مضامین کی فہرست


مارچ ۲۰۲۳

بعض حلقے یہ بات کہتے ہیں کہ ’’مسلم دُنیا کی نظریاتی تحریکیں کوئی دیرپا کامیابی حاصل نہیں کرسکیں، خاص طور پر کئی مسلم ادارے یا تنظیمیں‘‘۔ اس بات کے اسباب کا تعین نہ پیچیدہ ہے نہ مشکل، لیکن مسئلہ کے حل پر عمل کرنا تقریباً مشکل ہے۔ ناکامی یا ضُعف کی مثالیں گنوانے کے بجائے صرف یہ چاہوں گا کہ یہ سوال اٹھے کہ ’’آخر ایسا کیوں سوچا جاتا ہے؟‘‘ حقیقت کا دکھائی دینا مشکل نہیں، مگر اس کو قبول کرنا مشکل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو کرۂ ارض پر ایک ایسا نظام قائم کرنے کے لیے بھیجا ہے، جو انصاف، ہمدردی اور اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس پر قائم ہو اور اس وجہ سے سب باشندگانِ زمین کے حق میں بہتر ہو۔ اس قابل بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اپنی کتاب، قرآن مجید کی شکل میں نازل کی اور بہترین استاد اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں بھیجے، جنھوں نے ہمیں اللہ کے تجویز کردہ نظام کے مطابق رہنا سکھایا اور رہ کر دکھلایا۔

اللہ کی یہ لا محدود رحمت ،ہمارے لیے سکون، اطمینان اور خوش حالی کی زندگی کو ہمارا مقدر بنانے کے لیے ہے۔ اسی لیے اسلام انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے ہدایات کا جامع نظام دیتا ہے، تاکہ انسان اپنی پوری زندگی پر محیط معاملات کی انجام دہی کے قابل ہو جائے۔ معاملات خواہ سماجی ہوں یا معاشرتی، عدالتی ہوں یا انتظامی، شادی بیاہ کے ہوں یا وراثت کے، جنگ سے متعلق ہوں یا امن کے، کھانےپینے اور پہننے کے ہوں یا دوسروں کی امداد کرنے کے، کمانے سے متعلق ہوں یا خرچ سے، نماز، عبادت کے بارے میں ہوں یا ایثار اور قربانی کے___ اسلام ہر شعبۂ زندگی کے لیے نظام کار وضع کرنے کے لیے ہدایات دیتا ہے۔اس لیے، اسلام صرف ایک تصوراتی نظریہ نہیں، بلکہ مجسم اور متحرک عمل ہے۔اس کی طاقت، اس کی ہدایات کا محض علم رکھنے پر نہیں، ان پر عمل کرنے میں ہے۔علم اور عمل میں فرق کا پیدا ہونا ہی وہ جال ہے جس سے ہمیں بچنا ہے۔

اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ہمیں ذرائع اور اوزار چاہییں۔ مثال سے یوں سمجھیے کہ ہمارے پاس گاڑیاں بنانے کے لیے لکھی گئی کتابوں کا بڑا ذخیرہ ہے۔ ہم ہر صبح کا آغاز کتابیں پڑھنے سے کرتے ہیں، گاڑیاں بنانے کے طریقوں اور صنعت کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں، اور پھر شام کو گھر چلے جاتے ہیں۔ مگر کتابیں پڑھتے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ اگر واقعی اپنے علم کو بروئے کار لانا ہے تو اس کے لیے ہم کو گاڑیاں بنانے والا کارخانہ قائم کرنا ہوگا۔ اس طرح نہ صرف ہم خود اپنی سواری کے لیے گاڑی بنا لیں گےبلکہ دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلیں گے۔

اب اگر کوئی یہ پوچھے:’’جب ہمارے پاس انجن کے کام کو جاننے والے زبردست اہلِ علم موجود ہیں، تو ہمیں ان سب کارکنوں اور انجینئروںوغیرہ کی کیا ضرورت ہے ؟‘‘ تو اس کو آپ یہی جواب دیں گےکہ ’’محض یہ جاننے سے کہ انجن کس طرح کام کرتا ہے اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہو گا جب تک تم خود انجن نہ بنا لو گے، اور ایک ایسے نظام میں لگائو گے جو انجن کی پیدا کردہ طاقت کو حرکت میں بدل کر گاڑی چلا دے‘‘۔ اس لیے یہ سوال کہ ’’زیادہ اہمیت کس کی ہے —سائنس دان کی، انجینئر کی، یا ڈرائیور کی ؟‘‘ ایک بے معنی بات ہے، ہر ایک کی اپنی جگہ اہمیت ہے۔

نظریاتی تنظیموں یا تحریکوں کو پائے دار کامیابی نہ ملنے کی ایک وجہ دانش وروں کا کارکنوں کے کام کو اہم نہ سمجھنا، یا کارکنوں کا اہلِ دانش کے علم اور اُن کی فکرمندی کو اہمیت نہ دینا ہے۔ ناکامی کی وجہ نہ نظریہ ہےاورنہ طریق کار، بلکہ ایک بالکل مختلف معاملہ ہے، دونوں سے زیادہ اہم، اور وہ ہے انسانی رویہ۔

ہم اس قابل نہیں کہ اختلاف کے ساتھ معاملہ نبھائیں، اختلاف رائے کے ہوتے آگے بڑھیں، علم اور تجربہ اور مہارت کا احترام کریں۔ ناکامی اس لیے سامنے آتی ہے کہ ہم میں یہ احساس نہیں کہ ہمیں واقعی ’دوسرے‘کی ضرورت ہے، اور یہ کہ’ دوسرے‘ کے بغیر ہمارا ’اپنا‘ نظریاتی عمل نامکمل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم روایتی غلطیوں سے سبق حاصل کریں اور ان کو دُہرانے سے بچیں۔ اس ضمن میں اکثر ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں:

’’کیا اقامت دین کے لیے بپا تحریک کا کام یہ بھی ہے کہ وہ مختلف انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ادارے قائم کرے ؟‘‘

اس کا انحصار اس بات پر ہےکہ آیا وہ تحریک اپنے نظریے پر عمل درآمد میں سنجیدہ ہے، یا نہیں۔یہ بالکل اس طرح کا سوال ہے کہ کیا صحت عامہ کے لیے چلائی جانے والی مہم کوہسپتال قائم کرنا یا قائم شدہ ہسپتالوں کی امداد بھی کرنا چاہیے؟ظاہر ہے کہ یہ موشگافی بے معنی ہے، درحقیقت تنظیمیں تو ذرائع کی طرح ہیں۔ یہ نظریاتی ’کیوں‘ کاعملی جواب ’کیسے‘ ہوتی ہیں۔نظریہ جہاں جدوجہد کا مقصد بتاتا ہے وہاں تنظیم اس مقصد کے حصول کے لیے ذرائع فراہم کرتی ہے۔

مثال کہ طور پر دیکھیے کہ سودی کاروبار کی ممانعت کے حکم الٰہی کا نفاذاقامت ِدین کا ایک جزو ہے۔ اسلامی بنیادوں پر بینک یا اس جیسے ادارے قائم کیے بغیر آپ یہ کام کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر اسلام کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کے لیے ادھار رقم حاصل کرنے کاکوئی طریقہ نہ ہو، تو بے شک آپ سارا دن سود کے حرام ہونے کی گردان کرتے رہیں، کبھی کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوگی۔ ویسٹ منسٹر فلر کے الفاظ میں:’’کسی فرسودہ نظام سے چھٹکارا پانے کے لیے آپ اس سے متعلق سوچ کے اندرتبدیلی نہیں لاتے، بلکہ ایک نئی سوچ بروئے کار لا کرپرانی سوچ کو ختم کرتے اور نیا نظام لاتے ہیں‘‘۔

