں خود اتنی وسعت ہے کہ بہت سے نئے مقاصد اسی فہرست میں داخل سمجھے جاسکتے ہیں۔ مثلاً عدل و انصاف دین میں اور ازالۂ غربت اور کفالت ِعامہ حفظ جان میں شامل سمجھے جاسکتے ہیں۔ ہمیں دو وجہوں سے اس فکر و سوچ سے اتفاق نہیں ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ، جیسا کہ ابنِ تیمیہ نے کہا ہے کہ مقاصد شریعت کے بیان میں تحفظ سے آگے بڑھ کر ترقی دینے اور بڑھوتری کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ روایتی فہرست میں سارا زور دفع مضرت پر ہے، جلب منفعت کا پہلو دب گیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ موجودہ عالمی اور قومی سطح کے مسائل میں ماحولیاتی آلودگی پر کنٹرول، کائنات کے قدرتی وسائل کا بچاؤ، عمومی اور کُلّی تباہی مچانے والے اسلحوں کے استعمال اور ان کی پیداوار پر پابندی اور موجودہ نیوکلیائی ہتھیاروں، نیز کیمیاوی اور حیاتیاتی اسلحوں کا تلف کیا جانا، اور اقوام عالم کے باہم امن و چین سے رہ سکنے کے دوسرے تقاضے پورے کرنے کے لیے یہ بہتر ہے کہ ان امور سے مناسبت رکھنے والی اسلامی تعلیمات کو اہمیت کے ساتھ پیش کیا جائے‘‘۔(ایضاً، ص۳۸-۳۹)
موصوف نے روایتی فہرست میں درج ذیل مصالح کے اضافے کی تجویز رکھی ہے اور ان پر قرآن و حدیث سے دلائل دیے ہیں: ۱- انسانی عز وشرف، ۲- بنیادی آزادیاں، ۳- عدل وانصاف، ۴- ازالۂ غربت اور کفالت ِعامّہ، ۵- سماجی مساوات اور دولت وآمدنی کی تقسیم میں پائی جانے والی ناہمواری کو بڑھنے سے روکنا، ۶- امن و امان اور نظم و نسق، ۷- بین الاقوامی سطح پر باہم تعامل و تعاون۔(ایضاً، ص۳۹)
احکامِ دین میں مصالح اور حکمتوں کی دریافت عقل کرتی ہے، لیکن بعض اوقات عقل کی بنیاد پر شریعت کا حکم بھی مستنبط کیا جاتا ہے۔ جیساکہ معلوم ہے کہ شریعت کا چوتھاماخذ قیاس ہے،اس میں مسئلہ زیر بحث سے متعلق نص نہ ہونے کی وجہ سے عقل کی بنیاد پر شریعت کا حکم معلوم کیا جاتا ہے۔ جمہور فقہا نے قیاس کو شریعت کی ایک اصل قرار دیا ہے (الموسوعۃ الفقھیۃ، ج۳۴، ص۹۱)۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر عقل کی بنیاد پر دیے گئے مشوروں کو قبول فرمایا ہے۔۳؎ اسی طرح صحابہ کرامؓ اور تابعین عظام نے قیاس و عقل سے شریعت کے احکام وضع کیے ہیں ۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: شرعی احکام میں متعلق و مطلوب حکم کی تحقیق کے بارے میں مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ شریعت میں حکم بمعنی عام کی تعلیق کی جائے گی (یعنی اس کے مصداق کی تحقیق کی جائے گی) اور افراد پر حکم کے اطلاق یا کسی خاص نوع میں اثبات کے لیے غورو فکر کیا جائے گا‘‘۔(منہاج السنۃ النبویۃ،ج ۶،ص ۴۷۴)
امام موصوف آگے اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’مختلف امور، جیسے انصاف کرنا، یا استقبال کعبہ یا جیسے شراب، جوا، مردہ، خون اور خنزیر کے حرام ہونے سے متعلق قرآن و حدیث میں عام حکم ہے، مگر شخص خاص سے متعلق طے کرنا کہ اس نے احکام کی خلاف ورزی کی یا نہیں، یا فلاں چیز حرام کردہ اشیا کی تعریف میں آتی ہے یا نہیں؟ یہ سب باتیں قیاس کے ذریعے ہی طے کی جاتی ہیں‘‘۔ (ایضاً)
بلاشبہہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دین مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہے، مگر احکام دین پر عمل حکمتوں کے جاننے پر موقوف نہیں ہے، کیوں کہ عقل انسانی محدود ہے اور ضروری نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تمام حکمتوں کو جان لے ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ لکھتے ہیں: احکام شرعیہ پر عمل کرنے میں، جب کہ وہ صحیح روایت سے ثابت ہوجائیں، ان کی مصلحتوں کے جاننے تک توقف کرنا جائز نہیں۔ کیوںکہ بہت سے انسانوں کی عقلیں بہت سی حکمتوں کو بطور خود نہیں سمجھ سکتیں اور نبی کریم ؐ کی ذات ہمارے نزدیک ہماری عقلوں سے کہیں زیادہ قابل اعتمادہے۔(حجۃ اللّٰہ البالغۃ، ص۶)
خلاصۂ بحث یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کا عطا کردہ دین بندوں کے دینی و دنیاوی مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہے، اس لیے اس سے بڑھ کر او رکوئی طریقہ انسانوں کے لیے مفید اور انجام کے اعتبار سے قابل اطمینان و موجب فلاح و نجات نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اس دین کو ترک کرنا اور اس کو ازکار رفتہ قرار دینا انسان کی نادانی پر مبنی ہے، جس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔
۱- مثال کے طور پر دیکھیے: محاسن الشریعۃ، امام محمد بن اسماعیل (م:۳۶۵ھ)، محاسن الاسلام، ابوعبداللہ بن عبدالرحمن البخاری (م:۳۴۶ھ)، الاعلام بمناقب الاسلام، ابوالحسن العامری (م:۳۸۱ھ)، حجۃ اللّٰہ البالغہ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (م:۱۱۷۶ھ)۔
۲- منھاج السنۃ النبویۃ، ابن تیمیہ، تحقیق الدکتور محمد رشاد سالم ، ادارۃ الثقافۃ والنشر، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، سعودی عرب ، ج۱، ص ۱۴۱۔ امام ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے کہ بعض منکرین قیاس اور ایک دودیگر لوگ احکام میں علّت و حکمت کاانکار کرتے ہیں، ورنہ جمہور امت اس کے قائل ہیں۔
۳- آپؐ نے بعض جنگوں میں میدان جنگ کے انتخاب میں بعض صحابہؓ کے مشورے کو قبول فرمایا۔ ایک صحابیؓ کے مشورے سے آپؐ نے انگوٹھی میں محمدؐ رسول اللہ کا نام کندہ کرایا اور اس کو مہر کے طورپر استعمال کیا۔ اذان کا طریقہ بھی مشورے کی بنیاد پر طے کیا گیا۔ پیاز اور لہسن کھاکر مسجد میں آنے کی ممانعت ایک ضرر کی وجہ سے کی گئی ۔ جمعہ کے دن غسل پسینے سے پیدا ہونے والی بدبو سے بچنے کے لیے مشروع کیا گیا، وغیرہ۔
حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ غالباً وہ پہلے انسان ہیں جو امیرالمومنین فی الحدیث کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اپنے ایک مشہور شعر میں وہ کہتے ہیں کہ ’’دینی معاملات کو کس نے خراب اور فاسد کیا ہے، سواے حکمرانوں اور علما کے‘‘۔ گویا وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلم معاشرے میں بالخصوص اور انسانی معاشرے میں بالعموم جب کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے تو دو طبقوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک اس طبقے کی وجہ سے جو کسی ملک میں کسی نہ کسی حیثیت میں حکمرانی یا ذمہ داری کے منصب پر فائز ہوتا ہے، اور دوسرا علماے کرام جس سے مراد صرف علماے دین نہیں بلکہ معاشرے کے وہ تمام لوگ ہیں جو کسی بھی اعتبار سے علمی و فکری رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہوں۔ گویا اُمت یا قوم کے سیاسی، فکری اور دینی قائدین اگر اچھے ہوں اور درست راستے پر گامزن ہوں تو پھر اُمت درست راستے پر گامزن رہتی ہے، اور اگر یہ طبقے راہِ راست سے ہٹ جائیں تو بالآخر اُمت بھی راستے سے ہٹ جاتی ہے۔
یہ وہی چیز ہے جس کو ایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا:’’تمھارے بہترین ائمہ وہ لوگ ہیں کہ جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں، تم ان کے لیے دعاے خیر کرتے ہو وہ تمھارے لیے دعاے خیر کرتے ہیں، اور تمھارے بدترین ائمہ وہ ہیں کہ تم ان پر لعنتیں بھیجو وہ تم پر لعنتیں بھیجیں، وہ تم سے نفرت کریں، تم ان سے نفرت کرو‘‘۔ یہاں بھی ائمہ کا لفظ کسی خاص شعبے کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ ہراس فرد کے لیے استعمال ہوا ہے جو اُمت میں قیادت اور امامت کا مقام رکھتا ہے۔ وہ تعلیم میں قیادت ہو، امامت ہو، مسجد کی امامت ہو، فکر کی امامت ہو، سیاست کی امامت ہو یا کسی بھی طرح کی امامت۔ اگر تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ وہ بہترین لوگ ہیں جو اُمت سے اخلاص رکھتے ہیں، اُمت ان کے اخلاص کی قدر کرتی ہے، اس کی وجہ سے ان کے لیے دعاگو ہے، ان سے محبت کرتی ہے اور وہ اُمت سے محبت کرتے ہیں، تو پھر وہ بہترین قیادت ہے۔
ان دونوں اقوال کی روشنی میں جن میں سے ایک حدیث پاک ہے اور ایک عظیم محدث اور امام اسلام کا قول ہے، دیکھا جائے تو ائمہ کرام، خصوصاً دینی ائمہ کرام کی ذمہ داری نہایت ہی نازک اور بھاری ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر دورِ جدید میں یہ ذمہ داری بہت زیادہ نازک ہوگئی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو مغرب کی طرف سے بڑھتا ہوا سیکولرزم ہے جو ایک طوفان کی طرح دنیاے اسلام کو اپنے گھیرے میں لے رہا ہے۔ مغرب نے اپنے تاریک ادوار کے ایک ہزار سال کے ناگفتہ بہ تجربات کے بعد سیکولرزم کو اپنے لیے پناہ گاہ سمجھا، اور یہ محسوس کیا کہ ان کے مصائب اور مشکلات کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مذہب اور سیاست یک جا تھے۔ ان کا مذہب اور ان کی سیاست یک جا نہیں ہوسکتے تھے، اس لیے انھوں نے ان دونوں کو الگ الگ کردیا۔ اس علیحدگی کے بعد وہ بڑی حد تک ان مصائب سے آزاد ہوگئے جن کا وہ ایک ہزار سال شکار رہے، لیکن کچھ نئے مصائب کا بھی شکار ہوگئے۔
