انتخابی نظام کی تمام خامیوں اور کوتاہیوں اور انتخابی عمل میں رُونما ہونے والی تمام بدعنوانیوں کے باوجود، قوم نے بحیثیت مجموعی ۱۱مئی ۲۰۱۳ء کے قومی اور صوبائی انتخابات کے ذریعے کم از کم تین پیغام بڑے صاف انداز میں ملکی قیادت اور متعلقہ عالمی قوتوں کو دیے ہیں:
اوّل: گذشتہ پانچ برسوں میں جو افراد اور جماعتیں برسرِاقتدار رہیں انھوں نے ملک کی آزادی، سالمیت اور نظریاتی تشخص ہی کو مجروح نہیں کیا ملک کی معیشت کو بھی تباہ و برباد کردیا اور ذاتی مفاد کی قربان گاہ پر قومی مفاد کو بے دردی سے بھینٹ چڑھایا، بدعنوانی اور کرپشن کا طوفان برپا کیا، عوام کے جان و مال اور آبرو کو بڑے پیمانے پر پامال کیا اور اس طرح اس اعتماد کو پارہ پارہ کردیا جو عوام نے ان پر کیا تھا۔ حکمرانی کی اس ناکامی کی وجہ سے قوم نے اس قیادت کو رد کردیا اور متبادل سیاسی قوتوں کو حالات کو سنبھالنے کا موقع دیا۔ برسرِاقتدار آنے والے لوگوں کا اصل امتحان اس میں ہے کہ وہ ملک کو ان دگرگوں حالات سے کیسے نکالتے ہیں، محض ماضی کا نوحہ کرنے سے کوئی خیر رُونما نہیں ہوسکتا۔
دوم: عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور یہ تبدیلی محض جزوی اور نمایشی نہیں بلکہ حقیقی اور ہمہ جہتی ہونی چاہیے۔ انھوں نے لبرل سیکولر قوتوں کو رد کردیا ہے اور ان قوتوں کو ذمہ داری سونپی ہے جو آزاد خارجہ پالیسی ، دہشت گردی سے نجات ، معاشی ترقی، تعلیم اور صحت کے باب میں بہتر سہولتوں کی فراہمی، توانائی کے بحران کی دلدل سے ملک کو نکالنے اور معاشی اور سماجی خوش حالی اور سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کی منزل کی طرف قوم کو رواں دواں کرسکیں۔
سوم: عوام نے ملک کو معلّق پارلیمنٹ کی آزمایش میں نہیں ڈالا۔ نہ تو کسی پارٹی کو ایسی اکثریت فراہم کی جس کے بل بوتے پر اسے من مانی کرنے کا موقع مل جائے اور نہ ایسی بے بسی کی حالت والا اقتدار ہی دیا کہ دوسری چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی تائید کی ایسی محتاج ہو کہ ان کے ہاتھوں بلیک میل ہو، اور ان کے مفادات کے تحفظ پر مجبور ہو۔
عوام کے اس پیغام کا تقاضا تھا کہ وفاقی حکومت اپنا بجٹ ایسا بنائے جو عوام کی توقعات اور ضروریات پر پورا اُترتا ہو اور ملک کی ترقی اور استحکام کے باب میں ایک واضح وژن، مناسب پالیسیاں اور ایسا نقشۂ کار (روڈمیپ) فراہم کرے جس سے تبدیلی کا سفر مؤثر ہو اور اس حالت میں شروع ہوکہ سب کو نظر آئے ۔ عوام کسی معجزے کے طالب نہیں لیکن وہ یہ توقع ضرور رکھتے ہیں کہ تبدیلی کا صاف شفاف راستہ اختیار کیا جائے اور خوش نما الفاظ اور سیاسی شعبدہ گری سے مکمل طور پر گریز کرتے ہوئے حقیقت پسندانہ انداز میں نئے سفر کا آغاز کیا جائے اور اس طرح کیا جائے کہ عوام اس کے عملی اثرات دیکھ سکیں۔ بلاشبہہ یہ قیادت کے لیے بڑی آزمایش ہے لیکن وقت کا یہی تقاضا ہے اور اسی میزان پر حکومت کے بجٹ، اس کی پالیسیوں اور اس کے عملی اقدامات کو تولا اور پرکھا جائے گا۔
۱۲جون ۲۰۱۳ء کو پیش کیے جانے والے بجٹ کا اگر معروضی جائزہ لیا جائے تو اس اعتراف کے باوجود کہ نئی حکومت کو ورثے میں جو معیشت اور سوسائٹی ملی، وہ بڑے بُرے حال میں تھی اور عالمی سطح پر بھی ملک کی ساکھ بُری طرح متاثر تھی، وفاقی حکومت پاکستان کی تاریخ میں عوام کی خواہشات کے مطابق نیا باب کھولنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ بجٹ بحیثیت مجموعی مایوس کن اور اس تبدیلی کے آغاز کا سامان کرنے میں ناکام رہا ہے جس کے عوام خواہش مند ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ انتخابی نتائج کی روشنی میں انتقالِ اقتدار اور نئے سال کے لیے بجٹ پیش کرنے کے لیے جو وقت وزیرخزانہ کو ملا وہ بہت کم تھا اور انھیں عبوری دور کی ٹیم کے کیے ہوئے ہوم ورک ہی کی بنیاد پر رواں سال کا بجٹ پیش کرنا پڑا۔ مسلم لیگ (ن) کی معاشی ٹیم نے تو انتخاب سے قبل محنت اور تیاری کرلی تھی۔ اس کا مظہر وہ مفصل منشور ہے جو انھوں نے انتخاب سے کئی مہینے قبل قوم کے سامنے پیش کر دیا تھا۔ اب جو مینڈیٹ حکمران جماعت کو حاصل ہوا ہے وہ اسی منشور کی بنیاد پر حاصل ہوا ہے۔ نیز یہ بھی عام تاثر ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس زیادہ لائق اور تجربہ کار ٹیم موجود ہے اور اس سے بجاطور پر یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ وقت کی ضرورتوں کے مطابق اور اس کے اپنے منشور میں رکھے گئے پروگرام کی روشنی میں ایک ایسا بجٹ پیش کرے گی جو قوم کو نئی اُمید دلا سکے، جو عوام کو ان کی مشکلات کی دلدل سے نکالنے کا ذریعہ بن سکے اور جسے وہ نہ صرف خوش دلی کے ساتھ قبول کریں بلکہ اس پر عمل کے لیے بھی کمربستہ ہوجائیں۔ ہم کسی جماعتی تعصب کی بناپر یہ بات نہیں کہہ رہے ہیں، ملک اور ملک کے باہر بیش تر نقاد اس احساس کا برملا اظہار کررہے ہیں کہ وفاقی حکومت عوام کی توقعات کے مطابق حالات کے چیلنج کا مؤثر جواب دینے والا بجٹ پیش نہیں کرسکی۔ اس کے برعکس صوبہ خیبر پختونخوا کی نئی حکومت اپنی تمام تر ناتجربہ کاری اور صوبے میں ہونے والی جنگ و دہشت گردی اور سابقہ حکومت کی نااہلی، بدعنوانی اور بُری حکمرانی کے نتیجے میں رُونما ہونے والی زیادہ گمبھیر صورت حال کے باوجود ایک نسبتاً بہتر اور عوام دوست بجٹ پیش کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ مرکزی وزیرخزانہ ایک اچھے انسان، ایک لائق ماہر حسابیات اور ایک تجربہ کار مالی منتظم ہیں اور اپنی جماعت میں بھی ان کا ایک اہم مقام ہے۔ وقت کی کمی کے باوجود ان سے ایک بہتر بجٹ کی توقع تھی جو بدقسمتی سے پوری نہیں ہوئی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی پانچ سالہ وفاقی حکومت پاکستان کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت تھی۔ ۱۹۴۷ء سے ۲۰۰۷ء تک پاکستان کی معیشت کی سالانہ اوسط رفتار ترقی (growth rate) ۵ فی صد سے کچھ زیادہ رہی ہے لیکن پیپلزپارٹی کے اس دور میں اوسط رفتار ترقی ۳ فی صد رہی ہے جو سب سے کم ہے۔ غربت کی شرح ان پانچ برسوں میں آبادی کے ۲۹ فی صد سے بڑھ کر ۴۹ فی صد تک پہنچ گئی اور جو افراد خوراک کے بارے میں عدم تحفظ کا شکار ہیں، ان کی تعداد ۵۸ فی صد تک پہنچ گئی۔ ملک کی درآمدات اور برآمدات اور ادایگیوں کا عدم توازن دونوں کا خسارہ آسمان سے باتیں کرنے لگا اور اس طرح بجٹ کا خسارہ ۱۳-۲۰۱۲ء میں ۲۰۰۰؍ ارب روپے تک پہنچ گیا جس کا پیٹ بھرنے کے لیے اندھادھند قرضے لیے گئے۔ ۱۹۴۷ء سے ۲۰۰۷ء تک ۶۰برسوں میں ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا کُل بوجھ ۶۰۰۰؍ارب روپے تھا جو ان پانچ برسوں میں بڑھ کر ۱۴۰۰۰؍ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔ ’دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ‘ میں پاکستان کی شرکت کے نتیجے میں ۵۰ہزار افراد کی ہلاکت ہوئی، اتنی ہی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے اور ۳۰لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے اور ساتھ ہی ملک کی معیشت کو بھی ۱۰۰؍ارب ڈالر ، یعنی ۱۰ہزار ارب روپے سے بھی زیادہ کا نقصان ہوا۔
ان حالات میں نیا بجٹ بنانا آسان نہیں تھا۔ ایسے ہی حالات میں قیادت کا اصل امتحان ہوتا ہے کہ وہ کس طرح گرداب سے نکلنے کا راستہ قوم کو دکھاتی ہے اور ایک قابلِ عمل پروگرام کی شکل میں نئے سفر کا آغاز کرتی ہے۔ وفاقی حکومت اور اس کی معاشی ٹیم اس بازی کو سر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ بجٹ کا فریم ورک وہی پرانا فریم ورک ہے اور جس نئے فریم ورک اور مثالیے (paradigm) کی ضرورت تھی اس کی کوئی جھلک اس میں نظر نہیں آتی۔ بلاشبہہ چند اچھے اقدام بھی اس میں تجویز کیے گئے ہیں اور ان کا کریڈٹ وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم کو دیا جانا چاہیے۔ ان کی مشکلات اوروقت کی قلّت کا اعتراف بھی ضروری ہے لیکن ان مثبت پہلوئوں کے اعتراف کے ساتھ اس امر کا اظہار اور اِدراک بھی ضروری ہے کہ بجٹ معیشت کو ایک نیا رُخ دینے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ معیشت کو دلدل سے نکالنے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت تھی، ان سے پہلوتہی کی گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے منشور میں جو خطوطِ کار پیش کیے گئے تھے، بجٹ ان کا احاطہ نہیں کرسکا ہے اور سب سے بڑھ کر معیشت کو چھلانگ لگاکر آغاز (jump start) کرنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت تھی، کرپشن اور وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لیے اور ٹیکس چوری کی وبا سے نجات کے لیے جس نوعیت کی حکمت عملی اور کارفرمائی درکار تھی، اس کا کوئی سراغ بجٹ میں نہیں ہے۔ مہنگائی کو قابو میں کرنے، پیداوار اور روزگار کو بڑھانے، غربت کو ختم نہیں تو بڑی حد تک کم کرنے کے لیے جو اقدام ضروری تھے اور جن میں سے کچھ کا ذکر مسلم لیگ کے منشور میں موجود تھا، ان کی طرف پیش قدمی کی کوئی سبیل اس میں نظر نہیں آئی بلکہ ہر وہ اقدام کیا گیا ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو۔ خسارہ اور قرضوں کے کم ہونے کا کوئی امکان دُور دُورتک نظر نہیں آرہا۔
ہم اس سلسلے میں بجٹ کے چند اہم پہلوئوں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ بجٹ کا ایک اُمیدافزا پہلو یہ ہے کہ معیشت کے بارے میں حکومت کے وژن کو چھے نکات کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جو ایک خوش آیند کوشش ہے۔ اس طرح سے یہ ایک کسوٹی بھی بن جاتی ہے جس پر پورے بجٹ کو پرکھا جاسکتا ہے۔ اس میں پہلا نکتہ پاکستان کی خودمختاری کا حصول اور تحفظ اور محکومی اور مانگے کی معیشت سے نجات ہے۔ لیکن پورے بجٹ میں حقیقی خودانحصاری کے حصول کے لیے کوئی مؤثر پالیسی اور نقشۂ کار موجود نہیں۔ یہ بجٹ ۱۵۰۰؍ارب روپے سے زیادہ خسارے کا بجٹ ہے ، اور یہ بھی اس وقت جب ایف بی آر ۲ہزار۵سو ۹۸ ارب روپے کے ٹیکس محصولات وصول کرے اور امریکا کولیشن سپورٹ فنڈ، نج کاری، جی-۳ کی فروخت اور کے ای ایس سی کی فروخت کے سلسلے کی پھنسی ہوئی رقوم مل جائیں۔ یہ سب محکومی کی زنجیریں ہیں، خودانحصاری کا راستہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات کی ایک تعداد نے اس بجٹ کو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا کہ اس میں آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے زمین ہموار کی گئی ہے اور ان میں سے بیش تر چیزیں اپنے کارنامے کے طور پر شامل کرلی گئی ہیںجو دراصل آئی ایم ایف کے مطالبات تھے۔ خصوصیت سے بجٹ کے خسارے میں قومی پیداوار کے ۵ء۲ فی صد کی کمی کا دعویٰ اور جنرل سیلزٹیکس اور دوسرے ٹیکسوں میں اضافہ جن کے نتیجے میں مہنگائی میں اور بھی اضافہ ہوگا اور بجٹ کے اعلان کے فوراً بعد یہ عمل شروع ہوگیا۔ اس نوعیت کی معاشی پالیسیوں کی موجودگی میں خودانحصاری ایک خواب بلکہ سراب سے زیادہ نہیں۔
دوسرا، تیسرا اور پانچواں نکتہ نجی سرمایہ کاری اور معیشت میں حکومت کے کردارکے بارے میں ہے اور اس کا پورا جھکائو سرمایہ دارانہ نظام اور لبرل معیشت کی طرف ہے۔ یہ تجربہ ہمارے اپنے ملک میں اور ترقی پذیر دنیا کے بیش تر ممالک میں ناکام رہا ہے۔ نجی ملکیت اور کاروباری معیشت کے جان دار مثبت پہلو ہیں لیکن متوازن معاشی ترقی اور عوام الناس کی خوش حالی کے دوگونہ مقاصد کو بیک وقت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں نجی سرمایہ کاری کو ضروری مواقع فراہم کیے جائیں، وہیں ریاست کا بھی ایک مثبت اور مؤثر کردار ہو جو قومی مفادات اور عوام کے حقوق کے تحفظ اور انصاف اور معاشرتی عدل کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ حکومت کی شرکت کو سیاسی دراندازی سے محفوظ رکھنا ضروری ہے مگر ریاست کے مثبت کردار کے بغیر غربت کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی، اجتماعی عدل کا حصول اور معاشی ناہمواریوں سے نجات اور علاقائی عدم مساوات کا تدارک ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نجی سرمایہ کاری تو مطلوب ہے مگر سرمایہ دارانہ فریم ورک میں نہیں بلکہ اسلامی فلاحی ریاست کے فریم ورک میں۔ بدقسمتی سے اس کی کوئی جھلک بجٹ میں دیے گئے وژن میں نظر نہیں آتی بلکہ چوتھے نکتے میں تو کھل کر بات کہہ دی گئی ہے کہ ریاست عوام کی جو خدمات انجام دیتی ہے، اسے حق ہے کہ ان کی لاگت وصول کرے۔ یہ خالص سرمایہ دارانہ ذہنیت ہے، ورنہ ریاست کا تو تصور ہی یہ ہے کہ وہ عوام سے ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن امن و امان کے قیام، دفاعِ وطن، عوام کو سہولت فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے۔ ’’ٹیکس کے ساتھ خدمات کا معاوضہ بھی وہ وصول کرے‘‘ یہ ریاست کے بنیادی تصور اور خاص طور پر اسلام کے تصورِ حکمرانی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔
بلاشبہہ وژن کے آخری نکتے میں آبادی کے کمزور اور غریب طبقات کی دادرسی کی بات کی گئی ہے لیکن یہ اس وژن کا مرکزی تصور نہیں،ایک ضمیمہ ہے اور وہ بھی بڑا کمزور اور خام۔
ہم بڑے دکھ سے یہ بات کہنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ بجٹ کی اس تقریر میں اگر کسی چیز کا ذکر نہیں تو وہ اسلام اور اس کے دیے ہوئے معاشی عدل اور خدمت ِ خلق کے نظام کا ہے۔ مسلم لیگ کے منشور میں اسلام کے ذکر کے علاوہ، قرآن پاک کی دو آیات اور دو احادیث نبویؐ سے استشہاد کیا گیا ہے۔ جناب اسحاق ڈار نے سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی طرف سے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے ۴جون ۲۰۱۲ء کو اپنی تقریر میں کہا تھا: ملک کی اوّلین ترجیح غربت کا خاتمہ ہونا چاہیے اور غربت کی لکیر کو بھی ایک نہیں، دو سے ڈھائی ڈالر ہونا چاہیے، اس لیے کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور مہنگائی کی صورت حال کی روشنی میں خطِ غربت کے بارے میں نئی سوچ رُونما ہورہی ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے اپنی اسلامی روایت کا مؤثرانداز میں یوں اظہار کیا:
اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اب وہاں دو سے اڑھائی ڈالر کی بات ہو رہی ہے۔ آج سے چار سال پہلے بات کی تو یہاں کالم بھی لکھے گئے۔ اس کو عالمی سطح پر acknowledge [تسلیم]کیا گیا ہے۔ آپ کو یہ سن کر تکلیف ہوگی کہ اگر two dollar a day والی آبادی [یومیہ دو ڈالر]پاکستان کو focus [مرتکز]کیا جائے تو آج تقریباً ۷۳یا ۷۴ فی صد آبادی کی یہ آمدن ہے۔ وہ poverty line [خط ِ غربت] سے نیچے رہ رہے ہیں، یعنی وہ تقریباً ماہانہ چھے ہزار روپے سے کم پر گزارا کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بحیثیت مسلمان بھی ہماری یہ ذمہ داری ہے ۔ ہمارے اُوپر ایک بہت بڑی مذہبی ذمہ داری ہے through Quran and Hadiths [قرآن و حدیث کی رُو سے]کہ اس issue [مسئلے] کو ہم tackle کریں [نبٹیں]۔ زکوٰۃ اور عشر کا concept [تصور] یہی ہے۔ ایک وقت آیا کہ کوئی لینے والا نہیں تھا۔ مدینہ منورہ کی poverty [غربت] غائب ہوچکی تھی اور انھوں نے اسلامی مملکت کو consistently [مستقل طور پر] ایمان داری اور شفاف پالیسی کے ساتھ چلایا۔
اسی طرح سینیٹ نے ۲۰۰۹ء سے ۲۰۱۲ء تک جو سفارشات دی ہیں اور ان میں راقم الحروف اور جناب اسحاق ڈار اور مسلم لیگ، جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں کے نمایندے یک زبان تھے کہ ملک میں اسلامی نظامِ بنکاری اور مالیات کو فروغ دینا چاہیے اور ربٰو کو اس کی ہرشکل میں ختم کرنا چاہیے۔ ہرسال ہم نے متفقہ طور پر یہ سفارش دی کہ:
سینیٹ قومی اسمبلی سے سفارش کرتی ہے کہ اسٹیٹ بنک اسلامی بنکاری اور مالیات کی ترویج کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرے تاکہ دستور کی دفعہ ۳۸-الف میں درج معاشی استحصال اور ربٰو کا خاتمہ کیا جاسکے۔
ہماری مشترکہ تحریک کے ذریعے سینیٹ نے درج ذیل مطالبات بھی ہرسال کیے۔ کم از کم جنرل سیلزٹیکس کے بارے میں تو ایک سال حکومت کو مجوزہ اضافے کو واپس لینے پر مجبور کردیا۔ واضح رہے کہ ۲۰۰۹ء سے پہلے جنرل سیلز ٹیکس ۱۵ فی صد تھا جسے ۱۶ فی صد کیا گیا اور سینیٹ نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی(ڈارصاحب اس میں ہمارے ساتھ تھے)۔ پھر ۲۰۱۰ء میں آئی ایم ایف کے اصرار پر اسے بڑھا کر ۱۷ فی صد کیا گیا لیکن ہماری، قومی اسمبلی اور عوام کی مخالفت کے باعث اس اضافے کو واپس لیا گیا۔ ستم ظریفی ہے کہ آج خود جناب اسحاق ڈار کے ہاتھوں وہی ردشدہ اضافہ قوم پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ سینیٹ کی متفقہ قرارداد ملاحظہ ہو:
قومی اسمبلی میں زیرغور RGST بل کی منظوری کے بعد سیلزٹیکس کم کرکے ۱۵ فی صد کردیا جائے گا۔
سینیٹ نے ہماری مشترکہ کوششوں سے یہ بھی سفارش کی کہ بنکوں اور انشورنس کمپنیوں کے منافع پر کارپوریٹ ٹیکس بڑھایا جائے اور اسے ۳۵ فی صد سے بڑھا کر ۴۰ فی صد کیا جائے، مگر اب وزیرخزانہ صاحب نے تمام کارپوریٹ سیکٹر کے ٹیکس کو ۳۵ فی صد سے کم کرکے ۳۴ فی صد کردیا ہے اور وعدہ کیا گیا ہے کہ پانچ سالوں میں اسے برابر کم کرکے ۳۰ فی صد کردیا جائے گا۔ گویا سیلزٹیکس کے ذریعے تمام باشندوں خاص طور پر غریبوں کے لیے، جن پر ٹیکس کا بوجھ امیروں سے زیادہ پڑتا ہے، زیادہ ٹیکس ادا کرنے اور نتیجے میں افلاس کے بڑھنے اور مہنگائی میں اضافے کا سامان کیا جائے اور امیروں کو ٹیکس پر چھوٹ دی جائے۔ سینیٹ کی متفقہ قرارداد ملاحظہ ہو:
سفارش : کمیٹی نے سینیٹ کو سفارش کی بنکاری سیکٹر پر انکم/کارپوریٹ ٹیکس بڑھا کر ۴۰فی صد کردیا جائے۔
سینیٹ نے ہماری مشترکہ مساعی کے نتیجے میں صرف بنکنگ سیکٹر پر ہی ٹیکس بڑھانے کی بات نہیں کی، ہم نے یہ بھی تجویز دی کہ مالیاتی سیکٹر کو آمادہ کیا جائے کہ اپنے منافع کا کم از کم ۵فی صد تعلیم، صحت اور سپورٹس کے فروغ کے لیے وقف کرے۔
موجودہ بجٹ میں بلاشبہہ کچھ خوش گوار پہلو بھی ہیں۔ VVIP کلچر کو ختم کرنے کے جو اقدام کیے گئے ہیں، وزیراعظم سیکرٹریٹ اور وزیراعظم ہائوس کے اخراجات میں جو کمی کی گئی ہے، وزارتوں کی تعداد میں جس کمی کی بات کی جارہی ہے، صواب دیدی اختیارات کو جس حد تک ختم یا کم کیا گیا ہے، تعلیم کے لیے جو بھی وسائل دیے گئے ہیں، نوجوانوں کی تربیت اور روزگار کی فراہمی کے باب میں جو بھی پروگرام ہیں، ہم ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن ہم اس سے کیسے صرفِ نظر کرسکتے ہیں کہ کئی درجن نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں اور ان میں سے بیش تر ایسے ہیں جن کی زد عوام پر پڑتی ہے، جن کے نتیجے میں مہنگائی بڑھے گی، پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور عوام کے لیے مشکلات دوچند ہوجائیں گی، حالانکہ مسلم لیگ نے اپنے منشور میں جو وعدے کیے تھے وہ اس سے بہت مختلف تھے۔ منشور میں عوام کو یقین دلایا گیا تھا کہ:
۱- تمام آمدنیوں پر منصفانہ ٹیکس لگاکر زیادہ آمدنی حاصل کی جائے گی اور بالواسطہ ٹیکس (indirect tax) پر انحصارکم سے کم کیا جائے گا (ص ۲۰)
