دسمبر۲۰۲۰

فہرست مضامین

گرفتاری سے رہائی تک

قاضی حسین احمد | دسمبر۲۰۲۰ | یادداشت

مسئلۂ کشمیر کی حیثیت،پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل میں سے ، محض ایک مسئلے جیسی نہیں ہے۔اس کا تعلق پاکستان کے وجود، اس کی شناخت، اس کی علاقائی حیثیت، اس کے معاشی، نظریاتی، سیاسی اور تہذیبی استحکام اور ترقی سے ہے۔ یہ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے صاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ ’’کشمیر ہماری شہ رگ ہے‘‘۔

قائداعظم مرحوم نے زیارت کے قیام کے دوران اپنے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش سے کہا:
کشمیر سیاسی اور فوجی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کوئی خوددار ملک اور قوم اسے برداشت نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی شہ رگ اپنے دشمن کی تلوار کے آگے کردے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ ایک ایسا حصہ جسےپاکستان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر کا مسئلہ نہایت نازک مسئلہ ہے۔ لیکن اس حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم اور ملک نظرانداز نہیں کرسکتا کہ کشمیر تمدنی، ثقافتی، مذہبی، جغرافیائی ، معاشرتی اور سیاسی طور پر پاکستان کا حصہ ہے۔ اور جب بھی اور جس زاویے سے بھی نقشے پر نظر ڈالی جائے، یہ حقیقت بھی اتنی ہی واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔ (قائداعظم کے آخری ایام، ڈاکٹر الٰہی بخش)

یہ تقسیمِ ہند کے ایجنڈے کا لازمی حصہ ہے، اور جب تک یہ پاکستان، بھارت، کشمیری عوام کی منشا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا،جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کی فضا قائم نہیں ہوسکتی۔ کشمیری عوام اپنی آزادی کے لیے اور مستقبل میں اپنے دین، اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، اپنے جغرافیہ اور اپنے نظریاتی عزائم کی بقا کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور بھارت کے غاصبانہ قبضے سے نجات کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ پاکستانی بن کر زندہ رہنا چاہتے ہیں اور پاکستان کا حصہ بننے کے لیے جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ یہی جذبہ پاکستانی قوم کا ہے۔ جو حصہ آج آزاد کشمیر، گلگت اور بلتستان کی حیثیت سے پاکستان سے منسلک ہے، وہ کشمیری عوام اور پاکستان کے مجاہدین کی عسکری جدوجہد کے نتیجے میں آزاد ہوا ہے۔ جو حصہ اس وقت بھارت کے قبضے میں ہے، اس پر بھارت اپنا تسلط مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ۱۰لاکھ فوجیوں اور جن سنگھی دہشت گردوں کی ظالمانہ کارروائیوں اور بھارت کی ہرقسم کی آمرانہ کارروائیوں کے باوجود وہ ان کے دلوں کو فتح نہیں کر پارہا۔
جموں و کشمیر کے عوام کی عظیم اکثریت سیاسی اور دفاعی ہرقوت کو استعمال کرکے بھارتی استعمار سے نجات پانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ بھارت میں بی جے پی کی فاشسٹ حکومت نے ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بعد جو اقدام کیے ہیں، ان کے نتیجے میں تحریک ِ مزاحمت اور بھی وسیع اور مؤثر ہوگئی ہے۔ وہ جو بھارت سے کسی خیر کی توقع رکھتے تھے، وہ جھوٹی ثابت ہوئی اور وہ بھی مایوس اور برگشتہ ہوکر مزاحمت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ بھی بھارتی قیادت کو ’ڈاکو‘ (Robbers) کہہ رہے ہیں اور پاکستان کو ایک فیصلہ کن فریق کی حیثیت سے مذاکرات میں شریک کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت کے دانش ور بھی صاف الفاظ میں یہ انتباہ کر رہے ہیں کہ جبر اور تسلط کا یہ نظام اب نہیں چل سکتا اور کشمیر کی پوری آبادی مزاحمت اور بغاوت کے راستے پر گامزن ہے۔ بھارت کے مشہور قانون دان اے جے نورانی اپنے ایک تازہ مضمون میں لکھتے ہیں:
کشمیر کے سلسلے میں ۱۹۴۸ء میں آزادانہ اور شفاف رائے شماری کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا، جس کو کئی باردُہرایا گیا، جس کے تحت عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں، مگر بدنیتی سے اس دعوے کو بروئے کار لانے سے مسلسل انحراف کیا گیا۔ستم زدہ کشمیری اس المیے کو یاد کرتے ہیں۔ آپ دباؤ، دھونس اورجھوٹ کے بل بوتے پر تو انھیں زیرنہیں کرسکتے۔ (Written in Blood، ڈان، ۷نومبر ۲۰۲۰ء)

