جولائی ۲۰۱۳

فہرست مضامین

اللہ کی مدد کب آئے گی!

افشاں نوید | جولائی ۲۰۱۳ | فہم قرآن

Responsive image Responsive image

پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمھیں مل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ ان پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے، حتیٰ کہ وقت کا رسولؐ اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی___ (اس وقت انھیں تسلی دی گئی کہ) ہاں، اللہ کی مدد قریب ہے۔ (البقرہ۲:۲۱۴)

یہی مضمون قرآن میں ان الفاظ میں دوسری جگہ بیان ہوا ہے: ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمایش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور   یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون‘‘ (العنکبوت۲۹:۱-۲)۔ صحابہ کرامؓ کی وہ آزمایش جس کا نقشہ قرآن نے سورۂ احزاب میں کھینچا ہے، اسے بھی پیش نظر رکھیے: ’’جب دشمن اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آگئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے، اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلامارے گئے‘‘۔یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے  وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے‘‘۔ (الاحزاب۳۳:۱۰-۱۲)

یہ اللہ کی سنت ہے جس کی کسوٹی پر ہر وہ جماعت پرکھی جاتی ہے جو حق کی حامل بن کر کھڑی ہوتی ہے۔ ان راہوں میں جنھوں نے قدم رکھا، ان کو جو مصائب پیش آئے وہ جھنجھوڑ دیے گئے، ہِلامارے گئے۔ آپ غور تو کریں، ان الفاظ پر مَتٰی نَصْرُ اﷲِ  (کب آئے گی اللہ کی مدد)۔     یہ الفاظ ان زبانوں سے ادا ہو رہے ہیں جن زبانوں پر سوائے ذکر اور شکر کے کچھ نہ ہوتا تھا۔ وہ قلوب مضمحل ہیں جو اللہ پر پختہ یقین رکھتے تھے، جن کی للہیت اور اخلاص کے بارے میں کسی کو شک اور شبہہ نہ ہوسکتا تھا۔ کس قدر ناقابلِ بیان ہوگی وہ آزمایش جو الْبَاْسَآئُ یعنی فقر و فاقہ کی بھی ہے اور الضَّرَّآئُ یعنی درد و اذیت کی بھی۔ شدید حالت ِ اضطرار میں یہ لفظ جو زبان سے ادا ہوتے ہیں مَتٰی نَصْرُ اﷲ، ان میں کوئی شکایت ہے نہ مایوسی، بلکہ ایک عرض ہے، التجا ہے، دعا ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو تو بندوں کا رجوع مطلوب ہے کہ وہ رب کو پکاریں، ان کی نصرت طلب کریں ، کیونکہ نصرت کا آنا تو یقینی ہے، البتہ اس کا مقام اور وقت متعین نہیں ہے۔ اس لیے اس نصرت کی طلب ہمیشہ التجا بن کر زبان پر رہنا چاہیے۔

حقائق کی دنیا میں انسانی توقعات اور منصوبے شکست و ریخت کا شکار بھی ہوتے ہیں اور اس ناکامی میں کہیں کہیں ہماری عملی کوتاہیوں کا بھی دخل ہوتا ہے۔ ’’جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں‘‘ (الروم۳۰:۳۶)۔ ’’انسان جلد باز مخلوق ہے، ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، مجھ سے جلدی نہ مچائو‘‘ (الانبیاء۲۱:۳۷)۔ جس طرح دنیاوی امور میں ہم ہر چیز کے فوری نتائج کے خواہش مند ہوتے ہیں، اسی طرح ہم دعوت اور اصلاح اور سماج کی تبدیلی کے نتائج بھی فوری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ’’ہر گز نہیں، دراصل تم لوگ جلد حاصل ہونے والی چیز سے محبت رکھتے ہو، اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو‘‘ (القیامہ۷۵:۲۰-۲۱)۔ کبھی اس طرح کے غیر متوقع انتخابی نتائج پر ہم میں سے کچھ لوگ سوچنے لگتے ہیں کہ انتخابی جھنجھٹ کا کوئی حاصل نہیں۔ بہتر ہے کہ ہم دعوت و تبلیغ کا کام کریں، انتخابی شکست سماج میں ہمارا گراف نیچے گرا دیتی ہے۔

