مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۱۲

اِنقلابِ مصر کا سفر ابھی جاری ہے۔ سیاسی استبداد اور جمہوری قوت کے درمیان برپا معرکہ نئی سے نئی صورت اختیار کر رہا ہے۔ فوج اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ صاف بتاتا ہے کہ انھیں یہ عوامی انقلاب کسی صورت برداشت نہیں۔ اُن کی پوری کوشش ہے کہ وہ اس انقلاب کا راستہ روکنے کے لیے ہرحربہ آزما دیکھیں۔

 صدارتی انتخاب کے دوران میڈیا کا اسلامی قوتوں کے خلاف زہر اُگلنا اور اُن کی یک جہتی کو پارہ پارہ کرنے کے لیے شرم ناک ہتھکنڈے استعمال کرنا روزانہ کا معمول تھا۔ فوج عدلیہ کی اور عدلیہ فوج کی معاون و مددگار ہے اور دونوں مل کر حسنی مبارک کے ۳۰سالہ دورِاستبداد کو واپس لوٹانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔ مبارک کے کارندے اور ایجنٹ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ہرجگہ اور ہرفورم پر جھوٹے دعووں اور بے بنیاد نعروں کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان جھوٹے نعروں میں ایک نعرہ قانون کی حکمرانی کا تحفظ اور عدلیہ کے احکام کا نفاذ ہے۔ وہ اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اُن کا ہدف محض پارلیمنٹ کی تحلیل اور صدر کا محاصرہ نہیں ہے، بلکہ وہ اس انقلاب کو مکمل طور پر ناکام کرکے حسنی مبارک کا دور واپس لانا چاہتے ہیں جس میں نظام وہی ہو، مگر چہروں کی تبدیلی کے ذریعے فریب اور مکاری کو حق ثابت کیا جاسکے۔ ان عناصر کی کوششوں سے یوں لگتا ہے کہ انھیں اسلام پسندوں کی ’جنت‘ سے زیادہ مبارک کی ’جہنم ‘پسند ہے۔ انھیں عدلیہ کے احکام کے احترام کی آڑ میں پوری قوم کو مسل کر رکھ دینا، قطعاً  بُرا محسوس نہیں ہوگا۔ عدلیہ کے انھی احکام نے تو کروڑوں عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کا خون     کیا ہے۔ ایک کروڑ ۳۰لاکھ انسانوں کے منتخب صدر کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ وہ   آزادیِ راے کی آڑ میں ہرنقص اور کمزوری صدر کے سر تھوپنے سے گریز نہیں کرتے۔

اس انقلاب نے تمام فرقوں اور مستقبل کے دشمنوں کو ایک کیمپ میں یک جا کردیا ہے۔ ان سب کا مشترکہ مفاد اسلامی قوت کا راستہ روکنا اور اسے منظر عام پر آنے سے روکنا ہے۔انھیں اس بات کی ذرا پروا نہیں کہ اس پارلیمنٹ اور صدر کو بھرپور عوامی تائید اور حمایت حاصل ہے۔ انھیں تو صرف اسلامی قوت کی لہر کو روکنا ہے اور اس قوت میں بھی سب سے زیادہ انھیں اخوان المسلمون سے خطرہ ہے۔

اس صورت حال میں ماضی کے حکمران ٹولے میں شامل بعض اہم شخصیات کا باہم متحد ہوجانا اُن کی ’مبارک دوستی‘ کی مثال ہے۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے ایک ’تیسری قوت‘ کے نام سے میڈیا میں پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے۔ اس تیسری قوت کی رہنمائی کل تک منتشر رہنے والے لبرل افراد، نجیب ساویرس، سیکولر شناخت رکھنے والا رفعت سعید، اسامہ غزالی حرب، محمدابوحامد جو لبنان میں صہیونیت کے ایجنٹ سمیرجعجع کا شاگرد ہے، کر رہے ہیں۔ اس گروہ میں لبرل امریکی سعدالدین ابراہیم اور حمدین صباحی بھی شامل ہیں جنھوں نے ناصر کے استبداد کو عوام پر مسلط کیے رکھا۔ حمدین صباحی کے علاوہ یہ سب لوگ صدارتی انتخاب میں احمد شفیق کے حمایتی تھے جو حسنی مبارک کا نمایندہ تھا۔

حسنی مبارک کے دو بیٹوں علا اور جمال کے خلاف قومی خزانے کی لُوٹ مار کے جرم میں ایک مقدمہ چل رہا ہے۔ اس مقدمے کی پہلی سماعت میں ماہرقانون دان ڈاکٹر یحیٰ الجمل کا موجود ہونا معنی خیز تھا۔ یہ یحیٰ الجمل جمال عبدالناصر کے روحانی فرزندوں میں شامل ہوتا ہے۔ باقیاتِ ناصر کی صورت میں اسی گروہ نے عسکری مجلس کے لیے دستوری مسوّدہ تیار کیا تھا جس میں صدرِ جمہوریہ مصر ڈاکٹر محمد مرسی کے اختیارات سے اُن کو محروم کرنے کا حکم ہے۔ یحییٰ الجمل کا اس مقدمے میں کویل فریدالدیب کے پہلو میں بیٹھنا حیرت انگیز ہے۔ یہ وہی مقدمہ ہے جس میں معروف مصنف حسنین ہیکل کے صاحب زادے حسن محمد بھی مبارک کے بیٹوں کے ساتھ مقدمے میں ملوث کیے گئے ہیں۔

یہ ایک مثال ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں معاملات ایسے ہیں جن میں وہ تمام قوتیں   یک جا اور متحد دکھائی دیتی ہیں جو کل تک حسنی مبارک کا نمک کھایا کرتی تھیں۔ آج انھیں اسلام سے اس قدر خوف محسوس ہورہا ہے کہ یہ اسلام پسندوں کو ہرقیمت پر منظر سے ہٹانے کے لیے سرگرداں ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے تمام ذرائع، وسائل، مہارتیں اور دبائو میڈیا، عدلیہ، سیاست اور معیشت میں دستوری عدالت کے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے اقدام کے دفاع میں صرف کر رہے ہیں، جب کہ یہ فیصلہ بذاتِ خود ایک مختلف فیہ فیصلہ ہے۔ آج یہ لوگ خود کو مہذب اور جمہوری باور کرا رہے ہیں اور قانون کی حکمرانی کے دعویدار ہیں، جب کہ قانون ان سے ماورا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ حسنی مبارک کی ۳۰سالہ ظالمانہ حکمرانی میں کہاں تھے؟ اُس دوران میں بے شمار عدالتی فیصلے ایسے تھے جو بے گناہوں کی بے گناہی کو ثابت کر رہے تھے مگر حکومت نے اُن کو پائوں تلے روند کر رکھ دیا تھا۔ اُس وقت تو اِن لوگوں کی کوئی آواز قانون اور دستور کی حکمرانی کے سلسلے میں سنائی نہ دی۔ لیکن آج اُن کا یہ ’حق‘ ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کا دفاع کریں جو کل نہیں تھا، لہٰذا وہ کیوں خاموش رہیں۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ حسنی مبارک آج بھی اس معرکے کی قیادت کر رہا ہے اور اس میں شامل ہر فرد اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے کیونکہ یہ جنگ موت و حیات کی جنگ ہے۔ نوشتۂ دیوار یہ بتاتا ہے کہ باطل کے یہ حواری اور حمایتی بالآخر موت کے گھاٹ اُتر کررہیں گے کیوں کہ مصری قوم کو اپنی شناخت، اپنے حقِ انتخاب و اختیار کے حصول سے پیچھے ہٹنا ہرگز قبول نہیں ہے۔ اتنی بڑی تبدیلی بھی یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشا بھی یہی ہے کہ مصر اپنی شناخت کی طرف واپس لوٹ جائے اور اس کی قوم اپنی آزاد مرضی سے زندگی گزار سکے۔

صدر جمہوریہ مصر ڈاکٹر محمد مُرسی کے انتخاب پر اسرائیل کے صدر بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل مصر میں جاری جمہوری سفر کو اہم سمجھتا ہے اور اس کے نتائج کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دراصل نیتن یاہو کا یہ بیان ڈپلومیٹک تھا۔ وہ اسرائیل کو پہنچنے والے اس زخم اور ڈاکٹر مُرسی کے انتخاب کے خلاف دیے گئے منفی بیانات سے توجہ ہٹانا چاہتا تھا۔ صدرِ مصر کے انتخاب سے دو روز قبل اسرائیل کے ایک فوجی افسر نے کہا تھا کہ اسرائیل امن و آزادی کو جمہوریت پر ترجیح دیتا ہے۔

