وقت ایک قیمتی اور محدود وسیلہ ہے، جس کی اسلام میں بہت اہمیت ہے۔ دین وقت کو دانش مندی کے ساتھ استعمال اور اس کا مؤثر طریقے سے انتظام کرنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ مسلمان ایمان رکھتے ہیں کہ وقت اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے، اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے۔اسے لغو اور فضول معاملات میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام زندگی کے تمام پہلوؤں میں پیداواریت،حُسنِ کارکردگی، توازن اور ذہن سازی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے وقت کے صحیح استعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اس کے علاوہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی نقل مکانی مغربی ممالک کی طرف زیادہ ہوگئی ہے، ایسی صورت حال میں دعوت اور تبلیغ سے وابستہ افراد کے لیے ان ممالک میں دعوتی کام کے حوالے سے چند تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔
اپنی تمام دعوتی کوششوں میں، یاد رکھیں کہ اللہ ہی آخری رہنما ہے، اور کامیابی اخلاص، صبر اور اس پر بھروسا کرنے میں پوشیدہ ہے۔ اس کی حکمت پر بھروسا رکھیں اور ہمدردی، علم اور عاجزی کے ساتھ اسلام کے پیغام کو پھیلانے کی کوشش کرتے رہیں۔مسلسل خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ دوسروں کی انفرادیت اور خودمختاری کا احترام کرنا، مہربانی، ہمدردی، اور دوسروں کے ساتھ جڑنے کی حقیقی خواہش کے ساتھ بات چیت کرنا ضروری ہے۔ اسلام کے اصولوں کو مجسم کر کے، مؤثر مواصلاتی تکنیکوں کو استعمال کر کے، اور مختلف رسائی کے طریقوں میں شامل ہو کر، آپ مثبت اثر ڈال سکتے ہیں اور اسلام کے پیغام کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسلام مسلمانوں کو وقت کا خیال رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کی محدود نوعیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس جواب دہی کا سامنا کرنا پڑے گا کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں؟ اسلام کی تعلیمات کو اپنانے اور وقت کے انتظام کے مؤثر طریقوں کو نافذ کرنے سے، افراد اپنی ذمہ داریوں، ذاتی ترقی اور اللہ سے عقیدت کے درمیان ایک ہم آہنگ توازن قائم کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، وقت ایک تحفہ ہے، اور اسے دانش مندی سے سنبھالنا، اسلام کی خدائی رہنمائی کے لیے شکرگزاری اور اطاعت کی عکاسی کرتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنے وقت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور بامقصد زندگی گزارنے کی حکمت اور نظم و ضبط عطا فرمائے، آمین!
مسلمان خاندانوں کو اپنے خاندانی کاروبار کے تسلسل، تقسیم دولت اور جانشینی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟موت برحق ہے۔ جب کاروبار یا خاندان کے سربراہ کا انتقال ہوتا ہے تو دو اہم امور پیش آتے ہیں:
اس سلسلے میں یہاں چند معاملات کی نشاندہی کریں گے۔ امید ہے کہ کاروباری خاندانوں کے سربراہ ان نکات پر غور کریں گے، مگر تفصیلات کے لیے ماہرین سے رابطہ ضروری ہے:
(رابطے کے لیے:basheerjuma@gmail.com)
انسانی زندگی میں یہ دو سوالات بہت اہمیت کے حامل ہیں:
زندگی کیا ہے؟___ صر ف اور صرف آج کا دن۔ ہمیں اپنی زندگی کے اگلے لمحے کا کوئی علم نہیں ہے۔ہر زندہ رہنے والے انسان کو آج کے دن چوبیس گھنٹے یا ۱۴۴۰ منٹ ملتے ہیں، مگر ان کے بارے میں بھی یقین نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اگلا لمحہ نصیب ہوگا یا نہیں نصیب ہوگا۔جو فرد عطاشدہ ان لمحات کی اس نعمت کو جتنے بہتر انداز سے استعمال کرتا ہے، اتنا ہی وہ کامیا ب ہوتا ہے۔صبح جب ہم اٹھتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتی ہے اور ایک معجزہ ہے کہ ہم اُٹھ گئے، حالانکہ نیند میں تو ہمیں کسی چیز کا ہوش ہی نہیں ہوتا۔
ہر دن ایک نئی زندگی ہے اورآنے والا دن، کل کے لیے آج کا دن ہوگا۔ زندگی جو کچھ بھی ہے وہ آج کا دن ہے۔یہ دن کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئے گا، جیسے آپ دریا کے کنارے کھڑے ہوکر منظر دیکھتے ہیں کہ پانی گزرتا چلا جاتا ہے، اور پھر وہ کبھی واپس نہیں آتا۔کہتے ہیں کہ جس کا آج کا دن گذشتہ کل کی طرح ہے، وہ تباہی کی طرف سفر کررہا ہے۔ زندگی کے اس سفر میں انسان کے لیے جو کچھ بھی ہے وہ آج کا دن ہے اور اسے اس دن کو بہترسے بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
٭ آج کے دن کی اہمیت:علامہ سیوطی ؒ نے جمع الجوامع میں ایک حدیث نقل کی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ہر روز صبح کو جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو اُس وقت دن یہ اعلان کرتا ہے: ’’جو شخص آج کوئی بھلائی کر سکتا ہے کرلے، آج کے بعد پھر کبھی واپس نہیں لوٹوں گا‘‘۔
دن کی بہتر کارکردگی کے لیے اس فرمان کو یاد رکھیے جو کہ حضرت حسن بصریؒ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خواب میں ہدایت سے معروف ہے: وہ شخص تباہ ہوگیا جس کے دو دن کارکردگی کے لحاظ سے ایک جیسے رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو فرماتے: ’’یااللہ! میرے لیے خیر کر اور اسے میرے لیے پسند کر‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ’’ بے شک وہ مسافر جسے کامیابی کی امید اور ناکامی کا خطرہ ہے، اسے چاہیے کہ اپنے سفر کے لیے اچھا سامان تیار کرے‘‘۔ انھی کے چند اقوال یہ ہیں: ’’جوشخص کوئی کام کر نے سے پہلے انجامِ کا ر سوچ لیتاہے ،اس کو اس کام کے تمام پہلو اور نشیب و فراز معلوم ہوجاتےہیں‘‘۔’’جوشخص انجامِ کار کا سوچتاہے وہ آفتوں اورمصائب سے بچارہتاہے اور جو شخص تجربہ کاری میں مضبوط ہوتاہے وہ ہلاکتوں سے نجات پالیتاہے‘‘۔’’عقل مند وہ ہے، جو اپناایک سانس بھی ، غیر مفید کام میں ضائع نہ کرے اور نہ ایسی چیز جمع کرے جو ساتھ نہ دے‘‘۔ ’’صبح سویرے کام کوجاؤ، کیونکہ سویرے جانے میں برکت ہے، اور اپنے کاروبار میں دوستوں سے مشورہ کیاکرو کہ اس طرح مقاصد میں کامیابی حاصل ہوتی ہے‘‘۔ ’’چراغ کو بر وقت جلانا اور بجھانا کامیابی کی علامت ہے‘‘۔ ’’کوچ کرنے کی تیاری کرو کیونکہ تمھارے کوچ کا وقت آپہنچا ۔ اور موت کےلیے تیار ہوجائو کیونکہ وہ تمھارے سر پر آگئی ہے‘‘۔
٭ یومیہ پیش نظر کاموں کی فہرست کو ’کرنے کے کام‘ کہتے ہیں۔ اس فہرست کے ذریعے آپ اپنے روزانہ کے کاموں کو ایک جگہ تحریر کرتے ہیں اور پھر ترجیحات متعین کرتے ہوئے کرنے کی کوشش کرتےہیں۔یہ ایک جگہ: کاغذ، ڈائری، کارڈ، نوٹ بک، سمارٹ فون ، ڈیوائس یا کوئی سافٹ ویئر یا اپلی کیشن ہوسکتی ہے۔
٭ اپنے نصب العین کے تحت مقاصد کو پیش نظر رکھیے،اور اس ہفتے کے کرنے کے کاموں کی فہرست نکال لیں۔ اس کو سامنے رکھتے ہوئے، یومیہ فہرست بنا لی جائے۔
