مضامین کی فہرست


دسمبر ۲۰۰۳

آباد صاحب بیمار تو ایک عرصے سے تھے اور اسی سال فروری میں ان کی اہلیہ کے انتقال نے ان کی صحت اور ہمت دونوں ہی کو متاثر کیا تھا لیکن سارے مصائب کے باوجود وہ مرد درویش اس مقصد کی خدمت کے لیے بے چین تھا جس کے عشق نے اس کی جوانی اور بڑھاپے کے  شب و روز اپنا لیے تھے۔ تحریک اسلامی کا یہ بوڑھا سپاہی جماعت اسلامی کی تاریخ اور      مولانا مودودی کی سوانح لکھنے کے لیے بے چین تھا اور اپنا یہ کام اُدھورا چھوڑ کر ۲۹ ستمبر ۲۰۰۳ء کو رفیقِ اعلیٰ سے جاملا۔اناللّٰہ وانا الیہ راجعون!

آباد شاہ پوری صاحب سے میرا پہلا تعارف اس زمانے میں ہوا جب وہ اُردوڈائجسٹ سے وابستہ تھے (۱۹۶۴ئ-۱۹۸۰ئ)۔ اس سے پہلے وہ کوثراور تسنیم سے بھی وابستہ رہے لیکن اس دور میں میرا ان سے کوئی ربط نہ تھا۔ اُردو ڈائجسٹ میں ان کے مضامین نے چونکا دیا--- خصوصیت سے تاریخ‘ سیرت اور شخصیت نگاری کے میدان میں ان کی تحریریں بڑی دل نشیں‘ ایمان افروز اور آرزو کو بیدار کرنے والی تھیں۔ ان کی کتابوں میں مجھے سب سے زیادہ عزیز سید بادشاہ کا قافلہ ، پہاڑی کے چراغ اور اسلامی زندگی کی کہکشاں تھیں۔ تحریکی ادب میں آباد شاہ پوری کی یہ اہم خدمت ہے کہ انھوں نے دماغ کے ساتھ دل کی غذا کا بندوبست کیا اور نوجوانوں کو ولولۂ تازہ دینے کا کام انجام دیا۔

آباد شاہ پوری مرحوم کا اصل نام محمد خورشید الزماں تھا اور وہ تحصیل و ضلع خوشاب میں ۴جون ۱۹۲۳ء کو پیدا ہوئے۔ پہلے منشی فاضل‘ پھر پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے اُردو کی سند حاصل کی۔ اُردو‘ عربی‘ فارسی اور انگریزی پر عبور تھا اور صحافت‘ شعروادب‘ تاریخ و سوانح اور تحقیق و تصنیف کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ عالمِ اسلام کے مسائل اور مسلمانوں کے حالات سے خصوصی دل چسپی تھی اور ان کی تحریر کے جس پہلو نے مجھے متاثر کیا‘ وہ تاریخی شعور کی روشنی‘ ادب کی چاشنی اور سب سے بڑھ کر امید اور جذبۂ کار کو بیدار کرنے والا ولولہ تھا۔ اس میں زندگی ہی زندگی اور جدوجہد ہی جدوجہد کا سماں نظر آتا تھا۔ آباد شاہ پوری زبان کی صحت کا بڑا خیال رکھتے تھے اور مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ ان کی زبان اُردوے معلی کا بہترین نمونہ تھی۔ الحمدللہ وہ کسی لسانی تعصب میں مبتلا نہیں تھے لیکن میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ وہ پنجاب کے اُردو کے ان خادموں میں سے ایک تھے جنھوں نے اپنی تحریر پر مقامی محاورے کا کوئی سایہ نہیں پڑنے دیا اور ان کی نگارشات کے مطالعے سے یہ پتا لگانا مشکل ہے کہ صاحب ِ نگارش کا تعلق کس خطے سے ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کے لیے پطرس کا ایک قول بطور جملۂ معترضہ کے لکھ دوں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اہل زبان میں بحث ہو رہی تھی کہ ’’مجھے پشاور جانا ہے‘‘ اور ’’میں نے پشاور جانا ہے‘‘ دونوںمیں سے صحیح یا یوں کہہ لیجیے کہ فصیح کیا ہے تو پطرس نے کہا: فصیح تو ’’مجھے پشاور جانا ہے‘‘ ہی ہے مگر ’’میں نے پشاور جانا ہے‘‘ لکھنے والے کے بارے میں یہ بھی پتا چل جاتا ہے کہ آکہاں سے رہا ہے۔

مجھے آباد صاحب سے ۱۹۸۰ء کے بعد بہت قریب سے معاملہ کرنے کا موقع ملا۔ وہ ایک عرصہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز سے وابستہ رہے اور اس کے بعد بھی اگرچہ ادارہ معارف اسلامی لاہور سے وابستہ تھے مگر واسطہ انسٹی ٹیوٹ ہی تھا۔ میں نے ان کو ایک بلند پایہ محقق‘ ایک بے لاگ نقاد‘ ایک روشن خیال ادیب‘ ایک مخلص ساتھی اور سب سے بڑھ کر ایک اچھا انسان پایا۔ دنیاطلبی کی کوئی جھلک ان کی زندگی میں نہ تھی اور آخری ایام میں جب وہ کام کرنے سے اپنے کو معذور پا رہے تھے تو یہ کہہ کر اعزازیہ لینے سے انکار کر دیا کہ میں کام نہیں کر پا رہا ہوں    ؎

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

آباد صاحب نے اپنی زندگی کے آخری ۲۰ سال جماعت اسلامی پاکستان کی تاریخ اور مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی کی سوانح حیات لکھنے کے لیے وقف کر دیے تھے۔ انھوں نے تحقیق کا حق ادا کیا اور لاکھوں صفحات کھنگال کر نوٹس تیار کیے۔ جماعت کی تاریخ کی وہ صرف دو جلدیں مرتب کرسکے۔ افسوس کہ پوری تیاری کے باوجود مولانا کی سوانح وہ ضبط ِ تحریر میں نہ لا سکے اور اپنی ساری تخلیق کا حاصل اپنے ساتھ ہی لے گئے جو اہلِ علم کے لیے بڑی محرومی ہے۔ اگر انھیں مولانا کی سوانح لکھنے کی مہلت مل جاتی تو یہ تحریکی ادب میں ایک بیش قیمت اضافہ ہوتا۔ لیکن امرربی کے آگے کسی کو کیا مجال!

آباد صاحب شاعر بھی تھے لیکن میں اس راز سے ان کے انتقال کے بعد ہی واقف ہوسکا۔ ان کی جو چند نظمیں اب دیکھی ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اگر وہ اس میدان میں آگے بڑھتے تو خاصے کی چیزیں پیش کر سکتے تھے۔

آباد شاہ پوری ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے جس چیز کو مقصدِ زندگی کے طور پر اختیار کیا‘ اس کے لیے پوری زندگی وقف کر دی اور آخری لمحے تک وفاداری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی زندگی بہت سادہ‘ ان کی مصروفیات بہت متعین اور محدود‘ ان کے تعلقات وسیع مگر ان کے معمولات وقت گزاری اور یارباشی سے پاک۔ خاندانی اور تحریکی معاملات میں‘ مَیں نے ان کو بہت معاملہ فہم پایا اور انسانی تعلقات کے باب میں تو وہ اس پہلو سے منفرد تھے کہ اپنے اور پرائے ان سے مشورہ کرتے اور تنازعات میں ان کو ثالث بناتے اور وہ ہمیشہ حق و انصاف اور ہمدردی کے ساتھ معاملات کو نمٹاتے۔ کم گو تو وہ شاید ہمیشہ ہی سے تھے لیکن آخری عمر میں کچھ زیادہ ہی اپنے کاموں میں مگن ہوگئے تھے لیکن انسانی تعلقات اور حقوق کی ادایگی سے کبھی غافل نہ رہے۔ یہ وہ روایت ہے جو اب اٹھتی جا رہی ہے حالانکہ آج کے انسان کو اس کی ہمیشہ سے زیادہ ضرورت ہے۔ آباد صاحب برعظیم کی جس علمی‘ صحافتی اور ادبی روایت کا نمونہ تھے‘ وہ اب عنقا ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے اٹھ جانے سے ایک خلا محسوس کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کوقبول فرمائے اور انھیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین!

؎   جو بادہ کش تھے پرانے‘ وہ اٹھتے جاتے ہیں

کہیں سے آبِ بقاے دوام لے ساقی

بلقان کی سرزمین پر اسلام کا علَم بلند کرنے اور بوسنیا ہرذی گووینا کی آزادی برقرار رکھنے میں مجاہدانہ کردار ادا کرنے والے علی عزت بیگووچ ۱۹ اکتوبر۲۰۰۳ء کو اس دارِفانی سے رخصت ہوگئے۔ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون! اُن کی وفات سے بوسنیا ایک اعلیٰ پائے کے  دانش ور‘ تجربہ کار قانون دان اور اصولوں کی جنگ لڑنے والے سیاست دان سے محروم ہو گیا ہے۔ مسلم دنیا عمومی طور پر اور اسلامی تحریکات خصوصی طور پر اُن کی جدائی پر ملول ہیں اور ربِ کریم کے حضور اُن کی سرخروئی کے لیے دُعاگو بھی۔

علی عزت بیگووچ ۸ اگست ۱۹۲۵ء کو پیدا ہوئے۔ اِن کے اجداد بلغراد شہر کے رہنے والے تھے۔ علی کی پیدایش سراجیوو کے نواح میں ہوئی۔ جب ان کی عمر دو سال تھی تو اِن کا خاندان مستقلاً سراجیوو شہر میں مقیم ہوگیا۔ علی کے دادا فوجی تھے اور ان کی دادی ترکی سے تعلق رکھتی تھیں۔ علی کے والد ایک چھوٹی کمپنی میں ملازم تھے۔ علی پر اپنی والدہ کے بے انتہا اثرات تھے جوایک دین دار خاتون تھیں۔ انھوں نے اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گراد کاک شہر کا رُخ کیا تاکہ فوج کی جبری بھرتی سے بچ سکیں۔

اُس زمانے میں یوگوسلاویہ پر کمیونسٹ حکمران تھے۔ مذہب سے برگشتہ کرنے والا لٹریچر اسکول میں لازماً پڑھایا جاتا تھا لیکن ماں کی تربیت کے سبب خدا مخالف‘ مذہب دشمن خیالات ان کے لیے اجنبی ہی رہے۔ ان کو مطالعے کا شوق تھا اور گریجوایشن سے پہلے وہ برگسان‘ کانٹ اور سپینگلر کی تحریروں کا مطالعہ کر چکے تھے۔ ۱۹۴۳ء میں گریجوایشن کا امتحان پاس کیا۔ وہ قانون کو پیشے کے طور پر اختیار کرنا چاہتے تھے لیکن کاتب تقدیر نے اُن کے لیے قوم کی قیادت لکھ دی تھی۔ اُنھوں نے فوج میں بادلِ ناخواستہ شمولیت اختیار کی اور پھر اس کو خیرباد بھی کہہ دیا۔ قرآن‘ حدیث‘ فقہ‘ تاریخِ اسلام‘فکرِاقبال اور عیسائیت کا گہرا مطالعہ انھوں نے اپنے شوق سے کیا۔ پھر ان کا تعلق یوگوسلاویہ کے نوجوانوں کی تنظیم ’’ینگ مسلمز‘‘ کے ساتھ ہوگیا۔ زغرب‘ بلغراد اور سراجیوو یونی ورسٹی کے طلبہ اس کے رُوحِ رواں تھے۔ ۲۲برس کی عمر میں اُنھوں نے رسالہ مجاھدکی ادارت سنبھالی۔کمیونسٹوںنے یکے بعد دیگرے نمایاں طلبہ کو گرفتار کرلیا اور کئی نوجوانوں کو تختۂ دار تک پہنچا دیا۔ علی کو مختلف الزامات کی بنا پر گرفتار کر لیا گیا اور تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ قید کے دوران علی لکڑیاں کاٹتے رہے اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ اس قید نے تخلیقی ذہن کے مالک اور شعروادب سے دل چسپی رکھنے والے علی کو جفاکش بنا دیا اور بعد میں وہ بڑی سے بڑی آزمایش کو مسکرا کر جھیلتے رہے۔ مذکورہ تنظیم باضابطہ طور پر رجسٹر نہ ہو سکی لیکن اس کی سرگرمیاں طویل عرصہ جاری و ساری رہیں۔