اصل مسئلہ بنیادی طور پر ایک اور صرف ایک ہے، اور وہ ہے: ’حق خود ارادیت‘ (Right of self determination)۔یہی اصل ایشو ہے، یہی پاکستان کا موقف ہے، یہی کشمیری عوام کا مطالبہ ہے، یہی اقوام متحدہ اور ہندستان کا معاہدہ ہے اور اس کے سوا مسئلے کا کوئی حل نہ تھا اور نہ ہوسکتا ہے۔چنانچہ بھارت، پاکستان اور اقوام متحدہ کے عہد کے مطابق، کشمیری عوام ہی کو اپنی آزادانہ مرضی سے، اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔

اُوپر ہم نے دو بنیادی باتیں عرض کی ہیں: ایک یہ کہ پاکستان کے لیے کشمیر زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور پاکستان اور کشمیری عوام حق خود ارادیت کے سوا کسی اور صورت کو کسی شکل میں قبول نہیں کرسکتے۔ اس بات کو ایک بار پھر پوری قوت سے کہنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ گذشتہ چند ہفتوں میں حکومت کے اہم ترجمانوں نے ایسی باتیں کہی ہیں، جو سخت پریشان کن ہیں اور جن پر فی الفور گرفت ازبس ضروری ہے۔ ایک طرف گلگت اور بلتستان کو دستوری ترمیم کے ذریعے پاکستان کا حصہ بنانے کے دعوؤں اور اقدام کا بہ تکرار ذکر کیا گیا۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بھارتی غیرقانونی اور غیراخلاقی اقدامات کے پس منظر میں وزیراعظم اور وزیرخارجہ کے بیانات میں کسی قسم کی صوبائی خودمختاری (State Autonomy) کی بحالی کی شکل کو مسئلۂ کشمیر کے حل کی طرف پیش قدمی قرار دیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف اور عادل نجم کا میڈیا میں پیش کردہ وہ موقف تشویش کا باعث ہے، جس میں مسئلۂ کشمیر کے ممکنہ حل کے باب میں ’استصواب اور حق خود ارادیت‘ سے ہٹ کر داخلی خوداختیاری کا شوشا چھوڑا گیا ہے۔ پھر اسی موضوع پر نومبر ہی میں اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں کسی تھنک ٹینک کی طرف سے سیمی نار کا انعقاد تشویش ناک امر ہے۔

یہ تمام خطرے کی علامات ہیں اوران پر بجاطور پر کشمیری رہنماؤں اور دُنیابھر میں پھیلے کشمیری اہلِ فکر نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ہم خود ان بیانات کو خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہیں اور واشگاف الفاظ میں کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ محض انتظامی اختیارات کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت اور بھارت کے ظالمانہ تسلط سے مکمل آزادی کے حصول کا مسئلہ ہے۔ بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی ایک حقیقت ہے۔ پورا مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے بڑا جیل خانہ بن گیا ہے۔وہاں رہنے والوں کے جان، مال، آبرو سب داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ لاکھوں افراد جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں۔ کشمیر ہی کی نہیں، بھارت کی جیلیں بھی معصوم کشمیریوں سے بھری پڑی ہیں۔ ہزاروں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزّتیں پامال ہوگئی ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ بھارتی فوج اور پولیس دونوں مل کر کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اصل مسئلہ وہ نظام اور غاصبانہ انتظام ہے جس کے نتیجے میں یہ صورتِ حال رُونما ہورہی ہے۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی قومی پالیسی پوری وضاحت کے ساتھ ہرسطح پر بیان کی جائے، تاکہ قومی اور بین الاقوامی ہرمیدان میں اس سلسلے میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ پاکستانی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنے چار نکاتی پروگرام میں یہی ہمالیائی غلطی کی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک لابی آج پھر ایک دوسرے انداز میں ایسے فتنے اُٹھا رہی ہے۔ اس فتنے کو بروقت ختم کرنا ضروری ہے۔

کشمیر پر اصولی موقف:

کشمیر کے سلسلہ میں ہمارا قومی موقف مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ:
    ۱-    جموں و کشمیر کی ریاست ایک وحدت ہے، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ ایک وحدت کے طور پر کیا جانا ہے۔
    ۲-    کشمیر کے دو تہائی علاقے پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ نام نہاد الحاق ایک ڈھونگ اور صریح دھوکا ہے، جسے کوئی دستوری، قانونی، سیاسی اور اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
    ۳-    ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کو اپنی آزاد مرضی سے کرنا ہے، جسے معلوم کرنے کے لیے بین الاقوامی انتظام میں استصواب رائے کرانا ایک طے شدہ امر ہے۔
    ۴-    کشمیر کا مسئلہ نہ زمین کا جھگڑا ہے، نہ کسی سرحد کی نشان بندی کا معاملہ ہے ، اور نہ پاکستان اور بھارت میں کوئی تنازع ہے بلکہ اس کے تین فریق ہیں: جموں و کشمیر کے عوام، پاکستان اور بھارت___ جنھیں آخری فیصلہ کرنا ہے۔
استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام یہ طے کریں گے کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں یا بھارت کا۔ پاکستان نے اپنے دستور میں دفعہ ۲۵۱میں صاف الفاظ میں یہ لکھا ہے:
جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان اور اس ریاست کے درمیان تعلقات، اس ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیے جائیں گے۔
اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے عوام کو پاکستان یا بھارت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے اور پھر یہ پاکستان کا وعدہ ہے کہ پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے درمیان تعلق اور اس کی حدودکار کشمیری عوام کی منشا اور مرضی کے مطابق متعین ہوں گے۔ یہ اس لیے ہے کہ اگر تین آپشن دیے جائیں اور ’آزاد ریاست‘ بھی ایک آپشن ہو تو اس صورت میں خطرہ ہے کہ کشمیر کی غیرمسلم آبادی کے کردار کی وجہ سے ووٹ بٹ نہ جائیں اور مسلمانانِ کشمیر اپنے حق سے محروم نہ ہوجائیں۔ان تمام نزاکتوں کو سامنے رکھ کر پاکستان کی حکومت کو پوری یکسوئی کے ساتھ قومی کشمیر پالیسی کو واضح کر دینا چاہیے۔

گلگت بلتستان کا مسئلہ:

اسی پس منظر میں گلگت اور بلتستان کے مسئلے کو بھی سمجھنا بہت ضروری ہے۔ہم اصولی طور پر ضروری گزارشات ترجمان القرآن (اکتوبر ۲۰۲۰ء )میں پیش کرچکے ہیں، لیکن گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کی مہم کے دوران جو وعدے ہوئے ہیں،  ان کی روشنی میں ایک بار پھر یہ بات عرض کرنا چاہتے ہیں کہ:
۱- گلگت اور بلتستان، ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا اور ہے۔یہ صحیح ہے کہ انتظامی اعتبار سے مہاراجا کے دور میں بھی اسے خصوصی حیثیت حاصل تھی اور پاکستان کے دور سے بھی اسے آزادکشمیر کی ریاست سے الگ حیثیت دی گئی ہے، لیکن قانونی اور انتظامی ہردواعتبار سے وہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے اور یہی پوزیشن اقوام متحدہ کی قراردادوں میں اسے حاصل ہے۔ اس لیے کوئی ایسی تجویز جو اس حیثیت کو کسی پہلو سے بھی متاثر کرے، اس سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔
۲- ۱۹۴۹ء میں حکومت ِ پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کی قیادت کے مشورے سے جو راستہ اختیار کیا، اس کے بارے میں دو رائے ہوسکتی ہیں، لیکن اس سلسلے میں کوئی ابہام نہیں۔ اس میں دونوں کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے البتہ انتظامی طور پر آزاد جموں و کشمیر کی ریاست کا نظام ایک خاص دستور کے تحت قائم کیا گیا ہے اور گلگت بلتستان بلاواسطہ حکومت ِ پاکستان کے تحت تھا اور عملاً وہ انتظام نہایت ناقص بلکہ ظالمانہ تھا کیونکہ اس پورے علاقے کو شمالی علاقہ جات کا حصہ بنادیا گیا اور دورِ استعمار کے ایف سی آر نافذ کر دیے گئے، جو ہر جمہوری اصول و روایت سے متصادم تھے۔ فطری طور پر اس کے خلاف تحریکیں اُٹھیں اور بالآخر وہاں کے لوگوں کے   انسانی حقوق اور انتظامی معاملات و فیصلہ سازی کے لیے ایک نظام وجود میں آیا، جس میں اب بھی بہت سی سنجیدہ خامیاں ہیں کہ جن کی اصلاح درکار ہے۔ لیکن گلگت اور بلتستان کو ’صوبہ‘ یا ’عارضی صوبہ‘ قرار دینا ہراعتبار سے ایک بڑی غلطی ہوگا، جس سے کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کی پوزیشن مجروح ہوگی اور بھارت نے جو کچھ کیا ہے، کر رہا ہے اور جس پر ہم نے بجاطور پر تنقید کی ہے اور ہم نے ہی نہیں، عالمی سطح پر بھی جس پر گرفت کی جارہی ہے، اس سے اس غلط قدم کو تائید میسر آئے گی۔ اس سے بڑا ظلم مسئلۂ کشمیر پر نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے ہم پوری قوت سے عرض کریں گے کہ جہاں گلگت اور بلتستان کے لوگوں کو ان کے حقوق اور تمام سیاسی اور انتظامی مطالبات اور اپنے معاملات کا ذمہ دار بنانا اوّلین ترجیح ہونا چاہیے، وہیں دستور کی دفعہ ۲۵۷ میں جو راستہ ہم نے اختیار کیا ہے، وہ بھارت کی حکمت عملی سے بالکل مختلف ہے۔ اس سے سرموانحراف، غیردستوری، غیرسیاسی اور غیراخلاقی فعل ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اپنے ۲۰۱۹ء کے تاریخی فیصلے میں بڑی احتیاط سے اس مسئلے پر کلام کیا ہے اور کم از کم سات بار متنبہ کیا ہے کہ کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے، جس سے مسئلۂ کشمیر اور اس پر استصواب رائے کے پاکستانی موقف پر کوئی پرچھائیں پڑیں۔ کسی دستوری ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ایک مناسب شکل میں حکومت پاکستان کے جاری کردہ جنوری ۲۰۱۹ء کے آرڈر میں کچھ ترامیم مطلوب ہیں، جو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کی جاسکتی ہیں۔
ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان دونوں علاقوں میں مکمل خودمختاری، عوام کی ہرسطح پر حکمرانی میں شمولیت اور عوام کے حقوق کی مکمل حفاظت ہو۔ عدلیہ آزاد ہو اور عملاً ہم ایک نمونہ پیش کرسکیں، جس کے آئینے میں پاکستان سے منسلک جموں و کشمیر اور بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر کا فرق سب کے سامنے آسکے۔ لیکن اس کے لیے کسی علاقے کو پاکستان کا صوبہ بنانا ضروری نہیں۔ دونوں آزاد انتظامیہ کی حیثیت سے کام کریں اور یہی بہترین نمونہ ہے اس وقت تک کے لیے، جب تک استصواب رائے ہو اور پھر ایک مستقل نظام وضع کیا جاسکے۔