اسرائیل اور حسنی مبارک حکومت کے درمیان تعلقات دوستانہ ہی نہ تھے، بلکہ حسنی مبارک اسرائیل کا وفادار دوست تھا۔ اس نے اسرائیل کے لیے اپنی وفاداری کا امریکا کو مکمل طور پر یقین دلارکھا تھا لیکن انقلاب کے دوران اس وقت مبارک کو بہت بڑے صدمے سے دوچار ہونا پڑا  جب اُس نے اپنے اسرائیلی دوست اور اسرائیل کے سابق وزیردفاع بنیامین الیعازر سے ملاقات کر کے درخواست کی کہ وہ وہائٹ ہائوس کو میرے دفاع اور بقا کے لیے آمادہ کرے، مگر انقلاب نے اس بات کے تمام دروازے بند کردیے تھے اور ہرامکان کا خاتمہ کردیا تھا، لہٰذا مبارک کو بوجھل دل کے ساتھ قصرِصدارت چھوڑنا پڑا۔

احمدشفیق جو صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر مُرسی کے مدمقابل مبارک کا نمایندہ تھا، نیتن یاہو نے اس کے خلاف بیان بازی سے اپنی کابینہ کو منع کر رکھا تھا، مگر اسرائیل ڈاکٹر مُرسی کی صورت میں صدرِ مصر کی موجودگی سے بننے والی اسٹرے ٹیجک حکمت عملی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتا تھا، لہٰذا ایک کے بعد دوسرا بیان اسرائیل کی طرف سے داغا جاتا رہا اور بالآخر نیتن یاہو نے خود ہی کہہ ڈالا کہ وہ احمد شفیق کو ترجیح دیتے ہیں۔

صدارتی انتخاب کے نتائج کے اعلان کا مرحلہ کچھ طویل ہوگیا لیکن حتمی خبر یہی آئی کہ ڈاکٹر محمد مُرسی مصر کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ اس کے بعد اسرائیلی حکومت کے لیے لازمی ہوگیا کہ وہ جنوبی سرحدوں کے حوالے سے نئی حکمت عملی کی روشنی میں معاملے کو دیکھے اور اس حکمت عملی کے منطقی نکات یہ تھے:

۱- مصر کو علاقے میں قائدانہ کردار کی حیثیت حاصل ہے ۔ وہ عرب دنیا میں سب سے بڑا ملک ہونے کے ناتے سب سے زیادہ سیاسی اثرات کا حامل ہے۔

۲- ڈاکٹر مُرسی کا ایوانِ صدر میں پہنچنا اسلامی تحریک کے سیاست میں داخلے اور مصری عربی رُخ متعین کرنے کی صورت ِ حال کو بدل دے گا۔

۳- اخوان المسلمون اور فلسطین کی بہت بڑی تحریکِ مزاحمت’حماس‘ کے درمیان تال میل کا موجود ہونا۔

۴- ڈاکٹر مُرسی کا صدرِ مصر منتخب ہونے کا مطلب مصر کا اپنے تاریخی وجود کی طرف واپسی کا سفر شروع کرنا ہے۔

۵- مصری قوم کا کیمپ ڈیوڈ معاہدے کو برابری کی سطح پر نہ ماننا اور مسئلۂ فلسطین کی          حمایت و پشت پناہی مستقلاً جاری رکھنا۔

۶- مصری قوم اسرائیل سے اپنا ایک تاریخی حساب بھی چکانا چاہتی ہے جس کی وہ منتظر ہے۔

۷- بغاوت کا انقلاب میں بدل کر کامیاب ہو جانا اور انتخابات کے مرحلے تک پہنچ جانا مصر کو عالمِ عرب کے بعض ممالک کی سیاسی و داخلی معاملات میں پہلے سے زیادہ نمایاں حیثیت عطا کردے گا۔

یہ وہ نکات تھے جو صدر مُرسی کی کامیابی نے اسرائیل کی صہیونی سلطنت کے سامنے لارکھے اور اس نے اِن کے اُوپر عملاً سوچنا شروع کردیا۔اسرائیل کے ادارہ براے مطالعات قومی سلامتی نے ’محمدمُرسی کے انتخاب کی اسٹرے ٹیجک جہات‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ میں جو اہم نکتہ بیان کیا ہے وہ صدر مُرسی کا اسرائیل کے ساتھ پہلے سے موجود معاہدے کو بدل دینے کا خدشہ ہے۔  اس معاہدے کی رُو سے مصری فوج سینا کی حدود میں داخل اور فوجی کارروائی نہیںکرسکتی۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ یہ اقدام واشنگٹن کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جائے گا۔ خاص طور پر اس اعتبار سے    کہ وہ مصر و اسرائیل کے درمیان ’امن معاہدے‘ کا نگران ہے، اور وہ تیسرا فریق ہے جس نے اس  ’امن معاہدے‘ پر دستخط کے وقت انورالسادات کے دور میں معاہدے کی پابندی کرانے کا تہیہ کیا تھا۔ یہ جائزہ رپورٹ اسرائیلی حکومت کے اس مطالبے پر اختتام پذیر ہوتی ہے کہ اُن سیاسی امور سے دُور رہا جائے جن کو صدر مُرسی اُٹھائیں۔ اسرائیل کے خارجی امور کے ذمہ داروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مصر کی طرف سے اس امن معاہدے کو کسی بھی طرح سے چھیڑے جانے کے ہرعمل کی عالمی سطح پر مخالفت کریں۔

مصر میں ایک کش مکش جاری ہے۔ ایک طرف انقلاب مخالف قوتیں یک جا ہوکر سابقہ نظام کو بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں، اور دوسری طرف عالمی قوتیں اور اسرائیل اخوان المسلمون کی کامیابی کی صورت میں عالمِ عرب میں اس انقلابی تبدیلی کے اثرات و نتائج سے خائف ہیں اور سازشوں میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں اخوان المسلمون کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس چیلنج کا سامنا کس طرح کرتی ہے!

فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعا

سوال:فرض نمازوں کے بعد امام اور مقتدیوں کا مل کر اجتماعی دعا مانگنے کا رواج ہوگیا ہے، جب کہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے۔ عہد نبویؐ میں اس کا رواج نہیں تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں ہے۔ بہ راہ کرم رہ نمائی فرمائیں۔ شریعت کی رُوسے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:فرض نمازوں کے بعد دعا کے معاملے میں شدت پسندی کا مظاہرہ کیاجاتا ہے ۔ بعض حضرات ہیں جو اسے غیر مسنون اور غیر شرعی قرار دیتے ہیں، چنانچہ وہ نماز باجماعت سے فارغ ہوتے ہی اس طرح اُٹھ جاتے ہیں، گویا تپتی ہوئی زمین پر بیٹھے ہوں۔ دوسری جانب ایسے بھی لوگ ہیں جو اس کا اتنی پابندی سے التزام کرتے ہیں گویا دعا نماز کا جز ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ دعا میں شریک نہیں ہوتا اور پہلے ہی اٹھ جاتا ہے تو اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

یہ بات صحیح ہے کہ فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کا ثبوت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے نہیں ملتا۔ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ  نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے: صحاح، سنن اور مسانید میں درج معروف احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے دعا مانگا کرتے تھے اور اپنے اصحاب کرامؓ کو بھی اسی کی ہدایت اور تعلیم دیتے تھے ۔ کسی نے بھی یہ بات نقل نہیں کی ہے کہ آپؐ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپؐاور سارے مقتدی مل کر اجتماعی دعا مانگتے تھے۔ نہ فجر میں یہ معمول تھا، نہ عصر میں، نہ دیگر نمازوں میں، بلکہ آپؐ کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ آپؐ نماز سے فارغ ہونے کے بعد صحابہ کرامؓ  کی طرف رخ کرلیتے اور اللہ کا ذکر کرتے اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی تلقین کرتے۔(مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ، طبع سعودی عرب، ۲۲/۴۹۲)

جہاں تک انفرادی دعا کا معاملہ ہے، اس کا ثبوت ملتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا: کس موقع کی دعا بارگاہِ الٰہی میں زیادہ مقبول ہوتی ہے ؟ آپؐنے جواب دیا:

جَوْفُ اللَّیْلِ الآخِرِ وَدُبُرَالصَّلَوٰتِ الْخَمْسِ (ترمذی:۳۴۹۹)

