۹ مارچ ۲۰۰۷ء کو پاکستان میں شروع ہونے والے عدالتی انقلاب کے قائد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہیں‘ جب کہ مصر میں اس انقلاب کے لیے مدتوں سے جدوجہد جاری ہے۔
۲۱ جون ۲۰۰۷ء کو مصر کے دو جج صاحبان نے اس پیرایے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جسٹس محمود مکی کے بقول: ’’ہمیں جھکانے میں حکومت کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ بلاشبہہ ہمیں معاشی اعتبار سے قتل کیا گیا ہے‘ مگر ہمیں اس بات کی ذرہ برابر فکر نہیں ہے۔ جب تک لوگوں کے دلوں میں ہماری عزت موجود ہے‘ اس وقت تک ہمیں کسی بات کی پروا نہیں ہے‘‘۔ جسٹس ہشام بستاوسی بیان دیتے ہیں: ’’ہم پر چلائے جانے والے مقدمات کی کوئی اہمیت نہیں ہے‘ اصل اہمیت تو اس سوال کو حاصل ہے کہ: مصری عوام کو ایک خودمختار عدلیہ‘ شفاف انتخابات اور قانون کی حکمرانی کب نصیب ہوتی ہے؟ ہماری جدوجہد انھی سوالوں کا جواب حاصل کرنے کے لیے ہے‘‘___ مصر کے ججز کلب (judges club) کے ان اہم ارکان کے یہ جذبات ججوں کی تحریک کی پوری داستان بیان کردیتے ہیں جنھیں ۲۰۰۶ء میں برطرف کردیا گیا تھا۔
مصر میں بڑی اور چھوٹی عدالتوں کے جج حضرات نے ۱۹۳۹ء میں اپنی تنظیم ججز کلب کی رجسٹریشن کرائی تھی۔ پہلے پہل یہ تنظیم محض ایک رسمی سا ادارہ تھی‘ لیکن ۱۹۶۸ء میں ججزکلب نے آزاد عدلیہ کے ذریعے‘ شہری آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ درحقیقت مصری جج‘ جون ۱۹۶۷ء میں اسرائیل کے ہاتھوں مصر کی شکست سے پیدا شدہ سیاسی ‘ سماجی اور معاشی صورت حال سے سخت دل برداشتہ تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں خدشہ تھا کہ کہیں واحد حکمران پارٹی ’عرب سوشلسٹ یونین‘ میں پورا عدالتی نظام جذب ہوکر نہ رہ جائے۔ یہ پہلا موقع تھا جب صدر جمال عبدالناصر کی بدترین آمریت کے مقابلے میں اخوان کے علاوہ کسی دوسری قوت نے آواز بلند کی‘ جب کہ اخوان المسلمون کی صورت حال یہ تھی کہ حکمرانوں نے اگست ۱۹۶۶ء میں سید قطب کو پھانسی دے دی تھی۔ ہزاروں کارکن پابند سلاسل تھے اور ریاستی دہشت پورے ماحول پر مسلط تھی۔ ججوں کے اسی گروہ نے‘ ججوں کی یونین کا الیکشن بھی جیت لیا جس کے جواب میں ۱۹۶۹ء میں صدر ناصر نے ’عدلیہ کے قتل عام‘ کا راستہ منتخب کیا اور چھوٹی بڑی عدالتوں کے ۱۸۹ ججوں کو منصب عدل کی ذمہ داریوں سے برطرف کردیا۔ تاہم ستمبر ۱۹۷۰ء میں‘ ناصر کی موت کے بعد‘ ججوں کی تحریک کے نتیجے میں انورالسادات اور پھر حسنی مبارک نے عدالتی آزادیوں کو کسی حد تک بحال کیا۔
۱۹۸۶ء میں ججز کلب نے ’قومی کانفرنس براے عدل‘ منعقد کی، جس نے عدالتی عمل میں دُوررس اثرات کے حامل مطالبے پیش کیے۔ ۱۹۹۱ء میں ججزکلب نے عدالتی عمل کے لیے ایک جامع دستور منظور کیا‘ لیکن فعال قیادت کی عدم موجودگی کے باعث ’سفارشات و اصلاحات عدلیہ‘ کی تحریک کچھ عرصے کے لیے کمزور پڑ گئی۔ البتہ دسمبر ۲۰۰۴ء میں ایک نئے عزم کے ساتھ ججزکلب نے ۱۹۹۱ء کے عدالتی دستور میں دوٹوک انداز میں ترامیم کرکے‘ مطالبات کو واضح الفاظ میں بیان کیا تاکہ عدالتی عمل میں سے انتظامیہ کی مداخلت اور اتھارٹی کے دبائو سے نجات حاصل ہوسکے۔ ۲۰۰۴ء کے اس دستورِ عدل میں کہا گیا ہے:
دراصل جج حضرت اس نوعیت کے چارٹر کے ذریعے: عدالتی آزادی کو یقینی بنانے اور حکومت و ریاست کی بے جا مداخلتوں اور فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے واقعات کا سدباب چاہتے ہیں۔ ججز کلب بنیادی طور پر نظریاتی فورم نہیں‘ بلکہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر عدالتی اصلاح کے علَم برداروں کی تنظیم اور تحریک ہے۔ مصری آمر جمال ناصر کے پرستار صحافی عبدالحلیم قندیل نے لکھا تھا: ’’ججوں کے ’انقلاب‘ کا مطلب انتظامیہ کی موت ہوتا ہے‘‘۔ اس جملے میں شرارت کا ایک پہلو چھپا ہوا ہے۔ اس حوالے سے مصر کے دانش ور حلقوں میں یہ بات زیربحث آئی کہ: ’’اس تحریک کو ججوں کا انقلاب کہا جائے یا ججوں کی لہر۔ انقلاب ایک سخت لفظ ہے‘ لیکن لہر ذرا نرم لفظ ہے‘ اور لہر کے نتیجے میں سیاسی نظام کے تلپٹ ہونے کا تاثر نہیں ملتا‘‘۔ ویسے بھی ججوں کی یہ تحریک‘ حکومت کے متوازی کسی مقتدرہ کے قیام کی خواہش کا اظہار نہیں ہے‘ بلکہ ان کی اصلاحات کا محور آئینی اور قانونی اختیارات کے آزادانہ استعمال کا حق حاصل کرنا ہے‘ جسے مصری آمروں نے زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔
مصر کا دستور حکومت کو اس چیز کا پابند بناتا ہے کہ تمام انتخابات لازماً عدلیہ کی نگرانی میں ہوں لیکن ججزکلب نے اس شق کی بے حرمتی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’پورے حلقۂ انتخاب میں بظاہر انتخابی عمل کا نگران ایک جج ہوتا ہے‘ لیکن انتخاب کے روز نیچے پورا عملہ حکومتی مشینری کا مقرر کیا ہوتا ہے‘ جس سے جو کام چاہے‘ لیا جاتا ہے۔ جب اور جہاں حکومت‘ پولیس یا مسلح فوجی دستے چاہتے ہیں‘ بے بس جج کو مفلوج بناکر من مانی کرتے اور نتائج کو تلپٹ کردیتے ہیں اور جج بے چارا صداے احتجاج بلند کرنے کے حق سے بھی محروم رہتا ہے‘ چہ جائیکہ وہ اس انتخاب کو منسوخ کرے کہ جس میں انتخاب نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی‘‘۔
ہشام بستاوسی اور محمود مکی‘ ججزکلب کے دو مرکزی قائدین ہیں‘ جنھیں عدلیہ کی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کا اعزاز حاصل ہے۔ مصری حکومت ان کی بے باکی‘ حق گوئی اور پُرعزم بہادری سے خائف رہتی تھی۔ ان دونوں حضرات نے نومبر اور دسمبر ۲۰۰۵ء میں منعقد ہونے والے مصری پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے طریقے اور اعلان کردہ نتائج کو تنقید کا نشانہ بنایا‘ اور کہا: ’’حکومت نے قوم سے خیانت کی ہے‘ دھاندلی کا راستہ کشادہ کیا ہے‘ عوامی راے کو دفن کیا ہے‘ پولنگ اسٹیشن پر جانے والے لوگوں کو پولیس کے دستوں کے ذریعے روکا گیا ہے‘ اور سادہ کپڑوں میں ملبوس ایجنسیوں اور عسکری اداروں کے اہل کاروں نے مخالف راے دہندگان کو ڈرا دھمکا کر انتخاب سے دُور رکھا ہے۔ راے عامہ کے اس قتل عام کو انتخاب کہنا عوام کی توہین ہے‘‘۔
