مضامین کی فہرست


جولائی ۲۰۱۳

سلام سنٹر بنگلور، بھارت اس لحاظ سے معروف ادارہ ہے کہ دعوتِ دین کے لیے مختلف طبقوں میں حکمت کے ساتھ تعارف و تقسیم قرآن اور تعارف سیرتِ رسولؐ کے لیے منفرد انداز میں کام کررہا ہے۔ حال ہی میں آٹورکشا کے ذریعے دعوتِ دین کا تجربہ کیا گیا۔ اس کی رپورٹ بہ شکریہ دعوت، دہلی (اگست ۲۰۱۲ء) پیش ہے۔ (ادارہ)

گذشتہ دنوں سلام سنٹر کی جانب سے بنگلور شہر میں آٹورکشا کے ذریعے دعوت کا کام  ایک نئے انداز میں شروع کیاگیا۔ اس کے تحت آٹورکشا ڈرائیور کی سیٹ کے پیچھے ایک اسٹینڈ لگایا گیا ہے جس میں تین خانے ہیں۔ ان میںفولڈرز کے علاوہ ایک مشہور کتاب کنڑا اور تمل زبان میں رکھی گئی ہے: ’اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ‘۔ اس پراجیکٹ کا باضابطہ افتتاح کرتے ہوئے آٹورکشا ڈرائیوروں کے ایک گروپ سے چیئرمین سلام سنٹر سیدحامد محسن نے کہا کہ دعوتِ دین کا کام ایک عظیم سنتِ رسولؐ ہے۔ انبیاے کرام ؑ خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچایا کرتے تھے۔ اب دعوتِ دین کا کام اُمت مسلمہ کو کرنا ہے۔ اسکالر، علما، قائدین، بزنس میں اور طلبہ، یعنی اُمت کے ہرفرد پر غیرمسلموں تک دین کی دعوت پہنچانا فرض ہے۔ اس کے لیے خدا کا آخری پیغام قرآنِ مجید اور سیرتِ رسولؐ ان غیرمسلمین تک پہنچانے کی آج سخت ضرورت ہے۔ یہ وہ عظیم کام ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیا۔ اب وہی کام آپ لوگ کرنے جارہے ہیں۔

اس تقریر کا پس منظر یہ تھا کہ بدلے ہوئے حالات میں دین کی دعوت لوگوں تک کیسے پہنچائی جائے؟ سلام سنٹر بنگلور نے اس سے قبل اخبارات میں اشتہار دے کر، ہورڈنگز لگا کر، قرآنِ مجید اور اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے غیرمسلمین کے لیے راہ ہموار کی۔ جس سے کئی غیرمسلم قرآنِ مجید پڑھنے لگے اور اسلام سے قریب ہوئے۔ دہلی اور بنگلور بک فیسٹیول میں حصہ لے کر ہزاروں کی تعداد میں اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام قرآنِ مجید بندگانِ خدا تک پہنچایا گیا۔ اس کے بعد ریاستی     ہائی کورٹ اور دیگر علاقوں کے سول کورٹ کے وکیلوں اور ججوں کو ہزاروں کی تعداد میں قرآنِ مجید کے نسخے پہنچائے گئے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بنگلور، میڈیکل اسٹوڈنٹس، طلبہ و طالبات اور مختلف کالجوں میں پہنچ کر قرآنِ مجید، دینی کتابیں اور ڈی وی ڈی دی گئیں۔ اسی طرح پولیس ڈیپارٹمنٹ تک بالخصوص افسرانِ بالا میں قرآنِ مجید پہنچانے کا عظیم کام انجام دیا گیا۔ اسی طرح برادرانِ وطن کی تقریبات میں کئی اہم دانش ور غیرمسلم افسران کو بھی قرآن مجید پہنچائے گئے، الحمدللہ!

ان تمام کوششوں کے بعد اب آٹو ڈرائیوروں کے ذریعے مسافروں تک دعوتِ دین پہنچانے کا نیا منصوبہ سلام سنٹر بنگلور نے شروع کیا ہے۔ اس کے لیے ۵۰آٹو ڈرائیوروں کو منتخب کرکے انھیں اس بات کی تربیت دی گئی کہ سب سے پہلے نمازوں کی پابندی کریں، لوگوں سے بہترین اخلاق کا مظاہرہ کریں۔ عجزوانکسار کے ساتھ ساتھ صبر کا دامن کسی بھی حالت میں نہ چھوڑیں۔ چاہے کیسے بھی حالات درپیش آئیں، اللہ سے مدد مانگتے رہیں۔ سوشل سروس، یعنی مسافروں کا سامان خود اُٹھائیں وغیرہ۔ نیز انھیں غیرمسلموں کے تاثرات کی وڈیو دکھائی گئی جو قرآنِ مجید اور سیرتِ رسولؐ پر کتاب حاصل کرنے کے بعد لی گئی تھی۔

سلام سنٹر بنگلورنے ان ۵۰ آٹوز میں ڈرائیور کی نشست کے عقب میں جو اسٹینڈ بنایا ہے، انگریزی اور کنڑا زبان میں خوب صورت، رنگین اور دیدہ زیب فولڈر توحید، اسلام اور حضور اکرمؐ کا تعارف، خواتین کے حقوق، حجاب، شدت پسندی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں، جہاد، اسلام اور دہشت گردی اور آخرت جیسے عنوانوں پر رکھے گئے ہیں اور ان باکسوں پر لکھا گیا ہے کہ ’’آپ اپنا تحفہ مفت حاصل کرسکتے ہیں‘‘۔ ایک اور خوب صورت باکس میں یہ کتابچے غیرمسلم مسافر مفت حاصل کرسکتے ہیں، اور اگر کوئی مسافر ترجمۂ قرآن کا طلب گار ہے تو وہ ڈیٹافارم پُر کرکے حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے پتے پر آٹو رکشا ڈرائیور خود لے جاکر قرآن پہنچا دیتے ہیں۔ یہ عظیم سنت ِ رسولؐ    ادا کرتے ہوئے انھیں بہت ہی مسرت حاصل ہوتی ہے۔ الحمدللہ یہ طریقہ اختیار کرنے کے بعد  اس کے بہتر نتائج ظاہر ہوئے ہیں۔ غیرمسلموں میں قرآن پڑھنے کی خواہش کا بڑے پیمانے پر اظہار ہورہا ہے۔ خود ان آٹو رکشا ڈرائیوروں کے پاس ایسی پچاسوں کہانیاں ہیں جن میں حق کے پیاسے لوگوں نے ان سے قرآن طلب کیا اور قرآن پڑھ کر اپنی روح کی پیاس بجھائی۔ اس کام کو انجام دیتے ہوئے خود آٹوڈرائیور بھی اپنی زندگی میں تبدیلی اور اپنی کمائی میں برکت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ آٹو ڈرائیوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیرمسلم قرآنِ مجید کا حددرجہ احترام کرتے ہیں۔ ۱۵دن کے اندر اندر ۱۰۰غیر مسلموں تک قرآنِ مجید کے ۱۰۰ نسخے ان آٹوڈرائیوروں نے پہنچائے ہیں۔ چند ایک مثالیں یہاں درج کی جارہی ہیں۔

سب سے پہلے ہم ڈی جے ہلی کے نثاراحمد آٹو ڈرائیور کا ذکر کرنا پسند کریں گے، جس نے سب سے پہلے سلام سنٹر کے اس کام کو کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ پھر ان کے تمام دوستوں نے دعوتِ دین کے کام کو کرنے کی ٹھانی۔ نثاراحمد کو ایک بہترین آٹو ڈرائیور کا ایوارڈ بنگلور سٹی پولیس کمشنر کے ہاتھوں  اس سے قبل حاصل ہوچکا ہے۔ ایک اور آٹو ڈرائیور قادر پاشا کہتے ہیں کہ اس کام سے میری روزمرہ کی زندگی میں کافی فرق واقع ہوا ہے۔ مسافروں سے زیادہ رقم لینا میرا معمول تھا لیکن اب غیرمسلموں تک قرآن پہنچانے کا کام کرتے ہوئے زیادہ رقم لینے میں عار محسوس کرتا ہوں۔ حافظ محمد صادق بھی آٹو رکشا ڈرائیور ہیں۔ ایک دفعہ ایک ہندو پجاری نے ان کے آٹو میں سفر کیا۔ دورانِ سفر آٹو میں رکھے ہوئے پمفلٹ پڑھے اور ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے اور ڈرائیور سے کہا کہ آج اچانک میری کار خراب ہونے کے باعث میں آٹو میں سفر کر رہا تھا کہ اسلام کے پیغام کو پڑھنے کا موقع ملا جس کا میں بہت ہی متلاشی تھا۔ پھر اس نے کنڑا ترجمۂ قرآن کا نسخہ حاصل کرلیا۔ قادر پاشا کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ مسافر نے قرآن طلب کیا تو دوسرے دن انھوں نے خوشی خوشی اس شخص کے گھر جاکر قرآن کا نسخہ پہنچایا۔ اس نے ایک ہزار روپے بخوشی دینا چاہے،  اس پر پاشا نے کہا: جناب! میں اپنے خدا سے اپنے اس کام کا اجر طلب کرلوں گا۔ میری تو آپ سے بس یہ مؤدبانہ گزارش ہے کہ آپ اس قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اس کے پیغام کو اپنی فیملی اور  اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

ایک اور آٹو ڈرائیور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے جب میں سنا کرتا تھا کہ سلام سنٹر قرآن غیرمسلموں کو پہنچا رہا ہے تو میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ غیرمسلم قرآنِ مجید کا احترام نہیں کریں گے اور اس کی بے حُرمتی کریں گے۔ لیکن جب سے میں خود قرآنِ مجید کو غیرمسلموں تک پہنچانے لگا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غیرمسلم ہم سے زیادہ قرآنِ مجید کا ادب و احترام کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید کو حاصل کرتے وقت ان کی حالت یہ رہتی ہے کہ سرجھکائے ہوئے قرآنِ مجید کو پلکوں سے لگا لیتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ قرآنِ مجید کو فوراً پڑھنا شروع کردیتے ہیں اور ساتھ ہی ہماری بڑی تکریم کرتے ہیں (واضح رہے کہ سلام سنٹر قرآن عربی متن کے بغیر صرف ترجمۂ قرآن سات مختلف زبانوں میں غیرمسلموں تک تحفتاً پہنچا رہا ہے)۔

ایک اور آٹو ڈرائیور عبدالسبحان کہتے ہیں کہ اکثر آٹو رکشا میں بیک سیٹ پر یا تو فلمی ہیرو اور ہیروئین کی تصاویر ہوتی ہیں یا پھر ٹیپ ریکارڈر ہوتے ہیں جن میں فلمی گانے بجتے ہیں۔ لیکن اب سلام سنٹر کے طفیل ہم ان کے بجاے قرآن اور دینی لٹریچر رکھتے ہیں۔

ایک دفعہ سرکل انسپکٹر کی کار نے نثاراحمد ڈرائیور کے آٹو کا پیچھا کیا اور ان کا آٹو رُکوا دیا۔ ڈرائیور نثار احمد کئی خدشات میں گھراہوا تھا۔ اس نے پولیس انسپکٹر کو دیکھتے ہی اپنے بے قصور ہونے کی دہائی دی تو پولیس انسپکٹر نے کہا کہ تمھارے آٹو رکشا میں ’تپوکلپنے گڑو‘ نامی کتاب دیکھ کر میں نے اس کو حاصل کرنے کے لیے تمھارے آٹو کو رُکوایا ہے۔ اس کے علاوہ میرا کوئی مقصد نہیں تھا۔ پھر اس پولیس انسپکٹر نے اس سے کتاب حاصل کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس اچھے کام کو کرنے پر مبارک باد بھی پیش کی۔ یہ منظر دیکھ کر نثاراحمد کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور دلی مسرت ہوئی۔

