مضامین کی فہرست


فروری ۲۰۲۳

؍اگست ۲۰۱۹ء میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت نے کشمیر کی نیم خودمختاری کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ساڑھے تین سال بعد وہاں رہنے والے کہتے ہیں کہ احتجاج تو دُور کی بات ہے، لوگ آپس میں کھل کر بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔

کچھ عرصے سے ایسا لگتا ہے کہ کشمیر سے خبریں تو آرہی ہیں، لیکن ذرا مختلف نوعیت کی۔ سڑکوں پر احتجاج یا کوئی سیاسی سرگرمی بھی نہیں ہے۔ کیا کشمیر میں واقعی سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے؟

ہم نے ایک نوجوان کشمیری خاتون سے بات کی جن کا کہنا کچھ یہ تھا:

’’گھر پربھی اگرہم لوگ ڈنر کر رہے ہوں گے تو لوگ بولتے ہیں کہ بات نہ کرو۔ ہوسکتا ہے کہ فون ٹیپ ہورہا ہو۔ایسا اتنا سائیکالوجیکلی ہوگیا ہے کہ اگر کوئی راستے میں بھی ہو تو لوگ دھیمی دھیمی آواز میں بات کر تے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دیواروں کے بھی کان ہیں۔ بھارتی حکومت بہت مختلف طریقے سے لوگوں کی آواز کو دبا رہی ہے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ احتجاج ہوگا تو ہارڈ اپروچ تھی۔ یعنی گنز ہوں گی، پیلٹ گنز ہوں گی، تشدد ہوگا اور راستوں پر تصادم ہوگا مگر اب بہت کچھ تبدیل گیا ہے۔ بہت سی ویب سائٹس جو کشمیر کے بارے میں بات کرتی ہیں وہ کشمیر میں نہیں چلتی ہیں۔ سوشل میڈیا اکائونٹس معطل ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں ایسا کرنا ’نرم جبر‘ (Soft Violence)  کا طریقہ ہے، جہاں پر ہم لوگوں کو مار تو نہیں رہے، لیکن چھوٹے چھوٹے طریقوں سے لوگوں کو ہراس زدہ کر رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اگر سوشل میڈیا پر کچھ لکھیں گے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی الزام کے تحت انھیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح [احتجاج کرنے والے] لوگوں کو اُٹھا کر لے جائیں گے اور ان کی تفتیش کریں گے۔ یعنی دھیرے دھیرے وہ ماحول بن رہا ہے جہاں لوگوں کو لگ رہا ہے کہ اگر اپنی زندگی بچانی ہے تو پھر بات کم کرنی ہے‘‘۔

گویا کشمیر میں خوف کے ماحول کا تاثر ملتا ہے۔ اس بارے میں جب ہم نے عام کشمیریوں سے بات کرنی چاہی تو لوگوں نے کیمرے پر آکر بات کرنے سے انکار کر دیا۔ کچھ نے لکھ کر ہمیں اپنے تاثرات بھیجے۔ایک نوجوان کشمیری خاتون نے لکھا: ’’کشمیریوں کو یہ بات سمجھا دی گئی ہے کہ انھیں بات کرنے کی، خطے میں خلاف ورزی کرنے کی قیمت چکانی پڑے گی۔ کچھ لوگوں کو [عبرت کی] مثال بناکر سب کو خاموش کر دیا گیا ہے‘‘۔ایک اور نے بتایا:’’لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ کوئی لکھے تووہ گرفتار ہوجاتا ہے۔ صرف کشمیر کے باہر ہی نہیں بلکہ کشمیر کے اندر بھی کوئی خبر نہیں۔ ہم جو سانس لیتے ہیں اُس تک میں خوف گھلا ہوا ہے‘‘۔

ایک نوجوان کشمیری نے بتایا: ’’صرف کشمیر ہی نہیں، مجھے لگتاہے کہ انڈیا بھی اس خاموشی سے سراسیمہ (کنفیوژ) ہے۔ پتا نہیں کشمیریوں کی خاموشی کے پیچھے مجموعی سمجھ داری ہے یا پھر وسیع نااُمیدی‘‘۔

اگر ہم سول سوسائٹی ، ہیومن رائٹس کے فعال علَم برداروں اور صحافیوں کے خلاف ریاستی کارروائیوں، نظربندیوں اور گرفتاریوں کی تعداد دیکھیں تو شاید اس خوف اور خاموشی کی وجوہ واضح ہوجائیں گی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق ۵؍اگست ۲۰۱۹ء سے لے کر اب تک کشمیر میں کم از کم ۲۷صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی عرصے میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈائون کے ۶۰ واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اگست ۲۰۲۲ء تک ان تین برسوں میں غیرقانونی نظربندی کے خلاف پٹیشنوں میں ۳۲فی صد اضافہ ہوا ہے اور ان مقدمات میں یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے متنازع قوانین کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔

اس بڑی تعداد میں آصف سلطان اور فہد شاہ جیسے صحافی اور خرم پرویز [اور محمداحسن انتو] جیسے انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں جو طویل عرصے سے نظربند ہیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کی  نقل و حرکت پر پابندیوں کی خبریں بھی ہیں جیساکہ پلئرز پرائز جیتنے والی فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو ہیں، جنھیں ویزا اور ٹکٹ رکھنے کے باوجود ملک سے باہر سفر کرنے سے روک دیا گیا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات نے ایک خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔

کشمیر ٹائمز کی ایڈیٹر اور تجزیہ کار انورادھا بھسین کا کہنا ہے: حکومت کی سرویلنس (خفیہ نگرانی) کی اَپروچ ہے۔ اس کے ذریعے بہت سے لوگ خاموش ہوجاتے ہیں۔ یہ ڈر اور خوف کا ایک ایسا ماحول ہے کہ ہم پر نظر رکھی جارہی ہے۔ کئی سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو کئی بار ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ انھیں کئی طریقوں سے خوف زدہ کیا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے، گرفتار بھی ہوئے ہیں، کریمنل مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں اور ان کے علاوہ کبھی فون کال کے ذریعے دھمکایا جاتا ہے، کبھی طلب کیا جاتا اور باقاعدہ ایک انٹروگیشن ہوتی ہے۔ وہاں پر ایک ڈر اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے اور لوگ کچھ نہیں بول پارہے ہیں‘‘۔

کشمیر میں اس وقت غیر یقینی کیفیت اور پریشانی کی ایک وجہ شاید بدلتے ہوئے قوانین بھی ہیں۔ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد کشمیر میں سیاسی اور انتظامی طور پر غیرمعمولی تبدیلیاں آئی ہیں۔

تین اہم قوانین جن کے بارے میں خدشات ہیں کہ وہ وادی کا پورا لینڈاسکیپ (منظرنامہ) بدل دیں گے:l جائیداد کی خریدوفروخت: آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے سے پہلے صرف جموں و کشمیر کے رہایشی جائیداد کی خریدوفروخت کرسکتے تھے۔ اب کوئی بھی بھارتی شہری یہاں پر جائیداد خرید سکتا ہے۔l  ووٹنگ اور سیاسی اُمیدوار بننے کا حق:آرٹیکل ۳۷۰ کی وجہ سے صرف مستقل رہایشی جموں و کشمیر میں ووٹ ڈال سکتے تھے یا یہاں انتخابات میں اُمیدوار بن سکتے تھے۔ اب یہ پابندی ختم ہوگئی ہے۔l  ڈومیسائل کا حق: عشروں سے اس خطے میں ڈومیسائل صرف مقامی لوگوں کو مل سکتا تھا۔ اب کوئی بھی شخص جو یہاں ۱۵سال سے رہ رہا ہو اسے ڈومیسائل مل سکتا ہے۔ مرکزی حکومت کے حکام اور ان کے بچوں کے لیے یہ حد کم ہوکر ۱۰سال ہوجاتی ہے، جب کہ ہائی اسکول کے طالب علموں کے لیے یہ مدت سات سال ہے۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ ایک بڑی تعداد میں باہر سے آنے والے لوگوں کو یہ حق حاصل ہوگا اور یہ وادی کی شکل بدل کر رکھ دے گا۔

بھارتی حکومت کہتی ہے کہ یہ خدشات بے بنیاد ہیں اور آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے سے دراصل کشمیریوں کو فائدہ ہورہا ہے۔جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کہتے ہیں: ’’میں ایک بات کہہ سکتا ہوں کہ جس مقصد سے آرٹیکل ۳۷۰ ہٹایا گیا ہے، ان تین برسوں میں وہ مقصد کافی حد تک پورا ہوگیا ہے۔ اب کئی ملکی قوانین جموں کشمیر پر بھی لاگو ہوں گے۔ یہ ۸۹۰ کے لگ بھگ قوانین ہیں جو جموں کشمیر پر لاگو ہوگئے ہیں‘‘۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) ایک کشمیری سیاسی پارٹی ہے، جو اگست ۲۰۱۹ء سے پہلے کشمیر میں بی جے پی کی اتحادی تھی۔ موہت بھان ، ترجمان پی ڈی پی کے مطابق ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بعد سے لوگ ایک صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ لوکل انتظامیہ یا مرکزی حکومت کے جو فیصلے آرہے ہیں، لوگ اس پر رِدعمل کا اظہار ہی نہیں کر رہے۔ لوگوں کے اندر جمہوری نظام پہ    عدم اطمینان ہے، اور بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے کہ وہ یہ بھی ضروری نہیں سمجھتے کہ وہ اس پر کوئی بات کریں۔ لوگوں کا بھروسا اس قدر ٹوٹ چکا ہے اور اندر اتنا زیادہ غصہ ہے کہ وہ کہتے ہیں اب بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ا نھیں اگر ہمیں کچلنا ہی ہے تو پھر کچلنے دو‘‘۔

