اپریل ۲۰۲۰

فہرست مضامین

شام میں نسل کشی کا المیہ

کینان قیصر | اپریل ۲۰۲۰ | اخبار اُمت

انسانی زندگی اور تاریخ آزمایشوں، مصیبتوں اور ناقابلِ تصور حوادث سے گندھی ہوئی ہے۔ اکثر اوقات یہ آزمایشیں انسانوں کے لیے ایک اچانک حادثہ قرار دی جاتی ہیں کہ ایسے بھیانک منظر کا قبل ازیں تصور بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ مصائب و مشکلات بعض اوقات سرزنش اور عذاب کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ مگر عذاب کی سی اُس صورتِ حال کو ظاہربین اور الٰہی ہدایت سے بے نیاز لوگ محض ’حادثہ‘ ہی قرار دیتے ہیں، حالانکہ یہ حادثے سے بہت بڑی افتاد اور ہلامارنے کا لامتناہی سلسلہ ہوتا ہے۔ اکثر مصائب تو خود انسانوں کے ہاتھوں پرورش پاتے اور پھر اسی انسان کو بلاخیزی سے کچل ڈالتے ہیں۔ ایسے مصائب و حوادث قدرتِ حق کی جانب سے، باغی و سرکش انسان کی بددماغی پر کھلی تنبیہہ ہوتے ہیں۔
بہرحال، گذشتہ ڈیڑھ دو ماہ کے دوران اس کرئہ ارضی پر ’’نوول کرونا وائرس‘ اس انداز سے رُونما ہوا، چاروں طرف پھیلا اور جان لیوا تباہی کا طوفان بن کر یوں مسلط ہوا ہے کہ دہشت، خوف، بے بسی اور بےچارگی نے ’انسان عظیم ہے‘ کے غبارے کو ٹکڑوں میں بکھیر کر رکھ دیا ہے۔اس چیز کو آزمایش کہیں یا عذاب قرار دیں؟ قدرتی طور پر یا خود انسان کے ہاتھوں پیدا کردہ آفات کو اللہ کا عذاب قرار دینے کا ہم کو حق نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہم متعین طور پر فیصلہ نہیں دے سکتے کہ قوموں کی تباہی کے قانون کے رازدان اللہ کے پیغمبر علیہم السلام ہی تھے، لیکن چند در چند علامتوں سے نتائج ضرور اخذ کرسکتے ہیں۔
یہ امرِواقعہ ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ سو برس کے دوران، ایک طرف انسان نے جہاں سائنس، میڈیکل، خلائی اسرار، فنون اور ضرب و حرب کے میدان میں ناقابلِ تصور ترقی کی۔ دوسری طرف ہزاروں برسوں پر پھیلے اخلاقیات و الٰہی ہدایات پر مبنی فکری و عملی اور تہذیبی و سماجی ڈھانچے کو برباد کرنے کا پاگل پن بھی اسی انسان کے دماغ میں جڑ پکڑنے لگا۔ اس فساد کے پھول، پھل لانے کے لیے خدا کی ہستی کا انکار ضروری قرار دیا گیا اور الٰہی ہدایت کو ایک واہمہ اور افسانہ قرار دینا عقل و دانش کی علامت سمجھا جانے لگا۔ فوجی، سیاسی، مادی، سائنسی اور مالی قوت کو حتمی سچائی قرار دے کر انسانیت کے چیتھڑے اڑانے کو ’طاقت کا قانون‘ قرار دیا گیا، جس کی بدنما مثال ’ویٹو کلب‘ اور عالمی مالیاتی و تجارتی کلب کے کرتا دھرتا ہیں۔ جو من مانے فیصلے کرکے کمزور ملکوں اورقوموں کو روند ڈالتے ہیں۔ جب جی چاہے کیمیائی، جوہری، جراثیمی ہتھیارو آلات بناکر فضائی آلودگی پھیلانے اور ماحولیاتی توازن بگاڑنے کی دھونس جماتے ہیں۔ اس طرح قوت اور اخلاقیات سے بغاوت پر مبنی ’جدیدجاہلیت‘ نے ’عصرجدید‘ کو تشکیل دیا ہے۔ اسی عصرِ جدید کے مظہر ۱۹۸ ممالک، آج ’کرونا وائرس‘ کے نہایت حقیروجود کے سامنے اپنی بے بسی اور درماندگی میں موت اور تباہی کے شکنجے کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
یہاں پر مولانا سیّدابوالاعلیٰ موددی رحمۃ اللہ علیہ (۱۹۰۳-۱۹۷۹ء) کی دو تحریروں کے کچھ حصے پیش کیے جارہے ہیں، جن کا موضوع براہِ راست موجودہ منظرنامہ تو نہیں ہے، لیکن اس طوفان و آزمایش یا تاریخ کے ناقابلِ تصور امتحان پر غور وفکر کا سامان ضرور موجود ہے: پہلا حصہ انھوں نے ستمبر۱۹۳۳ء میں تحریر فرمایا تھا اور دوسرا حصہ تفہیم القرآن کے لیے اگست ۱۹۶۱ء میں تحریر کیا تھا۔(ادارہ)
[۱]
قرآنِ مجید میں جگہ جگہ ان قوموں کا ذکر آیا ہے، جن پر گذشتہ زمانے میں اللہ کا عذاب نازل ہوا ہے۔ ہرقوم پر نزولِ عذاب کی صورت مختلف رہی ہے: عاد پر کسی طرح کا عذاب اُترا، ثمود پر کسی اور طرح کا، اہلِ مدین پر کسی دوسری صورت میں، آلِ فرعون پر ایک نئے انداز میں۔ مگر عذاب کی شکلیں اور صورتیں خواہ کتنی ہی مختلف ہوں، وہ قانون جس کے تحت یہ عذاب نازل ہوا کرتا ہے ایک ہی ہے اور ہرگز بدلنے والا نہیں:
سُـنَّۃَ اللہِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ۝۰ۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِيْلًا۝۶۲(احزاب ۳۳:۶۲) یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آرہی ہے، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔
نزولِ عذاب کے اس قانون کی تمام دفعات پوری تشریح کے ساتھ قرآنِ مجید میں درج ہیں۔ اس کی پہلی دفعہ یہ ہے کہ جب کسی قوم کی خوش حالی بڑھ جاتی ہے، تو وہ غلط کاری اور گمراہی کی طرف مائل ہوجاتی ہے اور خود اس کی عملی قوتوں کا رُخ صلاح سے فساد کی طرف پھر جایا کرتا ہے:
وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّہْلِكَ قَرْيَۃً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْہَا فَفَسَقُوْا فِيْہَا فَحَـــقَّ عَلَيْہَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰہَا تَدْمِيْرًا۝۱۶ (بنی اسرائیل ۱۷:۱۶) اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ کسی بستی کو ہلاک کریں تو اس کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ لوگ اس بستی میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں۔ پھر وہ بستی عذاب کے حکم کی مستحق ہوجاتی ہے ۔ پھر ہم اس کو تباہ و برباد کرڈالتے ہیں۔
دوسرا قاعدئہ کلیہ یہ ہے کہ خدا کسی قوم پر ظلم نہیں کرتا۔ بدکار قوم خود ہی اپنے اُوپر ظلم کرتی ہے۔ خدا کسی قوم کو نعمت دے کر اس سے کبھی نہیں چھینتا۔ ظالم قوم خود اپنی نعمت کے درپئے استیصال ہوجاتی ہے اور اس کے مٹانے کی کوشش کرتی ہے:
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰي قَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۝۰ۙ (انفال ۸:۵۳) یہ اللہ کی اُس سنت کے مطابق ہے کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو، اُس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِعمل کو نہیں بدل دیتی۔
فَمَا كَانَ اللہُ لِيَظْلِمَہُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ يَظْلِمُوْنَ۝۷۰(التوبہ ۹:۷۰) پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا ، مگر وہ آپ ہی اپنے اُوپر ظلم کرنے والے تھے۔
پھر یہ بھی اسی قانون کی ایک دفعہ ہے کہ خدا ظلم (برنفسِ خود) پر مواخذہ کرنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ڈھیل دیتا ہے اور تنبیہیں کرتا رہتا ہے کہ نصیحت حاصل کریں اور سنبھل جائیں:
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللہُ النَّاسَ بِظُلْمِہِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْہَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُہُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى۝۰ۚ (النحل ۱۶:۶۱)اگر کہیں اللہ، لوگوں کو ان کی زیادتی پر فوراً ہی پکڑ لیا کرتا تو روے زمین پر کسی متنفّس کو نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ سب کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّہُمْ يَتَضَرَّعُوْنَ۝۴۲  فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَہُمْ بَاْسُـنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَزَيَّنَ لَہُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۴۳ (انعام ۶:۴۲-۴۳) تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول ؑبھیجے اور ان قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا، تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں۔ پس ، جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انھوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، خوب کر رہے ہو۔
اس ڈھیل کے زمانے میں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ظالم قوموں کو خوش حالی کے فتنے میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ وہ اس سے دھوکا کھا جاتی ہیں اور واقعی یہ سمجھ بیٹھتی ہیں کہ ہم ضرور نیکوکار ہیں ورنہ ہم پر نعمتوں کی بارش کیوں ہوتی؟
اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّہُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ۝۵۵ۙ نُسَارِعُ لَہُمْ فِي الْخَــيْرٰتِ۝۰ۭ بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَ۝۵۶ (المومنون ۲۳:۵۵-۵۶)کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انھیں مال اولاد سے مدد دیے جارہے ہیں، تو گویا انھیں بھلائیاں (فائدے) دینے میں سرگرم ہیں؟ نہیں، اصل معاملے کا انھیں شعور نہیں ہے۔
آخرکار جب وہ قوم کسی طرح کی تنبیہہ سے بھی نہیں سنبھلتی اور ظلم کیے ہی جاتی ہے، تو خدا اس کے حق میں نزولِ عذاب کا فیصلہ کردیتا ہے، اور جب اس پر عذاب کا حکم ہوجاتا ہے تو کوئی قوت اس کو نہیں بچاسکتی:
وَتِلْكَ الْقُرٰٓى اَہْلَكْنٰہُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَعَلْنَا لِمَہْلِكِہِمْ مَّوْعِدًا۝۵۹ (الکھف ۱۸:۵۹) یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمھارے سامنے موجود ہیں، انھوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا۔
وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَہِىَ ظَالِمَۃٌ ۝۰ۭ اِنَّ اَخْذَہٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ۝۱۰۲ (ھود۱۱:۱۰۲)اورتیرا ربّ جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور دردناک ہوتی ہے۔
وَاِذَآ اَرَادَ اللہُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَہٗ ۝۰ۚ وَمَا لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّالٍ۝۱۱ (الرعد ۱۳:۱۱) اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے، تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہوسکتا ہے۔
یہ عذابِ الٰہی کا اٹل قانون جس طرح پچھلی قوموں پر جاری ہوتا رہا ہے، اسی طرح آج بھی اس کا عمل جاری ہے۔ اور اگر بصیرت ہو تو آج آپ خود اپنی آنکھوں سے اس کے نفاذ کی کیفیت ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ مغرب کی وہ عظیم الشان قومیں جن کی دولت مندی و خوش حالی، طاقت و جبروت،  شان و شوکت، عقل و ہنر کو دیکھ دیکھ کر نگاہیں خیرہ ہوئی جاتی ہیں، اور جن پر انعامات کی پیہم بارشوں کے مشاہدے سے یہ دھوکا ہوتا ہے، کہ شاید یہ خدا کے بڑے ہی مقبول اور چہیتے بندے اور خیروصلاح کے مجسّمے ہیں، ان کی اندرونی حالت پر ایک غائر نگاہ ڈالیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ اس عذابِ الٰہی کے قانون کی گرفت میں آچکی ہیں۔اور انھوں نے اپنے آپ کو خود اپنے انتخاب و اختیار سے اس دیوِ ظلم (ظلم بر نفسِ خود) کے چنگل میں پوری طرح پھنسا دیا ہے، جو تیزی کے ساتھ انھیں تباہی و ہلاکت کی طرف لیے چلا جارہا ہے۔
وہی صنعت و حرفت کی فراوانی، وہی تجارت کی گرم بازاری، وہی وباے سیاست کی کامیابی، وہی علومِ حکمیہ و فنونِ عقلیہ کی ترقی، وہی نظامِ معاشرت کی سربفلک بلندی، جس نے ان قوموں کو دنیا پر غالب کیا ، اور روے زمین پر ان کی دھاک بٹھائی ، آج ایک ایسا خطرناک جال بن کر ان کو لپٹ گئی ہے جس کے ہزاروں پھندے ہیں اور ہرپھندے میں ہزاروں مصیبتیں ہیں۔ وہ اپنی عقلی تدبیروں سے جس پھندے کو کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کا ہرتار کٹ کر ایک نیا پھندا بن جاتا ہے، اور رہائی کی ہرتدبیر مزید گرفتاری کا سبب ہوجاتی ہے  ع
از سر گرہ زند گرہِ ناکشودہ را
یہاں ان تمام معاشی اور سیاسی اور تمدنی مصائب کی تفصیل کا موقع نہیں ہے، جن میں مغربی قومیں اس وقت گرفتار ہیں۔ بیانِ مدّعا کے لیے اس تصویر کا ایک پہلو پیش کیا جاتا ہے، جس سے معلوم ہوجائے گا کہ یہ قومیں کس طرح اپنے اُوپر ظلم کررہی ہیں اور کس طرح اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت کا سامان مہیا کیے جارہی ہیں۔
اپنے معاشی، تمدنی اور سیاسی احوال کی خرابی کے اسباب تشخیص کرنے اور ان کا علاج تجویز کرنے میں اہلِ فرنگ سے عجیب عجیب غلطیاں ہورہی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی مشکلات کا بڑا بلکہ اصل سبب آبادی کی کثرت کو سمجھنے لگے اور ان کو اس کا صحیح علاج یہ نظر آیا کہ افزایش نسل کو روکا جائے، معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ یہ خیال نہایت تیزی کے ساتھ مغربی ممالک میں پھیلنا شروع ہوا، اور دلوں میں کچھ اس طرح بیٹھا کہ لوگ اپنی نسل کو اپنا سب سے بڑا دشمن  سمجھنے لگے، یا بالفاظِ دیگر اپنی نسل کے سب سے بڑے دشمن بن گئے۔
چنانچہ، ضبط ِ ولادت کے نئے نئے طریقے جو پہلے کسی کے ذہن میں بھی نہ آتے تھے، عام طور پر رائج ہونے شروع ہوئے۔ اس تحریک کو ترقی دینے کے لیے نہایت وسیع پیمانے پر تبلیغ و اشاعت کی گئی۔ کتابیں، پمفلٹ، رسائل اور جرائد خاص اسی موضوع پر شائع ہونے لگے۔ انجمنیں اور جمعیتیں قائم ہوئیں۔ ہرعورت اور مرد کو اس کے متعلق معلومات بہم پہنچانے ، اور عملی آسانیاں فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا۔ غرض یورپ اور امریکا کے عمرانی ’مصلحین‘ نے اپنی نسلوں کے خلاف ایک زبردست جنگ چھیڑ دی اور ’جوشِ اصلاح‘ میں ان کو یہ سوچنے کا ہوش بھی نہ آیا کہ آخر یہ جنگ کہاں جاکر رُکے گی۔
اہلِ فرنگ نے کیا اس کا اطمینان کرلیا ہے کہ کسی روز مغربی افریقہ کے مچھر، زردبخار کے جراثیم لیے ہوئے خود انھی کے ہوائی جہازوں پر بیٹھ کر یورپ نہ پہنچ جائیں گے؟ کیا انھوں نے اس کی کوئی ضمانت لے لی ہے کہ کبھی یورپ میں [یا دُنیا میں کہیں بھی] اچانک انفلوائنزا ، طاعون، ہیضہ اور ایسے ہی دوسرے وبائی امراض میں سے کوئی مرض نہ پھیل جائے گا؟ کیا وہ اس سے بے خوف ہوچکے ہیں کہ ایک دن یکایک فرنگی سیاست کے باروت خانوں میں سے کسی ایک میں ویسی ہی کوئی چنگاری نہ آپڑے گی، جیسی ۱۹۱۴ء میں سرائیوو میں گری تھی اور پھر فرنگی قومیں خود اپنے ہاتھوں سے وہ سب کچھ نہ کرگزریں گی جو کوئی وبا اور کوئی بیماری نہیں کرسکتی؟ اگر ان میں سے کوئی صورت بھی پیش آگئی اور دفعتاً یورپ کی آبادی سے چندکروڑ آدمی قتل یا ہلاک یا ناکارہ ہوگئے تو اس وقت یورپ کے باشندوں کو معلوم ہوگا کہ انھوں نے اپنے آپ کو خود کس طرح تباہ کیا:
اَفَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِـيَہُمْ بَاْسُـنَا بَيَاتًا وَّہُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ۝۹۷ۭ اَوَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِـيَہُمْ بَاْسُـنَا ضُـحًى وَّہُمْ يَلْعَبُوْنَ۝۹۸ اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللہِ ۝۰ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۝۹۹ (اعراف ۷:۹۷  تا۹۹)پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک ان پر رات کے وقت نہ آجائے گی، جب کہ وہ سوئے پڑے ہوں؟ یا انھیں اطمینان ہوگیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا، جب کہ وہ کھیل رہے ہوں؟ کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟ حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے، جو تباہ ہونے والی ہوتی ہے۔
ایسی ہی ایک قوم اب سے تین ہزار برس پہلے عرب کے جنوبی ساحل پر آباد تھی جس کا ذکر قرآن مجید میں سبا کے نام سے کیا گیا ہے۔اس قوم کی گھنی آبادی کا سلسلہ سواحلِ بحرہند سے  سواحلِ بحراحمر تک پھیلا ہوا تھا۔ ہندستان اور یورپ کے درمیان جتنی تجارت اس زمانے میں ہوتی تھی، وہ سب اسی قوم کے ہاتھوں میں تھی۔ اس کے تجارتی قافلے جنوبی ساحل سے مال لے کر چلتے تو مغربی ساحل تک مسلسل بستیوں اور باغوں کی چھاؤں میں چلے جاتے تھے:
وَجَعَلْنَا بَيْنَہُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا قُرًى ظَاہِرَۃً وَّقَدَّرْنَا فِيْہَا السَّيْرَ ۝۰ۭ سِيْرُوْا فِيْہَا لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيْنَ۝۱۸  (السبا۳۴: ۱۸) اور ہم نے ان کے اور اُن بستیوں کے درمیان، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی، نمایاں بستیاں بسادی تھیں اور ان میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں۔ چلو پھرو، ان راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ۔
مگر انھوں نے اللہ کی اس نعمت کو مصیبت سمجھا اور چاہا کہ ان کی یہ گھنی، متصل، مسلسل بستیاں کم ہوجائیں اور ان کا باہمی فصل بڑھ جائے:
 فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ (السبا۳۴: ۱۹) انھوں نے کہا: ’’اے ہمارے ربّ، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کردے‘‘۔ انھوں نے اپنے اُوپر ظلم کیا۔
یہاں لفظ بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا  سے پتا چلتا ہے کہ تجارتی خوش حالی کی وجہ سے جب آبادی بڑھی اور بستیاں گنجان ہوگئیں تو وہاں بھی یہی سوال پیدا ہوا تھا، جو آج یورپ میں پیدا ہوا ہے۔ اور وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ سے اشارہ ملتا ہے کہ شاید انھوں نے بھی مصنوعی تدبیروں سے آبادی گھٹانے کی کوشش کی ہوگی۔ پھر ان کا حشر کیا ہوا؟
 فَجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِيْثَ وَمَزَّقْنٰہُمْ كُلَّ مُمَــزَّقٍ ۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ۝۱۹ (السبا: ۱۹) [آخرکار ہم نے انھیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انھیں بالکل ہی تتربتر کردیا۔ یقینا، اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے ، جو بڑا صابروشاکر ہو۔]
[یعنی] خدا نے ان کو منتشر اور پارہ پارہ کرکے ایسا تباہ و برباد کیا کہ بس ان کا وجود افسانوں ہی میں رہ گیا۔ [۱۹۳۳ء]
[۲]
وَلَنُذِيْـقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۲۱ (السجدہ ۳۲:۲۱) اُس ’عذابِ اکبر‘ سے پہلے ہم اسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انھیں چکھاتے رہیں گے کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آجائیں۔
’عذابِ اکبر‘ سے مراد آخرت کا عذاب ہے، جو کفروفسق کی پاداش میں دیا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں ’عذاب ادنیٰ‘ کا لفظ استعمال کیا گیاہے، جس سے مراد وہ تکلیفیں ہیں، جو اِسی دنیا میں انسان کو پہنچتی ہیں، مثلاً افرد کی زندگی میں سخت بیماریاں، اپنے عزیز ترین لوگوں کی موت، المناک حادثے، نقصانات، ناکامیاں وغیرہ۔ اور اجتماعی زندگی میں طوفان،زلزلے، سیلاب، وبائیں، قحط، فسادات، لڑائیاں اور دوسری بہت سی بلائیں، جو ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ ان آفات کے نازل کرنے کی مصلحت [قرآن کریم میں] یہ بیان کی گئی ہے کہ عذابِ اکبر میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی لوگ ہوش میں آجائیں اور اُس طرزِفکروعمل کو چھوڑ دیں جس کی پاداش میں آخرکار وہ بڑا عذاب بھگتنا پڑے گا۔
 دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بالکل بخیریت ہی نہیں رکھا ہے کہ پورے آرام و سکون سے زندگی کی گاڑی چلتی رہے اور وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجائے کہ اُس سےبالاتر کوئی طاقت نہیں ہے جو اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کررکھا ہے کہ وقتاً فوقتاً افراد پر بھی اور قوموں اور ملکوں پر بھی ایسی آفات بھیجتا رہتا ہے، جو اسے اپنی بے بسی اور اپنے سے بالاتر ایک ہمہ گیر سلطنت کی فرماںروائی کا احساس دلاتی ہیں۔یہ آفات ایک ایک شخص کو، ایک ایک گروہ کو اور ایک ایک قوم کو یہ یاد دلاتی ہیں، کہ اُوپر تمھاری قسمتوں کو کوئی اور کنٹرول کر رہا ہے۔ سب کچھ تمھارے ہاتھ میں نہیں دے دیا گیا ہے۔ اصل طاقت اسی کارفرما اقتدار کے ہاتھ میں ہے۔ اُس کی طرف سے جب کوئی آفت تمھارے اُوپر آئے، تو نہ تمھاری کوئی تدبیر اسے دفع کرسکتی ہے، اور نہ کسی جِنّ یا روح، یا دیوی اور دیوتا، یا نبی اور ولی سے مدد مانگ کر تم اس کو روک سکتے ہو۔اس لحاظ سے یہ آفات محض آفات نہیں ہیں بلکہ خدا کی تنبیہات ہیں، جو انسان کو حقیقت سے آگاہ کرنے اور اس کی غلط فہمیاں رفع کرنے کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔ ان سے سبق لے کر دنیا ہی میں آدمی اپنا عقیدہ اور عمل ٹھیک کرلے تو آخرت میں خدا کا بڑا عذاب دیکھنے کی نوبت ہی کیوں آئے۔
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْہَا ط  (السجدہ ۳۲:۲۲)  اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا، جسے اس کے ربّ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیر لے۔
’ربّ کی آیات‘ ،یعنی اُس کی نشانیوں کے الفاظ بہت جامع ہیں، جن کے اندر تمام اقسام کی نشانیاں آجاتی ہیں۔ قرآنِ مجید کے جملہ بیانات کو نگاہ میں رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشانیاں حسب ذیل چھے قسموں پر مشتمل ہیں:
    ۱-     وہ نشانیاں جو زمین سے لے کر آسمان تک ہرچیز میں اور کائنات کے مجموعی نظام میں پائی جاتی ہیں۔
    ۲-    وہ نشانیاں جو انسان کی اپنی پیدایش اور اس کی ساخت اور اس کے وجود میں پائی جاتی ہیں۔
    ۳-    وہ نشانیاں جو انسان کے وجدان میں، اس کے لاشعور اور تحت الشعور میں، اور اس کے اخلاقی تصورات میں پائی جاتی ہیں۔
    ۴-    وہ نشانیاں جو انسانی تاریخ کے مسلسل تجربات میں پائی جاتی ہیں۔
    ۵-    وہ نشانیاں جو انسان پر آفاتِ ارضی و سماوی کے نزول میں پائی جاتی ہیں۔
    ۶-    اور ان سب کے بعد وہ آیات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے بھیجیں تاکہ معقول طریقے سے انسان کو انھی حقائق سے آگاہ کیا جائے، جن کی طرف اُوپر کی تمام نشانیاں اشارہ کر رہی ہیں۔
یہ ساری نشانیاں پوری ہم آہنگی، اور بلند آہنگی کے ساتھ انسان کو یہ بتارہی ہیں کہ تو بے خدا نہیں ہے، نہ بہت سے خداؤں کا بندہ ہے، بلکہ تیرا خدا صرف ایک ہی خدا ہے جس کی عبادت و اطاعت کے سوا تیرے لیے کوئی دوسرا راستہ صحیح نہیں ہے۔ تُو اس دنیا میں آزاد و خودمختار اور غیرذمہ دار بناکر نہیں چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ تجھے اپنا کارنامۂ حیات ختم کرنے کے بعد اپنے خدا کے سامنے حاضر ہوکر جواب دہی کرنی ہے اور اپنے عمل کے لحاظ سے جزا اور سزا پانا ہے۔ پس، تیری اپنی خیر اسی میں ہے کہ تیرے خدا نے تیری رہنمائی کے لیے اپنے انبیا علیہم السلام اور اپنی کتابوں کے ذریعے سے جو ہدایت بھیجی ہے، اس کی پیروی کر اور خودمختاری کی روش سے باز آجا۔
 اب یہ ظاہر ہے کہ جس انسان کو اتنے مختلف طریقوں سے سمجھایا گیا ہو، جس کی فہمایش کے لیے طرح طرح کی اتنی بے شمار نشانیاں فراہم کی گئی ہوں، اور جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں، سننے کے لیے کان اور سوچنے کے لیے دل کی نعمتیں بھی دی گئی ہوں، وہ اگر ان ساری نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلیتا ہے، سمجھانے والوں کی تذکیر و نصیحت کے لیے بھی اپنے کان بند کرلیتا ہے، اور اپنے دل و دماغ سے بھی اوندھے فلسفے ہی گھڑنے کا کام لیتا ہے، اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔ وہ پھر اسی کا مستحق ہے کہ دنیا میں اپنے امتحان کی مدت ختم کرنے کے بعد جب وہ اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو تو بغاوت کی بھرپور سزا پائے۔[اگست ۱۹۶۱ء/تفہیم القرآن، ج۴، ص ۴۷-۴۸]

’کورونا وائرس‘ کیا ہے؟ لاطینی زبان میں تاج کو کرونا کہتے ہیں اور اس وائرس کو بھی یہ نام اس لیے دیا گیا کہ اس کی شکل ایسے تاج (کراؤن)کی طرح ہوتی ہے، جس پر نوک دار کیلیں ہوں۔ اس وائرس کا سائز ۰ء۰۶ سے ۰ء۱۴ اور اوسط سائز ۰ء۱۲۵ مائیکرون ہوتا ہے (یاد رہے کہ ایک مائیکرون ایک ملی میٹر کا ہزارواں حصہ ہوتا ہے)۔ یہ سانس کے ذریعے ایک سے دوسرے کو پھیلتا ہے۔ عام طور پرجسم میں داخل ہونے کے تقریباً پانچ دن بعد بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں، لیکن اس میں دو ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ اگر کوئی بلغم یالعاب تھوک دے تو اس میں وائرس کئی گھنٹے بلکہ بعض اوقات دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔

موجودہ زمانے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا (وٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ) اطلاعات پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور خبریں تمام لوگوں تک فوری طور پر پہنچ جاتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سےاس ضمن میں عمومی رویے غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ اطلاعات بغیر تحقیق کیے دوسروں کو فارورڈ کر دی جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات مختلف وجوہ کی بنا پر غلط خبریں بھی جان بوجھ کرپھیلا دی جاتی ہیں، جوبے جا خوف و ہراس کا سبب بنتی ہیں۔ یہ انتہائی نامناسب رویہ ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر تحقیق کے کوئی بھی خبر آگے پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا اور ایسے شخص کو جھوٹا قرار دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) نے وائرس سے متاثر ہونے والے ۴۴ہزار مریضوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر لکھا ہے کہ ۸۱ فی صد افراد میں اس کی ہلکی پھلکی علامات ظاہر ہوئیں، جب کہ ۱۴ فی صد میں شدید علامات ظاہر ہوئیں اور ۵ فی صد لوگ شدید بیمار ہوئے۔ چونکہ ہزاروں افراد کا علاج اب بھی جاری ہے،اور یہ واضح نہیں کہ ہلکی پھلکی علامات والے کتنے کیس ہیں، جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے، اس لیے اموات کم یا زیادہ بھی ہو سکتی ہیں۔لیکن عام طور پر یہ شرح دو فی صد سے کم ہے۔

چین اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔وہاں ۷۲ ہزار سے زیادہ  بیمار افراد میں اموات کا تناسب، یعنی تقریباً ۱۵ فی صد ۸۰ سال سے زیادہ عمر میں ہوا، جب کہ ۷۰اور ۸۰ سال کے درمیان ۸ فی صد ،۵۰ اور ۶۰ سال کے درمیان عمر میں۳ء۱ فی صد اور ۴۰سے ۵۰ سال میں ۰ء۴ فی صد مریضوں میں اموات واقع ہوئیں۔

 یاد رہے کہ ہر سال ایک ارب افراد انفلواینزا کا شکار ہوتے ہیں اور اس سے تقریباً ساڑھے چھے لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ملیریا سے سالانہ چار لاکھ تک اموات ہوتی ہیں۔

کورونا وائرس کی علامات

بیماری کی علامات عام طور پر زکام (انفلوانزا) جیسے ہوتی ہیں، لیکن اس کی شدت نسبتاً  زیادہ اور پھیلاؤ بہت تیزی سے ہوتا ہے۔ وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد تین چار روز تک گلے میں موجود رہتا ہے اور پھر یہاں سے پھیپھڑوں یا خوراک کی نالی میں داخل ہو جاتا ہے۔ عمومی طور پر بیماری کی علامات درج ذیل ترتیب سے ظاہر ہوتی ہیں لیکن یہ ترتیب ضروری نہیں:

    ۱-  ابتدا میں بخار ہوتا ہے۔ پھر خشک کھانسی آتی ہے اور اس کےتقریباً ایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

    ۲-  اس بیماری میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات عام زکام کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں۔

    ۳-  سر درد یا پٹھوں کا عمومی درد بھی ہو سکتا ہے۔

 خطرات اور احتیاط

بہت چھوٹے بچوں اور بوڑھے لوگوں میں بیماری کی شدید علامات زیادہ ہوتی ہیں اور یہ جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔ جن لوگوں کی قوت مدافعت کم ہو، ان پر وائرس کا حملہ شدید ہو سکتا ہے۔  خاص کر شوگر، دل کی بیماری اور ایسی ہی دوسری بیماریوں والے مریض میں شدید بیماری کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ہرشخص کواپنی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے درج ذیل اقدامات کرنے چاہییں:

    l    سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اپنی نیند پوری رکھیں۔کوشش کریں کہ رات کو سونے میں جلدی کی جائے اور عشاء کی نماز کے بعد کوئی مصروفیت نہ ہو۔ صبح بروقت جاگ کر فجر کی نماز سے دن کا آغاز کریں۔اللہ نے رات کو آرام اور دن کو رزقِ حلال کے لیے پیدا کیا ہے۔ اب تو یہ بات سائنسی طور پر بھی ثابت ہو چکی ہے کہ رات کی نیند نہ صرف انسان کی قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے بلکہ یہ کئی دوسری بیماریوں کے سدّباب کا ذریعہ بھی ہے۔

    l    اس طرح یہ بات بھی سائنسی طور پر ثابت ہے کہ جو لوگ ذہنی طورپربااعتماد،پُرسکون اورپختہ قوت ارادی کے مالک ہوتے ہیں ان کی قوت مدافعت بھی زیادہ مضبوط ہوتی ہے اور بدن کے متعلقہ مدافعتی نظام اورخلیوں(immune system) کی جراثیم کش صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ تقدیر اور توکّل تو مسلمان کی صفات ہیں اور یہ ایمانی صفات اور اللہ کی یاد اور اس سےتعلق جتنامضبوط اورمؤثر ہو گا، قوتِ مدافعت بھی اتنی زیادہ ہو گی۔

    l    اس کے ساتھ ساتھ خوراک میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہونی چاہیے۔ دودھ ،انڈہ،  گوشت اور دالوں وغیرہ میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔ قوت مدافعت بڑھانے کے لیے چند اور چیزوں (مثلاً وٹامن سی وغیرہ) کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جو تازہ پھلوں اور سبزیوں سے حاصل کی جاسکتی ہیں، خاص کر کیلا،مالٹا اور سبز پتوں والی سبزیاں وغیرہ۔ جنک فوڈ مثلاً برگر وغیرہ سے خصوصی پرہیز کروائیں ۔  یہ قوتِ مدافعت کو کم کرتی ہیں۔

بیماری سے بچاو ٔ

    ۱-  ہاتھ روزانہ کئی مرتبہ اچھی طرح دھوئیں ۔صابن کا استعمال کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ ہاتھ  کم از کم ۲۰سیکنڈ کے لیے دھوئیں اور دن میں کئی بار ہاتھ دھوئیں ۔ اگر ہم پانچ وقت وضو کرکے نماز پابندی سے ادا کریں اور ساتھ ہی اسلام کے احکام کے مطابق کھانے سے پہلے اور بیت الخلا سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ دھوئیں تو اس طرح دن میں کم از کم آٹھ دس مرتبہ تو ہاتھ دھل ہی جائیں گے۔ اس پر اسے سنت سمجھ کر عمل کریں تو حفاظت اور ثواب ساتھ ساتھ۔

    ۲-  کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ٹشو یا رومال سے ڈھانپیں اور اس کے فوراً بعد اپنے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے ۔ ان اشیا کو بعد میں کوڑے دان میں ڈالیں اور کسی مناسب جگہ پر (میونسپلٹی کے ڈرم) ٹھکانے لگا دیں یا جلا دیں ۔ کوئی چیز میسر نہ ہو تو کھانستے وقت ہاتھ موڑ کر کہنی والی جگہ کی آستین سے منہ ڈھانک لیں۔ ہاتھ سے منہ کبھی نہ ڈھانکیں۔

    ۳-  کسی بھی مشکوک چیز کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔ چھونے کی صورت میں فوراً ہاتھ دھو لیں ۔ گندے ہاتھ منہ یا چہرے پر نہ لگائیں۔ اس سے وائرس آپ کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ 

    ۴-  جولوگ کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنھیں بخار ہو، ان کے منہ سے وائرس والے پانی کے قطرے نکل کر فضا میں پھیل سکتے ہیں۔ ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر، یعنی تین فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ ایسے لوگوں کے قریب مت جائیں۔

    ۵-  اگر طبیعت خراب محسوس ہو تو گھر میں رہیں۔ اگر بخار ،زیادہ کھانسی یا سانس لینے میں  دشواری ہو تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور ان کی ہدایات پر عمل کریں۔

    ۶-  چونکہ بیماری کے پھیلنے کے امکانات ابھی تک زیادہ ہیں، اس لیے پُرہجوم جگہوں، غیرضروری سفر ، بازار وں، یا اجتماعات میں جانے سے گریز کریں۔

    ۷-  سینی ٹائزر (ہاتھ صاف کرنے کا محلول) ہر دو چار گھنٹے بعد ہاتھ پر چند قطرے لگائیں۔

    ۸-  چہرے اتنے قریب نہ لائیں کہ آپ کی سانس دوسرے کے چہرے پر محسوس ہو۔

    ۹-  پانی زیادہ پئیں۔ یاد رہے کہ گلے سے وائرس پیٹ میں جائے تو معدے کی تیزابیت کی وجہ سے مرجاتا ہے اور پھیپڑوں میں جائے تو بیماری کا سبب بنتا ہے۔ گلے میں خارش ہو یا درد ہو تو دوا کے ساتھ ساتھ غرارے بھی مسلسل کریں۔