تنظیمیں وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے نظریے کو حقیقت کی دنیا میں پائے دار بنیادوں پر نافذ کیا جاتا ہے۔ تنظیموں کے بغیر ایک نظریے پر عمل درآمدمحض وقتی اور’جھٹ پٹ‘ قسم کا ہو گا کہ جس کا کبھی اطلاق ہوا بھی تو وہ جزوی ہی ہو گا، اور کبھی اتنا بھی نہیں ہو گا۔

ایک اور مثال لیجیے: ۲ہجری تک زکوٰۃ فرض ہو چکی تھی اور مال غنیمت کی تقسیم سے متعلق قوانین (سورئہ انفال) واضح کر دیے گئے تھے، لیکن باقاعدہ مربوط معاشرتی بہبود کا کام حضرت عمرؓ کےدورمیں بیت المال کا ادارہ قائم ہونے کے بعد ہی شروع ہوا۔اس سے پہلے خیرات کا کام ’اچانک‘ اور ’ہنگامی‘ طور پر ہوتا تھا۔ مگر اب بیت المال کے ادارے کاقیام ہر ضرورت مند کو بروقت امداد ملنے کا ضامن بنا۔

اسی طرح کا معاملہ ایک مسقل سپاہ اور فوج کے قیام کا ہے۔ جس میں سپاہیوں اور کارکنوں کو دشمن سے ملنے والے مال غنیمت یا زمینوں پر قبضے کے بجائے باقاعدہ تنخوہ اور مشاہرہ ملنے شروع ہوئے۔اس سے پہلے، جنگ میں ملنے والی دشمن کی ہزاروں مربع کلومیٹر رقبے کی زمین بے کار پڑی رہتی تھی کہ اس کے نئے مالکان کو کاشت کاری سے کوئی واسطہ نہ تھا اور پرانے مالکان جو کسان تھے وہ اس سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ حضرت عمرؓ نے ایسی مفتوحہ زمینوں کو ریاست کے نظم میں لے کر سخت مخالفت کے باوجود ان کے پرانے مالکان کے حوالے کر دیا اور محصولات (ٹیکس) کا ایسا نظام وضع کیا جیسا کہ اللہ کے رسولؐ نے فصلوں اور پیداوار پر عشر کے حوالے سے دیا تھا۔ اس اقدام سے ریاست کو بہت فائدہ ہوا، جو بصورت دیگروسیع زمین فتح کرنے کے باوجود وسائل کی کمی کا شکار رہتی۔

ایک اور مثال لیجیے، جس سے واضح ہو گا کہ تنظیموں اور خاطر خواہ انتظام کے بغیر خلوص نیت بارآور نہیں ہوتا۔ کوئی مسلمان اور اس کے والدین تزکیہ نفس اور تعمیر اخلاق کی ضرورت سے انکاری نہیں۔ مگر، اپنے ارد گرد دیکھیے۔ کیا مسلمان معاشرے میں کہیں بھی ان کا کوئی اثر نظر آتا ہے؟ آپ کے گھر میں؟ خود آپ پر؟ اگر کچھ اثر ہے تو وہ آپ کا کمال ہے یا استثنائی صورت؟ برسرِ زمین حقیقی صورت حال تو یہی ہے کہ ہمارے معاشرتی اور باہمی مسائل کی بڑی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات کے ان دونوں عناصر کا فقدان ہے۔

’’جب سب مانتے ہیں کہ یہ ضروری ہے تویہ ہوتا کیوں نہیں؟‘‘

 اس لیے کہ اس کے نفاذ کے لیے ادارے یا تنظیم نہیں ہے۔ محض بیانات میں اس پر زور دینے سے اپنا اور معاشرے کا تزکیہ ممکن نہیں ہے۔

ایک اور مثال معروف مذہبی جماعت میں تقسیم در آنے کی ہے۔ جس میں اَنا اور ہٹ دھرمی نے دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ایک مفید نظریاتی تحریک کو تقسیم کر کے رکھ دیا۔ ایک صدی تک منبر سے اکرامِ مسلم کی باتوں کے بعد جب باہمی اکرام کاوقت آیا تو قیادت توازن پیدا کرنے کا سبق بھول کر نقصان کے راستے پر گامزن ہو گئی۔ تنازعے کے حل کے لیے نہ کوئی نظام ہے، نہ کوئی ایسا ادارہ جو بیچ بچائو اور مصالحت کرا دے۔ ایسا اس لیے نہیں ہو رہاکہ کوئی نظریہ موجود نہیں ، بلکہ یہ اس لیے ہو رہا ہے کہ تنظیم نہیں ہے، اور اس وجہ سے یہ اُفتاد پڑی ہے۔

’’کیا اداروں کے قیام سے اقامت دین کے کام میں حرج ہوتا ہے، یا فائدہ؟‘‘

نہ صرف یہ کہ اداروں کے قیام سے اقامت دین کے کام میں کوئی حرج نہیں ہوتا، بلکہ ان کے نہ ہونے سے اقامت دین کا کام ہو ہی نہیں سکتا۔

  • ’’مگر اداروں کی کامیابی کا دارومدار محض اخلاص پر نہیں بلکہ اخلاص کے ساتھ پیشہ ورانہ قابلیت اور ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ اداروں کی سمت کا تعین نظریہ سے ہوتا ہے، جس کے لیے دانشور درکار ہوتے ہیں۔ دونوں ضرورتوں کو بیک وقت کیسے پورا کیا جا سکتا ہے؟‘‘

یہ اس وقت ممکن ہے جب ایک شخص ’دوسرے‘ شخص کے تجربے کا احترام کرے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اختلاف اور مختلف رائے کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں پایا جاتا۔ ہم اختلاف رائے کو سرکشی اور بغاوت گردانتے اور اس سے اسی طرح نمٹتے ہیں۔ منصوبہ خواہ کچھ ہو، اس رویے سے تعاون کی بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے جس کا مطلب ناکامی مقدر ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ کامیاب کیسے ہوا جاسکتا ہے؟ اور تبدیلی کا آغاز’اپنے‘ سے ہی ہوتا ہے۔

’’تحریک کے قائم کردہ اداروں کا احتساب کیسے ہو گا؟ اس کی مثالی شکل کیا ہوگی؟‘‘

احتساب کے عمل کا آغاز باہمی تعاون سے ہدف کے تعین، کامیابی کے پیمانوں کے متعلق فیصلے اور کارکردگی کے جائزے سے ہوتا ہے۔ ’باہم‘ اس لیے کہتا ہوں کہ احتساب کی بنیاد مختلف افراد کی مختلف مہارتوں، علم اور ہنر پر ہو گی، نہ کہ آجر اور اجیر یا قائد اور ماتحت کی بنیاد پر۔ یہ ترقی اور بڑھوتری کا اندازہ لگانے کی اجتماعی کوشش ہو گی اور یہ عمل اعتراض سے پاک ہونا چاہیے اور اس کا ہدف واضح ہونا چاہیے: مقصد کے حصول میں کامیابی کے لیے احتساب سے پہلے باہم احترام کی فضا قائم کرنا ہو گی۔

’’تحریک کے زیر اثر چلنے والے اکثر ادارے عمدہ کارکردگی دکھانے میں اکثر ناکام کیوں ہوجاتے ہیں؟ اور اس کمی سے کس طرح نمٹا جا سکتا ہے؟‘‘

جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے، یہ ادارےکامیابی کے لیے مناسب ذرائع و اوزار استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ناکام ہوتے ہیں۔ جذبہ، لگن اور خلوص کی اہمیت اپنی جگہ، مگر مہارت اور ہنرمندی کی ضرورت بھی اپنی جگہ۔ اللہ کے رسولؐ نے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ یا حضرت علیؓ کو سپاہ کی قیادت کے لیے مقرر نہیں فرمایا، گو کہ یہ سب حضرات علوم اسلامی میں گہری نگاہ رکھنے والے، مخلص اور ایثار کیش، اور مختلف مہارتوں کے حامل تھے۔ اللہ کے رسول نے اس کام کے لیے حضرت خالدبن ولیدؓ کو نامزد فرمایا، جوعلم ومرتبہ میں تو ان اصحاب جیسے نہ تھے مگر سپہ گیری میں مشاق اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل جنگی قائد تھے۔ اللہ کے رسولؐ نے اہلیت کی بنیاد پر فیصلہ فرمایا، نہ کہ دوستی، رشتہ داری یا پسند و ناپسند کی بنیاد پر۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مقصد ہمیشہ نگاہ میں رہے اور ذاتی انا، یا پسند و ناپسند کو بیچ میں آ کرکامیابی کا راستہ کھوٹہ نہ کرنے دیا جائے۔ ہمیں اپنے فیصلوں پر کڑی نظر رکھنا ہو گی، خاص طور پر جب معاملہ کسی ایسے شخص کا ہو جو کام کے لیے تو موزوں ہو مگر جس کی رائے سے ہم کو اختلاف ہویا جسے ہم زیادہ پسند نہ کرتے ہوں۔

’’کیا اداروں کی اہمیت ابہام کا شکار ہے؟ اور اعتدال کا راستہ کیا ہے؟‘‘

ابہام تو مشاہدے میں آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو حضرات مختلف نظریاتی تحریکوں کے اہم مناصب پر فائز ہیں۔ انھیں اختیارات اور ذمہ دایوں کی تقسیم، پیشہ ورانہ تعاون، اور مل جل کر مختلف اُمور کی انجام دہی جیسے عوامل کا شعور نہیں ہے۔زیادہ تر ’یونی ورسٹی یا مدرسہ‘ کی تعلیم کے ساتھ ’حاکمانہ‘ انداز رکھتے ہیں، اندھی پیروی اور بے چون و چرا ہر بات تسلیم کرنے کو خوبی گردانتے، جب کہ سوال اٹھانے کو گستاخی یا بغاوت سمجھتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کو بدلنا ایک مشکل کام ہے۔ مگر جب تک ایک دوسرے کا احترام کرنا نہیں سیکھیں گے، اکٹھے ہو کر کوئی فائدہ مند کام انجام نہ دے سکیں گے۔ اکثرنظریاتی رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ وہ خودپسند ہوتے ہیں، اور اختلاف کی جرأت کرنے والوں کی اپنے سامنے یا پشت پیچھے تحقیر کرتے ہیں۔ اس رویے کی درستی کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔

تحقیقی کام کے سلسلے میں پہلی چیز جو ہماری نگاہ میں رہنی چاہیے وہ یہ ہے :

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۝۵ۙ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۝۶ۭ  (الم نشرح۹۴:۵-۶﴾ )،پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔

تنگی یا مشکل سے مراد ہے محنت۔کیوں کہ محنت کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اگر آدمی محنت کرتا ہے تو اس کے بعد اس کا پھل ملتا ہے ۔ محنت کے بغیر زندگی میں کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے محنت کو اپنی عادت بنائیں۔ مثلاً اگر عربی نہیں آتی تو اسے سیکھنے کی کوشش کریں۔ ضروری نہیں ہے کہ کسی ادارے میں جاکر ہی سیکھی جائے، گھر میں بیٹھ کر بھی سیکھی جاسکتی ہے۔ عربی سیکھنا تو ویسے بھی بہت ہی ضروری ہے۔ کیوں کہ جب تک آپ عربی نہیں جانیں گے تو قرآن حکیم کی مٹھاس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ ترجمہ پڑھنا تو ایسا ہی ہے کہ آپ کے پاس شہد آیا اور کسی نے اُس کی شیرینی نکال دی اور باقی آپ کو دے دیا۔ عربی سیکھنا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ کتاب عربی کا معلّم جو کہ چار جلدوں پر مشتمل ہے ، اس کام کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ آج کل تو عربی سیکھنے کے جدید طریقے سامنے آگئے ہیں جن سے عربی سیکھنا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ قرآن وحدیث کو عربی میں سمجھے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ عام آدمی کے لیے تو یہ نہیں کہا جاسکتا، لیکن جو لوگ اسلامک اسٹڈیز میں کام کر رہے ہیں ، ان کے لیے عربی کے بغیر کوئی مفر نہیں۔ اگر آپ عربی نہیں سیکھ رہے ہیں تو آپ اسلام کی اچھی طرح خدمت نہیں کرسکتے۔

جہاں تک تحقیق کا تعلق ہے تو اس کام میں محنت کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہے۔ اگر آپ اس کے لیے تیار نہ ہوں اور گھنٹوں کے حساب سے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر وقت صرف کریں ، تو زندگی میں کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ خصوصاً علمی کام تو ہوہی نہیں سکتا۔ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ سے حاصل شدہ معلومات محض وقتی ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں آپ کوئی کتاب پڑھتے ہیں تو وہ آپ کو یاد رہتی ہے ۔ اگر کچھ پڑھا ہوا بھول گئے ہیں تو دوبارہ کتاب دیکھ سکتے ہیں۔ جتنا زیادہ مطالعہ کرسکیں، کیجیے۔ مطالعے کابھی طریقہ یہ ہے کہ پڑھنے کے بعد نوٹس لیں۔ اگر لائبریری کی کتاب ہے تو اپنے کارڈ پر یا کسی اور جگہ نوٹس لے لیں۔ اگر آپ کوئی مقالہ لکھ رہے ہیں تو اس کے نوٹس بنائیے ۔ موضوع کی مناسبت سے پڑھیں اور نوٹس لیں۔ اس کے بعد اپنے خاکے (Outline) کی مناسبت سے لکھیں۔

 ہمارے ہاں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ تحریر کے معاملے میں پہلی کوشش ہی کافی ہے اور اس سے زیادہ بہتر تو لکھا ہی نہیں جاسکتا۔ اگر تکبر کا عنصر آجائے تو وہاں علم کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ تکبر اور علم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اپنے لکھے ہوئے کو کئی مرتبہ دُہرائیں۔ اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ اس کام میں بہت وقت اور محنت لگتی ہے، لیکن اس کے بغیر کام بھی نہیں بنتا۔ لکھے ہوئے کو خود بھی دُہرائیں اور دوسروں کو تبصرے کے لیے دیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ تبصرے کے لیے دیتے ہیں تو صرف تعریف کی امید رکھتے ہیں۔ اگر آپ نے ان پر کوئی تنقید کردی تو ان کا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ یہ رویہ ہوتو بہت زیادہ سیکھا نہیں جاسکتا۔ اس کے لیے بھی تیار ہونا چاہیے کہ اگر کوئی غلط قسم کی تنقید بھی کردے تب بھی ناراض نہ ہوں۔ اچھی طرح غور کرکے دیکھیں کہ اس کی تنقید درست ہے یا نہیں؟ درست ہے تو اپنی تحریر کو بہتر بنائیں اور صحیح نہیں ہے تو اس کو چھوڑ دیں۔

کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اچھے رسالے کے لیے مقالہ لکھیں اور محنت سے لکھیں۔ اس کے بعد بھی اس چیز کے لیے تیار رہیں کہ مبصرین کے جو تبصرے آئیں گے اس کی مناسبت سے آپ اس میں بہتری لائیں گے۔ گویا سب سے پہلے محنت، بہت سا مطالعہ کرنا اور خاص طور سے اگر کوئی مضمون لکھنا ہے تو اس سے متعلق چیزوں کا مطالعہ کرنا ، نوٹس لینا، پھر مقالہ لکھنا ، اس کو کئی بار دُہرانا، لوگوں کو تبصرے کے لیے دینا اورتبصروں کی مناسبت سے دُہرانا ہے۔ پھر فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا کے مصداق آپ کو آپ کی محنت کا صلہ مل جائے گا۔ آپ کو خوشی ہوگی جب آپ کا مقالہ کسی عمدہ رسالے میں چھپے گا، لوگ اس پر اچھے تبصرے کریں گے اور آپ کی عزت بڑھے گی۔ جو محنت کرنے اور تنقید سننے کے لیے تیار نہیں ہے وہ عالم نہیں بن سکتا۔ اپنا مطالعہ وسیع تر کریں۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ کے دورانیے کو کم کریں اور وہ وقت مطالعے میں صرف کریں۔ شام کو گھر پر جاکر ضرور مطالعہ کریں۔  چھٹی والے دن اور معمول کے دنوں میں بھی، فرق صرف یہ ہونا چاہیے کہ چھٹی کے دن آدمی گھر میں کام کرے اور اس کا دفتر آنے جانے کا وقت بچے۔ زندگی میں اپنے سامنے اس بات کو نشانِ راہ کے طور پر رکھیں: ’’محنت کے بغیر کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا، اور محنت کے ذریعے سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے‘‘۔

باہر کے ممالک میں لوگ تحقیق کے لیے بہت زیادہ محنت کرتے ہیں جو ہمارے ہاں نہیں ہے۔ دوسرے ممالک میں لوگ اپنے مقالہ جات کو خود بار بار پڑھتے ہیں، لوگوں کے تبصرے لیتے ہیں، لوگوں کے ساتھ اس پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں اور اس دوران میں نوٹس لیتے رہتے ہیں۔ ان کی روشنی میں مقالے کو مزید بہتر کرتے ہیں۔ یہ ایک اسکالر کی صفات ہیں۔

بعض اوقات دفتروں کے اندر بھی لوگ نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان چیزوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ کیوں کہ مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا، اور جب تک اللہ نہ چاہے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بظاہرآپ کے خلاف کسی نے سازش ہی کی ہو، لیکن بعد میں آپ کو پتا چلے کہ یہ تو آپ کے حق میں بہت بہتر ہوگیا: وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝۰ۚ (البقرہ۲:۲۱۶﴾)’’ممکن ہے تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمھارے حق میں اچھی ہو‘‘۔

 ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو ترقی نہ ملے اور آپ اپنے افسر کو برا بھلا کہنے لگیں لیکن ترقی دینے والا آپ کا افسر بالا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اگراللہ نے چاہا تو آپ کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا اوراگر اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا تو کوئی ترقی دے نہیں سکتا۔ ہمارایہ عقیدہ مضبوط ہو کہ جتنا ہمیں ملے گا ،اللہ ہی کی ذات سے ملے گا اور اسی کے سامنے آدمی دستِ طلب بھی دراز کرے، اور اسی کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرے تو زندگی میں ترقی ہی ترقی ہے۔

ہمہ جہت شخصیت مولانا عبد الرحمٰن خان المعروف ابو البیان حماد ۲۹جنوری ۲۰۲۳ءکی علی الصبح، بنگلورو میں ساڑھے ۹۹ برس کی عمر میں انتقال فرماگئے۔ انھیں ۱۹۴۰ء کے عشرے کے وسط میں داعی تحریک اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی قربت میں دار الاسلام پٹھان کوٹ اور پھر ان کے رفیق اور دارالعروبہ (جالندھر) کے سر پرست مولانا مسعود عالم ندوی سے مزید تعلیم و تربیت حاصل کرنے، اور ان کی نگرانی میں تحریک اسلامی کے عروج اور بقا پر تحقیق کرنے کا اعزاز حاصل تھا۔

یہ اکتوبر ۲۰۱۱ء کی بات ہے کہ بنگلورو میں ایک کانفرنس کے موقعے پر ہوٹل میں امیرجماعت اسلامی ہند جناب سیّد جلال الدین عمریؒ سے ملاقات ہوئی، تو انھوں نے بڑے احترام سے ایک بزرگ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے راقم سے فرمایا کہ ’’ان سے ملیے، یہ میرے استاد محترم مولانا ابوالبیان حماد ہیں‘‘۔ ایک صحافی کو اور کیا چاہیے تھا ؟ اگلے روز ناشتے کے وقت خصوصی انٹرویو لینے ان کے کمرے میں پہنچ گیا۔ ڈائننگ ٹیبل پر مختلف قسم کے پکوانوں کی ڈشیں دیکھ کر پوچھا: ’’یہ ناشتہ ہے یا کھانا؟‘‘ تو مولانا ابوالبیان صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کے نارتھ میں صبح کا ناشتہ بقدر بادام ہوتا ہے، جب کہ ہمارے ساتھ میں بقدر گودام‘‘۔ ناشتے کے دوران اور اس کے بعد انھوں نے بڑی تفصیل سے تحریک اسلامی کی تاریخ کے چند گم شدہ ابواب پر روشنی ڈالی۔

تاریخی لحاظ سے ابوالبیان حماد بہت اہم شخصیت تھے۔ برصغیر میں تقسیم سے قبل تحریک اسلامی کے ابتدائی دور کے عینی شاہد تھے۔ ۱۹۴۳ء میں دربھنگہ (بہار) میں جماعت کے اوّلین علاقائی اجتماع، پھر۱۹۴۴ء میں پٹھان کوٹ (پنجاب) کے علاقائی اجتماع کے بعد ۱۹تا۲۱؍ اپریل ۱۹۴۵ء کو پٹھان کوٹ میں ہی منعقد ہونے والے پہلے آل انڈیا اجتماع اور ۲۵اور۲۶؍ اپریل ۱۹۴۷ءکو مدراس (چنائی) میں حلقہ جنوبی ہند اجتماع میں بنفس نفیس شریک رہے۔ ۴۶-۱۹۴۵ء میں مرکز دارالاسلام اور ساتھ ہی جالندھر میں مولانا مسعود عالم ندوی کے ہاں ایک برس گزارا۔ یوں تحریک کی تاریخ سازی کو قریب سے دیکھا۔

ابوالبیان حماد آبائی وطن مالور (کرناٹک) میں ۲۵ جولائی ۱۹۲۳ء کو پیدا ہوئے۔ والدین نے ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد جامعہ دارالسلام، عمر آباد سے ۴۴-۱۹۳۶ء میں عالم و فاضل کیا۔ وہیں انھوں نے ایک ہردل عزیز استاد مولانا سید صبغۃ اللہ بختیاری سے خوب فیض حاصل کیا۔ بختیاری صاحب اگست ۱۹۴۱ءکو جماعت اسلامی کے تاسیسی اجتماع میں شریک ۷۵ خوش نصیب شخصیات میں شامل تھے۔ تاسیس کے بعد امیر جماعت مولانا مودودی کی نیابت کے لیے مختلف علاقوں کی ذمہ داریوں کے لیے جو چار نائب امرا بنائے گئے تھے، ان میں سے یہ حلقہ دکن و مدراس کے انچارج تھے ۔ لہٰذا، اپنے استاد مولانا بختیاری کے ذریعے ابوالبیان حماد نے تحریک اسلامی سے پوری طرح واقفیت حاصل کی۔ علومِ قرآنی میں مہارت حاصل کرنا، تحریک اسلامی کی روایت اور ارتقا پر تحقیق ان کا شوق تھا۔