۲- ٹیکس کی شرحوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ جب ٹیکس کا اصلاحاتی پروگرام پوری طرح سے نافذ ہوجائے گا تو کچھ عرصے کے بعد ٹیکس کی شرحیں کم کردی جائیں گی (ص ۲۱)
۳- پُرتعیش اور غیرضروری اشیا کی درآمد کی حوصلہ شکنی کے لیے ان پر بھاری ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ (ص ۲۱)
۴- برآمدات پر ٹیکس معاف کردیا جائے گا۔
ایک طرف عوام کو جنرل سیلز ٹیکس میں اضافے اور withholding tax کی شکل میں مختلف تجارتی اور صنعتی دائروں پر ٹیکس کا سامنا ہے جس سے مہنگائی کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ان کا نفاذ مسلم لیگ کے منشور اور سینیٹ میں ہمارے مشترکہ موقف کی کھلی خلاف ورزی ہے، تو دوسری طرف ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے، ٹیکس چوری کے تباہ کن کاروبار کو بند کرنے اور ان متمول طبقات کے بارے میں جن کے لیے منشور میں کہا گیا ہے کہ سب سے ٹیکس وصول کیا جائے گا، کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ایف بی آر کی سرکاری رپورٹ کے مطابق Tax Gap، یعنی جو ٹیکس واجب ہے اور جو ملتا ہے ۵۰ فی صد ہے، یعنی جو ٹیکس جمع ہوا ہے وہ اگر ۲۰۰۰؍ارب روپے ہے تو وہ جو واجب ہے مگر نہیں ملا، یعنی ٹیکس چوری ۱۰۰۰؍ارب روپے کی ہے۔ اس کے برعکس ورلڈبنک کا تخمینہ یہ ہے کہ یہ گیپ ۵۰ فی صد نہیں، ۷۰ فی صد سے زیادہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ۱۳-۲۰۱۲ء کے اعدادوشمار کی روشنی میں جو رقم کسی نئے ٹیکس کے لگائے بغیر صرف اس گیپ کو پُر کرنے سے حاصل ہوسکتی ہے وہ تقریباً ۱۵۰۰؍ارب روپے ہوگی۔ اسے وصول کرنے کی تو کوئی فکر نہیں لیکن ۶۲؍ارب کے لیے ایک فی صد سیلزٹیکس لگاکر ۱۸کروڑ انسانوں کی کمر توڑنے میں کوئی باک نہیں، اور صرف ۳؍ارب روپے کے لیے تعلیم پر ایک نہیں تین ٹیکس ایک ہی سانس میں لگادیے گئے ہیں۔
بلاشبہہ جو لوگ ٹیکس چوری کر رہے ہیں، ان کی گرفت ضروری ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک ایسا طریقۂ کار اختیار کرنا جو انسانوں کو نجی زندگی کے تحفظ کے حق سے محروم کرے اور بدعنوانیوں کے لیے دروازہ چوپٹ کھول دے بہت ہی خطرناک ہے۔ یہ نجی زندگی کے تحفظ کے اسلامی آداب کے بھی خلاف ہے۔ اس بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو اختیار دیا جارہا ہے کہ ہروہ شخص جس کے بنک میں ۱۰لاکھ روپے سے زیادہ ہوں، یا جس نے اپنے کریڈٹ کارڈ پر ایک لاکھ روپے تک کی خریداری کی ہو، ان تک ایف بی آر کو بلاواسطہ رسائی حاصل ہوگی۔ یہ نہایت خطرناک تجویز ہے اور اس کے نتیجے میں ایف بی آر کو وہ اختیارات حاصل ہوں گے جو حقوق کی پامالی ہی نہیں ملکی معیشت کی بربادی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں documentation (تحریری شواہد) میں کمی ہوگی اور cash economy (نقد معیشت) بڑھ جائے گی اور ملک سے سرمایے کی منتقلی کا خطرہ پیدا ہوگا۔ مزید یہ کہ اس سے کرپشن اور بلیک میل کے دروازے کھلیں گے اور ملک میں کرپشن میں اضافہ ہوگا۔ اس کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک میں ان حالات میں جو راستہ اختیار کیا جاتا ہے وہ کہیں زیادہ معقول ہے۔ وہ یہ ہے کہ جن افراد کے بارے میں قرائنی شہادت موجود ہو، ان کے معاملات کی ایک خصوصی عدالت کے ذریعے تحقیقات کی جاتی ہیں اور معاملات کو دیکھا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار میں مرکزی بنک کے ذریعے کام انجام دیا جاتا ہے۔ براہِ راست بنک کے عملے اور ایف بی آر کے عملے کے درمیان ربط نہیں ہوتا۔ حقیقی مسائل کے حل کے لیے ایسے طریقے اختیار کرنے چاہییں جو معقول ہوں۔ انصاف کے اندر خود ایسے راستے موجود ہیں، انھیں چھوڑ کر ایسا راستہ اختیار کرنا جس سے ایف بی آر کا اختیار اس خطرناک حد تک بڑھ جائے، ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کس کے مشورے پر وزیرخزانہ نے یہ خطرناک تجویز پیش کی ہے۔
نادرا کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں کم از کم ۷۰ لاکھ افراد کو بلاواسطہ ٹیکس دینا چاہیے اس لیے کہ ان کی آمدنی کم سے کم آمدنی کی حد سے زیادہ ہے، اور ان میں سے ۳۵ لاکھ کے بارے میں نادرا کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ان کے اثاثوں، عالمی دوروں، پُرتعیش ہوٹلوں میں رہایش، پاکستان میں ان کی شان دار جایدادوں، کاروں، ٹیلی فون، بجلی اور گیس کے بل، نہ معلوم کیا کیا معلومات موجود ہیں جن کی روشنی میں ان کو ٹیکس کی خطیر رقوم ادا کرنی چاہییں۔ لیکن وہ ٹیکس کے جال سے بالکل باہر ہیں، دندناتے پھرتے ہیں اور کوئی گرفت کرنے والا نہیں۔ اس وقت انکم ٹیکس دینے والوں کی تعداد ۹لاکھ کے قریب ہے اور باقی سب کا حال یہ ہے کہ ع
بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے
بجٹ میں ان کو ٹیکس کے جال میں لانے کے لیے کوئی قابلِ ذکر اقدام نہیں کیا گیا۔ ہاں، عام آدمی پر ٹیکس لگادیا گیا ہے، اس وعدے کے باوجود کہ بالواسطہ نہیں لگایا جائے گا اور بلاواسطہ کے نظام کو فروغ دیا جائے گا۔
انتظامی اخراجات کو کم کرنے کے بارے میں بھی بڑے دعوے کیے گئے تھے اور مسلم لیگ کی قیادت کا عزم تھا کہ انتظامی اخراجات میں ۳۰ فی صد کمی کی جائے گی۔ لیکن اگر بجٹ کا بغورمطالعہ کیا جائے تو آخری صورت حال یہ سامنے آتی ہے کہ VVIP کلچر اور مراعات اور پروٹوکول کے خاتمے کے تمام اقدامات کے باوجود خالص انتظامی اخراجات میں ۹فی صد کا اضافہ ہوا ہے اور اس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں وہ ۱۰ فی صد اضافہ شامل نہیں ہے جو مجبور ہوکر بجٹ کے بعد کیا گیا ہے حالانکہ سینیٹ میں متفقہ تجاویز میں بنیادی تنخواہ میں اضافے کا بار بار مطالبہ کیا گیا۔ جون ۲۰۱۲ء کی سینیٹ کی رپورٹ میں یہ موجود ہے کہ جب خود مسلم لیگ کی بنیادی تنخواہ کے طور پر ۹۰۰۰ کی حد مقرر کیے جانے کی تجویز کو کمیٹی کے اصرار پر واپس لیا گیا، تو اس سے اختلاف کرنے والے واحد معزز رکن جناب اسحاق ڈار تھے۔ ۱۲جون ۲۰۱۲ء کی سینیٹ کی رپورٹ کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:
سینیٹ قومی اسمبلی سے سفارش کرتی ہے کم سے کم تنخواہ ۹ہزار روپے تک بڑھا دی جائے، واپس لے لی گئی۔ سینیٹرمحمداسحاق ڈار نے اصل سفارش کے واپس لینے پر اپنا اختلافی نوٹ درج کیا تھا۔
۱۴-۲۰۱۳ء کے بجٹ کے لیے کم سے کم تنخواہ کا باب خاص تھا۔ یہ اور بات ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا نے نہ صرف ۱۰ہزار روپے کم سے کم تنخواہ مقرر کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کو جرم قرار دیا۔ خود مسلم لیگ کے منشور میں کم سے کم تنخواہ کی مد ۱۵ہزار روپے تجویز کی گئی ہے، گو اس پر عمل کا یقین نہیں۔
۱۴-۲۰۱۳ء کے بجٹ میں قرضوں سے نجات کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ اسی طرح بہت سے پالیسی اعلان ہیں مگر ان پر عمل درآمدکے لیے کوئی نقشۂ کار اور ٹائم ٹیبل نہیں دیا گیا۔ محترم وزیرخزانہ کو یاد ہوگا کہ خود انھوں نے سینیٹ میں اپنی ایک تقریر میں بڑی پتے کی بات کہی تھی کہ جب کسی غیرملکی معزز مہمان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے تین بڑے مسائل کیا ہیں تو اس نے کہا: نفاذ، نفاذ اور نفاذ!
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رُسوائی کی!
بجٹ میں ایک بڑا اہم خلا برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے پالیسی پہل کاری اقدامات (initiatives) کی عدم موجودگی ہے۔
بجٹ میں توانائی کے بحران کو بجاطور پر اہمیت دی گئی ہے مگر اس کے حل کے لیے جو اقدام تجویز کیے گئے ہیں، وہ بہت ناکافی ہیں۔ قرض لے کر گردشی قرض اُتارنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ گردشی قرضے کوئی نیا مسئلہ نہیں ہیں گو، اب ان کا حجم غفلت اور مناسب اقدام نہ کرنے کے سبب بہت بڑھ گیا ہے اور ۵۰۲؍ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ۶۰ دن میں اُسے اُتارنے کی کوشش سرآنکھوں پر، لیکن مسئلے کی جڑ بلوں کی عدم ادایگی ہے جس کے ۴۰ سے ۵۰ فی صد کا تعلق مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور ان کے تحت کام کرنے والے اداروں سے ہے۔ جب تک ادایگی کے نظام کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا یہ مسئلہ بار بار سر اُٹھاتا رہے گا۔ پھر مسئلہ توانائی کی رسد بڑھانے ہی تک محدود نہیں۔ توانائی کی مسلسل فراہمی اور اس کی لاگت کو کم کرنے کا ہے جس کا انحصار توانائی کے ذرائع کے درمیان نئی مساوات (equation) پر ہے۔ پن بجلی کُل رسد کا ۷۰ فی صد فراہم کرتی تھی اور یہ بجلی سب سے سستی ہے۔ اب یہ حصہ صرف ۳۰ فی صد رہ گیا ہے اور تھرمل بجلی کی لاگت کئی گنا زیادہ ہے۔ اس لیے مسئلے کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرکے ہمہ جہتی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ کے منشور میں ایک اہم تجویز یہ تھی کہ توانائی سے متعلق تمام وزارتوں کو مدغم کرکے ایک وزارت بنائی جائے گی۔ توانائی کے باب میں سب سے پہلی تجویز ہی یہ تھی کہ: ’پانی و بجلی‘، اور ’پٹرولیم و قدرتی وسائل‘ کی وزارتوں کو مدغم کر کے ’وزارت براے توانائی و قدرتی وسائل‘ کے نام سے ایک وزارت بنائی جائے گی (ص ۲۸)۔ لیکن جب وزارتیں بنیں تو وہی ڈھاک کے تین پات! دونوں وزارتیں آج بھی الگ الگ ہیں اور بات ایک انرجی پالیسی کی ہورہی ہے۔
منشور میں اور بھی کئی بڑے اہم پہل کاری اقدامات کا وعدہ ہے مگر بجٹ تو ایک تاریخی موقع تھا کم از کم ان اقدامات کی طرف پہلا قدم اُٹھانے کا، لیکن بجٹ اس باب میں خاموش ہے۔ چند تجاویز ریکارڈ کی خاطر پیش خدمت ہیں:
واضح رہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا نے تعلیم اور صحت کے سلسلے میں قومی ایمرجنسی کا اعلان اپنے پہلے بجٹ میں کیا ہے اور اس کے لیے خطیر رقم بھی مختص کی ہے۔
منشور میں ان کے علاوہ بھی کئی پہل کاری اقدامات کا ذکر ہے لیکن وفاقی حکومت کا پہلا بجٹ اس باب میں خاموش ہے حالانکہ یہ ایک اہم موقع تھا، تبدیلی کا پیغام دینے کا۔
بجٹ اور بجٹ تقریر کے معروضی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ بجٹ میں جو وژن پیش کیا گیا ہے، اس کے چند حصے درست ہیں لیکن بحیثیت مجموعی اس میں نمایاں خامیاں اور خلا ہیں اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ پھر جو بھی وژن پیش کیا گیا ہے اس میں اور بجٹ میں خاصا تفاوت ہے۔ بجٹ میں پیش کردہ تجاویز اور قانونی ترامیم وژن سے ہم آہنگ نہیں بلکہ کچھ پہلو تو ایسے ہیں جو کھلے کھلے متصادم ہیں۔ بجٹ بڑی حد تک macro-stabilization model ہی کے فریم ورک میں بنایا گیا ہے جو آئی ایم ایف کا مقبول ماڈل ہے۔ کہیں کہیں growth model سے کچھ مستعار لیا گیا ہے مگر وہ ناکافی بھی ہے اور پوری طرح مربوط بھی نہیں۔ پھر سب سے اہم پہلو فلاح و بہبود اور اخلاقی زاویے کا ہے جو بجٹ کا کمزور ترین پہلو ہے۔ ملک کا اصل مسئلہ stagflation ہے، یعنی وہ کیفیت ہے جس میں افراطِ زر اور جمود (stagnation) بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔ اس بڑی رکاوٹ کو توڑنے کے لیے جس قسم کے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے وہ بجٹ میں موجود نہیں۔ بجٹ میں وسائل کو متحرک کرنے کے تمام طریقے استعمال کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔سروسز سیکٹر یعنی خدمات کا شعبہ جس کا اس وقت مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں ۵۶ فی صد حصہ ہے اس کا حصہ کُل ٹیکس آمدنی میں ۳۰ فی صد کے لگ بھگ ہے۔ ہمارے ملک میں بمشکل ۱۵،۱۶ سروسز ہیں جو ٹیکس نیٹ ورک میں آتی ہیں۔ بھارت میں یہ تعداد ۱۷۰ ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ بجٹ میں ان تمام پہلوئوں کے اِدراک کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔
زراعت اور خاص طور پر لائیوسٹاک کو جو اہمیت دینی چاہیے تھی وہ نہیں دی گئی ہے۔ غیرضروری اشیا کی درآمد کو روکنے کے بارے میں بھی کوئی مؤثر پالیسی نہیں، حالانکہ تجارتی خسارہ اب ۱۵؍ارب ڈالر سے متجاوز ہے جو برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ ایک تحقیقی رپورٹ کی روشنی میں اس وقت درآمدات کا صرف ۶۰ فی صد ضروری اشیا پر مشتمل ہے، ۴۰ فی صد غیرضروری اشیا کی نذر ہورہا ہے۔ اس بارے میں مؤثر پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
معاشی ماہرین اور عوام الناس سب کو یہ سوال پریشان کر رہے ہیں کہ:
یہ ہے وہ کسوٹی جس پر بجٹ اور معاشی پالیسیوں کو جانچا اور پرکھا جانا چاہیے۔
اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو انتخاب اور ارادے کی آزادی بخشی ہے، اور اسی آزادی کے استعمال میں اُس کا امتحان ہے۔ اِس حقیقت کو اگر آپ ذہن نشین کرلیں تو آپ کو یہ سمجھنے میں کوئی زحمت پیش نہ آئے گی کہ کسی ملک یا قوم یا زمانے کے انسانوں میں اگر کوئی دعوتِ باطل فروغ پاتی ہے، یا کوئی نظامِ باطل غالب رہتا ہے، تو یہ اُس دعوت اور اُس نظام کی کامیابی نہیں بلکہ اُن انسانوں کی ناکامی ہے جن کے اندر ایک باطل دعوت یا نظام نے عروج پایا۔ اِسی طرح دعوتِ حق اور اس کے لیے کام کرنے والے اگر اپنی حد تک صحیح طریقے سے اصلاح کی کوشش کرتے رہیں اور نظامِ حق قائم نہ ہوسکے تو یہ نظامِ حق اور اس کے لیے کام کرنے والوں کی ناکامی نہیں، بلکہ ان انسانوں ہی کی ناکامی ہے جن کے معاشرے میں صداقت پروان نہ چڑھ سکی اور بدی ہی پھلتی پھولتی رہی۔
دنیا میں حق اور باطل کی کش مکش بجاے خود ایک امتحان ہے، اور اس امتحان کا آخری نتیجہ اِس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں نکلنا ہے۔ اگر دنیا کے انسانوں کی عظیم اکثریت نے کسی قوم، یا ساری دنیا ہی نے حق کو نہ مانا اور باطل کو قبول کرلیا تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حق ناکام اور باطل کامیاب ہوگیا، بلکہ اس کے معنی دراصل یہ ہیں کہ انسانوں کی عظیم اکثریت اپنے رب کے امتحان میں ناکام ہوگئی جس کا بدترین نتیجہ وہ آخرت میں دیکھے گی۔ بخلاف اس کے وہ اقلیت جو باطل کے مقابلے میں حق پر جمی رہی اور جس نے حق کو سربلند کرنے کے لیے جان و مال کی بازی لگا دی، اِس امتحان میں کامیاب ہوگئی اور آخرت میں وہ بھی اپنی اِس کامیابی کا بہترین نتیجہ دیکھ لے گی۔ یہی بات ہے جو نوعِ انسانی کو زمین پر اُتارتے وقت اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بتادی تھی کہ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَ ھُم یَحْزَنُوْنَ o وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ o (البقرہ ۲:۳۸-۳۹) ’’پھرجو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری اُس ہدایت کی پیروی کریں گے، اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا، اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔
اس حقیقت کو آپ جان لیں تو یہ بات بھی آپ کی سمجھ میں بخوبی آسکتی ہے کہ اہلِ حق کی اصل ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ باطل کو مٹا دیں اور حق کو اس کی جگہ قائم کر دیں، بلکہ ان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی حد تک باطل کو مٹانے اور حق کو غالب و سربلند کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ صحیح اور مناسب و کارگر طریقوں سے کوشش کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ یہی کوشش خدا کی نگاہ میں ان کی کامیابی و ناکامی کا اصل معیار ہے۔ اس میں اگر ان کی طرف سے دانستہ کوئی کوتاہی نہ ہو تو خدا کے ہاں وہ کامیاب ہیں، خواہ دنیا میں باطل کا غلبہ ان کے ہٹائے نہ ہٹے اور شیطان کی پارٹی کا زور اُن کے توڑے نہ ٹوٹ سکے۔
بسااوقات آدمی کے ذہن میں یہ اُلجھن بھی پیدا ہوتی ہے کہ جب یہ دین خدا کی طرف سے ہے، اور اس کے لیے کوشش کرنے والے خدا کا کام کرتے ہیں، اور اس دین کے خلاف کام کرنے والے دراصل خدا سے بغاوت کرتے ہیں، تو باغیوں کو غلبہ کیوں حاصل ہوجاتا ہے اور وفاداروں پر ظلم کیوں ہوتا ہے؟ لیکن اُوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر غور کرنے سے آپ اس سوال کا جواب بھی خود پاسکتے ہیں۔ درحقیقت یہ اُس آزادی کا لازمی نتیجہ ہے جو امتحان کی غرض سے انسانوں کو دی گئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ زمین میں صرف اس کی اطاعت فرماں برداری ہی ہو اور سرے سے کوئی اس کی رضا کے خلاف کام نہ کرسکے، تو وہ تمام انسانوں کو اُسی طرح مطیعِ فرمان پیدا کردیتا جس طرح جانور اور درخت اور دریا اور پہاڑ مطیعِ فرمان ہیں۔ مگر اس صورت میں نہ امتحان کا کوئی موقع تھا اور نہ اس میں کامیابی پر کسی کو جنت دینے اور ناکامی پر کسی کو دوزخ میں ڈالنے کا کوئی سوال پیدا ہوسکتا تھا۔
اس طریقے کو چھوڑ کے جب اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ نوعِ انسانی اور اس کے ایک ایک فرد کا امتحان لے، تو اس کے لیے ضروری تھا کہ ان کو انتخاب اور ارادے کی (بقدرِ ضرورتِ امتحان) آزادی عطا فرمائے، اور جب اُس نے ان کو یہ آزادی عطا فرما دی تو اب یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اُوپر سے مداخلت کرکے زبردستی باغیوں کو ناکام اور وفاداروں کو غالب کردے۔ اس آزادی کے ماحول میں حق اور باطل کے درمیان جو کش مکش برپا ہے اس میں حق کے پیرو، اور باطل کے علَم بردار اور عام انسان (جن میں عام مسلمان بھی شامل ہیں)، سب امتحان گاہ میں اپنا اپنا امتحان دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وفاداروں کی ہمت افزائی اور باغیوں کی حوصلہ شکنی ضرور کی جاتی ہے، لیکن ایسی مداخلت نہیں کی جاتی جو امتحان کے مقصد ہی کو فوت کردے۔ حق پرستوں کا امتحان اس میں ہے کہ وہ حق کو غالب کرنے کے لیے کہاںتک جان لڑاتے ہیں۔ عام انسانوں کا امتحان اس میں ہے کہ وہ حق کے علَم برداروں کا ساتھ دیتے ہیں یا باطل کے علَم برداروں کا۔ اور باطل پرستوں کا امتحان اس میں ہے کہ وہ حق سے منہ موڑ کر باطل کی حمایت میں کتنی ہٹ دھرمی دکھاتے ہیں اور حق کی مخالفت میں آخرکار خباثت کی کس حد تک پہنچتے ہیں۔ یہ ایک کھلا مقابلہ ہے جس میں اگر حق اور راستی کے لیے سعی کرنے والے پِٹ رہے ہوں تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حق ناکام ہورہا ہے اور اللہ تعالیٰ خاموشی کے ساتھ اپنے دین کی مغلوبی کو دیکھ رہا ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ حق کے لیے کام کرنے والے اللہ کے امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر پا رہے ہیں۔ اُن پر ظلم کرنے والے اپنی عاقبت زیادہ سے زیادہ خراب کرتے چلے جارہے ہیں، اور وہ سب لوگ اپنے آپ کو بڑے خطرے میں ڈال رہے ہیں جو اس مقابلے کے دوران میں محض تماشائی بن کر رہے ہوں، یا جنھوں نے حق کا ساتھ دینے سے پہلوتہی کی ہو، یا جنھوں نے باطل کو غالب دیکھ کر اس کا ساتھ دیا ہو۔
یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ جو لوگ مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں وہ اس امتحان سے مستثنیٰ ہیں، یا محض مسلمان کہلایا جانا ہی اس امتحان میں ان کی کامیابی کا ضامن ہے، یا مسلمان قوموں اور آبادیوں میں دین سے انحراف کا فروغ پانا اور کسی فاسقانہ نظام کا غالب رہنا کوئی عجیب معمّہ ہے جو حل نہ ہوسکے اور ذہنی اُلجھن کا موجب ہو۔ خدا کی اس کھلی امتحان گاہ میں کافر، مومن، منافق، عاصی اور مطیع، سب ہی ہمیشہ اپنا امتحان دیتے رہے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔ اس میں فیصلہ کُن چیز کوئی زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عملی کردار ہے۔ اور اس کا نتیجہ بھی مردم شماری کے رجسٹر دیکھ کر نہیں بلکہ ہرشخص کا، ہر گروہ کا اور ہر قوم کا کارنامۂ حیات دیکھ کر ہی ہوگا۔ (رسائل و مسائل، پنجم، ص ۳۲۷-۳۳۱)
قرآنِ پاک کی سورۃ العلق میں فرمانِ الٰہی ہے:عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ،یعنی ہم نے انسان کو سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نوعِ انسان کی ہدایت کے لیے اپنے رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآنِ پاک کا نزول فرمایا۔ یہ کلامِ الٰہی ہے جس سے بہتر کوئی کلام نہیں۔ جس کے فضائل کے بارے میں لکھنا گویا آفتاب کو چراغ دکھانا ہے۔ اس کے کس کس فضل و شرف کا ذکر کیا جائے؟ کہاں سے ابتدا کی جائے؟ اللہ تعالیٰ نے خود سورۂ لقمان میں فرمایا ہے کہ: ’’اگر دنیا کے تمام درختوں کو کاٹ کر ان کی قلمیں بنالی جائیں اور تمام سمندر سیاہی میں تبدیل ہوجائیں اور پھر ان سے اللہ تعالیٰ کی توصیف و تمجید لکھی جائے تب بھی اس کی اور اس کے کلام کی تعریف و تمجید کا حق ادا نہ ہوگا۔ چودہ پندرہ سو سال گزرنے کے بعد بھی قرآن پاک کی عظمت و شان و شوکت پر لکھنے والے تھکے نہیں کیونکہ یہ اپنی تمام تر شان و شوکت، رفعت و عظمت کے ساتھ ہر نکتہ سنج قاری کے لیے ہرپہلو، ہر زاویہ، ہر گھڑی پیش کرتا ہے اور جس قدر توجہ، دل چسپی، اشتیاق و رغبت کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا جائے اسی قدر نیابت و رحمت کے دروازے کھلتے ہیں۔ ہرزمانے، ہر دور میں جستجو و تلاش کے نئے نکات اور فلسفے اُبھرتے رہتے ہیں۔ پھر بھی تشنگی برقرار رہتی ہے جو علمِ قرآن کی لامحدودیت کا بیّن ثبوت ہے۔ قرآنِ پاک کی اساسی سچائیاں ہرزمانے اور اس کے متبدل محرکات سے نمٹنے کی صلاحیتیں عطا کرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی اس آخری کتاب قرآنِ پاک کی تاکید و تلقین اور تقاضا یہ ہے کہ ہم ہرقسم کے تفرقات سے بالاتر ہوکر صحیح معنوں میں مسلمان بنیں اور اپنی زندگی کے ہرشعبے میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حضور سرِتسلیم و رضا خم کریں۔ ہماری عبادات، قربانی، زندگی و موت سب اس کے لیے، اسی کے احکام کی متابعت میں ہو۔ ہم اوّل تا آخر مسلمان ہوں۔ سچے مسلمان بن کر زندگی گزاریںاور اسی حیثیت سے مریں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خاص خیال رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ہمیں جو تعلیمات سکھائی ہیں، ان کا مقصد بھی یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے:
اے ایمان لانے والو، تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ (البقرہ ۲:۲۰۸)
اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اُٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں۔ (الاعراف۷:۱۲۶)
اے پروردگار! مجھے توفیق عطا فرما کہ تو نے جو احسانات مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ان کا شکر ادا کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو خوش ہوجائے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔ (النمل۲۷:۱۹)
اے میرے رب! ہم کو اپنا فرماں بردار بنائے رکھ، اور ہماری اولاد کو بھی اپنا فرماں بردار بنائے رکھ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہمارے حال پر توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے مہربان ہے۔ (البقرہ۲:۱۲۸)
ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ (ابراھیم۱۴:۳۱)
قرآنِ پاک ہمیں ایسے اعلیٰ اخلاق و اوصاف کی تعلیم دیتا ہے جسے اپنا کر ہم دنیا و آخرت میں سرخ رو ہوسکتے ہیں۔ اور اوراقِ تاریخ شاہد ہیں کہ جب تک ہم قرآن کو مضبوطی سے تھامے رہے، اس کی تعلیمات پر سختی سے کاربند رہے، دنیا میں سربلند رہے، کامیاب و فاتحِ ارض رہے۔ پھر جب ہم نے قرآن سے ناتا توڑ لیا تو ہم دنیابھر میں حقیر وذلیل سمجھے جانے لگے۔ یہ صورت حال آج تک چلی آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔ اللہ تعالیٰ کی اس سنت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
قرآنِ پاک ہمیں اجتماعی عبادات نماز، روزہ، حج کے علاوہ ادایگیِ زکوٰۃ کا بھی حکم دیتا ہے۔ ضرورت سے زائد آمدن کو راہِ خدا میں خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، اور فرماتا ہے: ’’جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں راہِ خدا میں خرچ نہ کرو گے، کبھی فلاح نہ پاسکو گے‘‘ (اٰل عمرٰن ۳:۹۲)۔ اگر اس حکمِ قرآنی پر عمل ہو رہا ہوتا تو ملک کی دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر نہ رہ گئی ہوتی۔ آدھی سے زیادہ آبادی خط ِافلاس سے نیچے زندگی نہ گزار رہی ہوتی۔ غربت اور افلاس کے مارے لوگ خودکشیاں نہ کر رہے ہوتے۔ زکوٰۃ، صدقہ و خیرات کی باقاعدگی صالح معاشرے کو جنم دیتی ہیں، جب کہ بے انتہا دولت اور بے انتہا غربت جرائم اور گناہ کی افزایش کرتے ہیں۔ سورۃ التکاثر میں ہمیں تنبیہہ کی گئی ہے کہ اے لوگو! تم کو دولت کی طلب نے غافل کردیا، حتیٰ کہ تم نے قبریں جادیکھیں۔ یعنی تم دولت کمانے، جمع کرنے کے لالچ میں اللہ تعالیٰ کے اور قبر کے خوف کو بھلا بیٹھے ___ یہ وہ سورئہ مبارکہ ہے جسے پڑھ کر معروف یہودی عالم لیوپولڈ وائس مسلمان ہوگئے اور محمداسد کہلانے لگے۔ اسلام کے بلند اصولوں کا یہ اثر تھا کہ ایک مرتبہ محمداسد نے اپنی تقریر میں کہا: ’’جب کوئی شخص مجھ سے پوچھتا ہے کہ میں مسلمان کیوں ہوا تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی چور، ڈاکو یا قاتل سے پوچھا جائے کہ تو نے اپنے گناہوں سے کیوں کنارہ کرلیا۔ اسلام تمام بُرائیوں اور گناہوں سے روکتا ہے اور نیکی و تقویٰ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
قرآنِ پاک کے نزدیک نیکی اور تقویٰ کا معیار یہ ہے: ’’نیکی یہ نہیں کہ تم مشرق اور مغرب کی طرف (قبلہ سمجھ کر) منہ کرلو۔ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابِ الٰہی پر ایمان لائیں اور مالِ عزیز رکھنے کے باوجود رشتہ داروں، یتامیٰ، محتاجوں، مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں کے چھڑانے میں خرچ کریں۔ نماز پڑھیں، زکوٰۃ دیں، اور جب عہد کرلیں تو اسے پورا کریں۔ سختی اور تکلیف میں اور جنگ کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو ایمان میں سچے ہیں اور یہی ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں‘‘۔ (البقرہ۲:۱۷۷)
یہ ہیں صالح مسلمانوں کی نشانیاں، یہ قربت ِ الٰہی کے لیے ایک منشورِعام ہے۔ سورۂ علق کی آیات ۱۱ تا ۱۳ میں ارشادِ خداوندی ہے کہ کیسے انسان کی تخلیق ایک غلیظ قطرئہ آب اور خون کی پھٹکی سے ہوئی۔ پھر اللہ نے اسے علم سکھایا اور یہ کہ ہمیں احکاماتِ الٰہی کے خلاف نہیں چلنا چاہیے۔ موت یقینی ہے، ایک دن اپنے خالق کے پاس واپس جانا ہے اور اسے دنیا میں کیے ہرکام کا حساب دینا ہے۔
قرآن کے احکامات جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو دیے گئے ہیں، وہ آسان اور قابلِ عمل ہیں۔ قرآنِ پاک میں مسلمانوں سے ناممکنات کا تقاضا نہیں کیا گیا، نہ ایسے قواعد و ضوابط ہی وضع کیے گئے ہیں جن کی پیروی مشکل اور ناممکن ہو، جو زندگی کو کٹھن ، نری مصیبت اور مشکل بناکر رکھ دیں۔ اس نے انسانوں کے لیے ایک مکمل نظامِ حیات کو پیش کرتے ہوئے اعتدال کو اپنا نقطۂ خاص قرار دیا ہے۔ اس نے زندگی کے ہرشعبے کے لیے زریں راہنما اصول پیش کیے ہیں۔ وہ روحانی و دنیوی دونوں پہلوئوں پر محیط ہیں۔
قرآنِ پاک کی تلقین حلال کمائی، پاکیزہ غذا، حرام سے اجتناب، سادگی، طہارت و صفائی، لہوولعب کی زندگی سے پرہیز اور تقویٰ و پرہیزگاری ہے، اور یہ کہ راست بازی اختیار کی جائے۔ عورتوں سے بدسلوکی و بے انصافی نہ کی جائے۔ بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دے کر ان کی حق تلفی نہ کی جائے۔ غلاموں، ملازموں سے اپنے جیسا سلوک روا رکھا جائے۔ ذات، نسل، خاندان، قبیلے پر فخر نہ کیا جائے۔ نہ دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز رہنے دیا جائے کہ یہ ملکی اقتصادیات کے لیے تباہ کن ہے۔ چوری، ڈاکے، شراب نوشی، قماربازی، سودخوری، قتلِ ناحق، کمزوروں پر ظلم، فریب دہی و بددیانتی سے بچنا اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے چاہییں۔
قبل از اسلام عرب بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں عورتوں کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو اسلام نے دیا۔ قرآن کے ذریعے انھیں حقوقِ وراثت اور سماجی مرتبہ عطا کیا گیا۔ انھیں اور مردوں کو مساوی درجے سے نوازتے ہوئے ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔ نیکی کے کاموں میں دونوں کو یکساں اجر کی بشارت دی۔ بُرے کاموں پر دونوں کو وعید سنائی۔ عورتوں کو طلاق اور خلع کا حق دیا ۔ بیوائوں کو عقدِثانی کی اجازت دی۔ یہ حقوق انھیں گذشتہ تمام مذاہب میں حاصل نہیں تھے۔ قرآنِ پاک نے عورت کا مرتبہ یہ ہرگز نہیں رکھا کہ وہ محض مردوں کی جنسی تسکین کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ اسلام نے اس کا مہر کا حق تسلیم کرکے بھی اس کی معاشی و سماجی حیثیت کو بہتر اور آزاد بنانے کے لیے اقدامات کیے۔
غرض یہ کہ قرآنِ پاک نے اس دنیا میں جو فکری و عملی انقلاب پیدا کیا ہے، وہ بے نظیر و بے مثل ہے۔ باقی جو انقلاب فرانس، روس، چین یا دوسرے ملکوں کے ہیں، وہ سب اُدھورے اور خون ریز ہیں جو کبھی اپنے مقاصد کی تکمیل نہیں کرپائے، نہ اپنے لیڈروں کے بلندبانگ دعوئوں میں پورے اُترے ہیں۔ کیونکہ یہ بے روح اور خدائی رہنمائی و ہدایت سے خالی تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو سرزمینِ پاکستان میں غلبہ اور اقتدار دیا ہے۔ ہم آزاد ہیں کہ اپنے ملک میں قرآنی احکامات اور قوانین نافذ کریں ؎
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار
ہم خواہ کسی مسلک سے تعلق رکھتے ہوں ہماری رہنما اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور آنحضرتؐ کی پیش کردہ کتاب قرآنِ پاک ہی ہونا چاہیے۔ ہمارا خدا ایک، رسولؐ ایک ،کتاب ایک ہے۔ ہم ایک ہی کعبے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں، لہٰذا ہمیں باہم ایک ہوجانا چاہیے، ملت ِ واحدہ بن جانا چاہیے۔ قرآنی تعلیمات اور اصولوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ اسی طرح ہی ہم اپنے دشمنوں کے لیے بنیانِ مرصوص اور دنیا میں سربلند قوم بن سکیں گے۔
پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمھیں مل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ ان پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے، حتیٰ کہ وقت کا رسولؐ اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی___ (اس وقت انھیں تسلی دی گئی کہ) ہاں، اللہ کی مدد قریب ہے۔ (البقرہ۲:۲۱۴)
یہی مضمون قرآن میں ان الفاظ میں دوسری جگہ بیان ہوا ہے: ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمایش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون‘‘ (العنکبوت۲۹:۱-۲)۔ صحابہ کرامؓ کی وہ آزمایش جس کا نقشہ قرآن نے سورۂ احزاب میں کھینچا ہے، اسے بھی پیش نظر رکھیے: ’’جب دشمن اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آگئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے، اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلامارے گئے‘‘۔یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے‘‘۔ (الاحزاب۳۳:۱۰-۱۲)
یہ اللہ کی سنت ہے جس کی کسوٹی پر ہر وہ جماعت پرکھی جاتی ہے جو حق کی حامل بن کر کھڑی ہوتی ہے۔ ان راہوں میں جنھوں نے قدم رکھا، ان کو جو مصائب پیش آئے وہ جھنجھوڑ دیے گئے، ہِلامارے گئے۔ آپ غور تو کریں، ان الفاظ پر مَتٰی نَصْرُ اﷲِ (کب آئے گی اللہ کی مدد)۔ یہ الفاظ ان زبانوں سے ادا ہو رہے ہیں جن زبانوں پر سوائے ذکر اور شکر کے کچھ نہ ہوتا تھا۔ وہ قلوب مضمحل ہیں جو اللہ پر پختہ یقین رکھتے تھے، جن کی للہیت اور اخلاص کے بارے میں کسی کو شک اور شبہہ نہ ہوسکتا تھا۔ کس قدر ناقابلِ بیان ہوگی وہ آزمایش جو الْبَاْسَآئُ یعنی فقر و فاقہ کی بھی ہے اور الضَّرَّآئُ یعنی درد و اذیت کی بھی۔ شدید حالت ِ اضطرار میں یہ لفظ جو زبان سے ادا ہوتے ہیں مَتٰی نَصْرُ اﷲ، ان میں کوئی شکایت ہے نہ مایوسی، بلکہ ایک عرض ہے، التجا ہے، دعا ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو تو بندوں کا رجوع مطلوب ہے کہ وہ رب کو پکاریں، ان کی نصرت طلب کریں ، کیونکہ نصرت کا آنا تو یقینی ہے، البتہ اس کا مقام اور وقت متعین نہیں ہے۔ اس لیے اس نصرت کی طلب ہمیشہ التجا بن کر زبان پر رہنا چاہیے۔
حقائق کی دنیا میں انسانی توقعات اور منصوبے شکست و ریخت کا شکار بھی ہوتے ہیں اور اس ناکامی میں کہیں کہیں ہماری عملی کوتاہیوں کا بھی دخل ہوتا ہے۔ ’’جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں‘‘ (الروم۳۰:۳۶)۔ ’’انسان جلد باز مخلوق ہے، ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، مجھ سے جلدی نہ مچائو‘‘ (الانبیاء۲۱:۳۷)۔ جس طرح دنیاوی امور میں ہم ہر چیز کے فوری نتائج کے خواہش مند ہوتے ہیں، اسی طرح ہم دعوت اور اصلاح اور سماج کی تبدیلی کے نتائج بھی فوری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ’’ہر گز نہیں، دراصل تم لوگ جلد حاصل ہونے والی چیز سے محبت رکھتے ہو، اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو‘‘ (القیامہ۷۵:۲۰-۲۱)۔ کبھی اس طرح کے غیر متوقع انتخابی نتائج پر ہم میں سے کچھ لوگ سوچنے لگتے ہیں کہ انتخابی جھنجھٹ کا کوئی حاصل نہیں۔ بہتر ہے کہ ہم دعوت و تبلیغ کا کام کریں، انتخابی شکست سماج میں ہمارا گراف نیچے گرا دیتی ہے۔
ہماری جو بھی حکمتِ عملی ہوتی ہے بہت سوچی سمجھی اور شورائی فیصلوں پر مبنی ہوتی ہے۔ خود مولانا مودودیؒ کی وہ تعلیمات ہمیں ازبر ہیں کہ چاہے جو بھی انتخابی نتائج ہوں، ہمیں یہ میدان خالی نہیں چھوڑنا ہے، اور تبدیلی جب بھی آئے گی، یہی واحد راستہ ہمارے پاس ہے۔ دعوت اور تبلیغ کی ٹھنڈی سڑک سے کب ہم تبدیلیٔ امامت کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں؟ ’’اور دونوں نمایاں راستے اسے دکھا دیے، مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی‘‘۔ (البلد۹۰:۱۰-۱۱)
ہم تو تبدیلی کا داعیہ لے کر اٹھے ہیں، اپنے نصب العین سے جذباتی وابستگی اور والہانہ لگائو کے بغیر ہماری اذانوں میں روحِ بلالی بھلا کیسے آسکتی ہے؟ کیا کوئی شکست ہمارے جذبات کو ٹھنڈا کر دے گی یا غلطیوں کے ازالے پر اصرار ہمیں سامانِ عبرت بنا دے گا؟؟
انتخابات ایک مرحلہ ہوتے ہیں۔ ہم کسی سیاسی جماعت کے انتخابی کارکن نہیں ہیں۔ ہماری داعیانہ حیثیت ہے۔ نصرتِ الٰہی کے قانون اور فطرتِ انسانی کے متعلق حقائق کو ہمیں سمجھنا چاہیے۔ جان رکھیے، دلوں کو بدلنے کی ذمہ داری اللہ نے ہرگز ہماری نہیں رکھی۔ ہماری صرف صاف صاف پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ ہم کوتوال نہیں ہیں، قرآن نے ۳۱ مقامات پر یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ بس تم یاددہانی کراتے جائو: ’’پس تم نصیحت کیے جائو، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبرکرنے والے نہیں ہو‘‘۔ (الغاشیہ۸۸:۲۱-۲۲)
کیا ہم نے گلی گلی محلہ محلہ جاکر اپنی حجت تمام نہیں کی ہے؟ یوم سبت کے موقع پر جب نہی عن المنکر کرنے والوں کو ان کی قوم کے شرفا نے سمجھایا کہ: ’’تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والاہے، تو انھوں نے جواب دیا ہم یہ سب کچھ تمھارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں‘‘ (اعراف۷: ۱۶۴)۔ مسلم کی حدیث ہے: ’’بے شک بنی آدم کے دل اللہ رحمن کی انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ انھیں جیسے چاہتا ہے پھیرتا رہتا ہے۔ اس لیے ہم مشیت الٰہی میں دخل نہیں دے سکتے۔ مولانا مودودی سورئہ اعراف کی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’اس کی مشیت ایسی ذی اختیار مخلوق کو وجود میں لانے کی متقاضی تھی جو اپنی پسند اور اپنے انتخاب سے صحیح اور غلط ہر طرح کے راستوں پر جانے کی آزادی رکھتی ہو‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج۲، ص ۵۲۸)
جان رکھیے کہ اگر ایک گروہ کے صاحبِ کردار بن جانے سے غلبۂ دین ممکن ہوتا تو مکہ میں آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں سے بڑھ کر کون صاحبِ کردار ہوگا؟ لیکن آپ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی، حالانکہ آپ حق پر تھے اور تائید الٰہی بھی آپؓ کے ساتھ تھی۔ دراصل اللہ کو غلبۂ دین کے ساتھ یہ دیکھنا ہے کہ حق کا ساتھ دینے والے مخلص کتنے ہیں اور وہ کتنے جرأت مند ہیں۔ ’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا‘‘۔ (محمد۴۷:۷)
یہ ہماری فطری خواہش ہے کہ جس انقلاب کے پودے کو ہم پانی دے رہے ہیں اس کے پھل ہمیں نصیب ہوں، لیکن جان رکھیے کہ انسانی فطرت بہت مختلف ہوتی ہے۔ حق کو قبول کرنے کے مقابلے میں، کبھی تعصبات رکاوٹ بنتے ہیں تو کبھی مفادات۔ ہماری مخلصانہ خواہش ہوتی ہے کہ حق کو لوگ فوراً پہچان لیں، اس لیے کہ اس میں ان کی ہی بھلائی ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت علیؓ کو قبولِ حق میں ذرا بھی دیر نہ لگی، جب کہ حضرت عمرفاروقؓ جیسی جلیل القدر ہستی کو اس کش مکش میں چھے سال گزر گئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کے حجابات مٹنے میں ۲۰ برس لگ گئے، جب کہ حضرت ابوسفیانؓ نے فیصلہ کرنے میں ۲۱ برس لیے اور آپؐ کے چچا ابوطالب زندگی کی آخری ساعتوں تک گومگو کی کیفیت میں رہے۔ اس لیے ہمارے داعیانہ کردار کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی سعی احسن طریق سے جاری رکھیں کہ مستقبل کی نقشہ گری اس کے ہاتھ میں ہے جس کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو غالب کر کے رہے گا۔
