مضامین کی فہرست


جولائی ۲۰۲۲

۱۶جون کو پاکستان کے وزیرخارجہ مسٹر بلاول زرداری نے اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ’’پاکستان بین الاقوامی سطح پر تنہائی سے دوچار ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے سے ہمیں کون سا فائدہ ہورہا ہے؟ ہمیں چاہیے کہ ہم بھارت کے ساتھ تعلقات بحال اور تجارت کریں‘‘۔

یہ وہی بلاول زرداری ہیں، جو حکومت میں آنے سے قبل جب حزبِ اختلاف میں تھے تو عمران خان حکومت کو طعنہ دیا اور الزام لگایا کرتے تھے کہ ’کشمیر کو مودی کے ہاتھوں بیچ دیا ہے‘۔ ہمارے ہاں یہ عجیب مریضانہ رواج ہے کہ جب حزبِ اختلاف میں ہوتے ہیں تو گرماگرم تقریریں کی جاتی ہیں اور حکومت کی کسی بات کی کبھی تحسین نہیں کی جاتی، مگر جب خود حکومت میں آتے ہیں تو رویئے فوراً بدل جاتے ہیں اور موقف یک سر تبدیل ہوجاتا ہے۔ کل تک جو پہلے وزیراعظم کو طعنے دے رہے تھے۔ اب وہ خود ایسے شوشے چھوڑ رہے ہیں کہ ’’ہمیں بھارت کے ساتھ تجارت کرنی چاہیے اور بھارت کے ساتھ تعلقات بحال کرنے چاہییں‘‘۔

کوئی ذی شعور پاکستانی، بھارت کے ساتھ مستقل بنیادوں پر تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتا۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہوں، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان تعلقات کو بہتر بنانے کی قیمت کیا ہے؟اگر تو اس کی قیمت یہ ہے کہ ہم جموں و کشمیر کے تنازعے ہی کو نظرانداز کردیں اور بھارت مقبوضہ جموںو کشمیر میں جو کچھ کرتا چلا جائے، ہم اس پر احتجاج نہ کریں اور اس تمام تر ظلم و زیادتی پر سردمہری برتتے ہوئے اسے تسلیم کرتے رہیں، اور لائن آف کنٹرول کو انٹرنیشنل سرحد مان کر اس تنازعے کو اسی طرح ختم کر دیں، جس طرح ہمارے ہاں کچھ لوگ چاہتے ہیں۔ نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا، لیکن اس کے باوجود اس پر بحث بھی ہوسکتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح وزیرخارجہ بلاول نے بیان دیاہے، اس کی ٹائمنگ کو پہلے ذہن میں رکھیے۔ پھر اس بیان کی جڑ بنیاد (substance) کی بات کرتے ہیں۔

صورتِ حال یہ ہے کہ چند روز پہلے آپ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹری کو فون کر کے کہتے ہیں کہ ’’او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے اور بھارت کے خلاف ٹھوس ایکشن لیا جائے۔ بھارت میں کانپور سے رانچی تک مسلمانوں کے خلاف جو کچھ کیا جارہا ہے، اس کے خلاف اقدامات اُٹھائے جائیں‘‘۔ مگر اس کے صرف تین روز کے بعد آپ یہ پیغام دے رہے ہیں۔ اس بات پر  او آئی سی کے جنرل سیکرٹری اور پوری دُنیا یہ کہتی ہوگی کہ ’’یہ کیا مذاق کیا جارہا ہے؟ یہ کس قسم کے لوگ ہیں؟ خود ان کا موقف واضح نہیں ہے کہ یہ کیا چاہتے ہیں؟ ایک طرف ہمیں یہ کہتے ہیں کہ اجلاس بلائیں اور تجارت ختم کریں اور بھارت کا بائیکاٹ کریں اور دوسری طرف اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں‘‘۔ اس طرح متضاد اور جگ ہنسائی پر مبنی بیانات دے کر ہم دنیا کے سامنے اپنی ساکھ کو دائو پر لگادیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بعد ’اسلامی کانفرنس تنظیم‘ ہمارے ساتھ کھڑی نہ ہوئی، کجا یہ کہ ہم سلامتی کونسل کا رسمی اجلاس بلا کر ہی کچھ کرلیتے۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے مجھے اذیت محسوس ہورہی ہے کہ ہمارے اہل حل وعقد کی ایسی تضاد بیانیوں کی وجہ سے کہیں بھی ہمیں کوئی ٹھوس اور بامعنی تائید نہیں ملی۔ اقوام متحدہ کے اندر بلاشبہہ چند تقاریر ضرور ہوگئیں، اس کے سوا ہمیں کیا تائید و حمایت ملی؟ آج پھر ہم وہی غلطی کر رہے ہیں۔ یہی لوگ جب حزب اختلاف میں تھے تو بڑی بڑی باتیں کرتے تھے کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا۔ خدارا، تھوڑا سا ٹائمنگ کا خیال رکھ لیں کہ حالات کیا ہیں اور اس وقت بھارت میں کیا ہورہا ہے؟ اور وہاں کون سی قیامت برپا ہے؟ موجودہ حالات کے پس منظر میں کیا ایسی بیان بازی موزوں ہے؟

دوسری طرف اس بیان کا جائزہ لیجیے۔ بھارت کے ساتھ بیک ڈور چینل پر باتیں ہوتی رہتی ہیں اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن جب آپ چیزوں کو پبلک ڈومین یا قومی اور بین الاقوامی سطح پر لے کر آتے ہیں اور اسٹرکچرل ڈائیلاگ یا بنیادی مذاکرات کی بات کرتے ہیں، تو پھر آپ کے ہرلفظ اور ہرجملے سے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ آپ بیک ڈور چینل پر ایک گرائونڈ تیار کرتے ہیں اور جب تک گرائونڈ تیار نہیں ہوجاتی اس وقت تک اسٹرکچرل ڈائیلاگ کے لیے بیان دینا مناسب نہیں۔ لہٰذا، یہ دانش مندی کی بات نہیں ہے کہ ہم براہِ راست یہ کہیں کہ ہمیں بھارت کے ساتھ اسٹرکچرل ڈائیلاگ یا مذاکرات کرنا چاہییں۔ بھارت کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ وہ بیک ڈور چینل پر مصروف رکھتا ہے اور جب اسٹرکچرل ڈائیلاگ کا مرحلہ آتا ہے تو خصوصاً کشمیر پر پاکستان کی پوزیشن کو کمزور کرواتا رہتا ہے۔

۲۰۰۴ء سے لے کر اب تک ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح بھارت نے کشمیر پر ہماری پوزیشن کو کمزور کیا ہے؟ کس طرح دہشت گردی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑا تنازعہ بنایا؟ حالانکہ اصل تنازعہ تو مسئلہ جموں و کشمیر ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات اس وقت تک کبھی معمول پر نہیں آسکتے، جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوجائے۔ یہ پہلو ہروقت سامنے رہنا چاہیے۔

اگر وزیرخارجہ کے مطابق پاکستان اس وقت ’تنہائی‘ کا شکار ہے، تو اس کی وجہ کشمیر یا پاک بھارت تعلقات کی خرابی نہیں ہے، بلکہ ہماری داخلی کمزوریاں اور خرابیاں ہیں۔ ہمارے اندر کے جو معاملات ہیں، ’میموگیٹ‘ سے لے کر ’ڈان لیکس‘ وغیرہ تک کے جو ایشوز ہیں، اگر ان کو ہی دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ خدارا، پاکستان کی سفارت کاری کو اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مذاق نہ بنایئے۔ ہمارا ایک مضبوط قومی موقف ہے، اسی کو برقرار رکھیے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنی انتظامی اور اداراتی کمزوریوں کی وجہ سے بین الاقوامی رائے عامہ اور حکومتوں کو اس طرف نہیں لاسکے ہیں۔ اس کے پیچھے گوناگوں مسائل اور سفارتی سطح پر ہماری کوتاہیاں ہیں۔

وزیرخارجہ کے اس بیان میں پائی جانے والی کمزوری اور ناسمجھی، کشمیر کے موقف سے اساسی انحراف اور ایک بڑی زیادتی ہے۔ یہ پاکستانیوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے کہ جو گذشتہ ۷۵برس سے جانی اور مالی سطح پر بہت بڑی قربانی دے رہے ہیں، اور پھر بنیادی طور پر کشمیریوں کے ساتھ بھی انتہائی ظلم ہے جو بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں اور ابھی تک جنھوں نے پاکستان کا جھنڈا اپنے ہاتھوں میں تھام رکھا ہے۔

ایک طرف یاسین ملک صاحب اور شبیراحمد شاہ صاحب کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ مسرت عالم اور آسیہ اندرابی کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ ڈاکٹر قاسم فتو اور  بلال لون کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ کتنے نام گنوائے جائیں؟ کتنی مائوں بہنوں کی عصمتیں لوٹی گئی ہیں اور کیا کیا مظالم انھوں نے برداشت نہیں کیے۔ آج بھارت جو کچھ کررہا ہے اور جمہوریت اور جمہوری اقدار کو مٹانے کے لیے جس طرح کے اقدام کر رہا ہے، کیا اس سب کے باوجود آپ بھارت سے تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں۔ آخر بھارت سے تعلقات بحال کرکے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ایسے بیانات سے ہم اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں، اور حاصل کچھ نہیں ہوتا، اور اس طرح کشمیر پالیسی کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ تنہائی کا شکار ہیں تو اس کو دُور کرنے کے اور بہت سے طریقے ہیں۔ صرف یہی طریقہ نہیں ہے کہ آپ بھارت کے سامنے بچھ جائیں کہ ہماری مدد کیجیے۔اگر یہی ذہنی سانچہ ہے تو بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

