اگست ۲۰۰۴

فہرست مضامین

کتاب نما

| اگست ۲۰۰۴ | کتاب نما

Responsive image Responsive image

MUHAMMAD, The Prophet of Islam ] محمدؐ، پیغمبراسلام[‘ ڈاکٹر خالد علوی۔ ناشر: دعوہ اکیڈمی‘ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی‘ اسلام آباد۔ بہ اشتراک: انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ دعوہ‘ برمنگھم۔ صفحات: ۳۳۶۔ قیمت: ۲۰۰ روپے‘ مجلد: ۲۵۰ روپے۔

ڈاکٹر خالد علوی کی شخصیت علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ علومِ اسلامیہ کی تعلیم و تدریس اور تصنیف و تحقیق کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اعلیٰ مقام عنایت فرمایا ہے۔ خاص طور پر سیرت و حدیث کے موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف وقیع علمی سرمایہ ہیں۔ قبل ازیں سیرت نبویؐ کے موضوع پر ان کی ایک عمدہ اور منفرد کتاب انسان کامل بین الاقوامی شہرت حاصل کرچکی ہے۔ جس کے لیے‘ ڈاکٹر خالد علوی کے بقول‘ انھوں نے سید سلیمان ندویؒ کی خطبات مدراسسے تحریک حاصل کی تھی۔

زیرنظرکتاب میں انسان کامل کی طرح خیرالبشرؐ کے اوصافِ حمیدہ کو عنوان بنانے کے بجاے‘ روایتی انداز میں سیرت نبویؐ کو تاریخی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے قبل از اسلام حالات سے لے کر نبویؐ مشن کی تکمیل کو نو ابواب میں تقسیم کر کے ترتیب زمانی کے ساتھ تحقیقی انداز میں مرتب کیا ہے۔ تبصرے اور حاشیہ آرائی کے بغیر واقعاتِ سیرت سادہ انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ عربی عبارات کے اصل متن کے ساتھ ان کا آسان انگریزی ترجمہ دیا گیا ہے۔ تحقیقی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے فٹ نوٹ پاورقی حوالوں کے علاوہ آخر میں مصادر و مراجع کی فہرست اور اعلام و اصطلاحات کا اشاریہ بھی بنایا گیا ہے۔

مستند حوالوں سے مزین یہ محققانہ کاوش اگرچہ سیرت نبویؐ کا انگریزی زبان میں ایک سادہ بیان ہے‘لیکن حیات طیبہؐ کے حوالے سے دورِحاضر میں جدید ذہن کے شبہات کے ازالے کے لیے غیر جانب دارانہ تحقیق کی ایک عمدہ مثال ہے۔ خاص طور پر انگریزی دان طبقے کے لیے سیرت جیسے وسیع موضوع پر مناسب سائز میں ایک نامور محقق کے قلم سے مستند کتاب منظرعام پر آنا یقینا ایک اہم بات ہے۔ کتاب کا اندازِ تحریر علما‘ محققین اور عام قارئین‘ حتیٰ کہ انگریزی اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے بھی یکساں مفید ہے۔خاص طورپر مقابلے کے اعلیٰ امتحانوں کے امیدواروں کے لیے یہ کتاب کورس میں شامل کیے جانے کے قابل ہے۔ پیش لفظ میں ڈاکٹر ایس ایم زمان نے کتاب کے علمی و تحقیقی مقام کے پیش نظر اسے دورِحاضرکے لیے اہم اور مفید قرار دیا ہے۔ کتاب کی اہمیت و افادیت اور اعلیٰ علمی پاے کی بدولت سال ہذا کی قومی سیرت کانفرنس میں یہ کتاب پاکستان بھر میں اول انعام اور صدارتی ایوارڈ کی مستحق قرار پائی ہے۔

کتاب کے اندازِ تحریر‘ ابواب کی تعداد‘ عنوانات اور بعض الفاظ تک کو پڑھتے ہوئے پروفیسر عبدالحمید صدیقی کی کتاب The Life of Muhammadذہن میں آجاتی ہے کہ دونوں کتابوں کے عنوانات و مشتملات میں خاصی مشابہت پائی جاتی ہے۔