رات کے آخر ی پہر اور پنج وقتہ نمازوں کے بعد مانگی جانے والی دعا۔

خود آپؐکے جو معمولات منقول ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐفرض نمازوں کے بعد کبھی جلد اُٹھ جاتے تھے اور کبھی کچھ دیر بیٹھ کر ذکر ودعا میں مشغول رہتے تھے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اگر فرض نمازوں کے بعد کی دعا کو نماز کا جز نہ سمجھا جائے اور امام کی دعا میں مقتدی بھی شریک ہوجائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اسے بدعت قرار دینا اور ترک کردینے پر زور دینا درست نہیں معلوم ہوتا۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ  نے لکھا ہے: اس میں شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ طریقہ رائج نہ تھا جو اب رائج ہے کہ نماز باجماعت کے بعد امام اور مقتدی سب مل کر دعا مانگتے ہیں۔ اس بنا پر بعض علما نے اس طریقے کو بدعت ٹھیرایا ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اگر اس کو لازم نہ سمجھ لیا جائے اور اگر نہ کرنے والے کو ملامت نہ کی جائے اور اگر کبھی کبھی قصداً اس کو ترک بھی کردیا جائے، تو پھر اسے بدعت قرار دینے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ خدا سے دعا مانگنا بہ جائے خود تو کسی حال میں برا فعل نہیں ہوسکتا۔(رسائل ومسائل، جلد اوّل، ص ۱۳۹)

ایک صاحب نے ایک تفصیلی مقالہ تحریر کیا، جس میں اس موضوع پر مختلف پہلوؤں سے بحث کرنے کے بعد اجتماعی دعا بعد نماز کو بدعت قرار دیا۔ مولانا سید احمد عروج قادریؒ  نے اس مقالے کو ماہ نامہ زندگی رام پور میں شائع تو کردیا ، مگر ساتھ ہی اس پر یہ نوٹ بھی لگایا: میں اپنے مطالعے کی روشنی میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس عمل کو بدعت قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ اگراس اجتماعی دعا کو فرض نمازوں کا جز نہ سمجھا جائے تو اس کے بدعت ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل فرض نمازوں کے بعد مختلف اوقات اور مختلف حالات میں مختلف رہا ہے۔ فرض نمازوں کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذکار، استغفار اور دعاؤں کے جو کلمات ارشاد فرمائے ہیں ان سب کو جمع کیا جائے تو ایک مقالہ تیار ہوجائے۔ کبھی آپؐفرض نمازوں کے بعد اپنی جگہ سے فوراً ہٹ جاتے، کبھی اذکار اور دعاؤں کے اچھے خاصے طویل کلمات ارشاد فرماتے، اس کے بعد اپنی جگہ سے ہٹتے۔ کبھی نماز سے فارغ ہوکر صحابہ کرامؓ  کی طرف رخ کرکے بیٹھ جاتے۔ بیٹھ کر آپؐ کیا کچھ کرتے یا کہتے تھے، اس کی تمام تفصیلات احادیث میں نہیں ہیں۔ اگر ان تمام چیزوں کو ایک اصل مان کر  امام اور مقتدی دونوں مل کر اجتماعی دعا کرلیں تو اس عمل کو بدعت قرار دینا صحیح نہیں معلوم ہوتا۔   (ماہ نامہ زندگی ، رام پور، جلد۶۰، شمارہ ۶، رجب ۱۳۹۸ھ،جون ۱۹۷۸ئ، ص۴۹)

صاحب ِمقالہ نے اس موضوع پر بھی تفصیل سے بحث کی تھی کہ جن احادیث میں فی دبر کل صلوٰۃ دعا کا ذکر آیا ہے اس سے مراد نماز کا آخری حصہ (سلام پھیرنے سے پہلے)ہے ،نہ کہ نماز کے بعد۔ اس کا رد کرتے ہوئے مولانا عروج قادریؒ  نے لکھا ہے: قُبل اور دُبر ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں۔ جس طرح قبل کے اصل معنی مقدم (آگے)کے ہیں، اسی طرح دُبر کے اصل معنی موخر(پیچھے)کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے جسم کے آگے کے حصے کو قُبل اور پیچھے کے حصے کو دُبر کہتے ہیں اور اسی لحاظ سے اس لفظ کے معنی آخر اور بعد دونوں صحیح ہیں۔ مُدَبَّر اس غلام کو کہتے ہیں جس کو اس کے آقا نے اپنی موت کے بعد آزاد کردیا ہو۔ قرآن کریم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی اس لفظ کو بعد کے معنی میں استعمال کیاگیا ہے۔

سورۂ ق میں ہے: وَاَدْبَارَالسُّجُوْدِ(۵۰:۴۰)۔ اس کا ترجمہ مولانا اشرف علی تھانویؒ  نے یہ کیا ہے:’’اور فرض نمازوں کے بعد بھی‘‘۔ دُبرالصلوٰۃ کے الفاظ بہت سی حدیثوں میں آئے ہیں۔ ان میں سے بعض احادیث میں وضاحت اور صراحت کے ساتھ دبر کے معنی بعد کے ہیں۔ مثلاً بعض احادیث میں فی دبرالصلوٰۃ مخصوص تعداد میں تسبیحات پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے ، فرض نمازوں کے سجدے میں یا تشہد ودرود کے بعد نماز کے اندر ان تسبیحات کو گن کر پڑھنے کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ تمام محدثین ان کو فرض نمازوں کے بعد ہی کا ذکر قرار دیتے ہیں۔ بعض محدثین نے اس طرح کی احادیث پر تراجم یا عنوانات مقرر کرکے واضح کردیا ہے کہ دبرالصلٰوۃ  کے معنی بعدنماز کے ہیں، نہ کہ نماز کے آخر میں۔ امام نسائی نے اس طرح کے متعدد عنوانات قائم کیے ہیں، مثلاً ان کا ایک عنوان ہے: التہلیل والذکر بعد التسلیم۔ اس کے تحت جو حدیث انھوں نے نقل کی ہے اس میں دبرالصلٰوۃ کا استعمال ہوا ہے۔ امام بخاری نے بھی کتاب الدعوات میں الدعاء بعد الصلٰوۃ کا باب باندھا ہے اور اس میں دبر کل صلٰوۃ والی حدیث نقل کی ہے۔ (ایضاً، ص ۴۹-۵۰)

مولانا سید احمد عروج قادریؒ  نے مزید لکھا ہے:اس سے آگے کی ایک اور بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ احادیث نبویؐ میں نماز کے اندر کی دعاؤں اور اذکار کے لیے فی صلوٰتہ ، فی سجودہ، فی السجود، فی صلوٰتی یا بعد التشہدکے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور  نماز کے بعد کی دعاؤں اور اذکار کے لیے دبرالصلوٰۃ ، فی دبرالصلوٰۃ، حین ینصرف، اذاسلّم، حین فرغ من الصلوٰۃ یا اثرالصلوٰۃ کے الفاظ لائے گئے ہیں۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دبرالصلٰوۃ یا فی دبرالصلٰوۃ کاترجمہ نماز کے بعد ہی صحیح ہے۔(ایضاً، ص۵۲)۔ (ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

سیدابوالاعلیٰ مودودی: سوانح، افکار، تحریک، عبدالرحمن عبد۔ ناشر: ادارہ ترجمان القرآن، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۶۶۶۵-صفحات: ۴۴۶، مع اشاریہ۔ قیمت:۳۵۰ روپے

گذشتہ ایک صدی سے کاروانِ شہادتِ حق کے قائدین میں ایک نمایاں ترین ہستی   مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی ہیں۔ ہرعہد کے طالبانِ حق اس امر کے متلاشی ہوتے ہیں کہ وہ اپنے قائدین کے کارنامۂ حیات کو جانیں تاکہ دیکھ سکیں کہ کن حالات میں ان رجالِ کار نے علمِ حق تھاما، بلند کیا اور ایک عہد کے دل و دماغ میں اس پرچم کا پیغام اُتارا۔

اب سے تقریباً ۴۰ برس پہلے پروفیسر عبدالرحمن عبد مرحوم نے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی کی ابتدائی زندگی، جدوجہد، آزمایش دارورسن اور تحقیق و تالیف کے تادیر زندہ رہنے والے اُمور پر معلومات جمع کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ اس طرح انھوں نے زیرنظر کتاب جولائی ۱۹۷۱ء میں کاروانِ حق کی خدمت میں پیش کردی۔

اس کتاب میں بھی دیگر کتب کی طرح کئی کمیاں تھیں اور معلومات کی پیش کاری میں بھی کچھ مسائل تھے، تاہم اس حوالے سے کتاب اور کتاب کے مصنف خوش قسمت ہیں کہ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے کتاب کی اشاعت کے بعد، اس میں اپنی ذات کے حوالے سے بعض تسامحات کو دُور کرنے کے لیے مصنف کو خط لکھا۔ یہ خط موجودہ ایڈیشن میں نہ صرف شامل ہے بلکہ اس کی روشنی میں مصنف نے پورے مسودئہ کتاب پر نظرثانی بھی کی۔

