مضامین کی فہرست


۲۰۱۲ فروری

میرا خاندانی نام بھولا ناتھ ہے۔ میرے والد کا نام کیدار ناتھ تھا۔ میں ۱۹۵۰ء میں پلہری گاؤں ضلع باندہ (یوپی) میں پیدا ہوا اور گریجویشن ببیرو ضلع باندہ سے کی۔ دوران تعلیم جن دنوں میںہاسٹل میں رہتا تھا، میرا ایک کمرے کا ساتھی تبارک حسین ایک مسلمان طالب علم تھا۔ تبارک حسین سے ملنے ہردولی گاؤں کے جماعت اسلامی کے ایک رکن اشرف حسین صاحب آتے جاتے تھے۔ مجھے بھی انھی کے ذریعے اسلامی عقائد خصوصاً توحید، رسالت و آخرت کے بارے میں واقفیت  حاصل ہوئی۔ شرک کو تو میں پہلے ہی سے ناپسند کرتا تھا اور بت پرستی سے مجھے کوئی دل چسپی نہ تھی، اس لیے تبادلۂ خیال کے نتیجے میں میں اسلام کے عقائد اور تعلیمات سے کافی متاثر ہوا۔

اسی دوران میں علاقے میں ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جس سے مجھے اسلام کی طرف   پیش قدمی کے سلسلے میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوئی۔ علاقے کا بڑھئی برادری کا ایک ہندو نوجوان ممبئی سے ایک مسلمان لڑکی کو اپنے گاؤں لے آیا۔ وہ گاؤں اصلاً ٹھاکروں کا تھا۔ ہر قسم کے دباؤ کے باوجود گاؤں والے لڑکی کو واپس کرنے پر تیار نہ ہوئے۔ کافی تناؤ والے ماحول میں اشرف حسین صاحب نے کسی طرح لڑکی او رپھر لڑکے سے ربط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ انھوں نے لڑکے کو سمجھایا کہ تمھارے گاؤں کے ٹھاکر تمھیں جان سے مارنے کے بعد تمھاری بیوی کو ہتھیا لیں گے، اس لیے دنیا و آخرت میں مسئلے کا حل یہ ہے کہ   تم اسلام قبول کر لو۔ یہ بات اس نوجوان کی سمجھ میں آگئی۔ بہرحال وہ اس کو اس گاؤں سے نکال کر فتح پور، یوپی لے گئے۔ وہاں لڑکے نے اسلام قبول کیا اور پھر اسے ککرالہ ضلع بدایوں بھیج دیا، جہاں کی اسلامی درس گاہ میں دونوں میاں بیوی تدریسی خدمات انجام دینے لگے۔ بعد میں لڑکے نے ممبئی میں اپنی سسرال سے بھی تعلقات بہتر کرلیے اور پھر وہ دونوں ممبئی منتقل ہو گئے۔

فرقہ وارانہ، جذباتی اور بظاہر لاینحل حساس مسئلے کو جس خوب صورتی سے اشرف حسین صاحب نے حل کیا، اس سے میں کافی متاثر ہوا۔ اسی دوران میں نے اسلام کے بارے میں مطالعہ اور  تبادلۂ خیال جاری رکھا۔ گریجویشن کا امتحان دینے کے بعد اشرف صاحب نے مجھے لکھنؤ لے جانے کا پروگرام بنایا ، چنانچہ ۱۹۷۱ء میں تبارک حسین اور اسلام سے متاثر چند دوسرے ہندو ساتھیوں کے ساتھ میں لکھنؤ جماعت اسلامی کے دفتر پہنچا۔ وہاں امیر حلقہ جناب سید حامد حسین مرحوم، عبد الغفار ندویؒ اور حبیب اللہ ندویؒ سے میری ملاقات ہوئی۔ جماعت کے دفتر میں ہونے والے درسِ قرآن میں ہم لوگ شریک ہوتے رہے۔ میں نے نماز بھی وہیں سیکھی۔ اشرف صاحب کی معیت میں ہم نے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ سے ملاقا ت کی۔ انھوں نے ہمیں دوپہر کے کھانے کی دعوت دی اور پھر کچھ کتابیں مطالعے کے لیے دیں۔ مئی ۱۹۷۱ء میں اتر پردیش حلقہ لکھنؤ کے دفتر میں مولوی حبیب اللہ ندویؒ کے ہاتھ پر میں نے اسلام قبول کیا اور میرا نام عبدالرحمن رکھا گیا۔

لکھنؤ چند روز رہنے کے بعد میں وطن آ گیا۔ گھر پر سب سے پہلے مسئلہ یہ پیش آیا کہ نماز کیسے اداکی جائے؟ ایک دو وقت کی نمازیں توگاؤں سے باہر تالاب کے کنارے پڑھیں، لیکن پھر ذہن میں آیا کہ ہندی میں نماز کی کتاب والدہ کو سنائی جائے۔ کتاب سنانے کے ساتھ میں نے والدہ کا ذہن اس طرح بنایا کہ ایشور (خدا) کی عبادت اس طرح کی جائے تو کیا حرج ہے؟ والدہ نے کہا کہ کوئی حرج نہیں ہے۔ اس طرح گھر پر میں نے نماز پڑھنا شروع کر دی۔ ایک دن مجھے نماز پڑھتے والد صاحب نے دیکھ لیا۔ چونکہ ان کا اکلوتا چہیتا بیٹا تھا۔ اس لیے گھر کا ماحول مکدر نہ ہوا۔

اسی دوران اشرف صاحب نے مجھے جماعت اسلامی بریلی کے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی۔ وہیں میری ملاقات سید حامد علی علیہ الرحمہ سے ہوئی۔ انھوں نے اسی دوران مجھے سید حامد علی کے ہمراہ تعلیم و تربیت کے لیے ان کے وطن میران پور کٹرہ، ضلع شاہجہان پور (یوپی) بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ سید حامد علی کے زیرتربیت رہنے کے علاوہ میں وہاں کی درس گاہ اسلامی میں ہندی، حساب اور انگریزی پڑھانے لگا۔ سید حامد علی کی ہدایت پر میں نے اُردو لکھی۔ الحمدللہ ۱۸ دنوں کے اندر اردو پڑھنے کی اتنی استعداد ہو گئی کہ میں نے ماہ نامہ نور اور الحسنات پڑھنا شروع کر دیا۔

کچھ عرصے کے بعد میں وطن گیا، اور والدین کو اپنے قبول اسلام کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ والدین نے مجھے برا بھلا تو نہ کہا، البتہ انھیں میرے قبولیت اسلام سے بہت زیادہ دکھ ہوا۔ تدریس میں گریجویشن کے بعد مجھے ٹیچر کی سرکاری نوکری ملنے کے وسیع امکانات تھے، لیکن میں نے یہ تہیہ کرلیا کہ میں سرکاری نوکری نہیں کروں گا۔ والدین نے کافی کوشش کی کہ میں اپنے دونوں فیصلے بدل دوں۔ لیکن میں نے سختی کے ساتھ انکار کر دیا۔ گھر سے جب رخصت ہونے لگا تو والدہ زار و قطار رو رہی تھیں لیکن الحمد للہ، اللہ نے مجھے استقامت دی، اور میں وطن سے کٹرہ واپس آ گیا۔ کچھ روز بعد والدہ کا خط آیا: ’’ٹیچر کی حیثیت سے تمھار انتخاب ہوچکا ہے اور تقررنامہ بھی موصول ہو چکا ہے‘‘۔ میں نے جواب میں پھر اس فیصلے کو دہرایا کہ مجھے سرکاری ملازمت نہیں کرنی۔

بچپن ہی میں میری شادی ہو گئی تھی، لیکن چونکہ لڑکی کی عمر بہت کم تھی، اس لیے باضابطہ رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ میرے سسرال والوں نے قبولِ اسلام پر نہایت برہمی کا اظہار کیا۔ میں نے ان پر یہ بات واضح کر دی کہ اگر لڑکی اسلام قبول کر لیتی ہے، تبھی میں اسے اپنے ساتھ رکھوں گا، ورنہ نہیں۔ سسرال اور بیوی اس معاملے میں آمادہ نہ ہوئے۔ اس طرح میری شادی کا معاملہ ختم ہوگیا۔

میں مولانا سید حامد علی کے گھر رہتا رہا۔ مولانا صاحب ، ان کی اہلیہ اور ان کے بچے سب مجھے اپنے گھر ہی کا ایک فرد سمجھتے تھے۔ الحمد للہ، گھر میں مجھے اپنائیت کا ماحول ملا اور غیریت کا قطعاً احساس نہ ہوا۔ میں نے سید حامد علی سے کہا کہ میں آپ کو ابو اور امی کو امی کہتا ہوں، اس لیے نام بھی اپنے بچوں (خالد حامدی، راشد حامدی) کی طرح رکھ دیجیے، اس طرح اس وقت سے عبد الرحمن سے بدل کر میرا نام عابد حامدی قرار پایا۔

۱۹۷۲ء میں مَیں نے مولانا سید حامد علی سے اصرار کر کے جامعۃ الفلاح ، بلریا گنج ضلع اعظم گڑھ (یوپی) جا کر پڑھنے کے لیے کہا، جہاں انھوں نے اپنے بڑے صاحب زادے خالد حامدی اور اپنے زیر تربیت دوسرے نو مسلم بھائیوں کو حصول تعلیم کے لیے بھیجا ہوا تھا۔ چنانچہ میں جامعۃ الفلاح پہنچا اور تقریباً پانچ سال وہاں رہا۔ صرف عالمیت کا امتحان بعض وجوہ سے نہیں دے پایا۔  ۱۹۷۸ء میں وہاں سے دہلی کے قریب غازی آباد (یوپی) منتقل ہو گیا۔ سید حامد علی بھی دہلی منتقل ہوچکے تھے۔ آٹھ نو مہینے مولوی نسیم غازی صاحب کے یہاں رہا، جو جامعۃ الفلاح سے عالمیت کرکے اپنے وطن غازی آباد (یوپی) آ چکے تھے۔ پھر مراد نگر ضلع غازی آباد میں درس گاہ کھولنے کا پروگرام بنایا، تو وہاں میں نے تدریس کا کام شروع کیا۔ اسی دوران پانجی ضلع باغپت (یوپی) میں درس گاہ شروع ہوئی تو وہاں منتقل ہوکر تدریس کے فرائض انجام دینے لگا۔