فوری اور لازمی حکمتِ کار:ہم دو باتیں مزید عرض کرنا چاہتے ہیں:
r  پہلی یہ کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی میں کوئی ابہام کسی صورت میں بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔ تمام جماعتیں اپنے دوسرے اختلافات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، ایک قومی پالیسی پر قائم و دائم ہوں، اسے ملک اور عالمی سطح پر دلیل کی قوت سے پیش کیا جائے۔ تعلیمی نصاب سے لے کر میڈیا اور سوشل میڈیا ، ہرسطح پر اسی پالیسی کا ابلاغ ہو۔موجودہ حکومت نے چند اقدامات کے سوا اس سلسلے میں کوئی مؤثر خدمت انجام نہیں دی ہے۔ کشمیر کمیٹی بھی ماضی کی طرح غیرفعال ہے اور اُمورِکشمیر کے وزیرصاحب کا انتخاب بھی لاجواب کہ وہ کشمیر کے علاوہ ہر موضوع پر بات کرتے ہیں اوراس باب میں بھی سوچتے کم اور بولتے زیادہ ہیں۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں مناسب انداز میں کشمیر کے معاملے کو پیش کیا مگر محض ایک تقریر سے کیا حاصل ہوسکے گا؟ اس کے لیے بڑی مؤثر اور ہمہ گیر جدوجہد کی ضرورت ہے۔ لائق سابق سفارت کاروں میں سے کسی جہاں دیدہ، زیرک اور ہمہ تن متحرک فرد کو کشمیر پر ’ایمبسڈر ایٹ لارج‘ بنایا جائے۔ وزارتِ خارجہ کشمیر کے مسئلے پر تحقیق اور ترجمانی کا مؤثر نظام بنائے۔ ہراہم سفارت خانے میں کشمیر ڈیسک قائم کیا جائے۔ کشمیر کمیٹی عالمی سطح پر لائق اور تجربہ کار افراد کو بھیجے۔ دنیا کے پانچ چھے بڑے بڑے سیاسی مراکز پر باقاعدہ کشمیر آفس قائم کیے جائیں۔ پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے تعاون سے اس مسئلے کو اُجاگر کرنے اور رائے عامہ کو متحرک کرکے ہندستان کو بے نقاب کیا جائے اور عالمی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ہمارے پاس بے پناہ وسائل اور انسانی سرمایہ ہے لیکن افسوس ہے کہ اسے منظم کرنے اور مسئلہ کشمیر کو دنیاکے سامنے مؤثرانداز میں پیش کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جارہا۔ حکومت کو اس مسئلے کو اوّلیت دینی چاہیے ۔ جیساکہ ہم نے عرض کیا اس میں اصل مسئلہ بھارتی غاصبانہ قبضہ اور کشمیریوں کی آزادی اور حق خود اختیاری کے حصول کو حاصل ہونا چاہیے۔ باقی تمام اُمور اس کے گرد اور اس کے تحت آتے ہیں۔پاکستان کے دیگر تمام مسائل میں سے کوئی مسئلہ اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔ یہی سب سے بڑا، اہم اور مرکزی نکتہ ہے۔
r  دوسری بات ہم یہ بھی عرض کرنا چاہتے ہیں اور کشمیر کے مسئلے کو ایک مستقل بالذات مسئلے کے طور پر ہماری اسٹرے ٹیجی کا مرکزی موضوع ہونا چاہیے۔ بھارت سے دوسرے مسائل اور معاملات پر بحث ضرور کی جائے، مگر اس طرح نہیں کہ کشمیر کی مرکزیت متاثر ہوجائے۔
ہمارا فرض ہے کہ بھارتی مسلمانوں اور وہاں کی اقلیتوں کے حقوق کی بات بھی کریں ۔ بھارت میں ہندوفسطائیت جس طرح غلبہ پارہی ہے، اس پر تنقید بھی ضروری ہے۔ لیکن ہماری اسٹرےٹیجی میں کشمیر اور ان تمام مسائل کو الگ الگ رکھ کر حکمت عملی بنائی جائے۔ پوری تحقیق کے ساتھ دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ پیش کیاجائے، لیکن ترجیحات کا پورا پورا لحاظ رکھ کر۔
ہماری نگاہ میں کئی عشروں کے بعد عالمی سطح پر اور خود بھارت میں ایسے حالات رُونما ہوئے ہیں کہ بھارت پر تنقید اور اس کے احتساب کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ جو پہلے خاموش تھے، اب بولنے لگے ہیں۔ جو بھارت کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں تھے، وہ اب بھارت پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کے ادارے اور مراکزِ فکرودانش، حتیٰ کہ وہ اخبارات اور رسائل جو پہلے بھارت کے خلاف زبان نہیں کھولتے تھے اب اختلافی بات شائع کررہے ہیں۔
ہمیں اس موقعے سے پورا فائدہ اُٹھانا چاہیے اور محض پروپیگنڈے کے انداز میں نہیں بلکہ دلیل کے ساتھ، تحقیق کی بنیاد پر اور شواہد کی روشنی میں بات کرنی چاہیے۔ اس کے لیے پوری تیاری سے، مؤثر اور مناسب انداز میں ابلاغ کیا جائے۔ کوئی وجہ نہیں کہ منظم کوشش کرکے بھارت پر ہم مؤثر دباؤ ڈالنے میں کامیاب نہ ہوں۔ اس سلسلے میں بھارت کے معاشی بائیکاٹ کی بات بھی اُٹھائی جاسکتی ہے۔ بلاشبہہ دنیا اپنے اپنے مفادات کا خیال رکھتی ہے، لیکن عالمی ضمیر بھی ایک شے ہے اور مسلسل کوشش سے وہ بیدار ہوتا ہے اور اس کے اثرات پالیسی سازی پر پڑتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو ظلم کا نظام اگر ایک بار غالب آجائے تو پھر کبھی نہ ہٹے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ظلم کی بنیاد کمزور ہوتی ہے اور بالآخر انسان ظلم کے نظام کو زمین بوس کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ تاریخ بڑی بڑی ایمپائرز کا قبرستان ہے۔