    ۱۰- ہر ایک شخص کو ماسک استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جن افراد کو بیماری لگنے کے امکانات زیادہ ہوں مثلاً صحت کے شعبے سے منسلک افراد یا وہ لوگ جنھیں یہ شک ہو کہ انھیں کسی متاثرہ فرد سے واسطہ پڑنے کا امکان ہے تو انھیں ماسک استعمال کرنا چاہیے۔

    ۱۱- کرونا وائرس سے بچاؤ کی ابھی تک کوئی ویکسین نہیں ہے اور نہ علاج کے لیےکوئی دوا موجود ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر ہی بیماری سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہیں۔

وبا: اسلامی نقطۂ نظر

بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایسی  صورت حال سے گھبرانا مسلمان کا شیوہ نہیں۔ سنت پر عمل کرتے ہوئے علاج کرانا بھی ضروری ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحت مند لوگوں کو بیماری کی وبا والے علاقے میں جانے سے منع فرمایا ہے اور اس علاقے کے لوگوں کو وہاں سے نکلنے سے بھی منع فرمایا۔ انھی اقدامات کو آج کل کی اصطلاح میں قرنطینہ (Quarantine) کہتے ہیں ۔

اس وقت تمام دنیا میں جو فساد برپا ہے، اس میں سب کے لیے اور خاص کر مسلمانوں کے لیےاہم سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے؛

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ۝۴۱  (الروم ۳۰: ۴۱) خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کی اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزا چکھائے اُن کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔

مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَـنَۃٍ فَمِنَ اللہِ۝۰ۡ وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ۝۰ۭ وَاَرْسَلْنٰكَ  لِلنَّاسِ رَسُوْلًا۝۰ۭ وَكَفٰى بِاللہِ شَہِيْدًا۝۷۹  (النساء۴: ۷۹)تمھیں جو سُکھ بھی پہنچتا ہے خدا کی طرف سے پہنچتا ہے اور جو دُکھ پہنچتا ہے وہ تمھارے اپنے نفس کی طرف سے پہنچتا ہے۔ اور اے رسولؐ ! ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔

اللہ نے ہمیں سبق لینے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہے کہ ہم اپنے اعمال پر توجہ دیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔ یہ موقع ضائع نہ کریں اورجوکچھ بھی اللہ کی ناراضی کا سبب بن رہا ہے اس سےصدق دل سے توبہ کریں اورزیادہ سے زیادہ استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ۝۰ۭ وَبَشِّـرِ الصّٰبِرِيْنَ۝۱۵۵ۙ  الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِيْبَۃٌ ۝۰ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ  وَاِنَّـآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ۝۱۵۶ۭ اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ ۝۰ۣ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُہْتَدُوْنَ۝۱۵۷  (البقرہ ۲:۱۵۵-۱۵۷)بےشک ہم تمھیں آزمائیں گے کسی قدر خوف، بھوک، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنادیجیے۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی عنایتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

آج ہر طرف خوف کی فضا ہے۔ ایسے میں ہمیں اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے اس آزمایش کا صبر اور استقامت سے مقابلہ کرنا ہے۔ اسی میں ہمارے لیے دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔

یہاں اعجاز قرآن کے ایک اور پہلو کا ذکر بھی مناسب ہو گا۔ قرآن مبین کی سورئہ بقرہ میں کافروں کی تنقید کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 اِنَّ اللہَ لَا يَسْتَحْىٖٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَـمَا فَوْقَہَا۝۰ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ۝۰ۚ وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللہُ       بِہٰذَا مَثَلًا۝۰ۘ يُضِلُّ بِہٖ كَثِيْرًا۝۰ۙ وَّيَہْدِىْ بِہٖ كَثِيْرًا۝۰ۭ وَمَا يُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ۝۲۶ (البقرہ ۲:۲۶)اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی تمثیل بیان کرے، خواہ وہ مچھر کی ہو یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ جانتے ہیں یہی بات حق ہے، ان کے رب کی جانب سے۔ رہے وہ لوگ، جنھوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ اس تمثیل کے بیان کرنے سے اللہ کا کیا منشا ہے؟ اللہ اس چیز سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے اور وہ گمراہ نہیں کرتامگر انھی لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔

اگر وہ کفار آج زندہ ہوتے تو شاید انکار نہ کرتے کہ مچھر سے تو بہت سی خطرناک بیماریاں ( ملیریا، ڈینگی، زیکا اور چکنگونیا وغیرہ) پھیلتی ہیں جس سے ہر سال لاکھوں لوگ موت کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن اس سے بھی بہت ہی چھوٹی چیز (فَمَا فَوْقَهَا…… جس میں ایک کورونا وائرس بھی ہے) سے مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں سے بھی زیادہ خطرناک اور جان لیوا بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔  قرآن حکیم کی اس آیت کو آج کی حقیقتوں کے تناظر میں سمجھنا نہایت واضح اور آسان ہو گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم اس سے کیا سبق حاصل کرتے ہیں۔

 حکومت وقت نے اس وبا کی روک تھام کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں ۔ تمام لوگوں کو اس پر عمل اور اس میں اپنے حصہ ڈالنا چاہیے ۔ یہ ہی ہماری دین کی تعلیم ہے۔ یہ مشکل وقت ہمیں رجوع الی اللہ کا سبق بھی دیتاہے اور ہمیں اس طرف بھی خصوصی توجہ دیتے ہوئے استغفار کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی اللہ سے دعائیں بھی کرنی چاہییں کہ وہ ہمیں اس وبا پر قابو پانے اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اس سلسلے میں چند متعلقہ مسنون ذیل میں درج کی گئی ہیں:

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِی مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیلًا (ترمذی:۳۴۳۱) ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اس مصیبت سے بچایاجس میں تجھے مبتلاکیا اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پرفضیلت دی‘‘۔

اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا یَجِیْءُ   بِہِ الرِّیْحُ (ترمذی:۳۵۲۰)اے اللہ! میں (ہرایسی وبا سے) تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ جسے ہوا لے کر آتی ہے ۔

اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَیِّ ئِ الْاَسْقَامِ  (ابوداؤد:۱۵۵۴)اے اللہ!میں برص‘ جنون‘کوڑھ اور تمام مُہلک بیماریوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ (متفق علیہ)اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس کے شر سے جو اُس نے پیدا کیا

 لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ۝۰ۤۖ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِــمِيْنَ۝۸۷ۚۖ (الانبیاء۲۱: ۸۷) الہٰی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے۔ بےشک میں نے ہی اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔

اسی طرح بچاؤ کی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرتے ہوئے ہم ہر نماز کے بعد آیت الکرسی اور صبح و شام تین تین مرتبہ سورۃ اخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ النّاس کی تلاوت کریں۔ اس کے علاوہ بھی کئی مسنون اعمال ہیں جن پر دلی یقین کے ساتھ عمل کر کے ہم نہ صرف ان مشکل حالات پر قابو پاسکتے ہیں بلکہ یہ ہمارے لیےاللہ کی رضا کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

قرآن کریم عالم انسانیت پر نازل ہونے والی اللہ کی نعمتوں میںسے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ وہ نسخۂ کیمیا ہے، جس کے ذریعے انسان نہ صرف یہ کہ اپنے خالق حقیقی کی معرفت حاصل کرسکتا ہے، بلکہ اپنے وجود کے حقیقی مقاصد کو بھی پہچان سکتا ہے۔ وہ یہ جان سکتا ہے کہ اس کے لیے کامیابی اور نجات کی راہ کون سی ہے، اور کس طرزِ حیات کو اختیار کرنے میں اس کی دنیوی و اُخروی ناکامی ہے؟ اسی لیے اللہ ربّ العزت نے اسے کتاب ہدایت قرار دیاہے۔ ارشاد فرمایا:

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ۝۰ۚ (البقرۃ۲:۱۸۵) (روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اوّل اوّل) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے۔

گویا راہِ ہدایت اور راہِ ضلالت اور حق و باطل کے فرق کو اس کتابِ الٰہی نے کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ دوسری جگہ اللہ رب العزت نے اسے اپنی نصیحت، لوگوں کے دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا، ہدایت اور رحمت قرار دیا ہے۔ ارشاد باری ہے:

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ۝۰ۥۙ  وَہُدًى وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۝۵۷  (یونس۱۰:۵۷) اے لوگو! تمھارے پاس تمھارے ربّ کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا اور مومنوںکے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔

 یعنی یہ کتاب تمام عالم انسانیت کے لیے ان کے ربّ کی طرف سے نصیحت و ہدایت ہے۔ پھر جو لوگ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی اس نصیحت کو قبول کرکے اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی ہدایتوں پر عمل کرتے ہیں، یہ ان کے روحانی امراض، کفرو شرک، حب دنیا، تکبر، بُغض و عناد، بخل اور خود پسندی وغیرہ جو انسان کے دل کو تباہ و برباد کردیتے ہیںکے لیے شفااور رحمت ثابت ہوتی ہے۔

قرآن کریم کے یہ فوائد انسان کو تب ہی حاصل ہوسکتے ہیں،جب وہ اس کی تلاوت کرے، اس کی آیتوں میں غور و فکر کرے، اس کے احکام، اوامر و نواہی اور نصیحت و عبرت آمیز باتوں کو سمجھے اور اس پر عمل پیرا بھی ہو۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے اپنے رسول کو اور ایمان والوں کو اس کی تلاوت کا حکم فرمایا اور اس کے آداب بھی سکھائے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا: اُتْلُ مَآاُوْحِيَ  اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ (العنکبوت ۲۹:۴۵)’’(اے محمدؐ!) یہ کتاب جو تمھاری طرف وحی کی گئی ہے، اس کی تلاوت کیا کرو‘‘ ،تو دوسری جگہ یہ حکم بھی وارد کیا: وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا۝۴ۭ  (المزّمّل۷۳:۴)’’قرآن کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھا کرو‘‘۔

قرآن کریم کو آہستہ آہستہ اور ٹھیرٹھیر کر پڑھنے کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ اس کے الفاظ صحیح ڈھنگ سے اور مخارج کے ساتھ ادا ہوں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے معانی و مطالب کو بھی قاری خوب سمجھتا جائے۔ اس کی تائید عبد اللہ بن عمرؓ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے، جس میں کم سے کم دنوں میں قرآن ختم کرنے کی تحدید کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے:  لَا یَفْقَہُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ،’’ جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا وہ اس کے معانی کو نہیں سمجھ سکا‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، بَابُ تَحْزِیْبِ الْقُرْآن)۔

صاف ظاہر ہوا کہ تلاوت میں قرآن کا سمجھ کر پڑھنا ہی مطلوب ہے۔ اتنا ہی نہیں،  قرآن کریم نے اپنے نزول کا مقصد دوسری جگہ واضح طور پر تدبر و تذکر کو ہی بتایا ہے: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِہٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۝۲۹ (صٓ۳۸:۲۹)’’(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں‘‘۔ اس آیت سے یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ قرآن حکیم کی آیتوں میں تدبر و تفکراس کے نزول کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ امام محمد بن احمد بن ابوبکرقرطبیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ’’یہ آیت اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۝۲۴ (محمد ۴۷:۲۴)،قرآن میں غور و فکر کرنے کے وجوب پر دلالت کرتا ہے تاکہ اس کے معنی کو جان لیا جائے‘‘۔ (تفسیر قرطبی ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور،۲۰۱۲ء، ج…، ص ۲۹۳)

 قرآن کی آیات میں غور و فکر کرنا ہرمسلمان پر واجب ہے۔ لیکن ایک حیرت انگیز طرزِفکر جو مسلمانوں میں یہ پیدا ہوگیا ہے کہ’’ عام مسلمانوں کے لیے قرآن پاک کی تلاوت کافی ہے اور اس کی آیتوں میں غور و فکر کرنا اور ان کے معنی و مطالب کو سمجھنا صرف علما کا کام ہے‘‘۔ گویا یہ کتاب صرف علما کے لیے نازل ہوئی تھی، عوام کے لیے نہیں! حقیقت یہ ہے کہ اس کی آیتوں میں غور و فکر کرنے، ان کے معنی و مطالب کو سمجھنے اور ان پر عمل کی جستجو ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے۔

سورئہ نساء میں ہے: اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ۝۰ۭ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللہِ لَوَجَدُوْا فِيْہِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا۝۸۲ (النسآء۴:۸۲) ’’بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے‘‘ ۔ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒ اس آیت کی تفسیر میں یہ فرماتے ہیں: ’’ يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ  میں واؤ ضمیر سے مراد منافق ہیں، یعنی کیا منافق قرآن حکیم کے الفاظ اور معانی میں تدبر نہیں کرتے اور اس میں جو غرائب ہیںان میں نظر و فکر نہیں کرتے، تاکہ ان پر یہ حقیقت ظاہر ہوجائے کہ یہ انسان کا کلام نہیں کہ انھیں ایمان کی نعمت حاصل ہوجاتی اور وہ نفاق کو چھوڑ دیتے‘‘۔ (تفسیر مظہری، حوالہ بالا، ۲۰۰۲ء، ج۲،ص ۴۲۴)

ذرا غور کیجیے کہ قرن اولیٰ کے منافقوں سے بھی یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ قرآن میں غوروفکر کریں تاکہ ان کے ایمان و اعمال کی اصلاح ہو، لیکن اب ایک مسلمان بھی اس کو اپنے لیے ضروری نہیں سمجھتا۔ یہ اسی انداز فکر کا نتیجہ ہے جس کے تحت ہمارے ذہنوں میں یہ بٹھایا گیا ہے کہ  تم قرآن کو نہیں سمجھ سکتے۔ اس لیے اس میں غور و فکر کرنے کے بجاے صرف ثواب اور برکت کی خاطر اس کے الفاظ کی تلاوت کرتے جاؤ۔ حالانکہ بہت سے بدنصیب توایسے بھی ہیں جنھیں فقط الفاظ کی تلاوت کی بھی توفیق نہیں ہوتی۔ بلاشبہہ قرآن حکیم کی تلاوت گو وہ معنی و مطالب کو سمجھے بغیر ہو ثواب، برکت اور نفع سے خالی نہیں،لیکن کیا اس سے نزول قرآن کا مقصد پورا ہوجاتا ہے؟ نہیں اور قطعاً نہیں ! کوئی بھی کتاب یا تحریر جس کے اندرکچھ ہدایات ہوں اس کو سمجھے بغیر پڑھنااس کی تالیف و تصنیف کے بنیادی مقاصد کو پورا نہیں کرسکتا۔ یہ ٹھیک ویسے ہی ہے جیسے ایک مریض کا ڈاکٹر کا لکھا ہوا نسخہ اس کو سمجھے بغیر پڑھتے رہنا اوراس سے شفا کی امید رکھنا۔

 سوال یہ بھی ہے کہ جس کتاب کو اللہ رب العزت نے عالم انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کیا ہو، وہ اتنی مشکل کیسے ہوسکتی ہے کہ لوگوں کو سمجھ میں ہی نہ آئے؟ آخر کن موضوعات سے یہ بحث کرتی ہے؟ یہ سوالات دین کے ایک عام طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان کا جواب قرآن میں تلاش کریں تو آپ پائیں گے کہ: اس میں کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی بنیاد پر اس کے وجود اور اس کی وحدانیت کے دلائل دیے گئے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دلائل ہیں، دنیا کی بے ثباتی اورآخرت کی حقیقت کے بیانات ہیں، انسان کی زندگی کے مقاصد کی وضاحت اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیم ہے، اخلاقِ رذیلہ سے بچنے کی نصیحتیں، اعمالِ صالحہ کی ترغیبات اور ان سے متعلق بشارتیں ہیں، اعمالِ قبیحہ سے بچنے کی ہدایات اور ان سے متعلق وعیدیں ہیں، قصص و واقعات ہیں جن سے انسان عبرت حاصل کرسکے اور اوامر و نواہی، یعنی احکام ہیں جن کا تعلق انسان کی زندگی سے ہے۔ ان میں ایسی کیا چیز ہے جو ایک تعلیم یافتہ انسان کی سمجھ میں نہ آسکے؟ ہاں، یہ ضرور ہے کہ قرآنی آیتوں سے مسائل کی تخریج اور فقہی استنباط ہر کسی کے بس میں نہیں لیکن علم کا وہ مقام جہاں یہ صفات حاصل ہوتی ہیں، درجہ بدرجہ مطالعہ اور تدبر و تفکر سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔

 نیز یہ بھی دیکھیے کہ احکام سے متعلق آیات کتنی ہیں ؟ علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے امام غزالیؒ کے حوالے سے ان کی تعداد ۵۰۰ بتائی ہے اور دوسرے قول میں ۱۵۰ آیات کا ذکر ہے (الاتقان فی علوم القرآن، دارالاشاعت ،کراچی ،۲۰۰۸ء، ج ۲، ص ۲۷۸)۔ ان سب کو اگر یک جا   کیا جائے تو ان کی مقدار دو ڈھائی پارے کی مقدار سے زیادہ نہیں ہوگی۔ فرض کرلیجیے کہ اگر اتنی آیتیں صرف علما ہی سمجھ سکتے ہیں تو باقی حصے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ طرزِ فکر کمزور دلیلوںپر مبنی ہے خصوصاً تب، جب کہ علما نے ان آیات کی تشریح بھی کردی ہو۔

 اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے تو یہ اعلان عام پہلے ہی کیا ہواہے کہ قرآن مجید رشد و ہدایت کی آسان کتاب ہے:  وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝۱۷(القمر۵۴:۱۷)’’ اور تحقیق ہم نے قرآن کو نصیحت (سمجھنے) کے لیے آسان کر دیا ہے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟‘‘ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن سے نصیحت اور عبرت حاصل کرنا بالکل آسان ہے، بس ضرورت ہے تو اس سلسلے میں نیک نیتی سے سعی اور جد و جہد کی، لیکن ہم لوگوں نے اسے مشکل بتاکرامت کے ایک بڑے طبقے کو قرآن سے دور کردیا۔ حالانکہ انسان اگر اخلاص کے ساتھ اور ہدایت کی طلب میں معنی پر غور و فکر کرتے ہوئے قرآن کا مطالعہ کرے تو اسے ضرور ہدایت ملے گی۔

صف اول کے محدث و مجدد شاہ ولی اللہ دہلویؒ (م: ۱۱۷۶ھ ) نے سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی اور عوام تک قرآن کو پہنچانے کے لیے اپنے دور کی عام زبان، یعنی فارسی میں قرآن کا ترجمہ کیا اور بعد میں ان کے اس مشن کو ان کے لائق فرزندان ارجمند شاہ عبد القادر دہلویؒ (م: ۱۲۳۰ھ) اور شاہ رفیع الدین دہلویؒ (م:۱۲۳۳ھ)نے اردو تراجم کے ساتھ اور شاہ عبدالعزیز دہلویؒ (م: ۱۲۳۹ھ) نے دہلی جیسے مرکزی شہر میں ۶۲،۶۳ سال تک درس قرآن کا سلسلہ جاری رکھ کر آگے بڑھایا۔ اسی خانوادے سے تعلق رکھنے والے شاہ اسمٰعیل شہیدؒ ہیںجن کو حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ نے حجۃالاسلام، تاج المفسّرین ، فخرالمحدثین، سرآمد علماے محققین جیسے القاب سے نوازا ہے اور انھیں علماے ربانی میں سے شمارکیا ہے۔

شاہ اسماعیل شہید اس باطل نظریے کی تردید میں یوں رقمطراز ہیں:’’ عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنا بڑا مشکل ہے۔ اس کے لیے بڑے علم کی ضرورت ہے۔ ہم جاہل کس طرح سمجھ سکتے ہیںاور کس طرح اس کے موافق عمل کرسکتے ہیں؟ اس پر عمل بھی صرف ولی اور بزرگ ہی کرسکتے ہیں۔ ان کا خیال قطعی بے بنیاد ہے کیونکہ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن پاک کی باتیں صاف صاف اور سلجھی ہوئی ہیں: وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ۝۰ۚ وَمَا يَكْفُرُ بِہَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ۝۹۹ (البقرۃ ۲:۹۹) ’’بلاشبہہ ہم نے آپؐ پر صاف صاف آیتیں اتاری ہیں، ان کا انکار فاسق ہی کرتے ہیں‘‘، یعنی ان کا سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں نہایت آسان ہے، البتہ ان پر عمل کرنا مشکل ہے، کیونکہ نفس کو فرماں برداری مشکل معلوم ہوتی ہے۔ اسی لیے نافرمان ان کو نہیں مانتے‘‘۔

شاہ صاحب آگے چل کر فرماتے ہیں: ’’ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے کچھ زیادہ علم کی ضرورت نہیں، کیونکہ پیغمبر نادانوںکو راہ بتانے کے لیے، جاہلوں کو سمجھانے کے لیے اور بے علموں کو علم سکھانے کے لیے ہی آئے تھے، فرمایا: ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۲ۙ (الجمعۃ ۶۲:۲) ’’اسی نے ناخواندوں میں انھی میں سے ایک رسول بھیجاجو انھیں( شرک و کفر سے) پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ یقینا پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے ‘‘۔ گویا حق تعالیٰ کی یہ بڑی زبردست نعمت ہے کہ اس نے ایسا رسول مبعوث فرمایاجس نے ناواقفوں کو واقف، ناپاکوں کو پاک، جاہلوں کو عالم، نادانوں کو دانا اور گمراہوں کوراہ یافتہ بنا دیا۔ اس آیت کو سمجھنے کے بعد اب اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ قرآن سمجھنا عالموں اور اس پر عمل کرنابڑے بڑے بزرگوں ہی کا کام ہے، تو اس نے اس آیت کا انکار کر دیااور رب کی اس جلیل الشان نعمت کی ناقدری کی، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس کو سمجھ کر جاہل، عالم اورگمراہ، عمل کرکے بزرگ بن جاتے ہیں‘‘ ( تقویۃ الایمان، ص۳۷-۳۹)۔

ان حضرات کے ان تجدیدی خیالات اور متعلقہ کوششوں کے بعد برصغیر میں قرآن مجید کا ترجمہ اردو اور دیگر زبانوں میں ہونے کی راہیں کھلیں۔ اس کے بعد تو مختلف زبانوں میں ترجموں کا ایک سیلاب رواں ہوگیا۔ ایک جائزے کے مطابق اب تک قرآن کریم کا جزوی ترجمہ ۱۱۹  بین الاقوامی زبانوں میں اور مکمل ترجمہ ۱۱۲  زبانوں میں ہوچکا ہے۔ برصغیر کے کئی جید اور معتبر عالموں نے اردو زبان میں قرآن کریم کی تفسیریں نہایت سہل انداز میں لکھیں، تاکہ عوام کا طبقہ ان سے مستفیض ہوسکے۔ ان کے علاوہ عربی کی معرکۃ الآرا تفاسیر مثلاً تفسیر ابن کثیر، تفسیر القرطبی، تفسیر الدرّ المنثور، تفسیر جلالین، تفسیر البغوی، تفسیر مظہری، تفسیر روح البیان وغیرہ کا اردو میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ ان کاوشوں نے قرآن کریم کو سمجھنا اب اور بھی آسان کردیا ہے۔

مقامِ افسوس ہے کہ ان تمام کاوشوں کے باوجود اس فکر میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی کہ قرآن کا سمجھنا بس عالموں کا ہی کام ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ علم پر گویا ان کی ہی اجارہ داری ہو۔ ایسا کرکے یہ لوگ نہ صرف یہ کہ قرآن فہمی سے لوگوں کو دور کردیتے ہیں،بلکہ اکابر علما کی ان کاوشوں پر بھی پانی پھیر دیتے ہیں،جو انھوں نے قرآن اور اس کی تفاسیر کو اردو اور دوسری زبانوں میں منتقل کرکے عصری تعلیم یافتہ افرادتک پہنچانے کے سلسلے میں کی ہیں۔ راقم کے خیال میں اس بیش بہا دینی علمی ذخیرہ سے استفادہ نہ کرنا جواکابر علما نے اردو اور دوسری زبانوں میں منتقل کرکے ہم تک پہنچادیا ہے، کفران نعمت ہے۔ علما کو چاہیے کہ وہ غیرعربی داں تعلیم یافتہ افراد کو بھی قرآن سے جوڑنے کی فکرکریں، تاکہ ان کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہواوروہ مغربی تہذیب کے داعی عصری تعلیمی اداروں کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رہ سکیں۔ نیز امت میں ایسے افراد کا ہونا بھی ضروری ہے، جو مغربی تہذیب سے متاثر اور خود کو’ روشن خیال‘ تصور کرنے والے حلقوںسے اسلام اور اسلامی تہذیب کے خلاف اٹھنے والے سوالات و اعتراضات کا جواب انھی کی زبان و اسلوب میں دے سکیں۔

علماے کرام کو تو یہ چاہیے کہ وہ عصری تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی قلیل مدتی کورسز (Short Term Courses) کا وقتاً فوقتاً انعقاد کریں،تاکہ اسلام کی صحیح واقفیت ان تک پہنچ سکے اور اسلام سے ان کا لگاؤ بڑھے۔ بڑے مدارس کے ذمہ داران اگر چاہیں تو اس طرح کے پروگرام منظم ڈھنگ سے چلاسکتے ہیں،لیکن اس طرح کے توسیعی کام (Extension Work) کی طرف اکثر ان کا ذہن ہی نہیں جاتا۔برعکس اس کے عصری اداروں کے جو لوگ خود سے دینی علوم کی طرف راغب ہوتے ہیں، بہت سی مثالوں کے مطابق ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ عصری تعلیم سے وابستہ افراد کی اصلاح سے غفلت کے نتیجے میں جب ملحد، گمراہ اور گستاخِ دیں لوگ پیدا ہوتے ہیں تو اس پر شور ہوتا ہے۔

عصری تعلیم سے وابستہ افراد، بلکہ ہر پڑھے لکھے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی کتاب سے اپنا رشتہ جوڑیں۔ روزانہ قرآن پاک کی تلاوت معنی و مطالب کے ساتھ کریں۔ ہر زبان میں  قرآن کے مستند تراجم و تفاسیر موجود ہیں،اس لیے کسی کے لیے کوئی عذر نہیںہے ۔ اگر دو صفحات بھی روزانہ اس طرح تلاوت کی جائے، تو اس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ قطعی نہ سوچیں کہ ہمیں سمجھ میں نہیں آئے گا۔ جب آپ پیچیدہ دُنیوی علوم کو سمجھ سکتے ہیں،تو قرآن پاک کو کیوں نہیں سمجھ سکتے جس کا تعلق آپ کی زندگی سے ہے؟ بس قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کبھی اس پر بھی غور کریں کہ اپنے جیسے انسانوں کی لکھی ہوئی کتابیں،جن میں بہت سے فاسق و فاجر بھی ہوتے ہیں، محض چند دنوں کے دنیوی فوائد حاصل کرنے کے لیے آپ دن رات پڑھتے ہیں، لیکن اگر نہیں پڑھتے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب جس سے دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی وابستہ ہے ۔

آخر اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے ہم کیا عذر پیش کرسکیں گے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزِ قیامت بارگاہ خداوندی میں یہ شکایت درج کریں گے کہ اے میرے رب! بے شک میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن پاک کو چھوڑ رکھا تھا: وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا۝۳۰(الفرقان۲۵:۳۰)۔ اس لیے اس کارخیر کی ابتدا بلاتاخیر آج ہی سے کردیجیے۔

استفتاء: بھارت نے اپنے دستوری میثاق، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور قانونِ بین الاقوام کی نفی کرتے ہوئے، ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو بھارتی دستور کے آرٹیکل ۳۵-اے اور ۳۷۰ میں ترمیم کرکے اپنے تئیں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا۔ اس طرح ریاست سے باہر پورے بھارت کے باشندوں پر عائد اس پابندی کو ختم کردیا کہ جس کے تحت وہ ریاست جموں و کشمیر میں ڈومیسائل بنانے، ملازمت حاصل کرنے اور جائداد خریدنے کی اجازت نہیں رکھتے تھے۔ اس کا واضح مقصد ریاست جموں و کشمیر میں  مسلم اکثریتی آبادی کو مصنوعی طریقے سے اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ ایسے میں کیا ریاست جموں و کشمیر کے باشندوں کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ بھارتی قابض حکمرانوں کے ان مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیے بھارتی ہندوؤں کے ہاتھ اپنی جائدادوں کو فروخت کریں، نیز اسلام، غیر مسلموں کے ساتھ کس حد تک معاملات و مدارات کی اجازت دیتا ہے؟

اَلْجَوَاب   بِعَوْنِ  الْمَلِکِ الْوَھَّاب

عام حالات میں مرتدین کے برعکس یہود ونصاریٰ اور دیگر غیر مسلموں کے ساتھ خرید و فروخت اور دیگرمالی معاملات کرنا شرعاً درست ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا ور صحابہ کرامؓ کا یہودیوں کے ساتھ لین دین ثابت ہے، چنانچہ وہ مدینہ طیبہ کے یہودیوں کے ساتھ خرید و فروخت، قرض اور رہن وغیرہ سمیت تمام جائز معاملات کرتے تھے۔امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں باب کا عنوان قائم فرمایا ہے: ’’بَابُ الشِّـرَاءِ وَالبَيْعِ مَعَ المُشْـرِكِينَ وَأَهْلِ الحَرْبِ‘‘،یہ باب مشرکوں اور اہل حرب سے خریدو فروخت کے بیان میں ہے۔اس باب کے تحت امام بخاریؒ نے یہ حدیث ذکر فرمائی ہے:

عبدالرحمٰن بن ابو بکرؓ بیان کرتے ہیں :

كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوْقُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ: بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً  أَوْ قَالَ: أَمْ هِبَةً، قَالَ: لَا، بَلْ بَيْعٌ، فَاشْتَرٰى مِنْهُ شَاۃً ،  ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک لمبا چوڑامشرک بکریاں ہنکاتا ہوا آیا ،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فروخت کے لیےہیں یا عطیہ دینے کے لیےیا فرمایا: بطور تحفہ دینے کےلیے؟ اس نے جواب دیا: فروخت کے لیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خرید لی‘‘(صحیح البخاری :۲۲۱۶ )۔

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں:

اِشْتَرٰى رَسُوْلُ اللَّهِ  مِنْ يَهُوْدِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيْئَةٍ  وَرَهَنَهٗ دِرْعَهٗ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ایک یہودی سے اُدھار اناج خریدا اور اُس کے پاس اپنی زرہ رہن کے طور پر رکھوائی‘‘(صحیح البخاری: ۲۰۹۶)۔

علامہ قسطلانی شافعیؒ فرماتے ہیں:

فِيْهِ جَوَازُ بَيْعِ الْكَافِرِ وَإِثْبَاتُ مِلْكِهٖ عَلٰى مَا فِيْ يَدِهٖ وَجَوَازُ قُبُوْلِ الْهَدْيَةِ مِنْهُ، اس حدیث میں کافر سے خریدوفروخت کے جوازکا بیان ہے اور یہ کہ جو چیزاُس کے قبضے میں ہو،اُس میں اُس کی ملکیت ثابت ہے، نیز کافرسےتحفہ قبول کرنے کے جواز کا بیان ہے‘‘(ارشاد الساری،ج ۴،ص۱۰۱)۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کے ساتھ مزارعت کا معاملہ فرمایا تھا، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں:

قَامَ عُمَرُ خَطِيْبًا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ  كَانَ عَامَلَ يَهُوْدَ خَيْبَرَ عَلٰی أَمْوَالِهِمْ، حضرت عمرؓ ایک دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کے ساتھ اُن کے اموال پر معاملہ فرمایا تھا(صحیح البخاری :۲۷۳۰)۔

    البتہ مخصوص حالات میں اہلِ علم کا اس بارے میں اتفاق ہے کہ یہود وہنود اور دیگر کافروں کے ساتھ کوئی بھی ایسا معاملہ اور کسی بھی ایسی چیز کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے، جو اسلامی مملکت اور اہلِ اسلام کے لیے فی الحال یا مستقبل قریب وبعید میں کسی بھی طرح ضرر ونقصان کا باعث ہو،حتیٰ کہ اگر اُن کے ہاتھ سوئی جیسی معمولی چیز فروخت کرنے میں مسلمانوں کا نقصان ہو تو یہ بھی اُنھیں فروخت نہیں کی جائے گی۔یہ گناہ اور سرکشی کے کاموں میں اُن سے تعاون کرنا ہے۔

کشمیر کی سرزمین دارالاسلام ہے ،جہاں صدیوں سے ہی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کی ’بھارتی آئین‘ کا میثاق اس بات کا بیّن ثبوت ہے، اور اب اس پر خط تنسیخ پھیرنا خود ہندستان کے قومی میثاق کی نفی اور جموں و کشمیر کی وحدت کی تحلیل کرنے کی پہلی اینٹ ہے۔

یہ دستوری توثیقات اس بات کی شاہد ہیں کہ جموں وکشمیر ریاست، ہندستان کاحصہ نہیں ہے،بلکہ بھارت کا مقبوضہ علاقہ ہےاور اقوامِ متحدہ نے۱۹۴۸ء سے اپنی قراردادوں میں اِسے متنازعہ علاقہ تسلیم کیا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد سے ہی ہندستانی حکومت اس علاقے پر قابض ہےاور تقریباً تہتّربرسوں سے مسلمانوں کی اکثریت کے خاتمے کےلیےاُن پرہر طرح کا ظلم وتشددروا رکھے ہوئے ہے اوران کے حقوق غصب کرتی آئی ہے۔اب اُنھوں نے ایک نیا حربہ اختیار کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا ہے،تاکہ آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے وہاں ہندوؤں کی آباد کاری کاسلسلہ عمل میں لایا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے اہلِ کشمیر کو ڈرا دھمکاکر اور حیلے بہانوں کےذریعے اپنی مملوکہ زمینیں فروخت کرنے یا کرائے پر دینے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔ از روے شریعت ایسی صورتِ حال میں مسلمانوں کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی زمینیں اورغیر منقولہ جائداد ہندوؤں کو فروخت کریں،کیونکہ یہ مسلمانوںکوکمزور کرنے، اسلام اور اسلام دشمن قوتوں کی مدد واعانت اوران کی تقویت کا سبب ہے ، جوکہ از روے شریعت ممنوع ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ:۲)گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی اعانت نہ کرو۔

علامہ ابن کثیرؒ نے تفسیر میں معجم کبیر کے حوالے سے یہ حدیث ذکر فرمائی ہے:  

مَنْ مَشٰى مَعَ ظَالِمٍ لِيُعِيْنَهٗ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهٗ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ،جو شخص کسی ظالم کے ہمراہ اُس کی اعانت کے لیےیہ جانتے ہوئے چلا کہ وہ ظالم ہے،تو وہ اسلام سے نکل گیا(تفسیر ابن کثیر، ج۳، ص۱۱)۔

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ أَعَانَ عَلٰى قَتْلِ مُوْمِنٍ وَلَوْ بِشَطْرِ كَلِمَةٍ، لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَكْتُوْبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللّٰہِ،جس شخص نے کسی مؤمن کے قتل پراعانت کی ،خواہ ایک کلمہ ہی کیوں نہ کہا ہو،تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان(پیشانی پر) لکھا ہوگا کہ یہ شخص اللہ کی رحمت سے مایوس ہے‘‘ (سنن ابن ماجہ:۲۶۲۰) ۔

علامہ علاءالدین حصکفیؒ لکھتے ہیں:

يَحْرُمُ أَنْ نَبِيْعَ مِنْهُمْ مَا فِيْهِ تَقْوِيَتُهُمْ عَلَى الْحَرْبِ كَحَدِيْدٍ وَعَبِيْدٍ وَخَيْلٍ وَلَا نَحْمِلُهٗ  اِلَيْهِمْ وَلَوْ بَعْدَ صُلْحٍ ، لِاَنَّهٗ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ   وَالسَّلَامُ نَهٰى عَنْ ذٰلِكَ، ہمارے لیے اہلِ حرب کےہاتھ کسی ایسی چیز کوفروخت کرناحرام ہے، جواُنھیں جنگ میں قوت پہنچانے کا ذریعہ بنے،مثلاً:لوہا،غلام اور گھوڑے۔ اورہم ان چیزوں کوفروخت کرنے کے لیے دارالحرب بھی لے کر نہیں جائیں گے ،خواہ صلح کے بعد ہی کیوں نہ ہو،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے،(رَدُّ الْمُحْتَار عَلَی الدُّرِّ الْمُخْتَار، ج۴، ص ۱۳۴)۔

یہ تمام سامانِ حرب دشمن کے لیے حالات کو سازگار بنانے کا استعارہ ہیں۔ اس کے تحت علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:

 أَرَادَ بِهِ التَّمْلِيْكَ بِوَجْهٍ كَالْهِبَةِ ،بَلِ الظَّاهِرُ أَنَّ الْإِيْجَارَ وَالْإِعَارَةَ كَذٰلِكَ،لِاَنَّ الْعِلَّةَ مَنْعُ مَا فِيْهِ تَقْوِيَةٌ عَلٰى قِتَالِنَا،قَوْلُهٗ :كَحَدِيْدٍ وَسِلَاحٍ مِمَّا اُسْتُعْمِلَ لِلْحَرْبِ، وَلَوْ صَغِيْرًا كَالْإِبْرَةِ، وَكَذَا مَا فِي حُكْمِهٖ مِنَ الْحَرِيْرِ وَالدِّيْبَاجِ ،فَإِنَّ تَمْلِيْكَهٗ مَكْرُوْهٌ، لِاَنَّهٗ يُصْنَعُ مِنْهُ الرَّايَةُ، علامہ حصکفی کی مراد یہ ہے کہ کفار کو کسی بھی طرح ایسی اشیا کا مالک بنانا جائز نہیں ہے ،جس سے اُنھیں قوت وطاقت حاصل ہو، خواہ مالک بنانا خرید وفروخت کے ذریعے ہو یا تحفہ کے ذریعے،بلکہ ظاہر بات یہ ہے کہ اُنھیں اس قسم کی اشیا کرائے اور عاریت کے طور پر دینا بھی جائز نہیں ہے،کیونکہ ممانعت کی علت اُن سےاس چیز کو روکنا ہے، جس کے ذریعے اُنھیں ہم مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں قوت حاصل ہو ،مثلاً : لوہا ، ہتھیار وغیرہ ایسی چیزیں جو جنگ میں استعمال کی جاتی ہیں،خواہ وہ انتہائی معمولی ہوں، جیسے:سوئی۔اسی طرح اس کے حکم میں ہے،مثلاً ریشم ودیباج کا مالک بنانا بھی مکروہ ہے ،کیونکہ اس سے جھنڈا بنایا جاتا ہے(رَدُّ الْمُحْتَار عَلَی الدُّرِّ الْمُخْتَار،ج۴، ص ۱۳۴)۔ مزیدلکھتے ہیں:

الذِّمِّيُّ إذَا اشْتَرٰى دَارًا أَيْ أَرَادَ شِرَاءَهَا فِي الْمِصْرِ لَا يَنْبَغِي أَنْ تُبَاعَ مِنْهٗ  ،فَلَوْ اِشْتَرٰى يُجْبَرُ عَلٰى بَيْعِهَا مِنَ الْمُسْلِمِ ، اگرذمی شخص (جومسلمانوں)کے شہر میں زمین خریدنے کا ارادہ کرے، تو اُسے زمین فروخت نہیں کرنا چاہیے۔پس، اگر اس نے زمین خرید لی تو اُسے مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس زمین کو مسلمان کے ہاتھ فروخت کرے (ایضاً،ج۴، ص ۲۰۹)۔ نیز لکھتے ہیں:

 وَإِذَا تَكَارٰى أَهْلُ الذِّمَّةِ دُوْرًا فِيمَا بَيْنَ الْمُسْلِمِيْنَ لِيَسْكُنُوْا فِيْهَا فِي الْمِصْرِ ،جَازَ لِعَوْدِ نَفْعِهٖ إلَيْنَا وَلِيَرَوْا تَعَامُلَنَا فَيُسْلِمُوْا بِشَرْطِ عَدَمِ تَقْلِيْلِ الْجَمَاعَاتِ لِسُكْنَاهُمْ شَرَطَهُ الْإِمَامُ الْحُلْوَانِيُّ ،فَإِنْ لَزِمَ ذٰلِكَ مِنْ سُكْنَاهُمْ أُمِرُوْا بِالْاِعْتِزَالِ عَنْهُمْ وَالسُّكْنٰى بِنَاحِيَةٍ لَيْسَ فِيْهَا مُسْلِمُوْنَ وَهُوَ مَحْفُوْظٌ عَنْ أَبِي يُوْسُفَ،اور اگر اہلِ ذمہ، مسلمانوں کی بستیوں میں گھروں کو کرائے پر لیناچاہیں تو جائز ہے،کیونکہ ایک تو اس کا ہمیں نفع پہنچے گا، اوردوسری بات یہ ہے کہ وہ ہمارے معاملات کو دیکھ کر مسلمان ہوجائیں گے ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اُن کے رہایش پذیر ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی تعداد قلیل نہ ہو ،امام حلوانی ؒنے اس کی شرط لگائی ہے۔پس! اگر اُنھیں رہایش دینے سے مسلمانوں کی تعداد کا قلیل ہونا لازم آتا ہو تو مسلمانوں سے علیحدگی کا حکم دیا جائے گا، اور وہ کسی ایسے کنارے میں رہیں گے، جہاں مسلمان نہ ہوں، یہ قول امام ابویوسفؒ سے محفوظ ہے، (رَدُّالْمُحْتَارِعَلَی الدُّرِّالْمُخْتَار، ج۴، ص ۲۱۰)۔

 امام ابویوسفؒ چونکہ قاضی القضاۃ رہے ہیں، اس لیے انھیں ان عملی حکمتوں اور تدابیر کا تجربہ ہے، جو مسلمانوں کی تدبیر اجتماعی اور تمدنی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔

علامہ ابن عابدین شامیؒ فرماتے ہیں:

لَا نَقُوْلُ بِالْمَنْعِ مُطْلَقًا وَلَا بِعَدَمِهٖ مُطْلَقًا بَلْ يَدُوْرُ الْحُكْمُ عَلَى الْقِلَّةِ وَالْكَثْرَةِ وَالضَّرَرِ وَالْمَنْفَعَۃِ،کفار کے ہاتھوں زمین فروخت کرنا یا اُنھیں زمین کرائے پر دینے کو نہ تو ہم مطلقاً منع کرتے ہیں اور نہ اِسے مطلقاً جائز قرار دیتے ہیں،بلکہ حکم کا مدار مسلمانوں کی قلت وکثرت اور ضررومنفعت پر ہے،(ایضاً، ج۴، ص ۲۱۰)۔

علامہ ابن بطال مالکیؒ لکھتے ہیں:

الشِّـرَاءُ وَالْبَيْعُ مِنَ الْكُفَّارِ كُلُّهُمْ جَائِزٌ، إِلَّا أَنَّ أَهْلَ الْحَرْبِ لَا يُبَاعُ مِنْهُمْ مَا يَسْتَعِيْنُوْنَ بِهٖ عَلٰی إِهْلَاكِ الْمُسْلِمِيْنَ مِنَ الْعِدَّةِ وَالسَّلَاحِ، وَلَا مَا يُقَوُّوْنَ بِهٖ عَلَيْهِمْ،کفار کے ساتھ خریدوفروخت کے حوالے سے تمام معاملات جائز ہیں، لیکن ایسی کوئی چیز فروخت کرنی جائز نہیں ،جو اہل حرب مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں اور اس سے مسلمانوں کے خلاف انھیں مدد اور قوت وطاقت حاصل ہو،(شَرْحُ صَحِیْحِ الْبُخَارِیْ لِاِبْنِ الْبَطَّال، ج۶ ،ص۳۳۸)۔

امام شاطبیؒ فرماتے ہیں:

أَنَّ بَيْعَ الشَّمْعِ لَهُمْ مَمْنُوعٌ  اِذَا كَانُوْا يَسْتَعِيْنُونَ بِهٖ عَلٰى إِضْرَارِ الْمُسْلِمِينَ،کفار کو شمع فروخت کرنا (بھی)ممنوع ہے،جب کہ اس کے ذریعے اُنھیں مسلمانوں کو ضرر پہنچانے میں مدد حاصل ہوتی ہو (حَاشِیَہْ دَسُوْقِیْ عَلَی الشَّرْحِ الْکَبِیْر، ج۳، ص۷)۔

مسلّمہ شافعی محدّث امام یحییٰ بن شرف الدین نوَوِی ؒلکھتے ہیں:

وَأَمَّا بَيْعُ السِّلَاحِ لِاَهْلِ الْحَرْبِ فَحَرَامٌ بِالْإِجْمَاعِ، اہل حرب کوہتھیار فروخت کرنا بالاجماع حرام ہے(اَلْمَجْمُوْعُ شَرْحُ الْمُہَذَّبْ،ج۹،ص۳۵۴)۔

علامہ ابن حزم اَندَلُسی ظاہریؒ لکھتے ہیں:

وَالْبَيْعُ مِنْهُمْ جَائِزٌ إلَّا مَا يَتَقَوَّوْنَ بِهٖ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ دَوَابَّ أَوْ سِلَاحٍ أَوْ حَدِيْدٍ أَوْ غَيْرِ ذٰلِكَ، فَلَا يَحِلُّ بَيْعُ شَيْءٍ مِنْ ذٰلِكَ مِنْهُمْ أَصْلًا،قَالَ  تَعَالٰى: وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ، فَتَقْوِيَتُهُمْ بِالْبَيْعِ وَغَيْرِهٖ مِـمَّا يَقْوَوْنَ بِهٖ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ حَرَامٌ، وَيُنَكَّلُ مَنْ فَعَلَ ذٰلِكَ، وَيُبَالَغُ فِي طُولِ حَبْسِهِ،کفار کے ساتھ خریدو فرخت جائز ہے،مگر ایسی اشیا کی خرید وفروخت جائز نہیں جس کے ذریعے اُنھیں مسلمانوں پرتقویت حاصل ہو ، مثلاً اُنھیں چوپائے،ہتھیار ،لوہاوغیرہ فروخت کرنا ،پس ان میں سے کوئی چیز اُن کے ہاتھ فروخت کرنا اصلاً جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی اعانت نہ کرو‘‘،پس اُنھیں خرید و فروخت و دیگر ذرائع سےتقویت پہنچانا کہ اُنھیں مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہو جائےحرام ہے، ایسے شخص کو عبرت ناک سزا دی جائے گی اور لمبے عرصے تک قید میں رکھا جائے گا،(اَلْمُحَلّٰی بِالْآثَار،ج۷، ص۵۷۴)۔

 کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَلَنْ يَّجْعَلَ اللہُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا۝۱۴۱ۧ  (النسآء:۱۴۱)’اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غلبہ پانے کی کوئی سبیل ہرگزروا نہیں رکھی۔

الغرض، پُرامن حالات میں مسلمان، غیر مسلموں کے ساتھ مدارات اور مواسات کا برتاؤ کرسکتے ہیں۔ مدارات سے مرادحسن سلوک ہے، تاکہ ان کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ پیدا ہو، جسے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں تالیفِ قلب سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ مواسات سے مراد انسانی بنیادوں پر غیر مسلم کے ساتھ ہمدردی اور غم گساری کا برتاؤ کرنا، مثلاً: بھوکے کو کھانا کھلانا، بیمار کی عیادت کرنا، اس نیت کے ساتھ اس کی صحت کی دعا کرنا کہ شاید مہلت اس کے حق میں مفید ثابت ہو اور اسے ایمان کی توفیق نصیب ہوجائے۔

صحیح مسلم(۲۵۶۹) کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ناداروں کی بھوک، بیماری اور بے لباسی کو بالترتیب اپنی بھوک، بیماری اور جامہ پوشی سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ تاکید کا انتہائی درجہ ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذاتِ خود ایک یہودی لڑکے کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور  اس حُسن سلوک کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔

قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دی ہے، مثلاً: البقرہ:۱۸۴، المائدہ:۹۵، بنی اسرائیل :۲۶، الروم :۳۸، المجادلہ:۴، الحاقۃ:۳۴، الدھر:۸، الفجر:۱۸، البلد:۱۶ وغیرہا من الآیات۔ اسی طرح قرآن کریم نے سورۃ المائدہ (۳۲) میں جہاں ایک بے قصور انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل اور بے قصور انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے سے تعبیر فرمایا ہے، وہاں نفسِ مومن کی بات نہیں کی بلکہ مطلق نفس (انسانی جان) کی بات کی ہے۔

اسلام نے کافروں اور مشرکوںکے ساتھ ’مداہنت‘ سے منع فرمایا ہے۔ ’مداہنت‘ کے معنی ہیں: دین کے معاملے میں بے جا رعایت کرنا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ۝۸ وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَيُدْہِنُوْنَ۝۹ (القلم: ۸-۹) آپ حق کو جھٹلانے والوں کا کہانہ مانیں، وہ چاہتے ہیں کہ آپ(دین کے معاملے میں)اُن کو بے جا رعایت دیں تاکہ وہ بھی (جواباً)کچھ رعایت دے دیں ۔

کفارومشرکین کے ساتھ دین کے معاملے میں سودا بازی (Bargaining)یا’کچھ لو اور دو‘ (Give & Take)اور مفاہمت (Compromise)کی کوئی گنجایش نہیں ہے، اس مضمون کے تفہـُّم (understanding)کے لیے سورۃ الکافرون کا ترجمہ مع تفسیر مفید رہے گا۔

اسی طرح اسلام نے کفار ومشرکین کے ساتھ قلبی دوستی کی اجازت نہیں دی، اللہ نے فرمایا ہے:

    ۱- يٰٓاَيُّھَا  الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۘؔ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِــمِيْنَ۝۵۱ (المائدہ:۵۱) اے مومنو!یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو ان کو دوست بنائے گاتو وہ (درحقیقت) انھی میں سے (شمار )ہوگا، بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

    ۲-  وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ(ھود:۱۱۳) اور ظالموں کی طرف (قلبی )میلان نہ رکھو،مباداتمھیں (جہنم کی) آگ چھوئے۔

    ۳-  يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَاۗءَكُمْ مِّنَ الْحَـقِّ۝۰ۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللہِ رَبِّكُمْ۝۰ۭ (الممتحنہ:۱)اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم ان کی طرف دوستی کا ڈول ڈالتے ہو، حالانکہ جو حق تمھارے پاس آیا ہے، وہ اس کا انکار کرچکے ہیں، وہ رسول کو اور تمھیں (محض) اس سبب سے بے وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لائے ہو۔

    ۴- لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِيْرَتَہُمْ(المجادلہ :۲۲)آپ ایسی قوم نہیں پاؤ گے جو (ایک جانب) اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں (اور دوسری جانب) اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے محبت کرتے ہوں، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے رشتے دار ہوں۔

    ۵- لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا۝۰ۚ (المائدہ: ۸۲)آپ مومنوں کے ساتھ شدید ترین عداوت رکھنے والا یہود اور مشرکوں کو پائیں گے۔

دنیا بھر کے مسلمانوں پر، مقبوضہ جموں وکشمیر اور اب ہندستان بھر کے مسلمانوں کی تائید و حمایت لازم ہے، کیونکہ صدیوں سے نسل درنسل رہنے والے ان مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا ہے ، ان کی جان ومال اور آبرو کی حرمتوں کو پامال کیا جارہا ہے۔ اسی تناظر میں     ہم ماسواے مقبوضہ جموں وکشمیر ، باقی ماندہ ہندستان کے مسلمانوں کی تحدیدات (limitations) اور مجبوریوں کو سمجھتے ہیں، ہمیں ان کے دکھوں ،ذہنی ،جسمانی اور روحانی اذیتوں کا ادراک ہے، لیکن آسام وکشمیری مسلمانوں کے حوالے سے بعض مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے جو بیانات سامنے آئے ہیں، کاش کہ وہ نہ آتے۔ بلاشبہہ وطن کی محبت ایک فطری امر ہے، لیکن وطن معبود نہیں ہے۔ اگر وطن معبود ہوتا تو تاریخِ انبیاے کرام میں ہجرت کا کوئی باب نہ ہوتا۔ بطورِ خاص، سیرت ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم میں ہجرت بھی ہے، پھر ’فتحِ مبین‘ ہے۔ جدید انسانی تاریخ میں سوویت یونین کا زوال اور پھر تحلیل ہونا اس کی روشن مثال ہے۔ ہندستان سابق کمیونسٹ سلطنت سوویت یونین سے زیادہ طاقت ور ملک نہیں ہے۔ حقِ وطن کو عصرحاضر کے اجتماعی ضمیر نے انسانیت کے عقل عام (Common Sense) اور اجتماعی دانش (Collective wisdom)نے بھی تسلیم کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی اور جِدُّو جُہدِ آزادی میں فرق روا رکھا گیا ہے۔

 بھارت کے نئے قانون شہریت نے تنگ نظر نسل پرستی کے علَم بردار نریندرا مودی کی بھارتی حکومت کی انسانیت دشمنی کو پوری دنیا پر واضح کردیا ہے ۔مسلم ممالک کی تنظیم (OIC) کا بالخصوص مقبوضہ جموں وکشمیر، فلسطین اور بھارت کے مسلمانوں کے حوالے سے، اور عالمِ عرب کا سکوت و لا تعلقی جس طرح ایک مجرمانہ فعل ہے، اسی طرح کسی دوسرے مسلم ملک پر ملت کفر کی یلغار میں ممد ومعاون بننا اس سے بھی کہیں زیادہ بدتر فعل ہے۔ یہ اس حدیث نبویؐ سے صریح بغاوت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ (خود) اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ (اغیار کے مظالم کا نشانہ بننے کے لیے ) اسے بے سہارا چھوڑتا ہے‘‘ (صحیح البخاری: ۶۹۵۱)۔

جب ہم کسی خاص تناظر میں شریعت کا کوئی مسئلہ بیان کرتے ہیں، تو فسادی لوگ اُسے اس کا مفہومِ مخالف نکال کر منفی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ’’ اسلام اپنے ماننے والوں کو دوسرے ادیان کے ماننے والوں سے نفرت سکھاتا ہے‘‘،اس لیے یہاں وضاحت سے بیان کیا جارہا ہے کہ اسلام انسانیت سے نفرت نہیں سکھاتا۔ اسلام ’جرم‘ سے نفرت کرتا ہے اور مجرم سے ہمدردی رکھتا ہے اور اس کی اصلاح کرتا ہے اور اسلام اعلیٰ انسانی اقدار کا   علَم بردار ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

۱- لَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۝۸ (الممتحنہ:۸) جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ نہیں کی اور نہ تمھیں اپنے گھروں سے نکالا ہے، اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

امام احمد بن علی ابو بکر الرازی الجصاص الحنفیؒ (م: ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:

۲- رُوِيَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيْ شَاْنِ أَ سْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَأُمُّهَا جَاءَتْ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ تَسْتَمْنِحُهَا، وَسَاَلَتِ النَّبِيَّ عَنْ ذٰلِكَ، فَاَنْزَلَ اللہُ تَعَالٰى هٰذِهِ الْآيَةَ، روایت کیا گیا ہے کہ یہ آیت اسماء بنتِ ابی بکر رضی اللہ عنہماکے بارے میں نازل ہوئی کہ اُن کی مشرکہ والدہ ان کے پاس کچھ ہدیہ یا عطیہ لینے کی نیت سے آئیں۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیۂ مبارکہ نازل فرمائی(شَرْح مختصر الطحاوی،ج۲،ص۳۸۶)۔

معلوم ہوا کہ غیرمسلم کو عطیہ یا ہدیہ دیا جاسکتا ہے۔امام جصاصؒ کے بقول ’’یہ اس حدیث کی طرف اشارہ ہے‘‘:

۳-  عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ  وَمُدَّتِهِمْ مَعَ أَبِيهَا، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللهِ  فَقَالَتْ: يَارَسُولَ اللَّهِ  اِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا،قَالَ: نَعَمْ صِلِيهَا  حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ بیان کرتی ہیں: میری ماں حالتِ شرک میں اپنے والد کے ساتھ قریش کے اُس دور میں میرے پاس آئیں، جب انھوں ایک مدت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امن کامعاہدہ کرلیا تھا ، سو انھوں نے رسولؐ اللہ سے پوچھا اور عرض کی: یارسول اللہ! میری ماں آئی ہیں اور وہ کچھ (عطیے کی) خواہش رکھتی ہیں، کیا میں اُن کے ساتھ صلۂ رحمی کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! ان کے ساتھ صلۂ رحمی کرو (صحیح البخاری:۳۱۸۳)۔

۴- وَیُطْعِمُوْنَ  الطَّعَامَ  عَلٰی  حُبِّہٖ  مِسْکِیْنًا  وَّیَتِیـْمًا  وَّاَسِیْرًا (الدھر:۹) وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ۔

اس آیت کے تحت امام ابوبکرجصاصؒ لکھتے ہیں:

۵- وَالْاَسِيْرُ فِيْ دَارِ الْإسْلَامِ لَا يَكُوْنُ إِلَّا كَافِرًا، فَدَلَّ عَلٰى أَنَّ الصَّدَقَةَ عَلَيْهِمْ قُرْبَةٌ، دارالاسلام میں قیدی تو کافر ہی ہوں گے، پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ غیر مسلم کو صدقہ دینا بھی کارِ ثواب ہے (شرح مختصر الطحاوی،ج۲، ص۳۸۶)۔

 امام شافعیؒ فرماتے ہیں:

۶- وَلَا بَاْسَ أَنْ يُتَصَدَّقَ عَلَى الْمُشْـرِكِ مِنَ النَّافِلَةِ وَلَيْسَ لَهٗ فِي الْفَرِيْضَةِ مِنَ الصَّدَقَةِحَقٌّ، وَقَدْ حَمِدَ اللهُ تَعَالٰی قَوْمًا، فَقَالَ : وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ،مشرک کو نفلی صدقہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ فرض صدقے میں اُس کا حق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو کھانا کھلاتے ہیں۔

اگر اس کے اسلام لانے کی اُمید ہو تو پھر صدقہ کرنا بہتر ہے:

امام ابوجعفرطحاویؒ لکھتے ہیں:

۷- وَأَمَّا سِائِرُ الصَّدَقَاتِ مِنْ نَحْوِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ وَالْكَفَّارَاتِ فَيَجُوْزُ إِعْطَاؤُهَا اَهْلَ الذِّمَّةِ ،وَرُوِيَ عَنْ اَبِيْ يُوْسُفَ:: اَنَّ كُلَّ صَدَقَةٍ وَاجِبَةٍ: لَا يَجُوْزُ أَنْ يُّعْطٰى اَهْلُ الذِّمَّةِ مِنْهَا،اَلْحُجَّةُ لِاَبِيْ حَنِيْفَةَ:قُوْلُ اللهِ تَعَالٰى: ’’فَكَفَّارَتُهٗ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِيْنَ‘‘ وَقَوْلُهٗ: فَإِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا‘‘}.،وَقَالَ النَّبِيُّ فِيْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ:  نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمَرٍ،: وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْكَافِرْ وَأَيْضًا: لِمَا رُوِيَ :اَنَّ الْمُسْلِمِيْنَ كَرِهُوا الصَّدَقَةَ عَلٰى غَيْرِ أَهْلِ دِيْنِهِمْ، فَاَنْزَلَ اللهُ تَعَالٰى:  لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلٰكِنَّ اللهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ ،فَقَالَ النَّبِيُّ : تَصَدَّقُوْا عَلٰى أَهْلِ الْاَدْيَانِ‘‘،فَعُمُوْمُ الْآيَةِ، وَلَفْظُ النَّبِيِّ  كُلُّ وَاحِدٍ يُجِيْزُ دَفْعَ الصَّدَقَاتِ إِلٰى أَهْلِ الذِّمَّةِ،فَلَمَّا قَامَتِ الدَّلَالَةُ عَلٰى تَخْصِیْصِ زَكَوَاتِ الْاَمْوَالِ: خَصَّصْنَاهَاوَبَقِيَ حُكْمُ الْعُمُوْمِ فِيـْمَا عَدَاهَا،اور رہے باقی صدقات !جیسے صدقۂ فطر اور کفارات تو ان کا ذمّیوں کو دینا جائز ہےاور امام ابویوسف سے مروی ہے:’کوئی بھی صدقہ واجبہ ذمّیوں کو دینا جائز نہیں ہے‘۔ امام ابوحنیفہ کی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر مبنی ہے: ’’پس، اُس (قسم )کا کفارہ دس مساکین کو کھلانا ہے‘‘اوریہ ارشاد:’’پس، ساٹھ مسکینوں کو کھلانا ہے‘‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر کے بارے میں فرمایا: آدھی صاع گندم یا ایک صاع کھجور اور آپ ؐ نے مسلم اور کافر کے درمیان فرق نہیں فرمایا، اور یہ بھی مَروی ہے کہ مسلمانوں نے غیرمسلموں کو صدقہ دینے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیاتو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’آپ پر انھیں ہدایت دینا لازم نہیں ہے ، لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے،(البقرہ:۲۷۲)، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اہلِ ادیان کو صدقہ دو‘‘تو آیت کا عموم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات ذمّیوں کو صدقہ دینے کی اجازت دیتے ہیں، پس جب زکوٰۃ کے اموال کے بارے میں تخصیص آگئی:’’صدقہ اُن (مسلمانوں )کے مال داروں سے لیا جائے اور اُن کے فقراء کو لوٹایا جائے ‘‘،تو ہم نے اسے مسلمانوں کے لیے خاص کردیا اور(حربیوں کے استثناء کے ساتھ ) باقی صدقات کا حکم مسلم اور غیرِ مسلم کے لیے عام رہا، (شرح مختصر الطحاوی، ج۲، ص۲۸۴- ۲۸۵)‘‘۔

الغرض، اگر غیر مسلم کافر ومشرک مسلمانوں کے ساتھ حالتِ جنگ (State of War)میں ہوں یا مسلمانوں پر مظالم ڈھارہے ہوں اور حقِ آزادی اور حقِ وطن کو سلب کر رکھا ہو، جیسے بھارت اور اسرائیل، تو ان کو کسی بھی طرح کا صدقہ ( واجب یا نفلی) ، عطیہ یا ہبہ دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ ظلم میں معاونت ہے۔

بھارت نے جموں وکشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور اہل کشمیر کواُن کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم اور محصور کر رکھا ہے، اس لیے مسلمانانِ کشمیر کا ہندوؤں کو اپنی جائداد فروخت کرنا یا کرایے پر دینا ناجائز ہے۔ یادرہے اسرائیل نے فلسطینیوں کے وطن پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے ، ان پر مظالم ڈھارہا ہے اور اسرائیل نے فلسطین میں سے مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لیے یہی حربہ آزمایا تھا کہ ان کی جائدادیں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر خریدیں، جن کی سزا فلسطینی اب تک بھگت رہے ہیں۔

  ھٰذَا مَا عِنْدِیْ وَاللّٰہُ سُبْحَانَہٗ تَعَالٰی اَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔[۲۳مارچ ۲۰۲۰ء]

مہینے، ہفتے، دن ، گھنٹے، منٹ اور سیکنڈ گزرتے رہے اور یوں سال بہت تیزی سے گزرگیا۔ رمضان جیسا معزز مہمان ہمارے پا س آ گیا، مگر ہم بے سدھ پڑے ہیں، غافل ہیں، اس کے استقبال کے لیے تیار نہیں۔دنیا نے ہمیں غافل کر دیا ہے، ہم زمین سے چمٹے ہوئے ہیں۔ گناہوں نے ہمیں بوجھل بنا دیا ہے، خطاؤں نے ہمیں تھکا دیا ہے، چنانچہ ہم تاریک راستے پر ہی چل رہے ہیں۔ ہم گناہوں سے باز نہیں آتے اور متاع الغرور کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔

ہمیں اللہ کے راستے کی طرف پلٹنے کی ضرورت ہے، اللہ کے روشن راستے پر گامزن ہونے کی حاجت ہے۔ کاش! ہم جانیںکہ ہم اللہ رحمان و مہربان اور بخشنے والا کے قرب کے کس قدر حاجت مند ہیں۔

کیا ابھی ہمارے لیے پلٹنے کا وقت نہیں آیا؟ کیا ہمارے سخت اور پتھر دل اللہ کے ذکر کے لیے نرم نہیں پڑیں گے؟ کیا ہماری آنکھوں کے لیے خوفِ خدا سے آنسو بہانے کا وقت نہیں  آیا؟ کیااندھیروں میں بھٹکنے والوں کے لیے روشنی کے راستے پر چلنے کا موقع ابھی نہیں آیا؟ کیا اعضا و جوارح کو اب گناہوں سے استغفار نہیں کر لینا چاہیے؟ اور گناہوں سے باز نہیں آ جانا چاہیے؟ کیا زبان کو غیبت سے رک نہیںجانا چاہیے؟ کیا اسے اللہ کے بندوں کو گالیاں بکنے اور ان پر تہمت تراشنے سے بچنا نہیں چاہیے؟ کیا خواہشات کے بندوں کو ہوش نہیں آنا چاہیے؟ کیاشہوات کے اسیروں کو شہوتوں کے چُنگل سے باہر نکلنے کا وقت نہیں آیا؟

اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو:رمضان کی آمد کے ساتھ ہی میں اپنے اور اپنے بھائیوں کے بارے میں سوچنے لگا۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا: کیا ہماری کامیابی ممکن ہے؟ کیا ہم اس موقعے سے فائدہ اٹھائیں گے؟ شاید کہ پھر یہ فرصت نہ ملے۔ کیا معلوم کہ آیندہ رمضان آنے سے پہلے ہی ہم رخصت ہوجائیں اور اس کا خیر مقدم نہ کر پائیں اور یوں موقع جاتا رہے؟

میں اسی حیرت میں گم تھا کہ میں نے اپنے اندر سے آواز سنی، یہ میری اپنی آواز تھی: ہاں، ہاں، موقعے سے فائدہ اٹھانا ممکن ہے۔ میرا رب مہربان ہے، بخشنے والا ہے۔ وہ میرا پروردگار یقینا میری توبہ سے خوش ہوگا، جیسا کہ حبیب مکرمؐ نے بشارت دی ہے ۔ میرے رب نے مجھے مایوسی و نااُمیدی سے روکا ہے۔ اس نے مجھے بتایا ہے کہ وہ سب گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے:

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا  ط  اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُo (الزمر۳۹:۵۳) (اے نبیؐ) کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنھوںنے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ، یقینا اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور ورحیم ہے۔

دُنیا میں انسان دشوار گزار راستے پر چلنے والے مسافر کی مانند ہے۔ اسے سفرِ زندگی طے کرنے کے لیے زادِ راہ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی منزلِ مراد’جنت‘ تک پہنچ سکے۔ اسے ایمان کا زادِراہ درکار ہے۔ جب بھی اس کا زادِ راہ کم ہونے لگے تو اسے چاہیے وہ از خود یہ زادِ راہ مہیا کرے ورنہ وہ زادِ راہ نہ ہونے کی وجہ سے راستے میں ہی ہلاک ہو جائے گا۔ لہٰذا، اس دنیا میں اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہنا اور ایمان کو زادِ راہ کے طور پر ساتھ رکھنا لازمی ہے۔ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ اللہ بزرگ و برتر نے ہمیں مطلع فرما دیا ہے کہ ایمان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے:

وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ لا قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ ز وَمَا زَادَھُمْ اِلَّآ اِیْمَانًا وَّتَسْلِیْمـًا ۝۲۲ۭ (الاحزاب ۳۳:۲۲) اور سچے مومنوں نے جب حملہ آورلشکر وں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ ’’یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اس کے رسولؐ کی بات بالکل سچی تھی‘‘۔ اس واقعے نے ان کے ایمان اور ان کی سپردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا۔

پس رمضان کے قریب آتے ہی ہمیں زادِ راہ کی خاطر اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم قربِ الٰہی کیسے حاصل کریں اور ایمان کی تجدید کیسے کریں؟ ہمیں اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات کرنا ہوں گے:

نیت کی درستی: چونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اس لیے ہمیں اپنی نیت درست کرنا ہوگی۔ ہماری نیت یہ ہو کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ بھلائیاں سمیٹنا ہیں، عطیات و خیرات بہ کثرت کرنا ہیں۔ اگرہماری نیت یہ ہواور ہم رمضان کی آمد سے پہلے ہی جان بحق ہو جائیں تو بھی حُسن نیت کی وجہ سے ہم اجرو ثواب کے حق دار ٹھیریں گے۔ اگر زندگی ہوئی تو پھر رمضان میں نیک اعمال کی جزا ملے گی۔ یاد رہے کہ قبولیتِ عمل کے دو پَر ہیں: صحیح نیت اور درست عمل۔

توبہ: غیبت، چغل خوری اور جھوٹ سے اپنی زبان کو روکے رکھنا ہمارا فرض ہے تاکہ ہم زبان کی آفات سے محفوظ رہیں۔ ہماری زبانیں فضول گوئی، لغو کلام، بے فائدہ و بے ہودہ باتوں سے دور رہیں۔ فحش گوئی، چاپلوسی اور منافقانہ گفتگو ہماری زبانوں پر نہ آئے۔ ہم سب کو توبہ کرنی  چاہیے اور یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ کر اپنا وقت ضائع نہ کریں گے۔ ہم فضولیات کے دیکھنے اور سننے سے بچیں گے۔ فضول بیٹھ کر اپنے اوقات عزیز برباد نہ کریںگے بلکہ اپنے آپ کو ذکر، تسبیح یا استغفار میں مشغول رکھیں گے۔ انسان کو اپنی عمر کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرنا چاہیے کیونکہ یہی اس کا اصل زر ہے۔ کیا یہ معقول حرکت ہوگی کہ ایک آدمی اپنا اصل زر ضائع کردے اور پھر نفع کا منتظر رہے؟

توبہ سے ہماری مراد محض اعضا و جوارح کی توبہ نہیں ہے بلکہ دل کی توبہ مقصود ہے۔ یادرہے کہ اعضا کی معصیت دل کی نافرمانی کے مقابلے میں کم تر ہے۔ حضرت آدم ؑنے شجرممنوعہ کا پھل کھایا تو بھی اللہ نے ان کی توبہ قبول کی اور ان پر رحمت فرمائی:

فَتَلَقّیٰٓ اَدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ ط اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۝۳۷ (البقرۃ ۲:۳۷)آدمؑ نے اپنے ربّ سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی، جس کو اس کے ربّ نے قبول کر لیا، کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ دل کی معصیت اور اعضا کی معصیت میں بہت فرق ہے۔ ابلیس تکبر کے جرم کا مرتکب ہوا اور پھر اپنے تکبر میں بڑھتا ہی گیا تو اللہ نے اسے درد ناک عذاب کی دھمکی دی۔

ہمیں ماہِ رمضان کا استقبال کرتے ہوئے دل کی نافرمانی سے توبہ کرنا ہوگی۔ آئیے ہم اللہ کا قرب پائیں___اس کے لیے ہمیں تکبر، حسد، کینہ، بُغض، کھوٹ اور اپنے آپ پر اترانے جیسی خراب عادتیں اورخصلتیں چھوڑنا ہوں گی۔

ہم اپنے قلب کو اس امر کی تربیت دیں کہ وہ ہر چیز سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرے۔ ہمارا دل اپنے پروردگار کی ملاقات کا مشتاق رہے___ نماز میں، دُعا میں، مناجات میں، ذکر و فکر میں اور تسبیح و استغفار میں۔

عزمِ بلند: رمضان کی آمد سے پہلے ہی عبادات و طاعات کے لیے طبیعت میں آمادگی پیدا کیجیے۔ تقربِ الٰہی کی طلب میں عظیم القدر اہل ایمان کی روش اپنانے کا عہد کیجیے۔ اپنے تمام اعمال میں ثابت قدم رہنے کا فیصلہ کیجیے اور ابھی سے اپنے عزم کو بھلائیوں کے لیے بلند کر لیجیے۔ رمضان سے پہلے ہی عبادات کی مشق کیجیے۔ آپ کے تمام اعمال و افعال ہر لحاظ سے بہترین اور مکمل ہوں۔ جوکھلاڑی کھیل شروع ہونے سے پہلے مشق کرتا ہے، اپنی بدنی اور فنی لیاقت و مہارت کو بڑھاتاہے، اس کی کامیابی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کے برعکس جو کھلاڑی مشق سے احتراز کرتا ہے، سُستی و بے عملی کا شکار ہوتا ہے تو شکست اُس کا مقدر بنتی ہے۔

رمضان میں دو طرح کے مسلمان نظر آتے ہیں۔ ایک گروہ کامیاب و کامران اور دوسرا ناکام و نامراد۔ محنتی گروہ کامیاب ہو جاتا ہے اور موقع کو ضائع کرنے والا ناکامی کا منہ دیکھتا ہے۔  یہ گروہ ڈرامے اور فلمیں دیکھنے میں لگا رہا۔ اس نے اپنا سارا وقت کھیلوں، فلموں اور ڈراموں پر تبصروں میں برباد کر دیا۔ یہ غفلت میں مبتلا ہوا اورمست رہا۔ اگراسے ماہ رمضان کے گزرنے کے بعد ہوش آئے تو یہ عظیم نعمت سے محروم رہے گا۔