کسی بھی امریکی صدر کا دورۂ مشرق وسطیٰ ہمیشہ سے نئے چیلنج سامنے لے کر آتا ہے، لیکن اس بار یورپ اور مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال میں یہ دورہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی اس امکانی دورے کو خاص طور پر سعودی عرب کے حوالے سے ’ذرا مختلف‘ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض جگہوں پر ’اب یا کبھی نہیں‘ والی سوچ کارفرما ہے۔

اس ارضی خطے کے لیے یہ پہلو بہت اہم ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام آگے بڑھ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں تیل پیدا کرنے والی عرب ریاستوں کے ساتھ اسرائیل اور امریکا بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔

روسی فیڈریشن ایک نئے دور کی ابتدا کرچکی ہے، جس کے اثرات سے مشرقِ وسطیٰ کا بچنا آسان نہیں ہے۔ چین کی اقتصادی میدان میں عالمی پیش رفت کے ساتھ سفارتی وسیاسی محاذ پر بھی آگے بڑھنے کے رجحانات براہ راست امریکی پریشانی کا اہم سبب ہے۔

افغانستان سے جس ڈھب سے امریکی فوجی انخلا پچھلے سال مکمل ہوا تھا، اس کا بھی دبائو ہے کہ صدر جو بائیڈن امریکی اثر ورسوخ کو کم ہونے سے روکنے کے لیے نئے بندوبست کو ممکن بنانے کے ایجنڈے پر عمل شروع کریں۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ امریکا کی طرف سے اس میں ضروری سرعت نہیں دکھائی جا سکی۔ افغانستان سے اس انداز میں نکلنے کے بعد جو دھچکا امریکا کو سہنا پڑا ہے، اس کے ازالے کی کوشش کے علاوہ خود جو بائیڈن کی اور ان کی جماعت کی ساکھ اور صلاحیت ِ کار پر سوال اُٹھ رہے ہیں۔

اس پس منظر میں برطانیہ کے نئے فوجی سربراہ جنرل پیٹرک سینڈر کا یہ بیان: ’’۲۴ فروری کے بعد دنیا تبدیل ہو چکی ہے‘‘، صرف برطانیہ کے لیے ایک بڑے انتباہ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ امریکا کو درپیش کثیر جہتی چیلنجوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔

جوبائیڈن اپنی عوامی مقبولیت کے گراف کو مزید نیچے آنے سے روکنے کے لیے ہاتھ پائوں ما ررہے ہیں۔ رواں برس ماہ نومبر میں امریکا میں وسط مدتی انتخابات ان کی جماعت کے لیے ایک اندرونی، فوری اور بڑے چیلنج کے طور پر سامنے ہیں۔ ان انتخابات میں بُرے نتائج سے جوبائیڈن کی صدارت کے معنی ہی بدل جائیں گے بلکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر وائٹ ہاؤس میں داخلے سے قریب تر ہو جائیں گے۔

ان حالات میں بائیڈن چاہتے کہ ہیں کچھ فوری نوعیت کے ’مفید‘ کام ممکن ہو جائیں یا ان میں نظر آنے والی پیش قدمی ہو۔ اس لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان انھیں اچھے لگتے تھے، یا نہیں، مگر اس وقت وہ ان کے لیے اتنے ہی اہم ہو چکے ہیں، جتنے کہ محمد بن سلمان کے لیے خود  صدر بائیڈن اہم ہیں۔ اس لیے امریکی صدر کی سعودی عرب آمد کو ہر طرح سے زیادہ بامعنی بنانے کے لیے سعودی ولی عہد سہ ملکی دورے پر نکلے، جس میں مصر، اردن اور ترکیہ میں اہم ملاقاتیں اور مشاورتیں پیش نظر ہیں، تاکہ بڑے فیصلوں میں اکیلے آگے نہ بڑھیں، دوسروں کو بھی اعتماد میں لے کر فیصلے کریں۔

اسی دوران میں سعودی ولی عہد کے سہ ملکی دورے سے ایک روز قبل سابق اسرائیلی وزیرخارجہ زپی لیونی نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ سے سعودی شاہی خاندان کی اہم شخصیت شہزادہ ترکی الفیصل کے ساتھ ایک تصویر ٹویٹ کی ہے۔ یاد رہے کہ ترکی الفیصل ماضی میں اسرائیل کے سخت ناقدین میں شامل رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ایران سے اُبھرنے والے ’خطرات‘ پر بھی ان کی نظر ہے۔ ایرانی جوہری اور ڈرون پروگرام کو سمجھنے اور اس پر رائے کے حوالے سے شہزادہ فیصل، امریکا اور اسرائیلی خدشات میں یکسانیت کا پایا جانا کچھ عجیب بات نہیں، جب کہ یمن، لبنان، عراق اورشام میں ایرانی اثرات کے مظاہر بھی روز افزوں ہوں۔

لہٰذا، بعض اہل الرائے اس تصویر کے بنائے جانے اور سامنے لانے کی ٹائمنگ کو محض اتفاق قرار نہیں دیتے۔ اس تصویر کے ٹویٹ ہونے کے فوری بعد میڈیا نے اسے جتنی اہمیت دی ہے، وہ بھی اہمیت کا اعلان کرتی ہے۔ گویا دو اہم سعودی واسرائیلی شخصیات کی یہ محض ایک تصویر نہیں، بلکہ ایک نئے دور کی چغلی کھاتی ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک: ’’یہ ایک تصویر نہیں ہے، بلکہ جوبائیڈن کے دورے کا عنوان ہے‘‘۔

یہ ’مفروضاتی عنوان‘ اس حقیقت کے باوجود بڑا اہم ہے کہ اسرائیل کی مخلوط حکومت اپنے اقتدار کی آخری ہچکیاں لے رہی ہے، عبوری حکومت کی تشکیل ہو رہی ہے اور اکتوبر تک نئے انتخابات یقینی نظر آرہے ہیں۔

لیکن دو باتیں اور بھی بہت اہم ہیں۔ جس طرح امریکا کے بارے میں یہ معروف بات ہے کہ اس کی حکمت عملی ریاستی نوعیت کی ہوتی ہے، حکومتی انداز کی نہیں۔ بالکل اسی طرح امریکا کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے اہداف بھی ایسے ہی ہیں کہ حکومت خواہ کسی بھی جماعت یا فرد کی ہو، اسرائیلی اہداف تبدیل نہیں ہوتے۔ لہٰذا، امریکا کی داخلی ضرورتوں اور عالمی مسائل کے ساتھ اسرائیل، مصر، اردن، سعودی عرب اور ترکیہ کے بڑے ایوانوں کی درون خانہ سرگرمیوں کو نکتے ملانے والی ایک سرگرمی کے طور پر ہی لے لیا جائے تو یہ کھیل کافی سنجیدہ مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ کھیل کئی ممالک اور ان کے موجودہ حکمرانوں کے مشترکہ مفادات کا بھی تقاضا ہے۔

ایک دو حوالے خود وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان سے بھی دستیاب ہیں:

ایک تو یہ کہ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر کام کرنے والے ایک صحافی کا حالیہ دورۂ اسرائیل، اور پھر پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری کے زیرکمان ان کی سیاسی جماعت کے ایک اہم اور کاروباری شخصیت سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بڑا تفصیلی بیان۔ پاکستان کی مخلوط حکومت کی طرح اسرائیل میں ایک مخلوط حکومت قائم ہے، جس کی اکثریت نقش بر آب کی طرح ہے۔ بدترین معاشی صورت حال میں امریکا اور آئی ایم ایف سے تقاضے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے توقعات بھی ایک مشترکہ منظر پیش کرتی ہیں۔

پاکستان میں کمزور بنیادوں پر کھڑی کی گئی مخلوط حکومت کے ہوتے ہوئے بدترین سیاسی ومعاشی عدم استحکام ہی نہیں، ماہ نومبر میں ’اہم فیصلوں‘ کی ایک عرصے سے جاری بحث بھی موجود ہے۔ اگر اس سب کچھ کو ملا کر دیکھا جائے تو پاکستانی حکومت کے رجحانات اور حالات کا بننے والا ہیولا مذکورہ بالا منظر نامے سے قریب تر نظر آتا ہے۔