میری شادی کی بات چیت متعدد مقامات پر چلی، لیکن مسلمانوں میں ذات پات کے رجحان کی موجودگی کی وجہ سے کامیابی نہ ہو پائی۔ بٹراڑہ ضلع مظفر نگر (یوپی) سے ایک دوشیزہ ریکھا اسلام قبول کر کے فاطمہ ہو چکی تھیں۔ یہ دہلی میں مولانا سید حامد علی کے یہاں بھی کچھ دن رہیں۔ انھی سے میرا نکاح مارچ ۱۹۸۲ء میں ہوا۔ الحمد للہ، میرے ان سے دولڑکے اور لڑکی ہے۔ یہ سب تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ بعض مصالح کے تحت ککرالہ ضلع بدایوں (یوپی) منتقل ہو گیا۔ پھر مراد نگر پھر غازی آباد آ گیا، جہاں میں ایک عرصے سے بنارس گلاسز پرائیویٹ لمیٹڈ میں ملازمت کر رہا ہوں۔ والدین سے میرا گہرا ربط رہا اور ان کے پاس آتا جاتا رہا۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل والدصاحب میرے پاس آگئے تھے اور انھوں نے برضا و رغبت اسلام قبول کر لیا تھا۔ ان کا نام محمد حامد رکھا گیا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد والدہ بھی میرے پاس آ گئیں۔ الحمد للہ انتقال سے قبل انھوں نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔ ان کا نام رضیہ بیگم رکھا گیا تھا۔

اسلام میں وحدانیت کے بعد میرے لیے سب سے متاثر کن نماز میں مساوات اور کھانے پینے میں مسلمانوں کا اجتماعی طور طریقہ ہے، جو مجھے بے حد پسند آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں آپس میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ نمازیں سب ایک ساتھ پڑھتے ہیں اور کھانا بھی سب ایک ساتھ کھاتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ عام مسلمانوں میں اسلام سے کافی دوری پائی جاتی ہے۔ ان کا رویہ، ان کا سلوک اور ان کے معاملا ت میں غیر اسلامی عناصر کی اچھی خاصی آمیزش ہے، جس کی وجہ سے ایک غیر مسلم کے اسلام کی طرف بڑھتے قدم رک جاتے ہیں، بلکہ بسااوقات نو مسلم کے مرتد ہو جانے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔ اس لیے میری مسلمانوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اسلام کا صحیح نمونہ پیش کرنے کی کوشش کریں تاکہ اسلام کا پیغام تیزی سے عام ہو اور اسلام قبول کرنے والے اسلام کوبے دھڑک قبول کریں۔

  •  مصر: ۵۵ روز جاری رہنے والے طویل انتخابی عمل کے بعد ۲۱ جنوری ۲۰۱۲ء کو    حتمی نتائج آئے تو اخوان المسلمون کو ۴۹۸ میں سے ۲۳۵، یعنی ۱۲ئ۴۷فی صد نشستیں حاصل ہوئیں۔ اسے ایک کروڑ ایک لاکھ ۳۸ ہزار ووٹ ملے۔ دوسرے نمبر پر آنے والے تین جماعتی سلفی اتحاد ’حزب النور‘ کو۱۲۳ نشستیں ملیں، جب کہ دیگر پارٹیاں اس سے بھی پیچھے تھیں۔ اخوان نے پہلے دومرحلوں میں ہی اپنی اس قوت کا اندازہ کرلیا تھا۔ ذمہ داریوں کے حوالے سے مشاورت میں ایک راے یہ آئی کہ یہ سنہری موقع ہے، لہٰذا اب ہمیں صدر مملکت بھی اپنا لانا چاہیے، وزیر اعظم اور اسپیکر بھی اور تمام اہم وزرا بھی۔ لیکن طویل غوروخوض کے بعد اعلان کیا گیا کہ ہم نہ تو صدارت کے لیے اپنا  کوئی اُمیدوار لائیں گے اور نہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے، البتہ اسپیکر ہم اپنا لائیں گے۔ اعتراض کرنے والے تو اس اعلان کو منفی رنگ دے رہے ہیں۔ کوئی اسے راہِ فرار کہہ رہا ہے اور کوئی فوج سے گٹھ جوڑ، لیکن اخوان یکسو ہیں کہ ہمیں بہرصورت اپنی ترجیحات کو پیش نظر رکھنا ہے۔ ٹھیک ہے کہ تاریخی کامیابی حاصل کرلینے کے بعد سب مناصب حاصل کیے جاسکتے ہیں لیکن اس دستور ساز اسمبلی کا اصل فریضہ ملک کو ایک جامع اور تمام بنیادی حقوق کا ضامن پہلا دستور دینا ہے، اس لیے ہماری تمام تر توجہ اسی پر مرکوز رہنا چاہیے۔ انقلاب کے بعد امیرجماعت اسلامی سیدمنور حسن کی قیادت میں مصر جانے والے وفد کو مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع بتا رہے تھے: ملک طویل عرصے تک ظالم اور کرپٹ ڈکٹیٹرشپ کے پنجوں میں جکڑا رہا۔ ہمارا معاشرہ اسلامی نظام کی برکات سے پوری طرح آگاہ ہی نہیں ہے۔ ہماری کوشش اور حکمت عملی یہ ہوگی کہ آیندہ انتخاب میں پارلیمنٹ کے اندر زیادہ سے زیادہ قوت حاصل کریں، حکومت سازی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں، لیکن فی الحال اپنی ساری توجہ معاشرے کو بابرکت اسلامی نظام سے متعارف کروانے اور ملک کے لیے جامع دستور وضع کرنے پر مرکوز رکھیں۔