اقتدار اور بالادستی کی نئی جنگ نے جو گل کھلائے ہیں اور مظلوم انسانیت نے اس کی جو قیمت ادا کی ہے وہ ہوش ربا ہے۔ دنیا کے ہر حصے میں توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے… سیاسی قوتوں کے نشیب و فراز، قیادتوں کی تبدیلی، انقلابات کی آمدورفت، اگر ایک طرف تبدیلی کی علامتیں ہیں تو دوسری طرف ان میں مستقبل کی تعمیر کے فکرمندوں کے لیے بڑی روشن نشانیاں اور بیش بہا قابل توجہ امکانات اور مواقع ہیں۔ قرآن کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ظاہری تماشے کے پیچھے ایک عظیم مقصدِ عمل بھی جاری و ساری ہے، جس سے اگر فائدہ اٹھایا جائے تو تاریخ کا رخ ہم بدل سکتے ہیں۔ ’’اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعہ نہ ہٹاتا رہتا تو زمین کا نظام بگڑ جاتا، لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے‘‘ (البقرہ ۲:۲۵۱)۔ ’’یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں، جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ (تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا) کہ اللہ دیکھنا چاہتا ہے تاکہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا ہے جو واقعی راستی کے گواہ ہوں، کیونکہ اللہ ظالم لوگوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ (اٰل عمرٰن۳:۱۴۰)
مختلف حالات و واقعات کا ہم سب اپنے اپنے شعور و فکر کی روشنی میں تجزیہ کرتے ہیں اور بلاشبہہ غور و فکر کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں صدرالدین اصلاحی صاحب کی یہ بات قابل غور ہے کہ ’’بلاشبہہ غور و فکر کی قوت انسان کا امتیازی جوہر ہے، اس لیے اس امر میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں کہ اس قوت کا استعمال ہر شخص کا پیدایشی حق ہے.... یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جو دینِ فطرت ہے، اپنی سوجھ بوجھ سے کام لینے کو انسان کے بنیادی حقوق ہی میں نہیں بلکہ اس کے بنیادی فرائض میں بھی شمار کیا ہے۔ وہ اس شخص کو جو عقل و فہم سے کام نہ لے۔ کالْاَنْعَام (جانوروں کے مشابہ) کہتا ہے....کسی بھی جماعت کے لیے یہ قطعی ضروری ہے کہ اس کے افراد کے اندر راے میں کسرو وانکسار کی پوری صلاحیت موجود ہو۔ کوئی شخص اگر ضروری غور و فکر کے بعد ایک راے پر پہنچ جائے تو اسے اس بات کا تو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اسے مناسب موقع پر دلائل کے ساتھ پورے زور سے پیش کرے، مگر اسے یہ حق ہرگز نہیں ہوسکتا کہ تمام لوگوں سے اسی کو بہرحال صحیح اور برحق تسلیم کرلینے پر اصرار کرے۔ اس کے بخلاف اسے اس امکان کو لازماً سامنے رکھنا چاہیے کہ اس کی راے غلط بھی ہوسکتی ہے اور دوسروں کی صحیح… اس تحریک اور جماعت کا مستقبل کبھی روشن نہیں ہوسکتا جس کے افراد اجتماعی فیصلوں کے مقابلے میں اپنے ذوق و رجحان ہی کو نہیں بلکہ اپنی سوچی سمجھی راے کو بھی قربان کر دینے کے لیے تیار نہ ہوں۔ آخر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کس بشر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی راے اور صواب دید کو فیصلہ کن سمجھے، مگر ہمیں معلوم ہے کہ آپؐ نے بھی کئی بار دوسروں کی راے کے مقابلے میں اپنی راے ترک کر دی تھی۔ (اسلامی تحریکوں کی ناکامی کے اصل اسباب، صدرالدین اصلاحی، ص ۳۹-۴۳)
اس کیفیت میں ضرورت اپنے اخلاص اور للہیت کی آبیاری کی بھی ہے۔ ’’اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ تحریک کے مقصد پر دل یکسر مطمئن، اور اس کی خاطر جدوجہد کے لیے ذہن بالکل یکسو ہو… اپنی تمام دوڑ دھوپ اسی کے لیے خالص کر دی جائے۔ فکر پر وہی چھایا ہو اور عمل و حرکت کی باگیں تمام تر اسی کے ہاتھوں میں ہوں.... للہیت کا مطلب یہ ہے کہ مقصد تحریک کے ساتھ یہ تعلق اور اس تعلق میں یہ اخلاص، صرف اللہ کے لیے اور صرف اسی کی رضا کے لیے ہو۔ اس کی رضا کے سوا کسی اور کی رضا کا دل میں گزر نہ ہو۔یہی للہیت وہ خاص جوہر ہے کہ کسی تحریک کو ’اسلامی‘ بناتا ہے اور اسے دوسری تحریکات سے ممتاز کرتا ہے، ورنہ جہاں تک مطلق اخلاص کا تعلق ہے، وہ تو غیر اسلامی تحریکوں کے لیے بھی اسی طرح ضروری ہے‘‘۔ (ایضاً، ص ۲۰-۲۱)
آیئے! استقامت اور قبولیتِ عمل کی دعائوں کے ساتھ ڈاکٹر نذیر احمد شہید کے وہ الفاظ پھر دُہرا لیتے ہیں جو ہمارے حوصلوں کو مہمیز دیتے ہیں:
صاحب عزیمت اٹھتا ہے اور کہتا ہے، اگر وقت ساتھ نہیں دیتا تو میں اسے ساتھ لوں گا، سروسامان نہیں تو اپنے ہاتھ سے تیار کروں گا، اگر زمین موافق نہیں تو آسمان کو اترنا چاہیے، اگر ساتھ دینے والے آدمی نہیں ملتے تو فرشتوں کو بلاتا ہوں، اگر انسانوں کی زبانیں گنگ ہیں تو پتھروں کو بولنا چاہیے۔ اگر ساتھ چلنے والے نہیں تو کیا ہوا، درختوں کو ساتھ دوڑنا چاہیے۔ اگر دشمن بے شمار ہیں تو آسمان کی بجلیوں کا بھی کوئی شمار نہیں، اگر رکاوٹیں اور مشکلات بہت ہیں تو پہاڑوں اور طوفانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اٹھیں اور راستہ صاف کریں کہ ایک صاحب ِ عزیمت جادہ پیما ہے۔ … وہ زمانے پر اس لیے نظر نہیں ڈالتا کہ یہاں کیا کیا ہے جس سے دامن بھر لوں۔ وہ یہ دیکھنے کے لیے آتا ہے کہ کیا کیا نہیں ہے کہ پورا کر دوں۔ (تاریخ دعوت و عزیمت)
انتخابی مہم کے دوران ہمارے لیے دروازے بھی کھلے ہیں اور دل بھی۔ الحمدللہ ہماری دعوت میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ امکانات کی روشنی میں اپنے حوصلوں کو مجتمع کرتے ہوئے اس دعوت کو نتیجہ خیز بنانے کی بھرپور منصوبہ بندی کیجیے۔ آپ کا ہر قدم فوزعظیم کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان شاء اللہ رب کی نصرتیں آپ کی منتظر ہیں۔ اللہ آپ کو استقامت اور اس راہ میں اٹھنے والے ہرقدم کا اجرِعظیم عطا فرمائے، آمین!
مضمون نگار ناظمہ حلقہ خواتین صوبہ سندھ ہیں
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے اسلام کے حسن میں یہ بات شامل ہے کہ وہ بے فائدہ کام چھوڑ دے۔ (ابن ماجہ، ترمذی)
لایعنی اور بے مقصد، بے فائدہ کام اور سرگرمیاں ہماری قومی زندگی اور مشغولیت کا کتنا بڑاحصہ بن چکی ہیں، نئی نسل کی ترجیحات کیا ہیں؟ ہرشخص جائزہ لے کر دیکھ سکتا ہے۔ وقت ضائع کرنے میں تکلف کرنے والے بہت کم لوگ ملتے ہیں۔ اس حدیث میں اللہ کے رسولؐ نے بڑے پیارے انداز سے بتایا ہے کہ جتنا انسان لایعنی مشاغل سے پرہیز کرے، اس کا اسلام اتنا ہی خوب صورت یعنی بہتر ہوتا ہے، زیادہ اجر دلاتا ہے اور یہاں کی زندگی بھی عزت اور سکون سے گزرتی ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں بطور خاص کوشش کرنا چاہیے کہ زندگی کو ___ اپنے وقت کو___ مثبت مقاصد کے لیے منظم کر کے گزاریں اور اپنے اسلام کے حسن کو خوب سے خوب تر کریں۔ رمضان المبارک کا مہینہ اسی حسن کو بڑھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ اس مہینے میں ذکرواذکار، تلاوتِ قرآن پاک، خدمت ِ خلق، دین کی اشاعت، دروس قرآن و حدیث اور اشاعت لٹریچر کے ذریعے اپنے حسن کو بڑھانے کی کوشش کی جائے۔ ٹی وی ڈراموں، فحش فلموں اور لغو قسم کے ناولوں سے اپنے ایمان و عمل کو برباد نہ کیا جائے۔
اچھا کیا ہے اور بُرا کیا ہے؟ جانتے سب ہیں۔ مسئلہ تو بُرے کو چھوڑنا اور اچھے کو اختیار کرنا ہے۔ اس رمضان میں اس ارادے کو مضبوط اور توانا کیجیے کہ نیکی اختیار کریں گے، بُرائی سے بچیں گے، وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا پر عمل کریں گے۔
حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے آٹھ دروازے ہیں: ان میں سے ایک دروازہ ’ریان‘ ہے۔ سیر کرنے والا دروازہ، اس سے نہیں داخل ہوں گے مگر روزے دار۔ (متفق علیہ)
روزہ دراصل اپنی خواہشات اور دوسرے لوگوں کی خواہشات اور شیطان کے احکام کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی تربیت حاصل کرنا ہے۔ اس بات کو یاد کرنا اور یاد رکھنا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہوں۔ حلال کھانا، حلال پینا اور حلال طریقے سے شہوت پورا کرنا، سب اس وقت ممنوع ہوجاتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت آجائے۔ ساری حلال چیزیں صبحِ صادق سے لے کر غروبِ شمس تک حرام ہوجاتی ہیں۔ اس لیے کہ احکم الحاکمین نے حرام کردی ہیں، اور یہی حلال چیزیں رات کے وقت حلال ہوجاتی ہیں، اس لیے کہ رب تعالیٰ نے انھیں رات کو حلال قرار دے دیا ہے۔ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں مسلمان اس بات کو تازہ کرتے ہیں۔ رمضان المبارک جب ختم ہوجاتا ہے، عیدالفطر آتی ہے تو اس دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ اس دن روزہ رکھنے والا شیطان کا پیروکار ہوتا ہے اور کوئی مسلمان اس بات کی جرأت نہیں کرسکتا کہ اس دن روزہ رکھے۔ روزے میں زیادہ تکلیف پیاس کی ہوتی ہے۔ اس لیے روزے دار کے لیے اللہ تعالیٰ نے خصوصی دروازہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ ریان کا دروازہ ہے، یعنی وہ دروازہ جس سے گزرنے والے کو ٹھنڈے اور میٹھے جاموں سے سیراب کیا جائے گا۔
روزے کی یہ حقیقت تقاضا کرتی ہے کہ مسلمان معاشرے میں قرآن و سنت کی حکمرانی ہو اور وہ تمام قوانین جو خلافِ شرع ہوں بلاتاخیر ختم کردیے جائیں اور احکم الحاکمین کے نازل کردہ نظام کو نافذ کردیا جائے۔ جب تک روزے کے اس تقاضے کو پورا نہیں کیا جاتا اس وقت تک روزہ بے اثر رہے گا اور اس سے وہ اثرات مرتب نہ ہوں گے جو روزے سے مرتب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی روزہ دار بننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان شریف کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان جکڑ دیے جاتے ہیں اور سرکش جن بھی بند کردیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا۔ اور جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا۔ بلانے والا بلاتا ہے، اے خیر کے طلب گار! آگے بڑھ اور اے شر کے طلب گار! رُک جا، اور اللہ تعالیٰ ہر رات لوگوں کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرتے ہیں۔ (ترمذی،ابن ماجہ)
ماہِ رمضان چونکہ حکومت الٰہیہ کے قیام کی تربیت کا مہینہ ہے، اس لیے اس میں شیطان جو تمام لادینی نظاموں کا سربراہ ہے، کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور مسلمان اپنے نفس کو اپنی خواہشات سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں روک دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہماری تذکیر کے لیے پورا مہینہ رکھ دیا اور اس مہینے میں عبادت ہمارے لیے آسان بنا دی کہ شیطان کو بیڑیاں پہنا دیں تاکہ وہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ ڈال سکے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں مسجدیں آباد ہوتی ہیں، خواتین مسجدوں میں تراویح پڑھنے آتی ہیں تاکہ قرآن پاک مردوں سے آکر سن لیں۔ خواتین اپنے گھروں میں نماز، تلاوتِ قرآنِ پاک اور ذکر کا زیادہ اہتمام کرتی ہیں۔ یوں بندگیِ رب کا ایک موسم بہار آجاتا ہے جو پورے معاشرے کو دین کی خوشبو سے معطر کردیتا ہے۔ یہ مہینہ اس حال میں گزرنا چاہیے کہ ہم اپنے گناہوں کو معاف کروا لیں اور آیندہ کے لیے بندگیِ رب کے فریضے کے لیے تازہ دم ہوجائیں کہ یہی اس مہینے کا مقصود ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے ایمان کی بنیاد پر ثواب حاصل کرنے کے لیے رکھے تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کردیے جائیں گے، اور جس نے رمضان کی راتوں میں ایمان کے جذبے اور ثواب کی خاطر قیام کیا اس کے تمام گذشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے، اور جس نے لیلۃ القدر میں جذبۂ ایمانی اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے تمام گذشتہ زمانے کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (مشکوٰۃ، کتاب الصوم)
ایک مسلمان اگر پاک صاف ہونا چاہے تو اس کے لیے رمضان المبارک کے مہینے میں دوہرا نہیں بلکہ کئی گنا کا انتظام موجود ہے۔ اللہ رب العالمین کی ذات کتنی زیادہ مہربان ہے۔ اس نے بندوں کے تزکیے کا کس قدر وسیع انتظام فرما دیا ہے۔ دن کو روزہ رکھ کر، رات کو تراویح پڑھ کر اور لیلۃ القدر میں بیدار رہ کر انسان گناہوں کے میل کچیل کو پوری طرح صاف کرسکتا ہے بشرطیکہ ایمانی جذبہ موجود ہو اور اسے ثواب حاصل کرنے اور تزکیے کی فکرمندی نے بے قرار کیا ہوا ہو۔
بلاشبہہ رمضان المبارک تزکیے اور تطہیر کا مہینہ ہے اور اس میں تزکیے کا پورا پورا سامان کیا گیا ہے۔ انسان چاہے تو اپنے آپ کو گناہوں کے بوجھ سے آزاد کرے، روحانی قوت کو اوجِ کمال پر پہنچا کر بندگیِ رب میں مصروف ہوجائے اور قربِ الٰہی کی منازل برق رفتاری سے طے کرنا شروع کردے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہرعمل کی نیکی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک پہنچتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مگر روزہ، وہ میرے لیے ہے اور میں براہِ راست اس کی جزا دوں گا، وہ اپنے کھانے اور شہوتوں کو میرے لیے چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ روزے دار کے منہ کی مہک اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار ہے اور روزہ ایک ڈھال ہے۔ پس جب تم میں سے ایک آدمی کا روزہ ہو تو وہ فحش بات نہ کرے اور شوروغوغا نہ کرے۔ اگر اس سے کوئی آدمی گالی گلوچ سے پیش آئے یا لڑائی لڑے تو وہ جواب میں یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ (مشکوٰۃ، متفق علیہ)
شہوت سب سے بڑا بت ہے۔ روزے کے ذریعے اسے توڑا جاتا ہے۔ اس لیے روزہ دار کی جزا بے حساب ہے۔ اسے اللہ رب العالمین براہِ راست جزا عنایت فرمائیں گے کہ اس نے سب سے بڑھ کر عبادت کی ہے اور اس بت کو توڑا ہے جو براہِ راست اللہ تعالیٰ کے مدمقابل ہے۔ اس شہوت کو شیطان ذریعہ بناتا ہے، اسی کو طاغوتی قوتیں آلۂ کار بناتی ہیں۔ جب یہ ٹوٹ جائے تو پھر شیطان بھی مایوس ہوجاتا ہے اور طاغوتی قوتیں بھی ناکام ہوجاتی ہیں لیکن یہ اس وقت ہوگا جب ایک انسان حقیقی معنی میں روزہ دار ہو۔ اس نے اس عزم کے ساتھ روزہ رکھا ہو کہ مجھے اپنی خواہشات کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نظام کی حکمرانی قائم کرنی ہے اور تمام حکمرانیوں اور نظاموں کو مٹا کر اللہ کے نظام کو قائم اور نافذ کرنا ہے۔ ایسا شخص اللہ کا پیارا ہے۔اس کے منہ کی مہک بھی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہے۔ پھر اس کے لیے روزہ ڈھال بھی ہے۔ گناہوں سے بچانے والا ہے اور روزہ افطار کرتے وقت بھی اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ پانی اور کھانے سے سیراب ہوتا ہے، یہ جسمانی خوشی ہے۔ حکم الٰہی کو سرانجام دینے کی خوشی نصیب ہوتی ہے، یہ ایمانی خوشی ہے۔ پھر آخرت میں رب سے ملاقات کے وقت اس کی رضا سے سرفراز ہونے کی خوشی جو سیدھا جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔ روزہ دار اپنی تمام منازل سے شاداں و فرحاں ہوکر آخری منزل پر پہنچ کر خوشیوں اور راحتوں میں مگن ہوگا۔ آیئے! اپنے روزے کو حقیقی روزہ بناکر دنیا و آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوجائیں۔
یوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حدیث اہم، قیمتی اور انسا نوں کے لیے بالخصوص مومنوں کے لیے آب حیات کی حیثیت رکھتی ہے لیکن بعض حدیثیں ایسی بھی ہیں جو بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ با لخصوص تین حدیثیں جن کے بارے میں علماے کرام نے فر مایا ہے کہ اسلام کی تمام تر تعلیمات ان میں داخل ہیں۔ گویا دین اسلام کا مدار ان تین حدیثوں پر ہے۔ ان میں پہلی حدیث یہ ہے: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: سنو !انسانی جسم میں ایک گو شت کا لوتھڑا ہے۔ اگر وہ درست ہو تو سارا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ ہوجائے گا۔ جان لو کہ یہ قلب ہے‘‘ (بخاری، مسلم )۔ دوسری حدیث یہ ہے کہ اعما ل کی قبو لیت کا دارو مدار اخلاصِ نیت پر ہے ۔ تیسری حدیث یوں ہے کہ مومن کے اسلام کے حسن کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے کار اور فضول با توں سے اور بے کار کاموں سے اپنے آپ کو بچا ئے رکھے۔
یہ تینوں حدیثیں اپنے اندر جا معیت رکھتی ہیں۔ ان میں پہلی حدیث اس وقت موضوعِ تحریر ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح قلب کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ اس حدیث کے راوی حضرت نعمان بن بشیر ؓ ہیں۔ یہ انصاری صحابی ہیں۔ نبی اکرمؐ کے مدینہ منورہ رونق افروز ہونے کے بعد سب سے پہلے بچے ہیں جو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ یہ اور ان کے والدین دونوں ہی صحابی ہیں۔ کو فہ جو عراق میں واقع ہے، وہاں رہتے تھے اورملک شام کے ایک شہر حمص کے گورنر بنا ئے گئے، اور سب سے اہم بات یہ کہ مذکورہ حدیث انھوں نے آٹھ سال کی عمر میں رسولؐ اللہ سے سما عت فر ما ئی اور جب بالغ ہوئے تو ممبر پر بیان کی جس کو صحابہ کرام ؓ نے قبول فر ما لیا ۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ دل اگر چہ چھو ٹا سا گو شت کا لوتھڑا ہے لیکن پورے قالب، یعنی جسم کی اصلاح اس قلب کی اصلاح پر موقوف ہے۔ اس لیے کہ قلب جسم کا بادشاہ ہے، جب با دشاہ صحیح ہو گا تو سا ری رعایا بھی صحیح ہوگی۔ قلب کے ٹھیک ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ جب قلب نور ایمان سے منور ہو جائے اور اس میں نور عرفان اور نور ایقان آ جا ئے تو سمجھ لو کہ قلب کی اصلاح ہو گئی اور جسم کے تمام اعضا سے بھی اعمال ِصالحہ ، اخلاقِ حمیدہ اور احوالِ جمیلہ ظاہر ہوں گے، لیکن جب قلب کفر و شرک کی ظلمتوں، شکوک و شبہات اور نفاق کی برا ئیوں سے خراب ہوجا ئے گا تو پھر جسم کے اعضا سے بھی برے اعمال ہی صادر ہوں گے۔ چنا نچہ ہر شخص پر یہ لازم ہے کہ اپنے قلب کی نگرا نی کرے اور اس کو خواہشات نفسا نی میں مشغول و مصروف ہو نے سے روکے رکھے۔ اس حدیث کی شرح میں حضرت ملا علی قاری ؒ نے لکھا ہے کہ نہا یت اہم امور میں سے ہے کہ قلب کی اصلاح اور نگرا نی ہو، ورنہ یہ کبھی بھی بدل سکتا ہے۔ قلب کے معنی ہی بدلنے کے ہیں۔ دل کو عر بی میں قلب اس لیے کہ کہتے ہیں کہ وہ ہر وقت بدلتا رہتا ہے، چنانچہ ہر وقت نگرا نی کی ضرورت ہے کہ یہ قلب حق سے باطل کی طرف نہ پھر جائے یا اچھا ئی سے برا ئی کی طرف رُخ نہ پھیر لے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت اُم سلمہ ؓ روا یت فر ما تی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر دعا مانگا کر تے تھے:’’اے اللہ ہما رے قلوب کو اپنے دین حق پر ہمیشہ ثابت قدم رکھ‘‘(بخاری)۔ اگر قالب سے گناہ سر زد ہو جا ئے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ قلب میں فسادہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرا ہیم ؑ کے تذکرے میں ایک جگہ ارشاد فر مایا: ’’اے میرے رب، مجھے اس دن رسوا نہ کر، جب کہ سب لوگ زندہ کرکے اُٹھائے جائیں گے، جب کہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب ِ سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو‘‘ (الشعراء ۲۶:۸۷-۸۹)۔ یہ بہت اہم بات ہے کہ جس انسان کا قلب ’قلب سلیم‘ ہو گا وہ نجات پا ئے گا ۔ قلب جب صالح ہو جاتا ہے، اس کو قلب سلیم کہاجاتا ہے۔ علامہ آلوسیؒ نے روح المعانی میں قلب ِ سلیم کے پانچ پہلو بیان کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ قلب جو غلط قسم کے عقیدوں، کفر و شرک، نفاق و بد عت سے خالی ہو۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ قلب سلیم وہ ہے جو اپنی اولاد کو حق کی رُشد و ہدایت کی طرف راہ بتاتاہے ، چو تھی تفسیر یہ کہ قلب سلیم وہ قلب ہے جس میں ایسی شہوت اور خواہشاتِ نفس نہ ہوں جو جہنم کی طرف لے جانے والی ہوں۔ حضرت سفیان کی طرف سے پانچویں تفسیر یوں ہے کہ قلب سلیم وہ قلب ہے جس میں اللہ کے علاوہ کو ئی اور نہ ہو ۔ اس حدیث سے اصلاحِ قلب کی اہمیت پر روشنی پڑتی ہے۔ جس طرح بدن بیمار ہوتا ہے اور اس کے لیے علاج کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح قلب بھی بیمار ہوجاتا ہے اور اس کا علاج کروانے اور اصلاح کی ضرورت پڑتی ہے ۔
