القدس اور حرم کعبہ اپنی عظمت و حرمت کے لحاظ سے دنیا کی ہرمسلم آبادی کے لیے غیرمعمولی اہمیت کے حامل مقامات ہیں۔روئے زمین پر پہلا مرکز عبادت حرم کعبہ بیت اللہ ابوالانبیا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں تعمیر ہوا، اور قیامت تک کے لیے محترم جائے سجود قرار پایا۔
اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمان کی طرف دیکھنے اور دل سے قبلۂ ابراہیمی کو اختیار کرنے کی خواہش کو قبول فرماتے ہوئے ہدایت فرما دی کہ ہر صاحب ایمان جہاں کہیں بھی ہو، نماز ادا کرنے کے لیے حرم کعبہ کی طرف رخ کرے۔ لیکن بنی اسرائیل کی تاریخ میں ایک دور وہ بھی آیا جب حضرت سلیمانؑ کے تعمیر کردہ ہیکل سلیمانی کو بنی اسرائیل نے جو اس سے قبل کعبہ کی طرف ہی رخ کر کے دعائیں مانگتے تھے، اپنا قبلہ قرار دے دیا اورالقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کرنے لگے۔اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے اذِن سے نبی کریمؐ نے بھی مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد تقریباً ۱۴ ماہ تک القدس ہی کی طرف رُخ کر کے نماز ادا فرمائی اور جب ربِّ کریم نے حکم دیا تو بلاکسی تاخیر قبلۂ ابراہیمی کو اختیار فرما لیا۔اس علامتی طور پر تبدیلیِ امامت و قیادت نے قیامت تک کے لیے ہدایت کا راستہ اور اس کی طرف دعوت کی ذمہ داری اُمت مسلمہ کو تفویض فرما دی۔
مسلمانوں کے لیے الاقصیٰ کی اہمیت محض جذباتی نہیں بلکہ تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ قرآن کریم نے الاقصیٰ کے اردگرد کے علاقے کو مبارک قرار دیا ، یہیں حضرت ابراہیمؑ نے مسجد قائم کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر معراج کا آغاز بھی یہیں سے ہوا ۔اس مسجد کے قرب و جوار میں حضرت ابراہیمؑ اور بنی اسرائیل کے انبیاؑ کی آخری آرام گاہیں واقع ہیں ۔ ان اسباب کی بناپر القدس کی اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت ہرصاحب ِایمان کے دل میں جاگزیں ہے۔
یہی وہ القدس ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں سے عالمی استعمار اور صیہونی ناجائز تعاون کے نتیجے میں ظلم و جبر ،قتل و غارت اور حقوق انسانی کی پامالی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔غزہ کی مسلم اور عیسائی آبادی ناجائز طور پر قائم کردہ صیہونی اسرائیلی ریاست کے فضائی ،بری اور بحری تینوں راستوں سے بمباری کا ہدف بنی ہوئی ہے اور ہزار ہا معصوم بچے، خواتین، بزرگ، حتیٰ کہ ہسپتالوں میں داخل مریض بھی اسرائیلی بمباری اور قتل و غارت گری سے محفوظ نہیں ہیں۔ ہر لمحہ زندگی سے ہاتھ دھوتے اور شہادت کا درجہ پانے والے مظلوموں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ مسلم دنیا کا ضمیر صرف حمایتی بیانات تک محدود ہے۔
امریکا کی اسرائیلی صیہونیت کی حمایت علانیہ طور پر اسلحہ اور سیاسی حمایت کے ذریعے واضح ہو چکی ہے۔ مارچ۲۰۲۳ء میں امریکی کانگریس سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۴۸ء سے اب تک امریکا نے اسرائیل کی ۲۶۰ بلین ڈالر کی بیرونی امداد کی ہے، جس میں نصف جنگی سازوسامان پر صرف ہوئی ہے۔
اسی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں ۴۲ (بشمول حالیہ۲) مرتبہ ’ویٹو‘ کا حق استعمال کیا ہے۔ یورپی ممالک اسرائیل کی ہمدردی میں بچھے جا رہے ہیں لیکن وہ مسلم ممالک جن کی جغرافیائی سرحدیں فلسطین کے ساتھ ملی ہوئی ہیں، ان کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے، ان کے حقوق انسانی کی بحالی اور انھیں زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضروریات کی فراہمی کی کوئی سنجیدہ کوشش تاحال سامنے نہیں آئی ۔ البتہ سفارتی محاذ پر اس حوالے سے سرد مہری اور نیم دلی سے جاری کیے گئے بیانات تواتر سے جاری کیے جا رہے ہیں۔
تاریخی لحاظ سے ۶۳۸عیسوی میں حضرت عمر ؓکے دور میں مسلمانوں نے فلسطین کو فتح کیا اور حضرت عمر فاروق ؓ نے خود فلسطین جا کر وہاں کی غیر مسلم آبادی کو حقوق شہریت عطا کیے۔ حضرت عمرؓ کا یہ سفر تاریخ انسانی میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔اس سفر میں کلیسا کے سربراہ سےگفتگو کے دوران نماز کا وقت آیا تو پادری نے کہا کہ آپ یہیں نماز پڑھ لیں لیکن حضرت عمرؓ نے کلیسا سے کچھ فاصلہ پر جا کر نماز ادا فرمائی ۔انھیں خدشہ تھا کہ عیسائی عبادت گاہ میں ان کی نماز کی ادائیگی کو نظیر قرار دے کر بعد میں آنے والے مسلمان، عیسائی عبادت گاہ کو مسجد میں تبدیل نہ کردیں۔ دوسرے مذہب کے عبادت خانے کا ایک فاتح کی طرف سے یہ احترام تاریخ میں کہیں اورنہیں نظر آتا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے لے کر ساڑھےچار سو سال تک یہ علاقہ مسلمانوں کے زیر انتظام رہا۔ ۱۰۷۸ء میں سلجوقی اس کے حکمران بنے اور ۱۰۹۹ء میں کئی ممالک کی متحدہ عیسائی افواج نے مل کر حملہ کیا اور فلسطین پرعیسائی قابض ہو گئے ۔ اکتوبر ۱۱۸۷ ء میں صلاح الدین ایوبی (۱۱۳۷ء-۱۱۹۳ء)نے اسے دوبارہ فتح کیا اور رواداری اور عدل کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ ۱۵۱۷ء میں فلسطین کو عثمانی فرماں روا نے دوبارہ فتح کیا اور پھر ۴۰۰ سال یہ عثمانی ریاست کا حصہ رہا۔۱۹۰۸ء میں سلطان عبدالحمید کی برطرفی کے بعد مصطفیٰ کمال کی قیادت میں’نوجوان ترکوں‘کے زیر عنوان ترکی کو ایک سیکولر ریاست قرار دے دیا گیا۔ مصطفیٰ کمال نے پہلی جنگ عظیم کے دوران ۱۹۱۴ء میں غیر جانب دار رہنے کی بجائے جرمنی کے حلیف کے طور پر معاہدہ کرلیا تھا۔ دوسری جانب برطانیہ ،فرانس ،روس اور امریکا آپس میں اتحادی بن گئے اور جرمنی کی شکست کے بعد اتحادیوں نے ترک مقبوضات کو ایک نئے نقشے کے تحت آپس میں تقسیم کرلیا۔
۱۰؍ اگست ۱۹۲۰ء مسلم دنیا کی تاریخ میں وہ تاریک دن ہے جب فرانسیسی اور برطانوی استعمار کے نمایندوں نے سہیورس(Sevres) میں سائکس- پائی کوٹ(Sykes-Picot) معاہدہ کے نام سے ایک دستاویز کے ذریعے طے کیا کہ سلطنت عثمانیہ کو تتّر بتّر کرنے کے لیے فرانس کے حصے میں لبنان اور شام اور برطانیہ کی جھولی میں عراق، فلسطین اور اردن کو ڈال دیا جائے ۔تاکہ مسلم ممالک فرانس اور برطانیہ کے زیر سایہ زندگی بسر کر سکیں اور یہ دونوں ممالک مسلم دنیا کے قدرتی وسائل کو اپنی ترقی کے لیے استعمال کر سکیں۔
۱۹۱۴ءکے اعداد و شمار کے لحاظ سے فلسطین میں چھ لاکھ فلسطینی تھے اور یہودی بمشکل ۵۰ہزار تھے۔ آج اسرائیل کی دُوررس منصوبہ بندی اور مسلمانوں کی آنکھیں بند رکھنے کے نتیجے میں یہ تناسب اُلٹا ہے۔ فلسطین میں بمشکل ۲۰ فی صد مسلم آبادی ہے اور اس کو بھی قتل و غارت گری، دہشت گردی اور خوف کی فضا کے ذریعے مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلم ممالک آج بھی آنکھیں، کان اور عقل کو استعمال کرنے پر آمادہ نظر نہیں آ رہے۔
مسئلہ فلسطین کی تخلیق مغربی استعمار کی وسیع تر تخریبی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے فوراً بعد یورپی مسیحی اتحادی حکومتوں نے ایک وسیع تر تخریبی حکمت عملی کے تحت عثمانی مملکت کا جس نے غیر دانش مندانہ بنیاد پر جرمنی کا ساتھ دیا تھا، بٹوارےکا فیصلہ کیا تاکہ مسلم قوت کی مرکزیت کو ختم کر کے انھیں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹ دیا جائے ،جو ہمیشہ طاقت ور یورپی ممالک کی مدد طلب کرنے پر مجبور ہوں۔
برطانوی شاطر دو قدم اور آگے بڑھے اور برطانیہ کے ہائی کمشنر ہینری میکموہن نے اپنے ایک خفیہ خط کے ذریعے عثمانیہ ریاست کے مقرر کردہ والی شریف حسین کو عثمانیوں کے خلاف بغاوت پر ابھارا اور برطانوی حکومت کی جانب سے کسی اختیار کے بغیر شریف مکہ کو ایک نجی خط کے ذریعے برطانیہ کی جانب سے ایک آزاد مملکت کی سربراہی کی پیش کش کر دی، جسے شریف حسین نے بلا کسی تردد کےقبول کر لیا اور اس طرح عثمانی ریاست کے منتشر ہونے پر شام ، عراق ، فلسطین اور سعودی عرب سیاسی نقشے پر اُبھرے۔
نہ صرف یہ بلکہ برطانیہ نے کھلم کھلا فلسطین کے علاقے میں یہودی آباد کاری کے ایک منظم منصوبے کا بھی اہتمام کیا ۔دسمبر ۱۹۱۷ء میں برطانوی فوج نے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اوربرطانوی استعمار نے اگلے تیس برسوں میں اس خطے میں یہودی آباد کاری کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کیا اور مقامی سادہ لو ح افراد کی زمینیں اونی پونی قیمتوں پر دنیا بھر سے آنے والے یہودیوں نے خریدنی شروع کر دیں ۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کی ناجائزریاست کے قیام کے وقت اس میں بہ مشکل ۷لاکھ ۵۸ ہزار یہودی آباد تھے۔ ملک کا بٹوارا کرتے وقت کل رقبےکا ۵۶ فی صد رقبہ اسرائیل کو دیا گیا اور ۴۴ فی صد حصہ جہاں مسلمان اکثریت میں تھے، وہاں فلسطینی مسلمانوں اور عیسائیوں کو رہایشی حقوق دینے کا اعلان کیا گیا۔یہودی آبادی اس وقت کل آبادی کا بہ مشکل ایک تہائی تھی ۔ دوتہائی آبادی میں مسلمان اکثریت میں تھے اور قلیل تعداد میں عیسائی بھی آباد تھے۔ آج نا جائز مقبوضہ اسرائیل میں تقریباً ۱۸ لاکھ مسلمان ہیں ، جب کہ آبادی کے جائزوں اور گوشواروں میں مسلمانوں کی شرح پیدائش یہودیوں سے بہت زیادہ ہے ۔یہودی آبادی ۶۳ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
مشرق وسطیٰ کے وہ مسلم ممالک خصوصا ًجہاں عربی زبان رائج ہے ،وہ مسئلہ فلسطین کو فلسطینی عربوں اور یہودیوں کا تنازع سمجھتے ہیں اور اپنے سیاسی مصالح کو اولیت دیتے چلے آرہے ہیں اور اس نازک اور حساس معاملہ پر زبانی جمع خرچ سے زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتے۔اگر واقعی یہ صرف عربوں اور یہودیوں کا مسئلہ ہے تو وہ عرب ممالک جو کچھ عرصہ قبل معقول عسکری قوت رکھتے تھے، وہ سیاسی اور عسکری دباؤ کا استعمال کر کے مسئلہ کا سیاسی حل نکال سکتے تھے۔لیکن مصر ہو یا اُردن یا مراکش ان ممالک نے ایک ناجائز قابض حکومت کو نہ صرف تسلیم کرتے ہوئے اپنے سفارتی تعلقات ہی قائم نہیں کیے بلکہ خفیہ اداروں کے ذریعے معلومات کے تبادلے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ۲۰۲۰ء میں ’معاہدہ ابراہیم‘ (Abraham accord )کے عنوان سے امریکا کی سرپرستی میں خلیجی ریاستوں یو اے ای نے اسرائیل سے ایک ایسے شرمناک معاہدے پر دستخط کیے جو نہ صرف ایک اعترافِ جرم کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ صدیوں کی تاریخ کو غلط قرار دیتے ہوئے اصلاحات کرنے کے بعد ایک ایسی تاریخ تحریر کرنے کاپابند کرتا ہے جس میں کسی مقام پر جہاد کا تذکرہ نہ ہو اور صیہونیت کے خلاف ماضی میں جو کچھ قانونی یا دستوری اقدامات کیے گئے ہیں، انھیں منسوخ کرنے اور تاریخ کی نئی تعبیر کرنے کا پابند بناتا ہے ۔
یہ مسئلہ فقط عربوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک عالمی انسانی مسئلہ ہے۔ ۳۰ لاکھ سے اُوپر مقامی باشندوں کو حقوق انسانی سے محروم اور بے گھر کرنے اور بچوں، خواتین، بزرگوں اور جوانوں کو تشدد اور قتل و غارت گری کا نشانہ بنانے کی ذمہ داری صیہونی دہشت گردی پر ہے۔
یہ محض ایک مذہبی اختلافی مسئلہ بھی نہیں ہے کیونکہ صیہونی حکومت کو صحیح العقیدہ یہودی بھی یہودیت کانمایندہ نہیں سمجھتے۔ یہ ایک ناجائز حکومت کا نسلی برتری اورنسل پرستی (Racism) کی بنیاد پر نسل کشی (Genocide )کی پالیسی کے خلاف جدوجہد ہے، جو ہرباشعورانسان کی دل کی آواز ہے۔ اسرائیلی حکومت نسل پرست لادینی قومیت کی علَم بردار ہے، جب کہ فلسطین کے مسلمان صرف اپنے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور سرزمین پر اپنے آبائی حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ فلسطینی یہودیوں کی طرح مشرقی یورپ ، افریقہ اور دیگر ممالک سے نقل مکانی کر کے آنے والے افراد نہیں ہیں بلکہ صدیوں سے مسجد اقصیٰ کے ارد گرد آباد ہیں، جنہیں ان کے گھروں سے جارحیت اور قتل و غارت گری کے ذریعے بے گھر کیا جا رہا ہے ۔یہ مسلمانوں کے قبلۂ اول کی حفاظت کا مسئلہ ہے جو سیکولر ، صیہونی اسرائیلی حکومت کی نگاہ میں ایک غیر مطلوب عبادت گاہ ہے اور جسے مسمار کرنا ان کے مقاصد میں شامل ہے ۔غزہ میں حالیہ فضائی حملوں کے بعد زمینی بکتر بند حملے کا مطلب یہ ہے کہ جو جاندار بھی غزہ میں ہے ،اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے اور یہی وہ کام ہے جو ہلاکو خان نے بغداد میں کیا تھا۔ اس سفاکانہ عمل کی مخالفت اور اسرائیل کو اس سے باز رکھنا ہر انسان پر ایک فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔
جس بے شرمی کے ساتھ مغربی ممالک، ہندستان اور اقوام متحدہ نے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ بے اعتنائی اور انسانی حقوق کی پامالی کو گوارا کیا ہے، اس کے بعد ان اداروں اور ممالک سے کسی خیریا تعاون کی امید رکھنا عقل مندی کے منافی ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلم ممالک آنکھیں کھولیں اور خود کو مغربی اداروں کی معاشی غلامی سے نکالنے کے لیے ایک عالمی مالی ادارہ قائم کریں جو ان کے معاشی مسائل میں امداد کرے۔اس کے ساتھ ہی نظام تعلیم میں بنیادی اصلاحات کریں تاکہ قوم میں اعتماد پیدا کریں اور یوں القدس کی آزادی آج نہیں تو کل باشعور مسلم نوجوانوں کے ذریعے عملی شکل اختیار کرسکے۔
اقامت دین کی جدوجہد کرنے والی تمام تحریکات اسلامی کا ایک اہم ہدف اسلامی نظام عدل پر مبنی معاشرہ اور ریاست کا قیام ہے۔ ملک اور ملک کے باہر جہاں کہیں بھی ظلم و استحصال ہورہا ہو، حقوق انسانی پامال کیے جا رہے ہوں اور انسانی جان اور مال کی حرمت باقی نہ ہو، تو تحریک اسلامی پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ہرممکنہ ذریعے سے مظلوم اہل ایمان کی مدد کرے اور انھیں ظلم سے نجات دلائے۔
اس حوالے سے پہلا کرنے کا کام عوام و خواص کو مسئلے کی اصل نوعیت سے آگاہی فراہم کرنا ہے ۔اس غرض سے بڑے اور چھوٹے اجتماعات، وفود، گھر گھر جا کر مظلوم مسلمانوں کے لیے ادویات اور غذا فراہم کرنے کے لیے مالی وسائل کا جمع کرنا ،اسکولوں کالجوں اور جامعات میں امدادی فنڈ کی مہم کے ذریعے وسائل جمع کر کے جلد از جلد پوری ذمہ داری کے ساتھ مستحقین تک پہنچانا تحریک کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ مرکز جماعت کی جانب سے تمام اضلاع کو اس موضوع پر امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلی ہدایات دی جاچکی ہیں۔ ان کی روشنی میں ذیلی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ پوری تندہی سے اس فریضے کو سر انجام دیں۔
جتنی بڑی تعداد میں اسرائیلی جا رحیت کے نتیجے میں بچے، خواتین اور ضعیف افراد زخمی ہورہے ہیں، ان کے لیے مقامی طور پر طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ۷؍اکتوبر سے ۲۲؍اکتوبر تک صرف دو ہفتوں میں۷ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور ۱۵ہزار ۲سو۷۳؍ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ۱۱۱۹ خواتین اور دو ہزار ۳۵ بچّے شامل ہیں۔اسرائیلی بمباری نے ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں مریض ، ڈاکٹر اور طبی عملے کے افراد روزانہ کی بنیادوں پر شہید ، زخمی اور معذور ہو رہے ہیں ۔ علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور سر گرمی ضروری ہے ۔ اس حوالے سے تحریک کو ملکی اور عالمی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے غزہ کے مظلوموں کی جانوں کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ ایک انسانی فریضہ ہے اور کوشش کی جانی چاہیے کہ طبی امدای وفود کے لیے غزہ تک کے راستے سہولت میں تعاون کرے۔
تحریک سے وابستہ اصحاب علم کے لیے ضروری ہے کہ مسئلے فلسطین کے مختلف پہلوؤں پر علمی اور تحقیقی مواد (حقائق اور معلومات) تیار کریں اور یونی ورسٹیوں اور بیرون ملک اخبارات تک ای میل اور دیگر ابلاغی و سماجی میڈیا کے ذریعے دنیا تک پہنچانے کا اہتمام کریں۔
اس وقت سوشل میڈیا محاذِ جنگ کے بعد دوسرا اہم ترین محاذ بنا ہوا ہے ۔ سوشل میڈیا پر اسرائیل کی حمایت میں یہود و ہنود کے اشتراک سے جھوٹا پروپیگنڈا نقطۂ کمال پر ہے ۔ حماس کی تازہ کارروائی کے فوراً بعد اسرائل میں حماس کے ہاتھوں ۴۰ بچوں کے قتل کی جھوٹی خبر کو سوشل میڈیا پر پھیلا دیا گیا ۔ امریکی صدر نے بھی اس بنیاد پر حماس کے خلاف سخت ترین غیر سفارتی زبان میں اس عمل کی مذمت کی ۔ بعد ازاں خبر غلط ثابت ہوئی ۔ موبائل اور کمپیو ٹر کے ذریعے لڑی جانے والی اس جنگ کے لیے ہمیں بھی فعال ، ذہین اور مستعد افراد کے ذریعے منظم انداز میں روزانہ کی بنیاد پر جھوٹے پروپیگنڈے کا توڑ کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا محاذ کے ذریعے حسب ذیل اہداف پر توجہ کی ضرورت ہے :
اہم تاریخی اور نظریاتی اہمیت کے موضوعات ہمارے نصاب تعلیم کا حصہ نہیں ہیں۔جس کے باعث ہماری نوجوان نسل میں اہم نظریاتی موضوعات پر شعور کی کمی ہے ۔ ان حالات میں ہمیں ایسے پروگرام اور سرگرمیاں منعقد کرنی چاہییں جن کے نتیجے میں نوجوان نسل کے شعور میں اضافہ ہو۔ جامعات میں یونینوں پر پابندی کے باوجود ہر جامعہ میں طلبہ کی سرگرمیوں کے لیے سوسائٹیاں اور کلب موجود ہیں۔ مسئلہ فلسطین کی تاریخ، پس منظر، حقائق واضح کرنے کے لیے تقاریری مقابلے منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ ہینڈ بلوں، کتابچوں، اور سوشل میڈیا پوسٹوں کے ذریعے نوجوان نسل کو اس انسانی مسئلے کے حقائق اور تاریخی پس منظر سے آگاہ کرنے کا اہتمام ضروری ہے۔تعلیمی اداروں کی سطح پر پُرامن احتجاجی واک، شعور بیدار کرنے والی ریلیوں اور جلسوں کے ذریعے نوجوان نسل کی سیاسی جدوجہد کی تربیت کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔تعلیمی اداروں کی سطح پر مختلف ڈارما سوسائٹیوں کے قیام کے ذریعے ڈراموں اور مختصر تمثیلی خاکوں کے ذریعے غزہ کے مظلوموں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور عالمی سامراج کے دُہرے منافقانہ معیار کو اجاگر کیا جائے۔غرض ہر سطح کے تعلیمی اداروں میں نوجوانوں میں بیداری کے حصول کے لیے مختلف النوع تربیتی و آگاہی سرگرمیاں منعقدکرنا ضروری ہے۔ ان سرگرمیوں کے مختصر دورانیئے کے کلپس سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی شعور میں اضافے کا بھی سبب بنیں گے۔
غزہ کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک انسانی مسئلہ ہے جس میں لاکھوں لوگ اپنی سرزمین سے بے دخل کر کے جبری طور پر مہاجر بنائے جا رہے ہیں اور ان پر بنیادی ضروریات زندگی کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ظالمانہ بمباری کے ذریعے ہزراوں عورتوں ، بچوں ،مریضوں کو قتل عام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس عظیم انسانی المیے کے خلاف اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے مقامی دفاتر کے سامنے مظاہروں کا انعقاد کیا جائے اور قراردادیں جمع کروائی جائیں ،جن میں اقوام متحدہ کو ذمہ داری ادا کرنے پر متوجہ کیا جائے۔ اس صورت حال پر اقوام متحدہ سے سوال کیا جائے کہ اگر وہ انڈونیشیا میں عیسائیوں کے تحفظ کے لیے اقدام کر سکتی ہے تو وہ فلسطین کے نہتے اور مظلوم انسانوں کے لیے کیوں جنگ بندی نہیں کروا سکتی اور اسرائیل پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر ہرجانہ کیوں نہیں کر سکتی؟ اقوام متحدہ پر زور ڈالا جائے کہ وہ غزہ کے متاثرین تک طبی اور غذائی امداد کی فراہمی کے جلد از جلد انتظامات کرے۔
پاکستانی سیاست دان، دانش ور اور عوام عمومی طور پر مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم ؒ کے اصولی موقف سے آگاہ نہیں ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی قائدا عظمؒ کے موقف سے انحراف کی راہ پر گامزن ہے۔ قومی سطح پر تمام سیاسی جماعتوں سے روابط اور اس موضوع پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ تحریک کے زیر اہتمام عوامی احتجاجوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی شرکت سے یک جہتی کی فضا کے قیام میں مدد ملے گی ۔ تمام جماعتوں کے قائدین کو آل پارٹیز فلسطین کانفرنسوں میں مدعو کرکے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جاسکتا ہے۔ تمام جماعتوں کی جانب سے مشترکہ اعلامیوں اور قراردادوں میں حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ جنگ بندی کے قیام ، فوری طبی امداد و دیگر بنیادی ضروریات کے ذریعے متاثرین کی ہر ممکن فوری امداد کی ذمہ داری ادا کرے۔ نیز تمام ریاستی وسائل مثلاً ٹی وی ، ریڈیو ، اخبارات کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازع فلسطین کے تاریخی پس منظر اور اسرائیل کے سفاکانہ کردار کو پاکستان سمیت پوری دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کرے ۔
ذیل میں قائد اعظم ؒ کے فلسطین کے حوالے سے اصولی موقف کی ترجمانی کرنے والے اہم حوالے پیش کیے جا رہے ہیں ۔ قائداعظمؒ کے اصولی موقف کی روشنی میں قومی اتفاق رائے اور خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ وہ ۱۷فروری ۱۹۴۴ء کو اپنے ایک تارکے ذریعے پیغام میں مسٹر چرچل کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں :(روزنامہ ڈان، ۱۸فروری ۱۹۴۴ء)
America-Zionist propaganda supported by influential quarters causes alarm and serious apprehension. Any departure from White Paper and definite assurances given to Muslim India by Lord Linlithgow, Viceroy on behalf of His Majesty’s Government would be further act of flagrant injustice to Arabs and breach of faith. Not only Muslim India but entire Muslim world would deeply resent it. Consequences fraught with gravest danger.