 ’گلوبل ویلیج‘ کا حصہ ہونے کے ناطے ایک دوسرے سے تعاون لینا اور ایک دوسرے کو تعاون دینا تو لازم ہوتا ہی ہے، خصوصاً جب حالات یہ بن چکے ہوں کہ ہر کوئی اپنے آپ کو مشکلات میں گھرا ہوا اور فطری طور پر کمزور بھی سمجھنے لگا ہو۔ ایسے میں سب ایک دوسرے کے تعاون کے متلاشی بھی ہوتے ہیں اور تعاون ’بارٹر‘ کرنے کے لیے تیار بھی ہوتے ہیں۔ یہ کہنا دُور کی کوڑی لانا ہر گز نہیں ہے کہ جو بائیڈن کے دورۂ سعودی عرب کے دوران اہم فیصلوں کا امکان غالب ہے، جو صرف سعودی عرب یا عرب دُنیا کے حوالے سے نہیں، بلکہ بعض دیگر مسلم ممالک کو بھی اپنے گھیرے میں لے سکتے ہیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ بعض فیصلے حتمی نوعیت کو نہ چھو پائیں، مگر اصولی فیصلوں یا ابتدائی فیصلوں کے درجے میں ضرور شمار ہوں گے۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں سب فریق ایک دوسرے کے دست وبازو بن کر چلنے پر بھی متفق ہو جائیں گے اور آنے والے دنوں میں اسی سمت بڑھنے کے لیے بڑے فیصلوں کی خاطر مقامی سطحوں پر مزید تبدیلیوں کے امکانات پیدا کر کے مشرق وسطیٰ کو بھی بدلنے کی راہ مزید ہموار کریں گے۔

مشرق وسطیٰ پہلے ہی ’تبدیلیوں‘ کے اس راستے کا راہی بن چکا ہے۔ ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کی سوچ میں تبدیلی کے اشاروں سے بات آگے نکل چکی ہے جسے یہاں تک لانے میں ’لالچ اور دھمکی‘ کی امریکی حکمت عملی کو گہرا دخل حاصل ہے۔ یہ پالیسی نئے حالات میں کبھی ایک ملک کے لیے اور کبھی دوسرے ملک یا کسی شخصیت کے لیے بروئے کار رہ سکتی ہے۔

مغرب میں اسلام کی جو تصویر ہے، اس کا مطالعہ کیا جائے تو شاید بیش تر واقعات و حوادث کی حقیقت کو واضح کرنے کی بنیاد مل جائے اور ہمیں اس بات کا مزید ادراک بھی حاصل ہو جائے کہ رائے عامہ پر کس طرح اثر انداز ہوا جاتا ہے اور عوام کے جذبات سے کس طرح کھیلا جاتا ہے؟  دنیا میں تصویر یا تشخص کی جنگ جاری ہے، جس میں ہر ملک اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ [دنیا کے سامنے]اپنی تصویر بنانے اور اپنے دشمنوں کی گھسی پٹی تصویر قائم کرنے کا ملکہ حاصل کر لے۔

تصویر کی اس جنگ میں امریکی سنیما انڈسٹری نے اہم کردار ادا کیا ہے، اور اس نے ایسی بہت ساری فلمیں بنائی ہیں، جن کا مقصد دوسروں یا دشمن [ممالک]کے بالمقابل امریکا کے تشخص کو مثبت تصویر کےچوکھٹے میں پیش کرنا ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے امریکی تحقیقاتی مراکز نے صرف ہدف کو چُنا ہے کہ اسلام کو امریکا اور یورپ کے دشمن کے طور پر پیش کیا جائے۔ ان مراکز کی ملی بھگت نے مسلمانوں کی مطلوبہ منفی تصویر کُشی کے لیے بہت سی فلمیں منظر عام پر لانے کی بنیاد فراہم کی ہے۔

  • اسلام کی تصویر کشی کے سیاسی اہداف: ایک سروے، جسے چار پاکستانی محمد یوسف، نعمان سیل، عدنان مناور اور محمد شہزاد نے انجام دیا ہے، یہ واضح کرتا ہے کہ اسلام کی تصویر کو بگاڑنے کی صورت میں امریکی سنیما بعض سیاسی اہداف کی تکمیل کر رہا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے امریکی سنیما نے بعض اصطلاحات اور تصورات مثلاً ’ریڈیکل اسلام‘، ’انتہاپسند اسلام‘، ’ملیشیائی اسلام‘، ’بنیاد پرست اسلام‘، ’اسلامائزیشن اور انقلاب پسند‘ اسلام کا استعمال کیا ہے۔ ان اصطلاحات کے استعمال نے اسلام اور مسلمانوں کی گھسی پٹی تصویر سازی کے لیے فلسفیانہ اور پروپیگنڈا بنیاد فراہم کی ہے۔ یہ اصطلاحات عوام کو اس بات پر مجبور کر رہی ہیں کہ وہ ان الفاظ و تصورات سے وہی تصویر قبول کریں، جو ہالی وُڈ کے نظریات پر مبنی ہے، یعنی سنیما پروپیگنڈے ،عوام کے جذبات و رجحانات سے کھیلنے اور رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔
  • سنیما اور اسلاموفوبیا : اسی طرح سنیما نے اسلاموفوبیا کا ہوّا کھڑا کرنے یا اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے نفرت کو جنم دینے میں بھی خوب مدد کی ہے۔ اہل مغرب کے دلوں میں اسلام مخالف جذبات پیدا کیے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کو ہوا دی ہے۔ اس تحقیق کا ایک اہم ترین نتیجہ یہ ہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ اسلام کو اسی نظریۂ تہذیبی تصادم سے ہم آہنگ کر کےپیش کررہے ہیں، جسے سیموئیل ہن ٹنگٹن نے پیش کیا تھا۔

تہذیبی تصادم کے نظریے نے دنیا کو تقسیم کرکے مغرب اور اسلام کے درمیان گہری کش مکش پیدا کی ہے۔اس نظریئے کو دنیا کے اوپر تھوپنے کے لیے ذرائع ابلاغ ، خاص طور سے سنیما کو استعمال کیا گیا ہے، جس نے اہلِ مغرب اور مسلمانوں کے درمیان امتیاز و اختلاف کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔اسی لیے امریکی سنیما نے اسلام کو ایک مذہب (دین) کی حیثیت سے لیا ہی نہیں، اور تعصب و جانب داری سے مسلمانوں کے جذبات واحساسات کو چوٹ پہنچائی ہے۔

  • فلم موثر ترین ذریعہ:سروے اور تحقیق سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسلام کی لگی بندھی تصویر پیش کرنے میں سنیمائی فلمیں دوسرے ذرائع ابلاغ مثلاً ریڈیو، ٹیلی ویژن وغیرہ سے بھی زیادہ موثر رہی ہیں۔دنیا اس وقت تصویری تہذیب کے دور میں جی رہی ہے۔ فلم تواتر اور تسلسل کے ساتھ تصویروں کے جس مجموعے کو پیش کرتی ہے ، انھیں پردے پر ایسے متاثر کن انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھیں خیرہ ہو کر رہ جاتی ہیں اور وہ ان ڈرامائی اور تخیلاتی تصویروں کو اصل حقیقت کے روپ میں دیکھنے لگتا ہے۔اسی وجہ سے ہالی وڈ اپنے اندر بڑی اثرپذیری کی قوت رکھتا ہے۔

اسی لیے چاروں محققین نےاپنے سروے میں اس انڈسٹری کو آکٹوپس سے تشبیہ دی ہے جس نے دنیا کو اپنے بازؤں کی گرفت میں لے رکھا ہے۔دنیا کے بازارِ تفریح (Entertainment Market ) پر ہالی وُڈ کی حاکمیت ہے۔ کروڑوں لوگ اس کی بنائی ہوئی فلمیں دیکھتے ہیں۔ ان فلموں کی وجہ سے ہالی وُڈ نوجوانوں کا سب سے طاقت ور استاد بن چکا ہے، کیوں کہ سب سے زیادہ فلموں سے جڑنے والا طبقہ نوجوانوں کا ہی ہے۔

دوسرا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہالی وُڈ میں کام کرنے والے پرڈیوسرز، ڈائرکٹرز، قلم کار اور اداکار سب کے سب امریکا کے اشرافیہ (Elite) طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور دنیا کا وہی تصور پیش کرتے ہیں جو یہ طبقہ رکھتا ہے۔

  • سنیما کا سیاسی و تشہیری کردار:امریکا سرد جنگ سے فاتح کی حیثیت سے باہر نکلا تو ہالی وُڈ نے اپنی فلموں میں اس اصطلاح پر توجہ مرکوز کر دی، جسے امریکا نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا نام دیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے اس نے ااستمبر ۲۰۰۱ء کے حادثے کو بھی استعمال کیا۔ چنانچہ ایسی بہت سی فلمیں تیار کیں، جن کا مقصد امریکی عوام کی ذہن سازی کرکے انھیں امریکی قیادت کی حمایت و تائید پر مجبور کرنا، اور افغانستان و عراق کے خلاف امریکی جنگ کے فیصلے کو جائز ٹھیرانا تھا۔

اسلام کی روایتی منفی تصویر جو ہالی وُڈ نے گھڑی ہے، اس کا استعمال امریکا نے فلم بیں حضرات کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے کیا ہے کہ مسلمان ’انتہاپسند‘، ’دہشت گرد‘ اور ’متعصب‘ ہوتے ہیں۔

سنیما کے اس سیاسی و تشہیری کردار سے واضح ہوتا ہے کہ ہالی وُڈ صرف تفریح کا ایک وسیلہ ہی نہیں ہے، بلکہ یہ ذہنوں میں ایک مخصوص تصویر قائم کرنے کی فیکٹری بھی ہے۔ یہ سنیما ہی تصویری و اصطلاحاتی جنگ اور تہذیبوں کے مابین کش مکش کو کنٹرول کر رہا ہے۔ اسی طرح یہ سنیما ہی امریکی اشرافیہ کے نقطۂ نظر کو عام کرکے اس کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کا کام بھی کر رہا ہے۔

