مضامین کی فہرست


نومبر ۲۰۲۲

وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی ’بھارتی جنتا پارٹی‘ کے زیر حکومت صوبوں میں گذشتہ کچھ مہینوں سے ایک نئی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ جن مسلمانوں پر ذرا بھی شبہہ ہو کہ وہ حکومت مخالف احتجاج میں شامل ہوتے ہیں، ان کے گھر، دکانیں اور دیگر کاروباری مراکز مسمار کیے جا رہے ہیں۔ اور ان صوبوں کے وزرائے اعلیٰ انتخابی مہمات میں اس حکمت عملی پر بڑے فخر کا اظہار کرتے ہیں۔

اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ ہماری داغدار جمہوریت کا خاتمہ کیونکر ہوا تو میں کہوں گی کہ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک کمزور اور ناقص جمہوری نظام نے ببانگ دہل ایک ظالمانہ ہندو فسطائیت کا رُوپ دھار لیا، جسے عوام کے ووٹ کے ذریعے مکمل حمایت حاصل تھی۔ یوں لگتا ہے کہ اب ہمارے اوپر ہندو سادھوؤں کے بھیس میں غنڈے حکومت کر رہے ہیں اور یہ غنڈے مسلمانوں کو اپنا دشمنِ اوّل سمجھتے ہیں۔

ماضی میں بھی بھارتی مسلمانوں کو اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا ملتی رہی ہے۔ ان کی نسل کشی کی گئی، بازاروں میں سنگسار کیا گیا، ان کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی، انھیں ریاستی حراست میں قتل کیا گیا، ان کو جھوٹے پولیس مقابلوں میں مارا گیا اور بوگس مقدمات میں قید بھی کیا گیا۔ ان کے گھروں پر بلڈوزر چلانا انھی روایات کا تسلسل ہے۔ یہ حربہ حددرجہ ظالمانہ اور بہت ہی زیادہ ’مؤثر‘ پایا گیا ہے۔

اس سارے عمل کے بارے میں جس طرح لکھا اور پڑھا جا رہا ہے، اسے دیکھ کر بلڈوزر کے بارے میں یوں گمان ہوتا ہےکہ جیسے یہ کوئی ’خدائی خدمتگار‘ ہے جو ’گنہ گاروں‘ کو سزا دینے پر مامور کیا گیا ہے۔ ’دشمنوں کے لیے‘ تباہی کا پیغام بننے والے اپنے دیو ہیکل جبڑوں کے ساتھ یہ خوفناک مشین ایک ایسا دیوتا بن کر سامنے آئی ہے، جو دنیا میں ’شیطانی طاقتوں‘ [یعنی مسلمانوں] کو نیست و نابود کر کے رکھ دے گا۔ یہ مشین نئی، ظالم نسل پرست ہندو قوم کے لیے دیوتائوں کی طرف سے بھیجا ہوا کوئی اوتار بن گئی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی چندماہ قبل دورۂ ہندستان میں ایک بلڈوزر کے ساتھ تصویر بنوائی ہے۔ میں یہ نہیں مان سکتی کہ وہ اس بات سے آگاہ نہیں تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور اس حرکت سے کن حرکتوں کی توثیق ہو رہی ہے۔ وگرنہ کسی بھی ریاست کا سربراہ ایک سرکاری دورے پر ایسی عجیب حرکت کیوں کرے گا کہ بے وجہ کسی بلڈوزر پر چڑھ کر کھڑا ہو جائے اور پھر اس پر باقاعدہ تصویر بھی کھنچوائے؟

مودی حکومت کا اصرار ہے کہ یہ کارروائی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں کی جا رہی بلکہ سرکاری مشینری تو صرف غیر قانونی تعمیرات کو گرا رہی ہے، جسے ایک بلدیاتی مہم سمجھنا چاہیے۔ تاہم، یہ جواز اس قدر بھونڈا ہے کہ اس کے گھڑنے والے بھی جانتے ہیں کہ اس پر کوئی یقین نہیں کرے گا، مگر کسی کے یقین کرنے یا نہ کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس کا مقصد ایک طبقے کا مذاق اُڑانا اور اس کی صفوں میں دہشت پھیلانا ہی ہے، ورنہ یہ بات تو حکومت بھی جانتی ہے اور ہربھارتی شہری بھی کہ ہمارے ہر شہر میں زیادہ تر تعمیرات یا تو غیر قانونی ہیں یا نیم قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔

جب صرف بدلہ لینے کے لیے مسلمانوں کے گھر بغیر کسی نوٹس، شنوائی یا حقِ اپیل کے گرائے جاتے ہیں، تو اس سے بہت سارے مقاصد یکبارگی حاصل ہو جاتے ہیں۔

یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج کرتے ہیں لیکن ان کے خلاف کبھی ایسی کارروائی نہیں کی جاتی۔ مثلاً ۱۶جون کو بی جے پی کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی فوج میں بھرتیوں کی نئی پالیسی کے خلاف شمالی ہندستان کے لاکھوں نوجوانوں نے پُرتشدد احتجاج کیا۔ٹرینوں اور گاڑیوں کو آگ لگادی گئی، سڑکیں بند کر دی گئیں اور ایک شہر میں تو بی جے پی کے مقامی دفتر کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ یہ احتجاج کرنے والے زیادہ تر غیر مسلم ہیںاس لیے ان کے گھر محفوظ رہیں گے۔

سابقہ دو انتخابات (۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۹ء) میں بی جےپی نے کامیابی سے یہ باور کروا دیا ہے کہ اسے قومی سطح پر پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ۲۰ کروڑ مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ حقیقی طور پر یہ سارا معاملہ جو ہم دیکھ رہے ہیں، وہ مسلمانوں کو انتخابی عمل سے تقریباً باہر کرنے کے مترادف ہے، جس کے نتائج بڑے بھیانک ہوں گے۔ کیونکہ جب آپ کی انتخابی اہمیت ختم ہو جائے تو آپ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور آپ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی اس وقت مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ بی جے پی کی ایک اعلیٰ عہدے دار کی جانب سے مسلمانوں کی انتہائی مقدس شخصیات کی توہین کے بعد بھی اس پارٹی کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں آیا، نہ کوئی سنجیدہ تنقید کی گئی۔

احتجاج ہوئے تو ان کے نتیجے میں قوم مزید تقسیم ہوئی اور اس کا فائدہ بھی بی جےپی کو ہوا۔ توہین آمیز بیان جاری کرنے والی اس جماعت کی ترجمان کو پارٹی سے ’معطل‘ کر دیا گیا، لیکن ویسے جماعت کے حلقوں میں اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔اس کا سیاسی مستقبل اب مزید تابناک ہے۔

 جنگ میں یہ حکمت عملی اپنائی جاتی ہے کہ ہر وہ چیز خود تباہ کر دی جائے، جو دشمن کے کام آسکتی ہو۔ اسے Scorched Earth Policy (زمین سوز حکمت عملی) کہا جاتا ہے۔ آج ہر چیز اور ہرادارہ، جسے بنانے میں کئی سال لگے تباہ کیا جا رہا ہے۔نوجوانوں کی ایک نئی نسل اپنی تاریخ اور اپنے ملک کی ثقافتی پیچیدگیوں سے بے نیاز ایک پراپیگنڈا کے زیر اثر پروان چڑھ رہی ہے۔ ہندومسلم خلیج کے دونوں طرف موجود نفرت اُگلتے کردار اور یہ مبنی بر ظلم حکومت مل کر ۴۰۰ ٹیلی ویژن چینلوں، لاتعداد اخباروں اور رسالوں کے ذریعے نفرت کی وہ آگ اُگل رہی ہے، جو پورے نظام کو جلا کر راکھ کر دے گی۔

ہندو نسل پرستوں کا ایک انتہائی تشددپسند طبقہ پیدا ہوچکا ہے، جسے واضح طور پر بی جے پی کے لیے قابو میں لانا مشکل ہے، کیونکہ یہی طبقہ اس جماعت کی جڑ بنیاد ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر اب مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ ایک معمول بن چکا ہے۔ ہم ایسی بند گلی میں ہیں، جہاں واپسی کا کوئی راستہ موجود نہیں۔ اس نظام کے خلاف سربستہ ہم جیسے لوگوں اور مسلمانوں کو اب صرف یہ سوچنا ہے کہ ہم اپنی زندگیاں کیسے بچا سکتے ہیں اور مزاحمت کیسے جاری رکھ سکتے ہیں؟

بڑی بدقسمتی سے ان سوالوں کا کوئی آسان جواب موجود نہیں کیونکہ اب بھارت میں ہر قسم کی مزاحمت، جس قدر بھی پرامن ہو، ایک جرم بن چکی ہےاور اس جرم کی سزا دہشت گردی سے بڑھ کر ہے۔

بھارت میں نسل پرست ہندو ایک لمبے عرصے سے نفرت آمیز نظریات کو عالمی سطح تک پھیلانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں راشٹریہ سوامی سویم سنگھ (آر ایس ایس)کی تابع بھارتی جنتا پارٹی کی بیرونِ ہند شاخیں اور دیگر ہم خیال تنظیمیں جیسے وشوا ہندو پریشد اور عالمی ہندو کونسل کافی مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ چنانچہ گذشتہ دنوں انگلینڈ کے شہر لیسٹر میں پیش آنے والے واقعات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ انھیں اب اپنے سیاسی نظریے ’ہندوتوا‘ کے فروغ کا خواب پُرتشدد طریقوں سے پورا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس خواب کی سرزمین اب ہندستان کی گلیاں نہیں، بلکہ دُور دراز ممالک کے شہر بھی ہیں۔