بااثر حلقوں کی حمایت سے امریکی ور یہودی پروپیگنڈا زبردست خوف اور خطرے کو جنم دیتا ہے۔ قرطاسِ ابیض اور ان یقین دہانیوں سے کوئی انحراف جو وائسرائے لارڈ لنلتھگو نے ملک معظم کی حکومت کی جانب سے مسلم ہند کو کرائی تھی عربوں کے ساتھ صریحی ناانصافی اور عہدشکنی کی جانب ایک اور قدم ہوگا۔ نہ صرف مسلم ہند بلکہ پورا عالم اسلام اس کے خلاف اظہارِ ناراضی کرے گا۔ اس کے نتائج شدید تشویش اور سنگین خطرات کا باعث ہوں گے۔
اسی طرح کا ایک برقی پیغام میں (۲؍ اکتوبر۱۹۴۵ء) برطانوی وزیر اعظم مسٹر ایٹلی کو لکھتے ہیں:
President Truman's reported Palestine immigration proposal is unwarranted, encroaching upon another country, monstrous and highly unjust. Any departure from the White Paper and Britain’s pledge will not only be sacrilege and a breach of faith with Muslim India but an acid test of British honour. It is my duty to inform you that any surrender to appease Jewry at the sacrifice of Arabs would be deeply resented and vehemently resisted by the Muslim would and Muslim India and its consequences will be most disastrous.
فلسطین میں یہودیوں کی آمد کے بارے میں صدر ٹرومین کی تجویز، جو اخبارات میں شائع ہوئی، ناجائز، دوسرے ملک کے معاملے میں مداخلت، خوفناک اور نہایت غیرمنصفانہ ہے۔ قرطاس ابیض اور برطانیہ کے عہد سے ماورا کوئی اقدام نہ صرف [مذہبی] بے حُرمتی اور مسلمانانِ ہند کے ساتھ عہدشکنی ہوگی بلکہ برطانوی وقار کی آزمایش بھی ہوگی۔ مَیں یہ اطلاع دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ یہودیوں کی خوشامد کے لیے عربوں کو قربان گاہ کی بھینٹ چڑھانے کی سعی عالمِ اسلام اور مسلم ہند میں بے جا خفگی کا باعث ہوگی اور اس کی زبردست مزاحمت ہوگی اور اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے۔
۲۳ جنوری ۱۹۴۶ء کو اپنے ایک بیان میں اسی بات کو دُہراتے کرتے ہیں :
If there is going to be any departure from the policy declared by Britain in the White Paper on Palestine, Mussalmans in India cannot remain detached observers and will support the Arabs in any way they can.
However, boycott measures might be levelled against goods of Jewish origin, as indicated by the Agra Report that Muslim shopkeepers are already refusing to sell "Jewish cigarettes" (APA). (The Dawn, January 24, 1946).
اگر برطانیہ کی جانب سے فلسطین کے متعلق قرطاس ابیض میںا علان کردہ حکمت عملی سے انحراف ہوا تو مسلمانانِ ہند خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے، اور وہ ہرممکن طریقے سے عربوں کی حمایت کریں گے…تاہم یہودی الاصل اشیا کی خریدوفروخت کے مقاطعے کے اقدامات اختیار کیے جاسکتے ہیں، جیساکہ ’آگرہ رپورٹ‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں مسلمان دکان دار ’یہودی سگریٹ‘ فروخت کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
۲۴ دسمبر ۱۹۴۷ء کو یمن کے بادشاہ امام یحییٰ کے نام ان کے پیغام کے جواب میں اس عزم کا اظہار (روزنامہ پاکستان ٹائمز، ۲۵دسمبر ۱۹۴۷ء)کرتے ہیں:
I fully share your Majesty’s surprise and shock at the serious lack of judgment shown by the UNO by their unjust decision in respect of Palestine. I once more assure you and our Arab brethren that Pakistan will stand by them and do all that is possible to help and support them in their opposition on the UNO decision which is inherently unjust and outrageous.
اقوام متحدہ کے فلسطین کے حوالے سے انتہائی غیرذمہ دارانہ رویے کی بناپر کیے گئے غیرمنصفانہ فیصلے پر میں عزّت مآب کی حیرت اور صدمے کی کیفیت میں پوری طرح شریک ہوں۔ میں ایک بار پھر آپ کو اور اپنے عرب بھائیوں کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ اس مسئلے میں پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور اقوام متحدہ کے اس فیصلے کی مخالفت میں ان کی ہرممکن مدد اور حمایت کرے گا، جو کہ فطری طور پر غیرمنصفانہ، انتہائی شرمناک اور توہین آمیز ہے۔
قائد اعظمؒ نے بے شمار مواقع پر فلسطینی جہاد کی حمایت اور اسرائیل کو ایک ناجائز غاصبانہ ریاست قرار دیا تھا لیکن نئی نسل ان کے موقف سے آگاہ نہیں ہے ۔ ہم نے صرف دو تین حوالے انھی کے الفاظ میں درج کیے ہیں جنھیں ابلاغ عامہ کے ذریعے سے حکومت پاکستان کی سرکاری پالیسی کو طور پر بڑے پیمانے پر پھیلایا جا سکتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ فلسطین کے مجاہدین کی غیبی مدد فرمائے اور انھیں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں کامیابی دے ، یروشلم جس کا دار الخلافہ ہو اور دنیا بھر کے مسلمان مسجد الاقصیٰ میں آزادی کے ساتھ عبادت کی سعادت سے بہرہ مند ہوں ۔ اس عظیم مقصد کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو اللہ رب العزت شہادت کے اعلیٰ درجے سے نوازے (آمین)۔
اللہ نے قرآن کو آسان بنایا ہے: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ (القمر۵۴ :۱۷)، البتہ قرآن اپنی تفہیم کے لیے انسانوں سے غور وفکر اور تدبر کا تقاضا کرتا ہے: اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۲۴ (محمد۴۷:۲۴) ’’کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے چڑھے ہوئے ہیں؟‘‘
عام طور پر غوروتدبر دماغ کا کام تصور کیا جاتا ہے، لیکن اس آیت سے قرآن پر غوروفکر دل اور دماغ کی یکجائی کے بغیر ممکن نہیں۔ قرآن کے مطابق حقیقی اندھا وہ نہیں جو آنکھوں کی بینائی سے محروم ہے بلکہ وہ ہے جس کا دل اندھا ہو چکا ہے: فَاِنَّہَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ۴۶ (الحج ۲۲:۴۶) ’’حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں، یہ سینوں میں موجود دل ہیں جو اندھے ہو جاتے ہیں‘‘۔
اس آیت میں دل کا مقام بھی بتا دیا گیا ہے، جو سر نہیں، سینہ ہے۔ قرآن میں قلب کا لفظ محض خون کی پمپنگ مشین کے لیے نہیں، عقل و ہوش اور جذبات کے متوازن وسیلے کے لیے استعمال ہوا ہے۔
اس حقیقت کے پیش نظر لازم ہے کہ بار بار تلاوت کرکے قرآن کے اسلوب کو اپنے اندر جذب کیا جائے اور قرآن کا درس قرآنی اسلوب ہی میں دیا جائے۔ یہ بات کہنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارے ہاں درسِ قرآن تو بہت ہوتے ہیں، مگر اکثر دروس میں قرآن سے اخذ شدہ قرآنی اسلوب کم ہی نظر آتا ہے۔ واعظ کی اپنی نصیحت اور روایات کی بھر مار سے بوجھل درس اگر محض نکتہ آفرینیوں کا مجموعہ بن جائے، تو ایسے دروس کے ذریعے عوام الناس کی بڑی تعداد کو قرآن سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ محترم خرم مراد کے بقول مدرس کو چاہیے کہ وہ قرآن اور اپنے سامعین کے درمیان زیادہ حائل نہ ہو اور نکتہ آفرینیوں میں پڑنے کے بجائے اپنے سننے والوں کو آیت کے مفہوم سے جوڑے رکھے۔
قرآن کے اسلوبِ درس کے ضمن میں ذیل میں چند نکات پیش ہیں:
قرآن نے اپنے موقف کو مدُلّل کرنے کے لیے عقلی دلائل بھی دیے ہیں اور نقلی دلائل بھی۔ یہ دلائل وہ ہیں جن کو ہر دور، ہر جگہ اور ہر علمی سطح کا انسان سمجھنے کے قابل ہے۔ جیسے: حضرت یوسفؑ کا اپنے قید کےساتھیوں سے سوال: ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۳۹ۭ (یوسف ۱۲:۳۹) ’’بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟‘‘ لَوْ كَانَ فِيْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا ۰ۚ (الانبیاء۲۱:۲۲) ’’اگرآسمان وزمین میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو ان دونوں کا نظام بگڑ جاتا‘‘۔
یہ دونوں دلائل اتنے سادہ اور عام فہم ہیں کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہویا بالکل اَن پڑھ، وہ بھی توحید کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح آخرت کے انعقاد اور عدالت الٰہی کےقیام پر اس دلیل کا کوئی ایک بھی انکار نہیں کر سکتا: اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ۳۵ۭ مَا لَكُمْ ۰۪ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ۳۶ۚ (القلم۶۸: ۳۵-۳۶) ’’کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں جیسا کر دیں؟ تمھیں کیا ہو گیا ہے، یہ تم کیسے حکم لگاتے ہو؟‘‘ ہَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۰ۭ (الزمر۳۹:۹)’’ کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘
بہت سی طبیعتیں عقلی دلائل کی طرف تو رجحان نہیں رکھتیں، لیکن تاریخی مقامات و قصص سے عبرت پکڑتی ہیں، گویا انھیں نقلی دلائل متاثر کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن میں حضرت آدم اور ابلیس، ہابیل و قابیل، طوفانِ نوحؑ، عاد و ثمود کی تباہی، ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کی سرگزشت، قومِ لوط پر عذاب، موسٰی و فرعون کا معرکہ، موسٰی و خضر ؑکا مکالمہ، بنی اسرائیل کا طرزِ عمل، اصحابِ کہف، ذوالقرنین، اصحاب الاخدود اور اصحاب الفیل کے عبرت آموز واقعات بیان ہوئے ہیں جن سے عرب مانوس تھے۔ اہل عرب نے یا تو ان مقات و کھنڈرات کو دیکھا ہوا تھا، یا وہ جن قوموں سے میل جول رکھتے تھے، ان کے ہاں یہ واقعات زبان زدِ عام تھے۔
اس لیے درس دیتے وقت شرکا کے مشاہدے کا بھی لحاظ رکھنا ہوگا۔ سائنسی اکتشافات اور فلسفیانہ استدلال، سامعین کو قرآن سے جوڑنے کے بجائے دُور کرنے کا باعث بنتا ہے۔
قرآن کے بنیادی موضوعات توحید، رسالت اور آخرت بار بار بیان ہوئے ہیں، عموماً ایک موضوع کی تکرار اور تعلیم و تدریس کا ایک ہی انداز سامعین اور قارئین کے لیے اکتاہٹ کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے قرآن ایک ہی موضوع کو سمجھانے کے لیے اس کے مختلف پہلوئوں کو مختلف مقامات پر مختلف انداز میں بیان کرتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّہُمْ يَفْقَہُوْنَ۶۵(الانعام۶:۶۵)’’دیکھو! ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی آیات ان کے سامنے پیش کررہے ہیں تاکہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں‘‘۔
تکرار سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک تصریفِ آیات کس قدر ضروری ہے۔ ایک مدرس کے لیے ضروری ہے کہ ہرمرتبہ نئے ڈھنگ اور آہنگ کے ساتھ درس کو ترتیب دے۔ یعنی نئی مثالوں، نئے واقعات اور نئے دلائل سے اپنی گفتگو کو مزین کرے اور زبان و بیان کی ایسی یکسانیت سے بچنے کی کوشش کرے جو اس کے سامعین میں اکتاہٹ پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہو۔
سوال اُٹھانا: کبھی قرآن انسان کو تدبّر پر یوں اُبھارتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے: یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ، اور کبھی یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ کہہ کر جواب دیتا ہے۔ کبھی انسان کو چونکانے کا یہ انداز ہے: وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ۱۷ۙثُمَّ مَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ۱۸ۭ (الانفطار۸۲: ۱۷-۱۸) اور کبھی اَلْقَارِعَۃُ۱ۙ مَا الْقَارِعَۃُ۲ۚوَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَۃُ۳ۭ (القارعۃ۱۰۱: ۱-۳)۔کبھی ایک ہی مضمون کے فہم کے لیے مختلف مثالیں بیان کرتا ہے۔ کبھی انسانی عقل کو اس طرح بھی اپیل کرتا ہے:اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ۳۵ۭ مَا لَكُمْ۰۪ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ۳۶ ۚ(القلم۶۸: ۳۵-۳۶)’’کیا ہم اطاعت گزاروں اور مجرموں کو برابر کر دیں گے؟ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ایسے فیصلے کرتے ہو؟‘‘ فرمایا: ہَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۰ۭ (الزمر۳۹:۹)’’کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘۔
کبھی انسانی فطرت میں برائی کے لیے موجود کراہت کو یوں انگیخت دیتا ہے کہ غیبت کے گھنائونے پن کو نمایاں کرنے کے لیے یہ سوال سب کے سامنے رکھتا ہے:
اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْہِ مَيْتًا (الحجرات۴۹:۱۲)کیا تمھارے اندر کوئی ایسا بھی ہے جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے؟
ایک اچھے معلّم و مربیّ کا یہی طریقہ ہے کہ وہ محض نصیحت اور زجرو توبیخ ہی نہ کرے بلکہ انسانی طبیعت میں برائی سے نفرت اور نیکی کی طرف رغبت کا جو جذبہ موجود ہے، اسے بھی اُبھارے۔
سورۃ النساء آیت۳۴ میں جہاں یہ بیان ہوا کہ ’’مرد عورتوں پر نگران ہیں‘‘وہاں ساتھ مردوں کو یہ یاد دہانی کرا دی گئی کہ تمھیں اگر عورتوں پر بالادست اور صاحب ِاختیار بنایا گیا ہے، تو اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنے اوپر اپنے رب کی پکڑ کا بھی دھیان رکھنا کہ وہ تم سے بھی زیادہ بالادست ہے۔
یہ بیان کیا گیا کہ رحمٰن کے بندے تو ان ان صفات کے حامل ہوتے ہیں، تاکہ ہر انسان اپنے کردار کا خود جائزہ لے کہ وہ رحمن کا بندہ کہلانے کا حق دار ہے یا شیطان کابندہ کہلانے کا سزاوار؟
قرآنی تربیت کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ وہ ہر لمحہ فرد میں اُمید اور خوف کی کیفیت کو اس طرح قائم رکھتا ہے کہ انسان نہ تو خدا کی گرفت سے بے خوف ہو سکے اور نہ اس کی رحمت و مغفرت سے مایوس ہو جائے۔ چنانچہ جہاں اس نے عذابِ جہنم کا ذکر کیا ہے ساتھ ہی جنت کی بشارت اور اس کی نعمتوں کا تفصیلی تذکرہ بھی کیا ہے۔
قرآن میں بنیادی انسانی اخلاقیات کو اُبھار کر بھی اسلامی عقائد و اصولوں کی افادیت اور فرضیت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ جیسے سورۃ الماعون میں یوم جزا کو جھٹلانے والے کی اس بدخلقی کا ذکر ہے کہ وہ نہ تو یتیم کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا ہے اور نہ روزمرہ کے استعمال کی چھوٹی موٹی اشیا عاریتاً کسی کو برتنے کے لیے دیتاہے۔ کبھی ان کے سامنے دو قسم کے کردار رکھ کر خود ان میں سے اپنے لیے کسی کردار کا انتخاب کرنے کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ جیسے سورئہ بقرہ کی آیت۲۰۴ سے ۲۰۷ میں پہلے باتوں سے دل موہ لینے والے ایک دنیا پرست انسان کا ذکر ہے۔ پھر اس کے برعکس ایک کردار ایسے شخص کا ہے جو محض رضائے الٰہی کے حصول کے لیے اپنی جان تک کودائو پر لگائے رکھتا ہے۔
سَيَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَۃٌ رَّابِعُہُمْ كَلْبُہُمْ۰ۚ وَيَقُوْلُوْنَ خَمْسَۃٌ سَادِسُہُمْ كَلْبُہُمْ رَجْمًۢـــا بِالْغَيْبِ۰ۚ وَيَقُوْلُوْنَ سَبْعَۃٌ وَّثَامِنُہُمْ كَلْبُہُمْ۰ۭ (الکہف۱۸:۲۲)کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور کچھ دوسرے کہیں گے وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔
آیت کی تفسیر میں مولانا مودودی لکھتے ہیں:’’مطلب یہ کہ اصل چیز ان کی تعداد نہیں ہے بلکہ اصل چیز وہ سبق ہیں جو اس قصے سے ملتے ہیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک سچے مومن کو کسی حال میں حق سے منہ موڑنے اور باطل کے سامنے سرجھکانے کے لیے تیار نہ ہونا چاہیے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کا اعتماد اسبابِ دنیا پر نہیں بلکہ اللہ پر ہونا چاہیے۔ ان سے توجہ ہٹا کر اس کھوج میں لگ جانا کہ اصحابِ کہف کتنے تھے اور کتنے نہ تھے اور ان کے نام کیا کیا تھے اور ان کا کتا کس رنگ کا تھا؟ یہ ان لوگوں کا کام ہے جو مغز کو چھوڑ کر چھلکوں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبیؐ کو اور آپؐ کے واسطے سے اہل ایمان کو یہ تعلیم دی کہ اگر دوسرے لوگ اس طرح کی غیر متعلق بحثیں چھیڑیں بھی تو تم ان میں نہ الجھو، نہ ایسے سوالات کی تحقیق میں اپنا وقت ضائع کرو۔ اپنی توجہ صرف کام کی بات پر مرکوز رکھو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے خود ان کی صحیح تعداد بیان نہیں فرمائی تاکہ شوقِ فضول رکھنے والوں کو غذا نہ ملے‘‘۔(تفہیم القرآنج۳،ص۲۰)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو فرمایا:وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِــمِيْنَ۳۵ (البقرۃ۲:۳۵)’’اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے‘‘۔
اب یہ درخت کون سا تھا؟ اسرائیلی روایات کے زیر اثر ہمارے ہاں اس پر بحثیں ہوئیں کہ گندم کا تھا یا انجیر یا کوئی اور۔ لیکن اللہ نے آدمؑ کو آزمانے اور یہ دکھانے کے لیے کہ شیطان اسے کس کس طریقے سے بہکائے گا، ایک درخت کو مقرر کر دیا۔ اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کون سا درخت ہے؟ لہٰذا، قرآن اور صحیح احادیث میں اس درخت کے نام کی کوئی بحث نہیں ملتی۔
سورج، چاند، ستاروں، شجرو حجر اور سمندروں کو کس طرح انسان کے لیے مسخر کر دیا ہے؟ جب کہ اپنے اچھے اعمال کو شرک کے ذریعے گدلا کر دینے والے کو اس عورت سے تشبیہ دی ہے جو محنت سےکاتے ہوئے سوت کو خود ہی ضائع کر دیتی ہے۔ موقف کو مدلّل کرنے کے لیے انبیا ؑ اور ان کی مخاطب اقوام کے مکالمے اور واقعات بیان کیے ہیں۔ اس لیے قرآن کی طرف بلانے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے درس میں محض عقلی و فکری دلائل ہی نہ دے بلکہ اپنے استدلال کو مثالوں، تاریخی واقعات اور روز مرہ زندگی کے ہلکے پھلکے واقعات سے مزین کرے۔ اس لیے کہ ہر دور کا انسان قصے کہانیوں سے دلچسپی رکھتا ہے اور واقعات سے سبق حاصل کرتا ہے۔
اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ۱ۭ فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ۲ۙ وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۳ۭ (الماعون۱۰۷: ۱-۳) تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اُکساتا۔
كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ۱۷ۙ وَلَا تَحٰۗضُّوْنَ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۱۸ۙ وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا۱۹ۙ وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۲۰ۭ (الفجر۸۹: ۱۷-۲۰) بلکہ تم یتیم کی تکریم نہیں کرتے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں ابھارتے اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔
جب اہل جنت دوزخیوں سے پوچھیں گے کہ تمھیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی تو اس کی ایک وجہ یہ بیان کریں گے:وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَ۴۴ۙ(المدثر۷۴:۴۴) ’’اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے‘‘۔
یتیم و مسکین کے صرف کھانے پینے کی ہی ضرورت کو پورا کرنا کافی نہیں، انسان ہونے کے ناطے وہ عزت و تکریم کے بھی مستحق ہیں۔ عموماً کمزوروں کو دینے والے ان کی بے توقیری کر رہے ہوتے ہیں۔ قرآن نے اسے انسان کی ایک بڑی خامی بتایا ہے:كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ۱۷ۙ(الفجر۸۹:۱۷)’’ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت کرتے ہی نہیں‘‘۔
یتیم اور ضرورت مند سائل کی عزّتِ نفس کے خیال رکھنے کی ہدایت نزول قرآن کے ابتدائی دنوں سے آپؐ کو کی جارہی تھی، فرمایا: فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْہَرْ۹ۭ وَاَمَّا السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْہَرْ۱۰ۭ(الضحٰی۹۳: ۹-۱۰)’’پس یتیم پر سختی نہ کرو اور سائل کو نہ جھڑکو‘‘۔
ایسا صدقہ جس میں ضرورت مند کو ذہنی اذیت دی جائے، اسے تو نہ دینا بہتر ہے۔ فرمایا:
قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ يَّتْبَعُہَآ اَذًى۰ۭ (البقرۃ۲:۲۶۳) ایک میٹھا بول اور (ضرورت مند کی کسی ناگوار بات پر)چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دُکھ ہو۔
یہاں پر قادیانیت کے حوالے سے تین سوالوں کا جائزہ لینا پیش نظر ہے:
یہ سوال عام طور پر اُٹھایا جاتا ہے کہ’ ’قادیانی کلمہ پڑھتے ہیں، بلکہ ہمارے روکنے کے باوجود پڑھتے ہیں، قرآن کریم بھی پڑھتے ہیں، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی لیتے ہیں، بیت اللہ کی بات بھی کرتے ہیں، تو وہ مسلمان کیوں نہیں ہیں؟‘‘ آج کی یونی ورسٹیوں، جدید تعلیمی اداروں اور عالمی ماحول میں یہ سوال اکثر پڑھے لکھے دوستوں سے کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر ان حضرات سے جو دینی ماحول سے فاصلے پر ہیں، اور جن کا مسجد، مدرسے، کسی دینی جماعت یا دعوت و تبلیغ کے ساتھ براہِ راست تعلق نہیں ہے، ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ’قادیانی کلمہ پڑھنے کے باوجود مسلمان کیوں نہیں ہیں؟‘
یہی سوال سب سے پہلے علامہ محمد اقبال مرحوم و مغفور سے پنڈت نہرو نے کیا تھا، جب علّامہ اقبال نے انگریز حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’’قادیانیوں کو ہمارے کھاتے میں نہ لکھا جائے بلکہ ہم سے الگ غیر مسلموں میں لکھا جائے، یہ ہمارے مذہب و ملت کا حصہ نہیں ہیں‘‘۔ پنڈت نہرو نے علامہ اقبال سے سوال کیا کہ ’’جب قادیانی کلمہ پڑھتے ہیں، محمد رسول اللہ کو مانتے ہیں، قرآن پاک کی بات کرتے ہیں، تو یہ مسلمان کیوں نہیں ہیں؟‘‘
مطلب یہ کہ یہ پرانی بات ہے، کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ طبقے سے قادیانی اسی سوال سے بات کا آغاز کرتے ہیں۔ اس لیے تعلیم یافتہ طبقے، وکلا، تاجر برادری اور طلبہ سے گزارش یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ اور پنڈت نہرو کی خط و کتابت پڑھیں۔ اصل انگریزی میں ہے، جب کہ اس کا اردو ترجمہ بھی کتابی شکل میں موجود ہے۔ اگر کتابی صورت میں حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو انٹرنیٹ پر بہ سہولت پڑھا اور پرنٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس مکالمے میں علامہ اقبال ؒنے اس سوال کی وضاحت کی تھی کہ قادیانی کلمہ پڑھنے کے باوجود، جناب نبی کریمؐ کو اللہ کا رسول کہنے کے باوجود اور قرآن پاک پڑھنے کے باوجود مسلمان کیوں نہیں ہیں۔
علامہ اقبالؒ نے نہرو کو یہ جواب دیا کہ پیغمبر وہ ہوتا ہے جو خود اتھارٹی ہو، جس کو کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ ہر ایک کو دلیل کی ضرورت پڑتی ہے، چاہے کوئی امام، خلیفہ، مجتہد یا فقیہ ہو، وہ قرآن یا حدیث کا حوالہ دینے کا پابند ہوتا ہے۔ پیغمبر وہ واحد شخصیت ہوتی ہے جس کو کسی حوالے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ خود اتھارٹی ہوتا ہے۔ اس لیے جب کسی امت میں پیغمبر بدل جاتا ہے تو مذہب بدل جاتا ہے، کیونکہ نبی کے بدلنے سے اتھارٹی تبدیل ہو جاتی ہے۔
دوسرے موقعے پر یہ مسئلہ سر ظفر اللہ خان نے اپنے عمل سے واضح کیا تھا جو کہ قادیانی جماعت کے بڑے قائدین میں سے تھے، پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ تھے۔ جب قائد اعظمؒ کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ کراچی میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے پڑھایا۔ جنازے میں ہزاروں لوگ موجود تھے۔ دوسرے ملکوں کے سفیر بھی آئے ہوئے تھے، اس وقت ان میں سے غیرمسلم سفیر جنازے میں شریک نہیں ہوئے بلکہ احتراماً ایک صف میں الگ قطار بنا کر کھڑے ہوئے۔ جب ظفر اللہ خان آئے تو وہ جنازے میں شامل ہونے کے بجائے غیر ملکی سفیروں کی صف میں جا کر کھڑے ہو گئے اور قائد اعظمؒ کا جنازہ نہیں پڑھا۔
جب جنازہ ہو گیا تو صحافیوں نے ظفر اللہ خان سے سوال کیا کہ ’’قائد اعظمؒ آپ کے گورنر جنرل ہیں، آپ ان کے وزیر خارجہ ہیں، تو آپ ان کے جنازے میں کیوں شریک نہیں ہوئے اور غیر مسلم سفیروں کی قطار میں کیوں کھڑے رہے؟‘‘ تو ظفراللہ خان نے اس وقت دوٹوک بات کی جو تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ایک مسلمان حکومت کا کافر، یا کافر حکومت کا مسلمان وزیر خارجہ سمجھ لیں‘‘___ یعنی یا قائد اعظمؒ مسلمان نہیں ہیں یا میں مسلمان نہیں ہوں۔ مسلمان کا جنازہ غیر مسلم نے نہیں پڑھا یا غیر مسلم کا جنازہ مسلمان نے نہیں پڑھا، یہ بات کہ قادیانی اور مسلمان ایک نہیں ہیں، تاریخ میں اس کی شہادت خود ظفراللہ خان نے بھی دی۔
۱۹۸۷ء میں مجھے امریکا جانے کا اتفاق ہوا، جہاں پر ایک یہودی جرنلسٹ سے نیویارک میں میری ملاقات ہوئی۔ انھیں کسی نے بتایا تھا کہ پاکستان سے ایک مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں، اور ختم نبوت کی تحریک سے ان کا تعلق ہے۔ وہ میرے پاس تشریف لائے، انٹرویو کے دوران انھوں نے سوال کیا کہ ’’جب قادیانی قرآن کو مانتے ہیں، اللہ کو، محمدؐ رسول اللہ کو اور بیت اللہ کو مانتے ہیں، تو آپ کے نزدیک وہ مسلمان کیوں نہیں ہیں؟‘‘ میں نے کہا:’’ مسلمان ہونے کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کو ماننا ضروری تو ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے، بلکہ مسلمان ہونے کے لیے اس کے بعد کسی اور کو نہ ماننا بھی ضروری ہے‘‘۔
پھر مثال کے طور پر بات کی کہ ’’آپ اس لیے یہودی ہیں کہ آپ حضرت موسٰی کو اور تورات کو مانتے ہیں۔ بالکل اسی طرح میں بھی حضرت موسٰی اور تورات کو مانتا ہوں، تو کیا آپ مجھے یہودی تسلیم کریں گے؟‘‘ اس نے کہا کہ ’’نہیں‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ تو اس نے کہا ’’کیونکہ آپ اس کے بعد ایک اور نبی اور کتاب کو مانتے ہیں، اس لیے آپ کو یہودی تسلیم نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ پھر میں نے سوال کیا کہ ’’مسیحی کیوں عیسائی کہلاتے ہیں؟‘‘ اس نے کہا کہ ’’وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اور انجیل کو مانتے ہیں، اس لیے عیسائی ہیں‘‘۔ میں نے کہا’’میں بھی انجیل اور حضرت عیسٰیؑ کو مانتا ہوں بلکہ ہم مسلمان تو عیسائیوں سے بڑھ کر انھیں مانتے ہیں لیکن اگر خدانخواستہ دنیا کے کسی فورم پر میں دعویٰ کروں کہ مجھے عیسائی تسلیم کیا جائے، تو کیا آپ یا وہاں پر موجود پادری مجھے عیسائی تسلیم کرلیں گے؟‘‘ اس نے کہا:’’ نہیں‘‘۔ میں نے کہا: ’’کیوں؟‘‘ تو اس نے کہا کہ ’’آپ حضرت عیسٰیؑ اور انجیل کو تو مانتے ہیں لیکن چونکہ ان کے بعد حضرت محمدؐ کو اور قرآن مجید کو بھی مانتے ہیں، اس لیے آپ عیسائی کہلانے کے حق دار نہیں ہیں‘‘۔
اُن سے یہ بھی کہا کہ ’’یقیناً ہمیں تورات اور حضرت موسٰی کو ماننے، انجیل اور حضرت عیسٰیؑ کو ماننے کے باوجود یہودی یا عیسائی کہلانے کا حق نہیں، کیونکہ ہم اس کے بعد نیا نبی اور نئی وحی تسلیم کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر چونکہ قرآن مجید کے بعد اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قادیانی نئی وحی اور نیا نبی مانتے ہیں۔ اس لیے وہ بھی مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں ہیں۔ جس دلیل پر میں عیسائی نہیں ہوں، اسی دلیل پر قادیانی بھی مسلمان نہیں ہیں۔ جس دلیل پر میں یہودی کہلانے کا حق دار نہیں ہوں، اسی دلیل پر قادیانی بھی مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں ہیں۔ یہی بات علامہ اقبالؒ نے پنڈت نہرو سے اپنے انداز میں کہی تھی‘‘۔
اسی طرح امریکا کے شہر ہیوسٹن کے ریڈیو پر مذاکرے میں گفتگو کے دوران میں نے یہی بات کی تو ایک ٹیلی فون آیا کہ ’’میں مسیحی پادری ہوں، میرا انڈیا سے تعلق ہے، میرا آپ سے ایک سوال ہے کہ ہم اس آدمی کو مسلمان سمجھتے ہیں جو قرآن پاک کو اور حضرت محمد کو مانتا ہو۔ قادیانی قرآن پاک اور حضرت محمد کو مانتے ہیں تو آپ ان کو کیوں مسلمان شمار نہیں کرتے؟‘‘ میں نے ان سے سوال کیا کہ ’’آپ مورمنز کو جانتے ہیں؟‘‘
مورمنز امریکا میں ایک کمیونٹی ہے جس کے بانی نے مرزائے قادیان کی طرح نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور نئی بائبل لکھی تھی۔ پادری صاحب نے جواب میں اُلٹا مجھ سے پوچھا کہ ’’کیا آپ مورمنز کو جانتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا کہ ’’آپ سے زیادہ جانتا ہوں‘‘۔ میں نے ان سے کہا کہ ’’کیا کیتھولک، پروٹسٹنٹ یا آرتھوڈکس فرقہ کے لوگ مورمنز کو کسی مسیحی چرچ کا حصہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں؟‘‘ (یاد رہے کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور آرتھوڈکس عیسائیوں کے تین بڑے فرقے ہیں)۔ اس نے کہا: ’’نہیں‘‘۔ تو میں نے کہا: ’’کیوں؟‘‘ اس نے کہا: ’’اس لیے کہ مورمنز نیا نبی اور نئی کتاب مانتے ہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا:’’ تمھارے ہاں مورمنز نئی کتاب اور نئی وحی ماننے کی وجہ سے تم سے الگ ہو گئے ہیں اور ہمارے ہاں قادیانی نئی وحی اور نیا نبی ماننے کی وجہ سے ہم سے الگ کیوں نہیں ہوئے؟ اس لیے قادیانی جتنا مرضی دعوٰی کر لیں، جب تک وہ جعلی اور نئی نبوت سے دست بردار نہیں ہوں گے اور نئے ’وحی و الہام‘ سے براءت کا اعلان نہیں کریں گے، اس وقت تک انھیں قطعاً مسلمان تسلیم نہیں کیا جا سکتا‘‘۔
دوسری بات یہ ہے کہ عام طور پر ہمارے تعلیم یافتہ طبقے سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ ’’قادیانی مسلمان نہ سہی، لیکن پاکستان کے شہری تو ہیں، ان کے شہری حقوق ہیں۔ آپ بطور شہری اور بطور ملکی باشندے کے ان کے جو حقوق ہیں وہ کیوں نہیں دیتے؟‘‘ اس پر میں دوباتیں عرض کروں گا:
میں نے نیویارک میں اُسی یہودی سے بھی یہی بات کی تھی کہ ’’بات حقوق کی نہیں بلکہ ٹائٹل کی ہے۔ قادیانی اپنا ٹائٹل تسلیم کریں، اس ٹائٹل کے تحت جو حق ان کا بنتا ہے وہ ہم مانیں گے اور دینے کے لیے تیار ہیں، مگر وہ ہمارے ٹائٹل کے ساتھ حق مانگنے والے کون ہوتے ہیں؟ وہ اپنا ٹائٹل اور اپنا اسٹیٹس تسلیم کریں اور اس کے تحت حقوق کا مطالبہ کریں‘‘۔ میں نے اس سلسلے میں ایک مثال دی کہ مثلاً سو سال سے ایک پرانی کمپنی چلی آ رہی ہے جس کی ساکھ اور مارکیٹ ہے، اس کا تعارف اور ایک بھرم ہے، اس کا مونوگرام اور سٹیمپ ہے۔ اس سو سال پرانی فرم میں سے چند آدمی نکل کر نئی فرم بنانا چاہیں تو بنا لیں، اس میں پرانی کمپنی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اس نئی فرم کو پرانی فرم کا نام استعمال کرنے کا حق کوئی نہیں دے گا۔ اس کا ٹائٹل، مونوگرام، اسٹیمپ اور لیٹر ہیڈ استعمال کرنے کا حق نہیں ہے ۔ اگر نئی فرم پرانی فرم کی شناخت استعمال کرے گی تو اس کو قانون کی زبان میں فراڈ کہتے ہیں۔ اس لیے قادیانی ہمارے نام پر حقوق کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں؟ جب ان کی کمپنی نئی ہے تو اپنی کمپنی کو نیا نام دیں اور اس کے تحت حقوق کا مطالبہ کریں۔ مارکیٹ دیکھ لے گی کہ کس کا مال لینا ہے اور کس کا نہیں لینا۔ ہمارا سیدھا سادا مطالبہ ہے کہ اپنا سودا اپنے نام سے بیچو، ہمارے نام سے بیچنے کی تمھیں اجازت نہیں دی جا سکتی۔
’’دوسری بات یہ ہے کہ قادیانی پاکستان میں شہری حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں تو وہ کسی قاعدے قانون کے مطابق حقوق مانگ رہے ہیں یا ویسے ہی مانگ رہے ہیں؟ حقوق مانگنے اور حقوق لینے کا کوئی قاعدہ، قانون اور طریقہ بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ یہ تو نہیں کہ جس کا جو جی چاہے وہ اپنا حق سمجھ کر مانگنے لگ جائے۔ امریکا میں کسی نے اپنے حقوق لینے ہیں تو اس کا معیار وہاں کے دستور کو تسلیم کرنا ہے۔ اگر ایک آدمی امریکا کے دستور ہی کو نہیں مانتا، مگر شہری حقوق مانگتا ہے تو کیا امریکا اس کو وہ حق دے گا؟ یا ایک آدمی برطانیہ میں رہتا ہے اور وہاں کے دستور، قانون اور اس کے سسٹم کو تو نہیں مانتا لیکن حقوق مانگتا ہے، تو کیا برطانیہ اس کو وہ حقوق دے گا؟ یقینی بات ہے کہ دستور تسلیم نہ کرنے والوں کو غیر قانونی شہری کہا جاتا ہے۔ میرا قادیانیوں سے بالکل یہی سوال ہے کہ حقوق کا مطالبہ درست ہے لیکن کون سے دستور کے تحت حقوق مانگتے ہیں؟ پاکستان میں حقوق کے لیے تو پاکستان کا دستور چلے گا۔ اور تم نصف صدی سے پاکستان کے دستور کے ساتھ ساری دنیا میں جھگڑا لگائے بیٹھے ہو کہ ہم اس کو نہیں مانتے‘‘۔
اگر امریکا میں کوئی آدمی غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ مجھے ووٹ کا حق دو، تو کیا امریکا اس کو ووٹ کا حق دے گا؟ اگر برطانیہ میں کوئی غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ مجھے ووٹ کا حق دو، تو کیا برطانیہ اس کا ووٹ کا حق تسلیم کرے گا؟ قادیانی یہ بات یادرکھیں کہ ان کے لیے دو ہی راستے ہیں یا ’نئی نبوت‘ اور ’وحی‘ سے براءت کا اعلان کر کے پرانے کیمپ میں واپس آ جائیں تو ہم ان کو قبول کر لیں گے، یا اپنا ٹائٹل الگ کریں، یہ جعل سازی نہیں چلے گی۔
تیسرا سوال کسی اور کا نہیں خود میرا ہے۔ اس سوال کے جواب کا فیصلہ آپ کریں گے۔ کسی بھی ملک میں جو لوگ دستور کو مانے بغیر غیر قانونی طور پر رہتے ہیں، ایسے لوگ ’غیر قانونی‘ کہلاتے ہیں۔ ان کو ملک کا شہری بننے کے لیے درخواست دینی پڑتی ہے اور شرائط پوری کرنی پڑتی ہیں۔ اس کے بغیر انھیں ملک کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔ قادیانی شرائط پوری نہیں کر رہے، حتیٰ کہ پاکستان کے دستور کو بھی نہیں مان رہے، تو سوال یہ ہے کہ وہ ملک کے شہری کیسے کہلا سکتے ہیں؟ دستور کو نہ صرف یہ کہ تسلیم نہیں کرتے بلکہ دستور کو چیلنج کر رہے ہیں اور پوری دنیا میں دستور کے خلاف مورچہ بندی کیے ہوئے ہیں۔ ان سے نمٹنا کس کی ذمہ داری ہے؟یہ بڑا نازک سوال ہے کہ ایک آبادی ملک کا دستور نہیں مان رہی، تو ان پر دستور اور پارلیمنٹ کے فیصلے کی رٹ قائم کرنا اور ان سے عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ منوانا آخر کس کی ذمہ داری ہے؟
یہ ان اداروں کی ذمہ داری ہے جو ریاست اور قانون کی رٹ کو چیلنج کرنے پر کریک ڈاؤن کرتے ہیں۔ جو اداروں کی بالادستی سے انکار کرنے والوں کے خلاف آپریشن کرتے ہیں۔ پاکستان میں کئی آپریشن ہو چکے ہیں جن کی ہم نے تائید کی ہے اور یہ سب آپریشن اسی بنیاد پر ہوئے ہیں کہ جو لوگ ریاست کی رٹ تسلیم نہیں کرتے، ان سے ریاست کی رٹ منوانے کے لیے آپریشنز اور کریک ڈاؤن ہوئے۔ کئی پارٹیاں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے پر خلافِ قانون قرار دی گئی ہیں۔ اگر بیسیوں جماعتیں قانون اور ریاست کی رٹ کو تسلیم نہ کرنے پر خلافِ قانون ہو سکتی ہیں، اگر بہت سے حلقوں کے خلاف ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے پر آپریشن ہو سکتے ہیں، تو قادیانی بھی دستور کی رٹ کو تسلیم نہیں کرتے، ان کے خلاف آپریشن اور کریک ڈاؤن کیوں نہیں ہوتا؟ یہ کام کس نے کرنا ہے اور کس کی ذمہ داری ہے؟
میرا یہ سوال اور مطالبہ ان سے ہے جو رٹ قائم کیا کرتے ہیں۔ سیدھی سیدھی بات ہے یا قادیانیوں سے رٹ تسلیم کرواؤ، ورنہ انھیں خلافِ قانون قرار دے کر کریک ڈاؤن کرو۔ ہمارے ساتھ یہ گول مول معاملہ نہ کرو کہ قومی اسمبلی میں کبھی کوئی بل لے آئے اور کبھی کوئی بل بڑی عجلت اور دھوکے سے منظور کروا لیا۔ ہم تو اپنے مقتدر حلقوں کے ساتھ ایسا نہیں کرتے۔ ملک کے دفاع کے لیے، ریاست کی رٹ، قانون کی حکمرانی اور دستور کی بالادستی قائم کرنے کے لیے جہاں آواز دی، ہم ساتھ کھڑے ہوئے، لیکن خدا کے لیے یہ بھی ملک کے مفاد کا تقاضا ہے، قوم کے فیصلے اور دستور کی رٹ کا تقاضا ہے، اس لیے کچھ مہربانی آپ بھی فرما دیں!