ہماری جو بھی حکمتِ عملی ہوتی ہے بہت سوچی سمجھی اور شورائی فیصلوں پر مبنی ہوتی ہے۔ خود مولانا مودودیؒ کی وہ تعلیمات ہمیں ازبر ہیں کہ چاہے جو بھی انتخابی نتائج ہوں، ہمیں یہ میدان خالی نہیں چھوڑنا ہے، اور تبدیلی جب بھی آئے گی، یہی واحد راستہ ہمارے پاس ہے۔ دعوت اور تبلیغ کی ٹھنڈی سڑک سے کب ہم تبدیلیٔ امامت کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں؟ ’’اور دونوں نمایاں راستے اسے دکھا دیے، مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی‘‘۔ (البلد۹۰:۱۰-۱۱)

ہم تو تبدیلی کا داعیہ لے کر اٹھے ہیں، اپنے نصب العین سے جذباتی وابستگی اور والہانہ  لگائو کے بغیر ہماری اذانوں میں روحِ بلالی بھلا کیسے آسکتی ہے؟ کیا کوئی شکست ہمارے جذبات کو ٹھنڈا کر دے گی یا غلطیوں کے ازالے پر اصرار ہمیں سامانِ عبرت بنا دے گا؟؟

انتخابات ایک مرحلہ ہوتے ہیں۔ ہم کسی سیاسی جماعت کے انتخابی کارکن نہیں ہیں۔ ہماری داعیانہ حیثیت ہے۔ نصرتِ الٰہی کے قانون اور فطرتِ انسانی کے متعلق حقائق کو ہمیں سمجھنا چاہیے۔ جان رکھیے، دلوں کو بدلنے کی ذمہ داری اللہ نے ہرگز ہماری نہیں رکھی۔ ہماری صرف صاف صاف پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ ہم کوتوال نہیں ہیں، قرآن نے ۳۱ مقامات پر یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ بس تم یاددہانی کراتے جائو: ’’پس تم نصیحت کیے جائو، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبرکرنے والے نہیں ہو‘‘۔ (الغاشیہ۸۸:۲۱-۲۲)

کیا ہم نے گلی گلی محلہ محلہ جاکر اپنی حجت تمام نہیں کی ہے؟ یوم سبت کے موقع پر جب   نہی عن المنکر کرنے والوں کو ان کی قوم کے شرفا نے سمجھایا کہ: ’’تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والاہے، تو انھوں نے جواب دیا ہم یہ سب کچھ تمھارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں‘‘ (اعراف۷: ۱۶۴)۔ مسلم کی حدیث ہے: ’’بے شک بنی آدم کے دل اللہ رحمن کی انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ انھیں جیسے چاہتا ہے پھیرتا رہتا ہے۔ اس لیے ہم مشیت الٰہی میں دخل نہیں دے سکتے۔ مولانا مودودی    سورئہ اعراف کی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’اس کی مشیت ایسی ذی اختیار مخلوق کو وجود میں لانے کی متقاضی تھی جو اپنی پسند اور اپنے انتخاب سے صحیح اور غلط ہر طرح کے راستوں پر جانے کی آزادی رکھتی ہو‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج۲، ص ۵۲۸)

جان رکھیے کہ اگر ایک گروہ کے صاحبِ کردار بن جانے سے غلبۂ دین ممکن ہوتا تو مکہ میں آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں سے بڑھ کر کون صاحبِ کردار ہوگا؟ لیکن آپ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی، حالانکہ آپ حق پر تھے اور تائید الٰہی بھی آپؓ کے ساتھ تھی۔ دراصل اللہ کو غلبۂ دین کے ساتھ یہ دیکھنا ہے کہ حق کا ساتھ دینے والے مخلص کتنے ہیں اور وہ کتنے جرأت مند ہیں۔ ’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا‘‘۔ (محمد۴۷:۷)