سیرت طیبہؐ کے موضوع پر وسیع ذخیرئہ کتب میں یہ کتاب ایک عمدہ اور قابلِ قدر اضافہ ہے۔ راقم الحروف کی رائے میں انسان کاملکے انگریزی ترجمے کی ضرورت باقی ہے۔ امید ہے کہ ڈاکٹرصاحب موصوف اس کام کا آغاز کرچکے ہوں گے۔(محمد حمّاد لکھوی)


خلق خیر الخلائقؐ، طالب الہاشمی۔ ناشر: طٰہٰ پبلی کیشنز‘ اُردو بازار‘لاہور۔صفحات: ۴۷۲۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

طالب ہاشمی صاحب کی زیرنظر کتاب سیرتؐ طیبہ پر فرامینِ نبویؐ اور اسلامی تاریخ کے برسوں کے گہرے مطالعے اور متعلقہ موضوعات پر اُن کی دسترس کی آئینہ دار ہے۔

کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ حصہ اول (ص ۳۳-۳۳۸) میں چھوٹے بڑے ۶۰عنوانات (صدق‘ دیانت و امانت‘ ایثار‘ عفو و درگزر‘ مساوات‘ طبقۂ اناس کے محسنِ اعظم‘ میانہ روی‘ صبرواستقامت‘ اولاد سے محبت‘ تعزیت‘ چھینک اور جمائی وغیرہ) کے تحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و محاسنِ اخلاق کی جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔’’جھلکیاں‘‘ اس لیے کہ بقول مصنف: ’’حضوؐر کی ذاتِ گرامی تمام کمالات و صفات کی جامع ہے اور ہماری قوتِ تحریر محدود ہے جو آپؐ کے اخلاقِ عالیہ کے کسی بھی پہلو کو کماحقہٗ احاطۂ تحریر میں لانے سے قاصر ہے‘‘ (ص ۲۹)۔ حصہ دوم میں اچھے اور بُرے اخلاق کے مختلف پہلوئوں (فضائل: سلام کا رواج‘ مہمان نوازی‘ شکرگزاری‘ انکسار و تواضع‘ خوش کلامی‘ عیب پوشی وغیرہ--- اور رذائل: بدزبانی‘ بُغض و کینہ‘ غیبت‘ حسد‘ خیانت‘ بخل‘ چغل خوری وغیرہ) پر رسول اکرمؐ کے ارشادات بصورتِ احادیث نبویؐ جمع کیے گئے ہیں۔ اس حصے میں احادیث کے متن پر اہتمام کے ساتھ اعراب بھی دیے گئے ہیں اور ہر حدیث کا حوالہ بھی درج ہے۔ کہیں کہیں قرآنی احکام سے بھی تائید لی گئی ہے۔

مصنف ایک تجربہ کار اور کُہنہ مشق ادیب بھی ہیں اس لیے اُن کا اسلوب سادہ ہونے کے باوجود‘ رواں اور ادبی خوبیوں کا حامل ہے۔ کہیں کہیں اردو اور فارسی کے اشعار سے بھی استشہاد کیا گیا ہے۔ کتابت میں اسماء و اعلام کی صحت اور اعراب کا اہتمام قابلِ داد ہے۔ کتاب کا تعارف ڈاکٹر عبدالغنی فاروق کے قلم سے ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


The Secular Threat to Pakistan's Security ] پاکستان کی سالمیت کے خلاف سیکولر خطرہ[ ‘طارق جان۔ ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز‘ تقسیم کنندہ: کتاب سرائے‘ الحمدمارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اردو بازار‘ لاہور۔ مع اشاریہ‘ صفحات: ۲۵۲۔ قیمت: درج نہیں۔

