۲۰۱۲ فروری

فہرست مضامین

عالمِ عرب: تبدیلی کے مراحل

عبد الغفار عزیز | ۲۰۱۲ فروری | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image
  •  مصر: ۵۵ روز جاری رہنے والے طویل انتخابی عمل کے بعد ۲۱ جنوری ۲۰۱۲ء کو    حتمی نتائج آئے تو اخوان المسلمون کو ۴۹۸ میں سے ۲۳۵، یعنی ۱۲ئ۴۷فی صد نشستیں حاصل ہوئیں۔ اسے ایک کروڑ ایک لاکھ ۳۸ ہزار ووٹ ملے۔ دوسرے نمبر پر آنے والے تین جماعتی سلفی اتحاد ’حزب النور‘ کو۱۲۳ نشستیں ملیں، جب کہ دیگر پارٹیاں اس سے بھی پیچھے تھیں۔ اخوان نے پہلے دومرحلوں میں ہی اپنی اس قوت کا اندازہ کرلیا تھا۔ ذمہ داریوں کے حوالے سے مشاورت میں ایک راے یہ آئی کہ یہ سنہری موقع ہے، لہٰذا اب ہمیں صدر مملکت بھی اپنا لانا چاہیے، وزیر اعظم اور اسپیکر بھی اور تمام اہم وزرا بھی۔ لیکن طویل غوروخوض کے بعد اعلان کیا گیا کہ ہم نہ تو صدارت کے لیے اپنا  کوئی اُمیدوار لائیں گے اور نہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے، البتہ اسپیکر ہم اپنا لائیں گے۔ اعتراض کرنے والے تو اس اعلان کو منفی رنگ دے رہے ہیں۔ کوئی اسے راہِ فرار کہہ رہا ہے اور کوئی فوج سے گٹھ جوڑ، لیکن اخوان یکسو ہیں کہ ہمیں بہرصورت اپنی ترجیحات کو پیش نظر رکھنا ہے۔ ٹھیک ہے کہ تاریخی کامیابی حاصل کرلینے کے بعد سب مناصب حاصل کیے جاسکتے ہیں لیکن اس دستور ساز اسمبلی کا اصل فریضہ ملک کو ایک جامع اور تمام بنیادی حقوق کا ضامن پہلا دستور دینا ہے، اس لیے ہماری تمام تر توجہ اسی پر مرکوز رہنا چاہیے۔ انقلاب کے بعد امیرجماعت اسلامی سیدمنور حسن کی قیادت میں مصر جانے والے وفد کو مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع بتا رہے تھے: ملک طویل عرصے تک ظالم اور کرپٹ ڈکٹیٹرشپ کے پنجوں میں جکڑا رہا۔ ہمارا معاشرہ اسلامی نظام کی برکات سے پوری طرح آگاہ ہی نہیں ہے۔ ہماری کوشش اور حکمت عملی یہ ہوگی کہ آیندہ انتخاب میں پارلیمنٹ کے اندر زیادہ سے زیادہ قوت حاصل کریں، حکومت سازی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں، لیکن فی الحال اپنی ساری توجہ معاشرے کو بابرکت اسلامی نظام سے متعارف کروانے اور ملک کے لیے جامع دستور وضع کرنے پر مرکوز رکھیں۔

۲۱جنوری ۲۰۱۲ء کو حتمی نتائج کا اعلان ہوا اور انقلاب کی پہلی سالگرہ سے دو روز پہلے، ۲۳جنوری کو اسمبلی کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ ۴۹۸ منتخب ارکان کے علاوہ ۱۰ نامزد کردہ کا اعلان کیا گیا، حلف برداری ہوئی اور پھر اسپیکر کا انتخاب عمل میں آیا۔ درست قرار دیے جانے والے ۴۹۶ ووٹوں میں سے اخوان کے اہم رہنما ڈاکٹر محمد سعد الکتاتنی ۳۹۹  ووٹ لے کر پہلی آزاد اسمبلی کے اسپیکر   چُن لیے گئے۔ اللہ کی قدرت دیکھیے کہ گذشتہ سال ڈاکٹر سعد ’لیمان‘ جیل میں تھے اور آج  پارلیمنٹ کے اسپیکر بنادیے گئے۔ دوسری جانب عین اسی روز، فرعون صفت سابقہ حکمران حسنی مبارک اپنے دونوں بیٹوں اور ظلم ڈھانے کے ذمہ دار وزیر داخلہ سمیت عدالت کے کٹہرے میں نشانِ عبرت بنا کھڑا تھا۔
