مضامین کی فہرست


دسمبر ۲۰۲۲

گذشتہ ماہ سے فلسطین کے قدیمی، تاریخی اور مزاحمتی روایات کے حامل شہر نابلس میں اسرائیلی قابض فوج نے سنگین ترین محاصرے کا آغاز کیا ہے۔رومی حکمرانوں کے دور میں قائم کیے گئے فلسطینی شہر نابلس کی کئی حوالوں سے شناخت ہے۔ یہ پہاڑوں کے درمیان آباد ہے۔ ایک زرعی شہر ہے۔ زیتون کے باغوں سے سرسبز و شاداب ہے۔ ڈیڑھ دو لاکھ کی آبادی کے اس شہر کی ایک شناخت یہ بھی رہی ہے کہ یہ بیرون ملک سے لا کر مسلط کردہ قوتوں کے خلاف مزاحمت کا مرکز بنتا رہا ہے۔

 نابلس کے آزادی پسند فلسطینیوں سے برطانوی قبضہ کاروں کو بھی مسائل رہے ہیں۔ آج امریکی سہولت کاری سے قائم ناجائز اسرائیلی قابض حکومت کے فوجی بھی اس شہر کے لوگوں سے خوش نہیں۔ اس لیے نابلس کے باسیوں کو اسرائیلی قابض فوج نے اور اس کے باغوں کو بیرونِ ممالک سے اکٹھے کیے گئے یہودی آباد کاروں نے ہمیشہ نشانے پر رکھا ہے۔

اسی سبب گذشتہ ماہ کے پہلے عشرے سے نابلس کا محاصرہ جاری ہے۔ اس دوران کئی فلسطینیوں کو شہید کیا جاچکا ہے اور نابلس شہر کے باسیوں کے خلاف اسرائیلی قابض فوج کی کارروائیاں ہیں کہ مسلسل جاری ہیں۔گھروں سے نوجوانوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ چوک چوراہوں پر گولی چلائی جاتی ہے۔ زہریلی آنسو گیس کا اندھا دھند استعمال کیا جاتا ہے۔ بے گناہوں کو جیلوں میں نظر بند کیا جاتا ہے۔ لیکن عالمی ذرائع ابلاغ اور عالمی ضمیر دونوں ہیں کہ چین کی نیند سو رہے ہیں۔ جیسے یہ ’گلوبل ویلج‘[عالمی گائوں] کے نہیں ایک عالمی قبرستان کے مکین ہوں۔

نابلس سے ۱۱۰ کلومیٹر کے فاصلے پر غزہ کی پٹی ہے۔ ۲۰ لاکھ کی آبادی کی یہ بستی، بستے بستے بسنے والی اور بس بس کر اُجڑنے والی ایک فلسطینی بستی اسرائیلی قابض فوج کے ظالمانہ اور معلوم تاریخ کے طویل ترین محاصرے کی ایک مثال ہے۔ غزہ کے فوجی محاصرے کو ساڑھے ۱۵سال ہونے کو آئے ہیں۔ غزہ کے تین اطراف میں خشکی پر اسرائیلی فوجی ناکوں اور چیک پوسٹوں میں ہمہ وقتی گشت اور پہروں کی صورت موجود ہوتے ہیں، جب کہ چوتھی جانب سمندر میں اسرائیلی بحریہ کا محاصرہ موجود ہے۔ پھر فضائی نگرانی کے ہمہ وقت اہتمام کے علاوہ اسرائیل جب دل چاہے بم باری بھی کر لیتا ہے، تاکہ خوف کی کیفیت یہاں کے بچوں اور عورتوں پر ہروقت مسلط رہے۔

محاصرے کے ان مسلسل ساڑھے پندرہ برسوں نے غزہ کو دنیا کی ایک بدترین کھلی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ اس کھلی جیل کا کسی ایک آدھے حوالے سے اگر کوئی تقابل ہو سکتا ہے تو وہ جنت نظیر وادیٔ کشمیر ہے۔ جنت ارضی کشمیرپر بھی پچھلے کئی عشروں سے سات لاکھ سے زیادہ بھارتی افواج نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ وہ بھی ایک کھلی جیل ہے۔

حالیہ برسوں کی ایک مثال برما کے روہنگیا مسلمانوں کی صوبہ اراکان بھی رہی ہے کہ انھیں بھی اسی طرح گھیر کر مارا گیا اور ان کے حالات میں ابھی تک کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئی ہے۔

تاہم، غزہ کا معاملہ کئی حوالوں سے دیگر سب محاصروں سے زیادہ خوفناک اور المناک ہے۔ یہ ایک ہی بستی ہے۔ اس بستی کا رابطہ ہر دوسری بستی سے کاٹ دیا گیا ہے۔ یہ دنیا کی گنجان ترین آبادیوں میں سے ایک ہے۔ اس میں خوراک کی ضروریات سے لے کر لباس، رہایشی حاجات اور ادویات سمیت تقریباً ہر چیز کا انحصار دوسری جگہوں سے آنے پر ہے، جو مکمل ’بلاکیڈ‘ (محاصرے)کی وجہ سے ممکن نہیں رہا ہے۔

اس متواتر ’محاصرے‘ کی وجہ سے ۲۰ لاکھ کی آبادی میں سے کم از کم ۱۰ لاکھ کی آبادی کو صبح و شام سادہ سی خوراک بھی میسر آنا آسان نہیں رہا ہے۔ بھوک و افلاس اور خوراک کی قلت کے شکار ان اہل غزہ کے لیے ان کے اڑوس پڑوس کے لوگوں سمیت دنیا بھر کے انسانی حقوق اور عالمی برادری کے سب نعرہ باز، ظالمانہ حد تک خاموش ہیں۔

غزہ کے مسلسل اسرائیلی فوجی محاصرے کی وجہ سے یہ بستی عملاً بیروزگاروں کی غالب اکثریت کی بستی بن چکی ہے۔ غزہ سے باہر مزدوری کے لیے جانے کے حق سے بھی اہل غزہ کومحروم کر دیا گیا ہے اور حصولِ تعلیم کے لیے بھی غزہ سے نکلنا ممکن نہیں ہے۔ حتیٰ کہ علاج معالجے کے لیے کسی ہسپتال اور مناسب علاج گاہ تک پہنچنا غزہ کے مکینوں کے لیے ناممکن ہے۔

صرف یہی نہیں، ان ساڑھے پندرہ برسوں کے دوران پانچ مرتبہ اسرائیل کی طرف سے دنیا کی اس کھلی جیل پر جنگی جارحیت مسلط کی جا چکی ہے۔ بار بار غزہ کے ٹوٹے پھوٹے ہسپتالوں اور ادھورے تعلیمی اداروں کو بمباری کا نشا نہ بنایا جا چکا ہے۔ گویا مہذب دنیا کی قیادت کرنے والی  نام نہاد ’مہذب‘ اور ’انسان دوست‘ عالمی طاقتوں کے سامنے ان فلسطینیوں کو باندھ کر مارا جا رہا ہے۔ دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے کہ اسرائیل اس محاصرے کو ختم کر دے گا۔

ستم بالائے ستم یہ کہ رفاہ کی راہداری ان اہل غزہ کے لیے اس محاصراتی زندگی میں سانس لینے کی واحد صورت ہے۔ اسے بھی مصر کے آمرمطلق جنرل سیسی جب چاہے بند کر دیتا ہے۔ بلاشبہہ اسرائیل سے دوستی اور محبت و سفارت کا بانی ہونے کی وجہ سے مصر کو اپنے دوست اسرائیل کے لیے وفا شعاری کا تقاضا نبھانا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے ادارے ’انروا‘ کی دو سال سے سرگرمیاں مالی مشکلات کی وجہ سے محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ’انروا‘ غزہ میں زیر محاصرہ انسانوں کے لیے ایک سہارا بن گیا تھا۔ یہ تعلیم و صحت کے معاملات میں بھی متحرک ہو گیا تھا۔ اس لیے غزہ پر جنگی جارحیت کے دوران غزہ کے تمام شہریوں کی طرح یہ ’انروا‘ بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

امریکا نے اقوام متحدہ کی امداد بند کر کے اس کا گلا بھی گھونٹ دیا ہے۔ اسرائیل کو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے فلسطینی پناہ گزینوں کی موجودگی بھی تکلیف دیتی ہے، جب کہ ’انروا‘ ان فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے لگا تھا۔

غزہ کی آبادی پر مسلسل فوجی محاصرہ ہونے کی وجہ سے اس کی پندرہ سال تک کی تقریباً ۴۵فی صد آبادی نے اسی محاصرے کے ماحول میں آنکھ کھولی ہے۔ یہ ۴۵ فیصد آبادی نہیں جانتی کہ غزہ کے باہر کی فلسطینی بستیاں اور دُنیا کیسی ہے؟ اگر یہ اسرائیلی محاصرہ اگلے پندرہ سال بھی جاری رہتا ہے تو بلاشبہہ غزہ کی آبادی کا ۶۰فی صد سے زیادہ حصہ وہ ہو سکتا ہے، جسے غزہ کی اس جیل سے باہر نکلنے ہی نہ دیا گیا ہو گا۔

اسرائیل کا منصوبہ پورے فلسطین کو جیل بنا دینے اور سارے ہی فلسطینی عوام کو اس طرح قید کر رکھنے کا ہے۔ اسی مقصد کے لیے ۲۰۰۲ء میں اسرائیل نے مغربی کنارے کے علاقے میں ایک دیوار کھڑی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ ۷۰۸کلومیٹر تک پھیلی دیوار ہے، جس نے مغربی کنارے اور یروشلم کے درمیان بھی رخنہ و رکاوٹ پیدا کی ہے اور خود مغربی کنارے میں آباد بستیاں بھی اسرائیل کی قائم کردہ اس دیوار کی زد میں ہیں۔شروع میں ۶۷ شہروں، قصبوں اور دیہات کو اس دیوار کی زد میں لانے کا منصوبہ تھا تاکہ انھیں اس دیوار کے ذریعے محاصرے میں لیا جا سکے۔

اسرائیل کی بنائی گئی اس دیوار کی لمبائی اس کی زد میں آنے والے بستیوں کے محاصرے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی بلندی نو فٹ سے لے کر ۳۰ فٹ تک ہے۔ بلاشبہہ یہ فلسطینیوں کے ہرطرح کے معاشی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی مقاطعے کے جملہ مقاصد پورے کرتی ہے۔ لیکن اس کی تعمیر میں اسرائیلی بدنیتی کا دائرہ اس سے بھی وسیع تر ہے۔

اسرائیل نے یہ بھی اہتمام کیا کہ جہاں بھی کسی فلسطینی بستی کے نزدیک کنواں، چشمہ، ندی یا پانی کسی بھی دوسرے امکان اور ذخیرے کی صورت موجود تھا۔ اسرائیل نے اس دیوار کے ذریعے اس بستی کو کاٹ کر اپنے ساتھ ملا لیا ہے تاکہ فلسطینی اور ان کی سرزمین پانی کو ترستی رہے۔

مگر فلسطینیوں نے اسرائیل کی اس دیوار کو اپنے لیے ’دیوار گریہ‘ نہیں بنایا کہ صدیوں سے روتے رہنے والی قوم کہلائیں۔ فلسطینیوں نے اسی دیوار کو اپنی آواز بلند کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے اور جگہ جگہ اس دیوار پر احتجاجی آرٹ کے نقوش و نگار بنا کر اس دیوار کو اسرائیل کے خلاف احتجاج کی گواہی بنا دیا ہے۔

اسی اسرائیلی دیوار پر فلسطینی نژاد امریکی صحافی خاتون شیریں ابو عاقلہ کی تصویر بنا دی گئی ہے کہ ابو عاقلہ نے اپنی جان پیش کر کے اپنی قوم کی آزادی کے لیے جدو جہد میں حصہ لیا تھا۔ اس کی تصویر بنانے والے فلسطینی مصور نے اسرائیلی دیوار پر بنائی گئی تصویر کے ساتھ لکھا ہے:

Live News, Still Alive۔ انگریزی میں لکھی گئی یہ تحریر درحقیقت فلسطینی جدوجہد کا وہ نوشتۂ دیوار ہے کہ جو بلند آہنگ سے کہہ رہا ہے کہ میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، نہ میری منزل کھوٹی کی جاسکتی ہے اور نہ مجھے جھکایا جاسکتا ہے، اور ان شاء اللہ یہ ستم کی دیوار گرا دوں گا!