بدقسمتی سے لوگ دنیا کو ہالی وُڈ کے اسی کیمرے کی آنکھ سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں، جو حقائق کو پیش نہیں کرتا، بلکہ تصویروں، اور خواص کی مدد سے من پسند اور مذموم واقعات کو جنم دیتا ہے اور پھر عوام کے جذبات کو ان کے خلاف اُبھارتا ہے جنھیں وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے۔

  • جعلی اور گمراہ کن روایتی تصویر: عوام کے سامنے ہالی وُڈ جو معلومات پیش کرتا ہے، ان کا انداز عمومی نوعیت کا ہوتا ہے اور ان کے توسط سے وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے اس قسم کے احکامات صادر کرتا ہے، جو عوام کو گمراہ کرنے والے اور ان کے جذبات واحساسات کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ہوتے ہیں۔چنانچہ ان چار محققین نے ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۲ء کےدرمیان ریلیز ہونے والی چار ہالی وُڈ فلموں کے ۲۸۷ مناظر کا جائزہ لیا تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ’’امریکی سنیما نے اسلام کو منفی شکل میں پیش کیا ہے‘‘۔ اس جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ’’اس تصویر میں بلاکسی امتیاز کے تمام اسلامی ممالک کو شامل کیا گیا ہے ، اور مغرب نے مسلم ممالک کی اس منفی تصویر کو تہذیبوں کے مابین تصادم کے نظریے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس نظریے کی روشنی میں ان باتوں کو فروغ دیا گیا ہے جو اہل مغرب کے جذبات کو مشتعل کرنے والی اور انھیں اسلام سے متنفر اور مسلمانوں سے خوف زدہ کرتی ہیں‘‘۔

اسی طرح ہالی وُڈ نے اسلام کی ایسی تصویرکو دنیا میں عام کرنے کا کام بھی کیا ہے کہ مسلمانوں کو دُنیا کے لیے خطرہ بتا کر ان سے لوگوں کو خوف زدہ کیا جا سکے۔ اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ دینِ اسلام کے خلاف دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔مثال کے طور پر امریکا، کینیڈا، یورپ اور نیوزی لینڈ وغیرہ میں مساجد کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

  • وطن پرستی اور اسلاموفوبیا کے درمیان تعلق:مسلمانوں کی روایتی انداز کی منفی تصویر کا تعلق امریکا اور یورپ میں وطن پرستانہ جذبات کو ابھارنے سے بھی ہے۔ اس سے ان ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز احساسات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اور محقق ابوسادات بھی اس سے پہلے اپنی تحقیق میں اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ہالی وُڈ اسلام اور مسلمانوں کی منفی تصویر بنانے پر کام کررہا ہے۔
  • استعمار ابھی  بھی زندہ ہـے:عبید منشاوی فوال نے کونکورڈیا یونی ورسٹی میں ماسٹرز کی ڈگری کے لیے مقالہ پیش کیا ہے۔ اس مقالےمیں انھوں نے اپنی تحقیق کا یہی نتیجہ پیش کیا ہے کہ ہالی وُڈ کے فلم ساز استعماری دور کے یورپی مستشرقین کے پیش کردہ افکار پر ہی اعتماد کرتے ہیں۔  اور مستشرقین کے یہ افکار مسلمانوں کی مسخ شدہ تصویر کے سہارے استعمار کی برتری کے جواز کو  بیان کرتے ہیں۔دوسری طرف یورپی استعمار کی صورت گری سفید فام اہلِ مغرب کے اندر احساس برتری اور تکبّر اور حتمی غلبے کے جذبات کو غذا فراہم کررہی ہے۔ ۱۱ستمبر کے بعد سے امریکی سنیما کا استعمال اسلام کی اقدار، تہذیب اور روایات کے خلاف پروپیگنڈا مہم کے لیے بھی کیا جانے لگا۔ اس کوشش کے تحت اسلام کو ’دہشت گردی’، ’تشدد‘، ’انتہاپسندی‘، ’بنیاد پرستی‘ اور ’جمہوریت دشمنی‘ سے جوڑا جانے لگا۔

امریکی فلم سازوں نے تہذیبی تصادم کے نظریے، سبز خطرے (Green Danger)، نظریاتی کش مکش، اور قدیم صلیبی جنگوں کے نظریات کو فلموں میں استعمال کیا ہے، اور یہ وہ نظریات ہیں، جو بین الاقوامی کش مکش کے لیے فکری اساس کی حیثیت سے وضع کیے گئے ہیں۔

یہ بات بھی واضح ہے کہ سنیما، عالمی کش مکش کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسلام سے خوف زدہ کرنے کے لیے سنیما کا استعمال اس فکر کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا کہ ’’امریکی جمہوریت خطرے میں ہے اور امریکا دہشت گردی کی زد میں ہے‘‘ ، اس لیے ضروری ہے کہ مسلم دُنیا کے خلاف عسکری جنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے‘‘۔

اس حقیقت کی روشنی میں فوال یہ رائے بیان کرتے ہیں کہ ’’اسلام کی جو روایتی انداز کی تصویر امریکی سنیما نے گھڑی ہے، وہ نہایت تباہ کن اور سخت خطرناک ہے۔ یہ تصویر مستقل طور پر اسلام دشمنی کی راہ ہموار کرنے والی ہے۔یہ تصویری جنگ حقیقی جنگ کے لیے راہ ہموار کرنے والی ہے، جس کا مقصد ملکوں پر قبضہ جمانا اور انسانیت کو برباد کرنا ہے۔ مغربی فوجیوں کو اپنے دشمن پر میزائل چلانے سے پہلے ایک ذہنی تصویر کی ضرورت ہوتی ہے، جو امریکی فوج کی سرگرمیوں کو احترام دینے والی ہو اور امریکی فوجیوں کو ہیرو کا رُوپ دے سکتی ہو۔ اسی طرح انھیں ایک ایسی روایتی تصویر کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جو ان کے دشمن کی صورت کو بگاڑ کر پیش کرتی ہو اور انھیں بدمعاش، دہشت گرد اور جمہوریت وترقی کے دشمن کے طور پر پیش کرتی ہو‘‘۔

امریکی سنیما اپنے طویل تاریخی تجربات کو بروئے کار لا رہا ہے اور تصویری جنگ میں اپنے کردار کو انجام دینے کے لیے ٹکنالوجی کے میدان میں ہونے والی ترقی کو کام میں لا رہا ہے۔ اس کی نظر میں یہ تصویری جنگ ہی دنیا کے مستقبل کی تشکیل اور استعماری غلبے کے نئے دور کے لیے راہ ہموار کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس تصویری جنگ کا مقابلہ کیسے کریں اور کیسے ایک ایسی میڈیا انڈسٹری کی تشکیل کریں، جو مسلمانوں کو [درست]معلومات فراہم کر سکے، ان کے فہم و شعور کی تشکیل کر سکےاور اکیسویں صدی کے چیلنجوں کے مقابلے کی قوت امت کے اندر پیدا کر سکے؟

مستقبل کی تعمیر وتشکیل ایسے اصحابِ علم اور محققین کی ضرورت مند ہے، جو اپنے ممالک کو ذہنی تصویر سازی کے قابل بنا سکیں اور اس قابل بنا سکیں کہ وہ ان روایتی اورگھسی پٹی، آلودہ اور بیہودہ تصویروں کا مقابلہ کر یں، جو امت کے خلاف دشمنی کی بنیاد بن رہی ہیں اور امریکا جو کہ سنیما کو اسلام کی منفی تصویر بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ ان بنی بنائی تصویروں کازیادہ دن تک سہارا نہ لے سکے۔

ذہنی و روایتی تصویر اس بنیاد کی تشکیل کرتی ہے جس پر مغرب کے پالیسی ساز اپنی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں اعتماد کرتے ہیں، جب کہ استعماری سوچ آج بھی ہالی وُڈ کے پروڈیوسرز کے لیے بنیادی حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔

امریکیوں اور یورپیوں نے ۲۰۲۲ ء میں یوکرائنیوں کے لیے جس ہمدردی اور گرم جوشی کا اظہار کیا، وہ ۲۰۱۰ء کے عشرے میں شامی مہاجرین کے ساتھ روا رکھی جانے والی بے ربط اور اکثرو بیش تر معاندانہ پالیسیوں کے بالکل اُلٹ تھا۔ماہر سیاسیات ڈیوڈ لیٹن نے اس معاملے میں مذہبی شناخت کا کردار واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’’دراصل شامی مہاجرین زیادہ تر مسلمان تھے، اس لیے ان کو عیسائی پس منظر رکھنے والے یوکرائنیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا‘‘۔

میڈیا ایسی معلومات فراہم کرتا ہے، جن سے مسلمانوں کے بارے میں اس طرح کے رویے جنم لیتے ہیں۔ پیو (PEW) ریسرچ سنٹر کے ۲۰۰۷ء میں امریکیوں سے کیے گئے سروے میں معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے بارے میں لوگوں کی منفی رائے بالعموم میڈیا میں آنے والے مواد کو پڑھ کر یا سن کر قائم ہوئی۔ ماہرابلاغیات منیبہ سلیم اور ان کے رفقائے کار نے میڈیا کی فراہم کردہ معلومات اور ’’لگے بندھے خیالات، منفی جذبات اور نقصان دہ پالیسوں کی حمایت‘‘ کے مابین براہِ راست تعلق ثابت کیا ہے۔