۲۱جنوری ۲۰۱۲ء کو حتمی نتائج کا اعلان ہوا اور انقلاب کی پہلی سالگرہ سے دو روز پہلے، ۲۳جنوری کو اسمبلی کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ ۴۹۸ منتخب ارکان کے علاوہ ۱۰ نامزد کردہ کا اعلان کیا گیا، حلف برداری ہوئی اور پھر اسپیکر کا انتخاب عمل میں آیا۔ درست قرار دیے جانے والے ۴۹۶ ووٹوں میں سے اخوان کے اہم رہنما ڈاکٹر محمد سعد الکتاتنی ۳۹۹  ووٹ لے کر پہلی آزاد اسمبلی کے اسپیکر   چُن لیے گئے۔ اللہ کی قدرت دیکھیے کہ گذشتہ سال ڈاکٹر سعد ’لیمان‘ جیل میں تھے اور آج  پارلیمنٹ کے اسپیکر بنادیے گئے۔ دوسری جانب عین اسی روز، فرعون صفت سابقہ حکمران حسنی مبارک اپنے دونوں بیٹوں اور ظلم ڈھانے کے ذمہ دار وزیر داخلہ سمیت عدالت کے کٹہرے میں نشانِ عبرت بنا کھڑا تھا۔
 ڈاکٹر سعد کی کامیابی کا اعلان ہوا تو وہ مبارک بادیں جمع کرتے ، اسپیکر کے لیے مخصوص نشست پر آئے اور حمدوثنا کے بعد یہ آیت پڑھی: قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ط ھُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَo (یونس ۱۰:۵۸)’’کہو کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنھیں لوگ سمیٹ رہے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر محمد سعد اکتوبر۲۰۰۸ء میں مینارِ پاکستان پارک میں    منعقد ہونے والے جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام میں اخوان کی نمایندگی کرچکے ہیں۔ پاکستان اور اہلِ پاکستان سے خصوصی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ دھیما مزاج لیکن اپنے فرائض کی ادایگی کے لیے ہردم چوکنا و بیدار رہنے والے ڈاکٹر سعد کے انتخاب کو مصر کے ہرمخلص شخص نے تحسین کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یوں جیسے عمارت کی پہلی مضبوط اینٹ، ٹھیک اپنی جگہ پر رکھ دی گئی ہو۔
اب ۲۹ جنوری سے مجلس شوریٰ، یعنی سینیٹ کے انتخاب شروع ہونا ہیں۔ یہ بھی تین مراحل میں اور عام انتخابات کے ذریعے مکمل ہوں گے۔ پھر دونوں ایوان مل کر ۱۰۰ رکنی دستوری کمیٹی منتخب کریں گے۔ کمیٹی زیادہ سے زیادہ چھے ماہ کے دوران دستور کا مسودہ تیار کرکے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی اور دستور پیش ہونے کے ۱۵ روز کے اندر اندر اس پر عوامی ریفرنڈم کروایا جائے گا۔ اسی دوران صدارتی انتخابات کا اہم ترین مرحلہ بھی آئے گا۔ یہ بھی طے ہے کہ موجودہ عبوری صدر،  جرنل حسین الطنطاوی کو یہ عہدہ بہرصورت ۳۰ جون سے پہلے پہلے نومنتخب صدر کے سپرد کرنا ہوگا۔ فوجی حکومت سے اس تاریخ کا اعلان کروانا بھی عوامی تحریک کی ایک بڑی کامیابی ہے۔آیندہ مراحل میں جو چند بڑے چیلنج درپیش ہیں ان میں سے ایک فوج کے کردار کا تعین بھی ہے۔  فوجی عبوری مجلس کی یقینا یہ کوشش ہوگی کہ ۱۰۰ رکنی دستوری کمیٹی اور اس کی سفارشات میں اس کا کردار بھرپور رہے۔ انتخابات کے دوران اس نے قومی مجلس مشاورت کی تشکیل بھی اسی نقطۂ نظر سے کی تھی لیکن اخوان کی طرف سے اس میں شرکت سے معذرت اور مجلس مشاورت کے خلاف ہونے والے عوامی مظاہروں کے بعد وہ خود ہی مرجھا کر رہ گئی تھی۔ اب اسمبلی وجود میں آجانے کے بعد اس کی حیثیت مزید کم ہوگئی ہے اور اس کے کئی ارکان مستعفی بھی ہو چکے ہیں۔
اخوان اور دیگر کئی جماعتیں یہ نہیں چاہتیں کہ فوج کے ساتھ خواہ مخواہ کا تصادم مول لیا جائے،لیکن وہ یقینا یہ بھی نہیں چاہتیں کہ اصل اقتدار و اختیار فوج ہی کے ہاتھ میں رہے۔ نومنتخب اسپیکر محمد سعد الکتاتنی نے اپنے افتتاحی خطاب میں شفاف انتخابات کی نگرانی کرنے والے ججوں کے علاوہ فوج کو بھی بھرپور خراج تحسین پیش کیا کہ اس نے وعدے کے مطابق، مقررہ وقت پر پہلے  حقیقی اور شفاف انتخابات کروادیے۔  یار لوگوں نے اس بات کو فوج اور اخوان کے مابین گٹھ جوڑ قرار دینا شروع کردیا ہے۔ کچھ بزر جمہروں نے تو اخوان کو خود امریکا کے ساتھ ہی نتھی کردیا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اخوان صرف اور صرف اللہ پر بھروسے اور عوام کی تائید سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ کسی بھی گٹھ جوڑ اور سازش کو اللہ کے ساتھ بدعہدی اور شہدا کے خون سے غداری سمجھتے ہیں۔
ذرا ایک نظر اسرائیلی ذرائع ابلاغ کو بھی دیکھ لیجیے۔ اس الزام کی قلعی کھل جائے گی۔  وہاں ایک قیامت برپا ہے۔ حکومتی ذمہ داران، فوجی جرنیلوں اور دانش وروں سے لے کر عام  شہری تک ہر کوئی واویلا کررہا ہے کہ اسرائیل کا مستقبل سنگین خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔  روزنامہ یدیعوت احرونوت اپنے ایک مضمون ’’مشرق وسطیٰ مسلمانوں کی جنت یہودیوں کا جہنم‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے: ’’تیونس میں اسلامسٹس ۴۰فی صد  ووٹ لے گئے ہیں، مراکش میں تقریباً ۳۰فی صد، جب کہ مصر میں اخوان اور سلفی تحریک نے مل کر ۷۰فی صد  ووٹ حاصل کرلیے ہیں۔ لیبیا میں قذافی کے قتل کے بعد اسلامی شریعت چاہنے والے اقتدارکے ایوانوں میں ہیں۔ شام کی عبوری قومی کونسل کے ۱۹؍ ارکان میں سے ۱۵ اسلامی ذہن رکھتے ہیں‘‘۔ پھر آگے چل کر لکھتا ہے: ’’سیکولرازم لیکن کرپشن سے بھرپور چھے دہائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نظام میں ڈھل رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب یہ خطہ تمام یہودیوں اور بے دین عناصر کے لیے جہنم بن کر رہ جائے گا‘‘۔
 یروشلم پوسٹ دھمکی آمیز لہجے میں لکھتا ہے:’’اسرائیلی فوج کے منصوبہ بندی کمیشن نے فوری طور پر نئے فوجی دستے ترتیب دینے کی سفارش کی ہے۔ جلد یا بدیر ہمیں یقینا مزید فوج کی ضرورت پڑے گی‘‘۔  وزیر اعظم اسحق رابن کا دست راست ایتن ہاپر لکھتا ہے: ’’اسرائیل کی سلامتی بلکہ اس کے وجود کو اس وقت تین بڑے خطرات لاحق ہیں اور وہ ہیں: عالم عرب میں انقلاب کی بہار، اسرائیل سے اس کا حقِ وجود سلب کرنے کی کوششیں، اور ڈیموگرافک (یعنی ہماری مخالف آبادی کے بڑھتے چلے جانے کا) خطرہ‘‘۔ مزید لکھتا ہے: ’’عرب ممالک میں ریڈیکل اسلامی طاقتیں اقتدار میں آرہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کے گرد ایسی طاقتوں کا حصار مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا جو اس کے وجود ہی کے خلاف ہیں‘‘ (روزنامہ معاریف، ۲۷ نومبر ۲۰۱۱ئ)۔ جنرل بنیامین الیعازر ۱۵نومبر اور پھر ۳دسمبر کو اسرائیلی سرکاری ریڈیو پر کہتا ہے: حالات تبدیل ہوگئے، مستقبل غیرواضح اور تاریک ہوچلا ہے‘‘۔اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک بھی دہائی دیتا ہے: ’’مصری انتخابات کے نتائج انتہائی پریشان کن اور ہوش اڑا دینے والے ہیں‘‘۔ یہ اور اس طرح کے لاتعداد تبصرے اور تحریریں ہیں جو اسرائیل کی پریشان خیالی کا پرتو ہیں۔ اس کیفیت میں امریکا اسلامی تحریکات کی کامیابی کو کیسے دیکھتا ہوگا، اندازہ مشکل نہیں ہے۔ عالمِ عرب میں تبدیلی کا آغاز امریکا، اسرائیل اور ان کے حواریوں کے لیے ایک کڑوی حقیقت تھی۔ امریکا اگر ان تمام ممالک اور ان کے عوام سے دشمنی مول لے لیتا تو اس وقت عالمِ اسلام میں اس کے خلاف جتنی نفرت پائی جاتی ہے اس میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔ ظالم ڈکٹیٹروں کے خلاف غصے کا عوامی لاوا، امریکا کی رہی سہی ساکھ کو بھی راکھ بنا دیتا۔ عرب انقلابات کی حمایت میں بیان جاری کردینے کا مطلب کسی بھی صورت یہ نہیں ہے، کہ وہ عوام کی حقیقی نمایندہ منتخب حکومتوں کو دل سے قبول کرلے گا۔ 
تیونس ، مراکش اور مصر کی نومنتخب حکومتوں کے سامنے بیرونی خطرات ہی اصل آزمایش نہیں ہیں، اندرونی خطرات اس سے بھی زیادہ مہیب ہیں۔ بیرونی طاقتیں بھی مختلف اندرونی عناصر ہی کو آلۂ کار بناتی ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کھلم کھلا اعلان کرچکی ہے کہ وہ انتخابات کے دوران عالمِ عرب کی لبرل طاقتوں کی مدد کے لیے انھیں کروڑوں ڈالر دے چکی ہے۔ مصر کے نیم سرکاری اخبار الاہرام کے مطابق مصری پولیس نے ۳۰دسمبر کو سول سوسائٹی کے نام پر کام کرنے والی بعض تنظیموں کے دفاتر پر چھاپہ مارا، تو وہاں سے لاکھوں ڈالر اور اہم دستاویزات برآمد ہوئیں۔
l یمن: مصر کی طرح یمنی عوام کے لیے بھی جنوری ۲۰۱۲ء کا آخری عشرہ تاریخی لمحات لے کر آیا۔ ۲۲جنوری کو اس وقت عوام کو اپنے کانوں پر اعتبار نہ آیا جب جنرل علی عبداللہ صالح نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ: ’’میں علاج کے لیے امریکا جا رہا ہوں۔ ۳۳سالہ اقتدار میں اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو میں اس پر معذرت خواہ ہوں‘‘۔ علی عبداللہ بھی ڈکٹیٹر تھا، لیکن یمن کی قبائلی روایات کے باعث وہ عوام پر صرف ایک حد تک ہی ظلم ڈھا سکتا تھا۔ ہرشخص روایتی خنجر اور کلاشنکوف کے علاوہ مضبوط قبائلی حصار کا تحفظ رکھتا تھا، لیکن چال بازیوں اور کہہ مکرنیوں میں یمنی صدر نے سب کو مات دے دی ہے۔ گذشتہ تقریباً ۱۱ ماہ کی عوامی تحریک میں پوری قوم سڑکوں پر اُمڈ آئی تھی۔ صدر نے باربار مذاکرات کیے، معاہدے کیے، اعلانات کیے لیکن ہربار اپنا ہرعہدوپیمان شوقِ اقتدار کی نذر کر دیا۔ خطرناک قاتلانہ حملہ بھی ہوا، اہم حکومتی عہدے داران مارے گئے، خود بھی شدید زخمی ہوگیا، علاج کے لیے سعودیہ لے جایا گیا، کئی روزہ افواہ گرم رہی کہ دنیا سے چلا گیا لیکن موقع ملتے ہی جھلسے ہوئے چہرے کے ساتھ نمودار ہوکر کہا کہ میں بدستور صدر ہوں۔ پھر اعلان کیا کہ اقتدار چھوڑ رہا ہوں، لیکن رات کی تاریکی میں ایک روز خاموشی سے یمنی دارالحکومت صنعا کے ایئرپورٹ اور وہاں سے ہیلی کاپٹر میں سیدھا ایوانِ صدر میں جا اُترا۔ آمد اتنی خفیہ تھی کہ ایئرپورٹ اتھارٹی اور ذاتی محافظوں کو بھی چند لمحے پہلے اطلاع دی گئی۔
یمنی عوامی تحریک کو مصر، تیونس یا لیبیا و شام کی طرح بہت زیادہ میڈیا کوریج نہیں ملی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جتنے بڑے بڑے عوامی اجتماع یمن میں ہوئے ہیں، ان میں سے کسی بھی ملک میں نہیں ہوئے۔ ۱۱ ماہ کی تحریک کے دوران کوئی جمعہ ایسا نہیں تھا کہ جب ہربڑے شہر میں کئی کئی لاکھ لوگ جمع نہ ہوئے ہوں۔ ایک مارچ تو ایسا انوکھا تھا کہ لاکھوں افراد نے جنوبی شہر تعز سے دارالحکومت تک ۲۵۰کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ پانچ روزہ پیدل سفر کے دوران یہ کاررواں جہاں سے بھی گزرا مزید افراد شریک ہوتے گئے، لیکن ’مضبوط کرسی‘ کے جنون میں مبتلا صدر نے دارالحکومت کے باہر ہی شرکا کو کچلنے کی ناکام کوشش کی۔ ۱۲شہید اور ۳۰۰سے زائد افراد زخمی ہوئے لیکن عوام کو قصرِصدارت پہنچنا تھا، وہ بڑی تعداد میں پہنچ گئے۔ امریکا جانے سے پہلے علی عبداللہ نے اپنی آخری سیاسی جنگ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ و رفقاے کار کے لیے استثنا حاصل کرنے کے لیے لڑی۔ وہ بضد رہا کہ اقتدار چھوڑنے کے بعد مجھ پر مظاہرین کو قتل کرنے سمیت کسی بھی طرح کا مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ عوام نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا لیکن صدر خود ہی اسمبلی سے قرارداد منظور کروا کے بزعمِ خود تمام مقدمات سے بَری ہوگیا۔ علی عبداللہ صالح سمیت کوئی حکمران اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ دامن اگر واقعی پاک ہے، تو عدالت سے کیوں گھبراتے ہو، اور اگر جرائم کیے ہیںتو کوئی عارضی استثنا ’اصل عدالت‘ اور اس کی سزا سے کیوں کر بچائے گا۔ وہ سزا تو خالدین فیھا کا اعلان بھی  سناتی ہے۔
علی عبداللہ کے خلاف تحریک کے آغاز ہی سے مغربی تجزیہ نگاروں نے لکھنا شروع کردیا تھا کہ یمن میں تبدیلی آئی تو یہاں بھی اخوان المسلمون برسرِاقتدار آجائے گی۔ اب اتنی تبدیلی تو آگئی کہ ۳۳سال سے انا ولاغیری کا نعرہ لگانے والا رخصت ہوگیا۔ لیکن ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ تیونس اور مصر کی صورت حال سے بچنے کے لیے ۲۱فروری کو صدارتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دو سال کے عہدصدارت کے بعد پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہوں گے۔ یمن میں اسلامی تحریک التجمع الیمنی للاصلاح کے نام سے سرگرم عمل ہے۔ دھن، دھونس اور دھاندلی کے بے شمار ہتھکنڈوں کے باوجود، الاصلاح پارلیمنٹ میں دوسرے نمبر پر آجاتی تھی۔ حالیہ وسیع تر عوامی تحریک کے دوران تو اس کا کردار مرکزی رہا۔ وہ نہ تو یہ دعویٰ کرتے ہیں اور نہ  اس کے لیے کوشاں ہی ہیں کہ علی عبداللہ جیسا راندۂ درگاہ کردینے والا اقتدار انھیں مل جائے۔   البتہ ایک حقیقت نوشتۂ دیوار ہے کہ عوام کو ڈکٹیٹر سے نجات مل گئی اور اب عوام آزادانہ مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں گے۔ مراکش، تیونس اور مصر کی طرح یمن کے عوام بھی اپنا فیصلہ بہرصورت اسلام ہی کے حق میں دیں گے کہ یہی عالمِ عرب میں تبدیلیوں کا اصل عنوان ہے۔
l شام: عالمِ عرب میں جاری حالیہ تحریکوں میں اب شام کی عوامی تحریک رہ گئی ہے جو ڈکٹیٹر سے نجات کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ نصف صدی سے حکمران اسد خاندان، دن رات قتلِ عام میں مصروف ہے۔ محتاط اعداد و شمار کے مطابق اب تک شہدا کی تعداد ساڑھے چھے ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ لیکن شامی عوام میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ احتجاج کا دائرہ ایک کے بعد دوسرے شہر تک وسیع ہو رہا ہے۔ بشارالاسد اقتدار کی ناکام جنگ میں کسی بھی دشمن فوج سے زیادہ ظلم ڈھا رہا ہے۔ عرب لیگ نے شرماتے لجاتے ایک جائزہ وفد شام بھیجا، لیکن قتل عام ان کی موجودگی میں بھی جاری رہا۔ اب ایک اور وفد بھیجا جا رہا ہے۔ مظالم تو بشار بھی دیگر ڈکٹیٹر حکمرانوں کی طرح ڈھا رہا ہے، لیکن ایک بات میں اس کی ظالم افواج سب سے بازی لے گئی ہیں۔ وہ ظلم کے آخری ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے گرفتار شدہ شہریوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ بشارالاسد کی تصویر کو سجدہ کریں۔ وہ انھیں بشار پر دل و جان نچھاور کردینے کا نعرہ لگانے پر مجبور کرتی ہیں۔ انھوں نے درودیوار پر یہ کفریہ نعرے لکھ دیے ہیں: لا الٰہ الا الوطن ولا رسول الا البعث، ’’وطن کے علاوہ کوئی معبود اور بعث پارٹی کے علاوہ کوئی رسول نہیں‘‘۔یہ تشدد اور نعرے اپنی تمام تر تصاویر اور وڈیوز کے ساتھ دنیا کے سامنے ہیں۔ دوسری طرف عوام کا نعرہ ہے: لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، الشہید حبیب اللّٰہ، (شہید اللہ کا محبوب ہے)___ یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ بالآخر غالب کس کلمے کو ہوکر رہنا ہے۔
_______________

