سندھی زبان دنیا کی مقبول عام اور قدیم زبانوں کی ایک شاخ ہے۔ آخوند عزیر اﷲ متعلوی جیسے اولیا نے اس زبان کے لیے نثر کی ترتیب کو ممکن بنایا۔ یہی زبان مخادیم ٹھٹھہ‘ دائرہ کے علما‘ کھہڑا کے فضلا اور کاچھو‘ تھر اور اُتر کے عارفین اور صالحین کی زبان رہی ہے‘ جنھوں نے نثر اور نظم میں سندھی زبان کو ذریعہ تدریس و تبلیغ بنایا اور لاکھوں انسانوں کے قلوب کو نور ایمانی سے منور کیا۔
سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے مؤرث اعلیٰ خواجہ سید محمد مودود چشتی علیہ الرحمہ کے خانوادے سے روحانی اور علمی تعلق رکھنے والے دور حاضر کے دنیا کے مقبول مصنف‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمہ کو بھی سندھی زبان میں متعارف ہونا تھا اور اس طرح کہ سب سے پہلے مولانا کی تحریروں کے ’’سندھ مسلم ادبی سوسائٹی‘‘ حیدر آباد نے ۱۹۴۰ء کے عرصے میں‘ سندھی تراجم شائع کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ممتاز سندھی ادیب رسول بخش آخوند کی خدمات ترجمے کے لیے حاصل کی گئیں۔ سوسائٹی کے زیر اہتمام ۱۱۵سے زائد سندھی کتابیں تفسیر‘ حدیث‘ فقہ‘ عقائد‘ احسان و سلوک اور کہانیوں پرمشتمل شائع ہوئیں۔ سندھی زبان میں مولانا مودودیؒ کی ۱۹۴۶ء کی چھپی ہوئی جو کتاب اس وقت دستیاب ہے‘ وہ ارکان اسلام کے نام سے خطبات کے بعض حصوں کا ترجمہ ہے۔ ۱۱۱ صفحات پرمشتمل کراؤن سائیز کی اس کتاب کا آخوند رسول بخش نے سندھی میں ترجمہ کیا ہے‘ جس کی قیمت ۱۲آنے ہے اور یہ کتاب مدن لال پوکر داس مسلم ادبی الیکٹرک پرنٹنگ پریس‘ میمن محلہ حیدر آباد سندھ سے شائع ہوئی۔ کتاب کے مقدمے میں سوسائٹی کے مدارا لمہام خان بہادر محمد صدیق بن محمدیوسف میمن رقم طراز ہیں:
یہ ایک متبرک کتاب ہے جسے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے تصنیف کیا ہے۔ مولانا مودودیؒ کے طرز تحریر سے اسلام کی حقانیت کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے اور ان کی کتابیں پڑھنے سے دین کی فضیلت ذہنوں میں راسخ ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ مطالعہ نور ایمانی میں ترقی کا سبب بنتا ہے اور اس سے قلب مضطر کو سکون ملتا ہے۔ ارکان اسلام نامی کتاب عقائد اسلام کے موضوع پر بہترین تصنیف ہے‘ جسے عام فہم انداز میں لکھا گیا ہے۔ ہماری سوسائٹی آخوند رسول بخش کا احسان مانتی ہے‘ جنھوں نے محبت سے ترجمے میں حقیقی رنگ ڈال کر کتاب کو مزید سہل بنا دیا ہے۔ سلیس سندھی زبان میں یہ کتاب تشنگان فیض حق کے لیے ان شاء اﷲ ضرور ممد و معاون ثابت ہو گی۔
