مضامین کی فہرست


اپریل ۲۰۰۹

مارچ کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء وہ تاریخی دن ہے جب برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں نے قرارداد پاکستان کی شکل میں اپنی سیاسی منزل کا تعین کیا اور قائداعظمؒ کی قیادت میں ۷سالہ جدوجہد کے نتیجے میں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کی آزاد ریاست وجود میں آئی۔ دستور ساز اسمبلی نے ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو قرارداد مقاصد کی شکل میں اس ریاست کا نظریاتی اور سیاسی کردارطے کردیا جو اَب پاکستان کے دستور کا صرف دیباچہ ہی نہیں بلکہ اس کی ایک قابلِ عمل (operational ) شق (دفعہ ۲-الف) کی حیثیت رکھتی ہے۔

قیامِ پاکستان کے فوراً ہی بعد مفاد پرست طبقات نے وطنِ عزیز کو ایک ایسی جاں گسل کش مکش میں مبتلا کردیا جس کے نتیجے میں پہلے دستور کے بننے میں ۹ سال لگ گئے۔ پھر دستوروں کے بننے اور بگڑنے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا جس کی گرفت سے ملک آج تک نہیں نکل سکا۔ ۱۹۵۴ء میں ایک سول سرونٹ غلام محمد نے فوج کے سربراہ کی مدد سے ملک کی جمہوری بساط کو   لپیٹ دیا اور اس وقت کی عدالتِ عظمیٰ کے ذریعے، جس کے سربراہ جسٹس محمدمنیر تھے، جمہوری عمل کو درہم برہم کر کے اسے حکمرانوں کے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا راستہ کھول دیا اور ملک کو قانون کی حکمرانی سے محروم کردیا۔

۱۹۵۳ء میں منتخب وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو معزول کیا گیا، ۱۹۵۴ء میں دستور ساز اسمبلی ہی کو ختم کردیا گیا، پھر ۱۹۵۶ء کے دستور کو اکتوبر ۱۹۵۸ء میں پارہ پارہ کردیا گیا اور یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں ۱۹۵۴ء سے لے کر نومبر ۲۰۰۷ء تک جاری رہا۔ سیاسی شاطر، فوجی طالع آزما اور نظریۂ ضرورت کے علَم بردار ججوں کے ایک ٹولے کی ملی بھگت سے بار بار دستوری نظام کی بساط کو لپیٹنے اور اداروں کی تباہی کا خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ۱۹۶۹ء-۱۹۶۸ء اور ۱۹۷۷ء میں آمرانہ نظام کے خلاف عوامی تحریکات چلیں لیکن وہ اپنی منزل تک نہ پہنچ سکیں اور جرنیلوں اور ججوں کے گٹھ جوڑ سے ہربار جمہوری عمل کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ اگر کچھ ججوں نے جرنیلوں کے نافذ کردہ پی سی او (Provisional Constitution Order) سے اختلاف کیا تو انھیں زبردستی عدالتوں سے فارغ کردیا گیا اور کچھ دوسرے ججوں نے فوجی آمروں کے اقدام کو نہ صرف سندِجواز عطا کی بلکہ ان کو دستور میں من مانی ترامیم کرنے کے حق تک سے سرفراز فرما دیا۔

نظامِ عدل پر کاری ضرب

۶۰ سال پر پھیلا ہوا یہ خطرناک کھیل ۹ مارچ ۲۰۰۷ء کو ایک نئے دور میں داخل ہوا جب اس وقت کے چیف جسٹس نے فوجی حکمران کے عدلیہ پر شب خون مارنے کے اقدام کو چیلنج کیا اور وکلا برادری، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کی معتدبہ تعداد نے ان کا ساتھ دیا اور ایک ایسی  اصولی عوامی جمہوری تحریک وجود میں آئی جس نے قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور دستور کی بالادستی کو اپنا ہدف بنایا۔ ۹ مارچ ۲۰۰۷ء کو شروع ہونے والی یہ تحریک دو سال کی جاں گسل کش مکش کے بعد ۱۶مارچ ۲۰۰۹ء کو کامیابی کی پہلی منزل سے ہم کنار ہوئی اور اس اعتبار سے مارچ کی ۱۶تاریخ، ملک کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تحریک اور اس کی اولیں کامیابی کی اصل حقیقت اور اہمیت کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ جمہوریت کے فروغ اور پاکستان کے حقیقی تصور کے حصول کا انحصار، اس تحریک کے اگلے مراحل کی کامیابی پر ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ نظام کے خلاف عوامی جذبات کا لاوا تو اُسی وقت سے پک رہا تھا جب اس نے قوم سے وعدے کے باوجود، صریح وعدہ شکنی کرتے ہوئے یکم جنوری ۲۰۰۴ء کو فوجی عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا اور جو جمہوری عمل ۲۰۰۲ء کے انتخابات سے شروع ہوا تھا، وہ یک دم پٹڑی سے اُتر گیا۔ چونکہ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کو عوام کے جذبات و احساسات کے خلاف نائن الیون کے بعد امریکا کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جھونک دیا تھا اسی لیے اسے امریکا اور مغربی اقوام کی مکمل تائید حاصل رہی اور امریکا، فوجی حکمران اور اس کے ساتھیوں کی ملی بھگت سے ملک میں جمہوری عمل کو ناکام کردیا گیا۔ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے جنرل پرویز مشرف نے عدلیہ کو موم کی ناک بنا دیا تھا اور اپنے حسبِ منشا جدھر چاہتا تھا، اسے موڑ دیتا تھا۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے سپریم کورٹ اور اس وقت کے چیف جسٹس کو، جو ماضی میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہ دے سکے تھے، یہ توفیق بخشی کہ انھوں نے پاکستان کے مفادات کے تحفظ اور عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے آمرِوقت کے اقدامات پر گرفت شروع کی۔ اسٹیل مِل کی نج کاری اور لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے عدالت کی کوششوں نے فوجی آمر کو زچ کر دیا اور اس نے ۹ مارچ کو چیف جسٹس کی معزولی کی شکل میں نظامِ عدل پر ایک کاری ضرب لگائی۔ اسے یقین تھا کہ اس کے اِس اقدام سے سرتابی کی جرأت کوئی بھی نہیں کرسکے گا لیکن چیف جسٹس نے طاقت کے نشے میں دھت جرنیل کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور پوری وکلا برادری اور عوامی قوتوں نے اس کا ساتھ دیا۔ وکلا کی تحریک نے جلد ایک حقیقی اور ملک گیر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر کے حکمرانوں کے استبدادی ہتھکنڈوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔

جماعت اسلامی نے ۱۲ مارچ ۲۰۰۷ء کو اسلام آباد میں کُل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا اور جنرل پرویز مشرف کی مٹھی میں بند پارٹیوں کو چھوڑ کر سب سیاسی اور دینی قوتوں کو جمع کرکے انھیں وکلا کی تحریک میں شرکت کی دعوت دی۔ معاشرے کی ان تین قوتوں___ وکلا برادری ، سول سوسائٹی اور سیاسی و دینی جماعتوں کے اشتراک سے، وکلا کی قیادت میں برپا ہونے والی اس تحریک کے نتیجے میں ۲۰ جولائی ۲۰۰۷ء کو عدالتِ عالیہ کے فیصلے کے ذریعے چیف جسٹس بحال ہوئے مگر ان کی بحالی حکمرانوں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹکنے لگی۔ پرویز مشرف نے جب یہ محسوس کرلیا کہ عدالت اس کے فوجی وردی میں دوبارہ صدارتی انتخاب کا ڈھونگ رچانے کی راہ میں حائل ہوگی تو اس نے ایک آخری وار ۳نومبر ۲۰۰۷ء کو کیا اور ایمرجنسی کے نام پر ایک نیا مارشل لا مسلط کردیا۔ یہ بڑا نازک مرحلہ تھا لیکن پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اعلیٰ عدالتوں کے ۶۰ ججوں نے اس اقدام کو جائز تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ کے ۱۸ میں سے ۱۳ ججوں نے حلف لینے سے انکار کردیا اور ۷ججوں پر مشتمل فل کورٹ نے ۳ نومبر کے اقدام کو خلافِ دستور قرار دے کر اس کو قانونی جواز سے محروم کر دیا۔ نیز عدلیہ کے تمام ججوں کو ہدایت کی کہ اس غیرقانونی اقدام کو تسلیم نہ کریں۔ اس فیصلے پر دستور کی دفعہ ۱۹۰ کے تحت تمام سرکاری اداروں اور عمال کو بھی یہ ہدایت دی گئی کہ وہ  اس پر عمل درآمد نہ کریں اور سپریم کورٹ کے حکم کی اطاعت کریں۔

تاریخ ساز فیصلہ اور اصولی تحریک

یہ ایک ایسا تاریخی فیصلہ تھا جس کی کوئی نظیر اس سے پہلے موجود نہ تھی۔ جرنیلی صدر نے طیش میں آکر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ۶۰ ججوں کو معزول کر دیا اور اپنی پسند کے نئے ججوں کا تقرر کر کے ان سے اپنے غیرقانونی اقدام کے لیے جواز حاصل کرنے کا ڈھونگ رچایا جسے قوم نے ایک لمحے کے لیے بھی قبول نہیں کیا۔ اس طرح اصولی، نظریاتی اور اخلاقی بنیادوں پر استوار ایک عوامی تحریک نے جنم لیا۔ جماعت اسلامی اور اے پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے اس اصولی موقف کی بنیاد پر فروری ۲۰۰۸ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جب کہ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں نے بھی جس مسئلے کو انتخابات کے لیے مرکزی سیاسی مسئلہ بنایا وہ عدلیہ اور دستور کی اپنی اصل شکل میں بحالی اور پارلیمنٹ کی بالادستی تھا۔

عوام نے ۱۸ فروری کے انتخابات میں ان جماعتوں کو رد کر دیا جو پرویز مشرف کی ہم نوا تھیں اور اسے وردی سمیت ایک بار نہیں دس بار تک منتخب کرنے کے لیے میدان میں اُتری تھیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) بڑی پارٹیوں کی حیثیت سے کامیاب ہوئیں اور دونوں نے مل کر اس مشترک ایجنڈے پر عمل کرنے کا عہد کیا جسے عوام نے منظور کیا تھا۔ مگر جلد ہی پیپلزپارٹی کی قیادت نے اس عہدوپیمان سے انحراف شروع کر دیا اور بالآخر بے وفائی کی راہ اختیار کرلی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے تقریباً ہر میدان میں عملاً جنرل مشرف ہی کی پالیسیوں کو جاری رکھا بلکہ زرداری صاحب نے تو کھل کر عدلیہ کی بحالی کے وعدے سے انحراف کیا اور وکیلوں کی تحریک کو سبوتاژ کرنے، ججوں کو تقسیم کرنے اور جن کو توڑنے میں کامیاب ہوئے ان کو نئی تقرری (re-instate) کے نام پر پی سی او عدلیہ کا حصہ بنانے کا وطیرہ اپنا لیا۔ ۶۰ میں سے ۴۵ ججوں کو نئی تقرری کے ذریعے رام کرلیا گیا۔ معزول ججوں میں سے ۴ ریٹائر ہوگئے۔ تاہم ۱۱ ججوں نے بشمول چیف جسٹس قابلِ تحسین استقامت سے کام لیا اور آخری وقت تک اپنے اصولی اور اخلاقی موقف پر ڈٹے رہے جن کی پشت پر (پیپلزپارٹی کے ہم نوا وکیلوں کی ایک تعداد کے سوا) وکلا برادری کی اکثریت، سول سوسائٹی کے تمام عناصر اور حزبِ اختلاف کی تمام ہی جماعتیں خصوصیت سے جماعت اسلامی، تحریکِ انصاف، مسلم لیگ (ن) اور اے پی ڈی ایم کی دوسری جماعتیں سرگرم رہیں۔ بالآخر یہ جدوجہد ۱۲ مارچ ۲۰۰۹ء سے لانگ مارچ اور ۱۶مارچ کے دھرنے کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی۔

۱۶ مارچ کی صبح اس طرح طلوع ہوئی کہ وزیراعظم کو ججوںکی بحالی کا اعلان کرنا پڑا، دفعہ ۱۴۴ واپس لی گئی، تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے احکام جاری کیے گئے اور شریف برادران کی نااہلی کے عدالتی فیصلے پر حکومت کی طرف سے نظرثانی کی درخواست کا اعلان کیا گیا۔ اس طرح عدلیہ کی بحالی کی تاریخی جدوجہد اپنی پہلی کامیابی سے ہم کنار ہوئی، الحمدللّٰہ علٰی ذٰلِکَ۔

اب اس امر کی ضرورت ہے کہ اس تحریک کی نوعیت، اس کے حقیقی اہداف اور اس کی قوت کے اصل عوامل کا ٹھیک ٹھیک ادراک کیا جائے اور جو کچھ حاصل ہوا ہے اس کے پورے اعتراف کے ساتھ ان تقاضوں پر توجہ مرکوز کرائی جائے جن کے حصول کی جدوجہد جاری رہنا چاہیے۔ جس انقلابی منزل کی طرف یہ پہلا قیمتی قدم بڑھایا گیا ہے، اس سمت میں اس قوم کا سفر جاری رہے تاکہ یہ جدوجہد اپنے تمام اہداف کو حاصل کرسکے اور مطلوبہ نتائج رونما ہوں۔

منزل کی طرف پھلا قدم

سب سے پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ تحریک کسی فرد کی بحالی، کچھ لوگوں کی ملازمت کو پکا کرنے، یا کچھ وقتی مفادات کے حصول کی جدوجہد نہیں تھی بلکہ یہ ایک اصولی تحریک تھی جو واضح اخلاقی اہداف کے حصول کے لیے برپاکی گئی تھی۔ یہ جدوجہد ایک اصولی جدوجہد تھی اور اس کی طاقت کا راز اس کے نظریاتی اور اخلاقی مقاصد میں مضمر ہے۔ اس تحریک میں ملک کے ہر طبقے اور ہر مکتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی اوریہ پوری قوم کو متحرک کرنے، ایک اصول کی خاطر منظم کرنے اور مشترک اہداف کے لیے اجتماعی جدوجہد میں مربوط کرنے کا ذریعہ بنی۔ اور وہ اصول یہ ہے کہ ظلم کے آگے سپر ڈالنا، جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے اور ظلم اور استبداد کی مزاحمت ایک اخلاقی قدر ہی نہیں، اجتماعی زندگی کو ظلم اور ناانصافی سے پاک کرنے کا واحد راستہ ہے۔ بلاشبہہ چیف جسٹس افتخار چودھری اور عدلیہ کی بحالی اس تحریک کا عنوان تھے لیکن اس کی حقیقت اور اس کی قوت اس کا اصولی موقف تھا جس نے قوم کو متحد اور متحرک کیا۔ جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ اسی اصولی موقف کی بنا پر ہوا ہے اور اس کی حیثیت اس منزل کی طرف صرف پہلے قدم کی ہے۔ ہماری جدوجہد ختم نہیں ہوئی، ایک دوسرے مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خود چیف جسٹس کے الفاظ میں اس مقصد اور منزل کا اظہار اور تجدید کی جائے۔ موصوف نے ۳۰ جنوری ۲۰۰۸ء کو دنیا کے اہم قائدین سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ایک خط میں اس جدوجہد کے مرکزی نکتے اور اصل ہدف کو اس طرح پیش کیا ہے:

میں پاکستان کا دستوری چیف جسٹس ہوں اور فیصلہ دے چکا ہوں کہ مشرف کے ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کے اقدامات غیردستوری تھے۔

اور پھر اصل ہدف کو صاف الفاظ میں اس طرح بیان کیا:

آزاد عدلیہ کے بغیر کوئی جمہوریت نہیں ہوسکتی، اور جب تک ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کے اقدام کو کالعدم نہ کیا جائے، پاکستان میں کوئی آزاد جج نہیں ہوسکتا۔ کچھ شکست خوردہ لوگوں کی مرضی کچھ بھی ہو، بہادر وکلا اور پاکستان کی سول سوسائٹی کی جدوجہد نتیجہ خیز ہوگی،  وہ جدوجہد ترک نہیں کریں گے۔

اس خط کے ۷ مہینے کے بعد ۳ نومبر ۲۰۰۸ء کو راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کو خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اعادہ کیا کہ:

سپریم کورٹ کے ۷ رکنی بنچ کا ۳ نومبر کا یہ فیصلہ کہ جنرل مشرف کے ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کے اقدامات غیردستوری اور غیرقانونی ہیں، اب بھی قائم ہے۔

اس خطاب میں چیف جسٹس نے کھل کر کہا کہ اس وقت عدالت عالیہ پر قابض ’چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر‘ کی حقیقت یہ ہے کہ وہ:

ایک خودساختہ فیصلہ کرنے والا شخص ہے جس نے مشرف کے ۳ نومبر کے ہنگامی حالت کے اعلان اور عارضی دستوری بل (پی سی او) کو جائز قرار دیا۔

واضح رہے کہ ۳نومبر ۲۰۰۷ء کو سپریم کورٹ کے ۷ رکنی بنچ نے ۳ نومبر کے اس اقدام کو خلافِ آئین قرار دیا تھا اور عدالت نے آرمی چیف ’کورکمانڈر‘ تمام فوجی اور سول افسران کو ہدایت دی تھی کہ ۳نومبر کے خلاف آئین احکام کی پابندی نہ کریں، اصل دستور پر عمل کریںاور پروویژنل دستور کی پروا نہ کریں نیز کوئی جج اس ناجائز فرمان کے تحت حلف نہ لے۔

عدالت عالیہ کے ججوں کی بحالی کا مسئلہ عدالت کی آزادی ، دستور کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کے غیرقانونی اقدام کی تنسیخ اور اس کو مسلط کرنے والوں پر گرفت اور دستور اور قانون کے مطابق ان کے اس جرم کی قرارواقعی سزا پر محیط ہے۔

بحالی عدلیہ کی تحریک :چند اھم پھلو

عدلیہ کی آزادی اور بحالی کی تحریک اپنی اس اصولی اور اخلاقی نوعیت کے ساتھ ساتھ کئی اور پہلوئوں سے بھی اہم ہے۔ ہم ان میں سے چند پہلوئوں کی طرف صرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:

۱- یہ صحیح معنی میں ایک عوامی تحریک تھی۔ اس کی قیادت وکلا برادری کر رہی تھی۔ اس کی تائید سول سوسائٹی کے تمام ہی اداروں نے کی۔ اس کی تقویت کا باعث سیاسی کارکنان اور ان کی قیادت کی شرکت تھی، لیکن اس کا سب سے نمایاں پہلو عوام کی بیداری اور علاقے، زبان اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر عوام کے سب ہی طبقات کی والہانہ شرکت ہے۔ اس تحریک نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دی کہ محض مفادات کے حصول کے لیے ہی نہیں بلکہ ایک اصولی اور اخلاقی مقصد کے حصول کے لیے بھی عوامی تحریک برپا کی جاسکتی ہے اور وہ عوام کی قوت سے اپنے اہداف حاصل کرسکتی ہے۔

۲- دوسری خصوصیت اس تحریک کا تسلسل اور اس میں غیرمعمولی جان اور توانائی ہونے کی ہے۔ سیاسی تحریکیں چشم زدن میں اپنے اہداف حاصل نہیں کرلیتیں بلکہ اس کے لیے صبر اور استقامت سے جدوجہد کرنا ہوتی ہے۔ دبائو کا مقابلہ کیا جاتا ہے، اور ہمت نہیں ہاری جاتی۔ اس تحریک میں وکلابرادری، تاجروں، طالب علموں، سیاسی کارکنوں کا کردار قابلِ تعریف ہے۔ دو سال تک تحریک کو جاری و ساری رکھنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ حقوق کی جدوجہد اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب نظریاتی شعور کے ساتھ اَن تھک محنت اور استقامت سے جدوجہد کو جاری رکھا جائے۔

۳- اس تحریک کا تیسرا پہلو اس کا ہر دور اور ہر حال میں، حتیٰ کہ ریاستی تشدد کے علی الرغم پُرامن رہنا ہے۔ جوش کے ساتھ ہوش بھی ضروری ہے اور ذرا سی غلطی پوری تحریک کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے۔

۴- تحریک میں نوجوانوں کی شرکت، نوجوان وکلا کی قربانیاں، اور اس کے ساتھ میڈیا کا بے مثال تعاون بھی اس کی کامیابی کا ایک اہم سبب ہے۔ سیاسی جماعتوں اور حکومت دونوں کو عوام اور میڈیا کی قوت کے صحیح ادراک کی ضرورت ہے۔

۵- اس تحریک کا ایک اور پہلو بڑا اہم ہے اور وہ یہ کہ آمریت کے جبر کے نظام میں جو خاموشی ہوتی ہے اور عوام میں جو بددلی اور مایوسی گھر کر لیتی ہے وہ عارضی اور پُرفریب  ہوتی ہے۔ ۹مارچ ۲۰۰۷ء سے پہلے کسے توقع تھی کہ مزاحمت کی ایک چنگاری سے آمریت کے استبدادی نظام کو خاکستر بنانے والی تحریک جنم لے سکتی ہے۔ پاکستان کو ایک ناکام ریاست قرار دینے والے یہ توقع نہیں رکھتے تھے کہ ایک اصول کی خاطر عوام اس طرح بیدار اور متحرک ہوجائیں گے۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اسی مایوس قوم کے بطن سے ایک ملک گیر تحریک جنم لیتی ہے اور آمریت کی چولیں ہلادیتی ہے۔ مشرف کا سورج غروب ہوجاتا ہے اور زرداری بھی اپنے سارے کرّوفر اور حیلوں اور سازشوں کے باوجود گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ آمریت اور مایوسیوں کی تاریکیوں میں ایسی تحریک کا رونما ہونا اور کامیاب ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ  ع

ایسی بھی کوئی شب ہے کہ جس کی سحر نہ ہو!

پیپلزپارٹی کے جمھوری دعووں کی حقیقت

اس تحریک کو ناکام کرنے اور اس کو کچل دینے کے لیے جو ہتھکنڈے پرویز مشرف کے آمرانہ نظام اور زرداری صاحب کے جمہوری تماشے نے کیے ان کا ذکر اور بالآخر ان کی ناکامی   اور بے مایگی کا اظہارو اعتراف بھی ضروری ہے۔ مشرف کے اقتدار کا زوال ۹ مارچ ۲۰۰۷ء سے شروع ہوگیا اور ۱۲ مئی ۲۰۰۷ء کو کراچی کی خونیں ہولی اور وکلا، عوام، سیاسی کارکنوں اور خود میڈیا کو جبرواستبداد کے ہتھکنڈوں سے زیر کرنے کی ساری کوششوں کے باوجود ۱۸ فروری کو عوام نے پوری قوت سے آمرانہ نظام کو رد کردیا اور زرداری صاحب کی ساری وعدہ خلافیوں اور کہہ مکرنیوں، پنجاب کی عوامی مینڈیٹ کے بل پر وجود میں آنے والی حکومت کی معطلی، گورنرراج، قیدوبند، تشدد اور جبر، راستوں کی بندش اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قانون کی حکمرانی کی تحریک چلانے والوں پر لاٹھی چارج اور گیس کے شیلوں کی بارش کے لیے استعمال کرنے کے علی الرغم اور ۱۵ مارچ کی دوپہر تک مطالبات تسلیم کرنے سے انکار اور قوت اور جبر سے تحریک کو ختم کردینے کے دعووں کے باوجود تحریک کے مرکزی مطالبے کو تسلیم کرلینا، جہاں عوامی تحریک کی قوت کا ثبوت ہے،وہیں جمہوریت کے دعوے داروںکے اصل چہرے سے نقاب اُٹھانے کا بھی ذریعہ ہے۔

جو زبان زرداری صاحب نے استعمال کی، ان کی وزارتِ داخلہ کے مشیر نے جس طرح بغاوت کا ڈھول پیٹا اور جس طرح حاکمانہ قوت سے تحریک کو دبانے کے لیے مذموم ہتھکنڈوں کا استعمال کیا، اس نے پیپلزپارٹی کے جمہوری دعوئوں کی قلعی کھول دی۔ بلاشبہہ پیپلزپارٹی میں ایسے افراد بھی تھے جنھوں نے اس پالیسی کو ناپسند کیا، کچھ نے استعفے تک دیے اور بہت سوں نے عوامی تحریک کا ساتھ دیا لیکن ایک بڑی تعداد نے زرداری صاحب کے مقاصد کی خدمت کر کے اپنا اصل چہرہ قوم کے سامنے بے نقاب کردیا اور اس کی قیمت انھیں آیندہ ادا کرنا ہوگی۔ وزیراعظم نے آخری وقت میں حالات کو سنبھالنے اور زرداری صاحب سے کچھ فاصلہ اختیار کرنے کا رویہ اختیار کیا اور مسئلے کا کچھ حل نکالنے کی کوشش کی، تاہم بحیثیت مجموعی پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت نے قوم کو بری طرح مایوس کیا اور اس تحریک کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ ع

لیکن اتنا تو ہوا، کچھ لوگ پہچانے گئے

اس سلسلے میں پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کے ساتھ ایم کیو ایم اور خود اے این پی اور جے یو آئی کی بھی جو تصویر قوم کے سامنے آئی ہے وہ کسی حیثیت سے بھی قابلِ رشک نہیں۔ رہے مشرف اور زرداری صاحب تو ان کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ   ؎

خودی کا نشہ چڑھا ، آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ ، مگر بنا نہ گیا

چیف جسٹس کی بحالی اور قوم کی توقعات

تحریک کے نتیجے میں چیف جسٹس سمیت ۱۱ ججوں کی ۲ نومبر ۲۰۰۷ء کی پوزیشن میں بحالی ایک اہم کامیابی ہے اور اسے صحیح سمت میں ایک مناسب اور خوش آیند قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔یہ بلاشبہہ ایک بڑی کامیابی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ایک بہت بڑی آزمایش ہے کہ عوام نے جن مقاصد کے لیے تحریک چلائی، قربانیاں دیں اور نتیجتاً اُن کی جو توقعات عدلیہ سے وابستہ ہیں، وہ کہاں تک پوری ہوتی ہیں۔ وزیراعظم صاحب نے جو انتظامی حکم نامہ جاری کیا ہے وہ کئی لحاظ سے بڑا اہم ہے، جب کہ کچھ دیگر حیثیتوں سے مبہم اور غیرتسلی بخش بھی ہے۔ جس عجلت میں وکلا کی قیادت اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے مارچ اور دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کیا اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اعلان کا یہ حصہ اہم ہے:

جیساکہ وزیراعظم پاکستان نے ۱۶ مارچ ۲۰۰۹ء کو اعلان کیا کہ عدالتِ عظمیٰ اور مختلف عدالت ہاے عدلیہ کے معزول شدہ جج صاحبان بشمول مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری، معزول چیف جسٹس آف پاکستان کو اسی پوزیشن پر بحال کیا جائے گا جو کہ ۳ نومبر ۲۰۰۷ء سے پہلے انھیں حاصل تھی۔

لہٰذا صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے جسٹس افتخارمحمد چودھری، معزول چیف جسٹس آف پاکستان کو ان کو اسی پوزیشن پر بحال کردیا ہے جس پر وہ ۳ نومبر ۲۰۰۷ء سے پہلے تھے۔ مسٹر جسٹس افتخارمحمد چودھری، مسٹر جسٹس عبدالحمید ڈوگر چیف جسٹس آف پاکستان کی ۲۱ مارچ ۲۰۰۹ء کو ریٹائرمنٹ کے بعد ۲۲ مارچ ۲۰۰۹ء سے چیف جسٹس آف پاکستان کا اختیار سنبھال لیں گے۔

ججوں کی ۲ نومبر ۲۰۰۷ء کی پوزیشن پر بحالی کے معنی یہ ہیں کہ ان کی ۳ نومبر کی معطلی ایک غلط اقدام تھا لیکن ۳ نومبر کے پرویز مشرف کے اعلان کی تنسیخ کا کوئی ذکر اس اعلامیے میں نہیں ہے۔ نیز دوسرے تمام ججوں کو فوری طور پر بحال کردیا گیا ہے لیکن چیف جسٹس افتخار چودھری کو جسٹس ڈوگر کی میعادِ ملازمت کے ختم ہونے کے بعد بحال کیا جا رہا ہے جس سے بجاطور پر یہ شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈوگرصاحب کے چیف جسٹس ہونے کو جواز دیا جا رہا ہے حالانکہ ان کے چیف جسٹس ہونے کا پورا دور قانون کی نگاہ میں جائز نہیں۔ وہ بالفعل (de facto) تو چیف جسٹس تھے لیکن ان کے دور کو de jure یعنی قانون کے تحت جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہی وہ ابہام ہے جس کا دُور کیا جانا ضروری تھا اور ہے۔ اب اس کے دو راستے ہیں اور ان دونوں پر فی الفور عمل ہونا چاہیے۔ وکلا برادری اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ کمر کھول کر آرام کا تصور بھی نہ کریں بلکہ تحریک کو اس کے منطقی نتائج تک پہنچانے کے لیے نئے عزم سے سرگرم ہوجائیں۔

نظریۂ ضرورت سے نجات

ایک کام اب پارلیمنٹ کے کرنے کا ہے کہ وہ ۳ نومبر کے اقدام کے بارے میں کھل کر یہ اعلان کرے کہ وہ اقدام خلافِ آئین تھا جسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر نظریۂ ضرورت کی عفریت سے نجات ناممکن ہے۔ جس طرح پرویز مشرف نے دستور کی پابندی کا حلف لینے کے باوجود، چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے پی سی او نافذ کیا، اگر اس کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں کیا جاتا تو خدانخواستہ کل کوئی دوسرا طالع آزما بھی یہ کھیل کھیل سکتا ہے اور اسے بھی تحفظ کی توقع ہوسکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ پارلیمنٹ نے آج تک ۳نومبر کے اقدام کو  جائز (validate)  قرار نہیں دیا اور AAA۲۷۰ کا دستور میں اندراج غیرقانونی ہے لیکن چونکہ  ڈوگر عدالت نے اسے تحفظ دینے کی جسارت کی ہے اس لیے اس دروازے کو بند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ:

۱- ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کے اقدام کو صاف لفظوں میں خلافِ آئین اقدام قرار دے کر منسوخ کیا جائے۔

۲- اس اقدام کا ارتکاب کرنے والے شخص پر قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے اور اسے دستور کی دفعہ ۶ کے تحت سزا دی جائے۔

۳- اس کے ساتھ تعاون کرنے والے چیدہ چیدہ افراد کو ان کے جرم کی مناسبت سے سزا دی جائے یا مذمت کی جائے۔