 ڈاکٹر سعد کی کامیابی کا اعلان ہوا تو وہ مبارک بادیں جمع کرتے ، اسپیکر کے لیے مخصوص نشست پر آئے اور حمدوثنا کے بعد یہ آیت پڑھی: قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ط ھُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَo (یونس ۱۰:۵۸)’’کہو کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنھیں لوگ سمیٹ رہے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر محمد سعد اکتوبر۲۰۰۸ء میں مینارِ پاکستان پارک میں    منعقد ہونے والے جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام میں اخوان کی نمایندگی کرچکے ہیں۔ پاکستان اور اہلِ پاکستان سے خصوصی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ دھیما مزاج لیکن اپنے فرائض کی ادایگی کے لیے ہردم چوکنا و بیدار رہنے والے ڈاکٹر سعد کے انتخاب کو مصر کے ہرمخلص شخص نے تحسین کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یوں جیسے عمارت کی پہلی مضبوط اینٹ، ٹھیک اپنی جگہ پر رکھ دی گئی ہو۔
اب ۲۹ جنوری سے مجلس شوریٰ، یعنی سینیٹ کے انتخاب شروع ہونا ہیں۔ یہ بھی تین مراحل میں اور عام انتخابات کے ذریعے مکمل ہوں گے۔ پھر دونوں ایوان مل کر ۱۰۰ رکنی دستوری کمیٹی منتخب کریں گے۔ کمیٹی زیادہ سے زیادہ چھے ماہ کے دوران دستور کا مسودہ تیار کرکے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی اور دستور پیش ہونے کے ۱۵ روز کے اندر اندر اس پر عوامی ریفرنڈم کروایا جائے گا۔ اسی دوران صدارتی انتخابات کا اہم ترین مرحلہ بھی آئے گا۔ یہ بھی طے ہے کہ موجودہ عبوری صدر،  جرنل حسین الطنطاوی کو یہ عہدہ بہرصورت ۳۰ جون سے پہلے پہلے نومنتخب صدر کے سپرد کرنا ہوگا۔ فوجی حکومت سے اس تاریخ کا اعلان کروانا بھی عوامی تحریک کی ایک بڑی کامیابی ہے۔آیندہ مراحل میں جو چند بڑے چیلنج درپیش ہیں ان میں سے ایک فوج کے کردار کا تعین بھی ہے۔  فوجی عبوری مجلس کی یقینا یہ کوشش ہوگی کہ ۱۰۰ رکنی دستوری کمیٹی اور اس کی سفارشات میں اس کا کردار بھرپور رہے۔ انتخابات کے دوران اس نے قومی مجلس مشاورت کی تشکیل بھی اسی نقطۂ نظر سے کی تھی لیکن اخوان کی طرف سے اس میں شرکت سے معذرت اور مجلس مشاورت کے خلاف ہونے والے عوامی مظاہروں کے بعد وہ خود ہی مرجھا کر رہ گئی تھی۔ اب اسمبلی وجود میں آجانے کے بعد اس کی حیثیت مزید کم ہوگئی ہے اور اس کے کئی ارکان مستعفی بھی ہو چکے ہیں۔
اخوان اور دیگر کئی جماعتیں یہ نہیں چاہتیں کہ فوج کے ساتھ خواہ مخواہ کا تصادم مول لیا جائے،لیکن وہ یقینا یہ بھی نہیں چاہتیں کہ اصل اقتدار و اختیار فوج ہی کے ہاتھ میں رہے۔ نومنتخب اسپیکر محمد سعد الکتاتنی نے اپنے افتتاحی خطاب میں شفاف انتخابات کی نگرانی کرنے والے ججوں کے علاوہ فوج کو بھی بھرپور خراج تحسین پیش کیا کہ اس نے وعدے کے مطابق، مقررہ وقت پر پہلے  حقیقی اور شفاف انتخابات کروادیے۔  یار لوگوں نے اس بات کو فوج اور اخوان کے مابین گٹھ جوڑ قرار دینا شروع کردیا ہے۔ کچھ بزر جمہروں نے تو اخوان کو خود امریکا کے ساتھ ہی نتھی کردیا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اخوان صرف اور صرف اللہ پر بھروسے اور عوام کی تائید سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ کسی بھی گٹھ جوڑ اور سازش کو اللہ کے ساتھ بدعہدی اور شہدا کے خون سے غداری سمجھتے ہیں۔
