مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۱۲

۲۴رمضان المبارک ۱۴۳۳ھ (۱۲؍اگست ۲۰۱۲ئ) مصر کی تاریخ کا ایک یادگار دن تھا۔  یہ دن مسلح مصری افواج کو اس کی آئینی ذمہ داری یاد دلانے اور عوامی جمہوری قوت کو اس کا استحقاق عطا کیے جانے کا دن تھا۔ اس روز تاریخِ مصر کے پہلے نومنتخب صدر ڈاکٹر محمد مُرسی نے مصر کے وزیردفاع فوجی سپریم کونسل کے سربراہ، حسین طنطاوی کو برطرف کرنے کے ساتھ مسلح افواج کی قیادت کے اندر دیگر بہت سی تبدیلیوں اور عدلیہ و فوج کے تیار کردہ اس دستور کو کالعدم قرار دیا جس میں منتخب صدر کے بیش تر اختیارات سلب کرلیے گئے تھے اور قانونی اتھارٹی پر قبضہ کرلیا گیاتھا۔

ان صدارتی اعلانات کے ذریعے پہلی بار مصر منتخب صدر کی حکمرانی میں آیا، اور ۶۰برس بعد فوج سیاست سے بے دخل ہوکر اپنی اصل ذمہ داری، یعنی ملکی سرحدوں کی حفاظت کی طرف واپس لوٹا دی گئی۔ تجزیہ نگاروں نے کہا کہ ان صدارتی اعلانات کے ذریعے ملک کے اندر سیاسی استحکام ہوا، حکومتی اداروں کا استحقاق بحال ہوگیا، اور ملک ایک نئے دور کی طرف گامزن ہوگیا۔ ۲۵جنوری ۲۰۱۱ء سے شروع ہونے والے انقلابِ مصر کا سفر اس روز کافی حد تک اپنے معنی و مفہوم کو واضح کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہی وہ اُمنگ اور آرزو تھی جو مصری قوم کے دل میں پونے دو سال سے مسلسل بیدار رہی اور اس روز اس کو اپنی تعبیر مل گئی۔

ایوانِ صدر کے اس مرحلے تک پہنچنے کے دوران میں چہ میگوئیوں، افواہوں، سازشوں اور اندرونی خلفشار کا ایک طویل سلسلہ ہے جس میں ہر اُس عنصر نے اپنا حصہ ڈالا جو سابق نظامِ حکومت کا کل پرزہ رہ چکا تھا یا موجودہ حکومتی ڈھانچے سے خوف زدہ تھا۔ قولی اور عملی، ہردوسطح پر کوشش کی گئی  کہ نومنتخب جمہوری اسمبلی کو بے دست و پا کردیا جائے، تاکہ انھیں ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں آسانی ہو۔ بھرپور عوامی قوت اور مضبوط دینی سیاسی تحریک نے اس منصوبے کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن جمہوری صدر کے جرأت مندانہ فیصلوں کی توقع شاید خود اخوان المسلمون کو  بھی نہ تھی۔ اخوان اس تناظر میں بظاہر خاموش دکھائی دیے مگر اپنی رفتار، مزاج اور ضرورت کے مطابق اپنے کام میں مصروف رہے۔ ملکی عوامی حلقوں اور بیرونی سیاسی تجزیہ نگاروں کی طرف سے بے شمار سوالات سامنے آئے۔ ذرائع ابلاغ نے تو حد ہی کردی۔ اخوان خاموش اور صدر مُرسی مرکزنگاہ تھے، اور وہ تنِ تنہا سابقہ نظام سے پنجہ آزما ہونے کے لیے میدان میں موجود تھے۔

صدر مُرسی کے فیصلوں اور مسلح افواج کے اندر کی گئی تبدیلیوں پر اخوان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمود حسین نے ہفت روزہ المجتمع (شمارہ ۲۰۱۶، ۱۸؍اگست ۲۰۱۲ئ)سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں میں ہماری مشاورت شامل نہیں لیکن مصر کے عوام ان فیصلوں کے منتظر تھے خصوصاً مسلح افواج کی ذمہ داری کے حوالے سے کہ اُس کی اصل ذمہ داری ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے نہ کہ سیاست میں دخل انداز ہونے کی۔ اخوان کا خیال ہے کہ قوم چاہتی تھی کہ نومنتخب صدر کو اختیارات کسی کمی بیشی کے بغیر مکمل طور پر ملیں۔ اس لیے کہ فوجی کونسل آخری مرحلے میں حکومتی ڈھانچے میں اپنی شمولیت پر بضد تھی۔ وہ دستور سے بھی بالاتر حیثیت رکھنے کی متمنی تھی۔ مگر قوم کو یہ بات منظور نہیں تھی اور اس نے اپنی بیش تر سرگرمیوں کے ذریعے اس عسکری مداخلت کو مسترد کردیا۔  صدر کے اعلانات سے یقینی طور پر یہ مداخلت رُک گئی اور چونکہ عوامی دبائو تمام ملکی پارٹیوں کی طرف سے بہت شدید تھا، اس لیے فوج نے اپنی خفت مٹانے کے لیے یہ بیان بھی جاری کیا کہ یہ اعلانات اور فیصلے فوج کی مشاورت سے ہوئے ہیں۔ قوم، صدر کے خلاف شرم ناک میڈیا مہم، دستوری عدالت کے اعلانِ دستور اور فوجی سپریم کونسل کی من مانیوں کو دیکھ رہی تھی اور سمجھتی تھی کہ یہ سب کچھ منتخب اداروں کو ناکام بنانے، صدر جمہوریہ کو اپنی حکمرانی قائم کرنے پر قدرت نہ رکھنے کا تاثر دینے کے لیے کیا جارہا ہے۔ اس تناظر میں بلاشبہہ صدر مُرسی کے ان تاریخی فیصلوں نے معاملات کو اُن کے اصل مقامات کی طرف لوٹا دیا ہے۔

سابق نظام کے حمایتیوں کو ان اعلانات میں ڈکٹیٹرشپ کی بو آنے لگی اور انھوں نے کہا: ان فیصلوں سے تو قانونی اور تنفیذی اختیار پورے کا پورا صدر کے ہاتھ میں چلا گیا اور یوں یہ ایک نئی ڈکٹیٹرشپ قائم ہوگئی، جو اخوان کے ہاتھ میں ہے۔ اخوان کے سیکرٹری جنرل نے اس کا بہت  صحیح جواب دیا کہ ’’صدر نے اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا، اور نہ اس کے اختیارات سلب کیے ہیں۔ یہ کام تو دستوری عدالت نے کیا تھا جس نے پہلے تین چوتھائی اسمبلی کو تحلیل کیا پھر پوری اسمبلی کو تحلیل کر کے اس کے تمام اختیارات سلب کرلیے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس عدالت نے ’مکمل دستوری اعلان‘ کے ذریعے منتخب اسمبلی کی قانونی اتھارٹی کو سپریم فوجی کونسل کی طرف منتقل کردیا تھا جو کہ منتخب نہیں ہے۔ اخوان کا خیال ہے کہ ایسی صورت حال میں نئے دستور کی جلد سے جلد تیاری ملک کے لیے بہتر ہوگی اور اس کی منظوری اور نفاذ قومی راے لیے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔ عدالتی، تنفیذی اور قانونی اختیارات کو اُن کے اصل مقام کی طرف لوٹانے کا اس سے بہتر اور محفوظ راستہ کوئی نہیں‘‘۔

صدارتی فیصلوں کے اجرا سے بہت پہلے امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے مصر کا دورہ کیا اور مسلح افواج کے سربراہوں سے ملاقات کی اور یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ حکمرانی کا اختیار منتخب صدر کے حوالے کر دیں۔ بعض لوگوں نے ہیلری کلنٹن کے اس بیان سے اندازہ لگایا کہ اخوان اور امریکا کے درمیان تعلق کی برف پگھل گئی ہے اور بین الاقوامی طور پر مصری فوج دبائو کا شکار ہے۔ اس پر اخوان کا ردعمل تھا کہ ’’دوسرے انتخابی مرحلے میں بعض بین الاقوامی طاقتوں نے فوجی سپریم کونسل پر دبائو ڈالا کہ انتخاب کے حقیقی نتائج ظاہر کیے جائیں۔ لیکن یہ دبائو اخوان کی محبت یا اُن کی مدد کی غرض سے نہیں تھا بلکہ خوف یہ لاحق تھا کہ کہیں دوبارہ میدانِ تحریر نہ بھر جائے۔ اس کے ساتھ ہی ان ممالک نے اپنے مفادات کے حصول کی بھی کوشش کی ہے۔ اب تک تو ان ممالک کی کوششیں   التوا کے منصوبے کا حصہ رہی ہیں۔ صدرِ جمہوریہ کو ناکام کرنے کے لیے پوری قوت سے دبائو ڈالا جارہا ہے۔ دراصل اس صدر اور اسلامی نظام کی کامیابی تو ان ممالک کے مفادات میں نہیں ہوسکتی ۔ رہا ہیلری کلنٹن کا دورۂ مصر، تو وہ رسمی تھا مگر کچھ دیکھنے، سننے اور معلوم کرنے کے لیے تھا‘‘۔