 

سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بڑے حصے ہیں: ایک کا تعلق آپؐ کی ذاتِ گرامی سے ہے اور دوسرے کا تعلق اس دین، اس نظام اور اس پیغام سے ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ پرنازل کیا تھا اور جس پر خود عمل کرکے آپؐ نے دکھایا۔
آپؐ کی ذاتِ گرامی سے جس حصہ کا تعلق ہے اس کی دو نوعیتیں ہیں:
ایک یہ کہ آپؐ کہاں پیداہوئے؟ کب پیدا ہوئے؟ کس خاندان سے اور نبوت سے پہلے آپؐ کے سوانح حیات کیا ہیں؟ نیز یہ کہ ظہور قدسی کے وقت جزیرۃ العرب کے بالخصوص اور پوری دنیا کے بالعموم حالات کیا تھے؟
دوسری نوعیت یہ ہے کہ اللہ ربّ العزت نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بحیثیت رسول کیا مقام عطا فرمایا ہے؟ سیرتِ نبویؐ کے دوسرے حصے کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ اس کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔ وہ ایک مکمل اور ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے۔ سیرتِ نبویؐ سے مراد یہ دونوں حصے ہیں۔

مطالعۂ سیرت کی اہمیت

اس کی ایک واضح ناقابلِ انکار اہمیت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور پیروی کے بغیر دین اسلام پر عمل ممکن نہیں ہے۔ کوئی مومن، اسلام کے اوّلین حکمِ اقامت ِ صلوٰۃ پر بھی عمل نہیں کرسکتا اگر آپؐ کی قولی و عملی تعلیم اس کے سامنے نہ ہو۔
داعیانِ حق اور اقامت ِ دین کی جدوجہد میں حصہ لینے والوں کے لیے اس کی مخصوص اہمیت یہ ہے کہ اس کے بغیر وہ یہ مہم سر نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ اقامت ِدین کا آخری نمونہ حضوؐر کی سیرت میں موجود ہے۔ اگر اس کو نگاہوں سے اوجھل کردیا جائے تو اقامت ِ دین کی جدوجہد کسی اور سمت مڑ جائے گی اور مڑنے والوں کو اس کا شعور بھی نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے آپؐ کی سیرت کو قیامت کے لیے واجب العمل اسوئہ حسنہ کی حیثیت دے دی ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا۝۲۱ۭ (الاحزاب ۳۳: ۲۱) اور تمھارے لیے اللہ کے رسولؐ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ، ان کے لیے جو اللہ کی ملاقات اور روزِ آخرت کی توقع رکھتے ہیں، اور اللہ کو زیادہ یادکرتے ہیں۔
مطالعۂ سیرت کی اہمیت کے پیش نظر یہ آیت بے حد قابلِ غور ہے اور ضروری ہے کہ ہرمسلمان اور خاص طور سے داعیِ حق کے ذہن میں تازہ رہے تاکہ وہ دعوتِ حق کے ہرموڑ پر اس سے روشنی حاصل کرسکے۔ ہم اس آیت کریمہ کے چند پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔
سب سے پہلی چیز جو سامنے آتی ہے وہ اس آیت کا موقع و محل اور اس کا پس منظر ہے۔ موقع و محل غزوئہ احزاب سے تعلق رکھتا ہے۔ اس غزوے کی اہمیت یہ ہےکہ پوری سورہ کا نام ہی ’الاحزاب‘ رکھ دیا گیاہے۔ اس غزوہ کی خصوصیت یہ ہے کہ قبیلۂ قریش و دیگر قبائل اور یہودیوں کی متحدہ و مشترکہ طاقت (Allied Forces) نے مدینہ منورہ کی چھوٹی سی بستی پر یلغار کی تھی۔ یہ بات عرب کی تاریخ میں بالکل نئی تھی کہ اس طرح کی متحدہ مشترکہ طاقتوں نے کسی بستی پر حملہ کیا ہو۔ یہ صرف اُن کی اسلام دشمنی تھی، جس نےسب کو متحد کردیا تھا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تمام غیراسلامی طاقتیں خواہ ان کے درمیان باہمی اختلافات کتنے ہی شدید ہوں اسلام کے خلاف متحد ہوجاتی ہیں۔ آج بھی یہ حقیقت کھلی آنکھوں سے دیکھی جارہی ہے۔