ان ججوں کے مذکورہ بیان پر حسنی مبارک حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر دیوانگی پر اتر آئی اور ۱۳ فروری ۲۰۰۶ء کو اس بیان کو ’ججوں کی سرکشی‘ (judges rebellion) سے موسوم کیا۔ اعلیٰ عدالتی کونسل نے انھیں عدالتی خدمات انجام دینے سے روک دیا۔ حق گو ججوں نے ’کورٹ آف اپیل‘ میں درخواست دائر کی‘ تاکہ وہ اپنا موقف وضاحت سے پیش کرسکیں۔
اب یہ ۲۷ اپریل ۲۰۰۶ء کا منظر ہے۔ قاہرہ کے وسط میں ہائی کورٹ کی عمارت ہے‘ جس کے قرب و جوار میں ججزکلب کا دفتر ہے۔ اس روز ججوں کے کیس کی سماعت تھی۔ لوگ اپنے محسن ججوں کے خلاف روا رکھے جانے والے ظالمانہ سلوک کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ رفتہ رفتہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور ۱۰ہزار پولیس اہل کاروں نے احتجاج کرنے والوں کو گھیرے میں لے لیا۔ مظاہرین کی بڑی تعداد کو گرفتار کرتے ہوئے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہیں پر ۸۰ ججوں نے درجنوں حامیوں کے ساتھ ہفتے بھر کے لیے احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا اور شاہراہ پر بیٹھ گئے۔ پولیس نے وحشیانہ انداز سے ان قانون دانوں پر چڑھائی کردی‘ یوں نظر پڑا جیسے حکومتی سیکورٹی عناصر کسی دشمن ملک کی فوج پر پل پڑے ہوں۔ حالانکہ وہ جج تو محض اپنے دو بھائیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے آئے تھے‘ ان کے ہاتھ میں نہ پتھر تھے اور نہ ڈنڈے۔
حسنی مبارک حکومت‘ عدلیہ کی اس تنقید سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہوگئی جس کے تحت وہ حکومتی طور طریقوں‘ حقوق کی پامالی اور بے ضابطگیوں کو زیربحث لاتے ہیں۔ وہ ملک جہاں ذرائع ابلاغ پر پابندیاں ہیں‘ حزبِ اختلاف کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے‘ انتخابات میں دھاندلی کو حکومتی حق قرار دے دیا گیا ہے اور مالی خیانت کو جدید مصری انتظامیہ کا استحقاق تسلیم کرایا جا رہا ہے‘ وہاں پر صرف ایک جگہ رہ جاتی ہے‘ اور وہ ہیں عدالت کے ایوان‘ جہاں پر بہادر جج وقتاًفوقتاً اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے فیصلے دیتے ہیں۔ ان کا یہی عمل حکومت کے اعصاب کو شل اور دماغ کو پاگل کیے دیتا ہے۔ دراصل مصر میں صرف عدلیہ ہی وہ ادارہ ہے‘ جس نے ۶۰کے عشرے میں کی جانے والی جدوجہد کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ خودمختاری حاصل کرلی تھی‘ جس کا اظہار عدالتی کارروائی اور ججزکلب کی سرگرمیوں کی صورت میں سامنے آتا رہتا ہے۔
۲۱ جون ۲۰۰۷ء کو جوڈیشل کونسل نے ہر دو ججوں کے مقدمے کا فیصلہ سنایا‘ جس میں ہشام بستاوسی کے بارے میں چند سخت جملے لکھے اور محمود مکی کو بری کردیا گیا۔ اس کے بعد ججوں کی تحریک نے سڑکوں کے بجاے عدالت کی کرسی اور اخبارات کے اوراق کو اپنے موقف کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ مصر میں ججوں کی یہ تحریک بہرطور روشنی کی ایک کرن ہے۔ اخوان المسلمون کے جہاں دیدہ رہنما اور پُرعزم کارکن اس تحریک کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہیں۔
اس تحریک کا آغاز ۱۹۶۸ء میں ہوا تھا‘ اور اب ۴۰ برس گزرنے کے باوجود ان میں کسی مایوسی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ ان ججوں نے کبھی سُست روی سے اور گاہے بہ گاہے برق رفتاری سے حق گوئی اورپُرعزم جدوجہد کا علَم بلند کیے رکھا ہے۔ جسے کچھ لوگ ’عدالتی بغاوت‘ بعض افراد ’عدالتی انتفاضہ‘ اور کچھ حضرات ’عدالتی جہاد‘ کہتے ہیں۔ نام جو بھی دیا جائے‘ بہرحال اس تحریک نے غلامی کے رزق پر عدل کی آزادی کو ترجیح دی ہے۔ ملازمت سے برطرفی‘ ڈنڈوں کی بوچھاڑ اور زخموں کی سوغات سے عدلیہ کی سربلندی اور قوم کی آزادی کا سورج طلوع ہونے کی امید باندھی ہے۔ اس تحریک میں مسلم دنیا پر مسلط موت کے سناٹے اور غلامی کے جال کو توڑنے کا پیغام موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس ملک کے جج غلامی کے رزق پر آزادی کی آزمایش کو خوشی خوشی قبول کرنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں‘ اور ان خالی ہاتھ ججوں کے پشتی بان بننے کا اعزاز کن سیاسی و سماجی قوتوں کو حاصل ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں جاری عدلیہ کی بالادستی کی تحریک اور اس کے لیے سرگرم عناصر کے لیے مصر کے ججز کی ’عدالتی جہاد‘ کی یہ تحریک اُمید کی کرن اور روشنی کا پیغام ہے!
سوال: ۱- کیا میڈیکل دواساز کمپنیوں کی رقم سے کوئی ڈاکٹر انفرادی دائرے میں جہاز کا ٹکٹ‘ گاڑی‘ نقد رقم‘ ہوٹل میں قیام کے اخراجات‘ ان کی گاڑی کا استعمال‘ بال پوائنٹ یا ان کی دعوتوں سے استفادہ کرسکتا ہے ‘ کیا یہ جائز ہے؟
۲- اجتماعی دائرے میں کارخیر کے لیے رقم‘ مریض کے لیے دوا‘ علمی اجتماعات کا انعقاد‘ سیمی نار یا علمی و تحقیقی کاموں کے بین الاقوامی پروگرامات میں اسپانسرشپ لی جاسکتی ہے۔
۳- بازار میں ایک ہی دوا مختلف کمپنیوں کی طرف سے مختلف قیمتوں پر دستیاب ہوتی ہے۔ کیا مہنگی دوا لکھی جاسکتی ہے‘ جب کہ مؤثر سستی دوا موجود ہو۔ کیا اثرانگیزی کی بنا پر مہنگی دوا لکھی جاسکتی ہے۔ اس میں گناہ کا احتمال ہے یا نہیں؟
جواب: قرآن کریم کے ہدایت اور خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہونے [وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ o القلم ۶۸:۴] کا واضح مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے مختلف دائروں میں جن کا تعلق چاہے معیشت سے ہو یا معاشرت سے‘ سیاست سے ہو یا عبادات سے‘ تعمیراتی منصوبوں سے ہو یا ایک طبیب‘ استاد یا اہلِ فن کے معاملات کے ساتھ‘ ہرہر شعبۂ حیات میں اصولِ اخلاق اور ان کی تطبیق کے لیے رہنمائی پائی جائے۔ اسی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرہر مسکراہٹ اور ہرہر عمل کو اسوۂ حسنہ قرار دے کر‘ ہمیں یہ دعوت دی گئی کہ آپ کے اسوہ اور قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے روزمرہ کے معاملات کا حل تلاش کیا جائے۔