۴- جسٹس حمود الرحمن کے جنرل یحییٰ کے خلاف تاریخی فیصلے کی روشنی میں جن اقدامات کو  past and closed transaction(قصۂ ماضی)قرار دینا ضروری ہے، ان کو قبول کرلیا جائے اور جن کی تنسیخ ضروری ہے ان کو منسوخ کیا جائے۔ اس طرح ان تمام دستوری ترامیم پر نظرثانی کر لی جائے جو ایک آمر نے دستور اور ملک پر مسلط کی تھیں۔ مشرف نے بی بی سی کو ۱۷ اکتوبر ۲۰۰۷ء کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے احکامات کو ماوراے آئین (beyond constitution) تسلیم کر کے ان کے غیرقانونی ہونے کا اعتراف بھی کرلیا تھا۔

نظریۂ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے ختم کیے بغیر اس ملک میں دستور اور قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور انتظامیہ کی قانون کے سامنے جواب دہی کا خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

عدلیہ کی بالادستی

دوسرا کام خود چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ کے کرنے کا ہے۔ ۳نومبر کے اقدام کے نتیجے میں اعلیٰ عدالتوں کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے اور ان میں پی سی او ججوں اور پھر زرداری صاحب کے جیالوں کی غیرقانونی تقرری ہوئی ہے، اولین موقع پر ان سب کا ، ۱۹۹۶ء کے الجہاد ٹرسٹ کے کیس میں سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کی روشنی میں جسے Judges Case کہا جاتا ہے، ازسرِنو بے لاگ جائزہ لیا جائے۔ جو حضرات اہلیت، دیانت اور حسنِ کردار کے معیار پر پورے اُترتے ہوں ان کا ضابطے کے مطابق تقرر کیا جائے اور باقی سب کو فارغ کردیا جائے۔ آیندہ دستور اور ججز کیس میں طے شدہ ضابطے کے تحت ججوں کا تقرر کیا جائے۔ نیز میثاقِ جمہوریت میں جو نیا طریقہ تجویز کیا گیا ہے، اسے سنجیدہ مشورے کے بعد دستوری ترمیم کے ذریعے مزید بہتر بناکر اختیار کیا جائے تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے اور عدلیہ میں دراندازی کا دروازہ بند ہوجائے۔

یہ دونوں اصلاحات عدلیہ کی ۲ نومبر ۲۰۰۷ء کی پوزیشن میں بحالی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہیں اور ان پر فوری عمل ہونا چاہیے۔ اس کے لیے مؤثر عوامی اور پارلیمانی دبائو کی ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ہم تین امور کی طرف مزید توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ پہلے کا تعلق تحریک کے     ذمہ داروں سے ہے کہ جہاں عوام نے اس تحریک میں اپنا حق ادا کر دیا وہاں تحریک کے ذمہ داروں نے اپنے فرض کی ادایگی میں بڑی کوتاہیاں کی ہیں اور ان کا احتساب اور آیندہ کے لیے اصلاح ضروری ہے۔

واضح اھداف کا تعین

پہلی چیز تحریک کے اہداف کے واضح تعین اور تمام اہداف کے حصول کو مساوی اہمیت دینے کے بارے میں ہے۔ ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی بحالی مترادف نہیں۔ عدلیہ کی آزادی اس سے بھی وسیع تصور ہے۔ ججوں کی ناجائز برطرفی کا عمل خود اپنی جگہ ایک ایسا مذموم کام ہے جس پر مؤثر گرفت کیے بغیر عدلیہ کی آزادی کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ قیادت نے صرف ایک مطالبے کے جزوی حصول کے اعلان پر پوری تحریک کو ختم کردیا جسے دانش مندی نہیں کہا جاسکتا۔ تحریک ایک فیصلہ کن مرحلے میں تھی اور جس طرح چند ماہ قبل ریلی کے بعد دھرنے کی کال واپس لے لی گئی، اس طرح اس بار بھی پورے اہداف حاصل کیے بغیر عجلت میں تحریک کو ختم کردیا گیا جس میں بڑے خطرات مضمر ہیں۔ دوسری سیاسی جماعتوں اور عوام نے قیادت کے فیصلے کو تسلیم کرلیا، جب کہ قیادت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرسکی اور اس کی ایک اہم وجہ تمام شرکا کی معتبر قیادتوں کا آپس میں مشورے کے ذریعے فیصلہ کرنے کے نظام کا نہ ہونا ہے۔ جتنی عظیم یہ تحریک تھی، قیادت نے اس کے مطابق فیصلہ کرنے اور مشاورت کے نظام کو مؤثر بنانے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے موجودہ مرحلے میں یہ صرف وکیلوں کی یا کسی ایک جماعت کی تحریک نہیں تھی۔ سب کا اپنا اپنا کردار تھا اور سب کی مشاورت ہی سے معاملات کو طے کیا جانا چاہیے تھا۔

فوجی مداخلت کا سدباب

دوسری بات سیاسی تحریک میں فوجی قیادت کے کردار سے متعلق ہے۔ زرداری صاحب نے فوج کو استعمال کرنے کے  راستے (option) کو ٹٹولا اور شکر ہے کہ انھیں اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ لیکن آخری ایام میں چیف آف اسٹاف کی جو سرگرمیاں رہیں، ان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ شکر ہے کہ انھوں نے نہ خود کسی سیاسی کردار کا راستہ اختیار کیا اور نہ کسی دوسرے کو اسے سیاسی طور پر استعمال کرنے کا موقع دیا لیکن ہمارا مطمحِ نظر یہ ہونا چاہیے کہ فوج اپنے کو صرف دفاعی ذمہ داریوں تک محدود رکھے۔ نہ تو سیاسی قیادت اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے اورنہ فوج خود ہی کسی سیاسی کردار میں ملوث ہو۔ امریکی جوائنٹ چیف ایڈمرل مولن نے ہمارے چیف آف اسٹاف سے جن دس ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے اور بین السطور جن راستوں (options)  کی بات کی ہے وہ اصولی طور پر قابلِ قبول نہیں ہیں۔ سیاسی مسائل کا حل بھی سیاسی ہی ہونا چاہیے اور اس میں فیصلے کا مرکز و محور پارلیمنٹ اور سیاسی قوتوں کو ہونا چاہیے۔ کسی فریق کی طرف سے بھی فوج کو ملوث کرنا، دستور، قانون، سیاسی آداب اور اجتماعی اخلاقیات کے منافی ہے۔

داخلی امور میں مداخلت

تیسرا مسئلہ اس پورے معاملے میں بیرونی حکومتوں کے کردار سے متعلق ہے۔ ہماری سیاسی زندگی میں امریکی مداخلت کی تاریخ خاصی پرانی اور بڑی تشویش ناک ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں اس میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ محترمہ بے نظیرصاحبہ سے مصالحت کے سلسلے میں پرویز مشرف نے برطانیہ اور امریکا کو بلاواسطہ شریک کیا اور خود این آر او، اس بین الاقوامی کھیل کا  ثمرہ ہے۔

زرداری صاحب نے اس کھیل کو اور آگے بڑھا دیا ہے اور حالیہ تحریک کے دوران جس طرح برطانوی وزیرخارجہ، امریکا کی سیکرٹری آف اسٹیٹ اور صدر کے نمایندے ہال بروک،   ملک میں برطانوی، امریکی، سعودی اور امارات کے سفیروں کی بھاگ دوڑ دیکھنے میں آتی رہی وہ نہایت افسوس ناک ہے، بلکہ دی وال اسٹریٹ جنرل نے تو صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ:

غضب ناک احتجاج کرنے والوں کے مقابلے میں پولیس کی پسپائی اور امریکا کے دبائو کے بعد مسٹر زرداری نے تسلیم کیا۔ (۱۷ مارچ ۲۰۰۹ء)

یہ سب عوامل ہمارے داخلی معاملات میں بیرونی حکومتوں کے ملوث ہونے کی جو تصویر پیش کر رہے ہیں وہ بڑی تشویش ناک ہے اور ہماری آزادی اور حاکمیت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ ایک طرف امریکا قوم کے احتجاج کے باوجود پوری بے باکی سے ڈرون حملوں میں مصروف ہے اور دوسری طرف مصالحت کے نام پر سیاسی اور سفارتی ڈرون بھی داغے جارہے ہیں۔ قوم اس  صورت حال میں دل گرفتہ اور اپنی آزادی اور حاکمیت کی بردگی (erosion)  پر سخت تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ پہلے بیرونی اثرات بڑے معاملات تک محدود تھے مگر اب یہ  معمولی امور میں بھی مداخلت کی صورت اختیار کرتے جارہے ہیں اور جس نئی غلامی کی طرف قوم کو دھکیلا جا رہا ہے،    وہ ناقابلِ برداشت ہے۔

ہم مجبور ہیں کہ قوم کے اس اضطراب اور تشویش کا بھی اظہار کریں کہ کیا بات صرف ان اعلانات تک محدود ہے جو وزیراعظم نے کیے ہیں یا ان کے پیچھے کوئی اور ڈیل بھی چھپی ہوئی ہے جو تحریک کے کچھ عناصر، حکومت اور بیرونی کھلاڑیوں کے درمیان ہوئی ہے اور ابھی تک پردہ خِفا میں ہے۔ اس تشویش کا اظہار مختلف حلقوں سے ہو رہا ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دی نیوز اخبار اپنے ادارتی کالموں میں اس خدشے کا اظہار یوں کرتا ہے:

ہمیں نہیں معلوم کہ بند دروازوں کے پیچھے اس پر کوئی ڈیل ہوئی ہے یا نہیں۔ ججوں کو بحال کرنے کے ڈرامائی اعلان کے پس منظر میں کسی راضی نامے کی تفصیلات ابھی تک معلوم نہیں ۔ (اداریہ، دی نیوز، ۱۷ مارچ ۲۰۰۷ء)

مطلوبہ اھداف اور مجوزہ اقدامات

بلاشبہہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک اپنے مرکزی ہدف کی حد تک کامیاب رہی لیکن جیساکہ ہم نے عرض کیا: عدلیہ، پارلیمنٹ اور تحریک کے شرکا سب کا امتحان اب شروع ہوا ہے۔ سیاسی ہدف کے حصول کے لیے عوامی تحریک چلانا ضروری نہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر سیاسی اہداف معروف سیاسی عمل کے ذریعے حاصل نہیں ہوتے تو عوام کو مزاحمت اور عوامی دبائو کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، اس لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ عدلیہ، پارلیمنٹ اور خصوصیت سے حکومت، حزبِ اختلاف اور میڈیا کو اس طرف متوجہ کریں کہ جس تبدیلی کا آغاز ۱۶ مارچ کو حکومت کی طرف سے عوامی مطالبات کے احترام کے عندیے کے اظہار سے ہوا ہے، اسے اس کے فطری انجام تک پہنچانے کی جدوجہد کریں۔ اس وقت جو بڑے بڑے چیلنج قوم کے سامنے ہیں وہ سب مثبت ردعمل کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہم چند نکات کی طرف اشارہ ضروری سمجھتے ہیں:

۱- ججوں کی بحالی ہو گئی لیکن ابھی عدلیہ کی ۲ نومبر ۲۰۰۷ء والی صورت میں مکمل بحالی اور ۳نومبر کے تباہ کن اقدام کی تنسیخ اور اس کے تحت رونما ہونے والے بگاڑ کی اصلاح ہونا باقی ہے۔ یہ کام، جیساکہ ہم نے اُوپر عرض کیا ہے، بلاتاخیر ہونا چاہیے لیکن عدلیہ اور وکلا کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ عوام عدل کے قیام اور قانون کی بالادستی اور قانون کی نگاہ میں سب کی برابری کے نظام کے متمنی ہیں۔ اس ہدف کے حصول کے بغیر وہ اپنی تحریک کو کامیاب نہیں سمجھیں گے۔ اس کے لیے عدلیہ کی تنظیم نو کے ساتھ اس بات کی ضرورت ہے کہ عدلیہ عدالتی فعالیت (judicial activism)  اور عدالتی ضبط (judicial restraint)  کی بحثوں میں پڑے بغیر کم از کم مندرجہ ذیل امور کا اہتمام  کرے:

ا- عدلیہ سے بدعنوانی کا خاتمہ، خصوصیت سے نیچے کی سطح پر جہاں عوام کو نظامِ عدل کے کارپردازوں سے روزمرہ سابقہ پیش آتا ہے اور وہ بے انصافی، بدعنوانی، تاخیر اور تعویق کے چکروں سے بے زار ہیں۔ عوام کو انصاف چاہیے، انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے،انصاف تاخیر کے بغیر حاصل ہو اور عوام کی دہلیز پر آسکے۔ اس کے لیے اعلیٰ عدالتوں کو بڑا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

ب- عدالتیں دستور اور قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے لیے کمربستہ ہوجائیں اور سیاسی اور دوسرے اثرورسوخ کے سایے سے بھی اپنے کو محفوظ رکھیں۔ اس سلسلے میں جو بُری روایات گذشتہ ادوار میں راہ پا گئی ہیں ان کو شعوری جدوجہد کے ذریعے ختم کرنا اور انصاف فراہم کرنے والے افراد اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنا وقت کی بہت اہم ضرورت ہے۔

ج- عدالت عالیہ کے  ازخود (suo moto) اختیارات پر قینچی چلانے کی ہرکوشش کو سختی سے ناکام بنانا ہم سب کا فرض ہے لیکن عدالت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ دستور کی حفاظت اور عوام کے حقوق کی پاسداری کے لیے تو سرگرم ہو مگر دستور میں جو تقسیمِ اختیارات اور توازن (check & balance)  کا نظام ہے اس کا احترام کرے۔

د- چند بنیادی ایشو ایسے ہیں جن کا اعلیٰ عدالتوں کو جرأت اور دیانت کے ساتھ سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں پی سی او کا مسئلہ، این آر او کا جواز (legitimacy)  اور اس کی معقولیت (propriety)  اِسی طرح ہزاروں لاپتا افراد کی بازیافت کے مسائل کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور عدالت کی آزادی کا امتحان بھی ان امور پر اس کے کردار سے ہو گا۔

ھ- وکلا کی تحریک نے وکیلوں پر عوام کے اعتماد کو ایک نئی زندگی دی ہے۔ لیکن اس کا تقاضا ہے کہ وکلا بھی محض پیسہ کمانے اور اپنے موکلوں کے استحصال کا راستہ اختیار نہ کریں بلکہ خدمت اور مظلوم کی مدد اور انصاف کے حصول میں ان کی معاونت کو اپنا شعار بنائیں اور جو کاروباری رنگ اس معزز پیشے نے اختیار کرلیا ہے، اس سے نجات کی فکر کریں۔ کسب حلال آپ کا حق ہے لیکن یہ بھی آپ کا فرض ہے کہ محنت اور دیانت سے اپنے موکل کی خدمت کریں اور اس کا حق ادا کریں۔ انصاف سے محرومی آج ایک عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور تھانے کچہری کے کلچر نے اس کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ عدلیہ سے متعلق تمام افراد کا خواہ ان کا تعلق بار سے ہو یا بنچ سے، ایک ہی ہدف ہونا چاہیے اور وہ عوام کو پورا پورا انصاف فراہم کرانا ہے جو دیانت، حق و صداقت اور عام آدمی کی دسترس کے اندر حاصل ہوسکے۔ اس لیے انصاف، جلد انصاف اور سستا انصاف ہمارا شعار (موٹو) ہونا چاہیے۔

۲-  دوسرا مسئلہ دستور کی بحالی کا ہے۔ اس سلسلے میں بھی سارے دعوئوں کے باوجود برسرِاقتدار جماعتوں نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے۔ دستور کو ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کی حالت میں بحال کرنے کا ہر ایک نے وعدہ کیا ہے۔ میثاق جمہوریت (۲۰۰۶ء) کا یہ مرکزی نکتہ ہے اور جولائی ۲۰۰۷ء میں لندن میں منعقدہ کُل جماعتی کانفرنس نے اس کا عہد کیا تھا لیکن اس طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ زرداری صاحب نے صدارت سنبھالنے کے بعد اختیارات پارلیمنٹ کو تحفہ میں دینے کا عہد کیا تھا مگر اپنے دوسرے تمام عہدوپیمان کی طرح اسے بھی وہ بھول گئے ہیں۔ دستور کی اصل شکل میں بحالی کے بغیر، نہ پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہوسکتی ہے اور نہ جمہوریت اور ملک کے تمام ادارے تقویت حاصل کرسکتے ہیں، اس لیے تمام جماعتوں کو اس کی طرف بلاتاخیر متوجہ ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ کا اجلاس خواہ اسے کتنے ہی دن چلانا پڑے بلایا جائے اور جلد از جلد دستور کو، جس پر ضربیں لگا کر اس کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے، بگاڑ اور خرابیوں سے پاک کیا جائے تاکہ آمریت کے دور میں اس کے جسم پر لگے زخم مندمل ہوسکیں۔

۳- تیسرا بنیادی مسئلہ ملک میں امن و امان کے قیام کا ہے جس کا گہرا تعلق ’دہشت گردی‘ کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کی شمولیت اور اس کے نتیجے میں صرف فاٹا اور قبائلی علاقوں ہی میں نہیں، پورے ملک میں حکومت، فوج اور عوام کے درمیان شدید کش مکش اور پیکار کی کیفیت ہے۔ ہزاروں افراد اس آگ میں لقمۂ اجل بن گئے ہیں، لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں، دہشت گردی، اور جرائم میں اضافہ ہوا ہے، معیشت پر اس کے اثرات تباہ کن ہوئے ہیں اور محتاط اندازوں کے مطابق گذشتہ ۸ سال میں معیشت ۳ کھرب روپے (۳۵ بلین ڈالر) سے زیادہ کا خسارہ برداشت کرچکی ہے۔ اس دلدل سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ سب سے بڑھ کریہ کہ ملک کی آزادی خطرے میں پڑ گئی ہے، اور حاکمیت مجروح ہوئی ہے اور قومی عزت و وقار خاک میں مل گیا ہے۔

۴- چوتھے مسئلے کا تعلق مرکز اور صوبوں کے تعلقات کو انصاف اور وفاق کے مسلّمہ اصولوں کی بنیاد پر استوار کرنے اور صوبوں کو ان کے سیاسی اور معاشی حقوق پورے کے پورے ادا کرنے کا ہے۔ اس سلسلے میں دستور میں بھی ضروری ترامیم کی ضرورت ہے اور اس سے زیادہ عملی طور پر صوبوں کے معاملات میں مرکز کی مداخلت اور صوبوں کے وسائل پر مرکز کی گرفت دونوں کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے حالات خصوصی توجہ کے مستحق ہیں لیکن بات صرف بلوچستان کی نہیں بلکہ تمام صوبوں کی ہے۔ ستم ہے زرداری صاحب نے پنجاب تک کو اپنے معاملات خود نمٹانے کے حق سے محروم کر دیا ہے اور گورنر راج کی لعنت اس پر مسلط کردی ہے۔ صوبائی خودمختاری اور صوبے کے اپنے وسائل پر تصرف کے اختیارات کا احترام وقت کی بڑی ضرورت ہے۔

۵- پانچواں مسئلہ ملک کی بگڑی ہوئی معیشت اور خصوصیت سے پیداواری نظام کا جھول، بے روزگاری میںاضافہ، غربت اور افلاس میں اضافہ، قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، پانی کی قلت اور تعلیم اور علاج کی سہولتوں کا فقدان ہے۔ قوم، اشرافیہ اور مفلوک الحال طبقوں میں بٹ گئی ہے اور عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔ موجودہ حکومت ایک سال میں بھی کوئی مربوط اور حقیقت پسندانہ معاشی پالیسی تشکیل دینے میں ناکام رہی ہے اور ملک ایک فلاحی اور خوش حال معاشرے کی جگہ ایک استحصالی نظام کی گرفت میں آگیا ہے جس کے نتیجے میں معاشی بگاڑ کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی خلفشار بھی بڑھ رہا ہے۔ معاشی مسائل روز بروز بگڑ رہے ہیں اور اربابِ اقتدار کا حال یہ ہے کہ انھیں اپنی عیش پرستیوں کے سوا کسی بات میں دل چسپی نہیں۔ یہ حالات انقلاب کی طرف لے جانے والے ہیں اور فوری توجہ کا تقاضا کر رہے ہیں۔

۶- چھٹی اور آخری چیز قوم میں مقصدیت کا فقدان اور قومی مقاصد کے باب میں ذہنی انتشار اور خلفشار کو ہوا دینے کی تباہ کن پالیسی ہے جس پر حکام اور بااثر طبقات کاربند ہیں۔ وہی قومیںترقی کرتی ہیں جن کے سامنے کوئی مقصد ہو، جو اپنی شناخت کی حفاظت کر سکیں، جن کا تعلیمی نظام فکری اور نظریاتی یکسوئی کے ساتھ اعلیٰ صلاحیتوں سے نئی نسلوں کو آراستہ کرے، جن کے سامنے اعلیٰ مقاصد کا حصول اور صرف ذات کی پوجا کے مقابلے میں قومی زندگی کے استحکام و ترقی اور انسانیت کے لیے کسی اعلیٰ آدرش کے حصول کا جذبہ اور صلاحیت ہو۔ اسلام نے ہمیں زندگی کا اعلیٰ ترین تصور دیا ہے جو ہمارے لیے ہی نہیں پوری انسانیت کے لیے رحمت اور نعمت ہے لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنے مقصد حیات اور تہذیبی اہداف کو بھولے ہوئے ہیں اور جاہلانہ عصبیتوں کا شکار ہیں اور ہمارا حال یہ ہے کہ    ؎

رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیرِ پاک و خیالِ بلند و ذوقِ لطیف

حالانکہ زندگی نام ہے تخلیق کے مقاصد کے حصول کی جدوجہد کا اور آرزو کو زندہ و بیدار رکھنے کا۔ بقول اقبال    ؎

ما ز تخلیقِ مقاصد زندہ ایم
از شعاع آرزو تابندہ ایم

(حالات کیسے ہی دگرگوں ہوں، اگر دلوں میں حصولِ منزل کی آرزو ہے اور ہم تخلیقِ مقاصد سے دست کش نہیں ہوئے تو ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ سرنگ کے اُس پار نظر آنے والی روشنی، ہمارا استقبال کرنے کے لیے بے تاب ہے۔)

بقول عرفی    ؎

کسیکہ محرم بادِ صباست ، مے داند
کہ باوجودِ خزاں، بوئے یاسمن باقیست

(جو شخص بھی بادِ صبا کے لطف و خوش بو سے واقف ہے، خوب جانتا ہے، کہ موسمِ خزاں کے باوجود، یاسمین کی خوش بو اور مہک (کہیں نہ کہیں) موجود ہے۔)

 

فلسطین کے حوالے سے ایک عالمی کانفرنس میں تقریباً تمام اسلامی تحریکوں کے ذمہ داران اور قائدین بھی شریک تھے۔مختلف امور پر تفصیل سے گفتگو کے لیے محترم قاضی حسین احمد کے کمرے میں الگ سے نشست رکھی گئی۔ دیر تک تبادلۂ خیال رہا۔ اچانک اخوان المسلمون کے مرکزی نائب مرشد عام ڈاکٹر حسن ہویدی حماس کے سربراہ خالد مشعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’میں کافی دیر سے دیکھ رہا ہوں کہ ہماری ساری گفتگو کے دوران جب بھی موقع ملتا ہے، ابوالولید (خالدمشعل کی کنیت) کوئی تسبیح یا ذکر کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم سب کو کوشش کرنا چاہیے کہ ہم بھی اپنی زبانوں کو زیادہ سے زیادہ ذکر وتسبیح سے معطر رکھیں‘‘۔ للہیت، اُمت کے درد اور اقامت دین کے جذبے سے سرشار ___ یہ تھے اخوان المسلمون کے مرکزی نائب مرشدعام ڈاکٹر حسن ہویدی جن کا قضاے الٰہی سے ۱۲مارچ ۲۰۰۹ء کو انتقال ہوگیا۔ اناللّٰہ وانا الیہ رٰجعون!

حسن ہویدی ۱۹۲۵ء کو شام میں پیدا ہوئے، دمشق ہی سے ایم بی بی ایس کیا۔  زمانۂ طالب علمی ہی میں اخوان سے وابستگی ہوگئی۔ اخوان کے قائدین خاص طور پر مصطفی سباعی سے اکتساب فیض کیا اور پھر طب کے پیشے کو خیرباد کہہ کر تحریک ہی کے لیے وقف ہوگئے۔ ۱۹۶۷ء اور ۱۹۷۳ء میں گرفتار ہوئے اور تعذیب و مشقت سے دوچار کیے گئے۔ آخرکار ملک بدری پر   مجبور ہوئے، آخری سانس تک وطن واپس نہ لوٹ سکے اور ۱۲ مارچ بروز جمعرات شام کے پڑوس میں واقع مملکت اُردن میں رب کے پاس پہنچ گئے۔ رب ذوالجلال ان کی قبر نور سے بھر دے ۔ ان کی حسنات کو صدقۂ جاریہ بناتے ہوئے اور اصلاح و انقلاب کے لیے ان کی مساعی کو کامیابی کی منزل تک پہنچاتے ہوئے ان کی روح کو آسودہ فرمائے۔ آمین!

ڈاکٹر حسن ہویدی للہیت کا پرتو تھے۔ مرحوم کی وصیت میں بھی اس کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ پیشِ خدمت ہے۔ واضح رہے کہ یہ وصیت انھوں نے اپنی وفات سے ۴ برس قبل  تیار کر چھوڑی تھی، گویا تب ہی سے اپنے رب سے ملاقات کا انتظار تھا… تیاری مکمل تھی:

میری وصیت ہے کہ میری وفات کے وقت (ممکنہ حد تک) صرف وہی افراد میرے پاس ہوں جو آپ کے نزدیک نیک لوگوں میں شمار ہوتے ہوں۔ وہ مجھے اپنے رب کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی تلقین کریں، مجھے اس کی رحمت و مغفرت سے اچھی اُمیدیں رکھنے کی تلقین کریں، مجھے کلمہ طیبہ ادا کرنے کا کہیں تاکہ دنیا سے جاتے ہوئے میرے آخری الفاظ یہی ہوں کہ: لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ!

جب روح پرواز کر جائے تو وہ میری آنکھیں بند کرتے ہوئے میرے لیے کلمۂ خیر کہیں، کیونکہ میت کے پاس جو کچھ بھی کہا جائے فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔

میں اپنے تمام احباب سے عفو و درگزر کی درخواست کرتا ہوں۔ میرے علم کی حد تک مجھ پر کسی کا کوئی قرض نہیں ہے۔ ہاں البتہ دفتر کے بعض امور میں تقدیم و تاخیر کے حوالے سے کوئی چیز ہو تو انھیں ریکارڈ اور کھاتوں کے مطابق دیکھ لیا جائے تاکہ میں کسی کا کوئی بوجھ لے کر نہ جائوں۔

میری یہ بھی وصیت ہے کہ میرا کفن میرے ہی پیسوں سے خریدا جائے اور مجھے غسل دینے والے نیکوکار لوگ ہوں۔ جس ملک میں میرا انتقال ہو، مجھے وہیں دفن کردیا جائے۔ میری آرزو تو یہی ہے کہ پروردگار! میری وفات کا وقت حبیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار میں لائے۔ میری قبر پر کوئی عمارت نہ بنائی جائے اور نہ اسے پختہ ہی کیا جائے۔

میری اپنے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کو وصیت ہے کہ وہ اپنی والدہ سے نیک برتائو رکھیں، سب مل کر ہمیشہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کریں، باہم جھگڑوں اور اختلافات سے  دُور رہیں، ہمیشہ صلۂ رحمی کریں اور اپنے سسرالیوں سے خیروبھلائی کا برتائو کریں اور مجھے بھی    اپنی دعائوں اور تلاوت سے محروم نہ رکھیں۔

                اللہ کی رحمتوں کا محتاج

                شعبان ۱۴۲۶ھ                               حسن ہویدی

 

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ آدمی کی نماز، جماعت کے ساتھ ۲۵ درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، بمقابلہ اس نماز کے جو گھر یا بازار میں پڑھے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ جب وضو کیا، اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا خالص نماز کی نیت سے تو ہرقدم جوو ہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے، اس قدم کی بدولت ثواب کے ذریعے اس کا درجہ بلند کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک گناہ معاف کیا جاتا ہے۔ پھر جب وہ نماز پڑھتا ہے تو جب تک وہ نماز میں مشغول رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعاے رحمت و مغفرت کرتے ہیں، اور جب تک تم میں سے کوئی نماز کے انتظار میں رہتا ہے اس کا وہ وقت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب تک وہ کسی کو مسجد میں ایذا نہ دے اور جب تک اس کا وضو نہ ٹوٹے‘‘۔ (بخاری، مسلم)

اس حدیث میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا حساب لگا کر بتا دیا ہے کہ باجماعت نماز کا اجر انفرادی نماز سے ۲۵ گنا کیوں ہوتا ہے۔ سب سے پہلے نمازی نے وضو کیا پھر مسجد کی طرف روانہ ہوا،  تو چونکہ یہ سارا اہتمام اس نے نماز کی خاطر کیا، اس لیے گویا اس کا حساب کھل گیا۔ اب اس کے ہر قدم پر جو نیکی کی جانب اُٹھ رہا ہے اس کا ایک گناہ معاف ہوتا ہے، اور ایک درجہ اس کا بلند کردیا جاتا ہے۔ مسجد میں آیا، ابھی جماعت میں دیر ہے تو جتنی دیر وہ نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے گا اس کا یہ سارا وقت بھی نماز کے حساب میں لکھا جائے گا۔ پھر جب نماز پڑھے گا تو فرشتے اس پر رحمت بھیجیں گے۔ اس طرح یہ ساری چیزیں مل کر نماز باجماعت کے اجر کو بڑھا دیتی ہیں، بہ نسبت اس نماز کے جو گھر میں  ادا کی جائے۔

اس روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں کہ ’’جب تک وہ کسی کو مسجد میں ایذا نہ دے اور جب تک اس کا  وضو نہ ٹوٹے‘‘ یعنی اگر مسجد میں جاتا ہے اور وہاں جھگڑتا ہے، دوسرے نمازیوں کو اذیت پہنچاتا ہے،دھکے مار کر اور دوسروں پر سے پھلانگ کر اپنا رستہ بناتا ہے تو وہ اپنے اجر کو ضائع کرتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک آدمی نے وضو توڑ دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز میں نہیں۔ وضو کے ساتھ ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ نماز کے لیے تیار ہے۔


حضرت انسؓ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ مسجدیں بنانے میں لوگ فخر کیا کریں گے‘‘۔ (ابوداؤد، دارمی، نسائی، ابن ماجہ)