برما (میانمار) کے مسلمانوں پر گذشتہ ۸۰برس سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، لیکن گذشتہ دس برسوں کے دوران اس ستم کاری اور بدھ مت کے پیروکاروں کی وحشت انگیزی میں بے پناہ شدت آئی ہے۔ مگر افسوس کہ نام نہاد عالمی ضمیر خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔

’’روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ ایک نہایت خطرناک موڑ پر آچکا ہے۔اگر بین الاقوامی رہنماؤں نے فوراً کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیا تو خدشہ ہے کہ مہاجرین کی واپسی کے تمام امکانات ختم ہوجائیں گے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار ناروے کی مہاجرین کونسل کے سیکرٹری جنرل جان ایجی لینڈ نے ستمبر۲۰۲۲ء میں بنگلہ دیش کے دورے کے دوران کیا۔

انھوں نے مزید کہا: ’’یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بنگلہ دیش میں مہاجر روہنگیا برادری ایک ایسے مقام تک پہنچ چکی ہے کہ اگر فوراً ان کی دربدری کا کوئی سدباب نہیں کیا گیا تو بہت دیر ہو جائے گی۔ یہاں بسنے والے خاندان بنی نوع انسان کی بدترین بے حسی کے گواہ ہیں۔ اگر معاملات یونہی رہے تو ان کی میانمار میں اپنے گھروں کو واپسی ہمیشہ کے لیے ناممکن ہو جائے گی‘‘۔

اگست ۲۰۱۷ء میں میانمار میں تباہ کن مسلم کش فسادات شروع ہوئے تو ۱۰ لاکھ روہنگیا مہاجرین نے جان بچانے کے لیے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لی اور تاحال یہیں مقیم ہیں۔ مکمل طور پر بیرونی امداد پر گزربسر کرنے والے ان مہاجرین کے لیے ۳۱ عارضی آبادیاں قائم کی گئیں، جنھیں مجموعی طور پر دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ کہا جاتا ہے۔

ان مہاجرین میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ کی تعداد میں بچے، نابالغ اور نوجوان شامل ہیں، جوشاید ایک ’گمشدہ نسل‘ کے طور پر پروان چڑھ رہے ہیں۔ عالمی برادری کی توجہ دوسرے بہت سے مسائل کی طرف بٹ رہی ہے اور امدادی فنڈز کی فراہمی میں مسلسل کمی ہو رہی ہے،ان حالات میں مہاجرین کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ 

مہاجرین کونسل ناروے نے ۳۱۷ روہنگیا نوجوانوں پر تحقیق کی، جس میں معلوم ہوا کہ ۹۵ فی صد نوجوان بے روزگاری کے سبب شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی روزگار ہے اور نہ زندہ رہنے کا وسیلہ۔ یہ قرض کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اور دنیا سے مدد کا انتظار کر کے تھک چکے ہیں۔ شکستہ وعدوں اور مایوسی کے اندھیروں نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے‘‘ ۔ روہنگیا آبادی کی بحالی کا منصوبہ فنڈز کی مسلسل کمی کا شکار رہتا ہے۔ گذشتہ اگست تک درکار امداد کا صرف ۲۵ فی صد ہی مہیا ہو سکا۔ اب تک حاصل ہونے والی رقم ۳۵ سینٹ (۶۰روپے)  یومیہ فی مہاجر بنتی ہے۔

ایجی لینڈ نے کہا:’’میں بنگلہ دیش سے باہر بین الاقوامی قیادت کی اس مسئلے میں عدم دلچسپی دیکھ کر شدید مایوس ہوا ہوں۔ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے اور اس سیاسی بحران کو ختم کرنے کے بجائے ہماری قیادتوں کے درمیان بے حسی کا مقابلہ چل رہا ہے۔جو لوگ باہر کہیں پناہ ڈھونڈنے نکلتے ہیں انھیں اُلٹا زبردستی واپس دھکیل دیا جاتا ہے۔چین اور اس علاقے کے ممالک کو مل کر اس مسئلے کے حل پر غور کرنا چاہیے۔ روہنگیا مہاجرین ایک گہری کھائی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اگر ہم نے ان کا ہاتھ نہ تھاما اوراگر ہم اس ظلم کو یونہی خاموشی سے دیکھتے اور برداشت کرتے رہے تو آیندہ نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی کہ ہم کو جو کہنا چاہیے تھا، وہ نہیں کہا اور جو کرنا چاہیے تھا، وہ ہم نے نہیں کیا‘‘۔

بنگلہ دیش کی طرف روہنگیا مسلمانوں کی پہلی بڑی ہجرت ۱۹۷۸ء میں ہوئی۔اس کے بعد ۹۰ء کے عشرے کے آغاز میں اور پھر ۲۰۱۷ء میں بڑے پیمانے پر یہ ہجرت عمل میں آئی۔  روہنگیا مہاجرین کی اکثریت مسلمان ہے۔

روہنگیا آبادی ’راکھائن‘ کے علاقے سے سرحد کو پار کر کے اس طرف کاکس بازار میں آباد ہوئی ہے اور یہ شہر مہاجرین کی مسلسل آمد کے باعث آبادی کے بے پناہ دبائو کا شکار ہو چکا ہے۔ اب بنگلہ دیشی حکومت مہاجرین کو جزیرہ ’بھاشن چار‘ پر منتقل کرنے کا سوچ رہی ہے۔

۲۰۱۷ء کی بڑی نقل مکانی سے پہلے بھی کاکس بازار کے کیمپوں’کٹاپالونگ‘ اور’ نیاپرا‘ میں ہزاروں روہنگیا مہاجرین موجود تھے۔ اکثر فلاحی تنظیمیں مثلاً UNHCR وغیرہ چاہتی ہیں کہ روہنگیا برادری امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارے۔لیکن بنگلہ دیش کی کمزور معیشت اتنے مہاجرین کو سہارا دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ عالمی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق ڈھاکا میں غربت کی شرح ۳۵ فی صد ہے اور کاکس بازار میں۸۵ فی صد۔ اس پر مستزاد یہ خطہ قدرتی آفات مثلاً سیلاب اور سمندری طوفانوں کی زد میں رہتا ہے،جب کہ یہاں بنیادی صحت اور تعلیم کا نظام بھی موجود نہیں۔

اس وقت بنگلہ دیش میں بنیادی ضروریات کی قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ بالائی درمیانہ طبقہ بھی سخت متاثر ہو رہا ہے۔ بہت سے کاروبار بند ہو چکے ہیں اور بے روزگاری میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ ۲۰۱۹ء کی ۴ء۳ فی صد شرح بے روزگاری ۲۰۲۰ء میں بڑھ کر۵ء۳  فی صد ہو چکی ہے۔بہت سے کاروبار جو بند ہو گئے تھے وہ دوبارہ شروع نہیں ہو رہے، کیونکہ کوئی سرمایہ موجود نہیں ہے۔

کاروبار شروع یا بحال کرنے کے لیے بنکوں سے قرضہ لینا انتہائی مشکل ہے۔ اس کی ایک وجہ بنگلہ دیش میں ہر طرف پھیلی بدعنوانی ہے اور دوسری وجہ فرسودہ بنکاری نظام۔ پھر بیرونِ ملک سے ہونے والی ترسیلات زر (Remittances) میں کمی نے ہلاکر رکھ دیا ہے، جن پر بنگلہ دیشی معیشت بڑی حد تک منحصر ہے۔

سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ معاشی تباہی کے شکار روہنگیا مسلمانوں کی خواتین کے ایک حصے میں جسم فروشی زہر بن کر پھیل رہی ہے۔ اس موضوع پر شائع شدہ تحقیقی رپورٹوں میں اتنے شرمناک اعدادوشمار اور تفصیلات درج ہیں کہ ہم انھیں یہاں پر پیش کرنے کی ہمت نہیں پاتے۔

فی الحال اس سیاہ رات کے بعد کسی دن کا اُجالا نظر نہیںآتا۔ لاکھوں مہاجرین کو گن پوائنٹ پر واپس راکھائن کی طرف دھکیلنے کے بجائے اس مسئلے کا کوئی قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے۔

اس وقت کیفیت یہ ہے:

  • میانمار کے مختلف حصوں میں جاری شدید جھڑپوں کے بعد وہاں انسانی حقوق کی صورتِ حال دگرگوں ہو چکی ہے۔ جس کے نتیجے میں شہریوں کی املاک کے مزید نقصان اور مزید نقل مکانی کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔انسانی زندگی کو مزید خطرے درپیش ہیں اور پہلے سے خراب صورتِ حال مزید خراب ہو رہی ہے۔
  • پورے میانمار میں اس وقت تک مجموعی طور پر ۱۳ لاکھ سے زیادہ لوگ دربدر ہو چکے ہیں۔ اس میں گذشتہ سال ہونے والے فوجی شب خون کے بعد نقل مکانی کرنے والے ۸ لاکھ  ۶۶ہزار  لوگ بھی شامل ہیں۔
  • ایک کروڑ ۴۰ لاکھ سے زائد کی آبادی کو زندہ رہنے کے لیے ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔
  • اس صورتِ حال سے نپٹنے کے لیے جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس کے لیے درکار رقم کا صرف ۱۷فی صد ہی مہیا ہو سکا ہے۔ مہاجرین کی مدد کے لیے پہنچنے کی راہ میں درپیش مشکلات کے باوجود، کئی فلاحی تنظیمیں شدید خطرات میں گھری آبادی کو انتہائی بنیادی ضروریات مہیا کرنے میں مصروف ہیں۔

(ریلیف ویب اور روزنامہ اسٹار، اور سودا دیس رائے کی معلومات سے بھی استفادہ کیا گیا ہے)۔

یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ برطانوی شہر لیسٹر میں جب ستمبر میں اس ملک کی تاریخ میں پہلی بار ’ہندو- مسلم فساد‘ برپا ہوا۔ اس سے قبل ہندوانتہا پسندوں کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ  (RSS) کے کئی لیڈروں نے برطانیہ کا دورہ کیا۔ یہ فساد ٹھیک اسی طرح کیا گیا، جس طرح عام طور پر بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کروانے کے لیے بہانہ سازی کی جاتی ہے ، یعنی یہ کہ مسلم علاقوں سے زبردستی جلوس نکال کر، اور جان بوجھ کر اشتعال انگیز نعرے بلند کرکے مسلمانوں کو رد عمل پر مجبور کیا جاتاہے۔ بھارت میں ہونے والے تقریباً تمام فسادات کی یہ کہانی ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ کبھی رام نومی، تو کبھی گنیش، تو بھی کسی اور جلوس کو زبردستی مسلم علاقوں سے گزارنا ، یا کسی مسجد کے پاس عین نماز کے وقت اس جلوس کو روک کر بلند آواز میں میوزک بجانا وغیرہ ۔ پھر ایسے جلوس یا فساد سے قبل اسی شہر یا علاقے میں آر ایس ایس یا اس سے وابستہ کسی تنظیم کا اجتماع ہوتا تھا اور واردات کے وقت پولیس دانستہ طور پر غائب ہوجاتی تھی، تاکہ فسادیوں کو کھل کھیلنے کا موقع دیا جائے ۔ پولیس کی آمد کا وقت بھی اس بات پر منحصر ہوتا ہے، کہ فساد میں کس کا پلڑا بھاری ہو رہا ہے ، اور پھر موقع پر پہنچ کر پولیس اُجڑے پجڑے مسلمانوں ہی کو غضب کا نشانہ بناتی ہے ۔ ایک سینئر پولیس آفیسروبھوتی نارائین رائے نے فسادات میں بھارتی پولیس کے اس رویے پر ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔

بھارت میں ’جیتند نارائین کمیشن‘ سے لے کر ’سری کرشنا کمیشن‘ تک، یعنی فسادات کی تحقیق کےلیے جتنے بھی کمیشن یا کمیٹیاں آج تک بنی ہیں ،ان سب نے آر ایس ایس یا اس سے وابستہ کسی نہ کسی تنظیم کو قتل و غارت یا لوٹ مار کا ذمہ دار ٹھیرایا ہے ۔ مگر دوسرے یورپی ممالک ویزا حاصل کرنے والے مسلمانوں سے لمبی چوڑی ضمانتیں اور بیان حلفی لیتے ہیں کہ ان کا تعلق کسی انتہاپسند تنظیم یا کسی بنیاد پرست سوچ کی حامل تنظیم سے تو نہیں ہے؟ مگر دوسری طرف انھوں نے ہندو انتہاپسند تنظیموں کو اس زمرے سے خارج کیا ہوا ہے ۔ ایل کے ایڈوانی اور بی جے پی کے حامی تجزیہ کار بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جرمنی کی کرسچن ڈیموکریٹ یا برطانیہ کی ٹوری پارٹی سے تشبیہہ دیتے ہیں ۔ مگر یہ بات کہتے وقت وہ بھول جاتے ہیں کہ بی جے پی کی کمان اس کے اپنے ہاتھوں میں نہیں ہے ، بلکہ اس کی طاقت کا اصل سرچشمہ اور نکیل ہندو قوم پرستوں کی سرپرست ایک فاشسٹ اور نسل پرست تنظیم آر ایس ایس کے پاس ہے۔ جو فی الوقت دنیا کی سب سے بڑی خفیہ تنظیم ہے، جس کے مالی وانتظامی معاملات کے بارے میں بہت ہی کم معلومات منظر عام پر موجود ہیں ۔ چند برس قبل تو برطانیہ کی ہندو ممبر پارلیمنٹ پریتی پٹیل نے آرایس ایس کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری دتارے ہوشبولے کی برطانیہ آمد کے موقعے پر برطانوی حکومت سے درخواست کی تھی، کہ ان کا استقبال کیا جائے ۔ آر ایس ایس کی بیرو ن ملک شاخ ’ہندو سیوا سنگھ‘(HSS) نے ہوشبولے کو لندن میں ایک پروگرام RSS: A Vision in Action کی صدارت کےلیے مدعو کیا تھا ۔

 حیرت کا مقام ہے کہ مغرب نے جس فاشسٹ نظریے کو ۱۹۴۵ء میں شکست دے کر ایک جمہوری، لبرل اور تکثیری معاشرے کو تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کی تھی، انھوں نے آخر کس طرح بھارت میں پروان چڑھتے وحشت ناک فاشز م سے نہ صرف آنکھیں بندکرلی ہیں ، بلکہ ا پنے ملکوں میں بھی اس نظریے کی اشاعت و تقویت کی اجاز ت دے کر اس سے وابستہ لیڈروں کو گلے بھی لگا رہے ہیں۔

برطانیہ میں رُونما ہونے والے ان فسادات سے عندیہ ملتا ہے کہ ’ہندو توا نظریے‘ نے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں میں جگہ بنا کر دُنیا کے مؤثر ممالک کی سرحدیں عبور کر لی ہیں ۔ برطانیہ میں بھارتی نژاد آبادی کل آبادی کا ۲ء۵ فی صد اور پاکستانی نژاد۵ء۱ فی صد ہے۔ امریکا میں ۲ء۷ملین بھارتی نژاد آبادی ہے ۔ میکسیکن کے بعد شاید تارکین وطن کی یہ سب سے بڑی آبادی ہے اور یہ خاصے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ عہدوں پر براجماں ہیں ۔ آر ایس ایس کی دیگر شاخیں یعنی ’ویشوا ہندو پریشد‘ (VHP) بھی ان ملکوں میں خاصی سرگرم ہے۔ یاد رہے کہ یہ تنظیم ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کی شہادت میں شامل تھی، جس کی وجہ سے اس پر بھارت میں کچھ سال تک پابندی بھی لگی تھی ۔ اس دوران جب پولیس اور دیگر تفتیشی اداروں نے اس کے دفاتر کی دہلی اور دیگر شہروں میں تلاشی لی، تو معلوم ہوا کہ بابری مسجد کی مسماری کےلیے بڑے پیمانے پر فنڈنگ یورپ اور خلیجی ممالک ہی سے آئی تھی۔

دراصل ونایک دمودر ساوارکر [م:۱۹۶۶ء] جو ’ہندو توا نظریہ‘ کے خالق ہیں ، انھوں نے ہندوؤں پر زور دیا تھا کہ وہ نئی زمینیں تلاش کرکے ان کو نو آبادیوں میں تبدیل کریں ۔ ان کو رہ رہ کر یہ خیال ستاتا تھا کہ مسلمان او ر عیسائی دنیا کے ایک وسیع رقبہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہندو صرف جنوبی ایشیا میں بھارت اور نیپال تک ہی محدود ہوکر رہ گئے ہیں ۔ اپنی کتابEssentials of Hindutva میں وہ آر ایس ایس کے اکھنڈ بھارت کے فلسفے سے ایک قدم آگے جاکر عالمی ہندو نظام یا عالمی ہندو سلطنت کی وکالت کرتے ہیں ۔ ایک صدی بعد اس وقت آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں اس نظریے کو عملاً نافذ کروانے کا کام کررہی ہیں۔

اگرچہ یہ تنظیمیں یورپ میں ۱۹۶۰ء ہی سے کام کرتی آرہی ہیں، مگر ان کا دائرہ ۲۰۱۴ء میں مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بڑا وسیع اور فعال ہو گیا ۔ آر ایس ایس، ایچ ایس ایس اور دیگر تنظیمیں اب ۴۸ممالک میں سرگرم ہیں۔ امریکا میں ’ہندوسیوا سنگھ‘ نے ۳۲ریاستوں میں ۲۲۲شاخیں قائم کی ہیں اور اپنے آپ کو ہندو فرقہ کے نمائندہ کے بطور پیش کیا ہوا ہے ۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں بھی وہ سرگرم ہیں ۔ ابھی حال ہی میں آر ایس ایس کے تھینک ٹینک ’انڈیا فاؤنڈیشن‘ کے ذمہ داروں نے ترکیہ کا دورہ کرکے وہاں حکومتی شخصیات اور تھینک ٹینک کے ذمہ داروں سے بات چیت کی، جو اپنی جگہ نہایت چونکا دینے والا واقعہ ہے اور اس کا نوٹس لینے کی اشد ضرورت ہے۔

آر ایس ایس افریقی ملک کینیا کے اندر بھی کافی مضبوط پوزیشن اختیار کرچکی ہے ۔ کینیا میں اس کی شاخوں کا دائرۂ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ، یوگنڈا، موریشس اور جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا ہے، اور وہ ان ممالک کے ہندوؤں پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔

حیران کن بات یہ کہ ان کی پانچ شاخیں مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک میں بھی ہیں ۔ چوں کہ عرب ممالک میں جماعتی اور گروہی سرگرمیوں کی کھلی اجازت نہیں ہے، اس لیے وہاں کی شاخیں خفیہ طریقے سے گھروں تک محدود ہیں اور اکثر یوگا کے نام پر اجتماع منعقد کرتے ہیں ۔ فن لینڈ میں ایک الیکٹرونک شاخ ہے، جہاں ویڈیو کیمرے کے ذریعے بیس ممالک کے افراد جمع ہوتے ہیں ۔ یہ ممالک وہ ہیں جہاں پر آر ایس ایس کی باضابطہ شاخ موجود نہیں ہے ۔

امریکی تنظیم کی ایک رپورٹ Hindu Nationalist Influence in The US  میں بتایا گیا کہ ۲۰۰۱ءسے ۲۰۱۹ء تک آر ایس ایس سے وابستہ سات تنظیموں نے امریکا میں۱۵۸ء۹ ملین ڈالر اکٹھے کیے، جس میں اکثر رقم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے پر خرچ کی گئی۔ پھر ۱۳ ملین ڈالر ایک تنظیم Civilization Foundation کو دیئے گئے، تاکہ امریکی یونی ورسٹیوں میں تحقیقی کاموں پر اثر انداز ہوں ۔ ٹیکس گوشواروں کے مطابق ایک تنظیم ’اوبیرائی فاونڈیشن‘ نے امریکی ریاستوں میں نصابی کتابوں اور اساتذہ کی تربیت پر ۶ لاکھ ڈالر خرچ کیے، ان میں سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کیلے فورنیا کے اسکولوں پر خرچ کیے گئے ۔ اسی تنظیم نے سان ڈیاگو اسٹیٹ یونی ورسٹی کو تحقیق کے لیے ایک بڑی بھاری رقم دی۔ جس میں سکھ مت، جین مت، بدھ مت اور ہندو مت کی چار دھرم روایات میں کام کرنے والے اسکالرزکے بارے میں معلومات کا ڈیٹا بیس بنانے کا ایک پروجیکٹ بھی شامل تھا ۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق کئی تنظیموں کو بھارتی حکومت نے ہرماہ ۱۵ہزار سے ۵۸ہزار ڈالر مختلف امریکی ادارو ں میں لابی کرنے کےلیے دیئے ۔ امریکا میں سرگرم آرایس ایس سے وابستہ ۲۴تنظیموں نے اپنے گوشواروں میں ۹۷ء۷ ملین ڈالر اثاثے ظاہر کیے ہیں ، جس میں ’ویشوا ہندو پریشد‘ کی امریکی شاخ کے پاس ۵ء۳ملین ڈالر تھے ۔ نومبر ۲۰۲۰ءکو سنگھ نے دیوالی منانے کےلیے ایک ورچوئل جشن منعقد کیا، جس میں سان فرانسسکو کے آٹھ میئرز اور دیگر منتخب افراد نے شرکت کی۔۲۰۰۱ء اور ۲۰۲۲ء کے دوران سنگھ سے منسلک پانچ اداروں: ’ایکل ودیالیہ فاوَنڈیشن آف یو ایس اے‘، ’انڈیا ڈویلپمنٹ اینڈ ریلیف فنڈ‘، ’پرم شکتی پیٹھ‘، ’سیوا انٹرنیشنل‘، ’امریکا کی وشوا ہندو پریشد‘ کے ذریعے امریکا سے ۵۵ملین ڈالر بھارت منتقل کیے گئے ۔ یہ سبھی تنظیمیں بھارت میں اقلیتوں پر حملوں اور سماجی خلیج وسیع کرنے کی ذمہ دار ہیں ۔

بھارتی تارکین وطن کا دوغلا پن اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن ممالک میں یہ رہتے ہیں وہاں پر تو وہ لبر ل اور جمہوری نظام کے نقیب اور اقلیتوں کے محافظ کے طورپر اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، مگر بھارت میں ان کا رویہ اس کے برعکس رہتا ہے ۔ مغرب یا خلیجی ممالک میں وہ غیر سرکاری تنظیموں کو کام کرنے کی آزادی کے خواہاں ہیں ،مگر بھارت میں مودی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق و دیگر ۲۵۰غیرسرکاری تنظیموں پر بیرون ملک سے فنڈ حاصل کرنے پر پابندی لگانے کی حمایت کرتے ہیں ، حتیٰ کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے کے اثاثے بھارت میں منجمد کردیئے  گئے ہیں۔ کسی اور ملک میں اس طرح کا اقدام تو عالمی پابندیوں کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔ بھارتی تارکین وطن اور سفارت کار دنیا بھر میں مہاتما گاندھی کو اخلاقیات کے ایک اعلیٰ نمایندے کے طور پر پیش کرتے ہیں ، مگر اپنے ملک میں اسی گاندھی کے قاتل ناتھو را م گوڑسے اور اس قتل کے منصوبہ سازوں ، جن میں ویر ساواکر اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں ، ان کی پذیرائی کرتے ہیں ۔

