۲۰۰۵فروری

فہرست مضامین

پاکستان میں زرعی اصلاحات کا نفاذ

احمد اقبال قاسمی | ۲۰۰۵فروری | پاکستانیات

Responsive image Responsive image

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ پاکستان کی ۶۵ فی صد آبادی کا انحصار زراعت اور اس سے منسلک صنعتوں پر ہے۔ پاکستان کی ۷۰ فی صد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔

یہ ایک انتہائی افسوس ناک حقیقت ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بھی ملک کے کاشت کار ‘ہاری اور زرعی مزدور بدترین زمین دارانہ نظام کا شکار ہیں۔ ۱۹۴۸ء میں نواب شاہ کے ایک ڈپٹی کمشنر مسعود کھدر پوش نے اپنی مشہور ہاری رپورٹ میں ہاری کی حالت زار بیان کرتے ہوئے لکھا تھا:’’انسان‘ حیوان ناطق ہوتے ہوئے بھی وہ پالتو جانوروں کی طرح مشقت میں جُتے رہتے ہیں‘ انھیں مراعات حاصل ہیں نہ حقوق‘ اور اب تین تین بڑی زرعی اصلاحات اور مزارعت (tenancy)کے قوانین میں تبدیلیوں کے بعد ملک میں آج بھی لاکھوں انسان جبری مشقت پر مجبور ہیں‘‘۔

اقوام متحدہ کے ادارے اکنامک ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کے ۹۳ فی صد چھوٹے کاشت کاروں کے پاس پاکستان کی ۳۷ فی صد اراضی ہے‘  جب کہ آبادی کے ۷ فی صد بڑے زمین داروں کے پاس ۶۷ فی صد اراضی ہے۔ گویا بڑے زمین دارجو تعداد میں کم ہیں‘ زیادہ اراضی کے مالک ہیں‘ جب کہ چھوٹے کاشت کار جو بڑی تعداد میں ہیں کم اراضی کے مالک ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے ۵۷سال بعد بھی محروم طبقات کی مراعات میں اضافہ نہیں ہوا۔ وہ اب بھی ناامیدی‘ مالی پریشانی اور اپنے خاندان کی عصمت کے تحفظ کے خوف کی فضا میں جیتے ہیں۔ ایسے حالات میں کاشت کار یکسوئی‘ پوری توجہ‘ محنت اور لگن کے ساتھ کیونکر کام کرسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہماری زرعی پیداوار بہت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ ہم گندم جیسی اہم پیدوار میں خودکفیل نہیں ہیں‘ جب کہ ہمارے پڑوسی ممالک کی زرعی پیداوار میں اور ان کے خود کفالتی زرعی نظام میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

حالات گہرے غوروخوض اور عمل کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رب کائنات کی الہامی اقتصادی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں جو عدل پر مبنی حقیقی اور مستقل قوانین کا درجہ رکھتی ہیں اور ہر حال میں واجب العمل ہیں‘ اور جن کے تحفظ اور نفاذ کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان ربانی ہدایات پر عمل کر کے ہم آخرت کی عیشہ راضیہ اور جنت سے پہلے اس دنیا میں بھی امن و سکون اور وہ خوش گوار زندگی حاصل کرسکتے ہیں جس کو قرآن نے حیاتِ طیبہ اور حیاتِ حسنہ سے بیان فرمایا ہے۔

ان ربانی تعلیمات کا ایک اہم قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ ان کی بنیاد‘ انسانی وحدت و مساوات کے نظریے پرہے۔ تمام انسان پیدایشی طور پر مساوی اور برابری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک انسان انسانیت کے لحاظ سے جن حقوق کا مستحق ہوتاہے ہر دوسرا انسان بھی برابری کے ساتھ ان حقوق کا مستحق ٹھیرتا ہے۔ ان بنیادی حقوق میں سے پہلا حق تحفظ کے ساتھ اپنی طبیعی زندگی گزارنے کا حق ہے۔ دوسرا حق اپنے ذتی امور آزاد مرضی سے خود طے کرنا‘تیسراذاتی ملکیت کا حق‘ چوتھا قانونی مساوات کا حق ہے۔

اسلامی تعلیمات میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ قدرتی وسائل دولت اور ملکی ذرائع آمدنی پر معاشرے کے چند لوگوں کی اجارہ داری اور بالادستی قائم نہ ہونے پائے کہ دوسرے لوگ محرومی کا شکار ہوجائیں۔ اسی طرح ملکی اور قومی دولت کی گردش کا دائرہ چند بڑے لوگوں کے درمیان نہ رہے بلکہ وہ معاشرے کے تمام افراد تک وسیع اور پھیلا ہوا ہو‘ سب آزادی اور عزتِ نفس کے ساتھ اس سے مستفید ہوسکیں‘ بصورت دیگر پورا معاشرہ بدامنی و بے چینی اور بربادی کا شکار ہوکر رہتا ہے۔ معاشی عدمِ توازن ضرور باہمی نزاع و تصادم کا سبب بنتا ہے۔