مطلب یہ ہے کہ ہر گروہ یہ چاہے گا کہ میری مسجد زیادہ شان دار اور زیادہ اُونچی ہو اور اس سلسلے میں لوگوں کے درمیان باہم مقابلہ شروع ہوجائے گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ بھی قربِ قیامت کی ایک علامت ہے۔ جب ایسا ہو تو دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خیر کم ہورہی ہے اور مسجدوں کو بھی لوگوں نے ایک دوسرے پر تکبر کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ تکبر کا اظہار محلات بنانے میں ہو تو یہ بھی گناہ ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ بڑا گناہ یہ ہے کہ لوگ مسجدوں کے ذریعے اپنے تکبر کا اظہار کریں۔


حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تمھارے بچے ۷ سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب ۱۰ سال کے ہوں (اور نماز نہ پڑھیں) تو ان کو مار مار کر نماز پڑھائو ۔اور علیحدہ کردو ان کی سونے کی جگہ (یعنی ان کو تنہا سلائو)۔ (ابوداؤد)

عام طور پر لوگ اس حدیث کا جو مطلب لیتے ہیں وہ اس حکمتِ مطلوب کے خلاف ہے جسے اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے ملحوظِ خاطر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کون سا حکم کس موقع پر عمل میں آنا چاہیے، اگر آدمی اس کو نہ سمجھے تو عموماً غلطی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی مسئلے کو لے لیجیے۔ جب یہ حکم دیا جارہا تھا تو عہدِ رسالتؐ میں لوگوں کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ کوئی شخص نماز پڑھے بغیر مسلمانوں میں سے نہیں ہوسکتا۔ ترکِ صلوٰۃ کا عمل اسلامی نظام جماعت سے علیحدہ ہوجانے کی علامت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ منافقین تک کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز ادا کرنی پڑتی تھی۔ یہ بات کسی مسلمان کے ذہن میں آ ہی نہیں سکتی تھی کہ نماز کے بغیر بھی آدمی کا ایمان و اسلام سلامت رہتا ہے۔ ایک مسلمان بچہ اس معاشرے میں اپنے گھر والوں اور اہلِ محلہ کو نماز پڑھتے دیکھ کر ۷ سال کی عمر سے پہلے ہی نمازی ہوچکا ہوتا تھا۔ نماز نہ پڑھنے پر اگر ۱۰ سال کی عمر میں اسے سزا دی جاتی وہ اسے ایک امر معقول تصور کرتا تھا، وہ جانتا تھا کہ نماز نہ پڑھنا ایک جرم ہے۔جس طرح چوری کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے اسی طرح جو شخص نماز نہ پڑھتا ہو اسے بھی سزا ملنی چاہیے۔ مگر آج صورت حال بالکل مختلف ہے۔

آج ایک مسلمان بچہ آنکھ کھولتا ہے تو مسلمانوں میں سے بمشکل ۵ فی صد افراد کو نمازی پاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ مسلمانوں کی سوسائٹی میں ایک شخص نماز پڑھے بغیر بڑی سے بڑی اعلیٰ پوزیشن بھی حاصل کرسکتا ہے۔ مسلمان ہی نہیں کہلاتا مسلمانوں کا رہنما اور حکمران بھی بن سکتا ہے۔ اس کے گھر کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ اگر اس کی ماں نماز پڑھتی ہے تو باپ نہیں پڑھتا، اور اگر باپ پڑھتا ہے تو بڑا بھائی نہیں پڑھتا۔ یہ منظر دیکھ دیکھ کر اس کی ذہنیت ہی کچھ اور ہوجاتی ہے۔ ۱۰ برس کی عمر تک پہنچتا ہے تو تین چار جماعتیں بھی پڑھ چکا ہوتا ہے۔ اسکول میں وہ دیکھتا ہے کہ اس کے استاد نماز نہیں پڑھتے۔ اس سلسلۂ واقعات میں سے گزرنے کے بعد اگر آپ اسے نماز نہ پڑھنے پر سزا دینی شروع کردیں تو وہ اسے زیادتی تصور کرے گا اور اس کے ذہن میں بغاوت پیدا ہوجائے گی۔ مار کے ڈر سے اس کا جسم نماز پڑھ بھی لے مگر دل نمازی نہیں بنے گا، اور بڑا ہوجانے پر اسے جب بھی باپ سے جدا ہونے کا موقع ملے گا وہ پہلا کام یہی کرے گا کہ نماز چھوڑ دے گا۔

آپ کا فرض یہ ہے کہ بچے کے دل میں نماز اُتارنے کی کوشش کریں۔ مارنے سے پہلے اسے دل سے نمازی بنائیں اور اس کا سینہ نورِ ایمان سے منور کریں۔ احساسِ فرض پیدا کرنے کے بعد آپ اسے جو نماز پڑھائیں گے وہ اسے عمر بھر جاری رکھے گا۔ اور اگر آپ چاہیں کہ یہ سب کچھ کیے بغیر انھی بگڑے ہوئے حالات میں اسے نماز نہ پڑھنے پر سزا دیں تو یہ نسخے کا غلط استعمال ہوگا۔ یہ کام اناڑی کیا کرتے ہیں کہ نسخہ پڑھ لیا اور اس کے بعد نہ موسم کو دیکھا نہ مریض کے خصوصی حالات کو، بلا سوچے سمجھے اس کا استعمال شروع کردیا۔


حضرت عبدؓاللہ ابن عمرو بن العاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ایک روز آپؐ نے نماز کا ذکر کیا اور فرمایا کہ جو شخص نماز کی محافظت کرتا ہے تو نماز اس کے لیے نور کا سبب اور برہان ہوگی، اور قیامت کے دن نجات کا سبب ہوگی۔ اور جو نماز کی محافظت نہ کرے تو اس کے لیے نہ یہ نور ہوگی، نہ برہان اور نہ نجات، اور وہ قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور  ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا‘‘۔(احمد، دارمی، بیہقی)

نماز کی محافظت سے مراد یہ ہے کہ دائماً اوقات کی پابندی اور اس کی جملہ شرائط کے ساتھ اس کی ادایگی۔ نماز کا ضائع کرنا یہ ہے کہ وقت آیا اور جانے کو ہے مگر آپ کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ آپ نے دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں تو وضو بے وضو ہی ٹرخا دی۔ صلوٰۃ کی محافظت یہ ہے: کپڑوں کا پاک صاف ہونا، کامل احتیاط کے ساتھ وضو کرنا اور نماز کے وقت پر اسے ادا کرنا، یہ ساری باتیں اس میں شامل ہیں۔ حضوؐر فرما یہ رہے ہیں کہ جو شخص نماز کو اوقات و شرائط کے ساتھ ادا کرے گا تو یہ نماز اس کے لیے نور بن جائے گی۔ دنیا میں اسے روشنی نظر آئے گی اور وہ صاف دیکھ لے گا کہ سیدھا راستہ کون سا ہے اور غلط کون سا؟ اس دنیا کی روشنی پر قیامت کے دن کی روشنی کا انحصار ہے۔ وہاں نماز ادا کرنے والے خلقِ خدا میں الگ چمکتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ نور اس کا پتا دے گا کہ نیک کون ہے؟ پھر آپؐ نے فرمایا کہ نماز برہان ہوگی، یعنی اس بات کی دلیل کہ نماز ادا کرنے والا نجات کا مستحق ہے۔ نماز کی پابندی اس کے لیے معافی کے مستحق ہونے کی دلیل ہوگی اور اس کے نتیجے میں وہ قیامت کے دن نجات سے ہم کنار ہوگا۔ اور جو لوگ نماز کی محافظت نہیں کریں گے تو آخرکار ان کا انجام ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کا ذکر حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جس طرح یہ لوگ غافل ہوکر زندگی گزارتے رہے اور انجامِ کار اللہ کے عذاب سے دوچار ہوئے، اس طرح وہ شخص جو غفلت سے زندگی گزارے گا اس کی عاقبت بھی بالآخر انھی جیسی ہوگی۔


حضرت عبداللہ ابن شفیق کہتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ اعمال میں سے کسی عمل کو ترک کرنے کو کفر خیال نہیں کرتے تھے مگر نماز کو‘‘۔ (ترمذی)

قرآن حکیم سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منافقین تک نماز پڑھنے پر مجبور تھے۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ منافقین نماز نہیں پڑھتے، بلکہ یہ ہے کہ شوق و رغبت سے نہیں پڑھتے: وَ اِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی (النساء ۴:۱۴۲) ۔ گویا وہ مجبوراً نماز اس لیے ادا کرتے تھے کہ ان کو مسلمان سمجھا جاتا رہے۔ صحابہؓ کی راے یہ تھی کہ نماز کا ترک، کفر ہے۔ جو شخص نماز ادا نہیں کرتا یا تو اس کا تعلق دین سے ٹوٹ گیا یا ٹوٹنے کے قریب ہے۔ دنیا میں یہ بھی دیکھ لیجیے کہ ایسی جماعتیں موجود ہیں جو کہتی ہیں کہ اگر ان کا کوئی رکن چار اجلاسوں میں شریک نہ ہو تو اسے رکنیت سے خارج کردیا جائے گا۔ یہ اخراج کیوں ہوتا ہے؟ اس لیے کہ غیرحاضر رکن نے مسلسل غیرحاضر ہوکر جماعت سے اپنی عدم دل چسپی کا ثبوت فراہم کردیا۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے پانچ وقت کی نماز مقرر کی ہے تاکہ یہ معلوم ہوتا رہے کہ دین سے آپ کا سرگرم تعلق ہے یا نہیں۔ اگر آپ نماز ادا نہیں کرتے تو یہ گویا اس کا ثبوت ہے کہ یا تو دین کے ساتھ آپ کا تعلق ٹوٹ گیا یا پھر ٹوٹنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔


حضرت ابن مسعودؓ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن، لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر اکثر درود بھیجتا ہے‘‘۔ (ترمذی)

المرء مع من احب، جس کو جس سے محبت ہوتی ہے، اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم اگر دو آدمیوں کو ہروقت ساتھ دیکھتے ہیں تو یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہے۔ اسی طرح حضور نبی کریمؐ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجنا اس بات کی علامت ہے کہ درود بھیجنے والے کو آپؐ سے محبت ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ آپؐ میرے سب سے بڑے محسن ہیں اور خدا کے بعد آپ ہی کے حقوق مجھ پر سب سے زیادہ ہیں۔ میرا سب سے زیادہ تعلق حضوؐر کے ساتھ ہے۔ حضور نبی کریمؐ فرماتے ہیں کہ جس طرح درود بھیج بھیج کر دنیا میں اس نے مجھے سے قریب ہونے کا ثبوت دیا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی وہ مجھ سے قریب ہوگا۔ یہاں یہ سمجھ لیجیے کہ آپؐ سے حقیقت میں تعلق ہو اور زبان سے درود بھیجا جائے، یہ نتیجہ تب برآمد ہوگا۔ محض زبان سے درود بھیجنے کا یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔


حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص ہر نماز کے بعد ۳۳مرتبہ سبحان اللہ، ۳۳مرتبہ الحمدللہ اور ۳۳ مرتبہ اللہ اکبر کہے، یعنی کُل ۹۹ مرتبہ اور ۱۰۰ کی تعداد پوری کرنے کے لیے یہ کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ پڑھے تو اس کی خطائیں بخشی جائیں گی، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں‘‘۔ (مسلم)

خطائوں کو سمندر کے جھاگ سے اس لیے تشبیہہ دی کہ یہ کوئی ٹھوس اور مستقل چیز نہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جس طرح جھاگ اُڑ جاتا ہے اسی طرح اس آدمی کی خطائیں معاف کردی جاتی ہیں، جو ہر نماز کے بعد یہ ذکر کرتا ہے۔

بعض لوگوں کو اس طرح کی روایات سن کر طرح طرح کے شکوک لاحق ہونے لگتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ زبان میں چند مرتبہ حرکت ہو، اس سے فضا میں لہریں پیدا ہوجائیں، تواس کا یہ نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے؟ اصل میں یہ نتیجہ محض زبان سے چند الفاظ نکال دینے سے ظاہر نہیں ہوتا، دل سے تسبیح و تحمید و تکبیر کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ جو آدمی ان کلمات کا مفہوم دماغ میں بٹھا لے، ذہن میں پیوست کرلے، اس سے خطائیں ہی کہاں سرزد ہوں گی؟ ہوں گی تو اس کا امکان نہیں کہ وہ خطا پر مصر ہو اور اللہ کے ہاں آدمی وہی پکڑا جاتا ہے جو اپنی غلطی پر اصرار کرے، لیکن اگر خطا کے بعد نادم ہو تو اسے معاف کردیا جاتا ہے۔ جو آدمی دل سے یہ کلمات کہتا ہے وہ ہیکڑی نہیں دکھا سکتا، کبھی نہ کبھی ضرور اسے توبہ کی توفیق ہوگی، اور توبہ سے ہر خطا معاف ہوجاتی ہے، حتیٰ کہ شرک بھی جو سب سے بڑا جرم ہے۔


حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ نماز کو مشتبہ کردے، یہاں تک کہ نمازی کو یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ جب تم میں سے کوئی اس صورت حال کو محسوس کرے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے‘‘۔ (بخاری، مسلم )

یعنی نماز میں شیطان پوری کوشش کرتا ہے کہ بندہ نماز نہ پڑھنے پائے۔ دوسری چیزیں تو وہ پھر بھی کسی طرح برداشت کرلیتا ہے، لیکن اس کے لیے نماز سے بڑھ کر ناگوار کوئی چیز نہیں۔ پہلے تو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ سرے سے نماز ہی نہ پڑھے، لیکن اگر وہ باز نہ آئے تو پھر نماز میں خلل ڈالتا ہے۔ مختلف شبہات پیدا کرتا ہے تاکہ بددل ہوجائے، اسے یہ یاد ہی نہ رہے کہ میں اب تک کتنی رکعتیں پڑھ چکا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمھیں بھول لاحق ہوجائے تو نماز سے بددل ہونے کے بجاے دو سجدے کرلو۔ یہ اس کے لیے کافی ہے کہ شیطان جو تم پر غالب آگیا تھا اس کا اثر ختم ہوجائے۔ یہ سجدے ان وسوسوں کا علاج ہیں جو تمھارے دل میں پیدا ہوگئے تھے۔ یہ سجدے ایک طرف اللہ کے حضور معافی چاہنا ہے، دوسری طرف شیطان کو یہ بتانا ہے کہ تو نے سارا زور لگا دیا، مگر کچھ نہیں کرسکا۔ یہ دو سجدے اور کر رہا ہوں۔ یہ دو سجدے گویا ارشاد رسولؐ کے مطابق شیطان کے چہرے پر دو دھپ یا دو چانٹے ہیں۔ (انتخاب: افاداتِ مودودیؒ، نماز کے متعلق احادیث، مشکوٰۃ کی تشریح، مؤلف: میاں خورشید انور)

 

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں ایک خاندان کا حصہ بنایا ۔ ایک وقت آتا ہے جب بزرگ ساتھی دنیا سے چلے جاتے ہیں اور کچھ ننھے ننھے بچے اسی خاندان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ زندگی اسی طرح رواں دواں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ انعام مانگے بغیر ہی عنایت کردیا کہ خاندان کے افراد میں آپس میں محبت پیدا کردی۔ ماں باپ کی محبت، بیوی کی محبت، خاوند کی محبت، بچوں کی محبت اور پھر اگلی پود، یعنی بچوں کے بچوں سے محبت۔ یہ محبت نہ صرف بڑوں کو بچوں سے ہوتی ہے بلکہ بچے بھی اپنے سے بڑوں کی محبت کا معصومانہ انداز میں اظہار کرتے ہیں۔ چند بدنصیب اس دنیا میں ایسے بھی ہوسکتے ہیں، اور ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس سے محروم رکھا، یا وہ خود محروم رہ گئے۔ محبت کا یہی باہمی جذبہ ہے جو ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور ایک دوسرے کی بہتری کے لیے کوشش اور مدد کرنے پر اُبھارتا ہے۔ کوئی عزیز تکلیف میں ہو تو آنکھیں پُرنم ہوجاتی ہیں۔ کسی کو خوشی ملتی ہے تو خوشیاں بانٹنے کو دل چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعا کا ہتھیار دیا ہے۔ ہم ہروقت دعائوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی خوشی،عافیت اور سلامتی کے لیے دعائیں مانگتے ہیں، ایک دوسرے کی بہتری چاہتے ہیں، اور اپنی تمنائیں اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا انعام بھی ہم پر کیا ہے۔ وہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اچھائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں___ کیوں؟ اس لیے کہ لوگ بُری عادات اور بُرے انجام سے بچ سکیں۔ یہ امربالمعروف نہی عن المنکرمسلم معاشرے کی خوب صورتی ہے۔ یہاں انسان نہ صرف ایک دوسرے کی بھلائی چاہتے ہیں، بلکہ ایک دوسرے کی مدد کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔ آج کل کے لوگ اس عمل کو شخصی آزادی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں مگر  یہ بھول جاتے ہیں کہ معاشرہ ظالم کو ظلم سے نہ روک کر دراصل ظالم کی مدد کر رہا ہوتا ہے۔

بات محبت کے جذبے کی ہو رہی تھی۔ جب کوئی اپنا اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو قدرتی طور پر دل بے تاب ہوجاتا ہے۔ پھر دعا کا سہارا لیا جاتا ہے___ اے اللہ! اسے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما، اس کے مراحل آسان کردے، اس کے درجات بلند فرما دے___ کون چاہتا ہے کہ اس کا عزیز، والدین، بچے، بیوی، خاوند اور دیگر عزیز و اقارب جنت میں نہ جائیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بشارت دی ہے کہ اہلِ خاندان کا جنت میں ساتھ ناممکن نہیں تو پھر کیوں نہ ہم کوشش کریں کہ اکٹھے جنت چلیں۔

محبت کے جذبے کا سرچشمہ اللہ کی ذات پاک ہے مگر اس محبت کا حصول مشروط ہے۔  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے نبیؐ! لوگوں سے کہہ دو کہ ’’اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھاری خطائوں سے درگزر فرمائے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے‘‘۔ اُن سے کہو کہ ’’اللہ اور رسولؐ کی اطاعت قبول کرو‘‘۔ پھر اگر وہ تمھاری یہ دعوت قبول نہ کریں، تو یقینا یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے، جو اس کی اور اس کے رسولؐ کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں‘‘۔ (اٰل عمرٰن۳:۳۱-۳۲)

یہ آفاقی اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بتا دیا ہے اور زندگی کا اصول بھی یہی ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اس کے رسولؐ کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں۔ یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہے کہ اگر ہم اللہ سے محبت کریں گے، تو وہ ہم سے محبت کرے گا___ کوئی خاندان، کوئی رشتے داری، کوئی حسب و نسب ہمیں اللہ کی محبت کا دعوے دار نہیں بناسکتا۔ یہ محبت کیا ہے؟ اور پھر اللہ سے محبت!___ اللہ سے محبت یہی ہے کہ ہماری مرضی اور پسند، اللہ اور اس کے رسولؐ کی پسند کے تابع ہوجائے۔ اس کا کہا مانا جائے، اس پر عمل کیا جائے، اور اس کا حکم بلاچوں و چرا بجا لایاجائے۔ یہ نہیں کہ حی علی الصلٰوۃ ، حی علی الفلاح کی صدا بلند ہو اور ہم ٹس سے مس نہ ہوں۔

یہ بڑی سادہ اور سیدھی بات اور واضح اصول ہے جو ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے، اور جو یہ اصول نہیں مانتے ان کے لیے کسی لگی لپٹی کے بغیر تنبیہہ ہے: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے‘‘ (التوبہ ۹:۲۳)۔ گویا جن سے محبت کے دعوے ہوتے ہیں، جن کے لیے آدمی راتوں کو جاگتا اور تکلیف اٹھاتا ہے، اگر وہ بھی ایمان پر کفر کو ترجیح دیں تو ان کو ساتھی بنانے سے بھی منع کردیا گیا ہے۔ اس کے باوجود جو ایسا کرے اسے ظالم قرار دیا گیا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ظالم کے لیے قرآن مجید میں کیا کیا احکام ہیں اور ان کا کیا انجام بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم کرنے سے باز رکھے، اور اللہ نہ کرے کہ کسی وجہ سے ہمارا شمار ظالموں میں ہو۔ اللہ تعالیٰ بڑی صاف بات فرما رہے ہیں کہ یہ دوغلی پالیسی نہیں چلے گی، اور پھر دعاے قنوت میں بھی ہم روزانہ وعدہ کرتے ہیں کہ: ’’ہم نافرمانی نہیں کرتے اور چھوڑ دیتے ہیں اس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے‘‘۔

دنیا میں ہمارے ساتھی___ والدین، زوجین، یعنی خاوند اور بیوی اور پھر اولاد___ یہی لوگ مل کر عموماً خاندان بناتے ہیں، اور اکٹھے ماہ و سال بسر کرتے ہیں۔ مغرب کے خاندان کا تصور ہمارے پیشِ نظر نہیں جہاں والدین کو خاندان سے باہر بلکہ بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ یہ تو ہمارے خاندان کا حصہ ہیں، آپس میں محبت کی لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہیں جن کی ہمیں فکر رہتی ہے، ان کی بہتری کی خواہش بھی رہتی ہے، اور اگر انھیں تکلیف پہنچے تو طبیعت غمگین ہوجاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بشارت دی ہے کہ یہی والدین، زوج اور اولاد جنت میں بھی ساتھی بن سکتے ہیں۔ یہ کیوں کر ممکن ہے اور اس کے لیے نسخۂ کیمیا کیا ہے؟ فرمایا:

اے ہمارے رب، اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنتوں میں جن کا تو نے  اُن سے وعدہ کیا ہے اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں(اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ ہی پہنچا دے)،   ُتو بلاشبہہ قادرِ مطلق اور حکیم ہے۔ (المومن: ۴۰:۸)

ان آیات کے ذریعے دراصل ہمیں اِس دعا کی تعلیم دی گئی ہے۔ یاد رکھیے، یہ دعائیں  اللہ تعالیٰ نے یونہی تو نہیں بتائیں___ یہ اس لیے بتائی ہیں کہ قبول بھی ہوتی ہیں۔ ہمیں قرآن پاک کے الفاظ پر جتنا یقین ہے، اسی طرح اس بات پر بھی یقین ہونا چاہیے کہ یہ دعائیں نری لفاظی نہیں ہیں بلکہ اللہ کا وعدہ ہیں۔ سوچیں تو سہی، وعدہ کون کر رہا ہے، پھر پورا کیوں نہ ہوگا! بہرحال شرائط تو ہمیں پوری کرنی ہیں۔ یہاں دیکھیے والدین، بیویوں اور اولاد کے لیے جنت کی نوید ہے اور پھر شرط بھی ہے___ کہ وہ جو صالح ہوں، وہی مستحق ہوں گے۔

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر بیویوں اور اولاد کے لیے جنت کا وعدہ ہے مگر یہ وعدہ دوشرائط کے ساتھ مشروط ہے___ صالح ہونا اور صابر ہونا۔ سورئہ رعد میں اہلِ ایمان کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا:

آخرت کا گھر اِنھی لوگوں کے لیے ہے، یعنی ایسے باغ جو اُن کی ابدی قیام گاہ ہوں گے۔ وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباواجداد اور اُن کی بیویوں اور  اُن کی اولاد میں سے جو جو صالح ہیں وہ بھی امن کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ ملائکہ ہرطرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے اور اُن سے کہیں گے کہ ’’تم پر سلامتی ہے، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا، اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو‘‘۔ پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر! (الرعد۱۳:۲۳-۲۴)

یہ کتنی بڑی خبر اور خوش خبری ہے کہ ہمارے گھر والے بھی جنت میں اکٹھے ہوں گے!     اللہ تعالیٰ ہمیں اور اہلِ خاندان کو اس مرتبے کے قابل بنادے___ آمین!


کام کا آغاز کیسے ہو؟ کیا محنت کرنی ہے، کیا ہے جو سمجھنا ضروری ہے اور کون سا راستہ ہے جو پورے خاندان کو اکٹھے جنت کی طرف لے جاسکتا ہے؟

  •  آغاز، شریکِ حیات کے انتخاب سے: بات وہاں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے خاندان کی بنیاد رکھی جاتی ہے، یعنی جب شریکِ زندگی کی تلاش کی جاتی ہے۔ سفر کا آغاز نیک اور صالح ہم سفر کی تلاش اور انتخاب سے کیا جائے۔ حدیث میں تعلیم دی گئی ہے کہ اس انتخاب کا فیصلہ دین اور اخلاق کی بنیاد پر کریں ورنہ دنیا میں فساد پھیل جائے گا___ جبھی اس فیصلے میں برکت ہوگی۔

یہ کام بڑی ذمہ داری اور سنجیدگی کا حامل ہے۔ جب ہماری اگلی نسل کا دارومدار اسی پر ہے تو پھر سُستی کیوں؟ پھر یہ کام انتخاب پر رُک تو نہیںجاتا۔ آپ کی شادی ہوگئی تو آگے چھوٹے بہن بھائی ہیں، بچے ہیں___ یہ تو ہمیشہ چلنے والا کام ہے اور بڑی سنجیدگی اور دانش مندی سے کرنے کا کام ہے۔

شادی کے بعد اولاد کی فکر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر مکمل قدرت رکھتے ہیں کہ وہ جسے چاہیں اولاد عنایت فرما دیں: ’’اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملاجلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہرچیز پر قادر ہے‘‘ (الشوریٰ۴۲:۴۹)۔ اُس کی جناب سے عنایت ہوگئی تو شکر ادا کریں، نہیں تو صبر اور پھر  صبر کا اجر بھی بہت ہے۔ ہاں، دعا کا ہتھیار تو ہمارے پاس ہے ہی۔

ہم تو بہت کمزور لوگ ہیں۔ نبیوں نے بھی یہ دعائیں مانگی ہیں۔ دیکھیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا: ’’اے پروردگار! ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو‘‘۔ مشروط دعا___ بیٹا ہو تو صالح ہو۔ اور پھر حضرت زکریاؑ کی دعا بھی___ نیک اولاد کی درخواست کی جارہی ہے۔ دعا کرنا نہ بھولیں۔ دعا مانگنا، ہمارا حق ہے اور بار بار دعا مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہر ہرقدم پر اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن۔

صالح اولاد بڑی نعمت ہے اور جیساکہ ہم نے پہلے دیکھا، صالح ہونا ایسی شرط ہے جس کے پورا کرنے پر براہِ راست جنت کی بشارت ہے۔

صالح اولاد کا کیا مطلب ہے؟کیا نماز ادا کرلینا اور تلاوتِ قرآن کرنا ہی صالح ہونے کے لیے کافی ہے___ یا پھر اخلاق، معاملات اور عبادات کا درست ہونا بھی صالح ہونے کے لیے ضروری ہے، یا کچھ اور بھی خصوصیات درکار ہیں؟ صالح ہونا دراصل ایسی صلاحیت ہے جس پر بڑے انعام کا وعدہ ہے۔ جنت جیسا انعام، اور پھر بار بار بتایا گیا ہے کہ جنت ابدی قیام گاہ ہے۔

  •  دعا اور عمل ساتھ ساتھ: جب بھی کوئی بڑا منصوبہ یا پراجیکٹ شروع ہوتا ہے تو ایک عزم ہوتا ہے کہ یہ کام کرنا ہے۔ مگر اس کے ساتھ دعا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عزم میں برکت عطا فرمائیں اور تکمیل آسانی سے ہو۔ دعا اور عزم دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ عزم کے بغیر دعا مناسب نہیں اور دعا کے بغیر عزم بے برکت رہ جاتا ہے: یوں دعا کیجیے: ’’اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا‘‘۔ (الفرقان۲۵:۷۴)

اس خوب صورت دعا میں ایسے ہی خاندان کی محبت جھلک رہی ہے___ بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کو ٹھنڈک ملے، اور دیکھیں اللہ تعالیٰ ہمیں کون سا درجہ دینا چاہتے ہیں___ پرہیزگاروں کا امام۔ یہ دعا محض کسی مقرر کی لفاظی نہیں، اللہ تعالیٰ کے اپنے الفاظ ہیں ___ ان کا پورا ہونا بالکل ممکن ہے۔ ہم اپنی کمزوریوں پر توجہ دیں تو سب کچھ ممکن ہے۔ ذرا مومن بن کر دیکھیں اور دکھائیں تو سہی۔

اب یہ عزم پھر دعا اور پھر عمل کا معاملہ آگیا۔ سوچیں آپ کا بیٹا آپ سے دعا کے لیے کہے کہ دعا کریں، امتحان میں کامیابی ہو، مگروہ خود کھیل میں مصروف رہے تو یقینا آپ کہیں گے    کہ بیٹا تم خود تو امتحان کی تیاری نہیں کر رہے، مجھے دعا کے لیے کہہ رہے ہو۔ گویا عمل کی بڑی اہمیت ہے۔ بقول اقبال ؎

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

  •  والدین کی ذمہ داری: ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے، جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ (التحریم۶۶:۶)

گویا عمل کے لیے والدین کو ذمہ دار ٹھیرایا گیا ہے۔ یہاںجمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور اہلِ ایمان کو اجتماعی طور پر حکم دیا جا رہا ہے: اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچائو۔ اس طرح سے والدین پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ اب نہ کوئی بہانہ ہے، نہ فرار کا موقع۔ لازماً اسے کرنا ہی ہوگا۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر اہل و عیال خدانخواستہ آگ سے نہ بچ سکے، توہم خود ذمہ دار ہوں گے۔ ذرا سوچیے، اہل و عیال کو آگ سے بچانے کے لیے نیک زوج کی کتنی اہمیت ہے، جو خود اس بات کی ضمانت ہو کہ بچوں کی تعلیم و تربیت صحیح طریقے پر ہوگی۔

فرمایا جا رہا ہے:’’اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو‘‘ (طٰہٰ ۲۰:۱۳۲)۔ یہاں محنت کرنے کو کہا گیا ہے کہ بار بار کہو کہ نماز پڑھو اور پھر یہ دوغلی پالیسی نہیں___ خود بھی پابند رہنے کا حکم ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک مشہور حدیث میں حضوؐر ایک بچے کو سمجھاتے ہیں: اے بیٹے! بسم اللہ پڑھ کر، یعنی اللہ کے نام سے، دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھانا کھائو۔ ایک ہی حدیث میں یہ تین تعلیمات ہیں۔ بڑی بدقسمتی کی بات ہے جب والدین فرار چاہتے ہیں    اور اپنی ذمہ داری نبھانا چھوڑ دیتے ہیں کہ بچے کو ٹوکنا نہیں، اس سے وہ نفسیاتی مریض بن جائے گا۔ یہ اہلِ مغرب کی سوچ ہے جو خود نفسیاتی مریض بن گئے ہیں، وہ اپنے بچوں کو بھلا کیا سکھائیں گے۔ ہم امربالمعروف اور نہی عن المنکر والے لوگ ہیں، نہ خود برائی کریں گے نہ کرنے دیں گے۔

یقینا عمل کے ساتھ ٹھوس منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے کیونکہ عمربھر کا منصوبہ جو مل گیا ہے۔ حکم آگیا ہے کہ اپنے آپ کو اور اہل و عیال کو آگ سے بچائو!

