مولانا مودودیؒ انسانی معاشرے میں جس تبدیلی کے داعی تھے‘جن وجوہ سے وہ اسے انسانیت کی خیروفلاح کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے‘اور اس کے لیے جو طریق کار ان کی نگاہ میں درست تھا‘اس کی پوری تفصیل ان کے چھوڑے ہوئے تحریری و تقریری سرمایے میں محفوظ ہے۔ اس کا جائزہ لے کر کوئی بھی بآسانی جان سکتا ہے کہ معاشرے میں تبدیلی کے لیے مولانا مودودیؒ کا وژن کیا تھا۔
عین عالم جوانی سے وہ انسانی معاشرے میں جس تبدیلی کے داعی اور اس کے لیے جس طریق کار کے علم بردار بن کر اٹھے تھے‘زندگی کے آخری لمحات تک اس حوالے سے ان کی فکر میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا۔ان کے تحریری کام اور عملی جدوجہد کا سلسلہ اگرچہ نصف صدی سے زیادہ مدت پر پھیلا ہوا ہے‘اس کے باوجود اس میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی جدوجہد کے آغاز سے پہلے رائج الوقت افکار و نظریات اور قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ کیا‘ اور پھر خوب سوچ سمجھ کر اپنے مقصد زندگی کی بنیاد کاملاً قرآن و سنت پر رکھی اور اس میں کسی ملاوٹ اور مداہنت سے قطعی مجتنب رہے۔ چنانچہ جو کچھ انھوں نے ۳۵سال کی عمر میں لکھا ‘۷۰ سال کی عمر میں بھی انھیں اس میں کسی ترمیم و تنسیخ کی ضرورت نہیں پڑی۔ان کے کسی دور کی تحریر اٹھا کر دیکھ لیجیے‘ ان کی بنیادی فکر میں مکمل یکسانیت ملے گی۔
ذیل میں ان کے افکارکی روشنی میں یہ جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ معاشرے میں جس تبدیلی کی جدوجہد انھوں نے شروع کی تھی ‘ اس کی تفصیلات ان کی نگاہ میں کیا تھیں۔
اس کے بعد کہتے ہیں:’’میں صرف غیرمسلموں ہی کو نہیں بلکہ خود مسلمانوں کو بھی اسلام کی دعوت دیتا ہوں‘اور اس دعوت سے میرا مقصد اس نام نہاد مسلم سوسائٹی کو باقی رکھنا اور بڑھانا نہیں ہے جو خود ہی اسلام کی راہ سے بہت دور ہٹ گئی ہے‘بلکہ یہ دعوت اس بات کی طرف ہے کہ‘ آؤ اس ظلم اور طغیان کو ختم کردیںجو دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔انسان پر سے انسان کی خدائی کو مٹادیں‘‘۔(تحریک ِآزادیٔ ہند اور مسلمان‘ ج ۲‘ ص ۲۴-۲۵)
’’انسان پر سے انسان کی خدائی کا خاتمہ اور قرآن کی بنیاد پر ظلم اور بے انصافی سے پاک ایک نئی دنیا کی تعمیر‘‘---یہ ہے وہ تبدیلی جس کی دعوت لے کر مولانا مودودیؒ اٹھے تھے۔
ہندستان کی آزادی کی تحریک کے دوران مسلمان قائدین اس بنیادی کام کے بجاے جن مسائل میں الجھے ہوئے تھے‘ ان کا ذکر کرتے ہوئے اسی سلسلۂ تحریر میں مولانا مودودی ؒ لکھتے ہیں: ’’مغربی طرز کے لیڈروں پر تو چنداں حیرت نہیں کہ ان بے چاروں کو قرآن کی ہوا تک نہیں لگی ہے‘ مگر حیرت اور ہزار حیرت ہے ان علماے کرام پر جن کا رات دن کا مشغلہ ہی ’قال اﷲ و قال الرسول‘ ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ان کو کیا ہوگیا ہے؟ یہ قرآن کو کس نظر سے پڑھتے ہیں کہ ہزار بار پڑھنے کے بعد بھی انھیں اس قطعی اور دائمی پالیسی کی طرف ہدایت نہیں ملتی جو مسلمانوں کے لیے اصولی طور پر مقرر کردی گئی ہے۔جن مسائل کوانھوں نے اہم اور اقدم قرار دے رکھا ہے‘ قرآن میں ہم کو ان کی فروعی اور ضمنی اہمیت کا نشان بھی نہیں ملتا۔برعکس اس کے قرآن میںہم دیکھتے ہیں کہ نبی پر نبی آتا ہے اور ایک ہی بات کی طرف اپنی قوم کو دعوت دیتا ہے: یٰقَوْمِ اعْبُدُوْاﷲ مَا لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗخواہ بابل کی سرزمین ہو یا ارضِ سدوم‘ یا ملک مدین‘ یا حجر کا علاقہ‘ یا نیل کی وادی‘ خواہ وہ چالیسویں صدی قبل مسیح ہو یا بیسویں یا دسویں‘ خواہ وہ غلام قوم ہویا آزاد‘ خستہ و درماندہ ہو یا تمدنی وسیاسی حیثیت سے بام عروج پر۔ ہر جگہ‘ ہردور میں‘ ہر قوم میں‘ اﷲ کی طرف سے آنے والے رہنماؤں نے انسان کے سامنے ایک ہی دعوت پیش کی‘ اور وہ یہ تھی کہ: اﷲ کی بندگی کرو‘ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے‘‘۔(ایضاً‘ ص ۱۰۴-۱۰۵)
اسی سلسلۂ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ اب یا تو یہ کہہ دیجیے کہ اسلامی تحریک کے وہ رہنما جو خدا کی طرف سے آئے تھے‘ سب کے سب عملی سیاسیات سے نابلد تھے‘ نہ جانتے تھے کہ انسانی زندگی کے معاملات میں کون سی چیز مقدم اور کون سی مؤخر ہونی چاہیے‘ اور انھیں خبر نہ تھی کہ آزادی کے لیے جدوجہد کس طرح کی جاتی ہے‘ اور ملکی معاملات کو حل کرنے کی کیا تدبیریں ہیں۔یا پھر یہ تسلیم کیجیے کہ اِس دور میں جو حضرات اسلام کے نمایندے اور مسلمانوں کے قائد و رہنما بنے ہوئے ہیں‘ وہ جزئیات شرع پر کتنا ہی عبور رکھتے ہوں‘ بہرحال اسلامی تحریک کے مزاج کو نہیں سمجھتے اور نہیں جانتے کہ اس تحریک کو چلانے اور آگے بڑھانے کا طریقہ کیا ہے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۱۰۶)
یہ بات ہمارے مرتبے سے فروتر ہے کہ ہم اس تنگ زاویے سے دنیا پر نگاہ ڈالیں جس سے ایک قوم پرست‘ یا ایک جمہوریت پسند ‘یا ایک اشتراکی اس کو دیکھتا ہے۔جو چیزیں ان کے لیے بلند ترین منتہاے نظر ہیں وہ ہمارے لیے اتنی پست ہیں کہ ادنیٰ التفات کی بھی مستحق نہیں۔ اگر ہم ان کے سے رنگ ڈھنگ اختیار کریں گے‘انھی کی زبان میں باتیں کریں گے اور انھی گھٹیا درجے کے مقاصد پر زور دیں گے جن پر وہ فریفتہ ہیں‘ تواپنی وقعت کو ہم خودہی خاک میں ملادیں گے… تعداد کی بنا پر اکثریت و اقلیت کے نوحے‘ یہ تحفظات اور حقوق کی چیخ و پکار--- یہ بولیاں بول کر ہم خود ایک غلط حیثیت اختیار کرتے ہیں اور اپنی حیثیت اس قدر غلط طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں …] حالانکہ[ خدا نے ہمیں اس سے بہت اونچا منصب دیا ہے۔ ہمارا منصب یہ ہے کہ ہم کھڑے ہوکر تمام دنیا سے غیراﷲ کی حاکمیت مٹادیں اور خدا کے بندوں پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت باقی نہ رہنے دیں… اس منصب کو ادا کرنے کے لیے کسی قسم کی خارجی شرائط درکار نہیں ‘ بلکہ صرف شیر کا دل درکار ہے‘‘۔(ایضاً‘ ص ۱۰۶-۱۰۸)
ان اقتباسات سے واضح ہے کہ مولانا مودودیؒ دنیا میں اسی معاشرتی تبدیلی کی دعوت لے کراٹھے تھے‘ جس کے لیے انبیاکرام دنیا میں بھیجے گئے۔ انھوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ اسی تبدیلی کی جدوجہد دنیا میں ان کا مشن ہے اور اس کا طریق کار وہی ہے جو اﷲ کے رسولوں نے اپنے ادوار میں اختیار کیا‘ اور خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ہر زمانے کے لیے اسی نہج پر پھیلانا اور تبدیلی لانے کی کوشش کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر لازم ہے۔
’’اصلی مسلمانوں کے لیے ایک ہی راہ عمل‘‘ کے عنوان سے ترجمان القرآن کے جولائی ۱۹۴۰ء کے شمارے میں چھپنے والے اس مضمون میں جو اَب تحریک آزادی ہند اور مسلمان کے دوسرے حصے میں موجود ہے ‘ اس نکتے کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی رسول آیا ہے‘ اکیلا ہی آیا ہے۔ اقلیت و اکثریت کا کیا سوال‘ وہاں سرے سے کوئی ’’مسلمان قوم‘‘ ہی موجود نہ تھی۔ایک فی قوم بلکہ ایک فی دنیا کی حیرت انگیز اقلیت کے ساتھ رسول یہ دعویٰ لے کر اٹھتا ہے کہ میں زمین پر خدا کی بادشاہت قائم کرنے آیا ہوں۔چند گنے چنے آدمی اس کے ساتھ ہوجاتے ہیں‘ اور یہ آٹے میں نمک سے بھی کم اقلیت‘ حکومت الٰہیہ کے لیے جدوجہد کرتی ہے… بارہا وہ اس مقصد میں ناکام ہوئے ہیں۔ان کو اور ان کے ساتھیوں کو قتل کردیا گیا‘ اور خدائی کے جھوٹے مدعیوں نے اپنی دانست میں اس تحریک کا قلع قمع کرکے چھوڑا۔مگر اس کے باوجود جو لوگ اﷲ پر ایمان لائے تھے اور جن کے نزدیک کرنے کا کام بس یہی تھا‘ انھوں نے آخری سانس تک بس اسی مقصد کے لیے کام کیا‘ اور کسی ایک نے بھی اکثریت کا یا حکومت کا رنگ دیکھ کر‘ یا وقتی اور مقامی مشکلات کا خیال کرکے دوسرے راستوں کی طرف ادنیٰ التفات تک نہ کیا۔
پس یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس تحریک کو اٹھانے اور چلانے کے لیے خارج میں کسی سامان اور ماحول میں کسی سازگاری کی ضرورت ہے۔جس سامان اورجس سازگار ماحول کو یہ لوگ ڈھونڈتے ہیں وہ نہ کبھی فراہم ہوا ہے نہ کبھی فراہم ہوگا۔دراصل خارج میں نہیںبلکہ مسلمان کے اپنے باطن میں ایمان کی ضرورت ہے۔اس قلبی شہادت کی ضرورت ہے کہ یہی مقصد حق ہے‘ اور اس عزم کی ضرورت ہے کہ میرا جینا اور مرنااسی مقصد کے لیے ہے۔یہ ایمان‘ یہ شہادت‘ یہ عزم موجود ہو تو دنیا بھر میں ایک اکیلا انسان یہ اعلان کرنے کے لیے کافی ہے کہ میں زمین پر خدا کی بادشاہت قائم کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۱۱۱-۱۱۲)
دراصل ایک ملک پر نہیں بلکہ ساری دنیا پر چھاجانے کی قوت اگر ہے تو وہ صرف ایک ایسی اصولی تحریک میں ہے جو انسان کو بحیثیت انسان خطاب کرتی ہو‘اور اس کے سامنے خود اس کی اپنی فلاح کے فطری اصول پیش کرتی ہو۔قومیت کے برعکس ایسی تحریک ایک تبلیغی طاقت ہوتی ہے۔ قومیت کے حصار‘ نسلوں کے تعصبات‘قومی ریاستوں کے مضبوط بند‘ کوئی چیز بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔وہ ہرطرف‘ ہر جگہ نفوذ کرتی چلی جاتی ہے۔ اس کی طاقت کا انحصار اپنے پیروؤں کی تعداد یا ان کے وسائل پر نہیں ہوتا۔ایک اکیلا آدمی اس کو اٹھانے کے لیے کافی ہے۔پھر وہ خود اپنے اصولوں کی طاقت سے آگے بڑھتی ہے۔وہ اپنے دشمنوں میں سے دوست پیدا کرتی ہے۔سب قوموں کے آدمی ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے جھنڈے کے نیچے آنے لگتے ہیں اور وسائل اپنے ساتھ لاتے ہیں۔جو فوجیں اس سے لڑنے آتی ہیں‘ ان پر وہ اپنے اصولوں کے تیر بھی چلاتی ہے۔خون کے پیاسے دشمنوں میں سے وہ اپنے سرگرم حامی ڈھونڈ نکالتی ہے۔ سپاہی‘ جنرل‘ ماہرین فنون‘سرمایہ دار‘ صناع اور کاریگر‘ سب انھی میں سے اس کو مل جاتے ہیں‘ اور بے سروسامانی میں ہرقسم کا سامان نکلتا چلا آتا ہے۔ قومیتیں اس کے سیلاب کے مقابلے میں کبھی نہیں ٹھیرسکتیں۔بڑے بڑے پہاڑ اس کے سامنے آتے ہیں اور نمک کی طرح پگھل پگھل کر اس آب ِرواں میں جذب ہوجاتے ہیں۔اس کے لیے اقلیت و اکثریت کے سارے سوالات بے معنی ہیں۔وہ اس کی ہرگز محتاج نہیں ہوتی کہ کسی منظم اور باوسیلہ قوم کی طاقت اس کی پشت پر ہو۔وہ قومی حکومت قائم کرنے نہیں اٹھتی کہ قومیں اس کی مزاحمت کرسکیں۔اسے تو ایک ایسے اصول کی حکومت قائم کرنی ہوتی ہے جو سب قوموں کے لوگوں کی فطرت کو اپیل کرتا ہو۔جاہلی تعصبات کچھ دیر تک اس سے لڑتے رہتے ہیں مگر جب فطرتِ انسانی پر لگا ہوا زنگ چھوٹتا ہے تو وہ کیفیت ہوتی ہے کہ ؎
ہمہ آہوانِ صحرا سرِخود نہادہ برکف
بامید آنکہ روزے بہ شکارخواہی آمد
]صحرا کے تمام ہرن اپنے سر ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں‘ اس امید پر کہ کسی دن وہ شکار کرنے تو آئے گا۔[
اس وضاحت کے بعد کہ پوری انسانیت کی فلاح کی علم بردارایک عالم گیر اصولی تحریک کے داعیوں کی حیثیت سے مسلمانوںکا دنیا کی دوسری اقوام کے ساتھ مادّی مفادات کا کوئی جھگڑا نہیں ہے‘ اس حیثیت کے عملی تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں:’’یہ حیثیت اختیار کرنے اور اس تحریک کو لے کر اٹھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے شخصی اور قومی مفاد اور اغراض کو بھول جائیں‘ تمام تعصبات سے بالاتر ہوجائیں‘اور چھوٹی چھوٹی چیزوں سے نظر ہٹالیں جن سے ہمارے حقیر دُنیوی فوائد کا تعلق ہے… اگر ہم نام نہاد مسلم قوم کے تعصب میںمبتلا ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہندو یا سکھ یا عیسائی کے دل کا دروازہ ہماری پکار کے لیے کھل جائے۔ اگر ہم ]نام کی مسلم[ ریاستوں کی حمایت محض اس لیے کریں کہ ان کے ] حکمران[ مسلمان ہیں اور ان سے مسلمانوں کو کچھ معاشی سہارا مل جاتا ہے‘ تو کوئی احمق ہی ہوگا جو اس کے بعد بھی یہ باور کرلے گا کہ ہم اسلام کے نظریۂ سیاسی پر ایمان رکھتے ہیں اور واقعی حکومت الٰہی قائم کرنا ہمارا نصب العین ہے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۱۱۸)
ان تحریکوں کی نظر صرف ] مقامی[ مسلم قوم تک محدود رہی ہے۔کسی نے وسعت اختیار کی تو زیادہ سے زیادہ بس اتنی کہ دنیا کے مسلمانوں تک نظر پھیلادی۔مگر بہرحال یہ تحریکیں صرف ان لوگوں تک محدود رہیں جو پہلے سے ’’مسلم قوم‘‘ میں شامل ہیں‘ اور ان کی دل چسپیاں بھی انھی مسائل تک محدود رہیں‘ جن کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ان کے کاموں میں کوئی چیز ایسی شامل نہیں رہی ہے‘ جو غیرمسلموں کواپیل کرنے والی ہو‘ بلکہ بالفعل ان میں سے اکثر کی سرگرمیاں غیر مسلموں کے اسلام کی طرف آنے میں الٹی سدراہ بن گئی ہیں۔لیکن ہمارے لیے چونکہ خوداسلام ہی تحریک ہے اور اسلام کی دعوت تمام دنیا کے انسانوں کے لیے ہے ‘ لہٰذا ہماری نظر کسی خاص قوم یا کسی خاص ملک کے وقتی مسائل میں الجھی ہوئی نہیں ہے‘ بلکہ پوری نوع انسانی اور سارے کرۂ زمین پر وسیع ہے۔تمام انسانوں کے مسائل زندگی ہمارے مسائل زندگی ہیں‘ اور اﷲ کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت سے ہم ان مسائل زندگی کا وہ حل پیش کرتے ہیں‘جس میں سب کی فلاح اور سب کے لیے سعادت ہے۔ (روداد جماعت اسلامی‘ حصہ اول‘ ص ۱۱)
یہ جماعت کوئی قوم پرست یا وطن پرست جماعت نہیں ہے بلکہ اس کا نظریۂ حیات عالم گیر ہے اور پوری انسانیت کی فلاح اس کے پیش نظر ہے‘ مگر وہ یقین رکھتی ہے کہ جب تک ہم خود اپنے ملک کو اسلامی نظام کا مثالی نمونہ نہ بنادیں‘ اور جب تک ہم یہ ثابت نہ کردیں کہ جس حق و صداقت پر ہم ایمان کا دعویٰ کررہے ہیں اس پر خود بھی عمل کررہے ہیں‘ اور جب تک ہم یہ نہ دکھادیں کہ اس پر عمل کرنے کے کیسے بہتر نتائج ہمارے ملک میں برآمد ہوئے ہیں‘ اس وقت تک ہم دنیا کو اس کے حق اور صداقت ہونے کا قائل نہیں کرسکتے۔
اسی مقصد کے لیے جماعت نے قرارداد مقاصد کی منظوری کے نتیجے میں پاکستان کے اصولی طور پر اسلامی ریاست قرار پاجانے کے بعد انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم انتخابات میں حصہ لینے کا اصل مقصد اس ذریعے سے اپنی دعوت لوگوں تک پہنچانا تھا اور مقصودیہ تھا کہ مسلسل انتخابی عمل بالآخر لوگوں میں بھلے برے کا شعور پیدا کردے گا اور معاشرہ اس تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوجائے گا جو جماعت اسلامی کو مطلوب ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اپنی کتاب تحریک اسلامی کا آیندہ لائحۂ عملمیں انتخابی سیاست میں شرکت کی یہی حکمت بتائی ہے۔
اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انھیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحے کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔یہ بھی بے صبری اور جلدبازی ہی کی ایک صورت ہے‘ اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی نسبت زیادہ خراب۔ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک کے ذریعے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلائیے۔بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے‘ لوگوں کے خیالات بدلیے‘اخلاق کے ہتھیاروں سے دلوں کو مسخر کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہوگا‘ وہ ایسا پایدار اور مستحکم ہوگا جسے مخالف قوتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔جلدبازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا‘ اسی راستے سے مٹایا بھی جاسکے گا۔
جماعت اسلامی کو سچائی نے شکست نہیں دی‘ جھوٹ نے شکست دی ہے۔جماعت اسلامی اگر سچائی سے شکست کھاتی تو فی الواقع اس کے لیے شدید ندامت کا مقام تھا۔ لیکن چونکہ اس نے جھوٹ سے شکست کھائی ہے اس لیے اس کا سر فخر سے بلند ہے۔وہ جھوٹ کے مقابلے میں جھوٹ نہیں لائی۔ وہ بداخلاقی کے مقابلے میں بداخلاقی نہیں لائی۔اس نے سڑکوں پر رقص نہیں کیا۔ اس نے غنڈوں کو منظم نہیں کیا۔ اس نے برسرعام گالیاں نہیں دیں۔اس نے لوگوں سے جھوٹے وعدے نہیں کیے۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ جھوٹے وعدوں کے فریب میں لوگ مبتلا ہورہے ہیں‘‘۔کچھ لوگ ]مجھ سے[ کہہ رہے تھے کہ:’’کچھ نہ کچھ آپ کوبھی کرنا چاہیے۔لیکن میں اس زمانے میں برابر لوگوں سے کہتا رہا کہ چاہے آپ کو ایک نشست بھی نہ ملے لیکن آپ سچائی کے راستے سے نہ ہٹیں۔وہ وعدہ جسے آپ پورا نہ کرسکتے ہوں وہ آپ نہ کیجیے۔کوئی ایسا کام نہ کیجیے جس سے خدا کے ہاں آپ پر یہ ذمہ داری آجائے کہ آپ بھی اس قوم کے اخلاق بگاڑ کر آئے ہیں۔ آپ بھی اس قوم کو جھوٹ‘ گالی گلوچ اور دوسری اخلاقی برائیوں میں مبتلا کرکے آئے ہیں۔جو ذمہ داری آپ پر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جو اﷲ اور رسولؐ کا بتایا ہوا راستہ ہے ‘اس کے مطابق کام کریں۔آپ نے کوئی ٹھیکہ نہیں لیا ہے کہ اس ملک کے اندر ضرورہی اسلامی نظام قائم کریں گے۔اسلامی نظام کا قیام تو اﷲ کی تائید اور توفیق پر منحصر ہے‘ اور اس قوم کی صلاحیت اور استعداد پر منحصر ہے‘ جس کے اندر آپ کام کررہے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس قوم کو اس قابل سمجھتا ہے یا نہیں کہ اس کو اسلامی نظام کی برکتوں سے مالا مال کرے‘ یا ان کو تجربوں کی ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑ دے جن کی ٹھوکریں وہ آج کھارہی ہے۔آپ کاکام اﷲ اور رسولؐ کے بتائے ہوئے طریقے پر چل کر محنت کرنا ہے‘ جان کھپانا ہے۔ اس میں اگر آپ کوتاہی کریںگے توماخوذ ہوں گے۔ اس میں اگر آپ کوتاہی نہیں کرتے تو خدا کے ہاں کامیاب ہیں خواہ دنیا میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں۔(تصریحات‘ص ۲۷۷-۲۷۸)
مولانا مودودیؒ کے ہاں سے جو رہنمائی ملتی ہے اس کی رو سے دنیا سے غیراﷲ کی حاکمیت کے خاتمے اور اﷲ کی زمین پر اﷲ کی حاکمیت کے قیام کا یہ کام‘ عالمی سطح پر ایک علمی و فکری انقلاب برپا کرکے ہی انجام دیا جاسکتا ہے۔اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں:’’اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا سوادِ اعظم اب بھی اسلام کی صداقت پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمان رہنا چاہتا ہے لیکن دماغ مغربی افکار اور مغربی تہذیب سے متاثر ہوکراسلام سے منحرف ہورہے ہیں‘ اور یہ انحراف بڑھتا چلا جارہا ہے۔سیاسی غلبہ و استیلا سے قطع نظر‘ مغرب کا علمی و فکری دبدبہ اور تسلط دنیا کی ذہنی فضا پر چھایا ہوا ہے‘ اور اس نے نگاہوں کے زاویے اس طرح بدل دیے ہیںکہ دیکھنے والوں کے لیے مسلمان کی نظر سے دیکھنا اور سوچنے والوں کے لیے اسلامی طریق پرسوچنا مشکل ہوگیا ہے۔یہ اشکال اس وقت تک دور نہ ہوگا‘ جب تک مسلمانوں میں آزاد اہل فکر پیدا نہ ہوں گے…… اب اگر اسلام دوبارہ دنیا کا رہنما بن سکتا ہے تو اس کی بس یہی ایک صورت ہے کہ مسلمانوں میں ایسے مفکر اور محقق پیدا ہوں جو فکرونظر اور تحقیق و اکتشاف کی قوت سے اُن بنیادوں کوڈھادیں جن پر مغربی ]لادینی[ تہذیب کی عمارت تعمیر ہوئی ہے۔قرآن کے بتائے ہوئے طریق فکر و نظر پر آثار کے مشاہدے اور حقائق کی جستجو سے ایک نئے نظام فلسفہ کی بنیاد رکھیںجو خالص اسلامی فکر کا نتیجہ ہو۔ایک نئی حکمت طبیعی(نیچرل سائنس) کی عمارت اٹھائیں جو قرآن کی ڈالی ہوئی داغ بیل پر اٹھے۔ملحدانہ نظریے کو توڑ کر الٰہی نظریے پر فکرو تحقیق کی اساس قائم کریںاور اس جدید فکروتحقیق کی عمارت کو اس قوت کے ساتھ اٹھائیں کہ وہ تمام دنیا پرچھاجائے اور دنیا میں مغرب کی مادّی تہذیب کے بجاے اسلام کی حقانی تہذیب جلوہ گر ہو‘‘۔ (تنقیحات‘ص:۱۹-۲۰)
اس کام کو شروع کرنے کے لیے اس بات کی کوئی ضرورت نہیںکہ مسلمان پہلے سائنس اور ٹکنالوجی میں جدید مادّہ پرست قوتوں کے ہم پلہ ہوجائیں‘صنعت و حرفت میں ان کی برابری کرنے لگیں اورفوجی طاقت میں ان کی ٹکر پر آجائیں۔مولانا مودودیؒ کے بقول اس کام کا آغاز تمام وسائل سے محروم پوری دنیا میں ایک اکیلا شخص بھی کرسکتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ وقت کی نمرودی اور فرعونی تہذیبوں کو چیلنج کرنے کا یہ کام ہمیشہ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام جیسے ظاہری دنیاوی وسائل سے سراسر محروم انسانوں ہی نے کیا ہے۔البتہ آج کی اسلامی تحریکوں کو یہ کام کرنے کے لیے اپنے آپ کو عملاً محض مسلمانوں کے قومی مفادات کی وکالت اور اس سلسلے میں دوسری اقوام کے ساتھ ان کے تنازعات میں جانبداری سے بالاتر ہونا پڑے گا۔کیونکہ ایسا نہ کرنے کا مطلب مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم’’وسیع تر انسانیت کو اپیل کرنے کا دروازہ خود ہی بند کردیں‘‘۔اس حوالے سے اپنے مشہور مقالے اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟ میں وہ کہتے ہیں:
اصولی حکومت کے تخیل کی تو بنیاد ہی یہ ہے کہ ہمارے سامنے قومیں اور قومیتیں نہیں‘ صرف انسان ہیں۔ہم ان کے سامنے ایک اصول اس حیثیت سے پیش کرتے ہیں کہ ’اسی پر تمدن کا نظام اور حکومت کا ڈھانچا تعمیر کرنے میں ان کی فلاح ہے‘اور جو اس کو قبول کرلے وہ اس نظام کو چلانے میں برابر کا حصہ دار ہے۔غور کیجیے اس تخیل کو لے کر وہ شخص کس طرح اٹھ سکتا ہے جس کے دماغ‘ زبان‘ افعال اور حرکات‘ ہر چیز پر قومیت اور قوم پرستی کا ٹھپہ لگا ہوا ہو۔اس نے تو وسیع تر انسانیت کواپیل کرنے کا دروازہ خود ہی بند کردیا‘پہلے ہی قدم پر اپنی پوزیشن کو آپ غلط کرکے رکھ دیا۔قوم پرستی کے تعصب میں جو قومیں اندھی ہورہی ہیں‘جن کے لڑائی جھگڑوں کی ساری بنیادہی قوم پرستی اور قومی ریاستیں ہیں‘ ان کو انسانیت کے نام پر پکارنے اور انسانی فلاح کے اصول کی طرف بلانے کا آخر یہ کون سا ڈھنگ ہے کہ ہم خود اپنے قومی حقوق کے جھگڑوں سے اس دعوت کی ابتدا کریں؟ (تحریک آزادی ہند اور مسلمان‘ ج ۲‘ ص ۱۶۶)
اس کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع ابلاغ و مواصلات نے پوری دنیا کو سمیٹ کر ایک چھوٹا سا گاؤں بنادیا ہے۔ ٹیلی وژن کے سٹیلائٹ چینل اور انٹر نیٹ جیسی ایجادات نے ہر ایک کے لیے پوری دنیا تک بیک وقت اپنا پیغام پہنچانے کی سہولت مہیا کردی ہے۔ان حالات میں یہ بات واضح ہے کہ اب دنیا میں جو تبدیلی بھی آئے گی‘ عالمی سطح ہی پر آئے گی۔ افکار و رجحانات کے عالمی سرچشموں سے دنیا کا کوئی گوشہ اثرپذیر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جس کا پیغام زیادہ موثر اور جان دار ہوگا بالآخر وہی جدید انسان کے ذہن کو مسخر کرنے اور اس کا دل جیتنے میں کامیاب رہے گا۔آج اگر مغرب اپنے پروپیگنڈے کی طاقت سے دنیا کو باور کرارہا ہے کہ اسلام دہشت گردی کا دوسرا نام ہے‘ تو انھی جدید ذرائع سے لوگوں تک اسلام کی صحیح دعوت پہنچاکر کل صورت حال یکسر بدلی بھی جاسکتی ہے‘کیونکہ اسلام بہرحال حق ہے اوریہ فطرت کا اٹل قانون ہے کہ روشنی کے سامنے اندھیرا کبھی نہیں ٹھیرتا۔ جاء الحق وزھق الباطل‘ انّ الباطل کان زھوقا۔دنیا کی یہ کیفیت اس امر کا کھلا اشارہ ہے کہ جو نبی ؐ پوری انسانیت کے لیے مبعوث کیا گیا ہے اور جس کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچانے کی ذمہ داری اس کی امت کے سپرد کی گئی ہے‘ اس نبیؐ کے مشن کی تکمیل کا وقت آپہنچا ہے۔
دور حاضر میں اسلامی تحریک کو اپنی حکمت عملی وقت کے اس تقاضے کے مطابق ترتیب دینی چاہیے۔ مقامی طور پر نفاذ اسلام کی سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ مولانا مودودی ؒکے افکار کے مطابق عالمی محاذ پرعلمی و فکری کام کے لیے بھی اسے اپنے وسائل اور صلاحیتوں کا معقول حصہ وقف کرنا چاہیے‘ اور ان کاوشوں کو جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے تمام دنیا تک پورے اہتمام کے ساتھ پہنچاناچاہیے۔ان کوششوں کے نتیجے میں عین ممکن ہے کہ نفاذ اسلام کا سلسلہ کسی مسلمان ملک کے بجاے کسی ایسے غیر مسلم ملک سے شروع ہوجائے جس کے بارے میں ابھی سوچابھی نہ جاسکتا ہو۔ بالکل اسی طرح جیسے اﷲ کے نبیؐ کی دعوت مکہ میں اس کے ہم وطنوں سے پہلے حبش کے بادشاہ اور مدینہ کے اجنبیوں نے قبول کی ۔ داس کیپی ٹال جس ملک میںلکھی گئی اس کی بنیاد پر انقلاب اس ملک سے ہزاروں میل دور زاروں کی سرزمین اور چیانگ کائی شیک کے وطن میں برپا ہوا۔ ابوجہل اور ابولہب کی صفوں سے اگر ڈیڑھ ہزار برس پہلے لشکر اسلام کو عمرؓ بن خطاب اور خالدؓ بن ولید جیسے مردانِ کار دستیاب ہوسکتے تھے توآخرآج کعبے کو صنم خانوں سے پاسباں کیوں میسر نہیں آسکتے ؟پھر جدید ذرائع ابلاغ کے باوجود اپنے ملک میں نفاذ اسلام کے انتظار میں بندگیِ رب کی دعوت دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچانے سے رکے رہنے کا کوئی منطقی جواز نہیں ہے۔ اس دعوت کا تعلق صرف اجتماعی معاملات سے نہیں‘ ہر فرد کی انفرادی فلاح و نجات سے بھی ہے۔ لہٰذا اس سے ناواقفیت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونے والا ہر شخص رب کائنات کے حضور یہ شکایت کرنے میں بالکل حق بجانب ہوگا کہ جن لوگوں کوآپ نے اپنے آخری پیغام کا امین اورپوری دنیا کے لیے اس حق کا گواہ بنایا تھا‘وسائل موجود ہونے کے باوجودانھوں نے یہ پیغام ہم تک نہیں پہنچایا‘ اس لیے ہمارے دوزخ میں جانے کے اصل ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔
آج غیروں کی زیادتیوں کے ردعمل میںچلنے والی احتجاجی تحریکوں پرمسلمانوں کے جو وسائل صرف ہورہے ہیں اور جتنی جانی قربانیاں ان تحریکوں کے وابستگان دے رہے ہیں ‘اگر یہ مالی وسائل اور یہ انسانی توانائیاں دنیا تک اسلام کے پیغام کو قومی حقوق اور مفادات کے جھگڑوں سے بالاتررہتے ہوئے پوری انسانیت کے لیے خیرخواہی کے سچے جذبے کے ساتھ پہنچانے پر صرف کی جائیں‘ تو یقینی طور دنیا میں اسلام کی مقبولیت کے حوالے سے کہیں بہتر نتائج رونما ہوسکتے ہیں۔پوری دنیا پراﷲ کی حاکمیت کے قیام کے لیے مولانا مودودی ؒنے اسی راستے کی نشان دہی کی ہے‘ اورانسانی معاشرے میں مولانا مودودیؒ کے وژن کے مطابق تبدیلی برپا کرنے کے لیے اسی حکمت عملی کا اختیار کیا جانا ضروری ہے۔
برعظیم کے عظیم مصلحین میں سے ایک علامہ ابوالاعلیٰ مودودی ؒہیں۔ آپ نے اردو زبان میں قرآن مجید کی تفسیر لکھی‘ جو عمرانی اور تربیتی لحاظ سے بہت اہم ہے۔ خوش قسمتی سے آپ کی تفسیر اور دیگر تالیفات کا قابلِ ذکر حصہ دوسری زبانوں کے علاوہ عربی‘ فارسی‘ ترکی بنگالی‘ ہندی‘ پشتو‘ جرمنی اور انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
علامہ مودودیؒ محض پاکستان سے ہی تعلق نہیں رکھتے‘ بلکہ آپ کا تعلق پورے عالمِ اسلام سے ہے۔ آپ کے افکار و آثار ‘یعنی تصنیفات و تالیفات‘ دنیاے اسلام میں دستیاب ہیں۔ جونہی آپ نے اپنی دعوت کا آغاز کیا اور استعمار اور ہوسِ اقتدار میں مبتلا طبقے پر کھل کر تنقید کی‘ تو آپ کی آواز پوری دنیا میں ہر جگہ پہنچی اور رفتہ رفتہ آپ کی کتابوں کامختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ ایران اور فارسی جاننے والے ممالک میں آپ کی تالیفات فارسی اور عربی دونوں زبانوں میں شائع ہوئیں‘ جن سے شیعہ و سنی دونوں مکاتب فکر نے استفادہ کیا۔
سید ابوالحسن علی ندویؒ ایک بڑے عالم دین اور علامہ مودودی ؒکے ہم عصر ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’میں نے اسلامی تہذیب کے اس دور میں آپ جیسا کوئی اور شخص نہیں دیکھا جس نے فکر و خیال پر اتنے زیادہ اثرات چھوڑے ہوں‘‘۔
علامہ مودودیؒ کی شخصیت کا اہم پہلو یہ ہے کہ انھوں نے تاریخ کے ایک اہم موڑ پر قرآن مجید کی طرف پلٹنے کی دعوت دی۔ آپ ان مصلحین میں سے تھے جنھوں نے برعظیم میں قرآن کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی۔ آپ سے پہلے سید جمال الدینؒ اسد آبادی (۱۲۵۴ھ - ۱۳۱۴ھ) اور شیخ محمد عبدہؒ (۱۲۶۶ھ - ۱۳۲۴ھ) مشرقِ وسطیٰ میں دعوت دے چکے تھے۔ رجوع الی القرآن کا یہ نظریہ اس لحاظ سے بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ قرآن مجید کئی برسوں سے‘ عوام کی زندگی سے بہت دور‘ الگ تھلگ کر دیا گیا تھا۔ قرآن مسلمانوں کی نظر میں محض ایک مقدس کتاب تھی‘ وہ اس کا احترام کرتے تھے۔ اسے چومتے تھے‘ خوشی و غمی کے موقعے پر اس کی تلاوت کرلیتے تھے اور مُردوں کی روحوں کو خوش کرنے کے لیے قرآن پڑھا لیتے تھے۔ مگر زندگی کی سرگرمیوں میں اسے دستورالعمل بنالینے کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔
علامہ مودودیؒ نے قرآن کی طرف رجوع کرنے کی جو دعوت دی ہے‘ وہ دراصل قرآن کی عزت و احترام کی طرف حقیقی معنوں میں لوٹنے کی دعوت ہے۔ یہ مسلمانوں کی فکری پس ماندگی کے خاتمے اور تہذیبی زوال کی تلافی کی دعوت ہے۔ قرآن کی طرف پلٹنا ایک ایسی کتاب کی طرف پلٹنا ہے جو تنہا سند حجت ہے‘ قطعی اور متواتر ہے‘ تحریف سے پاک ہے اور تمام مسلمانوں میں یکساں مقبول و محترم ہے۔ اس کتاب سے جہاں بانی و جہاں بینی کے اصول و عقائد اور احکام و اقدار حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس کتاب کے ذریعے غلو آمیز خرافاتی عقائد کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ اس پر سبھی مسلمانوں کا ایمان و اتفاق ہے۔ اس لیے یہ اتحاد اور مسلمانوں کی عمرانی او ر سیاسی تحریک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس کتاب سے تعلیم میں انقلاب اور سماجی ترقی وجود میں آ سکتی ہے۔
علامہ مودودی ؒ نے قرآن کے اصل پیغام کو پہچان کر جو ذہنی رفعت حاصل کی ہے‘ آپ اس بارے میں لکھتے ہیں: ’’جب آنکھ کھول کر قرآن کو پڑھا تو بخدا یوں محسوس ہوا کہ… علم کی جڑ اب ہاتھ آئی ہے… دنیا کے تمام بڑے بڑے مفکرین اب مجھے بچے نظرآتے ہیں… کہ ساری عمر جن گتھیوں کو سلجھانے میں الجھتے رہے… اور پھر بھی حل نہ کر سکے۔ ان کو اس کتاب ]قرآن کریم[ نے ایک ایک دو دو فقروں میں حل کر کے رکھ دیا ہے‘ حیوان سے انسان بنا دیا۔ تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئی‘ اور ایسا چراغ میرے ہاتھ میں دے دیا کہ زندگی کے جس معاملے کی طرف نظر ڈالتا ہوں حقیقت اس طرح برملا دکھائی دیتی ہے کہ گویا اس پر پردہ نہیں ہے۔ انگریزی میں اس کنجی کو master key (شاہِ کلید) کہتے ہیں‘ جس سے ہر قفل کھل جائے۔ سو‘ میرے لیے یہ قرآن ’شاہِ کلید‘ ہے۔ مسائل حیات کے جس قفل پر اسے لگاتا ہوں کھل جاتا ہے۔ جس خدا نے یہ کتاب بخشی ہے اس کا شکر ادا کرنے سے میری زبان عاجز ہے۔(تفہیم القرآن فارسی‘ ج۱‘ ص ۲‘ ترجمہ: کلیم اللہ )
علامہ مودودی ؒسے پہلے علامہ اقبال ؒنے برعظیم میں رجوع الی القرآن کی دعوت دی تھی۔ انھوں نے اپنی کتاب اسرارِ خودی اور دیگر کتابوں اور اپنے اشعار میں قرآن کی طرف رجوع کے لیے کہا تھا‘ کہ اس سے مسلمان اپنے آپ کو پالیں گے اور غیروں کی تہذیب اپنانے کی ذلت سے بچ جائیں گے۔ دنیا پر مغربی اقوام کے تسلط سے اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں مسلم نوجوان تہذیب مغرب کی چکا چوند سے فریب کھا کر حوصلہ نہ ہار بیٹھیں اور اسلام کی برتری و حقانیت سے ان کا اعتماد نہ اٹھ جائے۔ اسی لیے علامہ اقبال ؒنے انھیں بروقت خبردار کیا اور قرآن کی طرف بلایا۔
علامہ مودودی ؒنے ویسے تو کئی مقالات شائع کیے‘ مگر قرآن کی طرف واپسی کے جلیل مقصد کے لیے آپ نے اپنے رسالے ترجمان القرآن میں تسلسل سے لکھا‘ تاکہ عہدِ حاضر کی زبان میں معاشرے کو قرآنی فکر سے متعارف کروائیں۔ آپ نے ’جماعت اسلامی‘ کے نام سے ایک پارٹی قائم کی اور اس کے ارکان کی ذہنی و فکری پرورش و تربیت قرآنی فکر سے کی۔
آپ نے اپنی تفسیر میں اس نکتے کو انتہائی سادگی اور اختصار سے بیان کیا ہے کہ نزولِ قرآن کا مقصد کیا ہے؟ قرآن کا کیا دستورالعمل ہے؟ قرآن جس انسان کا تعارف کرواتا ہے‘ وہ کس قسم کا انسان ہے؟ اور قرآن ایک نظام اور معاشرے کی تشکیل کے لیے کس قسم کا منصوبہ پیش کرتا ہے؟ علامہ کی تفسیر تفہیم القرآنکے تمام پہلوئوں کا جائزہ لینا ممکن نہیں ہے‘ اس لیے کہ یہ چھ جلدوں پرمشتمل ہے۔ اگرچہ اس کے تمام پہلوئوں کا تجزیہ اور باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری اور ازبس مفید ہے۔ بہرحال یہاں اختصار کے ساتھ اس تفسیر کی چند خصوصیات اور نکات بیان کرنے پر اکتفا کرتا ہوں:
۱- تفہیم القرآن عوام کی رہنمائی و آگاہی کے لیے سادہ زبان میں لکھی گئی ہے۔ ترجمہ و تشریح سے اس کا مقصد‘ متخصصین اور اہلِ فن کے ذوق کا سامان فراہم کرنا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تفسیر میں اکیڈمک طرز کی بحث و تحقیق‘ ادبی نکتہ آفرینیوں یا اعجاز بلاغت کے نکتے پیش کرنے سے احتراز کیا گیا ہے۔ علامہ مودودی چاہتے ہیں کہ قارئین تک قرآن کا پیغام پہنچائیں اور اس پیغام سے واقف ہونے کا اثر ان کی زندگی اور طرزِ عمل پر پڑے۔ ان کا مقصدِ زندگی اور حیاتِ عمرانی کا منشا بدل جائے۔
۲- اس تفسیر کی ایک خصوصیت اس کا ’عصری‘ ہونا ہے۔ ’تفسیر عصری‘ سے مراد یہ ہے کہ مفسر دینی و اعتقادی مباحث پیش کرتے وقت ایسا اسلوب اختیار کرے کہ عام ناظر اس کتاب کو پڑھتے ہوئے قرآن کا مفہوم و مدعا بالکل صاف صاف سمجھتا چلا جائے اور وہ اپنے دور کی زبان اور فکر میں قرآن کے پیغام کو پا سکے۔ اسی طرح دورانِ مطالعہ جہاں جہاں اسے الجھنیں پیش آ سکتی ہوں وہ صاف کر دی جائیں۔ پھر جہاں کچھ سوالات اس کے ذہن میں پیدا ہوں‘ اس کا جواب اسے بروقت مل جائے۔ علامہ مودودیؒاپنی تفسیر کے مقدمے میں اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دیگر مفسرین کی کوششیں قابل قدر ہیں‘ مگر وہ آج کی ضروریات پورا کرنے اور تشنگی رفع کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ چاہیے یہ کہ موجودہ دور کے لحاظ سے تفسیر لکھی جائے‘ جس سے مناسب طور پر استفادہ کیا جا سکے۔
۳- اس تفسیر کی ایک ہم خصوصیت مفسر کا سماجی علوم و افکار سے واقف ہونا بھی ہے۔ اس صدی میں‘ علمِ تفسیر میں یہی بات قرآن کی طرف کشش و جاذبیت کا سبب بنی ہے۔ علامہ مودودیؒ ہرآیت کی تشریح میں یہ بتاتے ہیں کہ یہ آیت انسانی زندگی کے بارے میں کیا رہنمائی کرتی ہے‘ نیز معاشرے کو درپیش حقیقی ضروریات و مشکلات کا کیا حل بتاتی ہے؟ یوں آپ قرآن کی معاشرہ ساز تعلیمات سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہا ں ایک آیت کی تشریح کا خلاصہ بطور نمونہ درج کرتا ہوں: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَط وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا o (الفرقان ۲۵: ۳۱) ’’اے محمدؐ‘ ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تمھارے لیے تمھارا رب ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے‘‘۔ یعنی ہمارا قانون فطرت یہی کچھ ہے‘ لہٰذا ہماری اس مشیت پر صبر کرو‘ اور قانون فطرت کے تحت جن حالات سے دوچار ہونا ناگزیر ہے‘ ان کا مقابلہ ٹھنڈے دل اور مضبوط عزم کے ساتھ کرتے چلے جائو۔ اس بات کی امید نہ رکھو کہ ادھر تم نے حق پیش کیا اور اُدھر ایک دنیا کی دنیا اسے قبول کرنے کے لیے امنڈ آئے گی اور سارے غلط کار اپنی اپنی غلط کاریوں سے تائب ہو کر اسے ہاتھوں ہاتھ لینے لگیں گے .....رہنمائی سے مراد صرف علمِ حق عطاکرنا ہی نہیں ہے‘ بلکہ تحریک اسلامی کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے‘ اور دشمنوں کی چالوں کو شکست دینے کے لیے بروقت صحیح تدبیریں سجھانا بھی ہے۔ اور مدد سے مراد ہر قسم کی مدد ہے۔ حق اور باطل کی کش مکش میں جتنے محاذ بھی کھلیں ہر ایک پر اہلِ حق کی تائید میں کمک پہنچانا اللہ کا کام ہے‘‘۔ (تفہیم القرآن‘ ج ۳‘ ص ۴۴۷-۴۴۸)
غرض یہ کہ اس عمرانی تفسیر میں راہِ عمل کی نشان دہی کر دی گئی ہے۔ راستے پر چلنے کے لیے مسلسل ہدایات دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیات کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ وہ معاشرے کو متحد‘ منظم اوریک جا رکھتی ہیں اور معاشرے کو تفرقے اور اتنشار سے بچاتی ہیں۔
۴- تفہیم القرآنکی ایک اور اہم خصوصیت اسلامی مکاتب فکر اور فرقوں کے مابین قربت و ہم آہنگی کی روش اختیار کرنا ہے۔ یہ تفسیری منہج‘ فرقہ وارانہ مفاہمت پیدا کرنے‘ مسلمانوں کو متحد رکھنے اور اسلامی معاشرے میں فرقہ واریت اور تعصب کو ختم کرنے کی کوششوں کا ایک بڑا جلیل القدر حصہ ہے۔ یہ جذبۂ اتحاد‘ عصرِ حاضر میں متعدد مسلم مصلحین و مفکرین میں دیکھنے میں آتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مصنفین کا یقین ہے کہ تفرقہ بازی اور مذہبی اختلاف اسلامی اصولوں کے خلاف ہے اور امت اسلامی کے اتحاد کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ یہ ایک فطری سی بات ہے کہ اسلامی معاشرے کے افراد مختلف سنی یا شیعہ اسلامی مکاتب فکر سے وابستہ ہوں‘ مگر چوں کہ مسلمان اسلام کی اصل بنیادوں جیسے: توحید‘ نبوت‘ معاد (آخرت) پر ایمان رکھتے ہیں‘ قرآن کو آسمانی اور الٰہی کتاب مانتے ہیں اور عملی لحاظ سے ارکانِ اسلام: نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ‘ حج اور جہاد کے پابند ہیں‘ امربالمعروف و نہی عن المنکر پر کاربند ہیں‘ لہٰذا فقہی و اجتہادی اختلاف ان میں جدائی اور متحارب گروہ در گروہ بننے کا باعث نہ ہونا چاہیے۔
ہر فقہی مکتب فکر کی علمی کاوشیں اور مجتہدانہ تحقیقات جدائی‘ نزاع‘ لڑائی اور خون ریزی کا سبب نہ بننے پائیں‘ بلکہ ایک زندہ معاشرے میں اس قسم کے اجتہادات ایک فطری امر ہیں اور معاشرے میں کئی نقطہ ہاے نظر اور آرا کے ظہور کا باعث ہیں۔ لہٰذا ‘انھیں درجہ کمال اور ربط و اتحاد کا ذریعہ بننا چاہیے۔ خاص طور پر اگر یہ اجتہادات و آرا‘ سماجی فکر سے مربوط ہوں اور انسان کو زوال و پستی سے نجات دلانے والے ہوں۔ لہٰذا‘ اسلامی برادری میں ان اختلافات کو‘ دشمنانِ اسلام کے غلط فائدہ اٹھانے کا راستہ نہ بننے دینا چاہیے‘ تاکہ وہ اسلامی اخوت کی روح اور اتحاد ویک جہتی کو نقصان نہ پہنچاسکیں۔
علامہ مودودیؒ ان لوگوں میں سے ہیں جو زندگی بھر وحدتِ اُمت کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں۔ وہ سورۂ آل عمران (آیت ۱۰۳) میں نکتۂ اتحاد کو یوں بیان فرماتے ہیں: مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت ’دین‘ کی ہو‘ اسی سے ان کو دل چسپی ہو‘ اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔ جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی توجہات اور دل چسپیاں جزئیات و فروع کی طرف منعطف ہوئیں‘ پھر ان میں لازماً وہی تفرقہ و اختلاف رونما ہو جائے گا‘ جو اس سے پہلے انبیا علیہم السلام کی امتوں کو ان کے اصل مقصد حیات سے منحرف کر کے دنیا اور آخرت کی رسوائیوں میں مبتلا کر چکا ہے۔ (تفہیم القرآن‘ ج۱‘ ص ۲۷۶-۲۷۷)
علامہ مودودیؒ کا اسلامی مکاتب و مذاہب کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کا منہج و طریق ان لوگوں کے طرزِ عمل کے بالکل برعکس ہے‘ جو اپنی تفسیر کو اختلاف و نزاع اور مذہبی مجادلہ و کش مکش کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اور محبت و یکجہتی کو دگرگوں کرنے کا تہیّہ کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کسی بھی موقع و مناسبت سے اپنے مخالف فرقے یا جماعت پر حملہ کرنے اور اُن سے اختلاف کرنے سے نہیں چُوکتے۔ اپنے مخالفین کو کافر فاسق اور گمراہ قرار دیتے ہیں اور دھڑے بندی سے ذرا نہیں ہچکچاتے۔ ان حضرات نے قرآنی تفسیر کے اوراق کو محض اختلافی مباحث سے آلودہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات آیاتِ قرآنی کی وضاحت میں صرف اپنا ہی نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں۔
ان کے برعکس علامہ مودودیؒ نہ تو فرقہ وارانہ اختلافات میں حصہ لیتے ہیں اور نہ مخالف کی تردید کو اپنی تفسیر کی شرط قرار دیتے ہیں۔ وہ صرف قرآن مجید کے علمی‘ اخلاقی‘ سماجی اور سیاسی احکام کی وضاحت کرتے ہیں۔ انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انھی اختلافات سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے‘ اور انھیں تہذیبی‘ سیاسی‘ معاشی‘ فکری اور جغرافیائی سطح پر غلام بناتا ہے۔
افسوس کہ اس مختصر مضمون میں‘ میں علامہ مودودیؒ کی تفسیر کی دیگر گوناگوں خصوصیات کو زیربحث نہیں لا سکا۔ ترجمے کے اسلوب اور تفسیر پیش کرنے کی کیفیت پر بھی روشنی نہیں ڈال سکا۔ مولانا کی تفسیر کے اہداف و مقاصد اور دیگر مرکزی نکات بھی بیان طلب رہ گئے ہیں۔
مولانا مودودیؒ کے زندہ کارناموںمیں ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے مسلمان نوجوانوں کے دلوںمیںاسلامی عقائد اورنظام زندگی کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی‘ اور ان کی تحریروں نے مسلم نوجوانوں میں اس اعتماد کو بحال کیا کہ اسلام ہی وہ واحد نظام زندگی ہے جو دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق دنیا کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے (مجلہ البعث الاسلامی‘ بابت محرم ۱۴۰۰ھ)
سید مودودیؒ کی دعوت کادائرئہ اثر کسی خاص طبقے تک محدود نہیں رہا ‘ بلکہ ان کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے اورہر عمر کے لوگ شامل تھے۔ ان کی دعوت کا دائرئہ اثر صرف انفرادی زندگی تک محدود نہیں تھا‘ بلکہ ان کی دعوت انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی پر بھی یکساںطور پر حاوی تھی۔