یہ اور اس طرح کے بیسیوں واقعات ہیں جن کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ غیرمسلم آج پوری دل چسپی اور دل جمعی کے ساتھ خدا کے آخری پیغام قرآنِ مجید کو پڑھنا اور اس کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ اُمت مسلمہ ان تک اپنے رب کا پیغام پہنچائے۔ واضح رہے کہ سلام سنٹر بنگلور کا یہ کام وقتی طور پر نہیں ہورہا ہے بلکہ اس کو مستقل بنیادوں پر کام کرنے کا عزم اور منصوبہ ہے۔ یہ رنگین فولڈرز ہر مہینے تبدیل کردیے جاتے ہیں تاکہ مسافروں کی دل چسپی برقرار رہے۔

 

۱۵ جون کو انقرہ میںاور ۱۶ جون کو استنبول میں بلا مبالغہ لاکھوںافراد جمع تھے۔ وزیراعظم رجب طیب اردوگان ان سے مخاطب ہوکر کہہ رہے تھے: ’’آپ کو معلوم ہے کہ انھوں نے یکم جون سے یہ ہنگامہ آرائی کیوں شروع کی...؟ اس لیے کہ ہم نے مئی میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی تھیں.... ترکی اور ترک عوام کے دشمنوں کو یہ کامیابیاں ہضم نہیں ہورہیں اور انھوں نے ایک بڑی سازش کے حصے کے طور پر میدان تقسیم سے شوروشغب کا آغاز کردیا۔ ہم نے مئی کے مہینے میں....، اور پھر وزیراعظم اردوگان نے اپنی تازہ کامیابیوں کی طویل فہرست بیان کرنا شروع کردی۔ لیکن اس فہرست کا جائزہ لینے سے پہلے ذرا غور کیجیے کہ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ترکی میں لاکھوں افراد کے عظیم الشان پروگرام ہوئے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ سمیت دنیا میں ان کی کوئی خبر نمایاں نہیں کی گئی۔ کیا یہ امر بلا سبب ہے کہ استنبول کے میدان تقسیم میں چند سو افراد کی ہنگامہ آرائی اور پھر خیمے لگاکر بیٹھ جانے کی لمحہ بہ لمحہ خبریں اور تصویریں تو الیکٹرانک میڈیا بھی دے اور پرنٹ میڈیا بھی، لیکن لاکھوں افراد نے اپنی منتخب قیادت کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا اور اس کی کوئی تصویر، کوئی خبر دکھائی، سنائی نہ دے۔ عین اسی روز کہ جب دار الحکومت انقرہ میں لاکھوں افراد طیب اردوگان کا خطاب  سن رہے تھے، ایک پاکستانی ٹی وی چینل استنبول کے میدان تقسیم سے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے پولیس کی طرف سے واٹر گن استعمال کیے جانے کے مناظر دکھا رہا تھا، انقرہ مظاہرے کا نہ کوئی ذکر ہوا اور نہ کوئی جھلک دکھائی دی۔ ذرائع ابلاغ کا یہ بھینگا پن اتفاقیہ یا عارضی نہیں، قصداً اور مستقل ہے۔

آئیے اس کے اسباب کا ذکر کرنے سے پہلے طیب اردوگان کی بات مکمل کرتے ہیں۔   وہ کہہ رہے تھے: انھوں نے یکم جون سے اس لیے ہنگامہ آرائی شروع کی کیوں کہ ہم نے مئی میں آئی ایم ایف کے قرضوں کی آخری قسط (۴۱۲ ملین ڈالر) بھی ادا کردی۔ ہم جب برسراقتدار آئے تھے تو ترکی پر آئی ایم ایف کا ساڑھے ۲۳؍ ارب ڈالر (تقریباً ساڑھے ۲۳ کھرب روپے) کا قرض تھا۔ ہم نے نہ صرف وہ تمام قرض چکا دیا، بلکہ اب آئی ایم ایف ہم سے قرضہ مانگ رہا ہے۔ ہم جب برسراقتدار آئے تو سود کی شرح ۶۳ فی صد ہوچکی تھی۔ اب یہ شرح ۶ء۴ فی صد پر آگئی ہے۔ یہ تمام سود عوام کی جیب سے ادا ہوتا اور مخصوص سودی لابی کی جیبوں میں جاتا تھا۔ ہم نے آہستہ آہستہ ان کے یہ ذرائع آمدن مسدود کردیے ہیں، تو ان سب کو تشویش اور تکلیف ہورہی ہے کہ ترکی ان کی گرفت سے آزاد ہوگیا ہے۔ ہم نے استنبول میں ۴۶ ارب ڈالر کی مالیت سے ایک تیسرے اور  عظیم الشان ایئرپورٹ کی تعمیر کا آغاز کردیا ہے۔ ہم نے گذشتہ ماہ انقرہ میں جاپانی وزیراعظم کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کیا ہے جس کے مطابق ترکی میں ۲۲ ارب ڈالر کی مالیت سے ایک ایٹمی بجلی گھر تعمیر کیا جائے گا۔ ہم نے براعظم ایشیا اور یورپ کو ملانے کے لیے آبناے باسفورس کے اوپر ایک تیسرے پل کی تعمیر کا کام شروع کردیا ہے جس پر اڑھائی ارب ڈالر لاگت آئے گی، لیکن اس سے استنبول میں ٹریفک کا نظام مزید بہتر ہوجائے گا۔ اس پر پر سڑک کے علاوہ ریلوے لائن بھی بچھائی جائے گی۔ ترکی میں اقتصادی ترقی کا جو سفر شروع ہوا ہے اس کی وجہ سے گذشتہ ماہ استنبول اسٹاک ایکسچینج نے تجارت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم جب برسر اقتدار آئے تھے تو ملک تیزی سے دیوالیہ ہونے کی طرف لڑھک رہا تھا۔ تب ملکی خزانے میں صرف ۲۷ ارب ڈالر باقی رہ گئے تھے۔ ملک بھاری قرضوں تلے سسک رہا تھا۔ ساڑھے ۲۳؍ ارب ڈالر تو صرف آئی ایم ایف ہی کے ادا کرنا تھے۔ اب ہم نے نہ صرف قرضوں سے نجات پالی ہے بلکہ گذشتہ ماہ ملکی خزانہ ۱۳۵؍ ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرگیا ہے۔ ہماری درآمدات کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ہم نے ملک میں قومی یک جہتی پیدا کرنے کے لیے ملک کے جنوب مشرقی حصے میں موجود اپنے بھائیوں کے ساتھ بھی نئے اور حقیقی معاہدے کیے ہیں....‘‘۔

اردوگان اپنے تازہ کارناموں اور کارکردگی کی تفصیل سنا رہے تھے، لیکن باقی فہرست کو چھوڑ کر ذرا اسی آخری نکتے کا جائزہ لیجیے۔ ۸۰ ملین افراد پر مشتمل ترک آبادی میں سے کرد نسل سے تعلق رکھنے والے ۲۰فی صد بتائے جاتے ہیں۔ پوری ترک تاریخ میں کردی النسل اور ترکی النسل کا اختلاف شدت سے اٹھایا گیا ہے۔ ایک ہی ملک کے شہری اور مکمل دینی و تاریخی وحدت کے باوجود اقلیت کو ہمیشہ اکثریت سے شاکی رکھا گیا۔ مسائل تو ہر جگہ ہوتے ہیں اور ہوسکتے ہیں لیکن مسلم ممالک میں نسلی بنیادوں پر علیحدگی کی تحریکیں اٹھانا اور انھیں ہوا دینا استعمار کا قدیم ہتھیار ہے۔ ’کرد‘ کا ایک لفظ دماغوں میں بٹھا دینے سے صرف ترکی ہی میں نہیں، چار اہم مسلم ممالک میں فتنے کی آبیاری ہوتی ہے۔ ترکی کے علاوہ شام، عراق اور ایران کے سرحدی علاقوں میں بھی کرد آبادی پائی جاتی ہے۔  کسی ایک ملک میں علیحدہ کرد ریاست کا وجود ان سب ممالک میں فتنہ جوئی کا ذریعہ اور سبب بنایا جاسکتا ہے۔ ان تمام پڑوسی ممالک میں کرد تحریک نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔

 ترکی میں پی کے کے (PKK) کے نام سے برسہا برس سے مسلح تحریک فعال تھی۔ اغوا، قتل، دھماکے اور مار دھاڑ ان کا اہم ہتھیار تھی۔ انھوں نے کم و بیش ہر حکومت کا ناک میں دم کیے رکھا۔ طیب اردوگان نے اس چیلنج کو ہمہ پہلو انداز سے حل کرنے کا سفر شروع کیا۔ ۱۹۹۹ء میں     پی کے کے، کے سربراہ عبداللہ اوجلان کو کینیا سے گرفتار کرلیا گیا۔ وہ اس وقت جیل میں ہے اور اس پر مقدمات چل رہے ہیں۔ ہر دور میں نظر انداز کیے جانے والے کرد علاقوں میں تعمیر و ترقی کا سفر شروع کردیا گیا۔ حال ہی میں ترکی، چین اور عراق کے مابین معاہدہ ہوا کہ عراق سے ایک تیل پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ اگلے ماہ سے اس منصوبے پر عمل درآمد شروع ہونا ہے، جس کے نتیجے میں روزانہ ۲۰ لاکھ بیرل تیل عراق سے کرد اکثریتی آبادی کے شہر دِیار بکر پہنچا کرے گا۔ خود اوجلان نے تین ماہ قبل ترکی کے خلاف تمام تر مسلح کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ترک حکومت نے ہتھیار رکھ دینے والے تمام افراد کے لیے نہ صرف عام معافی کا اعلان کیا، بلکہ یہ بھی کہا کہ جو ہتھیار ڈالنے کے بجاے ملک سے نکل جانا چاہے، اسے نکل جانے کی بھی اجازت ہے۔ اس ساری پالیسی کے نتیجے میں صرف ترکی ہی میں نہیں ان چاروں ممالک میں کرد مسئلے کے حل کی اُمید پیدا ہوئی ہے۔ گویا کہنے کو تو یہ طیب اردوگان کی تقریر کا ایک جملہ ہے کہ ’’ہم نے وحدت اور قومی یک جہتی کی خاطر جنوب مشرقی علاقے میں اپنے بھائیوں کے ساتھ دوررس معاہدے کیے‘‘، لیکن حقیقت میں دیکھیں تو یہ ترکی ہی نہیں پورے خطے سے اس نسلی اختلاف کا ناسور ختم کرنے کا آغاز ہے۔

یکم جون سے شروع ہونے والے مظاہروں کی بظاہر وجہ تو یہ بتائی جارہی ہے کہ حکومت استنبول کے قلب میں واقع معروف چوک ’تقسیم‘ کا نقشہ تبدیل کرکے وہاں واقع تاریخی غازی    (یا جیزی Gezy) پارک ختم کررہی ہے اور اس کے پودے اُکھاڑ رہی ہے۔ پورے چوک کو صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کرکے وہاں ایک تجارتی مرکز تعمیر کیا جارہا ہے۔ لیکن ان تمام ہنگاموں کی اصل وجہ حکومت کی یہی سابق الذکر دُوررس اور بتدریج اصلاحات ہیں۔ تقسیم چوک کے نئے منصوبے میں وہاں موجود اتاترک کلچرل سنٹر کے قریب ایک شان دار جامع مسجد کی تعمیر بھی شامل ہے۔ اس پر اعتراض کیا جارہا ہے کہ اتاترک سنٹر کے ساتھ مسجد کی تعمیر کمال اتاترک کی روح کو تازیانے لگانے کے مترادف ہے۔

