مضامین کی فہرست


مئی ۲۰۰۴

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فکرمودودیؒ کی روشنی میں

بیسویں صدی میں اسلامی فکر کی تشکیل نو اور اسلامی احیا کی جدید تحریکیں ایک زندہ حقیقت ہیں۔ ان تحریکوں کے ظہور اور نشووارتقا کی تاریخ میں چند شخصیات بہت نمایاں نظر آتی ہیں‘ اور ہر معروضی اور منصفانہ جائزے میں ان کی حیثیت مرکزی اور کلیدی ہے‘ ان میں سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کو ایک منفرد اور ممتاز مقام حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ربع صدی میں مشرق اور مغرب‘ برعظیم پاک و ہند‘ عالمِ عربی‘ جنوب مشرقی ایشیا‘ یورپ اور امریکا سے اسلام اور عالمِ اسلام کے بارے میں جو بھی اہم کتاب یا تحقیقی مقالہ شائع ہوا ہے‘ اس میں سید مودودیؒ کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس تحقیق و تالیف کا مقصد کیا ہے؟ سید مودودیؒ کی عظمت و خدمات اور ان کے کارناموںکا اعتراف یا انھیں تنقید و ملامت کا ہدف بنانا۔

۱۱ستمبر۲۰۰۱ء کے واقعے کے جلو میں کتابوں کا جو ریلا آرہا ہے یا پھر ’اسلامی بنیاد پرستی‘، ’مسلم انتہا پسندی‘، ’سیاسی اسلام‘، ’عسکری اسلام‘ حتیٰ کہ ’اسلامی دہشت گردی‘ کے حوالوںسے جوفکری یورش جاری ہے‘ اس میں بھی ہر صاحب ِ قلم اپنے اپنے مقاصد اور تجزیوں اور جائزوں کے مطابق سید مودودی کو نشانہ بنانے میں کوئی کوتاہی نہیں کر رہا۔یہاں مقصد ان فکری حملوں اور قلم کاریوں کا احتساب کرنا نہیں ہے بلکہ صرف اس طرف توجہ دلانا ہے کہ آج اسلام کی تہذیبی قوت اور مسلمانوں کی احیائی تحریکوں پر یلغار کرنے والے حلقے عالمِ اسلام کی جن شخصیات کو بحث کا مرکز و مداربنا رہے ہیں‘ان میں سید مودودیؒ سرفہرست ہیں۔ ایک طرف مغربی یا مغرب زدہ مخالفین ان کے افکار کو فتنے کی جڑ قرار دے رہے ہیں‘ تو دوسری طرف اسلام کے بہی خواہ جس تبدیلی پر فخرکررہے ہیں اور جس سرمایے کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں ‘وہ گواہی دیتے ہیں کہ اس قیمتی امانت کو اُمت کے لیے حرزجاں بنانے میں سید مودودیؒ کی خدمات کتنی بھرپور اور فیصلہ کن ہیں۔

ترجمان القرآن کی اس اشاعت ِ خاص کی مناسبت سے ہم نے مناسب سمجھا کہ کچھ وقت اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں صرف کریں کہ بیسویں صدی میں احیاے اسلام کی جدوجہد میں دوسرے احیائی مفکرین اورمصلحین کے ساتھ‘ سید مودودیؒ کا اصل کارنامہ کیا ہے۔ وہ کارنامہ کہ جس نے اِس صدی کے آغاز اور اس کے اختتام کے حالات میں اتنا بنیادی اور انقلابی فرق پیدا کر دیا کہ دشمن جس اُمت کو بیمار اور بے کار سمجھ کر اس کی ’تجہیزوتکفین‘ کی تیاریاں کررہے تھے‘ وہ ایک بار پھر ایک ’عالمی خطرہ‘ تصور کی جا رہی ہے۔ جن سامراجی قوتوں نے سمجھ لیا تھا کہ اب دنیا ان کی چراگاہ ہے۔ انھیں اب ’تہذیبوں کے تصادم‘ کاخطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ چنانچہ وہ نئی استعماری یلغار اور صلیبی جنگوں (Crusades)کا آغاز کرتے ہوئے‘ بارود‘ جھوٹ اور تباہی کی پوری قوت کے ساتھ عملاً میدان میں کود پڑے ہیں۔

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ علم اور عمل دونوں میدانوں میں انھوں نے تاریخ ساز خدمات انجام دی ہیں۔ ایک شخص کی ذات میں فکروتحقیق‘ تدبیرو اصلاح اورتنظیم و قیادت کی صلاحیتوں کا جمع ہونا اللہ تعالیٰ کے خاص انعامات میں سے ہے۔ معروف شاعر ابونواس کہتا ہے:

وَمَا عَلَی اللّٰہِ بِمُسْتَنکَرٍ

اَن یَجْمَعَ العَالَمَ فِی وَاحِدٖ

اللہ کی ذات سے بعید نہیں کہ وہ ایک عالم ]کی ساری خوبیاں [کسی فردِ واحد میں جمع کر دے۔

ہمارے دور میں سیدمودودیؒ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص کرم تھا جس کے نتیجے میں اُمت کو نئی زندگی ملی۔

فکری میدان میں ان کے کام پر بہت پیش رفت ہوئی ہے اور اس سے زیادہ مستقبل میں ہوگی۔ بحیثیت مفسرقرآن (تفہیم القرآن ‘ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘ رسائل و مسائل)‘ حدیث کے خادم (سنّت کی آئینی حیثیت‘ تفہیم الحدیث‘تفہیمات) سیرت نگار (سرورِعالمؐ، نشری تقریریں) فقیہ (تفہیم القرآن‘ رسائل ومسائل) متکلم اور عصرحاضر کے اجتماعی علوم کے ناقد اور ان میدانوں میں اسلامی فکر کے شارح اور ترجمان کی حیثیت سے انھوں نے سیکڑوں چراغ روشن کیے ہیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے اپنے عہد کی فکر کو صرف متاثر ہی نہیں کیا‘ بلکہ ایک نیا رخ دینے کی کامیاب کوشش کی ہے‘ جس کے نتیجے میں آج دنیا کے گوشے گوشے سے ان کے افکار کی صداے بازگشت سنی جا سکتی ہیں۔

اس وقت مقصد ان پہلوئوں پر گفتگو نہیں‘ بلکہ سیدمودودیؒ کے پورے لٹریچر کو سامنے رکھ کر ہم ان کے مرکزی کارنامے (contribution ) پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ اس مناسبت سے صرف چند کلیدی امور پر اور وہ بھی ان کے مجموعی وژن اور اس نئے مثالیے (paradigm ) کا تعین و تشریح موضوع ہوگا‘ جس کی تشکیل اور ترویج میں سید صاحب کا مرکزی کردار رہا ہے۔ بلاشبہہ بیسویں صدی میں علامہ اقبال ؒ،مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ سے  لے کر حسن البناؒ، سید قطب ؒاور مالک بن نبیؒ تک مفکرین نے اپنے اپنے انداز میں اس وژن‘ اس فکر اور اس مثالیے کی تشکیل و تکمیل میں اپنا اپنا حصہ بٹایا‘ لیکن سچی بات یہی ہے کہ   ع

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

اس مطالعے میں ہم پہلے مختصراً یہ تعین کریں گے کہ سید مودودیؒ نے فکری میدان میں اصل کارنامہ کیا انجام دیا‘ تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان کے اصلاحی کام کے بنیادی خدوخال    کس فکری اساس کے برگ و بار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی پس منظر میں یہ دیکھیں گے کہ اکیسویں صدی اور خصوصیت سے ۱۱ستمبر کے بعد کی دنیا اور اس میں اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنجوںسے   عہدہ برآ ہونے کے لیے سید مودودی کے روشن کردہ چراغ کیا روشنی فراہم کرتے ہیں اور اسلامی تحریکات اور ان کے قائدین کو بالخصوص جو مسائل درپیش ہیں۔ سیدمودودیؒ کے فکر اور اصلاحی حکمت عملی کی روشنی میں انھیں کس طرح اور کس رخ پر آگے بڑھتے ہوئے حل کیا جاسکتا ہے۔ سیدمودودی کے خیالات حرفِ آخر نہیں ہیں اور ہماری یہ کوشش بھی ایک جسارت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ہے۔ اس کے باوصف ہم یہ متعین کرنے کی ایک طالب علمانہ کاوش کررہے ہیں کہ بیسویں صدی میں تو سید مودودی نے جو کچھ خدمت انجام دی ہے اس کی عظمت اپنی جگہ‘ لیکن ان کی فکر اور تجربے سے بھرپور رہنمائی (inspiration) لیتے ہوئے ہمیں اکیسویں صدی میں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

ہم ابتدا ہی میں یہ بات کہہ دینا چاہتے ہیں کہ مولانا مودودی ایک انسان تھے اور کسی انسان کی فکر یا عمل ہمیشہ کے لیے نمونہ نہیں بن سکتے۔ یہ مقام تو صرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے جن کی رہنمائی اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں: وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی o اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی - (النجم: ۵۳:۳-۴)،’’وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا‘ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے‘‘۔اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ خود مولانا مودودی نے جو تربیت ہمیں دی‘ اس میں سب سے نمایاں پہلو یہی تھا کہ انھوں نے نہ خود کو تنقید واحتساب سے بالا رکھا اور نہ ہمیں شخصیت پرستی کی راہ پر ڈالا۔

شروع ہی میں یہ وضاحت کر دینا بھی ضروری ہے‘ کہ ’فکرمودودی‘ خود کوئی مستقل بالذات چیز نہیں ہے‘ بلکہ مولانا مودودیؒ کی اصل کوشش یہ تھی کہ قرآن و سنت کی تعلیم کو اس کی اصل روح کے مطابق عصری حالات و ظروف کے پس منظرمیں پیش کریں اور اُمت کا رشتہ قرآن وسنت سے جوڑیں۔

مولانا مودودیؒ کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن و سنت کو تحریک اور اُمت کے لیے ہدایت اور روشنی کے منبع کے طور پر پیش کیا اور اس کسوٹی پر حال اور ماضی کی ہر کوشش کو پرکھنے کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریکِ اسلامی کوئی مذہبی فرقہ یا مسلک نہیں ہے‘ بلکہ اس نے سب فرقوں اور مسلکوں کو قرآن و سنت کی بنیاد پر ایک متحرک قوت میں ڈھال دینے کی کوشش ہے۔ بلاشبہہ‘ اللہ تعالیٰ ہر دور میں انسانوں ہی کو اپنے پیغام کی تجدید اور تنفیذ کے لیے ذریعہ بناتا ہے۔ چنانچہ اس حد تک ان ایسے برگزیدہ انسانوں کا ذکر اور ان کی خدمات کا اعتراف بھی فطری امر ہے جو اس کارعظیم میں انسانوں کو اٹھانے‘ منظم و متحرک کرنے اور پھر ایک متعین راہِ عمل پر گامزن ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس لیے ہماری توجہ کا مرکز بھی ان رجال کار کی ذات سے زیادہ دین اسلام کی تفہیم‘ اس کے مقام اور سربلندی کے لیے ان کی کوششیں ہوں گی۔

علمی وفکری خدمات کا مختصر جائزہ

مولانا مودودیؒ کے اس علمی اور فکری کام کے لیے چار پہلو اہم ہیں: پہلا دین کا وہ تصور جسے انھوں نے اجاگر کیا۔ دوسرا وہ ’طرزِفکر‘ جس کے ذریعے اس کام کو انجام دیا گیا۔ تیسرے تبدیلی احوال اور احیاے دین کے لیے وہ ’حکمت عملی‘ جو اپنے زمانے کے حالات کی روشنی میں انھوں نے مرتب کی۔ چوتھے وہ عملی جدوجہد‘ اس کے اصول وضوابط اور تنظیمی ڈھانچے اور راستے جن پر عملاً انھوں نے اپنی جدوجہد کو مرکوز کیا۔

ہم اس مضمون میں زیادہ توجہ مولانا مودودی کے ’طرزِفکر‘ پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں اور باقی تینوں کے بارے میں صرف مختصر اشارات پر اکتفا کریں گے اور یہ اس لیے کہ اکیسویں صدی کے لیے مولانا مودودی کے پیغام کا استنباط کرنے کے لیے توجہ کا مرکز ’فکر‘ سے بھی زیادہ ’طرزِفکر‘ ہی کو ہونا چاہیے۔

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی تصنیفی زندگی کے ساٹھ برسوں میں چھوٹی بڑی تقریباً ڈیڑھ سو کتب کی تصنیف و تالیف کی خدمت انجام دی‘ اور کئی سو تقاریر کے ذریعے اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچایا۔ ان ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے مواد کو چند سطروں میں سمیٹنا اور محاکمہ کرنا کوئی آسان کام نہیںہے۔ تاہم‘ اگر ہم سید صاحب کے طرزِفکر کے بنیادی گوشوں اور پہلوئوں کی نشان دہی کریں تو شاید انھیں مندرجہ ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

۱-  حق‘ حق ہے اور اسے کسی دوسرے سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اللہ حق ہے‘ اللہ کا رسولؐ حق ہے‘ اللہ کی کتاب حق ہے‘ اللہ کا دین حق ہے‘ اوراللہ کا وعدہ یعنی آخرت ‘جنت اور جہنم حق ہیں۔ ان سب کو ہمیں صرف حق ہونے کی حیثیت ہی سے قبول کرنا چاہیے۔ یہ ان کے حق ہونے کا تقاضا ہے۔ اس لیے کہ حق خود سب سے بڑی طاقت ہے--- ایمان حق کو حق تسلیم کرنے ہی سے عبارت ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسے یکسوئی کے ساتھ قبول کیا جائے اور زندگی کی تمام وسعتوں میں یک رنگی اور وفاداری کا ثبوت پیش کیا جائے‘ اور حق کے غلبے کی جدوجہد میں  تن‘ من‘ دھن سے جُت جائیں: قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o لاَ شَرِیْکَ لَہٗج (الانعام ۶:۱۶۲-۱۶۳)،  ’’کہو‘ میری نماز‘ میرے تمام مراسمِ عبودیت‘ میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں‘‘۔ گویا حق کے غلبے کی جدوجہد بھی حق ہی کا ایک حصہ ہے جسے صاحبِ حق کے بتائے ہوئے طریقے ہی سے جاری و ساری رکھا جاسکتا ہے۔ یہ طریقہ اسوہ انبیا علیہم السلام اور منہج رسالتؐ ہے اور اس کا آخری اور مکمل ترین ماڈل محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ کامل ہے۔

۲-  تاریخِ انسانی میں انسان کے سامنے صرف دو ہی راستے ہوسکتے ہیں--- ایک اللہ کی ہدایت اور اللہ کے رسولوں اور انعام یافتہ پیروکاروں کا راستہ‘ اور دوسرا انسانوں کا اپنا اختراع کردہ راستہ‘ خواہ اس کا نام‘ شکل اور زمانہ کچھ بھی ہو۔ بنی نوع انسان کا اصل مسئلہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ وہ اللہ کا ہدایت کردہ راستہ اختیار کریں یا انسان کا اپنا خودساختہ راستہ--- آج بھی انسان کا بنیادی مسئلہ یہی ہے اور ہمیشہ رہے گا: ’’پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے‘ اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا‘ اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے‘ وہ آگ میں جانے والے ہیں‘ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔( البقرہ ۲:۳۸-۳۹)

۳-  انبیا علیہم السلام کے بتائے ہوئے طریقے کا نام دین اسلام ہے۔ کائنات کا پورا نظام اللہ کے قانون کے مطابق چل رہا ہے‘ لیکن اس فرق کے ساتھ کہ کائنات کی ہر شے اللہ کے قانون کی پابند ہے۔ البتہ انسانوں کو آزادی کی نعمت سے نوازا گیا ہے اور ان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ بہ رضا و رغبت اللہ کے قانون (دین) کو قبول کر کے اپنی فطرت اور کائنات کے نظام سے ہم آہنگ ہوجائیں--- یہ سپردگی ہی اسلام ہے اور اسی کے ذریعے دل کا چین اور زندگی اور کائنات میں امن و سکون میسرآسکتا ہے۔

۴- زندگی ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے‘ اور دین اسلام نام ہے زندگی کے پورے نظام کو اللہ کی بندگی میں لانے کا۔مراسم عبادت سے لے کر انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کو اللہ کے رنگ میں رنگا ہونا چاہیے: (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِط (البقرہ۲:۲۰۸)، ’’اے ایمان لانے والو‘ تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو‘‘۔ اور صِبْغَۃَ اللّٰہِج وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃًز (البقرہ۲:۱۳۸)، ’’کہو:اللہ کا رنگ اختیار کرو۔ اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا‘‘۔ یہ ہدایت زندگی کے ہر شعبے اور سرگرمی کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ دین کامل اور مکمل ہے۔ اس ابدی ہدایت کا ایک معجزاتی پہلو یہ ہے کہ جہاں اس میں ہر زمانے کے لیے زندگی کی جملہ ضروریات کے لیے رہنمائی موجود ہے‘ وہیں اس کے نظامِ کار میں وہ گنجایش بھی موجود ہے جو مرورزمانہ کی تبدیلیوں اور ضروریات کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔ گویا ثبات اور تغیر کا ایک حسین امتزاج ہے جو اس کے نظام کا حصہ ہے۔ جو تبدیلی اور تسلسل کے لیے ایک خودکار انتظام کا بندوبست کر دیتا ہے۔

۵-  یہ دین اعتدال‘ انصاف‘ توازن اور راہِ وسط کی نشان دہی کرتا ہے: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ (البقرہ۲:۱۴۳) ، ’’اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’اُمت وسط‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو‘‘۔دین اسلام فطرت سے ہم آہنگ ہے‘ عدل اورفلاح کا ضامن ہے‘ حشووزوائد سے پاک ہے‘ آزادی اور ترقی کا علم بردار ہے۔ یہ دین جسم و جاں‘ روح و بدن‘ مادی اور روحانی‘ اخلاقی اور دنیوی ہر ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ یہ ’وسطیہ‘ اس کی شان ہے (خیرالامور اوسطھا) جو اس کا حصہ (built-in) اور شناخت ہے اور کہیں باہر سے نہیں لائی جاتی۔ خود ساختہ اعتدال کے نام پر کسی تراش خراش کی اسے حاجت نہیں۔ اعتماد‘ رواداری‘ استقامت اور حکمت اس کے اپنے اصول اور شناخت کے ذرائع ہیں۔

یہ حق‘ یہ ہدایت‘ یہ دین بھی آپ سے آپ نافذ نہیں ہوتا‘بلکہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایمان‘ عمل اور جدوجہد کا راستہ تعلیم فرمایا ہے اور انبیاے کرام ؑنے اپنے عمل اور اپنی تحریک سے اس کے لیے نقشہ راہ (road map) فراہم کر دیا ہے‘ جو یہ ہے:

                ۱-            اسے پورے یقین کے ساتھ قبول کرو (ایمان)

                ۲-            اس پر خود عمل کرو اور استقامت کے ساتھ کرو۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا - الاحقاف ۴۶:۱۳)

                ۳-            تمام انسانوں کو اس کی دعوت دو۔ (وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ  وَعَمِلَ صَالِحاً- حم السجدہ ۴۱:۳۳)

                ۴-            اس دین کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیرنو کرو--- اسے پوری زندگی پر غالب اور حکمران کر لو۔ (ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّـہٖ - الصف ۶۱:۹)

ایمان اس کا نقطۂ آغاز ہے‘ عمل اس ایمان کا اولین تقاضا ہے‘ عبادت اور اللہ کی اطاعت اور بندگی اس کا فطری مظہر اور اللہ کی رضا اس کا مطلوب و مقصود ہے۔ یہ عبادت محض مراسم عبادت تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی کو اللہ کے قانون اور ہدایت کے مطابق ڈھالنے اور سنوارنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ پھر ایمان ہی کا یہ تقاضا ہے کہ اس شمع کو روشن کیا جائے اور اس نور کو پھیلانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی جدوجہد کی جائے ایک مسلسل‘ جاں گسل‘ نہ ختم ہونے والی جدوجہد۔

اسی جدوجہد کا نام جہاد ہے‘ جو نفس کے خلاف جہاد سے شروع ہو کر اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کے قیام اور اس کے دیے ہوئے قانونِ حیات کے نفاذ کے ہر کوشش اور ہر قربانی سے عبارت ہے اور یہی عبادت کی معراج ہے۔ ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ میں بتائوں تم کو وہ تجارت جو تمھیں عذاب الیم سے بچا دے؟ ایمان لائو اللہ اور اس کے رسولؐ پر‘ اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو‘‘۔(الصف ۶۱:۱۰-۱۱)

دعوت اور جہاد ایک ہی جدوجہد کے مختلف رخ ہیں۔ اس میں جبر اور دہشت گردی کا کوئی شائبہ بھی نہیں۔ (لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِلا،دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔البقرہ ۲:۲۵۶) یہ پیغام دلیل‘ مباحثے اور مجادلے‘ دعوت اور ڈائیلاگ‘ محبت‘ دردمندی اور خدمت سے انسانوں تک پہنچایا جاتا ہے لیکن اگر اسے قوت سے دبانے اور روکنے کی کوشش کی جائے تو پھر ظلم اور طغیان کا مردانہ وار مقابلہ اور جان اور مال کی قربانی بھی اسی جدوجہد کے اعلیٰ مراحل میں شامل ہے۔ اسی دعوت اور جدوجہد کے نتیجے میں مسلمان فرد (مرد و عورت) مسلم خاندان‘ مسلم معاشرہ‘ اسلامی ریاست و حکومت اور انصاف پر مبنی عالمی نظام وجود میں آتے ہیں۔

۶-  یہ ساری جدوجہد انفرادی ذمہ داری بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ ہرمسلمان‘ اُمت مسلمہ کا حصہ ہے ۔ یہ اُمت ایک صاحب مشن اور صاحب شریعت اُمت ہے۔ جس کا مقصد وجود اور فرضِ منصبی ہی دین حق کی شہادت‘اللہ کی بندگی کی دعوت‘ امربالمعروف اور نہی عن المنکر‘ قیام انصاف‘ مظلوموں کی مدد و اعانت اور پوری انسانیت کو اس کے رب کی بندگی کی طرف بلانا اور بندگی رب کے نظام کو قائم کرنا ہے۔ (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِط- اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو‘ بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰)

۷-  اس مشن (قولی اور عملی شہادت‘ انفرادی اور اجتماعی شہادت‘ اقامت دین) کے لیے جو راستہ ‘اللہ کے رسولؐ نے طے کر دیا ہے وہ ہے:

اپنی اصلاح --- اجتماعیت کی اصلاح--- اخلاق و کردار اور علم و تقویٰ کی قوت کے ساتھ وسائل و ذرائع کا موثر ترین استعمال‘ قوت کے منبع کی تسخیر‘ بہترین صلاحیت اور استطاعت کا حصول اور طاقت کی ہر شکل کو اللہ کا مطیع اور اس کے پیغام کو پھیلانے کی خدمت کا آلہ کار بنانا‘ تاکہ عدل و انصاف قائم ہوسکے‘ حق حق دار کو مل سکے اور ظلم و استحصال کا خاتمہ ہو سکے۔ چنگیزیت سے انسانیت کو محفوظ رکھنے کا یہی طریقہ ہے اور یہ بھی عبادت ہی کی ایک شکل ہے۔ (وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ - الانفال ۸:۶۰‘  لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبِ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِج - الحدید۵۷:۲۵)

اس کے لیے بیک وقت تین چیزوں کی ضرورت ہے:

اولاً: ایمان‘ اخلاقی برتری‘ اعلیٰ کردار اور تقویٰ اور خدا ترسی کی زندگی۔

ثانیاً: فکری قوت اور قیادت۔

ثالثاً: اجتماعی قوت--- اخلاقی‘ معاشی‘ مادی‘ سیاسی‘ سائنسی‘ عسکری--- مقابلے کی قوت‘ تاکہ وقت کے تقاضوں اور عصری حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

یہ کام اللہ سے تعلق‘ فکری گہرائی اور اجتماعی طاقت تینوں کے بیک وقت حصول اور مقابلے کی طاقت کی فراہمی ہی سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ایمان‘ اجتہاد اور جہاد ہی وہ ستون ہیں جن پر دین کی عمارت کی تعمیر ممکن ہے اور انھی پر اس کے استحکام کا انحصار ہے۔

سیاسی مغلوبیت‘ ذہنی انتشار‘ اخلاقی خلفشار‘ اور تہذیبی پراگندگی کے ماحول میں سیدابوالاعلیٰ مودودی کی یہ آواز ایک نئے وژن کا پیغام دیتی تھی۔ سید مودودیؒ کی یہ پکار قرآن کی طرف رجوع کرنے (back to the Quran) اور قرآن کی صداقت پر کامل ایمان کے ذریعے پیش قدمی کرنے (forward with the Quran)کی دعوت تھی۔ سید مودودی کی یہی وہ فکر تھی جس نے اُمت کی مضطرب روحوں کو روشنی کا پیغام دیا‘ دلیل اور تعین کے ساتھ دین کا اصل وژن پیش کیا۔ یہی وہ دعوت تھی جس نے اُمت کونئے اعتماد‘ ولولے اور اُمید سے شادکام کیا۔ ایک طرف اسلام کی شاہراہ عمل کو صاف لفظوں میں پیش کیا تو دوسری طرف انھیں انفرادی اور اجتماعی جدوجہد کا راستہ دکھایا۔ اسلام کو مسلم معاشرے کی ایک کارفرما قوت بنانے کی دعوت دی اور اسلام کو ایک عالمی پیغام اور زندگی کے دھارے کو بدلنے والی تحریک کے طور پر صرف روشناس ہی نہیں کرایا‘ بلکہ فکری اور عملی و تنظیمی جدوجہد کے ذریعے ایک ملک گیر اور بالآخر عالمی جدوجہد میں منظم کر دیا۔

اُمت کی نبض پر ہاتھ

سید مودودیؒکے کارنامے پر نگاہ ڈالی جائے تو صاف نظرآتا ہے کہ انھوں نے پہلے دن سے یہ محسوس کر لیا تھا کہ ان کے دور کے مسلمانوں کی سب سے پہلی ضرورت تصورِ دین کی اصلاح ہے۔ مختلف داخلی اور خارجی اسباب کے نتیجے میںخود مسلمانوں نے بھی زندگی کو مختلف خانوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ انھوں نے دین کو گھر‘ مسجد اور زیادہ سے زیادہ مدرسے اور چند مذہبی رسوم و رواج تک محدود کر لیا تھا اور اسی پر قانع ہوگئے تھے۔ دین کے اس تصور پر ضرب کاری لگانا وقت کی اہم ضرورت تھی‘ تاکہ قرآن کا تصورِ دین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برپا کردہ انقلاب کا تصور ایک بار پھر کسی کمی بیشی کے بغیر ان کے سامنے رکھا جا سکے اور انھیں توحید اور عبادت کا صحیح مفہوم سمجھایا جا سکے۔

پھر قول و فعل کا تضاد مسلمانوں کو کھائے جا رہا تھا‘ جس نے اسلام کی برکتوں سے ان کی زندگیوں کو محروم کر دیا تھا۔ سید مودودیؒ نے ایمان اور عمل‘ عبادت اور زندگی کے تمام شعبوں سے اس کے ربط کو واضح کیا۔ اسی طرح اجتماعی زندگی اور نظام کا بگاڑ‘ قیادت کا غلط ہاتھوں میں چلا جانا اور مسلمانوں کا قوت اور اقتدار سے محروم ہو کر‘ ایک محکوم قوم بن جانا تھا۔ یہ وہ اسباب تھے جن کے نتیجے میں مسلمان اپنے اصل مشن اور کردار سے غافل ہوگئے تھے اور چھوٹے چھوٹے مفادات کے پجاری بن گئے تھے۔ سید مودودی نے زوال اور کمزوری کے ان تمام اسباب کو ٹھیک ٹھیک متعین کرکے ان کا موثر سدباب کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اپنی اور اُمت کی ساری توجہ کو جزوی اور وقتی مسائل اور معاملات سے ہٹاکر چند مرکزی نکات پر مرکوز کیا‘ جنھیں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:

  •  خود شناسی‘ یعنی مغرب کی اندھی تقلید اور غیروں کے غلبے کے نتیجے میں خود فراموشی کے رویے کو ترک کر کے اپنی حقیقت‘ اپنی اصل‘ اپنی شناخت کی بازیافت کرنا۔
  • خودشناسی کے نتیجے میں ایک خوداعتمادی پیدا کی جس کا یہ اثر ہوا کہ وہ اپنے ورثے پر فخر کرنے لگے اور ان میں اپنی راہ خود نکالنے یعنی خودانحصاری کا داعیہ پیدا ہوا ۔
  • خوداعتمادی اور خودانحصاری کے ساتھ خوداحتسابی ‘تاکہ اپنی کمزوریوں کا تعین کیا جاسکے‘ اور ان کمزوریوں کو دُور کر کے اپنے مشن اور مقام کے حصول کے لیے تیاری کی جاسکے۔
  •  خودشناسی‘ خوداعتمادی‘ خودانحصاری اور خوداحتسابی کے ساتھ ضروری تھا کہ اپنے دور کے تقاضوں اوراپنے زمانے کے مسائل ومعاملات اور مدمقابل کی قوتوں کے عزائم‘ وسائل اور ان کی قوت کے سرچشموں کا ادراک ہو‘ تاکہ دانش مندی سے ان کا    موثر مقابلہ ہوسکے۔ اس کے لیے زمانہ شناسی ضروری ہے کہ مستقبل کی کوئی بھی تعمیر ان حالات اور ظروف سے بے نیاز ہوکر نہیں کی جا سکتی جن سے اُمت دوچار ہے۔ حقیقت پسندی کا راستہ حالات کی صحیح آگہی ہی سے حاصل ہوسکتا ہے۔
  • ان چار امورکا لازمی تقاضا خودسازی ہے‘ کہ تیاری کے بغیر مقابلہ حماقت اور خودفریبی کے سوا کچھ نہیں۔ اسی لیے سید مودودی نے قوم کو جذباتیت اور فوری ردعمل کے بجاے اپنی قوت کے سرچشموں کی بنیاد پر مناسب اور موثر تیاری کی دعوت دی‘ تاکہ صحیح وقت پر صحیح طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ تیاری ہمہ پہلو ہونی چاہیے۔ ایمان و اعتقاد‘ فکروعمل‘ انفرادی اور اجتماعی زندگی‘ اخلاقی اور مادی قوت‘ سیاسی‘ معاشی‘ عسکری‘ فنی‘ تکنیکی میدانوں میں مقابلے کی قوت اور تنظیم کا حصول بنیادی تقاضے ہیں۔ اس طرح انھوں نے اصلاح اور تعمیرنو کا ایک واضح اور دور رس پروگرام مرتب کیا۔ وہ اس پروگرام پر عمل کے لیے خود بھی سرگرم عمل ہوئے اور اس دعوت پر لبیک کہنے والوں کو بھی مصروف کار کیا۔
  •  واضح رہے کہ یہ سب کچھ ایک واضح ہدف کو سامنے رکھ کر کیا گیا‘ تاکہ دین کو ایک بار پھر غالب قوت بنایا جا سکے‘ اُمت ایک بار پھر اپنے اصل مشن کی علم بردار بن کر اُٹھے‘ اپنے گھر کی اصلاح کرے اور پھر انسانیت تک اس آبِ حیات کو پہنچانے کا کارنامہ انجام دے‘ جس میں سب انسانوں کی فلاح ہے۔ گویا زمانہ سازی اس کی جدوجہد کا اصل ہدف ہو۔

یہ چھ نکات ہیں جن پر سیدمودودی علیہ الرحمہ نے اُمت مسلمہ کو جمع کرنے اور بیسویں صدی کی اسلامی جدوجہد کو ان کے مطابق مرتب کرنے کی سعی کی۔

سید مودودیؒ کا طرزِ فکر

میں جس چیز کو سید مودودی کی ’طرزِفکر‘ کہتا ہوں اس کا پہلا نکتہ دین کا یہ تصور‘ دین کی دعوت اور اقامت کا یہ وژن اور اس وژن کے مطابق اُمت کو متحرک کرنے کے لیے وہ تنظیمی اقدام ہے‘ جو جماعت اسلامی اور اس کی برادر تنظیموں کی شکل میں‘ ان کی قیادت اور رہنمائی میں وجود میں آئیں۔ لیکن سیدمرحوم کے ’طرزِفکر‘ کا پورا احاطہ صرف اس مرکزی نکتے کی شکل میں نہیں کیاجاسکتا۔ اس کے لیے ان اصولوں اور ضابطوں کی نشان دہی بھی ضروری ہے جو سید مودودیؒ کو اس مرکزی نکتے تک لائی اور جس کے لیے انھوں نے اپنی ساٹھ سالہ جدوجہد میں اپنے ساتھیوں ہی کو نہیں‘ پوری اُمت کو بھی تلقین اور وصیت کی۔ اس رہنمائی کے مرکزی نکات یہ ہیں:

ا -  اسلامی فکروعمل کی آبیاری کہ اُمت اور اس کے ایک ایک فرد کی قوت کا اصل منبع اللہ سے تعلق اور ایمان‘ رب کی پہچان ہے۔ صرف اسی خالق و مالک کے دامن کو تھامنے کا نام ایمان کامل ہے۔ عقل اور وسائل کا اپنا مقام ہے اور بہت اہم مقام ہے‘ لیکن اولین چیز اللہ پر ایمان اور اس کے صحیح تقاضوں کا شعور ہے۔ پھر اللہ پر بھروسا اور صرف اس سے استعانت ہی مسلمانوں کی قوت کا اصل منبع ہے۔ توحید کی حقیقت کو پانا زندگی کے تمام معاملات کے حل کے لیے شاہ کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔

ب-  قرآن و سنت اس اُمت کی رہنمائی کا اصل سرچشمہ ہیں۔ فقہ‘ تاریخ‘ مسلمانوں کے افکار‘ اجتہادات اور تجربات سب اپنے اپنے مقام پر ضروری ہیں۔ ماضی سے رشتہ اور روایت کا احترام‘ تہذیبی شناخت اور تسلسل کے لیے ضروری ہیں‘ لیکن ہدایت کے ماخذ کی ترتیب میں قرآن سب سے اولین ہے اور سنت اس کا لازمی حصہ۔ اسلاف سے محبت‘ ان سے تعلق‘ ان کا احترام ازبس ضروری ہے‘ لیکن حق کا معیار صرف اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اور طریقہ ہے۔ اولین دور میں مسلمانوں کی ترقی کا اصل سبب اللہ سے رشتہ اور اللہ کی کتاب سے تعلق اور اللہ کے رسولؐ کو یہ مرکزی حیثیت دینا تھا۔ افسوس کہ بعد میں یہ ترتیب بدل گئی۔

فقہ کا بڑا اہم کردار ہے اور رہے گا‘ لیکن ہر دور میں اور خصوصیت سے آج کے دور میں تمدن کے احوال و ظروف کی ہر سطح پر ایسی بنیادی تبدیلیاں واقع ہوگئی ہیں کہ زندگی سے دین کی مفید مطلب مطابقت (relevence )کو دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام اسی وقت ممکن ہے کہ الاول فالاول کے اصول پر قرآن و سنت کو مرکزی حیثیت دی جائے اور ان کے سائے تلے فقہ اور روایت سے استفادہ کیا جائے ‘اور خصوصیت سے نئے مسائل کے حل کے لیے اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسولؐ کی سنت ہی کو اولین سرچشمہ بنایا جائے۔ اجتہاد اور فکری آزادی پر جو خودساختہ اور ناروا پابندیاں لگ گئی ہیں‘ ان سے چھٹکارا پایا جائے۔ یہ کام نہ درایت سے بغاوت کے انداز میں ہو اور نہ روایت کا اسیر بن کر کیا جائے۔ فکری اور عملی جدوجہد کے لیے بھی اور تعلیم کے پورے نظام میں بھی اعتدال کے ساتھ صحیح ترتیب کا احیا ضروری ہے۔

ج-  اس کام کو انجام دینے کے لیے اصول اور فروع‘ مقصد اور پالیسی کے فرق‘ نصب العین اور اقدار اور ضابطوں اور طریق کار کا تعلق‘ بنیاد اور تفصیل میں تمیز‘ منصوص اور غیرمنصوص اور مسنون اور غیرمسنون کے مراتب کا لحاظ اور سنت اور بدعت کی حقیقی تفہیم ضروری ہے۔ تقلید کے لمبے دور میں ان ترجیحات‘اور بنیادی اصولوں اورضابطوں کو نظرانداز کر دیا گیا تھا اور آج تجدید و احیا کا کام انجام دینے کے لیے ان کی پاس داری ضروری ہے۔

ان تمام پہلوئوں پر کھل کر بحث ہو‘ ترجیحات کا صحیح تعین ہو اور تقدیم و تاخیر اور راجع ]رجوع کرنے والی[ اور غیر راجع کی حدود اور شکلوں کا صحیح شعور پیدا کیا جائے۔ نیز عصری حالات کے مطابق لیکن قرآن وسنت سے مکمل وفاداری کے ساتھ‘ روایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے‘ وقت کے تقاضوںکے مطابق اسلام کو زندگی کا رہنما بنایا جائے‘ تاکہ جمود کو توڑ کر صحت مند حرکت کو پھر حقیقت کا روپ دیا جائے۔ ایسی ہی حرکت میں برکت ہے۔

د-  اس کام کو انجام دینے کے لیے زمانے کے حالات‘ مسائل اور ان تبدیلیوں کا تنقیدی مطالعہ اور تجزیہ بھی نہایت ضروری ہے۔ درحقیقت یہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا اپنے اصل نصب العین‘ اصول و اقدار‘ قانون واحکام‘ ترجیحات اور مطلوبہ خطوط کار کے تنفیذی عمل کا اطلاق۔ ایک طرف اُمت مسلمہ کی موجودہ حالت (status quo) اور روایت پر ہونا چاہیے تو دوسری طرف دورِحاضر کی غالب تہذیب اور اس کے زیراثر پوری دنیا کے نظام اور طریق واردات کا محاکمہ ہونا چاہیے۔ہماری اپنی تہذیبی ترقی کے سلسلے کا جو انقطاع واقع ہوا ہے‘ اسے بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور جو خلا واقع ہوا ہے‘ اسے پورا کرنے کے لیے اجتہادی بصیرت کی ضرورت ہے‘ جو نہ غالب تہذیب کی نقالی سے ممکن ہے اور نہ خود اندھی تقلید پر انحصار کرنے سے کچھ خیر رونما ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے خیروشر میں تمیز اور اپنے تجربات میں سے مفید کو جاری رکھنا اور راہ کی رکاوٹوں کو دُور کرنا اور غالب تہذیب کا بھی ایسی ناقدانہ نگاہ سے مطالعہ کرنا کہ اس کے ان پہلوئوں سے استفادہ ممکن ہو جو ترقی کے اصل اسباب ہیں اور ان تمام برائیوں اور خباثتوں سے اجتناب کرنا کہ جو انسانی زندگی کو بگاڑ اور فساد کی جہنم میں دھکیل رہے ہیں۔ خذما صفا ودع ما کدر۔

ہ-  اس پورے کام کو انجام دینے میں ایک اور پہلو کی فکر ضروری ہے۔ وہ پہلو‘ وہ مقصد اور نظریے سے حقیقی معنوں میں مکمل وفاداری (کمٹ منٹ) کے ساتھ حقیقت پسندی (realism) اور اپنے دین کے اصولوں کا نئے حالات میں اطلاق اور اس کے لیے جس دانش و بصیرت (practical wisdom) کی ضرورت ہے‘ اس کا ٹھیک ٹھیک استعمال ہے۔ سید مودودی نے اس سلسلے میں بار بار حکیم حاذق کی مثال دی ہے جو بزرگوں کے نسخوں کا آنکھیں بند کر کے استعمال نہیں کرتا‘ بلکہ مریض کے حال اور دوائوں کی خاصیت کو سامنے رکھ کر طب کے ابدی اصولوں کا ہر ہر مریض پر الگ الگ اطلاق کرتا ہے۔ سید مودودی نے صاف لفظوں میں کہا تھا :’’ حقیقی  مصلح کی تعریف یہ ہے کہ وہ اجتہاد وفکر سے کام لیتا ہے اور وقت اور موقعے کے لحاظ سے جو مناسب ترین تدبیر ہوتی ہے‘ اسے اختیار کرتا ہے‘‘۔ یہ زاویہ نظر سید مودودیؒ کے ’طرزِفکر‘ کا اہم حصہ ہے۔

و-  اس اصول کی روشنی میں سید مودودیؒ نے بڑے غوروفکر کے بعد اصلاح کے لیے جس طریق کار کی نشان دہی کی‘ اس کے اہم اجزا یہ ہیں:

  • ایمان کا احیا اور تقویت

  •  فکر کی تشکیل نو --- یعنی اسلامی افکار کی تشکیل و تعمیر میں وقت کے مسائل اور رجحانات کو ملحوظ رکھنا‘ اپنے دور کے افکار کا مطالعہ اور ان پر تنقیدی نظر اور نئے حالات اور مسائل کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حل تلاش کرنا۔
  •  افراد کار کی تلاش‘ تیاری اور تنظیم و تربیت۔
  •   تدریج کے اصول کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل نو کی کوشش اور اس میں کھلے انداز میں‘ آزادانہ بحث و مباحثہ‘ دعوت‘ تعلیم اور تعلم کا طریقہ--- خفیہ طریقوں‘ جبر‘ غیرقانونی اور غیراخلاقی طریقوں سے اجتناب‘ جمہوری عمل اور راے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے اسلامی انقلاب برپا کرنے کی جدوجہد۔ ہر اس طریقے سے اجتناب جو فساد فی الارض کا باعث ہو۔
  •  صحیح طریقے سے اجتماعی جدوجہد--- اور وہ بھی ایک تربیت کے ساتھ‘ گھر سے آغاز ہو‘ اپنے معاشرے کی اصلاح اور اپنے ملک میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد ہو‘ اُمت مسلمہ کا اتحاد اور اُمت کی اسلامی بنیادوں پر تعمیروترقی کا شعور ہو‘ پوری دنیا کے سامنے اسلام کی دعوت کو پہنچانے اور اللہ کی بندگی کی طرف بلانے کا ذوق اور کوشش ہو اور انصاف پر مبنی عالمی نظام کے قیام کی فکر۔
  •  اس پورے کام کو قرآن و سنت کے ابدی اصولوں اور ہدایات کے مطابق انجام دینا۔ اپنے وقت کے تمام جائز اور مفید ذرائع اور وسائل کو اس دعوت کی خدمت میں استعمال کرنا اورمقابلے کی قوت حاصل کرنا--- وقت کا تقاضا ہے کہ اسلام کے پیغام کو آج کی زبان میں‘ آج کے حالات اور مسائل سے مربوط شکل میں پیش کیا جائے اور اس سلسلے میں کسی تغافل یا تعصب کا شکار نہ ہوا ہوجائے۔ سارے وسائل اللہ کی دین ]گفٹ[ ہیں اور انھیں اللہ کے دین (اسلام) کی خدمت میں استعمال کرنا‘ ان کا صحیح ترین استعمال ہے۔ یہ وسعت اور جدیدکاری اسلام کے مزاج کا حصہ اور وقت کی ضرورت ہے۔
  • دعوت دین اور اقامت دین کا یہ کام پتھر کی طرح جامد (monolithic) نہیں ہے۔ اس میں تنوع اور تکثیر (plurality) ممکن ہی نہیں بلکہ ناگزیر بھی ہے۔ نیز یہ کام عجلت میں انجام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ بڑا صبرآزما اور دیرپا کام ہے۔ اس میں منزل تک پہنچنے کا کوئی مختصر راستہ (short cut) نہیں ہے۔ اس وژن کا ثبات افرادِکار کی تیاری‘ عمل اور جدوجہد میں استقامت‘ تجربات سے سبق سیکھنے اور بندگلی سے راستہ نکالنے‘ اپنے مشن اور مقصد پر اعتماد‘ اللہ پر بھروسا اور مسلسل قربانی پیش کرنے میں ہے--- گویا ایمان‘ اجتہاد اور جہاد کے عملی اظہار کے بغیر احیاے اسلام کی منزل سر نہیں کی جا سکتی۔
  • اس کام کی انجام دہی کے لیے ایک نئی قیادت کا اُبھرنا ضروری ہے‘ اور یہ قیادت محض فکری اور محدود دینی میدان ہی میں نہیں‘ بلکہ زندگی کے ہر میدان: فکروفن‘ سائنس اور ٹکنالوجی ‘معاشرت اور معیشت‘ ادب اور ثقافت‘ سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں ہو۔

یہ وہ مرکزی نکات ہیں جن سے سید مودودی کا ’طرزِفکر‘ عبارت ہے۔ اس میں مقصد کا شعور‘ اور دین کے سرچشموں سے وفاداری بھی ہے اور اس کے ساتھ آزادی فکر‘ شوریٰ‘ نئے تجربات‘ عصری ضروریات کا شعور‘ مقابلے کی قوت کی فراہمی اور مردان کار کی تیاری سب شامل ہیں۔ سید مودودی نے نئے حالات میں نئی حکمت عملی اختیار کرنے اور نئے تجربات کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ اور یہ بھی ان کے ’طرزِفکر‘ کا ایک اہم پہلو ہے۔

اسلامی تحریک کا احیا اور ارتقا

سیدمودودیؒ کے طرزِفکر کے مختلف گوشوں پر کلام کرنے کے بعد‘ اس موضوع پر بات کرنا مناسب ہوگا کہ اکیسویں صدی کے اوائل میں پاکستان ہی نہیں‘ پوری دنیا میں آج تحریکِ اسلامی کس مرحلے میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فکری میدان میں اسلام کے ایک مکمل اور جامع دین اور نظریۂ حیات ہونے اور اس نظریے کو غالب کرنے کے لیے انفرادی جدوجہد کے ساتھ اجتماعی تحریک کی ضرورت تو اب روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔

اسلامی تحریکوں کے مؤسسین نے (اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتیں بارش کرے) یہ کام بڑی خوبی کے ساتھ انجام دیا ہے اور ان کے اخلاص سے اجتماعی جدوجہد کا آغاز ہوگیا ہے--- لیکن ہمارے خیال میں یہ صرف آغاز ہوا ہے‘ تکمیل کی منزل ابھی بہت دُور ہے اور ہمیں اور پوری اُمت کو مسلسل دعوت عمل دے رہی ہے۔ اس آغاز نے جہاں مسلمانوں کو نیاجذبہ‘ نئی روشنی‘ نئی اُمنگ اور زندگی کے لیے ایک خوب صورت ہدف فراہم کیا ہے‘ وہیں مخالفین کے لیے بھی خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں۔ اسی لیے وقت کے فرعونوں اور ہامانوں کی زبان سے ’کروسیڈ‘ کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور مختلف عنوانوں سے اسلامی احیا کو اصل نشانہ اور خطرہ بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ ہاروڈ یونی ورسٹی کے امریکی پروفیسر سیموئیل ہنٹنگٹننے اپنی کتاب The Clash of Civilizations (تہذیبوں کا تصادم) میں بہت صاف الفاظ میں مغرب کے نقشۂ جنگ کو پیش کر دیا ہے:

مغرب کا حقیقی مسئلہ اسلامی بنیاد پرستی نہیں ہے‘ بلکہ خود اسلام ہے۔ اسلام جو ایک مختلف تہذیب ہے جس کے ماننے والے اپنے تشخص کی فوقیت کے علاوہ طاقت کی کمزوری کا شکار ہیں۔ ادھر اسلام کے لیے‘ سی آئی اے یا امریکی محکمہ دفاع اصل مسئلہ نہیں ہیں‘ بلکہ خود مغرب مسئلہ ہے‘ جو ایک مختلف تہذیب ہے۔ ایسی تہذیب‘ جس کے ماننے والے اپنی ثقافت کی آفاقیت کے قائل ہیں‘ اور اپنی ثقافت کو پوری دنیا پر حاوی کرناچاہتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی عوامل ہیں‘ جو اسلام اور مغرب کے درمیان تصادم کو فروغ دے رہے ہیں۔(حوالہ بالا‘ ص ۲۱۷-۲۱۸)