جب میںنے الجہاد فی الاسلام لکھنے کا فیصلہ کیا تو اس سلسلے میں قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اﷲ علیہ و سلم کی سیرت پاک اور احادیث کا گہرامطالعہ کیا۔اس وقت مجھے یکا یک احساس ہوا کہ یہ کتاب تو ایک تحریک کی قیادت کے لیے نازل ہوئی ہے ۔ یہ محض تلاوت کر کے رہ جانے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس غرض کے لیے ہے کہ اس کو لے کر ایک تحریک دنیا میں اٹھے --- اسی خیال کو لے کر میں برسوں سوچتا رہا کہ یہ کام کس طرح کیا جائے۔ آخر کار ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی قائم کی اورالحمدللہ اس کے صرف چھ ماہ بعد میں نے فروری ۱۹۴۲ء میں تفہیم القرآن لکھنے کاکام شروع کردیا ۔(مولانا مودودی کے انٹرویو‘ مرتبہ: ابو طارق‘ ص ۴۹۷)
اس طرح ۱۹۷۲ء میں تکمیل تفہیم القرآنکی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے سیدمودودیؒ نے اپنی دعوت اور قرآن کریم کے درمیان اس تعلق کو ان الفاظ میں بیان کیا: ’’جماعت اسلامی کی تحریک شروع کرنے کے ساتھ ہی میں نے یہ محسوس کیا کہ میں اپنے قلم اور اپنی زبان سے اللہ کے دین کو سمجھانے کے لیے خواہ کتنا ہی زور لگا لوں لیکن جب تک خود اللہ کی کتاب کے ذریعے سے اللہ کے دین کوسمجھانے کی کوشش نہ کی جائے ‘ اس وقت تک دین کا فہم پوری طرح حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ کتاب دین ہی کو سمجھانے کے لیے اللہ نے نازل کی ہے اور اگر دین کو سمجھانا ہے تو اس کتاب کو سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جب تک لوگ اس کو نہیں سمجھیں گے‘ اس وقت تک ان کے لیے اس مقصد ہی کو سمجھنا ممکن نہیں ہے جس کے لیے میں اور میری جماعت کام کر رہی ہے‘‘۔ (رسالہ آئین‘ جولائی ۱۹۷۲ئ)
دراصل مولانا مودودیؒ کی دعوت کا سر چشمہ بھی قرآن کریم ہی ہے اور منشأو مقصودبھی۔ یہی وہ مرکز و محور ہے جس کے گرد ان کی پوری دعوت و تحریک گھومتی ہے ۔ یہی وہ کتاب عظیم ہے جس نے خود ان کی زندگی میں انقلاب برپا کیا۔ یہی وہ سراج منیر ہے جس کے ذریعے ان پر حق واضح ہو ا۔ یہی وہ شاہ کلید ہے‘ جس کے ذریعے مولانا مودودی ؒ دور حاضر کے مسائل کی گتھیوں کو سلجھانے کے قابل ہوئے۔ یہی وہ کتاب ہے جس کے ذریعے مولانا ؒ نے موجودہ دور کے نئے نئے چیلنجوں کا مقابلہ کیا اور معاشرے میںبرپا ہونے والی منفی تحریکوں کا سدباب کیا۔ ا سی کتاب کے ذریعے انھوں نے ـمغرب پرستی اور جدیدتہذیب کی ذہنی غلامی کاقلع قمع کیا اور موجودہ نسل کے اس اعتمادکو بحال کیا کہ اسلام ہی وہ واحد نظام حیات ہے جو موجودہ دور میں بنی نوع انسان کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔
اس بحث سے سید مودودیؒ کی دعو ت و تحریک اور ان کی تفسیر کے درمیان گہرے تعلق کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے تحریک اسلامی کی بنیاد ہی اس لیے رکھی کہ یہ قرآن کریم کی دعوت کا بنیادی تقاضا ہے‘ اور قرآن کریم کی تفسیر اس لیے لکھی کہ تحریک اسلامی کی عملی رہنمائی کے لیے ایسا کرناناگزیر تھا ۔
l چند اہم پہلو: جب قرآن کے گہرے مطالعے سے ان پر یہ بات آشکارا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل ہی اسی مقصد کے لیے کیا ہے کہ اس کے ذریعے عملاً ایک اسلامی تحریک برپا کی جائے‘ تو انھوں نے عملاً تحریک اسلامی کے قیام کا فیصلہ کر لیا۔ پھر جب انھوں نے عملاًدعوت کے میدان میں قدم رکھا تو انھیں اندازہ ہوا کہ جس مقصد کے لیے انھوں نے یہ تحریک برپا کی ہے‘ اس کی تکمیل اس کے بغیر ممکن ہی نہیں کہ قرآن کریم کو اس کا ذریعہ اور وسیلہ بنا یا جائے۔ چنانچہ انھوں نے تفہیم القرآن کی تالیف شروع کر دی۔ مولانا مودودی ؒ کی دعوت اور ان کی تفسیر میںموجود اس تعلق کا یہ فطری نتیجہ ہوا کہ انھوں نے اپنی تفسیرمیں ان پہلوؤں کو زیادہ واضح کرنے کی طرف توجہ مبذول کی‘ جن کا تعلق دعوتِ دین سے ہے‘ یا جن میں فریضہ اقامتِ دین کی اہمیت واضح کی گئی ہے‘ یا ان پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جو مغرب کی جاہلی تہذیب و نظریات کے غلبے کی وجہ سے پس منظر میں چلے گئے تھے‘ یا جن کی حقیقت ان نظریات کی مصنوعی چکا چوند کی وجہ سے دھندلا گئی تھی۔
مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں موجودہ دور کے فتنوں ‘ ـ مغربی تہذیب کے جلو میں آنے والے ـ لادین ا ور ـ مادہ پرستانہ فلسفوں اور دیگر نئے نئے چیلنجوںکا جواب بھی قرآن کی روشنی میں دیاہے۔ ان کی تفسیر کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے مستشرقین‘ عیسائی مشنریوںاور مغرب زدہ طبقے کے باطل نظریات کو دلائل کے ساتھ رد کیا ہے۔ علاوہ ازیں انھوں نے اسلامی اقدار و نظریات کے خلاف کام کرنے والی مختلف تنظیموں اور گروہوںکے باطل عقائد و نظریات اور افکار و تاویلات کا مؤثر و مدلل جواب دینے کا اہتمام بھی کیا ہے‘ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ انھوں نے روایت ودرایت کا خاص اہتمام کرتے ہوئے کیا ہے۔
تفہیم القرآن سب سے زیادہ متاثر کن پہلو یہ ہے کہ انھوں نے تحریک اسلامی کی قیادت کرتے ہوئے تفسیر لکھنے کا کام بھی جاری رکھا اور یہ خدمت انھوں نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ پر چلتے ہوئے انجام دی۔ جب اسلامی تحریک کا آغاز کیا ‘ تو اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس کے لیے رہنمائی کا سامان بہم پہنچانے کے لیے قرآن کریم کی تفسیر لکھنے کا پروگرام بھی بنایا۔ اس طرح یہ تفسیر تحریک اسلامی کی عملی و فکری قیادت کرتے ہوئے ا سلام اور جاہلیت کے مابین جاری کش مکش کے دوران میں تالیف کی گئی جس کا اندازہ اس تفسیر کے مطالعے سے ہوتا ہے۔
چونکہ سید مودودیؒ بیک وقت ایک داعی بھی تھے اور ایک مفسر بھی ‘ اس لیے انھوں نے ٰتفسیر میں جدید جاہلی تہذیب کے دین اور سیاست کی علیحدگی کے اس نعرے کا طلسم چاک کرنے کا اہتمام کیا ہے‘ اور بڑ ی وضاحت سے یہ بات ثابت کی ہے کہ اسلام‘ اہل مغرب کی اصطلاح کے مطابق محدود معنوں میں ایک مذہب نہیں ہے بلکہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو دور حاضر میں ریاست کے تمام امور چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ سید مودودی ؒ کی تفسیر کا تیسرا اہم پہلویہ ہے کہ چونکہ وہ بیک وقت مغرب کی تہذیبی یلغا ر کے جلو میں آنے والے لا دین افکارو نظریات اور جدید مادہ پرستانہ فلسفوں پر بھی گہری نظررکھتے تھے اور قرآن و سنت اور دینی علوم میں بھی مکمل بصیرت رکھتے تھے ‘ اس لیے انھوں نے موجودہ دور کے چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا اورجدید تہذیب کی کوکھ سے جنم لینے والے افکارونظریات او ر فلسفوں‘ مثلاً سیکولرزم‘ کمیونزم‘ ڈارون کے نظریۂ ارتقا‘ مارکس کے تاریخ کی مادی تعبیر کے نظریے اور اس طرح کے دوسرے نظریات کو عقلی دلائل سے باطل ثابت کیا ہے ‘ نیز مستشرقین‘ عیسائی مشنریوں اورمغرب زدہ طبقے کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کا بھی مؤثر انداز میں ازالہ کیا ہے۔ اسی طرح انھوں نے مغربی سامراج کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی تحریکوں‘ مثلاً فتنہ ء انکار سنت اور قادیانیت کا بھی مؤثر انداز میں توڑ کیا ہے ۔
یہ تفسیر تین عشروں میں مکمل ہوئی۔ بظاہر یہ عرصہ کسی تفسیر کی تکمیل کے لیے غیرمعمولی دکھائی دیتا ہے لیکن انھوں نے اس عرصے میں صرف تفسیرکی تکمیل کا کام نہیں کیا‘ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بہت سی دیگر مستند اور علمی کتب بھی تالیف کیں‘ اور ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کی فکری وعملی قیادت کا فریضہ بھی انجام دیا۔ انھوں نے ایک طرف قرآن کی تفسیر لکھی اور دوسری طرف نئی نسل کی تربیّت پر بھی توجہ مرکوز رکھی اور اسلام مخالف تحریکوںکے داعیوں سے بر سر پیکار بھی رہے۔ اس عرصے کے دوران میں ملک میں آمریت کے علم برداروں سے بھی نبرد آزما رہے۔ یوں اس پورے عرصے کے دوران میں ان کی کیفیت یہ رہی کہ کبھی تووہ اپنے دفتر میں ضخیم علمی اور دینی کتابوں کا مطالعہ کررہے ہوتے‘ اور کبھی کسی جلسہ گاہ میں عوام الناس سے خطاب کر رہے ہوتے‘ یا ان کے مسائل سنتے اور ان کا حل بتارہے ہوتے‘ اور کبھی کسی یونی ورسٹی میں اہل علم و دانش اور قانون دان طبقے کو اس بات پرقائل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو موجودہ دور میں بھی زندگی کے ہر میدان میںمکمل رہنمائی کا سامان فراہم کرتا ہے‘ اور کبھی کسی جیل کی کال کوٹھڑی میں صرف اس جرم کی پاداش میں پابند سلاسل ہوتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کی حاکمیت تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے۔
یہ تھے وہ غیرمعمولی حالات جن میں سید مودودی ؒنے اپنی تفسیر مکمل کی اور انھی غیرمعمولی حالات کی وجہ سے یہ عظیم کام اتنے طویل عرصے میںپایہ تکمیل کو پہنچا ۔
تفہیم القرآن کی جملہ خصوصیات کا احاطہ کرنے کے لیے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے۔ یہاں ہم صرف چند خصوصیات کا اجمالی ذکر کرنے پر اکتفا کریں گے۔
مزید برآں شریعت اسلامی کے بنیادی ماخذ اور اسلامی ریاست میں شوریٰ کی اہمیت کا ذکر بھی ٹھوس اور مدلل انداز میں کیا ہے‘ اور بتایا ہے کہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا دین کا بنیادی تقاضا ہے ۔ اس لیے کہ اسلامی نظام کے قیام کے بغیر دین کی تعلیمات اور تقاضوں پر صحیح طور پر عمل درآمد کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ یوں تفہیم القرآن کے مطالعے سے نہ صرف یہ کہ انسان پر اسلام کے ایک مکمل نظام حیات ہونے کا تصور واضح ہوتا ہے بلکہ وہ اقامت دین کی جدوجہد کے لیے عملاً بھی تیار ہوجاتا ہے۔
اس جائزے سے یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ سید مودودیؒ کا اسلوب تفسیر روایت و درایت کے اصولوں پرپورا اترنے کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں جب اسلام او ر مسلمانو ںکوطرح طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے ‘ دعوت دین کے تقاضوں کے عین مطابق بھی ہے۔ انھوں نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن کے ذریعے ایک طرف جدید تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق قرآن سے جوڑ کراس میں یہ اعتماد پیدا کیا ہے کہ وہ جدید تہذیب سے پیدا ہونے والے جاہلی فلسفوںکے سحر سے نکل کر بھر پور انداز میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد میں شریک ہو‘ اور دوسری طرف علما و مشایخ اور دینی طبقے کے لوگوں کو یہ حوصلہ دیا ہے کہ وہ جدید تہذیب کے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہوں۔
مجھے سید مودودیؒ کی تفسیر کاکئی دوسری جدیدو قدیم تفاسیر کے ساتھ موازنہ کرنے کا موقع بھی ملا ہے ‘ جیسے تفسیرابن جریر طبری‘ تفسیر رازی ‘تفسیر ابن کثیر‘ تفسیر روح المعانی‘ تفسیر فی ظلال القرآن وغیرہ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس تقابلی جائزے کے بعد سید مودودیؒ کے اسلوب تفسیر پر میرا یقین اس پہلو سے اور بھی پختہ ہو گیاہے کہ انھوں نے اپنی تفسیر کے دوران اصولِ تفسیر کے تمام پہلوؤں کو پوری طرح ملحوظ رکھنے کااہتمام کیا ہے۔ اس اہتمام کے ساتھ ساتھ تفہیم القرآن کی وہ دیگر امتیازی خصوصیات جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ‘ سیدمودودی ؒ کی اس تفسیر کو فی الواقع دیگر تفاسیر میں ایک ایسا امتیازی مقام عطا کرتی ہیں جو اسی کا حصہ ہے۔
مسلمانوں کی علمی تاریخ میں علم حدیث اور سیرت نگاری دو ایسے پہلو ہیں کہ جن کا مقابلہ دنیا کی کوئی دوسری قوم اور کوئی دوسرا مذہب نہیں کر سکتا۔ ان دونوں علوم میں سے پہلے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ گفتگو‘ اعمالِ حسنہ اور طریقِ زندگی کے ہر پہلو کو اس حزم و احتیاط سے محفوظ کیا گیا ہے کہ محدّثین کی اس علمی اور تحقیقی کاوش کو غیر مسلموں نے بھی خراج تحسین پیش کیا ہے۔
علمِ حدیث کے دفاع کی خاطر اسماء الرجال جیسا عظیم فن ایجاد ہوا‘ جس کی نظیر اس سے قبل دنیا کی کسی علمی روایت میں دکھائی نہیں دیتی۔ اس پر مستزاد درایت کا ایک ایسا اسلوب وضع کیا‘ جس سے اس اندیشے کا امکان بھی رفع ہو گیا کہ کوئی ظالم‘ آپؐ کی شخصیت اور کلام کے ساتھ کوئی غلط بات منسوب کرسکے۔
جہاں تک علم سیرت نگاری کا تعلق ہے‘ اس میں آپؐ کی حیات طیبہؐ کے ہر ممکنہ اور ضروری پہلو کو اس طرح محفوظ کیا گیا ہے کہ ایک زندہ اور متحرک شخصیت کے بچپن سے وصال تک کا کوئی گوشہ سامنے آنے سے نہیں رہ گیا۔ اس ضمن میں احوالِ حجاز و عرب‘ قبائل عرب اور ان کے نسب نامے‘ تاریخ و جغرافیۂ عرب‘ عرب کی تہذیبی اور ثقافتی روایات‘ سیاسی اور تمدنی نقشہ‘ ادبی اور شعری سرمایہ اور ان کے خصائل و رذائل‘ سب کچھ تفصیل کے ساتھ فراہم کر دیا گیا ہے۔ آپؐ کے کارنامۂ زندگی اور احوالِ سیرت کو صحیح طور پر جاننے کے لیے مذکورہ تفصیلات بہت ممدو معاون ثابت ہوتی ہیں۔
سیرت نگاری کا آغاز عربی زبان میں ہوا‘ اسی باعث سیرت کے تمام تر منابع‘ مصادر اور مراجع بھی اسی زبان میں موجود ہیں۔ قرآن مجید آپؐ کے احوالِ سیرت کی سب سے بنیادی اور اساسی کتاب ہے۔ اس کے علاوہ احادیث نبویؐ‘ کتب سیر‘ مغازی‘ تفاسیر‘ تواریخ‘ اسماء الرجال‘ دلائل‘ شمائل‘ آثار و اخبار‘ ادب و شاعری‘ تاریخ الحرمین‘ حج کے سفرنامے اور انساب و جغرافیہ کی کتب بنیادی ماخذِ سیرتؐ قرار پاتی ہیں۔ قرآن مجید تو خود آپؐ کی حیات طیبہ میں مکمل اور محفوظ ہوا۔ احادیث نبویؐ‘ صحابہؓ کے وردِ زبان تھیں تو روایات سنت ان کے اعمال کا مصفّا آئینہ تھیں۔ غزوات و سرایا میں صحابہؓ چونکہ خود شریک ہوتے تھے‘ اس لیے ان سے بڑھ کر ان کا شاہد کون ہو سکتا ہے۔ اسی باعث مغازی کی کتابیں عہد صحابہؓ میں مرتب ہونا شروع ہو گئیں۔ ان تمام مراجع اور مصادر کو دیکھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ قدرت سابقہ انبیا و رسل کے برعکس نبی آخرالزماں ؐ کی حیات و خدمات کو اس کی تمام جزئیات اور تفصیلات کے ساتھ محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔ اگر صرف قرآن مجید کو دیکھا جائے تو خود اس میں آپؐ کی سیرت کے تمام تر پہلو ہر اعتبار سے محفوظ اور موجود ہیں۔ اس ضمن میں مولانا مودودیؒ کے ۱۹۲۷ء میں لکھے ہوئے ایک مضمون کا یہ اقتباس قابل توجہ ہے:
دنیا کے تمام ہادیوں میں یہ خصوصیت صرف محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو حاصل ہے کہ آپؐ کی تعلیم اور آپؐ کی شخصیت ۱۳ صدیوں سے بالکل اپنے حقیقی رنگ میں محفوظ ہے اور خدا کے فضل سے کچھ ایسا انتظام ہو گیا ہے کہ اب اس کا بدلنا غیر ممکن ہے… لیکن اللہ تعالیٰ کو بعثتِ انبیا کے آخری مرحلے میں ایک ایسا ہادی و رہنما بھیجنا منظور تھا‘ جس کی ذات انسان کے لیے دائمی نمونۂ عمل اور عالم گیر سرچشمۂ ہدایت ہو۔ اس لیے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ابن عبداللہ کی ذات کو اس ظلم سے محفوظ رکھا‘ جو جاہل معتقدوں کے ہاتھوںدوسرے انبیا اور ہادیانِ اقوام کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ اول تو آپؐ کے صحابہؓ و تابعین اور بعد کے محدثین نے پچھلی امتوں کے برعکس اپنے نبیؐ کی سیرت کو محفوظ رکھنے کا خود ہی غیر معمولی اہتمام کیا ہے‘ جس کی وجہ سے ہم آپؐ کی شخصیت کو ۱۴۰۰ برس گزر جانے پر بھی آج تقریباً اتنے ہی قریب سے دیکھ سکتے ہیں‘ جتنے قریب سے خود آپؐ کے عہد کے لوگ دیکھ سکتے تھے۔ لیکن اگر کتابوں کا وہ تمام ذخیرہ دنیا سے مٹ جائے جو ائمہ اسلام نے سالہا سال کی محنتوں سے مہیا کیا ہے‘ حدیث و سیر کا ایک ورق بھی دنیا میں نہ رہے جس سے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کا کچھ حال معلوم ہو سکتا ہو‘ اور صرف کتاب اللہ (قرآن) ہی باقی رہ جائے‘ تب بھی ہم اس کتاب سے ان تمام بنیادی سوالات کا جواب حاصل کر سکتے ہیں‘ جو اس کے لانے والے کے متعلق ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ (تفہیمات‘ دوم‘ ص ۱۷- ۱۸)
جناب نعیم صدیقی (م: ۲۰۰۲ئ) کی محسن انسانیتؐ اپنے اسلوب میں ایک منفرد کتاب ہے۔ اسے دور حاضر میں اُردو زبان کی مقبول ترین سیرت کی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کو سید مودودیؒ کی برپا کردہ تحریک میں سیرت پاک کا ایک نمایندہ اظہار کہہ سکتے ہیں۔ سید مودودیؒ نے محسن انسانیتؐ کے دیباچے میں سیرت نگاری کے منہج اور مقصود کو یوں واضح کیا ہے:
پرانے ادوار کی طرح اب اس نئے دور میں بھی انسان کو نعمتِ اسلام میسر آنے کے وہی دو ذرائع ہیں‘ جو ازل سے چلے آ رہے ہیں‘ ایک خدا کا کلام جو اب صرف قرآن مجید کی صورت ہی میں مل سکتا ہے‘ دوسرے اسوۂ نبوت جو اب صرف محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت پاک ہی میں محفوظ ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اسلام کا صحیح فہم انسان کو اگر حاصل ہو سکتا ہے تو اس کی صورت صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو قرآن سے سمجھے۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کی مدد سے جس نے سمجھ لیا‘ اس نے اسلام کو سمجھا‘ ورنہ فہم دین سے بھی محروم رہا اور نتیجتاً ہدایت سے بھی۔
محسنِ انسانیتؐ کی طرح بیسیوں دوسری ایسی تصانیف ِسیرت ہیں‘ جن میں سید مودودیؒ کی فکر اور تحریروں سے براہ راست استفادہ کیا گیا ہے۔
سید مودودیؒ کے کارنامۂ سیرت کو بیان کرنے سے پہلے ایک اہم کتاب کا تذکرہ ناگزیر ہے۔ یہ مولانا ابوالکلام ؒآزاد (۱۸۸۸ء - ۱۹۵۸ئ) کی سیرت پر تحریروں کا مجموعہ رسولؐ رحمت ہے جسے مولانا غلام رسول مہرؒ نے مرتب کیا۔ اس کتاب کی سید مودودیؒ کی سیرت سرور عالمؐ کے ساتھ ایک تدوینی اور تصنیفی مناسبت ہے۔ یہ دونوں کتابیں مصنفین نے خود نہیں لکھیں‘ بلکہ انھیں ان کی تصنیفات‘ مقالات اور خطبات سے ترتیب دیا گیا ہے۔ مگر ان دونوں کی ترتیب میں ایک فرق یہ ہے کہ سیرت سرور عالمؐ کا خاکہ مرتبین (نعیم صدیقی‘ عبدالوکیل علوی) نے مصنف کے سامنے پیش کیا‘ جسے نہ صرف مولانا نے بالاستیعاب دیکھا‘ بلکہ اس میں مناسب تجاویز کے بعد بذات خود سیکڑوں صفحات کے موزوں اضافے تحریر کیے۔
۱۹۴۷ء میں پاکستان کی صورت میں ایک ایسی اسلامی ریاست قائم ہوئی جو قرارداد مقاصد کے مطابق خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا ماڈل قرار پائی۔ اس ریاست کے آئینی‘ سیاسی‘ معاشی‘ معاشرتی‘ تہذیبی‘ تمدنی‘ علمی اور ثقافتی وجود اور اسلامی تشخص کے لیے سید مودودیؒ نے ایک طرف احیاے اسلام کے لیے ایک نظریاتی تحریک کو پروان چڑھایا تو دوسری طرف اسوۂ حسنہ اور سنتِ رسولؐ کی بنیاد پر ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے بھرپور علمی اور عملی مساعی کیں۔ اس لحاظ سے سیرتِ نبویؐ پر ان کی تحریروں کا مزاج محض مستند علمی معلومات کو پیش کرنے اور وقائع نویسی تک محدود نہیں رہتا‘ بلکہ وہ سیرت کے اس فکری اور انقلابی سرمائے کو ایک اسلامی ریاست کی تشکیل اور ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیرت پر ان کی تحریروں کا اسلوب اور منہج ما قبل کے تمام ذخیرۂ سیرت سے جدا اور منفرد تشخص رکھتا ہے۔
سید مودودیؒ کی سیرت پر تحریریں ۶۴ برس (۱۹۱۵ ئ- ۱۹۷۹ئ) کے عرصے پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ہزار ہا صفحات پر مشتمل ان تحریروں کا آغاز ۱۹۱۵ء میں ہوا‘ جب آپ نے ۱۲ برس کی عمر میں ’’سیرت النبویؐ‘‘ کے عنوان سے ایک مجوزہ کتاب کا پہلا باب تحریر کیا۔ اس مضمون کا اختتام ان سطور پر ہوتا ہے:
اس نسبی بحث کے بعد‘ ہم اس حقیقی بحث کی طرف راجع ہوتے ہیں‘ جس کے بعد ہم حبیبؐ رب العالمین کی سیرت پاک کو زیادہ روشن اور بہت واضح دکھا سکتے ہیں‘ اور جس کے ذریعے لوگ نہایت آسانی سے اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم حقیقتاً تمام دنیا کے انسانوں سے‘ خواہ وہ حکیم ہوں یا عالم‘ زاہد ہوں یا متقی‘ والی ہوں یا پیغمبر‘ غرضیکہ بلند سے بلند مرتبے کے انسانوں سے زیادہ افضل اور برگزیدہ ہیں۔ اگر کوئی شخص انسانیت کی تفسیرمعلوم کرنا چاہتا ہے‘ تو اس کے لیے صرف آنحضرتؐ کی سیرت کا مطالعہ تمام دنیا کی کتابوں کی چھان بین سے زیادہ مفید ہے اور سب سے زیادہ بہتر طریقے سے وہ اس آئینے میں نہ صرف انسانیت بلکہ جمال خداوندی کا عکس دیکھ سکتا ہے۔ یعنی ہم اسلام سے قبل عرب کی بدویت و جہالت کا ایک مختصر سا خاکہ دکھائیں گے اور اس تاریک قوم میں آنحضور ؐ کے خاندان کی حیثیت سے بحث کریں گے اور پھر بتائیں گے کہ آنحضرتؐ کا کن لوگوں میں نشوونما ہوا‘ اور کن حالات میں انھوں نے پرورش پائی اور کس زمین میں اپنی اصلاحات کا بیج بویا۔(وثائق مودودی‘ ص ۲۱)
سید مودودیؒ کے قلم سے ۱۲ سال کی عمر میں لکھی ہوئی اس تحریر سے سیرت کے موضوع اور اسلوب کے بارے میں ان کے ذہنی اور قلبی احساسات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان اثرات کا سراغ لگانے کے لیے ہمیں ان کے خانوادے کی علمی اور روحانی حیثیت اور پھر والدین کی تربیت کا جائزہ لینا چاہیے‘ جس کے باعث کم عمر ابوالاعلیٰ مودودی ؒکے قلب و ذہن میں اسوۂ رسولؐ کی یہ رعنایاں اور لطافتیں پختہ سے پختہ تر اور عمیق سے عمیق تر ہوتی چلی گئیں۔ اس ضمن میں سید مودودیؒ کی ۱۹۳۲ء میں لکھی گئی خودنوشت کا یہ مختصر اقتباس دیکھیے:
میرا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس میں ۱۳۰۰ برس تک سلسلۂ ارشاد و ہدایت اور فقر و درویشی جا ری رہا ہے --- اس خاندان کے ایک نامور بزرگ مولانا ابو احمد ابدال چشتی (م: ۳۵۵ھ) حضرت حسن مثنیٰ بن حضرت امام حسن کی اولاد سے تھے۔ انھی سے صوفیہ کا مشہور سلسلہ چشتیہ جاری ہوا ہے --- حضرت ناصرالدین ابو یوسف کے فرزند ِاکبر حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی (م: ۵۲۷ھ) تھے‘ جو تمام سلاسلِ چشتیۂ ہند کے شیخ الشیوخ اور خاندان مودودی کے مورث ہیں --- اس زمانے میں انگریزی تعلیم اور انگریزی تہذیب کے خلاف مسلمانوں میں جو شدید نفرت پھیلی ہوئی تھی‘ اس کا حال سب جانتے ہیں۔ مگر ہمارا خاندا ن اس میں عام مسلمانوں سے بھی کچھ زیادہ بڑھا ہوا تھا‘ کیونکہ یہاں مذہب کے ساتھ مذہبی پیشوائی بھی شامل تھی --- والد مرحوم اور والدہ ماجدہ دونوں کی زندگی ایک ہی مذہبی رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ ان کی اس تربیت اور عملی نمونے کا یہ اثر تھا کہ ابتدا ہی سے میرے دل و دماغ پر مذہب کے گہرے نقوش مرقسم ہو گئے --- والد مرحوم نے اوّل دن ] سے[ اردو اور فارسی کے ساتھ عربی زبان اور فقہ و حدیث کے درس پر ڈال دیا --- (مولانا مودودیؒ اپنی اور دوسروں کی نظر میں‘ مرتبہ: محمدیوسف بھٹہ‘ ص ۳۱-۳۹)
سید مودودیؒ نے اپنی ۷۶ سالہ زندگی میں سے ۶۴ سال کے دوران سیرت پاک پر جو نگارشات رقم کیں‘ ان میں مقالات‘ خطبات‘ مصاحبے (انٹرویو)‘ مکتوبات‘ استفسارات‘ پیغامات‘ تقریظات اور دیباچے شامل ہیں۔ یہاں اُن کی چند مختصر تحریروں اور خطبوں کی فہرست ترتیب زمانی کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔
۱۹۱۵ء : ’’سیرت النبویؐ‘‘ مشمولہ وثائق مودودی‘ ص ۲۱
۱۹۲۵ئ: ’’مدینۃالرسولؐ‘‘ مشمولہ‘ صدائے رستاخیز‘ ص ۳۳۹
۱۹۲۶ئ: ’’سرکار دو عالمؐ کی توہین‘‘ مشمولہ بانگ سحر‘ ص ۳۱۶
۱۹۲۷ئ:’ ’مقدمہ رنگیلا رسولؐ کا فیصلہ‘‘ مشمولہ آفتاب تازہ‘ ص ۱۴۲‘ ۱۸۲‘ ۱۸۶‘ ۲۲۴‘ ۲۵۲‘ ۲۶۷
۱۹۲۸ئ: ’’دیارِ مقدسہ میں توہین رسول کا فتنہ‘‘ مشمولہ جلوہ نور‘ ص ۳۶
۱۹۴۱ئ: ’’سرورِ عالمؐ‘‘ مشمولہ نشری تقریریں‘ ص ۱ - ۱۹
۱۹۴۱ئ: ’’معراج کی رات‘‘ مشمولہ‘ ایضاً‘ص ۳۹ - ۴۶
۱۹۴۲ئ: ’’میلاد النبیؐ‘‘ مشمولہ ‘ایضاً‘ص ۲۰ - ۲۷
۱۹۴۳ئ: ’’معراج کا سفرنامہ‘‘ مشمولہ ‘ایضاً‘ص ۶۰ - ۶۹
۱۹۴۸ئ: ’’سرور عالم ؐ کا اصلی کارنامہ‘‘ مشمولہ ‘ایضاً‘ص ۲۸ -۳۸
۱۹۴۸ئ: ’’معراج کا پیغام‘‘ مشمولہ ‘ایضاً‘ص ۴۷ - ۵۹
۱۹۴۸ئ: ’’اسلام کی ابتدا‘‘ مشمولہ ‘ایضاً‘ص ۵ - ۱۲
۱۹۵۳ئ: قادیانی مسئلہ، لاہور‘ ص ۱۵ - ۱۶
۱۹۶۲ئ: ختم نبوتؐ‘لاہور‘ ص ۷۰
۱۹۶۲ئ: توحیدو رسالت اور زندگی بعد موت کا عقلی ثبوت ، لاہور‘ ص ۶۴
۱۹۶۹ئ: رحمۃ للعالمینؐ سیرت کانفرنس‘ ڈھاکہ‘ ص ۱۶
۱۹۷۵ئ: سیرت کا پیغام‘پنجاب یونی ورسٹی سٹوڈنٹس یونین‘ ص ۳۶
۱۹۷۸ئ: نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا نظام حکومت، لاہور‘ ص ۳۲
--- اسلامی نظام کے عملی تقاضے‘ ص ۸
--- درود اُن پر سلام اُن پر‘ ص ۱۶‘ ماخوذ:تفہیم القرآن
۳- وانک لعلٰی خلقٍ عظیم مشمولہ قائد انسانیتؐ،احباب پبلی کیشنز‘ لاہور‘ ص ۲۲ - ۳۱
سید مودودیؒ کے معارف پرور اور فکر انگیز قلم سے چھوٹی بڑی ایک سو کے قریب کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس علمی گلستان کا سدا بہار مظہرتفہیم القرآنکی چھ جلدیں ہیں۔ قرآن مجید ہی حقیقتاً سیرت کا سب سے اہم اور بنیادی ماخذ ہے۔ مولانا محترم نے بھی اس کی تفسیر میں وہ مقامات جو سیرت سے متعلق ہیں‘ ان کی تشریح میں بہت عرق ریزی اور جگر سوزی سے کام لیا ہے‘ جس کے نتیجے میں اس تفسیر کے سیکڑوں مقامات پر سیرت کے لوازمے کو تحقیقی‘ تاریخی اور داعیانہ اسلوب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہی باعث ہے کہ سید صاحب کی تالیف سیرت سرور عالمؐ جو تمام تر ان کی مختلف کتابوں کے سیرت سے متعلق تحریروں سے ترتیب پائی ہے‘ اس کا غالب حصہ تفہیم القرآن کی چھ جلدوں سے اخذ کیا گیا ہے۔ مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے سیرتؐ پر کتاب پیش کرنے کی پہلی کاوش سیرت ختم الرسلؐ، مرتبہ: احمد انس کی صورت میں سامنے آئی۔ کیا عجب کہ سیرت سرورعالمؐ مرتب کرنے کی بنیاد سیرت ختم الرسلؐ بنی ہو۔
سیرت سرورِ عالمؐکی پہلی جلد ۷۶۴ صفحات پر مشتمل ہے‘ جس میں سے ۴۰۸ صفحات کا لوازمۂ سیرت صرف تفہیم القرآن کی چھ جلدں سے ماخوذ ہے‘ جب کہ باقی ماندہ ۲۴۳ صفحات کا لوازمہ ان کی۱۶ کتب سے منتخب کیا گیا ہے۔
اسی طرح سیرت سرورِ عالمؐ جلد دوم ۷۶۳ صفحات پر مشتمل ہے‘ جس میں ۳۵۵ صفحات کا لوازمۂ سیرت صرف تفہیم القرآن کی چھ جلدوں سے ماخوذ ہے‘ جب کہ ۶۱ صفحے کا لوازمہ ان کی دیگر کتابوں سے ماخوذ ہے۔ یہ پہلو قابل توجہ ہے کہ جلد دوم میں انھوں نے ۳۴۷ صفحات کے جو نئے اور تازہ اضافے کیے ہیں‘ وہ ان کی درایت سیرت‘ مؤرخانہ ژرف نگاہی‘ تحقیقی بصیرت‘ وسعت مطالعہ اور شوکت اسلوب کا شاہکار ہیں۔ یوں سیرت سرور عالمؐ کی دو جلدوں کے ۱۵۲۷ صفحات میں تفہیم القرآن سے ۸۷۶‘ ان کی دوسری ۱۸ کتابوں سے ۳۰۴ اور مؤلف کے اپنے قلم سے ۳۴۷صفحات کا نیا تحریرشدہ لوازمۂ سیرت ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس لوازمے کے بارے میں اپنی کتاب کی دوسری جلد کے دیباچے میں وہ لکھتے ہیں:
اس کتاب سیرت (سیرت سرور عالمؐ) کی پہلی جلد میں مجھے کسی حذف و اضافے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی --- لیکن اس دوسری جلد کے لیے میرے جو مضامین کے درمیان جگہ جگہ ایسے خلا باقی تھے‘ جن کی موجودگی میں کسی طرح سیرت کی کتاب نہ بن سکتی تھی۔ اس لیے میں نے اس میں بکثرت اضافے کر کے اسے ایک مسلسل اور مربوط کتاب سیرت بنا دیا ہے۔ یہ جلد ہجرت کے بیان پر ختم ہوئی ہے۔ آگے مدنی دور شروع ہوتا ہے‘ جو درحقیقت ایک بحر نا پیدا کنار ہے۔(سیرت سرورعالمؐ‘ ج۲‘ ص ۲۳)
سید مودودیؒ کا سیرت پر ابتدائی مضمون جو انھوں نے ۱۹۱۵ء میں لکھا‘ اپنے موضوع کے لحاظ سے علم انساب کی ایک ایسی بحث سے متعلق ہے‘ جس کا تفصیلی نقشہ ہم سرسید احمد خان کے ہاں دیکھتے ہیں۔ ذبیح کون ہے؟ سیرت کا ایک ایسا موضوع ہے جو مستشرقین اور مسلمان محققین کے درمیان صدیوں سے موضوع بحث ہے۔ سیرت سرور عالمؐ کی دوسری جلد کے صفحات ۶۱ سے ۶۵ کے درمیان اس موضوع پر ایک ایسی تحقیقی تحریر سامنے آتی ہے‘ جو اس عنوان پر ایک قاری کے لیے تشفی کا سامان فراہم کرتی ہے۔ سیرت سرور عالمؐ کی دونوں جلدوں کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آپ نے مختلف ابواب میں دوسرے مذاہب کی کتب بالخصوص عہدنامہ قدیم اور جدید سے براہ راست استثہاد کر کے بہت سے الزامات اور غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔ اسی طرح ہندومت‘ آریہ سماجیوں‘ قادیانیوں اور منکرین سنت وغیرہ کے الزامات کی تردید میں ان کے قلم کے تحقیقی شہ پارے ہمیں ورق ورق پر دکھائی دیتے ہیں۔
سید مودودیؒ ۲۲ سال کی عمر میں دہلی میں سہ روزہ الجمعیۃ کے مدیر مقر رہوئے۔ ۱۹۲۵ء سے ۱۹۲۸ء کے اس دور ادارت میں انھوں نے سیکڑوں موضوعات پر اداریے لکھے ہیں۔ ان میں سے کچھ اداریے آریہ سماجیوں کی نفرت انگیز کتب‘ بالخصوص پنڈت کالی چرن کی رنگیلا رسول اور اس کے پبلشر راجپال کے حوالے سے لکھے گئے ہیں۔ مگر ان میں اہم ترین موضوع پیغمبروں اور رسولوں کی اہانت کا ہے۔ توہین رسالتؐ اور blaspheme کا موضوع بہت قدیم ہے۔ سید مودودیؒ نے سہ روزہ الجمعیۃ میں جو اداریے لکھے ہیں وہ چار مستقل کتابوں صداے رستاخیز‘ بانگِ سحر‘ آفتابِ تازہ‘ جلوۂ نور کی صورت میں ترتیب دیے گئے ہیں۔
سید مودودیؒ کی مذکورہ چار کتابوں کے نو مضامین کے مطالعے سے نوجوانی کے دور میں ان خاص جذبات و احساسات کا اندازہ ہوتا ہے‘ جو حبِ رسول سے عبارت ہیں۔ ۱۲ سال کی عمر میں ترتیب پانے والے احساسات اور ۲۲ سال کی عمر میں تشکیل پانے والے جذبات‘ جب ۵۰برس کی عمر میں ختم نبوتؐ کی تحریک کے ایک خاص تاریخ ساز مرحلے (۱۹۵۳ئ) تک پہنچتے ہیں‘ تو قدرت حق نے محبت رسول کے صلے میں انھیں ایک ایسے اعزاز کا حق دار ٹھیرایا‘ جو بارگاہ الٰہی میں خاص الخاص لوگوں کا حصہ ہوا کرتا ہے۔ قادیانی مسئلے اور ختم نبوت کی تحریروں کے جرم میں انھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تو ان کے مقربین نے مشاہدہ کیا کہ ان کے چہرے پر ایک طمانیت اور نورانیت کھیلنے لگی۔(مشاہدات، از میاں طفیل محمد)
سیرت نگار سید مودودیؒ کا‘ صاحب سیرت صلی اﷲ علیہ و سلم سے قلبی اور ذہنی رشتہ کس نوعیت کا تھا‘ یہ پہلو ان کی تحریروں کے علاوہ‘ ان کے عمل و کردار سے بھی واضح ہوتا ہے۔ سیرت نگاری کی ۱۴صدیوں میں سیرت نگاروں کی محبت و الفت کے بہت سے مظاہرِ عقیدت سامنے آتے ہیں۔ علمی اور تحقیقی اعتبار سے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے وقائع کا ایسا ذخیرہ مرتب کیا گیا ہے کہ جس کی نظیر اقوام عالم میں دکھائی نہیں دیتی۔ مگر سیرت نگاروں کی اس پوری صف میں یہ امتیاز صرف سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو حاصل ہے کہ انھوں نے اس سیرت مطہرہ اور سنت ثابتہ کے احیا کے لیے ایک تحریکِ دعوت کی بنا ڈالی اور پھر عملاً ریاست مدینہ کے سیاسی‘ آئینی‘ تمدنی‘ تہذیبی‘ عدالتی‘ عسکری‘ معاشرتی‘ معاشی اور ثقافتی اقدار کے احیا کے لیے ایک خطۂ زمین کو دارالاسلام میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی زندگی کی تمام تر توانائیوں کو وقف کر دیا۔ یہی باعث ہے کہ وہ تفہیم القرآن میں تفسیری مباحث پیش کر رہے ہوں‘ یا سنت کی آئینی حیثیت پر قلم اٹھا رہے ہوں یا اسلامی ریاست کے مباحث کی تفصیلات مہیا کر رہے ہوں‘ ہر جگہ ان کا قلم وقائع سیرت میں سے ایک ایسی تصویر پیش کر دیتا ہے‘ جو اپنے موضوع کے لحاظ سے معتبر‘ مستند اور اپنے مقاصد کے لحاظ سے ایک پرُ تاثیر اسلوب نگارش کی حامل ہے۔
نصف صدی پر پھیلی (۱۹۱۲ء - ۱۹۶۶ئ) ہوئی مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے‘ سیرت نبویؐ پر چار جلدوں پر مشتمل ایک ابتدائی مسودہ تیار کر کے مولانا محترم کی خدمت میں پیش کیا گیا‘ تو ایک حد تک ان کو بھی اس پر حیرت ہوئی کہ انھوں نے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی شخصیت اور سیرت کے متعلق اتنا وسیع مواد اپنی تحریروں میں پیش کیا ہے۔ ] اس کا اندازہ فہرست ہی سے لگایاجا سکتا ہے[ پہلی جلد کا تعلق بنیادی مباحث‘ منصب نبوت اور نظام وحی‘ بعثت آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم اور ما قبل بعثت کے ماحول‘ اور دعوت کی مخالف قوم اور عرب کے مختلف گروہوں کے احوال سے ہے۔ دوسری جلد حضور کی پیدایش سے لے کر ہجرت مدینہ تک کے احوال و واقعات پر مشتمل ہے۔ تیسری جلد میں اس انتہائی سرگرم تحریکی زندگی کا مرقع سامنے آتا ہے‘ جو لمحۂ وصال تک حضور صلی اﷲ علیہ و سلم نے مدینہ میں گزاری۔ چوتھی جلد جو ابھی باقی ہے‘ اس میں حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کی اصلاحات‘ تعلیمات اور نظام زندگی‘ مختلف شعبوں میں لائے جانے والے تغیرات کا نقشہ پیش کرنا مطلوب ہے۔ (سیرت سرورِ عالمؐ‘ ج ۱‘ ص ۱۰)
سیرت نبویؐ پر سید مودودی ؒکے اس کارنامے کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک قاری کو جس حیرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ وہ ان کا قدیم و جدید علوم و فنون کا وسیع مطالعہ ہے۔ وہ اپنے مطالعے میں ایک ایسی تحقیقی نظر سے کام لیتے ہیں کہ بسا اوقات وہ برسوں کی رائج غلط فہمیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے نئے‘ درست اور تازہ حقائق بیان کرتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ اپنے نتائج فکر کو اس ترتیب اور نوعیت سے پیش کرتے ہیں کہ قاری کو تاریخی تناظر اور دینی پس منظر میں صحیح صورت حال کا علم ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرت سرورعالمؐ میں بعض معلومات پہلی مرتبہ یکجا نظر آتی ہیں اور سیرت کے بعض وقائع پر منفرد انداز میں‘ روشنی پڑتی ہے۔ بعثت کے بعد کے تین برسوں میں خفیہ دعوت کے نتیجے میں جن قبائل کے جن خوش نصیب افراد نے شرف صحابیت حاصل کیا‘ اس کی ایک کامل تفصیل اور فہرست سیرت نگاری میں پہلی دفعہ پیش کی گئی ہے‘ جس میں ۱۲۹ اشخاص کا تذکرہ ملتا ہے۔ مکہ کے کفار و مشرکین نے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی دعوت پر جس نوعیت کے الزامات عائد کیے یا اعتراضات اٹھائے‘ اس کی جامع تفصیل بھی پہلی مرتبہ اس میں پیش کی گئی ہے۔
ان دونوں جلدوں کا مطالعہ کرتے ہوئے صحیح اور مستند معلومات کا ایک دریا بہتا دکھائی دیتا ہے‘ جن میں سے کسی بات کو مستند حوالوں کے بغیر درج نہیں کیا گیا۔ اگر اس لوازمۂ سیرت کے منابع‘ مراجع‘ مصادر اور ماخذوں پر نگاہ ڈالی جائے تو مولانا مودودیؒ کے وسعت مطالعہ اور استخراج نتائج کی داد دینا پڑتی ہے۔ وقائع نگار کا کام محض معلومات کو جمع کرنا نہیں بلکہ ان کی تنقید‘ تنقیح اور تصحیح بھی ہے۔ اس حوالے سے ایک قاری کو بیسیوں مقامات پر یہ علمی اور تحقیقی عمل دکھائی دے گا۔ کتب سیرت میں اگر مستند اور محقق روایات و معلومات کے حوالے سے تقابل کیا جائے تو سیرت سرور عالمؐ ایک ممتاز کاوش نظر آتی ہے۔ اس کی ایک مثال حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کے عہد طفولیت کی تفصیلات سے دی جاسکتی ہے۔
سیرت نگاری میں اماکن کا تعین‘ اسما ء الرجال سے واقفیت‘ ماہ و سال اور سنین کا تعین‘ ہجری اور عیسوی تقویم میں مطابقت اور عربوں کی معاشرتی اور ثقافتی زندگی کا بھرپور علم اور قبائل کی زندگی کا دستور اور عرف‘ چند ایسے مسائل ہیں‘ جن سے عہدہ برآ ہوئے بغیر کوئی سیرت نگار اپنے موضوع سے انصاف نہیں کر سکتا۔
مستشرقین کے اعتراضاتِ سیرت کا جواب یوں تو سر سید سے لے کر علامہ شبلی نعمانی اور پروفیسر ظفراقبال تک سب نے فراہم کیا ہے‘ مگر ان میں سید مودودی نے ان مستشرقین کے فسادِ نیّت سے لے کر ان کے منہج تحقیق پر جو گرفت کی ہے‘ وہ عملی تحقیق کا ایک ایسا نمونہ ہے‘ جس سے کام لے کر ہم مستشرقین کی اسلام‘ قرآن اور صاحبِ قرآن کے خلاف تمام معاندانہ اور مخاصمانہ سرگرمیوں کا علمی اور تحقیقی احتساب کر سکتے ہیں۔
سیرت نگاری کی ۱۴ صدیوں میں اہل علم اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ روایت اور درایت کا جو معیار ہمارے ہاں محدثین کرام نے تدوین حدیث میں پیش نظر رکھا ہے‘ وہ احتیاط وقائع سیرت نگاری میں کم تر دکھائی دیتی ہے۔ ارباب علم اور صاحبان تحقیق اگر سید مودودیؒ کے تحقیقی موقف اور درایت کو دیکھیں گے تو انھیں سید محترم اور دوسرے سیرت نگاروں میں مابہ الامتیاز فرق دکھائی دے گا۔ مثال کے طور پر حرب فجار ہو‘ بحیرہ راہب کا تذکرہ اور ازواج النبی میں عمر عائشہؓ کا معاملہ ہو‘ یا پھر بناتِ رسول کا تذکرہ‘ مولانا مرحوم کے قلم سے تجزیہ و تحقیق کی ایک خاص انفرادیت دکھائی دے گی۔
سیرت نگاری کی تحریک میں سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ مطالعہ مغرب کے حوالے سے اپنا ایک خاص نقطہ نظر رکھتے ہیں‘ جس میں مغرب شناسی کی اس روایت میں علامہ اقبالؒکے استثنا کے بعد سید مودودیؒ ایک منفرد مقام کے حامل ہیں۔ الغرض سید مودودیؒ کی سیرت نگاری کی یہ انفرادیت ہے کہ انھوں نے سیرت کو ایک متحرک فکر اور فعال تحریک کے تناظر میں دیکھا ہے۔ انھوں نے وقائعِ سیرت کا خزینہ مرتب کرنے کے ساتھ ان واقعات کے دامن میں مضمر اسباب‘ عوامل اور محرکات کو اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ ان کے نزدیک یہ کام‘ اسلوبِ دعوت کا ناگزیر تقاضا ہے۔ وہ چونکہ خود ایک اسلامی تحریک کے مؤسس تھے جو خلافت علی منہاج النبوۃ کی طرز پر ایک انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے۔ لہٰذا انھوں نے سیرت کے تمام تر وقائع کو ایک دعوت کے پیرائے میں‘ اسلامی تحریک کے کارکنوں کے لیے ایک نظامِ تزکیہ و تربیت کے شعور کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہ سیرت نگاری میں ایک وقائع نگار سے آگے بڑھ کر اس کا رنامۂ رسالت کے از سرنو احیا کے متمنی ہیں‘ جو عصری طاغوت اور گلوبل لادینیت کے مقابلے میں ایک صالح مومن‘ ایک اسلامی معاشرے اور ایک اسلامی ریاست کی تعمیر و تشکیل میں معاون بن سکے۔ بس یہی ایک پہلو انھیں نہ صرف اردو سیرت نگاری بلکہ عالمی سیرت نگاری میں بھی ممتاز و منفرد بنا دیتا ہے۔
سیرت نگاری کے اس داعیانہ دبستان کے اثرات گذشتہ نصف صدی میں ان کے معاصر اور بعد میں آنے والے سیرت نگاروں نے بھی قبول اور جذب کیے ہیں۔ ایسے سیرت نگاروںمیں ملّاواحدی کی دو جلدوں میں حیات سرور کائنات ؐ، نعیم صدیقی کی محسن انسانیتؐ اور سید ؐ انسانیت،محمد شریف قاضی کی اسوۂ حسنہؐ ، سید اسعد گیلانی کی رسول اکرمؐ کی حکمت انقلاب اور حضور ا کرمؐ اور ہجرت، ڈاکٹر خالد علوی کی انسان کاملؐ، ابو سلیم محمد عبدالحی کی حیات طیبہؐ، ماہر القادری کی در یتیمؐ، ڈاکٹر اسرار احمد کی منہج انقلاب نبویؐ اوردوسرے بہت سے رسائل سیرت‘ علی اصغر چودھری کی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم‘ بنت الاسلام کی اسوۂ حسنہؐاور خالد مسعود کی حیات رسول امیؐ وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔
مولانا مودودی نے (سیرت سرور عالمؐ) جلد دوم میں جہاں جہاں اضافے کیے ہیں‘ وہاں ان کا تصنیفی تجربہ‘ سیرتی علم اور اسلوبی حسن اپنے معراج پر ہے۔ بحیثیت مجموعی سیرت سرور عالمؐ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و سلم کی سیرت و کردار اور آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے ابدی پیغام کو جس خوب صورت اور عالمانہ انداز میں پیش کرتی ہے‘ اس کی مثال دور حاضر کی کتب ِسیرت میں کم کم ملتی ہے۔(ص ۷۳۸)
سیرت سرور عالمؐ کے مطالعے اور تجزیے کا ایک رخ اس کے اسلوب نگارش کا جائزہ بھی ہے۔ اردو زبان و ادب کا اولیں علمی سرمایہ مذہبی تحریوں پر مبنی ہے۔ ابتدائی دور کی تحریروں کا اسلوب عربی اور فارسی زبان اور مقامی بولیوں کے متروک اور نامانوس الفاظ سے مرکب ہے۔ اس کے برعکس سید مودودیؒ کا اسلوب کئی اعتبار سے منفرد اور ممتاز ہے۔ ان کا اسلوب جن اجزا سے تشکیل پاتا ہے‘ اس میں روح مطالب تک پہنچنے کے لیے لفاظی‘ عبارت آرائی‘ آرایش اور تصنّع کے بجاے ایک سادگی‘ سلاست‘ روانی‘ شگفتگی اور وضاحت کا احساس ہوتا ہے۔ اردو میں ادبی لوازم کو دینی موضوعات میں کامیابی سے استعمال کرنے والی پہلی شخصیت شبلی نعمانی کی ہے۔ دینی ادب کی اس رو کو ایک بحر مواج میں تبدیل کرنے والی شخصیت ابوالکلامؒ آزاد کی ہے۔ مگرسیرابیوں اور شادابیوں کا سامان پیدا کرتی ہوئی ادبی لہر صرف سید مودودیؒ کے قلم سے پیدا ہوئی۔ مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو مقام علامہ اقبالؒ کو اردو شاعری میں حاصل ہے تقریباً وہی حیثیت سید مودودیؒ کی اردو نثر کو میسر ہے۔ اقبالؒ نے مسلم قومیت کے دھاروں کو اسلامیت کے رنگ سے آشنا کیا۔ اسلامیت کے جس دروازے کو اقبالؒ نے کھولا‘ سید مودودیؒ نے اس میں داخل ہو کر ملت کے لیے اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک ایوان تعمیر کر دیا۔ اس ایوانِ ادب میں جہاں قدیم علوم کی اینٹیں چنی گئیں وہاں جدید علوم کا مسالہ بھی آپ نے فراہم کیا۔ یوں ان کے اسلوب میں قدیم اور جدید موضوعاتی ہم آہنگی اور توازن ملتا ہے۔ سیدمودودیؒ چونکہ ایک مشنری انسان ہیں‘ اس لیے وہ اپنے اسلوب سے ذہنوں کو تبدیل کرنے کا کام لینا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان کے اسلوب کی مقصدیت اور ثقاہت نے ان کے قلم میں تجزیہ و تحلیل اور زور استدلال کی خوبی پیدا کی ہے۔ الغرض سید مودودیؒ سیرت نگاری میں بھی منفرد حیثیت کے مالک نظر آتے ہیں۔