ذرا ایک نظر اسرائیلی ذرائع ابلاغ کو بھی دیکھ لیجیے۔ اس الزام کی قلعی کھل جائے گی۔  وہاں ایک قیامت برپا ہے۔ حکومتی ذمہ داران، فوجی جرنیلوں اور دانش وروں سے لے کر عام  شہری تک ہر کوئی واویلا کررہا ہے کہ اسرائیل کا مستقبل سنگین خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔  روزنامہ یدیعوت احرونوت اپنے ایک مضمون ’’مشرق وسطیٰ مسلمانوں کی جنت یہودیوں کا جہنم‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے: ’’تیونس میں اسلامسٹس ۴۰فی صد  ووٹ لے گئے ہیں، مراکش میں تقریباً ۳۰فی صد، جب کہ مصر میں اخوان اور سلفی تحریک نے مل کر ۷۰فی صد  ووٹ حاصل کرلیے ہیں۔ لیبیا میں قذافی کے قتل کے بعد اسلامی شریعت چاہنے والے اقتدارکے ایوانوں میں ہیں۔ شام کی عبوری قومی کونسل کے ۱۹؍ ارکان میں سے ۱۵ اسلامی ذہن رکھتے ہیں‘‘۔ پھر آگے چل کر لکھتا ہے: ’’سیکولرازم لیکن کرپشن سے بھرپور چھے دہائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نظام میں ڈھل رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب یہ خطہ تمام یہودیوں اور بے دین عناصر کے لیے جہنم بن کر رہ جائے گا‘‘۔
 یروشلم پوسٹ دھمکی آمیز لہجے میں لکھتا ہے:’’اسرائیلی فوج کے منصوبہ بندی کمیشن نے فوری طور پر نئے فوجی دستے ترتیب دینے کی سفارش کی ہے۔ جلد یا بدیر ہمیں یقینا مزید فوج کی ضرورت پڑے گی‘‘۔  وزیر اعظم اسحق رابن کا دست راست ایتن ہاپر لکھتا ہے: ’’اسرائیل کی سلامتی بلکہ اس کے وجود کو اس وقت تین بڑے خطرات لاحق ہیں اور وہ ہیں: عالم عرب میں انقلاب کی بہار، اسرائیل سے اس کا حقِ وجود سلب کرنے کی کوششیں، اور ڈیموگرافک (یعنی ہماری مخالف آبادی کے بڑھتے چلے جانے کا) خطرہ‘‘۔ مزید لکھتا ہے: ’’عرب ممالک میں ریڈیکل اسلامی طاقتیں اقتدار میں آرہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کے گرد ایسی طاقتوں کا حصار مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا جو اس کے وجود ہی کے خلاف ہیں‘‘ (روزنامہ معاریف، ۲۷ نومبر ۲۰۱۱ئ)۔ جنرل بنیامین الیعازر ۱۵نومبر اور پھر ۳دسمبر کو اسرائیلی سرکاری ریڈیو پر کہتا ہے: حالات تبدیل ہوگئے، مستقبل غیرواضح اور تاریک ہوچلا ہے‘‘۔اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک بھی دہائی دیتا ہے: ’’مصری انتخابات کے نتائج انتہائی پریشان کن اور ہوش اڑا دینے والے ہیں‘‘۔ یہ اور اس طرح کے لاتعداد تبصرے اور تحریریں ہیں جو اسرائیل کی پریشان خیالی کا پرتو ہیں۔ اس کیفیت میں امریکا اسلامی تحریکات کی کامیابی کو کیسے دیکھتا ہوگا، اندازہ مشکل نہیں ہے۔ عالمِ عرب میں تبدیلی کا آغاز امریکا، اسرائیل اور ان کے حواریوں کے لیے ایک کڑوی حقیقت تھی۔ امریکا اگر ان تمام ممالک اور ان کے عوام سے دشمنی مول لے لیتا تو اس وقت عالمِ اسلام میں اس کے خلاف جتنی نفرت پائی جاتی ہے اس میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔ ظالم ڈکٹیٹروں کے خلاف غصے کا عوامی لاوا، امریکا کی رہی سہی ساکھ کو بھی راکھ بنا دیتا۔ عرب انقلابات کی حمایت میں بیان جاری کردینے کا مطلب کسی بھی صورت یہ نہیں ہے، کہ وہ عوام کی حقیقی نمایندہ منتخب حکومتوں کو دل سے قبول کرلے گا۔ 
تیونس ، مراکش اور مصر کی نومنتخب حکومتوں کے سامنے بیرونی خطرات ہی اصل آزمایش نہیں ہیں، اندرونی خطرات اس سے بھی زیادہ مہیب ہیں۔ بیرونی طاقتیں بھی مختلف اندرونی عناصر ہی کو آلۂ کار بناتی ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کھلم کھلا اعلان کرچکی ہے کہ وہ انتخابات کے دوران عالمِ عرب کی لبرل طاقتوں کی مدد کے لیے انھیں کروڑوں ڈالر دے چکی ہے۔ مصر کے نیم سرکاری اخبار الاہرام کے مطابق مصری پولیس نے ۳۰دسمبر کو سول سوسائٹی کے نام پر کام کرنے والی بعض تنظیموں کے دفاتر پر چھاپہ مارا، تو وہاں سے لاکھوں ڈالر اور اہم دستاویزات برآمد ہوئیں۔