٭ منصوبہ بندی کے لیے ایک ہی طریقۂ کار، کارڈ یا ایپ استعمال کریں۔ ایک ہی فہرست بنائی جائے ، بہت سے فہرستیں نہ بنائی جائیں کہ اس سے آپ الجھ جائیں گے۔فہرست تیار کرنے کا دن اور وقت مقرر ہو اور اس میں باقاعدگی اور پابندی کریں۔کوشش کریں کہ یہ فہرست جمعہ یا اتوار کی شام (یعنی ہفتہ شروع ہونے سے ایک دن پہلے)تیار ہوجائے ۔ اس انداز سے کہ فہرست کے ساتھ دنوں کے کالم ہوں، جس پر ٹک مارک لگا کر دن مختص کیا جا سکے کہ یہ کام اس دن کرنے کا منصوبہ ہے۔
٭ یومیہ منصوبہ بندی بہتر ہے شام کے وقت کرلی جائے، تاکہ رات کو ذہن اس پر سوچ بچار کا کام کرے۔اس فہرست میں وہی کام ہوں، جو آپ اگلے دن کرنا چاہتے ہیں۔وہ کام جو کہ بہت اہم ہیں انھی پر توجہ مرکوز کریں۔بہتر کارکردگی کے لیے ہمیشہ اپنے نصب العین کو پیش نظر رکھیے۔ نصب العین کے حصول کے لیےمقاصد کو بھی سامنے رکھیے۔ احساس ذمہ داری، کردار، رویہ، عادات، صلاحیتیں، مہارتیں اور ٹکنالوجی ٹولز کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
٭ آپ کے ہر کام کا مقصد واضح ہونا چاہیے۔ کا م سے پہلے اپنے آپ سے منطق کے یہ چھ کاف والے سوالات پوچھیں: کیا، کیوں، کیسے، کب، کون اور کہاں؟ہر کام کے لیے ڈیڈ لائن متعین ہونی چاہیے، ورنہ آپ کے دن ویسے ہی گزرتے جائیں گے۔
٭ باقاعدگی سے جائزہ کی عادت ڈالیں۔ روزانہ رات سونے سے پہلے احتساب کی عادت ڈالیے۔ ہرکام کی ابتد ا اچھی کیجیے اور انجام پیش نظر رکھیے۔اپنے بہتر انجام کے لیے دعا کیجیے۔اللہ کے نام سے کام شروع کیا جائے کیونکہ ہر وہ کام جو اللہ کے نام سے شروع نہیں کیا جاتا ناقص رہتا ہے۔ ہمیشہ اپنے اعلیٰ مقصد کو مد نظر رکھنا چاہیے اور اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں ضائع نہ کرے۔اپنے دن کی ابتدا میں یہ دعا پڑھا کریں: اے اللہ ہمارے آج کے دن کے پہلے حصے کو ہمارے کاموں کی درستی، درمیانے حصے کو بہبودی اور آخری حصے کو کامرانی بنادے۔
٭ کرنے کے کاموں اور اپائنٹمنٹس کے لیے ایک ہی ڈائری یا نوٹ بک یا سافٹ وئر استعمال کیجیے اور اس کا ریکارڈ اپنے پاس ہمیشہ رکھیے۔
٭ اس بات پر بھی غور کیجیے کہ میرے وہ کو ن سے کام ہیں، جو اگر آج کرلیےجائیں تو بقیہ زندگی میں آسانی ہوگی۔جو بھی کام کرنے ہوں ان کےاہم نکات لکھیے کہ کیا کام کرنا ہے؟ زندگی کے مقاصد پورا کرنے والے کاموں پر سب سے پہلے توجہ دی جائے۔اہم کاموں کے لیے دن کا بہترین حصہ استعمال کیجیے۔فہرست کی تیاری کے دوران آپ کے ذہن میں مختلف خیالات بھی آتے رہیں گے، جن کو نوٹ کرنے کے لیے جگہ ہونی چاہیے۔اسے’پارکنگ پلیس‘ کہتے ہیں۔
٭ اہم ترین کاموں کو سر فہرست رکھیں، یعنی ترجیحات مقرر کرنے کی عادت ڈالیں:’’میرے پانچ اہم ترین کام جو کہ آج ہی کرنے ہیں‘‘۔ روزانہ اس قسم کا ٹارگٹ ضرور بنائیں۔ تمام کاموں کے لیے ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کام کرنے والے کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کام کے لیے کتنی محنت کرنی ہے اور کتنا وقت دینا ہے؟کاموں کے درجات یوں متعین کیجیے: الف، ب، ج ___ l الف :وہ کام جو آپ کی کامیابی کے لیے لازم ہیں اور انھیں آپ کو ہر صورت میں کرنا ہے۔lب: وہ کام جو فوری نوعیت کے ہیں اور کوشش کرکےکرلینےچاہییں۔lج: وہ کام ہیں جو اگر ہوجائیں تو بہتر ہے۔
٭ ترتیب میں افراط سے کام نہ لیا جائے۔ غیر ضروری کاموں کو فہرست سے نکال دیں۔ملتی جلتی سرگرمیوں کو ایک ساتھ جمع کیا جائے۔ جو کام دوسروں کے حوالے کیے جا سکتے ہوں ان کو دوسروں کے حوالے کردیں۔ اس طرح آپ کو زیادہ اہم کاموں کی انجام دہی میں مدد ملے گی، سوچنے کے لیے وقت زیادہ ملے گا،عمومی نوعیت کے کاموں سے چھٹکارا ملے گا اور دوسروں کے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: ’’اپنے ملازموں کو کام بانٹ کربتلادیاکرو۔اس طرح اپنے مفوضہ کام میں کوئی شخص سستی نہ کرےگا‘‘۔