مشکل یہ ہوئی کہ اگر یہ چیز مغرب تک محدود رہتی تو ہمارے لیے زیادہ قابلِ اعتراض بات نہیں تھی۔ ایک علمی سوال تھا کہ ان کی تاریخ میں ایسا کیوں ہوا؟ اصل خرابی اس لیے پیدا ہورہی ہے کہ وہ نتائج جو مغرب میں ان کی خاص تاریخ اور خاص ماحول کے پیداوار تھے، مغرب کے موجودہ سیاسی اثرورسوخ، اس کی عسکری طاقت، اس کی اقتصادی خوش حالی ، اور دنیوی معاملات میں ان کے کنٹرول کی وجہ سے دنیاے اسلام میں درآمد بلکہ مسلط کیے جارہے ہیں۔ حالانکہ نہ دنیاے اسلام کی تاریخ ریاست اور مذہب میں وہ کش مکش رہی ہے جو یورپ میں ایک ہزار سال موجود رہی، نہ وہ قباحتیں دنیاے اسلام میں پیدا ہوئیں، نہ یہاں وہ احتسابی عدالتی نظام تھا جس نے سیکڑوں ہزاروں نہیں، لاکھوں انسانوں کو مذہب کے نام پر موت کے گھاٹ اُتارا، نہ یہاں عقل و شعور کی ہرکاوش کا یہ کہہ کر انکار کیا گیا کہ فلاں مذہبی پیشوا اور فلاں مذہبی ادارہ اس سے اتفاق نہیں کرتا، نہ لوگوں کو اس لیے سزاے موت دی گئی ہے کہ انھوں نے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کوئی سائنسی نتیجہ بیان کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ سارے معاملات دنیاے اسلام میں نہیں تھے۔
دنیاے اسلام میں تو پہلے دن سے عقل اور وحی کے درمیان اتنی ہم آہنگی، یکسانیت اور قرب تھا کہ اسلام کی تاریخ میں کوئی لمحہ ایسا نہیں آیا کہ عقل اور وحی یا دین اور دنیا یا مذہب اور غیرمذہب دو متعارض کیمپوں میں تقسیم ہوئے ہوں۔ ہمارے ہاں تو وہ لوگ بھی جو مذہبی فکر کے ترجمان نہیں سمجھے جاتے، ایک طرح سے اسلامی فکر کے دائرے کی حدود میں رہے، کبھی حدود سے باہر سمجھے گئے، اور کبھی حدود کے اندر خیال کیے گئے۔ خالص فلسفی، ابن سینا اور فارابی جیسے لوگوں کی مثال دیکھیے کہ کسی نے انھیں اسلامی فکر کا مسلم نمایندہ قرار نہیں دیا اور وہ فلاسفہ کے نمایندہ رہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مغرب کی تاریخ میں جو بہترین مذہب کے علَم بردار تھے، یہ لوگ ان سے زیادہ مذہبی تھے تو غلط نہ ہوگا۔ یورپ کی تاریخ میں مذہب کے جو بہترین نمایندے رہے ہیں، مثلاً سینٹ نامس کناس کہ جن کو مسیحیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سینٹ پال کے بعد تیسرا بڑا مجدد جانا جاتا ہے، اس سے بھی زیادہ یہ لوگ مذہبی اور دینی خیالات سے قریب تر تھے۔ انھوں نے جس طرح عقل اور دین کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی، جس طرح سے دینی عقائد اور دینی تصورات کو عقلیات کی زبان میں کامیابی سے بیان کیا، ان کی مثالیں یورپ کی مذہبی تاریخ میں نہیں ملتیں۔
ہمارا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے دانش وروں نے نہ اپنی تاریخ کا مطالعہ کیا، نہ مغربی تاریخ کا، نہ دیکھا کہ ہمارے ہاں کیا خرابیاں تھیں اور کیا نہ تھیں۔ یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے ہاں خرابیاں نہ تھیں، لیکن جو خرابیاں تھیں ان کو کسی نے دیکھا نہیں، اور جو خرابیاں نہیں تھیں ان کو زبردستی اپنے اندر مان لیا اور ان خرابیوں کو ماننے کے بعد وہ نتائج بھی خود بخو د تسلیم کرلیے جو یورپ میں ان خرابیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ اس سے دنیاے اسلام میں سیکولرزم کو فروغ ملنا شروع ہوگیا۔ سیکولرزم کے فروغ کے نتیجے میں ایک ایسی صورت حال انڈونیشیا سے مراکش تک موجود ہے، جو بین الاقوامی قوتوں کے مفاد کی وجہ سے شدید تر ہوتی چلی جارہی ہے کہ کس طرح سے مذہب کے دائرے کو زیادہ سے زیادہ محدود کردیا جائے، اور ریاستی اور سرکاری،اجتماعی ، قانونی، اقتصادی اور تہذیبی معاملات سے دین و مذہب کو نکال کر مذہب اور اخلاق کا دائرہ محدود کردیا جائے۔
یہ ہے وہ چیلنج جو دنیاے اسلام کو آج درپیش ہے۔ بظاہر یہ فکری اور علمی مسئلہ ہے جس کا روزمرہ کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن آج دنیاے اسلام کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا گہرائی سے جائزہ لیں اور فکری سطح پر دیکھیں کہ اس کے اسباب کیا ہیں، تو یہی بنیادی سبب نظر آئے گا کہ دنیاے اسلام کے خاصے قابلِ ذکر حصے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ جس طرح سے مغرب ایک خاص رُخ پر مذہب اور سیاست کو الگ الگ کرنے پر مجبور ہوا، دنیاے اسلام کو بھی اسی نتیجے پر پہنچنا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ فلاں قوانین بنیادی حقوق سے متعارض ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ فلاں قسم کے نظام سے معاشرے میں امتیاز اور فرق پیدا ہو رہا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ فلاں قسم کا نظام اگر آیا تو ریاست کے فلاں مفاد کو زد پہنچے گی۔ ریاست کے مفاد کو زک پہنچنے، امتیازی قوانین اور بنیادی حقوق کی یہ باتیں بظاہر خوب صورت عنوانات ہیں لیکن ان عنوانات کے پردے میں جو گفتگو کی جارہی ہے اس پر غور کریں تو بالآخر جو بنیاد نکلے گی، وہ یہی ہے کہ ریاست یا مذہب کو اور مذہب یا زندگی کے معاملات کو الگ الگ ہونا چاہیے۔ میرا مذہب کیا ہے اس سے آپ کو سروکار نہیں، اور آپ کا مذہب کیا ہے مجھے اس سے سروکار نہیں۔ یہی چیز اسلام کے بنیادی تصور سے متعارض ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری ساری شناخت ہی مذہب ہے۔ مسلمان کے ہاں ہر اچھائی اور برائی کا تعین مذہبی حوالے سے ہوتا ہے۔ اخلاق اور قانون کا تعلق مذہب سے ہے، تہذیب کا تعلق مذہب سے ہے، اور کوئی چیز مذہب کے اس دائرے سے خالی نہیں جو قرآن مجید اور صاحب ِ قرآن مجید کے اقوال میں موجود ہے۔ یہاں تو قانون کا بھی بنیادی حوالہ بالآخر مذہبی کتاب ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ بھی مذہبی کتاب ہے، جب کہ وہاں یہ چیز ناقابلِ تصور ہے کہ ایک مذہبی کتاب کا دورِ جدید کے اقتصادی معاملات سے کیا تعلق؟ ہمارے دینی قائدین جزئیات پر تو بہت زور دیتے ہیں لیکن اس مسئلے کی اصل جڑ پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ علماے کرام، دینی قائدین اور دینی فکر کے لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے پہلے یہ اسلوب ذہن نشین کروائیں کہ حق ایک ہے اور اس میں کوئی تفریق دین و دنیا کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی۔ جب یہ تفریق ہوگی تو ہوس پر ہوگی ؎
ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
ہوس کی امیری ، ہوس کی وزیری
پھر انسانی خواہشات اور انسانی شہوات کی بالادستی ہوگی۔ جب بالادست طاقت کے احکامات چلیں گے، جیساکہ دنیا میں چل رہے ہیں، تو پھر جو کمزور ہے وہ بتدریج مجبور ہوتا جائے گا۔ روزانہ کمزور سے مطالبہ کیا جائے گا اور بالادست روزانہ آگے بڑھتا جائے گا تاآنکہ وہ یہ تسلیم کروا لے کہ دین و مذہب الگ الگ چیزیں ہیں اور مذہب کا اجتماعی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب تک یہ اصول مسلمان تسلیم نہیں کرے گا اس وقت تک ان کے مطالبات جاری رہیں گے۔ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ، جس نے اکثر و بیش تر مغربی ماحول میں تعلیم پائی ہے اور جو مغربی یونی ورسٹیوں کا پڑھا ہوا ہے، اس میں بڑے ماہر، بڑے اچھے، بڑے مخلص اور محب وطن لوگ ہیں، لیکن مخلص اور محب وطن ہونا کافی نہیں ہوتا جب تک ذہن کی بنیاد درست نہ ہو۔ جب تعمیر میں بنیادی کج ہوجائے تو ؎
خشت اوّل چوں نہج معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
اس بنیاد کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات کہ قرآن مجید ہر سچائی اور ہرصداقت کا سرچشمہ ہے، اگر تسلیم ہے تو اس کے بعد پھر سب حوالے ختم ہوجانے چاہییں۔ کسی بڑے سے بڑے انسان کی عقل، تجربہ، حتیٰ کہ کسی بڑی سے بڑی تہذیب کی کوئی تہذیبی سچائی یا کلیہ ، اگر قرآن مجید سے متعارض ہے تو وہ ناقابلِ قبول ہے۔ جب تک یہ معیار لوگوں کے ذہن نشین نہیں ہوگا، اس وقت تک یہ جزوی مسائل اُٹھتے رہیں گے اور لامتناہی سوالات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ علماے کرام کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس بنیادی سوال کے جواب کو جو ایک رویے کاسوال ہے، پہلے واضح کردیں اور لوگوں کا ذہن اس معاملے میں صاف کریں۔
دوسری بڑی ذمہ داری جو دورِ جدید میں علماے کرام پر خاص طور پر آگئی ہے، وہ یہ ہے کہ پچھلے چودہ سو سال سے ان کا ایک خاص کردار مسلم معاشرے میں رہا ہے۔ وہ کردار اُس معاشرے میں واضح ہوا جہاں اسلامی قوانین، اسلامی احکام، اسلامی اخلاق، اسلامی کردار قائم اور جاری و ساری تھا۔ اگر ایک چیز اسلامی خطوط پر قائم ہے، معاشرہ اسلامی اساس پر کارفرما ہے، اسلامی قوانین عدالتوں میں نافذ ہیں، لوگوں کی زندگیاں اسلامی ہیں، لوگوں کے علوم و فنون اسلامی ہیں، درس گاہ کا ماحول اسلام کے مطابق ہے، بازار میں کاروبار اسلام کے مطابق ہو رہا ہے، وہاں علماے کرام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ جزئیات کا جواب دیں۔ جزوی مسائل اگر کوئی پوچھے تو آپ بتا دیں کہ یہ خریدنا حلال ہے یا حرام ، یہ کاروبار جائز ہے یا ناجائز، فلاں قسم کا لباس مکروہ ہے یا غیرمکروہ۔ یہ جزئیات کے سوال اُٹھتے رہتے تھے اور علماے کرام جزئیات کا جواب دیتے رہے۔ آپ فتاویٰ کی ساری کتابیں دیکھیں، سب جزئیات پر مبنی ہیں۔ آج ہم جس دور میں ہیں، اس میں اسلامی معاشرہ بڑی حد تک موجود نہیں ہے۔ اس نظام میں قوانین اسلام کے مطابق نہیں ہیں۔ اس میں معاشرتی اقدار اسلام سے بڑی حد تک ہٹ گئی ہیں۔ معیشت کا نظام اسلام کے مطابق نہیں ہے۔ حلال و حرام کی تمیز بھی کمزور پڑگئی ہے۔ یہاں محض جزئیات کا جواب دینا کافی نہیں ہے۔