  •  بچے کی تربیت کے مختلف مراحل: مسلمان کی زندگی ہر طرف سے اللہ کے احکامات میں گھری ہوئی ہے۔ جب کہہ دیا: ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً (البقرہ ۲:۲۰۸)، تو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوگئے۔ زندگی کے ہرمرحلے پر جواب دہی بھی ہے۔ اولاد کی پیدایش سے تربیت کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ہم نے اس ضمن میں دعائیں بھی پڑھیں، اسی پیدایش کے لیے نیک زوج کی تلاش اور انتخاب کا مرحلہ بھی گزارا۔ پھر رضاعت، یعنی بچے کو دودھ پلانے کا دور بھی گزارا___  یہ بچے کا حق ہے۔ بچے کی شخصیت ماں کی گود سے ہی بننے لگتی ہے۔ یہی آغوش بچے کی پہلی درس گاہ بھی ہے۔ اس کے بعد، سنِ تمیز ہے، یعنی وہ دور جب بچہ ہوش سنبھالتا ہے اور تین ساڑھے تین سال کی عمر سے پتھر اور کھجور میں تمیز کرنے لگتا ہے۔ پھر بلوغت آتی ہے۔ ہر موقع پر والدین کی جواب دہی ہے۔ خاندان میں بڑا ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے کہ دیکھیں کہ ہرمرحلے پر ہم بچے کو کیا تعلیم دے رہے ہیں؟ کیا بچے کو سنِ بلوغت کے لیے تیار  کیا ہے؟ کیا والدین اور بچے میں اتنی باہمی افہام و تفہیم (understanding) ہے کہ والدین بچے کو تمام احکام خود بتا سکیں اور کسی خلجان میں پڑے بغیر وہ تمام امور سمجھ سکے ،یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ بلوغت کے احکام وہ حجام کی دکان سے سیکھ کر آرہا ہو۔ پھر شادی تو ہے ہی سمجھ بوجھ کا کام۔

اس کے بعد بچے کی پیدایش کا مرحلہ آجاتا ہے اور والدین اگلی نسل کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ تربیت اولاد سے متعلق لٹریچر میں ہم پڑھتے ہیں کہ بچوں کو ۷ برس کی عمر میں نماز کا حکم دو۔ ۱۰برس کی عمر میں سزا دینے کی بات کی گئی ہے اور بستر علیحدہ کرنے کا کہا گیا ہے، یعنی جنسی تعلیم شروع ہوگئی۔ عموماً ۱۰ برس میں سزا دینے کی بات ہوتی ہے۔ جان لیجیے کہ والدین پر فرض ہے کہ   وہ سنِ تمیز، یعنی ساڑھے تین سال سے بچے کو نماز میں ساتھ رکھیں۔ والدہ اسے تیار کرے۔ والد صاحب چھے ساڑھے چھے برس تک لگاتار محنت کریں___ خود بھی مسجد جائیں، بچے کو بھی لے کر جائیں۔ والدہ بہانہ نہ بنائے کہ ابھی تو تھکا ہوا ہے، ابھی کھانا کھا رہا ہے۔ والدین کی سالہا سال کی لگاتار محنت کے بعد سزا دینے کی بات ہورہی ہے، یعنی والدین سزا دینے سے قبل اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بارے میں خوب غور کرلیں۔

  •  بچے کی شخصیت کی تعمیر:اسلام کا جامع فہم، ایمان اور یقین کی کیفیت، قول و فعل میں یگانگت، فیصلوں میں دین بطور بنیاد، یہ وہ صفات ہیں جو والدین کو چاہیے کہ بچوں میں پیدا کریں۔ جائزہ لیجیے کہ آیا اُسے اسلام کا جامع فہم حاصل ہوا یا نہیں۔ اللہ کے بارے میں ایمان اور یقین کی کیفیت کیسی ہے۔ نماز اللہ کے لیے پڑھتا ہے یا اس وجہ سے کہ آج والد صاحب غصے میں ہیں، کہیں جھوٹ اور دھوکے بازی تو نہیں کرتا___ آیا فیصلے دین کی بنیاد پر کر رہا ہے یا سماجی دبائو میں۔ آیا اس کا دل ان باتوں سے مطمئن ہے یا نہیں۔
  •  والدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ اپنے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی یہ صفات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ سے تعلق کیسا ہے؟ فرائض کی حد تک یا سنت اور نوافل کی حد تک۔ کاموں میں خلوص کتنا ہے اور دکھاوا کتنا۔ کڑوی بات سن کر صبر کرتے ہیں یا بھڑک کر اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں۔ حکمت عملی میں استقامت کس حد تک ہے۔ وقتی فیصلے ہو رہے ہیں یا مستقل مزاجی ہے۔ بات کھٹاک سے منہ پر دے مارتے ہیں یا حکمت سے کام لیتے ہیں۔ فیصلہ کرنے میں آخرت اثرانداز ہوتی ہے یا دنیاداری کے معاملات۔ کیا لین دین میں دھوکا دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ قرآن کے درس بھی چل رہے ہیں___ سیرت و کردار کے یہ سب پہلو دراصل ہماری شخصیت کے ساتھ ساتھ نیت کی بھی غمازی کرتے ہیں۔ اِنھی سے سیرت نکھر کر سامنے آتی ہے۔

مشاورت، اخوت و محبت، احتساب، نظم و ضبط، اقامت دین یہ اجتماعی صفات، صالح معاشرے کی ضرورت ہیں اور ایسے معاشرے کی تشکیل صالح افراد ہی کرتے ہیں۔ ایسا معاشرہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا جہاں فیصلے مشاورت سے ہوتے تھے، اخوت و محبت کی قدر تھی، اور یہ سب کچھ آج بھی ممکن ہے اگر ہمارا قبلہ درست ہوجائے۔ بھائی چارے سے کام ہورہا ہو تو تھکاوٹ نہیں ہوتی۔ جنگ ِ خندق کے دوران اگر صحابہ کرامؓ نے پیٹ پر پتھر باندھے تو پتا چلا کہ حضوؐر نے دوپتھر باندھے ہوئے تھے۔ غلطی کون نہیں کرتا۔ جنگ اُحد کی مثال ہے۔ صحابہ کرامؓ جیسی جماعت کے بعض افراد سے کمزوری ظاہر ہوئی، مگر احتساب اور نظم و ضبط سے شکست فتح میں تبدیل ہوگئی۔ نظم وضبط ان تمام خوبیوں کا نتیجہ ہے۔ ان تمام باتوں سے اقامت ِ دین کو تقویت ملتی ہے۔ ہرمسجد میں پانچ مرتبہ جماعت کے ذریعے نظم و ضبط کا درس ملتا ہے تو پھر مسلمان معاشرے میں بدنظمی کی کوئی وجہ نہیں، جب کہ یہ تربیت سال ہا سال سے صبح و شام جاری ہے۔ ہمیں اس کی طرف من حیث القوم توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

  •  معاشرتی زندگی کے تقاضے: اس کے بعد اجتماعی زندگی کا مرحلہ آتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ (اٰل عمرٰن۳: ۱۰۳)۔ یہاں اجتماعیت کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور مسلمان کی زندگی تو ہے ہی اجتماعیت۔ گھر میں گھر والوں کے ساتھ، باہر محلے داروں اور دفتر والوں کے ساتھ۔

ہماری معاشرتی کمزوریوں میں کبر، نفسانیت، بے اعتدالی اور ضعفِ ارادہ کے علاوہ بھی  کئی پہلو ہیں۔

  •  یہ مقام ہے اپنا محاسبہ کرنے کا___ اپنا دل ٹٹولنے کا۔ ہمارے دائیں بائیں کئی داعی حضرات ہیں جن کا بڑا قد ہے، جن کی تحریر و تقریر ہیرے موتی جیسی ہے مگر ان کی اپنی اولاد نے ان کے مشن کو آگے نہیں بڑھایا___  یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ کمزوریوں کی ابتدا اپنے گھر سے ہی ہوتی ہے۔ ہمارے گھر ہمارے اور ہمارے گھر والوں کے لیے قلعہ ہیں۔ دروازہ اُونچا اور مضبوط رکھا جاتا ہے۔ مگر ایک کھڑکی ایسی کھول دی جاتی ہے جہاں سے دنیا بھر کی غلاظت گھر میں داخل ہو جاتی ہے۔ گھر کی کمزوریوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اب جدید جاہلیت کا دور ہے۔ یہ مادی ترقی کی جاہلیت ہے۔ یہ وہ دھوکا اور فریب ہے جس کو انسان کی ہلاکت کے لیے باقاعدہ علمی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ نتیجہ کرب، اذیت اور بے چینی ہے۔ یاد رکھیے جب بھی اللہ کے احکام سے روگردانی کی جائے گی اسے جاہلیت ہی کہا جائے گا۔
  •  کبر کو لیجیے۔ کئی بزرگ محبت کرنے کے باوجود___ میری بات مانو، کوئی دوسرا راستہ نہیں___ کے مصداق سخت مزاج واقع ہوتے ہیں۔ وہ مذہبی شخصیت تو ہوتے ہیں،دینی نہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے کبر کی وجہ سے بچے سہمے رہتے ہیں، بیوی دبکی رہتی ہے، نہ مشورہ دیا جاتا ہے نہ لیا جاتا ہے، نہ مشاورت کو اہمیت دی جاتی ہے نہ تربیت کو۔ اندازہ کیجیے گھر پر نفسانیت کا دور دورہ تو نہیں۔ کیا گھر کی اکائی قائم ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ گھر کے افراد کئی ٹکڑیوں میں بٹ گئے ہوں جن کے علیحدہ اہداف اور مقاصد ہوں۔
  •  اسراف و تبذیر کی صورت حال بھی بڑی عجیب ہوتی ہے۔ اسے وقت کی ضرورت بناکر قبول کیا جاتا ہے۔ گھر والوں کو معاشی ذمہ داری بھی دے دی جاتی ہے۔ آخر بچوں کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے کہ انھیں آیا اور ڈے کیئر سنٹر میں پرورش کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مقصد گھر کی اکائی کی حفاظت ہے اور اس کا رخ لازماً اللہ کے حکم اور حضوؐر کی سنت کی سمت ہونا لازمی ہے۔ جبھی تو گھر والے آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون بن سکیں گے اور پھر آخرت میں صدقۂ جاریہ بھی۔
  •  بے اعتدالی میں مذہبی انتہا پسندی بھی آتی ہے۔ گھر والی فرائض ادا کرنے کے بجاے باہر تبلیغ اور نوافل پر ہی زور دینے لگے، بچے کتابی کیڑے بن جائیں یا دیوانگی کی حد تک کھیل کے رسیا ہوں، کرکٹ یا فٹ بال سیریز ہو رہی ہے تو صاحب بہادر نے دفتر سے چھٹی لے رکھی ہے اور گھر نے اسٹیڈیم کی شکل اختیار کی ہوئی ہے۔ یہ سب بے اعتدالی ہے۔
  •  گھر والے اور بعض اوقات آپ خود بھی اپنے آپ کو روکنا چاہتے ہیں تو ضعفِ ارادہ کی وجہ سے روک نہیں سکتے، یہ قوت ارادی کی کمزوری ہے۔ دوغلی پالیسی کے کھلاڑی ایسا کرتے ہیں___ کیا وجہ ہے کہ ہماری کئی خواتین عرب ممالک سے واپسی پر جہاز میں بیٹھتے ہی عبایہ اُتار دیتی ہیں۔ کیا پردے کا حکم پاکستان میں نہیںہے؟ اس طرح انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ جس معاشرے میں رہ رہا ہوتا ہے اسی کے رنگ میں رنگ جاتا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مسلمان، مسلمان کے علاوہ سب کچھ بن جاتا ہے لیکن مسلمان نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے لیے جو احکام ہیں اپنے ضعف ِ ارادہ کی وجہ سے وہ اُن پر عمل نہیں کرتا اور اگر کرتا بھی ہے تو مجبوری کی حد تک۔
  •  جسمانی تربیت کے لیے احادیث مبارکہ سے رہنمائی ملتی ہے۔ بچوں کو عیش کوشی کا عادی نہ بنائیں۔ جفاکش (rough & tough) ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح بچیوں کو گھر کے کام کاج بلاتکان کرنا سکھائیں۔ نہ جانے کب کیسا وقت آن پڑے تاکہ وہ چیلنج قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔
  •  خرابی کے داخلی و خارجی اسباب:خرابی کے داخلی اسباب میں انتخابِ زوج، دہرے معیار، نامناسب تقسیم کار، بچوں کو کھلی چھوٹ، دین کی ترجیح نہ ہونا، کم علمی جیسے کئی پہلو ہیں۔ یہ داخلی اسباب سب گھر والوں کی انفرادی توجہ چاہتے ہیں، اور ہم خود اس کے لیے سب سے زیادہ مسئول ہیں۔ مثلاً انتخاب زوج غلط یا نامناسب ہوا یا یہ کہہ لیں کہ پتا ہی نہ تھا۔ ہمارے اپنے معیار، موم کی ناک کی طرح ہوتے ہیں۔ کہیں قول ہے فعل نہیں، اور کہیں فعل ہے تو قول نہیں۔ گھر کی    ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے تقسیم نہیں ہوئیں۔ خاوند صرف معاشی ذمہ داری ہی نبھا رہا ہے۔ وہ اس میں ہی مطمئن ہے کہ وقت پر گھر کا خرچ بیوی کے ہاتھ میں دے دیا۔ مزاج کا سخت ہے۔ اسے کون سمجھائے کہ یہ بچے تمھارے اپنے ہیں___ تمھارا اپنا صدقۂ جاریہ۔ کئی گھروں میں ہوم ورک، بازار سے شاپنگ، دال سبزی آلو پیاز، سب خاتونِ خانہ خود خریدتی ہے۔ صاحب بہادر یا تو دفتر جاتے ہیں یا گھر پر ٹی وی دیکھتے ہیں۔ بچوں پر کون کیا چیک رکھ رہا ہے، اُن کے دوست کون ہیں اور کیسے ہیں، کون سی کتب یا لٹریچر گھر میں آرہا ہے، انٹرنیٹ اور ٹی وی پر کیا دیکھا جا رہا ہے___ اب تو سائبرجرائم کا دور بھی شروع ہوگیا ہے___ کچھ خبر نہیں۔ دین کے لیے ترجیح سے گھبراتے ہیں کہ کہیں مولوی ہونے کا لیبل نہ لگ جائے اور بہت سے کام فقط کم علمی اور ضعف ِارادہ کی وجہ سے بھی غلط ہو رہے ہیں۔ مغربی تہذیب کو بلاسوچے سمجھے گلے لگا لینا بھی ذہنی مرعوبیت کی نشانی ہے۔ اس طرح ہم ہر اُس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں جو مغربیت کی وجہ سے ہم میں دَر آئی ہے۔

خرابی کے خارجی اسباب میں سب سے پہلا تو کمزور اور غلط نظامِ حکومت ہے۔ اسی وجہ سے میڈیا، نظامِ تعلیم، ناقص نصاب، سب کسی بھی نوجوان کے اچھا مسلمان بننے کی راہ میں مانع ہیں۔ ہمارے داخلی عوامل بعض اوقات اتنے زیادہ ہوجاتے ہیں کہ ان خارجی عوامل کے لیے وقت ہی نہیں ملتا کہ انھیں ٹھیک رکھا جائے اور یوں معاشرہ بے حسی کا شکار ہوجاتا ہے۔

  •  تربیت کا ذمہ دار کون؟ یہ گھر والوں کی تربیت کا پراجیکٹ ہے تو آخر کوئی اس کا پراجیکٹ ڈائرکٹر بھی ہونا چاہیے۔ اولاد کی تربیت کون کرے؟ ماں کہتی ہے کہ تمھارے ابو دفتر سے آئیں گے تو شکایت لگائوں گی۔ ابو دفتر سے آتے ہیں تو کہتے ہیں ابھی تو تھکا ماندہ آیا ہوں، تو پھر کون ذمہ دار ہے؟ وقت تو رُکے گا نہیں۔ بچے بہرحال والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔ تعلیم و تربیت، صحت، کھیل کود، کچھ بھی سوچ لیں، بہرحال والدین کو ذمہ داری نبھانی ہے۔ یہ مسلمان معاشرہ ہے۔ یہاں مرد عورت میں مسابقت اور تصادم کی فضا نہیں بلکہ تعاون کا ماحول ہے۔ مغرب میں تو خواتین کے اختیارات (women empowerment) کا شوق پھل پھول رہا ہے۔ اسی لیے وہاں ہر جگہ single mothersملیں گی۔ اب فرانس میں خواتین تنگ آکر کہہ رہی ہیں کہ وہ صرف گھر پر والدہ کا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں مگر ان کی بیماری اپنی آخری حدوں کو پہنچ گئی ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان والدین اپنی اس مشترکہ ذمہ داری کا احساس کریں اور بطریق احسن نبھائیں کیونکہ اولاد تو دونوں کی ہے، اور دونوں کے لیے صدقۂ جاریہ بھی۔

اس ضمن میں علماے کرام رہنمائی کرتے ہیں کہ بچوں میں یہ خوبیاں تب پیدا ہوں گی جب والدین میں یہ صفات ہوں گی۔ یہ نہ ہو کہ والد نے کہہ دیا کہ باہر کہہ دو گھر پر نہیں ہوں۔ والدہ فون پر جھوٹ بول رہی ہوں۔ پڑوس کی گیند گھر میں آگئی تو جھوٹ بول دیا،والدین خاموش رہے۔ بچہ ٹی وی رات گئے تک دیکھتا رہا، صبح وقت پر نہ اُٹھ سکا، لہٰذا اسکول میں بیماری کی درخواست دے دی___ یہ سب تضادات ہیں۔ بے عملی اور کمزوری کا نتیجہ ہیں۔ بظاہر یہ معمولی باتیں چھوٹی ہیں مگر شیطان تو تاک میں لگا رہتا ہے۔

اس ساری بحث کے نتیجے میں گھر والوں کی تربیت، اللہ کے سامنے جواب دہی کی اہمیت بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔ یہ سب اسی وجہ سے ہے کہ ہمیں اپنے اہلِ خانہ سے محبت ہے اور محبت کے اپنے تقاضے ہیں۔ صورت حال کی بہتری کے لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ یقین محکم، عملِ پیہم کے مصداق اہلِ خاندان کو مسلسل تذکیر و نصیحت کرتے رہیں اور یہ کہ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ نیکی کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔ تربیت کا خاطرخواہ انتظام کریں۔ اخلاقی اعتبار سے مضبوط بنائیں اور شخصیت کی تشکیل و تعمیر پر توجہ دیں۔ جبھی تو گھر کے آنگن میں خوب صورت پھول کھلیں گے اور میٹھے پھل لگیں گے۔

  •  اصل کامیابی:کوشش یہی ہونی چاہیے کہ یہ بچے بڑے ہوکر صالح مسلمان مرد/ عورت بن سکیں۔ کل انھی بچوں کو والدین  کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ ہم مسلسل دعا کرتے رہیں اور بہترین کوشش بھی___ یہ بچوں کا حق ہے۔ مضبوط ارادہ، مسلسل دعا، عملِ پیہم، بہترین منصوبہ بندی کے بعد ہی ہم کامیابی کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔ اگر ارادہ، عمل اور منصوبہ بندی میں بگاڑ ہوگا تو پھر بگاڑ والے نتائج ہی سامنے آئیں گے۔ اور پھر: ’’کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے‘‘۔ (اٰل عمرٰن۳:۱۸۵)

کامیابی___ اصل کامیابی تو جنت کا حصول ہے کہ ہم آتشِ دوزخ سے بچ جائیں۔ یہ خوش خبری ملاحظہ ہو: ’’جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجۂ ایمان میں ان کے نقشِ قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔ ہرشخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے‘‘۔ (الطور۵۲:۲۱)

یہ خوش خبری ایک چھوٹ، ایک آسانی کی خبرہے، ایک رعایت (concession) ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اولاد کسی بھی درجہ ایمان پر ہو تو جنت میں ملا دی جائے گی۔ مگر ہمیں    خوب سے خوب تر کی تلاش رہنی چاہیے۔ اسی طرح بچوں کی تربیت کے لیے بھی بلندمعیار پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ ہم تو پرہیزگاروں کے امام بننا چاہتے ہیں۔ یہی دعا بھی مانگتے ہیں۔ گویا best of the best کے متلاشی رہیں۔ درجۂ احسان ہمارا مطمح نظر ہونا چاہیے اور حقیقی کامیابی یہ ہے کہ جنت میں ہمارا اور گھروالوں کا ساتھ ہو۔ آمین!

مقام غوروفکر ہے ___ اپنی اور اولاد کی اخروی کامیابی کے لیے ہمیں سنجیدہ ہونا ہے،  کوشش کرنی ہے، کمرہمت باندھ لینی ہے۔

ہمیں اپنے آپ کو اور اہلِ خانہ کو آگ سے بچانا ہے___ اس کے لیے ہم جواب دہ ہیں۔ یہ کیسی روح پرور اور خوش کُن اور قابلِ عمل بشارت ہے کہ اگر ہم صالح ہوں اور صبر سے کام لیں تو ہم اور اہلِ خانہ جنت کے ساتھی بن سکتے ہیں ورنہ یہ افسوس ہی رہے گا کہ مہلتِ عمل تو ملی تھی مگر ہم اِدھر اُدھر وقت ضائع کرتے رہے۔

آیئے! اس دعا کے ساتھ اختتام کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ عزم بھی کرتے ہیں کہ ہمیں اہلِ خانہ کے لیے اور اپنے لیے کوشش کرنی ہے___ اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔ آیئے ہم عزم کریں کہ کوشش میں کسر نہیں اُٹھا رکھیں گے۔ آمین!


(کتابچہ دستیاب ہے۔ منشورات، لاہور قیمت: ۷ روپے، ۵۰۰ روپے سیکڑہ)

بے نظیر بھٹو کی زیرتبصرہ کتاب میں سید قطب شہید، مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے۔ اس حصے میں ایسے چند مقامات پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔

سید قطب شھید، مولانا مودودی اور جماعت اسلامی

یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ کتاب مسلمانوں کو مطعون کرنے، انھی کو تمام خرابیوں کی جڑ قرار دینے اور امریکا بہادر کو عظمت کا دیوتا ثابت کرنے کا ایسا استعارہ ہے، جس میں تاریخ کو مسخ اورحقائق کو کچلا گیا ہے۔ جن دو شخصیتوں کو خاص طور پر نشانے پر رکھا گیا ہے، ان میں سید قطب شہید (۶۶-۱۹۰۶ء) اور سید ابوالاعلیٰ مودودی (۷۹-۱۹۰۳ء) نمایاں ہیں۔ ذرا یہ سطور دیکھیے:

اسلامی انتہا پسندی کے پس پردہ کارفرما مضبوط ترین قوتوں میں ایک سید قطب تھے، جن کا تعلق مصر کی اخوان المسلمون سے تھا۔ انھوں نے موجودہ دور کے لیے ’جاہلیہ‘ کی اصطلاح (درحقیقت یہ اصطلاح اسلام سے پہلے کی دنیا کے دورِ جاہلیت کو بیان کرنے کے لیے قرآنی اصطلاح ہے) استعمال کی۔ قطب کو مغربی ثقافت اور اسلامی دنیا کی آمرانہ حکومتوں سے نفرت تھی۔ وہ مغرب کو اسلام کے تاریخی دشمن کے طور پر دیکھتے تھے، اور مسلمانوں کی حکمران اشرافیہ کو بدعنوان بھی سمجھتے تھے۔ اسلامی دنیا میں زیادہ تر حکومتیں آمرانہ تھیں… انھوں [قطب] نے اسلامی دنیا میں چھوٹی تبدیلیوں کے بجاے ایک جارح، متشدد جہاد کو نئی عالمی اسلامی اُمت کے اپنے نظریے کے اطلاق کا واحد ذریعہ سمجھا اور اسے دنیا کے سامنے پیش کیا (ص ۲۸، ۲۹)--- سید قطب کو کئی جدید دہشت گرد تنظیموں کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ مصر کی عوامی سیاست میں ایک بڑی قوت رکھنے والے سید قطب کو مصری حکومت اپنے لیے ایک خطرہ تصور کرتی تھی،اس لیے مذکورہ نظریات کے باعث انھیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ وہ [یعنی قطب] لکھتے ہیں: ’’مغربی فرد کے ہاتھوں انسانیت کی قیادت اب زوال پذیر ہے… مغربی نظام کا دور بنیادی طور پر اس لیے اختتام کو آپہنچا ہے کہ یہ حیات بخش اقدار و اوصاف سے محروم ہوگیا ہے‘‘۔ (ص ۲۴۶، ۲۴۷)

معلوم نہیں کیوں مصنفہ نے اس بات کو نظرانداز کردیا ہے کہ قرآن نے سابقہ اقوام کے حوالے سے جس جاہلیت کا ذکر کیا ہے، ویسی ہی جاہلیت عصرِحاضر کی تہذیب و معاشرت بلکہ پوری زندگی اور اس کی بنیادی فکر میں موجود ہے۔ وہ جاہلیت، حق اور باطل کی تفریق سے ظاہر ہے۔ وہ جاہلیت، قافلہ حسین ؓ اور افواجِ یزید کی معرکہ آرائی سے ظاہر ہے۔ وہ جاہلیت چہارسو ظلم و ستم ڈھاکر اور عدل و انصاف کی پامالی سے اپنا لوہا منوا رہی ہے۔ قرآن کریم صرف دو راستوں کی نشان دہی کرتا ہے: حق اور باطل، باطل اس کے نزدیک جاہلیت ہے اور ’غیر جانب دار‘ بھی دراصل باطل ہی کا طرف دار ہے۔ ’جاہلیت‘ صرف اس چیز کا نام نہیں کہ پہلے انسان جھونپڑی میں گزر بسر کرتا تھا اور آج آراستہ و پیراستہ کوٹھیوں میں رہ رہا ہے۔ پھر جاہلیت یہ بھی نہیں کہ پہلے وہ اُونٹ اور گھوڑے پر سفر کرتا تھا، آج کیڈلک کاروں اور طیاروں میں فراٹے بھرتا ہے۔ اس لیے آج کی جاہلیت کے لیے سید قطب اور مولانا مودودی نے کوئی خاص یا نیا اصول وضع نہیں کیا ہے،یہ تو قانونِ قدرت کا برملا اعلان اور اعادہ ہے۔

’مغربی ثقافت‘ کس چڑیا کا نام ہے؟ یہی کہ کمزور اقوام کے وسائل ہڑپ کرو، ان کی تاریخ کو مسخ کرو اور تہذیب کو تاراج کرو، ان کے ہاں اقتدار اور دولت کو بلاواسطہ یا بالواسطہ اپنے قبضے میں رکھو اور ان کے نظامِ اقدار کو پامال کرو۔ کیا کوئی غیرت مند شخص، اپنے دین، اپنی ثقافت، اپنی تاریخ اور اپنے اقتدارِاعلیٰ کو چند ہزار ڈالروں کے عوض فروخت کر کے یہ تسلیم کرسکتا ہے کہ بھائی تم ہی ٹھیک اور اعلیٰ و ارفع ہو، ہم تو غلام ابن غلام ابن غلام، تمھارے عطا کردہ زخم دھونے کے لیے تمھارے دَر پر دست بستہ کھڑے ہیں۔ سید قطب شہید یہ نہیں کہہ سکتے تھے، اس لیے انھوں نے مغرب کی باج گزار مسلم اشرافیہ کی آمریت کے اس ’حق‘ کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ کیا ان غلام حکمرانوں کی غلامی قبول کرنے سے ان کا یہ انکار گناہ ہے؟انھوں نے باطل کی غلامی قبول کرنے سے انکار کی پاداش میں تختہ دار پر چڑھ جانا گوارا کیا، مگر باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ اب اگر پوری دنیا میں اقتدار کے سرچشموں پر گورے یا کالے انگریزوں کا قبضہ ہے تو بتایا جائے کہ اسے چیلنج کرنا کس قانون کے تحت جرم قرار پاتا ہے؟ ہر ظالم نے اپنے ظلم کے لیے کوئی نہ کوئی جواز اور اپنی کھال بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی پناہ گاہ بنا رکھی ہے۔ کیا موجودہ اور آنے والی نسلوں پر لازم ہے کہ ظلم کے ان ضابطوں کو من و عن تسلیم کریں؟ اگر ایسا ہے توپھر جدید تاریخ میں ’روشن خیال‘ طبقہ آزادی و حریت کے رہنمائوں کے بارے میں کیا فتویٰ پیش کرتا ہے؟

’جدید روشن خیالی‘ ایک ظالم اور سخت بے رحم رویے کا نام ہے، جو زندگی میں سانس نہیں لینے دیتی اور مرنے کے بعد بھی کسی خوبی کو نمایاں نہیں ہونے دیتی۔ یہی معاملہ شہید مظلوم سید قطب کے ساتھ بھی برتا جا رہا ہے۔ ۲۰ویں صدی کے اس عظیم ادیب، دانش ور اور مفسرِقرآن کو قوم پرست آمر مطلق صدر جمال ناصر (م: ۱۹۷۰ء) نے برسوں جیل میں ڈالے رکھا۔ انھوں نے جیل ہی میں اپنی معرکہ آرا تفسیر فی ظلال القرآن تحریر کی، اور پھر ناصر نے خانہ زاد عدالت سے انھیں سزاے موت دلوا کر ۲۹ اگست ۱۹۶۶ء کو تختۂ دار پر کھینچ دیا۔

گذشتہ برسوں سے مغرب کے استعماری اداروں نے بالخصوص سیدقطب شہید کو اپنے منفی پروپیگنڈے کا ہدف بنایا ہے۔ مصنفہ نے اس کتاب میں سیدقطب شہید کو جس زبان میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے، یہی زبان ڈینیل پائپس، برنارڈ لیوس،فوکویاما، ہن ٹنگٹن اور ان کے حواریوں نے استعمال کی ہے۔