مغربی مفکرین اسلام کو ہوّا اور دشمن بناکر پیش کر رہے ہیں اور اس کی روشنی میں نقشۂ جنگ بنانے میں مصروف ہیں‘ جب کہ مسلمان اُمت اور اسلامی تحریکوں کا اصل مسئلہ کسی سے جنگ یا مقابلہ نہیں‘ بلکہ اپنے گھر کی اصلاح اور تعمیرہے۔ افکار و نظریات کا تبادلہ اور رد و قبول انسان کا بنیادی حق ہے‘ جسے جنگ سے منسلک نہیں کرنا چاہیے۔ اہلِ مغرب کے دانش وروں اور ان کے اہلِ حل و عقد کا مرض بھی اس اقتباس سے واضح ہے کہ وہ طاقت کی بنیاد پر یہ اپنا حق سمجھتا ہے کہ اپنے تصورات اور کلچر کو دوسروں پر مسلط کرے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ بگاڑ کی جڑ اسلام یا مسلمانوں کی بے بسی نہیں‘ مغرب کا یہ فاسد نظریہ ہے۔ لیکن آج مسلمان اس سے غافل ہیں کہ اپنی پوزیشن کو دلیل کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں اور مغربی میڈیا نے عام لوگوں کے ذہنوں کو جس طرح مسموم کر دیا ہے‘ اس کا بھرپور مقابلہ کر سکیں۔

یہ مقابلہ کسی ادھورے عمل اور قریبی یا مختصر راستے (shortcut) سے نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے تو وہی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا‘ جو بیسویں صدی کے آغاز میں ساری کمزوریوں کے باوجود احیاے اسلام کی تحریکات کے مؤسسین نے اختیار کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بیسویں صدی کے آغاز اور اکیسویں صدی کے اوائل میں بہت سی مماثلتیں دیکھ رہے ہیں۔ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد افغانستان اور عراق پر امریکا کی وحشیانہ فوج کشی اور ساری دنیا میں نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر فکری‘ ابلاغی‘ سیاسی اور عسکری میدانوں میں خونیں جارحیت نے صورت حال کو اور بھی گمبھیر بنا دیا ہے۔ اس وقت محض جذباتی انداز میں کوئی فوری انتقامی کارروائی اسلام اور مسلمانوں کے حقیقی مقاصد اور اہداف کی خدمت نہیں کرسکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ بیسویں صدی کے فکر اور تجربات کی روشنی میں‘ اکیسویں صدی کے لیے مسلمان اور خصوصیت سے اسلامی تحریکیں اپنی حکمت عملی وضع کریں۔

اُمت کو درپیش چیلنج

اس وقت جو بنیادی چیلنج مسلم اُمہ کو درپیش ہیں ان کے دو بڑے بڑے محاذ ہیں: ایک دفاعی اور دوسرا تعمیری۔ ان دونوں کے بارے میں کچھ معروضات پیش کی جا رہی ہیں:

جس طرح بیسویں صدی کے آغاز میں یورپی استعمار‘مسلم دنیا پر مسلط تھا‘ اسی طرح اب اکیسویں صدی کے آغاز میں ہمارا واسطہ امریکی استعمار سے ہے‘ لیکن جوہری فرق کے ساتھ۔

اس وقت امریکا عسکری اعتبار سے واحد سوپر پاور ہے۔ اس کا جنگی بجٹ باقی تمام دنیا کے تمام ممالک کے مجموعی بجٹ کے برابر ہے۔ اس کی معاشی صلاحیت دنیا کی معیشت کا ایک چوتھائی ہونے کے باوجود ایسی نہیں ہے کہ بہت لمبے عرصے تک وہ محض عسکری قوت کے بل پر دنیا کے بڑے حصے کو اپنے قابو میں رکھ سکے۔

ہرچند کہ امریکا کی کوشش ہے اور یہی اس کی موجودہ قیادت کا اعلان شدہ ہدف بھی یہ ہے کہ وہ آیندہ پچیس پچاس سال تک واحد سوپر پاور رہے اور کوئی مدمقابل اُبھرنے نہ پائے۔ لیکن یہ دھونس اور دعویٰ‘ قدرت کے قانون کے خلاف ہے۔ البتہ عسکری قوت کے ساتھ ابلاغی قوت ایک ایسے مقام پر ہے کہ دنیا کی آبادی کے بڑے حصے کے ذہنوں کو اس سے مسموم اور خائف کیا جاسکتا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ تاہم‘ اس میدان میں بھی یہ قوت اور اختیار غیرمحدود نہیں ہے اور صحیح معلومات کو چھپانے اور دنیا کو دھوکے میں رکھنے کی ایک حد ہے--- جیساکہ عراق پر حملے کے اسباب کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔ پھر دنیا کے دوسرے ممالک‘ خصوصیت سے یورپ کے بڑے ملک‘ چین اور ایک حد تک روس ابھی امریکا کو چیلنج نہیں کر رہے‘ لیکن پوری طرح   اس کے ساتھ بھی نہیں ہیں۔ امریکا کی اس کھلی دھونس کے خلاف ان معاشروں میں اضطراب اور بے چینی کی لہریں ابھر رہی ہیں۔بے اطمینانی کی یہ لہر ساری دنیا میں اور خاص طور پر یورپ حتیٰ کہ امریکا میں عوامی قوت کی صورت میں ابھر رہی ہے۔

عالم گیریت(globalization) کے بہت سے نقصانات اور خطرات ہیں‘ لیکن اس کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں اور ان میں سے ایک گہرا جذبہ بغاوت ہے جو روز بروز بڑھ رہا ہے اور عالمی سطح پر ایک مثبت پہلو ہے ۔ آج کی دنیا کا سب سے پریشان کن پہلو عسکری‘ سیاسی‘ معاشی اور فنی سطح پر قوت کی عدمِ مساوات ہے--- لیکن اس کے خلاف متبادل اضطرابی لہروں (countervailing powers) کا رونما ہونا بھی ایک فطری عمل ہے۔ اس کے لیے صبر اور حکمت سے کام کرنے‘ فوری تصادم سے بچنے‘ صحیح تیاری کرنے‘ عالمی سطح پر اقدام کے لیے مناسب امکان کو تلاش کرنا ضروری ہے۔

عالمی صورت حال

عالمی تناظر کا تجزیہ بڑی تفصیلی بحث چاہتا ہے۔ البتہ ہم اس پورے تناظر کا خلاصہ کچھ اس طرح بیان کرسکتے ہیں:

۱-  اکیسویں صدی کا سب سے اہم پہلو ’عالم گیریت‘ ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں‘ کہ تمام ناہمواریوں کے باوجود اب پوری دنیا ایک اکائی بنتی جا رہی ہے اور کسی کے لیے بھی اس سے الگ تھلگ رہنا ممکن نہیں رہا۔ اب صرف اپنی دنیا میں بند رہنے کا راستہ قابلِ عمل نہیں رہا۔ آپ چاہیں یا نہ چاہیں‘ دنیا کا ہر واقعہ آپ کو متاثر کر رہا ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری ہی نہیں‘ سرمایہ‘ اشیا‘ انسانوں اور معلومات کی برق رفتار نقل و حرکت کی وجہ سے حالات میں جوہری فرق واقع ہوچکا ہے‘ جس نے بے شمار خطرات اور مسائل کو جنم دیا ہے‘ اور ساتھ ہی بے پناہ امکانات کا دروازہ بھی کھول دیا ہے۔

ماضی میں تحریکِ اسلامی کے لیے ممکن تھا کہ اس کے اولین اور اصل مخاطب صرف مسلمان ہوں‘ لیکن آج یہ ممکن نہیں رہا۔ اس لیے جو کچھ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے‘ اسے ساری دنیا میں سنا جا رہا ہے اور نتائج اخذ کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہوگیا ہے کہ اسلام کے علم بردار صرف خود کلامی تک دعوت کو محدود نہ رکھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ فکری سرحدیں بہت دُور دُور تک پھیل گئی ہیں۔ اس لیے غیرمسلموں سے خطاب اور ان تک دعوت کو موخر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بڑا بنیادی فرق ہے جسے ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

۲-  مشرق اور مغرب اس طرح شیروشکر ہوگئے ہیں کہ دونوں کے الگ الگ مسائل ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے جملہ پہلوئوں سے صرفِ نظر کرکے کلام ممکن نہیں رہا۔ بلاشبہہ مسلم دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ خدا پر ایمان‘ اللہ کے رسولؐ سے وابستگی اور اسلام سے ایمانی‘ جذباتی اور ثقافتی تعلق موجود رہے ‘مگر دین کے صحیح اور مکمل تصور اور دین کے انفرادی اور اجتماعی تقاضوں کی تکمیل اور احترام میں کمی کے نتیجے میں یہ ہدف نہیں پایا جاسکتا۔ اس لیے اسلامی احیا کے ساتھ ایمان کا تعلق اجتماعی نظام زندگی کے لیے حقیقی چیلنج بن جاتا ہے۔

دوسری طرف مغربی دنیا میں اجتماعی زندگی متعدد خوبیوں اور وسائل سے مالا مال ہے‘ جن میں قانون کی حکمرانی‘ رائے کی آزادی‘ انصاف کے حصول میں سہولت‘ دولت کی فراوانی‘ تعلیم و تحقیق‘ اور ایجاد و اختراع کا عام ہونا قابل ذکر ہیں۔ لیکن دولت اور وسائل کی ارزانی میں اخلاقی اقدار کی پامالی‘ انسانی تعلقات کی تباہی‘ خاندانی نظام کا انتشار‘ جرائم اور ظلم واستحصال کی بہتات اور سب سے بڑھ کر دل کا چین‘ روح کا سکون اور اللہ سے تعلق کا فقدان‘ زندگی کو اجیرن بنائے ہوئے ہے۔ اس پس منظر میں بات صرف نظام کے اصلاح و احوال کی نہیں‘ دل کی اصلاح اور اللہ سے تعلق کی یافت کی ہے۔ ہر اس تعلق کی بنیاد پر اخلاقی اقدار کے احیا اور ہر سطح پر انصاف کے حصول کی خواہش کا جذبہ ہے۔ یہ دونوں پس منظر اب دو الگ الگ دنیا میں نہیں ہیں‘ بلکہ ایک ہی میدان کے دو محاذ ہیں۔ تحریکِ اسلامی اس جوہری فرق کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔

۳-  پھر اس نئے عالمی تناظر میں ایک عالمی طاقت کا ہمہ پہلو غلبہ ہے اور اس کے نتیجے میں سیاسی‘ مادی اور تہذیبی میدانوں میں وسائل‘ قوت اور اختیارات میں ایک شدید عدمِ توازن رونما ہوگیا ہے۔ یہ ایک ایسے معاشی اور سیاسی نظام کا غلبہ ہے جو ساری دنیا کے وسائل کو ایک محدود اقلیت کی خدمت اور چاکری کے لیے وقف کر رہا ہے۔ سرمایہ داری کا نیا روپ اور منڈی کی معیشت (مارکیٹ اکانومی) کے نام پر مغربی اقوام اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا دنیا پر غلبہ آج ایک دوسرے میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ مخصوص استعماری مقاصد کی حامل نام نہاد این جی اوز کا ایک خاص کردار ہے اور ریاستی قوت (state power)کے ساتھ ملٹی نیشنل کارپوریشن اور این جی اوز اس معاشی اور نظریاتی عالمی میدان کے اصل کردار ہیں‘ جن سے معاملہ کرنا وقت کا اہم چیلنج ہے۔

۳-  ماضی کے سامراج کے لیے صحیح لفظ نوآبادیت (colonialism )تھا‘ جس میں سامراجی قوتیں دوسرے ممالک پر قبضے (occupation )کے ذریعے ان کے وسائل پر تسلط جماتی تھیں۔ آج کے سامراج نے بالکل ایک دوسرا روپ دھار لیا ہے۔ اب قبضہ بھی ایک حربہ ہے لیکن اصل حربہ وسائل کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا اور عملاً دوسرے ممالک پر قبضے کے بغیر ان کے وسائل اور مردانِ کار کو اپنی گرفت میں لے لینا ہے۔ جس کے لیے میڈیا سے لے کر معاشی تسلط اور سیاسی دخل اندازی‘ دھوکا دہی اور وفاداریوں کی خرید کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ بالادستی حاصل کرنے کے سامراجی ہدف نے نقشۂ جنگ کو بالکل بدل دیا ہے۔

۵- فکری غلبہ اور ثقافتی اور تہذیبی تسلط ہمیشہ سے اہم تھے مگر آج کے میڈیا اور انفارمیشن  ٹکنالوجی کے انقلاب میں ابلاغ کے ذرائع اور مائیکروچپ (micro-chip) نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اثروتاثیر کی یہ قوتیں غالب اقوام کو وہ مدد دے رہی ہیں جو اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں تھیں۔ اب اس نئے حربے سے فوج کشی کے بغیر ملکوں‘ علاقوں اور قوموں کو فتح کیا جاسکتا ہے اور ان کی سیاسی‘ معاشی اور تہذیبی زندگی ہی کو متاثر نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کے ذہنوں کو بھی مسموم ‘ مفلوج اور محکوم بنایا جا سکتا ہے۔

۶-  اس تناظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس وقت مغربی اقوام اور خصوصیت سے امریکا کی قیادت ان عناصر کے ہاتھوں میں ہے جو ایک نئی قدامت پسند تحریک(neo-con)  سے وابستہ ہیں۔ جس میں عیسائی مذہبی قوتوں کے ساتھ عالمی صہیونی طاقت بھی شریک ہے (اور اسے برہمنیت کی بھی تائید حاصل ہے)۔ اس قوت کا گٹھ جوڑ امریکا کے بم باز اور ہلاکت پرور حکمرانوں سے ہوگیا ہے۔ یہ اتحاد عالمی دراندازیوں کی حکمت عملی وضع کر رہا ہے۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کو اپنے اصل ہدف اور مقابل کی حیثیت سے سامنے رکھے ہوئے ہیں۔ اصل ہدف جیساکہ ہم نے سیموئیل ہنٹنگٹن کے اقتباس سے پیش کیا ‘اسلام ہے‘ محض نام نہاد دہشت گردی نہیں۔ جنگ صرف سیاسی محاذ پر نہیں‘ فکری اور تہذیبی محاذ پر بھی مسلط کی گئی ہے۔

یہ ہے اکیسویں صدی کا وہ تناظر جس میں اسلامی تحریکات کو اپنی داخلی اور عالمی حکمت عملی وضع کرنی ہے۔ ان حالات کا صحیح اور گہرا ادراک اولین ضرورت ہے۔

مقابلے کی حکمت عملی اور تقاضے

آج ’زمانہ شناسی‘ یا وقت کی نبض اور رفتار کو سمجھنے کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ یہ کام پوری دیانت‘ علمی گہرائی‘ حقیقت پسندی اور انصاف کے ساتھ کیا جائے اور ہر تعصب سے بالا ہوکر کیا جائے۔ تنقید کرنے سے پہلے تفہیم کی ضرورت ہے۔ تفہیم ہی سے یہ متعین ہوسکے گا کہ کیا قابلِ قبول ہے اور کیا ناقابلِ قبول۔ کہاں کوئی اشتراک ممکن ہے اور کہاں مقابلہ ناگزیر ہے۔ اور مقابلہ بھی مناسب تیاری‘ صحیح حکمت عملی ‘ طویل اور مختصر مدت کی ترجیحات کے تعین اور اپنی قوت کے صحیح اندازے کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ان حالات سے خوف زدہ ہونے یا امریکا اور وقت کی غالب قوتوں کا کاسہ لیس بن جانے اور ان کی چھتری تلے پناہ لینے سے اُمت مسلمہ کو احتراز کرنا چاہیے۔ تصادم نہ اس وقت ممکن ہے اور نہ مطلوب۔ لیکن حاشیہ برادری بھی کوئی غیرت مندانہ راستہ نہیںہے۔ عزت اور وقارکا راستہ ہی محتاط  مزاحمت  کا راستہ ہے‘ اور مقابلے کے لیے اس جنگ میں تمام ہی حلیفوں سے سیاسی ‘ریاستی اور عوامی سطح پر تعاون ضروری ہے۔ مسلمان اُمت اور ممالک کے لیے تنہائی (isolation) سے بچنا ضروری ہے۔ آپس کے تعاون اور اتحاد کی بھی اشد ضرورت ہے۔ موثر ڈپلومیسی ہی کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ اور مستقبل کی منصوبہ بندی ہوسکتی ہے۔ ہمیں خود اور دوسروں سے مل کر انسانی حقوق‘ آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے کھلے دل سے کام کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی قانون کے احترام‘ حقیقی جمہوری قدروں کے تحفظ اور انصاف کے حصول کے لیے عالمی جدوجہد میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان سب قوتوں سے تعاون کرنا اور تعاون حاصل کرنا چاہیے جن سے جزوی طور پر ہی سہی مقاصد کا اشتراک ممکن ہے۔

ان تمام خطرات کے پورے پورے شعور کے باوجود ہماری نگاہ میں امریکہ سمیت‘ تمام مغربی اقوام سے مکالمے (dialogue)کی ضرورت ہے‘ جس کے تین پہلوہیں:

۱- حکومتوں سے بات چیت اور افہام و تفہیم

۲-  ان ممالک کے عوام اور اہل دانش تک رسائی اور اپنی بات پہنچانے کی کوشش

۳-  پھر ان ممالک میں ایسے تمام عناصر سے ربط اور تعاون کی راہوں کی تلاش‘ جن سے کلی یا جزوی اشتراک عمل ممکن ہے۔

یہ نہ توسمجھوتے کا راستہ ہے اور نہ کسی کمزوری کی علامت ہے۔ یہ حقیقت پسندی کا تقاضا‘ اور دعوت کا راستہ ہے۔

اس سلسلے میں مسلمان حکمرانوں سے بھی ربط کی ضرورت ہے اور ان میں برے اور   کم برے میں تمیز کرنا ہوگا۔ بلاشبہہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اُمت کے عوام اور حکمرانوں میں بعدالمشرقین ہے اور ان کے درمیان نہ صرف ایک خلیج حائل ہے ‘بلکہ دونوں کے عزائم‘ جذبات‘ اہداف اور مفادات تک میں ایک واضح تفاوت بلکہ تضاد ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کے ہم نوا‘ اس پر اعتماد کرنے والے اور اس کے حلیف حکمران بھی دل کے کسی نہ کسی گوشے میں یہ احساس رکھتے ہیں کہ کسی وقت بھی وہ ان کو دھوکادے سکتا ہے۔ ان حالات میں ان حکمرانوں کا اپنا مفاد بھی اسی میں ہے کہ اپنے عوام سے قریب ہوں اور ان سے تصادم کی جگہ ایسا رشتہ قائم کریں کہ مل جل کر سب کے مفاد کا تحفظ ہوسکے۔ یہ نازک اور مشکل کام ہے لیکن اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اسلامی تحریکات کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی اصل طاقت اللہ پربھروسے کے بعد عوام کی طاقت ہی ہوسکتی ہے اور انھیں وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جس سے وہ عوام کو ساتھ لے کر اپنے ملک اور اُمت مسلمہ کے مفاد کا بھی تحفظ کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے جس حد تک اور جس طرح مسلمان حکمرانوں پر اثرانداز ہونا ممکن ہو‘ اس کی فکر کرنی چاہیے۔

اس کے ساتھ ان عالمی مسائل پر ایک واضح موقف اختیار کرنا ضروری ہے جو آج انسانیت کے مرکزی مسائل ہیں۔ ان میں انسانی حقوق‘ عدل اجتماعی‘ معاشی ترقی اور دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم‘ خاندان کے نظام کا انتشار‘ طبقاتی تصادم‘ مظلوم اقوام کی دادرسی اور دنیا کو ظالم حکمرانوں اور سرمایہ پرستوں کی گرفت سے نجات سرفہرست مسائل ہیں۔

عالمی سطح پر ہماری نگاہ میں آج سب سے بڑا مسئلہ ’ورلڈ میڈیا‘ میں مسلمانوں اور خصوصیت سے اسلامی تحریکات کے لیے جگہ حاصل کرنا اور اپنی بات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے راستہ نکالنا ہے۔ آج میڈیا کی قوت‘ عسکری قوت سے کسی طرح کم نہیں۔ اسلامی تحریکات نے حرف مطبوعہ (printed word)کو تو ذریعہ بنایا ہے‘ لیکن جدید ابلاغی ذرائع میں جو چیزیں سب سے اہم ہیں‘ یعنی الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل پاور بڑی حد تک یہ ذرائع ابھی ہماری دسترس سے باہر ہیں اور یہ ہماری بہت بڑی کمزوری ہے۔ اس میدان میں خلا کو پُر کرنا اولین اہمیت کا حامل ہے۔

اسی طرح ساری کمزوریوں اور مشکلات کے باوجود‘ مسلمان ملکوں کا اتحاد‘ ان کا مشترک محاذ‘ اور متعین مسائل کے بارے میں ایک مشترک موقف‘ معاشی اور سرمایہ کاری کے میدان میں تعاون اور بالآخر عسکری تعاون اور ہم آہنگی بھی وقت کی ضرورت‘ اور سب کے مفاد میں ہیں۔

مسلم ممالک کا تعاون اسلام اور اُمت کے تصور کا تقاضا تو ہے ہی‘ لیکن آج تو یہ ہر ملک‘ حتیٰ کہ اس کے حکمرانوں کی بھی ایک ضرورت بن گیا ہے۔ اس لیے اسلامی تحریکات کو عالمی سطح کی حکمت عملی بناتے وقت ان پہلوئوںکو سامنے رکھنا چاہیے۔

داخلی چیلنج اور لائحہ عمل

دفاعی اور عالمی معاملات میں صحیح حکمت عملی کے ساتھ ہمارا اصل چیلنج داخلی ہے اور فکرِمودودیؒ کی روشنی میں یہی وہ میدان ہے جس کے بارے میں اسلامی تحریکات کو گہرے سوچ بچار اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس پہلو سے چند نکات قابلِ توجہ ہیں:

دین کا مجموعی تصور اور بنیادی اصولوں کی تشریح کے باب میں مؤسسین نے بڑا قیمتی اور راہ کشا کام کیا ہے‘ لیکن اس سلسلے میں چند اہم کام ہیں جن کی طرف توجہ وقت کا تقاضا ہے۔

  • پہلی چیز اس فکری اور دعوتی کام کو جاری رکھنا اور وقت کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ فکری محاذ ایک نہایت اہم محاذ ہے اور عملی جدوجہد کے مختلف میدانوں میں انہماک کی وجہ سے اس محاذ پر کمزوری بڑی نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ اہلِ مغرب کے ہاں فکری میدان میں جو کام ہو رہا ہے حتیٰ کہ اسلام پر اور اسلام کے پیغام کو مسخ کرنے کے لیے جو کچھ ہو رہا ہے اس پر نظرڈالتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی تحریکات اس میدان میں ان سے بہت پیچھے ہیں۔ سیدمودودیؒ نے تن تنہا وہ کام کیا جو کئی ادارے مل کر بھی نہیں کر سکتے تھے۔ آج ضرورت ہے کہ محققین اور اہلِ علم کی ایسی ٹیمیں تیار کی جائیں اور ایسے اعلیٰ تحقیقی ادارے قائم کیے جائیں جو اس کام کو جاری رکھ سکیں اور آگے بڑھائیں۔ جب تک ہر دور کے اٹھائے ہوئے مسائل اور معاملات پر اسلام کے اصل سرچشموں سے استفادہ کر کے نیا لٹریچر تیار نہ ہو‘ ہم علمی بالادستی حاصل نہیں کرسکتے اور اس کے بغیر تہذیبی مقابلے کے میدان میں قدم نہیں جما سکتے۔

مولانا مودودیؒ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک اہم ذریعہ اس علمی کام کو جاری رکھنا‘ آگے بڑھانا اور نئے تقاضوںکو پورا کرنا ہے جس کا آغاز انھوں نے ۸۰ سال پہلے کیا تھا۔

پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اصولی اور مرکزی تصورات تو مؤسسین نے واضح کردیے ہیں‘ لیکن ان میں مزید وسعت پیدا کرنا‘ تفصیلات کا تعین کرنا‘ خصوصیت سے زندگی کے مختلف شعبوںمیں اسلام کی رہنمائی کو فکری (conceptional) پہلو کے ساتھ اطلاقی (applied) شکل میں مرتب کرنا جو ایک متوازن پالیسی کی صورت گری کر سکے‘ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نیز ہر میدان میں نئے علمی چیلنجوں کا موثر مقابلہ بھی علمی اور تحقیقی پروگرام کا حصہ ہونا چاہیے۔

اس کے ساتھ یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ مؤسسین کے مخاطب بالعموم مسلمان تھے اور وہ بھی اپنے اپنے ملک اور خطے کے لوگ‘ جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کیا۔ آج دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ اسلام‘ مشرق اور مغرب میں موضوعِ گفتگو ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ غیرمسلموں کی ذہنی اور تہذیبی سطح سامنے رکھ کر اور دنیا کے تمام انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے اسلام کے پیغام کو آج کی زبان میں اور آج کے ایشوزکی روشنی میں پیش کیا جائے۔ یہ پیغام  ان زبانوں میں پیش کیاجائے جن کے ذریعے ہم دنیا کی بڑی آبادی تک پہنچ سکیں۔ اس سلسلے میں انگریزی زبان نے خصوصی اہمیت اختیار کر لی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مغربی تہذیب اور اس کی اہم تحریکوں‘ سوشلزم اور سرمایہ داری کے بارے میں مؤسسین نے بڑی وقیع علمی تنقید اور احتساب کا اہتمام کیا ہے۔ لیکن انسانی علوم کی اسلامی بنیادوں پر تشکیلِ نو اور آج کے سیاسی‘ معاشی‘ سماجی‘ سائنسی مباحث کی روشنی میں اسلام کی تعلیمات کی صحیح ترجمانی اور خصوصیت سے سیکولرزم اور موڈرنزم کی نئی تشکیلات‘ سرمایہ داری کی جدید شکل‘ لبرلزم اور تحریک نسواں کی جدید شکل اور مسلم ممالک کے معاشی‘ سیاسی‘ سماجی‘ علاقائی‘ لسانی مسائل اور اقلیتوں کے کردار کے سلسلے میں بے شمار امور اور معاملات ہیں‘ جن پر غوروفکر‘ تحقیق و جستجو اور بحث و مباحثے کے بعد مثبت طور پر ہمیں اپنا موقف پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ساری ضرورتیں صرف مؤسسین کی علمی خدمات کی تحسین اور صرف انھی کے آثار کی طباعت سے پوری نہیں ہوسکتیں۔ اس کے لیے تووہی کام جاری رکھنا ہوگا جو اسلامی تحریک کے مؤسسین نے شروع کیا تھا۔

  • دوسرا بڑا مسئلہ مسلم دنیا میں ہمارے اپنے تاریخی اور روایتی اداروں کی تحلیل اور ان کی جگہ مغرب سے درآمد شدہ اداروں کے تسلط سے متعلق ہے۔ اسلامی اداروں کی تشکیلِ نو اور ان کا قیام ایک بڑا بنیادی تہذیبی چیلنج ہے۔ زندگی کا قانون ہے کہ خلا زیادہ دیر باقی نہیں رہتا۔ ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ خاندان کے سوا (اور وہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے) کوئی ادارہ باقی نہیں رہا اور نئے ادارے جو باہر سے لاکر مسلط کیے گئے ہیں وہ نئی تباہ کاریوں کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ تعلیم‘ معاشرہ ‘مدرسہ‘ تجارت‘ معاشرت‘ قانون‘ سیاست سب اسی کش مکش کی آماج گاہ بنے ہوئے ہیں۔ روایتی ادارے اپنی پرانی شکلوں میں بحال نہیں ہو سکتے۔ درآمد شدہ نئے ادارے ہماری اقدار‘ روایات اور ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ لیکن تشکیلِ نو کا عمل بڑی تحقیق‘ محنت‘ تجربے‘  بالغ نظری اور اختراعیت (creativity)چاہتا ہے۔ مؤسسین نے اپنے زمانے میں اپنے انداز میں ابتدائی کام کیا‘ لیکن صرف اسی پر قناعت سے مستقبل میں کام نہیں چل ہوسکتا۔ اس چیلنج کا بھرپور مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
  • تیسرا مسئلہ نئی قیادت بروے کار لانے کا ہے۔ آج کا دور علمی مہارت اور اخلاقی بالیدگی کے ساتھ پیشہ ورانہ گرفت اور اپنے اپنے میدان کار میں اختصاص کا تقاضا کرتا ہے۔ ہرمیدان میں مردانِ کار کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بڑی پتّا ماری کے ساتھ افراد سازی کی ضرورت ہے اور وہ بھی اس انداز میں کہ جدید علوم اور مختلف النوع صلاحیتوں اور قابلیتوں کے ساتھ اسلامی اصولوں‘ اقدار اور حسّا سیات (sensitivities)کا بھی مکمل ادراک ہو‘ مقصد کی لگن اور کردار کی خوبیوں سے بھی یہ قیادت آراستہ ہو۔ اس کے لیے وژن‘ پروگرام‘ اداروں اور وسائل کی ضرورت ہے۔ مؤسسین کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے اس چیلنج کا جواب بھی ضروری ہے۔
  • چوتھا مسئلہ سیاست میں تحریکِ اسلامی کے کردار کا ہے۔ بلاشبہہ یہ اسلامی تحریکات کا منفرد کارنامہ ہے کہ اس نے نظامِ حکومت کی اصلاح اور سیاسی قوت اور قیادت کو نظریے کی خدمت کا ذریعہ بنانے کے اسلامی اصول اور اسلوب کو منوا لیا ہے۔ لیکن اب چیلنج عملاً تبدیلی کا ہے۔ چونکہ اس کے لیے جمہوری طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس لیے عوامی تائید کا حصول‘ عوام کی تائید اور وابستگی کو برقرار رکھنا‘ ان کی توقعات کو پورا کرنا‘ اور سیاست کی معروف خرابیوں کی اصلاح کرنا--- یہ بڑے بڑے چیلنج ہیں۔

اس سلسلے میں جو تجربات اب تک ہوئے ہیں‘ ان کے جائزے اور احتساب کی ضرورت ہے۔ اتحاد اور الحاق کے فوائد اور مضمرات پر بھی غوروفکر کی ضرورت ہے۔ ایران‘ پاکستان‘ ملایشیا‘ ترکی‘ الجزائر‘ سوڈان‘ یمن جہاں بھی مفید تجربات ہوئے ہیں‘ ان کے گہرے اور ناقدانہ مطالعے اور تجزیے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہہ تبدیلی کے عمومی عمل کی تو نشان دہی کر دی گئی ہے‘ مگر اس کی  عملی تفصیلات اور اس کے گوناگوں تقاضوں پر کام کی ضرورت ہے۔ اقتدار کو متاثر کرنا‘ اقتدار میں بامعنی شرکت‘ اقتدار پر دسترس‘ غرض کتنے ہی پہلو ہیں جن کے بارے میں اسٹرے ٹیجک غوروفکر کی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح مختلف ملکوں میں سیاسی تجربات کے جو نتائج نکلے ہیں اور جو مسائل و مشکلات سامنے آئی ہیں‘ وہ بڑے وسیع پیمانے پر مطالعے‘ بحث مباحثے‘ شوریٰ اور نئے اقدامات کے متقاضی ہیں۔

  • پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت مسلم معاشرے اور ممالک جن مسائل سے دوچار ہیں‘ ان میں علم و فن‘ سائنس اور ٹکنالوجی‘ معاشی ترقی‘ سیاسی استحکام‘ بیوروکریسی اور فوج کے کردار‘ صحافت اور میڈیا کے کردار‘ نوجوانوں کے مسائل‘ عالم گیریت کے اثرات اور چیلنج‘ عورتوں کے مسائل اور کردار‘ جرائم اور تعصبات کی کیفیت مرکزیت اختیار کرچکے ہیں--- ان سب امور پر ازسرنو غور کرنے‘ مسائل کا حل تلاش کرنے‘ نئی پالیسیاں وضع کرنے‘ تیاری کے ساتھ تجربات کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف یہ کہنے سے کام نہیں چلے گا:’’تمام مسائل کا حل اسلام میں موجود ہے‘‘۔ اب تو اسلام کی روشنی میں مسئلے کا واضح حل پیش کرنے‘ پورا نقشہ بنانے اور اس پر عمل کرکے دکھانے کا مرحلہ ہے۔ بلاشبہہ یہ پہلے مرحلے سے زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔ ساتھ ہی یہ مسئلہ روز بروز اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ ہم اپنے نظریاتی اور اخلاقی وزن کو سیاسی وزن میں کیسے منتقل کریں اور کیسے اس کی اپنی اس حیثیت کو برقرار اور پاے دار (sustain) رکھیں ۔ یہ سارے مسائل اور معاملات نئی فکر‘ نئی جدوجہد‘ اور نئے تجربات کا تقاضا کر رہے ہیں۔ اور یہی وہ کوشش ہے جس سے ہم اپنے گھر کو اور اُمت مسلمہ بحیثیت مجموعی مسلم دنیا کو درست کر سکے گی--- کہ آگے کے عالمی مراحل کا انحصار خود اُمت مسلمہ کی اخلاقی اور مادی قوت کی صحیح حنابندی پر ہے۔
  • چھٹا مسئلہ اسلام کے پیغام اور مسلم ممالک کے تجربات کے صحیح ابلاغ (communication) کا ہے۔ ہم اس سلسلے میں پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیںکہ یہ اندرونی مسئلہ بھی ہے اور بیرونی بھی۔ تعلیم اور ذرائع ابلاغ کی صحیح سمت میں ترقی اور تشکیلِ نو اور مغرب کے ایجنڈے کے مقابلے میں اپنے ایجنڈے کے مطابق ان دائروں کی اصلاح اور تقویت وقت کی ضرورت ہے۔

ہمارا مقصد بیرونی اور اندرونی‘ دفاعی اور داخلی‘ تعمیری میدانوں کے تمام مسائل کا احاطہ نہیں ہے۔ ہم صرف یہ توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ ان دونوں میدانوں میں جو مسائل اور معاملات آج درپیش ہیں‘ ان کے حل کے لیے بیسویں صدی کی اسلامی فکر میں ایک اصولی رہنمائی تو موجود ہے لیکن وقت کی اصل ضرورت اس ’طرزِفکر‘ کی روشنی میں آج کے مسائل کے لیے فکری اور عملی جدوجہد ہے۔ اس کام کی انجام دہی کے لیے ضروری ہے کہ قرآن و سنت ہی کو اصل ماخذ بنایا جائے۔ مؤسسین کی فکر سے اسی طرح استفادہ کیا جائے جس طرح انھوں نے اپنے پیش رووں کے قیمتی کام سے استفادہ کیا ‘لیکن اسی پر قناعت کیے رکھنا خود ان کے ساتھ  بڑی ناانصافی ہوگی۔

  • اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ نئے حالات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تنظیمی میدان میں اور تعلیمی اور تربیتی نظام میں کن تبدیلیوں اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ کیا سارے کام یا بیش تر کام ایک ہی تنظیمی چھتری کے تحت کیے جا سکتے ہیں یا ان کے لیے الگ الگ انتظامات کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے اہداف کو پیشہ ورانہ اہلیت کے ساتھ حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہوسکیں؟تحریکی اداروں کے ساتھ باقی اداروں اور تنظیموں سے کس طرح معاملہ کیا جائے؟ ملکی سطح کے ساتھ ملّی سطح پر کام کی نوعیت کیا ہو؟ اور اداروں کا نظام اور ان کے درمیان تعاون کی کیا کیفیت ہو؟ پھر اس سے بھی بڑھ کر تحریک کے جو مختلف دائرے ہیں‘ ان میں سے ہر دائرے کے اندر‘ اور ایک دائرے کا دوسرے دائرے سے تعلق اور کاموں کی تقسیم اور  ترقی کی کیا کیفیت ہو؟ اس سلسلے میں تحریکِ اسلامی کے اندر اور اس کے اپنے متعلقہ ادارے سب سے پہلا اور اساسی دائرہ ہیں۔ پھر تحریکِ اسلامی اور پورا ملک‘ اور ملّت اسلامیہ دوسرا دائرہ ہیں اور تیسرا دائرہ تحریکِ اسلامی‘ ملّت اسلامیہ اور پوری انسانیت ہے۔ ان میں سے ہرایک کے سلسلے میں اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر کیا اہداف ہوں‘ کیا حکمت عملی وضع کی جائے‘ اور کون سے ادارے قائم کیے جائیں‘ کیا پالیسیاں اور پروگرام مرتب ہوں اور پھر ہردائرے کا دوسرے دائروں سے کیا تعلق ہو؟ یہ سارے امور غوروفکر‘ بحث و مجادلے اورمناسب منصوبہ بندی کا انتظار کررہے ہیں۔

ہماری نگاہ میں سید مودودیؒ کا اصل پیغام اکیسویں صدی کے لیے یہ ہے کہ وژن‘ مقصد اور اصول پر یکسوئی کے ساتھ قائم رہا جائے۔ اپنے پیش رووں کی فکر اور خدمات سے احترام اور وفاداری کے ساتھ استفادہ کرتے ہوئے‘ جدید اور نئے مسائل اور معاملات سے صرفِ نظر نہ کیا جائے بلکہ پوری قوت سے ان سے نبردآزما ہونے کی سعی کی جائے۔ فکر کے ساتھ ’طرزِفکر‘ کو  توجہ اور نئی جدوجہد میں مرکزی اہمیت دی جائے۔ جس روش اور طریق کار (methodology) سے مؤسسین نے کام کیا اس میں بہتری اور تازگی پیدا کی جائے‘ نئے حالات اور مسائل کے لیے پوری شدومد سے اسے روبہ عمل بھی لایا جائے۔ اس فکر کو وسعت اور عمق دونوں میدانوں میں آگے بڑھایا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ نئی فکر‘ نئی ٹکنالوجی ‘ نئی مہارت‘ اور نئے تجربات کے بارے میں اسی شوق اور جذبے سے جدوجہد کی جائے جس سے پیش رووں نے اپنے زمانے میں کی تھی اور ہمارے لیے روشن نقوشِ راہ مرتب کیے تھے --- کہ آگے بڑھنے اور نئی دنیا تلاش کرنے کا یہی طریقہ ہے     ؎

شاید کہ زمیں ہے وہ کسی اور جہاں کی

تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا

یہ بات میرے لیے باعث صد مسرت و امتنان ہے کہ ترجمان القرآن کی خصوصی اشاعت بیاد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم و مغفور کے حصہ اول کے بعد اس کا دوسرا حصہ بھی تیار ہے ۔اللہ تعالیٰ‘ آپ اور اس سلسلے کے دوسرے اہل قلم کو اس کار خیر کے لیے اجر عظیم عطا فرمائے ‘ اور آپ سب کے علم و فضل اور قابلیت میں روز افزوں خیروبرکت عطا فرمائے ۔

آپ نے مولانا سیدابو الاعلیٰ مودودی مرحوم کے بارے میں کوئی مضمون تحریر کرنے کی فرمایش کی ہے ۔اس بارے میں گزارش ہے کہ میں نے مولانا مرحوم سے ۱۹۴۴ء سے ۱۹۷۹ء تک ۳۵ سالہ دن رات کی رفاقت کے باوجود ‘ ان کے بارے میں اس سے زائد کچھ نہیں کہا ہے جو مشاہدات میں عرض کیا گیا ہے ۔  حضرت عائشہ ؓ سے بڑھ کر حضور نبی کریمؐ کو جاننے اور پہچاننے والی شخصیت اور کون ہو سکتی تھی۔ان سے لوگوں نے جب پوچھا کہ حضور نبی کریمؐ کیسے تھے ؟ تو انھوں نے فرمایا: حضورؐ چلتا پھرتا قرآن تھے ۔ میں بھی مولانا مودودیؒ صاحب کے بارے میں یہی کہتا اور کہہ سکتا ہوں کہ مولانا مودودی مرحوم‘ دعوت اسلامی کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔

میں نے ۳۵ سالہ رفاقت کے دوران ان کی کوئی بات اور کوئی حرکت ‘ اسلام اور اسوہ رسولؐ  سے ہٹی ہوئی نہیں دیکھی۔ میراان سے ایک ہی بات پر اختلاف تھا کہ وہ پان کھاتے تھے ۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ اسلام کے منافی تو نہیں ہے‘میں اسے تمھارے لیے تو نہیں چھوڑوں گا‘ خداکے لیے جب ضرورت ہو گی تو چھوڑدوں گا ۔ چنانچہ اکتو بر ۱۹۴۸ء میں جب ہمیں گرفتار کیا گیا تو جیل کے پھاٹک کے باہر انھوں نے پان تھوکا‘ پھر ۲۰ماہ جیل میں کبھی نہیں چکھا اور جب سینٹرل جیل ملتان سے ہم رہا ہوئے تو دفترجماعت اسلامی ملتان میں آتے ہی پان منگوا کر کھانا شروع کردیا۔

شہر لاہور میں‘ مارچ ۱۹۵۳ء میں‘ جب ہم لوگوں کو گرفتا ر کر کے لاہور سینٹرل جیل میں لے جایا گیا تو مو لانا مودودی صاحب ‘ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب ‘ ملک نصر اللہ خاں عزیز صاحب ‘ سید نقی علی صاحب ‘ چودھری محمد اکبر صاحب سیالکوٹی اور مجھے لاہور سینٹرل جیل کے دیوانی گھر وارڈمیں اور لاہور سے گرفتار شدہ دوسرے حضرات کو دوسرے وارڈوں میں رکھا گیا ۔ لاہور سینٹرل جیل میں ہی قائم کردہ مار شل لا کورٹ میںمولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب ‘ سید نقی علی صاحب اور ملک نصر اللہ خاں عزیز صاحب پر مقدمہ چلایا گیا ۔ مار شل لا کورٹ میں مولانا مودودی صاحب نے جو بیان دیا وہ انھوں نے مجھے ہی لکھوایا (dictate) تھا اور یہی بیان عدالت میں مولانا محترم نے پیش کیا ۔

۱۱ مئی ۱۹۵۳ء کو ہم لوگ دیوانی گھر وارڈ کے صحن میں مولانا مودودی صاحب کی اقتدا میں مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے کہ دیوانی گھر وارڈ کا باہر کا دروازہ کھٹ سے کھلااور ۱۴‘۱۵ فوجی اور جیل افسر اور وارڈر احاطے میں داخل ہوئے ۔ اور جہاں ہم نما ز پڑھ رہے تھے وہاں قریب آکر کھڑے ہو گئے۔ ہم نے سلام پھیرنے کے بعد عرض کیا :’’فرمایئے‘ کیا حکم ہے‘‘ ۔ایک فوجی افسر نے کہا: ’’آپ لوگ نماز سے فارغ ہو لیں‘‘۔ چنانچہ ہم نے باقی نماز مکمل کر لی تو ان میں سے بڑ ے فوجی افسر نے جو مارشل لا کورٹ کا صدر تھا‘ اس نے پوچھا:’’ مولانا مودودی صاحب کون ہیں ؟‘‘ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ مولانا مودودی صاحب کون ہیں‘ اس لیے کہ وہ تو عدالت میں کئی دن ان کے سامنے پیش ہوتے رہے تھے ۔ بہر حال مولانا نے عرض کیا:’’میں ابوالاعلیٰ مودودی ہوں‘‘، تواس نے کہا: ’’آپ کو قادیانی مسئلہ تصنیف کر نے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی ہے ۔ آپ گورنر جنرل سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں‘‘۔ مولانا نے بلا توقف فرمایا: ’’مجھے کسی سے کوئی رحم کی اپیل نہیں کرنی ہے ۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں پر میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی‘ اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتی‘‘۔ اس کے بعد اسی افسر نے کہا:’’ آپ نے مارشل لا کے بارے میں روزنامہ تسنیم میں جو بیان دیا ہے اس پر آپ کو سات سال قید با مشقت کی سزا دی جاتی ہے ‘‘۔

اس کے بعد اسی افسر نے پوچھا :’’نقی علی کون ہے؟‘‘ سید نقی علی کوبھی وہ خوب جانتا تھا کہ وہ بھی ان کی عدالت میں پیش ہوتے رہے تھے ۔ بہر حال سید نقی علی صاحب نے عرض کیا :’’میں ہوں نقی علی ‘‘۔ اس افسر نے کہا:’’تمھیں قادیانی مسئلہ چھاپنے کے جرم میںنو سال قید بامشقت کی سزادی جاتی ہے‘‘۔ سید نقی علی صاحب نے بھی جواب دیا:’’آپ کا شکریہ‘‘۔

اس کے بعد اس افسر نے پوچھا :’’ نصراللہ خان عزیز کون ہے؟‘‘ ملک نصر اللہ خان صاحب نے جواب دیا:’’میں ہوں نصر اللہ خان عزیز‘‘۔ افسر نے کہا :’’آپ کو روزنامہ تسنیم میں مو لانا مودودی صاحب کا بیان شائع کرنے کے جرم میںتین سال قید با مشقت کی سزا دی جاتی ہے‘‘۔ ملک صاحب نے جواب دیا:’’آپ کا شکریہ ‘‘۔

یہ حکم سنانے کے بعد یہ لوگ واپس چلے گئے اور وارڈ کا باہر کا دروازہ بند کر دیا گیا ۔ واقعہ یہ ہے کہ احکام سننے کے بعد ہم لوگوں پر بظاہر کوئی اثر ہی نہ ہوا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تیز بلیڈ یا تیزدھار چھری سے ہاتھ کٹ جانے سے فوراً درد محسوس ہی نہیں ہوتا ‘اسی طرح مولانامودودی صاحب کی سزاے موت کا یہ حکم سننے کے بعد ہمیں کچھ محسوس ہی نہیں ہوا ۔

کوئی آدھ گھنٹے کے بعد ہیڈ وارڈن اور ان کے ساتھ کچھ دوسرے وارڈر آئے اور انھوں نے کہا:’’مولانا مودودی صاحب تیار ہوجائیں‘ وہ پھانسی گھر جائیں گے‘‘۔ اس پر مولانا مودودی صاحب نے اطمینان سے اپنا کھلا پا جامہ تنگ پاجامے سے بدلا‘ جو وہ گھر سے باہر جاتے وقت پہنا کرتے تھے ۔ سر پر اپنی سیاہ قراقلی ٹوپی پہنی اور چپلی اتارکر سیاہ گر گابی جوتا پہنا اور اپنا قرآن مجید لے کر اور ہم سب سے گلے مل کر نہا یت اطمینان سے پھانسی گھر روانہ ہو گئے ۔

اس کے کوئی نصف گھنٹہ بعد پھر وارڈ ر آئے اور کہا:’’ملک نصر اللہ خاں عزیز اور سید نقی علی صاحب بھی چلیں ۔ وہ سزا یافتہ قیدیوں کے بارک میں جائیں گے‘‘۔ چنانچہ وہ دونوں بھی مولا نا امین احسن اصلاحی صاحب ‘ چودھری محمد اکبر صاحب کواور مجھ سے گلے مل کر وارڈروں کے ساتھ چلے گئے۔اس کے تھوڑی دیر بعد وارڈ ر مولانا مودودی صاحب کا جوتا ‘ پاجامہ ‘ قمیص اور ٹوپی لا کر ہمیں دے گئے کہ مولانا صاحب کو پھانسی گھر کے کپڑے پہنا دیے گئے ہیں ۔ ان چیزوں کی اب ضرورت نہیں ہے۔ اس پر پہلی مرتبہ ہم لوگوں کو اندازہ ہوا کہ ہو کیا گیا ہے ۔

اب مولانا امین احسن اصلاحی صاحب ‘ مولانامودودی صاحب کی قمیص ‘ پاجامہ اور ٹوپی کبھی سینے سے لگاتے اور کبھی اپنے سر پر رکھتے ‘ کبھی آنکھوں پر لگاتے اور بے تحاشہ روتے ہوئے کہتے جاتے کہ:’’مجھے یہ تو معلوم تھا کہ مولانا مودودی صاحب بہت بڑے آدمی ہیں‘ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ خد ا کے ہاں مودودی صاحب کا اتنا بڑا مرتبہ اور مقام ہے‘‘ ۔ چودھری محمد اکبر صاحب بھی روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل کر صحن میں چلے گئے اور میں بھی روتا ہوا صحن میں ایک طرف نکل گیا اور ساری رات اسی طرح سے گزرگئی۔ میرے دل میں کبھی تو یہ خیال آتا کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان ظالموں کو مولانا کو پھانسی پر لٹکانے کا موقع نہیں دے گا ۔ لیکن اگلے ہی لمحے خیال آتا جس خدا کے سامنے اس کے رسولؐ کے نواسے امام حسین ؓ کو ظالموں نے تپتی ریت پر لٹا کرذبح کر دیا‘ اس کے ہاں بھلا مودودی کی کیا حیثیت ہے ۔ جس خدا کی زمین پر رات دن لاکھوں کروڑوں نہایت حسین پھو ل کھلتے اور مر جھا جاتے ہیں اور کوئی آنکھ ان کو دیکھنے والی بھی نہیںہوتی‘ اسے ایک مودودی کی کیا پروا ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں ساری رات گزر گئی ۔

