پچھلے دو تین ماہ ذرائع ابلاغ میں یوکرائن کا بڑا چرچا رہا۔ وجہ؟ وہاں دنیا کی دو بڑی طاقتیں‘امریکہ اورروس شطرنج کھیلنے میں مصروف ہیں جس میں فی الحال روس کو شکست ہوئی ہے۔ کیونکہ ۲۶ دسمبر ۲۰۰۴ء کے صدارتی انتخاب میں روس نواز سابق وزیراعظم وکٹر یانو کووچ شکست کھا گئے‘ ان کے حریف اور مغرب نواز وکٹر یوشینکو کو کامیابی ملی۔
یہ صدارتی انتخاب ۳ نومبر ۲۰۰۴ء کو بھی ہوا تھا جس میں یانو کووچ کامیاب ہوا مگر حزبِ اختلاف نے دھاندلی کا شور مچا دیا جس کے بعد سپریم کورٹ نے انتخاب دوبارہ کروانے کا حکم دیا۔ انتخاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ کسی روسی صدر نے ۲۸ برس بعد امریکا کو دھمکی دی کہ وہ اس کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
یوکرائن پر کئی وجوہ سے عالمی طاقتیں توجہ دے رہی ہیں۔ وہاں مینگنیز‘ کچ لوہے‘ کوئلے‘ تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہیں۔ پھر وہ روس جیسی طاقت کی پڑوسی ہے۔ اگر یہاں امریکی اثرورسوخ بڑھ جائے‘ تو وہ روسی معاملات پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ یہ ملک بحیرہ اسود کے کنارے واقع ہے جو اسٹرے ٹیجک اعتبار سے دنیا کا اہم سمندر ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے یورپ کا دوسرا بڑا اور آبادی میں چھٹا بڑا یورپی ملک ہے۔ یہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے مگر مسلمان بھی خاصی تعداد میں ہیں‘ بلکہ یہ اس ضمن میں یورپ میں پانچویں نمبر پر ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران بچے کھچے مسلمانوں کو شیطان نما آمر‘ اسٹالن کی پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بننا پڑا۔ اس نے ان پر جرمنوں کے ساتھی ہونے کا الزام لگایا۔ یوں کریمیائی مسلمانوں کی تاریخ کے سب سے الم ناک باب کا آغاز ہوا۔ ۱۹۴۴ء تک اسٹالن نے ۲ لاکھ مسلمانوں کو زبردستی دوسرے علاقوں کی طرف بھجوا دیا۔ بہت سے مسلمان بھوک‘ پیاس اور ہجرت کی سختیوں کے باعث راہ میں شہید ہوگئے۔ ۱۹۶۷ء میں روسی حکومت نے تاتاری مسلمانوں کے خلاف الزام واپس لے لیے مگر کریمیا میں ان کی آباد کاری اور انھیں معاوضہ دینے کے سلسلے میں وعدہ پورا نہ کیا۔
۹۰ کے عشرے میں سوویت یونین صفحہ ہستی سے نابود ہوا‘ تو کریمیا یوکرائن کا حصہ بن گیا‘ تاہم وہ خاصی حد تک خودمختار علاقہ ہے۔ یوکرائنی حکومت مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے کیونکہ یوکرائن کے باشندے بھی تقریباً ایک صدی تک روسیوں کے جبر کا شکار رہے۔ آزادی کے بعد سے ڈھائی لاکھ کریمیائی مسلمان دوبارہ کریمیا میں بس چکے ہیں۔ گو انھیں کئی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ وہ معاشی لحاظ سے خوش حال نہیں۔ پھر ان کے مقامی روسیوں سے تعلقات خوش گوار نہیں جن کی آبادی زیادہ ہے۔ اس کے باوجود انھیں اپنی مٹی سے محبت ہے اور وہ اُسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔
یوکرائن میں تاتاری مسلمانوں کے علاوہ کوہ قاف‘ وسطی ایشیا کے ممالک‘ افغانستان‘ بنگلہ دیش‘ پاکستان‘ شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد بستی ہے اور ان کی آبادی بڑھ رہی ہے کیونکہ مسلم ممالک کے طلبہ یوکرائن میں تعلیم حاصل کرنے آرہے ہیں۔ خصوصاً جب سے ’’واقعہ نوگیارہ‘‘ کے بعد امریکا اور یورپی ممالک نے ان کے داخلے پر پابندیاں لگا دی ہیں۔
ایس ڈی ایم سی (The Spiritual Direction of the Muslims of Crimea) یوکرائنی مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔ ۱۹۹۱ء میں اس کی بنیاد پڑی اور سرکاری طور پر منظورشدہ ۷۰ فی صد مسلم آبادیاں اسی سے وابستہ ہیں۔ تنظیم کے اپنے اسکول اور اخبار ہدایت ہے جو تاتاری زبان میں نکلتا ہے۔ دوسری بڑی تنظیم ایس ڈی ایم یو (The Spiritual Direction of the Muslims of Ukraine) کی بنیاد ۱۹۹۲ء میں رکھی گئی۔ اس کا مقصد رنگ و نسل سے بے نیاز ہوکر مسلمانوں کو متحد کرنا ہے۔ یوکرائن کے دس صوبوں میں اس کے دفاتر ہیں۔ دارالحکومت کیف میں اسلامی مرکز چلاتی اور روسی زبان میں اخبار منار نکالتی ہے۔
ایس سی ایم یو کی بنیاد ۱۹۹۴ء میں پڑی۔ اس تنظیم میں تاتاری مسلمانوں کی اکثریت ہے جو اپنے دین سے بڑی قربت رکھتے ہیں۔ اس کا صدر دفتر ڈونٹسک شہر میں ہے جہاں ایک اسلامی مرکز بھی قائم ہے۔ ۱۹۹۷ء میں جذبۂ ایمانی سے سرشار تنظیم کے رہنمائوں نے یوکرائنی مسلمانوں کی سیاسی جماعت‘ مسلم پارٹی کی بنیاد رکھی۔
یوکرائن ان گنے چنے مغربی ممالک میں سے ایک ہے جہاں مسلمانوں کو خاصی آزادی حاصل ہے‘ عبادت کرنے اور اپنی رسوم بجا لانے پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ یوکرائن آزاد ہوا‘ تو خصوصاً یوکرائنی مسلمانوں میں نئے جوش و ولولے نے جنم لیا۔ اب وہ نئے سرے سے اپنے دین سے روشناس ہو رہے ہیں تاکہ اسلام کی حقیقی روح سے شناسا ہوسکیں۔ وہاں اشاعت اسلام کا عمل بھی جاری ہے اور ہر سال کئی یوکرائنی اور روسی عیسائی مسلمان ہو رہے ہیں۔
’’واقعہ نوگیارہ‘‘ نے یوکرائن میں الٹا اثر کیا‘ یعنی مقامی باشندے اسلام میں دل چسپی لینے لگے۔ یوکرائنی نئی نسل میں اسلامی کتب کی مانگ بڑھ گئی۔ مقامی لوگ اور مسلمانوں میں اتحاد کی دو بڑی وجوہ ہیں: پہلی یہ کہ مسلمانوں کی خواہش ہے کہ وہ یوکرائن میں رہتے ہوئے ہی ترقی اور خوش حالی کی منازل طے کریں۔ دوسری یہ کہ دونوں یہودیوں کے مخالف ہیں جو ان کے خیال میں انسانیت کے لیے ناسور ہیں۔ اس وقت تاتاری مسلمانوں کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ مسلم معاشرہ دوبارہ تشکیل دیا جائے جس کا اسٹالن نے صفایا کردیا‘ یعنی جو تاتاری کریمیا واپس آرہے ہیں‘ انھیں گھر‘تعلیم‘ صحت اور دیگر بنیادی سہولیات ملیں‘ وہ اپنے دین‘ زبان‘ تہذیب و تمدن وغیرہ سے واقف اور اپنے وطن میں سیاسی طور پر مضبوط ہوں۔
