مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۱۸

برصغیر اور پاکستان میں اسلامی تحریکات کی تاریخ کو سمجھنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ (شیخ احمد سرہندیؒ) کے کیے ہوئے کام اور ان کو پیش آنے والی کش مکش کا فہم حاصل کیا جائے۔ وہی جہانگیر جوبادشاہی سیاست کے تقاضوں اور مصاحبوں کی دخل اندازیوں سے ایک وقت میں حضرت مجدد سے عناد رکھتا ہے اور ان پر الزامات لگاتا اور انھیں حوالۂ زنداں کرتا ہے، بعد میں جب وہ غلط فہمیوں کے غبار سے نکل آتا ہے تو شیخ سرہندیؒ  سے استفادہ بھی کرتا ہے ۔ نتیجہ یہ کہ دورِ اکبر ی کے پیدا کردہ احوال میں اصلاح کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ اورنگ زیب عالم گیر کا زمانہ آتا ہے اور وہ خلاف ِ اسلام تصورات ، معمولات اور قوانین وشعائر کا قلع قمع کر کے اسلامی نظام کے عملی نفاذ کی کوشش کرتا ہے۔

حضرت مجددؒ کے کام کا مطالعہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ انھوں نے سیاسی دائرے میں احیاے اسلام کا ایک بالکل الگ طریقہ اختیار کیا۔ اہل قوت واختیار درباریوں اور حاکموں میں سے اچھے لوگوں تک خط کتابت کے ذریعے دعوتِ حق پہنچائی اور اقامت دین کے فریضے میں حصہ لینے کے لیے ان کو اُبھارا ۔ رفض وبدعات اور ہندوانہ تہذیب کے غلبے کو ختم کرنے اور طریقِ نبوتؐ پر کاربند ہونے کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ کی تائید سے یہ کوشش کامیاب ہوئی۔

اس کوشش میں سبق یہ ہے کہ کبھی اقتدار کی اصلاح کے لیے دوسرے راستوں سے سامنے آ کر مؤثر کام کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں اہل قوت واختیار میں سے نسبتاً اچھے افراد کو رشدوہدایت کی روشنی سے بہرہ مند کرنے کی راہیں نکالنی پڑتی ہیں۔ اس خاص طریقِ تحریک کا بہترین نمونہ حضرت مجددؒ اور آپ کے مریدوں کے کام میں ملتا ہے۔ (ادارہ)

شہنشاہ جہانگیر اپنی خود نوشت تزک جہانگیری میں سنہ جلوس ۱۴ماہ خورداد۲۲ کوتحریر کرتا ہے کہ: ’’انھی دنوں مجھ سے عرض کیا گیا کہ شیخ احمد نامی ایک جعل ساز{ FR 644 } نے سرہند میں مکرو فریب کا جال بچھا کر بھولے بھالے لوگوں کو پھانس رکھا ہے۔ [اس شخص کے مقرر کردہ] یہ خلیفے، لوگوں کو فریب دینے اور معرفت کی دکان داری کرنے میں بہت پختہ ہیں۔ اُس نے اپنے مریدوں اور معتقدوں کے نام وقتاً فوقتاً جو واہیات خطوط لکھے ہیں انھیں مکـتوبات کے نام سے ایک کتاب کی شکل میں جمع کیا ہے۔ اس دفترِ بے معنی میں اس نے بہت سی ایسی بےہودہ باتیں تحریر کی ہیں جو کفر کی حد تک پہنچتی ہیں۔ ایک مکتوب میں اس نے لکھا ہے کہ مقامات سلوک طے کرتے ہوئے وہ   مقام ذی النورین میں پہنچا جو نہایت عالی شان اور پاکیزہ تھا۔ وہاں سے گزر کر مقامِ فاروق اور مقامِ فاروقؓ سے گزر کر مقامِ صدیقؓ میں پہنچا۔ پھر وہاں سے گزر کر مقامِ محبوبیت میں پہنچا جو نہایت منور ودل کش تھا۔ اس مقام میں اُس پر مختلف روشنیوں اور رنگوں کے پر تو پڑتے رہے۔ گویا استغفراللہ بزعم خویش وہ خلفا کے مرتبے سے بھی بڑھ گیا اور ان سے عالی تر مقام پر فائز ہوا۔{ FR 645 } اس نے اس طرح کی اور بھی بہت سی گستاخانہ باتیں (خلفا کی شان میں ) لکھی ہیں جن کو تحریر کرنا طوالت اور خلفا کی شان میں بے ادبی کا باعث ہو گا۔ مذکورہ وجوہ کی بنا پر میں نے اُسے دربار میں طلب کیا تھا۔ حسب الطلب حاضر خدمت ہوا تو میں نے اس سے جتنے سوالات بھی کیے ان میں سے کسی ایک کا بھی کوئی معقول جواب نہیں دے سکا۔ ’بے عقل وکم فہم ‘ہونے کے علاوہ ’ مغرور‘ و’خود پسند ‘ بھی نکلا ۔ چنانچہ میں نے اس کے حالات کی اصلاح کے لیے یہی موزوں سمجھا کہ اسے کچھ دنوں کے لیے قید رکھا جائے، تا کہ اس کے مزاج کی شوریدگی اور اس کے دماغ کی آشفتگی جاتی رہے اور عوام میں جو شورش پھیلی ہوئی ہے وہ تھم جائے۔ چنانچہ اسے اَنی راے سنگھ دلن کے حوالے کیا کہ اسے قلعہ گوالیار میں قید رکھے‘‘۔{ FR 646 }

شہنشاہ جہانگیر (۱۵۶۹ء تا ۱۶۲۷ء) کی یہ اپنی تحریر بہت واضح ہے جس میں کسی ابہام کی گنجایش نہیں۔ پہلی بات تو یہ کہی گئی کہ ’’شیخ احمد نامی ایک جعل ساز نے سرہند میں مکروفریب کا جال بچھا کر بھولے بھالے لوگوں کو پھانس رکھا ہے۔ [حضرت مجدد کے مقرر کردہ خلفا] یہ خلیفے، لوگوں کو فریب دینے اور معرفت کی دکان داری کرنے میں بہت پختہ ہیں‘‘۔

جہانگیر شیخ احمد سرہندی ؒ کا تذکرہ اس سے قبل اپنی تـزک میں کہیں نہیں کرتا۔ پہلی ہی بار جب آپ کا ذکر کرتا ہے تو ’جعل ساز ‘ کہتا ہے اور مکروفریب کا جال بچھانے کا الزام عائد کرتا ہے جس میں بھولے بھالے پھنس گئے ہیں اور یہ کہ یہ خلیفے لوگوں کو فریب دینے اور معرفت کی دکان داری کرنے میںبہت پختہ ہیں۔ 

ان الزامات میں پہلے الزام، یعنی سرہندمیں مکروفریب کا جال بچھا کر لوگوں کو پھانسنے کی حقیقت یہ ہے کہ تزک جہانگیری ، اقبال نامہ جہانگیری اور منتخب اللباب کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ سرہنداُس دور کا ایک اہم شہر تھا۔ اسے انتظامی ، سیاسی اور تجارتی مرکزیت حاصل تھی۔ یہاں جہا نگیر اور شاہ جہاں [۱۵۹۲ء-۱۶۶۶ء] نے متعدد بار قیام کیا اور یہاں سے گزرے اور جہانگیر تو  سنہ جلوس ۱۴ ہی میں جمعرات ۱۲ دی ماہ کو، یعنی شیخ احمد سرہندی کو قلعہ گوالیار میں قید کا حکم دینے کے چھے ماہ بعد سرہند میں قیام کرتا ہے، اور سرہند میں باغات لگوانے اور عمارات سازی کے لیے خاص احکام بھی دیتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سر ہند کو اس دور میں ایک اہم مقام حاصل تھا۔ (تزک جہانگیری، اُردو، ص ۵۸۵)

دوسرا الزام، یعنی ’’ہر شہر وقریہ میں خلیفے مقرر کرنا جو لوگوں کو فریب دینے اور معرفت کی دکان داری چلانے میں پختہ ہیں‘‘۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ آپ کی تحریک اتباعِ سنت ِنبویؐ تھی، جس کی ابتدا آپ نے ۱۶۰۳ء میں کی تھی۔یہ تحریک ۱۶۱۹ء تک، یعنی جس سال آپ کو دربار میں طلب اور قلعہ گوالیار میں قید کیا گیا، بہت ہی وسیع ، ہمہ گیر اور مقبول ہو چکی تھی اور اس کے اثرات ملک کے دُور دراز گوشوں تک پھیل گئے تھے اور آپ کے معتقدین ومتاثرین منظم طور پر احیاے اسلام کے لیے کام کررہے تھے۔ آپ کے مریدین ذہین ، باصلاحیت ،اہل علم ، معاملہ فہم اور سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد تھے، جن کی نگاہیں دور رس اور فکر صائب تھی۔ اس لیے ان کی باتوں میں اثر تھا۔ لوگ ان کے علم وعمل سے متاثر ہوتے تھے۔ پھر یہ لوگ محض قول ہی کے دھنی نہ تھے بلکہ جو کچھ کہتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ ان کی زندگیاں کسی مفاد ،تضاد اور خود غرضی پر مبنی نہ تھیں۔ یہ اخلاص وعمل کے پیکر تھے۔ اس لیے لوگ نہ صرف ان کی باتیں سنتے تھے بلکہ عمل بھی کرتے تھے اور ان کی آواز پر لبیک بھی کہتے تھے۔

شیخ احمد سرہندیؒ (حضرت مجدد الف ثانیؒ ) سرہند ہی میں ۱۴شوال ۹۷۱ھ (۲۶جون ۱۵۶۴ء) میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں شہنشاہ اکبر (۱۵۵۶ء تا ۱۶۰۵ء) ہندستان پر حکمران تھا۔ اسی کے آخری عہد ۱۵۹۹ء میں، شیخ سرہندیؒ ،حضرت خواجہ باقی باللہ ؒ کے مرید ہوتے ہیں اور اپنے پیرومرشد کے ۱۶۰۳ء میں انتقال کے بعد جہانگیر کی تخت نشینی سے دوسال قبل رُشدوہدایت، یعنی تحریک احیاے اسلام کا باقاعدہ آغاز کرتے ہیں۔ آپ کے متعلق حضرت خواجہ باقی باللہ ؒ نے کہا تھا کہ شیخ احمد ’کثیر العلم وقوی الارادہ ‘ ہے۔ چنانچہ حضرت خواجہ باقی باللہؒ کے جانشین ہوتے ہی آپ نے اتباعِ سنت نبویؐ، ترویجِ شریعت اور نفاذِ شریعت کا آغاز کیا۔

اس سلسلے میں ابتدا ہی میں شیخ احمد سرہندیؒ نے ایک رسالہ بہ عنوان اثباۃ النبوۃ{ FR 649 }  لکھا    جس میں دلائل کے ذریعے نبوت کی غایت ، اہمیت ، افادیت اور ہمہ گیریت کو ثابت کیا۔ اور اکبر کے نصف صدی کے دورِ حکومت میں ’عقل، فلسفہ ، مصلحت ملکی تجربہ‘ جو بطور معیار کے اختیار کر لیا گیا تھا اس کی خامیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کی۔ دوسرے الحاد وبے دینی کی سرپرستی وفروغ سے ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا تھا جو اکابر صحابہ کرامؓ کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار تھا۔ آپؒ نے فکرکی کجی کو دُور کرنے اور ذہن وفکر کی اصلاح کے لیے رسالہ ردِ ر وافض { FR 650 } تحریر کیا جس میں خلفاے راشدینؓ کی پاکیزگی اور عظمت کو قرآن وسنتِ رسولؐ، احادیث اور عقل کی روشنی میں پیش کیا۔ خلفاے راشدینؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے بارے میں جو گمراہ کن باتیں مشہور عام ہیں، ایسی غلط باتوں کی تردید کی۔ اس کے علاوہ جہانگیر کے عہد کے اعلیٰ مناصب پر فائز متعدد امراے مملکت کو  مکتوبات لکھے جن کی معرفت نہ صرف ان کے ذہن وفکر کی تطہیر کی، بلکہ غلط تصورات ، عقائد اور باطل نظریات سے آگاہ کرکے انھیں ترویجِ شریعت اور نفاذ شریعت کی ترغیب دی۔ چنانچہ شہنشاہ جہانگیر کی تخت نشینی اور حکومت کے حصول میں شیخ فرید بخاری کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

