مضامین کی فہرست


مئی ۲۰۰۴

۱۹۶۳ء میں جماعت اسلامی پاکستان نے اپنا ملکی سطح کا اجلاس طے کرکے لاہور کی انتظامیہ سے جگہ اور لائوڈاسپیکر کے لیے حسب ضابطہ درخواست گزاری۔ سالانہ اجتماع کے فیصلے کی خبر اخبارات کے ذریعے ملک کے طول و عرض کے علاوہ بیرونِ ملک بھی پھیل چکی تھی۔ فیلڈمارشل ایوب خان کی حکومت اس جلسے کے انعقاد کے حق میں نہ تھی اور اسے روکنے کا ’’ٹاسک‘‘ گورنر ملک امیرمحمدخان کے سپرد تھا۔

ضلعی انتظامیہ اس درخواست کو حیلے بہانوں سے ٹال رہی تھی اور جماعت کے ذمہ داران ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے چکرلگاتے‘ امن و امان کے حوالے سے اُنھیں تسلیاں دیتے تھک گئے تو   بہ امرمجبوری موچی دروازے کے باہر بلااستعمال لائوڈاسپیکر جلسے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی۔

گورنر ملک امیر محمدخان نے ایس پی لاہور‘ جن کا نام غالباً سکندر تھا‘ کے ذمے لگایا کہ اجازت تو بہ امر مجبوری (کہ کالک سرکار کے منہ نہ لگے) دے دی گئی ہے مگر جلسہ ہر قیمت پر روکنا ہے۔ اب نواب آف کالاباغ کا حکم ہو اور ایس پی نے نوکری کرنی ہو تو انکار کی گنجایش کہاں۔ لہٰذا وفاداری ثابت کرنے کے لیے یہی ’’ٹاسک‘‘ ایس پی نے اچھا شوکر والا نامی بیڈن روڈ کے بستہ ب کے غنڈے کے ذمے لگایا‘ جس کا خاصا گروہ تھا۔ کہنے کو تو پولیس ریکارڈ میں اچھا شوکر والا بدمعاش اور غنڈا تھا مگر اس کے اندر بھی ضمیر نام کی چیز ابھی زندہ تھی۔ ایک طرف پولیس کا شکنجہ اور دبائو اور دوسری طرف بے گناہوں پر حملہ‘ ایک ’’بدمعاش‘‘ کا زندہ ضمیر اس پر آمادہ نہ ہو رہا تھا۔ آخر ایک تدبیر اس کے ذہن میں آئی اور وہ خاموشی سے ایڈیٹر چٹان    آغا شورش کاشمیری ؒکے پاس پہنچا اور حکومتی حکم کے ساتھ ساتھ اپنے ضمیر کی خلش سے آگاہ کیا۔ آغا صاحب نے یہ خبر مولانا مودودی کو پہنچائی۔

مولانا مودودیؒ نے آغا صاحب کی بات سن کر اُن سے جو فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ: میری خواہش اور دعوت پر پاکستان کے کونے کونے سے مردوزن موچی دروازے پہنچیں اور میں موت کے خوف سے گھر بیٹھ جائوں۔ کیا یہ وطیرہ کسی بھی بھلے آدمی کو زیب دیتا ہے؟ موت کا وقت معین ہے اور اگر یہ موچی دروازے کی سٹیج پر ہی لکھی ہے تو میں اس شہادت سے فرار کیوں اختیار کروں؟ وہ اپنا کام کریں‘ ہم اپنا کام کریں گے۔

مولانا مودودیؒ کی اس جرأت مندانہ گفتگو سے متاثر ہوکر شورش کاشمیری ؒنے چٹان میں ایک نظم لکھی تھی جس کا عنوان تھا:’’شاید تیری قسمت میں بھی کوئی بالاکوٹ ہے‘‘۔ چٹان کی اس اشاعت کے دو ایک دن بعد موچی دروازے میں جلسۂ عام طے پا چکا تھا۔ جماعت اسلامی کے کارکن آنے والے طوفان سے بے خبر‘ جلسے کی تیاریوں میں صبح شام‘ ہمہ تن مصروف تھے اور تخریب کار اپنی جگہ۔

بالآخر وہ دن آگیا جب موچی دروازے کے پنڈال میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ لوگ باہر سڑک تک پھیل چکے تھے۔ لائوڈاسپیکر پر پابندی کے سبب بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے پرانے طریقے پر نقیب اپنی اپنی جگہ مقرر کیے جا چکے تھے‘ اور اُدھر سرکاری منصوبہ بندی کے مطابق ہر خیمے کی طنابیں کاٹنے کے لیے‘ ہرکِلّے کے ساتھ چاقو لیے ایک ایک بدمعاش بیٹھا تھا کہ جونہی بڑا بدمعاش پہلا فائر کرے ڈیوٹی پر موجود ہر بدمعاش شامیانوں کی رسیاں کاٹ دے۔

چنانچہ اُدھر مولانا مودودیؒ تقریر کے لیے کھڑے ہوئے اور ابھی دوچار منٹ تقریر کی ہی تھی کہ پروگرام کے مطابق بڑے بدمعاش نے پستول سے فائر کر کے کارروائی کے آغاز کا سگنل دیا۔ اسٹیج کی طرف فائرنگ ہوئی‘ شامیانوں کی رسیاں کٹ گئیں‘ مگر وائے حسرتا وہ بھگدڑ نہ مچی جو بدمعاشوں کے ہاتھوں مچتی دیکھ کر ’خفیہ والے‘ اُوپر پہنچانے کے لیے اپنے اپنے مچان پر  انتہائی بے چین بیٹھے تھے۔ ایس پی اپنے ’کنٹرول روم‘ میں خبر سن کر’آگے‘ سنانے کے لیے    بے قرار بیٹھا تھا۔

یہی لمحہ تھا جب مولانا سے برستی گولیوںمیں بیٹھنے کی استدعا کی گئی۔ مولانا اپنے جاںنثاروں کے حصار میںتھے۔ بیٹھنے کے لیے تیار نہ تھے کہ ظلم کے خلاف آج میں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا؟ ظلم کی آندھی‘ گوجرہ سے آئے پروانے اللہ بخش کی قربانی اور مکتبے میں قرآنِ حکیم کی بے حرمتی کے بعد تھم گئی۔

جلسہ درہم برہم نہ کیا جا سکا‘ بارہ پندرہ ہزار کے مجمع عام کو مشتعل نہ کیا جا سکا‘ اللہ تعالیٰ نے اُن کی ہر تدبیر کو ناکام کر دیا کہ اہلِ لاہور اس ظلم و درندگی پر جماعت اسلامی کے ہم نوا     بن گئے۔ اس حال میں کہ رفیقِ سفر کی میت خون میں لت پت سامنے تھی‘ سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ دعا کر رہے تھے اور ہزاروں کا مجمع آمین کہہ رہا تھا۔ یہ منظر پتھردلوں کو بھی موم کر رہا تھا۔ سید محترم نے اپنا مقدمہ عادلِ حقیقی کی عدالت میں درج کرا دیا۔

نواب آف کالاباغ اور اُس کے کارندے اوپر والی سرکار کو وہ خبر نہ سنا سکے جس کے لیے کئی ہفتوں سے تیاری کی گئی تھی‘ البتہ کالک کالاباغ کا مقدر ضرور بنی کہ ہرباشعور نے اس ظلم کی مذمت کی۔ عوام نے‘ خواص نے‘ دانش وروںنے‘ صحافیوں نے‘ وکلا نے‘ قرآن حکیم کے فیصلے کے مطابق کہ: ’’ممکن ہے تمھیں کوئی چیز ناپسند ہو مگر اس میں تمھارے لیے بہتری ہو‘‘۔اللہ بخش شہیدؒ کے خون نے جماعت اسلامی کو ملک کے کونے کونے سے مزید گرم خون مہیا کیا۔

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بارگاہِ رب العزت میں صدر محمد ایوب خان‘ گورنر امیرمحمد خان‘ ایس پی لاہور اور اس کے غنڈوں کے خلاف جو مقدمہ درج کرایا تھا‘ اس کی کارروائی سید کی زندگی ہی میں شروع ہوگئی اور عادلِ مطلق نے مرحوم اللہ بخش کے خون کا حساب یوں چکایا کہ اس ظلم سے آگاہی رکھنے والے انگشت بدنداں رہ گئے۔

مذکورہ کارروائی کے ذریعے پولیس کے چہیتے اچھا شوکر والا اور اُس کے چند ساتھی اُسی ایس پی کے حکم سے دن دیہاڑے بیڈن روڈ پر پولیس مقابلے میں‘ پولیس کی گولیوں سے چھلنی ہوئے اور علاقے کے لوگوں کے لیے نشانِ عبرت بن گئے۔ پولیس نے انھیں استعمال کیا تو وہ سمجھے کہ اب ’سیّاں بھیّے کوتوال اب ڈرکاہے کا‘ مگر سرکار کی اپنی مصلحتیں اور اللہ تعالیٰ کا قانون اپنی جگہ مسلّم ٹھیرے۔ بقول شورش کاشمیری ایس پی سکندر کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوا کہ بیماری کی شدت کے آخری مرحلے میں اس کے گلے سے نکلنے والی آواز کتّے کے بھونکنے سے مشابہ تھی اور وہ اسی عالمِ بے بسی میں میوہسپتال کے البرٹ وکٹر وارڈمیں خالقِ حقیقی کے سامنے پیش ہوگیا۔ یوں سیّد کی زندگی میں اللہ بخش شہیدؒ کا دوسرا قاتل اپنے نامۂ اعمال کے ساتھ اپنی منزل کو سدھارا۔

نواب آف کالا باغ میں خامیوں کے ساتھ خوبیاں بھی تھیں۔ اپنے خودساختہ اور بعض دینی اور معاشرتی اصولوں میں اُس کے ہاں کوئی لچک نہ تھی‘ مثلاً وہ نواب ہوتے ہوئے بھی زانی‘  شرابی اور رشوت خور نہ تھا مگر جسے دشمن قرار دیتا اسے برداشت نہ کرتا تھا۔ گھر میں پردے کا سخت پابند تھا۔ باہراور اندر ہر جگہ حاکم رہنا اُسے پسند تھا۔ اسی حاکمیت کا نتیجہ تھا کہ نواب صاحب کا بیٹا مدِّمقابل آگیا۔ بیٹا لمحے بھرکو چوک جاتا تو باپ کے پستول کی گولی اسے چاٹ جاتی مگر اس نے ’جابرباپ‘ کو مہلت ہی نہ دی اور اسٹین گن کا برسٹ مار کر چہرہ اور اوپر کا دھڑ بالکل مسخ کردیا۔ اپنے خون نے اپنا ہی خون بہایا۔

سیّد ہی کی زندگی میں جنرل محمد ایوب خان‘ اقتدار سے اس حال میں الگ ہوئے کہ عوام سڑکوں پر نکلے اور اُن کے خلاف غلیظ ترین نعرہ بازی ہوئی۔ اُن کے حقیقی بھائی سردار بہادر خان نے اسمبلی کے اندر ’’ہرشاخ پہ اُلّوبیٹھا ہے‘‘کہا اور آخری وقت اُن کے چہیتے وزرا تک ساتھ چھوڑ گئے‘ اور آخری وقت چارپائی پر فالج کے سبب بے بسی اور بے کسی کی مثال بن گئے۔ فاعتبروا یااولی الابصار!

o

جس سیّد کو ۱۹۶۳ء میں ختم کرانے کی سازش کی گئی وہ ۱۹۷۹ء تک بقیدِ حیات رہے اور تمام سازشی یکے بعد دیگرے اُن کی زندگی ہی میں اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے۔ سیّد کا فرمان درست تھا کہ زندگی اور موت کے فیصلے بندے نہیں کرتے‘ کہیں اور ہوتے ہیں۔ خالق کا طے شدہ لمحہ نہ آگے ہو سکتا ہے اور نہ پیچھے۔ مگر اس اٹل حقیقت کو سمجھنے پر کوئی آمادہ نہیں ہوتا۔ یہ شاید موت سے بے خوفی تھی کہ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ انتہائی ٹھنڈے دل و دماغ والے راہنما تھے اور یہ ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوشِ پا پر چلنے کے عزم کے سبب ممکن تھا۔ وہ ایسے سپہ سالار تھے جو جذباتی ہوکر دوسرے کے میدان میں پٹنے کے بجاے دوسروں کو اپنے من پسند میدان میں لاکر شکست دینے پر یقین رکھتے تھے۔ ۱۹۵۳ء کی ملاقات سے آخری ملاقات تک راقم نے صرف ایک بارسیّد محترم کے جذبات کو متلاطم دیکھا۔

بھٹو صاحب کے دور حکومت میں محترم میاں طفیل محمد صاحب امیر جماعت اسلامی پاکستان کو ’اوپر والوں‘ کے اشارے کے سبب کوٹ لکھپت جیل میں پریشان کیا گیا تو مولانا  میاں صاحب سے محبت کے سبب بے چین ہوگئے۔ چنانچہ ۵-اے‘ ذیلدار پارک میں ایک  مذمتی جلسہ ہوا۔ راقم الحروف اس جلسے میں شامل تھا۔

اُس روز مولانا کے ’کَھولتے ہوئے جذبات کا بہائو‘ پہلی بار دیکھا‘ مگر یہ کھولتا لاوا بھی کناروں سے باہر نہ نکل رہا تھا۔ مولانا فرما رہے تھے: ’’ہر فرعون نے اپنے اقتدار کے استحکام کی خاطر‘ خطرے والا ہر دروازہ اپنے ظلم کے ذریعے بند کرنے کی کوشش کی۔ زمانے نے بڑے بڑے فرعون دیکھے اور ان فرعونوں نے اپنے فرار یا تحفظ کے لیے جو دروازہ محفوظ جانا‘ اُن پر وبال اُسی دروازے سے داخل ہوا‘ وہ بچ نہ سکے۔ جماعت اسلامی کی دعوت کا راستہ روکنے والوں نے کیا کیا جتن نہ کیے‘ کبھی سزاے موت سے ڈرایا تو کبھی جلسے میں گولیاں چلاکر کارکن شہید کر کے راستہ روکنے کی کوشش کی تھی۔ اب جماعت اسلامی کے انتہائی محترم امیر کو جیل میں پریشان کرنے کی گھٹیا حرکت کی گئی ہے جو ہرلحاظ سے قابلِ مذمت ہے‘‘۔ مولانا محترم نے اپنے بھرپور جذبات کے ساتھ اس صورتِ حال کی مذمت کی۔

اس جلسے میں خفیہ والوں کو راقم نے باتیں کرتے خود سنا جو اپنی پریشانی کا ایک دوسرے سے اظہار کر رہے تھے‘ کہ مولانا نے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے‘ حکمرانوں کو خوب سنائیں مگر کوئی جملہ ایسا نہیں ہے کہ جس کو کسی انتقامی کارروائی کے لیے جواز بنائیں۔ مولانا کی تقریر و تحریر کی یہ خوبی تھی کہ اخلاق و کردار کی ہروسعت اس میں سموئی گئی ہوتی تھی۔ راقم کے سرمایۂ حیات میں ان تقاریر کے ٹیپ بھی محفوظ ہیں۔

عمرہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات

تاز بزم عشق یک دانائے راز آید بروں

یوں تو سید مودودی ؒ کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے بیک وقت گونا گوں اوصاف جمع کر دیے تھے‘ لیکن ان پر دین کی محبت ہر چیز سے زیادہ غالب تھی‘ اور عمر بھر مختلف انداز سے اُنھوں نے اس کی خدمت کی۔ سید مودودیؒ اپنے عہد میں اُردو زبان کے سب سے بڑے مصنف تھے۔ اُنھوں نے مختلف موضوعات پر متعدد ضخیم کتابیں لکھیں‘ اور ایک زمانے سے خراجِ تحسین حاصل کیا۔ سید صاحب نے مستقل تصانیف کے علاوہ‘ مختلف موضوعات پرسیکڑوں محققانہ علمی‘ ادبی‘ دینی‘ تاریخی اور تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں جو ترجمان القرآن کے ہزاروں اوراق پر پھیلے ہوئے ہیں۔

سید مودودی ؒنے ہوش سنبھالا تو ان کی تعلیم کا سلسلہ ان کے والد گرامی نے خود اپنی نگرانی میں شروع کیا اور انھیں کسی مکتب یا مدرسے میں بھیجنا گوارا نہ کیا۔ گھر میں اتالیق کا انتظام کیا‘ جو سیدصاحب کو عربی ادب اور علوم دینیہ کی تعلیم دیتے تھے۔ ۱۹۱۴ء میں جب سید صاحب کی عمر ۱۱ سال کی تھی‘ انھوں نے مولوی کا امتحان پاس کر لیا۔

۱۹۱۸ء میں آپ نے صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ مختلف اوقات میں مدینہ‘ بجنور‘ تاج‘ جبل پور اور مسلم دہلی سے وابستگی رکھنے کے بعد ۱۹۲۳ء میں بھوپال تشریف لے گئے۔ بھوپال میں آپ کا قیام تقریباً ڈیڑھ سال تک رہا۔ اس بارے میں سیدصاحب نے خود لکھا ہے: ’’اس ڈیڑھ سال کو میں نے بالکلیہ پڑھنے اور سوچنے کے لیے وقف کر دیا تھا۔ علوم قدیمہ و جدیدہ کے جتنے ذخائر تک میری رسائی ممکن تھی‘ میں نے ان سے استفادہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ غور و فکر اور مطالعے کو میں نے اتنی شدت اور تسلسل سے جاری رکھا کہ آخرکار میرے اعصاب پر تکان کے آثار ہویدا ہونے شروع ہو گئے‘‘۔

۱۹۲۴ء میں سید صاحب بھوپال سے دہلی واپس آ گئے تو انھیں مولانا محمد علی جوہرؒ کی طرف سے ان کے اخبار ہمدرد اور جمعیت العلما کی طرف سے جمعیت کے ترجمان الجمعیۃ کی ادارت کی پیش کش کی گئی۔ سید صاحب نے الجمعیۃ کو ترجیح دی اور آپ تقریباً چار سال تک‘ یعنی ۱۹۲۸ء تک اس اخبار کے ایڈیٹر رہے۔

  • الجہاد فی الاسلام کی تالیف: سید صاحب کے چار سالہ دور ادارت میں ملک میں کئی ایک اہم واقعات رونما ہوئے۔ ۱۹۲۶ء کے آخر میں شدھی تحریک کے بانی شردھانند قتل ہوگئے۔ اس قتل پر کانگریسی اور غیر کانگریسی ہندوئوں نے ایک طوفان کھڑا کر دیا کہ اسلام خون خواری سکھاتا ہے۔ گاندھی جی نے کہا تھا:’’اسلام کی فیصلہ کن چیز پہلے بھی تلوار تھی اور اب بھی تلوار ہے‘‘۔

اس دور کا ذکر کرتے ہوئے سید مودودی نے خود بیان کیا ہے: یہ غوغا آرائی ایک مدت تک بڑے زور و شور سے جاری رہی۔ مولانا محمد علی جوہرؒ نے ان بہتان تراشیوں سے تنگ آکر جامع مسجد دہلی میں ایک تقریر کی‘ اور آبدیدہ ہو کر کہا کہ کاش! کوئی اللہ کا بندہ ان الزامات کے جواب میں اسلام کا صحیح نقطۂ نظر پیش کرتا۔ تقریر سننے والوں میں سے ایک میں بھی تھا۔ میں جب وہاں سے اٹھا تو یہ سوچتا ہوا اٹھا کہ کیوں نہ میں ہی اللہ کا نام لے کر اپنی سی کوشش کروں۔

ہندوئوں کی غوغا آرائی اور مولانا محمد علی جوہرؒ کی اس اپیل نے سید مودودی کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مسلمانوں اور اسلام کی مدافعت کے لیے قلم سنبھالیں۔ اگرچہ اخبار نویسی اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ اس کے ساتھ ساتھ کوئی علمی یا تحقیقی کام کیا جائے۔ لیکن سید صاحب نے ۱۹۲۷ء کے شروع میں الجمعیۃ کے کالموں میں اس مبسوط بحث کا آغاز کر دیا۔ جب یہ مقالے اخبار الجمعیۃ میں شائع ہو رہے تھے اس وقت سید صاحب کی عمر ۲۴ سال کی تھی۔ پھریہ مقالے کتابی صورت میں الجہاد فی الاسلام کے نام سے شائع ہو کر منظرعام پر آئے تو ان کو پڑھ کر علامہ محمد اقبال ؒنے فرمایا: اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانون صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے۔ اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔

  • حیدر آباد دکن میں سکونت: ۱۹۲۸ء میں سید مودودی الجمعیۃ کی ادارت سے مستعفی ہوگئے اور دہلی کو خیرباد کہہ کر حیدر آباد‘ دکن سکونت اختیار کر لی۔ ۱۹۳۰ء کے عشرے کے ابتدائی عرصے میں آپ کی کتاب دینیات شائع ہوئی‘ جس کے بعد آپ کی کتاب اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی کے مقالات سامنے آئے‘ ان مباحث نے ہندستان کے علمی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔
  • ترجمان القرآن کا اجرا:۱۹۳۳ء میں سید مودودی نے رسالہ ترجمان القرآن کی ادارت سنبھالی اور اسے اقامت دین کی جدوجہد کا ذریعہ بنایا۔ جب آپ نے رسالہ ترجمان القرآن کا اجرا کیا اس وقت آپ کے سامنے دو راستے تھے۔ ایک اقامت دین کا راستہ‘ اور دوسرا دنیوی شہرت ‘ ترقی اور حصول جاہ و زر کا راستہ۔ ان دونوں راستوں میں کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ سید صاحب نے اقامت دین کا راستہ اختیار کیا۔

ترجمان القرآن کے ذریعے سید صاحب نے دعوتِ انقلاب پیش کرنی شروع کی اور ان کا نقطۂ آغاز اور انتہاے مقصود قرآن کریم تھا۔ آپ نیترجمان کے پہلے شمارے میں لکھا:

یہ رسالہ آج جس مرحلے میں قدم رکھ رہا ہے وہ بہت کٹھن اور دشوار ہے۔ کٹھن اور دشوار اس معنی میں نہیں کہ اس کے پیش نظر اب پہلے سے زیادہ مشکل کام ہے‘ بلکہ اس معنی میں بھی کہ جن ہاتھوں میں وہ منتقل ہو رہا ہے وہ پہلے کام کرنے والے ہاتھوں سے زیادہ کمزور ہیں۔ ایک طرف یہ ضعیف و ناتواں ہے اور دوسری طرف پیش نظر کام یہ ہے کہ اسلام کو اس اصلی روشنی میں پیش کیا جائے جس میں قرآن کریم نے اس کو پیش کیا ہے۔ کہنے کو یہ کام بہت آسان ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مشکوٰۃ نبوت سے بُعد‘ علم صحیح کی کمی‘ سلامت قلب و استعداد نظر کے فقدان‘ یونانی تفلسف‘ عجمی موشگافی‘ مغربی تشکیک اور سب سے بڑھ کر خود پرستی اور ہواے نفس کے اتباع نے ہمارے اور معارف قرآنی کے درمیان ایسے پردے ڈال دیے ہیں کہ جس قرآن کو آسان کہا گیا تھا‘ وہ اب سب سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ ان حالات میں قرآن مجید کو اس کی اصلی صورت میں پیش کرنا ایک بڑا مشکل کام ہے۔

  • علامہ اقبال سے خط کتابت اور ملاقات: ۱۹۳۶ء میں سید مودودیؒ کی علامہ اقبال ؒسے خط کتابت شروع ہوئی۔ اسی سال اُنھوں نے جامعہ علی گڈھ کے استفسار پر ایک جامع تعلیمی خاکہ تیار کیا۔ ۱۹۳۷ء میں آپ کی لاہور میں علامہ اقبالؒ سے ملاقات ہوئی ا ور علامہ نے آپ کو لاہور منتقل ہونے کا مشورہ دیا۔ اور اسی سال آپ کے مشہور سلسلہ مضامین مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکشکتابی صورت میں منظر عام پر آئے۔
  • پٹھان کوٹ میں قیام: ۱۸ مارچ ۱۹۳۸ء کو سید مودودیؒ حیدرآباد‘ دکن سے     پٹھان کوٹ (مشرقی پنجاب) منتقل ہو گئے۔ یہاں آپ نے سب سے پہلے’مسئلہ قومیت‘ پر معرکۃالآرا مقالہ سپرد قلم کیا‘ جس کی اشاعت سے سیاسی اور خاص طور پر دیوبندی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ ۱۹۳۹ء میں آپ کی کتاب تجدید و احیاے دین شائع ہوئی۔ ۱۹۴۰ء میں سید صاحب کو اسلامی نظام حکومت کا خاکہ تیار کرنے کے لیے مسلم لیگ کی کمیٹی میں بحیثیت رکن نامزد کیا گیا۔  ۲۶اگست ۱۹۴۱ء کو لاہور میں ۷۵ افراد کا تاسیسی اجتماع ہوا‘ جس میں جماعت اسلامی کی تشکیل کی گئی اور سید مودودیؒ اس کے پہلے امیر منتخب ہوئے۔
  • تفہیم القرآن کا آغاز: اسلامی انقلاب کے لیے سید مودودی ؒنے ۱۹۳۸ء ہی میں کام شروع کر دیا تھا اور آپ نے اس کا آغاز درس قرآن سے کیا۔ اسی سلسلۂ درس قرآن نے فروری ۱۹۴۲ء میں تفہیم القرآن کی شکل اختیار کی۔

تفہیم القرآن وہ تفسیر قرآن ہے جس نے ایک کٹھن اور فیصلہ کن دور میں قرآن کے زیرسایہ ایک خاموش انقلاب برپا کیا ہے‘ اور یہ انقلابی دور ابھی جاری ہے۔ بلاشبہہ جو خدمت تفہیم القرآن نے انجام دی ہے اور دے رہی ہے‘ وہ بڑی اہم اور تاریخی ہے۔ خالص علمی نقطۂ نظر سے تفہیم القرآن کا مقام بہت بلند ہے۔ تفہیم القرآن میں جس نقطۂ نظر سے قرآن کریم کا مطالعہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ کتاب صحیفہ ہدایت ہے۔ کتاب ہدایت کی حیثیت سے قرآن کریم ہر فرد میں اور پوری امت میں غور و فکر اور مطالعہ و نظر کا ایک خاص انداز پیدا کرتا ہے۔

تفہیم القرآن کے اساسی نقطۂ نظر کے مطابق بنیادی بات یہ ہے کہ قرآن مجید محض ایک الہامی کتاب یا ایک تاریخی کتاب یا ایک عظیم کتاب نہیں۔ اس کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ابدی ہدایت ہے جو ایک دعوت کی طرف بلانے والی اور ایک جدوجہد کو برپا کرنے والی ہے۔ یہ ایک دعوت اور ایک تحریک ہے۔ قرآن کریم ایک پیغام کا علم بردار اور ایک دعوت اور تحریک کا داعی ہے۔ یہ ایک نظریاتی ملت کی تعمیر کرتا ہے اور پھر اسے ایک مشن سونپ دیتا ہے۔ اس دعوت اور اس جدوجہد کے لیے مقصد‘ اصول‘ اقدار اور ضابطے فراہم کرتا ہے۔ اس کے لیے کام کرنے والے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نقشہ متعین کرتا ہے۔ اس کام کو کرنے کے لیے جن صفات‘ محرکات‘ جذبات اور احساسات کی ضرورت ہے‘ وہ اسے پیدا کرتا ہے۔ یہ کتاب فرد کی زندگی میں بھی اور معاشرے اور آخرکار پوری دنیا میں بھی ایک کش مکش کو جنم دیتی ہے‘ حق و باطل کے درمیان کش مکش تاکہ زندگی کا نظام حق کے مطابق چل سکے اور باطل کو بالآخر ہتھیار ڈالنے پڑیں۔ یہ کتاب کائنات‘ انسان اور زندگی کا ایک خاص تصور پیش کرتی ہے۔ جو لوگ اس تصور حیات کو قبول کر لیں‘ یہ ان کی زندگی کی تعمیر ایک خاص نقشے کے مطابق کرتی ہے‘ اور جو اسے قبول نہ کریں ان سے مسلسل جہد و مقابلہ اور دعوت تبلیغ کا معاملہ کرتی ہے۔

قرآن مجید کے ایک دعوت کی کتاب ہونے کا تصور وہ مثالی کلید ہے جس سے فہم قرآن کی راہ کی تمام مشکلات دُور ہو جاتی ہیں۔ پھر قرآن کریم کا اسلوب‘ اس کا طریق استدلال‘ اس کا نظم‘ اس کا ادب‘ اس کے موضوعات کا تنوع‘ اس کے مضامین کی تکرار‘ اس کی اخلاقی تعلیمات‘ اس کے قانونی احکام‘ اس کے تاریخی مواعظ‘ غرض اس کی ہر بات سمجھ میں آ جاتی ہے‘ اور یہ کار زار حیات میں مشعل راہ بن جاتی ہے۔ اگر ایک شخص اس تصور کے ساتھ قرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی ہدایات کے مطابق اپنی زندگی اور دوسرے انسانوں کی زندگی بدلنے کی جدوجہد کرتا ہے تو پھر قرآن کی آیات اس کے لیے محض کتاب میں لکھی ہوئی آیات نہیں رہیں گی‘ بلکہ آیاتِ زندگی بن جائیں گی‘ اور اسے محسوس ہو گا کہ قرآن کریم زندگی کے ہر قدم پر اس کی رہنمائی کر رہا ہے۔ بقول علامہ اقبال: ’’قرآن کو اس طرح پڑھو گویا یہ تمھارے قلب پر نازل ہو رہا ہے‘‘۔

تفہیم القرآن نے نظم قرآن کا ایک منفرد تصور پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ سید صاحب نے ہر سورہ کے تاریخی پس منظر اور اس کے مرکزی مضمون اور موضوعات کا تعین بھی کیا ہے۔ تفہیم القرآن میں فقہی احکام کی تشریح اور فقہی مکاتب فکر کا نقطۂ نظر اور قرآن کریم کی مجموعی تعلیمات اور قرآن کے بتائے ہوے نظامِ اخلاق و تمدن کے مجموعی خاکے کی روشنی میں احکام کی وضاحت کی گئی ہے۔ اسلام اور دوسرے ادیان‘ یعنی یہودیت و عیسائیت کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے اور ان اعتراضات کا بھی کافی و شافی جواب دیا گیا ہے‘ جو مسیحی اہل قلم اور مغربی مستشرقین نے قرآن کریم پر کیے ہیں۔

سید مودودی نے جب تفہیم القرآن کا آغاز کیا تو جلد اول کے دیباچے میں لکھا :میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ جس غرض کے لیے میں نے یہ محنت کی ہے وہ پوری ہو‘ اوریہ کتاب قرآن مجید کے فہم میں بندگانِ خدا کے لیے واقعی کچھ مددگار ثابت ہو سکے۔ وماتوفیقی الاباللّٰہ العلی العظیم!

۱۹۷۲ئ‘ یعنی ۳۰ سال میں تفہیم القرآن مکمل ہوئی ہے۔ سید مودودی فرماتے ہیں: بندہ اپنے رب کے حضور عاجزی کے ساتھ چند اوراق لیے کھڑا ہے اور ایک زمانہ گواہی دے رہا ہے کہ یہ محنت دین حق کے لیے تھی۔ یہ تفسیر‘ تفہیمِ حق کے لیے ہے۔ اور یہ زندگی‘ شہادت حق کے سوا کسی کام کے لیے وقف نہیں رہی اور یہ خدا ہی ہے جو اپنے بندوں کو اس کی توفیق دیتا ہے جس طرح کہ اس نے اپنے اس بندے کو توفیق دی ہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جب تفہیم القرآن مکمل کر لی تو اس سلسلے میں لاہور میں ایک منعقدہ تقریب میں دعا کرتے ہوئے فرمایا:

بارِ الٰہا‘ تیری کتاب کی خدمت کرنے کے لیے میں نے جو بھی کوشش کی‘ وہ صرف تیری خوشنودی کے لیے کی اور اس لیے کی کہ وہ تیرے بندوں کے لیے رہنمائی اور ہدایت کا ذریعہ بنے۔ اس کام میں جو کچھ صحیح ہے وہ تیری رہبری اور رہنمائی کا نتیجہ ہے‘ اور جو کچھ غلط ہے وہ میری غلطی اور تاویل کا نتیجہ ہے۔ مجھے اس کی توفیق عطا فرما کہ اس میں جو غلطی ہو اس کی اصلاح کر سکوں‘ اور اپنے بندوں کو بھی توفیق عطا فرما کہ جہاں جہاں بھی مجھ سے غلطی ہوئی وہ مجھے دلیل سے سمجھائیں‘ میں ان شاء اللہ اس کی اصلاح کروں گا۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ اور میری مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)

  • پٹھان کوٹ سے لاہور: ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان قائم ہوا۔ سید مودودی پٹھان کوٹ سے لاہور منتقل ہو گئے۔ ۱۹۴۷ء تا ۱۹۵۲ئ‘ یعنی پانچ سال کے درمیانی عرصے میں سید صاحب بڑے نشیب و فراز سے گزرے۔ ۱۹۴۸ء میں اسیر زنداں بھی ہوئے‘ مارچ ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد بھی منظور ہوئی جس کے لیے سب سے زیادہ زوردار آواز سید مودودی ہی نے اٹھائی تھی۔ ۳۱علماے کرام کا تاریخی اجلاس علامہ سید سلیمان ندویؒ کی صدارت میں منعقد ہوا‘جہاں پر اسلامی نظام کے نفاد پر اعتراضات کے جواب میں ۲۲ نکات کی بالاتفاق منظوری دی گئی۔
  • تحریک ختم نبوتؐ: فروری ۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت چلی۔ حکومت نے اس تحریک کو دبانے کے لیے لاہور میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ ۲۸ مارچ کو مولانا مودودی اور ان کے رفقا کو مارشل لا کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ ۱۱ مئی ۱۹۵۳ء کو فوجی عدالت نے سید مودودی کو سزاے موت کا حکم سنا دیا۔مولانا مودودی کو سزاے موت سنانے پر سارے عالم اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ہڑتالیں‘ احتجاج اور رہائی کا مطالبہ ہوا تو سزاے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔ ۲۹ اپریل ۱۹۵۵ء کو خاص قانونی سقم کی بنا پر سید مودودی اور ان کے رفقا کو ۲۵ ماہ کی قید کے بعد رہا کر دیا گیا۔
  •  ۱۹۵۶ء تا ۱۹۷۲ئ: اس عرصے میں سید مودودی نے وہ کارہاے نمایاں انجام دیے جو تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں‘ مثلاً:
  •   ۱۹۵۶ء میں مطالبہ دستور اسلامی کے حق میں مہم کی کامیابی۔
  •  ۱۹۵۸ء میں جنرل ایوب خان مرحوم کا مارشل لا ملک میں نافذ ہو گیا۔ جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مولانا مودودی تحقیق و مطالعہ و تصنیف کے کام میں مشغول ہوگئے اور اس دوران ارض القرآن کا دورہ کرنے کے لیے عرب دنیا کے سفر پر گئے۔
  •  ۱۹۶۳ء میں جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماع لاہور میں ہوا‘ جہاں مولانا مودودیؒ پر قاتلانہ حملہ ہوا‘ جس میں جماعت کا ایک کارکن اللہ بخش شہید ہو گیا۔ اس اجتماع میں سیدصاحب مرحوم نے جو دعا مانگی آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

یا اللہ! ہم تیرے نام کی عظمت و سربلندی کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ تیرے علم میں ہے کہ کون مفسد ہے اور کون مصلح‘ اے اللہ! جو مصلح ہیں‘ تو ان کی مدد فرما اور جو مفسد ہیں ان کے شر سے مصلحین کو بچا۔

۱۹۶۴ء میں جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر کے مولانا مودودی کو ان کے قریبی رفقا سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ ۱۹۶۹ء میں جنرل ایوب خان سے دو آئینی مطالبات منوانے کے لیے  گول میز کانفرنس میں شرکت کی‘ اور اسی سال مراکش میں اسلامی کانفرنس تنظیم (OIC)کی تاسیسی کانفرنس میں شرکت کی۔ یکم نومبر ۱۹۷۲ء کو ۲۲ سال تک تحریک اسلامی کی رہنمائی کرنے کے بعد مسلسل علالت اور کمزوری صحت کی وجہ سے جماعت اسلامی کی امارت سے سبکدوش ہوگئے‘ البتہ علمی و تحقیقی کاموں میں تادمِ آخر مصروف رہے۔

۲۷ فروری ۱۹۷۹ء کو ان کی دینی و علمی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جسے آپ کے صاحبزادے سید حسین فاروق مودودی نے ریاض (سعودی عرب) جا کر وصول کیا۔ سید صاحب اس ایوارڈ سے حاصل کردہ تمام رقم ادارہ معارف اسلامی کو دے دی‘ تاکہ علمی کاموں میں وسعت کے کام آئے۔

  • سفر امریکہ اور وفات:مسلسل علالت کے پیش نظر سید صاحب کے صاحبزادے ڈاکٹر احمد فاروق مودودی جو امریکہ میں ڈاکٹر ہیں‘ مئی ۱۹۷۹ء میں آپ کو امریکہ لے گئے تاکہ وہاں اپنی نگرانی میں علاج کرا سکیں۔ امریکہ میں آپ کا علاج ہوتا رہا۔ طبیعت کبھی بگڑ جاتی تھی‘ کبھی سنبھل جاتی تھی۔ مگر کل نفس ذائقۃ الموت کے تحت عالم اسلام کے عظیم مفکر اور جید عالم دین ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء کو انتقال کر گئے۔  انا للّٰہ وانا الیہ راجعون!

۲۶ ستمبر کو آپ کا جسدِ خاکی پاکستان لایا گیا اور اچھرہ لاہور میں آپ کی قیام گاہ کے سامنے لان میں سپرد خاک کیا گیا۔

  • تصانیف: مولانا مودودی کا شمار کثیر التصانیف مصنفین میں ہوتا ہے۔ مولانا مرحوم نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ آپ کی تصانیف قرآن‘ حدیث‘ فقہی علوم‘ تاریخ‘ سیاسیات‘ معاشیات‘ عمرانیات‘ ادب اور تعلیم سے متعلق ہیں۔ سید مودودی مرحوم نے اپنی ہر تصنیف میں اسلامی نقطۂ نظر سے بحث کی ہے اور اس کے ساتھ آپ نے اپنے علمی اور تحقیقی معیار کو نیچے نہیں گرنے دیا۔ اس لحاظ سے سید مودودی مرحوم کا شمار ان چند اہل قلم میں ہوتا ہے جو اپنی تصانیف کی کثرت اور معیار کی یکسانی دونوں میں امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔

سید صاحب کی آخری تصنیف سیرت سرور عالمؐہے جو دو جلدوں (اکتوبر ۱۹۷۸ئ) میں ہے اور دونوں جلدیں مکی زندگی پر مشتمل ہیں۔ سید صاحب نے اپنی اس کتاب کے بارے میں ۱۵ جولائی ۱۹۷۲ء کو طلبہ کی طرف سے منعقد ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

اسی مطالعہ و تحقیق کے نتیجے میں‘ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ دین پوری طرح لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ سکتا جب تک براہ راست قرآن سے اسے نہ سمجھا جائے۔ میں نے قرآن مجید کی تفسیر سیرت پاک سے اس کا ربط جوڑتے اور جگہ جگہ آیتوں اور سورتوں کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ نزول قرآن اور سیرت رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم کے حالات و واقعات کسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہے ہیں۔ اسی طرح میں نے جگہ جگہ قرآن مجید کی آیات اور احکام کی تشریح میں معتبر احادیث نقل کی ہیں جن سے احادیث اور قرآن کا تعلق بھی اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے اور اس غلطی فہمی کے لیے کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی کہ حدیث کے بغیر بھی قرآن کو سمجھا جا سکتا ہے‘ بلکہ پڑھنے والوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ حدیث کے بغیر قرآن کے بکثرت ارشادات و احکام کو آدمی سمجھ ہی نہیں سکتا۔

سید مودودی کی ہمہ گیر شخصیت گوناگوں اوصاف کی حامل تھی۔ آپ بہ یک وقت مفسر بھی تھے اور مفکر بھی‘ مؤرخ بھی تھے اور محقق بھی‘ نقاد بھی تھے اور مبصربھی‘ مقرر بھی تھے اور مبلغ بھی‘ دانش ور بھی تھے اور ادیب بھی‘ مصنف بھی تھے اور صحافی بھی‘ سیاست دان بھی تھے اور جید عالم دین بھی۔ ذیل میں ان کی ہمہ گیر شخصیت پر ایک اجمالی تبصرہ پیش کیا جاتا ہے:

۱-  اسلام ایک انسان میں کس قدر عظیم الشان انقلاب برپا کرتاہے‘اور وہ اﷲ تعالیٰ کے لیے کام کرنے کی راہ میں ہر قسم کی رکاوٹیں دور کر دیتا ہے‘ اس کی ایک مثال اس زمانے میں ہمارے سامنے مولانا مودودی ؒہیں۔

۲-  اس میں رائی برابر مبالغہ نہیں ہے کہ سید مودودی مرحوم نے دین اسلام کی خاطر بہت سی مصیبتیں مول لے کر اپنے راحت و آرام کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ اس شخص نے بیمار رہ کر وہ کام کیا جو بہت سے لوگ تندرست اور صحت مند رہ کر نہیں کر سکتے۔

۳- جو شخص سید مرحوم کی تحریروں کو پڑھے گا اسے معلوم ہو گا کہ ان کے ایمان میں کس قدر قوت تھی اور ان کا ادب کس قدر بلند اور شستہ تھا۔ ان کی تحریر ایک فنی انداز میں تہذیب و ادب کی تحریر تھی‘ جس سے ان کے گہرے مطالعے‘ باریک بینی‘ دینی تڑپ‘ رقت قلب اور زندگی کے وجدان کا اندازہ ہوتا ہے۔

۴-  سید مودودیؒ قدرت کی طرف سے بڑا اچھا دل و دماغ لے کر پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے روشن فکر‘ درد مند دل اور سلجھا ہوا دماغ پایا تھا۔ ذہن و ذکاوت کے ساتھ قوت حافظہ بھی قوی تھا۔

۵- سید مودودیؒ ان معدودے چند خوش قسمت افراد میں سے تھے‘ جنھوں نے زبان کو صحیح طریقے پر استعمال کیا۔ اپنے فطری ذوق اور وہبی صلاحیتوں سے ان کے فن کو جلابخشی۔ قدیم ماخذ کے گہرے مطالعے اور جدید لٹریچر سے براہ راست استفادہ کیا ۔ایک مناسب اور معقول طرز میں ادبیت کو ڈھال دیا۔

۶- سید مودودیؒ اوقات کے بڑے منضبط تھے۔ وہ اصولی زندگی گزارنے کے عادی تھے۔ نظم و ضبط پر اتنا زور دیتے تھے کہ جیسے زندگی کو مشن بنا دینا چاہتے تھے۔ اگر سید صاحب اوقات میں ضبط و نظم کا اتنا اہتمام نہ کرتے تو وہ علم و ادب کی خدمت نہ کر سکتے تھے۔ بے قاعدگی اور بد نظمی سے ان کو سخت نفرت تھی۔

۷- سید مودودیؒ ٹھوس مطالعے کے عادی تھے۔ عربی ادب و انشائ‘ تفسیر‘ حدیث‘ فقہ‘ تاریخ‘ اشتراکیت اور اسلام کا تقابلی مطالعہ‘ ان کے خاص موضوع تھے۔ اس لیے ان فنون میں ان کا مطالعہ بہت ٹھوس اور تنقیدی تھا۔

۸- سید مودودیؒ عالم اسلام کی ایک عظیم شخصیت تھے۔ علوم اسلامیہ میں تبحرعلمی کے علاوہ سیاست‘ فلسفہ‘ سائنس اور جغرافیہ وغیرہ سے مکمل واقفیت رکھتے تھے۔

تقسیم ہند کے نتیجے میں پاکستان آ کر حیدر آباد (سندھ)میں قیام کیا‘ تو میں اپنے ہم عمر لڑکوں سے تین باتوں میں مختلف تھا: پہلی چیز ہمہ وقت سر پر رہنے والی سیاہ رام پوری ٹوپی‘ دوسری پانچ وقت مسجد کی حاضری‘ اور تیسری ناشائستہ ہنسی مذاق سے خود کو نشانۂ مذاق بنوا دینے سے شدید اجتناب۔ غالباً انھی علامات کی بنا پر بڑے بھائی کے ایک ہم عمر دوست نے مجھے ’’مولانا مودودی‘‘ کا خطاب دیا ہوا تھا۔ میں تو کیا وہ خود بھی مولانا کی شخصیت اور جماعت اسلامی سے کہیں ایک عرصے بعد متعارف ہوئے‘ لیکن یہ واقعہ اس بات کی بہرحال دلیل ہے کہ مولانا مودودی مرحوم و مغفور کا نام ایک دین دار شخصیت کی حیثیت سے معروف ہو چکا تھا۔

مولانا مرحوم و مغفور سے پہلا باقاعدہ تعارف اسلامی جمعیت طلبہ کی رفاقت کے نتیجے میں‘ کچھ جمعیت کے سابقون الاولون اور کچھ ان کتابچوں سے ہوا‘ جو جمعیت کی رفاقت کے نصاب میں پڑھنے کا موقع ملا۔ لیکن مولانا کی عظمت کا نقش دل پر اس وقت مرتسم ہوا‘ جب مولانا کو قادیانی مسئلے کے حوالے سے پھانسی کی سزا سنائی گئی اور مولانا نے معافی مانگ کر رہا ہو جانے سے صاف انکار کردیا۔ اس واقعے پر احتجاجی جلوس میں شرکت بھی کی۔ ان امور نے تعلق کو عقیدت میں تبدیل کر دیا اور دل میں مولانا سے ملنے کی خواہش بیدار ہوئی۔

پھر اپنے عربی کے استاد نسیم اللہ صاحب اور مولانا وصی مظہر ندوی صاحب جیسے بزرگوں سے مولانا مرحوم کی ذہانت و بصیرت‘ اخلاص اور للٰہیت کے واقعات سن سن کر اس آتشِ شوق میں اور اضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ جمعیت میں شمولیت کے ۱۰‘ ۱۱ سال بعد اہلیہ کے علاج کے سلسلے میں لاہور جانا ہوا تو وہاں ایک سسرالی عزیز کے ہاں قیام کے دوران اخبار میں پڑھا کہ مولانا مودودیؒ فلاں مسجد میں درس قرآن دیں گے۔ اس موقعے کو نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر پتا پوچھتا ہوا مذکورہ مسجد جاپہنچا۔ مولانا‘ مسجد کے برآمدے میں تشریف فرما تھے‘ برآمدے اور صحن لوگوں سے کھچا کھچ بھرچکے تھے۔ دیر سے آنے والوں کے ساتھ دوسری منزل کی گیلری میں جگہ ملی‘ جہاں لائوڈ سپیکر کے ذریعے آواز تو صاف آ رہی تھی‘ لیکن مولانا پر نظر کھڑے ہو نے پر ہی پڑتی تھی۔ مستقل کھڑا رہنا مناسب نہیں تھا۔ چنانچہ میں تھوڑے تھوڑے وقفے سے اٹھ کر مولانا کو دیکھتا اور پھر بیٹھ جاتا۔ موضوعِ تقریر ’’دعا کی اہمیت‘‘ تھا۔ مولانا کا ٹھیرا ہوا پروقار لہجہ اور تکلف سے پاک اندازِ بیان‘  دل میں گھرکر رہا تھا۔ جتنی بار اٹھ کر مولانا کو دیکھتا ہربار فرطِ مسرت سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے۔ درس کے اختتام پر ہجوم کے سبب ہاتھ ملانے کی خواہش تشنۂ تکمیل رہی‘ لیکن مولانا کو دیکھنے اور سننے کا نشہ تادیر قائم رہا۔