٭ اپنے ممنوعات کی بھی فہرست بنالیں، یعنی وہ کام جو آپ دن میں نہیں کریں گے، جیسے سوشل میڈیا کے کام اور رابطے۔ یہ کام آپ دفتری اوقات میں نہیں کریں گے بلکہ ان کا بھی ایک وقت معین ہوگا، جس میں آپ یہ کام کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ نقصان دہ چیزیں ہیں، جن میں آپ ڈوب جاتے ہیں اور آسانی کے ساتھ نکل نہیں سکتے۔کاموں کی انجام دہی کے لیے بہترین طریقہ اپنا نے کی کوشش کریں۔ہر کام کے لیے صحیح اورمناسب طریقۂ کار اختیار کرکے وقت بچایا جاسکتا ہے۔ لوگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ہر کام کے لیے وقت متعین کیا جائے، یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ وقت کے ساتھ غیر مربوط کام کبھی پورے نہیں ہوتے۔ جب اس فہرست کو استعمال کریں تو یہ فہرست سارا دن آپ کی نظروں کے سامنے رہنی چاہیے۔ جو کام ہوجائیں وہ چیک کرتے رہیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ ایک کام ختم ہونے کے بعدوقفہ لیںتاکہ میدان کی گرد صاف ہو۔ لیکن اگر جاری کام ہی کے دوران وقفے لینے شروع کردیے تو آپ کے کام ادھورے رہ جائیں گے۔جو کام ادھورا رہ جائے، اسے اگلے دن پر ڈال دیں۔
٭ کام کا آغاز صبح سویرے کیا جائے۔ہمیشہ دفتر وقت سے پہلے پہنچنے کی کوشش کریں۔مؤثر اور مستعد ہوکر کام کیجیے۔کام کو اسمارٹ طریقے سے کرنے کی کوشش کریں، آپ مناسب اور مطلوبہ محنت کریں۔باتوں اور چیزوں کو نوٹ کرنے کی عادت ڈالیں۔ اپنی پیش رفت کا جائزہ لیتے رہیے۔اپنی صحت ، توانائی اور قوت کار کا خاص خیال رکھیں۔اپنے معاونین کی ہمیشہ رہنمائی کرتے رہیں۔وہ کام جنھیں کرنا اور نہ کرنا ایک جیسا ہو، ان کاموں کو نہ کریں۔وہ تمام کام جو کہ تقاضے کے زمرے میں نہیں آتے ان کاموں کو چھوڑ دیں۔ چند ہفتے اپنے اوقات کا استعمال ضرور تحریر کریں اورپھر جائزہ لیں کہ کتنا وقت ضائع ہوتا ہے۔
٭ ہر کام اس کے کاریگروں سے لیا کریں۔وہ آپ سے کچھ رقم لے کر آپ کے کام کو احسن طریقے سے کردیں گے، اور دنیا میں آپ ان کے رزق کا ذریعہ بھی بنیں گے۔
٭ انجام کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام بغیر معاوضہ طے کیے دوسرے سے نہیں کرواتے تھے۔اگر ہم بھی ایسا کریں تو بہت سارے اختلافات اور رنجشوں سے بچ جائیں گے۔ ایسے کام سے بچیں، جس سے عذر پیش کرنا پڑے ، یا شرمندگی ہو۔ اللہ کے ہاں جواب دہی کا احساس زندہ رکھیں۔اپنے غصے اور رد عمل کو کنٹرو ل میں رکھیں۔ آپ اختلاف کرسکتے ہیں مگرجھگڑنے سے بچیں۔
٭ اپنی ٹیم کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں اوران کے کام کی حوصلہ افزائی کریں۔ای میل، سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور اس قسم کی دیگر چیزوں پر کسی حد تک پابندی لگائیں۔ان کے قیدی مت بنیں۔ غیر ضروری پروگراموں میں شرکت سے گریز کریں۔اپنے آپ سے سوال کریں کہ ’’کیا میں اپنے وقت کا صحیح استعمال کررہا ہوں اور زندگی کے نصب العین، مقاصد اور اقدارسے وابستہ اور قریب ہورہا ہوں؟‘‘
٭ سُستی ، کاہلی اور اکملیت پسندی سے اپنے آپ کو بچائیں۔ٹیلی ویژن اور وڈیوز سے دوستی کم کرلیں۔جو کام دوسروں کے ذریعے ہوسکتے ہیں، انھیں معاملات طے کرکےکردیں۔ اپنی توجہ ہٹانے والے معاملات کا پیشگی اندازہ کرکے ان کا بندوبست کرلیں۔
ہمیں اس بات کا موقع ملتا ہے کہ ہم روزانہ، ورنہ ہفتے میں ایک بار یہ جائزہ لیں کہ:
٭ کیا ہم زندگی کے طے شدہ نصب العین کے مطابق عمل کر رہے ہیں یا فرار کی راہ اختیا ر کیے ہوئے ہیں؟
٭ جو مقاصد مقر ر کیے ہیں، کیا ہم ان مقاصد کے لیے آگے بڑ ھ رہے ہیں یا ہم محض انھیں ڈائری میں نوٹ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں؟
٭ میر ی ذمہ داریاں کیا ہیں؟میرے لیے کون سے کام بہت اہم ہیں؟میرے فوری کرنے کے کام کون سے ہیں؟کیا میں جو کچھ کررہا ہوں ،وہ صحیح کررہا ہوں؟
٭ کیا میری زندگی میں اعتدال اور توازن ہے؟کیا میرے کام اور گھر کے معاملات میں توازن ہے؟ کیا میں اپنے گھر والوں کے حقوق ادا کررہا ہوں ؟ میرے نزدیک کامیابی کا کیا تصور ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میں دنیا کے حصول کے لیے آخرت کو تباہ کررہا ہوں؟
٭ یہ جائزہ ہمیشہ لیتے رہیں کہ ہم نے جو عہد اپنی ذات سے، اپنے گھر والوں سے، اپنے ادارے سے، اپنی قوم سے اور اپنے رب سے کیا ہے اس عہد کو پور ا کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی زندگی کے عہد کا ہمیشہ جائزہ لیتے رہیں اور اس بات کی کوشش کریں کہ ہم میں ہمیشہ توانائی برقرار رہے اور ہم اپنے نصب العین کے حصول کے لیے کوشش کرتے رہیں اور اسی نصب العین سے وابستہ مقاصد کے حصول کی بھی کوشش کرتے رہیں۔
٭ کیا ہم اس دنیا میں رہتے ہوے اصل منزل، یعنی آخرت کی تیاری کررہے ہیں؟ کیا اولاد کی تربیت کر رہے ہیں کہ وہ آیندہ اس کارخیر کو سنبھال سکیں؟ اپنی علمی، سماجی اور مالی دولت اگلی نسل تک منتقل کرنے کی تیاری کرلی ہے؟ کیا ہم نے اس سلسلے میں تربیت کی ہوئی ہے،کیونکہ ہمیں اپنی کمائی اور ترکہ کا حساب دینا ہے؟ معاشرے میں صدقۂ جاریہ کے کام کی تیاری کی ہے؟
٭ کیا اپنے اثاثہ جات اور واجبات کا اصل ریکاردڈ موجود ہے؟تاکہ بصورت موت خاندان اور وابستہ افراد کی رہنمائی ہو؟ کیا کاروبار کی ملکیت تحریری صورت میں ہے تاکہ بھائیوں ، شرکا اور اولاد کے درمیان جھگڑے نہ ہوں۔
٭ اے اللہ ! میں تجھ سے طلب کرتا ہوں آج کے دن کی خیر (و خوبی)، اور جو آج کے دن میں (پیش آنے والا) ہے اس کی خیر (وخوبی)، اور جو آج کے بعد (پیش آنے والا) ہے اس کی خیر (وخوبی)۔ اور میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں آج کے دن کے شر سے اور جو آج کے دن میں (پیش آنے والا) ہے، اس کے شر سے اور جو آج کے بعد (پیش آنے والا) ہے اس کے شر سے۔
٭ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ مجھ سے سرزد ہونے والی میری تمام حرکات و سکنات (چلنا پھرنا، اُٹھنا بیٹھنا، آنا جانا) آج کے دن میں میرے حق میں بہتر ہیں، تو ان کو میرے لیے مقدر کردے اور ان کو میرے لیے آسان کردے، اور تو جانتا ہے کہ اگر وہ میرے حق میں شر اور ضرر رساں ہیں تو ان کو مجھ سے دُور رکھ اور مجھے ان سے دُور رکھ۔
٭ اے اللہ! جو کچھ ہم نے مانگا ہے تو اسے قبول فرما، جو کچھ مانگنا چاہتے ہیں اور زبان پر نہیں آرہا تو وہ بھی عطا فرما۔ اے اللہ ہماری وہ حاجتیں پوری فرما جن کو ہم دعاؤں میں بیان نہیں کرسکتے۔جو مانگنا چاہیے اور نہیں مانگ رہے تو وہ بھی عطا فرما، اور جو تو عطا کرنا چاہتا ہے اور ہم نہیں مانگ رہے تو ہمیں وہ بھی عطا فرما۔
٭ اے اللہ تو ہمیں جو کچھ عطا کر وہ اپنی شان کے مطابق عطا کر۔اے اللہ تجھ سے ہر اس خیر کے طلب گار ہیں جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ سے طلب فرمایا اور تیری پناہ میں آتے ہیں ہر اس شر سے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری پناہ چاہی۔
٭ اے اللہ! تو جو بھی خیر ہمیں عطا کرے ہم اس کے محتاج اور فقیر ہیں، آمین!
