مضامین کی فہرست


۲۰۱۷ مارچ

میڈیا کا مطلب ، زندگی کے مختلف شعبوںکے متعلق خبروں، واقعات اور حادثات کا جائزہ لے کر ایک خاص تر تیب سے معلو مات جمع کر ناپھر اس کو عام فہم انداز میں پیش کر نا ہوتا ہے۔ میڈیا انگر یزی میں میڈیم(Medium) کی جمع ہے، جس کے معنی وسائل و ذرائع ابلاغ اور نشرواشاعت کے ہیں۔ بالفاظِ دیگر: میڈیا کے معنی یہ ہیں کہ اخبار،اورٹیلی وژن یا ریڈیو کے ذریعے عوام تک پروگرام یا معلومات پہنچائی جائیں۔

ہر دور میں خیالات ،پیغامات ،اور معلومات کی ترسیل کا کو ئی نہ کو ئی ذریعہ رہا ہے۔ عصرِحاضر میں پہلے ٹیلی گراف ، پھر ریڈیو اور اس کے ساتھ اخبار ،رسائل وجرائد اور ٹیلی وژن کا دور  آیا۔ اب انٹر نیٹ کا زمانہ ہے جو معلو مات فراہم کر نے کا تیز ترین ذریعہ ہے۔ میڈیا (ذرائع ابلاغ) کی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں:o پرنٹ میڈیا oالیکٹرانک میڈیا oسائیبر میڈیا ۔

  ۱- پر نٹ میڈیاسے مراد اخبارات اوررسائل و جرائد ہیںجو معلومات حاصل کر نے کا اور لو گوں کو حالات حاضرہ سے باخبر رکھنے کا سب سے آسان، سستا اور مستقل ذریعہ ہے۔ یہ ابلاغ کا پرانا ذریعہ ہے لیکن اس کی اہمیت و افادیت آج بھی بر قرار ہے۔

 ۲- الیکٹرانک میڈیا جس میں ریڈیو،ٹی وی اور کیبل وغیرہ شامل ہیں یہ ابلاغ کے جدید ذرائع ہیں ۔اس میں فلمیں،سیریلز اور اشتہارات کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے کیو نکہ یہ بھی پیغام پہنچانے کے مؤثر ذرائع ثابت ہورہے ہیں ۔الیکٹرانک میڈیا کے اُبھار کا زمانہ ۱۹۹۱ء میں شروع ہوا۔

۳- سائیبر میڈیا: یہ میڈیا کی جدید ترین شکل ہے۔ آج دنیا میں اسے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اس کی اہمیت، افادیت اور وسعت روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔سائیبر میڈیا میں انٹرنیٹ، ویب سائٹس ، بلاگز وغیرہ شامل ہیں۔

 میڈیا کی اہمیت و افادیت

ہر قو م،ملک اور تحریک اپنی بات لو گوں تک پہنچا نے کے لیے میڈ یا کا ہی سہارا لیتی ہے۔ میڈ یا یا ذرائع ابلاغ ایک ایسا ہتھیار ہے جو بہت ہی کم وقت میں کسی بھی مسئلے یا ایشوکے متعلق لوگوں کے ذہنوں کو ہموار کر تا اور ان کی راے بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ میڈیا ہی ہے  جو کسی کام پر اُکساتا ہے اور کسی اہم کام سے توجہ ہٹاتا ہے۔ اس لیے آج فرد سے لے کر حکومت تک کی نکیل میڈیا ہی کے ہاتھ میں ہے۔

بہت عرصے سے مقننہ،انتظامیہ اور عدلیہ کو کسی بھی ریاست کے تین اہم ستون تصور کیا جاتا ہے اور ان تینوں اہم اداروں کے ذریعے کو ئی بھی تبدیلی لائی جاسکتی ہے، لیکن اب کسی بھی ریاست یا جمہوری ملک کا چوتھا ستون میڈ یا کو گردانا جاتا ہے۔

میڈ یا نہ صرف سماج کا ایک اہم حصہ ہے بلکہ ایک جمہو ری ملک کا بھی اہم ستون ہے۔  یہ مجموعی طور پر ہر ملک و قوم میں لو گوں کی آواز اور ہتھیار ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ عصرِحاضر میں میڈیا کی اہمیت اور ضرورت ہر لحاظ سے پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے کیوںکہ یہ  راے عامہ کو ہموار کر نے میں اہم کردار ادا کر تاہے۔

طاقت ور میڈ یا ہی ملک و قوم کو صحیح خطوط پر استوار رکھنے کے لیے اہم رول ادا کر سکتا ہے اور جب میڈ یا ہی اصول پسندی اور اقدار پر مبنی طرز عمل کو نظر انداز کر تا ہے تو یہ عام لوگوں کی تباہی کا ذر یعہ بنتا ہے۔ میڈیا کی آواز بعض اوقات پار لیمنٹ اورعدلیہ سے بھی طاقت ور ہو تی ہے کیونکہ یہ ظالم کے کر تو ت اور مظلوم پر روا رکھی گئی نا انصافی اور پھر اس کی بے بسی کو نمایا ں کر نے میں   ایک کارگر ہتھیا ر کے طور پر ثابت ہو تا ہے ۔میڈیا تعمیر و تر قی کا بھی ایک ذریعہ ہے اور تخریب کاری کا بھی ۔ہم آج ایسے دور میں جی رہے ہیں، جس میں میڈیا کے سہارے بڑے پیمانے پر جنگ لڑی جارہی ہے۔

 مغربی میڈیا کی کارستانیاں

مغربی میڈیا اس وقت دنیا کے ۷۰ فی صد ابلاغی ذرائع پر قابض ہے۔ اس نے تمام اخلاقی اصولوں کو بالاے طاق رکھا ہے۔ سیاہ کو سفید ،ظالم کو مظلوم اور امن پسند کو دہشت گرد   ثابت کرنا مغر بی میڈ یا کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔مغر ب نے میڈ یا کے ذریعے سے انتہائی منظم منصوبہ بند ی کے ساتھ اپنی فکر و تہذیب کی خوب تشہیر کی ہے۔ موجودہ دور میں مغرب نے ذرائع ابلاغ کی وساطت سے علم و فکر سے لے کر سوچنے سمجھنے کے زاویے تک اور کھانے پینے، رہنے سہنے اور طرزِگفتگو سے لے کر گھر یلو معاملات کے طور طریقے تک بد ل کر رکھ دیے ہیں۔

عالمی میڈیا نے بالعموم اور مغر بی میڈ یا نے بالخصوص، اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک بڑا محاذکھول رکھا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کی شبیہہ بگاڑنے کے در پے ہیں۔ مغربی میڈیا جب چاہتا ہے کو ئی نہ کوئی نئی اصطلاح وضع کر دیتا ہے اور کو ئی نیا شو شہ چھوڑ دیتا ہے۔ دنیا کے بہترین رسائل جن میں ادبی، تحقیقی اور سیاسی پرچے شامل ہیں،مغر بی دنیا سے شائع ہو کر ساری دنیا میں پھیل جاتے ہیں۔ان رسائل میں خاص نقطۂ نظر پیش کیا جاتا ہے، جو مغر بی دنیا کے عین مطابق ہوتاہے۔

گذشتہ صدی کے اختتامی برسوں سے بالعموم اور نائن الیون سے بالخصوص، مغرب نے اپنے ناپاک سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ذرائع ابلاغ کو شاہ کلید کے طور پر استعمال کیاہے  جس کے ذریعے وہ اسلام اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو بنیاد پرست،انتہا پسند، دہشت گرد اور جنونی قرار دے کر، دنیا کے کونے کو نے میں اسلام اور اس کے علَم بردار وں کا خوب مذاق اڑا رہا ہے۔  اس کے ہاں اب دہشت گرد اور مسلمان میں زیادہ فرق نہیں رہا۔ مغر بی مفکر ین میں سے برنارڈ لوئیس اور پروفیسر ہن ٹنگٹن نے یہ بات منظم انداز سے پیش کی ہے کہ مغر ب کا اصل مسئلہ بنیاد پرستی نہیں بلکہ خود اسلام ہے ۔ ہن ٹنگٹن کا کہنا ہے کہ اسلام ایک مخصوص تہذیب کا نام ہے، جس کے ماننے والے اپنی فکر وتہذیب کے اعلیٰ ہو نے کے دعوے دارہیں اور اپنی تہذیبی بر تر ی کو کھو دینے پر   کف افسوس مل رہے ہیں۔۱

یہودیوں کا رول

دنیا میں تمام اسلام دشمن قوتوں میں سے اسلام کی شبیہہ بگاڑنے میں سب سے زیادہ سرگرم عمل نسل پرست یہودی ہیں، جنھوں نے عالمی ذرائع ابلاغ کو اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے۔  یہودیوں کے پاس دنیا کی بڑی بڑی خبررساں ایجنسیاں ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنارہے ہیں۔ان میں سے چند ایک کا تعارف اس طر ح سے ہے:

 ۱- رائٹر : عالمی خبر رساں ایجنسیوں میں رائٹر کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہے۔دنیا میں ہرجگہ تمام اخبارات و ٹی چینلز اسی ایجنسی پر انحصار کر تے ہیں،حتیٰ کہ بی بی سی ،وائس آف امریکا کے اخبارات، اس سے ۹۰ فی صد خبریں حاصل کر تے ہیں۔ ۱۵۰ملکوں کے اخبارات، ریڈیو ،    ٹی وی ایجنسیوں کو روزانہ لاکھوں الفاظ پر مشتمل خبریں اور مضامین بھیجے جاتے ہیں۔

 ۲- یونائیٹڈ پریس: دنیا کی چند بڑی خبر رساں ایجنسیوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔

۳- فرانسیسی نیوز ایجنسی( اے ایف پی) : فرانسیسی نیوز ایجنسی کی بنیاد فرانس میں ڈالی گئی۔ فرانس میں صرف ۷ لاکھ یہودی ہیں، لیکن وہاں شائع ہو نے والے ۵۰ فی صد اخبارات و رسائل پر ان کی حکمرانی چلتی ہے۔