اسلامی عبادات تے ھک نظر کے نام سے اسی سوسائٹی نے ۱۳۲ صفحات پر مولانا مودودیؒ کی تحریر کو سندھی لباس پہنا کر ۱۹۴۴ء میں شائع کیا۔ انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی نے مولانا غلام مصطفی قاسمی (فاضل دیوبند سابق چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی‘ سابق چیئرمین سندھی ادبی بورڈ‘ سابق ڈائریکٹر شاہ ولی اﷲ اکیڈمی حیدرآباد) کی نگرانی میں سندھی دینی ادب کا جو کیٹلاگ جنوری ۱۹۷۱ء میں چھاپا تھا‘ اس میں ان دو کتابوں کا تذکرہ موجود ہے۔ اسی عرصے میں سندھ کے ممتاز ادیب محمد عثمان ڈیپلائی نے ’اسلامیہ دارالاشاعت‘ حیدر آباد میں قائم اپنے ادارے سے خطبات اور دینیات کے علاوہ پندرہ کے قریب مولانا کی کتابوں کو سندھی میں شائع کیا۔ سندھ میں اسلامیہ دارالاشاعت کے حسن طباعت سے مزین کتابوں کو خوب پذیرائی ملی۔ مولاناقاضی عبدالرزاق مرحوم‘ روہڑی کے رہنے والے اور سندھ مدرسہ الاسلام کراچی میں فقہ کے استاد تھے۔ انھوں نے بھی اسلام جو سیاسی نظریو نامی کتاب سمیت ۱۲ کے قریب دوسرے کتابچوں اور کتابوں کا ترجمہ کیا تھا‘ جسے مکتبۂ جماعت اسلامی کراچی نے شائع کیا۔ اسلام جو سیاسی نظریوکراؤن سائز میں ۵۸ صفحات پر مشتمل تھا۔ ہاشمی پریس حیدر آباد نے ۱۹۴۵ء میں اسلام جی سرحد شائع کیا۔ نیز جہاد فی سبیل اﷲ نامی کتابچے کو قاضی عبدالرزاق کے ترجمے کے ساتھ مکتبۂ فلاح انسانیت کراچی نے ۱۹۴۵ء میں ۴۴ صفحات (کراؤن سائز میں) شائع کیا۔
ڈیپلائی قاضی اور آخوند رسول بخش وہ مشہور مصنف اور مترجم ہیں جنھوں نے مولانا مودودیؒ کی پچیس کتابوں کو سندھی میں منتقل کیا۔ یہ تینوں بزرگ چودھری غلام محمد مرحوم کے رابطے میں رہے اور فی سبیل اﷲ ترجمے کیا کرتے تھے۔ ۱۹۵۱ء کے عرصے میں میاں محمد شوکت اور میاں محمد علی سرہندی کی کوششوں اور مولانا جان محمد بھٹو مرحوم کی دعاؤں سے سکھر اور حیدر آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ’’سندھی دارالاشاعت‘‘ ادارہ قائم ہوا اور محمد عظیم مہر کی زیر ادارت دعوت نامی ماہنامہ سندھی میں جاری ہوا۔ والس روڑ‘ سکھر میںادارے کا دفتر تھا اور اس ادارے نے سلامتی جورمستو‘ مسلمان تیٹن لاء علم جی ضرورت‘ جہاد جی حقیقت‘ حج جی حقیقت‘ روزی جی حقیقت‘ زکوٰۃٔ خیرات جی حقیقت‘ نماز جی حقیقت‘ حقیقت صوم و صلواۃ‘ خداجی تابعداری‘ ویچارٹ جھژیون گالھیون کراؤن سائز میں شائع کیے۔
۱۹۶۳ء تک سندھی دارالاشاعت کام کرتا رہا اور پھر ۱۹۶۷ء میں ’’محمد بن قاسم سندھی ادبی سوسائٹی‘‘ کے نام سے سکھر میں اشاعتی ادارہ قائم ہوا۔ اس ادارے نے مولانا مودودی کی ۱۲ کتابیں شائع کیں۔ اسی اثنا میں حیدر آباد سے آئینو اور سکھر سے جہانِ نو ماہنامے غلام محمد کھوکھر ایڈووکیٹ اور غلام قادر جتوئی ایڈووکیٹ کی ادارت میں جاری ہوئے۔ ان رسالوں میں دعوت رسالے کی طرح مولانا کی تحریروں کے ترجمے شائع ہوا کرتے تھے۔ آگے چل کر آئینو پر پابندی لگی اور وینجھار کے نام سے ماہنامہ نکلنا شروع ہوا جو غلام محمد کھوکھر‘ لیاقت جونیجو اور ڈاکٹر عبدالجبار عابد لغاری کی ادارت میں سفر طے کرتا ہوا اب بھی حیدر آباد سے شائع ہو رہا ہے۔
