عالمِ اسلام پر امریکی یلغار نے ایک طوفان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ یوں تو ہر مسلمان ہی مشکوک اور مشتبہ اور ہر مسلم ملک ’خطرناک‘ سمجھا جا رہا ہے مگر بعض خطے خصوصی توجہ کے مستحق قرار دیے گئے ہیں۔ یمن بھی ان میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی طرح یمنی حکومت امریکا کی حامی‘ اتحادی اور نام نہاد ’خاتمۂ دہشت گردی‘ منصوبے میں فعال کردار ادا کرنے کی سنجیدہ کوشش کر رہی ہے۔ مگر امریکی قیادت کو ابھی تک مکمل اطمینان اور یک سوئی نہیں ہے۔ وقتاً فوقتاًذرائع ابلاغ پر چھائے ہوئے یہودی اور امریکی انتظامیہ میں گھسے ہوئے ان کے شاگرد یہ شوشہ بھی چھوڑتے رہتے ہیں کہ عالمِ جدید کے خطرناک ترین ’دہشت گرد‘ اسامہ بن لادن کا آبائی مسکن یمن ہی میں ہے۔ یہ اپنی جگہ ایک حقیقت بھی ہے کہ بن لادن خاندان سعودی عرب کے بہت سے دیگر طاقتور‘ مال دار اور بااثر خاندانوں کی طرح اصلاً حضرموت (یمن) سے تعلق رکھتا ہے مگر یمن کو نشانۂ انتقام بنانے کے لیے یہ دور کی کوڑی ہے۔
سعودی عرب کے جنوب میں واقع ۵ لاکھ ۲۸ ہزار مربع کلومیٹر رقبہ اور ایک کروڑ ۷۰لاکھ سے زاید آبادی پر مشتمل جمہوریہ یمن میں اس وقت مختلف علاقوں میں حکومتی فوج اور مسلح سرکاری اہل کاروں کا مقابلہ سرکاری ذرائع کے مطابق ’القاعدہ‘ کے جنگجوئوں سے جاری ہے اور دونوں جانب کا بھاری جانی نقصان ہو رہا ہے۔ اس شورش کا مرکز یمن کے صدر مقام صنعاء سے تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر شمال کی جانب صعدہ کے صوبے میں واقع ہے جو قبائلی مزاج‘ روایات اور پہاڑی جغرافیائی ماحول رکھتا ہے۔ مران کے پہاڑ امریکا مخالف عناصر کی پناہ گاہ ہیں اور ایک مذہبی رہنما حسن بدرالدین الحوثی ان کی قیادت کر رہا ہے۔ وہ زیدی شیعہ مسلک کا نمایندہ ہے اور حکومتی الزامات کے مطابق اس کا رابطہ ایک جانب لبنان کی شیعہ جہادی تنظیم حزب اللہ سے اور دوسری جانب اسامہ بن لادن سے ہے۔ یمن کی حکومت اس خانہ جنگی میں وسائل‘ مالی اور افرادی قوت ضائع کرنے کے ساتھ راے عامہ کی نفرت کا بھی شکار ہو رہی ہے‘ مگر امریکی پالیسی سازوں کے نزدیک ابھی صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت القاعدہ کو موثرانداز میں کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
الحوثی کا تعلق حزب اللہ سے جوڑنے کا دعویٰ خود صدرِ یمن نے علما سے ملاقات کے دوران کیا تھا مگر حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ نے کھلے عام اس کی تردید کر دی ہے (بحوالہ انٹرپریس نیوز سروس‘ روزنامہ ڈان‘ ۹ جولائی ۲۰۰۴ئ)۔ جہاں تک القاعدہ سے ان کا ناطہ جوڑنے کا معاملہ ہے وہ بھی محل نظر ہے اور امریکی و برطانوی ایجنسیوں کی عراقی ہتھیاروں کے متعلق رپورٹوں کی طرح نہایت غلط معلومات پر مبنی نظرآتاہے۔ الحوثی اور القاعدہ کا نام جن لوگوں کو دیا گیا ہے‘ ان کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ الحوثی کے پورے سیٹ اپ کا جو تعارف اسلام آن لائن پر دستیاب ہے وہ ان دعوئوں کا منہ چڑاتا ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ الحوثی کی طرح یمن کے سنی علما بھی امریکیوں سے بے پناہ نفرت کرتے ہیں اور اس کا اظہار بھی وہ کھلے عام کرتے رہتے ہیں۔ ان کو القاعدہ اور اسامہ کے ساتھی شمار کر کے پکڑا بھی گیا ہے اور گوانتاناموبے کے علاوہ افغانستان‘ مصر اور خود امریکا میں بھی ان کی نظربندی کی خبریں اب ساری دنیا میں گونج رہی ہیں۔
۱۱ستمبر کے واقعات کے بعد یمن پر خصوصی توجہ دی گئی۔ پکڑدھکڑ فوراً شروع ہوگئی۔ ردعمل کے طور پر یمن میں امریکی مشنریوں کو یمنی عوام نے قتل کیا‘ امریکی بحری جہاز کول اور فرنچ ٹینکر لمبرگ پر حملے ہوئے۔ چنانچہ القاعدہ کے شبہے میں کئی لوگوں کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کر دیا گیا۔ اب ان میں سے ۱۵ کی رہائی کے لیے امریکی عدالتوں میں مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔ عدالت نے سماعت کی اجازت بھی دے دی ہے۔ (ڈان‘ ۱۷ جولائی ۲۰۰۴ء )
یمنی پارلیمنٹ میں اگرچہ صدر کی جماعت حکمران پیپلز کانگریس کو اکثریت حاصل ہے مگر اپوزیشن بھی خاصی مضبوط ہے اور اس کے نمایندگان حکومتی ارکان سے کہیں زیادہ بیدارمغز‘ محنتی اور تعلیم یافتہ ہیں۔ پھر حکومت کی امریکا نواز پالیسی نے اسلامی گروپ اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو اپنے سیاسی منشور میں کئی امور میں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔
قطر کے’اسلام آن لائن‘ نیٹ ڈاٹ‘‘ کی ویب سائٹ کے مطابق: ’’وزیر داخلہ رشاد العلیمی نے بیان دیا کہ حالیہ جھڑپوں میں صعدہ کے علاقے میں ۱۱۸ افراد قتل ہوگئے ہیں۔ یہ جھڑپیں الحوثی کے مسلح دستوں کے مقابلے پر ۲۰ جون کو شروع ہوئی تھیں اور ابھی تک جاری ہیں۔ ان جھڑپوں میں ۳۲ جوان اور افسران کام آئے ہیں‘ جب کہ ۸۶ انتہاپسند بھی مارے گئے ہیں‘‘۔
جب وزیرداخلہ یہ بیان دے رہے تھے اس وقت فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے اطلاع دی کہ الحوثی کے حامیوں نے جھڑپوں کے دوران سات مزید حکومتی کارندمے قتل کر دیے ہیں۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہوگا۔ وزیرداخلہ نے اپنے پارلیمانی بیان میں یہ بھی کہا کہ الحوثی کے تمام ساتھیوں کو ماہانہ ۲۰۰ ڈالر معاوضہ ملتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی خطرناک بیرونی قوت ان کی مالی امداد کر رہی ہے۔ وزیرموصوف اس کا کوئی ٹھوس ثبوت پارلیمان میں پیش نہ کر سکے۔ حزب مخالف کے رکن پارلیمان سلطان الفنوانی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس نازک اور اہم مسئلے کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ حکومت نے ایک پارلیمانی کمیٹی مقرر کردی ہے جو الحوثی سے مذاکرات کرے گی اور ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دے گی۔
حسن بدر الدین یمن میں تو کافی عرصے سے جانی پہچانی شخصیت تھی مگر اسے زیادہ عالمی شہرت حالیہ واقعات ہی سے ملی ہے۔ یہ سیاسی جماعت حزب الحق میں شامل تھا۔ اس کی عمر اس وقت ۴۵ سال ہے۔ حزب الحق کے ٹکٹ پر وہ ۱۹۹۳ء سے ۱۹۹۷ء تک رکن پارلیمان رہا۔ پھر اس نے سیاسی جماعت چھوڑ کر ’الشباب المومن‘ کے نام سے ایک الگ تنظیم قائم کرلی۔ ان کا نعرہ ’’مرگ بر امریکا‘ مرگ بر اسرائیل‘ لعنت بر یہود‘ فتح اسلام‘‘ تھا۔ پہلے یہ تعلیمی اداروں میں منظم ہوئے۔ پھر صعدہ کے علاقے میں دینی مدارس اور جامعات قائم کیں۔ شروع میں انھیں نہ صرف بے ضرر تنظیم سمجھا گیا بلکہ حکومت نے ان کی تعلیمی ضروریات کے لیے ان سے تعاون بھی کیا‘ خود صدرِمملکت نے حال ہی میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔
قدس پریس کے حوالے سے اسلام آن لائن نے بیان کیا ہے کہ اسلامی جماعت’ ’التجمع الیمنی للاصلاح‘‘ کے اثرات زائل کرنے اور شیخ عبدالمجید زندانی کے سیاسی رسوخ کو محدود کرنے کے لیے حکومت کچھ عرصے سے ایسی مذہبی تنظیموں کی سرپرستی کر رہی تھی۔