پاکستان کے منظر کو دیکھیں اور خصوصاً جنرل پرویز مشرف کے فوجی عہدِحکمرانی میں مخصوص عناصر کی کھلی اور چھپی یلغار کا تجزیہ کریں تو سیکولر عناصر کے ہاتھوں تیار کردہ اس طرح کی  تصویر ابھرتی ہے: ’’پاکستان کا نام منافرت کا مظہر ہے‘ یہ ایک ناکام ریاست ہے۔ مسلم تشخص‘ ازمنہ وسطیٰ کی باتیں ہیں۔ پاکستان کی تاریخ نئے سرے سے لکھی جانی چاہیے جس کا ہدف یہ ہو کہ ہم ہندستانی ہیں۔ پاکستان سے کشمیر کا الحاق سودمند نہ ہوگا‘‘ (ص ۲۰)۔ اسی طرح وطن عزیز کے وجود پر حملہ کرنے والوں میں حکومت کے بہت سے کارندے اور ریاست کے سیاہ وسفید پر قابض من موجی بھی اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ پاکستان کے انگریزی ذرائع ابلاغ تو پاکستان کے تشخص‘ وجود اور تصور پر حملہ آوروں کی محفوظ ترین کمین گاہیں ہیں۔ یہی عناصر ہماری قومی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خرد افروزی کے نام پر قائم کردہ اڈوں‘ سیاست کی وادیوں اور صحافت کے میدانوں میں سیکولر عنصر اور ذاتی ترقی پسندی کے مرض میں مبتلا یہ گروہ‘ بلاجھجک فکری تخریب کاری میں مصروف ہے۔ اس یک طرفہ یلغار کا جواب دینے کے لیے انگریزی پریس میں شاذونادر ہی کوئی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے۔ اس صورت حال میں طارق جان کی زیرنظر کتاب ہوا کا ایک خوش گوار جھونکا ہے۔

اظہاروبیان کے سلیقے‘ تنقید و تجزیے کی ثقاہت‘ استدلال کی تروتازگی اور جواب دینے میں شایستگی کو طارق جان نے زیرتبصرہ کتاب میں ہم رکاب کر دیا ہے۔ یہ مباحث درحقیقت  سیکولر گروہوں کی ہر للکار کا شافی و کافی جواب اور ۱۴ ابواب میں تمام قابلِ ذکر کٹ حجتیوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے‘ مثلاً: کیا قائداعظم سیکولر قوتوں کے آلہ کار تھے؟ قانونِ توہینِ رسالت ؐاور حدود قوانین‘ این جی اوز کے پس پردہ شرانگیزی‘ خارجہ پالیسی کے اُفق‘ سی ٹی بی ٹی کا مسئلہ‘   پاک بھارت تعلقات یا گھٹنے ٹیکنے کا راستہ‘ کشمیر دوراہے پر‘ اقوام متحدہ کا خونیں کردار وغیرہ--- ان موضوعات پر مضبوط استدلال کے ساتھ عام فہم مگر شُستہ زبان میں اظہار خیال کیا گیا ہے‘ جس میں علم کی وسعت‘ ایمان کی خوشبو اور حب الوطنی کا درد اور تڑپ بڑی آسانی سے دیکھی جاسکتی ہے۔

یہ مباحث اہلِ سیاست و صحافت‘ اہل سفارت و حکومت اور معلم و متعلم‘ سبھی کے لیے سُرمۂ بصیرت ہیں۔ پاکستان کے ممتاز دانش ور جناب نسیم انور بیگ کا تجزیاتی تعارف‘ کتاب کے مصنف کے لیے اعزاز کا درجہ رکھتا ہے۔ (سلیم منصور خالد)


شاہکار ، اسلامی انسائیکلوپیڈیا ‘ جلد اول‘ جلد دوم‘ سید قاسم محمود۔ ناشر: الفیصل ناشران و تاجرانِ کتب‘ غزنی سٹریٹ‘ اردو بازار‘ لاہور۔ بڑے سائز کے کل ۲۴۰۰ صفحات۔ قیمت: ۲۴۰۰ روپے۔