طیب اردوگان پرایک الزام یہ لگایا جارہا ہے، خود کئی پاکستانی ’شہ دماغ‘ بھی اسے دہرا رہے ہیں کہ وہ ترک قوم کو تقسیم کررہا ہے۔ یہ طعنہ بھی دیا جارہا ہے کہ وہ ملک کو سیکولر اور بنیاد پرستوں میں تقسیم کررہا ہے۔ اب ذرا ایک نظر دوبارہ انقرہ و استنبول کے مظاہروں کو دیکھیے جن میں لاکھوں افراد نے اپنی منتخب قیادت کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے۔ ان مظاہروں میں ہر طبقے اور ہر طرح کے لوگ شامل تھے۔ اردوگان اس کا ذکر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: ’’آج اس مظاہرے میں پورے ترک معاشرے کی نمایندگی ہے۔ صرف مرد ہی نہیں بڑی تعداد میں خواتین بھی ہیں۔ صرف باحجاب ہی نہیں حجاب کے بغیر بھی ہیں اور سب شانہ بشانہ کھڑی ہیں‘‘۔ جسٹس پارٹی کو جن ۵۱فی صد    عوام نے ووٹ دیے ہیں وہ سب بھی اسلام پسند نہیں۔ ان میں معاشرے کے ہر طرح کے لوگ شامل ہیں لیکن کچھ لوگ آفتاب روشن کو انگلیوں سے چھپانا چاہتے ہیں۔ 

بے انصاف ناقدین کا ایک اعتراض یہ ہے کہ اردوگان ڈکٹیٹر ہے، کسی کی نہیں سنتا، جو جی میں آئے کر گزرتا ہے۔ طیب اردوگان کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو معاملہ برعکس ہے۔ اس کے کئی معاندین ہی نہیں بہت سارے دوستوں کا شکوہ بھی یہ ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ محتاط ہے۔ سیکولر دستور ختم کرنے اور ملک سے فحاشی ختم کرنے کے لیے جو کام دو ٹوک انداز سے پہلے ہی روز کرگزرنا چاہییں تھے وہ آج تک نہیں کیے۔ اردوگان ڈکٹیٹر ہوتا تو جس طرح اتاترک نے بیک جنبش قلم پردے، مسنون داڑھی، اذان اور قرآن کریم کا اصل متن تلاوت کرنے پر پابندی لگا دی تھی،  وہ بھی سیکولر دستور ختم کردیتا۔ شراب پر مکمل پابندی لگا دیتا، پہلے ہی دن سکارف پر پابندی ختم کردیتا۔ لیکن وہ ملک میں یک جہتی کی فضا پیدا کرتے ہوئے عوام کو ذہناً آمادہ کرتے ہوئے، انتہائی حکمت و احتیاط سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ۱۰ سال کے اقتدار کے بعد انھوں نے گذشتہ مئی ہی میں شراب پر چند پابندیاں لگائی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت اب مساجد، تعلیمی اداروں، یوتھ ہاسٹلز کے قریب شراب فروشی اور علانیہ شراب نوشی پر پابندی ہوگی۔ رات ۱۰ بجے کے بعد اور شاہراہِ عام پر شراب نوشی ممنوع ہوگی۔ نوعمر بچوں کو شراب فروشی منع ہوگی۔

اردوگان لاکھوں افراد کے حالیہ مظاہروں سے خطاب میں کہہ رہے تھے:’’ہم نے مسلسل صبر کیا۔ تم نے ہماری بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھا ... ہم نے صبر کیا، تم نے ہمیں گالیاں دیں .... ہم نے صبر کیا۔ تم نے مساجد کی بے حرمتی کی .... ان کے اندر غلاظت پھینک دی.... مسجدوں میں داخل ہوکر شراب نوشی کی، ہم نے صبر کیا... لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے .... اب ہم عدالت و قانون کے ذریعے ان زیادتیوں کا جواب دیں گے۔ ان کے ناقدین کی نگاہ میں شاید یہی بات ڈکٹیٹرشپ ہے۔ اپنے اللہ کو منانے اور انسانیت کو بچانے کے لیے ۱۰سال کے صبروتدریج کے بعد اُٹھائے جانے والے یہ معمولی اقدامات بھی سیکولر لابی کو ہضم نہیں ہورہے ۔

طیب اردوگان، جسے بعض پاکستانی اخبارات میں بھی ڈکٹیٹر اور آمر کہا جارہا ہے، کی ڈکٹیٹر شپ کا عالم یہ ہے کہ انھوں نے پرتشدد مظاہرہ کرنے والوں کو بھی وزیراعظم ہاؤس بلاکر ان کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کیے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اگر واقعی آپ لوگوں کے مطالبات مبنی برحقائق ہوئے تو وہ انھیں فوراً قبول کرلیں گے۔ ڈکٹیٹر اردوگان نے یہ پیش کش بھی کی کہ اگر تمھیں اپنے مطالبے پر اصرار ہے تو آؤ ہم استنبول کے شہریوں میں اس پر ریفرنڈم کروالیتے ہیں۔ لیکن ان کی یہ تجویز بھی قبول نہیں کی گئی۔

تقریباً آٹھ ماہ بعد فروری ۲۰۱۴ء میں ترکی میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اردوگان نے اس کی مہم انتخابات سے چند ہفتے پہلے چلانا تھی لیکن ہنگاموں کی حالیہ لہر کے بعد انھوں نے ابھی سے بڑے پیمانے پر رابطہ عوام مہم شروع کردی ہے۔ انقرہ و استنبول کے بعدانھوں نے جمعہ ۲۱ جون سے ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں بڑے بڑے پروگرامات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔  قرآن کریم کی حقانیت قدم قدم پر اپنی سچائی منواتی ہے:  عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا   وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ، ’’ہوسکتا ہے کہ کوئی بات تمھیں بری لگ رہی ہو اور اسی میں تمھارے لیے بہتری ہو‘‘۔

  •  مصر: ترکی ہی نہیں، مصر میں بھی اخوان مخالف اپوزیشن ہنگامہ آرائی کی نئی لہر منظم کررہی ہے۔ صدر محمد مرسی نے ۳۰جون ۲۰۱۲ء کو صدارت کا حلف اٹھایا تھا۔ اپنے ایک سالہ عہد صدارت میں انھوں نے ملک کو پہلا حقیقی جمہوری دستور دیا۔ مصر کو دنیا میں ایک آزاد و خود مختار ملک کی حیثیت سے منوایا۔ بڑی حد تک حکومتی اداروں سے کرپشن اور لُوٹ مار کا خاتمہ کیا، تنخواہوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ توانائی، زراعت اور تعمیر نو کے کئی منصوبوں کے لیے ترکی، قطر، چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کروائی۔ مصر جو گذشتہ تقریباً ۸۰ برس سے بدترین ڈکٹیٹرشپ کے چنگل میں پھنسا ہوا تھا، وہاں کے تمام شہریوں کو مکمل آزادی اور احترام عطا کیا۔ غزہ جو گذشتہ پانچ برس سے مکمل صہیونی حصار میں تھا، اور وہاں پہنچنے کے لیے فریڈم فلوٹیلا جیسے عالمی قافلے جانیں قربان کر رہے تھے۔ ۹ کی تعداد میں تو صرف ترک باشندے شہید ہوئے تھے۔ صدرمرسی نے غزہ جانے کا راستہ کھول کر ۱۶لاکھ فلسطینی شہریوں کی جان بچائی۔ لیکن ان کی یہی کوششیں اور کارنامے ان کا جرم بنائے جارہے ہیں۔

حسنی مبارک کی باقیات اور ان کے عالمی سرپرستوں نے پورا سال مصر میں اُودھم مچائے رکھا۔ ’مرسی کا پہلا سال‘ کے عنوان سے قائم ویب سائٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ایک سال میں اپوزیشن نے ۲۴ ملین مارچ کیے، یعنی اوسطاً ہرماہ دو۔ ۵ہزار سے زائد مظاہرے اور پُرتشدد ہنگامے کیے۔ ۵۰پروپیگنڈا مہمات چلائی گئیں اور ۷ہزار سے زائد احتجاجی دھرنے ہوئے۔ اور اب ۳۰جون کو کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کیا جا رہا ہے: تَمَرُّد (بغاوت) کے نام سے مظاہروں اور ہنگاموں کی تیاری ہورہی ہے۔ تمام ذرائع ابلاغ نے مل کر ایسی فضا بنا دی ہے کہ گویا کوئی خطرناک آتش فشاں پھٹنے والا ہے۔ اپوزیشن پُرامن مظاہرے کرنا چاہے تو خواہ روزانہ کرے لیکن اس کا اصل ہتھیار   خوں ریزی اور جلائو گھیرائو ہے۔ ریہرسل کے طور پر ۱۹جون کو بھی اخوان کے مختلف دفاتر پر حملے کرتے ہوئے ۳۰۰کارکنان لہولہان کردیے گئے۔ اسی طوفان میں فوج کو دعوت دی جارہی ہے کہ وہ منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ دے۔ فوج کے سربراہ اور وزیردفاع عبدالفتاح سیسی نے ۲۳جون کو صدرمرسی سے ملاقات و مشورے کے بعد بیان کردیا کہ ’’فوج خاموش تماشائی نہیں رہے گی‘‘۔ انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دی کہ وہ ’’ہنگامہ آرائی کے بجاے گفت و شنید اور مذاکرات کا راستہ اپنائے‘‘ لیکن پاکستانی اخبارات سمیت پورے عرب اور عالمی میڈیا نے ان کا یہ بیان اس انداز سے نمایاں کیا کہ ’’فوج نے اخوان کو تنبیہہ کردی‘‘۔ دوسری طرف حسنی مبارک کے تعین کردہ جج  ایک کے بعد دوسرا متنازعہ فیصلہ صادر کیے جارہے ہیں۔ تازہ ترین فیصلے میں دستور ساز اسمبلی کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ کا الیکشن بھی مشکوک قرار دے دیا گیا ہے اور صدرمرسی پر حسنی مبارک کے خلاف تحریک کے دوران جیل سے فرار ہونے کا الزام لگاکر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ترکی اور مصر میں یہ سب اتفاقیہ یا اچانک نہیں ہو رہا۔ بیرونی آقا، فرعونی دور کی باقیات بعض مسلمان ممالک اور عالمی سرمایہ سب اس الائو پر تیل چھڑک رہے ہیں۔

دوسری جانب اردوگان کی طرح اخوان اور اس کی حلیف جماعتوں نے بھی رابطہ عوام مہم شروع کر دی ہے۔ ۲۱جون کو قاہرہ میں لاکھوں افراد نے ’تشدد نامنظور‘ کے عنوان سے مظاہرہ کیا ہے۔ قاہرہ کے اس عظیم الشان مظاہرے کی کوئی تصویر، کوئی خبر بھی دنیا کو دکھائی نہیں دی لیکن اخوان پُرعزم ہیں کہ عالمی ذرائع ابلاغ دکھائیں یا نہ دکھائیں، اگر اللہ کی رضا اور عوام کی تائید اسی طرح شاملِ حال رہی تو ’آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا‘۔

 