زیادہ بہتر طور پر یہ سمجھنے کے لیے کہ میڈیا مسلمانوں اور اسلام کو کس طرح پیش کرتا ہے، ۲۰۲۲ء میں مسلمانوں کی نمایندگی کے بارے میں امریکی اخباروں کا تقابلی جائزہ پیش کرنے والی ہماری کتاب American Newspapers in Comparative: Covering Muslims Perspecitve  میں کئی عشروں پر پھیلے ہوئے ہزاروں بلکہ لاکھوں مضامین کو پرکھا گیا ہے۔ ہم نے امریکا میں ہی نہیں بلکہ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی بہت زیادہ منفی انداز دیکھا۔

تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی منفی نمایندگی میڈیامیں عام ہے۔ ماہرین ابلاغیات سیف الدین احمد اور جورگ ماتھس کی ۲۰۰۰ء سے ۲۰۱۵ء تک کی گئی تحقیق اور جائزوں پر نظر ڈالنے سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ مسلمانوں کو میڈیا میں منفی طور پر ظاہر کیا گیا اور اسلام کو بہ کثرت دہشت پھیلانے والے مذہب کے طور پر دکھایا گیا۔مگر جس تحقیق کا انھوں نے جائزہ لیا، اس میں دو اہم سوالوں کے جواب نہیں دیے گئے، تاہم ہماری تحقیق ان کا احاطہ کرتی ہے:

اول، کیا مسلمانوں اور اسلام پر مضامین اخبارات کے عام اوسط مضامین سے زیادہ منفی ہوتے ہیں ؟

دوم، کیا میڈیا میں مسلمانوں کو دیگر مذہبی اقلیتوں کے مقابلے میں زیادہ منفی انداز میں دکھایا جاتا ہے ؟

اگر اقلیتی مذہبی گروہوں کے متعلق خبر اس وقت بنتی ہے جب وہ کسی تنازعے میں کسی نہ کسی شکل میں شریک ہوں، تو خبر کا منفی انداز ان کے مسلمان ہونے کی وجہ تک محدود نہیں ہوتا۔

ان سوالات کے جواب کے لیے ہم میڈیا ڈیٹا بیس ،جیسے LexisNexis, NexisUni, ProQuest  اور فیکٹیواسے رجوع کر کے مسلمانوں اور اسلام سے متعلق ۲لاکھ ۵۶ہزار نوسو ۶۳ مضامین تک پہنچے۔ اس کے لیے ہم نے ’مسلم مضامین‘(Muslim Articles ) کے عنوان سے امریکا کے یکم جنوری ۱۹۹۶ء سے ۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ ء تک کے ۲۱ سال کے عرصے کے دوران شائع ہونے والے ۱۷ قومی ، علاقائی اور چھوٹے مقامی اخبارات کا احاطہ کیا۔

ہم نے مثبت یا منفی رجحان ماپنے کے لیے ایک قابل بھروسا طریقہ یہ اختیار کیا کہ اس کا مقابلہ مختلف اخبارات میں بغیر ترتیب دیے ہوئے ۴۸ہزار دوسو ۸۳ مضامین کے لب ولہجہ سے کیا۔ یہاں ’منفی‘ ہونے کا مطلب اس مضمون یا خبر کا ایک اوسط درجے کےعام مضمون، یا خبر سے زیادہ منفی ہونا تھا۔

اس طریق کار نے کئی مزید تقابلی جائزوں کے لیے بنیاد فراہم کی۔ ہم نے امریکی اخباروں سے نہ صرف مسلمانوں سے متعلق مضامین جمع کیے بلکہ امریکا میں موجودمختلف حجم اور حیثیت کے تین اقلیتی مذہبی گروہوں، یعنی: کیتھولک عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوؤں کے متعلق بھی مضامین اکٹھے کیے۔ پھر ہم نے برطانیہ ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے مختلف قسم کے اخبارات سے بھی مسلمانوں سے متعلق مضامین حاصل کیے۔

ہماری تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ’’امریکا میں مسلمانوں اور اسلام پر اوسط مضامین عام اور بے ترتیب دیکھے جانے والے ۸۴ فی صد مضامین سے زیادہ منفی ہوتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک عام مضمون کے مقابلے میں امریکی اخبارات میں اسلام اور مسلمانوں پر ’منفی‘ مضامین زیادہ ہوتے ہیں‘‘۔

واضح طور پر یہ سمجھنے کے لیے کہ مضامین کتنے منفی ہوتے ہیں، ذرا اس جملے پر توجہ کیجیے جس کا لب و لہجہ ایک عام مضمون جیسا ہے:’’روسی شخص کو خفیہ اہلکار نے یہ باور کرایا کہ تابکاری مواد ایک مسلم تنظیم کے حوالے کرنا ہے‘‘۔ اس ایک جملے میں دو انتہائی منفی الفاظ ’خفیہ‘ اور ’تابکاری‘ کے استعمال سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ مسلم تنظیم ناپاک مقاصد کے لیے کام کر رہی ہے۔

جن مضامین میں مسلمانوں کا ذکر تھا وہ زیادہ منفی تھے ، بہ نسبت ان مضامین کے، جن میں دیگر گروہوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ کیتھولک عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوؤں کے لیے مثبت اور منفی مضامین کا تناسب ۵۰:۵۰ تھا، مگر اس کے برعکس مسلمانوں سے متعلق مضامین ۸۰ فی صد منفی تھے۔ یہ فرق چونکا دینے والا ہے۔ ہماری تحقیق سے یہ پتہ چلتا ہے کہ میڈیا دیگر مذہبی گروہوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے منفی انداز نہیں اپناتا، مگر جب بات مسلمانوں کی ہو تو ایسا کرنے پر خود بخود مائل ہو جاتاہے ۔

مختلف گروہوں کی نمایندگی کے تقابلی مطالعے کے ساتھ ساتھ ہماری دلچسپی مختلف ممالک میں روا رکھے جانےوالے انداز میں بھی تھی۔ یہ جاننے کے لیے کہ شاید مسلمانوں کو منفی انداز میں دکھانے میں امریکا نمایاں طور پر منفرد حیثیت رکھتا ہے، ہم نے مسلمانوں اور اسلام سے متعلق برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے، اسی دورانیے کے مختلف اخبارات سے۵لاکھ ۲۸ہزار ۴سو ۴۴ مضامین جمع کیے۔ ہم نے دیکھا کہ ان ممالک میں بھی منفی اور مثبت مضامین کا تناسب تقریباً وہی تھا، جو امریکا میں پایا گیا تھا، یعنی تقریباً ۸۰ فی صد۔

مسلمانوں اور اسلام سے متعلق منفی مضامین  بلحاظ ملک

۲۱ سال پر محیط۵لاکھ ۲۸ہزار۴ سو ۴۴  مضامین کے جائزے سے معلوم ہوا کہ ’منفی‘ مضامین کا تناسب امریکا، برطانیہ ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں تقریباً یکساں ہے:

امریکا       ۸۰ فی صد برطانیہ      ۷۹ فی صد

کینیڈا ۷۹ فی صد آسٹریلیا      ۷۷ فی صد

(۱۹۹۶ء سے ۲۰۱۶ء تک مختلف اخبارات میں شائع شدہ مضامین)

متعدد ماہرین نے یہ ثابت کیا ہے کہ ’’منفی مضامین سے مسلمانوں کے خلاف جذبات کو ہوا ملتی ہے‘‘۔ منفی معلومات کے اثرات پرکئی مطالعوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’’اس سے  مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کرنے کی حمایت میں اضافہ ہوتا ہے ، جیسے مسلمانوں کی مخبری یا مسلم ممالک پر ڈرون حملے وغیرہ‘‘۔

مزید برآں، نوجوان امریکی مسلمانوں کے سروے سے پتہ چلتا  ہے کہ منفی سلوک کی وجہ سے امریکی شناخت ظاہر کرنے اور امریکی حکومت پر اعتماد کرنے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی منافرت کے تدارک کےلیے ضروری ہے کہ میڈیا میں مسلمانوں اور اسلام کی منفی نمایندگی کی موجودگی کا اقرار کیا جائے اور اس کا حل ڈھونڈا جائے۔ اس طرح بلاتفریق مذہب سب کے لیے قابلِ قبول انسانیت پسند اقدامات کے مواقع کھلیں گے۔

انسانی زندگی میں یہ دو سوالات بہت اہمیت کے حامل ہیں: 

  • میرا ، آج گذشتہ کل سے کیسے بہتر ہو؟ 
  • آج کے دن کرنے کے کاموں کی فہرست کیسے تیار کریں؟

زندگی ___     صرف آج کا دن

زندگی کیا ہے؟___ صر ف اور صرف آج کا دن۔ ہمیں اپنی زندگی کے اگلے لمحے کا کوئی علم نہیں ہے۔ہر زندہ رہنے والے انسان کو آج کے دن چوبیس گھنٹے یا ۱۴۴۰ منٹ ملتے ہیں، مگر ان کے بارے میں بھی یقین نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اگلا لمحہ نصیب ہوگا یا نہیں نصیب ہوگا۔جو فرد عطاشدہ ان لمحات کی اس نعمت کو جتنے بہتر انداز سے استعمال کرتا ہے، اتنا ہی وہ کامیا ب ہوتا ہے۔صبح جب ہم اٹھتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتی ہے اور ایک معجزہ ہے کہ ہم اُٹھ گئے، حالانکہ نیند میں تو ہمیں کسی چیز کا ہوش ہی نہیں ہوتا۔