مسجد میں بچوں کی نماز: چند غور طلب پہلو

سوال: مساجد میں پنج وقتہ نمازوں کی ادائی کے لیے بڑوں کے علاوہ بچے بھی آتے ہیں۔ یہ بچے ہرعمر کے ہوتے ہیں۔ کچھ بچے تو بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ دورانِ نماز بعض بچے شرارت کرتے ہیں، ان کے درمیان دھکم پیل، دوڑ بھاگ اور گفتگو ہوتی رہتی ہے، جس کی بناپر مسجد کے پُرسکون ماحول میں خلل واقع ہوتا ہے۔ نماز ختم ہونے کے بعد بعض لوگوں کی طرف سے بچوں پر ڈانٹ پھٹکار پڑتی ہے اور بسااوقات ان کی پٹائی بھی کردی جاتی ہے۔ اس رویّے سے اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان بچوں کے دلوں میں نماز اور مسجد سے دُوری نہ پیدا ہوجائے۔ ایک چیز یہ بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ بچے پچھلی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ نماز شروع ہونے کے بعد جو لوگ آتے ہیں وہ انھیں کھینچ کر اور پیچھے کردیتے ہیں۔ کچھ لوگ چھوٹے بچوں کو بڑوں کی صفوں میں اپنے ساتھ کھڑا کرلیتے ہیں۔ براہ کرم واضح فرمائیں کہ مساجد میں بچوں کی حاضری کے سلسلے میں شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟ بچوں کو مساجد میں لانا بہتر ہے یا نہ لانا؟ کیا مسجد میں شرارت کرنے والے بچوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ کا رویہ مناسب ہے؟ نیز مسجد میں انھیں کہاں کھڑا کرنا چاہیے؟

جواب: مسجد اسلامی معاشرے کا نشانِ امتیاز ہیں۔ اسلام نے زندگی کے مختلف امور و معاملات کو اجتماعی طور سے انجام دینے کا جو حکم دیا ہے ، مساجد میں نماز باجماعت کی صورت میں اس کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ مساجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کے مخصوص مقامات ہیں، اس لیے وہاں کے ماحول کو پُرسکون اور روح پرور بنائے رکھنا ضروری ہے۔ اسی بنا پر وہاں ایسے کام کرنے کی ممانعت کی گئی ہے جن سے سکون میں خلل آئے، شوروشغب ہو، لوگ اکٹھا ہوکر اِدھر اُدھر کی باتیں کریں اور نماز پڑھنے والے ڈسٹرب ہوں۔ اسی مصلحت سے مسجد میں خریدوفروخت کے کام ممنوع ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم مسجد میں کسی شخص کو خریدو فروخت کرتے دیکھو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمھارے کاروبار میں نفع نہ کرے‘‘۔(جامع ترمذی، کتاب البیوع، باب النھی عن البیع فی المسجد، ۱۳۲۱)

اسی طرح مسجد میں گم شدہ چیزوں کا اعلان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جو شخص سنے کہ کوئی آدمی مسجد میں اپنی کسی گم شدہ چیز کا اعلان کر رہا ہے، وہ کہے: ’’اللہ کرے    وہ چیز تمھیں واپس نہ ملے، کیوں کہ مسجدیں اس مقصد کے لیے نہیںبنائی گئی ہیں‘‘۔(مسلم،  کتاب المساجد، باب النھی عن نشد الضالۃ فی المسجد، ۵۶۸،  اسے ابودائود،   ابن ماجہ، ابن خزیمہ، بیہقی اور ابوعوانہ نے بھی روایت کیا ہے)

ایک مرتبہ ایک شخص کا اُونٹ کھو گیا۔ اس نے مسجد میں ا س کا اعلان کردیا۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ’’مسجدیں تو مخصوص کام (عبادتِ الٰہی) کے لیے بنائی گئی ہیں‘‘۔(سنن ابن ماجہ، کتاب المساجد، باب النھی، عن انشاد السوال فی المسجد، ۷۶۵)

اس بنا پر ہر ایسے کام سے بچنا چاہیے جس سے نمازیوں کے سکون و انہماک میں خلل آئے، ان کا ذہن بٹے اور مسجد کا ماحول متاثر ہو۔دوسری جانب احادیث میں بچوں کی ابتداے عمر ہی سے دینی تربیت پر زور دیا گیا ہے۔ نماز کی فرضیت اگرچہ بلوغ کے بعد ہے، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے کہ اس سے قبل ہی ان میں نماز کا شوق پیدا کیا جائے اور ان سے نماز پڑھوائی جائے۔ آپ ؐ کا ارشاد ہے:’’بچے سات سال کے ہوجائیں تو انھیں نماز کا حکم دو اور دس سال کے ہوجائیں (اور نماز نہ پڑھیں) تو انھیں مارو‘‘۔(سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ،۴۹۵، سنن ترمذی:۴۰۷)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپؐ نے مختلف مواقع پر نماز پڑھی تو اپنے ساتھ بچوں کو شریک کیا۔ حضرت انسؓ،جن کی عمر ہجرتِ نبویؐ کے وقت دس سال تھی، بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے ایک مرتبہ میرے گھر پر نماز پڑھی تو میں اور ایک دوسرا لڑکا آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ہم نے آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی۔ (بخاری، کتاب الاذان، باب وضوء الصبیان: ۸۶۰۔ یہ حدیث مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور مسند احمد میں بھی مروی ہے)

بچوں کی دینی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ انھیں قرآن کریم کی سورتیں یاد کرائی جائیں، نماز کے اوراد و کلمات حفظ کرائے جائیں، نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا جائے۔ گھر پر نماز پڑھی جائے تو انھیں شریکِ نماز کیا جائے اور انھیں اپنے ساتھ مسجد بھی لے جایا جائے، تاکہ وہ ابتداے عمر ہی سے مسجد کے آداب سے واقف ہوں اور انھیں باجماعت نماز ادا کرنے کی رغبت ہو۔ عہدِنبویؐ میں ہرعمر کے بچے مسجد نبویؐ میں جایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی عمریں آپؐ کی وفات کے وقت سات آٹھ سال تھیں۔ متعدد روایات میں صراحت ہے کہ وہ نمازوں کے اوقات میں مسجد نبویؐ میں جایا کرتے تھے اور بسااوقات ان کی وجہ سے بہ ظاہر آپؐ کی نماز میں خلل واقع ہوتا تھا، لیکن کبھی آپؐ نے ان کی سرزنش نہیں فرمائی اور انھیں مسجد میں آنے سے نہیں روکا۔

حضرت ابوقتادہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ نماز لمبی کروں، پھر کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اس ڈر سے نماز مختصر کردیتا ہوں کہ کہیں لمبی نماز اس کی ماں کے لیے تکلیف کا باعث نہ بن جائے‘‘۔

اُوپر جو کچھ تحریر کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسجد کے ماحول کو پُرسکون بنائے رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے اور اگرچہ بچوں کے مسجد میں آنے کی وجہ سے کچھ خلل واقع ہوتا ہے اور نمازیوں کا انہماک متاثر ہوتا ہے ، لیکن زیادہ بڑی مصلحت کی بنا پر اس خلل کو گوارا کرنا چاہیے۔ وہ مصلحت یہ ہے کہ ان کے اندر نماز کی ترغیب پیدا کی جائے اور انھیں اس کا عادی بنایا جائے۔

