مضامین کی فہرست


جولائی ۲۰۰۳

بھارت کے نام ور اہل قلم ڈاکٹر ابن فرید (محمود مصطفی صدیقی) ۸ مئی ۲۰۰۳ء کی صبح‘  علی گڑھ میڈیکل کالج میں اپنے رب سے جاملے--- اناللّٰہ وانا الیہ راجعون!

ابن فرید کے ایک دیرینہ رفیق ڈاکٹر سید عبدالباری‘ جو خود بھی ایک معروف ادیب‘ شاعر اور نقاد ہیں اور ان دنوں دہلی سے شائع ہونے والے ادبی ماہنامے پیش رفت کے مدیر ہیں‘ اُن کی  رسمِ تدفین میں شریک رہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ابن فرید کا جسدِخاکی علی گڑھ سے ان کے آبائی وطن   ظفر پور نزد ست رکھ (ضلع بارہ بنکی) لے جایا گیا اور علم و ادب کے اس تابناک پیکر کو ۹مئی ۲۰۰۳ء کو نمازِ فجرکے بعد’’ایک پُرفضا وادی میں چڑیوں کی چہکار‘ مور کی چنگاروں اور ہرے بھرے درختوں کے درمیان‘‘ ان کے آبائی قبرستان میں ان کی رفیقۂ حیات کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

ان کی اہلیہ امّ صہیب‘ رام پور سے خواتین کا ماہنامہ حجاب نکالتی تھیں۔ آخری زمانے میں ابن فرید‘  حجاب کے ادارتی اور انتظامی امور میں‘ اہلیہ کے شریک و معاون رہے۔ اکتوبر ۲۰۰۲ء میں امّ صہیب کا انتقال ابن فرید کے لیے‘ غیرمعمولی طور پر صدمہ انگیز ثابت ہوا۔ انھوں نے نومبر ۲۰۰۲ء میں حجاب بندکرنے کا اعلان کر دیا۔ پھر کچھ عرصے کے بعد‘ ڈاکٹر سیدعبدالباری کو رام پور بلا کر‘ اپنی دو درجن کتابوں کے مسودے ان کے حوالے کیے--- انھیں ہدایت کی کہ وہ ان کا نہایت محنت اور ذوق و شوق سے جمع کردہ ہزارہا اُردو اور انگریزی کتابوں اور رسالوں کا بیش قیمت ذخیرہ دہلی لے جا کر‘ جماعت اسلامی ہند کی مرکزی لائبریری کو عطیہ کردیں۔ لگتا ہے آخری زمانے میں وہ سفرآخرت کی تیاری میں تھے: ’’انشا جی‘ اٹھو اب کوچ کرو‘‘۔

ڈاکٹر ابن فرید اُردو کے معروف ادیب‘ صاحب ِ طرزافسانہ نگار‘ اعلیٰ درجے کے محقق اور نقاد تھے۔ تحریک اسلامی ان کی روح اور فکر میں بسی ہوئی تھی۔ انھوں نے مغرب زدہ فحش اور بے ہودہ ادبی رجحانات کی تاریکی میں تعمیری ادب کا چراغ روشن کیا۔ وہ ادارئہ ادب اسلامی‘ ہند کے بانی صدر تھے۔ مختلف اوقات میں کئی علمی اور ادبی پرچوں (دانش‘ معیار‘ نئی نسلیں‘ ادیب اور انڈین جرنل آف سوشل سسٹم) کے مدیر رہے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک معلم تھے۔ کئی برس تک علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے شعبۂ عمرانیات میں لیکچرر رہے‘ ایک مختصر عرصے کے لیے اسلامی درس گاہ رام پور میں اور چار سال (۱۹۸۴ئ-۱۹۸۸ئ) ملک عبدالعزیز یونی ورسٹی جدہ میں بھی تدریسی فرائض انجام دیے۔

وہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۲۵ء کو ظفرپور‘ ضلع بارہ بنکی (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا    ضلع بارہ بنکی کے تعلق داروں میں سے تھے اور ننھیال بھی تعلقدار تھے مگر ابن فرید اس تعلقدارانہ حسب و نسب کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ وہ ’’پدرم سلطان بود‘‘ کے قائل نہیں تھے۔ ان کے والد ایک معمولی زمیندار اور کثیرالعیال تھے۔ ابن فرید اور اُن کے دو بھائی میٹرک‘ ہائی اسکول کے مرحلے تک پہنچے تو ایک دن والد نے سب کو جمع کرکے کہا: ’’تم گیارہ بھائی بہن ہو‘ میں تم سب کو کیسے پڑھائوں؟‘‘ ابن فرید نے برجستہ کہا:’’ابو‘ میں ہائی اسکول سے آگے نہیں پڑھوں گا‘ اگر مجھے پڑھنا ہوگا تو اپنے طور پر پڑھوں گا‘‘۔ چنانچہ ہائی اسکول کے بعد انھوں نے ساری تعلیم اپنے وسائل سے حاصل کی۔ اُن کی باقی زندگی اس خوددارانہ اور پرعزم جدوجہد کی سبق آموز داستان ہے۔

وہ میٹرک کے فوراً بعد لکھنؤ کے ملٹری ریکارڈ آفس میں کلرک ہوگئے۔ پھر رائل انڈین فورس میں ایئرمین ہوگئے۔ یہ ملازمت دنیاوی اعتبار سے بہت اچھی تھی مگر ابن فرید کو رہ رہ کر خیال ستاتا تھا کہ اس طرح میں عمربھر ’’غیرتعلیم یافتہ‘‘ ہی رہوں گا۔ چنانچہ تین سال بعد‘ اس ملازمت سے جان چھڑائی اور دوبارہ بارہ بنکی میں کلرکی اختیار کی اور اس کے ساتھ پرائیویٹ طور پر پہلے انٹرمیڈیٹ اور پھر بی اے کیا۔ کلرکی کے کام سے انھیں بڑی الجھن ہوتی تھی۔ کہتے ہیں: ’’کلرکی سے مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں اپنی زندگی کو سوکھے چمڑے کی طرح چبا رہا ہوں‘‘۔

حالات قطعی سازگار نہیں تھے لیکن اپنے پائوںپر کھڑا ہونے کے جذبے نے انھیں آگے بڑھنے کے لیے جدوجہد پر اُکسایا۔ علی گڑھ جا کر ایم اے نفسیات میں داخلہ لے لیا اور ایک مرحلے پر امتحانی داخلے کی فیس فراہم کرنے کے لیے بیوی کا زیور رہن رکھنا پڑا۔ انھوں نے یکے بعد دیگرے نفسیات‘ انگریزی ادب اور عمرانیات میں ایم اے کیا۔ یکم اگست ۱۹۷۳ء کو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے شعبۂ عمرانیات میں لیکچرر ہوگئے۔ ۱۹۷۶ء میں عمرانیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ابن فرید اپنی افتادِ طبع میں ایک کھرے‘ سچے اور ایک خوددار انسان تھے۔ بہت اچھی صلاحیتوں کے باوجود‘ انھیں اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لیے غیرمعمولی جدوجہد کرنی پڑی۔ ابن فرید کو خوشامد اور چاپلوسی سے نفرت تھی۔ مصلحت اندیشی کے وہ قائل نہ تھے اس لیے علی گڑھ یونی ورسٹی کی جوڑ توڑ کی سیاست میں وہ ہمیشہ اجنبی اور تنہا (alien)رہے۔ وہ ۱۶ سال تک  شعبۂ عمرانیات سے منسلک رہے۔ اتنے سالوں میں لوگ پروفیسراور صدر شعبہ ہو جاتے ہیں مگر ابن فرید اپنی تمام تر قابلیت‘ علم و فضل اور بلندپایہ تصنیفی و تالیفی کام کے باوجود مئی ۱۹۸۹ء میں‘ لیکچرر کے طور پر ہی ریٹائر ہوگئے۔ قدرناشناسی کی یہ ایک افسوس ناک مثال ہے۔

علی گڑھ میں ان کا مجموعی قیام ۳۲ برس بنتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’علی گڑھ نے مجھے اقبال کے اس شعر کے معنی بہت واضح انداز میں سمجھائے ہیں     ؎ 

بہ خود خزیدہ و محکم چو کوہساراں زی

چو خس مزی کہ ہوا تیز و شعلہ بے باک است

اپنے آپ سے وابستہ رہ اور پہاڑوں کی طرح مستحکم ہوکر زندگی بسر کر۔ تنکے کی طرح زندگی بسر نہ کر کیونکہ ہوا تیز ہے اور شعلے بھڑک رہے ہیں۔

علی گڑھ سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ رام پور میں مقیم ہوگئے تھے۔ حجاب میں اہلیہ کی معاونت کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف میں مصروف رہے۔ جماعت اسلامی رام پور شہر کے امیربھی رہے۔ اس زمانے میں انھیں سکوتو یونی ورسٹی نائیجیریا اور بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی ملائشیا میں عمرانیات کے پروفیسر کے طور پر بلایا گیا۔ لیکن وہ اپنی اور اہلیہ کی صحت کے مسائل کی وجہ سے ان پیش کشوں کو قبول نہ کر سکے۔

ابن فرید نے تقریباً نصف صدی تک ایک بھرپور علمی اور ادبی زندگی گزاری۔ ۵۰ کی دہائی میں وہ ایک باصلاحیت افسانہ نگار کے طور پر سامنے آئے۔ اس کے بعد انھوں نے بہت کچھ لکھا اور اُن کا قلم مختلف اصناف ادب میں رواں دواں رہا۔ ان کی تحریریں ایک پختہ ادبیت‘ نفسیاتی شعور‘ اور مقصدیت سے عبارت ہیں۔ ایک طرف بچوں اور خواتین کے لیے انھوں نے معاشرتی کہانیاں‘ افسانے اور ناول اور مقبولِ عام نفسیات (popular psychology) کی کتابیں لکھیں (بچے کی تربیت ‘ گھریلو جھگڑے‘ ہم کیسے رہیں؟ زندگی کا سلیقہ‘ چھوٹی بہو‘ تھوک کا مکان‘ گھمنڈی گرگٹ)۔ دوسری طرف بلندپایہ افسانے لکھے: (مجموعے: یہ جہاں اورہے‘ میں کا تعاقب‘ خوں آشام)۔ ادبی تنقید کے نفسیاتی اور عمرانی دبستان میں ان کا ایک خاص مقام ہے۔ دو مجموعے (میں‘ ہم اور ادب اور چہرہ پس چہرہ) چھپ چکے ہیں‘ جب کہ چار مجموعے ہنوز اشاعت طلب ہیں (صواب دید‘ ادب داد طلب‘ تحسین قدر‘ ادبی پیش نامے)۔ کچھ اور غیرمطبوعہ مسودے بھی طباعت کے لیے تیار ہیں۔ انگریزی میں وہ ڈاکٹر ایم ایم صدیقی کے نام سے لکھا کرتے تھے اور انگریزی میں تین چار کتابوں کے مصنف اور مؤلف ہیں۔

ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو حصولِ علم کی ایک غیرمعمولی لگن اور اس سلسلے میں ہمیشہ تشنگی کا ایک احساس تھا۔ اس ضمن میں وہ عمر بھر ھَلْ مِنْ مَّزِیْد کے احساس سے سرشار رہے۔ نفسیات‘ انگریزی ادب‘ اور عمرانیات میں تو انھوں نے ایم اے کیا تھا لیکن اپنے طور پر انھوں نے انتھروپولوجی‘ تاریخ‘ تہذیب اور اُردو ادب کا مطالعہ بھی کیا تھا۔ بی اے میں انھوں نے ہندو فلسفہ بطور اختیاری مضمون کے پڑھا۔ اپنے شوق سے انھوں نے بائبل کے مطالعے کے تین سرٹیفیکیٹ حاصل کیے۔ ان کی زندگی علامہ اقبال کے اس شعر کا مصداق تھی    ؎

پڑھ لیے میں نے علومِ شرق و غرب

روح میں باقی ہے اب تک درد و کرب

تقریباً ربع صدی تک راقم کی اُن سے خط کتابت رہی۔ وہ اپنے پسندیدہ موضوعات پر نئی کتابوں اور چند پسندیدہ مصنفین کی تازہ کاوشوں کے ہمیشہ طلب گار رہتے تھے اور پھر ان پر اپنا مختصر تاثر بھی مجھے لکھ دیتے تھے۔ اپنی گوناگوں دل چسپیوں کی بنا پر ہی وہ بین العلومی مطالعے کے قائل تھے۔ ان کی ادبی تنقید میں بھی امتزاجی پہلو نمایاں ہے۔ ان کا علمی اور ادبی کارنامہ مکمل طور پر ابھی سامنے نہیں آسکا ہے۔

ابن فرید تحریک ادب اسلامی کی سربرآوردہ شخصیت تھے۔ وہ ادارۂ ادب اسلامی ہند کے تاسیسی رکن تھے۔ پھر ایک عرصے تک اس کے صدر بھی رہے۔ ۱۹۹۸ء کے اوائل میں وہ مصر میں منعقدہ ایک سیمی نار میں شرکت کے بعد وطن واپس ہوتے ہوئے کراچی اور پھر چار روز کے لیے لاہور میں رکے۔ یہاں بعض معروف ادیبوں اور نقادوں (ڈاکٹر وحید قریشی‘ سید اسعدگیلانی‘ جناب نعیم صدیقی‘ ڈاکٹرانورسدید‘ڈاکٹر سلیم اختر‘ ڈاکٹر تحسین فراقی‘ حفیظ الرحمن احسن‘ ڈاکٹر  سہیل احمد خاں‘ جعفر بلوچ وغیرہ)سے ملے۔ وہ اپنے اس دورے سے بہت خوش تھے۔ ان سے راقم کی پہلی اور آخری ملاقات بھی ان کے اسی دورۂ لاہور کے موقع پر ہوئی۔ ۱۹۸۶ء میں جب میں بھارت گیا تو وہ اس وقت جدہ میں تھے۔ پھر ۱۹۹۷ء میں راقم کو برادرم ڈاکٹر تحسین فراقی کے ساتھ‘ دہلی یونی ورسٹی کے ایک سیمی نار میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ ہم دونوں کا ابن فرید سے ملنے کو بہت جی چاہتا تھا‘ مگر دہلی سے رام پور جانے کی کوئی صورت نہ تھی کہ ویزا فقط دہلی کا ملا تھا‘ اور وہ بھی بڑی مشکل سے--- دہلی یونی ورسٹی کے مہمان خانے میںقیام کے دوران‘ ایک صبح رام پور سے ابن فرید کا فون آیا۔ انھوں نے معذرت کی کہ وہ خرابی صحت کی بنا پر دہلی نہیں آسکتے۔ بہرحال چند منٹ گفتگو ہوگئی۔

ابن فرید کی زندگی ایک واضح نصب العین رکھنے والے باصلاحیت انسان کی‘ محنت و جفاکشی سے بھرپور جدوجہد کی زندگی تھی۔ وہ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والے (self made) لوگوں میں سے تھے۔ انھوں نے ۷۸ سال کی عمرپائی‘ کئی برس سے دل کے مریض تھے۔ مگر انھوں نے رخصت کا نہیں‘ عزیمت کا راستہ اختیار کیا۔ وہ اپنے پیچھے‘ قابل تحسین عمل و کردار کے تابندہ نقوش چھوڑ گئے۔ خدا ان کی روح کو آسودہ رکھے۔ (آمین)

ترجمان القرآن ایک عظیم روایت کا نام ہے۔ اسلامی انقلاب کا یہ سب سے بڑا نقیب ہے۔ اس نے ایک نئی سوچ اور ایک نئے جذبے کو جنم دیا۔ ایک نئے عزم اور ایک نئے نصب العین سے ملّت ِاسلامیہ‘ ہند کو آشنا کرنے کی مہم اپنے ذمے لی۔ سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ملّت کی چارہ گری کے لیے سب سے پہلے مرض کی صحیح تشخیص کا کام کیا اور پھر اس کے معالجے کے لیے اصل نسخے کی تجویز میں اپنی دانائی کا مظاہرہ کیا۔ قرآن سے پھری ہوئی ملّت کو قرآن کی  صحت بخش فضائوں میں لوٹنے کی دعوت دی۔ ترجمان القرآن جس دانش و فکر کا پرچار کر رہا تھا اس کی جڑیں قرآن و سنت میں تھیں۔ اس میںنہ تو معذرت خواہانہ انداز تھا اور نہ نرا تعقّل کارفرما تھا۔ عقل کا پورا استعمال تھا لیکن یہ قرآنی دلائل و براہین سے صیقل تھی۔

ترجمان القرآن میں مولانا مودودی ؒنے ’’رسائل و مسائل‘‘ کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ ہر سوچ اور ہر نقطۂ نظر رکھنے والے لوگوں کے ذہنوںمیں اٹھنے والے ہر طرح کے سوالوں کے جوابات پر مشتمل پانچ جلدوں پر پھیلا ہوا ہے۔ وقت اور حالات نے انسانی ذہن پر کئی رخ سے اثرات ڈالے ہیں۔ نوجوان نسل میں ایک طرح کی بے چینی اور اضطراب آج کا عالمی مسئلہ ہے۔ اس نفسیاتی کیفیت کے باعث نوجوانوں میں باغیانہ رجحانات نے جنم لیا ہے۔ پھرغیرمسلم معاشروں ہی میں نہیں بلکہ خود مسلم معاشروں کے اندر بھی خاندانی نظام کی چولیں کہیں ڈھیلی پڑرہی ہیں اور کہیں بالکل ہی اکھڑچکی ہیں۔ والدین کی اولاد پر گرفت کچھ مصروفیات کی وجہ سے اور کچھ آزادی کے تصور کے تحت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے میڈیا پُر کررہا ہے۔ درس گاہیں عجیب حرکات‘ انوکھے رویوں‘ بدیسی کلچر کی نقالی اور آوارہ فکری کے ابلاغ کے مراکز بنی ہوئی ہیں۔ دین سے لگائو رکھنے والے گھرانوں کی لڑکیاں لڑکے بھی اپنے اندر خیر کے جذبات رکھنے کے باوجود غیرمحسوس طور پر مغرب کے تہذیبی رنگ کے کچھ چھینٹے اپنے اُوپر لے ہی لیتے ہیں۔

ہمیں احساس ہے کہ گذشتہ دس بارہ برسوں میں تشکیل پانے والی اس منفی نفسیات نے اس عرصے میں سوالات کے جواب دینے والے فاضل اصحاب ِ علم کے لیے فضا زیادہ پیچیدہ بنا دی ہے۔ اب معاشرے میں انتشار زیادہ ہے۔ دوسری طرف تربیت کے معیار میں کمی آگئی ہے۔ معلومات میں شاید کچھ اضافہ ہوا ہو لیکن دینی شعور اور مزاج میں ضعف کے آثار زیادہ ہیں۔ ایسی فضا میں دینی بنیادوں پر رہنمائی کے کام کی نزاکت بڑھ گئی ہے۔ ان حالات میں ازدواجی اور عائلی رشتے نہ تو فقہی موشگافیوں کے متحمل ہوسکتے ہیں اور نہ روحِ دین سے منفک عقلیت ہی ان کو سمجھنے اور جانچنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ حسنِ معاشرت ان رشتوں کی بنیاد ہے۔ اس رشتے میں کارفرما جذبوں--- مودت اور رحمت--- کو بھی دلوں کو اعلیٰ جذبات سے سرشار کرنے والی ذات نے خود بیان فرما دیا جو حسنِ معاشرت کے ساتھ ازدواجی رشتے کی دوسری بڑی بنیاد ہے۔ مولانا مودودیؒ نے سورۃ النحل کی آیت ۹۰ کے تحت لفظ ’’احسان‘‘ کی جو تعریف کی ہے اسے ملحوظ رکھتے ہوئے یہ دیکھیںکہ زوجین ناپ ناپ اور تول تول کر اور حساب کم و بیش کے پیمانے سامنے رکھ کر جب ایک دوسرے کے حقوق دینے لینے لگیں تو رشتۂ ازدواج اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کے بجائے ایک کمرشل ادارہ بن کر رہ جاتا ہے۔