اگلی صبح ایک وارڈر نے آکر بتایا:’’مولانا مودودی صاحب تو عجیب آدمی ہیں۔ معلوم ہو تا ہے کہ ان کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ وہ پھانسی گھر گئے‘ وہاں کا لباس پہنا‘ جنگلے سے باہر پانی کے گھڑے سے وضو کیا اور عشاء کی نماز پڑھی اور ٹاٹ پر لیٹ کر تھوڑی دیر بعد خراٹے مارنے لگے۔ حالانکہ ان کے آس پاس پھانسی گھرکے د وسر ے قیدی چیخ و پکار میں مصروف تھے‘‘۔

مولانا مودودی صاحب کو پھا نسی کی سزا کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں احتجاج شروع ہو گیا ۔ انڈونیشیا کی اسلامی پارٹی کے وزیر اعظم ڈاکٹر ناصر صاحب نے حکومت پاکستان سے کہاکہ: ’’پاکستان کو مودودی صاحب کی ضرورت نہیں تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان کی ضرورت ہے ۔ پاکستان ان کو انڈو نیشیا بھجوا دے‘‘۔ سعودی عرب نے اس سزا کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ علیٰ ھذا القیاس بہت سے دوسرے ممالک کے مسلمانوں نے بھی اور پاکستان میں تو ہرجگہ سے احتجاج ہوا ۔ اس احتجاج کانتیجہ یہ ہوا کہ تیسرے ہی روز حکومت پاکستان نے اعلان کر دیا کہ مولانا مودودی صاحب اور مولانا عبد الستار خاں نیازی صاحب کی سزاے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی ہے ۔ چنانچہ مولانا مودودی صاحب کو پھانسی گھر سے جیل کے بی کلاس وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔

ہم لوگوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے درخواست کی کہ ہمیں مولانا مودودی صاحب سے ملاقات کی اجازت دی جائے‘ چنانچہ ہمیں اس کی اجازت مل گئی تو ہم لوگ بی کلاس وارڈ میں جا کر مولانا سے ملے ۔مولانا کا سارا سامان چونکہ گھر بھیج دیا گیا تھا‘ اس لیے میں اپنا ایک ململ کا کرتہ‘ لٹھے  کا پاجامہ اوربستر کی ایک چادر ساتھ لے گیا اورکھدر کے کرتے پاجامے کی جگہ یہ کپڑے ان کو پہنا دیے ۔ مولانا مودودی صاحب کا پورا جسم گرمی اور کھدر کے موٹے کُرتے پاجامے کی وجہ سے گرمی دانوں سے بھرا پڑا تھا ۔ اسی بی کلاس وارڈ میں مولانا عبد الستار خاں نیازی صاحب اور مولانا خلیل احمد صاحب خلف مولانا ابو الحسنات صاحب سے بھی ملا قات ہوئی ۔

چند دن کے بعد سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کو لاہور سنٹرل جیل سے میانوالی جیل میں منتقل کر دیا گیا اور پھر کچھ دن کے بعد ہی انھیں میانوالی جیل سے ڈسٹرکٹ جیل ملتان بھیج دیا گیا‘ جہاں ان کو ایک وارڈ کے کھلے میدان میں ٹین کے بنے ہوئے الگ گول کمرے میں رکھا گیا‘ جو جون‘ جولائی کی دھوپ میں تپ کر جہنم بن جاتا تھا‘ لیکن اس کے باوجود مولانا نے نہ کبھی کوئی شکایت کی اور نہ اس پر کوئی احتجاج فرمایا۔ اس سے اہل حکومت کو اور پریشانی ہوئی کہ ان کا کوئی حربہ بھی مولانامودودی صاحب کو ان سے فریاد کرنے پرمجبور کرنے کے لیے کامیاب نہیں ہو پاتا ۔ملتان ڈسٹرکٹ جیل میں دو مر تبہ میں نے مولانا مودودی صاحب سے ملاقات کی۔ وہ ان ساری تکا لیف کو نہایت خندہ پیشانی سے بر داشت کر رہے تھے اور کبھی ہم سے بھی انھوں نے اپنی کسی تکلیف یا پریشانی کا اظہار نہیںفر مایا ۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کی یہ عمر قید عملاً ۱۴ سال قید با مشقت کی تھی ۔ اگر چہ یہ مارشل لا کورٹ کے تحت دی گئی تھی اور مارشل لا ختم ہو جانے کے بعد اسے ختم ہو جانا چاہیے تھا‘لیکن مارشل لا کے تحت سارے احکام اور سزائوں کو انڈمنٹی ایکٹ کے تحت بر قرار رکھا گیا تھا ‘اس لیے یہ سزائیں مارشل لا اٹھ جانے کے باوجود بھی قائم اور جاری تھیں ۔

ملک غلام محمد گورنر جنرل کی حکومت مولانا مودودی صاحب کو ۱۴ سال قید با مشقت کی سزا دے کر مطمئن ہو گئی کہ ان کی مولانا مودودی صاحب اوران کی اسلامی دستور کی تحریک سے جان چھوٹ گئی اور اب وہ اپنا من مانا سیاسی نظامِ حکومت ‘پاکستان پر مسلط کر سکیں گے ۔ لیکن کارساز مابکارِ کارِما۔ہوا یہ کہ نواب زادہ لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدین ملک کے وزیر اعظم بن گئے تھے۔ مولوی تمیز الدین خاں صاحب پہلی دستور ساز اسمبلی جو ملک کی پارلیمنٹ بھی تھی اس کے صدر تھے‘ ان کا موقف یہ تھا: ’’سلطنت بر طانیہ نے اقتدار مجلس دستور سازکو منتقل کر کے اس کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے دستور مملکت وضع کر کے اقتدار باشندگان پاکستان کو منتقل کرے‘ اس لیے اب جو دستور اور قانون بھی یہ مجلس دستور ساز کی حیثیت سے بنائے اس کے لیے گورنر جنرل جو ملکہ بر طانیہ کا نمایندہ ہے اس کی منظوری اور دستخطوں کی ضرورت نہیںہے۔ وہ مجلس دستور ساز کے صدر مولوی تمیز الدین خاں کی منظوری اوردستخطوں سے قانون اورملک کا دستور بن جائے گا‘‘۔ چنانچہ لاہور کے مار شل لا اٹھنے کے بعد جو انڈ منٹی ایکٹ ‘مجلس نے پاس کیا تھا اس پر گورنر جنرل ملک غلام محمد صاحب کے نہیں‘ بلکہ مولوی تمیز الدین صاحب کے دستخط کرائے گئے تھے اور مار شل لا اٹھ جانے کے بعد اس کی کارروائیوں اور فیصلوں کو مستقل حیثیت دے دی گئی تھی ۔ لیکن ملک غلام محمد صاحب گورنر جنرل کے مجلس دستور ساز اور پارلیمنٹ کو توڑنے کے حکم کے خلاف مولوی تمیز الدین صاحب کے مقدمے میں جسٹس محمد منیر صاحب چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ان کے   بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ پاکستا ن کی پارلیمنٹ خواہ پارلیمنٹ کی حیثیت سے یا مجلس دستور ساز کی حیثیت سے کوئی کارروائی کرے‘ اس کا کوئی فیصلہ گورنر جنرل کی منظوری کے بغیر قانونی صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ مجلس کا پاس کر دہ انڈمنٹی ایکٹ بے اثر اور کالعدم ہو گیا‘ کیونکہ اس پر گورنر جنرل کے دستخط نہیں تھے۔اس لیے جماعت اسلامی نے مولانا مودودی صاحب کی سزا کو کالعدم کرانے کے سلسلے میں لا ہور ہائی کورٹ میں میاں منظور قادر ایڈوو کیٹ کے ذریعے سے رٹ دائر کردی اور ہائی کورٹ نے رٹ منظور کرتے ہوئے سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کو رہا کرنے کا حکم دے دیا‘ چنانچہ مولانا مودودی صاحب ۲۸ مئی ۱۹۵۵ء کو ڈسٹرکٹ جیل ملتان سے رہا ہوکر گھرآ گئے۔

مولانا مودودی صاحب کی سزا ے موت کے خلاف رٹ کی اس کارروائی کو اللہ تعالیٰ نے میاں منظور قادر صاحب کو منکر خدا سے ایک مومن و مسلم میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بھی بنا دیا ۔ ہو ا یوں کہ اس سلسلے میں ان سے میرا رابطہ اور بے تکلفی ہوئی تو میں نے ایک روزتفہیم القرآن کا پورا سیٹ لے جا کر میاں منظور قادر صاحب کی خدمت میں پیش کیاتو انھوں نے فرمایا:’’میاںصاحب‘ آپ کو تو معلوم ہو گا کہ میں تو خدا کو نہیں مانتا‘‘۔ میں نے عرض کیا:’’میاں منظورقادر صاحب‘ آپ نے ہزاروں کتابیں ہر فن میں پڑھی ہیں‘ ان کو بھی پڑھ ڈالیں۔آپ کو معلوم تو ہو کہ مولانا مودودی کیا کہتے ہیں اور کیسے آدمی ہیں؟‘‘چنانچہ انھوں نے تفہیم القرآن کا سیٹ لے کر رکھ لیا ۔

میاں منظور قادر صاحب کچھ عرصے بعد جگر کے کینسر میں مبتلا ہو گئے۔ وہ علاج کے لیے  سی ایم ایچ لاہور میں داخل ہو گئے ۔میں ان کی عیادت کے لیے گیا تو کافی مضحمل تھے۔ مجھ سے فرمایا :

Mian Sahib, now I have made peace with my Lord.Now I am prepared to meet Him.

اور کچھ عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا ۔ انّا للہ و انّا الیہ راجعون!

  • مولانا مودودی صاحب کو چا ر مرتبہ گرفتار کیا اور جیل بھیجا گیا ۔ پہلی مرتبہ ۴  اکتوبر۱۹۴۸ء کو جہاد کشمیر کے بارے میں جھوٹا الزام لگا کر اور اس بار مو لانا امین احسن اصلاحی صاحب کو اور مجھے بھی ان کے ساتھ گرفتار کر کے نیو سینٹرل جیل ملتان میں نظر بند رکھا گیا اور ۲۰ ماہ بعد اس وقت رہا کیا گیا‘ جب ایک اور نظر بند ی کے سلسلے میں ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دے دیا کہ پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندی میں دو مرتبہ ہی چھے چھے ماہ کی تو سیع ہو سکتی ہے ۔ اس سے زیا دہ تو سیع نہیں ہوسکتی۔ ہم لوگ اس وقت اسی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت تیسری تو سیع کے تحت قید بھگت رہے تھے۔ اس لیے ہم لوگوں کو بھی حکومت کو رِہا کرنا پڑا۔
  • دوسری مرتبہ مولانا مودودی صاحب لاہورشہر کے مار شل لا کے تحت ۲۸ مارچ ۱۹۵۳ ء کو گرفتار ہوئے تو ان کے ساتھ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب اور میرے علاوہ جماعت کے ۵۵‘۵۶ نمایاں ارکان بھی گرفتار کر لیے گئے۔ مولانا مودودی صاحب کو سزاے موت اور بعد ازاں اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا گیااور وہ ۲۶ ماہ بعد اس بنا پر رہا ہوئے کہ جس انڈ منٹی ایکٹ کے تحت مولانا کی سزا بر قرارتھی وہی خلاف قانون پایاگیا ۔
  • تیسری مرتبہ مولانا مودودی صاحب ۴ جنوری ۱۹۶۴ء کو جماعت اسلامی خلافِ قانون قرار دیے جانے پر گرفتار ہوئے اور ان کے ساتھ جماعت کے ۵۵‘ ۵۶ دوسرے سرکردہ ارکان جماعت بھی گرفتار ہوئے۔ پھر مولانا مودودی صاحب اور دوسرے سب نظر بند بھی ۹ ستمبر ۱۹۶۴ ء کو اس وقت رِہا ہوئے‘ جب کہ سپریم کورٹ پاکستان نے جماعت پر پابند ی کو منسوخ اور مولانا مودودی سمیت تمام نظربند ارکانِ جماعت کی رہائی کا حکم دے دیا ۔
  • چوتھی مرتبہ مولانا مودودی صاحب ۱۹۶۷ ء میں اس لیے گرفتار اور نظر بند کیے گئے کہ عیدالفطر‘ جمعہ یا جمعرات کو پڑ رہی تھی اور جنرل محمد ایوب خاں صاحب کو ان کے بعض درباریوں نے ڈرا دیاتھا کہ عید جمعہ کے روز ہوئی تو دو خطبے ہوں گے‘یعنی ایک عید کا اور دوسر ا جمعہ کا ‘اور ایک دن میں دو خطبوں کا ہونا حکومت کے لیے منحوس اور خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ جنرل محمد ایوب صاحب نے اپنے خوشامدی علما کے ذریعے چاند بدھ کی شام کو ہی دکھا دیا تا کہ عید جمعرات کو ہی ہو جائے ۔ مولانا مودودی صاحب اور تین چار اور بڑے علماے کرام نے سرکاری چاند کوماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر جنرل محمد ایوب صاحب کی حکومت نے مولانا مودودی صاحب کو گرفتار کر کے راتوں رات لاہور سے لے جا کر بنوںمیں نظر بند کر دیا اور دو ماہ بعد ان کو رِہا کیا ۔

مو لانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب گردے میں پتھری کے لیے ۴۳-۱۹۴۲ء سے ہی مریض تھے ۔ ۱۹۴۶ء میں امرتسر کے سول ہسپتال میں ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب اور ڈاکٹر غلام محمد بلوچ صاحب نے ان کے گردے سے چھ پتھریاں نکالیں لیکن کچھ عرصے کے بعد وہ پھر بننا شروع ہوگئیں ۔ پہلے یہ مسلسل تکلیف کی موجب رہیں اور مو لانا اسی حال میں اپنے سارے کام کرتے رہے‘ یہاں تک کہ آخر کار ۱۹۶۸ء میں لندن میں ڈاکٹروں نے یہ گردہ ہی نکال دیا۔ اسی وجہ سے اس کے بعد انھوں نے اپنا قائم مقام بھی بنانا شروع کر دیا ‘اور آخر کار ۱۹۷۲ء میں امارت کابارمزید اٹھانے سے بالکل ہی معذرت فر ما دی ۔ واللّٰٰہ المستعان!

بعض لوگ اپنی ذات میں اک انجمن ہوتے ہیں اور بعض لوگ اک شجرثمردار کی مانند کہ جن کے سائے میں اپنے پرائے‘ امیر غریب‘ بچے بوڑھے‘ سب پناہ لیتے ہیں اور ان کا پھل کھاتے ہیں۔ ان کی چھائوں سب کے لیے ہوتی ہے۔ وہ اپنی چھائوں اور اپنے پھل سے کسی کوبھی محروم نہیں کرتے۔

ہماری اماں جان (بیگم مودودیؒ) بالکل ایسی ہی تھیں۔ وہ اپنی ذات میں اک انجمن تھیں۔ ہمارے والدمحترم کے حوالے سے ہمارا گھر ہر وقت لوگوں سے بھرا رہتا تھا‘ باہر مرد حضرات اور اندر خواتین۔

ہم نے بچپن سے اپنے گھر میں ’جمعہ‘ ہوتا دیکھا تھا۔ ۱۱ بجے سے گھر کے سب سے بڑے کمرے میں دری‘ چاندنی کا فرش بچھ جاتا تھا اور ہماری اماں جان نہادھو کر صلوٰۃ التسبیح پڑھنے میں مشغول ہو جاتی تھیں۔ اسی اثنا میں دُور و نزدیک سے خواتین کی آمد شروع ہوجاتی تھی۔چونکہ یہ انفرادی عبادت ہے اس لیے ہمارے گھر میں صلوٰۃ التسبیح کبھی باجماعت نہیں ہوئی۔ جب جمعہ کی نماز کا وقت ہو جاتا تھا تو کمرہ تقریباً خواتین سے بھرجاتا تھا اور ہماری اماں جان نماز باجماعت پڑھاتی تھیں۔ نماز کے بعد بہت لمبی اجتماعی دعا ہوتی تھی اور اس کے بعد درس قرآن و حدیث ہوتا تھا۔ درس کے بعد دوبارہ دعا ہوتی تھی جس کے بعد یہ اجتماع ختم ہو جاتا تھا۔

اسی طرح عیدین کی نمازیں ہمارے گھرمیں ادا ہوتی تھیں۔ ہماری والدہ فجر کی نماز کے بعد تلبیہ پڑھتی جاتی تھیں اور عید کی نماز کے لیے تیاری کرواتی تھیں۔ ابھی ہم دری‘ چاندنی کا فرش بچھا کر فارغ بھی نہیں ہوتے تھے کہ نمازعید کے لیے خواتین کی آمدشروع ہو جاتی تھی‘ جوآکر خاموشی کے ساتھ صفیں باندھ کر بیٹھتی جاتی تھیں۔ پھر سب مل کر تلبیہ پڑھتے تھے۔ سورج نکلتے ہی خواتین کو تکبیروں کے بارے میں ہدایات دی جاتی تھیں اور پھر اماں جان بڑی      خوش الحانی سے سب کو نماز پڑھاتی تھیں۔ نماز کے بعد خطبہ ہوتا تھا۔ دعا کے بعدسب کو سویاں کھلائی جاتی تھیں اور خود سب سے گلے ملتی تھیں اور عید کی مبارک باد دیتی تھیں۔

جیسے ہی ذہن پیچھے کی طرف لوٹتا ہے تو چشم تصور میں ایک منظر گھوم جاتا ہے۔

رات کا وقت ہے اور اماں جان اپنے بچوں کو اپنے سے لگائے کھڑی ہیں۔ دو لیڈی کانسٹیبل آگے بڑھتی ہیں۔ وہ اماں جان‘ ہماری اور پورے گھر کی تلاشی لے رہی ہیں۔ اباجان کے کپڑے ایک سوٹ کیس میں رکھے ہیں اور وہ تیار ہوکر کہیں جانے کو کھڑے ہیں۔ پھر یکدم اباجان نے پیچھے مڑ کر ہماری طرف دیکھے بغیر قدرے بلند آواز میں: ’’السلام علیکم‘ خدا حافظ‘    فی امان اللہ‘‘ کہا اور پولیس والوں کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ یہ پہلی گرفتاری تھی جو ۴ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو ہوئی۔ اس وقت میری عمر آٹھ سال تھی۔

بعد میں‘ میں نے اماں جان سے پوچھا :’’اباجان نے ہماری طرف مڑ کر دیکھا کیوں نہیں تھا؟‘‘ تو انھوں نے بڑے اطمینان سے کہا :’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی تو مکے سے جاتے وقت حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا تھا--- پیچھے مڑ کر دیکھنے سے ارادے اور عزم میں کمزوری آجاتی ہے‘‘۔ وہ چونکہ ہمیں انبیا علیہم السلام کے قصے سناتی رہتی تھیں اس لیے اتنا اشارہ ہی کافی تھا۔

جب اباجان گرفتار ہوئے تو اس وقت گھر میں بہت تھوڑے سے پیسے تھے۔ ہماری  اماں جان نے زندگی کے تمام معمولات بدل دیے۔ دھوبی کو کپڑے دینے بند کر کے‘ انھوں نے خود کپڑے دھونے شروع کر دیے‘ جب کہ ان کا تعلق دہلی کے ایسے متمول گھرانے سے تھا جہاں بلامبالغہ ایک رومال بھی خود نہیں دھویا جاتا تھا--- ملازم کو فارغ کر کے کھانا خود پکانا شروع کردیا۔ اس وقت ایک مائی جو اچھرہ سے جمعہ پڑھنے ہمارے ہاں آیا کرتی تھی اور ایک ٹانگے والے کی بیوہ بہن تھی ‘ضد کر کے ہمارے ہاں آگئی اور سارے کام سنبھال لیے اور اماں جان  سے کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے کام کریں گھر کے کام میں کروں گی۔اس کا نام ’بھاگ بھری‘ ]قسمت والی[ تھا۔ یہ نام ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا‘ اس لیے ہم اسے ’رس بھری‘کہتے تھے جس کا اس نے کبھی برا نہیں منایا تھا۔

اس زمانے میں ہماری اماں جان ہر وقت یَاحیّ یَا قیّوم بِرَحمَتِکَ استغیث کا ورد کرتی رہتی تھیں۔ ایک مرتبہ بہت شدید دمے کا دورہ پڑگیا تو بس اتنا کہا :’’میرے میاں جیل میں ہیں‘ مجھے کچھ ہوگیاتو میرے بچے روئیں گے اور انھیں کوئی چپ کرانے والا بھی نہیں ہوگا‘‘۔ اس پر ہماری دادی اماں جو ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں سخت ناراض ہوئیں کہ: ’’کیوں مایوسی کی باتیں کرتی ہو‘ حوصلہ کرو‘ کیا ہوا جو ذرا سا سانس اوپر نیچے ہوگیا‘‘۔

ہماری دادی اماں بڑی حوصلے والی خاتون تھیں۔ وہ ہماری اماں جان کو نصیحت کیا کرتی تھیں:’’بچوں کو ایسی عادت ڈالو کہ سرد و گرم ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ ایک وقت سونے کا نوالہ کھلائو‘ موتی کوٹ کر کھلائو لیکن دوسرے وقت دال سے روٹی کھلائو‘ چٹنی سے روٹی کھلائو۔ بچوں کو کبھی ایک طرح کی عادت نہ ڈالو اور نہ ہر وقت ان کی منہ مانگی مراد پوری کرو۔ ماں باپ تو آسانی سے اولاد کی عادتیں خراب کردیتے ہیں لیکن دنیا لحاظ نہیں کرتی۔ یہ تو بڑے بڑوں کوسیدھا کردیتی ہے‘‘۔ اور پھر کہتی تھیں:’’میں نے اپنے بچوں کو اسی طرح پالا ہے۔ ایک وقت اچھے سے اچھا کھلایا تو دوسرے وقت دال چٹنی سے روٹی کھلائی‘‘۔--- شاید یہی وجہ تھی کہ ہمارے اباجان ہر طرح کے سرد و گرم حالات سے بڑی ثابت قدمی کے ساتھ گزر گئے اور ہر سختی اپنی جان پر جھیل گئے۔ ان کے اعصاب فولاد کے بنے ہوئے تھے۔ وہ اپنا ٹوٹا ہوا بٹن خود ٹانک لیتے تھے۔ اپنا پھٹا ہوا کرتہ خود رفو کر لیتے تھے۔ ان کی ’جیل کٹ‘ (jail kit) جو بعد میں ہر وقت تیار رہتی تھی‘ اس میں سوئی دھاگا اور ہر سائز کے بٹن بھی ہوتے تھے۔

ہماری دادی اماں ولی اللہ تھیں۔ وہ جب بیمار ہوتی تھیں توآسمان کی طرف نظریں اُٹھا کر بڑے جذبے کے ساتھ کہتی تھیں: مَن مَرِیضَمْ تُوَ طَبِیبَمْ--- اور پھر وہ ٹھیک ہوجاتی تھیں۔ کبھی ڈاکٹر کو نہیں دکھایا اور نہ کبھی دوا پی۔ اگر کبھی پھوڑا پھنسی نکل آتا تو اس جگہ ہاتھ رکھ کر کہتی تھیں: ’’اے دنبل بزرگ مشو‘ خدائے ما بزرگ تر است‘‘] اے پھوڑے زیادہ نہ بڑھ‘    ہمارا خدا سب سے بڑا ہے[۔ یہ کہنے سے وہ پھوڑا ٹھیک ہوجاتا تھا۔ وہ فارسی زبان و ادب کی بہت زبردست اسکالر تھیں اور اکثر ایسا بھی ہوتا کہ فارسی اشعار میں بات کا جواب دیتیں۔

ہماری اماں جان کہتی تھیں :’’میں نے اپنی پوری زندگی میں تمھاری دادی اماں جیسی کوئی دوسری عورت نہیں دیکھی کہ جس میں سرے سے ’نفس‘ ہی نہ ہو۔ انھیں کسی چیز کی طلب نہیں تھی۔ دادی اماں کہا کرتی تھیں کہ:’’صوفیا کی یہ صفت ہے کہ وہ کسی کو منع نہیں کرتے‘ طمع نہیں کرتے اور جمع نہیں کرتے‘‘۔ اتفاق سے یہ تینوں صفات ہماری دادی اماں ‘ اباجان اور اماں جان میں تھیں۔ رضا بقضا اور صبر جیسی صفات کی ان تینوں ہستیوں نے اپنے اندر اس طرح سے پرورش کی تھی کہ وہ نفس مطمئنہ کا بہترین نمونہ بن گئے تھے۔ اماں جان کہا کرتی تھیں:’’میں نے جینے کا سلیقہ تمھاری دادی اماں سے سیکھا ہے‘‘۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ساس بہو‘دونوں  ہمیشہ ایک رائے رکھتی تھیں اور کبھی آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا تھا۔

جب ابا جان پہلی مرتبہ جیل گئے اور ہاتھ بالکل تنگ ہوگیا تو اماں جان نے فیصلہ کیا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے بچوں کی تعلیم جاری رہنی چاہیے۔ ہماری اماں جان کی ایک نہایت مخلص دوست خورشید خالہ‘ جب ان سے ملنے آئیں تو اماں جان نے اپنا کچھ زیور انھیں دیا کہ اسے فروخت کر لائو۔ اس طرح وہ بچوں کی تعلیم اور گھر کے اخراجات پورے کرتی رہیں۔ بڑی جز رسی کے ساتھ بہت سنبھل کر خرچ کرتی تھیں۔ اماں جان کہا کرتی تھیں :’’دنیا میں ہر چیز کے بغیر گزارا ہو سکتا ہے۔ گزارا ہوتا نہیں بلکہ ’کیا‘جاتا ہے‘‘۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی مدد سے وہ مشکل وقت بھی گزر ہی گیا اور ۲۸ مئی ۱۹۵۰ء کو ۱۹ ماہ اور ۲۵ دن کی نظربندی کے بعد اباجان پھولوں کے ہاروں سے لدے رِہا ہوکر گھر آگئے اور سارا گھر مبارک باد دینے والوں سے بھرگیا۔

۲۸ مارچ ۱۹۵۳ء کو ابا جان دوبارہ مارشل لا کے تحت گرفتار کر لیے گئے۔ پھر وہی    گنے چنے پیسے تھے اور چھوٹے چھوٹے آٹھ بچوں کے ساتھ دمے کی مریضہ‘ انتہائی کمزور صحت والی ہماری اماں جان تھیں‘ جنھوں نے بڑے حوصلے سے ان حالات کا مقابلہ کیا۔ کبھی چوڑی اور کبھی انگوٹھی بیچنے کا سلسلہ جاری رہا (یہ کام خورشید خالہ مرحومہ انجام دیتی تھیں)۔ حسب سابق پھر خود کھانا پکانا اور گھر کے سارے کام کرنے شروع کر دیے۔ اس مرتبہ مارشل لا کے تحت فوجی عدالت میں اباجان پر مقدمہ چل رہا تھا۔ ۹مئی کو مقدمے کی کارروائی مکمل ہوگئی۔ یہ مقدمہ ایک پمفلٹ قادیانی مسئلہ لکھنے کے سلسلے میں چل رہا تھا۔ ۱۱مئی کی صبح اماں جان ناشتا بنا رہی تھیںاور ہم سب بچے اسکول جانے کے لیے تیار ہوکر ناشتے کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ یکدم ہمارے سب سے بڑے بھائی عمر فاروق ہاتھ میں اخبار لیے بڑے گھبرائے ہوئے اندر آئے اور اماں جان کو ایک طرف لے جاکر اخبار دکھایا۔ اس اخبار میں نہ جانے کیا تھا کہ اسے دیکھتے ہی اماں جان کا چہرہ زرد ہوگیا اور دوسرے ہی لمحے انھوں نے اخبار چھپا دیا اور ایک لفظ کہے بغیر ہمارے لیے اسی دلجمعی اور اسی رفتار سے پراٹھے پکانے شروع کر دیے۔ ہم سب کو ناشتا کروا کر اسکول روانہ کر دیا اور اندر جاکر آکا بھائی ] سید عمرفاروق[کو بھی اسکول جانے کو کہا۔ ان کی اندر سے آواز آئی: ’’نہیں اماں‘ مجھ سے اسکول نہیں جایا جائے گا‘‘--- دوسرے بڑے بھائی احمد فاروق گھرسے کچھ دُور ہی گئے تھے کہ ایک ہاکر زور زور سے اعلان کر رہا تھا:’’مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی‘‘۔ وہ تو اپنا اخبار بیچنے کے لیے آواز لگا رہا تھا‘ لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ ایک بچہ جو     یونی فارم پہنے سائیکل پر اپنے اسکول جا رہا ہے‘ یہ اسی کے باپ کو پھانسی دینے کا اعلان ہے۔ غرض احمد فاروق بھائی آدھے راستے سے ہی واپس آگئے۔

میں اور اسما‘ جب اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلے‘ تو ہاکروں کی صدائیں کان میں پڑیں: ’’مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی‘‘۔ اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ آکا بھائی اخبار ہاتھ میں لیے کیوں گھبرائے ہوئے اماں جان کے پاس آئے تھے اور اس اخبار میں کیا تھا کہ اسے دیکھتے ہی اماں جان کا چہرہ زرد پڑگیا تھا--- لیکن ہم دونوں بہنیں گھر واپس نہیں آئیں بلکہ سیدھی اسکول چلی گئیں۔

ہم ۶۰ فیروز پور روڈ والے سرکاری اسکول میں پڑھتی اور پیدل جاتی تھیں۔ اسکول میں ہمیں جو دیکھتا حیران رہ جاتا تھا۔ ہماری ہیڈمسٹریس صاحبہ ایک عیسائی خاتون تھیں۔ انھوں نے جب اسکول اسمبلی میں ہمیں دیکھا تو سب سے کہا:’’دیکھو رہنما ایسے ہوتے ہیںکہ باپ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے اور بیٹیاں صاف ستھرے یونی فارم پہنے بالکل پُرسکون اسمبلی میں کھڑی ہیں‘ اور شاباش اس ماں کو ہے جس نے ایسے دن ایسے موقعے پر بھی اپنی بچیوں کو صاف کپڑے پہنا کر‘ بال بنا کر‘ کھلا پلا کر اسکول روانہ کر دیا۔ یہ لڑکیوں کا کمال نہیں ہے یہ تو ان کی ماں کی عظمت ہے کہ ایسے موقعے پر بھی انھوں نے اپنی بچیوں کی تعلیم کو مقدم جانا۔ کوئی اور جاہل عورت ہوتی تو اس وقت اس نے رو رو کر اور بین کرکر کے سارا محلہ سر پر اٹھایا ہوا ہوتا‘‘۔ ہیڈ مسٹریس صاحبہ نے کہا: ’’عام لوگوں اور لیڈروں میں یہی فرق ہوتا ہے‘‘۔ اس وقت میں نویں جماعت میں تھی اور اسما ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ وہ ہیڈمسٹریس صاحبہ تو عیسائی تھیں اور ایسی باتیں کر رہی تھیں ‘ جب کہ ہماری دوسری اسکول ٹیچرز جو مسلمان تھیں‘ کہہ رہی تھیں کہ یہ کہاں سے لیڈر بن گئے یہ تو غدار ہیں‘ پاکستان کی مخالفت کرنے والے ہیں۔ لڑکیاں بھی دیکھو کتنی مکار ہیں۔ یہ سب ایکٹنگ ہے‘ چالاک ماں کی چالاک لڑکیاں!

اسکول سے جب ہم اپنے گھر ۵ اے‘ ذیلدار پارک آئے تو منظر ہی اور تھا۔

پوری گلی لوگوں سے بھری پڑی تھی۔ دُور دُور تک بسیں کھڑی تھیں جن میں سوار ہو کر لوگ دوسرے شہروں سے آگئے تھے‘ ہم دونوں بہنیں گلی سے گزر کر گھر کے دروازے تک بمشکل پہنچ پائیں۔ پھر دروازے سے گھر کے اندر داخل ہونا مشکل ترہوگیا۔ کچھ لوگ دھاڑیں مار مار کر    رو رہے تھے اور کچھ خاموشی سے آنسوبہا رہے تھے۔ ایسے میں جب انھوں نے ہمیں خاموشی سے بستے اٹھائے اسکول سے گھر آتے دیکھا تو حیران رہ گئے۔ انھوں نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے اور کہا: ’’جب مولانا کے بچے نہیں رو رہے اور صبروسکون کے ساتھ حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں تو ہم روتے اور بے صبرے ہوتے کیا اچھے لگتے ہیں‘‘۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ’’صبر تو اسی کو کہتے ہیں‘‘۔ بڑی مشکل سے ہجوم میں سے گزر کر جب ہم گھر کے اندر پہنچے تو پورا گھرخواتین سے پٹا پڑا تھا۔ جو خواتین اس دن ہمارے گھر اظہار ہمدردی کے لیے محبت سے آئی تھیں‘ رو رہی تھیں--- اماں جان ان کو صبر کی تلقین کر رہی تھیں‘ اور یہی حال ہماری دادی اماں کا بھی تھا۔ جب ہمیں دیکھا تواماں جان نے بس اتنا کہا : ’’بیٹا گھبرانا نہیں‘ صبر کرنا‘‘۔ اور پھر ہم سب کو اپنے ہاتھ سے پکایا ہوا کھانا کھلایا اور جا کر خواتین میں بیٹھ گئیں۔

اس روز ایک خاتون نے اماں جان سے کہا تھا کہ بیگم صاحبہ‘ آج رات آپ ۱۰۰ نفل حاجت کے لیے پڑھیں اور پھر تہجد کے نفل پڑھ کر مولانا کی زندگی‘ سلامتی اور بقا کے لیے دعا کر کے یہ منت مانیں کہ جب سلامتی‘ خیروعافیت سے گھر واپس آئیں گے تو پھر میں اسی طرح ۱۰۰نفل شکرانے کے ادا کروں گی--- غرض وہ ساری رات اماں جان نے نفل پڑھتے ہوئے گزاری۔ رات کو جب بھی دیکھا (ایسی ہولناک رات میں بھلا نیند کسے آنی تھی) انھیں نفل پڑھتے ہوئے پایا۔ فجر کی اذان سنتے ہی ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ فجرکی نمازکے بعد اماں جان نے تلاوت کے لیے قرآن کھولا اور وہی سلسلہ جہاں سے روز پڑھتی تھیں پڑھنا شروع کیا۔ ہمیں حیرت ہوئی کہ سورۂ بقرہ کی جو آیت ان کے سامنے آئی وہ یہ تھی:

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْط مَسَّتْھُمُ الْبَاْسَآئُ وَالضَّرَّآئُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُاللّٰہط اَلَآ اِنَّ نَصْرَاللّٰہِ قَرِیْبٌ o (البقرہ۲:۲۱۴) پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی تمھیں جنت میں داخلہ مل جائے گا حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ ان پر سختیاں گزریں‘ مصیبتیں آئیں وہ ہلا مارے گئے حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی  اہل ایمان چیخ اُٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ اس وقت انھیں تسلی دی گئی کہ ہاں‘ اللہ کی مدد قریب ہے۔

اس آیت کو اماں جان پڑھتی گئیں اور روتی گئیں--- پھر مجھے بلایا اور یہ آیت دکھائی‘ کہنے لگیں:’’دیکھو‘ یہ زندہ کتاب ہے‘ یہ انسان کی دکھتی رگ پکڑتی ہے۔ یہ دل کا چور پکڑتی ہے۔ یہ دکھی انسان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ تم اس سے دوستی کرلو! پھر یہ تمھارے حالات کے مطابق‘ تمھاری دلی کیفیت کے مطابق‘ تم سے معاملہ کرے گی‘ تمھیں مشورہ دے گی‘ تمھیں تسلی دے گی‘ اب دیکھو عین ہمارے حالات اور ہماری دلی کیفیت کے مطابق ہمیں کیسے تسلی دے رہی ہے‘ کیسے ہمارے زخموں پر مرہم رکھ رہی ہے!‘‘

بس پھر سارا دن اماں جان مطمئن رہیں--- وہ بار بار اس آیت کا ورد کرتی رہیں اور کہتی رہیں:’’ویسے تو سارے قرآن پر ہی اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے کہ اس نے ایسی زندہ کتاب ہم کو عطا فرمائی‘ لیکن اس آیت کا ہم سب پر بہت ہی بڑا احسان ہے کہ اس نے ایسے نازک وقت میں ہمیں حوصلہ دیا‘ بشارت دی اور ہماری دست گیری کی‘‘--- دوسری رات بھی آئی اور گزر گئی۔ اماں جان مطمئن رہیں‘ باہر مردوں سے اور اندر عورتوں سے گھر بھرا رہا۔ عورتیں روتی ہوئی آتی تھیں‘ مگر اندر آکر جب اماں جان اور دادی اماں کا صبر دیکھتی تھیں تو خاموش ہوجاتی تھیں اور ایک دوسری سے کہتی تھیں’’اس کو کہتے ہیں صبر!‘‘

اباجان کی سزاے موت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں‘ ہڑتالوں اور سزا کی منسوخی کے مطالبات کا ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا۔ دوسرے مسلم ممالک ہی نہیں بلکہ بہت سے غیرمسلم ممالک کے مسلمانوں کی طرف سے بھی گورنر جنرل اور وزیراعظم کے نام تار بارش کی طرح برس رہے تھے۔ ردعمل انتہائی وسیع اور ہمہ گیر تھا۔

۱۳ مئی کو اماں جان نمازِ عصر سے فارغ ہی ہوئی تھیں کہ جماعت کے ایک صاحب اندر آئے اور انھوں نے کہا کہ بیگم صاحبہ کو دروازے کے پاس بلائو۔ ہم سب ڈر گئے کہ پتا نہیں کیسی خبر ہے؟ اماں جان بھی بڑی گھبرائی ہوئی آئیں کہ یکدم دروازے کے پیچھے سے آواز آئی: ’’بیگم صاحبہ مبارک ہو! مولانا کی سزاے موت ۱۴ سال قیدبامشقت میں تبدیل ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے خلاف ایک بیان جاری کرنے کے جرم میں سات سال مزید قیدبامشقت کی سزا سنائی گئی ہے‘‘۔ وہ صاحب تو اپنی کہے جا رہے تھے‘ ادھر اماں جان کھڑے قد سے سجدے میں گرگئیں۔ ان کی دیکھا دیکھی ہم لوگ بھی سجدے میں گرگئے۔

اب تو گھر کا ماحول ہی بدل گیا۔ سب طرف سے مبارک‘ سلامت شروع ہوگئی۔ یہ کسی نے سوچا ہی نہیں کہ آگے ۲۱ سال کی قید ہے! اماں جان بار بار کہہ رہی تھیں: ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے‘ اَلَآ اِنَّ نَصْرَاللّٰہِ قَرِیْبٌ‘‘۔ پھر کہتیں:’’دیکھو ‘آیتیں اور حدیثیں خود اُٹھ اُٹھ کر اپنا مطلب ہمیں سمجھا رہی ہیں کہ ہم ایسے ہی حالات کے لیے ہیں اور یہ ہمارا مطلب ہے ‘‘---

اس وقت اماں جان نے ہم کو اپنا ایک خواب سنایا جواباجان کی کورٹ مارشل سے سزاے موت سے صرف ایک دن پہلے انھوں نے دیکھا تھا۔کہنے لگیں: کیا دیکھتی ہوں کہ ایک ہوائی جہاز آکر اترا ہے اور اس میں تمھارے اباجان ہم سب کو لے کر سوار ہو گئے ہیں--- جہاز ہے کہ بڑی تیز رفتار کے ساتھ آسمان کی طرف عمودی پرواز کر رہا ہے۔ مجھے سخت چکر آرہے ہیں اور بڑی گھبراہٹ ہورہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ میرا دل پھٹ جائے گا۔ پھر یک لخت ہوائی جہاز کہیں اتر جاتا ہے اور تمھارے ابا جان میرا ہاتھ پکڑ کر‘ سہارا دے کر جہاز سے اُتار رہے ہیں۔ ادھر میری جان پر بنی ہوئی ہے اور ادھر تمھارے اباجان کی آواز آتی ہے: ’’ذرا کھڑی ہو کر نیچے دیکھو تو سہی کہ تم کتنی بلندی پر آگئی ہو‘‘--- پھر میں نیچے دیکھتی ہوں تو واقعی لوگ سڑکوں پر بونوں کی طرح نظر آرہے ہیں اور بڑی بڑی اونچی عمارتیں کھلونوں کی طرح نظرآرہی ہیں--- اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔ خواب سناکر کہنے لگیںکہ اب اس خواب کی تعبیر سامنے آئی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ باری تعالیٰ کو تو صرف اپنے بندوں کے درجات بلند کرنے تھے! اس بھاری آزمایش میں سے بخیروخوبی گزار کر ہمیں بلندیوں تک پہنچانا تھا!

اماں جان اور دادی اماں کی یہ پوری کوشش ہوتی تھی کہ بچے خوش و خرم رہیں اور ان کی نفسیات پر کوئی بُرا اثر نہ پڑے۔ ہماری اماں جان کہتی تھیں:’’انسان کا بچپن خوشیوں سے بھرپور ہونا چاہیے اور اسے کبھی عدمِ تحفظ کا احساس نہ ہونے پائے‘ کیونکہ کسی بھی قسم کی محرومی اگر بچپن میں آدمی کو ڈس لے تو یہ چیزیں انسان کی شخصیت کو گہنا دیتی ہیں--- یہ تلخ یادیں پھر ساری زندگی آسیب کی طرح اس کا پیچھا کرتی ہیں‘‘--- انھیں یہ فکر پریشان کرتی تھی کہ میرے بچے بچپن ہی میں بوڑھے ہوگئے ہیں اوران کا بچپنا چھن گیا ہے۔ اس کے ازالے کے لیے انھوں نے بڑے جتن کیے اور مختلف طریقوں سے ہمیں مصروف رکھا۔

آخرکار ۲۹ اپریل ۱۹۵۵ء کو قانونی سقم کی بنا پر اباجان ۲۵ ماہ کی قیدوبند کے بعد رِہا ہوکر گھر آگئے۔ وہ بڑا ہی خوشیوں والا مبارک دن تھا۔ ہمارا گھر پھولوں‘ ہاروں اور مٹھائیوں سے بھرگیا۔ ہر طرف سے مبارک‘ سلامت کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ سارا دن خوشیوں میں گزر گیا۔ جب رات ہوئی تو ہم سب سونے کے لیے لیٹ گئے۔ خوشی اور تھکاوٹ کے مارے عشاء بھی نہیں پڑھی کہ یکدم اماں جان کی آواز کانوں میں پڑی: ’’ذرا دیکھوکتنی بے شرمی کی بات ہے‘ بجاے شکرانے کے نفل پڑھنے کے انھوں نے فرض نماز بھی نہیں پڑھی۔ جب باپ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی تو یہ کیسے نفل پڑھ پڑھ کر دعائیں مانگ رہے تھے۔ بس نکل گیا مطلب! ، اب تھوڑی کبھی اللہ سے واسطہ پڑنا ہے!‘‘ یہ سنتے ہی ہم اٹھے اور وضو کر کے نماز پڑھنے لگے۔

اس پوری رات اماں جان شکرانے کے نفل پڑھتی رہیں‘ یعنی انھوں نے سزاے موت والی رات جو منت مانی تھی (کہ جب میاں خیریت کے ساتھ گھر واپس آئیں گے تو جس طرح آج حاجت کے ۱۰۰ نفل پڑھے ہیں اسی طرح شکرانے کے ۱۰۰ نفل پڑھوں گی) اس کو پورا کر رہی تھیں۔ لیکن اس مرتبہ انھوں نے چائے کا تھرموس اپنے پاس رکھا ہوا تھا اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد چائے پیتی تھیں‘ جب کہ سزاے موت کی خبر سننے کی اس ہولناک رات میں بالکل چائے نہیں پی تھی--- سخت گرمی کا موسم تھا۔ صبح کو اماں جان بہت ہنسیں اور کہنے لگیں: ’’انسان بھی کتنا ناشکرا ہے۔ جب میاں کی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اور موت سامنے کھڑی نظر آرہی تھی تو یہ سو نفل بہت ہلکے تھے۔ نہ نیند آئی‘ نہ تھکاوٹ محسوس ہوئی‘ نہ طبیعت بوجھل ہوئی اور نہ دھیان ہی اِدھر اُدھر ہوا۔ جو الفاظ زبان سے نکل رہے تھے وہی دل سے بھی نکل رہے تھے۔ کمربعد میں جھکتی تھی‘ دل پہلے جھک جاتا تھا۔ لیکن کل رات کبھی نیند آتی تھی‘ کبھی تھکاوٹ محسوس ہوتی تھی اورکبھی سرمیں درد ہوتا تھا۔ وہ ’’جذب اندرون‘‘ سرے سے نصیب ہی نہ ہوا جو اس مرتبہ ملا تھا‘‘۔ وہ ساتھ میں توبہ اور استغفار بھی کر رہی تھیں:’’سچ ہے ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرسکتے چاہے ساری عمر سجدے میں گرے رہیں‘‘۔

ایک روز ابا جان نے ہمیں جیل کے حالات بتائے کہ جب لاہور سے انھیں ملتان جیل لے جایا گیا تو دوپہر کے وقت وہاں پہنچے‘ جو کمرہ ابا جان کو دیا گیا تھا اس میں چھت کا پنکھا نہیں تھا اور نلکے کی جگہ ہینڈپمپ تھا۔ وہ اے کلاس کے قیدی کے کمرے میں پہنچے توسی کلاس کا ایک مشقتی جو انھیں خدمت کے لیے دیا گیا تھا‘ بیٹھا ان کا انتظار کر رہا تھا۔ تقریباً ۴۰سال کا خوب مضبوط جسم کا تنومند آدمی تھا۔ پہلے تو اس نے اباجان کو غور سے دیکھا اور پھر یکدم اٹھ کھڑا ہوا۔ جلدی جلدی سامان سنبھالا۔ پھرہینڈپمپ چلا کر غسل خانے میں پانی رکھا اور کہنے لگا:’’ میاں جی نہا لیجیے‘‘---  ابا جان غسل خانے سے جو نکلے توکیا دیکھتے ہیں کہ پورے کمرے میں ریت بچھی ہوئی ہے اور اس پر پانی چھڑک کر ان کے لیے چارپائی بچھاکر بستر کر دیا گیا ہے۔ پوچھا :’’پہلے تو اس کمرے میں ریت نہیں تھی۔ یہ کیوں بچھائی ہے؟‘‘ تو وہ کہنے لگا:’’گرمی بہت ہے‘ میں اس ریت پر پانی ڈالتا رہوں گا‘ تاکہ کمرہ ٹھنڈا رہے اور آپ دوپہر کو آرام کرسکیں‘‘--- جتنی دیر میں اباجان نے ظہرکی نماز پڑھی اتنی دیر میں اس نے کھانا تیارکرلیا اور بڑے سلیقے سے لاکر ابا جان کے سامنے رکھا۔ ساتھ میں بڑی معذرت کرتا رہا کہ مجھے آپ کے ذوق کے متعلق کچھ پتا نہیں ہے۔ بس جلدی میں جو ہوسکا کرلیا ہے۔

پھر اس نے نوٹ کر لیا کہ اباجان کس وقت کون سی دوائیاں کھاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ناشتے کی‘ دوپہر کے وقت کھانے کی اور رات کو کھانے کی صحیح صحیح دوائیاں ان کے سامنے رکھتا تھا۔ کبھی یہ کہنے کی ضرورت نہیں پیش آئی کہ تم نے صبح کے وقت کی دوائی نہیں رکھی ہے۔ ابا جان نے بتایا:’’اس نے جیل میں میری ایسی خدمت کی اور اس محبت سے خدمت کی کہ میں حیران رہ جاتا تھا‘‘۔

ایک دن اس قیدی نے یہ بتایا :’’جب اس کوارٹر میں میری ڈیوٹی لگائی گئی تھی تو مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک نہایت خطرناک قیدی آ رہا ہے جس نے حکومت کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں! بس اس کو راہ راست پر لانا ہے۔ اس کو اتنا تنگ کرو کہ خاموشی سے معافی نامے پر دستخط کر دے اور حکومت جو شرائط منوانا چاہے مان لے‘ بس تمھارا کام اسے ہر طرح سے تنگ کرنا ہے۔ کھانا اتنا بدمزہ پکانا کہ زبان پر نہ رکھا جائے۔ بس جی‘ میں کوارٹر میں بیٹھا آپ کا انتظار کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ذرا دیکھوں کہ آج کیسے شخص سے پالا پڑتا ہے ؟آخر میں بھی جرائم پیشہ آدمی ہوں‘ کسی سے کم تو نہیں ہوں! پھر جب آپ اندر آئے اور میں نے آپ کا چہرہ دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا اور سوچتا رہا کہ بھلا آپ جیسے شخص سے بھی کسی کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے؟ میاں جی‘ آپ کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں آپ کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا‘‘---

پھر اباجان نے بتایا:’’جب میں تفہیم القرآن لکھنے میں مصروف ہوتا تھا‘ یا جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا تھا تو مجھے محسوس ہوتا کہ وہ بس بیٹھا ٹکٹکی لگائے مجھے دیکھتا رہتا تھا۔ دن یونہی گزرتے رہے کہ بقرعید آگئی۔ اتفاق سے جو راشن جیل سے دیا جاتا تھا وہ ختم ہوچکا تھا اور مزید راشن ابھی پہنچا نہیں تھا کہ عید کی چھٹیاں شروع ہو گئیں‘ یہاں تک کہ عید کی صبح کو راشن بالکل ختم ہوچکا تھا۔ ملازم سخت پریشان تھا کہ راشن پہنچا نہیں‘ اب آپ کو ناشتا کیسے دوں؟ میں نے اس سے کہا کہ رات کو جو چنے کی دال اور روٹی بچی تھی وہی گرم کرکے لے آئو۔ کہنے لگا: وہ تو میں آپ کو کبھی نہیں دوں گا! بھلا عید کے دن کوئی رات کی باسی دال روٹی کھاتا ہے؟ میںنے اسے سمجھایا کہ تم میری فکر نہ کرو‘ میں بڑی خوشی سے دال روٹی کھا لوں گا‘‘(چونکہ ابا جان صبح آٹھ بجے ناشتا کرنے کے عادی تھے اور اپنے معمولات میں وقت کے سخت پابند تھے‘ اس لیے انھوں نے آرام سے دال روٹی کا ناشتا کرلیا۔ یہاں پردادی اماں کی تربیت رنگ لا رہی تھی جو انھیں کبھی سونے کا نوالہ کھلاتی تھیں اور کبھی چٹنی روٹی)۔ جس وقت میں ناشتا کر رہا تھا تو کسی کے سسکیاں بھربھر کر رونے کی آواز آئی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی ملازم بیٹھا رو رہا تھا۔ پوچھا کہ کیا بال بچے یاد آ رہے ہیں؟کہنے لگا کہ میں تو آپ کو دال روٹی کھاتے دیکھ کر رو رہا ہوں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ عید کے دن رات کی باسی دال روٹی تو ہم غریبوں نے بھی کبھی نہیں کھائی۔ آپ تو بڑے آدمی ہیں‘آپ نے بھلا کہاں کھائی ہوگی؟--- میں نے اسے بڑے پیار سے سمجھایا کہ دیکھو بھائی‘ یہ راستہ میںنے بہت سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے اور میں بڑی خوشی سے اس راہ پر چل رہا ہوں۔ اگر کبھی بالکل بھوکا بھی رہنا پڑا تو میں آرام سے رہ لوں گا۔ تم میری وجہ سے رنجیدہ نہ ہوا کرو‘‘۔

’’میں تو ناشتا کرکے تفہیم القرآن لکھنے بیٹھ گیا تھا‘ لیکن ملازم بے چارے نے احتجاجاً ناشتا نہ کیا (اگرچہ اس کے لیے دال روٹی بچی ہوئی رکھی تھی)۔ اتنے میں کوارٹر کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا گیا۔ ملازم نے دروازہ کھولا تو ایک سنتری کئی ناشتے دان‘ بڑے بڑے پیکٹ اور گٹھڑیاں اٹھائے کھڑا تھا کہ مولانا صاحب‘ آپ کے چاہنے والے تو فجرکے وقت ہی یہ چیزیں لے آئے تھے اور جیل کے دروازے پر کھڑے تھے‘ لیکن سپرنٹنڈنٹ صاحب کا دفتر عید کی نماز کے بعد کھلا۔ اس کے بعد ان چیزوں کی تلاشی اور جانچ پڑتال ہوئی اس لیے دیر لگ گئی۔ اب جو ملازم نے وہ پیکٹ‘ ناشتے دان اور گٹھڑیاں کھولیں تو ان میں انواع و اقسام کی بے شمار نعمتیں تھیں۔ میںنے اپنے جیل کے ساتھی سے کہا ‘دیکھو یہ سب تمھارے لیے آیا ہے ‘ کیونکہ تم ہی اداسی میں بھوکے بیٹھے تھے‘ اب خوب جی بھر کر کھائو اور باقی چیزیں دوسرے قیدیوں میں بانٹ آئو۔ مگر ملازم کفِ افسوس مل رہا تھا کہ کاش! وہ دال روٹی میں نے آپ کو دینے کے بجاے کوئوں کو کھلادی ہوتی۔ میرے بہت کہنے پر اس نے ناشتا کیا اور باقی ساری چیزیں دوسرے قیدیوں میں بانٹ آیا اور ساتھ ہی ساتھ ان سے کہتا کہ میرے میاں جی کے لیے یہ سب چیزیں آئی تھیں۔ انھوں نے تمھیں بھجوائی ہیں!