جزئیات کا جواب تو وہاں دیا جائے جہاں کلیات اسلام کے مطابق ہوں۔ اگر جزوی خلاف ورزی ہورہی ہو تو آپ اس کی رہنمائی کردیں، مگر جہاں سارے کلیات ہی بدل دیے گئے ہوں وہاں جزئیات کا جواب دینا کافی نہیں ہے۔ جس طرح ایک عمارت آپ کے استعمال میں ہے، اور فرض کریں کہ آپ ڈیکوریشن کے ماہر ہیں، آپ سے پوچھا جائے کہ کرسی اِس ڈیزائن کی بنوائوں یا اُس ڈیزائن کی، اسٹیج اِس طرف ہو کہ اُس طرف تو آپ جواب دے سکتے ہیں۔ خدانخواستہ عمارت ہی گری ہوئی ہو اور پھر کوئی یہ سوال پوچھے کہ کرسی کس ڈیزائن کی ہو اور اسٹیج کس طرف ہو، یہ غیرمتعلق سوال ہے۔ یہ جزوی سوال بعد میں آئے گا، پہلے آپ کلیات کو درست کریں۔
علماے کرام اس تبدیلی کا احساس فرمائیں، اور وہ رویہ کہ آپ کے سامنے اپنے شیخ کے جاری کیے ہوئے فتاویٰ معتمد علیہ اور مستند فتاویٰ کا مجموعہ رکھا ہے، اور کوئی سوال آیاتو آپ نے جزو کا جواب دیا اور سمجھا کہ رہنمائی کا کام پورا ہوگیا، یہ کافی نہیں۔جزئیات کا جواب دینے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ جواب ان افراد، خاندان اور ادارے کو دیا جائے گا جو اسلام پر کاربند ہیں۔ ان کو جزئیات کے سوال پوچھنے کی ضرورت ہوگی اور انھیں اسی حوالے سے رہنمائی دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کلیات کے معاملات بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ اسلامی معاشرے کے بنیادی اوصاف کیا ہیں؟ اسلام میں خاندان کیسا ہوتا ہے؟ خاندان کے تعلقات کیا ہیں؟ خاندان کس بنیاد پر قائم ہے؟ یورپ میں جو خاندان ٹوٹا ہے تو کیوں ٹوٹا ہے؟ دنیاے اسلام میں جو ٹوٹ رہا ہے تو کیوں ٹوٹ رہا ہے؟ وہ کیا چیز بگڑ گئی ہے جس سے ٹوٹ رہا ہے؟ ان کلیات کا سوال جب کیا جاتا ہے تو اس کے جواب دینے میں بالعموم دو غلطیاں ہوتی ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ ہم میں سے بہت سارے انسان اسلام کی کلیات کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ تعلیم ایسی ہے جو جزئیات پر مشتمل ہے۔ پھر کلیات کے حوالے سے وہ تین چیزوں میں فرق نہیں کرتے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو قرآن کے نصوص ہیں، جن کے بارے میں دو راے نہیں ہوسکتیں۔ اسی طرح کچھ وہ ہیں جو احادیث اور سنت ِ متواترہ سے ثابت ہیں، وہ نصوص کا درجہ رکھتی ہیں۔ وہ اصول جو فقہ کی اصطلاح میں قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ ہیں، یہ دین کی اساسات ہیں۔ یہ ہیں وہ کلیات جن پر معاشرے کو زندہ رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کلیات کی کسی تعبیر پر اُمت کا اتفاق ہے تو یہ بھی انھی کا حصہ ہیں۔ لیکن اس کے بعد کسی ایک یا دو تین فقہا کی ذاتی آرا ہیں تو وہ کلیات نہیں ہیں۔ ان کلیات کے بارے میں اگر اس دور کے اہلِ علم یہ فیصلہ کریں کہ ہمارے لیے یہ راے، یا فلاں تعبیر، یا فلاں اجتہاد زیادہ موزوں ہے تو اس کو بھی آپ کلیات میں شامل کرلیں، لیکن جو جزوی اور انفرادی آرا ہیں، مثلاً حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی ایک راے ہے، امام شافعیؒ کی ایک راے ہے، امام غزالیؒ کی ایک راے ہے، ضروری نہیں کہ وہ راے ہمارے لیے اسی طرح متعلق ہو جیسے قرآن پاک متعلق ہے۔ دونوں کو ایک جگہ پر رکھیں گے تو قباحتیں پیدا ہوں گی۔ قرآن پاک کا جو دوام ہے وہ امام غزالیؒ کی راے کو حاصل نہیں ہے۔ سارے احترام کے باوجود وہ امام ابوحنیفہؒ یا کسی اور کی راے کو بھی حاصل نہیں ہے۔
اس بات کا خیال نہ رکھا جائے تو بڑی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب آپ یورپ یا امریکا تشریف لے جائیں۔ وہاں ایک عالم ہندستان سے آئے بیٹھے ہیں، ایک سعودی عرب سے، ایک مصر سے۔ امریکا کا ایک سیدھا سادہ آدمی جس نے کل اسلام قبول کیا ہے، ایک اس کو ایران کی بتا رہا ہے ، ایک طوران کی، ایک کہیں اور کی بتا رہا ہے، اور کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ یہ بیچارہ نہ شافعی ہے، نہ حنبلی، نہ مالکی، نہ حنفی۔ یہ کچھ نہیں، یہ تو مسلمان ہے۔ گویا یہ سنہ ۲۵ ہجری میں مسلمان ہوا ہے۔ اس کو آپ ان چیزوں میں کیوں پھنساتے ہیں، اس پر کیوں آپ فقہ حنفی مسلط کر رہے ہیں، کیوں فقہ شافعی یا فقہ اہلِ حدیث یا جو بھی ہے، وہ آپ اس پر مسلط کر رہے ہیں۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر یہ ہوتا ہے کہ تم ہاتھ یہاں باندھو ، اذان ہو تو انگوٹھا چومو یا مت چومو۔ ابھی آپ کچھ نہ کیجیے، اس کو نماز پڑھنا سکھایئے جو کہ اساسِ دین ہے۔ جب وہ نماز پڑھنا سیکھ لے گا تو جس مسلم معاشرے میں اس کی تربیت ہوگی اور جس مسلم ماحول کا وہ حصہ بنے گا، بتدریج وہ خود ہی اختیار کرلے گا۔ پھر جب وہ آپ سے مسائل پوچھے تو آپ اسے بتائیں۔
اس حد تک بھی یہ گوارا ہے کہ یہ بھی فقہا کے اقوال ہیں، وہ بھی دین کے معتبر شارحین کے ارشادات ہیں۔ اس حد تک بھی چلیے مان لیں، لیکن کچھ چیزیں ہیں جو مقامی رواج ہیں۔ کسی رواج کا اسلام کے مطابق ہونا اور چیز ہے اور اسلام ہونا اور چیز۔ ایک رواج ہے جو اسلام سے متعارض نہیں، قابلِ قبول ہے، لیکن اس رواج کو آپ مسلمانوں پر زبردستی مسلط کریں، یہ اسلام کا تقاضا نہیں۔ آپ کسی شیخ کے مرید ہیں، ان کا اللہ کی بارگاہ میں بہت اُونچا مقام ہے، ان کا کچھ ذاتی ذوق تھا، آپ کا جی چاہتا ہے تو آپ اس ذوق کی پیروی کریں، نہیں جی چاہتا مت کریں، لیکن پیغمبرؐ کے علاوہ کسی کے ذوق کو زبردستی دوسروں سے منوانا یہ شریعت کا نہ تقاضا ہے اور نہ حکم ہے۔ مثلاً آپ کے بزرگ ایک خاص انداز سے عمامہ باندھتے ہیں، آپ کو ان سے محبت ہے تو اُس طرح کا عمامہ باندھیے، لیکن جب آپ لوگوں سے یہ کہیں کہ اس طرح کا عمامہ باندھنا دین کا تقاضا ہے تو یہ چیز قابلِ اعتراض ہوجاتی ہے اور اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دین کا تقاضا نہیں ہے۔ دین یہ نہیں کہتا کہ فلاں بزرگ کی طرح عمامہ باندھو یا فلاں بزرگ کی طرح کا لباس پہنو۔ ہاں، اگر کوئی مرد سونے کی انگوٹھی استعمال کرتا ہے تو اس کی نصوص میں ممانعت ہے، اس لیے اس کو روکیں۔ کوئی عورتوں جیسا لباس پہنتا ہے تو اس کو بھی روکیں، کیونکہ اس کی بھی شریعت میں ممانعت ہے۔
یہ تین چیزیں ہیں جن میں عام طور پر لوگ تفریق نہیں کرتے۔ نصوص کیا ہیں؟ جو دائمی ہیں۔ جو امریکا، برطانیہ ، فرانس، مصر، ہر جگہ رہیں گی۔ ائمہ کرام کے اجتہادات اس ماحول کے مطابق ہیں جس میں اس ماحول کے مانوس لوگ رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں امام ابوحنیفہؒ کے اجتہادات سے مانوس لوگ چلے آرہے ہیں۔ سالہا سال سے یہاں وہ چیز اس حد تک قابلِ قبول ہے جہاں تک ہمارے ہاں رہی ہے۔ لیکن اس ماحول سے نکل کر آپ امریکا جائیں اور امریکا کے نومسلم کو زبردستی کہیں کہ تم ہاتھ یہاں باندھو۔ و ہ کہے کہ میں تو یہاں باندھتا چلا آرہا ہوں، آپ کہیں کہ آپ کی نماز نہیں ہوئی۔ اب وہ بیچارہ جو دس سال سے یہاں ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا چلا آرہا ہے، آپ نے اس کی نماز کو شک میں ڈال دیا۔ کسی مالکی امام سے اسلام قبول کرنے کے باعث وہ ہاتھ چھوڑ کر پڑھتا تھا، آپ نے کہا کہ اس طرح تو نماز نہیں ہوتی۔ اب وہ پریشان ہوا کہ میں کیا کروں؟ میری نماز ہوئی کہ نہیں؟ یہ ایسی چیزیں ہیں جن کو ان کے حدود میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
ایک دفعہ مجھے بقرہ عید پر انگلستان کے ایک شہر میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ طے ہوا کہ سارے مسلمان ایک جگہ پر عید کریں گے۔ اب ایک خاص علاقے کے لوگوں کا اصرار تھا کہ عیدمنانے کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ بچپن سے ہم اسی طرح مناتے چلے آرہے ہیں اور ہمارے آبا و اجداد اسی طرح کرتے آرہے ہیں۔ ایک دوسرے علاقے کے مسلمانوں کا اصرار تھا کہ ہم ایسے کریں گے۔ پندرہ بیس وہاں کے مقامی مسلمان حیران تھے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ ترک کہتے تھے ایسے کرو، حالانکہ عید کا حکم شریعت میں نہ وہ ہے نہ یہ ہے۔ شریعت کچھ نہیں کہتی۔ ہمارا ایک رواج ہے جو شریعت کے مطابق ہے تو قابلِ قبول ہے، اور شریعت سے متعارض نہیں ہے تو بھی قابلِ قبول ہے، لیکن وہ دین اور شریعت نہیں ہے۔ وہ بس ہمارے یہاں کا رواج ہے۔
اس لیے دین کے جو کلیات قرآن اور سنت ہیں وہ دین کی دعوت کا موضوع ہیں۔ باقی چیزیں دعوتِ دین کا موضوع نہیں ہیں۔ وہ تحقیق، راے، فتویٰ اور اجماع کا اور ذاتی ذوق کا موضوع ہے، ان کو دعوت کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ دعوت کا موضوع وہ چیزیں ہیں جو قرآن پاک، سنت اور دین میں متفق علیہ ہیں۔ جو چیزیں صحابہ کرامؓ سے چلی آرہی ہیں، جو چیزیں صحابہ کرامؓ میں متفق علیہ نہیں تھیں ، وہ دین نہیں ہوسکتیں۔ اگر آپ کہیں کہ وہ دین ہے تو جو صحابہ اس سے ہٹے ہوئے تھے تو گویا نعوذ باللہ وہ مسلمان نہیں تھے۔ جو چیز تابعین میں متفق علیہ نہیں تھی، وہ دین نہیں ہے۔ وہ اجتہاد ہے، راے ہے اور فتویٰ ہے۔ اگر آپ ایک راے کو دین کہیں تو دوسری راے کو کیا کہیں گے؟