کانگریس پارٹی کی بیرون ملک شاخ کے ایک لیڈر کمل دھالیوال کے مطابق جو طالب علم آج کل بھارت سے یورپ یا امریکا کی درسگاہوں میں آتے ہیں ، لگتا ہے کہ جیسے ان کا ’غسلِ ذہنی‘ (برین واشنگ) کی گئی ہو ۔ صحافی روہنی سنگھ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ نظریاتی طور پر ان کی پرورش ہندو قوم پرستی کے سخت خول میں ہوئی ہے اور وہ اس نظریے کو اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں ، جس میں مسلمانوں کے ساتھ نفرت کا عنصر بڑا نمایا ں ہوتا ہے ۔ ان میں سے ہرفرد بھارت سے چلنے والے کسی نہ کسی ’وٹس ایپ گروپ‘ کا ممبر ہوتا ہے، جہاں اقلیتوں کے خلاف روزانہ شرمناک ہرزہ سرائی کی جاتی ہے ۔

معروف قانون دان اے جی نورانی نے اپنی ضخیم تجزیاتی اور تحقیقی کتابThe RSS: A Menace to India میں لکھا ہے کہ اس تنظیم کی فلاسفی ہی فرقہ واریت، جمہوریت مخالف اور فاشزم کی اشاعت و ترویج پر ٹکی ہے ۔ سیاست میں چونکہ کئی بار سمجھوتوں اور مصالحت سے کام لینا پڑتا ہے، اس لیے اس میدان میں براہِ راست کُودنے کے بجائے اس نے فرنٹ آرگنائزیشن کے طور پر پہلے۱۹۵۱ء میں جن سنگھ اور پھر ۱۹۸۰ء میں بی جے پی تشکیل دی ۔ بی جے پی پر اس کی گرفت کے حوالے سے نورانی کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ایما پر اس کے تین نہایت طاقت ور صدور ماولی چندر ا شرما، بلراج مدھوک اور ایل کے ایڈوانی کو برطرف کیا گیاتھا ۔ ایڈوانی کا قصور صرف یہ تھا کہ ۲۰۰۵ء میں کراچی میں اس نے بانی ٔپاکستان محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دے کر ان کو ایک عظیم شخصیت قرار دیا تھا ۔

۲۰۱۹ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو آر ایس ایس اور اس کے عزائم سے خبردار کیا تھا ۔ اس تقریر کے وسیع اثرات کو زائل کرنے کے لیے آرایس ایس کے سربراہ کو پہلی بار دہلی میں غیر ملکی صحافیوں کے کلب میں آکر میٹنگ کرکے وضاحتیں دینی پڑیں ۔ ورنہ آر ایس ایس کا سربراہ کبھی میڈیا کے سامنے پیش نہیں ہوتا۔ مگر شاید پاکستانی حکمرانوں کی تقدیر میں گفتار کے غازی کا ہوناہی لکھا ہے یا وہ صرف ایونٹ مینجمنٹ پر یقین رکھتے ہیں اور اس لیے ہمیشہ کی طرح تقریر کے بعد واہ واہ لوٹ کر خوش ہو جاتے ہیں ۔ اپنی تقریر کا فالو اَپ کرنے کی ان کو توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔ کیا وقت نہیں آیا ہے کہ مغرب کو بتایا جائے کہ جس فاشزم کو انھوں نے شکست دی تھی، وہ کس طرح ان کے زیرسایہ، خود اُن کی جھولی میں کس طرح دوبارہ پنپ رہا ہے، اورجو بہت جلد امن عالم کےلیے ایک شدید خطرہ ثابت ہو سکتا ہے؟

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے حادثے کے بعد سے امریکی مراکز تحقیق نے مسلم ممالک میں رائے عامہ کے رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لینا شروع کر دیا تھا اور امریکی پالیسی سازوں کو مشرق وسطیٰ میں پائے جانے والے عوامی رجحانات پر کڑی نظر رکھنے کے لیے زور دینا شروع کیا تھا۔ مسلم ممالک میں رائے عامہ کا سروے اور جائزہ لینے والے اہم ترین اداروں میں سے ایک ادارہ ’گیلپ انٹرنیشنل‘ہے۔ اس سروے کمپنی کا ہیڈکوارٹر واشنگٹن میں ہے۔ دوسرا ادارہ مرکز ’پیو‘ (PEW سینٹر) بھی ہے۔  ان اداروں نے متعدد ممالک میں رائے عامہ جاننے کا کام کیا ہے۔

ان مراکز کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک کے بعد ایک سروے رپورٹیں یہ واضح کرتی ہیں کہ مسلم ممالک کے عوام کے ذہنوں میں امریکا کی تصویر منفی ہے۔ ’’پیو‘‘ سینٹر کی ۲۰۰۲ء کی سروے رپورٹ میں ۶۹ فی صد مصریوں ، ۷۵ فی صد اردنی، ۵۹ فی صد لبنانی، ۶۹فی صد پاکستانی اور ۵۵ فی صد ترکوں نے واضح انداز میں امریکی پالیسیوں سے اپنی مخالفت ظاہر کی ہے۔ اسی طرح رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت امریکی افکارو عادات کے بارے میں یہ خیال کرتی ہے کہ وہ ان کے معاشروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

  • امریکا اور دیگر ممالک کے حقیقی مفادات: امریکی مراکز تحقیق نے عوامی رجحانات پر امریکی خارجہ پالیسی کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے امریکا بے زاری کے عام رویے کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ان عوامل کو، جو اسلامی ممالک میں امریکی پالیسی سے عوامی مخالفت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، اس طرح مرتب کیا ہے:اسرائیل کے لیے امریکا کی مسلسل تائید و حمایت، فلسطینی عوام کے حقوق سے دانستہ غفلت، فلسطین میں غاصب افواج کو اسلحے کی فراہمی تاکہ یہ افواج فلسطینیوں کے خلاف قتل عام کا ارتکاب کر سکیں، امریکا کی طرف سے مسلم ممالک کے حقیقی مفادات سے لاپروائی، یہ احساس کہ امریکا اہل ثروت اور غریبوں کے درمیان خلیج کو وسیع کرنے کا کام کرتا ہے، اور عالمی مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرتا۔
  • عراق کے خلاف امریکی جارحیت کے اثرات: پہلے ۱۹۹۱ء میں اور پھر ۲۰۰۳ء میں عراق کے خلاف امریکی جارحیت کے بعد سے مسلم دُنیا میں امریکا دشمنی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ لہر مشرق وسطیٰ سے نکل کر خاص طور سے انڈونیشیا تک پہنچ گئی ہے، جہاں کے متعلق سروے رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ محض ۱۵ فی صد انڈونیشیائی عوام امریکی خارجہ پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔
  • گیلپ سروے: گیلپ انٹرنیشنل نے جو سروے کیا ہے وہ بھی یہ واضح کرتا ہے کہ عالم اسلام میں امریکا کی خارجہ پالیسی کو مسترد کرنے والوں کا تناسب ۳۳ اور ۷۰ فی صد کے درمیان ہے۔ مجموعی طور پر ۸۵ فی صد مسلمانوں نے امریکی پالیسی کو مسترد کرنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ امریکی حکومت اسلامی عقائد و اقدار کا احترام ملحوظ نہیں رکھتی اور نہ مسلمانوں کے ساتھ مبنی برانصاف معاملہ کرتی ہے۔

ادارہ ’زغبی‘ کے سروے نتائج بھی ’پیو‘ اور ’گیلپ‘ کے سروے نتائج ہی کی طرح کے ہیں۔ اس ادارے کے ذریعے کیے جانے والے سروے سے یہ واضح ہوا ہے کہ مسلم ممالک میں امریکی خارجہ پالیسی کو مسترد کرنے والوں کا تناسب ۴۸ اور ۸۷ فی صد کے درمیان ہے۔

  • پبلک ڈپلومیسی میں سرمایہ کاری: ان نتائج نے امریکی انتظامیہ کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس رقم میں اضافہ کرے جو اس نے این جی اوز کی سرگرمیوں کے لیے مخصوص کی ہے۔ اسی طرح اس نے اہل علم اور پالیسی سازوں کے درمیان اس موضوع پر مباحثے کرائے ہیں کہ عالم اسلام کی رائے عامہ پر ٹی وی خبروں کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ ان مباحثوں میں امریکی محققین نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ امریکی اقدار کو پھیلاکر اور امریکی خارجہ پالیسی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرکے مسلم دُنیا کے عوام کو کیسے متاثر کیا جاسکتا ہے؟

اس صورت حال کی روشنی میں امریکا نے پبلک ڈپلومیسی کے لیے اپنا اسٹرے ٹیجک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کے لیے اس نے متنوع قسم کی تعلیمی، تدریسی، تحقیقی، ابلاغی اور ثقافتی سرگرمیوں کا سہارا لیا ہے۔ عوامی رجحانات پر اثرانداز ہونے کے ہدف کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے اندر بہت سا جھوٹا سچا مواد پھیلایا ہے اور ان کے ذہنوں میں امریکا کی مثبت تصویر کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے ان سرگرمیوں کو منظم کیا ہے۔ پبلک ڈپلومیسی ایجنسی اور امریکی انفارمیشن ایجنسی پر اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ پھر ایک کا م یہ کیا ہے کہ پبلک ڈپلومیسی سے متعلق انڈر سکریٹری کے درجے کا عہدے دار متعین کیا ہے اور مسلم دُنیا کی فکر و رائے پر اثر انداز ہونے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔

  • ذرائع ابلاغ اور امریکی صورت گری: اہم بنیادی کام جو امریکی حکمت عملی نے انجام دیے ہیں ، ان میں سے ایک عالم اسلام کے عوام تک براہ راست اور بالواسطہ پہنچنے کے لیے ذرائع ابلاغ کا استعمال ہے۔اس کے تحت اس نے ریڈیو اسٹیشن قائم کیے ہیں، ٹی وی چینل اور انٹرنیٹ پر ویب سائٹ بنائی ہیں۔ ایسی بہت سی فلمیں بنائی ہیں اور کثیر تعداد میں کتابیں اور مجلّوں کا اجرا کیا ہے۔ نوجوانوں، خاص طور سے کم عمر نوجوانوں کو ہدف بنا کر ثقافتی اور میڈیائی مواد تیار کیا ہے۔

اس منصوبے میں وہ سرگرمیاں بھی شامل ہیں، جن کا ہدف مسلم ممالک کے صحافیوں پر اثرانداز ہوکر انھیں امریکی نقطۂ نظر اختیار کرنے اور امریکی پالیسی کا دفاع کرنے کے ساتھ اس بات پر مجبورکرنا بھی ہے کہ وہ واقعات کی رپورٹنگ کے لیے امریکی مآخذ و مصادر پرانحصار کریں۔

مسلم ممالک کے عوام پر اثرانداز ہونے کی امریکی حکمت عملی کا ایک حصہ جدید وسائل ابلاغ، مثلاً ریڈیو ’سوا‘ اور ’الحرۃ‘ چینل کا قیام بھی ہے۔ البتہ رائے عامہ کو متاثر کرنے کی غرض سے مسلم عوام کو ہدف بنانے والے ذرائع ابلاغ میں امریکی سرمایہ کاری کے باوجود ایسے کئی سوالات موجود ہیں، جن کے جوابات تلاش کرنے کے لیے گہرے مطالعے اور جائزے کی ضرورت ہے۔ ایک اہم ترین سوال یہ ہے کہ مسلم دُنیا میں اپنی تصویر کو بہتر بنانے کے سلسلے میں امریکا کو کہاں تک کامیابی مل سکی ہے اور مسلم عوام سے اپنی خارجہ پالیسی کو قبول کروانے میں کس حد تک کامیاب ہوسکا ہے؟

  • میڈیائی ڈپلومیسی:خارجہ پالیسی کی مارکیٹنگ اور عالم اسلام کے ذہن میں اپنی مثبت تصویر بنانے کے لیے امریکا نے میڈیائی ڈپلومیسی کا سہارا لیا ہے۔ اس نے نوجوانوں اور خاص طور سے کم عمر بچوں کو ہدف بنایا ہے۔ اسی طرح عام ڈپلومیٹک سرگرمیوں اور میڈیائی ڈپلومیسی کے درمیان ربط قائم کرنے کا راستہ کھولا ہے۔

