ڈاکٹر طاہر رضا بخاری


آج دنیا میں مختلف نظریات اور اِزموں کی بھرمار نے فضا کو دھندلا دیا ہے۔ بے یقینی اور عدمِ اطمینان کی کیفیت نے انسان کا انسانیت پر اعتماد متزلزل کردیا ہے۔ لوگ اور معاشرے  غموں سے دل گرفتہ اور دکھوں سے آزردہ ہیں‘ جب کہ انسان ہر مادی آسایش کے باوجود ناآسودہ ہے۔ گوہرمقصود مفقود‘ سچی خوشی کا حصول محال اور ایک لمحے کی طمانیت عنقا۔ ہر طرف دہشت و وحشت اور بے یقینی و بے اطمینانی ہے۔ قومیں قوموں سے‘ فرقے فرقوں سے‘ طبقے طبقوں سے دست و گریباں ہیں اور یہ کش مکش ختم ہوتی نظرنہیں آتی۔ ہرشخص خودغرضی میں مبتلا ہے۔   نیکی‘ شرافت اور اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں۔ آج انسان کی علمی سطح بہت بلند ہوچکی ہے۔ وہ  بڑے بڑے خوش نما فلسفے گھڑتا ہے لیکن اس کی تمام تدبیریں ناکام ہوچکی ہیں۔ انسان کو خدا کی ہدایت اور اس کے رسولوں کی رہنمائی کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ موجودہ دور کے انسان کی سب سے بڑی مشکل ’متفقہ اقدار‘ کا نہ ہونا ہے‘ جنھیں سب مل کر تسلیم کرسکیں اور جو انسانیت کے شیرازے کو مجتمع رکھ سکیں‘ اور جو اخوتِ انسانی کا باعث ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں تصادم اور کش مکش کا ایک طوفان برپا ہے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں۔ یہ سب سے بڑی گتھی ہے جس کے حل ہونے پر دوسری گتھیوں کے سلجھنے کا دارومدار ہے۔

عصر حاضرکا اھم مسئلہ

آج دنیا میں ’اخوت انسانی‘ کا فقدان ہے‘ اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انسانی اخوت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام انسانوں کے مابین کوئی قدرِمشترک نہ دریافت کرلی جائے۔ انسانی معاشروں کے مابین کسی ’قدرِمشترک‘ کے حصول کے لیے سب سے بڑی بنیاد توحید ہے۔ اشتراکِ عقیدہ کے لیے توحید پر اتفاق نہایت ضروری ہے، یعنی انسان خدا کی چوکھٹ کے سوا کسی انسانی بارگاہ پر‘ خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنی ہی معتبر اورمقتدر کیوں نہ ہو‘ اپنی جبین نیاز نہ جھکائے۔ یہی وہ پیغام ہے جو سورۂ آلِ عمران میں دیا گیا ہے:

قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍم  بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِط   (اٰل عمرٰن ۳:۶۴) اے نبیؐ، کہو‘اے اہلِ کتاب، آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں‘ اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سواکسی کو اپنا رب نہ بنالے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ بلند ہوئی۔  رحمت الٰہی کا فیضان عام ہوا‘ وحدانیت کی برکات ارزاں ہوئیں۔ بے چین اور آوارہ و سرگرداں دنیا کو پیامِ امن و راحت اور انسانی قافلوں کو پرچم رسالت کے سائے میں جگہ میسر آئی۔ یہ دعوت کسی خاص قوم و گروہ‘ خطے یا علاقے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کی برکتیں اور رحمتیں تمام بنی نوع انسان کے لیے تھیں۔ جیساکہ ارشاد ربانی ہے:

قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج  لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُص فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَo (الاعراف ۷:۱۵۸) اے محمدؐ،کہوکہ اے انسانو‘ میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے‘ اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے‘ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے‘پس ایمان لائو اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی اُمیؐ پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے‘ اور پیروی اختیار کرو اُس کی‘ امید ہے کہ تم راہِ راست پالو گے۔

گویا اس آیت میں حسب ذیل نکات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دعوت پوری حقیقت کے ساتھ واضح کردی گئی ہے:

۱- یہ دعوت عالم گیر اور یکساں طور پر تمام نوع انسانی کے لیے ہے۔

۲- یہ ایک خدا کے آگے سب کے سروں کو جھکا ہوا دیکھنا چاہتی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

۳- ایمان باللّٰہ وکلماتہٖ اس کا شعار ہے‘ یعنی خدا پر اور اس کے کلمات وحی پر ایمان لازمی ہے۔

اس طرزِ استدلال سے فائدہ یہ ہوا کہ داعی کے متعلق یہ بدگمانی پیدا نہیں ہوتی کہ یہ کوئی ایسی شخصیت ہے جو انفرادیت کے زعم میں تمام ماضی پر خط ِ تنسیخ پھیرنا چاہتی ہے‘ بلکہ یہ خیال ہوتا ہے کہ اسے انسانیت کو اُس کا قدیم ترین ورثہ منتقل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ آپؐ نے اپنے مخاطبین سے نزاع یا افتراق پیدا کرنے کے بجاے اس بات کی کوشش فرمائی کہ جن اصولوں پراشتراک و اتحاد ہے اس کے مشترکہ پہلوؤں کو استدلال کے ذریعے واضح کردیا جائے‘ تاکہ مخاطب داعیِ حق کی بات سننے کی طرف راغب ہو۔ اس میں ضد اور ہٹ دھرمی کا مادہ کم سے کم پیدا ہو اور پھر اس کے سامنے ان نتائج کو رکھا جائے جوا س کے اپنے اقرار کردہ اصولوں سے لازمی طور پر نکلتے ہیں تاکہ وہ ان کو اپنی بات سمجھ کر قبول کرنے کی طرف مائل ہو۔ چنانچہ سورئہ عنکبوت میں یہ ہدایت: وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْکِتٰبِ، ’’ اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو‘   اسی امر کی غماز ہے‘ جب کہ اس کا خوب صورت ترین پیرایہ یہ ہے: ’’اے اہلِ کتاب! اس بات کی طرف آئو جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے‘‘۔

بہرصورت رسولؐ نے اپنے اور عہدِقدیم کی دیگر اقوام کے درمیان ’قدرِ مشترک‘ کو   تلاش فرمایا اور اس کو بناے بحث و استدلال بنایا۔ نوعِ انسانی اپنے ظاہری اختلافات کے لحاظ سے کتنی ہی متفرق اور پراگندا کیوں نہ نظر آئے لیکن اس کے اس تفرق اور دُوری کی تہہ میں بے شمار اصول و قواعد ایسے بھی ہیں جن پر سب متحد ہوسکتے ہیں۔ آفاق کے قوانین و ضوابط‘ فطرت کے مظاہر‘ تاریخ کے مسلّمات اور بنیادی اخلاقیات میں سے بہت سی چیزیں ایسی ہیں‘ جن میں شرق و غرب اور عرب و عجم سب ایک ہی نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ رسولؐ کے اس طرزِاستدلال اور طریق دعوت کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ جو لوگ ایمان قبول کرتے گئے‘ ان کو ذہنی و فکری طور پر مزید اطمینان حاصل ہوا اور وہ اس پر پوری طرح جم گئے‘ اور معاشرے کا وہ طبقہ جو شک و تذبذب اور شبہات و احتمالات کا شکار تھا اور قبولِ حق میں چند رکاوٹوں کے سبب ہچکچا رہا تھا‘ اس طرزِ استدلال سے مطمئن ہوگیا۔

اسلام کا نقطۂ نظر

ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گتھی کو انتہائی خوش اسلوبی سے سلجھایا ہے۔ آپؐ نے رہتی دنیا تک کے انسانوں کے سامنے یگانگت‘ ہم آہنگی اور اتحادِعالم کے تصورات ان دلائل کی روشنی میں رکھے کہ دنیا کے انسان جو کبھی پیدا ہوئے تھے‘ جو آج موجود ہیں‘اور جو آیندہ رہتی دنیا تک پیدا ہوں گے‘ ان کا پیدا کرنے والا‘ پالنے والا‘ ان کی زندگی و موت کامالک‘ ان کے لیے زندگی کا تمام سامان بہم پہنچانے والا‘ انھیں جسمانی‘ ذہنی‘ روحانی‘ ہر قسم کی قوت بخشنے والا‘ صرف اللہ ہے۔ اسی نے اس ساری کائنات کو پیدا کیا ہے اور وہی اس نظامِ عالم کا نگران اور مدبر و منتظم ہے۔ وہی تمام انسانوں کا مالک اور آقا ہے اور وہی ان کا حقیقی فرماںروا ہے۔ نبیؐ خدا کی جو کتاب انسانوں کی ہدایت کے لیے لائے‘ اس کی ابتدا اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (شکروستایش اللہ کے لیے ہے جو ساری کائنات کا مالک اور پروردگار ہے۔ الفاتحہ ۱:۱) سے ہوتی ہے‘ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo مَلِکِ النَّاسِ o اِلٰہِ النَّاسِ(کہہ دیجیے میں پناہ چاہتا ہوں تمام انسانوں کے پروردگار کی‘ تمام انسانوں کے بادشاہ کی اور تمام انسانوں کے معبود کی۔الناس ۱۱۴:۱-۳) پر اس کلام کی  انتہا ہوتی ہے۔ اس کی تعلیمات کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ تمام انسان اللہ کو اپنا مالک و آقا مانیں اور اُسی کو ’مقتدرِاعلیٰ‘ تسلیم کریں۔

آج اگرچہ پوری دنیا ایک عالمی گائوں بن چکی ہے۔ انسانی آبادیاں بظاہر ایک بستی کی صورت اختیار کرچکی ہیں مگر ان کے درمیان کسی مشترکہ رشتے کا تصور پروان نہیں چڑھ سکا‘ جو ان انسانی آبادیوں کو ایک دوسرے کے دکھ درد کا احساس دلا سکے۔ سفیدفام‘ سیاہ فام کے دشمن ہیں۔ ایشیا اور یورپ میں برتری اور کہتری کی مستقل دوڑ موجود ہے۔ آرین نسل‘ سامی نسل سے بیر رکھے ہوئے ہے۔ گویا ہر قوم دوسری قوم کی بدخواہ اور ہر ملک دوسرے ملک کا دشمن ہے۔

عالمی اتحاد و یک جہتی کے سب سے بڑے اور عظیم علَم بردار‘ ہادی برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ’وحدتِ انسانی‘ کے عظیم تصور کو دنیا کے ذہنوں میں راسخ فرمایا کہ سب انسان ایک خالق کی مخلوق ہیں‘ ایک مالک کے بندے اور ایک حاکم کی رعیت ہیں‘ اور ان کا حاکم و مالک اپنی رعیت کو متحد و متفق دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ جھگڑے‘ تفرقے‘ نفاق‘ دشمنی اور ایک دوسرے کی بدخواہی کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جغرافیائی‘ سیاسی اور معاشی حدود میں منقسم لوگوں پر یہ حقیقت واضح فرما دی کہ ان تفرقوں اور اس تقسیم کی کوئی اصل نہیں ہے۔ پوری زمین اللہ کی ہے اور اس پر موجود سارے ذرائع اور وسائل اللہ کے پیدا کردہ ہیں اور وہ سب انسانوں کے لیے ہیں۔ ساری زمین انسان کا وطن ہے۔ وطن پرستی کے تمام تعصبات نہ صرف بے اصل ہیں بلکہ انتہائی غلط اور مالک ارض و سما کی ناخوشی کا باعث ہیں۔ اس کے ساتھ نبی اکرمؐ نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات راسخ فرمائی کہ تمام انسان ایک ہی ماں، باپ (آدم و حوا) کی اولاد ہیں۔ اس خونی اشتراک کے سبب یہ سب بھائی بھائی ہیں۔ رنگ و نسل کی ساری تفریقیں غلط اور بے بنیاد ہیں۔ تقسیم صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے اچھوں اور بُروں کی تقسیم‘ خدا کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کی تقسیم۔

عالمی یگانگت اور اتحاد و یک جہتی کے لیے ضروری ہے کہ انسانیت کے پاس متفقہ اور مشترکہ نصب العین اور لائحہ عمل ہو۔ مختلف طبقات اگر مختلف مقاصد اور نظریۂ حیات کے حامل ہوں گے تو باہمی آویزش موجود رہے گی۔ نصب العین کا ٹکرائو دنیا کے لیے خطرے کی علامت بن جاتا ہے‘ جس کے سبب انسانی بستیاں ہمہ وقت ذہنی‘ فکری‘ سیاسی اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا رہتی ہیں۔ اس مشکل کو نبی اکرمؐ نے بڑی عمدگی کے ساتھ حل فرمایا اور اعلان  فرما دیا کہ پوری انسانیت کے نصب العین کا تعین صرف خالقِ کائنات کا حق ہے۔ اسی کا وضع کیا ہوا ’نصب العین‘ انسانی قافلوں کے لیے رشد و ہدایت کا باعث ہوگا۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کا تابع فرمان ہے۔  انسان بھی کائنات کا ایک جزو ہے۔ انسان کی زندگی کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے مالک و آقا کی اطاعت و بندگی اختیار کرے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالمی اتحاد‘ یگانگت اور ہم آہنگی کے لیے آثارِ کائنات اور قوانین فطرت کی روشنی میں دنیا کو اس حقیقت سے روشناس کرایا کہ صرف دنیا کی زندگی ہی زندگی نہیں ہے‘ بلکہ مرنے کے بعد ایک دوسری زندگی انسان کو ملے گی جو دائمی و ابدی ہوگی اور جس کی نعمتیں اور تکلیفیں بے پایاں و غیرفانی ہوں گی۔ اس عالم کی دائمی اور لامحدود نعمتوں کے مقابلے میں اس دنیا کے چندروزہ اور محدود فائدوں کی وہی حیثیت ہے جو سمندر کے مقابلے میں ایک قطرے کی ہوتی ہے۔ دنیاکی یہ حقیر سی نعمتیں پوری جدوجہد اور دوڑدھوپ کے باوجود اکثر انسانوں کو حاصل نہیں ہوپاتیں‘ اور وہ اس کی تمنا کرتے کرتے ہی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس     عالم لازوال کی عظیم نعمتیں ہراس انسان کو جو اُن کے لیے مناسب کوشش کرے گا‘ یقینا ملیں گی۔  اس لیے ضروری ہے کہ انسان تقویٰ کی رَوش اختیار کرے اور آخرت کے تصور جزا و سزا کو اپنے قلب و جگر میں موجزن کرے۔ کیونکہ یہی تصور انسان کی فلاح کا ضامن ہوسکتاہے۔

بین المذاہب اور بین الاقوامی اتحاد و یگانگت کے لیے درج ذیل پہلو بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں:

انسانی حقوق کی ھمہ گیری اور احترامِ انسانیت

جس طرح اسلام نے ایک ہمہ گیر عالمی اخلاقی نظام دیا ہے‘ اسی طرح اس نے ہر صنف‘ ہرطبقے اور ہرمذہب کے افراد کے حقوق مقرر کردیے ہیں تاکہ انسانی بھائی چارے‘ احترامِ آدمیت اور معاشرتی و سماجی مساوات میں کہیں خلل واقع نہ ہو۔ انسانی حقوق کی ادایگی میں اسلام نے قومی‘وطنی‘ مذہبی اور طبقاتی عصبیت کا نام و نشان جس انداز میں مٹایا ہے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ انسانی حقوق کی ادایگی کے حوالے سے وہ مسلمانوں کے لیے جو معیار مقرر کرتا ہے وہ یہ ہے: ’’کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے‘‘۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بنی نوع انسان کی بھلائی کا جذبہ کسی انسان کے دل میں پیدا نہ ہو تو وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔ رنگ و نسل اور اس کے امتیازات کو ختم کرتے ہوئے عالم گیر معاشرت کے تصور کو‘ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے یوں واضح فرمایا: ’’اے لوگو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارے باپ آدم ؑ بھی ایک ہیں۔کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، مگر پاک بازی اور تقویٰ کی وجہ سے۔ سارے انسان آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدم ؑ مٹی سے بنائے گئے تھے‘‘۔

خدا نے پہلے انسان کی تخلیق خلافت و نبوت کی ذمہ داری کے ساتھ کی تھی‘ اس لیے بنی نوع انسان کے ہرہرفرد کو چاہیے کہ وہ اس دنیا میں خلافتِ الٰہی کا فریضہ ایک فرض شناس کی طرح انجام دے۔ وہ اس کائنات میں معین خدا بن کر نہیں بلکہ نائب خدا بن کر تصرف کرے۔ وہ صفاتِ الٰہی کا مظہر بن کر کائنات ارضی کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے۔ اس کو تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاق اللّٰہ کا حکم دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس کائنات کے خالق کی نظر جہان ہست و بود کی پہنائیوں سے بھی زیادہ وسیع ہے‘ اسی طرح انسان کے قلب و نظر میں وسعت و ہمہ گیری ہونی چاہیے۔ جس طرح اس کے رحم و کرم کا فیضان ساری مخلوقات کے لیے عام ہے‘ اسی طرح اس کے دل میں بھی یہی ہمہ گیر جذبہ رحم و کرم موجزن ہونا چاہیے۔ اس کا خوانِ ربوبیت جس طرح اپنے نافرمانوں پر بھی بند نہیں ہوتا‘ انسان کو بھی اپنے اندر ربوبیت عامہ کا یہی جذبہ اُبھارنا چاہیے۔ وہ سب کو دیتا ہے مگر خود کسی سے کچھ نہیں لیتا۔ یہی بے نیاز اور بے غرض جذبہ انسان کو اپنے دل کی گہرائیوں میں پیدا کرنا چاہیے۔ ساری مخلوق خدا کی عیال ہے‘ اس کے ایک ایک فرد سے اس کو محبت ہے‘ اس لیے ایک انسان کو ایک انسان کے ساتھ وہی برتائو کرنا چاہیے جو وہ اپنے بال بچوں کے لیے پسند کرتا ہے۔

عقیدے کی آزادی اور بین المذاھب تعلقات

ہرانسان کو چونکہ خدا نے عقل و تمیز دی ہے‘ پھر اس نے وحی کے ذریعے اس کو صحیح زاویۂ نظر اختیار کرنے کی طرف رہنمائی بھی کردی ہے‘ اِس لیے ہرشخص کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ   صراطِ مستقیم پر چلتا رہے یا غلط عقیدہ قائم کرکے چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں میں بھٹکتا پھرے۔ بہرحال اس دنیا میں اسے کوئی نظریہ یا عقیدہ قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْتَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ (البقرہ ۲:۲۵۶) دین کے بارے میں کوئی زبردستی اور جبر نہیں‘ ہدایت گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے۔ (جس کا جی چاہے قبول کرے‘ جس کا جی چاہے نہ کرے)

قرآن پاک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ہرمسلمان کو تنبیہہ کرتا ہے کہ:

وَ لَوْشَآئَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّھُمْ جَمِیْعًاط اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَo (یونس ۱۰:۹۹) اگر اللہ چاہے تو زمین کے تمام رہنے والے مومن ہوجائیں تو کیا تم لوگوں کو مومن بنانے میں جبرواکراہ کرنا چاہتے ہو۔

اس نے محض حریت عقیدہ کا نظریہ ہی نہیں پیش کیا بلکہ عملی و قانونی طور پر اس کی حفاظت بھی کی ہے۔ اس سلسلے میں کسی پر کوئی جبر نہ کیا جائے‘ جیساکہ مذکورہ آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر کسی کو اپنے کسی عقیدے کی طرف دعوت دینا ہے یا کسی کے عقیدے پر تنقید کرنی ہے توعمدہ پیراے اور نرمی کے ساتھ کرنی چاہیے۔

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ(النحل ۱۶:۱۲۵) اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ‘ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔

پوری اسلامی تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ دعوت اسلام کے معاملے میں کبھی جبر کو اختیار نہیں کیا گیا اور غیرمسلموں کی مذہبی آزادی کو ہمیشہ مقدم رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ پہنچ کر  آپؐ  نے یہود سے جو معاہدہ کیا تھا‘ اس میں اُن کی دینی آزادی کو واضح انداز میں متعین فرما دیا تھا۔

مدینہ منورہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلابی اقدامات نے وہاں کی قومی زندگی کو ایک ہمہ گیر معاشرت سے بھی متعارف کرایا۔ ہجرت کے سال میں آپؐ  نے مندرجہ ذیل پانچ امور پر اپنی توجہ مبذول فرمائی:

                ۱-  میثاقِ مدینہ کے ذریعے سے آپؐ  نے اہلیانِ مدینہ کو بین المذاہب یگانگت اور اتحاد کا درس دیا۔ میثاقِ مدینہ آپؐ  کا ایسا اقدام تھا جس کے نتیجے میں ریاست مدینہ میں آپؐ   کی حاکمیت مسلم ہوگئی۔

                ۲-  مواخات کے ذریعے آپؐ نے معاشی استحکام کا پروگرام دیا۔ اس طرح مکے سے آنے والے مہاجرین کی آبادکاری و معاشی بحالی ممکن ہوئی۔

                ۳-  مسجدنبویؐ تعمیر کی گئی اور افرادِ معاشرہ کی تربیت کا کام بھی شروع کردیا گیا۔

                ۴-  ریاست مدینہ کا نظم و نسق چلانے کے لیے آپؐ  نے نظامِ سلطنت (administrative system) دیا۔

                ۵-  ریاست مدینہ کے دفاع کے لیے آپؐ  نے اقدامات فرمائے۔

آپؐ  نے یہود و نصاریٰ سمیت کفارِ مکہ اور دیگر عرب قبائل کے ساتھ معاہدات فرمائے۔ ان معاہدات میں قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ یہ سب کی سب اسلام دشمن سیکولر اکائیاں تھیں جن کے ساتھ آپؐ  نے مختلف اوقات میں مختلف نوعیت کے اتحاد کیے۔ لیکن آپؐ کے دو اتحاد بطور خاص مشہور ہوئے اور نتائج کے اعتبار سے تاریخی اور فیصلہ کن اہمیت کے حامل ٹھیرے۔ ان میں ایک میثاقِ مدینہ اور دوسرا معاہدۂ حدیبیہ۔ میثاقِ مدینہ ایک ہجری میں یثرب کے قبائل اور بالخصوص یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ہونے والا سیاسی اور دفاعی معاہدہ تھا‘ جب کہ معاہدۂ حدیبیہ ۶ہجری میں عرب کی سب سے بڑی اسلام دشمن قوت کفار و مشرکین مکہ کے ساتھ طے پایا۔

بے لاگ انصاف

بین المذاہب اور بین الاقوامی اتحاد و یگانگت کی بنیاد کو مؤثر اورمستحکم کرنے کے لیے اسلام نے سب سے زیادہ زور بے لاگ اور مساویانہ انصاف پر دیا۔ اسلام کے نزدیک عدل و انصاف محض ایک قانونی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ وہ ضابطہ قانونی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے‘ جو انصاف کو صرف عدالت تک محدود نہیں رکھتا بلکہ وہ انفرادی‘ اجتماعی اور معاشرتی زندگی کے ہرگوشے میں منصف اور عادل بناتا ہے۔ وہ جس طرح ایک فرد کے ساتھ انصاف کا حکم دیتا ہے‘  اسی طرح قومی‘ ملکی اور بین الاقوامی معاملات میں بھی ہر ہرقدم پر اس کی نگرانی کرتاہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اس موضوع کو بیان کیا گیا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا لا وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِط (النساء ۴:۵۸) مسلمانو‘ اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔

جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح مکہ سے ہم کنار کیا تو اس موقع پر اس آیت کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں انتقام کے جذبے کی ہمیشہ کے لیے بیخ کنی کردی گئی:

وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْاط  اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَ اتَّقُوْا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ o(المائدہ ۵:۸) کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جائو۔ عدل کرو‘ یہ خداترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

معاھدات کی پابندی

وہ چیز جس سے بین المذاہب اور بین الاقوامی تصورات اور جذبات کو نظری اور عملی طور پر مضبوطی میسر آتی اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ ملتا ہے‘ وہ معاہدات کی پابندی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدات کی پابندی کو اخلاقی اور قانونی دونوں حیثیتوں سے ضروری قرار دیا ہے۔ معاہدہ خواہ شخصی ہو یا اجتماعی‘ معاشی ہو یا تجارتی‘صلح کا ہو یا امن و امان کے قیام و بقا کا___ اس کی پابندی ہرصورت لازمی ہے۔ اسلام کا دامن توثیق معاہدات کے سلسلے میں بڑا وسیع ہے۔ اس کے نزدیک اگر برسرِجنگ قوم بھی صلح اور مصالحت کے لیے ہاتھ بڑھائے تو جب تک مسلمانوں کو کوئی شدید نقصان نہ ہوا ہو یا اس میں کوئی کھلا ہوا فریب نہ نظر آتا ہو‘ اس وقت تک اس کا خیرمقدم کرنا ضروری ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بار بار اور سخت تاکید آئی ہے اور عملی طور پر اسلامی حکومتیں اس کی پابندی کرتی رہی ہیں:

وَ اَوْفُوْا بِالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلًا(بنی اسرائیل ۱۷:۳۴) عہد کو پورا کرو بے شک عہد کے بارے میں خداے تعالیٰ کے حضور بازپرس ہوگی۔

اسلام نے معاہدے کو اسلامی اور اخلاقی دونوں حیثیتوں سے بڑی اہمیت دی ہے۔     نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ حق کے فروغ اور اسلام کے استحکام کے لیے کثیرالجہات  حکمت عملی اختیار فرمائی جس میں آپؐ  نے مخالف قوتوں کے ساتھ اتحاد و معاہدات کیے۔ یہود سے معاہدہ توحید کے ’مساوی کلمہ‘ کی بنیاد پر طے پایا۔ دیگر کئی قبائل سے معاہدات طے کرتے وقت آپؐ  نے حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار فرمائی۔ طائف کے قبیلہ بنوثقیف نے معاہدے کے لیے  یہ مطالبات پیش کیے: ۱-نماز سے استثنا ۲- حرمتِ زنا سے استثنا ۳-طائف کو حرم قرار دینا ۴-فرضیت زکوٰۃ سے استثنا ۵-فرضیت جہاد سے استثنا۔ آپؐ  نے انھیں پہلی دو شرطوں پر منوا لیا اور بعد کی تین شرطیں مان لیں۔ صحابہ کرامؓ سے آپؐ نے فرمایا کہ جب اسلام ان کے دل میں جم جائے گا تو وہ خودبخود مکمل اسلام کو مان لیں گے۔ آپؐ  نے صرف یہود مدینہ سے ہی نہیں بلکہ دیگر کئی قبائل‘ مثلاً بنی ضمرہ‘ بنی غفار‘ نعیم بن مسعود اشجعی اور نجران کے عیسائیوں سے بھی معاہدات کیے۔ آپؐ  نے پیغامِ حق کے فروغ کے لیے مختلف النوع اتحاد کیے جو سماجی‘ سیاسی‘عسکری و دفاعی‘ اقتصادی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ آپؐ نے مدینہ تشریف لانے کے بعد سب سے پہلے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کی فضا پیدا کی۔ آپؐ  نے وہاں کے عام شہریوں اور یہودیوں سے جو معاہدہ کیا اس میں ۴۸ دفعات ہیں۔ ان میں سے ہر دفعہ معاہداتی دنیا میں اپنی انفرادیت رکھتی ہے اور یہ بھی وضاحت ہوتی ہے کہ اسلامی مملکت میں دوسرے مذاہب کی کیا حیثیت ہے‘ نیز یہ کہ اسلام اپنے ہمسایوں کے ساتھ پُرامن بقاے باہمی کا کس قدر خواہاں ہے۔

سفارتی آداب

بین الاقوامی تعلقات کے استوار کرنے اور بین المذاہب اتحاد اور رواداری کو فروغ دینے میں دوست اور دشمن ملکوں کے سفرا اور نمایندوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بسااوقات یہ سفیر اور نمایندے بڑے بڑے بگڑے اور الجھے ہوئے معاملات کو سلجھا دیتے ہیں‘اور کبھی ان کی ذرا سی غلطی سے بہت سے معاملات خراب بھی ہوجاتے ہیں۔ سفرا اور نمایندے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ نمایندے یا وفود جو کسی عارضی مہم پر یاکسی وقتی اقتصادی یا سیاسی معاملہ طے کرنے کے لیے کسی ملک میں آجاتے ہیں‘ اور دوسرے وہ سفیرجو مستقل طور پر اپنے ملک کی نمایندگی کرتے ہیں۔

دیگر امور

اس وقت بین الاقوامی تعلقات کی استواری کے لیے ناگہانی اور معاشی ضرورتوں پر امداد کا طریقہ بھی رائج ہے۔ اس سلسلے میں اسلام کا تصور دوسرے تمام نظاموں سے زیادہ آفاقی اور پاکیزہ ہے۔ قریش اور ان کے ہم نوا قبیلوں کو مسلمانوں سے جو پُرخاش تھی اور جس طرح وہ ان کے خون کے پیاسے تھے اس سے ہر ایک واقف ہے‘ مگر اسی دوران ایک زبردست قحط پڑتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوتی ہے۔ آپؐ مدینہ سے اسلام کے سب سے بڑے دشمن ابوسفیان کے پاس کھجوریں اور پانچ سو دینار نقد اس لیے روانہ فرماتے ہیں کہ وہ قحط زدہ اشخاص کی اس سے مدد کریں۔ یہ بات ذہن میںرکھنی چاہیے کہ یہ امداد مدینہ جیسی غریب اور چھوٹی سی آبادی کی طرف سے اُس قوم کو دی گئی جو دنیا میں اسلام کی سب سے بڑی دشمن تھی۔

خلاصہ: ان تمام تفصیلات کا خلاصہ یہ ہوا کہ:

                ۱-  اسلام توحید و رسالت‘ کتاب اور کائنات کا آفاقی تصور دے کر انسان میں ہمہ گیر    بین الاقوامی ذہنیت پیدا کرتا ہے۔

                ۲-  وہ خلافتِ آدم کا تصور دے کر صرف انسان کو انسان سے نہیں بلکہ پوری کائنات سے ہم آہنگ بناتا ہے اور اس میں اس کی ذمہ داری کو محسوس کراتا ہے۔

                ۳-  وہ انسانی بھائی چارے کی بنیاد عقل و ضمیر کے اشتراک پر نہیں بلکہ خون کے رشتے پر رکھتا ہے۔

                ۴-  وہ اس میں مساوات کا جذبہ اُبھارتا ہے اور اس کے ذریعے ہر طرح کی نسلی‘ قومی اور    وطنی تنگ نظری کی جڑ کاٹتا ہے۔

                ۵-  قومی‘ وطنی تقسیم کو محض ایک عارضی اور تعارف کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے۔

                ۶-  وہ اخلاق و حقوق میں ہرانسان کو برابر سمجھتا ہے۔

                ۷-  ہر شخص کی عزت‘ جان‘ مال‘ عقل‘ نسل اور ملکیت کی حفاظت کرتا ہے۔

                ۸-  ہر شخص کو عقیدہ‘ راے‘ فکر اور قول کی آزادی دیتا ہے۔

                ۹-  وہ حقوق شہریت میں کم سے کم پابندی عائد کرتا ہے۔ وہ ’ہرملک ملک ما ست کہ ملک خداے ماست‘ کا تصور پیش کرتاہے۔

                ۱۰-  وہ آزاد تجارت کا حامی ہے جس میں کم سے کم ٹیکس لیا جائے۔

                ۱۱-  مادی معاملات‘ بین الاقوامی تعلقات اور معاہدات میں خواہ وہ سیاسی ہوں یا معاشی‘ اس صورت کو پسند کرتا ہے جس کی بنیاد اخلاق اور عام خلقِ خدا کی منفعت پر ہو۔

                ۱۲-  وہ ضرورت کے وقت دنیا کے ہر انسان کی بے غرض مدد کرنے کی ترغیب دیتا ہے خواہ یہ مدد ایک فرد کو دی جائے یاکسی حکومت کو‘ کسی مسلمان کو دی جائے یا غیرمسلم کو‘ کالے کو دی جائے یا گورے کو۔ وہ اس سے مادی منفعت اٹھانے سے نہ صرف منع کرتا ہے‘ بلکہ اس کے اظہار کو بھی ناپسند کرتا ہے۔ قرآن پاک میں بار بار اس کی صراحت آتی ہے کہ امداد دے کر کسی فرد یا جماعت کو اپنا ممنونِ احسان بنانے کی کوشش نہ کرو۔

                ۱۳-  اسلام انسانوں کے درمیان جس تفریق کا قائل ہے وہ خالص الہامی اصولوں کی بنیاد پر ہے۔ اس میں وہ نہ تو کسی طرح کی قومی‘ وطنی عصبیت کو راہ دیتا ہے اور نہ نسلی برتری‘  جانب داری یا کسی انسان کی حق تلفی کو گوارا کرتا ہے۔ اسلام کی یہ تقسیم حق و ناحق کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اہلِ حق وہ ہیں جو خدا کی اس ہدایت کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہوں جو اس نے اپنے نبیوں کے ذریعے بھیجی ہے۔ جس کی آخری کڑی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور وہ اہلِ باطل غلط کار ہیں جو اس ہدایت پر یقین نہیں رکھتے اور اس پر  عمل نہیں کرتے۔ یہ تقسیم اس لیے کرنی پڑتی ہے کہ زندگی کے ہر ہرمعاملے کی طرح‘   بین الاقوامی معاملات میں بھی جیساکہ اُوپر کی تفصیل سے معلوم ہوچکا ہے‘ اسلام اپنا ایک خالص اخلاقی اور ماورائی تصور رکھتا ہے۔ اس کو ممتاز کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس کے ماننے والوں کو ایک ایسا امتیازی نام دیا جائے جس سے کسی طرح کی قومی‘ وطنی اور طبقاتی عصبیت بھی نہ پیدا ہو اور اصولی اعتبار سے آفاقیت کے ساتھ  ان کی یہ امتیازی حیثیت بھی باقی رہے۔

 

احتساب (accountability)کا تصور نہ صرف مذہبی لحاظ سے بلکہ دنیاوی امور میں بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن کریم میں بارہا احتساب کے تصور کو دہرایا گیا ہے‘ اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے‘ یعنی نیکی کی تلقین کی جائے اور برائی سے منع کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہ صرف احتساب کا جامع تصور پیش کیا بلکہ اپنی ۲۳سالہ مسلسل جدوجہد میں احتساب‘ محاسبہ اور اصلاح و تطہیرکا عمل جاری رکھا جس کے نتیجے میں ایک مختصر سی مدت میں وہ مثالی معاشرہ وجود میں آگیا جس کی نظیر دنیا آج تک نہ پیش کر سکی۔

احتساب کا یہ تصور زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ انفرادی‘ اجتماعی‘ معاشرتی‘ سیاسی‘ اخلاقی‘ غرض کوئی شعبہ حیات ایسا نہیں جو احتساب کے دائرہ کار سے باہر ہو۔ اسی لیے نظمِ مملکت اور تاسیسِ حکومت ِ الٰہی کے حوالے سے اسلامی ریاست کے انتظامی اداروں مثلاً امورِداخلہ‘ تعلقاتِ خارجہ‘ مالیات‘ عسکری امور‘ عدلیہ اور تعلیم و تربیت کے ساتھ ایک اہم ادارہ ’احتساب‘ ہے جو معاشرتی اصلاح کے حوالے سے بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ اس ادارے کے تحت لوگوں کے عام اخلاق کی نگرانی و اصلاح‘ عمّال ]ملازمین[ کی تربیت اور ان کا محاسبہ‘ نیز تجارتی بدعنوانیوں کا انسداد اور حرام اور ناجائز ذرائع آمدن کی بیخ کنی شامل ہے۔

عوام الناس کے اخلاق کی نگرانی کا یہ کام سرکاری پیمانے پر غالباً اس ارشاد الٰہی کے بموجب تھا کہ:

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَـوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط (الحج ۲۲:۴۱)

یہ وہ لوگ ہیں جنھیںاگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔

چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر لوگوں کے اخلاق اور مذہبی فرائض کے متعلق وقتاً فوقتاً داروگیر فرماتے رہتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اُنھیں اس بات پر توجہ دلاتے تھے کہ وہ احکام خداوندی کی پوری طرح پابندی کریں۔ چنانچہ اسلام کی بنیادی اور اصولی چیزوں کی تعلیم و تربیت کے لیے حضوؐر نے تمام قبائل سے کہا کہ ہر ایک قبیلہ اپنے کچھ لوگوں کو منتخب کر کے مدینہ بھیجے۔ آپ ؐ کا یہ طرزعمل بھی اس آیت کی تفسیر تھا:

فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَـآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ o (التوبہ ۹:۱۲۲)

اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے‘ مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیرمسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے۔

اصلاح معاشرہ کی تڑپ اور لگن‘ دنیا کے ہر طبقے اور ہر سوسائٹی میں اپنے اپنے افکار ونظریات کے مطابق موجود رہی ہے۔ بدھ مت کے پیروکار تمام مصائب کا سبب‘ نفسانی خواہشات کو قرار دیتے رہے لہٰذا وہ ان خواہشات پر قابو پانے ہی کو اصل سمجھنے لگے۔ زرتشت کے نزدیک‘ بدی کا سدباب صرف برے لوگوں سے نبردآزما ہونے ہی سے ممکن ہے‘ جب کہ کنفیوشس کا طریقہ کار اور اندازِ فکر اس سے بالکل مختلف رہا۔