تیسری اور آخری چیز جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اور خاص طور پر جو بنیادی طور پر دین کا حوالہ رکھتے ہیں، وہ دوسروں کے بارے میں راے دینے میں بعض اوقات جلدبازی کرتے ہیں۔ لوگوں میں طرح طرح کے عقائد موجود ہیں۔ مسلمانوں کا جو تصورِعلم ہے وہ ان کے لیے مانوس نہیں ہے، وہاں اصل بنیاد کو نظرانداز کرکے جب آپ کسی جزوی مسئلے پر راے یا رویہ اختیار کریں گے تو وہ دین سے مزید دُور ہوگا۔ ایسے بے شمار لوگ آپ کو ملیں گے جو مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور بحیثیت مجموعی جب ان کو کہا جائے کہ آپ اسلام کو مانتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہاں مانتے ہیں۔ اسلام کے خلاف کوئی بات ہو تو وہ دکھ بھی محسوس کرتے ہیں، لیکن کسی جزوی معاملے میں وہ آپ کی بات نہیں مانتے۔ دین کے نام پر ہم جو بات انھیں بتا رہے ہیں، اس میں یہ تمام چیزیں، یعنی نصوص، اجتہادات، انفرادی بزرگوں کا ذاتی ذوق اور کسی مقامی علاقے کا اسلامی رواج بھی شامل ہیں۔
اب اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں اس رواج کو نہیں مانتا، یہ غلط ہے تو آپ اس کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ وہ اتنا ہی اچھا مسلمان ہوسکتا ہے جتنا کوئی اور۔ کوئی کہتا ہے کہ فلاں بزرگ کی پگڑی کا اسٹائل بڑا فضول ہے، میں نہیں مانتا تو کسی بزرگ کی پگڑی کے اسٹائل کو فضول کہنے سے آدمی نہ فاجر ہوجاتا ہے نہ فاسق اور نہ کچھ اور۔ اس حد تک بھی درست ہے کہ وہ کہے مَیں امام ابوحنیفہؒ کے فلاں اجتہاد کو نہیں مانتا تو آپ تھوڑی بات کریں، مگر گستاخی اور جہالت کا کوئی عنصر نہ آنے پائے کہ یہ قابلِ اعتراض بات ہے۔ لیکن اگر وہ نصوص کا انکار کرے تو وہاں مسئلہ خطرناک ہوجاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ جو چیزیں اسے بتائی جارہی ہیں بظاہر وہ غلط محسوس ہوتی ہیں، وہ اس لیے غلط معلوم ہوتی ہیں کہ وہ شریعت کا حکم ہی نہیں ہے، وہ شریعت کے حکم کے طور پر اس کو سمجھتا ہے۔ اس لیے اس میں کسی جلدبازی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ یہ محسوس کریں کہ چونکہ اس کی بنیاد کمزور ہے، اس بنیاد پر جو عمارت کھڑی ہے اس کی کبھی ایک اینٹ گرتی ہے اور کبھی دوسری، کسی ایک اینٹ گرنے کی وجہ سے اس آدمی کو کچھ نہ کہیں۔ عمارت کو دیکھیں کہ اس کی بنیاد درست ہے یا نہیں، ورنہ بنیاد کو درست کرنے کی کوشش کریں۔
مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بالعموم منفی تاثر پایا جاتا ہے جو مبنی برحقیقت نہیں۔ مسلمانوں کو مسلسل ’بنیاد پرست، ’دقیانوس‘، ’دہشت گرد‘، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے۔ مزید یہ الزام بھی دیا جاتا ہے کہ مسلمان جمہوریت کو ناپسند کرتے ہیں اور دنیا پر شریعت مسلط کرنا چاہتے ہیں، نیز مغرب کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسی طرح ایک طویل عرصہ سے جہاد کے بارے میں بھی مغرب میں غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ ان غلط مفروضوں اور مبہم اور غیرحقیقی تصورات کی بنیاد پر مغرب کی عالمِ اسلام کے بارے میں بنائی جانے والی حکمت عملی مزید غلط فہمیوں کو پھیلانے اور نتیجتاً مسلمانوں کے ساتھ محاذآرائی کی شکل اختیار کرچکی ہے جس سے دنیا کا امن بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ان حالات میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہوگیا ہے کہ مسلمانوں کا حقیقی موقف کیا ہے، اور ان کا پُرتشدد ردعمل کن وجوہات کی بنا پر سامنے آرہا ہے؟ بالکل اسی طرح مغرب کی حکمت عملی کا حقیقت پسند اور غیرجانب دار جائزہ، نیز مسائل کے حل کے لیے مبنی برانصاف لائحہ عمل کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ اس پس منظر میں اگر مغربی مفکرین کی طرف سے کوئی معروضی مطالعہ سامنے آئے تو ایسے جائزے کو عالمی امن کے قیام کی کوششوں کی طرف ایک صحت مند اقدام سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
راجر ہارڈی نے اپنی کتاب The Muslim Revolt [مسلم بغاوت ] میں سیاسی اسلام کے تناظر میں مذکورہ بالا مسائل کے پیش نظر جامع تجزیہ پیش کیا ہے اور سوڈان، سعودی عرب، ترکی، انڈونیشیا، ملایشیا، پاکستان اور ایران میں درپیش مسائل کا غیر جانب داری سے جائزہ لیا ہے۔ مصنف بی بی سی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے مسلم مفکرین، سرگرم لوگوں (activists) اور عوام سے براہِ راست رابطے میں رہا ہے۔ ہارڈی نے بہت سے عصری سیاسی و سماجی مسائل پر مسلم اسکالروں، عوام اور حکمران طبقے کے ردعمل پر مبنی قیمتی معلومات تنقیدی نقطۂ نظر سے پیش کی ہیں۔
’سیاسی اسلام‘ کا سفر اسلام کو بطور معاشرہ اور تہذیب کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش سے ہوتا ہے۔ عمومی تاثر کے برعکس ہارڈی یہ محسوس کرتا ہے کہ عربوں نے اصولی طور پر اسلام کو تلوار کے زور پر مسلط نہیں کیا۔ ان کی زبان عربی منصفانہ انداز میں بتدریج پھیلی اور مذہب مزید آہستگی سے اب بھی پھیل رہا ہے۔ یہ صرف ۱۰ویں اور ۱۳ویں صدی عیسوی کا زمانہ ہی نہ تھا جب مشرق وسطیٰ کے باشندوں نے اسلام قبول کیا....عملی مقاصد کے حصول کے لیے ریاست نے ایک خالص عرب مہم جوئی کے بجاے بطور مسلم ریاست کردار ادا کیا۔ (ص ۱۱-۱۲)
ہارڈی مسلمانوں میں عالمی سطح پر پائی جانے والی اسلامی ریاست یا شریعہ بطور قانون کے نفاذ کی خواہش کو جاننے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اس نے قائداعظم محمد علی جناح کے تصورِ پاکستان کو جس سادگی سے پیش کیا ہے اس پر اسے موردِ الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔ اس کے تجزیے میں بھی قائداعظم کے بارے میں عمومی غلط فہمی پائی جاتی ہے، یعنی یہ کہ وہ سیکولر اور لبرل تھے (ص ۵۹)۔ اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم نے قیامِ پاکستان سے قبل اور اس کے وجود میں آجانے کے بعد پاکستان کے ایک اسلامی ریاست ہونے کے تصور کو بارہا پیش کیا (دیکھیے: امریکی عوام سے خطاب، ۲۳ فروری ۱۹۴۸ئ)۔ اپنے ایک دوسرے بیان میں انھوں نے ان لوگوں کو متنبہ کیا ہے جنھوں نے مسئلے کو اُلجھانے کی کوشش کی ہے: ’’بلاشبہہ جب ہم اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں تو بہت سے لوگ اس کی تحسین نہیں کرتے۔ اسلام محض اصولوں، روایات اور روحانی طریقوں کا نام نہیں ہے۔ اسلام ہرمسلمان کا ضابطۂ حیات بھی ہے جو اس کی زندگی اور رویے کو ترتیب دیتا ہے، حتیٰ کہ سیاست اور اقتصادیات کو بھی۔ یہ عزت و احترام، اعلیٰ اخلاقی اقدار، صحیح رویے اور سب کے لیے انصاف جیسے اعلیٰ اصولوں پر مبنی ہے‘‘۔
ہارڈی کا یہ نقطۂ نظر کہ مذہبی جماعتیں پارلیمنٹ میں زیادہ نشستیں نہیں جیت سکتیں اور ان کے ووٹ بنک کا موازنہ جب دیگر سیاسی جماعتوں سے کیا جاتا ہے تو محدود ہے، تنقیدی تجزیہ چاہتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ایک عام ووٹر کو کبھی بھی سیکولر اور ’مذہبی‘ گروہوں کے درمیان انتخاب کا مرحلہ درپیش نہیں آیا۔ حتیٰ کہ وہ جو ’سیکولر‘ کہلاتے ہیں ہمیشہ عوام کی اسلام سے وابستگی کو استعمال کر کے ان کا استحصال کرتے رہے اور ان کی حمایت حاصل کرتے رہے۔ اس کی نمایاں مثال پاکستان پیپلزپارٹی ہے جس کے راہنما ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی جذبات کو سیاسی طور پر اس وقت استعمال کیا جب انھوں نے جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا، قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا اور پاکستان میں شراب کی کھلے عام فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔ ۱۹۷۳ء کے دستور میں بھی جو متفقہ طور پر ان کے دورِ امارت میںمنظور کیا گیا، پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا اور دستوری طور پر ریاست کو اس بات کا قانوناً پابند کیا گیا کہ ۱۰ سال کے اندر اندر پاکستان کا قانونی نظام مکمل طور پر اسلامی کردیا جائے گا۔ان تاریخی حقائق کے تناظر میں جب ضیاء الحق کو پاکستان میں اسلامائزیشن کا علَم بردار (چیمپئن) قرار دیا جاتا ہے تو یہ ان کے ساتھ غیرضروری فیاضی اور بے جا تحسین کے مترادف ہے۔ (ص۳۱-۶۳)
ہارڈی مسلمانوں کے ساتھ مغرب کے دہرے اخلاقی معیار پر بھی کڑی تنقید کرتا ہے۔ اس کے خیال میں یہ کہنے میں کہ قانون کا احترام کرنے والے اور محنتی مسلمانوں کے ساتھ عام شہریوں کی طرح پیش آیا جاتا ہے، ناگزیر حد تک تضاد پایا جاتا ہے۔ ان کی مساجد کی نگرانی کی جاتی ہے، ان پر دبائو ڈالا جاتا ہے کہ وہ انفرادی اور خاندانی رویوں میں تبدیلی لائیں، اور ریاستی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر قانون سازی میں سختی کے نتیجے میں شہری آزادیاں متاثر ہورہی ہیں۔ مغرب کے اس دہرے اخلاقی معیار کے نتیجے میں وہ اسلام کا نیا حریف بن گیا ہے۔ ہارڈی کی یہ تصنیف کثیرثقافتی باہمی بقا کا بھی ایک اہم مطالعہ ہے۔ (ص۱۸۵)