رمضان کی قدر کیجیے۔ اس میں کم عبادات پر اکتفا نہ کیجیے۔ اس لیے کہ رمضان میں جو نیکی کا کوئی کام کرتا ہے تو اسے غیر رمضان میں فرض کی ادایگی کا ثواب دیا جاتا ہے اور جو رمضان میں فرض ادا کرتا ہے، اسے غیر رمضان کے ستّر فرضوں کا ثواب ملتا ہے۔

عبادت کا حُسنِ ادایگی: عبادت ادا کرنے سے قبل، ذہنی تصور کو عبادت سے ہم آہنگ کرنے کی عادت ڈالیے اورایسا شعوری طور پر کیجیے۔ اس عمل سے عبادت و اطاعت میں کمال پیدا ہوگا۔ آپ ہمیشہ عبادت کی روح پر غور کیجیے۔ عبادت سے پہلے اس کے اثرات کی فکر کیجیے۔ عبادت کی روح کو سمجھنے اوراس کا بھرپور شعور و ادراک حاصل کیجیے۔ مثال کے طور پر جب آپ نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوں اور تکبیر تحریمہ کہیں تو ’’اللہ اکبر‘‘ کے معنی پر غور کریں۔ اس کلمے کے مطلب میں تدبر و تفکر کیجیے۔ اسی طرح جب آپ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پڑھیں تو اس کے مفہوم پرغور کریں۔ ہر آیت جو آپ نماز میں پڑھیں یا نماز ِ باجماعت میں امام سے سنیں اس پر ضرور تدبر کریں۔ اسے اپنے وجدان و احساسات کا حصہ بنائیں۔

اپنی حقیت پر غور: اپنے آپ کو پہچانیے، اپنے آپ سے پوچھیے کہ میں کون ہوں؟ میرا مخلوقِ خدا سے کیا تعلق ہے؟ اللہ کی مخلوق اور اس کی نعمتوں کے بارے میں سوچیے۔ پھر ان نعمتوں کا اپنی ذات و کردار کے حوالے سے جائزہ لیجیے۔ دیکھیے کہ فرشتوں، آسمانوں، پہاڑوں، سمندروں، ستاروں، سیاروں اور زمین کے مقابلے میں آپ کی حیثیت کیا ہے؟ یوں آپ کو اپنی بے بضاعتی کا احساس ہوگا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کس قدر بے بس ہیں اور اللہ کے رحم و کرم کے کتنے محتاج ہیں۔ عظمتِ الٰہی کے سامنے آپ کو اپنی عاجزی و بے بسی کا ادراک حاصل ہوگا۔ یوں تکبر و غرور سے نجات ملے گی۔ پھر آپ اپنے پروردگار سے مددمانگیں، مہربانی اور عفو وعافیت کے طلب گار ہوں۔

دنیا میں کم رغبت: دنیا میں دلچسپی کم کیجیے۔ دنیا کا لالچ بری بلا ہے۔ آپ کی نظر دنیا میں حسب حاجت ہو، مگرآپ کی تمام تر دلچسپی کا مرکز آخرت ہو۔ آخرت دنیا کے مقابلے میں بہتر بھی ہے اور پایدار بھی۔ آپ دنیا کی طلب میں بھاگ دوڑ کم کر دیجیے۔ ایسا کرنے سے آپ کے ذہن و قلب کو سکون میسر آئے گا۔ زیادہ تر آخرت پر توجہ دیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں دنیا کا فضل وخیراکٹھا کرنے کے لیے کہا ہے تو اس نے اس کے لیے جو الفاظ استعمال فرمائے ہیں، ان میں آہستگی، ٹھیراؤ اورقرار پایا جاتا ہے، مگر جب اس نے ہمیں آخرت کی خیرحاصل کرنے کی ترغیب دی ہے تو ان الفاظ میں جلدی، تیزی، لپکنے اور سبقت کرنے کا تاثر پایا جاتا ہے۔ چنانچہ دنیا کی بھلائیوں کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشادِ الٰہی ہوا:

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo (الجمعۃ۶۲:۱۰)پھرجب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، شاید کہ تمھیں فلاح نصیب ہوجائے۔

ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلاً فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِھَا وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ ط وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُo (الملک۶۷:۱۵) وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے، چلو، اُس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمھیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔

تاہم، جب اللہ نے ہمیں آخرت کی بھلائی پر آمادہ کیا ہے تو فرمایا ہے:

وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ لا اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَo (اٰل عمرٰن ۳:۱۳۳) دَوڑ کر چلو اُس راہ پر جو تمھارے رَبّ کی بخشش اور اُس کی جنت کی طرف جاتی ہے، جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ  خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے۔

سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لا  اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ ط ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوْالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۝۲۱ (الحدید۵۷:۲۱) دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، اپنے رَبّ کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل و الا ہے۔

آپ نے دیکھا کہ آخرت کے لیے سارعوا اور سابقوا ، دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھو کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو سبقت کرنے والے اور ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے معنی دیتے ہیں، اور دنیا کے لیے فانتشرو  اور فامشو،  پھیل جاؤ اور چلو کے الفاظ استعمال کیے ہیں جن میں آہستگی، ٹھیراؤ اور قرار پایا جاتا ہے۔

تیاری اور آغاز: ایک اچھا طالب علم امتحان سے بہت پہلے اس کی تیاری شروع کر دیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے الفاظ ہیں: ’’اے اللہ، ہمارے لیے رجب و شعبان میں برکت دے اور ہمیں رمضان تک پہنچا‘‘۔ ہم جانتے ہیں کہ اس حدیث کے سوا، حضوؐر نے کبھی بھی لمبی عمر کی دعا نہیں کی۔ معلوم ہوا کہ رمضان ایک عظیم موقع و فرصت ہے کیونکہ رمضان سراسر خیرو برکت ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم رمضان کی تیاری کیسے کریں؟ اس کے لیے ہمیں چاہیے کہ یہ کام کر لیں:

    ۱-  اپنے اعضا کو ان تمام باتوں سے روکنے کی تربیت دینا جو اللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہیں۔

    ۲-  دل کا روزہ رکھنا، یعنی اپنے تمام اقوال و اعمال میں اللہ کی طرف متوجہ رہنا۔ حرکت و سکون اور گفتگو و خاموشی اسی کی رضا کے لیے ہو۔

    ۳- اگر ہمیں کسی سے رنجش ہے، ناراضی ہے، نفرت و بغض ہے تو فوراً اس سے صلح کریں تاکہ حصول خیر میں رکاوٹ دور ہو جائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’دونوں میں سے اچھا وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرتا ہے‘‘(مسلم)۔ پھر اس شخص کے لیے ہمیں دعاے خیر و مغفرت کرناہے۔ یوں مسلمان ماہ رمضان میں داخل ہو تو اس کا سینہ پاک صاف ہو۔ اللہ اس کا عمل قبول فرمالے اور وہ مغفرت پالے۔

محبوب سے وصال کے لمحات جوں جوں قریب آتے ہیں، محب کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جاتی ہیں۔ ہر نئی آنے والی صبح اسے یہ حسرت ہوتی ہے کہ یہ روز آنکھ بند کرتے ہی گزر جائے۔ خزاں کا موسم اُسے بہار سے بھی بھلا لگتا ہے۔ موسمِ گرما کی لب و رُخسار کو جھلسا دینے والی ہواؤں میں اُسے بادِ صبا کی تازگی محسوس ہوتی ہے۔ اندھیری رات کی رُتوں میں آسمان پر جلتے قمقمے رنگ و نور کی بارات کامنظر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ فضا ایک مانوس سی خوشبو سے معطر ہوجاتی ہے۔ ہر شے میں گُل و بُلبل کی سرگوشیاں سُنائی دیتی ہیں اور لگتا ہے کہ اُسی کی باتیں ہورہی ہیں۔ گزرتے وقت کا ایک ایک لمحہ اُسے پہاڑ سے زیادہ بھاری لگتا ہے، اُس کا دل چاہتا ہے کہ اُس کے پرَ لگیں اور وہ اُڑ کر محبوب کے پاس پہنچ جائے۔

بس یہی حال تھا حبیبِ کبریا حضرت محمدمصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ محبوب سے ملاقات کے شوق میں رمضان کا انتظار کرتے رہتے تھے اور فرطِ محبت میں ماہِ شعبان ہی سے پُکارتے تھے: اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ شَعْبَانْ وَ بَلِّغْنَا رَمَضَانْ ، اے اللہ! شعبان میں ہمارے لیے برکتیں   رکھ دے اوررمضان نصیب فرمادے۔

رمضان کے بابرکت مہینہ کی آمد  : مبارک ہو آپ کو کہ خوش نصیب ہیں آپ! رمضان آپ کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ بس اب تو دنوں اور گھنٹوں کی بات ہے اور ایک انوکھا مہمان اپنی ساری رعنائیوں، برکتوں، مغفرتوں اور رحمتوں کے ساتھ آپ پر سایہ فگن ہوگا۔l ایک ایسا مہمان جس کے ہوتے نیکی کرنا آسان اور گناہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔l ایک ایسا مہمان جس کے ہوتے خیر ہی خیر، جی ہاں خیر ہی خیر ہوگی۔ lایک ایسا مہمان جس کے آتے ہی شیطان کو زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا تاکہ آپ کو نقصان نہ پہنچاسکے۔l ایک ایسا مہمان جس کے آتے ہی نفس پاکی کی راہ لے گا۔ lایک ایسا مہمان جس کے ہوتے محبتیں اور صرف محبتیں (اجتماعیت) پروان چڑھیں گی۔  lایک ایسا مہمان جس کے ہوتے نہ کوئی چھوٹا ہوگا اور نہ بڑا، نہ کوئی کالا ہوگا نہ گورا۔l ایک ایسا مہمان جس کی راتوں میں قرآن کی زبانی محبوب سے راز و نیاز ہوگا۔l ایک ایسا مہمان جس کی رُتوں میں اپنائیت کا احساس ہوگا۔

ذرا سوچیں، کتنے خوش نصیب ہیں ہم، جو ایک ایسے مہمان کو خوش آمدید کہنے جارہے ہیں جس کے انتظار میں کتنے ہی پیارے ملکِ عدم سدھار گئے۔ ہاں، کتنے ہی قصۂ پارینہ بن گئے، اور ہوسکتا ہے اگلے برس ہم بھی قصۂ پارینہ بن چکے ہوں۔

اس ماہ کی عظمت اور برکت بلاشبہہ عظیم ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس کی رحمتیں و برکتیں ہراس شخص کے حصے میں آجائیں جو اس مہینے کو پائے۔ کسان کی طرح محنت کریںگے تو اچھی فصل تیار ہوگی اور اس کا پھل جنت کی شکل میں ملے گا۔ اگر غافل کسان کی طرح سوتے رہ جائیں تورمضان کی ساری بارش اس طرح بہہ جائے گی جیسے چکنے پتھر سے پانی۔ تو آئیے سوچیں کہ اس بارش سے کیسے سیراب ہوں اور کون سے ایسے کام کریں کہ اس کے لمحات امر ہوجائیں؟

نیت اور ارادہ: نبی کریمؐ نے فرمایا: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ (تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)۔ لہٰذا رمضان المبارک کے استقبال کے لیے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ابھی سے اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی خالص نیت اور پختہ ارادہ کرلیں۔ رمضان کے پیغام اور عظمت کو اپنے اندر تازہ کرلیں۔ اس سے فائدہ اُٹھانے کی خالص نیت کریں اور ایسے کام کرنے کا عزم و ارادہ کریںکہ جس سے تقویٰ حاصل ہو۔ یہی دراصل روزہ کا اصل مقصود ہے۔

دُعا: رمضان سے پہلے ہی دُعا مانگنے کا عمل تیز کردیں۔ کیونکہ ہادیٔ برحقؐ کے بقول دُعا مومن کا ہتھیار ہے اور دُعا ہی ہر عبادت کا مغز ہے۔ اپنی نمازوں کے بعد، رات کی تنہائیوں میں، سفر کی حالت میں، بازاروں میں چلتے ہوئے اُمتِ مسلمہ کے پستی سے نکلنے کی، ملک کے استحکام و سالمیت کی، اُمتِ مسلمہ کے اتحاد اور کھوئے مقام کو واپس دلانے کی، بیماروں کے لیے شفا کی، گزرے ہوؤں کی مغفرت کی اور آنے والے رمضان سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی دُعا اس بات کو یاد رکھتے ہوئے کیجیے کہ جبریلِ ؑامین نے کہا کہ: ’’ـاس آدمی کے لیے ہلاکت ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنے گناہوں کی بخشش اور معافی نہ حاصل کرسکا، اور آپؐ نے اس کے جواب میں آمین کہا‘‘ (حاکم)۔

خریداری کی تکمیل: تیزی سے بدلتی ہوئے دنیا کے معیارات نے ہر طرف ایک افرا تفری کا سماں پیدا کردیا ہے اوراس کے اثرات سے دیگر اقوام کی طرح مسلم اُمہّ بھی نہ بچ سکی۔ ہماری بدنصیبی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ رمضان المبارک کی ساعتوں کو اللہ کی عبادت کرکے اُس کی رضا حاصل کرنے کے بجاے بازار کے چکر لگانے میں صرف کردیتے ہیں۔ رمضان کی ساعتوں سے بہتر انداز میں مستفید ہونے کے لیے بہتر ہوگا کہ رمضان اور عید الفطر کی خریداری رمضان کی آمدسے پہلے ہی کرلیں تاکہ اس ماہِ مبارک کی قیمتی راتیں ، خصوصاً شبِ قدر اور عید کی چاند رات کے قیمتی لمحات ضائع نہ ہوں۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’جو شخص دونوں عیدوں کی راتوں کو نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرے گا تو اس بندے کا دل مُردہ نہیں ہو گا، جس دن اوروں کے   دل مُردہ ہوجائیں گے‘‘۔

 رمضان کی چاند رات : رمضان کی چاند رات کو مغرب کی نماز کے فوراً بعد غسل کریں، صاف ستھرے کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں اور اپنے محلے،گاؤں، قصبے اور دسترس میں تمام لوگوں کو رمضان کی مبارکباد دینے نکل کھڑے ہوں۔ جو ملاقاتیں عشاء سے پہلے ہوسکتی ہوں کرلیں، باقی تراویح کے بعد کریں۔ اس ملاقات میں بس لوگوں کے پاس جائیں، سلام دُعا کے بعد رمضان کی مبارک باد دیں۔ اگر ممکن ہو تو رمضان کی برکتوں سے متعلق ایک دو حدیثیں بیان کرکے خوش خبریاں سنائیں۔ اگر کوئی تحفہ ساتھ لے جائیں تو بہت ہی بہتر ہے۔ تحفے میں مسواک، خوشبو، کتابچے وغیرہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ نہیں تو مسنون دُعاؤں کی فوٹو کاپی ہی ساتھ لے لیں۔

حقوق اللہ اور حقوق العباد: حقوق اللہ میں اگر کسی قسم کی کوتاہی ہوگئی ہو تو کوشش کرکے اس کا ازالہ رمضان سے پہلے کرلیں۔ اگر ممکن نہ ہو تو اللہ سے گڑگڑا کرمعافی مانگ لیں، وہ توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ خدانخواستہ اگر کسی بندے کے حق کی ادایگی میں کوتاہی ہوگئی ہے تو اس کو رمضان سے پہلے ادا کردیں یا اُس سے بالمشافہ ملاقات کرکے معاف کرالیں۔ اگر اپنے اندر اتنی ہمت نہ پائیں تو تحریر لکھ کر اس کے پاس بھیج دیںکہ رمضان کے مہینے سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کو معاف کردینا چاہیے۔ اگر کوئی آپ سے ناراض ہے یا آپ کسی سے ناراض ہیں تو ان ناراضیوں کو آپ آگے بڑھ کر دُور کرلیںکیونکہ مومن کی یہی شان ہے۔

نمازوں میں تکبیرِ اولٰی: الحمد للہ آپ نمازیں تو پڑھتے ہی ہیں بس اس بات کا اہتمام کریں کہ پورے رمضان اذان ہوتے ہی سارے کام چھوڑ کر گھر سے وضو کرکے مسجد چلے جائیں، کیونکہ نبی کریمؐ کی سنت یہی تھی کہ آپؐ اذان سنتے ہی پوری دنیا کے لیے اجنبی ہوجایا کرتے تھے اور سیدھے مسجد کا رُخ کرتے تھے۔ مسجد پہنچ کر دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کریں، پہلی صف میں بیٹھیں اور پورے رمضان کسی بھی نماز کی تکبیرِ اولیٰ فوت نہ ہونے دیں۔ یاد رہے امام کے     سورۃ الفاتحہ شروع کرنے سے پہلے پہلے جماعت میں شامل ہونے پر تکبیرِ اولیٰ کا ثواب مل جاتا ہے۔ خواتین کوشش کریں کہ اپنے گھروں میں اوّل وقت میں نماز کی ادایگی کو ممکن بنائیں۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی تہیہ کرلیں کہ اگلے رمضان تک مذکورہ بالا عمل کو اپنی عادت بنالیں گے۔

رمضان چارٹ کی تیاری اور خود احتسابی: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’روزہ (گناہوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے، پس اس کو ڈھال بناؤ۔ روزہ دا ر بدکلامی کرے نہ چیخے چلّائے۔ اگر کوئی اس کو بُرا کہے یا اس سے لڑے تو یہ کہہ کر الگ ہوجائے کہ میں روزے سے ہوں، میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ ان بُرے کاموں میں مشغول ہوں‘‘۔

ایک رمضان چارٹ بنائیں جس میں اپنے کمزور پہلو لکھیں اور پورے رمضان انھیں دُور کرنے کے کی کوشش کریں اور ہر رات اس چارٹ کا جائزہ لیں اور کالم بناکران پر ٹِک لگاتے رہیں، مثلاً نمازیں، تلاوتِ قرآن، مطالعہ حدیث، مطالعہ دینی کتب، دین کے حوالے سے ملاقاتیں، انفاق فی سبیل اللہ، بیماروں کی عیادت وغیرہ۔ دوسری طرف غیبت، چغلی، لعن طعن، بدگمانی، تکبر، جھوٹ، وعدہ خلافی، بد نگاہی، حسد، بُغض وغیرہ جیسی اخلاقی بُرائیوں کا جائزہ لیں ۔ اس طرح آپ اپنے آپ کو خوداحتسابی کے عمل سے گزاریں گے اور ایک مسحور کن تبدیلی اپنے اندر پائیں گے۔

سحر و افطار: روزہ رکھنے کے لیے سحری لازماً کھائیں کیونکہ سحری کھانا سنت ہے۔ کچھ لوگ رات دیر سے کھانا کھاتے ہیں اور سو جاتے ہیں اور سحری کے بغیر روزہ رکھ لیتے ہیں۔ یہ درست فعل نہیں ہے۔ ’’سحری میں برکت ہے، اسے ہر گز نہ چھوڑو۔ اگر کچھ نہیں تو اس وقت پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا جائے، کیونکہ سحری میں کھانے پینے والوں پر اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لیے دُعاے خیر کرتے ہیں‘‘ (مسند احمد)۔نبی مہربانؐ نے فرمایا: ’’میری اُمت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک افطار میں عجلت اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی‘‘ (مسند احمد)۔

تہجد کی ادایگی: سحری کے وقت سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے اُٹھ جائیں۔ یہ تہجد کا وقت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سب سے زیادہ انھی گھڑیوں میں متوجہ ہوتی ہے۔ یہ محبوب سے ملاقات کا سب سے بہترین وقت ہے۔ ایسے وقت میں اُس سے کچھ راز و نیاز کی باتیں کرلیں اور رو رو کر دنیا اور آخرت کے لیے دُعائیں مانگیں۔ لیکن مانگنے کی ایک شرط ہے کہ پورے یقین کے ساتھ مانگیں کہ آپ کو ضرور ملے گا ۔ آپ کا یقین بالکل اس بچی کی طرح ہونا چاہیے جو اپنے باپ کے ساتھ نمازِ استسقا کے لیے جارہی تھی اور راستے میں رُک کر اپنے والد کو کہا: ابا جان ایک منٹ۔ میں گھر سے ہو کر ابھی آئی۔ والد نے پوچھا کیا کرنے جارہی ہو؟ بچی نے معصومیت سے جواب دیا: ابا جان ہم اللہ میاں سے بارش کی دُعا مانگنے جارہے ہیں اور چھتری تو بھول ہی گئے۔ واپسی پر بارش ہوگی تو ہم بھیگ جائیں گے، اس لیے میں چھتری لینے جارہی ہوں۔

کھانے میں اعتدال: روزہ ایک مکمل تربیت کا نام ہے اور اس میں سب سے بڑی تربیت اپنی خواہشات پر قابو ہے لیکن اکثر لوگ رمضان کو لذتوں اور چٹخاروں کا مہینہ بنالیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے پرہیز کریں۔ اس سے آپ کی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوںگے۔ صاحب ِ حیثیت خواتین و حضرات اپنے دسترخوانوں کو غریبوں و مسکینوںکے لیے دراز کریں۔

انفاق فی سبیل اللہ: مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً   ط (البقرہ ۲:۲۴۵) ’’تم میں کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسن دے تاکہ اللہ اُسے کئی گُنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے؟‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا اللہ اس کی حاجت پوری کرے گا۔جو شخص کسی مسلمان کی کسی پریشانی کو دُورکرے گا تواللہ قیامت کے دن اس کی پریشانی دُور کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا‘‘ (بخاری، مسلم، عن ابن عمرؓ)۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بہت سخاوت کرتے تھے اور آپؐ کی سخاوت تیز چلتی ہوئی ہوا سے زیادہ ہوتی تھی (مشکٰوۃ)۔ کوشش کریں رمضان کا ایک دن بھی انفاق فی سبیل اللہ کے بغیر نہ گزرے، چاہے اللہ کی راہ میں روزانہ ایک روپیہ ہی کیوں نہ دیا جائے۔ روزہ داروں کی افطاری کا اہتمام کریں، یتیموں کی کفالت کریں، عزیز رشتہ داروں کی مدد کریں، زکوٰۃ کی ادایگی کریں۔

تاریخ سے رشتہ: یاد رکھیے! وہ قومیں کبھی تباہ نہیں ہوتیں جو اپنے روشن ماضی کو ہروقت یاد رکھتی ہیںاور اس سے سبق حاصل کرتی ہیں۔ آج اُمّتِ مسلمہ جس زبوں حالی کا شکار ہے اس سے نکلنے کا واحد راستہ اپنی تاریخ کی جانب پلٹنا ہے اور اسی طرح جدوجہد کرنا ہے جس طرح ہمارے اسلاف نے ماضی میں اپنا تن من دھن قربان کرکے کی۔ رمضان المبارک اس لحاظ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں درجِ ذیل واقعات پیش آئے جو آج بھی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے ہوئے ہیں اور تاقیامت لکھے رہیں گے۔ ان ایام کو منانے کا بھرپور اہتمام کریں، تاکہ ۱۰رمضان المبارک کو’یومِ باب الاسلام‘ مناتے ہوئے ہمارے اندر بھی اُمتِ مسلمہ سے محبت کا جذبہ پروان چڑھے۔ ۱۷رمضان المبارک کو ’یومِ بدر‘ مناتے ہوئے اللہ وحدہٗ لاشریک کی وحدانیت پر ایمان پختہ ہو۔ ۲۱ رمضان المبارک کو ’یومِ فتح مکہ‘ مناتے ہوئے اللہ ربّ العزت کا تمام طاقتوں کا منبع ہونے کا حقیقت کی نگاہ سے مشاہدہ ہوسکے۔ ۲۷ رمضان المبارک کو یومِ نزولِ قرآن مناتے ہوئے قرآن کے برحق ہونے کا یقین پختہ ہوسکے۔

قرآن سے تعلق: رمضان کا مہینہ دراصل قرآن کی سال گرہ کا مہینہ ہے اور اسی مہینے میں تورات و انجیل نازل ہوئیں۔ رمضان کی ساری شان و عظمت قرآن ہی کی وجہ سے ہے۔ یہ قرآن ایک چلتا پھرتا، جیتا جاگتا اور زندہ و جاوید معجزہ ہے۔ یہ جس سرزمین پر اُترا اُسے امن والا بنادیا، جس قوم پر اُترا اُسے اُمت ِ وسط بنادیا، جس مہینے میں اُترا اُسے سب مہینوں سے افضل بنادیا، جس رات اُترا اُسے ہزار مہینوں سے بہتر بنادیا اور جس نبیؐ پر اُترا اُسے امام الانبیا ؑ بنادیا۔ لہٰذا اس ماہِ مبارک میں قرآن سے خصوصی تعلق قائم کیجیے اور تلاوت کیجیے، ترتیل کے ساتھ پڑھیے، اسے یاد کرنے کی کوشش کیجیے اور پورے رمضان میں روزانہ کم از کم ایک آیت ضرور حفظ کرلیں۔ اس طرح رمضان کی تکمیل تک آپ کو ۳۰ آیات حفظ ہوجائیں گی۔

قرآن پڑھتے وقت اس کے ترجمے کو ضرور سامنے رکھیں، تب ہی آپ کو سمجھ آئے گا کہ یہ آپ سے کیا کہہ رہا ہے۔ اگر ترجمے کے ساتھ اس کی تفسیر بھی دیکھ لی جائے تو بہت سے ایسے راز آپ پر منکشف ہوںگے جن کی آپ کو جستجو تھی۔ اس رمضان سے قرآن کے حوالے سے ایک نئی چیز اپنے اندرپیدا کریںکہ اس کا فہم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے قرآن سے محبت رکھنے والوں کی بہت سی کاوشیں بازار میں دستیاب ہیں لیکن اگر آپ انفرادی طور پر ان سے مستفید ہونا چاہیں تو بہت آسان نہیں، سیکڑوں میں سے کوئی ایک آدھ کامیاب ہو تو ہو لیکن اگر اس کو چند دوست، محلے دار یا کم از کم گھر کے افراد اجتماعی طور پر فہم حاصل کرنے کی کوشش کریں تو یہ کام بہت آسان ہوجائے گا اور اس کی پابندی بھی ہوسکے گی۔ پھر اس قرآن ہی کے حوالے سے ایک کام اور کریں کہ اس کے کہے پر عمل کرکے دیکھیں۔ آپ کو لگے گا کہ آپ نے ایک نئی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے، جہاں سرور، اطمینانِ قلب اور سکون ہی سکون ہے جس کی تلاش میں دنیا بھٹک رہی ہے۔ اس رمضان سے اس قرآن کی دعوت کو عام کرنے کی فکر اور جدوجہد کو بھی اپنا شعار بنالیں تاکہ بھٹکی ہوئی انسانیت بھی سکون اور اطمینانِ قلب کی طرف پلٹ آئے۔

 آیئے عہد کریں :

    ۱-  اس رمضان میں کسی بھی نماز میں تکبیرِ اولیٰ فوت نہیں ہونے دیں گے۔

    ۲-  رمضان چارٹ بنا کر اپنی کمزوریوں کا ازالہ کریں گے۔

    ۳-  ہر روز حسبِ توفیق کچھ نہ کچھ اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے ضرور خرچ کریں گے۔

    ۴-  تہجد کی ادایگی کو اپنا شعار بنائیں گے۔

    ۵-  کسی ایک فرد کو قرآن پڑھنا سکھانا شروع کریں گے۔

    ۶-  قرآن کا ترجمہ اور تفسیر پابندی سے پڑھنے کا آغاز کریں گے۔

    ۷-  اہلِ خانہ کے ساتھ قرآن ترجمہ و تفسیر کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کریں گے۔

    ۸-  امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ اسلامی روح کے ساتھ انجام دیں گے۔

    ۹-  ہر کام میں اجتماعیت کو فروغ دیں گے۔

    ۱۰- دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیں گے۔

روزہ داروں کو ایسے خزانوں کا ہمیشہ اشتیاق رہتا ہے جنھیں وہ اپنی روز مرہ زندگی میں بالعموم اور رمضان میں بالخصوص پائیں اور ان سے استفادہ کریں۔ یہ سونے چاندی کے خزانے نہیں، بلکہ خیرو رحمت کے خزانے ہیں۔ اللہ اپنے روزہ دار بندوں کو یہ خزانے رمضان میں عطا فرماتا ہے تاکہ وہ ہمیشہ ان کے کام آئیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ جہاں خزانے ہوتے ہیں، وہاں ان کی حفاظت کا بھی بندوبست ہوا کرتا ہے۔ یہ خزانے مقفل ہوتے ہیں اور چابیوں سے ہی ان خزانوں کے تالوں کو کھولا جا سکتا ہے۔ خیر و رحمت اور بخشش و برکت کے خزانوں کی چابیاں روزوں میں مخفی ہیں۔ جس نے یہ چابیاں دریافت کر لیں، وہ خزانوں کا مالک بن گیا۔ چابیاں پاس ہوں گی تو خزانوں کے تالے کھولنا مشکل نہ ہوگا۔

آئیے انھی خزانوں اور ان کی چابیوں کی کچھ بات کریں۔

پہلی کنجی ___  بـے بہا اجر:روزے دار کو روزے کی جزا اور اس کے عظیم اجر کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔ اسے یہ اجرو ثواب حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ جس چیز کا اجر زیادہ ہوتا ہے، اس کے آداب بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرزندِ آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ روزہ ایک ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ گالی گلوچ نہ کرے، نہ شور و شغب کرے۔ اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد ؐکی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔ جب وہ روزہ کھولتا ہے تو اپنی افطاری کرنے سے خوش ہوتا ہے اور جب وہ اپنے پروردگار سے ملے تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہوگا‘‘ (متفق علیہ)۔ یہ تو بخاری کی روایت تھی، جب کہ ہدایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’وہ اپنی شہوتوں اور کھانے پینے کو میری خاطر چھوڑتا ہے‘‘۔

روزے کی جزا کے بارے میں ارشاد نبویؐ ہے: ’’جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے سب پہلے گناہ معاف کر دیے گئے‘‘ (بخاری ومسلم)۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جس نے رمضان کو ایمان و احتساب کے ساتھ قائم کیا، اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے گئے‘‘ (مسلم)۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے الریان کہا جاتاہے۔ اس دروازے سے قیامت کے روز روزہ دار داخل ہوں گے، روزہ داروں کے سوا اور کوئی اس میں سے داخل نہ ہوگا۔ کہا جائے گا: روزہ دار کہاں ہیں؟ چنانچہ روزے دار کھڑے ہوں گے، وہی اس میں سے داخل ہوں گے۔ جب وہ داخل ہوجائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اورکوئی اوراس میں سے داخل نہ ہو پائے گا‘‘ (بخاری ومسلم)۔ ارشادِرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتاہے‘‘(بخاری ومسلم)۔

روزے کے اجر و ثواب کی فضیلت و عظمت کا احساس روزے دار میں اس کے حصول کی جو خواہش پیدا کرتا ہے، یہ خواہش روزہ دار کو محنت و کوشش پر آمادہ کرتی ہے۔ وہ اپنے تمام کاموں میںآدابِ شریعت کی پابندی کرتا ہے اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے۔

 دوسری کنجی ___ تقویٰ : روزہ کی غرض تقویٰ ہے۔ روزہ دار کو معلوم ہونا چاہیے کہ روزے اور تقویٰ میں کیا باہمی تعلق ہے؟

یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo (البقرۃ ۲:۱۸۳) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا ؑ کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی۔

تقویٰ کے آسان ترین معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو وہاں نہ دیکھے، جہاں جانے سے اس نے منع فرمایا ہے اور جہاں پر ہونے کا حکم دیا ہے وہاں اسے اِدھر اُدھر نہ پائے۔ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ روزہ دار محتاط رہے کہ وہ کسی ایسی چیز کا مرتکب نہ ہو جس سے اس کی عبادت اور اخلاق تباہ ہو جائیں۔ انسان عبادت کے ضوابط اور اس کے آداب کی پابندی کرتا ہے تو وہ نافرمانی میں مبتلا ہونے سے بچ جاتا ہے۔ جب انسان اس احتیاط اور پرہیز کا عادی ہوجاتا ہے تو اس کی زندگی بہتر سے بہترین ہو جاتی ہے۔ پھر بھی اگر کہیں اس کے قدم پھسلتے ہیں تو وہ سچی توبہ کرکے خطاوگناہ میں مبتلا ہونے سے بچ جاتا ہے۔

جب انسان روزے کی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو وہ تقویٰ کے حصول کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔ محض کھانے پینے اور شہوت کی تکمیل سے بچنے کا نام روزہ نہیں ہے بلکہ روزہ تو گناہ و معصیت کی تاریکی میں گرنے سے نفس کو بچانے اور پابندیوں کا عادی ہونے کا نام ہے۔ رسول اکرمؐ نے اسی حقیقت کو ان الفاظ ِ مبارکہ میں بیان فرمایا ہے: ’’جو شخص جھوٹی بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ کوکوئی ضرورت نہیں کہ یہ شخص اپنا کھانا پینا چھوڑ دے‘‘ (بخاری)۔

اگر تقویٰ کی چابی روزے دار کے ہاتھ میں آجائے تو ایک اتنا بڑا خزانہ اس کے ہاتھ لگے گا جو قیامت کے دن اس کے نامۂ اعمال کو چمک دار اور روشن کر دے گا۔

تیسری کنجی ___ تعمیرسیرت و کردار : اس بات پر غور کیجیے کہ روزے ’چند دنوں‘ کے کیوں ہیں؟ یعنی صرف ایک مہینہ۔ روزوں کا اس سے کم مدت کا پروگرام کیوں نہیں؟ اس غور وفکر سے روزہ دار روزوں کی غرض و غایت، یعنی تقویٰ کو جان لے گا۔ اس پر یہ حقیقت بھی منکشف ہوگی کہ عبادت کا انسانی ارادے سے گہرا تعلق ہے، یعنی انسان جن عبادات سے مانوس ہوتا ہے، انھیںچھوڑنایا تبدیل کرنا دراصل انسانی ارادے پر منحصرہے، اور اس کا عبادت سے گہرا تعلق ہے۔ وہ فجر سے لے کر مغرب تک اپنی تمام ضروریات کو ترک کر دیتا ہے اور اپنی عادات میں تبدیلی لاتا ہے۔ عادات کو تبدیل کرنا ایک دشوار کام ہے۔ اس کی تربیت حاصل کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔ اسلامی شریعت میں انسانی ارادے کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اس لیے کہ ارادے سے محروم شخص اپنی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہوتا ہے ۔ حضرت علیؓ نے انسانی ذمہ داری کو یوں بیان فرمایا ہے: ’’اللہ نے جبراً کسی کو مکلف نہیںکیا، انبیا ؑکو بلا مقصد نہیں بھیجا، اس نے حکم دیا ہے اختیار کرنے کی آزادی کے ساتھ، نہی فرمائی ہے ڈراوے کے ساتھ‘‘۔

انسان اگر اپنی عادات کو بدل لیتا ہے اور انھیں بہترین صورت میں ڈھال لیتا ہے اور اپنے جس نادرست طرزِ عمل کا عادی ہے، اسے چھوڑ کر درست طرزِ عمل اپنا لیتا ہے تو یقینا اس کے ہاتھوں میں خزانے کی کنجی آجاتی ہے۔ ہمارا ہر سال کا مشاہدہ ہے کہ لوگ رمضان کی پہلی تاریخ سے ہی اپنے آپ کو نئی تبدیلیوں کے لیے آمادہ کر لیتے ہیں۔ اگر ایک مسلمان اپنے روزوں کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ارادے کو خوب تر رخ پر ڈھالنے کی کوشش کرے تو اس میں بڑی انقلابی تبدیلی رونما ہو جاتی ہے۔

چوتھی کنجی ___ روزہ اور آسانی : اگرچہ روزے دار سے بہت زیادہ اجرو ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے، پھر بھی اسلامی شریعت کی ایک نمایاں خصوصیت آسانی بہم پہچانا ہے:

فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ط وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ  ط(البقرۃ ۲:۱۸۴)اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جب تم میں سے کوئی بھول جائے، پس کھا یا پی لے تو وہ اپنا روزہ مکمل کرے، اسے اللہ نے کھلایا یا پلایا ہے‘‘ (متفق علیہ)۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے: ’’بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت غسلِ جنابت کرتے اور روزہ رکھتے‘‘ (بخاری و مسلم)۔ روزوں کی آیات میں ہے:

اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْ ط  ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ ط عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَاعَنْکُمْج (البقرۃ ۲:۱۸۷)تمھارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیاہے۔ وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس ہو۔ اللہ کو معلوم ہو گیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، مگراُس نے تمھارا قصور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔

آسانی مہیا کرنے سے انسان کو اطاعت و فرمانبردار جاری رکھنے کی ترغیب ملتی ہے، نیز اسے اسلامی قانون سازی کی حقیقت جاننے کا بھی موقع ملتا ہے۔ روزے سزا نہیں ہیں بلکہ انسانی ارادے کی تربیت اور اطاعت کا عادی بنانے کا ذریعہ ہیں۔ انسان جب لوگوں کے ساتھ معاملہ کرے تو اسے بھی آسانی بہم پہنچانے کی فکر کرنا چاہیے کیونکہ روزوں سے اسے یہی تربیت ملتی ہے۔

 پانچویں کنجی ___ قرآن : رمضان نزولِ قرآن کا مہینہ ہے:

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ ج  فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ ط (البقرۃ۲:۱۸۵) رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے، اورایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔لہٰذا، اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن انسانوں کی ہدایت کے لیے ہے اور اس ہدایت کے نزول کا زمانہ رمضان ہے۔ قرآن رمضان میں اترنا شروع ہوا۔ ترقی کا خواہاں اور روزہ دار قرآن ہی کی بدولت ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ اس کتاب کے ذریعے قوموں کو بلندی عطا فرماتا ہے اور اس کتاب (کو نظر انداز کرنے کی پاداش میں) پستی سے دوچار کر دیتا ہے‘‘ (مسلم)۔

کثرت سے تلاوت کیجیے، تدبر کیجیے۔ ہر حرف پڑھنے پر ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس گنا بڑھتی ہے۔ الف حرف ہے، لام حرف ہے اور میم حرف ہے جیسا کہ ترمذی میں ابن مسعودؓ سے مروی روایت میں ہے۔ حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم لوگوں میں سے سب سے اچھاوہ ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے‘‘ (بخاری)۔  غرضیکہ یہ کتاب دنیا و آخرت میں ترقی کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا: پڑھ اور ترقی کی منازل طے کرتا جا، اس طرح ٹھیر ٹھیر کر پڑھ جیسے کہ تو دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا۔ تیری منزل وہ ہو گی، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا‘‘۔ (ترمذی، ابوداؤد)

رمضان اور قرآن کے مابین تعلق روزے دار کو اسی بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کتاب کی ہدایت سے بہرہ یاب ہو اور یوں وہ اس کتاب کو پڑھ کر سمجھ کر، اسے سیکھ کر اور سکھا کر اور اس پر عمل کرکے ترقی و کمال سے ہم کنار ہو۔

چھٹی کنجی ___ قربِ الٰہی : روزوں کی آیات میں ان کے فرض ہونے کا تذکرہ ہے، نیز روزوں میں دی گئی آسانی کا بیان ہے۔ روزوں کے احکام کے دوران ہی ایک ایسی آیت ہے جو بعض حضرات کے نزدیک روزوں سے متعلق نہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ روزوں کے سیاق و سباق میں اس آیت کاوجود ایک عظیم حقیقت پر دلالت کر رہا ہے مگر اس حقیقت کو جاننے کے لیے غور وفکر کی ضرورت ہے۔ وہ آیت یہ ہے:

وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ط اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْابِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَo (البقرۃ ۲:۱۸۶)اور اے نبیؐ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو انھیں بتا دو کہ میںاُن سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اورجواب دیتا ہوں۔ لہٰذاانھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں (یہ بات تم انھیں سنا دو) شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔

جو روزوں کے احکام کی پابندی کرتا ہے اور قرآن کی راہ نمائی سے استفادہ کرتا ہے وہ قربِ الٰہی کا مستحق ٹھیرتا ہے اور اللہ سبحانہٗ کی محبت کا اہل بن جاتا ہے۔ رمضان میں کثرت سے نوافل کی ادایگی انسان کو اللہ کا محبوب بنا دیتی ہے۔ مشہور حدیث قدسی ہے: ’’بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے، حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں‘‘۔

روزے دار کے ہاتھ میں جب یہ چابی آجاتی ہے تو اسے دعا کی ضرورت و اہمیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ دعا عبادت ہے۔ انسان جب کثرت سے دعا کرتا ہے اور یوں اللہ سے اس کا رابطہ مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ لامحالہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے، اس کے احکام کو قبول کرتا اور ان پر عمل کرتاہے۔ دعا اللہ کی پناہ میںآنا ہے، اللہ کو یاد کرنا ہے اور جب بندہ اپنے پروردگار کو یاد کرتا ہے توربّ بھی اپنے بندے کو یاد فرماتا ہے۔ ارشاد ہے:

فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْ کُرْکُمْ وَاشْکُرُوْالِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ o(البقرۃ ۲:۱۵۲) لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمھیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو کُفرانِ نعمت نہ کرو۔

روزے دار فرائض و نوافل ادا کرکے تمام نیک اعمال بجا لا کے قربِ الٰہی کا مستحق بنتا ہے، پھراللہ اسے اپنے قرب سے نوازتا ہے اور اس کی دعاؤں کو سنتا اور قبول فرماتا ہے۔

ان کنجیوں کی مدد سے روزہ دار کو موتیوں اور ہیروں سے بھرے خزانے مل سکتے ہیں۔ ان خزانوں کے منہ رمضان کے مہینے میں کھلتے ہیں، اور اس عہدوعمل کو تازہ رکھنے والوں پر رمضان کے بعد بھی کھلے ہی رہتے ہیں۔ روزے دار اپنی دنیوی زندگی کے لیے بھی ان سے بہت کچھ   لے سکتا ہے اور یہیں سے آخرت کی دائمی زندگی کے لیے بہت کچھ پا سکتا ہے۔ گویا ان چابیوں کی مدد سے وہ تمام مراحل میں ترقی کر سکتا ہے اور ان خزانوں سے کافی حد تک فائدہ اٹھا سکتاہے۔ آئیے اب یہ دیکھیں کہ یہ خزانے ہیں کون کون سے؟

پرہیز کے خزانے

روزہ دار جب اطاعت ملحوظ رکھتا ہے، نافرمانی ترک کر دیتا ہے، روزوں کے آداب کی پابندی کرتا ہے، اپنے ارادے کو قوی کر لیتاہے، اسے عادات کی غلامی سے بچا لیتا ہے تو ان سب کاموں سے وہ روزوں کی فرضیت کا اصل مقصد، یعنی تقویٰ پا لیتا ہے۔ اس میں مشق و تربیت کے ذریعے برے کاموں سے بچنے اور دور رہنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یوں اب وہ پرہیز و احتیاط کے خزانوں کا مالک بن جاتا ہے۔ وہ اس استعداد کی بدولت اپنے طرز عمل کو ہر خرابی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس پر یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے ارادے کو بروے کار لا کر جب پابندیاں اختیار کرتا ہے، ہر قبیح و شر سے بچتا ہے تو اسے پرہیز کا خزانہ ملتا ہے۔ اللہ پر اس کا اعتماد بڑھتا ہے، خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے، پھر شیطان اس پر وار نہیں کر سکتا، وسوسہ اندازی کرکے اسے گمراہ نہیں کرسکتا۔ روزے دار کو تقویٰ و پرہیز گاری کی دولت مل جاتی ہے اور یہی دولتِ بے بہا انسان کو منکرات و شہوات اور گناہوں سے دور رکھتی ہے۔

ترقی کے خزانے

روزہ رکھنے اور راتوں کو قیام کرنے کا اجرو ثواب یقینی ہے۔ روزے دار اجر وثواب کا دنیا میں بھی منتظر رہتا ہے اور آخرت میں تو اجرو ثواب کی صورت میں جزا کا ملنا اس کے لیے یقینی ہے۔ معلوم ہوا کہ ثواب کی چابیوں کا تعلق قرأتِ قرآن ، دعا، قیام، اعتکاف وغیرہ جیسے اعمال سے ہے۔ انھی چابیوں سے روزے دار کو عظیم خزانہ ملتا ہے، یہ ہے ترقی کا خزانہ۔ اس لیے کہ جو شخص اللہ کی مہربانی و عنایت سے تقویٰ کی صفت سے بہرہ ور ہو جاتا ہے تو وہ ایمان کی مٹھاس سے آشنا ہوجاتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسولؐ اسے سب سے زیادہ محبوب ہو جاتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام طاعات(فرض ہو یا نفل) کی پابندی کی جائے اور فرماںبرداری میں خوب کوشش کی جائے۔ یہ خزانہ نیک اعمال سے بھرپور ہے۔ تلاوتِ قرآن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں رمضان میں خوب سخاوت، روزے داروں کی افطاری کے انتظام، صلہ رحمی، یتیموں کا خیال رکھنا اوررمضان میں ہر طرح کی نفل عبادت زیادہ سے زیادہ کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا راستہ ہے۔

ان تمام کاموں سے روزہ دار ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے اور اللہ کی رضا کا حق دار بنتا ہے۔

حبّ الٰہی کے خزانے

جس شخص کو تقویٰ و پرہیز گاری کی نعمت اور اطاعتِ الٰہی میں ترقی کے مواقع ملے ہوں وہی اس بات کا حق دار ہے کہ اللہ کی عنایات کا بھی مستحق بنے۔ بندے پر اللہ کی سب سے بڑی عنایت محبت ہے۔ بندے کے لیے یہ بہت بڑی جزا ہے۔ حدیث میں ہے: ’’پس جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اوراس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو اسے ضرور دوں گا اور اگر مجھ سے پناہ مانگے توضرور اسے پناہ دوں گا‘‘۔

روزہ دار چاہتا ہے کہ اس نے قرآن سے جو تعلق قائم کیا ہے، اس کا اسے اجر ملے۔ وہ پورے مہینے میں لیلۃ القدر کا متلاشی رہا ہے، اسے اس رات کا نور ملے۔ اسے اعتکاف اور شب بیداری کا ثواب ملے، اسے آخری عشرے کی دوڑ دھوپ کا اجر حاصل ہو۔

روزہ دار چاہتا ہے کہ وہ جہنم سے آزادی پائے، اللہ اس کے روزے قبول کرے۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ کے فضل کی یہ اُمید عمل، محنت اور جدوجہد کے بعد کی جا رہی ہے۔ روزے دار کو ملنے والے یہ خزانے رب کریم کے عطیے ہیں۔ یہ خزانے روزہ دار کے لیے زندگی بھر باعثِ تقویت رہیں گے۔ قبولیت دعا کے لیے بھی، اسے انھی خزانوں پر بھروسا ہوگا مگران تمام آرزوؤں کا انحصار عمل پر ہے۔ اس لیے ارشاد ہوا:

فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْ مِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَo (البقرۃ۲: ۱۸۶) لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں (یہ بات تم انھیں سنادو) شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔

یا اللہ! ہمیں خزانوں کی کنجیاں عطا فرما۔

جب ہم رمضان کا مہینہ گزار لیں تو ہم تیرے فضل سے مالا مال ہوں۔

پھر ہم تیرے فضل و کرم سے ہمیشہ مالا مال رہیں۔

یا اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم رمضان کا احترام کریں۔

اس کی چابیاں اورخزانے ہمارے ہاتھ لگیں۔

ان چابیوں سے ہمیں اپنی ہدایت کے خزانے کھولنے کی توفیق عطا فرما دے۔آمین!

ہرمعمار کے لیے ضروری ہے کہ جس زمین پراسے عمارت بنانی ہے، سب سے پہلے اس کا معائنہ کرے اور اسے خاروخس سے پاک کرے۔ اس کی سطح ہموار بنائے اور اس پر اپنے نقشے کے مطابق عمارت کی بنیاد رکھے۔

ڈاکٹر محمد اقبال کے فکری کارنامے کے دو پہلو ہیں: سب سے پہلے انھوں نے اپنے ماحول کا جائزہ لیا اور اس میں ان عناصر کی نشان دہی کی، جو اس برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی ذہنی غلامی کا سبب تھے۔ اس کے بعد انھوں نے اسی جائزے کی روشنی میں آزادی اور ترقی کی راہ متعین کی۔ ان کا اپنا ذہن اور پس منظر اسلامی تھا اور انھوں نے اسی نقطۂ نگاہ سے سارے مسائل کا مطالعہ کیا۔ اس مطالعے کے دوران اقبال نے دیکھا کہ مسلمانوں میں ذہنی نشوونما ختم ہوچکی ہے یا ٹھٹھر کر رہ گئی ہے۔ انھوں نے جو نتائج اخذ کیے، وہ ایک عمومی اہمیت رکھتے ہیں۔ جن کے مطابق وہ تقلید کے بندے بن چکے ہیں۔ علم و حکمت کا وہ خزانہ جو انھیں ورثے میں ملا تھا، وہ اُسے دوسری قوموں کے حوالے کرچکے ہیں۔ تجربے اور مشاہدے سے جو علم حاصل ہوتا ہے، اس سے بے تعلق ہیں۔

منطقِ استقرائی کہ جس کے مسلمان خودموجد اور مفسر تھے، ان کے لیے ایک اجنبی چیز بن چکی ہے۔ سائنسی علوم اور تکنیکی فنون سے بے بہرہ ہیں حتیٰ کہ ان میں یہ مسئلہ بھی زیربحث ہے کہ ’’سائنس کا مطالعہ جائز بھی ہے کہ نہیں‘‘۔ ان کے دماغ میں بادشاہت اور آمریت کے تصورات اور خیالات کے نتیجے میں فساد اور پیری مریدی کے توہمات جاگزیں ہیں۔ زندگی کی عملی قوتیں سلب ہوچکی ہیں۔  حق و باطل میں امتیاز کرنے اور باطل قوتوں کے خلاف جہاد کی صلاحیت تقریباً فنا ہوچکی ہے۔ اقبال نے دیکھا کہ ایک طرف مسلمانوں کے ہاتھوں، دین اسلام چھوٹے چھوٹے متنازعہ فیہ مسائل اور دور ازکار تاویلات کا مجموعہ بن کررہ گیا ہے، اور دوسری طرف نئے نئے افکاراور تصورات جو انگریزی حکومت کے ہمراہ اس برصغیر کی سرزمین میں داخل ہوئے تھے، مسلمان اُنھیں اپنے لیے چراغِ راہ سمجھنے لگے۔

واقعہ یہ ہے کہ انگریزوں نے رنگ، نسل اور جغرافیائی قومیت کے تصورات کو اس طرح پیش کیا کہ جیسے وہ کوئی الہامی چیز ہوں۔ مسلمانوں کی نئی نسل نے اس نئی تعلیم کو آمنّا وصدقنا کہا۔ مغرب کی ہرچیز انھیں اچھی نظر آنے لگی اور وہ دو گروہوں میں بٹ گئے: ایک تو وہ گروہ جو شدت سے پرانی روایات کا پابند تھا اور مغرب کے خیالات کی طرف سے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔ یہ گروہ مشرق کی کورانہ تقلید کا حامی تھا۔ دوسرا گروہ جو اپنی ہرچیز کو بُرا اور باہرسے آئی ہوئی ہرچیز کو اچھا سمجھتا تھا۔ یہ طبقہ مغرب کی کورانہ پرستش کی نمایندگی کرتا تھا۔

اکبرالٰہ آبادی نے ان دوطبقوں پر ’شیخ‘ اور’ مسٹر‘ کے لیبل لگائے۔ انھیں ’شیخ‘ سے ہمدردی تھی اور ’مسٹر‘ سے بے زاری۔ البتہ انھوں نے ہمدردی اور بے زاری کا اظہاراپنے مخصوص استہزا کےرنگ میں کیا۔ اکبر اس سے آگے نہ بڑھ سکے کیونکہ ان کے سامنے پرانی روایات کو قائم رکھنے اور ان پر کاربند رہنے کے سوا کوئی اور چیز نہ تھی۔ سیّداحمد خاں نے کوشش کی کہ پرانی روایات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ نئے خیالات اورنئی تعلیمات سے بھی فائدہ اُٹھایا جائے، مگر ان کی طبیعت میں بھی اپنی قوم کی ذلّت اور خواری اور انگریزوں کےعروج کا تاثر اتنا گہرا تھا کہ ان کے ہاں بھی ایک حد تک مغربی تہذیب کی طرف جھکاؤ نظر آتا ہے۔ یہی حال سیّداحمد خاں کے رفقا اور معاصرین کا تھا۔ مرزا اسداللہ خاں غالب، سیّداحمد خاں سے بھی آگے تھے ۔وہ صاحبانِ انگریز کے نظامِ حکومت اورحُسنِ انتظام کے اس قدر معترف تھے کہ جب سیّداحمد خاں نے آئین اکبری کو تصحیح کرکے چھپوایا اور غالب کے پاس تقریظ کے لیے بھیجا تو غالب نے اسے کوئی وقعت نہیں دی، بلکہ یہاں تک فرمایا کہ  ع

مردہ پروردن مبارک کار نیست

سرسیّد احمد خاں کے بعد کی نسل میں جو اقبال اور ان کے معاصرین پرمشتمل تھی، یہ احساس اور بھی شدت اختیار کرچکا تھا۔ یہ تھی اس برصغیر کے مسلمانوں کی ذہنی، اخلاقی اورروحانی کیفیت۔

فکری جدوجہد:  جب اقبال نے اپنے فکری جہاد کا آغاز کیا۔اقبال کے نزدیک فکری تعمیر سے پہلے تطہیر فکر لازم تھی۔ انھوں نے سب سے پہلے کورانہ روایت پرستی اور اندھادھند تقلید کے خلاف آواز اُٹھائی۔ انھیں یہ تسلیم تھا کہ زمانۂ انحطاط میں تقلید، اجتہاد سے بہتر ہوا کرتی ہے، مگروہ انحطاط کے دور سے پرے اُفق پر ایک نئی زندگی کی کرن دیکھ رہے تھے، اس لیے ان کی نگاہ میں محض تقلید اب کارآمد نہیں ہوسکتی تھی:

اگر تقلید بودے شیوئہ خوب

پیمبرؐ ہم رہِ اجداد رفتے

[اگر تقلید ِ [محض] قابلِ تعریف چیز ہوتی تو آں حضوؐر بھی اپنے آباواجداد کا راستہ اپنا لیتے]۔ (پیامِ مشرق، ص۲۲۲)

اقبال نے اسلامی فقہ کے مقلدانہ جمود کو توڑنا چاہا اور اجتہاد کو لازم قرار دیا۔ وہ اجتہاد مطلق کے قائل تھے اور دورِ حاضر کے مسائل اور ضروریات کے پیش نظر اسلام کے لازوال اصولوں کی بنیاد پراسلامی فقہ کی ایک نئی تشکیل چاہتے تھے۔ انھوں نے پرانے اور نئے دونوں مسائل پر نظر ڈالی اور ان دونوں میں سے جو بہتر، صحت بخش اور حیات پرور نظر آیا، اسے انھوں نے اختیار کیا اور دنیا کے سامنے رکھا۔

انھوں نے دیکھا کہ بادشاہت، سلطانی اور تصوف نے مسلمانوں کو افکار اور کردار کی آزادی سے محروم کر دیا ہے۔ وہ اس کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری میں ایک نئی زندگی پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کلام ان تصورات کے خلاف ایک مستقل جہاد ہے۔ تصوف کی عجمی تحریکوں میں سب سے بڑی تعلیم نفیِ خودی ہے، یعنی: انسان کو اپنی خودی کی پرورش اور انضباط کے بجاے اسے  فناکردینا چاہیے اور زندگی کی جنگ میں ایک سپاہی کی طرح لڑنے کے بجاے ایک کونے میں جابیٹھے اور اسی گوشۂ عافیت کو اپنی معراج سمجھے‘۔ اقبال نے اس غیراسلامی نظریے کے خلاف جو بودھ مت کے نروان کے تخیل سے ماخوذ ہے، مسلسل اور مستقل جہاد کیا ہے۔ ان کی تعلیم سے انسان کو سکون و راحت کے بجاے مستقل جستجو اور جدوجہد کے ذریعے اپنی شخصیت کو توانا اورمتحرک رکھنا چاہیے۔ حرکت اور کوشش پیہمِ زندگی ہے اور سکون و آرام، موت۔ زندگی کی پرورش انھی مقاصد سے ہوتی ہے،جنھیں انسان اپنا نصب العین بنا لے۔

مغربی تہذیب پر  بـے لاگ تنقید : سب سے بڑا مقصد نوعِ انسانی کی فلاح و بہبود کی کوشش ہے اور یہ کوشش اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب دنیا کے سب سے بڑے انسان کی مثالی زندگی انسان کے پیش نظر ہو۔ اقبال کو جوعقیدت جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، اس کی بنیاد انسانی فطرت پرہے۔

مشرق پر تنقید کے ساتھ اقبال نے مغرب پر بھی تنقید کی ہے۔ اس تنقید کو آج جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں نہ صرف اقبال کی بصیرت غیرمعمولی نظر آتی ہے بلکہ ان کی دیانت داری اور بے باکی و حق گوئی حیرت انگیز دکھائی دیتی ہے۔ انھوں نے مشرقی اقوام کو تنقید ِ مغرب کا سبق دیا  ع

باید ایں اقوام را تنقیدِ غرب

     (جاوید نامہ، ص ۱۷۸)

نسل اور وطنیت کے تصورات کے خلاف انھوں نے احتجاج کیا۔ وطنیت کے نئے تصور کو انھوں نے انسانی وحدت کا دشمن سمجھا اور اسے نوعِ انسانی کے بہترین مفاد کے خلاف پایا:

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سےوطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے

قومیتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

(بانگ ِ درا،ص ۱۷۱)

جو کرےگا امتیازِ رنگ و خوں، مٹ جائے گا

’ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہُر

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی

اُڑ گیا دنیا سے تُو مانندِ خاکِ رہگزر

(ایضاً، ص ۲۷۹)

مغربی تہذیب نے انسانی معاشرے کو مختلف متضاد طبقوں میں جو تقسیم کیا ہے، اس کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے:

تمیز بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے

حذر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

(ایضاً، ص ۲۸۶)

اقتصادی لحاظ سے مغربی معاشرہ کہاں تک کامیاب ہے:

کیا یہی ہے معاشرت کا کمال

مرد بے کار و زن تہی آغوش

(ضربِ کلیم، ص۹۰)

اقبال نے جدید مملکت کے غیراخلاقی میکانیکی تخیل کی مذمت کی ہے  ع

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

مغربی تہذیب کی عقلیت پرستی کو وہ ایک مکمل نظامِ حیات کا رُتبہ دینے کو ہرگز تیار نہیں ہیں۔ عقل بہت مفیداور کارآمد چیز ہے مگر انسان کے بلند ترین مقاصد محض عقل کی پیروی سے حاصل نہیں ہوتے ،اسے ایک جذباتی اور روحانی وابستگی کی ضرورت ہے    ؎

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے محوِ تماشاے لبِ بام ابھی

(بانگِ درا، ص ۲۹۴)

وہ عقلی جدوجہد کے مخالف نہیں ہیں ، بلکہ علمی میدان میں اس کے کارناموں کے مداح ہیں۔ مغربی تہذیب کا سب سے اہم اور روشن پہلو علمی تحقیقات ہیں، جن کا نتیجہ سائنس کے کرشمے ہیں۔ یہی مغرب کی ترقی کا رازہے:

علمِ اشیا علّم الاسماستے

ہم عصا و ہم یدِبیضاستے

علمِ اشیا داد مغرب را فروغ

حکمتِ او ماست می بنددزدوغ

دشنہ زن در پیکرِ ایں کائنات

در شکم دارد گہر چوں سومنات

(پیامِ مشرق، ص ۱۹)

اقبال ’مغربی عقل‘ اور’ مشرقی عشق‘ کا ایک کامل امتزاج پیش کرتے ہیں  ؎

خرد افزود مرا درسِ حکیمانِ فرنگ

سینہ افروخت مرا صحبتِ صاحب نظراں

(ایضاً، ص ۱۴۵)

اور عقل و عشق کا مقام انسانی شخصیت میں اقبال نے یوں معین کیا ہے   ؎

من بندئہ آزادم ،عشق است امامِ من

عشق است امامِ من، عقل است غلامِ من

(زبورِ عجم، ص ۱۹۷)

مغرب اور مشرق کے بہترین عناصر کا امتزاج اقبال کے نزدیک اسلام کی روح کا حقیقی مظہر ہے۔ اقبال نے اسلام کی ابدی اقدار کو، جن کی بنیاد توحید باری ، وحدتِ انسانی، تسخیر فطرت، مسلسل جدوجہد، تعمیر خودی اور مستقل رجائیت پر مبنی ہے، انھیں موجودہ زمانے کےفلسفیانہ تصورات کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ وہ ملوکیت اور اشتراکیت دونوں کو انسانیت کے لیے ایک لعنت سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ دنیا کی مشکلات کا حل اگرکہیں ہے تو وہ اسلام میں ہے۔ وہ مسلمانوں کی کوتاہیوں سے آگاہ ہیں، مگر اسلام کے مستقبل سے کسی طرح نااُمید نہیں ہیں بلکہ ان کا ایمان ہے کہ  ؎

شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے

یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے

(بانگِ درا، ص ۲۱۶)

 راہِ نجات اور نظریہ پاکستان : آج کی دنیا جوہری بم کی دہشت اور تباہی سے  لرزہ براندام ہے، مگر وہ اقبال کے پیغام و تعلیم میں دوامی امن و سکون کی راہ ڈھونڈ سکتی ہے۔ اقبال نے اُمید کا جو پیغام دیا ہے، وہ پوری انسانیت کے لیے ہے اور یہ پیغام قلب ِ اسلام سے ہی اُبھرا ہے۔

اقبال نے ’قومیت‘ کا محدود دائرہ توڑ کر ان اعلیٰ و ارفع اقدارِ حیات کی ترجمانی کی ہے، جو اسلام کا ہمہ گیر منشور ہے اور جو متضاد، ایک دوسرے سے اُلجھتے ہوئے نظریات کے مابین ، ایک سلجھی ہوئی معتدل سلامتی کی راہ دکھاتا اور چلنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ یہ راہِ راست اسلام ہی دکھاتا ہے اور اس کی روح اقبال جیسے شارحینِ اسلام کے پیغام میں نظرآتی ہے۔

مَیں اس خیال کی بھی تردید کرتا ہوں کہ نظریۂ پاکستان کو معین شکل دینے کا کام اقبال کے سوا کسی اور نے بھی انجام دیا تھا۔ اقبال کا مشہور خطبۂ صدارت (الٰہ آباد) قائداعظم محمدعلی جناحؒ اور دوسرے اکابرین ملت سے ان کی خط کتابت اور خود ان کی زندگی اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ نظریۂ پاکستان کے وہی خالق تھے۔ اقبال شروع ہی سے انگریز کے وضع کردہ آئینی تحفظات کو بے کار خیال کرتے تھے اور ان کی نگاہ مستقبل پر جمی ہوئی تھی۔ انھیں بہت جلد یہ احساس ہوگیا تھا کہ اگر ہندستان متحدہ طور پر آزاد ہوا تو ہندو اکثریت موجود رہے گی اور اس وقت یہ آئینی تحفظات مسلمانوں کے کچھ بھی کام نہ آئیں گے۔ اکثریت اپنے بل پر من مانی کرسکے گی اور مسلمانوں کے مفادات کو کوئی نہ پوچھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے شمال مغربی خطے کی آزاد و خودمختار مسلم مملکت کا تصور پیش کرنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد مسلمانانِ بنگال کو بھی اس مجوزہ مملکت کے دائرے میں شامل کرلیا۔

اقبال ایک علاحدہ مسلم مملکت کا تصور پیش کرچکے تھے اور اس ’جرم‘ کی پاداش میں وہ نہ صرف اغیار بلکہ خود اپنوں کی طرف سے بھی موردِ سبّ و شتم بنائے گئے۔ اس وقت کوئی نہ اُٹھا اور نہ اس سبّ و شتم کو برداشت کرنے کے لیے شریک بنا، مگر اب، جب کہ پاکستان بن چکا ہے، اس نظریے کی ملکیت کے حصے بخرے کیے جارہے ہیں مگر حقیقت کچھ اور ہی ہے۔

یاد کیجیے، اقبال نے ۱۹۰۹ء ہی میں غلام قادر صاحب فرخ امرتسری کے نام ایک خط میں یہ بات کھل کر کہی تھی کہ’’ آزاد ہندستان میں ’یک قومی‘ تصور، خواہ ویسے کتنا ہی دل کش کیوں نہ ہو مگر قابلِ عمل ہرگز نہیں ہے‘‘۔ اقبال نے پوری قوت سے جداگانہ انتخابات کا بھی مطالبہ کیا تھا اور دوسرے مسلم رہنماؤں کو اپنے نظریے کی صحت کا قائل کیا بھی تھا۔ خود قائداعظم بھی یہ تسلیم فرماتے ہیں کہ مسئلہ پاکستان پر طویل بحث و تمحیص کے بعد ہی انھوں نے نظریاتِ اقبال سے اتفاق کیا تھا۔

 نشاتِ ثانیہ کے لیے مساعی: اقبال نے مسلمانِ برصغیر کی نشاتِ ثانیہ کے لیے جو عظیم کام کیا ہے، اس کو شاید کسی بھی پیمانے سے پوری طرح نہیں ناپا جاسکتا۔ اقبال نے مسلمانوں کے معاشری، اخلاقی، سیاسی، تعلیمی اور اقتصادی شعور میں ایک انقلاب آفریں اضافہ کیا۔ انھوں نے ہی اسلام کے پیغام کو اس عہد کے سیاق و سباق میں دیکھا اور سمجھایا۔ ایک صدی کے روندے ہوئے مسلمانوں کو اس پیغام کی روح،دوبارہ پانے کی راہ اقبال نے ہی سجھائی اور ان کے فکروعمل کو نئی صلاحیتیں عطا کیں۔ اقبال نے ہمیں حقائق سے آنکھ ملانے کی سکت بخشی اور انھیں سمجھنے کی بصیرت دی۔ اس ضمن میں اقبال کو مسلمانوں کی اقتصادی پستی کا بڑی شدت سے احساس تھا، اور وہ دل سے چاہتے تھے کہ ملت آزاد، خوش حال اور سربلند ہو۔

اقبال پہلے مفکر تھے، جنھوں نے مغربی تہذیب کا مطالعہ تنقیدی نظر سے کیا، اور پھر اس کے مضر پہلوؤں کو رد اور مفید پہلوؤں کو قبول کیا۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے قیام کے بعد مسلمانوں میں قدامت پسندی اور جدت طرازی کے غیرمتوازی فکری گروہ پیدا ہوگئے تھے اور اقبال اس سارے رجحان کو دیکھ رہے تھے۔ اسی لیے انھوں نے تجزیے کے ساتھ مسلمانوں کو صحیح راہ دکھائی۔ وہ کسی ایک نظریے کے ساتھ چمٹے رہنے کے عادی نہ تھے۔ وہ تو زندگی کو ایک رواں دواں عمرانی عمل سمجھتے تھے۔ انھوں نے مغربی سامراج ، مادہ پرستی اور سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کی سخت مخالفت کی اور سماجی عدل، اقتصادی مساوات اور بقاے باہمی کی اسلامی قدروں کی قندیل ایک بار پھر ہمارے دلوں میں روشن کی۔

بعض اقتصادی نظریات جو آج مقبولِ عام بنے ہوئے ہیں، انھیں فکر ِ اقبال پہلے ہی پیش کرچکی تھی۔ اقبال کا ایک رسالہ علم الاقتصاد پر موجود ہے۔یہ جدید معاشیات پر اُردو کی اوّلین کتاب ہے اور ان نظریات کی حامل، جن کا ذکرابھی ہوا۔ یہ زمانہ وہ تھا جب تعلیم بس ایک معاشری تعیش کے طور پر موجود تھی، مگر اقبال نے اقتصادی ترقی کے ضمن میں تعلیم کی اہمیت پر پوری طرح زور دیا۔ ہندو اقتصادی طور پر مسلمانوں پر فوقیت رکھتے تھے اور یہ چیز اقبال کے احساس میں بڑی شدت پیدا کر رہی تھی اور اس کا اظہاراُن کے ایک مقالے ’ملّتِ بیضا پر ایک عمرانی نظر‘ میں بہت زیادہ وضاحت سے ملتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی سیاسی جماعت، ان کے معاشی حالات بہتر بنانے کی طرف پوری پوری توجہ دے۔

اقبال کی بصیرت برصغیر میں کیا کیا دیکھ رہی تھی، اس کا مختصر ذکر بھی یہاں ضروری ہے:

اب یہ دور آچکا تھا کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اپنی اپنی ثقافت کے احیا کا احساس جاگا اور اس بات نے ہی دونوں کو الگ الگ راہوں پر ڈال دیا۔ ہندی، اُردو سے الگ ہوگئی۔ ہندو سیاست دانوں اورادیبوں نے اپنی قومی خصوصیات کے اظہار کے لیے ہندی کو ہی ذریعۂ اظہار بنانا شروع کیا۔ پھر تاریخِ ہند کو دونوں قوموں نے اپنے اپنے ثقافتی رجحان کےآئینے میں دیکھنا شروع کیا۔ انگریزی حکومت کےسایے میں ہندو اکثریت نے حکمرانوں کا قرب حاصل کرلیا مگر مسلمان عتاب ہی میں رہے اور ان کی اقتصادی حالت دگرگوں ہوتی چلی گئی۔ اکثریت اور اقلیت کا یہ فرق بڑھتا ہی چلا گیا اور باہمی تصادم کے لیے یہ بھی ایک بڑا سبب بنا۔ جب سیاسی اختیار و حقوق کی منتقلی کا چرچا ہونے لگا، تو دونوں نے شدت سے اپنے اپنے موقف کا احساس و اظہار کیا۔

یہ حالات و کوائف تھے کہ فکر ِ اقبال نے مسئلہ ہند کا قابلِ عمل حل پیش کیا۔ اقبال آزادی کی تڑپ لے کر پیدا ہوئے تھے اور ذہانت بھی بلا کی پائی تھی۔ انھیں انسانیت کا وسیع تر تصور عزیز تھا۔ انھوں نے احساسِ ذات اور اظہارِ ذات پر ہی سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ وہ دوسروں پر تکیہ و انحصار کرنے کو خودی کی موت قرار دیتے ہیں۔ اقوامِ مغرب کی قوم پرستی کا تجزیہ کرنے کے بعد وہ اس موقف پر بار بار زوردیتے رہے کہ اسلام ہی زندگی کی اَقدار کا سب سے بلند، سب سے ارفع اور بہترین نظام پیش کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ حکیم اُلامت علامہ محمد اقبال کا پیغام اسلام کی اعلیٰ و ہمہ گیر اقدار کی بہترین شرح ہے، اور اس پر عمل ہمارا کام۔

علّامہ اقبال، مہاراجا سرکشن پرشاد کے نام ۳۱ ؍اکتوبر ۱۹۱۶ء کے خط میں لکھتے ہیں: ’’صبح چار بجے، کبھی تین بجے اٹھتا ہوں، پھر اس کے بعد نہیں سوتا‘ سواے اس کے کہ مصلّے پر کبھی اُونگھ جاؤں‘‘۔(اقبال بنام شاد، ص ۱۸۸)

تقریباً دو سال بعد ‘ ۱۱ جون ۱۹۱۸ء کے خط میں پھر لکھتے ہیں: ’’بندۂ رو سیاہ کبھی کبھی تہجّد کے لیے اٹھتا ہے اور بعض دفعہ تمام رات بیداری میں گزر جاتی ہے۔ سو، خدا کے فضل و کرم سے، تہجّد سے پہلے بھی اور بعد میں بھی، دعا کروں گا کہ اس وقت عبادتِ الٰہی میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے‘‘۔(ایضاً، ص ۲۴۵)

ان بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ علّامہ اقبال اوائلِ عمر ہی سے سحرخیزی کا ایک طبعی ذوق رکھتے تھے اور یورپ کے نسبتاً مختلف اور ناسازگار ماحول میں بھی، ان کا یہ ذوق برقرار رہا:

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحرخیزی

(بالِ جبریل ، ص ۴۰)

سوال یہ ہے کہ اقبال کے ذوقِ سحر خیزی کی اس تربیت و تشکیل میں کن عناصر کو دخل رہا اور اس کی وجوہ کیا تھیں؟ اس سلسلے میں علّامہ کے اسلوبِ زندگی، ان کی افتادِ طبع اور ان کے ذخیرۂ نظم و نثر کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔

اول تو یہی بات کچھ کم اہم نہیں کہ ہمارے ہاں سحر خیزی کو خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی اور مشرقی روایات کے مطابق علی الصّباح جاگنا اور جگانا ایک مبارک اور قابلِ قدر فعل ہے۔ اقبال اس سحرخیز خورشید کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں جو نیند کے ماتوں کو جگاتا ہے:

خورشید ، وہ عابدِ سحر خیز

لانے والا پیام ’بر خیز‘

(بانگِ درا ، ص ۱۲۷)

علّامہ، قرآن حکیم کے مفاہیم و معانی پر گہری نظر رکھتے تھے۔ قرآن حکیم میں قیام اللّیل اور عبادتِ شب کی بہت تلقین کی گئی ہے۔ اسے اہلِ تقویٰ اور ’عبادُ الرحمٰن‘ کی نشانی بتایا گیا ہے، فرمایا:

وَالَّذِیْنَ یَبِـیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا (الفرقان۲۸: ۶۴) (رحمٰن کے اصلی بندے) وہ (ہیں جو) اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ وَبِالْاَسْحَارِھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (الذاریات۵۱: ۱۸) وہ سحر کے اوقات میں استغفار کیا کرتے تھے۔ o اَلصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(اٰلِ عمران ۳: ۱۷) یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راست باز ہیں، فرماں بردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں۔

ظاہر ہے یہاں رات کی عبادت سے مراد تہجّد کی نماز ہے۔ اللہ جلّ شانہ، نے براہِ راست رسولِ اکرمؐ کو عبادتِ شب یعنی نمازِ تہجّد کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:وَمِنَ الَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ق عَسٰی اَنْ یَّـبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(بنی اسرائیل ۱۷: ۷۹) اور رات کو تہجّد پڑھو۔ یہ تمھارے لیے نفل ہے۔ بعید نہیں کہ تمھیں تمھارا رب مقامِ محمود پر فائز کر دے۔

ایک اور مقام پر آپ ؐکو اس طرح تاکید فرمائی: یٰاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ o قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا o نِّصْفَہٗ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا o اَوْ زِدْ عَلَیْہِ وَرِتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا (المزمل: ۱-۴) اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے! رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو، مگر کم۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔

یہاں اگرچہ خطاب براہِ راست نبی اکرمؐ سے ہے لیکن بالواسطہ عبادتِ شب کی تاکید، امّت کو بھی کی گئی ہے کیونکہ نبی کے ہر چھوٹے بڑے عمل میں امّت کو ان کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔

علّامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد نہایت نیک نفس اور متقی بزرگ تھے۔ پابندِ صوم و صلوٰۃ اور عبادتِ الٰہی کے مشتاق---کچھ تعجب نہیں کہ تہجّد اور قیام اللیل ان کے معمولات میں داخل ہو۔ اقبال کی شخصیت کی تشکیل و تعمیر میں شیخ نور محمد کی روحانیت کے اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کے لیے شیخ نورمحمد کی حیثیت، ایک مثالی شخصیّت کی تھی۔ عبادتِ شب کے ضمن میں بھی، انھوں نے یقینا اپنے والد سے اثرات قبول کیے ہوں گے۔ یہ فطری امر تھا۔

اصل میں تو یہ سنّتِ نبویؐ کا اِتباع تھا۔ نبی کریمؐ سے شیخ نور محمد اور خود اقبال کی وابستگی و شیفتگی محتاجِ بیان نہیں۔ اقبال نے جب بھی سحرخیزی اور عبادتِ شب کا اہتمام کیا تو قیام اللیل کے وہ تمام فوائد و ثمرات ان کے ذہن میں مستحضر ہوں گے، جن کی نشان دہی نبی کریمؐ نے فرمائی ہے۔ شب بیداری اور نمازِ تہجّد کی تاکید کے سلسلے میں چند احادیثِ نبویؐ ملاحظہ کیجیے:

عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ : عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ فَاِنَّہٗ  دَأْبُ الصَّالِحِیْنَ قَبْلَکُمْ وَھُوَ  قُرْبَۃٌ  لَکُمْ اِلٰی رَبِّکُمْ وَمُکَفِّرَۃٌ  لِلسَّیِّآتِ وَمَنْھَاۃٌ عَنِ الْاِثْمِ (ترمذی)، حضرت امامہؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: نمازِ تہجّد کا التزام کیا کرو۔ یہ تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی خصلت ہے اور خدا سے تمھیں قریب کرنے والی اور گناہوں کے برے اثرات مٹانے والی اور معاصی سے روکنے والی چیز ہے۔

عَـنْ  اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ  قَـالَ  قَـالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ : اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ بَعْدَ الصَّلٰوۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ الصَّلٰوۃُ  فِیْ  جَوْفِ اللَّیْلِ (مسلم)، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: فرض نماز کے بعد، سب سے افضل نماز، نصف شب میں پڑھی جانے والی (تہجّد کی) نماز ہے۔

 وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ یَقُوْلُ اِنَّ  فِی اللَّیْلِ لَسَاعَۃً لَایُوَافِـقُھَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ یَسْئَلُ  اللّٰہَ  فِیْھَا خَیْرًا مِنْ اَمْرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ  اِلَّا اَعْطَاہُ  اِیَّاہُ  وَذٰلِکَ کُلَّ لَیْلَۃٍ (مسلم)، حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی ؐنے فرمایا: رات میں ایک ساعت ہے۔ اگر اس میں کوئی مسلمان، دین و دنیا کی بھلائی کی دعا مانگے تو اللہ اس کو عطا فرما دیتا ہے اور یہ ساعت ہررات میں ہوتی ہے۔

عَنْ اَبِیْ  سَعِیْد  الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ  اللّٰہِ ثلثۃ یضحکَ اللّٰہُ اِلَیْہِمْ: الرَّجُلْ اِذَا قَامَ  بِاللَّیْلِ یُصَلِّیْ وَالْقَوْمُ اِذَا صَفُّوْا فِی الصَّلٰوۃِ  وَالْقَوْمُ اِذَا صَفُّوْا فِی قِتَالِ الْعَدُوِّ (مسنداحمد)، حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐاللہ نے فرمایا: تین شخص ہیں جنھیں دیکھ کر اللہ خوش ہوتا ہے اور ان سے راضی رہتا ہے: ایک تو وہ شخص جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے، دوسرے وہ لوگ جو نماز کے لیے صفوں کو برابر درست کریں اور تیسرے وہ لوگ جو دشمن کے مقابلے پر لڑنے کے لیے صفوں کو ترتیب دیں۔

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ  قَـالَ  قَـالَ  رَسُوْلُ  اللّٰہِ  یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلٰی السَّمَاءِ الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاٰخِرُ یَقُوْلُ مَنْ یَدْعُوْنِی  فَاَسْتَجِیْبُ  لَہٗ   مَنْ  یَسْاَلُنِیْ فَاُعْطِیْہِ مَنْ یَسْتَغْفِرُنِیْ  فَاَغْفِرُلَہٗ (بخاری، مسلم)، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ عزوجل روزانہ (رات کے وقت) دنیا کے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں، کون ہے جو مغفرت چاہے اور میں اسے بخش دوں۔

حضرت سیّد علی ہجویریؒ نے ایک جگہ فرمایا ہے: علم کے ساتھ فکر بھی ضروری ہے۔ کیونکہ فکر اور تدبر کے بغیر نہ تو آدمی کے اندر صحیح فہم بیدار ہوتا ہے اور نہ اس کے بغیر علم، آدمی کی زندگی پر کوئی گہرا اور دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔(کشف المحجوب ،اردو ترجمہ: میاں طفیل محمد، ص ۷۸)

ظاہر ہے کہ غوروفکر کی یہ تاکید، حیات و کائنات کی حقیقت و ماہیت تک پہنچنے کے لیے ہے۔ یہ مسلّم ہے کہ علّامہ اقبال محض شاعر نہ تھے، ایک مفکّر اور فلسفی شاعر تھے۔ تفکّر، ان کی شخصیت کا جز اور سوچ بچار اور غوروفکر ان کی عادتِ ثانیہ تھی۔ اگر ہم کچھ پیچھے چلیں اور اقبال کے ابتدائی دور کی شاعری پر نظر ڈالیں تو ہمیں شاعر کے ہاں حیات و کائنات کے بارے میں اس تفکّرکے بطن سے پھوٹتا ہوا، ایک استفہامیہ لہجہ ملتا ہے۔ پھر اسی ضمن میں ان کے ہاں ایک اضطراب، سکوں ناآشنائی، تنہائی کا الم انگیز احساس، اور ان احساسات کی تسکین کے لیے فطرت کے مناظر و مظاہر کی طرف رجوع اور شہروں اور آبادیوں سے ویرانوں اور صحراؤں کی طرف گریز کا رجحان بھی نمایاں ہے:

شورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا

ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

مرتا ہوں خامشی پر، یہ آرزو ہے میری

دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

(بانگِ درا، ص ۴۷)

وہ خموشی شام کی، جس پر تکلّم ہو فدا

وہ درختوں پر تفکّر کا سماں چھایا ہوا

(ایضاً، ص ۲۳)

کشتۂ عُزلت ہوں، آبادی میں گھبراتا ہوں میں

شہر سے سودا کی شدّت میں نکل جاتا ہوں میں

(ایضاً، ص ۷۷)

دن کی نسبت رات زیادہ پرسکون ہوتی ہے اور شب کے خاموش لمحوں میں غوروفکر کے لیے ماحول بہت سازگار ہوتا ہے۔ اس لیے آبادی سے گریز، تنہائی کی تلاش اور خاموشی کو پسند کرنے کا رجحان، بیداریِ شب تک پہنچتا ہے اور شاعر رات کی تنہائیوں میں حیات و کائنات کے متعلق ان سوالات پر غور کرتا ہے جو بہت ابتدا سے اس کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے تھے:

سمجھ میں آئی حقیقت نہ، جب ستاروں کی

اسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نے

(ایضاً، ص ۸۲)

تلاشِ حقیقت کے ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی یہ دعا ہے: اَرِنَا الْاَشْیَاءَ کَمَاہِیَ (اے اللہ)! ہمیں اس قابل بنا کہ ہم ہر چیز کو اس طرح دیکھیں جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔

احادیثِ مذکورہ کی روشنی میں شب بیداری کا ایک محرک اور عبادتِ شب کی غرض و غایت، اقبال کے نزدیک، حیات و کائنات کی حقیقت و ماہیت پر تفکّر اور دنیا و مافیہا کے مسائل پر غور کرنا ہے اور یہ بھی کہ ہم حقیقت آشنا ہو کر صراطِ مستقیم کو پالینے کے لیے حضورِ ایزدی میں دست بہ دُعا ہوں۔

شب کی تنہائیوں میں تفکّر، رجوع الی القرآن اور عبادتِ شب کے نتیجے میں شاعر کے حسّاس دل کو کچھ ایسا سکون و ثبات نصیب ہوا کہ اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہ نکلے۔ یہ تشکّر کے آنسو تھے۔ اس خدا کی بارگاہ میں عقیدت کے آنسو، جس نے شاعر کو طمانیت کی ویسی ہی کیفیت عطا کی تھی، جو صحرا کے ایک مسافر کو اچانک کسی نخلستان میں پہنچنے کے بعد نصیب ہوتی ہے۔ چنانچہ شب کی تنہائیوں میں جاگ جاگ کر آنسو بہانا اور آہ و فغاں کرنا اس کا مستقل شِعار بن گیا۔ یہ شِعار، اقبال کے ہاں ابتدائی دور کی شاعری سے لے کر آخری دور کی شاعری تک، ہر مرحلے اور ہر دور میں ایک مستقل رجحان کی شکل میں موجود ہے:

پچھلے پہر کی کوئل، وہ صبح کی مؤذّن

میں اس کا ہم نوا ہوں، وہ میری ہم نوا ہو

پھولوں کو آئے جس دم، شبنم وضو کرانے

رونا مرا وضو ہو، نالہ مری دعا ہو

(ایضاً، ص ۴۷)

دن کی شورش میں نکلتے ہوئے شرماتے ہیں

عُزلتِ شب میں مرے اشک ٹپک جاتے ہیں

(ایضاً، ص ۱۷۳)

لیکن شب کی تنہائیوں میں بیدار رہ کر آنسو بہانا بجاے خود مقصود نہ تھا۔ جو کچھ مطلوب و مقصود تھا، اس کی طرف علّامہ اقبال نے ایک دو جگہ اس طرح اشارہ کیا ہے:

سکوتِ شام سے تا نغمۂ سحرگاہی

ہزار مرحلہ ہاے فغانِ نیم شبی

(ایضاً، ص ۲۲۳)

کٹی ہے رات تو ہنگامہ گستری میں تری

سحر قریب ہے، اللہ کا نام لے ساقی

( ایضاً، ص ۲۰۸)

اقبال کی فغانِ نیم شب اور آہِ سحرگاہی کا رشتہ شب بیداری کی مذہبی روایت سے وابستہ ہے جیساکہ انھوں نے خود واضح کیا ہے: ’سحر قریب ہے، اللہ کا نام لے ساقی‘۔ گویا شب بیداری اور عبادت گزاری کا مقصد یہ تھا کہ اللہ کے حضور عجز و نیاز کے ساتھ دستِ دعا دراز کیا جائے۔

دعا وسیلۂ قربِ الٰہی ہے، جس کے نتیجے میں مومن خدا سے مزید توفیق و عنایت کی دعا مانگتا ہے۔ مناظر و مظاہر فطرت کے مطالعے کا دعا پر منتج ہونا اور اس ذریعے سے قربِ الٰہی کا حصول، ایک فطری اور تدریجی امر ہے۔ اقبال کے نظامِ فکر میں دعا کی خاص اہمیت ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

Religion is not satisfied with mere conception; it seeks a more intimate knowledge of and association with the object of its persuit. The agency through which this association is achieved is the act of worship or prayer. (Reconstruction, p 70-71) 

مذہب کے لیے یہ ممکن نہیں کہ صرف تصورات پر قناعت کر لے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے مقصود و مطلوب کا زیادہ گہرا علم حاصل کرے اور اس سے قریب تر ہوتا چلا جائے لیکن یہ قرب حاصل ہوگا تو دعا کے ذریعے۔(تشکیلِ جدید ،ص ۱۳۳)

Prayer, then, whether individual or associative, is an expression  of man's inner yearning for a response in the awful silence of the universe. It is a unique process of discovery. (Reconstruction, p 74) 

دعا خواہ انفرادی ہو، خواہ اجتماعی، ضمیرِ انسانی کی اس نہایت درجہ پوشیدہ آرزو کی ترجمان ہے کہ کائنات کے ہولناک سکوت میں وہ اپنی پکار کا کوئی جواب سنے۔ یہ انکشاف و تجسس کا (ایک) عدیم المثال عمل ہے۔(تشکیلِ جدید، ص ۱۳۹)

گویا وہ رجحان، جس نے تلاشِ حقیقت میں آبادی سے ویرانے اور انسان سے فطرت کی طرف گریز کیا تھا، اب فطرت اور ویرانے سے بھی کنارہ کشی کر کے گوشۂ قلب میں سمٹ آیا ہے اور نالۂ نیم شب، گریۂ سحری، فغانِ صبح گاہی اور دعا کے ذریعے قربِ الٰہی حاصل کر کے ان سوالات کا جواب چاہتا ہے، جو عرصۂ دراز سے اس کے قلبی اضطراب کا سبب بنے ہوئے ہیں:

چہ پرسی از طریق جستجویش

فرو آدر مقام ہاے و ہویش

شب و روزے کہ داری بر ابد زن

فغانِ صبح گاہی بر خرد زن

(زبور عجم ، ص ۱۶۴)

نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و بو میں

خرد کھوئی گئی ہے، چارسو میں

نہ چھوڑ اے دل! فغانِ صبح گاہی

اماں شاید ملے اللہ ہُو میں

(بالِ جبریل ، ص ۸۳)

اقبال کا نظامِ فکر اپنے اندر ایک وحدت رکھتا ہے اور اس کے جملہ تصورات و نظریات باہم دگر مربوط ہو کر اس وحدت کو مکمل کرتے ہیں۔ اس نظام فکر کی اساس اقبال کے نظریۂ خودی پر ہے اور فکرِاقبال کا کوئی معمولی سے معمولی رجحان بھی خودی سے الگ یا علاحدہ نہیں ہے۔ اقبال کا تصوّرِ سحرخیزی بھی علمی، عقلی اور عملی اعتبار سے ان کے نظریۂ خودی سے وابستہ ہے۔

نفسیاتی اور عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو شب بیداری، سحرخیزی، عبادتِ شب اور دعا انسانی شخصیت میں بعض ایسے اخلاقی اوصاف کا باعث بنتی ہے جن کا حصول کسی دوسرے ذریعے سے ممکن نہیں۔ اول تو یہ کہ انسان ایک ایسے نازک مرحلے سے گزرتاہے جو ’دوچار سخت مقامات، سے کم نہیں۔ سحرخیزی ایک نہایت سخت اور نفس کو تکلیف دینے والا عمل ہے جسے قرآن پاک میں اَشَدُّ وَطْئًا،  یعنی نفس کو خوب روندنے والا عمل۔(المزمل :۶) قرار دیا گیا ہے۔ نفس کو روندنے کے علاوہ باقاعدگی، مستعدی، فرض شناسی، قوتِ برداشت اور ضبطِ نفس بھی بیداریِ شب کے ثمرات میں شامل ہیں۔ پھر طبّی نقطۂ نظر سے دیکھیے تو مسلم ہے کہ سحرخیز انسان لطیف الطبع اور ذہین ہوتا ہے۔ بیسیوں مفکّرین و فلاسفہ اور ادبا و شعرا کے ہاں سحرخیزی کا اہتمام رہا اور ان کی بہترین قلمی کاوشیں اور تخلیقاتِ ذہنی، اہتمامِ سحرخیزی کا نتیجہ ہیں۔ سحرخیز انسان بالعموم ایسی بہت سی ذہنی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے جن میں گراں خواب اور نیند میں مدہوش لوگ اکثروبیشتر مبتلا ہو جاتے ہیں۔ گویا شب زندہ دار اور سحرخیز انسان ایک ایسے راستے پر چل رہا ہوتا ہے جو اسے خود شناسی اور عرفان نفس کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اقبال کی اصطلاح میں اسی کا نام خودی ہے۔ ’گریۂ سحرگاہی‘ اولادِ آدم کے لیے حضرت آدم ؑکی میراث ہے۔ جنت سے بوقتِ رخصت فرشتے آدم ؑسے کہتے ہیں:

گراں بہا ہے ترا گریۂ سحر گاہی

اسی سے ہے تیرے نخلِ کہن کی شادابی

(بالِ جبریل، ص ۱۳۱)

یہ ’گریۂ سحر گاہی‘ درحقیقت دعا ہی کا دوسرا نام ہے۔ اقبال اپنے انگریزی خطبات میں ایک جگہ کہتے ہیں:

The act of worship or prayer ending in spirtual illumination --- affects different varieties of consciousness  differently. (Reconstruction, pg 71) 

دعا وہ چیز ہے جس کی انتہا، روحانی تجلّیات پر ہوتی ہے اور جس سے مختلف طبیعتیں مختلف اثرات قبول کرتی ہیں۔(تشکیلِ جدید ، ص ۱۳۳)

___ psychologically speaking, prayer is instinctive in its origion. The act of prayer as aiming at knowledge, resembles reflection. Yet prayer at its highest is much more than abstract reflection. Like reflection, it too is a process of assimilation, but the assimilative process in the case of payer draws itself closely together and thereby acquires a power unknown to pure thought. (Reconstruction, p 71) 

بہ اعتبارِ نفسیات، دعا یا عبادت، ایک جبلّی امر ہے اور پھر جہاں تک حصولِ علم کا تعلق ہے، ہم اسے غوروتفکّر سے مشابہ ٹھہرائیں گے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس کا درجہ غوروتفکّر سے کہیں اونچا ہے مگر پھر غوروفکر کی طرح وہ بھی تحصیل و اکتساب ہی کا ایک عمل ہے جو بہ حالتِ عمل، ایک نقطے پر مرکوز ہو جاتا ہے اور کچھ ایسی طاقت اور قوت حاصل کرلیتا ہے جو فکرِ محض کو حاصل نہیں۔(تشکیلِ جدید ، ص ۱۳۵)

ظاہر ہے کہ اقبال نے جس چیز کو ’کچھ ایسی طاقت‘ اور ’روحانی تجلّیات‘ کہا ہے، وہ خودی کے سوا کچھ اور نہیں، لیکن خودی کا حصول کچھ ایسا آسان نہیں۔ اس منزل تک رسائی کے لیے پہلے انسان کو بے خودی کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جسے قرآنِ پاک نے ’نفس کو روندنے والا‘ قرار دیا ہے۔ شاید یہ حیاتِ انسانی کے ’دوچار بہت سخت مقامات‘ ہی میں سے ایک مقام ہے۔ اقبال کے الفاظ میں ایک ’مشکل مقام‘:

مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا

تھم، اے رہ رَو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا

(بالِ جبریل  ، ص ۵۷)

گویا عرفانِ ذات کے لیے نفیِ ذات کا معرکہ سر کرنا ضروری ہے۔ اقبال لکھتے ہیں:

It is a unique process of discovery, whereby the searching ego affirms itself in the very moment of self-negation, and thus discovers its own worth and justification as a dynamic factor in the life of the universe.  (Reconstruction, pg 74) 

یہ [دعا] وہ عدیم المثال عمل ہے جس میں طالبِ حقیقت کے لیے نفیِ ذات ہی کا لمحہ، اثباتِ ذات کا لمحہ بن جاتا ہے اور جس میں وہ اپنی قدروقیمت سے آشنا ہو کر بجا طور پر سمجھتا ہے کہ اس کی حیثیت، کائنات کی زندگی میں، سچ مچ ایک فعّال عنصر کی ہے۔(ایضاً، ص ۱۳۹)

گویا نفی ذات کا پُل صراط عبور کرتے ہی فی الفور انسان اثباتِ ذات کی اس جنت میں داخل ہو جاتا ہے جس کا نام خودی ہے۔ جنت کی ہر شے عبادُالرحمن کے لیے مسخرّاور مطیع ہوگی۔ صاحبِ خودی (سحرخیز) انسان بھی حیات و کائنات کو اپنا مطیع و منقاد پاتا ہے۔ اسے ہر طرح کی قوت و سطوت، شان و شوکت اور عظمت حاصل ہوتی ہے۔ فطرت کے وہ مظاہر و مناظر، جن سے وہ رازِ کائنات پوچھتا پھرتا تھا، اب اسے اپنی گردِ راہ محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے نالۂ سحرگاہی اور فغانِ صبح گاہی میں ایک ایسی قوت پیدا ہو جاتی ہے جس سے نہ صرف فرد کی اپنی قسمت، بلکہ قوموں کی اجتماعی تقدیر بھی منقلب ہو سکتی ہے۔ علّامہ اقبال اپنی ہمشیرہ کریم بی بی کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

مسلمان کی بہترین تلوار دعا ہے، سو اسی سے کام لینا چاہیے۔ ہر وقت دعا کرتے رہنا چاہیے اور نبی کریمؐ پر درود بھیجنا چاہیے۔ کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ اس امّت کی دعا سن لے اور اس کی غریبی پر رحم فرمائے۔(مظلوم اقبال ،شیخ اعجاز احمد، ص ۲۸۱)

اقبال کی شاعری میں ’نالہ بے باک‘ ، ’آہ صبح گاہی‘ ، ’اشک سحرگاہی‘ ، ’گریۂ نیم شب، وغیرہ دعا ہی کے مترادف ہیں۔ علّامہ، دعا کے اندر مضمر باطنی قوت کی غیر معمولی تاثیر سے بہ خوبی واقف ہیں:

نہ ستارے میں ہے، نے گردش افلاک میں ہے

تیری تقدیر، مرے نالۂ بے باک میں ہے

(بالِ جبریل ،ص ۶۵)

تلاش، اس کی فضاؤں میں کر، نصیب اپنا

جہانِ تازہ مری آہِ صبح گاہ میں ہے

( ایضاً، ص ۶۹)

میں نے پایا ہے اسے اشکِ سحرگاہی میں

جس دُرِ ناب سے خالی ہے صدف کی آغوش

(ایضاً، ص ۷۵)

عطّار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا، بے آہِ سحرگاہی

(ایضاً، ص ۵۶)

تاکِ خویش از گریۂ ہاے نیم شب سیراب دار

کز درونِ او شعاعِ آفتاب آید بروں

(زبورِ عجم ، ص ۹۷)

بروں زیں گنبدِ در بستہ پیدا کردہ ام راہے

کہ از اندیشہ برتر می پرد آہِ سحرگاہے

(ایضاً، ص ۱۰۰)

ز اشکِ صبح گاہی، زندگی را برگ و ساز آور

شود کشتِ تو ویراں تا نہ ریزی دانہ پے در پے

(ایضاً، ص ۱۰۷)

افرادِ ملّت سے اقبال کو یہی شکوہ ہے کہ انھوں نے سحرخیزی کی عادت ترک کی، گریۂ ہاے صبح گاہی کو چھوڑا اور اس طرح خودی سے دست کش ہو کر ذلّت ونُکبت کا شکار ہوگئے۔ یہ شکوہ مختلف مقامات پر مختلف انداز سے سامنے آتا ہے:

کس قدر تم پہ گراں، صبح کی بیداری ہے

ہم سے کب پیار ہے؟ ہاں نیند تمھیں پیاری ہے

(بانگِ درا، ص ۲۰۱)

فغانِ نیم شب شاعر کی بارِ گوش ہوتی ہے

نہ ہو جب چشمِ محفل، آشناے لطفِ بے خوابی

(ایضاً، ص ۲۳۸)

خال خال اس قوم میں، اب تک نظر آتے ہیں وہ

کرتے ہیں اشکِ سحرگاہی سے جو ظالم، وضو

(ارمغانِ حجاز ، مشمولہ : کلیاتِ اقبال، اردو، ص ۱۲/۶۵۴)

بہ خواب رفتہ جوانان و مردہ دل پیراں

نصیبِ سینۂ کس، آہِ صبح گاہے نیست

(پیامِ مشرق ، ص ۱۸۱)

دورِ جدید میں مختلف اور متضاد علمی و سائنسی اور انقلابی نظریات کے درمیان ٹکراؤ اور تہذیبوں کے درمیان کش مکش تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ امّت ِمسلمہ اپنی تاریخ کے دامن میں علوم و فنون اور تہذیب و ثقافت کا ایک عظیم الشان سرمایہ رکھتی ہے۔ اس اعتبار سے عصرِحاضر کے چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے اس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک اس چیلنج کا جواب صرف اس داخلی اور روحانی قوت اور فقروقناعت پسندی کے ذریعے دیا جا سکتا ہے جو کارزارِ حیات میں مردِ مومن کا اصل سرمایہ اور کش مکش و کشاکش میں کامیابی کے لیے اس کا کارگر ہتھیار ہے۔ روحانی قوت اور فقر کا سرمایہ، ذوقِ سحرخیزی کے ذریعے ہی فراہم ہو سکتا ہے اور یہی تقویمِ خودی کا راز ہے۔

اقبال ،امّتِ مسلمہ کے نوجوانوں کے لیے بطورِ خاص دعاگو ہیں کہ خدا انھیں ذوقِ سحرخیزی کی دولت سے نوازے:

بے اشکِ سحرگاہی، تقویمِ خودی مشکل

یہ لالۂ پیکانی، خوش تر ہے کنارِ جو

(ضرب کلیم ، ص ۱۷۳)

جوانوں کو مری آہِ سحر دے

پھر، ان شاہیں بچوں کو بال و پر  دے

(بالِ جبریل ، ص ۸۶)

جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے

مرا عشق، میری نظر بخش دے

مرے دیدۂ تر کی بے خوابیاں

مرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں

مرے نالۂ نیم شب کا نیاز

مری خلوت و انجمن کا گداز

(ایضاً، ص ۱۲۴، ۱۲۵)

سوزِ او را از نگاہِ من بگیر

یا ز آہِ صبح گاہِ من بگیر

(جاوید نامہ ، ص ۱۹۹)

ہر درد مند دل کو، رونا مرا رلا دے

بے ہوش جو پڑے ہیں، شاید انھیں جگا دے

(بانگِ درا، ص ۴۸)

بالِ جبریل میں ’اذان‘ کے عنوان سے ایک چھوٹی سی نظم ہے۔ اس میں اقبال نے مسلمانوں کے ذوقِ سحرخیزی کو ازسرِنو تازہ کرنے اور ان پر شب بیداری کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ چاند ستاروں کا ایک مکالمہ ہے۔ انداز نہایت حکیمانہ ہے۔ مسلمانوں کو ان کی غفلت کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ ان کے مقام و مرتبے کی عظمت کا اظہار و اعتراف بھی کیا ہے۔ چاند، انسان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ستاروں سے مخاطب ہے:

واقف ہو اگر لذّتِ بیداریِ شب سے

اونچی ہے ثرّیا سے بھی یہ خاکِ پُراسرار

آغوش میں اس کی وہ تجلّی ہے کہ جس میں

کھو جائیں گے افلاک کے سب ثابت و سیّار

(بالِ جبریل ،ص ۱۴۵)

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، شب بیداری، سحرخیزی اور آہِ صبح گاہی کا منطقی نتیجہ تقویمِ خودی ہے۔ اقبال اپنی بے خوابیوں اور شب بیداریوں کے نتیجے میں ’اس لذتِ آہِ سحرگاہی‘ سے بہرہ ور تھے، جس کا ثمر قیام و استحکامِ خودی ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر یہ ساری مشق ’مذہب ملّا و جمادات‘ کا حصہ شمار ہو گی جس کا حاصل کچھ بھی نہیں۔ گویا سحرخیزی، شب بیداری اور فغان و فریاد ایک ظاہری عمل ہے، تو استحکام خودی اس کی روح ہے۔ روح کے بغیر ظاہری عمل، ایک مردہ جسم ہے جس سے اقبال تو کیا، کسی بھی ہوش مند شخص کو ذرّہ برابر دل چسپی نہیں ہو سکتی۔ اگر شب بیداری ایک رسم یا دین داری کی نمایش بن کر رہ جائے تو یہ محض ریاکاری ہو گی جس کا حاصل حصول کچھ نہ ہوگا۔ علّامہ اقبال ایسی عبادت اور سحرخیزی کو مردود قرار دیتے ہیں:

یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سرور

تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں

(ضربِ کلیم، ص ۳۴)

کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی

ممکن نہیں تخلیقِ خودی خانقہوں سے

اے پیرِ حرم! تیری مناجاتِ سحر کیا؟

اس شعلۂ نم خوردہ سے ٹوٹے گا شرر کیا!

(ایضاً، ص ۱۷۳)

مست رکھو ذکر و فکرِ صبح گاہی میں اسے

پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے

(ارمغانِ حجاز ، مشمولہ : کلیاتِ اقبال، اردو، ص ۱۵/۶۵۷)

کارگاہِ حیات میں اگر شیطانی اور طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے تو صرف اس طرح کہ نالہ ہاے سحری سے خودی کو تقویت پہنچائی جائے۔ دنیا کی باطل قوتیں، بشمولِ ابلیس، اسی سحرخیز مسلمان سے خوفزدہ ہیں۔ ابلیس اپنے مشیروں کو یہ فرمان جاری کرتا ہے کہ مسلم شب زندہ دار کو خانقاہی رنگ کے ذکرِ صبح گاہی میں مست و مدہوش رکھو۔ پیرانِ حرم کو بھی خدشہ ہے کہ سحرخیز مردِمومن، ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں:

حریف اپنا سمجھ رہے ہیں خدایانِ خانقاہی

انھیں یہ ڈر ہے کہ میرے نالوں سے شق نہ ہو سنگِ آستانہ

(ایضاً، ص ۴۴/۶۸۶)

مگر علّامہ اقبال کی یہی تلقین ہے کہ:

از خوابِ گراں، خوابِ گراں، خوابِ گراں خیز

از خوابِ گراں خیز

(زبورِ عجم ،ص ۸۱)

علّامہ اقبال عمر بھر جس ’جہانِ تازہ‘ کی تلاش و تشکیل کے لیے آرزومند اور اس کی فکر میں جس طرح غلطاں و پیچاں رہے، اس کی رمز اسی ذوقِ سحرخیزی اور نواہاے سحرگاہی میں پوشیدہ ہے:

نہ ستارے میں ہے، نے گردشِ افلاک میں ہے

تیری تقدیر مرے نالۂ بے باک میں ہے

کیا عجب میری نواہاے سحرگاہی سے

زندہ ہو جائے، وہ آتش کہ تری خاک میں ہے

(بالِ جبریل ، ص ۶۵)

جب  ۲۰۱۸ء میں ہمارے نمایندوں نے امریکا کے ساتھ امن عمل کا آغاز کیا، تو ہماری توقع مذاکرات کے مثبت نتائج کے حوالے سے صفر تھی۔ ۱۸ برس کی جنگ اور ماضی میں کئی بار مذاکرات کی کوششوں کے پیش نظر ہم امریکا پر اعتماد نہیں کرتے تھے، لیکن اس کے باوجود ہم نے ایک اور کوشش کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اس طویل جنگ سے سب بے زار ہیں، اور کسی بھی ممکنہ  امن عمل کا موقع ضائع کرنا دانش مندی کا تقاضا نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی کامیابی کا امکان بہت کم دکھائی دیتا تھا اور چار عشروں سے جاری جنگ کی وجہ سے ہر روز کسی افغان کا نقصان ہو رہا ہے۔ کوئی ایسا خاندان نہیں ہے جو اس جنگ سے متاثر نہیں ہے۔ہلاکتوں اور مشکلات کا یہ دور ختم کرنا چاہیے۔

امریکا کی زیرقیادت غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ، ہمارا انتخاب نہیں تھا بلکہ جب ہم پر یہ جنگ مسلط کر دی گئی تو ہم اپنا دفاع کرنے پر مجبور تھے۔ لہٰذا، غیر ملکی افواج کا انخلا ہمارا اوّلین اور اہم مطالبہ ہے، اور اسی غیرمعمولی مسئلے پر ہم آج امریکا کے ساتھ امن معاہدے کر رہے ہیں۔

ملا عبد الغنی برادر اور شیر محمد عباس ستانک زئی کی سربراہی میں ہمارے نمایندوں نے اٹھارہ ماہ کے دوران امریکی حکام کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے لیے اَن تھک محنت کی، ملک بھر میں نہتے شہریوں پر امریکا کے شدید فضائی حملوں پر ہمارے نمایندوں نے باربار تشویش کا اظہار کیا اور امریکا کی جانب سے ہر بار نئے مطالبات پیش کرنے کے باوجود ہم امن مذاکرات کے لیے پُرعزم رہے۔

یہاں تک کہ جب امریکی صدر ٹرمپ نے مذاکرات کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا، تب بھی ہم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، کیونکہ جنگ کے تسلسل سے زیادہ ہمارے عوام ہی متاثر ہورہے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ اس طرح کے دو طرفہ مذاکرات کے بغیر امن معاہدہ ممکن نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس دشمن کے خلاف دو عشروں سے ہماری لڑائی جاری ہےاور جس کے ہاتھوں موت بارش کی طرح برس رہی ہے، اس کے ساتھ امن مذاکرات کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہم اپنے ملک میں جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

ہم ان خدشات اور تمام سوالات کو سمجھتے ہیں، جو غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد نظام کی نوعیت کے بارے میں افغانستان کے اندر اور اس سے باہر موجود ہیں۔ اس طرح کے خدشات کے جواب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس کا انحصار بین الافغان اجماع پر ہے۔ ہم دوسروں کی مداخلت کے بغیر آزاد ماحول میں ہم گفت و شنید اور مفاہمت کے ذریعے ملک کے نظام کے بارے میں بات چیت کریں گے اور اس میں کسی کو رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

پہلے سے شرائط مقرر کرکے اس عمل کو روکنا مناسب نہیں ہے۔ ہم دوسری جماعتوں کے ساتھ باہمی احترام کے ماحول میں، مشاورتی عمل کے ذریعے آگے بڑھنے کے خواہش مند ہیں اور ایک نئے اور ہمہ پہلو سیاسی نظام کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں کہ جس میں ہر افغان کی آواز سنی جائے اور کوئی افغان شہری محروم نہ رہے۔