آخر اس سب کچھ سے حکومت حاصل کیا کرنا چاہتی ہے؟

انورادھا بھسین کہتی ہیں: ’’بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایجنڈا صرف جغرافیہ کو تبدیل کرنا نہیں ہے بلکہ وہاں کی آبادی کو بے اختیار اور بے بس کرنا ہے۔ اس لیے جتنے بھی قوانین بن رہے ہیں، چاہے وہ ووٹ دینے کا حق ہو، یعنی آپ جن لوگوں کو باہر سے لارہے ہیں، اور ان کو ووٹ کا حق دے رہے ہیں، ان کو وہاں کا ڈومیسائل دے رہے ہیں، یا پھر مقامی علاقائی جماعتوں کو جس طرح سے سائیڈ لائن کیا جارہا ہے اور ان کے لیے مختلف طریقوں سے جگہ کو کم کیاجارہا ہے، تو ظاہر سی بات ہے کہ وہاں کے لوگ ایسی تبدیلیوں سے خوش نہیں ہیں اور اگر خوش نہیں ہیں تو پھر احتجاج کے لیے باہر کیوں نہیں نکل رہے؟ وہ اس لیے باہر نہیں نکل رہے کہ ڈر اور خوف کا ایک ماحول پیدا کیا ہوا ہے، الگ الگ طریقوں سے لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے‘‘۔

مگر بھارتی حکومت کہتی ہے کہ ’’کشمیر میں خاموشی دراصل امن کی وجہ سے ہے‘‘۔ لیکن کشمیر میں ایک واضح تاثر یہ ملتا ہے کہ بھارت اور کشمیریوں کے درمیان اعتماد کا جو فقدان عشروں سے چلا آرہا ہے، وہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا ہے اور کشمیری ہونا اگر پہلے مشکل تھا تو اب بھی آسان نہیں۔

پاکستان میں عسکری منظر بدلتے ہی کئی معروف صحافیوں نے تواتر کے ساتھ یہ انکشاف کرنا شروع کیا ہے کہ ’’سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ نے بھارت کے ساتھ ایک ’پیس پروسیس‘ شروع کیا تھا، جس کا منطقی نتیجہ کشمیر کو نظرانداز کرکے پاک بھارت تعلقات کی بحالی تھا‘‘۔ اس انکشاف کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’آئی ایس آئی کے اُس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، دوحہ میں بھارتی وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال کے ساتھ خفیہ مذاکرات کے بعد اس بات پر متفق ہوچکے تھے کہ نریندر مودی ۹؍ اپریل۲۰۲۱ء کو پاکستان آئیں گے۔ مودی ہنگلاج ماتا کے پجاری ہیں، وہ سیدھا ہنگلاج ماتا کے مندر جائیں گے، وہاں دس دن کا بھرت رکھیں گے، واپسی پر عمران خان سے ملیں گے، ان کا بازو پکڑ کر ہو ا میں لہرائیں گے اور پاک بھارت دوستی کا اعلان کریں گے۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت اور تجارت کھولنے کا اعلان کریں گے اور کشمیر کو بیس سال کے لیے پس پشت ڈال دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ہونے کے بعد جب وزیراعظم عمران خان سے اس پر عمل درآمد کی رضامندی لی گئی تو انھوں نے صاف انکار کردیا، اور یوں بھارت سے معاملات طے کرنے کا موقع ضائع ہوگیا‘‘۔

اس حقیقی یا افسانوی کہانی کو دیکھا جائے تو یہ ساری پیش رفت ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد ہوئی، جب بھارت نے یک طرفہ طور پر کشمیر کا تشخص ختم کرکے اسے ’بھارتی یونین ٹیریٹری‘ قرار دیا۔ اس فیصلے کے ردعمل میں عمران خان نے بھارت سے سیاسی، سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرکے ۵؍ اگست کا فیصلہ واپس لینے کی شرط عائد کی۔ ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد عمران خان کا غیرمعمولی ردعمل اس امر کا واضح اظہار تھا، کہ موصوف بھی بہت سے پاکستانیوں کی طرح یہ سمجھتے تھے کہ بھارت کے سخت گیر اور انتہا پسند وزیراعظم نئے مینڈیٹ کے ساتھ آکر کشمیر کے حوالے سے کوئی مثبت اور بڑا فیصلہ کریں گے، مگر انتہاپسند مودی نے اس کے جواب میں پاکستان کو مایوس کن جواب دیا اور یک طرفہ طور پر کشمیر کا اسٹیٹس بدل دیا، جس کو عمران خان نے اپنی طرف سے بڑھے ہوئے دوستی کے ہاتھ کو جھٹکنے سے تعبیر کرکے نریندر مودی کی انانیت، نخوت اور تکبر کے بخیے ادھیڑنا شروع کیے۔ انھوں نے مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دے کر بجاطور پر مغرب میں ان کی خوفناک شبیہ پیش کرنا شروع کی۔یہاں تک کہ مودی اس قدر زچ ہوئے کہ اُنھوں نے اگلے ہی ماہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے بھی گریز کیا۔ ہماری معلومات کے مطابق جنرل فیض اور اجیت دووال کی عرب ملک میں پکائی گئی کھچڑی جب عمران خان کے سامنے رکھی گئی تو ان کا بے ساختہ سوال تھا کہ ’’اس میں کشمیر کہاں ہے؟‘‘ جواب ملا کہ ’’کشمیر تو بیس سال کے لیے ڈیپ فریزر میں رکھ دیا گیا ہے‘‘۔ اس پر عمران خان نے اس ڈیل کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔

ملک کے تین صحافیوں کے بعد اب نئی دہلی میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر اور پاکستانی دفتر خارجہ کے سینئر ترین ڈپلومیٹ عبدالباسط صاحب نے ایک وی لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس عمل کی مشاورت میں شریک تھے اور بہت سے واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ انھوں نے اپنے وی لاگ کے آخر میں تسلیم کیا کہ ’’عمران خان نے کشمیر کے بغیر اس ڈیل کو ماننے سے انکار کیا‘‘، اور ساتھ انھوں نے اس حرف ِانکار کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک اچھا فیصلہ تھا‘۔

عبدالباسط صاحب کا کہنا تھا کہ اس ڈیل میں مسئلہ کشمیر کو ۲۰ برس فریز کرنے کی بات نہیں ہورہی تھی بلکہ یہ ڈیل بھی جنرل پرویزمشرف کے چار نکاتی فارمولے کے گرد گھوم رہی تھی۔ اس فارمولے میں دوطرفہ مفاہمت اور اقدامات کا بیس سال بعد جائزہ لینے کا ذکر تھا اور اسی ماحول کے زیراثر بزنس ٹائیکون میاں منشا اور سابق وزیر تجارت دائود ابراہیم نے بھارت سے تجارت کی مکمل بحالی کی وکالت شروع کی تھی۔ اس ڈیل سے عمران خان کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ بھارت نے کشمیر پر کسی پیش رفت کی ہامی نہیں بھری اور عمران خان نے کہا کہ یہ ڈیل ہوجائے اور بھارت آگے نہ بڑھے تو اس طرح ہمارا مؤقف ہی ختم ہوجائے گا۔ وہ اس ڈیل کو ’کشمیر کی مرکزیت‘ میں رکھنا چاہتے تھے، مگر بھارت کشمیر پر کچھ بھی لچک پیدا کرنے کو تیار نہ تھا۔

اس گواہی میں ایک المیہ پوشیدہ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارت ۵؍ اگست کو کشمیر کی خصوصی شناخت کو بے رحمی سے ختم کرچکا تھا اور ۸۰ ہزار افراد کو جانوروں کی طرح لاک ڈائون کے ذریعے گھروں میں قیدی بناکر رکھا گیا تھا۔ ان سے جدید ذرائع ابلاغ سمیت ہر سہولت چھین لی گئی تھی اور ان کی مساجد اور درگاہوں پر تالے چڑھا دیے گئے تھے۔ سید علی گیلانی جیسے مقبول قائد کے جنازے کو رات کی تاریکی میں گھر سے اُٹھایا جارہا تھا اور خواتین سے چھین کر کسمپرسی کے عالم میں پیوندِ خاک کیا جارہاتھا۔ اشرف صحرائی جیسے دلیر لیڈروں کو سلو پوائزننگ کے ذریعے جیل میں موت کی جانب دھکیلا جارہا تھا اور ان کے اہلِ خانہ کو اپنے مرحومین کے سرہانے پر آخری لمحوں میں کلمہ پڑھنے کے حق سے محروم رکھا جارہا تھا۔ یاسین ملک کی بہنیں دہلی اور سری نگر کے درمیان بے بسی اور کرب کے عالم میں ماہی  بے آب کی طرح تڑپ رہی تھیں، کیونکہ ان کا بھائی پھانسی کے پھندے کی طرف قدم بہ قدم بڑھ رہا تھا اور اس کی صحت خراب سے خراب تر ہورہی تھی، اس کے باوجود ان بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب نوجوانوں کو قتل کرکے آبائی قبرستانوں کے بجائے سیکڑوں کلومیٹر دُور ویرانوں اور جنگلوں میں مٹی میں دبایا جاتا تھا، اور یہ اہلِ خانہ کو مستقل طور پر ایک نفسیاتی عذاب میں مبتلا کرنے اور ذہنی ٹارچر کی ایک شکل تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب بھارت کشمیرکی شناخت اور تشخص بدلنے کے لیے نازی جرمنی طرز کے قوانین متعارف کرا رہا تھا۔ کشمیر کی تقدیر دہلی میں امیت شا اور اجیت دووال کے دفتروں میں لکھی جارہی تھی۔ خطرے کی سطح اس قدر بلند تھی کہ خود بھارت نواز سیاست دان بھی پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کے پلیٹ فارم سے بھارت کے اقدامات کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے اور انھی لمحوں میں سابق وزیراعلیٰ کشمیر محبوبہ مفتی کا یہ جملہ مشہور ہوا تھا کہ ’’ہم سوچ رہے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے قائداعظم کا ساتھ نہ دے کر غلطی کی تھی‘‘۔ ایسی ’کشمیر ڈیل‘کے اندر مستقل خرابی یہی ہے کہ اس میں کشمیر کہیں نہیں ہوتا۔