انسانی زندگی جب شکارچی دور (Hunter Gatherer Age) سے زرعی دور میں تبدیل ہوئی تو حکومت کے ادارے اور ذاتی ملکیت کے تصوّر نے جنم لیا۔ حکومتی ادارے کا آغاز قبائلی سردار کی شکل میں ہوا جو سارے قبیلے کی حفاظت کا ذمہ دار تھا۔ سارے ذائع پیداوار سردار کی ملکیت تھے۔ لوگ زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں کام کرتے۔ فصل کی کٹائی کے موقع پر سردار سب لوگوں کو ان کی ضروریات کے مطابق گندم اور دوسری اشیا فراہم کردیتے۔ چونکہ ساری ملکیت (زمین اور پیداوار) سردارکی تھی اس لیے قبائلی انتظامی اُمور کے لیے قبیلے کے لوگوں سے کسی قسم کی وصولی (ٹیکس وغیرہ کی شکل میں) نہ کی جاتی۔ معاشرتی زندگی کی یہ پہلی شکل دراصل ایک قسم کا ’فطری سوشلزم‘ (Natural Socialism) تھا، جس میں لوگ اپنی استعداد کے مطابق کام کرتے اور ضرورت کے مطابق ضروریاتِ زندگی حاصل کرلیتے۔
جب معاشرتی زندگی زیادہ منظّم ہوئی تو ذاتی ملکیت کا آغاز ہوا۔ افراد بڑے بڑے قطعاتِ اراضی پر قابض ہوئے اور اس زمین کی پیداوار کے مالک ٹھہرے۔ حکومت کا ادارہ اب قبائلی سردار سے بادشاہت میں تبدیل ہوا۔ بہت سے قبائلی سردار ایک طاقت ور بادشاہ کے وفادار ہوئے۔ معاشرہ تین قسم کے طبقات میں تقسیم ہوگیا: اوّل: شاہی خاندان، دوم: حکومتی مشینری کے کارندے، شاہ کے مصاحب اور فوج کے لوگ، سوم:عام لوگ، کسان، تاجر اور غلام وغیرہ۔ اُمورِ حکومت اور شاہی اخراجات پورے کرنے کے لیے زرعی ٹیکس لگایا گیا۔ اوّلین دور کی حکومتوں کا بڑا ذریعۂ آمدن زرعی پیداوار پر ٹیکس تھا۔ بادشاہ رعایا کو پُرامن ماحول مہیا کرتے اور اس کے عوض ان سے ٹیکس وصول کرتے ۔ کچھ عرصہ بعد تجارت پر بھی ٹیکس لگادیا گیا۔ کہا جاتا ہےکہ پہلا تجارتی ٹیکس رومن شہنشاہ جولیس سیزر نے لگایا تھا، جو شروع میں ایک فی صد تھا۔ ساتویں صدی کے آغاز میں دو بڑی عالمی طاقتوں (ایران اور روم) میں زراعت اور تجارت پر ٹیکس تھا۔ یہ محصولات کسی ضابطے اور قانون کے مطابق نہیں تھے کیونکہ شاہی اخراجات میں اضافہ اور دوسری ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کی شرح میں اضافہ ہوجاتا تھا اور یہ وصولیاں طاقت کے زور پر کی جاتی تھیں۔
۶۲۲ء میں جب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کی تو شہر میں کوئی مرکزی حکومت نہ تھی۔ البتہ شہر میں معاشیات کی بنا پرطبقاتی تقسیم موجود تھی۔ اوس و خزرج کے دوبڑے قبیلے زراعت پیشہ تھے، جب کہ تجارت تمام تر یہودیوں کے پاس تھی۔ شہر میں چار تجارتی منڈیاں یہودیوں کی ملکیت تھیں اور تجارت پر ٹیکس تھا جو تاجروں سے یہودی وصول کرتے۔ تاجر ٹیکس کی رقوم اشیا کی قیمتوں میں شامل کرکے صارفین سے وصول کرلیتے۔ اس کے علاوہ یہودی سود پر لین دین بھی کرتے تھے۔ ’بیع‘ کا کاروبار (اشیا کی خریدوفروخت) میں یہودیوں کے خریدنے کے برتن اور تھے اور فروخت کرنے کے اور۔ سادہ الفاظ میں جب رسولؐ اللہ ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو یہ ریاست منظم سیاسی نظام کے بغیر تھی، جب کہ اس کا معاشی نظام استحصال پر مبنی تھا۔ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دس سالہ دورِ حکومت کو عام طور پر یہودیوں کی اندرونی سازشوں اور قریش مکہ کی جارحیت کے حوالے سے ہی بیان کیا جاتاہے۔
درحقیقت ان جنگی مہمات کے ساتھ ساتھ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے سیاسی اور معاشی نظام بھی نافذ کیا تھا، جس کی ہدایات قرآن میں نازل ہوئی تھیں۔ اس معاشی نظام میں تجارت پر کوئی ٹیکس نہیں تھا۔ حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے اسلام نے زکوٰۃ اور عُشر کا نظام دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ صدقات کی ترغیب بھی تھی۔ مسلم تہذیب کے زوال کے بعد دین کا ذکر صرف عبادات اور اخلاقیات کے بیان تک محدود ہوگیا۔ آج اکیسویں صدی کی دُنیا مختلف قسموں کے ٹیکس کی زد میں ہے، جس سے عالمی سطح پر غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم اسلامی نظامِ محصولات (زکوٰۃ، عُشر اور صدقات) کی بات کریں گے جو آج بھی مشترکہ خوش حالی (shared prosperity) کی ضمانت دیتا ہے۔
اگرچہ معاشیات کے بارے میں ذکر قرآن کی کئی صورتوں میں ملتا ہے، مگر سب سے زیادہ تفصیل سورئہ بقرہ کی آخری آیات (۲۶۱ سے ۲۸۴ تک) میں درج ہے، جن سے اسلامی معاشی نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ معاشی نظام سادہ الفاظ میں تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے: اوّل، پیداوار کا عمل (production process)۔ دوم،اس پیداواری عمل کے ماحصل (نفع یانقصان) کی عاملین پیداوار میں تقسیم (distribution process)۔ سوم، کمائے ہوئے منافع میں سے خرچ۔ دورِحاضر کی اکنامکس میں خرچ کرنے پر بہت زور ہے کیونکہ اس سے اکانومی میں طلب پیدا ہوتی ہے اور کاروبار کا پہیہ تیزی سے گھومتا ہے۔ قرآن بھی معاشی نظام کے بیان کا آغاز خرچ کرنے سے کرتا ہے۔
سورئہ بقرہ کی ۲۶۱ سے لے کر ۲۷۴ آیت تک ایک ہی مفہوم کی باربار اور نئے نئے انداز سے خرچ کرنے کی تلقین اور تاکید ہے۔ یُنْفِقُوْنَ کا یہ تواتر اور تسلسل شاید ہی قرآن میں کسی اور جگہ آیا ہو۔ اس کا ایک خاص مقصد ہے کیونکہ معاشی نظام کا سب سے اہم پہلو اپنے زورِبازو سے کمائی ہوئی دولت کے خرچ کرنے کے بارے میں ہے۔ نظامِ سرمایہ داری میں دولت کے کمانے پر بہت زور ہے مگر کمائی ہوئی دولت کو خرچ کرنے کی کھلی آزادی ہے۔ جب معاشرہ یُنْفِقُوْنَ کے تصور سے بے خبر اور ناآشنا ہوجاتا ہے، تو غریب اور امیر کی خلیج گہری ہوتی جاتی ہے جیساکہ اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ مغربی ممالک میں ہوا ہے۔ ان ممالک میں پیداواری عمل تو بہت زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں بے تحاشا دولت پیدا ہوئی ہے مگر وہ صرف سرمایہ رکھنے والے کی ذات کے لیے ہے۔
اگرچہ آج کے ترقی یافتہ مغربی ممالک میں ’مشترکہ خوش حالی‘ کا بہت شوروغوغا ہے، مگر اس کے لیے کوئی نظامِ فکر اور پیمانۂ عمل موجود نہیں۔یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ معاشی نظام کے آغاز ہی سے افراد کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ دولت جو تم بڑی محنت اور جانفشانی سے کماتے ہو، اس میں ان لوگوں کا بھی حصہ ہے جو زندگی کی معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس بات کا یقین کروانے کے لیے قرآن ایک اور دلیل بیان کرتا ہے کہ ’’دوسروں پر خرچ کرنے سے مال بڑھتا ہے‘‘۔ مروجہ عقل و دانش کے مطابق خرچ کرنے سے مال کم ہوتا ہے، مگر دانش بُرہانی اس کے برعکس ہے۔ پیداوار کے عمل میں مصروف افراد جب اس معاشی دانائی سے آگاہ ہوجائیں تو تجارت فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ساتویں صدی کی ریاست مدینہ میں یہی ہوا تھا۔
یُنْفِقُوْنَ کی بصیرت سے افراد کو مزین کرنے کے بعد قرآن پیداواری عمل کی بات کرتا ہے، یعنی تجارت میں سرمایے کا استعمال۔ تجارت میں دولت پیدا کرنے کے لیے سرمایے کا دوطرح سے استعمال ہوتا ہے: پہلی صورت اشیا و خدمات (goods and services) کی تیاری اور مارکیٹ میں تبادلے کے سلسلے میں سرمایے کا استعمال ہے۔ اکنامکس کی زبان میں اسے use of money as medium of exchange کہتے ہیں۔ عربی زبان میں یہ ’بیع‘ کا کاروبار ہے، جس کا ماحصل نفع یا نقصان ہے۔ سرمایے کا دوسرا استعمال اسے دوسرے لوگوں کو معینہ عرصےاور پہلے سے طے شدہ اضافی قیمت پر بیچ دینا ہے، یعنی سرمایے کو سود پر اُدھار دے دینا۔اکنامکس کی زبان میں یہ use of money as commodity ہے، جسے عربی زبان میں ’ربا‘کہتے ہیں۔
سورئہ بقرہ کی ۹ آیات (۲۷۵ تا ۲۸۳) میں ’ربا‘ اور اس سے وابستہ معاملات کی وضاحت ہے۔ قرآن نے پہلے ’بیع ‘کو حلال اورساتھ ہی ’ربا‘ کو حرام قرار دیا۔ اس کے بعد تجارتی لین دین کا ذکر ہے۔ اُدھار قرض کی صورت میں (چاہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ) اسے بطورِ خاص ضابطۂ تحریر میں لانا اور اس پر گواہ قائم کرنا ضروری ہے۔ براہِ راست لین دین کو بطورِ خاص لکھنے کا حکم نہیں۔ اس کے علاوہ لکھنے والے اور گواہ بننے والے افراد پر ہرقسم کے دبائو سے منع کیا گیا ہے۔ اس طرح قرآن،سارے پیداواری عمل (production process) سے سود کو مکمل طور پر نکال دیتا ہے۔ افراد کے یقین کو پختہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ سود سے حاصل ہونے والی کمائی اللہ کی رحمت و برکت سے خالی ہوکر کم ہوجاتی ہے، جب کہ صدقات والی رقوم کو اللہ بڑھاتا ہے۔ ساتھ ہی سخت الفاظ میں خبردار کردیا گیا، اگر سود سے باز نہیں آئو گے تو اللہ اور اُس کے رسولؐ سے جنگ کے لیے تیارہوجائو۔ سادہ الفاظ میں اسلام کا معاشی پیداواری عمل تمام تر ’بیع‘ کے کاروبار پر مشتمل ہے۔
یہاں پر اس حقیقت سے آگاہ رہنا بہت ضروری ہے کہ ہجرت کے بعد حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں قرآنی احکام کی روشنی میں بیع پر مبنی معاشی نظام نافذ کرنے کے لیے مارکیٹ (منڈی) بنائی تھی۔ اُس وقت مدینہ میں یہودیوں کی چار مارکیٹیں تھیں، جن میں ’بیع‘ اور ’ربا‘ کے کاروبار موجود تھے۔ جب قرآن نے ’بیع‘ کو حلال اور ’ربا‘ کو حرام قرار دیا تو یہودیوں نے سوال اُٹھایا:’’ ’بیع‘ اور ’ربا‘ تو ایک دوسرے کی مانند ہیں‘‘۔ جس پر قرآن نے وضاحت فرمائی کہ ’بیع‘ میں فلاح اور سود میں ہلاکت ہے۔ یہودیوں کا سوال (’بیع‘ اور ’ربا‘ میں مماثلت) دراصل تجارت میں پوشیدہ ایک بہت بڑی حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ ہدایت ِ ربانی کی غیرموجودگی میں ’بیع‘ کا کاروبار بھی آخرکار دھوکا دہی، لوٹ کھسوٹ اور استحصال کی طرف لے جاتاہے۔ مدینہ میں یہودیوں کا ’بیع‘ کا کاروبار بھی جھوٹ اور دھوکادہی پر مبنی تھا۔ ان کے اشیا خریدنے اور بیچنے کے پیمانے (برتن) مختلف تھے۔ جن سے خرید کے وقت زیادہ اجناس لیتے اور فروخت کے وقت کم اجناس دیتے۔ اس استحصال کو ختم کرنے کے لیے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی مارکیٹ میں سچی تجارت اور سچے تاجر کی اہمیت پر زور دیا، جس کے باعث تجارت لوٹ کھسوٹ کے بجائے معاشرتی فلاح کا ذریعہ بن گئی۔
یہاں پھر سورئہ بقرہ کا ذکر ضروری ہے کہ جس میں دومرتبہ (آیت ۲۱۵ اور ۲۱۹) ایک ایسا سوال پوچھا گیا تھا، جس کا اس سے پہلے پوری انسانی تاریخ میں ذکر نہیں ملتا۔ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ (ہم کیا خرچ کریں؟)۔ قرآن کے دونوں جواب ایک دوسرے کی تکمیل کرتے تھے۔ پہلا ارشاد (آیت ۲۱۵) ’والدین، رشتہ دار، یتیم، ضرورت مند اور مسافروں پر خرچ‘ کرنے کا ہے۔ دوسرے جواب (آیت ۲۱۹) میں ’مشترکہ خوش حالی‘ کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ’جو ضرورت سے زیادہ ہے، وہ دوسروں کو دے دو‘۔ اس مختصر آیت میں اشتراکیت کے طریق کار کی نفی موجود ہے، جس کے تحت روسی حکومت فاضل سرمایہ رکھنے والے لوگوں سے زبردستی چھین کر غریب لوگوں میں تقسیم کرتی تھی۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ قرآن نے ساتویں صدی میں ہی بعد میں پیدا ہونے والے معاشی مسائل کی نشان دہی کرکے ان کی پیش بندی کا ضابطہ بیان کردیا تھا۔
اُمورِ حکومت کو چلانے کے لیے اسلام دو بڑے محاصل کی اجازت دیتا ہے۔ تجارت سے آمدنی پر ۲ء۵ فی صد زکوٰۃ اور زمین سے پیداوار پر۱۰ فی صد کے حساب سے عُشر ہے۔عُشر فصل کی کٹائی کے وقت ادا کرنا ہوتا ہے۔ زکوٰۃ کی ہدایات اور اس کے مصارف کی تفصیل سورئہ توبہ (۹:۶۰) اور عُشر کے احکامات سورئہ بقرہ (۲:۲۶۴) میں اور سورئہ انعام (۶: ۱۴۱) میں نازل ہوئے۔ انھی احکامات کے پیش نظر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں قائم کی جانے والی پہلی اسلامی مارکیٹ میں مقامی تجارت پر ہرقسم کا ٹیکس ختم کردیا تھا۔ اس انقلابی قدم نے یہودیوں کی مستحکم اور بڑی دیر سے کام کرنے والی چاروں منڈیوں کو چاروں شانے چت کردیا۔
ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں یہ معاشی انقلاب سہ طرفہ تھا۔ اوّل: اشیا کے پیدا کرنے والے لوگ اب اسلامی مارکیٹ میں اپنی اشیا لانے لگے، کیونکہ یہودیوں کی منڈیوں میں ان لوگوں کی اشیا پر ٹیکس تھے۔ دوم:یہودی تاجروں سے بھی ٹیکس وصول کرتے تھے۔ تاجروں کے لیے کاروبار میں آسانی اب ٹیکس فری اسلامی مارکیٹ میں تھی۔ اس لیے تاجر بھی اسلامی مارکیٹ میں آگئے۔ سوم: ٹیکس کے باعث اشیا کی قیمت یہودیوں کی مارکیٹ میں زیادہ تھی اور اسلامی مارکیٹ میں کم۔ کیونکہ تاجر ادا شدہ ٹیکس کو اشیا کی قیمتوں میں شامل کرلیتے تھے۔ اس طرح صارفین کی ترجیح بھی خیمے کے نیچے قائم کی جانے والی اسلامی مارکیٹ تھی۔ یہاں پر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ ’’اسلام میں مقامی تجارت پر ٹیکس ختم کرنے کی عقلی توجیہہ کیا ہے؟ حالانکہ اسلام سے پہلے بھی تجارت پر ٹیکس تھا۔ آج کی دُنیا میں تو تاجر اور عوام تجارت پر طرح طرح کے ٹیکسوں (خاص طور پر پاکستان میں جنرل سیلز ٹیکس) سے عاجز ہیں‘‘۔
ٹیکس لگانے کا یہ بنیادی اصول ہے کہ ’’جب کسی معاشی عمل کے نتیجے میں آمدن ہو تو اس پر ٹیکس کا نفاذ حکومت کی طرف سے کیا جاتا ہے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے زرعی پیداوار پر ٹیکس کا آغاز ہوا تھا۔ جب آمدنی کے دوسرے ذرائع وجود میں آئے تو بالکل فطری طور پر ان پہ بھی ٹیکس وصول ہونا شروع ہوا۔ تجارت پر ٹیکس کے بارے میں کوئی دلیل اور جواز تاریخ میں نہیں ملتا۔ تجارت میں آخرکار آمدن تو تاجر کوہوتی ہے۔ خریدار تو اپنی آمدنی سے اشیاخریدتا ہے اور اس عمل کے نتیجے میں اس کی آمدن کم ہوجاتی ہے۔ جب تاجر پر ٹیکس لگایا جاتا ہے تو وہ اسے اشیا کی قیمتوں میں شامل کرکے صارفین سے وصول کرلیتا ہے۔ بادشاہ جنگی اخراجات کے لیے ٹیکس میں اضافہ کردیتے، اور عوام سے رقوم اکٹھی کرنے کے لیے نئے نئے طریقے ڈھونڈلیتے تھے۔ جولیس سیزر سے منسوب ایک فی صد سیلز ٹیکس کی اختراع بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی لگتی ہے۔ درحقیقت تجارت پر ٹیکس (سیلز ٹیکس) غیرفطری اور غیر حقیقی ہے کیونکہ عام طور پر یہ جنگی اخراجات اور انتظامیہ (بادشاہت ہو یا آمریت یا نام نہاد جمہوریت یا حکومتی انتظامی مشینری) ہی کے عیش و آرام کے لیے لوگوں سے وصول کیا جاتا ہے۔
جب قرآن نے زکوٰۃ اور عُشر کی اجازت دے دی تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت پر استحصالی ٹیکس مکمل طور پر ختم کردیا۔ مسنداحمد میں ہے کہ صَاحِبُ الْمَکْسِ فِی النَّارِ: ’’ٹیکس وصول کرنے والا جہنم میں ہوگا‘‘۔ (مسنداحمد، مسندالشامین، حدیث رُویفیع الانصاری، حدیث: ۱۶۶۹۵)۔ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انقلابی قدم ایک بہت بڑی معاشی دانائی کا حامل تھا، جس نے یہودیوں سے مدینہ کی معاشیات بھی چھین لی تھی۔ یہودی سردار کعب بن اشرف کا مدینہ کی خیمہ والی اسلامی مارکیٹ کی رسیاں کاٹنا صرف جذباتی عمل نہیں تھا بلکہ ان کی دیرینہ معاشی برتری بھی ان کے ہاتھوں سے نکل گئی تھی۔
مسلم دُنیا کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم نے قرآن اور سیرتِ نبویؐ کے مطالعے اور اس سے وابستگی کو صرف عبادات اور اخلاقیات کی حد تک ہی محدود رکھا ہے، جس کے باعث قرآن اور سیرتِ نبویؐ کے آفاقی پہلوئوں سے نہ ہم خود آگاہ ہوسکے اور نہ دوسری اقوام ہی کو اس کے بارے میں بتاسکے۔ یہی حال اسلام کے نظامِ ٹیکس کے ساتھ ہے۔
قرآن ہرقسم کے سرکاری اور ذاتی خرچ کو (غریبوں اور دوسرے لوگوں کے لیے) صدقات کے نام سے بیان کرتا ہے۔ زکوٰۃ کے مصارف (سورئہ توبہ) بھی قرآن کے مطابق صدقات ہی ہیں۔ یہ صدقات دو قسم کے ہیں: اوّل، صدقاتِ واجبہ جو زکوٰۃاور عُشر پر مشتمل ہیں۔ یہ لازمی طور پر حکومت ِ وقت کو ادا کرنے ہیں، جن سے اُمورِ حکومت پر مختلف اخراجات ہوں گے۔ سورئہ توبہ میں زکوٰۃ کے بیان کردہ آٹھ مصارف دورِحاضر کی زبان میں حکومت کا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) ہے، جسے نجی شعبے (پرائیویٹ سیکٹر) کو سونپا نہیں جاسکتا۔ اس طرح اسلام مضبوط پبلک سیکٹر کا تصور دیتا ہے جس سے حکومت کا ادارہ مضبوط ہوتا ہے۔ دوسرے صدقاتِ نافلہ ہیں جو اہلِ ثروت اپنی مرضی سے ان لوگوں پر خرچ کرتے ہیں، جو زندگی کی معاشی دوڑ میں کسی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان صدقات کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے، کیونکہ یہ زکوٰۃ اور عُشر کی لازمی ادائیگی کے بعد بچ جانے والی رقم ہے۔ حکومت ِ وقت ایسے اخراجات پر لوگوں کو مجبور نہیں کرسکتی۔
یہ غورطلب بات ہے کہ سرمایہ داری اور اشتراکیت میں ایسا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ ’سرمایہ داری‘ میں سودی سرمایے کے باعث دولت کو جمع کرنا اور صرف اپنی ذات پر خرچ کرنا ہی زندگی کا نصب العین ہے۔ اور ’اشتراکیت‘ میں کوئی ٹیکس کا نظام نہیں کیونکہ ذاتی ملکیت کی نفی ہے۔ حکومت لوگوں کو صرف ان کی ضروریات کے مطابق ہی دیتی ہے۔ اس لیے ضرورت سے زائد رقوم دوسروں پر خرچ کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اکیسویں صدی کی دُکھی انسانیت ’مشترکہ خوش حالی‘ کے لیے تڑپ رہی ہے۔ مگر موجودہ نظامِ سرمایہ داری میں یہ اہلیت موجود ہی نہیں کیونکہ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ جیسا سوال سرمایہ داری میں نہ کبھی پوچھا گیا اور نہ کبھی پوچھا جائے گا۔
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ موجودہ دور میں طرح طرح کے ٹیکسوں کے باوجود ترقی پذیر ممالک (خاص طور پر پاکستان) کے حکومتی اخراجات پورے نہیں ہوتے تو صرف ڈھائی فی صد زکوٰۃ اور ۵ یا ۱۰ فی صد عُشر سے اُمورِ حکومت کیسے چلائے جائیں گے؟ ایڈم سمتھ نے ٹیکسوں کے حوالے سے چار اصول بیان کیے تھے۔ انصاف(fairness)، یقینیت (certainity)، آسانی (convenience) اور کارکردگی (efficiency) ۔ بڑی دل چسپ بات ہے کہ زکوٰۃ انکم ٹیکس کے مقابلے میں درج بالا چاروں اُصولوں کے زیادہ مطابق ہے:
اوّل، اس میں انصاف ہے کیونکہ اس کا نصاب موجود ہے اور سارے سال کی آمدنی سے اخراجات کرنے کے بعد بچ جانے والی رقم پر زکوٰۃ واجب ہے۔ دوم اس میں یقینیت ہے کیونکہ اس کی شرح (۲ء۵ فی صد) ہرحال میں طے شدہ ہے۔ تیسرے اس میں آسانی ہے کیونکہ اس کی شرح انتہائی کم اور سال میں ایک بار ادا کی جاتی ہے۔ چوتھے، یہ بوجھ نہیں ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے والے کو ایک خوش گوار احساس ہوتا ہے کہ اس کا مال پاک ہوگیا جس سے زیادہ کام کرنے کا جذبہ بڑھتا ہے کیونکہ زکوٰۃ کے لغوی معنی پاکیزگی اور بڑھوتری کے ہیں۔ علاوہ اَزیں زکوٰۃ حاضرسال کی آمدنی (flow of income) اور پچھلے برسوں کی جمع شدہ دولت (stock of wealth) پر بھی ہے، جب کہ انکم ٹیکس رواں سال کی آمدنی پر ہی ہے۔
زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ، جب کہ عُشر سال میں کئی بارہرفصل کی کٹائی کے وقت ادا کرنا ہوتا ہے۔ تیسرے اس کی شرح زکوٰۃ سے خاصی زیادہ ہے، یعنی چاہی زمین (کنویں سے سیراب ہونے والی) پر ۵ فی صد اور نہری زمین پر ۱۰فی صد ہے۔ آج کے دور میں صنعتی پیداوار بھی زمین پر قائم کی ہوئی فیکٹریوں سے ہی حاصل کی جاتی ہے۔ بعض فقہا تو اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ صنعتی پیداوار پر بھی عُشر لگایا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ زکوٰۃ کے نفاذ کے وقت حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں پر زکوٰۃ نہیں لگائی تھی کیونکہ وہ سامانِ حرب (جنگ) میں شمار ہوتے تھے اور جنگ ِ بدر کےوقت مسلمان فوج میں صرف دو گھوڑے تھے۔ لیکن حضرت عمرؓ کے دور میں جب بہت زیادہ گھوڑے مالِ غنیمت میں آئے تو اُن پر بھی زکوٰۃ لگادی گئی۔ آج کے دور میں یہی صورتِ حال ہیرےجواہرات کے زیورات کی ہے جن پر زکوٰۃ لی جاسکتی ہے۔ اگر حکومت عوام کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوجائے تو اربوں روپے کے ذاتی صدقات بھی بیت المال میں جمع کروائے جاسکتے ہیں، لہٰذا یہ صرف خام خیالی ہے کہ زکوٰۃ اور عُشر کے نظام سے اُمورِ حکومت نہیں چلائے جاسکتے۔ اسی نکتے کی مزید وضاحت پاکستان کے حوالے سے پیش ہے۔
ہمارا موجودہ ٹیکس کا نظام استحصال اورظلم پر مبنی ہے، جس کا ۴۰ فی صد سے زیادہ حصہ تجارت پرٹیکس سے آتا ہے۔ ۲۳-۲۰۲۲ء کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف ۷۶۴۰ ؍ ارب روپے تھا، مگر عملی وصولی اس سے بہت کم ہوتی ہے۔