شیخ فرید بخاری، حضرت خواجہ باقی باللہؒ کے مرید اور اس حیثیت سے شیخ احمد سرہندیؒ (حضرت مجدد الف ثانیؒ ) کے پیر بھائی اور اکبر کے آخری دور حکومت میں مملکت کے اہم عہدے دار تھے۔ شیخ احمد سرہندی ؒ نے اس زمانے میں جب اکبر کا آخری دورِحکومت تھا اور اس کے بعد جانشینی کا مسئلہ در پیش تھا اور حکومت کے دعوے دار بھی موجود اور کوشاں تھے، تو آپ نے شیخ فرید بخاری کے نام یکے بعد دیگرے ۱۲ خطوط مسلسل لکھے ہیں جو مکتوبات امام ربانی کی جلد اوّل میں ۴۳تا ۵۴ مسلسل ہیں، اور شیخ فرید بخاری جہانگیر کو تخت نشین کرانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ جہانگیر ان کی اس خدمت کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں انعامات واکرامات کے علاوہ ’صاحب السیف والقلم‘ کا خطاب دیتا ہے۔(تزک جہانگیری، ص ۴۵)

 جہانگیر کے مقابلے میں خسرو (اکبر کا پوتا اور جہانگیر کا بیٹا) جب دوبارہ سر اُٹھاتا ہے تو شیخ فرید بخاری ہی تندی و تیزی سے خسرو کا تعاقب کرتے ہیں اور دوبارہ شکست دے کر اس کو ناکام کرتے ہیں اور جب جہانگیر کو اس کامیابی سے مطلع کرتے ہیں، تو جہانگیر بہت خوش ہوتا ہے اور قاصد کو ’خوش خبر‘ کا خطاب دیتا ہے اور انھیں ’مرتضیٰ خاں‘ کا خطاب اور دیرو وال کا علاقہ بطور جاگیر دیتا ہے۔(تزک جہانگیری، ص ۹۵)

شیخ فرید کے علاوہ جہانگیر کے عہد کے متعدد امراے مملکت، مثلاً عبدالرحیم خان خاناں، مرزا حسام الدین ، خاںجہاں خاں، جباری ، مرزا فتح اللہ ، حکیم مرزا دواب ، قلیج خاں، بہادر خاں صدر جہاں، خواجہ جہاں، لالہ بیگ ، خان اعظم وغیرہ امراے مملکت کو بھی خطوط لکھے ہیں، جن کی تعداد  کم وبیش ایک سو (۱۰۰) ہوتی ہے۔ یہ تمام خطوط جلد اول ہی میں موجود ہیں۔ ان تمام مکتوبات کا ایک ہی مرکزی موضوع تھاکہ ’’وہ اپنے عہد ے ومنصب سے فائدہ اُٹھا کر شریعت کو نافذ کریں‘‘۔ اس لیے جہانگیر کا یہ الزام کہ شیخ احمد ایک ’جعل ساز ‘ ہے جس نے مکروفریب کا جال بچھا رکھا ہے، اور یہ خلیفے لوگ فریب دینے اور معرفت کی دکان داری کرنے میں بہت پختہ ہیں، سراسر ایک لغو الزام واتہام ہے جس کی کوئی تاریخی حقیقت اور صداقت نہیں ہے اور خود جہانگیر نے بھی اپنے اس دعوے یا الزام میں کوئی واقعہ تحریر نہیں کیا ہے اور نہ کوئی ثبوت ہی پیش کیا ہے۔

دوسرے یہ لکھنا کہ ’’اس نے اپنے مریدوں اور معتقدوں کے نام وقتاً فوقتاً جو واہیات خطوط لکھے ہیں انھیں مکـتوبات کے نام سے ایک کتاب کی شکل میں جمع کیا ہے وغیرہ وغیرہ‘‘۔ جہانگیر کا یہ اشارہ شیخ احمد سرہندی کے مکتوبات کے اس مجموعے کی طرف ہے جو ۱۶۱۶ء بہ مطابق ۱۰۲۵ھ (دربار میں طلبی اور قلعہ گوالیار میں قید سے تین سال قبل) ایک کتابی شکل میں شائع ہوا تھا۔ اس مجموعے میں ۳۱۳مکتوبات ہیں اور یہ تعداد اصحابِ بدر کی رعایت پر ہے۔ اصحاب ِبدر کو تاریخ اسلام میں ایک بہت ہی بنیادی ومرکزی اہمیت حاصل ہے۔ انھی اصحاب نے رمضان المبارک۲ھ میں بمطابق ۶۲۴ء میں قلیل تعداد اور سازوسامان اور اسلحے کی کمی کے باوجود ، لشکر کفار جو تعداد ، سازوسامان اور اسلحے کی فراوانی میں فوقیت رکھتا تھا، اس پر نہ صرف کاری ضرب لگائی بلکہ انھیں شکست فاش دے کر مسلمانوں کے حوصلے اور عزم کو بلند کر دیا اور اہل کفر کے نخوت وپندار کو پاش پاش کر دیا۔ یہ  اہلِ اسلام اور اہل کفر کے درمیان پہلی مسلح جنگ تھی جن میں اہل اسلام کو اللہ کی تائید ونصرت سے کامرانی حاصل ہوئی اور اہل کفر کو شکست وہزیمت سے دوچار ہونا پڑا ۔

اس کتاب کا تاریخی نام دُرّالمعرفت ہے۔ یہ تمام مکتوبات بلا شک مریدین ومعتقدین ہی کو لکھے گئے جن کا مرکزی موضوع توحید ، رسالت ، کفروشرک ، شریعت کی اہمیت وعظمت ، ترویجِ شریعت اور اتباعِ سنتِ نبویؐ کی ضرورت ہے، جو آج بھی دیکھے اورپڑھے جا سکتے ہیں، جوبظاہر ایک فرد کے نام تحریر کیے گئے ہیں اور جدید اصطلاح میں رسالہ یا پمفلٹ سے تعبیر کیے جا سکتے ہیں۔ یہ مکتوبات جن موضوعات یا مسائل پر لکھے گئے ہیں ان کا تعلق ہر دور میں ہر مسلمان سے ہے۔ یہ خطوط چوںکہ عام افادیت اور عمومی دل چسپی کے تھے اور کسی وقتی یا ہنگامی مسائل سے متعلق نہ تھے، بلکہ ان کی مستقل اہمیت تھی جن میں اسلام کے بنیادی مسائل توحید، رسالت ، آخرت اور اسلامی تعلیمات کی توضیح وتشریح اور اسلامی تاریخ کے بعض واقعات کی تعبیر وتشریح اور مختلف معاملات کے متعلق اسلام کی حدود وغیرہ پر بحث تھی۔ آپ کے حلقۂ ارادت واثر میں روز بروز اضافہ ہونے کی وجہ سے ان کی مانگ میں اضافہ ہورہا تھا۔ اس لیے عمومی مفاد کے پیش نظر شائع کرائے تا کہ یہ خطوط یک جا مل سکیں اور لوگ ان سے استفادہ کر سکیں۔ جہاں تک ان خطوط کے مجموعے کو ’دفتر بے معنی ‘ کہنے کا تعلق ہے تو ’ناطقہ سر بگر یباں ہے اسے کیا کہیے ؟‘ایسے اہم مسائل اور مباحث پر مشتمل مجموعے کو ’دفترِ بے معنی‘ وہی شخص کہہ سکتا ہے جو بصارت وبصیرت سے عاری ہو یا غیظ وغضب نے اس کی آنکھوں پر پردے ڈال دیے ہوں اور عقل وفہم کے دروازے بند کر دیے ہوں۔

یہ خطوط آج بھی ملتے ہیں اور قبولیت عام کا یہ عالم ہے کہ متعد د بار فارسی اور اردو میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے مطالعے سے حقیقت شناس اور تاریخ کا غیر جانب دار طالب علم بہ آسانی سمجھ سکتا ہے کہ جہانگیر کے الزام واتہام کی کیا نوعیت اور حقیقت ہے ؟ اور اس میں کہاں تک صداقت ہے ؟ اور یہ خطوط بقول جہانگیر کے ’واہیات ‘ اور ’دفتر بے معنی‘ ہیں؟ یا واقعی دُرّالمعرفت؟

جہانگیر اپنے عائد کردہ الزام واتہام کے لیے بطور ثبوت حضرت مجدد کے ایک خط کی عبارت پر یوں اعتراض اُٹھاتا ہے کہ ـ:

مقاماتِ سلوک طے کرتے ہوئے وہ (یعنی حضرت مجدد ) مقام ذی النورین میں پہنچا جو نہایت عالی شان اور پاکیزہ تھا۔ وہاں سے گزر کر مقامِ فاروق ؓ سے گزر کر مقامِ صدیقؓ  میں پہنچا۔ پھر وہاں سے گزر کر مقامِ محبوبیت میں پہنچا جو نہایت منور اور دلکش تھا۔ اس مقام میں اس پر مختلف روشنیوں اور رنگوں کے پر تو پڑتے رہے۔ گویا استغفراللہ بزعمِ خویش وہ خلفا کے مرتبے سے بھی بڑھ گیا اور ان سے عالی تر مقام پر فائز ہوا۔  اس نے اس طرح کی اور بھی بہت سی گستاخانہ باتیں (خلفا کی شان میں ) لکھی ہیں، جن کو تحریر کرنا طوالت اور خلفا کی شان میں بے ادبی کا باعث ہو گا۔

یہ اقتباس مذکورہ الزام کا ثبوت تو درکنار خود ایک الزام واتہام کی نوعیت رکھتا ہے اور یہ الزام کہ شیخ احمد سرہندی نے خلفا کی شان میں گستاخانہ باتیں لکھی ہیں اور اپنے آپ کو خلفا سے افضل بتایا ہے اور ان سے عالی مقام پر فائز ہوا، یہ مزید ایک الزام ہوا۔

قبل اس کے کہ اس الزام پر کلام کیا جائے یہ مناسب ہو گا کہ ’ اس عبارت ‘ کے سلسلے میں چند نہایت اہم اور قابلِ غور پہلو پیش نظر رکھے جائیں۔

جہانگیر نے اپنی تزک میں جس ’عبارت‘ کا اقتباس پیش کیا ہے، یہ شیخ احمد سرہندی کے مکتوب یا زدہم (۱۱) کی عبارت ہے۔ یہ خط شیخ احمد سرہندی نے اپنے پیرو مرشد خواجہ باقی با للہ کو تحریر کیا تھا اور خواجہ باقی باللہ سے شیخ احمد سرہندی ۱۵۹۹ء میں بیعت ہو گئے تھے اور خواجہ صاحب کا انتقال ۱۶۰۳ء (۱۰۱۲ھ) میں ہوا، یعنی آپ کے مرید ہونے کے بعد چار سال تک وہ بقید ِ حیات رہے۔

اس اثنا میں متعدد مرتبہ شیخ احمد سرہندی خواجہ صاحب کے پاس بہ نفس نفیس رُشد وہدایت و تربیت کے سلسلے میں دہلی میں مقیم رہے اور جب سرہند میں رہتے تھے تو خط کے ذریعے ہدایت و رہنمائی حاصل کرتے۔ اس طرح چار سال کے عرصے میں شیخ احمد سرہندی نے خواجہ صاحب کو کُل ۲۰ خطوط لکھے ہیں جو سب کے سب ایک ہی ترتیب میں جلد اول میں نمبر ۱ تا ۲۰ محفوظ ہیں۔ ان میں جس خط کی عبارت کو تزک جہانگیری  میں جہانگیر نے نقل کیا ہے وہ ترتیب میں گیارھویں خط کی عبارت ہے۔

 اس کے معنی یہ ہوئے کہ آپ نے یہ خط ۱۵۹۹ء اور ۱۶۰۳ء کے درمیان لکھا ہے اور چارسال کے اثنا میں آپ ؒ نے کل ۲۰ خطوط خواجہ باقی باللہ  ؒ کو لکھے ہیں ، یعنی اوسطاً سال میں پانچ خط۔ اس لیے یہ گیارھواں خط ۱۶۰۱ء کے آخر میں یا ۱۶۰۲ء کے ابتدا میں تحریر کیا ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہو تو بھی یہ خط بہر حال جہانگیر کی تخت نشینی سے تین یا چار سال پہلے لکھا گیا ہے۔ کیوںکہ جہانگیر ۱۶۰۵ء میں تخت نشین ہوتا ہے۔ اس لیے اگر واقعی اس خط کی عبارت قابل گرفت تھی تو اس زمانے میں تحریر کی گئی تھی جب جہانگیر حکمران نہیں ہوا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ اس خط سے عوام میں فی الواقع کوئی شورش پھیلی ہوئی تھی جیسا کہ جہانگیر نے لکھا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو جہانگیر کے پیش رو والیِ حکومت کے لیے بہترین موقع تھا کہ وہ اس کا نوٹس لیتا ۔ یہ مغل بادشاہ اکبر [۱۵۴۲ء-۱۶۰۵ء] کا دور تھا۔ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ  تخت نشینی سے پہلے جہانگیر کو کوئی اختیار نہیں تھا، البتہ جہانگیر اس کو قابلِ اعتراض وگرفت سمجھتا تھا۔ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ جہانگیر نے تخت نشینی کے فوراً بعد اس کا نوٹس کیوں نہ لیا، جب کہ بقول جہانگیر اس خط کے مندرجات سے لوگوں میں ہیجان ، بے چینی اور شورش پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن اس وقت ایسا نہیں کیا گیا بلکہ تخت نشینی کے ۱۴ سال بعد تک جہانگیر خاموش رہا۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جہانگیر کے نزدیک ۱۴ سال تک یہ خط نہ قابلِ مواخذہ تھا اور نہ اس پر کبھی توجہ گئی۔