یوں لگ رہا ہے کہ اب کی بار بھارت کا یہ فیصلہ یک طرفہ نہیں تھا۔ اس کھیل کا آغاز عمران خان اور جنرل باجوہ کے بیک وقت امریکا کے دورے سے ہوا تھا۔ عمران خان بڑے جلسوں سے خطاب کرتے اور ٹرمپ کے ساتھ گپ شپ کرتے رہے، جب کہ عین انھی لمحوں میں جنرل باجوہ ’سینٹ کام‘ میں امریکی فوج کے شاہانہ اور پُرتپاک استقبال اور سلامی کا لطف لیتے رہے۔ وائٹ ہاؤس میں محض گپ شپ جاری رہی،جب کہ ’سینٹ کام‘ میں اصل فیصلے ہوگئے تھے۔ اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ  ’’نریندر مودی نے مجھ سے کشمیر پر کردار ادا کرنے کو کہا تھا‘‘۔ یہ حقیقت میں امریکا کو ۵؍ اگست کے فیصلے پر اعتماد میں لینے اور پاکستان کے ممکنہ ردعمل کو کنٹرول کرنے کی درخواست تھی۔ اس کھیل میں بعض عرب ممالک اور سرمایہ دار شریک تھے، جنھیں بھارت نے یہ جھانسہ دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے مقامی قوانین اور تشخص کی موجودگی میں بھارت بے بس ہے، وہ نہ تو عرب سرمایہ داروں کی کشمیر میں کوئی مدد کرسکتا ہے نہ اپنے طور پر انھیں وہاں رسائی دے سکتا ہے۔ اس کے لیے کشمیر کا تشخص ختم کرنا ہوگا، تاکہ قانونی پوزیشن بدل جانے کے بعد بھارت اپنے بل بوتے پر عرب سرمایہ داروں کو کشمیر تک رسائی دے سکے۔ مغربی ملکوں کو بھی یہی جھانسہ دیا گیا، اور یوں خاموش بین الاقوامی حمایت حاصل ہونے کے بعد بھارت نے یہ فیصلہ لیا تھا۔

۵؍ اگست کے فیصلے کے خلاف آزادکشمیر سے کسی صدائے احتجاج کو بلند ہونے سے روکنے کے لیے اُس وقت کے وزیراعظم آزادکشمیر راجا فاروق حیدر کو منظر سے غائب کرکے امریکا پہنچا دیا گیا۔ ان بیس سال میں بھارت کو کشمیر کی آبادی کا تناسب اور تشخص تبدیل کرنے کی مہم میں کامیابی حاصل کرنا تھی، مگر پاکستان اس عمل پر زبانی کلامی رسمی احتجاج کے حق سے بھی دست بردار ہورہا تھا۔ یہ پسپائی کی بدترین شکل تھی جس میں کنٹرول لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرنا بنیادی تصور ہے۔ شملہ معاہدے کے بعد بھارت نے کنٹرول لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرانے کے لیے پلان بنا رکھا ہے۔کچھ بھارتی حلقوں کا دعویٰ رہا ہے کہ شملہ میں غیر تحریری طور پر ذوالفقارعلی بھٹو یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنایا جائے گا۔

۱۹۹۰ء کے عشرے میں پہلی بار ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے نتیجے میں میاں نوازشریف نے بھارت کے ساتھ معاہدہ کرنے کا بڑا فیصلہ کیا۔ اس مفاہمت میں کشمیر میں ’اسٹیٹس کو‘ برقرار رکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے تعلقات کو بحال کیا جانا مقصود تھا۔ کنٹرول لائن کو نرم کرکے مستقل قرار دینا بھی اس منصوبے کا حصہ تھا۔ اسی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے واجپائی لاہور آئے، مگر پاکستان کی ہیئتِ مقتدرہ نے اس کوشش کو کشمیر فروشی قرار دے کر تسلیم کرنے سے انکار کردیا، جس کے بعد کرگل کی جنگ ہوئی اور سارا منظر بدل گیا۔ جنرل پرویزمشرف نے نوازشریف حکومت کو برطرف کرکے عنان ِ حکومت سنبھالی اور وہ بھارت کے ساتھ پُراعتماد ہوکر مذاکرات کرتے رہے اور کشمیر کے مسئلے کو اولیت دینے کی بات پر کاربند رہے۔ ان کی کشمیر دوستی کا یہ دور آگرہ مذاکرات تک چلتا رہا، جہاں انھوں نے پاک بھارت مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کا ذکر نہ کرنے پر اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کیا اور واک آؤٹ کے انداز میں آگر ہ سے وطن واپس چلے آئے۔ مگر اگلے ہی برس وہ دوبارہ بھارت گئے، دہلی میں انھوں نے اپنے آبائی گھر نہروالی حویلی کا دورہ کیا اور یہاں انھوں نے آگرہ والے پرویزمشرف کو خداحافظ کہہ کر دہلی والا پرویزمشرف بننے کا فیصلہ کیا۔ وہ کشمیر کو نظرانداز کرکے یا کنٹرول لائن کو نرم کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ معاہدے کی راہ پر چل پڑے۔ یہ قریب قریب وہی تصور تھا جس کی آبیاری نوازشریف نے کی تھی، مگر وہ اس کوشش پر جنرل پرویزمشرف کے معتوب ٹھیرے تھے۔ اب جنرل پرویزمشرف یہی کام خود کررہے تھے، مگر وکلا تحریک نے عین اُس وقت جنرل پرویز کے اقتدار کی چولیں ہلا کر رکھ دیں جب بقول خورشید محمود قصوری ’’ہم کشمیر پر معاہدے سے تین ماہ کی دُوری پر تھے‘‘۔

اب یوں لگتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوازشریف اور جنرل پرویزمشرف کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا تھا، مگر تاریخ میں پہلی بار ایک سویلین حکمران عمران خان نے اس رنگ میں بھنگ ڈال دی اور کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنانے کی یہ کوشش بھی بہت قریب پہنچ کر کامیابی سے ہم کنار نہ ہوسکی۔

کیا ہمارا معاشی اور مالیاتی نظام وفاقی شرعی عدالت کے حکم کے مطابق دسمبر ۲۰۲۷ء تک سود کو ختم کرسکے گا؟ اگر ماضی کی روایت کو پیش نظر رکھا جائے تو اس ٹائم فریم پر عمل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ہماری معیشت کو سود سے پاک نظام میں تبدیل کرنے میں کیا چیلنج درپیش ہیں؟ پاکستان میں اب تک بنکوں کی اسلامائزیشن کتنی تیز یا سُست رہی ہے؟ مؤخر الذکر سوال کا جواب دینے کے لیے، بنکاری نظام کو اسلامی بنانے کی پہلی سنجیدہ کوشش ۲۰۰۲ء میں میزان بنک کے قیام کے ساتھ شروع ہوئی۔ اس کے بعد اسلامی بنکاری کے اثاثے تیزی سے بڑھنے لگے، لیکن کمرشل بنکاری میں اسلامی اثاثوں کا حصہ بہت آہستہ آہستہ بڑھا۔ یہ ۲۰۰۲ء میں صفر فی صد، ۲۰۱۲ء میں ۸ء۲ فی صد، جون ۲۰۲۲ء میں ۱۹ء۵ فی صد تک پہنچ گیا۔ اس طرح یہ حصہ تقریباً ایک فی صد سالانہ کی اوسط رفتار سے بڑھا۔ اگریہ حصہ اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو اسلامی بنکاری کے اثاثے ۲۰۵۲ء کے آس پاس سود پر مبنی بنکاری اثاثوں کو پیچھے چھوڑ جائیں گے، جب کہ ہمارا نصف بنکنگ نظام اسلامی ہوچکا ہوگا۔

اسلامائزیشن کی اصل رفتار یقینا، اس بات پر منحصر ہوگی کہ ہم کتنی جلد دیگر چیلنجوں پر قابو پالیتے ہیں۔ بنیادی چیلنج سود پر مبنی بنکوں کے شریعت کے مطابق بننے سے متعلق نہیں ہے، بلکہ حکومتی، ملکی اور بیرونی قرضوں کو شریعہ کے مطابق سیکیورٹیز جیسے صکوک میں تبدیل کرنے سے ہے۔ اس تبدیلی کے بعد بنکاری اور مالیاتی شعبے کو سود سے پاک نظام کی طرف بڑھنا آسان ہوجائے گا۔ یہ بات کہنا تو آسان ہے، لیکن کرنا مشکل ہے۔

جون ۲۰۲۲ء کے آخر تک وفاقی حکومت پر ملکی اور بیرونی قرض ۴۷ء۸ ٹریلین روپے تھا، جب کہ اس میں عالمی مالیاتی فنڈ کا قرض اور اسٹیٹ بنک کے غیرملکی زرمبادلہ کے واجبات شامل نہیں تھے۔ یہ پہلے ہی ۵۰ ٹریلین روپے کی حد کو عبور کرچکا ہے۔ ملکی قرضوں کی تبدیلی کے بغیر بنکاری اور مالیاتی ادارے شریعت کے مطابق نہیں بن سکتے۔