مصنف دہشت گردوں اور اسلام پسندوں کو ہدف بنانے کے نام پر بے گناہ شہریوں پر قوت کے استعمال اور ڈرون حملوں کو بھی تنقیدی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ مراد ہوف مین کے نقطۂ نظر کی تائید کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’سرد جنگ کی طرح یہ نئی جنگ بھی ایک نظریاتی جہت رکھتی ہے جوکہ ’سوفٹ پاور‘ (سفارت کاری، انٹیلی جنس، پروپیگنڈا، اقتصادی امداد وغیرہ) جیسے ہتھیاروں کے حساس استعمال کی متقاضی ہے لیکن سرد جنگ اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے درمیان ایک اہم فرق ہے۔ ناٹو اور وارسا پیکٹ کا جب موازنہ کیا جاتا ہے تو امریکا کی لازمی طور پر حکومتوں سے محاذآرائی تھی نہ کہ عوام سے جو اتحادی یا امکانی اتحادی تھے۔ اب امریکا ریڈیکل اسلام کے خلاف جسے ہمیشہ عوام کی تائید حاصل ہوتی ہے، غیرمقبول مسلم حکومتوں کا اتحادی ہے۔ یہ پوری دلجمعی کے ساتھ کسی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لیے زیادہ کمزور موقف ہے‘‘۔ (ص ۱۸۷-۱۸۸)
ہارڈی عالمی جہاد کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ اس کے نزدیک اس کا سبب انسانیت کی تذلیل پر مبنی روایات ہیں۔ ان روایتوں کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ مغرب___ روایتی فوجی اور اقتصادی طاقت اور عالم گیریت کے نئے ہتھیار سے مسلح___ اسلام کے ساتھ حالت ِ جنگ میں ہے۔ (ص۱۹۱)
مغرب کی جارحیت فلسطین، عراق، افغانستان، کشمیر اور وسطی ایشیا کی جمہوریائوں سے محاذآرائی پر مبنی خطے میں پوری طرح عیاں ہے۔ جہاد کے حمایتی تشدد کو مغربی جارحیت سے نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں اور اس کا جواز مذہب سے مہیا کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تذلیل سے نجات دلاتا ہے اور ندامت کو فخر سے اور بے بسی کو قوت میں بدل دیتا ہے (ص ۱۹۲)۔ اس موقف کا اظہار بھرپور تاثر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہارڈی کی راے میں جڑواں ٹاور پر حملہ جہادیوں کے اس مضبوط موقف کی تسکین کا باعث تھا۔القاعدہ کا نقطۂ نظر مسلم نوجوانوں کو تشخص، نظریہ اور ایک ایسا ذریعہ فراہم کرنا ہے جو انھیں یہ بتاتا ہے کہ وہ کون ہیں، انھیں کیوں اس پر عمل کرنا چاہیے،اور کیا کرنا چاہیے۔ (ص ۱۹۳)
امریکا کی ۲۰۰۱ء میں افغانستان اور ۲۰۰۳ء میں عراق پر جارحیت نے مغرب کی اسلام کے خلاف عالمی جنگ کے القاعدہ کے موقف کی تصدیق کردی۔ اس کی مزید تائید ابوغرائب جیل میں قیدیوں کی تذلیل کے قصے اور گوانتاناموبے جیل میں قیدیوں کے ساتھ توہین آمیز رویے نے کردی۔ اس سب نے نام نہاد القاعدہ کے حربوں اور حکمت عملی کے لیے جلتی پر تیل کا کام کیا اور امریکی پالیسیوں کی مسلم دنیا میں ناپسندیدگی اور حمایت سے محرومی میں اضافہ کیا۔
ہارڈی کے تجزیے کی روشنی میں ۲۰۰۹ء میں وائٹ ہائوس کی مسلم دنیا سے متعلق حکمت عملی میں ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے، اوّلاً: سی آئی اے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کو تیزی سے اس کے صحیح مقام پر واپس لانے میں زیادہ سرگرمِ عمل دکھائی دیتی ہے۔یہ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں متعین اہداف پر حملوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ یہ حکمت عملی القاعدہ کو اپنے دفاع پر مجبور کردیتی ہے۔ دوم: سرکاری بیانات میں ’جہادی‘ یا ’مسلم‘ دنیا کی اصطلاحات سے اجتناب کرتے ہوئے ’دنیا میں پائے جانے والے مسلمان‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ گو، اس سے حتمی تجزیے کے طور پر امریکا کے مسلمانوں کے بارے میں رویے میں امریکا اور بیرونِ امریکا میں کوئی بڑا تغیر واقع نہیں ہوا، اور نہ مسلمانوں کے امریکا کے مسلمانوں کے مفادات کے خلاف محاذ آرائی اور تصادم کے تصور میں ہی کوئی تبدیلی آئی ہے۔ سوم: ان حالات پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے جو تشدد اور انتہاپسندی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ غربت کے خاتمے اور شرحِ خواندگی میں اضافے کے پروگراموں نے توجہ حاصل کرلی ہے۔ چہارم: امریکی حکام اور ماہرین پر یہ بات بھی عیاں ہوتی جارہی ہے کہ مسائل کو فوجی قوت کے استعمال سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ مسلم دنیا کے پسے ہوئے مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی حل بھی تلاش کیا جانا چاہیے۔ پنجم: امریکا کو مسلم دنیا میں اپنی حکمت عملی کے نفاذ کے لیے عالمی دبائو بڑھانے کے لیے دنیا کی دیگر اقوام کو بھی اس میں شریک کرنا چاہیے۔ناٹو افواج کی افغانستان ، عراق اور لیبیا وغیرہ میں براہِ راست مداخلت نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کو ایک کثیرقومی جدوجہد بنادیتی ہے۔ ششم: عراق، افغانستان اور پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے غیرمعمولی کاوشیں لازماً کی جانی چاہییں۔ یہ نئی حکمت عملی ایک عام آدمی میں اس یقین کو پختہ کرتی ہے کہ مسلم دنیا میں آمر حکمران، اسلام پسندوں، بنیاد پرستوں اور جہادیوں کو پیدا کرنے کا سبب ہیں، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادی آزادی، حریت ، انسانی حقوق اور جمہوریت کے علَم بردار ہیں۔ تاہم کوئی بھی اس زمینی حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ مصر، تیونس، مراکش، یمن وغیرہ کے جابروں اور آمروں کو امریکا کی مسلسل حمایت حاصل رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اس کے مغربی اتحادی جنگ ِ عظیم کے بعد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں آمر حکمرانوں کی تخلیق کے پیچھے تھے۔
نائن الیون کے بعد نام نہاد لبرل جمہوری معاشرے کے ودیعت کردہ تضادات مزید نمایاں ہوکر سامنے آئے۔ نہ صرف مسلم دنیا میں بلکہ امریکا اور یورپ میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والے مسلمانوں کو بھی پہلے سے قائم تصورات کی بنا پر ’ماڈریٹ‘، ’ریڈیکل‘، ’لبرل‘،’دقیانوسی‘یا ’بنیاد پرست‘ قرار دیا گیا۔ اس طرح سے مسلمانوں کے بارے میں قائم کیا گیا تاثر ان کی شخصیت کا حقیقی عکس نہیں ہے۔ یہ عمومی تاثر کہ ’مسلمان جمہوریت سے نفرت‘ کرتے ہیں یا ’مسلمان ہماری آزادی سے نفرت‘ کرتے ہیں، جیساکہ بش نے دعویٰ کیا تھا، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں حقیقی تصور کو جاننے میں ایک رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔
لاعلمی یا حقیقی مسائل کو پوری طرح قصداً جانے بغیر کیے جانے والے فیصلے صحیح پالیسی فیصلوں کے نہ ہونے کا باعث بنتے ہیں۔ ہارڈی کا یہ تاثر مبنی برحقیقت ہے: ’’مسلم دنیا کے مرکز سے لے کر موریتانیہ سے مینڈانائو تک بیش تر علاقوں میں مسلمانوں کو بُری حکمرانی کا سامنا ہے، ان کے انسانی حقوق کا استحصال کیا جا رہا ہے، اور ان کی معاشی ترقی روک دی گئی ہے۔ یہ مسائل حقیقی ہیں اور مغرب کو ان کا براہِ راست ذمہ دار بھی نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔ لیکن بیرونی قوتوں کے کردار کو نظرانداز کرنا___ ان کی غوروفکر سے عاری مداخلت، ان کی آمر حکمرانوں پر عنایات، ان کا انسانی حقوق اور جمہوریت کے بارے میں دہرا معیار___ مسئلے کے ایک اہم پہلو سے آنکھیں بند کرلینے کے مترادف ہے‘‘۔ (ص ۲۰۱)
غلط تصورات پر مبنی خارجہ پالیسی کسی بھی ابلاغی خلا کو پُر نہیں کرسکتی، اور نہ باہمی اعتماد ہی کو قائم کرسکتی ہے۔ امریکا اور یورپی حکومتی پالیسیوں کی عالمی سطح پر مسلمانوں کی طرف سے مخالفت کی ایک بڑی وجہ ان کی ناقص ڈھل مل خارجہ پالیسی، اور یہ تصور ہے کہ فوج، طاقت اور دولت ہی مسئلے کا حل ہیں۔ سابق برطانوی خارجہ سیکرٹری ڈگلس ہرڈ یہ کہنے میں پوری طرح حق بجانب تھے: ’’ہم نے غزا، فلوجا اور چیچنیا میں بہت سے لوگوں کو ہلاک کر کے دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔ ان علاقوں میں اپنے رویے سے اسرائیلی، امریکی اور روسی ہر وقت دہشت گردوں کو تیار کر رہے ہیں‘‘۔ (بی بی سی ریڈیو- ۴، ۲۲؍اپریل ۲۰۰۴ئ)
مسلمان ممالک پر طولانی قبضہ اور ڈرون حملے صورت حال کو مزید خراب کرنے کا باعث بنیں گے، جب تک کہ دہشت گردی کو فروغ دینے کا یہ سلسلہ بند نہ کیا جائے، اور تعلیم کے ذریعے مسلمانوں کا ذہن تبدیل کرنے کی نرم پالیسی نہیں اپنائی جاتی۔ ایسے میں محض متاثرہ علاقوں میں سماجی ترقی کے لیے دی جانے والی خیراتی امداد کوئی بہتری نہیں پیدا کرسکتی۔
مغرب اور عالمی مسلم کمیونٹی کے باہمی تعلقات کے مستقبل کا انحصار نام نہاد امن افواج کے انخلا میں ہے جو کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر عوام پرکھلم کھلا حملوںمیں ملوث ہے۔ یورپ اور امریکا کی اسرائیل، افغانستان، عراق، لیبیا، یمن اور پاکستان کے بارے میں خارجہ پالیسی ایک حقیقی تبدیلی مسلمانوں اور مغرب کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کے لیے راہ ہموار کرسکتی ہے۔ یہ مغرب اور بنی نوع انسان کے مفاد میں ہے کہ عالمی امن کے حصول کے لیے اور مسلم دنیا میں مجروح عوام کے احترام اور حقوق کی بحالی کے لیے مزاحمت اور تصادم کو کم کرے۔