جہانگیر اپنے سنہِ جلوس ۱۴ ،یعنی ۱۶۱۹ء میں اور متذکرہ خط لکھنے کے ۱۸ یا ۱۹ سال کے بعد شیخ احمد سرہندیؒ کو دربار میں طلب کرتا ہے تو اس طویل خاموشی اور تاخیر سے متعدد سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں کہ اگر واقعی یہ عبارت خطرناک ، گمراہ کن اور خلفا کی شان میں گستاخی پر محمول تھی اور اس سے عوام میں ہیجان اور شورش پھیلی ہوئی تھی، تو اتنے طویل عرصے تک جہانگیر کی خاموشی سمجھ میں نہیں آتی ؟ پھر یکایک جہانگیر کا ۱۸ یا ۱۹ سال کی پرانی تحریر پر حضرت شیخ احمد سرہندیؒ کو دربار میں طلب کرنا اور قلعہ گوالیار میں قید کرنا کسی اور گمان کو تقویت پہنچاتا ہے۔

جہانگیر کے اقتباس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ شیخ احمد سرہندیؒ نے یہ تحریر حضرت خواجہ باقی باللہ ؒ کو اس وقت لکھی تھی جب وہ بقیدِ حیات تھے اور آپ زیرِ تربیت تھے۔ آپ پر جو کیفیت یا احوال گزر ے تھے اس سے اپنے پیرومرشد کو باخبر کرتے تھے تا کہ ان مسائل میں آپ کو صحیح رہنمائی وہدایت مل سکے۔ یہ تھا اصل عبارت کا پس منظر ۔ جب یہ خط لکھا گیا تھا تو اس وقت اس عبارت کو اس قسم کے غلط معنی نہیں پہنائے گئے۔ بعد میں جب خط کی عبارت پر اعتراضات کیے گئے اور شکوک وشبہات کو ہوا دی گئی اور مخالفین ومعاندین نے عوام میں غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے رقیبانہ اور معاندانہ رویہ اختیار کیا، تو عوام اور خواص کی غلط فہمی کو دُور کرنے اور حقیقت حال سے روشناس کرنے کے لیے شیخ احمد سرہندی ؒ اپنے ایک خط میں تحریر کرتے ہیں کہ ’’یہ بات اور دوسری باتیں جو اس عرض داشت میں واقع ہوئی ہیں، ان واقعات میں سے ہیں جو اپنے پیرومرشد کی طرف لکھے گئے ہیں اور اس گروہ میں یہ بات ثابت ومقرر ہے کہ جو کچھ ظاہر ہوتا رہے، خواہ صحیح ہو یا غلط ، بے تحاشا اپنے پیرو مرشد کی طرف ظاہر کرتے رہیں‘‘۔{ FR 647 }

 شیخ احمد سرہندیؒ کی یہ تحریر نہایت وضاحت سے اصل صورتِ حال کو پیش کر رہی ہے۔ جہانگیر نے جس خط کی عبارت کا تذکرہ کیا ہے، وہ خط کسی دعویٰ یا فخرو مباہات کے طور پر نہیں لکھا گیا بلکہ اس اثنا میں،جب کہ آپ کے پیرو مرشد بقیدِ حیات تھے اور آپ سرہند میں مقیم تھے اور برابر ان کی رہنمائی وہدایت طلب کر رہے تھے۔ آپ نے متذکرہ خط اپنی اس کیفیت اور حال سے مطلع کرنے کے لیے لکھا تھا تا کہ ہر حال میں آپ کو صحیح رہنمائی حاصل ہو سکے۔

خلفاے راشدینؓ کی شان میں ’گستاخانہ باتیں‘ لکھنا

جہانگیر کا یہ الزام کہ اپنے آپ کو خلفا ے راشدینؓ سے افضل سمجھتا ہے اور ان کی شان میں بہت سی گستاخانہ باتیں لکھی ہیں، یہ بھی محض الزام و بہتان ہے۔ اس دعوے کے ثبوت میں جہانگیر نے نہ تو کوئی واقعہ پیش کیا ہے اور نہ کوئی تحریر ہی پیش کی ہے۔ البتہ شیخ احمد سرہندی  ؒ نے اپنے مکاتیب نمبر ۱۹۲، ۱۰۲، ۲۵۱، ۱۶۶ ،جلد اوّل، مکتوب نمبر ۱۵، ۳۶، ۶۷،۹۶ ،جلد دوم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہ اور دوسرے صحابہ کرامؓ کی فضیلت وعظمت کے بارے میں قرآن اور سنت ِ رسولؐ اور احادیث کی روشنی میں نہایت ہی واشگاف اور غیر مبہم الفاظ میں تحریر کیا ہے۔ نیز خلفاے راشدینؓ کی اتباع کو لازمی قرار دیا ہے۔ اپنے مکتوب نمبر ۲۰۲ جلد اوّل میں تحریر کرتے ہیں کہ: ’’وہ شخص جو حضرت امیر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل کہے اہل سنت والجماعت کے گروہ سے نکل جاتا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس شخص کا کیا حال ہو گا جو اپنے آپ کو افضل جانے ۔ اس گروہ میں تو یہ امر طے ہے کہ اگر کوئی سالک اپنے آپ کو خارش زدہ کتّے سے بہتر جانے تو وہ ان کمالات سے محروم ہے۔ سلف کا اجماع اس بات پر منعقد ہوا ہے کہ ’’انبیا علیہم السلام کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ تمام انسانوں سے افضل ہیں۔ وہ بڑا ہی احمق ہے جو اس اجماع کے خلاف کرے‘‘۔{ FR 653 } (مکتوب ۲۰۲، جلد اوّل، ص ۴۳۸)

اس طرح آپ نے اپنے مکتوبات میں نہایت ہی شرح وبسط سے واشگاف الفاظ میں بلاکسی ابہام کے خلفاے راشدینؓ سے متعلق اپنے عقیدہ ومسلک کو پیش کیا ہے۔ اس سے کسی قسم کی غلط فہمی اور شک وشبہے کی گنجایش نہیں رہ جاتی ۔ اس واضح اعلان کے بعد بھی یہ کہنا اور سمجھنا کہ آپ ؒ اپنے آپ کو خلفاے راشدینؓ سے افضل سمجھتے اور کہتے ہیں، جہالت ، دیدہ دلیری ، ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔

جہانگیر نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ’’میں نے جتنے سوالات بھی کیے ان میں سے کسی ایک کا بھی (شیخ احمد سرہندی ؒ ) جواب نہیں دے سکا۔ وہ بے عقل وکم فہم ہونے کے علاوہ مغرور اور خودپسند بھی نکلا‘‘۔

جہانگیر نے نہ تو اپنے سوالات تحریر کیے ہیں اور نہ شیخ احمد سرہندی ؒ ہی کے جوابات لکھے ہیں۔ اس لیے ایک غیر جانب دارانہ طالب علم کی حیثیت سے اس کے متعلق محض یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ محض جہانگیر کا ایک دعویٰ ہے جو بہتان کی تعریف میں آتا ہے۔ سوالات اور جوابات کی غیر موجودگی میں اس کی حقیقت اور اصلیت کو پرکھا نہیں جا سکتا۔ البتہ ’بے عقل وکم فہم ‘، ’مغرور اور خود پسند‘ قرار دینے کے معنی یہ ہیں کہ دل کا بخار نکالا جا رہاہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ شیخ احمد سرہندی ؒ نے مروجہ درباری آداب کے مطابق دربار میں جہانگیر کے سامنے سجدہ نہیں کیا ۔ کیوںکہ شیخ احمد سرہندی ؒ اپنے مکتوب نمبر ۹۲ جلد دوم میں حق تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ جائز قرار نہیں دیتے۔ اس لیے جب آپ نے مروجہ درباری آداب کے مطابق سجدہ نہیں کیا ہو گا تو اس سے جہانگیر کی انانیت کو زبر دست ٹھیس لگی ہو گی۔ اس نے کبھی تصور وگمان بھی نہ کیا ہو گا کہ کوئی اللہ کا بندہ ایسا نڈر اور بے خوف بھی ہو سکتا ہے جو مروجہ سجدۂ تعظیمی ادا کرنے سے انکار کردے۔ لیکن آپ کا یہ فعل سراسر شریعت کے اتباع پر مبنی تھا۔ اس میں نہ کسی کی مخالفت تھی اور نہ مخاصمت ۔ نہ کسی کی توہین، نہ کسی کی دل آزاری۔ یہ تو محض شریعت کی پاس داری وعظمت کے تصوّر کے تحت بہت ہی مومنانہ اور جرأت مندانہ عمل تھا۔ جہانگیر کو آپ کا یہ فعل بہت ہی ناگوارِ خاطر گزرا ہو گا۔ اسی ناراضی کی بنا پر آپ کو ’بے عقل و کم فہم ، مغرور اور خود پسند ‘ ہونے کا طعنہ دیا ہو گا۔

آخر میں جہانگیر یہ تحریر کرتا ہے کہ اس (شیخ احمد سرہندی ؒ) کے مزاج کو شوریدگی اور اس کے دماغ کی آشفتگی کا ازالہ کرنے اور عوام میں جو شورش پھیلی ہوئی ہے اس کی روک تھام کے لیے میں نے شیخ سرہندی کو اَنی سنگھ دلن کے حوالے کیا کہ اسے قلعہ گوالیار میں قید رکھے۔

جہانگیر نے مجدد الف ثانی کو قلعہ گوالیار میں قید کرنے کے لیے اَنی سنگھ دلن کے حوالے کیوں کیا تھا ؟ اَنی سنگھ دلن ایک راجپوت اور ہندو امیر مملکت تھا جو جہانگیر کا بہت ہی معتمد علیہ اور منظورِ نظر تھا۔ جہانگیر نے اپنے عہدکے تمام معتوبین یا مخالفوں کو اسی کے حوالے کیا تھا، مثلاً :۱- مرزا رستم، جو پانچ ہزاری ذات وسوار کا منصب رکھتا تھا اور ٹھٹھہ کا صوبے دار تھا، ۲- خسرو،جو جہانگیر کے مقابلے میں تخت کا دعوے دار تھا، جس نے بغاوت بھی کی تھی اور ناکام ہو کر گرفتار ہوا، ۳- مرزا حکیم کے پوتے (جو اکبر کا بھائی تھا اور اس کے خلاف بغاوت بھی کی تھی )، ہرمز اور ہوسنگ، ۴-کشتواڑ کا راجا کنور سنگھ جس نے جہانگیر کے خلاف بغاوت کی تھی۔

ان سب کو جہانگیر نے اَنی سنگھ دلن ہی کے سپرد کیا تھا۔ چنانچہ شیخ احمد سرہندی کو بھی اس کے سپرد کیا اور صرف ایک ماہ قبل جہانگیر نے سنہِ جلوس ۱۴ ماہ فرور دیں ۸۰ ہی کو اس کو دوہزاری ذات وہزار وشش صد (۱۶۰۰) سوار کے منصب پر فائز کیا تھا۔(تزک جہانگیری، سلیم واحد سلیم، ص ۲۸۱، ۳۵۴، ۵۵۰، ۵۶۴، ۶۷۵، ۷۱۳)

اَنی سنگھ دلن پر اپنے خصوصی اعتماد کی وجہ سے جہانگیر نے شیخ احمد سرہندی کو اس کے سپرد کیا۔ اس کے ہندو راجپوت ہونے کی وجہ سے جہانگیر کو یہ یقین تھا کہ اَنی سنگھ دلن کو شیخ احمد سرہندی کی تردیج شریعت کی تحریک سے ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اس کی نگرانی میں شیخ احمد پر گرفت سخت رہے گی اور انھیں کوئی سہولت ورعایت نہیں مل سکے گی۔