قابلیت کا تعلق انسان کی وراثت اور پیدایش سے ہے، یعنی یہ ’ودیعتی‘ ہے، جب کہ مہارت کا تعلق انسان کے سیکھنے سے ہے،یہ ’کسبی ‘ہے۔ ہماری زبان میں ’قابلیت‘ اور ’مہارت‘ اس قدر گڈ مڈ ہوگئے ہیں کہ دونوں کے لیے ’صلاحیت‘ کا لفظ استعمال ہوجاتا ہے۔خلاصہ یہ ہے:
ترقی، اپنے نصب العین کی جانب مقاصد کے حصول میں پیش رفت کا نام ہے۔ اس میں عقل، فہم اور مسلسل کوشش شامل ہوتی ہے۔ دین نے کوشش کی ترغیب دی ہے۔ اس محنت اور کوشش میں رفتار کے جائزے کا نام ’احتساب‘ ہے۔ کامیابی کے لیے حکمت عملی، منصوبہ بندی، محنت اور جائزے کے ساتھ دعا اور استعانت ِخداوندی بھی شامل ہے۔
فریضہ اقامت دین کے لیے ، ہمارے دین نے جو تعلیم اور ترغیب دی ہے، اس میں ان صلاحیتوں ، قابلیتوں اور مہارتوں کی بڑی اہمیت ہے۔انسان اگر قابل ہوں اور انھوں نے دورِ حاضر میں جینے اور ترقی کرنے اور اقامت دین کا کام کرنے کی مہارتیں حاصل کرلی ہوں، تو وہ ان مشترکہ عناصر کے ساتھ دین کے لیے مفید فرد ثابت ہوسکتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ سونے، چاندی کی کانوں کی طرح مختلف کانیں ہیں۔ { FR 896 } جو کفر میں اعلیٰ تھے وہ اسلام میں بھی اعلیٰ ہیں، جب کہ عالم بن جائیں۔(مسلم)
عمومی طور پر قابلیتوں اور مہارتوں کو تین بڑی اقسام میں تقسیم کرکے ان کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے:
ہم نے اس انداز کی تقسیم سے قطع نظر، اہمیت اور ضرورت کےحوالے سے ان صلاحیتوں کو ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔
گفتگو، رابطہ، اظہار خیال یا مواصلات
(رابطے کے لیے:basheerjuma@gmail.com)
سماجی زندگی میں لوگوں کی بڑی تعداد معاشی اعتبار سے کاروبار سے منسلک ہوتی ہے۔ مگر پیسہ کمانے کے باوجود اطمینان کی دولت سے خالی رہتی ہے۔ پیسہ ایک ہاتھ سے آتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے خرچ ہو جاتا ہے یا پھر بنکوں اور تجوریوں میں دفن رہتا ہے۔ یہاں پر کاروبار کی ان مختلف پہلوئوں میں ناکامی اور کامیابی کے عناصر پر نکات کی صورت میں روشنی ڈالی گئی ہے:
اجتماعی زندگی میں کام کرنے اور اپنےدفتر میں کام لینے کے لیے اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر کام کی خاطر چند خوبیاں درکار ہیں۔ اس سلسلے میں ان باتوں کی طرف توجہ دیجیے:
بعض اوقات جس چوراہے پر یا جس گلی میں ٹریفک جام ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں آپ خود ہی مسئلے کا ایک حل نکالتے ہیں اور قربانی دیتے ہوئے اپنی گاڑی کو پیچھے کرتے ہیں۔ آپ کو دیکھتے ہوئے دوسرے لوگ بھی یہ قربانی دیتے ہیں اور بالآخر سب کے لیے راستہ کھل جاتا ہے۔ ریورس گیئر گاڑی کا ایک سسٹم ہے۔ ضرورت کے وقت اس کو لگانے سے گاڑی کی قیمت کم نہیں ہوتی، بلکہ گاڑی کی قدر بڑھتی ہے۔ گاڑی چلانے والے کو لوگ مسکرا کر اور ہاتھ ہلا ہلا کر شکریہ ادا کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ بعض اوقات سہولت اور آسانی اور کشادگی کے لیے اس چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمیں اپنی زندگی میں ایسی منصوبہ بندی کرنے کی عادت ہونی چاہیے کہ آیندہ پوری زندگی اس انداز سے گزرے کہ ہمار ا آج کا دن، گذشتہ کل سے بہتر ہو اور آنے والا دن آج کے دن سے بہتر ہو۔اے اللہ تو ہمارے آج کے دن کے پہلے حصے کو ہمارے کاموں کی درستی، درمیانے حصے کو بہبودی اور آخری حصے کو کامرانی بنادے، آمین!