کمیونسٹوں کے ہاتھوںنوجوان طلبہ کی گرفتاریوں اور سزائوں کا دُوسرا دور ۱۹۴۹ء میں شروع ہوا۔ علی کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھیوں کو جس قدر سزائیں سنائی گئیں‘ اگر اُنھیں یک جا کردیا جائے تو کئی ہزار سال بن جاتے ہیں۔ علی نے قانون کی اعلیٰ ڈگری ۱۹۵۶ء میں حاصل کی۔ ۱۰برس تک وہ ایک تعمیراتی کمپنی سے بھی منسلک رہے اور اخبارات میں ان کے مضامین بھی شائع ہوتے رہے۔

علی کے مُدلل مضامین مختلف جرائد میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے۔ وہ ’اسلامی ڈیکلریشن ‘کے نام سے یکجا کر دیے گئے اور کتابی صورت میں شائع ہوئے لیکن اِن کی اشاعت کے ۲۰ برس بعد حکومت ِ یوگوسلاویہ نے اِن مضامین کی بنا پر علی عزت اور ان کے ۱۳ ساتھیوں کو گرفتار کرلیا۔ اِن مضامین میں کہا گیا تھا کہ اپنے دین کی طرف پلٹنے اور رجوع کرنے سے مسلمان سُرخرو ہو سکتے ہیں۔ بغاوت کے زیرعنوان ۱۰۰ روز تک جاری رہنے والے اس مقدمے نے ’مقدمہ سرائیوو‘ کے نام سے غیرمعمولی شہرت حاصل کی۔ علی کے خیالات کو بنیاد پرستی کی دعوت قرار دیا گیا۔ ۲۳ مارچ ۱۹۸۳ء کو ۱۹ سال کا ریکارڈ مرتب کرکے عدالت میں پیش کیا گیا کہ علی عزت اور بہمن عمرکتابوں کے ذریعے زیرزمین سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور موجودہ حکومت کا تختہ اُلٹ کر اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ علی کو ۱۴ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

علی عزت بوسنیا کے مسلم عوام کی حالت ِ زار پر پہلے بھی فکرمند رہتے تھے۔ قیدخانے میں پہنچ کر اُنھیں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا اندازہ بھی ہوگیا۔ جیل کے اندر ہی اُنھوں نے سیاسی جدوجہد کا تفصیلی خاکہ مرتب کرلیا۔ اس سے ۲۰‘۲۵ برس قبل علی عزت نے اسلام‘ عیسائیت‘دورِ جدید اور آیندہ لائحہ عمل کے زیرِعنوان چند مضامین لکھے تھے۔ دوسری بار قید ہونے کے بعد اُنھیں موقع مل گیا کہ اِن مضامین کو ازسرنو تحریر کریں۔ یہ مضامین کتابی شکل میں امریکہ سے Islam between East & West کے نام سے شائع ہوئے۔ امریکہ میں اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اس کے کئی زبانوں میں ترجمے بھی شائع ہوئے جس سے علی عزت کی شہرت سمندرپار پہنچ گئی۔ مذکورہ کتاب کا اُردو ترجمہ ادارہ معارفِ اسلامی لاہور اسلام اور مشرق و مغرب کی تہذیبی کش مکش کے نام سے شائع کرچکا ہے۔

چھ برس بعد علی عزت کو قید سے رہائی ملی۔ اُس وقت رُوس کے زوال کے بعدیوگوسلاویہ کی کمیونسٹ پارٹی شکست و ریخت کا شکار ہو رہی تھی۔ علی عزت نے اپنے ۴۰دوستوں کے ہمراہ پارٹی فار ڈیموکریٹک ایکشن (SDA) قائم کی۔۲۷ مارچ ۱۹۹۰ء کو اس کا منشور منظرِعام پر آیا‘ انسانی و جمہوری اقدار کی بالادستی کی جدوجہد اس کا مطمح نظر ٹھیرا۔ اسی سال قومی انتخابات ہوئے تو بھرپور مہم چلائی گئی’’اپنی سرزمین اپنا نظریہ‘‘ اِن کا نعرہ تھا۔ اُس وقت یوگوسلاویہ کے صوبہ بوسنیا ہرذی گووینا میں رجسٹرڈ مسلمانوں کی تعداد ۲۲ لاکھ ۸۹ ہزار تھی۔ اسمبلی کی ۲۴۰ نشستوں میں سے ۸۶ پر علی عزت کے ساتھی کامیاب ہوئے اور یہ پارٹی قوت بن کر اُبھری۔

روس کے بعد یوگوسلاویہ میں ٹوٹ پھوٹ کا آغاز ہوا تو مقدونیہ‘ مانٹی نیگرو‘ کروشیا اور سلووینیا نے اسمبلی میں قراردادیں پاس کر کے آزادی کا اعلان کر دیا اور ان کے اعلانِ آزادی کا خیرمقدم کیا گیا۔ ان حالات میں بوسنیا کی اسمبلی نے بھی آزادی کی قرارداد پاس کرلی۔ ۲۲ مئی ۱۹۹۲ء کو یورپین یونین نے بوسنیا کی آزادی کو تسلیم کر کے ممبرشپ دے دی۔ بوسنیا کے لیے جو جھنڈا منتخب کیا گیا وہ ہسپانیہ کے مسلمانوں کا تھا جو وہ اپنے دورِ عروج میں استعمال کرتے رہے تھے۔ لیکن بوسنیا کی آزادی نے بلقان کے علاقے میں آگ اور خون کے ایک شرمناک سلسلے کا آغاز کر دیا۔ آرتھوڈوکس سربوں اور کروٹوں نے بوسنیا کے اعلان کو تسلیم نہ کیا۔ ۱۹۹۵ء تک بوسنیا دنیا کے اخبارات کی نمایاں ترین سرخیوں کا عنوان بنا رہا۔ ۲۲ لاکھ آبادی میں سے ۲ لاکھ مسلمان (جو ۵۱ ہزار مربع میل رقبے پر پھیلے ہوئے تھے) شہید کر دیے گئے۔ مسلمانوں کو تعذیب خانوں (Concentration Camps)میں رکھا گیا‘اُن کی عورتوں کی جبری اجتماعی آبروریزی جنگی تدبیر (war tactic)کے طور پر کی جاتی رہی‘ مسلمانوںکے دلوں میں خوف بٹھانے کے لیے حلقوم پھاڑ کر تڑپانے اور ہلاک کرنے (throat slitting)کا طریقہ متعارف کرایا گیا۔ یوگوسلاویہ کے جانشین سربیا کے صدر سلوبودان میلاسووچ اور رادوان کرادزچ نے ساری دنیا اور اس کے عالمی اداروں کو پسِ پُشت ڈال کر مسلمانوں کے شہر تباہ کر دیے‘ مسجدیں شہیدکر دیں‘ کوچہ و بازار خاک کر دیے۔ عالمی اداروں‘ مثلاً اقوامِ متحدہ کی امن فوج‘ یورپین یونین کمیشن اور دیگر فلاحی و رفاہی تنظیموں کو زچ کرکے رکھ دیا۔ مذاکرات کی میز پر بھی نئے نئے دائوپیچ آزمائے گئے‘ تبادلۂ آبادی‘ محفوظ مقامات (Safe Havens)‘ وسیع تر آزادی‘ وفاقی حکومت‘       چھ صوبے اور کتنی ہی تدابیر کے ذریعے بوسنیا کو آزادی سے دستبردار کرنے کی کوشش کی گئی۔ سراجیوو کا کئی سال محاصرہ رہا۔ موستار‘ بنجالوکا‘ اور دیگر شہروں اور چھوٹے بڑے قصبوں پر ٹینک چڑھا دیے گئے۔ حقیقی معنوں میں بلڈوزر پھیر دیے گئے۔ شمالی اوقیانوس معاہدہ عظیم (NATO) اور کئی مؤثرادارے اس نسل کشی پر خاموش تماشائی بنے رہے کیونکہ خون یورپین کا نہیں یورپین مسلمان کا بہہ رہا تھا۔

پانچ برسوں میں نجانے کتنے مواقع آئے کہ جب یہ حکومت ختم ہو جاتی اور بوسنیا‘ سربیا کی گودمیں چلا جاتا لیکن ایک شخص تھا جس نے ہمت نہ ہاری اور وہ شخص بوسنیا کا صدر علی عزت بیگووچ تھا‘ جو ڈٹا رہا‘ سفارتی جنگ بھی لڑی‘ دیگر ممالک سے امداد و تعاون کے لیے درخواستیں بھی کرتا رہا‘ عالمی اداروں کے دروازے بھی کھٹکھٹاتا رہا‘ امن اور انصاف کی دُہائیاں دیتا رہا‘ اپنے عوام کے لاشوں کو دفناتا بھی رہا‘ بچ رہنے والوں کو پُرسہ دیتا رہا‘ فوج کی تنظیمِ نو کرتا رہا اور بالآخربوسنیا کو اس صدی کے المناک طوفانِ حوادث سے نکال کر آزادی کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ بوسنیا کے عوام پر کیا گزری‘ کون کون سے معاہدے ہوتے رہے‘ کہاں کہاں کانفرنسیں ہوتی رہیں‘ عالمی چودھریوں اور شاطروں کا کیا کردار رہا‘ اس کی تفصیلات محمد الیاس انصاری نے اپنی کتابوں مقدمۂ بوسنیا اور سانحۂ بوسنیا میں فراہم کر دی ہیں۔

بوسنیا کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے علی عزت بیگووچ ایران‘ ترکی‘ اٹلی‘ فرانس‘ جرمنی‘ برطانیہ‘ امریکہ اور ہر اُس جگہ گئے کہ جہاں انصاف مل سکتا تھا یا داد رسی ہو سکتی تھی۔ اپنی خودنوشت سوانح عمری Inescapable Questions میںانھوں نے اس دور کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ امیرجماعت ِ اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد جنگِ بلقان کے دوران ان سے جاکر دو بار ملے اور اُمت ِ مسلمہ کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ مذکورہ کتاب میں جو اسلامک فائونڈیشن لسٹر نے شائع کی ہے‘ علی عزت نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ دُنیا بھر کے مسلمانوں نے بوسنیا کے مسلمانوں کی اخلاقی پشت پناہی کی۔ جو ممالک سرکاری طور پر اُن کے لیے آواز بلند کرتے رہے اُن کی تفصیلات بھی درج ہیں۔

علی عزت بیگووچ نے ۱۴ دسمبر ۱۹۹۵ء کو Dayton کے مقام پر ہونے والے معاہدے پر دستخط کر دیے جس کے بعد بلقان میں جنگ کا خاتمہ ہو گیا اور موجودہ بوسنیا وفاق وجود میں آیا۔ اس میں ایک صوبہ بوسنیائی سربوں پر مشتمل ہے‘ جب کہ دوسرے صوبے میں مسلمانوں اور کروٹوں کی فیڈریشن ہے۔ اُن پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اصل مطلوب رقبے سے کم پر رضامندی کا اظہار کررہے ہیں لیکن اُن کے حالات ایسے ہی تھے جن کا قائداعظم محمدعلی جناح کو قیامِ پاکستان کے موقع پر سامنا تھا۔ بوسنیا کے مسلمانوں نے جو لازوال قربانیاں دی ہیں اُس کا اندازہ برعظیم سے ہجرت کرکے آنے اور خاندان کٹوانے والے بہتر سمجھ سکتے ہیں ۔ ۱۹۹۶ء میں بوسنیا کی صدارت کے لیے تین ممبران پر مبنی صدارتی کونسل میں علی عزت بھی شامل تھے۔ بعدازاں سال ۲۰۰۰ء میں اُنھوں نے مسلسل خرابیِصحت کی بنا پر استعفا دے دیا۔بوسنیا کے لوگ اُنھیں محبت کے ساتھ ’’باباجان‘‘ کہتے ہیں۔

علی عزت بیگووچ پر الزام تھا کہ وہ انتظامی مشینری پر قابو نہیں پا سکے ہیں اور ملک میں بدعنوانی اپنے عروج پر ہے۔ عالمی اداروں کی طرف سے بحالی کے لیے ملنے والی بڑی بڑی رقوم سرکاری مشینری اور افسرہضم کر رہے ہیں۔ اُن کے مخالفین یہ بھی کہتے تھے کہ وہ اپنے بیٹے بقربیگووچ کو بوسنیا کا صدر بنانا چاہتے ہیں۔ علی عزت نے ان الزامات کی تردید کی اور اُمید ظاہر کی کہ بوسنیا کو جو اندرونی مسائل درپیش ہیں اُن میں جلد کمی آجائے گی۔