مغرب میں ادارے کام کرتے ہیں‘ اور ہمارے ہاں فرد اداروں کا کام کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال سید قاسم محمود ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا جس میں سیکڑوں لکھنے والے اپنے اپنے میدان کے حوالے سے لکھتے ہیں‘ وہ بھی انھوں نے تن تنہا ہی لکھ ڈالا اور ساتھ ہی سیرت انسائیکلوپیڈیا اور قرآن انسائیکلوپیڈیا کی خوش خبری بھی دی ہے۔

یہ ۱۹۸۳ء میں پہلی دفعہ شائع ہوا۔ چھٹا ایڈیشن مشینی کتابت پر کچھ اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا‘ اب یہ آٹھواں ایڈیشن خاصے اضافوں کے ساتھ دو جلدوں میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کی خصوصیات میں ۵۰ صفحات کا اسلامی اٹلس ہے جس میں صحاح ستہ کے عظیم محدثین کے اسفار بھی دکھائے گئے ہیں۔ مزید ۱۰۰ صفحات میں مقدس مقامات‘ خطاطی اور پینٹنگز کی تصاویر دی گئی ہیں۔ اشاریہ بھی پہلی دفعہ شامل کیا گیا ہے۔

باوجود اتنا ضخیم ہونے کے‘ اسے مختصرہی کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ اتنی طویل‘ مالا مال تاریخ کے واقعات‘ شخصیات‘ مقامات اور ایمانیات‘ عبادات‘ سیرت اور فقہ سے متعلق موضوعات اگر سیرحاصل انداز سے لکھے جاتے تو دس بارہ جلدیں تیار ہو جاتیں۔ اعداد و شمار اور حالات حسب حال شامل کر لیے گئے ہیں۔ چار ہزار موضوعات کو ڈھائی ہزار صفحات میں سمو دیا گیا ہے۔ ضروری معلومات اور تعارف فراہم ہو جاتا ہے۔ جمیل احمد رانا صاحب نے ’’انتہائی باریک بینی اور دقّتِ نظر سے پورے انسائیکلوپیڈیا کا لفظ بہ لفظ مطالعہ کر کے متن اور پروف کی اغلاط کی نشان دہی کی‘‘، اس پر وہ تبریک کے مستحق ہیں۔

یہ کیسے ہو کہ یہ انسائیکلوپیڈیا ملک کے ہر تعلیمی ادارے کی لائبریری میں اور ہر پڑھنے لکھنے والے فرد کی میز پر پہنچ جائے؟ شاید الفیصل یہ کام کر لے۔(مسلم سجاد)


ڈاکٹرمحمدحمیداللہؒ، مرتب: محمد راشد شیخ۔ ناشر: المیزان پبلشرز‘ ۲۳۴- المعصوم ٹائون‘ گلی نمبر۷‘ ڈاک خانہ فوارہ چوک‘ فیصل آباد۔ صفحات: ۴۹۶۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔

محمد راشد شیخ نے عقیدت و محبت کے جذبے کے ساتھ زیرنظرکتاب ترتیب دی ہے۔ کتاب میں ڈاکٹرمحمدحمیداللہ کے خاندانی حالات‘ علمی پس منظر‘ تعلیمی و تدریسی مراحل‘ تحقیق و تصنیف‘ پیرس میں علمی و دعوتی سرگرمیوں‘ پاکستان و ترکی میں علمی سرگرمیوں‘ اخلاق و کردار‘ علمی انہماک‘ فقرواستغنا‘ غرض موصوف کے مختلف شخصی و علمی پہلوئوں سے اعتنا کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: احوالِ ذاتی‘ آثارِ علمیہ‘ خراجِ عقیدت (درحین حیات)‘ خراج عقیدت (بعد از وفات) اور مکتوبات شامل ہیں۔ ڈاکٹرحمیداللہ کا شجرئہ نسب اور آثارِ علمیہ خود مرتب کے قلم سے ہے‘ دیگر جن اہلِ علم نے خامہ فرسائی کی ہے ان میں ڈاکٹرحمیداللہ کے قریبی عزیز‘ معاصرین‘ شاگردان و فیض یافتگان کے علاوہ بعض قلم کار بھی شامل ہیں۔