عورت کے اندر ایک بیوی کی حیثیت سے جو سب سے اہم چیزمطلوب ہے وہ محبت ‘ وفا‘ اطاعت اور خدمت کے جذبات ہیں۔ اسی طرح محبت‘ وفا اور کفالت و حمایت مرد کے وہ اوصاف ہیں جن کے ملنے سے لذتِ ازدواج پیدا ہوتی ہے۔ گھر اور خاندان کسی پارلیمنٹ ہائوس کی طرز پر کبھی نہیں چلائے جاسکتے۔ جہاں ’’ہائوس‘‘ ایک حزبِ اقتدار اور ایک حزبِ اختلاف میں بٹا ہوتا ہے۔ گھر وہ ’’ہائوس‘‘ ہے جہاں بیوی کو شوہر کی بصیرت اور دانش مندی کا یقین ہوتاہے اور شوہر بیوی کی سلیقہ مندی اور سگھڑاپے پر بھروسا کرتا ہے۔ اہم معاملات میں باتوں ہی باتوں میں ایک دوسرے کی رائے کا پتا چلا لیا جاتا ہے۔ بیوی مرد کو اپنی اطاعت اورخدمت ہی سے رام کرتی ہے اور مرد اپنی رفیقۂ حیات کو نرمی اور مٹھاس ہی سے پیچھے چلاتا ہے۔

والدین اور اولاد کے معاملے میں بھی مساوات اور برابری کا اصول شریعت نے قائم نہیں کیا ہے۔ والدین خالق کی معصیت پر مجبور کرنے والا حکم دیں تو اس کو نہیں ماننا چاہیے ورنہ عام حالات میں ان کی خدمت اور اطاعت واجبات میں سے ہے۔ ان کی خدمت اور اطاعت سے منہ موڑنا اسی طرح کبیرہ گناہ ہے جس طرح بیوی کامعروف میں خاوند کی اطاعت سے منہ موڑنا کبیرہ گناہ ہے۔ ادب و احترام بیوی پر شوہر کا لازم ہے اور اولاد پر والدین کا۔ ماں باپ کی خدمات اور احسانات کا احساس نہ کرنا سعادت کے منافی ہے۔ اسی طرح بیوی کی ناشکرگزاری ایسا گناہ ہے جس کے باعث سب سے زیادہ عورتیں دوزخ میں پڑیں گی۔

ہماری ان گزارشات کا مقصد صرف یہ ہے کہ خاص طور پر خاندانی اور ازدواجی معاملات میں قران و سنت کے واضح احکامات کی بنیاد پر سوال کرنے والوں کی رہنمائی کی جائے اور دینی اساسات کو بنیاد بنایا جائے تو دراڑوں کو کم کیا جا سکتا ہے اور درزیں بھری جاسکتی ہیں۔ گھرانوں کو کش مکش‘ آویزش اور کشیدگی سے بچانے کی احسن تدبیر یہی ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں نصوص پر اطمینان پیدا کیا جائے۔ اخلاقی اقدار کی طرف لوٹایا جائے۔ برداشت اور تحمل کا سبق دیا جائے۔ حق ادا کرنے میں ایثار پر ابھارا جائے اور حق وصول کرنے میں رعایت کی تلقین کی جائے۔

۱-  حکومت اور متحدہ مجلسِ عمل کے درمیان جو مذاکراتی عمل چل رہا تھا وہ تقریباً ناکام ہوچکاہے۔ جمالی اور شجاعت صاحبان نے جو انداز اختیار کیا تھا وہ اب بے نتیجہ دکھائی دے رہا ہے۔ اب سب حکومتی ادارے صدر پرویز شرف کے اصل مشن کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ اندریں حالات پارلیمنٹ کے اندر اورباہر کی اجتماعی فضا کسی نئے خطرناک بحران کا    پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

۲-  بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے جو منتیں کی جا رہی تھیں اس سے موجودہ حکومت کی اصل کمزوری سامنے آچکی ہے۔ بھارتی الزام (دراندازی) کے جواب میں مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت نہ کر کے صرف مذاکرات کی رٹ لگانا حیرت کا موجب ہے۔  ایسا لگتا ہے کہ اندرونِ خانہ کشمیر کا کوئی حتمی فیصلہ طے پاچکا ہے جس کی تکمیل شاید عنقریب     دورۂ امریکہ کے موقع پر کیمپ ڈیوڈ میں ہوجائے گی۔امریکہ کے بش صاحب کی خوشنودی کے لیے شاید پاکستان وہ سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہو جائے جو ابھی تک باقی رہ گیا ہے۔ اس صورتِ حالات کے تدارک کے لیے حکومت کو لگام ڈالنا ازبس ضروری ہے۔

۳-  صوبہ سرحد میں شریعت بل کی منظوری کے بعد حکومت کے حلقوں میں جو اضطراب‘ گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ طاری ہے وہ بھی قابلِ دید ہے۔ پہلے تو دبی زبان میں اسلام کو ترقی پسند‘ معتدل اور رواداری کا پیغام بر ثابت کیا جا رہا تھا‘ اب کھلے بندوں صدر سے لے کر وزیراعظم اور ان کے حاشیہ برداروں کی جانب سے پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے کو طالبان ازم سے موسوم کیا جا رہا ہے جس کی پاکستان میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔ پردہ‘ داڑھی‘ موسیقی کی بندش اور عریاں فلمی پوسٹروں اور فحش بورڈوں کی آڑ میں اسلام کو رگیدنے کی کافرانہ جسارتوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ برملا کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں لبرل اسلام کو لائے بغیر کوئی ترقی اور استحکام پیدا نہیں کیاجاسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ عالم کفر کی قوتوں کو وہ اسلام منظورومطلوب ہے جو قرآن و سنت کی  ٹھیٹھ تعلیمات کے مطابق ہونے کی بجائے عالمی نیو ورلڈ آرڈر کے معیار پر پورا اترتا ہو۔

معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کو کمال اتاترک کا ترکی بنایا جانا مقصود ہے اور امریکہ کو راضی کرنے کے لیے اسلام کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کا سرکاری پروگرام زیرعمل ہونے والا ہے۔ ملک کی تمام اسلامی قوتوں کو اس کے تدارک کے لیے کوئی موثر سبیل اختیار کرنا چاہیے تاکہ پاکستان قائم رہے اور اصل نصب العین (اسلامی نظامِ حکومت) کے حصول کو یقینی بنایاجاسکے!

والد سے حق کی وصولی

سوال: میری عمر ۳۰ سال ہے۔ میں کوئی چھ سات مہینے کا تھا کہ میرے والد اور والدہ میں علیحدگی ہوگئی۔ دونوں نے دوسری شادی کرلی۔ مجھے میری پھوپھونے پالا ہے۔اب بھی وہی میرے اخراجات برداشت کرتی ہیں۔ میں گریجوایٹ ہوں لیکن بے روزگاری کی وجہ سے‘پھوپھو کی دکان میں‘ اپنے انکل کے ساتھ کام کرتا ہوں جس سے گزربسر ہوجاتی ہے۔

میرے والد ۱۹ ویں گریڈ میں‘ محکمہ تعلیم سے ریٹائرڈ ہیں۔ شہر کے مرکز میں ان کی پراپرٹی ہے جو انھوں نے کرائے پر دی ہوئی ہے لیکن میرے والد اور سوتیلی والدہ‘ میری کسی قسم کی کفالت کرنے یا مجھے میرا کوئی جائز حق دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں اور مجھے بدنام کرنے کا ہر طریقہ اختیار کرتے ہیں تاکہ مجھے عاق کر دیں۔ دو تین دوستوں نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی تو والد صاحب نے ان سے بولنا ہی چھوڑ دیا۔ ماں کی محبت سے تو میں ہمیشہ ہی محروم رہا اور والد صاحب نے بھی‘ نہ توروحانی تربیت کا ہی کوئی اہتمام کیا اور نہ مالی طور پر ہی کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ میری یہی کوشش رہی کہ میں اپنے والد کو کسی مصیبت یا تکلیف میں کبھی اکیلا نہ چھوڑوں۔ لیکن وہ ہیں کہ مجھے میرا حق تک نہیں دینا چاہتے۔

میں کاروبار کر کے اپنے پائوں پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں اور اپنے ’’ایمان کی تکمیل‘‘ کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے ذاتی طور پر یہ پسند نہیں ہے کہ میں اپنے جائز حق کے حصول کے لیے اپنے والد صاحب کو عدالت میں لے جائوں۔ کیا مجھے صبر کا رویہ اختیار کرتے ہوئے یومِ حساب پر بات ڈال دینی چاہیے‘ یا اپنے حق سے دستبردار ہوجانا چاہیے؟ مجھے اپنے جائز حق کے حصول کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

جواب :  اسلام انسانوں کے لیے ان کے پیدا کرنے والے پروردگار کی طرف سے بھیجا ہوا ضابطہ ء حیات ہے جس میں ہر فرد کے حقوق و فرائض کا تعین کیا گیا ہے۔ نیز ان اخلاق و آداب کی بھی تعلیم دی گئی ہے جس کے نتیجے میں دنیا میں ایک پُرسکون‘ پُرمسرت‘پُرامن اور ایک ترقی یافتہ مہذب معاشرہ وجود میں آسکتا ہے‘ اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا حصول ممکن ہے۔

مسلمان والد کی حیثیت سے اسلام نے ہر باپ کی یہ ذمہ داری متعین کی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے۔ بالغ ہونے سے قبل تک اس کی معقول انداز میں حسب استطاعت کفالت کرے‘ اور اس کو معاشرے میں ایک اچھے مفید مسلمان عنصر کی حیثیت میں پیش کرے۔ تمام میسرنعمتوں‘ سہولتوں اور مال و دولت میں سے اپنی اولاد کے لیے بھی اتنا ضرور چھوڑ جائے کہ وہ دَر دَر کی بھیک مانگنے سے بچ سکے‘ نیز اپنی اولادکو کچھ دینے میں بھی کسی کو کسی پر ناجائز فضیلت اور ترجیح نہ دے۔ یہ ایک باپ کی شرعی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہے۔

ایک بیٹے اور اولاد کی حیثیت سے اسلام ہماری یہ رہنمائی کرتا ہے کہ باپ کا رشتہ بڑا ہی مقدس ہے۔ اس کے احترام اور خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کی ناراضی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتی ہے۔ اس بات کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں شرک سے بچنے اور توحید کی تعلیم دی ہے وہاں والدین کے ساتھ احسان کا رویہ اپنانے کا واضح حکم دیا ہے۔ وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلَّا ٓاِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا o       (بنی اسرائیل ۱۷:۲۳) تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ: ’’تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو ‘ مگر صرف اس کی۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو‘‘۔