اخوان المسلمون مصر کی ویب سائٹ ’اخوان آن لائن‘ پر جاری کیے گئے ایک جائزے کے مطابق صدر مُرسی نے محکمہ اوقاف کی تطہیر کا عمل بھی انجام دیا ہے اور وزارتِ اوقاف کے نو ذمہ داروں کو اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا۔ صدر نے مختلف اور متعدد اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز شخصیات کو اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے جن کے بارے میں ایوانِ صدر کو یقین ہوا کہ یہ سابق نظام کی بحالی  کے لیے کوشاں اور موجودہ حکومتی ڈھانچے کے کام میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

صدر مُرسی نے ان وسیع تبدیلیوں کے ساتھ صدارتی مجلس مشاورت کا بھی اعلان کردیا ہے اور ثابت کیا کہ حکومت پر صرف ایک فرد اور جماعت کا اختیار نہیں ہے بلکہ ملک کے تمام باشندے اپنی اہلیت و صلاحیت کے مطابق اس میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ صدر نے داخلی و خارجی اُمور میں معاونت کے لیے چار افراد کو اپنے معاونین مقرر کیا ہے جن میں سے صرف ایک کا تعلق اخوان سے ہے، دیگر تین میں سے ایک سلفی جماعت حزب النور سے ہے، ایک خاتون معتدل اسلامی سیاسی فکر رکھتی ہیں اور ایک قبطی دانش ور ہیں جو ۲۵ جنوری ۲۰۱۱ء کے انقلاب کے بعد پہلے قبطی ہیں جو قاہرہ کے نائب گورنر کے منصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ ۱۷؍افراد کی مجلسِ مشاورت میں  مختلف شعبوں کے ماہر اور مختلف دینی سیاسی جماعتوں کے اہم افراد کو شامل کیا گیاہے۔ بیش تر افراد    علمی پس منظر اور تجربہ رکھتے ہیں۔ اس مجلس میں اسلامی، سیاسی اور لبرل جماعتوں کو نمایندگی دی گئی ہے۔ نائب صدر ایک آزاد رکن کو منتخب کیا گیا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم بھی کسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا۔ مصری اور عالمی میڈیا نے صدارتی مہم کے دوران اخوان کا تعارف ایک سخت گیر، تشددپسند اور منتقم مزاج مذہبی جماعت کے طور پر کرایا تھا۔ ملکی اور عالمی حلقوں میں یہ تاثر گہرا کردیا گیا تھا کہ ڈاکٹر مُرسی کی کامیابی کی صورت میں ملک پر اخوان کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہوجائے گی اور غیراسلامی و غیر دینی جماعتوں کی آزادی چھن جائے گی۔ اس مجلس مشاورت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر پر کسی ایک جماعت کی حکومت نہیں بلکہ پوری قوم اس میں حصہ دار ہے۔

صدر مُرسی نے پورے اعتماد اور جرأت کے ساتھ اُمورِ سلطنت انجام دینے کا آغاز کیا ہے۔ داخلی اور خارجی دونوں حوالوں سے اُن کی کارکردگی پر عمومی نظر ڈالی جائے تو اب تک وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادایگی میں کامیابی اور بہتری کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر تعلقات کی ازسرنو بحالی مصر کے لیے ایک اہم اور مشکل مرحلہ تھا لیکن صدر مُرسی نے اس مرحلے کو بھی بڑی حکمت کے ساتھ اپنے معمول کا حصہ بنا لیا ہے۔ وہ اپنی صدارت کے کم و بیش دومہینوںمیں سعودی عرب، ایتھوپیا، چین، اٹلی اور ایران کے سفر کرچکے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور خطے میں عرب ممالک کے مثبت اور قائدانہ کردارادا کرنے کے حوالے سے اُن کا سفر بہت سی توقعات کا مرکز بنا ہے۔ چین کے ساتھ اقتصادی معاہدوں نے بھی مصر کی معیشت کو سنبھالا دینے کی اُمید بندھائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی صدر مُرسی نے علاقائی امن کی بحالی کو ممکن بنانے کے لیے چین پر زور دیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی عسکری و سیاسی مدد بند کی جائے۔ اس دورے میں مصر اور چین کے درمیان معاشی، سیاحتی اور تکنیکی شعبوں میں آٹھ معاہدات طے پائے ہیں۔ چین نے ناقابلِ واپسی ۴۵۰ یوان بجلی اور ماحولیاتی شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے لیے دیے ہیں۔ اسی طرح ۳۰۰ پولیس گاڑیاں بھی فراہم کی ہیں۔

ایران میں منعقدہ غیروابستہ ممالک کی کانفرنس میں شرکت کے دوران صدر مصر نے یہ بھی واضح کیا کہ مصر شام کی حکومت کے خلاف شامی قوم کے ساتھ کھڑا ہے۔ صدر مُرسی نے اس موقع پر مشرقِ وسطیٰ کو تباہ کن اسلحے سے پاک کرنے کے لیے اسرائیل سے معاہدے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے سلامتی کونسل کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔

صدر مُرسی نے ۳۵ نئے سفیر بھی مختلف ممالک میں تعینات کردیے ہیں۔ ان سفرا کو پابند  کیا گیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک مصری قیادت کے احترام اور مصری کمیونٹی کے دفاع اور اُن کے وقارکے حصول کو یقینی بنائیں گے۔ خود صدرمُرسی نے ملکی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اُس وقت جرأت مندانہ اقدام کیا جب رفح کے مقام پر فلسطین و مصر کی سرحد پر اسرائیل نے جارحیت کی۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی رُو سے جو امریکا نے انورالسادات کے عہد میں کرایا تھا مصری فوج سینا کی اس سرحد پر اپنی کارروائی نہیں کرسکتی۔ صدر مُرسی نے رفح کے حادثے کے بعد فوج کو حکم دیا کہ ’نسر آپریشن‘ کے ذریعے سرحد سینا کو کھول دیا جائے۔ اس اقدام کے بعد صدر مُرسی نے ایک ارب مصری پونڈ کی خطیر رقم کے ذریعے اور سرحدی اُمور و مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی قائم کرکے اس سرحد اور سویز کی آبی گزرگاہ پر ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ان بڑے فیصلوں کے ساتھ صدر مصر نے ملک کے داخلی امور کو حل کرنے کی طرف بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ صدارتی انتخابی مہم کے دوران اخوان کے اُمیدوار کے طور پر ڈاکٹر مُرسی نے قوم کو جو منشور دیا تھا اس میں اپنی حکومت کے پہلے ۱۰۰ روز میں پانی، بجلی، صفائی، ٹرانسپورٹ اور غربت کے مسائل حل کرنے اور امن کی بحالی کا وعدہ کیا تھا۔ ان مسائل کے سلسلے میں انھوں نے ۴۱ہزار کسانوں کے ڈیڑھ ارب مصری پونڈ کے قرضے معاف کردیے ہیں۔ ملازمین اور کم آمدنی والے افراد کی تنخواہوں میں ۱۵ فی صد اضافہ کردیا ہے۔ غربت کے خاتمے کے لیے سوشل قرضوں کی رقم ۲۰۰ مصری پونڈ تھی اس کو بڑھا کر ۳۰۰ کردیا گیا ہے۔ قاہرہ جسے مرکزی شہر کے وسط میں   پھیری دار دکان داروں نے گراں فروشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ صدر نے قاہرہ اور دیگر شہروں میں ۶کروڑ کی خطیر رقم خرچ کر کے عوام کو سستی اشیاے ضرورت فراہم کرنے کے لیے’ ایک روزہ بازار‘ لگانے کا اہتمام کیا ہے۔غربت مصر کا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ صدر نے بڑے اضلاع میں ’روٹی پلانٹ‘ کی کارکردگی کو بھی مزید بہتر کرنے کا حکم دیا ہے اور روٹی کی فراہمی کا دورانیہ بڑھا دیا ہے جو پہلے  ظہر تک تھا اب عصر تک کردیا گیا ہے۔ بڑے اضلاع میں جمبو روٹی پلانٹ بھی لگادیے گئے ہیں۔ اس ایک پلانٹ کی پیداوار روزانہ ۱۰لاکھ چپاتی تک ہوتی ہے۔ آیندہ اسی رفتار سے اس کارکردگی کو مصر کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں پھیلانے کا عزم کیا گیا ہے۔ملک کے اندر تمام اضلاع میں عوام کی شکایات سننے اور حل کرنے کے لیے ’دیوان المظالم‘ قائم کردیے گئے ہیں۔ ملک کے داخلی امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے صدر نے وزیراعظم ڈاکٹر ہشام قندیل کو ہدایت کی ہے کہ شہریوں کے  عزت و وقار کا خیال رکھتے ہوئے اُن جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جائے جو راہزنی اور لُوٹ مار کی غرض سے متحرک ہیں۔ وزیراعظم کی قیادت میں امن فورسز نے ایسے بڑے بڑے آپریشن کیے ہیں جن کا مقصد ملکی امن و امان کی بحالی اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