زیرتبصرہ کتاب امریکا اور اس کے اتحادیوں کی عالم اسلام کے بارے میں خارجہ پالیسی میں مثالی تبدیلی تجویز کرتی ہے۔ مغرب کی جمہوریت، آزادی (لبرلا ئزیشن) اور عالم گیریت کے نام پر مسلم دنیا کے معاملات میں بلاجواز مداخلت مسلمانوں کو مزید برگشتہ کرے گی اور پُرامن بقاے باہمی کے امکانات کو مزید کم کرے گی۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مسلم دنیا میں غیرمقبول، کرپٹ آمر حکومتوں کی خفیہ یا کھلی حمایت اور سرپرستی بھی بند ہونی چاہیے۔ اگر ہم دنیا میں ایک پُرامن عالمی نظام چاہتے ہیں تو مسلمانوں کے ذہن اور نفسیات، اسلامی اقدار اور تمدن کو سمجھنے کے لیے ایک مخلصانہ سوچ کو سب سے پہلے سامنے آنا چاہیے۔ اس لیے کہ ’’ایک نئی سوچ کے بغیر جو کہ اسلام کے تصورِ حیات اور عالمِ اسلام کے عدم اطمینان کی وجوہات پر یقینی گرفت رکھتی ہو یہ ممکن نہیں۔ دوسری صورت میں مسلمانوں کی بغاوت صدیوں تک جاری رہے گی‘‘ (ص ۲۰۲)۔ (تبصرہ: مسلم ورلڈ بک ریویو، برطانیہ، جلد ۳۲، شمارہ ۲، ۲۰۱۲ئ۔ ترجمہ: امجد عباسی)
The Muslim Revolt: A Journey Through Political Islam )
راجر ہارڈی، ناشر: C.Hurst & Co ، لندن، ۲۰۱۰ئ، ISBN: 9781849040327، صفحات: ۲۳۹)
اقبال کے مردِ مومن کو اگر مجسم دیکھنا ہو تو ٹیپو سلطان شہید کو دیکھا جاسکتا ہے۔ برعظیم پاک وہند کی تاریخ میں ٹیپو سلطان(۱۷۵۱-۱۷۹۹ئ) کو ایک لازوال اہمیت حاصل ہے۔ دنیا کی تاریخ بمشکل اس اولوالعزم سلطان کی نظیر پیش کر سکے گی۔ٹیپو سلطان نہ صرف ایک مردِ مجاہد تھا،بلکہ حقیقی معنوں میں اقبال کا ایک مردِ مومن تھا۔ عالم فاضل، عابد و زاہد، بہترین سپہ سالار، بہترین منتظم ، تجربہ کار سیاست دان ، غیر معمولی بصیرت رکھنے والا عوامی رہنما اور قائد۔
جس وقت عنانِ حکومت ٹیپو سلطان کے ہاتھ آئی تو اس نے دو اہم کام کیے۔ ایک جانب اپنی پوری توجہ اتحاد بین المسلمین اور اتحاد بین الاقوام ہند پر مرکوز کی ۔دوسری جانب ملک کی صنعت و حرفت پر پوری توجہ دی۔ سلطان کے یہی عزائم و ارادے تھے جس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو سلطان کا مخالف بنادیا، اور اسی مخالفت نے اس کو تمام عمر جنگوں میں مصروف رکھا۔ اس کے باوجود سلطنتِ خداداد میسور نے صنعت و حرفت اور دیگر فنون میں جو ترقی کی وہ میسور کو کبھی حاصل نہ ہوسکی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی جان چکی تھی کہ اگر ٹیپو سلطان اپنے ارادوں میں کامیاب ہوگیا تو پھر ہندستان پر ہرگز قبضہ نہیں ہوسکتا۔(محمود بنگلوری، تاریخ سلطنت خداد (میسور)ص ۱۴-۱۵)
ٹیپوسلطان کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے انگریز، نظام اور مرہٹے سب متحد ہوگئے۔ انگریز اسے ہندستان پر اپنے اقتدارِ کامل میں سب سے بڑی، بلکہ واحد رکاوٹ سمجھتے تھے (اُردو دائرہ معارف اسلامیہ، دانش گاہِ پنجاب، لاہور، ج۶، ص ۹۸۳)۔ اس اتحاد ثلاثہ کے مقصد کو مزید کامیاب بنانے اور راے عامہ کی اخلاقی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے انگریزوں نے ٹیپو سلطان کی مفروضہ چیرہ دستیوں کو اس انداز میں دور تک پہنچادیا کہ خود اپنے بھی اس سے نفرت کرنے لگے ۔ فورٹ ولیم کی دیواروں پر کھڑے ہوکر اعلان کردیا گیا کہ ٹیپوسلطان سفاکی میں چنگیز خان اور ہلاکو سے کہیں زیادہ ہے۔(باری علیگ، کمپنی کی حکومت، طیب پبلشرز، لاہور، ص ۱۲۹ )
ٹیپو سلطان کی شہادت اور سلطنت خداداد کے زوال کے بعد انگریزوں کے مقابلے کے لیے کوئی بڑی طاقت نہیں رہ گئی تھی۔ ان کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں ٹیپو سلطان ہی سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ اس کی شہاد ت کے بعد ہی ان کی زبان سے پہلی دفعہ یہ معنی خیز جملہ نکلا کہ ’’آج سے ہندستان ہمارا ہے۔‘‘ (محمد الیاس ندوی، سیرت ٹیپو سلطان شہید، ص ۴۲۶-۴۲۷)
حیرت ہوتی ہے کہ جس فرماں رو ا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ شہزادگی سے شہادت تک مسلسل خوف ناک لڑائیوں میں گزرا، اسے ان معاملات پر توجہ دینے کا وقت کیوں کر ملتا تھا۔ حق یہ ہے کہ سلطان حکومت کو خدا کی طرف سے امانت سمجھتا تھا اور اس امانت کا حق ادا کرنے کی جیسی عملی مثال اس نے پیش کی، اس کی نظیریں بہت کم ملیں گی۔(اُردو دائرہ معارف اسلامیہ، ج۶ ، ص ۹۹۴)
ٹیپو سلطان نے تخت نشینی کے بعداپنی رعایا کے نام جو پہلا سرکاری فرمان جاری کیا اس میں بلاتفریقِ مذہب و ملت اپنی رعایا کی اخلاقی اصلاح، ان کی خوشحالی ، معاشی و سیاسی ترقی، عدل و انصاف ، جاگیرداروں اور زمین داروں کے ظلم وستم سے نجات ، مذہبی و لسانی و طبقاتی عصبیت کا خاتمہ ، اور دفاع وطن کے لیے جان کی بازی لگادینے کا عزم کیا (محمد الیاس ندوی، سیرت ٹیپو سلطان شہید،ص ۱۸۰)۔ ملک کے قدیم طرز حکمرانی کو یکسر بدل دیا۔سلطنت کے امور میں عوام کو زیادہ سے زیادہ حصہ دینے کے لیے کوشاں رہا۔ اس نے جمہوری تقاضوں کے پیش نظر ایک مجلس شوریٰ قائم کی جس کا نام ’مجلس غم نباشد‘تھا۔
ٹیپوسلطان نے تخت نشین ہونے کے بعد دو نئے آئین بنائے۔ ایک فوج کے لیے جس کا نام ’فتح المجاہدین‘ تھا، اور دوسرا عوام کے لیے جس کا نام ’ملکی آئین ‘ تھا (محمود بنگلوری،ٹیپو سلطان، لاہور، ص۷۶)۔ سرنگا پٹم میں جامع الامور کے نام سے ایک یونی ورسٹی قائم کی جہاں بیک وقت دینی و دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ حکومت کی طرف سے مختلف علوم و فنون کے ماہرین کو بھاری مشاہرے پر یہاں مقرر کیا گیا تھا ۔( سیرت ٹیپو سلطان شہید،ص ۲۲۸ )
ٹیپو سلطان کو جدت و اختراعات کا خاص شوق تھا۔کئی شہروں کے نام بدل ڈالے، مثلاً بنگلور کا نام دارالسرور، کالی کٹ کا اسلام آباد، میسور کا نظر آباد ، اور مینگلور کا جمال آباد رکھا۔ وزن اور پیمانوں کے نام بھی تبدیل کیے۔نیا روپیہ جاری کیااور مختلف نسبتوں سے ان کے نام رکھے، مثلاً احمدی، صدیقی، فاروقی، حیدری وغیرہ(اُردو دائرہ معارف اسلامیہ، ج۶، ص ۹۸۶)۔ نئی وضع کی بندوقیں اور توپیں بنوائیںاور ایسی ڈھالیں تیار کرائیں جن پر تیر یا گولی کا اثر نہیں ہوتا تھا(ایضاً، ص ۹۹۳)۔ جرائم کی بیخ کنی کے لیے ایک نئے طرز کی سزاسوچی۔ ہر مجرم کو اس کے جرم کی مناسبت سے ایک درخت اگانے کا حکم دیا۔ معمولی جرم کے لیے ایسا درخت تجویز پاتا جس کے لیے کم محنت و مہلت درکار ہوتی اور سنگین جرم کے لیے ایسا درخت اگانے کی ذمہ داری، جس کے لیے کافی محنت و مہلت درکار ہوتی۔ سلطان معمولی سے معمولی مسئلے میں بھی پور ی توجہ ظاہر کرتا تھا۔ علوم و فنون ، طب ، تجارت، معاملات مذہبی ، تعمیر، فوجی محکمات اور بے شمار دوسرے امور پر سلطان یکساں مہارت سے قطعی راے دیتا تھا۔(سید امجد علی اشہری ، ٹیپو سلطان، دہلی، ص ۱۵۲)
ہندستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ٹیپو سلطان نے مردم شماری کرائی۔پنچایت راج کی بنیاد رکھی۔ اسی کے حکم سے فرانسیسی ماہرین نے پانی سے چلنے والا ایک ایسا انجن تیار کیا جس سے توپوں میں بآسانی سوراخ کیا جاسکتا تھا۔ دنیا میں میزائیل ایجاد کرنے کا سہرا بھی اسی کے سر تھا، حتیٰ کہ امریکیوں نے بھی اس کو راکٹ کے بانیوںمیں شمار کیا ہے۔ وہ جب بھی اپنی سلطنت کے کسی کارخانے میں جاتا تو نئے طرز یا جدید انداز کی کوئی چیز بنانے کا حکم ضرور دیتا۔(الیاس ندوی، سیرت ٹیپو سلطان شہید،ص ۵۲۵ )
ٹیپو سلطان نے ہر ہر شہر، قصبے اور قلعے کے چار دروازے مقرر کیے، جہاں پہرے دار مقرر کیے کہ ملک میںبغیر اطلاع و اجازت کوئی آنے نہ پائے اور ہر مقام کی رُودادپر فوری اطلاع کا انتظام کیا گیا(سید امجد علی اشہری ، ٹیپو سلطان،ص۷۶)۔ جس مقام پر چوری ہوجاتی، وہاں کے پولیس افسر کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جاتا۔ اگر مجرم گرفتار نہ ہوسکتا تو پولیس افسران کی تنخواہ سے اس کی تلافی کی جاتی۔ ان مقامات پر جہاں ڈاکوئوں کے حملے کا خطرہ رہتا تھا ، وہاں کے رہنے والوں کو آتشیں اسلحہ رکھنے کی عام اجازت دی جاتی۔عدل و انصاف کا یہ عالم تھا کہ ہر شہر میں قاضی اور ہر گائوں میں پنچائت مقدموں کا فیصلہ کرتی۔ اگر فریقین میں سے کسی ایک کو ابتدائی عدالتوں کے فیصلہ پر شک ہوتا تو مقدمہ صدر عدالت (ہائی کورٹ) میں دائر کیا جاتا۔ سلطان نے افسرانِ ضلع کے نام حکم جاری کررکھا تھا کہ وہ ہر سال سرنگا پٹم (دارالحکومت) میں جمع ہوکر انتظامی امور کے متعلق مشورہ کیا کریں۔(باری علیگ، کمپنی کی حکومت،ص ۱۸۵- ۱۸۶)
ٹیپو سلطان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اردو اخبار کا بانی تھا۔ ۱۷۹۴ء میں اس نے اپنی ذاتی نگرانی و سرپرستی میں ایک ہفت روزہ جاری کیا ۔ اس میں سلطنت کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے سپاہیوں کے نام سلطان کی ہدایات شائع ہوتی تھیں۔ یہ ہفت روزہ سلطان کی شہادت تک مسلسل پانچ سال پابندی سے شائع ہوتا رہا۔(سیرت ٹیپو سلطان شہید، ص۲۹۵)
