مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۰۹

گذشتہ سالوں کی نسبت اس برس رمضان المبارک میں حرمین شریفین حاضری دینے والوں کی تعداد قدرے کم تھی۔ کچھ نہ کچھ عمل دخل اقتصادی بحران اور مہنگائی کا بھی تھا، لیکن زیادہ  اہم وجہ سوائن فلو (H1M1) کی وبا تھی۔ اگرچہ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے لاکھوں لوگوں کی موجودگی کے باوجود، الحمدللہ اس وبا کے شکار افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن بدقسمتی سے بعض ممالک میں اس وبا کو ایک ایسا ہوّا بنا دیا گیا کہ آنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ رمضان المبارک میں عمرہ کرنے والوں اور زائرین کی تعداد میں گذشتہ کئی سالوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی تجزیہ نگاروں کی نگاہ میں حج وعمرہ کی طرف لوگوں کی بڑھتی ہوئی یہ رغبت بھی دنیا میں دینی رجحان اور اسلامی بیداری میں اضافے کا ایک مظہروپیمانہ ہے۔ صرف حج و عمرہ ہی نہیں رمضان المبارک میں اعتکاف، دروسِ قرآن، ختم قرآن اور تراویح کے علاوہ آخری عشرے میں قیام اللیل کا مزید اہتمام بھی، اسی دینی روح میں اضافے کی علامت و دلیل ہے۔

بیت اللہ کے گرد دیوانہ وار طواف کرتے ان پروانوں کا ہجوم اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ حاضری کی تڑپ دل میں سجائے ان زائرین کو دیکھ کر اہلِ ایمان کے دل ہمیشہ مسرت سے جھوم اُٹھتے ہیں۔ سب سے زیادہ طمانیت اس امر کی ہوتی ہے کہ ہم ایک ہمہ گیر اُمت ہیں۔ دنیا کا کوئی کونہ، کوئی رنگ،کوئی نسل، کوئی زبان، کوئی قوم ایسی نہیں جو ہمارے جسد کا حصہ نہ ہو۔ ہم   سب ایک ہی رب، ایک ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ایک ہی قرآن کے ماننے والے ہیں۔ رب کے دربار میں پہنچ کر ہر غنی و فقیر، ہر شاہ و گدا، ہر حاکم و محکوم، سب ایک ہی سفید لباس پہننے کے پابند ہیں۔ سب کی زبان پر ایک ہی نغمۂ توحید جاری ہوجاتا ہے۔ عالم و اُمّی ، عابد و عاصی سب اسی سے معافی اور اسی سے عافیت کی التجا کرتے ہیں۔

  •  دل اس مساوات اور وحدت پر سپاس گزاری اور شکر کے جذبے سے معمور تھا کہ قریب بیٹھے ایک یمنی نوجوان کی گفتگو نے ازحد رنجیدہ و ملُول کردیا۔ تعارف ہونے پر اس نے پہلے   وادیِ سوات، اس کے فوجی آپریشن اور لاکھوں بے گھر ہونے والوں کے بارے میں دریافت کیا اور پھر شمالی یمن میں سعودی سرحد کے قریب واقع صوبہ ’صعدہ‘ میں یمنی فوج اور حُوثی قبیلے کے درمیان وسیع پیمانے پر لڑی جانے والی جنگ کی سنگینی بیان کرنا شروع کر دی۔ یمن میں زیدی شیعہ افراد کافی تعداد میں ہیں۔ چند برس پیش تر یمن کے دارالحکومت صنعاء جانے کا اتفاق ہوا تھا تو مساجد میں اہلِ سنت اور زیدی حضرات شانہ بشانہ مشترکہ طور پر نمازیں ادا کرتے تھے۔ ہم نے مغرب کی نماز ایک بڑی اور تاریخی مسجد میں ادا کی تھی۔ زیدی عقائد کے مطابق مغرب اور عشاء کی نمازوں میں آدھ پون گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ باقی افراد نمازِ مغرب کے بعد چلے گئے، زیدی مذہب کے پیروکار مسجد ہی میں مختلف ٹولیوں میں تقسیم ہوکر دروس و اذکار میں مصروف رہے اور پھر نماز عشاء کے لیے صف بندی شروع ہوگئی۔

صوبہ صعدہ میں اب حُوثی قبیلے کے افراد سے ایک بڑی جنگ لڑی جارہی ہے۔ اگرچہ اس جنگ کی بنیاد مذہبی اختلاف نہیں ہے لیکن برسرِپیکار حُوثیین کی اکثریت زیدی ہے جنھوں نے مرکزی حکومت سے بغاوت کا اعلان کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ یمنی صدر خود بھی زیدی ہے۔ اس لڑائی میں اب تک سیکڑوں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات آچکی ہیں۔ ہزاروں خاندان ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں۔ طرفین بھاری اسلحے کا استعمال کر رہے ہیں۔ یمنی نوجوان جو اَب سعودی عرب کی ایک یونی ورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دے رہا ہے، بتا رہا تھا کہ اس لڑائی کے کئی پہلو ناقابلِ فہم اور کئی انتہائی تشویش ناک ہیں۔ سب سے ناقابلِ فہم بات تو یہ ہے کہ خود حکومت اس لڑائی کو طول دینا چاہتی ہے۔ ۲۰۰۴ء سے جاری اس بغاوت اور جھڑپوں میں کئی مواقع ایسے آئے کہ جب بغاوت کرنے والوں کا مکمل خاتمہ یقینی تھا، لیکن عین موقع پر صدر کی مداخلت کے باعث جنگ کو فیصلہ کن ہونے سے روک دیا گیا۔ دوسری طرف باغیوں کی طرف سے بھی ایک طویل مدتی جنگ لڑنے کے اعلان کیے جا رہے ہیں۔

عین رمضان المبارک کے تیسرے عشرے کے آغاز کے موقع پر صدر علی عبداللہ صالح نے الجزیرہ ٹی وی چینل کو مفصل انٹرویو دیتے ہوئے ایران کا نام لے کر بیرونی مداخلت کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی حکومت تو نہیں، البتہ ایران کی اہم تنظیمات و شخصیات کی طرف سے باغیوں کو مدد دی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مؤثر ایرانی ادارے اور افراد ہمیں مصالحت کروانے کی پیش کش بھی کررہے ہیں۔ اسی طرح عراق کے معروف شیعہ رہنما مقتدی الصدر بھی پیش کش بھی کررہے ہیں کہ وہ باغیوں اور حکومت میں مصالحت کروانے کے لیے تیار ہیں۔ صدرمملکت نے الزام لگایا کہ اس کا واضح مطلب ہے کہ ان لوگوں کا باغیوں سے رابطہ اور تعلق ہے، وگرنہ وہ کیسے مصالحت کروا سکتے ہیں۔ یمنی صدر کے ان الزامات کے بعد حُوثی باغیوں سے ہی نہیں دو مسلمان ملکوں کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔جنگ کی ایک سنگینی اس کا عین سعودی عرب سرحدوں سے قریب ہونا ہے۔ سعودی عرب میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ صدر علی عبداللہ صالح اس لڑائی کے پردے میں سعودی عرب سے بھی کئی پرانے حساب چکانا چاہتا ہے کیونکہ سعودیہ اور یمن کے درمیان سرحدوں کی نشان دہی کے حوالے سے قدیم اختلافات چلے آرہے ہیں۔

اب اس جنگ میں سلفی عناصر کو بھی گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ سعودی سرحد سے قریب برسرِپیکار ایک شیعہ گروہ کا سامنا کرنے کے علاوہ باقاعدہ افواج کے ساتھ   سلفی نوجوانوں کی شرکت ضروری ہے۔ بعض اہم سلفی قائدین نے صدر علی عبداللہ صالح کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے ’دفاعِ وطن‘ کی خاطر مسلح جدوجہد کا اعلان بھی کیا ہے۔

علاقے میں جنگ کے باعث ایک خدشہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ اگر یمنی مہاجرین کی بڑی تعداد نے سعودی سرحد پار کر کے وہاں پناہ لے لی تو پناہ گزین کیمپ کے مسائل کے علاوہ ، اس صورت حال کو مختلف عالمی اداروں کی طرف سے سعودی عرب میں مداخلت کا بہانہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔

  •  یمنی نوجوان سے اس جنگ اور اس کے مہلک نتائج پر گفتگو میں یمن کے بعد عراق اور افغانستان کا ذکر چل نکلا۔ رمضان المبارک ہی میں عراق اور افغانستان میں بھی خوں ریزی کے مہیب واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ آئے روز دھماکوں اور فوجی کارروائیوں میں معصوم افغانوں کو شہید کردیے جانے پر غیور یمنی رنجیدہ تھا۔ پٹرول لے جانے والے ٹینک پر ناٹو افواج کی اندھادھند فائرنگ اور ۴۰ کے قریب افراد کے قتل کے اندوہناک تازہ واقعے نے بھی خون کے آنسو رُلا دیا۔ انھی دنوں بغداد میں کئی وزارتوں کی پوری کی پوری عمارتیں دھماکوں سے اُڑا دی گئیں۔

امریکی مداخلت کے بعد سے مسلسل جاری ہلاکتوں کے اس خونیں کھیل میں، عراقی حکومت، پڑوسی ملکوں پر مداخلت کے الزامات لگاتی چلی آرہی ہے۔ حالیہ دھماکوں کے بعد عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے حکومتِ شام پر الزام لگایا ہے کہ وہ دہشت گردی کی پشتیبانی کر رہی ہے۔ سفارت کاروں کو دی گئی دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے پڑوسی ملک پر الزامات کے اعادے نے شام اور عراق کے درمیان تلخی اور تنائو میں پھر اضافہ کر دیا ہے۔ عراق کے بقول امریکی افواج اور عراقی حکومت کے خلاف ’دہشت گردی‘ کی کارروائیوں میں شامی سرحد سے آنے والے ’انتہاپسند‘ شریک ہیں۔ اختلافات کی اس بڑھتی ہوئی خلیج کو کسی بڑے حادثے سے بچانے کے لیے علاقے کے دیگر ممالک بھی فعال ہورہے ہیں، بالخصوص ترکی کا کردار غیرمعمولی ہے۔ تازہ عراقی الزامات اور شام کی طرف سے جوابات کے بعد ترکی وزیرخارجہ نے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل سے مل کر عراق و شام کے وزراے خارجہ سے مشترکہ مذاکرات کیے ہیں جو فی الحال مثبت بتائے جارہے ہیں۔

  •  شام پر الزامات میں عراقی و امریکی حکومت ہی نہیں لبنانی حکومت بھی شریک ہے۔ سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کا الزام بھی شام پر لگایا گیا تھا۔ گذشتہ کئی عشروں سے لبنان میں موجود شامی افواج کا انخلا انھی الزامات و اختلافات کے بعد عمل میں آیا تھا۔ بعدازاں جب فلسطین پر قابض صہیونی افواج اور حزب اللہ کے مابین جنگ ہوئی تو شام ایک بار پھر عالمی الزام تراشی کا محور بنا۔ پھر لبنان میں سیاسی درجۂ حرارت میں اضافہ ہوا تو شام پر دبائو میں بھی اضافہ ہوگیا۔ اب تقریباً چار ماہ ہوگئے لبنان میں انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ گذشتہ جون میں لبنانی صدر نے رفیق حریری کے بیٹے سعدالحریری کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی۔ تب سے سیاسی مذاکرات اور جوڑ توڑ جاری تھے۔ وسط رمضان میں سعدالحریری نے کابینہ کی ایک تجویز پیش کی۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایک قومی حکومت ہوگی، لیکن حزب اللہ سمیت اپوزیشن جماعتوں نے یہ وزارتوں کی تقسیم کے لیے سعدالحریری کا پیش کردہ فارمولا مسترد کردیا۔ نتیجہ سعد کو حکومت کی تشکیل سے معذرت کرنا پڑی۔ اب دوبارہ سے مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ صدر نے قانونی تقاضے کے تحت تمام جماعتوں کے پارلیمانی نمایندوں سے  دوبارہ مذاکرات کے بعد پھر سعد کو وزیراعظم نامزد کیا ہے لیکن سیاسی اختلافات کا بخار ٹوٹنے کو نہیں آرہا۔ اُمت کے حوالے سے مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ حریری گروپ، ایران اور شام پر اور حزب اللہ و اپوزیشن سعودی عرب پر الزامات کی تکرار کر رہا ہے۔
  •  رمضان المبارک اور حرمین شریفین میں وحدت و مساوات کے روح پرور مناظر کے دوران میں ہی متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان اختلافات میں بھی اچانک اضافہ دیکھنے کو آیا۔ متحدہ عرب امارات کے ساحلوں کے نزدیک چھوٹے چھوٹے تین جزیرے طُنب الصغریٰ، طُنب الکبریٰ اور ابوموسیٰ عرصے سے نزاع کا باعث ہیں۔ دونوں ملک ان پر ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ چند سال پیش تر ایران نے ان جزیروں پر باقاعدہ فوجیںاُتار دیں اور کہا کہ تاریخی لحاظ سے یہ تینوں جزیرے ایران کا اٹوٹ انگ ہیں۔ یہ شکر ہے کہ اس اختلاف نے مسلح جھڑپوں کی صورت اختیار نہیں کی، لیکن اختلاف گاہے بگاہے نمایاں اور ان کی لَے بلند ہوجاتی ہے۔ اب امارات نے ابوظبی سے کچھ شیعہ علما کو ایران واپس بھجوا دیا ہے اور جواباً ایران نے اٹوٹ انگ کا اعادہ کیا ہے۔ اسی طرح کا ایک چھوٹا سا سرحدی تنازعہ سعودیہ اور امارات کے درمیان بھی ہے۔ علاقے میں تیل کے ذخائر کے حوالے سے ان سب علاقوں کی بڑی اہمیت بیان کی جاتی ہے۔
  •  حرمِ مکہ میں فلسطین سے آئے ہوئے حماس کے قائدین اور موجودہ صومالی حکومت کے ایک وزیر سے بھی ملاقات ہوئی۔ حماس کے ذمہ داران غزہ میں جاری محاصرے اور ۱۵ لاکھ محصور فلسطینیوں کی ناگفتہ بہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کا یہ شکوہ مزید رنجیدہ کرنے کا سبب بنا کہ عالمِ اسلام اور اُمت مسلمہ غزہ کے اس حصار سے یوں لاتعلق بیٹھی ہے جیسے ان ڈیڑھ ملین مسلمان بھائیوں سے، ۱۵ لاکھ انسانوں سے، ان کا کوئی رشتہ نہ ہو۔ دسمبر ۲۰۰۸ء میں جنگ کے دوران تو اُمت نے اخوت ایمانی کا ثبوت دیا لیکن ا ب اہلِ غزہ پر کیا قیامت ڈھائی جارہی ہے، کسی کو کوئی غرض نہیں۔ حماس کے قائدین نے بتایا کہ ایک طرف غزہ میں صہیونی دشمن کے یہ مظالم ہیں، دوسری طرف وہ مسجداقصیٰ کو شہید کرنے کی کوششیں بھی کر رہا ہے۔ اب تو اس نے حرم اقصیٰ میں ہیکل سلیمانی کا ایک دیوہیکل ماڈل لاکر نصب کردیا ہے کہ یہاں قبلۂ اول کی جگہ، یہودی عبادت گاہ تعمیر ہوگی۔ تیسری جانب وہ مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیاں تعمیر کر رہا ہے اور بدقسمتی سے محمود عباس کے ساتھ تعاون میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس دوستی کو مکمل امریکی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ خود کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۷ء سے لے کر امریکا نے حماس مخالف فلسطینی سیکورٹی فورسز کی مدد کے لیے ۱۶۱ ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔ ۳۲صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جون ۲۰۰۹ء میںاس امداد میں مزید ۱۰۹ ملین ڈالر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اوباما انتظامیہ نے سال ۲۰۱۰ء کے لیے ۱۰۰ ملین ڈالر کی مزید امداد کر دی ہے۔ اس مالی امداد سے حماس مخالف پولیس اور صدارتی فوج کو تربیت دی جائے گی۔

حماس کے پُرعزم ذمہ دار نے کہا: فلسطینی قوم بڑی سخت جان اور ارادے کی پکی ہے۔ ۶۰سال سے قتل کی جارہی ہے، دھتکاری جارہی ہے لیکن فلسطینی پہلے سے بھی زیادہ سربلند ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ اٹل ارادے کے مالک ہیں۔

