مولانا عبد المالک
|
۲۰۰۷فروری
|
سیرت نبویؐ، اسلامی تعلیمات، اسلامی اخلاقیات، حدیث، یومِ آخرت
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی اور بدی دونوں کا انجام کھول کر بیان فرما دیا ہے‘ اتمامِ حجت کر دیا ہے۔ کل قیامت کے روز کوئی یہ عذر نہیں کر سکے گا کہ مجھے تو برائی کے اس ہولناک انجام کا پتا نہ تھا‘ ورنہ میں برائی سے عشق نہ کرتا۔ آج موقع ہے‘ توبہ کا دروازہ کھلا ہے‘ باز آنے والے باز آسکتے ہیں۔ کل پکڑ ہوگی‘ کسی بھی قسم کی چیخ و پکار کام نہ دے گی۔ ہے کوئی جو اس بات پر کان دھرے!
اللہ تعالیٰ ایسے حکمران ہیں جو بندے کی ذرا ذرا سی بات‘ ذرا ذرا سے عمل سے باخبر ہیں۔ ہر وقت دیکھتے‘ سنتے اور جواب دیتے ہیں‘ یہ الگ بات ہے کہ ہمیں اس کے جواب کا علم نہیں ہوتا لیکن انبیا علیہم السلام کو بعض اوقات علم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس سے بارہا باخبر کردیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا پر اللہ رب العالمین کا خوش ہوجانا‘ ہنس پڑنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع کر دینا‘ اس کی ایک مثال ہے۔ یہ یقین نہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں کہ آج بھی کوئی بندہ یقین کے ساتھ دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اسی طرح اظہار مسرت نہ کرتے ہوں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرامؓ کی محبت کا یہ ایک نمونہ ہے جو حضرت علیؓ نے پیش کیا۔ آپؐ کے عمل کی پوری کی پوری نقل کی‘ سواری پر سوار ہو کر اپنے پیچھے علی بن ربیعہ کو بٹھایا‘ حرۃ کی طرف گئے‘ حرۃ پہنچ کر دعا کی اور دعا میں اسی عمل کو دہرایا جسے آپؐ نے دہرایا تھا۔ نبی کریمؐکے نقش قدم پر چلنا قدم بقدم وہی کچھ کرنا جو آپؐ نے کیا‘ یہی آپؐ سے حقیقی محبت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اُمت سے کس قدر محبت ہے اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ واقعہ کافی ہے۔ اُمتی کو انعام ملا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے سبب اللہ تعالیٰ اس پرصلوٰۃ و سلام بھیجتے ہیں‘ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ ایسے شفیق و کریم نبی کے ساتھ محبت‘ اطاعت اور عشق کس قدر ہونا چاہیے؟ ایسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے کہ آپؐ کی محبت‘ آپؐ کی اطاعت‘ آپؐ کے دین و نظام سے لگائو ماں باپ اور اولاد اور اپنی جان سے بھی بڑھ کر ہو‘ جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ اور اولاد اور اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوں‘‘۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے والا فرائض کا پابند‘ منکرات سے اجتناب کرنے اور دین کو غالب کرنے والا ہوگا‘ لیکن وہ شخص جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق و محبت نہ ہو‘ وہ نبی کریمؐ کو بھولا ہوا ہو‘ آپؐ پر درود و سلام نہ پیش کرتا ہو تووہ اللہ تعالیٰ‘ اللہ تعالیٰ کے دین اور اللہ والوں کو بھی بھولا ہوا ہوگا اور اسی لیے خائب و خاسر ہوگا۔
رشتے داروں کو ہی نہیں‘ جن سے دین کا رشتہ ہو‘ ان کو اپنے گھر پر دعوت دے کر بلانا اور کھانے میں شریک کرنا اور ان سے دعائیں لینا ایک ایسی نیکی ہے جس کا رواج جتنا زیادہ ہو‘فائدے اتنے ہی زیادہ ہیں۔ حدیث بتاتی ہے کہ دعا کے لیے بلاتکلف درخواست کرنا چاہیے‘ اور مہمان کو اسے قبول کرتے ہوئے برکت کی دعا کرنا چاہیے۔ رزق کی تنگی و کشادگی سو فی صد اللہ کے ہاتھ میں ہے‘ ہمارے نہیں (جیسا ہم سمجھتے ہیں)۔ اگر مدعو کوئی ذی عزت‘ بزرگ اور متقی ہو تو یقینا دعا زیادہ قبول ہوگی‘ برکت بھی زیادہ ہوگی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی سچائی کا مشاہدہ سر کی آنکھوں سے کیا جاسکتا ہے۔ آج بہت سے ایسے لوگ جو بڑے بڑے مناصب پر فائز ہیں‘ اپنے گناہوں پر سے خود پردہ اٹھاتے ہیں اور کتابیں لکھتے ہیں۔ اس میں اپنے ماں باپ‘ دادا نانی کی بے حیائیوںکا تذکرہ‘ عالمی سطح پر دنیا بھر کے اصحاب شان و شوکت اور عوام و خواص کے سامنے کرتے ہیں۔ ان کتابوں پر رائلٹی لیتے ہیں اور ذرہ برابر بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشن گوئی فرمائی کہ ایک ایسا دور آئے گا جب قوم کا لیڈر رذیل ترین اور قبیلے کا قائد فاسق ہوگا(مشکوٰۃ )۔ آج وہی دَور ہے۔
جو مسلمان بے حیائی کی اشاعت پر خاموش تماشائی ہوں‘ وہ بھی بے حیائی کی اشاعت میں مددگار شمار ہوں گے۔ جب بے حیائی کی اشاعت کرنے والوں پر عذاب آئے گا تو اس کی لپیٹ میں خاموش تماشائی بھی آجائیں گے۔ خاموشی کی گنجایش نہیں ہے۔ اس لیے ہر ہر گھر‘ بستی بستی تک پہنچ کر موجودہ نازک صورت حال سے اہلِ وطن کو آگاہ کیا جائے اوربے حیائی کو حکومتی سطح پر فروغ دینے کے سلسلے کو روکا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق سے نوازے۔ آمین!