یہ ہماری فطری خواہش ہے کہ جس انقلاب کے پودے کو ہم پانی دے رہے ہیں اس کے پھل ہمیں نصیب ہوں، لیکن جان رکھیے کہ انسانی فطرت بہت مختلف ہوتی ہے۔ حق کو قبول کرنے کے مقابلے میں، کبھی تعصبات رکاوٹ بنتے ہیں تو کبھی مفادات۔ ہماری مخلصانہ خواہش ہوتی ہے کہ حق کو لوگ فوراً پہچان لیں، اس لیے کہ اس میں ان کی ہی بھلائی ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت علیؓ کو قبولِ حق میں ذرا بھی دیر نہ لگی، جب کہ حضرت عمرفاروقؓ جیسی جلیل القدر ہستی کو اس کش مکش میں چھے سال گزر گئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کے حجابات مٹنے میں ۲۰ برس لگ گئے، جب کہ حضرت ابوسفیانؓ نے فیصلہ کرنے میں ۲۱ برس لیے اور آپؐ کے چچا ابوطالب زندگی کی آخری ساعتوں تک گومگو کی کیفیت میں رہے۔ اس لیے ہمارے داعیانہ کردار کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی سعی احسن طریق سے جاری رکھیں کہ مستقبل کی نقشہ گری اس کے ہاتھ میں ہے جس کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو غالب کر کے رہے گا۔

اقتدار اور بالادستی کی نئی جنگ نے جو گل کھلائے ہیں اور مظلوم انسانیت نے اس کی جو قیمت ادا کی ہے وہ ہوش ربا ہے۔ دنیا کے ہر حصے میں توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے… سیاسی قوتوں کے نشیب و فراز، قیادتوں کی تبدیلی، انقلابات کی آمدورفت، اگر ایک طرف تبدیلی کی علامتیں ہیں تو دوسری طرف ان میں مستقبل کی تعمیر کے فکرمندوں کے لیے بڑی روشن نشانیاں اور بیش بہا قابل توجہ امکانات اور مواقع ہیں۔ قرآن کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ظاہری تماشے کے پیچھے ایک عظیم مقصدِ عمل بھی جاری و ساری ہے، جس سے اگر فائدہ اٹھایا جائے تو تاریخ کا رخ ہم بدل سکتے ہیں۔ ’’اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعہ نہ ہٹاتا رہتا تو زمین کا نظام بگڑ جاتا، لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے‘‘ (البقرہ ۲:۲۵۱)۔ ’’یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں، جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ (تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا) کہ اللہ دیکھنا چاہتا ہے تاکہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا ہے جو واقعی راستی کے گواہ ہوں، کیونکہ اللہ ظالم لوگوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ (اٰل عمرٰن۳:۱۴۰)

مختلف حالات و واقعات کا ہم سب اپنے اپنے شعور و فکر کی روشنی میں تجزیہ کرتے ہیں اور بلاشبہہ غور و فکر کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں صدرالدین اصلاحی صاحب کی یہ بات قابل غور ہے کہ ’’بلاشبہہ غور و فکر کی قوت انسان کا امتیازی جوہر ہے، اس لیے اس امر میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں کہ اس قوت کا استعمال ہر شخص کا پیدایشی حق ہے.... یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جو دینِ فطرت ہے، اپنی سوجھ بوجھ سے کام لینے کو انسان کے بنیادی حقوق ہی میں نہیں بلکہ اس کے بنیادی فرائض میں بھی شمار کیا ہے۔ وہ اس شخص کو جو عقل و فہم سے کام نہ لے۔ کالْاَنْعَام (جانوروں کے مشابہ) کہتا ہے....کسی بھی جماعت کے لیے یہ قطعی ضروری ہے کہ اس کے افراد کے اندر راے میں کسرو وانکسار کی پوری صلاحیت موجود ہو۔ کوئی شخص اگر ضروری غور و فکر کے بعد ایک راے پر پہنچ جائے تو اسے اس بات کا تو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اسے مناسب موقع پر دلائل کے ساتھ پورے زور سے   پیش کرے، مگر اسے یہ حق ہرگز نہیں ہوسکتا کہ تمام لوگوں سے اسی کو بہرحال صحیح اور برحق تسلیم کرلینے پر اصرار کرے۔ اس کے بخلاف اسے اس امکان کو لازماً سامنے رکھنا چاہیے کہ اس کی راے غلط بھی ہوسکتی ہے اور دوسروں کی صحیح… اس تحریک اور جماعت کا مستقبل کبھی روشن نہیں ہوسکتا جس کے افراد اجتماعی فیصلوں کے مقابلے میں اپنے ذوق و رجحان ہی کو نہیں بلکہ اپنی سوچی سمجھی راے کو بھی قربان کر دینے کے لیے تیار نہ ہوں۔ آخر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کس بشر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی راے اور صواب دید کو فیصلہ کن سمجھے، مگر ہمیں معلوم ہے کہ آپؐ نے بھی کئی بار دوسروں کی راے کے مقابلے میں اپنی راے ترک کر دی تھی۔ (اسلامی تحریکوں کی ناکامی کے اصل اسباب، صدرالدین اصلاحی، ص ۳۹-۴۳)