سید قطب کو ’انتہاپسند‘ کہہ کر مصنفہ نے علمی دیانت کا قتل اور عدل کا خون کیا ہے۔     اس مقدمے کے لیے کوئی دلیل پیش کرنے کے بجاے ’جنگ جُو‘ استعماریوں کے پروپیگنڈے پر انحصار کیا ہے۔ سید قطب نے دعوت، تنظیم اور تقویٰ کے ذریعے ظلم و آمریت اور مسلم اُمہ سے غداری کے مرتکب صاحبانِ اقتدار کو تبدیل کرنے کی بات کر کے اپنا فرض ادا کیا۔ انھوں نے   مسلح اور پُرتشدد تحریک اٹھانے کے لیے لوگوں کو نہیں اُبھارا۔ چونکہ ان کی اپیل میں ایمان کی طاقت اور عزم و یقین کی حرارت موجود ہے، اس لیے آج جبر اور ظلم کے شکار مسلمانوں کے بعض پُرتشدد گروہوں سے منسوب کر کے سید قطب شہید کی فکری پکار کو مطعون کیا جا رہا ہے۔ مغرب اور   مغربی تہذیب کے بارے میں جو بات انھوں نے آج سے ۵۵ برس پہلے کہی ہے، یہی بات ۹۰سال پیش تر علامہ محمد اقبال اپنے آتش نوا اشعار اور فکر سے بھرپور اقوال میں کہہ چکے ہیں___ مزید ارشاد ہوتا ہے:

یہ تین رجعت پسند [یعنی سید قطب، سید مودودی، اسامہ بن لادن ] ردعمل کی اس سوچ کی نمایندگی کرتے ہیں، جو اس وقت اسلامی دنیا کے چند حصوں میں مقبول ہے۔ ان کے نزدیک: ’’مغرب، مسلم اشرافیہ کے ساتھ ملی بھگت کرکے اسلامی ملکوں کو بگاڑ رہا ہے‘‘۔ قرآن کی غلط تشریحات کا سہارا لے کر وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے معصوموں، اہلِ کتاب [یعنی عیسائیوں اور یہودیوں] اور یہاں تک کہ مسلمانوں کے خلاف پُرتشدد کارروائیوں کا جواز حاصل کرسکتے ہیں۔ حالانکہ قرآن ان رجعت پسند مذہبی رہنمائوں کی تعلیمات کی تائید نہیں کرتا۔ یہ [محض] دہشت گردی کی تحریک کے لیے بنیادی ڈھانچا فراہم کرتے ہیں۔ (ص ۲۹)

اسامہ بن لادن کی حکمت عملی کیا ہے؟ نہ ہمیں اس سے اتفاق ہے اور نہ اس کے بارے میں کوئی بات کرنے کے مکلف ہیں، تاہم مصنفہ کا سید مودودی اور سیدقطب کو اسی صف میں کھڑا کرنا سخت ناانصافی اور تعصب پر مبنی واویلاہے۔ سید قطب شہید،سید مودودی اور حسن البنا شہید کے رفقا نے مسلسل جدوجہد کرکے دین کی حقیقی شکل مسلمانوں کے سامنے پیش کی، اور مغربی نوآبادیاتی حکمرانوں کے مددگاروں کی سازشوں کو دلیل، تحریر،تنظیم اور تسلسل کے ساتھ مسلم دنیا کے سامنے یوں وضاحت سے پیش کیا کہ اُمہ میں اس کی اپنی نظریاتی اور تہذیبی شناخت پر مبنی، اور استعماری طاقتوں کی گرفت سے آزاد ریاست کے قیام کا عزم پیدا ہونے لگا۔ اس پُرامن اور مؤثر حکمت عملی کی تاثیر سے بوکھلا کر، مغرب نے دوطرفہ تشدد کو درمیان میں لانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے، تاکہ وہ ساری کاوش دھندلا دی جائے۔ کچھ ایسے عناصر کی غیرمعتدل اور اسلامی تعلیمات سے سراسر ٹکراتی کارروائیوں سے بے جا طور پر اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی یا سیدقطب اور مولانا مودودی کو منسوب کر کے اس پُرامن جدوجہد کو نشانہ بنایا جائے کہ جس جدوجہد کو ان عظیم رہنمائوں کی حکمت و دانش نے وقار اور قبولیت بخشی ہے۔

۲۹ اگست ۲۰۰۸ء کے پاکستانی اخبارات یہ روح فرسا خبریں شائع کر رہے تھے کہ صوبہ بلوچستان میں پیپلزپارٹی کے وزیر ہائوسنگ و تعمیرات مسٹرصادق عمرانی کے بھائی اور پیپلزپارٹی کے لیڈر عبدالستار عمرانی، ضلع جعفرآباد میں پانچ عورتوں کو زندہ دفن کرنے کا حکم دینے والوں میں شامل ہیں۔ (ان کے پشت پناہ سینیٹر میراسرار اللہ زہری اور اب وفاقی وزیر پوسٹل سروسز نے سینیٹ کے اجلاس میں کہا تھا کہ اخلاقی الزام میں ملوث عورتوں کو زندہ دفن کرنا ہماری روایات کا حصہ ہے)، جب کہ ۲۰۰۶ء میں صوبہ سندھ سے پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما، اوکسفرڈ کے گریجوایٹ اور وفاقی وزیرتعلیم میرہزار خاں بجارانی نے بطور سربراہِ قبیلہ ۲ سے ۵ سال کی کم سن بچیوں کو ’سانگ چٹی‘ (خون بہا کے طور پر مقتول کے پس ماندگان کی غلامی میں دینے) کی بھینٹ چڑھا دیا۔ باوجود یہ کہ، یہ دونوں بلکہ تینوں حضرات پیپلزپارٹی کے لیڈروں میں شامل ہیں۔ مگر جماعت اسلامی یا کسی انصاف پسند شخص نے یہ نہیں کہا کہ: ’’پیپلزپارٹی ایسے قابلِ نفرت اقدام کرنے والی پارٹی ہے، اس لیے اس کو نفرت کا نشان بنا دو‘‘___ اب ہم دوسری جانب دیکھتے ہیں۔

جماعت اسلامی اگرچہ ۲۴ ہزار ارکان پر مشتمل تنظیم ہے، مگر اس کی حمایت کرنے اور ووٹ دینے والے لاکھوں لوگ ہیں۔ فطری سی بات ہے کہ ان میں ہر ذوق، مذاق اور طبیعت کا فرد ہوسکتا ہے۔ لیکن کیا جماعت اسلامی اپنے ان لاکھوں حامیوں اور ووٹروں کے تمام افعال و اقدامات کی بھی ذمہ دار یا جواب دہ ہے؟ اگر اس کے کسی حامی نے جماعت کی پالیسی، عقیدے اور حکمت عملی کے برعکس کوئی فعل انجام دیا ہے تو کیا اُس فرد کے اقدام پر پوری جماعت اسلامی اور اس کی قیادت کو نشانہ بنانا کوئی شریفانہ اور منصفانہ قدم ہوسکتا ہے؟ اب دیکھیے، مصنفہ لکھتی ہیں:

۲۰۰۱ء کے حملوں کے بعد ہر بڑا مطلوبہ دہشت گرد، مودودی کی جماعت کے کسی نہ کسی رکن کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ (ص ۶۹)... [مطلوبہ ماسٹرمائنڈ] خالد شیخ محمد، جماعت اسلامی کے ایک حامی (سپورٹر) کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔۱؎ (ص ۲۰۵)

ان عبارتوں کے اندر شرارت کا پورا سامان چھپا ہوا ہے۔ وہ طریقہ کہ جس سے جماعت اسلامی، اصولی اور عملی اعتبار سے ۱۰۰ فی صد اختلاف رکھتی ہے، اس طرزِ بیان سے اس کو اُسی گروہ سے جوڑا جا رہا ہے، جب کہ جماعت نے تو پیپلزپارٹی کے لیڈروں کے ایسے ’تذلیل نسواں، پر مبنی اقدامات‘ کا سزاوار پیپلزپارٹی کو قرار نہیں دیا، مگر دوسری جانب غیرمتعلق امور کو بھی مولانا مودودی مرحوم اور پوری جماعت اسلامی کے سرمنڈھا جا رہا ہے۔ پھر یہ بھی کہا گیا ہے:

مودودی نے مسلمانوں کو ایک ایسی بین الاقوامی جماعت کے طور پر دیکھا ہے، جسے اسلام کا انقلابی پروگرام بروے کار لانے کے لیے منظم کیا گیا ہے، اور جہاد کو ایک ایسی اصطلاح کے طور پر اسلامی انقلاب لانے کے لیے ضروری انتہائی کوشش اور جدوجہد کے طور پر بیان کیا ہے۔ (ص ۲۸)

مسلمانوں کو ایک بین الاقوامی کمیونٹی (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) مولانا مودودی نے نہیں، خود قرآن مجید اور رسول کریمؐ نے قرار دیا ہے۔ انھیں جسدِواحد اور رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر اُمہ قرار دیا ہے۔ اس لیے مولانا مودودی مسلم اُمہ کو بین الاقوامی کمیونٹی قرار دیتے ہیں اور علامہ محمد اقبال بھی ’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘ جیسا نغمۂ جاں فزا بلند کرتے ہیں۔ مولانا مودودی نے اس اُمت میں زندگی کی لہر دوڑانے کے لیے ہتھیار بکف نکلنے کا درس نہیں دیا، بلکہ حق کی دعوت، فریضۂ اقامت ِدین، منظم نیکی، اور پوری زندگی میں پھیلے تزکیۂ نفس کا سبق دیا ہے۔ وہ دعوت اور جمہوریت کے ذریعے اس منزل کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ افسوس کہ اس افسانے میں رنگ بھرتے ہوئے کہا ہے:

[مغربی اور اسلامی تہذیبوں کے] تصادم کاروں کی اس دوڑ میں صرف مغرب کے انقلاب پسند دانش ور [مراد ہن ٹنگٹن ہے] ہی نہیں ہیں، بلکہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی بھی شامل ہیں۔ مودودی کا بھی یہی یقین ہے کہ اسلامی شریعت کی حکمرانی کی راہ میں حائل تمام اقوام کو، بہ شمول مغرب ’پُرتشدد جہاد‘ کے ذریعے ختم کردیا جانا چاہیے۔ مغرب کے متعلق ان کا نقطۂ نظر اتنا ہی یک طرفہ اور مسخ شدہ ہے، جتنا کہ تصادم کا نقطۂ نظر اسلام کے متعلق۔ (ص ۲۴۶)

اس بیان میں شرانگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، مصنفہ نے مولانا مودودی کے واضح طور پر منصفانہ اور پُرامن نقطۂ نظر کو ’پُرتشدد جہاد‘ اور ’اقوام کے خاتمے‘ میں تبدیل کردیا ہے۔ مصنفہ کے ذہن میں برطانوی نوبل انعام یافتہ ادیب رڈیارڈ کپلنگ (۱۸۶۵ء- ۱۹۳۶ء) کا وہ قول نہیں آیا، جس میں وہ کہتا ہے: ’’مغرب، مغرب ہے اور مشرق، مشرق۔ یہ دونوں آپس میں کبھی نہیں مل سکتے‘‘۔ بلکہ اس نسل پرست نے تو ۱۸۹۹ء میں اپنی نظم The White Man's Burden لکھ کر غیرمغربی ’جاہلوں‘ کو درسِ انسانیت دینے کی ذمہ داری کو اس انداز سے پیش کیا تھا کہ ان گوروں کے علاوہ باقی سب انسان دھرتی کا بوجھ ہیں۔ لیکن مولانا مودودی مغرب کو کسی جغرافیائی علاقے یا گوری اقوام کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ وہ مغرب کو اس کے فکری، سیاسی، اقداری، اخلاقی، ثقافتی اور عسکری پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ اور خود مغرب، دنیا کو جس نظر سے دیکھتا اور جس سطح سے اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، اسی کو بنیاد بناکر، مولانا مودودی وہاں کے انسانوں کو حق کی راہ پر چلنے کی دعوت دیتے ہیں، ہتھیاروں سے خوف زدہ نہیں کرتے۔

مصنفہ نے اپنے مذکورہ اقتباس (ص۲۴۶) کے لیے مولانا مودودی کی جس تحریر سے دلیل فراہم کی ہے، اس میں ایسا کوئی تاثر موجود نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس یہ تحریر تو مولانا مودودی کے متوازن اندازِ فکر کی دلیل پیش کرتی ہے۔ یہ تحریر ستمبر ۱۹۳۴ء کے ماہنامہ ترجمان القرآن ، حیدرآباد، دکن میں شائع ہوئی تھی اور اب مضمون ’ہماری ذہنی غلامی اور اس کے اسباب‘ کی صورت میں تنقیحات میں شامل ہے۔ مصنفہ نے بطور دلیل مولانا مودودی کی یہ تحریر پیش کی ہے:

یہ [مغربی تہذیب] خالص مادی تہذیب ہے۔ اس کا پورا نظام خداترسی، راست روی، صداقت پسندی، حق جوئی، اخلاق، دیانت، امانت، نیکی، حیا، پرہیزگاری اور پاکیزگی کے اُن تصورات سے خالی ہے، جن پر اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس کا نظریہ [حیات]، اسلام کے نظریے کی بالکل ضد ہے۔ اس کا راستہ اس راستے کی عین مخالف سمت میں ہے، جو اسلام نے اختیار کیا ہے۔ اسلام جن چیزوں پر انسانی اخلاق اور تمدن کی بنیاد رکھتا ہے، ان کو یہ تہذیب بیخ و بُن سے اُکھاڑ دینا چاہتی ہے، اور یہ تہذیب جن بنیادوں پر انفرادی سیرت اور اجتماعی نظام کی عمارت قائم کرتی ہے، ان پر اسلام کی عمارت ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ٹھیرسکتی۔ گویا اسلام اور مغربی تہذیب، دوایسی کشتیاں ہیں، جو بالکل مخالف سمتوں میں سفر کر رہی ہیں۔

اس بیان میں مولانا مودودی روحانی،فکری، عمرانی اور سماجی سطح پر مغربی تہذیب کے بنیادی رویے کی نشان دہی کر رہے ہیں، مگر مصنفہ ان سطروں میں آج کی ’دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ‘ کا جواز نکال کر دکھا رہی ہیں۔ مولانا مودودی نے اس بیان میں اُس حقیقت کو صاف صاف لفظوں میں بیان کیا ہے، جو ایک کھلی سچائی ہے۔ ۲۰ویں صدی کی دو عالم گیر جنگوں، ۱۹۴۵ء میں جاپان پر ایٹمی بم باری اور گذشتہ ڈیڑھ سو برسوں میں مظلوم انسانوں کے ساتھ کھیلی جانے والی خون کی ہولی کو کون نظرانداز کرسکتا ہے۔ کیا وہ یہ کہتے کہ: ’’اسلام، مغربی تہذیب کا ضمیمہ ہے، یااسلام ایک ایسی مومی تہذیب ہے جسے مغرب جب چاہے جس سانچے میں ڈھال دے، اس کو تو بس ڈھلنا اور ہوا کے رُخ پر اڑنا ہی ہے‘‘۔ کیا ایسی بات قرآن اور سنت کا فرمان ہے یا مغرب کے بھوکے شیر کے سامنے ممیاتی بھیڑ بکریوں کے جرمِ ضعیفی کی التجا ہے یا حکمرانی کی بھیک مانگنے والوں کی ملّت دشمنی کا ثبوت؟___ مصنفہ آگے چل کر مولانا مودودی کے رفیق کے بارے میں لکھتی ہیں:

خورشیداحمد ایک ممتاز پاکستانی پروفیسر اور اسکالر تھے (was)، جو اسلامی دنیا پر اپنی اقدار، ثقافت اور نظام ہاے حکومت مسلط کرنے کے مغربی عزم کا ناگزیر نتیجہ تہذیبوں کے تصادم کو قرار دیتے تھے: [خورشیداحمد کے بقول] ’’اگرمسلم ذہن میں اور مسلم   نقطۂ نظر میں، مغربی طاقتیں مغربی ماڈل کو مسلم معاشرے پر ٹھونسنے کی قومی اور     بین الاقوامی سطح پر، مسلمانوں کو مغربی غلبے کے نظام سے باندھے رکھنے کی اور اس طرح مسلم ثقافت اور معاشرے کو بالواسطہ یابلاواسطہ غیرمستحکم کرنے کی کوششوں سے وابستہ رہتی ہیں تو یقینا کشیدگی میں اضافہ ہوگا، یوں اختلافات کا بڑھنا ناگزیر ہے‘‘۔ (ص ۲۴۷)

پروفیسر خورشیداحمد (پ: ۱۹۳۲ء)، اللہ کے فضل سے مغرب کی اس جارحانہ اورانسانیت کُش یلغار کا فکری، قومی اور ملّی سطح پر بلاخوف و خطر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ۱۹۹۵ء میں ان کی محولہ بالا تحریر ’امریکی نیوورلڈ آرڈر‘ کے تجزیے پر مشتمل تھی۔ جس کی بنیاد پر مصنفہ نے انھیں مغرب سے تصادم کی آگ بھڑکانے کا ایک ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی ہے، حالانکہ اس بیان میں توازن، بُردباری، احساسِ عدل اور ملّی و قومی شعور بدرجۂ اتم موجود ہے۔ پروفیسر صاحب نے مغرب کی جانب سے مسلم دنیا پر استعماری یا استعماریوں کے گماشتہ ماڈل کو مسلط کرنے اور مسلم اقوام کو غلامی میں باندھنے کی مذمت کی ہے، اور کہا ہے کہ مغربی حکمران تاریخ سے سبق سیکھیں اور ان مسلم معاشروں کو اپنے معاملات خود چلانے دیں۔ کیا ان کا یہ کہنا ’وار آن ٹیرر‘ کے شعلے بھڑکانے کا سبب ہے یا اپنے ملّی اور جمہوری حق کو منوانے کے لیے کلمۂ حق؟___ پھر یہ اقتباس پڑھنے کو ملتا ہے:

جنوبی ایشیا میں انتہاپسند گروہ جماعت اسلامی کے بانی، مولانا مودودی کو یقین تھا کہ جنوبی ایشیا میں قوم پرستی کے اُبھرنے سے مسلم پہچان کو خطرہ لاحق ہے۔ ان کے نزدیک قوم پرستی ایک ایسا مغربی نظریہ تھا، جو یک طرفہ طور پر مسلمانوں پر ٹھونس دیا گیا ہے، تاکہ عالمی اُمت مسلمہ کی جگہ زبان، نسل اور علاقے کی بنیاد پر استوار کی جانے والی انفرادی قوم پرستی کو ہوا دے کر انھیں کمزور اور تقسیم در تقسیم کیا جاسکے۔ (ص ۲۸)

ان سطور میں مصنفہ نے یہ ناانصافی اور ظلم کرتے ہوئے مولانا مودودی کو انتہاپسند اور انتہاپسند گروہ کا بانی قرار دے کر اپنی بے خبری بلکہ انتہاپسندانہ سوچ کا بھی ثبوت دیا ہے۔ مولانا مودودی کے ہاں توازن، بُردباری، تہذیب و شائستگی اور قانون پسندی ضرب المثل ہے۔ انھوں نے تشدد اور انتہاپسندی سے نہ صرف دامن بچائے رکھا، بلکہ اپنے رفقا کو بھی اس سے بچنے کی مسلسل تلقین کی۔ انھوں نے یہ پیغام طالب علموں کو، عرب نوجوانوں کو اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو دیا کہ وہ زیرزمین اور قانون شکنی پر مبنی سرگرمیوں سے اپنے آپ کو بچائیں اور کھلے عام کام کرنے میں انھیں جو بڑی سے بڑی قربانی دینی پڑے اسے برداشت کرلیں، مگر تشدد اور خفیہ طبع آزمائی کا راستہ اختیار نہ کریں۔ اس ضمن میں مولانا مودودی کی تحریروں سے بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر جماعت اسلامی، نظامِ زندگی کو تبدیل کرنے کے لیے کس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، اس کے لیے سب سے پہلے دیکھیے: دستور جماعت اسلامی پاکستان کی دفعہ ۵:

جماعت اسلامی کا مستقل طریق کار یہ ہوگا کہ:

۲- اپنے مقصد اور نصب العین کے حصول کے لیے جماعت کبھی ایسے ذرائع اور طریقوں کو استعمال نہیں کرے گی، جو صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں، یا جن سے فساد فی الارض رونما ہو۔

۳- جماعت اپنے پیش نظر، اصلاح اور انقلاب کے لیے جمہوری اور آئینی طریقوں سے کام کرے گی…

۴- جماعت اپنے نصب العین کے حصول کی جدوجہد خفیہ تحریکوں کے طرز پر نہیں کرے گی، بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کرے گی۔

اسی طرح مولانا مودودی نے ۱۶ ذوالحج ۱۳۸۲ھ (۱۰ فروری ۱۹۶۳ء)کو مسجد دہلوی مکہ معظمہ میں عرب نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے تلقین کی تھی:

اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انھیں خفیہ تحریکیں چلانے  اور اسلحے کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی دراصل بے صبری اور جلدبازی ہی کی ایک صورت ہے، اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعے سے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلایئے، بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے، لوگوں کے خیالات بدلیے، اخلاق کے ہتھیاروں سے دلوں کو مسخر کیجیے اور اس کوشش میں جو خطرات اور مصائب بھی پیش آئیں ان کا مردانہ وار مقابلہ کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہوگا،وہ ایسا پایدار اور مستحکم ہوگا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔ جلدبازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب   رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا، اسی راستے سے مٹایا بھی جاسکے گا۔ (ماہ نامہ ترجمان القرآن، جون ۱۹۶۳ء،ص ۲۸، تفہیمات، سوم، ص ۳۶۲-۳۶۳)

اپنی زندگی میں جماعت اسلامی کے آخری کُل پاکستان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، ۳۱ مارچ ۱۹۷۴ء کو سید مودودی نے کہا:

جماعت اسلامی کیوں جمہوری ذرائع سے ہی انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے اور کسی غیر جمہوری ذریعے کے استعمال کی مخالف ہے، اس کو میں چند الفاظ میں بیان کیے دیتا ہوں:

خدا کی قسم ہے، اور قسم میں بہت کم کھایاکرتا ہوں، کہ جماعت اسلامی نے جو یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ وہ: کسی قسم کے تشدد کے ذریعے سے، یا کسی قسم کی خفیہ تحریک کے ذریعے سے، یا کسی قسم کی سازشوں کے ذریعے سے انقلاب برپا نہیں کرنا چاہتی، یہ قطعاً کسی کے خوف کی وجہ سے نہیں ہے۔ یہ قطعاً اس لیے نہیں ہے کہ ہم اپنی صفائی پیش کرسکیں کہ ہم دہشت پسند نہیں ہیں، اور ہمارے اُوپر یہ الزام نہ لگنے پائے۔

اصل بات یہ ہے کہ اسلامی انقلاب اس وقت تک مضبوط جڑوں سے قائم نہیں ہوسکتا، جب تک کہ لوگوں کے خیالات تبدیل نہ کردیے جائیں، جب تک کہ لوگوں کے افکار، لوگوں کے اخلاق اور لوگوں کی عادات کو تبدیل نہ کردیا جائے۔ اگر کسی قسم کے تشدد کے ساتھ، یا کسی قسم کی سازشوں کے ساتھ، یا کسی قسم کی دھوکے بازیوں اور جھوٹ کے ساتھ، انتخابات جیت لیے جائیں، یا کسی طریقے سے انقلاب برپا کردیا جائے، توچاہے یہ انقلاب کتنی دیر تک رہے، یہ اسی طرح اکھڑتا ہے جیسے اس کی کوئی جڑ ہی نہ ہو۔  (ہفت روزہ ایشیا، لاہور، ۷ اپریل ۱۹۷۴ء)

جہاں تک یہ کہنا ہے کہ مولانا مودودی نے قوم پرستی کو ایک مغربی نظریہ قرار دے کر اس کی مذمت کی تھی تو یہ انھوں نے بالکل درست بات لکھی تھی۔ مسلم اُمت کو ان چھوٹی چھوٹی قومیتوں میں بانٹنے اور ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ’راجواڑوں‘ کے سپرد کرنے اور اقتدار کے سرچشموں پر اپنے منظورنظر دیسی وفاداروں کو مسلط کرنے کا کام ۱۹ویں اور ۲۰ویں صدی میں مغربی استعمار نے کیا تھا۔ ان کے قومی اور قدرتی وسائل ہڑپ کیے، باہمی تعلقات میں تصادم کی فضا کو پیدا کرکے انھیں مسلسل جنگ و جدل کی دلدل میں پھنسادیا اور قومی دولت کا بڑا حصہ اسلحے کی خریدوفروخت میں جھونک دینے کا بندوبست کیا۔مولانا مودودی نے، مغربی استعمار کی اس شیطانی چال کو ۱۹۳۷ء سے ۱۹۳۹ء کے دوران اپنی مشہور کتب مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش (تین حصوں) اور مسئلۂ قومیت میں پوری وضاحت کے ساتھ بے نقاب کیا، تو کچھ غلط نہ کیا تھا___ اب مصنفہ کے سوقیانہ پن کا یہ رنگ دیکھیے:

موجودہ دور میں وہابی پیسے کی خصوصی وصول کنندہ جماعت اسلامی رہی ہے۔ یہ ایک سیاسی اور سماجی تحریک ہے جس کی بنیاد مولانا مودودی نے رکھی ہے۔ زیادہ تر وہابی سرمایہ اب بھی ان اسکولوں کو جاتا ہے جو جماعت اسلامی کے زیرانتظام کام کر رہے ہیں۔ اپنے بچپن کے دور میں، مَیں جماعت اسلامی کو بالواسطہ طور پر امداد فراہم کرنے کی کہانیاں اکثر سنا کرتی تھی کہ: سعودی مذہبی رہنما، مولانا مودودی کی کتابیں ہزاروں کی تعداد میں خریدتے، ان کی قیمت ادا کرتے اور پھر ان کتابوں کو سمندر میں پھینک دیتے، کیونکہ دراصل انھیں پڑھنے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔ پھر جنرل ضیا الحق کے اقتدار میں آنے کے بعد صورت حال تبدیل ہوگئی۔ (ص ۵۲)

پاکستانی فوج کے عناصر اور مذہبی سیاسی پارٹی [یعنی جماعت] کے درمیان اتحاد [جنرل] ضیا کے دور سے پہلے شروع ہوا۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے میں جماعت اسلامی کو سعودی عرب سے معقول امداد ملنا شروع ہوئی۔ (ص ۱۹۴)

۱۹۶۴ء میں صدر ایوب خان کے دورِ حکومت میں جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی گئی، دفاتر سربمہر، ریکارڈ ضبط اور قیادت کو قید کرلیا گیا۔ اس کے حسابات کی جانچ پڑتال ہوتی رہی، اس کے ذرائع آمدن کا کھوج لگایا جاتا رہا، مگر کوئی قابلِ گرفت بات ہاتھ نہ آئی۔ اس کے بعد جنرل یحییٰ خان، بھٹو صاحب، خود بے نظیر اور جنرل پرویز مشرف بھی اپنے پورے ریاستی کرّوفر اور اقتدار کے باوجود ایسے کسی مفروضے کو طشت ازبام نہیں کرسکے۔ آج آصف علی زرداری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ’وہابی‘ اور ’سعودی‘ سرمایے سے چلنے والے ’جماعت اسلامی کے اسکولوں‘ کی مع رقم نشان دہی کریں۔ اپنے بچپن کی جس پروپیگنڈا کہانی کا ذکر مصنفہ نے کیا ہے، اس افسانے کو انھوں نے بے جا طور پر مسخ بھی کیا ہے۔ اُن کے بچپن میں کہانی یہ نہیں تراشی گئی تھی کہ: ’’سعودی عرب، مولانا مودودی کی کتب خرید کر سمندر میں پھینکتا ہے‘‘، بلکہ یہ جھوٹا افسانہ تراشا گیا تھا:’’امریکا، مولانا مودودی کی کتب خرید کر سمندر میں پھینکتا ہے‘‘۔ چونکہ وہ کہانی آج کل ’آئوٹ آف فیشن‘ ہوگئی ہے اس لیے ’امریکا‘ کا لفظ نکال کر ’سعودی عرب‘ کا نام ڈال کر اسے ’حسبِ حال ‘بنا دیا گیا ہے ___ ’ارشاد‘ ہوتا ہے:

جماعت اسلامی کے رہنما مولانا مودودی، آمر ضیاء الحق کے روحانی باپ تھے۔ سعودی مذہبی رہنمائوں سے ان کا تعلق بڑا گہرا تھا۔ افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد، ضیاء الحق نے افغان مجاہدین کے لیے پیسہ اکٹھا کرنے اور ان کے لیے جنگ جُو بھرتی کرنے کے کام میں ان [یعنی مولانا مودودی] کی مدد طلب کی۔ (ص ۶۸)

مولانا مودودی مرحوم، جنرل ضیا کے تو کبھی روحانی سرپرست نہیں رہے، مگر معلوم نہیں کس بنیاد پر یہ کہانی تصنیف کی گئی ہے۔ دنیا بھر کے دینی اسلامی بھائیوں سے مولانا مودودی کا گہرا قلبی تعلق تھا۔ جن میں افریقہ، امریکا،یورپ، وسطی ایشیا، انڈونیشیا، بھارت، ایران، ترکی اور افغانستان وغیرہ سبھی شامل تھے۔ مولانا مودودی کی رحلت ۲۲ستمبر ۱۹۷۹ء کو ہوئی اور افغانستان پر کمیونسٹ روس نے حملہ ۲۹دسمبر ۱۹۷۹ء کو کیا۔ گویا مصنفہ کہنا  یہ چاہتی ہیں کہ اپنے انتقال کے تین ماہ بعد رونما ہونے والے المیے میں کردار ادا کرنے کے لیے مولانا مودودی جنگ جُو بھرتی کرنے کے لیے رابطے کر رہے تھے، جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے۔ اب یہ حوالہ بھی دیکھیے:

مولانامودودی نے میرے والد [بھٹوصاحب] کے انتخاب کی مخالفت کی۔ اسلام کے نقاب تلے پوشیدہ سیاسی نظام جسے [جنرل] ضیا نے ترتیب دیا تھا، یہ مودودی،     آئی ایس آئی، پاکستانی فوج اور ریاست کا پُراسرار اتحاد تھا، جس نے میرے وطن   اور پوری دنیا کی سیاسیات پر دور رس اثرات مرتب کیے۔ (ص ۶۸)

مصنفہ کو شاید علم نہیں کہ بھٹو صاحب نے اور ان کے حواریوں نے مولانا مودودی کی مخالفت میں کون سی زبان استعمال کی تھی اور کس نوعیت کی اخلاق باختہ اخباری مہم چلائی تھی؟ ظاہر ہے مولانا مودودی نے اپنی مدمقابل سیاسی پارٹیوں کے پروگرام پر نقد کرتے ہوئے اپنا پروگرام تو پیش کرنا تھا۔ البتہ مولانا مودودی کو دوسری جانب سے جس لچر پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑا اس کو بیان کرنے سے یہ قلم عاجز ہے۔ ۱۹۷۰ء میں پورے سال پر پھیلی انتخابی مہم میں مولانا مودودی نے کُل ۸ تقاریر کیں۔ ان میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے کہ جسے اخلاق و تہذیب سے ٹکراتا ہوا کہا جاسکے۔ اس کے مقابلے میں بھٹوصاحب کی تقریروں سے مرصع اخبارات و جرائد: شھاب، نصرت، مساوات، آزاد اور الفتح کے اوراق ابتذال کی حدوں کو چھوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ خود پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو تو بھٹوصاحب نے بلوچستان پر فوجی یلغار اور سیاسی قیادت کو کچلنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ یہی جنرل ضیاء الحق، بھٹو صاحب کی دھاندلی زدہ حکومت کو تحفظ دیتے ہوئے، ۲۰اپریل ۱۹۷۷ء سے تین شہروں میں مارشل لگاکر حکومت مخالف مظاہرین کو کچلتے رہے، مگر آخرکار جولائی ۱۹۷۷ء میں ایک وقت ایسا آیا کہ ان دونوں میں دُوری ہوگئی، لیکن اس وصل و فصل میں مولانا مودودی کا کردار کہاں سے آگیا؟

آیئے سنیے: ۱۹۷۷ء میں بھٹو حکومت کی انتخابی دھاندلی کے خلاف جب ۱۴ مارچ سے احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو ۲۹ مارچ کو مولانا مودودی سے مجیدنظامی صاحب نے ملاقات کی۔ مولانا نے بحران سے نکلنے کے لیے نظامی صاحب کے ذریعے بھٹوصاحب کو تجاویز بھیجیں کہ وہ اصرار نہ کریں اور الیکشن دوبارہ کروا دیں، مگر وہ نہیں مانے۔ جب ۹ اپریل کو بھٹوحکومت کی جانب سے لاہور میں قتل عام کے بعد حالات خراب ہوگئے تو بھٹوصاحب، مولانا مودودی سے ملنے کے لیے ۱۴اپریل کو مولانا مودودی کے گھر پر آئے، تب بھی مولانا نے انھیں مشورہ دیاکہ وہ قوت کے بے جا استعمال سے حالات کو خراب نہ کریں۔ مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ۲۰ اپریل ۱۹۷۷ء کو بھٹوصاحب نے کراچی، حیدرآباد اور لاہور میں مارشل لا نافذ کردیا۔ ۲۴اپریل کو مولانا مودودی نے قومی اور عالمی اخباری نمایندوں کی پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں بی بی سی کے نمایندے اینڈریو وٹلے نے مولانا سے سوال کیا:

Would you kindly consider the take of Army as a peaceful revolution?