یکم رمضان المبارک کو غزہ کے تمام اسکولوں میں تعلیم دوبارہ شروع ہوگئی۔ تعطیلاتِ گرما میں غزہ کے بچوں کو قرآن کریم سے وابستہ کرنے کا ایک عجیب واقعہ سننے کو آیا۔ اگر بتانے والا معتبر نہ ہوتا تو شاید یقین نہ آتا۔ غزہ میں گرما کی تعطیلات کے دوران بچوں کو قرآن کریم حفظ کروانے کا اہتمام کیا گیا۔ صرف چھٹیوں کے تین ماہ کے دوران ساڑھے تین ہزار بچوں نے مکمل قرآن حفظ کرلیا۔ منتخب وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کے ۱۶ سالہ صاحبزادے عائد نے توصرف ۳۵ روز کے اندر مکمل قرآن سینے میں محفوظ کرلیا، سبحان اللہ! عائد نے غزہ میں قائم ’تاج الوقار‘ کیمپ میں قرآن حفظ کیا۔

حرم میں اُمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختلافات پر، خود پاکستان میں امریکی مداخلت اور بڑھتی ہوئی امریکی موجودگی پر، پریشانی اور دعائیں جاری تھیں کہ غزہ سے آنے والی اس خبر نے   دلِ مضطر کو قرار سا عطا کر دیا۔ نظریں ایک بار پھر سفید احرامات میں کعبۃ اللہ کے گرد دیوانہ وار طواف کرتے فرزندانِ توحید کی جانب اُٹھ گئیں۔ وحدت و مساوات کا منفرد، عجیب اور اُچھوتا منظر… دل سے پھر دعا نکلی: پروردگارِ عالم! کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک!

 

معاشرتی بگاڑ اور نوجوان

سوال: میڈیا ، ٹی وی، ڈش، انٹرنیٹ، اخبار و جرائد، یہ سب عورت کو تشہیر کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہوئے خوب استعمال کرتے ہیں۔ یہ نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکانے اور گمراہ کرنے کا باعث ہے، دوسری طرف دین اور معاشرے کا تقاضا کہ نوجوانوں کو پاک باز ہونا چاہیے جو کہ کڑی آزمایش ہے۔ اسلام کا واضح حکم ہے کہ جو نوجوان استطاعت و طاقت رکھتا ہو وہ نکاح ضرور کرے لیکن ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ہمارا معاشرہ یہ کہتا ہے کہ پہلے لڑکا خودکفیل ہو اور پھر شادی ہو۔ اس طرح کیریئر بناتے بناتے ایک فرد کو کافی عرصے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ بھوک پیاس کے بعد جنسی تسکین انسان کی فطری ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں کسی نئے خاندانی نظام کی ضرورت نہیں ہے کہ جس میں نوجوانوں کو کرپٹ ہونے سے بچایا جاسکے۔ موجودہ حالات میں اسلامی احکامات کے مطابق ہم زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

جواب: آپ نے اپنے سوالات کے ذریعے جس اہم پہلو کی طرف متوجہ کیا ہے وہ شریعت کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے، یعنی صالحیت کے ساتھ نسلِ انسانی کا تحفظ۔ اسلام واحد دین ہے جو خاندانی زندگی کو ایمان کی تکمیل اور تقویٰ کے حصول کے لیے ایک شرط قرار دیتا ہے، اور سیرت خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ جو نکاح کا انکار کرتا ہے، سرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی اُمت میں شمار نہیں فرماتے۔ قرآن کا مطالعہ کریں تو وہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر رشتۂ نکاح قائم کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ رزق میں وسعت اور برکت پیدا کریں گے۔

ابلاغِ عامہ اور زندگی کے معاملات میں جس طرح عورت کو بطور ایک مرغوب شے بناکر پیش کیا جارہا ہے اور عام تعلیمی ماحول میں مخلوط تعلیم جس چیز کو فروغ دے رہی ہے وہ حیا اور    پاک بازی کی ضد کہی جاسکتی ہے۔ ایسے ماحول میں ایک نوجوان کا نفس کے فتنوں سے محفوظ رہنے کا ایک مسنون ذریعہ وہی ہے جس کا آپ نے ذکر کیا یعنی نکاح۔ لیکن حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ اگر کوئی نوجوان ایسا کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو پھر وہ اپنے اخلاق و کردار کے تحفظ    کے لیے روزے کو بطور ڈھال استعمال کرے۔

ظاہر ہے روزہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک ایسا خفیہ معاملہ ہے جس کا کسی اور کو علم نہیں ہوسکتا اور غیرمحسوس طور پر روزہ انسان کو بدنگاہی، بدخیالی، بدزبانی ، غرض ہر برائی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس لیے اگر ہفتہ میں دو مرتبہ، یعنی پیر اور جمعرات کو عام دنوں میں روزہ رکھا جائے تو اس سے وہ قوتِ مدافعت پیدا ہوگی جو ایک نوجوان کو بے راہ روی سے محفوظ رکھ سکے گی۔

یہ بات بھی درست ہے کہ ہمیں ایک نئے خاندانی تصور کی ضرورت ہے جس میں نام نہاد مشرقی روایتی تصور سے ہٹ کر قرآن و سنت کی بنیاد پر خاندان کو قائم کیا جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ وہ گھرانے بھی جو خود کو دینی گھرانے کہتے ہیں شادی بیاہ کے معاملے میں بڑی حد تک اپنی برادری کی بعض جاہلانہ روایات اور بالخصوص معاشی بنیاد پر رشتے کو زیادہ پسند کرتے ہیں، جب کہ حدیث میں جو چار معیار تجویز کیے گئے ہیں ان میں حُسن، دولت، نسب، تینوں پر تقویٰ اور دین کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

قرآن کریم نے ایسے نوجوانوں کی شادی کے حوالے سے جو شادی کی عمر کو پہنچ چکے ہوں لیکن وسائل نہ رکھتے ہوں ان کے اہلِ خانہ، اہلِ معاشرہ اور ریاست تینوں کو ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔ چنانچہ ایک مثالی اسلامی ریاست میں ریاست کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ مجرد نوجوانوں کو نکاح کے لیے وسائل فراہم کرے، اور ایسے ہی معاشرے کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایسے افراد کے لیے مل کر سہولتیں فراہم کرے۔ آج تحریکِ اسلامی کی ترجیحات میں بھی اس اہم بات کو شامل ہونا چاہیے تاکہ وہ نوجوان جن کی تربیت ِکردار میں سالہا سال صرف کیے جاتے ہیں آزمایش کا شکار نہ ہوں۔

رشتہ کرتے وقت معاشی آسودگی کی شرط پر بھی متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کوئی نوجوان اچانک اپنے شعبے میں اعلیٰ مقام حاصل نہیں کرسکتا۔ اس لیے کم وسائل کے باوجود نکاح میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ جس کو خوش کرنے کے لیے یہ رشتہ کیا جائے گا وہ کائنات کے تمام خزانوں کا مالک ہے اور وہ ان شاء اللہ ضرور رزق میں برکت دے گا۔(ڈاکٹر انیس احمد)

اسلامی بنکاری کے بارے میں اُلجھن

س: پاکستان میں رائج موجودہ اسلامی بنکاری اور مروجہ عام بنکاری میں محض نام کا فرق ہے۔ آپ موجودہ اسلامی بنکاری کو کم ظالمانہ کہہ سکتے ہیں، غیرسودی نہیں۔ میری راے میں اسلامی بنکاری صرف اسلامی حکومت کے زیراثر ہوسکتی ہے۔ بنک تجارتی اداروں کو نفع و نقصان کی بنیاد پر قرضے دیں۔ اسی طرح بنک میں رقم جمع کروانے والا بنک سے منافع حاصل کرسکتا ہے اور نقصان بھی۔ دھوکا دہی کرنے والے کی جایداد ضبط کرنا اور لوگوں کو ان کے حقوق دلوانا حکومت کا کام ہو۔ ایمان دار لوگ کوآپریٹو سوسائٹیز کی طرز پر سرمایہ اکٹھا کر کے کاروبار کو جدید اور وسیع کرسکتے ہیں لیکن اس کام کے لیے بھی اچھا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ سود کو حلال کرنے والے بنکوں کے تنخواہ دار ملائوں سے بھی بچنا ہوگا۔ ہمیں سادگی اختیار کرنا چاہیے اور اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کوشش کرنا چاہیے۔