کریمیا میں اس وقت مسلمان بڑی آزادی سے زندگی بسر کر رہے ہیں وہاں کے شہروں میں گھومتے پھرتے یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایک عیسائی مملکت کا حصہ ہے‘ خصوصاً جب شہر کی مساجد کے لائوڈاسپیکروں سے اذان بلند ہوتی ہے۔ امید ہے کہ ایک دن یوکرائنی مسلمان مؤثر قوت بن کر ملکی معاملات میں فعال کردار ادا کریں گے۔ یاد رہے کریمیا کا رقبہ ۲۵ ہزار ۹ سو ۹۳ مربع کلومیٹر اور آبادی ۳۰ لاکھ ہے۔
سوال : ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری کچھ زمینیں تھیں اور عرصہ ۴۰ سال سے اس پر قبضہ تھا۔ ہمارے والد صاحب یہ مقدمہ لڑ رہے تھے۔ ہم کل چار بہن بھائی تھے‘ دو بہنیں اور دو بھائی۔ ہم لوگ کراچی میں رہایش پذیر تھے۔ زمین بہاولپور میں ہے اور مقدمے کے لیے پہلے لاہور‘ بعدازاں اسلام آباد جانا پڑتا تھا۔ مقدمہ کا فیصلہ ہونے سے ایک سال پہلے ہمارے والد صاحب اور بڑے بھائی صاحب مقدمے کی پیشی سے واپس کراچی آرہے تھے کہ راستے میں حادثہ ہوگیا اور دونوں باپ بیٹا اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ اس کے بعد چھوٹے بھائی نے مقدمہ لڑا۔ بالآخر ایک سال بعد ہمارے حق میں فیصلہ ہوگیا‘ یوں ہم زمین لینے میں کامیاب ہوگئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بڑے بھائی صاحب جو کہ والد صاحب کے ساتھ ہی وفات پاگئے تھے ان کی بیوی‘ دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ دادا کی وراثت میں پوتوں کا کوئی حق نہیں ہوتا‘ اگر صلبی اولاد حیات ہو۔ اب ہم دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں‘ جب کہ دوسرے بھائی کے بچے ہیں۔ آیا دادا کی وراثت میں ان کا کوئی حصہ ہے یا نہیں؟ ہم لوگ اس بارے میں بہت متفکر ہیں۔ اس دنیا میں کسی حق دار کو اس کا حصہ دینا بہت آسان ہے مگر اگلے جہاں میں بہت مشکل ہے۔ براہ مہربانی آپ قرآن و حدیث کے حوالے سے اس مسئلے کا حل پیش کریں۔
جواب: آپ کے والد صاحب اور بڑے بھائی کا حادثے میں شہید ہونے کا بڑا صدمہ ہوا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون! اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر اور اجر سے نوازے۔ آمین!
آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب بڑے بھائی والد صاحب کے ساتھ ہی فوت ہوگئے ہیں توا ن کے بیٹوں اور بیٹی اور بیوہ کو ترکے کا ۳؍۱ حصہ قانونِ وصیت کے تحت دینا چاہیے۔ یہ صلہ رحمی کا بھی تقاضا ہے جس کی قرآن و حدیث میں بڑی تاکید کی گئی ہے‘ نیز قرآن و حدیث نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے قرابت داروں کے لیے جن کا وراثت میں حصہ نہیں ہے‘ وصیت کریں (البقرہ ۲:۱۸۰)۔ یہ وصیت پہلے وارث اور غیروارث سب کے لیے فرض تھی لیکن آیت میراث کے نزول کے بعد وارثوں کے لیے وصیت کی ضرورت نہیں رہی۔ البتہ غیروارث قرابت داروں کے لیے جو وصیت فرض تھی‘ وہ اس کے بعد بھی باقی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ غیروارث قرابت داروں کو میراث میں سے بذریعہ وصیت حصہ دلانا چاہتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات ایسے حالات پیش آجاتے ہیں کہ آدمی وصیت کرنے سے عاجز ہوتا ہے‘ جیسے آپ کے والد صاحب کو حادثہ پیش آیا اور بڑے بھائی ان کے ساتھ ہی شہید ہوگئے۔ ایسی صورت میں بڑے بھائی کے بیٹوں‘ بیٹی اور بیوی کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی تھی۔ جب اس طرح کی صورت حال پیش آجائے تو وارثوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی جسے ان کے فوت ہوجانے والے سرپرست نے پورا کرنا تھا‘ اسے وہ پورا کریں کہ مقصد تو اللہ کی مرضی کو پورا کرنا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ بھی راضی ہو جائیں گے‘ شہید ہوجانے والے بھائی کی روح بھی خوش ہوجائے گی اور بھتیجے اور بھتیجی اور مرحوم بھائی کی بیوہ بھی راضی ہو جائیں گے۔
غیروارث قرابت داروں کے لیے شریعت کی اس ہدایت پر تمام علما کا اتفاق ہے۔ بعض نے تو فوت ہونے والے پر غیروارث کے لیے وصیت کو فرض قرار دیا ہے اوراگر فوت ہونے والا کسی وجہ سے اس فرض کو ادا کرنے سے قاصر ہوجائے تو انھوں نے ورثا پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ اس کی طرف سے اس فرض کو باہمی مشورے و رضامندی سے عملی جامہ پہنائیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کی طرف سے یہ فرض کی ادایگی شمار ہوگی۔ ابن جریر طبری‘ ابن حزم ظاہری‘ دائود طاہر‘ اسحاق بن راہویہ اور امام شافعی کا قدیم قول یہ ہے کہ آیت الوصیۃ (البقرہ۲:۱۸۰) وارثوں کے حق میں تو منسوخ ہے لیکن غیروارث اقارب کے لیے منسوخ نہیں ہے‘ بلکہ ان کے لیے وصیت حسب سابق فرض ہے۔ آیت المیراث اور حدیث لاوصیۃ لوارث (وارث کے لیے وصیت نہیں) کے ذریعے میراث کے مستحق والدین اور قرابت داروں کو آیت وصیت سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے‘ لیکن غیروارث اقربا کے استثنا کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ ابن جریر طبری آیت الوصیۃ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اگر کوئی سوال کرے کہ کیا صاحبِ مال شخص پر فرض ہے کہ وہ اپنے ان والدین اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرے جو اس کی میراث نہیں لے سکتے‘ غیرمسلم ہیں یا دوسرے ورثا کی وجہ سے محروم ہیں‘(جیسے پوتے بیٹوں کی موجودگی میں) تو جواب میں کہا جائے گا کہ ہاں فرض ہے۔ پھر اگر یہ سوال کیا جائے کہ جب اس نے کوتاہی یا تفریط کی وجہ سے وصیت نہ کی ہو تو کیا وہ فرض ضائع کرنے پر گنہگار ہوگا۔ جواب دیا جائے گا: ہاں!گنہگار ہوگا۔ اس کے بعد اگر کہا جائے کہ اس کی دلیل کیا ہے؟ تو کہا جائے گا کہ دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے کہ ’’فرض کر دی گئی تم پر جب تم میں سے کسی پر موت کا وقت آجائے وصیت کرنا والدین اور قرابت داروں کے لیے‘‘۔ پس جان لو کہ یہ وصیت ہم پر اس طرح فرض کی گئی ہے ‘ جس طرح روزے فرض کیے گئے ہیں۔ اس میں تو کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ باوجود قدرت کے روزے نہ رکھنے والا شخص اللہ کے فرض کو ضائع کرنے والا ہے اور گنہگار ہے۔ اس طرح صاحبِ مال شخص والدین اور قرابت داروں کے لیے وصیت ترک کرنے پر گنہگار ہوگا۔ ابن جریر طبری نے عبداللہ بن عباس‘ حسن بصری‘ جابر بن زید‘ طائوس‘ قتادہ‘ ضحاک‘ مسروق‘ عبدالملک بن یعلی‘ ربیع‘ مسلم بن یسار‘ علا بن زیاد اور یاس بن معاویہ جیسے اسلاف کے اقوال اس حوالے سے بطور دلیل نقل کیے ہیں‘‘۔ (جامع البیان لتاویل القرآن‘طبع بیروت ۱۹۸۸ئ‘ ص ۱۱۵‘ ۱۱۶‘ ج ۲ بحوالہ تفہیم المسائل‘ ج ۵‘ ص ۴۸۹ تا ۴۹۸)