بوسنیا کی آزادی کی جنگ کے دوران علی عزت کو کئی سربراہانِ مملکت سے بار بار ملنے اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا موقع ملا۔ انھیں امریکہ و یورپ کی یونی ورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی۔ اسلام کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں     فیصل ایوارڈ بھی دیا گیا۔ طویل عرصے تک بیمار رہنے کے بعد علی عزت بیگووچ ہم سے رخصت ہوچکے ہیں اُن کی وفات کے بعد اُن کی پارٹی کے تین دھڑوں میں تقسیم ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں ‘تاہم آج بھی دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے وہ ہمت وجرأت کا مینارئہ نور ہیں  ع

خدا رحمت کُند ایں عاشقانِ پاک طینت را

علی عزت بیگووچ ایک جملہ بار بار کہا کرتے تھے اوروہ ہمارے لیے بھی غوروفکر کی راہیں وا کرتا ہے کہ ’جب زندگی کا کوئی متعین مقصد نہ رہے تو زندہ رہنا بے معنی ہو جاتا ہے‘۔

مہاتیرمحمد اقتدار سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ عبداللہ احمد بداوی وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھاچکے ہیں۔ دنیا بھر میں خیرمقدم کیا جا رہا ہے کہ مہاتیرمحمد اپنی رضامندی سے اقتدار سے الگ ہوئے۔ اسلامی ممالک کی کانفرنس میں ان کی تقریر کو اُمت مسلمہ کے نقطۂ نظر سے بہت سراہا گیا ہے۔

ملائیشیا میں مسلمان ۶۰ فی صد اور دیگر مذاہب کے پیروکار۴۰ فی صد ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیرمحمد ۲۲ برس تک وزیراعظم رہے۔ اُنھوں نے نظامِ تعلیم اور معیارِ تعلیم کی بہتری کو اولین ترجیح بنایا‘ دنیا بھر سے لائق اساتذہ کو اپنے ملک میں اکٹھا کیا اور ملک کے معماروں کی تعمیر کا مستحکم نظام قائم کیا۔ ملایشیا کی موجودہ فی کس آمدن ۳ ہزار ۶سو امریکی ڈالر ہے۔ اُن کے دورِ اقتدار میں یہ ربڑ کی برآمد کرنے والے غیرترقی یافتہ ملک سے درمیانے درجے کے صنعتی ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں جو اقتصادی بحران ۱۹۹۷ء میں آیا اُس سے صرف ملائیشیا ہی محفوظ رہ سکا۔ اس وقت ملائیشیا کی برآمدات ۸۸ ارب امریکی ڈالر سے متجاوز ہیں‘ جب کہ حکومت کے محفوظ ذخائر کا اندازہ ۳۳ ارب امریکی ڈالر ہے۔

مہاتیرمحمد کی پالیسیوںکا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اُنھوں نے جاپان اور مغربی ممالک کے لیے سرکاری طور پر اس قدر سہولتیں فراہم کیں کہ وہاں کے صنعت کار ملائیشیا میں بلاروک ٹوک سرمایہ کاری کرنے لگے۔ سرکاری تحویل سے بیشتر کاروبار نجی شعبے کو منتقل کر دیا گیا۔ سرمائے کی گردش کی حدود واضح کی گئیں‘ اور سکّے کے بجاے سونے یا اسلامی دینار کو مسلم دنیا میں کرنسی بنانے کا نظریہ پیش کیا گیا تاکہ ڈالر کی بالادستی کو توڑا جا سکے۔ داخلی طور پر اُنھوں نے پوری قوم کو محنت کرنے اور آگے بڑھنے کا سبق دیا۔ اُن کا کہنا تھا جس طرح کمپنی کا ہر کارکن کام کرتا ہے اس طرح ہر شہری اپنا فرض ادا کرے۔ ڈاکٹر مہاتیر نے بوسنیا کی جنگ کے دوران‘ بوسنیا کے لیے ببانگ دہل آواز بلند کی‘ فلسطینیوں کے بارے میں بھی اُن کے بیانات شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اُنھوں نے اقتدار سے دستبردار ہوکر اُن درجنوں مسلم سربراہوں کے لیے ایک مثال قائم کر دی ہے کہ جو کہتے ہیں کہ ہمارا ملک ہمارے دم سے یا ہماری اولاد کے دم قدم سے شاد آباد رہے گا‘ ہم چلے جائیں گے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔

مہاتیرمحمدنے اسلامی ایشوز کے ترجمان کی حیثیت سے اپنی شناخت تسلیم کروائی‘ اور دوسری طرف معاشی خوشحالی کے لیے بھرپور کوشش کی۔ اُن کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام‘ اقتصادی ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں ہے اور اس پر وہ اور اُن کے ساتھی عمل پیرا رہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فراموش نہ کرنا چاہیے کہ مہاتیراور اُن کی جماعت United Malay National Organization (UMNO) میں اس طویل عرصے میں حزبِ اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ کم ہی رہا۔ اُنھوں نے پریس کی آزادی پر کافی حد تک پابندی عاید کیے رکھی۔ حزبِ اختلاف کی اسلامی پارٹی ملایشیا،’پاس‘(PAS) اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اُن کا رویہ سخت رہا۔ سابق قائد حزبِ اختلاف فاضل نور کی تقاریر سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے مخالفین کی کردارکُشی کی پالیسی اختیار کی۔ مخالفین کے لیے انٹرنل سیکورٹی ایکٹ (ISA) اور (OSA) جیسے قوانین ابھی تک روبہ عمل ہیں۔ اس کے تحت مقدمہ چلائے بغیر کسی بھی شخص کو غیرمعینہ مدت کے لیے پابند ِ سلاسل رکھا جا سکتا ہے۔ کلنتان اور ترنگانو کی ’پاس‘ کی حکومتوں کے لیے ہر اُس مرحلے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جہاں قانون سازی پر عمل درآمدکے لیے وفاقی حکومت کی منظوری درکار ہو۔ اَناکی جنگ لڑتے لڑتے مہاتیرنے انور ابراہیم جیسے نائب اور باصلاحیت قائد کو جیل خانے تک پہنچا دیا۔

اب سوال یہ ہے کہ مہاتیر کے بعد کا ملائیشیا کیسا ہوگا؟

ملائیشیا میں انتخابات کا شیڈول اپریل ۲۰۰۴ء میں جاری ہو جائے گا اور امید ہے کہ اکتوبر تک انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔ ’امنو‘ کے نمایندے اور موجودہ وزیراعظم عبداللہ احمد بداوی کی پالیسی یہ ہے کہ چینی النسل باشندوں اور ہندوئوں کے ووٹ کی تعداد میں اضافہ ہو۔

آیندہ کے سیاسی منظرنامے کے بارے میں سنٹر فار ماڈرن اورینٹ اسٹڈیز‘ برلن‘  جرمنی کے سربراہ ڈاکٹر فارش اے نور لکھتے ہیں: ڈاکٹر مہاتیرمحمد کے جانشین داتو عبداللہ احمدبداوی کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے اور وہ چیلنج یہ ہے کہ ریاست کے انتظامی ادارے(bureau cratic institutions) ازسرِنو ترتیب دیے جائیں‘ سرکاری نوکریاں اور عہدے قابلیت پر ہی فراہم کیے جائیں‘ سیاسی اقربا پروری پر پابندی ہو‘ عدلیہ کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی جائے‘ حکومت برداشت‘ جمہوریت‘ اجتماعیت اور بنیادی انسانی حقوق کی علم بردار ہو۔ ملک کے کئی خطے اور آبادی کے مجموعے اُس اجتماعی خوشحالی سے بہرحال محروم ہیں کہ جن کا بیرونِ ملک خوب چرچا ہوتا ہے۔ اُن کے لیے بھی راہِ عمل متعین کی جائے۔

ملائیشیا کی قیادت کو یہ فراموش نہ کرنا چاہیے کہ معاشی خوش حالی کی قیمت پر جمہوری روایات اور ثقافتی ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ شہروں پر آبادی کا دبائوبہت بڑھ گیا ہے۔ امیر اور غریب طبقات کے درمیان فرق میں اضافہ ہوا ہے اور شہری زندگی کے مسائل میں فلک بوس عمارتوں کی طرح اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ زراعت اور ماہی گیری کے شعبے پسِ منظر میں جا رہے ہیں۔ مہاتیر کے بعد زیادہ عوامی پالیسیاں اختیار کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔

وفاق میں حکومت بنانے کے لیے ’پاس‘ کو شدید محنت کی ضرورت ہے۔ وفاقی اسمبلی میں ’پاس‘ کے ۳۹ ممبران ہیں۔ قدامت پرستی‘ عورتوں سے امتیاز اور آرتھوڈوکس ہونے کے پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے مضبوط سیاسی و انتخابی اتحاد کی ضرورت ہے۔

اسلامی پارٹی ملائیشیا جو گذشتہ ۱۲ برس سے برسرِاقتدار مخلوط حکومت کی منفی پالیسیوں پر تنقید کر رہی ہے‘ اور اس نے کلنتان اور ترنگانو صوبوں میں حکومت بنانے کے بعد وفاقی اسمبلی میں بھی اصول پرست مضبوط حزبِ اختلاف کا کردار ادا کیا ہے‘ اپنے کردار کے ذریعے ملائیشیا کی ۴۰ فی صد غیرمسلم (ہندو‘ سکھ‘ چینی) آبادی کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہماری پارٹی برسرِاقتدار آنے کے بعد اُن کو تبدیلی مذہب پر مجبور کرنے کی احمقانہ کوشش نہ کرے گی‘ اور وفاق میں حکومت بنانے کے بعد اُن کے سیاسی‘ معاشرتی اور اقتصادی حقوق پر ہرگز آنچ نہ آئے گی۔ خواتین کو امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے گا جن کا ملائیشیا کے اخبارات میں چرچا رہتا ہے۔

۱۷ رمضان المبارک (یومِ بدر) کے موقع پر اسلامی پارٹی کے سربراہ داتوسری حاجی عبدالہادی آوانگ نے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے مجوزہ دستاویز اہالیانِ وطن کے سامنے پیش کی۔ اس کے اہم ترین نکات کا خلاصہ حسب ِ ذیل ہے:

                ۱-            ریاست بلاتفریق مذہب و ملّت تمام شہریوں کے تمام حقوق کی مکمل ضمانت دے گی۔

                ۲-            وفاقی دستور میں اُسی وقت تبدیلی کی جائے گی جب یہ انتہائی ناگزیر ہو۔

                ۳-            تمام مذاہب کے پیروکار اپنی مذہبی روایات‘ ثقافتی رسومات پر عمل پیرا رہ سکیں گے۔

                ۴-            کسی بھی شخص کو مجبور نہ کیا جائے گا کہ وہ دین اسلام کو قبول کرے۔

                ۵-            عدلیہ اور مقننہ کا علیحدہ نظام برقرار رہے گا۔

                ۶-            ملازمتیں میرٹ اور اصولوں کی بنیاد پر مہیا کی جائیں گی۔ مذہب‘ نسل اور جنس کی بنا پر امتیاز نہ برتا جائے گا۔

                ۷-            شہریوں کے جمہوری حقوق کی پاسداری وفاقی دستور کے مطابق جاری رہے گی۔

                ۸-            عدلیہ‘ انتظامیہ اور مقننہ میں کوئی بھی شخص منتخب ہو سکے گا۔ نسلی اور لسانی گروہ کی بنا پر پابندی عائد نہ کی جائے گی۔

                ۹-            فروغِ تعلیم اور مادری زبان میں تعلیم کا حق‘ ریاست کو حاصل رہے گا۔

                ۱۰-         عورتوں کے لیے تعلیم‘ ملازمت‘ تجارت‘ سفر کے تمام حقوق برقرار رہیں گے اور اُن کے ساتھ جنس‘ مذہب اور لسانی گروہ کی بنا پر کسی قسم کا امتیاز روا نہ رکھا جائے گا۔

