مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۱۴

۱۰؍اگست ۲۰۱۴ء کو ترکی میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں وزیراعظم ترکی رجب طیب اردگان ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ اب تک صدر کا انتخاب پارلیمنٹ کرتی رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب قوم نے براہِ راست اپنے ووٹ سے صدر کا انتخاب کیا ہے۔ رجب طیب اردگان کو پہلے ہی رائونڈ میں اپنے حریفوں پر فیصلہ کُن برتری حاصل ہوگئی اور دوسرے رائونڈ کی ضرورت پیش نہ آئی۔ ملکی دستور کی دفعہ۴ کے مطابق ملک کے صدارتی انتخابات میں اردگان کو مطلق اکثریت حاصل ہے۔ اردگان کو ۵۲ فی صد، اکم الدین احسان اوغلو کو ۳۸فی صد اور صلاح الدین دمیرطاش کو ۹ فی صد ووٹ حاصل ہوئے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق رجب طیب اردگان اس وقت اپنی سیاسی زندگی کے بلند ترین مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ وہ ۲۰۰۳ء سے ملک کے وزیراعظم تھے۔ وہ ملک کے صدر بن کر صدر جمہوریہ کے اختیارات کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ ذرائع نے یہ تبصرہ بھی کیا ہے کہ اردگان اپنی زندگی کے جس اہم ترین ہدف تک پہنچنا چاہتے تھے وہاں پہنچ گئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ صدارتی منصب کو اعزازی کے بجاے تنفیذی صورت عطا کی جائے۔

عالمی ذرائع ابلاغ میں بہت اہم خبر رساں اداروں کے تبصروں کے مطابق عراق، شام اور یوکرائن کے بحرانوں میں گھرے ہوئے اور مغرب کے نہایت اہم حلیف اور اتحادی ملک ترکی کا آیندہ صدر انتہائی اہمیت کے حامل کثیر جہتی سیاسی مقام پر کھڑا ہوگا۔ اگر مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے تناظر میں دیکھا جائے تو ترکی کے صدارتی انتخابات کو تبدیلی کا نقطۂ آغاز قرار دیا جاسکتا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اردگان کی یہ نمایاں کامیابی اُس کی طاقت و اقتدار کو مزید مستحکم کرے گی۔ بیش تر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے پورے عرصے میں اردگان کے لیے یہ مشکل ترین سال تھاجو اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔

شخصیت، تجربے اور سیاسی بصیرت و قومی سطح پر حاصل شہرت و پذیرائی کے اعتبار سے تینوں صدارتی اُمیدواروں کی حیثیت میں بہت نمایاں فرق ہے۔ صلاح الدین دمیرطاش ۴۱سال کے ہیں، ملک کی بہت بڑی قبائلی برادری کُردوں کی حمایت انھیں حاصل تھی۔ اندازے سے بہت کم شرح ووٹ ان کے حصے میں آئی، یعنی ۹ فی صد۔ دوسرے صدارتی اُمیدوار او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے منصب پر رہنے کی وجہ سے عالمی شہرت و تعارف رکھتے تھے اور ملک کی ۱۳سیاسی جماعتوں کے متفقہ اُمیدوار تھے۔ اس تمام تر حمایت کے باوجود انھیں ۳۸فی صد ووٹ ملے۔ اردگان کے مقابلے میں لوگ انھیں ’باباجی‘ خیال کرتے ہیں۔ تنقید و تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ رجب طیب اردگان ۶۰سال کی عمر میں بھی پُرکشش شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ قوتِ کار اور حاضر دماغی کے اعتبارسے بہت اچھا تعارف رکھتے ہیں۔ حکومت میں ۱۲برس گزارنے کے بعد بھی وہ توانا عزم اور تعمیروترقی کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے کے متمنی ہیں۔ ناقدین کے نزدیک اس کے باوجود وہ منصب ِ صدارت پر متمکن ہوکر ترکی کی سیاست کے نقشے میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکیں گے۔ حامی انھیں ’فرزند اُمت‘ کا نام دیتے ہیں اور حریف انھیں مذاق سے ’سلطان‘ کہتے ہیں۔ بہرحال اردگان اپنے دونوں حریفوں کے مقابلے میں پوری قوم کا اعتماد حاصل کرنے میں واضح طور پر کامیاب رہے اور ۵۲ فی صد سے زائد ووٹ حاصل کر کے ملک کے پہلے جمہوری صدر منتخب ہوگئے۔ بعض ذرائع نے انھیں ترکی کی تاریخ کا مضبوط ترین لیڈر قرار دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بطور صدر وہ متعدد قومی اداروں میں اپنے پسندیدہ افراد کو متعین کرنے کا اختیار حاصل کرلیں گے۔

رجب طیب اردگان کی صدارتی انتخابات میں کامیابی، اُن کی اپنی قائم کردہ جماعت ’انصاف و ترقی پارٹی‘ کی مسلسل ۹ویں کامیابی ہے۔ ۱۹۲۳ء سے لے کر اب تک سیاسی منظرنامے پر کسی بھی جماعت کو ایسی برتری حاصل نہیں ہوسکی۔ انصاف و ترقی پارٹی تین بار عام انتخابات میں، تین بار بلدیاتی انتخابات میں، دو بار ریفرنڈم میں اور اب پہلے براہِ راست قومی صدارتی انتخابات میں کامیابی کی منزلیں طے کرچکی ہے۔

۱۲ سال سے انصاف و ترقی پارٹی سیاسی منظر پر نہ صرف موجود ہے بلکہ برسرِاقتدار ہے۔ پارٹی نے خارجی سطح پر عالمی تبصرہ و تجزیہ نگاروں کے لیے قابلِ توجہ ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ترکی نے علاقائی و عالمی مقام حاصل کرلیا ہے۔ اردگان کو عالمِ عرب اور عالمِ اسلام میں جو پذیرائی ملی ہے اس سے قبل کسی سیاسی رہنما کو حاصل نہیں ہوسکی۔ انصاف و ترقی پارٹی کے دورِ حکومت میں ترکی متعدد بار قابلِ ذکر اقتصادی کامیابیوں کی منزلیں طے کرچکا ہے۔ ایسی مملکت جو قرضوں اور بحرانوں کے بوجھ تلے دبی ہو، وہ قرضوں کے جان لیوا بوجھ سے باہر نکل آئے تو یہ عالمی سطح پر بے مثال کامیابی ہے۔ وزیراعظم رجب طیب اردگان نے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا: ترکی عالمی مالیاتی فنڈ کا ۲۳ملین ڈالر کا مقروض تھا جن کی مکمل ادایگی کے بعد وہ مالیاتی فنڈ کے قرضوں سے نجات پاچکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترکی یہ عزم رکھتا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کو ۵ملین ڈالر کا قرض دے کر وہ مقروض ملکوں کی صف سے نکل کر قرض دینے والا ملک بن جائے۔ عالمی طاقتوں کی ہدایات کے تابع رہنے کے بجاے عالمی سیاست میں برابر کے شریک کی حیثیت سے کردار ادا کرسکے۔

طیب اردگان ایسی شخصیت ہیں جس نے ترکی کے گلی کوچوں میں خود کو موضوع بحث بنالیا ہے۔ ان کے گرد جمع ترک محبت کرنے والے بھی ہیں اور نفرت کرنے والے بھی۔ ان کے عقیدت مند انھیں اتاترک ثانی سمجھتے ہیں۔ ان کے نقاد کہتے ہیں کہ وہ خطے کو تقسیم کرنے اور اس پر تسلط جمانے کے منصوبے کے آلۂ کار ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ عثمانی سلطنت کے شاہوں جیسا ’شاہ‘ بننا چاہتے ہیں لیکن ان کا یہ خواب اس لیے پورا نہیں ہوسکتا کہ اتاترک نے جو ریاست کا بانی ہے، دستور میں ایسی دفعہ شامل کر رکھی ہے جس کی بنیاد پر ریاست کا سیکولر رہنا ناگزیر ہے۔

اتاترک نے اس دفعہ کے فوراً بعد یہ دفعہ بھی شامل کی ہے کہ سیکولرزم کی اس دفعہ کو کسی بھی وقت اور کسی بھی ذریعے سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ چونکہ اردگان کے پیش نظر خلافت ِ عثمانیہ جیسی ریاست قائم کرنا ہے لہٰذا اس دفعہ کی موجودگی تک یہ نہیں ہوسکتا۔ ترکی دستور میں دینی جماعتوں کی تشکیل ممنوع ہے۔ انصاف و ترقی پارٹی دستاویزی اور کاغذی لحاظ سے سیکولر اور مزاج و طبیعت اور کردار کے اعتبار سے اسلامی ہے۔

پے درپے تین قومی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے یک جماعتی حکومت کی تشکیل کے باوجود یہ ممکن نہیں تھا کہ معاملہ ان کے ہاتھ میں آجاتا۔ ملک پر فوج کا تسلط قائم تھا اور وہ کسی وقت بھی ان کے خلاف بغاوت کرسکتی تھی۔ لہٰذا اردگان نے پہلے فوج کے اثرات و اختیارات کو محدود کیا، پھر عدلیہ کی اتھارٹی کا خاتمہ کیا جو اسلامی گروپوں کے سر پر لٹکتی تلوار تھی۔ اردگان نے یورپی یونین کے قوانین کے ساتھ انضمام کو غنیمت جانا تاکہ رفتہ رفتہ اُن قوانین کو تبدیل کیا جاسکے جو ان دونوں اداروں سے متعلق تھے۔

انصاف و ترقی پارٹی کے نائب صدر محمد علی شاہین نے دستوری تبدیلیوں کے حوالے سے  کہا کہ ایک مدت سے ہماری راے ہے کہ ۱۹۸۲ء کے دستور میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور قوم کو نئے دستور کی ضرورت ہے۔ افسوس ہے کہ دستوری تبدیلیوں کے مسودے پر دوسال کی محنت کے باوجود پارلیمنٹ سے دستوری کمیٹی کا اتفاق نہیں ہوسکا۔ مگر اس کے باوجود ہم اپنی راے پر قائم ہیں اور اپنے مقاصد اور اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

۲۰۱۵ء میں منعقد ہونے والے قومی انتخابات میں پیش کیے جانے والے منشور میں ہمارا سب سے اہم وعدہ یہی ہوگا کہ نیا دستور اتفاق راے سے بنے گا۔ ہمارا یقین ہے کہ ملک کو ایسے دستور کی ضرورت ہے جس سے ملکی مشکلات و مسائل کا حل ممکن ہو، جو انسانی حقوق اور آزادیوں کا ضامن ہو اور ترکی کو ایک جدید ریاست بناسکے۔