اس واقعے کے کئی سال بعد ۱۹۷۰ء کے قومی و صوبائی انتخابات کا اعلان ہوا۔ مجھے ایک سال قبل جماعت کے رفقا کیڈٹ کالج پٹارو ]سندھ[ سے تعمیرنو اسکول‘ سکھر لے جاچکے تھے۔ کہا یہ گیا تھا کہ تعمیرنو کے ہیڈ ماسٹر حافظ وحید اﷲ‘ تنظیم اساتذہ کی تشکیل کے سلسلے میں سکھر سے لاہور منتقل ہو گئے ہیں اور مولانا کی خواہش ہے کہ میں ان کی جگہ تعمیرنو اسکول سنبھالوں۔ ۱۹۷۰ء کے الیکشن کے لیے نامزدگیاں شروع ہوئیں تو حیدر آباد جماعت نے صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے سے میرا نام طے کیا۔

انتخابی مہم کے دوران میرے ایک شاگرد اپنے پیپلز پارٹی سے منسلک دوستوں کی ناراضی کی قیمت پر میرا سیاسی کام کر رہے تھے‘ اور اس انداز سے کر رہے تھے کہ اپنے ساتھیوں کو کام کا ہدف پورا کرنے پر تفریح کے لیے لے جاتے تھے۔ انھوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ انتخاب کا نتیجہ کچھ بھی نکلے‘ آپ مجھے مولانا مودودیؒ سے ملاقات کرانے لاہور لے کر جائیں گے۔ ان دنوں مولانا مرحوم و مغفور کی صحت اس حد تک خراب تھی کہ معالجین نے انتخابی مہم میں حصہ لینے سے سختی سے منع کیا ہوا تھا‘ اور مولانا نے یہ پابندی اپنی شدید خواہش کے علی الرغم قبول کر رکھی تھی۔ ان نوجوان کا کہنا تھا: ’’مولانا سفر کرنے سے قاصر ہیں‘ اور میں ان سے بالمشافہہ ملنا چاہتا ہوں۔ اس لیے وعدہ کریں کہ انتخابی مہم کے بعد لاہور چلیں گے اور مجھے مولانا سے ملوائیں گے‘‘۔

اس وعدے کی تکمیل نے مولانا مرحوم و مغفور سے بالمشافہہ ملاقات کا موقع فراہم کیا۔ لاہور پہنچ کر میں نے چودھری رحمت الٰہی صاحب ] سیکرٹیری جنرل جماعت اسلامی پاکستان[ سے اپنا اور نوجوان کا تعارف کرایا‘ اور ان کی خواہش کی اس شدت کا ذکر کیا کہ وہ مجھے اپنے خرچ پر لاہور لائے ہیں اور اب ہوٹل میں مقیم ہیں۔ چودھری صاحب نے ذرا تکلف و جرح کے بعد ہماری درخواست منظور کر لی۔ پھر دونوں سراپا اشتیاق مولانا کے کمرۂ مطالعہ و ملاقات میں داخل ہوئے۔ مولانا نے  کمال شفقت سے سلام کا جواب دیا اور مصافحہ کیا۔ اپنی آئیڈیل شخصیت سے اس قربت کا احساس اور مولانا کے ہاتھ کے لمس نے کچھ دیر کے لیے تو ہم دونوں کو مبہوت رکھا۔ نوجوان تو آخر تک شخصیت کے محبوبانہ طلسم سے آزاد نہ ہو سکے۔ میں نے مختصراً اپنا تعارف کرایا تو مولانا نے کیڈٹ کالج‘ پٹارو سے سکھر اور سکھر سے نوکری چھڑوا کر حیدر آباد بلوانے پر معترضانہ انداز اور تشویش بھرے لہجے میں صرف: ’’اچھا!‘‘ کہا اور پھر دریافت فرمایا: ’’اب آپ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا:     ’’فی الحال توبے کار ہوں‘‘۔ مولانا نے زبان سے کچھ نہیں کہا‘ لیکن ان کے چہرے پر جو تشویش کے آثار نظر آئے‘ انھیں مجھ سے زیادہ میرے ساتھی نے نوٹ کیا۔

پھر میں نے اس نوجوان کا تعارف کرایا: ’’یوں تو یہ ایک زمیندار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے بزرگوں سے پیری مریدی کا سلسلہ بھی جاری ہے‘ لیکن ان کے بزرگ کھائو پیر نہیں بلکہ مریدوں کی ہر طرح خبر گیری کرتے ہیں اور یہ خود انگریزی میں ایم اے کر رہے ہیں‘‘۔ مولانا نے اس پر اپنی خوشی کا اظہار فرمایا اور کہا: ’’جماعت اسلامی کو ایسے ہی نوجوانوں کی ضرورت ہے‘ جو کہیں کہ ہماری ذہانت دین کی راہ میں کھپا دیجیے‘‘۔

میں چاہتا تھا کہ اپنے تعارف کے بعد‘ میرے ساتھ جو شاگرد شدید چاہت سے مولانا سے ملنے آئے ہیں‘ وہ خود مولانا سے ہم کلام ہوں۔ لیکن ان پر نظر پڑی تو انھیں اسی طرح مبہوت پایا۔ اب میں تو محض ان کی خواہش پر آیا تھا‘ خالی الذہن اور خود وہ بھی خاموش بیٹھے تھے۔ مولانا گویا ہماری جانب سے کسی سوال کے منتظر تھے۔

چند ثانیے کی خاموشی کی بعد میرے ذہن میں ایک خیال آیا‘ جس کے اظہار کے ذریعے یہ سلسلۂ سکوت توڑا۔ میں نے عرض کیا:میرے شیعہ دوست ہیں جو پروفیسر کرار حسین صاحب اور پروفیسر حسن عسکری کے شاگرد رہے ہیں۔ انھوں نے ایک دن مجھے بتایا کہ وہ ایک مرتبہ مذکورہ دو اساتذہ کی خدمت میں حاضر تھے‘ اور وہ دونوں اسلام کے حوالے سے کسی نظری بحث میں مصروف تھے۔ میں نے نہایت ادب سے یہ سوال کیا کہ جناب یہ نظری بحث اپنی جگہ‘ لیکن یہ نوجوان نسل جو اسلام سے دور ہوتی جا رہی ہے اس بارے میں بھی آپ حضرات نے کچھ سوچا؟ اس پر پروفیسر    حسن عسکری نے کہا: ’’نادر صاحب‘ جب آپ شاگرد تھے تو کوئی بھی شخص بال بڑھائے مذہب پر تنقید کرنے کھڑا ہو جاتا اور کمیونزم کے بارے میں دلائل دے کر مرعوب و متاثر کر سکتا تھا‘ لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے۔ آج کے طالب علم خود کو فخر سے مسلمان کہتے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ نوجوان بھرپور استدلال سے ایسے لوگوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں‘‘۔ عسکری صاحب نے مزید کہا: ’’مولانا مودودی نے اگر اپنی زندگی میں اور کوئی کام بھی نہ کیا ہوتا ‘ صرف اسلامی جمعیت طلبہ ہی کی تشکیل کی ہوتی تو ان کی بخشش کے لیے یہی ایک چیز کافی تھی‘‘۔

میں نے یہ واقعہ اس تمہید کے ساتھ گوش گزار کیا : ’’میں منہ پر تعریف نہیں کر رہا‘ بلکہ تحدیث ِ نعمت کے طور پر یہ واقعہ سنا رہا ہوں‘‘۔ میں نے دیکھا ‘مولانا مودودی مرحوم و مغفور کا چہرہ کسی قسم کے جذبۂ فخر سے بیگانہ تھا۔ پھر نہایت سادہ لہجے میں مولانانے یہ فرمایا: ’’ہاں‘ یہ بات بعض مواقع پر   اے کے بروہی صاحب اور ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی صاحب نے بھی کہی ہے‘‘۔ پھر ذرا سے توقف کے بعد فرمایا: ’’تقسیم ملک کے بعد بعض طالب علم میرے پاس آئے اور کہا ہمیں جماعت اسلامی میں شامل کر لیں‘تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ بات ڈال دی اور میں نے انھیں مشورہ دیا کہ دعوت دین کا جو کام جماعت اسلامی عوام میں کر رہی ہے وہی کام وہ آزادانہ طور پر طالب علموں کے دائرے میں رہ کر کریں‘‘۔پھر مربیانہ انداز میں فرمایا : ’’اگر اللہ تعالیٰ بندے سے کوئی خدمت لے تو بندے کو اس پر شکر کرنا چاہیے کہ یہ خدمت اس سے لی گئی۔ یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میں نے یہ کام کیا ہے‘‘۔

اب مولانا کا قیمتی وقت لینے کا کیا جواز تھا؟ لیکن اپنے شاگرد کے شوقِ ملاقات کی تسکین ہی کی خاطر ایک عام سا سوال کر ڈالا: ’’مولانا! یہ ہم جماعت کے لوگوں نے ایک خاص وضع کی چھوٹی داڑھی رکھنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے اور جسے ہمارا ٹریڈ مارک سمجھ لیا گیا ہے‘ اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘

مولانا نے بزرگانہ بے تکلفی سے جواب دیا: ’’دیکھیے‘ داڑھی کے بارے میں یہ بات نظر میں رکھیے کہ داڑھی دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک مجبوری کی اور دوسری اختیار کی۔ مجبوری کی داڑھی وہ ہے جو نہ رکھی جائے تو مسجد کی موذنی نہ ملے‘ مدرسے کا وظیفہ نہ ملے‘ یہ داڑھی تو آپ جتنی لمبی چاہیں رکھوا لیں۔ لیکن جہاں تک اختیار کی داڑھی کا تعلق ہے ‘جس کے لیے کوئی مجبور نہیں کر رہا اور محض دین داری کی وجہ سے رکھی جارہی ہے‘ وہ ایک قسم کا جہاد ہے۔ ایسی داڑھی رکھنے والوں کو کالجوں اوریونی ورسٹیوں اور دفتروں میں فقرے بازی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔میرے علم میں ایسے واقعات بھی آئے ہیں کہ کسی نوجوان نے داڑھی رکھ لی تو اس کی منگنی ٹوٹ گئی۔ اس لیے میرے نزدیک تو ان لوگوں کی یہ چھوٹی داڑھی بھی جہاد سے کم نہیں ہے۔ اب ان سے یہ مطالبہ کرنا کہ نہیں اتنی رکھو‘ یہ نامناسب ہے‘‘۔

میں چونکہ داڑھی کی شرعی حیثیت کے بارے میں مولانا کا موقف پڑھ چکا تھا اور یہ مقولہ بھی سن چکا تھا کہ: ’’اسلام میں داڑھی ہے داڑھی میں اسلام نہیں‘‘، نیز یہ کہ ’’داڑھی پہلے اندر جڑ پکڑ کر باہر آئے تو داڑھی معتبر ہوتی ہے ورنہ سکھوں کی داڑھی تو مسلمانوں سے کہیں بڑی ہوتی ہے‘‘۔

یہ بات بھی پوری ہوئی‘ لیکن لذت کلام ہی کے لیے سلسلۂ کلام جاری رکھنا ضروری تھا۔ اس لیے ایک اور سوال پیش کر دیا: ’’مولانا‘ آپ نے صحیح فرمایا۔ میں خود اس قسم کے طنز کاشکار رہا ہوں۔ لیکن میرا تجربہ ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ حلقۂ احباب کے حلق سے داڑھی اتر جاتی ہے بلکہ میرے بعض احباب نے تو یہ بھی کہا کہ یار! اب اسے کٹوانا مت۔ جب طنز و تشنیع کا مرحلہ گزر جائے تو پھر داڑھی بڑھانے میں کیا قباحت ہے؟‘‘ (میرے ذہن میں خود مولانا کا طرز عمل تھا)۔

مولانا نے شگفتگی سے فرمایا: ’’ایک یہ بات بھی ہے کہ جہاں یہ لمبی داڑھی ناکام رہتی ہے‘ وہاں یہ چھوٹی کام نکال لے جاتی ہے‘‘۔ اس وقت تو یہ جواب سن کر ہنس کر رہ گیا لیکن بعد میں اس بلیغ جملے پر غور کیا تو اس کی صداقت واضح ہوتی گئی۔

میں نے اپنے ساتھی کو کنکھیوں سے دیکھا تو وہ اسی طرح نظریں نیچے کیے مؤدب بیٹھے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ ان کی تسکینِ خاطر کے لیے اتنا وقت لے لینا ہی کافی‘ بلکہ بہت زیادہ تھا۔ اب   ہمیں مولانا کا قیمتی وقت ضائع کرنے کا کوئی حق نہیں۔ چنانچہ مولانا سے اجازت چاہی‘ مولانا نے ازراہ شفقت دوبارہ مصافحہ فرمایا‘ اور ہم دونوں اس قیمتی لمحۂ حیات کے نشے میں سرشار باہر آگئے۔

میرا خیال تھا کہ ایک دیرینہ خواہش پوری ہو جانے پر شاگرد صاحب خوش اور میرے ممنون ہوں گے‘ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ دروازے سے باہر آتے ہی بولے: ’’سر‘ آپ نے اپنی بیکاری کا تذکرہ مولانا سے کیوں کیا؟ آپ نے مولانا کو پریشان کر دیا‘‘ --- ’’وہ کیسے؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔ بو لے: ’’آپ کو اپنی بے کاری کا تذکرہ مولانا سے نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ نے دیکھا تھا‘ مولانا آپ کی بات سن کر پریشان ہو گئے تھے۔ سر‘ اچھا نہیں کیا آپ نے۔ مولانا کو بڑے بڑے مسائل سوچنے پڑتے ہیں۔ آپ نے ان کے ذہن پر ایک اور بوجھ ڈال دیا‘‘۔ میں نے کہا: ’’چلیے‘ ابھی تو ہم لاہور میں ہیں نا۔ کل عصر کی نشست میں‘ میں اطمینان دلادوں گا کہ حیدر آباد میں غزالی کالج میں جگہ نکلنے والی ہے‘ وہاں مصروف ہو جائوں گا‘‘۔

دوسرے روز اسی مقصد سے عصری نشست میں شریک ہوئے۔ محفل کا واحد موضوع   ]دسمبر ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں[ جماعت کے امیدواروں کی ناکامی تھا اور اس ضمن میں       جمعیت علماے پاکستان کے معاندانہ پروپیگنڈے کا بطورخاص ذکر تھا۔ ایک صاحب نے کہا: ’’مولانا! یہ علماے پاکستان والے کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی ۲۵‘ ۳۰ سال سے کام رہی ہے۔ ہم ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن کے ہیں‘ لیکن ہم نے جماعت اسلامی کو ایسے شکست دی ہے جیسے کوئی بچہ کسی پہلوان کو پچھاڑ دے‘‘۔

مولانا نے فرمایا: ’’یہ نادان لوگ ہمیں اپنا حریف سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ ہم ان کی فصیل تھے۔ دین کے خلاف اب جو طوفان آنے والا ہے (اشارہ پیپلز پارٹی کے اقتدار کی طرف تھا) اُسے یہ نہیں روک سکیں گے۔ ہم شاید روک لیتے‘‘۔ پھر ذرا توقف کے بعد فرمایا: ’’سیاسی جماعتوں کا کام عوام کو سیاسی طور پر ایجوکیٹ educate]‘یعنی رہنمائی[کرنا ہوتا ہے۔ اس الیکشن میں سیاسی جماعتوں نے عوام کو ڈس ایجوکیٹ diseducate] ‘یعنی گمراہ[کیا ہے۔ کسی نے روٹی کے نام پرایکسپلایٹ ] exploit - استحصال[کیا ہے ‘کسی نے روضے کے نام پر‘‘۔

ایک صاحب نے کہا: ’’جی ہاں مولانا‘ کہا یہ جاتا تھا کہ دیکھ جنت کی چابی کو اور رسولؐ اللہ کے روضے کو (مراد تھی وہ جھنڈا جس پر گنبد خضرا بنا ہوا تھا) ووٹ دینا ہے‘ باوضو آنا ورنہ ووٹ قبول نہیں ہو گا‘‘۔ ایک اور صاحب نے گرہ لگائی: ’’جی مولانا‘ یہ کہتے تھے کہ جماعت اسلامی والے کہتے ہیں کہ ملک میں سوشلزم آ گیا تو روسی ترکستان کی طرح مساجد میں تالے پڑ جائیں گے۔ پڑ جائیں تالے‘ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے صدقے میں پوری زمین ہمارے لیے مسجد بنا دی گئی ہے‘ ہم جہاں چاہیں گے سجدہ کر لیں گے۔ لیکن یہ وہابی ہمارے بزرگوں کے مقبرے ڈھادیں گے تو وہ ہم کہاں سے لائیں گے‘‘۔ ایک اور صاحب نے لَے میں لَے ملائی: ’’مولانا‘ شبرات کا موقع تھا‘ ان کے مقررین کہتے تھے: لوگو‘ اس سال اپنے بزرگوں کی روحوں کو ایصال ثواب کر دو۔ اگر اگلے سال یہ وہابی آ گئے تو تمھارے بزرگ قبروں میں ایصال ثواب کو ترسیں گے‘‘۔

’’جی ہاں!‘‘ مولانا نے تینوں حضرات کے بیان پر مسکرا کر پنجابی کا صرف ایک فقرہ فرمایا: ’’ہور‘ چوپو‘‘۔ اب جن لوگوں نے سکھوں کا وہ لطیفہ سنا ہوا تھا جو اس جملے پر ختم ہوتا تھا‘ وہ اس فقرے سے ایسے محظوظ ہوئے کہ ذرا دیر کے لیے تشویش و اضطراب کی فضا خوشگوار ہو گئی۔ میں نے سوچا اگر اس وقت کسی اور سیاسی پارٹی کا سربراہ مولانا کی جگہ بیٹھا ہوتا تو کیا وہ بھی ایسی خوش مزاجی کا مظاہرہ کرسکتا تھا؟ کیا دل کی یہ سکینت اللہ تعالیٰ کی خاص دین نہیں۔

جی نے چاہا کہ میں بھی کسی بہانے گفتگو میں شرکت کروں‘ چنانچہ میں نے بھی ایک سوال داغ دیا: ’’مولانا! اگر ]صدر جنرل [یحییٰ خان کے دیے ہوئے پلان پر عمل کیا گیا تو کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہو سکے گا؟‘‘ مولانا نے اب تک کے اپنے انداز گفتگو کے برعکس ذرا تیز لہجے میں فرمایا: یحییٰ خان عوام کو کس برتے پر اعتماد میں لیں گے‘ ان کے پاس اب رہا کیا ہے؟ اب تو آپ انتظار کیجیے اور یہ دیکھیے کہ یحییٰ خان صاحب نے جو گڑھا کھودا ہے اس میں وہ خود پہلے گرتے ہیں یا قوم گرتی ہے‘‘۔ مولانا کی یہ تشویش کس قدر مبنی برحقیقت تھی۔ اس کا ثبوت ذوالفقار علی بھٹو کی ہوس اقتدار کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور وہاں خون ریزی اور بھارت کی یلغار کی شکل میں ملا۔

عصری نشست سے اٹھ کر مولانا اپنے کمرے میں جانے لگے تو میں نے آگے بڑھ کر سلام اور مصافحہ کیا۔ مولانا نے فرمایا: ’’اچھا‘ آپ لوگ ابھی لاہور ہی میں ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’مولانا‘ یہ میرے شاگرد مجھے ڈانٹ رہے ہیں کہ تم نے کل اپنی بے کاری و بے روزگاری کا ذکر کرکے مولانا کو پریشان کر دیا ہے‘ تو عرض ہے کہ ان شاء اللہ چند روز میں مجھے غزالی کالج میں ملازمت مل جائے گی‘‘۔ مولانا نے تشفی طلب انداز میں سوال کیا: ’’ہوجائے گی؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’جی ہاں‘ ان شاء اللہ ہو جائے گی‘ آپ دعا فرمایئے گا‘‘۔ مولانا آگے بڑھ گئے تو میں نے اپنے شاگرد سے کہا: ’’اب تو آپ کی تسلی ہو گئی‘‘۔ وہ بولے: ’’ہاں سر‘ یہ ضروری تھا‘‘۔

لاہور سے واپسی پر اکثر احباب کو میں یہ روداد سناتا رہا کہ ’ذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے‘ یہاں تک کہ تنظیم اساتذہ سندھ کے ذمہ دار کی حیثیت سے لاہور میں منعقدہ کل پاکستان اجتماع میں شرکت کے موقع پر تین چار افراد کے ساتھ مولانا سے ملاقات کا موقع ملا۔ اس وقت تک مولانا کی صحت خاصی گر چکی تھی۔ ہم کمرۂ ملاقات میں اسی تشویش کے ساتھ بیٹھے تھے۔ مولانا کوئی ۱۵‘ ۲۰منٹ بعد اندرونی دروازے سے کمرے میں واکر کے سہارے داخل ہوئے۔ حافظ وحید اللہ خان نے آگے بڑھ کر سہارا دینا چاہا تو فرمایا: ’’نہیں نہیں‘ آپ بیٹھیے‘ میں اس کا عادی ہو چکا ہوں‘‘۔

اپنی کرسی پر بیٹھتے ہی مولانا نے سوال کیا: ’’آپ لوگ کتنی دیر سے یہاں تشریف رکھتے ہیں؟‘‘ حافظ صاحب نے کہا: ’’کوئی ۱۵‘ ۲۰ منٹ ہوئے ہوں گے۔ معلوم ہوا تھا کہ آپ بیت الخلا میں ہیں‘‘۔ مولانا نے فرمایا: ’’نہیں صاحب‘ میں اتنی دیر بیت الخلا میں نہیں بیٹھتا۔ مجھے تو آپ لوگوں کے آنے کی خبر ابھی ملی۔ بیٹی آئی ہوئی تھی‘ میں اس سے بات کر رہا تھا۔ افسوس کہ آپ لوگوں کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی‘‘۔ حافظ صاحب نے کہا: ’’مولانا سنا ہے دو چار ماہ سے آپ کی طبیعت زیادہ ناساز ہے‘‘۔ فرمایا: ’’دوچار نہیں پورے چھ ماہ سے‘‘۔ میں نے اپنی طبیعت کے مطابق بات سے بات پیدا کی: ’’مولانا‘ حافظ صاحب بھی تو دو چار ماہ کہہ رہے ہیں۔ دو چار چھ ہی تو ہوتے ہیں‘‘۔ لیکن  مولانا اپنی طبیعت کے اضمحلال کے تحت اس فقرے سے محظوظ نہیں ہو سکے۔ حافظ صاحب نے اپنا مدعا بیان کیا: ’’الحمدللہ! تنظیم اساتذہ کا یہ پودا اب تناور درخت بن چکا ہے۔ چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے ہزاروں افراد جامعہ پنجاب میں جمع ہیں‘‘۔ مولانا نے اس اطلاع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ میں اپنی صحت کی مجبوری کی بنا پر اجتماع گاہ نہیں جا سکتا۔ یہیں کرسیوں کا اہتمام کر دیں تاکہ میں جملہ مندوبین سے گفتگو کر سکوں‘‘۔ سرحد سے آئے ہوئے جناب عبدالعزیز نیازی نے اپنے صوبے میں پھیلے ہوئے نسلی تعصب کے مسئلے کو چھیڑا تو مولانا نے فرمایا: ’’لوگوں کو یہ احساس دلایے کہ تعصب ایسی لعنت ہے کہ ایک مرتبہ یہ بیماری لگ جائے تو                     اس کادائرہ مسلسل محدود سے محدود تر ہوتا جاتا ہے‘ اور خود ایک فرد بھی اس تقسیم کا شکار ہوکر             split personality ]منقسم شخصیت[کی طرح دو لخت ہو جاتا ہے‘‘۔

اس سے قبل اجتماع کے بعض شرکا عصری نشست میں بھی مولانا سے مل چکے تھے۔ اس موقع پر مولانا نے فرمایا تھا: ’’آپ حکومت سے تو نظام تعلیم میں بہتری لانے اور نصابات کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنے کا مطالبہ بھی جاری رکھیں‘ لیکن اپنے طور پر بھی یہ کام مستقلاً کرتے رہیں‘ تاکہ جب اس کے نفاذ کا موقع آئے تو آپ تہی دست نہ ہوں‘‘۔

نظام امتحان کی خرابیوں کے حوالے سے فرمایا: ’’ایک بار ایک تعلیمی ادارے نے ایک امتحانی پرچہ مجھ سے بھی مرتب کرایا تھا۔ میں نے جو پرچہ بنایا تھا اس کے ساتھ یہ ہدایت بھی کر دی کہ طلبہ دورانِ امتحان کتب خانے سے جو کتاب چاہیں طلب کر کے اس کی مدد سے جواب لکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ پرچہ ایسا تھا کہ نقل کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا تھا‘‘۔

تنظیم اساتذہ کے مندوبین کو یہ مژدہ ملا کہ مولانا ان سے خطاب کریں گے تو لوگ جوق درجوق جامعہ پنجاب کے نئے کیمپس سے مولانا کے مکان پر اچھرہ پہنچے۔ مولانا نے اپنے خطاب میں پہلے اس بات پر معذرت چاہی کہ خرابی صحت کی بنا پر وہ اجتماع گاہ نہیں پہنچ سکے اور مندوبین کو اچھرہ آنے کی زحمت اٹھانی پڑی۔ اس کے بعداستاد کے منصب اور  بطور خاص ایک تحریکی استاد کی ذمہ داریوں کے حوالے سے گفتگو فرمائی اور اپنی ۱۵‘۲۰منٹ کی گفتگو کا اختتام اس اہم نکتے پر کیا‘ کہ ایک نصاب وہ ہوتا ہے جو نصابی کتب میں لکھا ہوتا ہے‘ اور ایک وہ ہوتا ہے جو ایک استاد کے ذہن میں ہوتا ہے۔ اصل اہمیت اس نصاب کی ہے جو استاد کے ذہن میں ہوتا ہے۔ مقصد سے لگن رکھنے والا استاد گیتا سے قرآن پڑھا سکتا ہے۔

اساتذہ ساکت وصامت مولانا کے ایک ایک لفظ کو انتہائی عقیدت سے دل میں اتار اور جز و فکر بنا رہے تھے۔ آخر میںمولانا نے فرمایا: حضرات! اب میری توانائی جواب دے رہی ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں میں برکت عطا فرمائے اور آپ کی سعی کو مشکور فرمائے۔ پھر مسنون دعا پر اپنی زندگی کے اس آخری عمومی خطاب کو ختم فرمایا ]دسمبر ۱۹۷۸ئ[۔ مجمع کے ہر فرد کا روشن چہرہ اس فخر کا غماز تھاکہ اسے اپنے محبوب رہنما اور عالم اسلام کے منفرد بطلِ جلیل کا مخاطب ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔

مولانا مودودیؒ بیسویں صدی کی ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ انھوں نے اسلام کے مکمل نظام حیات کو مضبوط عقلی دلائل کے ساتھ جدید دور کی زبان میں اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کی تقریر اور تحریر سے پوری انسانی زندگی کے بارے میں اسلام کے نقطۂ نظر کا جامع علم حاصل ہوجاتا ہے۔ انھوں نے پوری یکسوئی کے ساتھ دور حاضر کے تمام فتنوں کا بڑی مہارت کے ساتھ مقابلہ کیا اور اسلامی نظام زندگی کی برتری اور فوقیت کو اچھی طرح سے ثابت کر دیا ہے۔ مزید برآں انھوں نے اسلامی نظام کی صرف نظری وضاحت ہی نہیں کی‘ بلکہ یہ بھی سمجھایا کہ اس نظام رحمت کو  جدید دور میں کس طرح بالفعل قائم کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی ریاست کے عملی نظام کار کی وضاحت و تشریح کا کام انھوں نے اعتماد‘ یقین‘ مہارت اور بالغ نظری سے انجام دیا۔ انھوں نے عصرِحاضر کے جملہ تقاضوں کے پیش نظر اپنی اجتہادی بصیرت اور خداداد صلاحیتوں سے ایک اسلامی ریاست کا مکمل نقشہ پوری تفصیل سے پیش کیا ہے۔ اسلام کے اصول حکمرانی‘ اسلامی ریاست کے قیام کا نقشہ‘ اس میں اسلامی قوانین کے نفاذ‘ اسلامی قانون کے ماخذ اورعصرحاضر میں اسلامی قوانین کے قابل نفاذ ہونے کے امور پر بحث کی اور واضح لائحہ عمل دیا۔ ان امور کی توضیح و تشریح انھوں نے اپنی مختلف تقاریر‘ مضامین اور کتب میں پورے شرح وبسط کے ساتھ کی۔

اس تحریر میں قانون اور سیاست سے متعلق چند یادداشتیں قلم بند کر رہا ہوں:

  • اسلامی کلو کیم میں مقالہ: حکومت پاکستان اور پنجاب یونی ورسٹی لاہور      نے مشترکہ طور پر ۶ تا ۱۶ جمادی الثانی ۱۳۷۷ھ مطابق ۲۹ دسمبر ۱۹۵۷ء تا ۸ جنوری ۱۹۵۸ء  الندوہ العالمیہ للاسلامیات منعقد کرایا تھا‘ جس میں دنیاے اسلام کے نامور مفکرین‘ ممتاز علما و مشائخ اور اساتذہ کرام کے علاوہ یورپ اور امریکہ سمیت کل ۳۳ ممالک کے بعض ممتاز اسکالروں اور مشہور مستشرقین کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ مولانا مودودیؒ کو ۱۶ رکنی انٹرنیشنل کلوکیم کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی نے اس کلوکیم کے موضوعات طے کیے‘ اور اس کی پوری منصوبہ بندی کی تھی۔

میں ان دنوں قصور میں وکالت کرتا تھا۔ اس کلوکیم کے بعض اجلاسوں میں حاضر ہو کر میں نے عالم اسلام کے نامور اسکالروں کے بلند پایہ مقالات سے استفادہ کیا تھا۔

دنیا بھر کے فاضل اسکالروں کی اس مجلسِ مذاکرہ میں مولانا مودودیؒ نے ۳ جنوری ۱۹۵۸ء کو ’’اسلام میں قانون سازی کا دائرہ عمل اور اس میں اجتہاد کا مقام‘‘ کے عنوان سے ایک بیش قیمت مقالہ پیش کیا تھا‘ جو بہت پسند کیا گیا۔ خاص طور پر عرب ممالک سے آئے ہوئے ممتاز علما نے بہت داد دی تھی۔

اجتہاد کی تعریف بیان کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ نے فرمایا کہ قانون سازی کا یہ سارا عمل‘ جو اسلام کے قانونی نظام کو متحرک بناتا اور زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ اس کو نشوونما دیتا چلا جاتا ہے‘ اس علمی تحقیق اور عقلی کاوش کا نام اسلامی اصطلاح میں اجتہاد ہے۔ بعض لوگ غلطی سے اجتہاد کو بالکل آزادانہ استعمالِ رائے کے معنوں میں لے لیتے ہیں۔ لیکن کوئی ایسا شخص جو اسلامی قانون کی نوعیت سے واقف ہو‘ اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتا کہ اس طرح کے ایک قانونی نظام میں کسی آزادانہ اجتہاد کی بھی کوئی گنجایش ہو سکتی ہے۔ یہاں تو اصل قانون قرآن و سنت ہے۔ جو قانون سازی انسان کر سکتے ہیں‘ وہ لازماً یا تو اس اصل قانون سے ماخوذ ہونی چاہیے یا پھر ان حدود کے اندر ہونی چاہیے جن میں وہ استعمال رائے کی آزادی دیتا ہے۔ اس سے بے نیاز ہو کر جو اجتہاد کیا جائے‘ وہ نہ اسلامی اجتہاد ہے اور نہ اسلام کے قانونی نظام میں اس کے لیے کوئی جگہ ہے۔

اس کے بعد مولانا مودودیؒ نے اجتہاد کے لیے ضروری اوصاف بیان کیے جن کے مطابق مجتہد میں:

  • شریعت کے برحق ہونے کا یقین‘ اس کے اتباع کا مخلصانہ ارادہ
  • عربی زبان و ادب سے اچھی واقفیت
  • قرآن و سنت کا گہرا علم
  • پچھلے ادوار کے مجتہدین امت کے کام سے واقفیت
  • عملی زندگی کے حالات و مسائل سے واقفیت
  • اسلامی معیار اخلاق کے لحاظ سے عمدہ سیرت و کردار ہونا چاہیے۔

مولانا مودودیؒ نے اجتہاد کا صحیح طریقہ بھی تفصیل سے بیان کیا اور آخر میں یہ بتایا کہ اجتہاد کو قانون کا مرتبہ کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے یہ چار صورتیں بیان کیں: l یہ کہ تمام امت کے اہل علم کا اس پر اجماع ہو۔ l یہ کہ کسی شخص یا گروہ کے اجتہاد کو قبول عام حاصل ہو جائے۔ l یہ کہ کسی اجتہاد کو کوئی مسلم حکومت اپنا قانون قرار دے لے۔ l چوتھی یہ کہ ریاست میں ایک ادارہ دستوری حیثیت سے قانون سازی کا مجاز ہو اور وہ اجتہاد سے کوئی قانون بنا دے۔

  • یونی ورسٹی لا کالج میں خطاب: میں ۱۹۵۵ء سے ۱۹۵۷ء تک پنجاب     یونی ورسٹی لا کالج کا طالب علم رہا۔ اس دوران میں لا کالج اسٹوڈنٹس یونین کے انتخاب میں اسلامی جمعیت طلبہ کے مسعود ملک یونین کے صدر اور امین ملک جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔ یونین نے لاکالج میں خطاب کے لیے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا۔ طلبہ کا جو وفد مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا ان میں‘ میں بھی شامل تھا۔ ہم نے مولانا سے خطاب کی درخواست کی تو مولانا نے شفقت سے دعوت قبول کر لی‘ اور فرمایا: ’’آپ کس موضوع پر میری تقریر کرانا چاہتے ہیں؟‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’لا کالج کے طلبہ دو نکات پر آپ سے رہنمائی کے طالب ہیں۔ ایک تو آپ اسلامی قانون کے ماخذ بیان کریں‘ جن میں سنت کے ماخذِقانون ہونے کی کھل کر وضاحت کی جائے۔ کیونکہ فتنہ انکارِ سنت نے سنت کی حجیت کے بارے میں بعض ذہنوں میں شکوک پیدا کر دیے ہیں۔ دوسرے یہ ‘سوال بعض طلبہ کے ذہن میں موجود ہے کہ کیا جدید دور میں اسلامی قوانین قابل نفاذ ہیں اور پاکستان میں کیوں اسلامی قوانین نافذ ہونے چاہییں۔ اس سوال کی وضاحت بھی مطلوب ہے۔ آپ اس سوال کا جواب دے کر طلبہ کو مطمئن فرمائیں‘‘۔

مولانا مودودیؒ نے اسٹوڈنٹس یونین لا کالج کی تقریب میں اپنے پون گھنٹے کے خطاب کو ان دو امور کی اچھی طرح وضاحت تک مرکوز رکھا۔ اور فرمایا: ’’اسلامی قانون کا سب سے پہلا اور اہم ماخذ قرآن مجید ہے‘ جو انھی الفاظ میں محفوظ ہے‘ جن میں رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم پر نازل ہوا تھا۔ وہ آسمانی ہدایات اور الٰہی تعلیمات کا جدید ترین مجموعہ (latest edition) ہے۔ مسلمان کے لیے اصل سند اور حجت قرآن پاک ہے‘‘۔

اسلامی قانون میں سنت کے مقام و مرتبے کے بارے میں مولانا مودودیؒ نے وضاحت فرمائی: ’’اسلامی قانون کا دوسرا ماخذ سنت رسولؐ ہے۔ سنت سے ہی ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم نے قرآن مجید کی ہدایات کو سرزمین عرب پر کس طرح نافذ کیا تھا۔ کس طرح اس کے مطابق ایک اسلامی معاشرہ اور ایک اسلامی ریاست قائم کی تھی اور اسلامی ریاست کے مختلف شعبوں کو کس طرح چلایا تھا۔ اس طرح سنت ہمارے دستوری قانون کا دوسرا اور بڑا اہم ماخذ ہے‘‘۔

انھوں نے فرمایا: ’’افسوس ہے کہ ایک عرصے سے ایک گروہ سنت کی اہمیت کو کم کرنے اور اس کے قانونی حجت ہونے کے پہلو کا انکار کر کے لوگوں کے ذہنوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے‘‘۔ مولانا مودودیؒ نے سنت کے حجت ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: ’’حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم‘ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے رہبر‘ حاکم اور معلم بھی ہیں‘ جن کی پیروی و اطاعت قرآن کی رو سے تمام مسلمانوں پر لازم ہے اور جن کی زندگی کو قرآن نے تمام اہل ایمان کے لیے نمونہ قرار دیا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم ان تمام حیثیتوں میں مامور من اﷲ ہیں۔ اس بنا پر اسلام کے قانونی نظام میں سنت کو قرآن کے ساتھ دوسرا ماخذ قانون تسلیم کیا گیا ہے‘‘۔

مولانا مودودیؒ نے بتایا: ’’تیسرا ماخذ خلافت راشدہ کا تعامل ہے۔ خلفائے راشدین نے جس طرح آنحضوؐرکے بعد مدینہ کی اسلامی ریاست کو چلایا‘ اس کے نظائر اور روایات سے حدیث‘ تاریخ اور سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور یہ سب چیزیں ہمارے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی روشنی میں آج کے دور میں ایک اسلامی ریاست کو نہایت خوبی سے چلایا جاسکتا ہے‘‘۔

چوتھے ماخذ قانون کے طور پر مولانا مودودیؒ نے بتایا: ’’یہ مجتہدین امت کے وہ فیصلے ہیں‘ جو انھوں نے مختلف دستوری مسائل پیش آنے پر اپنے علم و بصیرت کی روشنی میں کیے تھے۔ یہ فیصلے اسلامی دستور کی روح اور اس کے اصولوں کو سمجھنے میں ہماری بہترین رہنمائی کرتے ہیں‘‘۔

اسلامی قانون کے چاروں ماخذ کی تشریح و توضیح کے بعد مولانا مودودیؒ نے اس اعتراض کا اطمینان بخش جواب دیا کہ چودہ صدیاں پرانا اسلامی قانون جدید زمانے کی سوسائٹی اور ریاست کی ضروریات کے لیے کس طرح کافی ہو سکتا ہے؟ اس سلسلے میں اسلامی قانون کی نام نہاد سختی اور فقہی اختلافات کے بہانے کا تسلی بخش جواب بھی انھوں نے دیا۔

مولانا مودودیؒ کے خطاب کے دوران لا کالج ہال میں بالکل خاموشی چھائی رہی اور لا کالج اور یونی ورسٹی کے دوسرے شعبوں کے طلبہ نے پوری توجہ سے ان کا خطاب سنا۔ بعض لوگوں نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ پہلی دفعہ ایک عالم دین کو موضوع کے عین مطابق تقریر کرتے ہوئے سنا ہے جس کے نتیجے میں طلبہ کو یکسوئی حاصل ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ قیام پاکستان کے چند ماہ بعدہی مولانا مودودیؒ‘ مطالبہ نظام اسلامی لے کر اٹھے تھے‘ تب پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے رکن اور پنجاب یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک نے انھیں یونی ورسٹی لا کالج میں اسلامی قانون کے حوالے سے لیکچر دینے کی دعوت دی تھی۔ اس دعوت پر مولانا مودودیؒ نے ۶ جنوری ۱۹۴۸ء کو اسلامی قانون کے موضوع پر ایک مفصل لیکچر دیا تھا۔ جس میں اسلامی قانون کی حقیقت‘ اس کی روح‘ اس کا مقصد اور اس کے بنیادی اصول وضاحت سے بیان کیے تھے۔ اس کے بعد ۱۲ فروری ۱۹۴۸ء کو ’’پاکستان میں اسلامی قانون کا نفاذ کس طرح ہو سکتا ہے‘‘ کے موضوع پر یونی ورسٹی لا کالج لاہور میں ایک اور لیکچر دیا تھا۔

آخر میں‘میں مولانا مودودیؒ کی ایک اہم ملاقاتوں کے بارے میں عرض کروں گا:

دسمبر ۱۹۷۱ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد فوجی جرنیلوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل یحییٰ خان کی جگہ پاکستان کا چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر نامزد کیا تھا۔ صدارت کا منصب سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد بھٹو صاحب نے مولانا مودودیؒ کو یہ پیغام بھیجا کہ: میں ملاقات کے لیے آپ کے ہاں آنا چاہتا ہوں‘‘۔ اس پر یہ طے ہوا کہ مولانا مودودیؒ‘ بھٹو صاحب سے گورنمنٹ ہاؤس لاہور میں ملاقات کر لیں۔ اس ملاقات کے لیے مولانا مودودی مرحوم و مغفور کے ساتھ میں گیا تھا۔ بھٹو صاحب نے مولانا سے کہا: ’’آپ عالم اسلام کے نام ور عالمِ دین ہیں۔ میں بچے کھچے پاکستان کی حکومت چلانے کے لیے آپ کے تعاون کا طلب گار ہوں‘ کیونکہ ہماری پارٹی کے منشور میں یہ بات شامل ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے‘‘۔

مولانا مودودیؒ نے فرمایا: ’’بھٹو صاحب‘ آپ نے عام انتخابات میں سوشلزم کا نعرہ بلند کیا تھا۔ پھر معروف سوشلسٹ اور دین سے بے زار افراد آپ کی حکومت میں شامل ہیں۔ ان لوگوں کی موجودگی میں‘ ہم کس طرح تعاون کر سکتے ہیں؟‘‘

۱۹۶۹ء تک میں‘ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔یہ صدر ایوب مرحوم کی حکومت کے آخری دور کی بات ہے جب ان کی حکومت کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ صدر صاحب نے حزبِ اختلاف کو دعوت دی تھی کہ وہ ان سے مل کر آئینی معاملات طے کریں۔ کئی سیاست دانوں نے اس دعوت نامے کو رد کر دیا۔ حزبِ اختلاف میں چند قائدین کے مسلسل انکار کی وجہ سے حالات بہتری کی طرف نہیں جا رہے تھے۔ اسی دوران سیدمودودیؒ کا ایک بیان اخبار میں پڑھا جس کا ایک فقرہ اب بھی یاد ہے: ’’ملک کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ جب یہ فقرہ پڑھا تو مجھے خیال آیا کہ یہ شخص ٹھیک کہہ رہا ہے۔ اگر بات چیت سے معاملات طے ہو سکتے ہیں تو پھر ہنگامہ آرائی اور ملک کو دوسرے مارشل لا کی طرف دھکیلنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے یوں لگا کہ یہ کوئی خاصا سمجھ دار انسان ہے جس کو موقع کی نزاکت کا پورا پورا ادراک ہے‘ اور اگر یہ راستہ اختیار نہ کیا گیا تو معاملہ مزید بگڑسکتا ہے اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔ مجھے یہ بیان اس لیے بھی اچھا لگا کہ چلو ہمارے مولوی صاحبان میں سے کسی ایک مولوی صاحب کو تو سیاسی بصیرت حاصل ہے۔ اس وقت تک میں جماعت اسلامی یا دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں کے حدود اربع کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا۔ بہرحال ایوب صاحب جاتے جاتے اقتدار ایک فوجی جرنیل کے حوالے کرگئے۔ اس موقع پر مجھے مولانا مودودیؒ کا وہ بیان یاد آیا کہ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ اس شخص کی بات مان لی جاتی اور حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔

اسی دوران ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کا اعلان ہوا۔ عجب عالم تھا۔ پیپلز پارٹی ایک آندھی کی طرح آئی اور عام آدمی میں بہت مقبول بھی ہوئی۔ اس کا نشانہ بھی جماعت اسلامی اور مولانا مرحوم کی ذات تھی۔ کئی قسم کے نعرے ایجاد ہوئے۔ ان میں ایک نعرہ تھا جس نے مجھے مجبور کیا کہ میں مولانا مودودیؒ کو دیکھوں اور وہ نعرہ تھا: ’’سو یہودی‘ ایک …‘‘جب میں نے یہ نعرہ سنا تو مجھے بہت اشتیاق ہوا کہ اس شخص کو ضرور دیکھوں جسے یہ لوگ اس نام سے ’سرفراز‘ کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھے یہ خیال بھی آتا کہ اگر یہ شخص اتنا ہی بُراہے تو پھر اس کا وجود کیوں برداشت کیا جا رہا ہے۔ میں نے مولانا کو اسی نعرے کی وجہ سے دیکھنے اور جاننے کا ارادہ کیا۔

میں نے مولانا کے گھر کا پتا لیا اور ان کی رہایش گاہ پر پہنچا۔ راستے میں طرح طرح کے خیالات میرے ذہن میں آئے اور جوں جوں میں اچھرہ کی حدود کے قریب پہنچتا گیا‘ مجھ میں    بے چینی بڑھتی گئی۔ میں عصرکی نماز کے بعد وہاں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں پر کچھ لوگ کرسیوں پر اور کچھ نیچے صفوں پربیٹھے ہوئے تھے۔ ایک چھوٹی سی میز اور ایک کرسی رکھی ہوئی تھی‘ جو اس بات کا پتادیتی تھی کہ کسی نے آکر یہاں بیٹھنا ہے۔ وہاں ایک فرد سے معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہاں مولانا مودودیؒ بیٹھیں گے۔ یہ بات سن کر میں بہت خوش ہوا کہ چلو مولانا کو دیکھ لیں گے کیونکہ میں یہ سوچ کر آیا تھا کہ مولانا کو ملنے کے لیے ان کے سیکرٹری کو ملنا ہوگا۔ ملاقات کا وقت لیا جائے گا اور معلوم نہیں کتنا وقت ملے گا وغیرہ وغیرہ۔ مولانا تشریف لائے اور کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔ ان کے آنے اور بیٹھنے کی عاجزی کو دیکھ کر میرے دل نے گواہی دی کہ یہ شخص ایسا تو نہیں ہو سکتا‘ جس طرح اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ میری موجودگی میں کئی ایک حضرات نے اُلٹے سیدھے سوالات پوچھے۔ مولانا نے بڑے تحمل اور بردباری سے ان سوالات کے نہایت معقول جوابات دیے۔ کچھ لوگوں نے ایسے ایسے سوال بھی کیے کہ میں سمجھتا تھا کہ ان کے جوابات بہت مشکل ہیں اور مولانا کیا جواب دیں گے۔ لیکن مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مولانانے ان کے مختصر اور بہت ہی صحیح جواب دیے۔ ان کے بولنے کا انداز بتاتا تھا جیسے ان کو جواب دینے میں کوئی دشواری نہیں ہو رہی۔

ان سوالوں میں دینی مسائل بھی تھے اور سیاسی باتیں بھی۔ ان دنوں مولانا عصر سے لے کر مغرب تک باہر لان میں عصری نشست کرتے تھے۔ چنانچہ میں نے بھی کبھی کبھار وہاں جانا شروع کر دیا۔ جتنی دفعہ بھی گیا اچھی چیز ہی دیکھی اور میرے اندر ان کی ذات کے بارے میں جو نقشہ لوگوں کی غلط باتوں سے بنا ہوا تھا وہ ریت کے گھروندے کی مانند مسمار ہوتا گیا۔

کچھ عرصے بعد میں نے بھی ہمت کر کے سوالات پوچھنے شروع کیے۔ ان سوالوں کا سلسلہ کچھ اس طرح ہوگیا کہ وہاں پر موجود لوگوں نے مجھے جاننا شروع کر دیا اور مولاناؒ نے بھی۔ وہ اس لیے کہ مجھے اونچی آواز میں ذرا جلدی جلدی بولنے کی عادت تھی۔ ایک دفعہ میں نے مولاناؒ سے جب یہ پوچھا: ’’لوگ آپ کے بارے میں بہت ہی نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں‘‘۔ ابھی میرا سوال پورا ہی نہیں ہوا تھاکہ مولانا خلافِ معمول میرا سوال کاٹ کر فرمانے لگے: ’’اور آپ کو اس پر غصہ آتا ہوگا‘‘۔ میں نے کہا: بالکل آتا ہے‘وہ اس لیے کہ جب کوئی شخص کسی کا احترام کرتا ہوتواس کے بارے میں غلط بات سننے پر غصہ آتا ہے‘‘۔مولانا نے فرمایا: ’’لگتا ہے کہ آپ نے تاریخِ اسلام کا توجہ سے مطالعہ نہیں کیا۔ اگر آپ نے ایسا کیا ہوتا تو آپ مجھ سے یہ سوال نہ پوچھتے۔ آپ تاریخِ اسلام اٹھا کر دیکھیے ہمارے بزرگوں کے ساتھ تو بہت کچھ ہوا تھا۔ اس کے مقابلے میں میرے ساتھ تو کچھ بھی نہیں ہوا‘‘۔ ان کا یہ جواب سن کر میرے دل نے کہا کہ مولانا آپ کی عظمت کو سلام!