عید کے روز دوپہر ہوئی تو اسی طرح دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور پھر اسی طرح ناشتے دان اور ہانڈیاں کپڑے میں بندھی ہوئی آگئیں۔ ایسے ایسے کھانے آئے کہ ملازم تو حیران رہ گیا۔ اس نے مجھے کھانا کھلایا اور باقی قیدیوں میں بانٹ آیا۔ رات کو پھر اتنا ہی کھانا آگیا۔ الغرض عید کے تین دن ہمارے رفقا نے ملتان جیل میں اتنا زیادہ اور ایسی ایسی انواع و اقسام کا کھانا پہنچایا کہ سارے جیل والے عش عش کر اٹھے‘‘۔

ادھر ابا جان ہمیں یہ سب کچھ بتا رہے تھے‘ ادھرہماری اماں جان نے ہمیں کہا :’’دیکھو‘   سورئہ مریم کی آخری آیات میں بھی یہی بات کہی گئی ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّاo (۱۹:۹۶)،’’کہ جو اہل ایمان نیک اعمال کرتے ہیں رحمن ان کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دیتا ہے‘‘۔ وہ اسی طرح زندگی کے واقعات کو آیات اور احادیث کے ساتھ منطبق کر کے ہمیں ان کا مطلب سمجھایا کرتی تھیں۔ آج اخبار پڑھتے اور ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھتے ہوئے قرآن کی آیات اور احادیث یاد آتی ہیں۔ ساتھ ہی اماں جان کے یہ الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں:’’تم عمل تو کرکے دیکھو‘ پھر آیتیں اور حدیثیں خود اُٹھ کر تم کو اپنا مطلب سمجھائیں گی‘‘۔

اماں جان نے ایک مرتبہ دادی اماں سے التجا کی کہ آپ کسی کو بددعا نہ دیں۔ آپ کی دعا اور بددعا دونوں حرف بہ حرف لگتی ہیں۔ یہ وہ موقع تھا جب ۱۹۵۳ء میں اباجان جیل میں تھے اور دادی اماں نے کہا تھا کہ:’’جس نے میرے بیٹے کو جیل میں سڑایا ہے‘ یااللہ! تو اسے پلنگ پر ڈال کر ایسا سڑا کہ اس کا آدھا دھڑ گل جائے‘‘--- اس کے چند ماہ بعد اخبارات میں خبر چھپی کہ پاکستان کے گورنر جنرل ملک غلام محمد کو فالج ہو گیا۔ یہ خبر پڑھ کر ہم حیران رہ گئے کہ دادی اماں کی بددعا غلام محمد کو کیسی لگی۔

ان دنوں جب کبھی اباجان کو تفہیم القرآن لکھنے کا موقع نہ ملتا اور وہ دوسری مصروفیات میں مشغول ہو جاتے تو کہا کرتے تھے :’’دیکھو تم لوگ مجھے تفہیم القرآن لکھنے نہیں دے رہے ہو‘ اب میں جیل جانے ہی والا ہوں۔ جب بھی میں مصروفیت کی وجہ سے تفہیم نہیں لکھ پاتا تو اللہ تعالیٰ مجھے لے جا کر جیل میں بٹھا دیتے ہیں اور میں وہاں اطمینان سے لکھتا    رہتا ہوں‘‘۔ ساتھ میں یہ بھی کہتے تھے کہ’’ تفہیم القرآن مکمل کرلوں تو اسی اسلوب میں  تفہیم الحدیث بھی لکھنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں‘‘۔

اسی لیے اماں جان ہم بچوں پر بہت زور دیتی تھیں:’’اپنے ابا جان کو تنگ نہ کیا کرو‘‘۔ جب کبھی بچے کسی چیز کے لیے تقاضا کرتے تو اماں جان ہمیں سمجھاتی تھیں:’’اگر میں ہر وقت تمھارے والد کی جان کھاتی رہتی کہ اب مجھے یہ اور یہ چاہیے اور میرے بچوں کو ایسی ایسی چیزیں درکار ہیں تو یہ ساری کتابیں جو انھوں نے لکھی ہیں‘ وہ نہ لکھ سکتے۔ تمھارے باپ ایک ریسرچ اسکالر ہیں‘ ایک مصنف اور محقق ہیں۔ ان کو خاموشی‘ سکون اور اطمینان کی ضرورت ہے۔ تم ان سے کوئی مطالبہ نہ کیا کرو اور نہ ان کے سامنے اپنے تعلیمی مسائل بیان کیا کرو۔ ان کو اپنی باتوں میں بھی نہ الجھایا کرو‘‘--- غرض اماں جان نے اباجان کو ایسا سکون اور اطمینان مہیا کیا کہ وہ جو کچھ لکھتے تھے‘ ذہنی طور پر پوری طرح یکسو ہو کر اور جم کر لکھتے تھے۔

ابا جان نے سورۂ یوسف کی جو تفسیر لکھی ہے اسے پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس وقت وہیں کہیں موجود تھے اور اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہے ہیں۔ سورئہ کہف یا   سورئہ فیل کی تفسیر پڑھتے ہوئے بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ دراصل وہ ذہنی طور پر اسی زمان و مکان (time and space)میں منتقل ہوجاتے تھے۔ برسوں بعد جدہ میں‘ شعبۂ عربی کی سربراہ جو شامی النسل تھیں‘ مجھے کہنے لگیں کہ ایک فقرے میں اپنے والد کی صفت بیان کرو تو میرے منہ سے بے ساختہ یہ جملہ نکلا کہ اِنَّہٗ کَانَ یَعِیشُ فِی عَالَمِ الثَّانِیْ (کہ وہ ایک اور ہی دنیا میں رہتے تھے)۔ وہ اس جواب سے بہت خوش ہوئیں اور کہنے لگیں:’’امام ابن تیمیہؒ کی بھی یہی صفت تھی‘‘۔

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر اباجان کی شادی کسی جاہل اور خواہ مخواہ مطالبے کرنے والی جھگڑالو قسم کی عورت سے ہوئی ہوتی تو کیا ہوتا۔ اماں جان کو تو شایداللہ تعالیٰ نے بنایا ہی اباجان کے لیے تھا--- اماں جان کا اعلیٰ ادبی ذوق‘ بلندپایہ علمی رجحان‘ اپنی ذات کی نفی‘بے نفسی‘ خودداری اور اباجان کی دلداری کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی۔ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے   ’البنات عود‘کہ خواتین خوشبو ہوتی ہیں‘ جو خود تو پردے میں رہتی ہیں‘ مگر ان کا سلیقہ اور تھوڑے سے پیسوں میں بنائی ہوئی بہت ساری عزت اور بچوں کی تعلیم و تربیت سب کو نظرآتی ہے۔

۶ جنوری ۱۹۶۴ء کو اباجان پھر جیل چلے گئے اور بڑے بڑے کتابوں سے بھرے صندوق جیل جانے شروع ہو گئے۔ جیل والے بھی حیران ہوتے تھے کہ اے کلاس کے دوسرے قیدیوں کے لیے حلوے اور انواع و اقسام کے کھانے آتے ہیں‘ جب کہ مولانا صاحب کے لیے صرف کتابیں آتی ہیں۔ اس وقت اباجان لاہور جیل میں تھے جہاں اب شادمان کالونی ہے۔ یہیں کہیں وہ جگہ تھی جہاں تفہیم القرآن لکھی گئی۔ ہر ہفتے ہم ملاقات کے لیے جاتے تھے۔ اس پورے عرصے اماں جان کافی بیمار رہیں۔  مَن مَرِیضَمْ تُوَ طَبِیبَمْکہہ کر شفایاب ہونے والی دادی اماں بھی نہیں رہی تھیں (۱۹۵۸ء میں دادی اماں کا انتقال ہو چکا تھا‘ ان کی موجودگی    اماں جان کے لیے بہت بڑا اخلاقی سہارا ہوتی تھی)۔

ہم لوگ اس وقت اسکول کی تعلیم مکمل کر کے کالج میں پہنچ چکے تھے۔ صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کا زمانہ تھا۔ اباجان کے خلاف پروپیگنڈا مہم عروج پر تھی۔ اخبارات میں سرخیاں لگتیں کہ مولانا مودودی غدار ہیں‘ وہ پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ لاہور کالج براے خواتین میں قدم رکھتے ہی کسی نہ کسی طرف سے یہ آوازے ضرور کسے جاتے: ’مردودی مردودی ۔ایک مودودی سو یہودی۔ ٹھاہ مودودی ٹھاہ‘ وغیرہ۔ بلاشبہہ ہمارے لیے یہ باتیں سخت تکلیف دہ تھیں۔ تاہم‘ جب بھی ہم اس بات کا تذکرہ کرتے‘ ان سب باتوں کے جواب میں اباجان اکثر یہ شعر پڑھتے تھے    ؎

در کوئے نیک نامی مارا گزر نہ داند

گر تو نمی پسندی تغییر کن قضا را

]نیک نامی کے کوچے میں ہمیں (وہ) گزرنے نہیں دیتے یعنی سچے عاشق ہمیشہ ہی بدنام ہوتے ہیں[

لیکن ہماری اماں جان نے ہمیں سمجھا دیا تھا کہ: ’’اگر پڑھنا ہے تو انھی حالات میں اور انھی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر پڑھو‘ ورنہ جاہل رہ جائو گے--- اپنے آپ کو صبر اور حوصلے کا پہاڑ بنالو کہ بڑے بڑے طوفان آکر اس سے ٹکراتے ہیں‘ لیکن وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتا وہیں کھڑا رہتا ہے--- اپنے اندر سمندر جیسا ظرف پیدا کر لو کہ بڑے بڑے دریا آکر اس میں گرتے ہیں ‘وہ انھیں اپنے اندر سمو لیتا ہے لیکن کبھی کنارے توڑ کر باہر نہیں نکلتا‘‘۔

ابا جان میری بیٹی رابعہ سے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک بار ہم اسے لے کر انارکلی گئے تو سامنے سے پیپلز پارٹی کا جلوس آگیا۔ جلوس میں اباجان کو گالیاں سن کر میں گھر واپس آگئی۔ گھر کھانے پر‘ ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر بیٹی رابعہ کہنے لگی: ’’نانا ابا‘ مولانا مودودی آپ ہی ہیں؟‘‘کہنے لگے: ’’ہاں بیٹی میں ہی ہوں‘‘۔ اس پر رابعہ بولی: ’’انارکلی میں تو آپ کو گالیاں مل رہی تھیں‘‘۔   ابا جان مسکرا کر اس کی بات دہرانے لگے۔ ہم نے کہا: ’’خوش تو ایسے ہو رہے ہیں جیسے کوئی دولت مل گئی ہے‘‘۔ ابا نے کہا: ’’بیٹی‘ اللہ کے راستے میں گالیاں کھانا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے‘‘۔

اباجان کے کردار کی جو خوبی مجھے بہت زیادہ یاد آتی ہے وہ یہ ہے کہ بلامبالغہ وہ اپنے بچوں کی اتنی عزت کیا کرتے تھے جتنی دوسرے لوگ ماں باپ کی کرتے ہیں۔ عام حالات میں وہ ہمیں بیٹی کہا کرتے تھے۔ ذرا رنجیدہ ہوتے تو صاحبزادی کہا کرتے‘ اور اگر بہت ہی زیادہ ناراض ہوتے تو پھر ’’صاحبزادی صاحبہ ‘‘کہتے۔ بس‘ پکارنے کا یہ انداز ہی ایک تازیانہ ہوتا تھا ‘اور ہماری کوشش ہوتی کہ ’’صاحبزادی صاحبہ ‘‘کہنے کی نوبت ہی نہ آئے۔

ابا جان ایک ہمہ گیر شخصیت تھے۔ انھوں نے اتنا کام کیا‘ اس قدر سنجیدہ کام کیا جو دوسرے لوگوں کے نزدیک خشک اور بوجھل ہوتا‘ مگر وہ اپنی زندگی میں نہایت باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ میرے آئیڈیل میرے ابا تھے۔

بار بار جیل جانے کی وجہ سے اباجان کی صحت بہت زیادہ متاثر ہو گئی‘ لہٰذا اماں جان نے اپنے درس کافی کم کر دیے۔ وہ ماڈل ٹائون لیڈیز کلب میں پچھلے ۲۵ سال سے درس دے رہی تھیں۔ وہاں انھوں نے شاگردوں کی ایک کھیپ تیار کی تھی۔ آخرکار درس کا معاملہ اپنی شاگردوں کے حوالے کردیا اور سارا وقت اباجان کی خدمت میں گزارنے لگیں۔ ایک بار کسی نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ نے کتنے مضامین میں ایم اے کیا ہے؟ تو کہنے لگیں: ’’بیٹی ‘ایم اے‘ بی اے تو آپ لوگ ہیں۔ میں نے تو دہلی کے کوئین میری اسکول سے مڈل تک پڑھا ہے‘‘۔ انھوں پوچھا کہ پھر آپ کے پاس اتنا علم کیسے ہے؟ اس سوال کااماں جان نے ایسا تاریخی جواب دیا جو میں کبھی بھلائے نہیں بھول سکتی۔ کہا:’’میں نے زندگی ایک ایسے عالمِ دین کے ساتھ گزاری ہے جن کی ایک گھنٹے کی بات چیت سن کر آدمی کو وہ علم حاصل ہو جاتا ہے جو لوگوں کو رات رات بھر کتابیں پڑھ کر بھی نہیں ملتا!‘‘

اباجان کی بیماری بڑھتی ہی گئی اور پھر امریکہ سے ڈاکٹراحمد فاروق آئے اور اباجان کو اماں جان سمیت امریکہ لے گئے‘ تاکہ وہاں یکسوئی سے ان کا علاج کروایا جائے۔ وہیں شدید بیمار رہ کر اباجان کا ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء کو بفیلو کے ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ یہ دہشت ناک خبر لے کر جب احمد فاروق ہسپتال سے آئے تو وہ غم کے مارے نڈھال تھے۔ اماں جان نے ساری رات کے جاگے ہوئے بھوکے پیاسے غم زدہ بیٹے کو چائے پلائی‘ بسکٹ کھلائے اور دلاسا دیا:’’شکر کرو تم نے اپنے باپ کو دیکھا‘ ان کے سائے میں اتنا وقت گزارا‘ ورنہ وہ تو۱۹۵۳ء ہی میں پھانسی چڑھنے کو تیار ہوگئے تھے۔ اگر اس وقت انھیں پھانسی دے دی گئی ہوتی تو تمھیں یہ یاد بھی نہ ہوتا کہ تمھارے باپ کی شکل کیسی تھی!‘‘ اللہ اکبر‘ ایسا حوصلہ اور ایسا توکل۔

اماں جان نے پھر سب کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا :’’اناللّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھو اور باتیں نہ کرو‘‘۔ اس پر سب اکٹھے ہونے والے مرد و خواتین ان کے صبر و حوصلے پر حیران رہ گئے۔ اسی حیرانی کا اظہار میرے ماموں ڈاکٹر جلال شمسی نے بھی کیا۔ وہ ٹورنٹو سے گاڑی چلا کرجب اماں جان کے پاس آئے تو شدتِ غم سے نڈھال تھے۔ وہ اماں جان کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کہنے لگے: ’’آپا جان‘ میں ٹورنٹو سے بفیلو تک روتا ہوا آیا ہوں۔ سوچتا تھا کہ آپ کا سامنا کیسے کروں گا؟ آپ سے کیا کہوں گا؟ لیکن آپ کو دیکھ کر تو میرے آنسو خشک ہوگئے۔ ایسی ہی حیرانی مجھے اس وقت ہوتی تھی جب بھائی صاحب جیل جاتے تھے اور آپ چھوٹے چھوٹے بچوں کو لیے اطمینان سے بیٹھی رہتی تھیں۔ مجھے بتایئے کہ آپ کے پاس کون سی روحانی طاقت ہے؟ آپ یہ سب کیسے کرلیتی ہیں؟‘‘

اماں جان نے کہا:’’اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان‘ توکل اور صبر وہ صفات ہیں جن کی مدد سے آدمی مشکل ترین حالات سے بخیروخوبی گزرسکتا ہے‘‘۔

ڈاکٹر احمد فاروق نے جہاز چارٹر کرکے میت کو نیویارک پہنچایا۔ اسی اثنا میں پورے امریکہ میں مختلف ٹیلی ویژن چینلز سے اباجان کے انتقال کی خبر نشر کی جا چکی تھی۔ اس لیے نیویارک ایئرپورٹ پر بڑی تعداد میں مسلمان جنازے میں شرکت کے لیے پہنچ چکے تھے۔ احمدفاروق نے اماں جان کو پسنجرلائونج میں لے جاکر بٹھا دیا۔ ابھی وہ وہاں بیٹھی ہی تھیں کہ بہت ساری پاکستانی ’ہندستانی‘ ترک اور عرب ممالک کے علاوہ دوسرے مسلم ممالک کی خواتین   وہاں آگئیں۔ ان کے مرد باہر جنازہ پڑھنے کے لیے کھڑے تھے۔ کچھ پاکستانی خواتین نے جو اماں جان کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں آپس میں باتیں کرنا شروع کر دیں کہ بفیلو سے body ]یعنی میت[آنی ہے پتا نہیں باڈی پہنچی یا نہیں؟ اماں جان نے کہا کہ باڈی پہنچ گئی ہے! ان عورتوں نے چونک کر اماں جان کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلا کہ باڈی پہنچ گئی ہے۔ انھوں نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ میں باڈی کے ساتھ آئی ہوں۔ عورتوں نے پوچھا کہ آپ کا ان سے کوئی تعلق ہے؟ جواب ملا ’’وہ میرے شوہر تھے‘‘۔ وہ عورتیں چیخ پڑیں: ’’ہیں بیگم صاحبہ آپ اتنے اطمینان سے اتنے سکون سے اتنا بڑا صدمہ دل میں لیے بیٹھی ہوئی ہیں۔ ہم اور ہمارے مرد سارا راستہ روتے آئے ہیں۔ آپ کو دیکھ کر تو اللہ یاد آگیا! اور پھر آہستہ آہستہ ان ساری ترک‘ انڈونیشی‘ عرب اور افریقی خواتین کو بھی پتا چل گیا کہ یہ خاتون مولانا مودودی کی بیگم ہیں۔ ان سب نے اماں جان سے تعزیت کی اور سب نے کہا کہ ’’صبر تو اسی کو کہتے ہیں‘‘۔یہ جنازہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے چھ مرتبہ ہوا۔

جب میت لے کر لاہور پہنچیں تو سب بچوں کو تسلی دی اور صبر کی تلقین کی۔ وہ بڑے حوصلے کے ساتھ اس صدمے کو جھیل گئیں‘ لیکن پھر افسردگی کا شکار ہو گئیں۔ میں ان دنوں جدہ سے گرمیوں کی چھٹیوں میں لاہور آئی ہوئی تھی۔ میں وہاں لڑکیوں کے سعودی کالج کلیۃ البنات میں انگریزی ادب پڑھاتی تھی۔ ان کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے‘ میں انھیں اصرار کر کے اپنے ساتھ جدہ لے گئی۔ پہلے تو وہ میرے ساتھ جانے پر راضی نہ ہوئیں اور کہا :’’بیٹی کے گھر بھلا کیسے جا سکتی ہوں‘‘۔ میں نے بہت سمجھایا: ’’آپ نے بیٹوں کی طرح پالا پوسا‘ بیٹوں کی طرح پڑھایا‘ اب میں بیٹوں کی طرح کماتی ہوں‘ اس لیے آپ مجھے بیٹی نہیں بیٹا سمجھیے! آپ کی افسردگی کا علاج دوائیوں میں نہیں مکے اور مدینے کی ہوائوں میں ہے‘‘۔ یہ سن کر وہ چلنے پر راضی ہو گئیں۔ وہاں پہنچ کر میں نے ان کا اقامہ بنوا لیا‘ تاکہ آنے جانے میں کوئی دشواری نہ رہے۔ پہلا ہی عمرہ کرکے آئیں تو تمام دوائیاں اٹھا کر الماری میں رکھ دیں کہ اب ان کی ضرورت نہیں۔

رمضان میں کئی عمرے کیے اور آخری عشرے میں ہم ان کو لے کر مدینہ چلے گئے۔ پاکستان ہائوس میں قیام تھا اور وہ ان دنوں مسجدنبوی ؐکے باب النسا کے بالمقابل تھا۔ اماں جان کا اصرار ہوتا تھا کہ سب سے اگلی صف میں جگہ لینی ہے۔ اس لیے بھاگم بھاگ مسجد میں پہنچ کر تراویح کے لیے اگلی صف میں جگہ لیتے تھے۔ پھر ایسا ہوا ‘انتیسویں رات تھی اور یہ ختم قرآن کی رات تھی۔ پورے مدینے میں اور خصوصاً مسجد نبویؐ میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی‘ اسی لیے ہم بھی بہت پہلے سے عشاء کی نماز کے لیے مسجد میں پہلی صف میں جا بیٹھے تھے۔ یکایک اقامت سے ذرا پہلے مسجد کی دو منتظم سعودی عورتیں اور ایک شرطہ آموجود ہوئے اور بڑے کرخت لہجے میں زور زور سے حکم صادر کرنا شروع کیا:  ارجعوا وراء اِرجعوا وراء (پیچھے ہٹو‘ پیچھے ہٹو)۔ ہم جب پیچھے دیکھتے تھے تو پوری جگہ اس طرح بھری ہوئی تھی کہ تھال پھینکو تو سروں کے اوپر ہی اوپر سے جائے! آخر میں نے بھی اسی کرخت لہجے میں اور اسی طرح ڈانٹ کر پوچھا: یش نرجع ورائ؟ (ہم پیچھے کیوں ہٹیں؟) تو انھوں نے مجھے سعودی سمجھتے ہوئے جواب دیا: فیوف خاص جائو امن بحرین ، (بحرین سے خاص مہمان آئے ہیں)۔ میں نے بھی اسی کرخت لہجے میں اتنے ہی زور سے ڈانٹ کر کہا: احنا کلنا فیوف خاص وھذہ مسجد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم واحنا فیوف الرسول صلی اللہ علیہ وسلم! ھذہٖ مسجدوموقصر ابوھم (ہم سب خاص مہمان ہیں اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں۔ یہ مسجد نبوی ؐہے ان کا محل نہیں ہے!)

میرے یہ کہتے ہی ساری سعودی خواتین جو نماز پڑھنے کے لیے بیٹھی تھیں یک زبان ہوکر بول اٹھیں: صحح صحح کلام مضبوط! واللّٰہِ  کلام مضبوط! اتنی دیر میں اقامت کی آواز بلند ہو گئی اور ہم اللہ اکبر کہتے ہوئے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ شرطہ اور شرطیاں وہاں سے چلے گئے۔ لیکن جب ہم نے فرضوں کا سلام پھیرا اور سعودی خواتین نے میرا پاکستانی لباس دیکھا تو حیران ہوکر پوچھا: واللّٰہِ  انت پاکستانیہ؟ من این تعلمت عربی؟ تو میں نے اماں جان کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ من امّی وا بی۔ ان خواتین نے یہ سن کر اماں جان کے ہاتھ چوم لیے۔ عید کی نماز پڑھ کر ہم جدہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ واپس آکر میں نے اماں جان سے پوچھا کہ آپ اپنی مدینے کی عبادت سے خوش تو ہیں نا؟ تو بس ٹھنڈا سانس بھر کر اتنا ہی کہا  ع

روئے گل سیر نہ دیدیم و بہار آخر شُد!

ان کی خواہش تھی کہ مکے میں بھی اسی طرح ایک دو ہفتہ رہ کر عبادت کی جائے۔ چنانچہ میں نے ڈاکٹر حافظ عبدالحق صاحب کی بیگم فرحانہ بہن سے بات کی۔ مکے میں ان کی رشتے داریاں اور تعلقات ہیں۔ انھوں نے انتظام کر دیا اور خود ان کے ساتھ دو ہفتے رہیں۔ اماں جان کی عادت تھی کہ وہ کئی بار بات کا جواب شعر میں دیتی تھیں۔ جب مکّے سے واپس آئیں تو میں نے پوچھا کہ آپ کی وہاں عبادت کیسی رہی؟ جواب ملا:

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم

بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم

خدا خود میر محفل بود شب جائے کہ من بودم

محمد شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم

ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ اس جواب پر یقینا امیرخسرو کی روح بھی وجد میں آگئی ہوگی کہ اماں جان کی طرف سے ایک شعر حضرت داغ دہلوی کا عنایت ہوا     ؎

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں

اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے

پھر مسکرا کر کہنے لگیں:’’حضرت داغ کے اس شعر کا اصل مطلب تو حرم شریف میں جاکر کھلا‘ جب خانۂ کعبہ کی طرف دیکھتی تھی تو لوگ پروانہ وار طواف کر رہے ہوتے تھے اور انھیں دنیا و مافیہا کا کوئی ہوش نہیں ہوتا تھا۔ جب صفا و مروہ کی طرف دیکھتی تھی تو سعی کرنے والے دیوانہ وار سعی کررہے ہوتے تھے اور پھر جب حرم شریف سے واپس اپنے فلیٹ کی طرف آرہی ہوتی تھی تو دکانوں میں خریداروں کا رش ہوتا تھا۔ وہاں بھی پروانے دیوانہ وار سونا‘کپڑا‘ ٹرانسسٹر‘ گھڑیاں خریدنے کے لیے چکر لگا رہے ہوتے تھے۔ طالبانِ آخرت تو اپنی طلب میں دیوانے ہوکر پروانہ وار طواف و سعی کر رہے ہوتے تھے اور طالبانِ دنیا کو ان کی طلب پاگل کیے دیتی تھی!‘‘

جب پاکستان میں ان کے چھوٹے بچوں اسما‘ خالد اور عائشہ نے بہت اصرار کیا تو وہ واپس لاہور آگئیں‘ لیکن اُن دنوں کو کبھی نہ بھولیں جو انھوں نے مکے اور مدینے میں گزارے تھے۔ آخری عمر میں ہر وقت اباجان کو یاد کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ سخت گرمی تھی اور حبس تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی اور دیر تک نہ آئی۔ اماں جان چونکہ دمے کی مریضہ تھیں ‘اس لیے گرمی اور حبس سے ان کا برا حال ہوگیا۔ بجلی تھی کہ کسی طرح آتی نہ تھی‘ اسی حالت میں ذرا سی آنکھ لگ گئی۔ جب بیدار ہوئیں تو کہا: ’’ابھی تمھارے اباجان کی آواز آئی ہے کہ تم وہاں گرمی میں کیوں بیٹھی ہو۔ اوپر آجائو نا۔ دیکھو یہاں کیسی اچھی ہوا چل رہی ہے!‘‘ پھر بڑی حسرت سے کہنے لگیں: ’’بھلا میںخود کیسے جا سکتی ہوں؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آنا ہے‘‘۔

جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو چھوٹی بہن اسما انھیں اپنے گھر لے گئی‘ جو اباجان کے گھر کے بالکل ساتھ ہے۔ جب ایک مرتبہ میں گئی تو ملازمہ نے بتایا کہ آج بیگم صاحبہ نہ بات کرتی ہیں اور نہ کچھ کھا رہی ہیں۔ میں نے ان کے پاس جاکر بس اتنا کہا   ع

دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

اماں جان نے فوراً کہا:

رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

اس کو فلک نے لُوٹ کے ویران کر دیا

ہم رہنے والے ہیں اسی اُجڑے دیار کے

میں نے کہا: اماں جان کون کہتا ہے کہ آپ بیمار ہیں۔ آپ تو بالکل تندرست ہیں۔ لیجیے کھانا کھا لیجیے۔ وہ پھر دلی کی باتیں کرتی گئیں اور بڑی خوشی سے کھانا کھالیا۔ اسی طرح ایک مرتبہ بہت بیمار تھیں اور کسی کو پہچان بھی نہیں رہی تھیں۔ بس یہی کہہ رہی تھی کہ کوچہ پنڈت جانا ہے۔ جب میں گئی تو اسما نے پوچھا کہ کوچہ پنڈت کیا ہے؟ میں نے کہا یہ دہلی کا مشہور محلہ ہے اور کوچہ پنڈت میں ان کا سسرال تھا‘ یعنی اباجان کا گھر تھا۔ اس کے بعد میں نے دہلی کے کئی محلوں کے نام لیے۔ بہت خوش ہوئیں لیکن کھانا کھانے کے لیے بالکل تیار نہیں تھیں۔ میں نے پھر بس اتنا کہا   ع

سوداگری نہیں‘ یہ عبادت خدا کی ہے

اماں جان تھوڑی دیر تک کچھ سوچتی اور ذہن پر زور ڈالتی رہیں اور پھر کہا:

او بے خبر‘ جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

واعظ کمال ترک میں ملتی ہے یاں مراد

دنیا بھی چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے

اور پھر میرے ہاتھ سے سوپ پی لیا۔

آخری دنوں میں وہ کسی کو نہیں پہچانتی تھیں۔ ایک دن مغرب کے وقت کہنے لگیں: ’’روزہ کھولو! جلدی کرو مسجد نبوی ؐمیں تراویح پڑھنی ہے‘ آج ختم قرآن ہے‘ جلدی کرو۔ اگلی صف میں جگہ لینی ہے!‘‘ پھر کہنے لگیں: ’’اتنی مشکل سے پہلی صف میں جگہ ملی ہے اب کہتے ہیں پیچھے ہٹو خاص مہمان آئے ہیں۔ یہ رسولؐ اللہ کی مسجد ہے کسی کا محل نہیں‘‘۔ آس پاس سب لوگ حیران تھے کہ اماں جان کیا کہہ رہی ہیں لیکن میں سمجھ گئی کہ ان کی روح زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہوکر اس وقت مسجدنبویؐ میں موجود ہے اوروہ اس رات کو رمضان المبارک کی ۲۹ویں رات سمجھ رہی ہیں--- یہ آخری بات تھی جو انھوں نے کہی۔ اس کے بعد بالکل خاموش ہوگئیں۔

مجھے اکثر اباجان کی کہی ہوئی ایک بات یاد آتی ہے‘ جو انھوں نے میرے ماموں خواجہ محمدشفیع مرحوم سے کہی تھی۔ اس وقت اماں جان بہت بیمار تھیں اور ماموں ان کی خیریت دریافت کرنے آئے تھے۔ ابا جان نے کہا:’’جب لوگ نعرے لگاتے ہیں مولانا مودودی زندہ باد! جماعت اسلامی زندہ باد! تو میں اپنے دل میں کہتا ہوں ’’محمودہ بیگم زندہ باد‘‘۔ جب کوئی فوج   فتح مند ہوتی ہے اور اس کے سپہ سالار کو پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں تو اس وقت اس گمنام سپاہی کو کوئی یاد نہیں کرتا جس نے اپنی جان کی بازی لگا کر فتح کو ممکن بنایا ہوتا ہے۔ زندہ باد کے فلک شگاف نعروں میں کسی کی بے نفسی‘ خودداری‘ وفاداری‘ دلداری اور اپنی ذات کی نفی کس کو یاد رہتی ہے‘‘۔

ان کی یہ ادا مجھے کبھی نہیںبھولتی کہ انھوں نے اپنے عظیم شوہر کے عظیم نام کو کبھی     ’جنس بازار‘ نہیں بنایا۔ اباجان کے انتقال کے بعد جنرل ضیا الحق صاحب نے اماں جان کو سینیٹ کی ڈپٹی چیئرپرسن بننے کی پیش کش کی۔ اس مقصد کے لیے پہلے عطیہ عنایت اللہ صاحبہ کو اور بعد میں آپا نثار فاطمہ کو بھیجا۔ اماں جان نے عطیہ عنایت اللہ صاحبہ کو تو پیار سے ٹال دیا‘ لیکن جب آپا نثار فاطمہ آئیں تو انھیں اپنا وہی پسندیدہ شعر سنایا جو میں اوپر لکھ چکی ہوں:’’سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے‘‘۔ یہ قرآن و حدیث کا علم دنیا کمانے اور دنیاوی عہدے حاصل کرنے کے لیے نہیں ہے۔ یہ تو آخرت کمانے کا ذریعہ ہے‘‘۔ پھر کہا:’’میں اپنے خاوند کے نام اور کام کو  کیش کرانے کے لیے وہاں نہیں جا سکتی۔ لوگ اپنے اور اپنی اولاد کی دنیا بنانے کے لیے جیتے ہیں لیکن مولانا نہ اپنے لیے اور نہ اپنی اولاد کے لیے جیئے۔ وہ تو بس اللہ تعالیٰ کے دین کی    سربلندی اور خدمت کے لیے جیتے تھے! ایسے نیک نفس شوہر کے نام کو میں ’جنس بازار‘ نہیں بناسکتی۔ اماں جان کے انکار کے بعد ضیاء الحق صاحب نے یہی عہدہ محترمہ نورجہاں پانیزئی کو پیش کیا تھا جو انھوں نے منظور کر لیا۔

روایت ہے کہ مولانا رومؒ کے مرض الموت میں ایک عالمِ دین ان کی عیادت کو آئے اور کہنے لگے کہ فکر نہ کیجیے‘ ان شاء اللہ شفا ہوگی! مولانا رومؒ نے جواب دیا: ’’اب شفا آپ کو مبارک ہو‘ بال برابر فرق رہ گیا ہے۔ پھر نور نور میں شامل ہو جائے گا اور مٹی مٹی میں چلی جائے گی‘‘۔

اباجان نے ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء کو رحلت فرمائی اور اماں جان ۴؍اپریل ۲۰۰۳ء کو بروز جمعہ رات ۸ بج کر ۲۰ منٹ پر اس جہان فانی سے رخصت ہوئیں اور اگلے دن بروز ہفتہ سوا گیارہ بجے مٹی میں جاملیں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ میں ان کے پسندیدہ شعر پر یہ سرگزشت ختم کرتی ہوں     ؎

سوئیں گے حشر تک کہ سبکدوش ہوچکے

بار امانت غم ہستی اتار کے

مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی سے آپ ابتدائی طور پر کیسے متعارف ہوئے؟

l ]قیام پاکستان سے قبل[ میں جمعیت علماے ہند کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی جا رہا تھا‘ کہ مجھے مولانا مودودی کی طرف سے ارسال کردہ کتاب  مسلمان اور موجو دہ سیاسی کش مکش کے دو حصے موصول ہوئے۔ میں نے اس وقت یہ سمجھا کہ جس طرح    غلام احمد پرویز ایک اچھا لکھنے والا سرکاری آدمی ہے‘ اسی طرح یہ بھی اچھا لکھنے والا کوئی سرکاری آدمی ہو گا۔ اس لیے میں نے اس وقت تو یہ کتابیں نہ پڑھیں‘ البتہ اپنے ساتھ لے گیا۔ واپسی پر جب میں بٹھنڈہ لائن دہلی سے آیا تو راستے میں انھیں پڑھا۔ ان کتابوں نے کانگریس سے میرا دل کھٹا کر دیا۔

ایک بار جواہر لال نہرو یہاں گوجرانوالہ بڑے ریلوے اسٹیشن پر تقریر کے لیے آئے۔  میں اور میرے دوست مولانا محمد اسماعیل سلفی (ہم دونوں اس وقت کانگریسی تھے) تقریر سننے      جا رہے تھے۔ مولانا مودودی کی تحریروں کے تذکرے پر مولانا محمد اسماعیل صاحب فرمانے     لگے: ’’مودودی نے کانگریس سے ہمارا وضو تو توڑ دیا ہے‘ لیکن ابھی میں کانگریس کے ساتھ ہوں علٰی علاتہ (خرابیوں کے باوجود)‘‘۔

اس کے بعد جب ڈیرہ غازی خان میں قادیانیوں کے خلاف ایک مقدمے میں مسلمانوں کی طرف سے احمد خان پتافی مرحوم مقدمے کی پیروی کر رہے تھے‘ تو میں نے وہاں احمد خان پتافی مرحوم کے پاس رسالہ ترجمان القرآن دیکھا۔ اسے میں نے پڑھا تو محسوس کیا کہ یہ تو اچھا بھلا دین دار آدمی ہے۔ یہ رسالہ مجھے بہت پسند آیا۔

چنانچہ میں نے گوجرانوالہ آکر مولانا مودودی کو لکھا کہ آپ کے پاس ترجمان القرآن کے سابقہ جتنے شمارے ہیں‘ مجھے بھیج دیں۔ انھوں نے جلد آٹھ سے لے کر مابعد تک تمام شمارے مجھے بھیج دیے۔ اس سے قبل کے شمارے ان کے پاس بھی نہیں تھے۔ چنانچہ میں نے اس سے پہلے کے شمارے چودھری علی احمد مرحوم کے ہاں دیکھے۔ ان رسالوں کو میں نے پڑھنا شروع کیا تو میں نے سمجھ لیا کہ یہ ایک صاحبِ ایمان‘ صاحبِ بصیرت اور صاحبِ عزیمت انسان ہے۔ اس کے بعد ۱۹۴۸ء میں قرارداد مقاصد کے سلسلے میں مولانا مودودی نے پاکستان کے دورے شروع کیے تو میں نے منڈھیالہ وڑائچ (نزد گوجرانوالہ شہر) میں مولوی نور حسین کے ہاں قیام کیا۔ وہاںخواب میں دیکھتا ہوں کہ: مودودی صاحب کی داڑھی سرخ ہے۔ وہی کھلا سا پاجامہ پہنا ہوا ہے۔ سر پر سفید ٹوپی ہے اور تغاری اٹھائے غریب اکیلا ہی شاہی مسجد کی مرمت کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اس خواب کے بعد مجھے مولانا سے ایک محبت اور عقیدت سی ہو گئی۔

مولانا سے آپ کی سب سے پہلے ملاقات کہاں ہوئی؟

  • لاہور میں ہوئی۔ جب میں اور مولانا عبدالکریم مظفر گڑھی جو گورنمنٹ کالج میں پروفیسر تھے‘ مولانا سے ملاقات کے لیے گئے۔ اس وقت مولانا مودودی پونچھ روڈ پر رہتے تھے۔ اس ملاقات میں زیادہ باتیں کرنے والے مولانا عبدالکریم ہی تھے۔

کسی ملاقات میں بتایا  کہ آپ کا مولانا سے رابطہ کیسے ہوا؟

  • نہیں۔ یہ ذکر نہیں کیا‘ البتہ گذشتہ سال (۱۹۷۵ئ) میں نے مولانا سے اس خواب کا ذکر کیا جو ۱۹۴۸ء میں دیکھا تو وہ کہنے لگے: ’’اچھا ،تو۲۷ سال تک آپ نے اس کو دبائے رکھا‘‘۔

مولانا کی مختلف تحریروں پر جب اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوا تو اس دوران میں جب کہیں چھوٹے بڑے سفر پر جاتا تو مولانا کی کتب کو اپنے ساتھ رکھتا۔ اس پر بعض لوگ مجھے کہتے کہ یہ کتابیں ساتھ کیوں اٹھائے رکھتے ہو؟ میں کہتا: ’’میں اسے ایک مظلوم انسان سمجھتا ہوں اور اس کی حمایت کے لیے چل رہا ہوں‘‘۔

چار سال پہلے کی بات ہے‘ میں نے مولانا سے کہا: ’’بعض لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو مولانا کی مدافعت کرتا ہے‘ حالانکہ مولانا کہتے ہیں کہ میری مدافعت کوئی نہ کرے۔ میں (اپنی مدافعت) خود ہی کروں گا۔ میں انھیں جواب دیا کرتا ہوں کہ مولانا میرے امام نہیں ہیں‘ نہ وہ میرے مقتدی ہیں۔ پھر میں جماعت اسلامی کا باقاعدہ متفق نہیں ہوں اور نہ رکن‘ تاہم مولانا مودودی میرے دوست ہیں اور میں انھیں مظلوم سمجھتے ہوئے ان کی مدافعت کرتا ہوں‘‘۔ مولانا کہنے لگے: ’’یہ بات تو ٹھیک ہے کہ آپ ہمارے کوئی رکن وغیرہ تو نہیں ہیں‘‘۔

ایک بار وہ اپنے دورے کے دوران یہاں جامع مسجد (شیرانوالہ باغ) میں آئے اور تقریر کی۔ ان دنوں یہاں (گوجوانوالہ) میں ایک کشمیری ہوا کرتا تھا۔ وہ مولانا سے کہنے لگا: ’’آپ انھیں اپنا ممبر کیوں نہیں بناتے‘‘؟ تو مولانا کہنے لگے: ’’میں کسی کو نہیں کہتا کہ وہ ضرور ممبر بنے‘ حتیٰ کہ میں نے تو اپنی بیوی کو بھی نہیں کہا کہ وہ لازماً رکن بنے‘‘۔

مولانا کی مدافعت میں اپنے اساتذہ سے اختلاف تو نہیں ہوا؟

  • حضرت مولانا اعزاز علی صاحب کو کچھ اختلاف تھا‘ چنانچہ میں نے انھیں لکھا کہ: ’’ان الزامات اور اعتراضات کے حوالے سے جو کچھ ان کی طرف نسبتیں کی جاتی ہیں وہ غلط ہیں‘‘۔

انّہی والے استاذ الاساتذہ حضرت مولانا ولی اﷲ رحمۃ اﷲ کو مولوی غلام اﷲ صاحب وغیرہ ابھارتے رہتے‘ لیکن وہ کسی کی باتوں میں نہیں آتے تھے‘ بلکہ وہ میری تائید بھی کیا کرتے تھے۔ حضرت مولانا عبداﷲ صاحب رحمۃ اﷲ ضلع گجرات والے میرے استاذ تو نہیں البتہ بزرگ تھے۔ وہ بڑے عالم اور ہر فن مولا تھے‘ علم الافلاک‘ علم المیراث‘ اور علم عروض میں انھیں خصوصی درک تھا۔ انھوں نے علم عروض میں ایک دو ورقہ بنایا ہوا تھا۔ مفتی خلیل احمد صاحب‘ چونترہ (ضلع جہلم) والے جب ہمارے پاس [مدرسہ عربیہ میں] ہوتے تو ہم انھیں یہاں بلایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ جہلم گئے تو میں نے انھیں بتایا کہ دیکھیں لوگ مولانا مودودی کے ذمے کیا کیا لگا رہے ہیں؟ تو وہ مجھے کہنے لگے کہ کسی موقع پر مفتی محمد حسن مرحوم و مغفور ]بانی جامعہ اشرفیہ[ کے پاس چلیں گے اور ان سے بات کریں گے۔ مگر یہ موقع نہ مل سکا۔