اسی طرح عصرِجدید میں سرمایہ دارانہ نظام کے نزدیک برائیوں اور جرائم کے سدِّباب کے لیے ذاتی ملکیت کا حق بلاکسی قیدوشرط لازم ہے خواہ وہ جائز ہو یا ناجائز‘ جب کہ اشتراکیت کے نزدیک معاشرتی اصلاح اور برائیوں کے خاتمے کے لیے لازم ہے کہ تمام چیزوں پر ملکیت کااختیار لوگوں کے قبضے سے نکال حکومت کے سپرد کر دیا جائے۔ اس کے برعکس معاشرے کی اصلاح کے لیے اسلام کا طریقہ کار بڑا منفرد اور جامع ہے۔ وہ صالح معاشرے کے قیام کے لیے فرد کی ہمہ جہت اصلاح اور تربیت کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ اس کے دل کی دنیا بدلتا ہے‘ شعور کو بیدار کرتا ہے اور روحانی بالیدگی کو فوقیت دیتا ہے۔ اس لیے کہ اگر انسان کی اندرونی حالت اور باطنی کیفیت بہتر ہوجائے اور مکمل روحانی طہارت میسرآجائے تو بیرونی دنیا خود بخود سنور اور نکھر جاتی ہے۔ جیسا کہ نبی اکرمؐ کا فرمان ہے:

الا وان فی الانسان مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب (مسندامام احمد حنبل‘ ج ۴‘ ص ۲۷۰)

سنو! جسم میں (گوشت کا) ایک لوتھڑا ہے۔ اگر وہ ٹھیک ہے تو سارا جسم ٹھیک۔ اور اگر وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار وہ لوتھڑا دل ہے۔

انفرادی اصلاح اور فکرِ اسلامی کو راسخ کرنے کے بعد ایک دوسرے کی اصلاح کے فریضے کو لازم قرار دیا گیا ہے تاکہ پورا معاشرہ من حیث المجموع جنت نظیر بن جائے۔ حکمِ خداوندی ہے:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَـاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰)

اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو‘ بدی سے روکتے ہو۔

اصلاحِ معاشرہ سے مراد تمام شعبہ ہاے زندگی کی درستی اور ہر قسم کی حق تلفی‘ بددیانتی‘ ظلم و تشدد اور بدعنوانی سے پاک‘ پاکیزہ ماحول اور صالح نظام کا قیام ہے۔ معاشرے کے کسی خاص شعبے پر خصوصی توجہ سے درستی اور باقی کو نظرانداز کرنے سے لوگوں کو امن وسلامتی اور اطمینان نصیب نہ ہو سکے گا اور نہ وہ مثالی معاشرہ ہی قائم ہو سکے گا جو مطلوب و مقصود ہے۔ دینی امور اور شرعی دستور میں معاشرت و معاملات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بقول مولانا منظورنعمانی: معاشرت و معاملات اس لحاظ سے شریعت کے نہایت اہم ابواب ہیں کہ ان میںہدایتِ ربانی‘ خواہشاتِ نفسانی‘ احکامِ شریعت اور دنیوی مصلحت و منفعت کی کش مکش ‘عبادات وغیرہ دوسرے تمام ابواب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اس لیے اللہ کی بندگی و فرمانبرداری‘ اس کی اور اس کے رسولؐ کی شریعت کی  تابع داری کا جیسا امتحان ان میدانوں میں ہوتا ہے دوسرے کسی میدان میں نہیں ہوتا۔ (معارف الحدیث‘ مولانا منظورنعمانی‘ ج ۶‘ ص ۱۸)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مبارک معاشرت اور معاملات کی اصلاح کی اہمیت کو مزید اجاگر کر رہا ہے۔

حضرت ابوالدردائؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھیں وہ عمل نہ بتائوں جس کے ثواب کا درجہ نماز‘ روزے اور صدقے کے ثواب سے زیادہ ہے۔ ہم نے عرض کیا: ہاں‘ یارسولؐ اللہ (ضرور بتایے)۔ آپؐ نے فرمایا: (وہ عمل) آپس کے معاملات اور معاشرتی تعلقات کی اصلاح ہے۔ اور جو شخص باہمی معاملات اور معاشرتی تعلقات میں فتنہ و فساد پیدا کرے وہ مونڈنے (یعنی دین میں خلل ڈالنے) والا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح‘ حدیث ۵۰۳۸‘ ج ۲‘ص ۶۲۲)

معاشرتی اصلاح کے لیے یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلامی معاشرے میں ’’امربالمعروف ونہی عن المنکر‘‘انفرادی اور اجتماعی فرائض میں شامل ہے۔ اسلامی اخلاقیات کی ترویج اور مذہبی اقدار کا فروغ دینی فرائض کا حصہ ہے۔ ظاہر ہے انفرادی سطح پر تو انسان اپنی بساط کے مطابق اس سے عہدہ برا ہو سکتا ہے مگر اجتماعی اور معاشرتی سطح پر کسی مستقل ادارے کے بغیر ان تقاضوں سے عہدہ برا ہونا بڑا مشکل ہے۔ ’احتساب‘ یا ’حسبہ‘ نے اسی ضرورت کے پیشِ نظر مکمل ادارے کی صورت اختیار کی۔

احتساب

اصطلاحِ شرع میں احتساب ایک دینی فریضہ ہے جس کی تعریف الماوردی اور ابویعلیٰ نے اپنی اپنی تصنیفات الاحکام السلطانیہ میں یوں کی ہے:

احتساب سے مراد اچھائی کا حکم دینا جب کھلم کھلا اس کو ]ترک[ چھوڑ دیا جائے اور برائی سے روکنا جب اس کو کھلم کھلا کیا جانے لگے۔ (احکام السلطانیہ‘ علی بن محمدالحسن الماوردی‘ مترجم: سیدمحمد ابراہیم‘ص ۲۴۰۔ احکام السلطانیہ‘ ابویعلٰی‘ مترجم: مصطفی البابی الحلبی‘ ص ۲۸۴)

الماوردی اور ابویعلیٰ کی اس تعریف کو اور لوگوں نے بھی اختیار کیا ہے۔ لیکن ابن الاخوہ محمد بن محمد بن احمد القرشی نے معالم القربہ فی احکام الحسبہ میں اصلاح بین الناس کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔ ابن خلدون کی تعریف زیادہ جامع ہے:

یہ ایک دینی منصب ہے جس کا تعلق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے ہے۔ (مقدمہ ابن خلدون‘ ابن خلدون‘ مترجم: مولانا سعدحسن یوسفی‘ ص ۲۲۰)

معاشرتی اصلاح کے حوالے سے احتساب کی اہمیت سے متعلق ڈاکٹر عبدالقادر عودہ شہیدؒ اپنی تصنیف اسلام کا فوجداری نظام میں لکھتے ہیں:

احتساب کے لازم ہونے سے‘ افرادِ اُمت اس امر کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ نظمِ ملت کو برقرار رکھیں‘ امن و سلامتی کا تحفظ کریں۔ جرائم کو پنپنے نہ دیں اور جرائم و معاصی کے وجود کے خلاف برسرِپیکار اور اخلاق کے فروغ پانے میں معاون بنے رہیں اور اس طرح معاشرے کو جرائم سے تحفظ کی معقول ضمانت اور سماجی بے راہ روی سے بچائو کی کافی ضمانت میسرآجاتی ہے۔ معاشرے کی وحدت کو پراگندگی کا کوئی خطرہ نہیں رہتا اور اجتماعی نظام‘ نت نئے افکار اور مہلک تحریکات سے محفوظ رہتا ہے بلکہ مفاسد اور برائیاں بڑھنے اور پھیلنے سے پہلے ہی ختم کر دی جاتی ہیں۔

نظامِ احتساب

مندرجہ بالا احکام سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جہاں اور جس وقت کسی دوسرے شخص کو برائی یا خلافِ شریعت کوئی کام کرتے ہوئے دیکھا جائے تو حسبِ استطاعت فوراً ہی اُسے روکیں اور جہاں بھی فساد اور شرکے آثار نظر آئیں تو ان کا قلع قمع کریں‘ نیکی اور بھلائی کا حکم دیں۔ چونکہ معاشرہ مختلف شعبہ ہاے حیات سے مل کر معرضِ وجود میں آتا ہے‘ لہٰذا کسی بھی فرض کی انجام دہی اور دیگر امور میں مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے ایک ہی طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ انھی امکانات کے پیشِ نظر اسلام میں احتساب کا ایک ایسا جامع نظام وضع کیا گیا ہے جو نتیجہ خیزی کے اعتبار سے انتہائی ارفع ہے۔ جس میں ہرشخص اپنے مقام پر رہ کر اس اہم ذمہ داری کو احسن انداز میں پورا کر سکتا ہے۔ احتساب کے بارے میں اسلام کے متعین کردہ اصولوں کو پانچ دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۱-  احتسابِ نفس:حضرت عمربن خطاب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (روزِ قیامت) حساب کتاب سے پہلے خود اپنے نفس کا محاسبہ کرو اور (روزِ قیامت) بڑی پیشی کے لیے (اعمالِ صالحہ سے) اپنے آپ کو مزین کرو۔ روزِ قیامت حساب صرف اس شخص کے لیے سہل ہوگا جس نے دنیا میں اپنے نفس کا محاسبہ کیا ہوگا۔ (سنن ترمذی‘ کتاب صفۃ القیامۃ‘ باب ۲۵‘ ج ۴‘ ص ۶۳۸)

ارشاد ربانی ہے:

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ o وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِ یْـرَہٗ o (القیامۃ ۷۵: ۱۴-۱۵)

بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔

معاشرہ فرد سے بنتا ہے اور فرد کی اصلاح میں خود احتسابی یا احتسابِ نفس بڑی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن نفس کی شاطرانہ چالوں سے بھی کوئی مردِ خود آگاہ اور خودبیں ہی بچ سکتا ہے۔ مولانا صدرالدین اصلاحی کے بقول: ’’یہ نہ بھولنا چاہیے کہ نفس اپنا احتساب کرنے میں سخت  حیلہ گر اور فریب کار ثابت ہوا ہے… اور جو ہمیشہ سے دعوتِ حق کی راہ کا سب سے بڑا پتھر ثابت ہوتا رہا ہے۔ اس لیے اگر راہِ حق کی سچی طلب ہو تو ضروری ہے کہ نفس کی اس مہلک کمزوری اور شعبدہ بازی سے انسان پوری طرح چوکنا رہے اور اپنے فکروعمل کا احتساب کرتا رہے۔ (فریضہ اقامت دین‘ ص ۱۶۴)

نفس کی اصلاح اور خوداحتسابی اس قدر موثر اور نتیجہ خیز چیز ہے کہ اس سے انسان کا ضمیر بیدار اور دل پاکیزہ ہوجاتا ہے‘ اور اگر اس سے کوئی غلط کام ہو بھی جائے تو ضمیر کی ملامت اس کو فوراً اصلاح کی طرف راغب کر دیتی ہے اور ندامت سے اُس کا سر جھک جاتا ہے‘ اور اپنی جبینِ نیاز کو اپنے رب کی بارگاہ میں جھکا دیتا ہے۔ اسی احساس‘ خشیتِ الٰہی اور خوفِ خداوندی کا نام تقویٰ ہے اور شاید اسی کے انعام کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے:

وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی o فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی o (النٰزعٰت ۷۹:۴۰-۴۱)

اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا تھا‘ جنت اُس کا ٹھکانا ہوگی۔

اور دوسری جگہ ارشاد ہے:

رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ o (البینۃ ۹۸:۸)

اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ کچھ ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو۔

یہ احتسابِ نفس ہی تھا کہ کبارِ صحابہ اور اولیاء اُمت کھانے پینے کی معمولی چیزوں کی بھی پوری چھان بین کرتے تھے تاکہ کوئی لقمۂ حرام یا مشکوک کھانا پیٹ میں نہ چلا جائے۔

حضرت ابوبکرصدیقؓ کا معروف واقعہ ہے کہ بھوک کی شدت سے خادم کا لایا ہوا کھانا بغیرتحقیق کے کھا لیا اور معلوم ہونے پر کہ کھانا مشکوک ہے تو آپ نے اس لقمے کو قے کر کے نکال دیا۔ آپ سے پوچھا گیا: ’’خدا آپ پر رحمت کرے‘ اتنا کچھ آپ نے صرف ایک لقمے کی وجہ سے کیا۔ آپ نے فرمایا: اگر یہ میرے دمِ واپسیں کے ساتھ نکلتاجب بھی میں اس کو نکال کررہتا‘‘۔(صدیق کامل‘ عباس محمودالعقاد‘ مترجم: منہاج الدین اصلاحی‘ ص ۷۶)

خوداحتسابی کے معاملے میں حضرت عمرؓ کا مزاج سب سے نرالا تھا۔ آپؓ کے احتسابِ نفس کا یہ عالم تھا کہ ایک بار مشک کاندھے پر اٹھا کر چل دیے۔ لوگوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ فرمایا: میرے نفس میں عجب (تکبر) پیدا ہوگیا تھا۔ میں نے اس کو ذلیل کر دیا۔ اسی طرح ایک بار خطبے کے لیے منبر پر چڑھے اور لوگوں کو مخاطب کر کے کہا۔ میں ایک زمانے میں اس قدرنادار تھا کہ لوگوں کو پانی بھر کر لاکر دیا کرتا تھا۔ وہ اس کے بدلے مجھے چھوہارے دیا کرتے تھے۔ میں وہی کھاکر زندگی بسر کرتا تھا۔ یہ کہہ کر منبر سے اتر آئے۔ لوگوں نے تعجب سے پوچھا: بھلا یہ منبرپر کہنے کی بات تھی؟ فرمایا: میری طبیعت میں ذرا غرور آگیا تھا۔ یہ اس کی دوا تھی۔ (الفاروق‘ شبلی نعمانی‘ ص۳۹۱)

خلافت کے متعلق حضرت عمرؓ کے ذاتی احتساب کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو برحق رسول بنا کر بھیجا‘ اگر کوئی اونٹ فرات کے کنارے مر کر ضائع ہو جائے تو مجھے اندیشہ ہے کہ اس کے متعلق اللہ مجھ سے بازپرس کرے گا۔ (تاریخ طبری‘ مترجم: سیدمحمد ابراہیم‘ ج۲‘ ص ۲۵۳)

۲-  احتساب اہلِ خانہ و اقربا: ارشاد خداوندی ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْھَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لاَّ یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ o (التحریم۶۶:۶)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘ جس پر نہایت تُندخُو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انھیں دیا جاتا ہے اُسے بجا لاتے ہیں۔ (اُس وقت کہا جائے گا کہ) اے کافرو‘ آج معذرتیں پیش نہ کرو‘ تمھیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے۔

سورہ لقمان میں حضرت لقمان ؑ کی زبان سے توحید‘ مکارم اخلاق اور حسن معاشرت کا جو درس قریب قریب پورے ایک رکوع میں دیا گیا ہے‘ اس میں خصوصی خطاب اپنے بیٹے کی طرف ہے اور نماز پڑھنے کے ساتھ ساتھ امربالمعروف ونہی عن المنکر کے فرض کو انجام دینے اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو بھی برداشت کرنے کے متعلق نصیحت فرمائی گئی ہے:

یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ (لقمٰن ۳۱:۱۷)

بیٹا‘ نماز قائم کر‘ نیکی کا حکم دے‘ بدی سے منع کر۔

خود آنحضوؐر کے بارے میں ارشاد ہوا:

وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَاط (طٰہٰ ۲۰:۱۳۲)

اپنے اہل وعیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو۔

اور پھر اہلِ خانہ کے علاوہ خاص طور پر یہ حکم ہوا کہ اپنے نزدیکی کنبے والوں کو ڈرائو۔

وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ o (الشعراء ۲۶:۲۱۴)

اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرائو۔

۳-  احتساب افرادِ عامہ: احتساب کی یہ وہ سطح ہے جس کا تعلق معاشرے کے عام مسلمانوں کی خیرخواہی سے ہے‘ اس کے ذریعے کتابِ ہدایت پر تمام ایمان لانے والوں کے نفس کو ایمانی ہمدردی اور دوستی کے لوازم میں داخل کر دیا گیا ہے کہ بلاتخصیص مرد و عورت سارے افرادِ اُمت آپس میں ایک دوسرے کو معروف کی تاکید کریں اور منکر سے منع کریں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (التوبہ ۹:۷۱)

مومن مرد اور مومن عورتیں‘ یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص لوگوں کا حاکم ہے وہ ان کا نگران اور ان کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ تم سے ان کے امورومعاملات کے بارے میں (قیامت کے دن) پوچھا جائے گا۔ اسی طرح ایک عام شخص بھی اپنے گھروالوں کا محافظ و نگران ہے اور اسے بھی ان کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران اور ان کی بہتری کی محافظ و ذمہ دار ہے۔ اور اس سے اس سلسلے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ غلام اپنے آقا کے مال کا محافظ اور نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا۔ لہٰذا یاد رکھو تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہرشخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوگا‘‘۔ (بخاری‘ ج ۹‘ ص ۷۷)

اسی سلسلے میں ایک اور حدیث ملاحظہ ہو: حضرت معقلؓ بن یسار روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس بندے کو اللہ نے رعیت کا حاکم و محافظ بنایا اور اس نے بھلائی اور خیرخواہی کے تقاضوں کے مطابق رعیت کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کی تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا‘‘۔(بخاری‘ ج ۹‘ ص ۸۰)

قرآن و سنت کی رُو سییہ امر واضح ہوا کہ اسلام کا تصورِ احتساب زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ چاہے کوئی کسی ادارے کا سربراہ ہے یا چند افراد پر مشتمل گھر کا سربراہ۔ حکمران رعایا کے بارے میں‘ والد اولاد کے بارے میں‘ شوہربیوی کے بارے میں‘ بیوی گھر اور اولاد کی حفاظت و تربیت کے بارے میں۔ گویا کہ ہرصاحب منصب ذمہ دار اور جواب دہ بنا دیا گیا۔ احتسابِ عامہ کا یہ فرض صرف وعظ و تقریر یا خطاب عام تک ہی محدود نہیں بلکہ  یہاں مراد خصوصیت سے انفرادی امرونہی ہے اور یہ کہ دوسرے کی بھلائی‘ برائی‘ نیکی و بدی کی ہرچھوٹی بڑی بات کو حسب موقع صرف بتلا ہی نہ دیا جائے بلکہ اس کو نیکی کی راہ پر لگانے اور برائی کی راہ سے ہٹانے کی پوری کوشش کی جائے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں استطاعت کے تین درجے وضع کیے گئے ہیں: ’’جب کوئی کسی برائی کو دیکھے تو پہلے تو ہاتھ سے روکے۔ عدمِ استطاعت کی صورت میں زبان سے اور یہ بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے‘‘۔ آنحضورؐ نے خود اپنی سنت سے تینوں طریقوں سے تغیّرِمنکر کی بہترین مثال قائم فرمائی۔ اپنی سنت سے تینوں صورتوں ہاتھ‘ زبان اور دل سے منکر کو مٹانے کی صاف اور واضح رہنمائی و نشاندہی فرمائی۔