۴- ایسوسی ایٹڈ پریس : یہ بھی ایک بڑی نیو ز ایجنسی ہے۔ اس ایجنسی سے ۱۶۰۰ روز نامہ اور ۴۱۸۸ ریڈیو ،ٹی وی اسٹیشن وابستہ ہیں۔

۵- والٹ ڈزنی: والٹ ڈزنی دنیا کی سب سے بڑی میڈیا کمپنی ہے۔ اس کے پاس تین بڑے ٹیلی وژن چینلز ہیں ۔ اے بی سی نام کا دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کیبل نیٹ ورک ہے۔ دنیا کے ۲۲۵ ٹیلی وژن چینلز والٹ ڈزنی سے وابستہ ہیں۔

۶- ٹائم وار نر: یہ دوسری بڑی میڈیا فر م ہے ۔ پہلے یہ AOL کے نا م سے کام کرتی تھی۔ اس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ دکھائے جانے والے چینل ایچ بی او ، ٹرنر براڈکاسٹنگ،   سی ڈبلیو ٹی وی، وارنرز، سی این این، ڈی سی کو مکس، ہولو، ٹی این ٹی، ٹی بی ایس، کارٹون نیٹ ورک، ٹرنر کلاسک موویز، ٹرو ٹی وی، ٹرنر سپورٹس وغیرہ شامل ہیں۔

۷- وائی کام : یہ دنیا کی تیسری بڑ ی فر م ہے۔ اس کے پاس ٹی وی اور ریڈیو کے ۱۲ یا ۱۴چینلز ہیں ۔یہ کتابیں شائع کر نے والے تین بڑے اداروں اور ایک فلم ساز ادارے کی بھی مالک ہے۔پیرا ماؤنٹ پکچرز اور ایم ٹی وی اسی کمپنی کی ملکیت ہے ۔یہ پوری دنیا کے میڈیا پر حاوی ہے۔

۸- نیوز ہائوس: یہ یہودیوں کی ایک اشاعتی کمپنی ہے۔یہ کمپنی ۲۶ روزنامے اور۲۴میگزین شائع کر تی ہیں۔

ان کے علاوہ دی نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل اور  واشنگٹن پوسٹ دنیا کے تین بڑے اخبارات ہیں۔ نیو یارک ٹائمز روزانہ ۹۰ لاکھ کی تعداد میں شائع ہو تا ہے۔ یہ جن ایشوز کو چھیڑتے ہیں، وہ آگے چل کر دنیا بھر کے اخبارات کے لیے خبر بنتے ہیں۔میڈیا کے ذریعے سے یہ انسانی ذہنوں کو خاموشی سے مسخر کر رہے ہیں ۔

اس کے علاوہ انٹر نیٹ پر بھی انھی لو گوں کاجال بچھا ہواہے۔ انٹر نیٹ پر انھوں نے ۱۰۳جعلی اسلامی ویب سائٹس بنا رکھی ہیں، جن کے ذریعے یہ نو مسلم اور ضعیف الایمان مسلمانوںاور نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

                مغر ب کے لیے اسلام کی عالم گیر بر تری اور اس کا تیزی سے پھیلنا سر دردبنا ہوا ہے۔ ان کو اس بات کا خوف ستاتا رہتا ہے کہ مستقبل میں مسلمان ہی دنیا کی قیادت و سیادت کریں گے۔۲

اس لیے وہ اسلام اورعالم اسلام کو متنوع حربوں اور طر یقوں سے بد نام کر نے کی مسلسل کوشش کررہا ہے۔وہ میڈیا کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں پر مند ر جہ ذیل الزامات لگا کر لو گوں کو گمراہ کر رہا ہے:

                 ۱-           اسلام تشدد پر مبنی مذہب ہے اور اس کے ماننے والوں میں زیادہ تر دہشت گر د اور انتہاپسند ہیں۔

                ۲-            اسلامی شریعت کی وجہ سے مسلمان پس ماندہ ہے۔

میڈیا کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بڑھا وا دینا مغر بی اور یورپی میڈیا کا سب سے اہم مشغلہ بن گیا ہے۔ ۱۹۹۶ء سے لے کر ۲۰۰۰ء تک یعنی چار سال میں صرفThe Sydeney Morning  ،  The West Australian Herald  کے۱۰۳۸  مضامین شائع ہو ئے، جن میں ۸۰ فی صد مضامین میں مسلمانوں کو دہشت گرد،بنیاد پرست اور انتہاپسند کی حیثیت سے دکھا یا گیا ۔۷۳ فی صد مضامین میں مسلمانوں کو انسانیت کے قاتل ٹھیرا یا گیا اور صرف ۴ فی صد مضامین میں مسلمانوں کو انسانیت نواز بتا یا گیا ۔ ۳

اسلام میں میڈیا کا تصور

غر ض یہ کہ عالمی میڈ یا اسلام اور عالم اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے مصروف عمل ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پر وپیگنڈے میں کو شاں ہے ۔ اسلام کے ماننے والوں نے ہر دور میں اپنی بات دوسروں تک منظم انداز میں حُسن وخو بی کے ساتھ پہنچائی اور اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی اور لاپروائی نہیں برتی۔قرآن مجید نے اس کے لیے دعوت کا لفظ استعمال کیا۔ ایک دور وہ بھی تھا جب انبیا، سلف صالحین اور اسلام کے علَم بردار گھر گھر تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے زبانی گفتگو اور تقریروں کا سہارا لیا کر تے تھے۔ اس حوالے سے حضرت نوحؑ کا کردار قرآن نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا :

اس نے عرض کیا: ’’ اے میر ے رب میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب و روز پکارا مگر میر ی پکار نے ان کے فرار میں اضافہ کیا۔ جب بھی میں نے ان کو بلایا تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اَڑ گئے اور بڑا تکبر کیا۔ پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی ۔ پھر میں نے علانیہ بھی تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھا یا۔( نوح ۷۱: ۶-۸)

اسی طرح سے حضرت موسٰی نے بھی مخالفین اسلام کو نہ صرف دعوت پیش کی بلکہ ان کے اعتراضات اور ان کی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کیا:

اِذْھَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی o فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی o (طٰہٰ ۲۰:۴۳-۴۵ ) جائو تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے۔

اس تسلسل کو جاری رکھتے ہو ئے اللہ کے رسول ؐ نے سرزمین عرب میں لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دی۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ؐ کو اس بات کا حکم دیا کہ:

یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ط وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِط اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَo (المائدہ ۵ :۶۷) اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچادو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمھارے مقابلہ میں) کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا۔

مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ط (المائدہ۵:۹۹) رسولؐ پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وقت میں ذرائع ابلاغ کی قوت سے بے خبر نہیں تھے اور نہ اس اہم چیلنج کو آپؐ نے نظر انداز کیا، بلکہ محدود افراد ی قوت اور وسائل کو بروے کار لا کر لو گوں تک رب کا پیغام پہنچایا ۔مثلاً چھٹی صدی عیسوی میں مکّہ میں اگر کسی کو ضروری اعلان یا کسی اہم بات کو دوسروں تک پہنچا نا ہوتا تو وہ اپنے جسم سے کپڑے اتار کر سر پر رکھ لیتا اور کوہِ صفا پر    چڑھ کرزور زورسے چلّانا شروع کر دیتا : ’ہاے صبح کی تباہی‘۔ لوگ اس طرح کے اعلان کوتوجہ سے سنتے تھے۔ اللہ کے رسول ؐ نے بھی ابلاغ کے اس ذریعے کو استعمال کیا لیکن کپڑے اُتارنے اور چلّانے کے بجاے اس کو اسلامی رنگ عطا کیا۔

لوگوں تک الٰہی پیغام پہنچانے کے لیے انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا تھا۔ کارِدعوت کے سلسلے میں مختلف ممالک کے حکمرانوںتک دعوتی خطوط اور وفود بھیجے۔نیز ہر علاقے میں مبلغین روانہ کرتے رہے تاکہ ان تک پیغام الٰہی پہنچ سکے۔

عرب میں شعر و شاعری اور خطابات کا بھی بڑا دبدبہ تھا۔ مشرکین مکہ کو زبان دانی اور شاعری پر فخر اور ناز تھا اور وہ شعرو شاعری کے ذریعے سے بھی اللہ کے رسولؐ پر تکبر انہ لہجے میں حملے کرتے تھے۔اس چیلنج کو قبول کر تے ہوئے اللہ کے رسول ؐ نے صحابہؓ کو ترغیب دی کہ وہ اس فن کے ذریعے سے کفر کا مقابلہ کریں اور مشر کین مکہ کے حملوں کا جواب دیں۔ چنانچہ بہت سے صحابہؓ نے اس فن میں خوب جو ہر دکھا ئے۔ان میں حضرت حسانؓ بن ثابت ،حضرت کعبؓ بن مالک اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔انھوں نے شعر و شاعری کو اظہار ابلاغ کا ایک مؤثر ذریعہ بناکر کفار کا زبردست مقابلہ کیا اور اسلام اور پیغمبرؐ اسلام کے دفاع میں جنگ لڑی۔حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کافروں کی ہجو میں شعر کہتے تھے۔ حضرت کعب بن مالک اسلام کے دشمنوں پر نفسیاتی رعب ڈالتے تھے اور حضرت حسانؓ بن ثابت مشرکین مکہ کی طر ف سے اللہ کے رسول کے خلاف کہے گئے اشعار کا نہ صرف جواب دیتے تھے بلکہ اللہ کے رسول ؐ کی مدح بھی کہتے۔ حضرت حسانؓ بن ثابت نے اپنی شاعری سے دین دشمنوں کو زبردست ضر بیں لگا ئیں اور ان کی زبانوں کو بند کیا ۔۴

اس دور میں خطابت کو بھی بڑی اہمیت حاصل تھی۔ خطبا کارول اپنے اپنے قبیلوں میں انتہائی اہم ہوا کر تا تھا۔ اس فن کو بھی دورِ نبوت میں متعدد صحابہ نے اختیار کیااور اس کو اظہار و ابلاغ کا ذریعہ بنا کر اسلام کے بول بالا کے لیے استعمال کیا۔ ان میں سے ایک خاص نام حضرت ثابت بن قیسؓ کا ہے جنھیں خطیب اسلام کے لقب سے بھی نوزا گیا۔ان کے علاوہ حضرت ابو بکر صدیقؓ،حضرت عمر بن الخطابؓ ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے خطابت کے میدان میں زبردست جوہر دکھائے۔