جماعت اسلامی اپنی ہم عصر قومی سیاسی و دینی جماعتوں ہی میں نہیں‘ بلکہ دیگر اسلامی تحریکوں کے درمیان بھی ممتاز مقام رکھتی ہے۔ ۲۰ ویں صدی میں اس جماعت نے نہ صرف ملکی سیاست بلکہ معاشی‘ معاشرتی‘ تعلیمی‘ ثقافتی اور دفاعی معاملات میں قومی ترجیحات کے تعین‘ اقدار کے تحفظ اور رجحانات کے فروغ میں بھی اپنا خاطرخواہ اثر ڈالا ہے۔ سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے اہل دانش‘ جماعت اسلامی کو پاکستان کی انتہائی منظم اور بین الاقوامی سطح پر با اثر جماعت کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔
جماعت کا کردار‘ قومی ارتقا میں تبدیلی کے جان دار محرک کے طور پر ہمیشہ مسلمہ رہا ہے۔ جماعت کی اس دیرپا اور ممتاز خصوصیت کو اس کے اصل پس منظر میں دیکھنے کے بجاے بعض تجزیہ نگار مغالطے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سوشلسٹ لیڈر طارق علی نے لاہور میں گذشتہ برس تقریر کرتے ہوئے کہا: ’’جماعت اسلامی پاکستان کی سب سے زیادہ منظم جماعت ہے‘ مگر اس نے تنظیمی اصول کمیونسٹ پارٹی سے لیے ہیں‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی کمیونسٹ پارٹی کوئی آئیڈیل اور مثالی تنظیمی اصول رکھتی تھی‘ تو پھر وہ اپنی اٹھان کے بعد بقا اور اقتدار کے لیے محض ریاستی جبر ہی کی محتاج کیوں رہی‘ اور پھر یہ کہ آج معدوم کیوں ہوگئی ہے؟
اس مضمون میں پیش کردہ معروضات کا مقصد مولانا مودودی کو ان کے تنظیمی کارنامے کی روشنی میں‘ علم نظمیات کے شعبہ میں متعارف کرانا ہے۔ اس شعبہ علم میں وہ دو لحاظ سے تحقیق اور مباحثے کا اہم اور دل چسپ موضوع بن سکتے ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر تفہیم القرآن اور دیگر تحریروں میں تفصیلی گفتگو کی ہے: معاشرے کی تنظیم‘ قوم و ملک کی سطح پر بننے والی اجتماعیت‘ تنظیم سازی‘ تحریک اٹھانے اور چلانے کا عمل‘ حکومت کا نظام اور اس کے متبادل راستے‘ قیادت اور اولوالامر کی ذمہ داریاں‘ شہریوں یا ممبران کے فرائض و حقوق وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام اور اس کے علاوہ بھی اس اہم موضوع سے متعلق دیگر امور پر مولانا مودودی نے گہرائی کے ساتھ اور کھل کر اپنی آرا کو پیش کیا ہے۔ نظریاتی دلائل دینے کے ساتھ ساتھ تاریخی تجزیے بھی کیے ہیں۔یہ افکار تنظیم سازی کے میدان میں ایک نئے زاویۂ نظر کے اضافہ کا باعث ہیں۔ بالخصوص ایک ایسے شعبۂ فکر میں کہ جس کی تشکیل بنیادی طور پر لادینی فکر کے سائے میں ہوئی ہے۔
ثانیاً‘ انھوں نے اپنے آپ کو نظریت تک محدود رکھنے اور علمی قیادت کے بلند منصب پر محض فائز رہنے کو کافی سمجھنے کے بجاے عملی قیادت کا بیڑا بھی اٹھایا۔ اس لحاظ سے خود اپنا ایک ’خصوصی مطالعہ‘ (case study) بھی فراہم کیا۔ نظری و اصولی بحث کے شیش محل سے باہر نکل کر‘ عملی میدان میں خاک آلود ہونے کا خطرہ مول لیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے مولانا مودودی نے اپنے افکار و نظریات کو کیا فائدہ یا نقصان پہنچایا؟ انھوں نے مقصدی لحاظ سے کیا کھویا اور کیا پایا؟ خلافت و ملوکیت اور تجدید و احیاے دین کے بے لاگ مصنف نے خود کیا معیار اور نمونہ چھوڑا؟ اس نمونے کے مثبت یا منفی پہلو کیا ہیں؟ یہ سوالات آج کے اور مستقبل کے مورخ کی دل چسپی اورتوجہ کا موضوع بن چکے ہیں۔ زیر نظر مضمون مولانا مودودی کی تنظیمی میدان میں فکری و عملی کاوش کو مرکز بحث بنانے کی ایک ادنیٰ کوشش ہے۔ بلاشبہہ ان کی تنظیمی خدمات کو جس طرح پیش کیا جانا چاہیے تھا وہ اب تک نہیں ہو سکا ہے۔ یہ کام ایک معروضی جائزے کا محتاج ہے۔
۱
گذشتہ نصف صدی میں‘ دوسری جنگ عظیم کے بعد نظم و ادارات اور تنظیم و قیادت کے شعبے میں فکری وعملی اعتبار سے بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ جامعات میں اس مضمون سے متعلق خصوصی شعبے اور ادارے بہت مقبول ہوچکے ہیں۔ ایک نئے اختصاصی صنفِ علم کی تشکیل کا یہ سارا کام‘ مادیت اور لادینیت کے فکری ڈھانچے میں ڈھلا ہے۔ اس فکر کے تحت قائم ہونے والے تعلیم و تربیت کے مراکز دنیا بھر میں پھیلتے جا رہے ہیں۔ ہر ایک یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ انسان کیسے جمع ہو سکتے ہیں؟ قیادت کے اوصاف کیا ہونا چاہییں؟ تنظیمی عمل کن عوامل کا مرکب ہے؟ انسانوں کی فطری جبلت کیا ہے؟ ان سے کس طرح اعلیٰ معیار پر کام لیا جا سکتا ہے؟ کون سی اقدار اور کون سے اصول انسانی تعلقات کو مثبت رخ دے سکتے ہیں؟ تنظیم کی ساخت کیسے تبدیل ہوسکتی ہے؟ تنظیمیں اپنے ماحول پر کیسے اثر ا نداز ہوتی ہیں اور کس طرح ماحول پر اثر ڈال سکتی ہیں؟ فیصلہ سازی کا بہترین طریقہ کار کیا ہے؟ اجتماعیت میں انصاف کے تقاضے کیا ہیں؟ کون سے محرکات انسان کو فعال بنا سکتے ہیں؟ تنظیم کا تشخص کیسے قائم ہوتا ہے؟
ریاستی اداروں‘ فوج‘ سیاسی جماعتوں‘ کاروباری اداروں‘ غیر سرکاری تنظیموں‘ بین التنظیمات انجمنوں (Interorganizational Associations) ہی کا نہیں بلکہ ہر خاندان اور فرد کی کامیابی و ناکامی کا انحصار درج بالا سوالات کے جوابات پر ہے۔ مغرب میں علوم اجتماعیہ کے فکری امام اور ان کے پیروکار گذشتہ عرصے میں افراط و تفریط کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ ایک نظریے کی ناکامی کے بعد وہ دوسرے نظریے کی طرف قلابازی کھا کر پہنچ جاتے ہیں۔ دوسرے سے مایوس ہو کر تیسری طرف ٹکر مارتے ہیں۔ انھی ٹامک ٹویوں کے نتیجے میں نظریۂ قیادت‘ فکرِاجتماعی اور اصولِ ادارت کو ٹھیرائو نہیں مل سکا۔ ایک دور کے مقبول ترین قاعدے اور مقدس کلیے اگلے دور میں آسانی کے ساتھ مسترد کر دیے گئے۔ اس شعبۂ علم کا جھکائو اب آخرکار ان نظریات اور اقدار کی جانب ہو رہا ہے‘ جس میں بعض مولانا مودودی کے طرز قیادت اور تصور تنظیم سے کسی نہ کسی درجے مناسبت بھی رکھتی ہیں۔
آج کاروباری اداروں میں مشن‘ مقاصد‘ اخلاقیات‘ خدمتِ عامہ‘ ایمان پر مبنی قائدانہ کردار‘ انسانی اثاثہ کی نشوونما‘ کسی بھی کام کے نتیجے کا انتظار کرنے کے بجاے نتیجے کا پہلے سے اندازہ لگانا‘ فیصلہ سازی میں اقدار اور پیمان کو اولیت دینا‘ تنظیم میں روایات کو شعوری طور پر فروغ دینا‘ طویل المیعاد اور مابعد طویل المیعاد بنیاد پر سوچنا‘ دنیا کو اکائی کی صورت میں دیکھنا‘ اموال اور افراد کے مابین ترتیب کو درست کرنا‘ انسان کو محض مادی جنس سمجھنے کے بجاے اس کے دل و دماغ کے مرکب اور روحانی اور جذباتی پہلوئوں کو بھی بروے کار لانا‘ اجتماعی سرگرمیوں کو ہر سطح پر جواب دہی اور امانت داری کے ساتھ انجام دینا‘ یہ اور اس طرح کے بہت سارے دیگر تصورات جو آج تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں‘ جدید دور میں مولانا مودودی نے کم و بیش ان تمام امورِ نظم و ربط کو عملاً جماعت میں کہیں زیادہ خوبی اور کمال کے ساتھ رائج کیے ہیں۔ اگر مولانا مودودی کے تنظیمی نظریات اور ان کا تنظیمی کارنامہ مغربی درس گاہوں اور علم تنظیم کے ماہرین تک کسی صورت میں پہنچ پاتا تویقینا ان کے افکار کی ضرور قدر ہوتی اور وہ اس مضمون کے صف اوّل کے ماہرین بھی شمار ہوتے۔
مولانا مودودی نے عملی زندگی کا آغاز علمی صحافت سے کیا تھا۔ ان کے مضامین کی پذیرائی اور مقبولیت نے ان کو بہت جلد صف اول میں لاکھڑا کیا۔ ان کے فکر کی گہرائی‘ اسلام سے لگن‘ حالات پر عبور‘ اور طرز تحریر کی اثر پذیری نے ان کو فکری رہنما بنا دیا۔ کسی عام فردکے لیے اس مقام پر پہنچ جانا کافی ہوتا ہے۔ کتب کی تصنیف‘ مذاکرے اور مباحث میں شرکت کی دعوتوں کا طومار‘ نقادوں اور تبصرہ نگاروں کی دل چسپی‘ اور فکر کی بڑھتی ہوئی چھاپ‘ صاحب قلم وقرطاس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ بس اسی میدان کا ہو کر رہے اور بلاوجہ عملی کاوش کی آزمایش میں اپنے آپ کو مبتلا کرنے سے بچ کر رہے۔ فکر کو عملی روپ دینا سخت مشکل کام ہوتا ہے۔مولانا مودودی اگر قُل تک محدود رہتے تو بھی وہ برصغیر کے نامور ترین علما میں شمار ہوتے اور ان کی فکر دُور دُور تک پھیلتی۔ لیکن قُل کے بعد قُم کے منصب پر فائز ہو کر انھوں نے ان گنت دشمنیاں‘ مصائب اور خطرات مول لیے۔
مولانا مودودیؒ نے حق کو واشگاف کیا اور ا س کے بعد ’حقیقت‘ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ جمعیت العلما کے اخبار الجمعیۃ کی ادارت سے جماعت کی امارت کا سفر‘ اجتہاد سے جہاد کی معراج کا عنوان بنا۔ اسی سفر کے دوران وہ رسولؐ اللہ کی اتباع کرتے ہوئے ہجرت کے راستے پر چلے اور تاسیسِ تحریک کے اقدام کی منزل کو سامنے پایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مصنف مودودی کی خشتِ اوّل ہی میں موسسِ تحریک‘ سید مودودی کی صورت پنہاں تھی۔ الجہاد فی الاسلام ان کی پہلی پکار بھی تھی اور اس پکار پرپہلی لبیک بھی ان کی اپنی تھی۔ منزل کی طرف قدم بڑھانے کا عزم بھی موجود تھااور تحریک کے لیے قربانی کا شعور بھی موجزن تھا۔
مولانا مودودی کے لیے فکری قیادت سنبھالنے کے بعد‘ عملی قیادت کے میدان میں قدم رکھنا ایک بہت بڑا امتحان تھا۔ بالعموم یہ دو مختلف خصوصیات رکھنے والے مزاج کی شخصیتوں کا تقاضا کرتا ہے۔ فکری قیادت: سوچ‘ مطالعے‘ مشاہدے‘ خلوت اور فکری مباحث میں شرکت کا تقاضا کرتی ہے۔ اس میدان میں ممتاز ہونے کے لیے عمل کا روگ نہ لگا ہو تو اسے بھی ایک خوبی سمجھا جاتا ہے۔ فرد‘ حساب دینے کی پابندی سے آزاد رہ کر صرف نظری مہارت تک محدود رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عملی قیادت: تحرک‘ رابطہ‘ دورہ‘ مہمات اور اثر و نفوذ کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھنے کے لیے جتناکام کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ عملیت پسندی کا تقاضا ہوتا ہے کہ نظریات کے قلاوے سے دور رہا جائے‘ تاکہ پابندیاں کم سے کم ہوں۔ اکثر مفکر‘ مصلح بن کر پھر مصلحت اور مصالحت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ بالعموم بڑے رہنما ان دوخانوں میں سے کسی ایک میں تخصص حاصل کرکے ہی اپنی قیادت کے جوہر دکھلا پاتے ہیں اور ایسا کرنے کو بالعموم کوئی عیب بھی نہیں کہتا۔
مولانا مودودی نے دونوں میں منقسم یا کسی ایک میں مقید ہونے کے بجاے دونوں کو ایک ہی وحدت کے دو تقاضوں کے طور پر دیکھا۔ ان کی تقریر آسانی سے تحریر بن جاتی ہے اور تحریر میں تقریر کا مزا لیا جاسکتا ہے۔ ان کا قول ایک پکار کی مانند بلند ہوتا ہے‘ جب کہ ان کا عمل اس قول کی تائید میں گواہی دیتا ہوا ہر لفظ کے پیچھے نظر آتا ہے۔ ایک صاحبِ کلام فرد کا صاحبِ تنظیم بن جانا شخصی لحاظ سے ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کمال درجے کے قائدانہ معیار پر گذشتہ صدی میں مشرق و مغرب میں اور کون پہنچ سکا ہے؟ یہ نمونہ پیش کرنا کسی کرشمے سے کم نہ تھا۔ قولی شہادت اور عملی شہادت دونوں کی ادایگی‘ زمین کے اوپر تنظیم کی گاڑی کی ڈرائیوری اور ساتھ ہی افکار کے افق پر مسلسل ضربِ کاری اور ان دونوں کاموں کو ساتھ لے کر چلنا ایک ایسے ذہن کی غمازی کرتا ہے کہ جو تنوع کو وحدت کا رخ دے سکتا ہے۔ جو کہنے اور کرنے کو دو الگ نوعیت کے کام سمجھنے کے بجاے ان کو ایک کام کے دو زاویوں کے طور پر نبھا سکتا ہے۔
علمی کام تو عام طور پر درس گاہوں‘مکتبوں اور کتب خانوں تک محدود رہتا ہے۔ جہاں بعد میں بھی ان کو پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ تنظیم کی بنا ڈال کر مولانا مودودی نے اپنے علمی کام کو جہاں ایک جانب محدود کر لینے کا اور اسے مخالفین کی جانب سے تنقید و جرح کا نشانہ بننے کا خطرہ مول لیا‘ وہیں بالآخر اس کام کو تحریک کی شکل دے کر زیادہ موثر اور دیرپا بنانے کا انتظام بھی کیا۔ مؤثر تحریر وہی کہلائے گی جو عملی دنیا میں تبدیلی لا سکے۔
مولانا مودودی نے کتاب اور انسان دونوں ہی تصنیف کیے ہیں۔ انسان کے لیے کتاب تھی اور کتاب کے لیے انسان تیا ر ہوئے۔ فَانْتَظِرُو سے فَفِرُّوکے درمیان کوئی فرق باقی نہ رہا۔ مفکرمودودی کی فکر کے بارے میں کہا جا سکتا ہے: انھیں جو کرنا چاہیے وہ اسے نہ کرتے‘ قعدہ ہی میں رہ کر سوزوساز میں مشغول اور قیام سے غافل رہتے تو ان کی تحریریں بے جان اور غیر متعلق ہوکر رہ جاتیں اور تاریخ کا فیصلہ ان کے بارے میں مختلف ہوتا۔
۱۴۰۰ سال پہلے کہی ہوئی بات کو نئے تناظر میں پیش کر دینا ایک طرف‘ لیکن اس نظام کے ازسرنو قیام اور اس کو اعلیٰ درجے کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا معیار قرار دے کر تحریک کھڑی کر دینا‘ مجاہدانہ جرأت ہے۔ وہ بھی ایک ایسے دور میں جبکہ زوال پستیوں کو چھو رہا ہو‘ ملت کا شیرازہ پارہ پارہ ہو چکا ہو‘ غلامی کا شکنجہ ذہنوں کو جکڑ چکا ہو‘ مغرب زدگی کا چلن عام ہو‘ مذہبیت فرسودگی کی علامت ہو‘ مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو متحدہ قومیت کے تیزاب میں پھینکے جانے کی تیاری ہو رہی ہو‘ مجرد مادی ترقی کو تمدنی ترقی کا قائم مقام سمجھ لیا گیا ہو‘ اور مشین کے اوتار کو قیام و سجود کا سزاوار سمجھ لیا گیا ہو۔
ایسے دور میں کیا مولانا مودودی تنظیم کھڑی کرنے میں حق بجانب تھے؟ کیا وہ یہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ ’’حالات مزید سازگار ہو جائیں تو قدم اٹھانا چاہیے‘‘ --- بھلا ۷۵ افراد اور ۷۴روپے سے کیا بوجھ اٹھانا مقصود تھا۔ جو کام صدیوں میں دوبارہ نہ ہو سکا‘ اس کو منزل مقصود بناکر چلنا کیا دانش مندی تھی؟ ان کے سامنے کیا نسخہ تھا جس پر ان کو بھروسا تھا کہ اس کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔ اسباب و تدابیر کا کون سا امتزاج پیش نظر تھا جو ان کے خیال میں قومی سطح پر بڑی تبدیلی لانے کا باعث بن جائے گا؟ مولانا نے تنظیم کی جدت کو‘ اسلام کے کا م کے لیے کیوں اختیار کیا؟ اور پھر سب کچھ تنظیم کے لیے وقف کر دیا۔ اُنھوں نے اپنے آپ کو فکری قیادت کے وسیع اور محفوظ اُفق سے گرا کر کچھ کر کے دکھانے کا شوق کس بل بوتے پر پالا؟
۲
درحقیقت تنظیم وہ حکمت تھی‘ جو ان کو امید دلاتی کہ صرف کچھ ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ پاکیزہ اور پختہ افکار کی قوت کے ساتھ اگر تھوڑی تعداد میں سہی‘ لیکن منظم گروہ کھڑا ہو تو وقت کے دھارے کو موڑنے اور نئے مستقبل کو ترتیب دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم ایک موثر ہتھیارہے جو پیغام کو تحریک کا روپ دے کر قوت و اختیار کے ایوان میں پہنچا سکتا ہے۔ مولانا مودودی پختہ نوعیت کا تنظیمی ذہن رکھتے تھے‘ جو دلیل‘ اسباب اور عمل کے پیمانے کو اُس کے ربط اور ضبط کے ساتھ اچھی طرح سمجھ سکتا تھا۔ ان کی وہ تحریریں جو قیام جماعت سے قبل شائع ہوئی ہیں اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ قوموں کی ہیئت ترکیبی‘ اجتماعی بنائو اور بگاڑ‘ عملِ قیادت‘ مقصدیت اور اس کے تقاضے‘ نظمیات‘ علوم اجتماعی اور قانون سازی پر انھیں گہرا عبور حاصل تھا۔ انھوں نے غالب جماعتوں اور ان کی مقبول قیادت کو منطق سے بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا۔ تجدید واحیاے دین کی کاوشوں کا تاریخی طور پر جائزہ لیا‘ اور نظام ریاست کو اس کی تمام تر باریکی اور پیچیدگی کے ساتھ سمجھا۔ شہادت حق سے لے کر اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے‘ پھر ہدایات سے لے کر کامیابی کی شرائط تک‘ اور تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل سے لے کر خلافت وملوکیت تک‘ ان کا تجزیہ ایک ماہر تنظیم کا ثبوت دیتا ہے۔ رسولؐ اللہ کی بنائی ہوئی اجتماعیت اور تحریک پر اُن کی گہری نظر‘ ان کے قاری سے چھپی نہیں ہے۔
مولانا مودودی نے دوسروں کے تنظیمی ماڈل کے محاسن و عیوب کا کھلے عام جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کے مقابلے میں ایک مختلف اور نیا تنظیمی ماڈل تجویز کیا۔ حکمت و ہمت کے ساتھ اس ماڈل کو عملی روپ دینے کی کوشش کی۔ ان کی بنائی ہوئی تنظیم کا ایک عرصہ ان کی قیادت میں گزرا اور پھر ان کی رحلت کو بھی ایک عرصہ گزر چکا ہے۔ اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے مولانا مودودی کا فیصلہ درست تھا۔ ان کی بنائی ہوئی تنظیم ان کے طے شدہ اہداف پر اور دیے ہوئے معیار پر کس حد تک پورا اتر سکی ہے؟ اس پر بات کرنے کی گنجایش موجود ہے‘ لیکن یہ امر کسی بحث سے بالاتر ہے کہ کیا تنظیم بنانا واقعی ضروری تھا؟
مولانا مودودی کے تصور تنظیم کی آبیاری تو قرآن و سنت کے مطالعے سے ہوئی‘ لیکن مسلمانوں کی تاریخ کے مطالعے نے ان کے اندر تنظیمی ضرورت کی شدت کو ایک نیا اُبھار دیا۔ انھوں نے اس کائنات کو نظم کی نظرسے دیکھا اور اس عظیم نظام کو نقص سے پاک ‘ایک فعال و متحرک کرشمے (dynamic organized entity) کے طور پر دیکھا۔ توحید کو تنظیم کے بنیادی اصول کے طور پر سمجھا اور اختیار کیا۔ صرف اللہ تعالیٰ کو حاکمیت کا مالک سمجھا۔ واضح کیا کہ انسان کو اللہ کا خلیفہ بنایا گیا ہے۔ بندگی رب اور اطاعت الٰہی نے ان کو دستور‘ ضابطے‘ قوانین سے روشناس کرایا۔ حدود و قیود کی اہمیت کی وضاحت کی۔ انسانوں کی ہدایت کے بعد گمراہی‘ طاغوت کے روپ میں دوسرے انسانوں کو اپنی بندگی کی زنجیر میں جکڑنے کی کوششوں کا تجزیہ انھوں نے قرآن میں مذکور واقعات کی روشنی میں کیا۔ پھر انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد سے پھوٹنے والی ہدایت سے رہنمائی لینے کا قرینہ سکھایا۔ بالخصوص رسول اللہؐ کی عظیم الشان جدوجہد جو قرآن میں مذکور ہے‘ اسے جدید ترین اسالیب میں پیش کیا۔ امت کا تصور جو نسلی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان پر استوار ہے‘ دراصل ایک جماعت کا عندیہ دیتا ہے۔ امت ایک پارٹی ہے جو حاکمیت الٰہی اورحکومت الٰہیہ کے لیے قائم ہوئی ہے۔ اگر امت یہ کام نہ کر رہی ہو تو وہ بحیثیت امت اپنا منصبی کام نہیں کر رہی ہے۔ امت کا یہ تصور‘ قوموں کی تشکیل کے نظریات سے یکسر مختلف ہے۔ یہ ایک متحرک اور مقصدی گروہ ہے جس کا اصل رشتہ زمین کے کسی ٹکڑے یا نسل کے کسی سلسلے سے نہیں‘ بلکہ ایمان سے ہے۔ مملکت اور ریاست کی یہ محتاج نہیں اور زبان و نسل‘ رنگ و علاقہ کی یہ پابند نہیں۔
امت کا یہ تصور‘ اور پھر امت کے اندر ایک ایسے گروہ کی نشان دہی جو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے لیے وقف ہو‘ جس نوعیت کی تنظیم سازی کا تقاضا کرتا ہے مولانا مودودی نے عملاً اس کی بنیاد رکھی۔ رسولؐ اللہ نے کس طرح جماعتِ صحابہؓ کے ذریعے تیس سال میں پورب و پچھم کو اسلام کی دعوت سے ہمکنار کر دیا؟ اسوہ رسولؐ اس کا ایک عملی نمونہ ہے۔ یہ ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ عام انسانوں کے ہاتھوں یہ کچھ ہونا ممکن ہے اور ایسا بار بار ہو سکتا ہے۔ بہرصورت اس طرح کی تبدیلی کے قریب پہنچا جا سکتا ہے۔ ایمان اور پھر ہو سکنے پر یقین ہی کر سکنے کی بنیادی تدبیر یعنی تنظیم کی طرف راغب کرتا ہے۔
مولانا مودودی کا ذہن نظم کا خوگر تھا‘ تنظیم کا بھرپور ادراک رکھتا تھا‘ اور تاریخی لحاظ سے انسانی معاشرے میں نظم و تنظیم کے ارتقا کے مراحل کو پہچانتا تھا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ بادشاہت پر مبنی سلطنت کی جگہ جمہوریت پر مبنی مختلف نظریات کے حامل افراد ‘سیاسی پارٹیوں کی صورت میں مجتمع ہو رہے ہیں‘ تاکہ ریاست کا انتظام ان کی ترجیحات اور اقدار کے مطابق چلایا جائے۔
دوسری جانب طبقات اور مفادات کا گٹھ جوڑ ریاستی نظام کی چولیں مسلسل ہلا رہا تھا۔ ریاستی نظام‘ سیاسی جماعتوں کی کش مکش اور ان کے ذریعے نظریات و قیادت کی فراہمی پر منحصر ہوگیا تھا۔ یورپ و امریکہ میں بڑی سیاسی جماعتوں کے قیام کے ساتھ ہی تجارت و معیشت کے میدان میں بھی بڑی بڑی کمپنیاں عالمی سطح پر اشیا کی کثیر المقدار ترسیل و صناعی کے لیے وجود میں آرہی تھیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا تجارتی لین دین ہی سیاسی تسلط اور حکمرانی کا ذریعہ بن گیا تھا۔ ریل‘ ڈاک‘ پریس‘ تار‘ موٹر گاڑی‘ ریڈیو‘ فلم‘ اخبار یہ سب کچھ ایسے دور کے آغاز کی نوید دے رہے تھے کہ جس میں کسی قوم کے تمام افراد پہلے سے زیادہ مربوط اور باہم پیوستہ ہوں گے۔ آسانی سے اور جلدی میں متاثر کرنے اور متاثر ہو سکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
مغربی افکار کی گھن گرج‘ اخلاق و اقدار کو لپیٹ میں لے رہی تھی۔ ۱۹۲۰ء کے عشرے میں کمیونسٹ پارٹی نے روس کو عملاً اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ روس کی قدیم سلطنت ’زار‘(Czar) کا تار و پود کمیونسٹ پارٹی کی یلغار کے سامنے ڈھیر ہو گیا تھا۔ دونوں بڑی عالمی جنگوں نے جدید خطوط پر منظم افواج کی برتری کے نئے اسلوب نمایاں کیے۔ اسی عرصے میں خلافت عثمانیہ کی ٹوٹ پھوٹ‘ مسلم ممالک میں اسلام کی غربت‘ عوام کی جہالت‘ اخلاقی زوال اور دوسری تبدیلیاں اس بات کا پتا دے رہی تھیں‘ کہ مسلمان قوم‘ تباہی کے غار میں گرچکی ہے‘ نصب العین کھو چکی ہے‘ اپنے عظیم کارنامے بھول چکی ہے‘ اور مرعوبیت نے اس کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ تحرک اور داعیہ مفقود ہے‘ اور قیادت کا بحران‘ نظم و ضبط کا فقدان‘ باہم رسہ کشی اور فکری ژولیدگی اس سب پر مستزاد۔
جس مفکر کو تبدیلی مطلوب تھی‘ وہ اس فضا میں تنظیم کو بحیثیت قوت اور ذریعہ (instrument) کے طور پر روبہ عمل لانے کا قائل ہو چکا تھا۔ مولانا مودودی کا یہ وہ رفیع الشان اجتہاد ہے‘ جس کے اثرات ان کے دیگر فکری کارناموں سے کہیں زیادہ وقیع ثابت ہوئے۔ مسلمانوں کو جدیدتنظیم کی صورت میں پرونے کا کام آسان نہ تھا۔ وہ ایک عام فرد تھے‘ اور ان کے پاس کوئی الہٰ دین کا چراغ نہ تھا۔ دنیا کے مروجہ چلن کے مطابق وہ حکمرانی کا حق بھی نہ رکھتے تھے‘ دولت و قوت بھی نہیں رکھتے تھے‘ اللہ کے عاجز بندے تھے۔ ان کی یہ سوچ کہ: ’’میں بندگان رب کو اکٹھا کروں گا‘‘ اُس زمان و مکان میں ایک جسارت تھی۔ خود اﷲ کے مددگار کی حیثیت سے کھڑا ہوجانا اور دوسروں کو بلانا ایک عظیم الشان چیلنج کو دعوت دینا تھا۔ خدائی فوجداری کا طعنہ سننے کے لیے تیار ہونا سخت مشکل کام تھا۔ حصولِ اقتدار کی خاطر کوشش کرنے والوں کے مقابلے میں حاکمیت الٰہی کے لیے امامت ِ صالحہ کا نسخہ لے کر کھڑا ہونا کسی بھی طرح آسان نہ تھا۔
مسلمانوں میں تنظیم کا شعور‘ معاصر مغربی اقوام کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور تھا۔ مسلمانوں کے اندر اسلام کی بنیاد پرمسلمانوں کی الگ سے تنظیم‘ یہ ایک عجیب سی بات نظر آتی تھی۔ تعلیمی و تربیتی ادارے‘ علما کی مستقل تحقیقی مجالس‘ اولیا کے مراکز سے لوگ مانوس تھے اور انھی ’مراکز تجلیات‘ سے باخبر تھے۔ لیکن ایک بھرپور جماعت جس میں شمولیت کو ایمان کا تقاضا سمجھا جائے‘ اس حقیقت سے لوگ ناآشنا تھے۔ جو چند ایک آشناے راز تھے بھی تو اس بھروسے اور اعتماد کے مقام پر نہ تھے جو افراد کو کھینچ کر قریب لے آتا ہے‘ یا وہ اس عزم و استقلال سے محروم تھے جو پہاڑوں سے ٹکرانے اور طوفانوں کا رخ موڑنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
مولانا مودودی نے تنظیم کی روایت کو‘ جیسا کہ اسے اس وقت کے ’جدید معاشرے ‘ میں سمجھا جاتا ہے‘ مسلمانوں میں فروغ دیا۔ اس کو جہاد اور عمل صالح کا لازمی تقاضا قرار دیا۔ اس طرح تنظیم کو ایمان کا جزو لاینفک ٹھیرایا۔ یہی ان کا بہت بڑا اجتہاد تھا۔ یہ کار خیر ان کے دوسرے کار ہائے خیر سے کہیں زیادہ بھاری اور بابرکت ثابت ہوا ہے۔ دینی جدوجہد کے پورے دھارے کو گذشتہ صدی میں ایک نئی جہت ملی ہے۔ اس ماڈل پر ہر معاشرے میں جہاں مسلمان بستے ہیں‘ چھوٹی بڑی تنظیمات وجود میں آئی ہیں۔ مسلمانوں میں تنظیمی رویے کو فروغ ملا ہے۔ اس کے ذریعے امت اور جماعت مسلمین کے تصور کو‘ ریاست کے نظام کی مخالفت کے باوجود اپنانے کا موقع ملا ہے۔ حاکمیت الٰہی اور اطاعت رسولؐ کے ساتھ‘ نظم جماعت کو وابستہ کرنے سے وحدت اور حرکت کو بیش بہا قوت ملی ہے۔ ریاست کی چھتری اور مملکت کی چار دیواری میسر نہ ہونے کے باوجود معاشرے میں اثر و نفوذ حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
آج عالمی کش مکش میں اسلام کا جو وزن محسوس کیا جا رہا ہے‘ وہ ان درجنوں ریاستوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان اجتماعی کوششوں کے سبب ہے جو مسلمانوں نے از خود اختیار کیں اور جن کے ذریعے تعلیم و تربیت‘ تحقیق و مطالعے‘ دعوت و ابلاغ‘ اتحاد و اجتماعیت سے متعلق سرگرمیاں ترتیب دی گئیں۔ تنظیمات کے اس جال نے امت کے سفینے کو بھنور سے نکالنے کی راہ دکھائی ہے‘ اقدار کا تحفظ کیا ہے‘ خطرات اور یلغار کا مقابلہ کیا ہے‘ اندرونی طور پر استحکام عطا کیا ہے‘ حکومت پر قابض گروہوں کی اندرونی سازشوں کے آگے بند باندھا ہے۔ یہ جذبہ مسلمانوں کو ملا ہے کہ وہ از خود اپنے آپ کو مجتمع کر کے درحقیقت بڑے بڑے کام انجام دے سکتے ہیں۔ جمع ہونا اور جمع ہو کر کام کرنا‘ ایمان کا لازمی حصہ ہے‘ تاہم اس کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ محاذ اور انداز و طریقہ کار میں اختلاف ہو سکتا ہے‘ مقاصد کے دائرہ کار میں انتخاب کیا جا سکتا ہے‘ قیادت و فیصلہ سازی کا نظام‘ دستوری اصول اور ضابط کار مختلف ہو سکتے ہیں لیکن اس قافلے میں شمولیت اور عمل شرکت ایک ناگزیر عمل ہے۔ اسی کے ذریعے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے‘ اعمال صالحہ کا حصول ہوتا ہے۔ یہی سنت نبوی صلی اﷲ علیہ و سلم اور سنت صحابہؓ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تنظیم پر مبنی اجتماعی ماڈل کا احیا ہونے سے مسلمانوںکو ایک بھرپور شناخت قائم کرنے کا موقع ملا۔ اس شناخت نے ناتواں اور منتشر قوم میں عظیم قوت کی لہر دوڑا دی۔ پژمردگی اور مردنی کو امید اور زندگی سے بدل دیا۔
تفہیم القرآن کے اکثر قارئین جن کا دائرہ صاحب تفہیم القرآنکی بنائی ہوئی تنظیم سے باہر دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔ جس میں ان کے مخالفین بھی شامل ہیں‘ کے لیے تنظیم بالقرآن کی صورت میں عملی تفسیر کی جہت پر قدم بڑھانا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ گویا کہ تفہیم القرآن علمی تصویر ہے‘ جبکہ جماعت اسلامی عملی تفسیر اور تحریک کا روپ لیے ہوئے ہے۔ اس تحریک میں ہرقاری خود تفسیر کا رنگ بھر سکتا ہے۔ خطوط کار موجود ہیں۔ صاحب تفہیم القرآنکا مطلوب و مقصود‘ انقلاب امامت تھا۔ جو شخص ترجمان القرآن کا مدیر‘ مضمون نگار‘ خزانچی‘ اور قاصد تھا‘ وہ اس کڑی سے بخوبی واقف تھا‘ جو کسی ادارے کو عمل کا روپ دینے اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے تسلسل سے قائم کرنا ہوتی ہے۔ وہ جانتا تھا کہ تنظیم کا قیام پیغام حق کی ترویج و اشاعت کے ذریعے کے طور پر انتہائی ضروری ہے‘ ایک مفکر انقلاب اور قائد تحریک میں بنیادی فرق‘ منتظم کے کردار کا ہے۔ مولانا مودودی کی سب سے بڑی انفرادیت دراصل منتظم اعلیٰ کی حیثیت سے ان کا کردار ہے۔ تنظیم بالقرآن کی اٹھان اور صورت گری‘ اجتماعیت کی تشکیل اور اس کو تحریک کی شکل میں فعال بنا کر نتیجہ خیز بنانا‘ یہ ان کا اصل ورثہ ہے۔ یہی خصوصیت ان کو ہم عصر علما اور دانش وروں کی صف میں ممتاز کرتی ہے۔موذنِ جماعت‘ مصورِ جماعت‘ کارکن جماعت اور امیرجماعت کی حیثیت سے ان کا کردار اسلامی تاریخ میں ایک نئی روایت اور ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔
۳
مولانا مودودی نے محرکات پر بہت زور دیا ہے۔ ان کی رائے میں ایمان اور علم یہ دونوں وہ جذبہ اور داعیہ فراہم کرتے ہیں جس کی قوت انسان کو عمل پر ابھارتی ہے۔ ایمان‘ علم اور عمل پر بیک وقت ان کا زور رہا ہے۔ ’’اسلام پہلے علم کا نام ہے اور علم کے بعد عمل کا نام ہے‘‘ (خطبات: ص ۳۲)۔ شعوری مسلمان کا تصور‘ پیدایشی مسلمان اور پیدایشی برہمن یا عیسائی کے تصور سے مختلف ہے۔ اسلام کو جاننا اس کو ماننے سے قبل ضروری ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ محرک اور داعیہ پیدا ہوتا ہے‘ جو عقل اور قلب دونوں کو گرفت میں لے لیتا ہے۔ عقلی محرکات یقین کی کیفیت پیدا کرتے ہیں‘ جبکہ قلبی محرکات فرد کو عمل کے لیے اٹھا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔
مولانا مودوی نے انسانوں کو اجتماعی تحریک میں لانے کے لیے ’’شعوری ایمان‘‘ کی طاقت ور اصطلاح کو رائج کیا۔ ایک مقصد اور نظریہ فراہم کیا۔ جماعت ایک نظریاتی قوت کے طور پر نمایاں ہوئی‘ کیونکہ یہاں افراد کی وابستگی نظریے سے اور مقصد سے پہلے استوار ہوئی۔ جماعت میں شرکت نظریے کی بالادستی کی کوشش کا ذریعہ قرار پاتی ہے۔ بلاشبہہ جماعت اسلامی ایک نظریاتی تحریک ہے۔ جس کی بنیاد اور اٹھان ’علم‘کے اوپر ہوئی ہے۔ اس کی ترقی اور کامیابی کا انحصار اس علم کی وسعت پر ہے۔ اس علم پر ایمان اور وفاداری‘ اس جماعت کے افراد کی اولین خصوصیت ہے۔مولانا مودودی نے نظریے کو تنظیم پر سبقت دی۔ نظریے کو تسلیم کر کے تنظیم میں شامل ہونا ایک مختلف معنی رکھتا تھا۔ بالخصوص ایک ایسے دور میں کہ جب اصلاً لوگ تنظیم کو اور اس کے مفادات کو نظریے سے اوپر غالب رکھتے تھے۔ جماعت نظریے سے بنتی ہے اور نظریے کو ماننے والے اس میں حصول مقاصد کے لیے متحرک ہوتے ہیں۔ افراد کی حیثیت اور اہمیت نظریے کے تابع ہونے کے اعتبار سے ہے۔ تنظیم کے بجاے خود افادیت نظریے کے مفاد کے لیے ہے۔ یہ کلیہ ہر خاص و عام فرد کو مطمئن رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اجتماعیت کو پھلنے پھولنے کا بھرپور موقع ملتا ہے‘ نیز فرد تنظیم کو جبر اور زیادتی کا آلہ کار سمجھنے کے بجاے‘ بقاے ایمان اور تقاضاے علم کے تحت ناگزیر سمجھتا ہے--- اساس تنظیم کا اس سے زیادہ دائمی نظریہ قائم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
مقصدیت پر مبنی مرکزیت‘ افراد کو تنظیم پر قائم رکھنے اور امانت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ ذمہ داران کو بے قابو ہونے کے بجاے احساس گرانباری سے بوجھل رکھتی ہے‘ سبک رفتاری اور نتیجہ خیزی کے ساتھ انھیں بے چین اور بیدار رکھتی ہے۔ مولانا مودودی نے جدید دور میں Management by Knowledge - Orineted Mission کی بنیاد پر جماعت کے نظم کی بنیاد رکھی۔مولانا مودودی کے الفاظ میں: ’’نظم جماعت کے لیے ہم نے اول روز سے جو بات لوگوں کے ذہن نشین کی‘ وہ یہ تھی کہ اس جماعت میں وہی شخص داخل ہو جو اس کو جانچ پرکھ کر‘ اچھی طرح اس بات کا اطمینان کر لے کہ یہ جماعت فی الواقع اقامت دین کے لیے قائم ہوئی ہے‘ اور اس کی دعوت‘ طریق کار اور اصول تنظیم وہی ہیں‘ جو قرآن و سنت کے مطابق اقامت دین کی سعی کرنے والی ایک جماعت کے ہونے چاہییں۔ پھر جب اس معاملے میں پوری طرح مطمئن ہو جانے کے بعد وہ جماعت میں آئے تو اسے ٹھیک اس سمع و طاعت فی المعروف کا التزام کرنا چاہیے جس کا حکم قرآن و حدیث میں دیا گیا ہے۔ اس کے بعد جماعت کے ڈسپلن کو توڑنا محض یہ معنی نہیں رکھتا کہ آدمی نے ایک پارٹی کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے‘ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے خود اپنے عقیدے میں جس کام کو خدا کا کام سمجھا تھا‘ اس کو جان بوجھ کر خراب کیا اور قصداً خدا اور رسول کی نافرمانی کی‘ (جماعت اسلامی کا مقصد‘ تاریخ‘ اور لائحہ عمل ، ص ۶۳ - ۶۴)
اس قاعدے کا مطلب امیر کی آمریت نہیں ہے‘ بلکہ وہ امیر کی مرکزیت کو اختیارات کی تقسیم اور وحدت کے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں۔ یہ ایک باریک نزاکت ہے جسے مولانا مودودی کے تنظیمی ادراک کی عظمت سمجھا جا سکتا ہے۔ مرکزیت کے بجائے جب اسے وحدت کے معنوں میں سمجھا جائے تو اس کلیے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ جماعت کو وسعت پانے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ وسعت کے ساتھ تنظیم کو پھیلانے میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا ہوئی اور اختیارات کی تقسیم کوئی مسئلہ نہیں بنی۔
مسلم دنیا کے ریاستی اور پارٹی تجربات میں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ قیادت پر فائز اپنے آپ کو تاحیات منصب پر برقرار رکھتے ہیں۔ ’ایک جماعت‘ ایک امیر اور قیادت میں تبدیلی کے لیے مقررہ مدت پر انتخاب کا طریقہ کار بھی وضع کیا‘ اور اس کی مکمل پاسداری کی۔ مولانا مودودی نے خرابی صحت کی بنا پر معذوری پیش کر کے یہ اصول تسلیم کرایا‘ کہ دیگر شرائط کے ساتھ کام کرنے اور بوجھ اٹھانے کی جسمانی سکت کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ بانی کی حیثیت سے اپنے آپ کو منصب کے ساتھ لازم نہ کر کے جماعت کے اندر جمہوری مزاج کو پروان چڑھایا۔ ورنہ جو شخص اپنی قائدانہ ذمہ داری کے شعور میں اتنا پختہ تھا اور جس کے دل و دماغ نے اس منصب کے تقاضوں کو اس انتہا پر جذب کر لیا تھا‘ کہ جب ۱۹۶۳ء میں اجتماع عام میں سامنے سے فائرنگ ہوئی اور ایک صاحب نے مولانا مودودی سے درخواست کی کہ وہ ڈائس سے ہٹ کر بیٹھ جائیں تو مولانا نے بے ساختہ کہا: ’’میں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا‘‘۔ قیادت کا یہی شعور تھا کہ جس کا انھوں نے اس مرحلے پر بے ساختہ اظہار کیا۔
جماعت کا قیام کسی شخصیت کے افکار یا اثرات پھیلانے کے لیے عمل میں نہیں آیا تھا‘ بلکہ اس کا مقصدِ وجود ہی دعوت ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلنا تھا کہ مختلف مراحل پر مختلف مزاج‘ سوچ اور انداز کار کے حامل افراد اس میں شامل ہوتے جائیں گے۔ یہ افراد جغرافیائی لحاظ سے بھی پھیلے ہوئے ہوں گے۔ لیکن ایک جماعت اور ایک امیر کے اصول میں وحدت کو متاثر کیے بغیر وسعت میں سمونے کی بے پناہ گنجایش موجود ہو گی۔ غور کیا جائے تو جماعت بندی کا یہ تصور درحقیقت توحید کے عقیدے کا پرتو ہے۔ قرآن میں اطاعتِ امیر کو اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول کے بعد کا درجہ دیا گیا ہے۔ ایک جماعت اور ایک امیر کا اصول‘ اس آیت سے مترشح ہوتا ہے۔ تنظیم ایک حکم ہے۔ امیر خود اس حکم کا پابند ہے۔ عملاً پوری تنظیم اس حکم کے ماتحت ہے۔
سمع و طاعت کے اس تصور کو جماعت اسلامی کی تنظیم کی بنیادی صفت بنانے کے بارے میں مولانا مودودیؒ کہتے ہیں: ’’جو لوگ بھی جماعت میں آئے وہ ڈسپلن کی پابندی کے لیے خارجی دبائو کے محتاج نہ تھے۔ انھوںنے زیادہ تر خود اپنے ایمان کے تقاضے سے ڈسپلن کو قبول کیا اور انھیں باقاعدگی‘ نظم ‘ اور ضبط کے ساتھ کام کرنے کا عادی بنانے میں کچھ زیادہ زحمت پیش نہیں آئی۔ (ایضًا‘ ص ۶۴)
لیکن سمع و طاعت کو شخصی بیعت یا اندھی اطاعت مطلق سے آلودہ نہیں ہونے دیا۔ اطاعت فی المعروف اور اطاعت نظم کو توحید اور رسالت کے تابع سمجھا اور سمجھایا گیا۔ اس طرح قرآن کے اطاعت امیر کے حکم کے بے جا استعمال یا حدود سے تجاوز کے امکانات کو ختم کر دیا گیا۔
مشاورت میں تخلیقی قوت کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات میں مناسب حکمت عملی کی تشکیل ضروری ہوتی ہے۔ جماعت نے جدید ترین اسلوب کو تکنیکی اعتبار سے مقاصد کے حصول کے لیے اپنانے میں پہل قدمی کی۔ تجزیے‘ معلومات کا حصول‘ سوچ بچار‘ میڈیا کی آرا‘ بین الاقوامی سطح پر دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کا لائحہ عمل‘ ان تمام ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے کھلے دل و ذہن کے ساتھ کام کو آگے بڑھانے کے لیے سوچا۔
صحیح بات یہ ہے کہ نظام اور ڈھانچے سے متعلق امور‘ مقاصد اور حکمت عملی کے تابع ہوتے ہیں۔ جب حکمت عملی تبدیل ہوتی ہے تو نظام بھی تبدیل ہوتا ہے۔ اگر حکمت عملی کے بجائے نظام کو فوقیت مل جائے تو مقاصد سے انحراف‘ عمل میں رونما ہو جاتا ہے۔ نظام کی حیثیت ذریعے کی ہے۔ یہ ایک سواری ہے۔ جب کہ حکمت عملی کا تعلق سمت اور طریقہ کار سے ہے۔
مولانا مودودی نے جماعت کو جمود سے بچایا۔ تشکیلِ پاکستان کے بعد تقسیم برعظیم‘ تحریک پاکستان‘ دستور پاکستان‘ تحریک جمہوریت‘ انتخابات اور دیگر مراحل‘ جیسے جیسے نئی حکمت عملی اور نئے اہداف کا تقاضا کرتے گئے‘ مولانا مودودی نے طریق کار اور نظام‘ دستور اور اہداف بھی تبدیل کیے۔ لائحہ عمل کی تبدیلی میں بھی دیر نہ کی۔ اس طرح جماعت کو پاکستان کی انتہائی موثر تنظیم بنا دیا۔ یہ قائدانہ شعور کی پہچان ہے‘ کہ قائد اپنی تنظیم کو حکمت عملی اور نظام العمل کے لحاظ سے ماحول کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے تحت مقاصد کے حصول کے لیے ترتیب دیتا رہتا ہے۔ نئے شعبہ جات کا قیام‘ معاونت کے لیے نئی تنظیمات کا قیام‘ مختلف مواقع پر تحریکوں کا آغاز‘ دیگر جماعتوں کے ساتھ یا حکومت کے ساتھ اشتراک و تعاون وغیرہ ان تمام معاملات میں مولانا مودودی نے مقاصد و اصول کی رہنمائی میں پیش قدمی کے لیے طریق کار وضع کیا۔ اسی لیے جماعت ہمیشہ پہلی صف میں ممتاز اور اہم ترین جماعت کی حیثیت سے ہمیشہ تسلیم کی جاتی رہی ۔
مولانا مودودی محض تنظیمی سربراہ نہ تھے‘ بلکہ وہ تنظیم ساز قائد تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں اس عمل کے چاروں اجزا کو الگ الگ تجزیے سے گزارتے تھے‘ یعنی مقاصد کو جو حاصل کرنے ہیں یا نتائج جو رونما ہونا چاہییں‘ معاشرہ جس میں کام کرنا ہے‘ قیادت کہ جسے معاشرے اور مقاصد میں ربط پیدا کرنا ہے‘ اور تنظیم جسے معاشرے میں مقاصد کے حصول کے لیے تشکیل دیا جانا چاہیے۔ وہ مسلسل ایک ایسے امتزاج اور مرکب کی جستجو میں رہتے تھے جس میں بہتر تنظیم کے ذریعے معاشرے میں زیادہ سے زیادہ نتائج کا حصول ممکن ہو۔ یہ قیادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونے کی نشانی ہے کہ وہ ذہنی طور پر اپنے آپ کو تنظیم کی حدود سے باہر سمجھ کر بھی تنظیم کا جائزہ لے سکتی ہے۔ یعنی قائد‘ اپنی تنظیم کے اندر اپنے آپ کو گرفتار رکھ کر سوچے تو وہ محدود پیمانے پر ہی سوچ سکتا ہے۔ قائد کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ تنظیم سے ذہنی طور پر جدا ہو کر (detach)تنظیم کو اس کے ماحول میں پرکھے اور اس کی سمت اور رفتار‘ مقاصد اور طریقۂ کار کے بارے میں سوچتا رہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی زمین کو زمین پر کھڑے ہوکر دیکھے یا کوئی خلا میں جاکر دُور سے زمین پر نگاہ ڈالے۔ زمین کو دونوں صورتوں میں دیکھنے ہی سے مکمل تصویر بن سکتی ہے۔ اس طرح قائدمعاشرے میں مقاصد کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل میں مولانا مودودی کی یہ قائدانہ سوچ اپنے پورے عروج پر نظر آتی ہے۔ وہ جماعت کو نئے حالات کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر مشاورت کے ذریعے راغب کرنا چاہتے تھے۔
مولانا مودودی نے ایک طرف بار بار اس امر کی تنبیہ کی کہ اس تنظیم کا مقصد کوئی خانقاہ بنانا نہیں ہے۔ جس معاشرے میں تنظیم کام کر رہی ہے‘ اس معاشرے سے کسی کمزور سے رشتے کو قائم رکھ کر تنظیم کو چلانا مقصود نہیں۔ بلکہ ایک ایسی تنظیم مطلوب ہے ‘جو اندرونی طور پر مستحکم ہو‘ لیکن اپنے بیرونی ماحول میں پوری طرح مربوط ہو ۔ گویا کہ اس کو معاشرے پر اثرانداز ہونا ہے اور معاشرے سے یقینا متاثر بھی ہونا ہے۔ جماعت نے شخصیت کی تعمیر‘ خاندان کی تشکیل اور تنظیم میں شامل افراد کے درمیان روابط اور معاملات جیسے امور پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔گفتگو کا طریقہ‘ اخلاق‘ مختلف مواقع پر رویہ اور سلوک ان سب کو متاثر کیا ہے۔ جماعت کا فر داور گھرانہ پہچانا جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ طور طریق‘پسند و ناپسند‘ شخصی انداز‘بودوباش‘ معاملات‘ رکھ رکھائو‘ زبان کے لحاظ سے ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ اجتماعی امور میں جماعت کا مخصوص طریقہ کار ایک خاص طرز معاشرت کو ترتیب دیتا ہے۔ ایسا طرز معاشرت جس میں افراد آسانی سے ڈھل جائیں‘ اور تحریکی کام ان کی زندگی کا اس طرح جزو بن جائے کہ انھیں کوئی بوجھ محسوس نہ ہو۔ عام معاشرے میں رہ کر‘ بلکہ اس میں سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے ایک نئی معاشرت و ثقافت کو پروان چڑھانا ایک مشکل کام تھا۔ حفاظتی خول (enclave) کے بغیر ایک نیا اجتماعی ماحول ترتیب دینا‘ سیاسی و معاشرتی تبدیلی کے لیے کھڑی ہونے والی تنظیم کے لیے بیش بہا تجربہ ثابت ہوا اور تنظیم کی فعالیت کا بھی بہتر اہتمام ہوا۔