جہاں تک صورت مسئولہ کا تعلق ہے تو اس میں اگر آپ کے والد محترم کو تذکیر اور     یاد دہانی کے طور پر صلۂ رحمی اوراولاد کے حقوق سمجھائے جا سکتے ہوں تو یہ کام کیا جانا چاہیے لیکن آپ کے لیے یہ بات مناسب نہ ہوگی کہ آپ ان کی شہرت کو نقصان پہنچائیں‘ یا ان کی غیبت کرتے پھریں۔ بالغ ہوجانے کے بعد آپ کے والد کو اخلاقی طور پر تو آپ کی مدد اور کفالت کا پابند ہونا چاہیے لیکن یہ ایسا حق نہیں ہے کہ جس کے لیے آپ قانونی جنگ لڑیں یا اُن کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیں۔ لہٰذا انھوں نے آپ کے بچپن کے دوران آپ کے حق میں جو کوتاہی کی ہے ‘ اُس سے درگزر کریں یا اُس معاملے کو احکم الحاکمین پروردگار کی عدالت میں یومِ قیامت کے لیے اُٹھا رکھیں جہاں پر ہر حق دار کو اپنا حق مل کر رہے گا۔

یہ آپ کے والد کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کے حقوق کی ادایگی کرتے ہوئے آپ کی جو مدد کرسکتے ہیں وہ کریں‘ صلۂ رحمی کا بھی یہی تقاضا ہے۔ اولاد مفلوک الحال ہو اور والد مدد کرسکتا ہو اور نہ کرے تو وہ اس کے لیے خدا کے ہاں جواب دہ ہے۔

اگروہ ایک غلط روش کے مرتکب ہو رہے ہیں تو خاندان کے بڑے بزرگ‘ ان کے دوست احباب اور وہ لوگ جن کا کچھ اثر ورسوخ ہو‘ ان سب کو موثرانداز میں انھیں اس طرف توجہ دلانی چاہیے کہ وہ حق تلفی نہ کریں اور اس کے لیے ہر قسم کا سماجی دبائو ڈالنا چاہیے تاکہ کسی طرح وہ اپنے بھائی کو خدا کا عذاب مول لینے سے روک سکیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ آپ کو تنہا نہ چھوڑیں اور اس کے لیے بھرپور جدوجہد کریں۔ یہ ان کا اخلاقی فریضہ ہے۔

آپ دنیا میں اس مسئلے کو اپنے لیے مسئلہ نہ بنائیں۔ اپنے پیروں پر خود کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔ مانگنے اور مفت مل جانے کی توقعات کے خیالات کو ہی دل سے نکال پھینکیں۔ لومڑی بن کر دوسروں کی باقی خوراک کے انتظار میں گھٹتے رہنے کے بجائے شیروں کی طرح اپنی خوراک کا خود انتظام کرنا سیکھیں اور دوسروں کو دینے کے قابل بنیں۔ اپنے والد صاحب کے لیے دعاے مغفرت کرتے رہیں۔ ان کا ذکر کھلے دل سے کیا کریں۔ اپنے حقوق کی کھوج لگاتے رہنے کی بجائے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی فکر کریں کہ یہی کامیاب زندگی گزارنے کا گُرہے۔ اور اسی سے اللہ رب العالمین کی رضا اور خوشنودی کا حصول بھی ممکن ہے۔

جب آپ کو اپنے والد صاحب کی اس لاپروائی اور غفلت کی یاد آئے تو ان کی عظمت‘ تقدس اور مقام و مرتبے کا خیال بھی ذہن میں تازہ کیجیے کیونکہ وہ ایک باپ ہیں۔ دنیا میں آپ کے وجود کا باعث اور رب کریم کے بعد آپ کے عظیم محسن ہیں جن کی خدمت و احترام آپ کا انسانی‘ دینی اور معاشرتی فریضہ ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو صبر و یقین کی دولت سے مالا مال رکھے‘ اور اس حسنِ سلوک پر استقامت نصیب فرمائے ‘ اور آپ کی ضروریات کو اپنے خزانہ غیب سے پورا فرمائے۔ آمین۔ (مصباح الرحمٰن یوسفی)


شیطانی وسوسہ

س:  ایک عرصے سے میرے دل میں ایک شیطانی وسوسہ بیٹھ گیا ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف پر شک ہونے لگا ہے۔ میں بار بار اپنے دل سے پوچھتا ہوں: ایسا کیوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو انتہائی امیر اور کچھ لوگوں کو انتہائی غریب بنایا ہے۔ اگر سب برابر ہوتے تو کیا اچھا نہ ہوتا؟ اس شیطانی وسوسے کی وجہ سے میری نمازیں چھوٹ گئی ہیں۔ ان وسوسوں سے نجات پانے میں رہنمائی فرمایئے۔

ج:  ہر مومن کے ساتھ ایسا لمحہ آتا ہے‘ جب شیطان اسے بہکاتا اور ورغلاتا ہے۔ اسے وسوسوں میں مبتلا کر دیتا ہے ۔ جن کا ایمان پختہ ہوتا ہے وہ جلد ہی ان وساوس سے نجات حاصل کرلیتے ہیں۔ آپ نے جن وسوسوں کا تذکرہ کیا ہے وہ دراصل دو بڑی غلط فہمیوں پر مبنی ہیں:

۱-  پہلی غلطی یہ ہے کہ آپ نے دنیوی مال و دولت ہی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ آپ کا عقیدہ ہے کہ مال و دولت ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ آپ کو جاننا چاہیے کہ انسان کی زندگی میں مال و دولت ہی سب کچھ نہیں ہے۔ کتنے پیسے والے ایسے ہیں جنھیں مختلف بیماریوں نے گھیر رکھا ہے‘ اپنے پیسوں سے وہ صحت نہیں خرید سکتے۔ مال و دولت کے انبار کے باوجود ذہانت کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں‘ یا اولاد جیسی نعمت کے لیے ترستے رہتے ہیں۔ اولاد ہوتی بھی ہے تو ناکارہ نکل آتی ہے۔ کتنے ایسے ہیں جو غریبوں کی طرح پیٹ بھرکر کھانا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنے پیسوں سے بھوک نہیں خریدسکتے۔ بھوک ہے تو موٹاپے کے خوف سے پیٹ بھرکرنہیں کھاسکتے۔ مان لیجیے وہ پیٹ بھر کر کھا سکتے ہیں لیکن کتنا کھائیں گے؟ کیا اپنے پیٹ میں زمین و آسمان کو سمولیں گے؟ کیا اپنی دولت کو قبر میں ساتھ لے کر جائیں گے؟ اس پر مستزاد یہ کہ جس کے پاس جتنی دولت ہوگی اتنا ہی قیامت کے دن اس کا حساب کتاب بھی ہوگا۔

معلوم ہوا کہ مال و دولت ہی سب کچھ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی دنیا میں ہزارہا نعمتیں ایسی ہیں جو اس سے قیمتی ہیں۔ اب آپ ذرا خود پر غور کیجیے کہ جو قوت بینائی آپ کو عطا کی گئی ہے‘ کیا لاکھ دو لاکھ کے عوض آپ اسے فروخت کرسکتے ہیں؟ یہ جو قوت سماعت آپ کو ملی ہے‘    اسے سونے چاندی کے بدلے آپ فروخت کرسکتے ہیں؟ غرض کہ ہاتھ‘ کان‘ناک‘ پائوں اور دوسرے سارے اعضا اللہ کی وہ نعمتیں ہیں‘ جن کا بدل سونا چاندی نہیں ہوسکتے۔ اللہ فرماتا ہے: وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا o  (ابراھیم ۱۴:۳۴) ’’اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے‘‘۔ ہر چیز کو مادیت کی نظر سے دیکھنا انسان کی بہت بڑی غلطی ہے۔

۲-  دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ آپ نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اللہ کے عدل و انصاف کا تقاضا  یہ تھا کہ سارے انسان مال و دولت میں برابر ہوتے۔

بخدا برابری میں کوئی حکمت نہیں ہے۔ حکمت تو اس میں پوشیدہ ہے کہ سب برابر نہ ہوں تاکہ انسانوں کی آزمایش ہوسکے اور معلوم ہوسکے کہ کون شکرگزار ہے اور کون ناشکرا۔ کون مصیبت کی گھڑی میں صبر کرتا ہے اور کون صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے۔

اللہ نے جو یہ زمین و آسمان پیدا کیے‘ ہماری تخلیق کی‘ تو کیا یہ سب کچھ یونہی بلامقصد کیا؟ کیا ہمیں صرف اس لیے بنایا ہے کہ ہم کھائیں پئیں اور مرجائیں؟ اگر سب کو برابر پیدا کرنا ہوتا تو وہ یہ بھی کر سکتا تھا کہ انسان کو بغیر پیٹ کے پیدا کرتا۔ نہ ہمیں لباس کی ضرورت ہوتی نہ سرچھپانے کے لیے گھر کی۔ پھر توامیر و غریب کا کوئی جھگڑا ہی نہ ہوتا۔ لیکن نہیں۔ حکمت و مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے ساتھ انسانی ضروریات بھی پیدا کی جائیں۔ آزمایش کی خاطر انسانوں میں فرق بھی رکھا جائے۔ اگر کوئی احسان و بھلائی کرنے والا ہے تو کوئی ایسا بھی ہو جس کے ساتھ وہ بھلائی کرے۔ اگر کوئی صبرکرنے والا ہے تو کوئی ایسا بھی ہو جسے دیکھ کر وہ صبر کرے۔ اگر سب برابر ہوتے تواس زندگی میں کوئی مزہ نہ ہوتا۔ کوئی بھاگ دوڑ اور گہماگہمی نہ ہوتی۔ ساری رونق حیات مفقود رہتی۔ دن اور روشنی کی اہمیت و منفعت کا احساس ہمیں اسی لیے توہے کہ ان کے ساتھ رات اور تاریکی بھی پیدا کی گئی ہے۔ اگر تاریکی نہ ہوتی تو روشنی کا ہمیں کیا احساس ہوتا؟

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ہم انسان‘ خدا کی حکمت کا تعین کیسے کرسکتے ہیں؟ ایک بیمار شخص رات بھر درد سے تڑپتا ہے اور چاہتا ہے کہ درد بھری رات منٹوں میں ختم ہو جائے‘ دوسری طرف شب زفاف کی رنگینیوں میں مگن شادی شدہ جوڑا یہ تمنا کرتا ہے کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو۔ اب آپ بتائیں کہ خدا کس کس کی سنے؟ کس عمل میں حکمت پوشیدہ ہے؟ حق تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک نظام کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس کی حکمت وہی بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔

یہاں پر ایک قصے کا بیان قرین سیاق معلوم ہوتا ہے۔ ایک باغ میں باپ بیٹے محو گفتگو تھے۔ بیٹے نے باپ سے کہا کہ ہمیں تو اس میں اللہ کی کوئی حکمت نظرنہیں آتی کہ کھجور ایسے ننھے پھل کو ایک بڑے مضبوط درخت میں پیدا کیا اور تربوز ایسے بھاری بھرکم پھل کو کمزور سی بیلوں میں جنم دیا کہ     یہ بیلیں زمین سے اوپر نہیں جاسکتیں۔ باپ نے کہا کہ اس میں بھی اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی لیکن ہم انسان نہیں سمجھ سکتے۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں سوگئے۔ اسی دوران ایک کھجور ٹوٹ کر بیٹے کے سر پر آگری۔ بیٹے کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے بتایا کہ کھجور کی وجہ سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ باپ نے کہا کہ خدا کا شکر ادا کرو کہ اس بڑے درخت میں تربوز نہیں پھلتا ورنہ آج تم آخری سانس لے رہے ہوتے۔ گرچہ یہ ایک قصہ ہے لیکن سوچنے والوں کے لیے اس میں سامانِ عبرت ہے۔

آپ کو چاہیے کہ جو شیطانی وسوسہ آپ کے ذہن میں آیا ہے اسے فوراً جھٹک دیں۔ خدا سے توبہ کیجیے‘ اپنے ایمان کا اعادہ کیجیے۔ نمازیں پڑھنی شروع کر دیجیے اور جب کوئی شک ذہن میں آئے تو فوراً اہل علم کی طرف رجوع کیجیے۔ (علامہ یوسف القرضاوی‘ فتاویٰ یوسف القرضاوی ‘ ترجمہ: سید زاہد اصغر فلاحی‘ ص ۱۰۱-۱۰۴‘ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز‘ نئی دہلی‘ بھارت)

اسلامی ریاست‘ مولانا امین احسن اصلاحی۔ ناشر: دارالتذکیر‘ رحمن مارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۳۳۲۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

اسلام کے اجتماعی نظام کا عملی اظہار اسلامی شریعت پر مبنی اسلامی ریاست ہے‘اور اسی ریاست کے ذریعے اسلامی عدلِ اجتماعی اور اجتماعی سطح پر تقویٰ کی زندگی گزارنا ممکن ہے۔ صدیوں تک ملوکیت ‘ استعمار کی غلامی اور علما کے غالب طبقے کی جانب سے‘ حالت موجودہ پر صبروشکر کربیٹھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ برعظیم پاک و ہندمیں ایک طویل مدت تک اسلامی ریاست کے قیام اور اسلامی شریعت کے نفاذ کا مسئلہ نظروں سے اوجھل رہا۔ البتہ انیسویں صدی میں سید احمد شہیدؒ (م: ۱۸۳۱ئ) نے اور پھر بیسویں صدی میں سید مودودیؒ (م: ۱۹۷۹ئ) نے اسلامی ریاست کے بھولے سبق کو یاد دلانے کی کوشش کی۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ (م: ۱۹۹۷ئ) ‘ فہم قرآنیات کے حوالے سے ایک عظیم شخصیت اور اپنی مثال آپ اسکالر تھے۔ انھوں نے جماعت اسلامی کے ساتھ اپنے زمانۂ وابستگی میں اسلامی ریاست کے مختلف عناصر ترکیبی پر تحریر و تالیف کا بہت اہم اور عالمانہ کام سرانجام دیا‘ تاہم وہ اس علمی منصوبے کو مکمل نہ کر سکے (ص ۱۳)۔ لیکن اس کے جو حصے انھوں نے لکھے وہ ان کی علمی بصیرت‘ دینی حمیت اور سیاسی دوراندیشی کا ایک قیمتی نمونہ ہیں۔ زیرنظر کتاب میں اس نوعیت کی تحریروں کو یکجا کردیا گیا ہے۔ اسے مولانا مودودیؒ کی کتاب اسلامی ریاست کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو فکری مباحث کا ایک وسیع منظرنامہ سامنے آتا ہے۔

اصلاحی صاحب نے ابتدا میں وضاحت کی ہے کہ ان کی دانست میں: ’اسلامی خلافت‘ کا مطلب ’اسلامی ریاست ہے‘ اور’امامت و امارت‘ کا مطلب ’اسلامی حکومت‘ ہے (ص‘ ۱۶)۔ اس ریاست کی مقننہ اور انتظامیہ کے کردار پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اسلام میں شوریٰ متعین بھی ہے اور امیر اس کی اکثریت کے فیصلوں کا پابند بھی ہے۔ ] موجودہ[ زمانے میں شوریٰ کو متعین کرنے کے‘ بعض ضروری اصلاحات کے ساتھ‘ انتخاب کے جدید طریقوں کو اختیار کیا جا سکتا ہے ‘‘ (ص۴۴)۔ مزید یہ کہ امیریا خلیفہ مجلس شوریٰ کی رائے کو مسترد (ویٹو) نہیں کر سکتا (ص ۳۲-۴۴)۔ رسولؐ اللہ نے جس معاملے میں بھی لوگوں سے مشورہ لیا‘ اس میں اکثریت کے فیصلے کے مطابق ہی عمل کیا (ص ۴۰)۔’’سمع و طاعت… زمین میں خدا کے دین کے نفاذ و قیام کا ذریعہ ہے‘‘۔ اور: ’’اقامت دین… اسلامی ریاست کا اصلی مقصد قیام ہے‘‘ (ص ۱۵۳)… ’’اگر اسلامی ریاست کا وجود نہ ہو تو‘نہ اجتماعی زندگی بِّروتقویٰ سے آشنا ہوسکتی ہے اور نہ انفرادی زندگیوں ہی میں اس کا قائم رکھنا ممکن ہو سکتا ہے ‘‘۔ (ص‘ ۱۵۶)

قومیت کے مسئلے پر بلند درجہ بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’کسی نسلی قومیت کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ کسی جہانی ریاست کی بنیاد رکھ سکے‘‘ (ص ۷۰)--- اسلامی ریاست کے غیرمسلم باشندوں کے مقام شہریت پر کہتے ہیں: ’’ذمیوں کو حقوق‘ مسلمانوں یا ان کی حکومت کی طرف سے نہیں بلکہ خدا اور اس کے رسولؐ کی طرف سے ان کی ضمانت پر دیے جاتے ہیں‘ ان کی ادایگی میں دانستہ اور بلاعذر کوتاہی‘ خدا اور رسولؐ سے خیانت اور غداری ہوگی‘‘(ص ۲۰۰‘ ۲۰۱)۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’جس نے کسی معاہد ] ذمی[ پر ظلم کیا یا اس پر اس کی برداشت سے زیادہ بار ڈالا تومیں قیامت کے دن خود اس سے جھگڑنے والا بنوںگا… یہ تمھارے غلام نہیں کہ تم ان کو وہاں سے یہاں اور یہاں سے وہاں پھینکتے پھرو۔ یہ آزاد اہل ذمہ ہیں‘‘۔ (ص ‘ ۱۹۵)

کم و بیش نصف صدی قبل کے یہ علمی مباحث‘ اپنی فکری اہمیت کے باعث آج بھی تروتازہ اور موجودہ حالات میں بامعنی ہیں۔ خصوصاً ’’فکرِاصلاحی‘‘ کے قائلین کو‘ اس نوعیت کے نکات‘ غوروفکر کی دعوت دے رہے ہیں‘ مثلاً: ’’]اسلامی[ ریاست کے تحفظ‘ اور اس کے مقصد جھاد فی سبیل اللّٰہ کی تکمیل کے لیے ہر ذی صلاحیت شہری کا فرض ہے کہ وہ برابر مستعد اور تیار رہے۔ اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کے جذبے سے معمور رہنا دلیلِ ایمان ہے اور اس جذبے سے خالی ہونا نفاق کی علامت ہے۔ اگر ریاست کے تحفظ کا سوال سامنے آجائے تو پھر جان کو عزیز رکھنا اور قربانی سے جی چرانا ایمان کی کھلی موت ہے‘‘۔ (ص ۱۵۸)

اسلامی ریاست کے موضوع پر‘ اُردو میں یہ ایک قابلِ قدر عالمانہ کتاب ہے۔ موضوع پر مصنف کی گرفت نے‘ بحثوں کو جان دار اور پُرتاثیر بنا دیا ہے۔ (سلیم منصورخالد)


مصر میں آزادیِ نسواں کی تحریک اور جدید عربی ادب‘ ڈاکٹر سطوت ریحانہ۔ ملنے کا پتا: مکتبہ تحقیق و تصنیف اسلامی‘ پان والی کوٹھی‘ دودھ پور‘ علی گڑھ۔ صفحات: ۳۰۲۔ قیمت: ۱۰۵ روپے۔

عصرحاضر کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے الفاظ اپنی پہچان اور حرمت کھو بیٹھے ہیں۔ لفظ نعرے بازی کا استعارہ بن کر رہ گیا ہے۔ جن لفظوں کا سب سے زیادہ استحصال ہوا اُن میں: عوام‘ حقوق‘ آزادی‘ انقلاب‘ جمہوریت‘ قومی مفاد‘ مساوات اور آزادیِ نسواں سرفہرست ہیں۔

یہ کتاب شعبہ عربی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی ایک معلمہ نے پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر تحریر کی ہے‘ جس میں آزادیِ نسواں کی تحریک کے ماضی و حال کا جائزہ لینے کے لیے مصر کو موضوع مطالعہ بنایا گیا ہے۔ مصر اور بعض دوسرے مسلم ملکوں میں اہل مغرب نے اپنی فکریات کے ساتھ سب سے زیادہ منظم اور سب سے پہلے حملہ کیا۔ کتاب کے مندرجات چشم کشا ہیں اور ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ سو برسوں کے دوران مصر میںتحریکِ نسواں کن اسالیب میں جدید عربی ادب و فکر پراثرانداز ہوئی۔ اس پھیلے ہوئے موضوع کو تحقیقی شعور اور محنت کے ساتھ یکجا کر کے پیش کرنا ایک اعلیٰ درجے کی دینی اور علمی خدمت ہے‘ جس پر مصنفہ مبارک باد کی مستحق ہیں۔