عراق میں مقتدیٰ الصدر بھی اچانک جہادی منظر پرنمودار ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چھاگیا۔ وہ ابھی ۴۰سال سے بھی کم عمرکا نوجوان ہے۔ اسی طرح یمن میں بھی الحوثی چھا گیا ہے۔ اس کی عمر ۴۵سال ہے۔ دونوں علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یمنی وزیرداخلہ کے بیان مطابق الحوثی کو مہدی المنتظرمانا جاتا ہے اور اس کے پیروکار اس کی مکمل وفاداری و اطاعت کا عہد کرتے ہیں۔
یہ بات دل چسپ ہے کہ ۱۹۹۴ء کی یمنی خانہ جنگی اور سیاسی بدامنی کے خاتمے کے لیے جن قوتوں نے حکومت کے ساتھ دیا تھا اور یمن کے اتحاد کے نعرے کو عوامی پذیرائی ملی تھی‘ وہ سب حکومت کی موجودہ پالیسی کے شدید مخالف ہیں۔ الاصلاح کے بانی رہنما اور یمن کی معروف یونی ورسٹی جامعہ الایمان کے روحانی پیشوا شیخ عبدالمجیدزندانی اگرچہ یمن کے اندر مسلح جدوجہد کے مخالف ہیں مگر وہ سیاسی مظاہروں کے ذریعے امریکا کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لانے اور بڑے بڑے احتجاجی جلسوں کی مدد سے عراقی عوام کی حمایت کے فریضے سے کبھی غافل نہیں رہے۔ وہ اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جس سے صدرِ مملکت کا نسلی تعلق ہے اور تجزیہ نگاروں کی آرا اس بارے میں مختلف ہیںکہ دونوںمیں سے اس بہت بڑے قبیلے کی اکثریت کس کے ساتھ ہے۔ صنعاء اور دیگر شہروں میں الاصلاح کے پلیٹ فارم سے عوامی مظاہرے اور ملین مارچ کی کامیاب حکمت عملی اور قوت کا مظاہرہ الاصلاح کی قوت اور شیخ زندانی کی کرشمہ ساز شخصیت کا تعارف اور اعتراف ہے۔ شیخ زندانی نے عملاً جہادِ افغانستان میں حصہ لیا تھا اور اسامہ بن لادن کے قریب ترین ساتھی بلکہ اکانومسٹکے الفاظ میں روحانی رہنما کا درجہ رکھتے ہیں۔
شیخ عبدالمجید زندانی بارہا پاکستان آچکے ہیں۔ ان کا سیاسی منشور بالکل واضح ہے۔ وہ زیرزمین سرگرمیوں یا مسلمان معاشرے میں مسلح جدوجہد کو درست قرار نہیں دیتے۔ یمن میں آبادی کی کل تعداد سے تین گنا بندوقوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور یمنی نظام نے اس کی اجازت دے رکھی ہے۔ اکانومسٹ کے نمایندے مقیم قاہرہ نے ۴ جنوری ۲۰۰۳ء کی اپنی ایک رپورٹ کا آغاز ان الفاظ سے کیا تھا: ’’دنیا کا سب سے زیادہ بدقسمت شخص وہ ہے جسے شیر پر سواری کرنی پڑے یا پھر اسے یمن کا حکمران بنا دیا جائے۔ یہ ضرب المثل اس وقت کی ہے جب یمن میں اس کے شہریوں کی تعداد سے بندوقوں کی تعداد زیادہ تھی…‘‘
اسلام آن لائن کے مطابق شیخ زندانی بڑے محتاط ہیں مگر حکمت کے ساتھ اپنا جرأت مندانہ موقف اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف احتجاج ہر روز ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ ان کی رائے میں انتہا پسندی اور مسلح جدوجہد کی اصل وجوہات کو نہ حکومت یمن درخور اعتنا سمجھتی ہے‘ نہ ان کے امریکی سرپرست ہی اس بارے میں سنجیدہ ہیں۔ ان کے نزدیک امریکا کی یہ سرشت ہے کہ جو اس کے سامنے بچھتا چلا جائے وہ اسے دباتا چلا جاتا ہے‘ جو ڈٹ جائے‘ اس سے گفت و شنید اور مذاکرات کرتا ہے۔ امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر کی صدرِ یمن سے حالیہ ملاقات اور امریکا کی طرف سے اس مطالبے کو کہ حکومت مزید آہنی شکنجہ استعمال کرے‘ علما اور قوم پرست لیڈروں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے نزدیک امریکی افسر کا لب و لہجہ ایک وائسرائے کا سا تھا‘ جب کہ صدرِمملکت سرتسلیم خم کیے چلے جارہے تھے۔ادھر یمن کے علما نے اس بات پر احتجاج کیا ہے کہ حکومت ملک میں امن قائم کرنے کے بجاے اسے بدامنی کے حوالے کرنے پر تلی بیٹھی ہے۔ ایک جانب پارلیمانی مصالحتی کمیٹی قائم کی گئی ہے اور دوسری جانب حکومتی اہل کاروں نے حسن الحوثی کے نائب اور سابق رکن پارلیمان عبداللہ عیظہ الرزامی کو قتل کر دیا ہے۔ یہ صورت حال کم و بیش ویسی ہی ہے جیسی حکومت پاکستان نے ہمارے قبائلی علاقوں وانا اور جنوبی وزیرستان میں پیدا کر رکھی ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ڈرامے کا ڈائریکٹر ایک ہی ہے‘ ایکٹر مختلف ہیں۔
جنوبی سوڈان کی بغاوت کے بعد اب مغربی سوڈان خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ صوبہ دارفور میں ہنگاموں کا آغاز فروری ۲۰۰۳ء میں ہوا تھا۔ لیکن اس وقت امریکا سمیت دنیا کے کسی ملک نے ان کا ذکر نہیں کیا‘ کیونکہ تب امریکا سوڈانی حکومت کے ساتھ جنوبی علیحدگی پسندوں کا معاہدہ کروانے میں مصروف تھا۔ اس اثنا میں متعدد بار امریکی ذمہ داران نے سوڈانی حکومت کی وسیع النظری اور حقیقت پسندی کی تعریف کی‘ سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی بات آگے بڑھائی۔ یہ تجویز بھی زیربحث آئی کہ جنوبی باغیوں سے معاہدہ ہوجائے تو اس پر دستخط کرنے کے لیے فریقین واشنگٹن آجائیں تاکہ خود صدر بش اس معاہدے کو اپنی آشیرباد و ’’برکات‘‘ سے نوازیں۔ اس دوران باغیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کے لیے کوششیں جاری رہیں۔ دھمکیاں‘ لالچ‘ تعریفیں سب دائو آزمائے گئے۔ پھر جیسے ہی کینیا میں دو سال کے طویل مذاکرات کے بعد مئی ۲۰۰۴ء میں طرفین کے درمیان معاہدہ ہوگیا‘ تو دارفور دنیا کا خطرناک ترین مقام بن گیا۔ اقوام متحدہ کے نمایندہ براے سوڈان موکایش کابیلا کے الفاظ میں: ’’دارفور میں حقوق انسانی کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی آفت ٹوٹ پڑی ہے‘‘۔
۲۹ جون کو امریکی وزیرخارجہ ۱۹ سال کے بعد پہلی بار سوڈان گیا تو اس نے بیان دیا: ’’اگر دارفور میں عرب ملیشیا کو نہ کچلا گیا تو سلامتی کونسل کے ذریعے کارروائی کریں گے‘‘۔ یعنی‘ سوڈان پر پابندیاں عائد کر دیں گے‘ فوج کشی کریں گے۔ امریکی مفادات کی محافظ اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل کوفی عنان بھی اگلے روز خرطوم پہنچا اور اس نے بھی لَے میں لَے ملائی: ’’سوڈانی حکومت متاثرین تک مغربی امدادی ٹیمیں نہیں پہنچنے دے رہی‘‘۔
صوبہ دارفور سوڈان کے کل رقبے (۲۵ لاکھ کلومیٹر مربع) کا پانچواں حصہ ہے یعنی‘ ۵لاکھ ۱۰ہزار کلومیٹر مربع۔ سوڈان کے مغربی کنارے پر واقع ہونے کے باعث اس کی سرحدیں لیبیا‘ چاڈ اور جمہوریہ وسطی افریقا سے ملتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو افریقی النسل اور وہاں کی اصل آبادی اور کچھ کو عربی النسل اور بعد میں آنے والے کہا جاتا ہے۔ دارفور جنوبی سوڈان سے یوں مختلف ہے کہ صوبے کی ۹۹ فی صد آبادی مسلمان ہے اور ایک سروے کے مطابق آبادی کے تناسب کے اعتبار سے دنیا میں حفاظ کرام کی سب سے زیادہ تعداد اس صوبے میںہے۔ صوبے کی زبوں حالی‘ فقر اور بھوک کے باعث تقریباً ہر موسم باراں میں قبائل کا آپس میں جھگڑا ہو جاتا ہے۔ گلہ بانی وہاں کا بنیادی پیشہ ہے۔ سوڈان میں کثیر تعداد میں پائی جانے گائیوں کا ۲۸ فی صد حصہ دارفور میں ہے‘ جن کی تعداد دو کروڑ ۸۰ لاکھ گائیں بنتی ہے۔ بارش کے بعد چراگاہوں پر جھگڑا معمول کی بات ہے۔ دارفور کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ مہدی سوڈانی کی تحریک میں پوری کی پوری آبادی نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ اس کے بعد بھی دارفور کو ہمیشہ مہدی خاندان اور ان کی پارٹی ’حزب الامۃ‘ کا گڑھ سمجھا گیا۔ لیکن صوبے کی کسمپرسی اور قبائلی جھگڑوں کے خاتمے کے لیے نہ صادق المہدی حکومت کچھ کر سکی اور نہ ان سے قبل یا ان کے بعد کی حکومتیں۔