اقتصادی مسائل پر قابو پانے کے بعدٹیپو سلطان نے ایک نئی تجارتی پالیسی وضع کی جس کے تحت بیرونی ممالک ایران، ترکی اور حجاز وغیرہ سے مسلم تاجروں کو سلطنت خداداد میںآکر تجارت کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے خصوصی رعایتوں سے نوازا گیا۔ خود حکومت کی زیرسرپرستی ایک بڑی تجارتی کمپنی بھی قائم کی گئی جس میں اس کی رعایا میں سے ہر کوئی بلاتفریق مذہب اپنا سرمایہ لگا کر نفع و نقصان کے اسلامی اصولوں کی بنیاد پر شریک ہوسکتا تھا(ایضاً، ص ۲۸۷)۔ وسط ایشیائی ریاست آرمینیہ سے غیر ملکی تاجروں کو میسور کی حدود میں لاکر بسایا گیا۔میسور سامان تجارت لانے والے چینی سوداگروں کو ملیبار کے ڈاکو تنگ کرتے تھے۔ سلطان نے ان کی حفاظت کے لیے کئی جہاز مقرر کردیے(ایضاً، ص ۵۶۴)۔ سلطان کی ان کوششوں کے نتیجے میں سلطنت خداداد میں تجارت اور صنعت و حرفت نے بہت زیادہ ترقی کی۔
سلطان نے جہاں جاگیرداری کو ختم کیا ، وہاں سرمایہ داری کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کیے۔ تمام سلطنت میں، رعایا، تاجروں اور کاشت کاروں کے لیے بنک جاری کیے۔ ان میں خاص بات یہ تھی کہ غریب طبقے اور چھوٹے سرمایہ داروں کو زیادہ منافع دیا جاتا تھا(کمپنی کی حکومت، ص۱۸۶)۔ ان تمام اصلاحات اور سلطان کی جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندستان کے تمام علاقوں میں میسور سب سے زیادہ خوش حال اور سرسبزو شاداب علاقہ ہوگیا۔ میسور کی تیسری جنگ میں انگریز جب اس علاقے میںداخل ہوئے تو ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ (ٹیپو سلطان، ص ۷۷)
رفت سلطاں زیں سراے ہفت روز
نوبتِ او در دکن باقی ہنوز
ایک زمانہ تھا کہ تقسیم ہند سے قبل کسی نوجوان کے لیے سب سے اعلیٰ اور قابل رشک مقام آئی سی ایس (انڈین سول سروس) میں داخل ہونا تھا۔ یہی وہ طبقہ تھا جو دراصل ہندستان پر حکومت کررہا تھا۔علامہ عبداللہ یوسف علی اور مولانا محمد علی جوہر تقریباً ایک دوسرے کے ہمعصر تھے۔ مولانا محمد علی جوہر کی بھی خواہش تھی کہ وہ آئی سی ایس آفیسر بنیں لیکن وہ امتحان میں کامیاب نہیں ہوئے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی عبداللہ یوسف علی کی سوانح حیات (Searching for Solace) کے مصنف ایم اے شریف نے اس بارے میں لکھاہے : ’’وجہ یہ تھی کہ انڈین ہسٹری جیسے مضامین کے پرچے میں ایسے سوال شامل کیے جاتے تھے جن سے امیدواروں کے ذہنی رویوں اور جذباتی تعلق کا اندازہ لگایا جاسکے۔ اس طرح امیدواروں کے بارے میں یہ جانچنے کا موقع مل جاتا تھا کہ آیا وہ برطانوی راج کے وفادار بن سکتے ہیں یا نہیں، مثلاً ’’بتائیے آپ ٹیپو سلطان کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟‘‘ جیسا سوال، جو برٹش انڈیا کی ہسٹری کے پرچہ میں۱۸۹۵ء میں پوچھا گیا تھا ، بڑی آسانی سے یہ بات سامنے لے آتا تھا کہ امتحان میں شریک امیدوار کس حد تک اس مسلم حکمران کی ان کارروائیوں کی تائید کرتا ہے جو اس نے برطانیہ کے خلاف کی تھیں‘‘۔(سکون کی تلاش مترجم: زبیر بن عمر ، ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد، ص۵۰ )
درج بالا اقتباس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت برطانیہ ٹیپو سلطان سے کس حد تک خوف زدہ تھی۔ ساتھ ہی حکومت برطانیہ کے تعصب اور تنگ نظری کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ یہ دل چسپ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ٹیپو سلطان کی شخصیت وہ پیمانہ ہے جس پر انگریز اپنے وفاداروں کا انتخاب کیا کرتے تھے۔دوستوں اور دشمنوں کو جانچا کرتے تھے۔کسی نے خوب کہا ہے کہ کچھ برگزیدہ شہید ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی آزمایش ، عقوبتِ مطّہرہ اور شہادتِ عظمیٰ ان کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی ۔ربِّ جلیل انھیں شہادتِ جاریہ کی سعادت سے سرفراز فرماتا ہے۔
مقالہ نگار شعبہ اسلامی تاریخ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ای-میل: sascom7@yahoo.com
ریاست کی اولین ذمہ داریوں میںسے ایک اہم ذمہ داری افراد کا تحفظ ا ور ا ن کی آزادی کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے افراد کے بنیادی حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ یہ قوانین معاشرے میں افرادکے اعمال کو منضبط کرتے ہیں۔
خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔اس کے کسی بھی فرد کے حقوق و فرائض میں کمی بیشی معاشرے کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ کسی ایک کے بے جا مضبوط ہونے سے دوسرے دو ستون کمزور ہو جاتے ہیں، یا یوں کہیں کہ کسی ایک کے حقوق کی زیادتی دوسری دو اکائیوں کے حقوق کی پامالی کی صورت میں نظر آتی ہے ۔اگر مرد کے حقوق میں بے جا اضافہ کیا جائے یا اسے بے حد مضبوط بنا دیا جائے تو وہ عورت کے حقوق اور اولاد کے حقوق کی پامالی کا موجب بنتا ہے ۔ اسی طرح اگر عورت کے حقوق میں بے جا اضافہ کیا جائے تو اس کے نتیجے میں پورا گھرانہ متاثر ہوتا ہے۔ جیساکہ مغرب میں اس قسم کی قانون سازی کے نتیجے میں خاندان ہی انتشار سے دوچار ہوگیا ہے، اور عائلی زندگی عذاب بن گئی ہے۔
کسی بھی معاشرے میں گھر ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے ،جس میں افراد کے درمیان تعلقات کا خوش گوار ہونا معاشرے کے عمومی رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی لیے ہمارے دین میں گھر کے اندر اس کے انتظام و انصرام کو چلانے کے لیے حقوق و فرائض کا ایک حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ نکاح کے ذریعے مرد اور عورت کے درمیان حقوق و فرائض کے اس بنیادی یونٹ کو مستحکم بنانے کے لیے ان کی ذمہ داریوں کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ طے کر دیا گیا ہے۔ اگراس میں کوئی ایک فریق اپنے دائرہ کار سے بڑھ کر دوسرے فریق کے دائرے میں مداخلت کرتا ہے یا دوسرے فریق کو فرائض کی ادایگی کے لیے جبراً دبائو ڈالتا ہے، تو اس صورت میں تشدد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ پاکستانی نمایندگان پارلیمنٹ نے اس بات کو محسوس کیا کہ وہ خواتین جو گھروں کے اندر تشددکا شکار ہیں،ان کے تحفظ کے لیے بھی قوانین مرتب کیے جائیں۔ ۲۰۰۸ء اور ۲۰۰۹ء میں مسلسل گھریلو تشددکے خاتمے کے لیے بل پیش کیے گئے ہیں،جن کو مارچ ۲۰۱۲میں قومی اسمبلی نے بالآخر پاس کیا ،جس کی بہت سی شقیں توجہ طلب ہیں۔
ان میں پیش آنے والے اختلافات اور زیادتیوں کو نہایت باریکی کے ساتھ قانونی گرفت میں لایا گیا ہے ۔یہ ایک طویل اور مفصل قانون ہے جس کی ابتدا ہی میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ اس کو اردو اور دیگر مقامی زبانو ں میں وسیع پیمانے پر مشتہر کیا جائے گا ۔اس قانون کو جو چیز دوسرے عام قوانین سے برتر بنا رہی ہے، وہ اس کا دائرہ کار اور وسعت ہے ۔ہمارے ملک میں بنے ہوئے بہت سے اہم قوانین کو بھی یہ اہمیت نہیں دی گئی کہ انھیں عوامی سطح پر آگاہی دینے کے لائق سمجھا گیا ہو۔
اس قانون کی بہت اہم بات یہ ہے کہ اس کو National Commission On Status Of Women (NCSW) کے تحت کر دیا گیا ہے جو وقتاً فوقتاً قوانین پر نظرثانی، ترامیم، جائزہ اور تحقیق کرتا رہے گا ۔اس وجہ سے اس قانون میں وقتاً فوقتاً وسعت پذیری کی گنجایش ہمیشہ موجود رہے گی۔نیزNCSW تشدد کے واقعات کی شکایات وصول کر سکتا ہے اور خصوصی اختیار (suo-moto)کی بنا پر اقدام اُٹھا سکتا ہے۔ اس بل کی شق نمبر ۴ گھریلو تشدد کی وضاحت کرتی ہے۔ جس میں مجموعہ تعزیرات پاکستان ۱۸۰۷ (PPC) کی بہت سی شقوں کا اطلاق گھریلو تعلقات پر کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ بل قانون نہیں بھی بنتا، تب بھی گھر میں ہونے والے تشدد یا جرائم کو تعزیراتِ پاکستان کے زمرے میں لا کر شکایت درج کرائی جا سکتی ہے،جب کہ اس کے ذریعے گھریلو نا چاقیاں جرائم کے زمرے میں آئیں گی۔
شق ۴ میں ق k (۱) اور (۱۱) ہر اس عمل کو باعثِ تکلیف قرار دے رہا ہے جو کسی شخص کی خواہشات کے حصول میں رکاوٹ ہو ۔کوئی ایسا فرد جو اس کی نگرانی اس کی مرضی کے بغیر کر رہا ہے اس کو بھی تکلیف دہ امر کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے۔ اس طرح معاشرہ بالکل مغربی طرز پر استوار ہو جائے گا جہاں باپ ، بھائی ، بیٹا ،شوہر یا کوئی اور خاندان کا ذمہ دار نگرانی یا نگہبانی کے فرائض انجام دے تو اس کے اس عمل کو بے جا مداخلت اور باعثِ تکلیف امر قرار دیا جائے گا ۔ مثلاً: اگر کسی کی بہن بے راہ روی کا شکار ہے اور کسی غلط راہ پر چل رہی ہے اور گھر سے باہر کسی نا محرم سے مل رہی ہے اور باپ یا بھائی اس کو روکنا چاہ رہے ہیں، تو یہ بھی جرم بن جا ئے گا ۔
کوئی خاتون غیر اخلاقی، غیر مذہبی ،غیر شرعی فعل کی مرتکب ہو رہی ہو، یا ایسے افراد کے ساتھ میل جول یا روابط قائم کر رہی ہے جو اس کے لیے گمراہ کن ہو، ایسی صورت میں بھی گھر کے سرپرست افراد کی طرف سے کیے گئے افعال کو قانونی گرفت میں لایا جا سکے گا۔