ڈاکٹر سطوت ریحانہ کا یہ مقالہ پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ہی وطن کی کہانی پڑھ رہے ہوں۔ فرانسیسیوں نے اٹھارھویں صدی میں مصر کی مسلم عورت کو ترغیب و تحریص سے کوچہ و بازار میں لانے کی کوشش کی تھی‘ یہی صورت ہمارے گردوپیش بھی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ پہلے فرانسیسیوں اور پھر انگریزوں کے زیراثر عورت کو معاشی زندگی اور نام نہاد کلچرل میلوں اور تماشوں کا ایک طاقت ور حصہ بنانے کی جو طرزِ رنگ و طرب ایجاد کی گئی تھی‘ اُس نے ڈیڑھ سو سال میں مصر کے معاشرے اور مصری عورت کو کون سا اعلیٰ مقام دیا کہ جس سے وہ باقی مسلم دنیا میں محروم ہے؟ دوسرے یہ کہ اس عمل سے مصر سائنس اور معاشی و عسکری یا تہذیبی ترقی کے کس اوجِ کمال پر پہنچا ہے کہ جس پر پاکستان کا طبقۂ نسواں حسرت اور محرومی میں ڈوبا دکھائی دیتا ہے؟

زیرتبصرہ کتاب کے آغاز میں آزادیِ نسواں کی یورپی تحریک اور مصر میں اس تحریک کے خدوخال کا تحقیقی موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ پھر مصر میں تحریکِ نسواں کی ۱۴ مرکزی شخصیات (۱۱ مرد اور ۳ خواتین) کا تذکرہ اُن کے افکار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح تحریکِ نسواں پر اثرانداز ہونے والی ۱۰ کتب کا بھی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

پانچویں باب میں آزادیِ نسواں کے مثبت اور منفی پہلوئوں کے بارے میں چند مصری شعرا کا کلام پیش کیا گیا ہے مگر اس کے اُردو ترجمے کی عدم موجودگی سے غیر عربی دان قاری محرومی کا شکار رہتا ہے۔ آخری باب: ’’حقوق نسواں اور اسلام‘‘ میں تحریکِ نسواں کے موضوع پر اسلام کے حقیقی منشا کو پیش کیا گیا ہے جو متوازن اور مدلل وضاحت کے ساتھ ایک قیمتی دعوت فکرہے۔ اسلامی روایت سے وابستہ علمی دنیا میں فاضل مصفہ کی آمد ایک قابل قدر اضافہ ہے۔ (س - م - خ)


مطالعہ اقبال بلوچستان میں‘ پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق کوثر۔ ناشر: سیرت اکادمی‘ بلوچستان‘ ۲۷۲‘اے او بلاک۳‘ سیٹلائٹ ٹائون‘ کوئٹہ۔ صفحات: ۱۲۱۔ قیمت: ۷۰ روپے۔

مصنف کو بلوچستان کی تاریخ‘علوم و فنون اور شعروادب کے مختلف پہلوئوں پر تخصص کا درجہ حاصل ہے۔ اس سے پہلے وہ علامہ اقبال اور بلوچستان نام کی ایک کتاب شائع کرچکے ہیں (علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد‘ ۱۹۸۶ئ‘ صفحات ۲۱۶)۔ مذکورہ کتاب زیادہ تر علامہ اقبال کے حوالے سے لکھی گئی تھی‘ مگر زیرنظر کتاب قدرے مختلف نوعیت کی ہے۔

اس کتاب میں سرزمین بلوچستان میں اقبالیات کی روایت کا آغاز اور اقبالیاتی اداروں کی سرگرمیوں‘ فکرِاقبال کی توضیح و تشریح کرنے والے مصنفین‘ کلامِ اقبال کے بلوچی اور براہوی مترجمین‘ اقبال کے مقلّد شعرا‘ بلوچستان کے کالج میگزینوں میں ذخیرئہ اقبالیات‘ بلوچستان میں منعقد ہونے والی اقبالیاتی تقاریب اور متعدد دوسرے پہلوئوں سے اس روایت کا ارتقا اور موجودہ   صورتِ حال کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے تعلیمی‘ علمی اور ادبی حلقوں میں علامہ اقبال کی شاعری اور اُن کے فکر کو غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

خود مصنف نے فروغِ اقبالیات میں بے حد سرگرمی سے حصہ لیا ہے۔ انھوں نے اقبال کی شاعری اور فکر پر اپنے تنقیدی و توضیحی مضامین کے دو مجموعے (اقبالیات کے چند خوشے۔ مردِ حر) شائع کرنے کے علاوہ مصنفین بلوچستان کے اقبالیاتی مضامین کے کئی مجموعے بھی مرتب کیے ہیں۔ چنانچہ بلوچستان میں فروغِ اقبالیات کے ضمن میں ان کا نام بہت نمایاں ہے۔ ان کی زیرنظر کاوش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بلوچستان میں اقبالیات کی تاریخ لکھی جائے گی تو ڈاکٹر انعام الحق کوثر کی زیرنظر اور متذکرہ بالا کتابیں اس ضمن میں ایک اہم حوالہ اور ماخذ ہوںگی۔ (رفیع الدین ہاشمی)


حضرت ابراہیم علیہ السلام - حیات دعوت اور عالمی اثرات‘ محمد رضی الاسلام ندوی۔ ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز‘ جامعہ نگر‘ نئی دہلی۔ صفحات: ۲۰۰۔ قیمت: ۴۰ روپے۔

سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام سلسلۂ نبوت و رسالت کی وہ عظیم المرتبت ہستی ہیں جن کو خلیل اللہ (اللہ جل شانہٗ کے دوست) اور حنیف (سب سے کٹ کر ایک اللہ کے ہوجانے والے) کے مہتم بالشان لقب ملے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد اسلام کی عالمگیر دعوت پھیلانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے انھیں ہی سونپی تھی اور ان کو دنیا کا امام و پیشوا بنایا تھا۔ وہ ابوالانبیا یا جدالانبیا بھی تھے کہ ان کے بعد آنے والے تقریباً سبھی نبی اور رسول (بشمول خاتم الانبیا والمرسلین حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) انھی کی اولاد سے تھے۔ قرآنِ حکیم کی ۲۵ مختلف سورتوں میں اُن کا ذکر آیا ہے اور چودھویں پارے میں ایک مستقل سورہ (ابراہیم) بھی ان کے نام کے ساتھ موجود ہے۔ قرآنِ حکیم کے علاوہ تفسیر‘ حدیث‘ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔

زیرنظرکتاب ان کتابوں میں ایک اہم اضافہ ہے۔ فاضل مؤلف نے اس میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوانح حیات بڑی تحقیق و تفحص کے ساتھ قلمبند کیے ہیں وہاں ان سے پہلے تباہ ہونے والی قوموں (قومِ نوح‘ ثمود) کی تباہی کا پس منظر بھی اختصار کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عہد کے سیاسی‘ معاشرتی‘ اخلاقی اور مذہبی حالات کا خاکہ بھی انھوں نے بڑی عمدگی سے کھینچا ہے۔ قرآنِ حکیم میں کئی مقامات پر  ملّت ِ ابراہیم اور اسوئہ ابراہیم کا تذکرہ ہوا ہے۔ فاضل مؤلف نے کتاب کے دو ابواب میں ان کو بھی اپنی گفتگو کا موضوع بنایا ہے اور ملّت ابراہیمی اور اسوئہ ابراہیمی پر نہایت بلیغ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ ان کا اسلوبِ نگارش بڑا شگفتہ اور سلجھا ہوا ہے۔ بلاشبہہ یہ کتاب لکھ کر انھوں نے ایک قابلِ قدر دینی خدمت انجام دی ہے۔ (طالب الہاشمی)


مفتاح القرآن‘ پروفیسر عبدالرحمن طاہر۔ ناشر: قرآن کلب۔ ۷ عزیز ایونیو‘ کینال بنک روڈ ‘ گلبرگ ۵‘ لاہور۔ صفحات: ۹۶۔ قیمت: ۳۵ روپے۔

قرآن فہمی کی تحریک کو گذشتہ کچھ عرصے سے بہت فروغ حاصل ہوا ہے۔ زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک موثر کوشش ہے۔ مولف موصوف مدینہ یونی ورسٹی کے فاضل اور پنجاب     یونی ورسٹی میں استاد ہیں اور ایک عرصے سے قرآن اور زبانِ قرآن کی تدریس میں مصروف ہیں۔ اس کتاب میں عربی زبان کی تفہیم کے لیے آسان ترین انداز اختیار کیا گیا ہے۔ عربی قواعد کے پیچیدہ اصولوں کو مختلف علامات کی صورت میں پیش کر کے اس کا ترجمہ کرنا انتہائی سہل بنا دیا گیا ہے۔ اُردو دان طبقے کے لیے تفہیم زبان قرآن کے اس انداز کو براہِ راست طریق تفہیم (direct method) قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس طریقے سے روایتی عربی گرامر سیکھنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ ان علامات کی تفہیم و استعمال میں بھی بعض اصول مدنظر رکھنا ضروری ہیں‘ مثلاً: کسی ایک علامت کا استعمال اگر اسم کے ساتھ ہو تو معنی اور ہوتا ہے‘اور اگر فعل یا حرف کے ساتھ ہو تو ترجمہ مختلف ہوجاتا ہے (ص ۲۵- ۳۰‘ ۳۳‘ ۴۷ وغیرہ)۔ بعض علامتیں الفاظ کے شروع میں آئیں تومعنی اور ہوتا ہے اور لفظ کے آخر میں وہی علامت آنے سے معنی میں فرق پڑجاتا ہے (ص ۲۹)۔ اسی طرح بعض علامتوں کے ایک جیسے استعمال میں بھی مختلف مقامات پر معانی مختلف ہوتے ہیں (ص ۵)۔ اسی طرح علامات کی پہچان اور استعمال میں بھی کہیں کہیں مشکل کا احساس ہوتا ہے۔ مولف نے جابجا نوٹ دے کر وضاحت بھی کی ہے۔