جیساکہ پچھلے دو سال کے اعداد و شمار سے واضح ہے:
| ۲۱-۲۰۲۰ء | ۲۲ -۲۰۲۱ء | |
| انکم ٹیکس | ۱۷۳۱ ارب روپے | ۲۲۷۸ ارب روپے |
| سیلزٹیکس | ۱۹۸۳ " | ۲۵۲۵ " |
| کسٹم ڈیوٹی | ۷۴۷ " | ۱۰۰۰ " |
| وفاقی ایکسائز ڈیوٹی | ۲۸۴ " | ۳۲۲ " |
| کُل وصولیاں | ۴۷۴۵ ارب روپے | ۶۱۲۵ ارب روپے |
درج بالا اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سب سے زیادہ وصولی سیلزٹیکس (تجارت پر ٹیکس) سے ہوتی ہے، جو اپنی فطرت میں بالکل غیراسلامی ہے۔ اس وقت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) دوبڑے مسائل سے دوچارہے: اوّل یہ کہ بڑے لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ دوم یہ کہ ٹیکس دینے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ زکوٰۃ سے کس قدر وصولی ہوسکتی ہے اس کی ہم صرف ایک مثال دیتے ہیں۔۲۵کروڑ کی آبادی میں خواتین کا تناسب تقریباً ۵۰ فی صد ہے، یعنی ساڑھے بارہ کروڑ کے لگ بھگ۔ ان میں ایک کروڑ عورتیں ایسی ہیں جن کے پاس ۲۰تولے یا اس سے زیادہ سونا ہے۔ دو لاکھ روپیہ فی تولہ کی قیمت سے ایسی ہرعورت پر ایک لاکھ روپے زکوٰۃ واجب ہے۔ اس طرح ایک ہزار ارب روپے صرف سونا، چاندی کی زکوٰۃ سے اکٹھا ہوگا اور ایف بی آر کو نئے ایک کروڑ ٹیکس فائلرز مل جائیں گے۔ مالِ تجارت، ذاتی گھر کے علاوہ خریدے ہوئے پلاٹ، مویشی اور اسٹاک مارکیٹ کے شیئرز پر بھی ’زکوٰۃ‘ واجب ہے۔ زرعی پیداوار، صنعتی پیداوار اور سروسز سیکٹر کے شعبے کی خدمات پر ’عُشر‘ ہے۔ اس کے علاوہ اربوں روپے کے ذاتی ’صدقات‘ ہیں۔ اگر ان سب ادائیگیوں کو منظم کرلیا جائے تو پاکستان ہرسال نہ صرف ۷۶۴۰ ارب روپے سے زیادہ محصولات اکٹھا کرسکتا ہے بلکہ تجارت پر بے جا بوجھ اور مہنگائی سے بھی جان چھوٹ سکتی ہے۔ یہ کام آئی ایم ایف کی شرائط کے اندر رہتے ہوئے کیاجاسکتا ہے۔ سادہ الفاظ میں راہِ نجات تو موجود ہے، صرف ہمت اور ارادے سے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
معاشی نظام کا نفاذ سیاسی حکومت کرتی ہے۔ اسی لیے شروع میں مغرب میں معاشیات کے مضمون کو ’پولیٹیکل اکانومی‘ کہا جاتا تھا۔ اسلام میں یہ ترتیب صلوٰۃ اور زکوٰۃ کے نظام سے ہے جس کا ذکر باربار قرآن میں آتا ہے۔ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کے بعد جو سیاسی نظام قائم کیا تھا، اس میں حکمرانوں کے لیے سادگی اور ذمہ داری انتہائی ضروری تھی۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ حاکم مدینہ، حکومتی خزانے سے کوئی تنخواہ نہیں لی اور اپنی محدود آمدنی سے خود اور آپؐ کے اہل خانہ نے انتہائی سادہ طرزِ زندگی اپنایا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا حکومتی وظیفہ (چھ ہزار درہم سالانہ) مدینہ کے عام شہری کی سالانہ آمدنی کے برابر تھا۔ تجارت پر ٹیکس ختم کرنے کا بڑا مقصد تجارت کا فروغ اور غریب لوگوں کو سستی اشیا فراہم کرنا تھا۔ دراصل معاشی نظام سے پہلے گڈگورننس ماڈل کی ضرورت ہے، جو فلاح پر مبنی معاشی نظام نافذ کرسکے۔ اسی لیے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے صلوٰۃ کا نظام اور اس کے بعد زکوٰۃ (معاشیات) کا نظام دیا تھا۔
پاکستان کا موجودہ سیاسی اور معاشی نظام ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ کے فلاحی معاشرے کے بالکل برعکس اور انتہائی ظلم پر مبنی ہے۔ تجارت پر طرح طرح کے ٹیکس لگاکر غریب کی زندگی عذاب بنادی گئی ہے۔ بڑے ستم کی بات یہ ہے کہ ایک شوگر مل کا مالک اور اُس شوگر مل کے گیٹ پرکھڑا سیکورٹی گارڈ، پٹرول ، دودھ، گھی اور دوسری اشیائے ضروریہ کی ایک ہی قیمت ادا کرتے ہیں۔ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے، مگر یہاں زرعی ٹیکس یا عُشر نہیں لگایا گیا، کیونکہ بڑے بڑے زمیندار (جو اَب سیاست دان بھی ہیں) اس کے مخالف ہیں۔ افسرشاہی کے اخراجات بے تحاشا ہیں۔ آج پاکستان کے بااختیار طبقے اپنے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں، جس سے غرب کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔
موجودہ معاشرتی زوال سے نکلنے کے لیے درج بالا بیان کردہ زکوٰۃ، عُشر اور صدقات کے نظام میں ہی راہِ نجات ہے۔ اس کے لیے پہلے ہمیں اپنے سیاسی نظام کو ٹھیک کرنا ہوگا تاکہ عوام کو سیاست دانوں کی صداقت اور ایمان داری کا یقین ہوجائے اور وہ خوشی خوشی زکوٰۃ، عشر اور صدقات بیت المال میں جمع کروا دیں۔ اس کے لیے تاجر کو سچا، سرکاری آفیسر کو ذمہ دار اور عالمِ دین کو حقیقی رہنما بننا ہوگا، تاکہ پہلے ہم خود اسلامی نظامِ ٹیکس کو نافذ کریں اور کامیاب تجربے کے بعد اقوامِ عالم کو اسے پیش کرسکیں اور یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت عالم ہونے کی عملی دلیل ہوگا۔
پچھلے پانچ سو سال سے جاری زوال کے باعث ہم دینِ اسلام کی حقیقت اور فعالیت سے بڑی حد تک غافل اور بے خبر ہوچکے ہیں۔ آج کل مغرب میں ایک فی صد اور ۹۹ فی صد کی بحث کا بڑا شور ہے، کیونکہ معاشی ترقی کے ثمرات کا بڑا حصہ ایک فی صد لوگ لے جاتے ہیں۔ نظامِ سرمایہ داری میں اصلاح کی باتیں ہورہی ہیں، مگر ہمارے ملک کے اکانومسٹ، دانشِ افرنگ سے اس قدر مرعوب ہیں کہ پاکستان کے معاشی مسائل کا حل زبوں حال سرمایہ داری میں ڈھونڈتے ہیں۔ پاکستان اس وقت اخلاقی، سماجی اور معاشری ابتری سے دوچار ہے، مگر علمائے دین کی طرف سے کوئی قابلِ عمل حل سامنے نہیں آرہا، کیونکہ ان کے بیان اور مباحث علمی اور نظریاتی نوعیت کے ہیں، جن کا ملک کے موجودہ مسائل سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ زکوٰۃ، عُشر، صدقات کا نظام بنیادی طور پر قرآنی نظریہ ہے جس پر خاتم الانبیاء حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے عمل درآمد کام کرکے انسانیت کے پہلے فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی۔ موجودہ گھٹاٹوپ اندھیرے اور مایوسی کے عالم میں ہمیں دانش افرنگ کے بجائے سیرتِ نبیؐ کے درخشاں پہلوئوں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ علامہ اقبال نے تو اس راز سے ۱۹۳۰ء کے عشرے ہی میں ہمیں آگاہ کردیا تھا:
تو اے مولائے یثربؐ! آپ میری چارہ سازی کر
مری دانش ہے افرنگی، مرا ایماں ہے زُناری
’اسلامی بنکاری‘ کے ساتھ ایک طویل عرصہ سے منسلک رہنے کی وجہ سے مجھے اکثر اس سوال کا سامنا رہتا ہے کہ ’’کیا مروجہ اسلامی بنکاری حقیقتاً اسلامی ہے، اور اگر اسلامی ہے تو کتنی اسلامی ہے؟‘‘ ان دونوں سوالوں میں سوال کم اور اسلامی بنکاری کے حوالے سے پریشان کُن شکایت زیادہ نظر آتی ہے۔ دُنیا بھر کے درجنوں مسلم اور غیر مسلم ممالک میں چالیس پچاس سال سے رائج اسلامی بنکاری کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے: ’’رائج شکل میں اسلام کے نام پر جو بنکاری ہورہی ہے وہ نام کی تبدیلی کے سوا کچھ نہیں ہے‘‘ اور یہ تاثر بھی عام ہے کہ: ’’اسلامی بنکاری میں سود کا نام نفع رکھ دیا گیا ہے‘‘۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ عمومی تاثر بڑی حد تک درست ہے۔
اسلامی بنکاری، لوگوں میں وہ اعتماد حاصل نہیں کرسکی، جو اسے ملنا چاہیے تھا۔ سوچنے کی بات ہے کہ قرآنی حکم اور عقیدے کے نام پر قائم ہونے والے اس نئے نظام پر اتنے زیادہ اعتراضات اور شکوک وشبہات کیوں ہیں؟ تو عرض یہ ہے کہ اسلامی بنکاری جس ماحول میں کام کررہی ہے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اسلامی بنکاری کو کامیابی کے لیے جو سماجی، معاشی اور سیاسی ماحول درکار ہے وہ کسی بھی مسلم یا غیرمسلم ملک میں موجود نہیں۔ اور نہ اسے مضبوط ریاستی، اداراتی اور حکومتی حمایت و سرپرستی میسر ہے۔ اخلاقی زوال بھی اسلامی بنکاری کے فروغ میں رکاوٹ ہے۔ اہل اختیار کی سود کے وبال سے لاعلمی و جہالت اور مغربی نظام سے مرعوبیت بھی اسلامی بنکاری کے نفاذ کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔ بے دلی اور جان چھڑاؤ قسم کے اقدامات نے اسلامی بنکاری کے درست سمت سفر میں ایک اور بڑی مشکل پیدا کردی ہے۔
عقیدے کی بنیاد پر بننے والا یہ بے آسرا، کمزور اور نحیف سا نظام صدیوں پرانے جمے جمائے ایسے بنکاری نظام کے تحت کام کررہا ہے، جسے پوری دنیا کی عالمی طاقتوں کی تائید اور غالب سیاسی نظام کا تحفظ اور سرپرستی حاصل ہے۔ دنیا کے غالب سیاسی نظام کا پسندیدہ بنکاری نظام سودی ہے۔ اسلامی بنکاری زیادہ تر سیاسی مجبوری، کاروباری مفادات (financial inclusion) کے لیے رائج کیا گیا ہے۔ اہل اختیار ایسے تعلیمی نظام کے سند یافتہ ہیں جہاں سود کمانا سکھایا جاتا ہے، سودکے دینی تصور کو ذہنوں سے دُور رکھا جاتا ہے۔ اسلامی بنکاری کی باگ ڈور ہر جگہ مکمل طور پر ایسے مرکزی بنکاری نظام کے ہاتھ میں ہے، جو اصلاً ونسلاً سرمایہ دارانہ طاغوتی استحصالی سودی نظام کا محافظ ہے۔ یہ مرکزی بنکاری نظام اپنی پالیسی اور قواعد وضوابط کے ذریعے اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بنکاری نظام میں آنے والی کوئی بھی تبدیلی سرمایہ دارانہ نظام کے مقاصد کی آبیاری میں کسی قسم کی رکاوٹ بننے کے بجائے اس کے لیے معاون اور مددگار بنی رہے۔
دولت اور وسائل کا چند ہاتھوں میں ارتکاز ہی سرمایہ دارانہ معاشی نظام کا غیر علانیہ مقصد وہدف ہے۔ اس کے لیے سود اس کا سب سے مؤثر آلہ ہے، جسے وہ مالی اور بنکاری نظام میں استعمال کرتا ہے۔ یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ سود کی شرح پہلے سے متعین، طے شدہ اور یقینی ہوتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مروجہ اسلامی بنک بھی ’شریعہ انجینیرنگ‘ کے ذریعے ’نفع‘ کو سود کی طرح پہلے سے متعین، طے شدہ اور یقینی بناتے ہیں۔ شریعت کے قوانین سے ناواقفیت کی وجہ سے بنکار یہ کام خود نہیں کرتے۔ اس کے لیے وہ معروف ’ماہرین شریعت‘ کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ شریعہ کے ماہرین بنکاروں کو وہ راستے بتاتے ہیں جس سے شریعت کے قوانین پر عمل بھی ہوجاتا ہے اور بنکاری کے معاملات اور سرمایہ دارانہ استحصالی مقاصد پر کوئی اثر بھی نہیں پڑتا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تقریباً نصف صدی پرانا اسلامی بنکاری نظام سودی نظام کی چھتری تلے ’مغرب کے استحصالی سودی معاشی نظام کے مقاصد کے حصول کا شرعی طریق کار‘ بن کر کام کررہا ہے۔ شریعت کے ماہرین حیلوں کی مدد سے بنکاری کے شرعاً مشکل معاملات کو بڑی ’خوش اسلوبی‘ سے سنبھال لیتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کمال کس طرح ہوتا ہے، یعنی ’نفع ‘کی شرح کو کس طرح سود کی صفات سے متصف کیا جاتا ہے؟
بنکوں کے معاملات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ سودی بنکوں کا انحصار ایک ہی قسم کے معاہدے یعنی ’’سودی قرض‘‘ پر ہوتا ہے، جب کہ اسلامی بنک:
۱- ’مشارکہ‘ اور ’مضاربہ‘ کے تحت نفع و نقصان میں شراکت کے اصول پر کام کرتا ہے۔
۲- ’مرابحہ‘، ’مساومہ‘، ’سلم‘ اور ’استصناع‘ کے تحت اشیا کی خرید وفروخت سے نفع کماتا ہے۔
۳- ’اجارہ‘ کے تحت مشینری، گھر یا گاڑی کرایہ پر دے کر کرایہ حاصل کرتا ہے۔
۴- افراد اور اداروں کو خدمات فراہم کر کے اُجرت ’جعالہ‘(کمیشن) حاصل کرتا ہے۔
۵- وکالہ بالاستثمار کے تحت وکالت کی فیس لیتا ہے۔
شرح منافع، کمیشن، اُجرت، فیس اور اجارہ جیسے جائز مگر سود سے طبعاً مختلف کاروباری طریقوں کو سود کی طرح کیسے بنایا جاتا ہے؟ اس کے لیے درج ذیل مثالیں دیکھیے، نیز کچھ مثالوں کے ذریعے ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ بنکاری مجبوریوں کی وجہ سے بعض حرام معاملات کو حلال بنانے کے لیے کیا حیلے اختیار کیے جاتے ہیں۔mمضاربہ اکاؤنٹ کا نفع m وکالہ بالاستثمار کا منافع اور فیس mبیع العینہ mبیعتین فی بیع m کموڈٹی مرابحہ ___ اسلامی بنکوں کی حیلہ زدہ پراڈکٹس ہیں۔
’مضاربہ‘ اور ’مشارکہ‘ یعنی حصہ داری کی بنیاد پر کاروبار میں دو یا دو سے زیادہ افراد کی شرکت ایسے کاروباری طریقے ہیں، جن کو شریعت نے جائزقرار دیا ہے۔ اسلامی بنک میں بچت کھاتے زیادہ تر ’مضاربہ‘ اور ’وکالہ‘ یا ’مشارکہ‘ کی بنیاد پر کھولے جاتے ہیں (اسلامی بنک ان طریقوں پر سرمایہ کاروں کو مالکاری سہولت بھی مہیا کرتے ہیں)۔ یہاں ہم ’مضاربہ اکاؤنٹ‘ کے معاملات کو سمجھتے ہیں: ’مضاربہ‘ میں سرمایہ مہیا کرنے والے یعنی کھاتے دار کو ’ربّ المال‘ اور کاروبار کرنے والے یعنی بنک کو ’مضارب‘ کہتے ہیں۔ دیگر تمام اصولوں کے ساتھ ساتھ نفع ونقصان میں شراکت کا اصول یہ ہے کہ نفع میں طے شدہ شرح سے ’مضارب‘ اور ’ربُ المال‘ کا حصہ ہوگا۔ مثلاً نفع جو بھی ہوگا اس میں سے بنک یعنی ’مضارب‘ (مثال کے طور پر) ۷۰ فی صد کا اور ’ربُ المال‘ یعنی کھاتے دار ۳۰ فی صد کا حق دار ہوگا (شریعت کے اصولوں کے مطابق منافع کی تقسیم کی شرح ’ربُ المال‘ اور ’مضارب‘ کی باہمی رضامندی سے ۷۰:۳۰ یا ۵۰:۵۰ یا کچھ اور بھی ہوسکتی ہے)۔
نفع میں شراکت کی شرح معاہدے میں واضح طور پر طے کرنی ضروری ہے۔ نقصان کے بارے میں اصول یہ ہے کہ وہ صرف ’ربُ المال‘ برداشت کرے گا۔ لیکن اسلامی بنک کے معاملے میں عمل کی دنیا میں یہ اصول کام ہی نہیں کرتا۔ بنک کھاتے دار کو بتاتا ہے کہ وہ اگر بنک کو ’مضاربہ‘ کی بنیاد پر رقم دے گا تو اسے اتنا ’متوقع منافع‘ ملے گا۔ مثلاً ایک لاکھ کی سرمایہ کاری پر سات فی صد تک نفع مل سکتا ہے۔ متوقع نفع تک تو بات درست ہے۔ اس میں کوئی شرعی طور پرخرابی نہیں۔
اصل خرابی یہ ہے کہ یہ متوقع نفع ہی دراصل وہ طے شدہ نفع ہے، جو ہر صورت کھاتے دار کو ملے گا۔اس کو معین اور یقینی بنانے کے لیے معاہدے میں ’اگر مگر‘ کے ساتھ کچھ شقیں ڈالی جاتی ہیں۔ اگر نفع متوقع سات فی صد سے کم ہوا تو بنک اپنے حصے میں سے ہبہ کرکے سات فی صد پورا کردے گا۔ اگر نفع متوقع سات فی صد سے زیادہ ہوا تو سات فی صد سے اوپر جو نفع ہے وہ بنک اپنی محنت کا انعام سمجھ کر اپنے پاس رکھ لے گا (عملی طور پر نفع نہ کم ہوتا ہے نہ زیادہ۔ یہ شقیں عموماً محض شرعی قواعد کی ضرورت کی تکمیل کے لیے معاہدے میں شامل کی جاتی ہیں)۔ باقی رہا نقصان تو اسلامی بنک کبھی نقصان میں جاتا ہی نہیں! کچھ ایسا ہی طریقہ ’وکالہ‘ میں بھی اختیار کیا جاتا ہے۔
’وکالہ‘ ایک متعین اُجرت والا معاہدہ ہے۔ اس میں بنک سرمایہ کاری وکیل کے طور پر پیسہ لیتا ہے۔ یعنی بنک گاہک (موکل) کا پیسہ کاروبار میں لگانے کے لیے لیتا ہے۔ اس میں اصول یہ ہے کہ وکیل ایمان داری سے موکل کے لیے کسی منافع بخش کاروبار میں پیسہ لگائے گا۔ کاروبار میں نفع ہو یا نقصان موکل اس کا حق دار ہوگا۔ بطور وکیل بنک ایک متعین اُجرت کا حق دار ہوگا۔ پیسہ لیتے وقت بنک گاہک کو کاروبار کے متوقع منافع کے بارے میں بتائے گا۔ اب اپنے نفع کو متعین، طے شدہ اور یقینی بنانے کے لیے یہ شقیں معاہدے میں شامل کرے گا کہ اگر اصل منافع، متوقع منافع سے زیادہ ہوا تو بطور وکیل زائد منافع محنت کے صلے کے طور پر وہ خود رکھ لے گا اور اگر نفع کم ہوا تو بنک اپنی اُجرت میں سے ہبہ کرکے اسے متوقع منافع کے برابر کرکے موکل کو دے گا۔ مطلب یہ کہ متوقع منافع ہی آخری اور طے شدہ منافع ہے جو گاہک کو ملے گا، نہ کم نہ زیادہ!
طریقۂ کار یہ ہے کہ سودی بنک کو دس لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ اسلامی بنک کے پاس فالتو رقم دستیاب ہے۔ اسلامی بنک کموڈٹی مارکیٹ میں، ایک ایجنٹ کے ذریعے، دس لاکھ روپے مالیت کے برابر کپاس خریدتا ہے۔ اسلامی بنک اس دس لاکھ کی کپاس کو ایک لاکھ فائدہ کے ساتھ سودی بنک کو اُدھار پر گیارہ لاکھ کی بیچ دیتا ہے۔ سودی بنک اس کپاس کو جو اس کی ضرورت ہی نہیں تھی اسی مارکیٹ میں دوسرے ایجنٹ کے ذریعے بیچ کر دس لاکھ’کما‘ لیتا ہے (خرید وفروخت کے اس تین منٹ کے سارے کھیل میں کموڈٹی یا زیر معاملہ کپاس جہاں رکھی تھی وہیں رکھی رہی)۔
سودی بنک اسلامی بنک کو قیمت نفع کے ساتھ قسطوں میں تین ماہ میں واپس کرے گا۔ یہ سارا معاملہ شریعت کے معیار پر فٹ کرنے کے لیے بنک کے شرعی مشیروں کو سخت محنت کرنی پڑی۔ بنک اور ماہر شریعت کی کوشش سے سودی بنک کو سرمایہ بھی فراہم کردیا گیا اور شریعت کے اصولوں کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوئی کہ اگر کوئی غیر مسلم حلال گوشت لینا چاہے تو قصائی اسے منع تو نہیں کرسکتا! پوری اسلامی بنکاری کی عمارت اسی قسم کے جواز اور حیلوں پر کھڑی ہے اور یہی اس کی زندگی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ان حیلوں سے نجات کے بارے میں فکر مندی بھی کہیں نظر نہیں آتی۔
علّامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار سے ایک انتخاب، اور پھر اسی مناسبت سے مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی رحمۃاللہ علیہ کی تحریروں سے افکار پیش کیے جارہے ہیں:
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
[بال جبریل،ص۱۲۸]
جس شخص کے دل میں ایمانِ راسخ موجود ہو گا، اور جو اللہ سے ایسا ڈرنے والا ہو گا جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے، اس کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی کو گمراہی میں مبتلا دیکھے اور راہِ حق کی طرف دعوت نہ دے ،کہیں بدی کا وجود پائے اور اس کو مٹانے کی کوشش نہ کرے۔
طبیعت ِمومن کی مثال ایسی ہے جیسے مشک کہ رائحۂ ایمان اس کے جَرم تک محدود نہیں رہتی بلکہ پھیلتی ہے جہاں تک پھیلنے کا اس کو موقع ملے۔ یا چراغ کہ نُورِ ایمان سے جہاں وہ منورہوا اور اس نے آس پاس کی فضا میں اپنی شعاعیں پھیلا دیں۔ مشک میں جب تک خوشبورہے گی وہ مشامِ جاں کو معطر کرتا رہے گا۔ چراغ جب تک روشن رہے گا روشن کرتا رہے گا ۔ مگر جب مشک کی خوشبو قریب سے قریب سونگھنے والے کو بھی محسوس نہ ہو اور چراغ کی روشنی اپنے قریب ترین ماحول کو بھی روشن نہ کرے، تو ہر شخص یہی حکم لگائے گا کہ مشک مشک نہیں رہا اور چراغ نے اپنی چراغیت کھودی۔
یہی حال مومن کا ہے کہ اگر وہ خیر کی طرف دعوت نہ دے، نیکی کا حکم نہ دے ،بدی کو برداشت کرلے اور اس سے روکے نہیں،تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں خوف ِ خدا کی آگ سرد پڑ گئی ہے اور ایمان کی روشنی مدھم ہو گئی ہے۔ (تفہیمات، اوّل، ۱۹۷۱ء، ص ۱۵۱)
تھا جو ناخُوب، بتدریج وہی ’خُوب‘ ہُوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
[ضرب کلیم،۲۸]
بدقسمتی سے اس وقت کوئی اسلامی آبادی ایسی نہیں ہے، جو صحیح معنوںمیں سیاسی اور ذہنی اعتبار سے پوری طرح آزاد ہو۔ جہاں ان کو سیاسی استقلال اور خود اختیاری حاصل بھی ہے، وہاں وہ ذہنی غلامی سے آزاد نہیں ہیں ۔
ان کے مدرسے ،ان کے دفتر، ان کے بازار، ان کی انجمنیں، ان کے گھر، حتیٰ کہ ان کے جسم تک اپنی زبانِ حال سے شہادت دے رہے ہیں کہ ان پر مغرب کی تہذیب،مغرب کے افکار، مغرب کے علوم وفنون حکمراں ہیں۔ وہ مغرب کے دماغ سے سوچتے ہیں، مغرب کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ مغرب کی بتائی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں خواہ ان کو اس کا شعور ہو یا نہ ہو، بہرصورت یہ مفروضہ ان کے دماغوں پر مسلّط ہے کہ حق وہ ہے جس کو مغرب حق سمجھتا ہے اور باطل وہ ہے جس کو مغرب نے باطل قرار دیا ہے۔
حق وصداقت ،تہذیب، اخلاق، انسانیت، شائستگی ، ہر ایک کا معیار ان کے نزدیک وہی ہے جو مغرب نے مقرر کر رکھا ہے۔ اپنے دین وایمان، اپنے افکار و تخیلات، اپنی تہذیب وشائستگی، اپنے اخلاق وآداب ، سب کو وہ اسی معیار پر جانچتے ہیں۔ جو چیز اس معیار پر پوری اُترتی ہے اسے درست سمجھتے ہیں، مطمئن ہوتے ہیں۔ فخر کرتے ہیں کہ ہماری فلاں چیز مغرب کے معیار پر اترآئی اور جو چیز اس معیار پر پوری نہیں اُترتی اسے شعوری یا غیر شعوری طور پر غلط مان لیتے ہیں۔ کوئی علانیہ اس کو ٹھکرا دیتا ہے ،کوئی دل میں گھٹتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کھینچ تان کر اسے مغربی معیار کے مطابق کر دے۔ (تنقیحات،۱۹۶۸ء،ص ۷-۸)
جانتا ہُوں میں یہ اُمّت حامل قُرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دیں
[ارمغانِ حجاز،ص۱۷]