مجھے یقین ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا اور مداخلت سے نجات کے بعد، ہم مشترکہ طور پر ایک اسلامی نظام کے لیے راہ ہموار کریں گے، جس میں برابری کی بنیاد پر تمام افغانوں کے حقوق محفوظ ہوں گے، تعلیم اور روزگار سمیت خواتین کے وہ تمام حقوق محفوظ ہوں گے، جو اسلام نے دیے ہیں۔

ہم باغی گروپوں کی طرف سے افغانستان سے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو لاحق خطرے کے بارے میں اٹھائے جانے والے خدشات کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ تاہم، اس طرح کے خدشات میں مبالغہ آرائی کو پہلے بھی استعمال کیا گیا ہے، اور افغانستان میں غیر ملکی گروہوں کے بارے میں اطلاعات کو سیاسی مفادات کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ وضاحت بھی ضروری اور کسی افغان کے مفاد میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کو کسی اور کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیں اور افغانستان کو میدان جنگ بنائیں۔ ہم نے غیرملکی مداخلت کا عذاب دیکھا ہے، لہٰذا تمام افغانوں کے ساتھ مل کر ہم یہ امر یقینی بنانے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائیں گے کہ ایک نیا افغانستان امن کی علامت کے طور پر ابھرے اور کسی کو بھی اس کا احساس کبھی نہ ہو کہ ہماری دھرتی سے اس کو خطرہ ہے۔

لیکن اس کے باوجود، ہم پیش آمدہ چیلنجوں کو کم نہیں سمجھتے ہیں، اور ان میںہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ مختلف افغان گروہ ہمارے مشترکہ مستقبل کی وضاحت کے لیے سنجیدگی اور خلوص نیت سے کام کریں۔ بلاشبہہ کچھ لوگ اختلاف کریں گے، تاہم مجھے یقین ہے کہ سب لوگ ایک متفقہ نظام پر راضی ہوجائیں گے، کیوں کہ اگر ہم کسی غیرملکی دشمن کے ساتھ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، تو باہمی اختلافات کو افہام و تفہیم سے احسن طریقے سے ختم بھی کر سکتے ہیں۔

ایک اور چیلنج یہ ہوگا کہ عالمی برادری غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانوں کے ساتھ سرگرم عمل رہے، کیونکہ ہمارے ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے عالمی برادری کا تعاون ضروری ہے۔ ہم باہمی احترام کی بنیاد پر پاے دار امن اور خوش حالی کے میدان میں اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اپنی افواج کے انخلا کے بعد امریکا بھی افغانستان میں ملک کی ترقی اور تعمیر نو میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ہم اس پہلو کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ افغانستان تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھے اور ان کے خدشات کو سنجیدگی سے دُور کرے۔ افغانستان تنہائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ نیا افغانستان بین الاقوامی دنیا کا ایک ذمہ دارملک ہوگا۔ ہم ان تمام بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے پابند رہیں گے، جو اسلام کے مقدس دین کے اصولوں سے متصادم نہیں ہیں۔ اسی طرح ہم دوسرے ممالک سے بھی توقع کرتے ہیں، کہ وہ ہمارے ملک کے استحکام اور خودمختاری کا احترام کریں اور ہماری آزادی اور استحکام کو باہمی تعاون کے طور پر دیکھیں، مقابلے اور دشمنی کے طور پر نہیں۔

اس وقت کا بڑا چیلنج ہمارے اور امریکا کے مابین امن معاہدے پر عمل درآمد ہوگا، اگرچہ امریکی نمایندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کچھ اعتماد پیدا ہوا ہے، لیکن جس طرح امریکا ہم پر مکمل اعتماد نہیں کرتا ہے ، ہمیں بھی اس پر اتنا اعتماد نہیں ہے۔ ہم اپنی جانب سے معاہدے کے ہر لفظ پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن معاہدے کے مفادات کا حصول ، کامیابی کی یقین دہانی اور دیرپا امن لانا بھی امریکا پر منحصر ہے۔ امریکا کو چاہیے کہ وہ دیرپا امن کے لیے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

ہمارے ہم وطن بہت جلد اس تاریخی معاہدے پر عمل درآمد کے بعد تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کا مشاہدہ کریں گے۔ جب ہم اس مرحلے کے قریب پہنچ رہے ہیں، تو یہ بھی ممکن ہے کہ بہت جلد ہم اپنے تمام افغان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مل کر پایدار امن اور ایک نئے افغانستان کی بنیاد کی طرف تحریک کا آغاز کریں گے۔دیگر ممالک میں مقیم تمام افغان شہریوں کو اپنے ملک اور گھر کی طرف واپس آنے کی دعوت دے گا، جہاں ہر ایک کو عزت اور امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو‘‘۔(What We the Taliban Want?، مطبوعہ دی نیویارک ٹائمز، ۲۰فروری ۲۰۲۰، ترجمہ: ادارہ)

افغان جہادکے دنوں میں ایک میڈیکل ڈاکٹر کی حیثیت سے ۱۹۸۳ء تا ۱۹۹۲ء کئی بار   افغانستان جانا ہوا۔ روسی بمباری سے افغانستان کا دیہی علاقہ مکمل طور پر برباد ہوچکا تھا۔ ان علاقوں سے اکثریت پاکستان ہجرت کر گئی تھی۔ پھر جب افغان مجاہدین نے حکومت قائم کرنے کی ناکام کوشش کی، تو بڑے شہروں کابل،جلال آباد،گردیز،چغہ سرائے وغیرہ جانا ہوا، جہاں تباہی کے مناظر عام تھے۔ شاہراہیں ،پُل، باغات، عمارات زمیں بوس ہوتی گئیں اور غربت و افلاس میں مزید اضافہ مشاہدہ میں آتا رہا۔ ۱۹۹۴ء سے طالبان کی آمد کے ساتھ امن آیا، لیکن کچھ ہی عرصے بعد امریکی قیادت میں ناٹو افواج نے رہی سہی کسر نکال دی۔ ہرافغان کے دل کی آواز ہے کہ غیر ملکی مداخلت یقینا ختم ہو نی چاہیے، اس کے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

ماضی کی طویل خانہ جنگی کے بعد اگر پھر نئی خانہ جنگی ہوئی تو یہ ایک بڑاالمیہ ہوگا۔ یہی سوال تمام افغانوں اور ان کے بہی خواہوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ اسی لیے جب ۲۹ فروری ۲۰۲۰ء کو ایک طویل انتظار کے بعد قطر میں ایک تاریخی امن معاہدہ طے پایا، تو اس پر افغان عوام نے کوئی پُرجوش استقبال نہیں کیا، حالانکہ سب کی خواہش تھی کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کامیابی سےہم کنار ہوں۔افغانستان میںمنعقد ہونے والے گذشتہ تمام صدارتی انتخابات کے تمام امیدواروں نے عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میںامن قائم کرنے کے لیے طالبان سے مذاکرات کریں گے۔حامد کرزئی اور اشرف غنی اس وعدے کی بنیاد پر انتخابی مہم چلاتے رہے کہ ’’ہمارا اصل کام امن کا قیام ہوگا۔ ہم طالبان سے اپیل کرتے تھے کہ وہ مذاکرات کریں‘‘۔ لیکن طالبان کا موقف یہ تھا کہ ۲۰۰۱ء میں جب امریکی افواج نے افغانستان پر نائن الیون کے واقعے کو بنیاد بناکر دھاوا بولا، تو اس وقت افغانستان میں مُلّا عمر کی قیادت میں امارت اسلامی قائم تھی، جس کو ختم کرکے ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی گئی۔چونکہ گذشتہ دوعشروں میں طالبان کی امارت اسلامی، غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔اس لیے جب بھی قابض فوج افغانستان چھوڑے تو اسے ہم سے بات کر کے معاملات طے کرنا ہوں گے۔ آخرکار امریکی صدربارک اوباما نے ۲۰۰۸ء میں افغانستان سے فوجی انخلا اور طالبان سے مذاکرات کا اصولی فیصلہ کیا۔لیکن انھیں فیصلے پر عمل درآمد میں متعدد اندرونی مزاحمتوں کا سامنا رہا۔ پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد انخلا کی حکمت عملی پر کام شروع کیا۔ امریکی افواج اور اتحادیوں کے تحفظ اور واپسی کے لیے طالبان سے مذاکرات کی کڑوی گولی نگلنے کی کوشش کی۔

بالآخر ’امارت اسلامی افغانستان‘ کے نمایندے مُلّا عبدالغنی برادر اور ’ریاست ہاے متحدہ امریکا‘ کے نمایندے کے زلمے خلیل زادے نے ایک امن معاہدے پر دستخط کردیے۔ اس موقعے پر دونوں فریقوں نے معاہدے کے لیے پاکستان کے کردار اور مصالحانہ کوششوں کی تعریف کی ۔ اس معاہدے پر مختصر بات کرنے سے پہلے متن کا مطالعہ مفید ہوگا، یہ معاہدہ ۱۲سال کے طویل ترین بحث و مباحثے کے بعد حتمی شکل میں سامنے آیا ہے، اور بہ یک وقت انگریزی، پشتو، دری، [فارسی] میں جاری کیا ہے۔

افغان امن معاہدہ

’’معاہدہ براے بحالی امن افغانستان، مابین امارت اسلامی افغانستان، جس کو ریاست متحدہ  [امریکا] ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور ریاست متحدہ ۲۹ فروری ۲۰۲۰ء  بمطابق ۵ رجب ۱۴۴۱ہجری قمری کیلنڈر اور۱۰ حوت ۱۳۹۸ ہجری شمسی کیلنڈر‘‘ یہ ایک جامع امن معاہدہ کیا ہے، جس کے چار حصے ہیں :

    ۱-  ضمانتوںاور عمل درآمد کا نظام، جس سے سرزمین افغانستان کو کسی گروہ اور فرد کو ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال سے روکا جائے گا ۔

    ۲۔   ضمانتوں اور عمل درآمد کے نظام الاوقات کے تحت افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کا اعلان۔

    ۳-  ضمانتوںاور غیر ملکی افواج کے انخلا کے نظام الاوقات کا اعلان، بین الاقوامی گواہوں کی موجودگی میںکہ سرزمین افغانستان ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ ہو اور امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، بین الافغان مذاکرات افغان گروہوں کے ساتھ ۱۰مارچ ۲۰۲۰ء شروع کرے گا، بمطابق ۱۵ رجب ۱۴۴۱ ہجری قمری کیلنڈر اور ۲۰حوت ۱۳۹۸ ہجری شمسی کیلنڈر۔

    ۴-  مستقل اور جامع فائر بندی بین الافغان مذاکرات اور صلاح مشوروں کا مرکزی نکتہ ہو گا، جس میں مشترکہ نظام نفاذ کا اعلان اور افغانستان میں مستقبل کا سیاسی نقشۂ کار شامل ہیں ۔

یہ چاروں حصے مربوط ہیں اور عمل درآمد متفقہ نظام الاوقات اور متفقہ شرائط پر ہو گا:

___ درج ذیل میں معاہدے کے پہلے اور دوسرے حصے کے نفاذ کا متن ہے:

دونوں فریقوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان دونوں حصوں کے نفاذ کا انحصار ایک دوسرے پر ہے۔ امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ  ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زیر اثر علاقوں میں ان پر عمل کرائے اور جب تک افغانستان میں بین الافغان مذاکرات کے ایک نئی عبوری افغان اسلامی حکومت قائم نہیں ہو جاتی۔

 پہلا حصّہ :

ریاست متحدہ افغانستان سے تمام امریکی و اتحادی فوجی قوت بشمول تمام غیرسفارتی سول افراد،نجی سیکورٹی،ٹھیکے دار،تربیتی عملہ،مشیر اور دیگر معاون عملے کا انخلا ۱۴ ماہ میں یقینی بنائے گی، جس کا اعلان اس معاہدے میں کیا گیا ہے۔اور اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات اٹھائیں گے:

(الف) ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی  پہلے ۱۳۵ دنوں میں یہ اقدامات کریں گے:

    ۱-  (امریکا) اپنے فوجیوں کی تعدادکو گھٹا کر(۸,۶۰۰) تک لائے گا اور اسی تناسب سے اتحادی فوجوں کی تعداد بھی کم کی جائے گی۔

    ۲-  ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی (۵) فوجی اڈوں سے مکمل انخلا کریں گے۔

        (ب) امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کے عملی اقدامات اور معاہدے کی پابندی کو دیکھتے ہوئے ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی درج ذیل کام کریں گے:

    ۱-  ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی ساڑھے ۹ ماہ میں افغانستان سے بقیہ انخلا مکمل کریں گے۔

    ۲ - اسی طرح ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی، تمام بقیہ فوجی اڈوں سے انخلا مکمل کریں گے۔

(ج)ریاست متحدہ پابند ہے کہ وہ فوری طور پر تمام دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ ایک منصوبے پر کام کرے، تاکہ جلد ازجلد جنگی اور سیاسی قیدیوں کی رہا ئی عمل میں لائی جا سکے، جس میں تعاون اور منظوری تمام متعلقہ فریق دیں گے۔ امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کے ۵ ہزار تک کے قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جب کہ دوسرے فریق کے ۱۰۰۰ (ایک ہزار) قیدیوں کی رہائی ۱۰مارچ ۲۰۲۰ء تک عمل میں آئے گی۔جو بین الافغان مذاکرات کا پہلا دن ہوگا۔ بمطابق ۱۵رجب ۱۴۴۱ ہجری قمری کینڈر اور ۲۰ حوت ۱۳۹۸ ہجری شمسی کیلنڈر۔متعلقہ فریقین کا یہ عزم ہے کہ آیندہ ۳ ماہ میں تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

ریاست متحدہ اس عمل کو مکمل کرنے کی پابند ہے ۔امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، اس امر کے پابند ہیں کہ رہا شدہ قیدی اس معاہدے پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے اور وہ ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے کو ئی خطرہ نہیں بنیں گے۔

(د)بین الافغان مذاکرات کے آغاز پر ریاست متحدہ، امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، اس  کے ارکان کے خلاف سروں پر مقرر کیے جانے والے انعامات کی فہرست کو ختم کرنے اور دیگر پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے ۲۷ ؍اگست۲۰۲۰ء کا ہدف رکھا گیا ہے،بمطابق ۸محرم ۱۴۴۲ ہجری قمری کیلنڈر اور ۶سنبلہ ۱۳۹۹ ہجری شمسی کیلنڈر ۔

(ح)بین الافغان مذاکرات کے آغاز پر ریاست متحدہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر ایسے سفارتی اقدامات کرے گی، جس سے امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کے ارکان کے نام پابندیوں کی فہرست سے نکالے جاسکیں، اس ارادے کے ساتھ کہ یہ ہدف ۲۹مئی ۲۰۲۰ء تک حاصل ہو جائے،بمطابق ۶ شوال ۱۴۴۱ ہجری قمری کیلنڈر اور ۹ جوزہ ۱۳۹۹ ہجری شمسی کیلنڈر۔

(و) ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی، کو ئی بھی ایسی دھمکی یا طاقت کا استعمال نہیں کریں گے، جس سے افغانستان کی سیاسی آزادی اور جغرافیائی سالمیت متاثر ہو تی ہو اور نہ اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کریں گے۔

 دوسرا حصّہ :

اس معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، درج ذیل اقدامات اٹھائے گی، تاکہ کسی بھی گروہ یا فرد بشمول القاعدہ کو روکے گی، جوافغانستان سرزمین کو ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ کا باعث ہو۔

    ۱-  امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، اپنے ارکان اور دیگر افراد اور گروہوں بشمول القاعدہ کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ افغان سرزمین کو ریاست متحدہ یا اس کےاتحادیوں کی سلامتی کے خلاف استعمال کرسکے۔

    ۲-  امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ  ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، ان عناصر کو ایک واضح پیغام دے گی جو ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہیں کہ ان کے لیے افغانستان میں کو ئی جگہ نہیں ہے، اور امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کے ارکان کو ہدایت کرے گی کہ وہ کسی ایسے گروہ یا افراد سے تعاون نہ کریں، جو ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

    ۳- امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، بھی ایسے گروہ یا افراد کو روکے گی، جو ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کے سلامتی کے لیے خطرہ ہو، نیز ایسے افراد کو بھرتی،تربیت اور چندہ جمع کرنے سے بھی معاہدے کے قواعد کے مطابق روکے گی۔

    ۴-  امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، اس امر کے پابند ہوں گے کہ جو لوگ افغانستان میں پناہ اور رہایش کے خواہش مند ہوں گے، بین الاقوامی مائیگریشن قوانین کے مطابق اور اس معاہدے کے مطابق ایسے افراد ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف خطرہ نہ بنیں گے۔

    ۵-  امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کسی کو بھی ویزہ ،پاسپورٹ ،سفری پرمٹ یا دیگر قانونی دستاویزات فراہم نہیں کرے گا، جو ریاست متحدہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث بنے۔

 تیسرا حصّہ :

    ۱-  ریاست متحدہ اس معاہدے کی توثیق کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کر ے گی۔

    ۲-  ریاست متحدہ ، امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ،ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، آپس میں مثبت تعلقات قائم کریں گے اور چاہیں گے کہ معاملات طے پانے کے بعد بننے والی افغان اسلامی حکومت کے تعلقات اور بین الافغان مذاکرات کے نتائج مثبت ہوںگے۔

    ۳-  ریاست متحدہ نئی افغان اسلامی حکومت جو بین الافغان مذاکرات اور تصفیہ کے بعد وجود میں آئے گی، کے ساتھ مالی تعاون جاری رکھے گا اور اس کے اندرونی معاملات میں دخل انداز نہیں ہو گا۔

اس معاہدے پر دوحہ قطر میں دستخط کیے گئے۔۲۹ فروری ۲۰۲۰ء بمطابق ۵ رجب ۱۴۴۱ہجری قمری کیلنڈر اور۱۰ حوت ۱۳۹۸ ہجری شمسی کیلنڈر، پشتو ، دری اور انگریزی زبانوں میں بیک وقت جس کا ہر ایک متن مصدقہ ہے۔

 معاہدے کی حیثیت:

اس معاہدے کے متن میں ۱۶ مرتبہ ایک ہی جملہ لکھا گیا ہے:’’امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیںــ‘‘۔ یاد رہے ۲۰۰۱ء میںجب امریکا، افغانستان پر قابض ہوا تو یہاں اسلامی امارت قائم تھی، جس کو زبردستی ہٹایا گیا اور اب جب آپ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں تو آپ کو اس امارت اسلامی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔چنانچہ درمیانی راستہ یہ نکالا کہ ’امارت اسلامی‘ کی اصطلاح کو تو مان لیا گیا، لیکن اس کے ساتھ امریکی مذاکرات کاروں نے یہ اضافہ کیا ’’ جس کو امریکا ایک ریاست یا مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی‘‘۔طالبان کے لیے تو یہ امر باعث اطمینان رہا کہ ان کو برابر کے فریق کے طور پر تسلیم کرلیا گیا، جو مسلّمہ بین الاقوامی روایات کے عین مطابق ہے، کہ قابض غیر ملکی فوج اپنی شکست تسلیم کرکے جب انخلا کرتی ہے، تو وہ مزاحمت کاروں سے اسی طرح کا معاہدہ کرتی ہے۔ اگر پوری طرح تسلیم نہیں کیا جاتا تو متن کی بعض دفعات سے اشارہ ملتا ہے، خاص طورپر جب امارت اسلامی سے مطالبہ ہو تا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو ویزہ یا پاسپورٹ نہیں دیں گے، جو امریکا کے لیے خطرہ بنے۔ اس طرح معاہدے میں جارح طاقت کی حیثیت سے امریکا نے نہ اپنی غلطی تسلیم کی اور نہ افغان قوم سے ان مظالم اور قتل عام پر معافی مانگی، جو گذشتہ ۱۹سال میں امریکی اور اس کے اتحادی افواج کی جارحیت کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئے۔

 اس معاہدے کے شروع میں ضمانتوں کا ذکر ہے، لیکن آگے اس کی تفصیل نہیں دی گئی۔ جس سے یہ امکان ہے کہ معاہدے کے علاوہ بھی کوئی خفیہ دستاویز بنائی گئی ہے ۔معاہدے میں بین الافغان مذاکرات کے آغاز اور دونوں طرف سے قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے ۱۰ مارچ کی تاریخ دی گئی تھی، جو خاموشی سے گزر چکی ہے،جب کہ امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے ۲۹مئی اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے لیے۲۷ ؍اگست مقرر کی گئی ہے، جو الٹی ترتیب ہے۔ بین الافغان مذاکرات کے انعقادکی ذمہ داری اگرچہ امریکی حکومت نے قبول کی ہے، البتہ اس کو کا میابی سے ہم کنار کرنے میں یقینا طالبان کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ طالبان کے موجودہ سربراہ مُلّا ہیبت اللہ ہیں جو روپوش ہیں، انھوں نے کامیابی سے تحریک طالبان کی رہنمائی کی ہے اور اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھا ہے۔

مستقبل کے امکانات: افغانستان کا کُل رقبہ ۶۵۲۲۳۷ مربع کلو میٹر ہے۔محتاط اندازوں کے مطابق تقریباً ۵۰فی صد علاقہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے۔ ان کے انتظامی ادارے اور عدالتیں کام کر رہی ہیں۔ باقی علاقوں میں بھی ان کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔جنگی صلاحیت میں ان کی سب سے بڑی کمزوری فضائی قوت کا نہ ہونا ہے۔طالبان کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی اکثریت کا تعلق پختون آبادی ہی سے ہے۔ افغانستان ایک کثیر القومی وطن ہے، جس میں ۴۵ فی صد پختون،۲۰ فی صد تاجک، ۲۰ فی ہزارہ، ۹ فی صد ازبک، ترکمان اور ۳ فی صد دیگر قومیتیں ہیں۔

افغانستان میں طالبان کے بعد دوسرا بڑا فریق سابقہ شمالی اتحاد ہے، اور کم از کم چارصوبوں پر ان کا قبضہ ہے۔آج کل ان کی قیادت ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے پاس ہے۔ صدارتی انتخابات ۲۰۱۵ء کے پہلے مرحلے میں انھوں نے ۴۵ فی صد ووٹ لے کر ڈاکٹر اشرف غنی کو شکست دےدی تھی، لیکن دوسرے مرحلے میں، ڈاکٹر اشرف غنی، طالبان کی درپردہ حمایت سے مکمل پختون آبادی کے ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ بعد میں عبداللہ عبداللہ حکومت میں چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے، امریکی ایما پر شامل ہو گئے تھے۔ ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں انھوں نے پختون ووٹ بھی حاصل کیے تھے۔ کُل۲۷ لاکھ ووٹ ڈالے گئے، اس میں سے ۹ لاکھ ووٹ انھوں نے حاصل کیے، جب کہ ۱۰  لاکھ ووٹ جو ضائع کیے گئے، ان میں بھی اکثریت ان کے ووٹوں کی تھی۔ اب انھوں نے اشرف غنی کے مقابلے میں صدر جمہوریہ بننے کا اعلان کردیا ہے اور ۶ صوبوں میں اپنے گورنر بھی مقرر کر دیے ہیں۔صدر اشرف غنی کی مخالفت میں ان کو ایک اہم شخصیت ازبک رہنما رشید دوستم کی بھی حمایت حاصل ہے، جو دشت لیلیٰ میں ہزاروں طالبان قیدیوں کےسفاکانہ قتل میں ملوث تھے، اور ایک مؤثر قوت رکھتے ہیں اور اسلحے کا بھی بڑا ذخیرہ رکھتے ہیں۔

تیسرا اہم گروہ ہزارہ شیعہ قبیلہ ہے، جو افغانستان کے ایک مرکزی صوبے بامیان پہ قابض ہے۔گذشتہ دنوں کابل میں ان کے سابق رہنما عبدالکریم خلیلی کی برسی کے موقعے پر ایک بڑے اجتماع پر حملہ ہوا تھا، جس میں ۵۰ سے زائد شرکا جاں بحق ہو ئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ ہزارہ قبیلہ بھی طالبان کے مقابلے میں شمالی اتحاد کا ساتھ دے گا۔

چوتھا اہم گروپ گل بدین حکمت یار اور حزب اسلامی پر مشتمل ہے۔ گذشتہ  صدارتی انتخابات میں وہ تیسرے نمبر پر رہے۔ ملک کے طول و عرض میں انھوں نے مؤثر انتخابی مہم چلائی۔ روسی جارحیت کے دوران افغان جہاد میں یہ مجاہدین کا سب سے بڑا گروپ تھا، لیکن بعد میں شمالی اتحاد سے جنگ کے دوران اور پھر طالبان کی آمد سے ان کی پوزیشن کمزور ہو تی گئی۔گذشتہ سال انھوں نے اشرف غنی حکومت کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر لیااور انتخابی عمل میں بھی حصہ لیا۔ حزب اسلامی ایک نظریاتی حیثیت سے اہمیت رکھتی ہے اور قومی ایشو ز پر اپنی آزاد راے کا اظہار بھی کرتی ہے۔

۲۰۰۵ء میں حامد کر زئی نے اپنے دورِ صدارت کے آخری زمانے میں امریکا کےساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس میں امریکی افواج کو پانچ مستقل اڈے دینے کی بات کی گئی تھی۔تاہم، بعد میں آنے والے صدر اشرف غنی نے اپنے دور کے آغاز میں ہی امریکی دباؤ پر دستخط کر دیے تھے۔

صدر اشرف غنی کی قیادت میں افغان حکومت اس معاہدے کی تیسری اہم فریق ہے، جو مذاکرات سے باہر رکھی گئی۔ لیکن معاہدے کے نفاذ میں ان کا اہم کردار ہے۔ملک کے بڑے شہروں پر ان کا اقتدار قائم ہے۔ تین لاکھ افغان فوج اور ایک لاکھ کی تعداد میں افغان پولیس ان کی حکم کے تابع ہے۔ وہ خود تو ایک ماہر معیشت اور علمی شخصیت ہیں اور پختون قبیلے احمد زئی سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن کوئی جنگی پس منظر نہیں رکھتے۔ حالیہ انتخابات نے ان کو خاصا کمزور کر دیا ہے۔ انھوں نے اس بار صرف ۹ لاکھ ووٹ حاصل کیے، جب کہ کل ووٹرز کی تعداد ۹۶لاکھ ہے۔ ۱۸ ستمبر ۲۰۱۹ء کو ہونے والے صدارتی انتخاب کا نتیجہ ۵ ماہ بعد مشتہر کیا گیا اور اس طرح ان کو ۵۰ فی صد ووٹ دے کر پہلے مرحلے میں کامیاب قرار دیا گیا۔ انھوں نے ۹ مارچ۲۰۲۰ء کو جب صدارتی محل میں صدر جمہوریہ کا حلف اٹھایا، تو اس وقت صدارتی محل ہی کے قریبی بلاک میں ان کے مقابل امیدوار عبدا للہ عبد اللہ نے بھی صدارتی حلف اٹھایا۔ اشرف غنی کے ایک اور حلیف اور ان کے ساتھ پہلے صدارتی دور میں نائب صدر عبد الرشید دوستم بھی ان سے قریب ہی رہایش پذیر ہیں۔ ان کے مسلح گارڈ برسرِعام اپنی قوت کا اظہار کرتے ہو ئے نظر آتے ہیں۔ان حالات میں آنے والے بین الافغان مذاکرات میں اشرف غنی ایک کمزور پوزیشن میں نظر آرہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدا للہ عبداللہ گروپ نے مذاکرات میں اس طرح شرکت کا عندیہ دیا ہے کہ ان کا نمایندہ وفد شریک ہوگا، لیکن وہ اشرف غنی کے سرکاری وفد کا حصہ نہیں ہوں گے۔

اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کا حربہ استعمال کرکے پورے معاہدے کو کمزو ر کر دیا۔ معاہدے کے مطابق ۱۰ مارچ ۲۰۲۰ء کو دونوں طرف سے قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہونا تھا اور بین الافغان مذاکرات کا نکتہ آغاز تھا،لیکن یہ دونوں کام مؤخر ہو گئے۔

’قطر امن معاہدے‘ کو کامیاب بنانے میں حکومت پاکستان بہت اہم کردار رہا ہے۔جس کا اعتراف معاہدے کی تقریب میں ہی عالمی میڈیا کے سامنے دونوںفریقوں کے نمایندوں نے کیا تھا۔ اس اعترافِ حقیقت کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی مخالف لابیاں ہر جگہ اس کا توڑ کرنے کے لیے متحرک ہو گئیں ۔ بھارتی میڈیا نے تو اس کے خلاف بولنا ہی تھا کہ بھارت کے پاکستان دشمن مفادات افغانستان میں جنگی صورتِ حال کے برقرار رہنے سے جڑے ہو ئے ہیں۔لیکن امریکا میں موجود بھارت نواز اور پاکستان دشمن صحافتی اور بااثر حلقوں نے بھی اس تخریب پسندانہ کام میں اپنا حصہ ڈالا۔ ایک عرصے سے تمام بڑے امریکی دانش وَر،جنگی ماہرین اور تھنک ٹینک محسوس کر رہے تھے کہ امریکا کسی طریقے سے افغانستان کی اس نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے نکل آئے۔ اسی طرح دُوراندیش حلقے سمجھتے ہیں کہ ’داعش‘ کے لیے بھی پُرامن اور طالبان کا افغانستان قابلِ قبول نہیں ہوگا۔پاکستان میں تنگ نظر قوم پرست عناصر بھی اس کھیل میں بھارت کے وکیل صفائی بلکہ ہراوّل دستے کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں ۔

مراد یہ ہے کہ موجودہ حالات میں معمولی سی غلطی بھی افغانستان کو ایک بار پھر ہولناک تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ہم افغان قوم اور اس کی قیادتوں سے ہوش مندی اور وسیع النظر فیصلوں کی توقع رکھتے ہیں۔

نہ اسے’جھڑپیں‘ کہا جاسکتا ہے نہ ’ احتجاج‘ ___یہ ایک منظم قتل عام تھا!

دہلی کے فسادات پر یہ جملہ برطانوی خاتون رکن پارلیمان ناڈیا وہٹّوم کا ہے ۔ برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز (ایوانِ نمایندگان) میں دہلی فسادات پر جو بحث ہوئی اور جس طرح فسادات پر تشویش کا اظہار کیا گیا، وہ ہندستان کی مودی حکومت کا سرشرم سے جھکانے کے لیے کافی ہے۔ بالخصوص اس لیے کہ برطانیہ نے تو اپنے ایوان میں دہلی فسادات پر بحث کروائی ہے، لیکن جہاں یہ فسادات ہوئے ہیں، ہندستان کی راجدھانی دہلی ، وہاں سے پورے بھارت پر حکومت کرنے والی مودی حکومت دہلی تشدد کے موضوع پر اپنےایوان میں بحث کرانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ بہیمانہ تشدد کی وارداتوں پر بحث کی اجازت نہ دے کر شاید ان کی ’ شدت‘ اور ان کی ’ بہیمیت‘ کو بے اثر کرنے کی کوشش اس لیے ہے کہ یہ فسادات اب ساری دنیا میں ’ مسلم کش فسادات‘ مانے جارہے ہیں۔ ناڈیا وہٹّوم ایک پنجابی سکھ پارلیمنٹیرین ہیں اور ۲۰۱۹ء میں جب انھوں نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی، تب وہ ۱۹برس کی تھیں ، سب سے کم عمر رکن پارلیمان۔ انھوں نے نہ صرف یہ کہ دہلی کے تشدد یا فسادات کو ’جھڑپیں‘ اور ’ احتجاج‘ ماننے سے انکار کیا، بلکہ صاف لفظوں میں وہ بات کہہ دی، جسے کہنے سے بہت سی زبانیں ہچکچا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا ’’ اسے وہی کہیں جو یہ ہے : ہندستانی مسلمانوں کے خلاف مسلسل اور منظم طور پر ’ہندوتوا تشدد‘ اوروہ بھی بی جے پی کی منظوری سے‘‘۔

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ۲۰۱۴ء میں نریندر مودی حکومت کے قیام کے بعد سے ’ہندوتوادیوں‘ نے مسلمانوں کے خلاف مسلسل اور منظم پرتشدد سرگرمیاں شروع کررکھی ہیں؟ نریندر مودی کے  پہلی بار وزیراعظم بننے کے چند روز بعد ہی ماب لنچنگ (ہجومی تشدد) کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ۔ اخلاق سے لے کر پہلو خان تک نہ جانے کتنے لوگوں کو ’گؤکشی‘ کے الزام میں بڑی ہی بے رحمی سے قتل کیاگیا۔ ننھے حافظ جنید کو مار مار کر موت کی نیند سُلادینا بھی کیا منظم حملہ نہیں تھا؟  بلند شہر میں ابھی بس چند روز پہلے دو مسلمانوں کو ، اس شبہے میں کہ وہ گؤکشی کے مرتکب ہوئے ہیں، لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر لہولہان کردیا گیا ۔ دونوں ہی نازک حالت میں اسپتال میں داخل کیے گئے تھے۔ یہ تمام واقعات بی جے پی کی ’ منظوری‘ کے بغیر نہ گزرے ہوئے کل میں ہوئے تھے ،اور نہ آج اس کے بغیر ممکن ہیں ۔

 ہم جو کہیں وہی ’ کھانا‘ ہے ، وہی ’ پینا‘ ہے ۔ہم جو پڑھائیں وہی پڑھنا پڑے گا ، چاہے وہ گیتا کا پاٹھ ہو کہ سوریۂ نمسکار میں ’ اوم ‘ کی جاپ ہو ۔ ابھی عدالت سے طلاقِ ثلاثہ پر پابندی لگوائیں گے ۔  ابھی تو بابری مسجد کی زمین بھی لیں گے اور یہ سب کام ہو بھی گئے۔ پھر بھی یہ مسلمان  ہندستان چھوڑنے کو تیار نہیں ، کیوں نہ ان کی ’شہریت‘ پر ہی سوالات کھڑے کردیے جائیں ؟ ان سے وہ دستاویزات مانگی جائیں، جو اگر مودی سے بھی مانگی جائیں تو وہ نہ دےسکیں، مگر اس طرح وہ ملک جہاں ان کے آباواجداد بسے اور مرے ، جہاں انھوں نے محنت کی ، گھر بسائے ، تعلیمی ادارے بنائے ، مسجدیں بنائیں ، انھیں کھدیڑنے کی سبیل نکالی جائے ۔ اسی لیے این آرسی ، این پی آر اور  سی اے اے لے آئے ہیں ۔ اب کیسے بچو گے؟ لیکن مسلمان تو آج بھی اسی سرزمین پر کھڑا ہے،  اپنے حق کے لیے آوازیں اٹھا رہا ہے۔

 مسلم خواتین نے دہلی سے لے کر یوپی، راجستھان، کرناٹک ، بہار، مغربی بنگال، آسام اور ممبئی وغیرہ تک نہ جانے کتنے شاہین باغ بنالیے ہیں ۔ یہ ’شاہین باغ‘ مودی حکومت کو دہلائے ہوئے ہیں اور سی اے اے کے پیچھے اپنا تخریبی دماغ لگانے والے امیت شا کی بھی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں___  لہٰذا، کیوں نہ انھیں ڈرایا جائے اور ڈرانے کا یہ کام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں نے کرتے ہوئے نفرت کی ساری باتیں ، ساری زہریلی تقریریں ،’ دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو ‘ جیسے سارے نفرت سے بھرے ہوئے نعرے مسلسل منظم، منصوبہ بند انداز سے دُہرائے گئےاورعام کیے گئے۔ ان کا مقصد تشدد کی وہ لہر اُبھارنا ہے، جس کی زد میں دہلی آجائے اور نقصان اقلیت کا ہو ، مسلم اقلیت کا ہو___  یہاں ہمارا مقصد لاشوں کو ہندوؤں، مسلمانوں ، دلتوں وغیرہ میں تقسیم کرنا نہیں ہے ۔ تشدد پھوٹے گا تو سب کو لپیٹ میں لے گا ، مگر تشدد کا یہ ’رقص ابلیس ‘ مسلمانوں کے ہی خلاف تھا۔ اس کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ ’ شاہین باغ‘ اور بھارت بھر کے دوسرے احتجاجی مظاہروں کو ایک جھٹکے میں ’ لپیٹ‘ دینا تھا، مگر یہ نہیں ہوسکا ۔