۱۹۷۳ء میں مولانا مودودی کی اجازت سے تفہیم القرآن کے سندھی ترجمے کا کام شروع ہوا۔ اگرچہ ترجمے کے کافی حصے مختلف جرائد میں چھپ رہے تھے‘ لیکن باقاعدہ سپاروں کی شکل میں سندھ اسلامک پبلیکیشن ‘حیدرآباد نے چھاپنا شروع کیا۔ عبدالوحید قریشی‘ ڈاکٹر محمد علی محمدی اور ڈاکٹرمحمد غوث قریشی اس ادارے کے روح رواں رہے۔ تفہیم القرآن کے سندھی مترجم مولانا جان محمد بھٹو مرحوم نے بھی ان افراد پر اعتماد کیا اور مولانا مودودی نے سندھی ترجمے کی رائلٹی بھی معاف فرما دی۔ اس طرح کا تحریری اجازت نامہ ’ادارہ ترجمان القرآن‘ کی طرف سے مذکورہ ادارے کو عطا کیا گیا۔ ایک سال کے عرصے میں خوبصورت کتابت کے ساتھ پانچ پارے علیحدہ علیحدہ شائع ہوئے۔ تیسرے پارے پر ادارہ نے مولانا کے دستخط بھی لیے اور اس طرح تفہیم القرآن کے پہلے ناشر‘ ادارہ تعمیر انسانیت‘ کے اسلوب پر سندھی مترجمین نے عمل کر دکھایا (محمد قمر الدین مرحوم بھی تفہیم القرآن پر مولانا مودودی سے دستخط لیا کرتے تھے!)۔ مولانا کا دستخط شدہ سندھی ترجمے والا تیسرا پارہ اب بھی سندھ اسلامک پبلی کیشنز کے دفتر میں محفوظ ہے۔ ۱۵ جون ۱۹۷۵ء کی تاریخ میں یہ دستخط ثبت ہوئے اور عبدالوحید قریشی نے دستخط لیے تھے!
۱۹۷۴ء میں‘ اے کے بروہی مرحوم کی صدارت میں تاریخی بیسنت ہال‘ حیدر آباد میں تفہیم القرآن کی سندھی طباعت کے پانچوں پاروں کی تقریب رونمائی ہوئی‘ جس میں سندھ بھر سے اہل علم و قلم اور داعیان دین شریک ہوئے۔ ’’تفہیم القرآن اور مولانا مودودی‘‘ کے عنوان سے پروفیسر کریم بخش نظامانی مرحوم کے کلیدی خطبے کو اس موقعہ پر علیحدہ چھاپ کر سندھی خواندہ حضرات میں تفہیم القرآن کے مطالعہ کا ذوق بڑھانے کی بھی کوشش کی گئی‘ نیز تفہیم القرآن کا مقدمہ الگ سے قرآن فہمی جا بنیادی اصول کے نام سے سندھی کتابچے کی صورت میں بھی چھاپا گیا تھا۔ محمدرضی دہلوی جیسے مشہور آرٹسٹ نے تفہیم القرآنکے سندھی ترجمے والے سرورق ڈیزائن کیے تھے۔ مشہور کاتب سعید میرٹھی کاتبوں کی جماعت کے سرخیل تھے اور سعید احمد بھٹو اور حاجی امان اﷲ مہیسر نے بھی کتابت کے جوہر دکھائے۔ مولانا مودودی کی تحریریں ہدایتون‘خطبات‘ دینیات
کو سندھ اسلامک پبلی کیشنز نے انجینئر عبدالمالک میمن اور دیگر مترجمین کے ترجمے میں شائع کیا‘ جسے ارباب عبدالمالک انیس اور عبدالوحید قریشی نے مئی ۱۹۷۸ء میں مرتضیٰ پرنٹنگ پریس کھوکھر محلہ حیدرآباد سے چھپوایا۔
تفہیم القرآن کے سندھی ترجمے کا منصوبہ دقت طلب تھا۔ بفضل تعالیٰ جل جلالہ یہ منصوبہ ۱۹۹۶ء کے سال میں تکمیل کو پہنچا۔ اس مہم کو سر کرنے میں مولانا جان محمد عباسی‘ میاں محمد شوکت‘ صدرالدین فاروقی‘ شکیل احمد خان اور عبدالوحید قریشی نے دن رات ایک کر دیا تھا۔ سندھ اسلامک پبلی کیشنز کو گیارہ پارے مولانا جان محمد بھٹو نے ترجمہ کر کے دیے‘ ۱۹۸۲ء میں مولانا بھٹو‘ اﷲ کو پیارے ہو گئے۔ بعد میں مولانا امیر الدین مہر ڈھوروناروی سے ترجمہ کی سعادت حاصل کرنے کی گزارش کی گئی‘ مولانا مہر نے دل جمعی سے ترجمے کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا جس کے اکثر حصے پر پروفیسر عبداللہ چونیہ نے نظرثانی کی۔ اس طرح چھ جلدوں پر مشتمل سندھی ترجمہ ۱۹۹۶ء میں مکمل ہوا۔