اِس زمانے میں وہ معاشی نظام جس کو اسلام نے قائم کیا تھا درہم برہم ہو چکا ہے، اس کے اصول ونظریات بھی دلوں سے محو ہو گئے ہیں، اور ہمارے گردوپیش کی دنیا پر ایک ایسا نظام پوری طرح حاوی ہو گیا ہے جس کی بنیاد ’’سرمایہ داری ‘‘ کے اصولوں پر رکھی گئی ہے ۔ یہ سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت نہ صرف عملاً ہم پر محیط ہے بلکہ ہمارے دل ودماغ پر بھی اس کے اصول ونظریات چھا گئے ہیں۔ اس لیے جب کسی معاشی مسئلہ پر ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمارا نقطۂ نظر وہی ہوتا ہے، جو سرمایہ داری کا نقطۂ نظرہے۔ ہمارے بحث وتحقیق کی ابتدا ہی اس طرح ہوتی ہے کہ ہم پہلے معاشیات کے سرمایہ دارانہ نظریات اور اصولوں کو مان لیتے ہیں اور اس کے بعد کسی معاشی طریقہ کے جواز وعدم پر گفتگو کرتے ہیں۔ لیکن اگر تھوڑی سی سمجھ سے کام لیا جائے تو یہ بات مخفی نہیں رہ سکتی کہ تحقیق کا یہ طریقہ اصلاًغلط ہے۔
اسلام کا نظم معیشت اپنے نظریہ اور اپنے اصول میں سرمایہ داری کے نظم معیشت سے بالکل مختلف ہے۔ دونوں کے مقاصد الگ الگ ہیں۔ دونوں کی روح جدا جد ا ہے، دونوں کے مناہج علاحدہ علاحدہ ہیں۔ اب اگر کسی مسئلہ کے متعلق سرمایہ داری کے اصول ونظریات کو تسلیم کر کے اسلام کے معاشی احکام میں سے کسی حکم پر نظر ڈالی جائے گی تو لامحالہ یا تو وہ بالکل غلط نظر آئے گا یا اس میں ایسی ترمیم کر دی جائے گی، جس سے وہ اسلامی قانون کے اصول سے ہٹ کر بالکل سرمایہ داری کے قالب میں ڈھل جائے گا، اور اس میںنہ اسلامی روح باقی رہے گی، نہ اسلامی قانون کے اغراض ومقاصد اس سے حاصل ہو سکیں گے ، اور نہ وہ اپنے جوہر میں حقیقتاً ایک اسلامی حکم ہو گا۔
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
[ضربِ کلیم،ص۷۳]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے عہد میں یہی چیز مسلمانوں کو حاصل تھی۔ پھر اس کا نتیجہ جو کچھ ہوا، تاریخ کے اوراق اس پر شاہد ہیں۔ اس زمانے میں جس نے لاالٰہ الا اللہ کہا اس کی کایا پلٹ گئی۔ مس خام سے یکایک وہ کندن بن گیا۔ اس کی ذات میں ایسی کشش پیدا ہوئی کہ دل اس کی طرف کھنچنے لگے۔ اس پر جس کی نظر پڑتی وہ محسوس کرتا کہ گویا تقویٰ اور پاکیزگی اور صداقت کو مجسم دیکھ رہا ہے۔ وہ اَن پڑھ ،مفلس، فاقہ کش، پشمینہ پوش اور بوریا نشین ہوتا، مگر پھر بھی اس کی ہیبت دلوں میں ایسی بیٹھتی کہ بڑے بڑے شان وشوکت والے فرماں روائوں کو نصیب نہ تھی۔ ایک مسلمان کا وجود گویا ایک چراغ تھا کہ جدھر وہ جاتا اس کی روشنی اطراف واکناف میں پھیل جاتی، اور اس چراغ سے سیکڑوں ہزاروں چراغ روشن ہو جاتے ۔ پھر جو اس روشنی کو قبول نہ کرتا اور اس سے ٹکرانے کی جرأت کرتا تو اس کو جلانے اور فنا کردینے کی قوت بھی اس میں موجود تھی۔
ایسی ہی قوتِ ایمانی اور طاقت وسیرت رکھنے والے مسلمان تھے کہ جب وہ ساڑھے تین سو سے زیادہ نہ تھے، تو انھوں نے تمام عرب کو مقابلے کا چیلنج دے دیا اور جب وہ چند لاکھ کی تعداد کو پہنچے تو ساری دنیا کو مسخر کر لینے کے عزم سے اٹھ کھڑے ہوئے، اور جو قوت ان کے مقابلے پر آئی پاش پاش ہوگئی۔ (تنقیحات،ص۲۵۳-۲۵۴)
چہ کافرانہ قمارِ حیات می بازی
کہ با زمانہ بسازی بخود نمی سازی
[ارمغان حجاز،اُردو،ص۵۶]
[تو زندگی کا جوا کس کافرانہ انداز میں کھیل رہا ہے؟ یعنی دُنیاوی اغراض کے لیے زمانے کے ساتھ موافقت کر رہا ہے، مگر اپنی خودی اور خوداری سے وفا نہیں کر رہا۔]
قرآن تمھارے سامنے ہے۔ انبیا علیہم السلام کی سیرتیں تمھارے سامنے ہیں۔ ابتدا سے لے کر آج تک کے علَم بردارانِ اسلام کی زندگیاں تمھارے سامنے ہیں۔ کیا ان سب سے تم کو یہی تعلیم ملتی ہے کہ ہوا جدھر اڑا لے اُڑجائو ؟پانی جدھر بہائے اُدھر بہہ جائو ؟ زمانہ جو رنگ اختیار کرے اسی رنگ میں رنگ جائو ؟
اگرمدعا یہی ہوتا تو کسی کتاب کے نزول اور کسی نبی کے بعثت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ہوا کی موجیں تمھاری ہدایت کے لیے اور حیاتِ دُنیا کا بہائو تمھاری رہنمائی کے لیے اور زمانہ کی نیرنگیاں تمھیں گر گٹ کی روش سکھانے کے لیے کافی تھیں۔ خدا نے کوئی کتاب ایسی ناپاک تعلیم دینے کے لیے نہیں بھیجی، اور نہ اس غرض کے لیے کوئی نبی مبعوث کیا۔ اس ذاتِ حق کی طرف سے تو جو پیغام بھی آیا ہے اس لیے آیا ہے کہ دنیا جن غلط راستوں پر چل رہی ہے، ان سب کو چھوڑ کر ایک سیدھا راستہ مقرر کرے، اس کے خلاف جتنے راستے ہوں ان کو مٹائے اور دنیا کو ان سے ہٹانے کی کوشش کرے۔ ایمان داروں کی ایک جماعت بنائے جو نہ صرف خود اس سیدھے راستہ پر چلیں بلکہ دنیا کو بھی اس کی طرف کھینچ لانے کی کوشش کریں۔
انبیا علیہم السلام اور ان کے متبعین نے ہمیشہ اسی غرض کے لیے جہاد کیا ہے۔ اس جہاد میں اذیتیں اٹھائی ہیں، نقصان برداشت کیے ہیں اور جانیں دی ہیں۔ ان میں سے کسی نے مصائب کے خوف یا منافع کے لالچ سے رفتارِ زمانہ کو کبھی اپنا مقتدا نہیں بنایا۔
اب اگر کوئی شخص یا کوئی گروہ ہدایت ِآسمانی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے میں نقصان اور مشکلات اور خطرات دیکھتا ہے، اور ان سے خوف زدہ ہو کر کسی ایسے راستے پر جانا چاہتا ہے جس پر چلنے والے اس کو خوش حال، کامیاب اور سربلند نظر آتے ہیں، تو وہ شوق سے اپنے پسندیدہ راستے پر جائے ۔مگر وہ بزدل اور حریص انسان اپنے نفس کو اور دنیاکو دھوکا دینے کی کوشش کیوں کرتا ہے کہ وہ خدا کی کتاب اور اس کے نبی کے بتائے ہوئے طریقے کو چھوڑ کر بھی اس کا پیرو ہے ؟ نافرمانی خود ایک بڑا جرم ہے۔ اس پر جھوٹ اور فریب اور منافقت کا اضافہ کر کے آخر کیا فائدہ اٹھانا مقصود ہے؟ (تنقیحات، ص۲۶۳-۲۶۴)
حلقۂ صُوفی میں ذکر بے نم وبے سوزوساز
میں بھی رہا تشنہ کام ، تُو بھی رہا تشنہ کام
[بالِ جبریل،ص۶۶]
درجۂ احسان کی اہمیت اور اس کے حاصل کرنے کی ضرورت سے انکار کا کیا موقع ہے؟ میرے نزدیک تو وہی اصل میں مطلوب ہے، اور میں اس سے بھی انکار نہیں کرتا کہ محسنین سے خدا کی زمین نہ پہلے خالی تھی نہ اب خالی ہے ۔
یہ لوگ جہاں بھی ہیں، خدا کی رحمت کا ایک نشان ہیں اور ان کی صحبت، معیت ،رفافت ہمارے لیے سرمایۂ سعادت ہے۔ مگر جہاں بالعموم ان لوگوں کے زیادہ پائے جانے کا گمان کیا جاتا ہے وہاں یہ سب سے کم پائے جاتے ہیں، اور جن گوشوں کو ’اہل فن‘ اتنا حقیر سمجھتے ہیں کہ ’احسان‘ کی کوئی جھلک تک ان میں دیکھنے کی توقع نہیں رکھتے ،وہیں یہ اکثر مل جاتے ہیں۔اہلِ فن میں جن شخصیتوں کو ’مزکی‘ اور ’مربی‘ ہونے کی شہرت حاصل ہے ان میں بہتوں کے ساتھ مجھے کسی نہ کسی طور پر سابقہ پیش آیا ہے اور میں نے ان کے اندر وہ کمزوریاں پائی ہیں، جو معمولی انسانوں کے لیے بھی موزوں نہیں ہیں کجا کہ ماہرینِ تزکیۂ نفس کے لیے۔
اس کے برعکس غیر معروف لوگ، جو دنیا کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں اور جنھیں شاید کوئی مرتبہ بھی کسی اہل فن کے ہاں نہیں مل سکتا ، ان کے اندر ایسے ایسے بندۂ حق ملے ہیں جو خوف خدا سے کانپنے والے اور اس کی رضا جوئی کے لیے ہرفائدے کو قربان اور ہر نقصان کو گوارا کرنے والے ہیں، اور جنھیں قبولِ حق اور ادائے حق سے نہ کوئی نفسانیت باز رکھ سکتی ہے اور نہ کوئی عصبیت۔ (مولانا ظفر احمد عثمانی کے نام خط، رسائل و مسائل، دوم، ۱۹۹۷ء، ص ۱۴۱)
خِرد نے کہہ بھی دیا لَا اِلٰہ تو کیا حاصل
دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
[ضربِ کلیم،ص۴۷]
مسلمانوں کی اصلی طاقت یہی ایمان وسیرت صالحہ کی طاقت ہے، جو صرف ایک لااِلٰہ اِلااللہ کی حقیقت دل میں بیٹھ جانے سے حاصل ہوتی ہے، لیکن اگر یہ حقیقت دل میں جاگزیں نہ ہو، محض زبان پر یہ الفاظ جاری ہوں، مگر ذہنیت اور عملی زندگی میں کوئی انقلاب برپا نہ ہو، لا الٰہ الااللہ کہنے کے بعد بھی انسان وہی کا وہی رہے جو اس سے پہلے تھا، اور اس میں اور لا الٰہ الا اللہ کا انکار کرنے والوں میں اخلاقی وعملی حیثیت سے کوئی فرق نہ ہو۔ وہ بھی انھی کی طرح غیر اللہ کے آگے گردن جھکائے اور ہاتھ پھیلائے ۔ انھی کی طرح غیرِ خدا سے ڈرے اور غیرِ خدا کی رضا چاہے اور غیرِ خدا کی محبت میں گرفتار ہو۔ انھی کی طرح ہوائے نفس کا بندہ ہو اور قانون الٰہی کو چھوڑ کر انسانی قوانین یا اپنے نفس کی خواہشات کا اتباع کرے۔ اس کے خیالات اور ارادوں اور نیتوں میں بھی وہی گندگی ہو، جو ایک غیر مومن کے خیالات، ارادات اور نیّات میں ہو سکتی ہے، اور اس کے اقوال وافعال ومعاملات بھی ویسے ہی ہوں، جیسے ایک غیر مومن کے ہوتے ہیں، تو پھر مسلمان کو نا مسلمان پر فوقیت کس بنا پر ہو ؟ (تنقیحات،ص۲۵۴)
درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دِلّی ، نہ صفاہاں ، نہ سمرقند
[بالِ جبریل،ص۲۳]
انسان جس جگہ پیدا ہوتا ہے اس کا رقبہ یقینا ایک گز مربع سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اس رقبے کو اگر وہ اپنا وطن قرار دے تو شاید وہ کسی ملک کو اپنا وطن نہیں کہہ سکتا ۔ لیکن وہ اس چھوٹے سے رقبے کے گرد میلوں اور کوسوں اور بسا اوقات سیکڑوں اور ہزاروں میل تک ایک سرحدی خط کھینچ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ وہاں تک میرا وطن ہے اور ا س سے باہر جو کچھ ہے اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ۔
یہ محض اس کی نظر کی تنگی ہے ورنہ کوئی چیز اسے تمام روئے زمین کو اپنا وطن کہنے سے مانع نہیں ہے۔ جس دلیل کی بنا پر ایک مربع گز کا وطن پھیل کر ہزاروں مربع گز بن سکتا ہے، اسی دلیل کی بنا پر وہ پھیل کر پورا کرۂ ارض بھی بن سکتا ہے ۔ اگر آدمی اپنے زاویۂ نظر کو تنگ نہ کرے تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ دریا اور پہاڑ اور سمندر وغیرہ جن کو اس نے محض اپنے خیال میں حدودِ فاضل قرار دے کر ایک زمین اور دوسری زمین کے درمیان فرق کیا ہے، سب کے سب ایک ہی زمین کے اجزا ہیں۔ پھر کس بنا پر اس نے دریائوں اور پہاڑوں اور سمندروں کو یہ حق دے دیا ہے کہ وہ اسے ایک خاص خطّے میں قید کر دیں؟وہ کیوں نہیں کہتا کہ میں زمین کا باشندہ ہوں۔ سارا کرۂ زمین میرا وطن ہے۔ جتنے انسان ربع مسکون میں آباد ہیں، میرے ہم وطن ہیں، اس پورے سیارے پر میں وہی پیدائشی حقوق رکھتا ہوں جو اس گز بھر زمین پر مجھے حاصل ہیں، جہاں میں پیدا ہوا ہوں ؟ (مسئلہ قومیت، ۱۹۶۷ء،ص ۱۲-۱۳)
رہے ہیں، اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تک
مگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے یدِبیضا
[بالِ جبریل،ص۳۸]
اگر آپ [اسلام] کی صحیح پیروی کریں اور اپنے قول وعمل سے اس کی سچی شہادت دیں، اور آپ کے اجتماعی کردار میں پورے اسلام کا ٹھیک ٹھیک مظاہرہ ہونے لگے، تو آپ دنیا میں سربلند اور آخرت میں سرخرو ہو کر رہیں گے ۔ خوف اور حزن ،ذلّت اور مسکنت، مغلوبی اور محکومی کے یہ سیاہ بادل جو آپ پر چھائے ہوئے ہیں، چند سال کے اندر چھٹ جائیں گے ۔ آپ کی دعوتِ حق اور سیرتِ صالحہ دلوں کو اور دماغوں کو مسخر کرتی چلی جائے گی ۔ آپ کی ساکھ اور دھاک دنیا پر بیٹھتی جائے گی۔ انصاف کی امیدیں آپ سے وابستہ کی جائیں گی۔ بھروسا آپ کی امانت ودیانت پر کیا جائے گا۔ سند آپ کے قول کی لائی جائے گی۔ بھلائی کی توقعات آپ سے باندھی جائیں گی۔ ائمۂ کفر کی کوئی ساکھ آپ کے مقابلے میں باقی نہ رہ جائے گی۔ ان کے تمام فلسفے اور سیاسی ومعاشی نظریے آپ کی سچائی اور راست روی کے مقابلے میں جھوٹے ملمع ثابت ہوں گے۔ جو طاقتیں آج ان کے کیمپ میں نظر آ رہی ہیں، ٹوٹ ٹوٹ کر اسلام کے کیمپ میں آتی چلی جائیں گی۔
حتیٰ کہ ایک وقت وہ آئے گا، جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچائو کے لیے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہوگی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونی ورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہو گا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پاسکے گی___ اور یہ آج کا دور صرف تاریخ میں ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا کہ اسلام جیسی عالم گیر وجہاں کشا طاقت کے نام لیوا کبھی اتنے بیوقوف ہوگئے تھے کہ عصائے موسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ دیکھ کر کانپ رہے تھے۔ یہ مستقبل تو آپ کا اس صورت میں ہے، جب کہ آپ اسلام کے مخلص پیرو اور سچّے گواہ ہوں۔ (اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات، ۱۹۷۲ء، ۲۸۲-۲۸۳)
رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
[بالِ جبرئیل،ص۷۲]
جو دنیا کے معاملات ہی کو چلانے کا ڈھنگ لے کر اٹھے اور اسی ڈھنگ کی پیروی میں انسان کی فلاح ونجات کا معتقد ہو، اس کے لیے تو بجز اس سے کوئی چارہ ہی نہیں کہ اقتدار کی کنجیوں پر اختیار حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ جب تک وہ اپنے نقشے پر عمل درآمد کرنے کی طاقت حاصل نہ کرلے، اس کا نقشہ واقعات کی دنیا میں قائم نہیں ہو سکتا، بلکہ کاغذ پر اور ذہنوں میں بھی زیادہ عرصے تک باقی نہیں رہ سکتا ۔ جس تہذیب کے ہاتھ میں زمامِ کار ہوتی ہے، دنیا کا سارا کاروبار اسی کے نقشے پر چلتا ہے وہ علوم وافکار اور فنون وآداب کی رہنمائی کرتی ہے۔وہی اخلاق کے سانچے بناتی ہے۔ وہی تعلیم وتربیت عامہ کا انتظام کرتی ہے۔ اسی کے قوانین پر سارا نظام تمدن مبنی ہوتا ہے، اور اسی کی پالیسی ہر شعبۂ زندگی میں کارفرما ہوتی ہے۔
اس طرح زندگی میں کہیں بھی اُس تہذیب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی، جو اپنی حکومت نہ رکھتی ہو، یہاں تک کہ ایک طویل مدت تک حکمران تہذیب کا دور دورہ رہتا ہے تو غیر حکمران تہذیب عمل کی دنیا میں خارج از بحث ہو جاتی ہے۔ اس کی طرف ہمدردانہ نقطۂ نظر رکھنے والوں کو بھی اس امر میں شبہ ہو جاتا ہے کہ یہ طریقہ دنیا کی زندگی میں چل سکتا ہے یا نہیں! (تجدیدو احیائے دین، ۱۹۶۷ء،ص ۳۲-۳۳)
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل ، وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں ، تُو باقی نہیں ہے
[بالِ جبریل،ص ۹۰]
افسوس کہ عبادت کے اس صحیح اور حقیقی مفہوم کو مسلمان بھول گئے۔ انھوں نے چند مخصوص اعمال کا نام عبادت رکھ لیا اور سمجھے کہ بس انھی اعمال کو انجام دنیا عبادت ہے، اور انھی کو انجام دے کر عبادت کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ اس عظیم الشان غلط فہمی نے عوام اور خواص دونوں کو دھوکے میں ڈال دیا۔
عوام نے اوقات میں سے چند لمحے خدا کی عبادت کے لیے مختص کر کے باقی تمام اوقات کو اس سے آزاد کرلیا۔ قانون الٰہی کی دفعات میں سے ایک ایک دفعہ کی خلاف ورزی کی، حدودا للہ میں سے ایک ایک حد کو توڑا، جھوٹ بولے، غیبت کی، بدعہد یاں کیں، حرام کے مال کھائے ، حق داروں کے حق مارے ، کمزوروں پر ظلم کیا۔ نفس کی بندگی میں دل ،آنکھ، ہاتھ اور پائوں سب کو نافرمانی کے لیے وقف کر دیا۔ مگر پانچ وقت کی نماز پڑھ لی، زبان اور حلق کی حد تک قرآن کی تلاوت کر لی۔ سال میں مہینے بھر کے روزے رکھ لیے، اپنے مال میں سے کچھ خیرات کر دی ، ایک مرتبہ حج بھی کر آئے اور سمجھے کہ ہم خدا کے عبادت گزار بندے ہیں۔
اس کے سجدے سے سر اٹھا تے ہی ہر معبودِ باطل کے آگے جھک جائو، اس کے سوا ہر زندہ اور مُردہ کو حاجت روا بنائو،ہر اس بندے کو خدا بنا لو جس میں تم کو نقصان پہنچانے یا نفع دینے کی ذرّہ برابر بھی قوت نظر آئے۔ روٹی کے ایک ٹکڑے کے لیے کفا رومشرکین تک کے آگے ہاتھ جوڑو اور ان کے پائوں چومو۔ انھی کو رازق سمجھو، انھی کو عزت اور ذلت دینے والا سمجھو، انھی کے قانون کو قانون سمجھو، اس لیے کہ وہ طاقت رکھتے ہیں۔
خدا کے قانون کو بے تکلف توڑ دو، اس لیے کہ تمھارے زعم باطل میں وہ اپنے قانون کو نافذ کرنے کی قوت نہیں رکھتا، کیا یہی تمھارا اسلام ہے ؟ یہی تمھارے ایمان کی شان ہے ؟ اسی پر تمھیں گمان ہے کہ تم خدا کی عبادت کرتے ہو ؟اگر یہی اسلام اور ایمان ہے اور یہی اللہ کی عبادت ہے، تو پھر وہ کیا چیز ہے جس نے تم کو دنیا میں ذلیل وخوار کر رکھا ہے ؟ کیا چیز ہے جو تم سے خدا کے سوا ہر در کی گدائی کرا رہی ہے ؟ کس چیزنے تمھاری گردنوں میں غلامی اور ذلّت کے طوق ڈال رکھے ہیں ؟
خواص نے اس کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ تسبیح ومصلیٰ لے کر حجروں میں بیٹھ گئے۔ خدا کے بندے گمراہی میں مبتلا ہیں، دنیا میں ظلم پھیل رہا ہے،حق کی روشنی پر باطل کی ظلمت چھائی جارہی ہے ،خدا کی زمین پر باغیوں اور ظالموں کا قبضہ ہو رہا ہے، الٰہی قوانین کے بجائے شیطانی قوانین کی بندگی خدا کے بندوں سے کرائی جا رہی ہے، مگر یہ ہیں کہ نفل پر نفل پڑھ رہے ہیں، تسبیح کے دانوں کو گردش دے رہے ہیں، ’ہُو، حق‘ کے نعرے لگارہے ہیں،قرآن پڑھتے ہیں مگر محض ثوابِ تلاوت کی خاطر، حدیث پڑھتے ہیں مگر صرف تبرکاً،سیرتِ پاکؐ اور اسوۂ صحابہؓ پر وعظ فرماتے ہیں، مگر قصہ گوئی کا لطف اٹھانے کے سوا کچھ مقصود نہیں۔ دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ کا سبق نہ ان کو قرآن میں ملتا ہے، نہ حدیث میں، نہ سیرت پاک میں، نہ اسوۂ صحابہؓ میں۔ کیا یہ عبادت ہے ؟
کیا یہی عبادت ہے کہ بدی کا طوفان تمھارے سامنے اُٹھ رہا ہو، اور تم آنکھیں بند کیے ہوئے مراقبے میں مشغول رہو؟کیا عبادت اسی کو کہتے ہیں کہ گمراہی کا سیلاب تمھارے حجرے کی دیواروں سے ٹکرارہا ہو اور تم دروازہ بند کر کے نفل پرنفل پڑھے جائو ؟ کیا عبادت اس کا نام ہے کہ کفّار چار دانگ عالم میں شیطانی فتوحات کے ڈنکے بجاتے پھریں، دنیا میں انھی کا علم پھیلے ، انھی کی حکومت کارفرما ہو، انھی کا قانون رواج پائے ، انھی کی تلوار چلے، انھی کے آگے بندگان خدا کی گردنیں جھکیں اور تم خدا کی زمین اور خدا کی مخلوق کو ان کے لیے چھوڑ کر نمازیں پڑھنے، روزے رکھنے اور ذکر وشغل کرنے میں منہمک ہو جائو ؟
اگر عبادت یہی ہے جو تم کر رہے ہو اور اللہ کی عبادت کا حق اسی طرح ادا ہوتا ہے، تو پھر یہ کیا ہے کہ عبادت تم کرو اور زمین کی حکومت وفرماں روائی دوسروں کو ملے ؟ کیا معاذ اللہ خدا کا وہ وعدہ جھوٹا ہے جو اس نے قرآن میں تم سے کیا تھا :
وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۰۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۰ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا۰ۭ (النور ۲۴:۵۵) [اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ اُن کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بناچکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ) حالت ِ خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں]۔
اگر خدا اپنے وعدے میں سچا ہے، اور اگر یہ واقعہ ہے کہ تمھاری اس عبادت کے باوجود نہ تم کو زمین کی خلافت حاصل ہے، نہ تمھارے دین کو تمکن نصیب ہے، نہ تم کو خوف کے بدلے میں امن میسر آ تا ہے، تو تم کو سمجھنا چاہیے کہ تم اور تمھاری ساری قوم عبادت گزار نہیںبلکہ تارکِ عبادت ہے اور اسی ترکِ عبادت کا وبال ہے، جس نے تم کو دنیا میں ذلیل کر رکھا ہے۔ (تفہیمات، اول ، ۱۹۷۱ء، ص ۷۱-۷۳)
علامہ اقبالؒ ہماری ملّی اور ادبی تاریخ کی ایک کثیرالجہات اور منفرد شخصیت ہیں۔ شاعر، مفکر، معلّم، وکیل، سیاست دان اور ملت اسلامیہ کے ہمدرد، بہی خواہ، غم گسار اور مربی…ان کی شاعری کا سب سے بڑا اور اہم ترین موضوع ملت اسلامیہ ہے۔
علامہ اقبال کی متذکرہ بالا مختلف حیثیتوں میں سب سے معروف حیثیت ایک شاعر ہی کی ہے۔تاہم، علامہ اقبال فقط ایک شاعر ہی نہ تھے بلکہ علمی مسائل پر نگاہِ عمیق رکھنے اور ان پر غوروفکر کرنے والے عالم، مفکر اور محقق و دانش وَر بھی تھے۔ اسی لیے انھیں بعض علمی موضوعات پر کچھ لکھنے اور کام کرنے کا خیال آتا رہا۔ خطبات سے قطع نظر، علامہ کی علمی تحقیق و جستجو کا ذکر ان کے تذکروں میں بہت کم ملتا ہے۔ ذیل میں ان کے بعض علمی منصوبوں کا ذکر کیا جاتا ہے:
۱- قرآن حکیم کے مطالعے اور اس پر برسوں کے فکروتدبر کے نتائج کو ’مقدمۃالقرآن‘ کے نام سے مرتب کرنا چاہتے تھے۔ ۱۹۲۳ء سے انھوں نے عزم کرلیا تھا کہ ’’تفسیر قرآن اَزبس ضروری ہے‘‘۔ اس عزم کا پس منظر ان کے ایک خط سے معلوم ہوتا ہے، لکھتے ہیں:’’حق بات یہ ہے کہ جب ہم وید، انجیل وغیرہ کتب مطالعہ کرنے کے بعد قرآن کا مطالعہ کریں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا خیالات کی ایک نئی فضا میں داخل ہوگئے ہیں۔ افسوس کہ مسلمانوں کو قرآن کی جدت کا کبھی احساس نہ ہوا، بلکہ انھوں نے اس جدید کتاب کے مطالب و حقائق کو قدیم اقوام کے خیالات کی روشنی میں تفسیر کرکے اس کے اصل مطلب و مفہوم کو مسخ کردیا‘‘۔ مگر عملاً اس موضوع پر قلم اُٹھانے میں ان کی کسرنفسی مانع رہی ہے اور اس موضوع پر وہ کچھ نہ لکھ سکے۔ اس تفسیر کے لیے انھوں نے مختلف اوقات میں تین مختلف نام تجویز کیے تھے:
1- An Introduction to the Study of Quran.
2- Aids to the Study of Quran.
3- An Interpretation of Holy Quran in the Light of Modern Philosophy.