نیکی کے عمل کے دوران ریاکاری

سوال: کیا انسان کو ایسے عمل پر اجروثواب ملتا ہے جو ریاکاری اور دکھاوے کی نیت سے شروع کیا گیا مگر دورانِ عمل نیت تبدیل ہوکر خالص اللہ کے لیے ہوگئی؟ مثال کے   طور پر میں نے تلاوتِ قرآن ختم کی اور میرے اندر ریاکاری کا جذبہ پیدا ہوگیا۔    اگر میں اس سوچ کو دُور کرنے کی کوشش کروں اور اللہ کی عظمت کا خیال اپنے دل میں پیدا کروں، تو کیا مجھے اس تلاوت کا اجر ملے گا یا ریاکاری کی وجہ سے وہ ضائع ہوجائے گا، اگرچہ ریاکاری کا یہ جذبہ عمل کرنے کے بعد ہی پیدا ہوا؟

جواب:  عبادت میں ریاکاری اور دکھلاوے کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ عبادت یا نیکی کا کوئی کام کرنے کے پیچھے بنیادی طور پر لوگوں کو دکھلاوے کا جذبہ ہی ہو، جیسے کوئی نمود و نمایش کے لیے نماز پڑھتا ہو تاکہ لوگ اس کی تعریف کریں۔ اس سے وہ نیکی اور عبادت رائیگاں چلی جاتی ہے۔

دوسرے یہ کہ پہلے خالص اللہ کے لیے عبادت شروع کی ہو مگر بعد میں عبادت کرنے کے دوران میں دکھلاوے کا جذبہ شامل ہوجائے، تو اس کی دو شکلیں ہوسکتی ہیں۔ پہلی شکل یہ کہ اس نیکی اور عبادت کے دو الگ الگ حصے ہوں۔ اس صورت میں یہ پہلا حصہ درست ہوگا اور دوسرا باطل۔ جیسے ایک شخص کچھ رقم صدقہ و خیرات کرنا چاہتا تھا۔ کچھ رقم اس نے خالص جذبے سے صدقہ کی۔ پھر باقی رقم میں اس کے اندر ریاکاری کا خیال پیدا ہوا توپہلی رقم کا صدقہ درست اور ان شاء اللہ مقبول ہوگا، جب کہ دوسری کا باطل۔ اس لیے کہ اخلاص میں ریا کی آمیزش ہوگئی۔

دوسری شکل یہ کہ عبادت کے دونوں حصے ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے ہوں کہ ان کو الگ نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس صورت میں بھی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ انسان ریاکاری کے جذبے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے اور اسے ٹکنے نہ دے، اسے ناپسند کرے، تو ایسی صورت میں اس کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ نے میری اُمت سے نفسانی وسوسوں اور خیالات کو معاف کر دیا ہے جب تک وہ ان پر عمل نہ کرنے لگیں یا اُنھیں اپنانے نہ لگیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس دکھلاوے کے جذبے کو قبول کرلے اور اس کا مقابلہ نہ کرے تو اس صورت میں وہ پوری عبادت باطل اور رائیگاں ہوکر رہ جائے گی۔ جیسے ایک آدمی نے نماز کا آغاز اللہ کے لیے سچی نیت سے کیا مگر دوسری رکعت میں اس کے دل میں ریاکاری کا جذبہ پیدا ہوگیا، اس سے اس کی وہ پوری نماز ضائع ہوجائے گی۔

ریاکاری اور دکھلاوے کی تیسری صورت یہ ہے کہ وہ عبادت ختم کرنے کے بعد پیدا ہو۔ اس کا عبادت پر کوئی اثر نہیں ہوتا، عبادت درست رہتی ہے۔ یہ بات بھی ریاکاری اور دکھلاوے میں نہیں آتی کہ کسی کی عبادت کا لوگوں کو علم ہو تو اسے خوشی محسوس ہو، اس لیے کہ یہ چیز عبادت ادا کرنے کے بعد پیدا ہوگی۔اس طرح یہ بات بھی ریاکاری کے زمرے میں نہیں آتی کہ آدمی کو نیکی اور عبادت کا کوئی کام کرنے سے خوشی ہو، اس لیے کہ یہ بات تو اس کے ایمان کی نشانی ہے۔  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس کو نیکی کرکے خوشی ہو اور گناہ کرکے رنج ہو، تو ایسا شخص مومن ہے۔ اس بارے میں آپؐ سے پوچھا گیا: اگر کسی کی عبادت اور نیکی کے بارے میں لوگوں کو    علم ہوجائے تو اسے خوشی ہو، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: یہ مومن کو ملنے والی نقد بشارت ہے۔ (ڈاکٹرعبدالحی ابڑو)

روحانی امراض کا علاج

س: دل کو روحانی امراض، جیسے حسد،بُغض و کینہ، تکبر، ریاکاری وغیرہ سے پاک کرنے کے لیے مجاہدہ کرنا زیادہ بہتر ہے یا نماز، روزے اور اس طرح کی دیگر نیکیوں والے ظاہری نفلی اعمال ادا کرنے میں لگ جانا، جب کہ دل کے روحانی امراض اسی طرح دل کو گھیرے رہیں؟

ج:  امام ابن تیمیہ کہتے ہیں: ظاہری اعمال اس وقت تک درست اور قابلِ قبول نہ ہوں گے جب تک دل کا عمل درمیان میں نہ آئے، اس لیے کہ دل بادشاہ ہے اور اعضا اس کے سپاہ اور لشکر۔ اگر بادشاہ بگڑا ہوا ہو تو سپاہ بھی بگڑے ہوں گے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’آگاہ رہو، جسم میں ایک ٹکڑا ہے۔ اگر یہ تندرست ہو تو پورا بدن تندرست ہوگا اور اگر یہ بگڑا ہوا ہو تو پورا بدن بگڑا ہوگا، اور یہ ٹکڑا دل ہے‘‘۔ دل کے اعمال بدن اور اس کے اعضا کے اعمال پر اثرانداز ہوکر رہتے ہیں، جس کو باطن کا عمل کہا جاتا ہے، بعض اوقات وہ زیادہ ضروری ہوتا ہے جیسے حسد اور تکبر کا ترک کرنا۔ یہ باطن کا عمل نفل روزوں وغیرہ سے زیادہ ضروری ہے۔ بعض اوقات ظاہری عمل زیادہ مؤثر ہوتا ہے، جیسے قیام اللیل اور تہجد نماز کے لیے اُٹھنا۔ گویا باطن اور ظاہر کے اعمال ایک دوسرے کے لیے مددگار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر نماز بے حیائی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے اور خشوع و خضوع اور انکساری پیدا کرتی ہے۔

امام ابن تیمیہ کی بات سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ باطن کی اصلاح اور ظاہر کی اصلاح کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ انسان اگر ظاہر کی عبادات ادا کرتا ہے، اور ان سے اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہے، تو یقینا یہ اس کے باطن پر اثرانداز ہوکر رہتی ہیں۔ اس کی ایک مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں ملاحظہ ہو، فرمایا: کیا میں تمھیں وہ بات نہ بتائوں جس سے دل کا کینہ اور حسد جاتا رہے اور وہ ہے ہر ماہ تین دن کے روزے۔ (نسائی)

دل کے امراض کا ایک اچھا علاج یہ بھی ہے کہ بندہ ان آیات و احادیث پر غوروفکر کرتا رہے جن میں یہ امراض رکھنے والے شخص کے لیے وعیدیں آئی ہیں۔ جیسے ارشاد نبویؐ ہے: ’’جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا‘‘ (مسلم)۔حدیث میں جہنم کی زبانی کہا گیا ہے کہ ’’متکبر لوگ میرا ایندھن بنیں گے‘‘۔ نیز ارشاد نبویؐ ہے: ’’قیامت کے دن دنیا میں تکبر کرنے والے لوگ انسانوں کی شکل میں چیونٹیاں بنا کر اُٹھائے جائیں گے‘‘۔ نیز فرمایا: ’’حسد اور بُغض و کینہ انسان کی دین داری کو مونڈ دیتا ہے‘‘۔

دل کے امراض کے بارے میں یہ اور اس طرح کی جو دیگر وعیدیں آئی ہیں، ان پر اگر کوئی غوروفکر کرے گا تو وہ لازماً اپنے دل کو ان سے پاک کرنے کی کوشش کرے گا، مجاہدہ کرے گا اور اس سلسلے میں ظاہری عبادات سے بھی مدد لے گا اور اللہ سے دُعا کرتا رہے گا کہ وہ اس کے دل کو حسد اور بُغض سے پاک کردے (ولا تجعل فی قلوبنا غلًّا للذین آمنوا) تو وہ روحانی و باطنی امراض پر بالآخر قابو پالے گا۔(ڈاکٹرعبدالحی ابڑو)

قضا روزوں کی ادایگی: چند فقہی پہلو

س: ۱-رمضان کے کچھ روزے کسی شرعی عذر کی بنا پر قضا ہوگئے۔ کیا شوال کے چھے مسنون روزے رکھنے سے پہلے رمضان کے قضا روزوں کی ادایگی کی جائے یا قضا روزوں کو مؤخر کر کے پہلے شوال کے روزے رکھ لیے جائیں؟

اگر کوئی شخص یہ نیت کرے کہ شوال میں قضا روزے ادا کر رہا ہوں اور ماہِ شوال کے مسنون روزوں کا ثواب بھی مل جائے گا۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟کچھ علما کا یہ خیال ہے کہ چونکہ عبادات میں نیت بہت ضروری ہے، اس لیے فرض عبادت کو نفل عبادت سے ملایا نہیں جاسکتا، مثلاً دو رکعت فرض نماز میں فرض ہی کی نیت کی جائے گی، نفل کی نہیں۔ اسی طرح اگر فرض حج ادا کر رہے ہیں تو وہ فرض حج ہے، نفلی حج نہیں ہوسکتا۔  کیا روزے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے؟

۲-اگر کسی شرعی عذر کے باعث کسی خاتون کے ذمے کئی ماہ کے روزے ہوں اور ان کی ادایگی کے لیے کوشاں بھی ہو، لیکن وہ شوال اور ذوالحجہ کے نفلی روزوںکا ثواب بھی لینا چاہے تو اس کے لیے کیا حکم ہوگا؟رمضان کے قضا روزے اگر تسلسل کے ساتھ رکھنا مشکل ہو، اور کوئی خاتون یہ معمول بنالے کہ وہ ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھ کر اپنے ذمے فرض روزوں کو ادا کرے گی، تو کیا ان دو دنوں کی نسبت سے اس کو سنت پر عمل کا ثواب بھی ملے گا؟

ج:  آپ کے سوالات کے مختصر جوابات حسب ذیل ہیں:

۱-شرعی عذر کی بنا پر ماہِ رمضان کے جو روزے چھوٹ گئے ہوں، ان کی فوری قضا لازم نہیں، اگرچہ مستحسن یہی ہے کہ جلد رکھ کر اس فرض سے سبکدوشی حاصل کرلی جائے، کیونکہ انسان کو زندگی کے اگلے لمحے کا کچھ پتا نہیں۔ پھر یہ کہ نیکیوں کے حصول میں پہل کرنے اور عجلت سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے (فاستبقوا الخیرات)۔ لیکن اگر کسی وجہ سے یہ روزے فوری نہ رکھے جاسکیں تو تاخیر سے گناہ لازم نہیں آتا۔ اس لیے قضا روزے رکھنے سے پہلے دیگر نفلی روزے (جیسے شوال کے چھے روزے وغیرہ) بھی رکھے جاسکتے ہیں۔ صحیحین (بخاری و مسلم) میں حضرت عائشہؓ کا یہ قول ملتا ہے کہ میرے ذمے رمضان کے قضا روزے ہوتے تھے اور میں وہ شعبان ہی میں رکھ پاتی تھی، حالانکہ قرین قیاس یہ ہے کہ آپ سال کے دوران میں دیگر نفلی روزے بھی رکھتی تھیں۔ حافظ ابن حجر اس روایت کی شرح میں کہتے ہیں: اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی مجبوری اور عذر کی بنا پر یا اس کے بغیر بھی آیندہ رمضان تک روزوں کی قضا کو مؤخر کیا جاسکتا ہے (فتح الباری، ج۴، ص ۲۳۹، حدیث ۱۹۵۰)۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے عالمی ترجمان القرآن، جولائی ۲۰۱۲ء)