تبدیلی اگرچہ ناممکن نہیں لیکن ۲۰۲۷ء تک اسے حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ سود پر مبنی مالیاتی نظام کے تحت بنکوں سے حکومتی قرض لینے کے لیے وفاقی حکومت سے کسی حقیقی اثاثے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سود سے پاک نظام کے لیے حقیقی اثاثوں کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے بدلے قرض لینے والا صارف، اسلامی بنک سے شریعہ کے مطابق سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔ اسلامی مالیاتی نظام کے تحت تمام مالیاتی سرگرمیاں حقیقی اثاثوں کی مدد سے ہونی چاہییں۔  یہ شریعت کے مطابق اور سود پر مبنی سرگرمی کے درمیان پائے جانے والے بنیادی فرق میں سے ایک ہے۔ مؤخر الذکر کو ایک حقیقی اثاثے سے جوڑنا ایک براہِ راست کوشش ہے، کوئی دورازکار بات نہیں ہے چونکہ مالی سرگرمیاں ، خواہ سود پر مبنی ہوں یا شریعت کے مطابق، بظاہر تو ایک جیسی نظر آتی ہیں۔ اس لیے یہ لوگوں کو غلطی سے یہ سوچنے میں اُلجھا دیتی ہیں کہ یہ نظام ایک جیسے ہیں۔ مگر امرواقعہ ہے کہ اسلامی مالیاتی سرگرمیاں بظاہر ایک جیسی نظر آنے کے باوجود ہمیشہ مختلف ہوتی ہیں۔

حکومتی قرض کو شریعت کے مطابق بنانے کے چیلنج کو حکومت نے صکوک، جن کی قیمت جون ۲۰۲۲ء کے آخر میں ۲ء۳ ٹریلین روپے تھی کے کامیاب اجرا کے ذریعے تقریباً ۵ فی صد (۴۷ء۸ ٹریلین روپے) کی حد تک پورا کیا ہے۔ یہ ۵ فی صد تبدیلی دو عشروں میں حاصل کی گئی۔ ہماری وفاقی حکومت اپنے بقیہ ۹۵ فی صد قرضوں کو تبدیل کرنے میں کتنے عشرے لے گی؟ اس کا بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس بہت بڑی تبدیلی کو شروع کرنے میں اپنی جگہ حکومت کے حقیقی مسائل ہیں۔ اس کے پاس حقیقی اثاثے ۵۰ٹریلین روپے نہیں ہیں۔ بنیادی طور پر کیونکہ زمین ایک صوبائی موضوع ہے۔ نتیجتاً ہمارے ملک میں زیادہ تر زمین صوبائی حکومتوں ہی کی ملکیت ہے۔

اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی کتنی اراضی ہے، لیکن ایک سادہ انٹرنیٹ سرچ سے پتا چلتاہے کہ امریکا میں ۲۸ فی صد اراضی وفاقی حکومت اور ۷۲ فی صد ریاستی حکومتوں کی ملکیت ہے۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ ہماری وفاقی حکومتوں نے ایسی ملکیت کا تخمینہ لگانے کے لیے کبھی اثاثوں کا سروے یا رقبہ شماری نہیں کی ہے۔ پھر اس کا حل کیا ہے؟ کیا ہمارے آئین میں ترمیم کرکے زمین کو وفاق کا حصہ بنایا جاسکتا ہے؟ اگر نہیں، تو وفاقی حکومت کو مزید وفاقی اجارہ صکوک جاری کرنے کے لیے صوبائی اثاثوں کو استعمال کرنے کے مناسب طریقے وضع کرنے چاہییں۔ اس چیلنج کی نوعیت واضح ہونی چاہیے۔ یہ کاوش بھی بہت وقت لے گی۔

اسی طرح کا چیلنج اسٹیٹ بنک سے متعلق ہے۔ یہ ۱۶۵ بلین روپے کے رئیل اسٹیٹ اثاثوں کے مقابلے میں تقریباً ۶ء۱ ٹریلین روپے کے PIBs کا مالک ہے۔ایک بار جب حکومت اپنے PIBs کو صکوک میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے، تو مرکزی بنک کو شریعت کے مطابق بننے کے لیے سود پر مبنی ضمانتوں کا تبادلہ کرنا چاہیے۔ اس کے کریڈٹ کے لیے اسٹیٹ بنک نے پہلے ہی اسلامی بنکوں میں ضرورت پڑنے پر لیکویڈیٹی داخل کرنے کے لیے اوپن مارکیٹ آپریشنز کا ایک شریعہ کے مطابق نسخہ وضع کیا ہے۔ اسلامی بنکاری میں داخلے کے لیے مضاربہ کی بنیاد پر پیش کش کی سہولت بھی موجود ہے، حالانکہ موپ اَپ سہولیات یا OMO کا ابھی تک انتظار ہے۔ دونوں سہولیات کے کام کرنےکے بعد اسٹیٹ بنک، اسلامی مالیاتی نظام میں اپنی مانیٹری پالیسی کو نافذ کرنے کے قابل ہوجائےگا۔

شریعت کے مطابق ضمانتوں (securities)کی قیمتوں کا تعین کرنا اب کوئی چیلنج نہیں ہے، لیکن جب یہ ضمانتیں سود پر مبنی ضمانتوں سے آگے نکل جائیں گی تو اس میں ترمیم کرنا ہوگی۔ فی الحال اسلامی مالیاتی مصنوعات کی قیمتوں کا تعین (منافع کی شرح) شرحِ منافع کے معیارات (جیسے اسٹیٹ بنک کی پالیسی ریٹ یا Kibor)سے منسلک ہے۔ شریعہ ماہرین نے اس کی اجازت دی ہے، غالباً اس لیے کہ اسلامی مالیات کے ابتدائی مرحلے میں، آزاد قیمتوں کے تعین میں غالب سود پر مبنی بنکاری کے شعبے میں مسابقت اور منافع کو مدنظر رکھا جارہا ہے۔ ایک بار جب اسلامی بنکاری کے اثاثے سود پر مبنی اثاثوں سے آگے نکل جائیں گے تو یہ استدلال ختم ہوکر رہ جائے گا اور ایک آزاد اسلامی مالیاتی بنچ مارک منافع کی شرح کی ضرورت ناگزیر ہوجائےگی۔ یہ تصورکرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ کتنا مضحکہ خیز نظر آئے گا اگرغالب اسلامی سیکیورٹیز، شرحِ سود کا بنچ مارک استعمال کرتی رہیں۔ اب بھی، یہ واسطہ اسلامی سیکیورٹیز کے بارے میں بہت زیادہ شکوک پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

اس بینچ مارک کو قائم کرنا اسٹیٹ بنک کی ذمہ داری ہے اور ہوگی۔ یہ ایک مشکل لیکن قابلِ عمل کام ہے۔ رئیل سیکٹر میں موجودہ منافعے کی شرح کا تخمینہ لگانے کے لیےسہ ماہی سروے کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی اہم ذیلی شعبوں کا اندازہ کرنا جیسے رئیل اسٹیٹ برائے اجارہ صکوک  جن کی پشت پر زمین یا جائیداد ہو۔ اس کے بعد اسٹیٹ بنک مستقبل کی پالیسی کی شرحوں کے لیے ایک مناسب بنچ مارک منتخب کرسکتا ہے۔

اگرچہ ہمارے ملک میں اسلامی مالیات کی دو عشروں کی پیش رفت سُست رہی ہے لیکن اس صداقت کے بارے میں موجود شکوک و شبہات کے باوجود یہ اب بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ شکوک و شبہات ایک طرف مالیاتی مصنوعات کے درمیان موروثی مماثلت سے پیدا ہوتے ہیں اور دوسری طرف مالی اعانت کے اسلامی طریقوں کے موجودہ ڈھانچے کی چھان بین کرنے میں ہچکچاہٹ سے ، جو ہرقسم کے لین دین کے لیے مکمل طور پر دستاویزی اور واقعی شفاف ہوں۔(ڈان، ۶جنوری ۲۰۲۳ء)

عقل و دانش بلاشبہہ انسان کو فہم و ادراک( Cognitive Science )کا عظیم علم عطا کرتی ہے، مگر سکرات و منشیات، نشے کےعادی انسان سے جوہرِ آدمیت چھین لیتے ہیں۔ یوں شیطانی مکروفریب کا مارا اور دین و شریعت سے بے بہرہ انسان، خاندان اور معاشرے پر بوجھ بن جاتا ہے اور سفاکیت کی نذر ہوجاتا ہے۔ شریعت، معروفات اور منکرات پر مشتمل قانونِ الٰہی ہے۔ ہروہ عمل معروف ہے شریعت نے جس کے کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا کرنا باعث ِ ثواب اور اس کا ترک کرنا باعث ِ سزا ہے: مَا یُثَابُ فَاعِلُہُ وَلَا یُعَاقَبُ تَارِکُہُ۔اس کے برعکس ہر وہ عمل جس سے شریعت نے منع کیا ہے وہ منکر ہے۔ اس کا ترک کرنا باعث ثواب اور اس کا ارتکاب کرنے والا مستوجب ِ سزا ہے: مَا یُثَابُ تَارکۃ وَ  یُعَاقَبُ فَاعْلَہُ۔شریعت میں حلال و حرام کا یہ تصور ہے، جب کہ مقاصد ِ شریعت پانچ ہیں جو اپنے اندر بہت وسعت اور جامعیت رکھتے ہیں۔

مقاصد ِ شریعت میں تحفظ ِدین، تحفظ ِجان،تحفظ ِ مال، تحفظ ِ نسل کے علاوہ تحفظ ِ عقل شامل ہیں اور ان میں تحفظ ِ عقل کوان پانچ مقاصد میں اوّلین حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس کے بغیر فہم و ادراک ممکن نہیں۔ منشیات یا دیگر وجوہ سے اگر عقل میں فتور آگیا تو دیگر مقاصد ِ شریعت اس کی زد میں آتے ہیں۔ بذریعہ دین اپنے ربّ سے اس کا تعلق منقطع ہوجاتا ہے۔ جان و مال اور نسل و عزّت و آبرو ملیامیٹ ہوجاتے ہیں۔ شریعت محمدیؐ عطا کرنے والے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت مفقود ہوجاتی ہے۔ یوں بنی آدم شرفِ آدمیت سے محروم ہوجاتا ہے، بالآخر علمِ وحی اورعلمِ اکتساب سے بے بہرہ ہونے کے سبب انسانیت ہلاکت خیزی کا شکار ہوتی ہے۔ یہ ہے منشیات اور نشے کا ناسُور!