ہر دن ایک نئی زندگی ہے اورآنے والا دن، کل کے لیے آج کا دن ہوگا۔ زندگی جو کچھ بھی ہے وہ آج کا دن ہے۔یہ دن کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئے گا، جیسے آپ دریا کے کنارے کھڑے ہوکر منظر دیکھتے ہیں کہ پانی گزرتا چلا جاتا ہے، اور پھر وہ کبھی واپس نہیں آتا۔کہتے ہیں کہ جس کا آج کا دن گذشتہ کل کی طرح ہے، وہ تباہی کی طرف سفر کررہا ہے۔ زندگی کے اس سفر میں انسان کے لیے جو کچھ بھی ہے وہ آج کا دن ہے اور اسے اس دن کو بہترسے بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

٭     آج کے دن کی اہمیت:علامہ سیوطی ؒ نے جمع الجوامع  میں ایک حدیث نقل کی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ہر روز صبح کو جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو اُس وقت دن یہ اعلان کرتا ہے: ’’جو شخص آج کوئی بھلائی کر سکتا ہے کرلے، آج کے بعد پھر کبھی واپس نہیں لوٹوں گا‘‘۔

دن کی بہتر کارکردگی کے لیے اس فرمان کو یاد رکھیے جو کہ حضرت حسن بصریؒ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خواب میں ہدایت سے معروف ہے: وہ شخص تباہ ہوگیا جس کے دو دن کارکردگی کے لحاظ سے ایک جیسے رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو فرماتے: ’’یااللہ! میرے لیے خیر کر اور اسے میرے لیے پسند کر‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ’’ بے شک وہ مسافر جسے کامیابی کی امید اور ناکامی کا خطرہ ہے، اسے چاہیے کہ اپنے سفر کے لیے اچھا سامان تیار کرے‘‘۔ انھی کے چند اقوال یہ ہیں: ’’جوشخص کوئی کام کر نے سے پہلے انجامِ کا ر سوچ لیتاہے ،اس کو اس کام کے تمام پہلو اور نشیب و فراز معلوم ہوجاتےہیں‘‘۔’’جوشخص انجامِ کار کا سوچتاہے وہ آفتوں اورمصائب سے بچارہتاہے اور جو شخص تجربہ کاری میں مضبوط ہوتاہے وہ ہلاکتوں سے نجات پالیتاہے‘‘۔’’عقل مند وہ ہے، جو اپناایک سانس بھی ، غیر مفید کام میں ضائع نہ کرے اور نہ ایسی چیز جمع کرے جو ساتھ نہ دے‘‘۔ ’’صبح سویرے کام کوجاؤ، کیونکہ سویرے جانے میں برکت ہے، اور اپنے کاروبار میں دوستوں سے مشورہ کیاکرو کہ اس طرح مقاصد میں کامیابی حاصل ہوتی ہے‘‘۔ ’’چراغ کو بر وقت جلانا اور بجھانا کامیابی کی علامت ہے‘‘۔ ’’کوچ کرنے کی تیاری کرو کیونکہ تمھارے کوچ کا وقت آپہنچا ۔ اور موت کےلیے تیار ہوجائو کیونکہ وہ تمھارے سر پر آگئی ہے‘‘۔

آج کا دن ___ کرنے کے کاموں کی فہرست

٭     یومیہ پیش نظر کاموں کی فہرست کو ’کرنے کے کام‘ کہتے ہیں۔ اس فہرست کے ذریعے آپ اپنے روزانہ کے کاموں کو ایک جگہ تحریر کرتے ہیں اور پھر ترجیحات متعین کرتے ہوئے  کرنے کی کوشش کرتےہیں۔یہ ایک جگہ: کاغذ، ڈائری، کارڈ، نوٹ بک، سمارٹ فون ، ڈیوائس یا کوئی سافٹ ویئر یا اپلی کیشن ہوسکتی ہے۔

٭     اپنے نصب العین کے تحت مقاصد کو پیش نظر رکھیے،اور اس ہفتے کے کرنے کے کاموں کی فہرست نکال لیں۔ اس کو سامنے رکھتے ہوئے، یومیہ فہرست بنا لی جائے۔

٭     منصوبہ بندی کے لیے ایک ہی طریقۂ کار، کارڈ یا ایپ استعمال کریں۔ ایک ہی فہرست بنائی جائے ، بہت سے فہرستیں نہ بنائی جائیں کہ اس سے آپ الجھ جائیں گے۔فہرست تیار کرنے کا دن اور وقت مقرر ہو اور اس میں باقاعدگی اور پابندی کریں۔کوشش کریں کہ یہ فہرست جمعہ یا اتوار کی شام (یعنی ہفتہ شروع ہونے سے ایک دن پہلے)تیار ہوجائے ۔ اس انداز سے کہ فہرست کے ساتھ دنوں کے کالم ہوں، جس پر ٹک مارک لگا کر دن مختص کیا جا سکے کہ یہ کام اس دن کرنے کا منصوبہ ہے۔

٭     یومیہ منصوبہ بندی بہتر ہے شام کے وقت کرلی جائے، تاکہ رات کو ذہن اس پر سوچ بچار کا کام کرے۔اس فہرست میں وہی کام ہوں، جو آپ اگلے دن کرنا چاہتے ہیں۔وہ کام جو کہ بہت اہم ہیں انھی پر توجہ مرکوز کریں۔بہتر کارکردگی کے لیے ہمیشہ اپنے نصب العین کو پیش نظر رکھیے۔ نصب العین کے حصول کے لیےمقاصد کو بھی سامنے رکھیے۔ احساس ذمہ داری، کردار، رویہ، عادات، صلاحیتیں، مہارتیں اور ٹکنالوجی ٹولز کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

٭     آپ کے ہر کام کا مقصد واضح ہونا چاہیے۔ کا م سے پہلے اپنے آپ سے منطق کے یہ چھ کاف والے سوالات پوچھیں: کیا، کیوں، کیسے، کب، کون اور کہاں؟ہر کام کے لیے ڈیڈ لائن متعین ہونی چاہیے، ورنہ آپ کے دن ویسے ہی گزرتے جائیں گے۔

٭     باقاعدگی سے جائزہ کی عادت ڈالیں۔ روزانہ رات سونے سے پہلے احتساب کی عادت ڈالیے۔ ہرکام کی ابتد ا اچھی کیجیے اور انجام پیش نظر رکھیے۔اپنے بہتر انجام کے لیے دعا کیجیے۔اللہ کے نام سے کام شروع کیا جائے کیونکہ ہر وہ کام جو اللہ کے نام سے شروع نہیں کیا جاتا ناقص رہتا ہے۔ ہمیشہ اپنے اعلیٰ مقصد کو مد نظر رکھنا چاہیے اور اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں ضائع  نہ کرے۔اپنے دن کی ابتدا میں یہ دعا پڑھا کریں: اے اللہ ہمارے آج کے دن کے پہلے حصے کو ہمارے کاموں کی درستی، درمیانے حصے کو بہبودی اور آخری حصے کو کامرانی بنادے۔

آج کے دن کی فہرست کیسے بنائیں؟

٭     کرنے کے کاموں اور اپائنٹمنٹس کے لیے ایک ہی ڈائری یا نوٹ بک یا سافٹ وئر استعمال کیجیے اور اس کا ریکارڈ اپنے پاس ہمیشہ رکھیے۔

٭     اس بات پر بھی غور کیجیے کہ میرے وہ کو ن سے کام ہیں، جو اگر آج کرلیےجائیں تو بقیہ زندگی میں آسانی ہوگی۔جو بھی کام کرنے ہوں ان کےاہم نکات لکھیے کہ کیا کام کرنا ہے؟ زندگی کے مقاصد پورا کرنے والے کاموں پر سب سے پہلے توجہ دی جائے۔اہم کاموں کے لیے دن کا بہترین حصہ استعمال کیجیے۔فہرست کی تیاری کے دوران آپ کے ذہن میں مختلف خیالات بھی آتے رہیں گے، جن کو نوٹ کرنے کے لیے جگہ ہونی چاہیے۔اسے’پارکنگ پلیس‘ کہتے ہیں۔

٭     اہم ترین کاموں کو سر فہرست رکھیں، یعنی ترجیحات مقرر کرنے کی عادت ڈالیں:’’میرے پانچ اہم ترین کام جو کہ آج ہی کرنے ہیں‘‘۔ روزانہ اس قسم کا ٹارگٹ ضرور بنائیں۔ تمام کاموں کے لیے ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کام کرنے والے کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کام کے لیے کتنی محنت کرنی ہے اور کتنا وقت دینا ہے؟کاموں کے درجات یوں متعین کیجیے: الف، ب، ج ___   l الف :وہ کام جو آپ کی کامیابی کے لیے لازم ہیں اور انھیں آپ کو ہر صورت میں کرنا ہے۔lب: وہ کام جو فوری نوعیت کے ہیں اور کوشش کرکےکرلینےچاہییں۔lج: وہ کام ہیں جو اگر ہوجائیں تو بہتر ہے۔