۱۷ ستمبر کو ہندو نوجوانوں نے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگاتے ہوئے لیسٹر کی گلیوں میں جلوس نکالا اور مسلمانوں پر حملے کیے۔ ’جے شری رام‘ کا نعرہ اب نسل پرست ہندوؤں کے لیے ایک رجز بن چکا ہے، جو اقلیتوں پر حملے کے وقت بلند کیا جاتا ہے۔ یہ مذہبی تفاخر اور شاونزم کا وہ طاقت ور اظہار ہے، جو نہ جانے کب سے ہندو قوم پرستوں کا خواب رہا ہے۔

اس کشیدگی کے واقعات اتنے غیر متوقع بھی نہیں تھے۔ مئی میں اسی شہر لیسٹر کے ایک مسلمان بچے کو ہسپتال داخل ہونا پڑا کیونکہ ہندو نوجوانوں کے ایک گروہ نے اس پر بلا اشتعال حملہ کر دیا تھا۔اگست میں ہونے والے ایک کرکٹ میچ میں پاکستان کی ہندستان سے شکست کے بعد ہندو نوجوان ’پاکستان مُردہ باد‘کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور ایک سکھ پر حملہ کردیا۔ دوسرے میچ میں ہندستان کو شکست ہوئی تو بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے۔ ان واقعات کے جواب میں مسلم نوجوانوں نے بھی احتجاج کیا۔ مثلاً ایسے ایک واقعے میں کسی آدمی نے ہندوؤں کے مذہبی مرکز کے باہر نصب جھنڈے کو اُکھاڑ پھینکا تھا۔

تاریخی طور پر برطانیہ میں ہندو نسل پرستوں اور کنزرویٹو پارٹی کے درمیان سیاسی و سماجی اشتراک چلا آرہا ہے۔ ۲۰۱۶ میں لندن کے میئر کے انتخاب کے لیے بھی کنزرویٹو پارٹی کے اُمیدوار زیک گولڈسمتھ (Zac Goldsmith) نے اپنے مخالف لیبر پارٹی کے مسلم امیدوارصادق خان کو ہرانے کے لیے شہر کے ہندوؤں اور سکھوں کو مذہبی منافرت پر مبنی لٹریچر بھیجا تھا۔ پھر ۲۰۱۹ء کے عام انتخابات میں یہ خبریں بھی عام تھیں کہ ہندو نسل پرست تنظیمیں، کنزرویٹو پارٹی اُمیدواروں کے حق میں مہم چلا رہی ہیں کیونکہ لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوبرین (Jeremy Cobryn) نے ۲۰۱۹ء میں کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن پرانڈین مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان میں سے بہت سی تنظیموں کا بی جے پی کےساتھ براہ راست رابطہ ہے۔ چنانچہ ان کے اقدامات بیرون ملک انتخابات پر اثر انداز ہونے کے مترادف سمجھے جا سکتے ہیں۔ تاہم، یہ مسئلہ صرف برطانیہ تک محدود نہیں ہے بلکہ امرواقعہ ہے کہ ہندو انتہاپسندی کا ناسور پوری دنیا پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

  • وائٹ ہاؤس میں ایک سچا دوست: برطانیہ کی طرح امریکا میں بھی ہندو قوم پرستوں کی جانب سے، وہاں گورے نسل پرستوں اور دائیں بازو کے اسلام مخالف امیدواروں کی بھرپور حمایت کی جاتی ہے۔مثلاً ۲۰۱۶ء کے صدارتی انتخابات میں یہ منظر سب نے دیکھا کہ ہندو تنظیمیں ریپبلکن امیدواروں کو جتوانے کے لیے ہندو رائے دہندگان پر اپنا پورا زور لگارہی تھیں۔

اس سے ایک سال پہلے ۲۰۱۵ء میں ایک ہندستانی امریکن لابی تنظیم ’ری پبلکن ہندو اتحاد‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس تنظیم کے روح رواں شکاگو سے تعلق رکھنے والےایک تاجر شلبھ کمار ہیں، جو مسٹرمودی کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اس تنظیم نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بھرپور مدد کی اور تنظیمی ارکان نے اس مہم کے لیے دل کھول کر فنڈ دیئے۔ انتخابات سے قبل اس تنظیم کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’میری صورت میں، وائٹ ہاؤس میں ہندوؤں اور ہندستان کو ایک حقیقی دوست میسر ہوگا‘‘۔ صدارتی اُمیدوار ٹرمپ  نے مودی کی تعریف کرتے ہوئے انھیں ایک ’عظیم انسان‘ قرار دیا اور ہندو رائے دہندگان کو لبھانے اور اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ایک خصوصی ویڈیو پیغام بھی جاری کیا۔

۲۰۲۰ء کے انتخابات میں تو مودی نے باقاعدہ طور پر ٹرمپ کے ایک مہم کار کا فریضہ سرانجام دیا، اور جائیدادوں کی خریدوفروخت کے کاروبار سے سیاست میں قدم رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دو مشترکہ انتخابی ریلیاں بھی نکالیں۔ ایک ریلی احمد آباد ، بھارت میں اور دوسری ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں نکالی گئی۔ دوسری ریلی میں مودی نے ملفوف لفظوں میں ٹرمپ کی حمایت تو کی، لیکن پھر فرطِ جذبات میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ نعرہ بھی لگا دیا کہ ’’اب کی بار، ٹرمپ سرکار‘‘۔

برطانیہ کی طرح امریکا میں بھی اب ہندو قوم پرست انتخابات سے آگے بڑھ کر سڑکوں پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔ رواں سال کے اگست میں ہندستانی یوم آزادی کے حوالے سے امریکی شہر ایڈیسن، نیو جرسی میں ہونے والی پریڈ میں کچھ بلڈوزر بھی شامل تھے، جن پر وزیراعظم نریندر مودی اور اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیاناتھ کی تصاویر چسپاں تھیں۔ یاد رہے کہ ہندستان کے مختلف شہروں میں مقامی حکومتوں کی جانب سے مسلمانوں کے مکانات گرائے جارہے ہیں اور یہ بلڈوزر اس اندوہناک عمل پر خوشی کا اظہار کرنے کے لیے پریڈ میں مظاہرے کی خاطر بلائے گئے تھے۔ تاہم،عوام الناس کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بننے کے بعد اس پریڈ کی منتظم ’بھارتی بزنس ایسوسی ایشن‘ نے اس عمل پر معذرت کر لی۔

  • کھلی دھمکیاں:کینیڈا میں بھی ہندو نسل پرست اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلا رہے ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں ایک سکھ اسکول کے باہر سکھ مخالف نعرے لکھ کر، ساتھ ہی ہندو مذہب کا نشان سواستیکا بنا دیا گیا تھا۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ان ہندو نسل پرستوں کی جانب سے کینیڈین اساتذہ کو ہراساں کیا جاتا ہے اور مودی حکومت پر تنقید کرنے والے اساتذہ کو ہندو شہریوں کی جانب سے قتل اور ریپ کی دھمکیاں تک دی جاتی ہیں۔

جون میں ایک کینیڈین ہندو انتہا پسند رون بینر جی کی جانب سے کھلے عام مسلمانوں اور سکھوں کے قتل عام کا مطالبہ کیا گیا۔ ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بینرجی کا کہنا تھا: ’’مودی جی بڑا زبردست کام کر رہے ہیں۔میں جمہوریہ ہندستان میں مسلمانوں اور سکھوں کے قتل عام کی بھرپور حمایت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ اسی قابل ہیں کہ انھیں مارا جائے‘‘۔

اسی طرح آسٹریلیا میں بھی ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے۔ کئی سکھوں پر پے در پے حملہ کرنے والا ایک ایسا ہی مجرم ویشال سود آخرکار گرفتار بھی کر لیا گیا۔ اسے سزا سنا کر ڈی پورٹ کردیا گیا کیونکہ اس کے ویزا کی میعاد ختم ہوچکی تھی۔ جب یہ آدمی واپس بھارت پہنچا تو ایک قومی ہیرو کی طرح اس کا استقبال کیا گیا۔

آسٹریلیامیں موجود بھارتی حکام کی جانب سے بھی نریندر مودی اور اس کی انتہا پسندانہ پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یونی ورسٹی آف میلبورن کے ’آسٹریلیا-انڈیا انسٹی ٹیوٹ‘ سے تیرہ اساتذہ استعفیٰ دے چکے ہیں، کیونکہ بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے ان کے کام میں مداخلت کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کا منفی رخ دنیا کے سامنے لانے والی ان کی تحقیقات اور تصانیف کو سینسر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

  • وجہ کیا ہـے؟: اس میں کلام نہیں کہ عالمی سطح پر ہندو انتہا پسندی کا عروج ہر حوالے سے بھارت میں مودی کے عروج کے ساتھ منسلک ہے۔ ۲۰۱۴ء میں وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی کی نگرانی میں اب تک ایک انتہائی متنازع شہریت کا قانون پاس ہو چکا ہے، جو صریحاً مسلمان پناہ گزینوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کو آئینی طور پر ملنے والی خودمختاری ختم ہو چکی ہے اور ۱۹۹۲ء میں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے شہید کی جانے والی ایک مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس سب کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کے رہنماؤں، سیاسی کارکنوں اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

مودی نے ہندوتوا کی بنیاد پر ہندستانیوں سے جو وعدے کیے تھے، انھیں پورا کر دکھایا ہے اور یہی چیز بیرون ملک موجود ہندوؤں کے حوصلے بلند کرنے اور ان کے اندر ایک احساس تفاخر کو بیدار کرنے کا باعث بن رہی ہے۔