کراچی میں بڑے پیمانے پر سندھی ترجمے کی تکمیل کا جشن منایا گیا اور جامعہ سندھ کے سابق وائس چانسلر شیح ایاز مرحوم کی صدارت میں یہ پروگرام ترتیب دیا گیا‘ لیکن موصوف نے صحت کی خرابی کی وجہ سے شرکت سے محرومی پر اپنے رنج کا اظہارکرتے ہوئے اپنا پیغام ارسال فرمایا۔ انھوں نے اپنے پیغام میں کہا تھا: ’’اسلام کی طرف میری مراجعت میں تفہیم القرآن نے بنیادی کردار ادا کیا ہے‘‘۔ اس وقت چھ جلدوں کے علاوہ صرف ترجمہ قرآن پر مشتمل جلد جو ۱۰۲۷ صفحات پر مشتمل ہے اور تین ہزار کی تعداد میں ۱۹۹۸ء میں شائع ہوئی ہے۔
’محمد بن قاسم سندھی ادبی سوسائٹی حیدر آباد‘ نے سومار علی سومرو کے ترجمے کے ساتھ پردہ اور عبدالوحید موریانی کی طرف سے خلافت و ملوکیت کا سندھی ترجمہ ۱۹۷۸ء میں شائع کیا۔ اسی عرصے میں ’’فرقان پبلی کیشنز‘‘ اور بعد میں ’’اشاعت اسلام سوسائٹی‘‘ کے نام سے میاں محمد شوکت نے سندھی میں ۴۰ کتابچے شائع کیے‘ جن میں خطبات کے حصے بھی شامل تھے۔ سندھ نیشنل اکیڈمی حیدر آباد نے دس ہزار کی تعداد میں دینیات کا سندھی ترجمہ روشنی جا مینار کے نام سے ۱۹۸۲ء میں شائع کیا۔ اس کے بعد لٹریچر کی اشاعت کا یہ سلسلہ رک گیا اور ۱۹۹۲ء کے بعد دوبارہ سندھ مسلم سوسائٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا‘ جس کا مقصد مولانا مودودی کی کتب کی بڑے پیمانے پر اشاعت و طباعت تھا۔ ۱۹۹۲ء میں سوسائٹی نے تفہیم القرآن سے صرف ترجمہ نئے سرے سے آسان زبان میں کروا کر شائع کیا۔ اس ادارے نے اب تک مولانا کی متعدد چھوٹی بڑی کتب کو کمپیوٹر کمپوزنگ اور خوب صورت سرورق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ ان میں: سنت جی آئینی حیثیت‘ پردو‘ ختم نبوت‘ شب برأت‘ معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم‘ خطبات‘ دینیات‘ اسلامی تہذیب ء ان جا اصول‘ اسلامی نظام زندگی ء ان جا بنیادی تصورات‘ درود و سلام‘ رسائل و مسائل‘ تحریک ٔ کارکن ‘ خلافت و ملوکیت‘ قرآن جا چار بنیادی اصطلاح‘ تاریخی تقریروں سمیت دوسری کتب شامل ہیں۔ یہ ادارہ براہِ راست جماعت اسلامی صوبہ سندھ کی نگرانی میں میاں نظام الدین کی نظامت میں کام کر رہا ہے۔ سندھ مسلم سوسائٹی کی جانب سے بھی مولانا کی وہ تمام کتابیں چھپ چکی ہیں‘ جو قبل ازیں دوسرے اداروں نے شائع کی تھیں۔
یہ سید مودودی علیہ الرحمہ کی تصانیف کے سندھی ترجموں کاایک اجمالی خاکہ ہے۔ اگرچہ اس باب میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
سندھی زبان کی تشنگی کو تری میں تبدیل کرنے کے لیے علمی اور روحانی موضوعات پر سید مودودی کے تخلیق کردہ لٹریچر نے ۱۹۴۰ء سے لے کر ۲۰۰۳ء تک کے ۶۳ سال کے عرصے میں باب الاسلام سندھ کے اندر اپنا مضبوط اثر چھوڑا ہے۔ بیسیوں لکھاری پیدا ہوئے‘ جنھوں نے سندھی زبان کے دامن کو ان علمی پھولوں سے بھرنے کی سعی سعید کی ہے اور یہ کارواں رواں دواں ہے۔ سندھ نیشنل اکیڈمی اور مہران اکیڈمی جیسے قابل فخر اداروں نے سندھی زبان میں عملی اور روحانی عمارت کو اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ ادارے جماعتی نظم کا حصہ نہیں ہیں‘ تاہم اثرات کے اعتبار سے تحریک اسلامی کا ہراول دستہ ہیں۔ مہران اکیڈمی کی سرپرستی کے لیے خرم مراد مرحوم کی خدمات صدقہ جاریہ ہیں‘ پروفیسر قمر میمن کی شبانہ روز محنت قابلِ رشک ہے۔
