خلیجی ریاستوں میں صرف کویت اور بحرین ہی دو ریاستیں ایسی ہیں جہاں پارلیمنٹ قائم ہے اور باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں۔ ان دونوں میں بھی کویتی پارلیمنٹ زیادہ مستحکم‘ جان دار‘ قدیم اور خودمختار ہے۔ اگرچہ یہاں بھی فیصلہ کن اختیارات امیر اور آلِ صباح خاندان کے پاس ہیں۔ معمول کے مطابق کویت کے عام انتخابات ۲۰۰۷ء کے اوائل میں متوقع تھے لیکن پارلیمنٹ اور کابینہ میں دستوری اصلاحات کے حوالے سے اختلافات اتنے گمبھیر ہوگئے کہ امیر نے اسمبلی توڑ دی اور فوری انتخابات کروانے کا اعلان کردیا۔
ان اختلافات کے دوران ہی اسلامی ذہن رکھنے والے اور اصلاح پسند ارکان کا ۲۹ رکنی گروپ سامنے آیا اور ۵۰ رکنی ایوان میں اپوزیشن کی تعداد حکومتی ارکان سے بڑھ گئی۔ انتخابات میں بھی اس پورے گروپ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ان کی تعداد ۲۹ سے بڑھ کر ۳۵ ہوگئی جن میں سے ۱۸اسلامی ذہن رکھنے والے ہیں۔ ان ۱۸ میں سے نو ‘گویا نصف الحرکۃ الاستوریۃ‘ یعنی اخوان المسلمون سے ہیں‘ دو کا تعلق ایک سلفی تحریک سے‘ دیگر دو کا تعلق ایک دوسرے سلفی گروپ سے‘ چھے شیعہ تحریک سے وابستہ ہیں‘ جب کہ چھے آزاد ہیں (دستوری تحریک کے نام سے چھے ارکان منتخب ہوئے‘ جب کہ ان کے تین ارکان آزاد حیثیت سے جیتے)۔ کل انتخابی حلقے ۲۵ تھے‘ جب کہ ہر حلقے سے دو امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ کل امیدوار ۲۲۵ تھے اور خواتین امیدواران کی تعداد ۲۷تھی۔
انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے خود ارکان اسمبلی نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی جیت کے پیچھے نصرتِ خداوندی کے بعد سب سے زیادہ عمل دخل باہمی مفاہمت اور تعاون کا ہے۔ سب اسلامی عناصر نے ایک دوسرے کے ووٹ تقسیم کرنے کے بجاے ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور سب نے اس کے ثمرات سمیٹے۔
کویتی انتخابات میں سب سے بڑا چیلنج پیسے کا استعمال تھا۔ لوگ کھلم کھلا ووٹوں کی خرید و فروخت کرتے تھے۔ بعض علاقوں میں ووٹ کی قیمت بینروں پر آویزاں کردی جاتی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق اس چھوٹی سی پارلیمنٹ کے انتخابات میں کم از کم ایک ارب ڈالر لگ جاتے تھے‘ یعنی ۶۰ ارب روپے سے بھی زیادہ‘ جب کہ کویت میں ووٹروں کی کل تعداد ۳ لاکھ ۴۰ ہزار ہے۔ اس بار کویت کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کو بھی ووٹ کا حق حاصل تھا اور ان کی تعداد ایک لاکھ ۹۵ہزار‘ یعنی نصف سے بھی زائد تھی (کل آبادی کا ۵۷ فی صد)۔ کئی خواتین نے امیدوار کی حیثیت سے بھی انتخاب میں حصہ لیا لیکن ان میں سے کوئی بھی رکن منتخب نہ ہوسکی۔
انتخابات کے بعد حکومت کو ایک بار پھر انھی چیلنجوں کا سامنا ہے جن کی بنیاد پر پارلیمنٹ تحلیل کی گئی تھی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دستوری ترامیم‘ انتخابی اصلاحات‘ پارلیمانی اکثریت رکھنے والوں کو تشکیل حکومت کا حق دینے کے علاوہ مختلف حکومتی اداروں میں مالی اور معاشرے میں اخلاقی کرپشن کا علاج جیسے مسائل آیندہ پارلیمنٹ کا اصل امتحان ہوں گے۔
ترکی‘ مراکش‘ الجزائر‘مصر اور فلسطین کے بعد اب کویت میں اسلامی نظام کے علم برداروں کی جیت اُمت کے اصل انتخاب و پسند کا واضح اعلان ہے۔ کویت جہاں عراق کے قبضے کے خاتمے کے بعد امریکی تسلط کا راز اب راز نہیں رہا‘ جہاں دینی مدارس میں پروان چڑھنے والی نسلوں کی کوئی فصل نہیں پائی جاتی‘ جہاں معاشی مسئلہ کوئی بحرانی حیثیت نہیں رکھتا‘ جہاں تعلیم کے تناسب میں مسلسل اور تیز تر اضافہ ہوا ہے__ اسی کویت نے بھی اعلان کردیا ہے کہ مستقبل یقینا اسلام اور حقیقی اسلام کا ہے!