دوسری جانب اس سلسلے میں دیگر عالمی رہنما بھی برابر قابل تعزیر ہیں، جنھوں نے مودی کو نہ صرف قبول کیا ہے، بلکہ بیرونی ممالک میں موجود ہندو انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ  ان کے متعصب نظریات کے لیے عالمی سطح پر گنجایش موجود ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے لے کر سابقہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن تک، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور برازیلی صدر جئیر بولسونیرو  سمیت کئی سیاست دانوں نے مودی کو اپنا ’دوست‘ قرار دیا ہے۔ یہاں تک کہ بظاہر دائیں بازو کی طرف جھکاؤ نہ رکھنے والے سیاست دان بھی بھارت کے ساتھ تجارتی اور اسٹرے ٹیجک تعلقات قائم کرنے کے لیے مودی سرکار کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

  • ہندوتوا کا مستقبل؟ :اسلاموفوبیا کا معاملہ اب ہندستان کی سیاسی اور خارجہ پالیسیوں کا محور بن چکا ہے۔ تاہم، اب یہ ضروری ہے کہ ان واقعات کو خطرے کی گھنٹی سمجھا جائے۔ ہندو قوم پرستی کو محض ایک بھارتی مسئلہ سمجھتے ہوئے اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تحریک اب عالمی سطح پر پھیل رہی ہے اور دیگر ممالک میں بھی بہ تدریج پُرتشدد رُخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یہ تحریک اب اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ یہ پوری دنیا میں جمہوری اصولوں،مساوات اور انسانی حقوق کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ دہلی میں مودی حکومت کے ہوتے ہوئے ہندستان سے کوئی توقع رکھنا عبث ہے، دنیا کو اب خود ہی اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

اسلامی نظامِ تعلیم ایک ہمہ جہت تعمیری وانقلابی تعلیم کا خواہاں ہے جس کے جلو میں نہ صرف سیاسی ہنگامہ خیزی اور فکری آزاد روی پروان چڑھتی ہے بلکہ جو ہمہ نوع وہمہ جہت مثبت وتعمیری تبدیلیوں کا سبب وذریعہ بنتی ہے۔ اس کے بنیادی خدوخال پیش کرنا خود ایک طویل مقالے کا موضوع ہے۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ اس کے چند اہم نکات پیش کیے جاتے ہیں:

  • لازمی و جبری تعلیم: اسلا م میں تعلیم لازمی ہے۔ تعلیم کی ہمہ جہت اہمیت کے پیش نظر اختیاری تعلیم کا اسلام کے ہاں کوئی تصور نہیں۔ تعلیم ہر ایک کے لیے ہے اور لازمی ہے۔ خواندگی ایسی چیز نہیں ہے جسے عوام کی مرضی پر چھوڑا جا سکے کیونکہ ناخواندہ افراد تو علم رکھتے ہی نہیں، ان سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ سب علم کی اہمیت کا ادراک رکھتے ہوں گے۔ یہ فریضہ تو حکومت کا ہے کہ وہ ان کے سامنے تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کرے اور انھیں حصول علم پر آمادہ کرے۔ خصوصاً کسی اسلامی معاشرے میں ناخواندہ افراد قطعاً قابل قبول نہیں ہو سکتے۔۱  اس لیے آپؐ نے فرمایا کہ ’’علم کا حصول ہر ایک پر فرض ہے‘‘ ۔۲  آپؐ کے عہد مبارک میں ہر نومسلم کے لیے مختلف علوم کا جاننا ضروری تھاجس کے لیے مختلف افراد اور تعلیمی ادارے سرگرم تھے۔۳    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاص طور پر خانہ بدوش بدوؤں کے لیے قرآن مجید کی جبری تعلیم کا نظام قائم کیا تھا اور اس کے لیے گشتی ٹیمیں مقرر کی تھیں۔۴  نیز ایسے گشتی تعلیمی دستے مقرر تھے، جو لوگوں کی تعلیمی صلاحیت کا جائزہ لیتے تھے اور ضرورت کے مطابق ایسے افراد کو اساتذہ کے سپرد کرتے تھے۔۵ 
  • مفت تعلیم: اسلام مفت تعلیم کا قائل ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تعلیم مفت تھی۔ آپؐ نے ہر مسلمان عالم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ دوسروں تک علم پہنچائے۔۶  اس لیے کتمانِ علم پر شدید وعید بیان فرمائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جس سے علم کے متعلق کوئی سوال ہوا اور اس نے چھپایا تو اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت آگ کی لگام پہنائے گا‘‘۔۷   بعد کے دور میں بھی تعلیم مفت رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نومسلموں کی تعلیم وتربیت کے لیے مختلف مکاتب قائم کیے جن کے معلمین کی تنخواہیں بیت المال سے ادا کی جاتی تھیں۔ اس دور میں سرکاری انتظام میں قرآن کریم کے علاوہ حدیث، سیرت وغزوات، فقہ،   ادب عربی، علم الانساب اور کتابت وغیرہ کی تعلیم مفت ہوتی تھی اور قرآن کریم کی تعلیم پانے والے   طلبہ کے لیے وظائف کا بھی انتظام تھا۔۸  حکومتی اہتمام کے علاوہ نجی طور پر اساتذہ بھی تنخواہ لینے سے گریز کرتے تھے اور عام طور پر معاوضے قبول نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے یزید بن ابی مالک اور حارث بن ابی محمد اشعری کو سفری معلّم مقرر کر کے ان کی تنخواہ مقرر کر دی۔ یزید نے تنخواہ قبول کر لی، حارث نے نہ کی۔ حضرت عمرؒ نے فرمایا کہ یزید نے جو کچھ کیا، اس میں کوئی خرابی نہیں، البتہ اللہ تعالیٰ حارث جیسے افراد کثرت سے پیدا کرے۔۹  
  • بچوں کی تعلیم:بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم کا انتظام کرنا درحقیقت خود اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے۔ حضرت عروہ بن زبیرؓ کا قول ہے: ’’تم علم حاصل کرو۔ اگر تم قوم میں سب سے چھوٹے ہو تو کل دوسرے لوگوں میں (علم کی وجہ سے) تم بزرگ بن جاؤ گے‘‘۔۱۰  اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی بڑی تلقین فرمائی ہے۔ نیز بچپن میں حافظہ قوی ہوتا ہے۔ حضرت حسن بصریؒ کا قول ہے: ’’بچپن میں تعلیم حاصل کرنا ایسے ہے جیسے پتھر پر نقش اور بڑھاپے میں تعلیم حاصل کرنا ایسے ہے جیسے نقش بر آب‘‘۔۱۱  آپؐ نے والدین کو بچوں کی تعلیم کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: ’’کوئی والد اپنے بچے کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو اچھی تعلیم دے۔۱۲   مزید فرمایا: ’’آدمی کا اپنے بیٹے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے‘‘۔ ۱۳ 
  • معذوروں کی تعلیم: اسلام کی نظر میں کسی قسم کی کمی یا کمزوری کسی کے فرائض کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ ہاں، کسی پر بھی اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ تعلیم کے معاملے میں بھی اسلام کا یہ اختصاص وامتیاز ہے کہ اس نے جسمانی کمزوریوں کو حسن عمل وجہد مسلسل کی دولت سے چھپا دیا اور معذوروں سے وہ کارہائے نمایاں لیے کہ صحت مند افراد رشک کر اٹھے۔ اس کی سب سے اہم مثال حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی ہے، جنھیں یہ فخر وشرف حاصل ہے کہ آپؐ نے انھیں اپنی غیر موجودگی میں مدینہ منورہ جیسی اسلامی ریاست کے لیے اپنا قائم مقام مقرر کیا اور انھیں یہ شرف دس بار حاصل ہوا۔۱۴   ایک نابینا صحابی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کا فریضہ، تعلیم وتربیت میں اعلیٰ مدارج طے کیے بغیر یہ مرتبہ کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ اسلام میں معذوروں کی قدر ومنزلت کا یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہردور میں اور ہر فن میں بڑے بڑے جلیل القدر نابینا علما گزرے ہیں۔۱۵  آج بھی معذوروں اور عام جسمانی صلاحیتوں سے محروم افراد کی تعلیم کا خاص اہتمام ناگزیر ہے۔
  • خواتین کی تعلیم:خواتین کے لیے ایسا انتظام ضروری ہے کہ جس کے تحت وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تعلیم، خواہ وہ دینی ہو یا دُنیاوی، بسہولت حاصل کر سکیں اور ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ خواتین کی تعلیم کا سلسلہ خالص اسلامی ماحول میں اسلامی تعلیمات کی ادنیٰ مخالفت اور ان سے معمولی رُو گردانی کے بغیر بھی جاری رہے۔ آپؐ نے انھی مقاصد کے پیش نظر خواتین کی تعلیم کے لیے علیحدہ دن اور الگ مقام متعین فرمایا۔۱۶  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اس سلسلے کو مزید وسعت ہوئی اور خواتین کے باقاعدہ الگ مدرسے قائم ہوئے۔۱۷  ان کے دور میں خواتین کی بھی جبری تعلیم رائج ہو گئی تھی۔۱۸ 