اُمت مسلمہ ایک ذمہ دار امت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے ایک عظیم منصب پر فائز کیا اور اس کو خیراُمت کے خطاب سے نوازا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِط ( ٰال عمرن۳:۱۱۰) اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو، جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

                اس خیرِاُمت کی ذمہ داری ہے کہ لو گوں تک سچائی پہنچائی جائے کیو ںکہ اگر خیرِاُمت یہ کام نہیں کر ے گی تو دنیا شرو فسادسے بھر جائے گی۔ اس کے لیے موجودہ ذرائع ابلاغ کو استعمال کرکے انسانیت کو ہدایت کی روشنی میں لانے کے لیے مدد لی جانی چاہیے۔

میڈیا کے فرائض

عصرِ حاضر میں اسلام اور مسلمانوں پر مغربی ذرائع ابلاغ کی جو یلغار ہے، وہ ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہے۔ اس نے ہر انسان کے فکر و خیال کومتزلزل کر کے نت نئی اُلجھنوں اور مسائل کا شکار بنایا ہے۔ عریانیت اورفحاشی کو اتنا عام کیا کہ اب یہ معاشرتی زندگی کا ایک اہم اور لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ میڈیا ہی کے سہارے سے مغرب نے اپنی فکرو تہذیب پوری دنیا میں پھیلا دی ہے۔   مادہ پرستانہ ذہنیت، عیش پرستانہ مزاج،فیشن پر ستی،گلیمر،کلچر اور جاہ وحشمت کے حصول کے لیے تمام اخلاقی اصولوں کو پس پشت ڈالنا، جذبۂ مسابقت، فتنہ پروری اور اشتعال انگیزی کو میڈیا ہی کے ذریعے خوب فروغ دیا جارہا ہے۔

مغربی اور یورپی ذرائع ابلاغ مسلمانوں کو ہر جگہ ذہنی غلام بنانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ چوںکہ یہ دور جسمانی غلامی کا نہیں بلکہ ذہنی غلامی کا ہے۔ ذہنی غلامی جسمانی غلامی سے کہیں زیادہ طاقت ور ہوتی ہے اور بدتر بھی۔یہ استعماریت کی ایک نئی شکل ہے، جسے مغر ب پوری کامیابی سے استعمال کر رہا ہے۔ لہٰذا نہ صرف اس کے تدارک کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ایک اچھا متبادل پیش کرنا بھی ضروری ہے، جو نہ صرف انتہائی صحیح فکر و خیال کی آبیاری کر ے بلکہ اس کی تہذیب وثقافت کو بھی پلید اور گندا ہو نے سے محفوظ رکھے۔اصولی طور پر میڈ یا چند بنیادی مقاصد کے تحت کام کر تا ہے جو میڈ یا کے فرائض بھی ہیں:

                ۱-            میڈیا کا پہلا فر یضہ یہ ہے کہ وہ عوام تک صحیح معلومات فراہم کر ے۔

                ۲-            میڈیا کا دوسرا فر یضہ ذہن سازی ہے کہ وہ صحیح خطوط پر عوام کی ذہن سازی کا کام کرے۔

                ۳-            میڈیا کا ایک اور مقصد لو گوں کو تفریح فراہم کرنا بھی ہے۔لیکن اگر یہ تفر یح انسان کو انسان کے مر تبے سے گرادے تو پھر یہ تفریح نہیں بلکہ اذیت ہے۔

اسلامی میڈیا کا کام ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہے۔ اس کا کام نہ صرف مخالفین اسلام کے اعتراضات کا جواب دینا،غلط فہمیوں کا ازالہ کر نا ہے بلکہ آگے بڑھ کر اسلام کو متبادل کے طور پر پیش کر نا بھی ہے۔اسلامی میڈیا کی وسعت میں بہت گہرائی اور گیرائی ہے۔اس لیے کہ: اسلامی میڈیاصرف مذہبی پروگرام کو نشر کرنے کا نام نہیں بلکہ اس میں آرٹ ،تہذیب، علم و تحقیق اور دوسرے عالم گیر نو عیت کے پروگرام بھی شا مل ہیں، جنھیں اسلامی تعلیمات کے مطابق پیش کیا جانا چاہیے۔

میڈیا کے لیے رہنما اصول

 اسلامی اصولو ں پر مبنی میڈیاسماج کو صحیح ڈگر پر رکھنے کے لیے جو رہنما اصول فراہم کر تا ہے ان میں فرد اور معاشرے کے لیے الٰہی ہدایات پر مبنی اقدار ہیں اور اس کے مقاصد میں بہت وسعت ہے۔اسلامی ذرائع ابلاغ کے تین مقاصد ہیں:

۱- اسلام ایک دعوتی مذہب ہے، اس لیے اپنے ماننے والوں پر یہ ذمہ داری عائد کر تا ہے کہ اس کو ہر فرد تک پہنچا یا جائے۔

۲- اسلام حق و صداقت، علم اور وحی الٰہی پر مبنی ہے۔ اس لیے اس کو مختلف ذرائع استعمال کر تے ہوئے انسانیت کو اسے اختیار کرنے پر مائل کیا جائے۔

۳- اسلام صحیح فکر اور زندگی کے حقیقی مقصد سے آگاہ کرتا ہے، اس لیے اس کی روشنی اور نور سے دوسروں کی زندگی کو بھی منور کیا جائے۔

 اسلامی اسکالر اور مفکرین الیکٹرانک، پرنٹ اور سائیبر میڈیا کواسلام کی اشاعت اور پھیلائو کے لیے اور عالمِ اسلام کی مضبوطی اور ترقی کے لیے، ایک اہم عنصر تصور کرتے ہیں اور اس کو نظرانداز کرنے یا اس کو کم اہمیت اور ترجیح دینے کو بڑی لاپروائی اور غیر سنجیدگی سمجھتے ہیں ۔اگر مسلمان علم و استدلال کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی دنیا میں بہتر کار کر دگی کا مظاہرہ نہیں کر یںگے تو اسلام کو دائمی اور عالمی مذہب کے طور پر ہر گزپیش نہیں کر سکیں گے۔ صرف تیر و تفنگ اور بندوق کے میدان میں دشمن کا مقابلہ کر نا مطلوب نہیں بلکہ قرطاس و قلم اور نشرواشاعت کی دنیا میں بھی اس کا مقابلہ ضروری ہے اور اس طرح سے ہر چیلنج کا جواب دینا ضروری ہے جو اسلام کو درپیش ہے۔

اس وقت مسلمانوں کے پاس عالمی معیار کا کو ئی میڈیا موجود نہیں ہے، جو یہود و نصاریٰ اور معترضین کے برپا کیے ہو ئے فتنوں، ساز شوں،پروپیگنڈوں اوراعتراضات کا انتہائی معقول اور منظم طر یقے سے سد باب کر سکے۔ اس سلسلے میں اسلامی تحریکوں ،اداروں ،علما اور دانش وَروں کو سنجید گی سے غور کرنا چاہیے تاکہ ان صلاحیتوں کو بروے کار لانے کے ساتھ ساتھ مالی قربانیوں سے بھی عصرِحاضر کے اس درپیش چیلنج کا مقابلہ بہ حُسن و خوبی کر سکیں۔لہٰذا، میڈیا پر صرف اپنی گرفت مضبوط ہی نہیں کر نی بلکہ اس کی سمت کو بھی صحیح اور پایداررُخ دینا ہوگا۔

آیندہ کا لائحہ عمل

اس بات کی بار بار ضرورت محسوس ہو تی ہے کہ مسلم ممالک کے پاس نہ صرف خبررساں ایجنسیاں اور نیوز چینلز ہوں بلکہ الیکٹرانک،پرنٹ اور سائیبر میڈیا کے تمام ادارے بھی ہوں، جو عالمی اور مغربی ذرائع ابلاغ کی ہرزہ سرائیوں ، کارستانیوں اور ان کے پروپیگنڈے کامنہ توڑ جواب دے سکیں۔

اس کے لیے عالم اسلام کے متمول ممالک اور تحر یکات اولین فرصت میں اس پر توجہ دیں۔ اس سلسلے میں حسبِ ذیل اقدامات کی ضرورت ہے:

۱-مسلم ممالک اعلیٰ معیار کی میڈیا تعلیم و تربیت کے اداروں کا قیام عمل میں لائیں، جہاں سے جدید تعلیم یافتہ نوجوان اور ماہر ین تیار ہوں جو رپورٹنگ اور تجزیہ نگاری میں جاںفشانی سے کام کریں اور دنیا کو واقعات کی حقیقی شکل سے بھی روشنا س کرا ئیں۔

۲- سرکاری اور نجی سطح پر بھی ایسے ٹی وی چینلز قائم کیے جائیں جودعوتی جذبے کے ساتھ اور حق و صداقت کے بل پر آگے بڑھیں اور پروپیگنڈے کا پردہ چاک کریں۔

۳- ذہین اور باصلاحیت طلبہ کو میڈیا کورس میں داخلہ لینے کے لیے ترغیب دی جا ئے اور ان کے لیے مالی معاونت کا انتظام بھی کیا جائے۔

۴-ایسی ورکشاپس اور کانفرنسوں کا تسلسل سے اہتمام کیا جائے جو نہ صرف ابلاغیاتِ عامہ کی تعلیم حاصل کر نے والوں کے لیے ہوں، بلکہ ان تمام افراد کے لیے بھی ہوں جو صحافت سے وابستہ ہیں۔ ان کی صحیح تربیت کر نے کے لیے مختلف مراحل میں پرو گرام منعقد کیے جائیں تاکہ ان میں مہارت پیدا کرنے کے ساتھ اسلامی روح بھی بیدار ہو۔