سیاسی قیدیوں کے اُمور کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی اور دورانِ انقلاب گرفتار کر کے پابند سلاسل کیے گئے بے گناہ افراد کی رہائی کا حکم بھی صدر نے جاری کیا۔ اسی طرح میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ان صحافیوں کو بھی رہا کردیا گیا جن پر غلط معلومات شائع کرنے کا الزام تھا۔ شعبۂ صحافت سے وابستہ افراد نے صدر کے اس فیصلے کو بہت سراہا ۔ اس صدارتی اقدام سے صحافیوں کا ۱۰ برس سے جاری یہ مطالبہ بھی پورا ہوگیا کہ ’احتیاطی گرفتاری‘کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ صحافتی آزادی کو پابند کرنے کے لیے سابق نظامِ حکومت نے یہ حربہ اختیار کیا تھا۔

موجودہ حکومتی کارکردگی میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور باقیات مبارک کا ایک گروہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ملکی امن و امان کو تباہ کرنے کے لیے اپنی اچانک کارروائیاں کرتا ہے۔ ان لوگوں کا نشانہ ہسپتال ہیں۔ صدر نے ایک سو ہسپتالوں کی سیکورٹی کی ذمہ داری ملٹری پولیس کو دی ہے اور ایک سو مزید ہسپتال وزارتِ داخلہ کے ذریعے محفوظ رکھنے کا انتظام کیا ہے۔

مصر بجلی کے بحران سے بھی دوچار ہے۔ سابق دورِ حکمرانی کا یہ ’تحفہ‘ بھی موجودہ حکومت کے حصے میں آیا ہے۔ البتہ دمیاط پاور اسٹیشن کے افتتاح سے اس میں کچھ بہتری آئی ہے۔ گذشتہ اگست کے نصف میں اس اسٹیشن کا آغاز ہوا ہے اور ستمبر کے اختتام تک اس مشکل پر قابو پالینے کا صدر نے وعدہ کیا ہے۔ اسی طرح گیس کے بحران پر قابو پالینے کا مسئلہ ہے۔ وزارتِ داخلہ کو    اس مسئلے کو حل کرنے کا ہدف بھی دیا گیا ہے۔ اُمید ہے کہ یہ بھی جلد حل ہوجائے گا۔

صدر مُرسی نے ’صاف ستھرا ملک‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس کے تحت تمام اضلاع میں صفائی کے بڑے بڑے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ صدر اور وزیراعظم اس کام کی خصوصی نگرانی کی غرض سے اچانک دورے بھی کررہے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران صدر نے صحرا کی کاشت کاری اور نیل کے کناروں پر نئے شہر آباد کرکے رہایش کے مسائل پر قابو پانے کا بھی اعلان کیا تھا۔ صدر نے ا س منصوبے کے آغاز پر کام کے لیے ماہر زوالوجی ڈاکٹر خالد عودہ کے پیش کردہ خاکے سے اتفاق کرلیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ۳ لاکھ ایکڑ رقبہ قابلِ کاشت بنایا جارہا ہے، جس میں کھجور اور زیتون کے درخت لگائے جائیں گے۔ مویشیوں کی پیداوار بھی ہدف میں شامل ہے۔ شمسی اور ہوائی ذریعے سے بجلی پیدا کی جائے گی۔ غرض یہ کہ ایک مکمل شہرآباد کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ اندازاً پانچ برس میں مکمل ہوگا۔

ڈاکٹر محمد مُرسی صدرِ مصر بننے کے بعد بھی اسی عوامی جمہوری اور اسلامی کردار کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کا اظہار اُن کے منصب صدارت پر پہنچنے سے پہلے ہوتا رہا۔ انھوں نے ایوانِ صدر کے عملے کے لیے قصرِ صدارت کی بہترین جگہ کو ادایگیِ نماز کے لیے مسجد میں تبدیل کردیا ہے۔  ایوانِ صدر کے سیکورٹی گارڈ، باورچیوں اور مزدوروں کو اجتماعی طور پر کھانا کھانے کی آزادی بھی حاصل ہوگئی ہے۔

صدرِ مصر کی سادگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سعودی عرب میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کے لیے اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ گئے تو خصوصی طیارہ استعمال نہیں کیا ،بلکہ اپنے تمام افرادِ خانہ کی ٹکٹ کا خرچ انھوں نے خود برداشت کیا اور عمومی فلائٹ کے ذریعے سعودی عرب پہنچے۔

ڈاکٹر محمد مُرسی نے یہ حکم بھی جاری کررکھا ہے کہ سڑک پر اُن کی آمدورفت کے وقت ٹریفک کو معطل نہ کیا جائے۔ انھوں نے قصرِصدارت میں رہایش بھی اختیار نہیں کی بلکہ اپنے گھر کو قیام گاہ بنائے رکھا ہے اور ایوانِ صدارت کو صرف کام کے لیے مخصوص رکھا ہے۔ صدرِ مصر نے اپنی نمودونمایش کو بھی روک دیا ہے۔ انھوں نے کسی دفتر میں اپنی تصویر یا مبارک باد کا پیغام آویزاں کرنے سے منع کر دیا اور ان فضولیات پر خرچ ہونے والی رقم کو قومی خزانے میں جمع کرنے کی اپیل کی۔ اس عمل سے کئی ملین رقم جمع ہوگئی ہے۔ انھوں نے ایوانِ صدارت کے محافظین کو ہدایت کی ہے کہ کسی شہید کے خاندان کو کسی بھی وقت ملاقات سے منع نہ کیا جائے۔ ایوانِ صدر کے دروازے ورثاے شہید کے لیے ہروقت کھلے ہیں۔

حقوق العباد اور مزاج کا اختلاف

سوال: اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بھی بہت اہمیت ہے اور  ہم مسلسل قرآن و حدیث میں اس کے حوالے سے احکامات پڑھتے رہتے ہیں۔ اس پر عمل نہ کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں بھی ہیں، بالخصوص صلہ رحمی، یعنی خاندان اور    رشتہ داروں کے حوالے سے۔ اس ضمن میں چند عملی پہلو ہیں جو پریشان کن ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ ان کا تسلی بخش جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیں اور رہنمائی فرمائیں:

۱- اگر حقوق العباد سے مراد ہر ایک کو خوش کرنا ہے تو عملاً یہ بہت مشکل کام ہے۔ تمام کوشش کے باوجود بھی کچھ رشتے دار ایسے ہوتے ہیں کہ کسی نہ کسی بات پر آپ سے ناراض ہی رہتے ہیں یا ناراضی کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں اور جھگڑا کرنے پر تُلے رہتے ہیں۔ اگر کسی بات پر خاموش رہا جائے تو ’گھُنے‘ اور جواب دیا جائے تو ’زبان دراز‘ سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بڑے بہن بھائیوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے، جب کہ وہ ہمارے معاملات میں بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کروانا چاہتے ہوں؟

۲-’خاندان‘ کو معاشرتی اکائی سمجھا جاتا ہے۔ اس خاندان سے مراد نکاح کے بعد  میاں بیوی سے بننے والا خاندان ہے یا وسیع پیمانے پر مشترکہ خاندانی نظام؟ نیز  مشترکہ خاندانی نظام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

۳- اسلام میں ایک فرد کی پرائیویسی کا کیا تصور ہے؟

۴- اسلام میں مزاج کے اختلاف کی گنجایش ہے اور ہم سیرتِ صحابہؓ میں دیکھتے ہیں کہ مختلف مزاجوں کے افراد کس طرح سے ایک ہی چھتری کے نیچے جمع ہوگئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مزاج کے اختلاف کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو کوئی کتنا مکلف ہے کہ اپنے اخلاص کو ثابت کرنے کے لیے صفائیاں پیش کرے یا بس چپ کر کے   اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردے؟

جواب:  بلاشبہہ حقوق العباد کی اہمیت ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شرک کو چھوڑتے ہوئے بقیہ تمام بے احتیاطیوں کو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ اپنے حوالے سے معاف فرما سکتا ہے ، لیکن حقوق العباد کا تعلق چونکہ اس کے بندوں سے ہے اس لیے اپنے بندوں کا آقا و مالک ہونے کے باوجود وہ ان کے پامال کیے جانے کو اپنے دائرۂ اختیار سے خود خارج فرماتا ہے۔