گذشتہ پانچ برسوں میں یونی ورسٹیوں کے انتخاب میں اسلامی پارٹی کے نامزد اور   ہم خیال طلبہ کامیاب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ دونوں صوبوں کے خوش گوار تجربات کے اثرات بھی پھیل رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے لیے تیاری جاری ہے۔ مہاتیر نے ایک ایسے وقت دست برداری کی ہے کہ اس کی پارٹی انتخابات جیت سکے۔ ’پاس‘ ایک سنجیدہ متبادل قیادت کے طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ اب ملائیشیا کے عوام کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

جہیز اور مہر کی حیثیت

سوال: ہمارے ہاں شادی کے موقع پر جہیز کا بڑا اہتمام ہوتا ہے۔ کچھ لڑکیاں صرف جہیز نہ ہونے کی وجہ سے شادی ہوجانے سے محروم رہ جاتی ہیں۔ شریعت میں اس کا کیا مقام ہے‘ نیز مہر کی کیا حیثیت ہے؟

جواب: اسلام ایک مکمل دین ہے جو انسان کی رہنمائی زندگی کے ہر موقع پر کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ قف (اٰل عمرٰن ۳:۱۹)‘ وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْـہُج وَھُوَ  فِی  الْاٰخِرَۃِ  مِنَ  الْخٰسِرِیْنَo (۳:۸۵)‘ یعنی زندگی گزارنے کا طریقہ تو اللہ کے ہاں صرف اسلام ہے‘ لہٰذا اگر کوئی شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور راستہ ڈھونڈ نکالے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ہرگز قبول نہیں کرے گا اور ایسا فرد آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ شادی غمی بالخصوص نکاح کے لیے بھی اسلام نے اپنا ایک طریقہ اور نظام قائم کیا ہے اور وہ یہ کہ مرد گھر بسانے اور آباد کرنے کا مکمل ذمہ دار ہے۔ گھر والی کے جملہ اخراجات بھی شادی کے بعد مرد ہی ادا کرے گا‘ عورت کسی چیز کی ذمہ دار نہ ہوگی۔ البتہ عورت گھر کا انتظام سنبھالنے‘ بچوں کی اچھی تربیت کرنے اور شوہر کی تمام جائز ضروریات اپنی استطاعت کے مطابق پورا کرنے کی پابند ہوگی۔

اس طرح گھر کی آبادکاری اور جملہ ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری مرد پر آتی ہے۔ البتہ اگر لڑکی خود یا اس کے والدین اور سرپرست بچی کے ساتھ بطور جہیز کے کچھ سامان یا چیزیں دینا چاہیں تو ان کے دینے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن یہ جہیز فراہم کرنا اپنے اوپر ہر حال میں لازمی کر لینا صحیح نہیں ہے۔ اگر کسی گھرانے کے مالی حالات جہیز دینے کی اجازت نہیں دیتے تو بالکل جہیز نہیں دینا چاہیے‘ بالخصوص ادھار اور قرض لے کر بچی کو بھاری بھرکم جہیز دینا نہ کوئی  عقل مندی ہے اور نہ اسلام اس کی اجازت ہی دیتا ہے۔

لڑکے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ لڑکی سے جہیز کا مطالبہ نہ کریں کیونکہ یہ سامان فراہم کرنا مرد کی اپنی ذمہ داری ہے اور دوسروں سے اس کی توقع رکھنا مردانگی کے خلاف ہے۔ رشتہ خاتون سے ہونا چاہیے نہ کہ جہیز کے سامان سے۔ حضوؐر پاک کی سنت بھی یہ ہے کہ حسب استطاعت بچی کو بطور تحفہ کچھ سامان جہیز میں دیا جائے۔ استطاعت نہ ہونے کی صورت میں جہیز دینا یا اس کی توقع رکھنا سنت نبویؐ کے خلاف ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ اسلام میں مرد اور عورت دونوں کے درمیان نکاح کے وقت مہر کے طور پر کوئی بھی رقم متعین کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ رقم کسی بھی صورت میں اتنی نہیں ہونی چاہیے جس کی ادایگی ہی ناممکن ہو اور خاندان پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہو۔ حضور پاکؐ نے کم مہر کو پسند فرمایا تاکہ شادی کا کلچر عام کیا جاسکے۔  سیدہ نساء اہل الجنۃ بی بی فاطمہؓ حضوؐر کی بڑی پیاری اور چہیتی صاحبزادی تھیں۔ آپؓ کا رشتہ حضرت علیؓ سے صرف ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی کے مہر سے طے پایا تھا جو ۵۰۰درہم کے برابر تھا یعنی تقریباً ۱۲‘۱۳ تولے چاندی جو آج کے مطابق تقریباً بارہ تیرہ ہزار روپے بنتے ہیں۔ مختصر یہ کہ مہر کی رقم دولہا کی مالی حیثیت کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس کا متوازن ہونا ضروری ہے۔ نہ تو اتنا کم ہو‘ جیسے بعض علاقوں میں ۵۰اور ۴۹روپے رکھا جاتا ہے جو محض خانہ پُری ہے لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ مہرکا تعین لاکھوں میں کر دیا جائے جس کی ادایگی پھر مرد کے لیے ممکن نہ رہے۔

ہمارے معاشرے کی غلط رسوم و رواج میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک طرف تو شادی کے وقت نظر لڑکی کے جہیز پر ہوتی ہے کہ ساتھ کیا کچھ آتا ہے تو دوسری طرف مہر کا تعین اتنا زیادہ کر دیا جاتا ہے کہ بعد میں اس کا مہیا کرنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات انتہائی ناگفتہ بہ صورت حال میں بھی عورت کو فارغ اس لیے نہیں کیا جاتا کہ مہر کس طرح ادا کیا جائے گا۔ لہٰذا عورت کو درمیان میں لٹکا دیا جاتا ہے‘ نہ اس کو فارغ کیا جاتاہے اور نہ اس کو آباد ہی کیا جاتا ہے‘ جب کہ مطلوب یہ ہے کہ نکاح کے وقت ہی مہر ادا کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وَاٰتُوا النِّسَآئَ صَدُقٰتِھِنَّ نِحْلَۃًط  (النساء ۴:۴)‘یعنی اپنی بیبیوں کے مہر خوشدلی سے ادا کیا کرو۔ اورحضوؐر پاک کا ارشاد ہے کہ ان اوفی الشروط ما استحللتم بہ الفروج‘ یعنی شادی کے وقت جو شرائط مہروغیرہ کی صورت میں تم متعین کرلو اس کو پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔

مختصر یہ کہ جہیز اور مہر دونوں کے بارے میں میاں بیوی اور ان کے خاندان والوں کو حقیقت پسند ہونا چاہیے کیونکہ اسلام تو نام ہی اس اصول کا ہے کہ لا ضرر ولا ضرار‘ یعنی نہ خود نقصان اٹھائو اور نہ اوروں کو نقصان پہنچائو۔ نہ کسی کے ہاں سے جہیزکی امید پر جیو‘ نہ قرض لے کر جہیز دو۔ نہ زیادہ مہرکا تقاضا کرو‘ نہ اتنا زیادہ مہر دینے کا وعدہ کرو جو تمھاری برداشت اور تحمل سے زیادہ ہو۔ اسی صورت میں دونوں خاندانوں کے باہم مربوط اور خوشحال رہنے کے زیادہ امکان ہوں گے‘ شادی کا کلچر عام ہوگا‘ بدکاری اور فحاشی پروان نہیں چڑھے گی اور معاشرہ   صاف ستھرے ماحول میں پوری صداقت اور حقیقت پسندی کے ساتھ روبہ ترقی ہوگا۔ دنیا میں بھی سکون نصیب ہوگا اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہمارا مقدر ہوگی۔ (مولانا مصباح الرحمٰن یوسفی۔ بہ شکریہ دعوۃ‘ جولائی ۲۰۰۳ئ)


ٹائی کا استعمال

س: ادارے میں ٹائی پہننے کے حوالے سے شدید دبائو رہا ہے لیکن میں کسی نہ کسی حیلے بہانے سے اس معاملے کو ٹالتا رہا ہوں‘ اس لیے کہ علما نے ناجائز قرار دیا ہے۔ لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے لیے مزید ایسا کرنا شاید ممکن نہ رہے۔ میری رہنمائی فرما دیجیے۔

ج: اسلام نے لباس کے حوالے سے قرآن و سنت میں جو اصول ہمیں دیے ہیں ان میں جسم کا تحفظ‘ زینت اور سادگی کے ساتھ یہ بات بھی شامل ہے کہ نہ تو اس سے تکبر کا اظہار ہو اور نہ جان بوجھ کر لاپروائی اور غربت کا اظہار کیا جائے۔ گویا ایک شخص اپنی استطاعت اور ضرورت کی مناسبت سے لباس کی وضع قطع اور اس کے لیے مناسب کپڑے کا استعمال کرے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں ٹائی کے استعمال کی کوئی روایت نہیں ملتی‘ جب کہ مغربی لباس سے وابستہ روایت میں اس کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔ اس استعمال کے حوالے سے ایک دور تھا جب اہل ثروت ٹائی کا استعمال رسمی لباس کے حصے کے طور پر کرتے تھے۔ بعض عیسائی فرقوں میں ایک ڈوری کالر کے گرد باندھ دی جاتی تھی جو گلے میں لٹکتی رہتی تھی۔ کبھی اس میں کوئی پتھر یا موتی نما چیز اور کبھی صلیب بھی لٹکا لی جاتی تھی۔ یہ رواج آہستہ آہستہ متروک ہوگیا اور ٹائی کا استعمال وہ سب لوگ کرنے لگے جو مذہب کو اہمیت دیتے ہوں یا اس کے مخالف۔ گویا اس کی نسبت کسی خاص طبقے‘ فرقے یا مذہبی مسلک سے نہ رہی۔ فقہ کا ایک کلیہ یہ ہے کہ اگر ایک چیز کی حالت تبدیل ہو جائے تو حکم بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ایک لباس کسی خاص طبقے یا فرقے کی اجارہ داری یا پہچان نہ رہے تو اس کی کراہت بھی باقی نہیں رہے گی۔ یہی شکل کوٹ پتلون اور ان لباسوں کی ہے جو وقت کے ساتھ کسی خاص قوم‘ مذہب یا فرقے سے وابستہ نہیں رہے۔

جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ کوٹ پتلون یا کالر والی قمیص کس حد تک ساتر ہے۔ اس میں کوئی نفس کے فتنے کا سامان تو نہیں۔ گویا ٹائی ہو یا پتلون اور کوٹ‘ اس کے عمومیت اختیار کرلینے کے سبب اس پر وہ حکم نہیں لگے گا جو کسی قوم سے مشابہت کا ہے۔ اس کے حلال یا حرام ہونے سے قطع نظر اگر محض شریعت کے اس اصول پر غور کیا جائے جس میں شریعت ہمارے لیے آسانی چاہتی ہے تو عقل یہ کہتی ہے کہ ٹائی آسانی کی جگہ دقت پیدا کرنے والی چیز ہے۔ اگردو بھلے آدمیوں میں سے ایک کو ٹائی پہنا کر اور دوسرے کو بغیر ٹائی کے کھلے کالر کی قمیص کے ساتھ آپ کسی بند کمرے میں جہاں ہوا کا گزر نہ ہو بٹھا دیں تو ۱۵ منٹ کے بعد جس نے ٹائی کس کر باندھ رکھی ہے‘ ٹائی ڈھیلی کر کے یا مکمل طور پر گلے سے اُتار کر الگ رکھنے پر مجبور ہو جائے گا۔ یہی سبب ہے کہ جن دفاتر میں رسمی طور پر ٹائی استعمال کرائی جاتی ہے جیسے ہی کھانے کا وقفہ ہوتا ہے بھلے آدمی ٹائی کو کھول کر رسّی کی طرح گلے میں لٹکا لیتے ہیں یا اُتار کر اس کو رکھ دیتے ہیں اور پھر جب دوبارہ دفتر کی کرسی پر واپس جانے کا وقت آتا ہے تو گلے میں کس کر تیار ہو جاتے ہیں۔

آخر یہ کون سا حکیم لقمان کا نسخہ ہے کہ جب تک ٹائی نہ ہوگی اچھا sales person نہیں بن سکتا یا اچھا مینیجرنہیں بن سکتا۔ اس لیے دین کے سہولت پسند ہونے کی بنا پر اگر اسے استعمال نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔ گو اسے حرام نہیں قرار دیا جا سکتا۔ کیونکہ حرام و حلال کا حق صرف شارع کو ہے‘ کسی انسان کو نہیں۔ (پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد)