۵- مغر بی فکرو تہذ یب اور فلسفہ نے پورے انسانی معاشرے کو جن اُلجھنوں ،مسائل اور مشکلات سے دو چار کر دیا ہے،تجز یہ و تحقیق اور دلائل سے ان خرابیوں کو اُجاگر کیا جائے تاکہ پو ری نوعِ انسانی ان مسائل اور خرابیوں سے آگاہ رہے۔

۶-عالمی اور مغر بی ذرائع ابلاغ، لابیاں اور تحقیقی ادارے اسلام کے مختلف احکام اور تعلیمات کے بارے میں بڑے پیمانے پر دنیا میں جو شکوک و شبہات پھیلا رہے ہیں ان کا جواب احتجاجی مظاہروںکے بر عکس علمی اور فکر ی سطح پر دینے کی ضرورت ہے۔چو نکہ علمی و فکر ی شبہات اور اعتراضات کا جواب علمی اور فکر ی زبان میں ہی دیا جا سکتا ہے، اس لیے یہ اسلامی دانش وروں، علما، مصنفین، تحر یکوں،تنظیموں اور اداروں کی ذمہ دار ی ہے۔

حوالہ جات

۱-  سموئیل ہن ٹنگٹن،تہذیبوں کا تصادم، (اردو ترجمہ ،سہیل انجم )کر اچی اوکسفرڈ پریس ،ص ۱۲۹۔

۲-  ایڈورڈ سعید، Orientalism  ۱۹۷۷ء، ص ۴۶۔

۳-  حسن الامین، فرح افضل، Hamdard Islamicus، جولائی،ستمبر ۲۰۱۵ء، ص ۵۶۔

۴-            احمد حسن زیات،تاریخ الادب العربی (اردو تر جمہ عبد الرحمٰن طاہر سورتی) ۱۹۸۵ء ،البران، الٰہ آباد، ص: ۱۳۵

طلب صادق ہو تو دعا رد نہیں ہوتی

سوال: ہر نیکی، بھلائی، بہتری اور عطا کرنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ مذکورہ حسنات کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ سے درخواست کس طرح کی جائے کہ    وہ منظور ہوجائے؟

جواب:  اللہ تعالیٰ سے بہ صدق دل جو دُعا بھی کی جاتی ہے وہ رد نہیں ہوتی۔ شرط یہ ہے کہ دُعا سچے دل سے ہو اور جذبۂ اطاعت بیدار ہو۔ محض درخواست نہ ہو بلکہ اخلاص اور جذبۂ اطاعت ہردرخواست کی پشت پر موجود ہو۔ البتہ بہت سی دعائیں اللہ تعالیٰ اس دنیا میں قبول فرما کر انعامات سے نوازتا ہے اور بہت سی دعائیں و ہ قبول تو فرما لیتا ہے، لیکن ان کا اجروانعام وہ آخرت کے لیے محفوظ کرلیتا ہے۔ اس لیے کہ وہی بہتر جانتا ہے کہ اس بندے کے لیے کون سی چیز بہتر ہے اور    وہ اسے آخرت میں ملنی چاہیے یا اس دنیا میں۔

البتہ یہ بات نگاہ میں رکھنی چاہیے کہ زبان سے آپ جو کچھ طلب کر رہے ہیں، آپ کی طلب، آپ کا ذوق، آپ کا عمل و کردار اور آپ کی دوڑ دھوپ بھی آپ کی دعا کی تائید میں ہو، نہ یہ کہ آپ طلب کچھ کر رہے ہیں اور عمل کا رُخ کسی دوسری سمت ہو۔(مولانا محمد یوسف اصلاحی)


جمعہ کی سنتیں

س : حرمین شریفین میں حاضری کے دوران جمعۃ المبارک کو میں نے یہ نوٹ کیا کہ ساڑھے گیارہ بجے سے پہلےاذان ہوئی ہے (جب کہ اگلے دن ظہر کی نماز ساڑھے بارہ پر ہوئی تھی) اور لوگوں نے نماز پڑھنی شروع کر دی اور پھر دوسری اذان زوال کے بعد (۲۶:۱۲) ہوئی ہے۔سوال یہ ہے کہ ہم پہلی اذان پر چار سنت پڑھ لیں، یا جب دوسری اذان شروع ہو تو چارسنت کی نیت باندھ لیں، اور فارغ ہونے کے بعد اذان کا جواب دیں۔ کچھ حضرات کہتے ہیں کہ چار کے بجاے دو رکعت پڑھ سکتے ہیں؟

ج: جمعہ کا وقت چوں کہ زوال کے بعد شروع ہوتا ہے، لہٰذا وقت شروع ہونے کے بعد ہی سنتیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا اس صورت میں زوال سے پہلے اذانِ اوّل کے بعد جمعہ کی پہلی چار سنتیں نہیں پڑھی جاسکتیں۔ اگر زوال کے بعد خطبہ سے پہلے سنتیں پڑھنے کا وقت ملے تو اس وقت پڑھ لیں، البتہ اگر اذانِ ثانی کے فوراً بعد خطبہ شروع ہوجائے تو اس کا حل یہ ہوسکتا ہے کہ زوال کے فوراً بعد یا اذان شروع ہوتے ہی چار رکعت سنت کی نیت باندھ لیں، اور نماز مکمل کرلیں۔ واضح رہے کہ جمعہ کے فرض سے پہلے چار سنتیں ہیں دو نہیں۔(مولانا محمد حسان  اشرف   عثمانی)


جماعت اسلامی کا فقہی مسلک اور اجتہاد

س : جماعت اسلامی کا فقہی مسلک کیا ہے؟ کیا یہ سب مجتہد ہوتے ہیں؟ مجموعی حیثیت سے جماعت کے مسلک کی وضاحت کیجیے؟

ج: جماعت اسلامی اقامت دین کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ کسی خاص فقہی مسلک کی   تبلیغ و تلقین اس کا مسلک نہیں ہے۔ جماعت اسلامی تمام مسلّمہ فقہی مسالک کو حق جانتی ہے اور   ان لوگوں کو بھی برسرِحق سمجھتی ہے جو چاروں ائمہ کی تقلید نہیں کرتے بلکہ براہِ راست حدیثِ نبویؐ سے رہنمائی حاصل کرنے کے مسلک پر کاربند ہیں۔

جماعت اسلامی کے نزدیک دین کا اصل سرچشمہ قرآن و سنت ہے اور کسی بھی شخص کا اجتہاد کتاب و سنت کا قائم مقام نہیں قرار دیا جاسکتا۔ البتہ اجتہاد بڑا نازک کام ہے۔ اس کے لیے پہلے ان مسائل کی نوعیت اور حیثیت کو پوری طرح سمجھنا ہوگا، جن کے بارے میں شریعت کا حکم معلوم کرنا ہو۔ پھر قرآن و سنت میں گہری بصیرت اور اجتہاد و قیاس کے اصول و آداب سے بھی واقفیت ضروری ہے۔ عربی زبان و ادب میں مہارت اور دین کی اصل روح اور دین کی مزاج شناسی بھی نہایت ضروری ہے۔ پھر ان سارے نصوص سے کامل واقفیت، ان کے الفاظ و معانی پر عبور اور عبارت کی ادبی نزاکتوں کو سمجھنے کی بھی پوری صلاحیت ہونی چاہیے۔ دینی علوم میں ان ماہرانہ اور خداداد صلاحیتوں کے بعد ہی کوئی شخص مجتہد کہا جاسکتا ہے۔ رہا کسی خاص مسلک کی تقلید کرتے ہوئے اگر کوئی شخص خداترسی اور اتباعِ دین کے جذبے کے ساتھ کسی خاص مسئلے میں اپنی صواب دید کے مطابق کوئی راہ اپناتا ہے تو کوئی آخر کس دلیل کی بناپر اسے اس حق سے روک سکتا ہے، جب کہ    وہ قرآن و سنت کے علوم سے بھی آراستہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور اس کے متعلقین کا کوئی الگ سے فقہی مسلک نہیں ہے، نہ ان میں سے ہر ایک مجتہد ہے اور، نہ یہ کسی مسئلے میں اجتہاد کو گمراہی تصور کرتے ہیں۔موجودہ دور میں ہمارے نزدیک بہترین صورت یہ ہے کہ نئے پیش آمدہ مسائل میں اہلِ علم و بصیرت مل جل کر اجتماعی اجتہاد کریں اور اجتماعی کاوشوں سے مسائل کے حل کی سبیل نکالیں۔ (مولانا محمد یوسف اصلاحی)


قرآنی آیات کو ڈیلیٹ کرنا

س :  قرآنی آیات اور احادیث کے ترجمے کو بذریعہ موبائل ایس ایم ایس کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کو ڈیلیٹ (delete) کرنا درست ہے یا نہیں؟ نیز کیا قرآنی آیات اور احادیث کے تراجم کو بذریعہ موبائل ایس ایم ایس بھیجنا باعث ِ ثواب ہے؟

ج:تذکیر و نصیحت کے لیے قرآنِ مجید کی آیت یا حدیث یا اس کا ترجمہ کسی کو مسیج کرنا    فی نفسہٖ جائز ہے اور اس پر ثواب کی اُمید بھی ہے، البتہ اس بارے میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ حدیث یا قرآن کی آیت تحقیق کے بغیر نہ بھیجی جائے اور ان کا ترجمہ مستند ہو، نیز قرآن کی آیت کو اس کے رسم الخط میں لکھا جائے کسی اور رسم الخط [یعنی رومن وغیرہ] میں لکھنا جائز نہیں۔

قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کو پڑھنے کے بعد یا نصیحت حاصل کرنے کے بعد ڈیلیٹ کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ اگر طبیعت پر بوجھ نہ ہو تو پڑھنے کے بعد انھیں ڈیلیٹ کرنا چاہیے، پڑھنے سے پہلے ڈیلیٹ کرنے میں چونکہ صورۃً اعراض پایا جاتا ہے، اس لیے پڑھنے سے پہلے ڈیلیٹ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے، جب کہ بھیجے گئے مضمون کے بارے میں علم ہو کہ یہ قرآنِ مجید کی آیت کا صحیح ترجمہ یا مستند حدیث ہے۔ اگر ا س کا صحیح اور مستند ہونا مشکوک ہو تو پڑھے بغیر بھی ڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے۔(مولانا محمد   حسان   اشرف   عثمانی)