اس سلسلے میں کسی بڑے عالم سے خط و کتابت بھی ہوئی؟

  • مجھے کوئی زیادہ تفصیل یاد نہیں البتہ مختلف علما کو خط ضرور لکھتا رہا ہوں۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی طرف خط لکھا‘ اپنے استاد مولانا اعزاز علی کی طرف خط لکھا‘ قاری محمد طیب صاحب کو دو خط لکھے‘ ان میں سے کسی سے بالمشافہہ بات نہیں ہوئی۔ بالمشافہہ باتیں صرف ان سے ہوئی تھیں جو مجھ سے چھوٹے ہی تھے‘ بڑے نہیں تھے۔

کراچی میں کاکاخیل کے مولانا عزیز گل جو حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ علیہ کے ساتھ گرفتار ہوئے تھے‘ ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس وقت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب کے مدرسے میں مدرس تھے۔ ان سے بات چیت ہوئی‘ مگر اس دوران مولانا بنوری خاموش بیٹھے رہے۔ کسی بات پر ہاں یا نہ نہیں کی۔

آپ نے مولانا مودودی کی اکثر کتب کا مطالعہ کیا ہے یا -----؟

  • قریباً قریباً ساری کتابوں کا (مطالعہ) کیا ہے‘ کیونکہ اکثر کتابیں ترجمان القرآن سے ہو کر آئی ہیں اور میں نے ترجمان القرآن کے سارے شمارے دیکھے ہیں۔ البتہ الجہاد فی الاسلام علیحدہ چھپی ہے‘ وہ میں نے علیحدہ دیکھی ہوئی ہے۔

بعض لوگوں کا اعتراض ہے کہ مولانا جمہور کی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں۔ کیا یہ خیال حقیقت پر مبنی ہے؟

  • نہیں! یہ بات غلط ہے‘ جمہور کی راہ سے وہ بالکل ہٹے ہوئے نہیں‘ بلکہ جمہور کی رائے کے ہی پابند ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی وقت ایسا قول آ جائے جو اکثر کے خلاف سا ہو۔ لیکن سلف کے اقوال سے باہر نہیں اور وہ بھی بس دو چار قول ہوں گے۔

بعض لوگوں نے اعتراض کیا  تفہیم القرآن میں مولانا نے لکھا ہے کہ طلوع فجر ہوجائے تب بھی بیشک کھا پی لو۔ میں نے دیکھا کہ بہت سے اشخاص کے اسی طرح کے اقوال ہیں۔ ابوبکر اعمش کا قول بھی ہے۔ عبدالماجد دریا بادی نے کافی قول نقل کیے ہیں۔ میں نے اپنی کاپی میں کافی اقوال نقل کیے ہیں۔ حتیٰ کہ امام ترمذی باب باندھتے ہیں  باب ماجاء فی بیان الفجر الحمر اور فجر احمر کی روایت نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ علیہ عامۃ اہل العلم (اکثر اہل علم کا یہی خیال ہے)۔ پھر نسائی میں غالباً حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ کی روایت اس کی تائید میں ہے اور ابوالمنذر بیان کرتے ہیں کہ بعض اہل علم فرماتے ہیں: صبح وہ نہیں ہے جو آپ نے سمجھی ہوئی ہے‘ بلکہ صبح وہ ہے جو درختوں اور مکانوں پر نظر آتی ہے۔ اس طرح میں نے اپنی کاپی میں دیگر بہت سے اہل علم کے اقوال جمع کیے ہیں۔ لیکن لوگ مولانا مودودی کی رائے کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ بالکل خلاف شرع ہے۔ غالباً ۱۹۳۶ء کی بات ہے جب کلکتہ میں فسادات شروع ہوئے‘ میں مولانا عبدالعلیم‘ عبدالحلیم وغیرہ کے گاؤں گیا ہوا تھا۔ حافظ خلیل احمد صاحب جو‘ انگہ (ضلع سرگودھا) کے رہنے والے تھے‘ میرے دوست تھے اور ان کے بھائی حافظ اسماعیل میرے شاگرد تھے۔ انھوں نے سحری پر میری دعوت کی۔ کھانے پر میرے علاوہ حافظ خلیل‘ حافظ اسماعیل اور مولانا عبدالحلیم بھی تھے ]گاؤں کی کھلی فضا میں افق نظر آ رہا تھا[۔ میں نے کہا بتاؤ‘ کیا صبح صادق ہو گئی ہے اور ہمیں کھانا بند کر دینا چاہیے یا نہیں ]ہم چاروں‘ طبقہ علما میں سے تھے‘ لیکن[ اس سلسلے میں دو قول ہو گئے۔ دو ایک طرف اور دو دوسری طرف۔ دو کہہ رہے تھے صبح صادق ہوگئی ہے‘ دو کہہ رہے تھے‘ نہیں -- میں نے کہا ایسی چیز جس میں علما اختلاف کر رہے ہیں‘ عوام الناس کو اس کا پابند کرنا کیا آسان ہے؟

اعتراض کرنے والے بعض لوگ عجیب اعتراض کرتے ہیں۔ ایک حافظ صاحب (مرحوم) میرے دوست لاہور چھاؤنی میں خطیب تھے‘ کہنے لگے: ’’یہ ابوالاعلیٰ تو خدا کا باپ بن گیا نا    (نعوذ باﷲ)‘کیونکہ الاعلیٰ تو خدا کو کہتے ہیں‘‘۔ میں نے کہا: ’’حافظ صاحب آپ کا سوال واقعی بڑا اعلیٰ ہے اور اس کا جواب بھی اعلیٰ ہونا چاہیے تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ سوال و جواب دونوں خدا ہیں‘‘۔

ایک مولانا صاحب نے اعتراض کیا کہ: انھوں (مولانا مودودی) نے لکھا ہے کہ قرآن کا مصنف یوں کہتا ہے‘ گویا انھوں نے خدا کو مصنف لکھا ہے‘ اس طرح تو خدا حادث ہو جاتا ہے -- اب یہ بھی کوئی باتیں ہیں۔

حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے متعلق انھوں (مولانا مودودی) نے لکھا: ’’وہ اپنے پیشروؤں کی جمیع صفات کے حامل نہیں تھے --- مگر انھوں نے سر دے دیا‘‘۔اب بعض نسخوں میں غلطی سے لفظ جمیع نہ چھپ سکا۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا: ’’یہ  دیکھیں‘ کہہ رہے ہیں کہ وہ کچھ نہیں تھے‘‘۔ میں ان سے کہتا: ’’خدا کے بندو آپ خود ہی تو کہتے ہیں کہ اول ابوبکر صدیق‘ پھر فاروق اعظم‘ پھر عثمان غنی‘ اور پھر علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنھم اور وہ بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ ان کے اندر اپنے پیشروؤں کی تمام صفات نہیں پائی جاتی تھیں‘‘۔

ایک دفعہ جب وہ تفسیر لکھ رہے تھے‘ انھوں نے متعہ کے بارے میں یہ لکھا کہ متعہ کے جواز کے بارے میں فلاں فلاں کا یہ مسلک تھا۔ ان دنوں کراچی میں علما کا ایک اجلاس تھا۔ وہاں شاید مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم نے اس پر اعتراض کیا۔ میں نے کہا: جی‘ کیا آپ کی کتابوں میں مختلف مسائل کے بارے میں مختلف علما کے اقوال درج نہیں ہوتے؟ کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ ان اقوال کے قائل ہیں۔ پھر آپ یہ کیونکر کہتے ہیں کہ یہ اس کے قائل ہیں۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ خود اس کے قائل ہیں‘ تاہم مولانا نے یہ مضمون درمیان سے نکال ہی دیا۔

تفہیم القرآن میں کیا کوئی بات جمہور علما کی تفاسیر کے خلاف تو نہیں؟

  • مجھے کوئی ایسی چیز یاد نہیں جو جمہور علما کے خلاف ہو۔

بڑے بڑے علما میں سے کون ان کا حامی یا ہم خیال رہے ہیں؟

  • مولانا عبدالرحیم اشرف نے ایک کتاب لکھی ہے: کیا جماعت اسلامی حق پر ہے؟ اس میں کافی علما کے نام اور اقوال درج ہیں۔

مفتی محمد شفیع صاحب کا اختلاف تو علمی حد تک ہے!

  • ہاں‘ ان کا اختلاف علمی حد تک ہے۔ مگر انھیں (مولانا مودودی کو)  مُوھّنِ (توہین کرنے والے) صحابہ سمجھ لینا غلط ہے۔ انھوں نے توہین صحابہ کوئی نہیں کی۔ صحابہ کو ہم میںسے  کوئی بھی معصوم نہیں کہتا۔ بعض صحابہؓ سے غلطیاں ہوئی ہیں‘ مثلاً حضرت ماعز رضی اﷲ عنہ سے زنا کا گناہ سرزد ہوا۔ امرأۃ غامدیہؓ سے گناہ سرزد ہوا۔ ایک اور صحابی شراب میں ماخوذ ہوئے۔ لیکن پھر بھی وہ دنیا کے بہترین انسان تھے۔

مخالفین ظلم یہ کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی ایک صحابی کے متعلق کوئی بات کہتے ہیں‘ تو وہ سب پر ٹھونس دیتے ہیں کہ صحابہ کو یہ کہا گیا‘ یہ کہا گیا۔

پھر میں نے ۴۱ ایسے اقوال اور حوالے جمع کیے تھے‘ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مولانا مودودی پر اعتراض کے لیے جن اقوال کو بنیاد بنایا گیا ہے‘ وہ سرے سے ہی غلط ہیں اور مولانا مودودی کی طرف ان کی نسبت درست نہیں۔ میں نے یہ مواد چودھری محمد اسلم (سابق امیر جماعت اسلامی ضلع گوجرانوالہ) کو دیا تھا کہ وہ اس کو مرتب کر کے شائع کریں۔

کہا جاتا ہے کہ مولانا کو رجوع کرنے کی عادت نہیں۔ انھوں نے جو تحریر کر دیا‘ اس پر چاہے کوئی دلیل دے انھوں نے مانا نہیں؟

  • یہ بھی سراسر غلط بات ہے ‘ آپ (محمد عارف) نے تو میرے نام خطوط دیکھے ہوں گے۔ ایک خط میں لکھا ہوا ہے کہ آپ (مولانا محمد چراغ) نے مجھے لکھا تھا کہ جیّدھا و ردیّھا سواء ]یعنی ہم جنس اشیا کے تبادلے میں وصف کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور آپس میں تبادلے کے وقت ان کا تبادلہ برابری کی بنیاد پر ہو گا‘ تفاضل حرام ہو گا[‘ اور میں نے یہ لکھا تھا کہ وصف کا اعتبار کیا جائے گا۔ لیکن جیل میں جا کر میں نے مزید دیکھا تو مجھے روایات میں مل گیا کہ  جید ھا وردیہا سوائ، اس لیے اب میں ]آپ کے مؤقف کا[ قائل ہوں۔ اور بھی خطوط ہیں‘ جن میں انھوں نے میرے مؤاخذے کو تسلیم کیا ہے۔ اس لیے یہ بات تو غلط ہے کہ وہ رجوع نہیں کرتے۔ البتہ یہ بات ہے کہ وہ جو کچھ لکھتے ہیں اچھا بھلا سوچ سمجھ کر لکھتے ہیں۔

حنفی مسلک کے بارے میں مولانا کا کیا خیال ہے؟

  • انھوں نے ترجمان القرآن میں لکھا ہے کہ میں حنفی ہوں‘ لیکن اگر مجھے کوئی دوسرا قول (زیادہ اقرب الی السنۃ) نظر آئے تو میں امام صاحب کے قول سے ہٹ بھی جاتا ہوں۔ میں حنفی اور میرا امام باقی ائمہ سے--- (امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں بہترین تحسین کے الفاظ ہیں)۔

سب سے پہلے حضرت شاہ صاحب (مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ) کے دروس اور تقریروں سے میرا (مولانا محمد چراغ) کا ذہن بنا کہ سارے ائمہ ٹھیک ہیں۔ وہ بھی حق پر ہیں ہم بھی حق پر ہیں۔ اس کے بعد شاہ ولی ؒاﷲ صاحب کی کتب دیکھیں تو ذہن میں مزید وسعت پیدا ہوئی‘ کہ شاہ صاحب نے حنفی ہونے کے باوجود بعض مقامات پر حنفیہ کے مؤقف سے اختلاف کیا ہے۔ پھر سید صاحب (مولانا مودودی) کی کتب سے مزید وسعت پیدا ہوئی۔ اب میرا یہ خیال ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ صحیح خیال ہے کہ ائمہ کے اختلافات کے سلسلے میں اگر کوئی آدمی اپنے امام کو چھوڑ کر دوسرے امام کی طرف جائے (بشرطیکہ محض سہولتوں کی طلب اور خواہش پرستی نہ ہو) تو اﷲ تعالیٰ اس پر مؤاخذہ نہیں کرے گا۔ چنانچہ شاہ ولی ؒاﷲ صاحب کا قول حجۃ اﷲ البالغہ میں ہے‘  الاصل المرضی (پسندیدہ قول یہ ہے کہ) قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس کے بارے میں نہیں پوچھے گا۔ عقل بھی یہ کہتی ہے کہ آخر یہ سب اﷲ تعالیٰ کے پیارے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں خدا اور اس کے رسولؐ کی محبت کے تحت کہتے ہیں۔ ججوں کے اختلاف پر کوئی حکومت گرفت نہیں کرتی‘ یا کوئی مقدمے میں کسی جج کے فیصلے کی پابندی کر رہا ہو تو حکومت اس پر کوئی پابندی نہیں لگاتی اور گرفت نہیں کرتی۔

مولانا کے خلاف ایسے ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو ایک عام آدمی کے لیے بھی مناسب نہیں۔ لیکن مولانا نے جواب میں یہ انداز اختیار نہیں کیا؟

  • بالکل نہیں کیا۔ اب دیکھیے مولانا مدنی مرحوم و مغفور تک یہ کہہ گئے یہ ٹٹ پونجیا ہے۔ جب مولانا انگلینڈ گردے کے علاج کے لیے جانا چاہتے تھے‘ اس وقت غالباً رانا اﷲ داد خان صاحب نے مولانا اور ان کے دوست احباب کے اعزاز میں آموں کی دعوت کی۔ عام لوگ ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے‘ اور دوسری جگہ ملک نصراﷲ خان عزیز‘ نعیم صدیقی‘ میں اور اس طرح کے دو چار آدمی بیٹھے تھے۔ وہاں مولانا مودودی سے مخاطب ہو کر نعیم صدیقی کہنے لگے: ’’مولانا‘ یہ (رسالہ) … میں تو نہیں پڑھ سکتا‘‘۔ مولانا کہنے لگے: ’’آپ نہیں پڑھ سکتے‘ لیکن میں پڑھتا ہوں‘‘۔ یہ وہ ترجمان ہے کہ جس نے ایک دفعہ لکھا کہ ان (مولانا مودودی) کی لڑکی مخلوط تعلیم والے کالج میں جاتی ہے‘ اور مولانا جانگیہ پہن کر ٹینس کھیلتے ہیں‘ اس قسم کی واہیات ]علما کے[ اس رسالے میں ہوتیں۔

میں کہا کرتا ہوں کہ یہ اکیلا شخص ہے‘ جس کی زندگی میں اس کے مداح اور ناقد اس کثرت کے ساتھ ہیں اور زندگی میں اس کی تشہیر ساری دنیا تک ہو گئی ہے۔

مولانا کے ساتھ خصوصی تعلق کے حوالے سے کوئی بات؟

  • جب تفہیم القرآن کی تکمیل کی تقریب ہوئی‘ جس میں اے کے بروہی‘ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی وغیرہ نے بھی تقاریر کیں‘ وہاں روزنامہ وفاق کے نمایندے نے مولانا سے سوال کیا کہ کیا کوئی عالم دین ایسا ہے جس نے آپ کی اس تفسیر کو مکمل پڑھا ہو اور آپ پر تنقید وغیرہ بھی کی ہو‘ تو مولانا نے فرمایا: ’’صرف مولانا محمد چراغ ہیں جو اس کے بارے میں مجھے لکھتے رہے ہیں‘‘۔یہ میری ان کے ساتھ خاص بات ہوئی۔

بعض لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تم مولانا مودودی کے مقلد ہو۔ میں انھیں کہا کرتا ہوں کہ میں مودودی صاحب کا مقلد نہیں ہوں‘ میں نے مولانا مودودی کی کئی تحریروں پر گرفت کی ہے اور کسی کو معلوم کرنا ہو تو اسے مولانا عاصم نعمانی کی مرتب کردہ کتاب  مکاتیب مودودی دیکھنی چاہیے‘ جس میں مولانا کے خطوط ہیں۔

مولانا نے مجھے خط لکھا کہ میری بیٹی اسماء کانکاح آپ پڑھائیں۔ میں نے اس موقعے پر مولانا سے کہا: ’’مولانا‘ اجازت ہے نکاح پڑھانے کی‘‘‘ انھوں نے کہا: ’’اس کے ماموں سے پوچھیں‘‘--- وہ چاہتے تھے کہ نکاح کے رجسٹر میں ان کا نام نہ آئے۔ وہ رسم و رواج کی شرارتوں (اور ایوب دور کے وضع کردہ بعض خلاف شریعت عائلی قوانین) کی وجہ سے ان رجسٹروں میں اپنا نام آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ ایک آدمی نے ان سے نکاح پڑھوانے کے لیے کہا‘ تو مولاناکہنے لگے: ’’دستخط نہیں کروں گا‘‘۔ اس نے کہا جی! آپ بے شک نہ کریں۔

تفہیم القرآن کی ہر جلد مولانا نے یہ لکھ کر مجھے بھیجی کہ وہ مجھے یہ کتاب ہدیۃً بھیج رہے ہیں۔ چنانچہ اب اگر کوئی مجھے کہے کہ آپ یہ عمدہ عمدہ کتابیں لے لیں اور یہ جلدیں مجھے دے دیں‘ تو میں کبھی یہ جلدیں دینے کے لیے تیار نہیں ہوں گا کیونکہ ان پر مولانا کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے:      ہدیہ محمدچراغ کی طرف۔

جب پاکستان بنا تو یہاں گوجرانوالہ میں محمد عاصم الحداد‘ مولانا مسعود عالم ندوی سے عربی پڑھتے تھے۔ اس وقت مولانا مسعود عالم ندوی کا دفتر دارالعروبہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس دفتر میں ایک دفعہ بیٹھے تھے کہ مولانا مودودی کہنے لگے ’’میری بعض کتابیں اور تفاسیر وہیں دارالاسلام (پٹھان کوٹ) میں رہ گئی ہیں‘‘۔ میں نے کہا: تفسیر روح المعانیتو میرے پاس ہے‘ اگر آپ کو چاہیے تو میں عاریۃً دے سکتا ہوں‘‘۔ چنانچہ مولانا نے روح المعانیمجھ سے لے لی۔

پھر ایک دفعہ میں نے ان کی بعض باتوں سے سمجھا کہ انھیں حضرت اشرف علی تھانوی مرحوم و مغفور کی کتاب تفسیر بیان القرآن کی ضرورت ہے۔ میں نے وہ بھی انھیں بھیج دی۔ سالہا سال تک یہ کتابیں ان کے پاس رہیں۔ میں نے انھیں اجازت دی ہوئی تھی کہ وہ ان کتابوں کی عبارت پر جہاں چاہیں خط کھینچ سکتے ہیں اور نوٹس لکھ سکتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے روح المعانی کی بہت سی عبارتوں کو زیر خط (under line) کیا ہوا تھا۔ تین چار سال پہلے انھوں نے مجھے کہا: ’’میں آپ کو ملتان کی چھپی ہوئی نئی روح المعانی خرید کر بھیج دیتا ہوں۔ آپ اپنی روح المعانی میرے پاس رہنے دیں کیونکہ میں نے اس کی بعض عبارتوں کو under line کیا ہوا ہے‘ اور بعض نوٹس بھی ہیں‘‘۔ میں نے کہا: ’’آپ نئی روح المعانی پر بھی اپنے نوٹس اور لکیریں لگا کر بھیج دیں تو ٹھیک ہے‘‘۔ پھر وہ کہنے لگے: ’’اس پر آپ کا نام لکھا ہوا ہے کہ آپ نے یہ کتاب اتنے کی خریدی ہے‘‘۔ میں نے کہا: ’’میں اس کتاب پر آپ کا نام لکھ دیتا ہوں‘ اور آپ نئی کتاب پر میرا نام لکھ دیں‘‘۔ چنانچہ انھوں نے میرے لیے لکھ دیا کہ میں ہدیہ دے رہا ہوں محمد چراغ کو‘ اور میں نے اس پر لکھ دیا کہ میں یہ ہدیہ مودت مولانا مودودی کو دے رہا ہوں۔

پھر بیان القرآن کے متعلق مجھے لکھنے لگے: ’’ایک یہ رکھی ہے بیان القرآن‘ اور ایک وہ رکھی ہے۔ آپ اپنی دیکھ لیں کون سی ہے‘‘۔ چنانچہ میں اپنی کتاب لے آیا۔

مولانا کے حوالے سے اور کوئی خاص بات؟

  • ہاں‘ نماز میں خشوع و خضوع کے حوالے سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اﷲ حج پر جا رہے تھے‘ تو بحری جہاز کا انگریز کپتان ان کی نماز کی کیفیت دیکھ کر کہنے لگا کہ: معلوم ہوتا ہے یہ جس خدا کی نماز پڑھتا ہے وہ عام مسلمانوں کے خدا سے مختلف ہے۔ اس کی نماز سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خدا کوئی بڑا زبردست اور رعب والا ہے کہ یہ اس کے سامنے اتنی عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔

سید صاحب (مولانا مودودی) اور شاہ صاحب ( مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کاشمیری رحمۃ اﷲ علیہ) کو میں نے دیکھا ہے کہ ان دونوں حضرات کی نماز میں انتہائی خشوع و خضوع تھا‘ اور عجز کا کمال نمونہ تھی۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ قیام پاکستان سے قبل مظفر گڑھ تشریف لائے تو وہاں ان    سے پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی تھی۔ پھر ۱۹۵۰ء میں اچھرہ (لاہور) میں‘ میں اور آغا شورش کاشمیری ]م: اکتوبر ۱۹۷۵ئ[اکثر ملنے جاتے تھے۔ یوں ایک وقت ایسا آیا کہ ہم نے اکٹھے مل کر ملکی سیاسی جدوجہد میں کام کیا‘ اکٹھے دورے کیے‘ اکٹھے جلسے کیے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے مارشل لا کے دوران بہت ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ میں نے انھیں ایک ہمہ جہت شخصیت پایا۔ وہ ممتاز عالم دین بھی تھے‘ مفکر بھی تھے اور ان کے اندر اعلیٰ درجے کی سیاسی بصیرت بھی تھی۔ قدرت نے انھیں بے شمار صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا۔

برطانوی استعماری حکومت کے خلاف انھوں نے بہت جدوجہد کی۔ جب برطانوی حکومت مسلمانوں کے خلاف مختلف قسم کے اقدامات کے ذریعے ظلم و ستم کر رہی تھی‘ تو انھوں نے مسلمانوں بالخصوص نوجوان نسل تک آزادی کا پیغام پہنچایا۔ مولانا مودودیؒ نے انتہائی مدلل انداز میں اسلامی نظام حیات پر بحث کی اور لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ انھوں نے اپنی تصانیف میں بڑے مدلل‘ مدبرانہ اور ساینٹی فک انداز سے اسلام کو پیش کیا۔ ایک وقت تھا‘ جب نوجوان نسل الحاد‘ لادینی اور سیکولر تہذیب کے اثرات قبول کر رہی تھی۔ دور دور تک اس طوفان کا کوئی مدمقابل دکھائی نہ دیتا تھا۔ اس ماحول میں مولانا مودودیؒ نے بڑی جرأت‘ عزم‘ جواں مردی سے ان لادینی قوتوں کا مقابلہ کیا ۔ میرے خیال میں یہ ان کا ناقابلِ فراموش حد تک تاریخی کارنامہ ہے۔

اسلام کی نشات جدید میں علامہ محمد اقبال ؒنے بھی بڑا نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ایک دفعہ   علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں علامہ اقبال کو دعوت دی گئی۔ علامہ اقبال بیمار تھے‘ اس لیے وہ اجلاس میں نہ جا سکے‘ تاہم انھوں نے ایک قطعہ بھیج دیا     ؎

یقیں‘ مثلِ خلیل آتش نشینی

یقیں اﷲ مستی‘ خود گزینی

سن‘ اے تہذیب حاضر کے گرفتار

غلامی سے بتر ہے بے یقینی

اور علامہ نے مولانا مودودی سے کہا کہ وہ اس اجلاس میں جائیں۔ مولانا کی زندگی کا ایک پہلو تو یہ تھا۔

دوسری طرف قیام پاکستان کے بعد سیفٹی ایکٹ اور اظہار رائے پر پابندی کے خلاف مولانا مودودی نے تاریخی جدوجہد کی اور قید و بند کے مرحلوں سے گزرے۔ انھوں نے برملا کہا کہ اظہار رائے ہر ایک شہری کا بنیادی حق ہے‘ جو ہر کسی کو ملنا چاہیے۔ اس کے لیے انھوں نے حکومت وقت کی مخالفت بھی مول لی اور کسی بھی چیز کی پروا تک نہ کی۔ مولانا مودودیؒ نے علما کے ۲۲ نکات پر مشتمل دستاویز بنیادی طور پر خود مرتب کی۔ اس ضمن میں مولانا ظفراحمد انصاری مرحوم نے جو تفصیلات بتائیں‘ وہ مولانا مودودی کی دُوراندیشی دین سے محبت کی دلیل ہیں۔ ان کی یہ ایک ایسی بے مثال خدمت ہے‘ افسوس کہ جسے خود دینی حلقوں میں بھی محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر سراہا نہیں جاتا۔ اس سے قبل قرارداد مقاصد کے سلسلے میں مولانا شبیراحمد عثمانی مرحوم و مغفور کے ساتھ مل کر ملک و قوم کے لیے جو خدمت سرانجام دی‘ میرے نزدیک ان کے تمام کارناموں سے بڑھ کر یہ اعلیٰ ترین کارنامہ ہے۔ انھوں نے قرارداد مقاصد میں اﷲ کی اصل حاکمیت کا تصور دیا۔عوام کو بنیادی حقوق اور عدلِ اجتماعی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ قرارداد مقاصد آج بھی ہمارے آئین کا حصہ ہے اور اسلامی علم سیاسیات و اجتماعیات کی نہایت اہم دستاویز۔

۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوتؐ میں انھوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس تحریک کے نتیجے میں انھیں پھانسی کی سزا ہوئی‘ لیکن ہم نے دیکھا کہ انھوں نے اپنی پھانسی کی سزا سن کر بھی جس حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ کسی اور میں نہیں پایا جاتا۔ وہ ختم نبوت صلی اﷲ علیہ و سلم کے سلسلے میں اپنی پھانسی کی سزا کو بہت کم سزا سمجھتے تھے‘ اور یہی وجہ تھی کہ انھوں نے پھانسی کی سزا کے حوالے سے کسی اپیل کو مناسب نہیں سمجھا‘ اور کہتے تھے کہ میری اپیل اﷲ سے ہے اور اگر اﷲ نے میری موت لکھ دی ہے تو اسے کوئی بھی نہیں ٹال سکتا۔

اﷲ پر توکل اور شجاعت و عزیمت کا ایک بے مثال واقعہ وہ بھی ہے کہ جب ۱۹۶۳ء میں جماعت اسلامی کے کُل پاکستان اجتماع پر سرکاری غنڈوں نے فائرنگ کی‘ اور اس فائرنگ کے نتیجے میں جماعت کا ایک رکن بھی شہید ہو گیا۔ ان برستی گولیوں میں لوگوں نے مولانا سے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں‘ فائرنگ ہو رہی ہے‘ گولی نہ لگ جائے۔ اس موقع پر مولانا مودودی ؒنے ایک تاریخی جملہ بولا: ’’اگر میں بیٹھ گیا تو پھر کھڑا کون رہے گا‘‘۔

۱۹۶۲ء میں آمرانہ اور شخصی آئین کے خلاف اور ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف ہم نے جدوجہد شروع کی۔ آمرمطلق فیلڈمارشل ایوب خان کے ’بیسک ڈیموکریسی سسٹم‘ اور اس کے نام نہاد ریفرنڈم کے خلاف بھی بہت کام کیا۔ اس دوران مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس جمہوری جدوجہد کے دوران مشرقی پاکستان میں ’’نو قائدین کا بیان‘‘ بہت مشہور ہوا۔ اس میں نو پارٹیوں کے قائدین نے مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ بڑا خوش آئند اعلان تھا۔

میں نے مولانا مودودیؒ سے ملاقات کر کے تجویز پیش کی کہ یہ تحریک مشرقی پاکستان میں علیحدہ چل رہی ہے اور مغربی پاکستان میں الگ‘ اگر ہم مل کر دونوں کو اکٹھا کر کے چلائیں تو حکومت پر زیادہ دباؤ پڑے گا‘ اور ویسے بھی اتنی بڑی تحریک کو اکٹھا کرنے میں ہمیں کردار ادا کرنا چاہیے۔  چنانچہ مولانا نے مجھے مشرقی پاکستان روانہ کیا‘ وہاں میں ان نو قائدین سے ملا‘ انھیں مغربی پاکستان کے دورہ جات پر آمادہ کیا اور پیش آمدہ آئینی مسائل کے بارے میں ایک قومی سوچ سامنے لانے کے لیے مل کر جدوجہد کرنے کے فوائد اجاگر کیے۔ بہرحال حسین شہید سہروردی جیل سے رہا ہو گئے تو وہ نورہنمائوں کو ساتھ لے کر لاہورآئے۔ یہاں بڑے بڑے جلسے کیے گئے‘ جن سے مشرقی اور مغربی پاکستان کے رہنما خطاب کرتے تھے۔ لوگوں میں جوش و خروش پیدا ہوا۔ بعد ازاں ہماری ملاقاتیں بیرسٹر محمود علی قصوری مرحوم کے گھر ہوتی رہیں۔ ان چند ملاقاتوں میں مولانا مودودیؒ بھی شریک رہے اور مکالمے میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے۔ پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جب ہم لوگ کراچی میں اکٹھے ہوئے۔ میں نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کروائی‘ جس پر ہمارے خلاف بغاوت کا مقدمہ کیا گیا۔ اس مقدمے میں میاں طفیل محمد‘ محمود علی قصوری‘ مولانا عبدالستار خان نیازی وغیرہ بھی تھے۔ ہمیں ملتان جیل میں بند رکھا گیا۔

مولانا مودودی نے ان معاملات میں ہماری مکمل رہنمائی کی اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی۔ مولانا مودودیؒ اور میں‘ ایوب خان کے مارشل لا سے قبل کشمیر کمیٹی میں مشترکہ طور پر جدوجہد کرتے رہے۔ کشمیر کے مسئلے پر مولانا کا مؤقف ہمیشہ دو ٹوک اور اصولی رہا۔ مولانا مودودی ڈائیلاگ کے ذریعے اپنا مؤقف بڑے احسن انداز سے پیش کرتے تھے۔

اﷲ نے انھیں جہاں تحریری صلاحیت سے مالا مال کیا تھا‘ وہاں انھیں تقریری صلاحیت سے بھی نوازا تھا۔ اگر وہ لکھتے تو دلائل کے ساتھ لکھتے اور بولتے تو دلائل کے ساتھ بولتے۔ ان کی بات کو کوئی رد نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے ان کے ساتھ بڑے نازک ادوار میں مل کر اکٹھے کام کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے جتنی سیاسی بصیرت ان کے اندر دیکھی اپنے کسی دوسرے سیاسی حلیف میں نہیں پائی۔

میری یادداشت میں مولانا کی بے شمار یادیں ہیں۔ ۱۹۶۲ء کے آمرانہ اور شخصی آئین کے خلاف جدوجہد میں ان کا مثالی کردار ہے۔ اس تاریخ ساز جدوجہد میں ڈیمو کریٹک فرنٹ‘ سی او پی ]کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز[ اور پی ڈی ایم ]پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ[ اور ڈی اے سی ]ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی[ کے پلیٹ فارم سے مشترکہ جدوجہد میں‘ مجھے ان کے ساتھ کام کا موقع ملا۔ پھر ایوب خان مرحوم کی گول میز کانفرنس میں شرکت وغیرہ ایسے مواقع ہیں‘ جب میں نے انھیں بہت قریب سے دیکھا۔ وہ بڑے دل جگرے والے انسان‘ منطقی ذہن اور دُوراندیش شخصیت کے مالک تھے۔ لاریب‘ وہ ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ان کے علمی کارنامے اور دینی خدمات پر دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ ان کی ہمہ پہلو زندگی میں باقی تمام خوبیوں کے ساتھ سیاسی بصیرت نے مجھے بے حد متاثر کیا۔

ہر فرد کی شخصیت مختلف عناصر اور اجزا سے مل کر بنتی ہے۔ ان میں سے بعض اجزا اور عناصر‘ پیدایشی یا وہبی ہوتے ہیں اور بعض انسان خود اپنی محنت‘ جستجو اور تگ و دو سے خود اپنی ذات میں پیدا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں ماحول اور معاشرے میں پائے جانے والے حالات اور واقعات بھی اس کی شخصیت کی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں‘ کیونکہ انسان اپنے ماحول‘ معاشرے اور ملک کے حالات سے آزاد یا لا تعلق نہیں رہ سکتا۔ ہم یہاں مولانا مودودیؒ کے شخصی اجزاے ترکیبی کا جائزہ لیں گے۔

  • فکر معاش سے آزادی: ہم ان کے بچپن پر نظر دوڑائیں تو یہ صورت سامنے آتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے بچپن ہی سے سید مودودیؒ کے لیے ایسے حالات پیدا کیے کہ ان کے ساتھ فکر معاش لگا دی۔ مگر اﷲ کے اس بندے نے معاش اور فکر معاش کو اپنی تگ و دو کا کبھی محور نہیں بنایا۔ چنانچہ ان کے بڑے بھائی ابوالخیر مودودیؒ فرماتے ہیں: مولوی کے امتحان سے فارغ ہونے کے بعد ابوالاعلیٰ کو مولوی عالم میں داخل کرنے کے لیے دارالعلوم حیدر آباد (دکن) بھیج دیا گیا۔ ۱۹۱۵ء میں والد صاحب پر فالج کا حملہ ہوا۔ ابوالاعلیٰ کو تعلیم چھوڑ کر فوراً بھوپال آنا پڑا۔ اس وقت ابوالاعلیٰ کی عمر ۱۲سال تھی اور میری۱۵۔ (تذکرہ سید مودودی‘ ج۲‘ ص ۲۴۱)

فالج کے اسی مرض میں ان کے والد سید احمد حسن صاحب کے انتقال کے بعد ابوالاعلیٰ کو فکرمعاش اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ایسے میں یہ ۱۵ سال یا ۱۷ سال کا لڑکا اپنے بڑے بھائی ابوالخیر کے ساتھ بجنور کا رخ کرتا ہے‘ جہاں یہ دونوں بھائی ڈیڑھ دو ماہ سے زیادہ اخبار مدینہ‘ بجنور میں نہیں  نباہ سکے(ایضًا‘ ص ۱۲۶-۱۲۷)۔ یہ شاید ۱۹۱۸ء کی بات ہے(ایضًا‘ ص ۱۲۷)۔ غالباً ۱۹۱۹ء میں جب پہلی بار تاج الدین صاحب نے جبل پور سے تاج (ہفتہ وار) جاری کیا‘ اس کی ادارت کی   ذمہ داری بقول ابوالاعلیٰ: ’’ہم دونوں بھائیوں کے سپرد کی۔ چند مہینے سے زیادہ تاج نہ نکل سکا اور ہم جبل پور سے بھوپال اور بھوپال سے دہلی چلے گئے۔۱۹۲۰ئ-۱۹۲۴ء میں تاج الدین صاحب نے جبل پور سے پھر تاج نکالا اور وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے --- مگر جبل پور کی زندگی بھی زیادہ مدت تک جاری نہ رہ سکی‘‘۔ یہ کل مدت ۱۹۱۸ء - ۱۹۲۰ء تک دو سال ہوتی ہے اور: ’’۱۹۲۰ء کے خاتمے پر میں دہلی واپس ہوا اور ۱۹۲۱ء کا ابتدائی زمانہ تھا جب میری ملاقات مفتی کفایت اﷲ صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب صدر و ناظم جمعیت علماے ہند سے ہوئی۔ اسی سال انھوں نے جمعیت علماے ہند کی طرف سے اخبارمسلم نکالا اور مجھے اس کا ایڈیٹر مقرر کیا۔ یہ اخبار ۱۹۲۳ء تک جاری رہا اور آخر تک میں اس کا ایڈیٹر رہا‘‘(ایضًا‘ ص ۱۲۸)۔ خیال رہے کہ مسلمیکم نومبر ۱۹۲۱ء سے شروع ہوا اور اس نے ۸ اپریل ۱۹۲۳ء کو دم توڑ دیا۔ اس طرح اس کی عمر ایک سال پانچ ماہ ۸۰ دن بنتی ہے۔ یہ گویا مولانا مودودیؒ کے مسلسل کمانے کا پہلا موقع ہے۔ اس سے پہلے خدا معلوم کیسے گزارا کیا‘ کچھ پتا نہیں۔  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھوپال اور دہلی میں موجود اہل خانہ کی اس عرصے میں ان کو مدد رہی ہو گی۔

دونوں بھائیوں نے اپنی تحریروں اور گفتگوؤں میں اپنی خانہ بدوشی اور مالی پریشانیوں کی طرف دور یا قریب سے اشارہ تک نہیں کیا۔ مولانا مودودیؒ اپنی فکر معاش کے ساتھ ۱۸  اپریل ۱۹۲۳ء سے ۱۴ جون ۱۹۲۵ء (یعنی دو سال ایک ماہ ۲۷ دن) تک کس طرح وقت گزارتے ہیں‘ معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔ پھر ۱۴ مئی ۱۹۲۸ء تک الجمعیۃ کے مدیر مسئول (محرر خصوصی) کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہاں یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ جون ۱۹۲۵ء سے لے کر دسمبر۱۹۲۹ء تک جو مدت انھوں نے حیدر آباد دکن پہنچنے سے پہلے بھوپال میں گزاری ہے (ایضًا‘ ص۱۲۸)‘ اور جس کو انھوں نے ہر قسم کے علوم و فنون کے مطالعے کے لیے وقف کر دیا تھا‘ اس مدت میں شاید انھوں نے الجمعیۃ کی آمدنی کی بچت پر گزارا کیا ہو گا۔ ایک یہ امکان ہے کہ بھوپال میں ان کے سب سے بڑے بھائی ابو محمد مودودیؒ نے ان کی دست گیری بھی کی ہو۔ البتہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی ان کتابوں کی آمدنی سے بھی مستفید ہوئے ہوں گے جو علی الترتیب اس طرح شائع ہوئیں:

                ۱-            دولت آصفیہ اور حکومت برطانیہ‘ سیاسی تعلقات کی تاریخ پر ایک نظر (اکتوبر۱۹۲۸ئ‘ دہلی)

                ۲-            دکن کی سیاسی تاریخ‘ غالباً ۱۹۳۰ء ( حیدر آباد دکن) (ایضًا‘ ص ۱۲۹)

                ۳-            سلاجقہ‘ جون ۱۹۲۹ء (حیدر آباد دکن)

                ۴-            رسالۂ دینیات‘ ۱۹۳۲ء (حیدر آباد دکن)

                ۵-            ]غیرمطبوعہ[ ترجمہ اسفار اربعہ حصہ دوم اور حصہ سوم از علامہ صدر الدین شیرازی (دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن)(تذکرہ سید مودودی‘ ج ۳‘ ص ۳۱۳- ۳۱۹)

اس آخری کام --- یعنی‘ اسفار اربعہ کے ترجمے --- کی آمدنی سے مولانا نے ابن خلکان کے  ان حصوں کا ترجمہ‘ جو مصر کے فاطمی خلفا سے تعلق رکھتے ہیں (جون ۱۹۲۹ئ) خریدا‘ بلکہ اسی آمدنی سے ترجمان القرآن بھی مولانا ابو مصلح سے خریدا (ایضًا‘ ص ۳۱۹)۔ اسی ترجمان القرآنکی خریداری اور ادارت ہی وہ مرحلہ تھا‘ جس سے ترجمان القرآن کے مالک و مدیر کی مشکلات کا آغاز ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد مولانا مودودیؒ نے قرآن کی دعوت کو اپنا مقصد حیات اور اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔ اس کے بعد زندگی میں راحت و آرام بہت کم (شاید ۲۰ فی صد یا اس سے بھی کم) اور ہر قسم کی تکلیفیں‘ جن میں مالی اور معاشی پریشانیاں بھی شامل ہیں‘ زیادہ تھیں (شاید ۸۰ فی صد یا اس سے بھی زیادہ)۔ تفاصیل کے طالب حضرات اس خاکسار کا مقالہ ’’مولانا مودودیؒ - زندگی کا ایک پرآشوب دور‘‘(ترجمان القرآن،ستمبر۲۰۰۲ئ)‘ بیگم مودودی ؒکا انٹرویو(تذکرہ سید مودودیج۳‘  ص ۳۲۱-۳۲۲) اور میاں طفیل محمد کا انٹرویو ملاحظہ فرمائیں۔۱؎ خیال رہے کہ جہاں بیگم مودودیؒ، اپنے رفیق حیات کی نجی زندگی پر گواہ ہیں‘ وہیں میرے کرم فرما‘ میاں طفیل محمد ان کی سماجی زندگی پر گواہ ہیں‘ کیونکہ دعوت اسلامی کے دارالاسلام‘ جمال پور‘ پٹھان کوٹ سے لے کر ان کی وفات تک کے لمبے سفرمیں‘ یہ ہروقت اور ہر دم ساتھ رہے ہیں۔ ان دونوں کی گواہیاں بہت کافی ہیں۔

یہ تذکرہ ناقص رہے گا‘ اگر معاش اور فکر معاش کے جھمیلوں کے سلسلے میں اُن حضرات کی روش پر ایک نظر نہ ڈالی جائے جو مولانا مودودیؒ کے معیار زندگی کو نشانۂ ملامت اور ان کے ذرائع آمدنی کو ہدفِ تنقید بنا کر جماعت سے علیحدگی اختیار کر چکے تھے۔ میری مراد مولانا محمد منظور نعمانیؒ اور مولانا جعفر شاہ پھلواریؒ ہیں۔۲؎

معاش کے بارے میں اپنے اندیشے اور خدشات مولانا محمد منظور نعمانی ؒ یوں بیان کرتے ہیں: ’’نہ صرف یہ کہ آپ کی دعوت‘ آپ کے نظریات اور آپ کی تعبیرات سے مکمل طور پر اتفاق و اتحاد ہے بلکہ یہ یکسانی فکر و نظر اکثر مجھے مجبور کرتی ہے کہ الفرقان کو اسی مقصد کے لیے وقف کر دوں۔ لیکن کسی وقت خیال آتا ہے کہ ایسا کرنے سے کہیں رسالے کی اشاعت متاثر نہ ہو جائے اور اس سے معاش کے مسئلے میں دشواریاں لاحق نہ ہو جائیں‘ کیونکہ اس رسالے میں اب تک ایک مخصوص حلقے کے مذاق کا لحاظ رکھا گیا ہے‘‘۔

اس پر مولانا مودودیؒ نے جو کچھ فرمایا وہ بہت چشم کشا ہے: ’’رزق کا معاملہ تو بالکل اللہ کے دستِ قدرت میں ہے۔ اس لیے حالات اگر آپ کے اندیشے کے مطابق ہی پیش آگئے تو امید ہے کہ اللہ کوئی دوسری سبیل فرما دے گا‘‘۔ پھر مولانا مودودیؒ نے ان حالات کا تذکرہ فرمایا جن سے دوچار ہو کر ان کا ماضی گزرا ہے۔

۸ جنوری ۱۹۴۳ء کے اپنے مکتوب بنام مولانا مسعود عالم ندویؒ میں مولانا مودودیؒ ،مولانا جعفر شاہ پھلواریؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:

--- جب وہ تشریف لائے تو میں نے دریافت کیا کہ آپ کی ضروریات کیا ہیں اور آپ کے وسائل کیا ہیں؟ معلوم ہوا ضروریات غیر معین ہیں اور وسائل تنخواہ کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ ۵۰ روپے کی حد تک مہیا کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔ مکان یہاں بِلاکرایہ حاضر ہے۔ آپ ملازمت چھوڑ کر آ جائیے اور یہاں نہ صرف دعوت کا کام کیجیے‘ بلکہ اس کے ساتھ چودھری نیاز علی خان کا رسالہ دارالاسلام بھی اپنے ہاتھ میں لے لیجیے (یہ رسالہ جس کی اشاعت ۵۰۰ کے قریب ہے‘ چودھری صاحب بلا معاوضہ ان کی ملکیت میں دینے کے لیے تیار تھے)۔ اس رسالے کو آپ عوام کے لیے دعوت کا رسالہ بنائے اور اللہ پر بھروسا کیجیے۔ جب تک اس سے ۵۰ روپے ماہانہ کا منافع آپ کو نہ ملنے لگے اس وقت تک یہ ماہوار رقم فراہم کرنا میرے ذمے ہے --- تو انھوں نے کچھ دن غور کرنے کی مہلت مانگی ---

بالفاظ دیگر فکر معاش وہ بلَا ہے جو بڑھتے ہوئے قدم پیچھے لوٹانے کا سبب بنتی ہے۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو مولانا مودودیؒ سے اپنے دین کی خدمت لینا تھی‘ اس لیے ان کو اندیشہ ٔ معاش سے یکسر آزاد کر دیا۔

  • سادگی لیکن نفاست کے ساتھ:  فطری طور پر مولانا مودودیؒ بڑے نفاست پسند واقع ہوئے تھے۔ یہ میرا خود ذاتی مشاہدہ ہے ۔ میں نے چشمِ سر سے دیکھا ہے کہ وہ سادہ مگر اجلا لباس زیب تن کیے ہوئے ہوتے۔ لباس کی یہ سادگی مع نفاست ہر جگہ برقرار رہتی‘ خواہ وہ رابطہ العالم الاسلامی کے اجتماعات ہوں‘ یا جلسہ ہاے عام میں شرکت کر رہے ہوں۔ میں نے ان کو مکہ مکرمہ میں‘ الاستاذ محمد المبارک کے ہاں سے پروفیسر محمد قطب (برادر خورد سید قطب شہیدؒ) اور پروفیسر محمد مصطفی الاعظمی کے پاس اسی سادہ لباس میں جاتے ہوئے دیکھا۔ تب میں بھی اُن کے ہمراہ تھا۔

اب رہی کھانے پینے کی بات تو اس کی شہادت مولانا محمد ناظم ندوی مرحوم سے بہتر کون دے سکتا ہے: ’’البتہ مولانا کے ہاں کبھی کبھی ناشتے کے لیے چلا جاتا --- مجھے مولانا کے ہاں کھانے میں شرکت کا موقع ملتا رہا ہے‘ ان کا دسترخوان اتنا سادہ تھا کہ ہم بھی اس وقت ان سے بہتر کھانا کھاتے تھے۔ ان کے دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے کبھی نہیں دیکھے۔ البتہ جو کچھ ہوتا تھا‘ وہ سادہ اور لذیذ ہوتا تھا‘‘۔۳؎

کھانے پینے کی بات چل نکلی ہے تو ذوقِ طعام کے بارے میں اپنا تجربہ بتاتا چلوں۔ جدہ میں ہمارے گھر پر مولانا محترم کو دوپہر کا کھانا کھلانے کا موقع ملا۔ ہم نے حیدر آبادی مذاق کا لحاظ کر کے دہی کی کڑھی‘ شکمپور اور ڈبل کا میٹھا (شاہی ٹکڑے) پیش کیے۔ مولانا بہت خوش ہوئے مگر جب دہی کی کڑھی چکھی تو کہنے لگے: ’’چاؤش! (حیدر آباد میں عربوں کو چائوش کہتے ہیں) آپ پکے حیدر آبادی نہیں ہیں۔ یہ دہی کی کڑھی آج کی بھگاری ہوئی ہے‘ جب کہ یہ دوسرے دن کھائی جاتی ہے‘‘۔

  • اسلام کی خاطر بے پناہ قربانیاں: محمد رفیع الدین فاروقی ترجمان القرآن کے سلسلے میں مولانا مودودیؒ کی جاں فشانی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: رسالہ ترجمان القرآن کے مضامین کی ترتیب و تہذیب ‘ اس کی ادارت‘ کاغذ کی فراہمی‘ کتابت و طباعت‘ رسالوں کی ترسیل‘  آمد و خرچ کا حساب اور متعلقہ مسائل کا بار‘ مختصر یہ کہ تمام انتظامات بلاشرکت غیرے صرف اور صرف یکا و تنہا مولانا مودودیؒ ہی کی ذات پر تھے ---‘‘(تذکرہ سید مودودی، ج ۳‘ ص ۸۷۵)

ظاہر بات ہے کہ اس طرح ان کا پورا وقت ترجمان کی نذر ہو جاتا تھا اور کھانے پینے کے خرچ کے مسائل کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔ اس کے شاہد میرے استاذ عربی مولانا عمر بن عبداللہ بن طیران بن محفوظؒ تھے۔ انھوں نے کئی بار اس واقعے کو بیان کیا ہے:

میں ایک دن  ترجمان القرآنکے دفتر واقع بچلرس کوارٹرز‘ معظم مارکیٹ گیا۔ عمارت میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مولانا سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھا رہے ہیں۔ میں نے کہا: مولانا یہ ہے کیا؟ جواب میں بڑے اطمینان سے فرمایا: ’’سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھاتا ہوں اور اس امت کی خونِ جگر سے آبیاری کرتا ہوں‘‘

اس پر ہم کیا تبصرہ کر سکتے ہیں‘ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ رحمت سے نوازے اور جنت الفردوس میں ان کو انبیاے کرامؑ اور شہداے عظام ؒ کی رفاقت سے سرفراز کرے!