اسلام میں مخلوط تعلیم کی ممانعت ہے۔ یہ امر اس کا متقاضی ہے کہ صرف جامعات کی سطح پر نہیں بلکہ پرائمری کے بعد ہر درجے اور مرحلے میں طلبہ کے ادارے الگ اور طالبات کے ادارے الگ ہونے چاہییں جن میں صرف طلبہ وطالبات ہی الگ الگ نہ ہوں، اساتذہ بھی علی الترتیب مرد اور خواتین ہوں۔ یہ مطالبہ کوئی نئی چیز نہیں، پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان نے ایک موقعے پر اس مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ان واہی باتوں کو مسلمان سننا بھی گوارا نہیں کرتے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی مشترکہ تعلیم ہو۔ آج تک مشترکہ تعلیم کا کوئی ایسا فائدہ کسی نے بیان نہیں کیا ہے جو دل نشین ہو… ممکن ہے کہ مسلمانوں میں بعض افراد ایسے ہوں، جو مخلوط تعلیم کے موید ہوں مگر مسلمانوں کی ساری قوم اس کے خلاف ہے‘‘۔ ۱۹ 

  • تعلیمِ بالغاں:تعلیم بالغاں کی اہمیت مسلّم ہے۔ بڑی عمر کے بہت سے افراد محض اس سبب سے حصولِ علوم سے رہ جاتے ہیں کہ بچپن میں کسی مجبوری کے سبب سے وہ تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ اسلام میں تعلیم کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں ایسے صحابہ بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں، جنھوں نے نہ صرف بڑی عمر میں علم حاصل کیا بلکہ مرتبۂ کمال کو پہنچے۔ یہ سلسلہ بعد کے زمانے میں بھی جاری رہا بلکہ قرآن کریم کو بڑی عمر میں حفظ کرنے کا سلسلہ تو آج بھی جاری ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’’تم لوگ سردار بنائے جانے سے قبل علم حاصل کرو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے تو بڑی عمر میں علم حاصل کیا ہے‘‘۔۲۰  اس لیے ہمارے ہاں بھی تعلیم بالغاں کے حلقے قائم ہونے چاہییں جہاں بڑی عمر کے ناخواندہ افراد دینی معلومات اور دنیاوی ضروریات کا علم اپنی ضرورت کے مطابق بہ سہولت حاصل کر سکیں۔
  • غیرمسلموں کی تعلیم:ایک اسلامی ریاست میں اسلامی نظام تعلیم کی موجودگی میں کسی غیر مسلم کو یہ اندیشہ لامحالہ ہو سکتا ہے کہ اس کی تعلیمی ضروریات کا کون کفیل ہوگا؟ لیکن یہ اندیشہ بے جا ہے۔ ایک تعلیمی نظام کیا،اسلامی ریاست کے تو تمام امور ہی اسلامی نظام کے تحت چلتے ہیں مگر خود یہ نظام تمام غیرمسلموں کو ان کے مذہبی وتعلیمی معاملات میں مکمل آزادی دیتا ہے اور اس کی ضمانت خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلے معاہدے میثاق مدینہ میں غیر مسلموں کو دی ہے۔۲۱  اس لیے اسلامی نظام میں ان کے حقوق اور تعلیمی ضرورتوں کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔
  • تخصّصات: عام تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم اور خاص موضوعات پر تخصّصات کی اہمیت بھی مسلّم ہے۔ خود قرآن حکیم نے اس کی اہمیت کی جانب توجہ دلائی ہے۔ مثلاً فرمایا:

فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــۃٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَۃٌ لِّيَتَفَقَّہُوْا فِي الدِّيْنِ (التوبہ ۹: ۱۲۲) سوکیوں نہ نکلے ان کے ہرگروہ میں سے کچھ لوگ تاکہ دین کی سمجھ پیدا کریں۔

اس آیت میں تخصص فی الفقہ کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ ایک اور مقام پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی کے لیے متخصّصین کی تیاری کی تاکید ہے۔فرمایا:

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ  ط  (اٰل عمرٰن ۳:۱۰۴) تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے، نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر تربیت بہت سے صحابہ کرامؓ نے مختلف مضامین میں تخصص وامتیاز حاصل کر لیا تھا، جن میں سے بعض خوش نصیب ایسے تھے، جنھیں اس اختصاص کی سند خود زبانِ نبوت سے ملی۔ مثال کے طور پر حضرت ابیؓ بن کعب کو قراء ت وتجوید میں اختصاص حاصل تھا۔ آپؐ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں۔۲۲   حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قضاۃ میں امتیاز حاصل تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہمارے سب سے بڑے قاضی حضرت علیؓ اور سب سے بڑے قاری ابیؓ ہیں۔۲۳  اسی طرح  علوم قرآنی میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ امتیاز کے حامل تھے۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ صحابہ میں سب سے زیادہ علمِ قرآن رکھتے تھے۔۲۴  اور علم تفسیر و فقہ میں ابن مسعودؓ کو شہرت ملی۔ خود آپؐ نے یہ فرما کر انھیں سند عطا کی کہ تم تعلیم یافتہ لڑکے ہو۔۲۵  علم الفرائض میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ممتاز ہوئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مبارک ہے کہ ’’میری امت میں علم فرائض سب سے زیادہ زید بن ثابت جانتا ہے‘‘۔۲۶  اور حلال وحرام کے علم میں معاذ بن جبلؓ درجۂ امتیاز کے حامل تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں حلال وحرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا شخص معاذ بن جبلؓ ہے۔۲۷ 

عصر حاضر میں بھی ہمیں ان خصوصیات کو زندہ رکھتے ہوئے آج کی ضرورت کے مطابق مختلف علوم وفنون کے ماہر تیار کرنا ہوں گے۔

حوالہ جات

۱۔ سید عزیز الرحمٰن، استحکام پاکستان، سیرت طیبہ کی روشنی میں، کراچی، ۱۹۹۷ء، ص ۲۴

۲- طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم : ابن ماجہ ، السنن ، ج ۱، ص ۹۷، رقم ۲۲۴

۳-    مولانا قاضی اطہر مبارک پوری، خیر القرون کی درس گاہیں، ادارہ اسلامیات، لاہور۔l محمد یاسین شیخ، عہد نبویؐ کا تعلیمی نظام، کراچی lمولانا محمد عبد المعبود، عہد نبویؐ میں نظام تعلیم، لاہور lپروفیسر سید محمد سلیم، اسلام کا نظام تعلیم، لاہور

۴-    شبلی نعمانی، الفاروق، ج ۲، ص ۴۴۲

۵-    پروفیسر سید محمد سلیم، اسلام کا نظام تعلیم، ص ۸۶

۶-    احمد، ابو عبد اللہ محمد بن حنبل الشیبانی، ج ۲، ص ۳۴۱، رقم ۶۵۰۔ ترمذی، ج ۴، ص ۳۰۵، رقم ۲۶۷۸

۷-    احمد، ج ۲، ص ۵۱۷، رقم ۷۵۱۷                 ۸- الفاروق ، ص ۴۴۲، ۴۵۰

۹-    مجلہ تعلیم، مرتبہ: مسلم سجاد، سلیم منصور خالد۔ شمارہ ۷،اسلام آباد lپاکستان میں تعلیم اور نجی شعبہ، مرتبہ:مسلم سجاد، سلیم منصورخالد،مضمون: پروفیسر سید محمد سلیم، تعلیم فی سبیل اللہ کا احیا، ص ۸۸

۱۰-  ابن قتیبہ ، عیون الاخبار، بیروت، ج ۲، ص ۱۲۳      ۱۱-  ایضاً، ص ۱۶۴

۱۲-  بیہقی، شعب الایمان، ج ۲، ص ۲۵۶۔ ترمذی، ج ۳، ص ۳۸۳، رقم ۱۹۵۹

۱۳- ترمذی، ایضاً، رقم ۱۹۵۸

۱۴- یہ واقعات ذیل کے غزوات واسفار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ سے غیر موجودگی میں پیش آئے: ملاحظہ کیجیے ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، بیروت، ۱۹۹۷ء، ج ۲ (۱) غزوۂ قرقرۃ الکدر، ص ۲۳ (۲)غزوۂ بنی سلیم، ص ۲۷ (۳) غزوۂ اُحد، ص ۲۹ (۴) غزوۂ بنی نضیر، ص ۲۴ (۵) غزوۂ احزاب، ص۵۱ (۶) غزوۂ بنی قریظہ، ص ۵۷ (۷) غزوۂ بنی لحیان، ص ۶۰ (۸)غزوۂ الغابہ، ص ۶۲ (۹) صلح حدیبیہ، ص۷۳ (۱۰) فتح مکہ، ص ۱۰۲۔ اس کے علاوہ آپؐ نے ابن ام مکتومؓ کو غزوۂ بدر میں صرف نمازوں کی امامت کے لیے اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا: دیکھیے طبقات، ج۲،ص ۸

۱۵- دیکھیے مولانا حبیب الرحمن خان شروانی، نابینا علما، کراچی

۱۶- بخاری، کتاب العلم وکتاب الاعتصام بالسنۃ، باب تعلیم النبیؐ امۃ من الرجال والنساء

۱۷- اسلام کا نظام تعلیم، ص ۹۰    

۱۸-ایضاً

۱۹۔ سید مصطفیٰ علی بریلوی، شہید ملت لیاقت علی خان، آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس، کراچی، ۲۰۰۱ء، ص ۶۳

۲۰- بخاری، کتاب العلم

۲۱- ڈاکٹر محمد حمید اللہ، الوثائق السیاسیۃ، بیروت، ۸۵ء، ص ۵۹

۲۲- شمس الدین ابی عبد اللہ محمد بن احمد، معرفۃ القراء الکبار، ج ۱، ص ۲۹

۲۳۔ ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، بیروت، ج ۷، ص ۳۳۷

۲۴- الصابونی، محمد علی، التبیان فی علوم القرآن، بیروت، ۱۹۸۵ء، ج ۷، ص ۶۸

۲۵- احمد، ج ۱، ص ۶۲۶، رقم ۳۵۵۸    

۲۶- کنز العمال، رقم ۳۳۳۰۴

۲۷- ڈاکٹر، احمد امین، فجر الاسلام، مصر، ج ۲، ص ۱۷۱

ایک گلوب لے کر گھمائیں اور آنکھیں بند کر کے اس پر کہیں بھی انگلی رکھ دیں۔ اس بات کا بھرپور امکان موجود ہے کہ جس جگہ آپ کی انگلی رُکے، وہیں یا اس کے آس پاس کوئی نہ کوئی ارب پتی رہایش پذیر ہو یا اپنے پُرآسایش بجرے پر سیر کر رہا ہو۔