انسانی جان اور دین کا تحفظ و بقا‘ دو اوّلین مقاصد شریعہ ہیں اور اس لحاظ سے ایک مسلم طبیب کے لیے نہ صرف جان بلکہ دین کے حوالے سے بھی مناسب معلومات رکھنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۲۰ویں صدی کی تحریکِ احیاے دین کے زیراثر سیکڑوں‘ ہزاروں مسلم اطبّا دنیا کے ہرگوشے میں جدید طبی مسائل کے حوالے سے مشاورت‘ سیمی نار اور کانفرنسوں کے ذریعے ان مسائل کے حل میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری نہ صرف علماے کرام کی ہے‘ بلکہ یکساں طور پر ان مسلم اطبّا کی بھی ہے جو دین کا فہم رکھتے ہوں اور شریعت کے اصولوں سے آگاہی رکھتے ہوں۔ ان مسائل کا دیرپا حل اسی وقت ممکن ہے جب طب کی تعلیم کے دوران ہرمسلم طالب علم کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے اتنا آگاہ کردیا جائے کہ وہ حلال و حرام کے فرق کو خود سمجھ سکے اورقرآن و سنت کے واضح اصولوں کو خود استعمال کرتے ہوئے نئے راستے نکال سکے۔
ان اصولوں میں سے دو بنیادی اصول حفظ نفس اور حفظ دین ہیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو دین کی بنیاد جن اصولوں پر ہے‘ وہ ہر مسئلے پر ہماری رہنمائی کرتے ہیں یعنی توحید اور عدل۔
اگر ایک دواساز کمپنی ایک طبیب کو بیرون ملک تفریح کے لیے ٹکٹ‘ رہایش فراہم کرتی ہے تو ظاہر ہے اس کا مقصد کسی مریض کی فلاح یا کسی علمی تحقیق کے ذریعے انسانیت کی جان بچانا نہیں ہوسکتا۔ اس کا واضح مقصد اس طبیب کو ممنون احسان بنا کر اپنی دوا کی زیادہ فروخت اور شہرت ہی ہوسکتا ہے جو بظاہر رشوت اور شہادتِ زُور سے مماثلت کی بنا پر جائز اور حلال قرار نہیں دیا جاسکتا اور اسلامی شریعت کے واضح احکامات کی خلاف ورزی شمار ہوگا۔ اس لیے وہ بیرون ملک سفر کی سہولت ہو یا ذاتی استعمال کے لیے کار کی فراہمی‘ نقد رقم یا دیگر سہولیات کی فراہمی‘ ان میں سے کسی بھی سہولت کو جائز نہیں کہا جا سکتا۔
حد سے حد جس چیز کو گوارا کیا جاسکتا ہے‘ وہ کسی دوازساز کمپنی کی طرف سے تقسیم کیے گئے بال پوائنٹ قلم‘ جس کی بنا پر کوئی طبیب کسی دواسازکمپنی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور جسے اپنی مالیت اور معاوضہ نہ ہونے کی بنا پر رشوت نہیں کہا جاسکتا۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ رمضان المبارک کے آغاز میں بہت سے تجارتی ادارے اوقات سحروافطار طبع کر کے عام فائدے کے لیے تقسیم کرتے ہیں اور گو اس پر ان کے ادارے کا نام چھپا ہوتا ہے لیکن اصل مقصد عوام الناس کو ایک سہولت دینا ہے اور محض اس بنا پر کوئی ان کی دکان سے اشیا نہیں خریدتا۔
سوال کا دوسرا پہلو اجتماعی فوائد یا مصالح عامہ سے ہے‘ یعنی اگر ایک دواساز کمپنی ایک تعلیمی ادارے کو ایک بڑی رقم اس غرض سے دیتی ہے کہ کسی مہلک مرض کے علاج کے لیے تحقیق کروائی جائے اور اس غرض سے محققین کی ایک ٹیم کی تنخواہیں‘ یا لیبارٹری کا قیام‘ یا ایک سائنسی سیمی نار کے انعقاد کے ذریعے اس مرض کے علاج کے راستے دریافت کیے جائیں تو اس صورت میں یہ رقم نہ تو رشوت شمار ہوگی اور نہ اس کی بنا پر محققین شہادتِ زور کے مرتکب ہوں گے۔ ہاں اگر ان محققین کو اس غرض سے رکھا جائے کہ وہ کمپنی کی تیار کردہ کسی دوا کی تعریف و تحسین کریں اور نتائج میں یہ بات دکھائیں کہ یہ دوا دیگر ادویات کے مقابلے میں زیادہ مفید ہے جب کہ حقیقتِ واقعہ یہ نہ ہو تو اس کا یہ عمل اسلامی اصولوں کے منافی اور رشوت اور شہادتِ زور کی تعریف میں آئے گا۔ یہاں معاملہ محض نیت کا نہیں ہے‘ بلکہ ہردوجانب سے شفاف طور پر تحقیق کی نوعیت اور مقاصد کا ہے۔
اگر ایک دواساز کمپنی اپنے منافع کا ۱۰ فی صد حصہ صرف اس کام کے لیے مخصوص کرتی ہے کہ وہ کسی خاص مرض یا کسی خاص دوا کی اثرانگیزی پر تحقیق کرائے گی اس سے قطع نظر کہ وہ دوا اس کی اپنی ساختہ ہو یا محض کیمیائی طور پر تیار کی گئی ہو تو اس رقم کا استعمال مصلحت عامہ کے اصول کی بنا پر جائز اور حلال ہوگا۔ لیکن اگر وہ مشروط طور پر یہ کام کرائے‘ یا اس کا اصل مقصد یہ ہو کہ اس کی دوا دوسروں کے مقابلے میں برتر ثابت کی جائے جب کہ دیگر ادویات بھی ویسی ہی اثرانگیزی رکھتی ہوں تو یہ ایک ناجائز اور غیراخلاقی کام ہوگا جس کی اسلامی شریعت میں کوئی گنجایش نہیں۔
شریعت ایک عمل کے حرام یا حلال ہونے کے ساتھ اُس عمل کے طریقے کو بھی یکساں اہمیت دیتی ہے اور حصولِ مقصد کے لیے جو ذرائع استعمال کیے جائیں‘ وہ بھی اخلاقی اور قانونی لحاظ سے معروف اور بھلائی پر مبنی ہونے چاہییں۔ کسی کام کے لیے اچھی نیت کے بعد اگر ذریعہ منکر اختیار کیا جائے توو ہ کام اچھا نہیں بن سکتا‘ اس لیے طبی اخلاقیات میں بھی ہمیں مقصد اور ذرائع دونوں کو اخلاق کا تابع بنانا ہوگا۔
مصلحت عامہ کے لیے کسی ادارے سے غیرمشروط طور پر امداد لے کر علمی اجتماعات کا منعقد کرنا‘ یا مریضوں کے لیے اُس رقم سے ادویات حاصل کر کے نادار افراد کی مدد کرنا‘ یا ان کی طبی سہولت کے لیے اس رقم سے ایمبولینس خریدنا وغیرہ مقصد اور ذریعہ دونوں کے پیش نظر حرام نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اگر کوئی ادارہ اس قسم کی کسی امداد کے بغیر خود اپنے وسائل سے کام کرسکتا ہے تو لازماً یہ افضل ہے لیکن اگر غیرمشروط طور پر کوئی دواساز کمپنی کسی اجتماعی رفاہی کام کے لیے کوئی رقم مخصوص کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں وہ کسی بدلے کی توقع نہیں کرتی تو اس میں اخلاقی طور پر کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔
بازار میں ایک ہی نسخے سے تیار کردہ مختلف ناموں سے پائی جانے والی ادویات میں بعض اوقات تو کسی ایک عنصر کے تناسب یا اضافے کی بنا پر‘ اگر وہ اضافہ کرنا طبی طور پر ضروری ہو‘ دوا کی قیمت میں فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے اور مصنوعی بھی۔ لیکن اگر اجزا ایک ہیںاور کمپنی کی شہرت کی بنا پر وہ اپنی شہرت کی قیمت وصول کر رہی ہے تو ایک مسلم طبیب کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے مریض کا مفاد دیکھے یعنی یہ کہ اس کی صحت اور جان کے تحفظ کے لیے کون سی دوا زیادہ بہتر ہے‘ چاہے اس کی قیمت دوسری دوا سے ۵۰فی صد کم ہی کیوں نہ ہو۔