اس دوران وہاں مختلف سیاسی قوتیں ظہور پذیر ہوتی گئیں۔ ’تحریک آزادی سوڈان‘ کے نام سے باغیانہ عناصررکھنے والے پارٹی منی ارکون بیناوی کی زیرقیادت وجود میں آئی۔ ’تحریک انصاف و مساوات‘ کے نام سے خلیل ابراہیم کی سربراہی میں ایک پارٹی بنی‘ جس کے بارے میں کہا گیا کہ صدر بشیر سے علیحدگی کے بعد ڈاکٹر حسن ترابی اس کی حمایت کر رہے ہیں اور خلیل ابراہیم ڈاکٹر ترابی کے شاگرد و معتقد ہیں۔ لیکن سب سے بڑا گروہ عرب قبائل سے متعلق ان لوگوں کا بنا جن کی شہرت ’جنجوید‘ کے نام سے ہوئی۔ یہ تین الفاظ کا مجموعہ ہے‘ جن: شخص‘ جاو: G3 سے مسلح‘وید: گھڑسوار یعنی‘ G3گن سے مسلح گھڑسوارآدمی۔ امریکا سمیت تمام عالمی قوتیں سوڈانی حکومت پر الزام لگا رہی ہیں کہ:’ ’حکومت افریقی قبائل کے خاتمے کے لیے عرب جنجوید کو مسلح کر رہی ہے اور جنجوید نے بڑے پیمانے پر قتل عام کر کے لاکھوں افریقی قبائل کو بے گھر کر دیا ہے‘ اور وہ اب چاڈ اور سوڈان کے مہاجر کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔ کہا گیا کہ سوڈانی حکومت نے خود بھی جہازوں اور توپوں کے ذریعے بم باری کی ہے‘قتل عام کی مرتکب ہوئی ہے‘ اور اب عالمی امدادی تنظیموں کو امدادی سامان لے جانے سے روک رہی ہے اور یہ کہ جب تک جنجوید کا خاتمہ نہیں ہوجاتا‘ یورپی امدادی تنظیموں کو کھلی چھٹی نہیں دی جاتی۔ ’فاشر‘ اور ’نیالا‘ (شمال دارفور اور جنوب دارفور کے دارالحکومت) کی تعمیر و ترقی نہیں کی جاتی۔ سوڈان کے خلاف ہر ممکن کارروائیاں کی جاسکتی ہیں‘‘۔
سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے انقلاب کی پندرھویں سالگرہ پر ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’’دارفور کا مسئلہ ہماری حکومت وجود میں آنے سے پہلے کا ہے اور ہم (جنوب کی جنگ میں جلتے رہنے اور اپنے خلاف اقتصادی پابندیوں کے باوجود) اس کے حل کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ ’جنجوید‘ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف لٹیروں اور ڈاکوئوں کا ایک گروہ ہے اور حکومت ان سے بھی اسی طرح جنگ کرے گی جیسے کسی بھی دوسرے باغی سے‘‘۔ انھوں نے یہ بھی کہا: ’’لیکن ہمیں یہ نہ سمجھایا جائے کہ ہم صرف عرب قبائل کو تو اسلحے سے پاک کردیں اور دوسروں کو رہنے دیں۔ ہم بلااستثنا ہر قانون شکن سے ہتھیار چھین کر رہیں گے‘‘۔ انھوں نے اس بات کی بھی نفی کی کہ دارفور میں (امریکی دعوے کے مطابق) نسلی تطہیر کی کوئی کارروائی جاری ہے۔ صدربشیر نے نام لیے بغیریہ الزام بھی لگایا کہ ’’بیرونی ہاتھ اب سوڈان میں ایک نیا فتنہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور دارفور کے بہانے سوڈان میں وسیع تر مداخلت چاہتے ہیں‘‘۔
باغیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں جو اسلحہ برآمد ہوا ہے‘ وہ اسرائیل کا بنا ہوا ہے۔ اسرائیل اس سے قبل جنوبی باغیوں اور پڑوسی ممالک کو بھی بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم کرچکا ہے۔ امریکا بھی دارفور کے ذریعے سوڈان میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے۔ مصری اخبارات نے بعض سوڈانی سیاست دانوں کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ کولن پاول نے اپنے دورہ خرطوم میں یہ ’’فراخ دلانہ‘ تجویز دی کہ’ ’دارفور میں امن قائم کرنے کے لیے امریکا اپنے ۲۵ ہزار فوجی سوڈان بھیجنا چاہتا ہے‘‘۔ تجزیہ نگاروں کے بقول اس سے ایک طرف تو امریکا سوڈان کے حال ہی میں دریافت ہونے والے پٹرول میں سے اپنا حصہ لینا چاہتا ہے۔ جس کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے باعث آیندہ پانچ سال میں اس کی روزانہ پیداوار ۲۰لاکھ بیرل ہوجائے گی۔ دوسری طرف عراق و افغانستان میں درپیش نقصانات سے توجہ ہٹانے میں مدد ملے گی اور آیندہ امریکی انتخابات میں بش کاایک یہ کارنامہ بھی بیان کیا جا سکے گا کہ اس نے سوڈان میں افریقی قبائل کو امن لے کر دیا‘ اس لیے اب امریکی سیاہ فام ووٹ کا حق دار ہے۔ کولن پاول کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے سوڈانی وزیرخارجہ مصطفی عثمان اسماعیل نے بیان دیا کہ ’’اگر تو پاول کا دورہ دارفور میں ایک انسانی بحران میں قابو پانے میں مدد دینے کے لیے ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ دورہ عالمی برادری کو ہمارے خلاف لاکھڑا کرنے یا امریکا کے انتخابی معرکے میں کامیابی کی خاطر ہے تو اس سے نہ تو دارفور کو کوئی فائدہ ہوگا اورنہ دوطرفہ تعلقات کو‘‘۔
امریکی پالیسی کے قطب نما معروف ادارے انٹرنیشنل کرائسس گروپ ICG نے ۹مئی کو اپنی ایک رپورٹ میں سوڈانی حکومت کو دھمکاتے ہوئے کہا تھا کہ: ’’دارفور جنگ نہ صرف سوڈان اور چاڈ کی حکومتوں کے لیے بالواسطہ خطرہ ہے بلکہ اس میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ اس سے سوڈان کے باقی علاقوں میں بھی بغاوت بھڑک اٹھے… یہ بھی ممکن ہے کہ سوڈان کے مشرق و مغرب میں ایسی مزید باغی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوں‘‘۔ اس کے بعد اس ادارے نے کچھ تجاویز سوڈان حکومت کو دی ہیں‘ جن میں سرفہرست عالمی نگرانی اور عالمی امدادی تنظیموں کو شورش زدہ علاقوں میں بلاروک ٹوک جانے کی ضمانت دینا اور جنجوید کا خاتمہ ہے۔ پھر سلامتی کونسل کے لیے سفارشات ہیں کہ انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی مذمت کرے اور عالمی مذاکرات کا اہتمام کرے اور پھر امریکا ‘برطانیہ‘ اٹلی اور ناروے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مزید عالمی دبائو کے ذریعے ان تمام رکاوٹوں کو ختم کرے جو دارفور میں انسانی عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی راہ میں آڑے آتی ہیں‘‘۔ ان ممالک سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ وہ ’’فرانس اور چاڈ کو شامل مشورہ رکھیں‘‘۔
اگرچہ ان سفارشات‘ بیانات اور دھمکیوں کے ساتھ ہی ساتھ امریکا اور حواریوں نے اس وضاحت کی کوشش بھی کی ہے کہ وہ سوڈان کے خلاف لشکرکشی نہیں چاہتے‘ لیکن یورپی یونین کی عسکری کمیٹی کے سربراہ فن لینڈ کے جنرل گوسٹاف ہاگلان نے یہ بیان دے کر ’غلط فہمی‘ دُور کردی کہ ’’یورپی فوجی قوت صوبہ دارفور میں داخل ہو سکتی ہے‘‘۔
اس طرح سوڈان کے خلاف اب ایک نیا خطرناک اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔ جنوبی علیحدگی پسندوں کے ساتھ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ’ ’اگر جنوبی حلیف معاہدے سے مطمئن نہ ہو سکے تو حق خودارادی استعمال کرتے ہوئے چھے سال کے بعد ریفرنڈم کے ذریعے سوڈان سے علیحدہ ہوسکیں گے‘‘۔ جنوبی سوڈان کا رقبہ سوڈان کا ایک چوتھائی ہے۔ یعنی دارفور اور جنوب مل کر سوڈان کا نصف رقبہ بنتے ہیں اور اس نصف کو شورش زدہ کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ICG کے ’خدشات‘ کی روشنی میں مشرقی سوڈان کے ’البجا‘ اور شمالی سوڈان کے ’الکوش‘ قبائل کو بھی باور کروایا جا رہا ہے کہ تم تو بہت مظلوم و محروم قبائل ہو‘ جب کہ خرطوم میں بیٹھے حکمران پٹرول کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔
سوڈان کے خلاف دن بدن تنگ کیا جانے والا گھیرا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن دو متضاد وجوہات نے اس کی سنگینی و اہمیت میں انتہائی اضافہ کر دیا ہے۔ ایک وجہ تو سوڈان کی کمزوری کا ہے کہ بدقسمتی سے انقلاب کی بانی قیادت صدر عمرحسن البشیر اورڈاکٹر حسن ترابی میں اختلافات حتمی قطع تعلقی اور جنگ کی کیفیت تک پہنچا دیے گئے ہیں۔ اب بھی ڈاکٹر ترابی اپنے کئی ساتھیوں سمیت جیل میں محبوس ہیں اوران پر بغاوت کا الزام لگا دیا گیا ہے۔ سب اپنے پرائے اس پر متفق ہیں کہ اس لڑائی سے (اس میں خواہ کتنے ہی اصولی اختلافات ہوں) طرفین ہی نہیں سوڈان کمزور ہوا ہے اور دشمن اس پر جھپٹنا پہلے سے آسان سمجھتا ہے۔ دوسری وجہ سوڈان کی قوت کا باعث ہے کہ گذشتہ چند سال میں چین اور سوڈان کے تعاون سے دریافت ہونے والے پٹرول کی مقدار و معیارنے امریکا سمیت سب کی رال ٹپکا دی ہے۔ بھارتی بنیا بھی وہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔
دارفور‘ جنوبی سوڈان اور قبائلی اختلافات کی آڑ میں امریکا و یورپ کی حتی المقدور کوشش یہی ہوگی کہ تقسیم سوڈان کا ہوا دکھا کر وہاں زیادہ سے زیادہ رسوخ و مداخلت ممکن بنائی جائے خواہ اس کے لیے فوج کشی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ انھیں سوڈان کے اندرونی حالات سے زیادہ شہ اس بات سے مل رہی ہے کہ ان حالات سے براہِ راست متاثر ہونے والے ملک مصر سمیت تمام مسلم ممالک‘ اس ساری صورت حال سے لاتعلق بیٹھے ہیں۔
سوال : ہمارا معاشرہ تیزی سے اخلاقی بگاڑ اور انحطاط کا شکار ہو رہا ہے۔ سرعام وہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جن کا پہلے تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان حالات میں کیا خواتین کا گھر سے نکل کر بالخصوص دوسرے شہر میں جاکر تعلیم حاصل کرنا جائز ہے؟ پہلی بات تویہ ہے کہ محرم کے بغیر گھر سے نکلنا ہوتا ہے۔ میڈیکل کی تعلیم میں‘ خواتین کالجوں میں بھی اساتذہ مرد ہوتے ہیں۔ گرلز ہوسٹلوں میں مرد ملازموں سے واسطہ پیش آتا ہے۔ میڈیکل کی تعلیم میں ایسے موضوعات پڑھنے ہوتے ہیں جہاں حیا آڑے آتی ہے۔ اگر یہ مضامین مرد اساتذہ پڑھائیں تو یہ اور بھی اخلاق سے گری ہوئی بات ہے۔ مخلوط تعلیمی اداروں کا ماحول تو اور بھی زیادہ غیر مناسب ہے۔ اگر ان حالات میں خواتین تعلیم حاصل کریں تو متعدد واضح اسلامی احکامات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
خواتین کی تعلیم کے حصول میں والدین کے پیش نظر ملازمت بھی ہوتی ہے‘ جب کہ اسلام میں خواتین کا اہم ترین دائرہ کار گھر کی ذمہ داریوں کو سنبھالنا اور آیندہ نسلوں کی تربیت ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں انھیں گھر کی چار دیواری تک محدود رہنا چاہیے اور اسی ضرورت کے تحت علم حاصل کرنا چاہیے۔ کیونکہ خواتین کی ملازمت کے نتیجے میں گھر بھی متاثر ہوتا ہے‘ بچوں کی تربیت بھی صحیح نہیں ہو پاتی اور معاشرتی انحطاط میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل خواتین کی ملازمت کا تناسب بہت کم تھا اور معاشرتی بگاڑ اور جرائم کا تناسب بھی کم تھا۔ موجودہ صورت حال بڑی حد تک اس کے برعکس ہے۔
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ موجود اخلاقی بگاڑ اور معاشرتی انحطاط میں خواتین کی تعلیم کی کیا حدود ہیں؟ کیا خواتین کو صرف اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر علم حاصل کرنا چاہیے یا ملازمت کے حصول کے لیے؟ قرآن و سنت سے رہنمائی فرما دیں۔
جواب :آپ نے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ بہت اہم ہیں اور ان کا براہ راست تعلق اسلام کے نظام حیا، نظام معاشرت اور نظام تعلیم کے ساتھ ہے۔ بلاشبہہ اسلام حیا کا دین ہے اور اسے ایمان کا بڑا حصہ قرار دیتا ہے۔ حدیث نبویؐ میں بار ہا یہ ذکر آتا ہے جس میں حیا نہیں وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ ایسے ہی حیا کا ایمان کا لازمی جزو ہونا بھی حدیث سے ثابت ہے۔ قرآن کریم نے گھروں میں داخلے کے وقت لازمی کر دیا کہ پہلے سلام کر کے اجازت لی جائے۔ یہ بھی وضاحت کردی گئی کہ جن تین اوقات میں ایک شخص استراحت کرتا ہے‘ ان میں بچے اور ملازم بھی بغیر اجازت اندر داخل نہ ہوں۔ قرآن کریم نے گفتگو اور آنکھ کے حوالے سے بھی ہدایت کی کہ اس میں حیا کا خیال رکھا جائے۔
کیا اس کا مطلب یہ لیاجائے گا کہ ایک طبیب اور ایک سرجن کسی مریض کے جسم کو دیکھے بغیر غض بصر کرتے ہوئے محض قیاس اور زبانی تکلیف سننے کے بعد جراحت کر ڈالے؟ یا اسے جراحت سے قبل پہلے انسانی جسم کے اعضا‘ ظاہر ہوں یا پوشیدہ‘ سب کا جائزہ اور ان کے ایک ایک ریشے کے بارے میں تجرباتی معلومات حاصل کرنی ہوں گی۔ یہ ایسا ہی ہے کہ حدیث اور فقہ کی ہر مستند کتاب میں طہارت اور ناپاکی کے بارے میں عمومی اور جزوی تفصیلات پائی جاتی ہیں۔ کیا ان کا بغور مطالعہ کیے بغیر ایک مسلمان مرد اور عورت دینی فرائض صحیح طور پر ادا کر سکتا ہے‘ اور کیا ان معلومات کا بغور اور تحقیق کے ساتھ مطالعہ کرنے کے نتیجے میں کسی مسلمان مرد یا عورت میں حیا میں کمی واقع ہوتی ہے؟
جن علوم کا حاصل کرنا دینی فرائض کی ادایگی میں آسانی پیدا کرتا ہے‘ وہ مقاصد شریعت کی تکمیل کرتے ہیں اور ان کی تعلیم پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی‘ نہ ان کی تعلیم سے کسی کو روکا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے ایک فقیہہ یا تفسیر و حدیث کا استاد بھی اگر ذہن میں کجی اور دل میں فتنہ رکھتا ہے تو وہ ایک سادہ سی بات کو سخت جنسی بنا سکتا ہے‘ اور اگر وہ فتنے سے خالی ذہن رکھتا ہے تو ایک جنسی مسئلے کو بھی بغیر کسی جذباتیت کے بیان کر سکتا ہے۔ اصل مسئلہ نفس مضمون کا نہیں‘ ان افراد کے رویوں (attitudes) اور طرز فکر کا ہے جو اس کی تعلیم دیتے ہیں۔ ہر شعبۂ علم کی تعلیم اس طرح دی جا سکتی ہے کہ حیا اور اسلامی آداب پر پورا عمل بھی ہو اور نازک سے نازک مضامین سمجھائے بھی جا سکیں۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو انسانی جان اور صحت کو خطرہ لاحق ہو گا جو شریعت کے مقاصد کے منافی ہو گا۔
جہاں تک معاشرتی پہلو کا تعلق ہے‘ بلاشبہہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ یہ بات واضح کرتی ہیں کہ ایک مسلمان خاتون بلکہ عمومی طورپر خواتین کی ذمہ داریوں میں بچوں کی تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اس کے بغیر انسانیت کا ثقافتی سفر اور تہذیبی ترقی ممکن نہیں ہوسکتی۔ اسی بنا پر ماں کے معاشرتی مقام کو بہت بلند رکھا گیا اور اولاد کو قبل پیدایش اور بعد پیدایش سہولیات فراہم کرنے کے نتیجے میں ماں کو فضلیت سے نوازا گیا۔ اب اگر یہ ماں بچے کی پیدایش کے بعد بچے کی معاشرتی، اخلاقی اور طبعی ضروریات پورا کر رہی ہے، یا بچہ ایسی عمر میں ہے کہ وہ اسکول یا کالج جاتا ہے اور ماں ایسے علم و فن سے آراستہ ہے جس کا فائدہ معاشرے کو ہو سکتا ہے‘ تو کوئی اسلامی اصول اسے اس کام سے نہیں روکتا۔ ہاں‘ اپنی صلاحیت کا استعمال کرتے وقت اس کا اپنا تحفظ، اس کی صحت اور اوقات کار کا اس کے مناسبِ حال ہونا‘ گھر میں مشاورت کے ساتھ یہ طے کرنا کہ وہ کس نوعیت کے بیرونی کام کرے اور کن سے اپنے آپ کو دُور رکھے‘ یہ سارے معاملات مباح کے دائرے میں آتے ہیں اور ان میں سے کسی کو دلیل شرعی کے بغیر مطلقاً حرام نہیں کیا جا سکتا۔ ذاتی پسندوناپسند کی بنا پر شریعت کی کسی اجازت کو منسوخ کرنے کا حق نہ کسی عالم کو ہے اورنہ کسی مقلد کو۔