ایسے پہلو بڑے واضح طور پر سامنے ہیں، جن کے مطابق مسلم ممالک میں امریکی خارجہ پالیسی نے وہاں کے ذرائع ابلاغ پر اثر انداز ہونے میں کامیابی حاصل کی ہے اور حالات و واقعات کی رپورٹنگ امریکی نقطۂ نظر کے مطابق کرنے کے سلسلے میں وہاں کے صحافیوں کو بھی اپنے زیر اثر لے لیا ہے۔

  •  نئے مطالعے و جائزے کی ضرورت:سوال یہ ہے کہ کیا امریکی حکمت عملی واقعی مسلم عوام کو متاثر کرنے اور ان کے ذہنوں اور دلوں کو اپنی مٹھی میں کر لینے میں کامیاب ہوئی ہے؟ اس جائزے کے لیے غیر امریکی محققین کی ضرورت ہے، جو بڑی حد تک آزادی اور مستقل مزاجی سے ہم آہنگ ہوں تاکہ مسلم ممالک کی رائے عامہ کے سلسلے میں تحقیقات کر سکیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس نوعیت کے رائے عامہ کے جائزے کےلیے کیے جانے والے سروے اور امریکی پراپیگنڈے کا تجزیہ کیا جائے۔
  • اسلامی اقدار سے دشمنی:گیلپ سروے کی جانب پلٹ کر دیکھیں تو یہ اہم نتائج سامنے آتے ہیں کہ ۸۵ فی صد عوام یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا اسلامی عقائد و اقدار کا احترام نہیں کرتا ہے اور نہ مسلمانوں کے ساتھ مبنی برانصاف معاملہ کرتا ہے۔ یہ نتائج ممکن ہے کہ امریکا کو اپنی پالیسی اور عالم اسلام کے سلسلے میں اپنے موقف کا جائزہ لینے پر مجبور کر دیں، اس لیے کہ اسلام کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا ہی وہ واحد راستہ ہے جو اسے مسلمانوں کے دلوں میں جگہ دے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ امریکا اپنے غرور اور جانب دارانہ رویے کو ترک کرے۔

لیکن اگر ہم امریکی ٹیلی ویژن چینلوں کے توسط سے پیش کیے جانے والے مواد کا تجزیہ کریں تو نتیجہ یہ سامنے آئے گا کہ یہ چینل، بالخصوص ’الحرۃ‘ ، ہنوز اسلامی عقیدے اور اسلامی اقدار کے خلاف نفرت کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ان چینلوں کے کچھ براڈکاسٹرز مستقل طور پر اسلام کے خلاف مسلسل حملہ آور رہتے ہیں۔اس طرح وہ امریکا کی تصویر یہ پیش کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دشمن ہے، اور یہ چیز مسلم ممالک میں امریکا کے خلاف دشمنی کو ہی ہوا دے گی۔

یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ امریکا ان چینلوں پر دل کھول کر خرچ کرتا اور تکنیکی صلاحیتیں فراہم کرتا ہے لیکن اتنا کافی نہیں ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سنت نبویؐ کی صحت پر شکوک و شبہات پیدا کرنے اور اسلامی عقائد و اقدار کا مذاق اڑانے والے پروگراموں کو دیکھ کر امریکا کے خلاف دشمنی میں اضافہ ہی ہوگا۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا اوصاف ہیں جن کی بنیاد پر امریکا، مسلم دُنیا میں اپنی صورت گری کرنا چاہتا ہے؟ کیا وہ یہی چاہتا ہے کہ مسلم عوام کے سامنے خود کو اس حیثیت سے پیش کرے کہ وہ اسلام دشمن ہے؟اور کیا وہ یہی چاہتا ہے کہ وہ اپنے نبیؐ کی سنت سے پلہ چھڑا لیں؟

  • میڈیائی ڈپلومیسی کا مستقبل: اسی طرح رائے عامہ کا جائزہ لینے والے مراکز کو بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ عوام پرپڑنے والے ثقافتی اور میڈیائی مواد اور پروگراموں کے اثرات کے سلسلے میں حقائق کا پتہ لگانے کے لیے اپنے مطالعہ و جائزے اور اسلوب کو بہتر بنائیں۔ مثبت تصویر کی تشکیل محض ذرائع ابلاغ کی فراہمی پر ہی منحصر نہیں ہوا کرتی، نہ صرف مواد و مضمون کی تیاری میں جدید ترین ٹکنالوجی کے استعمال پر منحصر ہوا کرتی ہے، بلکہ اس کے لیے عوامی ضرورتوں اور رجحانات کا علمی جائزہ لینے اور عوام کے ساتھ احترام سے پیش آنے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔

اور کیا معلوم کسی وقت امریکا پر یہ منکشف ہو جائے کہ ’الحرۃ‘ جیسے چینلوں نے براڈکاسٹر کو سنت نبویؐ پرحملہ آور ہونے ، اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور اسلام کو حقارت کے ساتھ پیش کرنے کی اجازت دے کر امریکا کی تصویر کو بگاڑنے اور اس کے خلاف عوام دشمنی میں اضافہ کرنے میں حصہ لیا ہے۔

پاکستان کے وسیع و عریض رقبے پر کھڑا سیلابی پانی اترنا شروع ہوچکا ہے۔ ہر طرف تباہی و بربادی کے افسانے بکھرے ہوئے ہیں۔ ڈیڑھ ہزار لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں،جب کہ ۳ء۳ کروڑ لوگ متاثر ہیں جن کے گھر، کھیت، کاروبار اور مال مویشی تباہ ہو چکے ہیں۔ اس سانحے نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان بلکہ پوری دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ امسال سیلابوںنے جو تباہی مچائی ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے لیکن یہ یاد رہنا چاہیے کہ پچھلے دو عشروں میں بڑے پیمانے کے سیلابوں کی تعداد دگنا ہو چکی ہے۔ علاوہ بریں ماحولیاتی تبدیلی سے شدید تر متاثر ہونے والے ۱۰ میں سے ۸ ممالک ایشیا میں واقع ہیں۔ اگر اقوام عالم نے اس مسئلے کو سائنسی بنیادوں پر حل کرنے، محفوظ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور قومی استعداد کو بڑھانے کے لیے طویل المدت سرمایہ کاری نہ کی، تو موسمی شدت سے رُونما ہونے والے یہ واقعات بڑھتے ہی جائیں گے۔

ماحولیات کے شعبے میں ہونے والی تمام تر تحقیق اسی بات پر منتج ہوتی ہے کہ اگر انسانیت مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنا چاہتی ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے: ’’عالمی سطح پر خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں کاربن کے اخراج کو کم سے کم کیا جائے‘‘۔

تاہم، سائنس دان ایسے کامیاب طریقے بھی وضع کر چکے ہیں، جنھیں بروئے کار لا کر پاکستان اور دوسرے معاشی پس ماندہ ممالک، ماحولیاتی آفات جیسے سیلاب،شدید گرمی اور خشک سالی کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ حادثات ترقی پذیر ممالک کے نظامِ خوراک، دیہی آبادی اور ماحول پر اثر انداز ہوتے ہوئے انھیں کئی دہائیاں مزید پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر اب ایسے خودکار نظام موجود ہیں جو موسمی حالات کا تجزیہ کرکے حکام کو بہت پہلے ہی کسی متوقع سیلاب سے خبردار کر سکتے ہیں۔یوں حکومت کے پاس لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور اہم شعبوں مثلاً زراعت میں ہنگامی اقدامات کرنے کے لیے زیادہ وقت ہو گا۔

عالمی ادارہ برائے انتظام آب (International Water Management Institute) اور اس کے اشتراک کاروں نے مل کر سیلاب سے متعلق ایسے ماڈل تشکیل دیے ہیں، جن سے  سیلاب کی شدت اور پھیلاؤ کو سمجھنے میں پیشگی مدد ملتی ہے۔

مزید برآں حکومتی مدد سے چلنے والی بیمہ سکیمیں بھی کسی حادثے کے بعد چھوٹے دکان داروں، کسانوں اور کم آمدنی والے گھرانوں کو نقصان سے نپٹنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ برائے انتظام آب اور اس کے مددگار اداروں نے مل کر بنگلہ دیش میں ایسی اسکیمیں متعارف کروائی ہیں، جن کے تحت سیلاب یا مخصوص مقدار میں بارش کی صورت میں کسانوں کو رقم ادا کر دی جاتی ہے، جس سے دیہات میں بسنے والے افراد کی زندگیاں اور کاروبار بچانے میں مدد ملتی ہے اور نتیجتاً نظامِ خوراک اور دستیابی ٔ خوراک پر ان حادثات کا اثر کم ہو جاتا ہے۔۲۰۱۷ء سے ۲۰۲۰ءتک اس سکیم کے ذریعے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ایک لاکھ ۵۰ ہزار ڈالر ادا کیے گئے اور اس رقم سے ۷ہزار خاندانوں نے فائدہ اُٹھایا۔

ایک اور طریقہ یہ ہے کہ سیلابوں سے نپٹنے کے لیے قدرت کے وضع کردہ نظام یا ماحول دوست انفراسٹرکچر کو استعمال کیا جائے۔ مثلاً مرطوب زمینی خطوں (Wetlands) میں پانی کو روکنے اورسیلابی پانی کو جذب کرنے کی قدرتی صلاحیت ہوتی ہے، جسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ۱۹۹۱ء کے معاہدۂ تقسیم آب کی رو سے دریائے سندھ کے پانی پر تمام صوبائی حکومتوں کو مختلف شرح سے حق دیا گیا ہے۔ اسی معاہدے کے مطابق زائد سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کا اختیار بھی صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔تاہم، آج تک قدرتی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے کسی حکومت کی جانب سے پانی کو ذخیرہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

تاہم، حالیہ برسوں میں ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں کے باعث ایسے بہت سے خطے تباہ ہو چکے ہیں۔ انھیں بحال کر کے آیندہ سیلابوں سے بچا جا سکتا ہے۔ جنگلات کی بحالی بھی ماحول کی پائیداری کو بڑھانے، زمینی کٹاؤ کو روکنے اور سیلاب کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ حکومت پاکستان کو واقعی ’بلین ٹری‘ کے نام سے جنگلات کی بحالی اور نئے جنگلات کی کاشت اور جنگلی حیات کی واپسی کا قابلِ عمل منصوبہ شروع کرنا چاہیے۔ساحلی علاقوں میں مینگروف (Mangrove) جنگلات کی کاشت سے ساحلی کٹاؤ سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

پانی سے متعلقہ منصوبوں کی ساخت اور تعمیر میں بھی سائنسی طور پر مصدقہ طریق کار کو استعمال کر کے ماحولیاتی حادثات کے خلاف تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے، مثلاً ڈیموں کا جدید خطوط پر انتظام۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع گومل زم ڈیم کو دیکھ لیجیے۔ انتظامِ آب میں پیش آنے والے مختلف مسائل اس منصوبے کو اپنی پوری استعدادتک پہنچنے سے روک سکتے ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ برائے انتظامِ آب حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر پانی سے متعلقہ منصوبوں کے انتظام کو بہتر بنانے اور ان منصوبوں میں سائنسی معلومات کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی طرح ذخیرۂ آب کے دیگر منصوبوں کا انتظام بہتر بنا کر ہم مقامی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف بہتر تحفظ حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف زرعی شعبے کو بھی ماحول دوست اقدامات کی تشکیل اور نفاذ کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، تا کہ یہ شعبہ خشک سالی اور سیلاب کے نقصانات سے بہتر طور پر  عہدہ برآ ہو سکے۔ مثلاً فصلوں کی ایسی اقسام تیار کی جا سکتی ہیں جو شدید قسم کے موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں تا کہ لوگوں کا روزگار اور خوراک کی دستیابی متاثرنہ ہو۔ اسی طرح زرعی پانی کے انتظام میں بھی جدت لائی جا سکتی ہے، یعنی بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے اور مصنوعی طور پر زیر زمین پانی کی سطح بحال کی جا سکتی ہے۔پاکستان میں یہ سیلاب یقیناً آخری سیلاب نہیں تھا۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ سائنسی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کا بندوبست کیا جائے تا کہ آیندہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