مفسر عصرِحاضر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں فرماتے ہیں: ’’بعد کے لوگوں نے وصیت کے اس حکم کو محض ایک سفارشی حکم قرار دے دیا یہاں تک کہ بالعموم وصیت کا طریقہ منسوخ ہی ہوکر رہ گیا۔ لیکن قرآن مجید میں اسے ایک حق قرار دیا گیا ہے‘ جو خدا کی طرف سے متقی لوگوں پر عائد ہوتا ہے (غیر وارثوں کے لیے)۔ اگر اس حق کو ادا کرنا شروع کر دیا جائے تو بہت سے وہ سوالات خود ہی حل ہو جائیں گے جو میراث کے بارے میں لوگوں کو الجھن میں ڈالتے ہیں‘ مثلاً ان پوتوں اور نواسوں کا معاملہ جن کے ماں باپ‘ دادا اور نانا کی زندگی میں مر جاتے ہیں‘‘۔ (تفہیم القرآن‘ ج ۱‘ ص ۱۴۱)
اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کیا چاہتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ یتیم پوتے اور دوسرے قرابت داروں کے لیے وصیت کی جائے اور انھیں بھی حصہ دیا جائے۔ فوت ہونے والے کے لیے یہ حکم تھا‘ اگر وہ اس کی تعمیل اس لیے نہ کر سکا کہ اسے اس کا موقع نہ مل سکا‘ تب اس کی تعمیل ورثا کو کرنا چاہیے۔ اس لیے دو بہنوں‘ ایک بھائی کو چاہیے کہ وہ فوت ہونے والے بھائی کے دو بیٹوں ایک بیٹی اور بیوہ کو ۳؍۱ جو غیروارث کے لیے بطور وصیت رکھا گیا ہے‘ دے دیں اور ۳؍۲ آپس میں تقسیم کرلیں۔ کل جایداد کو چھے حصوں میں تقسیم کر کے دوحصے‘ یعنی کل جایداد کا ۳؍۱شہید ہونے والے بھائی کے بیٹوں‘ بیٹی اور بیوہ کو ان کے حصصِ وراثت کے مطابق دے دیں اور بقیہ چار حصے اس طرح تقسیم کریں کہ دو حصے بھائی کو اور ایک ایک حصہ بہنوں کو مل جائے۔(مولانا عبدالمالک)
س : آج کل دنیا میں پرامن تبدیلی اور آمریت کے مقابلے میں جمہوریت اور جمہوری نظام کا چرچا ہے۔ اسے تمام مسائل کا حل تصور کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث کے حوالے سے واضح فرما دیں کہ جمہوریت کی اصطلاح کا مفہوم کیا ہے اور کیا اس کا وجود قرآن و حدیث میں پایا جاتا ہے؟
ج: اس اہم سوال کا براہ راست جواب دینے سے قبل مناسب ہوگا کہ اس بات پر غور کرلیا جائے کہ گو ہم قرآن کریم اور سنت رسولؐ یا حدیث کے بارے میں یہ ایمان رکھتے ہیں کہ یہی ہمارے لیے قیامت تک کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہیں‘ لیکن کیا ہدایت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر ممکنہ موضوع پر تفصیلات بھی فراہم کرے‘ یا ہدایت کا اصل مقصد بنیادی اصول اور بعض ایسی منتخب عملی مثالیں فراہم کرنا ہوتا ہے جو مختلف حالات میں رہنمائی فراہم کریں۔
قرآن و سنت بلاشبہہ قیامت تک کے لیے واحد جامع ہدایات ہیں لیکن ان میں دنیا کے ہر موضوع پر ایک مفصل باب تلاش کرنا یا ہر علمی اور فنی اصطلاح کا پایا جانا ایک غیر ضروری خواہش ہے۔ اس سب کے باوجود وہ جمہوریت ہو یا طب‘ فلکیات ہو یا بحریات‘ علمِ الارض ہو یا علمِ موسمیات‘ فلسفہ ہو یا ادب یا دیگر علوم و فنون‘ ان سب کے لیے اخلاقی اصول اور بنیادیں قرآن و سنت میں پائی جاتی ہیں جس کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ قرآن طب یا کیمیا یا فلکیات کی کتاب ہے۔
جہاں تک سوال جمہوریت کا ہے ‘ اس اصطلاح سے عموماً ہم وہ سیاسی نظام مراد لیتے ہیں جس کی فکری بنیادیں یورپی فکر میں افلاطون کی کتاب ’’جمہوریت‘‘ سے جاکر ملتی ہیں‘ یاوہ نظام مراد لیتے ہیں جس پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ امریکا یا بعض یورپی ممالک کرتے ہیں۔ ظاہر ہے امریکا یا یورپی ممالک جس جمہوریت کی بات کرتے ہیں اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ مغربی جمہوریت کی بنیاد لادینیت (secularism) پرہے۔ لیکن مغربی جمہوریت میں آزادیِ راے‘ اختلاف کا حق‘ اکثریت کی رائے کا احترام‘ آزادانہ انتخاب کے ذریعے ذمہ دارانِ ریاست کا انتخاب وغیرہ ایسے موضوعات ہیں جنھیں روحِ جمہوریت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے‘ جب کہ لادینیت اس کا جسم کہا جا سکتا ہے۔
اسلام نے سیاست اور حکومت کے حوالے سے قرآن و سنت میں جو اصول دیے ہیں ان میں روحِ جمہوریت اپنی اعلیٰ ترین شکل میں پائی جاتی ہے اور اس نظام کے خدوخال اور جسم بجاے لادینیت کے قیامِ دین پر مبنی ہے۔ گویا قرآن و سنت نے ایک جمہوری‘ عادلانہ اور دینی معاشرہ و ریاست کے قیام کے لیے ہمیں واضح اصول دیے ہیں جو مغربی جمہوریت سے بلندو برتر ہیں۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو قرآن کریم نے بنیادی سوال یہ اٹھایا ہے کہ انسان اس دنیا میں شترِبے مہار ہے یا وہ اپنے خالق اور مالک کے نمایندے کی حیثیت رکھتا ہے؟ چنانچہ سورہ بقرہ میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ انسان کا اصل مقام اللہ تعالیٰ کے خلیفہ کا ہے (البقرہ ۲:۳۱)۔ اس خلیفہ کا انتخاب یا تقرر کس طرح ہوگا‘اس کے لیے قرآن کریم نے مختلف مقامات پر ہدایات دی ہیں۔ پہلی تو یہ ہے کہ مشاورت کر کے ایسے فرد کا انتخاب کیا جائے جو اس منصب کا اہل ہو۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ اہلِ ایمان کے تمام معاملات مشاورت سے طے ہوتے ہیں (الشوریٰ ۴۲:۳۸)۔ پھر اسی بات کو یوں بیان کیا گیا کہ اپنے امور میںمشورہ کرو اور جب کسی فیصلے پر پہنچ جائو تو پھر نتائج کو اللہ پر چھوڑ دو (اٰل عمرٰن ۳:۱۵۹)۔ ظاہر ہے انتخابِ ذمہ داران سے بڑھ کر اور اہم معاملہ کیا ہو سکتا ہے‘ اس لیے اس کی بنیاد عوامی شوریٰ ہی ہوگی اور مشورے کے بعدلوگ جسے منتخب کریں وہی ذمہ داری پر مقرر کیا جائے گا۔ تاریخ سے اس کی مثال حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا انتخاب ہے جس میں شوریٰ کی بنیاد پر ان حضرات کو منتخب کیا گیا۔