یہ تو محض ایک سنجیدہ سوال تھا۔ یہاں میں چند ایک غیر مہذب سوالوں کا ذکر بھی کرنا چاہتا ہوں تاکہ اندازہ ہو‘ مولانا کتنے صابر اور بردبار انسان تھے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات ایک عجیب و غریب دور کی علامت تھے۔ اسی دوران ایک شخص نے مولانا سے کہا: ’’مولانا‘ مخالف لوگ آپ کی داڑھی کو نقلی داڑھی کہتے ہیں‘‘۔ مولانا فرمانے لگے: ’’آپ میرے پاس آئیں اور خود دیکھ لیں کہ نقلی ہے یا اصلی‘‘۔ اسی طرح ایک دفعہ ایک شخض نے کہا: ’’آپ ۱۰۰ روپے والا پان کھاتے ہیں‘‘۔ مولانا مسکرا کر کہنے لگے کہ: ’’آپ آئیں اور میرے پان دان میں جتنے پان ہیں اٹھا لیں اور مجھے صرف ۱۰ روپے دے دیں‘‘۔کسی نے کہا: ’’مولانا سنا ہے آپ آدھا قرآن مجید مانتے ہیں اور آدھا نہیں مانتے‘‘۔مولانا نے کہا :’’میں نے ۲۸ پاروں تک اس کا ترجمہ تحریر کر دیا ہے‘ پھر بھلا میں کیسے آدھے قرآن کو مانتا ہوں اور آدھے کو نہیں‘‘۔

ان بھولے بسرے واقعات کا تذکرہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ قارئین جان سکیں کہ مولاناؒ کی ذات کیسی تھی۔ اس لیے بھی کہ بعض حلقوں میں مولانا کے بارے میں یہ غلط تاثر تھا کہ مولانا بہت مغرور آدمی ہیں اور لوگوں سے باتیں کرتے وقت ان کا مزاج روکھا ہوتا ہے۔ دراصل ہم میں سے اکثر حضرات‘ چرب زبان آدمی کو بہت اچھا اور عقل مند سمجھتے ہیں‘ حالانکہ اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ مولانا کم سخن تھے۔

ایک دفعہ ان کے ڈرائیور کو جو غالباً فیصل آباد (اُس وقت لائل پورتھا) کا رہنے والا تھا‘ چند دنوں کی رخصت چاہیے تھی۔ لیکن مولانا کی مصروفیات ان دنوں کچھ ایسی تھیں کہ ڈرائیور کا ہونا لازمی تھا۔ میری موجودگی میں مولانا نے جب ڈرائیور سے پوچھا: ’’کیا یہ چھٹیاں کم نہیں ہوسکتیں یا چند دن بعد نہیں لی جا سکتیں؟‘‘ تو اس نے کہا: ’’جی نہیں‘ مجھے بہت ضروری کام ہے‘‘۔ مولانا نے مسکرا کر صرف یہ کہا: ’’سب لوگوں کو ضروری کام ہیں۔ بس صرف میں ہی ہوں جسے کوئی کام نہیں‘‘۔مجھے نزدیک بیٹھا دیکھ کر فرمانے لگے: ’’آپ سن رہے ہیں‘‘ اور ساتھ ہی فرمایا: ’’آپ کسی اچھے سے اپنے اعتماد والے ڈرائیور کا بندوبست کر دیں‘‘۔ میں وعدہ کر کے لوٹ آیا۔ چونکہ میری کسی ڈرائیور تک کوئی رسائی نہ تھی‘ اس لیے میں بندوبست نہ کرسکا اور مزے کی بات یہ ہے کہ میں کافی دنوں تک مولانا کے ہاں بھی نہ جا سکا اور بات ان کے ذہن سے اتر گئی۔ آج ندامت ہوتی ہے کہ کم از کم مولاناکو جواب ہی دے دیا ہوتا‘ نہ جانے انھوں نے میرا کب تک انتظار کیا ہوگا۔

ایک دفعہ رمضان کا مہینہ تھا‘ وہاں پر موجود لوگوں کو کھجور اور سموسے افطاری کے لیے دیے جا رہے تھے۔ اتفاق سے میں اس جگہ کھڑا تھا جہاں سے مولانا اپنے گھر کے لان سے اپنے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ جب وہ میرے پاس سے گزرے تو میں نے اپنا کھجور اور سموسے والا لفافہ آگے بڑھاتے ہوئے مولانا سے کہا: ’’آپ بھی افطار کے لیے لیجیے‘‘۔ مولانا کہنے لگے: ’’شکریہ‘ یہ چیزیں زیادہ سخت ہیں۔ میں تو چائے وغیرہ سے افطار کرتا ہوں‘ آپ میرے ساتھ آجایئے‘‘۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہیں کھڑا سوچتا رہا کہ یہ شخص مجھے جانتا تک نہیں‘ صرف عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کرگفتگو سنی ہے اور چند ایک سوال کیے ہیں اور اس سے بڑھ کر کچھ نہیں‘ لیکن اس شخص نے مجھ پر کتنا اعتماد کیا ہے کہ ایک بار اس نے مجھے ڈرائیور لانے کو کہا جو میں نہ کر سکا اور انھوں نے مجھ سے وجہ تک دریافت نہیں کی۔ پھر میں نے روزہ افطار کرنے کی    پیش کش کی تو انھوں نے کتنی محبت سے مجھے اپنے ساتھ روزہ افطار کرنے کے لیے کہا ہے۔ یہ اس شخص کی اعلیٰ ظرفی نہیں تو اور کیا ہے۔ یہاں میں معذرت کے ساتھ لکھنا چاہتا ہوں کہ اس سے پہلے اور بعد بھی اکثر دینی رہنمائوں کو بڑے قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان کی آن بان‘ جبہ ودستار‘ رعب داب اور اپنے مریدین کے ساتھ حسن سلوک کو بھی دیکھا ہے۔ لیکن مولاناؒ کے نزدیک ان چیزوں کا شائبہ تک نہیں تھا۔ ایک دفعہ مولانا محترم‘ شادباغ لاہور میں ایک جلسے میں خطاب کے لیے تشریف لائے۔ کسی شخص نے نعرہ لگایا: ’’پیر مودودی زندہ باد‘‘۔ مولاناؒ نے فوراً اس نعرہ کو روکا اور کہا: ’’میں اس چیز کو پسند نہیں کرتا‘ آپ میرے لیے یہ نعرہ نہ لگائیں‘‘۔

کچھ لوگوں نے جو کہ اب مرحوم ہوچکے ہیں‘ مولاناؒ کی ذات تو کیا ان کی بیٹیوں تک کو بھی نہیں بخشا۔ اس ضمن میں ایک واقعہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ چند علما حضرات کی طرف سے مولانا مودودیؒ کی فیملی کے بارے میں یہ مشہور کیا گیا تھا کہ ان کا گھرالٹرا ماڈرن ہے۔ گھر کے کچھ افراد صوم و صلوٰۃ تک کے پابند نہیں‘ پردے کی پابندی بھی بطور خاص نہیں کی جاتی وغیرہ وغیرہ (یہ الفاظ تو میں بڑے محتاط انداز سے تحریر کر رہا ہوں‘ جب کہ اصل الفاظ تو تہذیب سے گرے ہوئے تھے)۔ میں نے صرف اپنے اطمینان کے لیے ایک دن اپنی والدہ محترمہ کو ساتھ لیا اور ذیلدار پارک مولانا کے گھر گیا۔ میں خود تو عصری نشست میں بیٹھ گیا اور والدہ محترمہ کو مولانا کے گھر بھجوا دیا۔ مغرب کی نماز کے بعد ہم لوگ واپس آئے۔ والدہ محترمہ نے مجھے بتایا: ’’میں نے تو وہاں کوئی اچنبھے کی بات نہیں دیکھی‘ بس عام سا سادا سا گھر ہے لیکن خوب صاف ستھرا۔ گھر کے بچے خاصے شایستہ ہیں۔ گھر میں سب نے باقاعدہ نماز عصر اورمغرب پڑھی۔ مولانا صاحب کی بیگم اور ان کی بیٹیاں بہت ملنسار ہیں‘‘۔ انھوں نے والدہ محترمہ کی سکنجبین سے تواضع کی۔ جب وہ گھر کے اندر داخل ہوئیں تو اس وقت مولانا کی بیگم اور بچیاں چاول اور مونگ کی دال پکانے کے لیے صاف کر رہی تھیں۔اس واقعے کے بعد خود مجھے اپنے آپ پر ندامت ہوئی کہ میں نے والدہ کو بھیج کر ایسا کیوں کیا؟ ان ذاتی تجربات کے بعد مجھے مولاناؒ کی ذات پر بہت ترس آیا کہ ایک شریف النفس آدمی پر کیسا کیچڑ اُچھالا جا رہا ہے اور وہ شریف آدمی کسی بات کا نوٹس نہیں لے رہا۔

دو ایک روز کے بعد میں پھر عصر کے بعد ان کی روزانہ کی نشست میں شامل ہوا اور مولاناؒ سے سوال کیا:’مولانا محترم‘ یہ کوثرنیازی آپ کی جماعت میں تھے اور اب اتنی دُوری کیوں؟‘‘ مولانا کہنے لگے:’’وہ اچھے آدمی تھے جو وہ چاہتے تھے میرے پاس نہیں تھا۔ جہاں سے ان کو مل گیا وہاں وہ چلے گئے‘‘۔ ایسا جواب سننے کے بعد مزید سوال کی کوئی گنجایش نہ تھی۔ انھی دنوں کی بات ہے کہ ہمارے حلقۂ انتخاب میں جماعت اسلامی کے چودھری غلام جیلانی صاحب قومی اسمبلی اور شیخ محمد رفیق اشرفی صاحب صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ چودھری غلام جیلانی شاید گلے کی پُرانی خرابی کی وجہ سے بہت ہی آہستہ بولتے تھے اور شیخ محمد رفیق اشرفی ذرا اٹک اٹک کر بولتے تھے۔ ان کے مقابلے میں دوسری سیاسی پارٹیوں کے امیدوار بڑی گرج دار آواز اور آستینیں چڑھا چڑھا کر بولتے تھے اور ان لوگوں کے جلسے بھی خوب جمتے تھے۔ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی کے جلسوں میں حاضری بہت کم ہوتی تھی اور سونے پر سہاگہ ان دوحضرات کی آواز۔ دوایک دفعہ ان کے جلسوں کی یہ کیفیت دیکھ کر میں نے مولانا سے سوال کیا: ’’مولانا کسی اچھے مقرر کاانتخاب کیا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا‘‘۔ مولانا کہنے لگے: ’’کیا آپ چرب زبانی کو اچھا سمجھتے ہیں؟‘‘ پھر کہا: ’’ہمارے پاس چرب زبان نہیں ہیں‘ اچھے ورکر ضرور ہیں‘‘۔

انھی دنوں کی بات ہے کہ ایک دفعہ غلام غوث ہزاروی صاحب نے مولانا کے بارے میں بڑے جذباتی انداز میں ایک ناخوش گوار‘ سخت تکلیف دہ بیان دیا۔ میں نے مولانا سے کہا: مولانا‘ آپ ان کا جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘مولانا نے کہا: ’’کس کس کا جواب دوں‘ میرا یہ مزاج نہیں کہ میں ان سوال و جواب میں الجھوں۔ لیکن میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ جس مقام پر مولانا ہزاروی صاحب بول رہے ہیں‘ میں اس مقام پر نہیں جا سکتا اور جس مقام پر میں ان کو دیکھنا چاہتا ہوں وہ ان کے بس کی بات نہیں‘ اور اگر ہم نے انھی کا طرزخطابت اپنانا ہے تو پھر ہمیں اپنی علیحدہ جماعت بنانے کا کیا فائدہ‘ ہم کیوں نہ ان کی جماعت میں ضم ہوجائیں‘‘۔

مولاناؒ صاحب کا لباس جو میں نے اکثر دیکھا وہ سفید رنگ کا کُرتا اور سفید رنگ کا کھلے پائنچے والا پاجامہ ہوتا۔ ایک دن مولانا سے پوچھا:’’مولانا‘ آپ کا جی نہیں چاہتاکہ آپ بھی دوسرے لوگوں کی طرح رواج کے مطابق اپنے لباس کو تبدیل کیا کریں جو کہ اکثر غیرشایستہ نہیں ہوتا‘‘۔ مولانا کہنے لگے: ’’اس میں کوئی مضائقہ تو نہیں لیکن دنیا والے تو بڑی تیزی سے آئے دن رواج بدلتے ہیں‘ کسی جگہ رکتے ہی نہیں۔ آدمی اس شخص کا پیچھا کرے جس نے کسی ایک جگہ ٹھیرنا ہو‘ مسلسل پیچھا کرنے سے تو آدمی تھک جائے گا اس سے یہ بہتر نہیں کہ آدمی اپنی چال چلے‘‘۔

مولانا نے اپنی کسی تحریر میں قیامت کے ظہورپذیر ہونے کو سائنسی لحاظ سے ثابت کیا تھا۔ یہ تحریر پڑھ کر ایک طالب علم نے جس کا تعلق لاہور سے باہر کسی شہر سے تھا‘ سوال کیا: ’’مولانا‘ میرے سائنس کے استاد نے آپ کی تحریر پڑھی ہے اور آپ کے تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے انھوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ التماس کروں کہ آپ اپنی تحریروں میں اسی طرح سائنسی حوالے دیا کریں‘‘۔ مولانا فرمانے لگے: ’’جہاں ضروری سمجھتا ہوں وہاں پر حوالہ دے دیتا ہوں لیکن آپ اپنے استاد محترم سے کہہ دیجیے کہ میں قرآن مجید کو سائنس کی کتاب نہیں بنانا چاہتا‘‘۔

۱۹۷۰ء کے انتخابات کے زمانے میں ایک روز کسی نے مولانا صاحب نے سوال کیا: ’’مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں مجیب الرحمن اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کو بہت مقبولیت حاصل ہو رہی ہے‘ ان حالات کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟‘‘ مولانا کہنے لگے: ’’اگر مشرقی پاکستان میں شیخ صاحب اور مغربی پاکستان میں بھٹو صاحب کامیاب ہوگئے تو پاکستان کا خدا ہی حافظ ہوگا‘‘ (پھرانتخابی نتائج بھی ایسے ہی آئے اور سال بھر میں پاکستان دولخت ہوگیا)۔

پہلے عام انتخابات کے اگلے روز مولانا کے گھر پر کافی لوگ جمع تھے اور مولانا اپنے گھر کے لان کے بجاے برآمدے سے ذرا آگے بیٹھے تھے۔ قریب کھڑی ایک کار کے ساتھ ٹیک لگاکر میاں طفیل محمد صاحب کھڑے تھے۔ عجیب اداسی کا سماں تھا۔ کارکن خاصے بددل نظر آرہے تھے‘ کیوں کہ نتیجہ مایوس کن تھا۔ کسی صاحب نے سکوت توڑتے ہوئے سوال کیا: مولانا‘ کیا یہ نتیجہ ہمارے کارکنوں کی کاوش میں کوتاہی کی وجہ سے تو نہیں ہوا‘‘۔ مولانا نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر‘ قدرے بلند آواز اور بڑے مضبوط لہجے میں کہا: ’’نہیں‘ نہیں ایسا نہیں ہے‘ بلکہ جماعت کے ان مخلص اور تنگ دست کارکنوں نے تو بھوکے رہ کر اور اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے سخت مشکل حالات میں کام کیا ہے‘‘۔ اسی مجلس میں مجیب الرحمن شامی صاحب نے سوال کیا: ’’مولانا‘ موجودہ نتائج کی روشنی میں آپ لوگوں کے مزاج کے بارے میں کیا کہیں گے؟‘‘ مولانا نے برجستہ کہا: ’’اگر لوگوں کا مزاج اچھا ہوتا تو وہاں مجیب صاحب اور یہاں بھٹو صاحب اس قوم کے گلے نہ پڑتے‘‘۔

۱۹۷۴ء میں مجھے اومان کے ایک کیڈٹ اسکول میں ملازمت مل گئی۔اس اسکول میں کچھ فوجی افسران جن کا تعلق درس و تدریس سے تھا‘ اُردن سے آئے ہوئے تھے۔ ایک دن موسیٰ نامی ایک کپتان میرے دفتر میں کسی کام سے آئے۔ باتوں باتوں میں ان کپتان صاحب کو پتاچل گیا کہ میرا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔ وہ کہنے لگے: ’’کیا آپ نے مولانا مودودیؒ کو دیکھا ہے؟‘‘ میں نے اثبات میں جواب دیا‘ تو کہنے لگے: ’’میں نے مولانا مودودیؒ کا   لٹریچر پڑھا ہے‘ لیکن ان کو دیکھا نہیں‘‘۔اس کے ساتھ وہ مجھے اپنے ساتھ اسکول کی لائبریری میں لے گئے اور مولانا مودودیؒ کی کچھ کتابیں دکھائیں اور پوچھنے لگے: ’’آپ رخصت پر کب لاہور جا رہے ہیں؟‘‘میں نے جب جانے کی تاریخ بتائی تو فرطِ جذبات میں کہنے لگے:

" Please Muhammad, when you go this time to Lahore, please see Maulana Maududi with my eyes".

میں نے اس کی فرمایش پوری کی اور جب دوبارہ مسقط گیا اور اس کو بتایا تو اس نے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: "You are a lucky man that you live in the city where a great Muslim scholar lives".

ادارہ

یہ نومبر ۱۹۷۵ء کا واقعہ ہے۔ میرے ایک مہربان دوست پنجاب سے کراچی آئے ہوئے تھے۔ میں اُن سے ملاقات کے لیے اپنے ایک عزیز دوست کے گھر گیا۔ اثناے گفتگو میں مہمان دوست نے مخصوص رازدارانہ لہجے میں ہم دونوں سے کہا:’’کیا آپ کو معلوم ہے کہ مولانا مودودی نے ابھی حال ہی میں اپنی بیٹی کی شادی میں دولہا کو ۸۰ ہزار روپے کا چیک دیا تھا‘‘۔ مجھے اس پر تردّد ہوا کہ ایک تو شادی کے موقع پر کسی تقریب میں اس طرح کوئی معقول آدمی چیک یا رقم نہیں دیا کرتا‘ دوسرے یہ کہ مولانا مودودیؒ کے ذوق سے تو یہ بہت ہی بعید بات ہے۔

میں نے اُن سے عرض کیا: ’’اول تو شادی کے موقع پر اس طرح چیک دینے کی کوئی رسم نہیں ہوتی اور وہ بھی ۸۰ ہزار روپے کا چیک‘ اور نہ مولانا مودودی کی مالی حالت ہی ایسی ہے کہ شادی کے اخراجات کے علاوہ اتنی بڑی رقم کا کوئی چیک دیں (واضح رہے کہ آج سے ۲۸ سال قبل یہ واقعی بہت بڑی رقم تھی) ‘‘۔اُن صاحبِ کشف و اسرار نے فرمایا :’’مولانا کی مالی حالت پہلے ضرور کمزور تھی لیکن اب بہت بہتر ہوگئی ہے‘‘۔ میں نے پوچھا کہ کیا انھوں نے اس روایت کی تحقیق کرلی ہے؟ فرمانے لگے :’’راوی خود اس محفل میں شریک تھا۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں‘ جو لوگ شادی کی محفل میں شریک تھے اُن سب کے علم میں ہے کیونکہ یہ چیک سب کے سامنے دیا گیا تھا‘‘۔

میں نے واپس گھر آکر ۲۹ نومبر ۱۹۷۵ء کو ایک خط مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی ؒکی خدمت میں ارسال کیا‘ جو یہ ہے:

محترمی و مکرمی‘ سلام مسنون!

چند روز قبل ایک صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے اپنی صاحبزادی کی شادی کے موقع پر ۸۰ ہزار روپے کا چیک پیش فرمایا تھا۔ میں نے اُن سے کہا کہ آپ کی مالی حالت ایسی نہیں کہ آپ شادی کے دوسرے اخراجات کے علاوہ اتنی بڑی رقم کا چیک بھی پیش فرمائیں‘ لیکن وہ صاحب اپنی بات پر مصر تھے‘ بلکہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو حضرات شادی میں شریک تھے اُن سب کو اس بات کا پتا ہے کیونکہ چیک علی الاعلان پیش کیا گیا تھا۔   براہِ کرم آپ مجھے واپسی ڈاک مطلع فرمائیں کہ اصل صورت حال کیا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہوا اور ظاہر ہے کہ نہیں ہوا ہوگا (حالانکہ اس کا ہونا کوئی غیرشرعی بات نہیں) تو میں اُن صاحب کو بتا سکوں تاکہ ایک غلط بات وہ آگے دوسروں کو نہ کہہ سکیں۔

اس سلسلے میں ملک غلام علی صاحب یا کسی اور کے ذریعے نہیں‘ بلکہ آپ خود ہی دو سطریں تحریر فرما کر وضاحت فرمائیں تو ازحد ممنون ہوں گا۔ والسلام!

اچھرہ‘ لاہور

۴ دسمبر ۱۹۷۵ء

محترمی و مکرمی‘ السلام علیکم ورحمتہ اللہ

عنایت نامہ مورخہ ۲۹ نومبر ملا۔ معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ مجھ پر اتنے مہربان ہیں کہ میرے اوپر بہتان لگا لگا کر اپنے سارے نماز‘ روزے اور نیک اعمال آخرت میں میری طرف منتقل کرا دینا چاہتے ہیں۔

جن صاحب کا یہ قول ہے اُن سے پوچھیے کہ میری تین لڑکیوں کی شادیاں چند سال کے وقفوں سے ہوئی ہیں‘ اُن میں سے کس کو ۸۰ ہزار روپے کا چیک میں نے دیا تھا؟ ہر ایک شادی کے موقع پر جو لوگ مدعو تھے اُن کی فہرست میں آپ کو بھیج دوں گا۔ آپ خود سب کو خطوط لکھ کر پوچھ لیجیے کہ یہ بات صحیح ہے یا غلط۔ خطوط پر جو کچھ صَرف ہوگا وہ میں ادا کروں گا۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

مولانا مودودیؒ صاحب کا جواب آجانے کے بعد بات ختم ہوجانی چاہیے تھی‘ مگر میں نے سوچا کہ کیوں نہ جھوٹے کو اُس کے گھر تک پہنچایا جائے۔ چنانچہ میں نے اپنے اُن محترم مہربان دوست کو خط لکھ کر حسب ذیل اُمور کی وضاحت چاہی:

۱-            اُن صاحب کا نام کیا ہے جنھوں نے آپ سے یہ بات کہی؟

۲-            اگر آپ راوی کا نام نہیں بتانا چاہتے تو اتنا تو بتا دیں کہ کیا آپ کے نزدیک راوی ثقہ ہے اور خود شادی میں شریک تھا؟

۳-            مولانا مودودیؒ کی کون سی بیٹی کی شادی میں یہ چیک دیا گیا کیونکہ اُن کی تین بیٹیوں کی شادی ہوچکی ہے۔ اگر اُن صاحب کو یہ یاد نہ ہو تو کم از کم اتنا تو معلوم کر کے بتا دیں کہ یہ شادی کس سنہ/ ماہ میں ہوئی تھی۔

۱۳ دسمبر ۱۹۷۵ء کو ہمارے مہربان دوست کا جواب آیا جس میں انھوں نے تحریر فرمایا: ’’یہ روایت پروفیسر محمد یوسف سلیم چشتی کی ہے اور یہ اُن کے الفاظ تھے: ’’مجھے ایک ایسے شخص نے بتایا ہے جو خود مجلس نکاح میں شریک تھا‘‘۔ مولانا کی ایک صاحبزادی کا نکاح ابھی غالباً ایک ماہ ہونے کو آیا ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب کے لڑکے سے ہوا ہے اور یہ معاملہ اُسی سے متعلق ہے۔ چشتی صاحب اب کراچی جاچکے ہیں لہٰذا تحقیق مزید فی الوقت میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ ہفتے عشرے بعد کراچی آنا ہوگا تو اُن سے دریافت حال کرلیں گے--- یا اس سے قبل اگر آپ چاہیں تو اُن کی ہمشیرہ کے پتے پر چشتی صاحب سے مل لیں‘‘۔

میں چشتی صاحب سے خود کیوں ملتا۔ محترم و مہربان دوست کا انتظار کیا۔ جب وہ کراچی تشریف لائے تو خاموشی سے اُن کے آگے مولانا مودودی صاحب کا جواب رکھ دیا۔ جس کو پڑھ کر اُن کے تو جیسے ہوش اُڑ گئے‘ پھر کہنے لگے: ’’چلو ابھی پروفیسر یوسف سلیم چشتی صاحب سے جاکر ملتے ہیں‘‘۔ اُن کی ہمشیرہ کے گھر پہنچے تو پتا چلا کہ موصوف چند ہی روز قبل لاہور واپس جاچکے ہیں۔ پھر ہمارے محترم دوست بھی واپس لاہور چلے گئے۔ وہاں سے اس موضوع پر پھر کچھ نہ لکھا کہ چشتی صاحب سے کیا بات ہوئی۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی صاحب ‘جو اب مرحوم ہوچکے ہیں نہ جانے کتنی ہی روایتیں اُن کی طرف منقول ہیں۔ ’’مستند‘‘راوی مانے جاتے ہیں اور بہت سی تحریر شدہ ہیں۔ اب کوئی بتائے کہ ان کی روایتوں پر کس حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

  • میں اپنے پرانے کاغذات دیکھ رہا تھا کہ ایک خط کی فوٹواسٹیٹ نقل پر نظر پڑی جو مولانا مودودیؒنے ۶ستمبر ۱۹۷۷ء کو مولانا سیدوصی مظہرندوی کو تحریر فرمایا تھا۔ اس خط کی نقل مولانا ندوی صاحب نے اُسی زمانے میں راقم کو دی تھی اور ساتھ ہی اپنے اُس خط کی نقل بھی جو موصوف نے ۱۵ستمبر ۱۹۷۷ء کو مولانا مودودیؒ کے مذکورہ خط کے جواب میں انھیں ارسال کیا تھا۔ اس کا پس منظر بیان کرنا میرے پیش نظر نہیں ہے‘ تاہم مجھے مولانا مودودیؒ کے خط کے اُن جملوں کی طرف توجہ دلانی مقصود ہے جن میں انھوں نے فرمایا تھا: ’’میری زندگی اب آخری مراحل میں ہے‘ بہت جیا تو سال دو سال اور جی لوں گا‘‘۔

مولانا محترم اپنا یہ خط ستمبر ۱۹۷۷ء میں تحریر فرماتے ہیں اور ٹھیک دو سال کے بعد‘ یعنی ۲۲ستمبر ۱۹۷۹ء میں دُنیاے فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف انتقال فرما جاتے ہیں۔ اب ملاحظہ فرمایئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا گرامی نامہ مرقومہ ۶ستمبر ۱۹۷۷ئ:

برادرم وصی مظہر صاحب‘  السلام علیکم ورحمتہ اللہ

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ میرے متعلق آپ جانتے ہیں کہ ۱۹۶۸ء سے مسلسل انحطاط نے مجھے اس قابل نہیں چھوڑا کہ کوئی کام اپنی ذمہ داری پر ہاتھ میں لے کر چلا سکوں۔ آپریشن کے بعد مجھے ایک دن بھی آرام لینے کا موقع نہیں ملا۔ ۶۹ء اور ۷۰ء میں شدید محنت نے میری قوت کو گھن لگا دیا ہے۔ ۷۱ء میں وجع المفاصل اور ۷۲ء میں وجع الفواد کے سخت حملے ہوئے اور آخرکار مجھے وہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اب اس نظام اور تحریک کو چلانا میرے بس میں نہیں ہے۔ اس وقت سے صحت کا بگاڑ پیہم بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ اس حالت میں اصلاح احوال محض میرے کچھ لکھ دینے اور کہہ دینے سے نہیں ہو سکتی۔ میں دعا کرتا ہوں کہ جو کام نیک نیتی کے ساتھ خدا کے دین کی برتری کے لیے شروع کیا گیا تھا‘ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو سیدھے راستے پر قائم کردے اور جو لوگ جماعت کوچلانے والے ہیں ان کی رہنمائی فرمائے۔ میری زندگی اب آخری مراحل میں ہے۔ بہت جیا تو سال دو سال اور جی لوں گا۔ آگے کام تو انھی لوگوں کو کرنا ہے…

خاکسار

ابوالاعلیٰ

  • ایک سدابہار شخصیت:  ابوالقاسم شیخo

میں نے اپنے بچپن میں کئی بار مولانا مودودیؒ کو دیکھا تھا۔ جب کبھی مولانا کراچی آتے تھے تو میرے والد شیخ محمد حسین صاحب کو طلب فرماکر انھیںہدایت فرماتے کہ محمدمیاں کو کل میرے پاس بھیج دیں۔ محمد میاں حلقہ گلبہار میں رہایش پذیر تھے اور مولانا جب بھی کراچی تشریف لاتے تو محمدمیاں ہی مولانا کے بال تراشنے اور خط بنانے کے لیے جاتے تھے۔

کراچی میں راقم کو کئی مرتبہ ان کے پانوں کی حفاظت کا شرف حاصل ہوا‘ جو حکیم محمد یوسف صاحب اپنے گھر سے کافی تعداد میں لگوا کر لاتے تھے۔

۷ جولائی ۱۹۷۴ء کی یہ ایک سہانی شام تھی جب میں مولانا کی رہایش گاہ پر عصری نشست میں موجود تھا۔ میں مولانا کی کرسی کے پائے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا اور مولانا کو سلام کیا۔ مولانا نے جواب دیا تو میں نے کہا: ’’حسین صاحب نے سلام کہا ہے‘‘ تو فوراً کہنے لگے: ’’گولیمار والے‘‘۔ میں نے کہا:’’جی ہاں‘ میں انھی کا فرزند ہوں‘‘۔ تو کہنے لگے: ’’بھئی جماعت میں ایک ہی توحسین ہے انھیں میرا سلام کہیے گا‘‘۔ یادداشت غضب کی تھی۔ میرے خیال میں مولانا‘ جماعت کے اکثر ارکان کو نام کے ساتھ پہچانتے تھے۔ اس کے بعد میں نے مولانا سے استفسار کیا:’’مولانا‘ خواب اور خواب کی تعبیر کی کیا حقیقت ہے؟ کیا خواب کی تعبیرمعلوم کرنا جائز ہے؟ اور معلوم کی جائے تو کس سے؟‘‘ مولانا نے جواب دیا:’’خواب کی تعبیر معلوم کرنا جائز ہے اور جو اس علم میں ماہر ہو اس سے تعبیر معلوم کرنا چاہیے‘‘۔ اس پر میں نے مولانا سے پوچھا :’’کیا آپ بھی یہ علم جانتے ہیں؟‘‘تو مولانا نے جواب دیا:’’نہیں‘ میں یہ علم نہیں جانتا‘‘۔ پھر میں نے مولانا سے کہا :’’ آپ اپنے خوابوں کے بارے میں بھی تو کچھ بتائیں‘‘ اس پر محفل کشتِ زعفران بن گئی۔ مولانا خود بھی مسکرا دیے اور فرمانے لگے:’’مجھے خواب نظر تو آتے ہیں مگر دھندلے ہوتے ہیں اور جو کچھ نظرآتا ہے صبح اٹھ کر بھول جاتا ہوں‘‘۔

اسی طرح کراچی میں جلسوں اور استقبالیوں کے مواقع پر مولانا سے کئی دفعہ ہاتھ ملانے کا موقع ملا۔ ان کا ہاتھ ملانے کا انداز اتنا مشفقانہ اور گرم جوش ہوتا تھا کہ میںآج تک اس   گرم جوشی کا لمس محسوس کرتا ہوں۔ ہاتھ ملاتے وقت نہ تو بیزاری کا اظہار کہ صرف مَس کرکے چھوڑ دیا اور نہ سختی کا اظہار کہ تکلیف پہنچے۔

مولانا سے ملنے کے بعد ایک فرحت کا احساس ہوتا ہے‘ جیسے آپ کسی خوشنما و معطر باغ میں داخل ہوگئے ہوں‘ جیسے ٹھنڈی ہوا کا معطر جھونکا! اللہ کا کتنا بڑاانعام ہے ان کی شخصیت!  کوئی متعصب اور حاسد خواہ اس کو تسلیم نہ کرے‘ مگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اللہ نے مولانا کی شکل میں اُمت کو ایسا بطل جلیل عطا کیا کہ جس نے واقعی افکار کی دنیا میں انقلاب بپا کردیا۔

مولانا کا یہی عزم و ارادہ ہے جو ان کی تحریروں سے جماعت کی تشکیل اور اس کے پروگرام سے ظاہر ہوتا ہے۔ مولانا نے اپنے مشن کے لیے چومکھی نہیں بلکہ شش پہلو جنگ لڑی۔ ایک طرف صاحب ِ اقتدار گروہ تھا تو دوسری طرف سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام‘ تیسری طرف انھیں سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں سے نبردآزما ہونا پڑا۔ چوتھی طرف مذہبی پیشوائوں کا ایک طبقہ تھا جس کو مولانا کی تحریک کے نتیجے میں اپنا مذہبی اقتدار اور اجارہ داری ڈانواں ڈول ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ پانچویں طرف مستشرقین کا طبقہ تھا کہ جس نے اسلام‘ قرآن اور صاحب ِ قرآن کے بارے میں بڑی دشنام طرازیاں کی تھیں اور جن کا ابطال ضروری تھا۔ مولانا نے اس طبقے سے متاثرہ افراد کے افکار میں بھی زلزلہ پیدا کیا۔ چھٹا محاذ ایک جماعت کا قیام‘ صالح افراد کی تلاش اور ان کو اپنا ہم نوا بنانا‘ ان کی اصلاح کی انفرادی خواہشوں اور کوششوں کو مربوط و منظم کرنا اور ان بکھرے دانوں کو ایک تسبیح میں پرونا‘ تاکہ دنیا کے سامنے ایک صالح گروہ اور متبادل قیادت کو پیش کیا جاسکے۔ یوں مولانا مودودیؒ نے ایک شش پہلو معرکہ سر کیا۔ یقینا مولانا نے جو کام تن تنہا انجام دیا وہ کئی اداروں کے کرنے کا کام تھا۔

مولانا کا طرزِ تحریر سہل اور عام فہم ہے۔ وہ اپنی تحریروں اور کتابوں میں زندہ ہیں۔ زندگی میں جس طرح محبت اور گرم جوشی سے مصافحہ کر کے وہ کسی کو اپنا بنالیاکرتے تھے‘ بالکل اسی طرح آج بھی وہ اپنی تحریروں کے ذریعے قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں‘ اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قاری چہار جانب سے ان کے دائرہ دعوت میں کھنچا چلاآتا ہے۔ دورانِ مطالعہ قاری نکل بھاگنے کے لیے اگر کوئی دلیل لاتا ہے تو اگلے ہی پیراگراف یا اگلے ہی صفحے میں اس کا جواب دے کر قاری کو پھر اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور پھر ذہن اس اُمتی کے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا جاتا ہے : ’’دیکھو‘ اس شخص سے نہ ملنا‘ اس کی کوئی بات نہ سننا‘ کانوں میں روئی ٹھونس لینا کیونکہ اس کے پاس جو جاتا ہے یہ اس کو اپنا ہم نوا بنا لیتا ہے‘‘۔

  • مولانا مو دودیؒ اور نوجوان: ظفرجمال بلوچo

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنے فکر و عمل سے نہ صرف معاشرے‘ میں موجود جمود کو توڑا‘ بلکہ اسے ایک مثبت حرکت پذیری کے عمل میں تبدیل کر دیا۔ آج علم و ادب کا ہر شیدائی نہ صرف ان کی اصطلاحات سے واقف ہے‘ بلکہ اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے تسلیم بھی  کرتا ہے‘ جو صرف مسلمانوں کا مذہب نہیں بلکہ انسانیت کے دین کے طور پر سامنے آئے‘ یہ  مولانا مودودیؒ کا سب سے بڑا کارنامہ تھا۔ انھوں نے دین کو ایک تحریک میں بدل دیا۔

لیکن اُن کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے پاکستان کے نوجوانوں میں اجتماعیت کااحساس پیدا کیا‘ جو آخر کار اسلامی جمعیت طلبہ کے قیام پر منتج ہوا۔ اس تنظیم نے اپنی دعوت‘ اپنی تنظیم اور اپنی تربیت کے حوالے سے ایک ہمہ جہت پروگرام ترتیب دیا۔ اس کام کے اثرات ملکی اور بین الاقوامی سطح پر برابر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بلامبالغہ آج جہاں جہاں بھی دین کے حوالے سے کوئی منظم کام ہو رہا ہے‘ اس کی پشت پر اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں کا جذبہ اور وژن کام کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ علم‘ دلیل اور حکمت مومن کی متاع گم گشتہ ہے‘ لیکن اس سے کام لینے کا درس مولانا مودودی نے ہی اس دور میں دیا اور نوجوانوں نے اسے وظیفہ زندگی بنا لیا۔ یہ نوجوان عملی زندگی میں داخل ہوئے تو ان میں سے کئی ایک نمک کی کان میں نمک بن گئے‘ لیکن بہت سارے ایسے بھی ہیں ‘جنھوں نے اپنی شناخت اور پہچان کو گم نہ ہونے دیا۔ جنھوں نے مقصد زندگی سے تعلق کو قائم رکھا۔ یہ علم کے حصول میں ایک سے دوسری جگہ پہنچے یا تلاش معاش نے انھیں آمادہ سفر کیا‘ ہر حال میں انھوں نے اپنا رنگ برقرار رکھا اور اردگرد کے ماحول پر گہرا اثر ڈالا۔

آج کوئی چاہے تو اپنے تعصب کے باعث اسلام کو کوئی بھی برا نام دے ڈالے‘ لیکن مولانا مودودیؒ کی طرف سے دی جانے والی علم‘ دلیل اور حکمت کی روشنی اپنا راستہ خود بنا رہی ہے۔ مجھے کچھ عرصہ امریکہ اورکینیا میں رہنے کا اتفاق ہوا اور میں نے دیکھا کہ وہاں دین کی دعوت پہنچانے کے لیے مولانا مودودیؒ سے اختلاف رکھنے والوں نے بھی دینیات کو دعوت کے ابلاغ کا موثر ترین ذریعہ سمجھا اور اسے اپنایا۔ میں ایک مرتبہ مشی گن کے ایک نواحی علاقے میں گیا‘ جو اپنے جرائم کے حوالے سے کبھی بہت مشہو رتھا‘ لیکن اب وہاں کے کالوں کی اکثریت مسلمان ہو چکی ہے۔ وہ جگہ جہاں دن کے اجالے میں جاتے ہوئے ڈر لگتا تھا‘ اب وہاں رات کو بھی کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ وہاں کی مسجد میں ایک نیگرو نوجوان نے جو امام تھا‘ مولانا مرحوم کی کتاب Towards Understanding Islam (دینیات) کو ہاتھ میں لہراتے ہوئے کہا : ’’اس کتاب نے یہاں کے مکینوں کی زندگیوں کو بدل ڈالا ہے‘‘۔

یوں مولانا مودودیؒ کو نوجوان سفارت کار ملے‘ جنھوں نے دنیا کے کونے کونے تک اسے پہنچایا اور یہ وہی نوجوان تھے جن کی تربیت خود مولانامرحوم کے ہاتھوں سے ہوئی تھی۔

بیسویں صدی نے تاریخ کے اوراق پر تباہی اور شکست و ریخت کے بڑے ہولناک نقوش ثبت کیے ہیں‘ لیکن اس کے ساتھ‘ فکری اور تعمیری حوالے سے بھی‘ اس کے دامن میں چند مثبت کارنامے اور بعض افادی پہلو نظرآتے ہیں۔

اُمت مسلمہ ایک طرف بدترین استحصال کا شکار ہوئی تو دوسری جانب اسے استعمار کی غلامی سے نجات بھی ملی اور تیسری جانب اس کے اندر ایسی تحریکیں برپا ہوئیں‘ جنھوں نے اُمت کے اندر دینی بیداری اور اسلامی شعور پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ ان تحریکوں کے بعض داعیوں اور رہنمائوں نے مسلمانوں کو بحیثیت اُمت سربلندی اورعظمت کی طرف لے جانے میںاہم کردارادا کیا۔ ایسی شخصیات میں ایک نام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا بھی ہے۔

زیرنظر مضمون میں مولانا مودودیؒ کی زندگی کے فکری پہلوئوں پر جو معروضات پیش کی جارہی ہیں ان کا ماحصل یہ ہے کہ مولانا مودودی کی شخصیت اور ان کے فکری وعملی کارناموں کی روشنی میں ہم بھی ایمان‘ دانش اور عمل کی راہوں کو کشادہ کرتے ہوئے‘ اپنے زمانے کے درپیش چیلنجوں اوربحرانوں کا مقابلہ کریں۔ دورِ جدید کی تاریخ میں حق و باطل کی کش مکش کا جب بھی ذکر ہوگا‘ تو اس میں اس دور کی زمانہ ساز شخصیات اور تحریکوں کا بھی لازمی طور پر تذکرہ ہوگا۔ اس تذکرے میں مولانا مودودیؒ کی کاوشوں کو ایک مرکزی اور کلیدی حیثیت حاصل ہے     ؎

ایں سعادت بزور بازو نیست

تا نہ بخشد خداے بخشندہ

  • پہلا حصہ ۱۹۲۰ء سے لے کر ۱۹۲۸ء تک‘مولانا مودودیؒ کے فکر کا تشکیلی دور ہے۔ اسے ان کی صحافتی زندگی کا زمانہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ زمانہ ملکی اور بین الاقوامی سیاست کے بارے میں ان کے مطالعے اور تحقیق کا زمانہ ہے۔ ایک لحاظ سے اس زمانے کو ان کے دورِ طالب علمی کا تسلسل بھی کہا جا سکتا ہے۔ ان کے مختصر خودنوشت شذرات (notes) کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں ان کا مطالعہ‘ زیادہ تر قرآن پاک‘ حدیث نبویؐ اور تاریخ کے علاوہ دورِ جدید کے علمی اور ادبی لٹریچر پرمشتمل تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلم اُمت کو تہذیبی‘ سیاسی اور معاشی سطح پر ایک کش مکش کا سامنا تھا‘ مولانا کو اس کش مکش کا صحیح ادراک اسی دور (۱۹۲۰ئ-۱۹۲۸ئ) میں ہوا‘ جس کا ثبوت ان کے وہ مضامین ہیں جو اس زمانے میں انھوں نے الجمعیۃ میں لکھے۔ اس علمی اور صحافتی سرمایے کو خلیل احمد حامدی مرحوم و مغفور نے چار جلدوں (آفتاب تازہ‘ بانگِ سحر‘ جلوۂ نور اور صداے رستاخیز)میں جمع کر کے محفوظ کر دیا ہے۔
  • ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۲ء تک کے زمانے کو میں دوسرے دور کا حصہ سمجھتا ہوں۔ اس لیے کہ الجہاد فی الاسلام کی تسوید کا کام ۲۶-۱۹۲۵ء سے شروع ہوگیا تھا۔ ۱۹۲۷ء کے آخر تک اس کا پہلا مسودہ تیار ہوا تھا۔ اس کے بعد مولانا مودودیؒ صحافت کو چھوڑکر محقق‘ مفکر‘ مصنف اور مصلح کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔ اس دور میں انھوں نے تاریخ اور ثقافت سے لے کر  حدیث اور فقہ کے مباحث پر بڑی عرق ریزی سے کلام کیا۔ اس زمانے میں انھوں نے اسلام کے انقلابی تصور کو اس کی تمام جہتوں سمیت دلیل کی قوت سے واضح کیا‘ اور اس کے ساتھ ہی عصرجدید کے تصورات پر بھرپور گرفت بھی کی۔ اس دور میں مولانا نے قرآن و سنت کے ابدی پیغام کی شرح و بسط کے ساتھ ترجمانی کی‘ اور یہ ترجمانی اس خوبی اور عمدگی اور اس شان سے کی کہ مولانا سید سلیمان ندویؒ اور مولانا عبدالماجد دریابادیؒ جیسے بزرگوں نے ان کو’ ترجمانِ اسلام‘ قرار دیا۔ یوں ۱۹۲۸ء سے لے کر ۱۹۴۱ء تک یہ ساری علمی اور قلمی جدوجہد وہ تن تنہا کرتے رہے۔

یہی زمانہ تھا جب ان کے ہم خیال‘ جاںنثار دوستوں‘ حلیفوں اور ہم سفروں پر مشتمل  ان کے حلقۂ احباب میں وسعت پیدا ہو رہی تھی۔ مولانا مودودیؒ اسلامیانِ ہند (خصوصاً مسلم اُمہ اور بالعموم پوری نوعِ انسانی) کے مستقبل کے بارے میں جو تصور اور وژن (vision) رکھتے تھے اور جو تبدیلی وہ لانا چاہتے تھے‘ وہ تن تنہا بروے کار نہیں لائی جاسکتی۔ اس مطلوبہ تبدیلی کا تقاضا تھا کہ ایک منظم اور مربوط اجتماعی جدوجہد کی جائے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۳۶ء کے لگ بھگ سید مودودیؒ کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ بلاشبہہ دورِ جدید میں اسلام کے احیا کے لیے فکری کام بھی ضروری ہے‘ لیکن اس فکر کو بروے کار لانے کے لیے کسی عملی جدوجہد اور اجتماعی تحریک کے بغیر‘یہ عظیم کام نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ تجدید و احیاے دین اور مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش جیسی تصانیف ان کے اس ذہنی سفر کی عکاس ہیں‘ جو بالآخر ایک صالح جماعت کی ضرورت پر منتج ہوا۔