مرتب نے اُردو‘ عربی‘ فارسی اور انگریزی زبان میں ڈاکٹرمحمدحمیداللہ کی کتب و مقالات کی تفصیل دی ہے۔ مگر جرمن‘ فرانسیسی اور ترکی زبانوں میں کتب و مقالات کا تذکرہ ناپید ہے۔ ڈاکٹرمحمدحمیداللہ نے اپنے ایک مکتوب میں متفرق طور پر ۹۵۰ مقالات اور ۱۷۱ کتب کا تذکرہ کیا ہے (ص ۴۰۷)۔ اس علمی ذخیرے کی تلاش و اشاعت بھی اہل علم کی ذمہ داری ہے۔ کتاب میں شامل متعدد مضامین مطبوعہ ہیں۔

خراجِ عقیدت (درحین حیات) میں جن معاصرین نے قلم اٹھایا ہے ان میں ڈاکٹر سیدرضوان علی ندوی‘ حکیم محمدسعید‘ شاہ بلیغ الدین کا ہر مضمون ڈاکٹرحمیداللہ کی شخصیت اور علمی پہلو کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ شیخ حیدرایڈووکیٹ نے بطورِ استاد آپ کا رویہ‘ طریقہ تدریس‘ طلبہ سے مشفقانہ سلوک جیسے پہلوئوں پر قلم اٹھا کر بتایا ہے کہ وہ اپنے طلبہ میں کس طرح علمی لگن اور تحقیق کا ذوق پیدا کرتے تھے۔ آپ کی پوتی محترمہ سدیدہ عطاء اللہ نے ڈاکٹر حمیداللہ کے آخری لمحات کی تصویرکشی کی ہے۔ اسرائیل احمد مینائی نے جامعہ عثمانیہ میں گزرے لمحات کا تذکرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر احمد عبدالقدیر نے پیرس میں آپ کی بودوباش پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر محموداحمد غازی اور مظہرممتاز قریشی نے آپ کے علمی و تصنیفی کارناموں کا جامع تذکرہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر حمیداللہ کی علمی سرگرمیوں اور ان کی وفات پر ترکی پریس نے جو کچھ لکھا‘ ڈاکٹر محمد صابر‘ احسان اوغلو اور ڈاکٹر نثار احمد اسرار نے اپنے مضامین میں اس کا نہایت عمدہ جائزہ پیش کیا ہے۔

زیرنظر کتاب میں مرحوم کے ۱۶۰ خطوط بھی شامل ہیں۔ بیش تر خطوط مطبوعہ ہیں لیکن بعض پہلی مرتبہ منصہ شہود پر آئے ہیں۔ کتاب میں شامل زیادہ تر مضامین ملک کے رسائل و جرائد میں طبع ہوچکے ہیں جن کا حوالہ مرتب نے دیا ہے‘ تاہم بعض مضامین فاضل مرتب نے خصوصی طور پر محنت و کاوش سے تیار کروائے ہیں۔ مضامین زیادہ تر تاثراتی نوعیت کے ہیں جن میں یکسانیت و تکرار فطری بات ہے۔ کہیں کہیں معلومات میں سطحیت بھی دَر آئی ہے۔

بہرحال یہ کتاب ڈاکٹرمحمدحمیداللہ کے مطالعات میں ایک اچھا اضافہ ہے اور فاضل مرتب کی محنت و کاوش لائق تحسین ہے۔ سرورق سادہ مگر پُروقار ہے۔ (ڈاکٹرمحمد عبداللّٰہ)


سفر اندر سفر‘ ابوالامتیاز ع س مسلم۔ ناشر: القمر انٹرپرائزز‘ اردو بازار‘ لاہور۔ صفحات:۲۱۰۔ قیمت: ۲۴۰ روپے۔