٭     ترتیب میں افراط سے کام نہ لیا جائے۔ غیر ضروری کاموں کو فہرست سے نکال دیں۔ملتی جلتی سرگرمیوں کو ایک ساتھ جمع کیا جائے۔ جو کام دوسروں کے حوالے کیے جا سکتے ہوں ان کو دوسروں کے حوالے کردیں۔ اس طرح آپ کو زیادہ اہم کاموں کی انجام دہی میں مدد ملے گی، سوچنے کے لیے وقت زیادہ ملے گا،عمومی نوعیت کے کاموں سے چھٹکارا ملے گا اور دوسروں کے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: ’’اپنے ملازموں کو کام بانٹ کربتلادیاکرو۔اس طرح اپنے مفوضہ کام میں کوئی شخص سستی نہ کرےگا‘‘۔

٭     اپنے ممنوعات کی بھی فہرست بنالیں، یعنی وہ کام جو آپ دن میں نہیں کریں گے، جیسے سوشل میڈیا کے کام اور رابطے۔ یہ کام آپ دفتری اوقات میں نہیں کریں گے بلکہ ان کا بھی ایک وقت معین ہوگا، جس میں آپ یہ کام کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ نقصان دہ چیزیں ہیں، جن  میں آپ ڈوب جاتے ہیں اور آسانی کے ساتھ نکل نہیں سکتے۔کاموں کی انجام دہی کے لیے بہترین طریقہ اپنا نے کی کوشش کریں۔ہر کام کے لیے صحیح اورمناسب طریقۂ کار اختیار کرکے وقت بچایا جاسکتا ہے۔ لوگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ہر کام کے لیے وقت متعین کیا جائے، یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ وقت کے ساتھ غیر مربوط کام کبھی پورے نہیں ہوتے۔ جب اس فہرست کو استعمال کریں تو یہ فہرست سارا دن آپ کی نظروں کے سامنے رہنی چاہیے۔ جو کام ہوجائیں وہ چیک کرتے رہیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ ایک کام ختم ہونے کے بعدوقفہ لیںتاکہ میدان کی گرد صاف ہو۔ لیکن اگر جاری کام ہی کے دوران وقفے لینے شروع کردیے تو آپ کے کام ادھورے رہ جائیں گے۔جو کام ادھورا رہ جائے، اسے اگلے دن پر ڈال دیں۔

چند مزید اہم باتیں

٭     کام کا آغاز صبح سویرے کیا جائے۔ہمیشہ دفتر وقت سے پہلے پہنچنے کی کوشش کریں۔مؤثر اور مستعد ہوکر کام کیجیے۔کام کو اسمارٹ طریقے سے کرنے کی کوشش کریں، آپ مناسب اور مطلوبہ محنت کریں۔باتوں اور چیزوں کو نوٹ کرنے کی عادت ڈالیں۔ اپنی پیش رفت کا جائزہ لیتے رہیے۔اپنی صحت ، توانائی اور قوت کار کا خاص خیال رکھیں۔اپنے معاونین کی ہمیشہ رہنمائی کرتے رہیں۔وہ کام جنھیں کرنا اور نہ کرنا ایک جیسا ہو، ان کاموں کو نہ کریں۔وہ تمام کام جو کہ تقاضے کے زمرے میں نہیں آتے ان کاموں کو چھوڑ دیں۔ چند ہفتے اپنے اوقات کا استعمال ضرور تحریر کریں اورپھر جائزہ لیں کہ کتنا وقت ضائع ہوتا ہے۔

٭     ہر کام اس کے کاریگروں سے لیا کریں۔وہ آپ سے کچھ رقم لے کر آپ کے کام کو احسن طریقے سے کردیں گے، اور دنیا میں آپ ان کے رزق کا ذریعہ بھی بنیں گے۔

٭     انجام کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام بغیر معاوضہ طے کیے دوسرے سے نہیں کرواتے تھے۔اگر ہم بھی ایسا کریں تو بہت سارے اختلافات اور رنجشوں سے بچ جائیں گے۔ ایسے کام سے بچیں، جس سے عذر پیش کرنا پڑے ، یا شرمندگی ہو۔ اللہ کے ہاں جواب دہی کا احساس زندہ رکھیں۔اپنے غصے اور رد عمل کو کنٹرو ل میں رکھیں۔ آپ اختلاف کرسکتے ہیں مگرجھگڑنے سے بچیں۔

٭     اپنی ٹیم کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں اوران کے کام کی حوصلہ افزائی کریں۔ای میل، سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور اس قسم کی دیگر چیزوں پر کسی حد تک پابندی لگائیں۔ان کے قیدی مت بنیں۔ غیر ضروری پروگراموں میں شرکت سے گریز کریں۔اپنے آپ سے سوال کریں کہ ’’کیا میں اپنے وقت کا صحیح استعمال کررہا ہوں اور زندگی کے نصب العین، مقاصد اور اقدارسے وابستہ اور قریب ہورہا ہوں؟‘‘

٭     سُستی ، کاہلی اور اکملیت پسندی سے اپنے آپ کو بچائیں۔ٹیلی ویژن اور وڈیوز سے دوستی  کم کرلیں۔جو کام دوسروں کے ذریعے ہوسکتے ہیں، انھیں معاملات طے کرکےکردیں۔ اپنی توجہ ہٹانے والے معاملات کا پیشگی اندازہ کرکے ان کا بندوبست کرلیں۔

با قاعدگی سے تجدید عہد کا طریقہ

ہمیں اس بات کا موقع ملتا ہے کہ ہم روزانہ، ورنہ ہفتے میں ایک بار یہ جائزہ لیں کہ:

٭     کیا ہم زندگی کے طے شدہ نصب العین کے مطابق عمل کر رہے ہیں یا فرار کی راہ اختیا ر کیے ہوئے ہیں؟

٭     جو مقاصد مقر ر کیے ہیں، کیا ہم ان مقاصد کے لیے آگے بڑ ھ رہے ہیں یا ہم محض انھیں ڈائری میں نوٹ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں؟

٭     میر ی ذمہ داریاں کیا ہیں؟میرے لیے کون سے کام بہت اہم ہیں؟میرے فوری کرنے کے کام کون سے ہیں؟کیا میں جو کچھ کررہا ہوں ،وہ صحیح کررہا ہوں؟

٭     کیا میری زندگی میں اعتدال اور توازن ہے؟کیا میرے کام اور گھر کے معاملات میں توازن ہے؟ کیا میں اپنے گھر والوں کے حقوق ادا کررہا ہوں ؟ میرے نزدیک کامیابی کا کیا تصور ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میں دنیا کے حصول کے لیے آخرت کو تباہ کررہا ہوں؟

٭     یہ جائزہ ہمیشہ لیتے رہیں کہ ہم نے جو عہد اپنی ذات سے، اپنے گھر والوں سے، اپنے ادارے سے، اپنی قوم سے اور اپنے رب سے کیا ہے اس عہد کو پور ا کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی زندگی کے عہد کا ہمیشہ جائزہ لیتے رہیں اور اس بات کی کوشش کریں کہ ہم میں ہمیشہ توانائی برقرار رہے اور ہم اپنے نصب العین کے حصول کے لیے کوشش کرتے رہیں اور اسی نصب العین سے وابستہ مقاصد کے حصول کی بھی کوشش کرتے رہیں۔

٭     کیا ہم اس دنیا میں رہتے ہوے اصل منزل، یعنی آخرت کی تیاری کررہے ہیں؟ کیا اولاد کی تربیت کر رہے ہیں کہ وہ آیندہ اس کارخیر کو سنبھال سکیں؟ اپنی علمی، سماجی اور مالی دولت اگلی نسل تک منتقل کرنے کی تیاری کرلی ہے؟ کیا ہم نے اس سلسلے میں تربیت کی ہوئی ہے،کیونکہ ہمیں اپنی کمائی اور ترکہ کا حساب دینا ہے؟ معاشرے میں صدقۂ جاریہ کے کام کی تیاری کی ہے؟

٭     کیا اپنے اثاثہ جات اور واجبات کا اصل ریکاردڈ موجود ہے؟تاکہ بصورت موت خاندان اور وابستہ افراد کی رہنمائی ہو؟ کیا کاروبار کی ملکیت تحریری صورت میں ہے تاکہ بھائیوں ، شرکا اور اولاد کے درمیان جھگڑے نہ ہوں۔

دعائیں

٭    اے اللہ ! میں تجھ سے طلب کرتا ہوں آج کے دن کی خیر (و خوبی)، اور جو آج کے دن میں (پیش آنے والا) ہے اس کی خیر (وخوبی)، اور جو آج کے بعد (پیش آنے والا) ہے اس کی خیر (وخوبی)۔ اور میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں آج کے دن کے شر سے اور جو آج کے دن میں (پیش آنے والا) ہے، اس کے شر سے اور جو آج کے بعد (پیش آنے والا) ہے اس کے شر سے۔

٭     اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ مجھ سے سرزد ہونے والی میری تمام حرکات و سکنات (چلنا پھرنا، اُٹھنا بیٹھنا، آنا جانا) آج کے دن میں میرے حق میں بہتر ہیں، تو ان کو میرے لیے مقدر کردے اور ان کو میرے لیے آسان کردے، اور تو جانتا ہے کہ اگر وہ میرے حق میں شر اور ضرر رساں ہیں تو ان کو مجھ سے دُور رکھ اور مجھے ان سے دُور رکھ۔

٭     اے اللہ! جو کچھ ہم نے مانگا ہے تو اسے قبول فرما، جو کچھ مانگنا چاہتے ہیں اور زبان پر نہیں آرہا تو وہ بھی عطا فرما۔ اے اللہ ہماری وہ حاجتیں پوری فرما جن کو ہم دعاؤں میں بیان نہیں کرسکتے۔جو مانگنا چاہیے اور نہیں مانگ رہے تو وہ بھی عطا فرما، اور جو تو عطا کرنا چاہتا ہے اور ہم نہیں مانگ رہے تو ہمیں وہ بھی عطا فرما۔

٭     اے اللہ تو ہمیں جو کچھ عطا کر وہ اپنی شان کے مطابق عطا کر۔اے اللہ تجھ سے ہر اس خیر کے طلب گار ہیں جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ سے طلب فرمایا اور تیری پناہ میں آتے ہیں ہر اس شر سے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری پناہ چاہی۔

٭     اے اللہ! تو جو بھی خیر ہمیں عطا کرے ہم اس کے محتاج اور فقیر ہیں، آمین!