اس کتاب کا یہ تیسرا یڈیشن ۳۴ برس بعد شائع ہوا ہے۔ جو پہلی دو اشاعتوں سے کئی اعتبار سے بہتر ہے۔ کتاب رواں دواں، دل چسپ اور عام فہم انداز میں، مولانا کی زندگی کے مختلف اَدوار کو پیش کرتی ہے۔ مطالعے سے مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کی جدوجہد کے مدارج  بیک نظر سامنے آجاتے ہیں۔ (سلیم منصورخالد)


ترجمان القرآن الکریم و تفہیم القرآن العظیم،ترجمہ و تفسیر: مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی، مرتب: احمد ابوسعید۔ ناشر: اسلامک بک سروس، دریا گنج، نئی دہلی۔فون: ۹۹۴۹۰۳۵۳۵۶-۰۰۹۱۔  صفحات: ۷۰۴۔ قیمت: ۲۰۰ بھارتی روپے۔

احمد ابوسعید صاحب نے اس سے پہلے ذلک الکتاب اور ترجمان القرآن الکریم دوکتابیں پیش کی ہیں۔ اب یہ تیسری ہے۔ اس کا نام اتنا طویل ہے، اور اس کے ساتھ مزید تشریح طویل تر ہے کہ میرا جیسا آدمی تو گھبرا کر کتاب کو چھوڑ دے۔ دراصل یہ کتاب الفاتحہ اور پارہ عم کی   تفہیم القرآن کی تفسیر ہے، جس میں مرتب نے جہاں مولانا مودودی نے پہلی سے چھٹی جلد تک کے حاشیوں کے حوالے ملاحظہ کرنے کے لیے کہا ہے، وہ انھوں نے حوالے پورے پورے نقل کردیے ہیں۔ یہ حصہ صفحہ ۴۰ سے ۶۷۳ تک ہے۔ اس کے ساتھ ہی سورۃ النصر کے ۱۰ مقبول تراجم کا، اور ۱۰مقبول تفاسیر کا تقابلی مطالعہ دیا گیا ہے۔ آغاز میں مقدمہ تفہیم القرآن اور مقدمہ ترجمۂ قرآن مجید مع مختصر حواشی دیا ہے۔ قرآن کے ۲۰۰ ایسے الفاظ کے معنی دیے ہیں جو ان کے مطابق قرآن کریم کے ۶۰فی صد الفاظ پر محیط ہیں۔ اس کے مطالعے سے تیسویں پارے کے مضامین اچھی طرح ذہن نشین اور دل نشین ہوجاتے ہیں۔

توحید، رسالت اور بالخصوص آخرت کا بیان، جنت کی نعمتوں اور جہنم کی ہولناکیوں کا ایسا تذکرہ کہ جیسے سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہے۔ الم نجعل الارض مِھٰدا میں چھے جلدوں سے ۹ حواشی ایک ساتھ پڑھنے سے مطالب و معانی کی دنیا کھل جاتی ہے۔ اسی طرح دیگر موضوعات بھی۔ اس کتاب کا ہدیہ اصل لاگت سے بھی کم رکھا گیا ہے اور اس پر بھی تاجرانہ کمیشن دیا جاتا ہے۔ اگر مرتب کو یہ اندیشہ نہ ہو کہ مفت چیز کی ناقدری ہوگی تو وہ شاید اتنا ہدیہ بھی نہ لیتے۔  اللہ سے دعا ہے کہ ان کی کوششیں جاری رکھے۔ پاکستان کے شائقین کو حیدرآباد (دکن) سے شائع شدہ کتاب کو دہلی سے حاصل کرنے کا انتظام کرنا چاہیے۔(مسلم سجاد)


فقہ اسلامی: تعارف و تاریخ، پروفیسر اختر الواسع، محمد فہیم اختر ندوی۔ ناشر: مکتبہ قاسم العلوم، رحمن مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۳۱۹۔ قیمت: درج نہیں۔

کتاب و سنت سے تمام علما و فقہا کا احکام اخذ کرنے کا معیار ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہا کی آرا میں اختلاف موجود ہے اور رفتہ رفتہ یہ اختلاف فقہی مسلکوں کی صورت اختیار کرگیا اور ہردور میں متعدد فقہی مسلک موجود رہے۔ کچھ آج تک قائم ہیں، کچھ اپنے دور ہی میں ختم ہوگئے، اور کچھ ایک عرصہ قائم رہنے کے بعد ناپید ہوگئے۔ فقہ اسلامی کی اس تاریخ کے آغاز سے حال تک کا بیان مدارس اور یونی ورسٹیوں کے طلبہ کی ایک ضرورت تھی جس کو بھارت کے دو اہلِ علم نے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب ہندستان کے تعلیمی تناظر کو پیش نظر رکھ کر مرتب کی گئی ہے اور کچھ عرصہ قبل دہلی سے شائع ہوئی۔ اب پاکستانی ناشر نے اسے ٹائپ کاری کے اپنے قالب میں ڈھال کر شائع کیا ہے۔ کتاب کے مندرجات میں فقہ اسلامی کے آغاز، مصادر، تاریخ، مسالک، علوم، اجتہاد و تقلید، فقہی اختلاف اور فقہی کتابوں کے عنوانات پر مختصر مواد پیش کیا گیا ہے۔ یہ اسلامی فقہ کے اجمالی تعارف و تاریخ پر مشتمل کتاب ہے۔ اُمید ہے کہ مصنفین کی یہ کاوش طلبہ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ (ارشاد الرحمٰن)


جانبِ حلال، خلیل الرحمن جاوید۔ ناشر: فضلی بک، اُردو بازار، کراچی۔صفحات: ۵۷۶۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

اسلامی(حلال) کاروبار اور خصوصاً اسلامی بنکاری کے موضوع پر جتنی کتابیں آج کل لکھی جارہی ہیں شاید اس سے پہلے کبھی نہ لکھی گئی ہوں گی۔ آئے دن نئی سے نئی کتاب کا منظرعام پر آنا اِس موضوع سے عوام الناس کے شوق میں اضافے کا باعث بن رہا ہے بلکہ ہرنئی تصنیف اِس میدان میں نئی راہیں کھولنے کا موجب بھی بن رہی ہے۔

اسلامی بنکاری و کاروبار کی مشہور تصانیف میں ایک حالیہ قابلِ قدر اضافہ قاری خلیل الرحمن کی جارحانہ اور بے باک تصنیف جانبِ حلال ہے۔کتاب کا نام بہت ہی نفیس و پُرکشش ہے جو اپنے قاری کو کتاب کے بغور مطالعہ کی طرف اُکساتا ہے۔ جس قدر اِس کتاب کا نام خوب صورت ہے اِسی قدر خوب صورتی سے اِس کے اندر مختلف ابواب کی تقسیم کی گئی ہے۔ ہرباب میں موجود ہرموضوع اپنے اندر نہ صرف جامعیت کا حامل ہے بلکہ اپنے اگلے موضوع کی مستحکم بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

کتاب کے شروع میں ’تقدیم‘ کے عنوان سے ڈاکٹر عبدالرشید صاحب (صدر مجلس اسلامی، پاکستان) کی ایک خوب صورت تحریر کتاب کی اہمیت میں اضافے کا باعث ہے۔ ’عرضِ مؤلف‘ و ’ماخذِ شریعت‘ جیسے بنیادی عنوانات کے بعد مؤلف نے کتاب کو چھے ابواب میں بالترتیب ۱-معیشت اور اسلام، ۲- حرام کی جدید شکلیں ۳- حرام کی قدیم مگر مروج شکلیں، ۴-چند حرام اور معیوب پیشے، ۵- اسلامی بنکاری نظام، اور ۶- انشورنس و تکافل میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلا باب ’کسب حلال‘ کی ضرورت و اہمیت اِس کے حصول مناسب ذرائع اور اِس میں برکت کی طرف توجہ کی طرف زور دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مؤلف نے حلال و حرام کی تمیز اور اس سے متعلق اِسلام میں انسانی مجبوریوں کا لحاظ بیان فرمایا ہے۔ باب کے آخر میں ’حُرمتِ سود‘ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلاً تحریر کیا گیا ہے۔

دوسرا باب حرام کی جدید اشکال کو واضح کرتا ہے۔ یہ باب بھی انھی جامعیت کے اعتبار سے ایک بھرپور تحریر ہے جس میں مؤلف نے جدید دور کے تمام لین دین سے منسلک اشکال و شکوک و شبہات کا بغور جائزہ لیا ہے۔ کتاب کے اِس حصے میں مختلف قسم کی انعامی اسکیموں، کاروباری حصص کے لین دین، سٹہ بازی، کریڈٹ و کریڈٹ کارڈوں کی موجودہ شکل و ابہام، بی پی فنڈ، پگڑی سسٹم اور دیگر ممالک کی کرنسی کا لین دین کو واضح طور پر تحریر کیا گیا ہے۔