نشہ اور حیاتیاتی جنگ

بائیولوجیکل یا حیاتیاتی جنگ کے موجودہ دور میں ہیروئن ، شیشہ اور آئس نے نوجوانوں پر منشیات کےاثرات کو تباہ کن صورتِ حال سے دوچار کردیا ہے۔ انسانی سوچ کو قابو کرنے کے لیے عصرحاضر میں ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ اور Cyborg میں آفتابی شعائوں، برقی مقناطیسی ذرّات ، Cosmic particle اور ڈی این اے سے متعلق سائنسی تحقیقی اداروں نے انسانی دماغ میں تبدیلی کو جنگی مقاصد کے لیے سہل الحصول بنادیا ہے، تاکہ مستقبل کی حیاتیاتی جنگ، فتوحات کا پیش خیمہ ہو۔ اس میں شک نہیں کہ انسانی سوچ کے بدلنے اور حواس میں تبدیلی سے انسان تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس طرح اکیسویں صدی کا بدلاہوا انسان آج سے ہزارسال پہلے نشے کی حالت میں بدلے ہوئے انسان سے کہیں زیادہ حواس باختہ ہوگا اور قتل و غارت کا رسیا۔

گیارھویں صدی میں نشے کا فساد چرس اور افیون مافیاکے ہاتھوں انجام پارہا تھا۔ اس گروہ کے بانی اور منشیات کے بڑے پرچارک، حسن بن صباح (۱۰۲۴ء)، نظاری ریاست اور ساتھی، ایک مافیا تھے۔ یہ لوگوں کو نشہ آور اشیا پلا کر اُن کو خودساختہ عشرت کدوں میں بساتے اور اپنے دشمنوں میں ہلاکت خیزی پھیلاتے تاکہ قاتل اور مقتول اس مافیا کی بھینٹ چڑھ کر موت کے منہ میں چلے جائیں۔ معروف سیاح مارکوپولو نے شخ الجبال کی زیرنگرانی الموت قلعے میں واقع اپنے عہد کی اس جنت کا نقشہ کھینچا ہے جو منشیات کا بڑا اڈا تھا اور جہاں خودکش حملہ آور تیارکیے جاتے اور علما، سیاسی زعماء ، سپہ سالاران اور معتبر سماجی شخصیات کو قتل کیا جاتا تھا۔ ان نظاری افواج کو عیش و عشرت کی جو سہولتیں دستیاب تھیں ، ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فردودسِ بریں کے نام سے عبدالحلیم شرر نے ایک ناول تحریر کیا ہے جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا ہے۔ یہ تھا ہزار سال قبل منشیات کا ناسُور جس کو پہلی بار ریاست کی پشت پناہی حاصل تھی۔ شریعت مطہرہ نے جسے منکر کہہ کر حرام قرار دیا تھا، اور ریاست ِ مدینہ میں اسے ممنوع قرار دیا تھا کیونکہ عقل و حواس کی حفاظت مقاصد شریعت کی بنیاد ہے اور منکرات کی اشاعت اور منشیات پھیلانے سے اجتناب ضروری ہے۔ نشہ آور اشیا مختلف النوع ہیں، بہرحال ان کے استعمال سے منکر کے خلاف قوتِ مزاحمت جواب دے جاتی ہے۔ پاکستان کے ضابطۂ قانون کے مطابق شراب اور نشہ ممنوع ہے۔ اس سلسلے میں ۱۹۴۸ء میں پہلا حکم خود بانی ٔپاکستان نے نافذ کیا تھا۔

شراب کی بندش اور بانیٔ پاکستان

قائداعظم محمدعلی جناح، قانونی و دستوری ضوابط کی رُو سے بحیثیت گورنر جنرل مسلح افواج کے چیف کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے۔ قائد کے حین حیات، میجر جنرل محمد اکبر خاں مدتِ ملازمت میں بلند درجے کی بنیاد پر فوج میں ترقی پاکر کمانڈر فرسٹ کور تعینات ہوئے۔ قائد سے ملاقات کے دوران شراب کی بندش سے متعلق ۱۹۴۸ء کا وہ اپنا ایک ذاتی تجربہ اور سرگزشت قلم بند کرتے ہیں:

ہمارے افسروں کے تربیتی اسکولوں میں ضیافت کے وقت شراب پی جاتی تھی کیونکہ یہ افواج کی قدیم روایت ہے۔

میں نے بانی ٔ پاکستان سے یہ عرض کیا: ’’شراب کے استعمال کو ممنوع قرار دینے کا اعلان فرمائیں‘‘۔ قائد نے خاموشی سے اپنے اے ڈی سی کو بلوایا اور حکم دیا کہ ’’میرا کنیفیڈنشل باکس لے آئو‘‘۔ جب باکس آگیا تو قائداعظم نے چابیوں کا گچھا اپنی جیب سے نکال کر اور باکس کو کھول کر سیاہ مراکشی چمڑے سے جلدبند ایک کتاب نکالی اور اسے اُس مقام سے کھولا جہاں انھوں نے نشانی  رکھی ہوئی تھی اور فرمایا: ’’جنرل،  یہ قرآنِ مجید ہے۔ اس میں لکھا ہوا ہے کہ شراب و نشہ حرام ہیں‘‘۔

تبادلۂ خیالات کے بعد اسٹینو کو بلوایا گیا۔ قائداعظمؒ نے آیاتِ قرآنی کا حوالہ دے کر ایک مسودہ تیار کیا کہ ’’شراب اور منشیات حرام ہیں‘‘۔

میں نے مسودے کی نقل چسپاں کرکے اپنے ایریا کے تمام یونٹ میں شراب نوشی بند کرنے کا حکم جاری کیا جو میری ریٹائرمنٹ تک مؤثر رہا۔ اس موقعے پر میں نے قائداعظم سے عرض کیا کہ ہم نے بنیادی طور پر آپ کی تقریروں سے رہنمائی حاصل کی ہے تو آپ نے فرمایا: ’’ہم مسلمانوں کو زندگی کے ہرشعبے میں قرآنِ مجید سے رہنمائی لینی چاہیے‘‘۔ (میری آخری منزل، ص ۲۸۱)

قرآنِ مجید اور حُرمت شراب

قرآنِ مجید میں شراب کی حُرمت بتدریج مختلف مراحل میں نافذالعمل ہوئی۔ قرآنِ مجید کی کل چارسورتوں میں مرحلہ وار احکامات آئے: سورئہ بقرہ کی آیت ۲۱۹، سورئہ نحل کی آیت ۶۷، سورئہ نساء کی آیت ۴۳ اور سورئہ مائدہ کی آیت ۹۰۔ حُرمت ِ شراب کا آخری اور قطعی حکم سورئہ مائدہ کی آیت۹۰ کے نزول کے بعد نافذ ہوا۔ اس آیتِ کریمہ میں ارشاد ہوا:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۹۰ (المائدہ ۵:۹۰) اے لوگو جو ایمان لائے ہو یہ شراب و جُوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، اِن سے پرہیز کرو، اُمید ہے کہ تمھیں فلاح نصیب ہوگی۔

یہ شراب کی ممانعت کا واضح شرعی حکم ہے۔ اس کے معاً بعد آیت۹۱ میں شراب اور جوا کے امتناع کے شرعی مقاصد کو بیان کیا گیا:

اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ۝۰ۚ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ۝۹۱ (المائدہ ۵:۹۱) شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمھارے درمیان عداوت اور بُغض ڈال دے اور تمھیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم اِن چیزوں سے باز رہو گے؟

اس حکمِ خداوندی کا نازل ہونا تھا کہ صحابہ کرامؓ نے علانیہ کہا: رَبَّنَا انتھینا، اے پروردگار ہم باز آگئے(مسنداحمد، جلد دوم)۔اس وحی کے نزول کے بعد مدینہ میں شراب کے مٹکے بہادیئے گئے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

سُکر، نسخ اور اضطرار کی قرآنی اصطلاحات

حُرمت شراب اور سُکر کے علاوہ نسخ اور اضطرار کی اصطلاحات قرآنِ مجید میں استعمال ہوئی ہیں۔

  • سَكَرًا:  سورئہ نحل میں آیت ۶۷ میں ارشاد ہوا: تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا۝۰ۭ ’’تم جس سے نشہ آور مشروب بھی بنالیتے ہو اور پاک رزق بھی‘‘۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۝۶۷’’یقینا اُس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لیے‘‘۔ اس آیت میں ایک ضمنی اشارہ شراب کی حُرمت کی طرف بھی ہے کہ وہ پاک رزق نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، آیت۶۷)
  • نسخ: ’نسخ‘ کی اصطلاح سورئہ بقرہ کی آیت ۱۰۶ میں اِن الفاظ میں استعمال ہوئی ہے:  مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْہَآ اَوْ مِثْلِہَا۝۰ۭ ’’ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں، اس کی جگہ اس سے بہترلاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی‘‘۔اس حکم کے تحت اس منسوخ آیت کا سورئہ مائدہ (آیت ۹۰-۹۱) شراب و دیگر نشہ و سکرات ناسخ ہے۔
  • اضطرار:’اضطرار‘ کی اصطلاح سورئہ بقرہ کی آیت ۱۷۳ میں مقاصد ِ شریعت کی تکمیل اور سخت مجبوری کی صورت میں حرام اشیا کے استعمال کے لیے اجازت کے لیے استعمال ہوا ہے: فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ  فَلَآ اِثْمَ عَلَيْہِ۝۰ۭ ’’ہاں، جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو، اور وہ ان میں سے کوئی چیزکھا لے بغیر اس کے وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں‘‘۔ چونکہ مقاصد ِ شریعت تاقیامت انسانوں کے فائدے کے لیے ہیں، لہٰذا مرا ہوا جانور، خون، سُور کا گوشت، غیراللہ کے لیے مذبوحہ سمیت اضطرار کی صورت میں شراب بھی غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ  کے تحت حلال ہو جاتی ہے۔