سورۃ الفاتحہ، قرآنِ مجید کی پہلی سورۃ ہے۔ دُنیا کی کئی زبانوں میں اور دُنیاکے کئی ملکوں کے سیکڑوںعلما نے اس کی تفسیر لکھی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد (وائس چانسلر رفاہ انٹرنیشنل یونی ورسٹی، اسلام آباد) نے عام ڈگر سے ہٹ کر سورئہ فاتحہ کے بنیادی موضوعات کو گہرائی اور گیرائی کے ساتھ سمجھانے کے لیے انگریزی داں نوجوان کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ مقالہ تحریر کیا ہے۔ یہ جہاں اسلام کو سمجھنے کے خواہش مند غیرمسلموں کے لیے بے حد مفید ہے، وہیں ہراُس مسلمان طالب علم کےلیے بھی مفید ہے، جو عربی اور اُردو سے بہت کم واقف اور انگریزی میڈیم کے مدارس کا تعلیم یافتہ ہے۔

ابتدا میں دس صفحات پر مشتمل ایک عالمانہ مقدمہ ہے، جو دوسرے مذاہب کی کتابوں کے مقابلے میں قرآن کی اصلی محفوظ زبان اور کلامِ الٰہی کی اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے۔ پھرقرآنی اصطلاحات سےبحث کی گئی ہے۔ پہلی آیت کے سلسلے میں لفظ اِلٰہَ  کی وضاحت کی گئی ہے۔ اسلام میں خدا کے تصورکو دوسرے مذاہب کے تصورات سے موازنہ کرکے سمجھایا گیا ہے۔ قاری کو غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے: کیا ایک سے زیادہ خدا ہوسکتے ہیں؟ کیا خالق اور مخلوق برابرہو سکتے ہیں؟ کیا غیراللہ نے کوئی چیز پیدا کر کے دکھائی ہے؟توحید کی جامعیت کے تصور سے انسانی عقل و خرد پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

قرآن کا آغاز بِسْمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ سے ہوا ہے۔ اللہ کے نام سے ہر کام کا آغاز کرنے سے انسان کے عقل و شعور پر کیا کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ کس طرح اُس کی ذات میں عاجزی، انکساری اور شائستگی پیدا ہوتی ہے؟ کس طرح انسان اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوکر اُس سے اپنا گہرا تعلق قائم کرلیتا ہے؟ اسمِ مبالغہ الرَّحمٰن  اور اسمِ صفت الرَّحیم سے کس طرح اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوقات بالخصوص انسان سے اپنی لامحدودمحبت کا اظہار ہوتا ہے؟ کس طرح اللہ تعالیٰ سے ذہنی، قلبی اور جذباتی تعلق قائم ہوتا ہے؟ کس طرح انسان کے اندر ایک معتدل نفسیاتی کیفیت جنم لیتی ہے؟ اور کس طرح ایک متواضع شخصیت پروان چڑھتی ہے؟یہاں ایسے ہر سوال کا جواب ملتا جاتا ہے۔

ڈاکٹر انیس احمد ایک معلّم، ایک مربی اور ایک مزکی کی حیثیت سے، آہستہ آہستہ قاری کے دل میں بنیادی نکات اور فکر کو راسخ کرتے جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کا قاری پچھلی باتوں  اور نکات کو اچھی طرح سمجھ کر دل و دماغ میں بٹھاتا اور آگے بڑھتا جائے۔

الْحَمْدُلِلّٰہِ  کو وہ تعریف اور شکر کی ایک کامل ثقافت گردانتے ہیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کئی خدائوں کے درمیان کوئی بڑا خدا نہیں ہے، بلکہ اَحَد   سب سے یگانہ، سب سے مختلف، ماورائے عقل طاقت ور خدا ہے، جس کا صحیح صحیح اِدراک علمِ وحی کے ذریعے دیئے گئے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ حسنیٰ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی صفت ِ رحم کو اللہ تعالیٰ کی صفت ِ ربوبیت سے مربوط کر کے پیش کرتے ہیں۔ عبد اور معبود کے فرق کو واضح کر کے عبادت کا جامع مفہوم سامنے رکھتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عدالت کی تشریح کرتے ہیں۔ روزِ جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عدل کا لازمی مقتضا ہے۔ انصاف ہوکر رہے گا۔ اپنے قاری کو سمجھاتے ہیں کہ یہاں الدِّیْن  کا لفظ اگرچہ جزا و سزا اور روزِقیامت کےلیے استعمال ہوا ہے، لیکن یہ ایک ایسا نظامِ حیات ہے، جس کی تکمیل کی جاچکی ہے۔ سورۃ المائدہ کی تیسری آیت کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ اس مکمل دین میں کتربیونت نہیں ہوسکتی۔

پھر تین نکات میں خلاصہ اس طرح پیش کرتے ہیں: ۱-انسان کی اُخروی کا میابی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر عمل درآمد پر منحصر ہے۔ ۲- انسان کو خیروشر کی آزادی یعنی اخلاقی اختیار  سپرد کیا گیا ہے۔ ۳- خدائے رحمٰن و رحیم کے علاوہ کوئی اور قیامت کے دن فیصلہ نہ کرسکے گا۔

انسان کا یہ اَخلاقی اختیار، اُسے ایک ذمہ دار شہری بناتا ہے۔ عقیدئہ توحید کا عقلی تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت کرے۔ یہی سیدھا دین ہے۔ اُسی پروردگار سے ہدایت طلب کرے۔ اُسی کی بات مانے۔ وہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرسکتا ہے، جو خالق بھی ہے، ربّ بھی ہے، معبود بھی ہے اور حاکم بھی۔ پھر وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’عبودیت‘ دراصل    اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے اور توکّل کا نام ہے کہ تمام معاملات اپنے خالق کے سپرد کر دیئے جائیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ اللہ کے تمام انبیائے کرام علیہم السلام، اللہ کے ’عبد‘ ہوتے ہیں۔ وہ کوئی خدائی میں شریک نہیں ہوتے۔ یہاں وہ دیگر مذاہب کی افراط و تفریط کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ  کا مطلب شرک سے بے زاری ہے اور اس بات کا اقرار و اعتراف ہے کہ ہم اپنے تنہا خالق اور اپنے اکیلے ربّ کے علاوہ، کسی اور کی غلامی اور اطاعت اختیارنہیں کرسکتے۔

ڈاکٹرانیس احمد سوال اُٹھاتے ہیں کہ اپنی پانچوں نمازوں میں اپنے خدا کے سامنے اس بات کے بار بار اعتراف کے باوجود کہ ہم اُس کے غلام اور اُس کے وفادار ہیں، اُسی کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں۔ بھلا ہم کس طرح رنگ و نسل اور زبان وقوم کے نام نہاد دوسرے خدائوں کے وفادار ہوسکتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ یہاں قرآن انسانی عقل کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے ثقافتی بوجھ سے اپنے آپ کو آزاد کر کے دیکھے۔ عقل اور نری جذباتیت انسان کو سیدھا راستہ نہیں دکھا سکتی۔ یہ خدا ہی کا مقام و مرتبہ ہے کہ وہ ہدایت فراہم کرے۔ خدائی ہدایت ہی انسان کو ابدی حقیقتوں سے آشکار کرسکتی ہے۔

اپنے عقلی استدلال کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ہدایت کا ماخذ و منبع صحیح اور مستند علم ہو۔ وہ علمِ الٰہی کی روشنی میں انسان کو ہدایت کے لیے ایک پوری ثقافت کی تلاش کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے، جو انسان کو خدائے علیم و خبیر کی وحی پر مشتمل اَبدی ہدایت اور توحید کا راستہ دکھاتا ہے۔

ڈاکٹر انیس احمد آخر میں دل سوزی سے سمجھاتے ہیں کہ دین ابتدا سے ایک ہی رہا ہے۔ اُس کی اَخلاقی بنیادیں اور معیار کبھی نہیں بدلے۔ یہ راستہ ہمیشہ سے روشن اور نمایاں رہا ہے۔ قرآنی آیات کی روشنی میں یہ بات سمجھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ لوگ کون رہے ہیں؟ اور کن قوموں پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے؟ کتاب کے آخری حصے میں انھوں نے نو نکات پر مشتمل عملی تجاویز بیان کی ہیں: lانسان شکر کا رویہ اختیار کرے lاللہ کی ہدایت کو سامنے رکھتے ہوئے یک رنگی اختیار کرے lاللہ کی پیہم نوازشوں پر ہمیشہ شکر کی طرف مائل اور متوجہ رہےl اللہ تعالیٰ کی صفت ِ رحمانیت اور صفت ِرحیمیت پر مکمل اعتقاد بھی رکھے اور بھروسا بھی lاپنی توحید کی تصدیق اپنے رویوں سے ثابت کرے lانسانوں کے بنائے ہوئے خودساختہ نظریات سے اپنے آپ کو لاتعلق کرلے lموت کے بعد کی زندگی پر اپنے یقین اور اعتماد کی باربار تصدیق و تائید کرتا رہے lاللہ ہی  سے مسلسل ہدایت اور مدد طلب کرے lہر اُس کام سے دُور رہے ، جواللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے اور اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔

پروفیسر صاحب نے دین اسلام کے جامع تصورکو نہایت عمدگی کے ساتھ عصرحاضر کی زبان میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب اُن نوجوانوں کے شکوک و شبہات کو دُور کرنے میں ان شاء اللہ ضرور مددگار ثابت ہوگی، جو آج اکیسویں صدی میں الحاد اور تشکیک و تذبذب میں گرفتار ہیں، یا پھر مذاہب ِ عالم کی افراتفری دیکھ کر حیران و پریشان ہیں۔

امریکا، کینیڈا، یورپ، جنوبی افریقا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی ہند وغیرہ جیسے ممالک میں اور جہاں جہاں مسلمانوں کے بچّے کالجوں میں اسلام کے اصلی ماخذ اور اصلی زبان سے محروم کر دیے گئے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب اسلام فہمی کا دروازہ کھولتی ہے اور ابتدا ہی میں اُن کو غلط فہمیوں سے دُور کرتے ہوئے اسلام کی حقانیت کو اُن کے دل ودماغ پر نقش کر دیتی ہے۔

یہ کتاب Reflections on Surah Al-Fatihah کے عنوان سے (۶۸ صفحات) دی اسلامک فائونڈیشن لسٹر (برطانیہ) اور قرآن ہائوس نیروبی (کینیا) نے شائع کی ہے۔

امانت رکھنے کے اصول

سوال : امانت رکھنے اور رکھوانے والے کو کیا کیا اصول ملحوظ رکھنے چاہییں؟

جواب :امانت اصل میں دو آدمیوں کے درمیان باہمی اعتماد کی بنا پر ہوتی ہے۔ جو شخص کسی کے پاس کوئی امانت رکھتا ہے، وہ گویا اس پر یہ اعتماد کرتا ہے کہ وہ اپنی حد ِ استطاعت تک پوری ایمان داری کے ساتھ اس کی حفاظت کرے گا۔ اور جو شخص اس امانت کو اپنی حفاظت میں لینا قبول کرتا ہے، وہ بھی امانت رکھنے والے پر یہ اعتماد کرتا ہے کہ وہ ایک جائز قسم کی امانت اس کےپاس رکھ رہا ہے، کوئی چوری کا مال یا خلافِ قانون چیز نہیں رکھ رہا ہے، نہ اس امانت کے ذریعے سے کسی قسم کا دھوکا یا فریب کرکے اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پس دونوں پر اس کے سوا کسی اور چیز کی پابندی لازم نہیں ہے کہ وہ اس اعتماد کا پورا پورا حق ادا کریں۔ (اپریل ۱۹۴۶ء)