۲- اصل تو یہ ہے کہ عبادات کو الگ الگ ادا کیا جائے، لیکن اگر ایک عمل سے دو طرح کی عبادات کی ادایگی کی بیک وقت نیت کی جائے، تو اس بارے میں فقہا کی راے مختلف ہے۔ حنفی فقہا کے ہاں ایک ہی عمل میں فرض اور نفل عبادت کو جمع نہیں کیا جاسکتا، البتہ دو نفل عبادات کی نیت ایک عمل میں کی جاسکتی ہے، جیسے اگر کسی نے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد اور ساتھ ہی فجر کی سنت کی نیت سے پڑھا ہے تو دونوں ادا ہوجائیں گی۔ شافعی فقہا کے نزدیک فرض نماز اور تحیۃ المسجد ایک ہی نیت سے ایک ہی عمل میں ادا کی جاسکتی ہیں۔ اس کی تفصیل میں وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک عبادت مقصود بالذات نہ ہو تو اسے دوسری عبادت کے ضمن میں ادا کیا اور دونوں کو ایک ہی عمل میں جمع کیا جاسکتا ہے،  جیسے مذکورہ مثال میں تحیۃ المسجد مقصود بالذات نہیں، بلکہ اصل مقصد اس وقت اور مقام کو نماز کے عمل سے معمور کرنا ہے۔ اس لیے وہ دوسری مقصود بالذات عبادت کے ضمن میں ادا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر دونوں عبادتیں اور اعمال مقصود بالذات قسم کے ہوں تو انھیں ایک ہی عمل میں جمع نہیں کیا جاسکتا۔ (الموسوعۃ الفقیھۃ، کویت ، ج۱۲، ص ۲۴، ج۴۲، ص ۹۱، بحوالہ متعدد کتب حنفیہ و شافعیہ)

ہمارے نزدیک، اگر ان اقوال کو سامنے رکھا جائے تو پیر اور جمعرات، نیز شوال کے  چھے روزوں کی بھی یہی صورت بنتی ہے کہ وہ (بقول شافعیہ) مقصود بالذات کی قبیل سے نہیں بلکہ مقصد ان ایام اور اوقات کو روزے سے آباد کرنا ہے۔ اس لیے اگر قضا روزے انھی دنوں میں رکھے جائیں تو اُمید ہے کہ قضا روزوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ضمنی طور پر پیر اور جمعرات اور شوال کے روزوں کی فضیلت بھی ان شاء اللہ حاصل ہوجائے گی۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی شانِ کریمی و فیاضی سے یہی اُمید رکھنی چاہیے۔ وہ اپنے بندے کے ساتھ اس کی نیت و ارادے، تڑپ اور لگن کے مطابق برتائو کرتا ہے۔(ڈاکٹرعبدالحی ابڑو)

گذشتہ برسوں کی زکوٰۃ اور دورانِ سفر قضا نماز کی ادایگی

س: ۱- ایک خاتون کچھ زیورات کی گذشتہ تین برس کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتی ہیں۔ کیا وہ تینوں سالوں کی زکوٰۃ کا حساب موجودہ مارکیٹ کے نرخ کے مطابق کریں گی یا گذشتہ دوسالوں کے لیے اُس وقت کے نرخ معلوم کر کے زکوٰۃ ادا کریں گی؟

۲-دورانِ سفر کسی شخص کی نماز قضا ہوگئی۔ طویل سفر کے باعث نماز قصر تھی۔ منزل پر پہنچ جانے کے بعد وہ اس نماز کی قضا قصر پڑھے گا یا پوری نماز پڑھی جائے گی؟

ج:  ۱- سونے چاندی اور ان کے زیورات کی جن کی برسوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاسکی اور  اب ادا کرنے کا ارادہ ہے، تو اُس وقت کا نرخ معلوم کر کے اس کے لحاظ سے ادایگی کی جائے، موجودہ نرخ کے مطابق نہیں۔ اس لیے کہ ان برسوں کی زکوٰۃ تب واجب ہوئی تھی، نہ کہ آج۔

۲- دورانِ سفر جو نماز رہ گئی، منزل پر پہنچ جانے کے بعد اس کی قضا بھی قصر ہی ہوگی، پوری نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ جس طرح اگر اپنے شہر میں مقیم ہونے کے دوران میں جو نماز قضا ہوجائے، اگر دورانِ سفر اس کی قضا پڑھی جائے تو وہ پوری پڑھنی ہوتی ہے۔(ڈاکٹر عبدالحی ابڑو)

 

 ۲-مجلہ صحیفہ، ۵۰ سالہ اشاریہ، مجلس ترقی ادب، ۲-کلب روڈ، لاہور۔ صفحات: ۴۸۷۔ قیمت: ۵۰۰ روپے۔ ۲-اشاریہ ششماہی علوم القرآن، علی گڑھ (۱۹۸۵ء-۲۰۱۰ء)۔ صفحات:۴۰۔ قیمت: ۶۰ روپے۔  ۳-اشاریہ ماہنامہ الرحیم، سندھ یونی ورسٹی، جام شورو۔ صفحات: ۲۱۴۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔ ۴-اشاریہ ماہنامہ الحق، دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک۔ صفحات:۴۹۸۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔۵- اشاریہ ماہنامہ القاسم (مئی ۱۹۹۸ء تا دسمبر ۲۰۱۰ء)، جامعہ ابوہریرہ برانچ پوسٹ آفس خالق آباد، ضلع نوشہرہ۔ صفحات:۲۱۸۔ قیمت: درج نہیں۔ ۶-اشاریہ ماہنامہ حق چاریار، متصل جامع مسجدمیاں برکت علی، ذیلدار پارک، اچھرہ، لاہور۔ صفحات:۱۷۹، قیمت:درج نہیں۔

لکھنے پڑھنے والوں کو کسی خاص موضوع پر کتابوں اور مضامین کی تلاش میں بالعموم دقت پیش آتی ہے، مثلاً ترجمان میں پروفیسر نجم الدین اربکان پر پروفیسر خورشیداحمد کا مضمون چھپا تھا؟ کب؟ یا صحیفہ میں ڈاکٹر وحید قریشی کے چند مضامین چھپے تھے؟ کن کن شماروں میں؟ یا قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے کا ذکر رسالہ الحق میں آیا تھا؟ کس ماہ و سال کی بات ہے؟___ فوری طور پر ایسے سوالات کے صحیح جواب کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ بسااوقات اُن رسائل کے مدیرانِ کرام بھی فوری جواب دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ ہاں، اگر متعلقہ رسائل کے اشاریے بن چکے ہوں تو صحیح جواب مل سکتا ہے___ کسی خاص تحریر کو تلاش کرنے کے لیے اشاریوں کی یہ افادیت اور اہمیت مسلّمہ ہے اور اسی لیے علمی دنیا میں اشاریہ، ایک بنیادی ذریعۂ تحقیق (tool) کی حیثیت رکھتا ہے۔

ترجمان کے انھی صفحات میں متعدد رسائل و جرائد کے مطبوعہ اشاریوں پر تبصرے شائع ہوتے رہے ہیں۔ محمدشاہدحنیف ہرسال عالمی ترجمان القرآن کے ۱۲مہینوں کا موضوع وار اشاریہ تیار کرتے ہیں جو قارئین کو عندالطلب مہیا کیا جاتا ہے۔

موصوف نے حالیہ برسوں میں متعدد رسائل و جرائد کے چھوٹے بڑے اشاریے تیار کیے ہیں، مثلاً: حکمت قرآن(لاہور)، منہاج(لاہور)، ادبیات(لاہور)، میثاق(لاہور)، لولاک (ملتان)، انشاء(کراچی)، اقبالیات (لاہور)، اقبالیات(سری نگر)، اقبال ریویو (حیدرآباد دکن)۔ بعض رسائل کی اشاریہ سازی میں محمد سمیع الرحمن اور محمد زاہد حنیف نے ان کی معاونت کی ہے۔

ہر اشاریے کے آغاز میں متعلقہ رسالے کا مختصر تعارف شامل ہے اور اشاریے سے استفادہ کرنے کا طریقہ بھی واضح کیا گیا ہے۔ الحق اور صحیفہ کے اشاریے نسبتاً ضخیم ہیں۔ اس ضخامت کی ایک وجہ حوالوں کی تکرار بھی ہے۔ مذکورہ کتابوں میں تین طرح کے اشاریے بنائے گئے ہیں: ۱-شمارہ وار ۲-موضوعاتی اور ۳-مصنف وار۔ ہمارے خیال میں اشاریہ مصنف وار اور موضوع وار ہو تو کافی ہے ۔ اگر موضوع وار ہے تو آخر میں اشاریہ مصنفین (+مترجمین+مبصرین) بنادیا جائے۔

جملہ اشاریوں کے مرتب محمد شاہد حنیف داد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے بڑا کام انجام دیا ہے۔ ان کے اشاریہ سازی کے اسلوب اور طریقہ کار پر کہیں کہیں اختلاف ہوسکتا ہے (ہمیں بھی ہے) لیکن ان کی محنت بہرصورت قابلِ داد ہے۔ ان اشاریوں کی افادیت لکھنے پڑھنے والوں اور تحقیق کاروں، یونی ورسٹی کے اساتذہ اور تحقیقی مقالہ نگاروں کے لیے ہے۔ اس لیے ہرلائبریری کو کوشش اور اہتمام کرکے یہ سارے اشاریے اپنے ہاں محفوظ رکھنے چاہییں۔ جن اداروں نے یہ اشاریے تیار کرائے ہیں اگر وہ انھیں انٹرنیٹ پر بھی دے دیں تو خلقِ خدا کو فائدہ اور انھیں ثواب ملے گا۔ (رفیع الدین ہاشمی)


سہ ماہی التفسیر کراچی، (شخصیات نمبر)، مدیراعلیٰ: پروفیسر ڈاکٹر محمد شکیل اوج۔ مجلس التفسیر، بی-۳، اسٹاف ٹائون، یونی ورسٹی کیمپس، جامعہ کراچی، کراچی۔ صفحات:۶۰۲۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

زیرنظر خاص نمبر، ماضی بعید اور ماضی قریب کی ۳۵مسلم شخصیات کے علمی اور فکری کارناموں پر مشتمل ہے، ہر شخصیت پر ایک مقالہ۔ عالمِ اسلام کی ان مایہ ناز شخصیتوں میں سے، ماسوا امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور علامہ محمد حسین طباطبائی، باقی تمام کا تعلق برعظیم پاک و ہند سے ہے۔ ان مقالات کی تحریک سہ ماہی التفسیر کے مدیراعلیٰ نے کی تھی۔ بیش تر مقالے ان کے متعلّمین کی قلمی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ جو کمی رہ گئی، اسے اَوج صاحب کی فرمایش اور تدبیر سے ان کے حلقۂ علم و دانش کے احباب نے پورا کر دیا۔