یا د رکھیے وقت کو بچایا نہیں جاسکتا بلکہ اسے بہتر طریقے سے استعمال کرنے کو ہی وقت بچانا سمجھا جاتا ہے۔وقت کی بچت کے سلسلے میں سب سے زیادہ مددگار اور معاون وہ شعور اورسوچ ہوتی ہے جو انسان وقت کی نسبت سے اپنے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر پہلوئوں پر ہماری نظر رہنی چاہیے ، جن میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
یہاں وقت بچانے کے حوالے سے مختلف ماہرین کی آرا اور مشوروں کو جمع کیا گیا ہے۔ ان ماہرین نےاپنے اپنے تمدن و ثقافت اور حالات کے مطابق مشورے دیے ہیں۔چند دن ان مشوروں پر عمل کریں، آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ نتائج غیر متوقع طور پر کتنے حوصلہ افزا ہیں۔ ہم نے ان مشوروں اور اشارات کو تین گروپس میں تقسیم کیا ہے : l ذاتی یا انفرادی زندگی اور تعلیمی زندگی
حسن بصریؒ فرماتے ہیں: اے ابن آدم!دن تمھارے پاس مہمان ہوکرآتا ہے اس لیے اس کے ساتھ بہتر سلوک کرو۔ اگر تم بہتر سلوک کرو گے تو وہ تمھاری تعریف کرتے ہوئے چلا جائے گا۔ اگر بدتر سلوک کرو گے تو تمھاری مذمت کرتے ہوئے چلا جائے گا۔ اسی طرح رات کا بھی معاملہ ہے۔
ان ہی کا قول ہے: ابن آدم پر آنے والا ہر دن کہتا ہے اے ابن آدم! میں نئی مخلوق ہوں، تیرے کاموں پر گواہ ہوں، اس لیے مجھ سے فائدہ اُٹھا کیوں کہ جب مَیں چلا جائوں گا تو قیامت تک واپس نہیں آئوں گا۔ تم جو چاہو اگلی زندگی کے لیے پیش کرو، تم اس کو اپنے سامنے پائوگے اور جو چاہو پیچھے کرو وہ لوٹ کر دوبارہ تمھارے پاس نہیں آئے گا۔
منصوبہ بندی اور فہرست اُمور کی تکمیل کے بعد اور ان کے نفاذ کے دوران رکاوٹوں سے بچنے اور بہترین نتائج و ثمرات حاصل کرنے کے لیے چند ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:
مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِيْ جَوْفِہٖ ۰ۚ (الاحزاب ۳۳:۴) اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں بنارکھے۔
فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ O (الم نشرح ۹۴:۷) جب تم فارغ ہوجائوتو میری عبادت کے لیے کھڑے ہوجائو۔
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت ۲۹:۶۹) جو ہم میں کوشش اور مجاہدہ کرتے ہیں، ہم ان کے لیے اپنے راستے کھول دیتے ہیں۔
نگرانی اور جائزے کا مطلب سابقہ منصوبے کے نفاذ کا موازنہ اس مقصد سے کرنا کہ غلطیوں کا تعین کیا جائے اور مثبت اُمور سے فائدہ اُٹھایا جائے اور منفی اُمور سے بچا جائے۔
فعال نگرانی کرنے کے اوصاف مندرجہ ذیل ہیں:
نگرانی کی نوعیت
مفہوم
فوری
نگرانی اور جائزہ منصوبے کے نفاذ کے ساتھ ہی الاوّل فالاول کے اعتبار سے کی جائے تاکہ وقت نکلنے سے پہلے کوتاہیوں اور خامیوں کا علاج کیا جاسکے۔
استمراری
نگرانی مسلسل جاری رہے اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد نتائج کو جمع کیا جائے۔
اقتصادی
وقت اور محنت فائدہ سے زیادہ نہ خرچ کیے جائیں۔
اصلاحی
صرف غلطیوں کو لکھنے اور نفس کو ڈانٹنے کے مقصد سے نہ ہو۔
مضبوط
صرف حقیقت سے ہٹ کر جامد کارروائیاں نہ ہوں بلکہ منصوبہ اور اس کو نافذ کرنے کے حالات بھی مناسب ہوں۔
ہنگامی حالات اور وقت بہ وقت پیش آنے والی مشکلات زندگی کی نشانی ہے۔ جب تک انسان کام کرتا رہتا ہے اس کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ جس انسان کو مشکلات کا سامنا نہیں رہتا وہ وہی انسان ہو سکتا ہے جو کام نہیں کرتا۔ منصوبہ بندی سے ان مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے اور ان کو حل کرنے میں مددمل سکتی ہے لیکن مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ انسان کے لیے اپنے منصوبے میں مشکلات کے حل کا پروگرام بنانا بھی ضروری ہے۔