شق ۴ مزید یہ وضاحت کرتی ہے کہ ہر وہ عمل تشدد کے زمرے میں آئے گا جو ارادی طور پر کیا جائے ۔اس میں دل چسپ پہلو یہ ہے کہ سب سے زیادہ گھریلو تشدد کا شکار وہ خواتین ہیں، جن کے گھر کے مرد یا سرپرست کسی بھی طرح کے نشے کے عادی ہیں ۔لیکن یہ بل ایسے تمام افراد کو جو نشے کا شکار ہیں اس سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔ اس شق کی وجہ سے گھریلو ملازمین جن میں خواتین کی اکثریت پائی جاتی ہے، یا جن کے شوہر نشے کے عادی ہیں، یا وہ ملازم جو زمین داروں، وڈیروں، جاگیر داروں کے زیر دست ہیں ان پر کیے گئے تشدد کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جس سے ایک بڑا طبقہ انصاف کی فراہمی سے محروم رہ جائے گا ۔ زیادتی کا شکار فرد کہیں سے معاشی فائدہ حاصل کر سکتا ہو ، تو اس کی راہ میں رکاوٹ بننا معاشی استحصال کے زمرے میں آئے گا۔ اگر کوئی خاتون ایسی جگہ پر نوکری یا کوئی ایسا پیشہ اختیار کرنا چاہ رہی ہو جو ہماری مذہبی یا معاشرتی اقدار کے منافی ہو، تو اس کے گھر کے افراد اس کو اس عمل سے روکنے کے مجاز نہیں رہیںگے کیونکہ یہ قانون ان کے آڑے آئے گا۔ تضحیک ،جسمانی تکلیف کی دھمکی کو بھی قانونی گرفت میں لایا گیا ہے ۔ اصلاح کے لیے تین اقدامات عموماً اپنائے جاتے ہیں: نصیحت ، سرزنش اور سزا ،لیکن یہاں ان تمام اقدامات کو انجام دینے سے روکا گیا ہے ۔
شق ۵ کہتی ہے کہ ’’گھریلو تشدد کی شکایات سیدھی کورٹ میں جمع کرائی جائیںگی، جو متاثرہ شخص خودیا تحریراً کسی کو یہ اختیار دے کر عدالت میں جمع کرا سکتا ہے‘‘ ۔ یہاںیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خانگی تشدد کا شکار ایک کثیر طبقہ جو کہ دیہی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور نا خواندہ ہے، کیا وہ کسی کو تحریراً یہ اختیار دے سکتا ہے؟ خود کورٹ تک رسائی اس کے لیے ایک طویل اور وقت طلب عمل نہیں؟ اس صورت حال سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس سے استفادہ محض بڑے شہروں میں رہنے والی ملازمت پیشہ خواتین ہی کر سکتی ہیں ۔ ناخواندہ عورت اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی۔ دوسرا یہ کہ گھریلو تشدد کی شکایت سیدھی کورٹ میں درج ہو تو آیا یہ عمل معاملے کو سلجھانے کا باعث بنے گا یا اس کے نتیجے میں رشتوں کا خاتمہ ہوگا؟
اس کے ذریعے سے گھریلو تنازعات کو بالکل فوجداری مقدمات کی طرز پر پولیس اور تھانے دار کو شامل کرکے نبٹایا جائے گا ۔جج اس درخواست کی تصدیق کے لیے تھانے دار کو طلب کرے گا اور تھانے دار اپنے ضابطۂ پولیس کے طریقۂ کار کے مطابق رپورٹ تیار کرے گا۔ہم سب پولیس کے طریقۂ کار سے بخوبی واقف ہیں، اور ہم اپنے معاشرتی رویوں سے بھی آگاہ ہیں کہ کسی گھر میں پولیس کا آنا کس قدر باعثِ ندامت ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ یہ تصدیق یا رپورٹ ایک چالان پیش کرنے کے ہم معنی ہے، اور چالان اکثر طے شدہ وقت میں پیش نہیں کیا جاتا، جس سے وقت کا ضیاع ہو گااور عملاً معاملہ ۳۰ دن میں نہیں نمٹایا جاسکتا ۔
اس قانون میں زیادہ تر داد رسی شوہر کی مخالفت میں بیوی کو دی جا رہی ہے، جب کہ گھریلو ملازمین کی دادرسی بہت محدود ہے ۔ سول عدالتوں کے متوازی فوجداری عدالتوں کے ذریعے گھریلو تنازعات کو طے کیا جا رہا ہے۔ سول عدالتوں میں تنازعے کو لے جانے کے بعد صلح کے امکانات رہتے ہیں، جب کہ فوجداری عدالتوں میں دشمنی اور عناد کے پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔
شق ۹ میںجرم کے مداوے کے لیے اگر عدالت جرمانے کا حکم دے اور مدعی علیہ اس کو اداکرنے سے قاصر رہے تو عدالت اس کو یہ جرمانہ عدالت میں جمع کروا نے کا حکم دے سکتی ہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ سول عدالتوں کے تحت فیملی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات میں جب مرد معاشی داد رسی سے فرار اختیار کرتے ہیں تو اس کے لیے ایک اور درخواست دینا پڑتی ہے۔ یہ چیز سالہاسال سے اصلاح طلب ہے۔ اس پر قانون سازی کے لیے توجہ نہیں دی جاتی لیکن اس قانون میں پہلے ہی مرحلے پر بغیر درخواست دیے مدعی کی داد رسی ہوتی نظر آرہی ہے۔
شق ۱۱ میں صرف حلف نامے کی بنیاد پر کوئی بھی شکایت کنندہ درمیانی مدت کا حکم نامہ، عدالت سے جاری کروا سکتا ہے۔
شق ۱۲ کے ضمنی جزو ’الف‘ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ شخص جب تک چاہے گا تب تک کورٹ کے آرڈر کا اطلاق رہے گا، یعنی جب تک کہ متاثرہ شخص اپنی درخواست واپس نہ لے لے یا مطمئن نہ ہوجائے کورٹ کیس کو ختم نہیںکر سکتی۔ ایسا دوسرے کسی قانون میں نہیں ہے ۔اس سے دشمنیاں تواتر سے جاری رہنے کا خدشہ ہے ۔گویا اب عدالت متاثرہ شخص کی صوابدید پر چلے گی۔
شق ۱۲ کے ضمنی جز ’۴‘ کے مطابق اس ضمن میں Res-judicata (یعنی کوئی ایسا مقدمہ جس میں فیصلہ دیا جا چکا ہو،وجہ مقدمہ میں مدعی اور مدعا علیہ ایک جیسے ہوں اور فیصلہ بھی ہو چکا ہو، اس پر دوبارہ اسی وجہ مقدمہ پر مدعی یا مدعا علیہ مقد مہ دائر نہیں کر سکتے ) کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک شکایت کے لیے بار بار عدالت میں دعو یٰ دائر کیا جا سکے گا۔
شق ۱۶ میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۱ کے تحت کمیٹی ممبران کو وسیع ترین اختیارات تفویض کیے گئے جو کسی طور خانگی زندگی میں مداخلت کے لیے مناسب نہیں ۔
اس قانون کے تحت سب سے پہلے معاشرے کی نچلی سطح پر ’خدمات بہم پہنچانے والوں‘ (service provider)بالفاظ دیگر این جی اوز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جس کے اوپر حفاظتی کمیٹی، اور جس سے بالا عدالتیں اپنے امور انجام دیں گی۔’خدمات بہم پہنچانے‘ والے تمام تر شکایات کو مذکورہ ’حفاظتی کمیٹیوں‘ کو رپورٹ کریں گے ، اور یہ ’حفاظتی کمیٹیاں‘ متاثرین میں جانے کا ذریعہ بنیں گی۔
شق ۲۳ میں ’خدمات بہم پہنچانے والے‘ اور ’حفاظت فراہم کرنے والے افسر‘ (Protection Officer) اور ’حفاظتی کمیٹی‘ (پروٹیکشن کمیٹی) سب کو عدالتی نظر ثانی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت ان کے فیصلوں کو کسی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔
۱- اس میں بیش تر مذکور جرائم جوکہ تعزیرات پاکستان میں موجود ہیں، اس بل کے ذریعے ان کا اطلاق خانگی تعلقات پر کر دیا گیا ہے ،جن میں نرمی اور خاندانی تعلقا ت کا لحاظ لازماً رکھنا چاہیے تھا۔
۲- شق ۴ میں مذکور گھریلو تشدد کا تعین کر تے ہوئے تشدد کا شکا ر خاتون کی اخلاقی صورت حال کو ضرور دیکھا جائے، اور اگر خاتون کا فعل معاشرتی ،اخلاقی اور مذہبی اقدار کے منافی ہو، تو اس میں مداخلت اور روک تھام کو تشدد کی صورت حال سے خارج کر نا چاہیے ۔
۳-گھریلو تنازعات میں پولیس کے کردار کو شامل کر نے سے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال ہوتانظرآرہاہے ۔
۴- ہمارے معاشرے کے وہ خاندان جن کے سربراہ منشیات یا شراب نوشی کے عادی ہیں، وہ بھی اس زمرے میں شامل کیے جائیں۔ یہ حضرات چونکہ سب سے زیادہ تشدد برتتے ہیں، لہٰذا ان کو اس بل کی گرفت میں لایا جائے جو کہ نہیں کیا گیا ۔
۵- ایجنسیوں کی اصلاح اور قوانین کی عمل دار ی کو یقینی بنایا جائے۔
۶- مصالحتی کمیٹی کا کردار عدالت میں آنے کے بعد ہے۔ اس کو اگر ’حفاظتی کمیٹی‘ کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو گھریلو تنازعات عدالت میں جانے سے پہلے حل کیے جاسکیں گے۔
۷- ’حفاظتی کمیٹی‘ میں ’حفاظتی افسر‘ کی تعلیمی استعداد اور صلاحیت اس میں مذکور نہیں ہے، جب کہ اس کے اختیارات بے حد وسیع ہیں، اور اس کو سرکاری افسر کے اختیارات بھی تفویض کیے گئے ہیں۔
۸- ’حفاظتی کمیٹی‘ بنانے سے پہلے ملکی سطح پر بے شمار ’تھانے دار خواتین‘ کی تعیناتی کرنی پڑے گی۔ ہر تحصیل میں خواتین تھانے کا قیام لازمی ہوگا ،جس سے پہلے پولیس کے نظام کی اصلاح از حد ضروری ہے ۔
۹- ’حفاظتی کمیٹی‘ میںوہ علاقہ کہ جہاں ایسا کوئی افسوس ناک وقوعہ ہو ا ہوگا، اس کے معزز افراد اور خاندان کے بزرگو ں کی شمولیت ضروری ہونی چاہیے۔
۱۰- ’حفاظت فراہم کرنے والوں‘ کے اختیارات بے حد وسیع ہیں،ان کو محدود ہونا چاہیے۔
۱۱-اس قانون کے تحت مدعی (عورت) کے کردار کو یا اس کی شکایت کی تصدیق کرنے کا کوئی طریقۂ کار واضح نہیں بلکہ اس کو یکسر نظرانداز کیاگیا ہے ۔
۱۲- شق ۲۳ ’حفاظت فراہم کرنے والوں‘ اور ’حفاظتی کمیٹیوں‘ اور ’حفاظتی افسر‘ کو ان کے فیصلوں پر نظرثانی کا دیا گیا تحفظ غیر ضروری ہے۔ یہ تحفظ وزارتوں اور انتظامی اداروں کے لیے مخصوص ہے۔
۱۳- جھوٹی درخواست ثابت ہونے پر جرمانہ آدھا ہے، جب کہ اسے دوگنا ہونا چاہیے۔
یہ قانون چونکہ ہماری معاشرتی اور مذہبی روایات کو مد نظر رکھ کر نہیں بنایا گیا، اس لیے یہ ہمارے جذبات کی عکاسی کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس پر عمل درآمد کے نتیجے میں خانگی زندگی میں انتشار، خاندانی نظام میں کمزوری اور عدم برداشت میں اضافہ ہوگا۔ اسلام نے خواتین کے تحفظ اور پُرسکون عائلی زندگی کے لیے حقوق و فرائض کا تعین کرکے متوازن طرزِ زندگی کی بنیاد فراہم کی ہے۔ یہ بل ہمارے معاشرے کو بتدریج مغربی طرز پر استوار کرنے کی کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب سے متاثر ہوکر قانون سازی گھریلو تشدد کے خاتمے کے بجاے خاندانی انتشار کا باعث ہوگی!