اسلام کے سیاسی اورمعاشرتی نظام میں ذمہ داریاں کن حضرات کو دی جائیں گی‘ سربراہِ مملکت ہو یا دیگر شعبوں کے سربراہ ہوں وہ کس بنیاد پر منتخب کیے جائیں گے‘ اس کی بھی قرآن و سنت میں ہدایت دی گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ ذمہ داریاں صرف ایسے افراد کو دی جائیں جو اس کے اہل ہوں (اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا - النساء ۴:۵۸)۔ اس اہلیت کو بھی دیگر مقامات پر سمجھا دیا گیا کہ اس سے مراد کیا ہے‘ یعنی وہ افراد جو دیانت دار ہوں‘ امین ہوں‘ علمی اور جسمانی لحاظ سے قوی ہوں‘ فیصلے کی قوت رکھتے ہوں‘ جن پر لوگوں کو اعتماد ہو‘ جو خود منصب کے پیچھے نہ بھاگ رہے ہوں وغیرہ۔
ان ہدایات کو سامنے رکھیں تو جس چیز کو جمہوریت کہا جاتا ہے اسلام کا دیا ہوا نظام اس سے بلند اور روحِ جمہوریت میں اپنی مثال آپ نظر آتا ہے۔ اس نظام میں اللہ کا رسول بھی اپنے صحابہؓ سے مشورہ کرتا ہے اور صحابہ کرامؓ پورے ادب و احترام کے ساتھ اس سے اختلاف کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ آپؐ جوفیصلہ کر رہے ہیں کیا یہ وحی کی بنیاد پر ہے یا آپ کی اپنی رائے ہے؟ اگررسولؐ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی بنیاد وحی نہیں تو صحابہؓ کی تجویز پر عمل کیا جاتا ہے (غزوئہ بدر)۔ گویا آمریت‘ بادشاہت اور تنہا ایک فرد کی عقل و فیصلے کی جگہ مشاورت پر فیصلے ہوتے ہیں اور صاحبِ امر مشاورت کی پیروی کرتا ہے‘ اسے ویٹو نہیں کرتا۔ اسی کا نام روحِ جمہوریت ہے ‘ جب کہ مغربی جمہوریت بالکل مختلف بنیادوں اور اصولوں پر قائم ہے۔ (پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد)
قانون قصاص و دیت ۲۰۰۳ء کے مولف میاں مسعود احمد بھٹّا پاکستان کے قانونی اور دینی حلقوں میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ فاضل ایڈووکیٹ قصاص و دیت آرڈی ننس پر ایک کتاب ۱۹۹۱ء میں بھی لکھ چکے ہیں۔ اب اسی موضوع پر ان کی دوسری کتاب ہے۔ نقش ثانی‘ نقش اول سے بہرصورت بہتر اور جامعیت کی سرحدوں تک پہنچ گیا ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں قصاص و دیت کے قانون کا بنیادی مآخذ قرآن وسنت ہے۔ مصنف نے تمام مذاہب فقہ کے علمی ذخیرے سے بھی استفادہ کیا ہے۔ لیکن انھوں نے فقہی مکاتب فکر کے جزوی اختلافات سے بحث نہیں کی ہے۔ کیونکہ جہاں تک اسلامی قانون کے اصولوں کا تعلق ہے ان کے بارے میں سب ائمہ فقہ متفق الراے ہیں۔ اسلام میں فطری مساوات اور توازن کا اصول زندگی کے تمام شعبوں میں کارفرما ہے۔ اس لیے جرم و سزا میں بھی اسی قانونِ مساوات کی عمل داری ہے۔
کتاب کا حصہ اول جنایات علی النفس‘ یعنی انسانی جسم پر وارد ہونے والے جرائم سے متعلق ہے۔ حصہ دوم میں ان جرائم کی تعریف اور ان کی سزائوں سے متعلق تمام دفعات ۲۹۹ تا ۳۸۸ درج ہیں۔ دفعات‘ ان کی تعریف‘ ان کی سزائیں اور اس ضمن میں قرآن وسنت اور فقہا کے حوالے سے شرعی فیصلے اور موجودہ اسلامی قانون کی رو سے عدالتی فیصلوں کے اہم نکات‘ پھر ان کی تشریحات (commentary) سے کتاب کی افادیت بڑھ گئی ہے۔ حواشی میں حدیث‘ فقہ اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے حوالے بھی دیے گئے ہیں مگر موضوعاتی اشاریہ (index) نہ ہونے کی وجہ سے ایک کمی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے باوجود مؤلف نے اہم اور مستند کتابوں کے وسیع مطالعے کے بعد نہایت محنت اور جانفشانی سے یہ کتاب مرتب کی ہے۔
مولف موصوف نے دیت کے بارے میں فقہا کے نظریات‘ حکومت اور قضا کے اختیارات کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مغربی مفکرین مارس گاڈفرے اور جوزف سکاچ کے خیالات کو بھی نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام کے بارے میں ان کی ریسرچ محض سطحی اور خودغرضی پر مبنی ہے۔ بہتر ہوتا کہ ان کے مخالفانہ نقطۂ نظر کا دلائل کے ساتھ محاکمہ کیا جاتا جس سے حقیقت کھل کر سامنے آجاتی۔
موجودہ قانون کی دفعہ ۲۲۳ کی رو سے مرد اور عورت کی دیت میں تفریق نہیں کی گئی۔ لیکن مولف کتاب نے ائمہ مذاہبِ اربعہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ عورت کی نصف دیت کے قائل ہیں۔ لیکن تحقیقی جائزے کی روشنی میں امام ابوحنیفہؒ کی رائے میں عورت‘ مرد کی طرح پوری دیت کی حق دار ہے۔ چونکہ یہ انسانی جان کا معاملہ ہے جو قانونِ وراثت سے مختلف ہے۔ علماے ازہر نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔ قانون دیت و قصاص کے مرتبین کے پیشِ نظر بھی دیت کے بارے میں یہی فقہی مسلک رہا ہے۔
مولف نے اسلامی قانونِ شہادت اور خاص طور پر تزکیہ الشہود پر (جو حقائق کو دریافت کرنے کا موثر ذریعہ ہے اور قانون فوجداری جو قصاص و دیت سے متعلق ہے) سیرحاصل بحث کی ہے‘ جو لائق ستایش ہے۔
ابتدایئے میں لائق مولف نے پاکستان میں نفاذ اسلام کی مختصر تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے قانونِ اسلامی کی تنفیذ کا سارا کریڈٹ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ‘ ہائی کورٹوں‘ فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کو دیا ہے۔ ان کی سعی و کاوش سے انکار نہیں۔ بلکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سلسلے میں اعلیٰ عدلیہ نے اسلامائزیشن کے لیے ازخود نوٹس نہیں لیا۔ ملکِ عزیز میں اسلامی قانون کی تدوین اور نفاذ کے بارے میں مولانا مودودیؒ کی دینی بصیرت اور عملی اقدام‘ ان کے ہم عصر اور علماے متاخرین کی شعوری کوشش‘ عوام‘ سیاسی مذہبی اور دینی جماعتوں اور اسلامی وکلا کی مساعیِ پیہم ہماری تاریخ کا ناقابلِ فراموش حصہ ہے۔ قانونِ قصاص و دیت‘ سپریم کورٹ میں ہماری آئینی پٹیشن پر ۱۲ ربیع الاول ۱۴۱۱ ہجری کو نافذ العمل قرار دیا گیا جس میں موجودہ پارلیمنٹ کی منظوری سے چند ترامیم کی گئی ہیں مگر اب بھی کافی سقم اور خامیاں موجود ہیں جنھیں دُور کرنا بھی ازبس ضروری ہے۔