بعض اطبا کا یہ خیال کہ اگر وہ مریض کو ایک مہنگی دوا دیںگے تو نفسیاتی طور پر وہ زیادہ مطمئن ہوگا‘ یہ ایک غیراخلاقی فعل ہے۔ دوا کے اجزا اگر یکساں ہوں تو لازمی طور پر ایک کم قیمت دوا کا لکھنا افضل ہے۔ شریعت کا معروف اصول حفظِ مال کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کے مال کو ناجائز طور پر نقصان نہ پہنچایا جائے۔ ایک طبیب یہ جانتے ہوئے کہ ایک اینٹی بائیوٹک کم قیمت ہے اور ایک محض کسی کمپنی کی شہرت کی بنا پر اس سے ۷۰ فی صد زیادہ مہنگی ہے‘ اگر مہنگی دوا تجویز کرتا ہے تو یہ مریض کے مال کو نقصان پہنچانا ہے اور مقاصدِ شریعت سے ٹکراتا ہے۔ ہاں یہ یقین کرنے کی ضرورت ہوگی کہ ایک کم قیمت دوا کے اجزاے عنصری وہی ہوں جو مرض کی اصلاح کے لیے ضروری ہیں۔
اگر تحقیق سے یہ بات معلوم ہو کہ ایک دوا اپنی اثرانگیزی میں دوسری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہوگی لیکن قیمتاً مہنگی ہے‘ جب کہ دوسری قیمتاً کم ہے اور اثرانگیزی میں بھی کم ہے تو طبیب کو فقہی اجتہاد کرنا ہوگا کہ کیا مرض کی نوعیت سرعت کے ساتھ علاج کی متقاضی ہے‘ یا ایک ہلکا اثر کرنے والی دوا بجاے دو دن میں اثر دکھانے کے تین دن میں اثر دکھا دے گی اور اس سے مریض کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ یہ اس کا اجتہاد محض اپنے طبی تجربے کی بنیاد پر ہوگا اور ایسا کرتے وقت وہ اللہ کو حاضر جان کر یہ طے کرے گا کہ کون سی دوا تجویز کرے۔ دراصل ہرطبی راے ایک ذمہ دار اور اجتہادی راے کا مقام رکھتی ہے اور ایک مسلم طبیب کو شریعت کے بنیادی اصولوں سے اتنا آگاہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ضمیر اور علم کی بنیاد پر موقع ہی پر اس طرح کے اجتہادی فیصلے کرسکے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)
س: میں ایک مخدوم (پیر) گھرانے میں بیاہی گئی جس کی عزت اور شرافت کے ڈنکے بجائے جاتے ہیں۔ نیک نامی کا سہرا پشتوں سے سر پر سجا آرہا ہے مگر ان کے مردوں کے طور اطوار اپنی بیویوں کے لیے غیرمہذب اور ظالمانہ ہیں۔ گھر سے باہر اور گھر کے اندر‘ دوسروں کے لیے اور بیوی کے لیے علیحدہ علیحدہ چہرے ہیں۔ انتہائی گھنائونے کردار کے مالک یہ مرد کتنی عورتوں کی عصمتوں پہ ڈاکے ڈالتے ہیں مگر گھر کی عورتیں ایک معمول کا کام سمجھ کر خاموش رہتی ہیں‘ بلکہ خاموش رکھی جاتی ہیں۔ نسل در نسل یہ ظلم کا کھیل جاری ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی عام گھرانوں میں بھی یہ سلسلہ چل نکلا ہے جہاں جذباتی صدمے عورت کا مقدر ہیں۔ گھر کے کسی فرد سے کچھ دادرسی کی کوشش کرو تو ’مرد ایسے کرتے ہی ہیں‘ کہہ کر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ کیا مادی ضروریات پوری کرکے عورت کے حقوق پورے ہوجاتے ہیں؟ میں اسلامی معاشرے میں مرد کی ذمہ داریاں بحیثیت شوہر اور عورت کے حقوق کے بارے میں جانتی ہوں بلکہ سب جانتے ہیں مگر یہ حقوق و فرائض کیا صرف کتابوں تک محدود ہیں۔
کیا مرد کا یہ فلسفہ قابلِ قبول ہے کہ گھر کے باہر کا وقت اس کا اپنا ہوتا ہے‘ جو چاہے کرے‘ جہاں چاہے جائے؟ کیا یہ نکاح کے معاہدے کی خلاف ورزی اور خیانت نہیں؟ کیا رنگین مزاجی کسی مرد کی ایسی عادت ہے کہ وہ اس سے عمر کے کسی حصے میں بھی چھٹکارا نہ پاسکے؟ اس کو فطرت کا حصہ سمجھ کر خود کو معذور جانے کہ چھٹکارا مشکل ہے؟
اسلام خاندانی نظام کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے۔ مصائب دنیا کے بعد آخرت میں کامیابی ہوجائے تو بُرا سودا نہیں۔ اچھی امید پر میں نے ایک مدت گزاری ہے مگر اب میری ہمت جواب دے گئی ہے۔شادی کے ۳۰ سال بعد بھی ایک باوفا‘ نیک نیت بیوی کی کوئی قدروقیمت نہیں۔ زبان اور ہاتھ کے رویے‘ جذباتی صدمے‘ کیا کچھ میں نے برداشت نہیں کیا۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ دوسروں کے استفسار پر پردہ پوشی کی۔ بچوں کے باپ ہونے اور شوہر ہونے کی لاج رکھی۔ ان کی وجہ سے بچوں کے رشتوں میں کتنی مشکل اٹھائی۔ ان کے رویے اور کردار سے معاشرے میں میری بھی رسوائی ہوئی۔ میں نے سب اچھی امید اور بڑھاپے میں تو سکون ہوگا‘ کی توقع کے ساتھ برداشت کیا۔ اب میں کہاں کھڑی ہوں؟ اللہ سے تو ان شاء اللہ اجر کی پوری امید ہے___ کیا اب خلع لوں؟
عورت کی داد رسی کے لیے قرآن و حدیث کے حوالے سے رہنمائی دیجیے۔
ج: ظلم بھری داستان پڑھ کر صدمہ ہوا۔ جس خاندان کو دین کے نام پر عزت ملی ہو‘ اس کی طرف سے دین کی حرمت پامال کی جائے‘ عصمت و عفت کی چادر کو تار تار کردیا جائے‘ اپنے گھروالوں کی عزتِ نفس اور حقوق پامال کیے جائیں‘ یہ تو دوہرا ظلم ہے۔
نکاح کا مقصد نسلِ انسانی کو پھیلانے میں اپنے حصے کا فرض ادا کرنا ہے۔ نکاح کے ذریعے عصمت و عفت کا سامان ہوتا ہے اور خاندانی نظام وجود میں آتا ہے جو محبتوں کے حصار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماں باپ‘ دادادادی‘ نانا نانی‘ بیٹا بیٹی‘ پوتا پوتی‘ نواسا نواسی‘ بہن بھائی‘ چچا تایا‘ ماموں‘ خالہ‘ پھوپھی وغیرہ خاندانی رشتے‘ سب محبت کے رشتے ہیں۔ ان رشتوں کے ذریعے انسان کو سکون اور راحت ملتی ہے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ و مامون سمجھتا ہے۔ ان سب رشتوں کی اساس میاں بیوی کا رشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً ج وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا o(النساء ۴: ۱) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنیا میں پھیلا دیے۔ اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو‘ اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔
یہ خاندانی نظام اور رشتے اسی وقت قائم رہ سکتے ہیں‘ جب کہ نکاح مرد اور عورت دونوں کو پاک باز بنا دے۔ عفت و عصمت عورت ہی کے لیے نہیں‘ بلکہ مرد کے لیے بھی ضروری ہے۔ مرد اگر رنگین مزاج ہو‘ آوارہ عورتوں کو کھلاتا پلاتا اور ان کے ذریعے شہوت کی تسکین کرتا ہو تو اس کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوں گے‘ ان کی ماں تو ہوگی لیکن باپ نہ ہوگا۔
نکاح سے پہلے اگر کوئی بالغ مرد اور بالغ عورت زنا کی مرتکب ہو تو اس کی سزا ۱۰۰ کوڑے ہیں‘ اور نکاح اور شادی کے بعد کوئی اس کا ارتکاب کرے تو اس کی سزاسنگساری ہے۔ جو مرد نکاح کے بعد رنگین مزاجی کا مظاہرہ کرتا ہے‘ وہ درحقیقت اپنی بیوی کی عزت و حرمت اور جذبات کو بھی پامال کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں اس کے لیے کڑی سزا رکھی گئی ہے۔ اگر اس کے خلاف زنا کے چار چشم دید گواہ موجود ہوں‘ یا وہ اس کا اقرار کرے تو اس کی سزا رجم ہے‘ اور اگر چار عینی گواہ یا اقرار نہ ہو لیکن ایک دو گواہ موجود ہوں‘ یا قرائن موجود ہوں‘ تو عدالت اسے تعزیری سزا دے گی اور کوڑے لگائے گی۔ اگر یہ قانون نافذ العمل ہو اور حکومت ایسے ہاتھوں میں ہو جو اس قانون کو نافذ کرنے والے ہوں تو پھر خواتین پر نام نہاد شرفا ظلم نہ کرسکیں۔