ج: اسلامی بنکاری کے بارے میں آپ کو اپنی راے رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ہم عصر علما میں ہمیں ایسے حضرات بھی ملتے ہیں جو مروجہ اسلامی بنکاری اور تکافل پر شدید اعتراضات کرتے ہیں، اور ایسے علما بھی ہیں جو مجبوریوں اور مسائل سے آگاہی کے باوجود بعض اسلامی مالی اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق اور سود سے پاک قرار دیتے ہیں۔ وہ کسی ’جبری بیعت‘ کی تبلیغ نہیں کرتے بلکہ شریعت کے اصولوں کی روشنی میں مالی اداروں کا جائزہ لے کر انھیں سند فراہم کرتے ہیں۔

ایک عام شہری کے لیے اسلام جس چیز کا مطالبہ کرتا ہے وہ حرام سے اجتناب اور حلال کا حصول ہے۔ اگر ایک مالی ادارہ نہ صرف یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ سودی کاروبار سے پاک ہے، بلکہ اس کے تمام پیداواری امور اور سرمایہ کاری کی اسکیموں کا علما نے بغور مطالعہ کیا ہے اور وہ اسے حلال کہتے ہیں، تو ایک عام شہری کو ظاہر پر اعتماد کرتے ہوئے ایسے علما کی بات پر اعتماد کرنا چاہیے جو اپنی شہرت اور علمی لیاقت کی بنا پر ملک اور ملک سے باہر مستند سمجھے جاتے ہوں۔

دوسری بات یہ بھی سامنے رہے کہ جب تک ایک مثالی اسلامی حکومت قائم نہ ہو، اس وقت تک کیا کیا جائے۔ کیا سودی بنکوں کو بہ اِکراہ قبول کیا جائے یا اسلامی بنکوں کو جو واضح طور پر سود سے پاک ہونے کا اعلان کرتے ہوں۔ ایک روز مرہ کی مثال سے اسے یوں سمجھیے کہ آپ روز کسی قصاب کی دکان پر جاکر گوشت خریدتے ہیں اور اپنی اور احباب کی دعوت کرکے لذیذ کھانوں کے مزے لیتے ہیں۔ کیا ایک مرتبہ بھی آپ نے قصاب یا ذبح کرنے والے مرکز جاکر یہ معلوم کیا کہ ہرہر ذبیحہ کے وقت ذبیح نے صحیح طور پر اس پر اللہ کا نام لیا تھا یا آپ کو یہ یقین ہے کہ صدیوں سے قصاب چاہے اسے ایک لفظ قرآنی عربی کا نہ آتا ہو اور اس نے ایک جماعت بھی نہ پڑھی ہو، ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لے کر ہی کر رہا ہوگا۔

اس کے مقابلے میں اسلامی مالی ادارے ہر فرد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ خود ادارے کی  مالیاتی اسکیموں کے بارے میں تفصیلات معلوم کر کے دیکھ لے کہ اس میں سود کہاں ہے؟ اس کے باوجود اگر ایک بات ذہن میں بٹھا لی جائے کہ ہر اسلامی مالی ادارہ جو کام کررہا ہے اس میں بدنیتی اور دھوکا شامل ہے تو اس کا کوئی علاج نہیں۔ اسلام میں دین کی پوری عمارت کا انحصار نیت اور ظاہری عمل پر ہے۔ اگر ایک شخص بظاہر نماز پڑھ رہا ہے تو کسی مسلمان کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس کے بارے میں افواہ پھیلاتا پھرے کہ گو بظاہر نماز تو پڑھ رہا ہے لیکن دل میں شیطان کو سجدہ کررہا ہے۔ دین میں اس شک اور ابہام کی کوئی گنجایش نہیں۔ بات دلیل اور ثبوت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اگر کسی اسلامی مالی ادارے کے بارے میں کسی کے پاس ثبوت ہوں تو اس کا فرض ہے کہ انھیں عوام الناس کے علم میں لائے لیکن محض گمان اور شبہے کا اظہار نہ تقاضاے دین ہے نہ دیانت و امانت۔

اسلامی کوآپریٹو کی تجویز بہت مناسب ہے۔ اس پر لازماً کام ہونا چاہیے اور اُس کے لیے بھی اسلامی حکومت کے آنے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ جو حضرات اسے درست سمجھتے ہوں وہ آگے بڑھیں اور اس طرح کم از کم معاشی میدان میں اسلام کے اصولوں کو عملاً نافذ کر کے اسلام کی عملیت کی ایک مثال قائم کریں۔ اسلامی ریاست ان شاء اللہ ایسے تمام اداروں کو مزید تقویت دے گی۔ ایمان داری کا کلچر اسلامی ریاست کے آنے کے بعد نہیں،اُس سے بہت پہلے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی ریاست کا راستہ اس کلچر سے ان شاء اللہ زیادہ آسان ہوجائے گا، اور جب مثالی ریاست قائم ہوگی تو وہ اس کلچر کو مزید ترقی دے گی۔ (ا- ا)

 

Qur'anic Key Words: A Reference Guide، [قرآنی اصطلاحات: ایک حوالہ جاتی گائیڈ] عبدالرشید صدیقی۔اسلامک فائونڈیشن، لسٹر، برطانیہ،۔ صفحات: ۲۹۶۔ قیمت: درج نہیں۔

قرآن کریم اور سیرت پاکؐ کے حوالے سے اگر جائزہ لیا جائے تو ہرہفتے نہیں تو کم از کم سال کے ۱۲ مہینوں میں کسی نہ کسی معروف رسالے میں تحقیقی مقالہ اور کسی معروف ناشر کے ذریعے کوئی علمی کتاب منظرعام پر آتی رہی ہے۔ لیکن اس کثرت کے باوجود قرآن کریم کے مضامین و موضوعات اور سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی جہات کا احاطہ کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ استنبول کے ایک عظیم تحقیقی مرکز میں ۸۰۰ کے لگ بھگ قرآن کی تفاسیر ایک چھت کے نیچے پائی جاتی ہیں۔

زیرنظر کتاب جناب عبدالرشید صدیقی کی تازہ تالیف ہے۔ وہ ایک عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور وہاں کی اسلامی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ کتاب کا مقدمہ ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے لکھا ہے۔

انگریزی اب ایک تجارتی زبان کی حیثیت سے وہی مقام اختیار کرچکی ہے جو ایک طویل عرصہ لغتِ قرآن کو حاصل رہا، اس لیے مغرب ہی کا نہیں خود مشرق میں بھی ان اقوام میں جن کی سیاسی آزادی صرف اور صرف اسلام اور قرآن و سنت کی سربلندی کے لیے حاصل کی گئی ہو، نیز ایسی اقوام میں بھی ذہنی غلامی اور انگریزی کے فروغ کے سبب قرآن کریم اور اسلام سے واقفیت کے لیے ایسی کتب کی ضرورت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جو عام انگریزی سمجھنے والے کو اسلامی فکر اور قرآنی مضامین سے متعارف کرا سکے۔ ان معنوں میں نہ صرف یہ کتاب بلکہ اس نوعیت کی مزید کتب اس دور کی ضرورت ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اصل ماخذ سے براہِ راست تعلق کے بغیر اسلام کا صحیح فہم حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ ان اصطلاحات میں بعض بہت بنیادی ہیں مثلاً اللہ، دین، زکوٰۃ، جہاد، انسان، آخرت، حسنات، فلاح، دعوۃ، بِّر، اخوہ، صوم، صدقہ، ایمان وغیرہ۔