دینی مدرسے کے لیے زکوٰۃ

س : ایک دینی مدرسے میں طلبہ و طالبات کو قرآن پاک حفظ و ناظرہ کے ساتھ ابتدائی درس نظامی کے ابتدائی درجات کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ یہ مدرسہ مستحق مسافر طلبہ کے قیام و طعام اور علاج و معالجے کا انتظام بھی کرتا ہے۔ مدرسے کا کوئی مستقل ذریعۂ آمدن نہیں ہے اور ضروریات بھی بہت زیادہ ہیں۔ مجھے ایک دوست نے کہا ہے کہ: ’’مدارسِ دینیہ میں زکوٰۃ دینا جائز نہیں اور نہ ایسا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوتی ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مدرسے میں ہمارے لیے اپنی زکوٰۃ ، عطیات اور فطرانہ وغیرہ دینا شرعاً جائز ہے؟ اور کیا ایسا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے یا نہیں؟

ج:اگر مدرسے میں مستحقِ زکوٰۃ طلبہ مقیم ہیں اور مدرسے کے منتظمین شرعی اصول کے مطابق زکوٰۃ کی رقم پوری احتیاط کے ساتھ ان طلبہ کے کھانے پینے کی اشیا اور وظائف میں خرچ کرتے ہیں، تو ایسے مدرسے کے مستحق طلبہ کے لیے زکوٰۃ دینا جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی۔ لہٰذا، ایسے مدرسے میں زکوٰۃ دینے کو ناجائز کہنا درست نہیں، بلکہ اس طرح کے مدرسے میں زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ کی ادایگی کے ساتھ اشاعتِ دین کا بھی ثواب ملے گا۔(مولانا محمد   حسان   اشرف   عثمانی)


عقیقے کا شرعی مقام

س : زید کے چھے بچے ہیں اور سب عاقل و بالغ ہیں، ان میں سے کسی کا بھی عقیقہ نہیں کیا گیا۔ اب زید اپنے بچوں کا عقیقہ کرنا چاہتا ہے لیکن اتنی گنجایش نہیں کہ سب کا ایک ساتھ عقیقہ کرے۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ ایک کے عقیقہ کے طور پر ایک بکرا ذبح کرے۔ شرعاً اس میں کوئی گنجایش یا سہولت مل سکتی ہے تو بتا دیں؟

ج:عقیقہ کرنا شرعاً ضروری نہیں بلکہ آپ کو اختیار ہے ۔ اگر آپ کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔ پھر اگر ایک بچے کے عقیقے میں دو بکروں کے بجاے ایک بکرا کیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، اور بکراکرنے کے بجاے گائے میں بھی حصہ لیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح سب کا ایک ساتھ عقیقہ کرنا بھی ضروری نہیں اور اگر عقیقہ کرنا آپ کے لیے مشکل ہے تو اس کا ترک کرنا بھی آ پ کے لیے جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی گناہ نہیں۔(مولانا  محمد   حسان   اشرف   عثمانی)


خواتین کے لیے زیارتِ قبور

س : ہمارے ہاں کچھ اہلِ علم کہتے ہیں کہ عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کرنا منع ہے۔ اس سلسلے میں وہ ایک حدیث کا بھی حوالہ دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ کتاب و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت کریں۔

ج: خواتین قبروں کی زیارت کے لیے قبرستان جاسکتی ہیں بلکہ قبروں کی زیارت کرنا مستحسن اور مستحب امر ہے، بشرطیکہ شرعی آداب و حدود کو ملحوظ رکھا جائے، یعنی ستروحجاب کی پابندی کی جائے، گریہ و زاری سے گریز کیا جائے۔ اگرچہ پہلے مردوں اور عورتوں کو قبروں کی زیارت سے منع کیا گیا تھا لیکن بعدازاں یہ ممانعت ختم کردی گئی۔ جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب ان کی زیارت کیا کرو‘‘۔ (مسلم، ۲۲۶۰)

ایک حدیث میں اس کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ قبروں کی زیارت کرنا دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتا ہے اور آخرت کی یاد دہانی پیدا ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ: ۱۵۷۱)

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمھیں زیارتِ قبور سے روکا تھا لیکن اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ ایسا کرنے سے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے، آنکھیں پُرنم ہوتی ہیں اور آخرت کی یاد آتی ہے۔ (مستدرک حاکم: ج۱،ص ۳۷۶)

ان احادیث سے ظاہر ہے کہ جس طرح ممانعت مرد و زن دونوں کے لیے تھی اسی طرح زیارتِ قبور کا حکم بھی دونوں کے لیے ہے۔ علاوہ ازیں رسولؐ اللہ نے زیارتِ قبور کے جو مقاصد بیان فرمائے ہیں خواتین کو بھی ان کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی مردوں کو ہے۔لہٰذا اگر خواتین ان مقاصد کے حصول کے لیے قبرستان جانا چاہیں تو انھیں کیوں کر روکا جاسکتا ہے۔ ایک مرتبہ سیّدہ عائشہؓ نے رسولؐ اللہ سے دریافت کیا کہ قبروں کی زیارت کے وقت کون سی دُعا پڑھیں،    تو آپؐ نے انھیں زیارتِ قبور کی مسنون دُعا سکھائی۔ (مسلم، الجنائز، ۲۲۵۶)

اگر عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کرنا منع ہو تو آپؐ واضح طور پر انھیں دعا سکھانے کے بجاے کہہ دیتے کہ قبروں کی زیارت جائز نہیں۔ اس سے بھی زیارتِ قبور کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ پھر سیّدہ عائشہؓ کا موقف یہی ہے کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح قبروں کی زیارت کرسکتی ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ کی قبر کی زیارت سے واپس آئیں تو کسی نے آپؓ سے کہا کہ عورتوںکے لیے تو قبروں کی زیارت کرنا درست نہیں۔ تو آپؓ نے جواب دیا: رسولؐ اللہ نے ہمیں اس کی اجازت فرما دی تھی۔ (مستدرک الحاکم، ج۱، ص ۳۷۶)

البتہ انھیں خاوند کی اجازت لے کر جانا چاہیے اور باربار جانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم! (مولانا ابو محمد عبدالستار)


کرسی پر سجدہ

س : کرسی پر نماز پڑھنے والے جب سجدہ کرتے ہیں تو کہنیوں کو گھٹنوں پر رکھتے ہیں۔ بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں سجدہ کے لیے ہاتھ رکھنے کا یہی طریقہ اختیار کرناصحیح ہے یا گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر رکوع کی طرح سجدہ کرنا چاہیے؟

ج: کرسی پر نماز پڑھنے والا شخص جب سامنے میز وغیرہ رکھ کر اس پر سجدہ نہ کرسکتا ہو توو ہ اشارے سے سجدہ کرے اور رکوع سے زیادہ سر کو جھکائے۔ یہ اس کے لیے سجدے کے قائم مقام ہے۔ جہاں تک ہاتھ رکھنے کا تعلق ہے تو چونکہ اس کا وظیفہ صرف سر کو جھکانا ہے اور ایسے مریض سے ہیئات [یعنی مخصوص طریقے سے رکوع اور سجدہ کرنا] ساقط ہوجاتی ہیں۔ اس لیے اس پر لازم نہیں ہے کہ وہ کہنیاں گھٹنوں پر رکھ کر (حقیقی سجدے کی طرح) ہاتھوں کو پھیلائے بلکہ اس طرح سر کو جھکائے کہ ہاتھ گھٹنوں پر رہیں۔ ہاتھوں کو پھیلانے کی ضرورت نہیں اور اگر پھیلا لے تو کوئی ممانعت نہیں۔(مولانا محمد   حسان   اشرف   عثمانی

افغانستان ، ایران اور ترکی سے اسلامیانِ ہند کا تعلق اور رابطہ دورِ غلامی ہی سے رہا ہے۔  بعض وجوہ سے، افغانستان اور ایران کی نسبت ترکی سے تعلق اُستوار تر ہوتا گیا اور آج پاکستان کا جتنا گہرا ربط وتعلق ترکی کے ساتھ ہے، کسی اور مسلمان ملک سے نہیں ہے (حرمین شریفین سے عقیدت کی بنا پر سعودی عرب سے تعلق ایک دوسری نوعیت رکھتا ہے )۔ ۲۰ویں صدی کے ابتدائی عشروں میں بر عظیم کے مسلمانوں نے جس والہانہ انداز میں دامے ، درمے، سخنے ترکوں کی مدد کی، اس نے ترکوں کے دل جیت لیے اور ان ترک دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک جگہ بنا لی۔ برعظیم کے مسلمانوں خصوصاً پاکستان کے لیے ترکوں کے دل آج بھی دھڑکتے ہیں۔

ترکی سے متعلق حال ہی میں دو کتابیں نظر سے گزریں۔ مندرجہ بالا پس منظر کے حوالے  سے ذیل میں ان کتابوں کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

1

ڈاکٹر نثار احمد اسرار (۱۹۴۲ء-۲۰۰۴ء )کی کتاب مکتوب ترکی کے سرورق کی عبارت  (ترکی کی سیاست ، معاشرت، ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے ڈاکٹر نثار احمد اسرار کے مضامین کا مجموعہ) سے کتاب کی نوعیت کا کچھ اندازہ تو ہوتا ہے لیکن پورا تعارف نہیں ہوتا۔

 ڈاکٹر نثار کا تعلق بہار سے تھا۔ پہلی ہجرت کر کے مشرقی پاکستان اور دوسری ہجرت کے نتیجے میں کراچی پہنچے ۔ ۱۹۶۵ء میں آر سی ڈی کے وظیفے پر انقرہ یونی ورسٹی سے ایم اے کیا اور ۱۹۷۱ء میں استنبول یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پھر انقرہ منتقل ہو گئے اور وہیں پیوند ِخاک ہوئے ۔ وہ چار زبانوں (ترکی ، اُردو ، انگریزی اور جرمن ) پر دسترس رکھتے تھے۔ ۳۶سال ترکی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی غیر ملکی نشریات سے وابستہ رہے، اور ۳۶ سال تک پاکستانی سفارت خانے میں’ افسرِ اطلاعات‘ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ کچھ عرصہ درس وتدریس اور صحافت میں بھی گزرا۔