خلاصہ یہ کہ جہانگیر نے اپنی خود نوشت سوانح حیات تزکِ جہانگیری میں سال جلوس ۱۴ماہ خوردار ۲۲ کو شیخ احمد سرہندی ؒ پر جو الزامات واتہام لگائے ہیں وہ ناقدانہ تجزیے کی رُو سے بالکل بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں۔ البتہ اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ شیخ احمد ؒ کے مخالفین اور حاسدین نے جہانگیر کو اس قدر ورغلایا اور برہم کر دیا اور اس قدر بے سروپا باتیں اس کے کان میں ڈالیں کہ آپ کے لیے جہانگیر کے دل میں شدید مخالفت پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے جہانگیر نے حضرت شیخ  ؒ کے خلاف ایسے سخت اور ناشائستہ الفاظ استعمال کیے جن میں نہ تو ادبیت ہے اور نہ اندازِ شرافت ہی ۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ (۱۹۰۸ء-۲۰۰۲ء) اسلام کے بطلِ جلیل، جنھوں نے اپنی ساری زندگی، توانائی اور صلاحیتیں دین و علم کی اشاعت اور خدمت کے لیے وقف کردی۔ تحصیل علم کے بعد   قلم و قرطاس سے جو رشتہ و تعلق قائم ہوا وہ تادمِ آخر برقرار رہا۔ انھوں نے بلامبالغہ اس قدر لکھا   اور پڑھا کہ اس کا احاطہ آسانی سے ممکن نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے زندگی کے آخری برسوں میں  دیارِ مغرب خصوصاً فرانس کے غیر مسلموں کے تاریک سینوں کو دینِ اسلام کے نور سے منور کرنے اور انھیں مشرف بہ اسلام کرنے کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا تھا۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب کی دینی، علمی اور تحقیقی سرگرمیوں اور دل چسپیوں کا میدان وسیع اور متنوع تھا۔ انھوں نے قرآن، علم القرآن، حدیث، فقہ، سیرت رسولؐ اور اسلامی تاریخ و قانون پر گراںقدر علمی سرمایہ چھوڑا ہے۔ اہل علم و دانش میں سے کسی کے نزدیک وہ ایک بلند پایہ سیرت نگار تھے تو کسی کے نزدیک ماہر قانونِ اسلام وفقہ، اور کوئی ڈاکٹر صاحب کے کثرتِ مطالعہ اور قوتِ مشاہدہ کا معترف ہے تو کوئی ان کی تحقیقی و تخلیقی صلاحیت کا قدر دان۔ڈاکٹر صاحب کی ۹۵ سالہ طویل زندگی اور کثیرالجہت سیرت و شخصیت اور کمالات و افادات کا جائزہ و احاطہ ایک نشست میں ممکن نہیں، تاہم ان کے انتقال کے بعد اُردو میں ان کی جو تالیفات و تصنیفات سامنے آئی ہیں، اس مضمون میں اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوام عالم میں قانونِ بین الممالک کی اہمیت کا شدت سے احساس پیدا ہوا۔ چنانچہ اقوام متحدہ کے قیام کے ساتھ ہی ایک منشور ترتیب دیا گیا، جس میں باہمی تعلقات کی استواری اور دوسرے مسائل اور نزاعات کے حل کے لیے قوانین وضع کیے گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے اقوام متحدہ کے اس منشور کو بھی اردو میں منتقل کیا۔ (ڈاکٹر حمید اللہ، خطبات بہاو ل پور، ص ۱۱۵)

علامہ ابنِ القیم کی کتاب احکام اہل الذمہ ڈاکٹر صجی الصالح کی تحقیق سے شائع ہوئی۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے اس پر جو پُرمغز مقدمہ لکھا، وہ بھی اُن کے قانون بین الاقوامی کے شعور کا غماز ہے۔ اس میں انھوں نے اسلام کے ملکی اور بین الاقوامی قوانین، غیر مسلم حکومتوں سے تعلقات اور ’اہل ذمہ‘ کے حقوق و معاملات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس موضوع پر قدما میں امام سرخسی کی شرح الکبیر معرکہ آرا کتاب ہے۔ دراصل اس میں صلح و جنگ کے طریقے، غیر مسلم اقوام سے تعلقات اور تجارت وغیرہ پر بحث کی گئی ہے۔ اسلام کے بین الاقوامی قانون کو جاننے کے لیے یہ کتاب بہت اہم ہے۔ امام سرخسی کے زمانے میں، جب کہ صلیبی جنگیں لڑی جارہی تھیں، بین الاقوامی تعلقات اور بین الاقوامی قوانین یقینا زیر بحث رہے ہوں گے۔ اس وقت کے اہم تقاضے کو  امام سرخسی نے اس طرح پورا کیا کہ امام محمد کی کتاب کتاب السیر کی شرح لکھوائی۔یہ شرح جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے حیدر آباد دکن اور مصر سے کئی بار شائع ہوچکی ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر یونیسکو (UNESCO) نے اسے فرانسیسی زبان میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ یہ کام بھی ڈاکٹر صاحب کے قلم سے پایۂ تکمیل کو پہنچا۔{ FR 644 } تاہم یہ کتاب بہ زبان فرانسیسی ابھی تک شائع نہیں ہوسکی۔

اسی حوالے سے ڈاکٹر حمید اللہ کی دو حصوں پر مشتمل ایک اور اہم تصنیف الوثائق السیاسیۃ فی العھد النبوی و الخلافۃ الراشدہ ہے۔ اس کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوبات اور ان کے دریافت جوابات، فرامین، معاہدے، دعوت اسلامی، عمّال کا تقرر، اراضی کے عطیات، آمان نامے، وصیت نامے وغیرہ شامل ہیں۔ دوسرے حصے میں عہدِخلافتِ راشدہ کی دستاویزات کو یک جا کیا گیا ہے۔ (خطبات بہاولپور، ص ۱۱۸)

اس موضوع پر ڈاکٹر حمید اللہ کی ایک اور اہم کتاب The Muslim Conduct of State  ہے۔ اس میں قانون بین الممالک کی غرض، اساس اور اس کے ماخذ سے بحث کی گئی ہے اور ماقبل اسلام قانون بین الممالک کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ موضوع کے دوسرے گوشوں، مثلاً آزادی، اختیارات، سفارت، جنگ، بغاوت، ڈاکا زنی، جنگی قیدیوں اور دشمنوں کے ساتھ سلوک، فوج میں مسلم خواتین وغیرہ جیسے موضوعات پر ڈاکٹر صاحب نے نہایت عمدہ بحث و تحقیق پیش کی ہے۔ اس کے بارے میں مولانا ابو الجلال ندوی رقم طراز ہیں:’’مسلمانوں کے بین الاقوامی آئین پر یہ پہلی کتاب ہے جو اس زمانے کی ضرورتوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے۔ تنگ اور محدود نسلی اور جغرافیائی قومیت کی پیدا کر دہ عالم گیر کش مکش کی وجہ سے اب دنیا کا رجحان بین الاقوامیت کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ وسعت صرف اسلام ہی میں مل سکتی ہے، اس لیے اسلام کے بین الاقوامی قوانین کو پیش کرنا ایک بڑی خدمت ہے‘‘۔

اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کتاب کے اب تک بارہ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ ترکی زبان میں اس کا ترجمہ بھی ہوا۔ یہ کتاب، پاکستان، بھارت اور ترکی کے علاوہ جرمنی سے بھی شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس کے ہر ایڈیشن میں اضافے اور نظرثانی کرکے اُسے پہلے سے بہتر بناتے رہے۔

ڈاکٹر صاحب کی ایک اور کتاب First Written Constitution in the World ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’میثاق مدینہ‘ پر سیرحاصل بحث کرتے ہوئے اُسے ’پہلا عالمی دستور‘ قرار دیا گیا ہے اور مدلل انداز میں ثابت کیا ہے کہ یہ پہلا کثیر قومی و نسلی اور مذہبی وفاق تھا۔ اس سلسلے کی ایک اور انگریزی کتاب The Prophet Establishing (پاکستان ہجرہ کونسل، اسلام آباد، ۱۹۸۸ء)بھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی بعض کتابیں بظاہر سیرت پر ہیں، مثلاً رسولِ اکرمؐ کی سیاسی زندگی، عہدنبویؐ کے میدان جنگ، اور عہدنبویؐ میں نظامِ حکمرانی وغیرہ، مگر ان میں بھی قانون بین الممالک کے مختلف پہلوئوں پر بحث کی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا انداز محققانہ اور مدلل ہے۔ ان کی تمام تحریریں اس کا ثبوت ہیں۔  خاص طور پر قانون بین الممالک کے میدان میں ان کا کام اپنے ہم عصر مفکرین میں نہایت منفرد ہے۔ انھوں نے قدیم نظریۂ سیر میں اضافے کیے ہیں اور اسلامی قانون بین الممالک کے ارتقا اور اس کی تشکیل نو میں ان کا کردار بڑا کلیدی ہے۔ اس کی تصدیق ان کی تحریروں اور خطبات سے ہوتی ہے، جنھیں درج ذیل نکات کی صورت میں سمیٹا جاسکتاہے:

  • اُردو میں انٹر نیشنل لا ( International Law) کا ترجمہ ’بین الاقوامی قانون‘ کیا جاتا ہے، مگر ڈاکٹر حمیداللہ نے اس کے لیے عموماً ’قانون بین الممالک‘ کی ترکیب استعمال کی ہے۔ وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ قانون اصل میں سلطنتوں یا حکومتوں کے آپس کے تعلقات سے متعلق ہوتا ہے۔ حالت جنگ میںبھی اور حالت امن میں بھی سلطنت کے باشندوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یعنی دو قوموں کے تعلقات سے اس میں بحث نہیں ہوتی بلکہ مملکتوں کے معاملات و مفادات سے بحث ہوتی ہے، لہٰذا ’قانون بین الممالک‘ کا لفظ زیادہ موزوں ہے۔{ FR 645 } ابتدا میں International law کی جگہ ڈاکٹر حمید اللہ اسے Inter State کہتے اور لکھتے تھے۔
  • قانون بین الممالک (یعنی علم السیر) ایک ایسا علم ہے، جو مسلمانوں کا رہین منت ہے اور مسلمانوں نے ہی سب سے پہلے اسے علم کے طور پر متعارف کیا، مگر مغربی اہل قلم اور دانش ور کہتے ہیں کہ جدید بین الاقوامی قانون مغربی مفکرین کی کاوشوں کا مر ہونِ منت ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جدید بین الاقوامی قانون کی داغ بیل سترھویں صدی کے ایک مفکر گروشش (۹۹۱ھ تا ۱۰۵۵ھ/ ۱۵۸۳ء تا ۱۶۴۵ء) نے ڈالی۔ ڈاکٹر صاحب نے مغرب کے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون اپنی عالم گیر اور آفاقی صورت میں صرف مسلمانوں کا مرہونِ منت ہے۔ اس نوع کا قانون بین الممالک سب سے پہلے مسلمانوں نے ہی وضع کیا۔ یہ قانون بلا تفریق رنگ و نسل، تمام اقوام کے لیے یکساں ہے۔ یہ شریعت کا حصہ ہے اور ہر اسلامی مملکت اور ہرمسلمان حکمران کے لیے واجب الاتباع ہے۔
  • بعض مغربی اسکالر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ علم پہلے یونانیوں نے متعارف کرایا،    لیکن ڈاکٹر حمید اللہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ بعض مغربی مصنفین ہی کے بیانات سے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ ان مغربی مصنفین کے بیان کے مطابق یونان کی شہری ریاستوں میں اگر باہمی تعلقات کے حوالے سے کچھ معین قاعدے تھے تو وہ صرف اپنے ہم نسل یونانیوں کے ساتھ برتائو سے متعلق تھے۔ گویا ایک یونانی شہری ریاست دوسری یونانی شہری ریاست کے ساتھ تعلقات میں معین قواعدپر عمل کرتی، دیگر باقی ساری دنیا کو وحشی قرار دے کر انھیں اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ ان کے ساتھ کسی معینہ قاعدے قانون کے تحت معاملات کریں۔ یونان کا سب سے بڑا فلسفی ارسطو غیریونانیوں کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہے کہ ’’فطرت نے انھیں یونانیوں کا غلام بننے کے لیے پیدا کیا ہے اور ان کے متعلق یونانی اپنی صواب دید پر جوچاہے عمل کرسکتا ہے‘‘۔
  • ڈاکٹر حمید اللہ بعض یورپی مصنّفین کے اس دعوے کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ: ’’یہ بین الاقوامی قانون (International Law) رومیوں کے ہاں ملتا ہے‘‘۔ ان کاکہنا ہے کہ رومیوں کے ہاں جنگ و امن کے حوالے سے کچھ قوانین ضرور تھے لیکن یہ قوانین ساری دنیا کے لیے نہیں تھے۔ صرف ان ممالک کے لیے تھے جن کے ساتھ رومیوں کے معاہدے ہوتے تھے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر حمید اللہ مشہور انگریز مؤرخ اوپن ہائم (جس نے انٹرنیشنل لا پر ضخیم کتاب تحریر کی)کے حوالے سے کہتے ہیں کہ رومیوں کا دعویٰ تھا کہ: ’’یہ کرۂ ارض رومیوں کا ہے‘‘۔ یعنی پوری دنیا رومیوں کی ملکیت ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کوئی اپنے گھر کے اندر قانون بین الممالک کا استعمال نہیں کرتا۔ (مجید قدوری Islamic Law of Nation ،بالٹی مور، ۱۹۴۴ء، ص۷)
  • اس کے بعد یکایک ہزار سال کی جست لگا کر یورپی مؤرخین کہتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون چودھویں، پندرھویں صدی میں شروع ہوتا ہے۔ اس دوران گزرنے والے اسلامی دور کا، مغربی مؤرخین کچھ تذکرہ نہیں کرتے۔ بہرحال مغربی مؤرخین جسے، ’جدید بین الاقوامی قانون‘ (Modern International Law ) کہتے ہیں، ڈاکٹر حمید اللہ اس کو بھی تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ۱۲۷۲ھ؍۱۸۵۲ء میں پہلی مرتبہ مجبوراً یورپی عیسائی سلطنتوں نے اعتراف کیا کہ ان قوانین کا اطلاق ایک غیر عیسائی سلطنت (یعنی سلطنت عثمانیہ) کے ساتھ بھی ہوگا۔ تاہم، اس کے بعد پھر ۶۰،۷۰ سال تک کسی غیر عیسائی ریاست کو ان قوانین کا حق دار نہیں سمجھا گیا۔{ FR 649 }
  • ڈاکٹر حمید اللہ لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل لا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کیوں کہ اقوام متحدہ میں بھی ہر ملک کو اپنی ذاتی حیثیت سے رکن نہیں بنایا جاتا جب تک کہ کم از کم دوایسی سلطنتیں جو پہلے سے اقوام متحدہ کی ممبر ہوں، سفارش نہ کریں، اور یہ اطمینان نہ دلائیں کہ   یہ واقعی متمدن سلطنتیں ہیں اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کے ساتھ انٹرنیشنل لا کے مطابق عمل کیا جائے۔ اس کے برعکس اسلامی انٹرنیشنل لا میں اس فرق اور امتیاز کی کوئی گنجایش نہیں کہ کوئی دوسرا ملک مسلمانوں کے معیار کے قواعد و ضوابط پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔(ڈاکٹر حمید اللہ The  Muslim Conduct of State ،ص ۱۶)
  • ڈاکٹر حمید اللہ کے نزدیک قانون بین الممالک جو حقیقت میں قانون بھی ہے اور بین الممالک بھی ہے ،مسلمانوں سے شروع ہوتا ہے اور اس کا آغاز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہوتا ہے۔ ہجرت سے قبل مکہ میں ’ریاست در ریاست‘ کی کیفیت اور ازاں بعد مدینہ میں جب ایک اسلامی ریاست کی داغ بیل ڈالی گئی تو دیگر ممالک اور خود مختار اکائیوں سے ان کے تعلقات، امن و جنگ کا آغاز ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل مسلمانوں کے لیے نظیر بنتا گیا۔ گویا رسولؐ اللہ کی سیرت اور بعد ازاں ان کے خلفاؓ کے طریق کار میں وہ تمام اصول وضع ہوگئے جن پر آگے چل کر   فقہا اضافہ کرتے رہے اور ایک واقعی ہمہ گیر نوعیت کا انٹرنیشنل لا وجود میں آیا جس کو ’علم السیر‘ کا نام دیا گیا۔
  • اسلامی قانون بین الممالک تمام حکومتوں (خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم) کے لیے ہے۔ اس میں مذہب، علاقہ، نسل وغیرہ کی بنیاد پر کسی قوم کے ساتھ کوئی امتیاز رو انھیں رکھا گیا ہے۔ ’اسلامی قانون بین الممالک‘، اسلامی شریعت کا ایک حصہ ہے۔ چنانچہ غیر مسلم اقوام کے ساتھ بھی معاہدات کی پابندی اسی طرح واجب ہے، جس طرح دیگر احکام۔ ڈاکٹر صاحب کے خیال میں  اسلامی قانون بین الممالک کا مقصد غیر مسلم قوموں کے ساتھ عدل و انصاف پر مبنی تعلقات استوار کرنا ہے۔ یہ قانون اپنے پیچھے ایک مضبوط اور مؤثر قوتِ نافذہ رکھتا ہے۔ اس کی قوت نافذہ جہاں ریاست کی قوتِ قاہرہ اور اس کا قانونی نظام ہے، وہیں اس میں اللہ کے سامنے جواب دہی جیسے مفاہیم بھی شامل ہیں۔
  • ڈاکٹر صاحب مسلمانوں کے ’علم السیر‘ کے ارتقا کی تاریخ بتاتے ہوئے اطلاع دیتے ہیں کہ قدیم ترین تحریر امام زید ابن علی (م: ۱۲۰ھ/۷۳۸ء) کی کتاب المجموع فی الفقہ  کا ایک باب ہے، جس کو کتاب السیر کا نام دیا گیا ہے۔{ FR 650 } پھر ’علم السیر‘ پر پہلی کتاب امام ابوحنیفہ (م:۱۵۰ھ/۷۲۷ء) کی تھی، جس کے بعض نکات سے ان کے ہم عصر امام اوزاعیؒ نے اختلاف کیا اوراس کے خلاف ایک رسالہ لکھا۔ تاہم، یہ دونوں کتابیں (امام ابوحنیفہؒ کی کتاب اور امام اوزاعیؒ   کا رسالہ) ضائع ہوگئیں۔ امام ابو حنیفہؒ کے ایک اور اہم شاگرد امام ابو یوسف (م:۱۸۳ھ/۷۶۹ء) نے امام اوزاعیؒ کے نکات کو رد کرتے ہوئے الرد علی سیر الاوزاعی کتاب لکھی۔ یہ کتاب محفوظ ہے اور اس سے امام ابو حنیفہؒ اور امام اوزاعیؒ کے اختلافی نکات وغیرہ سامنے آتے ہیں۔ امام شافعیؒ کی کتاب الام میں بھی امام اوزاعی کے رسالے کے کچھ اقتباسات ملتے ہیں۔

امام ابو حنیفہ کے تین اور شاگردوں نے علم السیر کے موضوع پر کتابیں لکھیں۔ ان میں امام محمد الشیبانیؒ، امام زفرؒ اور فزاریؒ کے نام شامل ہیں۔ اول الذکرنے اس موضوع پر دو کتابیں لکھیں:۱- کتاب السیر الکبیر، ۲-کتاب السیر الصفیر۔

اول الذکر کی شرح پانچویں صدی ہجری کے مشہور حنفی فقیہ امام سرخسیؒ نے کی۔ آج دنیا میں اس موضوع پر محفوظ رہ جانے والی اور شائع ہونے والی قدیم ترین کتاب یہی شرح السیر الکبیر ہے۔ بعض اور ممتاز فقہا اور علما نے اس موضوع پر کام کیا، چنانچہ امام مالکؒ (م:۱۷۹ھ؍۷۹۵ء) نے بھی کتاب السیر کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب اب ناپید ہے۔ اسی طرح ان کے ایک اور معاصر مؤرخ واقدی نے بھی کتاب السیر کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ وہ بھی اب نایاب ہے۔ تاہم، امام شافعیؒ کی کتاب الام  میں ’سیر الواقدی‘ کے عنوان سے ایک طویل اقتباس شامل ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ علم السیر پر لکھی جانے والی ان کتابوں اور رسائل کو ابتدائی اور آخری قرار دیتے ہیں۔ یعنی ایک خاص زمانے میں کسی خاص ضرورت سے مستقل کتابیں لکھی جانے لگیں۔  پھر اس کے بعد شاید ضرورت نہ رہی اور یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ لیکن اس علم سے مسلمانوں کی دل چسپی برابر قائم رہی۔ وہ اس طرح کہ فقہ کی جتنی کتابیں ابتدا سے لے کر آج تک لکھی گئی ہیں، ان سب میں کتاب السیر کا باب ضرور ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ سترھویں صدی عیسوی میں مرتب کی جانے والی فتاویٰ عالم گیری  میں بھی اس پر ایک باب ہے۔

  • بعض مستشرقین کے خیال میں ’اسلام میں غیر جانب داری کا تصور نہیں‘ ہے۔ اس وجہ سے اسلام دُنیا کو ’دارالاسلام‘ اور ’دار الحرب‘ کے دو متحارب بلاکوں میں تقسیم کرتا ہے اور ان کے درمیان کسی تیسرے بلاک کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہ نظریہ ایک مستشرق مجید قدوری نے Islamic Law for War and Peace  (۱۹۵۵ء) میں پیش کیا۔ اسی طرح برنارڈلیوس نے بھی Political Language of Islam  (شکاگویونی ورسٹی ، ۱۹۸۸ء) میں اس خیال کا اظہار کیا اور اسلام کو ایک استعماری نظام کے طور پر پیش کیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے ان مستشرقین کی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا۔ بون یونی ورسٹی میں پیش کردہ ڈاکٹر صاحب کے مقالے کا عنوان ہی ’اسلام کے  بین الاقوامی تعلقات میں غیرجانب داری کے اصول‘ تھا جس کے بعد مستشرقین کے مذکورہ بالا نظریات خود ہی بے بنیاد ٹھیرتے ہیں۔
  • ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے خیال میں گو کہ اسلام کا پیغام عالمی و آفاقی ہے، جس کا تقاضا پوری دنیا میں اللہ کے دین کا غلبہ اور اس کے نظام کا قیام ہے، تاہم اس کا مطلب غیر مسلم ریاستوں کے حقِ بقا کی نفی نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسلام کے نظریۂ سیر میں ریاستوں کے پُرامن بقاے باہمی کا وہ اصول تسلیم کیا گیا ہے، جو آج کے بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہے اور ڈاکٹر حمیداللہ نے اس تصور کو اہل علم اور اہل مغرب کے سامنے پورے استدلال سے پیش کیا ہے، جس نے جدید نظریۂ سیر پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
  • ایک اور مسئلہ جو بعض مستشرقین کی طرف سے پیش کیا گیا، یہ ہے کہ دنیا کے باقی قوانین کے برعکس اسلامی قانون کا دائرہ اختصاص اور اس کی علاقائی حدودِ عمل متعین نہیں ہیں۔ یہ ایک شخصی قانون ہے جو دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے مسلمانوں پر لاگو ہوتا ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے بہت مدلل انداز میں اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ اسلامی قانون جہاں شخصی قانون ہے، وہیں   یہ ایک متعین علاقائی دائرۂ اختصاص بھی رکھتا ہے۔ ایک اسلامی ریاست اپنے فوج داری و تعزیری قوانین صرف انھی لوگوں پر نافذ کرسکتی ہے، جو اس کے اپنے حدود عمل میں رہتے ہیں۔ ریاست کے حدود عمل کا متعین حدودارض تک ہونے کا جو تصور ڈاکٹر حمید اللہ نے پیش کیا ہے، وہ در حقیقت معاصر سیاسی فکر، یعنی علاقائی اقتدار اعلیٰ (Territorial Sovereignty) کی ایک بازگشت ہے۔ اس سے اسلامی ریاست ان اُلجھنوں اور اشکالات سے بچ جاتی ہے، جو اسلامی ریاست کے ماورا الحدود قرار دینے سے پیدا ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر حمید اللہ عصرحاضر میں مسلمانوں میں قانون بین الممالک کے پہلے ایسے ماہر ہیں، جنھوں نے مختلف زبانوں سے واقفیت کے سبب، مختلف قدیم، جدید قوموں اور ملکوں کے بین الممالک اصول و تصورات اور قوانین کا مطالعہ کیا اور کتابیں و مقالات قلم بند کیے۔ وہ مغرب کے قدیم و جدید قوانین بین الممالک سے اسلام کے قوانین بین الممالک کا بعض مقامات پر موازنہ و مقابلہ کرکے واضح کیا کہ اسلامی قوانین ہر لحاظ سے بہتر ہیں۔ وہ قانون بین الممالک کی تشریح میں مغرب اور امریکا کے ساتھ تاریخ اسلام اور فقہ اسلامی سے بھی استدلال کرتے ہیں، کیوں کہ وہ خوب واقف ہیں کہ مغربی اہل قلم عموماً اسلامی تاریخ کے محاسن کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ چوںکہ مستشرقین کے طریق عمل و تحقیق سے خوب واقف تھے، اس لیے وہ دلائل و براہین کے ساتھ ابتدائی مآخذ کے حوالے دے کر یورپ کے پیمانۂ تحقیق ہی کے مطابق ان کو جوابات دیتے ہیں۔

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے بقول:’’ڈاکٹر محمد حمید اللہ کو بلاخوف و خطر دور جدید میں اسلام کے بین الاقوامی قانون کا مجدّد اور مؤسسِ نوقرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر امام محمد بن حسن شیبانی قدیم  علم السیر کے مؤسسِ اوّل اور مدون ہیں تو ڈاکٹر حمید اللہ یقینا جدید بین الاقوامی اسلامی قانون کے مؤسس و مدوّن ہیں اور ۲۰ویں صدی کے شیبانی کہلائے جانے کے بجا طور پر مستحق ہیں‘‘۔