۴-  اجتماعی احتساب: اجتماعی احتساب سے مراد وہ احتساب ہے جس کے بارے میں خود قرآن پاک نے فرمایا کہ تم میں سے ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۰۴)

ڈاکٹر محمد ضیاء الدین الرئیس اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں: ’’اس آیت سے جو بات نکلتی ہے وہ یہ کہ اُمت پر یہ فرض ہے کہ وہ یہ فریضہ انجام دے اور ایک ایسی جماعت مقرر کرے جس کے ذمے حاکموں کے اعمال کی نگرانی کرنا ہو اور وہ یہ دیکھے کہ قوانین کی پیروی ہو رہی ہے یا نہیں۔ منکر اور مظالم سے روکے اور خیروبھلائی اور اصلاح کی طرف رہنمائی کرے‘‘۔ (النظریات السیاسیۃ الاسلامیہ‘ ص ۳۱۵)

اسلامی معاشرے میں ہمیشہ ایک ایسی مستقل جماعت یا اُمت در اُمت کا رہنا ایک لازمی اور اہم ترین عنصرہے۔ جس کی زندگی کا خاص مقصد اور مشن ہی یہ ہو کہ وہ سب کام چھوڑ کر لوگوں کو خیر کی طرف بلائے۔ یہی جماعت صحیح معنوں میں علما کی جماعت ہے۔ جو دنیوی علم کے ساتھ ساتھ اپنی عمر کا اصلی و منصبی فریضہ یعنی احکامِ الٰہی کی تعلیم و تبلیغ اشاعت و دعوت اور امرونہی وغیرہ میں لگے رہتے ہیں کیونکہ ان پر یہ فرض کر دیا گیا ہے۔

۵-  احتسابِ حکومت: احتساب کی پانچویں قسم حکومت کی طرف سے اس فرض کا انجام پانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہی اسلامی ریاست کی اصل بنیاد اور مقصداعلیٰ ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ: اگر ہم اُنھیں زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے(الحج ۲۲:۴۱)۔  ابن عربی مالکی اس کی توضیح یوں فرماتے ہیں: ’’امربالمعروف ونہی عن المنکر دین کی بنیاد اور مسلمانوں کی خلافت کی اساس ہے‘‘۔ (احکام القرآن‘ ج ۱‘ ص ۳۹۳)

ابن تیمیہ کے بقول: ’’سارے اسلامی مناصبِ حکومت کا مقصد امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے‘‘۔ (الحسبہ فی الاسلام‘ ص ۳۷)

حکومتی سطح پر احتساب ‘مذکورہ چاروں اجزا کا لازمہ اور خاصّہ اور نظامِ صلاح و فلاح کا اہم ترین جزو ہے۔ اس کی اہمیت پہلی تمام اقسام سے اس لیے بھی زیادہ ہے کہ معاشرے میں وہ لوگ جو سرکشی اور ارتکابِ معصیت میں اس حد تک بڑھ چکے ہوتے ہیں اور شروفساد کا ان پر اس حد تک غلبہ ہوچکا ہوتا ہے کہ پھر ان کو بداخلاقی اور معصیت سے روکنے کے لیے انفرادی سطح پر لوگ بے بس ہو جائیں۔ اس وقت برائیوں کو روکنے کے لیے مکمل طاقت اور حکومتی قوت درکار ہوگی۔ اس صورت میں ادارۂ احتساب کا باقاعدہ اور مستقل قیام ہی ان جرائم کی روک تھام اور امن و امان قائم کرنے کے لیے بہترین کردار ادا کر سکتا ہے تاکہ اللہ کی زمین کو ہر قسم کے شرپسندوں سے پاک کر دیا جائے اور دین کا بول بالا ہو۔

احتسابِ حکومت سے یہاں مراد یہ بھی ہے کہ حکومتی ادارے ازخود بھی کسی طرح کے احتساب سے ماورا نہیں ہیں۔ اسلامی معاشرے میں احتساب کو یک رخا نہیں بنایا گیا بلکہ معاشرے میں ایک دوسرے کے معاملات کو متوازن اور معتدل بنانے کے لیے بیدارمغز رویے موجود رہنے چاہییں۔ جیسے حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں منبر سے جب یہ صدا بلند کی: ’’اے لوگو! سنو اور مانو‘‘۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور بآواز بلند کہنے لگا کہ ہم تمھاری بات نہ سنیں گے اور نہ مانیں گے۔ جب تک تم یہ نہ بتائو کہ دوسرے لوگوں کو ایک ایک چادر ملی مگر تمھارے جسم پر یہ دو چادریں کہاں سے آئیں‘‘۔(عمر فاروق اعظم‘ محمدحسین ہیکل‘ ص ۵۹۰)

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَالا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِط (النساء ۴:۵۸)

مسلمانو! اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔

جہاں تک عمال کے محاسبے اور ان کی تربیت کا تعلق ہے تو اس کے دو پہلو ہوسکتے ہیں۔

ایک تو یہ کہ دورِ نبوت میں جن لوگوں کو کوئی اہم ذمہ داری سونپی جاتی مثلاً صدقہ یا زکوٰۃ وغیرہ کی وصول یابی کے لیے بھیجا جاتا‘ ان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی پوچھ گچھ کرتے تھے کہ کہیں وصولی میں انھوں نے بے جا ظلم یا زیادتی یا ناجائز طریقہ تو اختیار نہیں کیا۔ چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپؐ نے بنواسد کے ایک شخص ابن اللتبیہ کو صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا۔ جب وہ وصول کرکے واپس آئے تو انھوں نے دو قسم کا مال رسولؐ اللہ کے سامنے یہ کہہ کر رکھ دیا کہ یہ مال مسلمانوں کا ہے اور یہ مال مجھ کو تحفتاً ملا ہے۔ آپؐ نے یہ ملاحظہ فرمایا تو کہا کہ ’’گھر بیٹھے بیٹھے تم کو یہ ہدیہ کیوں نہ ملا؟‘‘ اس کے بعد خطبہ میں اس قسم کے لین دین کی  سختی سے ممانعت فرما دی اور فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمدؐ کی جان ہے!   ان محاصل میں جو شخص خیانت کرے گا قیامت کے دن وہ چوری کیا ہوا مال اپنی گردن پر    لادے چلاآرہا ہوگا‘‘(بخاری)۔ حضرت ابوحمیدساعدی کی روایت کے ساتھ یہ حدیث صحیحین ]بخاری و مسلم[  میں بیان ہوئی ہے۔

دوسرا پہلو یہ کہ: رسولؐ اللہ ایک عظیم مصلح اور بیدارمغز حکمران تھے۔ آپؐ کو جہاں یہ خیال تھا کہ عہدیدار اپنے فرائض و واجبات کی بجاآوری صحیح طور پر کریں وہاں اس بات کا بھی خاص اہتمام تھا کہ عمّال و حکام اسلامی نظریۂ حیات پر کامل یقین‘ دینی تعلیمات سے گہری واقفیت اور زیورِاخلاق سے پوری طرح آراستہ ہوں تاکہ جہاں بھی ان کا تقرر کیا جائے وہ کامیاب ثابت ہوں‘ اور کم ازکم وہاں کے باشندے ان کے اخلاق سے شاکی نہ ہوں اور وہ شرع کے مطابق فیصلے کریں۔

حکومت کی ذمہ داریوں میں سے یہ ذمہ داری انتہائی اہم ہے کہ وہ عامۃ الناس کو حرام تجارتی طریقوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کاروباری معاملات کی نگرانی کریں۔ نبی اقدسؐ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ان امور کی ازخود نگرانی فرمائی۔ بدعنوان تاجروں کو دین و دنیا کی وعید سنانے کے علاوہ آپؐ نے اچھے اور ایماندار تاجروں کو اخروی اجر کی بشارت بھی سنائی۔ نیز چیزوں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں آپؐ نے بات بات پر حلف اٹھانے‘ جھوٹی قسمیں کھانے‘ ناپ تول میں کمی کرنے اوراسی قسم کی دوسری نازیبا حرکات کی سخت ممانعت کر دی‘ اور پھر اس ترغیب و ترہیب کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی فرمائے۔ آپؐ بعض اوقات بازاروں اور منڈیوں کا دورہ کرتے اور موقع پر ہی تحقیق و تفتیش فرما کر ضروری تنبیہ یا کارروائی عمل میں لے آتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپؐ بازار تشریف لے گئے اور غلے کے ایک ڈھیر میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو غلّہ اندر سے گیلاتھا۔آپؐ نے دکاندار سے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ بارش سے بھیگ گیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ ’’پھر اس کو اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ ہر شخص کو نظرآئے(پھر فرمایا)۔ جو لوگ فریب دیتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں‘‘۔(صحیح مسلم)

وزن اور ناپ تول کو ٹھیک رکھنا قرآن کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے‘ جب کہ رسولؐ اللہ نے بھی اشیا کو محض اندازے کے بجاے تول سے دینے اور وزن کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مزیدبرآں آپؐ نے منڈیوں اور بازاروں کی مجموعی نگہداشت اور تاجروں کے بے جا تصرف سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بازاروں کے لیے باقاعدہ محتسب (مارکیٹ انسپکٹرز) کا تقرر بھی کیا تھا۔

الغرض معاشرتی اصلاح میں ’احتساب‘ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اصلاح و تبلیغ‘وعظ و نصیحت‘ عمدہ افکار وعقائد کی ترویج‘ اخلاقی اصلاح‘ روحانی بالیدگی اور ذہنی پاکیزگی کے لیے دیگر جملہ ذرائع بھی بروے کار لانے ضروری ہیں تاکہ لوگ محض سزا یا سزا کے خوف سے نہیں بلکہ فِی السِّلْمِ کَافَّۃً کا خوب صورت پیکربن کر ایک ایسے خوب صورت اسلامی اور فلاحی معاشرے کی تفسیر پیش کریں جہاں افراط و تفریط اور ظلم و تعدی کا کوئی نشان نظر نہ آئے     ؎

مزدکی ہو کہ فرنگی ہوس خام میں ہے

امنِ عالم تو فقط دامنِ اسلام میں ہے

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی سب سے مقدس ہستی اور سب سے بڑی انقلابی شخصیت ہیں۔ آپؐ نے ملکوں‘ انسانوں اور تاریخ کو شناخت عطا فرمائی اور دنیا کے ہر پہلو کو اپنے روحانی اور علمی انقلاب سے متاثر کیا۔ دل بھی بدلے اور ذہن کی سمت بھی بدلی‘ اخلاق بھی بدلا اور زاویۂ نظر کو بھی تبدیل کیا‘ ظاہری اطوار بھی تبدیل کیے اور باطنی واردات میں بھی انقلاب برپا کر ڈالا۔ یہی آپؐ کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ اس سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ براعظموں‘ رنگوں‘ نسلوں‘ خطوں‘ قوموں‘ پہاڑوں‘صحرائوں‘ دریائوں اور میدانوں کے ہزاروں میل کے فاصلے سمیٹ کر لاکھوں کروڑوں انسانوں کو ایک اُمت میں سمو دیا‘ اور ایسا عالمی نظام عطا فرمایا کہ جس کی نظیر پوری تاریخ انسانی میں کہیں نہیں ملتی۔

کتاب الٰہی میں عالمی نظام کے جو بنیادی اصول بتائے گئے ہیں وہ یہ ہیں:  اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَا ٓیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِج یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ o (النحل ۱۶:۹۰)، یعنی اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے‘ اور بدی اور نامعقول کام اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانے سے خطبۂ جمعہ میں اس آیت کریمہ کی تلاوت کا سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اسلام کی ساری تعلیمات اور اصلاح عالم کے لیے قرآن کے پروگرام کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے۔ حضور نبی کریمؐ نے ۰ ۱ ہجری میں آخری حج ادا فرمایا جسے حجۃ الوداع کے نام سے تعبیرکیا جاتا ہے۔ اس موقع پر آپؐ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا جو عالم انسانیت کے لیے پہلا باقاعدہ انسانی حقوق کا چارٹر اور اقوامِ عالم کے لیے نیا عالمی نظام تھا۔اس عالمی اسلامی نظام کا سب سے اہم پہلو عالمی سطح پر قیامِ امن ہے۔ آج دنیا کو امنِ عالم کا ہی مسئلہ درپیش ہے‘ اور مسلمان ہی وہ اُمت ہیں جنھیں یہ مشن فرضِ منصبی کے طور پر سونپا گیا تھا۔

عالم اسلام

اس وقت پورا عالمِ اسلام نہایت خوفناک سیاسی ‘ اقتصادی اور دفاعی آشوب کا شکار ہے‘ اور اس کا منظرنامہ اتنا بھیانک اور خطرناک ہے کہ ہر انصاف پسند اس سے خوفزدہ ہے۔ اس وقت دنیا میں سب سے ارزاں شے مسلمانوں کا خون ہے۔ آئے دن ہر جگہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ بوسنیا‘ افغانستان‘ فلسطین‘ کشمیر اور عراق وغیرہ کے مظلوم مسلمانوں کی شہادت اس کا واضح ثبوت ہے۔ غرضیکہ ہر جگہ غیر قومیں مسلمانوں کو  علی الاعلان تختۂ مشق بنا رہی ہیں۔ لیکن تعداد میں ایک ارب سے بھی زیادہ اُمت مسلمہ ان مظلوموں کی مدد تو کیا کرے گی‘ ہر مسلمان ملک اپنی اپنی جگہ نیو ورلڈ آرڈر کے خوف سے لرزاں ہے۔

گذشتہ ۵۰ برس کے اندر اندر تمام مسلمان ملک پنجۂ غیرسے گلوخلاصی کرانے میں تو کامیاب ہوگئے مگر آزادی کے دن سے آج تک جو مسائل پیدا ہوئے وہ جوں کے توں ہیں‘ خواہ ان کا تعلق اندرونی سیاست‘ معیشت اور دیگر پالیسیوں سے ہو یا خارجی طور پر درپیش مسائل سے۔ اگر کسی ملک کے باشندوں میں زبان کا مسئلہ ہے تو وہ جوں کا توں ہے۔ کسی ملک سے سرحدی تنازعہ تھا تو وہ اب تک حل ہوئے بغیر ہی چلا آ رہا ہے۔ اگر داخلی خودمختاری کا سوال تھا تو ہنوز لاینحل ہے۔ مسئلہ فلسطین تاحال ناکامی کا شکار ہے۔ برعظیم کا مسئلہ کشمیرہنوز حل طلب ہے۔ بیت المقدس کی آزادی تشنۂ تعبیر خواب کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تو وہ اُبھرے ہوئے اور چیدہ مسائل ہیں جو زیادہ تر اندرونی اور داخلی نوعیت کے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر وقار اور عزت کا مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ۱۹۱ ارکان ممالک میں ۵۰ سے زائد مسلمان ممالک ہیں‘ ان ممالک کے مسلمان باشندوں کی کل آبادی سوا ارب سے متجاوز ہے‘ لیکن بایں ہمہ مسلمان کسی گنتی اور شمار میں نہیں‘ اور یہ نتیجہ ہے اُمت مسلمہ کے فرد فرد اور لخت لخت ہونے کا۔ اس افتراق و انتشار کا نتیجہ ہے کہ ہم افرادی قوت‘ مالی وسائل اور مملکتی طاقت رکھنے کے باوجود کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں۔

تیل ہمارا مگر زندگی یورپ و امریکہ کی روشن اور رواں دواں‘ خام مال ہمارا مگر کام امریکہ اور یورپ کی فیکٹریوں کے آ رہا ہے۔ افراد کار ہمارے مگر ان کے دماغ‘ صلاحیتیں اور قوت کارکردگی امریکہ و یورپ کے پاس گروی رکھی ہوئی ہے۔ سرمایہ ہمارا مگر تجوریاں یورپ اور امریکہ کی بھری ہوئی اور بنک ان کے چل رہے ہیں۔ ان سارے کچوکوں‘ دھکوں اور محرومیوں کے باوجود اُمت مسلمہ خوابِ غفلت میں محو ہے۔

قصۂ کوتاہ یہ ہے کہ پورا عالم اسلام سیاسی بحران‘ معاشی بحران‘ قیادت کا فقدان‘ مالی بحران اور امن و امان کی تشویش ناک صورت حال سے دوچار ہے‘ اور مسلمان من حیث القوم ساری دنیا میں اس قدرپسماندہ ہیں کہ دوسری اقوام انھیں درخور اعتنا نہیں سمجھتیں   ع

تن ہمہ داغ داغ شُد پنبہ کجا کجا نہم

زبوں حالی کے بنیادی اسباب

مسلمانوں کی اس نکبت و ادبار کا اگر ہم واقعاتی تجزیہ کریں تو درج ذیل اسباب و علل سامنے آتے ہیں:

۱-  قرآن حکیم اور صاحب ِقرآن کی تعلیمات سے روگردانی‘ علم و تحقیق سے بے اعتنائی۔

۲- سیاسی سطح پر عالم اسلام کا غیرمنظم ہونا اور اسلامی ممالک کے سربراہوں کے باہمی اختلافات۔

۳- یہود بالخصوص اور ہنود کا مسلمانوں کو گروہوں اور ٹکڑوں میں تقسیم کرنے میں خصوصی کردار۔

۴- مسلمانوںمیں مغربی تہذیب کی نقالی کا رجحان۔ سیاسی‘ اقتصادی‘ معاشرتی اور عدالتی قوانین کی بھیک مانگ کر اپنے قوانین کو مغربی قانون کے مطابق ڈھالنے کی کوشش۔

۵-  سب سے اہم‘ عالم گیر اور بنیادی وجہ وھن ہے۔

حضرت ثوبانؓ کی روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مختلف قومیں مسلمانوں پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے کے حریص دیگوں پر آگرتے ہیں۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! کیا اس وقت ہم بہت قلیل تعداد میں ہوںگے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں‘ بلکہ تم لوگ تعداد میں کثیر ہوگے‘ لیکن اس جھاگ کی طرح کمزور اور بے بساط جو سیلاب میں اوپر آجاتا ہے‘ اور پھر اسے پانی بہا لے جاتا ہے۔ اور بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تمھارے دشمنوں کے دلوں سے تمھاری ہیبت اور رعب نکال دے گا اور خود تمھارے دلوں میں وھن ڈال دے گا۔ پوچھنے والے نے عرض کیا: وھن کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: دنیا سے محبت اور موت کا خوف۔ (کنزالاعمال‘ ج ۵‘ ص ۴۳۰)

قدرت نے عالم اسلام کو جن نوازشات اور امکانات سے مالا مال کر رکھا ہے اگر ان پر نظرڈالی جائے تو اس سے بڑھ کر خلافت و وراثت ارضی کا مستحق کوئی دوسرا نظرنہیں آتا لیکن گردوپیش اور اعداد و شمار اور حقائق کو دیکھا جائے تو بہت تلخ اور عبرت آموز صورت حال ہے۔

دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ عالم اسلام ہے اور یہ بہت بڑی افرادی قوت ہے۔ اس کے جغرافیائی حدود سوا تین کروڑ مربع میل ہے۔ اسے دریائوں‘ نہروں‘ سمندروں‘ پہاڑوں‘ صحرائوں‘ میدانوں‘ جنگلوں اور زرخیز زمینوں کا سب سے بڑا ذخیرہ میسر ہے۔ معدنیات اور  خام قدرتی وسائل کا خزانہ سب سے زیادہ عالم اسلام کے پاس ہے۔ تیل کے مجموعی عالمی ذخائر کا چوتھائی حصہ عالمِ اسلام کی ملکیت ہے۔ زرعی پیداوار کی بے پناہ استعداد کا حامل بھی عالم اسلام ہے۔ اسے ایک گونہ جغرافیائی وحدت اور قرب باہمی بھی حاصل ہے۔

نیو ورلڈ آرڈر میں طاقت اور بے محابا قوت معبود اعلیٰ کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ ہمیں اسلام کو اپنا محورو مرکز ‘ اپنا تشخص و تعارف اور اپنا نام و نسب اور اعزاز بنانے میں کیوں جھجک محسوس ہوتی ہے جو بحمدللہ دنیا کا بہترین فلسفہ اور نظام ہے‘ جس میں رنگ و نسل کی بے رحمانہ تقسیم نہیں‘ علاقے اور زبان کو بت کا درجہ حاصل نہیں‘ اس کا عنوان جلی اور طرئہ امتیاز ’’شوریٰ‘‘ ہے۔ دنیا کی مادیات اور لذات جس کا اول و آخر ہدف نہیں۔ جو ہر نوع کی ذہنی و جسمانی غلامی کا دشمن ہے۔ جس کے ہاں شرف انسانی بیت اللہ سے بڑھ کر مقام رکھتا ہے۔ جو اپنے پیروکاروں کو ’’اُمت وسط‘‘ (البقرہ ۲:۱۳۳)کہتا ہے‘ یعنی دائیں اور بائیں اور افراط و تفریط کے مرض سے پاک اُمت۔ جو اُمت کی تشکیل نسلی و لسانی اور جغرافیائی بنیادوں پر نہیں‘ انسانی اور روحانی بنیادوں پر کرتا ہے‘ اور جو دنیا بھر کو اپنا مدعو قرار دیتا ہے‘ کسی کو حریف نہیں کہتا۔ اس کے ہاں کالے اور گورے‘ یورپی اور ایشیائی اور عربی وعجمی کی تفریق نہیں۔ وہ صرف حق اور باطل‘ اور عدل و ظلم کے درمیان میزانِ امتیاز کھڑی کرتاہے۔

کش مکش ایک حقیقت ہے مگر عالم اسلام چاہے تو یہ سمجھ کر اپنی جدوجہد کو تیزکرسکتا ہے کہ اس نے مورچہ چھوڑا ہے‘ جنگ نہیں ہاری۔ مورچہ چھوڑنا ایک جنگی حکمت عملی یا وقتی پسپائی ہوتی ہے‘ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ جنگ جاری ہے ازل سے تا امروز۔ اس کے لیے تیاری کر کے میدان میں اُترنا چاہیے۔

متبادل عالمی نظام: بنیادی خدوخال

ان حالات میں ’’اسلامک ورلڈ آرڈر‘‘یا متبادل اسلامی عالمی نظام کے بنیادی خدوخال کچھ یوں بنتے ہیں:

۱-  اسلام اور اہل اسلام کے نزدیک یورپ اور ایشیا‘ عرب اور افریقہ‘ مشرق وسطیٰ  اور مشرق بعید کا کوئی تصور نہیں بلکہ اسلام ابتدا ہی سے ایک عالمی ریاست کا نظریہ رکھتا ہے۔ اسلام نسلوں‘ قوموں اور خطوں کے مقابلے میں عقیدۂ توحید کو عالمی ریاست کا سنگِ بنیاد قرار دیتا ہے‘ اور وہ بنی نوع انسان کو صرف اور صرف  تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍم بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ      (اٰل عمران۳:۶۴) کی دعوت دیتا ہے‘ یعنی آئو ہم اور آپ اس کلمے پر متحد ہوجائیں جو ہمارے اور آپ کے درمیان قدرِ مشترک کا درجہ رکھتا ہے‘ اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلامک ورلڈ آرڈر کسی سے دشمنی اور مخاصمت پراپنی بنیاد نہیں رکھتا بلکہ وہ سب کا حلیف ہے‘ حریف نہیں‘ اور وہ پوری انسانیت کے ساتھ عقیدئہ توحید کی بنا پر دوستی اور بھائی چارے کا حامی ہے۔

۲-  اسلام‘ حق اور ناحق کا واضح اور متعین معیار رکھتا ہے۔دوغلاپن‘ دوہرا معیار‘ منافقت‘ سازش اور فریب کا اسلامی اقدار و ضوابط میں کوئی گزر نہیں۔ اسلام میںظالم اور مظلوم کی واضح تقسیم ہے۔ ظلم و زیادتی جہاں ہو‘ اسلام اس کا مخالف ہے‘ اور اس ضمن میں کسی مذہب‘ نسل‘ رنگ اور علاقے کا امتیاز نہیں رکھتا۔ اس کی پالیسیاں انسانی مفاد پر استوار ہیں‘ نہ کی نسلی‘ لسانی اور علاقائی مفاد پر۔ لہٰذا فلسطین‘ افغانستان‘ عراق اور کشمیر میں ایک اصول کو قائم کیا جائے‘ جہاں ظلم ہو رہا ہے‘ اس کے خلاف مزاحمت کی جائے‘خواہ وہ سیاسی ہو یا عسکری۔ ان کے لیے الگ الگ اصول اور معیار نہ بنائے جائیں۔

۳-  تمام مسلم ممالک اگر باغیرت قوم کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اپنے وسائل کو یک جا کر کے تعلیم‘ سائنس و ٹکنالوجی‘ دفاع اور بین الاقوامی تجارت کو مضبوط کرنے پر صرف کریں کیونکہ ان پانچ امور کو مضبوط کیے بغیر اُمت مسلمہ کا مستقبل محفوظ اور باعزت نہیں ہو سکتا۔

۴-  مسلم ممالک میں سائنس کی تعلیم اور تحقیق پرسب سے زیادہ توجہ دی جائے اور ایسے مسلمان سائنس دان تیار کیے جائیں جو اپنے کارناموں سے مسلم قوم کو اقتصادی اور سیاسی طور پر ایک قوت بنا دیں۔ اسلامی ممالک میں شرح خواندگی دنیا کے باقی ممالک کی نسبت سب سے کم ہے‘ اور جہالت کا تناسب سب سے زیادہ۔ سامراجی دور میں ہر سامراجی طاقت کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے زیراثر ممالک میں تعلیمی اور تہذیبی انحطاط رہے‘ اس سے سامراجی طاقتوں کے مفادات کو کم خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ امریکہ کے نئے سامراجی نظام میں یہی تصور پیش کیا گیا ہے کہ ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اپنے زیراثر رکھا جائے گا۔ لہٰذا اُمت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ تعلیم وثقافت کے میدان میں اپنے بجٹ کا زیادہ حصہ مختص کریں تاکہ مسلمان قوم اپنے پائوں پر کھڑا ہونے اورسپر ٹکنالوجی استعمال کرنے کے قابل ہو سکے‘ جس کے بغیر اقتصادی اور سیاسی برتری کا حصول ناممکن ہے۔

۵-  اسلام کے کلچر اور اسلام کے وجود کو عالمی سطح پر اُبھارنے کے لیے جدوجہد کی جائے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ہم اس کا آغاز اسلامی تعلیم‘ اسلامی تہذیب و ثقافت اور سائنس و ٹکنالوجی کے فروغ سے کریں۔

۶-  اسلامی دنیا جو خام مال کے اعتبار سے کافی دولت مند اور باوسائل ہے‘ اسے اس کا احساس کرنا چاہیے۔ اسے ایسی پالیسیاں وضع کرنی چاہییں کہ مسلم ممالک خام مال اپنی طرف سے طے شدہ قیمت پر غیرمسلم دنیا کو فروخت کریں اور ان سے تیار ہونے والا مال اپنی مرضی کے مطابق لیں‘ نہ یہ کہ یورپ اور امریکہ ہم سے خام مواد بھی اپنی مرضی کی قیمت سے لیںاور تیار مال بھی اپنی مرضی کی قیمت سے بیچیں۔

۷-  مختلف مسلم ممالک اپنی جغرافیائی حدبندیوں میں نرمی پیدا کریں۔ مناسب تحفظات اور احتیاط کے ساتھ یہ نرمی برادر مسلم عوام کے درمیان اخوت اور قربت کی راہ کھولے گی۔ امریکہ کی طرف سے نیوورلڈ آرڈر میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ عرب ممالک میں مسلمان لیبر کے بجاے غیرمسلم ممالک سے افرادی قوت کھپائی جائے۔ اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ وہاں فحاشی پھیلے‘ غیرمسلم افراد وہاں کی کمزوریوں سے آگاہ ہو سکیں‘ وقت آنے پر ان کو واپس بلایا جاسکے اور افرادی قوت کی کمی کا بحران پیدا کیا جا سکے‘ یا پھر مسلم اور غیرمسلم افراد کے آزادانہ اختلاط سے مسلم تشخص مدہم ہو۔ لہٰذا اس سلسلے میںضروری ہے کہ مسلم ممالک ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ قربت‘نرمی اور تعاون کا معاملہ کریں اور سرحدوں پر عائد ناروا پابندیاںاور سفارتی رکاوٹیں موزوں حد تک نرم کر دیں تاکہ مسلمان ایک دوسرے کا دست و بازو بن سکیں اور مسلم ممالک کے راز بھی محفوظ رہیں۔

۸-  اسلامی ممالک امریکہ کی نئی سامراجیت کی یلغار سے بچنے کے لیے ’’مشترکہ دفاعی قوت‘‘ تشکیل دیں‘ جو ’’مشترکہ علاقائی دفاع‘‘ کی صورت میں ہو۔ جن مسلمان ممالک کی سرحدیں آپس میں ملتی ہوں انھیں اپنے دفاعی معاہدے تشکیل دینے چاہییں۔ اعلیٰ سطح پر معلومات کے تبادلے کا نظام موثر ہونا چاہیے۔ دفاعی اور فوجی سطح پرریسرچ اور انٹیلی جنس کے منصوبوں میں تعاون ہونا چاہیے۔

۹-  بین الاقوامی سطح پر عالم اسلام کے مسائل اور اختلافات کو نبٹانے کے لیے   ’’ورلڈ اسلامک کورٹ آف جسٹس‘‘قائم کی جائے جس میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور    بین الاقوامی قوانین کے ضابطوں پر عمل درآمد کا انتظار کرنے کے بجاے اسلامی بین الاقوامی قانون کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں داخلی اور خارجی قوانین پرمشتمل دفعات ترتیب دی جائیں تاکہ عدالتی نظاموں میں یکسانیت پیدا ہو۔

۱۰-  مسلم ممالک اپنی کامن ویلتھ قائم کریں اور زیادہ سے زیادہ رقوم و وسائل اس کے حوالے سے زیرگردش رہیں۔ اس سے غریب یا ترقی پذیر مسلم ممالک کو اپنی مشکلات پر قابو پانے اور اپنے ترقیاتی منصوبے کامیاب کرنے میں حددرجہ مدد ملے گی۔

۱۱-  مسلم ممالک اپنے سیاسی نظاموں کے اندر عدل و استحکام پیدا کریں۔ آمریت‘ جبر اور بددیانتی کے راستوں کو ترک کر دیں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق عادلانہ جمہوری نظام کو قرآن و سنت کے تحت فروغ دیں۔

۱۲-  یہودی محض اسلام کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کے لگائے گئے زخموں اور بچھائی ہوئی سازش کی بساط سے ہر ملک کا انسان کراہ رہا ہے۔ مسلم ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی بناتے وقت اس تجزیے کو پیشِ نظر رکھ کر یہود اور یہود نواز طاقتوں کے بارے میں لائحہ عمل وضع کرنا چاہیے۔

۱۳- اسلام کے تشخص کو نمایاں کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم دنیا میں ’’اُمہ‘‘ کا تصور اجاگر کیا جائے اور ان تمام تحریکوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا جائے جو مسلم دنیا کے کسی بھی خطے میں رنگ‘ نسل‘ وطن اور کسی بھی جاہلی عصبیت کی بنیاد پر چل رہی ہیں۔ خطبہ حجۃ الوداع میں ان تمام جاہلی تعصبات کی یکسرنفی کی گئی ہے۔

نتائج و اثرات

یہ تھے نئے اسلامی عالمی نظام کے بنیادی خدوخال۔ اب اُمت مسلمہ کے دانش وروں‘ سیاست دانوں اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ خلوصِ نیت سے اسلامی عالمی نظام کی مفصل تشکیل اور اس کے نفاذ کے لیے راہ ہموار کریں اور عملی اقدام اٹھائیں‘ تاکہ بنی نوع انسان سکھ کا سانس لے سکے۔ ان شاء اللہ اس متبادل عالمی نظام کے اختیار کرنے سے حسب ذیل مثبت نتائج برآمد ہوں گے:

۱-  کوئی کسی کا غلام نہیں ہوگا۔ سبھی اللہ کے بندے ہوں گے‘ جب کہ آج ہر شخص اپنی جگہ فرعون ہے اور دوسروں کو غلام بنانے کی فکر میں ہے۔

۲-  کسی انسان کو کسی پر فوقیت نہیں ہوگی‘ سبھی اولادِ آدم ہیں‘ جب کہ آج ہر شخص اپنے مال اور دولت کی فوقیت ثابت کرنے میں تمام حدود کو پامال کر رہا ہے۔

۳-  کوئی پیدایشی طور پر سونے یا مٹی کا نہیں ہوگا‘ سب کا باوا آدم ہے‘ جب کہ آج امریکی اور انگریز خود کو کسی طور پر مٹی کا بنا ہوا ماننے پر تیار نہیں۔

۴-  مخلوق خدا کا کنبہ ہوگی‘ کوئی کسی کے رزق پر قدغن عائد نہیں کرسکے گا‘ جب کہ آج اقتصادی امداد کی بندش الخلق عیال اللّٰہ کے تصور کی صریحاً نفی ہے۔

۵-  الٰہی قانون سب کے لیے یکساں ہوگا‘ جب کہ آج آئین کچھ عہدیداروں کو ہرقانون اور گرفت سے مبرا قرار دیتا ہے۔

۶-  ہر نوع کا تعصب اور امتیاز ’’نخوت جاہلیہ‘‘ قرار پائے گا‘ جب کہ رنگ‘ نسل‘ قومیت اور صوبائیت کے تعصبات آج کا فیشن ہیں۔

۷-  ہر ایک خود اپنا محتسب ہوگا‘ جب کہ آج کوئی کسی کے سامنے جواب دہ نہیں رہا‘ ہرفردِ بشر خودمختاری کے چکر میں ہے۔

۸-  ہر شخص آخرت میں جواب دہی کا مکلف ہوگا‘ جب کہ آج آخرت کا لفظ ’’دقیانوسی‘‘ قرار پا گیا ہے۔

۹-  زندگی امانت الٰہی ہے۔ اس میں خیانت سب سے بڑا جرم ہے‘ جب کہ آج زندگی ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘کا منظرپیش کر رہی ہے۔

۱۰-  دنیوی عزت کے مقابلے میں اخروی عزت زیادہ وقیع اور قابلِ لحاظ ہوگی‘    جب کہ آج دنیوی عزت ہی حرف آخر ہے۔ آخرت کے وعدے پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔

قرآن و حدیث کی پیش گوئی کے مطابق اسلام کو بہرحال دنیا پر حاوی اور غالب ہونا ہے۔ پیرس‘ لندن اور واشنگٹن جیسے جگمگاتے شہروں سے لے کر چراغ کی لو سے ٹمٹماتے خیموں تک اسلام بہرحال پہنچے گا۔ آٹھ آٹھ رویہ شاہراہوں سے لے کر لق و دق صحرائوں تک اسلام سفر کرے گا۔ بلند و بالا پلازوں اور شاہی ایوانوں سے لے کر ساحلوں اور کوہستانوں تک اسلام کی آواز جائے گی۔ یہ بہرحال طے ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ ہم اسلام کے غلبے کے لیے کیا جدوجہد کرتے ہیں۔ ایک ارب مسلمان ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں‘ ان کی سوچ یکساں ہو‘ ان کی آواز       ہم آہنگ ہو‘ ان کا لائحہ عمل متفقہ ہو تو پوری دنیا کی طاقت کا توازن بدل کر اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔ اور یہی خدائی وعدہ ہے:

وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۸۱) اور اعلان کر دو کہ حق آگیا ہے اور باطل مٹ گیا‘ بے شک باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔

اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

دولت کی فراوانی‘ وسائل پیداوارکی ترقی اور حیرت انگیز معاشی ارتقا کے باوجود انسانیت آج جس غربت و ناداری‘ بے کاری اور بے روزگاری‘ معاشی لوٹ کھسوٹ اور معاشرتی ظلم و ناانصافی سے دوچار ہے‘ وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اگر فقروفاقہ کا علاج اور افلاس و ناداری کامداوا محض دولت کی فراوانی اور وسائل پیداوار کی ترقی سے ہو سکتا تو بلاشبہ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں کسی کو بھی غریب و مفلس اور بھوکا ننگا نہیں ہونا چاہیے‘ لیکن ایسانہیں ہے۔ معاشی ارتقا اور وسائل پیداوار کی محیرالعقول ترقی کے باوجودہر جگہ غربت و افلاس کا دور دورہ ہے‘ اور رات کو بھوکے سو رہنے والوں کی تعداد وقت گزرنے کے ساتھ گھٹ نہیں رہی ہے بلکہ بڑھ رہی ہے۔ یہ فطرت کی ظالمانہ تعزیر نہیں ہے بلکہ مروجہ معاشی نظام کاحصہ اور لازمی نتیجہ ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کے پاس تمام مسائل حیات کا شائستہ اور قابل قبول حل موجود ہے۔ وہ عالمِ انسانیت کے اقتصادی پہلو پر خصوصی توجہ دیتا ہے کہ اسی سے سلسلۂ حیات وابستہ ہے۔ اس نے اعلیٰ اخلاقی قدروں کے فروغ سے جہاں انسان کی ذہنی اور روحانی کائنات کو منور کیا‘ وہاں معاشی اعتبار سے بھی باوقار زندگی گزارنے کا لائحہ عمل پیش کیا ہے۔

اقتصادیات یا اکنامکس کا سب سے مشکل مسئلہ یہ ہے کہ افرادِ قوم میں بہ لحاظ فقرو غنا کیوں کر ایک تناسب و توازن قائم کیاجائے۔ عہد قدیم سے لے کر آج تک کوئی انسانی دماغ اس عقدہ کی گرہ کشائی نہ کر سکا۔ کسی نے یہ رائے دی کہ جملہ املاک پر افراد کا مساوی حق تصرف اور یکساں حق ملکیت تسلیم کیا جائے۔ دور جدید کے ماہرین معاشیات نے یہ حل پیش کیا کہ ملک کی تمام دولت پر حکمران پارٹی کا قبضہ ہو