  • اگست ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کے قیام کے ساتھ ہی اِس منظم اجتماعی جدوجہد کا دور شروع ہوتا ہے۔ البتہ اس سے پہلے ۱۹۳۸ء میں علامہ محمد اقبال مرحوم کی دعوت پر حیدرآباد دکن سے دارالاسلام (پنجاب) منتقلی‘ اور وہاں ادارہ دارالاسلام کا قیام‘ دراصل اس بڑے کام کا ابتدائی مرحلہ (spade work) تھا‘ جب کہ اس کی دہلیز(threshold)اگست ۱۹۴۱ء ہے۔ اس تین سالہ عرصے (۱۹۳۸ئ-۱۹۴۱ئ) میں وہ اُمت کی تعمیر اور اس کے اندر مطلوبہ تبدیلیوں کے لیے ایک متبادل شعور (alternative vision)کی پرورش کرتے رہے اور پھراس کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے ایک ہمہ جہت اجتماعی جدوجہد کا آغاز کیا۔ تیسرا دور ۱۹۴۱ء سے وفات  (۱۹۷۹ئ) تک کا ہے‘ جب وہ رفیق اعلیٰ کے بلاوے پر ہم سے رخصت ہوئے۔ یہ ان کی زندگی کا سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور انقلابی دور تھا۔ جس میں سید مودودیؒ کا وژن بھی کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے تھا۔ اس وژن کے مطابق زندگی کے نقشے کو ازسرنو تعمیر کرنے کی اجتماعی جدوجہد کے سارے خدوخال بھی صفحۂ قرطاس ہی پر نہیں‘بلکہ رنگ و بو کی اس دنیا میں اپنی تمام تر رعنائیوں اور تفصیلات کے ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے مجلے (ترجمان القرآن)سے شروع ہونے والی یہ جدوجہد نہ صرف برعظیم ہی کے طول و عرض میں تہلکہ مچانے کا باعث بنی‘ بلکہ ایک عالم گیر انقلابی تحریک کا روپ دھار گئی‘ اور اس چومکھی لڑائی میں سید مودودیؒ کا عالم یہ تھا کہ    ؎

ایک دل ہے اور ہنگام حوادث اے جگر

ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں

اس طرح میں ان کی زندگی کو ان تین حصوں میں تقسیم کر کے غور کرتا ہوں۔

مولانا مودودیؒ بحیثیت صحافی

اولیں دورِ صحافت میں بالکل نوعمری ہی میں مولانا مودودیؒ نے بحیثیت ایک صاحبِ قلم اور بحیثیت ایک وسیع النظر صحافی کے اپنی منفرد اور غیرمعمولی صلاحیتِ کار کا لوہا منوایا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ انھوں نے تاج‘ مسلم اور جمعیت العلما کے پرچے الجمعیۃ میں لکھا‘ بلکہ اس کے ساتھ نگار ‘مدینہ‘ بجنور اور لاہور کے ہمایوں میں بھی مضامین لکھے۔ حیرت ہوتی ہے کہ ۲۱‘۲۲ برس کے نوجوان کو مسلمانوں کی اس وقت کی ایک اہم تنظیم جمعیت العلما کے سرکاری ترجمان کی ادارت مکمل ذمہ داری کے ساتھ سونپی گئی جو مولانا مودودیؒ کی غیرمعمولی ذہانت اور ان کے کردار کی پختگی کے ساتھ جمعیت علماے ہند کے قائدین کی مردم شناسی کا مظہر بھی تھی۔ خصوصاً مفتی کفایتؒ اللہ اور مولانا احمدسعیدؒ اس نوجوان سے بے حد متاثر تھے۔ دوسری طرف مولانا محمدعلی جوہرؒ بھی چاہتے تھے کہ مولانا مودودی ؒان کے معاون کے طور پر‘ ان کے تاریخ ساز اخبار ہمدرد کے عملۂ ادارت میں شامل ہوجائیں۔ مراد یہ ہے کہ اس زمانے میں بحیثیت ایک صاحبِ قلم اور صحافی کے‘ انھوں نے اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا تھا۔ اس زمانے میں مولانا نے ترجمے بھی کیے ہیں اور متعدد مضامین بھی لکھے ‘لیکن ان کا پہلا کارنامہ صحافت ہے۔

مولانا مودودی کے اس دورِ صحافت میں ہمیں پانچ چیزیں بڑی نمایاں نظرآتی ہیں:

  • پہلی بات یہ ہے کہ نوجوانی کے باوجود‘ ان کی تحریر میں بڑی پختگی ہے۔ الجمعیۃ کے زمانے کے مضامین اور بعد کی تحریروں کو دیکھیں تو زبان‘ اسلوب‘ اظہارخیال‘ حسن بیان اور رعنائی خیال میں بہت کم فرق نظر آئے گا۔ مجھے یہ بات کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ تحریر میں اتنی کم عمری میں ایسی پختگی‘ بڑی منفرد اور امتیازی خصوصیت ہے۔ اس سے قبل ہمیں یہ خوبی مولانا ابوالکلام آزادؒ اور علامہ شبلی نعمانی ؒمیں نظر آتی ہے اور بعدازاں یہ چیز ہمیں سید مودودیؒ میں بحیثیت ایک نوجوان صحافی کے نظرآتی ہے۔ البتہ آزاد اور شبلی کے برعکس مولانا مودودی کے ہاں ایک وسعت نظر‘ فکر میں ٹھیرائو اور زیادہ کھلے پن کا احساس ہوتا ہے۔
  • دوسری حیرت انگیز بات ان کے ہاں مطالعے کی ہمہ گیری اور حکمت و دانش کے متنوع ذخیروں سے اخذ و اکتساب کے لیے حیرت انگیز محنت وکاوش نظرآتی ہے۔ دنیا کے حالات سے باخبری‘اور نہ صرف گوناگوں موضوعات پر اظہار خیال‘ بلکہ راے کی پختگی کے نمونے اس زمانے کی تحریروں میں فراواں دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مولانا مودودیؒ خود   اپنی فکر کو سنوار اور نکھار رہے تھے۔ ان کا وژن اسلام کا سرچشمۂ قوت کے مضامین    کے ذریعے ہمارے سامنے آتاہے۔ یہ لہجہ اور وسعت بیان ان کی تحریروں کے چار مجموعوں (آفتاب تازہ‘ بانگ سحر‘ جلوہ نور اور صداے رستاخیز) میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ان مضامین میں وہ پوری شرح وبسط سے بیان کرتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل دین اور انسانیت کے لیے ایک آفاقی پیغام ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انقلابی تحریک بھی ہے۔ ان مضامین میں مولانا کے ہاں زبان و بیان کی صحت اور اثرانگیزی کے ساتھ ساتھ فکر کی پختگی اور وسعت تہہ در تہہ نظرآتی ہے۔ ایک سہ روزہ اخبار میں خبروں کے انتخاب اور ترجمے کے ساتھ اداریہ نویسی اور کالم نویسی بذات خود بڑاجاںگسل کام تھا‘ جب کہ معاونت کے لیے اس کا عملہ بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس متفرق نویسی کے ساتھ وہ اعلیٰ درجے کے علمی وفکری مضامین بھی لکھتے رہے۔ یہ چیز تحریر وتصنیف پر ان کی ماہرانہ دسترس اور ان کی غیرمعمولی دماغی قابلیت کا پتا دیتی ہے۔

  • تیسری چیز جس نے مجھے سحر زدہ کیا‘ وہ مولانا مودودیؒ کی شخصیت میں دماغ اور دل کا نہایت متوازن تعلق ہے۔ دماغ علامت ہے تفکر اور تدبر کی اور دل نمایندہ ہے جذبات‘ احساسات‘ توقعات اور خواہشات کا۔ ان میں جب بھی تصادم اور تضاد ہو تو انسان بھٹک کر رہ جاتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا غلبہ ہو اور دوسرا معدوم ‘تو شخصیت کا عدم توازن رونما ہوتا ہے۔ لیکن اگر ان کے درمیان ایک صحیح توازن ہو تو متوازن شخصیت اُبھرتی اور معتدل فکر رونما ہوتی ہے۔ میں نے اس زمانے میں مولاناؒ کی تحریروں کا جو تجزیہ کیا ہے‘ اس میں کہیں کہیں فکر پر جذبے کا غلبہ نظر توآتا ہے‘ جو ان کی عمر اور اس عہد (age) کے مسائل و مصائب اور حالات کا فطری تقاضا تھا‘ اس کے باوجود مجھے کہیں بھی عقل کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹتا نظر نہیں آیا۔

مثال کے طور پر ہندستان کے صنعتی زوال اور اس کے اسباب ۱۶۰۰ئ-۱۹۲۴ء کے موضوع پر قومی نقطۂ نظر سے‘ مگر معتدل و متوازن انداز سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے‘ سیدمودودیؒ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں: ’’کسی ملک کی اقتصادی و تمدنی حالت پر غور کرتے وقت‘ سب سے زیادہ توجہ کے قابل یہ امر ہوتا ہے کہ اس کا نظامِ حکومت کیسا ہے؟ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ قوموں کے بننے بگڑنے میں بڑا حصہ حکومت کا ہوا کرتا ہے۔ کبھی کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کا نظامِ حکومت درست نہ ہو‘ اور اسی طرح کوئی قوم تباہ نہیں ہو سکتی‘تاوقتیکہ اس کا نظام حکومت خراب نہ ہو‘‘(ماہ نامہ نگار‘ اکتوبر ۱۹۲۴ئ)۔ اس مضمون میں انھوں نے ہم وطنوں کی اقتصادی بدحالی کا مفصل نقشہ پیش کیا ہے۔ اس وقت ان کی عمر محض ۲۱ برس تھی مگر اس مضمون میں انھوں نے ایک سیاسی مدبر اور ماہر اقتصادیات کی سی پختہ فکر کے ساتھ خرابی کی اصل جڑ کی نشان دہی کی ہے۔ بعدازاں ۱۹۳۹ء میں انھوں نے زیادہ واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ مشہور جملہ لکھا:’’حکومت کی خرابی‘ تمام خرابیوں کی جڑ ہے‘‘۔حکومت کے کردار کے بارے میں یہ وژن سیدمودودیؒ سے پہلے ابن خلدون کے مقدمۂ تاریخ میں بھی نظر آتا ہے۔

اسی زمانے کی شاہکار تصنیف الجہاد فی الاسلام ان کی علمیت‘ پُرزور استدلال اور توازنِ فکر کی دلیل ہے۔ اسی کتاب کی تصنیف کے دوران انھوں نے عملی صحافت کا میدان چھوڑ دیا۔ صحافت میں موضوع کا کینوس اور دائرہ تخاطب بالعموم محدود ہوتا ہے اور فطری طور پر اس میں وقتی ردعمل اور جذبات کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ سید مودودیؒ نے اپنے مزاج کی مناسبت سے اس میں اپنا مستقبل نہیں دیکھا۔ وہ دل و دماغ کے اس امتزاج کی طرف جانا چاہتے تھے کہ جہاں قلب حرکت‘ جدوجہد اور ترغیب کا کام تو انجام دے‘ لیکن عقل اور فکر جس طرف لے جانا چاہتی ہے‘ وہ کسی حیثیت سے بھی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو جائے یا اس کے اوپر کوئی پرچھائیں یا سایہ نہ پڑجائے۔ اس زمانے کی تحریروں کو پڑھتے ہوئے ہمیں نظرآتا ہے کہ وہ ایک کش مکش سے گزر رہے تھے۔ وہ ایک فیصلہ کرنا چاہتے تھے اور بالآخر انھوں نے ریل کا کانٹا بدلا اور جس پٹڑی پر چاہتے تھے‘ اسی پر وہ آگئے اور ہزاروں‘ لاکھوں انسانوں کو بھی لے آئے۔ اس سے بھی زیادہ فیصلہ کن اقدام ان کی صحافتی زندگی میں ہمیں نمایاں نظر آتا ہے‘ جس کے تحت وہ ضمیر کی بیداری‘ خودداری اور حریت کو اولیت دیتے ہیں۔ گویا صحافی‘ صحافت کو محض قلم کاری نہ سمجھے بلکہ قلم کوفکر اور علم کی ترویج اور فروغ کے لیے ایک ایسا ہتھیار خیال کرے‘ جو دیانت کے ساتھ استعمال ہو تاکہ وہ دوسروں کی چاکری اور کاسہ لیسی کا آلۂ کار نہ بنے۔

جمعیت العلما‘ مسلمان علما کی ایک ایسی قابلِ قدر جماعت تھی‘ جو اسلامیانِ ہند کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کی کوشش کر رہی تھی۔ بنیادی طور پر یہ کوئی علمی تنظیم نہیں تھی بلکہ ایک عوامی تحریک تھی‘ جس کی قیادت چند جیّد علما کے پاس تھی۔ تاہم یہی وہ زمانہ تھا کہ جب آہستہ آہستہ جمعیت کی اس وقت کی قیادت کا ایک بڑا حصہ انڈین نیشنل کانگریس کی فکر کی طرف بڑھ رہا تھا۔

ہندستان میں مسلمان اُمت کو جو بنیادی مخمصہ (dilemma)درپیش تھا‘ اس کا فہم حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مولانا مودودیؒ کی فکر اور ان کے حقیقی کارنامے کو ذرا وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ جمعیت العلماء کی قیادت کے بڑے حصے نے وہ راستہ اختیار کرلیا‘ جس میں اسلام کی جگہ آزادی کو اولیت حاصل ہوگئی۔ یہاں اس چیلنج کو سمجھنا چاہیے جو اس وقت اُمت مسلمہ کو درپیش تھا ‘اور تاریخ کے مختلف ادوار میں بار بار پیش آتا رہا۔ اس چیلنج کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش ہی سے ہم علامہ اقبال اور سید مودودی کو سمجھ سکتے ہیں۔ اور برعظیم کے سیاسی منظرنامے ہی کو نہیں‘ بیسویں صدی کی پوری مسلم اُمت کی فکر اور سیاست کا بہتر فہم حاصل کرسکتے ہیں‘ بلکہ اب اکیسویں صدی میں جن حالات‘ مسائل اور چیلنجوں سے ہمیں سابقہ درپیش ہے ‘ان کا صحیح ادراک اور ان کے مقابلے کے خطوط کار متعین کرنے میں بھی مدد اور رہنمائی مل سکتی ہے۔

اس میں پہلا مسئلہ سب سے زیادہ گمبھیر تھا۔ وہ یہ کہ ہجرت مدینہ کے بعد سے اٹھارہویں صدی تک‘ اسلام کا تہذیبی‘تاریخی اور عالمی کردار درحقیقت ایک تاریخ ساز اور عالمی طاقت کا کردار رہا ہے جس میں ایک طرف قلب کی اصلاح اور کردار کی تطہیر اور تزکیہ ہے‘ دوسری طرف معاشرے اور تاریخ و تہذیب کی تبدیلی کا عمل۔ اسلام کا مزاج پہلے دن ہی سے یہی رہا ہے کہ اس نے طاقت کو محض سیاسی اقتدار سے عبارت نہیں کیا‘تاہم سیاسی اقتدار‘ اس کی طاقت کا ایک اہم عنصر ضرور رہا ہے۔ اسلام نے ایمان‘ دین اور طاقت کے درمیان ایک تعلق قائم کیا۔ اس تعلق کا اظہار صرف سیاسی طاقت ہی میں نہیں بلکہ معاشرے کے سارے اداروں میں ہوا‘چنانچہ خاندان سے لے کر ریاست تک‘ یعنی نظامِ قانون‘ نظامِ قضا اور نظامِ معیشت‘ سب کو اس کا حصہ بنایا۔

خلافت راشدہؓ کے فوراً بعد مسلمانوں کو یہ مسئلہ پیش آیا کہ قوت تو اسلام کے پاس موجود تھی‘ لیکن اس کے لیے جو نظام اور جو ڈھانچا اسلام نے بنایا تھا‘ وہ متاثر ہونے لگا تھا۔ اس زمانے میں مسلمانوں نے اقتدار کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اسلامی قانون‘ اور فقہ کی تشکیل میں بھی بڑی محنت کی۔ فکرمودودی کی روشنی میں یہ کہنا ضروری ہے کہ فقہ کی تدوین اور نظام قضا پر علما کی دسترس‘ملوکیت کی انحرافی رو (deviationist wave) کے مدمقابل معاشرے میں ایک ایسے خودکار نظام کو فروغ دینا ایسا تاریخی کارنامہ تھا جس کے نتیجے میں معاشرے اور تہذیب و تمدن پر اسلام غالب رہا اور ریاست بھی اسلام کی گرفت میں رہی۔ سید مودودیؒ نے اس تاریخی کارنامے کو خلافت و ملوکیت میں پیش کیا ہے اور اس میں ہماری تاریخ اور تدوین فقہ کی تحریک کا ایک ایسا پہلو سامنے آیا ہے جسے مورخین اور مفکرین نے بالعموم نظرانداز کر دیا تھا۔ بلاشبہہ بارہ سو سالہ اس دور میں اتارچڑھائو بھی آتے رہے تھے ‘ لیکن اٹھارہویں کے اواخر اور انیسویں صدی کے شروع میں یہ بات واضح ہوگئی کہ عالمی قیادت میں اب مسلمانوں کا کردار مضمحل بلکہ ختم ہو رہا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ان کا یہ کردار کم ہو کر بالکل نچلی سطح کو چھونے لگا۔

اس طرح تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ صورت پیدا ہوئی کہ مسلمان سیاسی اور عسکری طور پر بے وقعت ہونے کے بعد ایک قابلِ ذکر قوت کے طور پر عالمی سیاست کی بساط سے یکسر باہر ہوگئے۔ گویا اقتدار پر ان کی گرفت ختم ہوگئی اور عالمی قیادت میں ان کا مقام اور وقار سرنگوں ہوگیا۔ جب ترکوں نے ۱۹۲۴ء میں خلافت عثمانیہ کو ختم کر دیا‘ تو علامتی سطح پر بھی ان کی رہی سہی حیثیت کا خاتمہ ہوگیا۔اب یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو حضرات جذباتی ردعمل رکھتے تھے‘ ان کی ساری توجہ خلافت کو بچانے اور ساری قوت خلافت کو بحال کرنے میں صرف ہوئی۔ لیکن مولانا مودودیؒ، علامہ اقبالؒ اور اسلامی تحریکات کی فکر کا تجزیہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ انھوں نے خلافت کے احیا کو اصل ایشو نہیں بنایا‘ بلکہ اسلام کے احیا‘ اسلامی سوسائٹی کے قیام‘ اور اسلامی ریاست کے حصول و قیام کو اپنا ہدف قرار دیا۔ اس طرح انھوں نے رسمی خلافت کے بجاے خلافت کے جوہر (essence) اور اس کے حقیقی مقصد اور ہدف کو اپنی منزل قرار دیا۔

اب ایک بڑا المیہ یہ ہوا کہ سیاسی قوت کے چھن جانے کے نتیجے میں مسلمان دوسروں کے غلام ہوگئے اور ایک دوسری تہذیب ان پر غالب ہوگئی۔ یہ تہذیب جن بنیادوں پر استوار تھی وہ اسلامی بنیادوں کی ضد تھی۔ اس طرح ایک تہذیبی کش مکش شروع ہو گئی جو مسلمانوں کے تصورجہاں‘ اقدارِحیات‘ سماجی ادارات‘ انفرادی کیرکٹر اور اجتماعی مزاج کو متاثر کررہی تھی۔ اس تہذیبی کش مکش سے نکلنے کے لیے صرف جذباتی ردعمل کافی نہیں تھا‘ بلکہ ٹھوس فکر اور سوچے سمجھے انداز میں ایک متبادل لائحہ عمل‘ واضح نشانِ منزل اور ایک منظم و مربوط جدوجہد درکار تھی۔ ایک طبقے کے نزدیک اولین ہدف غیرملکی استعمارسے آزادی حاصل کرنا تھا۔ اس طبقے نے اصل ہدف سیاسی آزادی کو قرار دیا۔ اس کے مقابلے میں اسلامی احیا کے داعیوں کی سوچ یہ تھی کہ غیرملکی استعمار سے نجات کے لیے جتنی ضروری سیاسی جدوجہد اور آزادی ہے‘ اتنی ہی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ان کے فکری اور تہذیبی غلبے کے خلاف پیکار ایک لازمی مرحلہ ہے۔ اوراگر استعمار کے اس فکری اور تہذیبی غلبے کو نظرانداز کیا گیا تو سیاسی جدوجہد بالآخر غیرموثر رہے گی۔ اس لیے  اصل ضرورت یہ ہے کہ اُمت کو دین حق کی بنیاد پر اسلام کی بالادستی کے قیام کے لیے تیار کیا جائے‘ اور اسی جدوجہد کو استعمار کے خلاف مزاحمت کا ذریعہ بھی بنایا جائے۔

یوں اسلام اور مسلمانوں کو بہت سے بنیادی چیلنجوں کا سامنا تھا۔

اس سیاسی‘ تہذیبی اور فکری پس منظر میں برعظیم کے مسلمانوں کا خیال تھا کہ برطانیہ نے چونکہ اقتدار ہم سے لیا ہے‘ اس لیے آزادی کے بعد بھی اقتدار ہمارا حق ہے۔ تحریک مجاہدین سے لے کر ہجرت اور ترکِ موالات کی تحریک تک اور جمعیت علماے ہند سے دیگر انگریز مخالف تحریکوں تک کا تجزیہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان تحریکوں کی قیادت مسلمانوں کے پاس تھی‘ اور وہی ان میں فعال اور فیصلہ کن حصہ لے رہے تھے۔ درحقیقت مسلمانوں کے دماغ میں یہی چیز تھی کہ آزادی ملنے پر فطری طور پر ہم اقتدار کے وارث ہوں گے۔ لیکن وہ اس جوہری فرق کو نظرانداز کر رہے تھے جو جمہوریت کے تصور پر مبنی اداروں کے قائم ہونے سے یہاں ووٹ کی قوت کے باعث متعارف ہوچکا تھا۔ مسلمانوں کے برعکس ہندو اس کھیل کو بڑی کامیابی سے کھیل رہا تھا۔ اس چیز کو نظرانداز کرکے جمعیت العلماء نے جدوجہد آزادی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔ انھوں نے اپنی دانست میں یہی سمجھا کہ آزادی کا حصول ہی مسلمانوں کا سب سے بڑا اور واحد مسئلہ ہے۔

دوسری جانب مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبالؒ کی فکر یہ تھی کہ فقط مسلمانوں کی آزادی نہیں بلکہ اسلام کی آزادی اصل مسئلہ ہے‘ اور مسلمانوں کو آزادی اگر اسلام کی آزادی کے بغیر ملتی ہے تووہ غلامی ہی کی دوسری شکل ہوگی۔ اس لیے اسلام کی آزادی اور مسلمانوں کی آزادی دو ہی طرح ممکن ہے۔ یا تو مسلمان اتنے قوی ہوں کہ پورے برعظیم کی باگ ڈور سنبھال سکیں‘ جو بظاہر ممکن نہیں ہے۔ ورنہ پھر انھیں کوئی ایسا راستہ نکالنا پڑے گا جس میں وہ اپنے جداگانہ تشخص کو محفوظ رکھ سکیں اور آزادی کے ساتھ ساتھ اپنے دین کی منشا اور اپنی ثقافت کے تحفظ کا بھی ٹھیک ٹھیک   حق ادا کر سکیں۔ جس بات کو عرفِ عام میں ’دو قومی نظریہ‘ کہا جاتا ہے‘ اس کی فکری بنیاد یہ ہے کہ مسلمان اور غیرمسلم دو جداگانہ نظریہ ہاے حیات کے علم بردار ہیں‘ اور آزادی کا وہی مفہوم انصاف کے تقاضے پورے کر سکتا ہے‘ جس میں ہر نظریے اور تہذیب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔ اس کے لیے سیاسی‘ قانونی‘ ثقافتی‘ غرض ہر میدان میں ایک نئے دروبست کی ضرورت ہوگی۔

مولانا مودودیؒ کی اس زمانے کی تحریروں میں آزادی‘ مسلمان اُمت اور ہندستان کے متعلق مسائل و معاملات پر مباحث ملتے ہیں۔ مولانا کا زاویۂ نگاہ اس وقت بھی بڑا واضح تھا کہ اسلام کی آزادی اور مسلمان اُمت کی آزادی اسی وقت ممکن ہے‘ جب وہ اسلامی تشخص سے وابستگی کو شرط اول قرار دے۔ اس تشخص کی وضاحت اور اس کے حصول کے لیے مولانا ہرلمحے سرگرداں اور پریشان نظرآتے ہیں۔ برعظیم ان کی توجہ کا اولین مرکز ہے لیکن اس مرکز کا بیرونی حلقہ (circumference) بڑا وسیع اوردنیابھر کے مسلمانوں پر محیط ہے‘ چاہے وسط ایشیا میں کمیونسٹ زاروں کے ہاتھوں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے المناک واقعات ہوں‘ یا افریقی ممالک میں ظلم و زیادتی کا معاملہ ہو‘ یا ہندستان میں ہندو انگریز گٹھ جوڑ سے مسلمانوں پر قافیۂ حیات تنگ کرنے کاشیطانی کھیل ہو‘ وہ ہر مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے احیا کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ مغربی استعمار کے حلیف مسلمانوں کی فکری اور عملی حماقتوں کا بھی پردہ چاک کرتے ہیں جو مسلمانوں اور اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمن سے بھی زیادہ بدتر کردار ادا کر رہے تھے۔ دوسری طرف اسی زمانے میں جمعیت کانگرس کے ساتھ مل کر اس راستے کو اختیار کرچکی تھی جسے وہ ’سوراج‘ کہتے تھے۔ نتیجتاً علاقائی یا وطنی قوم پرستی ان کی نگاہ میں گوہرِمطلوب بن گیا تھا۔ بالکل یہی سوچ غیرمسلموں کی بھی تھی‘ اور مسلمان آزادی کی اس جدوجہد میں محض ایندھن کے طور پر استعمال کیے جارہے تھے۔ یہ وہ کش مکش تھی جس میں مولانا مودودیؒ نے اپنے لیے الگ راستے کا انتخاب کیا۔ اس لیے کہ وہ اپنے قلم کو اپنے ضمیر سے جدا نہیں کر سکتے تھے۔ یہ ان کی صحافت کا چوتھا امتیازی پہلو تھا۔

  • ان کی صحافت کا پانچواں پہلو وہ ہے جس کی مثال ہمیں اخبار تاج ‘ جبل پور] ۱۹۲۰ئ[کے زمانے میں ملتی ہے۔ تاج میں نام بطور مدیر تاج الدین صاحب کا آتا تھا‘ لیکن اسے مرتب سیدمودودیؒ کیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے مولانا مودودیؒ بتاتے ہیں:’’تاج کچھ مدت تک   ہفتہ وار نکلتا رہا‘ اور پھر روزانہ ہوگیا۔ میں تنہا اس کو چلاتا تھا… بدقسمتی سے میرے ایک مضمون پر حکومت نے گرفت کی۔ چونکہ اخبار کے ایڈیٹر‘پرنٹر اور پبلشر کی حیثیت سے تاج الدین کا نام شائع ہوتا تھا‘ اس لیے ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ گو‘اس طرح میں حکومت کی گرفت سے بچ گیا‘ لیکن مجھے اس بچنے میں کوئی خوشی نہ تھی‘ اور آیندہ کے لیے میں نے عہد کرلیا کہ دوسروں کی ذمہ داری      پر اخبار نویسی نہ کروں گا‘ بلکہ اپنی ہر جنبشِ قلم کی ذمہ داری اپنے سرلوں گا‘‘۔(تذکرہ سید مودودی‘ج ۲‘ ص ۱۲۸-۱۲۹)۔ یہ بڑے اُونچے کردار اور جرأت کی بات ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ اس وقت مولاناؒ ابھی صرف ۱۸ سال کے نوجوان تھے۔ یہ واقعہ ان کے ضمیر کی بیداری اور ان کے کردار کے رخ کو متعین کرتا ہے۔

بحیثیت صحافی یہ امور مولانا مودودیؒ کے زمانۂ صحافت میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد کے دور میں بھی اگرچہ مولاناؒ ان معنوں میں تو صحافی رہے کہ ایک ماہنامے کے مدیر تھے اور ایک ماہ نامے کا مدیر بھی صحافی ہوتا ہے اور وہ خود بھی اپنے آپ کو صحافی کہتے تھے‘ تاہم اب ان کی تحریر‘ ان کی سوچ‘ اور ان کے انداز میں ایک تبدیلی آئی اور ان کے اہداف‘ اب صحافت کے دائرے سے نکل کر ایک زیادہ اہم‘ مشکل اور کٹھن میدان میں داخل ہوگئے۔ یہ میدان تھادین کی صحیح تعبیر‘ فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید اور عالمی استعماری تہذیب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب کے کردار کی بازیافت کا۔ انسان سازی اور تاریخ کے دھارے کو تبدیل کرنے کے لیے جن عناصر اور قوتوں کی ضرورت ہے‘ ان کے لیے فکرمندی مولانا مودودیؒ کے طرزفکر اور اسلوبِ زندگی کا ایک مستقل حصہ بن گئی۔ اب وہ ایک مفکر‘مصلح‘ مدبر اور قائد کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔

مولانا کی نگارشات میں فکر کی گہرائی کے ساتھ ادب کی چاشنی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے    اور کہیں کہیں ادب کی یہ جولانیاں شاعرانہ اسلوب کی حدوں کو بھی چھوتی نظر آتی ہیں۔ انھوں نے اخلاقیات اجتماعیہ اور اس کا فلسفہ پر بھی لکھا۔ اسی زمانے میں مشہور مصری دانش ور مصطفی کامل پاشا کی کتاب المسئلۃ الشرقیہ کا ترجمہ کیا۔

ان تمام تحریروں میں وہ اپنے مزاج اور موضوع کی مناسبت سے ادبیت اور مقصدیت کو ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ مولانا کی تحریروں میں ابتدائی زمانے ہی سے ادب کی مٹھاس‘  صحتِ زبان‘ حسنِ بیان اور رعنائی خیال کا ایسا امتزاج پایا جاتا ہے‘ جو ان کے طرزِ نگارش کو  ایک انفرادی آہنگ عطا کرتا ہے۔ اولین دور میں مولانا مودودی کے ہاں دو زیریں لہریں (under currents)ہمیں متوجہ کرتی ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے سے نبردآزما بھی نظر آتی ہیں: ایک شبلی کا اسلوب تحریر‘ دوسرا ابوالکلام آزاد کا انداز نگارش۔ ایک کی خصوصیت گنگا جمنا کی میدانی علاقوں میں پُرسکون روانی ہے‘ اور دوسرے میں پہاڑی آبشار اور پتھروں کو بہا لے جانے والے پانی کے پُرشور دھاروں کا جوش و خروش۔ ان دونوں اسالیب سے مولانا نے استفادہ کیا ہے۔ دونوں کے کچھ نہ کچھ اثرات مولانا کے اسلوب پر نظرآتے ہیں۔ لیکن مولانا نے دونوں میں سے کسی کی تقلید نہیں کی اور نہ کسی ایک کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگنے کی کوشش کی۔ ایک مرتبہ میرے سوال کے جواب میں فرمایا: ’’میں نے خود نیا رنگ لیا‘‘۔ ان کا یہ اسلوب‘ دورصحافت میں تشکیل پا چکا تھا۔ اس لیے میری نگاہ میں الجھاد فی الاسلام مولانا مودودی کے بنیادی فکر ہی کا آئینہ ہے‘ بلکہ اس کتاب میں مولانا کے اندازِ تحریر اور اسلوبِ نگارش کی امتیازی صورت دیکھی جا سکتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ الجھاد فی الاسلام  کے لیے تحقیق اور اس کی تحریر وتسوید     مولانا مودودی ؒکی زندگی میں ایک کلیدی موڑ اور امکانات کے وسیع افق روشن کرنے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایک طرف تو انھیں اسلام کے تصورِ کائنات کو بالکل واضح حقیقت کے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کا موقع ملا۔ دوسری طرف جو معذرت خواہانہ روایت مسلمانوں کی فکر میں جڑ پکڑ چکی تھی‘ اس کو انھوں نے بالکل ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیا اور پوری متکلمانہ شان کے ساتھ اسلام پر اعتراضات کا دفاع کیا‘ان کا جواب دیا اور اس سے بڑھ کر مثبت طور پر اسلام کی ایک جامع تصویر پیش کی۔ اس عمل میں انھوں نے ایک نیا اسلوب بھی اختیار کیا۔ اس علمِ کلام کی اصل خود اسلام میں موجود ہے۔ الجھاد فی الاسلام‘ مولانا مودودی ؒکی زندگی کے رخ کو متعین کرنے والی کتاب ہے‘ اور یہ حسب ذیل تین حوالوں سے ہے:

اول: اسلام کے صحیح تصورِ حیات و کائنات کی بازیافت۔

دوم: یہ نکتہ کہ یہ تصورِ حیات فکری طور پر حق و باطل کی ایک عالم گیر کش مکش کی طرف لے جاتا ہے‘ جس میں اسلام کا تاریخی‘ بنیادی اور فطری کردار ہے۔ اس سے اسلام کا تحریکی تصور اُبھرتا ہے جو بالآخر بیسویں صدی میں اسلامی تحریکات کی صورت گری کا ذریعہ بنا ہے۔

سوم: یہ کہ اس تقاضاے دین کی بجاآوری اور غلبۂ اسلام کی جدوجہد میں ایک مرحلہ پر طاقت کے استعمال کا ایک متعین کردارہے‘ وہیں صرف طاقت یا جنگ اس کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔ بلاشبہہ یہ ایک ناگزیر پہلو ہے‘ لیکن ہر دور کے مسائل‘ معاملات اور زمینی حقائق کی روشنی میں  غلبۂ اسلام کے لیے ایسی حکمت عملی وضع کرنا ضروری ہے‘ جو اس مقصد کے لیے مددگار ثابت ہو اور اس میں مداہنت و پسپائی یا رخصت و دل شکنی کا شائبہ تک نہ پایا جائے۔ مکی دور میں بھی    غلبۂ اسلام مقصود تھا‘لیکن یہ دور تیاری کا دور تھا۔ جس کی تکمیل اور تنفیذ ہجرت اور اس کے بعد ہوئی لیکن مکہ اور مدینہ دونوں اس تحریک کے لازمی مرحلے ہیں ‘جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ حرا سے لے کر شعب ابی طالب تک‘ معراج سے ہجرت تک‘ بدر سے حنین تک‘ حدیبیہ سے فتح مکہ تک‘ سب اس وسیع تر حکمت عملی کے پہلو ہیں اور اس نمونے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اُمت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ ہر دور میں حسبِ ضرورت ایک نیا نقشۂ کار مرتب کرے۔ مدینہ کی ریاست کے قیام سے لے کر خلافتِ راشدہ تک کا دور ہی اصل اسلامی مثالیہ (paradigm )ہے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوا کہ زمانۂ خلافت کے بعد غلبۂ اسلام کی کیا حکمت عملی ہو؟ یہ کیسے ہونا چاہیے؟ کیونکر ہونا چاہیے؟ گو‘ اس پہلو کو مولانا مودودی ؒکتاب میں لے آئے‘ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت مولانا مودودیؒ پر یہ پوری طرح واضح نہیں تھا کہ یہ کام کیسے کرنا ہے؟ ۱۹۲۸ء سے ۳۹-۱۹۳۸ء تک کا زمانہ مولانا کے فکر کے نکھار کا زمانہ ہے۔ اسی زمانے میں انھوں نے مستقبل کے لیے اُمت کے سامنے ایک حکمت عملی پیش کی اور پھر اسے بروے کار لانے کا آغاز کیا۔ ان سنگ ہاے میل اور پیش آمدہ چیلنجوں کے خدوخال مولانا مودودیؒ کی تحریروں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

بحیثیت مصنف اور ادیب

اس دور کے بھی کئی حصے ہیں۔ ابتدائی چار سال تک تو انھوں نے خاموشی سے‘ مگر جم کر اور پوری یکسوئی سے مطالعہ اور تحقیق کے لیے اپنے آپ کو وقف رکھا۔ اس عرصے میں کچھ کتابیں بھی لکھیں‘ اورمستقبل کے منصوبے بھی بنائے۔ ان کے اپنے عزائم کو پختگی حاصل ہوئی اور رجحانات کی واضح صورت گری ہوئی۔ پھر ۳۳-۱۹۳۲ء میں یکسو ہو کر وہ اپنی زندگی کے اصل  مشن کے لیے جہاد زندگانی کے وسیع میدان میں سرگرم عمل ہوگئے۔ میری نگاہ میں اس جہادِزندگانی کے شروعات کا بہترین اظہار ترجمان القرآن کے پہلے سات برسوں کے ’اشارات‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اظہار مولانا کی شخصیت‘ وژن اور فکرکے ارتقا اور مولانا کے مستقبل کے تاریخی کردار کے سلسلے میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ترجمان کی ادارت سنبھالتے ہی انھوں نے جو پہلی چیز لکھی وہ اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی کے مضامین ہیں۔بعدازاں تنقیحات‘ سود‘ پردہ‘ اسلام اور ضبطِ ولادت‘ تفہیمات کے مباحث ہیں۔مولانا کے دوسرے دورِ حیات تک کی یہ مختصر سی جھلک ہے۔

۱۹۳۰ء کے عشرے میں ہم دیکھتے ہیں کہ کلامی‘ الٰہیاتی اور سائنسی موضوعات پر کلام کرتے ہوئے وہ مضبوط منطقی استدلال اختیار کرتے ہیں‘ لیکن جب معاملہ آتا ہے احساسات کو اُبھارنے کا‘ تو بعض تحریروں میں انھوں نے جھنجھوڑنے والا انداز بھی اختیار کیا۔ اس زمانے کی تحریروں میں مولانا کے ہاں انگریزی اور عربی کے الفاظ نسبتاً زیادہ ملتے ہیں‘ لیکن ۱۹۴۰ء کے عشرے میں ان کے اسلوب میں آسان زبان اور عام فہم انداز فروغ پذیرہوتا ہے۔ اس سادہ نویسی کا شاہکار تفہیم القرآن اور خطبات ہیں۔ پھر آخری زمانے تک مولانا کا یہی انداز رہا ہے۔ گویا کہ ادیب کی حیثیت سے بھی مولانا کے ہاں ہمیں ایک ارتقا نظر آتا ہے۔ زمانۂ صحافت میں انھوں نے دوسروں کے کچھ اثرات بھی قبول کیے‘ اور یہ بالکل فطری بات تھی‘ لیکن پھر ان کا    اپنا طرزِنگارش اُبھر کر سامنے آتا ہے۔

مولانا مودودیؒ کے طرزِنگارش کا اگر کسی دوسرے صاحب اسلوب فرد کے ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے تو وہ برٹرینڈرسل ہے۔ اس کے ہاں بھی الٰہیاتی‘ سائنسی اور تہذیبی موضوعات پر بحث ملتی ہے‘ جس کو وہ بڑی خوب صورت انگریزی نثر میں پیش کرتا ہے‘ اور صحتِ بیان اور سہل اسلوب کے ساتھ اظہار خیال کرتا ہے ۔ بحیثیت ادیب‘ مولانا کی یہ بڑی قابلِ قدر خدمت ہے کہ انھوں نے اُردو زبان کو علمی‘ دینی‘ تہذیبی‘ سیاسی اور معاشرتی موضوعات سے مالا مال کرتے ہوئے اظہار کی ایک شان دار روایت قائم کی۔ ادب صرف افسانہ نگاری اور شاعری تک محدود نہیں‘ بلکہ وہ زندگی کے سارے سنجیدہ موضوعات کو مختلف ادبی پیرایہ ہاے اسالیب میں زیربحث لاتا ہے۔ مقالے اور الٰہیاتی مضامین بھی ادب کے دائرے میں آتے ہیں۔

مولانا مودودی لکھتے وقت الفاظ کے انتخاب میں کسی تکلف میں نہیں پڑتے۔ وہ اپنی توجہ موضوع پر مرکوز کرتے ہیں‘ الفاظ خود بخود موزوں ہو جاتے ہیں۔ دینی فکر اور معاشرتی علوم کو انھوں نے نہایت خوب صورت زبان میں پیش کیا ہے۔ وہ صنائع اور بدائع کے استعمال میں بھی ایک انفرادیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کی نثرکا تجزیہ کیا جائے تو وہ کلاسیکی زمرے میں آتی ہے۔ یہ چیزیں تو اظہرمن الشمس ہیں‘ اس کے ساتھ جو چیز نئی ہے وہ یہ کہ انھوں نے قرآنی اصطلاحات‘ قرآنی محاورے اور قرآنی پیغامات کو اُردو زبان میں اس طرح سمو دیا ہے کہ وہ اردو زبان و ادب کا ایک حصہ بن گئے ہیں۔ یہ مولانا کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔

مولانا مودودیؒ کی فکری اور ادبی تخلیقات روایتی مذہبی تحریروں سے بڑی مختلف ہیں۔ ان میںفکر کے عمق کے ساتھ زندگی کی حرارت اور ادب کی چاشنی ہے‘ جس نے ان تخلیقات کو بولتی ہوئی تحریریں بنا دیا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ان میں دعوت کی روح اس طرح سرایت کر گئی ہے کہ وہ حرکت کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہیں۔ وہ خود بھی بیدار ہیں اور دوسروں کو جگانے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ ان کا اسلوب قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور پھر عمل اور حرکت پر اکساتا ہے۔ مولانا نے  طنزاور مزاح کو بھی بڑی مہارت کے ساتھ استعمال کیا ہے‘ ان کی تحریر میں بلا کی شوخی ہے جو ان کی خوش ذوقی ہی کا ثبوت نہیں‘ بلکہ ادبی صنعت کاری کا بھی ایک نادر نمونہ ہے۔

آج کل مغرب کے زیراثر ’’اسلام کی اصلاح‘‘کرنے والوں کے لیے ترکی کے  مصطفی کمال پاشا کا نام ایک رول ماڈل ہے۔ مولانا مودودیؒ نے ۱۹۴۰ء میں اتاترک پر لکھی گئی ایک کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے‘ ایسے لوگوں کی ذہنیت کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا: ’’]کتاب اتاترک کے[ مصنف نے ازراہ انکسار اس کتاب کو اتاترک کی سوانح عمری قرار دیا ہے۔ لیکن اگر وہ اسے ’’قصیدۂ نعتیہ درشانِ اتاترک علیہ السلام‘‘ کے نام سے موسوم کرتے تو زیادہ موزوں ہوتا۔ کتاب پڑھنے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ترکی میں ایک نبی مبعوث ہوا تھا… یہ مبالغہ جس شخص کے حق میں کیا گیا ہے اسے مرے ہوئے ابھی کچھ بہت زیادہ دن بھی نہیں گزرے کہ ماضی کے دھندلکے سے فائدہ اُٹھا کر اسے دیوتا بنا ڈالا جائے۔ پرانے زمانے کے مچھر کو آج ہاتھی بنایا جا سکتا ہے‘ مگر ہم عصروں کی آنکھوں میں کہاں تک خاک جھونکیں گے... ]کتاب کے مصنف کے بقول‘ اتاترک[ نے مذہب ]اسلام[ کی اصلی روح کو برقرار رکھتے ہوئے درویشوں اور مولویوں کی اجارہ داری کو ختم کر دیا۔ مذہب اسلام میں دنیاوی ترقیوں کا ساتھ دینے کی پوری پوری صلاحیت ہے‘ اس میں اگر کوئی کمزوری ہے تو وہ درویشوں اور مولویوں کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے۔ اسی خیال کے ماتحت ترکی کی سرزمین کو اتاترک نے ملائوں کے وجود سے پاک کیا‘ اور فی الحقیقت اتاترک کا یہ اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ مذہبی اصلاح کی تاریخ میں اس کی نظیرنہیں ملتی--- بے معنی الفاظ کا کتنا عجیب مجموعہ ہے۔ ان لوگوں کے ’’لچک دار اسلام‘‘کی کیا تعریف کی جائے‘ ] ان کے نزدیک[ اس کم بخت میں اس غضب کی لچک موجود ہے کہ دنیاوی ’’ترقیوں‘‘ کی خاطر قرآن کا قانون منسوخ کردینے تک کی گنجایش اس میں نکل آتی ہے۔ اور اس ’’مذہب اسلام کی اصل روح‘‘ کا تو پوچھنا ہی کیا ہے۔ ملا اور درویش کو سامنے رکھ کر اس طرح ڈائنامائیٹ سے اڑایئے کہ قرآن و سنت بھی ساتھ ساتھ اڑ جائیں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ رہے اس کا نام ’خالص روحِ اسلام‘ ہے‘‘۔ (ترجمان القرآن‘ مئی-جون ۱۹۴۰ئ‘ ص ۳۲۲-۳۲۷)

مولانا مودودیؒ مقصد سے لگن رکھنے والے ایک ایسے ادیب اور مفکر ہیں جنھیں اپنے مخاطبین کے دل میں پیغام اتارنے اور ان کی شخصیت کو بدلنے سے غرض ہے۔ مگر وہ اس غرض کے لیے زور زبردستی کا ویسا رویہ اختیار نہیں کرتے‘ جو عموماً سیاسی یا مذہبی عناصر کے طرزِ تخاطب کی پہچان اور ان کا عیب ہوتا ہے۔

ادب نام ہے اثرانگیزی کا اور یہ اثرانگیزی مولانا کی تحریر میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اگر ہم انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے شروع کے دینی ادب کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے علما نے تفسیر‘ حدیث‘ سیرت‘ فقہ اور تاریخ پر بڑی گراں قدر کتب تصنیف کیں۔ لیکن ان کے اسلوب کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کوئی تعلق اس دنیا سے نہیں ہے‘ جسے وہ مخاطب کر رہے ہیں۔ بعض مستثنیات کے سوا ان کی زبان اتنی ادق اور محاورے اتنے بوجھل اور مثالیں ایسی ہوش ربا ہیں کہ آپ ان میں سے کچھ مواعظ کو تو محفل میں بیٹھ کر بآواز بلند پڑھ نہیں سکتے۔ لیکن اُس زمانے میں دینی کتابوں کا کلچر یہی تھا۔ تاریخ پر مولانا اکبر شاہ خاں نجیب آبادی کی کتاب بڑی عمدہ ہے‘ لیکن اگر آپ جملے کی طوالت دیکھیں تواندازہ نہیں ہوتا کہ کہاں جاکر ختم ہوگا۔ یہی صورت دوسرے علما کی تحریروں کی ہے حتیٰ کہ مولانا مناظراحسن گیلانی  ؒتک کا طرزِ تحریر اس روایت سے جان نہ چھڑا سکا۔ اس فضا میں مولانا نے دینی موضوعات پر تحریر و نگارش کا اسلوب بدل کر رکھ دیا۔  صاف نظر آتا ہے کہ دینی ادب کی زبان اور اسلوبِ بیان پر مولانا مودودیؒ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیںاور بحیثیت مجموعی علماے دین کی زبان و بیان اور ان کے اسلوبِ تحریر میں ایک واضح تغیر واقع ہوا ہے‘ مثلاً تفسیر میں مولانا عبدالحقؒ کی تفسیرحقانی اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کی تفسیر ترجمان القرآن کا مطالعہ کیجیے‘ اور پھر پیر کرم شاہ صاحبؒ کی ضیاء القرآن دیکھیے‘ ان کے اسلوب میں زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ اس اسلوب نگارش اور اندازِ تحریر کو جس شخص نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے‘ وہ سید مودودیؒ ہیں۔ بحیثیت ادیب مولانا کا یہ بڑا منفرد پہلو ہے‘ جس کا قرار واقعی اعتراف نہیں کیا گیا۔ اگر انصاف سے کوئی نقاد تحقیق و تجزیہ کرے تو وہ دواور دو چار کی طرح دکھا سکتا ہے کہ کیا فرق واقع ہوا ہے۔