ہزاروں لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں۔ سیاحت کے باقاعدہ محکمے وجود میں آچکے ہیں مگر مسافروں میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے مشاہدات و تجربات کو ایک نکھری ہوئی صورت میں لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ ع س مسلم کا شمار ایسے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جو مشاہدے‘ احساس‘ وجدان اور جذبات کی آمیزش سے اپنے تجربات کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

عام طور پر سفر نامہ نگارفرضی قصے کہانیوں اور خودساختہ افسانوں کے ذریعے قاری کو مسحور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ع س مسلم کے سفرنامے حقیقت نگاری کا نمونہ ہیں۔

زیرنظر کتاب ان کا تیسرا سفرنامہ ہے جس میں انھوں نے مختلف اوقات میںناروے‘ فِن لینڈ‘پیرس‘ ارضِ روما‘ آسٹریا‘ سوئٹزرلینڈ اور سراندیپ کے اسفار کی روداد بیان کی ہے۔ کسی علاقے کا نام سن کر عام طور پر اس کی تاریخ‘ طرز رہن سہن‘ تہذیب و معاشرت اور وہاں کے لوگوں کے مجموعی رویے‘ میلانات یا رجحانات کے متعلق جو سوالات اٹھتے ہیں‘ اس کتاب میں ان کے جوابات ملتے ہیں۔ ایک جگہ انھوں نے لفظ Bohemianکی تاریخ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ: یہ شاہ بوہیمیا (جو صلیبی عساکر کا سپہ سالار تھا اورHolly Roman Emperor کے نام سے جانا جاتا تھا) کے نام سے مشتق ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف موصوف لغت و لفظ شناسی کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ ان کی تحریر جزئیات نگاری اور منظرنگاری سے بھی مزین ہے۔  خوب صورت تشبیہات واستعارات کا برمحل استعمال کرتے ہیں مثلاً لکھتے ہیں: ہر طرف چاندی کا فرش بچھا ہوا تھا جیسے سرما کے ساون میں دھیمی دھیمی برفانی پھوار پڑ رہی ہو۔ آسمان سے رقائق برف دھرتی کے آنچل میں خراماں خراماں یوں اتر رہے تھے جیسے آسمان پر فرشتے نقرئی چادر چھٹک رہے ہیں۔ مطالعے کے دوران میں ان کا حُسنِ بیان قاری کو مسحور کیے رکھتا ہے۔ یہ سفرنامہ بہت معلومات افزا اور مصنف کی تعمق نظری کا منہ بولتا ثبوت ہے اور مذکورہ علاقوں کے متعلق معلومات کا کوئی بھی پہلو تشنہ نہیں رہا۔

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے اپنے مفصل دیباچے میں ’سفر اندر سفر‘ کی خوبیوں کو اجاگر کیا ہے۔ قارئین اس کتاب کو دل چسپ پائیں گے۔ (قاسم محمود وینس)


سجدہ ہر ہر گام کیا‘ حفیظ الرحمن خاں۔ ناشر: بک ہوم‘ مزنگ روڈ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۵۲۔ قیمت: درج نہیں۔

سجدہ ہر ہرگام کیا حج و زیاراتِ مقدسہ کا ایک خوب صورت اور محبت انگیز سفرنامہ ہے۔ اس موضوع پر اُردو زبان میں بے شمار سفرنامے لکھے گئے ہیں اور اب تک لکھے    جا رہے ہیں۔ ایک جیسے مقامات‘ ایک سا طریقۂ عبادت اور عقیدت و محبت کے اظہار میں یکسانیت کے باوجود‘ قاری کے لیے قندِمکرر کی چاشنی حیرت انگیز ہے۔

حرمین کے سفرنامے عام طور پر معلوماتی ہوتے ہیں یا قلبی واردات اور کیفیات کے تاثرات کے بیان سے مزین‘ کچھ ایسے بھی جن میں داستانِ شوق میں ہر دو پہلو موجود ہیں۔ زیرنظر مختصر سفرنامہ ایسا ہی ہے۔ حفیظ صاحب کا اسلوب جذبے کی بے ساختگی اور شعروادب کی چاشنی کے حسین امتزاج سے عبارت ہے۔ ان کی آنکھ ظاہروباطن دونوں رخوں پر کھلی ہے اور داخلی کیفیات خارجی واقعات کے پہلو بہ پہلو نظرآتی ہیں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کی یہ راے    اس خوب صورت اور مختصر سفرنامے پر حرفِ آخر ہے۔