اس کیفیت میں ضرورت اپنے اخلاص اور للہیت کی آبیاری کی بھی ہے۔ ’’اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ تحریک کے مقصد پر دل یکسر مطمئن، اور اس کی خاطر جدوجہد کے لیے ذہن بالکل یکسو ہو… اپنی تمام دوڑ دھوپ اسی کے لیے خالص کر دی جائے۔ فکر پر وہی چھایا ہو اور عمل و حرکت کی باگیں تمام تر اسی کے ہاتھوں میں ہوں.... للہیت کا مطلب یہ ہے کہ مقصد تحریک کے ساتھ یہ تعلق اور اس تعلق میں یہ اخلاص، صرف اللہ کے لیے اور صرف اسی کی رضا کے لیے ہو۔ اس کی رضا کے سوا کسی اور کی رضا کا دل میں گزر نہ ہو۔یہی للہیت وہ خاص جوہر ہے کہ کسی تحریک کو ’اسلامی‘  بناتا ہے اور اسے دوسری تحریکات سے ممتاز کرتا ہے، ورنہ جہاں تک مطلق اخلاص کا تعلق ہے، وہ تو غیر اسلامی تحریکوں کے لیے بھی اسی طرح ضروری ہے‘‘۔ (ایضاً، ص ۲۰-۲۱)

آیئے! استقامت اور قبولیتِ عمل کی دعائوں کے ساتھ ڈاکٹر نذیر احمد شہید کے وہ الفاظ  پھر دُہرا لیتے ہیں جو ہمارے حوصلوں کو مہمیز دیتے ہیں:

صاحب عزیمت اٹھتا ہے اور کہتا ہے، اگر وقت ساتھ نہیں دیتا تو میں اسے ساتھ لوں گا، سروسامان نہیں تو اپنے ہاتھ سے تیار کروں گا، اگر زمین موافق نہیں تو آسمان کو اترنا چاہیے، اگر ساتھ دینے والے آدمی نہیں ملتے تو فرشتوں کو بلاتا ہوں، اگر انسانوں کی زبانیں گنگ ہیں تو پتھروں کو بولنا چاہیے۔ اگر ساتھ چلنے والے نہیں تو کیا ہوا، درختوں کو ساتھ دوڑنا چاہیے۔ اگر دشمن بے شمار ہیں تو آسمان کی بجلیوں کا بھی کوئی شمار نہیں، اگر رکاوٹیں اور مشکلات بہت ہیں تو پہاڑوں اور طوفانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اٹھیں اور راستہ صاف کریں کہ ایک صاحب ِ عزیمت جادہ پیما ہے۔ … وہ زمانے پر اس لیے نظر نہیں ڈالتا کہ یہاں کیا کیا ہے جس سے دامن بھر لوں۔ وہ یہ دیکھنے کے لیے آتا ہے کہ کیا کیا نہیں ہے کہ پورا کر دوں۔ (تاریخ دعوت و عزیمت)

انتخابی مہم کے دوران ہمارے لیے دروازے بھی کھلے ہیں اور دل بھی۔ الحمدللہ ہماری دعوت میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ امکانات کی روشنی میں اپنے حوصلوں کو مجتمع کرتے ہوئے اس دعوت کو نتیجہ خیز بنانے کی بھرپور منصوبہ بندی کیجیے۔ آپ کا ہر قدم فوزعظیم کی جانب بڑھ رہا ہے۔  ان شاء اللہ رب کی نصرتیں آپ کی منتظر ہیں۔ اللہ آپ کو استقامت اور اس راہ میں اٹھنے والے ہرقدم کا اجرِعظیم عطا فرمائے، آمین!


مضمون نگار ناظمہ حلقہ خواتین صوبہ سندھ ہیں