حقوق العباد سے مراد وہ تمام حق ہیں جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں، مثلاً جان، مال، عزت، شہرت کے تحفظ کا حق، کسی کے مال کو بغیر اس کی اجازت کے تصرف میں لانا، کسی کو اس کی موجودگی یا غیرموجودگی میں تضحیک کا نشانہ اس طرح بنانا کہ وہ اوروں کی نگاہ میں کم تر ہوجائے یا خود اسے اس سے تکلیف پہنچے۔ اس عمومی تعریف سے آگے بڑھتے ہوئے آپ نے خود جو تعریف  متعین کی ہے وہ قابلِ غور ہے، یعنی ’’ہر ایک کو خوش کرنا‘‘۔ میری راے میں یہ کہنا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دوسروں کو راضی کرنے میں بنیادوں کو قرآن و حدیث نے واضح کردیا ہے، یعنی اللہ کی نافرمانی ہونے کی شکل میں کسی مخلوق کی فرماں برداری نہیں ہوگی۔ اگر شوہر، باپ، بھائی، ماں، بہن یا دیگر قریبی رشتہ داروں کو خوش کرنے میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و ہدایات کی خلاف ورزی ہو تو ایسا کرنا جائز نہیں۔ ہاں، اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ماں باپ کو شوہر کو یا بیوی کو خوش دیکھنے کے لیے کوئی کام کرنا عین شریعت کی پیروی ہے۔ یہاں یہ بات بھی سامنے رہے کہ جہاں تک ’خوش‘ کرنے کا تعلق ہے اسلام میں اس بات کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ خاتون تو ہر وقت شوہر، بھائی، ماں باپ کو خوش کرنے میں   جان ہلکان کرتی رہے اور شوہر صرف ’خوش‘ ہوتا رہے۔ یہ عمل دونوں پر یکساں طور پر واقع ہوگا کیونکہ قرآن کریم نے دو ٹوک فیصلہ کردیا ہے کہ وَ لَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ ط وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (البقرہ ۲:۲۲۸) ،یعنی ’’عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں‘‘۔ یہ ایک معاشرتی نفسیاتی بھول ہے کہ عورت تو مرد کو ’خوش‘ کرنے کی پابند ہو لیکن مرد تمام حقوق سے آزاد!

اس جملۂ معترضہ سے قطع نظر یہ بات درست ہے کہ اسلام خاندان کو ایک بنیادی  معاشرتی و تہذیبی اکائی قرار دیتا ہے۔ اگر اس اکائی کو خارج کردیا جائے تو معاشرہ اور تہذیب دونوں کی عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے۔ مزید یہ بات بھی درست ہے کہ اسلام وسیع تر خاندان کو ایک اسلامی خاندان قرار دیتا ہے:

لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلاَ عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلاَ عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّلاَ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْم بُیُوتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّہٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِِخْوَانِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٗٓ اَوْ صَدِیقِکُمْ ط لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا ط فَاِِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ط کَذٰلِکَ یُبَـیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ o (النور ۲۴:۶۱) کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا، یا لنگڑا، یا مریض (کسی کے گھر سے کھا لے) اور نہ تمھارے اُوپر اِس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھائو یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچائوں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنے مامووں کے گھروں سے، یا اپنی خالائوں کے گھروں سے، یا اُن گھروں سے جن کی کنجیاں تمھاری سپردگی میں ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھائو یا الگ الگ۔ البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، دُعاے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی، بڑی بابرکت اور پاکیزہ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمھارے سامنے آیات بیان کرتا ہے،  توقع ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو گے۔

قرآن کریم جگہ جگہ رشتہ داروں کے حقوق کی ادایگی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ چنانچہ  سورئہ نحل میں فرمایا: ’’اللہ عدل اور احسان اور صلۂ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور     ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو (۱۶:۹۰)۔ اسی طرح     رشتہ داروں کی طرف سے بدسلوکی اور ایسے رویے کی بنا پر جو ایک فرد کو ناگوار ہو، قطع تعلق کرنا یا   ان کے حقوق سے ہاتھ روک لینے کو قرآن کریم نے صاف طور پر منع فرمایا ہے:

وَلاَ یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا ط اَلاَ تُحِبُّونَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o (النور ۲۴:۲۲) ، تم میں سے جو لوگ صاحب ِ فضل اور صاحب ِ مقدرت ہیں وہ اِس بات کی قسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے، اُنھیں معاف کردینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمھیں معاف کرے، اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے۔

سورئہ بقرہ میں قرابت کو توڑنے پر وعید آئی ہے: ’’جو اللہ کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (رشتہ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو توڑتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں، وہی لوگ نقصان اُٹھانے والے ہیں‘‘۔ (البقرہ ۲:۲۷)

مندرجہ بالا قرآنی آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اولاً خاندان اور خاندانی حقوق، یعنی مل جل کر کھانا کھانا، گھر میں داخل ہونا، ربط و تعلق کو برقرار رکھنا یہی خاندان کا مقصود ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ سب لوگ ایک چھت کے نیچے ہی رہیں بلکہ باپوں بھائیوں وغیرہ کے تذکرے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کے گھر الگ الگ ہوسکتے ہیں۔ ورنہ باپوں کے گھر، بھائی کے گھر، وغیرہ کا تذکرہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ بات بھی سمجھا دی گئی کہ جو رشتے اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیے ہیں، ان کو قطع کرنا اللہ کی حدود کا پامال کرنا ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو اسلام کا تصورِ خاندان یہ نظر آتا ہے کہ اگر ایک شخص اپنے والدین کے گھر میں رہتا ہے، تو اسے اپنی بیوی کو اُس آزادی سے محروم کرنے کا حق نہ ہوگا جو    اللہ نے اسے دی ہے، یعنی اپنے شوہر اور بچوں کے سامنے ساتر اور اچھے لباس میں آنا، گھر میں ایسی تنہائی کا پایا جانا جہاں میاں بیوی بلاکسی روک ٹوک کے جس طرح چاہیں ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلفی سے پیش آسکیں۔

اسلام کا پرائیویسی کا تصور قرآن کریم نے واضح کردیا ہے، یعنی وہ اوقات جن میں گھر کے بچے ہوں یا ملازم، وہ بغیر اجازت اندر نہیں آسکتے۔ ایسے ہی شوہر اور بیوی کی آپس کی گفتگو میں بعض ایسے امور ہیں جو صرف بیوی یا شوہر کے علم میں ہوں اور کسی اور کو اس کا علم نہ ہو۔ حضور نبی کریمؐ کا ایک اُم المومنینؓ سے کسی بات کا ذکر کرنا اور ان کا اسے دوسری تک پہنچانا قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اس کی اجازت نہیں۔ یہ بات کی امانت کی تعریف میں بھی آتا ہے۔

بڑے بھائی بہن ہوں یا چھوٹے، ہر ایک کے لیے اصول ایک ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں ان میں سے کسی کی اطاعت نہیں۔ ہاں، اس دائرے میں رہتے ہوئے اگر انھیں کوئی تحفہ دینا، یا کوئی اچھی بات، کوئی نصیحت،کوئی بھلائی کا عمل کیا تو یہ مطلوب و مرغوب ہے۔ ان کی مرضی کے مطابق کوئی فیصلہ کرنا جو عدل، حق اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے منافی ہو، کسی بھی شکل میں نہیں کیا جاسکتا۔ انھیں سمجھانا اور یہ بتلانا کہ اس طرح کے فیصلے میں آپ کا اور خود ان کا خسارہ ہے، آپ پر فرض ہے۔

مزاجوں کا فرق ایک فطری بات ہے اور یہ اُمہات المومنینؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ  علیہ اجمعین سب میں پایا جاتا ہے۔ آخر ایک اُم المومنینؓ کو لمبے ہاتھ والی کیوں کہا گیا، ایک صحابی کو حیا میں دوسروں سے زیادہ کیوں سمجھا گیا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ دوسروں میں حیا نہیں تھی؟ قطعاً نہیں۔ حیا تو ایمان کا بڑا حصہ ہے۔ اس لیے حضرت عثمانؓ کے مزاج اور دیگر صحابہؓ کے مزاج میں فرق تھا، ورنہ ہرصحابی حیا کا مجسمہ تھا۔

اس فطری فرق کا مطلب یہ ہوا کہ جب قرآن یہ کہتا ہے کہ اہلِ ایمان کو کاظمین الغیظ اور رحما بینھم ہونا چاہیے تو وہ ان مزاجوں کے اختلاف کی بنا پر ہی یہ بات کہتا ہے ،اور چاہتا ہے کہ اس فطری اختلاف کے باوجود ان کا مجموعی طرزِعمل وہی ہو جو عالمِ انسانیت کے لیے بھیجے گئے، کامل ترین اسوئہ حسنہ رکھنے والے انسانؐ کا تھا۔ چونکہ آئیڈیل اور نمونہ آپؐ کی ذات ہے، اس لیے مزاجوں کے فرق کے باوجود جب ایک مومن یا مومنہ دوسروں کو مسکراتے چہرے سے دیکھے، دوسرے کی غلطی پر عفو و درگزر کرے، دوسرے کی جانب سے تکلیف پہنچنے پر کشادگی ٔ قلب کے ساتھ اس کے حقوق کو پورا کرے، اور صرف اس لیے ایسا کرے کہ اس سے رب خوش ہوگا، تو پھر ایسے فرد کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مغفرت، کامیابی اور آخرت میں اعلیٰ مقامات کا وعدہ فرمایا ہے۔