کتاب میں ۱۴۰قرآنی اصطلاحات کا مفہوم انگریزی پڑھنے والے اور براہِ راست عربی مصادر تک نہ پہنچ پانے والے افراد کے لیے سادہ زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ ہر اصطلاح کا لغوی معنی، اس کا قرآن کریم اور عربی میں متبادل اور قرآن کریم میں اس کے استعمال کا حوالہ دینے کے ساتھ اختصار سے معنی بیان کیے گئے ہیں۔ معنی بیان کرتے وقت یہ خیال رکھا گیا ہے کہ اس کے پڑھنے والے ان الفاظ کے بارے میں جن شبہات کا شکار ہوں انھیں بھی رفع کر دیا جائے مثلاً جہاد کے حوالے سے اس کے مختلف مفاہیم کو بیان کرکے سمجھایا گیا ہے کہ اس سے محض قتال اور قوت کا استعمال مراد نہیں ہے بلکہ یہ ایک جامع اصطلاح ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک قابلِ تحسین علمی کام ہے اور اسلام اور اسلامی فکر کو سمجھنے میں غیرمعمولی طور پر مددگار۔

انتہائی کامیاب کوشش میں بھی ہمیشہ مزید بہتری کی گنجایش رہتی ہے۔ اس کتاب کو آیندہ مزید بہتر بنانے میں اگر چند امور کا خیال رکھ لیا جائے تو ان شاء اللہ اس کی افادیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ا ل ہ سے ال کے اضافہ سے اللہ کی اصطلاح بنی ہے(ص ۱۱)۔ اللہ کا کوئی مصدر نہیں ہے۔ مصدر صرف الٰہ کا ہے اور وہ ا ل ہ ہے (ملاحظہ ہو تفسیر ماجدی)۔ صدقہ کا ترجمہ charityگو عبداللہ یوسف علی نے بھی کیا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے (ص۲۰۲)۔ درست ترجمہ تحفہ یا ہدیہ ہوگا۔ مفہوم بیان کرتے ہوئے مصنف کو شاید مہر کا ذکر کرنا یاد نہ رہا اسے بھی صدقہ کہا گیا ہے، جب کہ وہ charity نہیں ہے اور خلوصِ نیت اور سچی خواہش کے اظہار کا نام ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کو alms کہنا (ص ۲۶۸)گو مستعمل ہے لیکن اس کے مفہوم سے متضاد ہے۔ یہ خیرات نہیں ہے بلکہ عبادت اور حق ہے، یعنی right اور due۔ یہاں بھی غالباً عبداللہ یوسف علی صاحب کا ترجمۂ قرآن استعمال کرنے کے سبب مصنف نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس کے باوجود کتاب کی افادیت میں کمی واقع نہیں ہوتی اور خصوصاً نوجوان نسل کے لیے اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔ (ڈاکٹر انیس احمد)


تحریکِ احمدیت: یہودی و سامراجی گٹھ جوڑ، بشیراحمد، مترجم: احمد علی ظفر۔ ناشر: ادارہ اصلاح و تبلیغ، آسٹریلیا بلڈنگ، ریلوے روڈ، لاہور۔ فون: ۳۷۶۶۳۸۹۶۔ صفحات: ۹۸۷۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

مسلم اُمہ کو ہر زمانے میں مختلف فتنوں سے نبردآزما ہونا پڑا۔ ابتدائی زمانے میں مُسیلمہ کذاب نے جس جعلی نبوت کا اعلان کیا تھا، اس سلسلے کی ایک کڑی مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں اہلِ ہند کو دیکھنے کوملی۔ دیگر جعلی نبوتوں کے برعکس مرزاے قادیان کی ہرزہ سرائی کو اس زمانے کی سپرطاقت تاج برطانیہ کی پشت پناہی حاصل تھی، مقامی سطح پر پنڈت جواہر لعل نہرو کی ہمدردی میسر تھی، اور آج کے مغربی سامراج کی طرف سے اسے مسلسل کمک بھی مل رہی ہے۔

کم و بیش سوا سو سال سے اس فتنے کی دل آزاریوں اور حشرسامانیوں پر اہلِ علم نے مختلف سطحوں اور مختلف حوالوں سے داد تحقیق دی، دینی اورسیاسی حوالے سے بھی بہت سارے گوشے وا کیے۔ بشیراحمد کی زیرتبصرہ کتاب: Ahmadiya Movement: British-Jewish Connection کے رواں اور شُستہ اُردو ترجمے پر مشتمل ہے۔ جس کے ۲۸ ابواب میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بہت سی ہوش ربا تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ یہ تفصیلات قادیانیت کے مغربی سامراجیوں اور یہودیوں سے گٹھ جوڑ کی گواہی پیش کرتی ہیں۔

جناب بشیراحمد ایک سنجیدہ محقق اور جاں کاہی سے مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں انھوں نے ایک ایک مقدمے کو مکمل حوالے، ثبوت اور غیرجذباتی تجزیے سے اس طرح پیش کیا ہے کہ معاملات کے پس پردہ بیش تر کردار ترتیب ِ زمانی کے ساتھ قاری کے سامنے آجاتے ہیں۔ فاضل مؤلف نے یہ کتاب ایک عالمِ دین کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مؤرخ کی حیثیت سے مرتب کی ہے، اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ کتاب فی الحقیقت قادیانیت کی ایک تاریخ ہے، جس کے آئینے میں اس باطل مذہب کے باطن کو دیکھا جاسکتا ہے۔ کتاب کی تقریظ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے تحریر کی ہے۔ آخر میں قادیانی لٹریچر کے عکس، جامع کتابیات و مآخذ کی فہرست بھی درج ہے۔ (سلیم منصور خالد)


رسولؐ اللہ کا طریقۂ حج، تالیف: مولانا مفتی محمد ارشاد القاسمی۔ ناشر: زم زم پبلشرز، نزد مقدس مسجد، اُردو بازار، کراچی۔فون: ۲۷۲۵۶۷۳-۰۲۱۔ صفحات: ۷۵۰۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

عازمینِ حج کے لیے راہ نما کتابیں ہرقسم کی دستیاب ہیں۔ عام ضرورت ایسی کتاب کی ہے جو ہاتھ میں لی جاسکے اور ہروقت اس سے رجوع کیا جاسکے۔ زیرتبصرہ کتاب اس سے کچھ مختلف ہے۔ اس میں مؤلف نے حج کے ۵ ایام کے علاوہ، حج کے فضائل و ترغیب، عورتوں کے حج اور مختصراً زیارتِ مدینہ پر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ایک ترتیب سے جمع کردیے ہیں اور ہرایک کے بعد فائدہ کے عنوان سے اس کی وضاحت کردی ہے۔ ۳۰صفحات کی فہرست سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ۷۵۰ صفحے کی اس کتاب میں کتنی تفصیل سے تمام جنرئی مسائل تک زیربحث لائے گئے ہیں۔

حج کے دوران پیش آنے والے ہر طرح کے امکانات پر براہِ راست حدیث رسولؐ کی رہنمائی مل جاتی ہے۔ اختلافی مسائل پر بھی سب کا موقف بیان کر کے اچھی بحث کی گئی ہے۔ اس کتاب کو بجاطور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقۂ حج و عمرہ کے متعلق شمائل، سنن و احکام کا وسیع اور مستند ذخیرہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ (مسلم سجاد)


کلیسا سے واپسی، مرتب: عبیداللہ عابد۔ ناشر: کتاب سرائے، الحمدمارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔ صفحات: ۲۳۲۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

اسلام کی قوتِ تسخیر کا اندازہ کرنا ہو تو اس کا ایک حوالہ نومسلموں کے حالاتِ زندگی اور  قبولِ اسلام کے واقعات کا مطالعہ ہے۔ واضح رہے کہ اسلام کی طرف یہ رغبت ان حالات میں ہے کہ مغرب میں عام طور پر اسلام کے اصل تصور کو مسخ کر کے، مسلمانوں کو وحشی، خون کے پیاسے اور تنگ نظر قوم کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ اسلام کی خاطر نومسلم جس طرح سے جان، مال، خاندان، کیریئر اور ہر طرح کی قربانیاں دیتے ہیں، اس سے اسلام کے دورِ عزیمت کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔

زیرنظر کتاب اسی موضوع کے تحت ۳۲ افراد کے قبولِ اسلام کا ایک مطالعہ ہے۔ تاہم، اس کی انفرادیت یہ ہے کہ بیش تر واقعات کا تعلق عیسائی پادریوں کے قبولِ اسلام سے ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیت کے عقائد (بالخصوص تین خدائوں کا تصور، حضرت عیسٰی ؑ کا انسانیت کے گناہوں کی تلافی کے لیے قربانی دینا وغیرہ) عیسائی پادریوں کو بھی مطمئن نہ کرسکے۔ یہ عقیدہ بھی اُلجھن کا باعث ہے کہ گناہ کی معافی کے لیے کسی پادری کے سامنے اعتراف ضروری ہے، گناہ کے اعتراف کے لیے براہِ راست خدا سے رجوع نہیں کیا جاسکتا، جب کہ اسلام میں مذہبی پیشوا کا ایسا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ کسی دوسرے کے سامنے گناہ کا اعتراف ہی ضروری ہے۔ براہِ راست  اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی جاسکتی ہے۔ عیسائیت میں غوروفکر اور حقیقت کی تلاش کے لیے سوالات اُٹھانے کی بھی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، جب کہ اسلام کی تعلیمات، غوروفکر اور تدبر کی دعوت پر مبنی ہیں جو جدید ذہن کو اپیل کرتی ہیں۔ اسلام کی مقبولیت کا ایک راز یہ بھی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ اس لحاظ سے بھی مفید ہے کہ اسلام پر اٹھائے جانے والے اعتراضات اور ان کا جواب بھی سامنے آتا ہے جس سے تقابلِ ادیان کے ساتھ ساتھ اسلام کی فوقیت بھی ثابت ہوتی ہے۔(امجدعباسی)


آدابِ شناخت، ڈاکٹر سید عبدالباری۔ ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، ۳۱۰۸ وکیل والی گلی، کوچہ پنڈت، لال کنواں، دہلی ۶۔ صفحات:۲۲۰۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

اُردو ادب کی دنیا، بڑی حد تک پاکستان اور بھارت کی طرح، دو الگ الگ دنیائوں میں منقسم ہے، اس لیے اگر ڈاکٹر سید عبدالباری کا نام پاکستان کے ادبی حلقوں میں کسی قدر اجنبی محسوس ہو تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ موصوف اُردو کے معروف ادبی نقاد ہیں۔ اوائل میں وہ ’شبنم سبحانی‘ کے قلمی نام سے زیادہ تر شعرگوئی کرتے تھے۔ اب گذشتہ ۵،۷ برسوں میں ان کی متعدد تنقیدی کاوشیں (بشمول ان کے ڈاکٹریٹ کے مقالے کے) مطبوعہ صورت میں سامنے آئی ہیں (لکھنؤ کا شعروادب، ۱۸۵۷ء تک۔ لکھنؤ کے ادب کا ثقافتی و معاشرتی مطالعہ، ۱۹۴۷ء تک، ادب اور وابستگی، کاوشِ نظر، افکارِ تازہ، ملاقاتیں وغیرہ۔ ان میں سے بعض پر ترجمان میں تبصرہ بھی ہوچکا ہے)۔ فی الوقت وہ ماہنامہ پیش رفت دہلی کے مدیر اور ادارہ ادبِ اسلامی ہند کے صدر ہیں۔

ادبی تنقیدی مقالات کا زیرنظر پانچواں مجموعہ انھوں نے ہم فکر ادبی شخصیات ڈاکٹر ابن فرید اور ڈاکٹر عبدالمغنی سے منسوب کیا ہے۔ مرحومین کی طرح سید عبدالباری بھی ادب میں مثبت اور تعمیری نظریات و اقدار کے قائل ہیں۔ بجاطور پر وہ محسوس کرتے ہیں کہ اُردو کی موجودہ ادبی تنقید زوال پذیر ہے، کیوں کہ ماضی کے برعکس موجودہ تنقید میں کوئی تعمیری، متوازن اور شائستہ طرزِ فکر سامنے نہیں آسکا۔ پروفیسر محمود الٰہی کے بقول ڈاکٹر سید عبدالباری حق و ناحق اور خیروشر کا ایک متعین پیمانہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے قلم کو جاہ و منصب کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اخلاص کے ساتھ ادب کی بے لوث خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔

مجموعے کا پہلا مضمون ’اکیسویں صدی میں ادب کی اہمیت‘ نہایت فکرانگیز ہے۔ انھوں نے مستقبل کی ادبی جہات و اقدار کی ممکنہ سمت نمائی کی ہے۔ انھیں کچھ تشویش بھی ہے مگر وہ پُرامید ہیں کہ ’’اہلِ قلم کی ایک معتدبہ تعداد درباری نفسیات کی گرفت میں نہ آسکے گی اور وہ حقیر مفادات سے اُوپر اُٹھ کر عام انسانوں کی بہی خواہی اور بلندمقاصد کے احترام کو مدنظر رکھ سکے گی (ص ۱۳)۔ معروف ترقی پسند شاعر مجروح سلطان پوری کے بارے میں انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ آخری دور میں ان پر اشتراکیت کا طلسم زائل ہوچکا تھا اور مجروح اپنی اصل سے وابستگی کو اپنے لیے باعثِ فخر تصور کرتے تھے۔ (ص ۸۱)

بعض مضامین کا تعلق چند ادبی شخصیات (غالب، میرانیس، شبلی، ابوالحسن علی ندوی، جگن ناتھ آزاد، کیفی اعظمی، عرفان صدیقی، مجروح سلطان پوری) اور ان کی تخلیقات سے ہے اور بعض کا تعلق ادب اسلامی کی تحریک کے وابستگان (سہیل احمد زیدی، رشیدکوثر فارقی، طیب عثمانی، ابوالمجاہد زاہد، ابن فرید، علقمہ شبلی، حفیظ میرٹھی) سے___ (رفیع الدین ہاشمی)


جیلانی بی اے، حیات اور ادبی خدمات، بشیراحمد منصور۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۲۰۸۔ قیمت: ۱۵۰ روپے

جیلانی بی اے (۲۷؍اکتوبر ۱۹۲۱ء- ۱۹ جنوری ۱۹۹۰ء) ایک بلندپایہ ادیب اور منجھے ہوئے افسانہ نگار تھے۔ عمر کا آخری حصہ کوچۂ صحافت میں گزرا۔ اس کے ساتھ وہ جماعت اسلامی کے  ایک نمایاں راہ نما کی حیثیت سے بھی قابلِ قدر خدمات انجام دیتے رہے۔جماعت میں امیرضلع فیصل آباد، امیرضلع لاہور اور امیرصوبہ پنجاب کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں۔ صحافت میں وہ ہفت روزہ ایشیا کے مدیر رہے۔ صحافت میں اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی ترقی کو مرکزی حیثیت دیتے تھے۔ اس طرح جیلانی بی اے کی ساری زندگی بامقصد حیات کا ایک نمونہ ہے۔ وہ ایک مقصدیت پسند ادیب تھے۔اسلامیہ کالج لاہور کے زمانۂ متعلمی میں مولانا مودودیؒ کے براہِ راست شاگرد رہے۔ اس نسبت کو انھوں نے عمربھر مولانا مودودیؒ کے راستے پر چل کر بخوبی قائم رکھا۔

بشیراحمد منصور نے زیرنظر کتاب میں جیلانی بی اے کے مذکورہ بالا حوالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی حیات و خدمات کا جائزہ لیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ کتاب ایک تحقیقی مقالہ ہے جو ایم فل اُردو کی سند حاصل کرنے کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔ اب اسے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ مصنف نے کتاب کو چھے ابواب میں منقسم کیا ہے، جن میں جیلانی بی اے کی سوانح اور شخصیت، ان کی افسانہ نگاری، اُن کی مضمون نگاری اور اُن کے قلم سے نکلنے والی دیگر اصنافِ نثر (ترجمہ، تلخیص، رپورتاژ، سفرنامہ، تعزیتی حاشیے اور صحافتی تحریریں)، نیز اُن کے اسلوبِ بیان کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ آخری باب اُن کی مجموعی علمی و ادبی خدمات کے جائزے پر مبنی ہے۔

بشیر منصور نے مقالہ بڑی سلیقہ مندی سے مرتب کیا ہے۔ ان کی یہ ادبی کاوش اس اعتبار سے مستحسن ہے کہ انھوں نے ایک ایسے بلندپایہ ادیب اور افسانہ نگار کو، جو اَب تک گوشۂ گم نامی میں رہا، علمی و ادبی دنیا سے متعارف کروایا اور اس کی علمی و ادبی خدمات کا جائزہ پیش کیا۔ گو، اس مقالے سے جیلانی صاحب کے ادبی اور فنّی کمالات پوری طرح ظاہر نہیں ہوتے، تاہم اُن پر کام کرنے والوں کے لیے یہ کاوش دلیلِ راہ کا کام دے گی۔ معیارِ اشاعت اطمینان بخش ہے۔ موضوع اور شخصیت سے سرورق کی مناسبت قابلِ داد ہے۔ (ساجد صدیق نظامی)