وقت کے ساتھ ساتھ ’مقدمۃ القرآن‘ لکھنے کی آرزو بڑھتی گئی۔ اس کا اندازہ بعض مکاتیب، بنام ڈاکٹر تاثیر، بنام سر راس مسعود اور بنام نذیر نیازی اور بعض گفتگوئوں (مثلاً عبدالرشید طارق) سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے، اور پھر جب ان کی صحت رفتہ رفتہ خراب ہوتی گئی تو وہ سر راس مسعود کو ۳۰مئی ۱۹۳۵ء کو لکھتے ہیں:’’چراغ سحر ہوں، بجھا چاہتا ہوں، تمنا ہے کہ مرنے سے پہلے قرآن کریم سے متعلق اپنے افکار قلم بند کرجائوں۔ جو تھوڑی سی ہمت و طاقت ابھی مجھ میں باقی ہے، اسے اسی خدمت کے لیے وقف کر دینا چاہتا ہوں، تاکہ (قیامت کے دن) آپ کے جدامجد(حضور نبی کریمؐ) کی زیارت مجھے اس اطمینانِ خاطر کے ساتھ میسر ہو کہ اس عظیم الشان دین کی، جو حضوؐر نے ہم تک پہنچایا، کوئی خدمت بجا لاسکا‘‘۔
سیّد نذیر نیازی لکھتے ہیں:’’اس سلسلے کی ان کی ایک دو تحریریں ضرور دستیاب ہوئیں (مگر) حضرت علامہ نے ان تحریروں میں صرف چند الفاظ مستفسرانہ انداز میں لکھے ہیں‘‘۔
نہیں کہا جاسکتا کہ موعودہ کتاب میں اقبال کیا طریق تفسیر اختیار کرتے، لیکن اس سلسلے کی بعض تحریروں اور گفتگوئوں سے واضح ہوتا ہے کہ ’مقدمۃ القرآن‘ لکھنے سے اقبال کی بنیادی غایت خدمت ِدین تھی اور اپنی اس کتاب میں وہ اُمت مسلمہ کو قرآنی رُموز و نکات سے آگاہ کرنا چاہتے تھے، تاکہ مسلمانانِ عالم اس کی روشنی میں اپنے سیاسی اور معاشی مسائل حل کرسکیں۔ وہ یہ بھی ارادہ رکھتے تھے کہ اسلام اور قرآن پر یورپ کے متعصبانہ اور بے بنیاد اعتراضات کا مدلل جواب دیا جائے۔ اگر اقبال ’مقدمۃ القرآن‘ لکھتے تو بلاشبہہ عصرحاضر میں یہ ان کا ایک بڑاعلمی کارنامہ ہوتا۔
۲- دوسرا بڑا منصوبہ ’اسلامی فقہ کی جدید تدوین‘ کا تھا۔ اسے علامہ ’اسلام کی سب سے بڑی خدمت‘ سمجھتے تھے۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے نام ۲ستمبر۱۹۲۵ء کے خط میں لکھتے ہیں: ’’میرا عقیدہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نگاہ سے زمانۂ حال کے اصولِ قانون (Jurisprudence) پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکامِ قرآنیہ کی ابدیت ثابت کرے گا، وہی اسلام کا مجدد ہوگا اور بنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم وہی شخص ہوگا‘‘۔
اسی طرح وہ فقہ اسلامی کی مفصل تاریخ کی’سخت ضرورت‘ پر بھی زور دیتے تھے بلکہ ابتدائی زمانے میں انھوں نے فقہ اسلام پر ’اپنے فن میں ایک بے نظیر کتاب‘ بزبانِ انگریزی لکھنا شروع کردی تھی۔ یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس کا انجام کیا ہوا، تاہم بعد میں علامہ نے Islam and I Understand it کے نام سے ایک کتاب کا خاکہ بھی تیار کیا تھا، لیکن یہ تصنیفی منصوبہ بھی عملی صورت اختیار نہ کرسکا۔
فقہ اسلام کی تاریخ و تدوین کے سلسلے میں انھوں نے سیّد سلیمان ندوی اور سیّدانورشاہ کاشمیری کو لاہور بلانا چاہا، مگر ایسا نہ ہوسکا۔
۳- اسرارِ خودی کی اشاعت (۱۹۱۵ء) پر اقبال کے خلاف ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا۔ بعض غلط فہمیوں کے ازالے کےلیے انھوں نے تصوف کی تاریخ پر ایک مبسوط مضمون لکھنا شروع کیا، جو بعد میں پھیل کر ایک کتاب کی شکل اختیار کرگیا۔ محمد اسلم جیراج پوری کو لکھتے ہیں: ’’میں نے ایک تاریخ تصوف کی لکھنی شروع کی تھی، ایک دو باب لکھ کر رہ گیا‘‘۔ یہ علمی منصوبہ بھی ناتمام رہا۔
۴- اقبال کے دیگر علمی منصوبوں اور تصنیفات و تالیفات میں: قلب و دماغ کی سرگزشت، ایک فراموش شدہ پیغمبر کی کتاب، فصوص الحکم پر تنقید، تاریخ ادب اُردو، کچھ دیگر متفرق چیزیں اور بعض تراجم شامل تھے۔
اقبال کے ان منصوبوں کا اہم ترین محرک ملّی انحطاط کا وہ شدید احساس تھا، ان تصانیف کے ذریعے وہ قارئین میں دین کا فہم پیدا کرکے تجدید و احیائے اسلام کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ اپنے تصنیفی منصوبوں کا مقصد ان کے لیے ان کے اپنے بقول یہ تھا کہ ’’میں اپنے ملک کے تعلیم یافتہ لوگوں پر دین کے اسرار منکشف کرجائوں، تاکہ وہ دین کے قریب آجائیں‘‘۔
متذکرہ بالا عزائم اور ارادوں کے باوجودعلامہ کو بجاطور پر احساس تھا اور برعظیم کی تاریخ اس کی مؤید ہے کہ بسااوقات علمی منصوبے فردِ واحد کے بجائے اجتماعی کاوشوں اور علمی اداروں کے ذریعے ہی بروئے کار آسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں علامہ یورپ کے علمی اداروں اور دانش گاہوں کا براہِ راست مشاہدہ کرچکے تھے۔
خواجہ عبدالوحید [مشفق خواجہ مرحوم کے والد گرامی] نے بعض دوسرے دوستوں سے مل کر ۱۹۲۸ءمیں ’اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ مقصد یہ تھا کہ مسلمان نوجوانوں کو اسلامی تمدن و تاریخ کے مطالعے کی طرف راغب کیا جائے۔ وہ بتاتے ہیں کہ علامہ اقبال اس ادارے کی سرگرمیوں میں دل چسپی لیتے تھے اور بعض کاموں میں عملی تعاون بھی کرتے تھے۔ اسی ضمن میں خواجہ عبدالوحید بتاتے ہیں کہ ۱۹۳۱ء میں علامہ کی تجویز اور انھی کی رہنمائی میں علومِ اسلامیہ کی ترویج و تحقیق کے لیے لاہور میں ’ادارہ معارفِ اسلامیہ‘ قائم کیا گیا۔ اس ادارے سے علامہ کا کوئی تنظیمی تعلق تو نہ تھا، لیکن یہ انھی کی تجویز اور انھی کی رہنمائی میں قائم کیا گیا تھا۔ وہی اس کے روحِ رواں تھے اور تمام کام انھی کے مشوروں سے انجام پاتے تھے۔ اقبال اس ادارے کو ایک معیاری تحقیقی ادارہ بنانے کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے اپنے اثرورسوخ سے ریاست حیدرآباد دکن سے اس ادارے کے لیے سالانہ مالی امداد بھی منظور کرائی تھی۔
علمی منصوبوں کی تکمیل کے لیے کوئی ایک ادارہ کافی نہیں ہوتا۔ خاطرخواہ نتائج مختلف النوع کاوشوں کے ذریعے ہی ممکن ہوتے ہیں۔ علامہ علمی تحقیق کے مسئلے پر وقتاً فوقتاً بعض احباب سے تبادلۂ خیال کرتے رہتے تھے۔ اس سلسلے میں عبدالمجیدسالک لکھتے ہیں:
’’مدت دراز سے علامہ کے دماغ میں یہ تجویز گردش کر رہی تھی کہ ایک علمی مرکز قائم کیا جائے، جہاں دینی و دُنیاوی علوم کے ماہرین جمع کیے جائیں اور ان ماہرین کو خورونوش کی فکر سے بالکل آزاد کردیا جائے، تاکہ وہ ایک گوشے میں بیٹھ کر علامہ کے نصب العین کے مطابق اسلام، تاریخ اسلام اور شرعِ اسلام کے متعلق ایسی کتابیں لکھیں جو آج کل کی دُنیائے فکر میں انقلاب پیدا کردیں۔ چنانچہ ایک دفعہ مرزا جلال الدین بیرسٹر سے ذکر آیا تو انھوں نے ریاست بہاول پور میں سرکار بہاول پور کے زیرسرپرستی اس قسم کے ادارے کے قیام کا سروسامان درست کیا، لیکن ریاستوں کے معاملات ایسے ہی ہوتے ہیں، معاملہ جو تعویق میں پڑا تو پھر اس کا کوئی سراغ ہی نہ ملا‘‘۔
مختلف علوم و فنون میں تحقیق و تصنیف کے ضمن میں علامہ کا ایک نہایت مفصل خط بنام صاحبزادہ آفتاب احمد خاں بھی اہمیت رکھتا ہے، جس میں وہ ’اسلامی تاریخ، آرٹ، قانون اور تہذیب و تمدن کے مختلف پہلوئوں پر حاوی عالموں کی تیاری، ان کی تعلیم و تربیت اور اسلامی افکار اور ادبیات میں تحقیق کی ضرورت‘ کا ذکر کرتے ہیں۔
۹جنوری ۱۹۳۸ء کو ہندستان کے طول و عرض میں ’یومِ اقبال‘ منایا گیا۔ لاہور میں یہ تقریب انٹرکالجیٹ مسلم برادرہڈ کے زیراہتمام مینارڈ ہال میں منعقد ہوئی۔ متعدد اکابر ِ سیاست کی طرح پنجاب کے وزیراعظم سرسکندر حیات نے بھی اقبال کے لیے نیک تمنائوں کا پیغام بھیجا، جس میں یہ تجویز بھی پیش کی کہ جہاں جہاں ’یومِ اقبال‘ منایا جائے، وہاں کے باشندے شاعراعظم کی خدمت میں ایک تھیلی نذر کریں۔ علامہ اقبال نے یہ تجویز مسترد کردی۔ فرمایا: ’بہتر ہوگا اسلامیہ کالج لاہور میں اسلامی علوم کی تحقیق کے لیے ایک خصوصی شعبہ یا ایک خاص چیئر قائم کی جائے اور سرمایہ اس کے لیے فراہم کیا جائے‘۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں کہ اقبال کی بہت سی تمنائوں میں ایک تمنا یہ بھی تھی کہ ’’کسی مسلم یونی ورسٹی کے اندر یا کسی پُرسکون مقام پر ایک چھوٹی سی بستی کی صورت میں ایسا ادارہ قائم کیا جائے، جس میں بہترین دل ودماغ کے مسلم نوجوان خالص اسلامی ماحول میں اسلامی ریاضیات، طبیعیات، کیمیا، تاریخ، فقہ اور دینیات کی تعلیم حاصل کرکے علومِ جدید کا علومِ قدیمہ سے تعلق دریافت کرسکیں‘‘۔
یہ ایک حُسنِ اتفاق ہے کہ اسی زمانے میں ایک دردمند مسلمان چودھری نیاز علی خاں نے اپنی جائیداد، واقع جمال پور، پٹھان کوٹ، ضلع گورداس پور کا ایک حصہ خدمت ِ دین کے لیے وقف کرکے وہاں ایک درس گاہ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس سلسلے میں متعدد زعما اور علما سے رہنمائی چاہی، جن میں مولانا اشرف علی تھانوی، علامہ اقبال، عبدالماجد دریابادی، سیّد سلیمان ندوی اور مولانا مودودی شامل تھے۔ مجوزہ ادارے کے سلسلے میں مولانا مودودی نے انھیں ایک تفصیلی نقشہ بناکر پیش کیا، جس میںا نھوں نے علمی کام کے لیے چار پانچ شعبوں (فقہ، معاشیات، فلسفہ، علومِ عمران اور نظری سائنس)کی نشان دہی کی تھی۔ مولانا مودودی نے لکھا:’’سب علمی و تحقیقی کام اس بنیادی نظریے کے ساتھ کیا جائے کہ قرآن و سنت ہی علم کا اصل منبع ہے۔ سب کچھ ہم کو اسی سے لینا ہے‘‘۔
عبدالمجید سالک لکھتے ہیں: اس پر چودھری صاحب نے علامہ کی خدمت میں حاضر ہوکر بتایا کہ میں نے ادارے کے لیے ایک بڑا قطعۂ اراضی وقف کردیا ہے، جس پر کتب خانہ، دارالمطالعہ اور مکانات تعمیر کیے جائیں گے، تاکہ علما اور مصنّفین یہاں رہ کر علومِ اسلامی کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کریں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے مولانا مودودی کے علمی منصوبے سے بھی علامہ کو آگاہ کیا اور بتایا کہ ’دارالاسلام‘ کے نام سے ادارہ قائم کرنے کا ارادہ ہے۔ حضرت علامہ، چودھری نیاز علی خاں کی دین پروری سے بے حد خوش ہوئے اور انھیں دارالاسلام کے منصوبے میں اپنے خواب کی تعبیر نظر آئی۔
پٹھان کوٹ کے مجوزہ علمی مرکز کے لیے علامہ کو مصر سے کسی عالمِ دین کو بلانے کا خیال آیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے الازہر یونی ورسٹی کے شیخ الجامعہ، علامہ مصطفیٰ المراغی کو ایک خط لکھا۔ یہ خط اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس سے علامہ کے مجوزہ تحقیقی ادارے کے مقاصد اور اس کی صحیح نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ علامہ، مذکورہ خط میں لکھتے ہیں: ’’ہم نے ارادہ کیا ہے کہ ہم پنجاب کی ایک بستی میں ایک اہم ادارے کی بنیاد رکھیں کہ اب تک کسی اور نے ایسا ادارہ قائم نہیں کیا اور ان شاء اللہ اسے اسلامی دینی اداروں میں بہت اُونچی حیثیت حاصل ہوگی۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ کچھ ایسے لوگوں کو، جو جدید علوم سے بہرہ ور ہوں، کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ یک جا کردیں، جنھیں دینی علوم میں مہارت حاصل ہو۔ جن میں اعلیٰ درجے کی ذہنی صلاحیت پائی جاتی ہو اور جو اپنا وقت دین اسلام کی خدمت میں لگانے کو تیار ہوں اور ہم ان لوگوں کے لیے نئی تہذیب اور جدید تمدن کے شوروشغب سے دُور ایک دارالاقامت بنادیں، جو ان کے لیے ایک اسلامی علمی مرکز کا کام دے اور اس میں ہم ان کے لیے لائبریری ترتیب دیں، جس میں وہ تمام قدیم و جدید کتابیں موجود ہوں، جن کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ مزیدبرآں ان کے لیے ایک کامل اور صالح گائڈ کا تقرر کیا جائے، جسے قرآن حکیم پر بصیرت تامہ حاصل ہو اور جو دنیائے جدید کے احوال و حوادث سے بھی باخبر ہو، تاکہ وہ ان لوگوں کو کتاب اللہ اور سنت ِ رسولؐ اللہ کی روح سمجھا سکے اور فلسفہ و حکمت اور اقتصادیات و سیاست کے شعبوں میں فکر اسلامی کی تجدید کے سلسلے میں انھیں مدد دے سکے، تاکہ یہ لوگ اپنے علم اور اپنے قلم سے اسلامی تمدن کے احیا کے لیے کوشاں ہوسکیں‘‘۔
’’آپ جیسے فاضل شخص کے سامنے اس تجویز کی اہمیت واضح کرنے کی چنداں ضرورت نہیں، چنانچہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ازراہِ کرم ایک روشن دماغ، مصری عالم کو جامعہ ازہر کے خرچ پر بھجوانے کا بندوبست فرمائیں،تاکہ وہ اس کام میں ہمیں مدد دے سکے۔ لازم ہے کہ یہ شخص علومِ شرعیہ، نیز تاریخ تمدنِ اسلامی میں کامل دستگاہ رکھتا ہو اور یہ بھی لازم ہے کہ اُسے انگریزی زبان پر قدرت حاصل ہو‘‘۔
اس کے جواب میں شیخ الازہر نے لکھا کہ ’’ہمارے ہاں علمائے ازہر میں کوئی ایسا شخص موجود نہیں، جو انگریزی زبان میں قدرت رکھتا ہو‘‘۔ اس سے مسلم دُنیا کی علمی زبوں حالی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ۱۹۳۷ء کی بات ہے سیّد نذیرنیازی اورمیاں محمد شفیع کہتے ہیں کہ علامہ کی نظر سے مولانا مودودی کی تحریریں گزری تھیں اور ان کی الجہاد فی الاسلام بھی علامہ نے دیکھی تھی۔ چنانچہ وہ ان کی علمیت اور ان کے فہمِ اسلام سے متاثر تھے۔ انھوں نے چودھری نیازعلی خاں کو مشورہ دیا کہ وہ مولانا مودودی کو حیدر آباد سے دارالاسلام بلالیں۔ چودھری نیازعلی خاں کہتے ہیں: ’’حضرت علامہ کی نظر جوہر شناس بھی سیّدصاحب پر جاپڑی‘‘۔ مختصر یہ کہ مولانامودودیؒ نے لاہور آکر، چودھری نیازعلی خاں اور علامہ محمد اسد کی معیت میں علامہ اقبالؒسے ملاقات کی۔ مجوزہ ادارے کے آیندہ منصوبوں، منہاج اور طریقۂ کار وغیرہ کے بارے میں تفصیلی گفتگو کے بعد، وہ مارچ۱۹۳۸ء میں حیدرآباد دکن سے جمال پور، پٹھان کوٹ منتقل ہوگئے۔
علامہ کا ارادہ تھا کہ وہ بھی ہرسال چند ماہ کے لیے وہاں آکر قیام کریں گے۔ مولانا مودودی مزید مشوروں اور رہنمائی کے لیے لاہور جانے کا پروگرام بنا ہی رہے تھے کہ انھیں سیّد نذیرنیازی کا خط موصول ہوا، جس میں نیازی صاحب نے لکھا تھا:’’جس قدر جلد ممکن ہو، لاہور آیئے، کیونکہ علامہ اقبال کی حالت اچھی نہیں ہے‘‘۔ اس خط کے تیسرے روز علامہ اقبال عالمِ فانی سے عالمِ جاودانی کو سُدھار گئے۔
ایک اسلامی تحقیقی ادارے کا جو خواب علامہ اقبال اور سیّد مودودی نے دیکھا تھا، وہ ہنوز شرمندئہ تعبیر ہے۔ تاہم، علامہ اقبال کی اچانک رحلت کے بعد مولانا مودودی نے اپنی انفرادی حیثیت میں اُن عام علمی کاموں کے سلسلے میں جو علامہ کے پیش نظر تھے، ایک غیرمعمولی مجتہدانہ بصیرت اور خداداد صلاحیت کے ساتھ جو علمی کارنامہ انجام دیا، وہ ہماری تاریخ کا ایک اہم سرمایہ ہے۔ اس کے بہت سے پہلو ہیں، مثلاً: تفہیم القرآن وغیرہ۔ اس کا تذکرہ ایک الگ مقالے کا متقاضی ہے جو آیندہ کسی موقعے پر پیش کیا جائے گا۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے ایڈیٹر یاکوف کاٹزنے ۲۲ستمبر کو ادارتی نوٹ میں جب سوال کیا کہ ’’کیا اسرائیل کو دوبارہ ۱۹۷۳ءکی ’یوم کپورجنگ‘ جیسی صورت حال کا سامنا کرپڑسکتا ہے؟‘‘ تو خود ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا ، کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کی ناک کے نیچے ایسی ہی کارروائی کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
تاریخی شہر یروشلم یا القدس سے جنوب کی طرف جاتے ہوئے النقب یعنی نیگیو صحرا سے گزریں تو جدید زرعی تکنیک کے ذریعے اسرائیلی ماہرین نے ریگستان کو گلزار و شاداب بنا دیا ہے، اس کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں ایک طرف یہودی قصبے آراد، دیما، مٹزپے اور رامون کی بلندو بالا عمارتیں، جدید شاپنگ مالز اور انتہائی جدید انفرا سٹرکچر کسی بھی مغربی ملک کے شہر کا منظر پیش کرتے ہیں، انھی کے بغل میں عرب بدو بستیاں اور قصبے راحت، تل شیوا اور لاکیا، انتہائی کسمپرسی اور لاچاری کی داستان بیان کرتے ہیں۔ اس سوکلومیٹر کے راستے میںہی عسقلان، سدیرات، کفار عزا، بیری، نہال اوز اور میگن کی اسرائیلی رہائشی بستیوں ہیں،جہاں ۷؍اکتوبر کی صبح کو حماس نے حملہ کرکے ان علاقوں کو جہنم زار بنادیا، اور اس کے بعد سے اسرائیلی فضائیہ غزہ کی پٹی پرمسلسل قہر برسا رہی ہے۔ حماس نے سادہ موٹر سائیکلوں سے لے کر غیرروایتی پیرا گلائیڈرز پر سوار اور دنیا کے انتہائی جدید ترین نگرانی کے سسٹم کو چکمہ دیتے ہوئے اور راکٹوں کی بارش کرکے تین دن تک ان علاقوں پر قبضہ برقرار رکھا۔
ماضی میں جب بھی غزہ پر اسرائیلی حملہ ہوتا تھا، تو اسی علاقےمیں کبورز بیری کی مکین ایک کینیڈا نژاد یہودی معمر خاتون ۷۴ سالہ ویوین سلورکو فون کرکے حالات معلوم کرتے تھے۔ حقوق انسانی کےکارکن کی حیثیت سے اسکو اکثر سدیرات کے قصبہ میں غزہ کی سرحدکے پاس اسرائیلی حملوں کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرےکرتے ہوئے دیکھا جاتا تھا۔ مگر ۷؍اکتوبر کے حملے میں جہاں ان کےکبورز یعنی ہاؤسنگ سوسائٹی کے دیگر گھرمتاثر ہوئے ہیں ،وہیں ان کی رہایش بھی تباہ ہو گئی ہے۔ اس دن سے وہ غائب ہیں اور ان کا فون بھی بند ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حماس کے عسکری اس کو اپنے ساتھ لےگئے ہوں گے، تو وہ محفوظ ہوگی اور جلد ہی واپس آکر پھر سرگرم ہوجائے گی، مگر جنگ میں کسی بھی چیز کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے۔بس ایک موہوم سی اُمید ہے۔ بیرون دنیا کے صحافیوں کے لیے، جو فلسطین کے مسائل کو خاص طور پر غزہ کو کور کرنا چاہتے تھے، وہ ایک طرح سے پہلا وسیلہ ہوتی تھی۔ ان کاکہنا تھا کہ ۱۹۹۰ء میں جب وہ غزہ سرحد کے قریب واقع کبورز بیری میں منتقل ہوگئی تھی، تو وہ عرب معاملات سے واقف ہوگئیں۔ اس کے بعد انھوں نے غزہ کی آبادی کی بہبود کے لیے پروگرام ترتیب دیئے۔ابھی ۴؍ اکتوبر کو ہی سلور نےیروشلم میں ایک امن ریلی کا انعقاد کیا تھا، جس میں فلسطینی مسئلے کو نظر انداز کرنے پر اسرائیلی حکومت پر شدید تنقید کی گئی۔ اس میں ۱۵۰۰؍ اسرائیلی اور فلسطینی خواتین نے شرکت کی تھی۔
بارود کا قہر صرف اسی سرزمین تک محدود نہیں تھا۔ صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر غزہ، اسرائیل کی انتقامی کارروائیوں اورجھنجھلاہٹ کے بوجھ تلے لرز اٹھا۔ جیسے جیسے دن گزرتے ہیں، غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب تک ۵ہزار سے زیادہ فلسطینی بچّے، عورتیں اور مرد شہید ہوچکے ہیں۔ اسی طرح اسرائیل نے الاہل عرب، عرب ہسپتال غزہ پر حملہ کرکے ۵سو سے زیادہ مریضوں اور زخمیوں کو ماردیا ہے۔
سابق امریکی فوجی افسر مارک گارلاسکو، جو اب نیدر لینڈ کی پیکس فار پیس تنظیم کے لیے کام کرتے ہیں کا کہنا ہے:’’ اسرائیل نے تو صرف ایک ہفتے میں ہی۶۵۰۰بم گرائے، یعنی ایک ہزار بم ایک دن میں۔ امریکا نے افغانستان میں پورے سال بھر۷۴۲۳ بم گرائے تھے۔ غزہ پر بمباری اس لیے بھی تشویش کا موجب بنتی ہے کہ افغانستان کے برعکس یہ ایک گنجان آباد شہری علاقہ ہے۔ امریکی فوجی ریکارڈ کے مطابق: ’’ناٹو اتحادی افواج نے لیبیا میں پوری جنگ کے دوران طیاروں سے تقریباً ۷۶۰۰ بم اور میزائل گرائے تھے‘‘۔
غزہ اس وقت اپنے وجود کے بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس علاقے میں ہر فرد بے گھر، الجھن اور نااُمیدی کے احساس کی عکاسی کر رہا ہے۔ غزہ کے رہایشی جمعہ ناصر اور فری لانس صحافی عصیل موسیٰ پناہ کی تلاش میں اپنے دردناک سفر کا ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں:’’بمباری کے خوف سے وہ رات بھر بھاگتے رہے‘‘۔ فون پر گفتگو کرتے ہوئے عصیل کہہ رہی تھی:’’کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے، کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ جب بمباری نہیں ہوتی ہے، تو سروں کے اوپر اسرائیلی ڈرون خوفناک آوازیں نکالتے ہوئے پرواز کرکے ایک لمحہ بھی چین سے رہنے نہیں دے رہے ہیں‘‘۔ وہ ان دس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں میں سے ایک ہیں،جنھیں اسرائیل نے کہا ہے کہ اگر وہ وہاں رہنا چاہتے ہیں تو غزہ کے جنوب میں بھاگ جائیں،مگر ان کے بھاگتے قافلہ پر بھی بمباری کی گئی۔