ان متنوّع مصروفیات کے ساتھ ، ڈاکٹر نثار نے قلم وقرطاس سے بھی تعلق بر قرار رکھا۔ مصروفیت کیسی ہی ہو، ان کا قلم برابر رواں رہتا تھا۔ ان کی ۵۰ سے زائد تصانیف وتالیف اور کتب ِ تراجم، قلم وقرطاس سے ان کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں۔(کتب ِ تراجم میں تفہیم القرآن، سیرتِ سرورِ عالم ، سود، سنت کی آئینی حیثیت ، مسئلہ جبرو قدر ، تعلیمات اور     علامہ اقبال کا منتخب اردو کلام شامل ہے )۔ وہ ہفت روزہ اخبار جہاں اور ہفت روزہ تکبیر کراچی میں کئی سال تک ’مکتوب ترکی ‘ لکھا کرتے تھے۔ ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق کی مرتبہ زیر نظر کتاب  انھی مکاتیب کا مجموعہ ہے۔ تقدیم نگار جناب محمد راشد شیخ نے انھیں یاد کرتے ہوئے متأسفانہ لکھا ہے کہ ڈاکٹر اسرار کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ راشد صاحب کے نام اسرار صاحب کے ۲۱خطوط بھی شاملِ کتاب ہیں۔

۴۳ مکاتیب (یا راشد شیخ کے بقول ’رپورٹوں‘ ) میں خاصا تنوع ہے۔ بنیادی موضوع ترک، ترک قوم ، ترک عوام وخواص ، ترک مشاہیر، ترک معاشرہ ، ترک صحافت اور ترک سیاست ہے۔ مضامین پڑھتے ہوئے ترکی کے بارے میں بہت سی ایسی چیزوں کا پتا چلتا ہے جن سے تاریخ کے عام طالب علم بھی واقف نہیں ہوں گے، مثلاً: ’’ترکی تضادات کا ملک ہے بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ اجتماعِ ضدّین ہے___ ترکی واحد سیکولر ریاست ہے جس کی ۹۸ فی صد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور جہاں ۶۵ سال کے لادینی نظام اور مذہب دشمن ظالمانہ قوانین کے باوجود، لوگوں کا اسلامی جذبہ سرد نہیں ہوا بلکہ نمایاں طور پر ابھرا ہے۔ علاوہ ازیں ترکی اکیلا مسلمان ملک ہے جہاں سے پلے بوائے اور پلے مَین  جیسے بین الاقوامی شہرت کے فحش رسائل کے ترکی اڈیشن نکلتے ہیں اور مقامی اخبار ورسائل میں بھی مخر ّب ِ اخلاق تصویریں اور مضامین شائع ہوتے ہیں اور جہاں اسلام نام کا ماہنامہ اور بعض دوسرے اخبارات وجرائد لاکھوں کی تعداد میں چھپتے ہیں ۔ ایک طرف ننگوں کے کلب قائم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور دوسری طرف مذہبی ذہن کی خواتین کے سر ڈھانپنے یا پردہ کرنے پر ایک طوفانِ بد تمیزی اٹھایا جا رہا ہے۔ ان تضادات کی تازہ ترین مثال عیسائیوں کی مشنری سرگرمیاں ہیں۔ واضح رہے کہ ترکی میں ساری آئینی اورقانونی پابندیاں مسلمانوں کے لیے ہیں۔ غیر مسلم اس سے بَری ہیں ‘‘ ۔ ( ص۵۳-۵۴، ۳ مارچ ۱۹۸۸ء کی تحریر ) ۔ ڈاکٹر نثار کا خیال ہے کہ عیسائیت کے پرچار کا راستہ اتاترک اور عصمت انونو کی مذہب دشمنی نے ہموار کیا: مساجد کی   بے حُرمتی، مدارس بند، حج ممنوع اور عربی میں اذان پر پابندی۔ عصمت انونوکے ایک چہیتے وزیر سراچ اوغلو نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا:’’حضرات آپ مجھے ۳۰سال کی مہلت دیجیے، اس ملک سے مذہب کا نام و نشان مٹا دوں گا‘‘۔ یہ مذہب دشمنی ۱۹۴۵ء تک جاری رہی۔

ایک مکتوب (۱۲ مارچ ۱۹۹۸ء ) بہ عنوان: ’’ترک ذرائع ابلاغ فحاشی کی تمام حدود پھلانگ گئے ‘‘ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترکی کے سرکاری نشریاتی اداروں کے علاوہ تقریباً ۳۰ ٹیلی ویژن چینل انتہا درجے کی آزادی سے چل رہے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار بڑے تأسف کے ساتھ لکھتے ہیں: ’’میڈیا کو اپنی آزادی کا گہرا شعور اور احساس ہے اور اس آزادی پر ذرا سی آنچ آتے ہی وہ فوراً ڈٹ جاتے ہیں ۔ صدرِ مملکت اور وزیر اعظم پر بھی تنقید کے تیر چلاتے ہیں۔تا ہم بامقصد صحافت ، سنجیدہ اور  صحیح رپورٹنگ ، معتبر اور بے لاگ تبصرے کا شدید فقدان ہے‘‘ (ص ۶۴ )۔ مصنف نے زیرِ نظر مکتوب میں ترکی میڈیا (۱۹۸۸ء )کی جو کیفیت بتائی ہے وہ پاکستان کے ۲۰۱۷ ء کے میڈیا سے بڑی مماثلت رکھتی ہے۔ ٹی وی چینلوں کو حدود میں رکھنے کے لیے ادارے اور قوانین ترکی میں بھی موجود تھے  اور پاکستان میں بھی موجود ہیں لیکن دونوں جگہ عموماً یہ غیر فعاّل ہیں، اور مجرمین کے خلاف کوئی مؤثر تا دیبی کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔

مختصر یہ کہ مکتوبِ ترکی  کو پڑھے بغیر ترکی کو پوری طرح سمجھنا مشکل ہے ۔ ڈاکٹر محمد سہیل شفیق نے لگن اورمحنت ِ شاقہّ سے یہ تحریریں تلاش وجمع کیں اور ان پر مفید حواشی تحریر کیے۔ (ناشر: قرطاس، ۱۵-اے ، گلشن امین ٹاور ، گلستانِ جوہر ، بلاک ۱۵، کراچی ۔ صفحات: ۳۷۴،قیمت: ۴۰۰ روپے )

2

 تحریکِ خلافت کے زمانے میں ہندستانی مسلمانوں نے ’’ جان، بیٹا! خلافت پہ دے دو ‘‘ کے جذبے سے ترکوںکے ساتھ جذبۂ اخوت کا حق ادا کیا ۔ شعرا نے نظمیں لکھیں اور عوام الناس نے درہم ودینار ارسال کیے۔ مگر زیر نظر کتاب دفتر اعانۂ  ہند (مرتبہ: ڈاکٹر خلیل طوق آر) سے پتا چلتا ہے کہ جذبۂ اخوت کا اظہار ما قبل انیسویں صدی میں بھی اُسی طرح ہوتا رہا ہے۔ ۷۸-۱۸۷۷ء میں روس اور ترکی میں جنگ کی خبریں ہندستان پہنچیں تو یہاں کی انجمنوں اور اداروں نے چندہ  جمع کر کر کے ترکی بھیجنا شروع کیا۔ چوں کہ ہندستانی باشندے ، ترکوں کو مظلوم سمجھتے تھے اس لیے : ’’نہ صرف ہندستان کے مسلمان بلکہ ہندو، پارسی، عیسائی، یہاں تک کہ انگریز افسر بھی [شاید    روس دشمنی میں] ان چندوں میں پیسے دیتے تھے۔ امیر تو امیر ، غریب بھی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ترکوں سے تعاون کرنے کے لیے پیش پیش تھے۔ نواب سے لے کر حجام تک، ملکہ سے لے کر  اپنی کمائی چندے میں دینے والی بیوہ خواتین اور حتیٰ کہ بالا خانوں کی طوائفوں اور دلّالوں تک ہرہندستانی اس کارِ خیر میں حصّہ لینا چاہتا تھا‘‘(ص xii)۔چندہ دینے والوں میں ریاستوں کے نواب ، انجمنوں کے صدور ، انگریزی فوج کے مسلمان سپاہی ، مدرسوں کے مولوی اور سرکاری ملازم بھی شامل تھے۔ ان لوگوں میں بڑے شہروں اور قصبوں کے علاوہ ہندستان کے مختلف صوبوں اور دُور دراز واقع دیہاتوں میں رہنے والے بھی تھے۔ جن جن اداروں یا افراد کے تو سّط سے جتنا جتنا چندہ آتا تھا، ترکی میں اس کا ریکارڈ تحریری طور پر رکھا جاتا تھا۔ بعدازاں اس ریکارڈ کو دفتر اعانۂ  ہند کے نام سے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ۔ کتاب کا ایک نسخہ استنبول یونی روسٹی میں موجود ہے۔

ڈاکٹر خلیل طوق آر ( استاد شعبۂ اردو ، استنبول یونی ورسٹی ) نے مذکورہ کتاب کی عکسی نقل، ایک سیرحاصل مقدمے کے ساتھ شائع کی ہے۔ جملہ اندراجات بزبانِ ترکی خطِ نستعلیق میں ہیں ۔ رقوم کی صراحت ’روپیہ، آنہ ،پائی ‘ سے کی گئی ہے۔ اگر یہی کتاب یا ایسی ہی کوئی کتاب ، اتا ترک کے دور میں تیار کی گئی ہوتی تو ہم اردو قارئین نہ جان سکتے کہ کیالکھا ہے کیوں کہ اتا ترک (ترکوں کا باپ) نے رسم الخط تبدیل کر کے اپنے ’بیٹوں‘ (ترکوں) کو مسلمانانِ عالم سے کاٹ دیا اور رومن (انگریزی) رسم الخط کے ذریعے یورپی بننے کی کوشش کی، مگر ما بعد حکمرانوں کی پوری کوششوں کے باوجود ، یورپی یونین ترکی کو رکنیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ زیرنظر کتاب، ادارۂ تالیف وترجمہ، پنجاب یونی ورسٹی کے ناظم ڈاکٹر محمد کامران نے شیخ الجامعہ ( ڈاکٹر مجاہد کامران ) کی منظور کردہ خاص گرانٹ سے شائع کی ہے۔ (صفحات : ۳۶۰ ، قیمت: ۵۰۰ روپے )