آپ جیسی مظلوم خواتین کو موجودہ قانون‘ قانون نافذ کرنے والے‘ حکومت اور عدالتیں تو انصاف فراہم نہیں کرسکتیں۔ رہی سوسائٹی تو وہ بھی بقول آپ کے ظالم مردوں کے ظلم کے لیے تاویلیں تلاش کرتی ہے‘ لیکن وہ بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ شرفا کو چاہیے کہ اپنے خاندان کے رنگین مزاجوں کو نصیحت اور تنبیہہ کے ذریعے راہِ راست پر لائیں‘ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کریں‘ انھیں آخرت کے عذاب سے ڈرائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر زناکار مردوں اور عورتوں کے ہولناک مناظر دیکھے۔ آپؐ نے دیکھا کہ ایک تنور ہے جس میں مرد اور عورتیں ہیں۔ جب آگ کے شعلے اُوپر کو اُٹھتے ہیں تو یہ اوپر آجاتے ہیں‘ اور جب شعلے نیچے چلے جاتے ہیں تو یہ مرد و عورت بھی تنور میں نیچے چلے جاتے ہیں۔ جبرئیل ؑ سے آپؐ نے پوچھا کہ یہ مرد اور عورتیں کون ہیں؟ جبرئیل ؑ نے جواب دیا کہ زناکار مرد اور عورتیں ہیں۔ (بخاری)
آخرت کے عذاب سے ڈرانا اور اصلاح کرنا فرض ہے۔ جس معاشرے میں یہ کام نہ ہو‘ لوگ آزادی سے گناہ کے مرتکب ہوں‘ مجرم اور خاموش معاشرہ دونوں پر عذاب کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسلام ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جس میں مجرم کو قانون کی گرفت میں آنے اور معاشرے میں ذلیل و رسوا ہوجانے کا خدشہ ہو۔اسے احساس ہو کہ اگر قانون کی تلوار سے بچ گیا تو معاشرے ذلت و رسوائی سے نہیں بچ سکے گا۔ اس لیے ایک دو دفعہ جرم کا ارتکاب تو شاید کرے لیکن عادی مجرم بن کر زندگی نہیں گزار سکتا۔
ہمارا موجودہ معاشرہ جاہلی معاشرہ ہے۔ اس لیے یہاں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں پامال ہوتے ہیں۔ آپ کا یہ کہنا بجا ہے کہ جہاں عورت بے حیائی اور خیانت کی مرتکب ہو تو مرد غیرت کھاتا ہے۔ اسی طرح بعینہٖ اگر مرد بے حیائی اور بدکاری کا مرتکب ہو تو عورت غیرت کھاتی ہے۔ آپ یا دوسری خواتین کا اپنے رنگین مزاج شوہروں پر غیرت کھانا بالکل جائز ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آپ کا احساس اور تکلیف بجا ہے۔ زندگی بھر تکلیف میں گزار دی‘ شوہر کو نہ قانون نے روکا‘ نہ معاشرے نے۔ دونوں نے اپنا فرض ادا نہ کیا۔ نفسانی خواہشات پوری کرنے کا شوق تو لوگوں کو بہت ہے لیکن جب کل بازپُرس ہوگی اور سزا سنائی جائے گی تو اس وقت ہوش اُڑ جائیں گے۔ لیکن اُس وقت پچھتانے اور واویلا کرنے کا کیا فائدہ؟
آپ کے سامنے کئی راستے ہیں: ایک یہ کہ جوانی میں تکلیف دہ زندگی بسر کرلی تو اب بڑھاپے میں اپنی عزت‘ اولاد کی حفاظت کی خاطر مزید صبر کریں۔ شاید اسی صبر کی بدولت آپ کے شوہر کو ہدایت نصیب ہوجائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ عدالت کی طرف رجوع کرکے طلاق حاصل کرلیں اور پھر عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کرلیں (اگرچہ ہمارے معاشرے میں نکاح جیسے جائز کام کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اسے بے عزتی سمجھا جاتا ہے لیکن اگر مناسب رشتہ ملے تو اسے بے عزتی سمجھنے کے بجاے عزت سمجھنا چاہیے۔ اولاد کو بھی اس میں رکاوٹ ڈالنے کے بجاے حمایت کرنا چاہیے۔ یہ شرم کی بات نہیں ہے)۔ تیسری صورت یہ ہے کہ پنچایت کے ذریعے شوہر کی اصلاح کریں‘ یا طلاق حاصل کرلیں۔
ان تینوں صورتوں میں سے کون سی صورت اختیار کرنا بہتر ہے؟ یہ آپ کے سوچنے کا کام ہے۔ جلدبازی نہ کیجیے۔ خوب سوچ سمجھ کر اور قریبی رشتہ داروں سے مشورہ کرکے کوئی ایک صورت اختیار کرلیں۔ ہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ہماری ناقص راے میں پہلی صورت بہتر ہے۔ اس میں آپ یہ اضافہ کرسکتی ہیں کہ معاشرے کے اچھے‘ بااثر لوگوں کے ذریعے شوہر پر دبائو ڈال کر اس کی اصلاح کی کوشش بھی کریں۔ واللّٰہ اعلم (مولانا عبدالمالک)
’رسائل و مسائل‘ کے زیر عنوان جو روایت مولانا مودودی مرحوم نے قائم کی‘ اسے ان کے تربیت یافتہ افراد نے اپنے مقدور بھر زندہ رکھنے کی کوشش کی۔ چنانچہ جسٹس ملک غلام علی مرحوم اور خرم مراد مرحوم کے قلم سے نکلے ہوئے جوابات اس سے قبل کتابی شکل میں طبع ہوچکے ہیں۔ اب اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ادارہ معارف اسلامی لاہور نے شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک کے تحریر کردہ جوابات جو ۱۹۸۲ء سے ۲۰۰۱ء کے دوران ترجمان القرآن میں طبع ہوئے ہیں‘ ایک جلد میں شائع کردیے ہیں۔ کتاب ۱۱ ابواب اور چار مقالات پر مبنی ہے۔ ابواب کے عنوانات یوں ہیں:
مولانا عبدالمالک کی فقہی آرا ان کی بصیرت کا روشن ثبوت ہیں۔ مولانا عموماً معروف حنفی مصادر کے حوالے سے اپنی راے کا اظہار فرماتے ہیں لیکن اعتدال و توازن کو کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اسی بنا پر بعض حساس موضوعات پر بھی ان کی راے کسی فریق کے جذبات کو مجروح نہیں کرتی۔ اس کی عمدہ مثال مشرک کے پیچھے نماز (ص ۸۶-۸۷)‘ بریلوی امام کے پیچھے نماز (ص ۶۱ تا ۸۲) جیسے موضوعات پر تحریر کردہ جوابات ہیں۔ باب ہفتم اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں جدید معاشی مسائل پر مدلل آرا کا اظہار کیا گیا ہے۔ ادارہ معارف اسلامی اس کتاب کو طبع کرنے پر مبارک باد کا مستحق ہے۔(ڈاکٹر انیس احمد)
اسلام پر پاکستان کی نظریاتی اساس کسی شک و شبہے سے بالا حقیقت ہے۔ تاہم‘ قیامِ پاکستان کے روز ہی سے‘پاکستان میں اسلام اور سیکولرزم کی بحث شروع ہوگئی تھی۔ ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو پہلی دستور ساز اسمبلی نے اس بحث کا مسکت جواب ’قراردادمقاصد‘ کی منظوری کی صورت میں دیا‘ اور پاکستان کی نظریاتی سمت کو قرارداد مقاصد کے آئینی اور قانونی اعتبار سے متعین کردیا۔ بعدازاں ۱۹۵۶‘ ۱۹۶۲ء اور ۱۹۷۳ء کے دساتیر میں اسے محض دیباچے میں جگہ دی گئی ہے اور ریاست و حکومت اس سے بے نیاز رہے۔ البتہ ۱۹۷۲ء میں جسٹس حمودالرحمن نے ’عاصمہ جیلانی کیس ۱۹۷۲ء‘ میں اس دستاویز کی اہمیت اور دساتیر میں نظرانداز کرنے کے المیے کی جانب لطیف پیرایے میں توجہ دلائی۔