بعض حضرات بچوں کو مسجد میں لانے سے روکنے کے لیے ایک حدیث پیش کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’اپنی مسجدوں سے اپنے بچوں کو دُور رکھو‘‘(سنن ابن ماجہ باب یکرہ فی المساجد،۷۵۰)۔ لیکن یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ زوائد میں ہے کہ  ’’اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں ایک راوی حارث بن نبہان ہے، جس کے ضعف پر ناقدینِ حدیث کا اتفاق ہے‘‘۔ عصرِحاضر کے مشہور محدث علامہ محمد ناصرالدین البانی  ؒ نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عہدنبویؐ میں نمازِ باجماعت میں پہلے مردوں کی صفیں ہوتی تھیں، پھر بچوں کی۔ حضرت ابومالک اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو آگے کھڑا کرتے تھے اور ان کے پیچھے بچوں کو۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب مقام الصبیان من الصف،۶۷۷۔اس روایت کو اس کے ایک راوی شہر بن خوشب کی وجہ سے ضعیف قراردیا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے ضعیف سنن ابی داؤد، للالبانی، روایت ۵۵۳)

بعض مواقع پر آپؐ نے نماز پڑھی اور وہاں صرف بچے ہوتے تو اگر ایک بچہ تھا تو آپؐ نے اسے اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا اور اگر دو بچے ہوئے تو انھیں اپنے پیچھے کھڑا کیا۔ اس سے یہ استنباط کیا جاسکتا ہے کہ بچوں کی صفیں مردوں کے پیچھے بنائی جانی چاہییں، البتہ وقت ِ ضرورت انھیں بڑوں کے ساتھ بھی، درمیان یا کنارے کھڑا کیاجاسکتا ہے۔ علامہ البانی  ؒ سنن ابی داؤد کی درج بالا روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’بچوں کو مردوں کے پیچھے کھڑا کرنے کی کوئی دلیل اس حدیث کے علاوہ مجھے نہیں ملی، اور یہ حدیث ناقابلِ حجت ہے۔ اس لیے میں اس میں کوئی  حرج نہیں سمجھتاکہ بچے مردوں کے ساتھ کھڑے ہوں، جب کہ صف میں وسعت بھی ہو‘‘۔    (فقہ الحدیث، طبع دہلی، ۲۰۰۴ئ،  ج۱، ص ۴۸۸، بہ حوالہ تَمَامُ المِنَّۃ ،ص ۲۸۴)

بچوں کے، بڑوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ان میں سنجیدگی آئے گی اور وہ شرارتیں کم کریں گے۔ مناسب یہ ہے کہ جماعت کھڑی ہونے کے وقت بڑوں کے پیچھے بچوں کی صف بنائی جائے۔ پھر نماز شروع ہونے کے بعد جو بڑے لوگ جماعت میں شامل ہوں، وہ بچوں کو کھینچ کر پیچھے نہ کریں، بلکہ ان ہی کی صف میں شامل ہوجائیں۔

مسجد میں شرارت کرنے والے بچوں کے ساتھ ڈانٹ پھٹکار کرنے، یا ان کی پٹائی کرنے کا رویہ مناسب نہیں ہے۔ آج کے دور میں دین سے دُوری عام ہے۔ بچے خاصے بڑے ہوجاتے ہیں، پھر بھی نہ ان میں نماز پڑھنے کی رغبت پیدا ہوتی ہے، نہ ان کو نماز پڑھنے کا سلیقہ آتا ہے۔ جوبچے مسجد میں آتے ہیں،اندیشہ ہے کہ ان کے ساتھ اختیار کیا جانے والا درشت رویّہ کہیں انھیں مسجد اور نماز سے دُور نہ کردے۔ عموماً شرارت کرنے والے بچے دو چار ہی ہوتے ہیں، لیکن صف میں موجود تمام بچوں کو ڈانٹ سہنی پڑتی ہے۔ اس کے بجاے انھیں سمجھانے بجھانے کا رویّہ اپنانا چاہیے۔

آخر میں والدین سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا خصوصی اہتمام کریں۔ دین کی بنیادی قدریں ابتدا ہی سے ان کے ذہن نشین کریں۔ مسجد کی کیا اہمیت ہے؟ نماز کیوں پڑھی جاتی ہے؟ نماز میں کیا پڑھنا چاہیے؟ اس کی ادائی میں کتنی سنجیدگی اور سکون ملحوظ رکھنا چاہیے، یہ باتیں بچوں کو سمجھائی جائیں۔ اس سے اُمید ہے کہ مسجدوں میں بچوں کی موجودگی سے وہ شوروہنگامہ اور اودھم نہیں ہوگا ، جس کا آئے دن مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ (ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)


انبیاے کرام ؑ پر مبنی فلمیں

س: آج کل مختلف انبیاے کرام ؑحضرت عیسٰی ؑ، حضرت یوسف ؑ اور حضرت موسٰی ؑاور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر فلمیں بنائی جارہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک اداکار انبیاے کرام کے کردار پر مبنی فلم میں اداکاری کرتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟ کیا مسلمانوں کو ایسی فلمیں دیکھنا چاہییں، یا نہیں؟

ج:  انبیاے علیہم السلام کی فلمیں بنانا اور ان میں اداکار کا کردار ادا کرنا ناجائز اور      حرام ہے۔ اس سے انبیاے علیہم السلام کی توہین ہوتی ہے۔ان کی اپنے پاس سے شبیہہ بنانا،     یہ انبیاے علیہم السلام پر جھوٹ کے مترادف ہے اور ان کی توہین ہے۔ مسلمان اس قسم کی حرکت کو قبول اور برداشت نہیں کرتے۔ اس لیے جہاں کہیں یہ کام ہو رہا ہو، اس کی مزاحمت کرنا چاہیے اور اسے روکنا چاہیے۔(مولانا عبدالمالک)


خلع کے بعد نکاح

س: کچھ عرصہ قبل میرے بیٹے کی شادی ہوئی تھی مگر کچھ تنازعات پیدا ہوگئے جو تمام تر کوشش کے باوجود حل نہ ہوسکے۔ میرے بیٹے کی بیوی نے عدالت میں خلع کا مقدمہ دائر کر دیا۔ اس نے اپنا مہر چھوڑ دیا اور عدالت نے اس کو خلع دے دی۔ اب یہ دونوں دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ کیا خلع کے بعد نکاحِ ثانی ہوسکتا ہے؟

ج:  آپ کے بیٹے سے اس کی بیوی نے خلع بذریعہ عدالت لی۔ عدالت کی طرف سے جاری کردہ خلع کی ڈگری تنسیخِ نکاح کی ڈگری ہوتی ہے جو ایک طلاق بائن ہوتی ہے۔ اس کے بعد میاں بیوی راضی ہوں تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں لیکن دوبارہ نکاح میں نیا مہر مقرر کرنا ہوگا۔ اس لیے یہ دونوں اگر دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔ واللہ اعلم!(ع - م )


صدقات وعطیات سے سرمایہ کاری

س:  مختلف دینی و سماجی تنظیمیں سال بھر عطیات، خیرات، زکوٰۃ، صدقات و چرم قربانی کی شکل میں رقوم وصول کرتی ہیں اور پورے سال پر تقسیم کر کے اپنی رفاہی خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ اس طرح یہ تمام رقوم ایک طویل عرصے تک سودی بنکوں کے کھاتوں میں رکھی رہتی ہیں۔ اگر ان رقوم کو اسلامی بنک یا مضاربہ کے نفع بخش کھاتوں میں رکھوادیا جائے توایک طرف ہم سودی بنکوں کے کاروبار کو بڑھانے میں مددگار نہیں ہوں گے اور دوسری طرف ان دینی و سماجی تنظیمات کو اپنے رفاہی مقاصد کے لیے نفع کی صورت میں کچھ مزید رقم مل جائے گی جس سے مخلوقِ خدا کی بہترانداز میں خدمت ہوسکے گی۔ کچھ لوگ اس کو خلافِ شرع تصور کرتے ہیں۔ آپ سے رہنمائی کی درخواست ہے۔

ج:  رقوم حفاظت کے لیے غیرسودی بنکوں میں رکھی جاسکتی ہیں تاکہ وہ محفوظ رہیں اور  جن مقاصد کے لیے جمع کی گئی ہیں اُن میں حسبِ ضرورت نکال کر خرچ کی جاسکیں۔ دفتر یاگھر میں رکھنے سے رقم کے ضائع ہونے کاخطرہ ہوتا ہے۔ کسی اسلامی بنک میں اس طرح کی رقوم کو بڑھانے کے لیے مضاربہ یا مشارکہ میں لگانا بھی جائز ہے، تاکہ اصل رقم سے بھی فقراا ور مساکین کی مدد کی جائے اور مزید منافع حاصل کرکے بھی ان کی مدد کی جائے۔ لیکن رقم کے ڈوب جانے کی صورت میں اس فرد، یا ادارے کو اپنے پاس سے تاوان دینا پڑے گا، جس نے بنک میں کاروبار میں رقم لگائی ہوگی۔ واللّٰہ اعلم! (ع- م)

کتاب اللہ پڑھنے کے قواعد، قاضی بشیراحمد۔ ناشر: منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔  فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲۔ صفحات: ۳۶۵۔ قیمت ( مجلد): ۳۲۰ روپے۔

قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب ِ اطہر پر اُتارا گیا۔ اس کلام کو تلاوت کرکے اسے پڑھنے کے طریقے کی تعلیم دی گئی۔ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا  سے معلوم ہوا کہ  حقِ تلاوت قرآن ٹھیرٹھیر کر پڑھنے ہی سے ادا ہوتا ہے۔ تلاوت میں تلفظ کی درست ادایگی، مخارجِ حروف،  وقف ووصل کے قواعد کو پیش نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ کتاب آدابِ تلاوت اور طریقۂ تلاوت پر ایک اچھا اضافہ ہے۔ مؤلف نے کتاب میں عام فہم علمی اسلوب اختیار کرکے تجوید کی شُدبُد رکھنے والوں کے لیے عمدہ مواد جمع کر دیا ہے۔

مخارج حروف، صفاتِ حروف، تجوید کے منفرد قواعد، علم وقف، علم رسم الخط، علم قراء ت کے ساتھ ساتھ تلاوت شروع اور ختم کرنے کا طریقۂ کار اور علومِ قرآن کے متعدد موضوعات کو ترتیب دے کر قاری کی دل چسپی کا سامان کر دیا ہے۔ تجویدی اصطلاحات کی لغوی و اصطلاحی تعریفات کو بڑی خوبی سے ابتدا میں پیش کر کے ہرسبق کی تفہیم کو آسان کر دیا گیا ہے۔ اگر کتاب کا سبقاً سبقاً مطالعہ کیا جائے تو عملی مثالوں سے مزین اسباق، قراء ت کا لطف دوبالا کرنے کا سبب ہوں گے۔

یہ کتاب جدید تعلیم یافتہ افراد کے ذوق قرآن کو بڑھانے والی ہے۔ ۱۰؍ ابواب پر مشتمل  یہ کتاب تجوید کے ابواب کا احاطہ کرتی ہے۔ آخر میں رسول کریمؐ کے خطوط کا عکس، جامع قرآن حضرت عثمانؓ کے مصحف کا عکس، کوفی رسم الخط قرآن کا عکس، قرآنی خطاطی کے نمونے اور دیگر عربی خطاطی کے نمونوں کا اضافہ اچھی کاوش ہے۔ (طارق نور الٰہی)