سوڈان کے مغربی علاقے ’دارفور میں نسل کشی‘ روکنے کے نام پر اچانک امریکا میںباقاعدہ مہم شروع ہوگئی ہے۔ اپریل کے آخر میں واشنگٹن میں ’دارفور بچائو‘ مظاہرہ کیا گیا۔ بار بار کہا جا رہا ہے کہ ’کچھ نہ کچھ‘ کیا جانا چاہیے۔ ’انسانیت دوست طاقتوں‘ اور امریکی امن دستوں کو فوری طور پر نسل کشی روکنے کے لیے پہنچنا چاہیے۔ اقوام متحدہ یا ناٹو کی افواج نسل کشی روکنے کے لیے استعمال کی جانا چاہییں۔ امریکی حکومت کی ’اخلاقی ذمہ داری‘ ہے کہ دوسرا ہولوکاسٹ نہ ہونے دے۔ ذرائع ابلاغ اجتماعی عصمت دری کی کہانیوں اور پریشان حال مہاجرین کی تصویروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ حکومت سوڈان کی پشت پناہی سے عرب ملیشیا ہزاروں لاکھوں افریقیوں کو قتل کر رہی ہیں۔ جنگ مخالف مظاہروں میں بھی نعرے لگائے جا رہے ہیں کہ عراق سے نکلو‘ دارفور جائو۔ نیویارک ٹائمز میں پورے پورے صفحے کے اشتہاروں میں یہی کچھ کہا جا رہا ہے۔
اس مہم کے پیچھے کون ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں؟ جائزے سے پتا چلتا ہے کہ عیسائی مذہبی تنظیمیں اور بڑے بڑے صہیونی گروپ اس کے پیچھے ہیں۔ اپریل کے مظاہروں کے لیے جو اشتہار نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا وہ ۱۶۴ تنظیموں کا مشترکہ اشتہار تھا جس میں صہیونی تنظیموں کے علاوہ وہ سب تنظیمیں شامل تھیں جو بش انتظامیہ کے عراق پر حملے کی زبردست حامی تھیں۔ سوڈان سن رائز (Sudan Sunrise)نے مقررین کا اور جلسوں کا انتظام کیا‘ فنڈ جمع کیے اور ۶۰۰ افرادکو عشائیہ دیا۔ مظاہرے سے پہلے منتظمین کی صدربش سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ مظاہرے میں ایک لاکھ افراد کی شرکت متوقع تھی‘ صرف ۵/۷ ہزار آئے لیکن ذرائع ابلاغ نے فراخ دلی سے اسے ہزاروں کہا۔ کم تعداد کے باوجود میڈیا میں اس کی بڑی بڑی خبریں دی گئیں۔ ایک دن پہلے کے ۳لاکھ افراد کے جنگ مخالف مظاہرے کے مقابلے میںاس کی خبریں زیادہ نمایاں دی گئیں۔ سارا زور اس پر ہے کہ دارفور بچانے کے لیے مداخلت کی جائے۔
ان مظاہروں سے امریکا کی سامراجی پالیسی کے کئی مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے عرب اور مسلمان مزید بدنام ہوتے ہیں۔ امریکا لاکھوں عراقیوں کو قتل اور معذور کر رہاہے اور فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی جو حمایت کر رہاہے‘ اس سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔
سوڈان میں امریکا کی اتنی زیادہ دل چسپی کی وجہ کیا ہے؟ یقین کیا جاتا ہے کہ سوڈان میں سعودی عرب کے برابر تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ گیس‘ یورینیم اور تانبے کے ذخائر بھی بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔
سعودی عرب کے برعکس سوڈان نے امریکا سے آزاد موقف اختیار کیا۔ چین نے سوڈان سے تیل کی ٹکنالوجی میں تعاون کیا ہے اور اس سے بیش تر تیل خرید رہا ہے۔ امریکا کی کوشش ہے کہ سوڈان اپنے قیمتی ذخائر کو ترقی نہ دے سکے۔
امریکا کی کوشش ہے کہ پابندیوں کے ذریعے اور مختلف تنازعات میںالجھا کر سوڈان کو تیل برآمد کرنے سے روکے۔ جنوب میں آزادی کی تحریکوں کی دو عشروں تک حمایت کی۔ ایک معاہدے کے بعد وہاں سکون ہوا‘ تو دارفور کا مسئلہ شروع کردیا گیا۔
امریکی میڈیا دارفور کے مسئلے کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیساکہ سوڈانی حکومت کی حمایت سے عرب افریقیوں پر مظالم کر رہے ہیں۔ یہ حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ دارفور کے سارے باشندے خواہ انھیں عرب کہا جائے یا افریقی‘ سیاہ فام ہیں‘ مقامی ہیں‘ سب عربی بولتے ہیں‘ سب سنی مسلمان ہیں۔ چراگاہوں اور پانی کے چشموں کی ملکیت پر شروع ہونے والے جھگڑے اس قدر پھیل چکے ہیں کہ ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔ قبائلی جھگڑے بڑھانے میں پڑوسی ممالک بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ (سارا فلائونڈرز‘ ریسرچ اسکالر‘ سنٹرفار ریسرچ آن گلوبلائزیشن کی رپورٹ سے ماخوذ)
سوال: احادیث میں جان دار اشیا کی مصوری کے بارے میں سخت وعید وارد ہوئی ہے‘ مگر تصویر‘ فوٹوگرافی‘ وڈیو کیمرے آج کل کے دور کا لوازمہ بن گئے ہیں۔ بالغ حضرات کی بات تو ایک طرف‘ بچوں کو لغویات اور فضولیات سے بچانے کے لیے اور ان کی شخصیت میں مثبت عادات کو فروغ دینے کے لیے مطالعے کی عادت ڈالنے اور کہانیوں اور واقعات کے ذریعے سے انھیں مختلف باتیں سمجھانے پر زور دیا جاتا ہے۔ رنگ و روشنی سے بھری یہ دنیا‘ جس میں ہم رہتے ہیں‘ بچہ سفید اور کالی کتابوں کو اٹھانا تک نہیں چاہتا۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے کچھ سوالات اُبھرتے ہیں۔
۴ - ۱۰ سال کی عمر کے بچوں کے لیے مندرجہ ذیل صورتوں میں سے کون سی درست ہے: کتاب میں کوئی تصویر نہ ہو‘ بچوں کو باور کرایا جائے کہ مسلمان بچہ بس یہی کتابیں پڑھ سکتا ہے؟ تصویریں تو دی جائیں مگر چہرے کو پوری طرح نہ دکھایا جائے اور حتی المقدور انسانی شکل دینے سے گریز کیا جائے‘ یعنی اطراف سے یا پشت سے تصویر دی جائے یا تصاویر بنانے کی پوری پوری آزادی حاصل ہو؟