یہ خطہ (موجودہ پورا پاکستان) باب الاسلام ہے‘ اور خاتم الانبیاصلی اﷲ علیہ وسلم کی جانب سے اس علاقے سے ٹھنڈی ہواؤں کی آمد کی روایات منسوب ہیں‘ اور صحابہ کرامؓ کی یہاں آمد ثابت ہے۔ اگر سندھ کی اسلامی تاریخ کے پندرہ صدیوں پر محیط سمندر سے موتی نکالنے کی مزید کوششیں ہوں اور ہر صدی پر ایک علیحدہ تاریخی کتاب تیار کی جائے‘ جس میں خصوصاً دعوتی اور تبلیغی‘ جہادی اور علمی کوششوں کی تفصیل درج ہو‘ تو یہ کاوش دعوت دین اور فریضہ اقامتِ دین کی مقدس جدوجہد کی تقویت کا باعث بنے گی۔ علاوہ ازیں صلحا‘ علما‘ اولیا اﷲ اور سلسلہ ہاے تصوف کے صدیوں پر محیط مثبت اثرات سے بھی تحریکی کارکنوں اور عام مسلمانوں کو روشناس کرایا جا سکے گا۔ اس طرح یہ کام دعوتی راہ میں مزید عروج کی نوید لاسکتا ہے۔ اس کام میں سندھ کی مخصوص صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اہل درد کو زیادہ تعاون بھی کرنا ہوگا۔ عالمی طاغوت کی ریشہ دوانیوں‘ این جی اوز‘ ردِقادیانیت‘ برہمنیت‘ منکرین حدیث‘ عیسائیت‘ ردِبہائیت اور اسلاف دشمنی جیسے بیسیوں موضوعات کو بھی سندھی زبان میں چھاپنے کی اشد ضرورت ہے۔
یوں تو صوبہ سرحد میں ترجمان القرآن کے خریدار منفرد حیثیت سے مردان اور پشاور میں موجود تھے‘ لیکن تحریک اسلامی کا اجتماعی کام پہلے کل ہند اجتماع دارالاسلام، پٹھان کوٹ منعقدہ اپریل ۱۹۴۵ء کے بعد شروع ہوا۔ وہاں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے مکان کے مردانہ حصے میں اجتماع کے شرکا نے ان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں سات افراد جماعت کے رکن بنا دیے گئے اور انھوں نے حلفِ رکنیت مولانا کے سامنے لیا۔ پانچ افراد متفق قرار دیے گئے۔ سردار علی خان مرحوم (م:۱۹۷۲ئ) سرحد میں جماعت اسلامی کے سربراہ مقرر کیے گئے۔
جناب سردار علی خان نے سوات کے محترم تاج الملوک (م: ۱۹۶۲ئ) کے ساتھ مل کر تحریک کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے ان تھک طریقے سے جدوجہد شروع کی۔ فیصلہ کیا گیا کہ اجتماعات اور دوروں کے علاوہ جماعتی لٹریچر سے مناسب اقتباسات کو اچھے کاتبوں سے جلی قلم میں لکھوا کر دبینر اور عمدہ کاغذ پر چھاپ کر چارٹوں کی صورت میں تقسیم کیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت اردو اور پشتو کے متعدد اقتباسات چھاپ کر ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیے گئے‘ جن کو دینی ذوق رکھنے والوں نے اپنی نشست گاہوں اور رہایشی کمروں میں آویزاں کیا۔