ساری دنیا میں ارب پتی لوگ پائے جاتے ہیں۔اس سال ’Forbes  ‘میگزین کی جانب سے شائع ہونے والی ارب پتیوں کی سالانہ فہرست میں ۲ہزار۶سو ۶۸ لوگ شامل ہیں۔ اس کے بعد حال ہی میں ’کریڈٹ سوئیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ (Credit Suisse Research Institute) نے انتہائی مالدار لوگوں سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے، جس کا دائرہ کار نسبتاً وسیع تر ہے۔ اس تجزیے کے مطابق دنیا کے تقریباً ہر ملک میں ارب پتی لوگ موجود ہیں۔

تاہم، اس رپورٹ کے مطابق دنیا کے کچھ ممالک میں ایسے لوگوں کی تعداد باقی ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔اس سے بھی ایک قدم آگے، امریکا ایک ایسا ملک ہے جس کا کسی اور سے موازنہ ہی نہیں ہو سکتا۔ دنیا کے ۳۹ء۲ فی صد لکھ پتی امریکا میں رہتے ہیں۔ اس کے بعد ۹ء۹ فی صد کے ساتھ چین کا نمبر ہے، جب کہ جاپان تیسرے نمبر پر ہے، جہاں دنیا کے ۵ء۴فی صد امیر ترین لوگ رہتے ہیں۔

امرا کی دنیا میں مزید اوپر جائیں تو یہ تضاد اور گہرا ہو جاتا ہے۔ کم از کم ۱۰۰ ملین ڈالر کی دولت رکھنے والے دنیا کے تقریباً ۵۳ فی صد کروڑپتی امریکا سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے امیرترین لوگوں کی اکثریت امریکا سے تعلق رکھتی ہے، لیکن بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟

واشنگٹن ڈی سی میں واقع ’اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ‘ کی سالانہ رپورٹ اس ضمن میں کچھ مزید اعدادوشمار ہمارے سامنے لاتی ہے۔ ان نئے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکیوں کی امارت کے پیچھے ایک اہم وجہ بڑی کمپنیوں میں بڑے عہدوں پر موجود لوگوں کو ملنے والی تنخواہیں ہیں۔ امریکا میں افسران بالا کی تنخواہوں سے متعلق اعداد و شمار کے حوالے سے اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کو ایک معتبر ادارہ سمجھا جاتا ہے اور اسی ادارے کے محققین کی گذشتہ دنوں جاری کردہ رپورٹ کاخلاصہ یہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں کام کرنے والی امریکا کی ۳۵۰ بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو اس سال اوسطاً ۲۷ء۸ ملین ڈالر فی کس تنخواہ دی گئی۔ یہ گذشتہ سال کی نسبتاً ۱۱ء۱ فی صد اور ایک عام امریکی کی تنخواہ سے ۳۹۹ گنا زیادہ ہے۔

ایک نظر ماضی پر بھی ڈالیے۔ ۱۹۶۵ء میں بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی تنخواہ عام امریکی شہری کے مقابلے میں صرف ۲۰گنا زیادہ تھی۔ ایک ربع صدی بعد ۱۹۸۹ء میں بھی یہ فرق ۵۹گنا تھا لیکن اس کے بعد سے اب تک یہ فرق دو اعداد سے بڑھتا ہوا سات اعداد تک آ گیا ہے۔

مہنگائی کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو مجموعی طور پر امریکی سی ای اوز کی تنخواہ میں ۱۹۷۸ء کے بعد اب تک ۱۴۶۰  فی صد اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک عام امریکی محنت کش کی تنخواہ کتنی بڑھی ہو گی؟ صرف ۱۸فی صد۔

’اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ‘ کےتجزیہ کاروں جوش بیونز (Josh Bivens) اور جوری کاندرا (Jori Kandra) کے مطابق ’’کارپوریٹ اداروں میں سربراہان کی بڑھتی تنخواہوں سے بالائی ایک فی صد اور ۰ء۱ فی صد طبقے کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، اور اس کے مقابلے میں نچلے درجے کےمحنت کشوں کے لیے معاشی ترقی کے ثمرات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ یوں ۱۰ فی صد امیر اور ۹۰ فی صد غریب طبقے کے درمیان خلیج مزید گہری ہو جاتی ہے‘‘۔

تنخواہوں میں یہ غیر متوقع اضافہ صرف کمپنیوں کے سربراہان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اُونچے درجے پر موجود دیگر افسران بھی اس بہتی گنگا میں اچھی طرح ہاتھ دھو رہے ہیں۔ مثلاً پچھلے سال ’ایمازون‘ نے اپنی دولت چیف ایگزیکٹو سے لے کر نچلے درجے کے افسران تک بڑے کھلے دل سے بانٹی۔ کمپنی کے سی ای او اینڈریو جیسی (Andrew Jassy)کو ۲۱۲ء۷ ملین ڈالر ملے۔ لیکن ’ایمازون‘ کے انٹرنیٹ سروسز کے چیف ایڈم سیلپسی ( Adam Selipsy) کو بھی مایوس نہیں کیا گیا، اس کی ایک سال کی تنخواہ۸۱ء۴ ملین ڈالر تھی۔ اسی کمپنی کے عالمی کنزیومر چیف ڈیوڈ کلارک کا بھی یہ سال بڑا خوش حال گزرا، کیونکہ اس کی تنخواہ ۵۶ ملین ڈالر رہی۔ دوسری طرف ایمازون کے گودام میں کام کرنے والے ایک عام ملازم کی اوسط تنخواہ پچھلے سال۳۱ہزار ۷سو ۵  ڈالر تھی۔

امریکا میں تنخواہوں کا یہ فرق مستقبل قریب میں ختم ہونا تو کجا، کم ہوتا بھی نظر نہیں آتا۔لیکن یہ بات اتنی حیران کن نہیں ہونی چاہیے۔ یہی کاروباری اعلیٰ منتظمین ایک دوسرے کی کمپنیوںمیں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ معاشی حالات جیسے بھی ہوں وہ اپنی تنخواہیں کم کرنا نہیں چاہتے، بلکہ ان کا تو اصرار ہے کہ کمپنیوں میں اچھی قیادت کو برقرار رکھنے کے لیے تنخواہیں مزید بڑھائی جائیں۔

اگلا سوال یہ ہے کہ امریکا کے امیر ترین لوگوں کی دولت میں انھیں ملنے والی اس کارپوریٹ تنخواہ کا کتنا حصہ ہے؟ اس سوال کا سادہ سا جواب ہے:’کافی زیادہ‘۔سال ۱۹۷۸ء اور ۲۰۲۰ء کے درمیان امریکا کے ۰ء۱ فی صد امیر ترین افراد کی آمدنی میں ۳۸۵ فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ اسی دورانیے میں اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ’’سی ای اوز کی تنخواہیں اس سے چار گنا زیادہ تیزی سے بڑھی ہیں‘‘۔

اس ساری بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امریکا میں دولت کی تقسیم یونہی مضحکہ خیز حد تک اشرافیہ کے حق میں رہے گی جب تک کہ کارپوریٹ اداروں کے سربراہان کو ملنے والی مراعات کو لگام نہیں ڈالی جائے گی۔اس بے لگام گھوڑے کو لگام ڈالنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں:

سب سے پہلے ٹیکس اور محصولات کو دیکھتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اگلے دو عشروں تک دو لاکھ ڈالر کی انفرادی آمدن پر وفاق کی طرف سے ٹیکس کی شرح تقریباً ۹۰ فی صد تک سالانہ تھی۔ ٹیکس کا یہ بوجھ اعلیٰ افسران کی تنخواہیں مناسب حد تک رکھنے میں مددگار ہوتا تھا، یعنی بڑی بڑی تنخواہیں لے کر بھی کیا فائدہ؟ جب آپ جانتے ہیں کہ اس میں سے زیادہ تر حصہ ’انکل سام‘ کی جیب میں ہی جانے والا ہے۔

افسران بالا اور عام ملازمین کی تنخواہوں میں فرق کو گھٹانے کے لیے ایک اور طریقہ بھی پچھلے ایک عشرے سے کافی مقبول رہا ہے۔ سان فرانسسکو اور ریاست اوریگان کے شہر پورٹ لینڈ میں اب ہر اس اعلیٰ افسر کی تنخواہ پر ٹیکس زیادہ لگتا ہے جو عام ملازم کی تنخواہ سے ۱۰۰گنا زیادہ ہو۔

 انٹرنیٹ سائیٹ Inequality.org  کے مطابق قومی سطح پر بھی کچھ ترقی پسند قانون ساز سرکاری ٹھیکوں اور مراعات کو افسران اعلیٰ اور عام ملازم کی تنخواہ کے درمیان فرق سے مشروط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مطمح نظر یہ ہے کہ کسی بھی ایسی کمپنی کو سرکاری ٹھیکہ نہ دیا جائے، جس میں کام کرنے والے اعلیٰ افسر اور ایک عام ملازم کی تنخواہ میں فرق بہت زیادہ ہو۔