اطلاق اصطلاحات و مقاصد شریعت

سورئہ مائدہ کی ان آیتوں میں بیان کردہ حُرمت شراب مستوجب سزا حد میں داخل ہے اور یہ حکمِ شرعی ناسخ ہے پچھلی تین آیاتِ الٰہی کا جو مختلف مراحل میں نازل ہوئیں۔ علمائے کرام کے نزدیک بعد میں نازل ہونے والی آیات اور اُن کے احکامات کو منسوخ کرتی ہیں۔ مثلاً پہلے مرحلے میں نازل ہونے والی سورئہ بقرہ کی آیت۲۱۹ کے حکم کے لحاظ سے مقاصد شرع کے استثنا کے ساتھ منسوخ ہوچکی ہے:

 يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ۝۰ۭ قُلْ فِيْہِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ  لِلنَّاسِ۝۰ۡ وَاِثْـمُہُمَآ اَكْبَرُ  مِنْ  نَّفْعِہِمَا۝۰ۭ (البقرہ ۲:۲۱۹) پوچھتے ہیں: شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے؟ کہو: اِن دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے۔ اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے منافع بھی ہیں ، مگر اِن کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ (النساء ۴:۴۳) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جائو۔ نماز اس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔

اگرچہ یہ آیت عہد ِ نبویؐ میں شراب پی کر نماز پڑھنے سے متعلق ہے۔ سورئہ مائدہ کی آیت۹۰ کے اس حکم سے منسوخ ہوچکی ہے۔ علمائے فقہ کی رائے کے مطابق ’الحکم بالعموم‘ ہے، یعنی آیت میں سُکرٰی کا اطلاق عمومی طور پر ہرقسم کی سُکر یا نشہ پر ہوگا، صرف شراب کے لیے مخصوص نہ ہوگا۔ زیرعلاج لوگوں کے لیے مقاصد ِ شریعت کے تحت طبّی Insthesia کا نشہ جائز اور ضروری ہے۔ ایسے نشہ کے عالم میں پورے ہوش و حواس بحال ہونے تک نماز کے قریب نہ جانے کے حکم کا اطلاق غیرمنسوخ قرار پائے گا۔

منشیات اور ادارتی ابلاغ

نشہ آور اشیا کی تشہیر بھی مقاصد شریعت کے سد الذریعہ کے تحت منع ہے کیونکہ: منشیات کی تشہیر اور منکرات کی اشاعت و ابلاغ سے بُرائی کو فروغ حاصل ہوتاہے اورنسل انسانی اخلاقی بگاڑ اور فساد کا شکار ہوکر تباہ ہوجاتی ہے۔ شریعت محمدیؐ اور پاکستان کے مروجّہ قانون و دستور میں منشیات کا استعمال ممنوع ہے۔ اس کے باوجود پچھلے دو عشروں کے دوران تعلیمی اداروں اور معاشرتی سطح پر نوجوان نسل، علم، صحت اور اخلاق سے محروم ہوتی جارہی ہے مگر اس لعنت کے پس پردہ بڑے مجرم، قوانین و ضوابط کی گرفت سے آزاد ہیںاور ریاستی ادارے، نشہ آور اشیا کی سپلائی لائن منقطع کرنے اور ’حشیشن مافیا‘کو جکڑ لینے میں بے بس نظر آتے ہیں۔ اس وجہ سے قوم نئی نسلوں کے مخدوش مستقبل  کے بارے میں سخت تشویش میں مبتلا ہے کیونکہ یہ معاشرتی ناسُور مملکت خدادادِ پاکستان کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے جس کی رُوسیاہی نشہ کے سبب بڑھتی جارہی ہے۔ نیز کوتاہی کے مرتکب مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اندر قوتِ نافذہ کے حامل نمایندوں، منصفوں اور انتظامی افسران کی سُست روی پر عوام سخت نالاں ہیں۔

اس ضمن میں والدین، رضاکار، اساتذہ اور محراب و مسجد کے کردار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کیا ہمارے ائمہ اورخطبا، حفاظت ِ دین ، حفاظت ِ عقل و دانش، حفاظت ِ نسل و عزّت اور جان و مال کے پانچ بنیادی مقاصد ِ شریعت کو عوام الناس کے ذہنوں میں نہیں بٹھا سکتے اور خطباتِ جمعہ میں مقاصد ِ خمسہ کی تفہیم و تشریح نہیں کرسکتے؟ ہمارے ذرائع ابلاغ لایعنی گفتگو پر وقت ضائع کرنےکے بجائے اپنے ایڈیٹروں اور رپورٹروں کا ارتکاز توجہ اِن اہم تربیتی و معاشرتی اُمور کی طرف نہیں کر سکتے جس کے وہ شرعاً اور قانوناً پابند ہیں؟

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) اپنے اداراتی ضوابط میں ترمیم و اضافہ کرکے تمام چینلوں کو منشیات کے خلاف معاشرتی اقدار کا پابند بناسکتی ہے۔ ریاستی اداروں میں اہم ادارہ فوج کا ہے جو جنگ اور دفاعی اُمور کا ذمہ دار ہے۔ عصرحاضر میں جنگ و جدال پیچیدہ صورت اختیار کرچکی ہے۔ فورتھ جنریشن وار سمیت دشمن کے مختلف النوع چالوں کے مقابلے میں اپنا اورملک و قوم اور نظریہ کا دفاع غیرمعمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ قوم کا نظریاتی دفاع، قرآن و سنت اور شریعت و مقاصد ِ شریعت کا دفاع ہے۔ منشیات کی حُرمت قرآنی حکم ہے۔ مختلف وسائل و ذرائع سے منشیات کا تدارک ضروری ہے۔

جسمانی فعال صحت کے ساتھ ساتھ ہمیں قوم کی ذہنی صحت کا بھی دفاع کرنا ہوگا جو مقاصد ِ شریعت کے پہلو بہ پہلو عقل و دانش کا بھی تقاضا ہے۔ اجتماعی طور پر یہ اُسی طرح فریضہ ہے جس طرح باجماعت نماز اور نظریۂ جہاد کے بلند مرتبہ کی خاطر جان و مال اور اولاد کی قربانی۔ قرآن کریم نے اس ایثار اورحیات و ممات کو اللہ کی خاطر جینے اور اللہ ربّ العالمین کی خاطر مرنے سے تعبیر کیا ہے۔ ممانعت نشہ دینِ اسلام کا اہم مرکزی نقطہ ہے اور کوہان کی اُونچی چوٹی یعنی ذرْوَۃ السَنَام جہاد کا طرئہ امتیاز بھی۔

تصوف کی اصطلاحات

سوال : سلسلۂ تصوف میں چند اصطلاحات معروف و مروج ہیں: قطب، غوث، اَبدال اور قیوم۔ قرآن و حدیث میں ان کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس کے متعلق جناب اپنی ذاتی تحقیق سے آگاہ فرمائیں۔

جواب :تصوف کی جن اصطلاحات کا آپ نے ذکر کیا ہے، ان میں سے صرف ’ابدال‘ کا ذکر حضرت علیؓ کے ایک قول میں ملتا ہے۔ باقی رہے غوث، قطب اور قیوم، تو ان کا کوئی ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، یا صحابہ و تابعین کے اقوال میں نہیں ملتا، اور خود ابدال کے متعلق بھی جو عام تصورات صوفیہ کے ہاں پائے جاتے ہیں، ان کی طرف کوئی اشارہ حضرت علیؓ کے اس قول میں نہیں ہے، جس سے یہ اصطلاح لی گئی ہے۔ (سیّد ابوالاعلٰی مودودی ، اگست ۱۹۶۵ء)


تصوف کے سلاسلِ اربعہ

سوال :  تصوف کے سلاسلِ اربعہ کے متعلق اپنی رائے عالیہ سے مستفیض فرمائیں۔ 

جواب :تصوف کے ان سلسلوں کی ابتدا ایسے بزرگوں سے ہوئی ہے جو یقینا صلحائے اُمت میں سے تھے اور ان کا مقصود بھی تزکیہ و اصلاح تھا، جس کے ایک پاکیزہ مقصد ہونے میں کلام نہیں کیا جاسکتا۔ مگر جس طرح مسلمانوں کی زندگی کے دوسرے شعبے بتدریج انحطاط کا شکار ہوئے اور  ان میں صحیح و غلط کی آمیزش ہوتی چلی گئی، اس طرح یہ سلسلے بھی اپنی اصلی ابتدائی پاکیزہ حالت پر باقی نہیں رہ سکے ہیں۔ لیکن خدا کے فضل سے قرآن و سنت دُنیا میں محفوظ ہیں۔ ان کی راہ نمائی میں ہم جہاں اپنی زندگی کے دوسرے شعبوں میں صحیح و غلط کے درمیان تمیز کرسکتے ہیں، سلاسلِ تصوف کے افکارواعمال میں بھی یہ تمیز ممکن ہے۔ (سیّد ابوالاعلٰی مودودی  ، اگست ۱۹۶۵ء)


کیا تصوف مفید ہے؟

سوال :  تصوف جس کی دوسری تعبیر احسان و سلوک بھی ہے، جس کی تعلیم اکابرنقش بندیہ، چشتیہ ، سہرودیہ، قادریہ وغیرہ نے دی ہے، جیسے حضرت شیخ شہاب الدین محمد نقش بند، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی، حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی۔ اس تصوف کو آپ حضرات دین کے لیے مفید سمجھتے ہیں یا مضر؟