مقالات کا مرکزی موضوع اسلامی نشاتِ ثانیہ ہے مگر اس سلسلے میں سیّد جمال الدین افغانی، سیّد قطب، علی شریعتی اور روح اللہ خمینی پر کوئی مقالہ شامل نہیں ہوسکا۔ اس کی وجہ شاید ’صفحات کی تنگ دامنی‘ ہو، تاہم اُمید ہے جلددوم میں مذکورہ شخصیات پر بھی مضامین لکھوا کر شامل کیے جائیں گے۔

چند شخصیات ایسی ہیں جو نسبتاً غیرمعروف ہیں اور ان کے بارے میں زیادہ لوازمہ نہیں ملتا، جیسے قاضی بدر الدولیٰ (۱۷۹۲ء-۱۸۶۳ء) جو جنوبی ہند کے ایک معزز اور مشہور خاندان نوائط سے تعلق رکھتے تھے۔ حدیث، سیرت اور فقہ پر عربی فارسی اور اُردو میں ۵۳کتابیں ان سے یادگار ہیں۔ اسی طرح مولانا عبدالرؤف دانا پوری (۱۸۷۳ء-۱۹۴۸ء) جو اپنی بلندپایہ کتاب الصحّ والسیر کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ یا صوفی عبدالحمید سواتی (۱۹۱۷ء-۲۰۰۸ء) جنھوں نے معالم العرفان فی دروس القرآن کے نام سے ۲۰جلدوں میں تفسیرقرآن شائع کی۔ وہ اپنی تفسیر میں شاہ ولی اللہ اور عبیداللہ سندھی سے متاثر نظر آتے ہیں۔

بعض مقالات نسبتاً زیادہ محنت سے لکھے گئے ہیں، جیسے ڈاکٹر محمد رفیع الدین پر انجینیرنویداحمد کا مقالہ یا سیدابوالاعلیٰ مودودی پر محمد شکیل صدیقی صاحب کا مقالہ، مگر محمد اسد پر سیّدمحمدکاشف کا مقالہ مختصر اور تشنہ محسوس ہوتا ہے۔اسی طرح ڈاکٹر محمد حمیداللہ جیسی نابغۂ روزگارشخصیت پر مضمون بھی بھرپور اور جامع نہیں ہے۔ اس سے ان کے حالات کا تو کچھ اندازہ ہوتا ہے لیکن ان کے علمی کارناموں کا خاطرخواہ تعارف سامنے نہیں آسکا۔

غالباً ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ضابطے کے مطابق، انگریزی میں ہرمضمون کا خلاصہ بھی شامل ہے۔بحیثیت مجموعی زیرنظر نمبر ایک بہت عمدہ، اچھی اور کامیاب پیش کش ہے اور مدیراعلیٰ اور مدیرانِ معاون مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کچھ وقفے کے بعد اور مناسب تیاری کے ساتھ رسالے کا شخصیات نمبر دوم (اور اگر ہوسکے تو حصہ سوم بھی) پیش کیا جائے تو یہ ایک بڑی علمی خدمت ہوگی۔ (رفیع الدین ہاشمی)


افکارِ رمضان، حسن البنا شہید، ترجمہ: ظہیرالدین بھٹی۔ ناشر: البدرپبلی کیشنز، ۲۳-راحت مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۲۵۰۳۰- صفحات: ۲۱۶۔ قیمت: ۱۶۰ روپے۔

امام حسن البنا شہیدؒ کے بارے میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ وہ ایک کامیاب داعی اور مردم ساز شخصیت تھے، اس لیے آپ نے کتابیں نہیں لکھیں سواے چند یادداشتوں اور رسالوں کے۔ حقیقت یہ ہے کہ امام البنا کا علمی ورثہ ہزارہا صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ وہ مضامین ہیں جو رشیدرضا کے رسالے المنار، محب الدین الخطیب کے مجلے الفتح، مجلہ اخوان المسلمون، النذیر، الاعتصام اور الشہاب نامی رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ اس علمی ورثے کو یک جا کرنے، مرتب کرنے اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کر کے پھیلانے کی ضرورت ہے۔ یہ جہاں امام البنا کے افکار کو عام کرنے کا ذریعہ ہوگا وہاں اسلامی تحریک کے لیے مفید فکری رہنمائی کا سامان بھی ہوگا۔

افکارِ رمضان رمضان کے موضوع پر امام البنا کے مضامین کا اُردو ترجمہ ہے جنھیں خواطر رمضانیہ کے نام سے مصر میں عربی میں شائع کیا گیا تھا۔ امام البنا کے ان مضامین میں رمضان المبارک کے مختلف پہلوئوں کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ جہاں تزکیۂ نفس کا سامان ہے وہاں قرآن سے حقیقی تعلق اور رمضان کے عملی تقاضوں کے لیے رہنمائی بھی ہے۔  روزہ شکنی کے مرتکب اور ماہِ صیام سے غفلت برتنے والوں کے لیے شفقت بھرا پیغام ہے۔ عصرحاضر کے مسائل اور رمضان اور دیگر متفرق موضوعات زیربحث آئے ہیں۔ ’فقہ صیام‘ کے تحت روزے کے مختلف مسائل اور ان کی حکمتیں بھی بیان کردی گئی ہیں۔ امام البنا نے اُمت کو پوری  دل سوزی سے اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ماہِ رمضان کا خیرمقدم رب سے تعلق کو مضبوط کر کے اور  اللہ سے اپنے کیے گئے عہدوپیمان کی تجدید سے کرے۔ یہ جہاں حصولِ تقویٰ کا ذریعہ ہوگا وہاں اُمت کے مصائب کے خاتمے اور سربلندی کا سبب بھی بنے گا۔ البدر پبلی کیشنز اس مفید کاوش پر مبارک باد کا مستحق ہے۔ (عمران ظہورغازی)

Living in Allah's Presence [اللہ کو حاضرو ناظر مانتے ہوئے زندگی گزارنا]، عبدالرشید صدیقی۔ ناشر: اسلامک فائونڈیشن، لسٹر(برطانیہ)، تقسیم کار: Kube پبلشنگ لمیٹڈ۔       فون: ۲۴۹۲۳۰-۱۵۳۰-۰۰۴۴۔ ای-میل : info@kubepublishing.com

اسلامک فائونڈیشن لسٹر کے رفیق عبدالرشید صدیقی نے اس سے پہلے Lift up Your Hearts! کے نام سے دو جلدوں میں جمعہ کے ۵۲خطبات پیش کیے ہیں۔ وہ تین عشروں سے، پہلے یونی ورسٹی آف لسٹر کی مسجد میں اور وہاں سے ریٹائر ہوکر اب اسلامک فائونڈیشن لسٹر کی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہیں۔ یہ ۲۵خطبات دوسرے دور کا انتخاب ہیں۔ تزکیۂ نفس کی ذیل میں نیت،اخلاص، تقویٰ، یقین، توکل، تواضع، استقامت اور حکمت جیسے موضوعات لیے گئے ہیں۔ کچھ دوسرے موضوعات: صبر، شکر، دعا، خشوع فی الصلوٰۃ، حسنِ خلق، حیا، امربالمعروف نہی عن المنکر۔خطیب محترم نے خطبہ دینے والوں کو کچھ گُر کی باتیں بھی بتائی ہیں اور کتاب کے آخر میں عربی میں خطبۂ ثانی (مع انگریزی ترجمہ ) اور خطبۂ اوّل کی ابتدا عربی میں (مع انگریزی ترجمہ )، جس کے بعد انگریزی خطبہ پڑھا جائے گا، یا خطیب اس کے نکات اپنی زبان میں ادا کرے گا۔

ہرموضوع کے نظری اور عملی پہلوئوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں مؤثرانداز سے بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ان کی افادیت ان اہم تربیتی موضوعات پر مختصر، مؤثر، مستند تحریروں کی ہے، جو جامعات، کالجوں اور اسکولوں کے مجلات، اخبارات کے مذہبی کالموں اور جمعہ ایڈیشنوں میں کام آسکتے ہیں۔ یہ ان تک پہنچیں کیسے؟ ای میل کو کام میں لائیں۔ (مسلم سجاد)


بہت رُسوا ہوئے ہم تارکِ قرآں ہوکر، تالیف: ڈاکٹر امیرفیاض پیرخیل۔ ناشر: شعیب سنز اینڈ بک سیلرز، جی ٹی روڈ، مینگورہ، سوات۔ فون: ۸۹۲۸۲۳۹-۰۳۰۳۔صفحات: ۳۸۴۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

ڈاکٹر امیرفیاض کی یہ تازہ کتاب ہے۔ اس سے پہلے ان کی نو کتب شائع ہوچکی ہیں جو قرآن کے ساتھ محبت اور تعلق استوار کرنے والی ہیں۔ اس میں ۴۰ موضوعات پر اظہارِخیال کیا گیا ہے۔ گویا یہ ایک گلدستہ ہے جس کی خوشبو سے قرآن سے شیفتگی، ذوق و شوق اور محبت و تعلق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

یہ غیرملکی مشاہیر کے مضامین اور قرآن کی تعلیمات سے متاثر ہوکر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والوں کا دل نواز اور خوب صورت تذکرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب اور مغربی تہذیب کا مقابلہ قرآن کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ دور میں روشن خیالی کے نام نہاد علَم برداروں کے لیے فکرانگیز واقعات جمع کر کے قرآن کے ساتھ جوڑنے کے لیے یہ اہم کاوش ہے۔ مولانا حالی، ماہرالقادری اور اقبال کے اشعار جابجا نگینے کی طرح جڑے ہیں اور اثرآفرینی میں اضافہ کرتے نظر آتے ہیں۔ قرآن کے ساتھ وابستہ کرنے اور اس کا ذوق و شوق پیدا کرنے میں یہ کتاب بہت معاون ہے۔ قرآن کے حوالے سے کام کرنے والوں کے لیے ایک رہنما کتاب۔ (عمران ظہورغازی)


اذانِ اقبال، پروفیسر خیال آفاقی، مرتب: پروفیسر مقصود پرویز۔ ناشر: مکتبہ المنیرہ، بی-۲۰۲، نویدآرکیڈ، آصف نگر، دستگیر نمبر۹، ایف بی ایریا، کراچی-۷۵۹۵۰۔ صفحات:۲۸۸۔ قیمت: ۵۰۰ روپے۔

علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفہ اتنا پُرکشش ہے کہ آج تک اس کی تفہیم کا کام جاری ہے۔ نئے نئے زاویوں سے فکراقبال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ان کے شاعرانہ کمالات، شعری خصوصیات اور ان کے کلام کی فنی باریکیوں پر توجہ دی جارہی ہے۔ دنیا کی تقریباً تمام بڑی زبانوں میں کلامِ اقبال کے تراجم ہورہے ہیں۔ ان کی فکری گہرائی اور وسعت پر علمی کانفرنسیںہورہی ہیں۔ اقبال صدی کے موقع پر اور اس کے بعد مختلف جامعات میں اقبال پر متعدد تحقیقی مقالے لکھے گئے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیرتبصرہ کتاب اذانِ اقبال مصنف کی ۲۹عنوانات پر کراچی میں قائم بزمِ اقبال کے نیازمندوں کے حضور ’اقبال نشستوں‘ میں گفتگوئوں کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے ہرموضوع پر اپنے موقف کی تائید میں اقبال کی نظم اور نثر سے استشہاد کیا ہے۔ مرتب پروفیسر مقصود پرویز نے لکھاہے کہ پروفیسر خیال آفاقی کو اقبال سے ایسا روحانی تعلق ہے جیسا خود اقبال کو مولانا روم سے تھا۔ (ص۶)