گھر کی چار دیواری کا مطلب کبھی یہ نہ تھا کہ ایک خاتون گھر میں قیدرہے ‘نہ تعلیم حاصل کرے اور نہ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ کے قرآنی حکم کی کبھی پیروی کرے۔ اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں لیا جاسکتا ہے کہ وہ ۲۴گھنٹے محض بازاروں میں گھومتی رہے کہ مشاہدہ فطرت کررہی ہے! اسلام کی تعلیمات کو توازن اور اعتدال میں رہتے ہوئے اور قرآن وسنت کے مجموعی احکام کی روشنی میں ہی اختیار کیا جائے گا۔ کسی ایک حکم کو الگ کر کے اس کی تعبیر کرنا مناسب نہیں ہے۔
خواتین کی تعلیم کو ہمیشہ ملازمت (job) سے وابستہ کرنا بھی درست نہیں ہے۔ اگرایک خاتون اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کرلے اور اس کی نیت کسی ملازمت کی نہ ہو‘ جب بھی اسے یہ حق قرآن و سنت نے دیا ہے۔
رہا یہ سوال کہ تعلیم کے دوران مخلوط ماحول میں رہنا کہاں تک درست ہے۔ تو اسلام لازمی طور پر یہ چاہتا ہے کہ طلبا وطالبات کے لیے علیحدہ علیحدہ تعلیمی سہولیات ہوں۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا کیا تعلیم کا سلسلہ روک دیا جائے؟
ایک مثالی اسلامی معاشرے کی تعمیر سے قبل اضطراری کیفیت میں بہت سے ایسے پہلو برداشت کرنے ہوںگے‘ لیکن ایسا کرنے کے دوران ماحول، طریق تعلیم، اور رویے کو اسلامی اصولوں سے قریب ترین لانا ہو گا۔ اگر ایک طالب علم اپنے استاد کے ساتھ گفتگو میں اسلامی آداب کا خیال رکھے تو استاد کبھی اس کے ساتھ ہنسی مذاق اور بے تکلفی کا اظہار نہیں کر سکتا۔ اداروں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے طبی کالجوں میں پیشہ ورانہ اخلاقیات (professional ethics )کو نافذ کریں اور اس پرسختی سے عمل کیا جائے۔ ایک معروف میڈیکل کالج میں جہاں ابھی تک مخلوط تعلیم ہے‘ یہ کوشش کی گئی ہے کہ طبی اخلاقیات کے اصولوں پر عمل کیا جائے اور اساتذہ اورطلبا پیشہ ورانہ تعلیم کے حصول کے ساتھ اسلامی اخلاق و آداب پر عمل کرسکیں۔
تعلیمی ماحول کو بہتربنانے کے لیے نہ صرف اداروں بلکہ آپ جیسے شہریوں کو اپنا فرض ادا کرنا ہو گااور محض سوال کے ذریعے نہیں بلکہ مسلسل خطوط، ملاقاتو ں اور وفود کے ذریعے طبی اداروں کو اس طرف متوجہ کرنا ہو گا۔ یہ کام کسی ایک فقیہہ یا معلم کا نہیں۔ اس میں معاشرے کے ہر فرد کو اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے۔ اسی وقت تبدیلی کا آغاز ہو گا اور آخرکار ایسا اخلاقی ماحول پیدا ہوگا جس میں طلبا اور طالبات کو مخلوط اداروں میں بھی اپنے دین و ایمان کی نشوونما میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ ہدف بہرحال یہی رہے گا کہ طلبا وطالبات کے لیے علیحدہ علیحدہ اعلیٰ اور بنیادی تدریس کے لیے تعلیم گاہوں کا قیام جلد ازجلد عمل میں آ سکے۔
محرم اور نامحرم کی حدود دین نے متعین کر دی ہیں۔ جس بات کی واضح ممانعت ہے وہ خلوت ہے‘ یعنی تنہائی میں صرف ایک مرد اور عورت کا یکجا ہونا ۔ ایک کلاس میں جہاں ایک طرف لڑکیاں ہوں اور دوسری جانب لڑکے ‘ یکمشت حرام نہیں کہا جاسکتا۔ گو‘ ان کی علیحدہ تعلیم ہمیشہ افضل اور اسلامی اصولوں سے مطابق رہے گی۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے خواتین کی تعلیم کی اہمیت نہیں تھی۔ اسلام روزاول سے تعلیم کی فرضیت کا حکم دیتا ہے جس میں کوئی جنسی تفریق نہیں پائی جاتی۔ اگر کسی دور میں مسلمان اس حکم کی پیروی نہ کریں تو یہ ان کا اپنا فعل ہے۔ اسلام اس کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔(ڈاکٹرانیس احمد)
ڈاکٹر خالد علوی کی شخصیت علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ علومِ اسلامیہ کی تعلیم و تدریس اور تصنیف و تحقیق کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اعلیٰ مقام عنایت فرمایا ہے۔ خاص طور پر سیرت و حدیث کے موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف وقیع علمی سرمایہ ہیں۔ قبل ازیں سیرت نبویؐ کے موضوع پر ان کی ایک عمدہ اور منفرد کتاب انسان کامل بین الاقوامی شہرت حاصل کرچکی ہے۔ جس کے لیے‘ ڈاکٹر خالد علوی کے بقول‘ انھوں نے سید سلیمان ندویؒ کی خطبات مدراسسے تحریک حاصل کی تھی۔
زیرنظرکتاب میں انسان کامل کی طرح خیرالبشرؐ کے اوصافِ حمیدہ کو عنوان بنانے کے بجاے‘ روایتی انداز میں سیرت نبویؐ کو تاریخی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے قبل از اسلام حالات سے لے کر نبویؐ مشن کی تکمیل کو نو ابواب میں تقسیم کر کے ترتیب زمانی کے ساتھ تحقیقی انداز میں مرتب کیا ہے۔ تبصرے اور حاشیہ آرائی کے بغیر واقعاتِ سیرت سادہ انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ عربی عبارات کے اصل متن کے ساتھ ان کا آسان انگریزی ترجمہ دیا گیا ہے۔ تحقیقی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے فٹ نوٹ پاورقی حوالوں کے علاوہ آخر میں مصادر و مراجع کی فہرست اور اعلام و اصطلاحات کا اشاریہ بھی بنایا گیا ہے۔
مستند حوالوں سے مزین یہ محققانہ کاوش اگرچہ سیرت نبویؐ کا انگریزی زبان میں ایک سادہ بیان ہے‘لیکن حیات طیبہؐ کے حوالے سے دورِحاضر میں جدید ذہن کے شبہات کے ازالے کے لیے غیر جانب دارانہ تحقیق کی ایک عمدہ مثال ہے۔ خاص طور پر انگریزی دان طبقے کے لیے سیرت جیسے وسیع موضوع پر مناسب سائز میں ایک نامور محقق کے قلم سے مستند کتاب منظرعام پر آنا یقینا ایک اہم بات ہے۔ کتاب کا اندازِ تحریر علما‘ محققین اور عام قارئین‘ حتیٰ کہ انگریزی اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے بھی یکساں مفید ہے۔خاص طورپر مقابلے کے اعلیٰ امتحانوں کے امیدواروں کے لیے یہ کتاب کورس میں شامل کیے جانے کے قابل ہے۔ پیش لفظ میں ڈاکٹر ایس ایم زمان نے کتاب کے علمی و تحقیقی مقام کے پیش نظر اسے دورِحاضرکے لیے اہم اور مفید قرار دیا ہے۔ کتاب کی اہمیت و افادیت اور اعلیٰ علمی پاے کی بدولت سال ہذا کی قومی سیرت کانفرنس میں یہ کتاب پاکستان بھر میں اول انعام اور صدارتی ایوارڈ کی مستحق قرار پائی ہے۔
کتاب کے اندازِ تحریر‘ ابواب کی تعداد‘ عنوانات اور بعض الفاظ تک کو پڑھتے ہوئے پروفیسر عبدالحمید صدیقی کی کتاب The Life of Muhammadذہن میں آجاتی ہے کہ دونوں کتابوں کے عنوانات و مشتملات میں خاصی مشابہت پائی جاتی ہے۔
سیرت طیبہؐ کے موضوع پر وسیع ذخیرئہ کتب میں یہ کتاب ایک عمدہ اور قابلِ قدر اضافہ ہے۔ راقم الحروف کی رائے میں انسان کاملکے انگریزی ترجمے کی ضرورت باقی ہے۔ امید ہے کہ ڈاکٹرصاحب موصوف اس کام کا آغاز کرچکے ہوں گے۔(محمد حمّاد لکھوی)
طالب ہاشمی صاحب کی زیرنظر کتاب سیرتؐ طیبہ پر فرامینِ نبویؐ اور اسلامی تاریخ کے برسوں کے گہرے مطالعے اور متعلقہ موضوعات پر اُن کی دسترس کی آئینہ دار ہے۔
کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ حصہ اول (ص ۳۳-۳۳۸) میں چھوٹے بڑے ۶۰عنوانات (صدق‘ دیانت و امانت‘ ایثار‘ عفو و درگزر‘ مساوات‘ طبقۂ اناس کے محسنِ اعظم‘ میانہ روی‘ صبرواستقامت‘ اولاد سے محبت‘ تعزیت‘ چھینک اور جمائی وغیرہ) کے تحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و محاسنِ اخلاق کی جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔’’جھلکیاں‘‘ اس لیے کہ بقول مصنف: ’’حضوؐر کی ذاتِ گرامی تمام کمالات و صفات کی جامع ہے اور ہماری قوتِ تحریر محدود ہے جو آپؐ کے اخلاقِ عالیہ کے کسی بھی پہلو کو کماحقہٗ احاطۂ تحریر میں لانے سے قاصر ہے‘‘ (ص ۲۹)۔ حصہ دوم میں اچھے اور بُرے اخلاق کے مختلف پہلوئوں (فضائل: سلام کا رواج‘ مہمان نوازی‘ شکرگزاری‘ انکسار و تواضع‘ خوش کلامی‘ عیب پوشی وغیرہ--- اور رذائل: بدزبانی‘ بُغض و کینہ‘ غیبت‘ حسد‘ خیانت‘ بخل‘ چغل خوری وغیرہ) پر رسول اکرمؐ کے ارشادات بصورتِ احادیث نبویؐ جمع کیے گئے ہیں۔ اس حصے میں احادیث کے متن پر اہتمام کے ساتھ اعراب بھی دیے گئے ہیں اور ہر حدیث کا حوالہ بھی درج ہے۔ کہیں کہیں قرآنی احکام سے بھی تائید لی گئی ہے۔
مصنف ایک تجربہ کار اور کُہنہ مشق ادیب بھی ہیں اس لیے اُن کا اسلوب سادہ ہونے کے باوجود‘ رواں اور ادبی خوبیوں کا حامل ہے۔ کہیں کہیں اردو اور فارسی کے اشعار سے بھی استشہاد کیا گیا ہے۔ کتابت میں اسماء و اعلام کی صحت اور اعراب کا اہتمام قابلِ داد ہے۔ کتاب کا تعارف ڈاکٹر عبدالغنی فاروق کے قلم سے ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
پاکستان کے منظر کو دیکھیں اور خصوصاً جنرل پرویز مشرف کے فوجی عہدِحکمرانی میں مخصوص عناصر کی کھلی اور چھپی یلغار کا تجزیہ کریں تو سیکولر عناصر کے ہاتھوں تیار کردہ اس طرح کی تصویر ابھرتی ہے: ’’پاکستان کا نام منافرت کا مظہر ہے‘ یہ ایک ناکام ریاست ہے۔ مسلم تشخص‘ ازمنہ وسطیٰ کی باتیں ہیں۔ پاکستان کی تاریخ نئے سرے سے لکھی جانی چاہیے جس کا ہدف یہ ہو کہ ہم ہندستانی ہیں۔ پاکستان سے کشمیر کا الحاق سودمند نہ ہوگا‘‘ (ص ۲۰)۔ اسی طرح وطن عزیز کے وجود پر حملہ کرنے والوں میں حکومت کے بہت سے کارندے اور ریاست کے سیاہ وسفید پر قابض من موجی بھی اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ پاکستان کے انگریزی ذرائع ابلاغ تو پاکستان کے تشخص‘ وجود اور تصور پر حملہ آوروں کی محفوظ ترین کمین گاہیں ہیں۔ یہی عناصر ہماری قومی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خرد افروزی کے نام پر قائم کردہ اڈوں‘ سیاست کی وادیوں اور صحافت کے میدانوں میں سیکولر عنصر اور ذاتی ترقی پسندی کے مرض میں مبتلا یہ گروہ‘ بلاجھجک فکری تخریب کاری میں مصروف ہے۔ اس یک طرفہ یلغار کا جواب دینے کے لیے انگریزی پریس میں شاذونادر ہی کوئی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے۔ اس صورت حال میں طارق جان کی زیرنظر کتاب ہوا کا ایک خوش گوار جھونکا ہے۔
اظہاروبیان کے سلیقے‘ تنقید و تجزیے کی ثقاہت‘ استدلال کی تروتازگی اور جواب دینے میں شایستگی کو طارق جان نے زیرتبصرہ کتاب میں ہم رکاب کر دیا ہے۔ یہ مباحث درحقیقت سیکولر گروہوں کی ہر للکار کا شافی و کافی جواب اور ۱۴ ابواب میں تمام قابلِ ذکر کٹ حجتیوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے‘ مثلاً: کیا قائداعظم سیکولر قوتوں کے آلہ کار تھے؟ قانونِ توہینِ رسالت ؐاور حدود قوانین‘ این جی اوز کے پس پردہ شرانگیزی‘ خارجہ پالیسی کے اُفق‘ سی ٹی بی ٹی کا مسئلہ‘ پاک بھارت تعلقات یا گھٹنے ٹیکنے کا راستہ‘ کشمیر دوراہے پر‘ اقوام متحدہ کا خونیں کردار وغیرہ--- ان موضوعات پر مضبوط استدلال کے ساتھ عام فہم مگر شُستہ زبان میں اظہار خیال کیا گیا ہے‘ جس میں علم کی وسعت‘ ایمان کی خوشبو اور حب الوطنی کا درد اور تڑپ بڑی آسانی سے دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ مباحث اہلِ سیاست و صحافت‘ اہل سفارت و حکومت اور معلم و متعلم‘ سبھی کے لیے سُرمۂ بصیرت ہیں۔ پاکستان کے ممتاز دانش ور جناب نسیم انور بیگ کا تجزیاتی تعارف‘ کتاب کے مصنف کے لیے اعزاز کا درجہ رکھتا ہے۔ (سلیم منصور خالد)
مغرب میں ادارے کام کرتے ہیں‘ اور ہمارے ہاں فرد اداروں کا کام کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال سید قاسم محمود ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا جس میں سیکڑوں لکھنے والے اپنے اپنے میدان کے حوالے سے لکھتے ہیں‘ وہ بھی انھوں نے تن تنہا ہی لکھ ڈالا اور ساتھ ہی سیرت انسائیکلوپیڈیا اور قرآن انسائیکلوپیڈیا کی خوش خبری بھی دی ہے۔
یہ ۱۹۸۳ء میں پہلی دفعہ شائع ہوا۔ چھٹا ایڈیشن مشینی کتابت پر کچھ اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا‘ اب یہ آٹھواں ایڈیشن خاصے اضافوں کے ساتھ دو جلدوں میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کی خصوصیات میں ۵۰ صفحات کا اسلامی اٹلس ہے جس میں صحاح ستہ کے عظیم محدثین کے اسفار بھی دکھائے گئے ہیں۔ مزید ۱۰۰ صفحات میں مقدس مقامات‘ خطاطی اور پینٹنگز کی تصاویر دی گئی ہیں۔ اشاریہ بھی پہلی دفعہ شامل کیا گیا ہے۔
باوجود اتنا ضخیم ہونے کے‘ اسے مختصرہی کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ اتنی طویل‘ مالا مال تاریخ کے واقعات‘ شخصیات‘ مقامات اور ایمانیات‘ عبادات‘ سیرت اور فقہ سے متعلق موضوعات اگر سیرحاصل انداز سے لکھے جاتے تو دس بارہ جلدیں تیار ہو جاتیں۔ اعداد و شمار اور حالات حسب حال شامل کر لیے گئے ہیں۔ چار ہزار موضوعات کو ڈھائی ہزار صفحات میں سمو دیا گیا ہے۔ ضروری معلومات اور تعارف فراہم ہو جاتا ہے۔ جمیل احمد رانا صاحب نے ’’انتہائی باریک بینی اور دقّتِ نظر سے پورے انسائیکلوپیڈیا کا لفظ بہ لفظ مطالعہ کر کے متن اور پروف کی اغلاط کی نشان دہی کی‘‘، اس پر وہ تبریک کے مستحق ہیں۔
یہ کیسے ہو کہ یہ انسائیکلوپیڈیا ملک کے ہر تعلیمی ادارے کی لائبریری میں اور ہر پڑھنے لکھنے والے فرد کی میز پر پہنچ جائے؟ شاید الفیصل یہ کام کر لے۔(مسلم سجاد)
محمد راشد شیخ نے عقیدت و محبت کے جذبے کے ساتھ زیرنظرکتاب ترتیب دی ہے۔ کتاب میں ڈاکٹرمحمدحمیداللہ کے خاندانی حالات‘ علمی پس منظر‘ تعلیمی و تدریسی مراحل‘ تحقیق و تصنیف‘ پیرس میں علمی و دعوتی سرگرمیوں‘ پاکستان و ترکی میں علمی سرگرمیوں‘ اخلاق و کردار‘ علمی انہماک‘ فقرواستغنا‘ غرض موصوف کے مختلف شخصی و علمی پہلوئوں سے اعتنا کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: احوالِ ذاتی‘ آثارِ علمیہ‘ خراجِ عقیدت (درحین حیات)‘ خراج عقیدت (بعد از وفات) اور مکتوبات شامل ہیں۔ ڈاکٹرحمیداللہ کا شجرئہ نسب اور آثارِ علمیہ خود مرتب کے قلم سے ہے‘ دیگر جن اہلِ علم نے خامہ فرسائی کی ہے ان میں ڈاکٹرحمیداللہ کے قریبی عزیز‘ معاصرین‘ شاگردان و فیض یافتگان کے علاوہ بعض قلم کار بھی شامل ہیں۔
مرتب نے اُردو‘ عربی‘ فارسی اور انگریزی زبان میں ڈاکٹرمحمدحمیداللہ کی کتب و مقالات کی تفصیل دی ہے۔ مگر جرمن‘ فرانسیسی اور ترکی زبانوں میں کتب و مقالات کا تذکرہ ناپید ہے۔ ڈاکٹرمحمدحمیداللہ نے اپنے ایک مکتوب میں متفرق طور پر ۹۵۰ مقالات اور ۱۷۱ کتب کا تذکرہ کیا ہے (ص ۴۰۷)۔ اس علمی ذخیرے کی تلاش و اشاعت بھی اہل علم کی ذمہ داری ہے۔ کتاب میں شامل متعدد مضامین مطبوعہ ہیں۔