اور وہ لوگوں کو قوت لایموت مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول کرے‘ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ عوام انفرادی اور شخصی ملکیت سے دستبردار ہو جائیں۔

آج کل ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کروڑوں ڈالر اس بات پر صرف کر رہے ہیں کہ جو آ چکے سو آچکے‘ اب آنے والوں پر دنیا کا دروازہ بند کر دیا جائے۔ قرآن حکیم نے ایک نئی راہ متعین کی۔ اس نے کہا کہ مساوات کا یہ مصنوعی خیال محال اور خلاف فطرت انسانی ہے‘ اس لیے کہ وَاللّٰہُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ ج (النحل ۱۶:۷۱) ’’اور دیکھو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے اس اہم انسانی مسئلے کو یوں حل فرمایا کہ غریبوں کی خاطر امیروں پر ایک طرح کا ٹیکس لگایا اور اس کا نام زکوٰۃ رکھا۔ اسے دین کا تیسرا رکن بنایا اور عبادت کادرجہ دیا۔ اس کی وصول یابی میں‘ اور اس کے خرچ کرنے کی جگہوں میں ایسے عدل پرور نظام کی بنیادیں قائم کیں کہ جن کی مثال موجودہ دَور کے کسی بھی مذہب اور فکر میں نہیں ملتی۔ زکوٰۃ اس قسم کا کوئی ٹیکس نہیں ہے جو آج کل حکومتیں اپنی رعایا سے وصول کرتی ہیں۔ اس قسم کے جتنے ٹیکس عوام سے وصول کیے جاتے ہیں وہ ان منافع اور فوائد کے معاوضے میں لیے جاتے ہیں جو عوام کو حکومت کی سرپرستی سے حاصل ہوتے ہیں‘ لیکن زکوٰۃ اس قسم کا ٹیکس ہے جو محض غیر مستطیع افراد کی مالی اعانت کے لیے وصول کیا جاتا ہے اور اس کے معاوضے میں محصول دہندگان کو کوئی دوسرا فائدہ کسی اور شکل میں نہیںہوتا۔

زکوٰۃ کی حکمت و مصالح: فرضیت زکوٰۃ میں اسلام نے کن مصالح کا لحاظ رکھا ہے؟ شاہ ولی اللہ دہلویؒ اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: ’’تشریع زکوٰۃ میں بڑی بڑی دو مصلحتیں مضمر ہیں۔ ایک کا مآل تزکیہ نفس ہے ‘ وہ یہ کہ انسان کی اصل جبلت میںحرص اور بخل ودیعت کیے گئے ہیں (واحضرت الا نفس الشح میں اس کی تصریح ہے) اور تم جانتے ہو کہ بخل ایک قبیح ترین خلق ہے جس سے انسان معاد میں عذاب پاتا ہے۔ جس میں بخل نے جڑ پکڑ لی ہو وہ جب مرتا ہے تو اس کا دل مال و دولت کے ساتھ وابستہ اور اس کی طرف نگران رہتا ہے۔ یہی بات اس کے لیے عذاب کا موجب ہوتی ہے۔ جب آدمی زکوٰۃ دینے کا خوگر ہو جاتا ہے تو اس سے اس کا نفسِ رذیلہ بخل سے پاک ہو جاتا ہے۔ یہ بات انسان کے لیے آخرت میں نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے ہر وقت جھکے رہنے کے بعد جس کو شرع کی زبان میں اخبات کہتے ہیں‘دوسرے درجے پر سماحت یا سخاوت نفس آخرت میں نافع ترین چیز ہے۔ جس طرح اخبات کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان میں تطلع الی لجبروت (بارگاہ اقدس کی طرف نگران رہنا) کی صفت پیدا ہو جاتی ہے‘ اسی طرح سخاوت نفس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی عالم مادی کے خسیس علائق سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔ چونکہ سخاوت کی حقیقت یہ ہے کہ مَلکیت غالب ہو اور بہیمیت مقہور و مغلوب ہو کر رہ جائے‘ اس کا رنگ قبول کر لے اور اس کے احکام کی خوشی سے تعمیل کرے۔ اس ملکہ کو پرورش دینے اور تقویت پہنچانے کی تدبیر یہ ہے کہ ایسی حالت میں‘ جب کہ آدمی خود مال و دولت کا محتاج ہو اس کو مصارف خیر میں خرچ کرے‘ جو کوئی اس پر زیادتی کرے اس کو معاف کر دیا کرے‘ مکروہات دنیا اور شدائد کے پیش آنے پر صبر کو اپنا شیوہ بنا لے‘ خوشی سے ان تکالیف کو برداشت کرے اور آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے عالم مادی کے واقعات اور حوادث کو پرکاہ کے برابر وقعت نہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موقع بہ موقع ان سب باتوں کاحکم دیا اور ان امور میں جس کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے‘ یعنی مال و دولت کا خرچ کرنا‘ اس پر اسی نسبت سے بیش از بیش توجہ مبذول کی ہے۔ اس کے حدود وغیرہ بیان کیے ہیں اور اس کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کلام مجید اور احادیث نبویہؐ میں نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ قرآن کریم کی بعض آیات میں اس کا ذکر ایمان کے ساتھ آیا ہے۔ اہل نار سے جب کہا جائے گا کہ کس چیز نے تم کو آگ میںجھونکا؟ ان کا جواب یہ ہوگا کہ لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ  o  وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ o وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ o (المدثر ۷۴: ۴۳-۴۵) ’’ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے‘ اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے‘ اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے‘‘۔

دوسری مصلحت جس پر تشریع زکوٰۃ مبنی ہے اس کا مآل نظام مدنیت کا بہتر طریقہ پر قائم رکھنا ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ مدنیت خواہ کتنے ہی چھوٹے پیمانے پر ہو‘ کمزور اور اپاہج اشخاص اور ارباب حاجت‘ غریبوں‘ مسکینوں پر مشتمل ہوتی ہے‘ نیز حوادث اور آفات سماوی و ارضی کا ہر ایک قوم کسی نہ کسی صورت میں نشانہ بنتی ہے۔ بنابرآں اگر اس بات کا التزام نہ ہو کہ غریبوں‘ مسکینوں اور ارباب حاجت کی دستگیری کی جائے تو اس کا نتیجہ قوم کی ہلاکت ہوگا۔ ایک اور بات بھی قابل غور ہے وہ یہ کہ تمدن کا نظام اس حیثیت سے بھی قوم کی مالی اعانت کا محتاج ہے کہ اس کو بہتر طریقے سے قائم رکھنے کے لیے مختلف قسم کے عہدے داروں اور مدبرین کی ضرورت ہے اور چونکہ ان لوگوں کی زندگی قوم کی فلاح و بہبود اور ان کی ضروریات کا انتظام کرنے کے لیے وقف ہوتی ہے‘ اس لیے یہ نہایت ضروری اور امر معقول ہے کہ ان کی وجہ کفاف اور ان کے روزینے کا بوجھ بیت المال پر ہو‘ جو زکوٰۃ اور صدقات ہی کے مجموعے کا نام ہے۔ اس قسم کے ٹیکس (اس سے ہماری مراد عشر اور زکوٰۃ ہے) جو قوم کی مشترکہ اغراض کے لیے ان پر عائد کیے جاتے ہیں‘چونکہ ان کا باقاعدہ ادا کرنا بعض کے لیے دشوار اور بعض کے لیے ناممکن ہوتا ہے‘ اس لیے یہ ضروری قرار پایا  اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت قائم کی کہ ا ن کے وصول کرنے کا اہتمام حکومت کیا کرے چونکہ ان دونوں مذکورہ مصلحتوں کے حصول کا آسان ترین طریقہ یہی تھاکہ دونوںکو ایک دوسرے میں مدغم کر دیا جائے‘ لہٰذا شرع نے یہی طریقہ اختیار کیا۔

اصل مشروعیت زکوٰۃ کے بعد اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ اس کی مقدار کو معین کر دیا جائے۔ بصورت دیگر افراط و تفریط کے وقوع میں آنے کا احتمال غالب بلکہ یقینی تھا۔ تعیین مقدار کے لیے (جیسے کہ پہلے بھی اصول کلیہ کے ضمن میں اس کا بیان ہو چکا ہے) یہ ضروری ہے کہ نہ تو وہ مقدار اتنی تھوڑی ہو کہ اس کے ادا کرنے کا اس کو چنداں احساس نہ ہو‘ اور رذیلہ بخل کے ازالے میں وہ کچھ بھی موثر ثابت نہ ہو‘ اور نہ ہی وہ مقدار میںاس قدر زیادہ ہی ہو کہ اس کا ادا کرنا پہاڑ محسوس ہو۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس کو بار بار ادا کرنے کا درمیانی وقفہ نہ تو بہت زیادہ ہو جس کی وجہ سے اداے زکوٰۃ کے اصل مقصد میں خلل واقع ہو‘ اور نہ بہت کم ہی ہو کہ لوگوں کو اس کا ادا کرنا بوجھ محسوس ہو۔

منصفانہ مالیاتی نظام: جن اصولوں پر اقالیم صالحہ کے انصاف پسند سلاطین نے مالیہ اور ٹیکس کا نظام مبنی کیا ہے اور جن کو معقول پسند طبائع نہایت مناسب اور معقول سمجھتے ہیں‘ وہ چار ہیں:

(۱)  یہ کہ مالیہ یا زکوٰۃ ان اموال سے وصول کیا جائے جن میں اضافہ ہوتا رہتا ہو۔ ان اموال کی حفاظت حکومت کا فرض ہے اور ان کی حفاظت ایک اہم فریضہ ہے جو اس کے ذمے عائد کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کی نشوونما بغیر اس کے متصور نہیں کہ ان کو شہر یا گائوں کے باہر لے جا کر چرایا جائے یا اگر وہ تجارت کا مال ہے تو اس کے لیے آدمی کو اکثر سفر کرنا پڑتا ہے (بہرحال ان کی حفاظت کی ضرورت پیش آتی ہے)‘ اور چونکہ ان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اس لیے ان کی زکوٰۃ ادا کرنا ان کے مالکوں کو نہایت آسان معلوم ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایسا کرنا  الغرم مع الغنم کے اصول کے مطابق بالکل درست اور انصاف کی بات ہے (حکومت ملک میں امن قائم رکھ کر ان کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور اس کے عوض میں ان کو ایک خفیف سا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جو درحقیقت اضافہ ہی کا ایک جزو قلیل ہوتا ہے۔ اب کہیے  اس میں کون سی بات عدل اور انصاف کے خلاف ہے)۔ ان اموال نامیہ کی تین قسمیں ہیں: (الف) چوپایہ جانور جو چراگاہوں میں چل پھر کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں اور ان کی نسل بڑھتی رہتی ہو۔ (ب) کھیت اور باغات (ج) مالِ تجارت۔

(۲)  جن لوگوں کے پاس خزانے ہوں اور وہ سونے چاندی میں لیٹتے ہوں‘ ان سے بھی حکومت کے اغراض کے لیے مناسب سالانہ رقم وصول کی جائے کیونکہ یہی لوگ ہیں جن کو حفاظت جان ومال کے لیے حکومت کی مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ چوروں اور ڈاکوئوں کا انھی لوگوں کو ہر وقت خطرہ لگا رہتا ہے۔ ان لوگوں کے مصارف ویسے بھی کچھ کم نہیں ہوتے۔ اگرزکوٰۃ کی قلیل رقم ان پر اضافہ کی جائے تو ان کو اس کا کچھ بھی بوجھ محسوس نہ ہو۔

(۳) حکومت کو ٹیکس اور زکوٰۃ دینے کے مستحق وہ لوگ بھی ہیں جن کو بغیر کسی محنت کے کوئی دفینہ وغیرہ مل جائے یا کہیں سے جواہرات اور بیش قیمت معدنیات کا خزانہ ان کے ہاتھ لگ جائے۔ ان لوگوں کو بھی اپنے مال سے تھوڑا سا حصہ حکومت اور بیت المال کو دینا ناگوار نہیں گزرتا۔

(۴) پیشہ ور لوگ جو روز مرہ کچھ کماتے رہتے ہیں‘ ان پر خفیف سا ٹیکس عائد کیا جائے توچونکہ ان لوگوں کی تعداد قوم میں بہت زیادہ ہوتی ہے‘ اس لیے اس ذریعے سے ایک معقول رقم کے بیت المال میں داخل ہونے کا یقین کیا جا سکتا ہے۔

اب چونکہ تجارتی مال عموماً دُور دراز ملکوں سے لائے جاتے ہیں (اور کچھ عرصہ انتظار کرنے کے بعد وہ نفع پر فروخت ہوتے ہیں‘اور مد (الف) کی نسلی افزایش بھی سال بھر گزر جانے پر موقوف ہے‘ اسی طرح کھیت اور باغات جو اموال نامیہ میں سب سے بڑھ کر مالیہ اور زکوٰۃ کا مآخذ ہیں سال بھر کے بعد ان سے پیداوار حاصل کی جاتی ہے یا کم از کم مختلف فصلوں میں مختلف قسم کے اناج اور پھل پک کر اور کٹ کر سال تک جملہ پیداوار مکمل ہو جاتی ہے‘ اس لیے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے سال کی میعاد مقرر کرنا عین صواب اور امر مناسب تھا۔

پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ زکوٰۃ دہندہ اور وصول کنندہ دونوں کے لیے اسی میںآسانی ہے کہ ہر ایک جنس کی زکوٰۃ اسی کا کچھ حصہ ہو‘ مثلاً اونٹوں کے گلے میں سے ایک اونٹنی لیجائے‘ اور گائے بیل‘ یا بھیڑ بکریوں کے ریوڑ سے وہی جنس یعنی گائے یا بکری وصول کی جائے‘‘۔ (حجۃ اللّٰہ البالغہ‘ تحقیق السید سابق‘ الجزء الثانی‘ ص ۴۹۷ - ۵۰۰‘ باختصار ‘ دارالکتاب الحدیثۃ بالقاہرہ)

اسلام میں زکوٰۃ کا مقام : دنیا کے تمام سچے مذاہب اگرچہ ابناے جنس کی خدمت اور حاجت مندوں کی اعانت کی ترغیب و تعلیم دیتے ہیں لیکن یہ اسلام ہی کی خصوصیت ہے کہ اس نے محض تلقین و تعلیم ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی ایک قسم کے سالانہ ٹیکس کا طریقہ قائم کر دیا جو اس ضروریات کو پورا کرے ‘ اور اس کو اس درجہ اہم قرار دیا کہ نماز کے بعد اس کا درجہ رکھا گیا اور قرآن کریم میں دونوں کو ایک ہی فہرست میں گنا کر اس کو بھی ایمان کی علامت قرار دیا۔ ھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ o الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ (النمل ۲۷:۲-۳) ’’ہدایت اور بشارت ان ایمان لانے والوں کے لیے جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں‘‘۔

قرآن پاک کے مطابق اسلامی حکومت کے قیام کے بنیادی مقاصد میں اہم ترین اس نظام خیر کا رائج کیا جانا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

الَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ (الحج ۲۲:۴۱) یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیںتو وہ نماز قائم کریں گے ‘ زکوٰۃ دیں گے۔

ایک اور جگہ پر اس کو تقویٰ اور صداقت کی علامت قرار دیا گیا ہے:

وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ ج وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ج وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاسَآئِ وَالضَّرَّآئِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ط اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ o (البقرہ ۲:۱۷۷) اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے ۔اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں‘ اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔

زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے ادا کی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری دنیاوی زندگی میں بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ چونکہ اسلام دین اور دنیا کے حسین امتزاج کاخواہاں ہے اس لیے وہ ایسے اعمال صالحہ کی طرف جن کا تعلق افراد کی زندگی اور معاشرے کی بہتری سے ہو‘ خصوصی توجہ دیتا ہے۔ چنانچہ معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے قیام کے حوالے سے زکوٰۃ کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:  فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِط (التوبہ ۹:۱۱) ’’پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں‘‘۔

قرآن پاک میں ایک مقام پر اس کو معیت الٰہی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے: وَقَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مَعَکُمْط لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ (المائدہ ۵: ۱۲) ’’اور ان سے کہا تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں‘ اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی‘‘۔ اسی لیے مانعین زکوٰۃ کے بارے میں صحابہ کرامؓ کے عظیم الشان  مجمع میں حضرت صدیق اکبرؓ نے یہ فرمایا اور جمہور صحابہؓ نے اس پر صاد کیا: ’’بخدا میں نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق نہیں کروںگا اور ان لوگوں سے ضرور جہاد کروں گا جو ان کے درمیان فرق کر رہے ہیں‘‘ (الامام احمد بن حنبل‘ مسند ‘ المجلد الاول‘ ص ۱۱‘ المکتب الاسلامی‘ بیروت ۱۹۶۹ء)۔ نیز اس بارے میں اسلام کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس نے فرضیت زکوٰۃ کی عظمت کو ان صاف الفاظ میں بیان کیا:  کَیْ لاَ یَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَآئِ مِنْکُمْ ط (الحشر ۵۹: ۷) ’’تاکہ یہ نہ ہو کہ مال ودولت صرف تمھارے دولت مندوں کے گروہ ہی میں محدود ہو کر رہ جائے‘‘۔ اور بتایا کہ معاشی وسائل میں اس کا مقصد وحید یہ ہے کہ دولت سب میںتقسیم ہوتی رہے اور کسی ایک گروہ کی اجارہ داری میں ہو کر ہی نہ رہ جائے۔ چنانچہ نبی اکرم ؐنے اسی حقیقت کے پیش نظر حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا والی بنا کر ارکان اسلام کی وصیت فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: تؤخذ من غنیھم فترد علی فقیرھم‘ ’’(زکوٰۃ کا مقصد یہ ہے کہ) ان کے مال داروں سے وصول کی جائے اور ان کے محتاجوں پر تقسیم کر دی جائے‘‘۔ (الامام ابن حجر العسقلانی ‘ فتح الباری بشرح البخاری‘ الجزء السامع عشر‘ ص ۱۱۵‘ مصطفی البابی الحلبی‘ بمصر ۱۹۵۹ء)

الغرض زکوٰۃ‘ اجتماعی معاشی نظام کا ایک خاص اور اہم مالی جز ہے ۔ اسی لیے اس کے وصول کرنے کا حقیقی اور اصولی طریقہ حکومت کے نظم و انتظام کے ساتھ وابستہ کیا گیا اور اس کی تحصیل کا معاملہ حکومت کے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔ نظام زکوٰۃ سے جہاںا للہ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے وہیں انسان کی خود غرضی اور بخل و حرص کا ازالہ بھی ہوتا ہے اور خلق خدا کی خدمت کا اور محبوبیت کا موقع بھی فراہم ہوتا ہے‘ اور غریب اور امیر‘ مزدور اور آجر‘ کسان اور زمیندار‘ فرد اور ریاست کے مابین تعاون کی فضا قائم ہوتی ہے۔