سماجی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عبقری لوگوں میں تین اوصاف مشترک رہتے ہیں، اس کے علاوہ بھی بعض مشترک اوصاف ہیں، جو درج ذیل ہیں :
اب تک آپ نے محسوس کر لیا ہو گا کہ منصوبے بنانا اور مقاصد طے کرنا بنیادی طور پر فیصلہ کرنا ہی ہے، اور فیصلہ کرنا اصل میں مسئلہ حل کرنے والی بات ہے۔ مسئلے کو ٹھیک سے سمجھ لینا آدھا مسئلہ حل کرنے کے برابر ہوتا ہے۔ درج ذیل رہنما اصول مسائل اور رکاوٹوں کو عبور کرنے کے لیے معاون ہوں گے۔
ہم سب آج ایک تکنیکی دور میں جی رہے ہیں، جہاں چاند پر جانا، برقی آلات کا استعمال یا شمسی توانائی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پیچیدگی عام سی بات ہو گئی ہے۔ لہٰذا ہم بھی زندگی کے ہر موڑ پر پیچیدگی کی ہی توقع کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ معاشرے کا قانون بن گیا ہے کہ اب سادہ انداز میں کچھ بھی نہیں ہوتا اور بعض دفعہ تو ایسا ہوتا ہے کہ آسان اور مشکل حل میںسے فیصلہ کرنا پڑے تو ہم بے جا طور پر مشکل راستہ ہی چنتے ہیں۔
اکثر ہم مشکل کو بس ایک ہی انداز میںدیکھنے کے عادی ہوتے ہیں،جس سے ہماری فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو شدید صدمہ پہنچتا ہے۔ لطیفہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ ایک ٹرک انڈرپاس سرنگ میں پھنس گیا۔ اسے نکالنے کے لیے انجینیروں کی ٹیم بلائی گئی۔ انھوں نے اپنی مہارت کے مطابق کیلکو لیٹر نکالا اور حساب کتاب شروع کردیا۔ ٹرک کا وزن پوچھ رہے ہیں، کبھی لمبائی ناپ رہے ہیں۔ آخر ایک چھوٹا سا لڑکا جو وہاں پاس ہی کھڑا تھا، آ کر کہنے لگا: ’انکل! آپ ٹائروں سے ہوا کیوں نہیںکم کر دیتے ‘۔ اسی وقت مسئلہ حل ہو گیا۔ جتنا ہم مسائل پر زیادہ طریقوں سے غور کرتے ہیں، اتنا ہماری غلطیاں کم ہوتی جاتی ہیں۔
جب کوئی مسئلہ پیدا ہو، اسی وقت اس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ طالب علم امتحان سے پہلے نصاب تعلیم کی کتابوں کے مطالعے پر توجہ دیتا ہے تو کامیاب ہوتا ہے۔ کسان کے لیے ضروری ہے کہ وقت پر فصل کاٹ لے، ورنہ ساری محنت ضائع جاسکتی ہے۔ اسی طرح سیاست دان، منتظم اور معاشی سرگرمی میں مصروف فرد کا معاملہ ہے۔ ہر لمحے اسے بروقت مسائل پر توجہ دینا چاہیے۔
بعض قائدین مختلف کاموں پر توجہ دیتے ہیں۔ اگر ایک طرف ایک کام کی طرف توجہ کرتے ہیں، تو ساتھ ہی اس سے ہٹ کر دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اس طرح وقت بھی برباد ہوتا ہے۔ اگروہ اپنی کوشش اور محنت وصلاحیت اپنی استطاعت کے کاموں میں لگاتے اور دوسروں کو ان کی استطاعت کا کام سپرد کرتے، تو تمام اُمور اچھے ڈھنگ سے ارادہ اور خواہش کے مطابق انجام پاتے۔ سب لوگ اپنی کوشش کرتے اور بہترین نتائج وثمرات سامنے آتے۔ مسئلہ ان قائدین کو پیش آتا ہے جو تمام کام اپنے ہاتھوں ہی سے انجام دینا پسند کرتے ہیں۔ انتظامی کاموں میں فی الحقیقت بڑے تجربات اور ذہنی فراغت کی ضرورت ہوتی ہے۔سمجھنا چاہیے کہ لازماً ہرکام کو انجام دینے کا شوق، بہت سے کاموں کو نظرانداز کرنے یا ناقص صورت میں انجام دینے اور محض تھکا دینے کا سبب بنتا ہے۔اس کے نتیجے میں کامل توجہ نہیں رہتی اور نتائج بھی پوری طرح سامنے نہیں آتے۔