بحیثیت مفکر‘مصلح اور مدبر

ایک مفکر(thinker)‘ مصلح (reformer) اور مدبّر (statesman) کی حیثیت سے مولانا مودودی ؒکی شخصیت کو زیربحث لانا ایک اہم موضوع ہے۔

جب اسلامی فکریات کے وسیع ذخیرے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بیسویں صدی کی اسلامی فکرپر سب سے زیادہ جس شخص نے نہایت گہرے اثرات مرتب کیے‘ وہ مولانا مودودی ؒہیں۔ ان کی اثرپذیری کا دائرہ اپنی وسعت اور عمق کے اعتبار سے‘ اور اپنی اصابت فکر اور اپنے اثرات کے اعتبار سے منفرد مقام کا حامل ہے۔

بلاشبہہ دوسرے مفکرین اور خادمانِ دین نے بھی بیسویں صدی میں اسلامی فکر کو مالا مال (enrich) کرنے کے لیے بڑی خدمت انجام دی ہے‘ اور ان کی حیثیت کہکشاں کے روشن ستاروں کی سی ہے اور اس میں ان کے ہاں ایک دوسرے سے اثرپذیری بھی نظرآتی ہے ۔ تاہم میری نگاہ میں مولانا مودودیؒ کو جس بنا پر منفرد مقام حاصل ہے‘ وہ یہ ہے کہ انھوں نے وہی کام کیا جو دوسری صدی ہجری سے چھٹی صدی ہجری تک اس وقت کے حالات کی روشنی میں اسلامی فکریات کے قائدین نے انجام دیا تھا۔(ملاحظہ ہو‘ میرا مضمون ’’دینی ادب‘‘ مشمولہ: تاریخ ادبیات پاک و ہند‘ ج ۱۰‘ ص ۲۶۱-۳۷۶‘ پنجاب یونی ورسٹی‘ لاہور)

اس کی ایک مثال اسلام کے لیے ’تحریک‘ کے لفظ کا استعمال ہے‘ جو بیسویں صدی میں اسلامی احیا کی علامت اور پہچان بن گیا۔ اس اصطلاح کی کچھ وہی حیثیت ہے جو دوسری صدی اور اس کے بعد کے زمانے میں ’شریعت‘ کی اصطلاح سارے دینی لٹریچر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ ایک دل چسپ حقیقت ہے کہ  قرآن پاک میں لفظ ’شریعت‘ راستے اور طریقے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ البتہ ہماری فکری تاریخ میں لفظ ’شریعت‘ دوسری صدی میں داخل ہوتا ہے‘ جب اس بات کی ضرورت تھی کہ اسلام کے پھیلائو اور نئے تہذیبی مسائل میں اسلام کی اُبھرتی ہوئی قوت کو پیش آمدہ مسائل کا کیسے جواب دینا ہے؟ اسلامی دعوت‘ اسلامی حکومت‘ اسلامی سوسائٹی‘ اسلامی اداروں کو کس طرح اپنا کردار ادا کرنا ہے؟ سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں اسلامی نظامِ زندگی کیسے پیش کیا جائے؟ اصول فقہ اور فقہ دونوں کی نشوونما‘ ترقی اور ارتقا دراصل اس ضرورت کو پورا کرنے کی بروقت‘ مؤثر اور کامیاب کوشش تھی۔ اس عظیم کارنامے نے اگلے ۱۲۰۰ برسوں میں اسلامی تہذیب اور اسلامی ثقافت اور خود دین اسلام‘ اور اسلام کے سیاسی نظام کو ایک ایسا بنیادی ڈھانچا عطا کیا‘ جس سے وہ ہر طوفانی تھپیڑے اور ہر سیاسی نشیب و فراز کا مقابلہ کر سکا اور اس کے ذریعے وہ ہردور میں مسلمانوں کو اسلام سے وابستہ کرسکا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ شریعت بحیثیت اصطلاح‘ اسلام کے فکری اثاثے میں شامل ہوئی۔

فقہ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض عبادات پر مشتمل نہیں ہے‘ بلاشبہہ عبادات اس کا اولین موضوع ہیں‘پھر خاندان اور عائلی زندگی وغیرہ کے معاملات۔ یہ دونوں موضوعات فقہی کتب کے تقریباً دو تہائی حصے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد فقہ میں مالی معاملات‘ معاشی احکام‘ تجارتی احکام‘ پھر قانون صلح و جنگ‘معاہدات‘ سزائیں‘ تعزیر‘ حد اور سیر کے ابواب ہیں۔ سیر (قانون بین الاقوام) کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کے دوسرے ممالک سے کس طرح معاملہ کریں اور غیرمسلموں کے حقوق کی کیا صورت ہے؟ یہ تمام ابواب فقہ کے ہیں اور فقہ کا یہ نشوونما اور شریعت کا یہ وسیع تر نظام‘ دراصل قرآن و سنت کی دعوت کا فطری مظہر تھا۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جو دعوت پیش کی گئی تھی‘ جس نے ایک سوسائٹی‘ ایک تحریک‘ ایک ریاست اور ایک تاریخی رو کو پروان چڑھایا تھا‘ اس چیلنج کو نظریاتی‘ اخلاقی‘ قانونی اور اداراتی سطح پر ایک     ہیکل اساسی (infra-structure)کی ضرورت تھی۔ ان فقہا نے اسے دو اور دو چار کی طرح  واضح کیا تاکہ آنے والے کل کے مراحل کو طے کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ بادشاہت کے باوجود قانون بادشاہوں کی مرضی کے تابع نہیں تھا بلکہ شریعت کا قانون تھا ۔ کم و بیش ہر بادشاہ شریعت کے قانون اور قاضی کے حکم کے تابع تھا۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ جب تحریک ایک حقیقت تھی تو اس کے ماحصل کو محفوظ و مستحکم کرنے کے لیے فقہ اور شریعت کی تدوین کی ضرورت تھی اور اس تاریخی عمل نے شریعت کی مرکزیت کو برگ و بار عطا کیے۔

پہلی اور دوسری صدی میں درپیش حالات کی طرح کا چیلنج اُمت مسلمہ کو دوبارہ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے شروع میں بڑی شدت کے ساتھ پیش آیا‘ لیکن ایک فرق کے ساتھ۔ تب فقہ توموجود تھی لیکن وہ نظام باقی نہیں رہا جس کو چلانے کے لیے وہ فقہ مدون کی گئی تھی۔ شریعت کا وہ ڈھانچا تو موجود تھا لیکن شریعت کہیں بھی قانون ارضی (law of land) کے طور پر موجود نہیں تھی۔ مغربی سامراج نے مسلم ممالک پر قبضہ جما رکھا تھا۔ ممالک پر ہی نہیں بلکہ ذہنوں پر بھی‘ سیاسی نظام پر بھی‘ عدالتی نظام پر بھی‘ اجتماعی نظام پر بھی‘ معاشی نظام پر بھی‘ تعلیم پر بھی‘ حتیٰ کہ خاندان اور فرد پر بھی اس کی گرفت مضبوط تھی۔ اس منظرنامے میں یہ ایک ادھوری بات تھی کہ بس ’’خلافت بحال کر دو‘‘۔ جو شخص بھی اسلام کے مزاج کو سمجھتا تھا اور وقت کے بحران اور اس کی اصلاح کا صحیح نقشۂ کار اس کے سامنے واضح تھا‘ اسے یہ بات بڑی سطحی اور غیرفطری لگتی تھی۔ ہم یہ دیکھتے ہیںاس موقع پر اُمت کے لیے ایک نقشۂ کار اور ایک واضح حکمتِ عملی متعین کرنے کا جو کام مولانا مودودیؒ نے کیا‘ وہ کم و بیش اسی نوعیت کا ہے جو دوسری صدی میں ہوا۔ تب ہم ایک نئی اصطلاح سے روشناس ہوئے اور وہ ہے لفظ ’تحریک‘۔

جس طرح اولین دور میں لفظ ’شریعت‘ نہیں تھا لیکن اسلام کے منشا کو بیان کرنے کے لیے ’شریعت‘ کا جامع لفظ آیا۔ آج اگر کوئی سوال کرے کہ اسلام کیا ہے؟ تو اس کا فوراً جواب ملے گا ’’شریعت ِاسلامی‘‘۔ گویا شریعت‘ اسلام کے نظام کار کی مجسم کی صورت میں اس زمانے میں آئی‘ جب اسلام ایک غالب اور ایک تاریخ ساز قوت تھا۔ وہ قوت‘ اپنی اخلاقی اور تہذیبی برکت کے ساتھ دنیا کے شمال‘ جنوب‘ مشرق اور مغرب میں کارفرما نظر آرہی تھی۔ اس زمانے میں اس کی حرکت کے پہلو کو یوں بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن جب حرکت اور پھیلائو کا وہ سلسلہ منقطع ہوگیا‘ اور اُمت جمود ہی کا شکار نہیں ہوئی‘ بلکہ اس کے ایک دوسری تہذیب کے سانچے میں ڈھل جانے کی نوبت آگئی‘ تو نئی ضرورتیں اُبھریں۔ اب اسلام صرف اقتدار ہی سے محروم نہ تھا‘بلکہ وہ ادارے جو اسلامی تہذیب و تمدن اور معاشرت اور ریاست کے ستون تھے اور اس کی پوری عمارت کو تھامے ہوئے تھے‘ ایک ایک کر کے منہدم ہوگئے‘ اور ان کی جگہ ایک دوسری تہذیب سے درآمد شدہ اداروں کو مسلمانوں کی سرزمین پر مسلط کر دیا گیا تو ایک بالکل نئی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اب شریعت کو دوبارہ زندگی کی رہنما قوت بنانے کے لیے ایک نئے وژن اور نئی اجتماعی تحریک اور نئی قیادت کی ضرورت تھی۔ اس بات کی ضرورت تھی کہ اسلام کا صحیح وژن‘ایمانی دانش اور متوازن بصیرت کے ساتھ بیان کیا جائے‘ اس بصیرت کی وسعتیںاس کے اہداف کے ساتھ آشکارا کی جائیں ‘ اس کو بروے کار لانے کے لیے قوت عمل‘ اس کے نظامِ کار کی منہج اور اس کے لوازمات کی فکر کی جائے۔ اور پھر عملاً وہ جدوجہد برپا کی جائے جو دین کی اقامت کا ذریعہ بن سکے۔

یہی وہ چیز تھی جس کے اظہار کے لیے مولانا مودودی ؒنے دین و دعوت اور نظامِ زندگی اور قانونِ حیات کے تصورات کو ایک مربوط شکل میں پیش کیا۔ انھوں نے قوی دلائل کے ساتھ اسلام کا جو انقلابی تصور پیش کیا وہ ’تحریک‘ کے لفظ میں ڈھل گیا۔ ان کے فکر کا اصل آہنگ یہ پیغام ہے کہ: اسلام ایک دین‘ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو عقیدے اور عبادت کے ساتھ ساتھ قانون‘ ثقافت‘ طرزِمعاشرت‘ معیشت‘ سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کو ایک منطقی ربط کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اسلام محض ایک نظری فلسفہ نہیں‘ بلکہ عقیدہ‘ اخلاق‘ قانون‘ معاشرت‘  تہذیب و تمدن اور اقدارحیات کا ایک ایسا امتزاج ہے جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کا صورت گر بھی ہے اور اس طرح وہ ایک تاریخی قوت ہے‘ جس کے داخلی وجود میں یہ صلاحیت کار ہے کہ وہ اپنے کو نافذ کرنے کے لیے لوگوں کو ترغیب دے‘ انھیں متحرک اور منظم کر کے ایک جدوجہد کا  موج در موج حصہ بنا دے۔ دوسرے یہ کہ اسلام‘ دین کے ساتھ ساتھ‘ ایک پیغام‘ ایک دعوت‘ ایک تبدیلی کا عمل ہے۔ جب دین کی ان تینوں جہتوں کے ساتھ‘ عقیدہ‘ عبادت‘ نظامِ زندگی اور قانون اور معاشرت اور پھر پیغام‘ دعوت‘ جدوجہد اور نفاذ کی منظم کوشش کی جائے تو سب مل کر اسلام کی حقیقی منشا بن جاتی ہے‘ جسے ’تحریک‘ کی اصطلاح سے سمجھا اور سمجھایا جا سکتا ہے۔

بعض علما نے مولانا مودودیؒ کی اس پکار کو ’بدعت‘ قرار دے کر ناگواری کا اظہار کیا‘کچھ نے بالکل ہی مسترد کر دیا‘ مگر ان افراد کے نامناسب ردعمل نے بہت جلد اپنی اپیل کھو دی۔ آج اُن پیشوائوں کے ارادت مند بھی انھی اصطلاحوں میں بات کرتے ہیں‘ جنھیں وہ کل مذموم قرار دے کر مولانا مودودیؒ کے خلاف فتووں کی بارش کر رہے تھے۔ گویا وقت اور حالات کی مناسبت سے مولانا مودودیؒ نے اسلام کے اصل پیغام کو اس کے جوہر سے جوڑنے‘ بیان کرنے اور دل و دماغ اور قول و عمل میں انقلاب برپا کر کے اس کو ایک زندہ تحریک بنانے کا کام کیا۔ مولانا مودودی ؒاور اس دور میں احیائی فکر کے علم بردار مفکرین کا اصل کارنامہ یہی ہے کہ انھوں نے بیسویں صدی میں وہی کام کیا جو دوسری صدی ہجری میں اس وقت اُمت کے قائدین نے   انجام دیا تھا۔ اس وقت ایک چلتے ہوئے نظام کو مستحکم کرنے اور انحراف کی یورش کے مقابلے کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ضابطے اور قانون کا پابند کرنا اصل ضرورت تھی‘ اور اب    قانون اور ضابطے کا ایک مثالیہ تو موجود تھا مگر وہ قوتِ قاہرہ مفقود تھی‘ کہ جس کے ذریعے نظریات نظامِ حیات بن جاتے ہیں۔

اب اگر آپ اس کی تہ میں جانا چاہیں توسمجھ سکتے ہیں کہ خلافت و اسلامی ریاست دراصل اس تحریک ‘ اس جدوجہد اور تبدیلی کا نتیجہ ہوگی۔ اس کے لیے فکر کی تبدیلی‘ فکر کے ساتھ کردار کی تبدیلی اور کردار کے ذریعے معاشرے کی تشکیلِ نو کرنا ہوگی۔ اس مقصدکے لیے منظم جدوجہد کی اہمیت محتاجِ بیان نہیں‘ جو بالآخر اسلامی معاشرے‘ اسلامی تہذیب و ثقافت‘ اسلامی حکومت‘ اسلامی ریاست اور حکومت الٰہیہ کے قیام پر منتج ہوگی۔ دیکھیے کہ خلافت کی اصطلاح جس نے ۱۹۲۴ء میں ایک خاص انداز میں پوری اُمت کو صدمے سے دوچار کیا تھا‘ اس کے زیادہ  جان دار متبادل کے طور پر حکومت الٰہیہ‘اقامت دین‘ اسلامی نظام کے قیام کی تڑپ اور پیاس اپنے نئے روپ اور نئے وژن کے ساتھ کس طرح اس مقام تک آپہنچی ہے۔

علامہ اقبال ؒاور مولانا مودودیؒ کے سامنے دراصل یہ بنیادی ایشو تھا۔ علامہ نے اپنے انداز و اسلوب اور اپنے دائرے میں اور اشاروں میں اور مولانا مودودیؒ نے تفصیل‘ وضاحت اور تسلسل کے ساتھ اس کا جواب دیا۔مولانا مودودیؒ کی نگاہ میں اصل مسئلہ خلافت کے کسی روایتی ادارے یا symbolکا قائم ہوجانا نہیں‘بلکہ خلافت تو اس وژن اور اس نئے عمل اور اس تہذیب کی سرتاج ہے جس کے لیے ہمیں اپنی توجہ مرکوز کرنی ہے‘ یعنی استخلاف فی الارض کی ذمے داری کو پورے شعور کے ساتھ ادا کرنا۔

آج کے دور اور حالات میں خلافت اور اقامت دین کے لیے مطلوب بنیادوں اور لائحہ عمل کے جو خدوخال سیدمودودی ؒنے پیش کیے ہیں‘ اس ضمن میں سب سے پہلی چیز فکر اور فکرمیں بھی اسلامی فکر کی تشکیل جدید‘ وقت کی غالب فکر پر گرفت‘ تنقید و تنقیح اور ایک نئے انسان کو تیار کرنا ہے۔ ایساانسان جس کا وژن‘ اخلاق‘ کردار‘ صلاحیت کار‘ تعلیم‘ وسائل اور اوقات کار کے نئے تقاضوں کو پورا کر سکے۔ اس کے بعد دوسری چیز ایک منظم اور اجتماعی جدوجہد ہے۔ چونکہ یہ کام محض انفرادی طور پر انجام نہیں پاسکتا‘ اس کے لیے ایک منظم اجتماعی جدوجہد ضروری ہے۔ ایسے تمام اچھے انسانوں کو منظم کر کے اجتماعی جدوجہد میں لگا دینا‘ تاکہ اسلام وقت کی غالب قوت بن کر انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا سکے۔ اس مطلوبہ قوت کا جو وژن سامنے آتا ہے وہ ہے تبدیل شدہ انسان اور اس کے ذریعے ایک اچھے معاشرے کا قیام۔ اس کے ادارات میں تعلیم‘ معاشرت‘ معیشت شامل ہے اور جس کا موثر ترین پہلو انقلاب قیادت اور اسلامی ریاست کا قیام ہے۔ صرف ایک خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اسلام کو ایک کارفرما اور قائد کی حیثیت سے سامنے لانا ہے۔

فکرِاسلامی کی تشکیلِ نو

سید مودودی کے علمی کارنامے کا احاطہ اور جائزہ وقت کی اہم ضرورت ہے‘ مگر اس جائزے کے تقاضوں کو کماحقہ پورا کرنا بڑا مشکل اور محنت طلب کام ہے۔ بہرحال مندرجہ بالا معروضات کی روشنی میں کسی قدر غوروفکر اور مزید تحقیق و تحلیل (analysis) کے طور پر چند نکات مرتب کرنے کی جسارت کر رہا ہوں:

سید مودودیؒ کے علمی کارنامے کی صحیح تفہیم کے لیے دو بنیادی باتوں کا پیش نظر رکھنا ضروری ہے: اول یہ کہ ہماری تاریخ کی پہلی پانچ صدیاں اسلامی فکر کی تشکیل و تعمیر اور اسلامی تہذیب و تمدن کی صورت گری اور استحکام اور ترقی کے باب میں اسلام کی اجتہادی اور انقلابی قوت کا ایک ایسا ماڈل پیش کرتی ہیں جو اسلام کے مزاج اور تاریخی کردار کو سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر ہم عرض کریں گے کہ دورِ رسالت مآبؐ اور دورِ خلافت راشدہ نہ صرف اسلام کے معیاری ادوار ہیں‘ بلکہ ہمیشہ کے لیے اسلامی مثالیے کے خدوخال متعین کردیتے ہیں ۔ اس کے بعد کے ساڑھے چار سو سال کے سیاسی نشیب و فراز سے اگر صرفِ نظر بھی کرلیا جائے تو صاف نظرآتا ہے کہ یہ دور علوم اسلامی کی تدوین کا زریں زمانہ ہے۔ تفسیر‘ حدیث‘ اصولِ فقہ‘ کلام‘ فلسفہ‘ تصوف‘ ان سب کے لیے یہ تعمیری اور تشکیلی دور ہے۔ اور امام غزالی ؒ

کی ذات اور کام میں اس دور کا حاصل دیکھا جا سکتا ہے۔

امام غزالی ؒنے فقہ‘ کلام اور تصوف کے تینوں دھاروں کو اپنے وقت کے فکری اور تہذیبی چیلنجوں کی روشنی میں اپنی مجتہدانہ بصیرت کے ساتھ ایک نامیاتی اکائی (organic whole)میں مرتب اور منضبط کرنے کی بڑی راہ کشا اور کامیاب کوشش کی۔ پھر ایسی ہی ایک کوشش بارھویں صدی میں شاہ ولی اللہ مرحوم و مغفور کے کام میں نظر آتی ہے۔

سید مودودیؒ کے کام کو بیسویں صدی کے فکری اور تہذیبی چیلنج کے پس منظرہی میں سمجھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ فکری اعتبار سے ان کا کام غزالیؒ، ابن تیمیہؒ اور شاہ ولی ؒ اللہ کے کام کا تسلسل اور اس علمی روایت کے بیسویں صدی میں احیا کی ایک شان دار مثال ہے۔

دوسری چیز وہ فکری اور تہذیبی ماحول ہے جس میں سید مودودی ؒنے یہ کام انجام دیا۔ اس میں مسلمانوں کا ۲۰۰ سال کا فکری جمود‘ مغرب میں نشاۃ ثانیہ(renaissance)‘ روشن خیالی (enlightenment) اور لبرل اور اشتراکی تحریکوں کا فروغ‘ صنعتی انقلاب‘ مغربی استعماری اور سرمایہ دارانہ قوتوں کا عالمی کردار پوری دنیا بشمول مسلم دنیا پر ان تسلط تھا۔ اس پس منظر میں شروع شروع میں مسلمانوں میں دو رجحان رونما ہوئے۔ ایک تحفظ اور اپنی میراث کو بچانے کے لیے قدامت پسندی اور جدید سے عدمِ تعاون اور اجتناب کا رویہ تھا‘ اور دوسری جانب اپنے تشخص اور روایت سے بے نیاز ہوکر غالب قوت سے ہم آہنگی اور ہم رنگی اختیار کرنے اور لبرلزم اور ماڈرنزم کے نام پر عملاً مغربی تہذیب‘ طرزفکروعمل‘ سیاسی اور ثقافتی اداروں سے نئی ٹکنالوجی اور طرزمعیشت کو بلاتفریق وامتیاز (indiscriminately)اختیار کرنے کا۔

روایتی مذہبی طبقات پہلے راستے میں نجات دیکھ رہے تھے‘ اور جدید تعلیم یافتہ اور مراعات حاصل کرنے والے طبقات دوسرے کو ترقی کا زینہ قرار دے رہے تھے۔ ان دو انتہائوں کے درمیان ایک وسیع خلیج تھی جسے پُر کرنے کے لیے کئی موثر کوششیں ہوئیں‘ جن میں سب سے اہم اسلام اور مسلم تہذیب و تاریخ پر مسلمانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کی وہ کاوش تھی‘ جو سید امیرعلی‘ شبلی نعمانی اور ندوۃ العلما اور دارالمصنفین نے انجام دی۔

اس پس منظر کے ساتھ برعظیم پاک و ہند میں دو آوازیں اُبھریں جو اپنی تازگی‘ وسعت اور انفرادیت (originality) کے اعتبار سے بظاہر اپنے ماحول میں اجنبی‘ لیکن دراصل اسلام کے پہلے ۵۰۰سال کی روایت کے احیا کی نقیب تھیں---ایک‘ اقبال اور دوسرے ابوالکلام آزاد۔ اپنے اپنے انداز میں دونوں نے اسلام کی راہ وسط کو اجاگر کیا اور قدیم اور جدید کے درمیان راہِ صواب کی نشان دہی کی۔ لیکن صرف اس حد تک کہ جمود پر ضرب لگائی‘ مغربیت کے طلسم کو چیلنج کیا اور اسلام کے حقیقی پیغام اور مشن کی طرف مراجعت کی دعوت دی--- جس شخص نے اس نقشے میں رنگ بھرا اور اس دعوت کو فکروعمل دونوں میدانوں میں ایک حقیقی اور موثر تحریک بنانے کے لیے شب و رز وقف کر دیے‘ وہ سید مودودیؒ ہیں۔ جنھوں نے یہ کام روایت سے بغاوت کے ذریعے نہیں بلکہ روایت کو تجدید کے عمل کا حصہ بناکر‘ اور جدید کو نظرانداز کر کے نہیں‘ بلکہ جدید کو اپنی تہذیبی اقدار کی کسوٹی پر پرکھ کر اور خذما صفا ودع  ما کدر (جودرست ہے اس کو قبول کرلو اور جو نادرست ہے اس کو رد کر دو) کے اصول کے مطابق انجام دیا۔ ان کے   اس کام کے تین اہم پہلو ہیں:

                ۱-            فکر اسلامی کی تشکیلِ نو

                ۲-            اُمت کی کمزوری اور زوال کے اسباب کی تعین و تشخیص اور اصلاح احوال کے   خطوطِ کار کی نشان دہی۔

                ۳-            اصلاح کے نقشے کے مطابق تبدیلی اور تعمیرنو کی جدوجہد کا عملی آغاز

یہی وہ تین کام ہیں جس کے باعث بیسویں صدی کی تاریخ میں سید مودودیؒ ایک مفکر‘ ایک مصلح اور ایک مدبر کی حیثیت سے بڑا منفرد مقام رکھتے ہیں۔

اسلامی فکر کی تشکیلِ نو کے سلسلے میں اپنی تصنیفی زندگی کے ۶۰برسوں میں سیدمودودیؒ نے تقریباً ڈیڑھ سوکتب کی تصنیف و تالیف کے ذریعے خدمت انجام دی۔ انھوں نے تفسیرقرآن‘ تشریح احادیث‘ تعلیم فقہ کے ساتھ اجتہادی بصیرت سے دورِحاضر کے جملہ اہم علوم اور مسائل کے بارے میں اسلامی فکر کے اساسی اصول پیش کیے۔ ان کے اجتہادی کام کا دائرہ چند گنے چنے مسائل تک محدود نہیں ہے‘ بلکہ اصل ماخذ اور تاریخی روایت کے ساتھ‘ پوری فکرِاسلامی کی روشنی اور تسلسل میں تعمیر اور تشکیلِ نو ہے۔ مولانا مودودیؒ کے اس کام کی انفرادیت‘ وسعت اور گہرائی پر برسوں نہیں صدیوں تحقیق ہوگی اور اس سے آنے والی نسلیں روشنی حاصل کریں گی۔

اس سلسلے میں سید مودودیؒ کا سب سے بنیادی کام عقیدے کی تشریح اور توضیح ہے۔ سیدصاحبؒ کی فکر کو سمجھنے کے لیے سب سے کلیدی تصور‘ توحید کے عقیدے کی تشریح اور اس کے تقاضوں کی تعلیم ہے۔ قرآن نے الٰہ اور رب کا جو تصور پیش کیا ہے‘ اس دور میں اس کی واضح ترین تعلیم سید مودودی ؒکا سب سے بڑا فکری کارنامہ ہے۔ توحید کے تصور کو شرک کی تمام آلایشوں سے پاک کرنا اور اللہ کو الٰہ ماننے کے مضمرات کو جس طرح سیدمودودیؒ نے بیان کیا ہے‘ وہ اظہارمدعا کی دنیا میں ایک انقلابی کارنامہ ہے۔ اللہ صرف خالق اور پالنہار ہی نہیں ہے‘ بلکہ وہ حاکم‘ آقا‘ مطاع اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ ایمان کے معنی ایک طرف اپنے پیدا کرنے والے کو پہچاننا اور اس کے دامن میں پناہ لینا ہے تو دوسری طرف اس سے عہداطاعت کرنا ہے کہ پھر زندگی کے ہر شعبے میں اس کی رضا کا حصول‘ اس کے احکام اور ہدایت کی اطاعت اپنے آپ کو اور اپنے پورے معاشرے کو صبغۃ اللہ کے رنگ میں رنگ لینا ہی کمال ترقی و کامیابی ہے۔

یہ تصور ایک طرف روایتی مذہبی جمود کو پارہ پارہ کر دیتا ہے تو دوسری طرف زندگی کو خانوں میں تقسیم کرنے اور الہامی ہدایت سے بے نیاز ہوکر محض عقل‘ تاریخ اور تجربے کے سہارے زندگی گزارنے والے تمام طریقوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ عبادت صرف مخصوص اسلامی مظاہر (rituals) کا نام نہیں‘ بلکہ پوری زندگی کو منصوص عبادات کی ادایگی اور ان کی رمزیت اور اثرانگیزی کی قوت سے اللہ کی بندگی میں دینے اور اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے۔ اور اسلام ہے ہی وہ دین جو ایک طرف انسان کی پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے تو دوسری طرف انسان کو خالق کائنات کی مرضی سے ہم آہنگ (harmonize)کرنے کا وہ طریقہ ہے جس پر پوری کائنات عامل ہے۔ پوری کائنات اللہ کی مسلم ہے کہ اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق عمل پیرا ہے۔ جب انسان اسلام کے دائرے میں داخل ہو کر اللہ کے قانون کی اپنے ارادے سے پابندی کرتا ہے تو وہ پوری کائنات سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے اسے حقیقی امن و سلامتی حاصل ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے رب‘ اپنی ذات اور فطرت‘ اور پوری کائنات کے ساتھ ہم آہنگی اور اطمینان کا رشتہ استوار کر لیتا ہے۔ اسلام کے معنی یہی سپردگی ہے جو اطمینان‘ امن اور سلامتی پر منتج ہوتی ہے (اَلَا بِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ o الرعد ۱۳:۲۸)۔

توحید کے اس تصور کی وضاحت کے بعد سیدمودودیؒ اسی توحید کی بنیاد پر پوری انسانی فکر اور زندگی کے ہر شعبے کے لیے اسلامی تعلیمات کی ترتیب و تدوین کا کام انجام دیتے ہیں۔ وہ  قرآن و سنت اور اسوئہ رسولؐ سے ثابت کرتے ہیں کہ اسلام ہی مکمل دین ہے اور زندگی کے ہرشعبے کے لیے کافی و شافی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام کے نظامِ حیات کے ہرایک پہلو کو انھوں نے شرح و بسط کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا وہ کیا نقشۂ کار ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات کی بنیاد پر ظہور پذیر ہوتا ہے‘ اور ایک متوازن فکرانسانی اور علوم عمرانی کی تشکیلِ نو کس طرح ان بنیادوں کے اوپر انجام دی جا سکتی ہے۔ قانون‘ سیاست‘ معیشت‘ معاشرت‘ تعلیم‘ حقوقِ انسانی‘ عالمی نظام‘ غرض ہر پہلو پر انھوں نے اخلاقی دیانت‘ اجتہادی بصیرت اور عمیق تحقیق کے ساتھ اسلامی فکر کی تشکیلِ نو کی خدمت انجام دی ہے۔ فردِواحد نے وہ کام کردکھایا‘ جو بڑے بڑے ادارے اور محققین کی بڑی بڑی جماعتیں بھی بمشکل انجام دے پاتی ہیں۔

سید مودودیؒ نے تاریخ میں اسلام اور جاہلیت کی کش مکش کی تصویرکشی کے ذریعے انسانی زندگی کے اصل ایشوز کو مرتب کیا ہے اور بتایا ہے کہ آفرینش کے آغاز سے تاریخ دو ہی قوتوں کی پیکار کی آماجگاہ ہے‘ ایک اسلام ہے اور دوسری جاہلیت (یعنی اللہ سے بے نیاز ہوکر زندگی کا نقشہ بنانے کی کوشش خواہ اس کا نام اور آہنگ کیسا ہی کیوں نہ ہو)۔ یہی وہ کش مکش ہے جس میں انسان کو استخلاف فی الارض کی ذمہ داری سونپی گئی ہے‘ جو اُمت مسلمہ کا مشن‘ یعنی شہادت حق اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اور جس کے لیے نفس سے جنگ سے لے کر کارزارحیات میں شر‘ ظلم اور فساد کے خلاف جہاد ہی اللہ کے بندوں کی اصل ذمہ داری ہے۔ تزکیہ نفس سے لے کر قتال فی سبیل اللہ تک‘ یہ سب اس نقشۂ راہ کے مراحل ہیں۔ حق کے غلبے کی جدوجہد ہی ایمان کا اصل تقاضا اور ثمرہے۔

سید مودودیؒ نے اسلام کے اس وژن کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے جو کام کیا‘ اس کے تجزیے سے ان کے علم الکلام کے خدوخال مرتب کیے جاسکتے ہیں۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اسلام کے اولین دور میں وژن کی صحت اور جدوجہد کی قوت کا سرچشمہ قرآن سے براہِ راست رہنمائی اور سنت رسولؐ پر مضبوطی سے قائم رہنا تھا۔ بڑھتی ہوئی اسلامی قلمرو اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے پھیل جانے سے جو نئے مسائل پیدا ہوئے تھے‘ ان کے حل کے لیے اسلامی فقہ کی تدوین اجتہاد اور اجتہادی فیصلوں کی تنفیذ وقت کی سب سے بڑی ضرورت تھی۔ لیکن مرورزمانہ کے ساتھ فکر‘ تعلیم اور معاملات کا کچھ ایسا آہنگ بن گیا کہ فقہ اور روایت کو اولیت حاصل ہوگئی اور قرآن و سنت سے بلاواسطہ ربط و رہنمائی میں اضمحلال آگیا۔ جن نام نہاد مصلحین نے فقہ اور روایت سے بغاوت کی بات کی‘ وہ اسلام کی روح اور اس کے مشن سے ناواقف تھے۔ لیکن فقہ اور روایت سے رہنمائی اور تعلق کو منقطع کیے بغیر احیاے اسلام کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور سنت سے رشتہ استوار کیا جائے اور نئے حالات میں رہنمائی کے لیے ترتیب وہی قائم کی جائے جو دورِاول میں تھی--- یعنی قرآن‘ پھر سنت اور پھر اجتہاد۔ جس میں سلف کے اجتہاد اور اس کے نتیجے میں ظہورمیں آنے والی فقہ سے اصولوں کے مطابق استفادہ ہے۔ پھر جس طرح اصولین نے اپنے زمانے میں اپنے وقت کے علوم اور مسائل کو سامنے رکھ کر اسلام کی رہنمائی کو متعین کیا‘ اسی طرح آج کا ماحول اس پورے علمی اثاثے کو سامنے رکھ کر لیکن جدید علوم اور عصری مسائل کے حقیقی ادراک کے ساتھ غوروفکر اور اجتہاد واستنباط کے سلسلے کو آگے بڑھانا ہے۔ اس کے لیے سائنس‘ عمرانی علوم اور دورِ جدید کے اس ’عرف‘ کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے‘ جو مقاصد شریعت سے  ہم آہنگ اور احکام اسلام سے متصادم نہ ہو۔

تحقیق‘تجزیے ‘ استنباط اور اطلاق کی یہ وہ حکمت عملی ہے جو سیدمودودیؒ نے اختیار کی۔ اسی طرح ان کے علم الکلام میں دورِ جدید کے تقاضوں اور ضرورتوں کو سامنے رکھ کر اسلامی علوم و افکار کی تشکیل جدید ہی نہیں بلکہ فکرِانسانی کی تشکیلِ نو کے اس عمل کو انجام دیا جانا چاہیے۔ اس کے خطوطِ کار کا تعین اور اس کے استعمال سے حاصل شدہ نتائج کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ گویا فکر اور فکری عمل کو آگے بڑھانے کے راستے اور طریقے بتاکر‘ ان دونوں میدانوں میں بھی سیدمودودی نے نئے چراغ روشن کیے اور مستقبل میں کام کرنے والوں کے لیے تابندہ نقوشِ راہ چھوڑے۔ ان کے سارے کام کا ہدف اللہ سے بندوں کو اللہ سے قریب کرنا اور ان کے اندر اپنے رب سے مغفرت کی طلب بڑھانا  تھا۔ لیکن فرد کی اصلاح‘ فکر کی تشکیلِ نو‘ وقت کے فتنوں اور چیلنجوں کا جواب‘ اسلامی زندگی‘ مسلم معاشرہ‘ اسلامی ریاست اور اسلام کے عالمی نظام کے خدوخال کی وضاحت کے ساتھ ان کی توجہ ایک اور کلیدی نکتے پر مرکوز رہی‘ اور وہ یہ کہ اچھے انسانوں کی تیاری کے ساتھ اجتماعی جدوجہد اور معاشرے کی تعمیروتشکیل کے ذریعے انقلابِ قیادت کا معرکہ کیونکر سر کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے عملاً مربوط و منظم جدوجہد کی کہ دین کے قیام‘ اسلامی معاشرے اور ریاست کے قیام اور ہرسطح پر قیادت کی تبدیلی اور فاسد قیادت سے زمامِ کار‘   صالح قیادت کی طرف منتقل کرکے انسانیت کی قیادت اہلِ خیر کے ہاتھوں میں لائی جاسکے۔ سیدمودودیؒ کی فکر کا مرکزی نکتہ توحید کے تصور کی وضاحت ہی نہیں ہے بلکہ توحید کے تصور کی بنیاد پر انسان سازی اور زمانہ سازی کا عمل ہے۔ یہ کام انھوں نے فکر کے میدان میں بھی انجام دیا اور پھر ایک مصلح کی حیثیت سے عملاً اس جدوجہد کو برپا کرنے کی سعادت بھی حاصل کی۔

یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مولانا مودودیؒ ایک دیدہ ور مفکر تھے‘ جن کے ہاں فکری ارتقا جاری رہا۔ وہ تحقیق اور دلیل کی بنیاد پر اپنی آرا پر نظرثانی کے لیے کھلا دل اور ضروری لچک رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر ابتدا میں پہلے تحدید ملکیت زمین کے بارے میں مولانا کا کم و بیش وہی نقطۂ نظر تھا‘ جس پر فقہا عامل تھے۔ تاہم‘ جماعت اسلامی کا منشور تیار کرنے کے مختلف مراحل (۱۹۵۱ء تا ۱۹۷۰ئ) میں وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر لامحدود ملکیت زمین ظلم اور انسانی سماج میں شدید عدم توازن کا باعث بن جائے توزمین کی حد مقرر کی جاسکتی ہے۔ اس میں ناجائز ملکیتی زمینوں کو بحقِ سرکار ضبط کر کے ضرورت مند کاشت کاروں میں تقسیم کیا جانا چاہیے اور جائز ملکیتوں میں زرعی اور بارانی زمینوں کو ایک حد سے زیادہ کی صورت میں‘ ریاست خرید کر مستحق افراد کو دے سکتی ہے۔ ان کے ہاں یہ تحدید کمیونسٹوں کے قومیانے والے تصور سے بالکل مختلف اور عدل پر مبنی ہے۔

مولانا مودودی کے ہاں جمود نہیں ہے‘ وہ سوچ کر رائے قائم کرتے تھے لیکن اپنی رائے پر قفل نہیں لگاتے تھے۔ شوریٰ میں تو میں نے دیکھا کہ مولانا نے لوگوں کو گھنٹوں بحث کرنے کا موقع بھی دیا ہے اور اپنی آرا کو تبدیل بھی کیا ہے۔ ہم سب ان کے شاگردوں اور خوردوں میں سے ہیں لیکن وہ ہماری رائے کو بھی پوری توجہ سے سنتے تھے‘ نوٹس لیتے تھے‘ جواب میں دلیل دیتے تھے اور پھر قائل کرنے اور قائل ہونے کے لیے تیار رہتے تھے۔ ایسے بلندپایہ انسان کا ایسے  کھلے انداز میں شورائی آداب پر عمل کرنا‘ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ ہی کا حصہ تھا۔

زندگی کے نئے مسائل اور نئی اُلجھنوں پر جب بھی سوچنے کا مرحلہ آتا تو مولانا اس پر ازسرنو غور کرتے تھے۔ جس چیز کے ایک سے زیادہ حل ہو سکتے تھے‘ ان میں ترجیح قائم کرتے تھے۔ مجھے مرکزی شوریٰ میں دو دن تک جاری رہنے والی وہ بحث اچھی طرح یاد ہے جس میں جداگانہ انتخابات کے مسئلے پر بات ہوئی تھی۔ یہ بحث محض نظریاتی نہیں تھی‘ بلکہ یہ اخلاقی اور اصولی حوالے کے ساتھ ساتھ عملی سیاست کے گہرے ادراک پر مبنی تھی۔ اس پر شوریٰ میں دو آرا موجود تھیں۔ مولانا نے ایسے امور کو بڑی نزاکت سے نبھایا اور شوریٰ میں بالآخر زیادہ سے زیادہ اتفاق راے (near consensus) کی کیفیت پیدا کی۔

میدانِ عمل میں رہنما خطوط کا تعین

مولانا مودودیؒ ایک مصلح کی حیثیت سے محض ایک نظریہ ساز (theorist) نہیں ہیں‘ بلکہ ایک عملی مصلح (active reformer) کی حیثیت سے ان کی نگاہیں ہمیشہ زمینی حقائق پر مرکوز رہتی ہیں۔ ایک ہمدرد معالج کے طور پر وہ مریض کو صحت یاب دیکھنے کے متمنی نظرآتے ہیں اور مریض کی حالت کے مطابق نسخے میں ترمیم و تبدیلی بھی کرتے ہیں۔

عملیت پسند مولانا مودودیؒ میں خوداعتمادی تو بلا کی تھی‘ مگر خودپسندی کا کوئی شائبہ بھی ان کی زندگی میں نہ تھا۔ وہ نئے حالات میں‘ دین کی روشنی میں‘ نئے تجربات اور نئے راستے نکالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند اور پورے عالمِ اسلام کی اصلاح کا انھوں نے بیڑا اٹھایا ‘اور اس عملی جدوجہد میں اپنا صحیح کردار ادا کرنے اور قیادت کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ جتنا بڑا کارنامہ انھوں نے فکری حیثیت میں انجام دیا‘ اتنا ہی بڑا کارنامہ انھوں نے عملی سطح پر بھی انجام دیا۔ اس کے لیے انھوں نے ایک جماعت بنائی مگر جماعت اسلامی کا قیام بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دینے کے مترادف ثابت ہوا۔ جوں ہی انھوں نے جماعت بناکر دعوتِ عام دی تو وہ لوگ بھی جو ان کو ’ترجمانِ اسلام‘ کہتے تھے نہ صرف پیچھے ہٹ گئے‘ بلکہ ان کے ناقد بن گئے۔ مولانا نے نئے حالات میں اسلامی فکر کے احیا اور تشکیلِ نو تک اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا‘ بلکہ دنیا کو بدلنے کی‘ مسلمانوں کو بیدار کرنے کی‘ اُمت کو شہداء علی الناس کا کردار ادا کرنے‘ امر بالمعروف ونہی عن المنکرکی ذمہ داری نبھانے اور اقامت دین کی ذمے داری اٹھانے کے لیے سرگرم کر دیا۔ ان کی ذات میں مفکر اور مصلح‘ داعی اور منتظم‘ قائد اور مدبر کی صلاحیتوں کا اجتماع تھا۔ یہی وہ پہلو ہے جو ان کے کردار کو انفرادیت عطا کرتا ہے۔

l جدید خطوط پر تنظیم سازی :مولانا مودودیؒ نے اپنے عہدکی سرکردہ تنظیموں کے تنظیمی ڈھانچوں اور نظاموں کا گہری نظر سے مطالعہ کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اسلام کو ایک انقلابی تحریک کی ضرورت ہے جو محض ایک سیاسی تنظیم نہ ہو۔ اس تناظرمیں جماعت اسلامی کا وجود دراصل ایک نظریاتی تحریک کا روپ ہے۔ بنیادی پہلو یہ ہے کہ مولانا نے جماعت کے دستور میں پہلے ہی دن سے جو بنیادی چیز رکھی ہے‘ وہ اس کا وژن ہے‘ جس میں لا الٰہ الا اللّٰہ محمدرسول اللہ کا تصور‘ اور اس کے تقاضے جماعت اسلامی کا محور ہیں۔ جماعت کے دستور کا سب سے اہم حصہ یہی ہے۔ اس میں پہلی بنیادی چیز اللہ کی حاکمیت‘ دین کی اقامت‘ حکومت الٰہیہ کا قیام اور زندگی کے پورے نظام کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر ازسرنو مرتب کرنے کا عزم اور سرگرم جدوجہد کا عہدہے۔ اس میں دوسری بنیادی چیزیہ ہے کہ ہرانسان قابلِ احترام ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی معیارِ حق نہیں۔ اصل کسوٹی اور معیار اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ باقی سب کو اسی میزان پر پرکھا جائے گا اور جو جتنا اس معیار سے قریب ہوگا ‘وہ اتنا ہی محترم ہوگا۔ جماعت کے قیام میں یہ اصول بھی کارفرما رہا کہ اس کی رکنیت بلاامتیاز تمام مسلمانوں کے لیے کھلی ہے۔ لیکن رکن وہ بنے گا جو شعوری طور پر اس ذمہ داری کو قبول کرے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کا عہد کرے۔

مسلم تاریخ میں بیعت‘ امیر کے ہاتھ پر ہوتی تھی اور امیر کے مرجانے کے بعد دوسرے فرد سے بیعت ہوتی تھی۔ لیکن مولانا مودودیؒ نے نظامِ تنظیم کو بدل کر رکھ دیا۔ انھوں نے کہا: دعوت نہ تو امیر کی طرف ہے اور نہ بیعتِ امیر کی طرف‘ بلکہ دعوت بھی جماعت میں متعین کردہ نصب العین کی طرف ہے اور بیعت بھی جماعت کے ساتھ ہے‘ جسے حلفِ رکنیت کی شکل دی گئی۔ امیر پر نظام کو چلانے کی ذمہ داری ہے‘ وہ اس کی قیادت تو کرے گا‘ اور بحیثیت امیر‘ نظام جماعت کے تحت اس کی اطاعت فی المعروف بھی ضروری ہے‘ لیکن امیر بھی اسی طرح دستور کا پابند ہے جس طرح ایک رکن۔ اسی طرح اطاعت نظام امر کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دعوت امیر کی طرف نہیں‘ جماعت اوراس کے مشن کی طرف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جماعت کا نظام معروف میں اطاعت اور منکر میں احتساب سے عبارت ہے۔ یہ جماعت کے اجزاے لاینفک ہیں۔ میرے علم کی حد تک مسلمانوں کی اجتماعیت کی تاریخ میں مولانا مودودیؒ نے پہلی مرتبہ تحریری دستور کے اندر احتساب کے حق کو حق ہی نہیں‘ ذمہ داری قرار دیا ہے۔ ہر رکن‘ شوریٰ اور پورا نظام امر‘ احتساب کے عمل میں شامل ہے۔ ہر رکن یہ عہد کرتا ہے کہ میں جہاں کہیں کوئی برائی دیکھوں گا ‘اس کی اصلاح کی کوشش کروں گا۔ مراد یہ ہے کہ رکنیت کے وجود میں احتساب کا حق ہی نہیں فرض بھی شامل ہے۔ دستور میں شوریٰ کے منصبی فرائض میں بھی احتساب شامل ہے۔ یہ اصول تو بڑی جمہوری پارٹیوں میں بھی نہیں ہے۔ پاکستان کی چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیوں اور مذہبی جماعتوں کے نظام کار کا جائزہ لیجیے‘ تو نظر آتا ہے کہ یا تو وراثت کا نظام کارفرما ہے‘ یا جس فرد کا وراثت‘ دولت اور اقتدار کے بل پر پارٹی پہ قبضہ ہے‘ وہی حرف اول ہے اور وہی حکم آخر۔