رجب طیب اردگان نے بذاتِ خود ترکی کے اندر پارٹی قیادت کو یہ ہدف دیا ہے کہ وہ آیندہ پارلیمانی انتخابات میں اتنی غالب اکثریت حاصل کریں جس سے پارٹی کے لیے دستور میں  تبدیلی لانے کا عمل ممکن ہوسکے۔ انھوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ آیندہ عام انتخابات میں پارٹی کی شرکت کا مقصد دستور میں تبدیلی کی خاطر زیادہ سے زیادہ اکثریت حاصل کرنا ہے۔ گذشتہ انتخابات میں اگرچہ پارٹی کو ۵۵۰ کے ایوان میں ۳۱۳ نشستیں حاصل تھیں لیکن وہ غالب اکثریت رکھنے کے باوجود دستور میں تبدیلی کے لیے مطلوبہ دوتہائی اکثریت نہیں رکھتی تھی۔

اردگان کی صدارتی کامیابی پر مخالفین کا اعتراض ہے کہ وہ ملک کو صدارتی نظام میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ اردگان نے اس راے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی امتیاز کے بغیر ۷۷ملین ترک عوام کا صدر ہونے کا حلف اُٹھائوںگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے تاریخی اصلاحات اس لیے کی ہیں کہ ملک کے تمام شہری آزادیِ راے کا حق کسی خوف و خطر کے بغیر استعمال کرسکیں۔ اس کے برعکس اُن کے حریفوں کا خیال ہے کہ ترکی کو مغربی اقدار و روایات سے بہت دُور لے جارہے ہیں۔ اردگان کو درپیش چیلنجوں میں ایک بہت بڑا مسئلہ معروف دانش ور فتح اللہ گولن کی قابلِ اعتراض سرگرمیاں ہیں۔ ان کے بارے میں اردگان نے کہا کہ میرے منصب ِ صدارت سنبھالنے سے گولن سے کش مکش میں اضافہ ہوجائے گا۔ اُن کا کہنا ہے کہ گولن صرف اردگان اور اس کے خاندان اور ساتھیوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ ترکی اور ترک قوم کی آزادی کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

انصاف و ترقی پارٹی کا کہنا ہے کہ سیاسی کش مکش اور چیز ہے اور تخریبی کش مکش دوسری چیز۔ فتح اللہ گولن کی پارٹی پر انصاف پارٹی کا الزام ہے کہ وہ قومی اداروں کے اندر انتشار و انارکی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ترکی ریاست کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ملک کی قومی اور وطنی سلامتی کے اہم رازوں کی جاسوسی کرتے پکڑے گئے ہیں۔ وہ ان معلومات اور سربستہ رازوں کو ترکی کے دشمنوں تک پہنچاتے ہیں۔ ابتدا میں جب وہ حکومت کے سیاسی طور پر مخالف رہے تو اُن سے بالکل تعرض نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ وہ دستوری حقوق حاصل کیے بغیر سیاسی پلیٹ فارم پر اختلافی سیاست کرتے رہے۔ انھوں نے کوئی سیاسی جماعت رجسٹر نہیں کرائی تھی جس کے ذریعے وہ حکومت کی مخالفت کرسکتے۔ ان پر دوسرا الزام یہ ہے کہ انھوں نے ’مرمرہ‘ بحری جہاز کے مسئلے پر اسرائیلی حکومت کی تائید کی اور ترکی حکومت کو اُن ۹ شہدا کی شہادت کا ذمہ دار قرار دیا جنھوں نے غزہ میں فلسطینی قوم کے گرد اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا۔ یہی وہ موقع ہے جب ترکی حکومت نے اُن کا محاسبہ کرنا چاہا۔ تیسرا الزام یہ ہے کہ فتح اللہ گولن کی جماعت کے کارکن خفیہ طور پر قومی حکومتی اداروں میں جاسوسی نظام قائم کر کے عسکری اور سول حکومتی اداروں کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے ترکی سلامتی کونسل کے اجلاسوں کی جاسوسی کی اور ان خفیہ معلومات کو عام کیا۔

ترکی داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر کئی مشکلات اور چیلنجوں سے دوچار ہے اور رجب طیب اردگان نے ان تمام مسائل و مشکلات کو نقطۂ نظر صفر پر لانے کا عزم ظاہر کیا تھا مگر ۱۲سال مسلسل اقتدار میں رہنے کے بعد بہت سے اُمور و معاملات سے پردہ اُٹھاتو وہ مشکل تر ہوتے گئے۔ داخلی سطح پر اردگان کو سیکولر قوتوں سے سابقہ ہے جو اپنے مقاصد اور اہداف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتیں، جب کہ اسلامی روحانیت ترکی کو اس کی تہذیب و ثقافت کی طرف لوٹانا چاہتی ہے۔ ملکی امن و امان کے قیام اور اس پر صرف ہونے والے قومی سرمایے کی شرح کو کم سے کم کرنا بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔ شام، مصر، عراق وغیرہ کے مسائل ترکی حکومت اور معیشت پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ ملک کے اندر قبائلی تحریکیں بھی ہنگاموں اور فسادات کو ہوا دینے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتیں۔ ان تمام اندرونی و بیرونی مسائل کے باوجود، انصاف و ترقی پارٹی کی بلدیاتی انتخابات اور صدارتی انتخابات میں نمایاں اور واضح تر کامیابی سے قومی رجحان اور میلان کا اندازہ ہوتا ہے۔ اُمید ہے کہ      قوم دستوری تبدیلیوں کو یقینی بنانے کے لیے انصاف و ترقی پارٹی کو ۲۰۱۵ء کے پارلیمانی انتخابات میں پہلے سے مضبوط تر عوامی مینڈیٹ دے کر پارلیمنٹ میں پہنچائے گی۔ غالب اُمید ہے کہ  رجب طیب اردگان بحیثیت صدر ریاست ان تمام اُمور و وسائل سے نبردآزما ہونے میں کامیاب ہوں گے۔ ان کا کامیاب ماضی اس بات کی شہادت فراہم کرتا ہے کہ وہ ایسی شخصیت ہیں جس کو معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ وہ اپنے ایجنڈے پر پوری یک سوئی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

آیندہ انصاف و ترقی پارٹی اپنے اہداف حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہتی ہے، پارٹی مقبولیت سے تو اس کے امکانات روشن نظر آتے ہیں مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ اردگان کے پارٹی سربراہ نہ رہنے کی وجہ سے اُن کی پارٹی پر گرفت کمزور ہوجائے گی۔ پارٹی کے بدخواہوں نے پارٹی کے اندر عبداللہ گل دھڑے کا وجود بھی دریافت کرلیا ہے۔ یہ اندازے اور افواہیں انصاف و ترقی پارٹی کا سفر کھوٹا کرنے کی سازشیں ہیں۔ اُمیدہے کہ پارٹی کے داخلی نظام میں ہونے والی تبدیلی پارٹی قیادت اور قومی حکومت کے لیے مزید تقویت کا باعث بنے گی۔ غالب امکان ہے کہ ترکی وزیرخارجہ احمد دائود اوغلو جو عالمی اُمور میں اردگان کے دست ِ راست کی حیثیت رکھتے ہیں اور پارٹی کے داخلی نظام میں بھی مضبوط شخصیت ہیں، پارٹی سربراہ بنا دیے جائیں اور وہی ملک کے وزیراعظم بھی ہوں۔ اس کے ساتھ سابق وزیرٹرانسپورٹ بن علی یلدریم بھی اس منصب کے اُمیدوار ہوسکتے ہیں۔

۲۰۱۴ء افغانستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ امریکی صدر اوباما کے اعلان کے مطابق دسمبر ۲۰۱۴ء میں امریکی و دیگر ناٹو افواج افغانستان سے واپس چلی جائیں گی، البتہ چند ہزار پر مشتمل لڑاکا فوج اور فضائیہ پانچ عسکری اڈوں پر باقی رہ جائیں گی۔ ملکی امن و امان قائم رکھنے کا سارا اختیار اور ذمہ داری افغان نیشنل فورس اور پولیس کے حوالے کر دی جائے گی اور غیر ملکی فوج کا کردار محدود ہوگا۔ تاہم طالبان کی واپسی کے خدشے کے پیش نظر امریکی فوج افغانستان میں ایک طویل عرصے کے لیے موجود رہے گی۔ امریکی فوج کی موجودگی کو قانونی شکل دینے کے لیے ضروری ہے کہ کابل میں افغان حکومت کے ساتھ امریکی حکومت کا ایک معاہدہ ہو۔ موجودہ صدر حامد کرزئی نے امریکی دبائو کے باوجود اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے اور یہ کام آیندہ منتخب حکومت کے ذمے کر دیاگیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو امریکیوں کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کر دے۔ لیکن امریکی پریشانی میں اس وقت تازہ اضافہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج کے معلق ہونے سے ہوا۔ افغان الیکشن کمیشن نے جب دوسرے مرحلے کے غیر حتمی نتائج کا اعلان کیا تو تمام بین الاقوامی مبصرین حیران رہ گئے کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ سے ۱۰لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے جو ایک حیران کن معاملہ تھا۔ اس لیے عبداللہ عبداللہ نے فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یہ نتائج ماننے سے انکار کر دیا اور احتجاجی تحریک چلانے اور متوازی حکومت بنانے کا اعلان کیا۔

پہلے مرحلے کے صدارتی انتخاب، جو اس سال ۲۰؍اپریل میں مکمل ہوئے تھے، کے نتائج کے مطابق اول نمبر پر ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ آئے تھے۔ انھوں نے ۴۵فی صد تقریباً ۳۰لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے، جب کہ دوسرے نمبر پر ڈاکٹر اشرف غنی نے ۶ء۳۱فی صد، یعنی تقریباً ۲۱ لاکھ ووٹ لیے تھے جو عبداللہ عبداللہ سے ۹لاکھ کم تھے۔ زلمے رسول نے تیسری پوزیشن ۴ء۱۱،یعنی ساڑھے سات لاکھ ووٹ لیے۔

 پروفیسر عبدالرب رسول سیاف نے ۳ء۷فی صد، یعنی ۴لاکھ ۶۵ہزار ، انجینئر قطب الدین ہلال نے ۸ء۲فی صد، یعنی ایک لاکھ ۸۰ہزار، جب کہ چھٹے نمبر پر گل آغا شیرازی نے ۶ء۱فی صد، یعنی ایک لاکھ ووٹ لیے تھے۔ ان میں سے زلمے رسول ، استاد سیاف اور گل آغا شیرازی نے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی دوسرے مرحلے میں حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس لیے اس کی جیت یقینی    نظر آرہی تھی۔ لیکن دوسرے مرحلے میں پانسہ پلٹ گیا اور ابتدائی مرحلے کے نتائج ہی میں ڈاکٹر اشرف غنی سبقت لے گئے۔ انھوں نے غیر حتمی نتائج کے مطابق ۴۴لاکھ ۸۵ہزار ووٹ حاصل کیے، جب کہ عبداللہ عبداللہ نے ۳۴لاکھ ۶۱ہزار ووٹ لیے۔ اس طرح احمد زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے پختون اُمیدوار ڈاکٹر اشرف غنی بھاری اکثریت سے کامیاب نظر آئے ، جب کہ تاجک پس منظر کے حامل ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ شکست کھاگئے۔ لیکن انھوں نے اس شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کا الزام لگایا۔ مبصرین نتائج کی اس تبدیلی میں موجودہ صدر ڈاکٹر حامد کرزئی کا کردار تلاش کر رہے ہیں جس نے قسم کھائی تھی کہ عبداللہ کو عرق(صدارتی محل ) میں گھسنے نہیں دوں گا۔ اس نے پہلے مرحلے میں بھی ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو ہرانے کی ہر ممکن کو شش کی تھی۔ اس مقصد میں اس حد تک اس کو کامیابی ملی کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ پہلے مرحلے میں ۵۰فی صد ووٹ حاصل کرنے کا ہدف حاصل نہ کر سکے، جب کہ وہ اس کے قریب پہنچ چکے تھے اور اگر اُمیدواروں کی تعداد کم ہو تی تو شاید وہ بہ آسانی یہ ہدف حاصل کر چکے ہوتے۔