مالی قربانیوں کے ضمن میں مولانا محمد ناظم ندویؒ کی شہادت بھی بہت قیمتی ہے: ’’اور یہ بات بھی ان کی بے نفسی پر ایک قوی دلیل ہے کہ انھوں نے جماعت بنائی تو اپنی تصانیف کا بیش تر حصہ جماعت کے سپرد کر دیا۔ ان کا یہ اقدام ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا ہوا ایک غیر جذباتی اقدام تھا۔ یہ آخری جملہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ بعض لوگ مولانا کے اس فیصلے کو وقتی جذبے کے تحت ایک جذباتی اقدام قرار دیتے ہیں۔ مولانا اپنی اس سوچ اور عملی زندگی میں ہوس دنیا سے بے نیاز رویے ہی سے عام لوگوں بلکہ ہم عصر علما تک میں ممتاز ہو جاتے ہیں‘‘۔ (ایضًا‘ ص ۸۹۴-۸۹۵)

  • خود داری: خود داری اور عزت نفس کے دو واقعات کافی ہوں گے:

مولانا مودودیؒ کی خودداری کا یہ عالم تھا کہ اپنی مشکلات کا تذکرہ سوائے خدا کے اور کسی سے نہ کرتے۔ اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ سرکار آصفیہ ۳۰۰ سے زیادہ پرچوں کی خریدار تھی اور ممالک محروسہ سرکار عالی کے مختلف کتب خانوں (لائبریریوں) میں یہ پرچہ جاتا تھا۔ ایک مختصر سے مخالف گروہ نے امور مذہبی پر اثر ڈال کر رسالے کی خریداری بند کرا دی۔ اچانک تقریباً نصف رسالوں کی خریداری بند ہو جانے سے مولانا شدید مالی مشکلات سے دوچار ہو گئے --- مولانا کے استغنا اور خودداری کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے متعلقہ محکموں سے جاکر اس کے اجراے ثانی کی کوشش کی اور نہ کسی کی چوکھٹ پر دستک دی اور نہ کسی سے سفارش کروائی --- (ایضًا‘ ص ۳۲۸)

حیدر آباد دکن سے دارالاسلام ’جمال پور‘ پٹھان کوٹ منتقل ہونے سے رقم کی کمی ہوئی تو مولانا نے اس کا ذکر مولانا اعجاز الحق قدوسیؒ سے کیا۔ انھوں نے مولانا کی اس مشکل کا تذکرہ سرور خان صاحب سے کیا تو وہ: مسکراتے ہوئے کہنے لگے‘ اتنے ان کے قدر داں ہیں۔ کیا ایک کا بھی حوصلہ نہیں کہ ان کو قرض دے سکے۔ میں نے کہا کہ اول تو مولانا نے کسی سے قرض مانگا نہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کی خودداری کے خلاف ہے کہ وہ کسی سے قرض مانگیں۔ یہ بات تو میں نے برسبیل تذکرہ آپ سے کہہ دی ہے ---(ایضًا‘ ص ۳۰۱)

یہ وہی ایک ہزار روپے کا قرض حسنہ ہے جس کو زادِ راہ بنا کر مولانا مودودیؒ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک انجان اور نامعلوم و نامانوس مقام اور غیر مانوس لوگوں کی طرف علامہ اقبالؒ کی دعوت پر‘ دارالاسلام پٹھان کوٹ‘ پنجاب کی طرف‘ حیدر آباد دکن سے ہجرت کر گئے۔ اس سے مولانا مودودیؒ کی مفلسی اور ناداری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے‘ مگر خودداری اور عزت نفس کی برقراری کے ساتھ۔

 خودداری اور خود اعتمادی کا ایک واقعہ خود میرے ساتھ پیش آیا ہے۔ شاید یہ ۱۹۶۹ء کی بات ہے۔ آخری بار مولانا مودودیؒ جدہ تشریف لائے۔ اتفاقاً مجھے بھی نماز جمعہ حرم مکی میں باب الملک عبدالعزیز میں ادا کرنے کا موقع ملا۔ مولانا بہت کمزور اور ناتواں ہو چکے تھے۔ میں نے سہارا دینے کی کوشش کی۔ کہنے لگے: ’’چاؤش! سہارا نہ دیں۔ میں ساری زندگی کسی کے سہارے کے بغیر جیتا رہا ہوں۔ ان شاء اﷲ آیندہ بھی کسی کے سہارے کی نوبت نہیں آئے گی‘‘۔ میں نے ہاتھ ہٹا لیا۔ وہ خود آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کار میں سوار ہو گئے۔ یہ خود داری اور خود اعتمادی کی بہترین مثال ہے۔

  • ﷲ تعالیٰ پر بھروسا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مولانا مودودی ؒکی شخصیت کا نہایت نمایاں اور درخشاں پہلو تھا۔ وہ انتہائی نامساعد حالات میں بھی امید کا دامن نہ چھوڑتے اور بڑے بڑے کام اﷲ پر بھروسا کر کے کر گزرتے۔ مثال کے طور پر ترجمان کے جن پرچوں کے بند کرنے کا ذکر اوپر گزر چکا ہے‘ اس وقت وہ پریشان کن مالی حالات سے دوچار ہو چکے تھے‘ کیونکہ اس سے پہلے انھوں نے پرچے کو زندہ رکھنے کے لیے اہل خیر سے اپیل کی تھی اور خریداروں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔ مگر یہاں یہ صورت حال ہو گئی تھی کہ ترجمان کی تعداد اشاعت گھٹ کر ۴۳۰ - ۱۳۲= ۲۹۸ رہ گئی تھی۔ یہ تعداد ان ۳۵۰ پرچوں سے ۵۲ پرچے کم تھی جس کا گلہ مولانا مودودی ؒنے مئی ۱۹۳۷ء کے ’’اشارات‘‘ میں کیا تھا کہ: پرچہ موت اور زندگی کے درمیان لٹک رہا ہے --- بلکہ اسی پرچے میں ’’اطلاع ثانی‘‘ کے تحت یہ اعلان بھی شائع ہوا: ’’۱۱ ماہ ذی قعدہ ۱۳۵۶ھ میں رسالہ ترجمان القرآن کا دفتر حیدر آباد سے جمال پور‘ ضلع گورداسپور (پنجاب) میں منتقل ہو جائے گا‘‘۔ ماہ شوال۶ ۱۳۵ھ‘ یہی وہ مہینہ ہے جس میں تعداد اشاعت گھٹ کر صرف ۲۹۸رہ جانے والی تھی اور جس کو لے کر وہ پنجاب کی طرف ہجرت کرنے کے لیے کمرکس رہے تھے۔

کیا یہ ہمت شکن حالات سید مودودیؒ کو مایوس کرنے والے تھے؟ نہیں‘ ہرگز نہیں۔ وہ    ان ناگفتہ بہ حالات میں بھی نہ صرف ترجمان کی ناؤ کھیئے جا رہے تھے‘ بلکہ وہ ترجمان میں شائع شدہ مضامین کو چھاپنے اور پھیلانے کی جدوجہد میں بھی لگے ہوئے تھے --- چنانچہ اگست‘ ستمبر۱۹۳۷ء کے ’’اشارات‘‘ میں نگارش فرماتے ہیں:

ترجمان القرآن کے سابق مضامین کو کتابی صورت میں شائع کرنے کے لیے برادران اسلام سے اعانت کی جو درخواست کی گئی تھی‘ اس کے جواب میں اب تک ۴۰۰روپے مالی اور ۵۰روپے کلدار]ریاست حیدر آباد کا سکّہ[‘ دفتر کو وصول ہوئے اور مزید ۵۰ روپے کلدار کا وعدہ ہے ---

یعنی ‘جملہ ’حالی‘ رقم ۵ئ۵۱۲ روپے بنی‘ جس سے ’مکتبہ ترجمان القرآن‘ کا آغاز ہوا‘ حالانکہ        خود ترجمان اب اور تب پر تھا۔ ایسی ہمت کو ہمت مرداں مددِ خدا کہتے ہیں۔ مزید لکھتے ہیں: (ترجمان القرآن، ستمبر ۲۰۰۲ئ‘ ص ۳۸)

اگرچہ یہ رقم اس کام کے لیے کافی نہیں جو ہم انجام دینا چاہتے ہیں‘ لیکن خدا کے فضل پر بھروسا کر کے کام کی ابتدا کر دی گئی ہے۔ مضامین کی ترتیب اور نظرثانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔امید ہے کہ آیندہ ماہ رمضان سے اشاعت کا آغاز ہو جائے گا۔ (ترجمان القرآن‘ اگست - ستمبر ۱۹۳۷ئ)

یہ نہ صرف مولانا مودودیؒ کا اعلان ہے بلکہ لوگوں کا مشاہدہ بھی یہی ہے: --- پوری طرح سے ظاہری اسباب ہمت شکن ہو گئے۔ کاغذ‘ کتابت اور طباعت کی گرانی کو مد نظر رکھتے ہوئے    اس معیار کے رسالے کو ۳۵۰ خریداروں ]صحیح عدد ۲۹۸ ہے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے[ سے چلانا کتنا مشکل کام تھا ]اس پر نقل مکانی مستزاد[۔ لیکن اﷲ پر اعتماد اور توکل نے مولانا مودودیؒ کو ان حالات سے لڑنا سیکھا دیا تھا ---(ایضًا، ص ۳۲۰)

اسی توکل علیٰ اﷲ کی تلقین انھوں نے مولانا منظور نعمانیؒ کو ان الفا ظ میں کی:’’--- رزق کا معاملہ تو بالکل اﷲ کے دستِ قدرت میں ہے۔ اس لیے اگر حالات آپ کے اندیشے کے مطابق ہی پیش آ گئے تو امید ہے کہ اﷲ کوئی دوسری سبیل فرما دے گا‘‘۔

مولانا جعفر شاہ صاحب پھلواریؒ سے انھوں نے یہ کہا: ’’اس رسالے کو آپ عوام کے لیے دعوت کا رسالہ بنائیے اور اﷲ پر بھروسا کیجیے۔ جب تک اس سے ۵۰ روپے ماہانہ کا منافع آپ کو    نہ ملنے لگے‘ اس وقت تک یہ ماہوار رقم فراہم کرنا میرے ذمے ہے‘‘۔

  • قضا و قدر پر غیر متزلزل ایمان: مسئلہ جبرو قدر کے مصنف کو قضا و قدر پر ایمانِ غیر متزلزل دکھانے کا موقع اس وقت ملا‘ جب اس کو فوجی عدالت نے پھانسی کی سزا سنا دی۔ میاں طفیل محمد صاحب پھانسی کے فیصلے کے لمحات کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

اس کے بعد یہ افسر مولانا مودودی کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے چہرے پر آنکھیں گاڑتے ہوئے ان سے کہا:

آپ کوقادیانی مسئلہ پمفلٹ لکھنے کے جرم میں موت کی سزا دی گئی ہے‘ اور علما کی گرفتاری پر بیان جاری کرنے کے جرم میں سات سال قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔ مارشل لا کے تحت سزاؤں کے خلاف اپیل کا کوئی حق نہیں ہے‘ آپ چاہیں تو اپنی موت کی سزا کے خلاف سات دن کے اندر مسلح افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں۔

یہ سنتے ہی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کا چہرہ بلا مبالغہ انگارے کی مانند تمتما اٹھا اور آپ نے نہایت باوقار لہجے میں جواب دیا:

مجھے کسی سے کوئی اپیل نہیں کرنی ہے۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی‘ اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔(ایضًا‘ ص ۵۲‘ ۵۳ اور مشاہدات‘ از میاں طفیل محمد)

دیکھا آپ نے اس شخص کا تقدیر الٰہی پر اٹل ایمان۔ ایسے مواقع پر لوگ رو پڑتے اور بے ہوش ہو کر گر پڑتے ہیں‘ گڑ گڑاتے اور منت سماجت کرتے ہیں مگر تقدیر خداوندی پر غیر متزلزل ایمان رکھنے والا یہ بندہ‘ اﷲ تعالیٰ کی قوت کے بل بوتے پر فوجی افسر سے زیادہ سخت لہجے میں دو ٹوک‘ مگر لاجواب کر دینے والا جواب دیتا ہے۔ سبحان اﷲ الخلاق العظیم۔

اس سے ملتی جلتی بات‘ اختلافِ الفاظ کے ساتھ‘ انھوں نے اپنے صاحبزادے سے کہی جب وہ سزاے موت کی خبر سن کر ان سے ملاقات کے لیے اپنے تایا جناب سید ابوالخیر مودودیؒ کے ساتھ جیل گئے تھے۔ یہ سید عمرفاروق مودودی ہیں۔ سنیے وہ بات جو ایک باپ نے اپنے بیٹے سے ان نازک مگر صبرآزما اور ہمت شکن حالات میں کہی:

بیٹے اگر خدا کو یہی منظور ہے تو پھرشہادت کی موت سے اچھی موت اور کون سی ہے‘ اور اگر اللہ ہی کو منظور نہیں تو پھر خواہ یہ خود الٹے لٹک جائیں مگر مجھے نہیں لٹکا سکتے۔ (ایضًا‘ ص ۱۹۴)

جہاں تک مجھے یادپڑتا ہے جناب عبدالستار خان نیازیؒ، مولانا مودودیؒ کے اسلامیہ کالج کے زمانے سے شناسا تھے۔ سزاے موت کے بعد وہ بغل والی پھانسی کوٹھڑی میں تھے۔ انھوں نے سیدعمرفاروق مودودی سے کہا:

میاں! مولانا صاحب تو بڑی چیز ہیں‘ یہ کم بخت مجھے بھی پھانسی پر نہیں لٹکا سکتے۔

یہاں انگریز حکام کی فراست بینی کی داد دینی ہو گی۔ انھوں نے اسی وقت بھانپ لیا تھا کہ اگر مودودیؒ اسی طرح اسلامیہ کالج لاہور میں لیکچر دیتا رہا تو محرّک اسلام پر پروانہ وارفدا ہونے والوں کی کھیپ کی کھیپ تیار ہو جائے گی‘ جو ایسے نایاب جملے اپنی زبان سے نکالنے کی جرأت سے مزین ہو گی۔ انھوں نے کالج کی انتظامیہ پر دبائو ڈالا اور مولانا مودودیؒ کو کالج سے نکال کر باہر کیا۔ (ایضًا‘ ص ۲۱۸-۲۲۰)

اب پھانسی کی کوٹھری کی پہلی رات کے بارے میں میاں طفیل محمد صاحب کی زبانی سنیے:

اگلے روز وارڈن وغیرہ کی زبانی مولانا مودودی کی رات بھر کی کیفیت معلوم ہوئی کہ وہ پھانسی گھر گئے‘ پھانسی کے مجرموں والے کپڑے انھوں نے زیب تن کیے‘ کوٹھری کے جنگلے سے باہر رکھے ہوئے پانی کے گھڑے سے وضو کیا‘ عشاء کی نماز پڑھی اور زمین پر بچھے ہوئے دو فٹ اور ساڑھے پانچ فٹ کے ٹاٹ کے بستر پر پڑ کر ایسے سوئے کہ رات بھر ان کے پہرے دار حیرت میں ڈوبے دیکھتے رہے کہ یا اللہ! یہ عجیب شخص ہے جو پھانسی کا حکم پا کر ایسا مدہوش سویا ہے‘ گویا اس کے سارے فکر اور تردد دور ہو گئے۔ گویا اسے من کی مراد مل گئی۔

وہ کیوں؟ وہ اس لیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیا والمرسلینؐ ثابت کرنے کے جرم میں پھانسی پانا سب سے بڑی خوش بختی کی علامت تھی۔ اس لیے یہ خوش بخت بندۂ خدا مدہوش ہو کر صبح تک سویا رہا کہ شہادت پکی ہے اور جنت کے اعلیٰ مقامات اور صحبت خاتم الانبیا و المرسلینؐ بھی پکی ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ مودودیؒ ایک چلتا پھرتا زندہ ولی اللہ تھا۔

یہ پہلا موقع نہ تھا کہ مولانا مودودیؒ نے معافی مانگنے یا اپیل کرنے یا رحم کی درخواست کرنے سے ببانگ دہل انکار کیا ہو۔ وہ ایک دبنگ شخصیت کے حامل انسان تھے۔ ڈر اور خوف سے وہ نا آشنا تھے۔ چنانچہ جب جنگ عظیم دوم [ستمبر ۱۹۳۹ئ] شروع ہوئی‘ تب ہندستان برطانوی استعمار کے زیر تسلط تھا۔ برطانیہ نے اس جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تو مولانا نے ’’اشارات‘‘ ]ادارتی مقالے[ میں برطانیہ اور اس کی استعماری پالیسیوں اور ظالمانہ رویے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ اس وجہ سے یہ ’’اشارات‘‘ سنسر ہو گئے اور اس ماہ کا ترجمان القرآن(ستمبر ۱۹۳۹ئ) سادہ اور غیر مطبوعہ صفحات کے ساتھ شائع ہوا۔ صرف یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی:

ظَھَرَالْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ o (الروم ۳۰: ۴۱) خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے  لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے‘ تاکہ مزا چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا‘ شاید کہ وہ       باز آئیں۔

اس سنسر کی داستان اس زمانے کے سنسر افسر نے‘ جو بعد میں میاں عبدالحمید ایڈیٹر پاکستان ریویوکی حیثیت سے مشہور ہوئے‘ یوں بیان کی ہے کہ جب مولانا مودودی سے معافی ---    حتیٰ کہ صرف زبانی معافی -- چاہنے کا مطالبہ کیا گیا تو آپ نے کہا:

میں نے قرآنی تعلیم‘ تاریخ اسلام اور تاریخی واقعات کو پیش نظر رکھ کر اظہار خیال کیا ہے --- رہی بات مجھے وارننگ کی تو میں اسے پرکاہ بھی اہمیت نہیں دیتا۔ میں نے قرآن کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوڑا ہے اور نہ چھوڑوں گا --- آپ مجھے کہتے ہیں کہ میں معافی مانگوں‘ یہ ناممکن ہے۔ آپ کی حکومت مجھے تختۂ دار پر لٹکا دے‘ عمر قید کردے‘ میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔(قومی ڈائجسٹ، لاہور‘جنوری ۱۹۸۰ئ‘ ص۲۲۴)

پھر بھی مولانا خاموش نہ رہے۔ انھوں نے اپنے ایک دیرینہ دوست نصراللہ خان عزیز ایڈیٹر مدینہ‘ بجنور کو ایک فصیح و بلیغ خط لکھا اور حکومتِ پنجاب اور ا س کے وزیراعظم سرسکندر حیات اور ۱۳اکتوبر ۱۹۳۷ء کے’’ سکندر جناح پیکٹ‘‘ پر سخت الفاظ میں تنقید کی اور بعض حقائق اور مستقبل کے اندیشوں سے آگاہ کیا اورملک نصراللہ خان عزیز سے خواہش ظاہر کی کہ ان ’’اشارات‘‘ کو  مدینہ میں شائع کریں۔ چنانچہ یہ چشم کشا اور حقائق سے بھرپور خط -- اور شاید ’’اشارات‘‘ بھی -- یکم نومبر ۱۹۳۹ء کی مدینہ‘ بجنور کی اشاعت میں شائع ہوا۔(تذکرہ سید مودودی، ج ۳‘ ص ۴۷۶)

ہم نے اب تک جن دو واقعات کا ذکر کیا ہے ان کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ زبانی جمع خرچ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ہیں۔ ضرورت مزید ٹھوس دلیل کی ہے تو پھر سنیے: یہ شہادت ایک ایسے چشم دید گواہ کی ہے جو اس موقع پر بذاتِ خود موجود تھے۔ یہ پروفیسر غلام اعظم سابق امیر جماعت اسلامی مشرقی پاکستان کی گواہی ہے۔ یہ سننے اور سمجھنے کے لائق ہے کیونکہ یہ موت سے دُو بدُو اور دو چار ہونے کے وقت کی بات ہے جب لوگ چھپنے‘ بھاگنے‘ مدد مانگنے لگتے ہیں اور بدحواس ہو کر وہ کچھ کر بیٹھتے ہیں جس سے ان کی شخصیت کے ڈھکے گوشے عیاں ہوجاتے ہیں ورنہ اس وقت تک لوگ ان کو نڈر‘ شیر دل اور بہادر اور خدا معلوم کیا کیا گردانتے رہتے ہیں۔

یہ اکتوبر ۱۹۶۳ء کی بات ہے جب جماعت اسلامی کا سالانہ اجتماع لاہور میں منعقد ہونے والا تھا۔ اس اجتماع کو ناکام کرنے کے لیے صدر پاکستان ایوب خان ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ بہتر ہے کہ اس وقت ایوب انتظامیہ میں شامل ایک شخص کی گواہی پہلے سن لی جائے۔ یہ الطاف گوہر صاحب ہیں:

جب جماعت اسلامی نے لاہور میں ایک کنونشن منعقد کیا تو ایوب خان نے حکم دیا کہ اجتماع میں بعض ایسے لوگوں کو بھیجا جائے جو وہاں لیڈروں اور مقرروں سے بعض خاص سوالات پوچھیں۔ جب یہ ہدایات براستہ گورنر [نواب آف کالا باغ] ہوم سیکرٹری تک پہنچیں تو بڑی مکروہ صورت اختیار کرچکی تھیں۔ یہ کام چیف سیکرٹری کے حوالے کیا گیا جس نے علاقے کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ضروری کارروائی کرے۔ متعلقہ تھانے کے افسر انچارج نے چند غنڈوں کو اس کام پر متعین کر دیا جو شراب کے نشے میں دھت وہاں پہنچے‘ ہلڑ بازی اور مار دھاڑ شروع کر دی۔ گولیاں چلائی گئیں اور ایک پرامن مندوب جاں بحق ہو گیا۔(ایضًا‘ ص ۸۴)

پروفیسر غلام اعظم بتاتے ہیں: ایسی حالت میں مولانا مودودی کی بے باکی اور جرأت مندانہ لیڈرشپ کا جو ثبوت ملا وہ حیرت انگیز تھا۔ مولانا نے اعلان کیا کہ ’’رضاکاروں کے سوا سب کے سب بیٹھ کر تقریر سنتے رہیں۔ کوئی نہ اٹھے‘ نہ کوئی گھبرائے۔ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے رضاکاروں کو کام کرنے دیں۔ دوسرے سب اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہیں تو غنڈے کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔

میں مولانا کے پیچھے اسٹیج ہی پر بیٹھا ہوا تھا۔ مولانا نے تقریر جاری رکھی۔ غنڈوں کی جو ٹولی ڈائیس کی طرف بڑھ رہی تھی‘ رضاکاروں نے اسے گھیر لیا۔ اب وہ ہتھیار بلند کر کے مولانا کے خلاف نعرے لگانے لگے۔ یہ حالت دیکھ کر ایک ذمہ دار نے بلند آواز میں مولانا سے بیٹھ جانے کی درخواست کی کہ گولی چل رہی ہے۔ مولانا نے پرزور لہجے میں کہا: ’’اگر میں بیٹھ گیا تو پھر کھڑا کون رہے گا‘‘ اور تقریر جاری رکھی۔ (ایضًا‘ ص ۲۷۶)

یہاں پر یہ ذکر بے محل نہ ہو گا کہ جماعت کے اجتماعات کو غنڈوں کے ذریعے منتشر کرنے کی یہ پہلی کوشش نہیں تھی۔ اس سے پہلے‘ تقسیم ہند سے عین قبل‘ جماعت کے اجتماع منعقدہ مدراس کو وہاں پر مقامی مسلم لیگی حملہ آوروں نے منشتر کرنے کی ناکام کوشش تھی۔ شامیانوں کو آگ لگا دی تھی‘ لیکن نظم و ضبط اور صبروتحمل کے آگے ان کی کچھ بھی نہ چلی اور وہ ناکام رہے۔ الحمدللہ! (روداد جماعت اسلامی‘ پنجم)

  • عفو و درگزر: مولانا مودودیؒ کے ایک دیرینہ رفیق اور مینیجر محمد شاہ تھے۔ ان کی نازیبا حرکتوں کے بارے میں خواجہ احمد اقبال ندوی کہتے ہیں:

لاہور میں رسالہ ترجمان القرآن اور مکتبے کے انچارج محمد شاہ تھے۔ اس زمانے میں مولانا کا قیام دارالاسلام میں تھا۔ شاہ صاحب کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ مکتبے کی مطبوعات کے سلسلے میں خرد برد کر رہے ہیں اور بہت سی کتابیں دوسرے اداروں کے ہاتھ بیچ کر ذاتی فائدے حاصل کر رہے ہیں۔ مولانا نے ایک دن مجھے دارالاسلام میں حکم دیا کہ میرے ساتھ لاہور چلنا ہے۔ وہاں پہنچ کر شاہ صاحب کو مولانا نے مکتبے اور رسالے کا پورا چارج حوالے کرنے کا حکم دیا۔ شاہ صاحب نے اس موقع پر بھی ایک الماری کھولنے سے انکار کر دیا اور بتایا کہ اس میں میری ذاتی کتابیں ہیں اور پھر چارج دینے کے بعد اُسے اٹھا لے گئے۔ معلوم ہوا کہ الماری میں مولانا کی بہت سی کتابیںتھیں‘ جو انھوں نے ایک کتب فروش کے ہاتھ فروخت کیں۔ مولانا نے اس موقع پر نہایت اعلیٰ ظرفی سے کام لیا۔ معاملے کو عدالت تک نہیں لے گئے‘ اور نہ احباب کے مشورے کے باوجود شاہ صاحب کے ساتھ ہی کوئی سخت رویہ اختیار کیا بلکہ صبر و تحمل کے ساتھ ان سے گلو خلاصی کر لی۔ (تذکرۂ سید مودودی، ج ۲‘ ص ۳۱۲)

تاہم بعد میں مولانا مودودیؒ نے انھی محمد شاہ صاحب سے جو سلوک کیا‘ اس کا بیان جسٹس غلام علی مرحوم کی زبانی سنیے:

--- ویسے بھی میں نے کئی معاملات میں دیکھا ہے کہ مولانا کردار کی کس بلندی پر تھے۔ سید محمد شاہ ]کی[ بدمعاملگی پر مولانا نے ان کو اپنے ادارے سے الگ کر دیا تھا۔ کچھ عرصے بعد کراچی سے ان کا خط آیا کہ میں سخت بیمار ہوں‘ میری کچھ مدد کریں۔ مولانا نے فوراً کچھ پیسے بھجوا دیے۔ کچھ دن گزرے تو پھر خط آیا کہ میں سخت بیمار ہوں اور وہ پیسے خرچ ہو گئے ہیں‘ کچھ مزید تعاون فرمائیں۔ مولانا نے فرمایا اور بھیج دو۔ ہم نے سوچا کہ یہ تو بڑی عجیب صورت حال ہے کہ ہم اس طریقے سے پیسے بھیجتے رہیں۔ (تذکرۂ سید مودودی، ج ۳‘ص ۲۳۴)

ایک دن ایک صاحب مولانا سے ملنے آئے۔ جب وہ چلے گئے تو معلوم ہوا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ مالی دشواریوں کی وجہ سے دُبئی یا ابوظہبی جانا چاہتے ہیں۔ مولانا سے سفارشی خط لینے آئے تھے۔ حسبِ عادت مولانا نے سفارشی خط دیا جو کام آیا اور ان کو وہاں اچھی نوکری مل گئی۔

یہ کون حضرت تھے؟ یہ وہی فوجی افسر جیلانی صاحب تھے جنھوں نے مولانا کو پھانسی کی سزا سنائی اور جن کے دستخط انگریزی میں لکھے اس فیصلے پر ثبت ہیں جس کو تذکرۂ مودودی ، جلد اول میں ’تعارف عکس‘ کے ضمن میں صفحہ ۹۴۳ پر اخبارات میں پھانسی کی سزا کی خبر کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

دیکھا آپ نے؟ خرد برد کرنے والے پہلے شخص کو مزید مالی امداد‘ اور پھانسی کی سزا سنانے والے کے مسائل حل کرنے کے لیے سفارش--- اسے کہتے ہیں عالی ظرفی اور اونچا کردار! فجزاہ اللّٰہ خیراً

  • چھوٹوں کی ہمت افزائی: یہ چار واقعات خود میرے سامنے ہیں:

غالباً یہ ۱۹۵۵ء یا ۱۹۵۶ء کی بات ہے۔ ہم چند نوجوانوں نے حیدر آباد دکن میں حلقۂ طلبہ جماعت اسلامی‘ حیدر آباد کی بنیاد ڈالی اور اس کے تحت ایک لائبریری کے قیام کا ارادہ کیا۔ میں اس کا سیکرٹری تھا۔ میں نے مولانا مودودیؒ کو لاہور ایک خط لکھا‘ جس میں حلقۂ طلبہ اور ان کی لائبریری کے قیام کی اطلاع دی اور ترجمان القرآن مفت روانہ کرنے کی درخواست کی۔ چند ہی دن میں ترجمان آیا اور آتا ہی رہا۔ جب تک میں ثانوی درس گاہ جماعت اسلامی رام پور منتقل نہیں ہوا   اس وقت تک تو پابندی سے ترجمان آتا ہی رہا۔ بعد کا مجھے علم نہیں ہے۔ شاید آتا رہا ہو یہی   امکانِ غالب ہے۔

جب میں عدن پہنچا اور وہاں ڈاکٹر محمد علی البار اور محمد الخادم الوجیہ اور عمر سالم طرموم اور عبدالرحمن العمودی کے تعاون سے ’’المرکز الثقافی الاجتماعی الاسلامی‘‘ کی بنیاد ڈالی‘ تو میں نے اس مرکز کے دستور کے ساتھ جو عربی میں تھا‘ ایک خط مولانا کی خدمت میں روانہ کیا اور درخواست کی کہ اس کی لائبریری کے لیے ترجمان القرآن روانہ کریں تو ترجمان آنا شروع ہوگیا۔ خیال رہے کہ اس وقت تک میری مولانا سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ یہ صرف خدمت ِ اسلام کی خاطر مولانا نے ہمت افزائی کے طور پر مفت ترجمان روانہ کیا۔ مخبراللہ عنا خبراً

جولائی ۱۹۶۷ء میں یا اس کے آس پاس جب میں جدہ منتقل ہو گیا تو وہاں مولانا سے    پہلی بار شرف تعارف حاصل ہوا۔ میں اور استاذ محترم مولانا عمر بن عبداللہ بن طیران بن محفوظؒ نے  جدہ ایئرپورٹ پر مولانا کا استقبال کیا۔ کار میں بیٹھنے کے بعد بن محفوظ نے کہا کہ مولانا یہ وہی سید حامد الکاف ہیں جنھوں نے آپ کی خدمت میں سید قطب کی کتاب معالم فی الطریق کا ترجمہ روانہ کیا ہے۔ ہمارے دوست خلیل احمد حامدی بھی ساتھ تھے۔ مولانا نے ان کی طرف رخ کر کے فرمایا: ’’جی ہاں‘ آپ کا ترجمہ تو ملا ہے مگر اس میں عربیت زیادہ تھی۔ اس لیے میں نے اس کو ’’اردو وانے‘‘ کے لیے خلیل حامدی صاحب کو دیا ہے‘‘۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ نہیں معلوم اس  معالم فی الطریق کے پہلے ترجمے کا کیا ہوا؟ اتنا ضرور ہے کہ اس کی دو چار قسطیں سہ روزہ دعوت دہلی میں چھپی تھیں۔

میں نے مولانا سے عرض کیا تھا:’’میں رابطۃ العالم الاسلامی میں مترجم کی حیثیت سے کام کررہا ہوں۔ ان شاء اللہ کل آپ سے وہیں ملاقات ہو گی‘‘۔ دوسرے دن تقریباً ۱۱ بجے رابطہ کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ احوال کے تبادلے میں پوچھا: ’’کتنی تنخواہ ملتی ہے؟‘‘ عرض کیا: ’’۵۰۰ سعودی ریال‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ تو بہت کم ہے‘‘۔ میں نے کہا: ’’خدمتِ اسلام کا ادارہ ہے‘‘۔ فرمایا: ’’اس کے پاس پیسے کی کمی نہیں ہے۔ پھر اتنی کم تنخواہ کیوں؟ فوراً استعفا دیجیے ‘‘۔ اور واقعی اسی روز میں نے استعفا دے دیا اور عصر کی نماز میں مولانا کو بتا بھی دیا۔ کچھ بھی نہ کہا‘ خاموش رہے۔

جب گھر واپس ہوا تو کہا گیا :’’تمھیں حسن بن عبداللہ بن عجران بن محفوظ تلاش کر رہے تھے‘‘۔ میں ان سے ملا تو کہا کہ آج گھانا کونسلیٹ جنرل کے لوگ میری دوکان پر آئے ہوئے تھے۔ انھوں نے ایک مترجم کی ضرورت کا اظہار کیا ہے اور ماہانہ ایک ہزار سعودی ریال دینے کو تیار ہیں۔ یہ ان کا ٹیلی فون ہے ان سے بات کر لو۔ دوسرے دن ضروری کارروائی کے بعد مجھے ایک ہزار سعودی ریال کی نوکری مل چکی تھی۔ الحمدللّٰہ!

یہ مولانا کی طرف سے یہ درس تھا کہ آدمی کو کسی وجہ سے بلا وجہ اپنے آپ کو اور اپنی صلاحیتوں کو سستے داموں نہیںبیچنا چاہیے۔

اس کے بعد مولانا پھر رابطہ کے جلسوں میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔ جمعرات کا دن تھا۔ میں اور استاد محترم عمر بن محفوظ مغرب کے بعد مکہ مکرمہ کے شبرہ ہوٹل پہنچے جہاں مولانا کا قیام تھا۔ کچھ دیر بعد مکہ سے شائع ہونے والے روزنامہ الندوہ کا نمایندہ حاضر ہوا۔ مولانا خلیل حامدی موجود نہیں تھے۔ مترجم کی خدمت میں نے انجام دی۔ دوسرے دن‘ یعنی جمعہ کو یہ انٹرویو الندوہ میں شائع ہو گیا۔

مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا کہ میں اور عمر بن محفوظ دوسرے دن جمعہ کو صبح جدہ پیلس ہوٹل پہنچ جائیں گے جہاں مولانا‘ میاں طفیل محمد صاحب اور مولانا خلیل حامدی کے ہمراہ مقیم تھے۔ ہم دونوں حسب وعدہ کوئی ساڑھے آٹھ یا نو بجے ہوٹل پہنچ گئے۔ ہمیں دیکھ کر مولانا خوش ہوئے۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگے: ’’چائوش! میں نے مسجد دہلوی‘ مکہ مکرمہ میں نوجوانوں سے جو خطاب کیا ہے اس کو عربی میں آپ نے منتقل کرنا ہے‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ: ’’مولانا میں کوئی کہنہ مشق مترجم نہیں ہوں۔ تھوڑا بہت ترجمہ کر لیتا ہوں لیکن آپ کے خطاب کا صحیح اور دقیق ترجمہ میرے بس کا روگ نہیں ہے‘‘۔ مولانا خلیل حامدی نے حامی بھر لی تو مولانا‘ ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: ’’خلیل صاحب! عربی زبان ان کے گھر میں پل کر جوان ہوئی ہے۔ یہ جو کہہ دیں فصیح ہے اور جو لکھ دیں بلیغ ہے‘‘۔

میں سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ مولانا نے فرمایا: ’’چائوش! شروع ہو جائیں۔ آج رات انھیں (یعنی الندوہ والوں کو) دینے کا وعدہ ہے‘‘۔

میں نے ترجمہ کر دیا۔ دوسرے دن یہ تقریر الندوہ میں چھپ گئی۔ الحمدللہ

اس واقعے کے میاں طفیل محمد صاحب عینی گواہ ہیں۔ وہ خاموش بیٹھے یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے۔ مولانا کے ان الفاظ نے مجھے اتنی ہمت بخشی کہ کبھی بھی مجھے اپنی عربی/ اردو/ انگریزی زبانوں کے معیار کے بارے میں شک و شبہہ پیدا نہ ہوا‘کیونکہ یہ مولانا مودودیؒ کا وہ ادبی ذوق تھا جس کی نفاست اور بلندمعیار ہونے کے بارے میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

  • ہندستانی مسلمانوں کے لیے دلی ہمدردی: اسی جمعہ کے دن کوئی ۱۰ بجے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ شاید مولانا کو اندازہ تھا کہ لائن پر کون ہو سکتا ہے۔ مجھے ہدایت فرمائی کہ ٹیلی فون اٹھائوں۔ میں نے ٹیلی فون اٹھایا تو معلوم ہوا کہ بولنے والے سعودی عرب کے وزیر پٹرولیم احمد ذکی الیمانی ہیں۔ شاید اس وقت وہ قائم مقام وزیر تعلیم بھی تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں حسن بن عبداللہ آل الشیخ وزیر تعلیم کی طرف سے بول رہا ہوں۔ ثانوی مرحلے تک کی نصاب کمیٹی کی رپورٹ تیار ہے۔ آپ‘ یعنی مولانا‘ریاض تشریف لائیں اور اس پر ایک نظر ڈال کر اپنی آرا سے آگاہ فرمائیں۔ مولانا نے ریاض جانے سے معذرت کر دی۔

اس وقت دراصل مولانا مودودیؒ دلی کرب اور رنجیدگی کی حالت میں تھے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ رابطہ کے اجلاس میں مولانا نے احمد آباد میں وحشیانہ اور خون ریز مسلم کش فسادات پر کوئی قرارداد منظور کروائی‘ مگر شاہ فیصل نے اس کو روک لیا‘ یعنی اس کا اعلان کرنے سے منع کر دیا۔

مولانا نے فرمایا :’’ابھی ابھی گردے کے آپریشن سے لوٹا تھا۔ فسادات کی خبریں سن کر محض ان کی شنوائی کی خاطر ایک گردے کے ساتھ یہاں چلا آیا۔ بڑی مشکل سے تو قرارداد پاس ہوئی۔ اس کو بھی روک لیا گیا۔ اب ریاض جا کر کیا کروں؟‘‘

بہرحال وہ جدہ ہی سے لاہور واپس ہو گئے۔ یہ ان سے میری آخری ملاقات تھی۔ اللّٰھُمَّ اغفِرہُ والرحمہ یارب ۔ یہ واقعہ پہلی بار بیان کر رہا ہوں۔ الحمدللہ‘ میاں طفیل محمدصاحب بقیدحیات ہیں۔ وہ اس کے چشم دید گواہ بھی ہیں۔

  • فراخ دلی اور محبت: مولانا مودودیؒ بڑے فراخ دل واقع ہوئے تھے۔ وہ دل سے لوگوں سے محبت کرتے لیکن اس کا بے ساختہ اظہار نہیں کرتے تھے۔ لوگ اس کو سرد مہری قرار دیتے‘ لیکن بقول مولا نا محمد ناظم ندوی:’’مولانا کا ایک وصف یہ بھی تھا کہ وہ شایستگی‘ سلیقے اور وقار کے ساتھ تعلقات رکھنے والے فرد تھے۔ بلاشبہہ وہ تعلقات کے اظہار میں مبالغہ آمیز رویہ اختیار نہ کرتے تھے‘ جسے عام لوگ مولانا کی سرد مہری قرار دیتے‘ لیکن میرے نزدیک رویہ بھی ان کے اعتدال پسندانہ مزاج کا ایک پہلو تھا۔ وہ بظاہر فاصلے پر دکھائی دیتے‘ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ وہ دل کی گہرائیوں سے ہر فرد کا احترام کرتے تھے اور ہر اس فرد سے محبت کرتے تھے ‘جو دین کے لیے ذرہ برابر بھی کام کر رہا ہوتا تھا اور اس ضمن میں کبھی یہ تخصیص نہیں کی کہ وہ لازماً ان کا ارادت مند یا جماعت اسلامی کا کارکن ہی ہو‘‘۔(ایضًا‘ ص ۲۳۹)

اس سلسلے میں جسٹس غلام علی مرحوم کہتے ہیں: مولانا کے کردار کے حوالے سے اور بھی اس طرح کے کئی واقعات ہیں۔ مولانا عبیداللہ انور مرحوم پر ایک مرتبہ پولیس نے انتہائی تشدد کیا۔ مولانا انور کے شاگرد اور اہل خانہ ان کو اٹھا کر گھر لے گئے۔ مولانا مودودی کو جب یہ معلوم ہوا تو سخت افسوس ہوا۔ مولانا کو یہ بھی پتا چلا کہ ان کو گھر لے گئے ہیں‘ ہسپتال نہیں لے گئے‘ تو مولانا نے اپنے لڑکے کو غالباً صفدر حسن صدیقی کے ہمراہ بھیجا کہ میری طرف سے عیادت کریں اور مولانا کو ہسپتال بھی لے جائیں۔ انھیں کہیں کہ میں خود حاضر ہوتا ‘لیکن میری طبیعت چونکہ اس قابل نہیں ہے کہ کہیں آ جا سکوں‘ اس لیے معذرت خواہ ہوں۔ چنانچہ مولانا کے مشورے پر ہی ان کو ہسپتال لے جایا گیا۔

ایک دفعہ سعودی عرب میں کوئی کانفرنس تھی۔ مولانا محمد دائود غزنوی مرحوم بھی اس میں شامل تھے۔ ان کو کچھ تکلیف ہو گئی تو مولانا مودودیؒ رات بھر ان کے پاس بیٹھے رہے‘ حالانکہ مولانا مودودیؒ کی اپنی صحت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ مولانا ابوبکر غزنوی‘ مولانا مودودی کے اس طرزِ عمل سے بڑے متاثر ہوئے اور بعد میں اس کا ذکر بھی کرتے تھے کہ مولانا کے دل میں محبت و انس کا کتناجذبہ ہے۔(ایضًا‘ ص ۲۳۴)

اس سوال کے جواب میں کہ کوئی ایسا واقعہ یا واقعات جن پر مولانا کو سخت صدمہ پہنچا ہو؟ میاں طفیل محمدصاحب نے فرمایا: ’’چودھری غلام جیلانی مرحوم نے بتایا تھا کہ ایک واقعہ جس کا میں شاہد ہوں‘وہ یہ ہے کہ ریڈیو پاکستان پر محترم سید قطب کی شہادت کی خبر سننے کے بعد میں اچھرہ جا رہا تھا کہ راستے میں مولانا گلزار احمد مظاہری مل گئے۔ میں نے ان کو یہ خبر سنائی تو وہ بھی ساتھ ہو لیے۔ ہم ۵- اے ذیلدار پارک پہنچے تو مولانا کو بے حد ملول اور افسردہ پایا۔ ان کے چہرے پر خلافِ معمول زردی چھائی ہوئی تھی۔ اظہارِ تعزیت کرنے لگا تو مولانا خاموشی سے سنتے رہے۔ پھر ایک گہرا سانس لیا اور جذبات بھرے لہجے میں فر مانے لگے (اور یہ میری ۴۰ سالہ رفاقت میں پہلا تجربہ تھا کہ مولانا مودودی کو میں نے یوں جذبات میں ڈوب کر بات کرتے دیکھا) کہ کل رات مجھ پر مسلسل ڈپریشن طاری رہا۔ ہزار کوشش کے باوجود پڑھنے لکھنے کا کوئی کام نہیں ہو رہا تھا‘ آخر میں کام چھوڑ کر بیٹھ گیا۔ اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا اور فی الحقیقت میں بالکل نڈھال ہو گیا۔ خیال رہے کہ یہ عین وہی وقت ہو گا جب سیدقطب کو پھانسی دی جا رہی تھی‘‘ (چودھری غلام جیلانی کا کلام یہاں ختم ہوا)۔

میاں صاحب نے فرمایا: جہاں روحانی تعلق ہو وہاں ایسی کیفیت کا طاری ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس کی اور بھی مثالیں ہیں کہ بیٹے کو کوئی حادثہ پیش آیا اور کوسوں دور ماں کا دل ڈوبنے لگا اور بلا کسی ظاہری سبب کے وہ سخت پریشان ہو گئی۔ اسی طرح ۱۹۴۸ء میں سقوط حیدر آباد اور ۱۹۷۱ء میں سقوط ڈھاکہ بھی مولانا محترم کے لیے انتہائی صدمے کے موجب واقعات تھے اور علامہ اقبال‘ مولانا محمد علی جوہر اور قائداعظم کی وفات کے سلسلے میں تو مولانا محترم کے جذبات کا عکس ان کی تحریروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ (ایضًا‘ ص ۷۳)

کیوں نہ ہو۔ ان کا سید قطبؒ سے روحانی تعلق انتہائی گہرا تھا۔ ایک تو اس وجہ سے کہ   سیدقطب شہیدؒنے مولانا کی چار بنیادی اصطلاحوں (الہ‘ رب‘ عبادت‘ دین) کو نہ صرف اپنا یا‘ بلکہ ان پر حاکمیت اور سلطان وغیرہ کی اصطلاحوں کا اضافہ کیا۔ اپنی تفسیر  فی ظلال القرآن میں دو جگہ ان کو ’’المسلم العظیم‘‘ کے لقب سے یا د کیا۔ علاوہ ازیں بغیر علم اور لا شعوری طور پر قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں کی شرح مقوّمات الشعور الاسلامی (اسلامی تصور کی بنیادیں) دو ضخیم جلدوں میں لکھی۔ یہ سب کچھ غائبانہ تعارف کے تحت ہوا۔

مزید یہ کہ ان میں اور مولانا مودودی میں توارد فکری بکثرت پایا جاتا ہے۔ اس کی چند مثالیں میں نے اپنے مضمون:تفہیم القرآن اور صاحبِ تفہیم القرآنمیں دی ہیں۔ ان میں اضافے کی اچھی خاصی گنجایش ہے۔ مسئلہ سود پر انھوں نے دل کھول کر مولانا کے افکار کا ذکر کیا ہے۔ سورۂ نور کی تفسیر میں بھی انھوں نے مولانا کی ترجمہ شدہ کتاب تفسیر سورۃالنور سے بھرپور استفادہ کیا اور فخر کے ساتھ ان سب مقامات پر اپنے فکری مصادر اور اپنے ممدوح سید مودودی کا ذکر کیا ہے۔

ان کی شہادت کے وقت مولانا مودودیؒ کو ان تفاصیل کا علم نہیں تھا۔ اس وقت تک صرف معالم فی الطریق معروف ہوئی تھی اور اس پر مقدمہ چلا اور پھانسی کی سزا ہوئی۔  فی ظلال القرآنکا نظرثانی شدہ ایڈیشن بعد میں پھیلا اور عام ہوا۔ اس وجہ سے یہ روحانی اور تعلق خاطر حیرت انگیز امر ہے۔

میں تو بار بار یہ عرض کر چکا ہوں کہ سید قطبؒ نے اپنی فصیح و بلیغ عربی زبان میں لکھی ہوئی تفسیر کے ذریعے مودودیؒ اور فکر مودویؒ کو آسمان خلود کا ایک چمکتا دمکتا ستارہ بنا دیا ہے۔ فجز راھما اﷲ عنا خیر الخیرائ۔ یہ تفسیر تا قیامت جہاں جہاں اور جب جب پڑھی جائے گی‘ مودودیؒ اور فکر مودودیؒ کو زندہ اور تاب ناک کرتی رہے گی۔