خراجِ عقیدت (درحین حیات) میں جن معاصرین نے قلم اٹھایا ہے ان میں ڈاکٹر سیدرضوان علی ندوی‘ حکیم محمدسعید‘ شاہ بلیغ الدین کا ہر مضمون ڈاکٹرحمیداللہ کی شخصیت اور علمی پہلو کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ شیخ حیدرایڈووکیٹ نے بطورِ استاد آپ کا رویہ‘ طریقہ تدریس‘ طلبہ سے مشفقانہ سلوک جیسے پہلوئوں پر قلم اٹھا کر بتایا ہے کہ وہ اپنے طلبہ میں کس طرح علمی لگن اور تحقیق کا ذوق پیدا کرتے تھے۔ آپ کی پوتی محترمہ سدیدہ عطاء اللہ نے ڈاکٹر حمیداللہ کے آخری لمحات کی تصویرکشی کی ہے۔ اسرائیل احمد مینائی نے جامعہ عثمانیہ میں گزرے لمحات کا تذکرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر احمد عبدالقدیر نے پیرس میں آپ کی بودوباش پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر محموداحمد غازی اور مظہرممتاز قریشی نے آپ کے علمی و تصنیفی کارناموں کا جامع تذکرہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر حمیداللہ کی علمی سرگرمیوں اور ان کی وفات پر ترکی پریس نے جو کچھ لکھا‘ ڈاکٹر محمد صابر‘ احسان اوغلو اور ڈاکٹر نثار احمد اسرار نے اپنے مضامین میں اس کا نہایت عمدہ جائزہ پیش کیا ہے۔
زیرنظر کتاب میں مرحوم کے ۱۶۰ خطوط بھی شامل ہیں۔ بیش تر خطوط مطبوعہ ہیں لیکن بعض پہلی مرتبہ منصہ شہود پر آئے ہیں۔ کتاب میں شامل زیادہ تر مضامین ملک کے رسائل و جرائد میں طبع ہوچکے ہیں جن کا حوالہ مرتب نے دیا ہے‘ تاہم بعض مضامین فاضل مرتب نے خصوصی طور پر محنت و کاوش سے تیار کروائے ہیں۔ مضامین زیادہ تر تاثراتی نوعیت کے ہیں جن میں یکسانیت و تکرار فطری بات ہے۔ کہیں کہیں معلومات میں سطحیت بھی دَر آئی ہے۔
بہرحال یہ کتاب ڈاکٹرمحمدحمیداللہ کے مطالعات میں ایک اچھا اضافہ ہے اور فاضل مرتب کی محنت و کاوش لائق تحسین ہے۔ سرورق سادہ مگر پُروقار ہے۔ (ڈاکٹرمحمد عبداللّٰہ)
ہزاروں لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں۔ سیاحت کے باقاعدہ محکمے وجود میں آچکے ہیں مگر مسافروں میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے مشاہدات و تجربات کو ایک نکھری ہوئی صورت میں لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ ع س مسلم کا شمار ایسے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جو مشاہدے‘ احساس‘ وجدان اور جذبات کی آمیزش سے اپنے تجربات کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
عام طور پر سفر نامہ نگارفرضی قصے کہانیوں اور خودساختہ افسانوں کے ذریعے قاری کو مسحور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ع س مسلم کے سفرنامے حقیقت نگاری کا نمونہ ہیں۔
زیرنظر کتاب ان کا تیسرا سفرنامہ ہے جس میں انھوں نے مختلف اوقات میںناروے‘ فِن لینڈ‘پیرس‘ ارضِ روما‘ آسٹریا‘ سوئٹزرلینڈ اور سراندیپ کے اسفار کی روداد بیان کی ہے۔ کسی علاقے کا نام سن کر عام طور پر اس کی تاریخ‘ طرز رہن سہن‘ تہذیب و معاشرت اور وہاں کے لوگوں کے مجموعی رویے‘ میلانات یا رجحانات کے متعلق جو سوالات اٹھتے ہیں‘ اس کتاب میں ان کے جوابات ملتے ہیں۔ ایک جگہ انھوں نے لفظ Bohemianکی تاریخ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ: یہ شاہ بوہیمیا (جو صلیبی عساکر کا سپہ سالار تھا اورHolly Roman Emperor کے نام سے جانا جاتا تھا) کے نام سے مشتق ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف موصوف لغت و لفظ شناسی کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ ان کی تحریر جزئیات نگاری اور منظرنگاری سے بھی مزین ہے۔ خوب صورت تشبیہات واستعارات کا برمحل استعمال کرتے ہیں مثلاً لکھتے ہیں: ہر طرف چاندی کا فرش بچھا ہوا تھا جیسے سرما کے ساون میں دھیمی دھیمی برفانی پھوار پڑ رہی ہو۔ آسمان سے رقائق برف دھرتی کے آنچل میں خراماں خراماں یوں اتر رہے تھے جیسے آسمان پر فرشتے نقرئی چادر چھٹک رہے ہیں۔ مطالعے کے دوران میں ان کا حُسنِ بیان قاری کو مسحور کیے رکھتا ہے۔ یہ سفرنامہ بہت معلومات افزا اور مصنف کی تعمق نظری کا منہ بولتا ثبوت ہے اور مذکورہ علاقوں کے متعلق معلومات کا کوئی بھی پہلو تشنہ نہیں رہا۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے اپنے مفصل دیباچے میں ’سفر اندر سفر‘ کی خوبیوں کو اجاگر کیا ہے۔ قارئین اس کتاب کو دل چسپ پائیں گے۔ (قاسم محمود وینس)
سجدہ ہر ہرگام کیا حج و زیاراتِ مقدسہ کا ایک خوب صورت اور محبت انگیز سفرنامہ ہے۔ اس موضوع پر اُردو زبان میں بے شمار سفرنامے لکھے گئے ہیں اور اب تک لکھے جا رہے ہیں۔ ایک جیسے مقامات‘ ایک سا طریقۂ عبادت اور عقیدت و محبت کے اظہار میں یکسانیت کے باوجود‘ قاری کے لیے قندِمکرر کی چاشنی حیرت انگیز ہے۔
حرمین کے سفرنامے عام طور پر معلوماتی ہوتے ہیں یا قلبی واردات اور کیفیات کے تاثرات کے بیان سے مزین‘ کچھ ایسے بھی جن میں داستانِ شوق میں ہر دو پہلو موجود ہیں۔ زیرنظر مختصر سفرنامہ ایسا ہی ہے۔ حفیظ صاحب کا اسلوب جذبے کی بے ساختگی اور شعروادب کی چاشنی کے حسین امتزاج سے عبارت ہے۔ ان کی آنکھ ظاہروباطن دونوں رخوں پر کھلی ہے اور داخلی کیفیات خارجی واقعات کے پہلو بہ پہلو نظرآتی ہیں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کی یہ راے اس خوب صورت اور مختصر سفرنامے پر حرفِ آخر ہے۔
یہ سفرنامہ عمدہ گٹ اَپ کے ساتھ بک ہوم لاہور نے شائع کیا ہے۔ (عبداللّٰہ ہاشمی)
تزکیۂ نفس کے اہم موضوع پر یہ حسین کتاب دل کو لبھانے والی ہے۔ ۵ مقالات کا یہ مجموعہ انگریزی میں تزکیۂ نفس جیسے موضوع پر غالباً اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے‘ جس میں قدیم و جدید تصورات اور موجودہ زمانے کے تقاضوں کے حوالوں سے سب ہی نکات زیربحث آگئے ہیں۔ سید مودودی‘ محمد فاروق خان‘ عبدالرشید صدیقی‘ خرم مراد اور مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنے اپنے انداز سے موضوع کے مختلف پہلو بیان کیے ہیں۔ (م - س)
اس کتاب کے اہم مباحث یہ ہیں: تبع تابعین تک فقہ کی تاریخ‘ ائمہ اربع کا تعارف‘ اجتہاد کی اہمیت‘ مجتہد کی شرائط‘ مسئلہ تقلید‘ اندھی تقلید کے نقصانات کا تذکرہ شامل ہے۔ ائمہ اربعہ کے فقہی اختلافات‘ فقہی مسائل کا حل کیسے؟
یہ کتاب مسلمانوں کو فقہی اختلافات کے ضمن میں شدت پسندی سے روکنے کی پُرخلوص کوشش ہے کیونکہ ان اختلافات میں بے اعتدالی نے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے الانصاف لکھ کر یہ فریضہ سرانجام دیا تھا۔ پھر سیدابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اس ضمن میں قابلِ قدر کام کیا ہے۔ یہی مشن مولانا ابو زکی کا بھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’فقہ حنفی ہی کو دیکھ لیجیے اس میں دو تہائی سے زیادہ فقہی مسائل میں امام ابوحنیفہؒ کے اقوال کی پیروی نہیں کی جاتی بلکہ ان کے بجاے امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ (صاحبین) کے فتاویٰ پر عمل کیا جاتا ہے‘‘ (ص ۲۰۲)۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ’’مجتہدین نے اپنے اپنے امام کی ہر مسئلے میں پیروی اور پابندی کو ضروری نہیں سمجھا… تو کیا دوسروں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بھی ان کے ائمہ سے اختلاف کرسکیں؟‘‘ (ص ۲۰۲)