جماعت اسلامی‘ پاکستان کی واحد دینی و سیاسی تنظیم ہے جو ساتھ چلنے والوں کی درجہ بندی کرتی ہے۔ اس سے قبل کسی دینی جماعت میں اس طرح کی روایت بھی نہیں رہی۔ سوال یہ ہے کہ مولانا مودودی کے نزدیک اس میں کیا حکمت تھی؟ انھوں نے کیوں اس کو اختیار کیا؟ مولانا مودودی کے نزدیک ہر جماعت کو ایک نیوکلئیس چاہیے ہوتا ہے۔ یعنی وہ جماعت کو ایک متحرک ایٹم کی طرح دیکھتے تھے کہ جن میں ایک حصہ مرکز ثقل (core) کے طور پر موجود ہوتا ہے۔ پوری تنظیم اس مرکزثقل کے گرد گھومتی ہے۔ اس مرکزثقل کا کام‘ معیار اور مقصد کی حفاظت ہے۔ اس مرکزثقل کا وجود اس لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ جماعت کی عملاً کوئی سرحد نہیں ہے۔ یہ ایک کھلی دعوت ہے‘ ایک تحریک ہے۔ لاکھوں افراد جو اس کے پیغام کو درست مان لیتے ہیں‘ وہ اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اگر اس مرکز ثقل کو تحلیل کر دیا جائے یا یہ محو ہوجائے تو تنظیم کس بنیاد پر کھڑی رہ سکے گی؟ ارکان جماعت دراصل ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یعنی تنظیم اس ادارے کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ اجتماعی تحریک جس میں شمولیت کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے ہیں‘ اگر اسے تنظیم کی شکل دینا ہو تو ایسے بنیادی ادارے کا قیام ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔ آج نصف صدی گزرنے کے بعد بھی جماعت اسلامی اپنی تنظیمی ہیئت کی بنا پر کام کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔
اس درجہ بندی کا غلط طور پریہ مطلب لیا گیا ہے کہ اس کا مقصد کوئی تفریق پیدا کرنا ہے۔ یہ درجہ بندی کارکردگی کی بنیا دپر ہے۔ تنظیمیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب کارکردگی کو تنظیمی معیار بنا لیں۔ وہ افراد‘ جو ذمہ داریاں اٹھانے کے اہل ہوتے ہیں‘ تنظیم کے لیے قابل بھروسا ہوتے ہیں‘ جن کی رائے فیصلہ سازی اور امیر اور شوریٰ کے انتخاب کے لیے ضروری ہوتی ہے‘ اور جو مقصد سے وفاداری اور تنظیم کے ساتھ مکمل وابستگی کا حلف اٹھاتے ہیں‘ ان کو الگ سے شمار کرنا‘ اور نیوکلیئس کی حیثیت سے تنظیم کا ذمہ دار گرداننا‘ یقینا حکمت عملی کے لحاظ سے انتہائی دانش مندی ہے۔ بالخصوص ایک ایسی تنظیم کے لیے کہ جس کا مقصد وجود ہی وسعت اور تبدیلی ہے۔ یہ طریقۂ کار دراصل پھیلائو اور ارتقا و نمو کے نامیاتی طریقہ کار (organic growth) سے حددرجہ مماثل ہے۔ درخت کی مثال لے لیجیے۔ ایک بیج کا زمین میں جذب ہو کر اثرات کو جذب کرنے کا اور اپنی اصل پرکار بند رہنے کا نتیجہ مضبوط تنے‘ پھیلی ہوئی شاخیں‘ ایک ہی انداز کے پتے اور پھل کی مسلسل افزایش کی صورت میں نکلتا ہے۔ یوں مضبوط جڑ کے ساتھ وسعت کے لامتناہی امکانات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ تنظیم جہاں ایک مرکزثقل کی تشکیل کو اپنا ایک بنیادی کام سمجھتی ہے‘ وہیں وہ اس کو سمیٹ کر رکھنے یا محدود ہوکر جم جانے کے بجاے متحرک کرتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو انھی نظریات کے مطابق استوار کرنے کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ یعنی اس مرکزثقل کامقصد نمو ہے جمود نہیں‘ اور ہر فرد مکمل طور پر خود مختار ہے‘ کہ وہ اپنے اندر قائدانہ اوصاف پیدا کرے‘ معاشرے کے لیے نقیب بن جائے‘ اور دعوت کا کام کرے۔ ہر فرد مکمل طور پر بااختیار ہے کہ زیادہ اور بہتر کام کرنے کی کوشش کرے۔ درجہ بندی درحقیقت صلاحیتوں کی وسیع پیمانے پر نشوونما کو یقینی بنانے کے لیے ہے‘ اختیارات اور کام کو چند افراد تک سمیٹنے کے لیے نہیں ہے۔
مولانا مودودی نے توازن و اعتدال کو تنظیم کا خاصّہ قرار دیا۔ تنظیم‘ عالم اسباب میں ایک کڑی کی حیثیت سے وجود میں آتی ہے اور مادی و انسانی وسائل کو سمیٹ کر مطلوبہ نتائج کے حصول کی کوشش کرتی ہے۔ عمل اور ردعمل میں جذباتیت کا شکار ہونے سے بچاتی ہے۔ تنظیم کا قیام اس ادراک کا نتیجہ ہے کہ اقامت دین کا کام جدید معاشرے میں حد درجہ نظم کا تقاضا کرتا ہے اور یہ کام آناً فاناً نہیں ہوتا‘ بہ تدریج آگے بڑھتا ہے۔ بغیر سوچے سمجھے‘ صلاحیتوں اور وسائل کو کھپانا مقصود نہیں‘ انتہائی احتیاط اور فکر مندی کے ساتھ اس قوت کو مستقبل میں تبدیلی کے لیے بروے کار لانا مطلوب ہے۔ تنظیم کے دیرپا استحکام اور چلتے رہنے کے لیے قیادت و مشاورت انتہائی ضروری ہیں۔ مشاورت کے ذریعے حکمت کو نکھارا جاتا ہے اور اجتماعی فیصلہ سازی میں بہتری آتی ہے۔ اجتماعی فیصلے ہی اجتماعیت کو لے کر چل سکتے ہیں۔ قیادت‘ مشاورت کے ذریعے جب کام کرتی ہے تو اس کا حکم موثر ہوتا ہے اور سمع وطاعت کے اعلیٰ درجے کا جواب (response) ملتا ہے۔
مولانا مودودی کے ہاں اعتدال کا مطلب سست روی یا سہل انگیزی یا مصلحت کوشی نہیں ہے‘ بلکہ اس کا مطلب ہوش مندی کے ساتھ مسلسل جدوجہد ہے‘ تاکہ مجموعی طور پر اسلام کے احیا کے لیے کام ہو۔
تنظیم کی حیثیت سے جماعت ‘ریاست کے دوسرے تنظیمی اداروں کے مدمقابل نہیں آئی‘ بلکہ کھلے عام کام کے ذریعے اثر و نفوذ کے راستے کو اختیار کیا گیا۔ جس طرح مولانا مودودی کی شخصیت کھلی کتاب کی طرح تھی اسی طرح ان کی بنائی ہوئی تنظیم کے دستور میں بھی واضح طور پر یہ لکھا گیا کہ یہ علانیہ جدوجہد کرے گی‘ کوئی خفیہ تحریک جو زیرزمین کام کرتی ہے اس کے علی الرغم یہ تنظیم راے عامہ کو ابلاغ عام کے ذریعے مخاطب کرے گی۔ اس تنظیم کے حسابات‘ معاملات‘ فورم‘ سرگرمیاں ہر چیز ہمیشہ کھلی کتاب کی طرح ہر ایک کے سامنے رہی ہیں۔ بنیادی طور پر جماعت کا قیام ایک کھلی تنظیم کے طور پر عمل میں آیا۔ اس میں ہر ایک شامل ہوسکتا ہے‘ ہر ایک اس کو قریب سے دیکھ سکتا ہے‘ ہر ایک کے لیے اس کی دعوت عام ہے‘ اور معاشرے کا ہرفرد اس کے لیے اہم ہے۔ یعنی ایک ایسی تنظیم جو پورے معاشرے کو اپنے اندر سمونا چاہتی ہو‘ جوکسی قسم کی طبقاتی تفریق‘ لسانی و نسلی تعصب‘ کی حامل نہ ہو۔
مضمون کا آغاز طارق علی کے جملے سے کیا گیا تھا۔ اس کا اختتام اس جملے پر مولانا مودودیؒ کے ردعمل پر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی ایک معروف سیاسی و دینی شخصیت نے اس انداز کا تقابل مولانا مودودیؒ کے سامنے کیا تو انھوں نے بجاطور پر اس تقابل پر ناگواری کا اظہار کیا۔ گذشتہ صفحات پر پائے جانے والے مباحث مولانا مودودی کے ردعمل کی بجا طور پر تائید کرتے ہیں۔
۱۹۵۳ء میں‘ میں نے امریکن یونی ورسٹی‘ بیروت میں داخلہ لیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یہ یونی ورسٹی ابھی تک صلیبی دور کے اسلام مخالف جذبات سے بری طرح متاثر تھی‘ بس یوں سمجھیے کہ یہ ایک مسیحی مشنری ادارہ تھا۔ طلبہ میں سے بیش تر مسلمان تھے‘ مگر یہ سب ہفتے میں تین روز یونی ورسٹی چرچ میں ہونے والی مذہبی گفتگوئوں میں شریک ہونے پر مجبور تھے۔ ان گفتگوئوں کا ایک درپردہ ہدف یہ ہوتا تھا کہ طلبہ کے ذہنوں میں مغربی جدیدیت (modernism) کے تصورات راسخ کیے جائیں۔ جو طلبہ ایسے پروگراموں میں شرکت سے معذرت یا انکار کرتے تھے‘ انھیں بعض مذہبی موضوعات پر لائبریری ریسرچ کے ایک زیادہ مشکل کام پر لگا دیا جاتا تھا۔ طلبہ پر پڑھائی کا پہلے ہی اتنا بوجھ ہوتا تھا کہ عموماً کوئی بھی اس نوعیت کے مشقت طلب کام کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ متبادل راستہ یونی ورسٹی چرچ ہوتا۔
ہر لیکچر یا خطبے کے اختتام پر مقرر‘ تمام طلبہ کو کھڑے ہو کر عیسائی مذہبی گیت گانے کے لیے کہتا۔ مسیحی اور مغربی طلبہ‘ قدیم گرجا خانے (Chapel) کے آلاتِ موسیقی کی بلند لَے پر دل لبھاتے اجتماعی گانے (chorus) گاتے۔ مسلمان طلبہ خاموش کھڑے رہتے یا مجمعے کا ساتھ دینے کی اداکاری کرتے۔ اس وقت میری عمر ۲۱ سال تھی اور میری پرورش ۵۰ کے عشرے کے برطانوی مقبوضہ سوڈان میں ایک نہایت مغرب زدہ خاندان میں ہوئی تھی۔ اس کے باوجود بطور مسلمان‘ مجھے یہ ساری کارروائی نہایت توہین آمیز معلوم ہوتی تھی۔
تمام طلبہ کے لیے اپنے پہلے اور دوسرے تعلیمی سالوں میں‘ اصل مضمون سے قطع نظر نصاب میں شامل دو کورس مکمل کرنا لازمی تھے۔ پہلے سال میں لازمی کورس کا عنوان ’’اسلامی فلسفہ‘‘ تھا۔ یہ کورس‘ جسے زیادہ تر مسیحی اساتذہ پڑھاتے‘ الفارابی‘ ابنِ سینا‘ اور اخوان الصفا جیسے ان ابتدائی مسلم فلسفیوں کے کام کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا‘ جو یونانی فلسفیوں کی بے راہ فکریات سے واضح طور پر متاثر تھے۔ طویل مبہم بحثیں فلسفیوں کے ان دلائل پر کی جاتیں‘ کہ آیا خدا انسانی زندگی کی خصوصیات سے واقف ہے یا نہیں؟ کیا انسان کے پاس انتخاب کی آزادی ہے یا خدا نے سب کچھ پہلے سے مقدر کر رکھا ہے؟ اور اگر سب کچھ خدا نے پہلے ہی تقدیر میں لکھ رکھا ہے تو اس طرح انصاف کا تقاضا کیوں کر پورا ہو سکتا ہے؟ کیا حیات بعد موت جسم اور روح دونوں کے لیے ہے‘ اور اس کی نوعیت صرف روحانی ہے یا بعدموت اجتماعی حیات کی کوئی حقیقت نہیں ہے؟ اور کیا انسان کی موت ہی بعد از زندگی اس کا آخری ٹھکانہ ہے؟ چاند تیسرے آسمان پر واقع ہے یا چھٹے آسمان پر؟ اور کیا پیغمبر کو ایک بہتر انسان سمجھنا چاہیے یا فلسفی کو؟
روایتی ثانوی اسکولوں سے آئے ہوئے مسلمان طلبہ کے لیے‘ جن میں سے اکثر کا تعلق عرب ممالک کے دیہات سے تھا‘ یہ تمام مسائل بہت پیچیدگی اور پراگندگی کا مظہر تھے‘ جنھیں نام نہاد مسلمان فلسفیوں کی قدیم کتابوں سے نہایت مہارت سے اخذ کیا گیا تھا‘ اور انھیں ابتدائی علما کے تطہیرشدہ (refined) اسلامی مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اس کورس میں بڑی ہوشیاری سے منتخب کردہ چند ایسے تاریخی واقعات کو بھی شامل کیا گیا تھا‘ جن سے سُنیوں اور شیعوں کے درمیان اختلاف نمایاں ہو جائیں! مثلاً حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان لڑی جانے والی جنگیں اور جنگ جمل میں حضرت سیدہ عائشہؓ کا کردار۔
دوسرا کورس عمومی تعلیم (جنرل ایجوکیشن) پرمشتمل تھا۔ ۱۲ کریڈٹ گھنٹوں کا یہ ایک طویل کورس تھا‘ جس میں طلبہ زمین پر پہلے انسان کی پیدایش سے لے کر جدید مغربی انسان تک انسانی داعیات کا مطالعہ کرتے تھے۔ قدیم اور جدید انسانی تاریخ‘ ارتقا‘ آرٹ‘ فن تعمیر‘ فلسفہ‘ مذاہب اور دیگر سماجی علوم کو مہارت کے ساتھ اس کورس کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس کورس کو پڑھانے کے لیے یونی ورسٹی اساتذہ کے ساتھ ساتھ مہمان اسکالرز کو بھی دعوت دی جاتی تھی۔ یہ اساتذہ اسلامی فلسفے پر پہلے کورس کی وجہ سے ابہام کے شکار طلبہ کو اس یقین و اعتماد کی طرف راغب کرتے تھے کہ: مغربی جدیدیت ہی درحقیقت تہذیب انسانی کا نقطۂ عروج ہے۔ ۵۰ کے عشرے میں مغربی نوآبادیاتی نظام کے زیر اثر ممالک کی نئی نسلوں کو قائل کرنے کے لیے اتنا کچھ کافی تھا۔ ابتلا و آزمایش کے ایسے تجربات سے طلبہ کو دوچار ہونا پڑتا تھا۔
درحقیقت اس وقت اخوان کے بیش تر لٹریچر اور خطبات میں یہی اثر انگیزی اور شخصیت کا جذباتی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ غالباً اس بلند آہنگی اور جوش و جذبے کا ایک سبب عرب اور مصری قومی کردار میں جوشیلے پن‘ جذباتیت اور ردعمل کی فراوانی بھی ہے۔ ان میں ایک منطقی ذہن کے بجاے جذبے سے معمور دل کے لیے زیادہ کشش تھی۔ چنانچہ میں ’اسرہ‘]اخوان المسلمون کا ایک تنظیمی و تربیتی حلقہ[ کے پروگراموں کے دوران‘ کتابچوں اور کتابوں پر مباحث اور ]یونی ورسٹی کا[ دورہ کرنے والے ممتاز اسلامی دانش وروں‘ مثلاً ڈاکٹر سعید رمضان اور ڈاکٹر مصطفی السبّاعی کی جوشیلی تقریر سے زیادہ متاثر ہوتا تھا۔ کیمپوں اور طلبہ سے بھرے ہوئے آڈیٹوریم میں پڑھی جانے والی نظمیں بھی بہت خوش گوار اور پُرتاثیر ہوتی تھیں۔
اب یہ انتہائی جذباتی فضا تو ہمارے لیے موجود تھی‘ لیکن بہرحال اس توازن کا فقدان تھا‘ جو ایمان اور اسلام کے حقیقی معنی اور عملی اور اطلاقی لحاظ سے ہماری ذاتی زندگیوں میںاس متبرک علم کی اہمیت سمجھنے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ میں ایمان کے عملی پہلوئوں کے بارے میں الجھن کا شکارتھا‘ یا کم از کم میرا فہم ناقص تھا اور نہ اسلام کے حقیقی معنی ہی سمجھ میں آئے کہ اسلام میں اطاعتِ خداوندی سے اصل مراد کیا ہے؟ محض احساسات کی شدت اور مغربی تہذیب پر جا و بے جا تنقید کے ذریعے اس روحانی و ذہنی اور مخمصے اور خلجان سے نجات نہیں مل سکتی تھی‘ جو پڑھائی کے دوران الجھا دینے والے مضامین (courses) اور یونی ورسٹی کیمپس میں امریکی طرز زندگی نے ہم میں پیدا کر دیا تھا۔ یہی وہ شدید ضرورت تھی جسے پورا کرنے میں‘ میں اپنے آپ کو سید مودودی مرحوم و مغفور کا انتہائی احسان مند محسوس کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور ان کی روح کو ابدی سکون سے ہمکنار کرے۔ (آمین)
عصر حاضر کے اس عظیم مجدد اور محسن سے میرا پہلا تعارف ان کی یادگار کتاب دینیات [Towards Understanding Islam] کے ذریعے ہوا۔ کتاب کے مترجم‘ پروفیسر خورشید احمد نے اپنے دیباچے میں لکھا ہے: ’’یہ کتاب اسلام کا ایک ابتدائی مطالعہ ہے اور نوجوانوں کے لیے دین اسلام کی ایک سادہ اور قابل ِ فہم تشریح ہے‘‘۔ اگرچہ یہ کتاب ۱۹۴۰ء سے پہلے طبع ہوئی تھی‘ لیکن یہ ابھی تک سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اسلامی کتابوں میں سرفہرست ہے۔ اگرچہ یہ نوجوانوں کے لیے لکھی گئی تھی‘ تاہم یہ تمام عمر کے افراد کو برابر متاثر کرتی چلی آ رہی ہے۔
دینیات کے ابتدائی چند صفحات کے مطالعے سے ہی میرا فہمِ اسلام تبدیل ہونے لگا۔ خدا کے عظیم منصوبۂ کائنات میں ہر شے کی اپنی مخصوص جگہ تھی‘ جیسا کہ کتاب نے بتایا۔ سورج‘ چاند‘ ستارے‘ متعین محور پر زمین کا گھومنا‘ انسانی بدن کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے (cell) سے لے کر دل اور دماغ تک تمام اعضا‘ خدا کے مقرر کردہ قانون کے تحت ہی اپنے اپنے افعال انجام دیتے ہیں۔
کتاب میں نبوت‘ اسلامی عبادات اور قانون پر نہایت مدلل اور منطقی انداز میں بات کی گئی ہے۔ انسان کے رضاکارانہ ارادے (freewill) کے موضوع پر سید مودودیؒ نے میرے اس تمام ذہنی اور روحانی خلجان کو دُور کر دیا‘ جس کا شکار میں امریکی یونی ورسٹی کے نام نہاداسلامی فلسفے پر کورس پڑھنے کے دوران ہو چکاتھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگرچہ ہر انسان مسلمان ہی پیدا ہوتا ہے اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے تکوینی احکامات کی اطاعت کا تعلق ہے وہ مسلمان ہی رہتا ہے‘ تاہم دوسرے جان داروں کے برخلاف اسے ’ارادے‘ کی یہ آزادی بخشی گئی ہے کہ وہ اپنی زندگی گزارنے کے انداز اور اعتقادات کا انتخاب خود کرے۔ دوسرے پہلو سے سید مودودیؒ نے خوب صورتی سے یہ بتایا ہے کہ انسان:
--- اپنے ذہن سے سوچنے کی‘ منتخب یا مسترد کرنے کی اور اختیار کرنے یا چھوڑ دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ وہ اپنے لیے زندگی کا کوئی بھی راستہ منتخب کر نے میں آزاد ہے۔ وہ کوئی بھی عقیدہ رکھ سکتا ہے --- اسے آزاد ارادے سے نوازا گیا ہے اور وہ اپنے رویے اور کردار کا تعین خود کر سکتا ہے۔ (دینیات‘ ص ۴)
ممکن ہے یہ بیانات ایسی مسلّمہ صداقتوں (axioms) کی طرح نظر آئیں‘ جو جذبات سے عاری ہیں‘ لیکن یہی وہ زندہ حقیقتیں تھیں جنھوں نے میرے پورے تصور جہاں (world view) کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ مجھے اب محسوس ہوتا ہے کہ اوائل عمری میں اس کتاب کے مجھ پر اثرات حقیقتاً میرے لیے تبدیلی مذہب کے مترادف تھے۔ گذشتہ برسوں میں‘ میں نے مختلف قومیتوں کے بہت سے لوگوں کو اسی سے ملتے جلتے جذبات کا اظہار کرتے دیکھا ہے‘ جنھوں نے اس مبارک کتاب کا مطالعہ کیا۔
سید مودودیؒ کی دیگر کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس قابل ہو سکا کہ بیروت کی امریکن یونی ورسٹی میں اپنے دور طالب علمی میں اسلام کے خلاف کہی گئی ہر بات اور ہر اقدام کے خلاف‘ ایمان و اعتماد کے ساتھ کھڑا ہو سکوں۔ خدا کی غالب فطرت کا جو نیا کائناتی ادراک مجھے حاصل ہوا‘ اس نے میرے اندر ابہام کے پہاڑوں کو سنگ ریزوں میں تبدیل کر دیا۔ پاکستان میں ان کی تحریک اسلامی کے لٹریچر کے کچھ مطالعے کے بعد مجھ پر اس کم عمری میں بھی واضح ہو گیا کہ اخوان المسلمون کے نئے ارکان کی حیثیت سے ہماری تربیت اور تعلیم‘ علمی اور عملی اسلامی رویے کی تشکیل کے حوالے سے لٹریچر میں کمی تھی‘ جسے سید مودودیؒ نے بہتر انداز سے پورا کیا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ۱۹۵۶ء میںکسی وقت‘ ہمیں اخوان کے ایک رکن کے گھر میں جماعت اسلامی کے ایک پاکستانی بھائی کی گفتگو سننے کے لیے اکٹھا ہونے کو کہا گیا تھا۔ مقرر کوئی اور نہیں بلکہ جماعت اسلامی کراچی کے معروف امیر برادر استاذ چودھری غلام محمد تھے‘ جو بعد کے زمانے میں میرے بہت قریبی اور عزیز دوستوں میں شامل ہوئے۔ اللہ ان کی روح پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔ میں ان سے دوبارہ ۱۰ برس بعد ملا‘ جب انھوں نے عمان (اردن) کا دورہ کیا۔ میں اس وقت اردن کی یونی ورسٹی میں شعبہ نفسیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر تھا۔ معروف اسلامی ماہر معاشیات برادر ڈاکٹر محمد سکر (Sakr) اور میری ان سے طویل اور بڑی دل چسپ گفتگوئیں ہوئیں۔
وہ اسلامی احیا کی جدید تحریک کے مخلص اور کھلے ذہن کے مالک قائدین میں سے ایک تھے۔ ۱۹۵۶ء میں بیروت میں انھوں نے جو گفتگو کی تھی‘ وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھی۔ ہم اس وقت امریکن یونی ورسٹی میں اخوان المسلمون کے مختصر مگر پر لگن گروہ کی صورت میں متحرک تھے۔ میں ان کی تقریر سے اور اس معتدل اور متحمل انداز سے تدریجاً بہت متاثر ہوا کہ جس طرح وہ پاکستان میں اپنی جماعت کے مکمل رکن بننے کے خواہش مند افراد کے کردار کے بارے میں پہلے چھان بین کرتے تھے۔ ایسے خواہش مندوں کو پہلے یہ بتایا جاتا تھا کہ: ’’انھیں مکمل رکن بنانے سے قبل ان کے طرزِ زندگی کا تفصیلاً جائزہ لیا جائے گا۔ وہ دیکھتے تھے کہ ایسے شخص کا اپنے والدین اور اپنی بیوی کے ساتھ سلوک کیسا ہے؟ کیا وہ اپنے کام (پیشہ ورانہ ذمہ داریوں) اور مالی معاملات میں دیانت دار ہے؟ وہ اپنے بچوں کی تربیت کیسے کر رہا ہے؟ ایسے ہی دیگر معاملات جن سے بطور مخلص اور ثابت قدم مسلمان اس کی ایک درست تصویر بن سکے اور وہ ایسے بے لوث رکن کے طور پر سامنے آ سکے جو اپنی غیرذمہ داری‘ کاہلی اور غیر معقول عادتوں کی بنا پر اسلامی تحریک کو مایوس نہیں کرے گا۔ اس جانچ پڑتال میں بعض اوقات کئی سال لگ جاتے ہیں‘‘۔
دوسری طرف میں اس ابتدائی دور میں بھی اخوان کے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی بعض کرداری کمزوریوں کے باوجود محض اپنی اس خوبی کی بنا پر اخوان کے نوجوانوں کی قیادت تک میں پہنچ گئے تھے کہ وہ جذباتی اور دھواں دار تقریروں سے مجمع میں جوش و ولولہ پیدا کر سکتے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے قرضے ادا نہیں کرتے تھے‘ بعض تو نمازیں وقت پر نہیں پڑھتے تھے‘ جنھوں نے نمازِ فجر کبھی خال ہی طلوعِ آفتاب سے قبل پڑھی ہو‘ اور وہ اپنی سرکاری ملازمتوں میں لاپروا تھے‘ کہ جہاں سے وہ اپنی ماہانہ تنخواہیں وصول کرتے تھے۔ دراصل تحریک کی توجہ زیادہ تر اپنے ارکان کی شخصیتوں کے حِسی اور جذباتی رخ پر تھی‘ اور سیاسی فوائد نے ان کی کرداری کمزوریوں کو چھپا دیاتھا۔ اگرچہ نظری طور پر اخوان میں ارکان کی جانچ پڑتال کا نظام موجود تھا‘ لیکن درحقیقت نوجوان نسل نے اُسے نظرانداز کیا تھا۔ مجھے یاد ہے ۱۹۵۷ء میں‘ میں نے اخوان کے برادران میں اپنے انتہائی قریبی ساتھیوں ڈاکٹر اسحاق فرحان اور ڈاکٹر محمد قوجا سے اس مسئلے پر بڑی مفصل گفتگوئیں کی تھیں‘ جو تحریک پر اس تنقید و تجزیہ کو کھلے ذہنوں سے قبول کرتے تھے۔ میں نے ان پرزور دیا کہ: ’’وہ سید مودودی کا مطالعہ کریں اور پاکستان کی جماعت اسلامی کے لٹریچر سے واقفیت حاصل کریں‘‘۔
میں نے بیروت میں برادر چودھری غلام محمد کے ساتھ پاکستان کی جماعت اسلامی میں ارکان کی وابستگی اور تربیت کے نظام پر جو گفتگوئیں کی تھیں‘ وہ محترم ڈاکٹر ترابی کے نزدیک ارکان کی تربیت کے تصورات کی یقینا نفی کرتی تھیں۔
ہمارے نزدیک تو ایسی بات کہنا ’اخوان‘ جیسی بین الاقوامی تحریک کے پورے ڈھانچے اور تعلیمات کے خلاف بغاوت کے مترادف تھا۔ ہمارے اکثر ساتھیوں‘ بشمول ڈاکٹر جعفر ادریس‘ شہید محمد صالح عمر اور استاذ محمود برات (Burrat) نے اپنی تحریک کی اس ’آزاد روی‘ کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ خطرہ پیدا ہو گیا کہ یہ اختلاف کہیں تحریک کو دولخت کرنے کا باعث نہ بن جائے۔ چنانچہ تحریک کے ذمہ دار برادران کا ایک اجلاس اس مسئلے کے حل کے لیے دارالحکومت خرطوم میں طلب کیا گیا۔
مجھے اس اجلاس میں بھائی ڈاکٹر حسن ترابی کے الفاظ بڑی اچھی طرح یاد ہیں‘ انھوں نے کہا تھا: ’’مالک بدری اور جعفر ادریس خرطوم یونی ورسٹی میں طالبات کو اس پر قائل کرنے میں بلاوجہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں کہ انھیں اپنے مختصر لباس ترک کر کے لمبے لمبے اسلامی کرتے (جُبیّ) پہننے چاہییں۔ حالانکہ جب ہماری حکومت آئے گی تو ہمیں تمام سوڈانی خواتین کو اسلامی لباس پہنانے کے لیے صرف ایک صدارتی حکم نامے کی ضرورت ہو گی‘‘۔ جناب ترابی نے مزید کہا تھا: ’’ہمیں ایک مقبول اسلامی جماعت ہونا چاہیے‘ جسے اپنے ارکان کی ذاتی زندگیوں میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ کوئی بھی شخص جسے ہمارے مقاصد سے اتفاق ہو‘ جو ہمیں رفاہی اور اجتماعی سرگرمیوں کے لیے چندہ اور عام انتخابات میں ووٹ دیتا ہے ‘ ہمیں اس کو مکمل رکن تصور کرنا چاہیے‘‘۔ عین اسی وقت جب انھوں نے اپنا جملہ مکمل کیا باہر سے ایک انجان‘ آوارہ اور شرابی شخص اچانک اجلاس کے کمرے میں داخل ہوا اور گالیاں بکنے لگا۔ جب کچھ نوجوان اسے باہر نکالنے کی کوششیں کر رہے تھے تو میں نے جناب ترابی سے کہا: ’’آپ کے معیار کے مطابق تو یہ فرد بھی تنظیم کا مکمل رکن بن سکتا ہے‘‘۔ باقی افراد نے قہقہہ لگایا‘ مگر ترابی صاحب ذرا پریشان نہ ہوئے اور کہا: ’’جی ہاں‘ میں اسے قبول کر کے مزید خراب ہونے کے لیے چھوڑ نہیں دوںگا‘‘۔
ہماری شدید مزاحمت کے باوجود ترابی صاحب اور ان کے ہم نوا ساتھی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور انھوں نے ایک وسیع البنیاد سیاسی اسلامی گروپ تشکیل دے دیا۔ جب کہ خود اخوان سیاسی سرگرمی کے اس سمندر میں ایک چھوٹا سا ڈوبتا ہوا جزیرہ بن کر رہ گئی۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اخوان المسلمون کے وہ رکن جو اس وقت ڈاکٹر ترابی صاحب کے ساتھ کھڑے تھے اور انھوں نے ان کے تمام طور طریقے اور سیاسی جوڑ توڑ کے انداز سیکھ لیے تھے‘ اب خود انھوں نے ترابی صاحب کو جماعت کی قیادت سے الگ کر دیا ہے جس کے لیے انھوں نے سخت جدوجہد کی۔ اوریہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اب انھیں قید (جیل) میں ڈال دیا ہے۔
اخوان کا یہ گروپ رفتہ رفتہ علمی‘ ادراکی اور روحانی جہتوں سے محروم ہوتا چلا گیا‘ تاہم حِسی اور جذباتی عوامل نے طلبہ اور نوجوانوں کو قدیم مقاصد سے وابستہ رکھا۔ سوڈان میں آج تحریک کے ارکان کی اکثریت‘ دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان کے اطوار سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔
اس طرح سید مودودی ؒسے ہماری مراسلت شروع ہوئی۔ ہم نے خط و کتابت کا یہ سلسلہ چند ماہ تک جاری رکھا۔ ہم اپنے خطوط میں جو تفصیلی مسائل اٹھاتے سید مودودیؒ کمال تحمل‘ ہمدردی‘ خلوص اور دُوراندیشی کے ساتھ ان کی وضاحت کرتے۔ اپنی مصروفیت اور گرتی ہوئی صحت کے باوجود وہ ہمارے خط پہنچنے پر اسی روز ان کے جواب تحریر کرتے۔ اپنے آخری خط میں انھوں نے ہمیں‘ یعنی استاذ محمود برات اور مجھے‘ پاکستان آ کر براہ راست تحریک کا مطالعہ کرنے کی دعوت دی۔ مارچ ۱۹۶۸ء میں اسلامی یونی ورسٹی کے بانی اور وائس چانسلر‘ ام درمان (سوڈان) پروفیسر کامل الباقر نے بیروت یونی ورسٹی کا دورہ کیا اور مجھے یہاں سے مستعفی ہو کر اپنی یونی ورسٹی کے نئے قائم شدہ تعلیم اور نفسیات کے شعبوں میں کام کرنے کی دعوت دی۔ میں نے اپنے وطن سوڈان کی یونی ورسٹی میں کام کی دعوت بخوشی قبول کرلی‘ اگرچہ مجھے بیروت کی یونی ورسٹی سے ملنے والی گریجویٹی سے ہاتھ دھونا پڑ رہاتھا‘ کیونکہ میں موجودہ ملازمت چھوڑنے کے لیے معاہدہ ملازمت (کنٹریکٹ) کی شرائط کو قبل از وقت توڑ رہا تھا۔
اگست ۱۹۶۸ء میں بجاے اس کے کہ میں اپنی نئی تقرری کے لیے سوڈان تک براہ راست سفر کرتا‘ میں نے ایک کار خریدنے اور اسی پر پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ہوائی ٹکٹ بہت مہنگے تھے اور ایک چھوٹی کار پر پٹرول کا خرچ کم پڑتا تھا۔ کار بیروت سے سوڈان تک بحری جہاز پر ہی لے جائی جا سکتی تھی۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ کار خرید کر اس پر پہلے پاکستان جائوں اور پھر وہاں کراچی سے بذریعہ بحری جہاز اسے سوڈان لے جائوں۔ اس طرح ہم دونوں افراد کے ہوائی ٹکٹ کی بچت ہوتی تھی۔ چنانچہ میں نے کویت سے ایک نئی ویگن خریدی۔ محمود برات نے مشرق کی طرف اس پُرخطر سفر کے لیے مجھے بغداد میںملنا تھا۔
تہران تک یہ سفر آسان اور رواں تھا۔ لیکن وہاں سے مشہد تک یہ سفر زندگی اور موت کے درمیان آنکھ مچولی کا ایک سلسلہ ثابت ہوا۔ اس وقت تارکول کی پختہ سڑک تہران سے چند کلومیٹر دُور جا کر ختم ہوجاتی تھی۔ اس کے بعد ۸۰۰ کلومیٹر سے زیادہ مٹی اور پتھر کی کچی سڑک بنی ہوئی تھی‘ جو انتہائی گرد آلود اور دشوار گزار تھی۔ جلد ہی ہم پر واضح ہو گیا کہ اس سڑک پر ہم واحد مسافر تھے جو ایک چھوٹی کار میں سفر کر رہے تھے۔ اس دشوارراستے پر صرف بڑی بسیں اور ٹرک ہی کامیابی سے چل سکتے تھے۔ یہ بڑی بڑی گاڑیاں ہماری چھوٹی سی کار کے پیچھے اس طرح بھاگتی اور چنگھاڑتی ہوئی آتیں جیسے جنگل میں شیر خرگوش کے پیچھے دوڑتا ہے۔ گاڑیاں ہمارے قریب سے گزرتیں تو ان کے تیزی سے گھومتے پہیوں سے اچٹ کر پتھر اور بجری کے ایک دو ٹکڑے ہم پر آگرتے اور گہری گرد اور دھند کا طوفان ہمیں اندھا سا کر دیتا۔ خود ہماری اپنی کار کے پہیوں سے بھی بجری اور چھوٹے پتھر اچٹ کر کار کے نچلے حصے سے ٹکراتے اور ہماری ویگن کے انجن کی آواز اس شور میں دب کر رہ جاتی۔ ایسے لگتا تھا کہ جیسے ٹین کی چھت پر زبردست ژالہ باری ہو رہی ہو۔ چند گھنٹوں میں ہی ہماری کار کی سفید شفاف سطح ایسے ہو گئی جیسے کسی سفید فام شخص کے منہ پر چیچک کے دانے نکل آئے ہوں۔
زیادہ تر ڈرائیونگ میں کر رہا تھا اور جب بھی کوئی بڑا ٹرک تیزی سے ہمارے پاس سے گزرتا‘ اس دوران میں پوری توجہ سڑک پر اپنی سمت درست رکھنے پر لگاتا۔ یہ عمل ہماری زندگی بچا لینے میں مددگار ثابت ہوتا‘ کیونکہ اس میں سو فی صد اندازے سے کام لینا پڑتا تھا کہ جس سڑک پر ہم ہیں وہ کس طرف کو جا رہی ہے۔ بعض اوقات جب کوئی بس پہاڑی کے کسی موڑ سے اچانک سامنے آ جاتی تو ڈرائیونگ کرنا انتہائی خطرناک ہو جاتا۔ ایک رات ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہم اچانک گہرے پانی میں جا پڑے۔ یہ پانی اونچے پہاڑوں سے گر رہا تھا اور سڑک پر اس سے ایک ندی سی بن گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری ویگن مضبوط چادر کی تھی اور انجن بھی پانی سے محفوظ تھا۔ میں نے بہ مشکل گاڑی باہر نکالی اور ہم خشک سڑک پر آ گئے۔
۳۵ برس قبل افغانستان میں ڈرائیونگ کرتے وقت بہت اچھے مناظر نظر آتے تھے۔ سڑک کافی اچھی اور مناظر بھی نہایت خوب صورت تھے۔ لیکن نہ تو ہمیں ان سے کوئی دل چسپی تھی اور نہ اتنا وقت اور اطمینان حاصل تھا کہ ہم اس سفر سے لطف اندوز ہوتے۔ اگر ہم عام سیاح ہوتے تو ہم نے ایران کے مقدس شہر مشہد میں خوب صورت یادگاریں ضرور دیکھی ہوتیں۔ ہم نے مزید ایک دن امام رضا کا مقبرہ دیکھنے میں بھی صرف کیا ہوتا۔ لیکن ہم دو ایسے مریدوں کی طرح تھے جو اپنے شیخ یا گُرو سے ملنے کے لیے بے چین ہوں‘ ہمارا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح جلد از جلد شہر لاہور پہنچ جائیں‘ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے حضور! ہماری یہ جلدی اور خواہش اپنی جگہ‘ تاہم جب ہم درۂ خیبر کی سانپ کی طرح بل کھاتی سڑک سے ہوتے ہوئے پشاور کی طرف چلے تو سفر کی تمام ناخوش گواری کے باوجود ہمارا جوش و خروش پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا۔ وہ بہت صبح سویرے کا سہانا وقت تھا‘ جب ہماری تھکی ماندی کار درے کے سحر انگیز پہاڑوں کے درمیان گھومتی‘بل کھاتی سڑک پر سے گزری۔
پہلا موقع وہ تھا جب ۱۹۵۶ء میں وہ شام کے دارالحکومت دمشق میں بین الاقوامی اسلامی کانفرنس سے فلسطین کے موضوع پر خطاب کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ تب ہم نوجوان طالب علم تھے اور بیروت سے معزز مہمانوں اور مختلف اسلامی تحریکات اور تنظیموں کے قائدین کی خدمت کے لیے آئے تھے۔ اخوان نے ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایک مہمان کی خدمت اور انھیں سہولت بہم پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ ان دنوں بھی میری خواہش تھی کہ مجھے سید مودودیؒ کی خدمت کی سعادت حاصل کرنے پر مامور کیا جائے‘ لیکن مجھے ڈاکٹر محمد ناصر کی خدمت پر مامور کیا گیا تھا‘ جو انڈونیشیا کی اسلامی تحریک‘ مسجومیپارٹی کے قائد تھے۔
وجیہہ اور مطمئن‘ سید مودودیؒ نے اس عمر میں ایک پرعزم ‘ متین اور کرشماتی قائد کی حیثیت سے مجھے بہت متاثر کیا تھا۔ جب وہ وقار کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی نشست پر بیٹھے تو میں نے تحسین اور عقیدت کے ساتھ انھیں دیکھا۔ انھوں نے امیّہ مسجد میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھی کیونکہ طویل قید و بند کی صعوبت اٹھانے کے باعث وہ گھٹنوں کی تکلیف کا شکار تھے۔ انھیں اس طرح نماز پڑھتے دیکھ کر مجھے ایک طرح کی شرمساری کا احساس ہوا۔ طویل العمری اور خراب صحت کے ساتھ ۱۹۶۸ء میں جب مجھے برآمدے میں کھڑے ملے تو وہ مجھے ایک صوفی کی طرح نظر آ رہے تھے‘ جس سے روحانیت اور زہد و تقویٰ کی روشنی پھوٹتی ہوئی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔
اپنی زندگی میں‘ میں کسی ایسے اسلامی رہنما کو نہیں جانتا ہوں جس نے اس دنیا پر آخرت کو اتنی واضح ترجیح دے رکھی ہو‘ اور جس نے شعوری طور پر اﷲ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں فرائض کی بجاآوری کا اتنا خیال رکھا ہو۔ میں کسی ایسے شخص سے واقف نہیں ہوں‘ جو اپنے علم اور دعوت و تبلیغ کا صرف دوسروں ہی پر نہیں بلکہ اپنی زندگی پر بھی اطلاق اتنی احتیاط اور باریک بینی سے کرتا ہو کہ جس طرح سید مودودیؒ کرتے تھے۔
سید مودودیؒ کی اہلیہ محترمہ اور بیٹے‘ بیٹیوں کو یقینا بہت سی قربانیاں دینی پڑی ہوں گی‘ کیونکہ اس فعال جماعت کے ہیڈکوارٹر میں روزانہ سیکڑوں ارکان آتے اور جاتے رہتے تھے اور یہاں کے چھ سات کمرے‘ جن کے سامنے برآمدے تک بھی نہیں تھے‘ اکثر پاکستان بھر سے آئے ہوئے مخلص اور دین دار کارکنوں سے بھرے رہتے تھے۔ سید مودودیؒ کو ذاتی زندگی کے لیے لازماً کوئی فرصت میسر نہیں تھی‘ کیونکہ یہ فعال تحریک ہی اس بزرگ شخص کی زندگی تھی۔
بلاشبہہ سید مودودیؒ غربت کی وجہ سے ایسی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں تھے‘ بلکہ یہ ان کا زُہد اور تقویٰ تھا‘ جس کے ساتھ انھوں نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ اگر وہ چاہتے تو پاکستان کے متمول ترین علما میں شمار ہو سکتے تھے۔ مادی اعتبار سے ایک بہت اچھی زندگی گزارنے کے لیے ان کی کتابوں کی آمدنی ہی کافی تھی۔ تاہم جیسا کہ ہمیں معلوم ہوا دو چار کتابوں کو چھوڑ کر انھوں نے باقی تمام کتابوں کی آمدن جماعت اسلامی کے لیے ہدیہ کر دی تھی۔ ایک چھوٹی سی پرانی ’مورس مائنر‘ کار عمارت کے احاطے میں کھڑی تھی۔ یہ کار سید مودودیؒ کے استعمال کے لیے ہے اور اس کے علاوہ جماعت کے دیگر کم فاصلے والے کاموں کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ جب سید مودودیؒ اسے جماعت کے کام کے لیے استعمال کرتے ہیں‘ تو ان سے کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا‘ تاہم جب کبھی سیدمودودیؒ اسے ذاتی طور پر کہیں آنے جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ان سے فی میل کے حساب سے کچھ مخصوص رقم بطور معاوضہ یا کرایہ وصول کی جاتی ہے۔
دفتری اوقات میں وہ عموماً مہمانوں سے اپنی لائبریری میں ملاقات کرتے تھے۔ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو چھت تک کتابوں کی الماریوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک بڑی میز پر عربی‘ اُردو اور انگریزی کی حوالہ جاتی کتب اور ترتیب سے کاغذوں کا ڈھیر پڑا تھا۔ ۱۹۶۸ء میں ان کی صحت بہت گِر چکی تھی اور حکومت نے ایک جراحی (آپریشن) کے لیے جس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں تھا‘ انھیں لندن جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ چنانچہ اس خطرے کے پیش نظر کہ جب بیماری کے باعث ان کے لیے لکھنا ممکن نہ رہے‘ وہ اپنی یادگار تفہیم القرآناور دیگر کتابوں پر کام جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے تھے۔ وہ لوگوں سے بہت ضروری معاملات کے لیے مختصر وقت میں ملتے تھے۔ درحقیقت ان کے چہرے کے تاثرات اور ان کی میز پر نظر ڈالنے سے ہی مہمان کو اندازہ ہو جاتا تھا کہ اسے مختصر بات کرنی اور رخصت ہو جانا چاہیے۔ جب ظہر یا دیگر نمازوں کا وقت ہوتا تو جماعت کے ہیڈکوارٹر میں موجود ارکان برآمدے میں جمع ہو جاتے۔ وہ عین وقت پر اپنے کمرہ ٔ مطالعہ کا دروازہ کھولتے اور اس کے ساتھ ہی اقامت کا اعلان ہو جاتا اور آپ نماز کی امامت کرتے۔ نماز اور دُعا کے بعد آپ جلد ہی اپنی لائبریری میں واپس چلے جاتے تاکہ اپنا مشقت طلب ذہنی کام جاری رکھ سکیں۔
عصر سے مغرب تک وہ وقت ہوتا تھا جب سید مودودی ؒایک شفیق باپ کی سی مسکراہٹ سجائے فرصت کے ساتھ پرسکون حالت میں نظر آتے۔ دل چسپی‘ توجہ اور بشاشت سے دوسروں کی سنتے اور اپنے چٹکلوں اور تبصروں میں بھرپور حس مزاح کو بھی استعمال میں لاتے۔ عمارت کے باغیچے میں ہلکی کرسیاں بچھائی جاتیں‘ جہاں مہمان اورلاہور یا باہر دُور دراز سے آئے ہوئے مہمان تشریف رکھتے اور سید مودودیؒ سے اسلام کے بارے میں سوال پوچھتے‘ یا پیچیدہ مسائل پر رہنمائی طلب کرتے۔ وہ جب مسکراتے تو گھنی ڈاڑھی اور سفید ٹوپی کے ساتھ آپ کے چہرے کے گرد ایک سفید ہالہ بن جاتا جو اخلاص اور روشنی سے دمکنے لگتا۔ معمول کے مطابق چہرے پر تحمل تو رہتا ہی تھا‘ اس پر طمانیت بھری مسکراہٹ آپ کے خدوخال کو اس طرح تبدیل کر دیتی کہ آپ بجا طور پر ایک ملکوتی انسان دکھائی دیتے۔
ہم نے کئی اجلاسوں میں شرکت کی‘ عوامی خطابات سنے اور دوستانہ مجلسوں میں شریک ہوئے۔ بے شک ہم نے یہ جانا کہ اس وقت تحریک کی منظم سرگرمیاں اور زہد و تقویٰ کی حقیقت ہماری ان توقعات سے زیادہ بلند تھی‘ جو ہم نے ان کا لٹریچر پڑھ کر قائم کی تھیں۔ ارکان میں علم کی طلب اور پھر اس علم کے مطابق بغیر جذباتی ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے کی تمنا بہت نمایاں تھی۔ اس معاملے میں خود سید مودودیؒ کے اثرات اور ان کی زندہ مثال اور کردار کوتاہیوں سے مبرا تھا۔ یہ صرف اسلام کے بارے میں علم نہیں تھا کہ جس کے بارے میں ارکان بے تابی سے ایسی جستجو کرتے تھے‘ بلکہ ہر اس شے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا جو دعوت کے کام میں تحریک کے لیے مددگار ثابت ہو‘ ان کا مطمح نظر تھا۔
کوئی رکن ایک بڑے سائز کی ڈائری یا نوٹ بک اور قلم کے بغیر صبح گھر سے نہیں نکلتا تھا۔ وہ جو کچھ بھی دیکھتے یا سنتے جس کی کوئی اہمیت ہو سکتی تھی‘ فوراً اسے لکھ لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تحریک میں عربی زبان کے ماہر برادر خلیل احمد حامدی سے ان کے دفتر دارالعروبہ میں ہماری ملاقات ہوئی تو انھوں نے خود میرے بارے میں اپنی تفصیلی معلومات کا اظہار کر کے مجھے حیران کر دیا۔ میں نے بڑی حیرانی سے پوچھا کہ ان معلومات کا ماخذ کیا ہے؟ تو انھوں نے بتایا: ’’چودھری غلام محمد‘ جنھوں نے بیروت‘ اردن اور سوڈان میں آپ سے ملاقاتوں کے بعد تفصیلی رپورٹ تحریر کی تھی‘‘۔
جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ دعوت کا وہ ٹھنڈا‘ عقلی‘ گہرا اور غیر جذباتی انداز تھا‘ جسے جماعت ِاسلامی پاکستان اور اخوان المسلمون اور دیگر عرب تحریکوں میں بنیادی فرق کہا جا سکتا ہے۔ مجھ پر یہ فرق میرے دورۂ لاہور کے درمیان واضح ہوا۔ ہمارے کچھ پاکستانی دوست‘ بشمول ا ستاذ خلیل احمد حامدی چاہتے تھے کہ ہمارے اس دورے سے استفادہ کرتے ہوئے تحریک سے منحرف ایک سرکردہ شخص کو دوبارہ جماعت میں شمولیت کے لیے قائل کیا جائے‘ جو اشتراکی گروپ میں چلا گیا تھا۔ انھوں نے ہمیں صرف اتنا بتایا کہ یہ برادر کبھی ہمارے حمایتی ہوتے تھے‘ مگر اب نہیں ہیں اور ممکن ہے ہمارا ان کے گھر جانا ان کی تحریک میں واپسی کا سبب بن جائے۔ ہم بغیر اطلاع دیے ان کے گھر گئے تو انھیں اپنے نئے کامریڈوں (یعنی کمیونسٹ دوستوں) اور دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے پایا۔ لیکن جماعت کے ساتھی اس محفل کے ان شرکا کو دیکھ کر بالکل پریشان نہ ہوئے۔ علیک سلیک کے بعد انھوں نے ہمیں متعارف کرایا اور بڑی خوبی سے اسلام میں استقامت اور احیاے اسلام کی جدوجہد میں سیدمودودیؒ کے اہم کردار کی بات چھیڑ دی۔
ہمارے نئے میزبان نے جو اپنے نئے اشتراکی کامریڈوں کی موجودگی سے متاثر تھے‘ انھوں نے بے ساختہ سید مودودیؒ پر تنقید کرتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ اسلامی تحریک کا طریق کار سست اور غیر انقلابی ہے۔ دوسری طرف انھوں نے مارکسسٹوں کے انقلابی اور اعلیٰ طریق کار کی مدح سرائی کی۔ بہرحال عین اسی وقت میرے علاوہ سب لوگ حیران رہ گئے‘ جب میرے رفیق محمود برات نے میز پر مُکّہ مار کر بلند آواز میں ان کی مخالفت کی‘ اور انھیں مرتد اور غدار قرار دے دیا۔ اس پر ہماری ملاقات فوراً ہی ختم ہو گئی۔ اپنے ہوٹل واپس جاتے ہوئے ہم نے پاکستانی اپنے دوستوں کو موردِ الزام ٹھیرایا کہ وہ ہمیں ایسے شخص کے پاس کیوں لے گئے تھے جس نے مارکس ازم کو قبول کر لیا تھا۔تاہم‘ جماعت اسلامی کے ساتھیوں کا ردِعمل مقابلتاً بہت پرسکون اور متین تھا۔
میرے لیے ان کا یہ رویہ اپنی خداشناسی کے اعتبار سے متاثر کن اور خوب صورت تھا۔ میں اس وقت اپنے آپ سے شرمندہ ہوا جب میں نے ان میں سے ایک کو یہ کہتے سنا: ’’ ابلیس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اولادِ آدم کو کفر کی طرف لے جائے گا۔ دعوت کے کام میں ہمارا بڑا مقصد یہی ہے‘ اگر ہم واقعی اپنے اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اسے خوش کرنا چاہتے ہیں تو پھر ابلیس سے لڑائی کریں اور اس کے شیطانی طریق کار کو سب کے سامنے واضح کر دیں۔ ہم آپ کو اس لیے اپنے ساتھ لے گئے تھے کہ اپنے اس بھائی کو شایستگی کے ساتھ اس کے نظریاتی مخمصے سے بچا سکیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کے اندر بہت سی خوبیاں بھی ہیں‘ لیکن ہمیں یہ بھی اندازہ ہے کہ ہمارا جارحانہ ردِعمل اسے سیدھے راستے سے مزید دُور لے جائے گا۔ اگر وہ لوگ جو ہمیں چھوڑ کر کسی دوسری اسلامی تنظیم یا کسی گروہ میں شامل ہوجائیں یا اپنی جگہ اچھے مسلمانوں کی طرح رہیں تو ہمیں ان سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اس طرح بھی ہمارے بھائی ہی رہتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ افسوس ہوتا ہے کہ ہم ان کی سرگرم حمایت سے محروم ہوگئے ہیں یا وہ اسلامی طور پر کسی کمزور گروپ میں شامل ہو گئے ہیں‘‘۔
جماعت اسلامی کے اس رفیق نے جو کچھ کہا‘ جب اس کا موازنہ میں نے اس سے کیا جو ہم سوڈان میں کرتے رہے ہیں‘ تو واقعہ یہ ہے کہ میں تو شرمندہ ہو گیا۔ جو لوگ ہم سے علیحدہ ہو جاتے ہیں ہم عموماً انھیں بدنام کرتے ہیں‘ بڑے سخت لفظوں سے انھیں یاد کرتے ہیں اور ان سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔ ہماری تحریک کے ارکان ہمیشہ اسی طرح محسوس کرتے اور کہتے ہیں: ’’تنظیم ہمیشہ درست ہوتی ہے اور ہمیشہ وہی غلطی پر ہوتے ہیں جو ہمیں چھوڑ جاتے ہیں‘‘۔ کئی مثالیں ہیں جب ۶۰کے عشرے کے اواخر میں اخوان کی نئی سیاسی تحریک ’’اسلامی میثاق محاذ‘‘ کے اعلیٰ ترین انتظامی دفتر نے حکم جاری کیا تھا کہ تحریک کا کوئی رکن مستعفی ہونے والوں سے بات تک نہیں کرے گا۔
مجھے یاد ہے کہ جب ایک بار ایک اعلیٰ تنظیمی عہدے دار ہمارے گھر آیا تو وہاں ایک ایسا شخص بھی بطور مہمان موجود تھا جو تحریک سے اختلاف کرنے والوں میں شامل تھا۔ اس عہدے دار نے مجھ سے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا‘ لیکن میرے اس مہمان سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا کہ جس نے سلام کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ہوا تھا‘ بلکہ منہ سے اس کے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ اس غیر اسلامی رویے کو تنظیم کے دیگر ارکان کی طرف سے بے حد سراہا گیا‘ کیونکہ ان کے یقین کے مطابق: ’’یہ برتائو تنظیم کے فیصلوں پر عمل درآمد اور اس سے پختہ وابستگی کا ایک عملی اظہار تھا‘‘۔