کہا جاتا ہے کہ حامد کرزئی نے کئی اُمیدواروں کو کھڑا کروا کر یہ مقصد حاصل کیا۔ پھر دوسرے مرحلے میں براہ راست مقابلہ پختون اور تاجک اُمیدوار کا ہوا۔ قومی تعصبات نے اس مرحلے میں خوب رنگ جمایا اور رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم نظرآئی۔ جن نتائج کا اعلان ہوا ہے اگر  ان کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پختون اکثریت آبادی رکھنے والے صوبوں میں  ڈاکٹر اشرف غنی کو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے مقابلے میں بھاری اکثریت سے کامیابی نصیب ہوئی۔ اس نے کل ۱۸صوبوں میں الیکشن جیتا جن میں پکتیا ، پکتیکا ،خوست، ننگر ہار، کنٹر ، لغمان ، قندوز، ہلمند، زابل اور اورزگان جیسے پختون ولایتوں میں لاکھوں ووٹ حاصل کیے، جب کہ عبداللہ عبداللہ چند ہزار تک محدود رہے۔ سب سے دل چسپ نتیجہ صوبہ قندھار کا ہے جہاں سے عبداللہ عبداللہ کا آبائی تعلق ہے، وہاں ڈاکٹر اشرف غنی نے ۲لاکھ ۶۸ہزار ووٹ حاصل کیے، جب کہ ڈاکٹر عبداللہ کو صرف ۵۱ہزار ووٹ ملے۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ اول نائب صدر کے طور پر جنرل رشید دوستم اُمیدوار تھے جو ازبکوں کے نمایندہ اور مسلمہ رہنما مانے جاتے ہیں۔ اس لیے ان صوبوں میں بھی ڈاکٹر اشرف غنی کا پینل کامیاب ہوا جن میں جو زجان ، فریاب اور نمروز وغیرہ شامل ہیں، جب کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو تاجک ووٹوں کی بھاری اکثریت ملی، جن کی آبادی افغانستان میں ۲۷فی صد تک سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح ہزارہ کے ووٹ بھی زیادہ ان کو ملے۔ جن صوبوں میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو واضح اکثریت ملی ان میں کپیسا، پروان ، غزنی ،بدخشان ، تخار ،بغلان ، سمنگان ، بلخ،ہرات، نمروز، بامیان ، پنجشیر ، ڈایکنڈی وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی کل تعداد ۱۶ہے۔

مرکزی صوبے کابل میں ڈاکٹر اشرف غنی نے ۴لاکھ ۵۴ہزار ووٹ حاصل کیے، جب کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ۴لاکھ ۲۲ہزار ووٹ لیے، یعنی مقابلہ تقریباً برابر رہا۔ ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ نے انتخابی دھاندلیوں کے جو الزام لگائے اس میں جعلی ووٹ، ایک ووٹرکے ووٹ کا کئی بار استعمال اور مخصوص حلقوں اور پولنگ اسٹیشنوں پر یکطر فہ ووٹنگ وغیرہ شامل ہیں۔ لگتا یہ ہے کہ دونوں اُمیدواروں نے جہاں موقع ملا وہاں خوب دھاندلی کی۔ پہلے مرحلے میں پختون اکثریت کے کئی صوبوں میں طالبان کے خوف سے ووٹنگ کی شرح بہت کم تھی لیکن اس با ر وہاں لاکھوں ووٹ پول ہوئے۔ اس کی ایک وجہ طالبان کی ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے دشمنی بھی بتائی جاتی ہے لیکن وہ دونوں اُمیدواروں کو امریکی گماشتے تصور کرتے ہیں اور سرے سے پورے انتخابی عمل کو ماننے سے انکاری ہیں۔ اس لیے اس کا امکان کم ہے کہ انھوں نے عبداللہ عبداللہ کی مخالفت میں ڈاکٹر اشرف غنی کو ووٹ دینے کی حمایت کی ہوگی۔ ان صوبوں میں ووٹوں کے رجسٹریشن کی شرح بھی خاصی کم تھی۔ اس لیے دھاندلی کے امکانات کو تقویت ملتی ہے۔

تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے احتجاج کا امریکا نے سنجیدگی سے نوٹس لیا۔ اس سے پہلے ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں بھی ڈاکٹر عبداللہ نے حامد کرزئی پر بدترین دھاندلی کے الزامات لگائے تھے، بلکہ ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں دوسرے مرحلے میں وہ یہ کہہ کر انتخابات سے دستبردار ہو گئے تھے کہ حامد کرزئی کی موجودگی میں شفاف انتخابات ممکن ہی نہیں۔ اب حامد کرزئی کی جگہ ڈاکٹر اشرف غنی نے لے لی اور ایک بار پھر عبداللہ عبداللہ دھاندلی کا شکار ہو گئے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس ماہ دو مرتبہ کابل کا دورہ کیا اور دونوں صدارتی اُمیدواران کا موقف سننے کے بعد ان کے درمیان مفاہمت کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب رہے۔ دوسری بار کابل کے دورے میں وہ ان دونوں اُمیدواران کے درمیان ایک معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ جس کاباقاعدہ میڈیا میں اعلان کیا گیا اور دونوں رہنمائوں نے اس پر اتفاق کیا کہ ایک ایسامصالحتی کمیشن بنایا جائے جو ایک قومی حکومت کا قیام ممکن بنائے۔ دونوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں طرف سے مقرر کردہ مبصرین کی موجودگی میں سارے ووٹ دوبارہ شمار کیے جائیں جس کو آڈٹ کا نام دیا گیا اور مشکوک ووٹوں کو گنتی سے نکال باہر کیا جائے۔ اس دوبارہ گنتی کے نتیجے میں جو اُمیدوار اکثریت حاصل کرے وہ صدر بن جائے گا اور دوسرا اُمیدوار اس کے ساتھ نائب صدر اول بنے گا۔ اس طرح ایک مخلوط حکومت کابل میں اقتدارسنبھالے گی۔ آزاد الیکشن کمیشن کے تحت ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور آڈٹ کاکام شروع ہوگیا ہے۔دونوں جانب کے مقررکردہ مبصرین اس عمل میں شریک ہیں۔ یہ ایک مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ اس عمل سے گزرنے کے بعد بھی ڈاکٹر اشرف غنی ہی کامیاب ٹھیریں گے کیونکہ ان کو۱۰لاکھ ووٹوں کی سبقت حاصل ہے۔ پہلے دو تین دن جو کام ہوا اس میں ۸۵ہزار ووٹوں کو مسترد کر دیا گیا لیکن اس میں   اگر زیادہ ووٹ ڈاکٹر اشرف غنی کے ضائع ہوئے تو ۳۰ہزار ووٹ عبداللہ کے بھی گئے۔ البتہ   ڈاکٹر اشرف غنی کو جو بڑی سبقت حاصل ہے، اس میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔

ڈاکٹر اشرف غنی احمد زئی بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہر اقتصادیات ہیں۔ انھوں نے کولمبیا یونی ورسٹی امریکا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور کئی امریکی یونی ورسٹیوں میں پڑھاتے رہے ہیں۔ ۱۹۹۱ء میں ورلڈ بنک میں ملازمت اختیار کی۔ اس دوران انھوں نے کئی ممالک بشمول چین اور روس میں خدمات سر انجام دیں اور اپنی ذہانت اور مہارت کا لوہا منوایا۔ ۲۰۰۱ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وہ افغانستان واپس آئے اور حکومت میں شامل ہوئے۔ وہ شروع میں صدر حامد کرزئی کے مشیر خاص تھے اور بون معاہدے پر عملدرآمداور لویہ جرگہ کی تشکیل میں ان کا اہم کردار رہا۔ پھر وہ وزیر خزانہ بن گئے اور افغانستان کی معاشی ترقی ،نئی افغان کرنسی کے اجرا ،سالانہ بجٹ کی تیاری اور مالی ضابطوں کی پابندی میں نام کمایا۔ انھوں نے بین الاقوامی ڈونرز ایجنسیوں کا اعتماد حاصل کیا۔خود احتسابی اور کرپشن کے خلاف سخت کارروائیاں ان کی وجۂ شہرت ہیں۔ بعد میں انھوں نے کابل یونی ورسٹی میںایک ادارہ ’مؤثر ریاستی انسٹی ٹیوٹ‘قائم کیا جس نے بہت جلد عالمی شہرت حاصل کی۔ یہ ایک منفر د ادارہ تھا جو کمزور اقتصادی ممالک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے حکمت عملی بنانے میں مدد گار ثابت ہوا۔ دیہات کی سطح پر ترقی کا منصوبہ اور ویلج کونسل کا قیام بھی ان کے ذہن کی پیدوار ہیں۔ ۲۰۰۸ء کے الیکشن کے بعد وہ افغان کابینہ کا حصہ نہ بنے بلکہ انھوں نے پسند کیا کہ وہ کابل یونی ورسٹی کے چانسلر بنیں اور تعلیمی اداروں کو ترقی دیں۔ ڈاکٹر اشرف غنی کی بیوی کا تعلق لبنان کے ایک عیسائی گھرانے سے ہے۔ افغانستان کی معاشی ترقی میں ایک مستقل کردار ادر کرنے کے بعد وہ اب سیاسی میدان میں بھی اپنا لوہا منوانا چاہتے ہیں۔ وہ ایک عملی انسان ہیں اور سائنسی اور علمی خطوط پرملک کو چلانا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے حوالے سے بھی ان کا موقف نرم ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیے جائیں اور ان کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔

ڈاکٹر اشرف غنی کے مقابلے میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ افغانستان کے ایک مسلمہ قومی رہنما ہیں۔ ان کے والد غلام محی الدین خان ، ظاہر شاہ کے دور حکومت میں سینیٹر تھے۔ انھوں نے ۱۹۷۷ء میں کابل یونی ورسٹی سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی اور پھر ماہر امراض چشم کی حیثیت سے   النورہسپتال کابل میں خدمات سر انجام دیں۔ ۱۹۸۴ء میں پاکستان ہجرت کی اور وادیِ پنج شیر میں کمانڈر احمد شاہ مسعود کے ساتھ روسیوں کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے۔ ۱۹۹۲ء میں نجیب انتظامیہ کے خاتمے اور مجاہدین حکومت کے قیام کے بعد بھی وہ احمد شاہ مسعود کے ساتھ وزارت دفاع کی ترجمانی کرتے رہے۔ پھر وزیرخارجہ بنے اور عالمی سطح پر ان کی شہرت ہوئی۔ نائن الیون کے بعد وہ پھر وزارتِ خارجہ ہی کے نمایندے کے طور پر بون کانفرنس میں شامل ہوئے۔ صدر حامدکرزئی کے پہلے دور میں وہ بحیثیت وزیر خارجہ کا بینہ کے اہم رکن اور ترجمان تھے۔ ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں    وہ صدر حامد کرزئی کے مقابلے میں ایک مضبوط صدارتی اُمیدوار رہے اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔

موجودہ انتخابات میں وہ صلاح الدین ربانی، جو استاد برہان الدین ربانی کے صاحبزادے ہیں، کی قیادت میں جمعیت اسلامی افغانستان کی جانب سے صدارتی اُمیدوار تھے۔ انھوں نے اپنے ساتھ حزب اسلامی کے ایک مضبوط سیاسی دھڑے ارغندیوال گروپ کو ملا یا اور ان کے انجینیرمحمد خان کو نائب صدر اول کا اُمیدوار بنایا۔ اس کے علاوہ ہزارہ برادری کے استاد محقق کو  نائب صدر بنا کر انھوں نے ایک قومی قیادت کا تصور پیش کیا۔ جہادی پس منظر کے باوجود ان کی شہرت ایک لبرل اور قوم پرست رہنما کی ہے۔ وہ طالبان کے مخالف ہیں۔ بھارت اور روس سے ان کے اچھے تعلقات ہیں۔

ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی مخلوط حکومت کا تصور بہت سارے افغانیوں کے لیے ناقابل فہم ہے۔ امریکی دبائو پر انھوں نے آپس میں معاہدہ تو کر لیا لیکن اس کے عملی تقاضے پورے کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ دونوں کیمپوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو اس گٹھ جوڑ سے خوش نہیں۔ امریکیوں کو بھی موجودہ انتخابات سے جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری ہوتی نظر نہیں آرہیں۔ حامد کرزئی کا متبادل تلاش کرنا ان کے لیے درد سر بنتا جا رہا ہے۔ جان کیری جتنے بھی کابل کے دورے کریں ہر بار ان کو ایک نئی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر اشرف غنی مسلسل بیان دے رہے ہیں کہ وہ ایک کمزور صدر بننا پسند نہیں کریں گے۔ بہر حال آنے والے دنوں میں افغانستان میں امریکیوں کے لیے مشکلات و مسائل میں اضافہ ہوگااور امریکی افواج کے انخلا کے پروگرام میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔

مسلم دنیا یوں توبہت سے داخلی اور خارجی مسائل اور بحرانوں سے دوچارہے، لیکن ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ صورتِ حال وہ ہے، جس میں خود ہم وطن اور ہم نسل مسلمان ، اپنے ہی ہم وطنوں سے ظلم وتشددکارویہ اختیارکرتے ہیں، اور پھراس بہتے ہوئے خون اور تباہ کی جانے والی زندگیوں کواپنی قومی ترقی کا وسیلہ بتاتے ہیں۔ اس سفاکی اور شرمناکی کے لیے بے غیرتی اور غداری سے کم لفظ استعمال کرنا ممکن نہیں۔

عالم اسلام اور خصوصاً عالم عرب میں اسرائیل کے نام سے ایک ناجائز حکومت کے ہاتھوں امریکا ویورپ جو حیوانی کھیل کھیل رہے ہیں، اسی سے ملتاجلتاحیوانی اور غیرانسانی رویہ، ہندوقوم پرست ریاست ہندستان اپنائے ہوئے ہے۔ اس نے ایک جانب ۶۸برس سے کشمیرکے مسلمانوں کو محکوم بناکرظلم کے پہاڑتوڑے ہیں تودوسری جانب بنگلہ دیش کی مسلم ریاست کواپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس سیاہ رات کے اندھیرے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے محبِ وطن، اسلام دوست اور مسلم قوم پرست بنگلہ دیشی اپنے ملک میں ایک عذاب سے گزررہے ہیں، جس کا ماسٹرمائنڈ بھارت ہے اور اس کے ایجنڈے کو بنگلہ دیش میں نافذ کرنے کا ذریعہ عوامی لیگ اور اس کی مددگارتنظیمیں ہیں۔

عوامی لیگ نے دسمبر۲۰۰۸ء میں اقتدارحاصل کرنے کے بعد سے بنگلہ دیش کی قومی سلامتی کو بھارتی مفادات کے سامنے سرنڈرکرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن کی بنگلہ دیش کے دُوراندیش اور اپنی قومی آزادی واسلامی تہذیبی تشخص کو تحفظ دینے والے افراد اور تنظیموں نے کھل کر مخالفت کی۔ جواب میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے زیر اثربنگلہ دیش کی متعدداین جی اوزاور عوامی لیگی حکومت نے بڑے پیمانے پر ریاستی مشینری کو استعمال کرکے ان آوازوں کو کچلنے کا راستہ اختیار کیاہے۔

حکومت نے سب سے پہلے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے خلاف عدالتی ڈرامے کا آغازکیا۔ اُس کے بزرگ رہنماؤں اور فعال کارکنوں کو گرفتارکرکے نام نہاد ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ (ICT) قائم کرکے مقدمات چلانے شروع کیے۔ اس خصوصی عدالت پر بنگلہ دیش کے قانونی حلقوں، راست فکر دانش وروں اور صحافتی تنظیموں نے زبردست احتجاج کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ (HRW) اور دیگربین الاقوامی تنظیموں نے اس انتقامی ڈرامے کو مستردکردیا۔ مگر  عوامی لیگی حکومت نے پوری ڈھٹائی سے ، سزاے موت سنائے جانے والے فیصلوں کا نہ صرف اعلان کیا، بلکہ ۱۲دسمبر۲۰۱۳ء کو عبدالقادرمُلّا کو پھانسی دے بھی دی۔ اس عدالتی قتل عام پر دنیابھر نے برملا احتجاج کیا، لیکن یہ انتقامی عدالتی عمل رک نہیںسکا۔اس وقت بھی جماعت اسلامی اور بنگلہ دیشن نیشنلسٹ پارٹی (BNP)کے قائدین کو سزائیں سنائی جارہی ہیں، اور انھیں اپنے دفاع کے لیے آزادانہ طور پر بنیادی عدالتی سہولیات تک بھی میسر نہیں ہیں۔

یادرہے کہ اس نام نہاد عدالت (ICT) کے چیف جج مسٹرنظام کی شرمناک گفتگوکو ۲۰۱۲ء میں سکائپ سے ریکارڈکر کے اکانومسٹ  لندن اوربنگلہ دیش کے اخبارات نے شائع کرکے بتایاکہ یہ عدالت حکومت کی ہدایات پر فیصلے کررہی ہے نہ کہ قانون اور عدل کے مسلّمہ اصولوں کے مطابق۔

اسی طرح بنگلہ دیش میں اظہارراے کے ذرائع پر بری طرح پابندیاں عائد ہیں، جس کی چندمثالیںدیکھ کراندازہ ہوسکتا ہے کہ وہاں جبروظلم کاراج کس طرح اپنے شہریوں کی زندگی کو عذاب بنارہاہے۔ ۲۷؍اپریل ۲۰۱۰ء کو نجی شعبے میں سب سے بڑے ٹی وی نیٹ ورک ’چینل ون‘ کو اس لیے بندکردیاگیاکہ وہ حزب اختلاف کی خبریں نشرکرتا ہے۔ ۲۲؍اگست ۲۰۱۱ء کواطلاعاتی ترسیل کے سب سے مؤثرنجی ادارے ’شیرشا نیوز‘(Sheersha News) کوکام کرنے سے روک دیا، اور اس کا سبب بھی حزبِ اختلاف کی خبریں نشرکرنا تھا۔ ۱۶ فروری کوحکومت کی بھارت نواز پالیسیوں پرتنقیدکرنے والے’سوناربلاگ‘ کو بندکردیاگیا۔ ۱۱؍اپریل ۲۰۱۳ء کو بنگلہ دیش میں حزبِ اختلاف کے سب سے بڑے حامی اخبار اماردیش (Amar Desh) کے مدیرکواس بنا پر گرفتارکرکے تشددکانشانہ بنایاگیاکہ انھوں نے نام نہادعدالتی جج مسٹرنظام کی غیرقانونی اور غیراخلاقی گفتگوکو شائع کیا تھا، حالانکہ یہ گفتگو اکانومسٹ لندن بھی شائع کرچکاتھا۔ ۱۴؍اپریل۲۰۱۳ء کو حکومتی مسلح ایجنسیوںنے اسلامی قوتوں کے سب سے بڑے اور قدیم اخبار سنگرام کے دفاترپرحملہ کردیا۔

۵مئی ۲۰۱۳ء کو ’ڈی گنتا ٹیلی وژن‘ (Diganta TV) اور ’اسلامک ٹیلی ویژن‘ پر اس لیے پابندی عائد کردی کہ انھوں نے ’حفاظتِ اسلام‘ تنظیم کے پُرامن احتجاجی دھرنے کو کچلنے کے حکومتی قتلِ عام کی تصاویر دکھائی تھیں۔حفاظت اسلام نامی تنظیم‘ جو علما اور دینیطالب علموں پرمشتمل ہے، کے پُر امن احتجاج ۵مئی ۲۰۱۳ء کو ۱۰ہزار مسلح اہل کاروں کے ذریعے کچل دیاگیا۔ بیسیوں طالب علموں کی لاشوں کا آج تک نشان نہیں ملا۔صحافیوں کو ڈرانے، اخبارات کی اشاعت کو معطل کرنے اور میڈیا کی نشریات کوخراب کرنے کا کھیل پوری قوت سے جاری ہے۔ اس جارحیت پر۱۶قومی اخبارات کے ایڈیٹروں نے ایک مشترکہ بیان میں حکومتی کارروائیوں کی مذمت کی اور مطالبات پیش کیے، جنھیں بھارتی کٹھ پتلی حکومت نے مستردکردیا۔درحقیقت عوامی لیگ حکومت کی جڑ ڈھاکہ میں نہیں، نئی دہلی سے خوراک حاصل کرتی ہے۔