اس کے بعد ہے اختلاف راے کا حق۔ مولانا مودودیؒ نے اسے بھی ایک دستوری حق قرار دیا ہے‘ یعنی آپ پالیسی سے اختلاف رکھ سکتے ہیں‘ عقیدے سے نہیں۔ امیر سے اختلاف رکھ کر بھی آپ جماعت کے رکن رہ سکتے ہیں اور ایک وقت کی طے شدہ پالیسی کو بدلنے کے لیے افہام و تفہیم اور معروف شورائی ذرائع سے کوشش کرسکتے ہیں۔ جماعت کے دستور میں بھی شورائی نظام کا ارتقا ہوا ہے‘ اورایک تدریجی عمل سے گزر کر جماعت نے ایک طرف امیر کو قیادت اور رہنمائی کا اختیار دیا ہے تو دوسری طرف پالیسی کو شوریٰ کے فیصلے کا پابند کیا ہے‘جب کہ آخری فیصلہ شوریٰ یا اجتماع ارکان کا استحقاق ہے۔ اس عمل سے شوریٰ کی برتری زیادہ مستحکم ہوئی ہے۔

l نظام کی تبدیلی کا طریق کار اور حکمت عملی: مولانا مودودیؒ نے ملکی نظام میں تبدیلی کا جو طریق کار پیش کیا ہے‘ وہ افکار کی تبدیلی‘ کردار کی تعمیراور راے عامہ کی ہمواری کے لیے جمہوری‘ قانونی اور دستوری طریقے کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جماعت کے دستور میں اس طریق کار کو دو ٹوک انداز میں پیش کیا گیا اور عملاً ملک کی سیاست میں دستوریت (constitutionalism) اور جمہوری ذرائع سے تبدیلی کی جدوجہد کی مثال قائم کی گئی۔ وہ سختی سے اس راستے پر کاربند رہے اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو بھی اس کی دعوت دی۔ انھوں نے کھلے الفاظ میں کہا: خفیہ جماعتوں کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ عرب ممالک میں چونکہ یہ رجحان گڈمڈ تھا‘ اسی لیے عرب نوجوانوں سے مولانا مودودیؒ نے خطاب کرتے ہوئے یہی فرمایا کہ میں آپ کوتلقین کرتا ہوں کہ آپ ان طریقوں کو اختیار نہ کریں جو فساد فی الارض کا ذریعہ بنتے ہیں۔ البتہ مسلمان جہاں پر محکوم ہیں اور غیروں کی غلامی میں ہیں‘ اور ان کے لیے سیاسی جدوجہد کا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے۔ وہاں آزادی کے لیے ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا کہ وہ جہادکی راہ اختیار کریں تو یہ ان کا حق ہے۔ لیکن جن معاشروں میں آزادی ہے اور تبدیلی کے کچھ بھی جمہوری ذرائع موجود ہیں‘ وہاں آئینی اور جمہوری طریقے سے تبدیلی لانا ہی مولانا کی نگاہ میں اور جماعت کے دستور کے تحت تبدیلی کا صحیح طریقہ ہے۔

یہاں ہمیں مولانا مودودیؒ مرحوم کی فکر کا یہ بڑا اہم نکتہ ملتا ہے‘ جسے علم السیاست میں ارتقائی عمل اور انقلابی عمل کہا جاتا ہے۔ مولانا نے بالکل ایک بیچ کا راستہ نکالا ہے‘ اور وہ یہ ہے کہ ان کے تمام مقاصد تو انقلابی (revolutionary) ہیں‘ لیکن ان کے حصول کے لیے طریقۂ کار ارتقائی (evolutionary) ہے۔ اسلامی انقلاب ہمارا مطلوب ہے‘ لیکن اس انقلاب کی منزل تک پہنچنے کے لیے کوئی مختصر راستہ (short cut)نہیں ہے اور نہ جبر کا کوئی طریقہ اس منزل کے حصول کے لیے ممدومعاون ہوسکتا ہے۔ مولانا مودودیؒ ذہنوں‘ معاشرے اور کردار کی تیاری کے ذریعے راے عامہ کو قائل کرتے اور اس طرح قیادت کی تبدیلی کا راستہ بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: قیادت کی تبدیلی کا لازمی تقاضا یہی ہے۔ پہلے مولانا کا خیال تھا کہ اسلامی ریاست میں سیاسی پارٹیاں نہیں ہونی چاہییں۔ لیکن بعد میں انھوں نے محسوس کیا کہ اگر سیاسی پارٹیاں ان حدود کی پابندی کریں‘ جو شریعت نے اجتماعی زندگی کے لیے مرتب کی ہیں تو وہ اس ریاست کے نظام کار کو چلانے کے لیے نہ صرف معاون بلکہ ضروری ہیں۔ خاص طور پر سیاسی آزادی اور اختلاف راے کو اداراتی اور منظم شکل دینے کے لیے اس کو قبول کیا۔ اسی طرح ایک خاص مقصد کے لیے ایک خاص طرز پر جماعت کو تبدیلی کا صورت گربنایا۔ پھر انھوں نے جماعت کے ساتھ‘ معاشرے کے ہر طبقے کو فعال طور پر ساتھ لے کرچلنے کے لیے برادر تنظیموں کا ایک وسیع نظامِ کار وضع کیا۔

ایک اور مثال ہے‘ ان کا لیکچر : اسلام کا نظریۂ سیاسی ‘جو تقسیم ہند سے ۱۰برس قبل شائع ہوا تھا۔ اس میں مولانا نے امیر کے لیے زندگی بھر مامور رہنے اور شوریٰ کے مقابلے میں حق استرداد کو خلافت راشدہ کے تعامل سے لیا تھا۔ جیساکہ میں نے عرض کیا ہے کہ مولانا کے ہاں ہمیں دیانت اور علمی توسُّع کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ انھوں نے اپنی بات کو ہمیشہ دلیل اور  اعتماد سے پیش کیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی افہام و تفہیم اور دلیل سے اپنی رائے بدلنے پر آمادہ رہے ہیں۔ ایسے ہر مشاہدے سے مولانا کی عظمت کا نقش گہرا ہوا ہے۔ جب اسلامی دستور کی تدوین کا مرحلہ آیا اور میں نے مولانا کی اسلامی قانون کی تدوین والی تقریر کو Islamic Law & Constitution میں شامل کر کے اس کتاب کو مرتب کرنے کے لیے کام شروع کیا تو اس موقع پر مولانا ظفراحمد انصاری‘ چودھری غلام محمد اور غلام حسین عباسی صاحب کے ہمراہ‘ مولانا مودودیؒ سے ان معاملات پر گفتگوئیں ہوئیں۔ مولانا بہت کھلے دل سے ہماری گزارشات پر غور فرمایا اور اس مکالمے کے نتیجے میں متعدد امور میں انھوں نے اپنی رائے میں ترمیم کی۔ مثال کے طور پر‘ امیر کے سلسلے میں مولانا نے رائے تبدیل کی اور کہا کہ دورِ امارت مقید ہوسکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ خلفاے راشدینؓ توتقویٰ ‘ کردار اور اپنی خدمات کے اعتبار سے بہت اونچے مقام پر تھے‘ پھر وہ محض منتخب سربراہ ہی نہیں تھے بلکہ تحریک اسلامی کے ستون اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ اور افضل ترین حضرات تھے‘ اس لیے ان کے اوپر یہ بھروسا کیا جا سکتا تھا لیکن‘ اگر آج ایک آدمی اختیار اور اقتدار کے سرچشموں پر قابض ہو جاتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اسے ہٹانے کا راستہ کیا ہوگا۔

اسی طرح امیر یا لیڈر کو بھی شوریٰ کی رائے کا پابند ہونا چاہیے۔ مولانا مودودیؒ کے ہاں اس میں بھی ایک ارتقا ہے‘ جس کا نقطۂ عروج تفہیم القرآن میں سورہ شوریٰ وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْص ( ۴۲:۳۸)پر تفسیری نوٹ ہے‘ جو پورے تفسیری لٹریچر میں منفرد شان کا حامل ہے۔ اس میں مولانا نے لکھا ہے: ’’مشاورت اسلامی طرزِ زندگی کا ایک اہم ستون ہے‘ اور مشورے کے بغیر اجتماعی کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ ہے بلکہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے… جس معاملے کا تعلق دو یا زائد آدمیوں کے مفاد سے ہو‘ اس میں کسی ایک شخص کا اپنی راے سے فیصلہ کر ڈالنا‘ اور دوسرے متعلق اشخاص کو نظرانداز کر دینا زیادتی ہے… اگر وہ کسی بہت بڑی تعداد سے متعلق ہو تو ان کے معتمدعلیہ نمایندوں کو شریک مشورہ کیا جائے… جن معاملات کا تعلق دوسروں کے حقوق اور مفاد سے ہو‘ ان میں فیصلہ کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ کوئی شخص جو خدا سے ڈرتا ہو‘ اور یہ جانتا ہو کہ اس کی کتنی سخت جواب دہی اسے اپنے رب کے سامنے کرنی پڑے گی‘ کبھی اس بھاری بوجھ کو تنہا اپنے سر لینے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اس طرح کی جرأتیں صرف وہی لوگ کرتے ہیں جوخدا سے بے خوف اور آخرت سے بے فکر ہوتے ہیں… اسلامی طرزِزندگی یہ چاہتا ہے کہ مشاورت کا اصول ہر چھوٹے بڑے اجتماعی معاملے میں برتا جائے۔ گھر کے معاملات ہوں تو ان میں میاں اور بیوی باہم مشورے سے کام کریں اور بچے جب جوان ہوجائیں تو انھیں بھی شریک مشورہ کیا جائے… خاندان کے معاملات ہوں تو ان میں کنبے کے سب عاقل و بالغ افراد کی راے لی جائے… ایک پوری قوم کے معاملات ہوں تو ان کے چلانے کے لیے قوم کا سربراہ سب کی مرضی سے مقرر کیا جائے… اگروہ اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی یا خامی یا کوتاہی دیکھیں تو اس پر ٹوک سکیں‘ احتجاج کرسکیں‘ اور اصلاح نہ ہوتی دیکھیں تو سربراہ کاروں کو بدل سکیں۔ لوگوں کا منہ بند کرکے‘ اور ان کے ہاتھ پائوں کس کر‘ اور ان کو بے خبر رکھ کر ان کے اجتماعی معاملات چلانا صریح بددیانتی ہے‘‘ (تفہیم القرآن‘ ج ۴‘ ص ۵۰۸-۵۰۹)۔ یہی چیز امیر اور لیڈر کے لیے ہے۔ اکثریت کی راے کو قبول کرنا اور اجماع پسندیدہ امر ہے۔ یہ آثار اپنے ارتقا کے ساتھ ان کی تحریروں میں موجود ہیں۔

پھر جب تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں جماعت اسلامی کے دستور کی تشکیلِ نو ہوئی تو اس میں امیر کی مدت پانچ سال مقرر کر دی گئی۔ یہ وہی وقت ہے جب ہم نے دستور میں سربراہ حکومت کے لیے پانچ سال کی مدت تجویز کی تھی‘ جسے مولانا نے قبول کر لیا تھا۔ اسی طرح جماعت کے پہلے دستور میں شوریٰ کا ادارہ موجود تھا‘ لیکن ان ارکان شوریٰ کو امیران افراد کی قابلیت‘ بصیرت‘ خدمات اور تقویٰ کی بنیاد پر نامزد کرتا تھا۔ اس کے بعد شوریٰ کو منتخب کرنے کا ضابطہ بنایا گیا۔ شوریٰ منتخب کرنے کے لیے بھی دو نوعیت کے حلقے بنائے گئے۔ ایک کل پاکستان سطح پر انتخاب رکھا گیا‘ جس میں پانچ افراد کا انتخاب تھا اور باقی تمام ارکان شوریٰ کو علاقائی حلقوں کی بنیاد پر منتخب کرنے کا ضابطہ مقرر کیا گیا تھا۔ پھر ۱۹۵۷ء کے دستورِ جماعت میں کل پاکستان بنیاد پر انتخاب کی الگ سے شق ختم کر دی گئی اور تمام علاقوں سے منتخب ارکان کی شوریٰ مقرر کی گئی۔ پھر۱۹۵۲ء کے دستور میں شوریٰ کے بارے میں یہ شق تھی کہ امیر اور شوریٰ اتفاق راے سے کام کریں گے۔ لیکن اگر شوریٰ اور امیر میں نزاع ہو تو کچھ امور میںشوریٰ‘ امیر کی رائے مان لے گی خصوصیت سے جن کا تعلق نصوص کی تعبیر سے ہو‘ اور کچھ امور میں امیر‘ شوریٰ کی رائے کو فوقیت دے گا خصوصاً انتظامی معاملات کے بارے میں۔ لیکن جب معاملات میں شوریٰ امیر کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہو تو پھر معاملہ ارکان میں بھیجا جائے گا اور اگر ارکان جماعت‘ شوریٰ کی رائے کو مان لیں تو پھر امیرمستعفی ہوجائے گا‘ اور اگر ارکان امیر کی رائے کو مان لیں توشوریٰ مستعفی ہوجائے گی۔ پھر ۱۹۵۷ء کے دستور جماعت میں یہ بات لائی گئی کہ امیر اور شوریٰ اتفاق راے سے کام کریں گے لیکن اگر اختلاف ہو تو امیر کو یہ حق ہوگا کہ وہ ایک سیشن کے لیے فیصلے کو موخر کر دے‘ اور اگلے سیشن میں شوریٰ جو بھی فیصلہ کرے اسے امیر مان لے۔ یہاں بھی وہی مشاورت‘ افہام و تفہیم اور شوریٰ کی بالادستی کا ارتقا ہے۔

اسی طرح مولانا کی رائے تھی کہ عورتوں کی شوریٰ الگ ہونی چاہیے اور مردوں کی الگ۔ لیکن جب عملی مشکلات اور بعض مختلف فیہ امور پر افہام و تفہیم کے پہلو پر مولانا سے تبادلۂ خیال ہوا تو انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ عورتیں بھی شوریٰ کی ممبر بن سکتی ہیں۔ اسی طرح غیرمسلموں کے بارے میں مولانا کی پہلے رائے یہ تھی کہ انھیں انتظامی امور میں مشورے میں شریک ہونا چاہیے اور ان کی شوریٰ الگ بنائی جائے۔ لیکن جب مولانا سے اس سلسلے میں تفصیل سے گفتگو ہوئی تو اس میں مولانا نے غوروفکر کے لیے خاصا وقت لیا۔ بالآخر وہ خود اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر دستور میں قرآن و سنت کی بالادستی ہو اور کوئی قانون سازی اسلام کے خلاف نہ ہو‘ اور اسمبلی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہو تو ایسی صورت میں غیرمسلم بھی پارلیمنٹ کے ممبر بن سکتے ہیں جہاں وہ سارے معاملات میں رائے دیں گے اور راے دہی میں بھی شریک ہوں گے‘ وغیرہ وغیرہ۔

اُمت کو منزل مقصود پر پہنچانے کے لیے مولانا مودودیؒؒ نے وسعت اور کشادہ روی کا انقلابی‘ جمہوری اور شورائی راستہ دکھایا۔ ان کے ذہن میں یہ تھا کہ پہلے ایک ملک میں تبدیلی آنی چاہیے ‘پھر وہی ملک دوسرے ممالک میں تبدیلی لانے کے لیے ماڈل بنے گا۔ ان کی دعوت کا اولین ہدف اپنا وطن ہے‘ لیکن روے سخن پوری دنیا کی طرف ہے۔ عربی اور انگریزی میں اہم تصانیف اور تحریروں کے تراجم کا کام مولانا نے جماعت کے قیام کے ساتھ ہی شروع کروا دیا تھا۔ جماعت کی رودادوں میں ایک لمبی فہرست ملتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا نے اپنی بات اور اپنی آواز دنیا کے مختلف خطّوں اور علاقوں تک پہنچانے کے لیے کیا کوشش کی ہے گویا کہ پورا عالم (global reach) ابتدا ہی سے ان کے پیش نظر رہا ہے۔

  • تحریک اور تنظیم کا فرق: ۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہندکے نتیجے میں بھارت اور پاکستان میں جماعت اسلامی الگ الگ ہوگئی۔ مولانا کی پیش کردہ دعوت قبول کرنے والے بعض اصحاب نے سری لنکا‘ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیرمیں بھی اپنے طور پر جماعت بنالی۔ پھر مشرقی پاکستان کے تسلسل میں بنگلہ دیش میں بھی جماعت قائم ہوئی۔ جنوب مشرقی ایشیا میں ان     چھے جماعتوں کے مابین کسی درجے میں بھی کوئی تنظیمی تعلق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مولانا نے کہیں بھی جماعت اسلامی کو قائم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ۱۹۶۴ء میں جب ہم جیل میں تھے تو ہمیں جیل میں معلوم ہوا کہ برطانیہ کے کچھ مخلص مگر جذباتی نوجوانوں نے جماعت اسلامی کے نام سے کام شروع کر دیا ہے۔ تب ہم نے مولانا مودودیؒ کی ہدایت پر جیل ہی سے ان کو یہ ہدایت بھیجی کہ: ’’آپ جماعت کے نام سے کام نہ کریں‘ بلکہ آپ کا جو نام وہاں پہلے سے تھا‘ اسی کے تحت کام کریں‘ اور مقامی قانون کے تحت کام کریں۔ نہ جماعت آپ کی ذمہ داری لے سکتی ہے اور نہ آپ کے لیے یہ مناسب ہے کہ آپ اس نام سے وہاں کام کریں‘‘۔ یہی اصول مولانا کا رہا ہے۔

اس طرح تحریک وتنظیم کے مابین ایک فرق بھی ہمارے سامنے آیا کہ اسلامی انقلاب کے لیے تحریکات تو ساری دنیا میں برپا ہوں‘ لیکن تنظیم ہر جگہ وہاں کے حالات کے مطابق الگ‘ آزاد اور اپنے قول و فعل کے لیے خود جواب دہ ہو۔ دنیا بھر میں اسلام کے لیے کام کرنے والی تحریکیں گویا کہ وسیع ترعالم گیر اسلامی تحریک کا حصہ ہیں‘ لیکن ان میں سے کسی کے ساتھ  جماعت اسلامی پاکستان کے نظم کا اور قانونی اور دستوری تعلق (link) نہیں ہے۔ آج بھارت‘ کشمیر‘ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں جماعت کے نام سے کام ہو رہا ہے‘ فکر کی یکسانیت بھی ہے‘ لیکن طریق کار‘ حالات‘ ضروریات‘ دستور اور قیادت ہر مقام نے اپنے طور پر متعارف کرائے ہیں۔ یہ مولانا کی عملیت پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

  • جماعتی تشخص اور اشتراکِ عمل: اسلامی انقلاب اور اسلامی تبدیلی کے لیے عملی سطح پر اور میدانِ کار میں مولانا مودودیؒ کے ہاں ایک لچک‘ خودبینی اور وسعت پائی جاتی ہے‘ جس میں دوسرے ہم مقصد افراد اور عناصر سے تعاون کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان میں ۱۹۴۹ء میں سول لبرٹیز یونین کا قیام عمل میں آیا‘ تو اس میں کمیونسٹ پارٹی بھی شامل تھی۔ بعدازاں متحدہ حزب اختلاف (COP)‘ پاکستان تحریک جمہوریت (PDM)‘ جمہوری مجلس عمل (DAC)‘ متحدہ جمہوری محاذ (UDF) اور پھر پاکستان قومی اتحاد (PNA) کا قیام ہے۔ اس عمل میں مولانا مودودیؒ نے اپنی جماعت کے تشخص کو محفوظ رکھتے ہوئے‘ مشترک نکات پر دوسرے سیاسی‘ مذہبی اور سماجی عناصر کو ساتھ ملا کر چلنے کی مثال پیش کی ہے۔

مولانا مودودیؒ ہی کی قیادت میں جماعت اسلامی نے اسلامی دستور کی جدوجہد کا آغازکیا۔ ’قرارداد مقاصد‘ کی منظوری (مارچ ۱۹۴۹ئ) کے وقت بلاشبہہ مولانا مودودیؒ، سنٹرل جیل ملتان میں تھے‘ لیکن اگر مولانا نے اسلامی قانون کے موضوع پر پنجاب یونی ورسٹی لا کالج‘ میں تقریر نہ کی ہوتی‘ اور وہ چار نکاتی پروگرام پوری قوم کے سامنے پیش نہ کیاہوتا تو قرارداد مقاصدکبھی پاس نہ ہوتی۔ یہ مولانا کی فکر‘ وژن اور جدوجہد تھی‘ جسے قبولیتِ عام حاصل ہوئی۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مولانا شبیراحمد عثمانی مرحوم‘ مولانا ظفراحمد انصاری مرحوم اور چودھری غلام محمد مرحوم کی کوشش سے ’قرارداد مقاصد‘ کا جو مسودہ پہلی دستورساز اسمبلی نے منظور کیا‘ یہ مسودہ اسمبلی میں پاس ہونے سے قبل ملتان جیل میں مولانا مودودیؒ کو دکھایا گیا اور ان کی رضامندی کے بعد ہی وہ اسمبلی کے فلور پر پیش اور پھر منظور ہوا تھا۔

۱۹۵۱ء میں علما کے ۲۲ نکات کی منظوری کے تاریخی لمحات کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ اس وقت میں اسلامی جمعیت طلبہ میں تھا۔ اس سلسلے میں علما کی جو نشست ہو رہی تھی‘ اس میں راجہبھائی ]ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری[ ‘خرم بھائی اور میں ان بزرگوں کے خادم کی حیثیت سے شریک تھے۔ جب پہلا اجلاس ہوا تو اس میں دھواں دھار تقریریں ہوئیں۔ مگر کسی کے سامنے یہ بات واضح نہیں تھی کہ ہم نتیجے پر کیسے پہنچ پائیں گے۔ ان دھواں دھار تقاریر کے آخر میں مولانا ظفراحمد انصاری صاحب نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ: ’’ اس طرح کی تقریروں میں تو ہم کئی دن صرف کر دیں گے اور کچھ نتیجہ نہیںنکل سکے گا۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ اس اجلاس کو موخر کردیتے ہیں۔ اجلاس کے شرکا میں سے ہر شخص تحریر کر دے کہ اسلامی ریاست کے بنیادی اصول کیا ہونے چاہییں۔ اس کے بعد ایک کمیٹی بنا دی جائے جس کے سربراہ مولانا سید سلیمان ندوی ؒہوں‘ ان کے سیکرٹری کی حیثیت سے میں ان تجاویز کی روشنی میں ایک مسودہ تیار کرلیتا ہوں‘ اور پھر اس مسودے پر بحث کرکے کسی متفقہ لائحہ عمل کو منظور کرلیں گے‘‘۔ سب نے اس تجویز کو بڑا پسند کیا۔

ہر ایک عالم دین کو سادہ کاغذدے دیے گئے‘ بیش ترنے لکھا۔ سب سے طویل مضمون مولانا راغب احسن مرحوم نے لکھا‘ لیکن وہ مضمون لفاظی اور جذبات سے بھرا ہوا تھا۔ ان سب کے برعکس مولانا مودودیؒ نے پنسل سے فل اسکیپ کا ڈیڑھ صفحہ لکھا‘ جس میں انھوں نے منطقی ربط کے ساتھ‘ بڑے اختصار اور جامعیت سے بھرپور نکات بنا کر دیے کہ یہ اور یہ چیزیں ہونی چاہییں۔ چنانچہ علما کے ۲۲نکات کی بنیاد وہی مسودہ بنا‘ تاہم آخری مسودہ مولانا ظفراحمد انصاریؒ نے اپنے قلم سے لکھا۔ مولانا انصاری مرحوم کا مسودہ کم و بیش مولانا مودودیؒ کی تحریرہی پر مبنی تھا۔ اس دوران مولانا سلیمان ندویؒ استراحت فرما رہے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے‘ انھوں نے دوتین جگہ جزوی ترمیم و اضافہ کیا۔ پھر اجتماع بلایا گیا۔ اس اجتماع میں سب سے پہلے اس کو پورا پڑھا گیا‘ پھر ایک ایک نکتے کی خواندگی ہوئی اور بالکل جس طرح حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قبائل کے سربراہوں کو حجراسود اٹھا کر دیوارِ کعبہ میں نصب کرنے میں شریک کر لیا تھا‘ اس طرح اس شرکت سے الحمدللہ یہ نکات متفقہ طور پر منظور ہوئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی مولانا مودودیؒ اور مولانا انصاریؒکا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔

جب علما کی دستوری ترامیم اور سفارشات آئیں تو اس میں متفقہ طورپر جو چیزیں مرتب ہوئیں ان میں بھی مولانا مودودیؒ کا سب سے زیادہ تعمیری اور تحریری حصہ تھا‘ تاہم اس میں دو‘تین اختلافی نوٹ بھی تھے اور وہ بہت معمولی نوعیت کے تھے۔ پھر جب ۱۹۶۱ء میں فیلڈمارشل صدر ایوب خاں کے زمانے میں متنازع فیہ عائلی قوانین کا آرڈی ننس (MFLO) آیا تو مولانا مودودیؒؒ ہی نے اس پر تنقید لکھی اور اس تنقید پر علما نے دستخط کیے‘ اور سب کی طرف سے وہ تنقید قوم کے سامنے آئی۔ اسی طرح ایوب خان کے دستوری کمیشن کے سوال نامے کا جواب بھی مولانا مودودیؒ نے لکھا‘ اور پھر تمام علما اور سیاست دانوں نے اس کو دیکھا اور اس کو اپنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیرمعمولی صلاحیت دی تھی۔ یہ ہماری تاریخ کے مختلف سنگ میل ہیں اور ان میں سے ہرسنگ میل پر مولانا مودودیؒ کا نام اور کام ثبت ہے۔

  • جمہوریت پسندی:خاص طور پر دینی حلقوں میں بھی اور پھر سیاسی حلقوں میں بھی ایک روایت بن چکی ہے کہ دینی حلقوں میں گدی اور سیاست میں بھی قیادت موروثی چلتی ہے۔ اور تو اور خود اب امریکہ میں بھی بڑے بش کے بعد چھوٹا بش برسرِاقتدار ہے۔ اس فضا اور رواج میں مولانا نے قیادت میں تبدیلی کی مثال قائم کی۔ انھوں نے جماعت اسلامی کے قیام کے فوراً بعد فرمایا: ’’مجھے ایک لمحے کے لیے اپنے بارے میں یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ میں اس عظیم الشان تحریک کی قیادت کا اہل ہوں‘ بلکہ میں تو اس کو ایک بدقسمتی سمجھتا ہوں کہ اس وقت‘ اس کارِعظیم کے لیے آپ کو مجھ سے بہتر کوئی آدمی نہ ملا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اپنے فرائض امارت کی انجام دہی کے ساتھ میں برابر تلاش میں رہوں گا کہ کوئی اہل تر آدمی اس کا بار اٹھانے کے لیے مل جائے… نیز ہمیشہ ہر اجتماع عام کے موقع پر جماعت سے بھی درخواست کرتا رہوں گا کہ اگر اب اس نے کوئی مجھ سے بہتر آدمی پا لیا ہے تو وہ اسے اپنا امیر منتخب کرلے۔ ان شاء اللہ‘ اپنی ذات کو کبھی خدا کے راستے میں سدِّراہ نہ بننے دوں گا‘‘۔ (روداد جماعتِ اسلامی ‘اول‘ ص۳۳)

اس کے بعد دستور میں درج مستقل نظام کے تحت متعین وقت پر انتخاب امیر کے لیے انتخابات منعقد کرائے۔ پھر جب ۱۹۷۲ء میں انھوں نے محسوس کیا کہ اب صحت اس ذمے داری کو مزید اٹھانے کی اجازت نہیں دیتی توانھوں نے رفقا ے جماعت سے کہا: اب آپ میری زندگی میں اپنا نیا لیڈر منتخب کرلیں۔ ان کے الفاظ تھے: ’’میں چاہتا ہوں کہ میری زندگی میں جماعت نئے امیر پر مجتمع ہوجائے‘‘۔ یہ ایک ایسی منفرد مثال ہے کہ جس کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے گہری بصیرت کی ضرورت ہے۔ وہ شخص جو اپنی ذاتی جاگیر قائم کرنا چاہتا ہو‘ گدی قائم کرنا چاہتا ہو‘ یا سیاست میں اس کا کوئی ذاتی مشن ہو‘ وہ کبھی ایسا جرأت مندانہ اقدام نہیں کر سکتا۔ سچی بات ہے کہ جماعت کے لیے زندگی‘ تطہیر‘ قیادت‘ شورائیت اور صحیح راستے پر قائم رہنے کے لیے اس مثال میں بڑی عظیم رہنمائی موجود ہے جسے سید مودودیؒکی تاریخ ساز اور عہدآفریں شخصیت نے پیش کیا۔

  • شورائیت اور اجتماعی اجتہاد: مولانا کی حکمت کار میں ایک بڑی اہم چیز رچی ہوئی ہے اور وہ ہے مشورے‘ اجتماعیت‘ اختلاف راے اور بحث و مباحثے کی آزادی۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا نے خود اجتہاد کے بارے میں بھی کئی بار کہا ہے کہ اس کے لیے شوریٰ کا نظام اور اجتماعی اجتہاد کی سبیل پیدا ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ آج کے دور میں کسی ایک فرد کے لیے بڑا مشکل ہے کہ وہ ان تمام علوم پر جامع انداز سے گرفت رکھتا ہو‘ جو روز مرہ اور عصرِحاضر میں   پیش آمدہ امور پر فقہی چیلنجوں کا جواب دینے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر ایک فرد سے یہ نہیں ہوسکتا توپھر اس بات کی ضرورت ہے کہ مختلف صلاحیتیں رکھنے والے افراد مل کرباہم مشاورت اور افہام و تفہیم (interaction) سے معاملات کو طے کریں۔

علامہ اقبالؒ نے اس مسئلے پر بحث کی ہے اور مولانا مودودیؒ بھی اس میں بہت گہرائی تک گئے ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے عصری تجربات‘ خصوصیت سے پارلیمنٹ کے وجود‘ انتخابی عمل‘ دستوری انداز‘ قانون سازی کے اسلوب‘ عدلیہ کی آزادی اور افراد کی آزادی اور حقوق--- غرض ان تمام چیزوں کو بڑے واضح انداز میں پیش کیا ہے۔ پھر اسلامی راسخ العقیدگی اور قرآن و سنت سے وابستگی قائم رکھتے ہوئے  نہ صرف دوسروں کو ان پر کاربند ہونے کا نہ صرف راستہ دکھایا‘ بلکہ خود بھی انھیں قبول کر کے دکھایا ہے۔ مولانا مودودیؒ کی فکر کا یہ حرکی اور لچک دار رویہ‘ عصرحاضرکے مسائل و معاملات میں ہوا کا تازہ جھونکا اور فکرودانش کے گلستان کا بہار آفریں منظر پیش کرتا ہے۔

مولانا مودودیؒ کا ایک اور بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے ہمیں ایک منفرد علم الکلام   دیا ہے۔ اسی ذیل میں مولانا مودودیؒ نے مسلم تاریخ کا محاکمہ (critique) لکھا ہے جو   محض محاکمہ نہیں ہے‘ بلکہ تاریخ کو دیکھنے کا ایک منفرد اسلوب اور زاویہ ہے۔ مولانا مودودیؒ تجدید و احیاے دین‘ خلافت و ملوکیت‘ سلاجقہ اور تحریک آزادی ہند اور مسلمان کے علاوہ تفہیم القرآن کے اوراق میں ہمیں رہنمائی دیتے ہیں کہ ہمیں تاریخ کو کیسے دیکھنا چاہیے اور ہم اس کی تعبیر کیسے کریں؟ ہم محبت یا نفرت کے جذبے سے مغلوب ہونے کے بجاے اپنے اندر عدل کی حس کو بیدار کریں۔ تاریخ کے اوراق اور ادوار میں تعمیروتخریب‘ اطاعت و انحراف‘ ظلم اور عدل‘ سنت اور بدعت کی موجودگی ہمیں نظرآئے‘ تاکہ ہر موقع پر کھلے ذہن کے ساتھ  قوسِ قزح کے سب رنگ دیکھے جا سکیں۔ جہاں کہیں بنیادی اصول میں کوئی ایسا انحراف نظرآئے جو محل نظر ہو‘ یا قرآن و سنت کے مزاج سے مناسبت نہ رکھتا ہو‘ تو پھر اس پر تنقید بھی ہوسکے اور اس کی تصحیح بھی۔ اس کو مولانا مودودیؒ کے علم الکلام کا ایک حصہ تصور کیا جائے‘ یااپنی جگہ ایک مستقل علمی کارنامہ‘ بہرحال یہ بھی مولانا کی ایک بڑی شان دار اور ناقابلِ فراموش خدمت ہے۔

اسلامی انقلاب کا ایک منفرد ماڈل

یہ امر واقعہ ہے کہ مولانا مودودیؒ نے فکر بھی دی اور فکر کے ساتھ سوچنے کا اسلوبِ بھی دیا۔انھوں نے اُمت مسلمہ کی ذمہ داری اور اس کا مشن متعین کیا‘ اس کے لیے اسے بیدار کیا اور آگاہ کیا کہ ہم محض معاشی ترقی حاصل کرنے والی ایک قوم نہیں ہیں‘ بلکہ ہم ایک صاحبِ مشن اور صاحب شریعت قوم ہیں۔ اس صاحبِ مشن قوم کو ملکی اور پھر عالم گیر سطح پر کامیاب کرانے کے لیے حکمت کاراور حکمتِ عملی کو پیش کیا۔ اسی حکمت کار کا ایک حصہ جماعت اسلامی کا قیام ہے جس میں فکر ہے‘ اور عمل کا وسیع دائرہ ہے۔ اس طرح مولانا مودودیؒ نے اسلامی انقلاب کا بالکل نیا ماڈل دیا‘ اور نہ صرف ماڈل دیا‘ بلکہ اس کے اوپر عمل کرکے بھی دکھایا۔

مولانا کے علمی کام میں سب سے بڑا کارنامہ تفہیم القرآن ہے۔ تجدید و احیاے دین کے تصور میں قرآن کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ بات خود مولانا نے مجھ سے فرمائی ہے: ’’جب جماعت قائم ہوئی تو اس کے بعد میں نے ضروری سمجھا کہ اس جماعت کا تعلق قرآن سے قائم کروں اور جو کچھ میں نے قرآن سے سمجھا ہے‘ اسے اس طریقے سے بیان کروں کہ جماعت اور پوری قوم قرآن کی روشنی کے دائرے میں آجائے‘ اور وہ قرآن سے تعلق قائم کرکے اس میں شریک ہو سکے‘ تاکہ جو تبدیلی میرے پیشِ نظر ہے اور جس کا ماخذ‘ جڑ اور بنیاد قرآن ہے اس تک رسائی حاصل کی جاسکے‘‘۔ یہ وہی کام ہے جو شاہ ولی اللہ مرحوم نے اپنے دور میں کیا۔ اس طرح مولانا کی احیائی فکر کے اندر تفہیم ایک پیمانے کی حیثیت رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تفہیم کی شکل میں جتنی بڑی نعمت اللہ تعالیٰ نے مولانا مودودیؒ کے ذریعے اس دور میں اس اُمت کو دی ہے‘ اس پر اپنے خالق و مالک کا جتنا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ تفہیم القرآنمولانا کے فکری کام کا سب سے مرکزی اور سدابہار کارنامہ (ever-lasting) ہے۔ یہ مولانا کے علم الکلام کا بھی بہترین مرقع ہے۔ اس میں مولانا کی چند اوّلیات بھی ہیں جن میں ترجمے کی جگہ ترجمانی‘ ہر سورہ کا مقدمہ اور پھر ترجمے میں پیراگراف بندی قابلِ ذکر ہیں۔۱؎

مولانا کے فکری اور علمی اثاثے میں ایک اور چیز ان کے ہاں پائی جانے والی تازگی اور تخلیقیت (originality) ہے۔ انھوں نے اپنے دور کے اور ماضی کے لکھنے والوں سے بھی استفادہ کیا‘ لیکن وہ دوسروں کے خیالات کے اسیر نہیں بنے‘ بلکہ جس طرح ایک صحت مند انسانی جسم‘ غذا کو ہضم کر کے نیا خون بناتا ہے‘اسی طرح اپنے دور اور ماقبل کے افکار سے استفادہ کر کے انھوں نے قرآن و سنت کے فہم کی روشنی میں خود تشکیلِ نو کا کام انجام دیا ہے۔

اس سلسلے میں ان کا ایک اور منفرد کارنامہ اسلام اور جاہلیت کے مابین فرق کو واضح کرنا ہے جس کے آئینے میں وہ انسانیت کی پوری تاریخ میں برپا معرکے کو پرکھتے ہیں۔ دورحاضر میں جن مفکرین نے بھی ’جاہلیت‘ کے تصور پر کلام کیا ہے‘ انھوں نے یہ کام مولانا مودودیؒ ہی کی جلائی ہوئی شمع کی روشنی میں کیا ہے۔ مولانا کی فکر میں جاہلیت ‘علم کے معدوم ہونے کا نام نہیں بلکہ اللہ کی ہدایت کے بغیر انسانی زندگی--- فکروعمل کو منظم و مرتب کرنے کے مثالیہ(paradigm) سے عبارت ہے۔ اسلامی فکر کی تفہیم اور حق و باطل کی تاریخی کش مکش کو سمجھنے کے لیے مولانا کا یہ تصور ایک شاہ کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔

قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ان کی ایک نہایت بنیادی کتاب ہے جس میں انھوں نے قرآن کی بنیادی اصطلاحات الٰہ‘ رب‘ عبادت اور دین کا صحیح مفہوم اخذ اور متعین کرکے ایک قسم کی شاہ کلید فراہم کردی ہے‘ جس سے پوری اسلامی فکر کی تاریخ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کی روشنی میں ہمیں قرآن فہمی کے لیے ایک روشن اور کشادہ راستہ مل جاتا ہے۔

مولانا مودودیؒ نے مغربی تہذیب کے بارے میں بھی بڑا متوازن رویہ اختیار کیا۔ بحیثیت مجموعی مسلم دنیا میں اگر ایک طرف مغرب کے مکمل استرداد (rejection) کا رویہ پایا جاتا تھا تو دوسری جانب عملاً آنکھیں بند کر کے سپرڈالنے اور معذرت خواہانہ انداز میں دین کی توجیہہ کرنے والے تھے۔ مولانا مودودیؒ نے مغربی تہذیب‘ اس کے اصولوں‘ اس کی بنیادوں‘ اس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تجزیہ کیا اور تقلید یورپ اور اندھی غلامانہ ذہنیت کو مسترد کر دیا‘ مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ مغرب میں ہر چیز غلط نہیں اور اس کی ترقی کے کچھ حقیقی (genuine) اسباب ہیں۔ ان اسباب سے صرفِ نظر کر کے محض اندھی مخالفت کوئی صحت مند رویہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی واضح کیا کہ مغرب سے مرعوبیت‘ اس کی فکری بنیادوں کو بلاتنقید قبول کر لینا اور ’’چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی کا رویہ نہ عادلانہ ہے اور نہ عاقلانہ۔ مولانا مودودیؒ نے درمیان کا راستہ نکالا۔ دیگر علما اور مولانا مودودیؒ میں یہی بنیادی فرق ہے۔

مولانا کے ہاں جو بالغ نظری‘ مغربی تہذیب کا فہم اور حقیقت پسندانہ طریق کار ہے‘ اسی وجہ سے عصرِحاضر میں تحریک اسلامی نے مسائل کو حل کرنے کے لیے متوازن رویہ اختیار کیا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے یہ رویہ صرف مغربی تہذیب کے بارے میں اختیار نہیں کیا‘ بلکہ مسلمانوں کی فکریات کے بارے میں بھی ان کا رویہ یہی رہا ہے۔ بحیثیت مجموعی انھوں نے حنفی مکتب فکر کو ترجیح دی اور قبول کیا ہے۔ عبادات میں اسی طریقے پر عمل کیا ہے۔ معاملات کی حد تک ان کا ذہن یہی تھا کہ چاروں مکاتب فکر کا مطالعہ کرنا چاہیے اور خصوصیت کے ساتھ جدید معاملات اور مسائل کا حل نکالنے کے لیے ان کے دائرے کے اندر جو رہنمائی جہاں سے بھی میسر آئے‘ اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے ان مسلمہ مکاتب فکر میں سے کسی کو مسترد یا باطل قرار نہیں دیا‘ بلکہ اِن کے ہاں اس علمی اور عملی اختلاف راے کو محترم تصور کرنے کا رویہ نمایاں طور پر موجود ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے شیعہ مکتب فکر سے بھی تہذیبی حد تک ربط رکھا اور اُمت کی وحدت کے لیے کوشاں رہے۔

اسی تسلسل میں اتحاد اُمت مسلمہ کے لیے ان کے ہاں ایک خاص انداز فکر پایا جاتا ہے‘ جس میں وہ کہتے ہیں کہ اس اتحاد کی بنیاد بہرحال اسلام ہی کو ہونا چاہیے۔ مسلمان ملکوں کے مفادات کی بنیاد پر اگر آپ یہ کوشش کریں گے توکامیابی محال ہے۔ مفادات کا ایک جائز مقام ہے‘ لیکن مفادات‘ اسلامی مفاد اور تشخص کے تابع ہونے چاہییں۔ اس اتحادکی کوئی ایک لگی بندھی شکل نہیں ہے۔ جیساکہ اقبالؒ نے بھی کہا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں یہ ایک قسم کی مسلم دولت مشترکہ ہوسکتی ہے جس میں آہستہ آہستہ تعاون بڑھتا رہے اور بالآخر کوئی زیادہ مضبوط ومستحکم چیز بن سکے۔ اس سلسلے میں سعودی فرماں روا شاہ فیصل مرحوم کی ’تضامن اسلامی‘ کی تحریک اور پہلے مسلم سربراہی اجتماع ]رباط‘مراکش -۱۹۶۹ئ[ کے موقع پر اُمت مسلمہ کے اتحاد کے لیے جو  نقشۂ کار انھوں نے پیش کیا‘ وہ ایک تاریخی دستاویزہے‘ جس میں نظریاتی اتحاد اور عملی مسائل کے اجتماعی حل کے لیے موثر تدابیر اور انتظامات کی نشان دہی کی گئی۔

اس حوالے سے یہ وضاحت ضروری ہے کہ مولانا مودودیؒ نے صرف مسلمانوں کے مفاد کے لیے ہی کام نہیں کیا ہے‘ بلکہ عملی اور فکری سطح پر اُن کی نگاہ‘ بلاتخصیصِ رنگ و نسل اور بلاتفریق مشرق و مغرب‘ تمام انسانوںپر رہی ہے۔ وہ تمام انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے‘ تمام انسانوں کو جہنم کی آگ سے بچانے اور دنیا بھر کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھنے اور نظامِ عدل      قائم کرنے کی جہانی دعوت دیتے رہے ہیں۔ تہذیبی‘ فکری اور ثقافتی سطح پر مولانا مودودیؒ کے مثالی اسلوبِ کار کا تجزیہ کریں تو اسے عالم گیریت یا آفاقیت پر مبنی اسلوبِ کار کا نام دیا جاسکتا ہے جس کا مقصد بنی نوع انسان کی فوزوفلاح‘ بہبود اور ان کی نجات ہے۔ اسی طرح اللہ سے انسانوں کے رشتے کو جوڑنا اور انسانوں کے درمیان انصاف اور اخوت کی بنیاد پر معاشرتی‘ معاشی اور بین الاقوامی معاملات کوحل کرنا ہے۔ جو افراد مولانا مودودیؒ کے افکار کے صرف کسی ایک جزو کو لیتے ہیں‘ تو ان کے ہاں الجھنیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن اگر مولانا کی پوری فکر کو لیا جائے تواس کی حیثیت ایک ایسے گلدستے کی سی ہے جس کے سارے پھول اپنے اپنے مقام پر ہیں‘ اور اس گلدستے کی تصویر اُبھرتی ہی اس کے مجموعی (macro) وجود سے ہے۔

مولانا مودودیؒؒ بہرحال ایک انسان تھے اور ماسوا انبیاے کرام‘ کوئی انسان غلطی سے مبرا نہیں ہے۔ مولانا مودودیؒؒ نے کبھی دعویٰ نہیں کیا اور نہ اس زعم میں رہے کہ ان کی راے ہی صحیح ہے۔ اس کے برعکس ہمیشہ انھوں نے مکالمے اور بحث کو پسند کیا‘ اختلاف کو دبایا نہیں۔ اس بات کا نہ صرف اظہار کیا‘ بلکہ اس پر عمل کرکے دکھایا۔ کسی موقع پر اگر ان کی کسی غلطی یا دلیل کی کوئی کمزوری سامنے لائی گئی تو انھوں نے کھلے دل کے ساتھ اس سے رجوع کرلیا۔ ان کی کتاب رسائل و مسائلکا مطالعہ کریں تو اس میں ایک نہیں‘ دسیوں مقامات ہیں جہاں مولانا نے اپنی رائے سے رجوع کیا ہے۔ کسی صاحبِ علم کے متوجہ کرنے پر انھوں نے مسئلے یا معاملے کو چھپایا نہیں‘اس کی تصحیح کی ہے اور اس تبدیلی کو خود ریکارڈ کیا ہے۔

مولانا مودودیؒ اپنے فکری ارتقا میں‘ دورِصحافت سے دورِ تصنیف کی طرف اور پھر    دورِ اصلاح و جدوجہد کی طرف بڑھے۔ ان میں سے ہر دور کے مسائل اور حالات الگ الگ تھے‘ جن کی مناسبت سے انھوں نے غورو فکر جاری رکھا اور اصل سے رشتے کو مضبوط رکھتے ہوئے قرآن و سنت کے نصوص پر سمجھوتا یا انحراف کیے بغیر‘ مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ یہ ان کی اجتہادی بصیرت‘ علمی دیانت اور مسائل و معاملات کے صحیح شعور و ادراک کا ثبوت ہے۔ مولانا کے افکار و خدمات اپنی انفرادیت‘ وسعت اور گہرائی کی بنا پر‘ برسوں نہیں‘ صدیوں تحقیق کے محتاج ہیں اور آنے والی نسلیں اس سے روشنی حاصل کریں گی---!

اللہ تعالیٰ مولانا مودودیؒ کی خدمات کو شرفِ قبولیت اور فیضانِ عام بخشے اور ہمیں     ان کے مشن کو صحیح خطوط پر آگے بڑھانے کی توفیق دے۔ آمین!