سوال یہ ہے کہ اگر کتاب میں کوئی تصویر بھی نہ ہو اور نصیحت بھی ہو‘ ساتھ میں بہت سے دینی‘ اخلاقی اور نفسیاتی پہلوئوں کو نظر میں رکھ کر کتاب لکھی جائے‘ توکیا وہ خشک اور سادہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا سکے گی؟ اگر دوسری شکل کو اختیار کیا جائے تو برابر دل میں کھٹک رہتی ہے کہ مصور کے لیے سخت ترین عذاب والی وعید کو سامنے رکھا جائے یا پھر حضرت عائشہؓ کے گھوڑے کے پروں والی حدیث اور گڑیوں کے ساتھ کھیلنے والی احادیث کو اختیار کیا جائے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کارٹونوں کے کردار جو اب بچوں میں بہت مقبول ہو رہے ہیں‘ وہ کلیتاً غلط ہیں یا پھر ان میں سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے؟ غلط کہنے والے اس کی یہ دلیل لاتے ہیں کہ کیا آپ اللہ کی تخلیق کے مقابلے میں اپنی تخلیق پیش کر رہے ہیں؟ درست کہنے والے یہ حجت قائم کرتے ہیں کہ اس میں اللہ کی تخلیق سے مماثلت کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ہمارے لیے اس تناظر میں کیاہدایت ہے؟ مثلاً اگر بچوں کو گندی اور غلیظ چیزوں سے بچانے کے لیے جرثومے کی کارٹون شکل بنائی جائے تو کیسا ہے؟ عہدحاضر کے تقاضوں کی روشنی میں رہنمائی فرمایئے۔
جواب: مصوری‘ فوٹوگرافی‘وڈیو کیمرے سے تصویر محفوظ کرنا یا موبائل فون پر متحرک یا ساکن شبیہہ کا محفوظ کرنا کہاں تک مباح ہے‘ عصری مسائل میں سے یہ ایک اہم اختلافی مسئلہ ہے جس کا تعلق براہِ راست ان اصلاحات کی عام فہم اور فنی تعریف سے ہے۔ عام فہم انداز میں مندرجہ بالا تمام صورتوں کو فوٹوگرافی کہا جا سکتا ہے لیکن فنی طور پر ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک الگ حیثیت کی حامل ہے۔ سورۂ سبا میں جس مقام پر حضرت سلیمان علیہ السلام کے حوالے سے تماثیل کاذکر آیا ہے اس کی جو تشریح مفسرین اور فقہا نے کی ہے‘ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جان دار اشیا کی تصویرکشی حرام ہے خواہ مصوری کے ذریعے ہو یا مجسمہ سازی کے ذریعے‘ لیکن غیر جان دار اشیا کی تصویر بنانا حرام نہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعلیم و تربیت کے لیے رنگوں اور خاکوں (sketch یا caricatures) کا استعمال کیا تصویر کی تعریف میں آئے گا‘ یا تدریسی و تعلیمی ذرائع کی حیثیت سے اس پر غور کیا جائے گا؟ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ چوں کہ نبی کریمؐ نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے گڑیوں کے استعمال کی اجازت دی‘ اس لیے اسی پر قیاس کرتے ہوئے مسلم سائنس دانوں اور طلبہ نے تشریح الابدان کے زیرعنوان اپنی تحقیقات کو جابجا ایسے خاکوں سے مزین کیا ہے جو اعضاے انسانی کے عمل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں‘ مثلاً شمس الدین العناقی اور دیگر اطّباکی تصنیفات۔
تعلیم و تدریس کے حوالے سے ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی شے یا تصور کو متعارف کرانے کے لیے اس کو طلبہ کے سامنے لاکھڑا کرنا ضروری ہوگا‘ یا اس شے کی شبیہہ سے بھی یہ کام لیا جا سکتا ہے؟ مثال کے طور پر شعبۂ طب کی تعلیم کے حوالے سے اگر قلب و دماغ کی شناخت اور عمل کو سمجھانے کے لیے یا ہاتھ اور ٹانگ کے جوڑ کے حرکت کرنے کو سمجھانا ہو تو کسی انسان کو طلبہ کے سامنے لاکر اس کے جسم پر نشتر چلا کر جسم کے عضلات اور جوڑوں کو دکھایا جائے‘ یا کمپیوٹر کی مدد سے متحرک تصویر کشی (animation )کرکے نہ صرف ظاہری شکل بلکہ اس کے اندر کے ریشے اور جوڑ دکھا کر اعضا سے آگاہ کیا جائے‘ یا محض نظری طور پر بغیر کسی خاکے اور شبیہہ کے صرف الفاظ کی مدد سے یہ سمجھا دیا جائے کہ قلب اس طرح حرکت کرتا ہے۔ اس میں اتنے خانے ہوتے ہیں‘ اتنے والو (valve) ہوتے ہیں‘ اور پٹھے بٹی ہوئی رسی کی طرح ہوتے ہیں وغیرہ۔
شریعت اسلامی کے بنیادی مقاصد میں سے ایک مقصد جان کا تحفظ و بقا ہے اور اگر اس مقصد کے لیے قلب ودماغ کی شبیہہ بناکر‘ یا متحرک تصویر کشی کے لیے سہ ابعادہ (three dimensional) شکل دکھا کر تعلیم دینے سے شریعت کا منشا پورا ہوتا ہو اور انسانی جان کے تحفظ میں زیادہ کامیابی کا امکان ہو‘ تو شریعت اس اعلیٰ تر مقصد کے لیے اس عمل کو مباح ہی قرار دے گی۔
اگر ۳-۴ سال کے بچوں کو رنگوں میں فرق کرنا اور اشیا کی ساخت کے بارے میں پہچان پیدا کرنے کے لیے گول اور چوکور کے تصور کو سمجھانا ہو تو زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ تربوز‘ خربوزہ یا موسمی مالٹے یا فٹ بال کی شبیہہ دکھا کر سمجھا دیا جائے‘ اور سرخ‘ عنابی اور گلابی رنگ کی پہچان فلسفیانہ طور پر نظری گفتگو کے بجاے ان رنگوں کی اشیا یا ان کی شبیہہ دکھا کر سمجھا دیا جائے کہ سیب سرخ ہوتا ہے اور گلاب گلابی یا عناب عنابی اور جامن جامنی رنگ کی ہوتی ہے۔
اگر تاریخی حوالے سے یہ بتانا مقصود ہو کہ عاد و ثمود نے کتنی ترقی کی تھی اور ان کے اخلاقی زوال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں کس طرح عذاب دے کر تباہ کر دیا‘ تو قوموں کے عروج وزوال پر ایک فلسفیانہ گفتگو جو کام کرسکتی ہے اس سے کہیں بہتر یہ ہوگا کہ ان کے محلات کے کھنڈرات کی شبیہہ دکھا کر تحریری یا زبانی طور پر یہ بات کہی جائے کہ وہ پہاڑوں کو کس طرح تراش کر گھر بناتے تھے۔ اس کا ایک حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کے تمام بچوں کو جسمانی طور پر عاد و ثمود کے علاقے میں لے جا کر کھنڈرات دکھائے جائیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عملاً ایسا کرنا کہاں تک ممکن ہوگا۔
اس بات کو ایک مثال سے یوں سمجھیے کہ کوئی بھی ذی فہم شخص یہ نہیں کہے گا کہ اگر دو کوہان والے اُونٹ کا ذکر کسی قصے میں آ رہا ہو تو قصے کو روک کر بچوں کو چڑیا گھر لے جائیں اور وہاں دو کوہان والے اُونٹ دکھائیں پھر سبق کی تکمیل کریں۔ اس کے مقابلے میں اس کی شبیہہ دکھانا نہ صرف اس کی شکل کی وضاحت کر دے گا بلکہ وقت اور مال کے بے جا استعمال سے بھی بچائے گا۔