تاحال امریکی کمپنیاں تنخواہوں کے معاملے میں تفریق کو ختم کرنے میں ناکام ہیں اور ان کی یہ ناکامی ’کریڈٹ سوئس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار میں واضح جھلک رہی ہے۔ یہ رپورٹ مختلف ممالک میں اوسط اور درمیانی آمدن کا موازنہ پیش کرتی ہے۔ مثال کے طور پر پچھلے سال امریکا میں ایک بالغ آدمی کی اوسط آمدن ۵لاکھ ۷۹ ہزار ڈالر تھی، جو فرانس کی  ۳لاکھ۲۲ہزار ڈالر کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہے۔ لیکن دوسری طرف فرانس میں درمیانے درجے کے ایک عام آدمی کی تنخواہ ایک لاکھ ۴۰ ہزار ڈالر ہے ،جو ایک عام امریکی کی تنخواہ سے تقریباً ۵۰ ہزار ڈالر زیادہ ہے۔

اسی طرح ڈنمارک، کینیڈا اور ہالینڈ کے باشندوں کی اوسط تنخواہ، امریکی شہریوں کی اوسط تنخواہ کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن اس کے باوجود ڈنمارک، کینیڈا اور ہالینڈ میں ایک عام شہری کی تنخواہ امریکا کے عام شہریوں کی نسبت ۵۳گنا زیادہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ چند ہاتھوں میں مرتکز دولت، اعدادوشمار کو تھوڑا گھما دیتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ معاشی ناہمواری کے شکار ممالک میں اوسط آمدن بہت زیادہ نظر آئے، لیکن انھی ممالک میں ایک عام آدمی کی آمدن اس اوسط کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتی۔

حاصل بحث؟ بڑی بڑی امریکی کمپنیاں دنیا میں معاشی ناہمواری پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہیں اور ہمیں اس صورتِ حال کو بدلنے کے لیے سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے۔

(Inequality ، ۷؍اگست ۲۰۲۲ء، ترجمہ: اطہررسول زیدی)

جون ۲۰۲۲ء افریقا کے مسلمانوں کا سپین ،پرتگال اور جنوبی فرانس پر تقریباً سات سو سالہ دورِ حکمرانی کے اختتام کی یاد دلاتا ہے۔ آج سے تقریباً چار سو سال پہلے سپین کے بادشاہ فلپ نے حکم جاری کیا جو نسلی صفائی کی ابتدائی مثالوں میں سے ایک ہے۔ سپین پر حکمرانی کے دورِ عروج میں فلپ سوم [م: ۳۱مارچ ۱۶۲۱ء] نے تقریباً تین لاکھ بربر مسلمانوں کو سپین سے نکال باہر کرنے کا حکم جاری کیا، جس سے سپین کی تاریخ کے انتہائی ظالمانہ اور المناک دور کا آغاز ہوا۔

روایتی تصور کے برعکس یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یہ قدیم افریقی ہی تھی، جنھوں نے سپین اور یورپ کے بڑے حصے کو تہذیب سے آشنا کیا۔

یورپ کی تہذیب کی بنیاد یونان کے جزیرے ’کریٹ‘ (Crete ) میں ۱۷۰۰قبل مسیح میں رکھی گئی اور یونانیوں کو بنیادی طور پر وادیٔ نیل کے سیاہ فام افریقیوں نے تہذیب یافتہ بنایا۔ پھر یونانیوں نے اس تہذیب کو رومیوں تک منتقل کیا، لیکن بالآخر انھوں نے اسے کھو دیا ۔ اس طرح مغرب کے تاریک دور(Dark Ages)کا آغاز ہوا، جو پانچ صدیوں پر محیط رہا۔ یورپ ایک بار پھر تہذیب سے اس وقت آشنا ہوا، جب سیاہ فام افریقی بربروں نے ’تاریک دور‘کا خاتمہ کیا۔

مغرب میں جب تاریخ پڑھائی جاتی ہے تو تاریخ کا وہ دور جو’ وسطی عہد‘ (Middle Ages) کہلاتا ہے، اسے عموماً ’تاریک دور ‘سے تعبیر کیا جاتا ہے ، اور اس سے مراد وہ عہد لیا جاتا ہے جب عمومی تہذیب بہ شمول آرٹس اور سائنس نے بنیادی ترقی کی۔ بلاشبہہ یورپیوں کے لیے تو یہ سچ ہے، لیکن افریقیوں کے لیے یہ بات درست نہیں۔

معروف مورٔخ شیخ انتادیوب [۱۹۲۳ء-۱۹۸۶ء]واضح کرتے ہیں کہ وسطی عہد کے دوران دنیا کی عظیم سلطنتیں افریقیوں کی تھیںاور دنیا کے غالب اور ثقافتی مراکز افریقی تھے۔ اس کے علاوہ اس زمانے میں یہ یورپین ہی تھے جو قانون شکن اور وحشی وسفاک تھے۔

سلطنت روم کے زوال کے بعد گاؤرس کے سفید فام جنگجوقبائل کو مغربی یورپ کی طرف ایک جنگجو ایشیائی قوم ’ہنز‘ (Huns)کے ذریعے دھکیل دیا گیا۔ ۷۱۱ء عیسوی میں،سپین کے ساحلوں پر  بربر حملہ آور ہوئے اور افریقا کے مسلمانوں نے کاکس کے وحشی سفیدفام قبائل کو واقعتاً تہذیب سکھائی۔ اس طرح بربر قبائل نے سپین ،پرتگال ، شمالی افریقا اور جنوبی فرانس پر تقریباً سات سو سال حکمرانی کی۔ اگرچہ سپین کے حکمرانوں نے اس عہد کو تاریخ کے صفحات سے مٹانے کے لیے بہت کوشش کی، تا ہم قدامت شناسی [Archaeology]کی جدید ترین تحقیقات اور محققین نے اس حقیقت کو اُجاگر کیا ہے کہ کس طرح بربروں نے ریاضی، فلکیات ، آرٹ اور فلسفہ کو ترقی دی اور یورپ کے لوگوں کو ’تاریک دور‘سے نکالنے اور نشاتِ ثانیہ کے لیے مدد کی۔

معروف برطانوی مؤرخ باسل ڈیوڈسن [۱۹۱۴ء-۲۰۱۰ء] نے بیان کیا ہے کہ ’’آٹھویں صدی میں کوئی خطہ جس کی تعریف اس کی ہمسائیہ قومیں کرتی تھیں ، یا جو رہنے کے لیے زیادہ آرام دہ تھا، وہ شان دار افریقی تہذیب تھی جس نے سپین میں فروغ پایا۔‘‘یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بربر سیاہ فام افریقی تھے اور سو لھویں صدی کے انگریز ڈرامانویس شیکسپیئر [م: ۱۶۱۶ء]نے ’بربر‘کا لفظ سیاہ فام افریقی کے لیے بطور علامت استعمال کیا تھا۔

مسلم سپین میں تعلیم عام تھی ، جب کہ مسیحی یورپ میں ۹۹ فی صد آبادی ان پڑھ تھی، حتیٰ کہ بادشاہ تک لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے ۔ بربروں نے ماقبل عہد جدید میں نمایاں طور پر بلند شرح خواندگی کو فروغ دیا۔ جس زمانے میں یورپ میں صرف دو یونی ورسٹیاں تھیں ، اس وقت بربروں کے ہاں سترہ یونی ورسٹیاں تھیں۔ اوکسفرڈ یونی ورسٹی کے بانیوں کو یونی ورسٹی کی تعمیر کے لیے تحریک سپین میں یونی ورسٹیوں کے دورے کے بعد ملی۔ اقوام متحدہ کی ’تعلیمی مقتدرہ‘ کے مطابق آج بھی دنیا کی قدیم ترین فعال یونی ورسٹی، مراکش کی قرہ وین یونی ورسٹی ہے۔ ۸۵۹ء میں، بربر سلطنت کے عروج کے زمانے میں اس یونی ورسٹی کی بنیاد ایک سیاہ فام خاتون فاطمہ الفہیری نے رکھی تھی۔

ریاضی کے میدان میں صفر کا ہندسہ جو کہ عربی ہندسہ ہے، اعداوشمار کا جدید نظام (ڈیسی مل نظام) جس سے یورپ متعارف ہوا، یہ مسلمانوں کے ذریعے ممکن ہوا، اور اس کے ذریعے مسائل کو تیزی سے اور درست طور پر حل کرنا ممکن ہوا اور اس طرح سے سائنسی انقلاب کے لیے بنیاد فراہم ہوئی۔

بربروں کا سائنسی علوم کے لیے تجسس، ذوق پر واز اور کئی علوم پر دسترس رکھنے والے شخص پر منتج ہوا۔ ابن فرناس نے دنیا میں پہلی مرتبہ ۸۷۵ء میں سائنسی انداز میں اُڑان بھرنے کی کوشش کی۔ تاریخی دستاویزات (archives ) بتاتی ہیں کہ اس کی کوشش کامیاب رہی، تاہم اسے زمین پر اترنے میں پوری طرح کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ افریقی مسلمانوں نے آسمان پر پرواز، لیوناڈو ڈاُونچی [م: ۱۵۱۹ء] جس نے لٹکنے والا گلائیڈر بنایا تھا، اس سے چھ صدیاں قبل کر لی تھی۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ بربروں نے اہل یورپ کو ’تاریک دور‘ سے نکلنے کے لیے مدد دی اور ان کی نشات ثانیہ کے لیے راہ ہموار کی۔ درحقیقت بہت سی وہ خصوصیات جنھیں مغرب فخر سے اپنا طرۂ امتیاز سمجھتا اور قرار دیتا ہے، ان کی بنیاد مسلم سپین میں رکھی گئی۔ مثال کے طور پر آزاد تجارت، سفارت کاری، کھلی سرحدیں، تہذیب واخلاق، تحقیق کے طریقے اور علم کیمیا میں ترقی کے نمایاں اقدامات اور جہاز سازی کی صنعت میں پیش رفت اس کی نمایاں مثال ہیں۔