ایک غیرآئینی اور غیر اخلاقی حکومت کی سربراہ حسینہ واجد درحقیقت اپنے والد شیخ مجیب کی جابرانہ انتقامی پالیسیوں کاتسلسل ہے، جس نے فروری۱۹۷۵ء میںپورے بنگلہ دیش میں سیاسی پارٹیوںکوختم کرکے ایک پارٹی کی حکومت قائم کی تھی اور پھر۷جون ۱۹۷۵ء کودستورمیں چوتھی ترمیم کرکے ایک پارٹی اورایک اخبارکا کالاقانون نافذ کیا گیاتھا۔ ان اقدامات کے لیے اسے دہلی سرکارکی سرپرستی حاصل تھی۔ اسی طرح جولائی ۲۰۱۴ء میں مولانا مودودی کی کتب کو مساجد اور تعلیمی اداروں کی ۲۴ہزار لائبریریوں میں رکھنے پر پابندی لگا دی گئی۔پھر حسینہ واجد نے ۱۷؍اگست ۲۰۱۴ء کو دستور میں ۱۶ویں ترمیم کا مسودہ کابینہ سے منظور کرایاہے، جس کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ ، عملاً   اس طرح حکومت کے رحم و کرم پر ہوگی کہ ججوں کا مواخذہ عدالتی کمیشن نہیں کرے گا بلکہ براہِ راست پارلیمنٹ ہی ججوں کی قسمت کا فیصلہ کیا کرے گی۔

بنگلہ دیش کوایک بڑے جیل کی شکل دے کرہزاروں سیاسی بلکہ سماجی کارکنوں تک کو جیلوں میں ٹھونسا جا چکاہے۔ بنگلہ دیش میں اس وقت ۶۲۹پولیس اسٹیشن ہیں جہاں پر صرف ۲۰۱۲ء میں ۲لاکھ ۲۹ہزار ۵سو ۸۵ افراد کو گرفتارکرکے مختلف اوقات میں تشددکانشانہ بنایاگیا۔ ۲۰۱۳ء میں یہ تعداد دگنا ہوگئی۔ جیلوں میںقیدبزرگوں ، لیڈروں اور کارکنوں کوقانونی ، طبی اور بنیادی سہولتیں تک میسرنہیں۔

جماعت اسلامی اور طالب علموں کی تنظیم اسلامی چھاتروشبر (اسلامی جمعیت طلبہ) کے ہزاروں کارکنوں کو جیلوں میں بند‘ سیکڑوں کارکنوں کو زخمی اور درجنوں کارکنوں کو گولی مار کر قتل کیاجاچکاہے، جب کہ سیکڑوں کارکن طالب علموں کو تعلیمی اداروں سے بے دخل کیاجاچکاہے۔

اسلامی چھاتروشبرکے کارکنوں پر تشددکے لیے RAB (ریپڈایکشن بٹالین)، بارڈرگارڈز بنگلہ دیش(BGB)، پولیس اورعوامی لیگ کے غنڈاعناصراورچھاترولیگ کے   دہشت گردوںکی مشترکہ ٹیم متحرک ہے۔ شبر کے جن سیکڑوں کارکنوںکوزخمی کیاگیاہے ان میں سے بہت سوں کو زندگی بھرمعذوربنانے کے لیے ‘ ان کی دونوں ٹانگوں پر قریب سے گولیاں مار کر اپاہج کردیاگیاہے، یاپھرکہنیوںمیں گولیاں مارکرہاتھوں سے معذورکردیاگیاہے۔ اس نوعیت کے خوف ناک تشدداورباقاعدہ اندازسے ظلم کی مثالیں عصرِ حاضر میں کہیں نہیں دیکھی گئیں۔ مگرافسوس ہے کہ دنیا میں اس کے خلاف آوازبلندنہیں ہورہی۔

گذشتہ برس ایک طالب علم دلاورحسین کو، جو اسلامی چھاتروشبرسے تعلق رکھتے ہیں، ڈھاکا سے گرفتار کرکے ۳۵۲ مقدمات میں ملوث کیا۔ ۴۵روز تک تشددکے دوران ان کے ہاتھ اور پاؤںکے ناخن جڑسے اکھاڑ لیے گئے اور اتنا تشددکیاکہ دلاور کے جسم کا آدھاحصہ مفلوج ہوگیاہے۔ یہ ایک مثال نہیں بلکہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ جنھیں بیان کرتے ہوئے روح کانپ اُٹھتی ہے۔

۲۰۱۴ء کے جون میں اسلامی چھاتری شنگھستا (اسلامی جمعیت طالبات) کی۳۲کارکنان کو بھی توہین آمیزطریقے سے گرفتارکرکے جیلوںمیں بندکردیاگیا۔

معلومات کے اس برق رفتارزمانے میں یہ سب کچھ ہورہاہے اور کوئی اس ظلم کا ہاتھ روکنے والانہیں۔ یہ سب کچھ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور بے حرمتی ہے اور انسانی حقوق کا تعلق سرحدوں کی قید سے مشروط نہیں۔ اس لیے دنیا کے کونے کونے سے عوامی لیگی کٹھ پتلی حکومت کے اس ظلم کے خلاف آواز بلندہونی چاہیے۔ نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کو توڑاجائے۔ گرفتارشدگان کو رہاکیاجائے۔ جعلی انتخاب کی پیداوارحکومت کو برطرف کرکے نئے انتخابات کرائے جائیں اور بھارتی تسلط سے بنگلہ دیش کے عوام کو آزادی دلائی جائے۔

سوال : قربانی سے متعلق متفرق سوالات

گھر کے ہر ہر فرد کی طرف سے ایک ایک قربانی ضروری ہے یا ایک قربانی تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہے؟ قربانی کرنا زیادہ افضل ہے یا قربانی کے پیسے  صدقہ کردینا؟

جواب:

قربانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مؤکدہ ہے۔ نبی اکرمؐ نے اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے دو تندرست مینڈھے ذبح کیے تھے اور فرمایا تھاکہ: ’’اے اللہ! یہ میری طرف سے میرے گھر والوں کی طرف سے اور میری اُمت میں سے جن لوگوں نے قربانی نہیں کی ان لوگوں کی طرف سے ہے‘‘....

رہا یہ مسئلہ کہ قربانی زیادہ افضل ہے یا قربانی کے روپے کو صدقہ کرنا، تو میری راے یہ ہے کہ بلاشبہہ قربانی کرنا زیادہ افضل ہے۔ اس لیے کہ قربانی ایک عبادت ہے جس کا مقصد حضرت ابراہیم ؑ کی سنت کو برقرار اور زندہ رکھنا ہے۔ یہ عبادت ہمیشہ اس عظیم الشان واقعے کی یاد دلاتی رہتی ہے جب ابراہیم ؑ اپنے جگر کے ٹکڑے کو اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں اسی کی بارگاہ میں قربان کرنے چلے تھے۔ اپنے رب سے محبت کی یہ ایسی مثال ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے پیارے بندے کو اس کا یہ صلہ دیا کہ اس کے اس فعل کو قیامت تک کے لیے یادگار بنادیا۔ ہر قوم اپنے اہم دن مثلاً آزادی کا دن یا جنگ میں فتح کا دن وغیرہ کی یاد تازہ رکھنے کے لیے ہر سال اس کا جشن مناتی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ قربانی کر کے اس عظیم الشان واقعے کی یاد تازہ رکھیں۔ اس لیے قربانی کرنا قربانی کی قیمت کو صدقہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ افضل اور احسن ہے۔

البتہ اگر قربانی کسی میت کی طرف سے کی جارہی ہے تو میری راے یہ ہے کہ اگر قربانی کسی ایسے علاقے میں کی جائے جہاں لوگوں کو گوشت کی زیادہ ضرورت ہے تو وہاں قربانی کرنا زیادہ افضل ہے، اور اگر قربانی کسی ایسے علاقے میں کی جائے جہاں پہلے سے کافی گوشت موجود ہو اور لوگوں کو پیسوں کی زیادہ ضرورت ہو تو وہاں قربانی کی قیمت کو صدقہ کرنا زیادہ افضل ہے۔

گھر کے تمام افراد کی طرف سے صرف ایک قربانی کا جانور کافی ہے۔ کیوں کہ نبی اکرمؐ نے جب قربانی کی تو فرمایا کہ اے اللہ! یہ محمدؐ اور اس کے گھروالوں کی طرف سے ہے۔ ابوایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ حضوؐر کے زمانے میں ہم میں سے ہرشخص اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے صرف ایک بکری ذبح کرتا تھا۔ لیکن اس کے بعد لوگوں نے فخرومباہات کے لیے زیادہ قربانیاں کرنی شروع کردیں جیساکہ تم دیکھ رہے ہو۔(ڈاکٹر یوسف قرضاوی، فتاویٰ یوسف قرضاوی، ص ۱۹۴-۱۹۶)

سوال : بچپن کا حج

کیا سنِ بلوغ سے قبل حج کرنے سے فرض حج ادا ہوجائے گا؟ اس سن میں اگر کسی نے حج کیا اور اس کے بعد گناہ کی زندگی گزاری تو کیا اس کا حج باطل ہوجائے گا اور اسے دوبارہ حج کرنا ہوگا؟

جواب :

سنِ بلوغ سے قبل حج کرنے سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔ حج کی فرضیت اسی وقت ساقط ہوتی ہے جب اسے سنِ بلوغ کے بعد ادا کیا جائے۔

حج کی ادایگی کے بعد بھی کوئی شخص بُرے کاموں میں ملوث رہا تو اس سے اس کا حج باطل نہیں ہوگا کیوں کہ بُرے کاموں کی وجہ سے اچھے اور نیک اعمال رائیگاں نہیں ہوتے، البتہ ان کے ثواب میں کمی ضرور ہوجاتی ہے۔ قیامت کے دن ہر شخص کے سامنے اس کے چھوٹے بڑے، اچھے اور بُرے سارے اعمال پیش کیے جائیں گے اور انھی اعمال کی بنیاد پر اس کا حساب کتاب ہوگا۔ فرمانِ الٰہی ہے: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ o وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ o (الزلزال۹۹: ۷-۸) ’’ جوکوئی ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرہ برابر بدی کرے وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘۔

بہرحال، بندۂ مومن سے یہی اُمید کی جاتی ہے کہ حج کا اثر اس کے اعمال میں ظاہر ہو۔ اپنی گذشتہ زندگی میں جن بُرے کاموں میں وہ ملوث رہا، ان سے سچی توبہ کرے اور آیندہ زندگی اللہ کی اطاعت میں گزارنے کا پکا ارادہ کرے اور اس کے لیے پوری کوشش کرے۔ اللہ سے اپنے رشتے کو مضبوط تر کرے اور یہی وہ حج مبرور ہے جس کا صلہ جنت ہے۔

اگر صاحب ِ سوال نے سنِ بلوغ سے پہلے حج کیا ہے تو انھیں اب دوبارہ حج کرنا چاہیے تاکہ فرضیت ادا ہوسکے، البتہ پہلے حج کا ثواب انھیں ضرور ملے گا۔ (ایضاً،ص ۱۸۳)

سوال : بقرعید کے چاند کے بعد بال یا ناخن کٹوانا

کیا بقرعید کا چاند دیکھنے کے بعد اس شخص کے لیے ناخن یا بال کٹواناجائز ہے جو قربانی کرنا چاہتا ہو؟

جواب :