قرضِ حسن کے آداب

سوال : قرضِ حسن دینے اور لینے میں کن اُمور کا لحاظ ضروری ہے؟

جواب : قرض دینے اور لینے میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ حتی الامکان فریقین کے درمیان شرائط ِقرض صاف صاف طے ہوں، مدت کا تعین ہوجائے، تحریر اور شہادت ہو۔ جوشخص قرض دے وہ اس قرض کے دبائو سےکسی قسم کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ مقروض کو احسان رکھ کر نہ ذلیل کرے اور نہ اذیت پہنچانے کی کوشش کرے۔ اور اگر مدت گزر جائے اور فی الواقع مقروض شخص قرضہ ادا کرنے کے قابل نہ ہو تو اس کو جہاں تک ممکن ہو مہلت دے اور اپنے قرض کی وصولی میں زیادہ سختی نہ کرے۔ دوسری طرف قرض لینے والے کو لازم ہے کہ جس وقت وہ قرض ادا کرنے کے قابل ہو اسی وقت ادا کردے اور جان بوجھ کر ادائے قرض میں تساہل یا ٹال مٹول نہ کرے۔ (اپریل ۱۹۴۶ء)


حرام کام کرنے والے کے ساتھ کاروبار

سوال : مشترک کاروبار جس میں صالحین و فاجرین ملے جلے ہوں، پھرفاجرمیں شراب نوشی ، سودی کاروبار وغیرہ شامل ہوں، اس میں شرکت کرنا کیسا ہے؟

جواب :تجارت اگر بجائے خود حلال نوعیت کی ہو اور جائز طریقوں سے کی جائے، تو  اس میں کسی پرہیزگار آدمی کی شرکت محض اس وجہ سے ناجائز نہیں ہوسکتی کہ دوسرے شُر کا اپنا مال حرام ذرائع سےکماکر لائے ہیں۔ آپ کا اپنا سرمایہ اگر حلال ہے، اور کاروبار حلال طریقوں سے کیا جارہا ہے، تو جو منافع آپ کو اپنے سرمایے پر ملے گا، وہ آپ کے لیے حلال ہوگا۔(فروری ۱۹۴۴ء)


کاسب ِ حرام کے ہاں ملازم رہنا

سوال : کاسب ِ حرام کے ہاں ملازم رہنا یا اس کے ہاں سے کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب : کاسب ِ حرام کی دو نوعیتیں ہیں: ایک تو وہ جس کا پیشہ فحشا کی تعریف میں آتا ہے، مثلاً زنان بازاری کا کسب۔ اس کے قریب جانا بھی جائز نہیں ، کجا کہ اس کے ہاں نوکر ہونا۔ دوسرا وہ کاسب ِ حرام ہے جس کا پیشہ حرام تو ہے ، مگر فحشا کی تعریف میں نہیں آتا، جیسے وکیل یا سودی ذرائع سے کمانے والا۔ اس کے کسی ایسے کام میں نوکری کرنا جس میں آدمی کو خود بھی حرام کام کرنے پڑتے ہوں، مثلاً سود خور کی سودی رقمیں فراہم کرنے کا کام یا وکیل کے محرّر کا کام، یہ حرام ہے۔ لیکن اس کے ہاں ایسے کام پر نوکری یا مزدوری کرنا جو بجائے خود حلال نوعیت کا ہو، مثلاً اس کی روٹی پکادینا یا اس کے ہاں سائیس یا ڈرائیور کا کام کرنا ہو، یا اس کا مکان بنانے کی مزدوری، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ رہا اس کے ہاں کھانا کھانا تو اس سے پرہیز ہی اولیٰ ہے۔(فروری ۱۹۴۴ء)

سیرۃ خیرالعباد ، منیراحمد خلیلی۔ ناشر: ادبیات پبلشرز، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۲۷۸۸-۰۴۲۔ صفحات(بڑاسائز): ۷۹۲ ۔ ہدیہ: ۱۸۰۰ روپے۔

سیرتِ طیبہ  کا مطالعہ سعادت ہے۔ اس موضوع پر دل کی حضوری، احتیاط پسندی اور آخرت میں جواب دہی کے کڑے احساس کے ساتھ لکھنا تو بڑے نصیب کی بات ہے۔ ہزاروں افراد نے سیرتِ پاکؐ پر لاکھوں صفحے لکھے ہیں۔ دُنیابھر کی زبانوں میں سیرت پاکؐ پر لکھا جارہا ہے۔ یہ سیرتِ پاکؐ کی معجزاتی کشش ہے کہ جو ایک نہ بجھنے والی پیاس کی مانند ہرصاحب ِ ایمان و قلم کو آمادہ کرتی ہے کہ آپؐ پر لکھ کر درود و سلام بھیجے۔

منیراحمد خلیلی ایک سنجیدہ دانش ور ہیں۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے تحریک اسلامی سے وابستگی اختیار کی، اور آج تک، ملک میں ہوں یا بیرونِ ملک، دعوتِ دین کی خدمت سے اس عملی وابستگی کو تازہ دم رکھا ہے۔ زیرنظرکتاب ان کے جذبۂ محبت ِ رسولؐ کی مظہر ہے۔ کارِ دعوت میں اسوئہ حسنہؐ کو بنیادی ذریعہ بنانے کی ضرورت نے انھیں یہ کتاب لکھنے پر آمادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے وسیع مطالعے کے بعد یہ علمی کتاب شائع کی گئی ہے۔ (س م خ)


Witness to Carnage 1971 [۱۹۷۱ء کے قتل عام کی گواہی]، بریگیڈیئر (ر) کرّار علی آغا۔ ناشر: پرنٹ ایکس، اسلام آباد۔ صفحات: ۴۱۳۔ قیمت: درج نہیں۔

جب بھی دسمبرکا مہینہ آتا ہے تو سقوطِ مشرقی پاکستان کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ اُس سال پاکستان دو حصوں میں اس طرح تقسیم ہوا کہ اُس کی آبادی کے بڑے حصے پر، بھارت کی فوجی مدد اوربھارت کی پشت پناہی سے وہاں پر عوامی لیگ نے ایک قیامت برپا کی۔ مشرقی پاکستان میں ۳۴ہزار پاکستانی فوجی، چاروں طرف بھارتی یلغار سے گھرے، سپلائی لائن سے کٹے اور داخلی سطح پر عوامی لیگ کی تخریب کاری کا مقابلہ کرتے ہوئےساڑھے نو ماہ تک، ملک کے دفاع کے لیے میدان میں کھڑے رہے۔ افسوس کہ اُن کی شجاعت اور قربانیوں کا باب بھی آج تک تشنۂ تحریر ہے۔

اس جنگ کا یہ پہلو بڑا عبرت ناک ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی سرپرستی میں، پاکستان کے خلاف جو بھی زہریلا پروپیگنڈا گھڑا اور پھیلایا گیا، اس کو جانچنے کے بجائے، من و عن قبول کرلیا گیا۔ صرف دشمن ہی نے نہیں، بلکہ خود پاکستان کے بہت سے لکھنے، بولنے والوں نے بھی، نہ صرف دشمن سے بڑھ کر دشمن کاموقف قبول کیا بلکہ بلاتحقیق اسے  آگے پھیلایا۔ جس کا ایک شاخسانہ یہ الزام بھی ہے کہ ’’پاکستان کی فوج اور دفاعِ پاکستان کے لیے کھڑے محب ِ وطن پاکستانی بنگالیوں اور غیربنگالیوں نے، ’بنگالی عوام کا قتل عام‘ کیا‘‘۔ پھر یہی افسانہ، ’حقیقت‘ سمجھ کر قبولِ عام اختیار کرتا چلا گیا۔

عوامی لیگ اور اس کی مسلح تنظیم ’مکتی باہنی‘ نے حقیقی معنوں میں جس بڑے پیمانے پر غیربنگالی پاکستانیوں اور پاکستان کے دفاع کے لیے ثابت قدم بنگالیوں کا قتل عام کیا، اسے نہ کہیں بیان کیا گیا اور نہ شائع ہی کیا گیا۔ تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن قطب الدین عزیز صاحب نے بڑی محنت سے ۱۹۷۴ء میں ایک کتاب Blood and Tears میں یہ ہولناک حقائق قلم بندکیے تھے، مگر افسوس کہ اس کتاب کو بھی بڑے پیمانے پر قومی یادداشت کا حصہ نہیں بنایا گیا (۴۰ برس بعد ہم نے اس کتاب کا اُردو ترجمہ خون اور آنسوؤں کا دریا کے نام سے منشورات سے شائع کیا)۔

جناب بریگیڈیئر کرّار علی آغا اپنی زیرتبصرہ کتاب میں عوامی لیگی درندگی کے دوسرے نظرانداز شدہ رُخ کو سامنے لائے ہیں۔ انھوں نے نہایت ذمہ داری سے یہ پہلو بیان کیا ہے کہ مشرقی پاکستان کے کن کن علاقوں میں، کس کس انداز سے مارچ سے مئی ۱۹۷۱ء کے دوران، غیربنگالی پاکستانیوں کی نسل کشی کی گئی، مگر وہ ساری مظلومیت دشمن کے پراپیگنڈے تلے دب کر رہ گئی۔

ہمارے لیے یہ امر آج تک حیرانی کا باعث ہے کہ دشمن کے اس منفی پراپیگنڈا کا مدلل، شافی اور عادلانہ جواب دینے اور صریح جھوٹ پر مبنی:بھارتی، مکتی باہنی و عوامی لیگ کی ابلاغی مہم اور اُن کے انسانیت کش جرائم کی حقیقی تصویرپیش کرنے سے ہمارے تعلیمی، تحقیقی، دفاعی اور صحافتی ادارے کیوں خاموشی اور لاتعلقی کا شکار رہے ہیں؟ بریگیڈیئر کرّار علی آغا نے اپنی کتاب میں مصدقہ حقائق پیش کیے ہیں۔ اس کتاب کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) طاہرقاضی صاحب نے بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔جس پر مصنف اور قاضی صاحب تحسین کے مستحق ہیں۔ اس کتاب کا اُردو اور بنگلہ میں ضرور ترجمہ شائع ہونا چاہیے۔ (س م خ)


1971:Facts and Fiction  [۱۹۷۱ء کے حوالے سے حقیقتیں اور افسانے]، افراسیاب مہدی ہاشمی۔ ناشر: سنٹر فار گلوبل اینڈ اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز، اسلام آباد۔ صفحات: ۷۱۰۔ قیمت: درج نہیں۔

مسلمانوں کے ساتھ عموماً اور پاکستان کے ساتھ خصوصاً یہ ناقابلِ تصور المیہ وابستہ دکھائی دیتا ہے کہ ان کے ہاں علم تاریخ کے باب میں لاتعلقی کا رویہ پایا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں مخالف قوتیں بہت تیزی کے ساتھ، منفی اور جھوٹی چیزیں تھوپ دیتی ہیں اور پھر اگر کسی کو ہوش آئے تو و ہ محض وضاحتوں میں اُلجھ کر رہ جاتاہے۔ اس کی ایک بڑی مثال، مشرقی پاکستان میں ۱۹۷۱ء کے دوران بھارت نے اپنی مداخلت اوریلغار کو سہارا دینے کے لیے جس جھوٹے پراپیگنڈے کا سہارا لیا تھا، وہ سب کچھ آج تک، اسی طرح کی کذب بیانی کے ساتھ دُہرایا جارہا ہے، اور یہاں، وہاں اس پہ’اعتبار‘ بھی کیا جارہاہے۔

جناب افراسیاب ہاشمی، پاکستان کے سابق سیکرٹری وزارتِ خارجہ رہے اور ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمشنر کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ وہ اعلیٰ تحقیقی اور تصنیفی ذوق رکھتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کے حوالے سے منفی بھارتی اور عوامی لیگی پراپیگنڈے کے رَد کے لیے انھوں نے یہ کتاب مرتب کی ہے، جس میں علمی دیانت اور ادارتی خوب صورتی کے ساتھ، زیربحث موضوع کے حوالے سے جملہ اُمور پیش کر دیئے ہیں۔ اس ضمن میں منفرد کام یہ کیا ہے کہ بیش تر الزامات اور وضاحتی موقف کو بغیر کسی بحث کے من و عن پیش کیا ہے، جو تضاد کو بے نقاب کرنے کا معقول لوازمہ سامنے لاتا ہے۔