تعارف کتب

  •  بلغ العلٰی بکمالہٖ ،خورشید ناظر۔ ناشر: نشریات، ۴۰-اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۵۵۶۔ قیمت: درج نہیں۔ [سرورق پر ’’اُردو میں ساڑھے سات ہزار اشعار پر مشتمل منظوم سیرت نبویؐ کا ایک مستند شاہکار‘‘ کے الفاظ درج ہیں۔ کُل ۵۶ باب ہیں اور ہر باب کا عنوان کسی نہ کسی مصرعے کو بنایا گیاہے۔ چونکہ خورشید ناظر کی اس کاوش کی بنیاد آنحضوؐر سے سراسر محبت و عقیدت کے جذبات ہیں، اس لیے یہاں شاعری کی فنی خوبیاں تلاش کرنا قرینِ انصاف نہ ہوگا مگر مصنف کی لگن اور محنت قابلِ داد ہے۔ پروفیسر عبدالجبار شاکر کا فاضلانہ مقدمہ (۳۵صفحات) سیرت النبیؐ کے لٹریچر کا ایک جامع احاطہ پیش کرتا ہے۔]
  •  مسجد کے فضائل و احکام ، مولانا مفتی محمد ارشاد۔ ناشر: زم زم پبلشرز، شاہ زیب سنٹر نزد مقدس مسجد، اُردو بازار، کراچی۔ صفحات: ۱۶۸۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔ [مسجد کی تعمیر، صفائی، آبادی، آدابِ مسجد، عبادت کا طریقہ، خواتین اور مسجد، مسجد میں دعائیں، جوتا کیسے رکھیں، بچے مسجد میں، دنیاوی امور اور مسجدوغیرہ۔ غرض کتاب اسی طرح کے ۱۷۲ احادیثی موضوعات اور عنوانات پر مشتمل ہے۔ مرتب جون پور، یوپی، بھارت کے ایک عالم ہیں۔ جن کا خیال ہے کہ ’’موضوع کے متعلق ایسی جامع ترین کتاب شاید آپ [کہیں سے] نہ پا سکیں‘‘۔]
  • مسلمان خواتین کی دینی و علمی خدمات ، پروفیسر سید محمدسلیم۔ ناشر: زوار پبلی کیشنز، اے-۴/۱۷،   ناظم آباد ۴، کراچی ۷۴۶۰۰۔ فون: ۶۶۸۴۷۹۰۔ [مصنف مرحوم کی یہ نہایت مفید کتاب پہلی بار ربع صدی قبل شائع ہوئی۔ اب تیسری بار چھپی ہے۔ مصنف کی غرض یہ تھی کہ اسلامی تہذیب کی علَم بردار خواتین کے کردار و گفتار و اعمال کی ایک جھلک قدرے وسیع تناظر میں پیش کرے۔ عالمِ اسلام بشمول برعظیم میں علومِ قرآن، حدیث، فقہ، شعروادب، تاریخ، فلسفہ، ریاضی، خطاطی، زراعت، تجارت وغیرہ مختلف شعبوں کی ماہر خواتین کا دل چسپ تذکرہ ___ مختصر مگر جامع کاوش۔ آخر میں سید سلیمان ندوی کا مضمون ’خواتین اور جنگی تعلیم‘ شامل ہے۔]
  •  جنت کے پھول از گلدستۂ رسولؐ، تالیف:مفتی محمدمسلم منصوری۔ ناشر:ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ صفحات:۱۴۴۔ قیمت:۱۰۰ روپے۔ [زیرنظر ۴۰ احادیث کے مجموعے مرتب کرنے کی روایت کے تسلسل میں ’اربعین الاطفال‘ کے عنوان سے مرتب کیا گیا ہے۔ بچوں کے حوالے سے اس نوعیت کامجموعہ کہیں کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔مؤلف نے ہر حدیث کی تخریج ، تشریح اوردیگر احادیث کاتذکرہ اورمستند حوالہ جات کااہتمام بھی کیا ہے۔ بچوں کے فرصت کے حوالے سے والدین کے لیے ایک مفید راہ نماکتاب تیار ہوگئی ہے۔]
  •  سرمایۂ اعتبار ،رئیس احمد نعمانی۔ ناشر: مرکز تحقیقات فارسی، کلچرل قونصلر، سفارت خانہ اسلامی جمہوریہ ایران، نئی دہلی۔ صفحات: ۱۸۶۔ قیمت: درج نہیں۔[علی گڑھ میں مقیم جناب رئیس نعمانی معروف ناقد اور فارسی شاعر اور متعدد کتابوں کے مؤلف ہیں۔ یہ ان کی منتخب فارسی شاعری (منظومات، غزلیات، تعزیتی نظمیں وغیرہ) کا مجموعہ ہے۔ اہلِ ذوق اور فارسی خواں استفادہ کرسکتے ہیں۔]
  •  نخل اُمید کا خوش رنگ ثمر ،ڈاکٹر عبدالقدیر اصغر۔ ترتیب و تدوین: ڈاکٹر ممتاز عمر۔ ملنے کا پتا: ۴۷۵-ٹی، کورنگی نمبر۲، کراچی۔صفحات: ۱۳۸۔ قیمت: بلامعاوضہ۔ [مؤلف نے اپنے والد ڈاکٹر عبدالقدیر اصغر کا     مجموعۂ کلام مرتب کیا ہے جو پختہ اور مقصدیت کا حامل ہے۔ منفرد لہجہ، روایتی شاعری سے مختلف ہے، ایک طرح سے آپ بیتی اور عصرحاضر کے ظلم و جبر کے خلاف چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔]

جمیل احمد رانا ، کلورکوٹ، بھکر

’غیرت کو کیا ہوا؟ (ستمبر ۲۰۰۹ء) کے عنوان سے تحریر یکے از شاہکار ہے، جسے ملک کے طول و عرض میں پڑھا اور پڑھایا جانا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو اسے قومی اخبارات میں اشاعت کے لیے بھیجا جائے، تاکہ وسیع تر حلقے میں اس چشم کشا تحریر کے اثرات مرتب ہوسکیں۔ ’جماعت اسلامی بنگلہ دیش: سیکولر دہشت گردی کے سایے میں‘ (اگست ۲۰۰۹ء) ایک معلومات افزا مضمون ہے۔ مشرقی پاکستان، بھارت کی فوجی یلغار اور عوامی لیگ کی مسلح جدوجہد کی وجہ سے بنگلہ دیش بن گیا۔ لیکن اس میں کچھ اور عوامل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، مثلاً امریکی پشت پناہی اور ذوالفقار علی بھٹو کا ’’اُدھر تم، اِدھر ہم‘‘ کا نعرہ اور ’’ٹانگیں توڑ دیں گے‘‘ کی دھمکیاں وغیرہ۔ قوم اس سانحے کو میٹھے گھونٹ کی طرح پی گئی۔ عوام کو تاثر دیا گیا کہ بھوکا بنگال، پاکستان پر بوجھ تھا، وہ اتر گیا اور اب بقیہ پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی، مگر آج بھی عوامی حکومت کی ’کامیابیوں‘ کے جھوٹے اشتہارات ایک شرم ناک حوالہ بن کر سامنے آرہے ہیں۔

ڈاکٹر رضوان ثاقب ، لاہور

سابق امیرجماعت اسلامی محترم قاضی حسین احمد کی خصوصی تحریر میاں طفیل محمدؒ (اگست ۲۰۰۹ء)    دل میں گھر کرگئی۔ میاں صاحب کا ریاست کپورتھلہ میں وکالت سے لے کر وفات تک زہد، تقویٰ ، استقامت اور تحریک کے لیے جہدِمسلسل کو جس اختصار اور جامعیت کے ساتھ قاضی صاحب نے بیان کیا ہے وہ متاثرکن ہے۔ ’دنیا کی بے ثباتی‘ حضرت علیؓ کا خطبہ بے حد اثرآفریں ہے۔ محترم سلیم منصور خالد کا جماعت اسلامی    بنگلہ دیش کے حوالے سے مضمون (اگست ۲۰۰۹ء) فکرانگیز ہے۔ تاہم، پاکستان میں موجود طبقاتی نظامِ تعلیم کے بارے میں بھی قلم کو جنبش دیں، کیوں کہ یہ بُرائی تو ہماری صفوں میں بھی دَر آئی ہے!