دل کی بیما ریاں کیا ہیں اور ان کاعلاج کیسے ہو ؟اس سے قبل یہ جان لیجیے کہ دل کی اہمیت اتنی ہے کہ اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں اس کا بارہا تذکرہ فر مایا ہے۔ اس کی اہمیت اور اس کو وسوسوں اور بے کار خیالات سے بچانے اور اس کی اصلاح کی طرف متو جہ فر مایا ہے۔ قلب کی مختلف کیفیتوں اور حالتوں کے اعتبار سے ۱۵ مقامات پر تذکرہ فرمایا ہے، جن سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ انسا نی قلب کی کیفیات اور اس میں پیدا ہونے والے حالات کی اصلاح کیسے کرنی چاہیے۔
سورۂ بقرہ میں فر مایا گیا: ’’ آخر کار تمھارے دل سخت ہو گئے، پتھروں کی طرح سخت بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے، کیو نکہ پتھروں میں سے تو کو ئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں، کو ئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے، اور کو ئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے۔ اللہ تمھارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے‘‘ (البقرہ۲:۷۴)۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: بنی آدم کے قلوب اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ وہ ان کو جیسے چا ہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ پھر اس کے بعد رسولؐ اللہ نے یہ دعا فرمائی: ’’اے دلوں کے پھیرنے والے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی اطا عت کی طرف پھیر دے‘‘۔ (مسلم)
انسا نی قلب زمین کے مانند ہیں۔ انسان اگر ایک عر صے تک زمین پر محنت نہ کرے، کاشت نہ کرے تو وہ سخت اور بنجر ہو جا تی ہے اور اس زمین سے پیدا وار بھی متا ثر ہوجاتی ہے۔ اسی طرح انسان جب دل پر محنت کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ رفتہ رفتہ سخت ہوتا چلاجاتا ہے اور جب انسان کا دل گنا ہوں کے سبب سخت ہوجاتا ہے، اس میں خوفِ خدا نہیںہوتا، تو پتھر بھی دل کی اس سختی سے شر ما جا تے ہیں۔ دل انسان کے پاس بڑا سرمایہ ہے۔ اس پر محنت کر کے اس کا تزکیہ کرلے تو کامیاب، ورنہ آخرت کے اعتبار سے اسے ناکارہ اور ناکام انسان کہا جائے گا۔
گناہوں اور بد کا ریوں کی وجہ سے انسانی دل زنگ آلود ہو جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ چنا نچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ’’دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے بُرے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے‘‘۔ (المطففین ۸۳:۱۴)۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ فر ما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ’’مومن جب گناہ کر تا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر اگر وہ تو بہ کر لیتا ہے، ڈر جاتا ہے، استغفار کر لیتا ہے تو دل کا وہ سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے لیکن بجاے تو بہ کے اور گناہ کر تا ہے تو وہ نقطہ اور بڑھ جا تا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے‘‘(ترمذی)۔ یہی ہے وہ رَانَ جس کا تذکرہ مذکورہ آیت میں فر مایا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے بیان کر نے سے ہی معلوم ہو سکتا ہے، اس لیے کہ دل ہماری نگاہوں کے سامنے نہیں ہے۔ ہم اس دھبے کو نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دھبے کو دھونے اور دل کو صاف کر نے کا طریقہ بیان فرما دیا ہے، چنانچہ بند گان مومن کو چاہیے کہ نا فر مانی یا گناہ کر نے کے بعد فوراً رجوع الی اللہ اور انابت الی اللہ کا ثبوت دیں ،تو بہ و استغفار کے ذریعے دل کو بر باد ہو نے سے بچا لیں، بصورتِ دیگر دل کی بر بادی ایمان کی بربادی کے مترا دف ہے اور ایمان کی بر بادی دا ئمی نقصان و خسران کا سبب بن سکتی ہے۔ اعاذنا اللّٰہ منہ ۔
قرآن مجید میں ہے کہ’’جو شہا دت چھپاتا ہے، اس کا دل گناہ میں آلودہ ہوتا ہے اور اللہ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے ‘‘(البقرہ۲:۲۸۳)۔ اس آ یت میں صاف طور سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی فرماں بر دا ری سے انحراف دل کو گنہگار بنا دیتا ہے۔ گنہگار دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اُلفت نہیں آ تی، بلکہ نا فر ما نی اور شہوات کی محبت ہی جگہ پکڑتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ہی فر مایا ہے کہ دل نیک ہو تو سارا جسم نیک ہو تا ہے، اور یہ گنہگار ہو جا ئے تو دل مسخ ہوجاتا ہے ۔
ٹیڑھے دل کا بھی قرآن مجید میں تذکرہ ہے۔ فرمایا: ’’جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشا بہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنا نے کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کو ئی نہیں جانتا‘‘ (اٰل عمران ۳:۷)۔ اللہ تعالیٰ دل کے اس ٹیڑھ پن سے حفا ظت فر ما نے والی ہے ۔ اس لیے کہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں دعا سکھا ئی ہے:’’اے ہمارے پر ور دگار، جب کہ تو ہمیں سیدھے راستے پر لگاچکا ہے پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ فر ما، اپنے خزا نۂ فیض سے رحمت عطا فر ما کہ تو ہی فیاض حقیقی ہے‘‘۔ یہ دعا جس میں دل کی سلا متی کی دعا مانگنا خود قرآن کریم نے سکھایا ہے، اس کی تفسیر میں علما نے لکھا ہے کہ اس میں دو چیزیںمانگی گئی ہیں، دین و ایمان پر استقامت اور دوسری چیز حسن خاتمہ۔ یہ دونوں نعمتیں اس دعا میں شامل ہیں۔ ربنا لا تزغ قلوبنا، میں دین و ایمان پر استقامت کا مانگنا سکھایا اور وھب لنا من لدنک رحمۃ، میں حسن خا تمہ یا خاتمہ بالخیر۔ جو اس کو مانگے گا وہ دل کے ٹیڑھ پن سے بھی محفوظ رہے گا اور آخری گھڑیوں میں بھی اللہ تعالیٰ دستگیری فرما ئیں گے اور حسن خا تمہ نصیب ہو گا۔ وہ لوگ دانش مند ہیں جو اپنے دل کی حفا ظت کے لیے یہ دعا ہمیشہ استحضار کے ساتھ مانگتے ہیں۔ زندگی کے کسی بھی لمحے میں یہ دعا قبول ہو جائے تو بیڑا پار لگ جا ئے گا ۔
کچھ دل ایسے بھی ہو تے ہیں جو غافل اور کبھی غور و فکر نہ کر نے والے ہو تے ہیں۔ یہ بھی ناکام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے ہیں‘‘ ( اعراف۷:۱۷۹)۔ گویا ان کے پاس دل، آنکھ، کان سب ہیں لیکن اللہ کی آیتوں پر غور و فکر نہیں کرتے، یہ جانوروں سے بدتر ہیں۔ یہ انسان ہو کر جانوروں کی طرح زندگی گزارنا چا ہتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان سے بہتر جانور ہیں کہ وہ اپنے اعضا سے اتنا فائدہ ضرور حاصل کر لیتے ہیں جو قدرت نے ان کے لیے مقرر کر دیا ہے، زیادہ کی ان میں استعداد نہیں ہے، لیکن ان لوگوں میں روحانی وعر فانی تر قیات کی جو فطری قوت و استعداد ودیعت کی گئی ہے، اسے غفلت اور بے راہ روی سے خود اپنے ہاتھوں ضائع ومعطل کردیتے ہیں (تفسیر عثمانی)۔ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ کے الفاظ سے اسی غفلت کی طرف اشا رہ ہے کہ غفلت بے حد خطر ناک ہے۔ اس کا اثر انسانی قلب پر پڑتا ہے، اور دل اس قابل نہیں رہ جاتا کہ اس میں کو ئی حق بات اثر کرے یا اللہ تعالیٰ کی طرف انابت و رجوع کی کیفیت اس میں آ ئے جس کو قرآن مجید میںفر مایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر مہر لگا دی اور ان کانوں پر بھی اور ان کی آنکھوں پر پر دے پڑے ہوئے ہیں۔ اور آخر آیت میں اس کی سزا بھی بیان فر ما دی ہے کہ وَلَہُمْ عَذَابٌ عظِیْمٌ ، انھیں عذاب الیم ہوگا۔
کچھ دل ایسے ہو تے ہیں جو اللہ کا نام سن کر لرز جا تے ہیں اور قرآن کریم کی آیت کو سنتے ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جا تا ہے۔ یہ قابل تعریف دل ہیں۔ ان کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا: ’’سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جا تے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جا تا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں‘‘ (الانفال ۸:۲)۔ قرآنی آ یات کا اور اللہ پاک کے نام کو سن کر اثر لینا راست طور پر انسا نی قلب سے ہے۔ لہٰذا قرآن کریم سے فا ئدہ حاصل کر نے کے لیے اس دل کا صحیح ہونا لازم ہے جس کے لیے ہمیشہ اس کی اصلاح کی فکر کر نے کی ضرورت ہے ۔
قرآن مجید میں کچھ دلوں کا تذکرہ یہ بھی ہے کہ ان دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ خود ان دل والوں کے غلط اعمال کی وجہ سے ہے۔ چنا نچہ فر ما یا: ’’اس طرح ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹھپّہ لگادیتے ہیں‘‘ (یونس ۱۰:۷۴)۔ یہاں مہر لگنے کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے ، یعنی نافرمانی میں حد سے گزرنا اور کفر و شرک میں بڑھتے چلے جانا۔ یہ سب مہر لگنے کا ذکر ہے۔ دلوں پر مہر کیسے لگتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: انسان گناہ کر تا ہے تو اس کے دل پر ایک دا غ لگا دیا جاتا ہے۔ پھر گناہ کر تا ہے تو پھر ایک داغ لگا دیاجاتا ہے۔ اس طرح دا غ لگتے رہتے ہیں تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ دل بالکل سیاہ ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ اس پر مہر لگادی جا تی ہے۔ پھر یہ انسان کبھی نیکی اور حق کی طرف متو جہ نہیں ہو تا۔ وہ صلا حیت بالکل ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اللہ ہماری حفا ظت فرمائے۔
قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے:’’ خبر دار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے‘‘ (الرعد۱۳:۲۸)۔ گویا دولت، حکومت، منصب، جاگیر یا انسانی ہوس، کو ئی ایسی شے نہیں ہے جس سے انسان کے دل کو اطمینان مل سکے۔ اگر سکونِ قلب جیسی دولت و نعمت حاصل ہو سکتی ہے تو وہ صرف اللہ کی یاد اور اس کی عبا دت و اطا عت سے ہی ہو سکتی ہے۔ ایسے دل کو مطمئن دل کہتے ہیں، جو ایک سچے مومن کو حاصل ہوتا ہے ۔
اللہ پاک فر ما تے ہیں کہ کچھ دل اندھے ہو تے ہیں، چنانچہ فر مایا: کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے یا ان کے کان سننے والے ہو تے۔حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہو تیں بلکہ دل اندھے ہو جا تے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ گویا آنکھوں نے دیکھا اور دل نے غور نہ کیا تو وہ نہ دیکھنے کے برابر ہے، باوجود یکہ ظا ہری آنکھیں کھلی ہو ئی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اندھا پن سب سے زیا دہ خطر ناک وہی ہے جو دل کا اندھا پن ہے۔ العیاذ باللّٰہ۔
دل کا اندھا پن جتنا گہرا ہو تا جا تا ہے اتنا ہی اس شخص پر بڑے بڑے گناہ ہلکے معلوم ہوتے ہیں، یہاں تک کہ کفر و شرک جیسے گناہ بھی معمولی معلوم پڑتے ہیں۔ ایک قوم ایسی گزری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پو ری قوم کے بارے میں فر مایا: وہ پوری قوم اندھی تھی۔ مطلب یہ نہیں کہ ظا ہری آنکھیں اندھی تھیں یا نا بینا تھے۔ نہیں، بلکہ دل کے اندھے تھے کہ اپنے نبی کے مقام کو نہ پہچا نا اور ایمان قبول نہ کیا۔ یہ اندھا پن ہے۔ ایک جگہ ارشاد ربانی ہے:’’اور جو اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ جو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے چشم پوشی کر تا رہا، نظر انداز کر تا رہا، اور اس کے حکموں سے اندھا بنا رہا، اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی بینا ئی چھین لیں گے۔ ’’اور جو میرے ’ذکر‘ (درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے۔ وہ کہے گا: ’’پروردگار، دنیا میں تو مَیں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟‘‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’ہاں، اسی طرح تو ہماری آیات کو ، جب کہ وہ تیرے پاس آئیں تھیں، ُتو نے بھلا دیا تھا۔ اُسی طرح آج تو بھلایا جارہا ہے‘‘۔ (طٰہٰ ۲۰:۱۲۳-۱۲۶)
قرآن مجید میں قلب سلیم سے مراد اچھا بھلا چنگا دل ہے جو کفر و نفاق اور فا سد عقیدوں سے پاک ہو وہی قیامت میں کام آ ئے گا، اور نجات نصیب ہو گی۔ قلب سلیم سے مراد شرک و شک اور نفاق سے پاک دل ہے۔ گناہ تو ہر کسی سے ہو تے ہیں اور اس کی تو بہ سے وہ پاک ہو جاتے ہیں۔
سورہ ٔ زمر میں آیت نمبر۴۵ میں ہے کہ: ’’جب اللہ کا ذکر کیاجاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں ‘‘۔ یہ بے ایمانوں کا دل ہے جنھیں اللہ کے نام سے چڑ ہے یا پسند نہیں کرتے لیکن اللہ کے علاوہ کسی اور کا تذکرہ ہو تو یہ ان کے لیے با عث مسرت ہوتا ہے۔ اس دل میں کوئی خیر نہیں۔
ایک دل وہ بھی ہے جس میں تکبر اور غرور کی بیماری بھری ہو ئی ہو تی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’اللہ ہر متکبر و جبار کے دل پر ٹھپّہ لگادیتا ہے‘‘۔ (المومن ۴۰:۳۵)۔ تکبر بہت ہی بڑی برا ئی ہے، جس دل میں تکبر جڑ پکڑ لے اس دل کا خدا ہی محافظ ہے ۔ آدمی کو ہمیشہ متوا ضع رہنا چاہیے۔ یہ اچھے انسان اور مومن کی علامت ہے۔ بڑائی تو اللہ کے لیے ہے۔ فرمایا: بڑا ئی میری چادر ہے، جو تکبر کرے گا گو یا وہ میری چادر کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے کے ساتھ کیا سلوک ہوگا، وہ سمجھنا آسان ہے۔ صوفیاے کرام اور اولیا اللہ اپنے سروں کو سب سے پہلے اللہ کے آگے جھکاتے ہیں اور دل کی اس بیماری کا علاج کر تے ہیں۔ کو ئی علم والا علم کی وجہ سے، یا کو ئی مال والا مال کی وجہ سے، یا کو ئی بھی شخص اپنی کسی خو بی کی بنا پربڑا ئی نہ کرے۔ اس لیے کہ ہر قسم کی خو بی کسی کی ذاتی نہیں بلکہ اللہ کی دین ہے، تو اس پر تکبر کر نا کیا معنی رکھتا ہے۔ اپنے دل کی حفا ظت کر نا چاہیے کہ اس میں کب تکبر آجا ئے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ہر موقع کے لیے دعا سکھا ئی ہے کہ کسی بھی وقت اللہ کو نہ بھلا ئے اور نعمت اس کی طرف سے سمجھے اور شکر و امتنان کے جذبات قلب میں پیدا کرے تو یہ قلب متوا ضع ہو گا۔ قلب متکبر اللہ کو پسند نہیں، اس لیے آیت مذکور میں فر مایا کہ متکبر دل پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتے ہیں کہ وہ کو ئی حق بات کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے، اللہ بچائے رکھے۔
’’کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اس کے نازل کر دہ حق کے آگے جھکیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جا ئیں جنھیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہو ئے ہیں؟‘‘(الحدید ۵۷:۱۶)۔ یہی وہ آیت تھی جسے سن کر حضرت فضیل بن عیاض ؒ نے تو بہ کی تھی اور بہت بڑے اللہ والے بن گئے۔ انسان جب تو بہ کر تا ہے تو دل کی سیا ہی دُور ہوجاتی ہے، دل کی ظلمت دور ہوجاتی ہے اور دل کی سختی ختم ہوجا تی ہے۔ تو بہ و استغفار سے دل دُھل جاتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت ابرا ہیمؑ کو وحی کی گئی کہ اپنے دل کو دھو لیا کرو، آپ کہنے لگے: اے اللہ! پانی تو وہاں پہنچتا ہی نہیں میں اس کو کیسے دھوؤں ؟ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: یہ دل پانی سے نہیں، یہ تو میرے سامنے رونے سے دُھلتا ہے، یعنی تو اگر میرے سامنے عا جزی اور آہ وزاری کرے گا تو ان آنسوؤں کے گر نے سے تیرے دل کو صاف کر دیا جائے گا۔ دل اس طرح دھلتا ہے ۔
قرآن مجید صاحب ِقلب کے لیے نصیحت ہے :’’بے شک اس سورہ یا قرآن مجید میں نصیحت ہے اس شخص کے لیے جس کا قلب ہو یا وہ کان لگا کر پو ری حا ضر دما غی کے ساتھ سن رہا ہو‘‘۔ اس لیے علما نے لکھا ہے جتنے احکام انھیں ملے ہیں، ان کا مخاطب قلب ہی ہے اور دل ایمان کی جگہ ہے اور ہاتھ اور پیر اسلام کی جگہ ہیں۔ ایمان چھپی ہو ئی شے ہے، جو دل میںرہتا ہے۔ اس لیے حدیث میں فر مایا گیا کہ ایمان چھپی ہو ئی شے ہے جس کو دل لیے ہو ئے ہے اور اسلام کھلی ہوئی شے ہے جو ہاتھ پاؤں سے ظا ہر ہو تی ہے، تو سب جگہ قلب ہی مخاطب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی قیمت لگا دی ہے۔انسان کے نفس کو اور مال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔ نفس کی قیمت جنت لگا دی لیکن دل کی قیمت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے، لہٰذا جو انسان اپنا دل اللہ تعالیٰ کے حوا لے کردے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اپنا دیدار عطا فر ما ئیں گے۔ چنانچہ فرمایا: ’’اُس روز کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے‘‘ (القیامۃ۷۵:۲۲-۲۳)۔ یہ کیسے خوش نصیب لوگ ہوں گے کہ جو قیامت کے دن اچھے حال میں کھڑے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے جنت کو بنایا تو اس کی کنجی رضوان کے ہا تھ دے دی، اور جہنم بنایا تو اس کی کنجی اللہ تعالیٰ نے جہنم کے دارو غہ کو دے دی، اور اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو اپنا گھر بنایا اور اس کی کنجی بنی شیبہ نامی خاندان کو دے دی کہ قیامت تک ان کے پاس رہے گی، کسی اور کے پاس نہیں جا سکتی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کا دل بنایا مگر اس کی کنجی اپنے دستِ قدرت میں رکھی، وہی دلوں کو پھیرنے والا ہے، وہ جسے چاہتا ہے اُلٹ پھیر کر دیتا ہے۔ گو یا ہمارے دل کا تالا اگر کھل سکتا ہے تو اللہ رب العزت کی رحمت کے ساتھ کھل سکتا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اللہ رب العزت کے حضور دعائیں کریں، اللہ تعالیٰ سے طلب کریں اور فریاد کریں کہ رب کریم جب ہمارے دلوں کا معا ملہ آپ کی دو انگلیوں کے درمیان میں ہے تو دل کے تا لے کو خیر کے لیے کھول دے تا کہ ہم بھی آپ کی محبت بھری زندگی کو اختیار کرسکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور دعا کریں، یامقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک، ’’ اے دلوں کے پلٹنے والے ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ‘‘۔ حضرت سیدنا صدیق اکبرؓفر ما تے ہیں کہ جس پر نصیحت اثر نہ کرے وہ جان لے کہ اس کا دل ایمان سے خالی ہے۔ حضرت امام شافعی ؒ فر ما تے ہیں کہ دل کو روشن کر نا ہو تو غیر ضروری باتوں سے پر ہیز کرو ۔ بزرگوں نے لکھا ہے کہ اللہ پاک کے نا موں میں ایک نام ’ النور‘ ہے، اس کا ذکر کثرت سے کر نے سے قلب کو نور حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قلب ِ سلیم سے نوازے، آمین!
اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے نعمتوں اور انعامات کا شمار ممکن نہیں لیکن اللہ کی ان نعمتوں میں رمضان المبارک کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مہینے کا انتظار رہتا تھا اور اس کا وہ جس شوق کے ساتھ استقبال کرتے تھے، اس کا احساس اور ذکر خود ایمان افروزاور اس انعامِ الٰہی کی قدرومنزلت کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اُٹھانے کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ آپؐ رجب کا چاند دیکھتے تو دعا فرمایا کرتے تھے کہ
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبْ وَشَعْبَان وَبلغنَا رَمضَان، اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دے۔
اور پھر جب رمضان کا چاند نظر آجاتا تو لسان نبویؐ سے یہ الفاظ گوہر بن کر ضوفشاں ہوتے:
اَللّٰھُمَّ اَھْلِہٗ عَلَیْنَا بِالْامْنِ وَالْاِیمَانِ والسَّلَامۃِ والْاسِلَام ربّی وربَّک اللّٰہ (بخاری) اے اللہ ! ہم پر یہ چاند امن و ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ (اے چاند) میرا اور تیرا رب اللہ ہی ہے۔
حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی آخری تاریخ کو ایک خطبہ دیا جس میں رمضان کے بابرکت مہینے کے استقبال کے لیے ہمیں اس طرح تیار فرمایا:
اے لوگو! بہت بڑی عظمت اور بابرکت والا مہینہ تم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس مبارک مہینے کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ نے اس مہینے کے روزے تم پر فرض کیے ہیں، اور رات کے قیام ( مسنون تراویح) کو نفل قرار دیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں دل کی خوشی سے ایک نیکی کا کام کرے گا اس کو دوسرے مہینوں کے فرض کے برابر ثواب ملے گا، اور جو شخص اس مہینے میں ایک فرض ادا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو دوسرے مہینوں کے ۷۰فرضوں کے برابر ثواب بخشے گا۔ یہ ’صبر‘ کا مہینہ ہے، صبر کا اجر جنت ہے اور یہ غریبوں کی مالی ہمدردی اور امداد کا مہینہ ہے۔ (مشکٰوۃ)
رمضان کی برکتوں کا ذکر فرماتے ہوئے آپؐ نے اس خطبے میں روزے کے دو اہم پہلوئوں کو اُجاگر فرمایا ہے جو روزے کی روح اور مقصد کو سمجھنے میں مد د دیتے ہیں، یعنی صبر کا مہینہ اور مواساۃ کا مہینہ، یعنی غریبوں اور دوسرے انسانوں کے لیے مالی ہمدردی اور امداد کا مہینہ۔ صبر کا تعلق خواہشات اور جذبات پر قابوکی صلاحیت پیدا کرکے اور رب کی اطاعت اور حق کی راہ میں ثابت قدمی سے ہے، اور مواساۃ کا تعلق دوسرے انسانوں کے لیے رحمت اور اخوت کے جذبات کو پروان چڑھاکر ایک دوسرے کے لیے سہارا بننے اور انسانی معاشرے کو محبت، تعاون اور سلامتی کا گہوارا بنانے سے ہے۔ قرآن کی تعلیمات کا خلاصہ اللہ کی اطاعت اور اللہ کے بندوں کے لیے رحمت کی صفات میں بیان کیا جاسکتا ہے۔
روزے کے باب میں قرآن نے تین چیزوں کی طرف خصوصیت سے ہمیں متوجہ کیا ہے:
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مبارک مہینے سے فائدہ اُٹھانے کا مؤثر ترین نسخہ اس طرح بیان فرمایا : ’’جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے‘‘۔
یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مبارک مہینے کو نیکیوں کی فصلِ بہار قرار دیا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک انعامِ خاص ہے کہ پاکستان کا قیام اس مبارک مہینے میں بلکہ ۲۷رمضان المبارک کو ہوا اور اس سال بھی ۱۱مئی کے انتخابات کے بعد یہ مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہو رہا ہے۔ آیئے رمضان المبارک کے نعمت خداوندی ہونے کے مختلف پہلوئوں پر غور کریں اور پھر اس مبارک مہینے میں اپنے، اپنے ملک اور اُمت مسلمہ کے حالات پر ایمان اور احتساب کے ساتھ نظر ڈالنے کی کوشش کریں، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہمیں اپنی ذاتی زندگیوں میں بھی اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھانے کی توفیق سے نوازے اور پاکستان، اُمت مسلمہ اور تحریکِ اسلامی کو بھی ان اخلاقی، مادی اور اجتماعی قوتوں کے حصول کی سعادت سے فیض یاب کرے جو دورِحاضر میں اسلام اور مسلمانوں کو درپیش چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے لائق بنائیں۔
روزہ اسلام کے نظامِ تربیت و اصلاح کا ایک بنیادی رکن ہے۔ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسلام کے نظامِ تربیت میں عبادات اور معاملات کے ذریعے نہ صرف فرد، بلکہ معاشرے اور پوری انسانیت کے لیے کرنے کے ایسے کام فرض کیے ہیں جن میں سے ہر ایک اس نظامِ تربیت کو قوت اور سہارا دیتا ہے ۔ روزے کے بارے میں جامع تعریف مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے یوں فرمائی ہے: ’’روزہ سال بھر میں ایک مہینے کا غیرمعمولی نظامِ تربیت (special training course) ہے جو آدمی کو تقریباً ۷۲۰گھنٹے تک مسلسل اپنے مضبوط ڈسپلن کے شکنجے میں کسے رکھتا ہے تاکہ روزانہ کی معمولی تربیت میں جو اثرات خفیف تھے وہ شدید ہوجائیں‘‘ (سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ، اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر، لاہور، ۱۹۷۷ء، ص ۶۷)۔ اسی پہلو کو کچھ مختلف الفاظ میں محترم مولانا یوں فرماتے ہیں : ’’نہ صرف روزہ بلکہ تمام عبادات کی غرض یہی ہے کہ ان کے ذریعے آدمی کی تربیت کی جائے اور اس کو اس قابل بنادیا جائے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی عبادت بن جائے‘‘(خطبات، لاہور، ۲۰۱۲ء، ص ۱۱۹)۔ گویا عبادات انسان کے مقصد وجود کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِo (الذاریات ۵۱:۵۶) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا اسی لیے کیا ہے کہ وہ میری عبادت و بندگی کریں‘‘۔
ایک بنیادی فرق روزے اور دیگر عبادات میں یہ ہے کہ ان کی ادایگی ایک قابلِ محسوس شکل رکھتی ہے، جب کہ روزہ ایک ایسی مخفی عبادت ہے جسے صرف وہ جس کی عبادت کی جارہی ہے، جانتا ہے۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ابن آدم کا ہر (نیک) عمل کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ ایک نیکی ۱۰نیکیوں کے برابر، حتیٰ کہ ۷۰۰ گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ کریم فرماتا ہے سواے روزے کے جو صرف میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا کیونکہ وہ میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔(مسلم، حدیث ۱۱۵۱)
یہ دوسروں کو نہ نظر آنے والی عبادت اثرات و نتائج کے اعتبار سے صحیح معنی میں جہادِاصغر کہی جاسکتی ہے، کیونکہ اس میں نفس میں پائی جانے والی اور مخفی بغاوت (طاغوت) اور انانیت (شیطان) جو ایک انتہائی بھلے اور راست باز انسان کو وقتی طور پر اپنے قابو میں لے آتی ہے، اس کو پورے ایک ماہ کے لیے ایک نظر نہ آنے والے قیدخانے کی سنگین سلاخوں کے پیچھے بیڑیاں پہناکر قیدکردیا جاتا ہے۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا: تمھارے پاس رمضان کا مہینہ آپہنچا۔یہ بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض فرمائے، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور اس میں شیطان جکڑ دیے جاتے ہیں۔ (سنن نسائی، حدیث۲۱۰۶، بخاری، حدیث۳۲۷۷)
عام دنوں میں شیطانی وساوس مومن کو بہت سے نیک کاموں سے روکنے کے لیے نئی نئی شکلوں میں مزاحم ہوتے ہیں لیکن رمضان ایسا موسمِ بہار لے کر آتا ہے جس میں فضا بھلائیوں کے لیے سازگار اور بُرائیوں کے لیے سدِراہ بن جاتی ہے۔ روزہ ایک ڈھال بن کر آتا ہے۔ اس لیے اگر کسی روزہ دار کو کوئی شخص جھگڑے پر آمادہ کرنا چاہے تو وہ صرف یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ ’’میں روزے سے ہوں‘‘۔ (بخاری، حدیث ۱۹۰۴، مسلم، حدیث ۲۷۶۰)
یہ ہمت، یہ اعتماد اور یہ حوصلہ کہ ایک دھمکی کا جواب ہاتھ سے دینے کی صلاحیت ہو اور پھر بھی صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا جائے میں روزے سے ہوں، صرف ایسی صورت حال ہی میں ہوسکتا ہے جب ایک شخص کو یہ شعور اور آگہی ہو کہ وہ ایسے نظامِ تربیت سے گزر رہا ہے جس میں ہرنفسیاتی ردعمل اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشی کے تابع ہو۔ یہ ضبط نفس صرف اور صرف رمضان ہی کی برکت سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اس ماہ کی برکات اور اس عبادت کے ذریعے اپنی شخصیت و سیرت میں انقلابی تبدیلی کا عمل ہم اسی وقت کرسکتے ہیں جب چند باتوں سے اجتناب کیا جائے اور ایسے عمل کو وظیفۂ حیات بنا لیا جائے جو رمضان کے دوران اور اس کے بعد ہمارے ہر سانس، ہرقدم، ہرخیال، ہرمنصوبے اور ہر ارادے کو صحیح رُخ اور معنی دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جن چیزوں سے بچنے اور اجتناب کرنے سے یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے انھیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے لیکن تعداد میں کم ہونے کے باوجود ان سے بچنے کے لیے مضبوط عزم اور اللہ تعالیٰ کے آنکھوں کے سامنے ہونے کا تصور ضروری ہے۔ ان میں جنسی لذت کی نیت سے قربت، غذا، پانی، جھوٹ اور جاہلیت کے دور میں کی جانے والی عادات شامل ہیں۔ ’’جو شخص جھوٹ بولنے، اس کو پھیلانے اور جہالت کی باتوں کو ترک نہیں کرتا تو اللہ رب العزت کو اس کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنے کھانے پینے کو ترک کرے‘‘(بخاری، حدیث ۱۹۰۳)۔ خصوصاً زبان کی احتیاط کہ کوئی فحش بات نہ ہونے پائے۔
یہ نظامِ تربیت جن مطلوبہ صفات کو جِلا بخشتا ہے ان میں سرفہرست تقویٰ کی روش ہے (البقرہ۲:۱۸۳)۔ دوسری صفت صبر، یعنی ایک جانب اپنے آپ کو نفس کے مطالبات سے روکنا اور دوسری جانب مثبت اور تعمیری پہلو سے بھلائی، قیامِ حق اور نظامِ عدل کے قیام، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بندگی کے نظام کو نافذ کرنے کی جدوجہد کو استقامت کے ساتھ کرتے ہوئے اس پر جم جانا ہے۔ ’’صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا‘‘ (الزمر ۳۹:۱۱)۔ وھو شھرُ الصَّبرِ (مشکوٰۃ عن سلمان الفارسیؓ)۔ تیسری مطلوبہ صفت حاجت مندوں اور معاشرے کے غریب افراد کے ساتھ ہمدردی کی صفت کا پیدا کرنا ہے۔ … وَشَھرُ المُواسَاۃِ (مشکوٰۃ عن سلمان الفارسیؓ)۔ یہ ہمدردی مالی بھی ہوسکتی ہے، غذا فراہم کر کے، لباس دے کر، حتیٰ کہ ایک ملازم پر سے اس کا بوجھ کم کرنے کی شکل میں بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ اس مہینے میں غیرمعمولی طور پر آپؐ کی جود و سخاوت بارش لانے والی ہوائوں کو مات کردیتی تھی (متفق علیہ)۔ اس دوران آپؐ سے جو کچھ مانگا جاتا آپؐ انکار نہیں فرماتے تھے۔ (مسنداحمد)
ان اعلیٰ صفات کو پیدا کرنے کی تربیت کے ساتھ ساتھ یہ مہینہ ایک اور اہم پیغام بھی لے کر آتا ہے جو تمام عبادات اور معاملات کے مغز کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی جو بھلائی بھی کی جارہی ہے یا جس کے کرنے کی تربیت حاصل کی جارہی ہے اس کا محرک اصل میں کیا ہے۔ صادق الامین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من صام رمضان ایماناًواحتساباً غفرلہ ما تقدم من ذنبہ ’’جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کی نیت سے رکھے تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیے گئے‘‘ (بخاری، حدیث ۱۹۰۱، مسلم، حدیث ۱۷۵)۔ اگر غور کیا جائے تو یہ جامع قولِ حق و صداقت، یعنی ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے کا رکھنا روزے کی روح ہے اور رمضان سے قبل پیش آنے والے تمام معاملات پر غور کرنے کی دعوت۔ ان کا تجزیہ کرکے اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلنے کی تربیت ہے۔اس سلسلے میں وہ حدیث بھی ہمارے سامنے رہنی چاہیے جس میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : ’’قیامت کے دن اللہ کی عدالت سے آدمی نہیں ہٹ سکتا جب تک اس سے پانچ باتوں کے بارے میں حساب نہیں لے لیا جاتا۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ عمر کن مشاغل میں گزاری، دین کا علم حاصل کیا تو اس پر کہاں تک عمل کیا، مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، جسم کو کس کام میں گھلایا۔ (ترمذی،عن ابی برزۃ الاسلمی )
حضرت عمرؓ کے مشہور قول حاسبوا قبل ان تحاسبوا ’’احتساب کرو، قبل اس کے احتساب کیا جائے‘‘ اور رمضان کے روزے احتساب کے ساتھ رکھنے والی حدیث مبارکہ کی اہمیت تحریکِ اسلامی کے کارکنوں کے لیے غیرمعمولی ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس احتساب کے مختلف پہلوئوں پر اپنے ذہن کو تازہ کرتے ہوئے اس نسخۂ کیمیا کے ذریعے اپنی تمام بھول چوک کے لیے اس مبارک مہینے کے روز و شب میں رب کریم سے خصوصی استغفار، استعانت و نصرت کی طلب کے ساتھ کیا جائے، تاکہ بھول اور لغزش فیصلے کی ہو، ذاتی طور پر ذمہ داریوں کی ادایگی میں ہو، انفاق فی سبیل اللہ میں کی گئی ہو، اپنی صلاحیتوں کو وقت پر استعمال نہ کرنے کی ہو، صحیح منصوبہ بندی نہ کرنے کی ہو یا پورے خلوص کے ساتھ ایک ایسا رویہ اختیار کرنے کی ہو جس کی توقع ایک داعی سے نہیں کی جاتی، کے اثرات نہ ہوں۔ غرض کہ ضرورت ہے کہ ماضی کے ہرہرعمل کے بارے میں خود احتسابی اور دیانت و امانت اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اس رمضان کا استقبال کیا جائے۔
اس احتسابی عمل کا آغاز، ایک کارکن ہو یا ذمہ دار، اسے اوّلاً اپنے آپ سے سوال کرنا ہوگا کہ دعوتِ دین اور اقامت ِ دین کی مہم میں چاہے وہ انتخابی مہم میں حصہ لینے کی شکل میں ہو، کیا وہ فرائض کی ادایگی میں چاق چوبند رہا، یا اپنے خیال میں ایک بھلائی کے کام میں مصروف ہونے کے عذر نے اسے نمازوں میں سستی پر آمادہ کردیا؟ کیا اس کی زبان سے اس کا پڑوسی، حتیٰ کہ اس کا نظریاتی اور سیاسی مخالف محفوظ رہا اور اُس نے حق کا اظہار اس طرح کیا جیسے کہ قرآن نے سنت ِ رسولؐ کا تذکرہ کیا ہے کہ ’’دیکھو تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمھارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمھاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے شفیق اور رحیم ہے‘‘۔ (التوبہ ۹:۱۲۸)
داعی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا قول، قولِ لیّن ہو، اس کا میٹھا بول دل اور روح میں جاگزیں ہوجائے (طٰہٰ ۲۰:۴۴)۔ وہ مخالف کی تلخ کلامی، الزام تراشی، درشتی، غرض ہرہر غلط بات کا جواب مخالف کی زبان میں نہ دے بلکہ حکمت سے دے جس طرح ایک داعی کی زبان اظہار کرتی ہے۔ ’’اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ اور اے نبیؐ نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیب والے ہیں۔ اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے‘‘۔ (حم السجدہ ۴۱: ۳۳-۳۶)
ان اہم قرآنی ہدایات کی روشنی میں اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہرشخص ذاتی طور پر اپنا احتساب کرے اور اس کے ساتھ ہرمسلمان، ہرپاکستانی اور تحریکِ اسلامی کا ہرکارکن موجودہ حالات کے تناظرمیں اپنا، اپنے رویوں اور احساسات، اپنے مقاصد، اہداف اور سرگرمیوں کو، اور جو عہد اس نے اپنے اللہ سے کیا ہے اس کی روشنی میں احتساب کے ساتھ عزمِ نو کا عہد کرے، تاکہ رمضان کی برکتوں سے وہ خود بھی فیض یاب ہو اور ملک و ملت اور تحریک و دعوت کو بھی قوت حاصل ہو۔ یہ جائزہ جہاں دنیا، اُمت اور پاکستان کے عمومی حالات کی روشنی میں لیا جانا چاہیے وہیں خود تحریکِ اسلامی اس وقت جس مرحلے سے گزر رہی ہے اور حال ہی میں ملک گیر انتخابی معرکے نے جو نئے چیلنج اُبھارے ہیں ان کو سامنے رکھ کر یہ کام کیا جائے۔
ہم نے بات کا آغاز اس حدیث مبارکہ سے کیا تھا جس میں ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان کے روزوں کو رکھنے کی برکت، یعنی اللہ کی طرف سے مغفرت کا تذکرہ ہے۔ کسی بھی رابطہ عوام مہم میں جو مراحل پیش آتے ہیں وہ تحریک اسلامی کے کارکنوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ کسی بھی نظریاتی گروہ کو پیش آسکتے ہیں۔ ان میں سے چند پر غور کرنے کی ضرورت ہے:
۱- وسیع پیمانے پر عوامی رابطہ مھم کا مقصد: اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مہم کا مقصد کیا صرف حصولِ اقتدار تھا یا رضاے الٰہی کا حصول اور دین کے قیام کے لیے سلطہ کا حصول۔ وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۸۰) ’’اور دعا کرو کہ پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو لے جا (مکہ سے مدینہ منورہ) سچائی کے ساتھ لے جا، اور جہاں کہیں سے بھی نکال (مکہ مکرمہ سے) سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنادے‘‘۔
اقامت دین کی جدوجہد میں اقتدار بذاتِ خود نہ کبھی مقصود تھا نہ ہوسکتا ہے بلکہ یہ دین کے نفاذ کا تشریعی ذریعہ ہے۔ قرآن کریم کے تمام احکامات کا نفاذ اسی ذریعے کے ساتھ وابستہ ہے۔ اسلامی رفاہی اصولوں کا نفاذ ہو، یا زکوٰۃ کا نظام ہو یا نماز کا یا حج کا، ابلاغِ عامہ کے برقی ذرائع سے حیا، سچائی ، عدل و انصاف کے اصولوں کی تعلیم دینا ہو، یا تعلیم گاہ میں جدید علوم کی آگاہی، یا جداگانہ نظامِ تعلیم ہو، یا عدالتوں میں سچے، جری اور متقی قاضیوں کا تقرر ہو۔ اسی طرح اسلامی تعزیرات کا نفاذ ہویا حدود پر عمل، ہر ایک کے نفاذ کے لیے سلطہ، اقتدار کا حصول دینی مطالبہ ہے جو نصوص قرآنی کی بناپر قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ ہے۔ رمضان مطالبہ کرتا ہے کہ اس فریضے کی ادایگی کے حوالے سے ذاتی اور اجتماعی احتساب کیا جائے کہ رابطہ عوام مہم میں کہیں ذات اور قریب المیعاد مقاصد تو نہیں آگئے؟ کیا یہ صرف اور صرف ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے برپا کی گئی؟