جنرل محمد ضیاء الحق نے قرارداد مقاصد کو دستور کے مقدمے کے بجاے دستور کا مؤثر حصہ بنا دیا۔ جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے ’سکینہ بی بی کیس ۱۹۹۲ء‘ میں فیصلہ دیاکہ دفعہ ۴۵ میں مندرج صدر پاکستان کے اختیارات‘ قرآن و سنت کے پابند ہیں۔ مگر سپریم کورٹ نے ’حاکم خاں کیس ۱۹۹۲ء‘ میں اس کے برعکس فیصلہ دیا:
۱-قرارداد مقاصد کی حیثیت کو محدود کر کے ایک رسمی خواہش کے دائرے میں بند کرنے کی کوشش کی۔ سردار شیرعالم ایڈووکیٹ [م: ۱۰ اپریل ۲۰۰۷ء] نے اس فیصلے کی شدت کو قلب و روح کی گہرائیوں میں محسوس کیا‘ اور اس کا فکری‘ دستوری اور اسلامی بنیادوں پر نہایت فاضلانہ تجزیہ تحریر کیا۔ جس نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے پیدا شدہ صورت حال کو زیرغور لانے کے لیے سنجیدہ بنیاد فراہم کی۔
زیرنظر کتاب کا مرکزی حصہ اسی مقالے کا رواں اُردو ترجمہ (ص ۱۲۵-۱۸۹) چودھری محمد یوسف نے کیا ہے‘ جب کہ اسی مناسبت سے چند تحریریں اور ۱۹۹۲ء کے مذکورہ دونوں فیصلوں کا بھی ترجمہ پیش کردیا گیا ہے۔(سلیم منصور خالد)
اگرچہ آثارِ قدیمہ کو محض عمارات تک محدود نہیں کیا جاسکتا‘ تاہم عرفِ عام میں مذکورہ ترکیب سے ’عمارات‘ ہی مراد لی جاتی ہیں اور زیرنظر کتاب میں بھی اسی حوالے سے مختلف النوع عمارات کے بارے میں تاریخی حقائق اور صورتِ واقعہ پر مبنی‘ مفید معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں۔
فاضل مصنف آثارِقدیمہ کے مختلف اداروں اور شعبوں سے وابستہ رہے‘ باقاعدہ خطاط بھی ہیں۔ اس فن میں انھیں حافظ یوسف سدیدی مرحوم‘ سیدنفیس رقم اور صوفی خورشید رقم کا تلمذ حاصل ہے۔ ان دنوں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج‘ آرٹ اینڈ کلچر (حکومت پنجاب) میں بطور ڈپٹی ڈائرکٹر کام کر رہے ہیں۔
زیرنظر کتاب میں آٹھ باغات (ہرن منار‘ شالامار‘ بارہ دری وزیرخاں ‘ چوبرجی وغیرہ) ۱۲مقبروں (نورجہاں‘ آصف خاں‘ انارکلی‘ مہابت خاں‘ علی مردان وغیرہ) دس قلعوں (اٹک‘ روات‘ شاہی قلعہ وغیرہ) اور آٹھ مساجد (وزیرخاں‘ چینیاں والی‘ حمام والی اور بادشاہی مسجد وغیرہ) کے بارے میں خاصی تحقیق اور تجسس کے بعد تاریخی معلومات‘ حوالوں اور اعدادوشمار کے ساتھ فراہم کی گئی ہیں۔ تصاویر بھی شامل ہیں۔
’پنجاب کے فنِ تعمیر‘ کے تذکرے میں مصنف کا یہ تاثر درست معلوم نہیں ہوتا کہ پنجاب اپنا کوئی منفرد فن تعمیر رکھتا ہے‘ یا یہاں ’ایک خاص فن تعمیر کی بنیاد‘ رکھی گئی۔ دراصل پنجاب کی مساجد‘ مقبروں اور مختلف عمارتوں میں بے حد تنوع ہے اور یہ اس لیے ہے کہ یہ فن تعمیر اسلامی اور ہندی تہذیب و تمدن کی روایات اور افغانی اور وسط ایشیائی حملہ آوروں کے اثرات کے نتیجے میں تشکیل پذیر ہوا۔ اس اعتبار سے پنجاب کا فن تعمیر مختلف تعمیراتی فنون کا جامع ہے اور اسی لیے اس کے مختلف علاقوں میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مکانات اورمقبروں حتیٰ کہ عام قبروں تک کی شکل و صورت بھی بدل جاتی ہے۔
کتاب خاصی محنت و کاوش سے لکھی گئی ہے۔ تعجب ہے کہ ۳۷ مآخذ کی فہرست (کتابیات) میں ان اُردو کتابوں کے نام نہیں دیے گئے جو ’حوالہ جات‘ کے تحت مذکور ہیں۔ کتاب میں فنی تدوین کی کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ اتنی اچھی تحقیقی کتاب میں فنی تدوین کی کمی اور فنِ اِملا و رموزِ اوقاف سے بے توجہی کھٹکتی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
رشیدحسن خاں کا نام اُردو زبان کے ایک نمایاں محقق اور زبان‘ لغت اور املا کی اصلاح و ترقی کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اپنے موضوع پر ان کی زیرنظر تصنیف ایک اہم تحقیقی کاوش ہے‘ جو بھارت کے سرکاری اشاعتی ادارے سے دو بار شائع ہوئی اور اپنی افادیت کے باعث طلبہ‘ قارئین اور علما و محققین میں مقبول ہوچکی ہے۔
کتاب کا دیباچہ بجاے خود ایک تصنیف کا درجہ رکھتا ہے۔ اس میں محقق نے رسمِ خط اور املا‘ املا میں تغیر اور اصلاح‘ اصلاح اور صحت‘ خطاطی‘ رسمِ خط اور املا اور املا کی معیاربندی کے بعد املا کی ازسرنو تعریف متعین کی ہے۔ انھوں نے مرکبات کی درست املا اور مرکبات کو الگ الگ لفظوں میں لکھنے کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو کی ہے۔
کتاب عملاً چار حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں املا کے مسائل کو الف بائی انداز میں منضبط کیا گیا ہے۔ الف (الف ممدودہ‘ الف اور ہاے مختفی‘ الف تنوین)، ت ۃ، ت ط، ذزژ، س ص ض، ک گ، ن و، ہ (ہاے ملفوظ، ہاے مختفی، ہاے مخلوط)‘ ہمزہ (ہمزہ اور الف، ہمزہ اور واو، ہمزہ اور ہاے مختفی، ہمزہ اور ی) وغیرہ پر مفصل بحث کر کے املا کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے حصے میں گنتیاں‘ لفظوں کو ملا کر لکھنا‘ نقطے‘ شوشے‘حرفوں کے جوڑ‘ نسخ و نستعلیق کی بعض خصوصیات اور اعراب‘ علامات اور رموزِ اوقاف کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ تیسرا حصہ املاے فارسی کی ذیل میں ہندستانی فارسی اور کلاسیکی ایرانی فارسی کے املا اور املاے فارسی جدید کے لیے مختص کیا گیا ہے‘ جب کہ چوتھے حصے میں تدوین اور املا، اور لغت اور املا جیسے اہم موضوعات کو چھیڑا گیاہے۔ آخر میں بعض اہم الفاظ کا اشاریہ دے دیا گیا ہے۔
محقق نے اپنی تصنیف میں ماضی میں املا کے مسائل کے بارے میں لکھی جانے والی مستند اور قابلِ قبول تحریروں کی مدد سے اصول و قواعد مرتب کیے ہیں اور انھی کی روشنی میں دیگر الفاظ کو قیاس کے دائرے میں لایا گیا ہے‘ تاہم اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ مسلمات کی خلاف ورزی ہو اور نہ خواہ مخواہ کی جدت طرازی۔
امید ہے کہ مجلس ترقی ادب‘ شہزاد احمد کی سرپرستی میں علم دوستی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے اسی معیار کی کتابیں شائع کرتی رہے گی۔ (ڈاکٹر خالد ندیم)