حصص کا کاروبار

س: میرے کچھ دوست مختلف کمپنیوں کے حصص کے لین دین میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ لیکن میرے علم کے مطابق بعض علما کے نزدیک حصص کا کاروبار اسلامی نقطۂ نگاہ سے درست نہیں۔ وہ اس کی یہ وجوہات بیان کرتے ہیں:

  •   یہ کمپنیاں اپنے معاملات سود کی بنیاد پر طے کرتی ہیں‘ اس لیے اُن کا حصے دار بننا گویا سودی کاروبار میں حصے دار بننا ہے۔
  • اس کاروبار میں کوئی مشقت نہیں کرنی پڑتی۔

میرا خیال ہے کہ نفع اور نقصان کے اس کاروبار میں برابر کا امکان ہے اور بازارِ حصص (shares market) کا تجزیہ بذاتِ خود ایک مشقت طلب کام ہے جو اس کاروبار میں محنت کے عنصر کی موجودگی پر دلالت کرتا ہے۔

اس بات پر کہ چونکہ یہ کمپنیاں اپنے معاملات سودی نظام کے تحت طے کرتی ہیں‘ اس لیے ان کا حصے دار بننا جائز نہیں‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بھی کاروبار یا ملازمت‘ چاہے وہ نجی نوعیت کا ہو یا سرکاری‘ بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی طرح موجودہ نظام کے تحت اُس کی کڑیاں سودی نظام ہی سے جا ملتی ہیں۔ اس صورت حال میں کس حد تک لچک کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے؟

ج: قرآن کریم نے بیع اور تجارت کو حلال (البقرہ ۲:۲۷۵) قرار دے کر چھوٹے اور بڑے کاروبار کرنے والوں کے لیے اخلاقی اور قانونی جواز فراہم کرنے کے ساتھ اہل ایمان کو ترغیب دی کہ وہ اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے صرف جائز ذرائع کو استعمال کریں۔لیکن کاروبار میں سرمایے کی فراہمی ایک مستقل مسئلہ ہے اور اسے حل کرنے کی ایک شکل یہ پائی جاتی ہے کہ ایک سے زائد صارف مل کر ایک کاروبار میں سرمایہ لگائیں اور اپنے سرمایے کے تناسب سے نفع یا نقصان میں شریک ہوں۔ اس غرض سے بہت سی کمپنیاں حصص کی فروخت کا اعلان کرتی ہیں اور ان کمپنیوں کے منصوبے کے لحاظ سے عوام ان کے حصص خرید کر حصے دار بن جاتے ہیں۔ اس طرح جو نفع ایک حصے دار کو ملتا ہے وہ نہ سود کی تعریف میں آتا ہے نہ قمار اور جوئے کی تعریف میں آتا ہے۔ اس پورے عمل میں جوچیز بنیادی اہمیت رکھتی ہے وہ کمپنی کی سرگرمی ہے۔ اگر وہ کمپنی کسی ممنوعہ اور حرام کام میں رقم لگا رہی ہے تو یہ کاروبار اور اس کے شرکا‘ حرام کے مرتکب ہوتے ہیں اور اگرکمپنی کی سرگرمی حلال اور جائز نوعیت کی ہے تو اس سے ملنے والا نفع کم ہو یا زیادہ‘ حرام کی تعریف میں نہیں آتا۔

اس لیے کسی کمپنی کے حصص لیتے وقت یہ تحقیق کر لیجیے کہ وہ کس نوعیت کا کاروبار کرنے جا رہی ہے۔ اگر وہ کاروبار حلال ہے تو اس میں حصص لینے میں کوئی قباحت نہیں ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب! (ا- ا)


بنک میں ملازمت کا مسئلہ

س:  بنک کی ملازمت کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے بالخصوص ایسے بنک جن کا یہ دعویٰ ہے کہ اُن کے نظام کا بنیادی ڈھانچا اسلامی بنک کاری پر مبنی ہے؟

ج: اسلام انسان کی معاشی ضروریات کو ایک ضابطۂ اخلاق کے تحت حل کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اکلِ حلال کے حصول میں ہدف اور ذرائع دونوں کو یکساں اہمیت دیتا ہے۔ ایک شخص   نیک نیتی کے ساتھ چوری کرکے غربا و مساکین کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔ یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ بنک سود کی بنیاد پر کاروبار کرتے ہیں۔ یہ ایسی ہی واضح شکل ہے جیسے ایک ناچ گھر یا شراب خانے کا کاروبار کھلے طور پر حرام پر مبنی ہوتا ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک شخص اپنے اور اپنے بچوں کو فاقے اور موت سے بچانے کے لیے جگہ جگہ ملازمت تلاش کرتا ہے لیکن کہیں کامیابی نہیں ہوتی اور آخرکار اسے ایک ناچ گھر پر چوکیداری کی ملازمت مل جاتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہاں پر حرام کا ارتکاب ہورہا ہے لیکن اس کے سامنے انتخاب یہ ہے کہ وہ یا تو فاقے سے مر جائے یا صبح سے رات تک چوکیداری کی مشقت کر کے اتنی رقم حاصل کرلے کہ بچے اور وہ خود فاقے سے نہ مریں۔ ایسی صورت حال میں شریعت اس کے لیے ایسی روزی کو اس وقت تک حلال قرار دیتی ہے جب تک اسے ایک حلال روزگار نہ مل جائے۔ انسانی جان بچانا شریعت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے جو اصول دیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ایسی مجبوری آپڑے جس میں بغیر کسی باغیانہ روش کے اضطراراً ایک ممنوعہ شے استعمال کرنی پڑے تو صرف ضرورت کی حد تک اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رہا معاملہ ایسے بنکوں کا جو غیر سودی بنیاد پر کام کر رہے ہوں تو ان کی ملازمت اس زمرے میں نہیں آتی۔ وہاں پر کام کرنا ہر لحاظ سے جائز ہے۔ (ا- ا)


منگنی: نکاح کی ایک صورت؟

س: اسلام میں نکاح کا جو تصور ہے وہ یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں بہ رضا و رغبت آپس میں شادی پر راضی ہوں اور اس پر کم سے کم دو گواہ موجود ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر منگنی لڑکے اور لڑکی کی خوشی سے اور اُن دونوں کے والدین کی باہمی رضامندی سے طے پائی ہو تو کیا اس کو نکاح کی ایک صورت تصور کیا جا سکتا ہے؟

ج: ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان عقد نکاح دراصل ایک ایجاب و قبول کا معاہدہ اور اعلان ہے جس میں لڑکی کی طرف سے اس کے ولی یا وکیل کا گواہوں کے سامنے یہ اظہار کرنا کہ لڑکی بغیر کسی دبائو کے اپنی مرضی سے نکاح پر آمادہ ہے اور رشتے کو منظور کرتی ہے‘ اور لڑکے کا گواہوں کے سامنے اس بات کے اظہار کا نام ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو قبول کرتا ہے۔ اگر لڑکے اور لڑکی کے والدین نے آپس میں رضامندی کا اظہار کیا ہے لیکن لڑکے نے گواہوں کے سامنے قبولیت کا اعلان نہیں کیا تو اسے عقد نکاح تصور نہیں کیا جائے گا۔ہاں‘ اگر کسی مجبوری کی بناپر لڑکا خود قبولیت کا اعلان نہ کر سکتا ہو تو اس کا وکیل اس کی طرف سے ثبوت یا شہادت کی بنیاد پر قبولیت کا اعلان کر سکتا ہے۔ گو‘ اتنے اہم اور ذمہ داری کے معاملے میں خود لڑکے کا قبولیت کا اعلان کرنا لازماً افضل اور روح عقد کے مطابق ہے۔

رہا سوال منگنی کا‘ تو اس کا کوئی تعلق عقدنکاح سے نہیں ہے۔ یہ ایک مقامی رسم ہے جس کی کوئی سند قرآن و سنت سے نہیں ملتی اور یہ رشتے کو حلال نہیں کرسکتی۔ صرف عقدِنکاح ہی رشتے کو قائم و حلال کرتا ہے۔ (ا- ا)

امام ابوحنیفہؒ ، حیات‘ فکر اور خدمات۔ ترتیب و تدوین: محمد طاہر منصوری‘ عبدالحی ابڑو۔ ناشر: ادارہ تحقیقاتِ اسلامی‘ پوسٹ بکس ۱۰۳۵‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۲۸۲۔ قیمت: درج نہیں۔

نوآبادیاتی دور کے خاتمے پر اُمت مسلمہ ایک بار پھر اپنے ماضی کی روشن روایت اور دورِحاضر کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی معاشرے کی تشکیل و تعمیر میں مصروف ہے۔ اس مرحلے پر دورِ غلامی کے اثرات اورجدید ٹکنالوجی کی وجہ سے اور دنیا کے سمٹ جانے اور مغرب کی معاشی اور ابلاغی بالادستی کی وجہ سے جو عملی مسائل درپیش ہیں‘ ان میں شریعت کی رہنمائی معلوم کرنے کے لیے اسلاف کے کارناموں سے اکتساب نو ناگزیر ہے۔ ۵-۸ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو اسلام آباد میں امام ابوحنیفہؒ کی حیات‘ فکر اور خدمات پر ادارہ تحقیقات اسلامی کی بین الاقوامی کانفرنس اس سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ زیرتبصرہ کتاب اس کانفرنس کے نو منتخب مقالات اور ایک نہایت قیمتی معلومات سے پُرچھ صفحاتی  ’حرف اول‘ پر مشتمل ہے۔

اس وقت پاکستان‘ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ ترکی‘ مصر‘ شام‘ فلسطین‘ اُردن‘ عراق‘ افغانستان‘ وسطی ایشیا‘ مشرقی یورپ اور کئی دوسرے ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت حنفی المذاہب ہے۔ماضی میں سلطنت مغلیہ اور سلطنت عثمانیہ کا سرکاری مذہب بھی حنفی فقہ تھا۔ اس فقہ کی مقبولیت کا راز شرعی فرائض میں رفع حرج ومشقت‘ تکلیف بقدر استطاعت اور سہولت و آسانی کے اصولوں کا لحاظ ہے جو دوسرے مسالک میں نہیں ملتا۔ اسی طرح‘ عرف و عادت اور استحسان کے حنفی اصول اسلامی قانون کو ترقی دینے اور معاشرے کی بدلتی ہوئی ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ فاضل مقالہ نگاروں کی تحریروں سے یہ تمام پہلو اُجاگر ہوگئے ہیں۔

تاریخی و نظری لحاظ سے مقالات بہت خوب ہیں‘ لیکن ایک ایسے مقالے کی ضرورت باقی رہ گئی جس میں دورِ حاضر کے بعض اہم متعین پانچ سات مسائل کے بارے میں فقہ حنفی کی رہنمائی پر بحث کی جاتی۔

امام ابوحنیفہؒ کی مجلس فقہ نے کوفہ میں ۱۵۰ھ میں ان کی رحلت تک ۳۰ برس کام کیا۔ یقینا اجتماعی مشاورت نے اس فقہ کو برکت عطا کی۔ امام اعظم نے ۵۵ حج کیے اور اس طرح مدینہ کے اہل علم و فضل سے بھی براہِ راست اکتسابِ فیض کیا۔

ادارہ تحقیقات اسلامی نے اشاعت کتب کے باب میں جو اعلیٰ معیار قائم کیا ہے‘ اس پر مبارک باد کا مستحق ہے۔ وسائل تو تمام سرکاری اداروں کو ملتے ہیں‘ لیکن ان کا بہترین‘ دل و نظر کو خوش کر دینے والا مقصدی استعمال ہر کسی کے نصیب میں نہیں۔ (مسلم سجاد)


مجلہفکرونظر ،خصوصی اشاعت: ڈاکٹرمحمد حمیدؒاللہ۔ مدیر: ڈاکٹر صاحبزادہ ساجدالرحمن صدیقی۔ ناشر: ادارہ تحقیقاتِ اسلامی‘ پوسٹ بکس ۱۰۳۵‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۶۱۳۔ قیمت: ۶۰ روپے