یہاں پر یہ ذکر دل چسپی سے خالی نہ ہو گا کہ ہمارے دورۂ پاکستان کے ایک برس بعد جب ہمیں یقین ہو گیا کہ اسلامی نام کے ساتھ یہاں سوڈان میں ہماری تحریک محض ایک سیاسی جماعت بنتی جا رہی ہے‘ تو ہمارا گروپ سوڈانی ’اسلامی میثاق محاذ‘ سے الگ ہو گیا تھا۔ ہم دیکھ رہے تھے کہ ڈاکٹر ترابی نے ۶۰کے عشرے کے اوائل میں جو منصوبہ بندی کی تھی‘ وہ رفتہ رفتہ تکمیل پذیر ہو رہی ہے اور اخوان کی اسلامی بنیاد رفتہ رفتہ تحلیل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہمارے ان خدشات نے فی الاصل ۹۰ کے عشرے میں حقیقت کا روپ دھارا۔ ہمارے استعفوں پر شدید ردِعمل ظاہر کیا گیا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں کو غدار اور منحرف قرار دے دیا گیا۔ جماعت سے نکلنے پر قرآنی آیات اور احادیث کے حوالوں کو کم علم ارکان کو ہمارے خلاف بھڑکانے کے لیے بڑی مہارت سے استعمال کیا گیا۔
اپنی ایک مشہور جذباتی تقریر میں ’اسلامی میثاق محاذ‘ کے مرکزی قائد نے مسلم کی اس مستند حدیث کا حوالہ دیا‘ جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :کہ جو شخص ’الجماعتہ‘ کے فیصلوں اور احکام کی خلاف ورزی اور حکم عدولی کرے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا‘ اور پھر یہ بھی کہ جو ’الجماعتہ‘میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرے اس کا سرقلم کر دینا چاہیے۔ انھوں نے جوش خطابت میں فرمایا ’’اگرچہ ہم یہ کہنا نہیں چاہتے کہ جو لوگ ہمیں چھوڑ گئے ہیں وہ مسلمان نہیں رہے‘ لیکن وہ منافقین کی طرح اسلام کے بجاے کفر کے زیادہ نزدیک ہیں‘‘‘ اور پھر انھوں نے سورۂ آل عمران کی آیت ۱۶۷ کا ایک حصہ تلاوت کیا کہ ’’تب وہ ایمان سے زیادہ کفر کے نزدیک ہو گئے‘‘۔
یہ واضح تھا کہ عربی لفظ الجماعۃ کو‘ جو مسلم امّہ کی طرف اشارہ کرتا ہے‘ جدید اسلامی تحریک کے لیے استعمال ہونے والے اسی لفظ کے ساتھ جان بوجھ کر یا بے سوچے سمجھے گڈ مڈ کر دیا گیا۔ جن لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم اورآپؐ کے صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں انھیں چھوڑا تھا انھوں نے حقیقتاً اسلام کو ترک کیا تھا۔ لیکن وہ افراد جو جدید اسلامی تحریک سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں بہرحال وہ اسلامی امت سے خارج نہیں ہوتے‘ بلکہ اسی کا حصہ رہتے ہیں۔ اس ابہام کے سبب جسے گمراہ کن جذبات سے مزید ہوا دی جاتی ہے‘ کئی جدید اسلامی تحریکوں نے یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ جیسے ان کی جماعت ہی خود اصل اسلام ہے۔
کوئی بھی منظم جماعت یا گروہ‘ جس کے ارکان میں گہری ہم آہنگی اور یک جہتی موجود ہو‘ اس کے ارکان میں اپنے لیے احساس برتری اور فخر‘جب کہ دوسروں کے لیے نفرت اور تحقیر کے جذبات پیدا ہوہی جاتے ہیں۔ جدید سماجی نفسیات میں اس کا مطالعہ ’گروہ کے اندر‘ اور ’گروہ سے باہر‘ کے رویوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ چھوٹے گروہو ں میں بھی کیا جا سکتا ہے اور پوری قوموں اور ثقافتوں میں بھی۔ یہی وہ مظہر ہے جسے قبائل پرستی‘ نسل پرستی‘ قوم پرستی‘ فسطائیت یا نسلی تفاخر اور اگر دیکھا جائے تو بڑی آسانی سے ’’جماعت پرستی‘‘ کے پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ہر مثال میں‘ کسی مخصوص گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے عقائد اور ثقافت کو تفاخر کے ساتھ دیکھتے ہیں‘ جب کہ دوسروں کو دیکھنے کے لیے ان کا زاویۂ نظر کافی مختلف ہوتا ہے۔ وہ اپنے گروہ سے باہر کے افراد کو ایک ایسے اجتماع کے طور پر بھی دیکھتے ہیں‘ جس کے ارکان میں آپس میں کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے۔ ان کے نزدیک وہ سب کے سب بلا امتیاز کافر ‘منافق یا دشمنِ دین ہیں۔ حیاتیاتی اعتبار سے کم تر ہیں یا ان میں ایسی کوئی قابل نفرت خاصیت ہے۔ جیساکہ معلوم ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم نے ان گروہی جذبات و نفسیات کا سختی سے مقابلہ کیا تھا‘ جس کا مظاہرہ عرب قبائل پرستی کے بدنما چہرے سے ہوتا تھا‘ اور جب بھی روحِ اسلام کمزور پڑتی تھی یہ قبائل پرستی اپنی پوری تنگ نظری کے ساتھ ابھر آتی تھی۔
میرے تجزیے کے مطابق‘ جدید اسلامی بیداری کے لیے سید مودودی ؒکے اہم ترین کارناموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انھوں نے اس ابہام کو ختم کرنے کے لیے ان تھک کوشش کی۔ جماعت اسلامی کی ابتدائی کتب کے پس ورق پر تحریک کی نوعیت کے بارے میں ایک مختصر بیان جلی حروف میں تحریر ہوتا تھا کہ جماعت اسلامی ‘ الجماعۃ نہیں ہے‘ بلکہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہے‘ جس میں شامل ہونے والے مسلمان بیان کردہ مقاصد کے حصول کے لیے جمع ہوئے ہیں -- نئے ارکان کی تربیت میں ان ہدایات کو لازماً ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تھا اور ارکان کو محض جذباتی نعروں‘ دعووں اور افعال سے بچایا جاتا تھا۔ جماعت سے نکل جانے والوں کے بارے میں سید مودودیؒ کی جماعت کے ارکان کے تحمل سے پُر رویے کے پس پشت یہی تربیت کارفرما ہے۔ اسی تربیت نے ارکان کو اس امر سے بھی بچایاکہ کہیں وہ تحریک کو ہی دین اسلام نہ تصور کر یں اور ایک دیوتا سمجھ کر اس کی پرستش نہ کرنے لگیں۔
چنانچہ دو چیزیں جو مسلم اور کافر کے درمیان امتیاز کرتی ہیں‘ وہ علم اور اعمال ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پہلے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کا مالک کون ہے‘ اس کے احکام کیا ہیں‘ اس کی پیروی کا طریقہ کیا ہے‘ کون سے اعمال اسے پسند ہیں اور کون سے نا پسند؟ جب یہ معلومات حاصل ہو جائیں تو پھر دوسرا قدم یہ ہے کہ آپ اپنی وہ خواہشات ترک کر کے جو آپ کے مالک کی مرضی کے خلاف ہیں‘ اپنے آپ کو اس کا سچا خادم (غلام) بنائیں۔ (خطبات‘ ص ۵۴)
زندگی بہت سادہ اور آسانی سے گزرتی اگر انسان وہی کچھ کرتے جو وہ جانتے ہیں۔ صحت مند زندگی گزارنا انسان کو بہت عزیز ہے اور اس کی اہمیت اس پر عیاں بھی ہے‘ مگر اس کے باوجود لوگ بلکہ مسلمان ڈاکٹر بھی یہ بہت اچھی طرح جانتے ہوئے کہ سگریٹ نوشی اور پھیپھڑوں کے کینسر کے درمیان کتنا تعلق ہے‘ تمباکو نوشی جاری رکھتے ہیں۔ انسانی صحت کے لیے شراب کے نقصانات سے وہ واقف ہیں‘ مگر پھر بھی پیتے ہیں۔ وہ ایڈز کے خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں مگر غیرازدواجی تعلقات سے باز نہیں آتے۔
میں یہ کہنے کی جرأت کروں گا کہ ذاتی طور پر سید مودودیؒ کا غیر معمولی زُہد و تقویٰ اور اپنی روزمرہ زندگی میں واضح طور پر غیرجذباتی رویہ ان کی تحریک کی صورت گری میں کارفرما رہا ہے۔ میں یہ کہنے کی جسارت بھی کروں گا کہ اپنی اوائل عمری میں ایک معزز سید گھرانے سے تعلق کی بناپر سیدمودودیؒ کو اپنے جذبات کا اظہار نہ کرنے یا انھیں اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دینے کی تربیت ملی تھی۔ ان کی نفسیات میں یقینا یہ بات پختہ ہو چکی ہو گی‘ کہ ایسا جذباتی رویہ کمزوری اور خوف کی بنا پر ہوتا ہے‘ جس کی توقع صرف خواتین اور چھوٹے بچوں سے ہی کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں ان کی ابتدائی سخت تعلیم کی طرف بھی اشارہ کیا جا سکتا ہے‘ جو بمشکل تین سال کی عمر میں ان کے والد صاحب کے ہاتھوں شروع ہوئی۔ انھوں نے محض چار سال کی عمر میں نماز کی ادایگی اور چھ سال کی عمر سے روزے کا اہتمام شروع کر دیا تھا۔ وہ صرف ۱۴ برس کی عمر ]۱۹۱۷ئ[ میں ]قاسم امین کی[ ایک عربی کتاب ] المِرَۃ الجَدِیدَہ - جدید خاتون[ کا اُردو میں ترجمہ کرکے مصنف بھی بن چکے تھے۔
سید مودودیؒ کی تقریباً تمام سرگرمیوں میں‘ جذبات پر قابو کا آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مثال ان کے اس جرأت مندانہ اور بے خوف ردِعمل کی بھی دی جا سکتی ہے کہ جب مشہور کتاب قادیانی مسئلہ تحریر کرنے پر عدالت میں انھیں سزاے موت کا حکم سنایا گیا تھا۔ پروفیسر عبدالرحمن عبد اپنی کتاب میں رقم طراز ہیں:
آہنی اعصاب کے مالک سید مودودی ؒپر سزاے موت سنائے جانے کا شمہ بھر اثر نہ ہو ا۔ تحمل کے اس پیکر نے اپنی ناکردہ گناہی کی سزا ]یعنی سزاے موت[ سن کر پورے اطمینان کے ساتھ صرف اتنا کہا ’’بہت اچھا‘‘۔
برادران: میاں طفیل محمد‘ سید نقی علی‘ محمد اکبر اور نصراللہ خان عزیز جن کے دل‘ غم اور حوصلے سے معمور تھے۔ قیدخانے میں سید مودودیؒ کو پھانسی کی کوٹھڑی میں لے جایا جا رہا تھا‘ اور جب ان سب نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ آپ سے الوداعی مصافحہ و معانقہ کیا تو سب کا دل بھر آیا ۔عبد نے اپنی مذکورہ بالا کتاب میں لکھا ہے کہ صرف سید مودودیؒ کی آنکھیں تھیں جن میں خوف کی پرچھائیں تک نہیں تھی۔ ایک شہید کے طور پر موت کا سامنا کرنے کے لیے ان کا تحمل اور حوصلہ مندی قابلِ فہم ہے‘ لیکن اپنے قریبی ساتھیوں کو جو ان سے زندگی میں آخری بار مل رہے تھے‘ جذبات کی عدم موجودگی کی وضاحت کرنا ایک ماہر نفسیات کے لیے بھی بڑا مشکل کام ہے۔ میرے خیال کے مطابق اپنے جذبات کو دبانا اور مارنا ان کی شخصیت کا ایک لازمی حصہ بن چکا تھا۔ان کی برپا کردہ تحریک پر بھی اس ضبطِ نفس کے اثرات موجود تھے۔
دوسری مثال وہ ہے جب وہ عوامی جلسوں سے خطاب کرتے تھے۔ ۵۰ کے عشرے میں دمشق میں منعقدہ کانفرنس میں‘ جس کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں‘ بیش تر مقررین نے جذباتی انداز میں تقریریں کی تھیں‘ مثلاً ڈاکٹر سعید رمضانؒ، ابوالحسن علی ندویؒ، سوڈان کے شیخ البیلی اور عراق کے شیخ محمد محمود صوافؒ۔ ان میں سے کچھ نے نہایت جوشیلے اور بلند آہنگ خطاب کیے۔ شیخ محمود صواف تو فلسطینی بچوں کی کس مپرسی اور بے چارگی پر بات کرتے ہوئے خود بھی روپڑے اور اپنے ساتھ اور بہت سے لوگوں کو رُلا دیا۔ پورا ایوان اللّٰہ اکبر وللّٰہِ الحمد اور اخوان کے دیگر اسلامی نعروں سے گونج اٹھا۔
لیکن جب سید مودودی نے خطاب شروع کیا تو ماحول بالکل تبدیل ہو گیا‘ اور اس میں متانت اور خردمندی آگئی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں فلسطین کے حالات کی ذمہ داری پوری کی پوری یہودیوں اور مغرب پر نہیں ڈال دی تھی۔ انھوں نے کہا: ’’اپنے بھائیوں اور بہنوں کے اس بحران کے ذمہ دار مسلمان بھی ہیں‘‘۔ دیگر تمام مقررین کے برعکس انھوں نے مسئلے کے حل کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کیں۔ انھوں نے اپنی اس پختہ رائے پر زور دیا:’’مغربی نظریات کے اثرات کو صرف ا ور صرف علم‘دانش اور دلیل کی سطح پر ہی زائل کیا جا سکتا ہے‘‘۔ دراصل یہی وہ عزم تھا جس سے انھیں اپنی تحریک کے لیے اور مسلم امہ کے لیے عظیم کتب تحریر کرنے کی تحریک ملی اور انھی سے وہ عصر حاضر میں عالمی اسلامی احیا کے پس پشت ایک مرکزی شخصیت کے طور پر ممتاز ہوئے۔
گو اس وقت ان کی تلخ مگر سچی باتیں بہت سے نوجوان عرب بھائیوں کو متاثر نہ کر سکیں‘ لیکن ہم میں سے کچھ افراد پر ان کے ٹھنڈے خردمندانہ انداز اور اﷲ تعالیٰ کی پرخلوص بندگی کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اسی سبب فن خطابت کے استاد ڈاکٹر سعید رمضانؒ نے برعظیم پاک و ہند کے دوعظیم اسلامی مفکرین‘ یعنی سید مودودی اور سید ابوالحسن علی ندویؒ کا ان الفاظ میں موازنہ کیا: ’’اگر سیدمودودی ؒکے سامنے کوئی نیا مسئلہ آئے تو ان کا فوری ردِعمل ذہن سے آئے گا‘ اگرچہ ان کا دل بھی اس سے غیر متعلق نہیں ہو گا‘ جب کہ سید ابوالحسن علی ندویؒ کا فوری ردِعمل دل سے آئے گا جس سے ان کا ذہن غیر متعلق نہیں ہو گا‘‘۔
تاہم‘ جب وہ اپنے ملک پاکستان میں اردو زبان میں خطاب کرتے تھے‘ تو ان کے ٹھنڈے اور عقلی انداز کے باوجود حاضرین پر ان کے خیالات اور منطقی زبان کا اثر جادو کی طرح ہوتا تھا۔ میں نے لاہور کی ایک مسجد میں انھیں ایک بڑے مجمع کو خطبۂ جمعہ دیتے دیکھا ہے۔ چونکہ میں اُردو نہیں سمجھتا تھا اس لیے میں نے اپنی پوری توجہ سید مودودی پر اور حاضرین پر مرکوز رکھی۔ میرے سامنے ایک عجیب منظر تھا۔ وہ ایسے بولتے تھے جیسے انھیں سامعین کی داد اور ذوق سے کوئی دل چسپی نہ ہو۔ لیکن عجب بات ہے کہ مجمعے کی محویت کا عالم یہ تھا کہ محاورے کی زبان میں کہوں:’’ اگر سوئی گر جائے تو اس کی آواز سنائی دے‘‘۔ ان کے ڈیڑھ گھنٹے پر مبنی اس خطاب کو سننے میں لوگ اس طرح جذب ہوچکے تھے جیسے وہ بچے ہوں اور حیرت انگیز واقعات پر مبنی تجسس سے پُر کوئی ٹیلی ویژن ڈراما دیکھ رہے ہوں۔
m سید مودودی کی خطابت‘ ایک موازنہ:جماعت میں جذباتی عنصر کو حداعتدال میں رکھ کر‘ سید مودودیؒ درحقیقت اپنی ہی قوم میں قدیم ثقافتی رو کے خلاف چل رہے تھے۔ آیا ان کی یہ کوشش سوچی سمجھی تھی یا یہ ان کی بلند و بالا شخصیت کے اثرات تھے۔ بہرحال ان کی اس حکمت عملی سے ۶۰ کے عشرے میں تحریک اسلامی کو بہت فوائد پہنچے۔ عربوں کی طرح پاکستانیوں کے جذبات کو آسانی سے انگیخت کیا جا سکتا ہے۔ جس سے تحریک کے نوجوان ارکان میں بے قابو اور جارحانہ رویے کو تحریک مل سکتی ہے اور کم سواد لوگ واہ‘ واہ بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم‘ اس رجحان کو قابو میں رکھنے کے لیے سید مودودیؒ نے سب پر واضح کر دیا تھا‘ کہ:’’اپنے انقلابی مقاصد کے حصول کے لیے تحریک اسلامی سختی سے پرامن ذرائع پر اکتفا کرے گی‘‘۔ یہ دانش اور دور اندیشی سے پُر فیصلے تھے‘ جنھوں نے تحریک کو تشدد اور قتل و غارت گری سے بچائے رکھا‘ افسوس کہ جن سے دیگر اسلامی تحریکیں محفوظ نہ رہ سکی تھیں۔ اگر انھیں محض ایک کتاب لکھنے پر سزاے موت سنائی جاسکتی تھی‘ تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ اگر تحریک کے کوئی ارکان کسی حکومتی وزیر وغیرہ کو قتل کرنے کی کوشش کرتے تو کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا؟
جب میں کسی پورے کلچر کا موازنہ اس کی ہیجان خیزی کے حوالے سے کسی دوسرے نسبتاً معتدل (cool) کلچر سے کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کسی بے خبری کا مظاہرہ کر رہا ہوں۔ میرا احساس یہ ہے کہ کچھ ثقافتوں میں اسلامی تحریکوں کو اپنے ارکان میں جذباتی پہلوئوں کو ایک حد تک رکھنے کی ہی ضرورت ہوتی ہے ‘ جب کہ کچھ ثقافتوں میں جہاں بچوں کو سنجیدگی‘ ضبط اور غیر جذباتی ماحول میں پروان چڑھایا جاتا ہے‘ تحریک کے کارکنوں میں جذباتی عامل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال پاکستانیوں اور ملائیشیا کے مالے مسلمانوں کے موازنے کے دوران میرے تجربے میں آئی ہے۔ چند برس قبل مجھے اپنے انسٹی ٹیوٹ کی مسجد میں خطبۂ جمعہ دینے کے لیے کہا گیا۔ اس کے ایک ہفتے بعد ہجرت نبویؐ کا مقدس دن آتا تھا‘ چنانچہ میں نے اس دن کی مناسبت سے اپنا خطبہ تیار کیا۔
اگرچہ خیال یہ تھا کہ یہ موضوع جذبات کو متحرک کرنے والا ہے‘ لیکن انسٹی ٹیوٹ اور دیگر جگہوں پر میرے ملائیشین سامعین نے یہ خطبہ اس طرح سنا جیسے وہ اکائونٹنگ پر کوئی لیکچر سن رہے ہوں۔ اسی ہفتے میں ’پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (PIMA) کے سالانہ اجلاس میں کلیدی خطبہ دینے کے لیے جمعرات کو کوئٹہ پہنچا۔ اگلی صبح تمام شرکا ایک مقامی مسجد میں نماز جمعہ کے لیے گئے۔ نماز کے بعد اچانک مجھے خطاب کرنے کے لیے کہہ دیا گیا۔ چونکہ میں اس کے لیے تیار نہیں تھا‘ چنانچہ میں نے کوالالمپور میں ہی کی گئی اپنی تقریر یہاں دہرانے کا فیصلہ کیا۔ سامعین کا ردعمل بہت حیرت انگیز تھا۔ اللہ اکبر کے جوشیلے نعروں یا حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم پر درود و سلام کے ساتھ لوگوں کے سر دائیں سے بائیں والہانہ انداز میں جھوم رہے تھے‘ حتیٰ کہ کچھ کی آنکھیں بھی بھر آئی تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر سید مودودی اپنی بے مثال کرشمہ گر اور متاثرکن شخصیت کے ساتھ لوگوں میں جذباتی عنصر کو ابھارتے تو ممکن ہے پوری تحریک کب کی ایک تباہ کن صورت حال سے دوچار ہو چکی ہوتی۔
میں یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ جیسے میں کسی مناسب گروپ میں موزوں وقت پر اخلاص پر مبنی جذبات اور حقیقی احساسات کو ابھارنے کے خلاف ہوں۔ بعض اوقات جذبات کو تحریک دینا یا انھیں اچانک انگیخت کرنا ضروری بھی ہوتا ہے‘ تاکہ کسی انسان کے دل و دماغ کے سرد خانوں میں دینی علم‘ حمیت اور جذبات کو حرارت کا لباس پہنا کر سامنے لایا جاسکے۔ اس طرح کی مثالوں میں یہ انداز انسانوں کو اپنی زندگیاں تبدیل کر لینے یا اسلام کی خاطر بہادری سے لڑنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ تاہم جذبات کو ایک حد کے اندر ہی رکھنا چاہیے۔ علم میں اضافہ اور عمل میں بہتری اس کے ساتھ ساتھ ہونی چاہیے۔ بصورت دیگر اس کے اثرات جلد ہی زائل ہو جائیں گے‘ اور لوگ اسی طریق پر زندگی گزارنا شروع کر دیں گے جس طرح وہ پہلے گزارتے رہے ہیں۔
میں نے ان لوگوں کو سنا ہے جو میرے خیال کے مطابق اپنی گفتگو اور خطاب سے سامعین کے جذبات ابھارنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ عربی اور انگریزی میں بالترتیب ڈاکٹر سعید رمضان اور میلکم ایکس کا شمار ایسے ہی خطیبوں میں ہوتا ہے۔
برادر سعید رمضان‘ اللہ ان کی روح پر رحمتیں نازل کرے‘ عربی زبان کی تحریر و تقریر میں بے مثال صلاحیت کے حامل تھے۔ وہ ایک وجیہ اور کرشماتی شخصیت کے مالک تھے۔ اپنے الفاظ کے چنائو اور لہجے کے اتار چڑھائو کے ذریعے سامعین کو آبدیدہ یا جوش اور مسرت سے بے قابو کر دینے پر قادر تھے۔ ان کی عادت تھی کہ وہ تدریجاً سامعین کے جذبات کو تحریک دیتے اور رفتہ رفتہ اپنی تقریر کے اختتام تک انھیں نقطۂ عروج پر پہنچا دیتے۔ ایک بار سوڈان کے ایک شہر عطبرہ (Atbara) میں کارکنوں کے ایک جلسے میں انھوں نے ایسی ہی ایک جذباتی تقریر کی تھی۔ اس تقریر کو سننے کے لیے اتنے لوگ جمع ہو گئے تھے کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور کچھ لوگ عمارت کی اونچی دیواروں پر بھی چڑھے بیٹھے خطاب سن رہے تھے۔ تقریر کے اختتام پر سامعین اتنے جذباتی ہو گئے کہ یہ بھی بھول گئے کہ کہاں بیٹھے ہیں‘ نعرے لگانے کے جوش میں اکثر دیواروں سے گر کو خود کوزخمی کر بیٹھے۔
میلکم ایکس سے میری ملاقات ۵۰ کی دہائی کے اواخر میں ہوئی‘ جب انھوں نے سوڈان کا دورہ کیا۔ اس وقت وہ علی جاہ محمد کے بے لوث پیروکار تھے اور انھیں انتہائی قابلِ عزت و احترام گردانتے تھے۔ امریکہ میں اپنی سیاہ فام قوم پر یہ ثابت کرنے کے لیے بے چین تھے کہ وہ کوئی قدیم بے تہذیب نسل نہیں ہیں‘ جیسا کہ اس وقت گورے امریکی‘ سیاہ فاموں کو یقین دلانا چاہتے تھے۔ وہ سوڈانیوں کے گرم جوش‘ مہذبانہ رویے اور مضبوط سوڈانی کلچر سے خاصے متاثر تھے۔ میں انھیں ام درمان اور خرطوم جیسے شہروں میں لے گیا‘ جہاں انھوںنے اپنی فلم کی اچھی خاصی عکس بندی کی۔ میں نے ان کے گمراہ عقائد کو چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا بلکہ اسلام کے بارے میں اس کی خالص توحیدی فطرت کے حوالے سے سادہ سی گفتگو کی۔
مناسب ہو گا اگر میں ان کے ساتھ اپنے چند تجربات اس نقطۂ نظر سے قارئین کے سامنے رکھوں‘ تاکہ ان کا موازنہ سید مودودیؒ اور چند دیگرایسے مسلم قائدین کے ساتھ کیا جا سکے‘ جنھوں نے اپنی دعوت میں جذباتی عنصر کو استعمال کرنے سے گریز کی راہ اپنائی ہے۔
جب میلکم ایکس نے سچا اسلام قبول کیا اور اپنا مشہور حج کیا تو مکہ میں انھیں چند سوڈانیوں نے میرے بارے میں بتایا کہ میں بیروت کی امریکن یونی ورسٹی میں پڑھا رہا ہوں۔ انھوں نے نیویارک کے لیے ہوائی سفر کا اپنا روٹ تبدیل کرتے ہوئے کاسابلانکا کے بجاے بیروت میں ٹھیرنے کا فیصلہ کیا‘ تاکہ ہماری ملاقات ہو سکے۔ ۱۹۶۵ء کی ایک سہ پہر فلیٹ پر میرے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اور ایک خوب صورت گہری آواز نے امریکی لہجے میں کہا: ’’میں ملک الشہباز بول رہا ہوں‘‘۔ میں نے اشتیاق آمیز آواز میں دریافت کیا: ’’کیا آپ کا مطلب ہے کہ برادر میلکم ایکس‘‘؟ -- ’’جی ہاں‘‘۔ انھوں نے اپنی آمد پر مجھے بتایا کہ: ’’بیروت مجھ کو پسند نہیں ہے لیکن صرف آپ سے ملاقات کے لیے یہاں آیا ہوں‘‘۔ کھانے اور گھر میں کچھ آرام کے بعد میں نے امریکن یونی ورسٹی میں خطاب کے لیے ان سے اصرار کیا۔ انھوں نے ہچکچاتے ہوئے ہامی بھرلی۔
ان کے خطاب کے لیے اجازت کی غرض سے میں نے سب سے پہلے اپنے شعبے کے سربراہ پروفیسر حبیب کُرانی سے بات کی جو ایک لبنانی عیسائی تھے۔ انھوں نے مجھے آرٹس اور سائنس کی فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ہناییان سے ملنے کی نصیحت کی‘ جو ایک اور عیسائی عرب ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’صاف بات ہے کہ‘میلکم ایکس ایک متنازع شخصیت ہیں‘ اس لیے مجھے یونی ورسٹی کے نائب صدر پروفیسر فواد سروف سے اجازت لینا چاہیے‘‘۔ وہ بھی ایک لبنانی عیسائی تھے۔ پھر نائب صدر نے فرمایا: ’’اس سلسلے میں بیروت یونی ورسٹی کے امریکی ]نژاد[ صدر سے بات کر کے بتاؤں گا‘‘۔ یونی ورسٹی صدر سے جلد ہی جواب موصول ہو گیا ‘جس میں مجھے بتایا گیا: ’’چونکہ یونی ورسٹی کیمپس کی زمین امریکہ کی ملکیت ہے اور میلکم ایکس امریکہ کے دشمن ہیں‘ اس لیے وہ کیمپس میںخطاب نہیں کر سکتے‘‘۔
میں نے اپنے مسلمان دوستوں اور ساتھی پروفیسروں کو اس بات سے آگاہ کیا اور ہم نے یونی ورسٹی سے چند بلاک دور سوڈان کلچر سنٹر میں یہ پروگرام کرنے کا فیصلہ کیا۔ سوڈانی کلچر اتاشی نے جو میلکم ایکس کے بارے میں کچھ زیادہ نہ جانتے تھے‘ بآسانی ہمیں اس کی اجازت دے دی۔ مسلمان طلبہ نے اس پروگرام کے اشتہارات یونی ورسٹی کیمپس میں جگہ جگہ لگا دیے۔ شام تک یہ جگہ لوگوں سے اتنی پُر ہو چکی تھی کہ منتظمین کو عمارت سے باہر جمع ہو جانے والے لوگوں کے لیے بھی عبدالعزیز سٹریٹ میں لائوڈ سپیکر لگانے پڑے‘ اور پولیس کو اس مصروف سڑک پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے اضافی عملہ تعینات کرنا پڑا۔
میں نے کوئی ایسا خطیب نہیں دیکھا جو اپنے سامعین کے جذبات کو اس طرح موڑ سکتا ہو جیسے وہ اس کے ماہرانہ ہاتھوں میں ربڑ کے ٹکڑے ہوں۔ تاہم‘ میلکم نے طلبہ کو اتنا جذباتی کر دیا تھا کہ ایک طالب علم نے اپنے پیچھے بیٹھے ایک سفید خام شخص کو اس لیے تھپڑ مار دیا کہ اس نے میلکم کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے کوئی منفی تبصرہ کیا تھا۔ یہ واقعہ بڑے تشدد کا باعث بن سکتا تھا اگر میلکم اپنی غیرمعمولی صلاحیت سے کام لیتے ہوئے صورت حال کو سنبھال نہ لیتے۔ انجینیرنگ کے ایک سیاہ فام پروفیسر کی اہلیہ نے‘ جو اپنی عام زندگی میں دھیمے مزاج کی مالک تھیں‘ اونچے اور جارحانہ لہجے میں گورے امریکیوں کی طرف سے اس سلوک کے بارے میں کوسنے دینے شروع کر دیے‘ جو وہ اس کے شوہر سے محض اس کی سیاہ رنگت کے سبب روا رکھے ہوئے تھے۔ اس دوران‘ جب کہ سامعین آبدیدہ ہو جاتے‘ میلکم انھیں کوئی لطیفہ سناتے اور وہ چھوٹے بچوں کی مانند اسی حالت میں ہنسنا شروع کردیتے‘ کہ آنسو ابھی ان کی آنکھوں سے اور گالوں پہ بہہ رہے ہوتے۔ جس گرم جوشی اور والہانہ انداز میں بیروت میں ان کی تقریر سنی گئی‘ اس سے اس شہر کے بارے میں ان کا رویہ تبدیل ہو گیا۔ سوڈان کلچرل سنٹر میں ان کے تاریخی خطاب کے بعد امریکن یونی ورسٹی نے ایک دانش مندانہ فیصلہ یہ کیا کہ انھیں ان کے آیندہ دورۂ بیروت کے دوران کیمپس میں خطاب کرنے کی اجازت دے دی۔
میرے خیال میں خواب غفلت کے شکار مسلمانوں کی بیداری میں سعید رمضان اور میلکم ایکس جیسے خطیبوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے‘ تاہم جو لوگ اس کا ادراک کر لیں انھیں فوراً ہی حصولِ علم کے مشکل راستے پر گامزن ہو جانا چاہیے۔ انھیں چاہیے کہ دلوں کی پاکیزگی اختیار کر لیں‘ اور برے کاموں اور کاہلی سے بچتے ہوئے اچھے کاموں کے ذریعے اپنی زندگیوں کو تبدیل کریں۔ بصورتِ دیگر مسلمان جلسہ گاہوں میں جوق درجوق ضرور آئیں گے مگر صرف لذت تقریر یا خطیبانہ شگوفوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے یا خطبوں کی فصاحت و بلاغت کی داد دینے کے لیے‘ جیسے وہ شاعروں کے ندرتِ خیال پر جھومتے اور خطیبوں کے انداز بیان پر فدا ہوتے قدیم عرب ہوں۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ علم اور عمل پر زیادہ زور اس لیے دیتے تھے کہ ان کے نزدیک اچھے اعمال کے ذریعے ہی کوئی انسان اپنی روحانیت کو ترقی دے سکتا ہے۔ ’ادراک‘ سے ’اطلاق‘ تک کا تیز رفتار راستہ ہی بہترین ’تزکیہ‘ ہے۔ اگرچہ انھوں نے ارکان کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کی دعائیں پڑھنے کی نصیحت کی ہے‘ لیکن انھوں نے امام حسن البناء شہیدؒ کی طرح تحریک الاخوان میں‘ صبح شام دہرانے کے لیے ’الماثورات‘ اور ’ورد الرابطہ‘ جیسے خصوصی اوراد اور دعائیں تحریر نہیں کی ہیں۔
اپنے کارکنوں کی تربیت اس طرح کرنے کے لیے کہ وہ طہارتِ قلب اور خدا سے قربت کی بلندی تک پہنچنے کے لیے معروف صوفی طریقوں کی پیروی نہ کریں‘ وہ درحقیقت احتیاط پسندی کی دوسری انتہا پر پہنچ گئے اور میرے خیال میں بعض ایسے روحانی اعمال کی اہمیت پر بھی زور نہیں دیاجن کا ذکر خود بعض احادیث میں ہے۔ مثال کے طور پر سید مودودی اپنی کتاب ہدایات میں رقم طراز ہیں کہ: ’’ہم کیوں کر یہ معلوم کریں کہ اللہ کے ساتھ ہمارا کتنا تعلق ہے‘ اور ہمیں کیسے پتہ چلے کہ وہ بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے؟ اسے معلوم کرنے کے لیے آپ کو خواب کی بشارتوں اور کشف و کرامت کے ظہور‘اور اندھیری کوٹھڑی میں انوار کے مشاہدے کا انتظار کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ اس تعلق کو ناپنے کا پیمانہ تو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے قلب ہی میں رکھ دیا ہے۔ آپ بیداری کی حالت میں اور دن کی روشنی میں ہر وقت اس کو ناپ کر دیکھ سکتے ہیں… رہیں بشارتیں اور کشوف و کرامات اور انواروتجلیات‘ تو آپ ان کی فکر میں نہ پڑیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس مادی دنیا میں توحید کی حقیقت کو پالینے سے بڑا کوئی کشف نہیں ہے‘‘۔
یہ ایک صحابی کا خواب ہی تھا اور پھر بالکل اسی جیسا ایک خواب حضرت عمرؓ ابن الخطاب نے بھی دیکھا تھا‘ جس نے مسلمانوں کو مسجدوں میں نماز کی دعوت دینے کے لیے عیسائی چرچوں کی طرح گھنٹیاں بجا نے سے محفوظ رکھا۔ مدینہ میں ایک بڑی گھنٹی اس مقصد کے لیے لگا دی گئی تھی‘ مگر جب ایک صحابیؓ نے اپنا ایک خواب بیان کیا جس میں انھوں نے اذان کے اصل الفاظ سنے تھے اور پھر جب حضرت عمرؓ نے فر مایا: میں نے بھی بالکل ایسا ہی ایک خواب دیکھا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان کر دیا کہ یہ خواب سچے ہیں اور حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ وہ اذان دیں‘ جسے ہم آج تک سنتے آرہے ہیں۔پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہؓ سے دریافت فرمایا کرتے تھے‘ کہ انھوں نے گذشتہ رات کیا خواب دیکھے ہیں اور پھر ان کی تعبیر بیان فرماتے تھے۔ خواتین بھی آپؐ کو اپنے خواب بتاتی تھیں اور آپ انھیں اچھی اور حوصلہ افزا تعبیریں بتاتے تھے۔ بخاری‘ مسلم اور حدیث کی دیگر مستند کتب کے ’’باب الرویا‘‘ ایسی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں۔
یہاں یہ ذکر کر دینا دل چسپی سے خالی نہ ہو گا کہ جب سید مودودی کو موت کی سزا ہو جانے پر پوری قوم صدمے اور غم سے نڈھال تھی‘ سرگودھا کے میاں رحیم بخش نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں انھوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے دیکھا تھا: ’’خدا وند رحم کر۔ مودودی میرے دین کا نام لینے والا ہے‘ تو اسے ابھی زندہ رکھ۔ وہ تیرے دین کا کام کر رہا ہے۔ مسلمانوں کو اس کی سخت ضرورت ہے خداوند رحم کر‘‘۔ پھر میں نے دیکھا کہ اچانک حرکت سی ہوئی‘ آواز آئی: ’’اے محمد‘ ہم نے دعا قبول کی‘‘۔ اس کے بعد اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ یہ صبح کا وقت تھا اور موذن اﷲ اکبر کی صدا دے رہا تھا۔ میں گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ پھر اچانک میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں بہت دیر تک سکتے کے عالم میں اپنی چارپائی پر بیٹھا رہا۔ اس خواب کی تعبیر جلد ہی سامنے آئی‘‘۔
m مجرد روحانیت کو کم اہمیت دینے کا سبب : سید مودودی ان تمام روحانی پہلوئوں سے یقینا بہ تمام و کمال واقفیت رکھتے تھے‘ بلکہ دیگر علما کم ہی اس بارے میں اتنا جانتے ہوں گے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ارکان کی تربیت میں اس پہلو کو نظرانداز کیوں کیا؟ تزکیہ نفس اور روحانی بالیدگی مکمل طور پر ان قابل مشاہدہ اعمال کی پیداوار نہیں ہیں جن اعمال کی طرف عموماً توجہ دلائی جاتی ہے۔ ’احسان‘ کی اقلیم میں قلب کے داخلی روحانی سفر میں دو اہم ستون ’فکر‘ اور ’ذکر‘ ہیں۔ ’احسان‘ کا درجہ اللہ تعالیٰ کی سچی محبت اور بندگی کا درجہ ہے اور یہ درجہ کسی خارجی سرگرمی کا تقاضا نہیں کرتا۔ چنانچہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سید مودودی نے اس طرزِ عبادت کی حوصلہ افزائی سے کیوں خود کو باز رکھا؟ انھوں نے تمام ارکان کو وظیفے کے لیے خصوصی دعائیں اور اذکار انھیں کیوں نہیں بتائے جس طرح کہ شہید حسن البناؒ نے تحریک اخوان میں ارکان کی تربیت کے لیے تجویز کیا؟ میراخیال ہے کہ وہ اپنے بچپن کے ابتدائی تجربوں اور اپنی پرورش کی بنا پر یہ رویہ اختیار کرنے پر مائل ہوئے۔
ہمیں معلوم ہے کہ سید مودودی‘ صوفیا کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں‘ حتیٰ کہ ان کا نام چشتی سلسلے کے بانی شیخ خواجہ قطب الدین مودودؒ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے اوائل عمری میں ہی یہ جان لیا تھا کہ مغرب کے ساتھ اسلام کی کش مکش کی نوعیت ذہنی اور علمی ہے‘ جس کے لیے اسلام کے علم برداروں کو اپنی لمبی لمبی تسبیحیں چھوڑ کر حرف ‘قلم اور عمل سے جہاد کرنا پڑے گا۔ انھوں نے یقینا عظیم صوفیا کے تذکرے پڑھے بھی ہوں گے اور سنے بھی ہوں گے۔ ان میں سے کچھ تو خود ان کے آباو اجداد میں شامل تھے‘ جنھو ں نے اپنے آپ کو چھوٹی چھوٹی مسجدوں‘ تکیوں اور خانقاہوں تک محدود کر لیا تھا۔ جنھیں نہ تو اسلام اور کفر کی جنگ کا کچھ علم تھا اور نہ انھوں نے اپنے عوام کے اخلاقی اور سیاسی مخمصوں میں کوئی خاص دل چسپی ظاہر کی تھی کہ زندگی کا اجتماعی اور تہذیبی چلن جس رخ پر بہہ رہا ہے‘ بہتا رہے‘ انھیں اس سے چنداں کوئی غرض نہیں ہے۔ چنانچہ اوائل عمری سے ہی سید مودودی کی شخصیت میں اس غیر فعال طرزِ عمل سے‘ اگر نفرت نہیں تو ایک طرح کی بیزاری ضرور پیدا ہو چکی تھی۔
چنانچہ ہوا یہ کہ جب بھی انھیں کوئی عبادت گزار طول طویل مراقبے اور ذکر و فکر میں مستغرق نظر آتا تو ان کے ذہن میں بے کاری اور بے عملی کی ایک منفی تصویر ابھر آتی۔ اپنے بچپن اور نوجوانی میں انھوں نے اپنے بڑوں سے اپنے بزرگوں کے کشف و کرامات اور خوابوں کی کہانیاں یقینا سنی ہوں گی اور انھوں نے اس سب کو اپنے ذہن میں ایک غیر متحرک صوفی کی منفی تصویر سے وابستہ کر لیا ہو گا۔ وہ دیکھتے تھے کہ مسلمانوں کو عمل پر ابھارنے کے بجاے خوابوں اور کشف و کرامات کے قصو ں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ حالانکہ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ جن لوگوں کو ایسے تجربے نہیں ہوئے ہیں‘ وہ ان سے زیادہ اچھے مسلمان ہوں۔ چنانچہ میرا ذاتی تصور یہ ہے کہ اپنے ارکان کی تربیت کے دوران سید مودودی کا یہ رویہ بے عملی کے اس مذکورہ بالا طرزِ عمل کا سیدھا سادا ردعمل تھا۔ تاہم‘ ممکن ہے کچھ لوگ یہ محسوس کریں کہ اپنی ذہنی اور فکری تحریک کو ایک صوفی تنظیم میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے ان کی یہ احتیاط کچھ ضرورت سے زیادہ محتاط رویے پر مبنی تھی۔
اس نفسیاتی اور روحانی کش مکش کے نتیجے میں سید مودودی کا عظیم کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے جماعت اسلامی کے بانی اور کرشماتی قائد کے طور پر اپنے شخصی مقام و مرتبے کے روحانی رعب کو کم سے کم کرنے کی مسلسل کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک ایسا آئینی و قانونی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے شدید جدوجہد کی‘ جس سے یہ امید تھی کہ ان کی ریٹائرمنٹ یا رحلت کے بعد بھی تحریک اسی جذبہ و عمل کے ساتھ جاری رہے گی۔ میرے خیال میں یہ ان کی ایک عظیم کامیابی ہے۔ ان کے اخلاص‘ زہد اور طاعت و بندگی کا ایک کھلا ثبوت بھی ہے۔ اگر وہ جاہ و اقتدار کے دلدادہ ہوتے اور ثروت مندی اور خوش حالی کی ایسی زندگی گزارنا چاہتے جس میں ان کے بے شمار پیروکار انھیں ایک مقدس ہستی سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھاتے‘ تو وہ بڑی آسانی سے خود اپنے آباو اجداد کے صوفی سلسلے کا شیخ ہونے کا اعلان کر سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے اور ان کی شخصیت میں جو کرشمہ اور خداداد صلاحیتیں موجود تھیں‘ تو ’مودودیہ‘ سلسلہ ہم عصر صوفی سلاسل میں ایک سرکردہ صوفی سلسلہ قرار پاتا۔ حریر و ریشم‘ اور خوشبو و خدمت کے اس راستے کو منتخب کرنے کے برعکس انھوں نے بطور ’امیر‘ اپنے مقام کو بڑھانے کی بجاے کم کرنے کی دانستہ اور اختیاری کوشش کی۔ پھر اپنے کارکنان میں معتدل‘ احتسابی اور تنقیدی فکر کی حوصلہ افزائی کی۔
ہر سال تحریک کے عمومی اجلاس میں سید مودودی ارکانِ جماعت اسلامی کو دعوت دیتے کہ وہ کھلے عام ان پر تنقید کریں‘ ان کی خامیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کریں۔ وہ ارکان کی ان غلط فہمیوں کو دُور فرماتے جن کی بنیاد ناقص معلومات اور غلط طرزِ فکر پر ہوتی‘ اور خود سے سرزد ہونے والے غلط اندازوں اور غلطیوں پر برسرعام معذرت کرتے۔ انھوں نے ان نئے ارکان کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جنھیں اس بات پر صدمہ پہنچا تھا کہ ان کا عظیم قائد ایک نوجوان رکن کے سامنے اپنی غلطی پر معذرت کر رہا ہے۔ ۶۰کے عشرے کے ایک عام پاکستانی کو مودودی جیسی عظیم شخصیت کے گرد تقدس کا ہالہ بننے سے باز رکھنے کے لیے کسی ایسی ہی ’’الیکٹرک شاک تھراپی‘‘ کی ضرورت تھی۔ قیادت کا غلطی سے ماورا نہ ہونے کا تصور ہی وہ اہم عامل تھا‘ جس نے تحریک کو‘ سید مودودی اور جماعت کے دشمنوں کے خلاف انتہا پسندانہ اور متشدد طرز عمل اپنانے سے محفوظ رکھا۔ اسی سبب سے تحریک کی قیادت بھی سید مودودی سے میاں طفیل محمد کی طرف بڑے خوش گوار انداز کے ساتھ (اکتوبر ۱۹۷۲ء میں) منتقل ہوئی اور بعد ازاں میاں طفیل محمد سے قاضی حسین احمد کے سپرد (اکتوبر ۱۹۸۷ئ) ہوئی۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ کاش! دیگر اسلامی تحریکات کے قائدین بھی انکسار‘ تنقید کے لیے قبولیت‘ اور جب ضرورت پڑے اختیارات کی منتقلی جیسے اوصاف میں سید مودودی کی مثال کی پیروی کریں۔ ۶۰کے عشرے کے اواخر میں جب انھوں نے جماعت کی قیادت سے اس خواہش کے تحت علیحدہ ہونا چاہا‘ تاکہ وہ تفہیم القرآن اور دیگر کتب کی تکمیل کے لیے اپنا زیادہ وقت صرف کرسکیں تو اکثر ارکان یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ کارکنوں کو اپنے بانی قائد سے لگائو اور تعظیم و تقدیس سے بچانے کے لیے ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایک کرشماتی اور عظیم قائد کے ساتھ ان کی وابستگی اور جذبے کو ختم نہ کیا جا سکا‘ تو ان ارکان سے سید مودودی نے برملا فرمایا: ’’میں بوڑھا اور بیمار ہو رہا ہوں۔ اپنی موت سے پہلے جماعتِ اسلامی کو مودودی کے بغیر بھی پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہوں‘‘۔
اس مثالی طرزعمل کے برعکس‘ میں ذاتی طور پر تین ایسے اسلامی قائدین کو جانتا ہوں‘ جنھوں نے قیادت میں رہنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اﷲ رحم کرے‘ انھوں نے اپنے رفقا کے خلاف سازش سمیت ہر طرح کے ذرائع استعمال کیے۔ ان میں سے ایک لیڈر کی عمر ۷۰ برس تھی اور ایک دوسرے کی عمر ۸۰ برس سے بھی زیادہ تھی۔ ان دونوں قائدین کو جارحانہ اور غیر معیاری مقابلوں کے بعد ان کے خلاف ووٹنگ کے ذریعے قیادت سے ہٹایا گیا تھا۔ ان میں سے ایک نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے عزت سے گھر رہنا پسند کیا‘ جب کہ دوسرا قیادت سے علیحدگی برداشت نہ کر سکا اور اس نے مقابلے میں ایک نئی مخالف جماعت کھڑی کر لی۔
میں نے جماعت اسلامی پر اسی طرح کی تنقید ۷۰ کے عشرے میں بھی سنی تھی۔ لیکن اس بار تنقید کرنے والے معروف مسلم اسکالر پروفیسر محمد الاوا تھے‘ جو قانون کے مشہور مصری استاد تھے۔ انھوں نے ریاض میں برادر پروفیسر احمد العسال کے گھر میں میاں طفیل محمد صاحب سے مخاطب ہو کر کہا تھا: ’’آپ اس شخص کو کیا جواب دیں گے جو پوچھتا ہے کہ آپ نے دعوت کے سست طریقۂ کار کے تحت ۴۰سال صرف کرنے کے بعد آخر کیا حاصل کیا‘‘؟ ایسے لگتا ہے کہ میاں طفیل محمد اس طرح کے سوالات سے کافی تنگ آ چکے تھے۔ انھوں نے فرمایا: ’’میں اسے کہوں گا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ۹۵۰برس لوگوں کو ان تھک تبلیغ کرتے ہوئے گزار دیے تھے۔ کیا ہم ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ آخر انھوں نے کیا حاصل کیا تھا؟‘‘
کراچی میں‘ میں اپنے پیارے بھائی اور دوست چودھری غلام محمد سے ملا‘ جو جماعت اسلامی کراچی کے مقبول امیر تھے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا‘ میری ان سے ملاقات بیروت میں بھی ہوئی تھی پھر اردن اور سوڈان میں بھی۔ سوڈان میں ہم ۱۹۶۷ء میں ملے تھے‘ وہ اسی سال جون میں عربوں کی عبرت ناک شکست کے بعد عرب ممالک کا دورہ کرنے والے ایک اسلامی وفد کے رکن تھے۔ وفد کے دوسرے ارکان اردن کے برادر خلیفہ اور انڈونیشیا کے محمد ناصر تھے۔ برادر غلام محمد کو ان دنوں کمر اور بدن کے دیگر حصوں میں شدید درد کی شکایت تھی۔
اس وقت سوڈان میں اخوان کے تعلیمی پروگرام کو جاری رکھنے کے حامیوں اور محترم ڈاکٹر ترابی کی نئی سیاسی اپروچ کے مخالفین میں تنازع اپنے عروج پر تھا۔ اکثر مخلص برادران کو یہ خدشہ تھا کہ کہیں یہ جھگڑا پوری تحریک کے مستقبل کو ہی خطرے میں نہ ڈال دے۔ انھوں نے تجویز کیا کہ اخوان کو اس داخلی انتشار سے بچانے کے لیے ایک قابلِ اعتماد رکن کو اپنا نیا قائد چن لینا چاہیے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس مشکل کام کے لیے میرا انتخاب عمل میں آیا۔
امیر کے طور پر مجھے ہی اپنازیادہ وقت مہمانوں کو دینا ہوتا تھا‘ بالخصوص برادر غلام محمد کے ساتھ میں نے خاصا وقت گزارا۔ جتنا زیادہ میں ان کے ساتھ رہا اتنا ہی میرے دل میں ان کے لیے عزت اور محبت پیدا ہوئی۔ میں گاڑی پر ان کے ہوٹل تک چھوڑنے جاتا اور خرطوم میں بھی جہاں جانا ہوتا ان کے ساتھ جاتا۔ اس وقت مجھ پر یہ واضح ہو گیا تھاکہ وہ کتنے بیمار ہیں اور شدید درد اور اذیت کے باوجود اپنے مشن کو جاری رکھنے کے لیے کس قدر کوشش کررہے ہیں۔ میں نے انھیں اپنی سوڈانی تحریک کے ان گھمبیر مسائل کے بارے میں بتایا‘ جو اس کی قیادت سنبھالنے کے بعد مجھ پر واضح ہوئے تھے۔ میں نے انھیں بتایا کہ کس طرح یہ جماعت رفتہ رفتہ اسلامی طور پر نیم جان سیاسی پارٹی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ میں نے انھیں ان شکایات سے بھی آگاہ کیا جو مجھے بطور امیر نوجوان مخلص کارکنان کی طرف سے تحریک کے عہدیداران کے رویے کے بارے میں موصول ہوتی تھیں اور جنھیں مجھے تحقیق کے بعد تسلیم کرنا پڑتا تھا۔ غلام محمد صاحب نے مجھے مشورہ دیا: ’’اگر تحریک کو داخلی طور پر بہتر بنانے کی کوئی امید باقی نہیں ہے‘ تب مجھے اسے چھوڑ کر صحیح اسلامی بنیادوں پر ایک نئی جماعت بنا لینی چاہیے‘‘۔ یہ درحقیقت ان تمام برادران کے مشترک احساسات تھے جو دینی تربیت کو اہمیت دیتے تھے۔
جب ۱۹۶۸ء میں کراچی میں ان سے ملا تو ان کی صحت بہت بگڑ چکی تھی۔ انھیں کینسر کی تشخیص کی گئی تھی۔ جب میں ان سے جماعت اسلامی کراچی کے مرکزی دفتر (ہیڈکوارٹر) میں ملا تو بے حد متاثر ہوا۔ وہ کرسی پر بیٹھ کر تحریک کا کام بھی کرتے تھے اور مہمانوں سے بھی ملتے تھے۔ جب درد ناقابلِ برداشت ہو جاتا تو وہ زمین پر بچھے ایک گدے پر تھوڑی دیر کے لیے لیٹ جاتے تھے۔ جب درد قابل برداشت ہو جاتا تو وہ دوبارہ میز پر آ کر کام کرنے لگتے تھے‘ سبحان اللہ!
میں نے خود سے کہا:سیدمودودی نے اپنے شاگرد کی کیسے تربیت کی ہے اور کیا ناقابلِ یقین انقلاب انسانوں کے دلوں میں پیدا کر دیا ہے! کوئی اور مریض اگر محترم غلام محمد جیسی حالت میں مبتلا ہوتا تو نہ صرف وہ ہسپتال میں داخل ہوتا‘ بلکہ مکمل طور پر نیند اور درد کی دوائوں کے زیر اثر زندگی گزار رہا ہوتا۔ اپنے ناقابل برداشت دردوں کے لیے دوائیں کھانے سے انکار کرنا ممکن ہے ایک بہادرانہ عمل سمجھا جائے‘ لیکن اپنی دعوت اور کام کرنے پر اصرار جاری رکھنا تو مقدس بہادری سے بھی کچھ بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی روح پر رحمتیں نازل کرے اور ان سے راضی ہو جائے۔ (آمین!)