یہ سفرنامہ عمدہ گٹ اَپ کے ساتھ بک ہوم لاہور نے شائع کیا ہے۔ (عبداللّٰہ ہاشمی)


Tazkiyah, The Islamic Path of Self Development (مجموعہ مضامین) ادارت: عبدالرشید صدیقی۔ناشر: اسلامک فائونڈیشن‘ لسٹر۔ صفحات: ۲۲۰۔ قیمت: درج نہیں۔

تزکیۂ نفس کے اہم موضوع پر یہ حسین کتاب دل کو لبھانے والی ہے۔ ۵ مقالات کا یہ مجموعہ انگریزی میں تزکیۂ نفس جیسے موضوع پر غالباً اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے‘ جس میں قدیم و جدید تصورات اور موجودہ زمانے کے تقاضوں کے حوالوں سے سب ہی نکات زیربحث آگئے ہیں۔ سید مودودی‘ محمد فاروق خان‘ عبدالرشید صدیقی‘ خرم مراد اور مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنے اپنے انداز سے موضوع کے مختلف پہلو بیان کیے ہیں۔ (م - س)


فقہی مسلک کی حقیقت‘ مولانا ابوزکی۔ ناشر:دارالعلم‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات:۲۳۶۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔

اس کتاب کے اہم مباحث یہ ہیں: تبع تابعین تک فقہ کی تاریخ‘ ائمہ اربع کا تعارف‘ اجتہاد کی اہمیت‘ مجتہد کی شرائط‘ مسئلہ تقلید‘ اندھی تقلید کے نقصانات کا تذکرہ شامل ہے۔ ائمہ اربعہ کے فقہی اختلافات‘ فقہی مسائل کا حل کیسے؟

یہ کتاب مسلمانوں کو فقہی اختلافات کے ضمن میں شدت پسندی سے روکنے کی پُرخلوص کوشش ہے کیونکہ ان اختلافات میں بے اعتدالی نے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے الانصاف لکھ کر یہ فریضہ سرانجام دیا تھا۔ پھر سیدابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اس ضمن میں قابلِ قدر کام کیا ہے۔ یہی مشن مولانا ابو زکی کا بھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’فقہ حنفی ہی کو دیکھ لیجیے اس میں دو تہائی سے زیادہ فقہی مسائل میں امام ابوحنیفہؒ کے اقوال کی پیروی نہیں  کی جاتی بلکہ ان کے بجاے امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ (صاحبین) کے فتاویٰ پر عمل کیا جاتا ہے‘‘ (ص ۲۰۲)۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ’’مجتہدین نے اپنے اپنے امام کی ہر مسئلے میں پیروی اور پابندی کو ضروری نہیں سمجھا… تو کیا دوسروں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بھی ان کے ائمہ سے اختلاف کرسکیں؟‘‘ (ص ۲۰۲)

فقہی مسائل کا حل کے ضمن میں مصنف کی دو تجاویز اہم ہیں‘ اول: مدارس میں صرف ایک ہی مسلک یا فقہ کی تعلیم نہ دی جائے بلکہ دوسرے مسالک اور فقہیں بھی پڑھائی جائیں… اس سے نہ صرف اختلافات کی شدت کم ہوگی بلکہ باہمی تعصب کی جگہ رواداری اور تحمل و برداشت کے جذبات پیدا ہوں گے۔ (ص ۲۲۱)