جس زمانے میں بربروںنے ۶۰۰ عوامی غسل خانے تعمیر کیے اور ان کے حکمران شان دار محلوں میں رہتے تھے، جرمنی ،فرانس اور برطانیہ کے شہنشاہ اور مذہبی پیشوا، عوام کو اس بات پر قائل کر رہے تھے کہ ’’صفائی ایک گناہ ہے‘‘، اور یورپی باد شاہ مویشیوں کے بڑے بڑے باڑوں میں رہتے تھے جن میں نہ کھڑکیاں تھیں اور نہ چمنیاں ، اور دھواں نکالنے کے لیے چھتوں میں ایک سوراخ ہوتا تھا۔

دسویں صدی عیسوی میں قرطبہ نہ صرف بربروں کے سپین کا دارالخلافہ تھا بلکہ یورپ میں بہت اہم اور ایک جدید شہر بھی تھا۔ قرطبہ کی آبادی ۵ لاکھ تھی، اس کی گلیوں میں روشنی کا انتظام تھا، ۵۰ ہسپتال تھے جن میں تازہ پانی کی فراہمی کا نظام موجود تھا، ۵۰۰ مسجدیں اور ۷۰ کتب خانے تھے، جن میں سے صرف ایک کتب خانہ میں ۵ لاکھ سے زائد کتب تھیں۔

یہ تمام کامیابیاں اس زمانے میں وقوع پذیر ہوئیں، جب لندن کی ۲۰ ہزار پر مشتمل آبادی بڑے پیمانے پر اَن پڑھ تھی اور رومن نے چھ سو سال قبل جو فنی ترقی کی تھی اس کو فراموش کر چکی تھی۔ گلیوں کو روشن رکھنے کے لیے لیمپ اور پختہ گلیاں لندن یا پیرس میں سیکڑوں سال بعد تک نہیں پائی جاتی تھیں۔ کیتھولک چرچ نے پیسہ لینے دینے پر پابندی عائد کر رکھی تھی، جس نے معاشی ترقی میں رکاوٹ کھڑی کر دی تھی۔ قرون وسطیٰ کے مسلم سپین نے نہ صرف قدیم مصری ،یونانی اور رومی تہذیبوں میں علمی وفکری ترقی کو فروغ دیا، بلکہ اس نے تہذیب وتمدن کو بھی فروغ دیا اور اس نے فلکیات، دواسازی کے علم، فن تعمیر، قانون سازی اور جہاز رانی کے میدانوں میں اہم کردار ادا کیا۔ کچھ مغربی محققین کی طرف سے پھیلایا گیا صدیوں پرانا یہ تاثر خلافِ حقیقت ہے کہ افریقا نے تہذیب کے فروغ میں کم یا کوئی کردار ادا نہیں کیااور اس کے باشندے دقیانوسی تھے اور جو غلامی اور نو آبادیاتی کی بنیاد بنے اور افریقا کی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوئے۔ افریقا کے لوگوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اَزسرِ نو اپنی تاریخ مرتب کریں۔ تا ہم، افریقا کے شان دار مستقبل کی راہ میں اگر کوئی بڑی رکاوٹ ہے، تو وہ خود اس کے لوگوں کی اپنے شان دار ماضی سے لاعلمی اور عصرحاضر میں سُستی وبے عملی ہے۔ (کاؤنٹرپنچ، ۱۰ جون ۲۰۲۲ء)

حضورؐ کی بعثت سے قبل اسلام کا وجود

سوال : کیاحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل بھی اسلام موجود تھا؟ جس قرآنی آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ’مسلم‘ ہونے کی خبر دی گئی ہے، اس میں اسلام سے مرادکیا یہی دین اسلام ہے، جسے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے؟

جواب :اسلام کا مفہوم ہے اپنی ذات اور اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے آگے جھکانا اور اس کا مکمل مطیع و فرماں بردار بن جانا، یعنی اللہ کی توحید کا اقرار کرنا، اس کی عبادت کرنا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا۔ یہی ہے وہ طریقۂ زندگی،جسے لے کر تمام انبیا و رُسل علیہم السلام آئے۔ تمام نبیوںؑ اور رسولوںؑ نے اسی طریقۂ زندگی کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ اس لیے یہی بات حقیقت ہے کہ تمام انبیاؑ ورُسل کا مذہب، دینِ اسلام ہی تھا، کیوں کہ درحقیقت جو دین، اللہ کے نزدیک اَزل سے محبوب اور مطلوب ہے، وہ دین اسلام ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ عظیم میں فرماتا ہے:

اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ۝۰ۣ   (اٰل عمٰرن۳:۱۹) اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔

دوسری آیت میں ہے:

وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْہُ ۝۰ۚ (اٰل عمٰرن۳:۸۵) اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ تمام انبیا و رُسل علیہم السلام نے اسی دین اسلام کی طرف دعوت دی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کیا اور فرمایا:

وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۝۷۲(یونس ۱۰:۷۲) اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خود مسلم بن کر رہوں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا:

اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ ۝۰ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۳۱ (البقرہ ۲:۱۳۱) اس کا یہ حال تھا کہ جب اس کے ربّ نے کہا: مسلم ہوجا، تو اس نے فوراً کہا: میں مالکِ کائنات کا مسلم ہوگیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکۂ سبا بلقیس کے پاس بھی اسی اسلام کا پیغام بھیجا تھا:

اَ لَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَاْتُوْنِيْ مُسْلِـمِيْنَ۝۳۱ۧ (النمل۲۷:۳۱) میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہوکر میرے پاس حاضر ہوجائو۔

آنحضور محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی دینِ اسلام کی دعوت دی۔ اسی طریقۂ زندگی کی طرف لوگوں کو بلایا۔ یہ الگ بات ہے کہ خاتم الانبیاؐ ہونے کی حیثیت سے ان کا لایا ہوا دین، ایک مکمل دین ہے۔ حضورؐ کوئی نیادین لے کر نہیں آئے تھے ۔ انھوں نے بھی اسی دین کی دعوت دی، جس کی دعوت تمام انبیاؑ و رُسل نے دی تھی۔ البتہ خاتم الانبیاؐ ہونے کی حیثیت سے ان کے فرائض میں یہ بھی شامل تھا کہ پچھلی شریعتوں میں جو بھی کمی رہ گئی تھی، اسے دُور کرکے دین کو مکمل کریں۔ لوگوں نے جو تحریفات کردی تھیں، ان کی تصحیح کریں اور ایک مخصوص انسانی طبقے کے بجائے تمام عالم کو اس دین کی دعوت دیں۔

یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ پچھلی شریعتوں اور شریعت ِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین بعض فروعی مسائل میں واضح فرق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی شریعتیں اپنے وقت اور حالات و ضروریات کے مطابق تھیں، جب کہ شریعت محمدیہ، رہتی دُنیا تک کے حالات و ضروریات کے عین مطابق ہے۔


نئے گھر میں رہایش سے قبل قربانی

سوال : بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ’’نئے گھر میں رہایش کے موقعے پر ایک قربانی کرنی چاہیے ورنہ جِنّ اس گھر پر قابض ہوجاتے ہیں اور گھر والوں کو تنگ کرتے ہیں‘‘۔ کیا یہ عقیدہ صحیح ہے؟

جواب : درحقیقت جنوں کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ افراط و تفریط کا شکار ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو جنوں کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں۔ وہ صرف انھی چیزوں پر یقین کرتے ہیں، جسے وہ دیکھ سکیں یا محسوس کرسکیں۔ ان کے بالمقابل کچھ ایسے لوگ ہیں، جو جنوں کے وجود کے اثرات کو ثابت کرنے میں غلو کرجاتے ہیں۔ ایسے لوگ ہرچھوٹے بڑے معاملات میں جنوں کی دخل اندازی کے قائل ہیں۔ ان کے ذہنوں پر جِنّ اس طرح سوار ہوگیا ہے کہ ہرحادثے میں انھیں جِنّ کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ گویا ساری دُنیا پر جنوں کی حکمرانی ہوگئی ہو۔ یہ دونوں عقیدے غلو کا شکار اور اسلامی تعلیمات کے مخالف ہیں۔

جنوں کے معاملے میں اسلام کا عقیدہ افراط و تفریط سے پاک ہے۔ اسلام نے جنوں کے وجود کا انکار نہیں بلکہ اقرار کیا ہے۔ جنوں کی اپنی ایک الگ دُنیا آباد ہے۔ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر جنوں کا تذکرہ موجود ہے۔ وہ لوگ جو روحوں کو بلانے کا عمل کرتے ہیں، وہ بھی دراصل جنوں کوبلاتے ہیں۔ جنوں کے اقرار کے ساتھ ساتھ اسلام کاعقیدہ یہ بھی ہے کہ جِنّ اس حدتک بااختیار اور بااثر نہیں ہیں کہ تمام کائنات پر حکمرانی کریں۔ جہاں چاہیں اپنی مرضی سے کام کریں۔ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ کی منشا اور تصرف کےماتحت ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر ایک ادنیٰ سی جنبش پر بھی قادر نہیں ہیں۔