یہ تو افراد کے ساتھ مولانا کی محبت کا بیان تھا۔ سقوط ڈھاکہ‘ ایک امت کا‘ ایک نظریے کا اور ایک ملک کا سقوط تھا۔ اس لیے اس کے اثرات بھی مولانا پر اتنے ہی گہرے اور مہلک پڑے۔ جب بیگم مودودیؒ سے پوچھا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کے سانحے پر مولانا کے جذبات کیا تھے؟ تو انھوں نے کہا:

اس سانحے سے ان پر کیا گزری اس کا اندازہ اسی ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھیں دل کا دورہ تبھی پڑا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مشرقی پاکستان کبھی الگ نہ ہوتا‘ اسے تو یوں سمجھئے کہ مغربی پاکستان والوں نے دھکے دے کر الگ کیا ہے۔ (ایضًا‘ ص ۲۰۰)

یہی کچھ سقوط حیدر آباد دکن کے بارے میں بھی صحیح ہے۔ ان کو حیدر آباد سے بے پناہ محبت تھی اس محبت کو ان مقالات کے عنوانات میں دیکھا جا سکتا ہے جو انھوں نے الجمعیۃ میں لکھے تھے (ایضًا‘ ص ۳۱۵-۳۱۶)۔ اور ان کتابوں میں ان کا عکس ہے جو انھوں نے دکن کی سیاسی تاریخ اور سلطنت آصفیہ اور حکومت برطانیہ کے تعلقاتکے عنوانوں کے تحت لکھیں۔ (ایضًا‘ ص ۳۱۷‘ ۶۹۲‘ ۷۶۶)

انھوں نے حیدر آباد کو ڈوبنے سے بچانے کی کوشش کی اس خط کے ذریعے کی جو میرے محسن اور کرم فرما جناب محمد یونس کے ہاتھوں جناب قاسم رضوی کو لکھا تھا مگر یہ جوش میں ہوش کھو بیٹھے تھے اور ایک پوری ریاست بھی کھو دی۔ (ایضًا‘ ص ۳۱-۳۲)

  • قائدانہ شان: ہم اس سے پہلے لاہور کے اجتماع میں گولی چلنے پر مولانا مودودیؒ کی پامردی اور ثبات اور اپنے مقام و منصب (یعنی منصب قائد) کے ادراک کی تصویر پیش کر چکے ہیں‘ لیکن اس سے ایک عرصہ پہلے بھی وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ تقسیم ہند کے وقت کر چکے تھے۔ اس سلسلے میں بیگم مودودی ؒکے انکشافات چشم کشا ہیں:

گورداسپور مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ تھا مگر دھوکا دہی سے ہندستان میں شامل کر دیا گیا۔ وہ دن ہم پر بڑے بھاری گزرے ---یہ اﷲ کا بڑا کرم تھا کہ سکھوں پر دارالاسلام کا بڑا رعب تھا۔ دارالاسلام کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا --- حالانکہ اہل دارالاسلام کے پاس ایک آدھ بندوق کے سوا کچھ نہ تھا۔ کتنی راتیں ہم نے وہاں اس طرح گزاریں کہ عورتیں میرے گھر میں جمع ہو جاتیں اور مرد مورچوں میں بیٹھے رہتے۔ ساری رات آنکھوں میں کاٹتے پھر غازی (عبدالجبار) صاحب نے ایک کانوائے بھیجا‘ ایک ٹرک ہم نے چوہدری نیاز علی خان کو دے دیا۔ ہم صرف عورتیں اور بچے پاکستان آئے تھے۔ مودودی صاحب نے آنے سے انکار کر دیا تھا کہ جب تک ان پناہ گزینوں کو مسلمان ملٹری آ کر اپنی حفاظت میں نہ لے لے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔(ایضًا‘ ص ۱۹۱)

--- ایک مہینے تک نہ ہمیں مولانا صاحب کی خبر تھی کہ وہ زندہ سلامت ہیں کہ نہیں اور نہ انھیں ہماری کچھ خبر تھی۔ کوئی مہینے ڈیڑھ مہینے بعد مسلمان ملٹری نے دارالاسلام کے پناہ گزینوں کو جب اپنی تحویل میں لے لیا تب مووددی صاحب نے وہاں سے پاکستان کا رخ کیا۔(ایضًا‘ ص ۱۹۰)

پاکستان آتے ہی مولانا نے کئی مہاجر کیمپ قائم کیے۔ نقد اور اشیا جمع کیں۔ سال ڈیڑھ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بعد ازاں سیلاب زدگان کی خدمت میں لگ گئے۔ چندہ‘ روپے پیسے‘ کپڑے وغیرہ جمع کیے۔

  • دولت سے بے نیازی: مولانا محمد ناظم ندوی نے میرے محسن اور کرم فرما چودھری غلام محمد مرحوم کے حوالے سے یہ واقعہ بیان کیا ہے:

یہ واقعہ چودھری غلام محمد مرحوم نے مجھ سے ذاتی طور پر بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ سعودی عرب کے ایک سفر کے دوران جدہ کا ایک بہت بڑا تاجر جو مولانا سے ملاقات کی غرض سے آیا۔ وہ مولانا کی اسلام کے لیے خدمات اور ان کا دلی طور پر معترف تھا۔ کچھ دیر بات چیت کے بعد اس نے ایک سادہ دستخط شدہ چیک بڑی عقیدت کے ساتھ مولانا مودودیؒ کی خدمت میں پیش کیا اور کہا: ’’مولانا اشاعت اسلام کے لیے جنتی رقم مطلوب ہو وہ آپ اپنے قلم سے لکھ لیجیے گا‘‘!! --- مولانا نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر چیک واپس کر دیا اور فرمایا: ’’آپ کابہت بہت شکریہ۔ جب ضرورت ہو گی لے لیں گے‘‘۔ اس تاجر نے یہ سنا تو حیرت سے اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔(ایضًا‘ ص ۲۴۰-۲۴۱)

اسی ابہام کو دور کرنے کی خاطر یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ تاجر عبداﷲ شرتبلی تھے۔ بعد میں انھوں نے لسٹر (برطانیہ)کانو (نائجیریا) اور نیروبی (کینیا) میں اسلامک فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالنے میں بڑھ چڑھ کر مالی لحاظ سے حصہ لیا۔ اس عظیم منصوبے کے سلسلے میں بھاگ دوڑ کئی سالوں تک چودھری غلام محمد کرتے رہے ہیں۔ اسی غرض سے وہ عدن سے ہو کر مشرقی افریقہ گئے تھے اور عدن ہی میں میری ان سے پہلی ملاقات ہمارے دوست عمر سالم طرسوم کے واسطے سے ہوئی تھی۔ جدہ میں جب چودھری صاحب تشریف لاتے تو اکثر راؤ محمد اختر صاحب کے گھر پر ٹھیرا کرتے تھے۔ بعض اوقات میں بھی ترجمہ کر کے خون لگا کر شہیدوں میں شامل ہو جایا کرتا تھا۔ برادرم راؤ اختر‘ چودھری صاحب کے دست وبازو تھے۔ آگے چل کر وہ اس منصوبے کے افریقہ کی حد تک روح رواں ہوگئے۔

میں صرف ان ۱۱ شخصی عناصر ترکیبی کا ذکر کرنے پر اکتفا کروں گا‘ جن سے مودودی صاحب کی شخصیت کا خمیربنا تھا اور جس نے نہ صرف ہند و پاک بلکہ عالمی پیمانے پر احیاے اسلام کی تحریک کو فکری اور عملی سطحوں پر زبردست فائدہ پہنچایا۔


حواشی

۱-            تذکرہ سید مودودی ‘ج ۳‘ مرتبہ: جمیل احمد رانا‘ سلیم منصورخالد‘ ص ۳۲۵۔ یہ حوالہ صرف ترجمان کی ’ملکیت‘ کے بارے میں ہے۔ باقی باتیں میں نے حافظے کے بل پر کہی ہیں - حوالہ اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔ مولانا ابومصلح کی سیرت کے لیے ملاحظہ ہو: تذکرۂ سید مودودی‘ ج۲‘ ص ۳۲۴ - ۳۲۶

۲-            ترجمان القرآن‘ ستمبر ۲۰۰۲ئ‘ ص ۳۷ - ۴۷۔ تذکرۂ سید مودودی ج ۳‘ ص ۱۷ - ۱۷۷۔ مشاہدات‘ از میاں طفیل محمد‘ ادارہ معارف اسلامی‘ لاہور۔

۳-            تذکرۂ سید مودودی ج ۳‘ ص ۱۷۸ - ۲۱۰‘ بیگم مودودی ؒ کا انٹرویو

                اس سلسلے میں دوسرے رفقا اور معاصرین کے مشاہدات سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ میاں طفیل محمد صاحب فرماتے ہیں: ’’ہم لوگوں کی معاشی زندگی کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ دارالاسلام میں تو بعض دنوں خود مولانا مودودی ؒکے ہاں چولھا نہیں جلتا تھا لیکن مولانا محمد منظور نعمانی ؒصاحب جیسے بزرگ ان کے سفید کرتے اور پاجامے اور دوپلی ٹوپی سے یہی اندازہ کرتے تھے کہ وہ کوئی رئیسانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔‘‘ (تذکرۂ سید مودودی‘ ج ۳‘ ص ۱۱۶)

مولانا مودودیؒ کا یہ معمول تھا کہ آپ صبح آٹھ بجے ناشتہ کرتے اور دفتر تشریف لے آتے۔ جواب طلب خطوط اگر ہوتے تو ان کے جوابات لکھتے۔ جب تک آپ امیر جماعت رہے تو اس دوران میں امیر جماعت کی حیثیت سے جو ڈاک آتی اسے بھی نمٹاتے۔

دفتری اوقات میں ملاقات کے لیے بھی لوگ آتے رہتے تھے۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہان، وکلا، علما و دانش ور اور دیگر معززین تشریف لاتے۔ نماز ظہر تک یہ سلسلہ جاری رہتا۔  ایک بجے نماز ظہر ادا کی جاتی۔ نماز کے بعد اندر کھانے کی میز پر کھانا تیار ملتا۔ اہل خانہ مولانا صاحب کے انتظار میں بیٹھے ہوتے۔ اس انتظارکا وقت چند منٹوں تک محدود رہتا۔

دوپہر کے کھانے کے بعد اندر ہی کمرے میں لیٹ کر اخبار کا مطالعہ فرماتے۔ قومی جملہ اردو، انگریزی اخبارات دیکھتے۔ انگریزی بیرونی رسائل بھی دیکھے جاتے اور ضرورت کی اہم چیزوں پر نشان لگا دیے جاتے۔ اسی دوران میں اگر نیند غلبہ کرتی تو کچھ دیر کے لیے نیند کر لیتے۔ اردو انگریزی جتنے اخبار اندر ساتھ لے جاتے تھے وہ سب عصر کے وقت جب دفتر میں تشریف لاتے تو واپس لے آتے۔ انھیں ایک متعین جگہ پر رکھوا دیا جاتا۔پھر نماز عصر ادا کی جاتی۔ نماز کے بعد اندر تشریف لے جاتے اور ایک کپ چائے نوش فرماتے۔ نماز عصر کے بعد چائے لازماً پیتے تھے یہ ان کا معمول تھا۔ باقی دن میں کسی مہمان کے لیے چائے تیار کروائی جاتی تو مہمان کے ساتھ شریک ہوجاتے۔ ناشتے کی چائے کے علاوہ یہ چائے ہوتی جو مہمان کے ساتھ پیا کرتے تھے۔

نماز عصر کی چائے کے بعد اپنی قیام گاہ کے صحن میں تشریف لاتے۔ حاضرین بھی اور    باہر سے آنے والے بھی اور مقامی حضرات بھی آ جاتے۔ اخبارات کی سیاسی خبروں اور تبصروں پر  ہلکی پھلکی گفتگو ہوتی۔ دیگر ہر طرح کے سوال بھی پیش کیے جاتے اور بہت مختصر سے جوابات دیے جاتے۔ سائل اپنے جواب پر مطمئن ہو جاتے تھے۔

مغرب کی اذان سے کچھ قبل یہ خوش گوار مجلس ختم ہو جاتی۔ مولاناؒ نماز مغرب کے بعد اپنے دفتر میں بیٹھ جاتے۔ اور اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے۔

رات کے کھانے اور نماز عشاء کے بعد پھر دفتر میں بیٹھ جاتے اور دیر تک کام کرتے تھے۔ تفہیم القرآن کا آخری حصہ بھی انھی اوقات میں مکمل کیا گیا۔ رات کو بھی کم ہی سوتے تھے۔ بسااوقات صبح کی اذان ہو جاتی تھی۔ رمضان المبارک میں ۲۰ تراویح ادا کرنے کے بعد پھر دفتر میں بیٹھ کر کام شروع کر دیتے تاآنکہ گھر والے سحری کھانے کے لیے بلاتے۔ نماز فجر کے بعد آرام کی غرض سے کچھ دیر سوتے تھے۔ رمضان کے مہینہ کے علاوہ بھی سونے کا یہی وقت تھا۔

۱۹۴۲ء میں جب ہندستان Quit India کی کانگریسی تحریک کی لپیٹ میں تھا‘ راقم اس وقت دارالعلوم ندوۃ العلما میں زیرِ تعلیم تھا ۔ ندوہ کے اکثر طلبہ مولانا ابوالکلامؒ آزاد کے دلدادہ اور جمعیت علماے ہند کے زیر اثر تھے ۔ مگر طلبہ کی ایک اچھی خاصی تعداد قائدِ اعظم محمد علی جناح اورآل انڈیا مسلم لیگ کی ہم خیال اور پر زور مؤید بھی تھی ۔ دونوں گروہوں میں پر جوش مباحثے ہوتے‘ جب کہ کانگریس کے طرف دارطلبہ انگریزوں کے خلاف توڑ پھوڑ کے پروگرام بھی بناتے۔ اس انتہائی تنائو کے ماحول میں‘ تنہا میں ‘مولانا سید ابو الا علیٰ مودودیؒ کی دعوت ’’حکومت الٰہیہ کی تاسیس کی دعوتــ‘‘ کو نہایت اعتماد کے ساتھ پیش کرتا اور دونوں کیمپوں کے پرجوش حامیوں کے مقابلے پر ڈٹا رہتا ۔

میرے اندریہ حوصلہ دراصل مولانا سید ابو الا علیٰ مودودیؒ کی تحریروں اور ان مضامین کو پڑھنے سے پیدا ہوا تھا‘ جو مسلمان اور مو جودہ سیاسی کش مکش (سوم) میں شامل کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ با لخصوص اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟کے عنوان سے مولانا کی وہ تقریر جو انھوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں کی تھی اس کو پڑھ کر تو دل میں ا یسا ایمان و ایقان اور جوش پیدا ہو گیا‘ جس کو ظاہری شعلہ زنی سے بے نیاز ‘مگر کبھی ٹھنڈی نہ ہونے والی آگ سے مشابہ قرار دینا صورت حال کی واقعی تعبیر ہو گی -

جب مسلمانوں کے تمام ممالک اور ملت میں شامل تمام اقوام‘ مغربی استعمار کا صید زبوں بنی ہوئی تھیں اور مغرب کی مادی برتری نے اس کی فکری بر تری کی بھی دھاک بٹھا رکھی تھی ‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اس وقت برعظیم کے مسلمانوں کو اسلامی انقلاب برپا کرنے کے نصب العین کی طرف دعوت دی ۔ یہ دعوت اس وقت دی گئی جب برعظیم کے وہ مسلمان لیڈر جو مغربی تہذیب و ثقافت کے پروردہ تھے ان کو تو چھوڑیے‘ بڑی بڑی دینی درس گاہوں کے سکہ بند بلکہ سکہ ساز علماے کرام بھی وطنی قومیت ‘ آزادی اور جمہوریت کے خالص مغربی تصورات کے مبلغ اور انھی تصورات کو سر بلند کرنے کی جد و جہد میں ’جہادی جذبے‘ کے ساتھ سر گرم عمل تھے ۔ حالت یہ تھی کہ اسی طبقہ علما سے تعلق رکھنے والے ایک محقق‘ مصنف اور شہرہ آفاق خطیب نے ’اسلام کے اقتصادی نظام‘ پر اپنی ایک محققانہ تصنیف میں اس رائے کا اظہار فرمایا : چونکہ اسلام کے اقتصادی نظام کو اس وقت بر سر کار لانا ممکن نہیں اس لیے اس ’’ قریب تر ‘‘ اشتراکی نظام کو قائم کرنے کی جد و جہد کرنی چاہیے ۔ یہ وہ وقت تھا جب ترکی سے خلافت کا خاتمہ کرنے و الے ‘ عربی رسم الخط کو ممنوع ‘ اسلامی قوانین کو منسوخ اور عربی میں اذان دینے پر پابندی لگانے والے کمال کو برعظیم کے مسلمان ’’ غازی مصطفی کمال ‘‘ کے معزز لقب سے یاد کرتے تھے۔

۱۹۴۲ء میں مولانا مودودیؒکی ایمان پرور اور انقلابی تحریریں پڑھ کرمیں اپنے طلبہ ساتھوں سے بڑے فخر کے ساتھ کہا کرتا تھا کہ ایک اسلامی ریاست میں اگر مجھے ایک چپراسی کی حیثیت سے خدمت کرنے کا موقع نصیب ہو جائے تو میرے لیے ایک بڑا اعزاز ہو گا ۔

میں اپنے ساتھیوں کو تحریروں کے اقتباسات پڑھ پڑھ کر سنا تا تھا‘ مثلاً: ’’مسلمان کو صرف اس چیز سے بحث ہے کہ یہاں انسان کا سر حکم اللہ کے آگے جھکتا ہے یا حکم الناس کے آگے ۔ اگر حکم اللہ کے آگے جھکتا ہے تب تو’’ ہندستان ‘‘ کو اور زیادہ وسیع کیجیے‘ ہمالیہ کی دیوار کو بیچ سے ہٹایئے اور سمندر کو بھی نظر انداز کر دیجیے تاکہ ایشیا ‘ افریقہ ‘ یورپ اور امریکہ‘ سب ہندستا ن میں شامل ہو سکیں‘ اور اگر یہ حکم الناس کے آگے جھکتا ہے توجہنم میں جائے ہندستان اور اس کی خاک کا پرستار ‘‘ --- اور یہ کہ: ’’مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرے لیے اس مسئلے میں بھی کوئی دل چسپی نہیں ہے کہ ہندستان میں جہاں مسلمان کثیرالتعداد ہیں وہاں ان کی حکومت قائم ہو جائے ۔میرے نزدیک جو سوال سب سے اہم ہے وہ یہ کہ آپ کے اس پاکستان میں نظام حکومت کی اساس خدا کی حاکمیت پر رکھی جائے گی یا مغربی جمہوریت کے مطابق عوام کی حاکمیت پر ؟اگر پہلی صورت ہے تو یہ یقینا پاکستا ن ہو گا‘ ورنہ بصورت دیگر یہ ویسا ہی ’نا پاکستان‘ ہو گا جیسا ملک کا وہ حصہ ہو گا جہاں آپ کی اسکیم کے مطا بق غیرمسلم حکومت کریں گے‘‘۔

مولانا مودودیؒنے دلوںمیں نہ بجھنے والی جو آگ روشن کی تھی وہ محض اس قسم کی پر جوش عبارتوں سے روشن نہیں کی تھی‘ جس کی عمر ’’اگر ماند شبے دیگر نمی ماند‘‘ کی طرح بہت مختصر ہوتی ہے‘ بلکہ اس کے پیچھے ۱۹۲۴ء سے لے کر ۱۹۴۰ء تک تیار ہونے والا وہ فکری اور علمی لٹریچر تھا‘ جس نے اس زمانے میں اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے تمام اعتراضات اور شکوک و شبہات کا تارو پود بکھیر دیا تھا۔  الجہادفی الا سلام ‘ اسلامی تہذیب کے اصول و مبادی‘ تفہیمات‘ تنقیحات‘ مسئلہ جبرو قدر ‘ پردہ ‘ حقوق الزوجین اور تجدید و احیاے دین جیسی بلند پایہ کتب میں ان مسائل پر بھی مفصل بحث کی گئی تھی جو مغربی تہذیب کی وجہ سے ذہنوں میں پیدا ہوگئے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی نظام زندگی کے ہر پہلو کو بھی نہایت دل نشیں انداز میں   مثبت طور پر سامنے لایا گیا تھا ۔

اس لٹریچر سے ہندستان کے طول و عرض میں بکھرے ایسے بہت سے افراد پیدا ہو گئے تھے‘ جو اسلام کی صداقت اور دور حاضر میں ممکن العمل سب سے بہتر نظام ہونے پر قلبی اطمینان اور ذہنی یکسوئی رکھتے تھے ۔ انھی بکھرے ہوئے لوگوں میں سے چند با ہمت افراد نے ۲۶ اگست ۱۹۴۱ء کو لاہور میں  جمع ہو کر جماعت اسلامی قائم کر دی ۔

جماعت اسلامی کی تاسیس کے بعد مولانا مودودیؒکی علمی اور تحقیقی کتب جو محض اپنی قوت سے مسلم ہندستان کے اہل فکر کے حلقوں میں پذیرائی حاصل کر رہی تھیں‘ ان کے پھیلنے کی رفتار بہت تیز ہوگئی ۔ کیونکہ جماعت سے وابستہ ہر شخص ان کتابوں کی اچھی خا صی تعداد اپنے پاس رکھتا اور معاشرے میں ہمہ وقت ایسے اصحابِ ذوق کی تلاش میں رہتا جن کویہ کتب مطالعے کے لیے دی جا سکیں۔ اس سلسلے میں’’پہلے کون سی کتاب مناسب ہو گی‘‘، کا انتخاب مشکل کام ہوتا تھا۔ مگر دعوت کے جذبے سے سرشار جماعت کے کارکن اپنے تجربات سے فائدہ اٹھا کر ہر شخص کے ذہن کے مطابق کتاب کے انتخاب میں خا صی مہارت کا ثبوت دیتے تھے۔

۱۹۴۶ء میں جب کانگریس کی طرف میلان رکھنے والے مسلمانوں اور مسلم لیگی فکر رکھنے والوں کے درمیان گرما گرم مباحثے ہر سطح پر برپا رہتے تھے‘ لکھنؤ میں جماعت اسلامی کے ایک کارکن کے بڑے بھائی کانگریس کے بہت زیادہ طرف دار تھے۔ ہندئووں اور کانگریسیوں کے بعض متعصبانہ کاموں کے باعث وہ کانگریس سے بیزار ہوئے تو ان کے برادر خورد میرے پاس آئے کہ ان کو    اس موقع کی مناسبت سے کوئی کتاب مطا لعے کو دی جائے۔ ابتداً میں نے کانگریس کے خلاف ان کے جذبات کو پختہ تر کرنے کے لیے  مسلمان اور موجودہ سیا سی کش مکشحصہ دوم   دی‘ مگر تھوڑی ہی دیر میں میری رائے تبدیل ہوئی‘ چنا نچہ میں نے ان کو حصہ دوم کی بجاے سیاسی کش مکش ‘ حصہ سوم دینے کا فیصلہ کیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حصہ دوم پڑھ کر ان کی کانگریس کے خلاف نفرت تو یقینا پختہ تر ہو جاتی‘ مگر شائد وہ جماعت کے کام کے لیے آگے نہ بڑھتے۔ چنانچہ حصہ سوم پڑھ کر میرے اندازے کے عین مطابق وہ جماعت اسلامی کے کارکن بن گئے۔

ان کتب کے انگریزی تراجم‘ نیز جنوبی ہندستان کی بعض علاقائی زبانوں میں بھی تراجم تیار ہو گئے‘ لیکن ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی ۔ جماعت اسلامی کے قیام کا دوسرا بڑا علمی فائدہ یہ ہوا کہ مذہبی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے جماعت کے خلاف اور با لخصوص مولانا مودودیؒکی فکر کے خلاف زبردست طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ ہر طرف سے جماعت پر اعتراضات کی بو چھاڑ شروع ہو گئی ‘ مذہب اور بالخصوص اسلام دشمن حلقے اسلام اور مذہب کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ زور و شور سے گمراہ کن سوالات اٹھانے لگے۔ اس فضا میں بھلا قادیانی اور منکرین حدیث کیوں پیچھے رہتے۔ انھوں نے بھی اپنے ’’ علم کلام ‘‘ کے پٹاخوں سے فضا کو دھواں دھار بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایسے میں اٹھائے گئے ان اعتراضات کے مدلل جواب دینے کی ضرورت پیش آئی جو شاید عام حالات میں اس طرح سے سامنے نہ آتی۔ یوںاسلام کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے علمی کام کا ایک موقع میسر آگیا۔

چنانچہ مولانا مودودیؒاس علمی چیلنج کا سامنے کرنے کے لیے کم ازکم۱۹۴۵ء تک با لکل تن تنہا اور اس کے بعد بھی ‘ جب کہ ان کو مولانا امین احسن اصلاحی ؒ کی کمک میسر آ گئی تھی‘ زیادہ تر خود ہی   تمام سوالات و اعتراضات کے جوابات اپنے مضامین کے ذریعے اور  ترجمان القرآن میں ’’رسائل و مسائل‘‘ کے مستقل عنوان کے تحت بڑے اعتماد اور جی داری سے لکھتے رہے۔

مولانا مودودیؒ کے یہ جوابات رسائل مسائل کے نام سے پانچ حصوں میں شائع ہوچکے ہیں‘ حقیقتاً ایک با لکل نئے طرز تحریر کا اعلیٰ نمونہ ہیں ۔ ان کے اندر علمی وضاحت‘ تحقیقی متانت‘ منطقی استدلال اور ادبی جمال کے ساتھ لطیف مزاح اور ایسے طنز و تعریض کی آمیزش بھی ہے جس کا نشانہ بننے والا کبھی تو خود بھی لطف لیتا ہے اورکبھی اس کی کسک برسوں بلکہ زندگی بھر نہیں بھول پاتا ۔

ایک صاحب کو شکایت تھی کہ ان کی غیر شادی شدہ بہن مولانا مودودیؒکی کتب پڑھ کر اس درجہ اسلامی احکام اور پردے کی پابند ہو گئی ہے کہ وہ ایسی معاشرتی تقریبات سے بھی دور رہتی ہے‘ جو اس کے خیال میں اسلام کے خلاف ہیں اور اپنے لباس و معاشرت کے لحاظ سے وہ خاندانی روایات کو یکسر ترک کر چکی ہے‘ تو بتائیے کہ اب اس کا رشتہ آئے گا تو کہاں سے آئے گا؟ اس پر اپنی ’’ فریاد ‘‘ بیان کرنے کے بعد انھوں نے مولانا مودودیؒسے درخواست کی کہ وہ ان کی بہن کو سمجھائیں‘ تاکہ وہ کسی طرح اس طرز زندگی سے باز آ جائے۔ اس طویل فریاد کا جواب دیتے ہوئے مولانا مودودیؒ نے صرف یہ لکھا :ــ ’’اس معاملے میں ‘ میں خود بھی بے بس ہو ں۔ آپ اپنے طور پر ہی کوشش کریں کہ آپ کی ہمشیرہ اسلام سے توبہ کر لیں‘‘۔ (رسائل و مسائل‘ حصہ دوم‘ ص ۴۲۷)

اس خوش گوار اور مقصدی طنز و تعریض کے ساتھ ساتھ جب کوئی علمی مسئلہ زیرِ بحث ہو‘ خواہ اسلام کے کسی حکم کے حوالے سے یا جدید سائنسی تحقیقات کے حوالے سے‘ تو زور استدلال کے ساتھ ایسا اجمال جس سے بات سمجھنے میں خلل واقع نہ ہو اور ایسی تفصیل جس کا کوئی حصہ ضرورت سے زیادہ نہ ہو‘ اس کی مثالیں رسائل و مسائل کے ہر صفحے پر مل جائیں گی۔ ایک جگہ الجامع الصحیح کی ایک حدیث پر ایک صاحب کے اعتراض کے جواب میں مولانا مودودیؒنے لکھا ہے: ’’اس (حدیث) میں دراصل جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ سورج ہر آن اللہ کے حکم کا تابع ہے ۔ اس کا طلوع بھی اللہ کے حکم سے ہوتا ہے اور اس کا غروب بھی ۔ سورج کا سجدہ کرنا ظاہر ہے کہ اس معنی میں نہیں ہے جس معنی میں ہم نماز میں سجدہ کرتے ہیں‘ بلکہ وہ اس معنی میں ہے جس میں قرآن دنیا کی ہر چیز کو خدا کے آگے سر بسجود قرار دیتا ہے‘ یعنی کلیتاً تابع امرِ رب ہونا ۔ پھر سورج کا مغرب ایک نہیں بلکہ قرآن کی رو سے بہت سے مغرب ہیں ۔ کیونکہ وہ ہر آن ایک خطۂ زمین میں غروب اور ہرآن دوسرے خطے میں طلوع ہوتا ہے ۔ اس لیے اجازت مانگ کر طلوع و غروب ہونے کا مطلب ہرآن امر الٰہی کے تحت ہونا ہے‘‘۔

حدیث سے زمین کے ساکن اور سورج کے گردش کرنے کا جو تاثر ملتا ہے‘ اس پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مزید تحریر فرماتے ہیں: ’’ان (انبیا) کا کام یہ بتانا نہ تھا کہ زمین حرکت کرتی ہے یا سورج‘ ان کا کام تو یہ بتانا تھا کہ ایک ہی خدا زمین و سورج کا مالک و فرماںروا ہے اور ہر چیز ہر آن اسی کی بندگی کر رہی ہے‘‘۔

ایک دوسری مثال میں مولانا مودودیؒنے ذیل کی اس مختصر عبارت میں’’زکوٰۃ‘‘کی شرعی تعریف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اعلیٰ مقاصد اور فرد و معاشرے پر اس کے تعمیری اثرات کو بیان فرمایا ہے: ’’زکوٰۃ‘‘ کے لغوی معنی طہارت اور نمو کے ہیں۔ انھی دونوں صفتوں کے لحاظ سے اصطلاح میں زکوٰۃ اس مالی عبادت کو کہتے ہیں جو ہر صاحب ِنصاب مسلمان پر اس لیے فرض کی گئی ہے کہ خدا اور بندوں کا حق ادا کر کے اس کا مال پاک ہو جائے اور اس کا نفس ‘ نیز وہ سو سائٹی جس میں وہ رہتا ہے بخل ‘ خود غرضی ‘ بغض وغیرہ جذبات و رویے سے پاک ہو اور اس میں محبت و احسان‘ فراخ دلی اور باہمی تعاون و مواساۃ کے اوصاف نشو و نما پائیں‘‘۔ (رسائل و مسائل‘ حصہ دوم‘ ص ۹۴)

برعظیم کی حدود سے نکل کر مولانا مودودی ؒ کی تحریر عالم اسلام کے افق پر اس وقت طلوع ہوئی جب عرب دنیا میں بالعموم اور مصر میں با لخصوص اسلامی تحریک اخوان المسلمون کا دور شباب تھا ۔ ترکی میں بدیع الزمان سعید نورسی کی تحریک اور دیگر اسلامی تحریکیں زیر زمین سر گرمِ عمل تھیں اور ایران میں شاہ کے ظالمانہ دور حکومت میں علما اور مجتہدین نہایت خاموشی سے اسلامی فکر کی آبیاری کر رہے تھے ۔

یہی وہ وقت تھا جب استادِ محترم جناب مولانا مسعود عالم ندوی ؒ نے مرکز جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ’’دار العروبہ‘‘ کے نام سے ایک مستقل ادارہ قائم کیا۔ مولانا ندوی مرحوم سے عالم عرب کے ادیب‘ علما اور صحا فی پہلے ہی سے اچھی طرح آشنا تھے ۔ وہ عرب دنیا میں ’’ عین العروبہ ‘‘ کے لقب سے پہچانے جاتے تھے ۔ مر حوم کو اپنی صحت اور برعظیم کے پرا گندہ سیاسی حالات کی وجہ سے یکسوئی سے  کام کا موقع کم ہی مل سکا‘ تاہم انھوں نے جالندھر میں تقسیم ہند سے ذرا قبل کام شروع کر دیا تھا۔ چنانچہ مولانا مودودیؒ کے بعض اہم مضامین کا عربی میں ترجمہ کرنے کے علاوہ انھوں نے وسیع پیمانے پر خط و کتابت کے ذریعے عالم اسلام کی ممتاز شخصیات سے رابطہ کر کے ان کو جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ سے متعا رف کرایا۔ جالندھر میں ابھی کام کا آغاز ہی ہوا تھا کہ ملک کی تقسیم عمل میں آگئی اور مولانا ندویؒ اپنے رفیق کار عاصم الحداد مرحوم کے ساتھ نہایت بے سر و سامانی کی حالت میں پاکستان آ گئے۔ یہاں اپنے کام کو جلد از جلد منظم کرنے کے بعد وہ عاصم الحدادؒ کے ساتھ عرب ممالک کے دورے پر روانہ ہو گئے ۔ یہاں علما اور ادیبوں سے براہ راست طویل مذاکرات کیے ۔ اسی ز مانے میں مولانا مودودیؒ کے متعدد اہم مضامین اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟ ، اسلام کا نظریۂ سیاسی اوردین حقوغیر ہ کا تر جمہ عربی زبان میں شائع ہو چکا تھا ۔ ان تراجم کو عرب دنیا میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی ۔ اخوان المسلمون کے رہنمائوں اور کارکنوں نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ سیدقطب ‘ ان کے بھائی محمد قطب ‘ محمد الغزالی ‘ شیخ محمد محمود صواف‘ ڈاکٹر مصطفی سباعی اور بے شمار علما اور رہنما ان سے متاثر ہوئے ۔ اس کے بعد جب مولانا مودودی کی دیگر اہم کتب کا تر جمہ عربی میں شائع ہوا تو عرب دنیا میں مو لانا مودودی کی فکری قیادت با لخصوص اسلامی حلقوں میں مسلّم ہو گئی ۔

انھی عربی تراجم کی مدد سے چند اہم مضامین کے تر جمے فارسی میں ایران کے دینی مرکز ’’قم‘‘ سے شائع ہوئے ۔ انگریزی تراجم اور عربی تراجم کی مدد سے کئی مضامین کے ترجمے ترکی زبان میں بھی شائع ہوئے ۔ اس کام کے لیے چودھری غلام محمد مرحوم اور جناب خلیل احمد حامدی مرحوم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ پھر خود مولانا مودودیؒ کے دوروں سے ‘ جو حج و عمرے کے علاوہ رابطہ عالم اسلامی ‘ مدینہ یونی ورسٹی اور دیگر علمی و دعوتی مقاصد کے لیے کیے گئے تھے‘ ان سے مولانا مودودیؒ کو عالم اسلام کے فکری قائد کا مرتبہ حاصل ہو چکا تھا ۔

راقم کو ۱۹۷۱ء سے لے کر اب تک دنیا کے بہت سے ملکوں کا سفر کرنے کا موقع ملا ۔ بالخصوص شرق اوسط کے ممالک: بحرین‘ کویت ‘ قطر ‘ متحدہ عرب امارات ‘ سعودی عرب تو بار بار جانا ہوا اور الحمدللہ عوام کے ساتھ ساتھ علما ‘ مشائخ ‘ صحافی‘ وزرا اور حکومت کے ذمہ داروں سے تبادلۂ خیال بھی ہوا۔ میں نے ان میں بھاری اکثریت ایسے لوگوں کی پائی ‘جو نہ صرف یہ کہ مولانا مودودیؒ کو اچھی طرح جانتے تھے‘ بلکہ ان کے علمی ‘ فکری اور تحریکی جد و جہد کے معترف اور قدر دان بھی تھے ۔

میری اس بات کو ہر گزمبالغہ نہ سمجھا جائے کہ اس وقت پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی اسلام کے لیے جد و جہد ہو رہی ہے‘ میرے مشاہدے کے مطابق‘ اس جدو جہد میںبلا واسطہ یا با لواسطہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کے کام کا پر تو اور ان کی فکر کے اثرات واضح طور پر مو جود ہیں ‘ بلکہ جو افرا دیا  تنظیمیں زبان سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی مخالفت کرنے کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں‘ وہ بھی شعوری یا غیر شعوری طور پرمولانا مودودی ؒ کی بتائی ہوئی راہ پر ہی چل رہے ہیں ۔ انھی کی اصطلاحیں استعمال کر رہے ہیں اور اپنی تحریر و تقریر میں مولانا مودودیؒ کی ہی فکر سے رہنمائی حا صل کر رہے ہیں ۔

تصویر کا یہ ایک دل کش پہلو ہے ‘ جس کی دل کشی کو میں کماحقہ بیان نہیں کر سکا‘ جس کی اصل وجہ توخود اپنی علمی اور فکری نا رسائی ہے‘ مگر اس کی دوسری وجہ یہاں (کینیڈا میں) ضروری کتب کا دستیاب نہ ہونا ہے ۔ مگر تصویر کا دوسرا دل فگار ر خ یہ ہے کہ مولانا مودودی ؒ نے جس ’’رخ دوست‘‘ کو دکھا کر کچھ ’’دیوانے ‘‘ یا ’’ نیم دیوانے ‘‘ جمع کیے تھے ‘ جو افتاں و خیزاں منزلِ محبوب کی طرف سر گرم سفر بھی ہو گئے تھے ‘ افسوس کہ]اب مجھے[ نہ تو کوئی اس دیوانہ بنانے والے ’’حَسن ‘‘کا جلوہ عام کرنے والا نظر آتا ہے‘ نہ اس ’’ حسن ‘‘ کے طالب عشاق کا قافلہ گرمِ سفر دکھائی دیتا ہے۔

پچھلی صدی اختتام پذیر ہوئی اور کوئی مانے یا نہ مانے‘ کسی کو اچھا لگے یا برا‘ اسلام کو زندہ اور تابندہ کرنے کے حوالے سے یہ صدی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی صدی تھی!

وہ کون سی چیزہے جس سے سیدؒ کی شخصیت فوراً ہی اجاگر ہو جائے؟

میرا خیال ہے کہ تقاریر اور تحریروں سے زیادہ ان کی تصویر‘ ان کا چہرہ ۔ بڑی بڑی سوچتی ہوئی‘ تھکی تھکی آنکھیں‘ بے پناہ عزم اور ذرا سا حزن۔چہرے پر سرخی اور سفیدی گھل گئی تھی۔ ایک ایسا آدمی جو کبھی اور کسی قیمت پر بھی ہار ماننے پر آمادہ نہیں تھا۔ سیدؒ صاحب مسکراتے تومعاًحزن اور تکان رخصت ہوجاتی‘ تب چہرہ ہی نہیں پورا پیکرکِھل اُٹھتا۔ گویا چودھویں کا چاند بدلیوں سے نکلے اور مسکرانے لگے اور ‘مسکراتا رہے ‘ حتیٰ کہ پورا ماحول بشاشت سے بھر جائے۔

سید صاحبؒ کو تصنّع اور ریا سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا ۔ ریا‘ تصنع اور احساس کمتری برصغیر کے امراض ہیں۔ میں نے  رجال اور اکابر میں بھی کم لوگوں کو ان امراض سے پوری طرح آزاد پایا ہے۔ سید صاحبؒ آزاد تھے‘سر سے پاؤں تک مردِ آزاد۔یہ کہنا تو غلط ہو گا کہ وہ کبھی کسی سے متاثر نہ ہوئے کہ کسی بھی عہد کا کوئی فرزند اپنے عصرسے یکسربے نیاز نہیں ہوتا‘ لیکن ابوالاعلیؒ ان نادر و نایاب انسانوں میں سے ایک تھے جو زندگی کو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ البتہ رہن سہن‘ خوردو نوش‘  گفتگو کے انداز میں وہ دہلی کے طبقۂ شرفا میں سے تھے اوراس پر قانع بھی۔

اورنگ آباد میں ہوش کی آنکھ کھولنے والے لڑکے نے‘ جس کا خاندان عسرت اور امتحان میں مبتلا تھا مگر شرافت ‘ علم‘ روایات اور وضع داری کا اثاثہ رکھتا  تھا ‘ آنکھ اٹھا کر دنیا کو دیکھا تو وہ کیا سوچتا تھا ؟ ایک مختصر سی عبارت میں ہم اس موضوع پر زیا دہ کلام نہیں کر سکتے۔ یہ بہت جلد واضح ہو گیا کہ وہ چیزوں کو چھاننے اور پھٹکنے کا قائل ہے۔ مرعو بیت نام کی کوئی چیز اسے چھو کر بھی نہیںگزری۔ خاندانی مقام اور افتخار اگر عُجب کی صورت اختیار نہ کرے تو گاہے مددگار بھی ہوتا ہے ‘اور ہم اللہ کی سنت سے واقف ہیں کہ وہ جنھیں مشعل عطا کرتا ہے‘ ان کے خاندان اکثر اجلے اور صورتیں زیبا ہوتی ہیں‘ تہمت سے پاک ‘ پاکیزگی کا ہالہ لیے۔ ثمربار ہونے والے شجر‘ زر خیز زمینوں اور موزوں موسموں میں اگتے ہیں‘ جہاں آسمان ابرِ رحمت کے لیے فیاض ہوتا ہے۔

کھجورکے باغوں سے بھرے اس خنک شہر میں ختم المرسلینؐ سے ان کے صحابی ؓنے پوچھا : ’یارسولؐ اللہ! کیا ہم آپؐ کے بھائی نہیں ؟‘۔ فرمایا : ’تم تو میرے رفیق ہو ‘ میرے بھائی تو میرے بعد آئیں گے‘۔ ایک دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا :’میری امت کے علما بنی اسرائیل کے انبیا ؑ کی مانند ہیں‘۔

مؤرخین‘ امام ابن تیمیہ ؒکا حلیہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو لفظ کم پڑتے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا تھا : ’زیبا صورت‘ چراغوں کی طرح دمکتی آنکھیں اور بارعب ‘ بے ریا‘ اجلی آواز کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے‘۔ سید صاحبؒ کو ابن تیمیہؒ سے ایک نسبت یہ بھی تھی کہ اپنے عہد کی ساری جہالتوں کے خلاف کمال بے خوفی کے ساتھ انھوں نے آواز بلند کی۔

۱۹۵۷ء میں جماعت اسلامی سے الگ ہو جانے والے بزرگوں میں سے ایک ‘ میاں محمد حفیظ سے میں نے پوچھا : ’کیا اخوان المسلمون پر ناصر کی یلغار کے بعد سید صاحبؒ اس خوف کا شکار ہوئے کہ کہیں جماعت اسلامی اسی انجام سے دوچار نہ ہو جائے‘ اور کیا اسی لیے وہ قانون کی پابندی پر ضرورت سے زیادہ زور نہ دینے لگے تھے؟‘۔سوال مکمل نہ ہوا تھا کہ بے ساختہ انھوں نے کہا :   ’ـکیا کہتے ہو ‘ خوف اس شخص کی کھال میں کبھی داخل نہ ہوسکاـ‘ ۔

ابن تیمیہؒ سے ایک مشابہت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے عہد کے ہر علمی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ۔ـ الجہاد فی الاسلام ‘ پـردہ‘ تفہیمات  اورـسود ایسی تصانیف آج بھی ان موضوعات پر حتمی حوالے کی حیثیت رکھتی ہیں اور پون صدی پہلے لکھی گئی ان کتب میں آج بھی کوئی اضافہ نہ ہوسکا ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے بہت سے پیروکار بھی ان کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں۔ چشمہ آج بھی رواں ہے لیکن فیض پانے والے کم ہیں۔کہتے ہیں مطالعے اور تحقیق کا ذوق جاتا رہا اور سیاست غالب آ گئی ۔ زندگی کے آخری ایام میں ابوالاعلیٰؒ نے ملال کے ساتھ کہا تھا:’ علمی تحقیق کی روایت ان کے ساتھ قبر میں اتر جائے گی‘۔

جذبات کی غالب ہوتی لہر کو تھامنے کے لیے میں ایک پل کو رکتاہوں کہ جناب عبداللہ   بن مسعودؓ یاد آتے ہیں۔ فاروق اعظمؓ کو مدینہ منورہ کی مٹی کے سپرد کیا جا چکا تو انھوں نے کہا تھا : ’آج علم کے دس میں سے نو حصے اٹھ گئے‘۔ علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سلامت تھے اور خود عبداللہ   بن مسعودؓ سلامت تھے ۔جن کے لیے سرکار ؐ نے فہم دین کی دعا فرمائی تھی ۔ لیکن عمر ابن خطابؓ کا امتیاز اور ہی تھا !