تعزیت کا مسنون طریقہ

سوال : تعزیت کا مسنون طریقہ معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے ہاں مروجہ طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین کے بعد، میت کے وارث اپنے گھر کے دروازے پر یا گائوں کے دارا میں چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں اور اس دوران حقہ نوشی اور گپ شپ کا دور بھی چل رہا ہوتا ہے۔ جو بھی آتا ہے منہ سے یہ لفظ نکالتا ہے: ’دعاے خیر‘ پھر تمام کے ہاتھ دُعا کے لیے اُٹھ جاتے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ دُعا کی کیا عبارت ادا کرتے ہیں؟

جواب :حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مَنْ عَزَّی مُصَابًا  فَلَہُ مِثْلُ اَجْرِہٖ (ترمذی، ابواب الجنائز) ’’جس نے مصیبت زدہ کی تعزیت کی (یعنی اس کو تسلی دی اور اس سے ہمدردی کی) تو اس کو اتنا اجر ملتا ہے، جتنا اس مصیبت زدہ کو ملتا ہے‘‘۔

دوسری روایت میں آیا ہے کہ مَنْ عَزَّی ثَکْلٰی کُسِیَ بُرْدً ا فِی الْجَنَّۃِ  (ترمذی، ابواب الجنائز) ’’جس نے اس عورت کو حوصلہ دیا جس کا بچہ مر گیا ہو تو اسے جنّت میں ایک خاص قسم کی چادر پہنائی جائے گی‘‘۔

ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تعزیت ایک سنت ہے اور قابلِ تحسین عمل ہے۔ اس کے نتیجے میں غم زدہ کا غم ہلکا ہوجاتا ہے۔ بعض فقہاے حنفیہ نے اس کے لیے مسجد میں یا گھر پر باقاعدہ بیٹھنے اور مجلس لگانے کو مکروہ کہا ہے (شامی،ص ۸۴۲، ج۱، الجنائز)۔لیکن بعض نے اپنے گھر میں یا مسجد میں تین روز تک بیٹھنا اور لوگوں کا تعزیت کے لیے آنا جائز قرار دیا ہے (فتاویٰ عالم گیری، ج اوّل، ص ۱۶۷)۔مگر دروازے یا راستے میں بیٹھنے کو تو سبھی فقہا نے مکروہ ترین فعل قرار دیا ہے۔ (فتاویٰ عالم گیری، اوّل، ص ۱۶۷)

تکلفات کے بغیر اپنے گھر پر اگر میت کے اقربا بیٹھے ہوں تو مضائقہ نہیں ہے۔ آنے والے دُعا بھی کرسکتے ہیں بشرطیکہ وہ واقعی دُعا ہو صرف رسمِ دُعا نہ ہو۔ لیکن تعزیت کے مسنون الفاظ وہ ہیں، جو رسولؐ اللہ سے مروی ہیں: اِنَّ لِلہِ  مَا اَخَذَ وَلَہٗ مَا اَعْطٰی وَکُلُّ شَیْیءٍ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُسَمّٰی (البخاری، کتاب الجنائز، حدیث: ۱۲۳۷)’’بے شک اللہ ہی کی ہے وہ چیز جو اس نے لے لی ہے اور اسی کی ہے وہ چیز جو اس نے دی ہے اور ہرچیز کا اس کے پاس وقت مقرر ہے‘‘۔ یا پھر یہ الفاظ کہ ’’اللہ تعالیٰ مرحوم (یا مرحومہ) کی مغفرت فرمائے، اس کی کمزوریوں سے درگزر فرمائے، اسے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے اور آپ کو اس مصیبت پر صبر کی توفیق عطا فرمائے‘‘۔ اگر کافر کی تعزیت کرنی ہو تو یہ الفاظ کہے جائیں:’’اللہ تعالیٰ تم کو اس کا بدل اور تمھارے کنبے کا شمار کم نہ کرے‘‘۔ (فتاویٰ عالم گیری، ایضاً)۔(مولانا گوہر رحمٰن)


عہد نبویؐ میں مسجد کا دعوتی اور سرکاری مرکز ہونا

سوال : ہمارے درمیان ایک اہم مسئلہ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے کہ مسجد کوسیاسی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر ہاں تو اس کے کیا دلائل ہیں اور اگر نہیں تو اس کی کیا توجیہہ ہے؟

جواب :عہد نبویؐ میں مسجدمسلمانوں کی تمام سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتی تھی۔ یہ محض عبادت اور نماز کی جگہ نہیں تھی بلکہ جس طرح نماز کے لیے مسجد عبادت گاہ تھی اسی طرح حصولِ علم کے لیے جامعہ، ادبی سرگرمیوں کے لیے اسٹیج، مشاورتی اُمور کے لیے پارلیمنٹ اور باہمی تعارف کی خاطر مرکز ملاقات کا کام دیتی تھی۔ عرب کے دُور دراز علاقوں سے وفود آتے تو مسجد ہی میں  آں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا انتظام ہوتا اور تمام دینی، معاشرتی اور سیاسی تربیت کے لیے آپؐ مسجد ہی میں وعظ فرمایا کرتے تھے۔

آںحضوؐر کے زمانے میں دین اور سیاست علیحدہ علیحدہ چیز نہیں تھی، جیساکہ آج تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینی مسائل کے حل کے لیے اور سیاسی مسائل سے نبردآزما ہونے کے لیے حضوؐر کے پاس الگ الگ مراکز نہیں تھے۔ دونوں طرح کے مسائل مسجد ہی میں نمٹائے جاتے تھے۔

عہد نبویؐ کی طرح خلفاے راشدینؓ کے عہد میں بھی مسجد مسلمانوں کی تمام دینی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہواکرتی تھی۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے خلیفہ نامزد ہونے کے بعد اپنا پہلا سیاسی خطبہ مسجد ہی میں دیا تھا، جس میں انھوں نے اپنی سیاست کے خدوخال بیان فرمائےتھے۔ آپؓ نے اپنے خطبے میں فرمایا تھا: ’’اے لوگو! میں تمھارا خلیفہ مقرر کیا گیا ہوں، حالاں کہ میں تم میں سب سے بہتر شخص نہیں ہوں۔ اگر تم مجھے حق پر دیکھو تو میری مدد کرو اور اگر باطل پر پائو تو مجھے سیدھا کردو‘‘۔ اسی مسجد میں حضرت عمرؓ نے بھی اپنا پہلا سیاسی خطبہ دیا تھا اور فرمایا تھا: ’’اے لوگو! تم میں سے جو شخص مجھ میں کجی دیکھے، تو اسے چاہیے کہ مجھے سیدھا کردے‘‘۔ کسی شخص نے دورانِ خطبہ برملا کہا کہ خدا کی قسم! اگر ہم نے آپ کے اندر کوئی کجی پائی تو تلوار کی دھار پر آپ کو سیدھا کردیں گے‘‘۔ آپؓ نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’شکر ہے اللہ کا، جس نے عمر کی رعایا میں ایسے لوگ پیدا فرمائے ہیں جو عمر کو تلوار کی دھار پر سیدھا کرسکتے ہیں‘‘۔ یہ رول ہوا کرتا تھا مسجدوں کا اس زمانے میں جب مسلمانوں کو عروج حاصل تھا۔ لیکن جب اُمت مسلمہ میں انحطاط اور زوال کا دور شروع ہوگیا اورمسلم معاشرہ پس ماندگی کا شکار ہوگیاتو مسجدوں نے بھی اپنا ہمہ جہت رول کھو دیا، وہ صرف نمازوں تک محدود ہوکر رہ گئیں، اور جمعے کے خطبے بے جان اور بے اثر ہوگئے۔

مجھے نہیں معلوم کہ سیاست کو اس قدر غلیظ اور بدنام کیوں تصور کیا جاتا ہے، حالاں کہ سیاست بہ حیثیت علم نہایت سنجیدہ اور اعلیٰ و ارفع علم ہے۔ سیاست بذاتِ خود نہ بُری اور مذموم چیز ہے اور نہ جرم، لیکن جس سیاست میں اچھے بُرے کی تمیز نہ ہو اور مقصد حاصل کرنے کے لیے جائز و ناجائز ہتھکنڈے اختیار کیے جائیں، وہ سیاست اپنے غلط طریقۂ کار کی وجہ سے یقینا گندی سیاست ہے۔ رہی وہ سیاست جس کا مقصد کارہاے حکومت کو اس طرح انجام دینا ہو کہ معاشرے میں ظلم و فساد کی سرکوبی ہو، مصالح عامہ کی بازیابی اور معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام ہو تو یقینا ایسی سیاست ہمارے دین کا ایک اہم حصہ ہے۔ اور اس اہم حصے کی انجام دہی کے لیے مسجدوں کو ان کے فعال کردار سے محروم کرنا زبردست غلطی ہوگی۔

یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ہمارا دین ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ جس میں عقیدہ بھی ہے، عملِ صالح بھی اور عملِ صالح کی طرف لوگوں کو بلانا بھی۔ لوگوں کو اچھی باتیں بتانا اور بُری باتوں سے خبردار کرنا ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ ۝۰ۭ (اٰل عمران ۳:۱۱۰) تم وہ بہترین اُمت ہو جسے انسانوں کی خاطر نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو،بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

حدیث شریف ہے: الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ (مسلم) ’’دین نام ہے اس کا کہ لوگوں کو نصیحت کی جائے اور انھیں بھلی بات بتائی جائے‘‘۔

قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جن قوموں نے اس فریضے کی طرف سے غفلت برتی وہ اللہ کے نزدیک ملعون قرار پائیں:

لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ۝۰ۭ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ۝۷۸ كَانُوْا لَا يَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْہُ۝۰ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۝۷۹ (المائدہ ۵:۷۸-۷۹) بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر دائودؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی کیوں کہ وہ سرکش ہوگئے تھے اورزیادتیاں کرنے لگے تھے۔ انھوں نے ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔ بڑا بُرا عمل تھا جو وہ کر رہے تھے۔

اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس اہم دینی فریضے کی ادائی میں مساجد کا بھی رول ہو اور اس عظیم الشان پلیٹ فارم سے لوگوں کی سیاسی اور فکری تربیت کا عمدہ انتظام ہو۔ ضرورت اسی بات کی ہے کہ اس عظیم منبر سے مسلمانوں کو ان کے دینی، سیاسی اور ملّی مسائل سے آگاہ کیا جائے اور ان مسائل کا حل پیش کیا جائے۔

مجھے یاد ہے کہ ۱۹۵۶ء میں جب مصر پر دشمنوں نے حملہ کیا تھا تو وزارت اوقاف کی طرف سے مجھے حکم ملا تھا کہ مَیں قاہرہ کی ایک بڑی جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ دوں اور لوگوں میں دشمنوں کے خلاف جذبوں اور حوصلوں کا اضافہ کروں۔ وقت کا شدید تقاضا تھا کہ مَیں اس منبر کو سیاسی اور جنگی مسائل پر خطبہ دینے کے لیے استعمال کروں اور میں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے خاطرخواہ مفید نتائج برآمد ہوئے، حالاں کہ خود مصری حکومت نے اس سے قبل مجھ پر ہرقسم کی تدریسی و تقریری پابندی لگا رکھی تھی۔

مسجدوں میں ایسے خطبے بھی دیے جاسکتے ہیں جن میں حکومت کی غلط اور غیرمفید پالیسیوں پر تنقید کی جائے اور اربابِ حکومت کو ان کی کوتاہیوں سے آگاہ کیا جائے، بشرطیکہ ان خطبوں میں نام لے کر کسی خاص شخص کو لعن طعن کرنے سے پرہیزکیا جائے اور ان تمام باتوں سے اجتناب کیا جائے، جو شرعی حدود سے تجاوز کرتی ہوں۔یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مسجدوں کے خطبے اصلاحِ معاشرہ اور اقامت ِ شریعت کے لیے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی کہ برسرِاقتدار پارٹی یا اپوزیشن پارٹیاں محض سیاسی پروپیگنڈوں کے لیے مسجدوں کو استعمال کریں۔(ڈاکٹر یوسف القرضاوی)


مسلمان عورت کاقادیانی سے نکاح

سوال : میرا نکاح پانچ برس قبل ایک شخص کےساتھ ہوا۔مجھےبعد میںمعلوم ہوا کہ یہ صاحب  پیدایشی قادیا نی (احمدی)ہیں۔نکاح کے وقت بھی قادیانی خیالات رکھتے تھے۔ افسوس کہ مجھےاورمیرےخاندان کواس جماعت کےبارےمیں پہلےکچھ علم نہ تھا۔ نکاح کے بعد مجھےزبردستی درج ذیل عقائد ماننےکو کہاگیا:

-   مرزاغلام احمدقادیانی مہدی ہیں۔ان پراللہ کی طرف سے وحی آتی تھی۔

-   حضرت عیسیٰؑکی وفات ہوگئی ہے۔اب وہ دنیامیںواپس نہیں آئیں گے۔

-   پنجاب میں واقع قادیان مثلِ مکہ ہے، جس کی زیارت سےحج کاثواب ملتا ہے۔

مجھےایک’ بیعت فارم‘ دیاگیااوراس پر دستخط کرنے کو کہاگیا۔اس میںلکھاہوا تھا کہ ’’میں خود کو احمد یہ جماعت میں شامل کرتی ہوں ۔میرا عقیدہ ہے کہ حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم   ’خاتم النبیین‘ہیں اورحضرت مرزا غلام احمد وہی امام مہدی ہیں جن کی بشارت   حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی ۔ میں حضرت مرزا مسرور احمد کو خلیفۃ المسیح مانتی ہوں اور ان کی اطاعت کا وعدہ کرتی ہوں‘‘۔

میں نے اس فارم پر دستخط کرنےسےانکار کردیا۔ اس کےبعد مجھے جسمانی اور ذہنی طور پر اذیت دی جانےلگی اورپریشان کیاجانےلگا،جس کی وجہ سے میں بیمار رہنےلگی ہوں۔ لاعلمی میںمجھ سے جوگناہ ہوگیا ہے ، اس سے میں بہت شرم سار ہوں اوراللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں ۔ مجھے درج ذیل سوالات کے جوابات سے نوازیں:

۱-  کیا ان صاحب سے میرا نکاح درست ہے؟

۲- اگریہ نکاح درست نہیں توکیا مجھے خلع یا فسخِ نکاح کے لیے کوئی کارروائی کرنی ہوگی؟

۳- اگر یہ لوگ مجھے یامیرے خاندان کو کچھ نقصان پہنچانا چاہیں اورہمارے خلاف کوئی قانونی کارروائی کریں تو اس سے بچاؤکے لیے ہم کیا کریں؟

۴- یہ نکاح درست نہیں تو نکاح نامہ اور دیگر دستاویزات کی منسوخی کے لیے کیا کرنا ہوگا؟

۵- کیا اس کیس میں عدّت گزارنی ہوگی؟

جواب :اسلامی شریعت کی رُو سے نکاح کے لیےمرد اورعورت دونوں کامسلمان ہونا ضروری ہے ۔ مسلمان مرد یا عورت کا کسی غیر مسلم عورت یا مرد سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ قرآن مجید میں اس سےمنع کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ ۚ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا (البقرہ ۲:۲۲۱) مشرک عورتوں سے نکاح مت کروجب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اورمشرکین جب تک ایمان نہ لے آئیں اوران سے اپنی عورتوں کا نکاح مت کرو۔

 لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ يَحِلُّوْنَ لَہُنَّ(الممتحنہ:۱۰)(یہ مسلمان عورتیں) نہ ان (کافروں) کے لیے حلا ل ہیں اورنہ وہ (کافرمرد) ان (مسلمان عورتوں ) کے لیے۔

قادیانیوں کے دوفرقےہیں : ایک فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کوصراحت سے نبی مانتا ہے۔ دوسرا فرقہ، جواحمد یہ کہلاتاہے ، وہ انھیں مہدی اور مسیح موعود قرار دیتاہے اور ان پروحی آنے کا قائل ہے۔ یہ حضرات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کوخاتم النبیین تومانتےہیں،لیکن’ختم نبوت‘ کی بے جا تاویل کرتے ہیں اوراس کا دوراز کار مفہوم بیان کرتے ہیں۔

ان آیات سے واضح ہے کہ مشرکین اور مشرکات سے نکاح ممنوع ہے، پوری اُمت کا اتفاق ہے کہ قادیانی مسلمان نہیں، کافر ہیں۔ اس لیے شرعی طورپرکسی مسلمان عورت کا قادیانی عقائد رکھنے والے کسی مرد سے نکاح جائز نہیں ہے اوراگر ہوچکاہے توباطل ہے ، اس کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں ۔

جب یہ نکاح ہوا ہی نہیں تو خلع یا فسخِ نکاح کی کسی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح اس صورت میں عدّت بھی نہیں۔البتہ دوسرانکاح پیش نظرہوتو تین ماہ انتظارکرلیا جائے یہ بہتر ہوگا۔

نکاح نامہ یادیگر دستاویزات موجود ہوں تواسےکینسل کروانے کے لیے کسی قانونی مشیر سے مددلینا مناسب ہوگا۔ اسی طرح اس چیز کا اندیشہ ہوکہ وہ قادیانی شخص یااس کےمتعلقین کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں،یا کوئی قانونی کارروائی کرسکتے ہیںتو اس سےتحفظ کے لیےکسی ماہر قانون سے مشورہ کرلینا چا ہیےاوراس کی بتائی ہوئی تدابیر پرعمل کرنا چاہیے۔ سماجی دباؤاور تحفظ بھی کارگر ہوسکتا ہے۔ اپنےاہل خاندان، پڑوسیوں اورمحلہ والوںسے بھی مدد لیں۔انھیں اپنا مسئلہ سمجھائیں اوران کے تعاون سے گلو خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

قادیانیت موجود ہ دورکا ایک بڑا فتنہ ہے ۔یہ امت مسلمہ کے لیے ایک ناسورہے۔ قادیانی بہت سرگرمی سےبھولے بھالے مسلمانوں کوبہکانے اوراپنے دامِ فریب میںگرفتارکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ان سےہوشیار رہنے اوران سے فاصلہ بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔(مولانا رضی الاسلام ندوی)


مسجد میں نکاح کی تقریب

سوال : میری بیٹی کا نکاح تین برس قبل شرعی طور پر انجام دیا گیا ۔ مسجد میں نکاح ہوا ۔ غیر اسلامی رسوم، لین دین ، جہیز وغیرہ سے اجتناب کیا گیا ۔ اس وقت سے خاندان میں یہ موضوع زیر بحث ہے کہ مسجد میں نکاح کی تقریب منعقد کرنا کہاں تک جائز ہے ؟ یہ تو  نئی بدعت ہے ۔صحابۂ کرامؓ کے نکاح مسجد میں ہوئے ہوں ، یہ ثابت نہیں ہے۔

جواب :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو آسان بنانے کی ترغیب دی ہے۔ آپ کا ارشاد ہے :خَیْرُ النِّکَاحِ اَیْسَرُہٗ (ابوداؤد: ۲۱۱۷) ’’ بہترین نکاح وہ ہے جو بہت سہولت اور آسانی سے انجام پائے‘‘۔ اسی طرح آپؐ نے اس کا بھی حکم دیا ہے کہ نکاح کا اعلان کیا جائے اور اس کی تشہیر کی جائے، تاکہ آبادی کے لوگوں کومعلوم ہوجائے کہ فلاں مرد اور عورت نکاح کے بندھن میں بندھ گئے ہیں ۔ آپؐ کا ارشاد ہے: اَعْلِنُوْا لنِّکاَحَ (احمد: ۱۶۱۳۰) ’’نکاح کا اعلان کرو‘‘۔

آج کل مسلم معاشرے میں نکاح کودشوار بنادیا گیا ہے ۔ اس پر اتنا صرفہ آتا ہے کہ اوسط یا معمولی آمدنی والے شخص کواس کے لیے بہت جتن کرنے پڑتے ہیں اورکافی سرمایہ اکٹھاکرنا پڑتا ہے ۔ لڑکی کے نکاح کا معاملہ ہوتو وہ اس کے سرپرست کے لیے اوربھی دشوار اورپریشان کن رہتا ہے ۔ اس لیے کہ برأت کی خاطر مدارات، جہیز اور دیگر رسوم کی ادایگی کے لیے خطیر رقم کی ضرورت پڑتی ہے ، جس کے لیے بسا اوقات قرض تک کی نوبت آجاتی ہے۔

فقہا نے مسجد میں نکاح کی تقریب منعقد کرنے کو جائزقرار دیا ہے۔ اس لیے کہ اس سے دونوں فائدے حاصل ہوتے ہیں : ایک تو نکاح بہت سادگی سے انجام پاتا ہے، دوسرے اس کی تشہیر بھی ہوجا تی ہے ، البتہ انھوںنے تاکید کی ہے کہ تقریبِ نکاح کی انجام دہی کے دوران میں مسجد کے تقدس و احترام کا خیال رکھا جائے ، شور وشغب نہ ہو، بلا ضرورت اِدھر اُدھر کی باتیں نہ کی جائیں ، وغیرہ۔ ( فتح القدیر ، ۲/۳۴۳- ۳۴۴)

اس موضوع پر ایک حدیث بیان کی جاتی ہے ، جوام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَعْلِنُوْا ہٰذَا النِّکَاحَ وَاجْعَلُوْہُ فِی الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوْا عَلَیْہِ بِالدُّفُوْفِ(ترمذی:۱۰۸۹)’’نکاح کا اعلان کرو، اسے مسجدوں میں کرو اور اس موقع پر دف بجاؤ‘‘۔

اس حدیث کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون الانصاری کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسی بنا پر علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ نے اس حدیث کوضعیف کہا ہے (فتح الباری ، ۹/۲۲۶)۔ البتہ اس کا ابتدائی حصہ (نکاح کا اعلان کرو)دیگر روایتوں سے ثابت ہے ، اس لیے صحیح ہے۔

مسجد میں تقریبِ نکاح منعقد کرنے کوحکمِ نبوی ثابت کرنا تو درست نہیں، لیکن اسے بدعت کہنا بھی صحیح نہیں ہے۔ عہدِ نبویؐ میںمسجد کونماز کے علاوہ دیگر کاموں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا ، مثلاً تعلیم وتربیت ، معاملات کے فیصلے ، حدود و تعزیرات کا نفاذ وغیرہ۔ اس بناپر اگر مسجد کے ادب واحترام کوملحوظ رکھتے ہوئے اس میں تقریبِ نکاح منعقد کی جائے تو وہ نہ صرف جائز ،بلکہ بعض پہلوؤں سے پسندیدہ ہے۔(مولانا محمد رضی الاسلام ندوی)

میرا سفرِ حج، سید سبحان اللہ عظیم گورکھ پوری۔ ناشر: ادارہ یاد گار ِ غالب ، پوسٹ بکس ۲۲۶۸۔ ناظم آباد کراچی ۴۷۶۰۰۔صفحات :۹۶۔قیمت : ۲۰۰ روپے۔

گورکھ پور کے ایک متموّل شخص سید سبحان اللہ کا زیر نظر سفر نامہ ان کے ۱۹۰۳ء کے سفرِ حج کی رُوداد پر مشتمل ہے، جو ’’تجربات اور مشاہدات اور سفر نامہ نگار کی دل سوزی ودرد مندی سے عبارت ہے۔ مصنف اس بات پر بہت آزُردہ تھے کہ اس مقدّس سرزمین کے بعض معاملات وحالات نا گفتہ بہ ہیں ‘‘۔ (ص۴)

سفر نامے کا آغاز حمدیہ ہے ۔ گورکھ پور سے ممبئی تک کا سفر ریل اور بیل گاڑیوں پر ہوا۔  بحری جہاز میں سوار ہونے کے لیے بھی سمندر میں ۱۲میل کشتیوں پر سفر کیا ۔پھر جہاز میں سوار ہونے کے مراحل بھی سخت تکلیف دہ تھے۔ ’’جہاز کے کپتان کا جو برتائو میرے ساتھ ہوا یقینا    دل خراش تھا۔‘‘ جدہ میں جہاز سے اُتر کر قرنطینہ کے لیے بھاپ گھر میں رکنا پڑا ، جدہ سے مکہ تک  دو روز کا سفر اونٹوں پر، فی اونٹ ۳۵روپے،غرض ہندستانیوں کے لیے مہینوں کا سفرِ حج بہت خطرناک اور مشقّت بھرا ہوتا تھا۔ اس زمانے میں عرب قبائلی، حاجیوں کو لوٹ لیتے تھے،اس لیے مولوی سبحان اللہ مدینہ منورہ نہ جا سکے۔ لکھتے ہیں :جس زمانے میں عثمان پاشا یہاں کے والی تھے،   پانچ اور چھے اونٹوں کا قافلہ مدینہ منورہ بے کھٹکے چلا جاتا تھا۔ کوئی بال بیکا تک نہ کر سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطانی [غالباً وظیفہ] مقرر ہ وقت پر پورا پورا قبائل کو مل جاتا تھا… راہ میں بھی تین تین کوس پر فوج [کی ] چوکیاں… ایک ایک گارڈ فوج رہتی ہے‘‘ (ص ۷۶-۷۷)۔ عثمان پاشا رخصت ہوئے تو شریف مکہ حسین کی عمل دار ی میں پھر بدنظمی شروع ہوگئی۔کیوں کہ شریف غریب بدؤوں کو کچھ نہیں دیتا تھا۔ اس لیے وہ لوٹ مار کرتے تھے۔ مجموعی طور پر نظم ونسق بہت خراب تھا۔    مولوی سبحان اللہ نے مکہ سے منیٰ اور وہاں سے عرفات تک اونٹوں پر سفر کیا۔ انھوں نے قارئین کو نصیحت کی ہے کہ عرفات سے واپسی میں عجلت نہ کریں۔ جب تک بڑے بڑے لوگ نہ جا چکیں۔ قربانی کے لیے تین سے پانچ روپے تک فی دنبہ مل گئے۔ اس زمانے میں مکے کی مستقل آبادی ۵۰،۶۰ ہزار تھی مگر بدانتظامی کے سبب شہر میں صفائی عنقا تھی اور رات کے وقت روشنی بہت کم ہوتی تھی۔ حرم میں وضو کے لیے کوئی نل نہیں تھا، نہ استنجا خانہ۔ ترکوں کی عمل داری میں انتظام بہت بہتر تھا۔ بہت سی خرابیوں کا سبب جہالت اور تعلیم کی کمی ہے۔