تیسرے باب میں حرام کی قدیم مگر مروج اشکال پر موضوع کو زیربحث لایا گیا ہے۔ خاص موضوعات میں بیع کی شرائط کا مختلف پہلوئوں سے قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی جائزہ، دورِ نبویؐ میں تجارت کی چند مثالیں شامل ہیں۔ باب کا اختتام مولانا تقی عثمانی مدظلہ و دیگر علماے کرام کے موضوع سے متعلق اِشکالات اور مؤلف کی جانب سے اُن کے جوابات پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

چوتھا باب ’چند حرام اور معیوب پیشے‘کے عنوان سے مرتب کیا گیا ہے قابلِ ذکر حرام و معیوب پیشوں میں گلوکاری، رقاصی، مجسمہ سازی، بیوٹی پارلر، ٹی وی، گداگری، ہیئر ڈریسنگ، قوالی وغیرہ جیسے موجودہ زمانے میں عام پائے جانے والے پیشوں کا عقلی و عملی جائزہ لیا گیا ہے۔

آخری پانچواں اور چھٹا ابواب اسلامی بنکاری و انشورنس کے تمام ممکنہ موضوعات کو سامنے رکھ کر مرتب کیے گئے ہیں جس میں اسلامی بنکاری و انشورنس کے تمام اداروں کی تقریباً تمام پروڈکٹس جو شراکتی، تجارتی، سہولیائی اور کرایہ کی بنیاد فراہم کی جاسکتی ہیں، کا مفصل جائزہ مع دیگر علماے کرام کے اِشکالات اور اُن کا مؤلف کی جانب سے قرآن و سنت کی روشنی میں جوابات تحریر کیے گئے ہیں۔

یہ کتاب مکمل طور پر اپنے موضوع پر لکھی گئی ایک جامع کتاب ہے۔ اس میں اپنے موضوع کا تفصیلی احاطہ، قرآن و حدیث کے مناسب و بروقت حوالہ جات، عام فہم شرح و دلیل، منقولات کے معقولات وامثلہ کی بخوبی پیش کش کی بخوبی پیش کش اور دیگر علماے کرام کے اِشکالات کا تفصیلی بیان اور اُن کے جوابات، اس کتاب کی نمایاںخصوصیات میں شامل ہیں۔

کتاب کے ہر موضوع کے آخر میں موضوع سے متعلق معروضی سوالات اور ہرباب کے اختتام پر مختلف موضوعات پر کیس اسٹڈی بشمول سوالات کتاب کی افادیت میں مزید افادیت کا باعث بن سکتے ہیں۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔(محمود شاہ)


مولانا عبدالغفار حسن، حیات و خدمات، مرتبہ: صہیب حسن۔ ناشر: مکتبہ اسلامیہ غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۵۹۷۔ قیمت:درج نہیں۔

مولانا عبدالغفار حسن رحمۃ اللہ علیہ (۲۰ جولائی ۱۹۱۳ئ، رہتک۔ ۲۲مارچ ۲۰۰۷ئ، اسلام آباد) استاد حدیث اور داعی دین تھے، ایک محقق اور شفیق انسان تھے۔ جنھوں نے ہندستان، پاکستان اور سعودی عرب میں تعلیم و تدریس کے کارہاے نمایاں انجام دیے اور دعوتِ حق کے نقوش ثبت کیے۔ ان کا تحریری اثاثہ تادیر خدمت ِ دین کا حوالہ بنا رہے گا۔

زیرنظر کتاب کے مرتب لکھتے ہیں: ’’میں نے والد مکرم کی زبان سے واقعات و ارشادات کو معمولی تغیر و تبدل کے ساتھ صفحۂ قرطاس کی ترتیب بنانے کی کوشش کی ہے‘‘ (ص۱۴)۔ کتاب کا موضوع مولانا مرحوم کے کارنامۂ حیات کو پیش کرنا ہے۔ تاہم فاضل مرتب نے اسے حسنِ ترتیب سے پیش کرنے کے بجاے متفرق واقعات اور تحریروں کو اس طرح پیش کیا ہے کہ تکرار کی کثرت اور متعلقہ اُمور پر قرار واقعی تحریر و ترتیب کی کمی کا عنصر نمایاں ہوگیا ہے۔

پھر مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے حوالے سے متعدد مقامات پر ظن و تخمین اور  لب و لہجے میں ایسا اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ مولانا عبدالغفار حسن مرحوم سے ملنے والے لوگ جانتے ہیں کہ وہ اس طرزِ تکلم کو روا نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے ’ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو…‘ کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔مولانا عبدالغفار حسن، مسلم اُمت کے ایک قیمتی انسان اور استادالکل تھے، لیکن کتاب میں انھیں محافظِ مسلک اہلِ حدیث کے طور پر پیش کرنے کی شعوری کوشش کی گئی ہے۔مرتب کی اس کاوش کا استقبال کرنے کے باوجود، مذکورہ موضوع پر سوانحی کتاب کی تشنگی موجود ہے۔ (س-م- خ)


صرف ۵ منٹ، ہبہ الدباغ، ترجمہ: میمونہ حمزہ۔ ناشر: منشورات، منصورہ، لاہور- ۵۴۷۹۰۔ فون:۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲۔ صفحات: ۲۷۱۔ قیمت: ۲۷۰ روپے۔

زیرنظر کتاب ملک شام کی طالبہ ہبہ الدباغ کے زمانۂ شباب کے نو برسوں کی خودنوشت ہے۔ یہ ۸۰ کا عشرہ تھا۔ مصنفہ شریعہ کالج میں آخری سال کی طالبہ تھی۔ حکومت پر حافظ الاسد نے قبضہ کرلیا تھا۔ اس نے اسلامی تحریکات بالخصوص اخوان المسلمون سے تعلق کو گناہِ کبیرہ قرار دے رکھا تھا۔ وہ ظلم و ستم، انتقام و تعذیب اور دہشت گردی میں ہر حد سے آگے نکل گیا تھا۔ ایک تاریک شب ہبہ الدباغ کو خفیہ پولیس کے ایک اہل کار نے رات کے اندھیرے میں آجگایا اور کہا: صرف پانچ منٹ آپ سے گفتگو کرنی ہے، پھر وہ پانچ منٹ نو برسوں پر پھیل گئے۔ ہبہ کبھی اِس جیل میں رہی تو کبھی اس جیل میں۔ یہ جیلیں، بدترین عقوبت خانے تھے۔ ایمان و استقامت کی دولت سے سرشار یہ نوجوان لڑکی درندوں سے اپنی عصمت بچاتی اور مسلسل گوناگوں تکلیفیں اُٹھاتی رہی۔ اسے سونے نہ دیا جاتا، بھوکا رکھا جاتا۔ اگرچہ کبھی کوئی نرم دل ہمدردی کا بول بھی بول دیتا۔ ہبہ کے ساتھ اور بھی خواتین تھیں اور سب وحشیوں کے ظلم و جبر کا نشانہ بنیں مگر اللہ نے ان کو استقامت ، ہمت اور حوصلہ عطا کیا اور ان نو برسوں میں وہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں۔

ان کا قصور؟ ظالم حکومت کو شک تھاکہ ان کا تعلق مذہبی جماعتوں کے ساتھ ہے۔ محض شک کی بنا پر یہ سب جورو استبداد کی چکّی میں پستی رہیں۔ ہبہ الدباغ سے پہلے جمال عبدالناصر کی جیل میں زینب الغزالی بھی ایسی ہی تعذیب کا شکار رہیں۔ ان کے علاوہ نہ جانے کتنی زینبیں اور ہبائیں مصری اور شامی حکمرانوں کے ظلم و جبر کا شکار ہوئی ہوں گی۔ خاندانوں کے خاندان اُجاڑ دیے، بچے ذبح کردیے گئے۔ ابوبکر، عمروعثمان اور عائشہ و حفصہ نام کے نوجوان اور بچے بالخصوص قتلِ عام کا نشانہ بنے۔ ہمارے ہاں جنرل پرویز مشرف نے بھی لال مسجد میں یہی کچھ کیا تھا۔

مقدمہ زینب الغزالی نے لکھا ہے اور تقریظ قاضی حسین احمد کی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے جہاں ہماری خواتین کے عزم و ہمت اور ایمان میں اضافہ ہوگا، وہاں ہمارے مردوں میں بہادری، غیرت اور حمیت بڑھے گی۔ عربی سے اُردو ترجمہ رواں، کتاب خوب صورت اور قیمت مناسب ہے۔(قاسم محمود احمد)