دوبارہ میں نے اپنے رشتہ داروں کی مدد حاصل کی۔ میرا ایک بھتیجا وزارتِ داخلہ میں ملازم تھا اور اس نے ایک دوسرے افسر کی مدد سے میرے پاسپورٹ پربیرونی ویزے کی مہر لگوا دی تھی۔ میں نے ۲۵ مئی ۱۹۷۱ء کی رات کو بیروت کے لیے ایک فلائیٹ پکڑی۔ یہ رات میں نے اس لیے منتخب کی تھی کہ اس رات ’’انقلاب کا جشن‘‘ منایا جا رہا تھا۔ وہ تمام افسران جو مجھے پہچان سکتے تھے اس جشن میں مصروف تھے۔ لیکن اس کے باوجود میں اپنے معذور بیٹے کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکا۔ مجھے خطرہ تھا کہ کچھ افسروں کی توجہ اس کی طرف مبذول ہو سکتی ہے۔ میرے بیروت پہنچنے پر میرے ایک کزن نے اسے وہاں پہنچا دیا۔ مجھے مشورہ دیا گیا تھا کہ میں لبنان میں معذوروں کے لیے ایک خصوصی اسکول میں اسے داخل کرا دوں۔ اس کی تربیت او رعلاج خاصا مہنگا تھا‘ کیونکہ گردن توڑ بخار کے سبب وہ ذہنی طور پر نارمل نہیں تھا۔ مجھے اس کی خصوصی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے تھے۔ اس لیے میں نے ریاض یونی ورسٹی میں نفسیات پڑھانے کی ایک پیش کش قبول کر لی۔
ریاض میں میری ملاقات پروفیسر احمد العسال‘ پروفیسر الاواء اور پروفیسر محمد مصطفی الاعظمی جیسے ممتاز اسکالروں سے ہوئی۔ اس دوران علم نفسیات اور دیگر کرداری علوم (behavioural sciences) کی اسلامائزیشن میں میری دل چسپی تازہ ہوئی‘ جس کا آغاز میںنے ایک نوجوان طالب علم کے طور پر کیا تھا۔ میرے عزیز دوست مصطفی الاعظمی‘ جماعت اسلامی کے کارکن تھے۔انھوں نے مجھے بتایا: ’’میں نے سید مودودی سے مشورہ مانگا تھاکہ کیا : ’’مجھے جماعت کا ایک رکن بننا چاہیے یا حدیث کا ایک عالم‘‘۔ مولانا نے انھیں فرمایا تھا: ’’ہمارا کوئی بھی بھائی کارکن بن سکتا ہے‘ لیکن عالم (اسکالر) کوئی کوئی ہی بنتا ہے‘‘۔ چنانچہ پروفیسر الاعظمی کہتے ہیں ’’اور میں نے مطالعہ حدیث کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا‘‘۔ حدیث پاک کا کمپیوٹر پروگرام بنانے والے وہ پہلے شخص ہیں اور اس طرح اس میدان میں ان کا یہ کارنامہ ان کے تصور سے بھی باہر تھا۔ ان کی یونی ورسٹی نے حدیث کے لیے ان کی اس خدمت پر ان کی تحسین کی اور انھیں ’’شاہ فیصل ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔
میرا احساس ہے کہ اسلامائزیشن وہ میدان ہے‘ جس میں‘ میں اسلام کی کچھ خدمت کر سکتا ہوں اور مجھے اپنی کوششوں کو اسی تک محدود کرنا چاہیے۔ اس خیال کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ میرے سوڈان چھوڑنے کے جلد بعد ہی ہماری تحریک کے برادران نے‘ جس کا آغاز ہم نے ۱۹۶۹ء میں کیا تھا‘ اخوانیوں کے ساتھ مل کر محترم ڈاکٹر ترابی کی سیاسی اسلامی پارٹی کے برعکس ایک علیحدہ گروپ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ اپنے اس خیال کے تحت میں نے ۱۹۷۱ء سے علم نفسیات [سائیکالوجی] کی اسلامائزیشن پر کام جاری رکھا اور الحمدللہ طبی اخلاقیات اور متعلقہ موضوعات پر میری متعدد کتب اور مضامین شائع ہو چکے ہیں۔
جب میںنے اسلامائزیشن اور دیگر علمی کاموں پر اپنی کوششوں کو مرکوز کیا تو مجھ پر واضح ہونا شروع ہوا کہ میں اپنی روحانی بالیدگی کے لیے کوششوں کی ضرورت کو نظرانداز کرتا رہا ہوں۔ میں دوسروں کو تبدیل کرنے میں اتنا مصروف رہا کہ خود اپنی روحانی تطہیر کے پروگرام پر کوئی خاص توجہ نہ کرسکا۔ شائد یہ میری بڑھتی ہوئی عمر (بڑھاپے) کے سبب ہے یا اسلامی تحریکوں کے ساتھ اپنے کسی واہمے کی وجہ سے‘ یا ان دونوں وجوہ سے کہ میں اپنے آپ کو امام غزالی ؒ، المحاسبیؒ اور عبدالقادر جیلانی ؒ جیسوں کی طرف زیادہ مائل پاتا ہوں اور ان کا مطالعہ میرے لیے زیادہ لطف کا باعث ہے۔
میں اس وقت یہ مقالے سید مودودی اور پروفیسر محمد قطب کی تحریروں کو پڑھے بغیر نہیں لکھ سکتا تھا۔ چنانچہ سید مودودی کو اسلامائزیشن کا پیش رو کہنا‘ ایک ایسے شخص کی طرف سے کوئی مبالغہ نہیں ہے جو ان سے محبت رکھتا ہے اور ان کا احترام کرتا ہے۔ تعلیم‘ فلسفہ‘ اور سیاسیات کی اسلامائزیشن پر ان کی تحریریں گذشتہ صدی کے چوتھے عشرے کی ہیں‘ جب اس عملی تحریک کے جدید چیمپئن ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ان میں سے چند غیر تحریکی چیمپئن‘ اسلامائزیشن کی کوششیں کرنے والے سیدمودودی‘ پروفیسر محمد قطب اور مالک بن نبی جیسے پیش روؤں کے کام پر بے جا تنقید کرتے ہیں۔ میں نے بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے ۱۹۹۱ء میں ایک سیمی نار میں جو مقالہ پڑھا تھا ‘اس میں ایسے رویے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار درج ذیل الفاظ میں کیا تھا:
ایک نیم دلی کا شکار دانش ور --- جو اتنا ’سائنسی‘ ہو چکا ہے کہ کوئی پختہ اسلامی بات نہیں کر سکتا‘ اپنی تسلیم شدہ مغربی مہارت اور کام کے باوجود اسلامائزیشن کے میدان میں زیادہ کارکردگی نہیں دکھا سکے گا --- جب کہ دوسری طرف ایک بے لوث اور مخلص مسلمان اسکالر‘ جو خود ایک سوشل سائنٹسٹ نہیں ہے‘ ممکن ہے اسلامائزیشن کے لیے کہیں زیادہ بہتر اور پائے دار کام کرے۔ بے شک اسلامائزیشن کے حقیقی پیش روؤں کی پہلی نسل میں ابوالاعلیٰ مودودی‘ سید قطب‘ پروفیسر محمد قطب اور مالک بن نبی جیسے نام شامل ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اعلیٰ سند یافتہ سوشل سائنٹسٹ نہیں تھا‘ لیکن ان کے نام اور کارنامے مسلسل روشنی بکھیر رہے ہیں۔ ان کا لٹریچر کئی زبانوں میں سیکڑوں بار شائع ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے‘ جس کے اثرات سوشل سائنٹسٹوں اور عام لوگوں پر مسلسل پڑ رہے ہیں۔
آج ہمارے چند (غیر تحریکی) رفقا ممکن ہے ان کے کام کے کچھ حصوں اور طریقۂ کار پر تنقید کریں‘ لیکن یہ تنقید غیر منصفانہ بھی ہے اور ناشکری کی علامت بھی۔ ان کی اصل تحریروں کو جو بعض مثالوں میں ۴۰ یا ۶۰سال پہلے لکھی گئی تھیں‘ آج کے تجزیے کے معیارات کے مطابق نہیں پرکھا جا سکتا۔ ان لوگوں میں سے بعض جو ان پر آج بے جا تنقید کر رہے ہیں‘ وہی ہیں جنھوں نے اپنے طالب علمی کے دور میں ان کی لاثانی تحریروں سے ہی سیکھ کر اپنے اپنے میدان میں اسلامی ذہن کے ساتھ مہارت کی سیڑھیاں چڑھی ہیں۔ کئی عشروں سے ان کی کتابیں جدید دنیا میں اسلامائزیشن کا واحد ماخذ ہیں۔ (بدری‘ ص ۱۳)
اس مقالے کو بعد ازاں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی پریس نے Use and Abuse of Human Sciences in the Muslim World (مسلم ممالک میں انسانی علوم کا صحیح اور غلط استعمال) کے عنوان سے شائع کیا۔
میں نے اسلامائزیشن پر اپنی پہلی کتاب Islam and Alcoholism سید مودودیؒ کے احسانات کے اعتراف کے طور پر ان کے نام معنون کی ہے۔ جب یہ کتاب پہلی بار امریکن ٹرسٹ پبلی کیشنز (واشنگٹن) کی طرف سے شائع ہوئی تو مجھے اس کے ڈائریکٹر پبلیکیشن برادر ابراہیم دسوقی نے بتایا کہ اس کتاب کی فروخت سید مودودی کی مشہور کتاب Towards Understanding Islam کے بعد سب سے زیادہ رہی ہے۔ اگرچہ یہ میرے لیے ایک اعزاز تھا‘ لیکن میں جانتا تھا کہ جلد ہی میری کتاب کی فروخت نیچے چلی جائے گی‘ جب کہ سید مودودی کی کتاب مسلسل سرفہرست ہی رہی رہے گی۔ میری دوسری کتاب The Dilemma of Muslim Psychologists (مسلمان ماہرین نفسیات کا تذبذب ) بھی سید مودودی اور اسلامائزیشن کے میدان کے دیگر پیش کاروں کے نام معنون کی گئی ہے۔
میں نے پاکستان میں میڈیا کے تمام مراکز کا دورہ کیا اور ذمہ دار افراد سے طویل گفتگوئیں کیں۔ میرا مقصد یہ تھا کہ میڈیا کو سامعین و ناظرین کے لیے بے لطف بنائے بغیر اسے کیسے اسلامائز کیا جائے؟ مجھے یاد ہے کہ میں نے پاکستان کی وزارت مواصلات کو مشورہ دیا تھا کہ وہ دیگر عرب اور مسلمان ممالک کی وزارتوں اور میڈیا سے متعلق اداروں کے ساتھ قریبی روابط پیدا کریں۔ مصر‘ شام اور ترکی میں اعلیٰ پیشہ وارانہ اسلامی تعلیمی پروگرام تیار کیے جا رہے تھے۔ ان پروگرامات کو اردو زبان میں ڈب کر کے پیش کیا جا سکتا تھا۔ میں نے اسلامی ذہن کے نوجوان افراد کو اعلیٰ معیار کے اسلامی پروگراموں کی تخلیق و تشکیل (پروڈکشن )کی تربیت کے لیے بیرون ملک بھجوانے کی تجویز بھی دی تھی۔
اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے بعد میں اسے پروفیسر خورشید احمد کے ساتھ صدر مملکت کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے گیا۔ شہید محمد ضیاء الحق نے اپنے گھر میں ہمارا استقبال کیا اور ’کافی‘ سے ہماری تواضع کی۔ وہ ایک سادہ اور منکسر المزاج صدر تھے۔ ہمارے درمیان دوستانہ گفتگو ہوئی اور پھر صدر ہمیں چھوڑنے باہر تک آئے اور خود میری کار کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔ جب میں واپس سوڈان آ گیا تو ہمارے وزیر خارجہ نے مجھے بتایا کہ محمد ضیاء الحق نے سوڈان کے صدر جعفر نمیری کو ایک خط لکھا تھا‘ جس میں میرے دورے اور میڈیا کی اسلامائزیشن کے لیے میرے کام کو سراہا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ وہ میری پیش کردہ رپورٹ سے متاثر ہوئے ہیں۔
سوڈان میری واپسی سے قبل پروفیسر خورشید احمد نے مجھے بتایا کہ پنجاب یونی ورسٹی لاہور میں تنظیم اساتذہ پاکستان کی ایک قومی کانفرنس ہو رہی ہے اور اس کے کچھ منتظم امریکن یونی ورسٹی بیروت میں میرے طالب علم رہے ہیں‘ اور وہ چاہتے ہیں کہ میں اس کانفرنس میں ایک کلیدی خطبہ دوں۔ مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کیونکہ اس طرح میری اچھرہ میں سید مودودی سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔ عظیم سید زادے سے میری یہ آخری ملاقات تھی۔
میں سید مودودی سے ان کے مطالعے کے کمرے میں ملا۔ وہ چاک و چوبند اور مضبوط شخص جو ۱۹۶۸ء میں اپنی کرسی پر عجز اور مضبوطی کے امتزاج کے ساتھ ایسے بیٹھتا تھا ‘ اب کافی کمزور نظر آ رہا تھا۔ ان کے بدن پر بیماری کے اثرات بہت واضح تھے۔ لیکن ان کا چہرہ اطاعت خداوندی اور تحمل کے روحانی نورسے دمک رہا تھا۔
اس بیماری کے عالم میں بھی ان کی حس مزاح ماند نہ پڑی تھی۔ انھوں نے مجھ سے کہا: ’’میں نے ان اسلامی کارکنوں کے بارے میں آپ کے طنزیہ تبصروں کے بارے میں سنا ہے جنھوں نے سعودی عرب میں ملازمتیں اختیار کر لی تھیں اور اپنی جماعتوں کے اسلامی کام کے برعکس‘ جن کے لیے دولت زیادہ دل چسپی کا باعث بن چکی ہے‘‘۔ میں کہا کرتا تھا:’’جی ہاں‘ وہ ڈیپ فریزز میں رکھ دیے گئے ہیں‘‘۔ سید مودودی ؒنے جواب میں بے ساختہ کہا: ’’آپ کا تبصرہ درست ہے لیکن اس منفی انداز میں نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے۔ جب یہ کارکنان اور برادران اپنے ملکوں کو واپس جائیں گے تو وہ ایسے ہی اچھے ہوجائیں گے جیسے بالکل تازہ دم ہوں۔ ان شاء اﷲ وہ اپنی سابق سرگرمیوں کی طرف بالکل اسی طرح لوٹ آئیں گے جیسے ڈیپ فریزر میں رکھا ہوا کھانا تازہ رہتا ہے۔ جب آپ اسے گرمی پہنچاتے ہیں تو اس کاذائقہ اور خوشبو اسی طرح بحال ہو جاتی ہے جیسے اسے تازہ تازہ پکایا گیا ہو‘‘۔ ان کے اس یقین اور امید افزا جواب پر ہم دونوں ہنس پڑے۔ سید مودودیؒ کے اس امید افزا تبصرے اور اُس میں چھپی ہوئی شفقت اور رفقا کے بارے میں بات کرتے وقت احتیاط پسندی نے میرا دل موہ لیا۔ میری ان سے یہ آخری ملاقات تھی۔ وہ اس ملاقات کے تقریباً آٹھ ماہ بعد انتقال کر گئے۔ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون!
دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے اس مخلص خادم ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے راضی ہو جائے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ انھوں نے اخلاص کے ساتھ اسی پیغام کے مطابق خدمت انجام دی ہے‘ جو حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و سلم نے دنیا کو دیا تھا‘ جیسا کہ سرگودھا کے میاں رحیم بخش نے اپنے متبرک خواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کو انھوں نے تصدیق کرتے دیکھا تھا۔
دور حاضر میں سب سے بڑی تحریک جو سماجی ڈھانچے اور انسانی تعلقات کی تمام بنیادوں میں ایک زبردست تبدیلی لا رہی ہے وہ ہے تحریک نسواں یا Women's Liberation ۔ یہ تحریک کوئی دور جدید کی انوکھی پیش کش نہیں ہے۔ اس کے تاریخی نظائر دور قدیم میں بھی ملتے ہیں۔
تحریکِ نسواں کی تاریخ میں سینکافالز کنونشن (Ceneca Falls Convention) منعقدہ ۱۸۴۸ء کوسنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کنونشن کے اعلامیے میں عورتوں کے جن حقوق کا مطالبہ کیا گیا‘ ان میں جایداد پر عورت کے مکمل کنٹرول‘ عورت کے خاوند سے علیحدگی اور اسے طلاق دینے کا حق‘ بچوں کی سرپرستی‘ ایک جیسے کام کے لیے مرد کے معاوضے کے مساوی حقوق‘ ملازمت میں ہر قسم کے صنفی امتیاز کے خاتمے جیسے حقوق شامل تھے۔ عورت کی مظلومیت کے نام پر کھڑی ہونے والی تحریک جتنی آگے بڑھتی گئی‘ قدامت پسند رہنماؤں نے اسی قدر خود کو مظلومیت نسواں کے واحد مسئلے کا جواب دینے تک محدود کرنا شروع کر دیا۔
جب ہم تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو تمدنی نظام میں عورت کے حوالے سے افراط و تفریط کا معاملہ نظر آتا ہے۔ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ وہ عورت جو ماں کی حیثیت سے آدمی کو جنم دیتی ہے اور بیوی کی حیثیت سے زندگی کے ہر نشیب و فراز میں مرد کی رفیق رہتی ہے‘ وہی ہستی بڑی بے دردی کے ساتھ لونڈی کے مرتبے میں رکھ دی جاتی ہے۔ اس کو بیچا اور خریدا جانا ماضی سے لے کر عصر حاضر تک روا رکھا جاتا ہے۔ اس کو ملکیت اور وراثت کے تمام حقوق سے محرم رکھا جاتا ہے۔ اس کو گناہ اور ذلت کا مجسمہ سمجھا جاتا ہے‘ اور اس کی شخصیت کو ابھرنے اور نشوونما پانے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ دوسری طرف ہم کو یہ بھی نظر آتا ہے کہ وہی عورت پراپیگنڈے کے بل پر اٹھائی اور ابھاری جا رہی ہے۔ مساوات و ترقی کے نام پر شہوانیت اور بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ خاندانی نظام‘ جو تمدن کی بنیاد ہے وہ منہدم ہونے کو ہے۔ اس اخلاقی تنزل کے ساتھ ساتھ ذہنی‘ جسمانی اور مادی قوتوں کا تنزل بھی عمل پذیر ہو رہا ہے۔ جس کا انجام ہلاکت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔
دیکھیے کہ اس ماحول کے اثرات آپ کی قوم پر کیا پڑ رہے ہیں۔ کیا آپ کی سوسائٹی میں اب غض بصر کا کہیں وجود ہے؟ کیا لاکھوں میں ایک آدمی بھی کہیں ایسا پایا جاتا ہے جو اجنبی عورتوں کے حسن سے آنکھیں سینکنے میں باک کرتا ہو؟کیا علانیہ آنکھ اور زبان کی زنا نہیں کی جا رہی ہے؟ کیا آپ کی عورتیں بھی تبرج جاہلیہ اور اظہار زینت اور نمایش حسن سے پرہیز کر رہی ہیں؟ کیا آج آپ کے گھروں میں ٹھیک وہی لباس نہیں پہنے جا رہے ہیں‘ جن کے متعلق آنخضرت صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا تھا: نساء کا سیات عادیات حمیلات مائلات؟ --- کیا آپ کی سوسائٹی میں فحش قصے اور عشق و محبت کے گندے واقعات بے تکلفی کے ساتھ کہے اور سنے نہیں جاتے؟ جب حال یہ ہے تو فرمایئے کہ طہارت اخلاق کا وہ پہلا اور سب سے مستحکم ستون کہاں باقی رہا‘ جس پر اسلامی معاشرت کا ایوان تعمیر کیا گیا تھا؟ (پردہ‘ ص ۳۵۷ - ۳۵۸)
اس کے ساتھ ہی ہندستان میں رائج قانون اور حکومتی انتظام کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے انھوں نے ثابت کیا کہ تمدن و تہذیب کی بحالی اور عورت کے وقار و مرتبے کا لحاظ اسی وقت ممکن ہے کہ جب نظام معاشرت کو اسلام پر قائم کیا جائے۔ وہ لکھتے ہیں:
تمام ہندستان سے اسلامی تعزیرات کا پورا قانون مٹ چکا ہے۔ زنا اور قذف کی حد نہ مسلمان ریاستوں میں جاری ہوتی ہے نہ برٹش انڈیا میں --- اگر کسی شریف بہو بیٹی کو کوئی شخص بہکا کر بدکار بنانا چاہے تو آپ کے پاس کوئی قانونی ذریعہ ایسا نہیں‘ جس سے اس کی عصمت محفوظ رکھ سکیں --- منکوحہ عورت کو بھگا لے جانا جرم ہے۔ مگر انگریزی قانون جاننے والوں سے دریافت کیجیے کہ اگر منکوحہ عورت خود اپنی رضامندی سے کسی کے گھر جا پڑے تو اس کے لیے آپ کے فرمانرواؤں کی عدالت میں کیا چارۂ کار ہے۔ (پردہ‘ ص ۳۵۹)
شریعت الٰہی کے عورتوں سے مطالبات کیا ہیں] اور ان کی شاہراہ زندگی کا رخ کس طرح متعین ہوتا ہے[‘ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’یہ عورت کی اصل خوبی ہے کہ وہ بے شرم اور بے باک نہ ہو بلکہ نظر میں حیا رکھتی ہو۔ اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کے درمیان عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے ان کے حسن و جمال کی نہیں بلکہ ان کی حیا داری اور عفت مآبی کی تعریف فرمائی ہے۔ حسین عورتیں تو مخلوط کلبوں‘ فلمی نگار خانوں میں بھی جمع ہو جاتی ہیں‘ اور حسن کے مقابلوں میں تو چھانٹ چھانٹ کر ایک سے ایک حسین عورت لائی جاتی ہے‘ مگر صرف ایک بدذوق اور بدقوارہ آدمی ہی ان سے دل چسپی لے سکتا ہے‘‘۔ (تفہیم القرآن‘ج ۵‘ ص ۲۶۸)
ان مطالبات کے ساتھ ہی مغرب کی فریب کاریوں کی شکار عورت کو اس حقیقت سے روشناس کرواتے ہیں‘ کہ مسلم معاشرے میں عورت کی کیا حیثیت ہو گی؟:’’مسلمان عورت دنیا اور دین میں مادی‘ عقلی اورروحانی حیثیات سے عزت اور ترقی کے ان بلند سے بلند مدارج تک پہنچ سکتی ہے جن تک مرد پہنچ سکتا ہے‘اور اس کا عورت ہونا کسی مرتبے میں بھی اس کی راہ میں حائل نہیں ہے۔ آج بیسیویں صدی میں بھی دنیا‘ اسلام سے بہت پیچھے ہے۔ افکار انسانی کا ارتقا اب بھی اس مقام تک نہیں پہنچا ہے جس پر اسلام پہنچا ہے۔ مغرب نے عورت کو جو کچھ دیا ہے عورت کی حیثیت سے نہیں دیا ہے بلکہ مرد بنا کر دیا ہے۔ عورت درحقیقت اب بھی اس کی نگاہ میں ویسی ہی ذلیل ہے جیسی پرانے دور جاہلیت میں تھی۔ گھر کی ملکہ‘ شوہر کی بیوی‘ بچوں کی ماں‘ ایک اصلی اور حقیقی عورت کے لیے اب بھی کوئی عزت نہیں۔ عزت اگر ہے تو اس ’مرد مؤنث‘ یا ’زن مذکر‘کے لیے‘ جو جسمانی حیثیت سے توعورت ہو مگر دماغی اور ذہنی حیثیت سے مرد ہو اور تمدن و معاشرت میں مرد ہی کے سے کام کرے۔ ظاہرہے کہ یہ انوثت کی عزت نہیں‘ رجولیت کی عزت ہے۔ پھر احساس پستی کی ذہنی الجھن (inferiority complex)کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ مغربی عورت مردانہ لباس فخر کے ساتھ پہنتی ہے‘ حالانکہ کوئی مرد زنانہ لباس پہن کر برسرعام آنے کا خیال بھی نہیں کر سکتا --- اسلامی تمدن عورت کو عورت اور مرد کو مرد رکھ کر دونوں سے الگ الگ وہی کام لیتا ہے جس کے لیے فطرت نے اسے بنایا ہے‘‘۔ (پردہ‘ ص ۲۵۶ -۲۵۷)
اس مسئلے کا مدلل جواب دیتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’اول یہ کہ دنیا میں جہاں بھی قانونی یک زوجی (legal monogamy) رائج کیا گیا ہے‘ وہاں غیر قانونی تعدد ازدواج (illegal polygamy) کو فروغ نصیب ہو کر رہا ہے۔ آپ کوئی مثال ایسی پیش نہیں کر سکتے کہ قانونی یک زوجی نے کہیں کسی بھی زمانے میں عملی یک زوجی کی شکل اختیار کی ہو۔ اس کے برعکس اس قانونی پابندی کا نتیجہ ہر جگہ یہی ہوا ہے کہ آدمی کی جائز بیوی تو صرف ایک ہوتی ہے‘ مگر حدود نکاح سے باہر وہ عورتوں کی غیر محدود تعداد سے عارضی اور مستقل‘ ہر طرح کے ناجائز تعلقات پیدا کرتا ہے جن کی کوئی ذمہ داری وہ قبول نہیں کرتا --- اب آپ کے سامنے اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آپ یک زوجی کو اختیار کریں یا تعدد ازدواج کو‘ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ قانونی تعدد ازدواج کو قبول فرماتے ہیں یا غیر قانونی تعدد ازدواج کو؟ اگر پہلی چیز آپ کو قبول نہیں ہے تو دوسری چیز آپ کو لازماً قبول کرنی پڑے گی اور اس کے ساتھ کنواری ماؤں اور حرامی بچوں کی اس روز افزوں تعداد کا بھی خیرمقدم کرنا ہو گا‘ جو قانونی یک زوجی پر عمل کرنے والے ملکوں کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ بن چکی ہے‘‘۔ (مسئلہ تعدد ازدواج‘ ص ۳۱)
دورِ حاضر میں باطل تہذیب کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ اس نے حقوق کی جنگ میں فرائض کو پیچھے دھکیل دیا۔ مسلمان عورت بھی اس فریب کا شکار ہے۔ عورت کو اس کے فرائض یاد دلاتے ہوئے مولانا مودودیؒ نے لکھا: ’’اﷲتعالیٰ جس طرز عمل سے عورتوں کو روکنا چاہتا ہے‘ وہ ان کا اپنے حسن کی نمایش کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکلنا ہے۔ وہ ان کو ہدایت فرماتا ہے کہ اپنے گھروں میں ٹک کر رہو‘ کیونکہ تمھارا اصل کام گھر میں ہے نہ کہ اس سے باہر …بن ٹھن کر نکلنا‘ چہرے اور جسم کے حسن کو زیب و زینت اور چست لباسوں سے نمایاں کرنا اور ناز و انداز سے چلنا‘ ایک مسلم معاشرے کی عورتوں کا کام نہیں ہے۔ یہ جاہلیت کے طور طریقے ہیں جو اسلام میں نہیں چل سکتے‘‘۔ (تفہمیم القرآن‘ ج ۴‘ ص ۹۱-۹۲)
آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مغربی تہذیب کبھی حقوق کے نام پر‘ کبھی ثقافت کے نام پر اور کبھی ترقی کے نام پر جس چیز کو باقاعدہ ہدف بنا کر زد پہنچاتی ہے وہ عورت کی حیا ہے‘ اس کی عفت و عصمت ہے۔ اسلامی کلچر اور مغربی کلچر میں اصل فرق حیا اور بے حیائی کا ہے۔ اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ سورئہ احزاب کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’اب ذرا سوچنے کی بات ہے کہ جو دین عورت کو غیر مرد سے بات کرتے ہوئے بھی لوچ دار انداز گفتگو اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا‘ اور اسے مردوں کے سامنے بلاضرورت آواز نکالنے سے بھی روکتا ہے۔ کیا وہ کبھی اس کو پسند کرسکتا ہے کہ عورت اسٹیج پر آ کر گائے‘ ناچے‘ تھرکے‘ بھاؤ بتائے اور ناز و نخرے دکھائے؟ کیا وہ اس کی اجازت دے سکتا ہے کہ ریڈیو پر عورت عاشقانہ گیت گائے اور سریلے نغموں کے ساتھ فحش مضامین سنا سنا کر لوگوں کے جذبات میں آگ لگائے؟ کیا وہ اسے جائز رکھ سکتا ہے کہ عورتیں ڈراموں میں کبھی کسی کی بیوی اور کبھی کسی کی معشوقہ کا پارٹ ادا کریں؟ یا ہوائی میزبان بنائی جائیں اور انھیں خاص طور پر مسافروں کا دل لبھانے کی تربیت دی جائے؟ یا کلبوں اور اجتماعی تقریبات اور مخلوط مجالس میں بن ٹھن کر آئیں اور مردوں سے خوب گھل مل کر بات چیت اور ہنسی مذاق کریں؟ یہ کلچر آخر کس قرآن سے برآمد کیا گیا ہے؟ خدا کا نازل کردہ قرآن تو سب کے سامنے ہے۔ اس میں کہیں اس کلچر کی گنجایش نظر آتی ہو تو اس مقام کی نشان دہی کر دی جائے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۸۹-۹۰)
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: ’’جو شخص اسلامی قانون کے مقاصد کو سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ عقلِ عام (common sense) بھی رکھتا ہے‘ اس کے لیے یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ عورتوں کو کھلے چہروں کے ساتھ باہر پھرنے کی عام اجازت دینا ان مقاصد کے بالکل خلاف ہے جن کو اسلام اس قدر اہمیت دے رہا ہے۔ ایک انسان کو جو چیز سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے‘ وہ اس کا چہرہ ہی تو ہے۔ انسان کی خلقی و پیدایشی زینت یا دوسرے الفاظ میں انسانی حسن کا سب سے بڑا مظہر چہرہ ہے۔ نگاہوں کو سب سے زیادہ وہی کھینچتا ہے۔ جذبات کو سب سے زیادہ وہی اپیل کرتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے نفسیات کے کسی گہرے علم کی ضرورت نہیں۔ خود اپنے دل کو ٹٹولیے‘ اپنی آنکھوں سے فتویٰ طلب کیجیے‘ اپنے نفسی تجربات کا جائزہ لیجیے --- اگر اصل مقصد اسی طوفان کو روکنا ہو تو --- اس سے زیادہ خلاف حکمت اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ اس کو روکنے کے لیے چھوٹے چھوٹے دروازوں پر تو کنڈیاں چڑھائی جائیں اور سب سے بڑے دروازے کو چوپٹ کھلا چھوڑ دیا جائے‘‘۔ (پردہ‘ ص ۳۲۵-۳۲۶)
اسلام کے نظام اخلاق میں فقہی احکامات کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ صرف مردوں سے نہیں‘ بلکہ عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے ان کے ضمیر کو جگاتے ہیں: ’’اسی فتنۂ نظر کا ایک شاخسانہ وہ بھی ہے جو عورت کے دل میں یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ اس کا حسن دیکھا جائے۔ یہ خواہش ہمیشہ جلی اور نمایاں ہی نہیں ہوتی‘ دل کے پردوں میں کہیں نہ کہیں نمایش حسن کا جذبہ چھپا ہوا ہوتا ہے اور وہی لباس کی زینت میں‘ بالوں کی آرایش میں‘ باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں اور ایسے ایسے خفیف جزئیات تک میں اپنا اثر ظاہر کرتا ہے جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ قرآن نے ان سب کے لیے ایک جامع اصطلاح تبرج جاہلیۃ استعمال کی ہے۔ ہر وہ زینت اور ہر وہ آرایش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لیے لذتِ نظر بننا ہو‘ تبرج جاہلیہ کی تعریف میں آ جاتی ہے۔ اگر برقع بھی اس غرض کے لیے خوب صورت اور خوش رنگ منتخب کیا جائے کہ نگاہیں اس سے لذت یاب ہوں تو یہ بھی تبرج جاہلیت ہے۔ اس کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ اس ]چیز[ کا تعلق عورت کے اپنے ضمیر سے ہے۔ اس کو خود ہی اپنے دل کا حساب لینا چاہیے کہ اس میں کہیں یہ ناپاک جذبہ تو چھپا ہوا نہیں ہے۔ اگر ہے تو وہ اس حکم خداوندی کی مخاطب ہے: وَلَا تَبَّرجْنَ تَبَرْجَ الْجَاھِلِیَّۃَ الْاُؤلٰی احزاب: ۲۳۔ (پردہ‘ ص ۲۶۶)
مولانا نے اس سوچ کو صحیح رخ دیا کہ اندھے مقلد بن کر رہنا خود اﷲ کی نظر میں بھی مطلوب نہیں‘ بلکہ دین کی حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ اچھی طرح جانچ کر پرکھ کر یہ فیصلہ کریں کہ اسے اپنی زندگی کے دین کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
فروری ۱۹۴۸ء کو لاہور میں خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ان نکات کی بھی نشان دہی کی جو مسلمان عورت کا طرز عمل ہونا چاہییں: ’’اس طرح سوچ سمجھ کر جو خواتین بطور خود اسلام کو اپنا دین بتائیں ان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے کرنے کا کام کیا ہے؟ آپ کا پہلا کام یہ ہے کہ اپنی زندگی کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں اور اپنے اندر سے جاہلیت کی ایک ایک چیز کو چن چن کر نکالیں۔ اپنے اندر یہ تمیز پیدا کریں کہ کیا چیزیں اسلام کی ہیں اور کیا چیزیں جاہلیت کی --- آپ کا دوسرا کام یہ ہے کہ گھر کی فضا کو درست کریں۔ اس فضا میں پرانی جاہلیت کی جو رسمیں چلی آرہی ہیں‘ ان کو بھی نکال باہر کریں اور نئے زمانے کی جاہلیت کے جو اثرات انگریزی دور میں ہمارے گھروں میں داخل ہو گئے ہیں‘ انھیں بھی خانہ بدر کریں --- آپ کا تیسرا کام یہ ہے کہ اپنے بچوں کو اسلامی طرز پر تربیت دیں --- نئی نسل کے لیے یہ سب کچھ ہمیں درکار ہے۔ پس وہ تمام عورتیں جو اسلام کو قبول کریں انھیں چاہیے کہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنی گودوں اور اپنے گھروں کو مسلمان بنائیں‘ تاکہ ان میں ایک مسلمان نسل پروان چڑھے --- آپ کا چوتھا کام یہ ہے کہ اپنے گھروں کے مردوں پر اثر ڈالیں۔ اپنے شوہروں‘ باپوں‘ بھائیوں اور بیٹیوں کو اسلام کی زندگی کی طرف بلائیں۔ عورتوں کو نہ معلوم یہ غلط فہمی کہاں سے ہو گئی ہے کہ وہ مردوں کو متاثر نہیں کر سکتیں۔ مسلمان عورت اگر کہنے لگے کہ اسے کالے صاحب لوگوں کا طرز زندگی مرغوب نہیں ہے بلکہ اسے اسلامی زندگی مرغوب ہے جس میں نماز ہو‘ پرہیزگاری اور حسن اخلاق ہو‘ خدا کا خوف اور اسلامی آداب و تہذیب کا لحاظ ہو‘ تو آپ کی آنکھوں کے سامنے مردوں کی زندگیاں بدلنے لگیں‘‘۔ (ایضًا ، جولائی ۱۹۴۸ئ)
اس ساری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ اسلامی تہذیب ہی عورت کو ساری عزتیں اور تمام حقوق دیتی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اسی حقیقت کو عورت پر واضح کیا‘ کہ موجودہ زمانے کی مخلوط سوسائٹی سے ہمارا اختلاف کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں‘ بلکہ ہم پوری بصیرت کے ساتھ انسانیت کی اور تہذیب و تمدن کی فلاح کو دیکھتے ہیں تو فیصلہ یہی سامنے آتا ہے کہ اس تباہ کن طرز معاشرت سے اجتناب کیا جائے۔
اس مضمون کا اختتام یہ سوال ہے جو مولانا مودودیؒ نے خواتین سے کیا: ’’اب یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے کہ آپ فرنگیت چاہتی ہیں یا اسلام؟ ان دونوں میں سے ایک ہی کا آپ کو انتخاب کرنا ہو گا۔ دونوں کو خلط ملط کرنے کا آپ کو حق نہیں ہے۔ اسلام چاہتی ہیں تو پورے اسلام کو لینا ہو گا اور اپنی پوری زندگی پر اسے حکمران بنانا ہو گا۔ کیونکہ وہ تو صاف کہتا ہے: اُدْخُلْوا فِی السِّلْمِ کَافَّۃً، تم پورے اندر آ جاؤ‘ اپنی زندگی کا کوئی ذرا سا حصہ بھی میری اطاعت سے مستثنیٰ نہ رکھو۔ اگر یہ کلی اطاعت منظور نہ ہو اور کچھ فرنگیت ہی کی طرف میلان ہو تو پھر مناسب یہی ہے کہ آپ دعواے اسلام کو ملتوی رکھیں اور جس راہ پر چلیں نام بھی اسی کا لیں۔ آدھا اسلام اور آدھا کفر نہ دنیا ہی میں کسی کام کی چیز ہے اور نہ آخرت ہی میں اس کے مفید ہونے کا امکان ہے‘‘۔ (ایضًا ، جولائی ۱۹۴۸ئ)
مولانا مودودی رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے دور میں دین کا تجدیدی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ انھوں نے دلائل سے ثابت کیا کہ عصر حاضر میں بھی اسلام ہی ایسا نظریۂ حیات ہے‘ جو نہ صرف قابل عمل ہے بلکہ انسانی فلاح و کامرانی کا ضامن ہے۔جس زمانے میں مولانا مرحوم نے دین کا یہ جامع تصور پیش کیا‘ اس زمانے میں وقت کے علما و صوفیا‘ اسلام کے اس تصور سے نا آشنا تھے اور اگر کچھ لوگ آشنا بھی تھے تو اس کے حق میں ایسے مضبوط دلائل نہیں رکھتے تھے کہ جدید ذہن کے شکوک و شبہات کو دور کر کے اسے مطمئن کر سکتے۔
مولانا مودودیؒ کا یہی وہ تجدیدی کام ہے جو ان کو اپنے عہد کی تمام دوسری دینی شخصیات سے ممتاز کر دیتا ہے۔ وہ اپنے عہد میں اسلام کی ایک علامت (symbol) بن چکے تھے‘ جنھوں نے عام ذہنوں میں پیدا ہونے والے ہر سوال کا تشفی بخش جواب دیا۔
مولانا سید سلیمان ندویؒ نے مولانا مودودی کے بارے میں بجا طور پر کہا تھا: اﷲ تعالیٰ نے اس دور پُرفتن میں ہمیں ایسا دماغ فراہم کر دیا ہے جس نے ہمیں اسلام پر مغرب کے حملوں کے جواب سے مستغنی کر دیا ہے۔ اسی طرح مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مولانا مودودیؒ کے بارے میں اپنی کتاب پرانے چراغ میں لکھا ہے: ’’واقعہ یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ نسل پر ذہنی و علمی طور پر مولانا مودودی نے گہرا اور نہایت وسیع اثر ڈالا ہے۔ انھوں نے اس نسل کی صدہا بے چین روحوں‘ ذہین اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اسلام کے قریب کرنے بلکہ اس کا گرویدہ بنانے اور ان کے دل و دماغ میں اسلام کا اعتماد و وقار بحال کرنے کی قابلِ قدر خدمت انجام دی ہے۔ جہاں تک اس تعلیم یافتہ اور ذہین (intellectual) طبقے کا تعلق ہے‘ اس اثر انگیزی میں (اس ربع یا نصف صدی میں) مشکل سے کوئی مسلمان مصنف و مفکر ان کا مقابل و ہمسر ملے گا‘‘۔
مولانا مودودیؒ سے لوگوں کے سوال و جواب کا سلسلہ کبھی تو زبانی طور پر رہتا اور کبھی یہ سلسلہ خط کتابت کی صورت میں ہوتا‘ جسے ماہنامہ ترجمان القرآن میں رسائل و مسائل کے مستقل عنوان کے تحت چھاپ دیا جاتا۔ یہ سلسلہ جوابات‘ اب رسائل و مسائل(پانچ حصے) کی صورت میں ہمارے پاس طبع شدہ کتابی شکل میں موجود ہے۔ خط کتابت سے کتابی صورت میں لاتے وقت اس کی مناسب اصلاح‘ ترمیم اور توضیح کی گئی ہے اور بعض مقامات پر اضافے بھی کیے گئے ہیں۔
مولانا مرحوم کی اس رسائل و مسائلسیریز پر نقد و تبصرہ کرنا میرا منصب نہیں۔ یہ کام راسخین فی العلم ہی کر سکتے ہیں۔ البتہ دین کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اس کتاب کے بارے میںایک مختصرمضمون میں چند معروضات ہی پیش کرپائوں گا:
رسائل و مسائلمیں سوال و جواب کا سلسلہ انسانی زندگی کے کم و بیش ہر شعبے پر محیط ہے۔ اس میں اعتقادی‘ علمی‘ فقہی‘ معاشی‘ تمدنی اور سیاسی‘ غرض ہر قسم کے ایسے مسائل آ گئے ہیں جو عام طور پر لوگوں کے ذہن میں کھٹکتے ہیں۔دراصل موجودہ زمانے کے ذہن کو اسلامی تعلیمات پر مطمئن کرنے کا جو سلیقہ اﷲ تعالیٰ نے مولانا مودودیؒ کو عطا فرمایا تھا وہ دوسرے کم ہی لوگوں کو نصیب ہوا ہے۔ یوں تو مولانا مرحوم کی یہ خداداد صلاحیت اور فضل و کمال ان کی تمام تصانیف میں نمایاں ہے لیکن رسائل و مسائلکے ان پانچ حصوں میں یہ چیز اور زیادہ اجاگر ہوئی ہے۔
بظاہر تو رسائل و مسائل سوالات اور جوابات کا ایک سلسلہ ہے‘ لیکن درحقیقت یہ اس اسلامی تحریکی لٹریچر کا ایک نہایت قیمتی حصہ ہے جو اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ ایک کُل کا جزو ہے اور اسے اسی حیثیت سے لیا جانا چاہیے ورنہ اس کی افادیت و اہمیت واضح نہ ہوگی۔ اس بارے میں مولانا خلیل احمد حامدی مرحوم نے بالکل بجا لکھا ہے: ’’رسائل و مسائل کتاب… درحقیقت اس ہمہ گیر جنگ کا ایک اجمالی خاکہ پیش کرتی ہے جس میں ]مولانامودودی[ نصف صدی سے زیادہ عرصے تک مشغول رہے ہیں۔ اس اجمالی خاکے سے قارئین اندازہ کر سکتے ہیں کہ مرحوم ایک مفتی کے انداز میں سوالات کا جواب دینے کے بجاے ایک معالج کے طرز پر سائل سے ہم کلام ہوتے ہیں اور سائل جس الجھن اور جس شکایت سے دوچار ہے‘ اپنے ناخن گرہ گشا سے اسے دور کر دیتے ہیں‘‘۔ (رسائل و مسائل‘ ح ۵‘ مقدمہ ‘ص ۴)
البتہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’جن مسائل میں مجھے تحقیق کا موقع نہیں ملتا‘ ان میں‘ میں امام ابو حنیفہؒ کی فقہ کی پیروی کرتا ہوں‘ کیونکہ اکثر مسائل میں‘ میں نے ان کے مسلک کو اپنے اصلی امام نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے قول و فعل کے زیادہ مطابق پایا ہے‘‘…مولانا مودودی حنفی طریقے سے نماز پڑھا کرتے تھے اور دوسرے مسلکوں کے اماموں کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز سمجھتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’میں خود حنفی طریقے پر نماز پڑھتا ہوں‘ مگر اہل حدیث‘ شافعی‘ مالکی‘ حنبلی سب کی نماز کو درست سمجھتا ہوں اور سب کے پیچھے پڑھ لیا کرتا ہوں‘‘۔ (رسائل و مسائل‘ ح ۲‘ ص ۳۵۱)
حیرت ہوتی ہے کہ اتنا مصروف شخص جو ایک منظم جماعت کی امارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھالے ہوئے ہے‘ جسے کبھی جیل میں بند کر دیا جاتا ہے‘جو روزانہ بیسیوں لوگوں سے عام ملاقاتیں بھی کرتا ہے‘ تصنیف و تالیف کا کام بھی کرتا ہے‘ وہ اتنے زیادہ سوالوں کے زبانی اور تحریری جوابات لکھنے کے لیے وقت کیسے نکال لیتا ہے!