ڈاکٹر اصغر عباس (سابق صدر شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی) نے یہ سفر نامہ بڑی محنت سے مرتب کیا۔ ان کے طویل معلومات افزا مقدمے سے مزین ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی )


بوستانِ اقبال ، محمد الیاس کھوکھر ۔ ناشر: مکتبہ فروغِ فکر اقبال لاہور۔ ملنے کے پتے: منشورات، منصورہ لاہور۔فون: ۳۵۲۵۲۲۱۱-۰۴۲۔ کتاب سرائے ، الحمد مارکیٹ ، اردو بازار لاہور۔ فون:۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔ صفحات: ۴۸۰۔ قیمت : ۵۰۰ روپے۔

فاضل مصنف نے دیباچے میں بتایا ہے: ’’میں تو اقبال سے صرف محبت کرنے والا ہوں، جو یہ بھی نہیں جانتا کہ میں یہ محبت کیوں کر رہا ہوں؟‘‘ (ص ۷) ۔چنانچہ علامہ اقبال سے اسی محبت کے نتیجے میں انھوں نے اقبالیات پر ایک عمدہ کتاب تصنیف کی ہے۔

اقبال کے فکر وفن پر لکھنے والوں نے ان کے فکر وشعر کی گونا گوں تعبیریں کی ہیں  مگر محمد الیاس صاحب نے کہا ہے کہ :’’اسباب ِ زوالِ امّت ِ اسلامیہ نے اقبال کا سینہ داغ داغ کر دیا تھا۔ اور ان کی شاعری سوز ودرد مندی کے انھی داغوں کی بہار ہے‘‘۔ انھوں نے اقبال کی شاعری کا مطالعہ  فہم وشعور سے پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم، قرآن حکیم کے ذہین طالب علم تھے اور اقبال سے بھی محبت رکھتے تھے۔ انھوں نے ایک جگہ کہا ہے کہ ’’اقبال کا فکر جتنا بلند تھا، ان کا عمل اس اعتبار سے بہت ہی نیچے تھا ‘‘۔ محمد الیاس صاحب نے ڈاکٹر صاحب کی اس راے کو قبول نہیں کیا۔ لکھتے ہیں: ’’اگر ڈاکٹراسرار احمد مرحوم ومغفور زندہ ہوتے تو میں ہاتھ باندھ کر، ان سے عرض کرتا کہ اس تبصرے کو واپس لے لیں ‘‘ (ص۵۵۵)۔ دوسری جانب ان کے خیال میں سیدمودودی ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے اقبال کو سمجھنے میں غلطی نہیں کی۔

مختلف عنوانات کے تحت رقم شدہ اس کتاب کے اٹھارہ مضامین مل کر اقبال کی سچی اور کھری تصویر پیش کرتے ہیں۔( رفیع الدین ہاشمی )


تعارف کتب

  •  مطلوبہ تمدّ نی رویے ، شگفتہ عمر۔ ناشر : مکتبہ راحت الاسلام، مکان ۲۶، سٹریٹ ۴۸، ایف ۴/۸ ،  اسلام آباد۔ صفحات :۴۴۔ قیمت : ۱۰۰ روپے۔[یہ مختصر کتابچہ سیرتِ طیبہ کی روشنی میں مطلوبہ تمدنی طرزِ عمل اور رویّوں کی نشان دہی کرتا ہے اور رہنمائی دیتا ہے کہ بحیثیت انسان ہمیں کس قدر شائستگی اور تہذیب سے کام لینا چاہیے۔ تذکیر کے لیے یہ نہایت مفید کتابچہ ہے۔]
  • عشق کی نگری ، شمیم عارف ۔ ناشر : زیڈ ٹو اے پبلشر، وکٹوریہ پارک ، دی مال ، لاہور۔ صفحات :۴۸۔ قیمت : ۱۵۰ روپے۔[حج کا ایک مختصر سفر نامہ جس میں سادگی سے احساسات ، جذبات اور واردات ِ قلب کو بیان کیا گیا ہے۔ بالخصوص ان رویوں کی عکاسی کی گئی ہے جن کے تحت لوگ معمولی معمولی باتوں پر بے صبری اور جذباتی پن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس بات کو پیش نظر نہیں رکھتے کہ وہ کتنے اعلیٰ مقاصد اور کس مقدس فریضے کی ادایگی کے لیے آئے ہیں۔ حج پر جانے والوں کے لیے تجربے کی باتیں بھی بیان کی گئی ہیں جو مفید عملی رہنمائی ہے۔ ]
  • لے سانس بھی آہستہ ، تسنیم جعفری ۔ ناشر: اردو سائنس بورڈ ، ۴۹۹ ۔ اپر مال ، لاہور۔ فون : ۹۹۲۰۵۹۶۹ ۔ صفحات :۱۲۵۔ قیمت :۲۸۰ روپے۔[ تسنیم جعفری بچوں کے لیے سائنس فکشن کے حوالے سے معروف ہیں۔ اردو سائنس بورڈ اس حوالے سے ان کی چار کتب شائع کر چکا ہے۔ زیر نظر کتاب     فضائی آلودگی کے موضوع پر ہے۔ مصنفہ نے مستقبل میں فضائی آلودگی کے سلسلے میں درپیش مسائل پر عام فہم ، دل چسپ اور سائنسی انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ کتاب میں جدید سائنسی تحقیقات کے علاوہ یہ قیمتی معلومات بھی دی گئی ہیں : دماغ لکھے گا او ر جِلد سنے گی، چین میں آکسیجن کیفے اور فریش ائیر سٹیشن ، اب ریلیں بھی ہوا سے چلیں گی، ہوا سے پانی بنایا جائے گا، پاکستان میں دنیا کا بڑا سولر پاور پارک وغیرہ ۔]
  •  سہ ماہی الامام ، کراچی۔ نگران: مولانا حبیب احمد، مدیر:سیّد محمد کشف قیصر۔ معاونین:سیّد محمد ارسلان، محمدشہود اکرم۔ پتا: جامعہ الامام نعمان بن ثابت، ایس ٹی ، بلاک ۱۶، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ [یہ جامعہ، بچوں کی دینی اور دُنیاوی تعلیم کا ایک قابلِ قدر ادارہ ہے، جہاں تعلیم و تربیت کے ساتھ بچوں کی تحریری اور تقریری صلاحیتوں پر خاص طور پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس سہ ماہی خبرنامے اور رسالے کا اجرا بھی اسی سمت میں ایک مبارک قدم ہے۔ جامعہ کی ترقی میں اساتذہ کی محنت اور طلبہ کی لگن قابلِ تحسین ہے۔]

پروفیسر مولا بخش ، ڈیپلو تھرپارکر

ترجمان القرآن کئی نسلوں سے تربیت و تزکیہ کا فریضہ سرانجام دینے کی سعادت حاصل کرتا آیا ہے۔ ستمبر ۲۰۱۸ء کے شمارے میں ’اشارات‘ میں محترم ڈاکٹر انیس احمدکے افکار اثرانگیز تھے۔ ’حکمت ِ مودودی‘ میں سیّدابوالاعلیٰ مودودی کا ۱۹۷۴ء کا بصیرت افروز خطاب، ’فہم حدیث‘ میں عبدالبدیع کے معیاری مضمون کے مطالعہ سے ایک بندئہ مومن کے لیے مختصر زادِ راہ کا خاکہ ایمان افروز ہے۔ ’سیکولر جناح؟‘ بلاشبہہ چشم کشا مضمون ہے۔


دانش یار ، لاہور

ترجمان القرآن ماہِ ستمبرکا شمارہ اس لحاظ سے جامع اور علمی طور پر معمور اور تربتر ہے کہ اس ماہ قائداعظمؒ کی وفات اور مولانا مودودیؒ کے بارے میں ان کی فکر رسا سے آگاہی بخشنے والا ہے۔


راجا محمد عاصم ، کھاریاں

’خود احتسابی اور ایک تجویز‘ (ستمبر ۲۰۱۸ء)ایک بہترین لائحہ عمل دیا گیا ہے۔ ’سیکولرجناح؟‘ احمد سعید میں قائداعظمؒ کی زندگی کے اہم پہلو کی وضاحت کرکے بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا گیا ہے۔


مجلس ادارت تحصیل ، کراچی

مجلہ تحصیل پر تبصرے (جولائی ۲۰۱۸ء) میں جہاں تک حسن البنا کے جمال الدین افغانی کے شاگرد بیان کرنے پر اعتراض اُٹھایا گیا ہے، اس بارے میں مجلس ادارت کو کچھ خفت نہیں۔ حسن البنا عام طور پر علمی دُنیا میں رشیدرضا سے گہرا اثر قبول کرنے کی وجہ سے ، جو بالواسطہ اپنے استاد محمد عبدہٗ اور محمد عبدہٗ کے توسط سے افغانی کے شاگرد ہی شمار ہوتے ہیں اور اگر یہاں انھیں شاگرد لکھا گیا ہے تو یہاں مراد شاگردِ معنوی سے بھی تو ہوسکتی ہے ۔ عالمِ اسلام میں ایسی اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ یہاں کتابت کا ایک سہو روانی میں یہ ہوگیا، جس پر کسی کی نظر نہ پڑی کہ ’اخوان المسلمون‘ کی جگہ ’اخوان الصفا‘ تحریر ہوگیا ورنہ اتنی فاش غلطی کی توقع مقالہ نگار سے نہیں کی جانی چاہیے۔


قاضی محمد صدیق ، ایبٹ آباد

علّامہ اقبال کی شاعری دورِ حاضر کی ضرورت اور تقاضا ہے۔ علّامہ اقبال اور سیّد مودودی دونوں کے پیش نظر ایک ہی مقصد ہے۔ میری تجویز ہے کہ علّامہ اقبال پر مضامین کے ساتھ ساتھ ہر ماہ ایک مستقل سلسلے کے تحت ان کی شاعری مع تشریح شائع کی جائے۔ اُمید ہے کہ اقبال کے افکار کے فروغ کے لیے یہ سلسلہ مفید رہے گا۔

عالی شان عمارتوں کا خبط

یہ بات ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے کہ بلاضرورت یا ضرورت سے زیادہ شان دار عمارتیں بنانا کوئی منفرد فعل نہیں ہے جس کا ظہور کسی قوم میں اس طرح ہوسکتا ہو کہ اس کی اور سب چیزیں تو ٹھیک ہوں اور بس یہی ایک کام وہ غلط کرتی ہو۔ یہ صورتِ حال تو ایک قوم میں رُونما ہی اُس وقت ہوتی ہے جب ایک طرف اس میں دولت کی ریل پیل ہوتی ہے اوردوسری طرف اس کے اندر نفس پرستی و مادہ پرستی کی شدت بڑھتے بڑھتے جنون کی حد کو پہنچ جاتی ہے۔ اور یہ حالت جب کسی قوم میں پیدا ہوتی ہے تو اس کا سارا ہی نظامِ تمدن فاسد ہوجاتا ہے۔

[سورئہ شعراء میں متوجہ کیا گیا ہے] کہ اپنا معیارِ زندگی بلند کرنے میں تو تم اس قدر غلو کرگئے ہو کہ رہنے کے لیے تم کو مکان نہیں محل اور قصر درکار ہیں، اور ان سے بھی جب تمھاری تسکین نہیں ہوتی تو بلاضرورت عالی شان عمارتیں بناڈالتے ہو، جن کا کوئی فائدہ اظہارِ قوت و ثروت کے سوا نہیں ہوتا۔

لیکن تمھارا معیارِ انسانیت اتنا گرا ہوا ہے کہ کمزوروں کے لیے تمھارے دلوں میں کوئی رحم نہیں، غریبوں کے لیے تمھاری سرزمین میں کوئی انصاف نہیں، گردوپیش کی ضعیف قومیں ہوں یا خود اپنے ملک کے پست طبقات، سب تمھارے جبروظلم کی چکّی میں پس رہے ہیں اور کوئی تمھاری چیرہ دستیوں سے بچا نہیں رہ گیا ہے۔ (سیّدابوالاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن، سورۃ الشعراء، ترجمان القرآن، جلد ۵۱، عدد۱، اکتوبر ۱۹۵۸ء، ص ۲۳-۲۴)