باتیں ___ کچھ اور بھی ہیں، منظوراحمد۔ناشر: لائٹ ہائوس ریسرچ اینڈ پبلی کیشنز، سٹی ٹاور، ایبٹ روڈ، لاہور۔ رابطہ: ۶۳۱۴۲۲۹-۰۴۲۔ قیمت: ۳۵۰ روپے۔

مصنف سال ہا سال بیرونِ ملک مقیم رہے۔ لکھتے ہیں: ’’یورپ، مڈل ایسٹ اور پاکستان میں ہمیں قوموں کے رہنمائوں، صحافیوں، فوجیوں، جہادیوں، تاجروں، لٹیروں، شیشہ گروں کی حرکات و سکنات کو قریب اور ایسے زاویے سے دیکھنے کاموقع ملا، جو شاید کسی ایک شخص کے لیے ممکن نہ ہوا ہو‘‘ (ص ۱۲)۔ چنانچہ منظوراحمد صاحب نے اپنی زندگی کے ’’غیرمعمولی واقعات کی تصویروں کو الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے‘‘۔ انداز و اسلوب دل چسپ، رواں اور کہیں کہیں شوخ و شگفتہ اور پُرلطف ہے، مزاح سے قریب۔ انگریزی ناموں اور مقامات وغیرہ کو لاطینی حروف میں لکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ایک طرح سے مصنف کی آپ بیتی ہے اور سفرنامہ بھی۔ ۱۹۴۷ء میں ہندستان سے ہجرت کر کے یہ خاندان لاہور پہنچا۔پہلے ماڈل ٹائون رہے، پھر مال روڈ پر واقع ایک کوٹھی میں طویل عرصے تک قیام رہا۔ والد اعلیٰ سرکاری افسر (ڈپٹی کمشنر، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو وغیرہ) ہونے کے باوجود سادہ مزاج، بدعنوانی سے دُور اور اپنے وسائل میں زندگی بسر کرنے کے قائل تھے اور اس پر عامل رہنے کے سبب گھر میں رزق کی بے حد برکت رہی۔ مصنف پڑھ پڑھا کر (گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے کرکے بنک کاری کی تربیت کے لیے) لندن سدھارے۔ بنک کی تربیت چھوڑ کر لندن سے سی اے کیا اور وہیں ٹک گئے۔ حساب کتاب (اکائونٹنسی) کے وکیل رہے۔ درجنوں کمپنیوں کے مشیر اور ڈائرکٹر رہے۔ وائس آف اسلام کے بانی مدیر اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

اس آپ بیتی میں مصنف کے دوستوں، کرم فرمائوں، علاقوں، مقامات کا ذکر بکثرت آتا ہے مگر اس انداز میں کہ اُکتاہٹ نہیں ہوتی۔ مصنف نے تاریخ، جغرافیہ اور سیاست، سب پر بات کی ہے۔ ایک دنیا دیکھ چکے ، مگر کہنے کو اب بھی بہت کچھ ہے، اسی لیے کہتے ہیں: ’’باتیں___ کچھ اور بھی ہیں‘‘ ___  میرے خیال میں منظوراحمد صاحب کو وہ ’اور باتیں‘ بھی لکھ دینی چاہییں۔ (رفیع الدین ہاشمی)


تفسیر سورئہ فاتحہ، تحفۃ الاسلام، مولوی حافظ محمد اکرام الدین۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ برانچ پوسٹ آفس خالق آباد، ضلع نوشہرہ۔صفحات: ۹۶۔ قیمت: درج نہیں۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے شاگردِ رشید حافظ محمد اکرام الدین کی اس کتاب کا مسودہ مولانا عبدالقیوم حقانی کے ہاتھ آگیا۔ ’’اس کتاب نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔ قدیم طرزِتحریر اور پرانا ادب ہونے کے باوجود نہایت اعلیٰ درجے کی تحریر ہے جس کی ایک ایک سطر مجھے اپنی طرف کھینچتی تھی۔ تحریری بانکپن، بیان میں خوب صورتی، علمی نکات میں دل کشی، مسائل میں عمق اور انداز داعیانہ اور واعظانہ ہے۔ اور شاعری ہو یا نثر، حدیث کی توضیح ہو، یا قرآن کی تفسیر، تاریخ کا تذکرہ ہو یا فقہ کا مسئلہ، حُسن اس کی بے ساختگی میں ہے‘‘(ص ۹۰)۔ اب میں اور کیا کہوں، کتاب حاصل کیجیے۔ بچوں کو، طالب علموں کو بھی پڑھوایئے، اس سب سے زیادہ پڑھی جانے والی سورہ کے مطالب ان پر آشکار ہو جائیں گے۔(مسلم سجاد)


قرآنِ حکیم اور ہم، ڈاکٹر اسرار احمد۔ ناشر: مکتبہ خدام القرآن، ۳۶-کے، ماڈل ٹائون، لاہور۔ صفحات: ۴۹۵۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

یہ کتاب ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی آٹھ کتابوں کو یک جا کر کے تیار کی گئی ہے جن میں آپ نے قرآن کاتعارف پیش کیا ہے، اور مسلمانوں سے قرآن کے مطالبات و تقاضے بیان کیے ہیں۔ ۵۰۰صفحے کی اس کتاب میں آٹھ موضوعات پر تقاریر جمع ہیں: ۱-دنیا کی عظیم ترین نعمت قرآنِ حکیم، ۲- عظمت قرآن، بزبانِ قرآن و مصاحب ِقرآن، ۳- قرآنِ حکیم کی قوتِ تسخیر، ۴-تعارفِ قرآن مع عظمتِ قرآن،۵- قرآن اور امنِ عالم، ۶- مسلمانوں پر قرآنِ مجید کے حقوق، ۷- انفرادی نجات اور اجتماعی فلاح کے لیے قرآن کا لائحہ عمل، ۸- جہاد بالقرآن اور اس کے پانچ محاذ۔ ہرخطبہ اپنی جگہ جامع اور راستہ دکھانے والا ہے، بس مسئلہ رستے پر چلنا ہے۔(م- س)


مولانا محمد منظور نعمانی کی سرگزشت اور مولانا مودودی، مرتب: شفیق الرحمن عباسی،   ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، ۳-کورٹ سٹریٹ، لوئرمال، لاہور۔ صفحات: ۳۰۳۔ قیمت: ۱۶۰ روپے۔

یہ کتاب اُن مطبوعہ تحریروں کا مجموعہ ہے، جو مولانا مودودی کے ابتدائی ساتھی مولانا محمد منظورنعمانی مرحوم کی جماعت اسلامی سے علیحدگی سے متعلق داستان پر مشتمل ہیں۔  فاضل مرتب نے مولانا نعمانی کی الزامی تحریروں کے اقتباسات پیش کرتے ہوئے، معاصر حضرات کی جانب سے ان کے جوابات کو اس انداز سے مربوط کرنے کی کوشش ہے کہ دعویٰ اور جوابِ دعویٰ کا منظر بنتا دکھائی دیتا ہے۔اگر اختصار سے کام لیتے ہوئے اس فردِ قرارداد کو متعین الفاظ میں پیش کرکے تجزیہ کیا جاتا تو یہ اور زیادہ مؤثر پیش کش ہوتی۔ تاہم، موجودہ شکل میں بھی یہ صداے بازگشت ایک معنویت رکھتی ہے۔ (س-م-خ)


اُمت کا ایک ہی انتخاب: اسلام اور صرف اسلام، ڈاکٹر ابراہیم عبید۔ ترجمہ: گل زادہ شیرپائو۔ناشر: ادارہ معارف اسلامی ، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۵۶۔ قیمت: ۶۰ روپے۔

ڈاکٹر ابراہیم عبید کی پونے چھے سو صفحات کی اس کتاب میں پانچ ابواب قائم کر کے سیکولر عناصر کو منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔ الاسلام ھو الحل اس انتخاب میں اخوان کا نعرہ تھا۔ ادارہ معارف اسلامی نے اس کا پہلے باب کا ترجمہ شائع کردیا ہے۔۵۶ صفحے کے اس کتابچے میں جو موضوعات زیربحث آتے ہیں وہ اس طرح ہیں: ۱-اسلامی ریاست کا عروج و زوال، ۲- یورپی انقلاب اور سیکولرزم، ۳- سیکولرزم اور اسلام، ۴-شریعت اسلامی کی بالادستی، ۵-آخری باب صفحہ ۲۵ سے ۵۳ تک ہے، اور اس میں شاید سب ہی متعلقہ اُمور کاذکر ہوگیا ہے، حتیٰ کہ تغیر ِحالات سے   تغیر ِفتویٰ بھی۔ گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ بقیہ ۵۰۰ صفحے کے ترجمے کا انتظار ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس سمندر میں کیا کیا ہے فی الحال تو جیسے ٹریلر چلا دیا ہے۔ (م- س)