مصنف نے جن ۲۰عنوانات پر گفتگو کی ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں: ’لب پہ آتی ہے دعا‘۔ لفظیاتِ اقبال، اقبال ترانہ، اقبال بت شکن، مشاہدات و مکالماتِ اقبال، آخری انیسواں عنوان ’اقبال کے حضور‘ مصنف کا اقبال کے حضور منظوم خراجِ عقیدت ہے۔ اقبال کی نظم ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ کے بارے میں مصنف کہتے ہیں کہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نظم صرف بچوں کے لیے ہے، جب کہ ان کے خیال میں یہ نظم ہرآدمی کے لیے دستور کردار کی حیثیت رکھتی ہے(ص۷)۔ ’اقبال‘ کے عنوان سے نہایت پُرمغز، بصیرت افروز اور حقیقت پسندانہ گفتگو ہے۔ کہتے ہیں کہ اقبال نے اپنی فکر اور شاعری سے اُردو ادب میں ایک ایسا انقلاب پیدا کردیا جس کی نظیر کسی دوسرے ادب میں ملنی مشکل ہے۔ اقبال نے اپنے دور کی شاعری سے قطعی مختلف لب و لہجے میں اس انداز سے بات کی جیسے کوئی صحرا میں اذان دے۔ اقبال کی شاعری اور فکری بلندیوں کو کوئی دوسرا شاعر نہیں پہنچتا۔ آپ روایت پسندوں کی مخالفت کے باوجود اپنی لَے میں نغمہ سرائی کرتے رہے۔ اقبال عمل کے شاعر تھے، انھیں ہر وہ بات ناپسند تھی جس پر عمل نہ کیا جائے۔ (ص۱۷)

مصنف کا اسلوبِ بیان شگفتہ، دل نشین اور مؤثر ہے۔ وہ فکرِاقبال کی گتھیاں سلجھاتے ہیں اور نئی نسل کو اقبال کا پیغامِ عمل عطا کرتے ہیں۔ امید ہے کہ علامہ اقبال کا فکربلند اور ان کا نورِ بصیرت عام کرنے میں اس کتاب کو کامیابی حاصل ہوگی۔(محمد ظفر حجازی)


نبویؐ دلائل و امثال، محمد جلیل خان۔ ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون:۳۵۴۱۷۰۷۴-۰۴۲۔ صفحات ۱۷۳۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

عام طور سے احادیث کی تشریح کی ضرورت نہیں ہوتی، خود ہی واضح ہوتی ہیں۔ ۱۷۳صفحے کی اس کتاب میں ایک ترتیب سے اہم موضوعات پر ۱۰۲ احادیث پیش کی گئی ہیں۔ عربی متن ایک کالم میں، سامنے دوسرے کالم میں ترجمہ، پڑھنے میں، سمجھنے میں آسانی، تشریح بہت مختصر، اکثر نصف صفحے کی۔ صفحے سے زیادہ شاید ہی کوئی ہو۔ احادیث ڈیڑھ ڈیڑھ صفحے کی بھی ہیں۔ سات ابواب میں سے چند: علم نافع، مآل کار، حلال و حرام، فہم دین۔ وجہِ انتخاب اس کا دلیل یا مثال ہونا ہے۔ محمد جلیل خان نے اس سے پہلے قرآنی دلائل و امثال مرتب کی ہے۔ اب صدیقی دلائل و امثال مرتب کررہے ہیں، اور فاروقی، عثمانی، علوی تک کے ارادے ہیں۔ اللہ مکمل کروائے۔ افتخار بلخی کی جواہر رسالت یاد آئی۔ (مسلم سجاد)


اے میرے لخت ِ جگر! (جلد اوّل)، ابوعثمان ماسٹر عبدالرؤف۔ ناشر: الرشید پبلی کیشنز، مراد پور p/o قریشی والا، (لودھراں)۔ صفحات:۲۹۶۔ قیمت: درج نہیں۔

کیا کتاب ہے! اشتہار میں کہا گیا: سیکڑوں کتابوں کی درس گاہ، اور سرورق پر لکھا گیا:  ’ہزاروں صفحات کا نچوڑ‘ ایسا غلط بھی نہیں۔ مرتب ابوعثمان نے زندگی بھر جو کچھ بھی پڑھا اس میں سے کام کی باتیں نوٹ کرتے رہے۔ اب مرتب کر کے یہ مفید واقعات، معلومات، اقتباسات پیش کردیے ہیں۔ جلددوم کچھ نئے عنوانات کے ساتھ زیرطباعت ہے۔

کتاب کا کینوس اتنا وسیع ہے کہ احاطہ مشکل ہے، جھلکیاں ہی دکھائی جاسکتی ہیں۔ سب سے پہلے کتاب پڑھنے کی دعا ہے، پھر والدین کی قدر کیجیے کتاب بہترین ساتھی ہے کچھ کرلو نوجوانو! اُٹھتی جوانیاں ہیںصحت مشاہیر کی نظر میں نو صحت مند عادات ارشاداتِ اکابر اقوالِ زریں آگے بڑھیے،ہر عنوان کے تحت اتنے واقعات، اتنے مؤثر انداز سے کہ لخت ِ جگر کو عمل کرنا ہی کرنا ہے۔

یہ کتاب صرف لخت ِ جگر کے لیے نہیں بلکہ ’جگر‘ (بلکہ نورِ چشم کہیں تو چشم) کے لیے بھی ہے۔ خود بھی سیکھیں، اور بچوں کو مناسب رہنمائی دیں۔ اساتذہ کو بھی بہت مدد مل سکتی ہے۔ نوجوانوں کو صحیح راستہ دکھانے اور اس پر چلانے کے لیے، اسکول و کالج کے مجلے نکالنے والوں کے لیے لوازمہ ہی لوازمہ ہے۔ اخبارات کے ایڈیشن نکالنے والوں کے لیے بھی۔ غرض جو بھی نئی نسل کا خیرخواہ ہے،اسے کسی ذریعے سے کوئی بات پہنچا سکتا ہے، یہ کتاب اس کے لیے بغیر محنت کے، دوسرے کی برسوں کی محنت کا ثمر پیش کررہی ہے۔ ہرمدیر کے میز کی ناگزیر ضرورت ہے۔(مسلم سجاد)

تعارف کتب

  •  قرآنیات ، تالیف: محمودعالم صدیقی۔ ناشر: مدینۃ القرآن، جماعت اسلامی، کراچی۔ فون: ۳۴۹۱۵۳۶۱-۰۲۱۔  صفحات: ۴۸۔ قیمت: درج نہیں۔ [قرآنِ مجید کی تلاوت اور فہم کی اہمیت کے پیش نظر ابتدا میں مسلمان ہونے کے لیے علم کی ضرورت، ’اعجازقرآن‘ کے تحت قرآن کا چیلنج اور اس کی امتیازی خصوصیات، نیز اختلاف قرأت کی نوعیت پر مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے اقتباس دیے گئے ہیں (حوالوں کا اہتمام بھی مفید ہوتا) جو فہم قرآن کے لیے ترغیب کا باعث ہیں۔ اس کے علاوہ آدابِ تلاوتِ قرآن، مقاماتِ احتیاط، نیز قرآنی خصوصیات کے تحت قرآنِ مجید کے بارے میں مختلف معلومات دی گئی ہیں، مثلاً قرآنِ مجید کے اوّلین تراجم کی تاریخ، جملہ کاتبینِ وحی، کل حرکات (اعراب) قرآن، تفصیل حروفِ قرآن وغیرہ۔]
  •  مسلمان بچے: ان کے لیے قرآن و سنت کی روشن ہدایات، شیخ عمرفاروق، جامعہ تدبرقرآن، ۱۵- بی  وحدت کالونی، لاہور- فون: ۳۷۸۱۰۸۴۵-۰۴۲۔ صفحات: ۲۶۴۔ قیمت: (وقف) [مرتب نے ، جن کی کتابیں مشہورِ زمانہ ہیں، کسی دوست کے کہنے پر بچوں کے لیے آیات و احادیث کا ایک انتخاب مرتب کرکے شائع کردیا ہے۔ آیات و احادیث سب انتہائی مختصر ہیں، آسانی سے یاد کی جاسکتی ہیں۔ عنوانات قائم کر کے ۵۵۸ آیات میں تقریباً سب ضروری ہدایات آگئی ہیں۔ درمیان میں احادیث بھی دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ۵۰ آیات اور  پھر ۴۰؍ احادیث ترجمہ اور منظوم ترجمے کے ساتھ دی گئی ہیں۔ ایک بہت مفید مجموعہ معیاری طباعت کے ساتھ دستیاب ہے اور فی سبیل اللہ ہے۔ بس گھر آکر لینے کی شرط ہے۔ بچوں کو یہ مختصر آیات و احادیث یاد کروا دی جائیں تو زندگی بھر کے لیے ان کا سرمایہ ہوں گی اور ان کے اخلاق و کردار پر لازماً اثرات ہوں گے۔ تعمیرکردار و سیرت کے نام پر داخلے دینے والے تعلیمی اداروں اور نیٹ ورکس کے ذمہ دار ہر طالب علم تک ایک نسخہ پہنچانے کی فکر کریں۔]
  •  نمازِ تہجد ، خلیل الرحمن چشتی۔ ملنے کا پتا: مکتبہ تحریکِ محنت، جی ٹی روڈ، واہ کینٹ۔ فون: ۴۵۳۵۳۳۴-۰۵۱۔ صفحات: ۷۸۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔[نمازِ تہجد کی کیا اہمیت ہے؟ بقول مؤلف: ایک مسنون عبادت، وسیلۂ تقرب، جذبۂ تشکر، احساسِ عبدیت، نصابِ قیادت، مجلس تفقہ و تدبر اور ایک روحانی تربیت گاہ۔ تہجد کے لیے اصولی ہدایات اور فقہی پہلو، نبی کریمؐ کا تہجد کا معمول اور طریقہ، تہجد سے اسلامی قیادت کی تیاری و تقاضے، ذکراذکار اور دعائیں، تزکیہ و تربیت اور تقربِ الٰہی کے مختلف طریقے اختصار و جامعیت سے بیان کیے گئے ہیں۔ ]
  • طہارت سے نماز تک روحانی اور طبی فوائد، ڈاکٹر امیرفیاض پیرخیل۔ ملنے کا پتا: شعیب سنز پبلشرز، جی ٹی روڈ، مینگورہ، سوات۔ صفحات: ۱۶۸۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔[نماز اور اس سے متعلق ساری ضروری اور اہم باتیں خصوصاً طبی فوائد بڑے خوب صورت انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ وضو کے اثرات، مسواک کرنے کے فائدے۔ کیا خوب جملہ نقل کیا ہے: ’’جب سے ہم نے مسواک کو چھوڑا ہے اس دن سے ڈینٹل سرجن کی ابتدا ہوئی ہے‘‘ ۔نماز کے روحانی اور طبی فوائد کے لیے اور اس کے مسنون طریقے جاننے کے لیے یہ نماز کے موضوع پر ایک اچھا اضافہ ہے۔]
  •  سیدہ فاطمۃ الزہراؓ قدم بہ قدم،  مؤلف: عبداللہ فارانی۔ ناشر: زم زم پبلشرز، شاہ زیب سنٹر، نزد مقدس مسجد، اُردو بازار، کراچی۔ فون: ۳۲۷۶۰۳۷۴-۰۲۱۔ صفحات:۲۳۴۔ قیمت: درج نہیں۔ [معروف ادیب اشتیاق احمد نے قلمی نام عبداللہ فارانی سے سیرتِ رسولؐ و صحابہؓ کا سلسلہ ’قدم بہ قدم‘ کے عنوان سے شروع کیا ہے۔ سیدہ فاطمہ الزہراؓ کی سیرت پر مبنی یہ کتاب بھی اسی کا تسلسل ہے۔ حضرت فاطمہؓ کی سیرت کے مختلف گوشوں کو واقعاتی انداز میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے کہ منظر نظروں کے سامنے آجاتا ہے اور قاری خود کو ساتھ شریک سمجھتا ہے۔ عام فہم زبان اور حوالوں کا اہتمام کتاب کی خصوصیت ہے۔ تذکرہ سیرتِ فاطمہؓ کے تحت آپؓ کی اولاد کا ذکر کرتے ہوئے امام حسینؓ کی شہادت اور واقعہ کربلا بھی بیان کیا گیا ہے۔ بچیوں اور خواتین کی تربیت کے لیے مفید کتاب۔]
  •  ماہ نامہ ہمدرد نونہال، مدیراعلیٰ:مسعود احمد برکاتی: دفتر ہمدرد نونہال، ہمدرد ڈاک خانہ، ناظم آباد، کراچی۔ فون: ۳۶۶۲۰۴۹-۰۲۱۔صفحات: ۲۷۲۔ قیمت (خاص شمارہ): ۴۵ روپے۔[گذشتہ ۶۱برس سے باقاعدگی سے شائع ہونے والا نونہال اب تک پانچ نسلوں کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرچکا ہے۔ حکیم سعیدشہید کے مشن کے مطابق بچوں کے لیے دل چسپ، معلوماتی اور اپنی روایات کے ساتھ عصری تقاضوں کا فہم پیدا کررہا ہے۔ جون کے خاص شمارے میں سعدیہ راشد کی کچھ باتیں رشتوں کی، اشتیاق احمد کا نیا سنسنی خیز ناول حملہ، لوئی بریل پر معلومات افزا تحریر اور مزیدار کہانیاں، نظمیں، لطیفے، نونہال اسمبلی اور بہت کچھ۔]
  • ماہنامہ فخرعدالت (اشاعت خاص قاضی حسین احمد)،مدیر: ناصر اقبال مجاہد۔ ملنے کا پتا: ای/۸۷، سیٹلائٹ ٹائون نزد گورنمنٹ بوائز کالج، گوجرانوالہ۔ فون: ۶۴۵۰۲۸۳-۰۳۰۰۔ منشورات، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲۔ صفحات: ۲۰۰۔ قیمت : ۵۰۰ روپے۔ [امیرجماعت اسلامی سیدمنور حسن کے بقول : اپنے سلف صالحین کی خدمات کو یاد رکھنا، ان کی تذکیر کرنا اور خراجِ تحسین پیش کرنا زندہ قوموں کا شیوہ اور اپنے کارکنان کی تربیت و تزکیہ کا بہترین ذریعہ ہے۔ فخرعدالت کی قاضی حسین احمد مرحوم پر اشاعت خاص اسی کا تسلسل ہے۔ قاضی صاحب کی امارت کے پانچ اَدوار کا جائزہ، احباب، اہلِ خانہ کے تاثرات، منتخب کالم، تعزیتی ریفرنسز، منظوم خراجِ تحسین، تاریخی لمحات___ خوب صورت سرورق، دیدہ زیب پیش کش، اور شایانِ شان اشاعت خاص !]