۲- مخاطب کی نفسیات و مسائل کا اِدراک: کیا عوامی مہم میں اس بات کو پیش نظر رکھاگیا کہ جن عوام الناس کو افہام و تفہیم کی جارہی ہے ان کے بنیادی مسائل___ بے روزگاری، تعلیم کا نہ ہونا، صاف پانی کا میسر نہ ہونا، جان مال اور عزت کا تحفظ نہ پایا جانا، ملک میں گرانی کی آفت کا پایا جانا، صحت اور زندگی کی سہولیات کا نہ پایا جانا، صنعت کاروں کا بجلی کی عدم موجودگی کے سبب کاروبار میں خسارہ اور عوام کا گرمی اور سردی دونوں میں پریشان ہونا___ کیا اِن مسائل کے قابلِ عمل حل عوام کے سامنے پیش کیے گئے اور انھیں اپنے ساتھ شامل کیا گیا یا ملاقاتوں اور اجتماعات میں نظری گفتگو اور حالات کی صرف منفی تصویر سامنے پیش کی گئی۔ اسلام اُمید کا نام ہے۔ نصرتِ الٰہی پر یقین کے ساتھ بہترین نتائج کی بشارت اور ان کے لیے کوشاں ہونے کا نام ہے۔ کیا ہم لوگوں میں اُمید اور حالات کے قابلِ تبدیل ہونے کا احساس پیدا کرسکے۔ کیا ملک کے عوام اور نوجوانوں پر طاری مایوسی کو ہم نے ایک الگ، مثبت اور قابلِ عمل منصوبہ پیش کر کے دُور کیا یا ہم بھی منفی اور غیرتعمیری تنقید کے دائرے میں گھومتے رہے۔
۳-مخالفین سے رویہ: کیا اس مہم کے دوران ہم نے مختلف الخیال افراد تک پہنچ کر انھیں حکمت، موعظہ حسنہ اور اپنی نرم گفتاری سے اپنے سے قریب کیا یا انھیں مخالف اور محارب کے خانے میں دھکیل دیا۔ قرآن کریم ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ کل تک جو ہمارا دشمن تھا ہم اسے اپنی بھلائی سے ولی حمیم میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی وضع کریں، اور پھر احتساب کریں کہ اللہ کی نصرت سے ہم کتنے مخالفین کو غیرجانب دار کرسکے۔ کتنے افراد کو تحریک کے ماحول میں لاسکے اور کتنے ہمدردوں کو سرگرم کارکن بناسکے۔ اگر رابطہ عوام مہموں میں ایک ایک کارکن صرف تین ایسے افراد سے رابطے قائم کرکے، جن میں سے ایک مخالف کو ہم خیال ، ایک لاتعلق کو متعلق اور ایک متعلق کو کارکن بنانے کی حکمت عملی پر عمل ہو، تو پانچ نہیں ایک سال میں تحریک سے وابستہ افراد میں تین گنا اضافہ ہوسکتا ہے، اور اس طرح دعوتِ دین وسیع تر حلقے تک پہنچانے میں اپنا فرض ادا کرسکتے ہیں۔
۴- اپنے گہر کی فکر: اس پہلو سے بھی احتساب کی ضرورت ہے کہ ہم نے دعوت کی اشاعت کے لیے جن جن محاذوں پر کام کیا، کیا ان میں گھر بھی شامل رہا ، اور اگر شامل رہا ہے تو کس حد تک ابلاغی خلا (communication gap) دُور کیا جاسکا۔ عام مشاہدہ ہے کہ نظریاتی طور پر بچوں پر اثرات کے باوجود بعض گھروں میں عوامی مہم ہو یا انتخابات کا معاملہ، والدین اور بچوں کے فیصلے حالیہ انتخابات میں یکساں نہیں رہے۔ اس میں جہاں یہ پہلو مثبت ہے کہ بچوں نے اپنی آزادیِ راے کا استعمال کیا، لیکن کیا انھیں اچھے انداز میں ان کے فیصلے کے اثرات سے آگاہ کیا گیا؟
۵- نوجوان قیادت: تحریکاتِ اسلامی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عصرِحاضر میں اسلامی تحریکات کے قائدین نے عمر کے جس مرحلے میں عوامی رابطے کا آغاز کیا وہ خود ان کا بھی دورِ جوانی تھا جس کی بنا پر نوجوانوں کو متحرک کرنے اور attract کرنے میں انھیں آسانی ہوئی۔ اس بات پر غور کرنے اور تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ عوامی رابطے میں جن افراد کو اُمیدوار نامزد کیا گیا، کیا وہ نوجوانوں کو اپیل کرنے میں کامیاب ثابت ہوئے، یا ہماری توقع کے باوجود صحیح نتائج حاصل نہ کرسکے۔تحریکات کی حیات کا انحصار نئے خون اور نئے ولولے، نئے زاویے، نئے طریقے تلاش کرنے والے ذہنوں کے ساتھ ہے۔ بلاشبہہ حکمت جس چیز کا نام ہے وہ محض علم سے حاصل نہیں ہوسکتی، نہ صرف تجربے سے اور، نہ صرف عمر کی بزرگی سے۔ بعض نوعمرصحابہ کرامؓ خلفاے راشدین کی شوریٰ کے رکن تھے۔ بعد کے اَدوار میں بعض نے سندھ اور بعض نے اسپین اور چین پر یلغار کی، جب کہ ان کے بال سیاہ تھے۔ خود حضرت اسامہ بن زیدؓ کا فوج کی قیادت کرنا ایک سبق آموز مثال ہے۔ تحریک کو اپنی عوامی رابطے کی دعوتی مہم کے لیے ایسے نوجوانوں کو آگے بڑھانا ہوگا جو پاکستان کے ۶۶فی صد نوجوانوں سے ان کی زبان میں بات کرسکیں۔ یہ ایک اہم اسٹرے ٹیجک معاملہ ہے اور اسے نظرانداز کرنا تحریک کے مستقبل کے لیے بہت خطرناک ہوسکتا ہے۔
۶- انفاق فی سبیل اللّٰہ:عوامی تحریکات میں دُوردراز علاقوں بلکہ مقامی اجتماعات کے لیے جو بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے اور انتظامی اُمور میں جو مالی وسائل درکار ہوتے ہیں، نظریاتی تحریکات اس کے لیے ہمیشہ اپنے کارکنوں پر بھروسا کرتی ہیں اور وہ خود یا دوسروں کے تعاون سے وسائل پیدا کرتے ہیں۔ یہی درست طریقہ ہے لیکن اسے وسیع کیے بغیر آج کے دور کی ضروریات پوری نہیں کی جاسکتیں۔ اس بات کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہرکارکن نے مالی انفاق میں حصہ لیا اور اگر لیا تو کس حد تک۔ کیا وہ ’ہلکے اور بھاری‘ گھر سے نکلا، یا انتظار میں رہا کہ جس رب کے لیے کام کیا جا رہا ہے وہ خود سب کام کرکے اقتدار ہمارے حوالے کردے گا؟ کیا تمام ممکنہ قوتوں وقت، مال، صلاحیت کو لگاکر منزل کے حصول کی کوشش کی گئی یا ضابطے کی کارروائی کے طور پر کام کیا گیا اور اُمید یہ کی گئی کہ ووٹر خود اپنا ووٹ لسٹ میں چیک کریں گے اور خود جاکر راے کا استعمال کریں گے، جب کہ بہت سے اُمیدواروں نے ووٹرز کے لیے ہرمرحلہ خود آسان کر کے انھیں مدد فراہم کی۔
۷- جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال: اس بات کے بھی احتساب کی ضرورت ہے کہ ہم دین کی دعوت اور عوامی مہم میں کس حد تک برقی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا، مثلاً فیس بک یا ٹویٹر یا دیگر ویب کے ذرائع کو استعمال کرسکے یا محض ’عرب بہار‘ کے خودبخود واقع ہوجانے کی اُمید پر قانع رہے۔ ہوسکتا ہے بعض حضرات کو یہ باتیں بعد از مرگ واویلا نظر آئیں لیکن میں سمجھتا ہوں تحریکات کسی ایک یا دو انتخابات میں نہ مستقلاً کامیاب ہوتی ہیں اور نہ مستقلاً ناکام۔ تحریکاتِ اسلامی کے لیے احتسابی عمل ایمان او ر اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ہرمرحلے میں انھیں ہمت، حوصلہ اور اُمید سے روشناس کراتا ہے۔ تنقید ہمیشہ صحت کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ قرآن کریم ہمیں یاد دہانی کراتا ہے کہ بعض باتیں اچھی نہیں معلوم ہوتیں، جب کہ ان میں ہمارے لیے خیر ہوتا ہے اور بعض اچھی معلوم ہوتی ہیں ، جب کہ ان میں شر ہوتا ہے۔
ان چند گزارشات کا مقصد صرف سورئہ حم السجدہ کی آیات کی روشنی میں یہ جائزہ لینا ہے کہ کس طرح تحریک ان ا فراد کو جو کل تک تحریک سے اختلاف کرتے تھے، آیندہ پانچ برسوں میں ایک جامع اور قابلِ عمل منصوبے کے ذریعے نہ صرف اپنا ہم خیال بلکہ اپنا جگری دوست بناسکتی ہے۔ اس معاملے میں شیطان بے کار نہیں بیٹھتا۔ اگر ہم ۱۰گھنٹے دن میں کام کرتے ہیں تو وہ دن رات کے ۲۴گھنٹے اپنی شرانگیزی میں لگاتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا کہ اللہ کی پناہ میں آیا جائے اور اس کے شر سے بچا جائے، اور اسی لیے کہا گیا کہ مخالف کی ضد، ہٹ دھرمی، تلخ کلامی، الزام تراشی کا جواب بھلائی سے دیا جائے۔ بُرائی کو بھلائی سے دُور کیا جائے تو وہی جو کل تک مخالف تھا، سرگرم کارکن بن سکتا ہے۔
رمضان میں جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھا اس کے تمام ماضی کے گناہ، بھول، غیرشعوری طور پر غلطی سب کو رب کریم معاف کردیتا ہے۔ جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ قیام کیا اس کے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔جس نے رمضان میں ایمان و احتساب کے ساتھ رات کو قیام کیا اس کے نہ صرف ماضی بلکہ دو رمضانوں کے درمیان تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ اس ماہ کا ہرلمحہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسے تعمیرسیرت، ضبط ِ نفس، عوام الناس کی خدمت، ناداروں اور ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے اور ملک و ملّت میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے کی کوششوں میں صرف کیا جائے، تاکہ یہ مہینہ قیامت میں ہماری شفاعت اور گواہی دے کہ ہم نے اس کا حق ادا کردیا۔
محبوب سے وصال کے لمحات جوں جوں قریب آتے ہیں، محب کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جاتی ہیں۔ ہر نئی آنے والی صبح اسے یہ حسرت ہوتی ہے کہ یہ روز آنکھ بند کرتے ہی گزر جائے۔ خزاں کا موسم اُسے بہار سے بھی بھلا لگتا ہے، موسمِ گرما کی لب و رُخسار کو جھلسا دینے والی ہواؤں میں اُسے بادِ صبا کی تازگی محسوس ہوتی ہے، اندھیری رات کی رُتوں میں آسمان پر جلتے قمقمے رنگ و نور کی بارات کامنظر پیش کرتے نظر آتے ہیں، فضا ایک مانوس سی خوشبو سے معطر ہوجاتی ہے، ہر شے میں گُل و بُلبل کی سرگوشیاں سُنائی دیتی ہیں اور لگتا ہے کہ اُسی کی باتیں ہورہی ہیں۔ گزرتے وقت کا ایک ایک لمحہ اُسے پہاڑ سے زیادہ بھاری لگتا ہے، اُس کا دل چاہتا ہے کہ اُس کے پرَ لگیں اور وہ اُڑ کر محبوب کے پاس پہنچ جائے۔
بس یہی حال تھا حبیبِ کبریا حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ محبوب سے ملاقات کے شوق میں رمضان کا انتظار کرتے رہتے تھے اور فرطِ محبت میں ماہِ شعبان ہی سے پُکارتے تھے: اے اللہ! شعبان میں ہمارے لیے برکتیں رکھ دے اوررمضان نصیب فرمادے۔
مبارک ہو آپ کو کہ خوش نصیب ہیں آپ! رمضان آپ کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ بس اب تو دنوں اور گھنٹوں کی بات ہے اور ایک انوکھا مہمان اپنی ساری رعنائیوں، برکتوں ، مغفرتوں اور رحمتوں کے ساتھ آپ پر سایہ فگن ہوگا۔ ایک ایسا مہمان جس کے ہوتے نیکی کرنا آسان اور گناہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔
ذرا سوچیں، کتنے خوش نصیب ہیں آپ! ایک ایسے مہمان کو خوش آمدید کہنے جارہے ہیں جس کے انتظار میں کتنے ہی پیارے ملکِ عدم سدھار گئے۔ ہاں، کتنے ہی قصۂ پارینہ بن گئے، اور ہوسکتا ہے اگلے برس ہم بھی قصۂ پارینہ بن چکے ہوں۔
اس ماہ کی عظمت اور برکت بلاشبہہ عظیم ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس کی رحمتیں و برکتیں ہراس شخص کے حصے میں آجائیں جو اس مہینے کو پائے۔ کسان کی طرح محنت کریںگے تو اچھی فصل تیار ہوگی اور اس کا پھل جنت کی شکل میں ملے گا۔ اگر غافل کسان کی طرح سوتے رہ جائیں تورمضان کی ساری بارش اس طرح بہہ جائے گی جیسے چکنے پتھر سے پانی۔ تو آئیے سوچیں کہ اس بارش سے کیسے سیراب ہوں اور کون سے ایسے کام کریں کہ اس کے لمحات امر ہوجائیں؟
ایک رمضان چارٹ بنائیں جس میں اپنے کمزور پہلو لکھیں اور پورے رمضان انھیں دُور کرنے کے کی کوشش کریں اور ہر رات اس چارٹ کا جائزہ لیں اور کالم بناکران پر ٹِک لگاتے رہیں، مثلاً نمازیں، تلاوتِ قرآن، مطالعہ حدیث، مطالعہ دینی کتب، دین کے حوالے سے ملاقاتیں، انفاق فی سبیل اللہ، بیماروں کی عیادت وغیرہ۔ دوسری طرف غیبت، چغلی، لعن طعن، بدگمانی، تکبر، جھوٹ، وعدہ خلافی، بد نگاہی، حسد، بُغض وغیرہ جیسی اخلاقی بُرائیوں کا جائزہ لیں ۔ اس طرح آپ اپنے آپ کو خوداحتسابی کے عمل سے گزاریں گے اور ایک مسحور کن تبدیلی اپنے اندر پائیں گے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بہت سخاوت کرتے تھے اور آپؐ کی سخاوت تیز چلتی ہوئی ہوا سے زیادہ ہوتی تھی (مشکٰوۃ)۔ کوشش کریں رمضان کا ایک دن بھی انفاق فی سبیل اللہ کے بغیر نہ گزرے، چاہے اللہ کی راہ میں روزانہ ایک روپیہ ہی کیوں نہ دیا جائے۔ روزہ داروں کی افطاری کا اہتمام کریں، یتیموں کی کفالت کریں، عزیز رشتہ داروں کی مدد کریں، زکوٰۃ کی ادایگی کریں۔
قرآن پڑھتے وقت اس کے ترجمے کو ضرور سامنے رکھیں، تب ہی آپ کو سمجھ آئے گا کہ یہ آپ سے کیا کہہ رہا ہے۔ اگر ترجمے کے ساتھ اس کی تفسیر بھی دیکھ لی جائے تو بہت سے ایسے راز آپ پر منکشف ہوںگے جن کی آپ کو جستجو تھی۔ اس رمضان سے قرآن کے حوالے سے ایک نئی چیز اپنے اندرپیدا کریںکہ اس کا فہم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے قرآن سے محبت رکھنے والوں کی بہت سی کاوشیں بازار میں دستیاب ہیں لیکن اگر آپ انفرادی طور پر ان سے مستفید ہونا چاہیں تو بہت آسان نہیں، سیکڑوں میں سے کوئی ایک آدھ کامیاب ہو تو ہو لیکن اگر اس کو چند دوست، محلے دار یا کم از کم گھر کے افراد اجتماعی طور پر فہم حاصل کرنے کی کوشش کریں تو یہ کام بہت آسان ہوجائے گا اور اس کی پابندی بھی ہوسکے گی۔ پھر اس قرآن ہی کے حوالے سے ایک کام اور کریں کہ اس کے کہے پر عمل کرکے دیکھیں۔ آپ کو لگے کا کہ آپ نے ایک نئی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے، جہاں سرور، اطمینانِ قلب اور سکون ہی سکون ہے جس کی تلاش میں دنیا بھٹک رہی ہے۔ اس رمضان سے اس قرآن کی دعوت کو عام کرنے کی فکر اور جدوجہد کو بھی اپنا شعار بنالیں تاکہ بھٹکی ہوئی انسانیت بھی سکون اور اطمینانِ قلب کی طرف پلٹ آئے۔
۱-اس رمضان میں کسی بھی نماز میں تکبیرِ اولیٰ فوت نہیں ہونے دیں گے۔
۲-رمضان چارٹ بنا کر اپنی کمزوریوں کا ازالہ کریں گے۔
۳-ہر روز حسبِ توفیق کچھ نہ کچھ اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے ضرور خرچ کریں گے۔
۴- تہجد کی ادایگی کو اپنا شعار بنائیں گے۔
۵- کسی ایک فرد کو قرآن پڑھنا سکھانا شروع کریں گے۔
۶- قرآن کا ترجمہ اور تفسیر پابندی سے پڑھنے کا آغاز کریں گے۔
۷- اہلِ خانہ کے ساتھ قرآن ترجمہ و تفسیر کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کریں گے۔
۸- امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ اسلامی روح کے ساتھ انجام دیں گے۔
۹-ہر کام میں اجتماعیت کو فروغ دیں گے۔
۱۰-دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیں گے۔
میں چاہتا ہوں کہ آج آپ کو یہ بتاؤں کہ ماہِ رمضان ماہ جود و سخا ہے، ماہِ کرم و عطا ہے، خرچ کرنے کامہینہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے اس موقف کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور اسی نتیجے تک پہنچیں جس تک میں پہنچا ہوں مگر ایک علمی طریق کار سے، ایک سائنٹی فک ریسرچ کے ذریعے ، ایک خالصتاً تحقیقی و علمی زاویۂ نظر سے اور باریک بینی پر مبنی تجزیاتی نقطۂ نظر سے۔
اے عزیز گرامی قدر! آپ رمضان کے دنوں میں کھانے پینے سے اجتناب کرتے ہیں۔ خوردونوش سے بچتے ہیں، آپ جسمانی لذات و شہوات کے خلا ف لڑتے ہیں۔ آپ اپنے پروردگار کے حضور روزے، نماز، عبادت اور تلاوت قرآن کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی لذیذ غذا ہے، یہ روح کی من بھاتی لذیذخوراک ہے، پاکیزہ نفس اس سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس سے فکرونظر میں جلا پیدا ہوتی ہے، اس سے نور بصیرت میں چمک دمک پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ نماز و روزہ اور عبادت و تلاوت کی برکت سے آپ حقائق کو ان کی اصل شکل میں دیکھیں گے اورہرشے کو اس کے درست مقام پر رکھیں گے، جس کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے۔
رمضان کے روزوں کے فوائد و ثمرات سے متاثر ہو کر، آپ اس حقیقت تک پہنچیں گے کہ یہ دنیوی سازو سامان اور یہ فنا پذیر اموال محض ذرائع ہیں، ان کی لذتیں مقصود نہیں اور نہ ان کی بذات خود کوئی قدر و قیمت ہی ہے۔ یہ مال و دولت اور یہ سازو سامان دنیا، یہ مال و متاع جہاں اس وقت اعلیٰ و اشرف ہے جب آپ اسے بھلائی کے کاموں میں خرچ کریں، جب کہ یہی مال و منال گھٹیا، ہیچ اور حقیر و معمولی ہے، جب آپ اسے حقیر کاموں میں ضائع کریں ۔
رمضان خرچ کرنے کا مہینہ ہے۔ اگر آپ روزے کی اصل روح سے سرشار ہو جائیں اور روزے آپ پر مثبت اثرات ڈالیں تو آپ محسوس کریں گے کہ بہت سے لوگ بھوکے ہیں، ان کے حلق پیاسے ہیں، ان کی آنتیں قل ھو اﷲ پڑھ رہی ہیں، جب کہ آپ میں اتنی استطاعت ہے کہ آپ ان کی بھوک کا ازالہ کر سکتے ہیں، ان کے پیاسے حلق تر کر سکتے ہیں، ان کی بھوک پیاس مٹانے کی سکت آپ میں ہے۔ اب روزہ آپ کو اس بات پر آمادہ کرے گا کہ آپ ان بھوکے پیاسے انسانوں کے لیے مال و متاع دنیا خرچ کریں۔ روزے کی برکات و سعادات کا ہی یہ ثمرہ ہے کہ آپ خوشی و مسرت بلکہ فخر سے اﷲ کی راہ میں خرچ کریں گے۔
ماہ رمضان جود و سخا اور بذل و عطا اور داد و دہش کا مہینہ ہے۔ آپ جب اس کے روزوں کے تجربات سے گزریں گے تو آپ یہ محسوس کریں گے کہ آپ کے دل میں ایک نازک جذبہ جاگزیں ہو چکا ہے۔ ایک دقیق ورقیق احساس نے آپ کی ذات کا احاطہ کر لیا ہے۔ ایک نرم و نازک، رقت آمیز شعور مگر انتہائی طاقت ور سوچ نے آپ کے دل و دماغ اور حواس پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ جذبہ ، یہ احساس، یہ شعور یہ سو چ کیا ہے؟ لوگ اسے نرم دلی، رحمت اور شفقت و ہمدردی کا نام دیتے ہیں۔ اسے آپ خواہ کوئی سا بھی نام دیں، رحمت و شفقت کہیں یا محبت و الفت، مگر آپ یہ ضرور محسوس کریں گے کہ آپ کی ذات میں کسی ایسے جذبے نے جگہ بنا لی ہے جو آپ کو مجبور کرتا ہے کہ آپ پریشان حال اور مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی و غم خواری کریں۔ آپ محروم لوگوں کو عطا کریں۔ آپ اپنے عطیات سے غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور بے سہارا لوگوں کے آنسو پونچھیں۔
معلوم ہوا کہ رمضان بذل و عطا کا مہینہ ہے۔ آسان لفظوں میں دینے دلانے کا مہینہ ہے،خرچ کرنے کا مہینہ ہے۔ روزوں کی عملی تربیت سے اگر آپ کی ذات میں یہ جذبہ پیدا ہو، یہ خیال ابھرے اور یہ سوچ پیدا ہو کہ یہ مال و متاعِ دنیا سب بتانِ و ہم وگمان ہیں۔ انسانوں کو آزمایش پر آمادہ کرنے والی فانی شے ہے۔ لوگ جسے مال و منال کہتے ہیں، یہ دراصل وبال ہے۔ اسی مال کی حرص و آز نے انسانوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔ اس کے بعد آپ میں یہ جذبہ جنم لے گا کہ جس مال کا آپ کو جانشین بنایا گیا ہے، اسے آپ نے بھوکی پیاسی انسانیت کی خاطر خرچ کرنا ہے، نیکی اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا ہے۔ اس مال میںسے آپ کے لیے صرف وہی ہے جسے آپ نے کھا لینا ہے اور یوں اسے اپنے ذاتی تصرف میں لے آنا ہے، یا اس مال میں سے لباس تیار کروا کر اسے پہن لینا ہے اور پھر اسے پرانا اور بوسیدہ کر دینا ہے، یا صدقہ کر کے اپنے مال کو بقاے دوام دینا ہے۔
قارئین محترم، ذرا اس ارشاد الٰہی کا مطالعہ کیجیے: اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ ط (الحدید ۵۷:۷) ’’ایمان لاؤ اﷲ اور اس کے رسولؐ پر اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے‘‘۔ آپ بلاشک و شبہہ اﷲ کے راستے میں، نیکیوں اور بھلائیوں کے کاموں میں ہنستے مسکراتے، بطیب خاطر اپنا مال و دولت خرچ کریں گے۔ آپ کو اس کار خیر تک کس نے پہنچایا، صحیح شرعی روزے نے…!