ایک مختصر فہرستِ تصانیف

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ بیسویں صدی کی ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ ان کی بہت سی حیثیتیں ہیں: مفسرِقرآن‘ سیرت نگار‘ دینی اسکالر ‘ اسلامی نظامِ سیاست و معیشت اور اسلامی  تہذیب و تمدن کے شارح‘ برعظیم کی ایک بڑی دینی و سیاسی تحریک کے موسس و قائد‘ ایک نام ور صحافی اور اعلیٰ پاے کے انشاپرداز--- فکری اعتبار سے وہ گذشتہ صدی کے سب سے بڑے متکلمِ اسلام تھے۔

بیسویں صدی میں علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا اور ان کے اندر اسلامی نشاتِ ثانیہ کی جوت جگائی۔ مولانا مودودیؒ نے اسی جذبے اور ولولے کو اپنی نثر کے ذریعے آگے بڑھایا اور علامہ اقبال کی شاعری کے اثرات کو سمیٹ کر احیاے دین کی ایک منظم تحریک کی بنیاد رکھی‘ پھر اپنے گہربار قلم کی قوت اور غیرمعمولی تنظیمی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اس تحریک کوپروان چڑھایا۔ اقبال اور مودودی دونوں پر پروفیسر رشیداحمدصدیقی کی یہ بات صادق آتی ہے کہ ان کی تحریروں کو پڑھ کر دین سے تعلق ہی میں اضافہ نہیں ہوتا‘ اُردو سے محبت بھی بڑھ جاتی ہے۔

سید مودودیؒ اُردو زبان کے سب سے بڑے مصنف ہیں۔ ’’سب سے بڑے‘‘ ان معنوں میںکہ کثیرالتصانیف مصنف تو اور بھی ہیں مگر اُردو زبان کی کئی سو سالہ تاریخ میں انھیں  سب سے زیادہ چھپنے والے مصنّف کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کا حلقۂ قارئین‘ بلاشائبۂ تردید‘ اُردو کے ہرمصنّف سے زیادہ ہے۔ اس اعتبار سے ہم انھیں اُردو کا مقبول ترین مصنّف بھی کہہ سکتے ہیں۔

سید مودودیؒ کی شخصیت‘ افکار و نظریات اور ان کی تحریک کے ہمہ گیر اثرات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی کم از کم ۴۳ زبانوں میں ان کی تحریروں کے ترجمے شائع ہوچکے ہیں--- ان کے ذخیرئہ علمی کا مطالعہ‘ ایک بے حد وسیع اور بڑا موضوع ہے۔ دنیا کی مختلف جامعات میں ان پر ایم اے‘ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں‘ اور بعض پہلوئوں پر مزیدتحقیقی کام ہو رہا ہے۔

ذیل میں ہم نے تصانیفِ مودودی کی ایک فہرست ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ موصوف کا علمی کام کس قدر وسیع الاطراف ‘ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہے۔قرآن‘ حدیث‘ سیرت‘ فقہ‘ عقائد‘ عبادات‘ تاریخ‘ فلسفہ‘ تہذیب‘ تمدن‘ سیاست‘ معیشت‘ تعلیم‘ اجتماعیت‘ اخلاقیات‘ مغربی فکر وغیرہ--- اُردو زبان میں کوئی اور مصنّف اس تنوع اور کثیرالجہتی میں‘ سیّدموصوف کا ہم پلّہ نظرنہیں آتا۔


اس فہرست کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

۱-            پہلا حصہ تفسیرِقرآن اور سیرت النبیؐ کی کتابوں پر مشتمل ہے‘ اور یہ ان کی قلمی کاوشوں کا اہم ترین سرمایہ ہے۔

۲-            یہ حصہ ایسی کتابوں پر مشتمل ہے جنھیں مولانا نے خود تصنیف و مرتب کر کے شائع کیا یا بعض ان کی نگرانی میں اور ان کی تائید و اجازت سے مرتب ہو کر شائع ہوئیں۔ یہ حصہ بھی‘ سید موصوف کے مستند متن میں شمار ہوگا۔

۳-            یہ حصہ مولانا کے مکاتیب کے مجموعوں پر مشتمل ہے۔

۴-            اس حصے میں ایسی کتابوں کی نشان دہی کی گئی ہے جن میں سے چند ایک تو ان کی زندگی میں شائع ہوئیں‘ مگر بیش تر ان کی وفات کے بعد منظرعام پر آئیں۔ یہ کتابیں‘سید مرحوم کی نہیں‘ بلکہ دوسروں کی مرتب کردہ ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایسی کتابوں اور مجموعوں کو   ان کے سامنے پیش کیا جاتا تو وہ ان کے بعض حصوں پر نظرثانی کرتے اور شاید کسی قدر ترمیم و حذف سے بھی کام لیتے‘ کیوں کہ وہ زبان و بیان‘مضمون اور نفسِ مضمون کی نزاکت اور احتیاط کے بارے میں سخت حسّاس تھے۔ اس حصے کی بعض کتابیں ایسی ہیں جنھیں مرتبہ صورت میں مولانا نے دیکھا اور پسند فرمایا بلکہ کہیں کہیں قلم بھی لگایا‘ جیسے:تصریحات یا ۵ اے ذیلدار پارک‘ اول وغیرہ۔

                اس حصے میں مولانا کی ترجمہ کردہ ایک کتاب کا ذکر کیا گیا ہے۔


یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس فہرست میں مولانا مرحوم کی تحریروں کا پوری طرح احاطہ نہیںہو سکا۔ ان کی بہت سی تحریریں اور تقریریں‘ رسائل و جرائد میں بکھری ہوئی ہیں اور چند ایک کتابچوں کی صورت میں شائع کی گئی ہیں۔

اس فہرست میں شامل ہرکتاب کی نوعیت واضح کرنے کے لیے‘ قوسین میں اس کی مختصر توضیح (annotation) بھی دی گئی ہے۔ ہر حصے میں حوالوں کی ترتیب الفبائی ہے۔

۱

۱-            ترجمہ قرآن مجید‘ مع مختصر حواشی: ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۷۶ئ‘ ۱۵۸۰ ص۔  (یہ ترجمہ اور حواشی تفہیم القرآن ہی سے ماخوذ ہیں لیکن ترجمے پر مولانا نے نظرثانی کر کے بعض ترامیم کیں۔ اس نسخے کی اس اہمیت اور استناد کے سبب اس کا ذکر ابتدا میں کیا جا رہا ہے)

٭             قرآن مجید‘ مترجم (بین السطّور): ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۹۰ئ‘ ۹۲۷ ص۔ (اس نسخے میں حواشی شامل نہیں۔ ترجمہ متن کے ساتھ ساتھ (بین السطّور) دیا گیا ہے۔ دیباچہ از ملک غلام علی‘ ۲۰ اگست ۱۹۹۰ئ)

۲-            تفہیم القرآن‘ جلد اول: شیخ قمرالدین‘ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور‘ ۱۹۵۱ئ‘ ۶۶۳ ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ فاتحہ تا سورہ الانعام۔ آغاز تحریر: فروری ۱۹۴۲ئ)

۳-            تفہیم القرآن‘ جلد دوم : شیخ قمرالدین‘ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور‘ ۱۹۵۴ئ‘ ۷۱۴ ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ الاعراف تا بنی اسرائیل)

۴-            تفہیم القرآن‘ جلد سوم : شیخ قمرالدین‘ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور‘ ۱۹۶۲ئ‘ ۸۲۱ ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ الکہف تا سورہ الروم)

۵-            تفہیم القرآن‘ جلد چہارم: شیخ قمرالدین‘ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور‘۱۹۶۶ئ‘۶۸۴ ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ لقمان تا سورہ الاحقاف)

۶-            تفہیم القرآن‘ جلد پنجم  : ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۷۱ء ‘ ۶۳۲ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ محمد تا سورہ الطلاق)

۷-            تفہیم القرآن‘ جلد ششم : ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۷۲ء ‘ ۶۵۹ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ التحریم تا سورہ الناس--- تکمیل: ۷ جون ۱۹۷۲ئ)

۸-            سیرتِ سرورِعالمؐ،جلداول: ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۷۸ئ‘ ۷۶۴ص۔ (نبوت‘ رسالت‘ دعوت وغیرہ کے مباحث۔ سیرت النبیؐ کا پس منظر۔ مرتبہ: نعیم صدیقی‘ عبدالوکیل علوی)

۹-            سیرتِ سرورِعالمؐ،جلددوم: ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۷۸ئ‘ ۷۶۳ص۔ (سیرت النبیؐ کامکی دور۔مرتبہ: نعیم صدیقی‘ عبدالوکیل علوی)

۲

۱۰-         اسلام اور جدید معاشی نظریات: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۵۹ئ‘ ۱۶۷ ص۔ (کتاب سود کے ان ابواب کا مجموعہ‘ جن کا براہ راست تعلق مسئلہ سود‘ سے نہیں ہے)

۱۱-         اسلام اور ضبطِ ولادت: ادارہ دارالاسلام پٹھان کوٹ‘ ۱۹۴۳ئ‘ ۶۹ ص۔ (تحریک ضبطِ ولادت کی تاریخ)

۱۲-         اسلامی تہذیب اور اس کے اصول ومبادی: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی ‘ لاہور‘ ۱۹۵۵ء ۳۲۰ ص۔ (۳۳-۱۹۳۲ء کے وہ مضامین‘ جو پہلے پہل ترجمان القرآنمیں شائع ہوئے)

۱۳-         اسلامی ریاست: اسلامک پبلی کیشنزلاہور‘ ۱۹۶۲ئ‘ ۶۲۰ ص۔ (اسلام کے تصور ریاست اور اس کے سیاسی نظام پر مختلف تحریریں۔ ترتیب و تدوین: پروفیسر خورشیداحمد)

۱۴-         اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر: اقبال اکیڈمی‘ لاہور‘ ۱۹۴۴ئ‘ ۷۸ ص۔ (نماز اور روزے پر دو مقالات)

۱۵-         اسلامی نظامِ زندگی اور اس کے بنیادی تصورات: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۲ئ‘ ۴۹۳+۴۸ ص۔ (مختلف مضامین اور تقاریر کا مجموعہ)

۱۶-         الجہاد فی الاسلام: ادارہ دارالمصنفین اعظم گڑھ‘ ۱۹۳۰ئ‘ ۵۰۴ ص۔ (الجمعیت دہلی میں یہ سلسلہ مضامین‘ ۲ فروری ۱۹۲۷ء کو شروع ہوا اور ۱۵ جون ۱۹۲۷ء کو جملہ مباحث مکمل ہوئے)

۱۷-         انتخابی تقاریر: شعبہ نشرواشاعت جماعت اسلامی حلقہ لاہور ] ۱۹۴۲ء [ ۹۶ ص۔ (صدارتی انتخاب ایوب خاں بمقابلہ فاطمہ جناح کے موقع پر لاہور‘ پشاور‘ سرگودھا‘ کراچی میں تقاریر)

۱۸-         پردہ: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۴۰ئ‘ ۲۶۰ ص۔ (پردے سے متعلق مضامین و مباحث۔ آغاز: ۱۹۳۶ئ)

۱۹-         تجدید و احیاے دین: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۴۱ئ‘ ۸۰ ص۔ (یہ مقالہ پہلے پہل رسالہ الفرقان بریلی کے شاہ ولی اللہ نمبرکے لیے لکھا گیا تھا)

۲۰-         تحریکِ آزادیِ اور مسلمان‘ جلد اول: اسلامک پبلی کیشنزلاہور‘ ۱۹۶۴ئ‘ ۴۸۴ص۔ (یہ مجموعہ مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش،اول‘دوم‘ اور مسئلہ قومیت پر مشتمل ہے۔ مرتب: پروفیسر خورشیداحمد)

۲۱-         تحریکِ آزادی ہند اور مسلمان‘ جلد دوم: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۳ئ‘ ۴۰۸ ص۔ (مشتمل بر: مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘ حصہ سوم‘ اور اسی موضوع سے متعلق ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۸ء تک کے زمانے میں لکھے گئے مزید سولہ مضامین)

۲۲-         تحریکِ اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان لاہور‘ ۱۹۵۸ئ‘ ۲۳۹ ص۔ (جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماعِ ارکان‘ منعقدہ ماچھی گوٹھ‘ فروری ۱۹۵۷ء میں پیش کردہ قرارداد اور اس کی توضیح میں ایک مفصل تحریر)

۲۳-         تحریکِ جمہوریت ‘ اس کے اسباب اور اس کا مقصد : شعبہ نشرواشاعت تحریک جمہوریت مغربی پاکستان لاہور‘ ] ۱۹۶۸ئ[ ۸۹ ص۔ (تقاریر :کراچی‘ سکھر‘ لاہور‘ راولپنڈی‘ مرتب: جیلانی بی اے‘ نظرثانی و تصویب: سیّدمودودی)

۲۴-         تعلیمات: دارالاشاعت نشاتِ ثانیہ‘ حیدر آباد دکن‘ ۱۹۴۵ئ‘ ۱۲۲ ص۔ (تعلیم کے موضوع پر مختلف تحریریں اور لیکچر۔ مابعد اشاعتوں میںمتعدد اضافے کیے گئے)

۲۵-         تفہیمات: جلد اول: دفتر رسالہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۴۰ئ‘ ۳۵۰ ص۔ (سرورق: ’’بعض معرکہ آرا مسائل اسلامی کی تشریح و توضیح‘‘ ۔ ترجمان القرآن میں شائع شدہ مضامین ۱۹۳۳ء تا ۱۹۳۶ئ)

۲۶-         تفہیمات: جلد دوم: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۵ئ‘ ۴۳۶ ص۔ (حصہ اول کے تسلسل میں ۱۹۳۸ء تک ترجمان القرآن میں شائع شدہ مضامین)

۲۷-         تفہیمات: جلد سوم: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۵ئ‘ ۳۷۳ ص۔ (حصہ اول اور دوم کے تسلسل میں ۱۹۶۴ء تک ترجمان القرآن میں شائع شدہ مضامین)

۲۸-         تنقیحات: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۳۹ئ‘ ۲۴۰ ص۔ (سرورق: ’’اسلام اور مغربی تہذیب کا تصادم اور اس سے پیدا شدہ مسائل پر مختصر تبصرے‘‘)

۲۹-         ٹرکی میں عیسائیوں کی حالت: دارالاشاعت سیاسیاتِ شرقیہ دہلی‘ ۱۹۲۲ئ‘ ۳۵ص۔  (سلطنت عثمانیہ میں عیسائیوں کے حالات اور ان کے ملکی حقوق)

۳۰-         جماعت اسلامی‘ اس کا مقصد‘ تاریخ اور لائحہ عمل: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۱ئ‘ ص ۱۱۱۔ (ترجمان القرآن میں شائع شدہ ایک سلسلۂ مضامین)

۳۱-         جماعت اسلامی کے ۲۹ سال: شعبہ نشرواشاعت جماعت اسلامی پاکستان لاہور‘ ۱۹۷۰ئ‘ ۸۰ ص (۲۶ اگست ۱۹۷۰ء کی تقریر)

۳۲-         حقوق الزوجین: دفتر ترجمان القرآن دارالاسلام پٹھان کوٹ‘ ۱۹۴۳ئ‘ ص ۱۴۸۔ (اسلامی قانون ازدواج کے مقاصد اور نکاح و طلاق کے مسائل پر بحث)

۳۳-         حوادث سمرنا، اتحادی کمیشن کی رپورٹ : دارالاشاعت سیاسیاست مشرقیہ دہلی‘ ۱۹۲۱ئ‘ ۱۶ ص۔ (اتحادی حکومتوں یعنی امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ اٹلی کے مقرر کردہ کمیشن کی تحقیق۔ واقعاتِ مظالم کی رپورٹ)

۳۴-         خطبات: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۴۰ئ‘ ۲۴۸ ص۔ (عام فہم انداز میں اسلام‘ کلمہ طیبہ‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ اور جہاد کی تشریح)

۳۵-         خطباتِ حرم: دارالعروبہ‘ منصورہ لاہور‘ ۱۹۸۴ئ‘ ۹۲ص۔(۱۹۶۳ء کے ایامِ حج میں حرم شریف میں کی جانے والی تقریریں)

۳۶-         خلافت وملوکیت: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۶ئ‘ ۳۵۱ ص۔ (اسلام میں خلافت کا تصور‘ خلافت کی ملوکیت میں تبدیلی کے اسباب اور نتائج پر ایک علمی بحث)

۳۷-         دکن کی سیاسی تاریخ: دارالاشاعت سیاسیہ‘ حیدرآباد دکن‘ ۱۹۴۴ئ‘ ۳۰۰ ص۔ (ایک تاریخی مطالعہ)

۳۸-         دولت آصفیہ اور حکومتِ برطانیہ: سیدعلی شبرحاتمی‘ حیدرآباد دکن‘ ۱۹۲۸ئ‘ ۲۱۹ص۔ (ایک تاریخی مطالعہ)

۳۹-         دینیات: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۳۹ئ‘ ۱۳۶ ص۔(ناظم تعلیمات حیدرآباد دکن کی فرمایش پر تحریر کردہ میٹرک کے لیے نصابی کتاب۔ اسلامی عقائد و اعمال کی تشریح و توضیح)

۴۰-         رسائل و مسائل: جلداول: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۱ئ‘ ۵۲۸ ص۔ (قرآن‘ حدیث‘ تاریخ‘ فقہ‘ معیشت‘ کاروبار‘ سیاست‘ جماعت اسلامی اور بعض دیگر موضوعات پرترجمان القرآن میں شائع شدہ سوالات و جوابات کا مجموعہ)

۴۱-         رسـائل ومسـائل: جلد دوم‘ مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۴ء ۶۲۲ ص۔ (حصہ اول کے تسلسل میں مزید سوالات و جوابات۔ دیباچہ از مولانا امین احسن اصلاحی)

۴۲-         رسـائل و مسـائل:جلد سوم: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۵ئ‘ ۴۶۸ ص ۔ (ماسبق     دو جلدوں کے تسلسل میں تیسرا حصہ)

۴۳-         رسائل ومسائل: جلدچہارم: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۵ئ‘ ۳۷۵ ص۔ (مزید سوالات و جوابات کا مجموعہ)

۴۴-         رسـائل و مسـائل: جلد پنجم: ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۸۳ئ‘ ۳۶۸ ص۔ (مصنف کی وفات کے بعد ملک غلام علی صاحب کی رہنمائی میں حافظ عبدالحمید کا مرتبہ مجموعہ۔ مقدمہ از خلیل احمد حامدی)

۴۵-         سانحہ مسجدِ اقصٰی: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۶۹ئ‘ ۲۰ ص۔ (۲۴ اگست ۱۹۶۹ء کی ایک تقریر۔ یہودی عزائم اور ان کی منصوبہ بندی۔ قیام اسرائیل کا پس منظر وغیرہ)

۴۶-         سلاجقہ: ناشر: ابوالخیر مودودی‘ لاہور‘ ۱۹۵۴ء ‘ ۲۶۷ ص۔ (سلجوقی حکمرانوں خصوصاً طغرل بک‘ الپ ارسلان اور ملک شاہ کے عہد کی تاریخ)

۴۷-         سنت کی آئینی حیثیت: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۳ئ‘ ۳۹۲ ص۔ (نظامِ دین میں حدیث اور سنت کی حیثیت اور مقام۔ منکرین حدیث کے دلائل پر تنقید۔  ترجمان القرآن کے ’’منصب رسالت نمبر‘‘ کی کتابی اشاعت)

۴۸-         سود‘ جلد اول: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۴۸ئ‘ ۱۶۸ ص۔ (سود اور اس سے متعلقہ مباحث‘ اشتراکیت اور سرمایہ داری پر تنقید‘ اسلام کا معاشی نظام وغیرہ)

۴۹-         سود‘ جلد دوم: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۲ئ‘ ۱۵۰ ص۔ (حصہ اول کے بعض تشنہ مباحث کی تکمیل۔ جدید بنک کاری وغیرہ)

۵۰-         سود‘ اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۱ئ‘ ۴۱۰ ص۔ (سود‘ اول و دوم کو ازسرِنو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ زیرنظر کتاب ایک حصہ ہے‘ باقی مباحث  اسلام اور جدید معاشی نظریات میں شامل کیے گئے ہیں۔)

۵۱-         قادیانی مسئلہ اور اُس کے مذہبی‘ سیاسی اور معاشرتی پہلو: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۳ئ‘ ۴۲۳ ص۔ (اس موضوع پر مصنف کی تحریریں اور بیانات۔ قادیانیت پر اقبال کی تحریریں‘ چند عدالتی فیصلے۔)

۵۲-         قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: مکتبہ جماعت اسلامی دارالاسلام پٹھان کوٹ‘ ۱۹۵۳ئ‘ ۹۵ص ۔ (الٰہ‘ رب‘ عبادت اور دین پر ایک علمی بحث)

۵۳-         مُرتد کی سزا: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان لاہور‘ ۱۹۵۱ئ‘ ۸۶ ص۔ (اسلامی قانون میں مرتد کی سزا پر ایک علمی بحث۔ شائع شدہ: ترجمان القرآن ۱۹۴۲ء -۱۹۴۳ئ)

۵۴-         مسئلہ جبر و قدر: دفتر ترجمان القرآن پٹھان کوٹ‘ ۱۹۴۳ئ‘ ۸۴ ص ۔ (چودھری غلام احمد پرویز کا طویل خط اور اس کا جواب۔ ایک علمی بحث۔ اسی موضوع پر مصنف کی ایک نشری تقریر بھی شامل ہے۔)

۵۵-         مسئلہ قومیت: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۳۹ئ‘ ۶۴ ص۔(قومیت کے مسئلے پر چند مضامین و مباحث کا مجموعہ۔ مابعداشاعتوں میں اضافہ کیا گیا)

۵۶-         مسئلہ ملکیتِ زمین: مکتبہ جماعتِ اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۰ئ‘ ۸۶ ص۔ (۱۹۳۴ء کی ایک بحث‘ شائع شدہ: ترجمان القرآن۔ زمین کی شخصی ملکیت اور مزارعت پر ایک علمی بحث)

۵۷-         مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش: جلد اول: دفتر ترجمان القرآن    پٹھان کوٹ‘ ۱۹۳۸ئ‘ ۱۳۵ ص ۔ (اسلامی ہند کی گذشتہ تاریخ اور موجودہ حالات اور مستقبل کے امکانات پر ۸ مضامین کا مجموعہ)

۵۸-         مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘ جلد دوم: دفتر ترجمان القرآن‘ پٹھان کوٹ‘ ۱۹۳۸ئ‘ ۲۴۰ ص۔(سیاسی حالات اور سیاسی جماعتوں پر تنقید ‘ جنگِ آزادی کی نوعیت وغیرہ۔ ۱۲ مضامین کا مجموعہ)

۵۹-         مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘ جلد سوم:دفتر ترجمان القرآن‘ لاہور‘ ۱۹۴۱ئ‘ ۱۷۶ص۔ (پہلے دوحصوں کے تسلسل میں مزید ۱۲ مضامین۔ مصنف کے بقول: یہ کتاب جماعت اسلامی کاسنگِ بنیاد ہے)

۶۰-         مشرقی پاکستان کے حالات و مسائل کا جائزہ اور اصلاح کی تدبیر: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۶ئ‘ ۳۵ ص ۔ (ڈھاکا میں ۲ مارچ ۱۹۵۶ء کی ایک تقریر)

۶۱-         معاشیات اسلام: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۲۹ئ‘ ۴۳۶ ص۔ (اسلام کے معاشی اصول و احکام کی توضیح۔ مصنف کی مختلف کتابوں سے ماخوذ مباحث پر مبنی تحریروں کا مجموعہ۔ مرتب: پروفیسر خورشیداحمد۔ دیباچہ از مصنف)

۶۲-         نشری تقریریں: اسلامک پبلی کیشنز‘ لاہور‘ ۱۹۶۱ئ‘ ۱۲۴ ص۔ (سیرتِ پاکؐ ، معراج‘ شب برات‘ روزہ ‘ عیدقربان‘ زندگی بعد موت اور پاکستان ایک مذہبی ریاست پر ریڈیو سے نشرشدہ تقریریں۔)

۳

۶۳-         خطوط مودودی‘ جلد اول: (مرتب: رفیع الدین ہاشمی۔ سلیم منصور خالد) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۸۳ئ‘ ۲۶۴ ص۔ (مسعود عالم ندوی کے نام ۵۰خطوط کا مجموعہ مع مفصل تعارف‘ مکتوب الیہ اور متن پر حواشی و تعلیقات)

۶۴-         خطوط مودودی‘ جلد دوم: منشورات‘ لاہور‘ ۱۹۹۵ئ‘ ۵۵۸ ص۔ (مختلف اصحاب کے نام ۱۵۰ خطوط مع حواشی و تعلیقات۔ ۵۲ خطوں کے عکس بھی شامل ہیں)

۶۵-         مکاتیب سید ابوالاعلٰی مودودی‘ جلد اول :(مرتب: عاصم نعمانی) ایوان ادب‘ لاہور‘ ۱۹۷۰ئ‘ ۲۵۶ ص۔ (۱۶۴ خطوط‘ جو مراسلہ نگاروں کے استفسارات کے جواب میں لکھے گئے)

۶۶-         مکاتیب سیدابوالاعلٰی مودودی‘ جلد دوم: (مرتب: عاصم نعمانی)اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۲ئ‘ ۳۹۲ص۔ (حصہ اول کے تسلسل میں مزید ۲۶۶ مکاتیب کا مجموعہ)

۶۷-         مکتوبات: (مرتب: حکیم محمد شریف) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۸۶ئ‘ ۲۷۲ ص۔ (مرتب کے نام ۱۰۹ خطوط کا مجموعہ۔ ضمیمے میں بعض دیگر اصحاب کے نام ۶ خطوط۔ پیش لفظ از اسرار احمد سہاوری)

۶۸-         مکتوباتِ مودودی: (مرتب وناشر: اشرف بخاری) پشاور‘ ۱۹۸۳ئ‘ ۱۷۴ص۔ (صوبہ سرحد کے احباب اور نیازمندوں کے نام ۹۲ خطوط کا مجموعہ)

۶۹-         مکتوباتِ مودودی بنام مولانا محمد چراغ: (مرتب: عبدالغنی عثمان) الانصاری پبلشرز‘ فیصل آباد‘ ۱۹۸۴ئ‘ ۸۰ ص۔ (مکتوب الیہ کے نام ۳۶ خطوط کا مجموعہ مع مختصر حواشی۔ مقدمہ از مفتی سیاح الدین کاکاخیل)

۷۰-         مولانا مودودی کے خطوط: (مرتب: سید امین الحسن رضوی) مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی‘ ۱۹۹۳ئ‘ ۱۰۲ص ۔ (مرتب کے نام سید مودودی کے ۱۹ خطوط۔ مرتب نے ابتدا میں‘ سید مرحوم کے ساتھ اپنے مراسم اور ملاقاتوں کی تفصیل بھی بیان کی ہے)

۷۱-         یادوں کے خطوط: (مرتب: محمد یونس) اسلامی مکتبہ حیدرآباد دکن‘ ۱۹۸۳ئ‘ ۱۲۸ص۔ (زیادہ تر حیدرآباد دکن کے احباب واصحاب کے نام ۴۹ خطوط ۔ مجموعے میں میاں طفیل محمد‘ابوالخیر مودودی اور چودھری نیاز علی خاں وغیرہ کے ۱۵ خطوط بھی شامل ہیں)

۷۲-         Correspondence between Maulana Maudoodi and Maryam Jameelah ]  مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کی باہمی مراسلت[ ۔ محمد یوسف خاں‘ لاہور‘ ۱۹۶۹ئ‘ ۸۳ ص۔(مریم جمیلہ کے گیارہ اور سیدموصوف کے بارہ خطوط کا مجموعہ)

۴

۷۳-         آفتابِ تازہ: (مرتب : خلیل حامدی) ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۹۳ئ‘ ۴۵۶ ص۔ (الجمعیت دہلی کے ۱۹۲۷ء کے اداریوں اور مضامین کا مجموعہ)

۷۴-         ادبیاتِ مودودی: (مرتب: پروفیسر خورشیداحمد)اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۲ئ‘ ۴۴۷ص۔ (حصہ اول میں سید مودودی کی انشاپردازی پر ضیااحمد بدایونی‘ ابواللیث صدیقی‘ ماہر القادری‘ احسن فاروقی‘ ابوالخیرکشفی اور سیدمحمد یوسف کے مضامین ہیں۔ حصہ دوم میں ۷۴کتابوں پر سید موصوف کے تبصرے اور مقدمے شامل ہیں۔ ۸۷ صفحات کا سیرحاصل مقدمہ از مرتب )

۷۵-         ادب اور ادیب ،سید مودودی کی نظرمیں: (مرتب: سفیراختر) دارالمعارف واہ کینٹ‘ ۱۹۹۸ئ‘ ۱۷۶ ص۔ (ادب ادیب کے حوالے سے سید موصوف کی متداول اور بعض نادر تحریروں کا مجموعہ)

۷۶-         اخلاقیاتِ اجتماعیہ اور اس کا فلسفہ: (مرتب: محمد خالد فاروقی) الاخوان پبلی کیشنز کراچی‘ ۱۹۸۰ئ‘ ۸۸ص ۔ (ماہ نامہ ہمایوں لاہور‘ فروری ۱۹۴۲ء میں مطبوعہ ایک مقالہ‘ جو مصنف نے بیس سال کی عمر میں تحریر کیا)

۷۷-         استفسارات: جلد اول (مرتب:اختر حجازی) ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۸۷ئ‘ ۴۴۸ص۔ (بعض رسائل: آئین‘ ایشیا‘ تجلّی میں مطبوعہ مذہبی‘ فقہی‘ سیاسی اور قانونی سوالات کے جوابات۔اس مجموعے کی تدوین مناسب طریقے پر نہیں کی گئی)

۷۸-         استفسارات: جلد دوم‘ (مرتب: اخترحجازی) ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۹۲ئ‘ ۴۰۰ص۔ (مختلف جرائد میں شائع شدہ بعض تقریریں‘ مصاحبے‘ سوالوں کے جواب)

۷۹-         استفسارات: جلد سوم‘ (مرتب: اخترحجازی) ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۹۹ئ‘ ۴۲۴ص۔ (جلد اول اور دوم کے تسلسل میں مزید لوازمہ)

۸۰-         اسلام کا سرچشمۂ قوت: (مرتب: شہیرنیازی)۔ ایوان ادب لاہور‘ ۱۹۶۹ئ‘ ۱۱۲ص۔ (الجمعیت دہلی کے زمانۂ ادارت  ۲۵-۱۹۲۴ء کا ایک سلسلۂ مضامین۔ اشاعتِ اسلام کے اسباب پر بحث)

۸۱-         افاداتِ مودودی: (مرتبین: میاں خورشیداحمدانور+ بدرالدّجٰی خان) ناشرکا نام درج نہیں۔ ۱۹۹۷ئ‘ ۳۷۵ ص ۔ (نماز کے متعلق احادیث  مشکوٰۃ شریف کی تشریحات‘ سید موصوف کے دروسِ حدیث سے ماخوذ)

۸۲-         اقبال نے کیا چاہا؟: ]مرتب: سلیم منصورخالد[ پنجاب یونی ورسٹی اسٹوڈنٹس یونین لاہور۔ ۱۹۷۷ئ‘ ۴۰ ص۔ (علامہ اقبال سے متعلق مصنف کی تحریریں اور تقاریر‘ شذرات وغیرہ)

۸۳-         بانگِ سحر: (مرتب: خلیل احمد حامدی) ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۹۳ئ‘ ۴۴۳ص۔ (الجمعیت دہلی کے زمانۂ ادارت ۱۹۲۶ء کے اداریوں اور مضامین کا مجموعہ)

۸۴-         ۵-اے ذیلدار پارک: حصہ اول (مرتب:مظفربیگ) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۸ئ‘ ۲۹۵ص۔ (نمازِعصر کے بعد سید مودودی سے سوالات و جوابات کی نشستوں کی روداد)

۸۵-         ۵- اے ذیلدار پارک:حصہ دوم (مرتب: رفیع الدین ہاشمی) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۹ئ‘ ۲۸۰ ص ۔ (حصہ اول کے تسلسل میںمزید سوالات و جوابات کا مجموعہ۔)

۸۶-         ۵- اے ذیلدار پارک:حصہ سوم (مرتب: حفیظ الرحمن احسن) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۹۱ئ‘ ۲۱۵ ص۔(حصہ اول اور دوم کے تسلسل میں مزید سوالات و جوابات۔)

۸۷-         تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر تبصرہ: (مرتبین: نعیم صدیقی+سعیداحمدملک) مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۵ئ‘ ۲۰۸ ص۔ (قادیانی مخالف تحریک ۱۹۵۳ء پر عدلیہ کی تحقیقاتی رپورٹ پر تبصرہ)۔] ادارہ معارف اسلامی لاہور کے شائع کردہ‘ دوسرے ایڈیشن (۱۹۹۴ئ) پر بطور مصنّف‘ سید صاحب کا نام موجود ہے۔ اس اشاعت کے دیباچے میں جناب نعیم صدیقی نے وضاحت کی ہے کہ یہ سید صاحب ہی کی تحریر ہے‘ طبع اول پر بوجوہ‘ مصنف کا نام نہیں آسکا تھا۔[

۸۸-         تصریحات: (مرتب: سلیم منصور خالد) احباب پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۹ئ‘ ۳۱۸ ص۔ (طلبہ‘ اسلامی جمعیت طلبہ اور اسلامی جمعیت طالبات کے مختلف اجتماعات میں سوالات کے جوابات اور انٹرویو)

۸۹-         تفہیمات‘ حصہ چہارم: (مرتب اخترحجازی) ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۸۵ئ‘ ۳۹۲ص۔ (سید موصوف کی متفرق تحریروں کا ایک ناقص مجموعہ۔ اس میں شامل مضمون ’’افادات شاہ ولی اللہ‘‘ سیدصاحب کا نہیں‘ صدرالدین اصلاحی کا ہے)

۹۰-         تفہیمات‘ حصہ پنجم: (مرتب: اخترحجازی) ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۹۰ئ‘ ۴۸۰ ص۔ (مزید مختلف النوع تحریریں۔ واضح رہے کہ جلد چہارم اور پنجم کی استنادی حیثیت وہ نہیں‘ جو تفہیمات کے پہلے تین مجموعوں کی ہے۔ یہ دونوں جلدیں خاصی بے توجہی اور تساہل سے مرتب کی گئی ہیں اس لیے نہ صرف ان دونوں پر نظرثانی ہونی چاہیے بلکہ ان دونوں مجموعوں کا نام بھی تفہیمات نہیں‘کچھ اور ہونا چاہیے۔ تفہیمات‘ سیدموصوف کی اپنی مستقل تصانیف ہیں۔ کسی اورشخص کی مرتبہ کتاب کو وہی نام دینے سے التباس پیدا ہوتا ہے)

۹۱-         جلوۂ نور: (مرتب: خلیل حامدی) ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۹۳ئ‘ ۲۱۳ ص۔ (الجمعیت دہلی میں ۱۹۲۸ء میں شائع شدہ مضامین اور اداریے)

۹۲-         خطباتِ یورپ: (مرتب: اخترحجازی) احباب پبلی کیشنز لاہور‘ س ن‘ ۲۵۴ ص۔ (مصنف کے اسفارِ برطانیہ و یورپ کی تقریریں اور سوالات و جوابات کی رودادیں)

۹۳-         صدائے رستاخیز: (مرتب: خلیل احمد حامدی) ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۹۳ئ‘ ۵۴۱ص۔ (الجمعیت دہلی کے بعض اداریے اور مضامین )

۹۴-         فضائل قرآن:(مرتب: حفیظ الرحمن احسن) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۷ئ‘ ۱۵۵ ص۔ (سید موصوف کے دروسِ حدیث کا تحریری روپ۔  مشکوٰۃ المصابیح کے ایک جز ’’فضائل قرآن‘‘ سے منتخب احادیث کی تشریح)

۹۵-         کتاب الصّوم: (مرتب: حفیظ الرحمن احسن) مکتبہ آئین‘ لاہور‘ ۱۹۷۳ئ‘ ۲۸۰ ص۔ (دروسِ حدیث۔  مشکوٰۃ المصابیح کے ایک جز’’کتاب الصوم‘‘ کی ۱۴۷‘ احادیث کا متن‘ اُردو ترجمہ اور مختصر تشریح)

۹۶-         مسئلہ کشمیر اور اس کا حل: (مرتب: سلیم منصورخالد) اسلامی جمعیت طلبہ لاہور‘ ۱۹۸۰ئ‘ ۱۲۸ ص۔ (مسئلہ کشمیرپر سید موصوف کی تقاریر اور تحریروں کا مجموعہ)

۹۷-         مولانا مودودی کی تقاریر‘ اول: (مرتبہ: ثروت صولت) اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۶ئ‘ ۵۳۲ ص۔ (مختلف نوعیت کی ۲۶ تقاریر‘ زیادہ تر جماعت اسلامی کی رودادوں سے اخذ کردہ)

۹۸-         مولانا مودودی کی تقاریر‘ دوم: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۶ئ‘ ۴۶۳ ص۔ (مزید ۵۱ تقاریر۔ زیادہ ترتسنیم، قاصد اور ترجمان القرآن سے ماخوذ)

۹۹-         مولانا مودودی کے انٹرویو‘ اول: (مرتب: ابوطارق) اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۶ئ‘ ۵۳۲ ص۔ (سیدموصوف سے مختلف اہل قلم اور صحافیوں کے مصاحبے)

۱۰۰-      مولانا مودودی کے انٹرویو‘ دوم: (مرتب: ابوطارق) اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۸۷ئ‘ ۳۳۶ ص۔ (مزید ۳۲ مصاحبے۔ ابوطارق‘ پروفیسر رحیم بخش شاہین کا قلمی نام تھا)

۱۰۱-      وثائق مودودی: (مرتب: سلیم منصورخالد) ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۸۴ئ‘ ۱۰۰ص۔ (سید موصوف کی تعلیمی اسناد‘ ۸ اور دس سال کی عمر کے تحریروں اور بعض دیگر نوادرات کے عکس۔ جہازی سائز پر نفیس اور خوب صورت طباعت)

۱۰۲-      ہندستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب: مرکزی مکتبہ اسلامی‘ دہلی‘ ۱۹۸۸ئ‘ ۷۹ص۔ (نگار لکھنؤ میں‘ اکتوبر‘ نومبر اور دسمبر ۱۹۲۴ء میں شائع شدہ ایک طویل مقالہ۔ پہلی قسط جناب نیاز فتح پوری نے اپنے نام سے چھاپ لی تھی‘ مصنف کے احتجاج پر‘     باقی ۲قسطوں پر ان کا نام دیا گیا)

۵

۱۰۳-      المسئلۃ الشرقیہ: ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۹۴ئ‘ ۳۸۳ ص۔ (مصطفی کمال پاشا کی عربی تصنیف کا اُردو ترجمہ)


                سید مودودی ؒکے ذخیرۂ علمی کا ایک حصہ (بیسیوں تقاریر اور مضامین) ابھی تک اخبارات و رسائل کے اوراق میں گم ہے۔ علاوہ ازیں بعض تقریریں اور مضامین کتابوں کی صورت میں بھی ملتی ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذیل میں ذکر کیا جا رہا ہے:

                ۱- آزادی ] ۱۹۶۸ئ[‘ ۲- آیندہ انتخابات‘ ملک کی نجات کا واحد راستہ ] ۱۹۷۰ئ[  ۳-آیندہ انتخابات اور قوم کی ذمہ داری ] ۱۹۷۰ئ[ ۴- اسلامی نظام اور مغربی لادینی جمہوریت ] ۱۹۶۹ئ[ ۵- ۱۹۶۷ء کی رِہائی کے بعد مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی تقریر] ۱۹۶۷ئ[ ۶- بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا مسئلہ ] ۱۹۸۲ئ[ ۷- پاکستان کے انتخابی نتائج اور ان میں جماعت اسلامی کی پوزیشن‘ ۱۹۷۱ء ۸- تحریک اسلامی: کامیابی کی شرائط ‘ ۱۹۶۴ء ۹- تحریک پاکستان اور جماعت اسلامی ] ۱۹۶۷ئ[ ۱۰- تقریر ڈھاکا‘ ۱۹۶۳ء ۱۱- توحید اور شرک ]۱۹۷۷ئ[ ۱۲- توحید کی برکات ]۱۹۷۳ئ[ ۱۳-جماعت اسلامی اور پاکستان ] ۱۹۷۰ئ[ ۱۴- جماعت اسلامی کو ووٹ کیوں دیا جائے؟] ۱۹۷۰ئ[  ۱۵- جماعت اسلامی کی پالیسی اور پروگرام] ۱۹۷۰ئ[  ۱۶-جماعت اسلامی کی دعوت‘۱۹۴۸ء ۱۷- خطاب مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی ]۱۹۷۳ئ[ ۱۸- دستوری تجاویز ]۱۹۵۲ئ[ ۱۹- عملی جہاد سے قلبی جہاد تک ] ۱۹۶۵ئ[ ۲۰- قومی وحدت کی مضبوط بنیادیں۱۹۸۴ء ۲۱- موجودہ انتخابی معرکے پر سیرحاصل تبصرہ ]۱۹۷۷ئ[ ۲۲- مولانا مودودی کا دورئہ مشرق وسطیٰ ]۱۹۵۷ئ[ ۲۳- مولانا مودودی کی دو اہم تقریریں اور مرکزی مجلس شوریٰ کی اہم قراردادیں ]۱۹۷۲ئ[ ۲۴- وقت کے اہم مسائل اور ان میں جماعت اسلامی کا موقف‘ ۱۹۷۰ء وغیرہ۔


آخر میں یہ وضاحت مناسب ہوگی کہ بعض کتابیں‘ سیّد مودودی کے متذکرہ بالا ذخیرئہ علمی کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں مثلاً:

  • تفہیم الاحادیث‘ ۸ حصے (مرتب:عبدالوکیل علوی)‘ لاہور 
  • تحریک اور کارکن (مرتب: خلیل احمد حامدی)‘ لاہور 
  • نصرانیت‘ قرآن کی روشنی میں (مرتبین: نعیم صدیقی‘ عبدالوکیل علوی) لاہور‘۱۹۸۵ء 
  • یہودیت‘ قرآن کی روشنی میں (مرتبین: نعیم صدیقی‘ عبدالوکیل علوی)‘ لاہور
  • اُمت مسلمہ کے مسائل اور ان کا حل (مرتب: خلیل احمدحامدی) لاہور‘۱۹۸۲ء وغیرہ۔

اس نوعیت کی متعدد کچھ اور کتابیں بھی مرتب اور شائع ہوئی ہیں (اور یہ سلسلہ جاری ہے) مگر یہ سب تصانیفِ مودودی کے منتخبات (selections)پر مشتمل ہیں اور ان کی حیثیت ’مکرّرات‘کی ہے۔ اس لیے انھیں باقاعدہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ درحقیقت عصر حاضر کی سب سے بڑی انسانی تحریک کے     علم بردار تھے۔ وہ ایک آفاقی مفکر تھے اور اصلاح و انقلاب کی جو دعوت انھوں نے دی‘ وہ پورے  عالمِ انسانیت کے لیے تھی۔ ان کی قائم کی ہوئی تنظیم کا اصل مقصد انسان سازی کا ایک عظیم معرکہ بالکل ناموافق حالات میں سر کرنا تھا۔ آزادی‘ برابری اور برادری کے جو نعرے لگائے جاتے رہے ہیں‘ ان کو انھوں نے ایک ٹھوس‘ منطقی اور تجزیاتی بنیاد اپنے عالمانہ و حکیمانہ لٹریچر سے فراہم کی۔

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے دورِ جدید کے ہر مسئلے کا حل پیش کیا۔ مذہب‘ معاشرت‘ معیشت اور سیاست کے موضوعات پر ان کی مدلل بحثیں معلومات افزا اور بصیرت افروز ہیں۔ ان کا تصور دین زندگی کے ہر گوشے پر محیط تھا۔ وہ رسمی فرقہ وارانہ مذہب کے بجاے ایک کائناتی نظریۂ حیات کے قائل تھے۔ اسی لیے وہ اسلام کو ایک ہمہ گیر انسانی نظامِ زندگی کی حیثیت سے پیش کرتے تھے اور قرآن و سنتِ رسولؐ کو انسانیت کا مشترک سرمایہ سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں مسلم اور غیر مسلم معاشرے کی تفریق کرنے کی ضرورت نہیں‘ اگرچہ عملاً اسلامی تحریک کے اولین مخاطب‘ ذمہ دار اور کارکن ظاہر ہے کہ مسلمان ہی ہوں گے۔ یہ اسلام کا اصولی موقف بھی ہے‘ جس کا روے سخن سب کی طرف ہے‘ اس لیے کہ وہ رب العالمین کا نازل کیا ہوا دین ہے اور اس کے آخری پیغام بر رحمۃللعالمین صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔ لیکن اس دین کی اشاعت اور اقامت کاعلَم تو قدرتی طور پر وہی لوگ اٹھائیں گے جو اس پر ایمان رکھتے اور عمل کرتے ہوں۔

مولانا مودودیؒ نے دعوت دین‘ فہم دین اور اجتماعیت کے لیے اپنی فکر مندی کو جس انداز سے پیش کیا‘ اس کا سب سے اہم ماخذ ان کی تصانیف ہیں۔ یہاں پر اس حوالے سے میں اپنے موضوع کو زیر بحث لاؤں گا۔

  • دیـنـیـات: اس تناظر میں مولانا مودودیؒ کے وسیع لٹریچر کی پہلی کتاب دینیات  ان کا  نقطۂ نظر واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کتاب میں فقہ کے مسائل نہیں ہیں‘ صرف اصل دین اور اس پر ایمان کی تبلیغ‘ حکمت کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ فطرت کے عام مظاہر‘ قوانینِ قدرت‘ کائناتی حقائق اور زندگی کی تسلیم شدہ حقیقتوں‘ نیز معروف انسانی صداقتوں کو دل نشیں‘ اور عام فہم دلیلوں کے ساتھ پُر اثر طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ ان دلیلوں سے کوئی عقلِ سلیم رکھنے والا انسان انکار نہیں کرسکتا‘ اس لیے کہ اس کے سامنے روزمرہ کے واقعات اور مشاہدات صاف صاف رکھ دیے گئے ہیں۔ مسلم اور غیرمسلم دونوں ہی ان واقعات و مشاہدات پر غور کر کے تمام الجھنوں کے درمیان چھپی ہوئی سچائی کا سراغ بآسانی لگا سکتے ہیں۔ غیر مسلم معاشروں میں رائج زبانوں میںدینیات کا ترجمہ اپنا اثر بخوبی دکھا رہا ہے۔ اس کتاب میں آدمیت کی معروف قدریں ہر شخص کے سامنے نکھر کر آ جاتی ہیں اور اس کے دل پر دستک دیتی ہیں۔ دینیات براہِ راست ضمیرِ انسانیت کو اپیل کرتی ہے اور اس کے الستُ بربکمکے جواب میں قالوا بلٰی‘ کے اسرار و رموز آشکارہوتے ہیں۔ یہ انسان کے ذہن  کو خود شناسی سے خداشناسی تک پہنچا دیتی ہے۔ یہ توحید‘ یعنی وحدتِ الہٰ کا پیغام دیتی ہے‘ جو انسانی وحدت و اخوت کا واحد نظریہ ہے‘ جس کی بنیاد پر ہر قسم کے رائج الوقت تفرقوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ’’وحدت آدم‘‘ (اقبالؒ) کا یہ آفاقی پیام ہی عالمی جنگوں کے خاتمے اور عالمی امن کے قیام کی فضا سازگار کر سکتا ہے۔
  • مسلمان اور موجودہ سیاسی کـش مکش: اس موضوع پر مولانا مودودیؒ نے‘ اس وقت قلم اٹھایا‘ جب آزادی سے قبل ہندستان میں فرقہ وارانہ سیاسی کش مکش بہت تیز ہو گئی تھی اور مسلم و غیر مسلم فرقوں کے رہنما اور جماعتیں بڑی تیزی کے ساتھ تصادم کی طرف جا رہے تھے۔ اس فرقہ پسندانہ نزاع میں مسلمان اسلام کا نعرہ لگا کر غیر مسلموں کو دینِ فطرت سے برگشتہ کر رہے تھے۔ لہٰذا مولانا نے واضح کیا کہ اسلام کوئی فرقہ پرستانہ مذہب نہیں ہے‘ جس پر کسی نسلی فرقے کا اجارہ ہو‘ بلکہ یہ ایک آفاقی نظریۂ حیات ہے‘ جو انسانیت کی مشترکہ میراث ہے اور بلا لحاظِ فرقہ و طبقہ کوئی بھی  اس پر ایمان لا کر عمل اور اپنی صلاح و فلاح کا سامان کر سکتا ہے۔ غیر مسلم معاشروں میں تحریکِ اسلامی کے لیے یہ سب سے بڑی رہنمائی تھی‘ جو مولانا مودودیؒ کی تحریر سے ملی۔ چنانچہ مولانا نے مسلمانوں کو ایک انتہائی نازک اور پیچیدہ صورت حال میں مشورہ دیا کہ وہ فرقہ پرستانہ سیاست سے الگ ہو کر اور اوپر اٹھ کر اسلام کی نظریاتی دعوت ہر فرقے کے انسانوں کو عمومی طور پر دیں۔ انسان دوستی کی یہ صلاے عام اتنی بلند ہوئی اور پرکشش ثابت ہوئی کہ بعض وقت غیر مسلموں کے ایک بڑے لیڈر نے جماعت کے جلسۂ عام میں بطور سامع شرکت کر کے اس کے پیغام کے لیے اپنی پسندیدگی کا برملا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ ہندووں کے مہاتما گاندھی نے اپنے مثالی و علامتی رام راج کی تشریح عملی اور تاریخی طور پر حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی خلافتِ راشدہ کے حوالے سے کی۔
  • الجہاد فی الاسلام: یہ موضوع ماضی میں بھی بحث انگیز رہا ہے اور آج بھی پوری دنیا میں وقت کا سب سے گرم موضوع بنا ہوا ہے‘ مگر اس کی حقیقت عام طورپر مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہی ہے۔