جدید اُردو کتابیات سیرت ، حافظ محمد عارف گھانچی۔ ناشر: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، اے-۴/۱۷،  ناظم آباد نمبر۴، کراچی۔ فون: ۳۶۶۸۴۷۹۰-۰۲۱۔ صفحات: ۲۶۴۔ قیمت:۲۲۰ روپے۔

مغرب نے کتابیات نگاری کے فن میں بہت ترقی کی ہے لیکن اس فن کے مسلم بنیاد گزاروں خصوصاً ابن ندیم (صاحب الفہرست) اور حاجی خلیفہ (صاحب ِ کشف الفنون) نے بھی ناقابلِ فراموش خدمات انجام دی ہیں اور مستشرقین ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ اُردو محققین گذشتہ چار پانچ عشروں سے اس فن کی طرف متوجہ تو ہوئے ہیں، مگر ابھی تک ہمارے ہاں کتابیات نگاری کے سائنسی اصول و ضوابط واضح شکل میں مرتب و متعین نہیں ہوسکے۔ اُردو زبان میں سیرتِ نبویؐ نہایت ہی باثروت اور وسعت پذیر موضوع ہے۔ اس لیے اس موضوع پر کم و بیش چار پانچ کتابیات مرتب ہوچکی ہیں، جن کی ترتیب میں نام وَر اساتذہ اور تحقیق کاروں (پروفیسر سیّدافتخار حسین شاہ مرحوم، پروفیسر حفیظ تائب مرحوم، پروفیسر حافظ احمد یار مرحوم اور ڈاکٹر انورمحمود خالد )نے حصہ لیا ہے۔

زیرنظر کتابیات میں ۱۹۸۰ء اور ۲۰۰۹ء کے درمیانی عرصے میں شائع ہونے والی ۱۷۸۵ کتب ِ سیرت کے حوالے الف بائی ترتیب سے یک جا کیے گئے ہیں۔ ہرحوالہ: مصنف/ مرتب/ مترجم کے نام، کتاب کے نام، مقامِ اشاعت، ناشر، سنہ اشاعت اور  تعدادِ صفحات پر مشتمل ہے۔ اگر فاضل کتابیات نگار دو ایک سطروں میں ہر کتاب کی نوعیت بھی واضح کردیتے تو قاری کو بہتر رہنمائی مل جاتی (جیسا اہتمام بعض سابقہ کتابیات میں ملتا ہے)۔ یہ اس لیے کہ صرف نام سے کتاب کی محتویات کا بسااوقات پتا نہیں چلتا۔ادبِ سیرت میں بعض کتابیں ایک محدود دَور سے متعلق ہیں، بعض آپؐ کی سیرت اور شخصیات کے کسی ایک پہلو یا کسی خاص زمانے کا احاطہ کرتی ہیں، بعض میں صرف حالات ہیں، بعض صرف فضائل پر مشتمل ہیں، بعض بچوں کے لیے ہیں اور بعض حوالوں سے گراں بار، اُونچے درجے کی تحقیق کا حاصل ہیں وغیرہ۔

حافظ گھانچی صاحب ایک جامع کتابیاتِ سیرت تیار کرنے کا عزمِ مبارک رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد کے سیرت و رسولؐ نمبروں کے حوالے، اسی طرح اُردو میں سیرت پر پہلی کتاب سے تاایں دم چھپنے والی کتابوں کے حوالے بھی اس موعودہ کتاب میں شامل ہوں گے۔ جامع کتابیات سیرت وضاحتی (annotated) ہونی چاہیے۔ ا س سے قدروقیمت اور افادیت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ (رفیع الدین ہاشمی)


رسولِؐ رحمت تلواروں کے سایے میں، حصہ سوم، حافظ محمد ادریس۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۴۰۸۔ قیمت: ۳۲۵ روپے۔

’رسولِؐ رحمت‘ کا موضوع غزوات و سرایا ہیں۔ اس سلسلۂ تحریر میں مؤلف کی یہ تیسری کاوش ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ۱۹غزوات اور ۲۱ سرایا میں حصہ لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ہمیشہ شہادت کی آرزو کی اور فرمایا کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ کتاب سیرتِ پاک کے اس اہم پہلو کو سامنے لاتی ہے ، اور یہودیت کی تاریخ، ان کی احسان فراموشی، ایذا رسانی، صحرانوردی، مدینہ کے مختلف قبائل، بنوقینقاع، بنونضیر، بنوقریظہ، خیبر اور بعض مشرک قبائل کے تذکرے اور تفصیلی تعارف پر مشتمل ہے۔ اخلاق و عادات، ان کے معاہدات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعت صحابہؓ کے ساتھ ان کے رویوں کا بیان مستند حوالوں سے بیان کیا گیا ہے۔  ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی حکمت عملی، طریق کار اور صلح و امن کے بارے میں سیرحاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس دوران جن احکامات و مسائل کا ذکر آیا ہے، ان کے بارے میں بھی رہنمائی دی گئی ہے۔ کتاب کے کُل ۱۰؍ابواب ہیں۔

 پیش لفظ محترم سید منور حسن اور تقریظ محترم مولانا عبدالمالک نے لکھی ہے۔ اس سے قبل   یہ سلسلۂ مضامین قسط وار ہفت روزہ ایشیا میں جاری رہا ہے۔ (عمران ظہور غازی)


نقوشِ صحابہؓ ،خالدمحمد خالد، ترجمہ: ارشاد الرحمن۔ ناشر:منشورات،منصورہ، ملتان روڈ، لاہور- ۵۴۷۹۰۔ فون:۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲۔ صفحات: ۵۸۴۔ قیمت (مجلد): ۴۹۰ روپے۔

زیرنظر کتاب ۵۵؍ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ درخشاں کی داستان ہے۔   یہ تذکرہ اصحابِ رسولؐ کی سوانح عمری کی طرز پر نہیں مرتب کیا گیا بلکہ مذکورہ صحابہ کرامؓ کے کارناموں اور زندگی کے روشن پہلوئوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ وہ لوگ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ’رضی اللہ عنہم و رضو عنہ‘ فرما دیا، اُنھی لوگوں کے کردار کی عملی مثالیں اس کتاب میں درج ہیں۔ تذکرہ قصہ گوئی کے انداز میں ہے اور پڑھتے ہوئے قاری جذب و شوق میں ڈوب جاتا ہے۔

دراصل یہ عربی کتاب رجال حول الرّسول کا اُردو ترجمہ ہے لیکن بقول مترجم:    اس میں حک و حذف اور ترمیم و اضافے سے کام لیا گیا ہے۔ اسی موضوع پر عبدالرحمن رافت پاشا کی کتاب صورٌ من حیاۃِ الصحابہ سے ان واقعات کا اضافہ بھی کیا گیا ہے جو پہلے اس میں موجود نہیں تھے۔ کتاب کی زبان سلیس، عام فہم اور رواں ہے، فصاحت و بلاغت کی اچھی مثال۔   جناب ارشاد الرحمن نے ترجمہ ایسی عمدگی اور مہارت سے کیا ہے کہ ان کی تحریر ترجمہ معلوم نہیں ہوتی، تخلیق کا گمان گزرتا ہے۔(قاسم محمود احمد)


علوم الحدیث، ڈاکٹر باقر خان خاکوانی۔ ناشر: ادارہ مطبوعات سلیمانی، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۲۷۸۸-۰۴۲۔ صفحات: ۲۵۳۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

اُمت مسلمہ کا فخر ہے کہ وہ علوم کی ترویج کے ساتھ ساتھ علوم کے ایجاد کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیںرکھتی۔ اس دعوے کی حقیقت اُس وقت آشکار ہوتی ہے جب علوم القرآن و علوم الحدیث میں مسلمانوں کے کارہاے نمایاں کا مطالعہ کیا جائے۔ ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی کی یہ تصنیف علوم الحدیث میں مسلمانوں کے کارنامے کی ایک مختصر داستان ہے۔ پہلے تین ابواب میں تو اصطلاحات کو آسان کرکے روزمرہ کی زبان میں علوم الحدیث کا تعارف کروایا گیا ہے۔ چوتھا باب حضرت ابن حجر عسقلانی کے عظیم کارہاے نمایاں خصوصاً ’نخبۃ الفکر‘ کے تعارف پر مشتمل ہے۔ پانچویں باب میں حدیث کی اقسام پر سیرحاصل گفتگو کی گئی ہے۔ اگلے تین ابواب تاریخ علومِ حدیث سے متعلق ہیں اور آخری باب میں علوم الحدیث کی مزید تفصیل، یعنی علم جرح و تعدیل، علم مختلف الحدیث، علم علل الحدیث، علم غریب الحدیث اور علم ناسخ و منسوخ کو پیش کر کے طلبہ علوم الحدیث کی پیاس کو بجھانے کا اہتمام بڑی عمدگی سے کیا گیا ہے۔ بی ایس اور ایم ایس اسلامیات اور علوم الاحادیث میں دل چسپی رکھنے والے حضرات کے لیے مفید کاوش ہے۔ (قلبِ بشیر خاور بٹ)


زمانۂ تحصیل، عطیہ فیضی۔ ترتیب و تدوین: محمد یامین عثمان۔ ناشر: ادارہ یادگار غالب، پوسٹ بکس ۲۲۶۸، ناظم آباد، کراچی-۷۴۶۰۰۔ صفحات: ۱۷۳۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

انیسویں صدی میں برعظیم میں انگریزوں کی آمد خصوصاً ۱۸۵۷ء میں ان کے تسلط کے بعد، بعض علاقوں میں جدید تعلیم کا آغاز ہوا، مگر ابتدا میں انگریزوں نے طبقۂ اناث کے لیے کوئی   سکول کالج قائم نہیں کیا، حتیٰ کہ مسلمانوں میں جدید انگریزی تعلیم کے سب سے بڑے علَم بردار سرسیّداحمد خاں کا رویّہ بھی تعلیمِ نسواں کی جانب عدمِ التفات ہی کا تھا۔ اس ماحول میں عطیہ فیضی کا اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان جانا، ایک اچنبھے سے کم نہ تھا۔ وہ تقریباً ایک سال تک لندن میں زیرتعلیم رہیں، پھر خرابیِ صحت کی وجہ سے واپس آگئیں۔