l یمن: مصر کی طرح یمنی عوام کے لیے بھی جنوری ۲۰۱۲ء کا آخری عشرہ تاریخی لمحات لے کر آیا۔ ۲۲جنوری کو اس وقت عوام کو اپنے کانوں پر اعتبار نہ آیا جب جنرل علی عبداللہ صالح نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ: ’’میں علاج کے لیے امریکا جا رہا ہوں۔ ۳۳سالہ اقتدار میں اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو میں اس پر معذرت خواہ ہوں‘‘۔ علی عبداللہ بھی ڈکٹیٹر تھا، لیکن یمن کی قبائلی روایات کے باعث وہ عوام پر صرف ایک حد تک ہی ظلم ڈھا سکتا تھا۔ ہرشخص روایتی خنجر اور کلاشنکوف کے علاوہ مضبوط قبائلی حصار کا تحفظ رکھتا تھا، لیکن چال بازیوں اور کہہ مکرنیوں میں یمنی صدر نے سب کو مات دے دی ہے۔ گذشتہ تقریباً ۱۱ ماہ کی عوامی تحریک میں پوری قوم سڑکوں پر اُمڈ آئی تھی۔ صدر نے باربار مذاکرات کیے، معاہدے کیے، اعلانات کیے لیکن ہربار اپنا ہرعہدوپیمان شوقِ اقتدار کی نذر کر دیا۔ خطرناک قاتلانہ حملہ بھی ہوا، اہم حکومتی عہدے داران مارے گئے، خود بھی شدید زخمی ہوگیا، علاج کے لیے سعودیہ لے جایا گیا، کئی روزہ افواہ گرم رہی کہ دنیا سے چلا گیا لیکن موقع ملتے ہی جھلسے ہوئے چہرے کے ساتھ نمودار ہوکر کہا کہ میں بدستور صدر ہوں۔ پھر اعلان کیا کہ اقتدار چھوڑ رہا ہوں، لیکن رات کی تاریکی میں ایک روز خاموشی سے یمنی دارالحکومت صنعا کے ایئرپورٹ اور وہاں سے ہیلی کاپٹر میں سیدھا ایوانِ صدر میں جا اُترا۔ آمد اتنی خفیہ تھی کہ ایئرپورٹ اتھارٹی اور ذاتی محافظوں کو بھی چند لمحے پہلے اطلاع دی گئی۔
یمنی عوامی تحریک کو مصر، تیونس یا لیبیا و شام کی طرح بہت زیادہ میڈیا کوریج نہیں ملی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جتنے بڑے بڑے عوامی اجتماع یمن میں ہوئے ہیں، ان میں سے کسی بھی ملک میں نہیں ہوئے۔ ۱۱ ماہ کی تحریک کے دوران کوئی جمعہ ایسا نہیں تھا کہ جب ہربڑے شہر میں کئی کئی لاکھ لوگ جمع نہ ہوئے ہوں۔ ایک مارچ تو ایسا انوکھا تھا کہ لاکھوں افراد نے جنوبی شہر تعز سے دارالحکومت تک ۲۵۰کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ پانچ روزہ پیدل سفر کے دوران یہ کاررواں جہاں سے بھی گزرا مزید افراد شریک ہوتے گئے، لیکن ’مضبوط کرسی‘ کے جنون میں مبتلا صدر نے دارالحکومت کے باہر ہی شرکا کو کچلنے کی ناکام کوشش کی۔ ۱۲شہید اور ۳۰۰سے زائد افراد زخمی ہوئے لیکن عوام کو قصرِصدارت پہنچنا تھا، وہ بڑی تعداد میں پہنچ گئے۔ امریکا جانے سے پہلے علی عبداللہ نے اپنی آخری سیاسی جنگ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ و رفقاے کار کے لیے استثنا حاصل کرنے کے لیے لڑی۔ وہ بضد رہا کہ اقتدار چھوڑنے کے بعد مجھ پر مظاہرین کو قتل کرنے سمیت کسی بھی طرح کا مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ عوام نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا لیکن صدر خود ہی اسمبلی سے قرارداد منظور کروا کے بزعمِ خود تمام مقدمات سے بَری ہوگیا۔ علی عبداللہ صالح سمیت کوئی حکمران اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ دامن اگر واقعی پاک ہے، تو عدالت سے کیوں گھبراتے ہو، اور اگر جرائم کیے ہیںتو کوئی عارضی استثنا ’اصل عدالت‘ اور اس کی سزا سے کیوں کر بچائے گا۔ وہ سزا تو خالدین فیھا کا اعلان بھی  سناتی ہے۔