حنبلی مسلک کے مطابق قربانی کرنے والے شخص کے لیے چاند دیکھنے کے بعد بال یا ناخن کٹوانا جائز نہیں ہے، کیوں کہ حجاج کرام احرام کی حالت میں یہ چیزیں نہیں کٹواتے۔ اس لیے اس کیفیت کو زندہ رکھنے کے لیے قربانی کرنے والے کو بھی یہ چیزیں نہیں کٹوانی چاہییں۔ البتہ راجح قول یہ ہے کہ ایسا کرنا صرف مکروہ ہے۔ اگر کسی نے ناخن کٹوایا یا بال بنوا لیے تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔ اسے چاہیے کہ اللہ سے مغفرت طلب کرے اور بس۔ اگر کسی شخص کو زیادہ دن تک ناخن یا بال چھوڑنے سے تکلیف ہوتی ہو اور اس نے یہ چیزیں کٹوا لیں تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ (ایضاً، ص ۱۹۶-۱۹۷)

مولانا عبدالسلام نیازی، مرتبہ: راشد اشرف۔ ناشر: اُردو اکیڈمی، ۳۳-سی ، ماڈل ٹائون اے، بہاول پور۔ فون: ۹۶۸۴۱۵۰-۰۳۰۰۔ صفحات: ۲۳۶۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

مولانا عبدالسلام نیازی (۱۸۶۴ء- ۳۰جون ۱۹۶۶ء) ایک ایسے عالم، فلسفی اور سلوک و طریقت کے رمزشناس تھے کہ درِ تذکار بند کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ یہ کتاب علم و عرفان کے گوہرشناسوں کے لیے ایک تحفہ ہے۔

جماعت اسلامی سے وابستگان کے لیے نیازی صاحب کی اہمیت اس حوالے سے ہے کہ سیدابوالاعلیٰ مودودی نے ۱۷برس کی عمر میں ان کی شاگردی سے بھی فیض پایا۔ تاہم، اس حوالے سے ہٹ کر بھی مولانا عبدالسلام نیازی کی شخصیت کی قوسِ قزح اپنے اندر ایک کشش رکھتی ہے اور     انھیں جاننے کی پیاس بڑھاتی چلی جاتی ہے، حالانکہ: ’’مولوی [عبدالسلام] صاحب ایک حیرت انگیز مجموعہ اضداد تھے‘‘ (ص ۱۰۶)۔ اس انداز کو اپنانے کا ایک سبب یہ ہوسکتا ہے کہ ’’مولوی صاحب اس نظریے پر عمل پیرا ہوں، اور ایسی حرکات جان بوجھ کر کر گزرتے ہوں تاکہ دیکھنے والے ان کو قابلِ نفرت سمجھنے لگیں۔ لیکن مذلت و رُسوائی کی ان کوششوں کے باوجود ان کی تعظیم و تکریم میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا اور لوگ اُن کی اِن باتوں کو بھی قلندرانہ ادائوں سے تعبیر کرتے رہے‘‘۔(ص ۴۷)

اس کتاب کے تعارف کے لیے داخلی شہادتوں سے گفتگو کو یوں پھیلایا جاسکتا ہے:  ’’مولانا نیازی کا وطن میرٹھ تھا، جوانی میں دلی آگئے تھے‘‘ (ص ۲۳)۔ ’’سرآرنلڈ کو عربی پڑھائی اور ان سے انگریزی سیکھی۔ جرمن مستشرق ڈاکٹر ہریمن کو عربی پڑھائی اور ان سے جرمن اور فرانسیسی زبانیں سیکھیں۔ عربی، فارسی، سنسکرت، فرانسیسی، جرمن، لاطینی سمیت ۲۰ زبانوں پر عبور رکھتے تھے‘‘ (ص۳۱، ۳۲)۔اسی طرح ’’ابوطاہر کے بقول: مولانا نیازی سریانی، عبرانی، مکرانی، جمیری وغیرہ زبانوں [پربھی] عبور رکھتے تھے، اور آثارِ قدیمہ اور کتبات کی وضاحت کرسکتے تھے‘‘(ص ۱۸۸)،  جب کہ ’’سنسکرت زبان و ادب کے اکتساب کے لیے انھوں نے برسہا برس ایک سادھو کے بھیس میں ہردوار، متھرا، پریاگ اور کاشی میں علماے ہنود کی صحبت میں گزارے‘‘۔ (ص ۳۲، ۸۹)

’’مولانا عبدالسلام نیازی کا پسندیدہ موضوع وحدت الوجود تھا‘‘ (ص ۳۷)۔ ’’وہ بڑے خدارسیدہ اور قلندر منش تھے۔ قوالی سننے کا شوق تھا‘‘(ص ۳۸،۳۹)۔ ’’ان کی صحبت میں بہ یک وقت علم دوست حضرات اور جہلا دونوں موجود ہوا کرتے تھے‘‘(ص ۹۸)۔ ’’علامہ اقبال کے اشعار کو بڑی دل چسپی اور بہت ذوق و شوق کے ساتھ سنا کرتے تھے، اور انھیں علومِ مشرقی و مغربی کی   پوٹ کہا کرتے تھے۔ خود علامہ اقبال بھی مولوی صاحب سے بہت عقیدت مندانہ انداز میں ملا کرتے تھے‘‘ (ص ۱۰۳)۔ مولانا نیازی کہا کرتے تھے: ’’آدمی اور انسانیت الگ الگ لفظ ہیں۔ غالب نے جب کہا تھا کہ ’’آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا‘‘تو اسی جانب اشارہ کیا تھا‘‘۔(ص ۱۲۳)

مولانا عبدالسلام نیازی: ’’مشرقی علوم کے حرفِ آخر تھے۔ قرآن، حدیث، منطق، حکمت، تصوف، عروض، معنی و بیان، علم الکلام، تاریخ، تفسیر، لغت، لسانی قواعد، ادب اور شاعری کے امام تھے‘‘(ص ۱۳۸) اور: ’’ان علما کی آخری یادگار تھے، جن پر اسلامی تمدن کبھی ناز کیا کرتا تھا‘‘۔ (ص ۱۱۴)

چونکہ یہ مجموعہ مختلف تحریروں کا گلدستہ ہے، اس لیے کہیں کہیں تکرار ہے اور کچھ روایت کے متحارب اور الحاقی بیانات بھی دَر آئے ہیں۔ مرتب نے فاضل لوازمے کو بلاتبصرہ پیش کردیا ہے کہ قاری اپنے اپنے ذوق کے مطابق اخذ و اکتساب کرے۔ یوں تو تمام تحریریں دل چسپ ہیں، البتہ رزمی جے پوری، مسعود حسن شہاب، مقصود زاہدی ، خلیق انجم ،انورسدید ، مسعود حسن شہاب اور عاصم نعمانی کی تحریریں خصوصی توجہ کی طالب ہیں ۔ اُردو اکیڈمی بہاول پور اور راشد اشرف اس خدمت پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ (سلیم منصور خالد)


Urdu Works of Abu al-A'la Maududi، [ابوالاعلیٰ مودودی کی اُردو تصانیف]، نوریکوساسا وکی۔ ناشر: مرکز براے اسلامک ایریا اسٹڈیز، اوساکا یونی ورسٹی، جاپان۔ صفحات:۱۱۴۔ قیمت: درج نہیں۔

کیوٹو (Kyoto) یونی ورسٹی، جاپان کی فعال اور بڑی یونی ورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے ایریا اسٹڈی منصوبے کے تحت ’جنوبی ایشیا میں مطالعاتِ اسلام‘ کے سلسلے میں بعض تحریکوں اور شخصیتوں کا مطالعہ کیا جاتا رہا ہے۔ اسی ضمن میں یونی ورسٹی کی ایک طالبہ نوریکو ساساوکی  (Noriko Sasaoki) کو سیّدابوالاعلیٰ مودودی (بانی جماعت اسلامی) کی تصانیف کی وضاحتی فہرست تیار کرنے کا کام سونپا گیا۔ نوریکو کا ماحصلِ تحقیق جاپانی زبان میں تیار ہوا تھا،اب اسے انگریزی زبان میں منتقل کرکے شائع کیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے سلسلے میں نوریکو نے کئی بار پاکستان کا سفر کیا۔ وہ ہفتوں اور مہینوں یہاں مقیم رہیں۔ مولانا کی تمام دستیاب کتابیں خریدکر لے گئیں۔ تصانیفِ مودودی کا ایک بڑا ذخیرہ اوساکا یونی ورسٹی اور وہاں کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سویامانے کے کتب خانے میں موجود ہے۔ سویامانے اُردو کے استاد اور عالم ہیں اور زیرنظر تحقیقی کام انھی کی دل چسپی سے اور انھی کی نگرانی میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ دیباچہ بھی انھی کا تحریر کردہ ہے۔

نوریکو نے اپنے دیباچے میں اختصار کے ساتھ مولانا مودودی کے سوانح، جماعت اسلامی کا تعارف، جماعت کے قیام کا احوال اور پھر اپنے زیرنظر تحقیقی کام کی نوعیت بیان کی ہے۔ انھوں نے راقم کی تیار کردہ فہرست ’’تصانیف مودودی: ایک اشاعتی اور کتابیاتی مطالعہ‘‘ مشمولہ: تذکرہ سیّد مودودی:۳ اور ’’سیّد مودودی: فکری و قلمی آثار‘‘ (مرتبہ: رفیع الدین ہاشمی، سلیم منصورخالد) مشمولہ: ابوالاعلٰی مودودی، علمی و فکری مطالعہ سے بھی مدد لینے کا اعتراف کیا ہے۔

تصانیف مودودی کی یہ وضاحتی فہرست نہایت سلیقے سے اور تصانیف مودودی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے مرتب کی گئی ہے (قرآن اور حدیث سے متعلق کتابیں، مولانا کی مرتبہ اور ان کی نگرانی میں تیار شدہ کتابیں، کتابچے ، خطوں کے مجموعے، مولانا کی ترجمہ کردہ کتابیں دوسروں کی مرتبہ کتابیں)۔ یہ کہنا مشکل ہوگا کہ مولانا کی فلاں کتاب یا کتابچہ اس فہرست میں شامل ہونے سے رہ گیا۔ دراصل یہ کتاب بھی مولانا مودودی، جماعت اسلامی اور سلسلۂ تحریکاتِ اسلامی کے مطالعات کی ایک کڑی ہے جو گذشتہ صدی کے آخری برسوں سے کئی ممالک خصوصاً جاپان میں شروع کیے گئے ہیں۔ خود سویامانے بھی اس سلسلے پر کچھ لکھ چکے ہیں۔ مولانا مودودی اور ان کے نظریات سے جاپانیوں کی دل چسپی کے بارے میں ڈاکٹر معین الدین عقیل نے بھی کچھ معلومات مہیا کی ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)


فصوص الحکم، شیخ محی الدین ابن عربی، ترجمہ و تشریح: مولانا محمد عبدالقدیر صدیقی، سلیس متن: محمدعبدالاحد صدیقی۔ ملنے کا پتا: کتاب محل، دربار مارکیٹ، میلارام روڈ، لاہور۔ فون: ۸۸۳۶۹۳۲-۰۳۲۱۔ صفحات: ۳۱۳۔ قیمت: ۶۰۰۔