کتاب کا ہر باب انفرادیت کا حامل ہے:پہلا حصہ ۳۱۲  صفحات تک پھیلا ہوا ہے جس میں مذکورہ بالا اُمور ہیں: دوسرا حصہ ۳۱۳ سے ۴۳۹ تک ہے، اس میں تصاویر دی گئی ہیں ، جب کہ ضمیمہ جات کا حصہ ۴۴۱ سے ۶۶۱ تک محیط ہے۔ اس میں اہم دستاویزات کے متن ہیں۔ مثال کے طور پر سب سے پہلا اندراج ۱۶۰۰ء میں برطانوی ملکہ الزبتھ کی جانب سے ایسٹ انڈیا کمپنی کو چارٹر دینے کا ہے، اور آخر میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش سہ فریقی معاہدہ وغیرہ وغیرہ۔ کتاب کے آخری حصے میں (۶۶۳-۶۸۸) ان بنگلہ دیشی نوجوانوں کی یادداشتوں سے اقتباسات دیئے ہیں جنھوں نے پاکستان کا دورہ کرنے کے بعد اپنے مشاہدات و تاثرات قلم بند کیے۔ پھر ۱۹۷۱ء کے واقعات کا شمار دنوں کی ترتیب سے یکجا کردیا ہے۔

قومی درد، سلیقے اور ندرتِ خیال سے مرتب کردہ یہ کتاب سانحۂ مشرقی پاکستان پر ایک ’ریفرنس بُک‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر معلوم نہیں کیوں، جناب افراسیاب ہاشمی نے اسے مارکیٹ کے لیے نہیں پیش کیا۔(س م خ)


لمحات، خرم مراد (مرتب: سلیم منصور خالد)۔ناشر: منشورات، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۵۵۱۔ قیمت، مجلد:۱۴۰۰ روپے۔ غیرمجلد:۱۱۰۰ روپے۔

قارئین ترجمان القرآن کے لیے خرم مراد کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ ۱۹۹۱ء میں انھیں ترجمان کا مدیر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ ’اشارات‘ لکھنے کے ساتھ بڑی محنت سے پرچے کی جملہ تحریروں کو منتخب اور مرتب کرتے تھے، جن سے ان کی بصیرت اور وسعت نظر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کی زیرنظر آپ بیتی (ہرچند کہ وہ نامکمل ہے بایں ہمہ) اس سے اُن کے سوانح کے ساتھ ان کی شخصیت کی کچھ اور جہتیں سامنے آتی ہیں۔ بقول پروفیسر خورشیداحمد: ’’بلاشبہہ لمحات  خرم کی شخصیت اور زندگی کا آئینہ ہے‘‘۔

خرم صاحب، کتاب کے مرتب کے اصرار پر وفات سے قبل اپنی یادداشتوں کو کیسٹوں میں محفوظ کرگئے، جنھیں مرتب نے بڑی احتیاط سے کاغذ پر اُتارکر ، مرتب کیا ہے۔

لمحات کا یہ ساتواں ایڈیشن ایک طویل وقفے کے بعد شائع ہوا ہے۔ اسے پڑھنا شروع کریں تو جی چاہتا ہے پڑھتے چلے جائیں۔ قاری کے ذہن پر کسی طرح کا بار نہیں پڑتا۔ خرم صاحب کی کہانی (حقائق پر مبنی ہے مگر) ناول و افسانے کی طرح دل چسپ ہے۔ اس کتاب میں دعوتِ دین کے مرحلے اور پاکستان کی تاریخ کے نازک موڑ بڑی باریک بینی سے مرتب ہوئے ہیں۔ اسے منشورات نے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ آخر میں نہایت محنت سے مرتب کردہ اشاریے شامل ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)


آدابِ اختلاف اور اتحادِ اُمت، ڈاکٹر اختر حسین عزمی۔ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۲- ۳۵۲۵۲۵۰۱-۰۴۲۔ صفحات:۴۹۶۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔

کتاب کے بیرونی سرورق پر درج عبارت [اتحاد اُمت کا قابلِ عمل راستہ] سے مصنف کے موضوع کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ مصنف نے دردمندی سے اختلافِ اُمت کے مثبت اور منفی پہلوئوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ تفصیل کا اندازہ ابواب کے عنوانات سے بھی لگایا جاسکتا ہے:فرقہ پرستی کے نقصانات، آدابِ اختلاف، حقیقت اختلاف و رواداری، شیعہ سُنّی اختلاف، علاج۔

 پروفیسر ڈاکٹر مفتی محمد یوسف خان کے بقول: ’’اس کتاب کو پڑھنے کے بعد واضح ہوگا کہ اختلاف نقصان دہ نہیں، مخالفت نقصان دہ ہے‘‘۔ مولانا زاہد الراشدی، مفتی محمد خان قادری،  علامہ ثاقب اکبر اور شیخ ارشادالحق اثری نے عزمی صاحب کی زیرنظر کاوش کی تحسین کی ہے۔ کتاب قدرے مختصر ہوتی تو قارئین کا دائرہ وسیع تر ہوتا۔ طباعت و اشاعت اطمینان بخش اور قیمت مناسب ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)

نور منارہ، لالہ صحرائی۔ ناشر: لالہ صحرائی فائونڈیشن، صادق آئی کلینک، خان میڈیکل سٹی، نشتر روڈ، ملتان۔فون : ۴۵۱۰۸۱۸-۰۶۱۔ملنے کا پتا: کتاب سرائے، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۲۳۹۔ قیمت: درج نہیں۔

محمد صلاح الدین شہید نے بجا طور پر لکھا ہے کہ بیسویں صدی سے تاحال احیائے اسلامی یا نفاذِ اسلام کے لیے دُنیا بھر میں جو جدوجہد ہورہی ہے، اس پر سیّد مودودی کے گہرے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے ’’فکری اثرات صدیوں تک زندگی کی تاریک راہوں میں  اُجالا بکھیرتے رہیں گے‘‘۔ (ص۱۲)

لالہ صحرائی کی معروف حیثیت ایک شاعر بلکہ ایک شاندار نعت گو کی ہے، مگر انھوں نے بڑا وقیع نثری ذخیرہ بھی یادگار چھوڑا ہے۔ زیرنظر کتاب سیّد مودودی پر ان کے درجن بھر مضامین کا مجموعہ ہے جو سیّد موصوف سے ان کی چالیس برسوں کی ملاقاتوں اور قربت کی یادوں کے تاثرات پر مبنی ہیں۔

مصنف نے واقعات و تاثرات ایسے دلچسپ اورخوب صورت اسلوب میں پیش کیے ہیں کہ قاری پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ مختلف پہلوئوں اور جہتوں سے اس کا مطالعہ کرنے اور مولانا کی عظمتوں کا انعکاس پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلاشبہہ زیرنظر کتاب سیّدمودودی کی پُرعظمت شخصیت کا بہترین مرقّع ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


جدید تحریک ِ نسواں اور اسلام، ثریا بتول علوی۔ ناشر: تنظیم اساتذہ پاکستان (خواتین)۔ تقسیم کار: منشورات، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۷۴۴۔ قیمت: ۱۲۰۰ روپے۔

خواتین کی حالت ِ زار، اور مختلف معاشروں میں ان کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک، کم و بیش ہزاروں برسوں سے ایک متنازع مسئلے کی حیثیت سے چلا آرہا ہے۔ ان تمام مباحث اور لکھنے والوں کی دماغی و قانونی ورزشوں کے باوجود، زمانے پر زمانے گزرنے کے بعد بھی، عورت کی مظلومیت میں کوئی بامعنی تبدیلی نہیں آئی۔ بلکہ عصرحاضر، جو عورت کی دستگیری کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرتا ہے، اس میں تو یہ مظلومیت، جھوٹے نگوں کی سوداگری کے سوا کچھ نہیں۔

پروفیسر ثریا بتول علوی ، قدیم وجدید کا وسیع مطالعہ رکھتی ہیں، اور ایک قابلِ احترام استاد کے طور پر دین کی خدمت کے لیے ہمہ تن مصروف ِ کار ہیں۔ زیرنظر کتاب کے ۲۵ مضامین میں انھوں نے مغرب اور ہمارے معاشروں میں عورتوں کی زبوں حالی کو بڑی راست گوئی سے بیان کیا ہے۔ اس ظلم و زیادتی پر نقد و جرح کی ہے اور اسلام کی روشنی میں رہنمائی دی ہے کہ اسلامی تہذیب اور قانونِ معاشرت اور اسلامی عائلی نظام کس طرح عورت کے لیے رحمت کاسامان پیش کرتے ہیں۔ پھر یہ کتاب نام نہاد این جی اوز کی غوغا آرائی کا مسکت جواب بھی پیش کرتی ہے۔(س م خ)


تقویٰ - راہِ نجات، پروفیسر محمد حسین سومرو۔ ناشر: حی علی الفلاح پبلشرز، پرانی غلہ منڈی، بوہڑگیٹ، ملتان۔ فون: ۶۳۶۶۲۲۱-۰۳۰۰۔صفحات: ۸۸۔قیمت: درج نہیں۔

[تقویٰ کیا ہے؟اوراس کے پانچ تقاضے، تقویٰ کیا نہیں ہے، نفاق اور منافقین کا کردار اور علامتیں__ قرآن و حدیث، سیرت صحابہ کرامؓ اورعصرحاضر کے تقاضوں کی روشنی میں منظرکشی اس طرح سے کی گئی ہے کہ متقی اور منافق کا کردار چلتی پھرتی تصویروں کی طرح نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔ اپنے موضوع پر جامع اورمختصر کتاب۔]

کتاب کے آغاز میں ایک مبسوط مقدمہ بھی درج ہے جس کا درج ذیل حصہ بڑی اہمیت رکھتا ہے: ’’محمد علی جناح، حیدرآباد دکن تشریف لائے تو چند نوجوانوں نے آپ سے کچھ سوالات کیے۔ یہ مکالمہ ’اورینٹ پریس‘ [نیوز ایجنسی]کی وساطت سے اخبارات میں شائع ہوا تھا۔ اس کے چند اقتباسات بانی ٔ پاکستان کی بصیرتِ قلبی اور دُور رس نگاہ کی یاد تازہ کریں گے۔

آپ سے سوال کیا گیا: ’’مذہب اور مذہبی حکومت کے لوازم کیا ہیں؟‘‘

آپ [قائداعظم] نے فرمایا:

 ’’جب میں انگریزی زبان میںReligion (مذہب) کا لفظ سنتا ہوں تو اس زبان اور قوم کے محاورے کے مطابق لامحالہ میرا ذہن خدا اور بندے کی باہمی نسبت اور رابطے کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ لیکن میں بخوبی جانتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک ’مذہب‘ کا یہ محدود اور مقید مفہوم یا تصور نہیں ہے۔ میں نہ تو کوئی مولوی ہوں نہ مُلّا،  نہ مجھے دینیات میں مہارت کا دعویٰ ہے۔ البتہ میں نے قرآنِ مجید اور اسلامی قوانین کے مطالعے کی اپنے طور پر کوشش کی ہے۔ اس عظیم الشان کتاب کی تعلیمات میں انسانی زندگی کے ہرباب کے متعلق ہدایات موجود ہیں۔

’’زندگی کا روحانی پہلو ہو یا معاشرتی، سیاسی ہو یا معاشی، غرض کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قرآنی تعلیمات کے احاطے سے باہر ہو۔ قرآن کی اصولی ہدایات اور سیاسی طریق کار نہ صرف مسلمانوں کے لیے بہترین ہیں بلکہ اسلامی حکومت میں غیرمسلموں کے لیے حُسنِ سلوک اور آئینی حقوق کا جو حصہ ہے اس سے بہتر تصور ناممکن ہے‘‘۔ (’ہمارے تعلیمی مسائل‘، مرتبہ: خلیفہ صلاح الدین ، ’مطبوعات‘، پروفیسر عبدالحمید صدیقی، ج۵۹، عدد۳،دسمبر ۱۹۶۲ء،ص ۵۸-۵۹)