زبان قرآن کی تفہیم کے لیے مذکورہ کتاب سے زیادہ آسان اور مفید کتاب شاید اب تک موجود نہیں تھی۔ جس کے لیے مؤلف اور ناشر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ طباعت معیاری ہے اورقیمت کم ہے۔ اُمید ہے کہ اپنے مقصد کے اعتبار سے یہ کتاب ایک مفید اور پُراثر کوشش ثابت ہوگی۔ (محمد حماد لکھوی)


صوبہ سرحد میں نفاذ شریعت کی عملی تدابیر ‘ سید معروف شاہ شیرازی۔ ظلال القرآن فائونڈیشن‘ ۲۸۸/بی ون‘ مین سہام روڈ‘ پشاور روڈ‘ راولپنڈی۔ صفحات: ۲۱۸۔ قیمت: ۷۵ روپے۔

سید معروف شاہ شیرازی معروف عالم دین اور دینی مصنف ہیں۔ فہم قرآن ان کی دل چسپی کا خاص موضوع ہے۔ سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن کا اردو ترجمہ عربی زبان و ادب پر ان کی دسترس کا عکاس ہے۔

زیرنظر کتاب صوبہ سرحد میں نفاذِ شریعت کے سلسلے میں ان کی فکرمندی کی آئینہ دار ہے۔ شرعی قوانین کی روشنی میں دورِحاضر کے تقاضوں کا جائزہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اس کتاب میں ان مسائل کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے جو صوبہ سرحد کی اسلامی حکومت کو درپیش ہیں۔ بنیادی طور پر یہ کتاب شرعی اصلاحات کے بارے میں ان کی تجاویز پرمشتمل ہے جو مصنف صوبہ سرحد کے ارباب اختیار کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں۔ ان تجاویز میں درس نظامی اور جدید نظام تعلیم کے اشتراک‘ مسجد مکتب اسکول‘ نئے نظام تعلیم کی درجہ بندی اور نئے نصاب کی تشکیل کے بارے میں مشورے دیے گئے ہیں۔ اسی طرح زرعی شعبے میں ممکنہ تبدیلیوں اور محکمہ خزانہ کے حوالے سے امانت گھروں اور شراکتی بنک کے قیام‘ عشروزکوٰۃ‘ مقامی صنعتوں کی ترقی اور واپڈا کے بارے میں تجاویز شامل ہیں۔ اسلام کے تعزیراتی اور عائلی قوانین‘ قانونِ وراثت اور دیوانی قانون کے نفاذ کی بابت بھی چند تدابیر کی نشان دہی کی گئی ہے۔ یہ تجاویز خاصی عرق ریزی سے مرتب کی گئی ہیں۔

پہلے باب میں اسلامی ریاست کے ماڈل‘ اس کے اختیارات‘ بنیادی اداروں‘ جمہوریت اور اسلام کے شورائی نظام پر بحث کی گئی ہے۔ دوسرے باب (نظامِ تعلیم) میں ان خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے جو نج کاری کے نام سے تعلیمی میدان میں این جی اوز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے نتیجے میں ہمارے نظامِ تعلیم کو درپیش ہیں۔ تیسرے باب میں مختلف صوبائی محکموں کے بارے میں مفید تجاویز دی گئی ہیں۔ آخری باب میں انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مقابلے میں اسلامی قوانین کی افادیت و اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس موضوع سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک مفید کتاب ہے۔ (سلیم اللّٰہ شاہ)


تعارف کتب

  • سرودِ نعت: مضامین و مکالمات ‘ ابوالامتیاز ع س مسلم‘ ناشر: الحمد پبلی کیشنز‘ رانا چیمبرز‘ سیکنڈ فلور‘ چوک پرانی انارکلی‘ لاہور۔ صفحات: ۱۷۴۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔ ]صنف ِ نعت کے بارے میں مصنف کے مضامین اور مکالمات (انٹرویو) کا مجموعہ‘ یعنی نعت کے موضوع پر ان کے خیالات‘ تصورات‘ محسوسات اور حج و عمرے اور روضۂ رسولؐ پر بارہا حاضری کا تذکرہ۔ کچھ ذکر تاریخ کا‘ کچھ قلبی واردات‘ سیرتِ پاکؐ کی جھلکیاں اور مصنف کا نعتیہ کلام۔ اس مجموعے سے خود مصنف کی شخصیت کو بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔[
  • سیدابوالاعلیٰ مودودی ‘ علی سفیان آفاقی۔ ناشر: اسلامک بک پبلشرز‘ ۲/۱۴‘ فضل الٰہی مارکیٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۱۳۸۔ قیمت: درج نہیں۔ ]۱۹۵۴ء میں شائع شدہ یہ کتاب‘ اب تیسری بار چھپی ہے۔ رواں اور آساں صحافتی اسلوب میں ’’ایک اعلیٰ‘‘ انسان کے بارے میں ایک عمدہ اور ہلکی پھلکی کتاب: ’’غیرجانب دارانہ مطالعاتی انداز‘‘ (اسعدگیلانی)۔ اس کتاب کے سرورق پر ’’ممتاز اسلامی مفکراور اسکالر‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے‘ حالانکہ متن کتاب میں یہ تاثر دینے کی کوئی کوشش نظرنہیں آتی‘ بس کتاب پڑھتے ہوئے مولانا مودودیؒ سے تعارف کے ساتھ ان کی شخصیت کا ایک خوب صورت اور دل کش نقش اُبھرتا ہے۔[
  • تذکرہ و سوانح مولانا محمد احمد‘ مولانا عبدالقیوم حقانی۔ ناشر: القاسم اکیڈمی‘ جامعہ ابوہریرہ‘برانچ پوسٹ آفس خالق آباد ضلع نوشہرہ‘ صوبہ سرحد۔صفحات: ۱۷۲۔ قیمت: درج نہیں۔] قرآن پاک کے مفسر‘ مدرس اور عالم دین مولانا محمد احمد (۱۹۰۸ئ-۱۹۹۹ئ) کے حالاتِ زندگی اور ان کے علم و فضل‘ تقویٰ اور علمی و روحانی کمالات کا تذکرہ۔[

حکیم شریف احسن  ‘فیصل آباد

ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے اپنے فکرانگیز مقالے، ’’وقت: اسلامی تصورات‘‘ (جون ۲۰۰۳ئ) میں وقت کے چار نظام بتائے ہیں: ۱- نظام قبل تخلیق‘ ۲- نظام بعد تخلیق تاقیامت ‘۳- نظام جو قیامت کی گھڑی سے قائم ہوجائے گا‘ ۴- نظام جو اس وقت قائم ہوگا جب لوگ دوبارہ اٹھا کر زندہ کیے جائیں گے (ص ۵۶)۔ راقم کے خیال میں ان کے علاوہ ایک اور نظامِ وقت بھی ہے جو ان چاروں میں سے کسی کے تحت نہیں آتا۔ یہ عالمِ برزخ کا نظامِ وقت ہے۔ قرآن مجید میں ہے: ’’ان کے (مرنے والوں کے) آگے برزخ (پردہ) ہے۔ اس دن تک کے لیے جب وہ اٹھائے جائیں گے‘‘ (المومنون ۲۳:۱۰۰)۔ اس آیت میں مرنے کے بعد سے نفخ صور تک دوبارہ اٹھائے جانے تک کے عالم کو عالمِ برزخ کا نام دیا گیا ہے۔ اس پس پردہ عالم کے وقت کے بارے میں شاید ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی حقیقت‘ نظام اور پیمانے وہ نہیں جو اس دنیا کے وقت کے ہیں۔


ظفرالمومن  ‘کراچی

’’امریکی اور برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ‘‘ (مئی ۲۰۰۳ئ) میں معاشی مقاطعے کو احتجاجی حربے کے طور پر استعمال کرنے کا مشورہ صائب اور اہم ہے۔ گو اس معاملے میں احساس بہت دیر سے ہوا ہے مگر شکر ہے کہ ہوا تو ہے۔ صورتِ حال یوں ہے کہ پاکستانی مصنوعات مارکیٹ میں جب اپنی ساکھ بنا لیتی ہیں اور برانڈ قبولِ عام حاصل کرلیتا ہے تو انھیں ملٹی نیشنل کمپنیاں خرید لیتی ہیں۔ تازہ مثال رفحان کارن آئل کی ہے۔ اس کمپنی کو لیوربرادرز نے خرید لیا ہے۔ سامراجیت پہلے براہِ راست قبضہ کر کے ملکوں کو غلام بنا کر لوٹنے کا اہتمام کرتی تھی‘ اب بالواسطہ زیادہ موثر طریقے سے اُن ملکوں کی معیشت کو نچوڑ کر‘ خوش حالی کو گھسیٹ کر ترقی یافتہ ملکوں میں لے جانے کا بندوبست کرتی ہے۔لہٰذا محض مقاطعہ کافی نہیں ہے۔ ہمیں اُن کے مقابلے میں بہتر اور نسبتاً ارزاں مصنوعات تیار کر کے بہتر پیکنگ میں پیش کرنی چاہییں۔


اے مراد لعل  ‘ چترال

’’امریکی برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ‘‘ (مئی ۲۰۰۳ئ) خوب ہے۔ جہاں تک مصنوعات کے بائیکاٹ کا تعلق ہے تو ہماری ملکی مصنوعات کا معیاری ہونا بھی ضروری ہے تاکہ صارفین راغب ہو سکیں۔


عبدالرشید صدیقی  ‘برطانیہ

’’صحابہؓ: سرورعالمؐ کے مجسم معجزے‘‘ (مارچ ۲۰۰۳ئ) میں صحابہ کرامؓ کی فضیلت کے سلسلے میں یہ حدیث بھی نقل ہوئی ہے:  اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم’’میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جسے بھی تم پیشوا بنا لو ہدایت پا لوگے‘‘۔ اگرچہ یہ ایک معروف حدیث کے طور پر روایت کی جاتی ہے لیکن اکثر محدثین کے نزدیک یہ ضعیف بلکہ موضوع حدیث ہے۔ مولانا صہیب حسن کی تحقیق اس حدیث کے بارے میں یہ ہے کہ ’’یہ ایک ضعیف یا موضوع حدیث ہے جسے احمد بن حنبلؒ، ابن عبدالبرؒ، البزارؒ اوردیگر لوگوں نے روایت کیا ہے۔ ابن حزمؒ فرماتے ہیں کہ اس کی نہ صرف سند میں علت ہے بلکہ یہ حدیث درج ذیل وجوہ کی بنا پر صحیح قرار نہیں دی جاسکتی۔ اول: صحابہ کرامؓ معصوم عن الخطا نہیں ہیں اور ان سے غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ ان میں کسی ایک کی اتباع سے ہدایت حاصل ہوجائے گی۔ دوم: ان کی مشابہت ستاروں سے کرنا بھی غلط ہے۔ اس لیے کہ ہر ستارہ منزل کی رہنمائی نہیں کرتا‘‘۔   یہ اقتباس ان کی انگریزی کتاب  An Introduction to The Science of Hadith سے پیش کیاگیا ہے۔ خیال رہے کہ احادیث کی روایت میں ان کی صحت کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔


ذوالفقار مہدی  ‘کراچی

ملکی سطح پر ایک معیاری تھنک ٹینک کی ضرورت پر مختلف حلقوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً زوردیا جاتا رہتا ہے۔ میری تجویز ہے کہ دفاع‘معیشت‘ امورخارجہ اور شریعت کے مختلف ماہرین کے تھنک ٹینک قومی سطح پر قائم کرنے کی کوشش تحریکی سطح پرکی جائے اور ملک بھرکے ماہرین سے رابطہ کر کے انھیں ان میں شامل ہونے پر آمادہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ متحدہ مجلس عمل میں ملک کی تمام دینی قوتوں کو شامل کرنے کی بھرپور کوشش کی جانی چاہیے تاکہ تمام محب وطن اور اسلام پسند قوتوں کو متحد کر کے استحکامِ پاکستان اور نفاذ شریعت کے لیے بھرپور جدوجہد کی جا سکے۔


سیدظفراحمد  ‘سعودی عرب

ترجمان القرآن کی اشاعت کا مقصد قاری کی فکری رہنمائی و تربیت کرنا ہے‘ تاہم یہ متعین کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کوئی علمی جرنل ہے یا اسلامی ڈائجسٹ۔ اگر پہلی چیز ہے تو اس میں سے بہت سی چیزیں نکالنی پڑیں گی۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے حلقے سے باہر کے علماے کرام کے بڑے اچھے مضامین پڑھنے کو مل جاتے تھے‘ یہ سلسلہ بھی جاری رہنا چاہیے۔


ظفراقبال سعید  ‘ کراچی

اب تو تحقیقی اور ریسرچ کے مقالے بھی آسان زبان اور سادہ الفاظ اور عام فہم اسلوب میں لکھے جارہے ہیں اور پسند کیے جاتے ہیں۔خرم مراد صاحب کے انداز کو اپنایئے۔ کیسا بڑا مسئلہ‘ کتنی دقیق اور فکری بات وہ کتنی آسانی کے ساتھ مختصر جملوں‘ سادہ الفاظ اور رواں قلم کے ساتھ لکھ جاتے ہیں۔ کہیں بات کو پھیلایا نہیں جاتا‘ آسان رکھتے ہیں۔ قاری کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور فکر رکھتے ہیں کہ وہ بات سمجھ رہا ہے۔  مشکل الفاظ اور گنجلک اندازِ بیان سے آپ کی قابلیت اور صلاحیت کا رعب نہیں بنتا! خدارا  ترجمان القرآن کو طاق میں رکھنے والی چیز نہ بنائیں۔ وہ بھی ۵‘ ۱۰ طاقوں کے لیے!


ضیا شاہد ‘ کراچی

شہرکے اہم اور مرکزی چوراہوں پر بڑے بڑے بورڈوں پر مختلف کمپنیوں کے انتہائی شرم ناک اور فحش تصاویر سے مزین اشتہارات عامۃ الناس کے اندر سے رفتہ رفتہ برائی کے احساس کو بتدریج کم کر رہے ہیں۔ اشتہاربازی ہمارے معاشرے میں اس کیفیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ فیشن پرستی‘تعلیم براے معاش اور پُرتعیش زندگی کا حصول‘ یہ سب مادہ پرستی کے شاخسانے ہیں۔ روس جیسے بے دین ملک میں اشتہار بازی پر محض اس لیے پابندی تھی کہ وہاں مادی زندگی کی دوڑ نہ لگ جائے اور معیشت پر بُرا اثر نہ پڑے۔دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ دنیا پرستی اور حصولِ دنیا کی خواہش نے دل سے آخرت کی فکر کو نہ صرف ختم کر دیا ہے بلکہ ہم کو اسلامی تہذیب سے بھی بہت دُور کر دیا ہے۔ اخبارات دیکھ لیجیے۔ شیخ رشیدصاحب فرما رہے ہیں: ’’سائن بورڈ ہٹانا اسلام نہیں ہے‘‘۔ تو پھر اسلام کیا ہے؟ ذرا ہمیں بھی بتا دیجیے۔ ہمارے نزدیک تو اسلام یہ ہے کہ ’’جہاں برائی ہوتے دیکھو اسے روکو۔ اگر ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو اور اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتے تو دل سے برا جانو کہ یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘۔


شاہدہ پروین ‘ لاہور

مجھے وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے بطور مندوب قومی سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے    اسلام آباد جانے کا موقع ملا۔ محکمے کی جانب سے نہایت اعلیٰ پیمانے پر انتظامات کیے گئے تھے اور ہر طرح سے آسایشیں مہیا کی گئیں۔ وزارتِ مذہبی امور گذشتہ ۲۷ سال سے ایک کثیر رقم ہر سال اس مد میں خرچ کر رہی ہے۔ اسی دن سیرت کانفرنس کے اختتام پر لوگوں کوگردنیں پھلانگ پھلانگ کر لذت کام و دہن پر گرتے دیکھا۔ ایک دن کے لیے بھی ایثار کا عملی مظاہرہ نظرنہ آسکا‘ جب کہ یہ اس ہادی و رہنماؐ کے ذکر کی مجلس تھی جو ایثار و قربانی کا مجسم پیکر تھا‘ جس نے پیٹ پر پتھرباندھے تھے اور کئی کئی ماہ اس کے گھرکا چولہا ٹھنڈا رہتا تھا۔ ہم خوب صورت باتیں سنتے ہیں اور بھلا دیتے ہیں‘ اچھے لفظ لکھتے ہیں اور مٹا دیتے ہیں۔ ہمارا عمل محض چند محافل کے انعقاد تک رہ گیا ہے۔ یہ بھی ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ اتنی کثیر رقم کے استعمال کا کیا حاصل ہے‘ جب کہ یہ اس ملک کے خزانے سے خرچ کی جا رہی ہے جس نے اغیار سے کشکولِ قرض بھروانے کے لیے اپنی خودی بھی دائوپر لگا رکھی ہے۔


محمد صہیب عمر  ‘ کراچی

ماہنامہ تدریس القرآن (کراچی) میں چند ایسے امور کی طرف اشتہار کے ذریعے توجہ دلائی گئی ہے کہ دل چاہا کہ آپ کے قارئین تک پہنچائوں۔ ۱-ائمہ کرام جمعہ کے دن خطبے سے پہلے کی تقریر ایک ایک گھنٹہ کرنے کے بجائے صرف ۱۵‘ ۲۰ منٹ کریں کہ اسی وقت حاضری ہوتی ہے۔ ۲- شادی میں کھانا اول وقت کھلا دیا جائے کہ صحت کے لیے بھی بہتر ہے اور بارہ ایک بجے گھر پہنچ کر فجر کی نماز بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ۳- مغرب کی اذان اور نماز میں (سعودی عرب کی طرح) پانچ سات منٹ کا وقفہ دیا جائے تو بہت سے لوگوں کی رکعتیں اور تکبیر تحریمہ ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔ اگر آپ کو کوئی بندۂ خدا اسپانسر کرے تو ان امور کی طرف معاشرے کو ضرور توجہ دلائیں۔

’’رسائل و مسائل‘‘ کا اجرا

اس پرچے سے ’’رسائل و مسائل‘‘ کے پرانے مستقل عنوان کا احیا کیا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے شعبۂ تنظیم کے ماتحت خطوط کے جو جواب مرکز سے دیے جاتے ہیں ان میں سے اکثر بے حد اہم ہوتے ہیں۔ ان میں تفسیربھی ہوتی ہے‘ فقہ بھی‘ فلسفہ بھی ہوتا ہے اور ادب بھی۔ ہم نے سوچا ہے کہ یہ قیمتی سرمایہ صرف مستفسرین تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عام  تعلیم یافتہ طبقے میں پھیل جانا چاہیے…

سوالات کی عبارت کے متعلق ایک ضروری بات یہ یاد رکھیے کہ یہ ضروری نہیں کہ سوال بالکل مستفسرکے الفاظ میں لکھا جائے اور اس کی چند وجوہات ہیں۔ اول تو یہ کہ جو لوگ زبان پر قدرت نہیں رکھتے ان کے خطوط میں بے ربطی سی ہوتی ہے‘ کسی خط میں تکرار پائی جاتی ہے اور کسی میں الفاظ کا مسرفانہ استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ اختصار اور ربط کے لیے سوال کی عبارت میں تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں۔ البتہ کوشش یہ کی جاتی ہے کہ مستفسرکا پورا مدعا سامنے آجائے…

یہ خطوط اگر انفرادی طور پر محفوظ رکھے گئے تو دراصل غیرمحفوظ ہوں گے۔ لیکن اگرانھیں ترجمان القرآن میں شائع کر دیا گیا تو یہ ایک مستقل تاریخی سرمایے کی حیثیت سے ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچ سکیں گے۔ اور آنے والے عہد کا مورّخ‘ موجودہ دور کے مسلمانوں کی ذہنی حالت کا اندازہ لگانے کے لیے ان خطوط سے بڑی مدد لے سکے گا‘ نیز وہ اُس فکری ارتقا کی سب سے بڑی کڑی کو پورے طور پر سمجھ سکے گا جو مسلمانانِ ہند کی سیاسی زندگی کی تشکیل کر رہا ہے۔ پھر یہ خطوط مستقبل کے ان فقہا کے لیے بھی مفید ہوں گے جو مجتہدانہ انداز سے اسلامی اصولوں کو حالاتِ حاضرہ پر منطبق کرنے کے لیے فقہ کی جدید تدوین کی ہمت کریں۔ (’’اشارات‘‘ ،      نعیم صدیقی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۳‘ عدد ۱-۲‘ رجب و شعبان ۱۳۶۲ھ‘ جولائی ‘ اگست ۱۹۴۳ئ‘ ص ۵-۶)