ڈاکٹر محمد حمیدؒاللہ کی رحلت کو ایک سال ہوچلا ہے‘ اس عرصے میں ان کی شخصیت اور کارناموں پر بیسیوں مضامین اور متعدد کتابیں سامنے آئی ہیں۔ زیرنظر مجلے فکرونظر کی ضخیم خصوصی اشاعت ’’مطالعۂ حمیدیات‘‘ کے ضمن میں ان سب پر فائق حیثیت رکھتی ہے۔

مرحوم کو ادارۂ تحقیقات اسلامی سے خاص تعلق تھا۔ ادارے نے ان کی یاد تازہ کرنے کے لیے سب سے پہلے (۲۱ جنوری ۲۰۰۳ء کو) ایک سیمی نار منعقد کیا اور اب اپنے مجلے کا ایک نہایت وقیع اور قابلِ قدر ڈاکٹر محمد حمیداللہ نمبر شائع کیا ہے جو بلاشبہہ مرحوم کے لیے بہترین  خراجِ تحسین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نمبر دو درجن سے زائد تقریباً سارے کے سارے نئے مضامین تحقیقی اور تاثراتی پر مشتمل ہے‘ جن میں ڈاکٹرمحمد حمیداللہ کی شخصیت اور ان کی علمی جہات کو‘ ان کے نیاز مندوں کے ذاتی مشاہدات‘ شخصی تعلقات اور مرحوم کے مکاتیب اور تحریروں کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرظفر اسحاق انصاری نے مرحوم کے ساتھ برسوں (۱۹۴۸ء تا وفات) پر محیط یادوں کا احاطہ کیا ہے۔ ڈاکٹر نثاراحمد نے ’’المجلس العلمی‘‘ (سورت‘ گجرات‘ بھارت) کے ساتھ ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے علمی تعاون اور رہنمائی کی تفصیل بیان کی ہے۔ عذرا نسیم فاروقی اور محمدعبداللہ نے خطباتِ بہاولپور کے پس منظر اور ان کی علمی حیثیت و اہمیت کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے۔ مرحوم کی قرآنی مترجم‘ مفسر اور محقق کی حیثیت پر صلاح الدین ثانی نے‘ خدماتِ حدیث پر نثار احمد فاروقی نے‘ خدمات سیرت پر خالد علوی اور محمد اکرم رانا نے‘ فقہی افکارپر ظفرالاسلام اصلاحی نے‘ قانون بین الممالک اور بین الاقوامی اسلامی قانون پر محمد الیاس الاعظمی‘ محمد ضیاء الحق‘ محمد طاہر منصوری نے روشنی ڈالی ہے۔ خورشید رضوی اور احمد خان نے مرحوم کے خطوط کے حوالے سے ان کی شخصیت کو اور علمی نکات و معارف کو اجاگر کیا ہے۔ قاری محمد طاہرنے مرحوم کے چند تفردات اورمحمد ارشد نے مغرب میں دعوتِ اسلام کے سلسلے میں مرحوم کی خدمات کا دقت ِ نظر سے جائزہ لیا ہے۔ حافظ محمد سجاد نے معارف (اعظم گڑھ) سے مرحوم کی تاحیات وابستگی کی تفصیل پیش کی ہے۔ سارے ہی مضامین ایک علمی لگن سے لکھے گئے ہیں۔تقریباً ایک سو صفحات میں ڈاکٹر محمدحمیداللہ کے منتخب مقالات بھی دیے گئے ہیں۔ آخر میں مرحوم کی تصانیف اور ان کے مقالات کی ایک جامع فہرست (مرتبہ: اظہار اللہ+ طارق مجاہد) شامل ہے۔ ڈاکٹر محموداحمد غازی نے مرحوم کی علمی خدمات کا ایک عمومی لیکن جامع جائزہ لیا ہے۔

یہ خاص اشاعت بڑی محنت و کاوش اور ڈاکٹر محمدحمیداللہ سے محبت کے جذبے سے مرتب کی گئی ہے اور اپنے موضوع پر ایک یادگار دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ ادارئہ تحقیقات پر یہ مرحوم کا حق بھی تھا جسے ادا کرنے کی یہ سعی مستحسن اور قابلِ داد ہے۔ اگر ادارہ خطباتِ بہاولپور کے نمونے پر مرحوم کی دیگر تصانیف کو بھی خاطرخواہ تہذیب اور تحقیق و تدوین کے بعد شائع کرنے کا اہتمام کرے تو یہ ادارے کے لیے نیک نامی بلکہ فخرکا باعث ہوگا۔(رفیع الدین ہاشمی)


اقبال اور مسلم تشخص‘ ڈاکٹر خالد علوی۔ ناشر: دعوۃ اکیڈمی‘ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی‘پوسٹ بکس ۱۴۸۵‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۱۴۸۔ قیمت: ۶۰ روپے۔

علامہ اقبال کی شاعری کا سب سے بڑا موضوع ملتِ اسلامیہ ہے۔ ان کے نزدیک ملّت کی ہیئت ترکیبی تاریخِ عالم میں قطعی منفرد ہے۔ خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی!

اقبال کی عظیم الشان فکر کا بڑا حصہ اسی ’’ترکیب‘‘ کو سمجھنے سمجھانے اور اس کی توضیح و تفسیر بالفاظِ دیگر  اس کے ملّی تشخص کی وضاحت پر مشتمل ہے۔ اس اعتبار سے پروفیسر ڈاکٹرخالد علوی نے اپنی علمی کاوش کے لیے اقبالیات کے ایک بنیادی موضوع کو منتخب کیا ہے۔ اُن کے بقول اُس مختصر کتاب میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ مسلم تشخص کی حفاظت کے اس سفر میں اقبال کی بیش قیمت رہنمائی کو بیان کیا جائے۔

غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اقبال کے بیشتر اہم تصوراتِ فکر (خودی‘ بے خودی‘ عشق‘ فقر‘ تصوف‘ مردِ مومن وغیرہ) ان کے تصورِ ملّت ہی سے مربوط ہیں۔ ملّتِ ختم رسل کا خاص امتیاز یہ ہے کہ وہ غیراسلامی تہذیبوں خصوصاً مغربی تہذیب اور اس سے پھوٹنے والے لادینی نظاموں اور طور طریقوں کو کسی طرح قبول نہیں کرتی۔ چنانچہ ڈاکٹر خالد علوی نے بتایا ہے کہ علامہ اقبال نے مغرب کی الحادی فکر اور نظاموں خصوصاً سرمایہ داری‘ اشتراکیت‘ مغربی جمہوریت اور سب سے بڑھ کر قوم پرستی (نیشنلزم) پر بھرپور تنقید کی ہے اور یوں اقبال کا پیش کردہ مسلم قومیت اور مسلم تشخص کا تصور واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔بلاشبہہ علامہ اقبال کو برعظیم میں دو قومی نظریے کے ایک بڑے علمبردار کی حیثیت حاصل ہے۔ یہی دو قومی نظریہ تصورِ پاکستان کی بنیاد ثابت ہوا۔ ڈاکٹر خالد علوی نے اُمت مسلمہ خصوصاً برعظیم کے مسلمانوں کے سیاسی امور و مسائل کو اقبال کے نظریاتی فریم ورک سے مربوط کر کے‘ اُن کی بیش بہا سیاسی خدمات و رہنمائی کو اس طور اُجاگر کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ ان کی سیاسی خدمات‘ روز مرہ کی سیاسی سرگرمیوں تک محدود نہ تھیں بلکہ ان سے آگے بڑھ کر‘ فکری و نظریاتی رہنمائی تک وسیع تھیں۔ دین و سیاست کی ہم آہنگی پر اقبال کے اصرار اور مخلوط انتخاب کی مخالفت نے بالآخر‘ مسلمانوں کے نظریاتی و ملّی تشخص کو پختہ کیا۔ انھیں پاکستان کی صورت میں اپنی منزل کے تعین میں اقبال کی شعری کاوشوں سے بہت مدد ملی بلکہ خطبۂ الٰہ آباد نے ان کی بیش بہا رہنمائی کی۔

فاضل مصنف نے اپنے مباحث و استدلال کی عمارت اقبال کے فارسی اور اُردو شعری کلیات اور ان کی اُردو اور انگریزی نثرکی بنیاد پر استوار کی ہے۔

ڈاکٹر خالد علوی کے بقول: برعظیم کے مسلمانوں پر اقبال کا احسان ہے کہ اس نے انھیں فکری کج روی سے محفوظ کیا‘ تاریخ کی قوتوں سے آگاہ کیا اور انھیں روشن مستقبل کی نوید سنائی‘‘--- زیرنظر کتاب‘ اقبال کے اس احسان کی نوعیت کو مختصرلیکن جامع اور خوب صورت انداز میں سامنے لاتی ہے۔ طباعت و اشاعت عمدہ اور قیمت بہت مناسب ہے۔ (ر-ہ)


کاغذ کے سپاہی ‘از شاہ نواز فاروقی۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی‘ ڈی/۳۵‘بلاک-۵‘ فیڈرل بی ایریا‘ کراچی-۷۵۹۵۰۔ صفحات: ۱۷۶۔ قیمت‘ غیرمجلد:۷۰۔ مجلد:۱۰۰ روپے۔

اس کتاب کا موضوع انسان‘انسانی معاشرت اور خیرو شر کی کش مکش ہے--- شاہ نواز فاروقی اپنے مطالعے کی وسعت‘ مشاہدے کی گہرائی‘ تجزیے کی کاٹ‘ اور فلسفیانہ اپج سے‘ مشکل موضوعات کو رواں دواں مضمون کے پیکر میں ڈھالتے چلے گئے ہیں۔

ایسے موضوعات پر قلم اٹھانے والے عموماًتکلف کی دلدل اور دانش وری کے جھنجھٹ میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں لیکن شاہ نواز انقلابی جذبوں سے فیضیاب قلم کے ساتھ اس طرح اظہار و بیان کی دنیا میں خیال کو اُبھارتے ہیں کہ قاری کو سوالوں کا جواب دے کر عمل کا زادِ راہ فراہم کرتے ہیں۔

دیکھنے میں تو یہ اخبار جسارت میں چھپنے والے کالموں کا انتخاب ہے‘ لیکن پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتاہے کہ یہ اخباری کالم نہیں‘ بلکہ گہرے غوروفکر کی تصویریں ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’جھوٹ کی سب سے مکروہ بات یہی ہے کہ وہ سچ کی قیمت پر بولا جاتا ہے‘‘ (ص ۱۳)۔ ’’میں ایسے کئی مومن سرمایہ داروں کو جانتا ہوں جو روزے‘ نماز کے سلسلے میں جس تندہی کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ اسی تندہی سے اپنے کارخانوں میں مزدوروں کا خون چوستے اور انکم ٹیکس بچاتے ہیں۔ یہ ایک بدترین منافقت ہے‘‘ (ص ۲۰)۔ ’’بڑے بڑے مذہب پرستوں کے یہاں دولت وجہِ افتخار اور انسانوں کو ناپنے کا پیمانہ بنی ہوئی ہے‘ اور یہ رجحان آج کے اسلامی معاشرے کے لیے ہی نہیں بلکہ کل کے اسلامی معاشرے کے لیے بھی ایک خطرہ ہے… میری راے میں اسلامی انقلاب کے قائدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مبہم اصطلاحوں کے بجاے صاف لفظوں میں لوگوں سے گفتگو کریں‘‘۔ (ص ۲۱)

شاہ نواز فاروقی اپنے ان مضامین میں الٰہیات‘ فلسفہ‘ نفسیات‘ تاریخ اور سماجیات کے زندہ موضوعات کو یوں پیش کرتے ہیں کہ ابلاغی سطح پر یہ نوجوان دانش ور بہت سوں سے آگے نکلتا نظر آتا ہے۔(سلیم منصورخالد)


اسلامی روایات کا تحفظ‘ ڈاکٹر سید محمد جمیل واسطی۔ ناشر: قرطاس (ادارہ تصنیف و تالیف و ترجمہ) ۶۸-سی‘ اسٹاف ٹائون‘ کراچی یونی ورسٹی‘ کراچی۔-۷۵۲۷۰۔ صفحات: ۱۶۰۔ قیمت: مجلد: ۱۰۰ روپے۔ غیرمجلد: ۷۰ روپے۔