غالباً یہی وجہ ہے کہ محترم مولانا مودودیؒ مرحوم نے تفہیم القرآن میں نہ صرف نقشے بلکہ ان مقامات کی تصاویر بھی تفسیر میں شامل کی ہیں جو عاد و ثمود اور دیگر اقوام کے حوالے سے قرآن کے قانون اور عروج و زوال کے تصورات کی وضاحت اور تفہیم کے لیے ضروری تھے۔
آپ کے سوالات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ خاکوں میں کس حد تک وضاحت کی جاسکتی ہے؟ میرے خیال میں اس کا تعلق بھی اس چیزسے ہے کہ خاکوں کے ذریعے کن تصورات کو واضح کرنا مقصود ہے۔ اگر ایک گول دائرہ بناکر جس پر دو نقطے بطور آنکھوں کے لگے ہوں اور ایک لکیر منہ یا دہانے کی جگہ بنی ہو تو آپ اسے مسکراتا ہواچہرہ قرار دیں‘ اور اسی دائرے میں اگر دو نقطوں کا اضافہ کردیا جائے تو اس طرح آنسوئوں اور رونے کو ظاہر کیا جائے تو مکمل گول چہرے کی مماثلت اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ کسی انسانی شکل کے ساتھ نہیں ہوگی۔ میری دانست میں کوئی انسانی چہرہ فٹ بال کی طرح گول یا ایک مربع کی طرح چوکور نہیں ہوتا کہ اسے خالق کی مخلوق سے مماثل کیا جاسکے۔ گویا خاکہ نہ تصویر کی تعریف میں آئے گا اور نہ اسے خالق کی مصوری یا خلاقیت کے ساتھ کسی بھی نوعیت کا مقابلہ کہا جاسکے گا۔
جہاں تک وڈیو یا مائیکروچپ پرکسی شبیہہ کو محفوظ کرنا ہے وہ دراصل اشاروں (signals) کی شکل میں ہوتا ہے اور اس میں کوئی تصویر لکیر سے کھینچے ہوئے اپنے خدوخال کی شکل میں وجود میں نہیں آتی‘ اور نہ اس شکل میں محفوظ ہوتی ہے۔ وڈیو میں مقناطیسی طور پر ذرات اور اشاروں میں ترتیب پیدا ہونے سے ناظرین ٹیوب کی مدد سے تین زاویوں سے شبیہہ دیکھتے ہیں جس کا کوئی مستقل وجود نہیںہوتا۔ اس لیے یہ بھی تصویرکشی کی تعریف میں نہیں آتا۔
دوسری جانب میں یہ سمجھتا ہوں کہ بہت سے تصورات کوسمجھانے کے لیے خاکوں اور شبیہہ کا استعمال بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے خصوصاً بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اس کا استعمال تعلیمی حکمت عملی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایسے خاکے جوذہن کو عریانیت یا فحاشی کی طرف لے جانے والے ہوں‘ خاکے ہونے کے باوجود حرام قرار پائیں گے۔ اس پوری گفتگو میں ہم نے اس بات سے بحث نہیں کی کہ شبیہہ والے پردے یا پایدان کا استعمال کرنا درست ہے یا غلط‘ بلکہ تعلیمی و تدریسی ضرورت کے حوالے سے اسلام کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
عملی طور پر دیکھا جائے تو بعض معروف اسلامی ادارے اس تصور تدریس پرعمل پیرا ہیں‘ مثلاً اسلامک فائونڈیشن لسٹر‘ برطانیہ نے بچوں کے لیے جو نصابی اور تدریسی کتب طبع کی ہیں‘ وہ خاکوں سے مزین ہیں۔ ہمارا موقف اس سلسلے میں یہ ہے کہ جب تک ایک تدریسی عمل خاکوں کے ذریعے صحت مند ذہن‘ اللہ کا خوف رکھنے والا دل اور نگاہ پیدا کرتا ہے اور بچوں کے ذہن سے شرک و بت پرستی کے تصورات کو رفع کرتا ہے تو اسے استعمال کرنا چاہیے۔ ہمیں انفرادیت قائم رکھتے ہوئے ایسی کتب طبع کرنا چاہییں جو دوسروں کے لیے مثال بنیں۔ وہ رجحان ساز (trend setter) ہوں اور یہ ثابت کرسکیں کہ بغیر کسی عریانیت یا فحاشی کے خاکوں کا اصلاحی و تعمیری استعمال کیا جا سکتا ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)
س: ہم بیٹھک اسکول پروگرام کے تحت غریب بچوں کے لیے پس ماندہ آبادیوں میں اسکول کھول کر ان کی تعلیم و تربیت کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی تربیت کے حوالے سے ہی صحت و صفائی کا پروگرام بھی ترتیب دیا ہے۔ اس سلسلے کا ایک حصہ چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی کتابیں ہیں جو دل چسپ انداز سے صحت و صفائی کی تربیت کرتی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ براہ راست خشک طریقے سے نصیحت کا انداز اختیار کرنے کے بجاے مومو (بھالو) کے دل چسپ کردار کے ذریعے کچھ باتیں بچوں کو سکھا دی جائیں۔ ہمارے ہاں یہ ادبی روایت بھی رہی ہے کہ بزرگوں کے کردار کے ساتھ ساتھ بکری، بلی، ریچھ اور دیگر کرداروں پر کہانیاں لکھی جائیں۔ اب‘ جب کہ ہم ان کہانیوں کو دوبارہ شائع کر رہے ہیں تو مناسب محسوس ہو اکہ بھالو کے اس کردار پر راے لے لیں کہ اس طرح کے کردار یا تخیلاتی کہانی بنانا دینی نقطئہ نظر سے نامناسب تو نہیں ہے؟
ج: بچوں کی تعلیم و تربیت ہو یا بڑوں کی‘ اس میں اسکیچ یا خاکے کا استعمال میری معلومات کی حد تک طب اور کیمیا کی کتب میں ہمارے علما و فقہا نے کیاہے۔ اگر بچوں کو اسلامی آداب و تعلیمات سے آگاہ کرنے کے لیے گھریلو جان داروں یا پرندوں کے خاکے بنا کر کہانیوں کی شکل میں بات ذہن نشین کرنا زیادہ آسان ہو تو اسے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔
عام مشاہدہ ہے کہ تعلیمی حکمت عملی میں جدت اور دل چسپی کے لیے جدید ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر ان میں عریانی و فحاشی کا کوئی عنصر نہ ہواور وہ خاکے اخلاقی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھانے میں مدد گار ہوں تو ان کا استعمال کرنا چاہیے۔ گھریلو جان داروں خصوصاً بلی کے حوالے سے انتہائی دل چسپ‘ سبق آموز اور بچوں کی عادتوں کو درست کرنے والی کہانیاں بنائی جاسکتی ہیں۔ بچے چونکہ بلی یا چڑیا‘ کبوتر‘ طوطے‘ گھوڑے کو زیادہ تواتر سے دیکھتے ہیں‘ اس لیے اس حوالے سے کہانی بھی زیادہ توجہ سے پڑھیں گے۔ مومو اچھا کردار ہے لیکن اس سے واقف ہونے کے لیے یا تو چڑیا گھر جانا ہوگا یا بھالو والے کے گلی میں آکر تماشا کرنے کا انتظار۔