علی عبداللہ کے خلاف تحریک کے آغاز ہی سے مغربی تجزیہ نگاروں نے لکھنا شروع کردیا تھا کہ یمن میں تبدیلی آئی تو یہاں بھی اخوان المسلمون برسرِاقتدار آجائے گی۔ اب اتنی تبدیلی تو آگئی کہ ۳۳سال سے انا ولاغیری کا نعرہ لگانے والا رخصت ہوگیا۔ لیکن ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ تیونس اور مصر کی صورت حال سے بچنے کے لیے ۲۱فروری کو صدارتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دو سال کے عہدصدارت کے بعد پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہوں گے۔ یمن میں اسلامی تحریک التجمع الیمنی للاصلاح کے نام سے سرگرم عمل ہے۔ دھن، دھونس اور دھاندلی کے بے شمار ہتھکنڈوں کے باوجود، الاصلاح پارلیمنٹ میں دوسرے نمبر پر آجاتی تھی۔ حالیہ وسیع تر عوامی تحریک کے دوران تو اس کا کردار مرکزی رہا۔ وہ نہ تو یہ دعویٰ کرتے ہیں اور نہ  اس کے لیے کوشاں ہی ہیں کہ علی عبداللہ جیسا راندۂ درگاہ کردینے والا اقتدار انھیں مل جائے۔   البتہ ایک حقیقت نوشتۂ دیوار ہے کہ عوام کو ڈکٹیٹر سے نجات مل گئی اور اب عوام آزادانہ مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں گے۔ مراکش، تیونس اور مصر کی طرح یمن کے عوام بھی اپنا فیصلہ بہرصورت اسلام ہی کے حق میں دیں گے کہ یہی عالمِ عرب میں تبدیلیوں کا اصل عنوان ہے۔
l شام: عالمِ عرب میں جاری حالیہ تحریکوں میں اب شام کی عوامی تحریک رہ گئی ہے جو ڈکٹیٹر سے نجات کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ نصف صدی سے حکمران اسد خاندان، دن رات قتلِ عام میں مصروف ہے۔ محتاط اعداد و شمار کے مطابق اب تک شہدا کی تعداد ساڑھے چھے ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ لیکن شامی عوام میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ احتجاج کا دائرہ ایک کے بعد دوسرے شہر تک وسیع ہو رہا ہے۔ بشارالاسد اقتدار کی ناکام جنگ میں کسی بھی دشمن فوج سے زیادہ ظلم ڈھا رہا ہے۔ عرب لیگ نے شرماتے لجاتے ایک جائزہ وفد شام بھیجا، لیکن قتل عام ان کی موجودگی میں بھی جاری رہا۔ اب ایک اور وفد بھیجا جا رہا ہے۔ مظالم تو بشار بھی دیگر ڈکٹیٹر حکمرانوں کی طرح ڈھا رہا ہے، لیکن ایک بات میں اس کی ظالم افواج سب سے بازی لے گئی ہیں۔ وہ ظلم کے آخری ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے گرفتار شدہ شہریوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ بشارالاسد کی تصویر کو سجدہ کریں۔ وہ انھیں بشار پر دل و جان نچھاور کردینے کا نعرہ لگانے پر مجبور کرتی ہیں۔ انھوں نے درودیوار پر یہ کفریہ نعرے لکھ دیے ہیں: لا الٰہ الا الوطن ولا رسول الا البعث، ’’وطن کے علاوہ کوئی معبود اور بعث پارٹی کے علاوہ کوئی رسول نہیں‘‘۔یہ تشدد اور نعرے اپنی تمام تر تصاویر اور وڈیوز کے ساتھ دنیا کے سامنے ہیں۔ دوسری طرف عوام کا نعرہ ہے: لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، الشہید حبیب اللّٰہ، (شہید اللہ کا محبوب ہے)___ یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ بالآخر غالب کس کلمے کو ہوکر رہنا ہے۔
_______________