چنانچہ عمر آباد سے فراغت کے بعد لاہور میں جامعہ قاسم العلوم پہنچے اور وہاں ۴۵-۱۹۴۴ء کے دوران مشہور و معروف مفسر قرآن مولانا احمد علی لاہوری کی سر پرستی میں تخصص فی التفسیر قرآن کیا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری سے فیض حاصل کرنے امرتسر گئے۔ لاہور میں قیام کے دوران انھوں نے مولانا مودودی سے دارالاسلام پٹھان کوٹ میں حاضری کی اجازت مانگی۔ مولانا مودودی کی ہدایت پر قیم جماعت میاں طفیل محمد نے خط لکھا: ’’مولانا مودودی نے ہدایت کی ہے آپ دارالاسلام آئیں‘‘۔ ابوالبیان حماد نے بتایا: ’’یہ اجازت نامہ عید کی خوشی سے کم نہیں تھا۔ میں فوراً لاہور سے ٹرین کے ذریعے دارالاسلام سے قریب سرنا ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ وہاں پلیٹ فارم پر اترتے ہی مولانا مودودی کی ہدایت کے مطابق ایک شخص میرے پاس آیا اور میرا نام پوچھا اور پھر بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ مصافحہ کیا اور کہا کہ ’’مَیں آپ کو لینے آیا ہوں‘‘۔ میرے منع کرنے کے باوجود اس نوجوان نے بڑے اصرار کے ساتھ میرا سارا سامان اپنے سر اور کاندھے پر اٹھالیا۔ دارالاسلام، اسٹیشن سے چند کلومیٹر کی دُوری پر تھا۔ منزل پر پہنچ کر میں نے ایک فرد سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ عجز و انکسار اور سادگی کا یہ نمونہ ملک غلام علی ہیں ۔وہی ملک غلام علی جو بعد میں شریعت کورٹ پاکستان کے جج اور تحریک اسلامی سے متعلق کئی کتابوںکے مصنف کے طور پر معروف ہوئے‘‘۔جسٹس ملک غلام علی کا تذکرہ کرتے وقت ابوالبیان صاحب کی آنکھیں آبدیدہ تھیں۔

انھوں نے بتایا: ’’دارالاسلام پہنچنے پر میری ملاقاتیں مولانا مودودی، مولاناامین احسن اصلاحی اور دیگر رفقائے کرام سے ہوتی رہیں۔ میں نے جب مولانامودودی سے تحریک اسلامی پر مطالعہ و تحقیق کے بارے میں اپنی خواہش عرض کی تو مولانا نے مجھے دار الاسلام کے بجائے پٹھان کوٹ سے کچھ دوری پر واقع بستی دانش منداں، جالندھر جاکر دار العروبہ میں مسعود عالم ندوی سے فیض حاصل کرنے کی ہدایت کی اور یہ بھی فرمایا کہ’’ وہاں سے برابر دار الاسلام آتے جاتے رہیں اور دونوں مراکز سے فائدہ اٹھاتے رہیں‘‘۔

وہ جالندھر پہنچے اور مسعود عالم ندوی کی سحر انگیز شخصیت اور علمی کمال کے اسیر ہو کر رہ گئے ۔ وہاں ان کی موجودگی میں جماعت اسلامی کے شعبہ دارالعروبہ کا باضابطہ قیام عمل میں آیا ۔ یہاں پر پہلے سے تحریک اسلامی کے رہنما اور جلیل القدر عالم دین جلیل احسن ندوی اور اسکالر عمر قطبی صاحبان موجود تھے ۔ اس طرح ابوالبیان حماد کو دارالعروبہ میں مولانا مسعود عالم ندوی سمیت تین عظیم شخصیات اور اساتذہ کی سرپرستی ملی ۔ اس لحاظ سے تحریک اسلامی کے ابتدائی ایام میں تحقیق و تالیف سے وابستہ اوّلین افراد میں شامل ہوگئے۔ دارالعروبہ میں ان تینو ں شخصیات کے علاوہ ابوالبیان نے خود داعی تحریک اور مرکز جماعت میں موجود متعدد اکابر سے بھی خوب استفادہ کیا، جن میں میاں طفیل محمد، عبدالجبار غازی، مولانا امین احسن اصلاحی، ملک غلام علی، سید عبدالعزیز شرقی، مستری محمد صدیق، نعیم صدیقی اور ملک نصراللہ خاں عزیز قابل ذکر ہیں۔ اسی دوران مرکز میں وقتاً فوقتاً آنے والے حضرات گرامی قدر صدرالدین اصلاحی ، اختر احسن اصلاحی، علی میاں، محمد حسنین سید اور محمد شفیع داؤدی سے بھی ان کی ملاقاتیں رہیں۔

۱۹۴۵ء میں منعقدہ تاریخی اجتماع حماد صاحب کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔ وہاں مذکورہ بالا شخصیات سے ملنے کے علاوہ مختلف زبانوں میں تحریکی لٹریچر کے ترجمے اور مزید لٹریچر کے علاوہ تعلیم اور درس گاہ اسلامی کے قیام نیز ذرائع ابلاغ پر بھی تفصیل سے بات چیت ہوئی تھی۔

 ۲۶-۲۵؍ اپریل ۱۹۴۷ءکو یہ مدراس میں منعقدہ حلقہ جنوبی ہند کے اجتماع میں شریک ہونے کے لیے عمر آباد سے خاص طور پر آئے، جہاں جامعہ دارالسلام میں بحیثیت استاد وابستہ ہوئے تھے۔مدراس کے اس اجتماع میں مولانا مودودی نے اپنے صدارتی خطبہ میں چار نکات پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ اب، جب کہ ہندستان کی تقسیم ناگزیر ہے۔ ہندستان میں تحریک اسلامی کے کرنے کا کام یہی ہے کہ اسلام کا مکمل تعارف قرآن و حدیث اور سیرت کی روشنی میں مختلف زبانوں میں ترجموں کے ذریعے کرایا جائے اور یہی کوشش مستقبل میں اُٹھنے والی قومی کش مکش کو روک سکتی ہے۔ ابوالبیان صاحب ۲۰۱۱ء میں یہ بات یاد کرکے فرما رہے تھے: ’’اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا مودودی کے اندیشے درست تھے، لیکن دُوراندیشی پر مبنی ان کے مشورے پر ہم لوگ ٹھیک طریقے سے عمل نہیں کرسکے۔ اس طرح اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے ہنوز بے شمار غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں‘‘۔

ابوالبیان صاحب کے بقول: ’’مولانا مودودی نے درحقیقت مستقبل میں جھانک کر یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ مولانامودودی نے اس خطبے میں جو کچھ کہا تھا وہ ان کی گہری نظر، کمال درجے کے ویژن اور عبقری ذہانت پر مبنی تھا‘‘۔