اب ہم رسائل و مسائل میں سے نمونے کے چند سوالات و جوابات پیش کریں گے‘ جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ مولانا مودودی نے قرآن‘ حدیث‘ فقہ اور دوسرے علوم سے متعلق سوالوں کے کس عمدگی سے جوابات دیے ہیں۔
اعـتراض: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ ]یوسف ۱۲:۳[۔ ’اَلْقصَص‘یہاں مصدر کے طور پر استعمال نہیں ہوا ہے۔ مصدر عربی کے معروف قاعدے کے مطابق نکرہ آنا چاہیے۔ ’احسن القصص‘ ’احسن الحدیث‘ کی نوعیت کی ترکیب ہے اور’قصص‘ یہاں بمعنی ’مَقْصُوْص‘ استعمال ہوا ہے۔ لفظ کا یہ استعمال عربیت کے مطابق ہے۔ قَصَّ یَقُصُّ مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے اور قرآن میں یہ ہر جگہ مفعول ہی کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ بنابریں صحیح ترجمہ ہو گا: ’’ہم تمھیں بہترین سرگذشت سناتے ہیں‘‘۔ لسان العرب میں ’نَحْنُ نُبَیِّنُ لَکَ اَحْسَنَ الًبَیَانِ‘ کا فقرہ بھی اسی ترجمے کی تائید کرتا ہے۔ اس لیے کہ ’بیان‘ کا لفظ یہاں اسم کے طور پر استعمال ہوا ہے‘ مصدر کے طور پر استعمال نہیں ہوا‘‘۔
جـواب: تفہیم القرآن میں اس آیت کی ترجمانی ان الفاظ میں کی گئی ہے: ’’ہم بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کرتے ہیں‘‘۔ اگر اس آیت کا لفظی ترجمہ کیا جاتا تو عبارت یہ ہوتی کہ: ’’ہم تم سے بیان کرتے ہیں بہترین پیرائے میں بیان کرنا‘‘۔ لیکن یہ اردو زبان کے لیے ایک نامانوس اسلوب ہوتا‘ اس لیے ہم نے ’قصہ بیان کرنے‘ اور’بہترین پیرائے میں بیان کرنے‘ کے مفہومات کو اردو زبان کے محاورے کے مطابق ادا کیا ہے۔ اب قبل اس کے کہ اس پر قواعد زبان کے لحاظ سے بحث کی جائے‘ یہ دیکھ لینا چاہیے کہ اکابر اہلِ علم نے اس آیت کا کیا ترجمہ کیا ہے:
شاہ ولی اﷲ صاحبؒ: ’’ما قصہ خوانیم بر تو بہترین قصہ خواندن‘‘۔
شاہ رفیع الدین صاحبؒ: ’’ہم بیان کرتے ہیں اوپر تیرے بہت اچھی طرح بیان کرنا‘‘۔
شاہ عبدالقادر صاحبؒ: ’’ہم بیان کرتے ہیں تیرے پاس بہترین بیان‘‘۔
مولانا اشرف علی صاحبؒ: ’’ہم آپ سے ایک بڑا عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں‘‘۔
’’پہلے دونوں بزرگوں نے ٹھیک وہی کام کیا ہے جو آپ کے نزدیک غلط ہے‘ یعنی انھوں نے الْقَصَصَ کو مصدر کے معنی میں لے کر ’قصہ خواندن‘ اور ’بیان کرنا‘ اس کا ترجمہ کیا ہے۔ البتہ دوسرے بزرگوں نے اسے اسم قرار دے کر اس کا ترجمہ ’بیان‘ اور’قصہ‘ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عربی زبان میں دونوں تعبیرات کی گنجایش ہے۔ شاہ ولی اﷲ صاحبؒ اور شاہ رفیع الدین صاحبؒ کے بارے میں مشکل ہی سے کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ وہ عربی کے معروف قاعدوں سے ناواقف تھے۔
’’اب قواعد زبان کے لحاظ سے دیکھیے۔ زمخشریؒ کہتے ہیں کہ القصص مصدر بھی ہو سکتا ہے‘ اِقْتِصاص (قصہ بیان کرنے) کے معنی میں۔ اور فعل بمعنی مفعول بھی ہو سکتا ہے‘ جیسے الخبر سے مراد وہ بات ہے جس کی خبر دی گئی ہو۔ اور جائز ہے کہ مفعول کو مصدر کے نام سے موسوم کیا جائے‘ جیسے مخلوق کا نام خلق۔ اب اگر القصص کو مصدر کے معنی میں لیا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ نحن نقص علیک احسن الاقتصاص (ہم بیان کرتے ہیں تم سے بہترین بیان کرنا)۔ اور اگر القْصَصَ سے مَقْصوص (بیان کی ہوئی چیز) مراد ہو تو اس کے معنی ہوں گے: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ مَا یَقُصُّ مِنَ الْاَحَادِیْثِ(ہم بیان کرتے ہیں تم سے وہ چیز جو بہترین ہے ان باتوں میں سے جو بیان کی جاتی ہیں۔)
’’یہی بات امام رازی ؒنے بھی کہی ہے اور اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ اگر قَصَص کو اِقْتِصَاص کے معنی میں مصدر مانا جائے تو لفظ احسن جس خوبی کے لیے استعمال ہوا ہے وہ حسن بیان کی طرف راجع ہو گی نہ کہ قصے کی طرف‘ یعنی اس کا مطلب ہو گا بہترین طریقے بیان کرنا‘ نہ کہ بہترین قصہ۔ اور اگر قَصَص کو مَقْصُوْص (بیان کردہ بات) کے معنی میں لیا جائے تو یہ خوبی اُس قصے کی طرف ہو گی جو بیان کیا گیا ہے۔
علامہ آلوسیؒ نے قَصَص کو مصدر اور اقتصاص کا ہم معنی قرار دیتے ہوئے ایک نکتے کا اور اضافہ کیا ہے‘ اور وہ یہ ہے کہ اس جملے میں اَحْسَنَ الْقَصَص‘ نَقُصُّ کا مفعول نہیں ہے بلکہ اس کا مفعول محذوف ہے‘ اور وہ ہے اس سورت کا مضمون۔ اسی بناء پر ہم نے اُس محذوفِ مُقَدّرکو ’واقعات اور حقائق‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے‘‘۔ (رسائل و مسائل‘ ح ۵‘ ص ۹۶-۹۸)
’’اگر مکھی کسی پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے غوطہ دے کر نکالو‘ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا۔ (الجامع الصحیح‘ ج ۲‘ ص ۱۱۵)
اس کے جواب میں مولانا مودودیؒ نے فرمایا کہ: ’’اس مضمون کی روایات بخاری نے کتاب بدء الخلق اور کتاب الطب میں نقل کی ہیں‘ نیز ابن ماجہ‘ نسائی‘ ابوداؤد اور دارقطنی میں بھی یہ موجود ہیں۔ بعض شارحین نے اس حدیث کے الفاظ کو ٹھیک ان کے لغوی معنی میں لیا ہے اور اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ فی الواقع مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں اس کا تریاق پایا جاتا ہے۔ اس لیے جب یہ کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے ڈبو کر نکالا جائے۔٭
بعض نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم دراصل اس بے جا غرور کا علاج کرنا چاہتے تھے جس کی بنا پر بعض لوگ دودھ کے اس پیالے یا سالن کی اس پوری رکابی سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں جس میں مکھی گری ہو۔ اور پھر یا تو اسے پھینک دیتے ہیں‘ یا اپنے خادموں کو کھانے کے لیے دے دیتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کا غرور توڑنے کے لیے آپؐ نے فرمایا کہ مکھی اگر تمھارے کھانے میں گر جائے تو اسے ڈبو کر نکالو اور پھر اس کھانے کو کھاؤ۔ اس کے ایک پَر میں بیماری ہے‘ یعنی کبرو غرور کی بیماری جو اسے دیکھ کر تمھارے نفس میں پیدا ہوتی ہے‘ اور دوسرے پر میں اس کا تریاق‘ یعنی اس کبروغرور کا علاج جس کی وجہ سے تم ایسے کھانے کو پھینک دیتے ہو یا اپنے خادموں کو کھلاتے ہو۔ اس معنی کی تائید وہ احادیث بھی کرتی ہیں جن میں نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے برتن میں تھوڑا سا کھانا چھوڑ کر اُٹھ جانے کو ناپسند فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ اپنی رکابی کو صاف کر کے اٹھو۔ اس حکم کی وجہ بھی یہی ہے کہ جو شخص اس طرح برتن میں کچھ چھوڑ کر اٹھتا ہے ‘وہ گویا یہ چاہتا ہے کہ یا تو اس بقیہ کھانے کو پھینک دیا جائے یا اسے کوئی دوسرا کھائے‘‘۔(رسائل و مسائل‘ ح ۲‘ ص ۱۸‘ ۴۱-۴۳)
مولانا مودودیؒ نے سوال کا کچھ طنزیہ مگر نہایت معقول پُرسوز‘ مدلل اور ایمان پرور جواب لکھتے ہوئے فرمایا: ’’آپ نے جن بڑے بڑے ’’اماموں‘‘ کا نام لیا ہے مجھے ان میں سے کسی کی تقلید کا شرف حاصل نہیں ہے۔ میرے نزدیک مسلمانوں نے ہندستان میں ہندوؤں کو راضی کرنے کے لیے اگر گائے کی قربانی ترک کی‘ تو چاہے وہ کائناتی قیامت نہ آ جائے جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے‘ لیکن ہندستان کی حد تک اسلام پر واقعی قیامت تو ضرور آ جائے گی۔ افسوس یہ ہے کہ آپ لوگوں کا نقطۂ نظر اس مسئلے میں اسلام کے نقطۂ نظر کی عین ضد ہے۔ آپ کے نزدیک اہمیت صرف اس امر کی ہے کہ کسی طرح دو قوموں کے درمیان اختلاف و نزاع کے اسباب دور ہو جائیں‘ لیکن اسلام کے نزدیک اصل اہمیت یہ امر رکھتا ہے کہ توحید کا عقیدہ اختیار کرنے والوں کو شرک کے ہر ممکن خطرے سے بچایا جائے۔
’’جس ملک میں گائے کی پوجا نہ ہوتی ہو اور گائے کو معبودوں میں شامل نہ کیا گیا ہو اور اس کے تقدس کا عقیدہ بھی نہ پایا جاتا ہو‘ وہاں تو گائے کی قربانی محض ایک جائز فعل ہے جس کو اگر نہ کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن جہاں گائے معبود ہو اور تقدس کا مقام رکھتی ہو‘ وہاں تو گائے کی قربانی کا حکم ہے‘ جیسا کہ بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا۔ اگر ایسے ملک میں کچھ مدت تک مسلمان مصلحتاً گائے کی قربانی ترک کر دیں اور گائے کا گوشت بھی نہ کھائیں تو یہ یقینی خطرہ ہے کہ آگے چل کر اپنی ہمسایہ قوموں کے گاؤ پرستانہ عقائد سے وہ متاثر ہو جائیں گے‘ اور گائے کے تقدس کا اثر ان کے قلوب میں اسی طرح بیٹھ جائے گا جس طرح مصر کی گاؤ پرست آبادی میں رہتے ہوئے بنی اسرائیل کا حال ہوا تھا کہ’اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْعِجْلَ‘۔ پھر اس ماحول میں جو ہندو اسلام قبول کریں گے وہ چاہے اسلام کے اور دوسرے عقائد قبول کر لیں‘ لیکن گائے کی تقدیس ان کے اندر بدستور موجود رہے گی۔ اسی لیے ہندستان میں گائے کی قربانی کو میں واجب سمجھتا ہوں اور اس کے ساتھ میرے نزدیک کسی نو مسلم ہندو کا اسلام اس وقت تک معتبر نہیں ہے جب تک وہ کم از کم ایک مرتبہ گائے کا گوشت نہ کھا لے۔ اسی کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جس میں حضورؐ نے فرمایا کہ: ’’جس نے نماز پڑھی جیسی ہم پڑھتے ہیں‘ اور جس نے اسی قبلے کو اختیار کیا جو ہمارا ہے‘ اور جس نے ہمارا ذبیحہ کھایا‘ وہ ہم میں سے ہے‘‘۔یہ ’ہمارا ذبیحہ کھایا‘ دوسرے الفاظ میں یہ معنی رکھتا ہے کہ مسلمانوں میں شامل ہونے کے لیے ان اوہام و قیود اور بندشوں کا توڑنا بھی ضروری ہے جن کا جاہلیت کی حالت میں کوئی شخص پابند رہا ہو‘‘۔ (رسائل و مسائل‘ ح ۱‘ ص ۱۷۴ - ۱۷۶)
سوال: ’’میں ایک عرصے سے انگلستان میں مقیم ہوں۔ یہاں اہل فرنگ سے جب کبھی مذہب کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے‘ یہ لوگ اکثر سؤرکے گوشت کی بابت ضرور گفتگو کرتے ہیں‘ اور پوچھتے ہیں کہ اسلام میں اسے کیوں حرام کیا گیا ہے؟ میں اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں اور واضح کریں کہ قرآن کی رُو سے اس گوشت کی ممانعت کس بنا پر کی گئی ہے اور اس میں کیا حکمت ہے؟‘‘
جواب: ’’سؤر کے گوشت کو جس طرح قرآن میں منع کیا گیا ہے اسی طرح بائیبل (عہد نامۂ قدیم) میں بھی منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ یہودی آج بھی اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ عہد نامۂ جدید میں بھی خود حضرت عیسیٰؑ نے کہیں یہ نہیں کہا کہ بائیبل کا یہ قانون منسوخ کر دیا گیا ہے۔وہ سینٹ پال تھا جس نے عیسائیت کو مغربی اقوام میں پھیلانے کے لیے شریعت کی قیود توڑ ڈالیں اور جو کچھ خدا نے حرام کیا تھا اسے حلال کر دیا۔ خدا کی شریعت میں تو سؤر ہمیشہ حرام رہا ہے۔
’’جن چیزوں کی مضرت انسان اپنے تجربات سے خود جان لیتا ہے ان کے متعلق خدا کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا علم حاصل کرنے کے لیے انسان کے اپنے ذرائع علم کافی ہیں۔ اسی لیے خدا کی شریعت میں سنکھیا کی حرمت نہیں بیان کی گئی۔ مگر جن چیزوں کی مضرت جاننے کے ذرائع انسان کو حاصل نہیں ہیں‘ ان کے متعلق اﷲ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ ان سے پرہیز کرو۔ ہمارے لیے عقل مندی یہی ہے کہ ہم خدا پر بھروسا کر کے ان سے پرہیز کریں تاکہ ان کے نقصان سے بچے رہیں۔
’’حقیقت یہ ہے کہ غذاؤں کا اثر صرف انسان کے جسم ہی پر نہیں پڑتا‘ بلکہ اس کے اخلاق پر بھی پڑتا ہے۔ جسم پر پڑنے والے اثرات کو تو ہم اپنے تجرباتی علوم سے معلوم کر لیتے ہیں اور بہت کچھ کرچکے ہیں‘ مگر اخلاق پر غذاؤں کے جو اثرات پڑتے ہیں ان کا علم اِس وقت تک بھی انسان کو حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ خدا کی شریعت میں سؤر‘ مردار‘ خون اور درندوں کی حرمت اسی لیے بیان کی گئی ہے کہ انسانی اخلاق پر ان غذاؤں کا برا اثر پڑتا ہے۔ (رسائل و مسائل‘ ح ۵‘ ص۱۹۴ -۱۹۵)
سوال: ’’آج کل حکومت کی طرف سے امدادی قرضوں کے تمسکات جو انعامی بانڈز کی شکل میں جاری کیے گئے ہیں‘ ان میں شرکت کرنا اور ان پر متوقع انعام حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ قمار نہیں‘ کیونکہ ہر شخص کی قرض کی اصل رقم بہرحال محفوظ ہے جو بعد میں ملے گی۔ اس پر کوئی متعین شرح سے اضافہ بھی بانڈزہولڈر کو نہیں ملتا جسے سود قرار دیا جائے۔ براہِ کرم اس کاروبار کی شرعی حیثیت کو واضح کیا جائے‘ کیونکہ بہت سے لوگ اس معاملے میں خلجان کا شکار ہیں‘‘۔
جواب: ’’انعامی بانڈز کے معاملے میں صحیح صورت ِ واقعہ یہ ہے کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بانڈز بھی اسی نوعیت کے قرضے ہیں جو حکومت اپنے مختلف کاموں میں لگانے کے لیے لوگوں سے لیتی ہے اور ان پر سود ادا کرتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ہر وثیقہ دار کو اس کی دی ہوئی رقم پر فرداً فرداً سود دیا جاتا تھا‘ مگر اب جملہ رقم کا سود جمع کر کے اسے چند وثیقہ داروں کو بڑے بڑے ’انعامات‘ کی شکل میں دیا جاتا ہے‘ اور اس امر کا فیصلہ کہ یہ ’انعامات‘ کن کو دیے جائیں ‘ قرعہ اندازی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ پہلے ہر وثیقہ دار کو سُود کا لالچ دے کر اُس سے قرض لیا جاتا تھا۔ اب اس کے بجاے ہر ایک کو یہ لالچ دیا جاتا ہے کہ شاید ہزاروں روپے کا ’انعام‘ تیرے ہی نام نکل آئے‘ اس لیے قسمت آزمائی کرلے۔
’’یہ صورت واقعہ صاف بتاتی ہے کہ اس میں سود بھی ہے‘ اور روحِ قمار بھی۔ جو شخص یہ وثائق خریدتا ہے وہ اولاً: اپنا روپیہ جان بوجھ کر ایسے کام میں قرضے کے طور پر دیتا ہے جس میں سود لگایا جاتا ہے۔ ثانیاً: جس کے نام پر ’انعام‘ نکلتا ہے‘اُسے دراصل وہ سُود اکٹھا ہو کر ملتا ہے جو عام سودی معاملات میں فرداً فرداً ایک ایک وثیقہ دار کو دیا جاتا تھا۔ ثالثا:ً جو شخص بھی یہ وثیقے خریدتا ہے وہ مجرّد قرض نہیں دیتا بلکہ اس لالچ میں قرض دیتا ہے کہ اسے اصل سے زاید ’انعام‘ ملے گا۔ اور یہی لالچ دے کر قرض لینے والا اس کو قرض دینے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس لیے اس میں نیت سودی لین دین ہی کی ہوتی ہے۔ رابعاً: جمع شدہ سُود کی وہ رقم جو بصورت ’انعام‘ دی جاتی ہے‘ اس کا کسی وثیقہ دار کو ملنا اسی طریقے پر ہوتا ہے جس پر لاٹری میں لوگوں کے نام’انعامات‘ نکلا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ لاٹری میں انعام پانے والے کے سوا تمام باقی لوگوں کے ٹکٹوں کی رقم ماری جاتی ہے اور سب کے ٹکٹوں کا روپیہ ایک انعام دار کو مل جاتا ہے۔ لیکن یہاں انعام پانے والوں کے سوا باقی سب وثیقہ داروں کی اصل رقمِ قرض نہیں ماری جاتی بلکہ صرف وہ سود‘ جو سودی کاروبار کے عام قاعدے کے مطابق ہر دائن کو اس کی دی ہوئی رقم قرض پر ملا کرتا ہے‘ انھیں نہیں ملتا‘ بلکہ قرعے کے ذریعے سے نام نکل آنے کا اتفاقی حادثہ ان سب کے حصوں کا سُود ایک یا چند آدمیوں تک اس کے پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس بنا پر یہ بعینہٖ قمار تو نہیں ہے مگر اس میں روحِ قمار ضرور موجود ہے‘‘۔ (رسائل و مسائل‘ ح۳‘ ص ۳۳۴ - ۳۳۶)
یہ چند مثالیں‘ مولانا مودودیؒ کے اسلوبِ تفہیم کی تصویر ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں‘ جب کہ مولانا مودودیؒ کے اسلوبِ تحریر کا جوہر تو ان پانچوں حصوں کو پڑھنے کے بعد ہی سامنے آتا ہے۔
جنرل محمد یحییٰ خان نے ۲۵مارچ ۱۹۶۹ء کو ملک میں دوسرا مارشل لا نافذ کر کے صدر مملکت کا منصب سنبھا ل لیا اور ۲۸ مارچ ۱۹۷۰ء کو بلوچستان کو پہلی مرتبہ صوبے کا درجہ دیا۔ اس طرح وہ دیرینہ مطالبہ پورا ہوا جو تقسیم ہند سے قبل ۱۹۲۷ء میں پہلی مرتبہ اور اس کے بعد ۱۹۲۹ء میں اپنے ۱۴ نکات میں قائداعظم نے بلوچستان کو صوبے کا درجہ دینے کے لیے پیش کیا تھا، تاکہ ہندستان کے دوسرے صوبوں کی طرح یہاں بھی سیاسی اصلاحات نافذ کی جا سکیں، لیکن برطانوی حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔
متحدہ پاکستان کے آخری صدر جنرل محمد یحییٰ خان نے بالآخر قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے ۷ دسمبر اور پانچوں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے ۱۷ دسمبر ۱۹۷۰ء کی تاریخیں مقرر کر دیں۔
بلوچستان کی پہلی صوبائی اسمبلی کے ان انتخابات ]دسمبر ۱۹۷۰ئ[ میں نیشنل عوامی پارٹی کی صوبائی سطح کی سربرآوردہ شخصیات نے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی‘ جن میں سردار عطاء اللہ مینگل‘ نواب خیر بخش مری‘ میرگل خان نصیر‘ پرنس آغا عبدالکریم خان اور میر دوست محمد شامل تھے۔ تین نشستوں پر جمعیت علماے اسلام کے مولانا صالح محمد‘ مولانا سید شمس الدین اور مولانا سید حسن شاہ کامیاب ہوئے۔ پشتون خوا نیپ کے خان عبدالصمد خان اچکزئی‘ مسلم لیگ کے جام میر غلام قادر اور بی ایم ایم کے نواب غوث بخش رئیسانی نے ایک ایک نشست حاصل کی۔ باقی نو نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ خواتین کی واحد اکیسویں نشست پر بیگم فضیلہ عالیانی منتخب ہوئیں۔
بلوچستان کی پہلی منتخب صوبائی اسمبلی کا اجلاس ۲ مئی ۱۹۷۲ء کو منعقد ہوا۔ ملک کے عبوری دستور کے تحت بلوچستان کی پہلی مخلوط صوبائی حکومت نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علماے اسلام نے سردار عطاء اللہ مینگل کی وزارت اعلیٰ کے تحت تشکیل دی۔ یہ حکومت نوماہ اور ۱۱ دن قائم رہی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی وفاقی حکومت نے ایک سازش کے تحت ۱۳ فروری ۱۹۷۳ء کو غیر جمہوری طریقے سے اس منتخب صوبائی حکومت کو برطرف کر دیا۔ صوبائی اور مرکزی جماعت اسلامی نے اپنی جمہوری روایات کے عین مطابق اس برطرفی کے خلاف کوئٹہ سمیت پورے ملک میں صداے احتجاج بلند کی۔ جس کی پاداش میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر میاں طفیل محمد پر بغاوت کا مقدمہ قائم کرکے انھیں کوٹ لکھپت جیل بھجوا دیا گیا‘ کیونکہ انھوں نے لاہور میں عظیم الشان احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کی پہلی منتخب صوبائی اسمبلی کی برطرفی پر حکومت پر کڑی تنقید کی تھی۔
نیپ اور جمعیت کی مخلوط صوبائی حکومت نے اپنے نو ماہ کے مختصر دور حکومت میں بہت سارے ’’کارہاے نمایاں‘‘ انجام دیے۔ ان میں بلوچی زبان کے عربی رسم الخط کو رومن رسم الخط میں تبدیل کر کے بلوچوں کی آیندہ نسلوں کو ان کے قابل فخر اور شان دار ماضی سے کاٹ دینے کی سعی لا حاصل‘ کمیونزم کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کے لیے اشتراکی کتابوں کی نمایشوں اورسستی قیمت پر ان کی فراہمی کا اہتمام‘ روسی ثقافتی طائفے کو مدعو کر کے ان سے راگ رنگ‘ ناچ گانے‘ ثقافتی میلوں اور موسیقی کی محفلیں سجانا وغیرہ شامل تھا۔ جماعت اسلامی بلوچستان نے ان خرافات پر بھرپور تنقید کی۔ جس پر حکومت نے طیش میں آ کر جماعت اسلامی نوشکی کے صوبائی رہنما مولانا عبدالمجید مینگل کو ان کے دو ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے غائب کر دیا۔ اغوا کی اس حکومتی واردات پر جماعت اسلامی نے خان عبدالصمد خان اچکزئی کے ذریعے صوبائی اسمبلی میں سوال اٹھوایا تو معلوم ہوا کہ انھیں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ بھجوا دیا گیا ہے۔ کئی دوسرے محاذوں پر بھی جمہوری روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعت اسلامی بلوچستان صوبائی حکومت کے خلاف نبردآزما رہی ہے‘ جو صوبہ بلوچستان میں جماعت اسلامی کے سیاسی کردار کی ایک الگ داستان ہے۔ اس طویل پس منظر کے ساتھ ہماری گفتگو کا خاص محور اسی مخلوط صوبائی حکومت کا قائم کردہ ’بلوچستان قانون کمیشن‘ ہے‘ جو اس کا ایک سنجیدہ کام تھا‘ جسے اپنے مختصر دورِ حکومت میں اس نے انجام دیا۔
’بلوچستان قانون کمیشن‘ جسٹس فضل غنی خان کی سربراہی میں بٹھایا گیا تھا‘ جس کے ارکان میں قاضی محمد عیسیٰ خان بار ایٹ لا‘ حاجی محمد سرفراز خان ایڈووکیٹ‘ قاضی سعداللہ خان‘ مولوی محمد عمر‘ مولوی عبدالغفور‘ نواب عبدالقادرخان شاہوانی‘ نواب زادہ تیمور شاہ جوگیزئی‘ میر امیر الملک مینگل ایڈووکیٹ‘ میر محمد خان رئیسانی ایڈووکیٹ اور ذکاء اللہ لودھی ایڈووکیٹ شامل تھے‘ جب کہ محمد جعفر اور قاضی محمد عیسیٰ خان رکن مجلس شوریٰ قلات‘ کمیشن میں ریسرچ افسران کی حیثیت سے شامل تھے۔ آغا سید احمد شاہ اس کمیشن کے سیکرٹری تھے۔ اس کمیشن نے ۱۵ جولائی ۱۹۷۲ء کو ۳۴ سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ مرتب کر کے پورے صوبے میں مشتہر کرایا۔ علماے کرام‘ دانشوروں‘ قانون دانوں‘ سیاسی رہنمائوں اور خواص و عوام سے اس پر تجاویز اور مشورے طلب کیے۔ نیز یہ اعلان بھی کیا کہ اگر کوئی کمیشن کے روبرو پیش ہو کر بیان دینا چاہے تو اس کے متعلق کمیشن کو مطلع کیا جائے‘ تاکہ اس کے ضلع میں کمیشن کے دورے کے وقت اس کا بیان قلم بند کیا جا سکے۔ کوئٹہ کے علاوہ اس طرح کمیشن نے صوبے کے ضلعی مقامات پر جا کر بھی وفود سے ملاقاتیں کیں۔
برطانوی تسلط سے پہلے برعظیم ی طرح پورے بلوچستان میں بھی اسلامی شریعت صدیوں سے نافذالعمل تھی۔ شریعت کا قانون ہی ملک کا قانون (Law of Land) تھا۔ انگریزوں کی آمد کے بعد بلوچستان کا خطہ برٹش بلوچستان اور ریاستی بلوچستان میں منقسم کر دیا گیا۔ ریاستی بلوچستان میں قلات‘ خاران‘ مکران اورلسبیلہ کی ریاستیں شامل تھیں‘ جب کہ باقی علاقہ برٹش بلوچستان کہلاتا تھا۔ ریاستی بلوچستان میں انگریزوں نے صرف پرسنل لا کی حد تک جزوی عدالتی نظام قاضیوں کے ہاتھ میں رہنے دیا۔ برٹش بلوچستان میں کلی طور پر انگریزی قانون کی عمل داری تھی۔ بعض علاقوں میں رسم و رواج اور جرگے کے قوانین جاری کیے گئے۔ زیادہ سخت جان علاقوں پر اپنی انتظامیہ کی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے ایف سی آر جیسے استبدادی کالے قوانین نافذ کیے گئے۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی بلوچستان میں یہ مختلف قوانین نافذ العمل رہے ہیں۔
قانون کمیشن کا مقصد اگرچہ یہ تھا کہ صوبے میں دیوانی اور فوجداری عدالتوں کے نظام جو بیک وقت متعدد قوانین کے تحت چل رہے تھے‘ یکسانیت کیسے پیدا کی جائے اور موجود رائج الوقت عدالتی نظاموں کے عدالتی طریق کار کو یکساں‘ بہتر اور آسان بنانے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جائیں؟ کمیشن کے جاری کردہ سوال نامے میں موجودہ قوانین کی جگہ شرعی قوانین کے نفاذ سے کوئی بحث نہیں کی گئی۔ سوال نامے میں کسی ایسی تبدیلی کی خواہش کا تاثر بھی نہیں ملتا تھا جسے اسلام کے حق میں انقلابی رجحان کہا جا سکے‘ تاہم اس موقعے پر صوبے کے عوام اور خواص نے کمیشن سے نفاذ ِ شریعت کا مطالبہ کر کے اپنی اس دیرینہ آرزو کا ایک مرتبہ پھر بڑی گرم جوشی کے ساتھ اظہار کیا‘ جس کی بنیاد پر پاکستان عالم وجود میں آیا تھا۔ قانون کمیشن سے سے توقع نہ رکھتے ہوئے بھی کہ وہ شرعی قوانین کے نفاذ میں کوئی اقدام کرے گا‘ اس اقدام سے وہ اپنے احساسات کو ریکارڈ پر لانا چاہتے تھے۔
مولانا مودودیؒ کے افکار اور احیاے اسلام کی جدوجہد کے اثرات ملک کے دوسرے حصوں کی طرح بلوچستان پر بھی پڑے تھے‘ جس کی خاکستر میں احیائے شریعت کی چنگاری پہلے ہی سے موجود تھی جسے سید مودودیؒ کی منظم جدوجہد نے شعلۂ جوالہ بنا دیا تھا۔ بلوچستان میں اس مقصد کے لیے مختلف مواقع پر ان کی چھ مرتبہ آمدورفت نے قوم پرست اور سیکولر عناصر کی مزاحمت کے باوجود عوام کو اسلامی نظام کے قیام کے لیے اٹھا کھڑا کیا تھا‘ جس کا اعادہ ایک مرتبہ پھر ’بلوچستان قانون کمیشن‘ کے قیام کے موقع پر ظہور پذیر ہوا۔
’بلوچستان قانون کمیشن ‘کے سوال نامے کے جوابات مرتب کرنے کے لیے جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالعزیز مرحوم نے اپنی نگرانی میں جماعت کے ایک دیرینہ مخلص رفیق صفدر رشید ایڈووکیٹ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنا دی‘ جس میں عبدالمجید خان‘ حیات محمد قریشی‘ عبدالستار خان‘ مولانا عبدالحمید مینگل اور قیم صوبہ (یعنی راقم) شامل تھے۔ کمیٹی نے ۲۵ جولائی ۱۹۷۲ء سے کام شروع کر کے قانونی تشریحات کے ساتھ مفصل جوابات پر مشتمل ایک مسودہ تیار کر لیا‘ جسے صوبائی مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ ۱۳ تا ۱۵ اگست ۱۹۷۲ء میں براے منظوری پیش کیا ‘تاکہ اس مسودے میں کوئی قانونی سقم نہ رہ جائے۔ سوال نامے کے جوابات مرتب کرنے میں جو محنت اور ریاضت کی گئی وہ کارکنانِ جماعت اسلامی کا خاص امتیاز ہے جو بانی جماعت سید مودودی میں بدرجۂ اتم پایا جاتا تھا۔ اس حوالے سے جماعت کا کارکن کبھی بوڑھا نہیں ہوتا اور دمِ واپسیں تک ہر دم جواں اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں سرگرم عمل رہتا ہے۔ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَاَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ کی یہ بھی ایک تفسیر ہے۔
’بلوچستان قانون کمیشن‘ کا یہ سوال نامہ مولانا مودودیؒ کی خدمت میں اس خواہش کے ساتھ بھجوایا گیا‘ کہ وہ اس کے جو جوابات تحریر فرمائیں گے‘ وہ ایک مستند دستاویز کی صورت میں کمیشن کو پیش ہو گی۔ مولانا مودودیؒ کی جانب سے ایف سی آر‘ آرڈی ننس نمبر ا ‘اور نمبر۲ مجریہ ۱۹۶۸ء اور قاضیوں کی عدالتوں کے بارے میں قانونی معلومات کے ساتھ ساتھ قانونِ شہادت قلات اور ضابطۂ فوجداری قلاتکی قانونی کتب بھی طلب کی گئیں۔ مولانا مودودی نے ’بلوچستان قانون کمیشن‘ سے متعلقہ قانونی معلومات طلب فرمائیں‘ تاکہ وہ مطالعے کے بعد جوابات مرتب کرسکیں۔
مولانا مودودیؒ کی طرف سے طلب کردہ قانونی کتب اور مطلوبہ تشریحات‘ ۲۰ اگست ۱۹۷۲ء کو مرکز جماعت لاہور بھجوا دی گئیں۔ ایک ہفتے کے بعد ۲۷ اگست کو مولانا مودودی ؒکے مرتب کردہ جوابات کا مسودہ جو ٹائپ شدہ فل سکیپ کے سات صفحات پر مشتمل تھا‘ نائب قیم جماعت اسلامی پاکستان کو مکتوب گرامی ۲۶ اگست ۱۹۷۲ء کے ساتھ موصول ہو گیا۔ ا نھوں نے تحریر فرمایا:
جماعت اسلامی بلوچستان کے مرتب کردہ جوابات‘ تشریحی نوٹس‘ ضابطۂ فوجداری قلات اور قانونِ شہادت قلات موصول ہوئے تھے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے ’بلوچستان قانون کمیشن‘ کے سوال نامے میں درج سوالات کے جوابات مرتب فرما دیے ہیں۔ ان جوابات کی ایک فاضل نقل‘ مولانا محترم کے دستخطی خط بنام صدر کمیشن ارسال خدمت ہیں۔ زائد نقل جوابات مولانا محترم‘ آپ کی حسب خواہش ارسال ہے۔ آپ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ (خط محمد اسلم سلیمی بنام فضل الٰہی قریشی)
اس ہدایت کے مطابق مولانا مودودی ؒکے دستخطی خط بنام صدر قانون کمیشن کے ہمراہ اصل جوابات کو کمیشن‘ دفتر پہنچا دیا گیا۔
جماعت اسلامی بلوچستان کے مرتب کردہ سوالات پر‘ مولانا مودودی ؒکے مرتبہ جوابات کی روشنی میں نظرثانی کر کے اسے آخری شکل دے دی گئی اور اس کی کاپیاں اندرونِ صوبہ اور بیرون صوبہ علماے کرام‘ اہم شخصیات اور جماعتی حلقوں کو اس گزارش کے ساتھ بھجوائی گئیں‘ کہ وہ اس سے استفادہ کرکے قانون کمیشن کو اپنا جواب براہ راست ارسال کریں۔ جماعت اسلامی نے پورے صوبے کو اس حوالے سے متحرک کر کے یہ جواب نامہ بھی قانون کمیشن کو بروقت پہنچا دیاتھا۔
’بلوچستان قانون کمیشن‘ نے ۳۱ اگست ۱۹۷۲ء کو جماعت اسلامی بلوچستان کے وفد کو بالمشافہ گفتگو کے لیے بلوچستان صوبائی سیکرٹریٹ کوئٹہ کے لا سیکشن میں مدعو کیا تھا۔ مولانا عبدالعزیز کی سربراہی میں جماعت کے وفد نے کمیشن سے ملاقات کی۔ وفد میں عبدالمجید خان‘ حیات محمد قریشی‘ مولانا عبدالمجید مینگل‘ عبدالستار خان اور راقم شامل تھے۔ جسٹس فضل غنی کے ساتھ قانون کمیشن کے تمام ارکان موجود تھے۔ وفد نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے جواب نامے کا بھی ذکر کیا‘ جس پر جسٹس فضل غنی نے فرمایا: ’’میں نے خصوصی طور پر اسے پڑھا ہے‘‘۔ پھر انھوں نے وہ فائل منگوائی جس میں مولانا مودودی کے جوابات تھے۔ حاضرین سے مخاطب ہوئے اور کہا: ’’مولانا مودودی سے اختلاف توہو سکتا ہے لیکن ان کے تبحرِ علمی سے انکار نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ پھر انھوں نے اس کی تائیدمیں مولانا محترم کے جوابات میں سے کچھ حصے پڑھ کر سنائے جس پر حاضرین نے صاد کیا۔
بلوچستان کی معروف شخصیت قاضی محمد عیسیٰ بار ایٹ لا‘ ۱۹۴۵ء میں مسلم لیگ بلوچستان کی تشکیل کے موقع پر اس کے پہلے صوبائی صدر منتخب ہوئے تھے اور جنھوں نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا‘ بحیثیت رکن قانون کمیشن وہاں موجود تھے‘ وہ گویا ہوئے ’’۱۰ مارچ ۱۹۶۹ء کو راولپنڈی میں جنرل محمد ایوب خان کے ساتھ حزب اختلاف کے جو تاریخی مذاکرات ہوئے تھے‘ وہاں میں نے پہلی مرتبہ مولانا مودودی کو سنا۔ ان کا انداز سب سے منفرد تھا۔ میں نے اس وقت محسوس کیا کہ ایک عالمِ دین کو حالات کی رفتار ا ور اس کی نبض پر پورے شعور اور ادراک کے ساتھ کس قدر گرفت حاصل ہے۔ انھوں نے اپنے مختصر خطاب میں پوری جامعیت کے ساتھ وہ سب کچھ سمو دیا تھا جو اس وقت کی متحدہ اپوزیشن کا نقطۂ نظر تھا۔ میں ان کی شخصیت‘ خلوص اور عالمانہ تقریر سے بے حد متاثر ہوا تھا‘‘۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒکی جانب سے ’بلوچستان قانون کمیشن‘ کے سوال نامے کا جواب درحقیقت وہی صداے بازگشت ہے‘ جو تاریخ پاکستان کے نشیب و فراز کے ہر موڑ پر سید مودودیؒ کی اسلام کو بطور ایک نظام زندگی کے پیش کرنے کی تجدیدی کاوش اور اسلامی شریعت کے ہر شعبۂ زندگی میں عملی نفاذ کی طویل جدوجہد میںواضح طور پر سنائی دیتی ہے۔ انھیں یقین تھا کہ پاکستان کو خالصتاً ایک اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی مملکت کا حقیقی نمونہ بنا کر دنیاے انسانیت کو اسلام کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے اور تمام موجودہ نظام ہاے حیات پر اسلام کی فوقیت اور بالادستی کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔
ملک اور بلوچستان کے حوالے سے تاریخی شواہد کی روشنی میںاس تمہید ِ طولانی کے بعد‘ آگے ’بلوچستان قانون کمیشن‘ کا سوال نامہ اور اس کے بعد مولانا مودودیؒ کے جوابات پیش کیے جا رہے ہیں۔
l ۱- کیا صوبہ بلوچستان میں عدالت ہاے عالیہ ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کو ہر قسم کے مقدمات کی سماعت کا اختیار دیا جائے یا نہ؟ l ۲- اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو وجوہات کیا ہیں اور متبادل عدالت ہا اور کون سا طریق کار آپ تجویز کریں گے؟ l۳- کیا ایف سی آر تمام صوبے میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے یا اس کو منسوخ کیا جائے‘ اگر نافذ کیا جائے تو وجوہات تحریر فرمائیں؟ الف- اگر آپ جرگہ کا قانون چاہتے ہیں‘ تو جرگہ ممبران کی قابلیت و صلاحیت کیا ہوں؟ تعداد کتنی ہو‘ ان کی نامزدگی کتنے عرصے کے لیے ہو اور ان کو مقرر کرنے کا اختیار کسے حاصل ہو؟ ب- جرگہ کے عدالتوں کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے آپ کون سی عدالت تجویز کریں گے؟ l ۴- کیا آرڈی ننس نمبر۱‘اور نمبر۲ مجریہ ۱۹۶۸ء کو تمام صوبے میںیکساں طور پر نافذ کیا جائے یا منسوخ کیا جائے؟نافذ کرنے کی صورت میں وجوہات بتائیں؟ l۵- کیا تمام مقدمات کی سماعت کے لیے صوبے میں قاضیوں کی عدالت ہا قائم کی جائیں اور ان عدالتوں کے فیصلے کی اپیل کے لیے مجلس شوریٰ مقرر کی جائے یا تمام صوبے میں عدالت ہا مجسٹریٹ (سول جج) و ڈسٹرکٹ جج قائم کی جائیں؟ الف- اگر آپ کی تجاویز قاضیوں کی عدالت کے حق میں ہے تو قاضی کی عدالت کا طریق کار کیا ہو اور قاضیوں کی علمی اہلیت کیا ہو؟ l۶- کیا تمام صوبے کی فوجداری عدالتوں کے لیے یکساں طور پر ضابطہ فوجداری پاکستان ۱۸۹۸ء نافذ کیا جائے یا ضابطہ فوجداری قلات تمام صوبے میں نافذ کیا جائے؟ الف- اگر ضابطہ فوجداری قلات تمام صوبے میں نافذ کیا جائے تو کیا آپ اس میں ترامیم پیش کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟ ب- کیا موجودہ ضابطہ فوجداری پاکستان میں کوئی ایسی ترمیم پیش کرنا پسند کریں گے جو اس صوبے کے اقتصادی و سماجی حالات کے مطابق ہو؟ l۷- کیا ضابطہ فوجداری میں مقرر کردہ قابل راضی نامہ جرائم کے علاوہ کوئی دیگر جرائم جو فی الحال ناقابل راضی نامہ ہیں کو قابل راضی نامہ بنایا جائے اور راضی نامہ کی شرائط کیاہوں؟ الف- کیا آپ موجودہ قابل راضی نامہ جرائم میں سے کچھ جرائم کو ناقابل راضی نامہ بنانا تجویز کریں گے؟ اگر ہاں‘ تو آپ کی تجاویز کیا ہیں؟ l۸-کیا جھوٹے فوجداری مقدمات میں مستغیث کے خلاف عدالت کو ہرجانہ دلانے کا اختیار ہو؟ اگر ہاں تو کس قدر؟ l۹۔ موجودہ مندرجہ ذیل کورٹ فیس کی شرح میں سے آپ کس کی سفارش کرتے ہیں: ۱- مرکزی حکومت کے قانون کورٹ فیس ۵ فی صد یا ۲- ایف سی آر کے قانون کورٹ فیس ۲روپے سیکڑہ یا ۳- صوبائی حکومت کے قانون کورٹ فیس سوا گیارہ فی صد۔ الف- اور مدعی کے لیے عدالت یا اپیل کے لیے دستورالعمل دیوانی قلات کے مطابق صرف ایک روپیہ ہو۔ اور اسی طرح مدعا علیہ کے لیے بصورت اپیل ایک مرتبہ کورٹ فیس دینا لازمی ہور اور بعد کی شرح ایک روپیہ ہو۔ l۱۰-شریعت کے مطابق کورٹ فیس کا قانون کیا ہونا چاہیے‘ اور اس بارے میں آپ کی تجاویز کیا ہیں؟ l۱۱- کیا عدالت عالیہ میں رٹ درخواست پر فیس موجودہ شرح بحساب ۱۰۰ روپیہ یا حسب سابق پانچ روپے ہو؟ l۱۲- کیا موجودہ قانون معیاد میں شرعی قوانین کی روشنی میں آپ کچھ ترامیم پیش کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو کن کن دفعات اور آرٹیکل کے متعلق؟ l۱۳-کیا صوبے میں تمام دیوانی اور فوجداری عدالتوںکے لیے قانون شہادت پاکستان مجریہ ۱۸۷۲ء یکساں طور پر لگایا جائے‘ یا قانون شہادت قلات کے تمام صوبے کی عدالتوں پر اطلاق ہو؟ آپ جس قانون کو پسند کریں اس میں کوئی ترمیم پیش کریں گے‘ اور وہ ترامیم کیا ہیں۔ تفصیل سے بتائیں؟ l ۱۴- صوبے کی عدالتوں میں کون سا قانون شہادت رائج کیا جائے‘ اس میں آپ کی تجاویز کیا ہیں؟ l۱۵- موجودہ عدالتوں کے طریق کار میں جو تاخیر ہوتی ہے اس کے تدارک و سدباب کے لیے آپ کیا تجاویز پیش کرتے ہیں؟ کیا عدالت کو فیصلہ کرنے کے لیے کوئی میعاد مقرر کی جا سکتی ہے؟ l ۱۶- کیا قاضی/ سول ججوں اور دیگر موجودہ عدالتوں کی تعداد و مقام کافی ہیں‘ یا ان کی تعداد بڑھائی جائے اور کن کن جگہوں پر ان کی ضرورت ہے؟ l ۱۷- کیا بلوچستان کے صوبے میں ہائی کورٹ کے موجودہ ایام کار کافی ہیں۔ اگر نہیں تو اس بارے میں آپ کی کیا تجاویز ہیں؟ l۱۸- ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے میں کیا کیا دقتیں درپیش ہیں‘ اوران کے ازالے کے لیے آپ کیا تجاویز پیش کرتے ہیں؟ l ۱۹- عائلی قوانین کے نفاذ کے بارے میں لوگوں کو کس قسم کی دقتیں درپیش ہیں‘ اور ان کے تدارک کے لیے آپ کی کیا تجاویز ہیں؟ l ۲۰- اس صوبے میں عدلیہ اور انتظامیہ کو علیحدہ علیحدہ کرنے میں آپ کی تجاویز کیا ہیں؟ l ۲۱- کیا موجودہ رواج کے مطابق مختلف مقدمات میںملوث عورتیں اور نابالغ بچوں کی سپردگی کا طریقہ سردار صاحبان و دیگر معتبران کے پاس درست ہے؟ اگر نہیں تو آپ کی کیا تجاویز ہیں؟ l۲۲-آپ موجودہ تفتیشی اداروں ا ور عدالتوں سے رشوت ستانی‘ بددیانتی‘ دروغ گوئی و تاخیر کو ختم کرنے کے لیے کیا تجاویز پیش کرتے ہیں؟ l ۲۳- کیا پولیس کی ضمنی جو دوران تفتیش تحریر کی جاتی ہے کو ملزم کو دیکھنے کا حق دیا جائے؟ اگر ہاں‘ تو کن شرائط پر؟ l ۲۴- کیا آپ کی رائے میں وہ حالات جن میں موجودہ جوڈیشل آفیسر کام کرتے ہیں (رہایش‘ تنخواہ‘ کام کرنے کی جگہ‘ لائبریری وغیرہ) ان کی کارکردگی پر اثرانداز ہوتے ہیں‘ اور کیا ان کی کارکردگی ان حالات کو بہتر بنا کر بہتر ہو سکتی ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا تجاویز ہیں؟ l ۲۵- تازہ قانونی اصلاحات مجریہ آرڈی ننس ۱۲‘ ۱۹۷۲ء کے خلاف آپ کی کیا شکایات ہیں اور ان کو رفع کرنے کے لیے آپ کیا تجاویز پیش کرتے ہیں؟ l۲۶-کیا آپ مقدمات کی سماعت میں جیوری سسٹم کو رائج کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو کس قسم کے مقدمات میں یہ سسٹم ہونا چاہیے اور جیوری کے ممبران کی قابلیت اور صلاحیت کس قسم کی ہو؟ ان کی تعداد کیا ہو؟ اور ان کے انتخاب کا کیا طریقہ ہو؟ l ۲۷- کیا آپ کی رائے میں خصوصی عدالتیں مثلاً انڈسٹریل کورٹ‘ ریونیو کورٹ‘ فیملی کورٹ و سپیشل کورٹ جاری رکھی جائیں‘ یا یہ کام عام عدالتیں سرانجام دیں‘ یا ان مختلف عدالتوں کے لیے خاص طور پر افسران جلیس مقرر کیے جائیں؟ اس صورت میں کیا آپ اس کے حق میںہیں کہ پنشن یافتہ جوڈیشل افسران کو ان عدالتوں کا افسر جلیس مقررکیا جائے؟ l ۲۸- سمنات کی تعمیل میں جو تاخیر ہوتی ہے اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کے تدارک کے لیے آپ کیا تجاویز پیش کرنا چاہتے ہیں؟ l۲۹- عدالت ہا دیوانی یا عدالت ہا قاضی سے فیصلہ ہونے کے بعد اجرا میں کیا کیا دشواریاں پیش آتی ہیں ا ور ان کے تدارک کے لیے آپ کیا تجاویز پیش کرتے ہیں؟ l ۳۰- کیا مقدمات دیوانی عدالت ہا قاضی میں براہ راست دائر کیے جائیں اور قاضی صاحب کو اجرا ڈگری کے کلی اختیارات دیے جائیں؟ اس بارے میں آپ کی تجاویز کیا ہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو قاضی صاحب کے اختیارات و عملہ کیا ہوں؟ l ۳۱- کیا آپ صوبے میں دیوانی و فوجداری موجودہ نظام کے سلسلے میں مزید اور کوئی تجاویز پیش کرنا چاہتے ہیں جو بلوچستان کے صوبے کی خصوصی قانونی ضروریات کے مطابق ہوں اور آپ کی رائے میں عدالتی نظام میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے مفید ہوں؟ l۳۲- مندرجہ بالا سوالات کے علاوہ کوئی اور تجویز جو آپ کی رائے میں بلو چستان میں نظام عدالت کو جلد‘ آسان‘ سستا و قابل عمل بنانے میں ممد و معاون ثابت ہوں؟ l۳۳- فوجداری مقدمات میں وکیل سرکار (پبلک پراسیکیوٹر) و دیگر پولیس افسر جو کام کرتے ہیں ان کی کارکردگی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ l ۳۴- کیا اس محکمے کو مزید موثر بنانے کے لیے آپ مزید کوئی اور تجاویز پیش کریں گے؟
۱- ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا اختیارِ سماعت (jurisdiction) بلوچستان کے تمام علاقوں تک وسیع کیا جائے‘ بالکل اسی طرح جس طرح پاکستان کے دوسرے علاقوں میں ہے۔ اگر صوبہ بلوچستان کے کچھ علاقے یا کچھ اقسام کے مقدمات پاکستان کے دوسرے علاقوں سے مختلف طور پر اس سے مستثنیٰ ہیں تویہ استثنا ختم کر دینا چاہیے‘ تاکہ بلوچستان کے تمام باشندوں کو اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کا اطمینان حاصل ہو سکے۔
۳- ایف سی آر کا تصور جس حکومت کے زمانے میں پیدا ہوا تھا وہ ایک بیرونی استعماری حکومت تھی‘ جس کے پیش نظر اس ملک کی آبادی کے زیادہ جان دار حصوں کو استبدادی قوانین کے ذریعے سے دبا کر رکھنا تھا۔ اس تصور کو اب پاکستان کی آزاد قومی حکومت میں ختم ہونا چاہیے اور اس قانون کا اطلاق ملک کے کسی بھی حصے میں نہ ہونا چاہیے۔ حقیقت میں اس پر لفظ ِ قانون کا اطلاق بھی نہیں ہوتا‘ بلکہ یہ انتظامیہ کے لامحدود اختیارات کی ایک دوسری شکل ہے۔ اسلام نے ایسے اختیارات نہ انتظامیہ کو دیے ہیں‘ نہ ایسے جرگوں کو دیے ہیں جو شریعت کے احکام سے نا واقف اور من مانی کارروائیوں کے عادی ہوتے ہیں۔
۴- آرڈی ننس نمبر۱‘ ۲ مجریہ ۱۹۶۸ء لاقانونی‘ قانون ہیں‘ اور پاکستان میں اس طرح کے آرڈی ننسوں کے ذریعے سے عدل و انصاف کی مٹی پلید کرنا نرم سے نرم الفاظ میں شرمناک ہے۔ ان دونوں آر ڈی ننسوں کا نفاذ صوبہ بلوچستان میں ختم کر دینا چاہیے اور اسی معروف قانونی طریق کار کو دیوانی اور فوجداری معاملات میں اختیار کرنا چاہیے‘ جو عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔
۵- لفظ ’قاضی‘ کا یہ تصور بنیادی طور پر غلط ہے کہ وہ جج یا مجسٹریٹ سے مختلف کوئی چیز ہے۔ اسلامی اصطلاح میں’قاضی‘ جج ہی کو کہتے ہیں۔ یہ ایک بدعت ہے کہ پرسنل لا کو جاری کرنے والے ’قاضی‘ ہوں اور عام قوانین پر فیصلہ کرنے والے جج یا مجسٹریٹ ہوں۔ یہ تصور بیرونی غیراسلامی تسلط کے بعد پیدا ہوا۔
بلوچستان کے بعض حصوں میں قاضیوں کی عدالتیں قائم رہی ہیں‘ وہ بھی نہ اسلام کے تصور کے مطابق ہیں اور نہ اسلامی معیار پر پوری اترتی ہیں۔ بلوچستان کی موجودہ حکومت کو پہلے یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ اسلامی شریعت کو محض ’پرسنل لا‘ تک محدود رکھنا چاہتی ہے یا قانون کے پورے دائرے پر وسیع کرنا چاہتی ہے؟ اگر پہلی صورت ہے تو میںاس کو اصولاً غلط سمجھتا ہوں۔ اس لیے اس کے بارے میں کوئی تجویز پیش نہیں کرنا چاہتا۔ البتہ اگر دوسری صورت ہے تو تمام معاملات میں شرعی قوانین نافذ کیے جائیں‘ ان کے مطابق فیصلہ کرنے والوں کو اسلامی اصطلاح کے مطابق ’قاضی‘ قرار دیا جائے۔ جج اور مجسٹریٹ کی اصطلاحیں چھوڑ دی جائیں کیونکہ ان سے انگریزی قانون کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اور ’قاضی‘ ایسے ہونے چاہییں جو شریعت کے قانون سے اچھی طرح واقف ہوں‘ باوقار اور پاکیزہ اخلاق کے لوگ ہوں۔ ان کو تنخواہیں اسی معیار کے مطابق دی جائیں جو ججوں اور مجسٹریٹوں کا معیار ہے۔ تمام معاملات میں مقدمات براہ راست ان کی عدالت میں پیش کیے جائیں اور ان کے فیصلے انھی کے حکم کے مطابق نافذ کیے جائیں۔ ان کے نفاذ اور عدم نفاذ کا فیصلہ کرنے میںانتظامیہ کاکوئی دخل نہ ہو۔
ان قاضیوں کے اوپر ہر ضلع میں ’صدر قاضی‘ اس طرح مقرر کیا جائے جس طرح ڈسٹرکٹ جج یا سیشن جج ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ماتحت قاضیوں کے فیصلوں کی اپیلیں کی جا سکیں۔ ’صدرقاضی‘ کی عدالت سے اوپر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی عدالتیں رہیں گی۔ انھیں لازماً اپیلوں کی سماعت میں بلوچستان کے شرعی قوانین کا لحاظ کرنا پڑے گا۔
۶- ضابطۂ فوجداری قلاتکی بہ نسبت ضابطۂ فوجداری پاکستان ۱۸۹۸ء زیادہ بہتر ہے‘ مگر اس میں شریعت کے مطابق ترمیمات ہونی ضروری ہیں‘ کیونکہ انصاف کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں اس ضابطے کی بدولت پیدا ہوتی ہیں۔ اسلامی فقہ کی مبسوط کتابوں میں ضابطے کی بہت سی تفصیلات موجود ہیں اور جن ملکوں میںاس وقت بھی اسلامی قانون کے مطابق عدالت کا نظام چل رہا ہے‘ ان کے طریق کار سے بھی بہت کچھ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ چونکہ یہ ایک تفصیلی بحث ہے اور سوال نامے کے جواب میں میرے لیے یہ [فوری طور پر] بتانا مشکل ہے کہ ضابطۂ فوجداری پاکستان میں اسلامی ضابطے کے مطابق کیا کیا ترمیمات ہونی چاہییں؟ اس لیے میں اس مسئلے کو عملی طور پر حل کرنے کے لیے تین تجویزیں پیش کرتا ہوں:
(۱) ’اسلامی مشاورتی کونسل‘ جسے چھ سال پہلے مرکزی حکومت نے قائم کیا تھا‘ اس سے دریافت کیا جائے کہ اس نے ضابطۂ فوجداری پاکستان اور اسلامی ضابطے کا تقابلی مطالعہ کر کے کچھ ترمیمات مرتب کی ہیں یا نہیں۔اگر کی ہیں تو وہ کیا ہیں؟
(۲) آپ کے کمیشن کے ساتھ کم از کم دو تین صاحب فتویٰ علما کو (جو جزئیات سے اچھی طرح واقف ہوں) شامل کیا جائے‘ اور وہ دونوں ضابطوں کا تقابلی مطالعہ کر کے ضروری ترمیمات مرتب کریں۔
(۳) افغانستان میں ’فقہ حنفی‘ کے مطابق اور سعودی عرب میں ’فقہ حنبلی‘ کے مطابق پورا عدالتی نظام چل رہا ہے۔ کمیشن کے دو تین اصحاب ان ملکوں میں جا کر دیکھیں کہ ان کے ہاں کیا ضابطہ جاری ہے۔ ہمارے ملک میں چونکہ اسلامی قانون ایک مدت سے جاری نہیں رہا ہے‘ اس لیے دونوں ضابطوں کا فرق اچھی طرح نہیں سمجھا جا سکتا‘ جب تک کہ اس ملک کے ضابطے سے اچھی طرح واقفیت رکھنے والے‘ ان ملکوں کے عدالتی طریقِ کار کا جائزہ نہ لیں‘ جہاں اسلامی قانون اب بھی عملاً نافذ ہے۔
۷- اس سوال کے صحیح جواب کے لیے بھی یہ جاننا ضروری ہے کہ اس قانون میں قابل راضی نامہ اور ناقابل راضی نامہ جرائم کون کون سے ہیں اور اسلامی قانون میں کون سے۔ اس کا تفصیلی جائزہ ایک ایسی کمیٹی ہی لے سکتی ہے‘ جس میں موجودہ قانون کے ماہرین کے ساتھ ساتھ اسلامی قانون کے بھی دو تین صاحب فتویٰ عالم شامل ہوں اور وہ ان کا تفصیلی جائزہ لیں۔ ایک نمایاں مثال دونوں قوانین کے فرق کی میں بتا سکتا ہوں‘ کہ زنا کا معاملہ بعض حالات میں موجودہ قانون کے اندر قابل راضی نامہ ہے‘ لیکن اسلام میں وہ کسی صورت میں بھی قابلِ راضی نامہ نہیں ہے۔ برعکس اس کے قتل کا معاملہ موجودہ قانون میں قابلِ راضی نامہ نہیں ہے اور اسلامی قانون اسے ایسی حالت میں قابلِ راضی نامہ قرار دیتا ہے ‘ جب کہ کسی دبائو کے بغیر مقتول کے وارث راضی نامہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس معاملے میں خود قرآن ہی کے احکام واضح ہیں۔
۸- یہ بات تو واضح ہے کہ جھوٹا مقدمہ دائر کرنا ایک جُرم ہے۔ مگر یہ جرم دو شکلوں میں روبہ عمل آتا ہے۔ ایک شکل یہ ہے کہ عام باشندوں میں سے کوئی شخص کسی شخص کے خلاف جھوٹا الزام لگا کر استغاثہ کرے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ پولیس بطور خود یا کسی کے ایما سے کسی پر جھوٹا مقدمہ قائم کرے۔ پہلی شکل میں لیجسلیچر (legislature) کو کسی مناسب جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دینی چاہیے ‘اور یہ بات عدالت پر چھوڑ دینی چاہیے کہ وہ جرم اور مجرم دونوں کی حالت کو نگاہ میں رکھ کر قانون کی تجویز کردہ حد کے اندر کوئی جرمانہ عائد کرے۔ دوسری شکل میں جھوٹے مقدمے میں کسی شخص کو پھانسنا بھی جرم ہونا چاہیے۔ اس جرم کی قانونی یا انتظامی سزا کیا ہو؟ میرے علم کی حد تک پہلی نوعیت کے جرم کی بہ نسبت دوسری نوعیت کا جرم زیادہ ہو رہا ہے اور اس پر کوئی بازپرس نہ ہونے یا براے نام ہونے کی وجہ سے یہ ظلم حد سے بڑھتا جا رہا ہے۔