محدّ ثین اندلس ، ایک تعارف ، ڈاکٹر جمیلہ شوکت :یو ایم ٹی پریس ، ۱۱۔C ، جوہر ٹائون ،لاہور۔ صفحات : ۵۲۳۔ قیمت :۸۰۰ روپے ۔

شعبۂ علوم اسلامیہ پنجاب یونی ورسٹی کی سابق صدر نشین ڈاکٹر جمیلہ شوکت (حال: پروفیسر ایمے ریطس)، مولوی محمد شفیع ( اوکسفرڈ سے پی ایچ ڈی اور پرنسپل اورینٹل کالج لاہور ) اور ڈاکٹر رانا احسان الٰہی ( استاذ عربی اورینٹل کالج لاہور ) جیسے اجل فاضلین کی شاگرد ہیں، پنجاب یونی ورسٹی سے وظیفہ یابی کے بعد وہ متعدد علمی منصوبوں ارمغان علامہ علاء الدین صدیقی، ارمغان پروفیسر محمد اسلم ، ارمغانِ پروفیسر حافظ احمد دار کو بروے کار لا چکی ہیں ۔ زیر نظر محدّ ثین اندلس، ایک تعارف ان کی تازہ کاوش ہے ۔

چند برس پہلے محمد احمد زبیری کی قابل قدر کاوش اندلس کے محدثین کے عنوان سے سامنے آئی تھی۔ مگر وہ جو صرف ۲۰،۲۲محدثین کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر جمیلہ شوکت صاحبہ نے زیرنظر کتاب میں سیکڑوں محدثین کے کوائف حیات اور ان کی تصانیف کی تفصیل جمع کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ: ’’اندلس کے محدثین وعلما کی تعداد ہزاروں میں ہے ، یہاں ان میں سے منتخب کے حالات پیش کیے جا رہے ہیں‘‘۔ پھر یہ وضاحت بھی کی ہے کہ: ’’ایک معتدبہ تعداد ان صاحبانِ علم کی بھی ہے جو علوم حدیث کے علاوہ، علوم قرآن میں بھی مرجع خلائق تھے‘‘۔ یہ حضرات بالعموم    حافظ قرآن ہوتے بلکہ قرآن حکیم کے مفاہیم ومطالب اور اسرارورُموز سے بھی واقف ہوتے۔ بہتوں نے کتابیں بھی لکھیں۔ اسی طرح بعض محدثین نے فقہ میں شہرت حاصل کی۔ بعضوں کو شعر وادب کا عمدہ ذوق تھا۔ آخری حصے میں تقریباً دو درجن خواتین محدّثات کا بھی ذکر کیا ہے۔

مقدمے میں نہایت اختصار کے ساتھ اندلس کے ماضی، وہاں مسلمانوں کی آمد اور فتوحات (جن کا آغاز ۹۲ہجری میں ہوا) وہاں کے مدارس ،مساجد اور مکاتب کے قیام کا تذکرہ کیا گیا   ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ اندلس میں مسلم دورِ حکمرانی کے تحت اندلس ’’۵۰سال کے اندر اندر  تہذیب وتمدّن کے اس نقطے پر پہنچ گیا جہاں تک اٹلی کو پہنچنے میں ہزار سال لگے ‘‘(ص ۳۲) ۔  اس دور میں قرآن، علومِ قرآن ، علم سیرت ، فقہ وعلوم فقہ اور حدیث وعلومِ حدیث، میں اندلسی مسلمانوں نے جو کاوشیں کیں اور مذکورہ علوم میں جو بیش بہا کتابیں تصنیف و تالیف کیں ، ان کا تعارف بھی کرایا ہے۔ (ص ۲۹) پر طارق بن زیادکے مقابلے میں شکست کھا کر لا پتا ہونے والے شاہِ اسپین Rodrik کو تین بار ’زریق ‘ لکھا گیا ہے۔ ہم نے تو تاریخ کی کتابوں میں ’لزریق‘ پڑھا ہے۔یو ایم ٹی پریس نے کتاب سلیقے سے شائع کی ہے۔ سرورق سادہ مگر جاذب ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی )    


مسلکی اور فقہی اختلافات [ماہ نامہ تعمیرافکار، کراچی]، مرتبین: حافظ حقانی میاں قادری، سیّد عزیزالرحمٰن۔ ناشر: زوّار اکیڈمی، اے،۴؍۱۸، ناظم آباد نمبر۴، کراچی-۷۴۶۰۰۔ فون: ۳۶۶۸۴۷۹۰-۰۲۱۔ صفحات:۵۷۶۔ قیمت: ۶۹۰روپے۔

ماہ نامہ تعمیرافکار،ایک روایتی جریدہ ہونے کے باوجود انفرادی شان رکھتا ہے۔ ادارتی سنجیدگی نے اسے ایک ادارے کی شکل عطا کی ہے۔ مختلف اوقات میں پرچے کی خصوصی اشاعتیں اس کا امتیاز ہیں۔ زیرنظر شمارہ بھی ایک زندہ موضوع پر مباحث سمیٹے ہوئے ہے۔

اس خصوصی اشاعت میں علماے کرام اور مسلم دانش وروں کے ۳۴ مضامین، مسلم معاشروں میں مسلکی اختلافات کی نوعیت اور انھیں حل کرنے یا انھیں اعتدال کی شاہراہ پر لانے کا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ تمام مضامین خاص طور پر اس پرچے کے لیے نہیں لکھے گئے، مگر مجلس ادارت نے بڑی محنت سے اس انتخاب کو ترتیب دیتے ہوئے اُردو قارئین کو تعلیم،تربیت اورتوازن کی میزان فراہم کی ہے۔

خصوصی اشاعت کی ان خوبیوں کے باوجود، ایک پہلو توجہ کا تقاضا کرتا ہے اور وہ یہ کہ آج کی مسلم دنیا اور مسلم معاشروں میں مسلکی اعتبار سے سُنّی مکتبِ فکر میں کوئی بڑا مناقشہ دکھائی نہیں دیتا، البتہ سُنّی اور شیعہ کا معاملہ بعض منطقوں میں بین الاقوامی، سیاسی اور مسلکی تصادم کے مناظر پیش کرتا ہے۔ اسی تصادم کو آج مسلمانوں میں فرقہ وارانہ ٹکرائو سے منسوب کیا جاتا ہے، جسے حدِاعتدال میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر اس اشاعت میں ایک دو شیعہ علما کی سرسری تحریروں کے سوا کوئی مضمون نہیں اور پھر اس تضاد کو آج کے تناظر میں زیربحث نہیں لایا گیا۔ اُمید ہے کہ اس کمی کو کسی  نئی اشاعت میں دُور کیا جائے گا۔ مجموعی طور پر یہ اشاعت ایک قابلِ قدر دستاویز ہے۔ (س م خ)


میں سیکولر کیوں نہیں ہوں؟ اطہروقار عظیم۔ ناشر:ادارہ مطبوعات طلبہ، ۱-اے، ذیلدار پارک، اچھرہ، لاہور۔ صفحات:  ۱۶۰۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

مسلم معاشروں میں ’سیکولرزم‘ بعض اوقات براہِ راست اور اکثر صورتوں میں مذہبی اصطلاحوں یا حوالوں تک کو استعمال کرتے ہوئے رنگ جماتا ہے۔ ’دین اور دنیا الگ الگ‘ کا نعرہ اس کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں سیکولرزم کا سب سے بڑا پشتی بان: الیکٹرانک میڈیا اور پھر مادر پدر آزاد سوشل میڈیا ہے۔

زیرنظر کتاب میں وقارعظیم نے اس حوالے سے ملایشیا کے ممتاز اسلامی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر سیّد محمد نقیب العطاس [پ: ۵ستمبر ۱۹۳۱ء]کی کتاب Islam and Secularism کے منتخب مقالات کا اُردو میں ملخص ترجمہ پیش کیا ہے۔ ابتدا میں دو مضامین خود مترجم نے تحریر کیے ہیں۔

مقالات کے عنوانات کتاب کا تعارف کرانے میں مددگار ہیں۔ مترجم کے مضامین میں: مَیں سیکولر کیوں نہیں ہوں؟ اور سیکولرنواز دانش وروں کے ۱۰۰رجحانات۔ جناب نقیب کے مفصل اور فکری مقالات کے عنوان ہیں: lسیکولر، سیکولرائزیشن، سیکولرزم l مسلمانوں کا دوطرفہ اُلجھائو  lعلم کو مغربیت سے آزاد کرانے کا چیلنج، وغیرہ۔یہ کتاب سیکولر فکر کی فلسفیانہ اور عملی صورتوں کے سمجھنے اور اسلام کے ایمانی، فکری اور فلسفیانہ اپروچ سے واقفیت میں معاون ہے۔ (س م خ)


  عصری اجتہادی مسائل، سیّد مودودی کا موقف و منہج، پروفیسر ڈاکٹر قلب بشیرخاور بٹ۔ ناشر: الفیصل ناشرانِ کتب، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۰۷۷۷-۰۴۲۔ صفحات: ۴۰۸۔ قیمت: ۵۰۰ روپے۔