جواب : ہمارے نزدیک ہر وہ چیز جو کتاب اللہ و سنت رسولؐ اللہ سے مطابقت رکھتی ہے وہ مفید ہے اور جو مطابقت نہیں رکھتی وہ مضر ہے۔اسی کلیے میں تصوف بھی آجاتا ہے۔ تصوف میں بھی کتاب و سنت کے مطابق جو کچھ ہے، حق ہے۔ اس کا مفید ہونا شک و شبہہ سے بالاتر ہے۔ لیکن جو آمیزش بھی کتاب و سنت سے ہٹی ہوئی ہے، اس سے ہم اجتناب کرتے ہیں، اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔(سیّد ابوالاعلٰی مودودی ، اگست ۱۹۶۱ء)


الفاظ کا غلط استعمال

سوال : ۱- ایک صاحب نے ایک مسجد تعمیر کرائی، اس کا افتتاح ہو رہا تھا۔ ایک عالم نے جذبے سے مغلوب ہو کر اپنی تقریر میں فرمایا: ’’جس نے مسجد تعمیر کرائی ہے، اس کے ہم سب شکرگزار ہیں، یہاں تک کہ اللہ بھی ان کا شکر گزار ہے‘‘۔ کیا ایسا کہنا درست ہے؟ پھر ایک اور موقعے پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ’’رمضان کے روزے رکھنے کے بعد عید الفطر میں ہم سب اللہ کے مہمان ہو جاتے ہیں اور اللہ ہمارا خادم ہو جاتا ہے‘‘۔ کیا ایسا کہنا درست ہے؟

جواب :ہر زبان کے کچھ محاورے اور اسلوب ہوا کرتے ہیں۔ وہ لوگ ہوش مند نہیں ہیں جو ایک زبان کے کسی محاورے یا اسلوب کو دوسری زبان میں لفظی ترجمہ کرکے جوں کا توں بول دیں، اور یہ نہ دیکھیں کہ اس دوسری زبان میں یہ الفاظ کس مفہوم و معنٰی میں مستعمل ہیں۔ مثلاً لفظ ’شکر‘ کا مفہوم عربی استعمال میں ’قدردانی‘ ہے، ’شکور‘ کے معنٰی ’قدر کرنے والا‘یا ’قدردان‘۔ جیسے قرآن میں فرمایا گیا:  اِنَّہٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ۝۳۰ (اللہ بخشنے والا ہے، قدر فرمانے والا ہے)، اور اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۨ۝۳۴ۙ (بے شک ہمارا رب درگزر کرنے والا اور قدردان ہے) ۔اب ظاہر ہے کہ قدردانی اور قدر افزائی میں کسی طرح کا چھوٹا پن نہیں پایا جاتا، نہ اس کا مطلب ’ممنونِ احسان‘ ہونا ہوتا ہے۔ احسان بھلا اللہ پر کوئی کیا کرے گا،جب کہ تمام مخلوق خود اللہ کے احسانات میں بال بال بندھی ہوئی ہے۔

لیکن اُردو استعمال میں ’شکر گزاری‘ کے الفاظ بالکل دوسرا مفہوم اور دوسرے مضمرات رکھتے ہیں۔ کوئی بڑا اپنے چھوٹے کے لیے ’شکر گزاری‘ کا اظہار کرے، یہ معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ’شکر گزاری‘ کا مطلب اردو محاورے میں احسان کا اعتراف ہے، اور ’محسن‘ کا درجہ اس احسان کی حد تک اُس شخص سے بڑھا ہوا مانا جاتا ہے، جس پر احسان کیا گیا ہے۔

 لہٰذا جو صاحب آیاتِ قرآنیہ میں اللہ کے لیے ’شکور‘ کا لفظ دیکھ کر اردو میں بھی یوں فرمانے لگے ہیں کہ ’’اللہ اس شخص کا شکر گزار ہے، جس نے مسجد تعمیر کی‘‘، وہ صاحب کم سمجھ اور بدمذاق ہیں۔ ’شکر گزاری‘ جیسا کہ ہم نے کہا اعترافِ احسان کے ہم معنیٰ ہے، جب کہ قرآن کا لفظ ’شکور‘ صرف قدر دانی کا مفہوم رکھتا ہے۔ قدردانی کہتے ہیں کسی عمل کا بھرپور صلہ دینے کو، فرماںبرداری پر اپنی خوش نودی کا اظہار کرنے کو۔ یہ بے شک اللہ کی شان ہے اور ایسی شان اس کی عظمت کے منافی نہیں بلکہ عین مطابق ہے، لیکن اس کے برعکس ’شکرگزاری‘ دوسری شے ہے۔ شکر گزار وہی ہو سکتا ہے جس پر احسان کیا گیا ہو، یعنی اسے اس کے حقِ واجب سے زیادہ دے دیا گیا ہو۔ بھلا اللہ کو کوئی اس کے حق سے زیادہ کیا دے گا، بہت بڑی بات ہے اگر اس کے حق کا ہزارواں حصہ بھی بندہ ادا کردے۔

اب لفظ ’خادم‘ پر نظر کیجیے۔ سلیقے کی بات یہ تھی کہ مولوی صاحب ’مہمان‘ کے مقابلے میں ’میزبان‘ کا لفظ بولتے۔ میزبانی اللہ کے شایانِ شان ہے، مگر انھوں نے ’خادم‘ کا لفظ بول کر بہت بڑی جرأت کی۔’خادم‘ اردو بول چال میں جو پست مفہوم رکھتا ہے وہ بھی محتاجِ بیان نہیں ہے۔

’خادم‘ کا درجہ ’مخدوم‘ سے کم مانا گیا ہے۔ خادم تو عموماً نوکر کےلیے بولتے ہیں، اور یہی لفظ شائستہ حضرات خود اپنے لیے اس وقت استعمال کرتے ہیں جب عجز و انکسار مقصود ہو۔ خدا جانے ان مولوی صاحب نے عربی کے کس لفظ کا ترجمہ ’خادم‘ کرکے اسے اللہ کےلیے بول دیا ہے، استغفراللہ من ذٰلک۔ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی روایت میں ایسا کوئی لفظ آیا بھی ہو، جس کا ترجمہ ’خادم‘ ہو سکتا ہو، تب بھی یہ حماقت ہی ہوگی کہ اردو میں لفظ خادم کے محلِ استعمال کو نظر انداز کر دیا جائے۔

اللہ نے بندوں کی حوصلہ افزائی کےلیے بعض الفاظ بطورِ مجاز استعمال کیے ہیں، مثلاً:  وَاَقْرَضُوا اللہَ قَرْضًا حَسَـنًا (اللہ کو قرضِ حسنہ دو)، یعنی اہلِ ایمان راہِ جہاد میں اپنا جو مال خرچ کرتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمّے قرض قرار دیا، تو کیا خود ہمارے لیے بھی اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرکے یہ کہتے پھرنا مناسب ہے کہ’’ اللہ ہمارا مقروض ہے!‘‘

اللہ نے فرمایا:  اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ يَنْصُرْكُمْ (اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمھاری مدد کرے گا)۔ یہ بھی حوصلہ افزائی ہی کا انداز ہے اور عربی سے مخصوص۔ اب کیا خود ہمیں بھی یہ زیب دے سکتا ہے کہ جب جہاد کرنے چلیں تو اکڑ کر کہیں کہ ’’ہم اللہ کی مدد کرنے جا رہے ہیں!‘‘

جب عقل تناسب سے کم ہو تو علم صحیح طور پر ہضم نہیں ہوتا، بلکہ کچا پکا باہر نکلتا ہے۔ کاش وہ صاحب الفاظ کے استعمال میں ہمیشہ سورۂ بقرہ کی اس آیت کو ملحوظ رکھیں: يٰٓاَ يُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا (ایمان والو! راعنا مت کہو، بلکہ اُنظرنا   کہو)۔ لفظ رَاعِنَا کے معنٰی یہی تو ہیں کہ ہماری طرف توجہ دو، ہماری رعایت کرو، اُنْظُرْنَا  بھی تقریباً یہی مفہوم رکھتا ہے، ہماری طرف دیکھو، متوجہ ہو۔ مگر یہود کی زبان میںراعِنا  احمق کو بھی کہتے تھے، اور اسی لفظ کو ذرا زبان دباکر کہہ دیجیے تو راعینا بن جاتا ہے، جس کے معنٰی ہیں: ’اے ہمارے چرواہے‘۔ حضورؐ کی مجلس میں بعض یہود کی طرح کچھ صحابہؓ بھی حضورؐ سے مخاطب ہوکر راعنا  کا لفظ استعمال کرلیتے تھے، اور ظاہر ہے کہ ان کی نیتیں آبِ کوثر کی طرف پاک تھیں، پھر بھی اللہ نے اِبہام و اِلتباس سے بچانے کےلیے اور ادب و احترام کا بلند معیار قائم کرنے کےلیے اس ذومعنی لفظ کے استعمال سے روکا۔

تو کیا خود اللہ تعالیٰ اس سے کہیں زیادہ ادب و احترام کا مستحق نہیں، اور جو رہنمائی اس نے قرآن میں اپنے اسمائے حسنیٰ پر دی ہے، اس کا تو کھلا تقاضا ہے کہ اس کےلیے کسی اسمِ صفت کا استعمال انتہائی احتیاط سے کیا جائے: ہُوَاللہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى۝۰ۭ (وہ اللہ ہے پیدا کرنے والا، نکال کھڑا کرنے والا، صورتیں بنانے والا، اس کے اچھے اچھے نام ہیں)۔ (مولانا عامر عثمانی، مئی ۱۹۷۰ء)

مشرقی پاکستان ،ٹوٹا ہوا تارا، الطاف حسن قریشی ۔ ناشر : قلم فائونڈیشن ، بنک سٹاپ ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ ۔ رابطہ:  0323-4393422 ۔ صفحات: ۱۴۰۶، قیمت (مجلد): ۵۰۰۰ روپے۔