بچوں کے لیے کردار بنانے میں یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جو کردار بھی پیش کیا جا رہا ہو وہ حقائق سے قریب تر ہو۔ اگر صفائی بنیادی مضمون ہے تو شاید بلی کے حوالے سے یہ بات زیادہ حقیقت سے قریب ہوگی۔ ممکن ہے بعض بھالو بھی ایسی عادت رکھتے ہوں۔ اسی طرح کہانی میں لڑکی کے لباس اور وضع قطع پر بھی غور کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں بچپن ہی سے جو خاکے بچے دیکھتے رہتے ہیں‘ وہ ان کی یادداشت کا حصہ بنتے ہیں۔ دو چوٹیاں بنانا بہت اچھی بات ہے بلکہ ان میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے‘ لیکن تعلیمی نقطۂ نظر سے بچی کے خاکے میں اسکارف ہونا چاہیے تھا تاکہ اس کے بال چھپے ہوں۔ (۱- ۱)
مسلم علوم و فنون میں علم اسماء الرجال ایک منفرد‘ معتبر اور تاریخِ عالم میں ایک نادر فن کی حیثیت رکھتا ہے۔ وفیات نگاری‘ ایک اعتبار سے اسماء الرجال ہی کی ایک شاخ ہے۔ عربی‘ فارسی اور اُردو میں وفیات نگاری کی ایک مستحکم روایت ملتی ہے۔ ابن خلکان کی وفیات الاعیان اس سلسلے کی ایک حیرت انگیز اور بے مثال کتاب ہے جو تیرھویں صدی میں تصنیف کی گئی‘ بعدازاں اس کے بیسیوں تکملے اور ترجمے شائع کیے گئے۔ مسلم ذخیرئہ علوم میں‘ اس کے علاوہ بھی فن وفیات نویسی پر بیسیوں کتابیں تالیف اور شائع کی گئیں۔
اُردو میں بھی اس فن پر معدودے چند کتابیں تیار کی گئی ہیں۔ زیرنظر کتاب اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے اور اس فن پر اُردو میں موجود و مطبوعہ ۱۴ کتابوں کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی‘ جامع اور مُستند ہے۔ بڑی تقطیع کے تقریباً ایک ہزار صفحات پرمشتمل زیرنظر وفیات نامہ ۹۸۰۰ نامورانِ پاکستان کے بارے میں حسب ذیل معلومات پر مشتمل ہے: شخصیت کی حیثیت‘ نمایاں عہدہ یامنصب‘ تصانیف‘ ولادت اور وفات کی تاریخیں‘ مقامِ تدفین اور مآخذ۔ نامورانِ پاکستان میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ علما‘ ادیب‘ شاعر‘ معلم‘ سیاست دان‘ طبیب‘ کھلاڑی‘ وکیل‘ گویّے‘ پیر‘ صنعت کار‘ کارکنانِ تحریک آزادی‘ صحافی‘ خوش نویس‘ مصور‘ مقرر‘ سماجی کارکن وغیرہ وغیرہ۔
(مصنف نے ’نام ور‘ کے معیار کے لیے مختلف پیمانے استعمال کیے ہیں۔) سیاست دانوں میں سے رکن صوبائی اسمبلی سے کم درجے پر فائز لوگوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ مصنف نے دائرہ کار بھی متعین کر دیا ہے۔ قابلِ ذکر پاکستانی شہری دنیا میں جہاں بھی دفن ہوئے‘ کتاب میں مذکور ہیں۔ ۱۶دسمبر۱۹۷۱ء تک کی مشرقی پاکستان کی شخصیات بھی شامل ہیں (مگر بھاشانی‘ شیخ مجیب الرحمن‘ قاضی نذرالاسلام کی شمولیت مصنف کے اپنے معیار سے مطابقت نہیں رکھتی)۔ ہر شخصیت پر ۴ سے ۲۰سطروں تک معلومات دی گئی ہیں۔ مصنف کے بقول بہت سی نام ور مرحوم شخصیات اس لیے شامل ہونے سے رہ گئیں کہ ان کی مستند تاریخ وفات دستیاب نہ ہوسکی۔ ہمارے خیال میں اگر آخر میں ایسی ایک فہرست دے دی جاتی تومطلوبہ معلومات رفتہ رفتہ جمع ہوسکتی تھیں۔
ابتدا میں دو مضامین ’اسلامی ادب میں وفیات نویسی کی روایت‘ (عارف نوشاہی) اور ’اُردو میں وفیات نگاری‘ (مصنف) شامل ہیں۔ مصنف کا مقالہ ۵۶ صفحات پر پھیلا ہوا ہے‘ جس میں انھوں نے اُردو میں ذخیرئہ وفیات نویسی کا نہایت مہارت اور باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور اس موضوع پر شائع شدہ کتابوں کی مختلف النوع کمیوں‘ کوتاہیوں اور غلطیوں کی بجا طور پر نشان دہی کی ہے۔ یہ جائزہ بجاے خود ایک نہایت عمدہ تحقیقی مقالہ ہے۔
مصنف پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات سے وقت نکال کر اس نوعیت کا کام انجام دینا‘ ایک بہت بڑی مہم سر کرنے کے مترادف ہے۔ اسے دیکھ کر بہ خوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے کس قدر خونِ جگر صرف کیا ہوگا۔ بلاشبہہ وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں‘ ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پائو گے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کے حالات زندگی مسلمانوں کے لیے ہمیشہ ایک پسندیدہ موضوع رہے ہیں۔ خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کی تربیت میں بطور رول ماڈل ان کا نمایاں حصہ رہا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے اس حوالے سے عربی کتب کے تراجم بھی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس کتاب کا بنیادی مواد خالد محمد خالد کی عربی کتاب رجال حول الرسول سے ماخوذ ہے لیکن نظرثانی کرتے ہوئے اصلاح و ترمیم اور اضافہ‘ نیز عبدالرحمن رافت پاشا کی کتاب صور من حیات الصحابہ کی آمیزش کے بعد‘ بقول مؤلف: اب یہ کتاب کا ترجمہ نہیں رہا ہے‘ یعنی ایک نئی کتاب بن گئی ہے۔
اس کتاب میں ۵۵ صحابہ کرامؓ کے حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ تذکرے نہ صرف تزکیۂ نفس اور تربیت قلوب کاباعث ہیں بلکہ عمل کے راستے پر رواں دواں اور تیزگام کرنے کا باعث ہیں۔ ہر انسان کی عملی زندگی میں بے شمار موڑ آتے ہیں جہاں اسے کسی راہبر کی تلاش ہوتی ہے۔ زمانہ کتنا ہی بدل گیا ہو‘ لیکن انسان کے فیصلے جن بنیادوں پر ہوتے ہیں وہ تبدیل نہیں ہوتے۔ صحابہ کرامؓ کی زندگیاں ایسے ہی مواقع پر انسان کو رہنمائی دیتی ہیں۔
تحریر کا انداز دل چسپ اور منظرنگاری کا ہے۔ یہ اسلوب قاری کو اپنے میں جذب کرلیتا ہے اور دورانِ مطالعہ آنکھیں بھیگ بھیگ جاتی ہیں۔ کتاب ایک دفعہ ہاتھ میں لی جائے تو آدمی پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ پڑھنے والا کچھ دیر کے لیے اپنے کو دورِ صحابہؓ میں محسوس کرتا ہے۔