مؤلف مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ایک اہم علمی موضوع پر یہ کتاب قومی زبان اُردو میں اور سلیس و عام فہم انداز میں مرتب کی ہے۔ یہ کاوش مجموعی لحاظ سے قابلِ قدر ہے۔ اس سے اراکینِ عدلیہ‘ قانون کے طلبا‘ علما اور تعلیم یافتہ حضرات براہِ راست استفادہ کرسکیں گے۔(محمد اسماعیل قریشی)
ڈاکٹر محمود احمد غازی (صدر بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی‘ اسلام آباد) کی متنوع دل چسپیاں جن علوم و فنون میں ہیں‘ ان میں قرآن حکیم بطور خاص شامل ہے۔ زیرنظر کتاب موصوف کے لیکچر ہیں جو انھوں نے دعوۃ اکیڈمی کے زیر اہتمام فیصل مسجد اسلام آباد کے معتکفین کو دیے۔ بعدازاں ایک صاحب نے انھیں فیتے سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا۔ کتاب میں قرآن مجید کے متعلق پانچ پہلوئوں پر عام فہم مگر مستند معلومات یکجا کر دی گئی ہیں۔ ان میں قرآن مجید کے ناموں کی معنویت‘ اس کا موضوع‘ کیفیتِ نزول اور ترتیب و تدوین سے متعلق معلومات شامل ہیں۔
آپ نے بھرپور استدلال کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ دن اور رات کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جہاں دنیا کے کسی نہ کسی مقام پر قرآن پاک کی تلاوت‘ تعلیم اور تدریس کا کام نہ ہو رہا ہو۔ (ص ۱۱)
کتاب میں غلطیاں نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم سورہ القدر کی آیت ایک میں انزلنٰہ کی جگہ انزلنا اور سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۸۲ میں وننزل کی جگہ ونزل درج ہوگیا ہے۔ کتاب عوام کے لیے عام فہم اور سہل انداز میں مرتب کی گئی ہے‘ تاہم اہلِ علم بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ (ڈاکٹر محمد عبداللّٰہ)
جماعت اسلامی اللہ کی زمین پر نظام عدل رائج کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ سیاسی جماعت کی محدود اصطلاح اور مذہبی جماعت کا لیبل اس کی انقلابی دعوت کی حقیقی عکاسی نہیں کرتے۔ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ بھارت‘ جموں و کشمیر اورسری لنکا میں جماعت آزادانہ لیکن نظریاتی ہم آہنگی کے ساتھ اپنی دعوت پھیلا رہی ہیں۔ تمام تر مخالفتوں اور الزامات و اتہامات کے باوجود جماعت کی دعوت و اثرات کا دائرہ وسیع تر ہو رہا ہے‘ خصوصاً پاکستان میں اس کے اثر و نفوذ میں قابلِ ذکر اضافہ ہو رہا ہے۔پارلیمنٹ میں اس کی موجودگی‘ مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
آغاز (۱۹۴۱ئ) ہی سے جماعت کو اندرونی و بیرونی مخاصمتوں کا سامنا ہے۔ نظریاتی طور پر اس کے پیغام کی تنقیص کی گئی اور سیاسی طور پر اس کے پروگرام کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ امریکا اور یورپ کی کئی جامعات میں جماعت کی نظریاتی پرداخت اور سیاسی طرزعمل پر تحقیقی مقالے لکھے لکھوائے گئے۔ مغربی یورپ اور سکنڈے نیویا کے کئی ریسرچ اسکالر جہاد افغانستان کے حوالے سے اپنا تحقیقی کام مکمل کرچکے ہیں اور اخبارات و رسائل میں وقتاً فوقتاً ایسے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں جن میں جماعت کے جہادی کردار یا سیاسی سرگرمیوں کو زیربحث لایا جاتا رہا ہے۔ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد ’’دہشت گردی‘‘ کے حوالے سے بھی جماعت کو کہیں نہ کہیں ملوث کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
بھارت پاکستان کا ہمسایہ ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان ابتدا ہی سے جموں و کشمیر کا بنیادی تنازع موجود ہے۔ عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک میں مختلف موضوعات پر نظریاتی بحثیں جاری رہتی ہیں۔ پاکستانی عوام دو قومی نظریے پر کامل یقین رکھتے ہیں‘ مگر دو قومی نظریہ بھارت کے بعض عناصر‘ خصوصاً حکمران طبقے کے گلے سے نیچے نہیں اُترسکا ہے۔
جماعت اسلامی کی جدوجہد اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے کردار کے حوالے سے کلیم بہادر‘ اور ولی رضا نصر وغیرہ کے بعد حال ہی میں ڈاکٹر پوجا جوشی کی زیرنظر کتاب منظرعام پر آئی ہے جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان میں مذہبی حکومت کے قیام کے لیے سب سے متحرک پارٹی جماعت اسلامی ہے لیکن اس کو ناقص پالیسیوں کے سبب اسے قبولِ عام نہیں مل سکا۔ ڈاکٹر پوجا نے راجستھان یونی ورسٹی‘ جے پور سے ڈاکٹریٹ کی ہے۔ پاکستان میں حکومت و سیاست کے حوالے سے اُ ن کے تحقیقی مضامین شائع ہوتے رہے ہیں اور آج کل وہ انڈین سول سروس میں ہیں۔
کتاب میں پاکستانی رسائل و جرائد کی مدد سے جماعت کے اصل کردار کو سمجھنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ مولفہ کی یہ کوشش بھی رہی ہے کہ پاکستان کو ایک ناکام ریاست قرار دیا جائے اور خاکم بدہن‘ اس کے زوال میں جماعت کا کردار یا کم از کم ہاتھ ضرور ثابت کر دیا جائے۔
ہر کسی تجزیہ نگار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس پہلو سے بھی چاہے جماعت کی جانچ پرکھ کرے اور اس کی پالیسیوں کا تجزیہ کرے لیکن یہ بات علمی دیانت کے خلاف ہے کہ جماعت پر انھی گھسے پٹے اور بے بنیاد الزامات کو پھر سے دُہرایا جائے جن سے جماعت برأت کا بارہا اظہار کرچکی ہے‘ مثلاً: قیامِ پاکستان کی مخالفت‘ قائداعظم کو کافراعظم کہنا‘ پاکستانی نظامِ حکومت کو کافرانہ نظام کہنا‘ امریکا سے ڈالر وصول کرنا‘ احمدیوںاور شیعوں کے خلاف مہم‘ پاکستان میں مذہبی فاشیت کافروغ جیسے الزامات موقع بہ موقع دہرائے گئے ہیں۔ مولفہ کو اندازہ نہیں کہ جماعت اسلامی کا قافلہ ان الزامات کی گرد جھاڑ کر کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔
ڈاکٹر پوجا نے مولانا مودودی کی زندگی‘ اُن کے ذہنی ارتقا اور جماعت پر ان کے اثرات کا جائزہ بھی لیا ہے لیکن مولانا نے نظمِ جماعت کا جو خاکہ مرتب کیا اور جس کی بنیاد پر ایک جماعت کو قائم کر کے منظم کیا اور بالفعل پاکستان کی سب سے فعال اور متحرک پارٹی بنا دیا‘ ڈاکٹر پوجا اسے فاشیت قرار دیتی ہیں۔ یہ بھی اعتراض ہے کہ مولانا نے ’سود سے پاک معیشت‘ کا جو تصور پیش کیا ہے‘ وہ جدید معیشت اور بنک کاری کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔پوجا کااصرارہے کہ جنرل محمد ایوب خان اور اُن کے بعد آنے والے سربراہان کے ذریعے پاکستان‘ سیکولرزم کے راستے پر ٹھیک ٹھیک آگے بڑھ رہا تھا لیکن جماعت نے قرارداد مقاصد‘ اسلامی نظام تحریک‘ تحریک ختمِ نبوت‘ افغان جہاد کی حمایت اور جنرل محمد ضیا الحق سے تعاون کے ذریعے پاکستان کو ایک دوراہے پر ڈال دیا ہے۔ سرمایہ دار ممالک‘ اشتراکی بلاک اور مسلم دنیا‘ تینوں گروہوں کے لیے پاکستان ایک معما ہے جو دو قدم آگے بڑھتا ہے اور چار قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ پوجا کے خیال میں اس کا سبب پاکستان کا مذہبی طبقہ ہے‘ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اسلام پرست‘ مخلص قیادت کے برسرِاقتدار نہ آنے سے وہ دلدل پیدا ہوئی جس کا پوجا دُکھ کے ساتھ ذکر کرتی ہیں۔
ڈاکٹر پوجا نے عالمی معاملات‘ خصوصاً مسلم ایشوز پر رائے دینے کی پالیسی کے سبب بھی جماعت پر تنقید کی ہے‘ مثلاً وہ معترض ہیں کہ دنیا بھر میں جہاں بھی مسلم افراد کے ساتھ کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے‘ جماعت آگے بڑھ کر اُس کی مذمت کرنا ضروری سمجھتی ہے۔ بھارتی صحافیوں‘ دانش وروں اور قلم کاروں کی طے شدہ لائن کے مطابق مصنفہ یہ موقف اختیار کرتی ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے‘ فرقہ پرستی عروج پر ہے‘ صوبائی نفرتیں پروان چڑھ رہی ہیں‘بدعنوانی تمام حدود کو پار کرچکی ہے‘ اس لیے جماعت کو داخلی سیاست اور ملکی معاملات کے سدھار پر توجہ دینی چاہیے۔ بیرونی معاملات‘ خصوصاً بھارتی مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے اِکا دکا واقعات کو رائی کا پہاڑ نہیں بنانا چاہیے۔
بلاشبہہ یہ کتاب کی ایک خوبی ہے کہ معروف طریقے کے مطابق مولفہ نے پاکستانی اخبارات کے بہ کثرت حوالے دیے ہیں لیکن کیا یہ علمی اصولوں کی پامالی نہیں کہ انھوں نے جماعت کے اپنے رسائل و جرائد جماعت کے لٹریچر اور مجلسِ شوریٰ کی قراردادوں کا مطالعہ نہیں کیا‘ بعض باتیں تو سنی سنائی اور مضحکہ خیز ہیں‘ مثلاً: اسلامی جمعیت طلبہ کے قیام میںپروفیسر خورشید احمد کے ساتھ مولانا مفتی محمود نے بھی کردار ادا کیا تھا ‘وغیرہ۔
مجموعی طور پر اس کتاب میں علمی دیانت اور معروضیت کا فقدان اور متعلقہ ناگزیر مآخذ تک مولفہ کی نارسائی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ (محمد ایوب منیر)
ماضی قریب میں متحدہ مسلم تنظیم UMO کا تصورانڈونیشیا اور لیبیا کی طرف سے سامنے آیا‘ مگر یہ تصور یو این کی بے حسی پر ’احتجاج‘ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم OIC اور عرب لیگ جیسی تنظیمیں موجود ہیں مگر ان سے کسی فعال کردار کی توقع کم ہی ہے۔ شاید اسی لیے جناب سحر رضوان نے یونائیٹڈ مسلمز آرگنائزیشن کا تصور پیش کیا ہے۔ ان کی کتاب کا عنوان بھی یہی ہے۔
مصنف نے ’درددل‘ کے عنوان سے دیباچے میں بتایا ہے کہ انھوں نے ۱۹۷۴ء میں یونائیٹڈ مسلمز آرگنائزیشن کے نام سے ایک کتابچہ تحریر کیا تھا۔ بعد کے معروضی حالات میں انھوں نے اس میں اہم اضافے کیے۔ یہ کتاب کسی فہرست کے بغیر چھوٹے چھوٹے عنوانات مثلاً: مسلم امہ کو درپیش مسائل‘ مسلم امہ کے اتحاد میں رکاوٹیں‘ یو این اور مسلم امہ‘ جدید سیکولر صلیبی جنگ‘ آیت اللہ خمینی کا اتحادِ عالم اسلام میں کردار وغیرہ پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا اہم حصہ ’’یو ایم او اوراس کے تنظیمی ڈھانچے‘‘ پر مشتمل ہے۔ یہ گویا سحررضوان صاحب کا مرتب کردہ دستور ہے جسے یوایم او اپنا سکتی ہے۔ مصنف مسلم اُمہ میں بیداری کی ایک لہر اٹھتی محسوس کرتے ہیں اور اس سلسلے میں مختلف تنظیموں مثلاً ’ایکو‘ مصر شام فری ٹریڈ زون‘ ڈی-۸‘ خلیج تعاون کونسل اور موتمر عالمِ اسلامی کا ذکر پُرامید انداز میں کرتے ہیں۔
محسوس ہوتا ہے کتاب نظرثانی کے بغیر چھپی ہے۔ پروف کی غلطیاں بہت زیادہ ہیں۔ اسلامی ممالک اور غیر اسلامی ممالک کی فہرستوں میں موجود نام آپس میں گڈمڈ ہوکر رہ گئے ہیں۔ بلغاریہ‘ تنزانیہ‘ انگولا‘ چلّی اور گھانا کو اسلامی ملک بتایا گیا ہے‘ جب کہ یہ نہ تو مسلم ممالک ہیں اور نہ اسلامی ملکوں کی تنظیموں کے رکن ہیں۔ کتاب میں دو مسلمان ملکوں گنی اور ملائشیا کو مسلم اور غیرمسلم دونوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ایسی غلطیوں سے بچنا چاہیے۔ (فیض احمد شہابی)
عراق اور کشمیر جیسے سلگتے اور دل فگار موضوعات پر بہت سے ناول‘ کہانیاں اور نظمیں‘ غزلیں لکھی جاچکی ہیں۔ زیرنظر کتاب بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ نگہت سیما کے تین افسانوں کا مجموعہ ہے ۔
افسانہ ’’جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا‘‘ پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم عراق کی گلیوں میں گھوم پھر رہے ہیں۔ بغداد کی گلیاں رات کو تو الف لیلوی کرداروں کی کہانیاں سنا رہی تھیں مگر صبح ہونے پر وہاں خون کی ندیاں رواں تھیں۔ معصوم بچوں‘ بے کس مائوں اور بہنوں بیٹیوں کی چیخوں اور آہوں سے بغداد کے الف لیلوی خواب چکناچور ہوگئے مگر اہلِ بغداد جاگ اٹھے ہیں۔ وہ بغداد کے عبدالعزیز یا عبدالماجد ہوں یا پاکستان کا عمرستار‘ ان کے دلوں میں شہادت کی مشعلیں روشن ہیں۔ یہ وہ بغدادی ہیں جنھیں اپنے جسموں پر بم باندھ کر گھومنے میں لطف و سرور ملتا ہے۔ مصنفہ نے اہلِ عراق کے بے کس مسلمانوں کے جذبات کو بہت خوب صورتی سے اجاگر کیا ہے۔