اس انتہائی خطرناک موقعے پرمنافقین نے جو روش اختیار کی تھی اس پر ان کی بزدلی اور بے حمیتی پہ غیرت دلانے کے لیے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کااسوئہ حسنہ پیش کیا گیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اصلاً یہ آیت میدانِ جہاد کے تعلق سے نازل ہوئی تھی اور کش مکشِ حق و باطل میں آپؐ کا اسوئہ حسنہ پیش کیا گیا تھا۔ لیکن آیت کےالفاظ عام ہیں، اس لیے زندگی کے ہرشعبے میں آپؐ کی سیرتِ مبارک ہمارے لیے اُسوئہ حسنہ ہے۔ جو لوگ صرف نماز، روزہ اور مخصوص اوقات کے ذکر و تسبیح میں آپؐ کے اُسوہ پر عمل کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے آپؐ کے اسوئہ حسنہ کاکامل اتباع کرلیا۔ وہ غلط سمجھتے ہیں اور ان کی پیروی ناقص پیروی ہے۔
دوسری چیز جوآیت کے اندر ہے وہ یہ ہے کہ ہرمدعی آپؐ کے اسوئہ حسنہ کی پیروی نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں: (۱) اللہ پر ایمان (۲) آخرت پر ایمان (۳) ذکرِ کثیر۔ ایمان وہ نہیں ہے، جس کے مدعی منافقین بھی تھے بلکہ مخلصانہ، زندہ اور مضبوط ایمان ہے اور ذکرِ کثیر (بہت زیادہ اور ہمیشہ ذکر ِ الٰہی کرنا) ہی وہ چیز ہے ، جوایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر (آخرت کے دن پر ایمان) کوتازگی اور تقویت بخشتا ہے اور جس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔
تیسرا پہلو یہ ہےکہ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تمام انبیا علیہم السلام میں حضرت ابراہیمؑ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے اسوہ کو بھی سورئہ ممتحنہ کی دو آیتوں میں مومنوں کے لیے اسوئہ حسنہ قرار دیا گیاہے اوراس کی ایک آیت میں تو الفاظ بھی تقریباً یہی ہیں، جو سورئہ اَحزاب کی اس آیت کے ہیں۔
پہلی آیت یہ ہے:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ فِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ۝۰ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۡكَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗٓ (الممتحنۃ ۶۰:۴) تم لوگوں کے لیے ابراہیم ؑ اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ انھوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ’’ہم تم سے اور تمھارےاُن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہوگئی اور بَیرپڑ گیا جب تک تم اللہ واحدپر ایمان نہ لاؤ‘‘۔
دوسری آیت یہ ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْہِمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللہَ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ۝۶ۧ (الممتحنۃ۶۰:۶) اُنھی لوگوں کے طرزِعمل میں تمھارے لیے اور ہر اس شخص کے لیے اچھا نمونہ ہے، جو اللہ اور روزِ آخر کا اُمیدوار ہو۔  اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بے نیاز ہے اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔
اس وقت ان آیتوں پر مفصل گفتگو کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ مطالعۂ سیرت کی اہمیت کے پیش نظران آیتوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔

مطالعۂ سیرت کا مقصد

مطالعۂ سیرت کے مقصد کی تعیین بھی اتنی ہی اہم ہے، جتنی مطالعۂ قرآن کے مقصد کی تعیین اہم ہے۔ جیسا مقصد ہوگا اسی کے لحاظ سے اس کا مطالعہ اور اس سے استفادہ بھی ہوگا۔ اگر کوئی محدود مقصد ہو تواسی کے اعتبار سے سیرت کا مطالعہ بھی محدود ہوگا اور اس سے استفادہ بھی۔
فرض کیجیے کہ کسی شخص کامقصد صرف یہ جاننا ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانچ وقتوں اور تہجد کی نمازیں کتنی اور کس طرح ادا فرماتے تھے؟ سو کر اُٹھتے تو کیا کرتے تھے؟ مختلف اوقات میں کیا دُعائیں مانگتے تھے اور آپؐ کی نشست و برخاست کیسی تھی؟ تووہ انھی چیزوں کے مطالعہ کو اہمیت دے گااور انھی سے استفادہ کرے گا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ دین کی کوششوں، سفر طائف کی صبرآزمائیوں ، بدر و حُنین کی جنگوں اور کش مکشِ حق و باطل کی مزاحمتوں کے مطالعہ سے اس کوکوئی حقیقی دل چسپی نہ ہوگی، اور سیرت کے اس حصے پر عمل اور اس سے استفادے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر وہ شخص مقرر ہو توزیادہ سے زیادہ ان چیزوں کو جلسۂ سیرت، مجالس وعظ کی زیبایش او ر اپنی مقبولیت کے لیے استعمال کرے گا۔ اس کے برخلاف جو شخص اپنی پوی زندگی میں سیرتِ نبویؐ سے رہنمائی کا خواہش مند ہوگا، تبلیغ اسلام کو فرض سمجھ کر اس میں لگا ہوگا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدایش سے لے کر وفات تک پوری تاریخ کا اپنے مقصد کے لحاظ سے مطالعہ اور اس سے استفادہ کی پوری کوشش کرے گا۔