دوسرا فیصلہ یہ کیا گیا کہ تحریک کی اہم کتابوں کو پشتو میں ترجمہ کر کے عوام تک پہنچایا جائے تاکہ جو لوگ اردو نہیں سمجھتے وہ قائدِ تحریک کے خیالات پشتو میں جان سکیں اور تحریک کو سمجھ سکیں۔ اس سلسلے میں جماعت کے رکن محترم عبدالرحمن غریب غازوڈھیری کے ذمے کام لگایا گیا۔ جنھوں نے بڑی محنت سے دعوت اسلامی کے مطالبات، سلامتی کا راستہ، شہادت حق، ایک مضمون: ’’طاقت کا اصل سرچشمہ‘‘ اور دوسرے پمفلٹوں کا ترجمہ کیا۔ حاجی عون اللہ نے خطبات کا ترجمہ کیا۔ مولانا عبدالعزیز مظاہری نے رسالہ دینیات کا ترجمہ کیا۔ ان کتابوں کو ایک ایک ہزار کی تعداد میں چھاپا گیا لیکن اشاعتی تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے طباعت عمدہ نہیں تھی‘ اور یہ کتابیں پشتو کتابوں کے خریدار نہ ہونے کی وجہ سے فروخت نہ ہو سکیں۔ اس لیے مفت تقسیم کر دی گئیں۔
اس کے بعد افغانستان میں تحریک اسلامی کے لٹریچر کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کابل کے پشتو- فارسی اخبار گہیز (Gaheez)‘ یعنی طلوع سحر (Dawn) نے اس سلسلے میں بڑا بنیادی کام کیا۔ اس کے ایڈیٹر جناب منہاج الدین‘ آریانہ ائیرلائن کے کراچی کے دفتر میں کام کرچکے تھے اور اردو سمجھتے تھے۔ انھوں نے مولانا مودودی مرحوم کی کتابوں کے مختلف حصوں کا پشتو اور فارسی میں ترجمہ چھاپنا شروع کیا۔
شہیدمنہاج الدین‘ پشاور میں محترم قاضی حسین احمد سے ملے اور ان کے سامنے مولانا مودودیؒ کی کتابوں کے پشتو تراجم کی ضرورت و اہمیت کو بیان کیا۔ قاضی صاحب ان کو لاہور لے گئے جہاں پر مولانا مودودی مرحوم سے مفصل ملاقات کی۔ اسی زمانے میں محترم قاضی حسین احمد نے پشاور کے چند احباب کے ساتھ مل کر پشتو میں ترجمے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا ۔ان احباب میں ڈاکٹر مراد علی شاہ، محمد اقبال اور عبدالحق شامل تھے۔ زیارت کاکا صاحب کے معروف ادیب اور پشتو لغت ظفراللغات کے مؤلف بہادر شاہ ظفر کی مدد سے ۲۳ چھوٹی بڑی کتابوں کا پشتو میں ترجمہ کیا گیا۔ ان کتب کو بہتر سے بہتر طباعت کے ساتھ چھاپ کر افغانستان بھیجا گیا۔
گہیز (Gaheez) کے پُرعزم مدیر، افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ کے عہد حکومت میں کمیونسٹ روس کی خفیہ ایجنسی KGB کے ہاتھوں ۱۴ ستمبر ۱۹۷۲ء کو شہید کر دیے گئے۔ کچھ مدت بعد سردار دائود نے ظاہر شاہ کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا ‘اور اسی دوران افغانستان کی اسلامی تحریک کے دور ابتلا کا آغاز ہوا۔ انھی ایام میں کابل یونی ورسٹی کے اسلام پسند طلبہ اور اساتذہ نے کمیونسٹوں کے مظالم اور قیدوبند سے بچ کر پاکستان ہجرت شروع کی۔ انھی دنوں میں مولانا راحت گل جنھوں نے رسالہ دینیات کا ترجمہ کر کے خصوصی اہتمام سے خود چھاپا۔ انھوں نے تفہیم القرآن کا پشتو ترجمہ شروع کیا‘ اور سورۂ توبہ تک چار جلدوں میں اس کو شائع کیا۔ جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے ترجمہ و تالیف کے ادارے نے لاکھوں افغان مہاجرین کی ضرورت کے لیے تفہیم القرآن کا افغانی پشتو میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ اس کے لیے ایک معروف عالم دین قیام الدین کشاف کی خدمات حاصل کی گئیں‘ جنھوں نے سالہا سال کی محنت کے بعد افغانی پشتو میں مکمل ترجمہ کیا۔ پھر اسے چھ جلدوں میں چھاپ کر مخیر حضرات کی طرف سے افغانیوں کے کیمپوں، آبادیوں اور تدریسی مراکز میں تقسیم کیا گیا۔ علاوہ ازیں کوئٹہ میں بھی افغان مہاجرین نے مولانا کی کتب کے پشتو ترجمے کا ایک فعال اور متحرک نظام قائم کیا۔
ترجمہ چمکنی پشاور کے ایک صاحب
نے کیا۔ مگر وہ شائع نہ ہو سکا۔
مطالبات مطالبات عبدالرحمن غریب
وسیع پیمانے پر منتشر و متفرق تبلیغ اگرچہ مسئولیت سے سبک دوش ہونے کے لیے کافی ہوسکتی ہے‘ لیکن یہ حکیمانہ تبلیغ نہیں ہے اور کبھی وہ نتائج پیدا نہیں کر سکتی جو ہمیں مطلوب ہیں۔ اس کے بجاے محدود پیمانے پر مستقل اور مسلسل تبلیغ زیادہ حکیمانہ‘ زیادہ مفید اور زیادہ نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ تبلیغ دراصل ایک قسم کی تخم ریزی ہے۔ تخم ریزی کی ایک صورت وہ ہے جو ہوائوں اور جانوروں کے ذریعے سے انجام پاتی ہے جس سے ہر طرح کے بیج ہر طرف زمین میں پھیل جاتے ہیں اور منتشر طور پر قسم قسم کے درخت اُگ آتے ہیں۔ ایسی تخم ریزی کی پیداوار میں کوئی نظم نہیں ہوتا اور نہ کوئی باقاعدہ فصل کاٹی جاسکتی ہے۔ دوسری قسم کی تخم ریزی وہ ہے جو ایک کسان کرتا ہے۔ وہ ایک ہی زمین پر مسلسل محنت کرکے اسے تیار کرتا ہے۔ پھر ایک منصوبے کے مطابق اس میں بیج ڈالتا ہے‘ پھر پیہم اس کو پانی دیتا اور اس کی خبرگیری کرتا رہتا ہے‘ یہاں تک کہ ویسی ہی فصل تیار ہوجاتی ہے جیسی اس کو مطلوب ہوتی ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ ہمارے رفقا اپنی تخم ریزی میں ہوائوں اور پرندوں کا سا طریقہ اختیار نہ کریں بلکہ کسان کا طریقہ اختیار کریں۔ ہر شخص اپنے قریب ترین ماحول میں سے ایک ایک حلقے کو منتخب کر کے گویا باقاعدہ اپنے چارج میں لے لے اور اس کے اندر مسلسل کام کرے۔ پہلے وہ اساسی عقائد اور بنیادی اصول اخلاق پیش کرے جن سے زمین تیار ہو۔ پھر بہ تدریج دین و اخلاق کے اصول و کلیات سے فروع اور تفصیلات کی طرف بڑھے اور پیہم اپنی تلقین اور اپنے عملی برتائو اور اپنی ہدایت و نگرانی سے اس امر کی کوشش کرتا رہے کہ جو لوگ اس کے زیرِاثر آئے ہیں ان کے اندر مکمل اعتقادی‘ اخلاقی اور عملی انقلاب رونما ہوجائے۔ اس کے بعد انھی لوگوں کو‘ خواہ وہ تعداد میں کتنے ہی کم ہوں‘ دوسرے لوگوں میں اس طرز کی ’کاشت کاری‘ کے لیے استعمال کرنا شروع کرے اور اپنی نگرانی و رہنمائی میں ان سے کام لے--- اس سے جو نتائج بھی حاصل ہوں گے پایدار ہوںگے اور پھر… یہ کاشت اضعافاً مضاعفہ کے تناسب سے پھیلتی چلی جائے گی۔ (ترجمان القرآن، ج ۲۴‘ عدد۵-۶‘ جمادی الاولیٰ‘ جمادی الاخریٰ ۱۳۶۳ھ‘ جون ۱۹۴۴ئ‘ ص ۷-۸)
_____________