[فوج اگر اقتدار پر قبضہ کرلے تو کیا آپ اسے پُرامن انقلاب قرار دیں گے؟]

مولانا مودودی نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر، مضبوط لہجے میں جواب دیا:

Army has no right to take over. Army is the servant of the people, not their master.

[فوج کو اقتدار پر قابض ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ فوج قوم کی ملازم ہے،  آقا نہیں۔]

صفدر علی چودھری صاحب کی ہدایت پر راقم نے اس پریس کانفرنس کو ریکارڈ کیا تھا۔ دوسرے روز یہ الفاظ قومی پریس میں شائع ہوئے اور عالمی نشریاتی اداروں نے انھیں نمایاں طور پر پیش کیا۔ مراد یہ ہے کہ مولانا نے انفرادی سطح پر اور عوام کے سامنے بھی مارشل لا سے بچنے کے لیے بار بار اپیل کی۔ بعدازاں بھٹوصاحب نے ۲۷ اپریل کو مسلح افواج پاکستان کے اعلیٰ افسران کا مشترکہ بیان نشر کرایا کہ وہ بھٹو کی حکومت کے پشتی بان ہیں۔

ایک اور شرمناک الزامی افسانے کو ان الفاظ میں پڑھیے:

مولانا مودودی نے قائداعظم کو کافر قرار دیا تھا، مگر ہندستان کے مسلمانوں نے مودودی کو مسترد کردیا اور ان کے بجاے محمدعلی جناح، اور مذہب و سیاست کے متعلق ان کے زیادہ سیکولر نقطۂ نظر کی حمایت کی۔ (ص ۶۸، ۶۹)

کتاب میں بیان کردہ یہ ایک ایسا اذیت ناک بہتان ہے کہ جس کی تائید میں کوئی فرد ایک سطر بھی پیش نہیں کرسکتا۔ ماسوا اس اخلاق باختہ مہم کے ایندھن کے، جسے خود ہی اکٹھا کرکے وقفے وقفے سے سلگایا جاتا ہے۔ قائداعظم تو ایک طرف، مولانا مودودی نے زندگی بھر کسی ایک فرد پر بھی کفر کا فتویٰ صادر نہیں کیا، بلکہ کفر سازی کے کلچر کی بھرپور مخالفت کی۔۲؎ یہ کام احرار کے لیڈر مظہرعلی اظہر ایڈووکیٹ [۱۳ مارچ ۱۸۹۵ء-۲نومبر ۱۹۷۴ء] نے کیا تھا، اور جو مسلک کے اعتبار سے   شیعہ اور ایک شعلہ نوا مقرر تھے۔ لیکن کچھ گروہوں نے کمالِ بددیانتی سے اور وہ بھی پاکستان بننے کے ۱۰برس بعد، مظہر علی کے الفاظ مولانا مودودی سے منسوب کرکے وقفے وقفے سے دہرانا شروع کردیے۔ مولانا مودودی کے ساتھ اس بدترین زیادتی کا ارتکاب کرنے والے خود کو ’روشن خیال‘ اور ’معروضیت‘ کا علَم بردار قرار دیتے ہیں، جب کہ دوسری جانب خود قائداعظم کو کفر کی گالی دینے  کا بھی گاہے گاہے ارتکاب کرتے ہیں___ ریکارڈ کو درست رکھنے کے لیے جسٹس محمدمنیر اور  جسٹس ایم آر کیانی پر مشتمل انکوائری کمیٹی رپورٹ ۱۹۵۳ء (انگریزی میں صفحہ ۱۱)دیکھیے:

The authorship of the couplet:

اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا

یہ قائداعظم ہے کہ ، ہے […]

is attributed to Maulana Mazhar Ali Azhar, a leading personality in the Ahrar Organization. Who had the sudacity to assert before us that he still held the view.

[یہ شعر مولانا مظہر علی اظہر سے منسوب ہے جو تنظیم احرار میں ایک ممتاز شخصیت ہیں۔ انھوں نے ہمارے سامنے نہایت ڈھٹائی سے یہ اظہار کیا کہ [قائداعظم کے متعلق] وہ اب تک اسی خیال پر قائم ہیں۔ (انکوائری کمیٹی رپورٹ، اُردو، ص ۱۱)]

مولانا مودودی پر یہ بہتان لگانے کے بعد مصنفہ لکھتی ہیں:

مولانا مودودی نے میرے والد [بھٹوصاحب] کی سیاست کو انتہا پسندوں کے ایجنڈے سے ہم آہنگ نہ پاکر ۱۹۷۰ء میں انھیں بھی کافر قرار دے دیا۔ (ص ۶۹)

اب یہ مصنفہ کے ساتھیوں پر لازم ہے کہ وہ مولانا مودودی کی تحریروں سے کوئی ایک سطر بھی ایسی نکال کر پیش کریں جس میں انھوں نے مسٹربھٹو کو کافر قرار دیا ہو۔ عجیب بات ہے کہ ’مفاہمت‘ کے نام پر لکھی جانے والی اس کتاب میں عمومی اور سماجی سطح پر رواداری ہی کو تہس نہس کرنے کی بنیاد ڈالی جارہی ہے۔ دوسری طرف مارچ ۱۹۶۹ء میں یہ بھٹوصاحب ہی تھے، جنھوں نے عبدالمجید بھاشانی کے ساتھ مل کر انتہاپسندی،گھیرائو، جلائو اور توڑ پھوڑ کی مہم چلاکر ’پاکستان تحریک جمہوریت‘ (PDM) اور ’جمہوری مجلس عمل‘ (DAC) کی قومی جمہوری تحریک کو پٹڑی سے اُتارا، اور جنرل آغا یحییٰ خاں کے مارشل لا کا راستہ صاف کیا تھا۔ تب مولانا مودودی قومی قیادت کے ساتھ مل کر آئینی جدوجہد کر رہے تھے۔ ایوب خان کے ساتھ گول میز کانفرنس کامیاب بھی ہوگئی تھی کہ آئینی ترامیم کے ذریعے انتقالِ اقتدار اور عام انتخاب ہوجاتا، مگر انتہاپسندوں کی سربراہی کرتے ہوئے بھٹوصاحب اور بھاشانی صاحب نے اس پُرامن حل کو ناکام ہی نہیں بنایا، بلکہ جنرل آغا یحییٰ خاں کے مارشل لا کا سب سے پہلے خیرمقدم بھی کیا۔ بالکل ویسا ہی خیرمقدم کیا جس طرح کہ خود بے نظیر بھٹو نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو نوازشریف کی حکومت کی برطرفی اور جنرل مشرف کی آمد کا خیرمقدم کیا تھا___ مصنفہ نے اگلی سطور میں یہ بھی لکھ دیا ہے:

۱۹۸۸ء میں جب میں نے وزیراعظم کا انتخاب لڑا تو مودودی کی جماعت نے مجھے بھی کافر قرار دے دیا، بالکل ویسے جس طرح کہ انھوں نے مجھ سے پہلے میرے والد کو قرار دیا تھا۔ (ص ۶۹)

۱۹۸۸ء تو ابھی کل کی بات ہے۔ جماعت اسلامی کے کسی لیڈر، جماعت کی کسی قرارداد اور جماعت کے کسی اخبار سے اس نوعیت کی بات پیش نہیں کی جاسکتی تو پھر سوال یہ ہے کہ مصنفہ نے اس کتاب میں کیوں کافر، کافر کی تکرار کی ہے؟ دراصل مغرب کی جنگ جُو اور متعصب قیادت کے سامنے موجود نظریاتی چیلنج کو ایک خوف ناک ثبوت بناکر پیش کرنا مطلوب ہے ___آگے بڑھیں:

مودودی نے فاطمہ جناح کی حمایت کی، جو ۱۹۶۰ء کے عشرے میں صدر پاکستان کے عہدے کی خاتون امیدوار تھیں (لیکن بعدازاں میرے وزیراعظم بننے کے خلاف ان کا مخالفانہ انکشافِ حق مذہبی سے زیادہ سیاسی تھا)۔ (ص ۶۹)

۱۹۶۵ء میں قائداعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح نے صدارتی انتخاب میں ایوب خاں کو چیلنج کیا۔ اگرچہ انھیں شکست ہوئی، لیکن انھوں نے ایوب اقتدار کی کمزوری کو واضح کردیا۔ میرے والد، فاطمہ جناح کے قریبی حلقے میں شامل تھے۔ (ص ۱۷۱، ۱۷۲)

یہ بھی ایک ہوش ربا داستان ہے۔ مصنفہ نے یہاں پر وہ سارا قصہ ہی دھندلا دیا ہے کہ جس میں ان کے والدگرامی بھٹوصاحب، آمرمطلق جنرل ایوب خاں کی حکمران پارٹی کنونشن مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے، اور انھوں نے صدارتی امیدوار فاطمہ جناح کو شکست دینے اور انتخاب کو اغوا کرنے کا ’کارنامہ‘ انجام دیا تھا۔ یہ بھی عجب تر بات ہے کہ ’قریبی حلقے میں شامل‘ بھٹوصاحب انھی فاطمہ جناح کو شکست دلوانے اور نتائج کو ’ترقی پسند‘ بنانے میں پیش پیش تھے۔ انھی دھاندلی زدہ انتخابات نے مشرقی پاکستان کے عوام کو پاکستان کے فوجی حکمرانوں اور ان کے جاگیردار رفیقوں کی آمریت سے بے زار اور وفاقِ پاکستان سے مایوس کردیا تھا۔ اسی نوعیت کی’جمہوری روایت‘ کی وارث لکھتی ہیں:

جب جنرل ضیا کی آمریت، حزبِ اختلاف کو کچل رہی تھی، مودودی کی جماعت کے قائدین ضیا کی کابینہ کے ارکان تھے۔ (ص ۷۰)

جماعت اسلامی کبھی خود جنرل ضیا حکومت کا حصہ نہیں بنی، بلکہ یہ پاکستان قومی اتحاد (PNA) کی ۲۴ رکنی وزارت تھی، (ان میں چار وزرا کا تعلق جماعت سے تھا)۔ جنرل ضیاء الحق نے عام انتخابات کے انعقاد، سول اقتدار کی جانب بڑھنے کی غرض سے پاکستان قومی اتحاد کی قیادت سے تعاون کے لیے کہا تھا۔ تب اُس وزارت میں مسلم لیگ، پاکستان جمہوری پارٹی، جماعت اسلامی اور جمعیت علماے اسلام کے نمایندے شامل تھے۔۲۳ اگست ۱۹۷۸ء سے ۱۵ اپریل ۱۹۷۹ء، یعنی ۸ ماہ کی مدت پر محیط اس وزارت نے جنرل ضیا سے عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کروایا اور اعلان کے اگلے ہفتے وزارتوں کو چھوڑ کر عوام میں آگئے (جب کہ بھٹوصاحب اکتوبر ۱۹۵۸ء سے جون ۱۹۶۶ء، یعنی ۷ سال اور ۸ ماہ تک آمرمطلق ایوب خان کی کابینہ کا حصہ بنے رہے)۔ اس اقتباس میں دیگر سیاسی جماعتوں کا ذکر چھوڑ کر صرف جماعت اسلامی کو تنقید کا ہدف بنانا سیاسی تعصب کے شاخسانے کے سوا اور کیا ہے؟

جنرل محمد ضیاء الحق سے مصنفہ کی نفرت کئی حوالوں سے کتاب میں جھلکتی ہے، جس کا ایک  سبب یہ تھا کہ انھوں نے قتل کے ایک مقدمے میں، مرحومہ کے والد کوسپریم کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزاے موت کو معاف نہیں کیا تھا۔ مگر اس نفرت کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ناکردہ کاموں کا بوجھ بھی اپنے ہدف کے پلڑے میں ڈال دیا جائے۔ اب یہ سطریں ملاحظہ ہوں:

میرے والد [یعنی بھٹوصاحب]، جماعت اسلامی کے مولانا مودودی کے ساتھ جنرل ضیا کے رابطوں سے واقف نہ تھے۔ بعدازاں جنرل ضیا نے مسلح افواج میں مولانا مودودی کی کتابوں کو پڑھنا لازمی قرار دے دیا۔ یوں پیشہ ورانہ افواج، مذہب کی سیاست کے حلقے میں داخل ہوگئیں۔(ص ۱۸۷)… جنرل ضیا نے جلد ہی فوج کا ماٹو بدل کر: ’’ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کردیا۔ (ص ۱۸۸)… ضیاء الحق نے دعویٰ کیا کہ پاکستان، اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ (ص ۱۸۸)

آخر کوئی تو خوبی ہوگی جنرل ضیاء الحق میں، کہ جس کی بنا پر ۸سینیر جرنیلوں پر ترجیح دیتے ہوئے، وزیراعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو نے یکم مارچ ۱۹۷۶ء کو انھیں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا تھا۔ یہ جانچ پرکھ تو انھی کی ذمہ داری تھی، اس میں مولانا مودودی کا کیا قصور ہے؟ پھر جولائی ۱۹۷۷ء میں مارشل لا لگانے سے قبل جنرل محمد ضیاء الحق کی مولانا مودودی سے نہ کبھی کوئی ملاقات ہوئی اور نہ کسی قسم کا رابطہ ہی قائم ہوا۔ ظاہر ہے مولانا مودودی اسی معاشرے میں ایک اسلامی فکری تحریک کے قائد اور راہنما تھے۔ لوگ ان کے خیالات اور کتب سے ناواقف تو نہیں ہوسکتے تھے۔ مگر کسی کتاب کو پڑھنے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ وہ فرد کسی گہرے رابطے کا حصہ بن گیا ہے۔

جہاں تک مولانا مودودی کی کتب اور پاکستانی فوج کے مابین تعلق جوڑنے کا معاملہ ہے تو یہ کام سروسز بُک کلب نے کیا ہے، جو افسروں کی ضرورت اور طلب کے مطابق دنیا بھر کے مصنفین کی کتابیں چھاپ کر، انھیں لاگت پر فراہم کرتا ہے۔ کیا دنیا بھر کے مسلم اور غیرمسلم مصنفین میں مولانا مودودی ہی ایسی شخصیت ہیں کہ ان کی کوئی کتاب سروسز بُک کلب چھاپ دے، تو اس پر بلاول ہائوس سے لے کر وہائٹ ہائوس تک لرزہ طاری ہوجائے۔ آزادیِ اظہار کی باتیں کرتے ہوئے نہ تھکنے والے ’جدیدیت پسندوں‘ میں اتنی وسعت ِ نظر ہونی چاہیے کہ وہ اپنی نفرت کا نشان بننے والی شخصیت کی کتاب کو پڑھ سکیں، یا دوسرا جو اسے پڑھے، وہ اس کے حق مطالعہ کو تسلیم کریں۔ افسوس کہ یہ ساری ’روشن خیالی‘ دوچار قدم چل کر تنگ نظری کی دلدل پہ ڈھیر ہوجاتی ہے۔

پاکستانی فوج کے ماٹو کو بدل کر: ’’ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کرنے کے سلسلے میں یاد رکھنا چاہیے کہ جنرل محمد ضیاء الحق سے قبل چیف آف آرمی اسٹاف [۷۶-۱۹۷۲ء] جنرل ٹکاخاں [جو بعدازاں پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل بھی رہے، ایک پابند صوم و صلوٰۃ انسان تھے] نے فوجی چھائونیوں، میس اور پارٹیوں میں شراب پر پابندی عائد کر دی تھی، حالانکہ ملک میں شراب پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ پھر یکم مارچ ۱۹۷۶ء کو جنرل ٹکاخان کے بعد فوج کی قیادت سنبھالنے کے ایک ہی ماہ بعد جنرل محمد ضیاء الحق نے پاکستان بھر کی چھائونیوں میں: ’’ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا ماٹو لکھوا دیا تھا۔ اس لیے جس طرح قادیانیوں کو اقلیت قرار دینا اور ایٹمی پروگرام کا آغاز کرنا، مئی ۱۹۷۷ء میں جمعے کی چھٹی اور ملک میں شراب پر پابندی عائد کرنا جناب بھٹو ہی کے کارنامے ہیں، اسی طرح مسلح افواج کے ماٹو میں یہ مثبت تبدیلی بھی ذوالفقار علی بھٹو کے عہدِ حکومت کا مبارک قدم ہے، جو اس وقت مسلح افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر تھے۔

جہاں تک ’پاکستان اسلام کے لیے حاصل کیا گیا تھا، کے انکشاف کا تعلق جنرل ضیا سے جوڑنے کا معاملہ ہے، تو اس ضمن میں تحریکِ پاکستان میں اور قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم مرحوم کی تقریروں کو دیکھ لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ مثال کے طور پر یہاں صرف ایک تقریر کا اقتباس پیش ہے۔ یہ تقریر قائداعظم نے ۲۵ جنوری ۱۹۴۸ء کو، کراچی بار ایسوسی ایشن کے سامنے کی تھی:

میں ان لوگوں کے عزائم نہیں سمجھ سکا جو یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت نہیں ہوگی۔ اسلامی اصولوں کا اطلاق آج بھی ہم پر اسی طرح ہوتا ہے، جس طرح ۱۳۰۰ صدیوں پہلے ہوتا تھا۔ اس سے کسی کو بھی خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پروپیگنڈا کرنے والے حضرات ’شرارتی‘ اور ’منافق‘ ہیں۔ (قائداعظم کی تقاریر، مرتبہ: ڈاکٹر رفیق افضل، ص ۴۵۵)

پھر بانیانِ پاکستان کے ہاتھوں مارچ ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کی منظوری کا عمل بھی پرکھ لیا جائے، آم اپنی خوشبو اور مٹھاس کی خبر دے دیں گے، پیڑ گننے کی ضرورت نہ رہے گی۔

اب دیکھیے، یہ ۲ مارچ ۱۹۸۱ء کی بات ہے۔ کراچی سے پشاور جاتے ہوئے پی آئی اے کی پرواز پی کے۳۲۶ بوئنگ ۷۲۰ کو الذوالفقار نامی تنظیم نے اغوا کیا۔ الذوالفقار: پیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن اور سوشلسٹ نوجوانوں پر مشتمل ایک دہشت گرد تنظیم تھی۔ جس کی سربراہی بے نظیر بھٹو کے بھائی مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کر رہے تھے۔ مسافر طیارہ اغوا کر کے کابل پہنچایا گیا، اس کے فضائی قزاق سلام اللہ ٹیپو نے بی بی سی لندن کو انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا: ’’[۲۶ فروری ۱۹۸۱ء کو]   ہم ہی نے کراچی یونی ورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم حافظ اسلم کو گولی مار کر قتل کیا تھا‘‘۔  اس تنظیم کے خدوخال کو دیکھنا ہو تو وعدہ معاف گواہ راجا انور کی کتاب The Terrorist Prince(دہشت گرد شہزادہ) دیکھ لی جائے۔ اب زیرتبصرہ کتاب کا  یہ حصہ پڑھیے:

ضیا نے جماعت اسلامی کے غنڈوں کو [پاکستانی] یونی ورسٹیوں میں ترقی پسند طالب علموں کو گولی سے اڑانے کے لیے استعمال کیا۔ جماعت اسلامی کو اپنے طلبہ ونگ [یعنی جمعیت] سے یونی ورسٹی پروفیسروں اور انٹیلی جنس افسروں کی تقرری کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی… کالجوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ضیا نے سیکولر پروفیسروں کو نکال باہر پھینکا، اور ان کی جگہ جماعت اسلامی کے حمایتی ارکان بٹھا دیے گئے۔ (ص ۱۸۹)

اس اقتباس کا مطالعہ کرتے ہوئے الذوالفقار تنظیم کا حوالہ ذہن میں رکھا جائے، کیونکہ یہ ضیاء الحق کے دور کی بات ہو رہی ہے۔ یہاں بھٹو صاحب کے اس دور (۷۷-۱۹۷۱ء) کی بات نہیں کی جارہی کہ جس میں پیپلزگارڈز، پیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن، اور فیڈرل سیکورٹی فورس کے ہاتھوں عوام، بلوچستان، طالب علموں اور حزب مخالف کو کس کس انداز سے اپنے خون میں نہانا پڑا تھا۔ یہاں اس تاریخ کا اعادہ بھی نہیں کیا جا رہا کہ جس میں پیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن وغیرہ کے جیالوں نے یک طرفہ طور پر ایک خونیں جنگ کا آغاز کیا تھا۔ یہ بتانا ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جنھوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ جمعیت نے اس زمانے میں ترقی پسند طالب علموں کو گولی سے اُڑایا۔ اور یہ بتانا بھی انھی کی ذمہ داری ہے کہ کس کس اعلیٰ تعلیمی ادارے سے کتنے پروفیسر صاحبان، جمعیت نے نکلوائے تھے۔ اگر ایسے چار پانچ پروفیسر صاحبان نکالے بھی گئے تو وہ مارشل لا حکام نے نکالے تھے، ان میں جمعیت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اسی طرح یہ گوشوارہ پیش کرنا بھی پیپلزپارٹی کی ذمہ داری ہے کہ کتنی تعداد میں جماعت کے’حمایتی‘ پروفیسر بھرتی ہوئے۔ سچی بات ہے کہ کتاب کے اس اقتباس کو پڑھ کر یوں لگ رہا ہے کہ یہاں طالب علموں کے قتل و غارت کا ایک طوفان، ترقی پسند اساتذہ سے تعلیمی اداروں کا صفایا اور ان کی جگہ من پسند پروفیسروںکی فوج کو بھرتی کرنے کا ہنگامہ برپا تھا۔ کیا واقعی ایسا تھا؟ یا یہ سب تخیل کے زور پر ایسا واویلا ہے، جس کی نہ کوئی جڑ ہے اور نہ کوئی بنیاد! اور جمعیت کے کارکنوں کو جتنی بڑی تعداد میں قوم پرست، سوشلسٹ اور غنڈہ عناصر نے اس زمانے میں قتل کیا ، اس کی مثال کسی دوسرے عشرے میں نہیں ملتی۔

کتاب کا سب سے تکلیف دہ حصہ وہ ہے، جس میں مصنفہ نے یہ کہا ہے:

۱۹۴۷ء میں مذہبی تقسیم کی پیداوار ہونے کے ناتے سے جنوبی ایشیا اور فلسطین کے حالات کے درمیان پائی جانے والی مماثلتوں نے مجھے ہمیشہ حیران کیا ہے۔ ہرتقسیم نے دو اقوام کو جنم دیا، یعنی فلسطین اور اسرائیل___ بھارت اور پاکستان۔ برعظیم کی تقسیم کو قبول کرلیا گیا، مگر شرق اوسط میں ایک فریق نے اسے رد کردیا۔ یہ استرداد دانش مندانہ تھا یا نہیں، ایک غیرمتعلق سی بات ہے۔ متعلقہ بات یہ ہے کہ آج کے فساد کے تمام معقول فریقوں نے دو ریاستی حل کو قبول کرکے دونوں طرف کے انتہا پسندوں کو ایک طرف دھکیل دیا ہے۔ (ص ۳۱۶)

اس نثرپارے میں متعدد مغالطے دَر آئے ہیں۔ فلسطین پر یہودیوں کے ناجائز قبضے (اسرائیل) کی بنیاد ۱۹۱۷ء کے شرم ناک اعلان بالفور میں رکھی گئی، جس کی رُو سے سیکڑوں برسوں سے وہاں آباد مسلمانوں کی بے دخلی شروع ہوئی اور ۱۹۴۸ء میں زبردستی اسرائیل کی ریاست کا ناجائز قیام عمل میں لایا گیا۔ کیا اس ظالمانہ عمل کو قیامِ پاکستان کے ایک پُرامن آئینی حل کے  مماثل قرار دیا جاسکتا ہے؟ پھر کیا واقعی بھارت نے قیامِ پاکستان کو دل سے (نہ کہ زبان سے) تسلیم کرلیا ہے؟ اگر واقعی صدقِ دل سے تسلیم کیا ہوتا تو کشمیر کا مسئلہ پیدا ہی نہ ہوتا اور پہلے روز سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پودے کو دہلی سرکار یوں نہ سینچتی۔ اور کیا بے چارے مظلوم فلسطینیوں نے نادانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ’تقسیم‘ کو رَد کرنے کا جرم کیا ہے کہ جس پر یوں ان لاکھوں خانماں بربادوں کی دانش پرمصنفہ کو حیرت ہورہی ہے؟ کیا فلسطین اور مقبوضہ فلسطین کا مسئلہ ایسا ہی حل تھا، جیسا کہ پاکستان اور بھارت___ تو پھر بے نظیر بھٹو کے ممدوحین قائداعظم، علامہ محمد اقبال، ذوالفقار علی بھٹو، فیض احمد فیض وغیرہ کیوں کر اس ظلم پر تڑپتے رہے۔ انھوں نے کیوں نہ فلسطینیوں سے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرلو؟ پاکستان تو بے خانماں، نہتے اور لٹے پٹے مہاجروں کا ملک تھا، مگر اسرائیل کو تو یورپ و امریکا کی مالی، فوجی اور سیاسی پشت پناہی کے آہنی ہاتھوں کے ذریعے تشکیل دیا گیا اور لاکھوں انسانوں کی لاشوں کا ڈھیر لگاکر انسانیت کو ہر روز قتل کیا گیا۔ کیا واقعی پاکستان اور اسرائیل کے مابین کوئی مماثلت موجود ہے؟ اور کیا فلسطینیوں نے اسرائیل کو تسلیم نہ کر کے فساد کا بیج بویا ہے؟ یہ استدلال خود مذمتی اور بے بنیاد ’روشن خیالی‘ کا عبرت ناک نمونہ ہے جس نے مغربیوں کے ظلم کو سہارا اور تباہ حال فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اہلِ پاکستان کو ایک ذلت آمیز مماثلت کا طعنہ دے کر دکھ پہنچایا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر قائداعظم کے نام علامہ محمد اقبال کے خط مورخہ ۷ اکتوبر ۱۹۳۷ء کا آخری ٹکڑا پیش کیا جائے:

مسئلہ فلسطین مسلمانوں کے ذہنوں میں بہت اضطراب پیدا کر رہا ہے… مجھے قوی امید ہے کہ لیگ اس مسئلے (فلسطین) پر ایک بہت ہی سخت قرارداد منظور کرے گی… ذاتی طور پر میں کسی ایسے امر کی خاطر جیل جانے کو بھی تیار ہوں جس سے اسلام اور ہندستان متاثر ہوتے ہوں۔ مشرق کے دروازے پر مغرب کا ایک اڈا بننا اسلام اور ہندستان دونوں کے لیے پُرخطر ہے۔ (پروفیسر احمدسعید، اقبال اور قائداعظم، اقبال اکادمی ، لاہور، ص ۱۱۰)

اسی طرح بے نظیر کے نقطۂ نظر کے برعکس مولانا مودودی کا موقف جاننا متعدد حوالوں سے اشد ضروری ہے۔ جنھوں نے اسرائیل اور پاکستان میں مماثلت پیدا کرنے والے ایسے ہی ایک روشن خیال کو جواب دیتے ہوئے، ماہنامہ ترجمان القرآن جولائی ۱۹۴۴ء میں لکھا تھا:

میرے نزدیک پاکستان کے مطالبے پر یہودیوں کے قومی وطن کی تشبیہ چسپاں نہیں ہوتی۔ فلسطین فی الواقع یہودیوں کا قومی وطن نہیں ہے۔ ان کو وہاں سے نکلے ہوئے ۲ہزار برس گزر چکے ہیں۔ اسے اگر ان کا قومی وطن کہا جاسکتا ہے تو اسی معنی میں جس معنی میں جرمنی کی آریہ نسل کے لوگ وسط ایشیا کو اپنا قومی وطن کہہ سکتے ہیں۔ یہودیوں کی اصل پوزیشن یہ نہیں ہے کہ ایک ملک واقعی ان کا قومی وطن ہے اور وہ اسے تسلیم کرانا چاہتے ہیں، بلکہ ان کی اصل پوزیشن یہ ہے کہ ایک ملک ان کا قومی وطن نہیں ہے اور ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم کو دنیا کے مختلف گوشوں سے سمیٹ کروہاں لابسایا جائے، اور اسے بزور ہمارا قومی وطن بنا دیا جائے۔ بخلاف اس کے مطالبہ پاکستان کی بنیاد یہ ہے کہ جس علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے، وہ بالفعل مسلمانوں کا قومی وطن ہے۔ مسلمانوں کا کہنا صرف یہ ہے کہ موجودہ جمہوری نظام میں ہندستان کے دوسرے حصوں کے ساتھ لگے رہنے سے ان کے قومی وطن کی سیاسی حیثیت کو جو نقصان پہنچتا ہے، اس سے اس کو محفوظ رکھا جائے، اور متحدہ ہندستان کے بجاے ہندو ہندستان اور مسلم ہندستان کی دو آزاد حکومتیں قائم ہوں۔ (دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودی، تحریکِ آزادیِ ہند اور مسلمان، دوم، ص ۲۱۸، ۱۹۷۳ء، اور رسائل و مسائل، اوّل، ص ۲۷۹، ۲۸۰)