وہ مشہور حدیث سامنے رکھیے جس میں آپؐ فرماتے ہیں: ’’وہ شخص جو بدلے میں رشتہ داروں کا لحاظ کرتا ہے، وہ مکمل درجے کی صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے‘‘۔ (بخاری، عن ابن عمرؓ)۔ گویا   اگر کسی کی بھلائی کے بدلے میں ہم نے بھلائی کردی تو یہ صلہ رحمی نہیں۔ صلہ رحمی تو وہ ہے کہ ایک طرف سے تکالیف ہورہی ہوں اور دوسری جانب سے عنایات و لطف و کرم کا معاملہ ہو۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسولؐ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں جن کے حقوق مَیں ادا کرتا ہوں اور وہ میرے حقوق  ادا نہیں کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ حلم و بُردباری سے پیش آتا ہوں اور وہ جہالت برتتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تو ایسا ہی ہے جیسا تو کہتا ہے تو گویا تو ان کے چہروں پر سیاہی پھیر رہا ہے۔ اللہ ان کے مقابلے میں ہمیشہ تیرا مددگار رہے گا جب تک تو اس حالت پر قائم رہے گا‘‘۔ (مسلم)

اس حدیث اور حضرت ابوبکرؓ کے سیدہ عائشہؓ پر بہتان لگانے والے رشتہ دار کے طرزِعمل سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اسلام قطع رحمی کو پسند نہیں کرتا، اور صلہ رحمی کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو آپ کے حقوق ادا نہ کرے آپ اُس کے حقوق میں کمی نہ کریں۔ (ڈاکٹر انیس احمد)

الصَّارم المسلول علٰی شَاتِم الرَّسول،شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ، ترجمہ: پروفیسر غلام احمد حریری، تحقیق و نظرثانی:حافظ شاہد محمود۔ ناشر: مکتبہ قدوسیہ، رحمان مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردوبازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۵۱۱۲۴-۰۴۲۔ صفحات: ۷۴۸۔ قیمت:درج نہیں۔

اس کتاب کی اہمیت اور ثقاہت کے لیے امام ابن تیمیہؒ کا نام گرامی ہی کافی ہے۔ امام  ابن تیمیہؒ چھٹی صدی ہجری کے معروف و مشہور عالمِ دین ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب کی بنیاد یہ عنوان ہے کہ ’’رسول کریمؐ کی توہین کا مرتکب (خواہ مسلم ہو یا کافر) واجب القتل ہے‘‘۔ کتاب کے وجود میں آنے کی تحریک آپ کے دور کا یہ واقعہ ہے، جو رجب ۶۹۳ھ میں وقوع پذیر ہوا کہ ایک عساف نامی نصرانی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات کہے۔ امام ابن تیمیہؒ اس حوالے سے رقم طراز ہیں کہ: ’’یہ الم ناک سانحہ اس امر کا موجب ہوا کہ مَیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تحقیر کرنے والے کے لیے جو سزا مقرر ہے اس کو ضبطِ تحریر میں لائوں خواہ اس کا ارتکاب کرنے والا  مسلم کہلاتا ہو یا کافر، نیز اس کے تمام متعلقات و توابع کو شرعی احکام و دلائل کی روشنی میں بیان کروں، اور وہ ذکر و بیان اس قابل ہو کہ اس پر بھروسا کیا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ علما کے ان اقوال کا تذکرہ کروں جو میرے ذہن میں محفوظ ہیں اور ان کے اسباب و علل بھی ذکر کروں‘‘۔ (ص ۳۸)

اس کتاب میں دوسرا مسئلہ توہینِ رسولؐ کے حوالے سے ہی یہ بیان ہوا ہے کہ توہین کرنے والا شخص اگر ذمّی ہو تو بھی اسے قتل کیا جائے، نہ اس پر احسان کرنا جائز ہے اور نہ فدیہ لینا روا ہے۔ ایک اور متعلقہ مسئلہ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ’’کیا اِس کی توبہ قبول ہے یا نہیں‘‘ اور یہ مسئلہ بھی بیان ہوا ہے کہ سَبّ (گالی دینا) کی تعریف کیا ہے؟ کون سی چیز سَبّ ہے اور کون سی نہیں ہے اور یہ کہ سَبّ اور کفر میں کیا فرق ہے؟ امام صاحب نے اصحابِ شافعی میں سے ابوبکر فارسی کا قول نقل کیا ہے کہ ’’اس امر پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اس کی  حدِشرعی قتل ہے‘‘۔ اسی طرح قاضی عیاض نے فرمایا ہے کہ ’’اس بات پر اُمت کا اجماع ہوا ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص رسول کریمؐ کی توہین کرتا ہے یا آپؐ کو گالی نکالے تو اُسے قتل کیا جائے۔ اسی طرح دوسرے علما نے بھی رسولِ اکرمؐ کی توہین کرنے والے کے واجب القتل ہونے اور کافر ہونے کے بارے میں اجماع نقل کیا ہے‘‘۔ (ص ۳۹)

عصرحاضر میں نائن الیون کے واقعے کے بعد دنیا میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ اسلام کے خلاف سَبّ و شتم بڑھ رہی ہے۔ خصوصاً اہلِ مغرب اور غیرمسلموں میں یہ بات عام ہوئی ہے۔ یہ سب سوچی سمجھی سازش ہے کہ پیغمبرؐ اسلام کے گستاخانہ خاکے اور فلمیں بنائی جارہی ہیں اور آپؐ کی شخصیت اور سیرت پر بے سروپا اور سبّ و شتم سے بھرپور کتب شائع ہورہی ہیں۔ ان حالات میں امام صاحب کی یہ کتاب انتہائی اہم ہے۔ (شہزادالحسن چشتی)


معاشی مسائل اور قرآنی تعلیمات، مرتبین: اوصاف احمد، عبدالعظیم اصلاحی۔ ناشر: ادارہ علوم القرآن، پوسٹ بکس ۹۹، شبلی باغ روڈ، علی گڑھ، بھارت۔ صفحات: ۲۵۶۔ قیمت: ۱۶۰روپے بھارتی۔

قرآن پاک بنیادی طور پر ایک نظامِ زندگی کے اصول انسان کو دیتا ہے۔ ان اصولوں پر چل کر انسانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کامیابی سے ہم کنار ہوسکتی ہے۔ قرآن پاک میں جہاں ایمانیات کی مضبوطی کی تعلیمات ہیں، وہیں قرآنِ پاک کا ایک بڑا حصہ معاملات کے بارے میں اصولی ہدایات سے انسان کو نوازتا ہے۔ ان معاملات میں بھی ایک بڑا حصہ معاشی معاملات سے متعلق ہے۔

علی گڑھ میں قائم ادارہ علوم القرآن نے انھی تعلیمات کی تفہیم کے لیے ایک سیمی نار نومبر ۲۰۱۰ء میں منعقد کیا۔ جہاں پیش کیے گئے مقالات کو کتابی صورت میں معاشی مسائل اور قرآنی تعلیمات کے عنوان سے ادارہ نے شائع کیا ہے۔ اس سیمی نار میں معروف اسلامی معاشیات دان جناب اوصاف احمد نے اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا، جب کہ عبدالعظیم اصلاحی نے ’قرآنی معاشیات پر ادبیات کا ایک مختصر جائزہ‘پیش کیا۔ جناب نسیم ظہیراصلاحی نے ’قرآنی نظامِ معیشت کی بعض خصوصیات‘ کے عنوان سے قرآنی نظامِ معیشت کا دیگر نظام ہاے معیشت سے تقابل کرکے بتایا کہ قرآنی نظام دوسرے نظاموں سے کیونکر مختلف ہے۔ محمدعمر اسلم اصلاحی نے سورۂ بقرہ کے حوالے سے چند اہم معاشی تعلیمات کو اپنے مقالے کا موضوع بنایا۔ محی الدین غازی نے ’فساد فی الارض کا مالی اور معاشی پہلو قرآنِ مجید کی روشنی میں‘ پیش کیا۔ شاہ محمد وسیم کا موضوع ’قرآنی معاشرہ، معیشت اور تجارت: ایک مختصر خاکہ‘ تھا۔ جناب محمد یاسین مظہرصدیقی کے مقالے کا عنوان: ’اسلام میں ربا کی تحریم، مختلف جہات کا تنقیدی تجزیہ‘ تھا۔ قرآنِ مجید میں افزایش دولت کا تصور، ایک جائزہ‘ ابوسفیان اصلاحی کے مقالے کا عنوان تھا۔ محمد رضی الاسلام نے ’اسلامی نظامِ معیشت میں عورت کے حصہ‘ کے موضوع پر بحث کی۔ عنایت اللہ سبحانی نے ’نظام المیراث فی القرآن‘ کے موضوع پر    عربی میں مقالہ پیش کیا۔ اس سیمی نار میں اُردو، عربی اور انگریزی میں مقالات پیش کیے گئے۔     اپنے موضوعات کے حوالے سے یہ مقالات وقیع بھی ہیں اور متنوع بھی۔ (میاں محمد اکرم)


تلاش، اللہ: ماورا کا تعین، عکسی مفتی، ناشر: الفیصل، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۵۳۱۔ قیمت: ۱۲۰۰ روپے۔