ان کا لندن کا زمانۂ قیام تقریباً ایک سال کا ہے۔ زیرنظر کتاب اِسی ایک برس کا روزنامچہ یا ڈائری ہے۔ انھوں نے حصولِ تعلیم کے ساتھ ساتھ اِس عرصے میں خوب خوب سیروسیاحت بلکہ سیرسپاٹا بھی کیا۔ طرح طرح کی دعوتوں، پارٹیوں، تقریبات اور جلسوں میں شریک ہوئیں۔ لندن کی قابلِ ذکر عمارتوں، کتب خانوں، عجائب گھروں اور باغات کا مشاہدہ کیا۔ علامہ عبداللہ یوسف علی کے لیکچروں میں شریک ہوتی رہیں۔ اپنے مشاہدات کے بیان میں وہ خواتین کے نئی نئی اقسام کے لباسوں اور زیورات کا ، اور گھروں کی اندرونی سجاوٹوں کا بڑے ذوق و شوق سے ذکر کرتی ہیں۔ وہ لندن کے ’عجائبات‘ اور نئی نئی چیزوں پر متعجب اور حیران ہوتی ہیں مگر اہلِ مغرب اور فرنگی تہذیب پر اظہارِ حیرت کے باوجود کئی جگہ یہ ضرور کہتی ہیں کہ خدا کرے یہ تہذیب اور اس طرح کے بے ہودہ لباس ہمارے ملک میں رائج نہ ہوں۔ لباس میں بھی وہ شائستگی کی قائل ہیں۔

اِس روزنامچے سے ایک صدی پہلے کے لندن کے حالات و کوائف اور ماحول کا پتا چلتا ہے۔ لیکن عطیہ فیضی کے لیے جو باتیں باعثِ تعجب تھیں، ایک صدی گزرجانے، فاصلے سمٹ جانے اور ذرائع ابلاغ میں انقلاب کی وجہ سے آج کے قاری کو ان میں اتنی دل چسپی محسوس نہیں ہوتی، البتہ اس روزنامچے کی تاریخی اہمیت ضرور ہے۔ روزنامچے کے دیباچہ نگار ڈاکٹر معین الدین عقیل کے خیال میں یہ اوّلین نسوانی سفر ناموں میں سے ایک ہے۔ اس اہم تاریخی ماخذ کو محمد یامین نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے اور متن پر تقریباً ۲۵ صفحات کے مفید حواشی کا بھی اضافہ کیا ہے۔ تاریخ، تعلیم، اقبالیات اور ایک حد تک ادب سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔ (ر-ہ)


اسرائیل آغاز سے انجام کی طرف ، میربابر مشتاق۔ ناشر: راحیل پبلی کیشنز، اُردو بازار، کراچی، صفحات:۳۵۰۔ قیمت: ۳۹۰ روپے۔

آج فلسطینی مسلمان بدترین صہیونی مظالم کا شکار ہیں۔ معصوم بچے، بوڑھے، خواتین اور معذور بھی یہودیوں کی سفاکی، درندگی اور بدترین مظالم سے محفوظ نہیں۔ عالمی قوتوں کی جانب داری اور اُمت مسلمہ کی بے حسی اس پر مستزاد ہے۔ زیرنظر کتاب کا مقصد ظلم اور ظالم کو بے نقاب کرنا اور مظلوم کی حمایت اور دادرسی کے جذبے کو بیدار کرنا ہے۔

زیرنظر کتاب ارضِ فلسطین کے تاریخی، سیاسی اور جغرافیائی حقائق کے ساتھ ساتھ یہودیوں کی نسلی تفاخر، ان کے بدترین مذہبی تعصب، انتہاپسندی، توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم اور فلسطینی  مسلمانوں پر لرزہ خیز مظالم کی رپورٹوں اور تجزیوں پر مشتمل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے نام نہاد علَم برداروں اور ٹھیکے داروں کے ساتھ ساتھ مسلمان حکمرانوں کے مایوس کُن اور شرم ناک کردار کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔ فلسطینی تحریکِ انتفاضہ حماس کی جدوجہد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور مسلمان مجاہدین مرد وزن کی لازوال قربانیاں بھی بیان کی گئی ہیں۔ اسرائیل کے انجام کے بارے میں جامع تجزیے اور اُمت مسلمہ کے لیے لائحہ عمل کی کمی کھٹکتی ہے۔ تاہم، مجموعی طور پر   مفید کاوش ہے جو مسئلۂ فلسطین کی اہمیت اور فلسطینی مسلمانوں کی طویل اور تاریخ ساز جدوجہد کو اُجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ پروفیسر خورشیداحمدصاحب کے پیش لفظ سے کتاب کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔ (حمیداللّٰہ خٹک)


رقصِ ابلیس (ناول) (انقلاب ۱۹۴۷ء کی ایک خُوں چکاں داستان)، ایم اسلم۔ ناشر: القمر انٹرپرائزز، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۲۳۸۔ قیمت مجلد: ۳۰۰ روپے۔

۱۹۴۷ء میں برطانوی استعمار برعظیم پاک و ہند سے رخصت ہوا اور دو آزاد ریاستیں بھارت اور پاکستان کی صورت میں وجود میں آگئیں۔ برطانوی ہند کی تمام ریاستوں خصوصاً مشرقی پنجاب، دہلی، یوپی اور ملحقہ علاقوں سے لاکھوں لوگ مشرقی و مغربی پاکستان میں پناہ گزین ہوئے۔ اس مہاجرت کے دوران اندازہ ہے کہ ۷۵ لاکھ انسان جاں بحق ہوئے۔ جن خاندانوں کے افراد نے قربانی دی اُن کی دوسری اور تیسری نسل کو بھی، تڑپا دینے والے واقعات یاد ہیں۔ تقسیم کے موقع پر جس قدر خون بہایا گیا، اُن میں سے چند ہزار واقعات بھی اکٹھے کرلیے جائیں تو آنے والی نسلیں اُس ظلم وستم کو یاد رکھ سکیں گی جو ہندوئوں اور سکھوں نے نہتے مسلمانوں پر کیے۔ مظالم کی ہلکی سی جھلک علامہ شبیراحمدعثمانی، محمد حسن عسکری اور مصنف کے پیش لفظ میں جھلکتی ہے۔

ایم اسلم نے اِس انقلابِ عظیم اور عظیم الشان قربانی کی لازوال داستان کو ناول کی صورت میں مرتب کر دیا ہے۔ اِس ناول کی ایک ایک سطر سے حقیقت ٹپکتی ہے، محسوس یوں ہوتا ہے کہ  ناول نگار نے ہجرت کے عمل کو نہ صرف بہ نظر غائر دیکھا بلکہ اُس کرب کو براہِ راست محسوس کیا جو بیٹی کے اُٹھا لیے جانے، بیٹے کے قتل کیے جانے اور پورے خاندان کو موت کے گھاٹ اُترتے ہوئے دیکھنے والے کو محسوس ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی کا پاکستان، ۱۹۴۷ء کی تقسیم کو فراموش اور ۱۹۷۱ء کے سانحے کو کتابوں میں دفن کرچکا ہے اور ’پسندیدہ قوم‘ سے تعلقات بڑھانے کی جستجو میں سرگرمِ عمل ہے۔ ایم اسلم کا ناول، یقینا ہمیں اپنے ماضی سے جوڑے رکھے گا۔ اِس کی طبع اوّل کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس ناول کو ہر نوجوان کی دست رس اور ہر لائبریری میں ہونا چاہیے۔ (محمد ایوب منیر)


بنگلہ دیش اور ارکانی مہاجرین، مولانا محمد صدیق ارکانی۔ ناشر: جمعیت خالد بن ولید، الخیریہ ، ارکان، میانمار (برما)۔ براے رابطہ: مولانا عنایت اللہ، کراچی۔ فون: ۲۲۶۸۰۹۴-۰۳۲۱۔ صفحات: ۶۰۔ قیمت: درج نہیں۔

میانمار (برما) کے ایک مسلم اکثریتی صوبہ ارکان کے مسلمان عرصۂ دراز سے حکومتی مظالم کے شکار ہیں اور انسانیت سوز مظالم سے تنگ آکر بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور ہیں۔ مصنف کو    مولانا تنویرالحق تھانوی کے ہمراہ انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش کے سفر کا موقع ملا۔ انھوں نے ارکانی مہاجرین کے خستہ حال کیمپوں کا بھی دورہ کیا اور جس کسمپرسی کے عالم میں ارکانی مسلمان رہ رہے ہیں ان کا تذکرہ کیا ہے اور تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت کا رویہ بھی مناسب نہیں۔ مصنف کے بقول: دیگر مسائل کے علاوہ ارکانی خواتین کو کیمپوں سے لے جاکر فروخت کردیا جاتا ہے۔ عیسائی تنظیمیں بھی سرگرم ہیں۔ اب تک ۲ہزار سے زائد ارکانی مہاجرین کو مغربی ممالک منتقل کیا جاچکا ہے۔ افسوس کہ مسلم ممالک اپنا کردار ادا نہیں کر رہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش سے متعلق بنیادی معلومات اور دینی مدارس کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ (امجد عباسی)