ابوالبیان حماد ایک اچھے استاد، صحافی، مصنف، شاعر و ادیب اور مترجم کے علاوہ قرآن و حدیث کے علوم میں زبردست مہارت بھی رکھتے تھے۔ انھوں نے ۱۹۴۶ءسے لے کر چند برس قبل تک جامعہ دارالسلام، عمر آباد میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا ۔ اپنے استاد محترم صبغۃ اللہ بختیاری اور شاکر نائطی کی سرپرستی میں شاعری اور نثری تحریرو تخلیق کا ۱۹۳۸ءسے آغاز کیا اور اپنی پہلی غزل ایک کُل ہند مشاعرہ میں شیدا کشمیری، ماہر القادری ، تبسم نظامی اور جگر مراد آبادی جیسے عظیم شعرا کی موجودگی میں پڑھی تھی اور خوب داد حاصل کی تھی۔ ان کے تین شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں: فردوس تغزل، نغمات حمد و نعت اور   بانگِ حرا۔نثر میں: توحید کی اہمیت  و تقاضے، تازیانے، سفر حجاز و ا یران ہیں۔ یاد رہے کہ تازیانے علامہ ابن حجر عسقلانی کی معرکہ آرا کتاب المنہات کا اُردو ترجمہ ہے، جو پہلی بار لاہور سے اور دوسری مرتبہ پرانتک ہاؤس بنگلورو سے شائع ہوکر بہت مقبول ہوا۔ ان کی کتاب تاریخ کا ایک گم شدہ ورق پڑھنے کے لائق ہے۔

انھوں نے جامعہ دارالسلام میں چوتھی کلاس میں تعلیم کے دوران قلمی رسالے الاخلاق  کی ادارت کی۔ پھر اپنے بھائی مولوی ثنا اللہ عمری اور شاگرد سیّد جلال الدین عمری کے ساتھ مل کر ۱۹۵۰ء میں اُردو ہفت روزہ پیغام نکالا اور ایک عرصہ تک باقاعدگی سے چلایا۔ نیز رسالہ اعتدال کی سرپرستی بھی فرمائی۔ ملک نصر اللہ خاں عزیز اور نعیم صدیقی کی سرپرستی میں شائع ہونے والے اخبار کوثر  میں صحافتی تربیت لی تھی۔ ان کی تخلیقات ماہ نامہ چراغِ راہ ،کراچی کے ابتدائی دور میں شائع ہوتی رہیں۔ پھر حکیم فضل الرحمٰن سواتی سے علمِ طب بھی سیکھا تھا۔

صحیح معنوں میں وہ تاریخ کا زندہ اثاثہ تھے۔ ایک ایسے وقت میں ، جب کہ آزادی کے بعد ہندستان میں جماعت اسلامی کی تشکیل نو یعنی جماعت اسلامی ہند کے قیام کو اس سال ۷۵  برس ہورہے ہیں، تو تقسیم سے قبل اور بعد کی تاریخ کے یہ عینی شاہد بہت یاد آئیں گے۔

 ۱۷؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو ان کے کہے یہ الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں: ’’۴۶-۱۹۴۵ء میں پٹھان کوٹ کا مرکز متحدہ ہندستان میں نیکی کے نگہبانوں کا ہب (Hub) تھا، جہاں بلا تفریق مذہب و ملت انسانیت کی بقا و فلاح اور مختلف شعبۂ حیات بشمول معاشرت، تعلیم، معیشت اور شعرو ادب میں خوفِ خدا کے ساتھ مثبت انداز میں تفکر و تدبر کی باتیں ہوتی اور منصوبے بنتے تھے۔ پھر یہ سلسلہ تقسیم کے بعد تشکیل نو کی صورت میں بھی جاری رہا‘‘۔ تبھی تو ۱۹۷۴ء میں دہلی کے کُل ہند اجتماع کی رپورٹنگ کرتے ہوئے معروف صحافی شیام لال شرما نے ٹائمز آف انڈیا گروپ کے مشہور ہندی ہفتہ وار دنمان (Dinaman) میں اپنی رپورٹ پر ’نیکی کے نگہبانوں کا اجتماع‘ کی سرخی لگائی تھی اور میڈیا میں داد پائی تھی، حق مغفرت کرے!

آسان ترجمہ قرآن مبین، نیا اور آسان ترجمہ، مترجم:محمدعبدالحلیم فاروقی۔ ناشر: نور پبلی کیشنز، بی-۴۱، گلستانِ جوہر، کراچی، فون: 0332-2954788۔ صفحات:۵۰۰۔ ہدیہ:۹۵۰ روپے۔

تمام انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کا خاص انعام اور تحفہ قرآن ہے۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے،جو پوری انسانیت کے لیے رُشدوہدایت کا ذریعہ ہے۔ ہرمسلمان کی دینی اور دُنیاوی زندگی کی کامیابی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے۔

اُردو میں قرآن کریم کا پہلا ترجمہ حکیم محمد شریف خان دہلوی (م: ۱۸۰۷ء) نے کیا ، مگر وہ کبھی شائع نہ ہوسکا۔ اس لیے شاہ ولی اللہ کے صاحبزادوں شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر کے ترجمے کو اُردو میں قرآن کا پہلا ترجمہ قرار دیا جاتا ہے، جو انھوں نے ۱۷۸۸ء ہی میں مکمل کرلیا تھا ۔ شاہ عبدالقادر کاترجمہ ۱۸۰۵ء میں شائع ہوا،اور شاہ رفیع الدین کا ۱۸۳۸ء میں طبع ہوا۔

زیرنظر ترجمہ قرآن اتنا آسان، سہل ،رواں اور عام فہم ہے کہ دل چاہتا ہے ایک ہی نشست میں مطالعہ کرلیا جائے۔ اس کے مترجم محمد عبدالحلیم، اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن اور حلقہ (عزیز آباد، کراچی) کے ناظم بھی تھے۔ انھوں نے حرم شریف کی دوسری بڑی توسیع اور صفا و مروہ کے توسیعی منصوبے کے سینئر آرکیٹکٹ کی حیثیت سے سولہ سال تک خدمات انجام دیں۔ انھی کی زیرقیادت پہلی مرتبہ بیت اللہ کے فرش کے اندر بہت گہری کھدائی ہوئی، جس سے بیت اللہ کی تعمیر کے تمام اَدوارکی تاریخ معلوم ہوئی، جو پہلے کسی کو بھی معلوم نہ تھی۔ کعبۃ اللہ کی دیوار کی تعمیر کے دوران موجود نصب حجر اسود ،جو نو(۹) ٹکڑے لاکھ سے جڑے ہوئے ہیں، عین اس کے پیچھے حجراسود کا ایک انتہائی حسین ٹکڑا جو 253 x 112 31  ملی میٹر کا دیوار کے اندر فولادی شکنجے میں محفوظ ملا، اسے دوبارہ نصب کرنے کا شرف بھی مترجم کو حاصل ہوا، نیز میوزیم حرمین شریفین کی توسیع، ڈیزائن ، تعمیر اور ہر مرحلے کے آرکیٹکٹ بھی رہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران دل میں باربار قرآن کریم کے ترجمے کا خیال اللہ ربّ العزت کی طرف سے آتا رہا اور پھر وہیں پر ترجمۂ قرآن کاعظیم کام مکمل کیا۔ اس ترجمۂ قرآن میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ایک عام آدمی چاہے وہ کتنا ہی کم پڑھا ہوا کیوں نہ ہو، وہ بھی قرآنِ مبین کو آسانی سے سمجھ لے اورقرآن کو مشکل نہ سمجھے ۔اس وجہ سے عام بول چال میں بولے جانے والے الفاظ ہی اس میں استعمال کیے گئے ہیں ۔ اشاعت سے قبل کبار علمائے کرام، اہل علم اور کم پڑھے افراد کو متن فراہم کرکے ان کی آراء حاصل کیں۔ سبھی نے اس ترجمے کو بہت آسان اور عام فہم قرار دیا ہے اور  محکمۂ اوقاف نے بھی اس پر تصدیقی مہر ثبت کردی کہ ’’یہ ترجمۂ قرآن اغلاط سے پاک ہے‘‘۔پہلی جلد پندرہ پاروں پر سورۂ فاتحہ سے سورۂ کہف تک، اعلیٰ کاغذ پر شائع کی گئی ہے (دوسری جلد تیاری کے آخری مراحل میں ہے)۔ (شبیرابنِ عادل)