حماس کی کی کارروائی نے پوری دنیا کوحیران تو کردیا، مگر اس خطے پر نظر رکھنے والے کچھ عرصے سے فلسطین کے حوالے سے کسی بڑی کارروائی کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ ایک لاوا خطے میں پک رہا تھا، جس کو پھٹنا ہی تھا۔ فلسطینیوں میں ’ابراہیمی معاہدے‘ کی وجہ سے مایوسی پھیل گئی تھی۔ پہلا معاہدہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل کے درمیان ۱۵ ستمبر۲۰۲۰ء کو ہوا تھا، جس کے بعد اسرائیل، مراکش اور سوڈان کے درمیان بھی اسی طرح کے معاہدے ہوئے۔ گذشتہ ماہ سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ ’’قطر اور سعودی عرب کے ساتھ ایک بنیادی فریم ورک پر کام کیا جا رہا ہے‘‘۔مگر ان معاہدوں کی خبروں نے فلسطینیوں کی زمینی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اس کے برعکس ۲۰۲۳ء کے صرف پہلے نو مہینوں میں، اسرائیل نے کم از کم ۲۳۰ فلسطینیوں کو ہلاک کردیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ۲۰۰۵ء کے بعد سے جاری تنازعے میں ہلاکتوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔صرف رواں سال کی پہلی ششماہی میں فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے کم از کم۱۱۴۸ حملے ریکارڈ کیے گئے۔مزید یہ کہ اسرائیل کے انتہائی مذہبی شدت پسند جان بوجھ کر الاقصیٰ کمپلیکس کے اندر اشتعال انگیز مارچ میں اس کی بے حُرمتی کر کے فلسطینیوں کو اُکسا رہے تھے۔ حال ہی میں انھوں نے مسیحی برادری کے مقدس مقام پر تھوک کر ان کی بھی توہین کی ۔ مصری خفیہ ایجنسی کے ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ: ’’ہم نے اسرائیلیوں کو خبردار کیا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں صورتِ حال دھماکہ خیز ہوتی جا رہی ہے،مگر انھوں نے ان کو قابلِ توجہ نہیں سمجھا‘‘۔
مغربی کنارے اور اپنے زیرتسلط عرب آبادی کو اسرائیل نے بد ترین نسل پرستی کا نشانہ بنایا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ عرب آبادی کو امتیازی سلوک کا سامنا کر نا پڑرہاہے ۔ صحراؤں میں رہنے والے عرب بدوؤں کو بنیادی سہولیات سے محروم کرنے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ ان کے ۳۵دیہات، جہاں تقریباً ۷۰ ہزار لوگ رہتے ہیں، اس وقت اسرائیل کی طرف سے ان معنوں میں ’غیر تسلیم شدہ‘ہیں کہ وہاں بجلی اور پانی کی سپلائی منقطع ہے اور انھیں بار بار مسمار کرنے کے لیے نشانہ بنایا جارہا ہے۔
مغربی کنارے میں انتفاضہ جیسی کارروائی یا اسرائیل کے اندر عرب آبادی کی بغاوت کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ غزہ کے راستے اس طرح کی پیش قدمی یقینا ان کے لیے بھی حیرانی کا باعث ہے۔ اس غلط اندازے کی وجہ سے اسرائیل نے بھی مغربی کنارے پر افواج کی تعیناتی کی تھی، اور جنوبی خطے کو ایک طرح سے خالی چھوڑا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ علاقے واپس لینے کے لیے اس کے انتہائی تربیت یافتہ اور جدید آلات سے لیس کماڈوز کو تین دن زور لگانا پڑا۔
معروف اسرائیلی کالم نگار، گیڈون لیوی کا کہنا ہے: ’’کئی برسوں میں بہت سی اشتعال انگیزیاں ہوئی ہیں جو ایک دھماکا خیز صورتِ حال بنا رہی تھیں۔ یہودی آباد کاروںکی طرف سے فلسطینی آبادی کو اشتعال دلایا جا رہا تھا۔ اور جب حماس نے ان پر حملہ کیا، تو ان کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں تھا‘‘۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق: ’’۲۸ستمبر کو سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ میں حماس کی جانب سے اسرائیل پر کئی دنوں تک راکٹ فائر کرنے کے امکان کی نشاندہی کی گئی تھی اور پھر ۵؍اکتوبر کو دوسری رپورٹ میں اس انتباہ کو دُہرایا گیا‘‘۔
اسرائیلی افواج اب غزہ کے تباہ شدہ منظر نامے میں داخل ہو رہی ہیں۔اپنی باقاعدہ فوج کے علاوہ، اسرائیل نے حماس کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کے لیے۳لاکھ ۶۰ ہزار ریزروسٹ، یا کل اسرائیلی آبادی کے ۴ فی صد کو بھرتی کیا ہے۔ فوجی حکمت عملی کے ایک اسرائیلی ماہر جیک خووری کے مطابق: ’’انتقامی کارروائیاں فوری طور پر جذباتی سکون فراہم تو کرتی ہیں، مگر وہ اکثر پیچیدہ، دیرپا مسائل کا باعث بنتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حماس کو اگر ختم کردیا جائے تو غزہ پر کون حکومت کرے گا اور کون تعمیرِ نو کرے گا؟‘‘ جیک خودری کا کہنا ہے کہ :’’امریکا نے نائن الیون کے حملوں کے بعد افغانستان اور عراق پر چڑھائی کی۔ دو عشرے کے بعدافغانستان میں طالبان مضبوطی کے ساتھ واپس اقتدار میں آگئے اور عراق میں ایران کو تاریخ میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہے، جس سے یہ ملک امریکیوں کے لیے مزید خطرناک ہوگیا ہے‘‘۔ ایڈرین لیوی کے مطابق: ’’اعلیٰ امریکی اور یورپی حکام کے دورے اور امریکی صدر جو بائیڈن کی ہمدردانہ تقریر سے اسرائیلیوں کو گمراہ نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ حماس کے حملوں نے بتایا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو نظر انداز کرنا ایک غلطی تھی۔ اسرائیل اور اس کے عرب شراکت داروں کے لیے لازم ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے کے لیے ایک نئے، پُراُمید وژن پر غور کریں۔فوجی کارروائی سے نہ تو حماس کے عسکریوں کو ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کے نظریہ یا بنیادی مسائل کو، جس کی وجہ سے ان کی آبیاری ہوتی ہے۔
اکتوبر ۱۹۷۳ء میں مصر ی افواج نے اچانک حملہ کرکے نہر سویز اور صحرائے سینا کو اسرائیلی قبضہ سے آزاد کرواکر اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے بت کوپاش پاش کر دیا تھا۔ پچھلے ۵۰برسوں میں یہ سودا ایک بار پھر اسرائیلی حکمرانوں کے سر میں سما گیا تھا۔ اسی غرور کی وجہ سے وہ فلسطینیوں کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں تھے۔ اپنے عرب پڑوسیوں کے ساتھ امن کے لیے ’ابراہیمی معاہدے‘ کے مندجات پر بات چیت کرتے ہوئے اسرائیلی، فلسطین کی خودمختاری کے حوالے سے کسی بھی طرح کی بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔
پچھلے ایک عشرے سے تو کسی بھی سفارتی اجلاس میں اسرائیلی سفارت کار، فلسطین کے حوالے سے کوئی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے تھے۔ وہ اس کے بجائے عرب ہمسائیوں کے ساتھ علاقائی روابط اور استحکام پر توجہ مرکوز رکھتے تھے۔ سعودی عرب کے ساتھ ’ابراہیمی معاہدے‘ پر دستخط کرنے سے قبل، صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت نے یہودی غیر سرکاری تنظیموں کوچھوٹ دے رکھی تھی، کہ وہ زیادہ سے زیادہ یہودی آباد کاروں کو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زمینوں پر آباد کریں۔ کیونکہ فلسطینیوں کے حوالے سے وہ عرب ممالک کو بس اتنی سی رعایت دینے کے لیے تیار تھے کہ وہ مزید یہودی آبادکاروں کو فلسطینی زمینوں پر آباد نہیں کریں گے۔
سعودی عرب میںبھارت کے سابق سفیر تلمیذ احمد کے مطابق: ’’یہ اقدام کرکے حماس نے پیغام دیا ہے کہ فلسطین کے مسائل کو حل کیے بغیر عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے ہیں۔ کچھ عرصے سے مغربی میڈیا جو اسرائیل کا حامی ہے، اسے اس مسئلے کے حوالے سے بات کرنا بھی گوارا نہیں تھا۔ حد یہ کہ نیتن یاہو تو اب دوریاستی فارمولے پر بھی غور کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔وہ بس اردن سے مسجد اقصیٰ کی نگرانی چھین کر اس کو سعودی عرب کو دینے کے لیے تیار تھا اور اسی چیز کو ایک بڑی رعایت سمجھتا تھا‘‘۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے ’گریٹر اسرائیل‘(عظیم تر اسرائیل) کا نقشہ پیش کر کے معاملے کو مزید پیچیدہ کردیا۔ اس میں مغربی کنارے اور غزہ کو اسرائیل کی سرحدوں کے اندر دکھایا گیا ہے۔ نیتن یاہو کے سابق مشیر یاکوف امیڈور نے اعتراف کیا ہے کہ: ’’حماس کی کارروائی ایک بڑی انٹیلی جنس ناکامی ظاہر کرتی ہے،کیونکہ اس طرح کے حملوں کے لیے مہینوں کی منصوبہ بندی اور متعدد گروپوں کے درمیان محتاط تربیت اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔
جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ ’’حماس کی کارروائیوں سے کس کو فائدہ ہوا؟‘‘ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس اقدام نے بہت سے اسٹیک ہولڈرز کے لیے راحت کا ساما ن فراہم کیا ہے۔ ایران، چین اور روس اس لیے خوش ہو رہے ہیں کیونکہ امریکی ثالثی میں ہونے والے ’ابراہیمی معاہدے‘ کو شدید دھچکا لگا ہے۔ خطے میں متوقع استحکام کی اُمید میںامریکا اس خطے سے نکل کر اپنے وسائل ایشیا پیسیفک کے علاقے میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ چین کا مقابلہ کیا جاسکے۔ روس کے لیے یوکرین سے مغربی دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایک نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اگرچہ ایران نے حماس کی براہ راست مدد نہ کی ہو، لیکن مزاحمتی گروپ پر اس کا اثر و رسوخ اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ اس کی قربت اسرائیل کے لیے تنائو کی صورتِ حال بناتی ہے۔اسرائیل جو ایران پر حملہ کرنے کے لیے پر تول رہا تھا، اب اس خطے میں ہی محدود ہو کر مزاحمتی گروپوں سے لڑنے میں مصروف رہے گا۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے پر مجبور شرق اوسط کے ممالک بھی اب تل ابیب کے ساتھ مضبوط بنیادوں پر بات چیت کر سکتے ہیں کیونکہ اب اسرائیل چاہے کچھ بھی کرے وہ اپنا مضبوط اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔ ’ابراہیمی معاہدے‘ پر ثالثی کے دوران، امریکا نے بھی اَزحد کوشش کی تھی، کہ کسی طرح اسرائیل کو فلسطینیوں کو کوئی رعایت دینے پر آمادہ کیا جائے، مگر اسرائیل نے امریکی کوششوں کو کئی بار سبو تاژ کیا، جس سے امریکی صدور بھی نالاں تھے۔
چند سال قبل نئی دہلی کے دورے پر آئے یہودی مذہبی لیڈر اور ’امریکن جیوش کمیٹی‘ (AJC) کے ایک عہدے دار ڈیوڈ شلومو روزن نے مجھے بتایا کہ: ’’مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ۱۹۷۳ءکی جنگ کے بعد ہی ممکن ہوسکا۔ اس جنگ نے ہمارے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم توڑ دیا۔ اس لیے اس جنگ کے بعد عمومی طور پر اسرائیلی معاشرے میں احساس پیدا ہوگیا تھاکہ ان کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا‘‘۔ جون ۱۹۶۷ء کی چھ روزہ جنگ میں مصر، شام اور اردن کو مکمل طور پر شکست دینے کے بعد اسرائیل حد سے زیادہ پُر اعتماد ہو گیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق اسرائیل امن مذاکرات شروع کرنے یا اپنے عرب پڑوسیوں کو کچھ رعایتیں دینے کے لیے امریکی دباؤ کو بار بار مسترد کر رہا تھا۔ ۲۰۲۱ء میں شائع ہونے والی کتابMaster of the Game ' کے مصنف مارٹن انڈک کے مطابق ہنری کسنجر نے امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا تھا کہ ’’وہ فور ی طور پر اسرائیل کی مددکو نہ آئے‘‘۔ وہ اسرائیل کو ایک جھٹکا(shock) دے کر باور کروانا چاہتے تھے کہ اس کا وجود اور سلامتی بس امریکا کے دم سے ہے۔ اسی جنگ کے بعد ہی ۱۹۷۹ء میں اسرائیل نے مصر کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کیے، بعد میں اردن اور پھر فلسطینیوں کے ساتھ ’اوسلو معاہدے‘ عمل میں آئے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اسرائیل کے بھرم کا ٹوٹنا ہی تھا۔
حماس کی کارروائی عرب ہمسایوں اور بڑی طاقتوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی دوڑ میں، مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کرکے انھوں نے ایک بڑی غلطی کی تھی۔ امریکی ڈپلومیسی کے ایک ماہر ہنری کسنجر نے کئی عشرے قبل خبر دار کیا تھا کہ ’’اگر آپ فلسطین جیسے ایشو کو نظر انداز کرتے ہیں، تو یہ کسی بھی وقت پلٹ کر وار کرکے آپ کے چہرہ کو بگاڑ دے گا‘‘۔ واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ شرق اوسط میںحالات تیزی کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ اس لیے دیرپا امن کے مفاد میں ضروری ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو معتبر طریقوں کے ساتھ حل کرتے ہوئے عالمی سطح پر استحکام پیدا کیا جائے۔ یہی زریں اصول نہ صرف فلسطین، بلکہ تمام متنازعہ خطوں پر صادق آتا ہے۔
اس دوران دہشت گرد یہودیوں کا بار بار مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر شوروشغب کرنا، نمازیوں کو تنگ کرنا، مسجد کے احاطے میں مسلمانوں کو چیلنج کرکے یہودی عبادات و رسومات ادا کرنا، مسجداقصیٰ کو اپنے زیرتصرف لانے کے اقدامات کرنا اور یہاں تک کہ ہارن بجاکر مسجد کی بے حُرمتی کرنا، سب شامل ہے۔ اقصیٰ کی تقسیم کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات شروع کیے گئے: ۱-ضحی (چاشت) کے وقت ۲-ظہر اور عصر کے درمیانی وقت اور ۳- عصر کے بعد کے وقت، مسجداقصیٰ میں مداخلت کرکے اپنے اوقات عبادات کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی، جو دراصل مسجد اقصیٰ کے انہدام اور اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے فضا بنانے کا عمل تھا۔ اس دوران غزہ اور مغربی کنارے پر لوگ اشتعال محسوس کر رہے تھے اور روز اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے اپنے ہم وطن فلسطینی بھائیوں کے جنازے اُٹھا رہے تھے۔ اس صورتِ حال میں القسام بریگیڈ، حماس، الحرکۃ الاسلامیہ اور ایلیٹ فورسز نے الاقصیٰ کی حفاظت کے لیے ’الاقصیٰ طوفان‘ لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اب ہمارے موجودہ اقدام نے ہماری عسکری کامیابی کو ثابت کردیا ہے، جو قانونی دائرے میں ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ عالمی جنگ میں ڈیگال کو یہ سہولت بی بی سی کے ذریعے دی گئی کہ وہ فرانسیسیوں سے براہِ راست مخاطب ہوکر انھیں جرمنی کے ساتھ جنگ پر آمادہ کرے، جب کہ آج امریکا کا موقف ہے کہ وہ روس کے خلاف یوکرائن کا درست ساتھ دے رہا ہے کیونکہ یہ جنگ روس نے یک طرفہ شروع کی ہے۔ ہمارا سوال ہے کہ اسرائیل جو ۷۰سال سے زائد عرصے سے یک طرفہ جنگ کر رہا ہے، کیا اس کے خلاف اقدام کی ضرورت نہیں ہے؟
۱- اسرائیل کے خلاف ایسا مشترکہ موقف اختیار کیا جائے جو اسے زیادتیاں کرنے سے روکنے کا باعث بنے، خاص طور پر آج کل کی وحشیانہ بمباری کو رکوانے کے لیے واضح مضبوط موقف اپنانا چاہیے۔
۲- یہ مضبوط موقف کہ فلسطینی اپنے علاقوں ہی میں رہیں گے، انھیں کسی طور پر اپنے علاقوں سے دربدر نہیں کیا جائے گا۔
۳- اہل غزہ کی ہرنوعیت کی نصرت کا سامان کیا جائے۔
۴- تمام ممالک میں عوامی رائے عامہ کو مزید متحرک کرکے مسلسل بڑے بڑے مظاہروں کا اہتمام کیا جائے تاکہ دشمن مزید زیادتی سے رُک جائے۔
۵- جو کوئی بھی فلسطین کی سرحدوں تک آسکے، آئے۔اسرائیل آگ سے کھیل رہا ہے۔ اسے اس کام سے روکنا ہماری اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے۔
ہم فلسطینیوں کی سوچ دو نکات کے تحت پروان چڑھی ہے: ہم عقلی و تدبیری اور سیاسی و ایمانی اصولوں کو سامنے رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہرطرح کی کمی، کمزوری پر ہم نے قابو پایا ہے۔ یہ سب ایمانی، سیاسی، عقلی و عملی نکات کا مرہونِ منت ہے۔ ہم نے گذشتہ سولہ برس میں سخت حصار کے دوران اللہ پر کامل ایمان کے زیرسایہ یہ سب حاصل کیا ہے۔ ہماری ایلیٹ فورس نے علی الصبح اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ کر بفضل اللہ اسرائیلی فساد اور غرور کو، بحروبراور فضا سے پاتال میں پھینک دیا۔ سوال یہ ہے کہ ان برسوں میں کسی نے ہمیں اس شورش سے بچانے کی کیا کوشش کی؟ اسرائیل، سب طاقتوں کے تعاون کے باوجود ایک بار پوری طرح رُسوا ہوا۔ غزہ کے شہریوں کے پاس اپنی عزت و وقار کے سوا اورکیاہے؟ وہ اپنی عزت و تکریم کے بقا کی جنگ لڑتے رہیں گے، چاہے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔
میں ان لوگوں میں سے نہیں جو سوشل میڈیا پر چھڑنے والی ہر متنازع گفتگو کا جواب دینے کے لیے میدان میں اُتر پڑتے ہیں۔چند روز پہلے بعض احباب نے دریافت کیا: ’’اس شخص کی رائے کے بارے میں آپ کا کیا جواب ہے، جو یہ کہتا ہے کہ صیہونی دشمن کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں تاکہ اسے اتنے شدید ردِ عمل کا موقع نہ ملے‘‘۔ خاموش رہنے کے بجائے اپنے احساسات کو سرسری طور پر بیان کروں گا:
ماضی قریب میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والا اذیت ناک سلوک برداشت کی حدوں سے بھی باہر ہوچکا ہے۔ ان میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ امت انھیں بھول بیٹھی ہے، کسی کو ان کی مصیبت اور ان کے حالات کی فکر نہیں بلکہ کسی کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے؟ صیہونی حکومت کے اندر انتہا پسند یہودیوں کی مضبوط گرفت کے سبب قیدیوں کی زندگی کو اس طرح جہنم بنا دیا گیا ہے کہ عملاً ان کے لیے یہ سب نا قابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ گذشتہ مہینوں سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ ان قیدیوں کی رہائی اور اس جہنم سے ان کی آزادی کے لیے جد وجہد ضروری ہے۔ اس مصیبت میں ہماری قیدی بہنوں کی اذیت کا اضافہ بھی کر لیجیے۔ ہماری بہنوں کو رُسوا کیا جارہا ہے۔ ان کے دین، ان کی عفت، اور ان کی حیا کوجس طرح تار تار کیا جا رہا ہے، مجھ میں تاب نہیں کہ اس کی تفصیل بیان کرسکوں۔ ایسے مرحلے میں مجاہدین نے آپریشن کیا تاکہ مظالم کے اس لا متناہی سلسلے پر بند باندھا جائے۔
میں نے جنگی جہازوں اور میزائلوں کی گھن گرج کے درمیان جلدی میں یہ چار اسباب بیان کیے ہیں۔پھر یہ بھی عرض کروں گا کہ بارود، آگ، خون اور موت کے مقابلے میں کھڑے لوگ اپنے احوال سے بہتر واقف ہیں، جو ان احوال سے واقف نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے صحیح صورتِ حال دریافت کر لے۔ یہی حکمت اور دیانت کا تقاضا ہے۔ اور جو وطن سے دُور ہو اس پر ایسی کوئی پابندی تو نہیں کہ وہ ملکی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکتا، البتہ ضروری ہے کہ پہلے وہ حصول معلومات کے ممکنہ ذرائع کا استعمال کر لے، کیونکہ فتویٰ کے لیے یہ ایک ضروری شرط ہے۔
جب معرکہ برپا ہو اس وقت ہمیں دستِ تعاون بڑھانا چاہیے، نہ کہ تنقید اور محاسبہ کے تیرچلانے چاہییں۔ جو لوگ صیہونی موقف پر تکیہ کرنے والے استبدادی حکمرانوں کے نقطۂ نظر کو درست سمجھتے ہوں، وہ ان وضاحتوں سے بھی مطمئن نہیں ہو سکتے بلکہ یہ لوگ ہر اس شخص کے رَد کے لیے تیار رہیں گے، جو انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کرے گا، تاکہ اسی کی بات درست مانی جائے ۔ لہٰذا، اس قسم کی بحثوں میں اُلجھنے کا کوئی بڑا فائدہ نہیں۔
ہم نے برسہا برس سے ایسے تماش بیں لوگوں کو دیکھا ہے جن کے بارے میں رسولؐ اللہ کے فرمودات میں ہمیں پہلے ہی بتا دیا گیا ہے۔ ہمیں نصوص میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ محاذوں پر ڈٹ جانے والوں کو اللہ کے حکم سے نہ تو ان کے مخالفین نقصان پہنچا سکیں گے اور نہ ان کو بے یار مددگار چھوڑ کر تماشا دیکھنے والے ایسا کرسکیں گے۔
مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ کچھ لوگوں کو اس پر کوئی دُکھ نہیں ہوتا کہ پوری کی پوری قوم ذلت، رُسوائی، فقر، اور مظلومیت کی دلدل میں ہے۔ انھیں قید و بند کی زنجیروں نے جکڑ رکھا ہے۔ مسجد اقصٰی کی حرمت پامال ہو رہی ہے۔ ہمارے قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک ہو رہا ہے۔ ان کے نزدیک ’’یہ سب فطری اور معمول کی باتیں ہیں، ان سب کے ساتھ جینا سیکھ لینا چاہیے‘‘۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ باطل کہاں ہے جو تمھیں اس کی اجازت دے دے گا کہ تم اسے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرو اور پھر اس پر خاموش رہ کر تم سے محبت اور مہربانی کے ساتھ پیش آتا رہے۔
اللہ جل جلالہٗ سے بس یہی فریاد ہے کہ الٰہی ہم کمزور ہیں ہماری مدد فرما، ہم محتاج اور تیری عنایت کے طلب گار ہیں ہم پر کرم فرما، ہم عاجز ہیں ہمیں غلبہ و قوت عطا فرما، ہم رُسوائی سے دوچار ہیں ہمیں عزت و اقتدار عطا فرما، کسی بھی افواہ پھیلانے والے اور ساتھ چھوڑ کر بھاگنے والے کے شر سے ہمیں بچا: وَاللہُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِہٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۲۱ (یوسف ۱۲:۲۱) ’’اللہ اپنے معاملے پر غالب آکر رہنے والا ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے‘‘۔