عصرِحاضر میں‘ اسلام کی تیزرفتار اشاعت اور کثرت سے غیرمسلم افراد کا مشرف بہ اسلام ہونا اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ ہر دور کی طرح اسلام آج بھی زندہ اور متحرک قوت ہے‘ اور انسانیت کا واحد نجات دہندہ بھی۔ یہ انسان کی مادی اور روحانی ضرورت کو بہ طریق احسن پورا کرتا ہے۔ یہ کائنات کا فطری دین ہے جو بنی آدم کو سکونِ قلب جیسی لازوال نعمت عطا کرتا ہے۔
کتاب کا ابتدائیہ متاثر کن اور اپنے موضوع پر کئی حوالوں سے معلومات افزا ہے۔ طرزِنگارش عمدہ ہے۔ یہ اسلام قبول کرنے والی خواتین کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں دنیا کے مختلف ممالک کی ۱۰۰ سے زائد نومسلم خواتین کے قبولِ اسلام کی سچی داستانیں اور ان کے انٹرویو شامل ہیں۔ یہ ایمان افروز‘ روح پرور اور وجدآفرین سوانح عمریاں جو سبق آموز ہونے کے ساتھ دل چسپ خودنوشت کا رنگ لیے ہوئے ہیں‘ بلاشبہہ ایسی قابلِ فخر مثالیں ہیں جنھیں عام کیا جانا چاہیے۔
ان خواتین کے زندہ و بیدار ایمان‘ ان کی طلبِ علم اسلام‘ ان کے اندر کام کرتا ہوا جذبۂ تعمیر اور جس استقامت و عزیمت سے انھوں نے راہِ حق میں پہنچنے والی ایذائوں کو برداشت کیا‘ کو دیکھ کر قاری اپنے ایمان میں تازگی‘ سرور اور مزید پختگی محسوس کرتاہے اور ایک جذبۂ ندامت بھی کہیں جاگتا ہے کہ ہم کیوں شعوری اور عملی مسلمان نہیں بن پارہے؟
امید ہے کہ مرتبین کی یہ کاوش دعوتِ اسلامی کے فروغ میں مفید ثابت ہوگی۔ مسلمانوں اور خصوصاً غیرمسلم اصحاب کو بطورِ تحفہ پیش کرنے کے لیے ایک بہتر چیز ہے۔ کیا خبر کون سی بات کس کے لیے ہدایت کا سبب بن جائے۔ (ربیعہ رحمٰن)
مولانا مودودی علیہ الرحمہ کو زندگی میں ایک جانب ملحدین‘ اباحیت پسندوں‘ کمیونسٹوں‘ قادیانیوں اور منکرین حدیث وغیرہ کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری جانب متعدد علما نے بھی اس تنقیدی یلغار میں حسبِ توفیق اپنا حصہ ڈالا۔ مولانا مودودی مرحوم کے فاضل رفقا میں سے چند احباب نے بروقت اس تنقید کا جائزہ لیا اور علمی پہلوؤں سے بھی تجزیہ پیش کیا۔ زیرنظر کتاب درحقیقت انھی جوابی تحریروں کے چیدہ چیدہ اقتباسات کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔
جن موضوعات پر اقتباسات کو پیش کیا گیا ہے‘ فی زمانہ ان حوالوں سے مولانا مودودی پر کم ہی تنقید کی جاتی ہے‘ البتہ ’نائن الیون‘ کے بعد کے حالات میں انھیں دوسرے موضوعات کی بنیاد پر ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے اور اس کام میں بھی مقدس اور غیر مقدس دونوں حلقے اپنا کام کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر: اسلام اور ریاست کا تعلق‘ عورتوں کے حقوق‘ اسلام: جہاد یا دہشت گردی‘ دعوت کی ذمہ داری‘ فریضۂ اقامتِ دین کی حقیقت وغیرہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پروپیگنڈے کا مناسب جواب دیا جائے۔ کتاب کی تدوین میں ضمنی سرخیوں کے اضافے‘ اشاریے کی تدوین اور تمام حوالہ جات کی صحت کے اہتمام سے کام کی اہمیت دوچند ہوجاتی۔ (س-م-خ)
ہر عہد کے اپنے تقاضے اور چیلنج ہوتے ہیں جن سے باخبر رہنا ایک استاد کے لیے ناگزیر ہے‘ اس لیے کہ معمارِ قوم کی حیثیت سے اسے ایک نسل کی تربیت کرنا ہوتی ہے جسے مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ زیرنظر کتاب‘ مصنفہ نے اسی مقصد کے پیش نظر تحریر کی ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ نائن الیون کے سانحے کے بعد اُمت مسلمہ کو نئے مسائل کا سامنا تھا۔
تعلیم‘ نصابِ تعلیم اور نظامِ تعلیم کے اصول و مبادی اور اصولی مباحث‘ نیز تعلیم کے نام پر کی جانے والی سازشوں کے علاوہ موجودہ تعلیمی منظرنامہ‘ سیکولرنظامِ تعلیم اور درپیش جدید چیلنج زیربحث آئے ہیں۔ معلم اعظمؐ کا اسوئہ حسنہ‘ مثالی نظامِ تعلیم‘ تعمیر معاشرہ میں استاد کا کردار اور جدید چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے اصولی رہنمائی دی گئی ہے‘ جب کہ خواتین اساتذہ کے خصوصی کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ (حمید اللّٰہ خٹک)
دسمبر ۱۹۹۲ء میں ہندو جنونیوں نے بابری مسجد کو شہید کیا‘ مگر اس المیے کے دوران کم از کم کوئی مسلمان اس مسجد میں موجود نہیں تھا۔ جولائی ۲۰۰۷ء کو لال مسجد اسلام آباد کو وحشیانہ فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اور اس سے منسلک جامعہ حفصہ کی طالبات کو زمینی اور فضائی فائرنگ کے نتیجے میں کیمیاوی ہتھیاروں کی بارش سے جلا کر راکھ کردیا گیا۔ جامعہ کے منتظمین کے بقول ایک ہزار سے زائد مسلمان طالبات بھی شہید ہوگئیں۔ صدافسوس کہ یہ حادثہ مملکت خداداد پاکستان میں ہوا۔
اس سانحے کے اسباب‘ کردار اور نتائج پر بحث ہوتی رہے گی‘ اور اس کرب کی ٹیسیں مدتوں تک محسوس کی جاتی رہیں گی۔ زیرنظر کتاب کے فاضل مؤلف نے غیر جذباتی انداز میں مسئلے کے کرداروں کو بے نقاب کرنے اور جامعہ پر حملے کے ’جواز‘ کا مؤثر استدلال سے جواب دینے کی قابلِ ستایش کوشش کی ہے۔ ایک رخ تو وہ تھا جسے حکومتی حلقوں نے اشتہاروں اور کالموں کی صورت میں شائع کیا اور شب و روز ریڈیو‘ ٹی وی سے الاپا۔ اس یک رخی ابلاغی جارحیت کا ایک جگہ پر جواب بڑی حد تک کتاب کے باب ’تصویر کا دوسرا رخ‘ (ص ۱۷-۴۹) میں پیش کیاگیا ہے۔
کتاب میں مرزا محمد اسلم بیگ‘ پروفیسر خورشیداحمد‘ سمیحہ راحیل قاضی‘ ڈاکٹر شاہد مسعود‘ مولانا زاہد الراشدی‘ مفتی محمد رفیع عثمانی‘ مولانا فضل الرحمن خلیل‘ مولانا عبدالعزیز‘ غازی عبدالرشید‘ چودھری شجاعت حسین اور جنرل پرویز مشرف کی تحریر و تقریر کے متعلقہ حصوں کو سلیقے سے پیش کیا گیا ہے۔ ایک انفرادیت شہید ہونے والی جامعہ حفصہ کی نایاب تصاویر ہیں۔ (س-م-خ)
’ازواج مطہراتؓ کا اسلوب دعوت‘ (نومبر ۲۰۰۷ء) کے ذریعے اُمہات المومنینؓ کی سیرت کا ایک اہم پہلو نمایاں ہوکر سامنے آیا۔ موجودہ دور میں اُن مستورات کو جو دعوتِ دین کا فریضہ انجام دے رہی ہیں ازواجِ مطہراتؓ کی پیروی کرتے ہوئے امربالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ بلاخوف ادا کرنا چاہیے۔ اس لیے بھی کہ موجودہ حالات میں اس کی شدید ضرورت ہے۔
