۲۰۰۵فروری

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| ۲۰۰۵فروری | مدیر کے نام

Responsive image Responsive image

اختر حسین عزمی ‘ پتوکی

’’امریکا کے صدارتی انتخابی نتائج‘‘ (جنوری ۲۰۰۵ئ) اب تک امریکی انتخابات کے حوالے سے آنے والے تجزیوں میں انفرادیت کا حامل ہے۔ عالمی ردعمل‘ امریکی ایجنڈا و پالیسی کے پیشِ نظر مقابلے کی حکمت عملی کے لیے اہم نکات بالخصوص پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت پر زور اور موجودہ حکمرانوں کی     غلط روش پر گرفت کرتے ہوئے تمام جمہوری قوتوں کو بنیادی مقاصد کے لیے مل کر جدوجہد کرنے کی دعوت  ملک و ملّت کو درپیش مسائل کے لیے راہنما خطوط ہیں۔ دوسری طرف ’’امریکا میں مسلمان‘‘ (جنوری ۲۰۰۵ئ) امریکا اور امریکی معاشرت کی چشم کشا تصویر ہے اور امریکا میں مقیم مسلمانوں کی مشکلات کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔


عبدالجبار بھٹی ‘ قصور

’’پاکستان: سیاسی و سماجی صورت حال‘‘ (جنوری ۲۰۰۵ئ) کے ذریعے جہاں معاشرتی صورت حال سے آگہی ہوئی وہاں مصنف کا یہ جملہ کسی تبصرے کا محتاج نہیں:ایک اسلامی لیڈرشپ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تعلق باللہ اور تعلق بالعوام دونوں کی مالک ہوتی ہے۔ اس کا خدا اور خلقِ خدا ہردو سے رابطہ ہوتا ہے--- اسلام کے نام لیوائوں پہ خاص ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ وقت کے اقتصادی چیلنج کا جواب پیش کریں۔

’’سفرلیبیا: مشاہدات و تاثرات‘‘ (جنوری ۲۰۰۵ئ) سے لیبیا کے احوال سے آگہی ہوئی خاص طور پر پابندی اٹھنے کے بعد۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کرنل قذافی نے لیبیا اور گردونواح کو امریکی آماجگاہ بناکر ایک انقلابی لیڈر کے بجاے لارنس آف عریبیا کا کردار ادا کیا ہے۔


مبشر اجمل ‘ لاہور

عیادت سے متعلق چند باتیں ہی معروف ہیں لیکن ’’عیادت کے ۲۳نسخے‘‘ (جنوری ۲۰۰۵ئ) پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اس حوالے سے مریضوں اور مصیبت زدگان کے لیے کتنی روشنی اور ایمان و تزکیے کا سامان ہے۔


خورشید عالم ‘بونیر

’’مسلمان کا نصب العین‘‘ (دسمبر ۲۰۰۴ئ) نے ایک نیا عزم و ولولہ دیا۔ جس طرح مولانا مودودیؒ نے مسلمانوں کو زندگی کے نصب العین سے آشنا کیاہے‘ اگر واقعی اس کو اپناتے ہوئے عمل کیا جائے تو اُمت مسلمہ میں جدوجہد کی ایک نئی رو دوڑ پڑے۔


عرفان شاہد فلاحی ‘بھارت

دنیا ایک عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ملکوں کی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے تجارت‘ کرنسی اور دفاع کے لیے اجتماعی نظام وضع کیے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال یورو ہے۔ ایک موقع پر وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے سارک ممالک کے لیے ایک کرنسی کی بات کی اور کہا کہ جب یورو کرنسی وجود میں آسکتی ہے تو سارک ممالک اپنے لیے ایک کرنسی کیوں نہیں ایجاد کرسکتے۔ لیکن اسلام اپنے آفاقی اصولوں‘ انسانیت کی فلاح اور   رنگ و نسل کے کسی تعصب سے اجتناب کی وجہ سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے کہ ایک عالمی نظام تشکیل دے سکے اور ایک عالمی کرنسی کا اجرا کر سکے۔ مسلم اُمہ کے تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے مسلم حکمرانوں کو اس میدان میں پیش رفت کے لیے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔


محمد سلیم وائیں ‘نارووال

سید اسعد گیلانیؒ کا ایمان افروز ’’ایک مکتوب‘ دوست کے نام‘‘ (دسمبر ۲۰۰۴ئ) پڑھ کر بے اختیار آنسو بہہ نکلے اور اپنی کمزوریوں‘ کوتاہیوں اور غفلتوں کا بھی احساس ہوا۔ اس کے ساتھ ہی راولپنڈی اور میانوالی جیلوں میں ۱۹۷۷ء میں تحریکِ نظام مصطفیؐ کے دوران گیلانی صاحب کے ساتھ اسیری کا زمانہ یاد آگیا۔

میانوالی سنٹرل جیل کی ایک بارک میں ہم ۸۹‘ ۹۰ سیاسی قیدی نظربند تھے۔ دوپہر کے ۱۰ بجے کا وقت تھا کہ جیل کا ملازم آیا اور اُس نے پیغام دیا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل تشریف لانے والے ہیں‘ لہٰذا اُن کے آتے ہی آپ سب قیدی مؤدبانہ اُٹھ کھڑے ہوں۔ اس پر گیلانی صاحب نے تمام قیدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جونہی وہ آئے تو آپ سب کے سب جس حالت میں ہوں‘ اسی حالت میں رہیں۔ اگر کوئی کھڑا ہے تو کھڑا رہے‘ بیٹھا ہے تو بیٹھا رہے‘ لیٹا ہے تو لیٹا رہے اور اگر کسی ساتھی سے وہ کچھ بازپرس کرے تو میری طرف اشارہ کر دو۔ چنانچہ سپرنٹنڈنٹ صاحب اپنے لائولشکر کے ہمراہ جونہی ہماری بارک میں داخل ہونے لگے تو زوردار الفاظ میں کہا گیا: باادب باملاحظہ ہوشیار سپرنٹنڈنٹ صاحب تشریف لا رہے ہیں! مگر ہم پر جوں بھی نہ رینگی اور اُن لوگوں کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ حیران و ششدر ہو کر بارک کے دروازے کے ساتھ ہی پہلے قیدی سے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے کچھ پوچھا تو اُس نے برجستہ جواب دیا کہ وہ ہمارے امیر ہیں اُن سے بات کرو۔ چنانچہ انتہائی ندامت و خفت لیے سپرنٹنڈنٹ گیلانی صاحب کی چٹائی پر دوزانو ہوکر بیٹھا رہا۔ اُس کے سوال کرنے پر آپ اُسے جواب ضرور دیتے مگر اپنے مطالعے کو انہماک کے ساتھ جاری رکھا۔ کیا عظیم لوگ تھے!


  • گذشتہ شمارے میں صفحہ ۳۶ پر خیرخواہ کی نصیحت کا عنوان اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ پڑھا جائے۔ غلطی کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ (ادارہ)