احکامِ سُترہ، غلام مصطفی، حافظ شاہد محمود۔ کتاب سرائے، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات:۱۰۴۔ قیمت: درج نہیں۔

سُترہ کے حوالے سے ہم صرف یہ حدیث جانتے ہیں کہ سامنے سے گزرنے کے بجاے ۴۰سال بھی کھڑا رہنا پڑے تو کھڑے رہو۔ اب اچھی مسجدوں میں اس کا انتظام ہے کہ بڑے ہال میں کچھ ایسے پارٹیشن لگا دیتے ہیں جس کے پیچھے لوگ سنتیں پڑھتے ہیں۔ کل ہی ایک مسجد میں چھوٹے سائز کے بھی دیکھے کہ نمازی اپنے آگے رکھ لے۔ ایک صاحب ِ علم سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ایک دو صف آگے تک نہ گزرا جائے لیکن اس کتاب سے یہ معلوم ہوتا ہے (اگر مَیں غلط نہیں سمجھا ہوں) سترہ کی حد وہاں تک ہے جہاں آپ سجدہ کرتے ہیں۔ بہرحال، یہ مسئلہ جو ہرمسجد میں ہرنمازی کا مسئلہ ہے، اس کے تمام پہلو جاننے کے لیے مختصر کتابچہ یقینا مفید ہے۔(م- س)

عبدالرشید عراقی ، سوہدرہ

’برما کے مظلوم مسلمان‘ (اگست ۲۰۱۲ئ) پڑھ کر دلی صدمہ ہوا اور مظالم کی تفصیل جان کر رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ میانمار میں مسجدوں کو نذرِ آتش کرنا، کتب خانوں کو جلانا، اور خاص کر قرآن پاک کا جلانا اور عورتوں کی بے حُرمتی کرنا برمی حکومت اور بدھ مذہب کے پیروکاروں کی انتہائی ناپاک جسارت ہے۔مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنا غیرمسلم حکومتوں کا ایک شرم ناک فعل ہے۔ مغربی میڈیا کا خاموش رہنا فطری امر ہے، تاہم  اسلامی میڈیا نے بھی اس سلسلے میں بھرپور آواز نہیں اُٹھائی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلم ممالک کامل یک جہتی سے بھرپور انداز میں اس کے خلاف آواز بلند کریں۔مغربی میڈیا امن کا زیادہ پرستار بنتا ہے، اس کو کھوکھلے نعرے نہیں لگانے چاہییں بلکہ عملی قدم اُٹھانا چاہیے۔


بیگم طاہرہ عقیل ، اسلام آباد

’مصر: اخوان ایوانِ صدارت میں‘ (جولائی ۲۰۱۲ئ) جہاں اخوان کی سیاسی پیش رفت، بیرونی چیلنج اور کامیابیوں کا احاطہ کرتا ہے، وہاں پالیسی امور پر اندرونی کش مکش اور غلطیوں سے صرفِ نظر بھی کرتا ہے۔ ترجمان جیسے مؤقر جریدے میں ایسے مضمون کا مقصد اخوان کی حکمت عملی اور کامیابیوں کو اُجاگر اور غلطیوں کی نشان دہی کرنا ہونا چاہیے، جس سے ہمارے اپنے ملک کی اسلامی تحریک اور دینی قوتوں کو رہنمائی مل سکے۔

اخوان نے اپنے صدارتی اُمیدوار نہ لانے اور کسی مناسب اُمیدوار کی حمایت کرنے کا فیصلہ     جن حالات میں اور جن وجوہ کی بنا پر بھی کیا، ڈاکٹر عبدالمنعم ابوالفتوح کے صدارتی امیدوار ہونے کے اعلان سے سارا منظر نامہ ہی بدل گیا۔ ڈاکٹر ابوالفتوح اخوان کے مقبول اور محترم مرکزی رہنما رہے تھے اور انھوں نے کئی عشروں تک عالمی پالیسی اداروں میں اخوان کا نقطۂ نظر پیش کیا تھا۔ اخوان کو ان سے بہتر اُمیدوار نہیں مل سکتا تھا، لیکن ڈاکٹر محمدمرسی کو صدارتی اُمیدوار نامزد کیا گیا۔ کہا جاسکتا ہے کہ ابوالفتوح اُمیدوار ہوتے تو اخوان انتخابات بھاری اکثریت سے جیت جاتے اور دوسرے رائونڈ کی نوبت ہی نہ آتی (کیونکہ ابوالفتوح کو    اخوان کے علاوہ سلفی جماعت النور، لبرل عناصر اور نوجوانوں سب ہی کی حمایت حاصل تھی)۔ اب صورت حال یہ رہی کہ ڈاکٹر مرسی پہلے رائونڈ میں اوّل تو آئے مگر صرف ایک فی صد ووٹ کے فرق سے ۔ دوسرے رائونڈ کا نتیجہ بھی منقسم انتخابی نتیجہ (split mandate) تھا جس کی وجہ سے عسکری و سیاسی بزرجمہروں کو اپنے مقاصد کے لیے کھل کھیلنے، اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے اور اخوان سے سودے بازی کی ہمت ہوئی۔


محمد اصغر ، پشاور

’اسلام کے اقتصادی نظام کے نفاذ کا پہلا قدم___ بیع سلم‘ (جون ۲۰۱۲ئ) میں نجی سطح پر سود کے خاتمے کے قانون (۲۰۰۷ئ) کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اسی قانون کو صوبہ سرحد میں بھی نافذ کیا گیا تھا اور اے این پی کی موجودہ حکومت نے اسے غیرمؤثر کردیا ہے۔ (ص ۵۴)

ریکارڈ کی درستی کے لیے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ راقم اُس ٹیم کا حصہ تھا جس نے پروفیسر خورشید احمد کی قیادت میں صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت کے دوران معیشت سے سود کے خاتمے کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔ ایم ایم اے کی صوبائی حکومت نے پنجاب اسمبلی کے مذکورہ بالا قانون کو اختیار /نافذ (adopt) نہیں کیا تھا بلکہ ایک الگ اور مربوط منصوبہ بندی کے تحت بنک آف خیبر ایکٹ کا ترمیمی بل ۲۰۰۴ء صوبائی اسمبلی سے منظور کروا کر بنک آف خیبر کی تمام سودی شاخوںکو اسلامی بنکاری کی برانچوں میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔ اس ایکٹ کا پنجاب اسمبلی کے منظورکردہ ایکٹ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم صوبائی معیشت کو اسلامیانے کے لیے ایک الگ کمیشن جسٹس  فدا محمد خان ، جج شریعہ کورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان کی صدارت میں قائم کیا گیا تھا جس کا راقم بھی رُکن تھا۔ اِس کمیشن نے بڑی محنت کے ساتھ رپورٹ مرتب کی کہ کس طرح صوبائی معیشت کو سود سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ افسوس کہ کچھ بیوروکریٹک کوتاہیوں اور اعلیٰ سیاسی قیادت کی عدم دل چسپی کے باعث کمیشن کی سفارشات حتمی شکل اختیار نہ کرسکیں۔

واضح رہے کہ اے این پی کی حکومت نے مکمل طور پر بنک آف خیبر کو دوبارہ سودی کاروبار میں تبدیل نہیں کیا بلکہ بنک کی پرانی سودی برانچوں کو اسلامی برانچیں بننے سے روکنے کے لیے بنک آف خیبرایکٹ میں دوبارہ ترمیم کر کے اللہ کے غضب کو دعوت دی ہے۔ لیکن اس کے باجود وہ بنک آف خیبر میں اسلامی برانچوں کو غیرمؤثر کرنے یا نقصان پہنچانے میں (کوشش کے باوجود) کامیاب نہ ہوسکے۔ لہٰذا ایم ایم اے دور کا کام محفوظ اور intact ہے اور ان شاء اللہ جب دوبارہ ہمیں اقتدار ملے گا تو اسلامی بنکاری اور اسلامی معیشت کے کام کا آغاز وہیں سے ہوگا جہاں اِسے اے این پی اور پیپلزپارٹی کی مخلوط صوبائی حکومت نے پھیلنے سے روکا ہے۔