’فوج، وزیرستان اور پروفیشنل ازم‘ (نومبر ۲۰۰۷ء) قابلِ غور ہے۔ اُمت مسلمہ کی یہ بدقسمتی ہے کہ اس کے تمام سیاسی اور انتظامی ادارے فوج کے تسلط میں ہیں۔ اُمت مسلمہ کے مسائل سے دل چسپی رکھنے والے حضرات بالخصوص اسلامی تحریکوں کو‘ فوج اور بیوروکریسی کے نظام کا گہرا مطالعہ اور ناقدانہ جائزہ لینا چاہیے‘ اور پاکستانی معاشرے اور دیگر مسلم معاشروں کو پیش نظر رکھ کر اثرنفوذ کی راہیں تلاش کرنی چاہییں اور حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔
’قصہ کشکول ٹوٹنے اور قرضوں کے انبار بڑھ جانے کا‘ (اکتوبر ۲۰۰۷ء) میں آپ نے جس طرح اعداد وشمار کی روشنی میں پاکستان کی اقتصادی حالت اور ہماری ملکی معیشت پہ آئے دن بیرونی قرضوں کے اضافے کا تجزیہ پیش کیا‘ وہ قابلِ تحسین ہے۔امید ہے آیندہ کسی اشاعت میں ’بیرونی قرضوں کی ادایگی اور پرائیویٹائزیشن‘ کے موضوع پر بھی لکھیں گے کیونکہ پرائیویٹائزیشن کے حق میں حکمرانوں کا موقف تھا کہ اس سے حاصل ہونے والی رقم سے قرضوں کی ادایگی ہوگی۔ کیا واقعی ایسا ہوا؟
محترمہ شمع سلیم کا مضمون ’مومن کاوصیت نامہ‘ (اکتوبر ۲۰۰۷ء) زیرمطالعہ رہا۔ انھوں نے اس مضمون میں بہت خوب صورتی‘ سلیقے سے اور مؤثر انداز میں وصیت کا ایک پیارا سا خاکہ کھینچا ہے۔ اللہ انھیں اجرعظیم سے نوازے۔ آمین! یہ مضمون واقعی اور حقیقی معنوں میں ان کاوصیت نامہ بھی بن گیا۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد ۱۳ اکتوبر ۲۰۰۷ء کو کار کے ایک حادثے میں وہ جاں بحق ہوئیں۔انا للّٰہ وانا الیہ رٰجعون
ستمبر ۲۰۰۷ء کے شمارے میں تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس کے ترجمے پر تبصرہ شائع ہوا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا تقی عثمانی کی مندرجہ ذیل عبارت قابلِ توجہ ہے: ’’ہمارے زمانے میں ایک کتاب تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس کے نام سے شائع ہوئی ہے‘ جسے آج کل عموماً تفسیر ابن عباسؓ کہا جاتا ہے اور اس کا اُردو ترجمہ بھی شائع ہوگیا ہے۔ لیکن حضرت ابن عباسؓ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں‘ کیونکہ یہ کتاب محمد بن مروان السدی عن محمد بن السائب الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباسؓ کی سند سے مروی ہے اور اس سند کو محدثین نے سلسلۃ الکذب (جھوٹ کاسلسلہ) قرار دیا ہے‘ لہٰذا اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ (علوم القرآن‘ مولانا محمد تقی عثمانی‘ ص ۴۵۸)
آج کل کچھ جدید موبائل آرہے ہیں جن میں میموری کارڈ (memory card) ہوتا ہے۔ میںاس کارڈ میں سمعی تفہیم القرآن کے رکوعات محفوظ کرلیتا ہوں اور سفر کے دوران‘ دفاتر میں‘ انتظار کرتے ہوئے یا دیگر اوقات میں سنتا رہتا ہوں۔ یقینا موبائل کی اِس جدت کا یہ سب سے بہتر استعمال ہے۔ اللہ تعالیٰ تفہیم القرآن کے مصنف‘ اور اُس کو ’سمعی‘ میں منتقل کرنے والی ٹیم کو جزاے خیر سے نوازے۔ ترجمان کی ٹیم کے لیے بھی بہت دعائیں۔ آمین!
اکثر اُردو مترجم قرآن سورئہ اخلاص کی پہلی آیت کے الفاظ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کا ترجمہ ’’وہ اللہ ایک ہے‘‘غلط کرجاتے ہیں۔ چونکہ یہ بات صحیح ہے اس لیے انھیں خیال نہیں آتا۔ صحیح ترجمہ ہے: ’’وہ اللہ ہے اکیلا‘‘۔ انگریزی مترجم غلطی نہیں کرتے کیونکہ وہ ھُوَ کا ترجمہ جب He کرتے ہیں تو وہ خودبخود He is God, the one کرتے ہیں۔ تفہیم القرآن میں مولانا مودودی علیہ الرحمۃ نے ’’وہ اللہ ہے یکتا‘‘ لکھا ہے۔
ایک اور بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ عام مشہور کردیا گیا ہے کہ اللہ خدا کا اصلی نام ہے‘ جیسے ہم سب کے نام ہیں۔ اس لیے اس کا ترجمہ خدا‘ یا God نہیں کرنا چاہیے‘ یہ غلط ہے۔ عرب باقی بت پرست قوموں کی طرح بہت سے خدائوں کو مانتے تھے‘ ان کو اِلٰہ سمجھتے تھے۔ ان کے اوپر ایک بڑے خدا کو مانتے تھے جس نے یہ دنیا پیدا کی ہے اور سب حاجتیں پوری کرسکتا ہے۔ اسے ال الٰہ یا اللہ کہتے تھے۔ یہ بامعنی لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں: ’’جو ہر حاجت پوری کرسکے‘‘۔ اگر اللہ اس کا اصطلاحی نام ہوتا تو سب زمانوں میں پایا جاتا۔ مگر ہرزبان کا اپنا نام ہے اور ترجمے میں اس زبان کا لفظ لکھنا ضروری ہے‘ ورنہ وہ سمجھے گا کہ ’اللہ‘ مسلمانوں کا بڑا بت ہے۔
سب سے پہلے میں آپ سب حضرات کو خدا سے ڈرنے اور اس کی ناراضی سے بچنے اور اسی کی خوشنودی چاہنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ہماری اس دعوت کا سارا انحصار ہی تعلق باللہ اور توجہ الی اللہ پر ہے۔ کوئی شخص خدا کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا‘ بلکہ سچ یہ ہے کہ خود راہِ راست پر قائم بھی نہیں رہ سکتا‘ اگر خدا کا خوف اس کے دل میں نہ ہو اور تقویٰ کی گرفت اس کی خواہشات پر مضبوط نہ ہو‘ اور اس کی تمام سعی و جہد اور دوڑ دھوپ میں رضاے الٰہی کی طلب کارفرما نہ ہو۔ دنیا میں آدمی کی راست روی کی ضامن صرف ایک ہی چیز ہے‘ اور وہ ہے خدا کا خیال۔ یہ خیال اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی دل سے نکل جائے‘ اگر ذرا سی غفلت بھی طاری ہوجائے‘ تو انسان کا قدم سیدھی راہ سے ہٹنے لگتا ہے۔ پھر جسے محض راہِ راست پر چلنا ہی نہ ہو بلکہ دنیا کو اس پر چلانا اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو اس کی طرف کھینچ کر لانا بھی ہو‘ اس کے لیے تو ناگزیر ہے کہ خدا سے اس کا تعلق ہروقت مضبوط اور خدا کی طرف اس کی توجہ ہر آن مرکوز رہے‘ ورنہ اُس سے غافل ہوکر وہ اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہوئے نہ معلوم کس کس قسم کے فسادوں کا مرتکب ہوجائے گا۔ لہٰذا میری پہلی نصیحت آپ کو اور ان سب لوگوں کو جو اس تحریک میں حصہ لینا چاہیں‘ یہ ہے کہ اپنے ذہن میں اللہ کی ذات و صفات کا تصور ہر وقت تازہ رکھیں اور اپنے تمام کاموں میں اسی کی خوشنودی پر نظر جمائے رہیں۔ جن تحریکوں کے پیش نظر صرف دنیا اور اس کے معاملات ہی ہیں‘ وہ تو چل سکتی ہیں بغیر اس کے کہ خدا کا خیال کبھی دل میں آئے‘ مگر یہ تحریک ایک قدم بھی ٹھیک نہیں چل سکتی جب تک کہ اس کے خادم پورے شعور کے ساتھ خدا سے خشیت اور تقویٰ اور رضاطلبی کا تعلق نہ جوڑے رکھیں۔ (’جماعت اسلامی کی دعوت، ‘ابوالاعلیٰ مودودیؒ،ترجمان القرآن، جلد ۳۱، عدد ۵، ذی القعدہ ۱۳۶۷ھ، ستمبر ۱۹۴۸ء، ص ۱۳-۱۴)