ڈاکٹر محمد شکیل ، لاہور

’انتخابی مرحلے کے بعد‘ (جون ۲۰۱۳ء) میں سیّد منور حسن صاحب نے حالیہ انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی خامیوں اور موجودہ نظامِ انتخاب کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ انتخابات کے حوالے سے جماعت کی سیاسی حکمت عملی بظاہر ناکام معلوم ہوتی ہے۔ اس ضمن میں پہلے بڑی سیاسی جماعتوں سے ایڈجسٹمنٹ میں ناکامی،ایم ایم اے کا نہ بننا، ۲۰۰۸ء کے الیکشن کا بائیکاٹ، پی پی کے جیتنے کا خوف اور میڈیاوار میں نوازلیگ اور پی ٹی آئی کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری چند بڑے بڑے اسباب ہیں۔ اب جماعت کو بہتر حکمت عملی کے ساتھ اگلے انتخابات کی تیاری شروع کرنی چاہیے۔

خالد محمود ، بھلوال

’تحریکِ اسلامی اور اجتماعی تبدیلی‘ (جون ۲۰۱۳ء) اہم مقالہ ہے جس میں اقامت ِ دین اور تبدیلی نظام کے لیے اسلامی تحریک کے پانچ مراحل کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ حکمت عملی کے لیے اہم خطوط کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ اسلامی تحریک کو منصوبۂ عمل اور حکمت عملی کی تیاری میں ان اُمور کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

احمد علی محمودی ، حاصل پور

’کچھ حسن البناؒ کے بارے میں‘ (جون ۲۰۱۳ء) امام حسن البنا شہیدؒ کی بیٹی کا انٹرویو بہت پسند آیا۔ خاص طور پر خانگی معاملات، اولاد کی نگہداشت اور تربیت اور عوام الناس سے روابط کے پہلو ہر دور کی تحریکِ اسلامی کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

خواجہ عبدالباری ، مینگورہ

’اسلام اور جنسیت‘ (جون ۲۰۱۳ء) میں عملِ قومِ لوطؑ کو لواطت تحریر کرنا ایک نہایت جلیل القدر پیغمبر کی شان میں نادانستہ طور پر گستاخی کے مترادف ہے۔ اگرچہ یہ غلط اصطلاح اب تک مستعمل ہے لیکن ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس کے بجاے ’ہم جنسیت‘ یا ’ہم جنس پرستی‘ کا لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر طاہر سراج ، ساہیوال

’مروجہ نظامِ تعلیم___ ایک دعوتِ فکر‘ (مئی ۲۰۱۳ء) میں ہمارے نظامِ تعلیم کی خامیوں کا احاطہ کیا گیا ہے بلکہ اس کا حل بھی تجویز کیا ہے۔ تحریک سے تعلق رکھنے والے ملغوبہ تعلیم پر مبنی سکول (hybrid school)  ہماری ذہنی غلامی کے عکاس ہیں۔ پنجاب میں انگلش بطور ذریعہ تعلیم اختیار کیے جانے سے طلبہ اور اساتذہ کرب کا شکار ہیں، اور تعلیم سے دل برداشتہ ہورہے ہیں۔ ہماری آیندہ نسل کو دانستہ جاہل رکھنے کا منصوبہ پورے صوبے میں جاری ہے۔ ماہرین تعلیم کی متفقہ راے ہے کہ بچہ غیرزبان میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتا لیکن تحریکی  اور غیرتحریکی حلقے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آج لارڈ میکالے کی روح اپنی ۱۸۳۵ء کی خواہش کو  اہلِ پاکستان کے ہاتھوں پایۂ تکمیل پاتے دیکھ کر خوش ہورہی ہوگی۔ بقول ریاض زیدی    ؎

واے نادانی کہ اپنے ہاتھوں سے کھودی ہے قبر
ہم کہ ٹھیرے گورکن اور آپ ہی مدفن بھی ہیں

دانش یار ، لاہور

 مئی کے شمارے میں ’مروجہ نظامِ تعلیم___ ایک دعوتِ فکر‘ میں ایک جملے پر مَیں کھٹکا : مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کے لیے استاد رومی خاں (م:۱۵۳۰ء) نے توپیں تیار کیں (ص ۶۷)۔ظہیرالدین بابر مغل نہیں تھا (وقائع بابر از محمد ظہیرالدین بابر، مترجم فارسی: عبدالرحیم خان خاناں، مترجم اُردو: یونس جعفری، حواشی و جزیات حسن بیگ، مطبوعہ شہربانو پبلشرز، ۱۷-میتھیون روڈ کریکاڈی، برطانیہ، سال اشاعت ۲۰۰۷ء)۔ یہ کتاب جناب حسن بیگ کے سخن ہاے گفتنی سے مزین ہوکر نہایت خوب صورت انداز میں چھپی ہے۔ اس کے آغاز میں ص ۷، آخری پیراگراف میں لکھا ہے: بابری اخلاف کی حکومت عام طور پر خاندانِ مغلیہ کہلاتی ہے، یہ درست نہیں کیونکہ بابر ترک تھا، اور اپنے ترک ہونے پر فخر بھی کرتا تھا۔ اس حکومت کو خاندانِ بابری کہنا چاہیے۔

 

 

اہلِ کلیسا کے ان لرزہ خیز مظالم اور چیرہ دستیوں نے پورے یورپ میں ایک ہلچل مچا دی۔ ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کے مفادات کلیسا سے وابستہ تھے، سب کے سب کلیسا سے نفرت کرنے لگے اور نفرت و عداوت کے اس جوش میں بدقسمتی سے انھوں نے مذہب کے پورے نظام کو تہ و بالا کردینے کا تہیہ کرلیا....۔ چنانچہ غصے میں آکر وہ ہدایت ِ الٰہی کے باغی ہوگئے ۔ گویا اہلِ کلیسا کی حماقت کی وجہ سے پندرھویں اور سولھویں صدیوں میں ایک ایسی جذباتی کش مکش شروع ہوئی، جس میں چڑ اور ضد سے بہک کر ’تبدیلی‘ کے جذبات خالص الحاد کے راستے پر پڑگئے۔ اور اس طویل کش مکش کے بعد مغرب میں تہذیب الحاد (Secular) کا دور دورہ شروع ہوا۔ اس تحریک کے علَم برداروں نے کائنات کی بدیہی شہادتوں کے باوجود زندگی کی ساری عمارت کو اس بنیاد پر کھڑا کیا کہ دنیا میں جو کچھ ہے، وہ صرف مادہ ہے۔ نمو، حرکت ِ ارادی، احساس، شعور اور فکر سب اسی ترقی یافتہ مادہ کے خواص ہیں۔ حیوان اور انسان سب کے سب مشینیں ہیں جو طبعی قوانین کے تحت چل رہی ہیں۔ ان مشینوں کے پُرزے جس طور سے ترتیب پائے ہیں، اسی قسم کے افعال ان سے صادر ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی اختیار اور کوئی ارادہ نہیں۔

تہذیب ِ جدید کے معماروں نے اسی فلسفے کو سامنے رکھ کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی عمارت تعمیر کی۔ ہرتحریک جس کا آغاز اس مفروضے پر کیا گیا کہ کوئی خدا نہیں، کوئی الہامی ہدایت نہیں، کوئی واجب الاطاعت نظامِ اخلاق نہیں، کوئی حشر نہیں اور کوئی جواب دہی نہیں، ترقی پسند  تحریک کہلائی۔ اس طرح یورپ کا رُخ ایک مکمل اور وسیع مادیت کی طرف پھر گیا۔ خیالات،     نقطۂ نظر، نفسیات و ذہنیت، اخلاق و اجتماع، علم و ادب، حکومت و سیاست، غرض زندگی کے تمام شعبوں میں الحاد اس پر پوری طرح غالب آگیا۔ اگرچہ یہ سب کچھ تدریجی طور پر ہوا اور ابتدا میں تو اس کی رفتار بہت سُست تھی لیکن آہستہ آہستہ اس طوفان نے سارے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ (’انسانیت کی تعمیرنو اور اسلام‘، عبدالحمید ایم اے، ترجمان القرآن، جلد۴۰، عدد ۴-۵، شوال، ذیقعد ۱۳۷۲ھ، جولائی، اگست ۱۹۵۳ء، ص۸۴-۸۵)