دوسرے اور تیسرے افسانوں (راہ جنوں، نامہ بر بہار کا) میں کشمیر کے سلگتے چناروں اور کشمیریوں کی حرماں نصیبی کا تذکرہ ہے۔ نگہت سیما کے قلم نے حقیقی معنوں میں اہلِ کشمیر کے دلی جذبات واحساسات کی ترجمانی کی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حضرت بل پر موئے مبارک کی زیارت کے لیے جان دینے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور جن کے لیے جھیل ڈل کی خوب صورتی‘ چنار کی سرخ پتوں کی محبت اور کشمیر جنت نظیر جیسی بے مثال دلھن کا سارا حُسن اس وقت تک بے معنی ہے‘ جب تک کہ ان کے وطن میں آزادی کی صبح طلوع نہیں ہوتی۔ جب زعفران کے کھیت تباہ ہو جائیں‘ سبزہ زاروں میں آگ لگ جائے اور دھرتی لہو رنگ ہو جائے تو سید ثقلین شاہ (راہِ جنوں) اور عباس حسن (یہی نامہ بر ہے بہار کا) کے لیے ذاتی خوشی بے معنی ہوجاتی ہے۔ یہ افسانے جہادِ بالقلم کا عمدہ نمونہ ہیں۔ امید ہے کہ ان کی یہ کاوش ادبی حلقوں میں سراہی جائے گی۔ (قدسیہ ہاشمی)
زیرنظر کتاب کے مصنف‘ جامعہ احتشامیہ کراچی سے وابستہ ہیں۔ ان کے زیرنظر مقالات ماہ نامہ حق نواے احتشام میں‘ وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ اقوام مغرب کی تاریخ پر بھی خاصا عبور رکھتے ہیں۔
مصنف نے اس کتاب میں ’رموز معراج شریف‘، ’فلسفہ قربانی‘، ’خدمت خلق‘ اور ’صدقہ کے فضائل و برکات‘پر بھی لکھا ہے۔ ایک مضمون ’رجب کے کونڈے‘ پر ہے۔ اس کے علاوہ ’التاریخ والتقویم‘ کے عنوان سے بہت وقیع مقدمہ ہے۔ آپ قمری حساب کے اہتمام اور شمسی حساب سے اجتناب ضروری سمجھتے ہیں لیکن معارف القرآن کے حوالے سے مولانا مفتی محمد شفیعؒ کی اس رائے سے متفق نظر آتے ہیں کہ اس کے یہ معنی نہیں کہ شمسی حساب رکھنا یااستعمال کرنا ناجائز ہے‘ بلکہ اس کا اختیار ہے کہ کوئی شخص نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور عدت کے معاملے میں تو قمری حساب شریعت کے مطابق استعمال کرے مگر اپنے کاروبار‘ تجارت وغیرہ میں شمسی حساب استعمال کرے۔ (ص ۲۹)
مولانا ارکانی نے متعدد مضامین میں پاکستان‘ امریکا‘ انڈونیشیا‘ ترکستان‘تاجکستان‘ چیچنیا‘ افغانستان‘ سوڈان اور صومالیہ و یمن کی تاریخ بیان کی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کا ایک حصہ جناب واجد رضا اصفہانی کے مضامین پر مشتمل ہے۔
مولانا واقعاتی معلومات اور اعداد و شمار کے لیے مقامی اخبارات و رسائل کا حوالہ دیتے ہیں‘ اگر وہ جدید و قدیم معروف کتابوں کے حوالے بھی ساتھ ہی دیتے تو بہتر تھا۔ یہ کتاب مذہبی‘ سیاسی اور عالمی معلومات کا ایک مجموعہ ہے۔ چند واقعات پر تبصرے بھی شامل ہیں۔ عالمِ اسلام سے دل چسپی رکھنے والے حضرات اور طلبا اسے اپنے لیے مفید پائیں گے۔ (ف - ا - ش)
صدیقی ٹرسٹ کراچی ایک عرصے سے مختلف النوع دینی‘ تبلیغی اور دعوتی کتابچے شائع کر کے تعلیمات اسلامی کے فروغ میں مفید خدمات انجام دے رہا ہے۔ زیرنظر کتاب میں ٹرسٹ کے بانی اور صدر نشین محمد منظورالزمان صدیقی کے مرتبہ ۵۵ کتابچوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ موضوعات گوناگوں ہیں: قرآن‘ حدیث‘ دعا‘ تقویٰ‘ اخلاق حسنہ‘ حسنِ معاشرت‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ اقتصادی مسائل‘ آدابِ مجلس‘ مسجد کا احترام‘ قتل‘ خودکشی‘ حلال و حرام‘عالم اسلام‘ پاکستان اور صلیبی جنگ‘ مخلوط تعلیم‘ پاکستان کا مطلب کیا؟ عیسائیوں کی تبلیغی سرگرمیاں‘ صحت اور جیب کے دشمن (چائے‘ پان‘ سگریٹ) خواتین کے حقوق‘ پردہ‘ نیل پالش‘ وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ ایک انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں مفکرانہ یا فلسفیانہ انداز کے بجائے سادہ‘ عام فہم اور سلیس اسلوب میں اسلامی تعلیمات کو متوازن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کتابت ضرورت سے زیادہ جلی ہے اور اس میں پھیلائو بہت ہے۔ فنّی تدوین سے کتاب کا حجم کم ہوسکتا تھا اور قیمت بھی۔ (رفیع الدین ہاشمی)
’’امریکا کے صدارتی انتخابی نتائج‘‘ (جنوری ۲۰۰۵ئ) اب تک امریکی انتخابات کے حوالے سے آنے والے تجزیوں میں انفرادیت کا حامل ہے۔ عالمی ردعمل‘ امریکی ایجنڈا و پالیسی کے پیشِ نظر مقابلے کی حکمت عملی کے لیے اہم نکات بالخصوص پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت پر زور اور موجودہ حکمرانوں کی غلط روش پر گرفت کرتے ہوئے تمام جمہوری قوتوں کو بنیادی مقاصد کے لیے مل کر جدوجہد کرنے کی دعوت ملک و ملّت کو درپیش مسائل کے لیے راہنما خطوط ہیں۔ دوسری طرف ’’امریکا میں مسلمان‘‘ (جنوری ۲۰۰۵ئ) امریکا اور امریکی معاشرت کی چشم کشا تصویر ہے اور امریکا میں مقیم مسلمانوں کی مشکلات کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔
’’پاکستان: سیاسی و سماجی صورت حال‘‘ (جنوری ۲۰۰۵ئ) کے ذریعے جہاں معاشرتی صورت حال سے آگہی ہوئی وہاں مصنف کا یہ جملہ کسی تبصرے کا محتاج نہیں:ایک اسلامی لیڈرشپ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تعلق باللہ اور تعلق بالعوام دونوں کی مالک ہوتی ہے۔ اس کا خدا اور خلقِ خدا ہردو سے رابطہ ہوتا ہے--- اسلام کے نام لیوائوں پہ خاص ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ وقت کے اقتصادی چیلنج کا جواب پیش کریں۔
’’سفرلیبیا: مشاہدات و تاثرات‘‘ (جنوری ۲۰۰۵ئ) سے لیبیا کے احوال سے آگہی ہوئی خاص طور پر پابندی اٹھنے کے بعد۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کرنل قذافی نے لیبیا اور گردونواح کو امریکی آماجگاہ بناکر ایک انقلابی لیڈر کے بجاے لارنس آف عریبیا کا کردار ادا کیا ہے۔
عیادت سے متعلق چند باتیں ہی معروف ہیں لیکن ’’عیادت کے ۲۳نسخے‘‘ (جنوری ۲۰۰۵ئ) پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اس حوالے سے مریضوں اور مصیبت زدگان کے لیے کتنی روشنی اور ایمان و تزکیے کا سامان ہے۔