پیشِ نظر کتاب عکسی مفتی کی انگریزی تصنیف Allah: Measuring the Intangible کا اُردو ترجمہ ہے۔ ترجمہ کار ڈاکٹر نجیبہ عارف (استاد، بین الاقوامی یونی ورسٹی،     اسلام آباد) کہتی ہیں کہ ’’اللہ سے مَیں نے بار بار پوچھا   ُتو کیا ہے، کہاں ہے، میری سمجھ میں کیوں نہیں آتا؟… اللہ نے بالآخر مجھے اس نیم جانی سے رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا… عکسی مفتی سے     یہ کتاب لکھواکر مجھے بھیجی ہے کہ جا پڑھ لے…‘‘ (ص ۱۱)

مصنف کہتے ہیں کہ: ’’سائنس کو علم کے تمام ذرائع پر برتری حاصل رہی ہے… یہ ’اجماع‘ کا نام ہے، یہ ’سچائی‘ کی تجربی میزان ہے (ص ۳۱)۔ اور ’’اللہ ایک ماورائی حقیقت ہے۔ نادیدہ اور ناقابلِ بیان___ صرف ایک باطنی تجربہ۔ ہم وجدانی طور پر اُسے سمجھتے ہیں، مگر عقلی طریقے سے اس کی وضاحت نہیں کرسکتے… اللہ کو ان مظاہر کے ذریعے بیان کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایکس ریز کا تجزیہ کرنا یا روشنی کی غیرمرئی لہروں کو مرئی رنگوں کی مدد سے بیان کرنے کی کوشش کرنا… (ص ۴۲)۔ ان کے خیال میں مغرب میں خدا بے زاری اور الحاد کا سبب، کلیسائی خدا کا  وہ تصور تھا، جس میں اسے ایک سخت گیر اور جابر باپ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ مغرب میں اس سے چھٹکارے کے طور پر بے لگام آزادی اور اس کے ردعمل میں مشرق میں مذہبی انتہاپسندی کو فروغ ملا۔ ان کے خیال میں ’’سائنس، دراصل خود آگاہی کا نام ہے، یا یوں کہیے کہ سائنس دراصل    ’خدا آگاہی‘ کا نام ہے۔ ان دونوں جملوں میں کوئی تضاد نہیں کیوں کہ خودی خدا کا جزو ہے۔ یہ الگ بات کہ بہت چھوٹا سا جزو، جیسے ایک ایٹم ایک شمسی نظام کا جزو ہوتا ہے۔ زمینی عناصر سے بناہوتا ہے اور وہی خواص رکھتا ہے‘‘۔ (ص ۷۹)

اپنے سائنسی پس منظر کے باوجود ان کے بعض بیانات مبہم اور بعض حقیقت سے دُور   نظر آتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ’’آئن سٹائن نے تحقیق کے دوران دو مختلف قوتیں، یعنی کششِ ثقل (gravity ) اور برقی مقناطیسیت (electromagnetism) دریافت کیں…‘‘ (ص ۶۴)۔ ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ سائنس کی بنیاد اخلاقی سوالات پر قائم ہے، اور سائنس کی اخلاق سے عاری ہونے کی باتیں اٹھارھویں صدی کی شعبدہ بازی ہے‘‘ اور دوسری طرف ’’لُولی لنگڑی سائنس‘‘ کے توازن کی تلاش بھی کرتے نظر آتے ہیں اور انھیں سائنسی ترقی، محرومیت کی خبر دیتی ہے۔ ’’ہماری سائنس، حقیقت کی اعلیٰ سطح پر مزید ترقی کرنے سے قاصر نظر آتی ہے‘‘۔ (ص ۸۰-۸۱)

اسماے الٰہی کے ضمن میں حضرت ابوہریرہؓ کے حوالے سے امام ترمذی کے روایت کردہ  اللہ تعالیٰ کے ۹۹ نام اور ان کے معانی اور مفہوم بیان کرنے کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ ’’یہی علم… مخفی اسما کا علم ہی دراصل وہ طاقت تھی جو اللہ نے آدم کو اپنے نائب، اپنے معاون تخلیق کار کی حیثیت سے عطا کی تھی اور اپنی سلطنت کی تمام مخلوق کو آدم کے سامنے سجدہ کرنے کی اجازت [کذا] دی تھی‘‘(ص ۱۰۴)۔ لیکن یہ فراموش شدہ علم ابھی تک اسرار کی دُھند میں لپٹا ہوا ہے‘‘۔ یہ اسما بار بار دُہرائے جاتے ہیں اور اس طرح ایک ’چکّر‘ کے تصور کو پیش کرتے ہیں۔ بعض قدیم مذاہب میں حقیقت مطلق کو ایک چکّر (wheel) کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ مگر گردش کے لیے ایک مرکز کی ضرورت ہوتی ہے اور ہرمذہب میں یہ مرکز اللہ کی ذات ہے۔ ’’خدا، رُوح ہے اور انسان مادہ‘‘.... خدا اور انسان، رُوح اور مادہ، خالق اور مخلوق، ایک ہی تسلسل کے مختلف پہلو ہیں.... جیسے مادہ اور توانائی ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں‘‘۔ (ص ۳۰۱-۳۰۲)

’’خدا کی بھوک: On Eating God‘‘ (ص ۳۱۱) کے سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ جس طرح ہمارے جسمانی وجود کو ایک متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روحانی نشوونما کے لیے اللہ کے ذکر، اس کی صفات کو اپنے اندر سمو لینا انسان کی روحانی پرورش کے لیے ضروری ہے۔ اللہ کو خود میں سمو لینے، اس کی صفات کو اپنا لینے، اُسے اپنے اندر جذب کرلینے کا یہ صوفیانہ تصور ہے۔ جیسے ایک بڑے پیڑے کو ایک دم نہیں کھا سکتے، بلکہ تھوڑا تھوڑا کتر کر چکھتے ہیں، اسی طرح ’’اللہ بھی جو انسان کی روحانی غذا ہے، اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں۔ ایک دم بہت بڑی روحانی خوراک بھی روحانی بدہضمی کا باعث بن جاتی ہے، اور انسان کو مریض بنا دیتی ہے.... صوفی خدا کو تھوڑا تھوڑا چکھتا رہتا ہے‘‘ (ص ۳۱۳)۔ وہ مثبت اور منفی کے اصول کو ’تنترا‘ اور ہندو دیولامائی جنسی آثار و نقوش کا غماز بتاتے ہیں، جو بقول ان کے تمام مذاہب میں مروج اور جاری و ساری ہے، اور مختلف جہتوں سے حرکت و سکون، ظاہر و باطن، مادہ و روح اور ’حی و میّت‘ کی اشکال اختیار کرتا رہتا ہے۔ اس سلسلے میں قدیم و جدید سائنس دانوں کے کئی اقتباسات بھی پیش کرتے ہیں، اور اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ ’چوں کہ اللہ، انسان کے وجود کا سبب، اس کی علّت ہے، اور اس کی ذات کا جوہر اس کا عطر ہے، اس لیے اللہ کی اطاعت، خود اپنی ہی اطاعت کے مترادف ہے‘‘ (ص ۴۵۱)۔ شاید منصور کا ’اناالحق‘ اس کا اظہار ہے۔ ’’اللہ، الجامع‘‘ ہے، یعنی وہ ہر چیز کو اکٹھا کردیتا ہے۔ وہ کُلیّت ہے، جو ہرشے کو آپس میں جوڑدیتی ہے۔ اللہ سب سے آخری امتزاج (synthesis) ہے۔ کُل ہے، جو جزو کو معنویت عطا کرتا ہے… اللہ کو اس کی جامعیت میں سمجھنے کی کوشش ہی سائنس اور انسانیات [انسیات]، ایمان اور استدلال کے درمیان موجود یہ خلیج پاٹ سکتی ہے… اللہ… وہ یکتا آئیڈیل ہے جو پوری بنی نوع انسان کو تمام اختلافات اور انحرافات سے بالاتر ہوکر ایک وحدت میں جوڑ دیتا ہے۔ یہ کُل (whole)کی ایک بے مثال خصوصیت ہے، جو اس کے اجزا (parts) میں نہیں ملتی۔ جیساکہ امریکی ماہر طبیعیات اور فلسفی فریجوف کیپرا (Fritjof Capra) نے کہا ہے کہ شکر کا  ذائقہ نہ تو کاربن میں ملتا ہے، نہ ہائیڈروجن میں نہ آکسیجن کے ایٹموں میں۔ حالانکہ یہی شکر کے   اجزا ہیں۔ یہ ذائقہ تو صرف شکر ہی میں مل سکتا ہے، جو ان سب کا مجموعہ ، ان سب کا کُل ہے‘‘ (ص۴۵۶)___یہ ہے اللہ کا ذائقہ چکھنے کی دعوت اور ماورا کا تعین! (عبدالقدیر سلیم)