اجتماعی کفالت کا جدید اور منفرد نظام: زکوٰۃ اسلام کے اجتماعی نظام کفالت کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی اپنی شہرہ آفاق کتاب  فقہ الزکوٰۃ میں لکھتے ہیں: ’’اس کفالت سے مغرب بہت ہی محدود دائرے میں متعارف ہے۔ وہ معیشت کے دائرے میں عاجز اور تنگدست لوگوں کی مدد کو اجتماعی کفالت کا نام دیتا ہے‘ جب کہ اسلام کی اجتماعی کفالت کا تصور اس سے کہیں زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہے‘ اور زندگی کے جملہ مادی اور معنوی پہلوئوں کو محیط ہے کہ اس اجتماعی کفالت میںا خلاقی‘ علمی‘ دفاعی‘ فنی‘ تہذیبی‘ سیاسی اور معاشی کفالت‘ غرض کفالت کے تمام پہلو اسلام کے نظام کفالت میں داخل ہیں۔ اسلام کا نظام کفالت صرف زکوٰۃ تک محدود نہیں ہے بلکہ زکوٰۃ اس اجتماعی کفالت کا ایک بڑا اور اہم شعبہ ہے۔

زکوٰۃ کو ہم جدید اصطلاح میں اجتماعی ضمانت کہہ سکتے ہیں‘ یعنی معاشرے کے اپنی آمدنی سے کوئی حصہ دیے بغیر ہی ریاست عام بجٹ سے افراد کی کفالت کی ضمانت دیتی ہے۔ اس لحاظ سے اسلام کا نظام زکوٰۃ‘ اجتماعی ضمانت کے سلسلے کا اولین قانون ہے‘ جو محض نفلی صدقات پر بھروسا نہیں کرتا بلکہ ہر ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کا حکومت کی سطح پر ایک نظام ہے تاکہ معاشرے کے ہر فرد کو لباس‘ غذا‘ رہایش اور ضروریات فراہم کی جا سکیں اور کوئی فرد اور اس کا خاندان‘ ضروریات زندگی سے محروم نہ رہے۔

اس طرح کی اجتماعی کفالت تک فکر مغرب کی رسائی بھی ابھی قریب کے عہد میں ہوئی ہے‘ اور اس جانب مغرب کو خدا ترسی اور کمزور کی ہمدردی نے متوجہ نہیں کیا ہے بلکہ خونی انقلابات اور اشتراکیت اور اشتمالیت کی طوفانی موجوں نے متوجہ کیا ہے مگر اس کے باوجود یورپ کی رسائی ابھی تک اس قدر جامع نظام کفالت کی جانب نہیں ہو سکی ہے جس کا تصور اسلام نے دیا ہے کہ ہر شہری اس کفالت میں شامل ہے‘ اور ہر شہری کی اور اس کے اہل خانہ کی بنیادی ضروریات کی تکمیل ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ کوئی انفرادی احسان اور خیرات کا سلسلہ نہیں ہے بلکہ زکوٰۃ اہل ضرورت کا ایک متعین حق ہے‘ جو دولت مندوں کے مال میں رکھاجاتا ہے‘ اور اسلامی حکومت اس حق کو وصول کرتی اور تقسیم کرتی ہے۔ یہ ایسا حق ہے جو کسی صورت ساقط نہیں ہوتا خواہ حکومت اس کی وصول یابی کی ذمہ داری نہ سنبھالے‘ یہ حق بدستور لازم رہتا ہے‘‘۔ (فقہ الزکوٰۃ‘ ج ۲‘ ص ۸۸۰-۸۸۳‘ باختصار مؤسسۃ الرسالۃ بیروت‘ ۱۹۹۱ء)

اسلامی معاشرے میں زکوٰۃ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ رقم طراز ہیں: ’’یہ مسلمانوں کی کواپریٹو سوسائٹی ہے۔ یہ ان کی انشورنس کمپنی ہے۔ یہ ان کا پراویڈنٹ فنڈ ہے یہ ان کے بے کاروں کا سرمایہ اعانت ہے۔ یہ ان کے معذوروں‘ اپاہجوں‘ بیماروں‘ یتیموں‘ بیوائوں کا ذریعہ معاش ہے اور ان سب سے بڑھ کر یہ وہ چیز ہے جو مسلمانوں کو فکر فردا سے بالکل بے نیاز کر دیتی ہے۔ اس کا سیدھا سادا اصول یہ ہے کہ آج تم مال دار ہو تو دوسروں کی مدد کرو‘ کل تم نادار ہو گئے تو دوسرے تمھاری مدد کریںگے۔ تمھیں یہ فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ مفلس ہو گئے تو کیا بنے گا؟ مر گئے تو بیوی بچوں کا کیا حشر ہوگا؟ کوئی آفت ناگہانی آپڑی‘ بیمار ہو گئے‘گھر میں آگ لگ گئی‘ سیلاب آگیا‘ دیوالہ نکل گیا تو ان مصیبتوں سے مخلصی کی سبیل کیا ہوگی؟ سفر میں پیسہ پاس نہ ہو تو کیونکر بسر ہوگی؟ ان سب فکروں سے صرف زکوٰۃ تم کو ہمیشہ کے لیے بے فکر کر دیتی ہے۔ تمھارا کام بس اتنا ہے کہ اپنی پس انداز کی ہوئی دولت میں سے ڈھائی فی صد دے کر اللہ کی انشورنس کمپنی میں اپنا بیمہ کرا لو۔ اس وقت تم کو اس دولت کی ضرورت نہیں‘ یہ ان کے کام آئے گی جو اس کے ضرورت مند ہیں۔ کل جب تم ضرورت مند ہو گے یا تمھاری اولاد ضرورت مند ہوگی تو نہ صرف تمھارا اپنا دیا ہوا مال بلکہ اس سے بھی زیادہ تم کو واپس مل جائے گا۔

یہاں پھر سرمایہ داری اور اسلام کے اصول و مناہج میں کلی تضاد نظر آتا ہے۔ سرمایہ داری کا اقتضا یہ ہے کہ روپیہ جمع کیا جائے اور اس کو بڑھانے کے لیے سود لیا جائے‘ تاکہ ان نالیوں کے ذریعے سے آس پاس کے لوگوں کا روپیہ بھی سمٹ کر اس جھیل میں جمع ہو جائے۔ اسلام اس کے بالکل خلاف یہ حکم دیتا ہے کہ روپیہ اول تو جمع ہی نہ ہو‘ اور اگر جمع ہو بھی تو اس تالاب میں زکوٰۃ کی نہریں نکال دی جائیں‘ تاکہ جو کھیت سوکھے ہیں ان کو پانی پہنچے اور گردوپیش کی ساری زمین شاداب ہو جائے۔ سرمایہ داری کے نظام میں دولت کا مبادلہ مقید ہے‘ اور اسلام میں آزاد۔ سرمایہ داری کے تالاب سے پانی لینے کے لیے ناگزیر ہے کہ خاص آپ کا پانی پہلے سے وہاں موجود ہو‘ ورنہ آپ ایک قطرئہ آب بھی وہاں سے نہیں لے سکتے۔ اس کے مقابلے میںا سلام کے خزانۂ آب کا قاعدہ یہ ہے کہ جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو وہ اس میں لا کر ڈال دے اور جس کو پانی کی ضرورت ہو وہ اس میں سے لے لے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں طریقے اپنی اصل اور طبیعت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی پوری پوری ضد ہیں اور ایک ہی نظم معیشت میں دونوں جمع نہیں ہو سکتے‘‘۔ (اسلام اور جدید معاشی نظریات‘ ص ۸۶‘ ۸۷)

معاشی ترقی میں کردار: زکوٰۃ معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قرآن کریم نے علامتی اسلوب میںاس موضوع پر نہایت خوب صورت بحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ: مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ط وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ ط (البقرہ ۲:۲۶۱) ’’جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں‘ ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں اور ہر بال میں ۱۰۰ دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے‘ افزونی فرماتا ہے‘‘۔ چنانچہ معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ دولت اہل زر کے پاس منجمد ہو کر نہ پڑی رہے۔ چند اشخاص کے پاس دولت جمع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اکثریت بے وسیلہ ہوتی چلی جائے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مال دار اور نادار طبقات کے درمیان تضاد اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ایک نہ ختم ہونے والی کشیدگی شروع ہوجاتی ہے جو بالآخر معیشت اور معاشرت دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ زکوٰۃ کے خودکار نظام سے دولت کے ارتکاز میں کمی آتی ہے۔ اس کی مثال ایک ایسے پائپ سے دی جا سکتی ہے جس کے ذریعے ٹینکی کا ذخیرہ آب ایک حد تک پہنچتے ہی ازخود باہر آنے لگتا ہے اور پانی کی مقدار ایک خاص پیمایش سے زیادہ نہیں ہونے پاتی۔

جس طرح آبِ رواںصاف ستھرا ہوتا ہے‘ اسی طرح کسی خوش حال سوسائٹی کی پہچان یہ ہے کہ وہاں سرمایہ گردش میں رہے‘ اور وسائل حیات کی ہمہ وقت طلب و صرف کا سلسلہ جاری رہے۔ یہ کارِخیر نظام زکوٰۃ سے بخوبی سرانجام پاتا ہے۔ اس کے ذریعے اڑھائی فی صد دولت مال داروں کی آہنی تجوریوں سے مسلسل باہر آتی ہے۔ عوام کے ہاتھوں میں پہنچتی ہے تو ان کی قوت خرید میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں اشیا کی مانگ بڑھتی ہے جس کے سبب پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے‘ اور معیشت میں روز بروزترقی ہوتی ہے۔

نظام زکٰوۃ کی انفرادیت: بلاشبہ اسلام کا نظام زکوٰۃ تاریخ انسانیت میں جدید اور منفرد نظام ہے جس تک انسانی فکر کی کبھی رسائی نہیں ہوئی اور نہ کسی آسمانی شریعت نے اس قدر مفصل نظام وضع کیا۔

ڈاکٹر یوسف القرضاوی اپنی کتاب  فقہ الزکوٰۃ میں لکھتے ہیں: ’’اسلام کا نظام زکوٰۃاجتماعی‘ سیاسی‘ اخلاقی اور دینی پہلوئوں کا حامل بے مثال مالی اور اقتصادی نظام ہے۔ مالی اور اقتصادی نظام اس لیے ہے کہ یہ ایک قسم کا محدود مالی ٹیکس ہے جو رؤسا پر عائد ہوتا ہے‘ جیسے زکوٰۃ الفطر اور آمدنیوں اور اموال پر عائد ہوتاہے‘ جیسے عام زکوٰۃ۔

اجتماعی نظام اس لیے ہے کہ یہ درحقیقت معاشرے کے تمام افراد کے لیے ایک نظام تامین ہے جس سے ہر فرد معاشرہ کو مصائب وآفات سے تحفظ ملتا ہے‘ اور انسانی اخوت و یک جہتی وجود میں آتی ہے۔ زکوٰۃ کا سیاسی پہلو یہ ہے کہ ریاست زکوٰۃ کی تحصیل اور توزیع کے فرائض انجام دیتی ہے۔

چونکہ زکوٰۃ قلوب کی تطہیر کرتی ہے اور اغنیا کے نفوس کو بخل اور دنائت سے پاک کرتی ہے اور نارِحسد کو بجھا کر محبت و اخوت پیداکرتی ہے ‘اس لیے یہ ایک اخلاقی نظام بھی ہے۔

اس امر میں توکوئی شبہ ہی نہیں کہ زکوٰۃ ایک دینی نظام ہے۔ اس لیے کہ زکوٰۃ فریضہ اسلامی ہے‘ اور اس کا مقصد ہی ایمان کو تقویت دینا اور اللہ کی اطاعت کے لیے تیار ہونا ہے‘ اور اس لیے کہ زکوٰۃ دین اسلام کا ایک رکن ہے جس کی مقادیر اور مصارف دین ہی نے مقرر کیے ہیں‘ اس لیے بھی کہ اس کا ایک حصہ اعلاے کلمۃ اللہ اور دعوت دین میں صرف ہوتا ہے‘‘۔ (فقہ الزکوٰۃ‘ ج ۲‘ ص ۱۱۲۰-۱۱۲۱)

زکوٰۃ کی ایک نمایاں خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے سید ابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں: ’’زکوٰۃ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے ساتھ لطف و رحمت کا معاملہ اور نعمت نبوت کا ثمرہ اور نتیجہ ہے جس کا بار سب سے کم اور برکت سب سے زیادہ ہے۔ اس لیے کہ وہ اغنیا سے وصول کی جاتی ہے اور فقرا کو لوٹا دی جاتی ہے‘‘۔ (الارکان الاربعۃ‘ ص ۱۲۲‘ دارالفتح‘ بیروت ۱۹۶۸ء)

مزید لکھتے ہیں: ’’اس کے برعکس جو ٹیکس موجودہ حکومتوں میں لگائے جاتے ہیں وہ زکوٰۃ کی عین ضد ہیں۔ یہ ٹیکس (خواہ ظالمانہ ہوں یا عادلانہ‘ کم ہوں یا زیادہ) زیادہ تر متوسط طبقہ اور غربا سے وصول کیے جاتے ہیں اور اغنیا و امرا کی طرف لوٹا دیے جاتے ہیں‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۱۲۱)

زکٰوۃ اور ٹیکس میں فرق: زکوٰۃ اور ٹیکس کے فرق کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ رقم طراز ہیں: ’’زکوٰۃ کے متعلق پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ٹیکس نہیں ہے بلکہ ایک عبادت اور رکن اسلام ہے‘ جس طرح نماز‘ روزہ اور حج ارکانِ اسلام ہیں۔ جس شخص نے بھی کبھی قرآن مجید کو آنکھیں کھول کر پڑھا ہے وہ دیکھ سکتا ہے کہ قرآن بالعموم نماز اور زکوٰۃکا ایک ساتھ ذکر کرتا ہے اور اسے اُس دین کا ایک رُکن قرار دیتا ہے جو ہر زمانے میں انبیاے کرام کا دین رہا ہے۔ اس لیے اس کو ٹیکس سمجھنا اور ٹیکس کی طرح اس سے معاملہ کرنا پہلی بنیادی غلطی ہے۔ ایک اسلامی حکومت جس طرح اپنے ملازموں سے دفتری کام اور دوسری خدمات لے کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب نماز کی ضرورت باقی نہیں کیونکہ انھوں نے سرکاری ڈیوٹی دے دی ہے‘  اسی طرح وہ لوگوں سے ٹیکس لے کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب زکوٰۃ کی ضرورت باقی نہیں کیونکہ ٹیکس لے لیا گیا ہے۔ اسلامی حکومت کو اپنے نظام الاوقات لازماً اس طرح مقرر کرنے ہوںگے تاکہ اس کے ملازمین نماز وقت پر ادا کر سکیں۔ اسی طرح اس کو اپنے ٹیکسیشن کے نظام میں زکوٰۃ کی جگہ نکالنے کے لیے مناسب ترمیمات کرنی ہوگی۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حکومت کے موجودہ ٹیکسوں میںکوئی ٹیکس اُن مقاصد کے لیے اُس طرح استعمال نہیں ہوتا ہے جن کے لیے قرآن میں زکوٰۃ فرض کی گئی ہے اور جس طرح اس کے تقسیم کرنے کا حکم ہے‘‘۔ (رسائل و مسائل‘ حصہ سوم‘ ص ۳۰۷-۳۰۸)

آج اگر ہم اپنی مادی مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلام کے اس آزمودہ نظام زکوٰۃ کی برکات سے استفادہ کرنا ہوگا جس کے چشمہء شفا پر عرصۂ دراز سے ہم نے اپنے ہاتھوں سے بھاری پتھر رکھ چھوڑا ہے۔

 

ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ اس وقت امن عالم کے خرمن پر ہر طرف سے بجلیاں گر رہی ہیں۔ فرد سے لے کر اقوام تک بے اطمینانی کا غلبہ ہے۔ انسان کے ہاتھوں انسان پر ظلم و زیادتی کابازار گرم ہے اور ہر فراز سے خون کی آبشاریں بہہ رہی ہیں۔ انسانیت کا ماہ شرف‘ ظلمت اور جبر کے اتھاہ اندھیروں میں غروب ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ نام نہاد علم و تمدن کے ہاتھوں انسانیت سسکیاں لے رہی ہے۔ اخلاقی اقدار‘ نفسانیت اور ریاکاری کے سانچوں میں ڈھلتی چلی جا رہی ہیں اور غیر اخلاقی روایات خود غرضی کے فلسفے کو پروان چڑھا رہی ہیں۔ ہوس زر نے خیانت ‘رشوت اور حصولِ دولت کے کسی بھی ذریعے کو ناجائز اور حرام نہیں رہنے دیا ہے۔ افراد اور اقوام نے انسانی اقدار سے بالاتر ہو کر وسعت پسندی کو اپنا ’’ماٹو‘‘ قرار دے دیا ہے۔ اسی ’’وسعت پسندی‘‘ اور عدم برداشت کے رجحانات نے دنیا میں قیامت برپا کی ہوئی ہے۔ قومیں قوموں سے نبرد آزما ہیں اور ملک ایک دوسرے سے دست و گریباں۔ انسانوں کی اجتماعیت بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔ باپ بیٹے اور بھائی بھائی کے درمیان کھینچا تانی ہے۔ ہر شخص  انا ولا غیری کے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے علاوہ کسی دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان حالات میں لازم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات سے رہنمائی حاصل کی جائے جن میں تحمل‘ برداشت‘ حلم و بردباری‘ عفو و درگزر‘ رواداری و احترام کا درس ملتا ہے۔

آج دنیا میں تحمل اور بردباری سے محرومی یعنی عدم برداشت انسانی معاشرے میں ایک خطرناک رخ  اختیار کرتی چلی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے وحشت اور دہشت کے سائے سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ہیجان خیزی اور شورش پسندی کے باعث کہیں مذہب کو بنیاد بنا کر اور کہیں سیاسی گروہ بندی کے حوالے سے تشدد

کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ معمولی معمولی باتوں پر عزتیں لُٹ جاتی ہیں اور انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ بچوں کے معمولی جھگڑے خاندانوں کی بربادی کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ مذہب سے بیگانگی اور دین سے دُوری کے سبب لوگ راہِ عمل کے بجائے راہِ فراراختیار کررہے ہیں۔ اسی لیے اس متمدن دور میں بھی خودکشی کی شرح حیرت انگیز ہے۔ عدم برداشت اور تشدد پسندی کے حوالے سے مذہبی حلقے آج سب سے زیادہ عدم توازن کا شکار ہیں۔ دوسرے کے نقطۂ نظرکو سننے اور برداشت کرنے کی روایت ختم ہو چکی ہے۔ اپنے عقائد اور نظریات کو دوسروں پر نافذ کرنا ہر شخص اپنا مذہبی حق سمجھتا ہے۔