شیخ محی الدین ابن عربی، نظریۂ وحدت الوجود کے سب سے بڑے مبلّغ اور مفسر سمجھے جاتے ہیں۔ فصوص الحکم ان کی ایک بڑی اور معروف تصنیف ہے۔ ابن عربی مفکر اور عالم ہونے کے ساتھ شاعر بھی تھے۔ عربی، فارسی اور اُردو کی فکریات پر ان کے اثرات ہمہ جہت ہیں۔ فصوص الحکم کے کئی اُردو ترجمے ہوئے اور متعدد شرحیں بھی لکھی گئی ہیں۔ یہ کتاب مدارس کے مختلف نصابات میں بھی شامل رہی ہے۔ مولانا محمد عبدالقدیر صدیقی (استاد، شعبۂ اسلامیات جامعہ عثمانیہ) نے بھی اس کا ایک ترجمہ کیا اور اس کی شرح بھی لکھی، مگر یہ ترجمہ اور شرح زبان و بیان کے اعتبار سے بہت ادَق اور مشکل تھی۔ ان کے ایک نبیرہ محمد عبدالاحد صدیقی نے اس کی زبان اور اسلوب کو موجودہ عہد کی زبان میں ڈھالا تاکہ تفہیم آسان ہو، چنانچہ اب یہ ترجمہ اور شرح بقول ڈاکٹر معین الدین عقیل: ’’ہرشخص کے لیے قابلِ فہم اور قابلِ استفادہ ہوگئی ہے‘‘۔ اُمید ہے فصوص الحکم کے قارئین کے لیے یہ کتاب مفید اور سودمند ثابت ہوگی۔(رفیع الدین ہاشمی)


طفیل قبیلہ، محمد اسلم جمال۔ ناشر: جمال الدین سنز، ۴۴-عمرمارکیٹ، لنک ریلوے روڈ، لاہور۔ فون: ۳۷۶۵۷۲۵۲-۰۴۲۔ صفحات (مجلاتی سائز): ۴۳۰، مع اشاریہ۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

بیسویں صدی میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (م: ۲۲ستمبر ۱۹۷۹ء) داعی تحریک اسلامی تھے، تو ان کے دست ِ راست میاں طفیل محمد (م: ۲۵ جون ۲۰۰۹ء) معمارِ تحریک اسلامی تھے۔ میاں صاحب کی للہیت، خلوص، ایثار اور خدمت ِ دین ضرب المثل ہے۔

ان کے داماد محمد اسلم جمال نے اس عظیم شخصیت کی زندگی کے مختلف گوشوں کو بہت محبت سے یک جا کردیاہے۔ اگرچہ کتاب کا محور میاں صاحب کی شخصیت ہے، مگر اس تذکرے میں ان کا خاندانی پس منظر اور ان کے اعزّہ و اقربا کا ذکر بھی تفصیلاً آگیا ہے، جب کہ جماعت اسلامی کے مختلف گوشے واقعاتی اور بیانیہ انداز میں سامنے آئے ہیں۔ بلاشبہہ بعض معلومات پہلے سے ریکارڈ پر موجود ہیں، مگر یہاں یک جا آگئی ہیں۔

میاں طفیل محمد مرحوم کے دست ِ راست چودھری رحمت الٰہی صاحب نے بجافرمایا ہے: ’’میاں صاحب شعائر اسلام کے سختی سے پابند تھے، بالخصوص نمازیں پورے خضوع و خشوع سے   ادا فرماتے تھے‘‘ (ص ۲۸)۔ اور محترم سید منور حسن کے بقول: ’’فریضہ اقامت ِ دین، ان کی بابرکت زندگی کا نصب العین اور جلی عنوان بنا۔ انھوں نے نماز کو اپنی زندگی کا امام قرار دیا ہوا تھا… میاں صاحب ہمیشہ راضی برضا نظر آئے اور صبروتحمل کا کوہِ گراں دیکھے گئے‘‘۔ (ص ۲۴-۲۶)

ان دو اقتباسات میں جو نکات نمایاں ہیں، ساری کتاب میں انھی کی تفصیل بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔(سلیم منصور خالد)


اعتراف (شخصی خاکے)، سعید اکرم۔ ناشر: محمد احمد سعید۔ ملنے کے پتے: الہدیٰ صادق کالونی ، سہگل آباد، چکوال۔ فون: ۵۸۲۶۸۴۰-۰۳۴۶۔ کتاب سراے، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۱۲۵۔ قیمت:درج نہیں۔

۲۳ خاکوں کے اس مجموعے کا نام ’اعتراف‘ معنی خیز ہے۔ سرورق پر ’اعتراف‘ کے ساتھ ’شخصی خاکے‘ کی توضیح درج ہے۔ خاکے تو ’شخصی‘ ہی ہوتے ہیں اور اس لیے بعض اوقات انھیں، ’شخصیہ‘ اور خاکہ نگاری کو ’شخصیت نگاری‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے مگر سعید اکرم صاحب نے انھیں  ’شخصی خاکوں‘ کا نام اس لیے دیا ہے کہ یہ معروف شخصیتوں، دانش وروں، مشاہیر شعروادب یا    اکابر سیاست کے نہیں، بلکہ یہ ان افراد کے خاکے ہیں جن سے خاکہ نگار کو اپنے بچپن، لڑکپن،  جوانی اور موجودہ (بڑھاپے) زمانوں میں واسطہ رہا۔ یہ ان کے گائوں اور ان کے شہر کے مختلف کردار ہیں جن میں سے زیادہ تر اساتذہ ہیں (جن کے سامنے انھوں نے زانوے تلمذ تہ کیا یا کچھ ایسے پروفیسر حضرات جو کالجوں میں ان کے رفیقِ کار رہے)۔

سیّد نیاز حسین شاہ (شاہ جی) گائوں کی مسجد کے خطیب تھے مگر روایتی اماموں اور خطیبوں سے قطعی مختلف۔ عربی اور فارسی کے عالم، مطالعے کے رسیا اور خوش خطی کا ذوق رکھنے والے شگفتہ مزاج شخص تھے۔ ایک صاحب ِ حیثیت (میاں بشیر سہگل) نے گائوں میں سکول کھولا تو شاہ جی عربی فارسی کے استاد مقرر ہوگئے۔ اسی طرح حافظ فیروزالدین (حافظ جی) ’قناعت کی زندگی‘ کی ایک مثال تھے۔ نرے حافظ جی نہ تھے، اپنے وقت کے سیاسی، مذہبی اور معاشرتی موضوعات پر اعتماد کے ساتھ بات کرتے اور دینی مسائل میں لوگوں کو اچھی خاصی رہنمائی فراہم کرتے۔ اسی طرح حافظ محمد صادق، اسی طرح پروفیسر چودھری سلطان بخش (پرنسپل) جو ڈسپلن کے معاملے میں ذرا سی رُو رعایت کے بھی قائل نہ تھے۔ سخت گیر اور سخت مزاج مگر طلبہ کے حق میں بہت شفیق۔ بہت انہماک سے پڑھاتے اور وقت سے پہلے کلاس کبھی نہ چھوڑتے۔کلاس سے باہر بھی طلبہ کی تربیت اور ان کے ذہن کو جِلا دینے کا سامان پیدا کرتے رہتے۔ ’ہماری مائیں‘ گائوں کی ان روایتی مائوں کا خاکہ ہے جو فقط کسی ایک بچے سے نہیں، بلکہ گائوں اور گلی محلے کے سارے بچوں سے اپنے بچے کا سا پیار کرتی ہیں۔ ایسے حقیقی کرداروں میں ماسی ولایتاں، ماں بھاگی، ماں سرداراں اور ماں مکھی وغیرہ شامل ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’تو یہ تھی ہماری مائیں،جنھوں نے ہمیں پالا پوسا، بڑا کیا اور انسان بنایا۔ آج ہمارے اندر انسانیت نام کی کوئی رمق ، احترام اور عزت کے جذبے کا کوئی شائبہ اور محبت کے مادے کا کوئی ذرہ موجود ہے تو یہ صرف ان ہستیوں کی دین ہے‘‘۔ ان خاکوں میں آپ بیتی کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ پرانے وقتوں کی تصاویر بھی شاملِ کتاب ہیں۔


سعید اکرم صاحب نے یہ خاکے لکھ کر اپنے بقول:’’دل کے اوج فلک پر چمکنے والے ستاروں کو صفحۂ قرطاس پر اُتارا ہے‘‘ (ص ۱۶)۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے ’’مجھے نشوونما دی اور اپنی محبتوں کی گود میں پال کر بڑا کیا‘‘۔(ص ۱۲۳)

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ملک کے بقول: ’’انھوں نے اپنے محسنوں کی شخصیات کے نہایت ہی اعلیٰ خاکے کھینچ کر اپنی وفا اور اپنے قلم کا حق ادا کردیا ہے‘‘۔ طباعت و اشاعت، جلدبندی مناسب اور کاغذ عمدہ ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)

نقوشِ زندگی (خودنوشت سوانح حیات)، مولانا محمد عبدالمعبود۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، خالق آباد، نوشہرہ۔ صفحات: ۲۵۲۔ قیمت: درج نہیں۔

خودنوشت سوانح عمریوں کی روایت قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے۔ معیاری سوانح عمری کے بارے میں متعدد آرا ملتی ہیں۔مغربی ادبیات میں اس کے اصول و قواعد اور معیار کا پیمانہ مشرقی ادبیات سے مختلف ہے۔ تاہم آ پ بیتی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ کسی انسان کی زندگی کے تجربات، مشاہدات ، محسوسات، نظریات اور عقائد کی ایک مربوط داستان ہوتی ہے جو خود اس نے بے کم و کاست قلم بند کردی ہو، جسے پڑھ کر اس کی زندگی کے نشیب و فراز معلوم ہوں۔

زیرنظر آپ بیتی مصنف کی زندگی کے حالات کی راست تصویر کشی ہے۔ ان کے موے قلم نے واقعات کے ایسے خوش نما پیکر تیار کیے ہیں کہ گذشتہ ۵۰برس کے ملکی حالات سامنے آجاتے ہیں۔ مصنف ایک عالم دین ہیں، اپنی تعلیمی اور تدریسی زندگی کے کوائف کے علاوہ اپنے اساتذہ، پیرومرشد اور عزیز واقارب سے متعلق اپنے روابط صاف صاف طریقے سے بیان کردیے ہیں۔ جس ماحول میں مصنف کی تعلیمی زندگی گزری، وہاں سیّد مودودیؒ کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں تھا، چنانچہ زیرنظر کتاب کے مطابق مصنف نے دل کھول کر اس محاذ آرائی میں حصہ لیا جو اُس دور کے علما اور مولانا مودودیؒ میں جاری تھی۔ تحریری و تقریری مباحثے اور مناظرے بھی زوروں پر تھے۔