قیامِ پاکستان کے لیے جدوجہد کا اعزاز ۳۰دسمبر ۱۹۰۶ء کو ڈھاکہ میں قائم ہونے والی  کُل ہند مسلم لیگ کو حاصل ہے۔ پھر برطانوی مقبوضہ ہند کے تمام صوبوں اور ریاستوں میں آزادی کے لیے سب سے زیادہ ذہنی وعلمی یکسوئی کے ساتھ کوششیں، خطۂ بنگال کے مسلمانوں ہی نے کی تھیں۔ ان کاوشوں میں ہند کے دیگر علاقوں میں بسنے والے اسلامیان نے بھی اپنا حصہ ادا کیا ۔۱۴ـ؍ اگست ۱۹۴۷ء کو قائد اعظم کی قیادت میں یہ سفر مکمل ہوا اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔

خطۂ بنگال جو تحریکِ پاکستان کا دھڑکتا ہوا دل اور اس کی سراپا پہچان تھا، مگر قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد یہ خطّہ اندیشہ ہائے دُور دراز کی دلدل میں اس طرح دھنستا چلا گیا کہ اگر   ایک طرف تحریک ِقیامِ پاکستان کے دشمن ملک نے اپنا جال پھینکا ، تو دوسری طرف تنگ نظر  بنگالی قوم پرستوں نے جسدِ ملّی میں مبالغہ آمیز پراپیگنڈے کا زہریلا مواد بھردیا، اور تیسری جانب مغربی پاکستان کی سیاسی، انتظامی اور فوجی قیادت کی حماقتوں نے اس منفی عمل کو تیز تر کر دیا ۔ یوں، وہ مرکز جو قیام پاکستان کا عنوان تھا، ۲۴ برس بعد اندرونی تخریب، بیرونی یلغار اور حکومتی بداعمالیوں کی بھینٹ چڑھ کر، مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بن گیا اور اس طرح ایک آزاد پاکستان کے بجائے دشمن ملک کی طفیلی ریاست بن کر رہ گیا۔

یہ ایک بڑا تکلیف دہ، اور حد درجہ عبرت ناک سفر ہے۔ پاکستان کے مایہ ناز صحافی ،منفرد تجزیہ نگار اور راست فکر دانش ور جناب الطاف حسن قریشی (پ:مارچ۱۹۳۰ء)نے اس سفرکی کھلی اور چھپی داستان کو ماہ نامہ اُردو ڈائجسٹ ، ہفت روزہ زندگی اور روز نامہ جسارت کے اوراق پر رقم کیا۔انھوں نے ۷۲ مضامین کی صورت میں اپنے گہرے مشاہدے ، وسیع مطالعے ، مسلسل تحقیق، فکرانگیز مکالمے اور ایمان افروز تجزیے سے اس عمل معکوس کو پرکھا ہے ، اور برملا سچائی بیان کرنے میں کسی کوتاہی ،سستی اور مداہنت کو قریب تک نہیں پھٹکنے دیا۔اس دوران وہ دو مارشل لا حکومتوں اور ایک فسطائی حکومت کے تحت قیدوبند سے بھی گزرے، مگر ثابت قدم رہے۔

 ۹۲ سالہ الطاف صاحب کا یہ تحریری سرمایہ پاکستان کی تاریخ کے نازک ترین دورکی ایسی نمایاں تصویر پیش کرتا ہے جس میں ایک ایک کردار اپنی پستی کے ساتھ بے نقاب ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے قاری، ٹھیک اس ماحول میں پہنچ جاتا ہے جب رنج واَلم کے ہرکارے اور وطن فروشی وغداری کی بساط کے مہرے ستم ڈھارہے تھے ،مگر افسوس کہ قوم اور قوم کے اہل حل وعقد مصنف کی پکار سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ابتدا میں ’محشرِخیال‘ کے عنوان سے الطاف صاحب کا ۲۳صفحات کا طویل دیباچہ پڑھنے کے لائق ہے۔

۱۹۶۴ء سے لکھی جانے والی یہ تحریریں المیۂ سقوطِ مشرقی پاکستان ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء اور پھر اس کے بعد قومی احتساب کی بانگِ درا بن کر نیند کے ماتوں کو جگانے کی مسلسل کوشش کرتی آ رہی ہیں ۔ ان تحریروں میں پاکستان کے: دستوری ، بین الصوبائی ، ثقافتی ، لسانی ،تعلیمی ، معاشی ، صحافتی ، فوجی، حکومتی ، مذہبی ، انتظامی اور عدالتی شعبوں کی دانستہ اور نادانستہ کج رویوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ پھر غور سے دیکھیں تو اصلاحِ اَحوال کے لیے اس کتاب کے اوراق پہ ایک بے لاگ قومی پارلیمنٹ کے پُرمغز اور فاضلانہ مباحث کا گمان ہوتا ہے، جہاں تیرہ شبی سے لڑنے والا جہاں دیدہ قلم کار، پُرپیچ گرہوں کو کھولنے کے ساتھ، اُلجھے معاملات کو سدھارنے کا راستہ بھی دکھا رہا ہے۔ جس میں کمال کی چیز یہ ہے کہ ہرلمحہ حسِ اعتدال اور ہمدردی ساتھ ساتھ چلتی نظر آتی ہے۔جہاں جس کو جادئہ اعتدال سے ہٹا دیکھا، اسے نمایاں کردیا اور جس فرد کو معقول بات یا عمل کرتے دیکھا، اس کا کھلا اعتراف کیا۔بدقسمتی سے عموماً ہمارے لکھنے والے اس خوبی کو اپنانے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔

سقوطِ مشرقی پاکستان پر بیش تر لکھی گئی کتابیں بعد اَز مرگ واویلا کی بازگشت ہیں، یا پھر وکیل صفائی کا بیان ، ورنہ استغاثہ کا دفتر۔ مگر یہ کتاب ، ایک بھلے چنگے ملک کو بیماری سے بچنے ، بداعمالی سے پرہیز برتنے اورعلاج کے لیے خبر دار کرنے کا دیانت دارانہ نمونہ پیش کرتی ہے۔ اس کتاب میں دانش ، درد مندی اور عبرت کے اتنے رنگ ہیں اور معلومات کے اتنے خزانے ہیں کہ ایک مختصر تبصرہ ان کو نمایاں طور پر پیش کرنے سے قاصر ہے۔

اگر ہمارے صحافی بھائی بے خبری کے گنبد اور زعم باطل کے افیون کدے سے نکل کر اس کتاب کو پڑھیں گے تو ان کے لیے یہ ایک صحافتی تربیت اور مطالعۂ تاریخ کا نصاب ہے۔ فوج اور سول انتظامیہ کے افسران پڑھیں گے تو انھیں جھنجوڑنے کا تازیانہ اور منصبی فرائض انجام دینے کا آموختہ ہے۔ سیاست دان پڑھیں گے تو ان کے لیے سیاسی شغل کاری سے توبہ کرنے اور قومی خدمت و احساسِ ذمہ داری بیدار کرنے کا درس ہے۔ اساتذہ اور طلبہ پڑھیں گے تو ان کے لیے تاریخ سے زندہ سبق سیکھنے کا ریفریشر کورس ہے، اور اگر سفارت کار پڑھیں گے تو ان کے لیے سفارت کاری کی باریکیوں کو سمجھنے کا زائچہ ہے۔

بظاہر کتاب کی قیمت زیادہ لگتی ہے، لیکن امرواقعہ ہے کہ خریدنے والا، جب مطالعہ کرے گا تو اسے محسوس ہوگا کہ اس کی رقم ضائع نہیں ہوئی۔ ناشر بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ پاکستانی تاریخ کے ایک اہم باب کو بلاکم و کاست پیش کیا ہے۔ کتاب میں بنگالی اور بنگال سے متعلق شخصیات کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ (سلیم منصور خالد)

اُردو زبان کے راستے میں اصل رکاوٹ صرف یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کا بالائی طبقہ چونکہ خود انگریزی ماحول میں پلا ہوا ہے، اور اُردو لکھنے بولنے پر قادر نہیں ہے، اس لیے وہ چاہتاہے کہ اس کے جیتے جی ساری قوم پر انگریزی زبان مسلط رہے۔ پھر یہ لوگ اپنی اولاد کی  بھی انگریزیت ہی کے ماحول میں پرورش کر رہے ہیں، اور اس بات کا انتظام کررہے ہیں کہ حکومت کی باگ ڈور آیندہ انھی کی نسل کے قبضے میں رہے۔

اس لیے ۱۹۷۲ء میں بھی اس امر کی کوئی اُمید نہیں کی جاسکتی کہ اُردو زبان کو یہاں کی سرکاری اور تعلیمی زبان بنانے کا فیصلہ ہوجائے گا۔ کمیشن کی تجویز صرف طفل تسلی کے لیے ہے، تاکہ وقت ٹالا جائے اور مطالبہ کرنے والوں کو فی الحال کم از کم دس سال کے لیے چپ کرا دیا جائے۔۱

ہماری مصیبتوں کا کوئی حل اس کے سوا نہیں ہے کہ ان دیسی انگریزوں سے کسی نہ کسی طرح پیچھا چھڑایا جائے۔ امرِواقعہ یہ ہے کہ انگریز خود تو چلا گیا ہے، مگر اس کا بھوت ہمیں چمٹ کر رہ گیا ہے۔(رسائل و مسائل، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، ج ۵۹، عدد۵، فروری ۱۹۶۳ء، ص۳۱۰)

_________________________

۱          جنوری ۱۹۶۳ء میں صدر ایوب خان کی حکومت کے وزیرقانون نے اعلان کیا تھا کہ ۱۹۷۲ء میں ایک کمیشن قائم کیا جائے گا، جو اس بات کا جائزہ لے گا کہ انگریزی کے بجائے کون سی زبان متبادل ہوگی؟ یہ سوال اور اشارہ اسی پس منظر میں ہے، اور یہ ۲۰۲۳ء ہے مگر اس باب میں حالت پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہوچکی ہے۔ (ادارہ)