تعارف کتب

  • تقرب الی اللہ، مولانا فاروق احمد۔ ناشر: مجلس التحقیق والنشر الاسلامی، ۷۱۸-کامران بلاک، علامہ اقبال ٹائون، لاہور۔ صفحات ۱۵۲۔ قیمت: ۲۲۰ روپے۔[اللہ کی بندگی اور تحریک اسلامی کی جدوجہد کے لیے تعلق باللہ اساس و بنیاد ہے۔ قربِ الٰہی کے حصول کے لیے زیرنظر کتاب میں قرآن و حدیث کی روشنی میں ایمان اور  عملِ صالح کے تقاضے، فرض نمازوں کے علاوہ نوافل کا اہتمام، دعا کی اہمیت و ضرورت، اسوۂ رسولؐ اور صحابہؓ کے معمولات بیان کیے گئے ہیں۔ تعمیرسیرت کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ آخر میں مقربین و اَبرار کے مقام، اصحابِ یمین کے مرتبے کا تعین اور ترغیب دلائی گئی ہے، نیز اہلِ جہنم اور جہنم کی ہولناکیوں کا تذکرہ اس دل سوزی سے کیا گیا ہے کہ دل لرز کر رہ جاتا ہے۔ اپنے موضوع پر ایک جامع کتاب ہے۔]
  • اسلامی بم کا خالق کون؟، مبین غزنوی، محمد عبداللہ گل۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۲۳۳۶-۰۴۲۔ صفحات: ۱۳۳۔ قیمت (مجلد): ۳۰۰ روپے۔ [پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں مختلف کتب سامنے آچکی ہیں۔ زیرنظر کتاب میں ایٹمی پروگرام کا آغاز، تکمیل کے مراحل کی کہانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زبانی بیان کی گئی ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے کی حقیقت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے خاتمے کے لیے کی جانے والی سازشوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت اور نجی زندگی کے کچھ پہلو بھی زیربحث آئے ہیں۔]
  • تذکرۂ مشاہیر چودھواں،تالیف: مولانا عماد الدین محمود۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، خالق آباد، نوشہرہ۔ صفحات: ۱۹۹۔ قیمت: درج نہیں۔[چودھواں ، ڈیرہ اسماعیل خان کے نزدیک تقریباً ایک ہزار سال پرانا قصبہ ہے۔ یہ خطّہ اس حوالے سے زرخیز ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں مشاہیر پیدا ہوئے جنھوں نے دین کی خدمت انجام دی۔ مشاہیر کے تذکرے کے ساتھ ساتھ علاقے کا تاریخی پس منظر، مختلف اقوام کے حالات، بودوباش، تہذیب و ثقافت، علاقائی تہواروں اور رواجوں کا تفصیلی ذکر۔ علاقائی تاریخ مرتب کرنے کی ایک کاوش۔]
  • اے اہلِ پاکستان! تم کیا تھے، کیا ہوگئے؟،ذکیہ ارشد حمید۔ ناشر: منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲۔ صفحات: ۴۰۔ قیمت: ۱۵ روپے۔ [قیامِ پاکستان کے تاریخی لمحات، ہندوئوں اور سکھوں کی نہتے مسلمانوں کے ساتھ سفاکیت، خواتین کی بے حُرمتی، پاکستان کی طرف ہجرت کے دلدوز مناظر، قافلوں کی حالت ِ زار، شہدا کا دُکھ اور بچھڑنے والوں کا غم___ ایک ایسی کہانی جس میں یہ    تمام مناظر فلم کی طرح نظروں کے سامنے آجاتے ہیں جس سے دل بوجھل اور آنکھیں نم ناک ہوجاتی ہیں۔ ’پاکستان نے کیا دیا‘ کا شکوہ کرنے والے اور بھارت سے دوستی کے علَم بردار اسے ضرور پڑھیں۔]

محمد ایوب خان جدون ، مانسہرہ

’نفاذِ اسلام میں حکمت‘ (جنوری ۲۰۱۲ئ) کا مطالعہ کرتے ہوئے جب میں ذرائع ابلاغ کی اصلاح پر پہنچا تو خیال آیا کہ آج کل ذرائع ابلاغ فحاشی، بے حیائی اور بداخلاقی پھیلانے میں آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ اب کوئی آدمی فحاشی سے پاک خبرنامہ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ ایسے میں فحاشی و بے حیائی کے خلاف منظم آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ ماضی کی طرح جماعت اسلامی کو عوامی دبائو کے ذریعے اس کے سدباب کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔


عبدالرشید عراقی ، سوہدرہ

’بھارت اور پسندیدہ ترین ملک‘ (دسمبر ۲۰۱۱ئ) میں اُن تمام امور کی وضاحت کی گئی ہے جو پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اقتصادی و معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لیے بھارت کر رہا ہے۔ دوسری طرف بھارت اپنے ملک میں مسلمانوں کو آج سے نہیں بلکہ ۶۴برس سے مسلسل مفلوج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے ملک کو حکومت ِ پاکستان پسندیدہ ملک قرار دے رہی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ ضروری ہے کہ پاکستان کی تمام اسلام دوست جماعتیں مل کر اس ملک دشمن فیصلے کا تدارک کریں۔

’چند اہم سماجی مسائل اور اسلام‘ میں بعض اہم معاشرتی مسائل پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے، اور آج کل تو ایسے ایسے مسائل سامنے آرہے ہیں کہ جن کے پڑھنے سے طبیعت مکدّر ہوجاتی ہے اور نفرت کے جذبات اُبھرنے لگتے ہیں۔ درحقیقت ایسے مسائل کا پیدا ہونا اس وجہ سے ہے کہ غیرمسلموں کے نزدیک ان کو تہذیب اور حقوق کا نام دیا جا رہا ہے اور مسلمان اسلام سے دُوری کی وجہ سے ان کو اختیار کررہے ہیں۔ضروری ہے کہ مسلمان دین اسلام کی روشنی میں اپنے آپ کو ڈھالیں اور مغربی تہذیب کے بجاے اسلامی تہذیب کو اپنائیں۔


محمد اصغر ، پشاور

’قربانی، مسلمان کو مسلمان بناتی ہے‘ (دسمبر ۲۰۱۱ئ) قربانی کے موضوع پر خرم مراد مرحوم کی عمدہ تحریر ہے۔ قربانی کے جامع تصور کو سامنے لاتی ہے، اور غوروفکر اور عمل کے لیے نئی راہیں کھولتی ہے۔


عابد صدیقی ،نیویارک، امریکا

’نوجوانوں کا عزم اور ہمارا مستقبل‘ (نومبر ۲۰۱۱ئ) پڑھ کر یوں محسوس ہوا کہ مایوسی کی تاریکیوں میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اُمتی روشن چراغ لے کر کھڑا ہوگیا۔ قابلِ رشک ہیں اللہ کے وہ بندے جو  اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں اس کے پیغام کو پہنچانے میں خرچ کردیتے ہیں۔ اللّٰھم زد فزد۔


پروفیسر اعجاز عالم ،نواب شاہ

۱۲سال کی عمر سے میں ترجمان القرآن (اب عالمی ترجمان القرآن) سے واقف ہوں۔ والد مرحوم کے پاس یہ رسالہ پابندی سے ہر ماہ آیا کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ میں نے بھی اس کا مطالعہ شروع کیا۔ اس کے ’اشارات‘ اور مضامین طویل ہونے کی وجہ سے مکمل نہیں پڑھ پاتا تھا۔ طالب علمی کا دور گزرا تو رسالے سے رغبت بڑھتی گئی۔ وہ ’اشارات‘ جو طویل لگتے تھے ان کو پڑھنے کی پیاس بڑھتی گئی۔ یہی ’اشارات‘ اب رسالے کی جان محسوس ہونے لگے۔ سیدابوالاعلیٰ مودودی، عبدالحمید صدیقی، نعیم صدیقی، خرم مراد اور اب پروفیسر خورشیداحمد نے ’اشارات‘ کے ذریعے اُن تمام مسائل پر جن سے قوم نبردآزما رہی ہے نہ صرف لکھا بلکہ پاکستان کے عوام کو بروقت حالات کی سنگینی سے آگاہ کیا ہے۔

الیکٹرانک میڈیا نے جدید معلومات کے حصول کا ایک آسان راستہ فراہم کیا ہے لیکن اپنے ساتھ  بے حیائی اور اخلاق باختگی کا زہر بھی لے کر آیا ہے۔ اس کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ اب دیکھنے والے زیادہ ہیں اور پڑھنے والے کم ہورہے ہیں۔ اس کے باوجود ترجمان کی افادیت کم نہیں ہے۔ اس کی اشاعت کو بڑھانا اطلاعات کے میدان میں جہاد ہے۔ میڈیا کے زہر کو تریاق میں بدلنے کا یہ بہترین نسخہ ہے۔

 

رسالے کے بارے میں اپنی راے اور تاثرات ارسال کیجیے

  • براے ایس ایم ایس:              0307-4112700
  • ای میل ادارتی امور:             tarjuman@wol.net.pk

                tarjumanq@gmail.com

  • ای میل انتظامی امور:           tarjuman@tarjumanulquran.org

        ویب سائٹ:     www.tarjumanulquran.org       

اشاریہ عالمی ترجمان القرآن

عالمی ترجمان القرآن کا اشاریہ (جنوری - دسمبر ۲۰۱۱ئ) دستیاب ہے۔ خط/ای میل کے ذریعے طلب کیا جاسکتا ہے۔ (ادارہ)

پاکیزہ اسلامی دورِ تہذیب کاآغاز

کیا انسانیت کی معراج بس یہی ہے جہاں اس تہذیب ِ الحاد نے لاکر ہم کو کھڑا کردیا ہے؟ اور کیا واقعی ہم بس اس بات پر مجبور ہیںکہ اسی تہذیب کی پیش کردہ تین تحریکوں [جمہوریت، سوشلزم، اور فاشزم] میں سے کسی ایک کو انتخاب کر کے لازماً اس کا دامن تھام لیں؟ اور کوئی نیا راستہ ہمارے لیے باقی نہیں ہے کہ ہم ان راستوں سے منہ موڑ کر اس طرف چل کھڑے ہوں؟ …

ہم اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ ہم اس تہذیب کے پیدا کردہ حالات کو انسانیت کی معراج نہیں سمجھتے۔ ہم اس کی پیش کردہ تحریکوں کو حرفِ آخر نہیں مانتے۔ ہم اپنے آپ کو اس پر مجبور  نہیں پاتے کہ بے چون و چرا ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ ہم تہذیب ِالحاد کی کسی ایک تحریک کو اختیار کرنے اور کسی دوسری تحریک کو ردّ کرنے کے بجاے اس پورے دورِ تہذیب کو ردّ کرتے ہیں۔ ہم ان تحریکوں کو ایک ہی خاندان قرار دیتے ہیں___ اور ایسا خاندان کہ جس کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ ’’ایں خانہ تمام آفتاب است!‘‘___ ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو یہ سمجھے ہیں کہ انسان اپنی ارتقا کی آخری منزل پر آچکا ہے اور تاریخ اس منزل پر آکھڑی ہوئی ہے جس سے آگے کوئی منزل نہیں۔ اور ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو الحاد کی کسی ایک تحریک کا جھنڈا اُٹھا کر اس کی کسی دوسری تحریک کے خلاف لڑکر سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی بڑا جہاد لڑر ہے ہیں۔ ہم ان کے برخلاف یہ سمجھتے ہیں کہ تہذیب ِ الحاد انسان کو بدترین پستی کے مقام پر لے آئی ہے اور ہمار ا منصب یہ ہے کہ ہم اس پوری تہذیب، اس کی ساری اولاد اور اس کی ساری تحریکوں کے خلاف اعلانِ جنگ کریں۔ ہم اس پورے مجموعۂ تہذیب کو ردّ کرکے اس کے خلاف نئے اصولوں پر ایک نئی تہذیب اور اس دور کے خلاف ایک نئے دور کا جھنڈا اُٹھا رہے ہیں… ہم اس لمحے پر کھڑے ہوکر آج تہذیب ِ الحاد کے مقابلے میں تحریکِ اسلامی کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں، اور یہ حقیر سی ابتدا اپنے سامنے ایک شان دار انتہا رکھتی ہے۔ (’اسلامی تحریک دوسری تحریکوں کے مقابل میں‘، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد ۳۷، عدد ۵، جمادی الاول ۱۳۷۱ھ، فروری ۱۹۵۲ئ،ص ۳۳-۳۴)