اس ساری تمہید ِطولانی کے بعد، اب آپ میں یہ صلاحیت پیدا ہو چکی ہے کہ آپ درج ذیل حدیث نبویؐ کے بھید کو پا سکیں اور اس میں مضمر راز کی تہہ تک پہنچ سکیں۔
امام بخاریؒ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے ، فرمایا: ’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے۔ آپؐ رمضان میں بہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے جب حضرت جبرائیل ؑ آپ سے ملتے تھے۔ حضرت جبرائیل ؑ آپؐ سے رمضان کی ہر رات میں ملاقات کرتے تھے، اور آپؐ سے مل کر قرآن کریم کا دور کرتے تھے۔ حضوؐر اکرم خیر و بھلائی کی سخاوت کرنے میں تند و تیر آندھی سے بھی زیادہ سخی تھے‘‘۔ (بخاری)
کیا آپ نے غور کیا:رسولِؐ انور کی ذات گرامی روحانی درجات میں کس قدر بلند و بالا تھی۔ پھر اس پر حضرت جبریل ؑ سے ملاقات کی روحانیت۔پھر تلاوت قرآن کی روحانیت۔ماہِ رمضان کے روزوں کی روحانیت۔ ان تمام روحانیتوں نے یک جا ہو کر یہ کیا کہ مادیت کا غلبہ کمزور پڑ گیا اور فتنے کے اثرات غائب ہو گئے۔ چنانچہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام مال و متاع دنیا کی سخاوت اس طرح کرتے تھے، جیسے تندوتیز ہوا ہو کہ وہ ہر چیز پر سے گزرتی ہے، ہر شے کو سرفراز کرتی ہے۔
آپ نے دیکھا کہ خالص عبادت، عبادت گزاروں کے نفوس پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس مالی بحران کے دور میں، مسلمانوں کو اپنا مال خرچ کرنے کے لیے کہنا، ہمارے قارئین محترم کو کچھ عجیب سا لگے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ مجھ پر اعتراض کریں کہ جب لوگ معیشت کی تنگی میں مبتلا ہیں اور مالی بحران نے ان کا جینا دو بھر کر رکھا ہے، تو ایسی حالت میں انھیں انفاق فی سبیل اﷲ کی ترغیب دینا غیر موزوں ہے۔ اس کا فائدہ کیا؟
میں آپ سے کہوں گا: عزیز محترم، ذرا رُک جایئے:
آپ بنکوں کی عمارات دیکھیے، عوام کی ان بنکوں میں آمدورفت اور بھیڑ بھاڑ پر نظر ڈالیے۔ آپ بدکاری و عیاشی کے اڈوں کو جو شاہراہ عماد الدین پرواقع ہیں،دیکھیے ، اس سڑک پر جوے خانوں پر نگاہ ڈالیے، آپ سمعان کی دکانوں کو ملاحظہ کیجیے۔ آپ شکورہل وغیرہ کی مارکیٹوں اور بازاروں میں خریداروں کے ہجوم کو دیکھیے۔ آپ بڑی بڑی آرام دہ گاڑیوں اور کاروں کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ آپ بلند و بالا کوٹھیوں اور بنگلوں سے کیسے صرف نظر کر سکتے ہیں۔ آپ کے سامنے دنیا کی زندگی کی چمک دمک ہے، دنیا کا پھول خوب کھلا ہوا ہے۔ دنیوی امارت اور شان و شوکت کے مظاہر کے اثرات آپ کو ہمارے سرمایے پر اور ہمارے نوجوانوں پر نظر آئیں گے۔ آپ ذرا سی دیر کے لیے ہی، یہ سب کچھ دیکھیے اور پھر بتایئے کہ غربت کا مسئلہ سرے سے ہے ہی نہیں، نہ کوئی بحران ہے۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ ہم لوگ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں صرف کرنے میں کنجوس و بخیل واقع ہوئے ہیں۔ ہمارے نفوس میں بخل ہی بخل ہے۔ ہم لوگ اپنے اموال ان کاموں میں خرچ کرتے ہیں، جو اﷲ کو پسند نہیں۔ ہم اعلیٰ و برتر اُمور کے طلب گار نہیں ، ہم معمولی و حقیر اورگھٹیا قسم کے کاموں میں الجھتے ہیں، معمولی باتوں کی طرف لپکتے ہیں، چھوٹے درجے کے کاموں میں ہمارا دل لگتا ہے۔ ہم ہر ردی اور خراب چیز کی طرف لپکنے والے ہیں،ہم دنیا کی ظاہری چکاچوند پر ریجھنے والے ہیں، ہم انھی سے لطف اندوز ہونا زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔
اگر مسلمانوں میں ’خیر‘ کی محبت رچی بسی ہوتی، مقاصدِ عالیہ کی طلب و جستجو ان کے دل و دماغ پر چھائی ہوتی اور وہ اس سلسلے میں قرارواقعی جدوجہد کرتے، تو آپ دیکھتے کہ ہر مسلمان اس بات کی استطاعت رکھتا ہے کہ وہ میانہ روی سے کام لے اور اپنی آمدنی میں سے غریبوں، محتاجوں اور ناداروں کی مدد کے لیے کچھ نہ کچھ خرچ کر دے۔ وہ تمباکو نوشی اور سگار پینے پر جو خرچ کرتا ہے، جس رقم سے گانوں کی کیسٹ خریدتا ہے، وہ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا۔ وہ رقم جو وہ قہوہ خانے میں رات گزارنے میں خرچ کرتا ہے، یا وہ رقم جو وہ شراب نوشی کی دعوت کرکے محض ریا کاری اور شہرت کے لیے اڑا دیتا ہے، یا وہ رقم جو وہ مہنگی نکٹائی خریدنے میں ضائع کردیتا ہے یا دستی رومال کی خریداری پر ، پھر اپنے مہنگے مشروبات پر، عطر کی شیشی پر اور دیگر فضولیات اور غیر ضروری اشیا کے خریدنے پر اڑا دیتا ہے۔ کاش! وہ ان تمام اُمور میں میانہ روی سے کام لیتا اور پھر اس سے جو زائد رقم بچتی___ اور یہ بہت ہوتی___ اسے مسلمان خیر کے منصوبوں اور اسلام کی خدمت میں صرف کرتے تو کتنا اچھا ہوتا، کتنی اُمیدیں پوری ہوتیں اور کتنے ہی فلاحی کام پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتے!
مسلمان کو یہ سب باتیں ماہ جود و سخا کے موقع پر یاد رکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی مسلمان کو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے اُمور میں میانہ روی اور اعتدال سے کام لے گا تاکہ وہ شرافت، عزت اور خیر کے راستے میں خرچ کرے، تو اس کے دشمن کی قوت کمزور پڑجائے گی۔ وہ دشمن جو مسلمانوں کے مال و دولت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مسلمانوں کے اموال پر سرمایہ کاری کر کے خوب مال کماتا ہے اور پھر اسے مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے میں خرچ کرتا ہے۔ دشمن مسلمانوں سے حاصل شدہ سرمایے کو اپنے علاقے کی آبادکاری اور ترقی میں لگاتا ہے۔
کاش! مسلمان اس نیک جذبے کو بروے کار لاتے۔ کاش! انھیں معلوم ہوتا کہ ہمارے اموال میں سائل اور محروم کا حق ہے۔ کاش! انھیں احساس ہوتا کہ انھیں ترقی کرنا ہے، انھیں آگے بڑھنا ہے۔ اگر یہ جذبہ واحساس ہوتا، تو ہم ’مانولی‘شراب سے بے پروا ہوتے، ’ماتوسیان‘ سگریٹ کے پیکٹ سے بے نیاز ہوتے اور ’البون مارشے‘ کی زیب و زینت اور ڈیکوریشن کے محتاج نہ ہوتے۔
آج مسلمانوں کا معاملہ عجیب ہے۔ ان میں سے کتنے ہیں جو اپنے خون پسینے کی کمائی معمولی چیزوں میں اڑا دیتے ہیں۔ دوسری طرف وہ اعلی مقاصد اور اغراض کے لیے معمولی رقم بھی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے جب انھیں خرچ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اقتصادی بحران کا بہانہ کرتے ہیں اور کساد بازاری کا رونا روتے ہیں۔ حالانکہ معاشی بحران سے بڑھ کر خطرناک چیز یہ ہے کہ مال و دولت کو بے جا اڑایا جائے اور مال و دولت کی تقسیم غیر منصفانہ ہو۔
کاش! لہو ولعب میں گلچھڑے اڑانے والے، ذرا دیر کے لیے چشم تصور سے ہی سہی ان کسانوں اور مزدوروں کا خیال کرتے جو سخت تنگی و ترشی میں رہ کر روزی روٹی کماتے ہیں، انھیں ناکافی غذا، بے آرامی اور تھکاوٹ کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ محرومی و بدبختی ان کا مقدر ہے۔ جو لوگ صرف ایک رات میں ہزاروں کی رقم اڑا دیتے ہیں، کاش کہ انھیں معلوم ہوتا کہ وہ جو خرچ کر رہے ہیں یہ انھی کے ہم وطن اور ہم مذہب محنت کش بھائیوں کی خون پسینے کی کمائی ہے، اور انسانیت و وطن کے رشتے میں منسلک ان غریب بھائیوں نے یہ رقم کمانے میں کئی دن صرف کیے ہیں۔
اے مال دارو! اے سرمایہ دارو! اے اصحاب ثروت! آپ لوگوں سے اس مال کے بارے میں اﷲ تبارک و تعالیٰ پوچھے گا: تم نے یہ مال کہاں سے کمائے؟ تم نے یہ مال کن کاموں میں صرف کیے؟___ خواہ تمھیں یہ سوال پسند ہو یا نا پسند، بہر حال یہ تم سے پوچھا ضرور جائے گا۔ ابھی سے اس سوال کا جواب تیار کر لو!
بہر حال یہ ماہ رمضان ہے___ سخاوت کا مہینہ، راہ خدا میں اپنے مال و دولت کو خرچ کرنے کا مہینہ! ہمارے سامنے بہت سے منصوبے ہیں۔یہ ہمیں خرچ کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔ تو کیا ماہِ رمضان کے روحانی موسم میں، اس پاکیزہ فضا میں، اس کیف انگیز ماحول میں ہم اپنے آپ کو اﷲ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی تربیت و تجربہ کا موقع دیں گے؟
ھٰٓـاَنْتُمْ ھٰٓـؤُلَآئِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج فَمِنْکُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ ج وَمَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ ط وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ ج وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْo (محمد۴۷:۳۸)
دیکھو، تم لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اﷲ کی راہ میں مال خرچ کرو۔ اس پرتم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں،حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے۔ اﷲ تو غنی ہے،تم ہی اس کے محتاج ہو۔اگر تم منہ موڑوگے تو اﷲ تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گااور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔
(افکارِ رمضان، البدر پبلی کیشنز، اُردو بازار، لاہور، ص ۱۱۶-۱۲۵)
حضرت ابوذر غفاریؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے۔ آپؐ نے تراویح میں ہمارے ساتھ قیام نہ کیا، یہاں تک کہ صرف سات دن رہ گئے۔ ۲۴رمضان کی رات کو حضوؐر نے ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی۔ جب چھے راتیں باقی رہ گئیں تو آپؐ نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہ کیا۔ جب پانچ راتیں رہ گئیں تو حضوؐرنے پھر قیام فرمایا، یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کاش! آپؐ اس سے زیادہ قیام فرماتے۔ آپؐ نے فرمایا : آدمی جس وقت امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ فارغ ہوجاتا ہے تو اس کے لیے ساری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔ جب چار راتیں باقی رہ گئیں تو آپؐ نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہ کیا۔ جب تین راتیں باقی رہ گئیں تو آپؐ نے اپنے گھروالوں کو جمع کیا اور اپنی عورتوں کو اور لوگوں کو بھی جمع کیا اور ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اس موقع پر ہمیں فلاح کے فوت ہوجانے کا خطرہ ہوا (یعنی سحری کھانے سے رہ جانے کا خوف ہوا)۔ پھر بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا‘‘۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
اس سے پہلے ایک روایت حضرت زید بن ثابتؓ کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کے ابتدائی ایام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح پڑھی۔ اس طویل روایت میں حضرت ابوذر غفاریؓ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے ۲۴ دن ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں روایتیں دو مختلف رمضان کا ذکر کرتی ہیں۔ حضرت ابوذرؓ جس رمضان کا ذکر کر رہے ہیں وہ بعد کا واقعہ ہے۔ اس روایت میں حضرت ابوذرؓ نے حضوؐر سے درخواست کی کہ کاش! آپؐ زیادہ قیام فرماتے جس پر آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس وقت تک ساتھ رہتا ہے جب امام سلام پھیرے، تو اس شخص کے لیے رات بھر کا قیام لکھا جاتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت اپنے بندوں پر ایسی ہے کہ رات کی نماز جماعت کے ساتھ امام کے پیچھے پڑھتے ہیں، یعنی فرض ادا کرتے ہیں تو اس کا اجر رات بھر کے قیام کے برابر لکھا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ اپنے کرم سے جتنا چاہے عطا فرما دے۔ اس کا اصول ہے کہ سزا دیتا ہے تو صرف جرم کے مطابق، اور انعام دیتا ہے تو اپنی رحمت کے مطابق، یعنی آدمی کی خدمت سے کئی گنا زیادہ۔ اس لیے حضوؐر نے فرمایا کہ آدھی رات تک ہم نے تمھیں نماز پڑھائی، یہی کافی ہے، اجر تو اللہ ساری رات کے قیام کا دے گا۔ پھر حضرت ابوذر غفاریؓ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تین راتیں باقی رہ گئیں تو آں حضوؐر نے اپنے گھر والوں، بیویوں، بچوں اور دوسرے لوگوں کو جمع کیا اور تراویح کی نماز پڑھائی۔ یہاں تک کہ انھیں اندیشہ ہوا کہ ہم فلاح سے رہ جائیں گے۔ پوچھا گیا کہ فلاح کیا ہے تو حضرت ابوذرؓ نے جواب دیا: اس سے مراد سحری کا کھانا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ راوی جس نے حضرت ابوذرؓ سے سوال کیا کہ فلاح کیا ہے کوئی دوسرا ہے۔ حضرت ابوذرؓ نے بتایا کہ قیام اتنا طویل ہوا کہ خدشہ ہوگیا کہ آج سحری کا کھانا مشکل ہی سے کھایا جائے گا۔ اس روایت سے یہ ثبوت بھی ملا کہ یہ پہلے رمضان کی طرح نہیں کہ جس میں آں حضوؐر نے تراویح کا انتظام کیا تھا، تو لوگ آپ کی آواز سُن کر جمع ہوگئے تھے اور اوائل رمضان میں تراویح پڑھی تھی، بلکہ اس بعد کے رمضان میں آپؐ نے اور لوگوں کو بھی جمع کیا اور گھر کے بال بچوں کو بھی جمع کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ اس سے اس بات کا ثبوت بھی مل گیا کہ حضرت عمرؓ نے تراویح کا جو انتظام کیا تھا وہ خلافِ سنت نہ تھا۔ حضور اکرمؐ نے نہ صرف خود نماز پڑھی بلکہ یہ بھی ثابت ہوا کہ دیگر لوگوں کو جمع بھی کیا۔
حضور اکرمؐ نے باقی دن جو تراویح نہیں پڑھائی تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تراویح فرض نہیں بلکہ سنت ہے۔ حضوؐر نے لوگوں کو جمع بھی کیا ہے اور نہیں بھی۔ لوگوں کو ازخود جمع ہوجانے سے روکا بھی نہیں، تراویح پڑھائی بھی ہے اور نہیں بھی۔ اس طرح آں حضوؐر نے اپنے عمل سے یہ بتا دیا کہ فرض، واجب، سنت اور نفل کیا ہیں۔ تراویح نفل ہے جس پر آں حضورؐنے خود عمل کیا ہے مگر اس کو لازم نہیں کیا۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ خلیفہ دوم نے اپنے دوسرے نصف دورِ خلافت میں نمازِتراویح کو مساجد میں باجماعت ادایگی کی شکل میں اختیار فرمایا جو آج تک مسلمانوں میں رائج ہے۔ چونکہ آں حضوؐر نے اپنے ساتھ لوگوں کے جمع ہونے کو ناپسند نہیں کیا بلکہ ایک دوسرے موقع پر لوگوں کو قیام کے لیے جمع بھی کیا، تو ثابت ہوا کہ حضرت عمرؓ نے جو انتظام قیامِ رمضان کے سلسلے میں کیا وہ خلافِ سنت نہیں ہے۔
حضرت اعرجؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ رمضان کے مہینے میں کفار پر لعنت کرتے تھے اور امام سورئہ بقرہ آٹھ رکعت میں پڑھتے اور اگر وہ اس سورہ کو ۱۲ رکعت میں ختم کرتے تو ہم سمجھتے کہ انھوں نے نماز میں تخفیف کی ہے (ایضاً)۔حضرت عبداللہ بن ابوبکر روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعبؓ سے سنا ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب ہم رمضان میں قیامِ لیل سے فارغ ہوتے تو خادموں سے کہتے کہ کھانا لانے میں جلدی کرو تاکہ سحری چھوٹ نہ جائے۔ ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ فجر (صبح صادق) طلوع نہ ہوجائے۔ (ایضاً)
نمازِ تراویح کے بارے میں اکثر احادیث میں قیامِ لیل کا لفظ استعمال ہوا ہے جو بجاے خود اس بات کی دلیل ہے کہ قیام کرنے والا حسب توفیق قیام کرے۔تعداد رکعات کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مندرجہ بالا تینوں احادیث میں بھی مختلف تعداد کا بیان اس معاملے میں کسی پابندی کو ظاہر نہیں کرتا۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتدیوں کی آسانی اور رمضان المبارک میں قرآن کا دورانِ نماز پڑھنا اس بات کا متقاضی تھا کہ تعدادِ رکعات میں مناسب اضافہ کرلیا جائے تاکہ طویل قیام کے لیے لاٹھیوں کا سہارا نہ لینا پڑے۔ لہٰذا تراویح کے سلسلے میں جس قدر بھی اختلافی آرا سامنے آتی ہیں ان کی بنیاد پر کسی نص یا حکمِ رسالت کی نفی نہیں ہوتی۔(افاداتِ مودودی، درس حدیث مشکوٰۃ، باب الصلوٰۃ، مرتبین: میاں خورشید انور، بدرالدجیٰ خان،ص ۳۱۵-۳۲۰)