بے نظیر بھٹو کی زیرنظر کتاب کے مطالعے سے جو تاثر سامنے آتا ہے، اسے حسبِ ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جاسکتا ہے:

  •    کتاب کا موضوع مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان مفاہمت پیدا کرنا ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ اس میں امریکی جارحیت کے جواز کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کو مجرم بناکر پیش کیا گیا ہے، گویا کہ یہ کتاب مسلم اُمہ کے ایک وعدہ معاف گواہ کا حلفیہ بیان ہے۔
  •    مندرجات کی پیش کش سے خود کتاب کی مصنفہ کے سماجی شعور، تاریخ کے مطالعے اور وسعت ِ نظر کے بارے میں سنجیدہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔
  •     اپنے حق یا دوسرے کی مخالفت میں لکھتے وقت خوب رنگین بیانی سے کام لیا گیا ہے، جو کہیں کہیں بہتان اور صریح کذب بیانی کی شکل اختیار کرگئی ہے۔
  •       واقعات و حوادث کو معروضی پس منظر کے ساتھ پیش کرنے کے بجاے گروہی یا ذاتی تعصبات سے جوڑ کر دیکھا گیا ہے، اور کہیں کہیں تو لگتا ہے کہ ’ان‘ کے افکار و خیالات کو محض دہرا دیا ہے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو حقیقت تصور کر لیا گیا ہے۔
  •    کھلے حقائق تک کو گرد آلود کیا گیا، اور متعدد بے جواز موازنے پیش کیے گئے ہیں۔
  •     اس تجزیے سے خود ہارورڈ اور اوکسفرڈ یونی ورسٹیوں کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کے تربیت یافتہ ماہرین ایسے یک رُخے ہوتے ہیں (یاد رہے کہ کتاب میں ان مراکزِ دانش کا تذکرہ بار بار اور والہانہ انداز میں کیا گیا ہے)۔ یوں لگتا ہے کہ واقعی یہ ادارے غیرمغربی معاشروں کے طالب علموں میں ان کے اپنے ہی معاشروں کے بارے میں تنگ نظری اور مغرب کے لیے حد سے بڑھی ہوئی مرعوبیت پیدا کرتے ہیں۔
  •      دینی مدارس کے بارے میں بے جا طور پر شک کا عنصر اور زیادہ گہرا ہوتا ہے، حالانکہ مدارس کی بڑی عظیم اکثریت کا اس فردِ جرم سے کوئی تعلق ہی نہیںہے۔
  •     اس تناظر میں یہ کتاب تاریخ کا عکس نہیں، بلکہ تاریخ کا قتل ہے۔ چیزوں کو مسخ شدہ حالت میں پیش کرنے کی ایک مبتدیانہ کوشش ہے۔

جیساکہ ابتدا میں بتایا تھا، کہ ۲۷دسمبر ۲۰۰۷ء کی شام بے نظیر بھٹو کا بہیمانہ قتل ہوا، دوسرے روز ۲۸دسمبر کو مارک اے سیگل نے اس کتاب کا دیباچہ تحریر فرمایا اور ۳ جنوری ۲۰۰۸ء یعنی ساتویں روز جناب آصف زرداری، بیٹے بلاول اور بیٹیوں بختاور اور آصفہ نے اس کتاب کا اختتامیہ سپردِقلم کیا۔ رہ رہ کر یہ سوال کاٹنے کو دوڑتا ہے کہ بے نظیر صاحبہ کے قتل کے سانحے کے دوسرے روز (جب کہ تعزیت کنندگان ہجوم در ہجوم آرہے تھے اور) ابھی تدفین بھی نہیں ہوئی تھی، تو کس طرح دیباچہ لکھا گیا اور تدفین کے پانچویں روز ان کے غم زدہ شوہر اور دکھ میں نڈھال بیٹے بیٹیوں کو کس طرح وہ ذہنی کیفیت نصیب ہوگئی کہ جس میں وہ اختتامیہ قلم بند کرپاتے۔ یہ سب باتیں کتاب کے متن کے بارے میں بجاطور پر شک پیدا کرتی ہیں، کہ جس طرح خود مرحومہ کی وصیت کے بارے میں بھی شک پایا جاتا ہے۔

مصنفہ کی قومی خدمات کا اعتراف کرنے کے باوجود، یہ باتیں بادل ناخواستہ تحریر کرنا پڑی ہیں۔ اب دوسری جانب دیکھیے: مغرب میں پلی بڑھی، نومسلمہ اے وان رِڈلی کو یہ کیسا شعور نصیب ہوا ہے کہ جو مسلم دنیا میں مغربی آقائوں کے کاسہ لیس اور اقتدار کے بھوکے امیدواروں اور حکمرانوں کو بے نقاب کرتی اور ان کی خواہشاتِ اقتدار پر تازیانے برساتی چلی جارہی ہے۔ یہ چند روزہ زندگی ہی سب کچھ نہیں، اور نہ چند برسوں کی حکومت انسانی زندگی کا حاصل ہے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ قومی قیادت کے مقام پر فائز افراد اپنی داخلی جنگ کو بڑھانے اور پھیلانے کے بجاے داخلی یک جہتی ، بہتر تعلیم و تربیت اور قومی و ملّی موقف میں مضبوطی کی راہوں پر چلیں۔ ملامتیہ رنگ چھوڑیں، ایک دوسرے پر تیراندازی کرکے جگ ہنسائی کا کھیل ترک کریں، اور عظمت ِ دانش کا پرچم تھام کر قوم کی قیادت کریں۔

 

سوڈان کے بارے میں مغرب کے عزائم کوئی خفیہ راز نہیں۔ وہی مغرب جسے غزہ میں انسانی حقوق کی پامالی، جارحیت، قتل و غارت، سفاکی و بے رحمی کچھ نظر نہیں آتا، دارفور میں ایسا کچھ نہ ہونے پر بھی، تمام عالمی اداروں کو حکومتِ سوڈان کے خلاف صف آرا کردیتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے ۲۰۰۴ء سے لے کر اب تک پوری ۱۱قراردادیں منظورکرڈالیں کہ حقوقِ انسانی کی صورت حال خراب ہے۔ سیکورٹی کونسل نے ۲۰۰۵ء میں اپنی قرارداد نمبر ۱۵۹۳ کے ذریعے یہ معاملہ عالمی  عدالتِ جرائم میں بھیج دیا۔ ۱۴ جولائی ۲۰۰۸ء کو اٹارنی جنرل اوکامبو نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہ ’’سوڈانی باشندے وزیر انسانی امور احمد محمد ہارون اور جنجا وید ملیشیا کے سربراہ علی قشیب دارفور میں قتلِ عام کے اصل ذمہ دار ہیں اور سوڈانی صدر انھیں ہمارے حوالے نہیں کر رہے، مطالبہ کیا کہ خود صدر کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ ۴ مارچ ۲۰۰۹ء کو عدالت نے خود صدرعمرالبشیر ہی کو اس قتلِ عام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے باقاعدہ وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ اب اوکامبو کا کہنا ہے کہ جیسے ہی سوڈانی صدر ملک سے باہر نکلے گا انھیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ امریکا اور فرانس نے بھی اس بارے میں بڑھ چڑھ کر دھمکیاں دی ہیں۔

دارفور کا بحران آخر ہے کیا؟عرب اور افریقی قبائل کے درمیان چراگاہوں کے مسئلے پر جھگڑا ہوا جسے فتنہ جو طاقتوں نے ہوا دے کر حکومت کے خلاف بغاوت کی شکل دی۔ تحریکِ آزادیِ سوڈان قائم کی جسے ہر طرح کی پشت پناہی اور مدد فراہم کی گئی۔ اس کے اسرائیل سے باقاعدہ روابط قائم ہیں۔ عالمی سطح پر بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے عمرالبشیر کو مجرم قرار دلوانے کی کوشش کی گئی۔

سوڈان کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں کہ یہ کوئی عدالتی نہیں، سراسر سیاسی مسئلہ ہے اور اصل ہدف سوڈانی صدر نہیں، سوڈان کی ریاست ہے۔ جس عدالت سے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں اس کی تشکیل کے وقت دو باتیں طے کی گئیں: ایک تو یہ کہ یہ عدالت اپنی تاریخِ تشکیل (یکم جولائی ۲۰۰۲ء) سے پہلے کے واقعات کے بارے میں خاموش رہے گی۔ دوسرے یہ کہ جو ممالک اس عدالت کی تشکیل کی دستاویز پر دستخط اور ان دستخطوں کی توثیق نہیں کریں گے، عدالت ان ممالک کے بارے میں بھی کوئی مقدمہ نہیں سن سکے گی۔ یہی وجہ تھی کہ حال ہی میں ۴۰ سے زائد عراقی درخواست گزاروں نے عراق میں ہونے والے قتلِ عام اور ابوغُرَیب کے واقعات کے بارے میں مقدمہ درج کروانے کی کوشش کی تو اٹارنی جنرل اوکامبو نے یہ کہہ کر درخواستیں مسترد کردیں کہ عراق نے عدالت کو تسلیم ہی نہیں کیا اس لیے وہاں کا کوئی مقدمہ نہیں سن سکتے۔ یہی جواب غزہ کے بارے میں دی جانے والی درخواستوں کا بھی دیا گیا کہ اسرائیل نے عدالت کو تسلیم نہیں کیا۔ لیکن جب پوچھا گیا کہ سوڈان نے بھی تو اس عدالت کو تسلیم نہیں کیا…؟ (No comments) ،اس پر کوئی تبصرہ نہیں۔

یہ ہے عالمی عدالت کے انصاف اور انسان دوستی کی حقیقت! اس کے اٹارنی جنرل لوئیس مورینو اوکامبو نے یہ سارا بحران کھڑا کرنے اور ایک مسلمان حکمران کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لیے اتنی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ خود دارفور جاکر حقائق و شواہد کا جائزہ لیتا۔ اس نے صرف بعض غیرسرکاری تنظیموں این جی اوز اور کچھ برسرِپیکار عناصر کی گواہیوں پر ہی مقدمے کی پوری عمارت کھڑی کر دی۔ ان ’عناصر‘ کی قلعی بھی خود صہیونی اخبارات کھول رہے ہیں۔

اس وارنٹ گرفتاری اور عالمی عدالت جرائم کے دائرۂ کار اور طریق کار کے بارے میں مزید کئی قانونی و اخلاقی پہلو بہت اہم ہیں، لیکن بنیادی طور پر چونکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اس لیے حکومت سوڈان بھی اسے سیاسی انداز ہی سے حل کر رہی ہے۔ ابھی تک سوڈان کی طرف سے    اس عدالت میں نہ کوئی پیش ہوا، نہ کسی طرح مقدمے کی پیروی ہی کی گئی ہے۔ ہاں دارفور کی  صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے اصلاح احوال کی متعدد اہم کوششیں کی گئی ہیں۔ دارفور میں تعمیروترقی کے کئی منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، مزید کئی پر کام جاری ہے۔ دارفور کے مختلف دھڑوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں۔ مختلف قبائل کے درمیان بھی مصالحت کروائی گئی ہے اور بعض اہم قبائل اور حکومت کے مابین بھی۔ اس ضمن میں اہم ترین کامیابی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حکومت سوڈان اور دارفور کے بعض نمایاں متحارب دھڑوں کے درمیان بین الاقوامی گارنٹی کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ہے۔ ۴ مارچ کو وارنٹ گرفتاری آنے کے چار روز بعد ہی سوڈانی صدر شمالی دارفور کے دارالحکومت فاشر پہنچ گئے۔ لاکھوں کی تعداد میں اہلِ دارفور نے ان کا استقبال کیا۔ اگلے ہفتے وہ جنوبی دارفور کے شہر سبدو پہنچ گئے یہاں بھی ایسا ہی منظر تھا۔ عمرالبشیر نے ان اجتماعات میں اس عدالت اور اس کی پسِ پشت قوتوں کو مخاطب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’آپ کے وارنٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں اور ان شاء اللہ اپنے عوام کے تعاون سے تعمیروترقی کا سفر جاری رکھوں گا‘‘۔ سوڈانی صدر نے ان اجتماعات ہی میں اعلان کرتے ہوئے ایسی کئی عالمی تنظیموں کو سوڈان سے نکل جانے کا حکم دیا جو ان کے بقول امدادی سرگرمیوں کے لیے نہیں، جاسوسی کے لیے آئی ہوئی تھیں۔ ان کے اس اعلان پر سب سے زیادہ ہنگامہ ہیلری کلنٹن نے برپا کیا‘‘۔

اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر ’آفی ڈیخٹر‘ بغیر کسی لاگ لپٹ کے واضح طور پر کہہ چکے ہیں: ’’ہمارا ہدف سوڈان کے حصے بخرے کرنا اور وہاں خانہ جنگی کی آگ بھڑکائے رکھنا ہے، کیونکہ سوڈان اپنی وسیع و عریض سرزمین، بے تحاشا معدنی و زرعی وسائل اور بڑی آبادی کے ذریعے ایک طاقت ور علاقائی قوت بن سکتا ہے۔ سوڈان کے ہم سے دُور دراز ہونے کے باوجود عالمِ عرب کی قوت میں اضافے کا سبب نہیں بننے دینا چاہیے۔ اگر سوڈان میں استحکام رہا تو وہ اپنے وسائل کے ذریعے ایسی قوت بن جائے گا جس کا مقابلہ ممکن نہیں رہے گا۔ سوڈان سے اس کی یہ صلاحیت سلب کرلینا اسرائیلی قومی سلامتی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے‘‘۔(۱۰ اکتوبر ۲۰۰۸ء کے اسرائیلی اخبارات)

اسرائیلی وزیر نے تاریخ سے ایک حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’۱۹۶۸ء سے ۱۹۷۰ء کے دوران جب مصر اور اسرائیل حالت ِ جنگ میں تھے تو سوڈان نے مصری فضائیہ کی اصل قوت اور بری افواج کے تربیتی مراکز کے لیے اپنی سرزمین فراہم کی تھی۔ اس صورت حال کے اعادے سے بچنے کے لیے اسرائیلی ذمہ داران کا فرض تھا کہ وہ سوڈان کے لیے ایسی مشکلات کھڑی کریں جن سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہ رہے‘‘۔ وزیرداخلی سلامتی کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے سوڈان کے پڑوسی ممالک ایتھوپیا، یوگنڈا، کینیا اور زائیر میں سوڈان مخالف مراکز قائم کیے، اور اسرائیل کی تمام حکومتوں نے ان مراکز کو فعال رکھا ہے تاکہ سوڈان عالمِ عرب اور عالمِ افریقہ میں کوئی مرکزی حیثیت نہ حاصل کرسکے۔

اسی ترنگ میں دارفور کا ذکر کرتے ہوئے آفی ڈیخٹر کہتا ہے: ’’دارفور میں ہماری موجودگی ناگزیر تھی۔ یہ سابق اسرائیلی وزیراعظم شیرون کی دوربینی اور افریقی معاملات پر دسترس تھی کہ اس نے دارفور میں بحران کھڑا کرنے کی تجویز دی۔ ان کی تجویز پر عمل کیا گیا، عالمی برادری خاص طور پر امریکا و یورپ نے ساتھ دیا اور بالکل انھی وسائل، ذرائع اور اہداف کے مطابق دارفور میں ’کام شروع ہوگیا‘ جو ہم نے تجویز کیے تھے۔ آج یہ امر ہمارے لیے باعث ِ تشفی ہے کہ دارفور کے بارے میں ہمارے طے شدہ اہداف و مقاصد اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں‘‘۔

دھمکیوں اور سازشوں کے سامنے ہتھیار ڈال دینا تباہی کا سفر تیز کردیتا ہے۔ اپنے حق پر ڈٹ جانا اور اپنی آزادی و وحدت کا ہر ممکن قوت سے دفاع کرنا ہی راہِ نجات ہے۔ سوڈانی صدر اور عوام نے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ وارنٹ جاری ہونے کے بعد اوکامبو نے دھمکی دی تھی کہ سوڈانی صدر بیرون ملک گئے تو گرفتار کرلیے جائیں گے۔ ۲۸مارچ کو دوحہ میں عرب لیگ کا سربراہی اجلاس ہو رہا ہے۔ سوڈانی صدر نے سب سے پہلے اعلان کیا ہے کہ میںوہاں ضرور جائوں گا۔ اس اعلان پر خود سوڈان میں بھی ایک راے یہ پائی جاتی ہے کہ وہاں نہ جایا جائے۔ علماکی ایک تنظیم نے فتویٰ جاری کر دیا ہے کہ اس وقت سفر خلافِ مصلحت ہے لیکن سوڈانی صدر ۲۸ مارچ کا انتظار کیے بغیر ۲۳مارچ ہی کو اریٹریا کی دعوت قبول کرتے ہوئے وہاں کے دارالحکومت اسمرہ پہنچ گئے تاکہ دنیا کو بھی ایک پیغام دیں اور اپنے عوام کو بھی نفسیاتی مخمصے سے نجات دلائیں۔

ابھی اس بحران کی بوتل سے صہیونی اشاروں پر بہت کچھ برآمد ہونے کی توقع ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان ممالک اور اُمت ِ مسلمہ اس عالمی توہین کا کیا بدلہ لیتی ہے۔ اگر مسلمان ممالک نے افغانستان و عراق کی تذلیل کی طرح یہ اہانت بھی برداشت کر لی تو پھر یقینا ایک ایک کرکے سب کی باری آئے گی۔

 

مصائب کے ہجوم میں ایک مومن کا نقطۂ نظر

سوال: میرا تیسرا بیٹا پونے چار سال کی عمر میں فوت ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے جوارِرحمت میں جگہ دے۔ یہاں آکر پہلے دو لڑکے فوت ہوئے، اب یہ تیسرا تھا۔ اب کسی نے شبہہ ڈالا تھا کہ جادو کیا گیا ہے۔ جس دن سے یہ بچہ پیدا ہوا اسی دن سے قرآن پاک کی مختلف جگہوں سے تلاوت کر کے دم کرتا رہا۔ فرق صرف یہ ہوا کہ پہلے لڑکے پونے دو سال کی عمر میں فوت ہوتے رہے۔ یہ پونے چار سال کو پہنچ گیا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ جادو بھی چند الفاظ ہوتے ہیں۔ اس کے توڑنے کو قرآنِ پاک کے الفاظ تھے۔ پھر دعائیں بھی بہت کیں۔ بوقت تہجد گھنٹوں سجدے میں پڑا رہا ہوں لیکن کچھ شنوائی نہیں ہوئی، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات حاضر و ناظر اور سمیع و بصیر ہے۔ کیا  حق تعالیٰ جادو کے اثر کے لیے مجبور ہی ہوجاتے ہیں؟ لوگ قبروالوں کے نام کی بودیاں رکھ کر پائوں میں کڑے پہناکر اولاد بچائے بیٹھے ہیں لیکن ہم نے اسے شرک سمجھ کر اس کی طرف رجوع نہ کیا۔ لیکن ہمیں بدستور رنج اٹھانا پڑا۔ اکٹھے تین داغ ہیں جو لگ چکے ہیں۔ براہِ کرم غم و افسوس کے ان لمحات میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب: آپ کے صاحبزادے کی وفات کا حال معلوم کر کے بڑا افسوس ہوا اور اس سے زیادہ افسوس یہ سن کر ہوا کہ اس سے پہلے بھی دو بچوں کا صدمہ آپ کو پہنچ چکا ہے۔ اولاد کے یہ   پے درپے غم آپ کے اور آپ کی اہلیہ کے لیے جیسے ناقابلِ برداشت ہوں گے اس کا مجھے خوب اندازہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ دونوں کو صبرعطا فرمائے اور سکینت بخشے۔

آپ کے خط سے مجھے محسوس ہوا کہ دل پر پے درپے چوٹیں کھانے کی وجہ سے آپ غیرمعمولی طور پر متاثر ہوگئے ہیں۔ اگرچہ اس حالت میں نصیحت کرنا زخموں کو ہرا کردیتا ہے، اور مناسب یہی ہوا کرتا ہے کہ رنج و غم کا طوفانی دور ختم ہوجائے۔ مگر مجھے خوف ہے کہ اس دور میں کہیں آپ کے عقائدِ صالحہ پر کوئی آنچ نہ آجائے۔ اس لیے مجبوراً کہتا ہوں کہ آفات اور مصائب اور آلام کا خواہ کیسا ہی ہجوم ہو، مومن کو اپنے ایمان اور اللہ کے ساتھ اپنے تعلق پر آنچ نہ آنے دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ہم کو ہر طرح کے حالات میں ڈال کر آزماتا ہے۔ غم بھی آتے ہیں اور خوشیاں بھی آتی ہیں۔ مصیبتیں بھی پڑتی ہیں اور راحتیں بھی میسر آتی ہیں۔ نقصان بھی ہوتے ہیں اور فائدے بھی پہنچتے ہیں۔ یہ سب آزمایشیں ہیں اور ان سب سے ہم کو بخیریت گزرنا چاہیے۔ اس سے بڑھ کر ہماری کوئی بدقسمتی نہیں ہوسکتی کہ ہم مصیبتوں کی آزمایش سے گزرتے ہوئے ایسے مضطرب ہوجائیں کہ اپنا ایمان اور اعتقاد بھی خراب کربیٹھیں۔ کیونکہ اس طرح توہم دنیا اور دین دونوں ہی کے ٹوٹے میں پڑجائیں گے۔

آپ کو جن صدموں سے دوچار ہونا پڑا ہے، وہ واقعی دل ہلا دینے والے ہیں۔ لیکن    اس حالت میں ثابت قدم رہنے کی کوشش کیجیے اور کوئی مشرکانہ خیال یا شرک کی طرف کوئی میلان، یا اللہ سے کوئی شکایت دل میں نہ آنے دیجیے۔ ہم اور جو کچھ بھی ہمارا ہے، سب کچھ اللہ ہی کا ہے۔ ملکیت بھی اسی کی ہے اور سارے اختیارات بھی اُسی کے۔ ہمارا اس پر کوئی حق یا زور نہیں ہے۔ جو کچھ چاہے عطا کرے اور جو کچھ چاہے چھین لے اور جس حال میں چاہے ہم کو رکھے۔ ہم اس پر اس شرط سے ایمان نہیں لائے ہیں کہ وہ ہماری تمنائیں پوری ہی کرتارہے اور ہم کو کبھی کسی غم یا تکلیف سے دوچار نہ کرے۔ یہ شانِ بندگی نہیں ہے کہ اللہ سے مایوس ہوکر ہم دوسرے آستانوں کی طرف رجوع کرنے لگیں۔ دوسرے کسی آستانے پر سرے سے ہے ہی کچھ نہیں۔ وہاں سے بھی اگر بظاہر کچھ ملتا ہے تو خدا ہی کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ البتہ وہاں سے مانگ کر ہم جو کچھ پاسکتے ہیں وہ ایمان کھوکر ہی پاسکتے ہیں۔ اور بہت سے بدقسمت ایسے ہیں جو وہاں ایمان بھی کھوتے ہیں اور مراد بھی نہیں پاتے۔ اس لیے آپ ایسے کسی خیال کو اپنے دل میں ہرگز نہ آنے دیں اور صبروثبات کے ساتھ اللہ ہی کا دامن تھامے رہیں، خواہ غم نصیب ہو یا خوشی۔

جادو اور آسیب اور جفر وغیرہ میں کچھ نہیں رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت سب پر حاوی ہے۔ آپ اللہ سے دعا مانگتے رہیں۔ اسی سے پناہ طلب کرتے رہیں۔ امید ہے کہ آخرکار اس کا فضل آپ کے شاملِ حال ہوگا اور کوئی بلا آپ کو یا آپ کی اولاد کو لاحق نہ ہوگی۔ (سیدابوالاعلیٰ مودودی ،رسائل و مسائل ، حصہ چہارم، ص ۴۲-۴۴)

پیشہ وارانہ ضرورت کے تحت عورتوں سے ہاتھ ملانا

س:  میرا تعلق تحریکِ اسلامی سے ہے۔ معاش کے سلسلے میں ایک ٹیکسٹائل ایکسپورٹر فرم سے وابستہ ہوں۔ میرا شعبہ مارکیٹنگ ہے۔ بسااوقات مجھے بیرونِ ملک دوروں پر جانے کا موقع ملتا ہے، جہاں ان کمپنیوں کے نمایندوں سے ملاقات ہوتی ہے جو ہماری فرم کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں۔یہ لوگ ہمارے ملک بھی آتے ہیں۔ اُن نمایندوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

ایک مسلمان ہونے اور تحریک سے وابستہ ہونے کی بنا پر میں ایسی تقریبات اور مواقع سے دُور بھاگتا ہوں جن میں غیر عورتوں (انگریزوں) سے ہاتھ ملانا اور بے تکلفی سے بات چیت کرنا شامل ہے۔ میرے شعبے کے دوسرے افراد میرے اس طرزِعمل پر  تنقید کرتے ہیں، کیونکہ اُن کے نزدیک کاروباری معاملات میں یہ چیزیں نہ صرف جائز بلکہ ناگزیر ہیں۔ اس رویے کی وجہ سے میری ترقی کے راستے بھی مسدود ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ سے رہنمائی کی درخواست ہے۔

ج:  غیرمسلم گاہکوں کے ساتھ معاشرتی تعلقات ہوں یا مسلمان گاہکوں کے ساتھ، اسلام نے ہمیں معاشی اخلاقیات کے جو اصول سمجھائے ہیں وہ نہ صرف واضح ہیں بلکہ برکت اور خیر کا باعث ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جنسِ مخالف کے ساتھ ہاتھ ملانے یا جسم کو ہاتھ لگانے سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔ لیکن مغربی انتظامی امور کے علوم پڑھانے والے بعض حضرات یہ خیال کرتے ہیں کہ مارکیٹنگ اسی وقت بہتر ہوگی جب ایک sales person یا کمپنی کا نمایندہ اپنے گاہکوں سے ہاتھ ملا کر بات کرے۔

یہ خیال نظری اور عملی حیثیت سے بالکل درست نہیں ہے، حتیٰ کہ بعض تجارتی نقطۂ نظر سے انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں گاہک کے ساتھ ہاتھ ملانے کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ آپ جاپان جاکر خود مشاہدہ کرلیں، صرف وہ حضرات جو امریکی ثقافت سے متاثر ہوں آپ سے ملتے وقت ہاتھ ملائیں گے ورنہ روایتی طور پر ایک جاپانی جسم کو نیم رکوع کی شکل میں جھکا کر آپ کا استقبال کرے گا اور ہاتھ ملانے کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ اگر کسی اعلیٰ ترین ادارے کے اعلیٰ عہدے پر فائز کسی خاتون سے آپ کو ملنا ہے اور آپ اس کے دفتر میں داخل ہوں اور جھک کر بغیر ہاتھ ملائے اسے ہیلو کہیں تو ہاتھ ملانے کے مقابلے میں یہ زیادہ مہذب طریقہ شمار کیا جائے گا۔ ہاں، اگر آپ خود سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیں تو اسے بھی مجبوراً آپ سے ہاتھ ملانا ہوگا۔ گویا ہاتھ ملانا مارکیٹنگ کے لیے نہ تو شرط ہے، نہ اس بنا پر بزنس کے حصول میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

جہاں تک ترقی کے راستے مسدود ہونے کا سوال ہے، پہلے تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ ترقی کے لیے شرط ہاتھ ملانا نہیں بلکہ آپ نے اپنے لیے اور آپ کی کمپنی نے آپ کے لیے جو ہدف مقرر کیا ہو اس کا حصول ہے۔ اگر آپ کمپنی کی توقع سے زیادہ بزنس دے رہے ہیں اور لوگوں سے ہاتھ نہ ملاتے ہوں تو کمپنی آخر کس اخلاقی، کاروباری اور قانونی بنیاد پر آپ کی ترقی کو منجمد کرسکتی ہے؟

اگر آپ خود اپنی نگاہ میں ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے کمزوری محسوس کرتے ہوں تو یہ آپ کا اپنا پیدا کردہ مسئلہ ہے۔ اس کا الزام آپ کمپنی کو نہیں دے سکتے۔ کمپنی کو تو اپنے کاروبار سے غرض ہے۔ جب تک اس کا کاروبار اپنی متوقع رفتار پر چلے گا وہ محض آپ کے ہاتھ ملانے یا نہ ملانے کی بناپر ترقی نہیں روک سکتی۔

آخر میں یہ بھی یاد رکھیے کہ رزق دینے والا رب کریم ہے، کمپنی نہیں۔ اگر آپ خلوصِ نیت اور اللہ پر بھروسا کر کے اس کی خوشی کے لیے ایک کام کریں تو وہ نہ صرف آپ کو زیادہ کاروبار دے گا بلکہ اگر آپ کی موجودہ کمپنی کسی بنا پر آپ کو فارغ بھی کر دے تو وہ آپ کے لیے اس سے بہتر رزق کا بندوبست کر دے گا۔ شرط یہ ہے کہ خلوص، استقامت اور بغیر کسی معذرت کے آپ حق پر قائم ہوں۔ اگر فی الواقع صرف ہاتھ نہ ملانے کی بنا پر آپ کا راستہ بند کیا گیا ہے تو اللہ کی زمین وسیع ہے۔ آپ کا رزق محض اُس کمپنی کے ہاتھ میں نہیں جہاں آپ کام کر رہے ہیں۔ وہ جہاں سے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)

 

اقبالیات: تفہیم و تجزیہ، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی۔ ناشر: اقبال اکادمی پاکستان، چھٹی منزل، ایوانِ اقبال، لاہور۔ فون: ۶۳۱۴۵۱۰-۰۴۲۔ صفحات: ۳۲۰۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔

اقبالیات ایک وسیع مضمون ہے، جسے بیش تر لوگوں نے پیشہ ورانہ ترقی کے حصول کا ذریعہ یا دانش ورانہ زورآزمائی کے لیے اپنی مشق ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ اس فضا میں جن معدودے چند دانش وروں اور تحقیق کاروں نے واقعی اقبالیات کو آگہی کا وسیلہ اور دانش کے سفر کا زینہ بنایا ہے، ان میں ایک اہم نام ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا ہے۔