’’مسلمان کا نصب العین‘‘ (دسمبر ۲۰۰۴ئ) نے ایک نیا عزم و ولولہ دیا۔ جس طرح مولانا مودودیؒ نے مسلمانوں کو زندگی کے نصب العین سے آشنا کیاہے‘ اگر واقعی اس کو اپناتے ہوئے عمل کیا جائے تو اُمت مسلمہ میں جدوجہد کی ایک نئی رو دوڑ پڑے۔
دنیا ایک عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ملکوں کی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے تجارت‘ کرنسی اور دفاع کے لیے اجتماعی نظام وضع کیے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال یورو ہے۔ ایک موقع پر وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے سارک ممالک کے لیے ایک کرنسی کی بات کی اور کہا کہ جب یورو کرنسی وجود میں آسکتی ہے تو سارک ممالک اپنے لیے ایک کرنسی کیوں نہیں ایجاد کرسکتے۔ لیکن اسلام اپنے آفاقی اصولوں‘ انسانیت کی فلاح اور رنگ و نسل کے کسی تعصب سے اجتناب کی وجہ سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے کہ ایک عالمی نظام تشکیل دے سکے اور ایک عالمی کرنسی کا اجرا کر سکے۔ مسلم اُمہ کے تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے مسلم حکمرانوں کو اس میدان میں پیش رفت کے لیے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
سید اسعد گیلانیؒ کا ایمان افروز ’’ایک مکتوب‘ دوست کے نام‘‘ (دسمبر ۲۰۰۴ئ) پڑھ کر بے اختیار آنسو بہہ نکلے اور اپنی کمزوریوں‘ کوتاہیوں اور غفلتوں کا بھی احساس ہوا۔ اس کے ساتھ ہی راولپنڈی اور میانوالی جیلوں میں ۱۹۷۷ء میں تحریکِ نظام مصطفیؐ کے دوران گیلانی صاحب کے ساتھ اسیری کا زمانہ یاد آگیا۔
میانوالی سنٹرل جیل کی ایک بارک میں ہم ۸۹‘ ۹۰ سیاسی قیدی نظربند تھے۔ دوپہر کے ۱۰ بجے کا وقت تھا کہ جیل کا ملازم آیا اور اُس نے پیغام دیا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل تشریف لانے والے ہیں‘ لہٰذا اُن کے آتے ہی آپ سب قیدی مؤدبانہ اُٹھ کھڑے ہوں۔ اس پر گیلانی صاحب نے تمام قیدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جونہی وہ آئے تو آپ سب کے سب جس حالت میں ہوں‘ اسی حالت میں رہیں۔ اگر کوئی کھڑا ہے تو کھڑا رہے‘ بیٹھا ہے تو بیٹھا رہے‘ لیٹا ہے تو لیٹا رہے اور اگر کسی ساتھی سے وہ کچھ بازپرس کرے تو میری طرف اشارہ کر دو۔ چنانچہ سپرنٹنڈنٹ صاحب اپنے لائولشکر کے ہمراہ جونہی ہماری بارک میں داخل ہونے لگے تو زوردار الفاظ میں کہا گیا: باادب باملاحظہ ہوشیار سپرنٹنڈنٹ صاحب تشریف لا رہے ہیں! مگر ہم پر جوں بھی نہ رینگی اور اُن لوگوں کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ حیران و ششدر ہو کر بارک کے دروازے کے ساتھ ہی پہلے قیدی سے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے کچھ پوچھا تو اُس نے برجستہ جواب دیا کہ وہ ہمارے امیر ہیں اُن سے بات کرو۔ چنانچہ انتہائی ندامت و خفت لیے سپرنٹنڈنٹ گیلانی صاحب کی چٹائی پر دوزانو ہوکر بیٹھا رہا۔ اُس کے سوال کرنے پر آپ اُسے جواب ضرور دیتے مگر اپنے مطالعے کو انہماک کے ساتھ جاری رکھا۔ کیا عظیم لوگ تھے!
اللہ کی بارگاہ میں اپنی شکایتوں کو پیش کرنا اور اپنی مصیبتوں کے متعلق عرض و معروض کرنا ممنوع اور مذموم نہیں بلکہ مامور اور ممدوح ہے‘ اور جو بندہ اپنی حاجت براری کے لیے اللہ کے فضل و کرم کا جتنا ہی زیادہ حریص ہوگا اس کی عبدیت اتنی ہی زیادہ پختہ اور خالص‘ اور ماسوا سے اس کی بے نیازی اتنی ہی زیادہ محکم اور کامل ہوگی۔ جس طرح کسی مخلوق کی حرص اور رغبت اس کی عبودیت کی موجب‘ اور اس سے مایوسی اور بے رغبتی اس سے قلب کی بے نیازی کی باعث ہوتی ہے‘ اسی طرح خالق اور رازقِ حقیقی کی نعمتوں اور نعمتوں کی حرص و رغبت اس کی عبودیت کی موجب ہے اور قلب انسانی کا اس کی طلب و احتیاج سے اعراض کرنا اس کی عبودیت سے اعراض کرنے کے مترادف ہے۔ یہ خطرہ ان لوگوں کے حق میں تو بہت زیادہ شدید ہے جو خالق کی طرف سے اپنی طلب و رجا کا رشتہ توڑ کر کسی مخلوق سے اس طرح جوڑ لیں کہ اسی کو اپنی امیدوں کا مرکز بنالیں اور اسی پر اپنے اعتمادِ قلب کی عمارت تعمیرکرلیں‘ مثلاً کوئی اپنی ریاست‘ اپنی حکومت‘ اپنی فوج اور اپنے خدم و حشم پر اعتماد کربیٹھے یا کوئی اپنے اہل و عیال اور احباب و اقارب پر‘ یا اپنے ذخائر دولت پر اور خزائن سیم و زر کو اپنا مرجع التفات بنا لے‘ یا اپنے کسی آقا‘ کسی فرمانروا‘ کسی مخدوم‘ کسی پیر‘ کسی مرشد اور اسی طرح کے دوسرے بزرگوں کو‘ جو فنا ہوچکے ہوں یا جن کا فنا ہونا بہرحال یقینی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور نصیحت اپنے ہر بندے کے لیے یہ ہے کہ:
تَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِہٖ وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا o (فرقان۲۵:۵۸)، اس اللہ پر بھروسا کر جو زندئہ جاوید ہے جس کو کبھی فنا نہیں اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کر اور اللہ اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے کے لیے کسی غیر کا ضرورت مند نہیں۔
اور یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جس شخص کا دل بھی مخلوقات کی طرف اس توقع کے ساتھ مائل ہوگا کہ وہ اس کے کسی آڑے وقت میں کام دیں گی‘ یا اسے روزی مہیا کریںگی‘ یا اس کو راستی اور ہدایت عطا کریں گی‘ یقینا اس کے دل میں ان کی عظمت پیدا ہوگی اور وہ ان کے سامنے عاجزانہ جھکا ہوا ہوگا اور انجام کار اسی اعتقاد اور اسی تذلل کے تناسب سے اس کے اندر ان کی عبدیت اور بندگی بھی ضرور پیدا ہوجائے گی‘اگرچہ بظاہر وہ ان کا امیر اور سردار اور آقا و فرماںروا ہی کیوں نہ ہو‘ کیونکہ حکیم کی نگاہ تو ظواہر پر نہیں ہوتی‘ حقائق پر ہوتی ہے۔ (’’عبادت اور عبودیت‘‘، افادات امام ابن تیمیہؒ، ترجمہ: مولانا صدرالدین اصلاحیؒ، ترجمان القرآن، جلد ۲۶‘ عدد ۱-۲‘ محرم و صفر ۱۳۶۴ھ‘ جنوری و فروری ۱۹۴۵ء (ص ۴۷-۴۸)