رہا لوگوں کا یہ عقیدہ کہ ’’نئے گھر کو بسانے سے قبل اگر قربانی نہ کی جائے تو جِنّ اس گھر پر قابض ہوجاتے ہیں اور گھروالوں کو تنگ کرتے ہیں‘‘ تو یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ احادیث سے۔ یہ تو غیب کی بات ہے۔ عقیدے اور غیب کی بات جب تک قرآن سے ثابت نہ ہو ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ لہٰذا، نئے گھر میں رہایش کے وقت قربانی کرنے والی بات بالکل بے بنیاد اور لغو ہے۔(ڈاکٹر محمد یوسف القرضاوی، ترجمہ: سیّد زاہد اصغرفلاحی)

کشمیر،۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بعد، مرتب: سلیم منصور خالد۔ اہتمام: منشورات، منصورہ، لاہور۔فون:0320-5434909  صفحات: ۵۳۴۔قیمت: ۱۲۰۰ روپے، مجلد: ۱۵۰۰ روپے۔

خط ِ متارکۂ جنگ کے اُس پار ریاست ِ جموں و کشمیر، یوں تو اکتوبر ۱۹۴۷ء ہی سے بھارت کے زیرتسلط آگئی تھی، لیکن ۵؍اگست ۲۰۱۹ء سے تو ظلم کی وہ حکمرانی، درندوں کے راج میں بدل گئی، داد نہ فریاد، نہ شنوائی۔ دُنیا، کشمیریوں پر ناقابلِ بیان مظالم پر چیخ رہی ہے۔ جیل، تشدد، گولیاں، پیلٹ گنیں___ مگر کشمیری پُرعزم ہیں۔ اُنھیں مارا تو جاسکتا ہے، جھکایا نہیں جاسکتا۔

۵؍اگست ۲۰۱۹ء کی سفاکانہ قانون سازی کے نام پر بدترین فسطائیت پہ نہ صرف پاکستان بلکہ غیرممالک، حتیٰ کہ بھارت میں ردّعمل سامنے آیا۔ کتابیں اور مضامین سیکڑوں کی تعداد میں چھپے۔ ہزاروں تحریریں ماقبل بھی موجود تھیں۔ یہ کتاب گذشتہ تین برسوں کے دوران فقط ترجمان القرآن میں شائع شدہ ۶۶ مضامین پر مشتمل ہے۔ لکھنے والوں میں سیّد علی گیلانی، پروفیسر خورشیداحمد، افتخار گیلانی، مفتی منیب الرحمٰن، ارشاد محمود، عبدالباسط اور ڈاکٹر غلام نبی فائی شامل ہیں۔

یہ ایک ’مکمل کشمیر کہانی‘ ہے، جو مرتب کے بقول: ’’موجودہ عہد میں ظلم کے خلاف حق گوئی کی بہترین مثال ہے‘‘۔ کتاب اعلیٰ معیارِ طباعت پر شائع کی گئی ہے اور مؤثر اشاریہ سازی نے کتاب کی معنویت کو بڑھا کر مضامین کی قدروقیمت میں اضافہ کیا ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)

 


اُردو میں اسلامی ادب کی تحریک، فکری و ارتقائی مطالعہ، ڈاکٹر صائمہ ذیشان۔ ناشر: مکتبہ تعمیرانسانیت،غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: 042-37310530۔صفحات: ۴۷۸۔ قیمت: درج نہیں۔

’ادب‘ زندگی کا ایک بڑا بنیادی حصہ ہے۔ عصرحاضر میں اسلامی ادب کی تحریک، مطالعہ و تحقیق کا تقاضاکرتی ہے۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل کی نگرانی میں فاضل مصنفہ نے زیرنظرمقالہ ڈاکٹریٹ کی سند کے لیے لکھا ہے، جو اپنے موضوع پر ایک جامع اور مبسوط دستاویز ہے۔ اس میں موضوع کےجملہ پہلوئوں کا احاطہ کرنے کی جامع کوشش کی گئی ہے۔ موضوع سے منسلک تقریباً سارے ہی ممکنہ اُمور اور تمام ضمنی و ذیلی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔(ادارہ)

اور پاکستان بن گیا، فرزانہ چیمہ۔ ناشر: ادبیات، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار ، لاہور۔ فون:042-37232788۔ صفحات: ۱۶۷۔ قیمت (مجلد): ۳۵۰ روپے ۔

ہمارے نظامِ تعلیم کی خرابی، ذرائع ابلاغ کی منفی یلغار اور سوشل میڈیا پر برہمنی سامراج کے زیراثر پراپیگنڈے کے نتیجے میں، ہماری نئی نسل، تحریکِ پاکستان سے بےخبری کا شکارہے۔ یہ چیز پاکستان کے نظریاتی اور جغرافیائی وجود کے لیے حددرجہ خطرناک ہے۔محترمہ فرزانہ چیمہ نے غیرروایتی انداز سے، تاریخی واقعات کو ٹھیک پس منظر کے ساتھ پیش کرکے ایک قابلِ قدر کتاب تحریر کی ہے، جس سے استفادہ کرنا بہت مفید ثابت ہوگا۔ (ادارہ)


کچھ یاد رہا، کچھ بھول گئے (آپ بیتی)، سعید اکرم۔ اہتمام: کتاب سرائے، الحمدمارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ملنے کا پتا: الہدیٰ ، صادق کالونی، سہگل آباد ضلع چکوال۔ فون:  0346-5826840۔ صفحات: ۵۵۱۔قیمت: درج نہیں۔

مصنف کہتے ہیں: ’’میری کہانی ایک عام آدمی کی کہانی ہے‘‘۔ آپ بیتی میں انھوں نے  بڑی بے تکلفی سے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔ابتدائی جماعتوں کے ایک استاد سے چل کر اللہ کے فضل و کرم اور اپنی محنت اور مسلسل جدوجہد سے ترقی کرتے کرتے وہ ڈگری کالج کے پر نسپل کے منصب سے وظیفہ یاب ہوئے۔

سعید اکرم صاحب کی زیرنظر داستان میں ان کے گائوں بلکہ ضلع بھر کی تاریخ، جغرافیے، نامور اور غیرنامور شخصیات، اساتذہ بطور طالب علم اور استاد، مختلف تعلیمی اور تربیتی اشعار اور حج بیت اللہ کے سفر کی تفصیل ملتی ہے۔ اسی طرح پاکستانی سیاست کے اُتارچڑھائو، حکمرانوں اور آمروں کے کرتُوت، سقوطِ ڈھاکا وغیرہ کا تذکرہ بھی ہے۔ دوستوں اور اعزّہ و اقربا کی بہت سی تصویریں بھی شامل ہیں۔ مختصر یہ کہ بقول ڈاکٹر بشیر منصور: ’’سعید اکرم کی داستانِ حیات، عزم، حوصلے اور جہد ِ مسلسل سے عبارت ہے۔ ان کی آپ بیتی ایک فرد کی نہیں، ایک عہد کی آپ بیتی ہے‘‘۔ اشاعتی معیار بہت عمدہ ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)

کسی حدیث کو رَد کرنے کا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے کہ آدمی اس کے مضمون پر تھوڑا سا غور کرے اور اگر بات سمجھ میں نہ آئے، یا اس کا کوئی غلط مفہوم ذہن میں پیدا ہوجائے، تو بے تکلف یہ فیصلہ کردے کہ’ حدیث گھڑی ہوئی ہے‘، اور ایک نظریہ یہ بھی ساتھ ساتھ قائم کرے کہ ’فلاں فلاں وجوہ سے یہ گھڑی گئی ہوگی‘۔ اس طریقے سے احادیث پرکھی جانے لگیں تو نہ معلوم کتنی صحیح حدیثوں کو دریابُرد کرڈالا جائے گا۔ حدیثوں کو پرکھنے کے لیے علمِ حدیث کی گہری واقفیت ضروری ہے اور اس کے بعد دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی میں بات کے مغز کو پہنچنے کی عمدہ صلاحیت ہو۔ اس طرح جب روایت اور درایت میں صحیح توازن قائم ہوجائے، تب انسان اس قابل ہوسکتا ہے کہ احادیث کو جانچ کر ان کی صحت و سقم اور ان کے مضمون کی معنوی حیثیت کے متعلق کوئی رائے قائم کرے۔

جس حدیث کے متعلق آپ نے تنقید کی ہے وہ مسلم، ترمذی اور مُسنداحمد میں متعدد طریقوں سے منقول ہوئی ہے اور روایت کے اعتبار سے اس پر کوئی وزنی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ رہا اس کا مضمون، تو اس موضوع سے متعلق جو دوسری احادیث وارد ہوئی ہیں، ان سب کے ساتھ ملا کر اسے پڑھاجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ ’’آدمی کو جان جان کر گناہ کرنا چاہیے اور پھر توبہ کرلینی چاہیے‘‘۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ’’انسان بالکل بے خطا اور بے گناہ نہیں ہوسکتا۔ انسان کی اصل خوبی یہ نہیں ہے کہ اس سے کبھی گناہ سرزد ہی نہ ہو، بلکہ اس کی اصل خوبی یہ ہے کہ جب بھی اس سے گناہ سرزد ہوجائے ، وہ نادم ہو اور اپنے خدا سے معافی مانگے‘‘۔ اس مضمون کو ذہن نشین کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ کو بے گناہ مخلوق ہی پیدا کرنی ہوتی، تو انسانوں کے بجائے کوئی اور مخلوق پیدا کرتا۔ انسان کو تو خدا نے نیکی اور گناہ دونوں کی صلاحیت و استعداد کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس نوعیت کی مخلوق سے بے گناہی مطلوب نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے تو بڑے سے بڑا مقام یہی ہوسکتا ہے کہ بتقاضائے بشریت جب بھی اس سے قصور سرزد ہو، اس پر اصرار نہ کرے بلکہ نادم ہوکر استغفار کرے۔(’رسائل و مسائل‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۹، عدد۲، نومبر ۱۹۶۲ء، ص۵۶-۵۷)