ڈاکٹر جمیل واسطی کا تعلق لاہور کے ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد عبدالغنی اوردادا سید عبدالقادر دونوں ہی انگریزی ادب کے استاد تھے۔ خود سیدجمیل واسطی بھی انگریزی پڑھاتے رہے۔ انگریزی اور اُردو میں ان کی متعدد تصانیف ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ان کے فکرانگیز مقالات کا مجموعہ ہے جو انھوں نے ۱۹۳۴ء سے ۱۹۳۹ء کے درمیان لکھے۔ یہ ان مقالات کا تیسرا ایڈیشن ہے۔ کتاب آٹھ مقالات پر مشتمل ہے۔ مقالہ اوّل عنوانات: علم وعمل‘ مسلمانوں پر مغربی تہذیب کا اثر‘ پردہ‘ تعدد ازدواج‘ خنزیر خوری‘ صنم پرستی‘ نسلی تعصب‘ تہذیب اسلامیہ کے کچھ اور پہلو‘ تین ضمیمے (مغرب میں عورت‘ ادب و فن کا ایک پہلو‘ عربی‘ سائنس اور یورپ کے نام)کتاب کے آخر میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر واسطی نے ان تمام موضوعات پر ایک صحیح العقیدہ اور صحیح الفکر مسلمان عالم کی حیثیت سے روشنی ڈالی ہے اور کسی جگہ بھی معذرت خواہانہ اسلوب اختیار نہیں کیا۔ دلائل ایسے قوی اور مضبوط دیے ہیں کہ ایک متشکک انسان کے ذہن کی الجھنیں دُور کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ان تمام مقالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب وسیع و عمیق اسلامیت کے حامل تھے جس کی نظیر اب شاید ہی دیکھنے کو ملے۔ ہمارا خیال ہے کہ کتاب تحریکِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے ہر اس ذمہ دار کو پڑھنی چاہیے جن کا واسطہ سوال‘ جواب کی فکری مجلسوں سے پڑتا رہتا ہے۔ (ملک نواز احمد اعوان)


حسنِ گفتار ، طالب ہاشمی۔ ناشر: البدر پبلی کیشنز‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۶۳۔ قیمت: ۱۰۰روپے۔

جناب طالب ہاشمی ایک ممتاز اہلِ قلم اور دینی اسکالر ہیں۔ انھوں نے اسلامی نظریۂ حیات اور تہذیب اسلامی کے مختلف عناصر کی تشریح و توضیح‘ نیز نبی اکرمؐ، صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دین کے سوانح پر سیرحاصل مضامین اور نہایت وقیع کتابیں تالیف کی ہیں۔ کم و بیش ان کی ۵۰کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔متعدد کتابوں پر انھیں انعام مل چکا ہے۔ (اگرچہ وہ دنیاوی انعامات سے مستغنی ہیں۔)

زیرنظر کتاب ان کے ۵۴ مختصر مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان میں سے بعض ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہوئے اور چند ایک رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ ان کی نوعیت خود مصنف نے بہت عمدگی سے بیان کی ہے۔ لکھتے ہیں: ’’یہ تمام مضامین متفرق دینی و معاشرتی موضوعات پر ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق اخلاق کے مختلف پہلوئوں‘ دین حق ‘ اسلام کے بعض خصائص اور اصلاح معاشرہ سے ہے۔ ان کو پڑھ کر معلوم ہوگا کہ ایک مومن کا مقصدِحیات کیا ہے‘ اسلامی تہذیب و تمدن کے خدوخال کیا ہیں‘ اولاد کی تعلیم و تربیت کے تقاضے کیا ہیں‘ مسرت اور شادمانی کا اسلامی تصور کیا ہے۔ عورتوں‘ پڑوسیوں اور گھریلو ملازموں (یا زیردست افراد) کے حقوق کیا ہیں۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر کیا حق ہے‘ اسلام میں عدل‘ اعتدال اور رواداری کی کیا اہمیت ہے وغیرہ وغیرہ… فی الحقیقت ان مضامین کا مقصود و منشا اخلاق کی اصلاح اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ]قرآنی[ اوصاف اپنانے کی طرف راغب کرنا ہے‘‘۔

کتاب کے دیباچہ نگار ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی نے بہت اچھی تجویز دی ہے کہ اگر ان مضامین کو مخیرحضرات کتابچوں کی شکل میں شائع کر کے تقسیم کریں تو یہ بہت بڑی معاشرتی خدمت ہوگی۔ (ر- ہ )


وحید الدین خاں صاحب کی تعبیر کی غلطی‘ مرتبہ: سید علی مطہرنقوی امروہوی۔ ناشر: مکتبہ الحجاز‘ ۱ے/۲۱۹ ‘بلاک سی‘ الحیدری‘ شمالی ناظم آباد‘ کراچی-۷۴۷۰۰۔ صفحات: ۲۰۸۔ قیمت: ۱۱۰ روپے۔

فاضل مرتب کی یہ بات کئی حوالوں سے غور طلب ہے کہ: ]وحید الدین[ خان صاحب اسلام‘ مسلمانوں اور ملت اسلامیہ کے کھلے مخالفینِ اسلام سے بھی بڑھ کر شدید ترین نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان پر حق کی رسائی کے دروازے کھول دے (ص ۶‘۷)۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ اب موصوف کے لیے دعائوں کا مرکز مساجد نہیں‘ گرجاگھر اور مندر ہوں گے‘ یا پیکران فسق و الحاد کی نشست گاہیں اور اجتماع گاہیں(ص ۵)۔ کتاب کے ابتدائی صفحات میں   یہ کلمات کسی دل جلے کی آہوں کا دھواں نہیں‘ بلکہ اخلاص‘ حقائق‘ منطق اور مشاہدات کے امتزاج سے ترتیب دیا گیا مقدمہ ہے۔

جناب علی مطہرنے‘ کچھ عرصہ پہلے‘ مولانا عامرعثمانی کے علمی آثار کو ترتیب دینے کے بلندپایہ کام کا آغاز کیا تھا۔ وہ بڑے تسلسل کے ساتھ ایک کے بعد دوسری پیش کش سے ذخیرئہ  علم و دانش میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلہ سعادت میں یہ کتاب بھی منظرعام پر آئی۔ اس کتاب کا ماخذ‘ عامرمرحوم کا رفیع الشان ماہ نامہ تجلّی‘ رام پور ہے۔اس میں مولانا عامرکے پانچ اور دوسرے اہل علم حضرات (مولانا صدرالدین اصلاحی‘ مولانا محمد امام الدین رام نگری‘ مولانا سیف اللہ خالد‘ابواختراعظمی اور محمد نواز وغیرہ) کے سات مضامین شامل ہیں۔

ان مضامین کی بنیاد وحیدالدین خاں کی کتاب تعبیر کی غلطی بنی‘ جس میں انھوں نے فریضۂ اقامت دین کے لیے مولانا مودودی مرحوم کی تشریح اور جدوجہد کا ابطال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ’فرد قرارداد جرم‘کا جواب فاضل مقالہ نگاروں نے کسی طعن و تشنیع کے بجاے دلائل و براہین سے دیا ہے‘ اور ان کے فکری واہمے کا حدود اربعہ پیش کیا ہے۔

سیف اللہ خالد کا کہنا ہے: ’’وحید الدین کی فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو‘ آزاد ہوں یا محکوم‘ اقلیت میں ہوں یا اکثریت میں‘ غیرمسلموں کے ہاتھوں مار کھاتے اور ذلیل ہوتے رہنا چاہیے اور]انھیں[ اف تک کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح ان کے سارے مسائل آپ سے آپ حل ہو جائیں گے (ص ۱۳)۔ مسلمانوں کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کے تنہا ذمہ دار مسلمان ہیں‘ غیر مسلموں کا اس میں کوئی حصہ اور قصور نہیں ہے(ص۱۱)۔ خان صاحب کے اس خود ملامتی مرض کے متعدد شاخسانے ان کی تحریروں میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ موصوف کی اپنی: ’’تعبیر کی غلطی اور کج فکری کی داستان بہت لمبی ہے۔ اس کی کچھ جھلکیاں اس کتاب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ اس فکر کو پاکستان میں بھی درآمد کیا اور فروغ دیا جا رہا ہے‘‘۔ (ص ۱۴)  (س - م - خ)


الصدیق ؓ ، پروفیسر علی محسن صدیقی۔ ناشر: قرطاس (ادارہ تصنیف و تالیف و ترجمہ) پوسٹ بکس نمبر ۸۴۵۳‘ کراچی یونی ورسٹی‘ کراچی-۷۵۲۷۰۔ صفحات: ۴۰۰۔ قیمت‘ مجلد:۳۵۰ روپے‘ غیرمجلد: ۳۰۰ روپے۔

پاکستان کے مشہور مؤرخ پروفیسر علی محسن صدیقی (پ: ۱۹۲۹ئ) کراچی یونی ورسٹی کے شعبہ اسلامی تاریخ سے وابستہ رہے ہیں۔ آپ نے ۱۱کتابوں کے علاوہ ۱۰۰کے قریب تحقیقی مقالات بھی تحریر کیے۔ زیرتبصرہ کتاب اسلامی تاریخ کے بنیادی‘ نہایت اہم اور پیچیدہ بحرانی دور سے تعلق رکھتی ہے۔ گو یہ سیدنا ابوبکرصدیقؓ کی مکمل و مستند سیرت سے متعلق ہے لیکن یہ داستان ایک عظیم بحران کی تاریخ بھی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے آخری لمحات میں اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ فتنۂ ارتداد اور انکار زکوٰۃ کی وجہ سے اسلام سمٹ کر دو تین شہروں تک محدود ہوگیا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس بحران پر برہان سے قابو پایا اور دوبارہ اسلام کی حکومت جزیرہ عرب پر قائم کردی جس کے بعد اسلام کی قوتِ بہائو کفر کی سلطنتوں کو بہا لے گئی۔ ان کی حکومت کا یہ مختصر زمانہ ہی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ واقعی افضل الناس بعدالانبیا اور خلیفۃ الرسول بلافصل کہلانے کے حق دار تھے۔ ان کی فراست ایمانی اور قیادت برہانی نے اسلام کو دوبارہ متمکن کر دیا۔

کتاب جدید انداز میں لکھی گئی ہے جو ۱۳ ابواب پر مشتمل ہے۔ پروفیسر صدیقی صاحب نے سیرت صدیقؓ سے متعلقہ تمام مسائل پر بحث کی ہے اور اپنا تجزیہ اور قول فیصل بیان کیا ہے۔ مستشرقین کے اعتراضات کا بھی جواب دیا ہے۔ (ن-ا-ا)


سربکف‘ سربلند‘ حافظ محمد ادریس۔ ناشر: مکتبہ احیاے دین‘ منصورہ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۷۶۔ قیمت: ۱۷۰ روپے۔

حافظ محمد ادریس ایک مصنف ہی نہیں ‘عمدہ مقرر بھی ہیں اور مُربی اور منتظم بھی‘ اور اہم تر بات یہ کہ تحریک اسلامی کے رہنما ہیں۔ وہ دعوتِ اسلامی کے علم بردار ہیں اور مبلغ بھی اور ان کی یہ شناخت ان کی تحریروں اور تقریروں سے نمایاں ہے۔ سرسوں کے پھول اور ناقۂ بے زمام ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔کشمیریوں کے کرب کو انھوں نے افسانوں کے مجموعے دخترکشمیر کے ذریعے اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ سربکف‘سربلند حافظ صاحب کے تازہ افسانوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں ۱۱ افسانے شامل ہیں۔ابتدا میں معروف استاد ادب اور ناقد آسی ضیائی کا تحریر کردہ تعارف شامل ہے۔ لکھتے ہیں: حافظ صاحب کے افسانوں میں ایک مسلم تحریکی ادیب کا وقار اور ایک عام افسانہ نگار کی پیدا کردہ دل چسپی یکساں دکھائی دیتی ہے اور قاری ان کا ہر افسانہ پورے شوق اور انہماک کے ساتھ پڑھتا چلا جاتا ہے۔