فاروق اعظمؓ علم و عمل کا حسین امتزاج تھے ۔ وہ خیال کو فکر اور فکر کو ادارے میں ڈھالنے کی صلاحیت سے بہرہ ور تھے ۔ لہٰذا ‘وہ سرکارؐ کے بعد انسانی تاریخ کے تیوروں پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی شخصیت ثابت ہوئے۔ مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ جناب ابو بکر صدیقؓ ،انبیا علیہم السلام کے بعد بزرگ ترین شخصیت ہیں ‘ تقویٰ کے طفیل ‘ پاکیزگی کے سبب اور ختم المرسلینؐ کی ہم نشینی ‘ مزاج شناسی اور کامل پیروی کی بنا پر‘ لیکن یہ تو خود سرکارؐ نے فرمایا تھا کہ ’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتے‘۔ سیدابوالاعلیؒ ،حضرت علی ابن ابی طالبؓ کی اولاد ہیں‘ لیکن اپنے مزاج میں وہ‘ فاروق اعظمؓ سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں ۔ یہ محض اتفاق تو نہیں کہ ـفاروق ـان کے سب صاحبزادوں کے نام کا ایک جزوہے ۔

سید صاحبؒ ادارے تشکیل دینے میں یقین رکھتے تھے اور انھوں نے ایسے کئی ادارے تشکیل دیے‘ زمانہ جن سے سیکھ سکتا ہے اور اکتساب نور کر سکتاہے ۔ مثال کے طور پر احتساب کا ادارہ ۔ امیر جماعت اسلامی سے لے کر صوبوں ‘اضلاع اور حلقوں تک ہر صاحب منصب کا خود کو احتساب کے لیے پیش کرنا۔ میں نہیں جانتا کہ کسی دوسری مذہبی یا سیاسی جماعت میں احتساب کا ایسا نظام موجود ہو ‘ ان سے پہلے‘ ان کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی‘ مشرق سے لے کرمغرب تک۔  خوے غلامی کے مارے معاشرے کے اذہان استفادہ نہ کرسکیں تو یہ ایک الگ المیہ ہے۔

چار سال ہوتے ہیں ‘ اسلام ا ٓباد کے ایک ممتاز اسکالر سے سوال کیا کہ کیا ’آپ دیو بند کے فلاں بزرگؒ اور سید صاحبؒ کا تقابل کرنا پسند کریں گے؟‘ قدرے ناراضی کے ساتھ انھوں نے کہا: ’کیسا موازنہ ؟‘ پھر اس مفہوم کا جملہ کہا: ’چراغ کو سورج سے کیا نسبت!‘۔اتفاق دیکھیے کہ ٹھیک ۷۰برس پہلے سیدصاحبؒ نے کسرنفسی کی بنا پر یہی بات کہی تھی۔ البتہ بڑے احترام کے ساتھ ان کی قدامت پسندی کا ذکر کیا تھا ۔ ان اسکالر کے تبصرے نے مجھے موصوف کی تصنیفات کی طرف مائل کیا۔ دینی امور میں ان کی دوررس نگاہ  اور انسان کی نفسیاتی کیفیات کے ادراک نے طالب علم کو مبہوت کر دیا؟۔تب ایک سوال ذہن میں ابھرا کہ ابوالاعلیٰ ؒسے فیض پانے والوں کی تعداد کتنی ہے‘ اور اس پورے مکتب فکر نے کتنے لوگوں کو دین کا رستہ دکھایا جن سے ان بزرگ کا تعلق تھا؟ حیرت سے میں نے دیکھا کہ صرف تفہیم القرآنکا مطالعہ کرنے والے کئی ملین ہوں گے۔ پاکستان میں ‘ بھارت ‘بنگلہ دیش‘سری لنکا‘ کشمیر‘ افغانستان‘ ایران‘ ترکی‘ وسط ایشیا اور شرق اوسط ہی نہیں‘ بلکہ امریکہ اور یورپ میں بسنے والے ۵۱ ملین مسلمانوں کی ایک قابل ذکر تعداد۔

یہ کیونکر ممکن ہوا؟

اس لیے کہ سید صاحبؒ موضوع سے انصاف کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ ۴۰برس ہوتے ہیں‘ رحیم یار خاں میں کوئی صاحب‘ سید صاحبؒ کے خلاف چیخ رہے تھے۔ بڑھاپے کی وادی اترتا ہوا ایک نیک نام اخباری نامہ نگار ان کا ہدف تھا ۔ بہت دیر وہ خاموشی سے سنتا رہا ‘ پھر اس نے یہ کہا : ’میں آپ کی بات ماننا چاہتا ہوں مگر میں کیا کروں ‘ جب میں سیدمودودیؒ کی کوئی کتاب پڑھتا ہوں تو میری حالت ایک بچے کی سی ہو جاتی ہے‘ جو کسی مہربان بزرگ کی انگلی تھامے کشادہ راستے پر چلاجاتا ہو‘۔

لگ بھگ انھی دنوں کا قصہ ہے کہ میرے ماموں ڈاکٹر محمد نذیر مسلم‘ فاطمہ جناح کی حمایت کے سوال پرجماعت اسلامی سے الگ ہوگئے ۔ وہ دبنگ لہجے‘ راست گفتاری اور قرآن کریم سے اپنی محبت کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ بحث مباحثے اور بد گمانیوں کا سلسلہ اٹھ کھڑا ہوا‘ لیکن ڈاکٹر صاحب اپنے مزاج کے مطابق اپنی دھن میں مگن رہے۔ انھی دنوں اکابر پرست طبقے کا ایک گروہ ان سے ملنے آیا۔ ممکن ہے وہ گمان کرتے ہوں کہ عوامی زندگی کا عادی بہت دن الگ تھلگ نہ رہ سکے گا۔ شاید وہ ان کا ذہن ٹٹولنے آئے ہوں ۔ ڈاکٹر صاحب ان کی بات سنتے رہے‘ لیکن جب اپنے مکتب فکر کے بزرگوں کی ستایش میں وہ مبالغے کی آخری حدود سے گزر گئے تو اس آزاد منش آدمی نے یہ کہا :’سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے مجھے اختلاف ہوا اور میں ان سے الگ ہوگیا‘ لیکن اس اختلاف کے باوجود ‘ یہ بات میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ اگر اس زمانے کا کوئی امام ہے تو وہ ابوالاعلیٰ کے سوا کوئی اور نہیں‘۔ ڈاکٹر صاحب نے سید صاحبؒ سے محبت کا رشتہ استوار رکھا۔ میاں طفیل محمد نے ایک بار خوش گوار حیرت سے کہا : ’سید صاحبؒ تفہیم القرآن میں مصروف ہوں‘ تب بھی آپ کا خیر مقدم کرتے ہیں‘۔ میاں طفیل محمد سے زیادہ ابوالاعلیٰ کو کون جانتا تھا کہ اس یکسو اور نیک طینت آدمی نے اپنی پوری زندگی ان کی نذر کر دی    ؎

حاصل عمر نثار رہ  یارے کر دم

شادم از زندگیِ خویش کہ کارے کردم

ٰؒلیکن سید صاحبؒ کی شایستگی اور وضع داری تو کبھی کبھی انھیں بہت قریب سے جاننے والوں کو بھی حیران کر دیتی۔

میں ایک درویش کی خدمت میں حاضر تھا ۔ سیرت رسول ؐ کے رموز سے آشنا وہ تصوف کے ایک نئے مکتب فکر کے بانی ہیں ۔ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے لاکھوں افراد ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق مسنون دعائیں پڑھتے اور اسماے ربانی کا ورد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ سے محبت ‘ سنت کی پیروی اور مخلوق خدا سے خیر خواہی کے علاوہ ‘ توازن ‘ اعتدال اور فرقہ پرستی سے گریز پر زور دیتے ہیں ۔ حیرت انگیز فراست کے اس آدمی کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ ایک نظر میں آدمی کو پہچان لیتے اور فوراً ہی اس کی عادات و خصائل کو بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ہفتے میں ایک آدھ مرتبہ میں‘ اپنے سوالات کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں اور وہ کمال شفقت سے ہر سوال کا جواب دیتے ہیں ۔ تین ماہ ہوتے ہیں ‘ میں نے بعضـ داعیان کے بارے میں پوچھا ۔ ایک آدھ سوال کا جواب دینے کے بعد انھوں نے کہا: ’ندی نالوں کے بارے میں کیا پوچھتے ہو‘ دریا کے بارے میں سوال کرو‘ ۔ عرض کیا:’ـ دریـا؟‘ فرمایا :’ سـید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ہم ان کی فکر سے متفق نہیں‘ مگر وہ اپنے عہد کے شایستہ ترین آدمی تھیـ‘۔ باباے اردو مولوی عبدالحق نے کہا تھا: ’سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اردو زبان کو شایستگی عطا کی‘۔

کم ہوتا ہے کہ کسی شخص کی ذات میں شایستگی اور شجاعت اس طرح گھل مل جائیں  جیسے سید صاحبؒ کی شخصیت میں ۔ کم ہی کسی شخص کی ذات میں اتنے اوصاف یکجا ہوتے ہیں ۔ اپنے عہد میں سب سے بڑی تعداد کو متاثر کرنے والا عالم دین ‘ سیاست کی آلودگیوں سے پاک ایک ممتاز سیاست دان ‘ ایک منفرد منتظم اور اپنے دور کا بے مثال نثر نگار اور خطابت میں ایک نئے انداز کا بانی۔ دو آدمی ہیں جنھوں نے بیسویں صدی میں اردو زبان کو مالا مال کردیا: علامہ اقبالؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ۔

اقبالؒ پوری انسانی تاریخ میں کسی عصر پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے شاعر ہیں اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ انھوں نے ایسے موضوعات کو شعر کا قالب عطاکیا‘ کہ ان موضوعات پر کلام کی کبھی کسی کو جرأت نہ ہو سکی تھی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انھی کے علم‘قوت متخیلہ اور وجدان کا آدمی یہ کارنامہ انجام دے سکتا تھا ۔

سید صاحبؒ اپنے دور کے عظیم ترین نثر نگار تھے اور خود اقبالؒ نے ۳۵سالہ ابوالاعلیٰ ؒسے امید استوار کی‘ حالانکہ ابھی ان کا چرچا محدود تھا۔ اس کے باوجود  ان سے مل کر ایک نیا  اور منفرد ادارہ تخلیق کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ یہ سید صاحب کے علم کا اعتراف تھا ‘ حسن نیت اورہنر کا بھی۔ اقبالؒ کی طرح ابوالاعلیٰ ؒکا اعجاز ان کے لہجے کا مردانہ پن ہے۔ ایک سچا‘ کھرا اور دوٹوک انداز۔ ان کے حسن کلام کا جادو یوں تو ہر کہیں نظر آتا ہے‘ لیکن سب سے بڑھ کر تفہیم القرآن میں۔ دوسرے تراجم سے موازنہ کیا جائے تو فوراً ہی آشکار ہوتا ہے کہ قلم پہ جیسی قدرت اورابلاغ کا جیساحُسن سیدؒ کو عطا ہوا تھا‘ کسی اور کو نہ ہوا تھا۔

مولانا ابوالکلام آزادؒ ہیں‘ جن سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ قرآن ‘ حدیث ‘تاریخ اور عصری علوم میں وہ یگانہ اور ممتاز مانے جاتے تھے اور جوشِ کردار کا ایک نمونہ بھی۔ مداحوں کی ایک بڑی تعداد انھوں نے پیدا کی‘ دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر ان کے ذکر سے گونجنے لگا۔ ابوالکلامؒ اور ابو الاعلیٰ ؒکے  ترجمۂ قرآن کا بیک وقت مطالعہ کیجیے تو تعین آسان ہو جاتا ہے ۔ پھر یہ بھی کہ ساری عظمت کے باوجود ابوالکلامؒ کی تحریر تصنّع اور اہتمام سے کم ہی پاک ہوتی ہے۔ ابوالاعلیؒ کے ہاں بلاغت زیادہ ہے اور تصنع کا نام و نشان تک نہیں ۔ ایک عالم ان کی زبان دانی کا اعتراف کرے گا اور ایک عامی مفہوم کو پوری طرح پالے گا۔

ادب کی تاریخ شہادت دیتی ہے کہ ممتاز اہل قلم کی جولانیِ طبع تا دیر قائم نہیں رہتی ۔ امیرتیمور کے ذکر میںہیرالڈلیم کا قلم تصاویر بناتا ہے اورالفاظ موتیوں کی طرح جڑتا ہے۔ لیکن جب اس نے صلاح الدین ایوبی اور اس کے عہد کی کہانی لکھی تو اپنے موضوع سے انصاف کر سکا اور نہ اس دور کے تاریخی کرداروں سے عدل۔ ناول نگاری میں انیسویں اور بیسویں صدی کے روسیوں کا کوئی ہم سر نہیں۔ لیکن دوستوفسکی اور ٹالسٹائی کی سب تحریروں کا معیار یکساں نہیں ۔ خود ابوالکلامؒ کا حال بھی مختلف نہیں ۔

سید صاحبؒ کا عجیب و غریب امتیاز یہ ہے کہ معیار کبھی متاثر نہیں ہوتا۔ ہزاروں صفحات ‘  ان گنت موضوعات اور نصف صدی کا سفر‘ مگر شہسوار کے تیور ہمیشہ ایک سے رہے۔ اردو زبان اور ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے  یہ بات میں پورے وثوق سے عرض کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص صرف سید صاحبؒ کی تصانیف کا مطالعہ کرے تو وہ زبان و بیان پر دسترس کے لیے اپنے مقصود کو پالے گا۔ سید صاحبؒ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ دل سے زیادہ دماغٖ کو  پکارتے ہیں۔ دلیل ان کی تلوار ہے اور اس شمشیر سے انھوں نے لاکھوں دلوں کو شکار کیا۔ کوئی تعجب نہیں کہ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی اختیار کرنے والوں کی اکثریت ان کے قلم سے دعوت و تزکیے کے دائرے میں داخل ہوئی ۔ کیا کسی دوسرے ادیب کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے؟

برصغیر کی تاریخ میں ابوالاعلیٰ ؒسے بڑھ کے شاید ہی کسی شخص کی کردار کشی کی گئی ہو اور یہ کارنامہ علماے کرام کے ایک طبقے نے انجام دیا‘ اور پھر سبھی مکاتب فکر نے اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ غزالیؒنے سوال کیا تھا : ’جب قرآن مجید کا ایک درس دینے  والا دوسرے کو دیکھتا ہے تو نا خوش کیوں ہوتا ہے؟ اسے تو خوش ہونا چاہیے کہ روشنی کے فروغ میں کوئی اور بھی مددگار ہے‘۔ پھر خود ہی جواب دیا : ’اس لیے کہ دل حب جاہ سے بھرے ہوتے ہیں۔ مقصود مقبولیت ہوتی ہے اور اپنے گروہ کا فروغ‘۔

ابوالاعلیٰ ؒفرشتے نہ تھے کہ ان سے اختلاف نہ کیا جاتا اور پیغمبر نہ تھے کہ ان پر ایمان لازم ہوتا لیکن علمی اختلاف شایستگی اور قرینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ افسوس کہ ابو الاعلیؒ کے مخالفین کی عظیم اکثریت ان تقاضوں کا ادراک نہ کر سکی اور سب سے بڑا سبب وہ تعصب تھا‘ جس نے دلوں کو زنگ لگا دیا‘ دماغوں کو جکڑ لیا اور تناظر کو محدود کر دیا تھا‘ یا حسد کہ جو پہاڑ جیسے آدمی کے مقابل انھیں  کمتری کے احساس میں مبتلا کرتا تھا۔ یہ ہماری تاریخ کا ایک افسوس ناک باب ہے۔ ایک آدھ نہیں ‘ بہت سے علماے کرام نے ابوالاعلیٰؒ کو عالم دین تسلیم کرنے سے انکار کردیا ‘اور ان میں سے ایک نے پھبتی کسی کہ وہ کسی دارالعلوم کے فارغ ا لتحصیل ہیں اور نہ کسی یونی ورسٹی کے گریجویٹ۔

یہ۱۹۲۴ء کی بات ہے ۔ ایک اخبار نویس ‘صاحب ِطرز ادیب اور ایک عالم دین کی حیثیت سے ابوالاعلیؒ کے چرچے کا آغاز ہو چکا تھا۔ لیکن رات کے تیسرے پہر وہ جاگتے  اور شاہجہان کے دور سے آباد دلی کے قدیم گلی کوچوں سے گزرتے ہوئے مولانا عبدالسلام  نیازیؒ کے دروازے پر جا دستک دیتے ۔ بوڑھا استاد ایک الگ ہی مزاج کا آدمی تھا۔ عمر بھر اسے کسی دارالعلوم سے واسطہ رہا اور نہ مکتب فکر سے کوئی علاقہ۔ وہ عطر بنا کے رزق کماتا اور اسے خانقاہوں میں قوالیاں سنتے ہوئے دیکھا جاتا۔ ایک زاہد شب زندہ دار ‘ من موجی اور آزاد۔ کہا جاتا تھا کہ اس عہد کے ہندستان میں کوئی شخص قدیم علوم میں اس کا ہمسر نہ تھا۔ وہ تعلیم و تدریس کا ایک الگ دبستان اور تدریس کا منفرد اسلوب رکھتا تھا ۔ قرآن مجید کے منفرد مفسر مولانا حمید الدین فراہیؒ کی طرح وہ ایک ایک سطر پڑھانے کے بجاے ‘ طالب علموں کو خود سے پڑھنے پر مائل کرتا ۔ مشکل مقامات میں وہ ان کی مدد کرتا اور قرینہ یہ تھا کہ کسی بھی مضمون میں وہ صرف ایک کتاب کا درس دیتا۔ باقی تمام مباحث وہ اسی کتاب پر بحث کے دوران سمیٹ دیتا ۔ وہ تعلیم و تدریس کا کوئی معاوضہ قبول نہ کرتا اور صرف غیر معمولی طالب علم ہی اس کے ہاں بار پا سکتے تھے۔ سید صاحبؒ نے اپنے بڑے بھائی سید ابوالخیرؒکے ساتھ بچپن میں اسی عظیم استاد سے تعلیم پائی تھی۔

سید صاحبؒ کی اپنی روایت یہ ہے : ’مولانا عبدالسلام صاحب فلسفہ و معقولات کے ماہر تھے۔ نہایت شیوہ بیان اور طلیق اللسان کہ گھنٹوں ان کی تقریر سن کر بھی آدمی سیر نہیں ہوتا تھا۔ میرے والدماجد کے بہت عقیدت مند تھے۔ والد صاحب مرحوم نے میرے بچپن ہی میں ان سے کہہ دیا تھا کہ اسے عربی پڑھانا۔ چنانچہ بچپن میں بھی میں نے ان سے پڑھا۔ پھر الجمعیۃ ‘دہلی کی ادارت کے زمانے میں جب ان سے عرض کیا کہ کچھ کتابیں رہ گئی ہیں‘ انھیں پڑھنا چاہتاہوں‘ تو فوراً مان گئے۔ فرمایا: صبح کی اذان کے وقت میرے مکان پر آجایا کرو۔ ان کا مکان ہمارے مکان سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر تھا۔ میں باقاعدگی سے صبح کی اذان کے ساتھ ہی ان کے دروازے پر موجود ہوتا۔ کسی روز اگر ان کی طبیعت آمادہ نہ ہوتی تو اندر ہی سے فرما دیا کرتے: ’سید بادشاہ‘ آج طبیعت حاضر نہیں ہے‘۔ مرحوم سلسلۂ چشتیہ سے وابستگی رکھتے تھے۔ ’نیازی‘ کی نسبت بھی ایک بزرگ نیازاحمد بریلوی سے عقیدت کی بنا پر تھی۔ وہ بزرگ چشتی تھے۔ ہمارا خاندان‘ہندستان میں سلسلۂ چشتیہ کا پیش رو ہے۔ اس بنا پر وہ سن رسیدگی اور استاد ہونے کے باوجود میری بہت عزت کرتے اور اسی بنا پر مجھے ’سید بادشاہ‘ کہہ کر پکارتے‘۔

آخر شب کا یہ منظر ہمارے ذہن میں ایک سوال پیدا کرتا ہے ۔ ۲۲سالہ ابوالاعلیٰؒ اردو‘ انگریزی اور عربی زبان پہ دسترس رکھتے تھے ۔ وہ ایک بڑے اخبار کے مدیر تھے ۔ ایک عالم اور منفرد انشا پرداز کی حیثیت سے ابھررہے تھے۔ اگر ان کے ذہن میں قیادت کا سودا ہوتا تو آخر شب کی اس ریاضت کے بجاے کیا وہ اظہارکی راہ اختیار نہ کرتے ۔ غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور اہل تعصب کی آنکھوں اور کانوں کے لیے پردے۔

کبھی کبھی طالب علم یہ سوچتا ہے کہ کیا قدرت کاملہ نے اس منفرد استاد عبدالسلام نیازیؒ کو صرف اس لیے جہان آب و گل میں بھیجا تھا کہ طلب علم میں ابوالاعلیؒ کی رہنمائی کرے کہ جسے دیوبند اور علی گڑھ میں سے کسی ادارے کا رخ نہ کرنا تھا ۔ اپنے نو دریافت شدہ مذہبی احساس کی وجہ سے ان کے والد علی گڑھ سے دور جا چکے تھے‘ جہاں کبھی انھوں نے تعلیم پائی تھی  اور ذاتی مجبوریوں یا معاشرتی رجحانات کی بناپر وہ دیوبند سے بھی دُور تھے ۔ دیوبند حریت کیش تھا لیکن اپنی حدود میں مقید‘ اور پھر استعمار کے خلاف حد سے بڑھی ہوئی نفرت اسے گانگریس کے اتنا قریب لے گئی کہ وہ مسلمانوں کے قومی مفادات سے بیگانہ ہو گیا۔ اقبالؒ کو اسی لیے دیوبند سے اختلاف تھا ۔ اسی لیے وہ قائد اعظمؒ کو اس پر ترجیح دیتے ‘ حالانکہ مولانا سید انور شاہ کاشمیریؒ سے انھیں ایک گونہ تعلق تھا اور پنجاب مسلم لیگ کی تنظیم کے سوال پر انھیں محمد علی جناحؒ سے رنج بھی پہنچا‘ لیکن دور تک دیکھنے والا آدمی نا خوش ہونے کے باوجود ان کے ساتھ کھڑا رہا۔ طالب علم کا گمان یہ ہے کہ سید صاحبؒ کے ساتھ محبت کا رشتہ استوار کرنے میں یہ پہلو اقبال ؒکے مد نظر تھا ۔ وہ الجہاد فی الاسلام اور ترجمان القرآن کی تحریروں سے متوجہ اور متاثر ہوئے اور انھیں پنجاب منتقل ہونے کا مشورہ دیا۔

اقبالؒ اور ابوالاعلیؒ کے تعلق میں ‘ ہم سید صاحبؒ کی بے ریا ‘سیر چشم اور بے باک شخصیت کی ایک جھلک دیکھتے ہیں ۔ لاہور میں وہ اقبالؒ سے ملے اور ـدارالاسلامـ کے منصوبے پر اتفاق رائے ہوچکا تو ان سے عرض کیا:’میری ایک بات آپ مان لیجیے‘ سـرکا خطاب واپس کردیجیے کہ یہ آپ کو  جچتا نہیں‘۔ بعد میں ایک ذاتی دوست کو ابوالاعلیؒ نے بتایا کہ یہ بات سن کر اقبالؒ کی آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں ۔ سیدؒ کو ملال ہوا کہ انھوں نے اقبالؒ کو رنجیدہ کر دیا۔ کیا اقبالؒ اس بات پر رنجیدہ تھے کہ ۳۴سالہ ا سکالر نے‘ جسے انھوں نے معنوی پدر کی نگاہ سے دیکھا تھا اس کمزوری کا ذکر کیا‘ یا اس پر کہ انھیں اس خطاب کو قبول کرنے کی یاد نے دل گرفتہ کر دیا تھا؟

اہل تعصب طعنہ زن رہے لیکن ابوالاعلیؒ کی زندگی ہی میں ان کے علم کا اعتراف کر لیا گیا۔ وہ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے لیے ایک نمونۂ عمل تھے اور درحقیقت ایک اعتبار سے ان سب کے رہنما۔ ۱۳ برس ہوتے ہیں ‘ ٹھیک یہی دن تھے جب برف سے ڈھکے ایک پہاڑ کی چوٹی پر میں نے گلبدین حکمت یار کے مطالعے کی حدود متعین کرنے کی کوشش کی ۔ حکمت یار کے جواب کا ایک حصہ یہ تھا : ’ـمیں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کے تمام آثار کا مطالعہ کیا ہے‘۔ پھر ایک لمحہ توقف کے بعد انھوں نے کہا: ’زـندگی کے سب اسرار میں نے قرآن سے سیکھے ہیںـ‘۔ سارے زمانے سے برسر جنگ اس جاںباز نے تفہیم القرآن کا تفصیل سے مطالعہ کیا تھا ۔

مصر ‘ شام ‘ سعودی عرب ‘لبنان‘ امارات میں اخوان المسلمون کے قارئین کا وسیع حلقہ موجود تھا۔ ایران میں ان کی کتابیں شائع کرنے والوں میں ایران کے موجودہ ولایت فقیہ خامنہ ای بھی شامل تھے ۔ انڈونیشیا سے ترکی تک‘ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں نے ان سے فیض پایا۔ اس سارے معاملے کا ایک عجیب و غریب پہلو یہ ہے کہ سید صاحبؒ نے عالم اسلام میں اپنی حیرت انگیز مقبولیت کا کبھی حوالہ نہ دیا۔ جو لوگ اپنے مقاصد کے لیے جیتے ہیں وہ ان چیزوں سے بھی بے نیاز ہوجاتے ہیں جو دوسروں کی نگاہ خیرہ کردے۔

۱۹۷۴ء کی ایک شام اتفاق سے میں ۵اے ذیلدار پارک میں موجود تھا‘ جب اردن کے فرماں روا شاہ حسین نے فون پر ان سے رابطہ کیا۔ اگلی شام کسی نے پوچھا تو  قدرے بیزاری کے ساتھ انھوں نے جواب دیا: ’ان لوگوں کو زیادہ اہمیت نہ دیا کیجیے‘۔ میری اخباری زندگی کے ۳۵ برس سیاست دانوں کے درمیان گزرے ہیں ۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ موقع پرستی کے معاملے میں سیاست دان تاجروں سے بھی زیادہ حریص ہوتے ہیں ۔ کوئی دوسرا شخص ہوتا تو اخبار میں خبر چھپوانے کا اہتمام کرتا لیکن سید صاحبؒ کو یہ ذکر تک گوارا نہ تھا۔ جولائی ۱۹۷۷ء میں ایک شخص برسراقتدار آیا‘ جوترجمان القرآن کا قاری تھا اور جس نے تفہیم القرآنسمیت ان کے لٹریچر کے بڑے حصے کا مطالعہ کر رکھا تھا ۔ ابوالاعلیؒ اس سے بھی بے نیاز رہے۔ وہ حکومت اور حکمرانوں سے دور رہنا پسند کرتے تھے‘ سیاسی موقع پرستی سے وہ بہت بلند تھے۔

سیاست دان کی حیثیت سے ابوالاعلیؒ کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ وہ سیاست کی آلایشوں سے پاک رہے۔ انھوں نے زمانے کی رو میں بہنے سے انکار کر دیا اور ہنگامی عوامی رجحانات سے فائدہ اٹھانے کی کبھی کوشش نہ کی ۔ ان کے مختلف اور منفرد انداز خطابت کا راز یہی ہے۔ جس برصغیر میں انھوں نے ہوش کی آنکھ کھولی‘ وہ ابوالکلامؒ ‘ محمد علی جوہرؒاور بعد ازاں عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی آگ بھڑکا دینے والی خطابت سے گونج رہا تھا ۔ ایک اعتبار سے تحریک آزادی کو اس انداز خطابت کی ضرورت بھی بہت تھی۔ ابوالکلامؒ تو خیر کانگریس سے متاثر تھے اور سید عطا ء اللہ شاہ بخاریؒ دیوبند کی طرف مائل تھے‘ لیکن محمد علی جوہرؒ کے تو وہ بہت مداح بھی تھے‘ اس کے باوجود ابوالاعلیؒ کے غور و فکر نے انھیں قائل کر دیا کہ آخری تجربے میں جذبات سے اپیل کرنے والی خطابت اُمت اور اسلام کے مفاد میں نہیں؛لہٰذا سوچ سمجھ کر انھوں نے تحریر اور تقریر کا ایک الگ اسلوب اختیار کیا جو دل نہیں‘ دماغ سے خطاب کرتا ہے ۔ وہ قاری کو اپنی دلیل سے فتح کرتے اور اپنے ساتھ کھڑا ہونے پر آمادہ کرتے ہیں۔ تاہم وہ اس گمان میں کبھی مبتلا نہ ہوئے کہ انھیں اپنے زمانے کی قیادت کرنی ہے ۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ دارالاسلام پہنچے اور ان کا سامان تانگے سے اتارا جا رہا تھا ۔ جذبات سے مغلوب نہ ہونے والے ابوالاعلیؒ اس منظر کو دیکھتے رہے‘ معاً ان کی آنکھوں میں نمی آگئی اور انھوں نے کہا: ’’آج تک میں ایک تھا اور اب دو ہو گیا ہوں‘‘۔ ادھر مولانا امین احسنؒ کا مزاج یہ تھا کہ دارالاسلام میں ان کے درس قرآن کے دوران ایک بار جب کسی نے یہ کہا کہ ابوالاعلیؒ کی رائے اس باب میں مختلف ہے‘۔ تو ان کا جواب یہ تھا : ’’اـنھیں کیا پتا؟‘‘ـ ابوالاعلیؒ اس پر مسکرا دیے۔ انھی برسوں میں سید صاحبؒ نے تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا تو ایک روایت کے مطابق مولانا امین احسن اصلاحیؒ  نے انھیں اس کا م میں ہاتھ نہ ڈالنے کا مشورہ دیا ۔ مولانا امین احسنؒ یقینا ایک بڑے عالم تھے اور انھوں نے قرآن کریم پر غوروفکر اور تدبر کا سلیقہ اپنے عہد کے عظیم اسکالر مولانا حمیدالدین فراہیؒ سے سیکھا تھا۔ لیکن ایک بات وہ سمجھ نہ سکے کہ ابوالاعلیؒ کتنی ریاضت کے آدمی ہیں اور اللہ نے انھیں کیسا دماغ عطا کیا ہے ۔ مسلمانوں نے سرور عالم ؐ کے اس ارشاد پر بہت کم غور کیا ہے کہ اگر آدمی زہد اختیار کرے تو اسے یوں علم عطا کیا جائے گا جس طرح کنویں سے پانی نکلتا ہے ۔

سیاست دان کے طور پر میں سید صاحبؒ کے کردار پہ گفتگو کرنا چاہتا ہوں لیکن بات بھٹک کر دور نکل جاتی ہے ۔ ہثت پہلو ہیرا ہے ‘ جو نگاہ خیرہ کیے رکھتا ہے۔ دارالاسلام سے لاہور پہنچنے کے ایک دو روز بعد ہی انھوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب افتخار حسین ممدوٹ سے کہا کہ صرف ایک بٹالین فوج کو حرکت دے کر مشرقی پنجاب سے کشمیر جانے والا راستہ بندکیا جا سکتا ہے۔ اقتدار کے نشے سے سرشار وزیراعلیٰ کا جواب تھا :’مولوی صاحب‘ آپ اپنا کام کیجیے اور ہمیں اپنا کام کرنے دیجیے‘۔ـ      مولوی صاحب ـتو خیر اپنا کام کرتے رہے لیکن مسلم لیگ کی قیادت اس باب میں ناکام ہو گئی ۔ قائداعظم علیہ الرحمہ نے انگریز کمانڈر انچیف کوجب کشمیر میں پاکستانی فوج کی پیش رفت کا حکم دیا تو اس نے انکار کر دیا ۔ باقی کہانی تاریخ کا حصہ ہے ۔ قائد اعظمؒ دل پر کشمیر کا زخم لے کر دنیا سے رخصت ہوئے۔

اگلے ۳۲سال ہم سید صاحبؒ کو پاکستان میں اسلام اور جمہوریت کا مقدمہ لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں‘ لیکن ایک منفرد طرز سیاست اور طے شدہ ترجیحات کے ساتھ ۔ یہ طرز سیاست ان کی ذات کے گرد گھومتی ہے اور نہ ان کی ترجیحات۔ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل اس سیاست دان کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ مسلسل سیاسی مصروفیت کے باوجود وہ نہ صرف اپنے علمی کام میں محو رہا‘ بلکہ اپنے عصر کے کسی بھی عالم دین سے بڑھ کر لکھا۔شورش کاشمیری نے تعجب کے ساتھ لکھا تھا : صفحات کی تعداد عمر کے دنوں سے زیادہ ہے۔سید صاحبؒ کی سب سے بڑی ترجیح تو ظاہر ہے ریاست میں اسلام کا فروغ ہی تھا۔ اسی لیے ان کے ناقد یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسلام کے سیاسی پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دیا۔ تاہم‘ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے حوالے سے ان کا کردار کسی  بھی پاکستانی سیاست دان سے زیادہ ہے ۔ اس لیے عتاب بھی سب سے زیادہ انھی پر آیا۔ ان کے لیے پھانسی کی سزا کا اعلان ہوا اور طویل عرصہ انھوں نے زندان میں گزار دیا۔ لیاقت علی خان سے  لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک ہر حکومت درپے آزار رہی ۔ ۱۹۷۲ء میں سید صاحبؒ جماعت اسلامی کی امارت سے الگ ہوچکے تھے‘ لیکن اسلامی جمعیت طلبہ کے پرچم تلے بنگلہ دیش نامنظور کی تحریک چلانے والے طلبہ پر‘جاوید ہاشمی جن کے سرخیل تھے ‘ پولیس نے وحشیانہ تشدد کیا تو سید صاحبؒ کو  میں نے مضطرب  پایا ۔ وہ بوڑھے اور بیمار تھے اور درد کُش ادویہ نے ان کی توانائی چاٹ لی تھی‘  لیکن اس مرحلے پر انھوں نے کہہ دیا : ’طلبہ کے ساتھ اگر یہی سلوک جاری رہا تو میں جلوس لے کر شاہراہ قائداعظم کا رخ کروں گا‘۔

سیاست میں ان کے امتیازات ہیں‘ مثلاً یہ کہ انھوں نے ہر حال میں قانون کی پابندی کو اختیار کیا ۔ ماضی مرحوم کی سیاسی تحریکوں پر بہت گہرائی میں غور و خوض کرنے والے شخص کو یقین تھا کہ قانون کی پاسداری ہی بہترین راستہ ہے‘ اور یہ کہ تشدد اور خفیہ انداز کار سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے‘ بلکہ غیر صحت مند رویے پرورش پاتے ہیں ۔ وہ اس امر پر یقین رکھتے اور اعلان کرتے تھے کہ معاشرہ سدھر نہیں سکتا‘جب تک کہ حکومت زاہد اور متقی گروہ کے ہاتھ میں نہ ہو‘ مگر اس نیک کام کے لیے بھی وہ جوڑ توڑ یا تشدد سے حکومت کے حصول کے کبھی قائل نہ تھے ۔

یہ ۲۳ مارچ ۱۹۶۸ء تھا‘ وہ رحیم یار خان تشریف لائے اور ایک عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ میرے خالہ زاد بھائی محمد طارق نے جو بعد ازاں ۱۲ برس تک سینیٹر رہے ‘ اصرار کے ساتھ مجھے ان سے ایک سوال پوچھنے کو کہا :’’وہ جمہوری جدوجہد کی بے نتیجہ کھکھیڑمیں کیوں پڑے ہیں ‘کیا اسلام کے لیے بزور شمشیر اقتدار حاصل کرنا نامناسب ہے؟‘‘مجھے سید صاحبؒ سے یہ سوال پوچھنے میں تامّل تھا لیکن طارق کے اصرار کو ٹالنا آسان نہ تھا ۔چنانچہ جیسا کہ جماعت اسلامی کے اجتماعات کا قرینہ ہے‘ میں نے ایک کاغذ پر استفسار لکھ دیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ‘ ان کا جواب مختصر تھا‘ فرمایا: ’یہ پرانے خواب ہیں جو دن کودیکھے جاتے ہیں۔ جو اقتدار طاقت کے بل بوتے پر آتا ہے وہ سخت ناپایدار ہوتا ہے۔ راے عامہ کا راستہ بلاشبہہ بڑا صبرآزما ہے‘ لیکن اگر اسے حکمت کے ساتھ اختیار کیا جائے اور حماقتیں نہ کی جائیں تو اس میں صد فی صد کامیابی ہے‘۔

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ ایک ایسے صاحب الرائے داعی اسلام تھے‘ جن سے نہ صرف ان کے عہد کی تمام اسلامی تحریکوں نے استفادہ کیا‘ بلکہ دعوت دین کے پھیلائو کے لیے آپ کی حکمت عملی کو بھی اختیار کیا۔ علاوہ ازیں متعدد حکومتوں نے قانون سازی کے لیے بھی آپ سے رہنمائی حاصل کی۔

میرے نزدیک سیدمودودیؒ صرف موجودہ زمانے کی اسلامی شخصیت نہ تھے ‘ بلکہ گذشتہ ادوار کی شخصیات میں بھی انھیں بڑا امتیازی مقام حاصل ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ برعظیم جنوبی ایشیا میں آپ جیسا کوئی صاحب علم وفضل شخص نہیں پایا گیا تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ میری اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں پر کوئی بڑے لوگ پیدا نہیں ہوئے‘ بلاشبہہ یہاں پر بڑے عظیم علماے دین‘ نہایت متقی بزرگ اور عظیم دانش ور اور اسلامی جذبے سے سرشار مجاہد پیدا ہوئے اور ان کی خدمات بھی بے پناہ ہیں۔ تاہم میری بحث کا دائرہ یہ ہے کہ سیدمودودیؒ کے کام کی وسعت‘اثرات کی گہرائی‘ سوچ اور تربیت میں ندرت اور اپنے وطن سے باہر کی دنیا کو متاثر کرنے کی مقناطیسی طاقت میں بہرحال اس علاقے کی کوئی شخصیت ان کی ہمسرنہیں۔ اس میں کیا شک کہ یہاں پر دوسرے جلیل القدر بزرگوں نے قیمتی کتب لکھیں یا افراد کی ایک قابلِ لحاظ تعداد کی دینی تربیت کی‘ جو بذات خود بڑی سعادت کی بات ہے۔ البتہ علم و فکر اور عمل وجہد کے دائروں میں بیک وقت پیش رفت کرنا ایک امتیازی اور مہتم بالشان کارنامہ ہے۔ سید مودودیؒ کی دعوت کا میدانِ کار مکمل اسلام اور مخاطب دنیا بھر کے لوگ ہیں۔ وہ کسی ایک قوم کے عالم‘ کسی ایک گروہ کے قائد‘ کسی ایک قبیلے کے شیخ اور کسی ایک مکتب فکر کے فقیہہ نہیں ہیں‘ بلکہ وہ ایک ایسے عالم گیر عالم دین اور قائد ہیں‘ جو زمانے کی قید اور ملکی حدود کے پابند نہیں۔

سید مودودیؒ کے ہاں رضاے الٰہی کے حصول‘ شہادت حق کے فریضے کی بجاآوری‘ تزکیہ و تعمیر کردار کی مرکزیت اور اقتدار و اختیار کے سرچشموں کو امرربی کا تابع بنانے کی کوششیں اس قدر مربوط اور اس درجہ مسلسل تھیں کہ انھیں کوئی حکومتی دہشت پسندی یا معاصرین کی غوغا آرائی روک نہ سکی۔ بلاشبہہ جو بھی اس راہ پر چلتا ہے اسے لازماً ایسے مصائب و مشکلات اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سید مودودیؒ کا اپنے ہم عصروں اور سابقین سے موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے:

  •  سیدمودودیؒ ایسے راسخ الایمان انسان تھے کہ جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی راہ پر چلتے ہوئے کسی قسم کی مداہنت برتنے اور پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔
  •   اُمت مسلمہ کے لیے ان کی حیثیت ایک ہم درد معالج کی تھی جو مریض سے ہمدردی رکھتا ہے اور مرض سے دوستی نہیں رکھتا۔ اس اعتبار سے وہ تمام مسلمانوں کے لیے اُخروی نجات کے پیغام کو پھیلانے اور دنیا میں پاکیزہ اور غیرت مندانہ زندگی بسر کرنے کا پروگرام دیتے ہیں۔
  •  سید مودودیؒ کے ہاں اوہام پرستی اور تصوراتی خوش عقیدگی نہیں پائی جاتی۔ اس کے بجاے توحید پرستی‘ عشق رسالت ؐاور حقیقت پسندی کے خاص رنگ جھلکتے اور دوسروں کو اپنی طرف آنے کی دعوت دیتے ہیں۔
  •  ان کے رفقا اور قریبی ساتھیوں کے مزاج‘ افکار اور طریق کار میں انھی کا رنگ پوری  آب و تاب کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خیر کثیر کو انھوں نے اختیار کیا تھا‘ وہ دوسروں کے لیے بھی قابلِ عمل ہے۔

سید مودودیؒ کے مخالفین اور ناقدین بھی بعض اوقات لاشعوری طور پر آپ کی عظمت فکروعمل کا اعتراف کرتے ہیں۔ بہرحال ہر فرد کی سوچ کا دائرہ اس کی مزاجی عصبیت کا اسیر ہوتا ہے۔ یہاں پر میں چند واقعات بیان کروں گا‘ جس سے اندازہ ہوسکے گا کہ خود انھیں کیسے مخالفین سے سابقہ پیش آیا تھا:

  • یہ اگست ۱۹۵۵ء کی بات ہے‘ دمشق کے عالم شیخ محمد مامون بن عبدالوہاب کے ذریعے ہمیں‘ مولانا ابوالکلامؒ کے ایک قریبی رفیق سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے اپنی گفتگو کا آغاز سیدمودودیؒ پر جارحانہ حملوں سے کرتے ہوئے اپنے استدلال کو اس مقام پر لے گئے جہاں انھوں نے کفر کا فتویٰ تک صادر کر دیا۔ میں نے عرض کیا: ’حضرت‘ آپ یہ کیا فرما رہے ہیں؟‘کہنے لگے: ’وہ دین کے معاملات میں کیوں ٹانگ اڑاتا ہے‘ حالانکہ وہ کسی دینی مدرسے کا فارغ التحصیل نہیں ہے۔ وہ دعوت و تبلیغ کی بات کیوں کرتا ہے‘ جب کہ اس کا تعلق صوفیا کے کسی سلسلے سے نہیں ہے‘ نہ وہ سلسلۂ قادریہ سے وابستہ ہے‘ نہ رفاعیہ سے اور نہ نقشبندیہ سے‘۔ میں نے عرض کیا: ’جناب‘ پہلے زمانے میں تو ہر جگہ اس طرح کے مدارس کا روایتی نظام نہیں تھا جیسا کہ آج آپ کے خیال میں آتا ہے۔ مگر اس کے باوجود پہلے زمانے کے لوگوں میں بھی بڑے شان دار خادمان دین پیدا ہوئے‘ جنھوں نے دین کی خدمت کی۔ ان لوگوں نے انفرادی سطح پر بزرگوں سے رہنمائی لی‘ مگر خود دین کے ماخذوں سے استفادہ کیا اور آج ہم انھی لوگوں کی کتب اپنے مدارس میں پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج کل کے صوفیا حضرات بھی شیخ عبدالقادر جیلانی یا شیخ احمد رفاعی کے نمایندے نہیں ہیں‘ بلکہ اس تصوف میں چند خوبیوں کے باوجود یونانی فلسفے کی خرافات اور ہندستان کی بہت سی مقامی خرافات راہ پاچکی ہیں۔ ہر ایک کے پاس تعویذ گنڈے اور دم کے مختلف رموز ہیں‘ جن پر تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو وہ تصورِ توحید سے ٹکراتے ہیں‘ اسی لیے غارت ایمان ہیں‘۔ جب میں یہ بات کر رہا تھا تو اُن کی نظر میں‘ میں بھی مولانا مودودی کی طرح گمراہ ہوچکا تھا اور میرا ایمان بھی غارت ہوچکا تھا۔
  • اسی طرح بھارت کے ایک اورمشہور شیخ طریقت جو روحانی اور سیاسی پیشوائیت کے مقام پر فائز تھے‘ ان سے متعدد بار ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔ ایک روز ان کی مجلس میں سیدمودودیؒ کا ذکر ہوا تو موصوف نے سید مودودیؒ پر اعتراضات وارد کرنے شروع کردیے۔ میرے لیے یہ بات سخت تعجب کا باعث بنی جب انھوں نے سید مودودیؒ کے لیے سخت نامناسب جملوں کا استعمال کیا۔

میں ان کے پہلو میں بیٹھا تھا‘ عرض کیا: ’یاشیخ‘ مولانا مودودیؒ نے آخر ایسا کیا جرم کیا ہے جو آپ اتنے سخت الفاظ میں ان کا تذکرہ کر رہے ہیں؟‘ شیخ طریقت نے جواب دیا: ’وہ کہتا ہے کہ صرف آنحضورؐ ہی معیارِ حق ہیں۔ اس طرح کی بات کہہ کر دراصل وہ صحابہؓ، تابعینؒ اور ائمہ میں سے کسی کو معیارحق ماننے سے انکار کرتا ہے‘۔ میں نے عرض کیا: ’یہ بات تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع ہی کی وجہ سے کہی جاسکتی ہے کہ صرف وہی معیارِ حق ہیں۔ بلاشبہہ دوسرے عظیم الشان صحابہ اور ائمہ سے بھی رہنمائی لینی چاہیے لیکن سبھوں کو درجۂ معصومیت پر فائز اور آخری معیار قرار نہیں دیا جاسکتا‘۔ یہ بات سن کر وہ کسی اور کام میں مشغول ہوگئے۔ اتنے میں کچھ اور عقیدت مند کمرے میں داخل ہوئے تو موضوع بدل گیا۔

تھوڑی دیر بعد میں نے سوال کیا: ’یاشیخ‘ ابن عربی اور ان کے اقوال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟‘ شیخ طریقت نے فرمایا: ’علماے حق نے متفقہ طور پر انھیں بڑے لوگوں میں تسلیم کیا ہے اور محتاط لوگوں نے ان کے اقوال کے بارے میں کچھ کہنے سے اجتناب کیا ہے۔ ابن عربی کے اقوال کے بارے میں صرف وہی کچھ کہنا چاہیے جو اچھا ہو‘ بلکہ ان کے کلام کی دو طرح سے تاویل کرنی چاہیے۔ پہلی یہ کہ ہم اُن کی مراد نہیں جانتے کہ ان کا یہ بات کہنے سے کیا مقصود تھا۔ دوسرا یہ کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ مذہب نہیں‘ بلکہ مذہب کی تاویل ہے‘۔ فرمان شیخ کے فوراً بعد میں نے کہا: ’اگر یہی اصول ہم سید مودودی کے بارے میں اختیار کریں تو پھر آپ کی کیا رائے ہوگی؟‘ یہ سوال سنتے ہی غصے سے شیخ طریقت کے چہرے کا رنگ بدل ہوگیا۔ میری طرف غضب سے دیکھا اور خادم سے کہا: ’نماز کی اقامت پڑھو‘۔

  • بھارت کے ایک بڑے عالم اس رشتۂ محبت کو جانتے تھے جو مجھے مولانا مودودیؒ سے جوڑتا ہے۔ ایک روز انھوں نے مجھ سے کہا: ’مجھے مولانا مودودیؒ کی یہ بات سخت ناپسند ہے کہ وہ علما سے تعاون نہیں کرتے‘ بلکہ پہلو بچاتے ہیں‘ انھیں علما کا احترام کرنا چاہیے‘۔ میں نے عرض کیا: ’مولانا مودودی‘ حق اور ناحق کا معیار کسی عالم کو قرار دینے کے بجاے قرآن و سنت اور سیرت پاکؐ کو قرار دیتے ہیں۔ میں نے تو انھیں عام فرد کے بارے میں بھی احترام کا رویہ اپنانے والا انسان پایا ہے  بھلا وہ علما کا احترام کیوں نہ کریں گے‘۔ اگر آپ مودبانہ اور مدلل اختلاف کو بے احترامی کہتے ہیں تو یہ دوسری بات ہے‘۔یہ جواب‘ ان کو پسند نہ آیا اور کچھ عرصے بعد عالم موصوف نے مولانا مودودیؒ  کے بارے میں ایک کتاب لکھی‘ جس میں سید صاحبؒ کو کفر کے درجے تک پہنچا کر دم لیا۔ برعظیم پاک و ہند کے علما حضرات میں سے بعض اپنی الگ شان رکھتے ہیں‘ چاہیں تو گمراہی کے لیے تاویل کا سہارا لے لیں اور پسند نہ ہو تو معمولی غلطی یا خود اپنے سوء فہم کی بنیاد پر ہی دوسرے کو کفر کے درجے تک پہنچاکر دَم لیں۔
  • عرب دنیا سے ایک دینی اسکالر کو مولانا مودودیؒ پر اعتراض تھا :’ انھوں نے اجتہاد کا دروازہ کھولا ہے اور صوفیا کرام پر جرح کرتے ہیں‘۔ ایک روز وہ میرے پاس آئے اور فرمایا: ’تم سیدمودودیؒ کی کتابیں نہ شائع کرو‘۔ میں نے کہا: ’بھائی‘ اسلام ہی نے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا ہے‘ اس کے ذمہ دار مولانا مودودی نہیں ہیں‘ کیونکہ اسلام دلوں کو کھولنے سے پہلے ذہنوں کو کھولتا ہے اور قدم قدم پر لوگوں کو سوچ بچار کی دعوت دیتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اسی راہ پر چلتے ہوئے آخر کون سا جرم کیا ہے‘۔

ایک ملاقات میں‘ میں نے مولانا مودودیؒ سے اتحاد و اشتراک کے مسئلے پر گفتگو کی۔ انھوں نے فرمایا: ’عدد اکٹھا کرنے سے نہ کوئی اتحاد بنتا ہے اور نہ اس ہجوم سے کوئی وزن پیداہوتا ہے۔ فکر اور دعوت میں بنیادی حیثیت تعداد کو نہیں بلکہ اصول اور خلوص کو حاصل ہوتی ہے‘۔ ایک ثانیے کے توقف کے بعد وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’بے مقصد لشکر کو جمع کرنا دراصل بائیں جانب صفروں کو جمع کرنا ہے‘ لیکن جب صحیح فکر اور واضح ہدف کے ساتھ اشتراک عمل ہو تو اس وقت صفر دائیں جانب منتقل ہوجاتے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں حقیقی وزن اور مؤثر اپیل پیدا ہوتی ہے‘۔

مولانا مودودی ؒنے ظاہری اور سطحی مظاہر کے لیے واقعی اتحاد سے انکار کیا۔ وہ زندگی کو  تصنع اور بے مقصدیت کی بھینٹ چڑھانے کے ہرگز قائل نہ تھے۔ یہ ان کی خداداد حکمت اور دُوراندیشی تھی کہ انھوں نے مختلف ممالک کی اسلامی تحریکات کے باہم اتحاد کی تحریک پر زور نہ دیا‘ البتہ مسلم ممالک کے اتحاد و اتفاق پر ضرور زور دیا۔ آج کے حالات میں مولانا مودودیؒ کی اس بصیرت کی معنویت سمجھ میں آتی ہے۔

اسی طرح مولانا مودودیؒ کسی سنجیدہ مقصد کے بغیر ہونے والی بین الاقوامی یا قومی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے پُرجوش نہ تھے۔ خصوصاً حکومتی سرپرستی میں ہونے والی کانفرنسوں کو وہ زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے‘ کیونکہ سرکاری مقتدرہ‘ ایسی کانفرنسوں کو رسمی طور پر نبھاتی ہے۔ رابطے کے اجلاسوں میں ان کی شرکت علامتی سطح پر تھی جس کا ایک پہلو افراد کے درمیان تبادلۂ خیال بھی تھا۔