نذیرحق ، لاہور

ترجمان القرآن میں معلومات افزا مضمون ’جماعت اسلامی بنگلہ دیش:سیکولر دہشت گردی کے سایے میں‘ (اگست ۲۰۰۹ء) نظرنواز ہوا۔ مضمون کے آخر میں یہ پڑھ کر کہ: ’’بنگلہ دیش مسلم افواج کے سربراہ نے بریگیڈیئر عبداللہ الاعظمی کو کوئی وجہ بتائے بغیر برطرف کر دیا۔ ان کی شہرت انتہائی ذہین، ایمان دار اور   فرض شناس افسر کی تھی، البتہ جرم صرف ایک ہی تھا کہ وہ پروفیسر غلام اعظم صاحب کے صاحبزادے ہیں‘‘۔ زندگی کی بعض شیریں یادیں جو اس خبر کے بعد تلخ ہوگئی ہیں، تازہ ہوگئیں۔ میں اکتوبر ۱۹۸۳ء میں بطور     اخبار نویس وزراے خارجہ کی کانفرنس کی کوریج کے لیے لاہور سے ڈھاکہ گیا تھا۔ دوسرے روز انگریزی     اخبار آبزرور میں خبر پڑھی کہ ڈیفنس کالج سے فارغ ہونے والے لیفٹینوں میںپروفیسر غلام اعظم صاحب کا بیٹا ’اعزازی تلوار‘ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے، اور ساتھ ہی اس نوجوان کی تصویر بھی تھی۔ میں تلاش کرتا ہوا پروفیسر صاحب کے گھر پہنچا۔ ایک نوجوان نے بٹھایا، دوچار منٹ بعد پروفیسر صاحب مسکراتے ہوئے مکان سے باہر آئے۔ میں نے انھیں بیٹے کی کامیابی پر مبارک باد دی۔ وہ بڑے خوش تھے۔ فرمایا: ’’بنگلہ دیش اب ہمارا وطن ہے، بیٹا اپنے وطن کی خدمت کرے گا‘‘، مگر بُرا ہو تنگ نظر قوم پرستی کا، کہ اس نے ایسے لائق اور فرض شناس افسر سے یہ سلوک کیا۔ اللہ خوش رکھے مضمون نگار کو اس نے شیریں اور تلخ یادیں تازہ کر دیں۔

سمیّہ طفیل ،راولپنڈی

ابا جان (میاں طفیل محمدؒ) ترجمان القرآن بہت عقیدت و محبت سے پڑھتے تھے۔ میں نے تو بچپن ہی سے یہ رسالہ اباجان کی میز پر دیکھا ہے، حالانکہ تب وہ بحیثیت امیرجماعت ازحد مصروف رہتے تھے۔ جب بھی انھیں مطالعے کا موقع ملتا تو دیگر جرائد کے مطالعے سے پہلے ترجمان القرآن کے مطالعے کو عموماً اوّلیت حاصل ہوتی جیساکہ اخبارات کے مطالعے کے وقت وہ اللہ کے فرمان، پھر حدیث اور پھر اخبارات کی سرخیاں پڑھواتے تھے۔

میاں صاحب کا ترجمان القرآن سے پہلا تعارف ۱۹۴۰ء میں ہوا تھا جب مستری محمد صدیق صاحب اور چودھری عبدالرحمن صاحب نے انھیں پہلی مرتبہ ترجمان پڑھنے کے لیے دیا تھا۔ اس کے بعد زندگی بھر ترجمان سے رشتہ جوڑے رکھا۔ وہ اس رسالے کو محبت کے ساتھ باقاعدگی سے اپنی اہم ترین مصروفیت کے دوران بھی ہمیشہ زیرمطالعہ رکھتے۔ یہاں تک کہ رحلت سے پہلے مارچ اور اپریل ۲۰۰۹ء کے شماروں کے اہم مضامین میں نے اُن کو خود پڑھ کر سنائے، جب کہ آخری شمارے کے مضامین بقول محترم صفدر علی چودھری صاحب انھیں گھربلاکر سنے۔ یہ میاں طفیل محمدؒ کی ترجمان سے محبت اور وابستگی کا  عملی اظہار تھا کہ تادمِ مرگ یہ رسالہ اُن کا ہمراہی، دوست اور رہنما ساتھی رہا۔

 

نسیم احمد ،اسلام آباد

مغرب زدہ طبقہ اور مبینہ آزاد خیال صحافی پاکستان کو لادین (secular) بنادینے پر مصر ہیں۔ انگریزی اخبارات کے اکثروبیش تر مضامین اور کالموں کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ پاکستان کا مستقبل ملائیت نے تاریک کر دیا ہے۔ قراردادِ مقاصد ملائیت کا شاخسانہ ہے۔ جب تک اس کو ختم نہ کیا جائے پاکستان ترقی نہ کرپائے گا۔

یہ مذہب بے زار طبقہ نہ جمہوریت کا قائل ہے نہ کسی نظریے کا۔ اس طبقے کے مطابق نظریۂ پاکستان ایک بے معنی شے ہے۔ اس کا پہلے کوئی وجود ہی نہ تھا حالانکہ دنیا کا کوئی ملک بغیر کسی نظریے کے قائم نہیں ہوا، خواہ وہ اشتراکیت ہو، سرمایہ داری ہو، سوشلزم ہو، ملوکیت ہو یا اسلام۔کیوں نہ ایسے لوگوں پر قدغن لگائی جائے، کم از کم شور تو کیا جاسکتا ہے! بُرائی کو ہاتھ سے روکا جائے یا زبان سے، یہاں تو دل پر بھی میل نہیں آتا۔

 

ہماری نگاہ میں جس طرح ایسے قیمتی فانوس اور ایسے سنہرے شمع دان کا وجود و عدم برابر ہے جو کسی مزار کے سرہانے بے مصرف شعاعیں بکھیر رہا ہو اور آس پاس کے بیاباں میں انسانی قافلے بھٹک بھٹک کر اور ٹھوکریں کھا کھا کر رہزنوں کا شکار ہو رہے ہوں، بالکل اسی طرح وہ ایمان و تقویٰ قلب و ذہن کے لیے محض ایک سامانِ زیست ہے جو سیاست و تمدن کے ماحول کو روشن کرنے کے لیے میدان میں آنے کے بجاے مسجد کی چار دیواری میں مخالف طاقتوں کے خوف کی وجہ سے پناہ لیے پڑا رہتا ہے۔ ان جسموں کی صحت مندی کس کام کی جو لوگوں کو موت کا شکار ہوتے چھوڑ کر کسی کمین گاہ میں پڑے اپنی قوتوں کی تعمیر___ محض براے تعمیر___ کرتے ہیں۔ اخلاق کا وہ سرمایہ جسے ہمیشہ نقصان کے اندیشے کے پیش نظر تجوریوں میں مقفل رکھا جائے اور جو ہمیشہ غیرپیداآور (unproductive) رہے، اجتماعی زندگی کے لیے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ ایک مسلم فرد اور مسلم جماعت کے پاس اگر کچھ بھی سرمایۂ ایمان و اخلاق ہو تو اسے زندگی کی مارکیٹ میں گردش کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔ پھر اگر صاحب ِ سرمایہ میں صلاحیت ہوگی تو اس کی پونجی منافع لے کے لوٹے گی اور اگر وہ نااہل ہو تو پھر منافع کیسا، اصل پونجی بھی ٹوٹے گی۔ لیکن پونجی کا مصرف ہے یہی کہ وہ مارکیٹ میں گردش کرتی رہے، ورنہ چاہے اس کی مقدار کتنی ہی بڑی ہو، وہ قطعاً کالعدم ہے۔(’اشارات‘، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۳۳، عدد۵، ذیقعد ۱۳۶۸ھ، اکتوبر ۱۹۴۹ء، ص ۴)