بی بی سی پر سوتک بسواس کی رپورٹ کا عنوان ہے: ’’ دلی فسادات کے دوران مسلمانوں کے گھروں کو چُن چُن کر آگ لگائی گئی۔‘‘ محمد منظر اور ان کے خاندان کے لٹنے پٹنے اور برباد ہونے کی داستان بڑی ہی المناک ہے ۔ بی بی سی نے ایک ویڈیو رپورٹ جاری کی ہے، جس میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ تشدد پر آمادہ ہندو ہجوم کو پولیس اہلکار پتھر چن چن کر دے رہے ہیں کہ وہ مخالف پر پتھراؤ کرسکیں ۔ خود پولیس والے ساتھ ساتھ پتھراؤ کررہے ہیں ۔ بی بی سی نے جب یہ دریافت کیا کہ کیا پولیس والے بھی پتھراؤ کررہے تھے؟ تب کیمرے کے سامنے لوگوں نے اعتراف کیا کہ ہاں پولیس اہلکار انھیں پتھر اٹھا اٹھا کر مسلمانوں پر پھینکنے کے لیے دے رہے تھے اور خود بھی پتھراؤ کررہے تھے۔ ہمانشوراٹھور نام کے ایک شخص کا بیان ہے : ’’ہمارے پاس یہاں پتھر کم تھے، لہٰذا پولیس والے پتھرلے کر آئے تاکہ ہم پتھراؤ کرسکیں‘‘۔ اس ویڈیو میں پولیس کے ذریعے مسلمانوں پر تشدد ڈھانے کی مکمل منصوبہ بندی عیاں ہے ۔ لاٹھی ڈنڈوں سے نوجوانوں کی پٹائی اور ایسی شدید کہ فیضان نامی نوجوان نے دم توڑ دیا۔ لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹتے ہوئے قومی ترانہ پڑھوانا، گویا پولیس کی ساری سرگرمیوں کا محور یہ تھاکہ مسلمان ’ قوم پرست‘ یا ’نیشنلسٹ‘ نہیں ہیں ۔ دہلی اقلیتی کمیشن کا یہ تسلیم کرنا ہے کہ ’ تشد د یک طرفہ تھا اور اس کے لیے بہترین منصوبہ بندی کی گئی تھی، بیرونی غنڈے، شرپسند لوٹ مارمیں شریک تھے لیکن انھیں بہرحال مقامی مدد بھی حاصل تھی‘‘۔

ساری دنیا میں ’د ہلی فسادات‘ کی گونج ہے ۔ کئی مسلم ممالک نے ، البتہ سعودی عرب    ان میں شامل نہیں ہے ، دہلی کے فسادات کو ’ مسلم کش‘ قرار دیا ہے ۔ ایران نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ وزارت خارجہ کے سابق سکریٹری کے سی سنگھ ’ سفارتی قیمت‘ کے عنوان سے اپنے ایک مضمون میں تحریر کرتے ہیں کہ مودی سرکار کے علاقائی ایجنڈے نے ہندستان کی خارجہ پالیسی کو مسخ کرنا شروع کردیا ہے ۔ انھوں نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف اور ایران کے روحانی رہنما علی خامنہ ای کے دہلی فسادات کی مذمت میں دیے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے، کہ اسلامی دنیا سے ہندستان کے رشتے کٹ سکتے ہیں ۔ ایران سے قبل ملایشیا اور ترکی نے بھی دہلی فسادات پر ناراضی کا اظہارکیا تھا۔

ویسے ’ دہلی فسادات‘ نے صرف مسلم دنیا ہی کو بے چین اور مضطرب نہیں کیا ہے ، ابتدا ہی میں برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز میں ’ دہلی فسادات‘ پر ہوئی بحث کا ذکر آچکا ہے ۔ امریکا میں ایک صدارتی امیدوار سینڈرس نے پہلے ہی دہلی کے تشدد کو مسلم کش قرار دے دیا ہے ۔ انھوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورۂ ہند پر بھی سخت نکتہ چینی کی ہے ۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے کمیشن نے صرف تشویش ہی ظاہر نہیں کی، اس نے سی اے اے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخواست تک دے دی ہے۔ بی جے پی کے وہ تمام لیڈر جو ’زہر‘ بو رہے تھے ، آزاد ہیں ، ایف آئی آر تک  ان کے خلاف درج نہیں ہوئی ہے۔ لیکن بڑی تعداد میں اُلٹا متاثرین ہی کو ملزم قرار دے دیا گیا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا انھی کے خلاف کارروائی پر مصر ہے۔ سی اے اے کو لاگو کرنے پر پورا زور لگایا جارہا ہے، اور این پی آر میں والدین کی شہریت ثابت کرنے کو ابھی بھی لازمی کہا جارہا ہے ___ اور یہ جو شاہین باغ میں بہادر خواتین بیٹھی ہیں، ان کے خلاف ابھی بھی نعرے لگ رہے ہیں :’گولی مارو…‘

اعلٰی عدالتیں اور بی جے پی حکمرانی

عجب تماشا ہے کہ دہلی کو خون میں نہلانے والی زہریلی تقریروں کا معاملہ اعلیٰ عدالت سے کسی طرح سلجھائے نہیں سلجھ رہا، حالانکہ حقائق سب کے سامنے ہیں ۔ زہریلی تقریریں کرنے والے بی جے پی کے لیڈران بھی ،ان کی زہریلی تقریروں کے آڈیو اور ویڈیو بھی اور ان تقریروں کے نتیجے میں دہلی کی تباہی و بربادی اور تقریباً ۵۰؍ افراد کی اموات بھی ۔ جب اتنے سارے ثبوتوں کے بعد بھی دہلی ہائی کورٹ کپل مشرا، پرویش ورما اور انوراگ ٹھاکر کے خلاف کارروائی کے لیے دہلی پولیس کو حکم دینے سے لاچار اور مجبور ہے، تو اندازہ کرلیجیے کہ یہ عدالت فسادات میں مارے گئے ، لوٹے اور برباد کیے گئے لوگوں کے ساتھ کیا انصاف کرے گی!

دہلی کی عدالتیں ، ہائی کورٹ بھی اور سپریم کورٹ بھی، دہلی فسادات کے معاملے میں کس قدر ’سنجیدہ ‘ ہیں؟ اس کا اندازہ تو اسی سے ہو جاتا ہے کہ جب ایک جج جسٹس ایس مرلی دھرنے بی جے پی کے زہریلے لیڈروں کی زہریلی تقریروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنےکا سخت حکم دیا، تو انھیں راتوں رات چلتا کردیا گیا ۔ اور اس چلتا کرنے میں بھارت کے چیف جسٹس بوبڑے پیش پیش تھے ۔ انصاف کے مکھیا وہی تو ہیں اور اس پر غضب یہ کہ جب وہی مقدمہ دوبارہ دہلی ہائی کورٹ میں پیش ہوا، تو جسٹس ایس مرلی دھر کے بعد سماعت کرنے والے بینچ نے ، جو دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری پر مشتمل تھا،اس کے حکم کے باوجود ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ یہ سوال دریافت کرنے کے بجاے ، سماعت کی تاریخ ۱۳؍ اپریل مقرر کردی!

کیا یہ بھارت کی عدلیہ کا کام نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے زخموں پرمرہم رکھے ، شرپسندوں اورظالموں کو فوری طور پر کٹہرے میں کھڑا کرے،اور عوام تک یہ پیغام پہنچائے کہ ملک کی عدالتیں سارے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور لوگ اطمینان رکھیں کہ انصاف کیا جائے گا، قصور واروں کو بخشا نہیں جائے گا چاہے وہ کتنے ہی طاقت ور کیوں نہ ہوں؟ اگر ہم سارے معاملے کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہوجائے گا کہ ، مرکز کی بی جے پی کی حکومت ، یہ نہیں چاہتی کہ کپل مشرا، پرویش ورما اور انوراگ ٹھاکر جیسے آگ اُگلنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو۔

عدالت کے اندر، ہائی کورٹ میں بھی اور سپریم کورٹ میں بھی سالیسٹر جنرل تشار مہتا بس ایک ہی جملہ رٹتے رہے ’’ابھی ایف آئی درج کرانے کے لیے حالات ٹھیک نہیں ہیں‘‘۔ مطلب یہ کہ اگر بی جے پی کے لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تو تشدد کا دور پھر سے شروع ہوسکتا ہے ۔ کیا اس کا ایک مطلب یہ نہیں نکلتا کہ دہلی کے مسلم کش فسادات کے ذمے دار بی جے پی کے لیڈر ہی ہیں ؟

 کیا یہ اپنے آپ میں اقرار کرنا نہیںہے کہ اگر بی جے پی کے کسی لیڈر کے خلاف معاملہ درج ہوا تو دہلی کو اسی طرح سے پھر پھونک دیا جائے گا، جس طرح سے کہ پھونکا گیا ہے؟ اسے اقرار کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مراد یہ ہے کہ عدالت کو تو بی جے پی لیڈران کے تشدد میں ملوث ہونے کا مزید ثبوت مل گیا ہے ، اوراس کے باوجود وہ خاموش اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے !!

شامی آمر بشارالاسد کے ہاتھوں شام میں قتل عام ہو رہا ہے، جس نے ۲لاکھ سے زیادہ سول آبادی کو کچل کررکھ دیا ہے۔ ان میں سے بیش تر اہلِ وطن کو اپنے بنیادی حقوق اور جمہوریت کے لیے آواز بلندکرنے پر مار ڈالا گیا اور اس میں سفاکی کی انتہا یہ ہے کہ یہ کام کرتے وقت قاتل طبقے نے مخصوص مذہبی ذہنیت کو مرکزی اہمیت دی۔مارے جانے والوں کی بڑی اکثریت سُنّی عرب آبادی پرمشتمل ہے، جنھیں انسانوں سے بدتر مخلوق سمجھ کر فنا کیا گیا ہے۔

بشارالاسد کی فوجیں ایک اور بدترین قتل عام کے لیے ادلب (Idlib) کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ ادلب کو ۲۰۱۱ء کے بعد بشار اپنے خلاف جمہوری اور انسانی حقوق مانگنے والوں کا آخری مرکز تصور کرتا ہے، وہاں سے مزید ۳۰لاکھ آبادی کو اسلحےکے زور پر اپنے گھروں سے بے دخل کرکے، ترکی اور یورپ کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔

یاد رہے ترکی نے ادلب کی سرحد پر بار بار جنگ بندی ختم کی، تاکہ وہاں سے شامی آبادی کے بہاؤ کو ترکی کی طرف بڑھنے سے روکا جاسکے۔ اُدھر بشار کی شامی فوجوں نے بمباری کرکے ۳۰ترک فوجیوں کو گذشتہ فروری میں ماردیا جس پر ترکی نے محدود جوابی کارروائی کی ، تاکہ جنگ کے پھیلاؤ کو بڑھنے نہ دیا جائے اور امن عالم کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔

آج کے بشارالاسد کے شام میں، عصرجدید کا ’ہولوکاسٹ‘ ہورہا ہے۔ وہاں جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ ہونے جارہا ہے، اس سے بدترین کی اور کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ بشار ایڑی چوڑی کا زور لگاکر اقتدار پہ قابض رہنا چاہتا ہے۔ مجموعی طور پر ۵ لاکھ شامی اس جنگ میں لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ ایک کروڑ ۳۰ لاکھ بے گھر ہوکر دُنیا بھر میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہاں پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا بشارالاسد کو اس کا موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ ۱۰لاکھ لوگوں تک کو قتل کرڈالے؟ بدقسمتی کی بات ہے کہ ساری دنیا خاموشی سے اس وحشیانہ یلغار اور قتل عام کو دیکھ رہی ہے۔

شام کو فضائی حملوں سے روکنے کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ وہ بے گھر شامیوں کے درماندہ اور ہجرت کرتے بے یارومددگار ہوئے مظلوموں کو فضائی بم باری اور مشین گنوں سے نہ مارسکے۔  سُنّی شامیوں کی نسل کشی پر تلے ہوئے بشارالاسد کے حامی کہتے ہیں کہ ’’ہم تو مغربی سامراجیوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں‘‘۔ لیکن کیا وہ اس بے بنیاد دعوے کی تائید میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے بشار الاسد روسی سامراجیوں سے مدد حاصل کرکے یہ مقصد حاصل کررہا ہے؟ کیونکہ ان مظلوموں کے قافلوں پر حملےکرنےوالوں میں بشار کی فوجوں کے ساتھ روسی فضائیہ بھی برابر گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے۔

یہ سوال توجہ چاہتا ہے کہ ’’کیا دنیا میں بسنے والے حکمران اور عوام الناس، شام میں برپا نسل کشی کو درست سمجھتے ہیں؟ کیا وہ اس متفق علیہ عہد کو بھول گئے ہیں کہ آیندہ کبھی ہولوکاسٹ نہیں ہونے دیا جائے گا؟ کیا وہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ شام کے یہ مظلوم اور خانماں برباد لوگ، انسان نہیں ہیں؟ اگر دنیا کے لوگ اپنی ذات اور اپنے ضمیر سے مخلص ہیں تو جواب دیں کہ کیا برطانیہ یا اسپین کے ۲لاکھ عام انسانوں کو یوں ذبح کردیا جاتا تو وہ واقعی یوں ہی خاموش رہتے؟ حالانکہ اہلِ مغرب اور امریکا کی عظیم اکثریت، دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران جرمنی میں یہودیوں کے خلاف ہولوکاسٹ پربجا طور پر تڑپ اُٹھی تھی، لیکن آج وہ ضمیر کیوں سو چکا ہے؟

درحقیقت یہ تلخ سوال پھن پھیلائے کھڑا ہے کہ مغربی ضمیر، شام میں نسل کشی کو کچھ بھی سنجیدہ مقام نہیں دیتا۔ بشارالاسد کی فوجیں اندھا دھند سویلین آبادی پر آگ برسا رہی ہیں۔ وہ مردوں، عورتوں اور بچوں پر تسلسل کے ساتھ گیس اور کیمیکل بم برسا کر انھیں خوفناک اذیت سےدوچار کرتے ہوئے مار رہا ہے۔ وہ ’داعش‘ کو شام میں اس طرح کام کرنے کی اجازت دے رہا ہے، کہ دنیا کی توجہ کو اپنے ہاتھوں قتلِ انسانی سے ہٹاسکے۔ وہ اپنے فوجیوں کے ساتھ مسلسل کوشاں ہے کہ مقتولین کی اجتماعی قبروں کو دنیا کی نظروں سےبچائے اور داعش کے وجود کو خبروں کی سرخیوں میں اُبھارے۔ امرواقعہ ہے کہ بشار اور داعش، دونوں افواج نے شام میں آزادی کی اس جدوجہد کے پروانوں کو قتل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کی ہے اور پورے المیے کو مغالطے کی نذر کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

دوسری طرف ہزاروں شامی سُنّی مسلمان، بشار کے اذیت خانوں میں قید میں سڑتے، روزانہ مرتے اور روزانہ بے بسی کی زندگی جیتے ہیں۔ وہ دُعا اور التجا کرتے ہیں کہ یااللہ! کسی کو ہماری مدد کے لیے بھیج۔ مگر افسوس کہ ان ہزاروں مجروح قیدیوں کی مناجاتیں، جیل خانوں کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں۔ اور پھر جب ان کی لاشیں، بےرحمی سے مارے گئے جانوروں کی طرح کسی ویرانے میں پڑی نظر آتی ہیں، تو خود انسانیت شرما جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک لاش کی تصویر جب عام ہوئی تھی تو امریکی حکومت نےبشار اور اس کے افسروں پر محض کچھ مدت کے لیے پابندی عائد کرکے، اپنی ’انسان دوستی‘ کا مضحکہ خیز ثبوت دینے کی کوشش کی تھی، مگر اس کے ہاتھوں انسانی قتلِ عام کو روکنے کے لیے کچھ اقدام نہ کیا۔

ہمارے مظلوم اور معصوم بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ ہمارا مجموعی خاندانی، تہذیبی، اخلاقی، شہری اور تعلیمی مستقبل تباہی کے دھانے پر ہے۔ دُنیا انتشار اور بحران کے سوداگروں کے رحم و کرم پرہے، اورسرزمین شام اس المیے کا گڑھ ہے۔ یہاں پر مَیں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے ایلی ویسل کا یہ قول دُہرانا چاہوں گا:

میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ انسانیت کو پہنچنے والے دُکھ اور درد پر کبھی خاموش نہیں رہوں گا،اور ہرانسان کو پکاروں گا کہ وہ ظلم کی اس سیاہ رات میں غیر جانب دار نہ رہے۔ ظلم کا ہاتھ روکے، اس کی مذمت کرے اور مظلوم کی آواز بنے، اس کا ساتھ دے۔

شام میں روز افزوںانسانی نسل کشی پر دنیا کی بے خبری اورلاتعلقی درحقیقت انسانی تاریخ کا  اندوہ ناک المیہ ہے۔ کون ہے جو اس المیے کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا؟ (روزنامہ دی واشنگٹن پوسٹ، نیویارک، ۱۱مارچ ۲۰۲۰ء، ترجمہ: س م خ)

ناروے کی سمندری حدود میں جب ۱۹۷۹ء میں پیٹرولیم کے ذخائر نکالنے کا کام شروع ہوا، تو یورپ و امریکا کے متعدد عیسائی اور یہودی اداروں نے ناروے حکومت پر دباؤ ڈالا کہ ’’یہ تیل اسرائیل کو ارزاں نرخ پر یا مفت مہیا کیا جائے‘‘۔ ان کی دلیل تھی: ’’چونکہ تیل کی دولت سے مالامال عرب ممالک اسرائیل کو تیل فراہم نہیں کرتے ہیں اور ایران میں مغرب نواز رضا شاہ پہلوی حکومت کا تختہ اُلٹنے سے پٹرولیم کی فراہمی اور زیادہ مشکل ہوگئی ہے، اس لیے ناروے کو اپنے وسائل یہودی ریاست کی بقا کے لیے وقف کردینے چاہییں‘‘۔ ناروے کی ۱۵۰رکنی پارلیمان میں اس وقت ۸۷ ’اراکین فرینڈز آف اسرائیل‘ تنظیم کے سرگرم رکن تھے۔ تاہم، کوئی فیصلہ کرنے سے قبل ناروے کے وزیر اعظم اوڈوار نورڈلی نے ’فلسطین لیبریشن آرگنائزیشن‘ (PLO: تاسیس ۱۹۶۴ء) کے رہنماؤں اور عرب ممالک کا موقف جاننے کی خواہش ظاہر کی۔

بیش تر عرب ممالک نے اسرائیل کو پٹرولیم مہیا کرنے کی پُرزور مخالفت کی ۔ ان کی دلیل تھی کہ ’’اس کے بعد اسرائیل اور بھی زیادہ شیر ہوجائے گا اور امن کے لیے کوششیں مزید دشوار ہوجائیں گی‘‘، مگر پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات [م: ۱۱نومبر۲۰۰۴ء]نے ناروے کے وزیراعظم کو بتایا کہ’’ چاہے آپ اسرائیل کو تیل فراہم کریں یا نہ کریں، وہ یہ تیل حاصل کرکے ہی رہے گا۔ براہِ راست نہ سہی بالواسطہ دنیا میں کئی ملک اور افراد ہیں، جو یہ خرید کر اسرائیل کو سپلائی کریں گے۔ لہٰذا، بہتر یہ ہے کہ ناروے، اسرائیل کے ساتھ اپنی خیرسگالی کا خاطر خواہ فائدہ اٹھاکر فلسطینی قیادت اور اسرائیل کے درمیان پس پردہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرواکے ثالث کا کردار نبھائے‘‘۔

 ناروے کی انھی کاوشوں کی صورت میں ۱۴ سال بعد ’اوسلو اکارڈ‘ [معاہدۂ اوسلو: ۱۳ستمبر ۱۹۹۳ء] وجود میں آیا۔ جس کی رُو سے فریقین نے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے دو ریاستی فارمولے پر مہر لگائی ۔ یاسر عرفات کو فلسطینی اتھارٹی کا سربراہ تسلیم کیا گیا اور مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی ان کے حوالے کی گئی۔فلسطین کو مکمل ریاست کا درجہ دینے، سرحدوں کا تعین، سکیورٹی، فلسطینی مہاجرین کا مسئلہ اور القدس یا یروشلم شہر کے مستقبل کے بارے میں فریقین نے مزید بات چیت کے لیے ہامی بھرلی۔ اندازہ تھا کہ اس دوران اعتماد ساز ی کے اقدامات ، ملاقاتوں کے سلسلے اور پھر فلسطینیوں اور عام یہودی آباد کاروں کے درمیان رابطے سے ایک اعتماد کی فضا قائم ہو جائے گی ، جس سے پیچیدہ مسائل کے حل کی گنجایش نکل آئے گی۔

 اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی مہاجرین کی واپسی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرکے ’اوسلو اکارڈ‘ کی روح نکال دی تھی، مگر اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فلسطین کا جو  نقشۂ کار جاری کیا ہے، اس نے تو ’اوسلو کارڈ‘ کو مکمل طور پر دفنا دیا ہے۔ ’اوسلو اکارڈ‘ میں تو ایک فلسطینی ریاست قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر ’ٹرمپ کے منصوبے‘ (ڈیل آف سنچری) کے مطابق:  ’’فلسطین ، اب صرف مغربی کنارہ اور غزہ پر مشتمل ہوگا، مکمل ریاست کے بجاے اسرائیل کی زیرنگرانی اب محض ایک Protectrate (محافظت)کی شکل میں ہوگا، جس کی سلامتی اور دیگر امور اسرائیل طے کرے گا۔ یہ فلسطینی حکومت فوج نہیں رکھ سکے گی،تاہم ایک پولیس فورس تشکیل دے سکے گی۔ اس کی سرحدوں کی حفاظت اسرائیل کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگی‘‘۔

یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کا مکمل انخلا کرکے ان کو صحراے سینا میں بسایا جائے گا اور غزہ کا علاقہ مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کیا جائے گا۔۱۹۹۳ء میںاوسلو میں اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کے درمیان طے پائے گئے سمجھوتے میں ایک فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ جس سے ۴۰لاکھ کی آبادی کو دو خطوں: مشرق میں غزہ اور اُردن کی سرحد سے متصل مغربی کنارے میں تقسیم کیا گیاتھا۔ نسبتاً وسیع مغربی کنارے کا انتظام ’الفتح‘ کی قیادت فلسطین لبریشن آرگنائزیشن  (پی ایل او) کے پاس ہے ، وہیں غز ہ میں اسلامی تحریک ’حماس‘ [تاسیس: ۱۹۸۷ء، بانی شیخ احمد یاسین، ۱۹۳۷ء-۲۲مارچ ۲۰۰۴ء] بر سرِ اقتدار ہے۔ جہاں پی ایل او، اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے، حماس یہودی ریاست کے وجود سے ہی انکاری ہے۔ چونکہ مغربی کنارہ اور  غزہ کے درمیان کوئی زمینی رابطہ نہیں ہے، اس لیے ا مریکی صدر کے مطابق ان کو منسلک کرنے کے لیے اسرائیلی علاقوں سے ۳۰میٹراُوپر ۱۰۰کلومیٹر دنیا کا ایک طویل ترین فلائی اوور بنایا جائے گا۔ مغربی کنارے میں جو تقریباً ۱۵یہودی علاقے ایک طرح سے زمینی جزیروں کی صورت میں ہیں، ان کو اسرائیل کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے مخصوص شاہرائیں تعمیر کی جائیں گی۔

ایک سال قبل دہلی کے دورے پر آئے ایک یہودی عالم ڈیوڈ روزن نے مجھے بتایا تھا کہ ’’سابق امریکی صدر بارک اوباما جس خاکے کو تیار کرنے میں ناکام ہو گئے تھے، ٹرمپ ، سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے تعاون سے فلسطین کے حتمی حل کے قریب پہنچ گئے ہیں‘‘۔

ایئر لینڈ کے چیف ربی ڈیوڈ روزن، اسرائیل کی چیف ربائیٹ، یعنی مذہبی امورکے رکن ہیں اور امریکی جیوش کونسل ( AJC) کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔مشرق وسطیٰ میں امن مساعی اور خصوصاً اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیا ن بیک چینل تعلقات کے حوالے سے وہ خاصے سرگرم ہیں۔ وہ سابق سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز [م:۲۳جنوری ۲۰۱۵ء]کی ایما پر قائم ’کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل سینٹر فار انٹر ریلیجنز اینڈ کلچر ڈائیلاگ‘ کے بورڈ ممبر بھی ہیں۔

مشر ق وسطیٰ میں اس وقت یہ تین عوامل اسرائیل کو امن مساعی کے لیے مجبور کر رہے ہیں:  ’’تمام تر جارحانہ کارروائیوں کے باوجود نسل پرست یہودیوں اور اسرائیلی حکام کو ادراک ہو گیا ہے کہ وہ ناقابلِ تسخیر نہیں ہیں۔ ویسے تو اس کا اندازہ ۱۹۷۳ء کی جنگ رمضان اور بعد میں ۲۰۰۶ءمیں جنگ لبنان کے موقعے پر ہی ہوگیا تھا ، مگر حالیہ کچھ عرصے سے یہ بات شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔اس لیے دنیا بھر کے یہودی چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ تاریخ کا پہیہ کوئی اور رخ اختیار کرے، اسرائیل کی سرحدوں کا تعین کرکے، پڑوسی ممالک سے اس کا وجود تسلیم کرایا جائے۔ یہودی عالم کاکہنا تھا کہ توسیع پسندی اب کسی بھی صورت میں اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہے۔ فوجی اعتبار سے اگرچہ اسرائیل سرحدوں کو وسیع کرنے کی قوت رکھتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں مقبوضہ علاقوںکی آبادی کو بھی اس ناجائز قبضے کے ساتھ اسرائیل میں شامل کرنا پڑے گا، جس سے ظاہر ہے کہ یہودی اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔ دنیا بھر میں یہودی محض ایک کروڑ ہیں، جن میں ۶۰ لاکھ کے قریب اسرائیل میں رہتے ہیں۔ اس لیے فلسطینیوں سے زیادہ اسرائیلیوں کے لیے بھی اپنی بقا کے لیے سرحدوں کا تعین کرنا ضروری ہے۔

دوسرا یہ کہ اسرائیلی علاقوں میں مسلمانوں کی افزایش نسل یہودیوں سے کئی گنا زیا دہ ہے۔ ۱۹۶۷ء میں عرب ،اسرائیل کی آبادی کا ۱۴فی صد تھے ، جو اب لگ بھگ ۲۲ فی صد ہو چکے ہیں۔ یہ وہ مسلمان ہیں جنھوں نے اسرائیل کی شہریت تسلیم کی ہوئی ہے اور ’اسرائیلی عرب‘ کہلاتے ہیں۔

 تیسرا اہم سبب یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مشرقی ساحل پر حالیہ کچھ عرصے سے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہو رہے ہیں۔ کہاں وہ اسرائیل ، جہاں پانی اور تیل کا فقدان تھا،  اب وہ خطے میں عرب ممالک کو پیچھے چھوڑ کر پٹرولیم کا مرکز بننے والا ہے۔ اس لیے وہ اب ہرصورت میں امن کو یقینی بناتے ہوئے، پوری سمندری حدود پر کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ 

حیفا کے پاس سمندر سے صاف پانی کشید کرنے کا دنیا کا سب سے بڑا پلانٹ لگا کر پانی کے معاملے میں اسرائیل پہلے ہی خود کفالت اختیار کرکے اب اردن کو بھی پانی سپلائی کرتا ہے۔ اسرائیل نے اب اردن اور مصر کو گیس کی ترسیل شروع کر دی ہے۔ اس وقت مصر کو اسرائیل سے ۸۵ملین کیوبک میٹر گیس فراہم ہورہی ہے، جس سے اسرائیل سالانہ۱۹ء ۵ ارب ڈالر کماتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ چند سال قبل تک اسرائیل ، مصر سے تیل و گیس خریدتا تھا۔ حیفا سے ۱۰۰کلومیٹر دُور سمندر میں تامار اور لیویاتھان کے مقام پر اسرائیل نے گیس کے وسیع ذخائر دریافت کیے ہیں۔

بحیرہ روم میں دیگر مقامات پر بھی پٹرول اور قدرتی گیس کے ’وسیع ذخائر‘ موجود ہیں،   جن پر فلسطینیوں کا دعویٰ ہے، مگر اس سمندر کا ۹۰فی صد اقتصادی زون اسرائیل کی تحویل میں ہے۔ لیویاتھان کے مقام پر ہی ۲۱ ٹریلین کیوبک فیٹ گیس کے ذخائر اگلے ۴۰سال تک اسرائیل کی ضروریات کے لیے بہت کافی ہیں۔ پچھلے ماہ یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ۶؍ارب ڈالر لاگت سے ’ایسٹ میڈ پائپ لائن‘ بچھانے کے معاہدے پر دستخط کیے، جو اسرائیل سے قبرص ہوتے ہوئے یونان اور اٹلی اور دیگر مغربی ممالک کو گیس کی ترسیل کرے گی۔ اس پائپ لائن سے یور پ کی توانائی کی ۱۰فی صد ضروریات پوری ہوسکیں گی۔

تاہم، امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے فلسطینی مسئلے کا جو فارمولا منظر عام پر آیا ہے، اس سے شاید ہی امن کی امید بندھ سکتی ہے۔ خدشہ ہے کہ یہ اس خطے کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے مطابق فلسطینی مہاجرین کی اپنے گھروں کو واپسی کا معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔۱۸۱صفحات کے اس منصوبے میں عرب ممالک سے اپنی مرضی سے ہجرت کرنے والے یہودیوں اور بزور طاقت بے گھر ہوئے فلسطینی مہاجرین کو ایک ہی پلڑے میں رکھا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ: ’’اگر اسرائیل، عرب ممالک سے آئے یہودی پناہ گرینوں کو اپنے یہاں ضم کرسکتا ہے، تو عرب ممالک کو بھی فلسطینیوں کو مکمل شہریت دے کر پناہ گزینوں کے باب کو بند کردینا چاہیے‘‘۔

 دنیا بھر میں اس وقت ۷۰لاکھ فلسطینی مختلف ممالک میں وطن واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ منصوبے میں عرب ممالک سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے، کہ ۷۰سال قبل جو یہودی اپنے آبائی ممالک سے نقل مکانی کرکے اسرائیل میں بس گئے ہیں، ان کو پیچھے چھوڑی ہوئی جایدادوں کا معاوضہ دے دیا جائے۔ اسرائیل سے، تاہم یہ مطالبہ نہیں کیا گیا ہے کہ وہ بھی ان فلسطینی پناہ گزینوں کو ہرجانہ دے، جن کو اس نے اپنی جایدادوں سے زبردستی بے دخل کردیا ہے۔

اسی طرح کی بددیانتی قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں بھی اپنائی گئی ہے۔ فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو بلاشرط تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا، مگر اسرائیلی تحویل میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے شرطوں کی ایک لمبی فہرست درج کی گئی ہے۔ قتل، اقدام قتل، دہشت گردی، اسرائیلی شہریوں،فوج یا اس کے سیکورٹی دستوں پر حملوںمیں ملوث فلسطینیوں کو کسی بھی صورت میں رہائی نہیں ملے گی۔  آخر میں اسرائیلی حکا م کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی صواب دید پر فلسطینی قیدیوں کو رہا کرسکتے ہیں۔

 اس منصوبے کی رُو سے القدس یا یروشلم شہر کو تقسیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کا مکمل کنٹرول اسرائیل کے پاس ہی رہے گا۔ شہر میں مکینوں کو اختیار ہوگا کہ وہ اسرائیل یا فلسطین کے شہری ہوں گے۔ الاقصیٰ حرم پر جو ں کی توں پوزیشن برقرار رہے گی، یعنی یہ بدستور اُردن کے اوقاف کی زیرنگرانی رہے گا۔ اگرچہ سعودی عرب اس کے کنٹرول کا متمنی تھا، تاکہ ریاض میں موجود سعودی بادشاہ تینوں حرمین، یعنی مکہ ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ کے ’متولی یا خادم‘ قرار پائیں۔

اسرائیل، مسجد اقصیٰ کے تہہ خانے تک رسائی کا خواہش مند ہے۔ جس کے لیے اس نے مغربی سرے پر کھدائی بھی کی ہے ، تاکہ وہاں تک پہنچنے کے لیے مسجدکی دیواروں کے نیچے سے ایک سرنگ بنا سکے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ تہہ خانے میں ہی معبد سلیمانی کے کھنڈرات یا قبلۂ اوّل موجود ہے۔

شہر کی مونسپل حدود کے باہر کفر عقاب اور سہانات کے علاقوں کو مشرقی یروشلم یا القدس کا نام دے کر اس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے گا۔غزہ کے راستے اسرائیل اورمصر کی سرحدیں نقل و حمل اور تجارت کے لیے کھول دی جائیں گی۔ اسرائیلی بندر گاہیں حیفا اور اشدود کو فلسطینیوں کے لیے کھولا جائے گا۔ ’بحیرۂ مُردار‘ (Dead Sea) جو مغربی کنارے کے علاقے میں شامل ہے، اس کے وسائل پر اسرائیل اور اردن کا کنٹرول رہے گا۔ اسرائیل دنیا بھر میں ’بحیرئہ مُردار‘ کی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ ’بحیرۂ مُردار‘ میں کان کنی اور اس کی مصنوعات کو جلد کی حفاظت وغیرہ کی دوائیوں کے طور پر استعمال کرنے کی دریافت کا سہرا ایک پاکستانی نژاد یہودی کے سر ہے، جو کراچی سے اسرائیل منتقل ہو گیا تھا۔

اس پوری رُوداد کے بعد بھی بتایا گیا ہے کہ: ’’یہ منصوبہ تبھی عمل میں لایا جائے گا ، جب حالات اسرائیل کے موافق ہوں گے اور فلسطینی اگلے چار برسو ں تک تمام شرائط پر عمل درآمد کرکے اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنائیں گے۔ اس کے بعد ہی اسرائیل دیگر امور پر قدم اٹھائے گا‘‘۔ فلسطینی حکام کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ ا ن کو حماس اور دیگر تمام مزاحمتی گروپوں کو غیر مسلح کرنا ہوگا۔ اردن اور مغربی کنارے کی سرحدکی تین چیک پوسٹ فلسطینی حکام کے حوالے کی جائیں گی۔ اس پورے معاہدے میں ترکی کے کردار کا کوئی ذکر نہیں ہے ، جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں القدس یا یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف ووٹ دلوانے میں قائدانہ کردارکرکے امریکا کے فیصلے کی سینہ تان کرمخالفت کی تھی۔

چند برس قبل دوحہ میں راقم کو مقتدر فلسطینی لیڈر خالد مشعل سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ ’’آپ تو دو ریاستی فارمولے کو رد کرتے ہیں اور اسرائیل کے وجود سے ہی انکاری ہیں، تو مفاہمت کیسے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا:’’حماس کا رویہ کسی بھی طرح     امن مساعی میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یاسر عرفات اور محمود عباس نے تو اسرائیل کو تسلیم کیا، مگر ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ تحریک میں شارٹ کٹ کی گنجایش نہیں ہوتی۔ اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے استقامت ضروری ہے۔ اپنے آپ کو مضبوط بنانا اور زیادہ سے زیادہ حلیف بنانا تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ تاریخ کا پہیہ سست ہی سہی مگر گھومتا رہتا ہے‘‘۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ حماس ۲۰۰۶ء کے ’نیشنل فلسطین اکارڈ‘ پر کار بند ہے، جس کی رُو سے وہ دیگر گروپوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی‘‘۔

      اس فارمولے میں فلسطینی علاقوں میں غربت و افلاس سے نبٹنے کے لیے ۵۰؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی ذکر ہے۔ اس خیراتی سرمایہ کاری کے بجاے اگر فلسطینی اتھارٹی کو گیس کے ذخائر اور ’بحیرئہ مُردار‘ کے وسائل کا کنٹرول دیا جاتا تو یہ کئی گنا بہتر ہوتا ۔بہرحال، صدر ٹرمپ کی اس بدترین جانب داری پر مبنی نام نہاد ’ڈیل آف سینچری‘ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ کمزور اور طاقت ور کے درمیان کوئی معاہدہ ہو ہی نہیں سکتا۔فلسطینی لیڈرو ں ،عرب و دیگر اسلامی ممالک کے لیے لازم ہے کہ اتحاد کا راستہ اختیار کرکے، سیاسی لحاظ سے طاقت ور اور مستحکم بننے پر زور دےکر تاریخ میں اپنے آپ کو سرخ رو کروائیں، ورنہ تاریخ کے بے رحم اوراق ان کو کبھی نہیں بخشیں گے۔

۶۰ سال پہلے