تنویر قمر دانش ، کراچی

ڈاکٹر محمود احمد غازی کی تحریر ’فروعی مسائل اور علما کی ذمہ داری‘ (مئی۲۰۱۲ئ) میں اختلافی مسائل کا حل عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔ آج مسلمانوں کی اکثریت چند سطحی فقہی اختلافات میں اُلجھ کر رہ گئی ہے۔ نماز میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں، شلوار ٹخنے سے اُوپر ہو، آمین بلند ہو یا آہستہ، داڑھی کی مقدار اور لمبائی کتنی ہو؟ ان سے بڑھ کر دوسرے اہم مسائل کہ دیانت دار اور ایمان دار لیڈرشپ کیسے آئے، نااہل لوگوں سے چھٹکارا کیسے پائیں، قرآن و سنت کی تفہیم اور پوری زندگی کو اسلامی نظام کے تابع کرنا، اسلام کا غلبہ، جہاد اور کافروں کی سازشوں کا جواب___ ملک و ملّت کے ان ناگزیر تقاضوں کی طرف ہماری توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔


آئی اے فاروق، لاہور

’آیاتِ سجدہ‘ (اگست ۲۰۱۲ئ) کے مطالعے سے ان آیات کا پس منظر اور اہمیت اُجاگر ہوئی۔ سجدہ سے متعلق مسائل سے بھی آگاہی ہوئی بالخصوص مولانا مودودی کی راے کہ آیت سجدہ سن کر جو شخص جہاں، جس حال میں ہو، جھک جائے سے روایتی نقطۂ نظر سے ہٹ کر پہلو سامنے آیا۔ ’کلامِ نبویؐ کی کرنیں‘ میں مولانا عبدالمالک نے عمدہ انتخاب احادیث کیا۔تذکیر کے ساتھ ساتھ دین کے عملی تقاضوں کی طرف رہنمائی بھی دی۔


دانش یار ، لاہور

علامہ محمد اسد کے مضمون ’ہم پاکستان کیوں بناناچاہتے ہیں؟‘ (اگست ۲۰۱۲ئ) کی اشاعت سے آپ نے ایک ایسے نومسلم مجاہد اسلام کی یاد تازہ کی کہ جس نے اپنے عالمِ شباب کے اوائل میں دین حق قبول کر کے عالمِ کفر میں مقیم رہنے کو ہجرت پر ترجیح دی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے ۱۹۳۶ء میں چودھری نیاز علی صاحب کے نام اپنے ایک خط میں یہ تاریخی جملہ لکھا تھا: ’’میرا خیال ہے کہ دورِ جدید میں اسلام کو جتنے     غنائم یورپ سے ملے ہیں ان میں یہ سب سے زیادہ قیمتی ہیرا ہے‘‘۔ ( محمد اسد: ایک یورپین بدوی، ڈاکٹر محمد اکرام چغتائی)

پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے ماہ نامہ ترجمان القرآن اگست ۲۰۰۶ء میں اسی عنوان سے ایک مقالہ لکھا تھا۔ جناب صادق قریشی ’سیلانی کی ڈائری‘ کے عنوان سے روزنامہ نوائے وقت میں لکھا کرتے تھے۔ محمد اسد نے ۲۳ستمبر ۱۹۸۲ء کو ایک خط موصوف کو لکھا کیونکہ ایک وقت تھا جب ۱۹۵۲ء میں محمداسد کے بارے میں ترکِ اسلام کی تہمت کو اُچھالا گیاتھا: ’’میں اس وقت نیویارک میںبیٹھا اپنی کتاب روڈ ٹو مکہ   لکھ رہا تھا اور اتنی دُور سے اپنے خلاف کسی الزام کا جواب نہیں دے سکتا تھا۔ میرے حامیوں میں سرفہرست سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تھے جنھوں نے میری اور میری شہرت کو ان الزامات سے بچانے میں بہت مثبت کردار ادا کیا۔ میں نہ کبھی جماعت اسلامی سے وابستہ رہا ہوں اور نہ کبھی حضرت مولانا کو میرے تمام خیالات سے اتفاق ہوا تھا۔ ان فکری اختلافات سے قطع نظر مجھے بصد مسرت اعتراف ہے کہ وہ ایک نہایت قابلِ احترام اور بے حد انصاف پسند شخصیت کے مالک ہیں‘‘۔ (محمد اسد- بندہ صحرائی، محمد اکرام چغتائی)

عالمی ترجمان القرآن کے باذوق قارئین کے لیے محمد اسد کو جاننے کے لیے ڈاکٹر محمد اکرام چغتائی کی تالیف: Muhammad Asad - Europe's Grift to Islam جو دو جلدوں میں شائع ہوچکی ہے، کا مطالعہ دل و دماغ کی مسرت کا باعث ہوگا۔ میرے جو احباب آج تک روڈ ٹو مکہ نہیں  پڑھ سکے وہ ایک لطیف حسرت لے کر دنیا سے رخصت نہ ہوجائیں۔

الاخوان المسلمون اور ان کی دعوت

(تقریر حسن البنا شہیدؒ، ترجمہ: از طٰہٰ یٰسین، مکتبہ چراغِ راہ، ۹-لوٹیابلڈنگ، آرام باغ روڈ، کراچی۔ قیمت: ایک روپیہ چارآنے)

تجدید و احیاے اسلام کی جو روح مسلمانانِ عالم کی نئی نسل میں تقلیدِ مغرب کے تلخ تجربات کے بعد اُبھر رہی ہے، عربی ممالک میں اس کی مظہر مشہور دینی تنظیم ’الاخوان المسلمون‘ ہے۔ اس تنظیم کے داعی حسن البنا شہیدؒ نے یہ تقریر اس کی تاسیس کے ۱۰ سال بعد ۱۹۳۸ء میں اس کے پانچویں کھلے اجلاس کے موقع پر کی تھی۔ جماعت ’الاخوان المسلمون‘ اگرچہ آج اس مرحلے سے بہت آگے نکل گئی ہے جس میں وہ اس تقریر کے زمانے میں تھی لیکن یہ تقریر اپنی اُصولیت، اپنی جامعیت اور اپنی روحانیت کی وجہ سے آج بھی اس کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس میں اُس تحریک کے اصول و منہاج کو داعی شہیدؒ نے کھول کر پیش کردیا ہے جس کے لیے اخوان کو جمع کیا گیا تھا۔ اس میں وقت کے بہت سے سوالات اور شکوک و شبہات کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ اخوان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ’’اسلام دراصل وہی اسلام ہے جو زندگی کے سارے شعبوں اور اس کے تمام مسائل کو محیط ہو‘‘ (ص ۳۲).....تحریکِ اخوان کی جامعیت یوں واضح کی ہے کہ: ’’الاخوان المسلمون ایک سلفی دعوت ہے‘‘۔ ’’الاخوان المسلمون ایک طریقۂ سنیت ہے‘‘___ ’’الاخوان المسلمون ایک حقیقتِ تصوف ہے‘‘___ ’’الاخوان المسلمون ایک سیاسی جماعت ہے‘‘___ ’’الاخوان المسلمون ایک عسکری تنظیم ہے‘‘___ ’’الاخوان المسلمون ایک علمی و ثقافتی انجمن ہے‘‘___ ’’الاخوان المسلمون ایک معاشی ادارہ ہے‘‘ اور ’’الاخوان المسلمون ایک اجتماعی فکر ہے‘‘۔ (ص۲۸ تا ۳۰)۔ پھر اس تقریر میں بتایا گیا ہے کہ اخوان کی دعوت فقہی اختلافات سے دُوری، اکابر اور اربابِ جاہ سے بے نیازی، سیاسی جماعتوں اور انجمنوں سے اجتناب، ٹھوس تعمیری اور تدریجی طریق عمل، اشتہار و اعلان کے بجاے خاموش عملی کام جیسے امتیازات کی حامل ہے (ص ۳۲)۔ یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ اگرچہ اخوان خدمتِ دین کے لیے قوت کو ضروری سمجھتے ہیں، لیکن ’’جہاں تک متشددانہ انقلاب کا تعلق ہے، الاخوان اس کے بارے میں کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتے‘‘ (ص ۶۴).....

تقریر سادہ اور روحانی جذبات سے لبریز ہے۔ ترجمہ خاصا ہے، صرف ایک مقام پر ایک چیز کھٹکی کہ الاخوان کی دعوت کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ ’’ایمان والوں کے دلوں میں پہلے ایک حقیر تخم بن کر داخل ہوئی…‘‘ (ص ۵۲)۔ اس جگہ تخم کی چھوٹائی کو حقیر کے لفظ سے بیان کرنا نامناسب ہے کیونکہ تخم تو آخر اسلامی دعوت ہی کا ہے، وہ حقیر کیسے ہوسکتا ہے۔ اس کے بجاے ’ذرا سا‘ کہنا چاہیے تھے ۔ (’مطبوعات‘ ، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۳۸، عدد ۶، ذی الحجہ ۱۳۷۱ھ، ستمبر ۱۹۵۲ء ، ص۶۳-۶۴)