مولانا مودودیؒ کی اس معرکہ آرا تصنیف نے جہاد کی اصل نوعیت و اہمیت تحقیقی طور پر واضح کر دی۔ انھوں نے ناقابلِ تردید دلائل سے ثابت کر دیا کہ اسلامی جہاد صرف خدا کی راہ میں نیکی‘ حق اور صداقت کے لیے انتہائی کوشش کا نام ہے۔ یہ ہر گز کوئی جارحانہ و ظالمانہ قتل و غارت گری اور فتنہ و فساد نہیں ہے۔ یہ مظلوموں کا دفاع ہے۔ اس کا مقصد عدل اور امن کا قیام ہے۔ یہ خفیہ تخریب کاری نہیں‘ تعمیر و ترقی کی علانیہ کوشش ہے۔ اس کی کچھ ضروری شرطیں ہیں۔ یہ افراد کی قانون شکنی نہیں‘ ریاست کا آئینی اقدام ہے۔ اس میں عہد شکنی کی کوئی گنجایش نہیں‘ بلکہ بین الاقوامی معاہدات کی  سخت پابندی ہے۔ یہ جنگ و امن کا اسلامی قانون ہے‘ جس پر عمل کرنے کا اختیار صرف اسلامی حکومت کو ہے‘ جب کہ اسلام میں جارحیت کا کوئی تصور نہیں۔ دفاعی جنگ کی حالت میں بھی بے قصور اور پُرامن شہریوں کو اسلام جان و مال و آبرو کا تحفظ دیتا ہے‘ قیدیوں کے ساتھ انسانی برتائو کی تاکید کرتا ہے‘ لڑنے والے مقتولین کی لاشوں تک کی حفاظت کی ہدایت کرتاہے‘ عورتوں‘ بچوں‘ بوڑھوں‘      عبادت گاہوں اور مذہبی اداروں کے کارکنوں کو ہر قسم کی ضروری سہولت کی ضمانت دیتا ہے‘ فتح کے متکبرانہ مظاہر تک سے منع کرتا ہے۔ مجاہد‘ دشمنوں کا بھی محافظ بن کر دیارِ غیر میں قدم رکھتا ہے۔

اسلامی جہاد کی یہ صحیح تصویر آج کی مہذب کہلانے والی غیر مسلم طاقتوں کو اسی طرح تہذیب کا سبق دیتی ہے‘ جس طرح عہدِ وسطیٰ کے انتہائی طاقت ور متمدن ملکوں کو اس نے انسانیت کا سبق سکھایا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جنگ و امن کے جتنے بھی مہذب قوانین آج اصولاً رائج ہیں وہ سب اسلامی جہاد کے وضع کیے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ غیر مسلم معاشروں اور خود مسلمانوں کو اس تاریخی حقیقت کی یاددہانی کرائی جائے۔ رہا جبرو ظلم کے مقابلے میں اعلاے کلمۂ حق تو یہ افضل جہاد ہر حال اور ہر مقام میں مسلمانوں اور غیر مسلموں‘ سب کے سامنے احقاقِ حق اور قیامِ عدل کے لیے کیا جا سکتا ہے‘ مگر اس شہادتِ حق کی شرطیں بھی وہی ہیں جو جہاد کی ہیں‘ جو دراصل راہِ خدا اور صراطِ مستقیم کی طرف حکمت و موعظت کے ساتھ دعوتِ بلیغ ہے۔

  • خلافت و ملوکیت: جمہوریت یا عوامیت ابتدا ہی سے اصولاً ایک ناقص       طرزِ حکومت رہا ہے اور اب پوری دنیا میں بوسیدہ و فرسودہ اور ازکارِ رفتہ ہو چکا ہے۔ یہ محض        تعداد و مقدار پر مبنی اوصاف و اقدار سے خالی ایک جابرانہ وطیرۂ اقتدار ہے‘ جس میں عددی     اکثریت و اقلیت کا کھیل جوڑ توڑ‘ خریدو فروخت اور سازش و الزام سے بالکل عامیانہ طور پر‘ انتہائی  بے کرداری سے کھیلا جاتا ہے۔ اس میں درحقیقت راے عامہ کو ہموار کرنے کے بجاے سطحی     ’عوام فریبی‘ سے کام لیا جاتا ہے۔ اس کا پارلیمانی طریقہ برطانیہ میں اور صدارتی طریقہ امریکہ میں رسوا ہوچکا ہے۔ اس کے مقابلے میں ملوکیت اور نوابی یا جاگیرداری کے نظام پہلے ہی نامقبول ہو کر رد ہوچکے ہیں۔ آمریت اور اشتراکیت بھی ناپسندیدہ اور استبدادی اطوارِ حکومت ہیں۔ قابلِ اعتبار‘ معیاری اور مفید سیاسی نظام وہ ہے جس میں مخلص اور سنجیدہ اہل الراے عوام کی حقیقی نمایندگی کریں۔  یہ باشعور اور باکردار افراد کی وہ شورائیت ہے جس کے فیصلوں کو عوامی اعتماد اور تائید حاصل ہو۔ یہ افراد اپنا اعتبار ایک صالح نصب العین کے ساتھ وابستگی اور اس کے تحت عمل کی‘ دنیا اور آخرت میں   جواب دہی سے قائم کرتے ہیں۔

اسلام کی اصطلاح میں اس کا نام خلافت ہے‘ جس میں خدا اور رسولؐ کی نیابت کا تصور انسانی فطرت کی اُس خودسری اور سرکشی پر روک لگا دیتا ہے جو ملوکیت کی روح رواں ہے۔ یہ بادشاہی کی وہ اسپرٹ ہے جو رائج الوقت جمہوری کہلانے والے نقالوں میں بالکل نمایاں ہے‘ ٹھیک جس طرح  عہدِقدیم کی شہنشاہیت میں تھی۔ یونان و روم و ایران سے برطانیہ و امریکہ تک کے پرانی اور نئی استعماریت (Imperialism) اور نوآبادیت (Colonialism) کی تباہ کاریوں کی روداد کل تاریخ کے صفحات میں پڑھی جاتی تھی‘ آج ان اوراق کے علاوہ میڈیا کے مناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے جو انسانیت کو لرزہ براندام کر رہی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اپنی کتاب  خلافت و ملوکیت میں اسلامی تاریخ کے حوالے سے اسی حقیقت کی نشان دہی کی ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ غیر اسلامی ملوکیت کے مقابلے میں اسلامی خلافت ہی وہ نظریۂ سیاست ہے جو صحیح معنوں میں آزادی رائے‘ مساوات‘ عدلِ اجتماعی اور فلاحِ عامہ (public welfare) کی ضمانت دیتا ہے اور صلاحیت و خدمت دونوں کی قدرشناسی کرتا ہے۔ ریاست کے اسی تصور سے معاشرے کی درستی و ترقی ہوتی ہے۔

  • پردہ: کسی بھی سماج کی ریڑھ کی ہڈی ہے مرد اور عورت کے تعلق کا توازن‘ جس پر پورا خاندانی نظام مبنی ہوتا ہے اور انسانیت کو اس کے محور پر قائم رکھتا ہے۔ اس توازن کو برہم کرنے والی  چیزبے پردگی ہے‘ جو اگر قدیم دورِ جاہلیت میں ایک بیماری تھی تو اب ایک وبا بن گئی ہے۔ اسی نے یونان و روم کے معاشرے کو تباہ کیا تھا اور یہی برطانیہ و امریکہ وغیرہ کے معاشرے کو غارت کر رہی ہے۔ مرد و زن کے بے محابا اختلاط کی تباہ کاری کا ایک عبرت انگیز نمونہ سترھویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف میں لکھی جانے والی Restoration Comedy کے انگریزی ڈرامے ہیں‘ جو جنسی سازشوں‘ آلودگیوں اور بے حیائیوں کے شرم ناک مرقعے پیش کرتے ہیں‘ اگرچہ دورِ جدید کی بے پردگی ان مرقعوں سے بھی زیادہ ہولناک اور نفرت انگیز ہے۔ آج کے مخلوط سماج نے رشتوں کو پامال کر دیا ہے‘ نسوانیت کو بازار اور کاروبار کی جنس بنا دیا ہے‘ یہاں تک کہ فنونِ لطیفہ عریانی و فحاشی کا دوسرا نام بن گیا ہے۔

اپنی کتاب پردہ میں مولانا مودودیؒ نے جسمانیات (Physiology) اور نفسیات (Psychology) وغیرہ علوم و فنون کے مستند حوالوں سے بہ تحقیق ثابت کیا ہے کہ قدرتی طور پر مرد اور عورت دو مختلف جنس ہیں اور ان کے فطری تقاضے مختلف ہیں۔ لہٰذا دونوں جنسوں کا بے حجابانہ    خلط ملط‘ غلط اور نقصان دہ ہے۔ چنانچہ ان کے دائرہ ہاے کار ایک دوسرے سے الگ ہونے چاہییں اور ہر ایک کو اپنے مخصوص دائرے میں اپنے خاص طریقے ہی سے کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اسی طرح ان کی جداگانہ صلاحیتوں کا نشوونما بھی ہو گا اور ان کے عزائم کی تکمیل بھی ہو گی۔ یہ سماج کی بہتری کے لیے مرد اور عورت کے باہمی تعاون اور اشتراکِ عمل کی صحیح و مفید شکل ہو گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے عورت کا نامحرم مردوں سے پردہ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں مولانا نے پردے کی معقول کیفیت بھی بیان کر دی ہے اور اس کی قابلِ عمل حدود کا تعین کر دیا ہے‘ تاکہ خاندانی نظام انتشار سے محفوظ رہے اور معاشرے کی تنظیم برہم نہ ہو۔

  • سود:معاشیات میں ساری خرابیوں کی جڑ زر پرستی ہے‘ جسے مروجہ اصطلاح میں   سرمایہ پرستی (Capitalism) کہا جاتا ہے۔ یہ مال کی حد سے بڑھی ہوئی محبت ہے‘ جو دولت کی پرستش تک پہنچ کر آدمیت کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ نفع اندوزی کی یہ ہوس (lust for interest) انسانی اخلاق اور تہذیبی اقدار کے لیے سم قاتل ہے۔ مولانا مودودیؒ نے سودمیں تفصیل و تحقیق کے ساتھ اس مہلک زر پرستی کا پول کھول دیا ہے‘ حالانکہ جدید تمدن کی رونق اسی پر مبنی ہے اور بنکوں نے  سود (Usury) کو پورے انسانی معاشرے میں زہر کی طرح پھیلا دیا ہے۔ یہ سودی بنک کاری اشتراکی کہلانے والے ملکوں میں اسی طرح موجود ہے‘ اس کی شکل جو بھی ہو‘ جس طرح سرمایہ دار کہلانے والے ملکوں میں جمہوریت ہو کہ آمریت‘ کوئی بھی نظامِ سیاست سود کے معاشی سرطان سے محفوظ نہیں۔

جدید تمدن کا سارا کاروبار سودی نفع اندوزی (profiteering) کے اصول پر چل رہا ہے‘ جس کے سبب امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہے ہیں۔ سود ہی کے بل پر دولت‘ خدائی کا سکہ چلا رہی ہے۔ حد یہ ہے کہ عالمی بنک اور انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) جیسے اداروں کے ذریعے ایک نئی شہنشاہیت دنیا کو نو آبادیت کے دورِ وحشت کی طرف واپس لے جا رہی ہے۔  سود کے ذریعے مولانا مودودیؒ نے تمام مسلم و غیر مسلم معاشروں کے سامنے ان کی اخلاقی پستی اور ترقیات کے مظاہروں کے باوجود انسانیت کے تشویش انگیز زوال کا آئینہ رکھ دیا ہے‘ تاکہ وہ خرابیِ احوال کا اندازہ کر کے اصلاحِ احوال کی جانب مائل ہوں۔

  • اسلام اور ضبط ولادت: سود کی تباہ کن معاشیات کی طرح ضبطِ ولادت کا روگ بھی معاشرت کو گھن کی مانند چاٹ کر کھوکھلا کر رہا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی درحقیقت قتلِ انسانیت کی ایک سازش ہے‘ جب کہ سود کی طرح اس منصوبہ بندی کو مقبول عام بنا کر رواج دینے کے لیے حکومتیں‘ خاص کر ترقی پذیر کہلانے والے ملکوں میں‘ پورے زور و شور کے ساتھ نہایت بے شرمی سے میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں اور احمقانہ اشتہارات کے ذریعے فحاشی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ یہ     دراصل خوش حالی کے نام پر خود کشی کی کوشش ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اس غلط پالیسی کے تار و پود  اپنے مدلل و حکیمانہ تجزیے سے بکھیر دیے ہیں۔

مجدد عصر

آج کے معاشرے کے حالات و رحجانات پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جو تنقید کی ہے اور ان کی خرابیوں کی اصلاح کے لیے جو تجویزیں اپنی مذکورہ بالا کتابوں اور دوسرے لٹریچر میں پیش  کی ہیں‘ وہ ایک عظیم الشان کارِ تجدید ہے۔ مولانا کی دعوت ایک انقلابی دعوت ہے جس کا خطاب  مسلم و غیرمسلم معاشروں سے یکساں ہے۔ بلاشبہہ مولانا کا محورِ فکر اسلامی ہے اور قرآن و سنت کے احکام و ہدایات پر مبنی ہے لیکن انھوں نے اول تا آخر اسلام کو ایک آفاقی نظریۂ حیات کے طور پر پوری انسانیت کی اصلاح و تجدید کے لیے پیش کیا ہے‘ اور وقت کے جتنے بنیادی مسائل ہیں ان کا حل ایک حکیمانہ انداز سے تجویز کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے دور جدید کے مریضانہ رحجانات پر‘ خواہ وہ کتنے ہی عام اور مقبول ہوں‘ ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ ان کا پول کھل گیا ہے اور ان کی تباہ کاری واضح ہو گئی ہے۔

فتنہ و فساد‘ بے پردگی‘ سود‘ مغربی جمہوریت‘ ضبط ولادت جیسے عالم گیر مہلک امراض کی صحیح تشخیص کرکے ایک عالمانہ بصیرت و جرأت کے ساتھ ان کے علاج کا نسخۂ شفا تجویز کرنا‘ ایک بے مثال کارنامہ ہے جو مولانا مودودیؒ کی تحریک اسلامی نے انجام دیا ہے۔ فکر و عمل دونوں کے اعتبار سے   اس تحریک کی رہنمائی مسلم و غیرمسلم معاشروں کے لیے عام ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کا لٹریچر       رائج الوقت غلط افکار و خیالات کی قطعی تردید کر کے ان کے متبادل صحیح نظریات و تصورات مؤثر ترین اسلوب میں پیش کرتا ہے۔ ان حقائق کے مدنظر عصر حاضر میں مولانا مودودیؒ کو صرف مسلم امہ کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مجدد کہا جا سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ مولانا کی تحریروں کو مناسب طور سے دنیا کی تمام زبانوں میں شائع کیا جائے اور ان کی دکھائی راہوں پر عمل کرنے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔

غیرمسلم معاشروں میں تحریک کا طریق کار

                ۱-            مولانا مودودیؒ نے اسلامی تحریک کی رہنمائی کا جو کام اپنے لٹریچر سے کیا ہے‘ اسے غیرمسلم معاشروں میں ایک انسانی تحریک کی حیثیت سے‘ جو فی الواقع اسلامی تحریک بجاے خود ہے‘ پیش کیا جائے۔ اس لیے کہ انسانیت کی اصلاح و ترقی‘ یعنی انسان دوستی یا انسان سازی ہی مولانا کی ساری جدوجہد کا منشا و مقصود رہا ہے۔ اسی لیے انھوں نے اسلامی نظریۂ حیات اور موجودہ مسلم فرقے کے درمیان فرق و امتیاز کیا‘ اور خلافت راشدہ کے بعد کی عام مسلم تاریخ کو خالص اسلامی تاریخ کہنے سے انکار کیا۔

                ۲-            مختلف اہم موضوعات پر مولانا کے مباحث کا خلاصہ انھی کی تصانیف سے‘ انھی کے لفظوں میں تیار کر کے ہر قابل ذکر زبان میں وسیع پیمانے پر شائع کیا جائے۔

                ۳-            اس مقصد کے لیے ایک علمی ادارہ کسی معروف مصنف کے زیر قیادت مستعد رفقاے کار کے ساتھ مناسب مقام پر قائم کیا جائے‘ جس میں رہایش وغیرہ کی تمام ضروری سہولتیں اور نشرواشاعت کے جدید ترین کاروباری وسائل مہیا ہوں۔ ابتدائی و بنیادی سرمائے کے ساتھ یہ ادارہ حتی الوسع خود کفیل ہو جائے اور اپنی جگہ خود مختار ہو۔

                ۴-            افکار مودودی کی اشاعت اور اس کے مطابق مسلم یا غیرمسلم معاشرے میں عملی جدوجہد کے لیے دنیا کے جو ادارے بھی تعاون کرنا چاہیں ‘ان کے ساتھ تعاون کیا جائے۔

                ۵-            غیر مسلم معاشروں کی سب سے مقبول زبان انگریزی ہے۔ لہٰذا اس زبان پر قدرت رکھنے والوں سے ادبیات مودودی کی تلخیص و ترتیب کا کام لیا جائے۔

                ۶-            مغرب کی زبانوں میں فرانسیسی‘ جرمن‘ روسی‘ اطالوی اور مشرق کی زبانوں میں عربی‘ فارسی‘ چینی‘ جاپانی‘ ہندی‘ بنگلہ‘ سواحلی وغیرہ میں بھی کام کیا جائے۔

                ۷-            مولانا مودودیؒ کے خیالات کو فکری و عملی طور پر پھیلانے کے لیے دینی جذبے سے سرشار کارکن‘ رکھے جائیں‘ جو کھلے ذہن اور صالح کردار کے ساتھ کام کریں۔

نظریاتی مقابلے کے موجودہ دور میں وہ جدوجہد بہت ضروری ہے جس کا ایک مختصر خاکہ اوپر پیش کیا گیا۔ اس سلسلے میں تاخیر و تامل نقصان دہ ہو گا۔ آج عالمی ذرائع ابلاغ (Media)‘ خاص کر ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے‘ ایک وحشیانہ تہذیب و تمدن کو‘ سائنس اور ٹکنالوجی کے بل پر‘ فروغ دے رہے ہیں۔ لہٰذا‘ ان کو ناکام بنانے اور صحت مند تعمیری اقدارِ انسانیت کو نمایاں کرنے میں مزید تاخیر کو راہ نہ دی جائے۔ اس معاملے میں مستعدی و چستی وقت کی پکار ہے!

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا شمار بلاشبہہ بیسویں صدی کے نامور ترین مفکرین اور علماے اسلام میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی ۶۰سالہ علمی اور ادبی زندگی میں دینی‘ ملّی اور اجتماعی زندگی کے کم و بیش ہر پہلو پر لکھا ہے۔ ان کی تحریروں کا بنیادی مطمح نظر فکر اسلامی کی تجدید‘ مسلم معاشرے کی تشکیل نو اور مسلمانوں کی گمشدہ اسلامی میراث کی بازیافت ہے۔ اپنی ابتدائی تحریروں میں مولانا مودودیؒ کے خیالات پر جن دینی شخصیتوںکے اثرات غیر معمولی طور پر محسوس ہوتے ہیں‘ ان میں آٹھویں صدی ہجری کے مشہور مجدد اور مصلح علامہ ابن تیمیہ ؒ کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ ابن تیمیہؒ سے مولانا مودودیؒ کی عقیدت بہت قدیم بھی ہے اور ابتدا میں  بڑی شدید بھی تھی۔ مولانا کی جن کتابوں کو ان کے نظام فکر میں کلیدی حیثیت حاصل ہے‘ ان میں تجدید و احیاے دین ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک مقالہ تھا جو انھوں نے ۴۱-۱۹۴۰ء میں الفرقانکے شاہ ولی  ؒاللہ نمبر کے لیے لکھا تھا۔ مولانا نے اس مقالے میں       نہ صرف تصور تجدید اور احیاے دین پر مفصل بحث کی اور اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا‘ بلکہ اسلامی تاریخ کی جن نامور شخصیتوں کو وہ تجدید و احیاے اسلام کا نمایندہ سمجھتے ہیں ان کے  کام پر بھی انھوں نے روشنی ڈالی ہے۔

اس مقالے یا کتاب کی تصنیف کے دوران مولانا مودودیؒ کے ذہن میں تجدید کا جوخاص تصور تھا اس کو سامنے رکھتے ہوئے انھوں نے مختلف مجددین کے کام پر تبصرے کیے اور جہاں جہاں بہتری کی گنجایش محسوس کی اس کی نشان دہی کی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیاے اسلام کو جس شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا‘ اس نے مولانا کے نوجوان ذہن اور حساس دل پر گہرا اثر ڈالا۔ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ دنیا میں ہر جگہ مسلمان ہی زوال کا شکار ہیں‘ اور زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نظر نہیں آتا جس میں مسلمانوں کا زوال نمایاں نہ ہو۔ اس ہمہ گیر زوال اور کمزوری کے احساس نے مولانا کے تصورِ تجدید پرگہرا اثر ڈالا۔ جس زمانے میں وہ یہ مقالہ لکھ رہے تھے ان دنوں دنیاے اسلام میں انحطاط و زوال کی بڑھتی ہوئی تاریکیوں کے مشاہدے نے ان کے دل میں تجدیدِکامل کی ضرورت کا احساس پیدا کیا۔ چنانچہ اس پوری کتاب کی اٹھان مجددِکامل یا تجدیدِ کامل کے تصور پر ہے۔یہ تجدیدِ کامل جس کی ضرورت کا احساس مولانا کو بیسویں صدی کے نصف اول میں ہوا‘ اس کی روشنی میں جب انھوں نے بیسویں صدی سے پہلے کے مجددین کے کام کا جائزہ لیا تو کئی جگہ ان کو وہ خلا محسوس ہوا جو نہ خود ان مجددین کو محسوس ہوا تھااور نہ کبھی دیگر مؤرخین نے اس کی نشان دہی کی۔

اس پس منظر میں جہاں مولانا مودودیؒ بہت سے مجددین کے کام کا جائزہ لیتے ہیں اور وہاں موجود اس خلا کی نشان دہی کرتے ہیں جو ان کو محسوس ہوا‘ وہیں وہ ابن تیمیہؒ جیسی قد آور شخصیت کا تذکرہ بھی بہت بھرپور انداز سے کرتے ہیں۔ ایسا ہونا شاید ناگزیر بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولانا مودودیؒ نے انھی دنوں ابن تیمیہؒ کی تحریروں کا تازہ تازہ مطالعہ کیا تھا۔ ابن تیمیہؒ کے تذکرے میں جو جوش و خروش اور تاثر پذیری نظر آتی ہے اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ آٹھویں صدی کے بالغ نظر اور انتہائی پرجوش مصلح کے گہرے اثرات نوجوان مصنف اور مستقبل کے مصلح کے قلم پر پڑرہے ہیں۔ اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس مقالے کے لکھے جانے سے کچھ ہی قبل‘ ۱۹۳۷ء اور ۱۹۳۸ء کے سالوں میں‘ مولانا نے ابن تیمیہؒ اور ان کے شاگرد رشید ابن القیمؒ کی تصنیفات سے بہت استفادہ کیا۔

ابن تیمیہؒ کے اثرات مولانا پر ایک دوسرے راستے سے بھی پہنچے۔ یہ راستہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی کتاب حجۃ اللّٰہ البالغہ ہے۔ حجۃ اللّٰہ البالغہ کے بارے میں بعض اربابِ نظر کا کہنا ہے کہ اس کے بعض حصے ابن تیمیہؒ کی کتابوں کے براہ راست اثرات کے تحت لکھے گئے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی حجۃ اللّٰہ البالغہکے بعض ابواب اور علامہ ابن تیمیہؒ کے خیالات میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ مولانا نے ۳۹۔۱۹۳۸ء کے سالوں میں حجۃ اللّٰہ البالغہکے بعض حصوں کا ترجمہ کیا۔ یہ وہ حصے تھے جہاں شاہ ولی ؒاللہ کے افکار اور ابن تیمیہؒ کے خیالات میں گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔       یہ مضامین جو حجۃ اللّٰہ البالغہکے مختلف ابواب کے آزاد ترجمے سے عبارت ہیں‘ ۳۹-۱۹۳۸ء کے سالوں میں ترجمان القرآن میں شائع ہوئے۔

ان مقالات کے موضوعات کے ایک سرسری جائزے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ مولانا مودودیؒ اور خود شاہ ولی ؒاللہ کے خیالات پر ابن تیمیہؒ کے اثرات کہاں کہاں ہوئے ہیں۔ چند عنوانات ملاحظہ فرمائیں: ۱- توحید و شرک‘۲-حقیقت شرک‘۳-اقسام شرک‘ ۴-علوم نبوی کی اقسام‘ ۵-مصالح اور شراع کا فرق‘ ۶-نبی سے اخذِشرع کی کیفیت‘ ۷-چوتھی صدی ہجری کا فقہی و مذہبی اختلاف‘ ۸-دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب ‘ ۹- اسلام کا فلسفہ عمران‘ ۱۰-اسلامی قانون معیشت‘اس کی روح اور اصول‘۱۱- اہم ترین تمدنی مفسدات کا انسداد‘ ۱۲- نرخوں کا حکماً مقرر کیا جانا‘ ۱۳- معاملات میں فضل اور فیاضی‘ ۱۴- اختلافی مسائل اور نقطۂ عدل۔ ان جیسے عنوانات سے یہ بات پورے طور پر سامنے آ جاتی ہے کہ ابن تیمیہؒ کے اثرات مولانا مودودیؒ کے افکار پر کن کن راستوں سے پڑ رہے ہیں۔

موضوعات و خیالات کے اس اشتراک کے علاوہ بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کو  ابن تیمیہؒ کی شخصیت میں ایک ایسا دینی آئیڈیل نظر آیا جس کے نظریات‘ تحریروں‘ تحریکی ردعمل اور رویہ ان کو خود اپنے خیالات‘ تحریروں اور رویے سے بہت ملتا جلتا معلوم ہوا۔ ان دونوں شخصیتوں میں یہ مشابہت اتنی گہری اور نمایاں ہے کہ ان دونوں کے کام اور افکار کا کوئی ناقد اور مبصر اس سے صرف نظر نہیں کر سکتا۔

مزید برآں دونوں فکروں کو جس فکری ماحول میں کام کرنے کا موقع ملا وہ بھی قریب قریب یکساں ہی تھا۔ ابن تیمیہؒ نے جس دور میں آنکھیں کھولیں وہ سیاسی اعتبار سے افراتفری اور عسکری اعتبار سے مسلمانوں کی پستی کا دور تھا ۔ مشرق سے جنگجو تاتاریوں کا سیلاب جو کم و بیش ۱۰۰سال قبل اٹھا تھا‘ اس نے دنیاے اسلام کے شہر کے شہر زمین بوس کر دیے تھے اور لاکھوں   بے گناہ کلمہ گو مسلمانوں کو تہہ تیغ کر ڈالا تھا۔ تاتاریوں کی ان تباہ کن ترک تازیوں کے نتیجے میں چند ایک کے علاوہ جن میں دہلی کی سلطنت بھی شامل تھی‘ دنیاے اسلام کی تمام بڑی  بڑی حکومتیں ایک ایک کر کے یا تو سرنگوں ہو چکی تھیں اور لرزہ براندام تھیں‘ یا بالکل ہی دم توڑچکی تھیں۔

کم و بیش یہی منظر مولانا مودودیؒ نے بیسویں صدی میں دیکھا۔ اس صدی کی تیسری دہائی مسلمانوںکی تباہی کے وہ عبرت ناک منظر لے کر آئی جس کی کوئی نظیر اگر اسلام کی تاریخ  میں ملتی ہے تو وہ تاتاریوں ہی کی ہولناکیوں میں ملتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب سلطنت عثمانیہ دم توڑ رہی تھی‘ مشرقی یورپ میں جگہ جگہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی اور مختلف    مغربی طاقتیں ایک ایک کر کے دنیا بھر کی مسلم ریاستوں کو تاخت و تاراج کر رہی تھیں۔ انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک اور تاتارستان سے لے کر زنجبار تک کوئی مسلم حکومت ایسی نہ تھی جو  دنیاے مغرب کے پنجے تلے نہ کراہ رہی ہو۔

تاہم ‘تاتاریوں کی تاخت و تاراج اس اعتبار سے مغربی تاراج سے بہتر تھی کہ تاتاریوں کی لائی ہوئی تباہی کے اثرات صرف عسکری اور مادی پہلوئوں تک محدود تھے۔ تاتاریوں نے بلاشبہہ لاکھوں انسان تہہ تیغ کیے‘ درجنوں شہر زمیں بوس کیے‘ سیکڑوں کتب خانے نذر آتش کیے اور بے شمار کھیتیاں اور نسلیں برباد کیں۔ لیکن اس سب کے باوجود تاتاریوں کے نہ کوئی مذہبی عزائم تھے‘ نہ کوئی تہذیبی ایجنڈا تھا اور نہ کوئی ثقافتی اور تمدنی منصوبہ تھا۔ کم از کم ان میدانوں میں انھوں نے مسلمانوں سے کوئی تعرض نہ کیا۔ اس کے برعکس مغرب کی استعماری قوتیں ایک مذہبی پروگرام کے ساتھ دنیاے اسلام میں داخل ہوئی تھیں۔ ان کا ایک مفصل تہذیبی ایجنڈا بھی تھا اور ایک تعلیمی پروگرام بھی ۔ اس لیے جو منفی اثرات بیسویں صدی کی تباہی اور زوال کے نتیجے میں پیدا ہوئے وہ ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کی تباہی کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ کر تھے۔اس سے یہ نتیجہ بلاخوف تردید نکالا جا سکتا ہے کہ جو فکری چیلنج مولانا مودودیؒ اور ان کے ہم عصر مفکرین کے سامنے تھا وہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا جس کا سامنا ابن تیمیہؒ کو کرنا پڑا۔

ابن تیمیہؒ اور مولانا مودودیؒ دونوں نے اپنے اپنے دور میں ان فکری چیلنجوں سے  عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی جو ان کے دور میں مسلمانوں کو درپیش تھے۔ لیکن یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ابن تیمیہؒ جس چیلنج کا سامنا کر رہے تھے وہ یونانی منطق اور فلسفے کا پیدا کردہ تھا۔ بلاشبہہ ابن تیمیہؒ کی نقض المنطق اور الردعلی المنطقیین انتہائی عالمانہ کتابیں ہیں اور یونانی منطق پر مسلمانوں کی تنقید کا بہترین نمونہ ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی امر واقعہ ہے کہ ابن تیمیہؒ کے دور تک آتے آتے یونانی منطق اور فلسفہ ویسے ہی ادھ موئے ہو چکے تھے۔ مسلمانوں میں ابن تیمیہؒ سے پہلے غزالیؒ اور رازیؒ جیسے اساطین علم و فکر یونانی منطق اور فلسفے پر زبردست اور تابڑ توڑ حملے کر چکے تھے اور اب یونانی منطق اور فلسفے کے خلاف آواز اٹھانا آسان بھی تھا اور اس کے لیے مواد بھی دستیاب تھا۔

اس کے برعکس جب مولانا مودودیؒ اور ان کے ہم عصر دوسرے مسلم مفکرین نے   تنقید ِمغرب کے کام کا آغاز کیا تو مغربی افکار و نظریات انتہائی تازہ دم اور ہر قسم کی تنقید کو سہنے کے لیے پورے طور پر تیار تھے۔ جن دنوں امام غزالیؒ اور امام رازیؒ یونانی منطق پر تنقیدیں کر رہے تھے‘ وہ دور اہل مغرب کے بالعموم اور اہل یونان کے بالخصوص سیاسی انحطاط اور کمزوری کا دور تھا۔ یہ وہ دور ہے جب کم از کم یورپ میں کوئی سیاسی قوت ایسی موجود نہ تھی جو یونانی افکار کے تحفظ اور دفاع کے لیے کھڑی ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ غزالیؒ اور رازیؒ اور ان کے بعد ابن تیمیہؒ کی تنقیدوں کے جواب میں جو آوازیں منطق اور فلسفے کے دفاع میں اٹھیں ان کو کسی حکومت یا سیاسی قوت کی تائید حاصل نہ تھی۔ ان حضرات کی کاوشوں کی علمی قدروقیمت اپنی جگہ‘ لیکن کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ یہ حضرات ایک ایسے فلسفے اور نظریے پر تنقید کر رہے تھے جس کو ہم بلاخوف تردید سیاسی اعتبار سے ایک یتیم فلسفہ قرار دے سکتے ہیں۔ اس کے برعکس جس فلسفے اور نظریے کو مولانا مودودیؒ اور ان کے معاصرین نے تنقید کا نشانہ بنایا‘ اس کی پشت پر بڑی بڑی مضبوط سلطنتیں اور سیاسی قوتیں موجود تھیں جن کا سوچا سمجھا مطمح نظر اور طے شدہ ایجنڈا ہی یہ تھا کہ اپنی سیاسی قوت کو اپنے نظریات کے فروغ میں استعمال کیا جائے۔

بیرونی افکار پر تنقید اور مغربی فکر و فلسفے کے ناقدانہ جائزوں اور تبصروں سے قطع نظر ان دونوں حضرات کی علمی اور دینی کاوشوں کا اہم ترین میدان تجدید و اصلاحِ دین ہے۔ مسلمانوں میں رائج دینی تصورات کی قرآن و سنت کی روشنی میں تنقید اور کمزور پہلوئوں کی اصلاح ان دونوں شخصیتوں کے کام اور دل چسپی کا اصل میدان ہے۔ دونوں کو اپنے معاصر علما اور دینی اکابر کی شدید تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی ایک امر واقعہ ہے کہ ان دونوں شخصیتوں کا لب ولہجہ اور زور بیان اختلافی مسائل و معاملات میں ایک دوسرے سے بہت مشابہ ہے۔ اس بات کو زیادہ واضح اور دو ٹوک انداز میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ جس زور شور سے ان دونوں حضرات کا قلم تنقیدی مسائل پر اٹھتا ہے وہ اپنی ایک الگ ہی شان رکھتا ہے۔ غالباً یہ بتا دینا خلاف ادب نہ ہو گا کہ ان دونوں حضرات کے خلاف ان کے معاصر علما کے لہجوں میں شدت کا ایک اہم سبب ان حضرات کا وہ انداز بیاں بھی تھا جو انھوں نے اختلافی معاملات میں اختیار فرمایا۔

مولانا مودودیؒ اور ابن تیمیہؒ دونوں اپنے اپنے اجتہادو تفردات میں بھی ایک دوسرے سے بڑی مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ ان تفردات کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ   نہ صرف خود یہ دونوں حضرات بلکہ ان کے مخاطبین‘ متاثرین اور ہمدردوں کی بڑی تعداد کی توجہ اور صلاحیتیں اپنے اپنے تفردات کا دفاع کرنے میں صرف ہوئیں اور اصلاح عقائد اور تعمیر ملت کا وہ کام پس منظر میں چلا گیا جس کا حصول ان دونوں جلیل القدر بزرگوں کا مقصود اولین تھا۔

عقلیات مغرب پر تنقید کے باب میں جہاں مولانا مودودیؒ اور ابن تیمیہؒ میں خاص مشابہتیں پائی جاتی ہیں وہاں ان دونوں حضرات میں کئی اعتبار سے فرق بھی ہے۔ چونکہ مولانا اصلاً ایک سیاسی مفکر اور ایک ایسی جماعت کے سربراہ تھے جس نے انتخابی سیاست میںبھرپور حصہ لیا‘ اس لیے مولانا کی تنقید میں سیاسی اسلوب اور مکالمے کا رنگ جھلکتا ہے۔ جہاں مولانا مغرب کی فکری کمزوریوں کی نشان دہی کرتے ہیں وہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کو اٹھ کھڑا ہونے اور کچھ کر گذرنے پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کی تنقید میں خالص علمی اور فکری دلائل کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی قائد کا سا خطیبانہ انداز بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ یوں بھی مولانا کے ہاں خطابی دلائل ان کی ابتدائی تحریروں میں کثرت سے ملتے ہیں۔

اس کے برعکس ابن تیمیہؒ اصلاً ایک فقیہہ‘ متکلم‘ مناظر اور محدث تھے۔ اس لیے ان کی تنقیدی تحریریں ذرا مختلف انداز کی ہیں۔ ایک محدث کی سی دقت نظر‘ جزئیات کو بیان کرنے کا محدثانہ اسلوب اور مغربی افکار پر خالص دینی نقطۂ نظر سے تنقید کے دوران بھی ابن تیمیہؒ منطقی دلائل کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔

یوں تو مولانا مودودیؒ اور ابن تیمیہؒ دونوں کے ہاں عقل و نقل کا امتزاج یکساں طور پر پایا جاتا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ابن تیمیہؒ کا زیادہ زور نقل پر اور مولانا کا عقل پر ہے۔ شاید اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ ابن تیمیہؒ کی ذہنی تشکیل اور علمی ساخت علمِ حدیث کے ماحول میں ہوئی‘ اس لیے ان کی تحریروں پر نقل کا اسلوب غالب ہے۔ اس کے برعکس مولانا مودودیؒ اپنے ابتدائی کیریئر میں چونکہ صحافی رہے‘ اس لیے ان کو عامۃ الناس کی سطح پر بڑی تعداد میں ایسے لوگوں کو اپنا مخاطب بنانا پڑا جو کسی دینی پس منظر کے حامل نہ تھے‘ چنانچہ انھیں لازماً ایسا اسلوب اپنانا پڑا جس میں اپیل کی اصل بنیاد نقل کے بجاے عقل ہو۔ چنانچہ عقلی اپیل کا یہ اسلوب مولانا کی تحریروں کا طرئہ امتیاز بن گیا۔ اس اسلوب کا ایک نمایاں مظہر یہ بھی ہے کہ جہاں مولانا خالص دینی معاملات پر گفتگو کرتے ہیںوہاں بھی ان کے طرز استدلال میں عقل کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔ اس کی نمایاں مثال ان کی کتاب سنت کی آئینی حیثیت ہے جو ایک ایسے موضوع پر ہے جس کا تعلق خالصتاً نقل کے میدان سے ہے‘ لیکن اس کتاب میں بھی مولانا کا عقلی استدلال (بمقابلہ نقلی دلائل) نمایاں اور غالب معلوم ہوتا ہے۔

ان دونوں شخصیتوں کا ایک اہم اور مشترک وصف ان کا داعیانہ جوش بھی ہے۔ یہ داعیانہ جوش مولانا مودودیؒ کی ابتدائی تحریروں میں بہت نمایاں نظر آتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ (بالخصوص قیام پاکستان کے بعد) جب مولانا کو سیاسیات کے تلخ حقائق سے واسطہ پڑا تو ان کے ہاں گفتگو اور مکالمے میں ایک نیا انداز سامنے آیا۔ اس   نئے انداز میں نسبتاً زیادہ ٹھیرائو‘ زیادہ احتیاط اور زور بیان کی ارادی کمی معلوم ہوتی ہے۔

غالباً ابن تیمیہؒ کو ایسی کسی صورتحال سے دوچار نہیں ہونا پڑا اس لیے ان کے ہاں ایسی کوئی تبدیلی نمایاں طور پر محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ زور بیان دونوں کے ہاں غیر معمولی ہے۔

یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اردو زبان میں دینی ادب تخلیق کرنے والے اہلِ علم میں مولانا مودودیؒ  کا درجہ اگر سب سے اونچا نہیں تو بہت اونچا ضرور ہے۔ اگر اردو زبان کے دینی ادیبوں اور اہل قلم کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہونے والی دو ایک شخصیتوں کا انتخاب کیا جائے تو یقینا مولانا مودودیؒ ان میں سے ایک ہوں گے۔ ان کا درجہ علامہ شبلی نعمانی ؒ‘ مولانا عبدالماجد دریا بادیؒ اور مولانا ابوالحسن علی ندویؒ جیسے جید ترین دینی ادیبوں سے اگر بڑھ کر نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں۔ لیکن ابن تیمیہؒ کے پورے احترام کے باوجود یہ عرض کر دینے میں مضائقہ نہیں کہ عربی زبان و ادب کی تاریخ نے ابن تیمیہؒ کو بطور ایک ادیب تسلیم نہیں کیا۔ عربی زبان میں دینی موضوعات پر جن شخصیتوں کا زور بیان اور ادیبانہ اسلوب ضرب المثل ہے ان میں ابن تیمیہؒ  کا نام نظر نہیں آتا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عربی زبان کی عمر اردو سے کم از کم  آٹھ گنا زیادہ ہے اور عربی زبان میں اعلیٰ ترین دینی ادب تخلیق کرنے والوں کی تعداد شاید اُردو زبان کے مقابلے میں کئی ہزار گنا ہو۔ ان حالات میں شاید ابن تیمیہؒ اور مولانا مودودی ؒ کا یہ تقابل مبنی بر انصاف نہ ہو۔

اوپر ان دونوں شخصیتوں کے حوالے سے تفردات کی بات کی گئی تھی۔ تفردات میں بھی یہ دونوں شخصیتیں ایک دوسرے سے خاصی مشابہت اور مماثلت رکھتی ہیں۔ دونوں کا جذبۂ اخلاص‘ دونوں کی حیرت انگیز تائید ‘دونوں کی بے مثال جرأت اور دونوں کا اپنے نقطۂ نظر اور اپنی رائے پر اصرار حیرت انگیز طور پر مشابہت رکھتا ہے۔

ابن تیمیہؒ کے انتقال کے کم و بیش ۶۰۰ سال بعد ان کے اجتہادات و تفردات کی علم بردار ایک حکومت قائم ہوئی جس نے ابن تیمیہؒ کے اثرات کو چار دانگ عالم میں پھیلا دیا۔ آج  روے زمین پر بہت کم دینی اور اسلامی کتب خانے ایسے ہوں گے جہاں ابن تیمیہ کی تصنیفات دستیاب نہ ہوں۔ آج کوئی دینی درس گاہ مشکل سے ہی ایسی ملے گی جہاں ابن تیمیہؒ کی کسی نہ کسی تصنیف سے اعتنا کرنے والے موجود نہ ہوں۔ آج دنیا کے کسی بڑے ملک میں جہاں جہاں مسلمان قابل ذکر تعداد میں آباد ہیں‘ ابن تیمیہؒ کے اجتہادات پر عمل کرنے والے بھی سرگرم نظر آتے ہیں۔ بعض اہم مسائل میں دنیاے اسلام میں ابن تیمیہؒ کے اجتہادات و تحقیقات کو قبول عام حاصل ہو چکا ہے۔ شاید ابن تیمیہؒ کی قوت استدلال‘ داعیانہ جوش‘ کثرت معلومات و شواہد اور زور بیان نے ان کے نقطۂ نظر کو بہت سے حلقوں میں منوا لیا ہے۔ مثال کے طور پر توہین رسالتؐ کی سزا کے معاملے میں آج دنیا میں ہر جگہ ابن تیمیہؒ ہی کی رائے کو قبول عام حاصل ہے۔ بہت سے لوگوں کو شاید یہ معلوم بھی نہیں کہ اس معاملے میں امام ابو حنیفہؒ اور احناف کی رائے کیا رہی ہے۔

ابن تیمیہؒ کے برعکس مولانا مودودیؒ کے افکار و خیالات کو قبول عام حاصل کرنے کے لیے نہ ۶۰۰سال انتظار کرنا پڑا اور نہ ان کو کسی حکومتی سرپرستی کی ضرورت پڑی۔ان کی زندگی ہی میں ان کے خیالات دنیاے اسلام میں ہر جگہ پہنچے‘ ہر ملک میں مقبول ہوئے اور ان کے اجتہادات و تفردات کو جوش و جذبے سے قبول کرنے والے بھی بڑی تعداد میں سامنے آئے۔ ابن تیمیہؒ کے افکار کے فروغ میں جو کردار حکومت سعودی عرب نے انجام دیا‘ وہی بلکہ اس سے بڑھ کر موثر کردار ان بے شمار دینی و ملی تحریکوں و تنظیموں نے انجام دیا جو مولانا مودودیؒ  کے حلقے سے وابستہ سیکڑوں بلکہ ہزاروں نوجوانوں نے دنیا کے کونے کونے میں قائم کیں۔ ابن تیمیہؒ کی طرح مولانا مودودیؒ کے افکار بھی دنیا میں اتنی تیزی سے پھیلے ہیں کہ ان کی چھاپ بیسویں صدی کے اسلامی اور دینی ادب پر نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔

اپنی تمام عظمتوں اور تاثیر کے باوجود مولانا مودودیؒ ایک انسان تھے۔ دوسرے انسانوں کی طرح مولانا مودودیؒ اور ابن تیمیہ ؒ بھی ان تمام تحدیدات سے محدود اور ان تمام قیود کے پابند تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مقید اور محدود کیا ہے۔ نہ صرف ان دونوں کے بارے میں بلکہ تاریخ اسلام کی تمام عظیم شخصیتوں کے بارے میں محفوظ و مامون طرز عمل وہی ہے جس کی نشان دہی امام مالکؒ نے ساڑھے بارہ سو سال پہلے فرمائی تھی:

کل یوخذ من قولہ و یترک الا صاحب ھذا القبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم:ہرشخص کے اقوال کا ایک حصہ قابل قبول اور ایک حصہ ناقابل قبول ہے۔ اس باب میں صرف ایک ہی استثنا ہے اور وہ (روضۂ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) اس صاحبِ قبر کا ہے۔

ہمارا رویہ ان دونوں شخصیتوں کے بارے میں یہی ہونا چاہیے۔