دینی مدارس، روایت اور تجدید، علما کی نظر میں، ڈاکٹر ممتاز احمد۔ ناشر: اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ، اسلام آباد۔ تقسیم کنندہ: ایمل مطبوعات نمبر۱۲، سیکنڈفلور، مجاہدپلازا، بلیوایریا، اسلام آباد۔ صفحات: ۲۰۶۔ قیمت: ۵۹۰ روپے۔

تقریباً ۴۰سال ہونے کو آئے ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز احمد (ڈائرکٹر ، اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ) نے ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے لیے برعظیم میں دینی تعلیم اور دینی مدارس کا موضوع منتخب کیا ۔ انھوں نے تحقیقی کام کے لیے شکاگو (امریکا) جانے سے پہلے لوازمہ جمع کرنا شروع کیا اور اس ضمن میں دینی مدارس کے علماے کرام سے کچھ مصاحبے (انٹرویو) کیے۔ تحقیق مکمل ہونے پر انھیں ڈگری ملی۔ برعظیم بلکہ جنوبی ایشیا کے پورے خطے میں دینی تعلیم اور دینی اداروں کے موضوع پر ڈاکٹر ممتاز احمد ایک سند (اتھارٹی) مانے جاتے ہیں۔ اسی لیے امریکا میں اُن کے طویل قیام کے زمانے میں بہت سے سرکاری اور غیرسرکاری اداروں، بلکہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی ان کی تحقیق سے فائدہ اُٹھایا۔

زیرنظر کتاب میں مصاحبوں کو تاریخی ریکارڈ کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ ۱۶علما میں ہرخیال اور مختلف مکاتب ِ فکر کے علما شامل ہیں۔سید ابوبکر غزنوی، جمیل احمد تھانوی، محمد ایوب جان بنوری، محمد حسین نعیمی، گلزار احمد مظاہری، ملک غلام علی، عبدالحق (اکوڑہ خٹک)، محمد ناظم ندوی، احمد سعید (سرگودھا)، مفتی محمد یوسف اور مولانا عبدالرحیم (پشاور)، چودھری نذیراحمد اور خان محمد (ملتان) وغیرہ۔ ایک تازہ ترین زاہد الراشدی کا انٹرویو بھی شامل ہے۔

ان مصاحبوں میں رائج الوقت دینی تعلیم کا دفاع کیا گیا ہے لیکن علما نے بعض اُمور میں کمی رہ جانے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز احمد نے ان مصاحبوں کے زمانے میں علما کے بارے میں جو تاثر قائم کیا، وہ بہت مثبت ہے اور ایک طرح سے علما کے لیے یہ ڈاکٹر ممتاز احمد کا خراجِ تحسین ہے۔ وہ افسوس کرتے ہیں کہ ’’اولیا اللہ کی صفت رکھنے والے وہ علما کہاں‘‘۔ (ص ۹)

کتابت، طباعت، کاغذ، کاغذی جلد، سرورق، ہرچیز خوب صورت اور دل کو بھانے والی ہے مگر قیمت ہوش اڑانے والی اور پریشان کن حد تک زیادہ ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


First Famous Facts of  Muslim World، [مسلم دنیا کے    اہم حقائق]تالیف: ڈاکٹر غنی لاکرم سبزواری، ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی۔ ناشر: لائبریری پروموشن بیورو، کراچی یونی ورسٹی، پوسٹ بکس ۸۹۴، کراچی۔ صفحات: ۱۲۲۔ قیمت: ۴۹۴ روپے۔

اس مختصر انگریزی کتاب کے دونوں قابل مؤلفین تجربہ کار لکھاری ہیں کہ ہر ایک نے ۱۰تحقیقی کتب تصنیف کی ہیں جو شائع ہوچکی ہیں۔ زیرتبصرہ کی ترتیب میں ۱۱اہلِ قلم نے مؤلفین کی معاونت کی ہے، اور تقریباً ۱۶؍اہم تحقیقی اداروں کی تحقیقات سے فائدہ لیا گیا ہے۔ اس سے کتاب کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کتاب کو اللہ رب العزت کے نام معنون کیا گیا ہے۔ ابتداے اسلام سے دورِ جدید تک تقریباً ۱۴۳۳ سالوں کے دوران میں پیدا ہونے والی معروف اور نام وَر سیاسی، سماجی، ادبی، سائنسی، مذہبی اور دوسرے تمام شعبوں کی شخصیات اور اپنے اپنے میدانوں میں ان کے کارناموں کو مختصر مگر جامع انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔ اسلام سے متعلق اہم مقامات، مثلاً مساجد، اہم کتب و دستاویزات پر بھی اس کتاب میں قابلِ قدر معلومات دی گئی ہیں۔ اسلامی دنیا کی اہم دینی و سیاسی جماعتوں کی بھی معلومات موجود ہیں جنھوں نے کوئی مؤثر کردار ادا کیا ہے۔  غرض کہ ۱۲۲ صفحات پر مشتمل یہ کتاب اسلامی دنیا کی ’مختصر انسائیکلوپیڈیا ‘ ہے۔

کتاب اسلام کے حوالے سے مگر اس میں ڈاکٹر عبدالسلام کا فوٹو اور معلومات دیکھ کر تعجب ہوا۔ غالباً مرتبین ان کو مسلمانوں میں شمار کرتے ہیں جو بنیادی غلطی ہے۔ اسی طرح سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اور شیخ حسن البنا جیسے معروف و مشہور اسلامی اور انقلابی مفکرین کا دو حرفی ذکر علی الترتیب ’جماعت اسلامی‘ اور ’مسلم برادرہڈ‘ کے تحت ضرور نظر آتا ہے، جب کہ یہ ان کے مقام اور کام سے بہت فروتر بات ہے۔ مغربی افریقی ملک نائیجیریا کے عثمان ڈان فوڈیو کا ذکر بھی کہیں نہیں ملتا۔

کتاب کے صفحہ اوّل پر عباس ابن فرناس (۸۱۰-۸۸۷) پہلا مسلم سائنس دان جس نے چھے منٹ تک ہوا میں پرواز کی۔ ’اِندلسی، ستارہ شناس اور موجد‘ کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوتی ہے اور اعتماد بڑھتا ہے کہ سب سے پہلے جرأت مندانہ اور قابلِ تقلید تجربہ کیا تھا مگر اب ’’تھے تو وہ آبا ہی تمھارے مگر تم کیا ہو؟‘‘ (ش- ح- چ )


تعارف کتب

  • فہم سیرت، پروفیسر محمد سلیم۔ ناشر: ریجنل دعوہ سینٹر (سندھ) ، کراچی۔ پی ایس-۱/۵-کے ڈی اے اسکیم ۳۳، احسن آباد نزد گلشن معمار، کراچی۔ فون: ۳۶۸۸۱۸۶۲-۰۲۱ ۔ صفحات:۲۴۔ قیمت: درج نہیں۔[فہم سیرت رسولؐ مطالعہ سیرت کا ایک منفرد پہلو ہے۔ اس کے تحت واقعات سیرت کو زمانی ترتیب سے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات میں پوشیدہ حکمت اور کارِ نبوت کے گہرے تعلق کو بیان کیا جاتا ہے۔ سیرت نگاروں کی اس پہلو پر کم توجہ رہی ہے۔ زیرنظر کتابچے میں اس کی اہمیت و ضرورت کے ساتھ ساتھ اسوہ رسولؐ کا مختصراً مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔]
  • تحقیق ___ تصورات اور تجربات، پروفیسر خورشیداحمد، ڈاکٹر سفیراختر، ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا۔ ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، مکان نمبر۱، گلی نمبر۸، ۳-/۶-F، اسلام آباد۔ فون: ۸۴۳۸۳۹۱-۰۵۱۔ صفحات: ۱۱۲۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔[تحقیق و جستجو انسانی زندگی کا خاصہ اور جوہر ہے اور قوموں کے عروج کا اہم تقاضا ۔ اس سفر کو جاری رکھنے کے لیے ایک طرف جہاں علمی و تحقیقی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، وہاں میدانِ تحقیق میں نوآمیز اہلِ قلم اور تحقیق کاروں کی آمد بھی ناگزیر ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز  میں علمی و فکری اور رہنما نشستوں کی رُوداد پر مبنی ادارے کی ایک کتاب تحقیق: تصورات اور تجربات کے عنوان سے سامنے آئی ہے۔ جس میں پروفیسر خورشیداحمد، ڈاکٹر سفیراختر اور ڈاکٹر عمرچھاپرا نے اسلامی تصورِ تحقیق، تحقیقی عمل میں سیاق و سباق کی اہمیت، تحقیق کا سفر، کتاب پر تبصرے کا فن اور عالمی مالیاتی بحران پر ایک نظر جیسے موضوعات پر گفتگو کی ہے۔]
  • اعترافِ ذنوب/اعترافِ قصور، مولانا شاہ وصی اللہ،مولانا قمرالزمان۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، برانچ پوسٹ آفس خالق آباد، نوشہرہ۔ صفحات: ۳۸۴۔ قیمت:درج نہیں۔یہ دو کتابوں کا مجموعہ ہے۔ توبہ اور استغفار کے حوالے سے روایات، واقعات، حدیث اور قرآن سب ہی کچھ آگیا ہے۔ استغفار سے بارش کا ہونا، مال اور اولاد کا ہونا، اور باغات اور نہروں کا جاری ہونا تو خود سورئہ نوح کی مشہور آیت سے ثابت ہے۔ گناہ گاروں کے لیے یہ کتاب ایک تحفہ اور نعمت ہے (جو گناہ نہیں کرتا، وہ اس کتاب کو خواہ مخواہ نہ پڑھے)]۔
  • تنسیخ نکاح ،شگفتہ عمر۔ ناشر: ویمن ایڈ ٹرسٹ، مکان نمبر ۳۶، گلی نمبر۲، ۲/۱۰-جی، اسلام آباد۔ فون:  ۲۲۱۲۹۳۳-۰۵۱۔  صفحات: ۵۲۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔[قرآن عقد نکاح کو پختہ معاہدے سے تعبیر کرتا ہے، جب کہ طلاق کو جائز کاموں میں سب سے ناپسندیدہ عمل۔ تاہم بشری تقاضوں اور ناگزیر وجوہ کی بنا پر اگر نباہ ممکن نہ ہو تو احسان اور نیکی کے اصولوں کی پاس داری کرتے ہوئے اس معاہدے کو ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔ دیگر مذاہب میں یا تو علیحدگی کی گنجایش نہیں ہے، یا اگر ہے توبہت مشکل اور ناقابلِ عمل۔ زیرتبصرہ کتاب میں اسلام کے قانونِ طلاق، طلاق کی مختلف صورتیں، تنسیخ نکاح کے موضوع پر ملکی قوانین اور عائلی قوانین کا شرعی نقطۂ نظر سے جائزہ لیا گیا ہے، اور شریعت سے متصادم دفعات کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ اپنے موضوع پر جامع اور مختصر علمی کاوش!]