حافظ محمد ادریس کے کردار ہمارے ہی معاشرے اور ماحول کے کردار ہیں۔ چاہے ’’مامتا کی نعمت‘‘ کا سرفراز ہو،’’ فطرت کی تعزیریں‘‘ کا محمد حسین یا ’’فخرالنساء تیموریہ‘‘ کی منگول رانی ہو۔ اُمت مسلمہ کا درد مصنف کے قلم سے ٹپکا پڑتا ہے۔ یوں ’’بابری مسجد‘‘ اور فلسطین کے پس منظر میں’’غلیل‘‘ افسانے تشکیل پاتے نظر آتے ہیں۔ ’’جنازہ‘‘، ’’کالم نگار‘‘ تو ذہن کو چھونے والے تاثراتی افسانے ہیں اور باقی افسانے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ افسانہ نگار کے بقول: ’’ان افسانوں میں جتنے کردار بھی آپ کو نظرآئیں گے‘ وہ کسی نہ کسی پہلو سے جدوجہد کررہے ہیں‘ کوئی مقصد حاصل کرنا‘ ان کے پیشِ نظر ہے ‘ اس کے لیے جو بھی وسائل ان کو میسر ہیں‘ انھیں استعمال کرتے ہیں‘ کٹھن اور مشکل حالات میں تھک بھی جاتے ہیں مگر ہمت کر کے پھر اٹھتے ہیں اور اپنے مقصد کی لگن سینے میں سجائے منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں‘‘۔

حافظ محمد ادریس کے افسانے جان دار‘ پُرمغز‘ بامقصد اور زندگی اور اُمت کے عملی مسائل کے عکاس ہیں۔ ان کا مشاہدہ گہرا اور بیان بہت عمدہ ہے۔ ان کے اسلوب میں جملے چھوٹے مگر پُرمغز اور معنونیت سے بھرپور ہوتے ہیں اور ان کے افسانوں کا اختتام بامعنی ہوتا ہے۔ ہر پڑھے لکھے شخص تک سربکف‘سربلند جیسا شاہکار ضرور پہنچنا چاہیے۔کتاب کا سرورق خوب صورت اور بامعنی ہے۔ طباعت اور قیمت مناسب ہے۔ (محمد ایوب منیر)


شعورِ صحت ، ڈاکٹر سید احسن حسین۔ ادارہ معارف اسلامی‘ ڈی۔۳۵ بلاک ۵‘ فیڈرل بی ایریا‘ کراچی۔ صفحات: ۱۳۴۔ قیمت: ۶۰ روپے۔

اس کتاب میں مختلف امراض کے ۱۷ اسپیشلسٹ ڈاکٹروں اوردیگر ڈاکٹر حضرات کے انٹرویو شامل ہیں جن میں مختلف امراض کے علاج اور ان امراض کے بارے میں ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔ ان میں ذیابیطس‘ امراضِ قلب‘ امراضِ اطفال‘ جنرل فزیشن‘ جنرل سرجن‘ پتھالوجسٹ‘ اعصابی و نفسیاتی امراض‘ فیملی فزیشن‘ امراض ہاضمہ‘ کینسر‘ بچوں کے کینسر‘ امراض ناک کان‘ امراضِ چشم‘ امراضِ گردہ و مثانہ‘ امراضِ ہڈی جوڑ اورامراضِ جلد کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر شامل ہیں۔ یہ مضامین پہلے ہفت روزہ  فرائیڈے اسپیشل میں شائع ہوئے تھے‘ جنھیں یکجا کردیا گیا ہے۔اس میں طبی مفروضوں اور وہموں کا تدارک بھی ہے۔ (عبدالکریم عابد)


تعارف کتب

  • ۱۸۵۷ء کے چشم دید حالات (المعروف داستانِ غدر) ‘راقم الدولہ سید ظہیرالدین ظہیر دہلوی۔ ناشر: مکی دارالکتب‘ ۳۲ میکلیگن روڈ‘ چوک اے جی آفس‘ لاہور۔ صفحات: ۲۳۱۔ قیمت: ۱۳۵ روپے۔]ظہیر دہلوی نے ’’۱۸۵۷ء سے ربع صدی پہلے اور نصف صدی بعد کا زمانہ پایا‘‘--- بہادر شاہ ظفر کے دربار سے متعلق رہے۔ یہ ان کی خودنوشت ہے‘ جسے مکرر شائع کیا گیا ہے۔ اپنے دور کی ایک دل چسپ تاریخ[۔
  • متاعِ درد‘ پروفیسر ہارون الرشید۔ ناشر: حلقہ آہنگِ نو‘ ٹی ۷۸‘ ڈی بلاک ۱۸‘ سمن آباد‘ فیڈرل بی ایریا‘ کراچی۔صفحات:۱۲۸۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔] بقولِ مصنف: ’’متاعِ درد میری ان نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ہے جو سقوطِ ڈھاکہ سے متاثر ہو کر لکھی گئیں‘‘[ ۔

سمیع اللّٰہ بٹ   ‘  لاہور

ایک موثر‘ دل چسپ ‘ معلومات افزا اور یادگار اشاعت۔ پڑھ کر تشنگی میں کمی نہیں ہوئی ‘ بلکہ پیاس اور زیادہ بڑھی۔


محمد خاں منہاس ‘  اسلام آباد ۔محمد حسین شمیم ‘ لالہ موسیٰ۔ پروفیسر ریاض حسین‘ لاہور

’’اشاعت ِ خاص‘‘مولانا مودودی کی زندگی ‘ سیرت و کردار‘ ان کے دین اسلام سے گہرے اخلاص و محبت‘ اسلام کے احیا کی عملی جدوجہد اور غلبۂ دین کی تمنائوں کی حسین تصاویر کا مرقع ہے--- تاہم ڈاکٹر جاوید اقبال نے قرآن پر اجتہاد کے دائرے اپنی مرضی تک وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرکے نہایت افسوس ناک جسارت کا ارتکاب کیا ہے۔ اگرچہ اُن کا یہ قول کفر‘ کفرنہ با شد کے ہم معنی ہے کہ وہی اپنے کہے کے ذمہ دار ہیں‘ تاہم ایسی بات پڑھ کر صدمہ ہوا۔


عبدالحی ابڑو   ‘  اسلام آباد

ترجمان کا خاص نمبر ملا۔ بہت عمدہ ہے۔ سلیقے سے مواد ترتیب دیا گیا ہے‘ حتیٰ کہ لفافے تک میں عمدگیِ ذوق کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے۔ خورشید صاحب کا مضمون کیا خوب ہے۔ رضوان ندوی صاحب کا مضمون اچھا ہے‘ نئی چیزیں بھی ہیں‘ مگر تشنہ ہے۔


ایاز احمد حقانی  ‘ پشاور

خلیل الرحمن چشتی کا مضمون :’’تحریک احیاے دین کے قافلہ سالار‘‘ علمی اور تحقیقی ہے۔ موصوف نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔


عمران ظہور غازی ‘  لاہور

اپنے ظاہری حسن اور ضخامت و وجاہت کے اعتبار سے تو یہ نمبر بہت بھاری بھرکم نظر آیا مگر میرا تاثر ہے کہ اس میں جس سطح کا علمی و فکری مواد ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہے۔


عبداللّٰہ گوہر ، عمر گوہر ، خبیب انس ، یاسر انس ‘ کراچی

سید مودودی نمبر میں مضامین تو ابھی نہیں پڑھے‘ لیکن مولانا کی کتابوں کے اشتہارات نے دل خوش کر دیا۔ انھوں نے اشاعت کو ایک معنی اور پیغام دیا ہے۔ یہ’’ اشاعت خاص‘‘ پڑھنے والے کا تعلق مولانا کی شخصیت سے قائم کرتی ہے لیکن اس کی آبیاری ان کتابوں سے ہی ہوگی جس کی اطلاع ان اشتہارات سے ملتی ہے۔ ہم نے مولانا کو نہیں دیکھا‘ ہمارے لیے تو ان کا لٹریچر ہی سب کچھ ہے۔ بزرگوں سے یہی سنا ہے کہ کوئی مضمون پڑھا‘ اور پھر ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر سب کتابیں پڑھ ڈالیں۔ تفہیم القرآن کا مختصر اشتہار بھی خوب ہے۔


نصیرخاں  ‘  نوشہرہ کلاں

’’تحقیق میں جامعات کا کردار‘‘ (ستمبر ۲۰۰۳ئ) حقیقت پر مبنی ایک چشم کشا مطالعہ ہے۔ پاکستانی جامعات میں پی ایچ ڈی کا موضوع منظور کروانے اور داخلہ لینے میں کم از کم ایک سال ضائع ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اتنے عرصے میں بیرونِ ملک یونی ورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر جمع بھی کروا دیا جاتاہے۔ ڈاکٹر حمیداللہ نے جرمنی سے نو ماہ میں پی ایچ ڈی مکمل کر لی تھی۔ اگر جامعات مالی امداد نہیں بھی کرسکتیں تو   کم از کم بھاری فیسیں تو ختم کر سکتی ہیں۔


احمد اقبال قاسمی  ‘ کراچی

رمضان آتا ہے تو زکوٰۃ بھی موضوع بن جاتا ہے۔ پی ٹی وی نے ایک مذاکرہ زکوٰۃ کی کٹوتی اور اس کی تقسیم پر کیا جس میں بتایا گیا کہ زکوٰۃ تو وصول ہوتی ہے لیکن قانون کے تحت عشر کی وصولی صوبائی حکومتوں کے سپرد ہے اور نہ ہونے کے برابر اس پر عمل ہو رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس طرح     غربا و مساکین کی انتہائی حق تلفی ہو رہی ہے اور ان کا استحقاق مجروح ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم یہ سمجھیں کہ صوبائی حکومتیں جاگیرداروں کے دبائو میں آکر حکمِ الٰہی کو     پس پشت ڈال رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۰۱-۲۰۰۰ء میں نصف عشرکی رقم ۲۵ ارب روپے سے زائدہوجاتی ہے۔ یہ مستحقوں کا حق تھا جو وصول نہیں کیا گیا۔ ضرورت ہے کہ سرحد اور بلوچستان کی حکومتیں اس میں پیش قدمی کریں‘ اورغریبوں کے لیے اتنے کام کریں کہ دوسرے صوبوں کے لیے نمونہ ہو۔ آج کل ’’غربت مٹائو‘‘ ایک نعرہ ہے جس کے نام پر بیرونی ممالک سے امداد لی جاتی ہے لیکن جو نظام اسلام نے دیا ہے اسے بروے کار نہیں لایا جاتا۔

’’۶۰ سال پہلے!‘‘

حسب ِ اعلان ۲۱‘ ۲۲ اکتوبر ۱۹۴۳ء کو مشرقی یوپی اور بہار کے ارکانِ جماعت کا اجتماع دربھنگہ میں منعقد ہوا جس میں حسب ِ ذیل ارکان شریک ہوئے۔ ]مولانا مودودی اور ۱۴[… ارکان کے علاوہ آٹھ دس ہمدردانِ جماعت بھی مختلف مقامات سے آگئے تھے۔

اجتماع کے لیے دربھنگہ کی آبادی سے ڈیڑھ دو میل دُور سرسبز کھیتوں کے درمیان ایک الگ تھلگ مقام تجویز کیا گیا تھا تاکہ سکون کے ساتھ کام کیا جا سکے۔ ۲۱ اکتوبر کی صبح کو       پہلی نشست ہوئی۔ تلاوتِ قرآن مجید کے بعد سب سے پہلے ارکانِ جماعت کا ایک دوسرے سے تفصیلی تعارف ہوا۔ اس کے بعد مولانا مودودی صاحب نے ایک افتتاحی تقریر کی اور   حسب ِ ذیل امور پر روشنی ڈالی:

ا- تحریک اس وقت کس مرحلے پر ہے؟

۲- ارکان اور جماعتوں کی حالت کیا ہے؟

۳- کس نوعیت کی مشکلات درپیش ہیں؟

۴- مالی حالات کیسے ہیں؟

۵- کام کو کس نقشے پر آگے بڑھانا مدنظرہے؟

۶- ہماری تحریک اور دوسری تحریکوں کی نوعیت میں فرق کیا ہے؟

۷- کس قسم کے کام اصل انقلابی حرکت سے پہلے کرنے ضروری ہیں؟

۸- بعض ارکانِ جماعت میں جو سرد مہری پائی جاتی ہے اس کے اصل وجوہ کیا ہیں؟

۹- کن غلط فہمیوں کے ماتحت محدود پروگراموں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے؟ (’’رُودادِ اجتماع دربھنگہ‘‘، سید عبدالعزیز شرقی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۳‘ عدد ۵-۶‘ذوالقعدہ‘ ذوالحجہ ۱۳۶۲ھ‘ نومبر‘ دسمبر ۱۹۴۳ئ‘ ص ۲-۳)