عدم برداشت کا ایک اور اہم سبب معاشی اور معاشرتی ناہمواری ہے۔ امیر‘ امیر تر اور غریب‘ غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک کو سوکھی روٹی میسر نہیں اور دوسری طرف کتے بھی ڈبل روٹی اور دودھ پر پَل رہے ہیں۔ محبت اور قناعت جیسے انسانی جذبے معاشرے سے مفقود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اسی طرح سیاسی عدم توازن اور پسند و ناپسند نے بھی ہیجان خیزی اور تشدد پسندی کو فروغ دیا ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس نے بین الاقوامی سطح پر کمزور قوموں اور چھوٹے ممالک کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

دنیا کے ان تمام مسائل کا حل اگر کہیں ہے تو صرف اور صرف تاجدار مدینہؐ کی تعلیمات میں جو کہ سراسر عدل اور محبت پر مبنی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف ایک فرمان: لاَ یُوْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لاَِخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ‘ (الامام البخاری‘ الجامع الصحیح‘ کتاب الایمان‘ لجنۃ احیاء کتب السنۃ ‘مصر‘ ج ۱‘ ص ۲۸) ’’تم میں کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی چیزپسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے‘‘ کو کوئی بھی معاشرہ حرزِ جان بنا لے تو وہ امن کا گہوارہ اور محبت کا گلستان بن جائے گا۔ اس لیے کہ ہر شخص اپنے لیے خوب صورت‘ اعلیٰ اور بہتر بات کو پسند کرتا ہے۔ ایمانی اور انسانی تقاضے کے مطابق جب وہ اپنے لیے پسند کی جانے والی اچھی چیز کو دوسروں کے لیے بھی مقدم بنائے گا تو اس سے ہر طرف امن اور محبت کی خوشبو پھیل جائے گی۔

اس وقت مسلمانان عالم اوراسلامیان پاکستان تاریخ کے ایک نازک دَور سے گزر رہے ہیں۔ عالم کفر اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ سیاسی‘ سماجی‘ معاشرتی‘اقتصادی حتیٰ کہ نظریاتی اور اساسی پہلووں پر حملہ آور ہے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف موجودہ محاذ آرائی اور اشتعال انگیز کارروائیاں دراصل عدم برداشت کے اسی رجحان کی غماز ہیں۔

تحمل و برداشت اور حلم و بردباری ان اخلاقی صفات میں سے ہیں جو افراد کے لیے انفرادی طور پر اور اقوام کے لیے اجتماعی طور پر کامیابی‘ عزت و عظمت اور ترقی و بلندی کا ذریعہ بنتی ہیں۔حلم کی وجہ سے انسان کے نفس میں وہ قوت برداشت اور وہ سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے کہ کسی حالت میں بھی قوت غضب غالب نہیں آتی۔ ایک حلیم انسان کی مرضی و منشا کے خلاف کوئی بات ہو یااس کو کتنی ہی تکلیف پہنچائی جائے وہ صبر و ضبط سے کام لے کر انھیں برداشت کرتا ہے۔ قرآن مجید نے اس کی تاثیر یہ بیان کی ہے کہ دشمنی دوستی میں بدل جاتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلاَ السَّیِّئَۃُ ط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (حم السجدہ ۴۱:۳۴)  اور اے نبیؐ ‘ نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔

رسول اکرم ؐ نے برداشت و تحمل‘ حلم و بردباری اور حوصلہ و صبر اختیار کرنے کی نہ صرف تعلیم دی ہے بلکہ اپنے اسوہ حسنہ کے ذریعے اس کی لازوال مثالیں قائم کی ہیں۔ رسول اکرمؐ کی محبوبیت کا ایک اہم راز یہ بھی ہے کہ مزاج مبارک میں برداشت وتحمل کی بے نظیر خصوصیت تھی۔ لوگوں کی سخت کلامی‘ ان کے ناروا سلوک اور سخت ترین اذیت رسانی کے باوجود آپؐ ان پر خفا نہ ہوتے۔ آپؐ کی یہی قوت برداشت اور متانت آپؐ کی صداقت کی بہت بڑی علامت ہے۔ اسی علامت کو دیکھ کر اور آزما کر یہود کا ایک بہت بڑا عالم زید بن سعنہ آپؐ پر ایمان لایا اور اپنا آدھا مال صدقہ کردیا اور پھر غزوئہ تبوک میں شہید ہو گیا۔ (محمد بن یوسف الصالحی الشامی‘ سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد ‘ لجنۃ احیاء التراث الاسلامی‘ مطبوعہ قاہرہ‘  ۱۹۸۳ء‘ ج ۷‘ ص ۳۶)

قرآن مجید اسی طرف اشارہ کر رہا ہے:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ ج وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَ نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ ص فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ (اٰل عمرٰن ۳: ۱۵۹)  (اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کے کمال برداشت‘ کمال حلم اور کمال عفو و درگزر کی تعریف فرمائی ہے۔

حضوراکرم ؐ کی زندگی شاہد ہے کہ آپؐ نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ؐ نے کبھی کسی ذاتی معاملے میں انتقام نہیں لیا‘ سوائے اس کے کہ کسی نے احکام الٰہی کی خلاف ورزی کی ہو اور اللہ کی حدود میں سے کسی حد کو توڑا ہو۔ (ابو الفضل قاضی عیاض بن موسیٰ‘ الشفاء‘ مطبوعہ بیروت‘ ج ۱‘ ص ۱۴۰)

طائف والوں نے آپؐ کے ساتھ جو سلوک کیا وہ ناقابل فراموش تھا۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ ام المومنین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا احد کے دن سے زیادہ تکلیف دہ دن آپ پر گزرا ہے؟ فرمایا: تیری قوم نے یوم العقبہ کو جو تکلیفیں پہنچائیں وہ بہت زیادہ سخت تھیں (یعنی جس دن ثقیف کے سرداروں عبدیالیل وغیرہ کو دعوت دی اور انھوں نے جو سلوک میرے ساتھ روا رکھا وہ بڑا روح فرسا تھا)۔ (محمد بن یوسف الصالحی الشامی‘ سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد‘ لجنۃ احیاء التراث الاسلامی‘ مطبوعہ قاہرہ ۱۹۸۳ء‘ ج ۲‘ ص ۵۷۹)

آپؐ نے مصائب و آلام اور حزن و الم سے بھرپور اس گھڑی میں بھی برداشت اور حوصلے کی وہ عظیم مثال قائم کی کہ شاید انسانی تاریخ ایسی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہو۔ پہاڑوں کے فرشتے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا اور کہا: ’’اگر آپ فرمائیں تو پہاڑوں کو میں ان پراوندھا گرا دوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو میں انھیں زمین میںغرق کر دوں‘‘۔ رحمت مجسم ؐ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کریں گے۔

ہجرت کے نویں سال اسی طائف کی وادی کے سرداروں پر مشتمل ایک وفد بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوا۔ شفقتوں اور محبتوں کے سائبان اس انداز میں تان دیے گئے کہ ان کے قیام کے لیے سب سے اعلیٰ اور ارفع مقام یعنی مسجد نبویؐ میں خیمے نصب کردیے اور فیضان محبت و الفت کی برکھا ان پر ہمہ وقت مہربان رہتی۔

حضرت انس ؓ روایت فرماتے ہیں کہ نجران کی بنی ہوئی چادر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیے ہوئے تھے۔ ایک بدو نے اس چادر کو اس زور سے کھینچا کہ گردن مبارک پر نشانات پڑ گئے‘ بدو کہنے لگا: ’’اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس سے مجھے بھی حصہ دیں‘‘۔ اس قبیح حرکت کو برداشت فرماتے ہوئے‘ آپؐ مسکراکر خادم کو حکم دیتے ہیں کہ اس کو مال غنیمت سے کچھ عطا کر دیں۔ (الامام ابوالفدا اسماعیل بن عمر بن کثیر‘ السیرۃ النبویۃ‘ بیروت‘ دارالفکر‘ ۱۹۷۸ء‘ ج ۳‘ ص ۶۸۱)

اس کائنات میں یقینا سب سے مشکل کام طاقت اور قوت رکھنے کے باوجود کسی زیادتی کو برداشت کر کے مسکرا دینا ہے۔ اور بے شک آپؐ کی حیات مبارکہ کے امتیازی اوصاف میں ایک بنیادی وصف بے مثال اور لازوال قوت برداشت ہے۔ اعلان نبوت کے بعد مکّی اور مدنی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں کہ جس میں اسلام دشمنوں نے ہر ممکن طور پر اسلام‘ مسلمانوں اور پیغمبر اسلام پر ظلم و زیادتی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔ لیکن آپؐ ہمیشہ قرآن پاک کی تعلیمات کا مظہر اتم و اکمل بن کر صبر و رضا کا مجسم پیکر بنے رہے۔ ہر زبانی اور جسمانی اذیت کا جواب عفو و درگزر اور صبر و استقامت سے دیا۔ قرآن پاک نے صبر یعنی برداشت کرنے کو تمام آزمایشوں کے لیے نسخہ اکسیر قرار دیا ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْ ً ء مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ o  الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ  لا  قَالُوْآ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ (البقرہ ۲ :  ۱۵۵ - ۱۵۶) اور ہم ضرور تمھیں خوف وخطر‘ فاقہ کشی‘ جان و مال کے نقصانات اورآمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمایش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے‘ تو کہیں کہ ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘۔

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو اپنی معیت کا یقین دلایا ہے۔ کتاب مبین میں ہے:  اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ  (البقرہ ۲: ۱۵۳) ’’بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ مسلمانوں کو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنے کا درس دیا گیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:  وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوٰۃِ … الخ (البقرہ ۲: ۴۵) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لو‘‘۔ مسلم معاشرے میں امن و امان اور اخوت و بھائی چارے کے قیام کے لیے ایک دوسرے کو مسلسل حق اور صبر کی تلقین کرتے رہنے کا حکم دیا ہے:  وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ لا  وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِo  (العصر ۱۰۳ :۳) ’’اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے‘‘۔

برداشت اور صبر کی تعریف محققین نے یوں فرمائی ہے:

الصبر حبس النفس عند الالام والموذیات‘ یعنی تکلیف دہ اور پُراذیت حالات میں بھی انسان اپنے آپ کو بے قابو نہ ہونے دے۔

مذکورہ بالا آیات قرآنی نظام حیات کے بارے میں مثبت انسانی اور اخلاقی رویوں کی تعمیر کے لیے ایک انتہائی اہم ضابطے کو بیان کرتی ہیں جس کا مفہوم اور حقیقت یہ ہے کہ کسی فرد یاقوم کی طرف سے ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنے کی صورت میں حتی الامکان عفو و درگزر‘ رواداری اور قوت برداشت کا مظاہرہ کیا جائے۔یہ تعلیمات کسی قسم کی کمزوری کو ظاہر نہیں کرتیں بلکہ ان کا اصل مقصد قومی اور بین الاقوامی سطح پرامن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ کسی ایک فریق کی اشتعال انگیزی پر دوسرے فریق کا ویسا ہی ردعمل نہ صرف امن و آشتی کے لیے زہرقاتل ہے بلکہ بسااوقات ایسے رویوں کی بھاری قیمت چکاناپڑتی ہے۔

میدانِ جنگ ہو یا جنگی قیدیوں کی قسمتوں کا فیصلہ‘ گلے میں کپڑا ڈال کر کھینچنے والے بدو کا ہاتھ ہو یا راہوں میں کانٹے بچھانے کے اقدامات‘ ازواج مطہرات پر تہمتیں لگانے والے فتنہ پرداز ہوں یا عین جنگ کے موقع پر ساتھ چھوڑنے والے منافقین‘ نامناسب کلمات بولنے والی زبانیں ہوں یا معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے والے فریق‘ انسان کاملؐ اور معلم انسانیتؐ ہر ہر مرحلے پر ایسی قوت برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ زیادتی کرنے والا شرمندہ ہو جاتا ہے اور بے اختیار دامن نبوت کی پناہ میں آجاتا ہے۔ صبر و برداشت ایسا خوب صورت جذبہ ہے کہ جو انفرادی و اجتماعی سطح پر پروقار اور باعظمت مقام حاصل کرتا ہے اور اسی جذبے سے جانی دشمنوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں۔ یہ جذبہ اگر انفرادی سطح پر ہو تو انسانی شخصیت کے گرد رعب و دبدے کا عظیم حصار قائم کرتا ہے اور اگرقومی سطح پر ہو تو اقوامِ عالم میں ایسا تشخص عطا کرتا ہے جس کا تاثر پختہ اور دیرپا ہوتا ہے۔ ارشاد رب العزت ہے:

اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْھُمْ ز وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَۃٌ یَّفْرَحُوْابِھَا ط وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لاَ یَضُرُّکُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ o (اٰل عمٰرن ۳:۱۲۰)  تمھارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے‘ اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں۔ مگر ان کی کوئی تدبیر تمھارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس پر حاوی ہے۔

جب آپؐ نے مکہ مکرمہ کو فتح کیا تو آپؐ ظالموں سے ایک ایک ظلم کا بدلہ لے سکتے تھے۔ اس کے باوجود رحمت عالمؐ نے برداشت و تحمل کا وہ نمونہ پیش کیا جس کی مثال پوری تاریخ انسانی میں کہیں نہیں ملتی۔ آپؐ نے پیغمبرانہ جلال کے ساتھ سب کی طرف دیکھ کر فرمایا:

لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمْ الرّٰحِمِیْنَ اِذْھَبُوَا وَاَنْتُمُ الطُّلَقَآئُ‘آج میری طرف سے تم پر کوئی گرفت نہیں‘ اللہ تعالیٰ تمھارے سارے گناہوں کو معاف فرمائے اور وہ سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ جائو‘ چلے جائو میری طرف سے تم آزاد ہو۔(ابن قیم الجوزیہ‘ زاد المعاد فی ھدی خیر العباد‘ بیروت‘ موسسۃ الرسالۃ‘ ۱۹۸۵ء‘ ج ۳‘ ص ۴۴۲)

دشمنوں سے انتقام لینا انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور بالخصوص ان لوگوں سے جنھوں نے گھر چھین لیا ہو‘ زمین تنگ کر دی ہو‘ وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہو‘ پیاروں کا خون کیا ہو۔ لیکن فتح یاب ہو کر برداشت‘ تحمل اور عفو و درگزر سے کام لے کر خون کے پیاسوں کو معافی کاسرٹیفکیٹ دے کر تاریخ عالم پر ’’رحمت عالم‘‘کا نقش دوام ثبت فرما دیا۔ سعد بن عبادہ کی طرف سے جب یہ آواز آئی: الیوم یوم الملحمۃ ’’آج کا دن قتل و غارت کا دن ہے‘‘۔ تو نبی مکرم ؐ نے فرمایا: سعد نے غلط کہا ہے:  الیوم یوم المرحمۃ ’’آج کا دن رحمت کا دن ہے‘‘۔(سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد‘ ج ۵‘ ص ۳۳۸)

دراصل شخصیت کا حسن اور کمال زبردست قوت برداشت اور تحمل و بردباری میں پنہاں ہے‘ ماردھاڑ‘ تخریب اور بربادی میں نہیں۔ برداشت و تحمل اور حلم و بردباری سے دل جیتے جاتے ہیں اور اس کے برعکس وقتی طور پر خوف و ہراس کی فضا قائم کر کے کام تو نکالا جا سکتا ہے لیکن انجام ایسے انقلابات کی شکل میں رونما ہوتا ہے جس کے نتیجے میں تباہی چارسو پھیل کر معاشرے کو غارت کر دیتی ہے۔ اس لیے صحیح اور درست طریقہ وہی ہے جس کی قرآن و سنت نے تعلیم دی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کر کے دکھایا ہے۔ جیسا کہ حکم خداوندی ہے:

وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ o (الشوریٰ ۴۲:۴۳)  البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے ‘ تو یہ بڑی اُولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔

ایک شخص حضورؐ کی خدمت میں حاضرہواور عرض کیا کہ یارسولؐ اللہ! مجھے کچھ نصیحت فرمایئے۔ آپؐ نے فرمایا: غصہ نہ کیا کرو۔ اس شخص نے کہا‘ کچھ اور نصیحت فرمایئے‘ آپؐ نے پھر یہی فرمایا کہ غصہ نہ کیا کرو  اور کئی بار یہی بات دہرائی۔  (مشکوٰۃ  المصابیح‘ باب الغضب والکبر‘ منشورات‘ المکتب الاسلامی‘ دمشق‘ ج ۳‘ ص ۶۳۲)

برداشت و تحمل‘ عفو و درگزر اور رحمت و شفقت کی سب سے بڑی مثال وہ انقلاب ہے جو ۲۳ برس کے عرصے میں بپا ہوا جس کے لیے حضورؐ نے مدنی زندگی میں ۲۷ غزوات کیے اور غزوات و سرایا کی شکل میں کل ۸۲ جنگیں لڑی گئیں۔ انسان سوچتا ہے کہ اتنی زیادہ جنگوں میں خون خرابے اور تباہی و بربادی کا کیا حال ہوگا لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس اسلامی انقلاب میں فریقین کے کل انسان جو کام آئے ۹۱۸ ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس سے بڑا غیر خونی انقلاب آج تک دنیا میں کبھی بپا ہوا ہے جس کے ذریعے انسان کا ظاہر و باطن اور نظام معیشت و سیاست سب کچھ بدل جائے۔ ان کے مقابلے میں دوسرے انقلابات کا حال سب پر عیاں ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں مقتولین کی تعداد ۶۴ لاکھ اور دوسری جنگ عظیم میںیہ تعداد ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ تھی۔ لیکن نبی کریمؐ کے انقلاب کی اساس نوع انسان کی خیرخواہی تھی۔اس میں برداشت و تحمل اور عفو و درگزر کی روح رواں تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قافلہ آدمیت تحریک اسلامی کے دھارے پر بہتا چلا گیا۔ اور دعوت حق کی کھیتی پھلتی پھولتی چلی گئی اور آہستہ آہستہ لوگ جوق در جوق انسانیت کے خیرخواہ اور برداشت و تحمل اور سلامتی والے دین اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔یہ حقیقت ہے کہ تلوار سر کاٹتی ہے اور تحمل وبرداشت دل جیتتا ہے۔ تلوار کی پہنچ گلے تک اور حلم و بردباری کی پہنچ دل کی گہرائی تک ہوتی ہے۔ جہاں تلوار ناکام ہوتی ہے وہاں عفو و درگزر فتح کا جھنڈا گاڑتا ہے۔ تیر و تلوار کی طاقت سے زمین تو چھینی جا سکتی ہے مگر کسی کا دل نہیں جیتا جا سکتا۔ دلوں کو ہاتھ میں لینے کے لیے ضرورت ہے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کی!