 

رئیس احمد نعمانی ، علی گڑھ، بھارت

رسول کریمؐ نے ایک بار فرمایا تھا کہ میں راگ راگنی کو مٹانے کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔ مگر آج کل نعت خوانی کے ساتھ موسیقی بھی دھڑادھڑ چل رہی ہے۔ نعت کو گانے کے انداز اور سنگیت کے ساتھ پڑھنا دونوں باتیں ذکرِرسولؐ کے ادب کے خلاف اور نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کے مترادف ہیں۔ اسی طرح نعت خوانی کے مقابلوں میں تالیاں بجانے کا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔ یہ حرکتیں شانِ رسولؐ میں بے ادبی کے سوا کچھ نہیں!


قاضی عبدالقادر ، کراچی

اس ماہ کے سرورق پر بہت رنگینی چھائی ہوئی ہے، یہاں تک کہ ترجمان القرآن کے نقطے تک مختلف رنگوں کے ہیں۔ اللہ! اللہ! ترجمان کی پیدایش ۱۹۳۲ء کی ہے اور اب اسّی (۸۰) کے پیٹے میں ہے۔ جوانی تو سادگی سے گزری، اب اس عمر میں یہ بھڑکیلے لباس کچھ اچھے نہیں معلوم ہوتے۔ اس شمارے کی جان ’’سوشلزم نمبرپر سید مودودی کا تبصرہ ۱۹۶۸ئ‘‘ ہے۔ بہت عرصے کے بعد سیدصاحب کی اس طرح کی تحریر پڑھنے کو ملی۔ اس کے دو جملے تو یوں سمجھیں کہ قیامت ہی ڈھا گئے: ۱-آپ کی محنت قابلِ داد اور طباعت کے معاملے میں شدید تساہل قابلِ فریاد ہے۔ ۲- اشاعت کے لیے دیتے وقت پورے مضمون کی تصحیح کردیجیے، مگر تصحیح اپنے     قلمِ خاص سے کرنے کے بجاے کسی صاف نویس سے کرایئے تاکہ کاتب غریب فتنے میں نہ پڑے۔


عبدالقدیر سلیم ، کراچی

پروفیسر خورشید احمد کے ’اشارات‘ (ستمبر ۲۰۱۲ئ) محض اداریہ نہیں بلکہ پاکستان کی موجودہ سیاسی مقتدرہ اور امریکا کے تعلقات (افسوس ناک) پر ایک تحقیقی رپورٹ ہیں۔ اسی طرح انصارعباسی صاحب نے میڈیا کی برہنگی کا جس طرح پردہ چاک کیا ہے ، اس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کاش! ہمارے علما اور ہماری مقتدرہ اس کا نوٹس لے۔


پروفیسر نیاز عرفان ، اسلام آباد

آنسہ عائشہ نصرت کا لکھا ہوا مضمون بعنوان ’’پردہ قید نہیں، آزادی ہے‘‘ (ستمبر۲۰۱۲ئ) ایک منفرد، مدلل اور اس موضوع پر اب تک شائع ہونے والی تحریروں میں سب سے مؤثر تحریر ہے۔ ایک نوعمر خاتون کے قلم سے انگریزی زبان میں لکھے جانے والے مضمون کا امریکا کے معروف روزنامے نیویارک ٹائمز میں جگہ پانا جس کے اداراتی عملے سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ پردے کے حق میں ایک مشرقی لڑکی کی انگریزی میں لکھی ہوئی کسی تحریر کو چھاپنا تو ایک طرف، پڑھنے کا روادار ہوسکتا ، اس بات کا ثبوت ہے کہ مضمون نگار کو    دلیل سے اپنی بات منوانے کا ملکہ حاصل ہے۔ یقینا عائشہ نصرت ایک نابغہ روزگار خاتون ہیں۔ زندگی میں کوئی اعلیٰ مقام ان کا منتظر ہے۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!


عمر، خبیب، حسن، یاسر، طٰہٰ ، عاکف ، کراچی

مشرقی پاکستان کے گورنر شہاب الدین کا واقعہ (ستمبر ۲۰۱۲ئ) تاریخ اسلام کا ایک درخشندہ باب ہے۔ کاش! ہماری زندگی کے ہر دائرے کے صاحبانِ اختیار اسے اپنے لیے نمونہ بنائیں۔ مسلمان تو ہے ہی وہی جو اتنا ایمان دار اور دیانت دار ہو! اللہ ان کی قبر کو اپنے نور سے بھردے اور ہمارے اندر پیروی کا جذبہ پیدا کردے۔


عاشق علی فیصل ، جڑانوالہ، فیصل آباد

’آیاتِ سجدہ‘ (اگست ۲۰۱۲ئ) ڈاکٹر محمد اقبال خلیل کا مضمون فہم قرآن کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ خصوصاً شانِ نزول کے بیان نے اس مضمون کو ایک نئی خصوصیت عطا کردی ہے۔

 

نظامِ تعلیم سے غفلت

یہ بات مجھے بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اس مملکت کے قیام کے چار ساڑھے چار سال بعد آج تک ہمارے ہاں یہی مسئلہ زیربحث ہے کہ تعلیم کو کس طرح اسلامی سانچوں میں ڈھالا جائے۔ یہ کام تو مملکت کے قیام کے بعد سب سے پہلے کرنے کا تھا۔ ظاہر بات ہے کہ دنیا میں کوئی مملکت بھی اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک کہ وہ اپنے چلانے والوں کو تربیت دینے کا اور ان کو اپنے مقصد اور اپنے مدعا کے مطابق تیار کرنے کا انتظام نہ کرے۔ اس لحاظ سے حقیقت میں تعلیم کا مسئلہ ایک مملکت کے لیے بنیادی مسائل میں سے ہے، اور یہ ایسی چیز تھی کہ ملک کے قیام کے بعد اس کے سربراہ کاروں کو سب سے پہلے اس کی فکر ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ   چار ساڑھے چار سال کے بعد بھی کوئی آثار ہمیں ایسے نظر نہیں آتے کہ کسی نے نظامِ تعلیم کو   اسلامی سانچوں میں ڈھالنے کے متعلق کچھ بھی سوچا ہو۔ عملی اقدامات تو درکنار، ہمیں سوچنے کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔

بہرحال اب، جب کہ صورتِ حال یہ ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ لوگ آگے بڑھیں اور بڑھ کر ان کو بتائیں کہ ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم کس حد تک، کس طرح اور کس کس حیثیت سے ہمارے اُس مقصد کی ضد پڑ رہا ہے جس کے لیے ہماری یہ مملکت قائم ہوئی ہے، اور اس کے ساتھ ان کو یہ بھی بتائیں کہ اگر نظامِ تعلیم کو اس مقصد کے مطابق ڈھالنا ہے تو کس طرح ڈھالا جائے،اس کی عملی صورت کیا ہے اور اس کا نقشہ کیا ہونا چاہیے۔ اسی خدمت کو انجام دینے کے لیے مَیں آپ کے سامنے حاضر ہوا ہوں اور دوسرے جو لوگ بھی اس طرح کی فکر رکھنے والے ہیں    ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی اس فرض کو انجام دیں۔(’اسلامی نظامِ تعلیم‘سیدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد ۳۹، عدد ۱، محرم ۱۳۷۲ھ، اکتوبر ۱۹۵۲ئ، ص ۵۴)