۲۰۰۵فروری

فہرست مضامین

۶۰ سال پہلے

| ۲۰۰۵فروری | ۶۰ سال پہلے

Responsive image Responsive image

حقیقت عبودیت

اللہ کی بارگاہ میں اپنی شکایتوں کو پیش کرنا اور اپنی مصیبتوں کے متعلق عرض و معروض کرنا ممنوع اور مذموم نہیں بلکہ مامور اور ممدوح ہے‘ اور جو بندہ اپنی حاجت براری کے لیے اللہ کے فضل و کرم کا جتنا ہی زیادہ حریص ہوگا اس کی عبدیت اتنی ہی زیادہ پختہ اور خالص‘ اور ماسوا سے اس کی بے نیازی اتنی ہی زیادہ محکم اور کامل ہوگی۔ جس طرح کسی مخلوق کی حرص اور رغبت اس کی عبودیت کی موجب‘ اور اس سے مایوسی اور بے رغبتی اس سے قلب کی بے نیازی کی باعث ہوتی ہے‘ اسی طرح خالق اور رازقِ حقیقی کی نعمتوں اور نعمتوں کی حرص و رغبت اس کی عبودیت کی موجب ہے اور قلب انسانی کا اس کی طلب و احتیاج سے اعراض کرنا اس کی عبودیت سے اعراض کرنے کے مترادف ہے۔ یہ خطرہ ان لوگوں کے حق میں تو بہت زیادہ شدید ہے جو خالق کی طرف سے اپنی طلب و رجا کا رشتہ توڑ کر کسی مخلوق سے اس طرح جوڑ لیں کہ اسی کو اپنی امیدوں کا مرکز بنالیں اور اسی پر اپنے اعتمادِ قلب کی عمارت تعمیرکرلیں‘ مثلاً کوئی اپنی ریاست‘ اپنی حکومت‘ اپنی فوج اور اپنے خدم و حشم پر اعتماد کربیٹھے یا کوئی اپنے اہل و عیال اور احباب و اقارب پر‘ یا اپنے ذخائر دولت پر اور خزائن سیم و زر کو اپنا مرجع التفات بنا لے‘ یا اپنے کسی آقا‘ کسی فرمانروا‘ کسی مخدوم‘ کسی پیر‘ کسی مرشد اور اسی طرح کے دوسرے بزرگوں کو‘ جو فنا ہوچکے ہوں یا جن کا فنا ہونا بہرحال یقینی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور نصیحت اپنے ہر بندے کے لیے یہ ہے کہ:

تَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِہٖ وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا o (فرقان۲۵:۵۸)، اس اللہ پر بھروسا کر جو زندئہ جاوید ہے جس کو کبھی فنا نہیں اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کر اور اللہ اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے کے لیے کسی غیر کا ضرورت مند نہیں۔

اور یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جس شخص کا دل بھی مخلوقات کی طرف اس توقع کے ساتھ مائل ہوگا کہ وہ اس کے کسی آڑے وقت میں کام دیں گی‘ یا اسے روزی مہیا کریںگی‘ یا اس کو راستی اور ہدایت عطا کریں گی‘ یقینا اس کے دل میں ان کی عظمت پیدا ہوگی اور وہ ان کے سامنے عاجزانہ جھکا ہوا ہوگا اور انجام کار اسی اعتقاد اور اسی تذلل کے تناسب سے اس کے اندر ان کی عبدیت اور بندگی بھی ضرور پیدا ہوجائے گی‘اگرچہ بظاہر وہ ان کا امیر اور سردار اور آقا و فرماںروا ہی کیوں نہ ہو‘ کیونکہ حکیم کی نگاہ تو ظواہر پر نہیں ہوتی‘ حقائق پر ہوتی ہے۔ (’’عبادت اور عبودیت‘‘، افادات امام ابن تیمیہؒ، ترجمہ: مولانا صدرالدین اصلاحیؒ، ترجمان القرآن، جلد ۲۶‘ عدد ۱-۲‘ محرم و صفر ۱۳۶۴ھ‘ جنوری و فروری ۱۹۴۵ء (ص ۴۷-۴۸)