روح الامین کی معیت میں کاروان نبوتؐ،پروفیسر ڈاکٹرتسنیم احمد۔ناشر:مکتبہ دعوۃ الحق، ۹۳- اے، اٹاوہ سوسائٹی ، احسن آباد ، کراچی۔ فون: 0300-9242606۔ 13 جلدیں۔ قیمت:۶۴۵۰ روپے۔

سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر محبانِ رسولؐ نے بےشمار زاویوں سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے اور بعض علمی تحریرات عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی مصدقہ معلومات کے لیے مصادر کا درجہ رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر تسنیم احمد صاحب کی یہ کاوش خصوصیت رکھتی ہے کہ اس سےسیرت کے واقعات کو قرآن کریم کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ بلاشبہہ الکتاب اور صاحب ِکتاب کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اُم المومنین سیّدہ عائشہؓ کا ارشاد ہے: کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ ۔

تیرہ جلدوں پر مشتمل روح الامین کی معیت میں کاروانِ نبوتؐ میں نہ صرف سیرتِ رسولؐ ہے بلکہ ۲۳ سالہ دعوت اسلامی کے مراحل کی رُوداد بھی ہے ۔ جس میں نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیّبہ اور اصحابؓ و صحابیاتؓ کے بارے میں قیمتی معلومات یکجا کر دی گئی ہیں۔ یہ کتاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے جامع انقلاب کا ایک تجزیاتی جائزہ پیش کرتی ہے ۔ تحریک اسلامی کے کارکنان کے لیے اس کا مطالعہ افادیت کا باعث ہوگا۔ کتاب میں ہجری اور میلادی تاریخوں کے حوالے بھی فراہم کر دیے گئے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی زندگی جن مراحل و مشکلات اور مصائب سے گزری، اس کے لیے ترتیب نزولی مطالعے کا ایک پہلو تو ہے، تاہم قرآن کریم کے مطالعے اور ہدایت سے فیض یاب ہونے کے لیے جس ترتیب سے خالق کائنات نے جبرئیل امینؑ کے ذریعے اپنے رسولؐ کو ہدایت دے کر مرتب فرمایا، اسی ترتیب سے یہ مطالعہ ہدایت فراہم کر سکتا ہے ۔ اگرچہ بعض مسلم علما اور غیر مسلم مستشرقین نے ترتیب نزولی کو موضوع بنایا ہے ،جو قرآن کا مدعا نہیں ہے۔ مستند مآخذ سے مرتب کردہ ان قیمتی معلومات کا مطالعہ ان شاء اللہ نئی نسل کو سیرت پاکؐ اور کلام عزیز دونوں سے قریب لائے گا۔(پروفیسرڈاکٹر انیس احمد)


انسائی کلوپیڈیا مکتوباتِ رحمۃ للعالمینؐ، علّامہ عبدالستار عاصم۔ناشر:قلم فائونڈیشن، بنک سٹاپ، یثرب کالونی، لاہور کینٹ۔ فون: 0300-5150101۔ صفحات:۳۷۰۔ قیمت: درج نہیں۔

سیرتِ نبویؐ پر عربی کے بعد اُردو زبان میں سب سے زیادہ کتابیں لکھی گئیں۔ سیرت کی بیسیوں شاخیں ہیں۔ مذکورہ کتاب صرف ایک شاخ (مکاتیب ِ نبویؐ) کو سامنے لاتی ہے۔ رسولِ کریمؐ نے بیسیوں خطوط لکھوا کر بھیجے۔ مرتب نے خطوط کے تراجم کو مع پس منظر و پیش منظر یکجا کیا ہے۔ ہرمکتوب الیہ کا تعارف اور اس کی حیثیت، جو ایلچی (صحابہ کرامؓ) خطوط لے کر گئے، اُن کا تعارف، حالات، مکتوب الیہ پر مکتوبِ نبویؐ کے اثرات ، نتائج، آپؐ کے مکتوبات، کہاں کہاں اور کس ملک میں کس کی ملکیت میں ہیں، بتایا ہے۔ متعلقات کی وسعت کو بیان کیا ہے۔تاہم اسے انسائی کلوپیڈیا کہنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

ابتدا میں دس تقریظ نگاروں نے مرتب کی بجاطور پر تحسین کی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


پسِ قانون: پاکستانی قانون پر برطانوی نوآبادیاتی اثرات، آصف محمود ایڈووکیٹ۔ ناشر: شیبانی فائونڈیشن، اسلام آباد۔ فون: 0333-5915287۔صفحات:۲۰۰۔قیمت:۱۰۰۰ روپے۔

مغربی سامراجیوں نے گذشتہ صدیوں میں جب مسلم علاقوں کو غلام بنایاتو اپنے فوجی اور انتظامی اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے جن شعبوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا، اُن میں سرفہرست قانون اور تعلیم کے شعبے تھے۔ بظاہر پاکستان سے انگریزی سامراج کو براہِ راست حکمرانی چھوڑے ۷۵برس گزر چکے ہیں، لیکن اس علاقے پر حاکمیت کے لیے وہ جس انتظامی، سیاسی، عسکری، تعلیمی اور فکری ڈھانچے کو چھوڑ کر گئے تھے، وہ ذُریت پوری فعال ہے، مقتدر بھی ہے اور بدوضع بھی۔

آصف محمود ایڈووکیٹ، تخلیقی ذہن کے حامل دانش ور، قانون دان اور استاد ہیں، جنھوں نے زیرنظر کتاب میں، خصوصاً پاکستان کے شعبہ قانون پر انگریزی سامراجی باقیات کو گہرے مطالعے اور باریک بین مشاہدے کے بعد قلم بند کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ یہ محض قانونی غلامی کا شکنجا نہیں ہے، بلکہ تہذیبی وفکری غلامی سے نموپانے والے احساسِ کمتری کا وہ زہر ہے، جس نے حُریت فکروعمل اور آزادیٔ خیال و اظہارپر تالا چڑھا کر غلامی کی اتھاہ میں دھکیل دیا ہے۔

اس کتاب کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ یہ کوئی خطیبانہ الزام تراشی نہیں ہے، بلکہ ٹھوس شواہد پر مشتمل وثیقہ ہے، جو گذشتہ دوسو برسوں میں لکھی گئی درجنوں کتب کا مطالعہ کرکے مرتب کیا گیا ہے۔ پاکستان میں مغربی تہذیب، لبرلزم اور سیکولرزم کے سرچشموں کو دیکھنے اور پرکھنے کے لیے یہ مختصر مگر جامع کتاب ایک قیمتی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب نے کتاب کا استقبال کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’پاکستان کے قانونی و عدالتی نظام میں بامعنی اصلاحات کے خواہش مند یہ کتاب شوق سے پڑھیں گے، اور یہ ججز، وکلا اور قانون کے اساتذہ و طلبہ کے علاوہ عام لوگوں کے لیے بھی بہت مفید ثابت ہوگی‘‘ (ص ۴)۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ایک ماہ میں اس کا پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا اور اب دوبارہ شائع کی گئی ہے۔ (سلیم منصور خالد)