اس آپ بیتی میں مصنف نے ملکی اور غیرملکی استعمار کا ذکر بھی کیا ہے۔ بیرونِ ملک سفرناموں کے سلسلے میں بھارت کا سفر یادگار سفر کہا جاسکتا ہے، جس میں ’شیخ الہند سیمی نار‘ میں ایک مقرر کے پاکستان کے خلاف تبصرے پر مصنف اور ان کے ساتھی اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے باہر چلے گئے (ص ۲۶۰)۔ اسی سفر میں آگرہ قلعے کی سیر کے موقعے پر یہ افسوس ناک واقعہ بھی پیش آیا کہ مصنف کے وفد کے ایک پاکستانی فرد کو قلعے کے دروازے پر اپنی ٹوپی اُتار کر قلعے کے محافظ ہندوئوں کے پائوں پر رکھنی پڑی لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے (ص ۲۶۱)۔ (ظفرحجازی)


امریکا زوال کی جانب، رضی الدین سیّد۔ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۲۴۱۹-۰۴۲۔ صفحات: ۱۶۰۔ قیمت: ۲۲۰ روپے۔

مصنف ایک منجھے ہوئے قلم کار ہیں۔ مختلف عنوانات پر کئی کتب کے مصنف ہیں۔  کراچی میں ’نیشنل اکیڈمی آف اسلامک ریسرچ‘ کے کرتا دھرتا ہیں جہاں سے صہیونیت پر منظم اور سائنٹی فک انداز میں ۱۵قیمتی کتب شائع کی جاچکی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب میں مصنف نے امریکا کے خلاف عالمی نفرت، اخلاقی بے راہ روی، امریکی شرح پیدایش میں تیزرفتار کمی، معیشت کا زوال، امریکا پر یہودی اثرات، امریکا میں اسلحہ کی بہتات اور اس کے استعمال کے خطرناک اثرات، اور مختلف مفکرین کے خیالات اور آرا پیش کی ہیں۔ امریکا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کا جائزہ بھی پیش کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو قوم اخلاقی زوال کا شکار ہوجائے اور جس کے امن و سلامتی کے تصورات اپنے لیے کچھ اور دوسروں کے لیے کچھ اور ہوں اور جو اپنی سیاسی اور سماجی غلبے کے خبط میں ہراخلاقی اصول کو تاراج کردے، اگر وہ ترقی کی معراج پر ہے تو لازماً تباہی کی طرف گامزن ہوگی اور یہی حال امریکا کا ہے۔ ہم روس کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ وہ افغان مجاہدین کے ساتھ معرکہ میں جس بُری طرح بکھرا اور ٹوٹا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کی وجوہات وہی ہیں جو اُوپر بیان ہوئیں۔ اپنے گہرے مشاہدے کی بنیاد پر مولانا مودودیؒ نے ایک صدی قبل روس کے زوال کی پیش گوئی کی تھی اور ساتھ ہی ساتھ امریکی زوال کی پیش گوئی بھی۔ بس اب وقت کا انتظار ہے!(شہزادالحسن چشتی)


حکایاتِ حکمت و دانش، ملک احمد سرور۔ ناشر: طٰہٰ پبلی کیشنز، ۱۹- ملک جلال الدین (وقف) بلڈنگ، چوک اُردو بازار، لاہور۔ فون:۴۴۷۰۵۰۹-۰۳۳۳۔ صفحات: ۲۶۴۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

مدیر بیدار ڈائجسٹ نے اپنے ماہنامے میں حکایاتِ حکمت و دانش کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ بڑے پیمانے پر اس کی پذیرائی ہوئی۔ چنانچہ قارئین کی بڑی تعداداور پبلشر کے اصرار پر ملک صاب نے زیرنظر کتاب میں کہانیوں اور تحریروں کا ایک انتخاب مختلف عنوانات (علم بارے مختلف حکایات، حکایاتِ شکر، امانت و دیانت، محنت و ہمت، ذہانت و فطانت، دوستی، سخاوت، لالچ اور بخل، وعدوں کی پاس داری اور متفرق حکایات) کے تحت مرتب کردیا ہے۔

کہانیاں اور تحریریں مختصر ہیں۔ ایک صفحہ، دو صفحہ یا زیادہ سے زیادہ تین چار صفحے۔کسی ایک مضمون یا کہانی کے آخر میں اگر جگہ بچ گئی ہے تو اسے کسی حدیث، دعا، اشعار یا دل چسپ واقعے سے پُر کردیا ہے۔ تحریروں کی زبان آسان اور اسلوب سادہ ہے۔ پڑھنا شروع کریں تو چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ ایک ایسے وقت میں، اور ایک ایسے معاشرے میں جہاں اخلاقی قدروں کی گم شدگی سب سے بڑا مسئلہ ہے، تحفہ دینے کے لیے یہ بہت اچھی کتاب ہے جو چھوٹوں اور بڑوں سب کو  گم شد دینی و اخلاقی قدروں کی بحالی کا احساس دلاتی ہے۔ بعض حکایات دوسری کتابوں سے نقل کی گئی ہیں مگر حوالے نامکمل ہیں جیسے ص ۱۸، ۵۷، ۹۵ وغیرہ۔ (رفیع الدین ہاشمی)

عفت زین العابدین ، قصور

’قرآن پر عمل__ ایک منفرد تجربہ‘ (اگست ۲۰۱۴ء) میں سمیہ رمضان نے طلاق کے مسئلے پر جہاں معاشرتی رویے کی اصلاح کی ہے وہاں آیاتِ قرآنی کی تفہیم د ل چسپ اسلوب میں عمدگی سے کی ہے۔ بجا کہا گیا ہے کہ اس مضمون میں قرآنِ حکیم کی آیات پر عمل اور اس کے حقیقی نفاذ کو جس طرح ممکن بنایا گیا ہے وہ ہزاروں درسِ قرآن بھی سنے جاتے تو آیات کی ایسی تفہیم حاصل نہ ہوسکتی۔


عبداللہ ، لاھور

’اسلام کیا ہے؟‘ (اگست ۲۰۱۴ء) پڑھ کر مریم جمیلہ مرحومہ کی یاد تازہ ہوگئی۔ انھوں نے اسلام کا اختصار اور جامعیت سے بھرپور تعارف پیش کیا ہے۔ تاہم ان کا یہ کہنا کہ اسلام فنونِ لطیفہ کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، وضاحت طلب ہے۔ اس پہلو کو اُجاگر کرنے کی ضرورت تھی کہ اسلام فنونِ لطیفہ کی حدود کا تعین کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔


نسیم احمد ،اسلام آباد

’اسلامی نظام: سیاسی ذرائع سے قیام ممکن ہے؟‘ (اپریل ، مئی ۲۰۱۴ء)  کے تحت اہم نکات کو زیربحث لایا گیا ہے۔ تاہم سوال یہ رہ جاتا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ (جو مجلس شوریٰ کا مقام رکھتی ہے) میں ایسے افراد کیسے لائے جائیں جو اہل، امانت دار اور دین کا علم رکھنے والے ہوں؟ اس سلسلے میں دستور کی دفعات ۶۲-۶۳ کچھ حدود قائم کرتی ہیں لیکن ان کو بروے عمل لانے کے لیے جو قواعد و ضوابط ہونے چاہییں وہ منظرعام پر نہیں آئے۔ دستور کی ہردفعہ کے تحت تفصیلی ہدایات، قواعد و ضوابط نافذ ہوتے ہیں۔ ان قواعد و ضوابط کے نفاذ اور عام کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ اہلِ علم و دانش اور ارباب اقتدار کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ پاکستان کو واقعتا اسلامی جمہوری ریاست کا عملی نمونہ بنایا جاسکے۔

مولانا مودودی کے خلاف آپ جو چاہیں کیجیے، لیکن … یہ حقیقت سمجھ لیجیے کہ مولانا مودودی ہے کون؟ 

  • یہ وہ شخص ہے جس نے اِس دورِ الحاد میں خالص عقلی اسلوب سے اسلام کے عقیدوں، اس کے اصولوں، اس کے فلسفے، اس کے قوانین و ضوابط، اس کی اخلاقی قدروں، اس کی تہذیبی روایات اور اس کے آداب و شعائر کو نکھار کر پیش کیا ہے ۔ اس نے اسلام کو جامد مذہب کی سطح سے اُٹھاکر اجتماعی دین اور انقلابی تحریک کی صورت میں اُجاگر کردیا ہے، اس نے متزلزل ایمانوں کو ازسرِنو مستحکم کردیا ہے، اس نے اکھڑے ہوئے دلوں کو دوبارہ جما دیا ہے، اس نے اُلجھے ہوئے دماغوں کی ساری گرہیں کھول دی ہیں۔ اس نے نئی اُمنگیں اور نئے جذبات دیے ہیں۔ اس نے زندگی کے یخ بستہ سمندر میں حرکت پیدا کی ہے۔
  • ہاں! یہ وہ شخص ہے جس کا پیغام ہزاروں دلوں میں اس طرح اُتر گیا ہے کہ اس نے زندگیوں میں انقلاب پیدا کردیا ہے، لوگوں کے دل و دماغ بدل گئے ہیں، لوگوں کے اخلاق کی کایاپلٹ گئی ہے، لوگوں کی دوستیوں اور دشمنیوں کی سمتیں تبدیل ہوگئی ہیں، گھروں کے گھر ہیں کہ جن کی تہذیب اور جن کا کلچر نئے سانچوں میں ڈھل گیا ہے۔ نوجوان میں جو کل تک خدا اور مذہب کا مذاق اُڑاتے تھے، لیکن آج اسی خدا کے جاں نثار بندے اور اس کے مذہب کے اصولوں کے لیے دن رات جانفشانیاں کرنے والے ہیں.... خواتین ہیں کہ جن کی جنت ِ نظر اگر کل تک مغربی طرز کی زندگی تھی تو آج ان شع ہاے خانہ کی کرنوں سے کتنے ہی خاندانوں میں اسلامی ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ طلبہ ہیں کہ جنھیں آپس کی دھڑے بندیوں اور سیاسی لیڈروں کے اشارے پر ہنگامہ آرائیوں سے فرصت نہ ملتی تھی، آج اپنے آپ کو ایک اسلامی نظام کے کل پُرزے بنانے کے لیے ذہنی و اخلاقی تیاری میں مصروف ہیں۔ ادیب ہیں کہ جو کل تک دولت اور شہرت کی طلب میں اخلاق سوز تفریحی نگارشات کی تخلیق میں دماغی قویٰ کو برباد کر رہے تھے، آج ان کے قلم خدا و رسول ؐ کی امانت  بن گئے ہیں۔ تاجر اور وکیل بدلے ہیں، سرمایہ دار اور مزدور بدلے ہیں، زمیندار اور کسان بدلے ہیں، عالم اور  اَن پڑھ بدلے ہیں، شہری اور دیہاتی بدلے ہیں__ اور آئے دن اس شخص کی دعوت یہ انقلابی عمل دکھا رہی ہے۔
  • ہاں!  یہ وہ شخص ہے جو ایک کتابی اور خطابتی پیغام دے کر ہی نہیں رہ گیا۔ اُس نے دین کے لیے ایک تحریک بپا کردی ہے۔ (’اشارات‘ ، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۴۲، عدد۵، ذیقعدہ ۱۳۷۳ھ، اگست ۱۹۵۴ء، ص۱۰-۱۲)