تذکرہ تابعین کے بعد نقوشِ صحابہؓ ، اب سیرتِ رسولؐ پر کسی ایسے ہی ’ترجمے‘ کا انتظارہے! (عمران ظہور غازی)
اس کتاب میں مختلف جرائد و رسائل سے نومسلم حضرات و خواتین کے قبولِ اسلام اور رجوع الی القرآن کے واقعات جمع کرکے اُردوقارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کیا گیا ہے۔ ان مضامین کے مطالعے سے کئی اہم نکات اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ اہلِ مغرب کے ہاں بالعموم اسلام کی تصویر نہایت مسخ کر کے پیش کی گئی ہے جو بہت سی غلط فہمیوں کا باعث ہے۔ زیادہ تر نومسلم‘ عیسائیت کی سختی‘ متشددانہ‘ غیرعقلی اور غیرفطری تصورات سے باغی ہوکر‘ اسلام کی طرف راغب ہوئے‘ یا اسلام کی فطری اور عقلی تعلیمات اُن کے لیے باعثِ کشش ثابت ہوئیں۔ قبولِ اسلام کاایک اہم ذریعہ براہِ راست قرآن مجید کا مطالعہ بھی ہے۔ مغرب میں مقیم مسلمانوں کے کردار اور اخلاقی برتری بھی قبولِ اسلام کی ترغیب کا ذریعہ بنتی ہے۔ ایک اہم ذریعہ انٹرنیٹ بھی ہے جہاں سے لوگ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے رجوع کرتے ہیں۔
دونوں کتب میں مرد و خواتین کے بہت سے ایمان افروز واقعات‘ نومسلموں کو درپیش مسائل اور اسلام کے لیے صبرواستقامت کے مظاہروں کا تذکرہ تازگیِ ایمان کا باعث ہے۔ اہلِ مغرب معاشی آسودگی اور پُرتعیش زندگی کے باوجود ایک بے سکونی اور عدمِ اطمینان کا شکار ہیں۔ یہ پیاس انھیں اسلام کو جاننے کی ترغیب کا ذریعہ بھی ہے۔ اُمت مسلمہ بالخصوص دعوت دین سے وابستہ جماعتوں‘ اداروں اور مبلغینِ اسلام کا فریضہ ہے کہ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ دعوتی حوالے سے اس پہلو پر خصوصی توجہ دعوت دین کا ایک اہم تقاضا ہے۔
اچھا ہوتا اگر اُن کتب ورسائل کے حوالے بھی دیے جاتے جن سے یہ تاثراتی مضامین لیے گئے ہیں۔ نوجوان طلبا و طالبات‘ اساتذہ کرام اور دعوتی کام کرنے والے حضرات کے لیے ان کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔ (احمد رضا)
اُردو میں قابلِ ذکر اور معیاری خود نوشتوں کو شمار کرنے لگیںتو تعداد شاید درجن سے آگے نہ بڑھے گی۔ ایک مدت کے بعد ایک قابلِ مطالعہ آپ بیتی ذوقِ پرواز کے نام سے منصہ شہود پر آئی ہے۔ قدرت اللہ شہاب کی شہاب نامہ ایوانِ صدر سے نیچے کی سمت مشاہدات پر مشتمل تھی تو محمدصدیق کا سفر نشیب سے فراز کی طرف ہے۔ وہ باقاعدہ ادیب نہیں ہیں‘ لیکن ان کی تحریر میں بے ساختگی کا عنصر بہت سے ادیبوں کے مقابلے میں نمایاں ہے۔ خواندنی (readibility) کے اعتبار سے یہ کتاب اعلیٰ سطح کی حامل ہے۔
مصنف کا سفر ایک کلرک کی حیثیت سے شروع ہوتا ہے اور وہ اپنی محنت‘ دیانت اور مستقل مزاجی کے بل بوتے پر زینہ بہ زینہ قدم اٹھاتے ہوئے ڈپٹی کنٹرولر ملٹری اکائونٹس‘ ڈائرکٹر فنانس واپڈا‘ پرنسپل واپڈا اکائونٹس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور یو ایس ایڈ کنسلٹنسی پراجیکٹ کے عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بچپن اور لڑکپن کے بہت سے واقعات بڑی ذمہ داری سے بیان کر دیے ہیں۔ پرائمری اسکول کے اساتذہ کا ذکر حددرجہ محبت اور احترام سے کیا گیا ہے۔ اس سے ماضی کی معاشرتی اقدار اور رہن سہن کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے۔
مصنف کی ساری زندگی اعلیٰ اقدار اور شان دار روایات سے منور ہے۔ ایک دیانت دار اور متقی شخص بھی اولاد کی محبت کے سامنے اکثر اوقات ڈگمگا جاتا ہے۔ مصنف اس آزمایش میں بھی سرخ رُو نکلے ہیں۔ محمد صدیق صاحب حالات کے سامنے سرجھکانے کے بجاے اپنے عزم اور توکل کی قوت سے سربلند رہے ہیں۔ اس کتاب کی دو خصوصیات بے حد متاثر کرتی ہیں: ایک تو والدین کے ادب و احترام کی خوب صورت مثالیں‘ دوسرے: جذباتی زندگی کا احتیاط کے ساتھ بیان‘ ایسا عمدہ اور متوازن بیان شاید ہی کہیں ملے۔
ذوقِ پروازکے مطالعے سے ایک تو ذہنی اُفق وسیع ہوتا ہے دوسرے‘ کردار سازی میں اس کے اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ معاشرتی انتشار اور پریشان کن مسائل سے بھرپور زندگی میں یہ اُمید کا پیغام اور عمل کے لیے مہمیز ہے۔ (خالد ندیم)
لوگوں میں رجوع الی اللہ کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ اسماے حسنیٰ کے ذکر کا اہتمام بڑھ رہا ہے۔ جیبی سائز میں خوب صورت رنگارنگ اور مختصر کتابچے شائع کیے جا رہے ہیں۔ زیرنظر کتاب اس ضمن میں منفرد کام ہے۔ یہ اسماے حسنیٰ سے معرفت الٰہی کا شعور عام کرنے کی سعی ہے۔ اسماے حسنیٰ کے لغوی و اصطلاحی معنی‘ اسماے حسنیٰ پر مبنی قرآنی آیات‘ احادیث اور ائمۂ کرام کے اقوال کی روشنی میں تشریح کی گئی ہے۔ نیز حوالوں کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ استحضار اور یقین کے لیے اسماے حسنیٰ کی تاثیر پر مبنی واقعات و تجربات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ہر اسم کی خصوصیات سے متعلق مفید اذکار اور دعائیں اور تعلق باللہ بڑھانے کی تدابیر بھی درج ہیں۔ اسماے حسنیٰ پر یہ مفصل و جامع مطالعہ خدا کی حقیقی معرفت اور شعوری ذکر کی ترغیب کا باعث ہے۔ مؤلف اور ان کے رفقا نے جس عرق ریزی سے تحقیق و تخریج کا کام انجام دیا‘ وہ قابلِ تحسین ہے۔ (امجد عباسی)
انجینیرعبدالمجید انصاری نے قرآن و حدیث میں مذکور ایسے مضامین اور باتوں کو جو تین کی تعداد رکھتے ہیں‘ اس کتاب میں یک جا کردیاہے۔ محدثین کی اصطلاح میں اگرچہ ’ثلاثیات‘ سے مراد ایسی احادیث ہیں جو صرف تین واسطوں سے مؤلفین کتب حدیث تک پہنچیں‘ تاہم اس کتاب کے مضمون پر بھی یہ نام خوب صورت محسوس ہوتا ہے۔