۹- کورٹ فیس کا تصور ہمارے ملک میں انگریزی دور حکومت ہی میں پیدا ہوا ہے‘ ورنہ مسلمان اس سے بالکل ناآشنا تھے اور اسلام کی پوری قانونی تاریخ میں کبھی کورٹ فیس نہیں لگائی گئی ہے۔ لوگوں کے درمیان عدل کا انتظام کرنا ایک مسلمان حکومت کے بالکل ابتدائی فرائض میں سے ہے‘ اور کورٹ فیس لگانے کے معنی یہ ہیں کہ کسی شخص کو انصاف نہیں ملے گا جب تک وہ انصاف کی فیس ادا نہ کرے۔ البتہ جو شخص ناجائز طور پر کسی کا حق مارنے کے لیے یا کسی پر ظلم کرنے کے لیے ممکنہ انصاف سے رجوع کرتا ہے اور اس کا جھوٹ ثابت ہو جاتا ہے‘ اس پر جو بھاری سے بھاری جرمانہ ممکن ہو وہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سے جھوٹی شہادت دینے والوں یا کسی قسم کی جعل سازی کرنے والوں پر بھی جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
۱۰- اس سوال کا جواب بھی اوپر آ چکا ہے۔
۱۱- اس کا جواب بھی سوال نمبر۹ کے جواب میں آ چکا ہے۔
۱۲- اس سوال کا جواب وہی ہے‘ جو میں نے سوال نمبر۶ کے جواب میں لکھاہے۔ یہ ایک تفصیلی بحث ہے کہ موجودہ قانون میں جو معیادیں مقرر ہیں‘ وہ اسلامی قانون کے کس حد تک مطابق ہیں اور کس حد تک اس کے خلاف‘ اور ان میں کیا ترمیمات ہونی چاہییں۔ اس معاملے میں ’اسلامی مشاورتی کونسل‘ سے بھی دریافت کرنا چاہیے۔
دوسرے مسلم ممالک جہاں اسلامی قانون جاری ہے ان کے ضابطے کو بھی دیکھنا چاہیے‘ اور خود اس کمیٹی میں دو تین علما کو شامل کر کے تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ موجودہ قانونِ معیاد کس حد تک انصاف کے مطابق اور کس حد تک اس کے خلاف ہے اور شریعت کے مطابق اس میں کیا تبدیلیاں ہونی چاہییں۔
۱۳- قانونِ شہادت قلات کی بہ نسبت قانونِ شہادت پاکستانزیادہ بہتر ہے‘ لیکن اس میں بعض ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جس سے یہ ’اسلامی قانون شہادت‘ کے مطابق ہوجائے۔ اگرچہ موجودہ قانون بھی بنیادی طور پر ’اسلامی قانونِ شہادت‘ ہی سے ماخوذ ہے‘ لیکن اس میں متعدد چیزیں ایسی ہیں جو ’شرعی قانونِ شہادت‘ سے مطابقت نہیں رکھتیں اور انصاف کے بجاے بے انصافی میں مددگار ہوتی ہیں۔ اس غرض کے لیے دونوں قوانین کا تقابلی مطالعہ ضروری ہے‘ تاکہ جہاں جہاں فرق واقع ہوتا ہو اسے نوٹ کر لیا جائے اور اسلامی قانون کے مطابق تبدیل کر دیا جائے۔ اس بارے میں بھی میری تجویز وہی ہے‘ جو میں نے سوال نمبر۶ کے بارے میں پیش کی ہے۔
۱۴- اس کا جواب سوال نمبر۱۳ کے جواب میں آ گیا ہے۔
۱۵- تاخیر کے اسباب کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس کو بڑی حد تک انتظامیہ اور عدلیہ کی علیحدگی سے دور کیا جا سکتا ہے۔ ریاست حیدر آباد [دکن] نے ۱۹۲۱ء ہی میں انتظامیہ کو عدلیہ سے مکمل طور پر علیحدہ کر دیا تھا۔ وہاں کسی انتظامی عہدے دار کے سپرد کوئی عدالتی کام نہ تھا اور کسی حاکم عدالت کے سپرد کوئی انتظامی کام نہ تھا۔ میں چونکہ وہاں برسوں رہا ہوں‘ ا س لیے مجھے معلوم ہے کہ وہاں مقدمات کے فیصلوں میں اتنی تاخیر نہیں ہوتی تھی‘ جتنی ’برطانوی ہند‘ کی عدالتوں میں ہوا کرتی تھی۔
اس کے علاوہ تاخیر کے کچھ اسباب اخلاقی بھی ہیں: کسی شخص کو حاکمِ عدالت مقرر کرنے سے پہلے اس کی قانونی قابلیت دیکھنے کے ساتھ اگر اس کی اخلاقی پاکیزگی اور دیانت کے بارے میں بھی اطمینان کر لیا جائے ‘تو اس کا امکان نہیں رہتا کہ حاکم عدالت کسی نوعیت کے ناجائز اثر میں آ کر پیشیوں پرپیشیاں بڑھاتا چلا جائے‘ مظلوم کو تنگ کرے اور ظالم کی رسی دراز کرے۔ عدالتی انتظامیہ اور پولیس کا بھی مقدمات کو طول دینے میں اچھا خاصا دخل ہے۔ اس مرض کا علاج بھی ان لوگوں کی اخلاقی حالت درست کیے بغیر نہیں ہو سکتا‘ جو کسی نہ کسی طور پر انصاف کے انتظام سے وابستہ ہیں۔ اس امر کی نگرانی کا بھی جہاں تک مجھے علم ہے کوئی انتظام نہیں ہے کہ عدالتیں مقدمات کا فیصلہ کرنے میں کتنی دیر لگاتی ہیں۔ اگر کوئی ایسا انتظام کیا جائے کہ وقتاً فوقتاً یہ دیکھا جاتا رہے کہ مقدمات کے فیصلے میں کتنی تاخیر کی گئی ہے اور کس حد تک وہ ناگزیر تھی اور کس حد تک وہ بے جا تھی‘ اور بے جا تاخیر پر حاکمانِ عدالت سے باز پرس کی جائے تو اس خرابی کا کافی حد تک تدارک کیا جا سکتا ہے۔ محض روٹین (routine) کے طور پر عدالتوںکی کارگزاری کا جائزہ لینا اس معاملے میں کچھ مفید نہیں ہے۔ جہاںتک عدالت کے لیے فیصلہ کرنے کی معیاد مقرر کرنے کا تعلق ہے‘ میرے نزدیک یہ قابل عمل نہیں ہے کیونکہ اس کا بہت بڑی حد تک مقدمات کی نوعیت سے تعلق ہے۔ اگر عدالتوں پر نگرانی اور احتساب کا انتظام معقول ہو تو یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کس مقدمے کے فیصلے میں ناروا تاخیر ہوئی ہے اور کس کا فیصلہ معقول مدت کے اندر ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بھی تاخیر کے بہت سے اسباب ہیں‘ جن کا بہرحال قانون دان اصحاب آسانی سے جائزہ لے سکتے ہیں اور خود آپ کے معزز کمیشن میں ایسے اصحاب موجود ہیں۔
۱۶- میں بلوچستان کے حالات سے اتنی تفصیلی واقفیت نہیں رکھتا کہ اس معاملے میں کوئی رائے دے سکوں۔ بہرحال چونکہ بلوچستان کا رقبہ بہت وسیع ہے اور آبادی منتشر ہے‘ اس لیے عدالتیں ایسے مقامات پر قائم کی جانی چاہییں‘ جو انصاف طلب کرنے والوں کی دسترس سے بہت زیادہ دور نہ ہوں اور ایک ہی عدالت کو دیوانی‘ فوجداری اور پرسنل لا کے معاملات کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے‘ تاکہ انصاف طلب کرنے والے جگہ جگہ مارے مارے نہ پھریں۔ اس لحاظ سے آپ کا معزز کمیشن‘ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والے حاکمانِ عدالت اور وکلا سے مشورہ لے کر بہ آسانی تحقیق کر سکتا ہے کہ آپ کے صوبے میں عدالتیں کافی ہیں یا نہیں اور آیا وہ مناسب جگہوں پر ہیں یا نہیں۔
۱۷- اس معاملے میں میرے نزدیک تو مناسب یہ ہو گا کہ سندھ و بلوچستان ہائی کورٹ کے کم از کم دو ججوں کا ایک بنچ مستقل طور پر صوبہ بلوچستان میں رہے۔ یہ صورت اگر قابلِ عمل نہ ہو تو بلوچستان کے لیے ہائی کورٹ کے موجودہ ایام کار میں اضافہ کر دینا چاہیے۔
۱۸- بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے کی غریب آبادی کے لیے یہ بہت مشکل معلوم ہوتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اپنے مقدمات کی پیروی کے لیے لاہور کے (یا اگر سپریم کورٹ اسلام آباد منتقل ہو جائے تو اسلام آباد کے) چکر کاٹ سکے۔ اگر ایسا ہو سکے کہ جس طرح سپریم کورٹ کے اجلاس مشرقی پاکستان میں ہوتے رہے ہیں اور جس طرح کے انتظامات اب بھی کراچی میں ہیں‘ اسی طرح کا کوئی انتظام بلوچستان میں کر دیا جائے۔ اس معاملے میں صحیح رائے‘ سندھ و بلوچستان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان اور آپ کے کمیشن کے درمیان باہمی مشاورت ہی سے قائم کی جا سکتی ہیں۔
۱۹- مروجہ عائلی قوانین تواپنی بہت سی تفصیلات میں شریعت سے متصادم ہیں۔ اس لیے ان کو تو منسوخ کرنا چاہیے‘ لیکن ’محمڈن لا‘ کے نام سے جو عائلی قانون انگریزی حکومت میں رائج تھا وہ بھی بہت ناقص تھا۔ لہٰذا‘ یہ ضروری ہے کہ علما اور قانون دانوں کی ایک کمیٹی اسلام کے اصلی عائلی قانون کو پوری طرح مرتب کرے اور اس میں جدید زمانے کے قوانین کی طرح قانونی دفعات الگ اور فقہی کتابوں کی مدد سے ان کی تشریحات الگ درج کی جائیں‘ تاکہ عدالتیں ان کو صحیح طور پر مقدمات پر منطبق کر سکیں۔ جہاں تک عائلی عدالتوں کا تعلق ہے‘ ان کی علیحدہ کوئی ضرورت نہیں۔ عام عدالتیں ہی عائلی قوانین کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔
۲۰- عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی چونکہ مکمل طور پر سابق ریاست حیدر آباد [دکن] میں کر دی گئی تھی اور ۲۷ سال تک اس پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے‘ اس لیے ایسے لوگوں سے اس معاملے میں مشورہ لینا مفید ہو گا جو حیدر آباد کے نظامِ عدالت سے بطور حاکم عدالت یا بطور وکیل وابستہ رہے ہیں اور ایسے لوگ کراچی میں کثرت سے موجود ہیں۔
۲۱- لاہور میں اس غرض کے لے ایک ’دارالامان‘ قائم ہے اور عدالتیں ایسی عورتوں اور نابالغ بچوں کو اس کی تحویل میں دے دیا کرتی ہیں۔ اس طرح کا کوئی انتظام اگر بلوچستان میں بھی کر دیا جائے تو بہتر ہو گا۔ یہاں ’دارالامان‘ کا انتظام مکمل طور پر عورتوں ہی کے ہاتھ میں ہے اور آج تک کوئی شکایت ایسی سننے میں نہیں آئی کہ اس میں کوئی نامناسب صورت حال پیش آئی ہو۔ قابل اعتماد عورتیں اگر اسی طرح کے کسی ’دارالامان‘ کی منتظم ہوں تو امید ہے کہ بلوچستان میں بھی یہ طریقہ کامیاب ہو سکے گا۔
ایک یہ کہ‘ تفتیشی اداروں اور عدالتوں کے عملے اور افسروں کی اخلاقی تربیت کا انتظام کیا جائے۔ ان میں جب تک خدا کا خوف‘ آخرت کی جواب دہی کا احساس اور اسلامی اقدار کا احترام پیدا نہ ہو گا‘ ان خرابیوں کا کوئی مداوا نہ ہو سکے گا۔
دوسرے یہ کہ‘ کم تنخواہیں پانے والوں کے سپرد جب لوگوں کی جان‘ مال اور آبرو کے تحفظ کی ذمہ داری کر دی جائے تو وہ اپنے اختیارات سے ناجائز فوائد حاصل کرنے پر کچھ نہ کچھ مجبور بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے تنخواہوں پر نظرثانی بھی ضروری ہے۔
تیسرے یہ کہ‘ ان ضابطوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے‘ جن کے تحت یہ لوگ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔ ان ضابطوں میں جو نقائص بھی ہوں ان کو دُور کیا جائے‘ تاکہ اختیارات کے استعمال پر ضروری پابندیاں عائد کر دی جائیں اور پھر حکومت اس بات کی سختی سے نگرانی کرے کہ ضابطوں کے خلاف کوئی اختیار استعمال نہ کیا جائے۔
اور چوتھے یہ کہ‘ اختیارات کے ناجائز استعمال پر اور ناجائز فائدے اٹھانے پر سخت سزائیں دی جائیں‘ جس سے دوسرے لوگوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔
۲۳- اس معاملے میں مناسب یہ ہو گا کہ عدالتوں کو ’’ضمنی‘‘ لازماً دکھائی جائے‘ تاکہ وہ اس کو دیکھ کر یہ اطمینان کر سکیں کہ پولیس نے ساری کارروائی صحیح طریقے پر کی ہے۔ نیز ملزم کے وکیل کو بھی عدالت کی اجازت سے اسے دیکھنے کا حق دیا جائے۔ اس کے بغیر ان زیادتیوں کا سدباب نہیں ہو سکتا‘ جو پولیس اپنے فرائض کی ادایگی اور اپنے اختیارات کے استعمال میں کرتی ہے۔
۲۴- اس سوال کا جواب اثبات میںہے۔ حاکم عدالت کی کار کردگی پر یہ ساری چیزیں اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس کی سکونت کا انتظام معقول ہونا چاہیے‘ خواہ اس کے لیے سرکاری عمارت فراہم کی جائے یا اس کو سکونت کے لیے الگ معقول الائونس دیا جائے۔ عدالت کے لیے کام کرنے کی جگہ بھی اچھی اور عدالت کے وقار کے مطابق ہونی چاہیے۔ حاکمانِ عدالت کی تنخواہیں بھی معقول ہونی چاہییں‘ جس سے وہ بے لاگ طریقے سے انصاف کر سکیں اور ہر عدالت کے لیے قانونی کتابوں کا مناسب انتظام ہونا چاہیے۔
۲۵- آرڈی ننس نمبر۱۲ ‘ ۱۹۷۲ء کے متعلق جہاں تک مجھے معلوم ہے‘ وہ ایک بل کی صورت میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے‘ اس کے متعلق سردست کوئی اظہارِ رائے کرنا مشکل ہے۔
۲۶- جیوری سسٹم ہمارے ملک میں کامیاب ثابت نہیں ہوا ہے‘ بلکہ انصاف کے کام میں مددگار ہونے کے بجاے اس سے کچھ قباحتیں ہی رونما ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے میں یہ رائے نہیں دے سکتا کہ صوبہ بلوچستان کے نظام عدالت میں اس کو اختیار کیا جائے۔
۲۷- صوبہ بلوچستان کے حالات کو نگاہ میں رکھ کر یہ دیکھنا چاہیے کہ وہاں خصوصی عدالتوں کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کن کن خصوصی عدالتوں کی؟ میں چونکہ آپ کے صوبے سے متعلق اتنی تفصیلی معلومات نہیں رکھتا اس لیے نہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس طریقے کو جاری رکھنا چاہیے‘ نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ نہ جاری رکھنا چاہیے۔
۲۸- ’سمنوں‘ کی تعمیل میںرکاوٹیں جن وجوہ سے پیش آتی ہیں‘ ان کا جائزہ لے کر ان کو رفع کرنے کی ضرورت ہے۔ میری رائے میں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ’سمن‘ کی تعمیل کرانے کی ایجنسی کلی طور پر عدالتوں کے ہاتھ میں ہو۔ کسی دوسری ایجنسی پر اس کا انحصار نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ سمن تعمیل کرانے والے عملے کو مناسب سہولتیں بہم پہنچائی جائیں‘ اور تیسرے یہ کہ اس کام کے لیے دیانت دار آدمیوں کو مقرر کیا جائے اور ان کو معقول تنخواہ دی جائے تاکہ وہ دانستہ سمنوں کی تعمیل سے گریز نہ کریں۔
۲۹- عدالتوں کو اپنے احکام کے اجرا کے پورے اختیارات دیے جانے چاہییں۔ جہاں ان کا اجرا خود عدالت کے عملے کے ذریعے سے ہو سکتا ہو‘ وہاں اس کے لیے پورے قانونی اختیارات انھیں حاصل ہوں‘ اور جہاں حکومت کے انتظامی عملے کی کسی شاخ کے ذریعے سے ہی ان کا اجرا ممکن ہو‘ وہاں ان کے عدم اجرا کو قانوناً قابلِ گرفت قرار دینا چاہیے۔
۳۰- اس سوال کا جواب بڑی حد تک سوال نمبر۵ کے جواب میں آ چکا ہے۔ یہاں صرف اتنی بات کہہ دینا کافی ہے کہ: عدالت جو بھی ہو‘ اس کے پاس اپنے احکام کے اجرا کے پورے اختیارات ہونے چاہییں اور ایسی مناسب مشینری اس کے پاس ہونی چاہیے‘ جس سے وہ اپنے احکام کو جاری کر سکے۔ جو احکام عدالت کے اپنے عملے سے زائد کسی انتظامی مشینری کی مدد کے محتاج ہوں‘ ان احکام کے اجرا میں حکومت کی انتظامیہ کو از روے قانون تعاون پر مجبور کیا جانا چاہیے اور عدالت سے تعاون نہ کرنا قابل گرفت ہونا چاہیے۔
۳۱‘ ۳۲-سوالات ۳۱‘ ۳۲ کے سلسلے میں مجھے کوئی ایسی بات نہیں کہنی ہے‘ جو پہلے سوالات کے جوابات سے زائد ہو۔
۳۳‘ ۳۴- پراسیکیوشن( prosecution )کا کام پولیس کے کام سے بالکل مختلف ہے۔ اس کا کوئی حصہ پولیس سے متعلق نہیں ہونا چاہیے‘ کیونکہ جو prosecuting officer پولیس کے محکمے سے تعلق رکھتا ہو‘ وہ انصاف اور قانون کے بجاے پولیس کے نقطۂ نظر کی ترجمانی کرے گا۔ اس لیے پراسیکیوشن کے شعبے کو پولیس سے الگ ہونا چاہیے اور یہ ایک مستقل محکمہ ہونا چاہیے۔ اس میں تجربہ کار قانون دانوں کو ملازم رکھنا چاہیے۔ ان کی ملازمت مستقل ہو اور جس مرتبے کی عدالت کے لیے کوئی پراسیکیوٹر مقرر کیا جائے‘ اسی لحاظ سے اس کی تنخواہ کا بھی مناسب گریڈ مقرر کیا جائے۔
ابوالاعلیٰ
مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے ان خطوط میں سے بعض خطوط ان کے معاون خصوصی ملک غلام علی مرحوم کی طرف سے بھی ہیں۔ مولانا کے ایک قلمی تبصرے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض صورتوں میں ملک غلام علی مرحوم ‘مولانا مودودی کی تحریر کردہ عبارت کو من و عن ٹائپ کر کے اپنے دستخط سے ارسال کرتے تھے۔ البتہ بعض اوقات مولانا زبانی ہدایات دیتے تھے جنھیں ملک صاحب خط کے قالب میں ڈھال لیتے۔ چنانچہ ایسے خطوط کے آخر میں مولانا مودودیؒ کے دستخط سے یہ اضافہ ملتا ہے: ’’یہ جواب میری ہدایت کے مطابق ہے‘‘۔ (واللّٰہ اعلم)
(۱)
اچھرہ‘ لاہور
۲۴ ستمبر ‘ ۱۹۵۹ء
آپ کا عنایت نامہ ملا۔ آپ کا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ۱؎ سورہ روم کی آیت وما اتیتم من ربا… سے سب مفسرین نے عطایا اور ھدایا ہی مراد لیے ہیں۔ طبری نے جو اقوال اس کی تفسیر میں نقل کیے ہیں‘ ان سے تو بلاشبہہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں عطایا کا ذکر ہے‘ لیکن آلوسی نے اس کا ظاہر اور متبادر مفہوم جو پہلے نقل کیا ہے‘ وہ یہی ہے کہ ربا سے مراد وہی معروف اضافہ ہے‘ جسے شارع نے حرام قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ آیت بنوثقیف اور قریش کے بارے میں اتری ہے جو سودخوار تھے۔ اس کے بعد آلوسی نے دوسرا قول نقل کیا ہے کہ ۔۔۔۔ بھی اسی ترتیب سے دونوں قول بیان ہیں۔
جدید مترجمین میں سے شاہ عبدالحق اور عبداللہ یوسف علی کے علاوہ شاہ ولی اللہ صاحب‘ شاہ عبدالقادر صاحب اور شاہ رفیع الدین صاحب نے بھی ربا کا ترجمہ یہاں سود ہی کیا ہے۔ تاہم‘ اگر یہاں سود کا اضافہ محرمہ مراد نہ لیا جائے تب بھی وہ اشکالات پیدا نہیں ہوتے جو آپ نے بیان کیے ہیں۔ اس آیت کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم اپنا فاضل مال جو دوسروں کو اس غرض کے لیے عطا کرتے ہو‘ کہ وہ ان کے اموال میں مل کر بڑھوتری کا موجب ہو(اور اس اضافے میں سے تم کو بھی ملے) تو یہ درحقیقت اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ آیت ان عطایا پر بھی حاوی ہے‘ جن سے مقصد یہ ہو کہ لینے والا پھلے پھولے اور پھر ہمیں یہ مع شے زائد واپس کرے‘ نیز یہ آیت سودی لین دین اور بالخصوص تجارتی سود پر بھی چسپاں ہوتی ہے۔
اگر آپ اس تاویل کو سامنے رکھ کر اپنے اشکالات پر دوبارہ غور کریں گے تو وہ تینوں حل ہو جائیں گے اور کوئی الجھن باقی نہ رہے گی۔
یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔ خاکسار
(۲)
جناب کا عنایت نامہ مولانا مودودی کو بروقت مل گیا تھا‘ مگر افسوس ہے کہ علالت اور بعض دیگر وجوہ کی بنا پر وہ رسید جلد نہ بھجوا سکے‘ جس کے لیے وہ آپ سے معذرت خواہ ہیں۔
موضوع متعلق کے سلسلے میں آپ نے جو حوالے احادیث کے ارسال فرمائے ہیں‘ ان کے لیے وہ آپ کے شکرگزار ہیں۔ وہ ان شاء اللہ خود ان روایات کو دیکھیں گے اور اس کے بعد حسب ضرورت آپ سے مراسلت کریں گے۔۲؎
(۳)
آپ نے اپنے مضمون میں بڑی مفید معلومات جمع کر دی ہیں۔ البتہ آخری حصہ ایک حد تک ترمیم طلب یا وضاحت طلب محسوس ہوتا ہے۔ اس حصے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ چرچ کا سود کی حُرمت پر اصرار عملی زندگی کے حقائق سے ٹکراتا تھا‘ اس لیے آخرکار چرچ کو پسپا ہونا پڑا اور اس چیز کو روا ٹھیرانا پڑا جسے وہ بے جا طور پر ناروا قرار دے رہا تھا۔
دراصل چرچ کی دو کمزوریاں اس چیز کی موجب ہوئیں: ایک یہ کہ وہ کوئی ایسا متبادل مالی نظام نہ پیش کر سکا جو بڑھتی ہوئی معاشی ضروریات ‘سود کے بغیر پوری کرنے کے قابل ہوتا۔ دوسرے یہ کہ چرچ کے ارباب اقتدار خود بہت بڑی دولت کے مالک و متصرف بنے ہوئے تھے۔ ان کا ضمیر کچھ کہتا تھا اور ان کا مفاد کچھ اور چاہتا تھا۔
اس خط کے ساتھ مضمون واپس نہیں کیا جا رہا‘ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ کے پتے کے بارے میں کچھ اشتباہ ہوگیا ہے۔آپ نے اپنا پورا اسم گرامی تحریر نہیں فرمایا۔ اگر مضمون کی ضرورت ہو تو خط ملنے پر مطلع فرما دیں‘ ارسال کر دیا جائے گا۔ مکمل پتا بھی تحریر فرمائیں۔
(۴)
’’انعامی بانڈز کے معاملے میں صحیح صورت واقعہ یہ ہے کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بانڈز بھی اسی نوعیت کے قرضے ہیں‘ جو حکومت اپنے مختلف کاموں میں لگانے کے لیے لوگوں سے لیتی ہے اور ان پر سود ادا کرتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ہر وثیقہ دار کو اس کی دی ہوئی رقم پر فرداً فرداً سود دیا جاتا تھا‘ مگر اب جملہ رقم کا سود جمع کرکے اسے چند وثیقہ داروں کو بڑے بڑے انعامات کی شکل میں دیا جائے گا‘ اور اس امر کا فیصلہ کہ یہ’انعامات‘ کن کو دیے جائیں‘ قرعہ اندازی کے ذریعے سے کیا جائے گا۔ پہلے ہر وثیقہ دار کو سود کا لالچ دے کر اس سے قرض لیا جاتا تھا۔ اب اس کے بجاے ہر ایک کو یہ لالچ دیا جاتا ہے کہ شاید ہزاروں روپے کا ’انعام‘ تیرے ہی نام نکل آئے‘ اس لیے قسمت آزمائی کر لے۔
یہ صورت واقعہ صاف بتاتی ہے کہ اس میں سود بھی ہے ‘ اور روح قمار بھی۔ جو شخص یہ وثائق خریدتا ہے‘ وہ اولاً ،اپنا روپیہ جان بوجھ کر ایسے کام میں قرض کے طور پر دیتا ہے جس میں سود لگایا جاتا ہے۔ ثانیاً، جس کے نام پر ’’انعام‘‘نکلتا ہے ‘اسے دراصل وہ سود اکٹھا ہوکر ملتا ہے جو عام سودی معاملات میں فرداً فرداً ایک ایک وثیقہ دار کو دیا جاتا ہے۔ ثالثاً، جو بھی یہ وثیقے خریدتا ہے وہ مجرد قرض نہیں دیتا بلکہ اس لالچ میں قرض دیتا ہے کہ اسے اصل سے زائد ’’انعام‘‘ ملے گا۔ اور یہی لالچ دے کر قرض لینے والا اس کو قرض دینے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس لیے اس میں نیت ‘سودی لین دین ہی کی ہوتی ہے۔ رابعاً، جمع شدہ سود کی وہ رقم جو بصورت ’’انعام‘‘ دی جاتی ہے‘ اس کا کسی وثیقہ دار کو ملنا اسی طریقے پر ہوتا ہے جس پر لاٹری میں لوگوں کے نام ’’انعامات‘‘نکلا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ لاٹری میں انعام پانے والے کے سوا باقی تمام لوگوں کے ٹکٹوں کی رقم ماری جاتی ہے اور سب کے ٹکٹوں کا روپیہ ایک انعام دار کو مل جاتا ہے۔ لیکن یہاں انعام پانے والوں کے سوا باقی سب وثیقہ داروں کی اصل رقم قرض نہیں ماری جاتی‘ بلکہ صرف وہ سود‘ جو سودی کاروبار کے عام قاعدے کے مطابق ہر دائن کو اس کی دی ہوئی رقم قرض پر ملا کرتا ہے‘ انھیں نہیں ملتا‘ بلکہ قرعے کے ذریعے سے نام نکل آنے کا اتفاقی حادثہ ان سب کے حصوں کا سود ایک یا چند آدمیوں تک پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس بنا پر یہ بعینہٖ قمار تو نہیں ہے مگر اس میں روحِ قمار ضرور موجود ہے‘‘۔
(۵)
آپ کا خط بہت دنوں سے آیا رکھا تھا‘ اس کے ایک حصے کا جواب تو بھیج دیا گیا تھا‘ مگر بقیہ کا جواب دینے میں مصروفیت کی بنا پر غیرمعمولی تاخیر ہوگئی۔ اب ذرا فرصت پا کر مختصر جواب عرض کیا جا رہا ہے:
۱- کنز العمال کی منقولہ تین احادیث ایک اصول بیان کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں‘ اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حقیقی اور اہم دینی‘ اخلاقی‘ معاشی یا معاشرتی ضرورت کے لیے نیک نیتی کے ساتھ قرض لے‘ اور اچانک یا بحالت مجبوری‘ اس قرض کو ادا کیے بغیر مر جائے‘ جب کہ اس کی نیت اس قرض کو مار کھانے کی نہ تھی‘ اور وہ فی الواقع اسے ادا کرنے میں کوشاں یا اس کا خواہاں تھا‘ تو اللہ تعالیٰ اسے قرض مارنے والوں میں شامل نہ کرے گا‘ بلکہ اس کا قرض خود ادا کردے گا۔ یہ صرف ایک انفرادی اور استثنائی صورت حال سے متعلق ہے‘ اسے افراد یا اسٹیٹ بطور پالیسی کے اختیار نہیں کر سکتے۔
۲- نقد کی قیمت اُدھار کی قیمت سے مختلف رکھنے کی پوزیشن رعایت کی پوزیشن discount کی پوزیشن سے مختلف ہے۔ ایک بائع کو ہر وقت حق ہے کہ اپنے مال کی قیمت میں جس کے لیے جتنی چاہے کمی کر دے‘ یا لاگت سے بھی کم قیمت اس سے وصول کرے‘ یا اس کو مفت دے دے۔ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ بعض فقہا کے نزدیک تو نقد اور اُدھار قیمتوں کا فرق ہر حال میں ربا اور ممنوع ہے‘ لیکن اکثریت کا مسلک یہ ہے کہ یہ ممانعت صرف اس صورت میں ہے‘ جب کہ یہ امر قطعی طور پر طے نہ ہو کہ یہ چیز نقد بیچی جا رہی ہے یا اُدھار پر۔ لیکن جب معاملے کا نقد یا اُدھار ہونا طے اور واضح ہو تو قیمتوں کا تفاوت ممنوع نہیں۔
۳- حدیث میں جس ولایت اور ذمہ داری کا ذکر ہے‘ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخرت میں ولایت بھی مراد ہے‘ اور آنحضوؐر یا آپؐ کے جانشینوں کی طرف سے دنیوی ولایت بھی مراد ہے۔ اگر ایسے شخص کے وارث موجود نہ ہوں تو حکومت اس کا قرض ادا کرے گی اور اس کی میراث بھی لے گی۔
۴- قرعہ اندازی پر قمار کا اطلاق اس صورت میں ہوتا ہے‘ جب کہ بہت سے لوگوں کا مال یا حق چھن کر اتفاقاً کسی ایک شخص کو پہنچ جاتا ہو۔
۵- اس سوال کا جواب دینے کے لیے ایک لمبی بحث درکار ہے کہ یہودی اور عیسائی مذہب میں سود کی حُرمت میں عملاً ناکامی کے کیا اسباب ہیں۔ آپ اس کے لیے ان دونوں گروہوں کی تاریخ پڑھیں۔ یہودیوں کی سوشل ہسٹری اور پاپائیت کی تاریخ دونوں ان اسباب کو عیاں کر دیتی ہیں۔
(۶)
۱- شارع علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ لاربا الا فی النسیہ۔مزیدبرآں مطلق ربوٰ اور ربوٰ الفضل کی دو الگ الگ اصطلاحات بھی استعمال فرمائی ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ربوٰ اور ربوٰالفضل دونوں کی نوعیت میں مشابہت کے ساتھ ساتھ کچھ فرق ضرور ہے۔ یہ فرق اخاف علیکم الربوٰا کے ارشاد گرامی سے معلوم ہوتا ہے۔ اس ارشاد کا مدعا یہ ہے کہ ربوٰالفضل عین ربا تو نہیں‘ لیکن اس سے سود کا دروازہ کھل جاتا ہے اور اس کے ذریعے سے سود خواری کی چاٹ لگ جانے کا قوی خدشہ ہے۔ تفاضل سے سودخوارانہ ذہنیت پیدا ہونے کے خطرات کو اور ’سدباب ذریعہ‘ کے اصول پر اس کی حُرمت کو جب ایک یا دو مرتبہ بیان فرما دیا گیا تو اب ضروری نہیں تھا کہ ربوٰالفضلکے سارے معاملات میں اس علّت حُرمت کو دہرایا جاتا۔
۲- سوالات نمبر ۲ تا ۶ غالباً سود کے پرانے ایڈیشن کو پڑھ کر پیدا ہوتے ہیں۴؎۔ نئے ایڈیشن میں اس ساری بحث کو بدل کر ازسرنو تحریر کیا گیا ہے۔ اسے ملاحظہ فرمالیں۔
۳- مناجشہ اور استطالہ فی عرض المومن وغیرہ کو جس مفہوم میں ربا کہا گیا ہے‘ وہ بالکل ایک مجازی اور توسیعی مفہوم ہے۔ کتاب و سنت میں نرے قانونی دفعات بیان نہیں ہوئے اور نہ ہر مقام پر خالص اصطلاحی اور قانونی زبان استعمال کی گئی ہے۔ چنانچہ بہت سے الفاظ ایسے ہیں‘ جو ایک جگہ اپنے مخصوص اور محدود اصطلاحی معانی میں مستعمل ہیں لیکن دوسری جگہ جہاں اسلوبِ بیان قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور دعوتی ہے‘ وہاں وہی الفاظ وسیع تر معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ صدقہ کو لیجیے۔ اپنے خاص مفہوم کے اعتبار سے اس سے مراد محض مالی صدقہ واجبہ یا صدقہ نافلہ ہے۔ لیکن اس کارخیر کی تہہ میں صدق و صفا کی جواصل اسپرٹ کارفرما ہے‘ اس کا وسیع ترین تصور ذہن نشین کرانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رہ گزر سے کنکر پتھر ہٹانا بھی صدقہ ہے۔ خندہ پیشانی سے ملاقات بھی صدقہ ہے ‘ اہل و عیال کے لیے رزق حلال کی فراہمی بھی صدقہ ہے۔ حتیٰ کہ ایک شخص تنہا نماز پڑھ رہا تھا تو آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو اپنے اس بھائی پر صدقہ کرے؟مدعا یہ تھا کہ اس کے ساتھ نماز میں شامل ہو جائے تاکہ دونوں کی نماز باجماعت ہو جائے۔
زنا کو لیجیے؟ زنا کی قانونی تعریف جس پر دنیا میں حد جاری ہوتی ہے‘ وہ تو عین مباشرت فاحشہ ہے۔ لیکن حدیث میں آنکھوں اور کانوں کے زنا کا بھی ذکر ہے۔ شرک کو لیجیے‘ ایک تو جلی شرک ہے جس سے مراد اللہ کی ذات و صفات میں دوسروں کو شریک کرنا ہے‘ لیکن اس کے علاوہ شرک خفی کی بے شمار شکلیں ہیں‘ جو شارع نے بیان کی ہیں‘ حتیٰ کہ ریا کو بھی ’شرک اصغر‘ قرار دیا گیا ہے۔
ایک آدمی جیسے جیسے کتاب و سنت کے مطالعے میں وسعت پیدا کرتا جاتا ہے‘ وہ ایک طرف قانونی انداز کلام اور دوسری جانب تبلیغی اسلوبِ بیان سے روشناس ہوتا جاتا ہے‘ اور کسی اُلجھن یا التباس کا شکار ہونے کے بجاے اس کے ذہن پر اس حقیقت کا نقش ثبت ہوجاتا ہے کہ شریعت محض ہمارے ظاہر کو تابع قوانین نہیں بنانا چاہتی‘ بلکہ اخلاقی ہدایات کی وساطت سے ہمارے باطن کا تزکیہ اور تربیت بھی اس کے پیش نظر ہے۔
(۷)
(۱-۵) ان پانچ سوالات کا جواب اس سے پہلے خط میں دیا جا چکا ہے۔ امید ہے کہ وہ مل گیا ہوگا۔
(۶) اس سوال میں آپ نے جو روایات نقل کی ہیں‘ ان میں بعض نامکمل معلوم ہوتی ہیں (مثلاً الطعام بالطعام‘ مثلاً بمثل) اور ان کے الفاظ بھی صحیح طور پر نہیں پڑھے جا سکتے۔ آپ نے ان کے لیے کنزالعمال کا حوالہ دیا ہے۔ یہ ایک ضخیم کتاب ہے‘ جس کے بعض اجزا ہمارے پاس نہیں ہیں۔ مزیدبرآں یہ تصنیف اُمہات کتب میں سے نہیں ہے ‘بلکہ اس میں مختلف کتب حدیث سے ہر طرح کی روایات کو جمع کر دیا گیا ہے‘ اور صحت کے بجاے استیعاب کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اس لیے کنزالعمال کی احادیث پر استنباطِ احکام کی بنا رکھنا مخدوش ہے۔ اگر آپ تحقیق کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں اور اس کی نازک ذمہ داریوں سے پوری طرح عہدہ برآ ہونا چاہتے ہیں‘ تو آپ کو چاہیے کہ ان احادیث کو اصل کتابوں میں تلاش کریں (کنزالعمال کی ہرحدیث کے آخر میں بالعموم راوی اور کتاب کا حوالہ درج ہوتا ہے)۔ اصل کتابوں میں حدیث کے مل جانے پر روایتاً اور درایتاً سارے پہلوئوں کو اچھی طرح جانچا جا سکتا ہے‘ اور اس کے صحیح معانی و مفہوم متعین کرنے میں شروح سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ اپنی دوسری مصروفیتوں کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے یہ بڑا مشکل ہے کہ ہم کنزالعمال کی ایک ایک روایت کو پرکھنے کے لیے اتنی دُور تک جا سکیں۔
(۷) یہ بات صحیح ہے کہ فقہاے حنفیہ میں زوجین کے ایک دوسرے کو زکوٰۃ دینے کے بارے میں اختلاف ہے‘ لیکن اس معاملے میں دلائل کے اعتبار سے صحیح مسلک امام ابوحنیفہؒ ہی کا ہے۔ ظاہر ہے کہ بیوی سے زکوٰۃ لینے کے بعد خاوند غنی اور صاحب استطاعت ہوجائے گا اور بیوی کا نان و نفقہ چونکہ اس پر ہر حال میں واجب ہے‘ اس لیے وہ زکوٰۃ ہی کا مال نفقے کی صورت میں بیوی کو لوٹائے گا۔ اس طرح یہ اُلٹ پھیر بالکل مہمل بن کر رہ جائے گا۔ صاحبین نے اس معاملے میں حضرت ابن مسعودؓ والی اس روایت سے استدلال کیا ہے‘ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی اہلیہ زینب ؓ سے صدقہ لینا جائز قرار دیا ہے۔ لیکن جو روایت‘ صاحب ِ مبسوط نے نقل کی ہے‘ خود اس میں ’صدقہ‘ اور ’تصدق‘ کے الفاظ ہیں جو عام اور صدقہ نافلہ پر بھی حاوی ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ یہاں صدقہ سے بھی زکوٰۃ ہی مراد لی جائے۔
(۹) آج کل مختلف ممالک کے مابین تجارتی و اقتصادی حالات کا پورا لحاظ کیے بغیر‘ جو شروح مبادلہ مقرر کی جاتی ہیں‘ ان کو نباہنا بعض اوقات عملاً محال ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جو خلاف ورزی سرزد ہوتی ہے اسے خلافِ شریعت قرار دینا مشکل ہے۔ عہدنبویؐ اور بعد کے ادوار میں چونکہ درہم و دینار کی قیمت سونے چاندی کی بازاری قیمت سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی‘ اس لیے اس میں ’تفاضل ‘کے لیے کوئی بناے جواز نہ تھی۔
(۱۰) قرآن کی شانِ نزول کی طرح احادیث کے بارے میں بھی‘ خود احادیث و سیرت میں بہت سا مواد موجود ہے‘ جس سے احادیث کا زمانہ متعین کیا جا سکتا ہے۔ اسباب ورود حدیث کے موضوع پر مستقل تصانیف موجود ہیں۔ جس طرح علومِ قرآنی میں علمِ ناسخ و منسوخ ایک مستقل شعبہ ہے‘ اسی طرح کا ایک شعبہ علوم حدیث میں ہے۔ اگر آپ حدیث اور علمِ حدیث کا وسیع مطالعہ کریں گے‘ توآپ کو اس موضوع پر بڑا مواد ملے گا۔
(۱۱) المسلمون شرکا … فی الکلا والماء والنار والی حدیث کا آج کل کی مصنوعی محنت سے پیدا کردہ برقی قوت اور ایندھن کی کثیر مقدار پر منطبق کرنا صحیح نہیں۔ اس حدیث سے مراد تو وہ عام خود رو گھاس یا پانی ہے جو تھوڑی بہت مقدار میں افتادہ زمین یا شاملات دیہہ وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ اسی طرح ’آگ میں شرکت‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ نے چولھے میں آگ جلائی اور کسی ضرورت مند نے اسے تاپ لیا ‘یا اس سے چند کوئلے لے کر اپنی ضرورت پوری کرلی۔ اس حدیث سے ملک بھر کی روئیدگی‘ یا برقی قوت یا سوختنی اور سیال ذخائر کو ’’قومیانے‘‘ کا استدلال تو ایسا ہی ہے‘ جیسے بعض لوگ والارض وضعھا للانام سے زمین کو قومی ملکیت بنائے جانے کے حق میں استدلال کرتے ہیں۔
(۸)
آپ کا عنایت نامہ ملا۔ غِیْلہ کے سلسلے میں آپ نے جن احادیث کا حوالہ دیا ہے‘ ان کا مطلب صرف یہ ہے کہ زمانہ رضاعت میں لوگوں کو ضبطِ نفس سے کام لینا چاہیے‘ تاکہ دوبارہ جلدی حمل ٹھیرجانے سے بچے کی رضاعت نامکمل نہ رہ جائے۔ اس سے یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ ذہنی یا جسمانی حیثیت سے قوی اولاد پیدا کرنے کے اختیارات ہمیں تفویض کر دیے گئے ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ طاقت ور اور ذہین بچے پیدا کریں۔ یہ بات تو بداہتاً غلط ہے۔
آپ کے پہلے خط کا جواب ۲۴ اگست کو دیا جا چکا ہے۔
(۹)
آپ کا عنایت نامہ ملا۔ شیخ الزرقا کا مضمون میں نے دیکھا ہے۔ ان کے دلائل اور اخذ کردہ نتائج سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔۵؎
(۱۰)
آپ کا خط ملا۔ آپ نے اپنے استفسار میں لکھا ہے:’فقہا کا فیصلہ یہ ہے کہ مضاربت میں اگر عامل اپنا سرمایہ لگائے تو اس کا سارا نفع عامل کو ملے گا اور اس کے ساتھ ہی وہ رب المال کے سرمائے سے تجارت کر کے اس کے نفع سے بھی اپنا حصہ بٹائے گا‘۔ اس فتوے کو بنیاد بنا کر آپ نے بہت سے اشکالات و اعتراضات کرتے ہوئے ان کا حل طلب کیا ہے۔
یہ فیصلہ فقہا‘ بالخصوص فقہاے حنفیہ کے مسلک کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔ حنفی مسلک کی تفصیل اس معاملے میں یہ ہے کہ مضارب‘ رب المال کے روپے کو نہ کسی دوسرے کے سپرد بطور مضاربت کرسکتا ہے‘ نہ اس مال کے ساتھ کسی دوسرے سے شرکت کرسکتا ہے‘ اور نہ اس مال کو اپنے مال میں خلط ملط کرسکتا ہے۔ البتہ رب المال اگر مضارب کو اس طرح کے تصرفات کی خصوصی اجازت دے دے‘ یا یہ کہہ دے کہ تم اپنی رائے سے جس طرح چاہو اس کاروبار کو بڑھائو‘ تو ایسی صورت میں مضارب اپنا مال صاحبِ سرمایہ کے مال میں ملا سکتا ہے۔ یہ مذاہب اربعہ کا تقریباً متفق علیہ مسلک ہے۔
فقہاے حنفیہ نے مضارب پر مزید یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ وہ قرض دے کر یا لے کر مال مضاربت میں کمی بیشی نہ کرے اور کوئی ایسی کارروائی بھی نہ کرے جو فریقین کے لیے موجب ضرر ہو‘ یا جو مضاربت و تجارت کے معروفات کے خلاف ہو۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو غاصب ہوگا اور اس پر تاوان عائد ہوگا۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مضارب اگر اپنے مال کو ساتھ ملانا چاہے‘ تو اس کے لیے فریق ثانی کی اجازت لازم ہوگی۔ فریق ثانی اگر مناسب سمجھے گا تو مضارب کو اپنا مال شامل کرنے کی اجازت دے گا‘ ورنہ نہ دے گا۔ اس اجازت کے بعد مضارب کے مال کا نفع مضارب ہی کو ملے گا‘ اور کوئی معقول وجہ نہیں کہ اس کو نہ ملے۔ آپ کے بیان کردہ اشکالات کچھ زیادہ وزنی نہیں معلوم ہوتے۔ سرمائے میں اضافے سے منافع میں جو اضافہ بھی ہوتا ہے‘ اس میں فریقین کا سرمایہ مل جل کر کام کرتا ہے۔ اپنی مقدار کے مطابق ہر فریق کا سرمایہ نفع آور ثابت ہوتا ہے اور تناسب سے نفع دونوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد زیادہ سرمائے والے کو محض سرمائے کی زیادتی کے بل پر دوبارہ مالِ مضاربت کے نفع میں شریک ٹھیرانا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔
(۱۱)
آپ کا عنایت نامہ اور مضمون ملا۔۶؎ مجھے صحت کی کمزوری کے باوجود آج کل اتنے ضروری کام انجام دینے پڑ رہے ہیں‘ کہ میں کسی طرح آپ کا مضمون پڑھ کر اظہار رائے کرنے کے لیے کافی وقت نہیں نکال سکتا۔ اس قسم کے مضامین کو محض سرسری طور پر دیکھ کر رائے دے دینا صحیح نہیں ہے۔ اس کے لیے ناگزیر ہے‘ کہ میں خود بھی جہاں جہاں ضرورت محسوس ہو ازسرنو تحقیق کروں اور یہ محنت طلب کام ہے۔ اگر آپ نے نجات اللہ صدیقی صاحب کی کتاب شرکت و مضاربت کے شرعی اصول نہ دیکھی ہو تو براہِ کرم اسے ضرور دیکھ لیں۔
(۱۲)
۱- ہم پاکستان کی اراضی کو عشری سمجھتے ہیں۔ مال گزاری کا ذکر ہم نے اس لیے کیا ہے کہ سردست اس نظام کو تبدیل کرنے اور عُشرکا نظام رائج کرنے میں وقت لگے گا۔۷؎
۲- مجھے بالکل یاد نہیں کہ پروفیسر محمود احمدصاحب کے مضمون کے اس حصے پر میری ان سے کوئی گفتگو ہوئی تھی‘۸؎ بلکہ ان کی یہ تجویز تو آپ کے خط سے پہلی مرتبہ میرے علم میں آئی ہے۔ میں نے ان کے مضمون پر بحیثیت مجموعی اظہار پسندیدگی کیا تھا‘ نہ کہ اس کے ہر جز سے اتفاق ظاہر کیا تھا۔ میرے نزدیک غیر سودی بنکنگ کے بارے میں بہترین تجاویز وہ ہیں‘ جو نجات اللہ صدیقی صاحب نے اپنی کتاب میں بیان کی ہیں۔
(۱۳)
عنایت نامہ ملا۔ نجات اللہ صاحب کا مقالہ مل گیا تھا۔۹؎ میں آج کل بیماری کی وجہ سے بہت تھوڑا کام کرسکتا ہوں۔ اسی وجہ سے ابھی تک اس مقالے کو نہیں دیکھ سکا۔ اگر نجات اللہ صاحب کچھ اور انتظار کرسکتے ہوں تو میں کسی وقت موقع نکال کر اسے دیکھ لوں گا اور اگر انھیں جلدی ہو تو میں پھر اسے واپس بھیج دوں۔
مکتوب نگار نے کاروباری شراکت اور تجارت کے ضمن میں ’بیع سلم‘ اور اس کی مختلف شکلوں کے بارے میں استفسار کیا‘ جس کے جواب میں مولانا مودودی کی ہدایت پرملک غلام علی صاحب نے یہ جواب بھیجا:
آپ کا خط ملا۔ شریعت میں ’بیع سلم‘ کا مطلب یہ ہے کہ پوری قیمت پیشگی ادا کر دی جائے اور مال بعد میں وصول کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مال کی قیمت‘ مقدار‘ قسم اور وقت کی ادایگی کا تعین کرلیا جائے‘ تاکہ بعد میں جھگڑا نہ ہو۔ شریعت نے نرخ کے معاملے میں کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی کہ وہ اس وقت کا بازاری نرخ ہو جب سودا ہو رہا ہو یا اس سے کم و بیش ہو۔
اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو آپ کی بیان کردہ صورت ’بیع سلم‘ کی تعریف میں آسکتی ہے۔ لیکن بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ظاہری اور قانونی شکل میں جائز دکھائی دیتے ہیں‘ لیکن اپنے باطن اور ہیئت کے اعتبار سے دین کی روح اور مزاج کے خلاف ہوتے ہیں۔ کوئی شخص اگر ’بیع سلم‘ کے نام سے کسی ضرورت مند مقروض سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور ارزاں نرخ مقرر کرا لے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ آخرت میں اس کا معاملہ اس احکم الحاکمین کی عدالت میں پیش ہوگا‘ جو ظاہروباطن سب کچھ جانتا ہے۔ شریعت میں نقدا نقد فروخت پر منافع کی بھی کوئی حد مقرر نہیں‘ لیکن کوئی شخص اس عدم تحدید کی آڑ لے کر منافع خوری اور گراں فروشی کرے‘ تو بعید نہیں کہ اس سے بھی عنداللہ مواخذہ ہو۔
ادھار کے جن سودوں کا ذکر آپ نے کیا ہے‘ مناسب یہ ہے کہ ان میں نرخ ایسا مقرر کیا جائے جو موجودہ نرخ اور میعاد ادایگی کے متوقع نرخ کے بین بین ہو‘ تاکہ فریقین میں کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
(۱)
آپ کا عنایت نامہ ملا۔ اگرچہ ’مثال پیش کرنے‘ میں اردو زبان کے لحاظ سے وہ قباحت نہیں ہے جو آپ نے بیان کی ہے اور ’پیش کرنے‘ کا لفظ لازماً یہ معنی نہیںرکھتا کہ چھوٹے کی جانب سے بڑے کے سامنے ہی پیش کیا جائے۔ لیکن آپ کی معلومات کے لیے میں یہ بتانا کافی سمجھتا ہوں کہ میں نے ’اللہ مثال دیتا ہے‘ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ یہ رپورٹر کا اپنا کام تھا کہ اس نے روایت بالمعنی کرتے ہوئے میرے الفاظ کو ’مثال پیش کرنے‘ سے بدل دیا۔ ایشیا میں میرے درسوں کی جتنی بھی رپورٹیں شائع ہوتی ہیں‘ ان سب پر یہ الفاظ احتیاطاً لکھ دیے جاتے ہیں کہ ’’رپورٹنگ کی ذمہ داری ادارہ ایشیا پر ہے‘‘۔ اس کے باوجود اگر ہر درس کی رپورٹ پڑھ کر قارئین مجھ سے اس طرح کے سوالات کرنے لگیں جیسا ایک سوال آپ نے کیا ہے تو میرا اچھا خاصا وقت ان کی جواب دہی کرنے میں ہی صرف ہو جائے گا۔
(۲)
آپ کی کتاب وصول ہوگئی ہے‘ یہ خیرآبادی اسکول پر ایک قرض تھا جسے ادا کر کے آپ نے دوسروں کو سبک دوش فرما دیا۔ میں ان شاء اللہ اسے ضرور دیکھوں گا۔
(۳)
آپ کا عنایت نامہ ملا۔ جمعیت علما ہند کے اس اجلاس میں‘ میں شریک تھا‘ جس کا آپ نے ذکر فرمایا ہے۔ مگر مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ امام الہند کے انتخاب میں بعض اکابر علما مانع ہوئے اور یہ انتخاب نہ ہوسکا۔ تفصیلات مجھے یاد نہیں۔
مجھے جہاں تک یاد ہے یہ اجتماع لاہور میں ہوا تھا‘ نہ کہ دہلی میں۔ مولانا معین الدین مرحوم و مغفور سے مجھے کبھی نیاز حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی جس رائے کا ذکر پیر ہاشم جان مرحوم نے کیا ہے وہ انھوں نے الجمعیۃ میں میرے مضامین دیکھ کر کیا ہوگا۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ جمعیت علما ہند کی کسی مجلس میں وہ مجھ سے ملے ہوں‘ مگر تعارف نہ ہوا ہو۔
ایک مدت دراز کے بعد آپ کا عنایت نامہ پاکر دل کو بڑی خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس محبت و اخلاص کے لیے جزاے خیر دے کیونکہ یہ خالصتاً للہ ہے۔
یہاں جماعت کے حالات کے متعلق جو خبریں آپ لوگوں کو اخبارات کے ذریعے سے پہنچتی ہیں‘ وہ بے شک آپ لوگوں کے لیے سخت موجب اضطراب ہوتی ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ اخباری پروپیگنڈا ایک غلط اور مبالغہ آمیز تصویر پیش کرتا ہے۔ حقیقی صورت حال وہ نہیں ہے جو ان اخباروں کے ذریعے سے سامنے آتی ہے۔ جماعت کے ارکان اور متفقین یہاں پوری دلجمعی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور اُن باتوں سے غیرمتاثر ہیں جو الگ ہونے والے چند حضرات نے کی ہیں۔ پبلک میں جماعت کے اعتماد کو بھی یہ حضرات کوئی صدمہ نہیں پہنچا سکے ہیں‘ بلکہ خدا کے فضل و کرم سے اعتماد روز بروز بڑھ رہا ہے۔ جماعت کے اندر اور باہر بہت تھوڑے لوگ ہیں جن کے اندر انھوں نے کچھ تذبذب کی کیفیت پیدا کی ہے۔ لیکن ان شاء اللہ اس سے کوئی قابلِ لحاظ نقصان نہ ہوگا‘ بلکہ تجربہ بہت جلد ان کے تذبذب کو بھی رفع کر دے گا۔ آپ بالکل پریشان نہ ہوں اور جماعت کے لیے دعاے خیر فرماتے رہیں۔
وہاں سب رفقا واحباب کو میرا سلام پہنچا دیں۔ طفیل صاحب اور نعیم صاحب اور دوسرے رفقا ے مرکز کی طرف سے بھی سلام عرض ہے۔
میں ۱۳ اگست کو Allegheny کی فلائٹ نمبر ۴۵۸ پر‘ شام کو سوا سات بجے بفیلو سے روانہ ہو رہا ہوں۔ یہ پرواز ۸ بج کر ۱۸ منٹ پر کینیڈی ایرپورٹ پہنچتی ہے۔ ۱۴ اور ۱۵ کو میں نیویارک میں رہوں گا۔ اس دو روزہ قیام کے لیے جو کچھ پروگرام بنایا گیا تھا‘ وہ غالباً انیس صاحب کے ذریعے سے آپ کو معلوم ہوچکا ہوگا۔ غالباً مجیب قادری صاحب بھی اس سے واقف ہیں۔ کینیڈی ایرپورٹ پر میرے لیے وہیل چیر کا انتظام کر لیجیے گا۔
۱۶ کی صبح کو ۱۰ بجے ہمیںBOAC/Pan Amکے جہاز سے لندن روانہ ہونا ہے۔ آپ وہاں میرے اور میری اہلیہ کے لیے اس فلائٹ میں نشستیں محفوظ کرا دیں۔ ان کو یہ بھی کہہ دیں کہ میرے لیے نیویارک اور لندن میں وہیل چیر فراہم کرنا ہوگی‘ نیز غذا کے متعلق ان سے کہہ دیں کہ ہم ویجیٹیرین ڈائٹ لیں گے‘ جس میں کوئی حیوانی چربی شامل نہ ہو۔
مکرر: لندن کی جس فلائٹ کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے اس کے متعلق یٰسین صاحب نے اپنے خط میں BOAC/PAN AM ہی لکھا تھا ‘اس لیے میں نے اسی طرح لکھ دیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ ان دونوں کمپنیوں کی کوئی مشترکہ پرواز ہے یا کوئی اور صورت ہے۔ ممکن ہے کہ نیویارک میں پی آئی اے کے مینجر صاحب آپ کو کچھ بتا سکیں۔
(۲)
اس سے پہلے میں نے آپ کو اطلاع دی تھی کہ میں ۱۴ اگست کو بفیلو سے Allegheny کے جہاز پر روانہ ہوں گا‘ اور آپ ہی کے ذریعے سے میں نے سیراکیوز-نیویارک کا ٹکٹ تبدیل کرا کے‘ بفیلو-نیویارک کا ٹکٹ بنوایا تھا۔ مگر احمد فاروق کے لیے بفیلو میں مکان کا کوئی انتظام نہ ہو سکا اور ہسپتال کے جس مکان میں ہم مقیم تھے‘ وہ صرف ۲ اگست تک کے لیے ہمیں ملا ہوا تھا۔ اس لیے اب ہم پھر سیراکیوز واپس آگئے ہیں اور ہمارا پروگرام اس مجبوری کے باعث پھر تبدیل ہوگیا ہے۔
اب ہم ۱۴ اگست کو امریکن ایئرلائنز کے جہاز پر سیراکیوز سے نیویارک کے لیے روانہ ہوں گے۔ یہاں سے یہ جہازشام کو ۵ بج کر ۵۵ منٹ پر روانہ ہوگا اور ہم سات بجے سے پہلے ہی La Guardia ایرپورٹ پر پہنچ جائیں گے۔ دوسرے احباب کو بھی اس سے مطلع کر دیں۔ اور انیس صاحب اگر امریکا واپس آگئے ہوں‘ یا ۱۴ اگست سے پہلے آنے والے ہوں تو انھیں بھی ٹیلی فون سے اطلاع دے دیں۔
اگر کچھ احباب اس ہفتے کے اختتام پر آنا چاہتے ہوں تو وہ بفیلو کے بجاے سیراکیوز آئیں۔
(۳)
آپ کا خط مورخہ ۲ جنوری آج ملا۔ آپ نے میرے ساتھ جس خلوص و محبت کا اظہار کیا ہے‘ اس کے لیے شکرگزار ہوں۔ آپ کے ہاں لڑکے کی ولادت کی اطلاع پاکر بہت خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نومولود کو نیک اور سعادت مند بناکر پروان چڑھائے‘ آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور اسے اپنے دین کا خادم بنائے۔
اپنی اہلیہ محترمہ کو میری طرف سے اور میری اہلیہ کی طرف سے مبارک باد اور سلام پہنچا دیں۔ وہاں کے سب دوستوں کو بھی میری طرف سے سلام کہیں‘ نیزسب خواتین کو میری اہلیہ سلام کہتی ہیں۔
ڈاکٹر حفیظ انور بتاتے ہیں: میں جب ایف ایس سی (پری میڈیکل) کا طالب علم تھا‘ تب سورۃ الحج آیات ۲ تا ۷پر‘ مولانا مودودی کے لکھے ہوئے حاشیے پر اپنا اشکال پیش کیا تھا:’’زندگی صرف زندہ چیزوں سے ہی ممکن ہے۔ اس لیے زندگی بعد موت پر یہ استدلال: ’’ہر مردہ جڑ اپنی قبر سے جی اُٹھی اور ہر بے جان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کرگیا۔ (یہ احیاے اموات کا عمل ہے)(تفہیم القرآن‘ ج۲‘ ص ۲۰۵)‘‘۔ میری گزارش یہ تھی کہ :’’یہ Dormancy کی حالت ہے نہ کہdeath کی۔ اس پر مولانا محترم نے یہ جواب ارسال کیا:
آپ کا عنایت نامہ ملا۔ جس چیز کو آپ علم النبات کی اصطلاح میں Dormancy کی حالت کہتے ہیں‘ وہی حقیقت میں موت کی حالت ہے۔ قرآن کو آپ بغور پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ موت دراصل فنا اور عدم نہیں ہے‘ بلکہ وہی Dormancy کی حالت ہے‘ یعنی حیات کی ایک جڑ اُس کے بعد بھی باقی رہتی ہے‘ جو اس وقت تک ظہور سے محروم رہتی ہے جب تک اللہ تعالیٰ اس کے ظہور کے لیے سازگار حالات پیدا نہیں کر دیتا۔ پھر جونہی کہ اللہ کا حکم ہوتا ہے‘ اور اس کے ظہور میں آنے کے لیے سازگار حالات پیدا ہو جاتے ہیں‘ تو وہی حیات پھر اپنی اصل صورت میں رونما ہو جاتی ہے جو موت سے پہلے تھی۔ فرق یہ ہے کہ یہ خفتگی کی حالت نباتات کے لیے کچھ اور معنی رکھتی ہے اور انسان کے لیے کچھ اور۔ اسی وجہ سے آپ دیکھیں گے کہ قرآن میں زندگی بعد موت پر جگہ جگہ بارش اور اس کے اثر سے نباتات کے اگنے سے استدلال کیا گیا ہے۔