دید و شنید، ڈاکٹر سیّد امجد علی ثاقب۔ ناشر: رائل بک کمپنی، ریکس سنٹر، فاطمہ جناح روڈ، کراچی۔ فون: 021-35684244۔ صفحات: ۳۳۸ ۔ قیمت (مجلد) : ۱۵۰۰ روپے۔

زندگی گزارنے کے لیے لوگ کاروبار، محنت اور ملازمت کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں، مگر ہرزندگی کے چاروں طرف حقیقی زندگی کے جو رنگ بکھرے ہوئے ہیں، بہت کم لوگ زندگی کے ان رنگوں کو مجسم تحریر میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے یا اہمیت سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر امجد علی ثاقب زمانۂ طالب علمی میں پروفیسر خورشیداحمد صاحب کی شاگردی اور مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم کی مجالس سے فیض پاتے ہوئے، پاکستان کے اعلیٰ تربیتی و انتظامی اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے انھیں پاکستان کے مقتدر طبقوں اور شخصیتوں تک رسائی حاصل رہی ہے۔ انھوں نے آپ بیتی میں زندگی کے مختلف کرداروں کی سوچ، عمل اور رویے کو دل چسپ معلومات کی صورت میں یک جا کردیا ہے۔ یہ لوگ، بلندپایہ اساتذہ اور قابلِ غور اہلِ فکرودانش ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’حُسنِ نیت و حُسنِ اخلاق سے بگڑے ہوئے لوگ ٹھیک اور اُلجھے ہوئے کام سلجھ جاتے ہیں، اور بگڑے ہوئے انسانی روابط درست ہوجاتے ہیں۔ اگر ہربات احتیاط اور دُوراندیشی سے کی جائے تو نتائج بڑے مثبت ہوتے ہیں‘‘۔(ص ۲۵)

یہ تذکرہ خوش رنگ تو ہے ہی، لیکن تاریخ کے کئی موڑ بہت قریب سے دکھاتا ہے۔ الطاف حسن قریشی صاحب نے پیش لفظ میں بجاطور پر لکھا ہے: ’’اس [آپ بیتی] میں سوچ بچار کے شگوفے کھلتے ہیں‘‘ (ص۲)۔ اپنی نوعیت کی یہ ایک منفرد کتاب ہے۔(س م خ)


ارادہ، فیاض باقر۔ ناشر: سچیت کتاب گھر، شرف مینشن، گنگارام چوک، لاہور۔ فون: 042-6308265  صفحات: ۳۵۲۔ قیمت  (مجلد): ۳۰۰ روپے۔

انسانی زندگی سوچ، ارادے اور عمل سے عبارت ہے۔ انسان اگر تعمیری سوچ اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے کسی اچھے عمل کا ارادہ کرے تو ایسی زندگی قابلِ رشک اورانسانی تعمیر اور سماجی و تہذیبی کمال کا سنگ میل بن جاتی ہے۔

معاشیات کے استاد اور سماجیات کی حرکیات پر نظر رکھنے والے ممتاز دانش ور فیاض باقر نے زیرنظر کتاب میں اسی سوچ، ارادے اور عمل سے نسبت رکھنے والے چند قابلِ قدر انسانوں کو ہمارے بیمار معاشرے سے منتخب کرکے زندگانی سے بھرپور چند مثالوں کو یکجا کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنھوں نے چاروں جانب پھیلی گھٹاٹوپ میں اپنے حصے کی شمع جلاتے ہوئے روشنی پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ نظریاتی پس منظر کے حوالے سے شاید یہ لوگ آزاد خیال ہیں، لیکن خدمت کی مثال پیش کرنے میں مصروف کار ہیں۔ایسی مثالیں سبق آموز ہیں ۔

حرفِ آغاز میں جناب مؤلف لکھتے ہیں:’’ہمارے میڈیا کی توجہ بدقسمتی سے [ملک کے] قرضوں، مالی بدعنوانی اور اقتصادی گداگری پر اٹکی ہوئی ہے....[مگر ایک سطح پر] پاکستان میں ایک خاموش تبدیلی آرہی ہے: خودکفالت، قومی خودداری ، انصاف اور ترقی کے اصولوں پر قائم ایک نیا نظام جنم لے رہاہے... [اسی مناسبت سے] ہم نے یہ کہانیاں اکٹھی کی ہیں‘‘(ص۷)۔ بلاشبہہ یہ عمل کی راہیں سجھانے والی داستانیں ہیں۔ ان کا مطالعہ خدمتی جدوجہد سے منسوب کارکنوں کو رہنمائی دیتا ہے اور حوصلوں کو بلندی عطا کرتا ہے۔ (س م خ)

میں نے جس قدر بھی قرآن مجید کا مطالعہ کیا ہے اس کی بنا پر یہ سمجھتا ہوں کہ ہروہ شخص جو شرک کا ارتکاب کرے، یا جس کے عقیدہ و عمل میں شرک پایا جائے، اس کو نہ اصطلاحاً ’مشرک‘ کا خطاب دیا جاسکتا ہے اور نہ اس کے ساتھ مشرکین کا سا معاملہ کیا جاسکتا ہے۔ اس خطاب اور اس معاملے کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک شرک ہی اصل دین ہے، جو توحید کو بنیادی عقیدے کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتے ، اور وحی و نبوت اور کتاب اللہ کو سرے سے ماخذ ِ دین ہی ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

میں یہ بات قطعی جائز نہیں سمجھتا کہ اُن لوگوں کو ’مشرک‘ کہا جائے اور مشرکین کا سا معاملہ اُن کے ساتھ کیا جائے جو کلمہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں، قرآن کو کتاب اللہ اور سندوحجت مانتے ہیں، ضروریاتِ دین کا انکار نہیں کرتے، شرک کو اصل دین سمجھنا تو درکنار ، اپنی طرف شرک کی نسبت کو بھی بدترین گالی سمجھتے ہیں، اور تاویل کی غلطی کے باعث کسی مشرکانہ عقیدے اور عمل میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ وہ شرک کو شرک سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب نہیں کرتے بلکہ اس غلط فہمی میں پڑگئے ہیں کہ ان کے یہ عقائد و اعمال عقیدئہ توحید کے منافی نہیں ہیں۔

اس لیے ہمیں ان پر کوئی بُرا لقب چسپاں کرنے کے بجائے حکمت اور استدلال سے ان کی یہ غلط فہمی رفع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آپ خود سوچیں کہ جب آپ اس طرح کے کسی آدمی کے سامنے اس کے کسی عقیدے یا عمل کو توحید کے خلاف ثابت کرنے کے لیے قرآن و حدیث سے استدلال کرتے ہیں تو کیا آپ کے ذہن میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ قرآن و حدیث کو سند و حجت مانتا ہے؟ کیا یہ استدلال آپ کسی ہندو یا سکھ یا عیسائی کے سامنے بھی پیش کرتے ہیں؟ پھر جب آپ اس سے کہتے ہیں کہ ’دیکھو، فلاں بات شرک ہے‘۔ اس سے اجتناب کرنا چاہیے، تو کیا آپ اُس وقت یہ نہیں سمجھ رہے ہوتے کہ یہ شرک کے گناہِ عظیم ہونے کا قائل ہے؟ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آخر آپ اس کو شرک سے ڈرانے کا خیال ہی کیوں کرتے؟ (رسائل و مسائل، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، ج ۵۹، عدد۶، مارچ ۱۹۶۲ء، ص۵۷-۵۹)