غیرمسلم ممالک سے اقتصادی اور صنعتی قرضے

سوال : کیا اسلامی حکومت موجودہ دور میں، جب کہ ایک ملک دوسرے ملک سے قطع تعلق کرکے ترقی نہیں کرسکتا، غیر ممالک سے مطلق اقتصادی، فوجی،فنی امداد یا بین الاقوامی بنک سے شرح سود پر قرض لینا بالکل حرام قراردے گی؟ پھر مادّی، صنعتی، زرعی اور سائنسی ترقی وغیرہ کی جو عظیم خلیج مغربی ترقی یافتہ ممالک اور مشرق وسطیٰ بالخصوص مسلم ممالک یا اس ایٹمی دور میں Have اور Have Not کے درمیان حائل ہے، کس طرح پُر ہوسکے گی؟ نیز کیا اندرونِ ملک تمام بنکنگ و انشورنس سسٹم ترک کرنے کا حکم دیا جائے گا؟ سود، پگڑی، منافع اور گڈوِل (Good Will) اور خریدوفروخت میں دلالی و کمیشن کے لیے کون سی اجتہادی راہ نکالی جاسکتی ہے؟

جواب : اسلامی حکومت نے کسی دور میں بھی غیرمسلم ممالک سے قطع تعلق کی پالیسی اختیار نہیں کی اور نہ آج کرے گی۔ لیکن قرض کے معنی قرض مانگتے پھرنے کے نہیں ہیں اور وہ بھی اُن کی شرائط پر۔ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ یہ تعلق، اِس زمانے کے کم ہمت لوگوں نے ہی پیدا کیا ہے۔ اگر کسی ملک میں ایک صحیح اسلامی حکومت قائم ہو تو وہ مادّی ترقی سے پہلے اپنی قوم کی اخلاقی حالت سُدھارنے کی کوشش کرے گی۔

اخلاقی حالت سُدھرنے کےمعنی یہ ہیں کہ قوم کے حکمران اور اس کی انتظامی مشینری کے کارپرداز اور قوم کے افراد ایمان دار ہوں۔اپنے حقوق سے پہلے اپنے فرائض کو ملحوظ رکھنے اور سمجھنے والے ہوں۔ اور سب کے سامنے ایک بلند نصب العین ہو، جس کے لیے جان و مال اور وقت اور محنتیں اور قابلیتیں سب کچھ قربان کرنے کے لیے وہ تیار ہوں۔ نیز یہ کہ حکمرانوں کو قوم پر اور قوم کو حکمرانوں پر پورا اعتماد ہو، اور قوم ایمان داری کے ساتھ یہ سمجھے کہ اس کے سربراہ درحقیقت اس کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں۔

یہ صورتِ حال اگر پیدا ہوجائے تو ایک قوم کو باہر سے سود پر قرض مانگنے کی صورت پیش نہیں آسکتی۔ ملک کے اندر جو ٹیکس لگائے جائیں گے، وہ سو فی صدی وصول ہوں گے اور سو فی صدی ہی وہ قوم کی ترقی پر صرف ہوں گے۔ نہ ان کی وصول یابی میں بے ایمانی ہوگی اور نہ ان کے خرچ میں ہی بے ایمانی ہوگی۔ اس پر بھی اگر قرض کی ضرورت پیش آئے تو قوم خود سرمایے کا ایک بڑا حصہ رضاکارانہ چندے کی صورت میں، اور ایک اچھا خاصا حصہ غیرسودی قرض کی صورت میں، اور ایک حصہ منافعے میں شرکت کے اصول پر فراہم کرنے کو تیار ہوجائے گی۔

میرا اندازہ یہ ہے کہ پاکستان میں اگر اسلامی اصولوں کا تجربہ کیا جائے، تو شاید بہت جلدی پاکستان دوسروں سے قرض لینے کے بجائے دوسروں کو قرض دینے کے لیے تیار ہوجائے گا۔

بالفرض اگر ہمیں بیرونی قوموں سے سود پر قرض لینے کی ناگزیر صورت پیش آہی جائے، یعنی ہمیں اپنی ضرورت کو پورا کرنا بھی لازم ہو اور اس کے لیے ملک میں سرمایہ بھی نہ مل سکے، تو مجبوراً دوسروں سے سود پر قرض لیا جاسکتا ہے۔ لیکن ملک کے اندر سودی لین دین جاری رکھنے کا پھر بھی کوئی جواز نہیں۔ ملک میں سود بند کیاجاسکتا ہے اور پورا مالی نظام (Financial System) سود کے بغیر چلایا جاسکتا ہے۔ میں اپنی کتاب سود میں یہ ثابت کرچکا ہوں کہ بنکنگ کا نظام سود کے بجائے منافع میں شرکت (Profit Sharing) کے اصول پر چلایا جاسکتا ہے۔

اسی طرح انشورنس کے نظام میں ایسی ترمیمات کی جاسکتی ہیں، جن سے انشورنس کے سارے فوائد غیر اسلامی طریقے اختیار کیے بغیر حاصل ہوسکیں۔ دلالی، منافع، پگڑی، کمیشن یا گڈوِل (Good Will) وغیرہ کی علیحدہ علیحدہ شرعی پوزیشن ہے۔ جب اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا تو اس کا جائزہ لے کر یا تو سابق پوزیشن بحال رکھی جائے گی یا پھر ضروری اصلاحات کی جائیں گی۔ یہ کام لامحالہ ماہرینِ شریعت اور ماہرینِ  مالیات کو مل جل کر کرنا ہوگا۔(ترجمان القرآن، نومبر ۱۹۶۱ء)

جو دولت جائز حدود سے تجاوز کرکے حاصل ہوئی ہو، اس کے بارے میں یہ سوال اُٹھانے کا مسلمانوں کو حق پہنچتا ہے کہ مِن این لک ھٰذا (یہ تجھے کہاں سے ملا؟)۔ اس دولت کے بارے میں قانونی تحقیق ہونی چاہیے، پھر اگر ثابت ہوجائے کہ وہ جائز ذرائع سے حاصل نہیں ہوئی ہے، تو اسے ضبط کرنے کا اسلامی حکومت کو پورا حق پہنچتا ہے۔

جائز طریقے پر حاصل ہونے والی دولت پر تصرف کے بارے میں بھی فرد کو بالکل کھلی چھوٹ نہیں دے دی گئی ہے، بلکہ اس پر کچھ قانونی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں، تاکہ کوئی فرد اپنی ملکیت میں کسی ایسے طریقے پر تصرف نہ کرسکے، جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ہو، یا جس میں خود اُس فرد کے دین و اخلاق کا نقصان ہو۔

اسلام میں کوئی شخص اپنی دولت کو فسق و فجور میں صرف نہیں کرسکتا۔ شراب نوشی اور قماربازی اور زنا کا دروازہ بھی اس کے لیے بند ہے۔ اِسراف اور حد سے زیادہ ترفّہ اور تنعُّم پر بھی وہ حدود عائد کرتا ہے۔ اور وہ اسے بھی جائز نہیں رکھتا کہ تم خود عیش کرو اور تمھارا ہمسایہ رات کو بھوکا سوئے۔ اسلام صرف مشروع اور معروف طریقے پر ہی دولت سے متمتع ہونے کا آدمی کو حق دیتا ہے۔ اور اگر ضرورت سے زائد دولت کو مزید دولت کمانے کے لیے کوئی شخص استعمال کرنا چاہے تو وہ کسب ِ مال کے صرف حلال طریقے ہی اختیار کرسکتا ہے۔

پھر اسلام معاشرے کی خدمت کے لیے ہر اُس فرد پر، جس کے پاس نصاب سے زائد مال جمع ہو زکوٰۃ عائد کرتا ہے۔ نیز وہ اموالِ تجارت پر، زمین کی پیداوار پر، مواشی پر، اور بعض دوسرے اموال پر بھی، ایک خاص شرح سے زکوٰۃ مقرر کرتا ہے۔

اس کے بعد جو دولت کسی ایک فرد کے پاس مرتکز ہوگئی ہو، اسلام اس کے مرتے ہی اس دولت کو وراثت میں تقسیم کردیتا ہے، تاکہ یہ ارتکاز ایک دائمی اور مستقل ارتکاز بن کر نہ رہ جائے۔ (’اسلام اور عدل اجتماعی‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۸، عدد۴، جولائی ۱۹۶۲ء، ص ۴۵-۴۶)