زیرتبصرہ کتاب ۱۴ مضامین پر مشتمل ہے اور مباحث کا بڑا حصہ فکرِاقبال کے عصری حوالوں کی تعبیر و تشریح پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر: ’خطباتِ اقبال: تفہیم، رجحانات، معنویت‘ ،’فکراقبال اور مغرب کی تمدنی اور استعماری یلغار‘ ،’اقبال اور عالمی نظام کی تشکیلِ نو‘، ’اقبال کے ہاں ذوقِ سحرخیزی‘، ’اقبال کاتصورِ جہاد‘، ’اسلامی نشاتِ ثانیہ اور اقبال‘ وغیرہ ___ وہ تحریریں ہیں، جن کے مطالعے سے فہمِ اقبال میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ ان موضوعات پر اقبال کے ہاں جو جرأتِ بیان پائی جاتی ہے، ڈاکٹر ہاشمی نے اسے کسی مرعوبیت کے کمبل میں لپیٹنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ جس کے نتیجے میں فکرِاقبال کے داخلی حسن اور ایمانی جہت کو مؤثرطرزِبیان کے ساتھ آشکارا کرنے میں ایک سنگِ میل طے کیا ہے۔ وگرنہ مغربی اسٹیبلشمنٹ کے دھن، دھونس اور غیرمشروط اطاعت کے زیراثر بعض دانش ور  تو اقبال کو بھی ایک سیکولر اور تابع مہمل شاعر بنانے اور علومِ اسلامیہ کی خودساختہ تعبیروتشکیل کا حوالہ بنانے پر زور لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ہاشمی کی اقبالیاتی تحقیق و جستجو کا اعتراف کرتے ہوئے، کتاب کے مقدمے میں  ممتاز دانش ور ڈاکٹر وحید قریشی لکھتے ہیں: ’’مجھے یہ دیکھ کر مسرت ہوتی ہے کہ ہاشمی صاحب نے  ۳۰، ۳۵ برس میںاقبال کو مسلسل سینے سے لگائے رکھا، اور اس سمت میں ان کی تحقیق نئے نئے انکشافات پیش کر کے محققین سے دادِ تحقیق وصول کرتی ہے‘‘ (ص ۱۰)۔ کتاب کے دیگر مضامین مثلاً ’میرانیس اور اقبال‘، ’اقبال صدی کی سوانح عمریاں‘، ’کلامِ اقبال کی تدوین ِ جدید‘ اور ’بالِ جبریل کا غیرمطبوعہ کلام‘ وغیرہ بھی علمی کھوج لگانے اور حقائق کو درست ترتیب کے ساتھ پیش کرنے کی معتبر مثالیں پیش کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ کتاب حسنِ پیش کش، حسنِ بیاں اور حسنِ فکر سے آراستہ ایک مستند حوالہ اور ایک تحقیقی دستاویز ہے۔ (سلیم منصور خالد)


حکمت ِ بالغہ ، (حقیقت علم نمبر)، مدیر: انجینیرمختارحسین فاروقی۔ ملنے کا پتا: قرآن اکیڈمی، گورنمنٹ ایمپلائز کوآپریٹو سوسائٹی، لالہ زار کالونی نمبر۲، جھنگ صدر۔ صفحات: ۹۶۔ قیمت: ۵۰ روپے۔

قرآن اکیڈمی (انجمن خدام القرآن، جھنگ) کے زیراہتمام شائع ہونے والے ماہنامے کے اس شمارے کا خصوصی موضوع ’علم‘ ہے۔ پورا شمارہ مدیرمحترم ہی کی تحریروں پر مشتمل ہے۔

مدیر/مصنف نے ساری بحث کو پانچ عنوانات کے تحت سمیٹ دیا ہے: مشاہدہ، تجربہ اور عقل، تجرباتی علوم پر تعقل کی حکمرانی، سوشل سائنسز کی تشکیل و ترقی، فکرِ مغرب کا فطری اساسات سے انحراف اور اس کے تباہ کن نتائج اور پس چہ باید کرد___ علاج وغیرہ۔

وہ ذرائع علوم کو تجرباتی اور تدریسی علم میں تقسیم کرتے ہیں (وحی اور الہام کا یہاں ذکر نہیں کرتے) ’’جو ساری دنیا کے انسانوں کا مشترک سرمایہ ہے‘‘ (ص ۱۶-۱۷) اور فطری علوم میں ۱۴ویں صدی عیسوی تک مسلمانوں کی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد علم کی مشعل مغرب کے بے خدا دانش وروں کے ہاتھ آتی ہے، جس میں ڈارون، میک ڈوگل، سگمنڈ فرائڈ، کارل مارکس اور ایڈلر کے تصورات پر گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف کے نزدیک مغرب کی خدابیزار، زوال آمادہ، استحصالی، فاحش تہذیب نے انھی ملحد مفکرین کے تصورات اور فلسفوں سے جنم لیا ہے۔ آج ہمارے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ ’’جدید علوم کے تجرباتی [اطلاقی] حصے کو علیحدہ کرکے اس کا تعلق انبیاے کرام اور آسمانی وحی سے دوبارہ جوڑ دیا جائے۔ اس ٹوٹے ہوئے تعلق کے بحال ہوتے ہی انسان کو باطنی سکون میسر آئے گا، اور دنیا آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمۃ للعالمینی کے سائے میں آجائے گی، جہاں سکون، امن اور عدل و انصاف ہوگا‘‘۔ (ص ۹۳)

ایک جگہ مصنف لکھتے ہیں: ’’ہر بندۂ مومن کو علامہ اقبال کے اس مصرعے کا مصداق   قرار دیا جاسکتا ہے‘‘ ع  لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب (ص ۱۳)۔ حالانکہ یہ اقبال کی نظم ’ذوق و شوق‘ کے اشعار ہیں جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عقیدت کانذرانہ پیش کیا گیا ہے، نہ کہ ’ہر بندۂ مومن‘ کے لیے۔ ’جدید تعلیم یافتہ حضرات میں علومِ قرآنی کے فروغ کا نقیب‘___ اگر ان کمزوریوں/ تساہل سے مبرا ہو، تو یقینا زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔(پروفیسر عبدالقدیر سلیم)


تذکرہ مولانا محمد حسن جان شہید، مرتبہ: مولانا عبدالقیوم حقانی۔ ناشر: جامعہ ابوہریرہ،  خالق آباد، نوشہرہ، سرحد۔ فون: ۲۰۱۸۵۷-۰۹۲۳۔ صفحات: ۶۱۶۔ قیمت: درج نہیں۔

علمِ دین حاصل کرنے والے لاکھوں سعادت مند ہیں، لیکن تفقہ فی الدین اور جرأتِ اظہار خال خال خوش نصیبوں کو حاصل ہوتا ہے۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کے فارغ التحصیل شیخ الحدیث مولانا محمد حسن جان شہید (م: ۲۰۰۷ء) ایسے ہی خوش نصیب انسان ہیں۔ وہ علم دین کی تدریس و تربیت کے ساتھ ملّی سطح پر بے لاگ موقف اختیار کرتے ہوئے رہنمائی کا فریضہ بھی ادا کر رہے تھے۔

وہ صاحب علم بھی تھے اور اجتماعی زندگی میں قائدانہ کردار ادا کرنے والے مجاہد بھی۔ انھوں نے بالخصوص آخری ایامِ زندگی میں بے خوف و خطر راست موقف اختیار کیا۔ ایک مغربی اسکالر نے لکھا: ’’مولاناحسن جان نہایت صلح جو اور امن پسند شخصیت ہیں۔ وہ بندوق کے نہیں، مکالمے کے آدمی ہیں‘‘ (ص ۴۷)۔ ’’صوبہ سرحد کے طول و عرض میں خودکش حملوں پر مولانا انتہائی رنجیدہ تھے، اور سوات کے مولانا فضل اللہ کو بھی انھوں نے ہدایت کی تھی کہ وہ لال مسجد انتظامیہ کا راستہ اختیار نہ کریں۔ کیونکہ پاکستانی فوج اور عوام کو آپس میں لڑانے کا فائدہ صرف ہندستان اور امریکا کو ہوگا‘‘ (ص ۵۷۷)۔ ’’افسوس کہ مکالمے کی بات کرنے والے شخص کو ہم نے گولیوں کی زبان سے ضائع کردیا‘‘ (ص ۳۲۰)۔ دراصل: ’’وہ پاکستان میں خودکش حملوں کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ لال مسجد کے سانحے کا انھیں انتہائی دکھ تھا۔ انھیں اپنے ملک اور وطن سے والہانہ محبت تھی، وہ اپنے ملک کے خلاف کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے‘‘ (ص ۴۸)۔ ’’ان پر محدثانہ رنگ غالب تھا، اس لیے اتباعِ سنت بدرجۂ اتم موجود تھی‘‘ (ص ۵۷‘)۔ ’’احادیث ِ ضعیفہ اور موضوعہ کی کتابوں کے حوالے دینے سے منع فرماتے تھے۔ اس سلسلے میں اپنے استاد ناصرالدین البانی سے متاثر تھے‘‘ (ص ۵۸)۔ ۱۹۹۱ء میں قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ’’پختون خواہ کے نام سے مجھے نفرت ہے‘‘ (ص ۳۰۰)۔ ان اقتباسات سے مولانا حسن جان شہید کے طرزِ فکر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مولانا عبدالقیوم حقانی نے ماہ نامہ القاسم کی اس اشاعت ِ خاص میں اس ممتاز عالمِ دین اور جرأت مند انسان کے احوال کو حلقہ احباب کی مدد سے مرتب کر کے اہم خدمت انجام دی ہے۔(سلیم منصور خالد)


چودھری افضل حق اور ان کی تصنیف زندگی[سوانح اور فکری و فنی مطالعہ]، ڈاکٹر اسلم انصاری۔ ناشر: دارالکتاب، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۷۲۳۵۰۹۴-۰۴۲ صفحات: ۲۸۰۔ قیمت: ۲۷۵ روپے

اردو ادب کی جو کتابیں اپنے مصنفین کی دائمی شہرت اور مسلم تہذیب پر دُور رَس اثرات کا باعث بنیں، ان میں چودھری افضل حق(۷ جنوری ۱۸۹۳ ء-۸ جنوری ۱۹۴۲ء) کی کتاب زندگی (۱۹۳۰ء) بہت نمایاں ہے۔ بعض گھریلو اور معاشی مجبوریوں کے پیش نظر وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہو گئے۔ سرکاری ملازمت کے چار پانچ برس انھوں نے دل پر جبر کرکے گزارے، تاہم ایک جلسے میں ڈیوٹی کے دَوران سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خطاب سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انگریز کی ملازمت سے مستعفی ہو گئے۔ کانگریس، تحریک خلافت اور مجلس احرار سے وابستہ رہے اور گرفتار ہوئے۔ چودھری صاحب اپنی شبانہ روز سیاسی سرگرمیوںاور شعلہ بیانی کے باعث سول نا فرمانی کی تحریک کے دوران گرفتار ہوئے اور انھیں گورکھپور کی جیل میں بند کر دیا گیا۔ قید کے دنوں میں انھیں احساس ہوا کہ زندگی کی حقیقتوں کی نقاب کشائی کرنی چاہیے تاکہ لوگوں میں زندگی کا شعور پیدا ہو۔ زندگی کے نام سے منصہ شہود پر آنے والی یہ کتاب عالمِ مثال، عالمِ ارواح یا جہانِ افلاک کی روحانی یا تخیلی سیر پر مبنی ابو العلا معری کے رسالۃ الغفران ، حکیم سنائی کی مثنوی سیر العباد الی المعاد ، دانتے کی طربیہ ایزدی اور اقبال کی جاوید نامہ کی طرز پر اردو کی اب تک واحد تصنیف ہے۔

ڈاکٹر اسلم انصاری داد کے مستحق ہیں، جنھوں نے اس کتاب کو اپنی تحقیق کے لیے منتخب کیا۔ محقق نے ابو یوسف قاسمی کی تالیف(مفکرِ احرار: چودھری افضل حق) ، محمد امین زبیری کی تصنیف : سیاستِ مِلیہ، مولانا غلام رسول مہر کے مضمون : پیکرِ عزیمت (مطبوعہ روزنامہ آزاد ، لاہور) اور چودھری افضل حق کی خود نوشت: میرا افسانہ کی مدد سے مصنف کی زندگی کا جامع سوانحی خاکہ ترتیب دیا ہے۔ انھوں نے ان کی سیرت و کردار ، اخلاقی ومعاشرتی افکار و حیات سے روشناس کرانے کے لیے تحقیق کی اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ محقق نے بڑی عرق ریزی سے زندگی کا بطور تمثیل جائزہ لیا ہے اور عالمِ مثال اور عالمِ بزرخ کے زیرِ عنوان پیش کی گئی عالمِ مثال کی پانچ پاک روحوں اور نو ناپاک روحوں پر بحث کے علاوہ چودھری افضل حق کے تاریخی شعور اور زندگی کی تمثیلی معنویت پر روشنی ڈالی ہے۔ زندگی کے فلسفۂ مذہب اور فلسفۂ اخلاق (نظریۂ خیروشر) کا جائزہ لینے کے بعد زندگی  کا فنی و تکنیکی اور اسلوبیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔یہی وہ مقامات   ہیں، جہاں محقق کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھربور موقع مِلا ہے۔ کتاب کے آخر میں زندگی کو عالمی ادب کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ڈاکٹر اسلم انصاری اردو، فارسی اور انگریزی کے معتبر شاعر اور اقبال شناس کی حیثیت سے اپنی انفرادیت کا نقش ثبت کر چکے تھے، اس مقالے کی اشاعت سے وہ ایک سنجیدہ محقق کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ ان کی اس کاوش سے اردو زبان و ادب کے ناقدین و محققین کے لیے نئی منزلوں کی نشان دہی ہورہی ہے ۔ بلند تر تحقیقی معیار، اعلیٰ تنقیدی ذوق اور شگفتہ اسلوب کی حامل یہ کتاب محقق کے مقام و مرتبے کے دوبارہ تعین کا تقاضا کرتی ہے۔(ڈاکٹر خالد ندیم)


کشمیر، تاریخ کے گرداب میں، سید عارف بہار۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ صفحات: ۲۳۶۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

جموں و کشمیر جنت نظیر خطے کے ایک کروڑ سے زائد باشندوں کے ساتھ گذشتہ ۶۰ برسوں میں جو سلوک ہوا، اُس کاتجزیہ اگرچہ متعدد ماہرین سیاسیات نے کیا ہے اور اس پر بیسیوں کتابیں چھپ چکی ہیں۔ اس کے باوجود، اس موضوع پر ایک سنجیدہ مطالعے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

سید عارف بہار گذشتہ دو دہائیوں سے کشمیر، پاکستان اور سیاسیاتِ عالم کے حوالے سے مضامین قلم بند کرنے میں مصروف ہیں۔ اُن کے مضامین نے کشمیر کے حوالے سے کئی نئے گوشے وا کیے اور پاکستانی عوام کو کشمیریوں کے حالات و واقعات اور اُن کی جدوجہد ِ آزادی اور بھارت کے مظالم سے روشناس کرایا ہے۔

انگریزی دور میں بھارتی استبداد میں اور اب عالمی ایوان ہاے سیاست میں مسئلہ کشمیر سے جس طرح غفلت برتی گئی ہے، زیرنظر کتاب میں اُس کا بھرپور جائزہ لیا گیا ہے۔ تہذیب، تعلیم، زراعت، ثقافت، وزراے اعظم، صدور اور تمام ممکنہ تفصیلات کو سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں سیاسی پنڈتوں کی بازی گری کا بے لاگ تجزیہ کیا گیا ہے اور پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں کی مجرمانہ خامشی اور غلط حکمت عملیوں پر بھرپور گرفت کی گئی ہے۔ اس مختصر کتاب میں اہم معلومات کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کی قرارداد میں، الحاق کی دستاویز جسے مہاراجا ہری سنگھ نے ۱۹۴۷ء کو نافذ کیا، معاہدۂ تاشقند، شملہ معاہدہ اور اعلانِ لاہور کو ’دستاویزات‘ کے تحت دیاگیا ہے۔ اگر ان معاہدوں کا اصل عکس بھی شائع کیا جاتا تو بہت اچھا ہوتا۔ کشمیر کے موضوع پر اس کتاب کی اشاعت سے اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے ایک مفید علمی خدمت انجام دی ہے۔ (محمد ایوب منیر)


مسلمانوں کی پستی، اسباب اور حل، فضل کریم بھٹی۔ناشر: فیض الاسلام پریس، راولپنڈی۔ صفحات: ۲۸۸۔ قیمت: ۳۷۰ روپے۔

ساتویں صدی عیسوی سے سترھویں صدی عیسوی تک مسلمانوں کے عروج کا زمانہ تھا لیکن اس کے بعد جو زوال شروع ہوا وہ کہیں تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ چنانچہ اس زوال کے اسباب کا پتا چلانے کے لیے اور اس سے نکلنے کے لیے دردمنددل کوشاں ہیں۔ جہاں تک حکمران طبقے کی بات ہے انھیں تو اس کا احساس ہی نہیں ہے لیکن ہمارے دانش ور اس کا بخوبی احساس رکھتے ہیں۔

مصنف نے پوری اُمت ِمسلمہ کو پیش نظر رکھا ہے اور اس میں خاص طور پر برعظیم اور پاکستان کے حالات کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ ان کے نزدیک اس کا ایک بڑا سبب ہمارا تعلیمی زوال ہے۔ ہمارا نصابِ تعلیم بہت زیادہ اصلاحات چاہتا ہے۔ اس پر علامہ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒنے توجہ دلائی لیکن جس سطح پر کام ہونا چاہیے، وہ نہیں ہوا۔ اس پر اسی صورت میں قابو پایا جاسکتا ہے کہ ہم اسلامی علوم کے ساتھ جدید علوم کو بھی سیکھیں اور من حیث القوم ہماری سوچ کا    مرکز و محور ایک ہونا چاہیے۔ یہ کتاب ایک دردمند دل کی پکار ہے۔(محمد ایوب لِلّٰہ)


شگفتہ شگفتہ، فرزانہ چیمہ۔ ناشر: مکتبہ خواتین میگزین، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ اشاعت اول: جون ۲۰۰۸ء۔ صفحات: ۲۰۴۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

زندگی کتنی تہہ دار، ہمہ پہلو اور رنگا رنگ ہے، اس میں کتنی جدت اور ندرت ہے اس کا اندازہ فرزانہ چیمہ کی متنوع تحریروں کو پڑھ کر بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ ان کی تازہ کتاب شگفتہ شگفتہ جو ۲۸ مضامین پر مشتمل ہے، واقعتا شگفتگی، مزاح اور دل چسپ انداز لیے ہوئے ہے۔

مزاحیہ ادب تخلیق کرنا مشکل کام ہے، اور مصروف ترین زندگی میں یہ کام مشکل تر بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھریلو کام کاج، سرکاری ڈیوٹی اور بچوں کی ذمہ داری کے ساتھ پڑھنے اور لکھنے کے لیے وقت نکالنا اور اپنے اردگرد پھیلے ہوئے واقعات کو کہانی، انشائیہ اور فکاہیہ تحریروں کا روپ دینا کچھ اتنا آسان کام نہیں۔قوتِ تخلیق، مشاہدہ، وسعت ِ مطالعہ، گہری سوچ اور قلم کے ساتھ مضبوط اور پختہ وابستگی کے نتیجے میں ہی یہ ممکن ہے۔ زبان عام فہم اور آسان، پنجابی الفاظ، محاورے اور کتنے ہی اشعار کتاب کا حُسن دوبالا کر رہے ہیں۔ جنٹل مین سیریز کے کرنل اشفاق حسین کے ’جنگ جو لکھاری‘ اور سلمیٰ یاسمین نجمی کی ’اے رہبرِ فرزانہ‘ نے اس کتاب کے کئی خفیہ گوشے وا کیے ہیں۔ ایک خوب صورت اور دل چسپ کتاب۔(عمران ظہور غازی)

تعارف کتب

  •  عہدنبویؐ کا بلدیاتی نظم و نسق  ،نجمہ راجا یٰسین(بنت خلیل)۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی-۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی ۔ فون: ۶۸۰۹۲۰۱-۰۲۱۔ صفحات: ۱۷۶۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔[عرب تمدن، تاریخی پس منظر، ظہورِ اسلام سے قبل عرب معاشرے کی حالت، عہدنبویؐ میں بلدیاتی اداروں کی تنظیم و تشکیل اور عہدنبویؐ میں بلدیاتی اداروں کی کارکردگی جیسے موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ عصری سماجیاتی ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ (مفصل تبصرے کے لیے دیکھیے: ترجمان القرآن، اپریل ۲۰۰۷ء)۔]
  •  مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت، مترجم: ڈاکٹر عبدالغنی فاروق۔ ناشر:کتاب سراے، الحمدمارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۱۲۸۔قیمت: ۸۰ روپے۔ [گذشتہ صدی کے چھٹے عشرے میں، امریکی نژاد نومسلمہ محترمہ مریم جمیلہ نے تلاشِ حق کے لیے مولانا مودودی کے ساتھ خط و کتابت کی۔ اس میں دین اسلام، اسلامی معاشرت، نیز فکری اور سماجی مسائل پر قیمتی نکات زیربحث آئے ہیں۔      یہ مراسلت انگریزی میں تھی۔ اس کا یہ ترجمہ ۲۵ سال بعد دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔]
  •  درخت اور اس کا پھل، امجدحیات ملک۔ ملنے کا پتا: بی/۲۴۳- نیو چوبرجی پارک، لاہور۔ فون: ۷۴۱۸۸۰۴-۰۴۲۔صفحات:۶۴۔ قیمت: ۶۰ روپے۔ [نیو ورلڈ آرڈر کے تمام پہلوئوں، یعنی تاریخی، سیاسی، مذہبی، معاشی و معاشرتی وغیرہ کا مبنی برحقائق احاطہ۔ ان قطعی حقائق اور ناگزیر حقیقتوں سے بے خبری کی وجہ سے ہمارے ملک میں اعلیٰ سطح پر بڑے نازک فیصلوں میں نقص اور بگاڑ پیدا ہوتا رہا ہے۔ ان اہم حقائق سے ہمیں یہ شعور بھی حاصل ہوتا ہے کہ اس دنیا میں طاغوتی طاقتوں کی موجودگی کے علی الرغم قادرِ مطلق ہستی کیسے بنی نوع انسان کو بتدریج اپنے وضع کردہ حقیقی عالمی نظام کی طرف لے جارہی ہے۔ کتاب کے نام سے موضوع واضح نہیں۔]

 

نوید اسلام صدیقی ،لاہور

علامہ محمد اسد کا مضمون سنت کی اہمیت (مارچ ۲۰۰۹ء) لاجواب ہے۔ علامہ صاحب کا یہ مضمون پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہم مسلمانوں کی یہ خوش بختی ہے کہ ربِ کائنات کیسے کیسے قابل اور ذہین افراد کو اُمت مسلمہ میں بیداری پیدا کرنے کے لیے کہاں کہاں سے ڈھونڈ کر لاتا ہے۔ اشارات (ص ۴) میں انتخابات فروری ۲۰۰۸ء کے بجاے ۲۰۰۷ء لکھا ہوا ہے۔

سید ارشد جمیل ‘ کراچی

ترجمان القرآن جہاں اہلِ علم کی ذہنی تشفی کا سبب ہے وہیں ہمارے تحریکی ساتھیوں اور ذمہ داران کی فکری و سیاسی شعور کی آبیاری کا باعث بھی ہے۔ البتہ بعض اوقات اُمتِ مسلمہ کے مسائل پر تازہ ترین  صورت حال قدرے تاخیر سے قارئین تک پہنچتی ہے۔

مارچ کے شمارے میں آسی ضیائی مرحوم و مغفور کا جو تذکرہ حفیظ الرحمن احسن صاحب نے سپردِ قلم کیا ہے وہ تشنگی بڑھانے کا سبب ہے نہ کہ بجھانے کا۔ یہ دوسری بات ہے کہ موصوف تشنگی بڑھانا ہی چاہتے ہوں۔

شاہد ہاشمی ‘کراچی

’مفاہمت کے نام پر‘ (مارچ ۲۰۰۹ء) کسی عالمانہ تجزیے کے بجاے ایک سیاسی کارکن کے جذبات کا اظہار ہے۔ ترجمان القرآن کو علمی اور دانش ورانہ سطح کا جریدہ بننا چاہیے۔

ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ‘کراچی

اگرچہ مطالعہ کتاب (مارچ ۲۰۰۹ء) ایک مفید تحریر ہے، تاہم اس امر کا خیال رہے کہ سیاسی شخصیات سے وابستہ لوگوں کے جذبات بڑے نازک ہوتے ہیں۔ اس لیے اجتماعی اور انفرادی سطح پر ان کے مضمرات کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔

امریکا کی جیل سے

آپ شاید یقین نہ کریں میں بڑی شدت سے ترجمان کا منتظر رہتا ہوں۔ اس میں رشد و ہدایت  کی جو تحریریں ہوتی ہیں، بس وہی میری تربیت کا حصہ ہیں۔ ان سے سکون ملتا ہے، ورنہ تو اس قید کی زندگی میں سواے بے سکونی کے کچھ نہیں۔ فروری کے شمارے میں ڈاکٹر انیس احمد کی تحریر ’وحی‘ شائع ہوئی ہے۔ کیا یہ تحریر انگریزی میں مجھے مل سکتی ہے؟

میں اپنی کم علمی کے ساتھ اذان دے رہا ہوں اور کچھ کالے گورے توجہ سے سنتے ہیں۔ یہ تحریریں ہی میرا کُل علم ہیں۔ اگر یہ مجھے انگریزی میں ملیں تو میں اِن کو بہتر طریقے سے استعمال کرسکتا ہوں۔ جب میں خود سے اِن کا ترجمہ کرتا ہوں تو بہت کچھ رہ جاتا ہے۔ انگریزی میںکتابیں تو بہت آرہی ہیں، لیکن ان میں اسلام کی اصل روح نظر نہیں آتی سواے فتووں کے۔ یہاں قید میں وسائل سے محروم ہوں۔ سواے اللہ کے اور آپ کے ادارے کے کوئی وسیلہ نہیں کہ چند گورے کالوں کی تربیت کرسکوں۔ مولانا مودودیؒ کا اصل پیغام پہنچا سکوں۔ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کا اصل مقصد واضح کرسکوں۔ آپ سے دعائوں کی التجا ہے۔

محمد حسنین ‘دہلی

گذشتہ دنوں (۶ مارچ ۲۰۰۹ء) اُردو کے ایک بلندپایہ اسلامی شاعر ابوالمجاہد زاہد قضاے الٰہی سے انتقال کرگئے___ انا للّٰہ وانا الیہ رٰجعون۔ مرحوم کی عمر لگ بھگ ۸۱ سال تھی۔ اس وقت وہ اُردو کے استاذ شعرا میں بچے کھچے ان چند افراد میں سے رہ گئے تھے جو حضرت سیماب اکبرآبادی کے شاگرد تھے۔ ۱۹۶۰ء میں ان کا پہلا مجموعۂ کلام سوزوساز شائع ہوا، پھر دو اور مجموعے منظرعام پر آئے۔ مرحوم نے بچوں کے لیے بہت سی نظمیں لکھیں۔ وہ ایک مدت تک درس گاہ اسلامی، رام پور میں استاد رہے، اس سے پہلے اپنے وطن لکھیم پور کھیری یوپی میں مقیم تھے، پھر کئی سال لکھنؤ میں قیام رہا، جہاں وہ مشہور ادبی جریدہ نئی نسلیں کے معاون مدیر ۱۹۶۰ء تک رہے۔ آخری دور میں مرکز جماعت اسلامی ہند کے شعبہ تعلیمات سے منسلک ہوگئے تھے اور جماعت کی تیار کردہ نصابی کتب پر نظرثانی کر رہے تھے۔ وہ مشہور ادبی تنظیم ادارۂ ادب اسلامی ہند کے تاسیسی ارکان میں سے تھے اور زندگی بھر شعروادب میں صالح و تعمیری اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ انھوں نے ترقی پسند اور ملحد شعرا کے جواب میں نہایت دل کش و شگفتہ نظمیں اور قطعات اسلامی عقائد اور ثقافت کی حمایت میں لکھے۔ وہ نہایت قادرالکلام، پختہ مشق اور زبان و بیان پر غیرمعمولی قدرت رکھنے والے شاعر تھے۔ مرحوم  نہایت مرنجاں مرنج، منکسرالمزاج، سادگی پسند، خوش مزاج انسان تھے جنھیں اُردو ادب کی تاریخ اور اسلامی تہذیب کے حلقے فراموش نہ کرسکیں گے۔

 

اگر آپ [اسلام] کی صحیح پیروی کریں اور اپنے قول اور عمل سے اس کی سچی شہادت دیں اور آپ کے اجتماعی کردار میں پورے اسلام کا ٹھیک ٹھیک مظاہرہ ہونے لگے تو آپ دنیا میں سربلند اور آخرت میں سرخ رو ہوکر رہیں گے۔ خوف اور حزن، ذلّت اور مسکنت، مغلوبی اور محکومی کے یہ سیاہ بادل جو آپ پر چھائے ہوئے ہیں، چند سال کے اندر چھٹ جائیں گے۔ آپ کی دعوتِ حق اور سیرتِ صالحہ دلوں کو اور دماغوں کو متاثر کرتی چلی جائے گی۔ آپ کی ساکھ اور دھاک دنیا پر بیٹھتی جائے گی۔ انصاف کی اُمیدیں آپ سے وابستہ کی جائیں گی۔ بھروسا آپ کی امانت و دیانت پر کیا جائے گا۔ سند آپ کے قول کی لائی جائے گی۔ بھلائی کی توقعات آپ سے باندھی جائیں گی۔ آئمہ کفر کی کوئی ساکھ آپ کے مقابلے میں باقی نہ رہ جائے گی۔ ان کے تمام فلسفے اور سیاسی و معاشی نظریے آپ کی سچائی اور راست روی کے مقابلے میں جھوٹے ملمع ثابت ہوں گے۔ جو طاقتیں آج ان کے کیمپ میں نظرآرہی ہیں، ٹوٹ ٹوٹ کر اسلام کے کیمپ میں آتی چلی جائیں گی۔ حتٰی کہ ایک وقت وہ آئے گا، جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہوگا، سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ھوگی،  مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونی ورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا، نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پاسکے گی۔ اور یہ آج کا دور صرف تاریخ میں ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا کہ اسلام جیسی عالم گیر و جہاں کشا طاقت کے نام لیوا کبھی اتنے بیوقوف ہوگئے تھے کہ عصاے موسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ دیکھ کر کانپ رہے تھے۔ یہ مستقبل تو آپ کا اس صورت میں ہے، جب کہ آپ اسلام کے مخلص پیرو اور سچے گواہ ہوں۔ (شہادتِ حق ، سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ، جلد ۳۰، عدد ۴، ربیع الثانی ۱۳۶۶ھ، مارچ ۱۹۴۷ء، ص ۲۵-۲۶)