اس کتاب کو ان آیات و احادیث کا انسائی کلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے جن میں تین امور کا ذکر ہوا ہے۔ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جن میں خود حضوؐر نے تین کے الفاظ کی صراحت کے ساتھ تین باتیں بیان کیں لیکن ایک بڑی تعداد ان آیات و احادیث کی ہے جن میں تین کا عدد تو مذکور نہیں لیکن ان میں تین باتیں مذکور ہیں جیسے بسم اللہ میں تین اسما___ اللہ‘ رحمن اور رحیم اور سورہ فاتحہ کی پہلی تین آیات میں تین صفات باری کا ذکر۔ اس طرح مضامین کی ثلاثیات کی تلاش میں مؤلف نے اجتہادی کوشش کی ہے اور ان باتوں کو جمع کیا ہے جن پر عمومی نظر نہیں پڑتی۔ اس اجتہادی کوشش میں بعض مقامات پر تکلف بھی محسوس ہوتا ہے۔ تمام آیات و احادیث کے ساتھ اس کے آسان اور سلیس ترجمے نے اسے استفادے کے لیے عام فہم اور عربی متن اور حوالوں سے مزین آیات و احادیث نے اس کی استنادی حیثیت کو معیاری بنا دیا ہے۔ (ڈاکٹر اختر حسین عزمی)
سیرت رسول پاکؐ کے دعوتی پہلوئوں پر ۵۰ مختصر تحریروں کا یہ مجموعہ اتباع رسولؐ کے خواہش مند کسی فرد کو عملی زندگی کے متنوع گوشوں کے لیے قیمتی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ صلۂ رحمی‘ ایثار‘ سادگی‘ نظافت طبع‘ دلوں کی نرمی‘ ملازم سے تعلق‘ عورتوں کی حدودِکار‘ دعوت کااسلوب موضوعات میں سے چند ہیں۔ اسلوب سہل‘ دل چسپ اور اس مقصد کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اس کتاب سے رسولؐ اللہ کی زندگی کی ایک چلتی پھرتی تصویر نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے اور محبت و عقیدت سے بھرپور اطاعت کے لیے مختلف انسانی حیثیتوں میں آپؐ کا اسوئہ مبارک معلوم ہوجاتاہے۔ (مسلم سجاد)
ایک دردمند پاکستانی منصور علی خاں کے مقالات کا مجموعہ جس میں خواندگی‘ معیشت‘ نظامِ عدل اور معاشرتی حالات کے حوالے سے پاکستانی معاشرے کو درپیش مسائل کا جائزہ لے کر اسلامی نقطۂ نظر سے حل پیش کیا گیا ہے۔ رجوع الی الدین ہی شاہِ کلید ہے جس سے انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ آخری باب میں انھوں نے ۲۴ تجاویز پر مشتمل ایک لائحہ عمل بھی پیش کیا ہے۔ کتاب کا اُردو ترجمہ پہلے شائع کیا گیا ہے۔ انگریزی میں کتاب ابھی شائع ہونا ہے۔ (م - س)
’پاکستان کا روشن مستقبل اور عوامی تحریک‘ (جولائی ۲۰۰۶ئ) میں آپ نے متبادل اسلامی اقتصادی نظام پر ٹھنڈے دل سے غوروفکر کی دعوت دی ہے۔ یقینا ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے اس دور میں پہلی ترجیح اسلامی مالیاتی نظام ہونا چاہیے اور کسی بھی کش مکش میں اسے ہراول دستے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
’غریب ملک کے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں‘ (جولائی ۲۰۰۶ئ) پڑھ کر دل خون کے آنسو رویا اور جی چاہتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور ہم مفلوک الحال پاکستانی عوام اس میں سما جائیں۔ حکمرانوں کی ان تمام تر شاہ خرچیوں اور اللّوں تللّوں سے یہ بات عیاں ہے کہ اب یہ ملک عوام الناس کے لیے نہیں بلکہ صرف اشرافیہ‘ طبقۂ امرا اور حکمرانوں کے لیے باقی رہ گیا ہے۔ شاید پاکستانی قوم کے اجتماعی و انفرادی گناہوں اور بداعمالیوں کی سزا کے طور پر موجودہ حکمران ایک عذاب کے طور پر مسلط کردیے گئے ہیں۔
’غریب ملک کے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں‘ نے موجودہ حکمرانوں کے بھیانک چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔ یاد رہے کہ برا وقت ہمیشہ دبے پائوں آتا ہے اور کھلی آنکھوں کو پتا ہی نہیں چلتا۔ اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے ’روشن خیال‘ اور ’اعتدال پسند‘ حکمرانوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ ’مولانا مودودی کا تصورِ اجتہاد‘ (جولائی ۲۰۰۶ئ) اجتہاد کے موضوع پر جامع تحریر ہے۔ آج جس طرح سے مغرب زدہ دانش ور اسلام کی تعبیرجدید کے نام پر اسلام کو مسخ کرنے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں‘ اس پر صحیح گرفت کی گئی ہے۔
’غریب ملک کے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں‘ پڑھ کر محسوس ہوا کہ ہمارا مسئلہ اقتصادی ہی نہیں بلکہ ہمیں اخلاقی بحران کا بھی سامنا ہے۔ بحیثیت مجموعی قوم کی اخلاقی تربیت کا کوئی بندوبست نہیں۔ اقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے بھی عوام کو بلند اخلاقی کردار سے لیس کرنا ناگزیر ہے۔
’نومسلم کی سرگزشت‘ (جولائی ۲۰۰۶ئ)‘ محترم حسن علی کی نہایت ایمان افروز داستان ہے اور اس میں ایک موروثی مسلمان کے لیے عبرت کے بہت سے پہلو پنہاں ہیں۔ ’امریکی معاشرہ: ایک سابق صدر کی گواہی‘ گویا گھرکے فرد کی گواہی ہے۔ اس سے امریکی معاشرے کی حقیقی صورت حال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ’رسائل و مسائل‘ کی کمی محسوس ہوئی۔
’نومسلم کی سرگزشت‘ ایمان افروز بھی ہے اور ایمان پرور بھی۔ یہ روداد راوی کے حق میں یقینا حجت ثابت ہوگی اور عوام الناس کے حق میں اسلام کی حقانیت کو اجاگر کرنے‘ ایمان جیسی بیش قیمت متاع کی حقیقی قدر پیدا کرنے اور اسے عام کرنے کا ذریعہ بنے گی۔
نومسلم کی ایمان افروز سرگزشت پڑھ کر یہ سوال بھی ذہن میں اُبھرا ہے کہ جب نومسلم خاندان ۱۲برس کی طویل جاںگسل آزمایش سے گزر رہا تھا تو امرت سر کے مسلمانوں کا کیا کردار رہا؟ کیا ان کا کام قبولِ اسلام پر محض پرجوش نعرے بلند کرنا اور تحفظ کے لیے ڈی سی کو درخواست کرنا تھا‘ یا آگے بڑھ کر اپنے نومسلم بھائیوں کی ہرطرح سے مدد کرنا اور ان کے تالیفِ قلب کا سامان کرنا تھا!