اسلام کے ساتھ کچھ اصطلاحیں بھی بڑی ’مظلوم‘ ہیں جن میں ایک نمایاں اصطلاح ’اجتہاد‘ ہے۔ عصرحاضر میں یہ لفظ متجددین اور مداہنت پسندوں کی دنیا میں بڑا من پسند ہے کہ اس کے پردے میں وہ اسلام کو اپنی خواہشات کے تابع لانے کے لیے بطور آلہ استعمال کرنے کا بھونڈا کھیل کھیلتے ہیں، حالانکہ اسلامی شریعت اور تفقہ فی الدین کے اعتبار سے یہ بڑی ہی محترم اور بنیادی اہمیت کی حامل اصطلاح ہے۔ الحمدللہ، دین کے خادموں نے تجدّد کی بہت سی یلغاریں بڑی پامردی سے روکیں اور درپیش فقہی چیلنجوں کا محتاط اور بھرپور جواب دینے کی انفرادی اور اجتماعی کاوشیں کی ہیں۔ جن میں مزید بہتری لانے اور غوروفکر کو اداراتی سطح پر منظم کرنے کی ضرورت اور گنجایش موجود ہے۔

زیرنظر کتاب میں جناب قلب بشیر خاور بٹ نے مولانا مودودی مرحوم کے حالاتِ زندگی پر معروف کتابوں سے حصے پیش کرنے کے بعد، بنیادی طور پر مولانا کی کتاب رسائل و مسائل   (پانچ حصوں) سے جدید نوعیت کے مسائل پر جوابات درج کیے ہیں۔ چند مقامات پر تفہیم القرآن اور تفہیمات سے اقتباس بھی لیے ہیں اور ساتھ ہی متعدد اہلِ علم کی آرا کو نقل کیا ہے۔ بہرحال، رسائل و مسائل سے ان مسائل کو سمجھنا آسان تر ہوگا کیونکہ وہاں جواب کے ساتھ براہِ راست سوال بھی موجود ہے۔

ضرورت ہے کہ زیرنظر موضوع پر علمی اور فنی نوعیت کی سیرحاصل بحث کی جائے اور ’اصول‘ کی روشنی میں متعین کیا جائے کہ ان میں کون سے اُمور اجتہادی نوعیت کے حامل ہیں۔(س  م خ )


ماہنامہ محدث، افتاء نمبر، مدیر :مولانا محمد ابوالقاسم فاروقی، ناشر: دارالتالیف والترجمۃ ، بنارس،    B  -۱۸/ ۱۔G ، ریوری طالب ، وارنسی۲۲۱۰۱۰ - www.mohaddis.org ۔ صفحات: ۲۱۲۔ قیمت: بھارتی :۱۰۰ روپے۔

ماہنامہ محدث بنارس گذشتہ ۳۳ برس سے اشاعتِ دین کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اس کا ہر شمارہ دینی معلومات میں گراں قدر اضافہ کرتا ہے۔ زیر نظر اشاعت متعدد حوالوں سے   قیمتی دستاویز ہے، جس کے ۲۴ مضامین میں ان موضوعات پر کلام کیا گیا ہے، جن میں ’فتویٰ‘ کی صورت سائلین کو رہنمائی دی جاتی ہے یا مخصوص صورت حال میں دین کا منشا سمجھایا جاتا ہے۔

محدث  ،بنارس کے فاضل قلمی معاونین نے اجتہاد، اجماع، عرف، فتویٰ نویسی، استحسان وغیرہ موضوعات پر مؤثر الفاظ میں روشنی ڈالی ہے۔ اہل حدیث علما کی علمی روایت سے واقفیت بہم پہنچائی ہے اور فتویٰ نویسی کی روایت کو دورِ رسالت سے عصر حاضر تک پیش کیا ہے۔ مضامین کی وسعت اور موقف میں توسع ،اور تاریخ کے اوراق کی پیش کاری سے اشاعت کی افادیت دو چند کر دی ہے۔

چونکہ مجلے کا تعلق سلفیہ سے ہے ، اس لیے جہاں مجموعی طور پر موضوعات پر کلام کیا گیا ہے، وہیں خاص طور پر سلفی اسلوبِ تحقیق وتجزیہ کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ ایک معلومات افزا، دل چسپ اور علمی دستاویز ہے۔ (س م خ )

عبدالرزاق باجو ہ ، نارووال

’یہ ہے کشمیر کا سچ‘ (سنتوش بھارتیہ) فروری ۲۰۱۷ء کے ترجمان کو پڑھنے سے اس موقف کو اور زیادہ تقویت ملی کہ بھارت کا کشمیر پر قبضہ بالکل ناجائز اور غاصبانہ ہے، جس کا زندہ ثبوت خود بھارتی میڈیا ہے۔ اس مضمون کو الگ سے شائع کر کے پاکستانی عوام تک پہنچایا جائے تو کشمیر کا مقدمہ سمجھانے میں سہولت ہوسکتی ہے۔


محمد احسن ، کراچی ، راجا محمد عاصم ، موہری شریف، کھاریاں

ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کے مضمون ’اُمت کے فیصلے، اُمت کے مشورے سے‘ (فروری ۲۰۱۷ء) میں شورائی نظام کی اہمیت کو انتہائی خوب صورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شورائی نظام سے ہم اپنے معاشرے اور حکومت کو جس بہترین طریقے سے چلا سکتے ہیں اس سے بہتر شاید ہی کوئی اور طریقہ ہو۔ اللہ تعالیٰ راقم کو جزاے خیر عطا فرمائے۔ آمین!


ڈاکٹر  چودھری عبدالرزاق  ، جہلم

محترم ڈاکٹر انیس احمد صاحب نے ’تعلیم اور معاشرتی انقلاب کی راہ‘ کے سلسلے میں جو رہنمائی کی ہے، اُمید ہے ہمارے تعلیمی ادارے اس سے مستفید ہو رہے ہوں گے۔ مرکز کی طرف سے اس پورے مضمون کو ان تمام اداروں کو (خواہ جماعت چلا رہی ہو یا جماعت سے وابستہ افراد چلا رہے ہوں) ایک ہدایت کے طور پر بھجوانا چاہیے۔

’شام لہو رنگ زمین‘ یہ اسیرانِ اُمت پر گمنام ہیرو‘ دل کی کیفیت کو قلم بیان کرنے سے قاصر ہے۔

’مذہب کی تبدیلی کیوں؟‘ (جنوری ۲۰۱۷ء) میں ڈاکٹر بی آر امبیدکر ، بھارت کے پہلے وزیرقانون کا دلتوں (شودروں) سے خطاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اہم تر سوال تو یہ ہے کہ کیا اس خطاب سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے علماے کرام نے اس پسی ہوئی قوم تک اسلام کی دعوت پہنچانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں؟ یا کبھی کیے تھے؟ غالباً اندراگاندھی کے دورِ حکومت میں شودروں نے اسلام قبول کرنے کی کوشش کی تھی یا دھمکی دی تھی، جسے دبا دیا گیا۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ دلتوں کو حکومت میں شامل کر کے بڑے بڑے عہدے بھی دیے جاتے ہیں لیکن برہمن اور دیگر ذاتیں انھیں پھر بھی اپنے جیسے انسان سمجھنے کو تیار نہیں۔

بے جان دل چسپی!

ایک اور کمزوری انسانوں میں بہ کثرت پائی جاتی ہے جسے ہم ’ضعف ِ ارادہ‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک تحریک کی دعوت سُن کر اس پر صدقِ دل سے لبیک کہتا ہے اور اوّل اوّل خاصا جوش بھی دکھاتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کی دل چسپی کم ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ اُسے اُس مقصد سے کوئی حقیقی لگائو باقی [نہیں] رہتا ہے جس کی خدمت کے لیے وہ آگے بڑھا تھا۔

اُس کا دماغ بدستور اُن دلائل پر مطمئن رہتا ہے جن کی بنا پر اس تحریک کو اس نے برحق مانا تھا، اُس کی زبان بدستور اس کے برحق ہونے کا اقرار کرتی رہتی ہے۔ اس کے دل کی شہادت بھی یہی رہتی ہے کہ یہ کام کرنے کا ہے اور ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں اور قواے عمل کی حرکت سُست ہوتی چلی جاتی ہے۔ اِس میں کسی بدنیتی کا ذرہ برابر دخل نہیں ہوتا۔ مقصد سے انحراف بھی نہیں ہوتا۔ نظریے کی تبدیلی بھی قطعاً واقع نہیں ہوتی۔ اِسی وجہ سے آدمی جماعت کو چھوڑنے کا خیال نہیں کرتا۔

’ضعف ِ ارادہ‘ کا ابتدائی ظہور کام چوری کی صورت میں ہوتا ہے۔ آدمی ذمہ داریاں قبول کرنے سے جی چُرانے لگتا ہے۔ مقصد کی راہ میں وقت اور محنت اور مال خرچ کرنے سے گریز کرنے لگتا ہے۔ دنیا کے ہر دوسرے کام کو اُس کام پر ترجیح دینے لگتا ہے، جسے وہ زندگی کا نصب العین قرار دے کر آیا تھا۔ اس کے اوقات میں، اس کی محنتوں میں، اس کے مال میں، اُس کے مقصد ِ حیات کا حصہ کم سے کم ہوتا چلاجاتا ہے اور جس جماعت کو وہ برحق جماعت مان کر اس سے وابستہ ہوا تھا، اس کے ساتھ بھی وہ صرف نظم اور ضابطے کا تعلق باقی رکھتا ہے، اس کے بھلے اور بُرے سے کوئی غرض نہیں رکھتا۔

یہ حالت کچھ اس طرح بتدریج طاری ہوتی ہے، جیسے جوانی پر بڑھاپا آتا ہے۔ اگر آدمی اپنی اس کیفیت پر نہ خود متنبہ ہو، نہ کوئی اسے متنبہ کرے، تو کسی وقت بھی وہ یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ جس چیز کو مَیں اپنا مقصد ِ زندگی قرار دے کر جان و مال کی بازی لگانے کے لیے اُٹھا تھا، اُس کے ساتھ اب یہ کیا معاملہ کرنے لگا ہوں۔ یوں محض غفلت اور بے خبری کے عالم میں آدمی کی دل چسپی و وابستگی  بے جان ہوتی چلی جاتی ہے، حتیٰ کہ کسی روز بے خبری ہی میں اس کی طبعی موت واقع ہوجاتی ہے۔ (’اشارات‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۴۷، عدد۶، جمادی الثانی ۱۳۷۶ھ/ مارچ  ۱۹۵۷ء، ص۲-۳)