دوم: شخصیت پرستی کی حوصلہ شکنی کی جائے‘ ہمارے لیے تمام مسالک کے اکابر یکساں محترم ہیں۔ اپنے مسلک کی بے جا حمایت اور عقیدت میں غلو کرنا ہرگز صحیح نہیں ہے‘ اس لیے ضروری ہے کہ ملکی سطح پر علماے کرام کو مل کر ایک فقہ کونسل بنا لینی چاہیے جیسا کہ بھارت میں بنائی جاچکی ہے اور پھر اس کے اوپر بین الاقوامی فقہ کونسل تشکیل دینی چاہیے جس کا مرکز سعودی عرب کا کوئی شہر ہونا چاہیے(ص ۲۲)۔ ایسی تجاویز سے مذہبی منافرت کم ہو سکتی ہے۔ (ڈاکٹر محمد خلیل)


تعارف کتب

  • علم و ہدایت ‘ ڈاکٹر محمد ایوب خان۔ ناشر: ادارہ اشاعت قرآن‘ ۲۹۴ ایکسٹنشن‘ کیولری گرائونڈ‘ لاہور کینٹ۔ صفحات: ۱۸۴۔ قیمت: ۱۰ روپے۔] ۳۵ موضوعات: کائنات قرآن کی نظر میں‘ محلہ وار تنظیم‘ تکفیرمسلم‘ نپولین کا خط‘ اسلام میں حکومت کا تصور‘ اسلام کا نظریۂ جہاد‘ اسلام اور سیکولرازم‘ ضیاء الحق کی وفات‘ شرعی طلاق‘ نفاذِ شریعت‘ اسلامی نظام وغیرہ پر مصنف کے مختصر مضامین‘ آسان زبان میں مسائل کو سمجھانے کی کامیاب کوشش۔[
  • ماہنامہ بک ڈائجسٹ‘ مدیراعلیٰ: مظہرسلیم مجوکہ۔ناشر: بک مین‘ الشجربلڈنگ‘ نیلاگنبد‘ لاہور۔ صفحات: ۱۶۰۔ قیمت: ۴۰ روپے۔] روح الحدیث کے عنوان سے صحاح ستّہ سے احادیث نبویؐ کا موضوع وار انتخاب‘ مرتب: سید قاسم محمود۔ یہ ایک نیا ماہ نامہ ہے۔ ہر ماہ ایک مکمل کتاب پیش کرنے کا عزم ہے۔[
  • ماہنامہ نونہال‘ مدیر: مسعود احمد برکاتی۔ ناشر: دفتر ہمدرد نونہال‘ ناظم آباد‘ کراچی-۷۴۶۰۰۔ صفحات: ۲۲۴۔ قیمت (خاص شمارہ): ۲۵ روپے۔ ] سالانہ روایت کے مطابق‘ خاص شمارہ۔ بچوں کے لیے سبق آموز اور معلومات افزا کہانیاں‘ مضامین‘ نظمیں اور لطائف وغیرہ ۔[
  • اسلام کا سفیر‘ مرتب: محمد متین خالد۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز‘ ۳۴-اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۴۳۲۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔] سرورق: ’’قائداعظم کی اسلامی زندگی کے ایمان افروز حقائق و واقعات پر مبنی مستند دستاویز‘‘(مگر کیا ان کی کوئی ’غیر اسلامی زندگی‘ بھی تھی؟)۔ ۳۹ معروف اصحاب کے نئے پرانے مضامین کا مجموعہ۔ بقول دیباچہ نگار مجید نظامی صاحب: ’ایک منفرد‘ اہم اور قابلِ توجہ کتاب‘ قائدکی ایک عمدہ تصویر۔[
  • مادرِ ملّت مِس فاطمہ جناح‘ شازیہ کنول۔ ناشر: اظہار سنز‘ ۱۹- اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۱۶۳۔ قیمت: ۴۰ روپے(مجلد: ۸۰ روپے)۔] سوال و جواب کے ذریعے محترمہ فاطمہ جناح کی حیات و خدمات کا تذکرہ۔ چند منظومات بھی شامل ہیں۔ ’’سالِ مادرِ ملّت ۲۰۰۳ئ‘‘ کے حوالے سے شائع ہونے والی کوئز کتابوں میں یہ کتاب بہتر ہے۔[