’نومسلم کی سرگزشت‘ (جولائی ۲۰۰۶ئ) کی اشاعت کے بعد بہت سے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ خدا تعالیٰ میرے اس جذبے کو شرفِ قبولیت بخشے اور لوگوں کے لیے باعث تحریک ہو۔
سابق امریکی صدر جمی کارٹر کا مضمون (ملخص) نظر سے گزرا (جولائی ۲۰۰۶ئ)‘ جنھوں نے اپنے معاشرے یا امریکی حکومت کے خلاف گواہی دینے کی بے معنی کوشش کی ہے۔ ان صاحب نے اپنے دورِ حکومت میں ظلم کی جن راہوں کو کشادہ کیا‘ وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ بظاہر یہ ناصحانہ تحریر عام لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ کارٹر بنیادی طور پر ویسا ہی قدامت پرست پادری ہے‘ جیسا تشددپسند پادری جارج بش ہے۔ یہ صاحب گذشتہ ۲۵ برس سے انڈونیشیا کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لیے وہاں ڈیرا جمائے بیٹھے ہیں۔ مغرب کے قول و فعل کے تضادات اور انسانیت کُش پالیسیاں خود بے حجاب ہیں۔ ایسے ظالموں کی گواہی کچھ وزن نہیں رکھتی بلکہ اس طرح پیش کرنے سے خود ان کا داغ دار چہرہ کچھ صاف ہونے لگتا ہے‘ جس سے بچنا چاہیے۔
ماہ جولائی کا شمارہ اتنا بھرپور اور متاثر کن ہے کہ ع کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا اینجا است (ہر خوبی دامن دل کھینچتی ہے کہ یہی مقام بہترین مقام ہے)۔ ملکی احوال‘ عصری مسائل‘ فکری رہنمائی‘ تزکیہ و تربیت اور اُمت کے حالات کے حوالے سے مضامین کا تنوع بھی ہے اور وقیع مواد پر مبنی ہے۔ اللّٰھم زد فزد۔
دل آزار خاکے شائع کرنے والے ڈنمارک کے ناپاک اخبار Posten Jyllands کا ایڈیٹر Elliot Beck اپنے بیڈروم میں جل کر واصل جہنم ہوا۔ قومی اسمبلی میں بھی اس کا ذکر آیا‘ مگر افسوس کہ یہ خبر عام نہ ہوسکی۔
ماہنامہ ترجمان القرآن میں بڑے اہم مسائل پر مضامین شائع ہوتے ہیں‘ لیکن وہ مسائل جو عوام کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ان پر بھی بھرپور تحریریں ہونی چاہییں۔ کم تولنا‘ کم ناپنا اور کم گننا‘ تیل کی قیمت میں بار بار اضافہ‘ کرایوں میںاضافہ اور نہ ہونے کے برابر سہولتیں‘ مہنگائی‘ سفارش اور رشوت کا دور دورہ‘ لاقانونیت اور سرکاری ملازمین کو درپیش مسائل‘ زکوٰۃ کی غیرمنصفانہ تقسیم‘ ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ صورت حال‘ ڈاکٹروں کی لوٹ مار اور ادویہ ساز کمپنیوں کی اندھیرنگری جیسے موضوعات پر مقالات لکھوانے کی ضرورت ہے۔
تجدّد کا دروازہ
مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا کام دین و اخلاق اور تمدن و تہذیب کے ان اصولوں کی علم برداری کرنا ہے جنھیں خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت میں حق کہا گیا ہے‘ اور دنیا سے ان خیالات اور طریقوں کو مٹانے کی کوشش کرنا ہے جنھیں قرآن اور سنت نے باطل ٹھیرایا ہے۔ جس سرزمین میں باطل کا غلبہ ہو اور احکامِ کفر جاری ہو رہے ہوں وہاں ہمارا کام باطل کے طریقوں کو اختیار کرلینا نہیں ہے‘ بلکہ ہمارا اصلی منصب یہ ہے کہ ہم وہاں رہ کر قرآن کے قانونِ حیات کی تبلیغ کریں اور نظامِ کفر کی جگہ نظامِ اسلامی قائم کرنے کے لیے ساعی ہوں۔
اب غور کیجیے کہ اگر ہم خود سود کھائیں گے تو کفار کی سود خوری کے خلاف آواز کس منہ سے اُٹھائیں گے؟ اس طرح تو سود خوری کے ساتھ شراب فروشی‘ مزامیر سازی‘ فحش فلم بنانا‘ عصمت فروشی‘ کاروبارِ رقص و سرود‘ بت تراشی‘ فحش نگاری‘سٹہ بازی‘ جوے بازی اور سارے ہی حرام کاموں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ پھر یہ فرمایئے کہ ہم میں اور کفار میں وہ کون سا اخلاقی فرق باقی رہ جاتا ہے جس کے بل پر ہم دارالکفر کو دارالاسلام میں تبدیل کرنے کی جدوجہد کرسکیں؟
اگر آپ شریعتِ اسلام کے پیرو ہیں تو آپ حکومتِ کفر کے آئین کی ڈھیل سے فائدہ اٹھانے کا حق نہیں رکھتے۔ اور اگر آپ ایک طرف دنیا کو شریعتِ اسلام کی دعوت دیتے ہیں اور دوسری طرف کچھ فائدوں کے لیے یا کچھ نقصانات سے بچنے کے لیے حرام خوری کی اُن گنجایشوں سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں جو آئینِ کفر نے دی ہیں مگر آئینِ اسلام نے جن کی سخت مذمت کی ہے‘ تو چاہے فقیہہ شہر آپ کے اس طرزِعمل کے جواز کا فتویٰ دے دے‘ لیکن عام انسانی راے اتنی بے وقوف نہیں ہے کہ پھر بھی وہ آپ کی تبلیغ کا کوئی اخلاقی اثر قبول کرے گی۔
حقیقتاً اس طرزِ فکر کو فقہِ اسلامی میں استعمال کرنا ہی غلط ہے کہ مسلمانوں کو فلاں تکلیف اور فلاں نقصان جو حکومتِ کفر کے تحت رہتے ہوئے پہنچ رہا ہے‘ اسے روکنے کے لیے نظامِ باطل ہی کے اندر کچھ ’’شرعی‘‘ وسائل پیدا کیے جائیں۔ یہ طریق فکر مسلمانوں کو بدلنے کے بجاے اسلام کو بدلتا ہے‘ یعنی تجدیدِ دین کی جگہ تجدد کا دروازہ کھولتا ہے جو نظامِ دینی کے لیے حد درجہ تباہ کن ہے‘ اور افسوس یہ ہے کہ غلبۂ کفر کے زمانے میں فتویٰ نویسی کچھ اسی راہ پر چلتی رہی ہے جس نے مسلمانوں کو نظامِ باطل کے تحت رضا و اطمینان سے زندگی بسر کرنے کا خوگر بنا دیا ہے۔ (رسائل و مسائل، دَارالکفر میں سود خوری، ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن‘ جلد ۲۹‘ عدد ۳‘ رمضان ۱۳۶۵ھ‘ اگست ۱۹۴۶ئ‘ ص ۵۴-۵۵)