ان حالات میں‘ پاکستان میں زرعی اصلاحات کے نفاذ کو اولین ترجیح دینا چاہیے۔ اس حوالے سے کچھ نکات غور کے لیے پیش ہیں۔

زرعی اصلاحات کے نفاذ کے لیے حکمت عملی

زرعی اصلاحات اور نفاذ کے لیے مندرجہ ذیل حکمت عملی کو بروے کار لاکر مؤثر طریقے سے ان اصلاحات کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔

۱-            زرعی و اقتصادی ماہرین‘ دانش ور‘ علماے کرام اور ترقی پسند زمین داروں و کاشت کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے تاکہ سیمی نار‘ مباحثے اور میڈیا کے ذریعے زرعی اصلاحات کی افادیت کو واضح کیا جائے‘ اور فوری طور پر زرعی اصلاحات ایکٹ ۱۹۷۷ء نافذ کیا جائے۔

۲-            ایک مستقل زرعی اصلاحات کمیشن قائم کیا جائے تاکہ زرعی اصلاحات کے نفاذ کا مسلسل جائزہ لیا جاتا رہے ‘اور ان کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نہ صرف اقدامات تجویز کیے جائیں بلکہ ان اقدامات کے نتائج کا بھی جائزہ لیا جاتا رہے اور اس سلسلے میں مشکلات کو دُور کیا جائے۔

۳-            شرعی وراثت کے احکامات پر عمل کیاجائے اور انھیں مؤثر بہ ماضی (retrospective) قرار دیا جائے۔ خاص طور پر خواتین کے حقوق وراثت بہت زیادہ رواجی طور پر تلف قرار پائے جاتے ہیں۔ ان حق داروں کو ان کا حق دلایا جائے۔ اس کے لیے علیحدہ سے عدالتی ٹریبونل قائم کیا جائے تاکہ ان کے مقدمات کا تصفیہ جلد اور باقاعدگی سے عمل میں آسکے۔

۴-            زرعی گریجوایٹس میں فاضل سرکاری زرعی زمین تقسیم کی جائے تاکہ زراعت میں ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔

۵-            مزارعت کا نظام: اسلامی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایک عبوری دور کے لیے بٹائی سسٹم پر پابندی لگا دے اور کاشت کار مقررہ اُجرت پر زمین دار کے پاس کام کریں اور اُجرت کا تعین حکومت خود کرے۔ بصورت دیگر حکومت زیرکاشت زمین کا پیداواری یونٹ کے لحاظ سے مالیانہ (لگان) متعین کر دے جسے کاشت کار نقد کی صورت میں زمین دار کو ادا کرے۔ اس طرح کاشت کار یکسوئی اور پوری توجہ سے زمین کی پیداوار بڑھانے پر اپنی محنت صرف کر سکے گا اور زمین دار کی بے جا مداخلت سے محفوظ رہے گا۔

۶-            زرعی پیداوار پر عشر یا نصف عشر کی تحصیل وصول اور تقسیم کاباقاعدہ نظام قائم کیا جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے عشر سے متعلق مسائل کو تفصیل سے مرتب کر دیا ہے۔ ان پر عمل درآمد صوبائی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ عشر کے فنڈ سے ہم دیہی علاقوں میں غریب بچوں اور بچیوں کے لیے تعلیمی وظائف اور ترغیبات کا اہتمام کرسکتے ہیں اور ان کے بگڑے ہوئے احوال کی کچھ اصلاح کرسکتے ہیں۔

۷-            جبری مشقت اور نجی قیدخانوں سے نجات کے لیے بانڈڈ لیبر ایکٹ ۱۹۹۲ء پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور کسی مزدور یا ہاری کو ماہانہ تنخواہ سے زاید بطور ایڈوانس زاید رقم اور قرض خلافِ قانون قرار دیا جائے۔ پرانے قرض داروں کے قرض رائٹ آف قرار دیے جائیں اور انھیں قید سے آزاد قرار دیاجائے۔

۸-            زمین داروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنی تمام زمینیں زیرکاشت لائیں۔ اگرکوئی زمین دار بغیر کسی مثبت عذر کے مسلسل تین سال تک زمینوں کو بغیر کاشت کے پڑا رہنے دے توحکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ ان زمینوں کو واپس لے کر مستحق کاشت کاروں میں تقسیم کردے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ ملک کی تمام غیر آباد زرعی زمینوں کو مستحق افراد میں تقسیم کرے اور کوئی زمین غیرآباد پڑی نہ رہنے دے۔