فقہی مسائل کا حل کے ضمن میں مصنف کی دو تجاویز اہم ہیں‘ اول: مدارس میں صرف ایک ہی مسلک یا فقہ کی تعلیم نہ دی جائے بلکہ دوسرے مسالک اور فقہیں بھی پڑھائی جائیں… اس سے نہ صرف اختلافات کی شدت کم ہوگی بلکہ باہمی تعصب کی جگہ رواداری اور تحمل و برداشت کے جذبات پیدا ہوں گے۔ (ص ۲۲۱)
دوم: شخصیت پرستی کی حوصلہ شکنی کی جائے‘ ہمارے لیے تمام مسالک کے اکابر یکساں محترم ہیں۔ اپنے مسلک کی بے جا حمایت اور عقیدت میں غلو کرنا ہرگز صحیح نہیں ہے‘ اس لیے ضروری ہے کہ ملکی سطح پر علماے کرام کو مل کر ایک فقہ کونسل بنا لینی چاہیے جیسا کہ بھارت میں بنائی جاچکی ہے اور پھر اس کے اوپر بین الاقوامی فقہ کونسل تشکیل دینی چاہیے جس کا مرکز سعودی عرب کا کوئی شہر ہونا چاہیے(ص ۲۲)۔ ایسی تجاویز سے مذہبی منافرت کم ہو سکتی ہے۔ (ڈاکٹر محمد خلیل)
’’روشن خیال اعتدال پسندی‘‘ یا امریکی ’’دین الٰہی‘‘ (جولائی ۲۰۰۴ئ) نے تو ’امریکی دین الٰہی‘ کی ساری کاوشِ تلبیس کو عیاں ہی نہیں عریاں کر کے رکھ دیا ہے۔ فہم قرآن کے تحت جو ’قابلِ غور پہلو‘ پیش فرمائے ہیں‘ واقعی قابلِ غور ہیں‘تفہیم القرآن خود اپنی جگہ موضوع مطالعہ بنانے کے لائق ہے۔ اصحاب علم و فکر کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ ’’۱۰ روزہ فہم قرآن کلاسیں، ایک دعوتی تجربہ‘‘ تحریک کا باعث بنا۔ اصل ضرورت دعوت کے اثرات کو سمیٹنے اور نتیجہ خیز کام کی ہی ہے۔
’’مصر: اخوان المسلمون کا نیا دورِ ابتلا‘‘ (جولائی ۲۰۰۴ئ) واقعی چشم کشا ہے۔ اس طرح کی تحریریں مستقل کیوں نہیں آتیں؟ آخر میں اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو کہا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت نے اس سلسلے میں کیوں آواز نہیں اٹھائی؟مصر کے سفیر متعینہ پاکستان کو یادداشت پیش کی جاسکتی ہے۔ او آئی سی کی حالیہ کانفرنس ترکی میں کوئی اعلامیہ پیش ہوسکتا تھا۔ رابطہ عالمِ اسلامی‘ موتمر اسلامی‘ انسانی حقوق کی انجمنیں‘ کیا ہم ان کو متحرک نہیں کر سکتے؟
ریڈلے کے انٹرویو (اسلام: حیرت زدہ کر دینے والا مذہب‘ جولائی ۲۰۰۴ئ) کا اصل پہلو خاتون قیدی کے ساتھ طالبان کا حسن سلوک ہے۔ عراق میں خواتین قیدیوں کے ساتھ امریکی جو کچھ کر رہے ہیں‘ اس کی کچھ تفصیل المجتمع کے حوالے سے ایک رسالے میں شائع ہوئی ہے جو رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔ ریڈلے کو چاہیے کہ وہ مغرب کے باضمیر انسانوں کو جگائے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے ہاتھ پکڑیں۔
خرم مراد صاحب نے ’’امت کامستقبل اور ائمہ مساجد‘‘ (جولائی ۲۰۰۴ئ) میں ائمہ کرام کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف بہت خوب توجہ دلائی ہے۔ شریعت نے مسلمان معاشروں میں پنج وقتہ نماز کے ساتھ مسجدوں کے ذریعے ایک ایسا غیر معمولی اجتماعی نظام قائم کیا ہے‘ جس کی برکات کا کوئی شمار نہیں۔ اس کو مفید سے مفید تر بنانے میں امام کے قائدانہ کردار کا بڑا دخل ہے۔ نمازیوں کو حقیقی مسلمان بنایا جائے اور نئے نمازیوں کو مسجدوں میں لایا جائے۔ یہ سخت جان نظام غلامی کی صدیاں گزار کر بھی قائم ہے۔ اس میں جان ڈال کر اُمت کو بیدار کیا جاسکتا ہے۔
آج کل اخبار پڑھ کر جو مایوسی کی کیفیت ہوتی ہے کہ مسلمان ہر جگہ پٹ رہے ہیں‘ علامہ یوسف قرضاوی کے مضمون: ’’غلبۂ اسلام کی بشارتیں اور عملی تقاضے‘‘ (جولائی ۲۰۰۴ئ) سے یہ کیفیت دُور کرنے میں مدد ملی۔
گلستان شہادت میں ’’فلسطین کے دو پھول‘‘ (جون ۲۰۰۴ئ)سے فلسطین کے ان دو نامور مربی اور عالمِ اسلام کے قائدین استاد شیخ احمد یاسین شہیدؒ اور ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی شہیدؒکے احوال اور گوشہ ہاے حیات کے تذکرے سے بالخصوص نئی نسل کو نیا عزم اور جذبۂ شہادت کو مہمیز ملی۔
ترجمان القرآن (جون ۲۰۰۴ئ) میں یاد رفتگان کا حصہ کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا۔سیدمودودیؒ نمبر میں کچھ تحقیقی مضامین ’اقتصادیات‘، ’غیرمسلموں میں دعوت‘، ’حکمت عملی‘، ’مستقبل کے امکانات‘ پر آنے چاہیے تھے۔ شاید آیندہ یہ کمی پوری ہو سکے۔
ترجمان القرآن کی خصوصی اشاعت کی صورت میں ایسا عمدہ نمبر شائع ہونے سے تحریکی لٹریچر میں وقیع اضافہ ہوا ہے۔ بانی ٔ تحریک مودودی علیہ الرحمہ کی حیات و کارنامے مختلف انداز میں وا ہوتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ پر بہت سے نمبر شائع ہوئے مگر یہ اپنا الگ رنگ ڈھنگ رکھتا ہے۔ اس کو مولانا علیہ الرحمہ کے خوشہ چینوں کے ہاں دستاویزی حیثیت حاصل رہے گی۔
جماعت کے موجودہ لٹریچر کا صرف ترجمہ کر دینا عربی داں پبلک کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ لٹریچر کے ترجمے میں بھی عرب کے مخصوص حالات و افکار کے اعتبار سے جابجا ضمنی تبدیلیاں اور اضافے کرنا ہوں گے۔ نیز اچھاخاصا صالح لٹریچر براہِ راست عربی زبان میں تیار کرنا پڑے گا جو وقت کے چلنسار اور مقبول عام افکار کے مقابلے میں اسلامی فکر اور اسلامی تحریک کو صحیح اور سائنٹی فک طریقے پر پیش کر سکے۔ یہ صالح لٹریچر اپنی زبان ‘ طریقۂ نظروفکر اور اسلوبِ بحث کے لحاظ سے اتنا ممتاز اور نمایاں ہو کہ دل اس کی طرف خود بخود کھنچ جائیں اور دماغ اس سے اثرپذیر ہوسکیں۔
یہ کام صرف صالح لٹریچر کی تیاری سے بھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ہمیں ایک اعلیٰ درجے کے ماہنامے کی ضرورت ہوگی‘ جو ایک طرف تو اپنی ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے عربی کے مشہور رسالوں کے مقابلے پر آسکے‘ دوسری طرف وقت کے تمام مسائل پر اسلامی نقطۂ نظر سے بے لاگ تنقید کر سکتا ہو…
یہ حالات ہیں ‘ جن کے پیش نظر جماعت نے ایک بلند پایہ عربی ماہ نامہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی تو جنگ کی فتنہ سامانیوں کے باعث آغاز کار بہت مشکل ہے‘ لیکن یہ رائے طے پاچکی ہے کہ جنگ کے ختم ہوتے ہی عربی بولنے والی قوموں کو اسلامی دعوت اور اقامت دین کی تحریک سے روشناس کرانے کے لیے ایک رسالہ جاری کیا جائے۔ چونکہ کام اہم ہے اور اس کے لیے بڑی تیاریوں کی ضرورت ہے‘ اس لیے راقم الحروف اپنا مستقر چھوڑ کر دارالاسلام آگیا ہے‘ تاکہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عربی زبان میں ترجمہ اور لٹریچر کی تیاری کا کام باضابطہ اور منظم طور پر شروع کر دیا جائے‘ اوراس دوران میں اتنا کام ہوجائے کہ جنگ کے بعد عربی زبان میں نشرواشاعت کا کام بلا پس وپیش شروع کیا جاسکے…
جو اصحاب اس مہم میں ہمارا ہاتھ بٹانا چاہیں‘ وہ بخوشی ہمیں اطلاع دیں۔ اس سلسلے میں ایک اور اہم حقیقت کی طرف اشارہ کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے‘ وہ یہ کہ ہمیں ٹھیکے اور معاوضے پر کام کرنے والے مترجم مطلوب نہیں ہیں۔ ہمیں ایسے رفیقوں کی ضرورت ہے‘ جو اسلامی تحریک کے نصب العین اور طریق کار سے حرف بہ حرف متفق ہوں‘ اور جذبۂ تبلیغ وعمل ان کے رگ و پے میں سرایت کرچکا ہو۔ وہ اس کام کو ایک دینی خدمت سمجھ کر انجام دیں۔(’’اشارات‘‘، مسعود عالم ندوی‘ ترجمان القرآن‘ جلد۲۵‘ عدد ۱ -۴‘ رجب تا شوال ۱۳۶۳ھ‘ جولائی تا اکتوبر۱۹۴۴ئ‘ص ۴-۵)