سیرتِ نبویؐ کا ماخذ

اس کا پہلا لاریب فیہ ماخذ قرآنِ کریم ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں مسلمان جب علمی و عملی حیثیت سے زوال پذیر ہوئے تو مولود سعیدی اور مولود شہیدی جیسی کتابیں سیرت کا ماخذ بن گئیں، جو بیش تر من گھڑت حکایتوں اور روایتوں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ کتابیں بالخصوص دیہات میں پڑھنے اور میلاد خوانوں کی سہولت کے لیے لکھی گئی تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب میں فرمایا تھا: کَانَ  خُلْقُہُ  الْقُرْاٰنَ (قرآن آپ کا اخلاق تھا)۔
ان کا یہ تاریخی اور قیامت تک باقی رہنے والا جملہ تقریروں میں دُہرایا تو بہت گیا اور اب بھی دُہرایا جاتاہے، لیکن یہ نہیں سمجھا گیا کہ حضرت عائشہؓ نے اپنے اس جملے میں دراصل قرآن کریم کو سیرتِ نبویؐکا پہلا ماخذ قرار دیا تھا۔ قرآن کریم سے سیرتِ نبویؐ مرتب کرنے کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر قرآنِ کریم میں ہے:
لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝۱۲۸ (التوبہ ۹:۱۲۸) تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آچکا ہے، جس پر تمھارا ہلاکت میں پڑنا بہت شاق ہے۔ وہ تمھاری فلاح کا حریص اور اہلِ ایمان کے لیے سراپا شفقت و رحمت ہے۔
اس آیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار کا جوچمن پُربہار لہک رہا ہے، اگر قرآن اور صحیح احادیث اور سیرت و سوانح کی مستند روایات کی روشنی میں اس کی تصویرکشی کی جائے تو اس کے لیے ایک کتابچے کی ضخامت بھی کافی نہ ہوگی۔ ایک طرف اس سے وَمَآ  اَرْسَلْنٰکَ  اِلَّا  رَحْمَۃً  لِّلْعٰلَمِیْنَ ۝۱۰۷  (ہم نے آپؐ کو دُنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ الانبیاء۲۱:۱۰۷) کے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے اور دوسری طرف اس میں اہلِ ایمان کےلیے اس شفقت و رحمت کا اظہار ہے جو رافت و رحمت ِ الٰہی کا مظہر ہے۔ یہاں صرف چند اشارات بیان کیے جارہے ہیں:
پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ تمھارے پاس تم ہی میں سے جورسولؐ آیا ہے اس پر تمھارا ہلاکت میں پڑنا اور نقصان اُٹھانا بہت شاق ہے۔ وہ تمھیں ہر اس چیز سے بچانا چاہتا ہے جو تمھارے دُنیوی و اُخروی نقصان و ہلاکت کا سبب بنے۔ اس کی جدوجہد اس لیے ہے کہ تم دُنیا اور بالخصوص آخرت کی ہلاکت سے محفوظ رہو۔
دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ وہ تمھارے ایمان کا، تمھاری بھلائی کا اور تمھاری فلاح دارین کا حریص ہے۔ وہ اپنے لیے تم سے کچھ نہیں مانگتا بلکہ تمھاری نجات و فلاح کے لیے اپنی جان کھپارہا ہے۔
تیسری بات خاص طور پر مسلمانوں سے کہی گئی ہے کہ وہ ان کے لیے رؤف و رحیم اور  سراپا شفقت و رحمت ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ رؤف میں دفع شر (بُرائی کو مٹانے) کا اور رحیم میں جلب ِ خیر (بھلائی کے حصول) کا پہلو غالب ہے۔ یعنی وہ اہلِ ایمان سے ہرطرح کے شر کودُور کرنا چاہتا ہے اور ان کے لیے ہر طرح کی خیرکا خواہاں ہے۔ وہ انھیں دُنیا میں مامون و محفوظ اور آخرت میں کامیاب و کامران دیکھنا چاہتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار کے ان تین کوزوں میں تین سمندر بند ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ خود اس پاک ذات نے آپؐ کے خلق عظیم کی شہادت دی ہے جس نے آپؐ کو روشن چراغ بناکر مبعوث کیا تھا: وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۝۴ (القلم۶۸:۴) ’’اور بے شک آپؐ اخلاق کےبڑے مرتبہ پر ہیں‘‘۔
lسیرت کا دوسرا ماخذ صحیح احادیث ہیں۔ قرآنِ کریم کے بعد مستندو معتبر ہونے کے لحاظ سے صحیح احادیث کا دوسرا درجہ ہے۔کیوں کہ احادیث کےراویوں کی جتنی چھان پھٹک کی گئی ہے وہ سیرت و سوانح کے راویوں کی نہیں کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم کے بعد صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مؤطا امام مالک  صحیح ترین کتابیں سمجھی جاتی ہیں۔ سیرت و سوانح کی روایات صحیح احادیث کے مقابلے میں نہیں لائی جاسکتیں۔ جہاں تک سیرتِ نبویؐ کے دوسرے حصے، یعنی دین اسلام اور اس کی تعلیمات کا تعلق ہے اس میں تو صحیح احادیث کے دوسرے ماخذ ہونے میں کوئی شبہہ ہے ہی نہیں۔ اور میرے خیال میں جس حصے کا تعلق آپؐ کی ذاتِ گرامی سے ہے اس میں بھی صحیح احادیث کو سیرت و سوانح کی روایات پر فوقیت حاصل ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام باتیں محفوظ کرکے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہم مسلمانوں تک پہنچا دیں۔ مثال کے طور پر آپؐ کی شجاعت و دلیری سے متعلق ایک حدیث پڑھیے:
عَنْ  اَنَسِ بْنِ  مَالِکٍ  قَالَ:  کَانَ  رَسُوْلُ  اللہِ  اَحْسَنَ  النَّاسِ  وَکَانَ اَجْوَدَ   النَّاسِ  وَکَانَ  اَشْجَعَ النَّاسِ  وَلَقَدْ فَزِعَ  اَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ ذَاتَ  لَیْلَۃٍ  فَانْطَلَقَ  نَاسٌ  قِبَلَ  الصَّوْتِ   فَتَلَقَّاھُمْ  رَسُوْلُ  اللہِ  رَاجِعًا ، وَقَدْ  سَبَقَھُمْ  اِلَی الصَّوْتِ ، وَھُوَ  عَلٰی فَرَسٍ  لِاَبِیْ  طَلْحَۃَ  عُریٍ  فِیْ عُنُقِہِ السَّیْفُ  وَھُوَ  یَقُوْلُ  لَمْ  تُرَاعُوْا  ،لَمْ تُرَاعُوْا قَالَ: وَجَدْنَاہُ  بَحْرًا اَوْ  اِنَّہٗ  لَبَحْرٌ  قَالَ  وَکَانَ  فَرَسًا  یُبَطَّاءُ(صحیح مسلم،  کتاب الفضائل، باب شجاعۃ ، حدیث ۶۰۰۶) حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں بہترین تھے۔ آپؐ سب سے زیادہ سخی تھے۔ آپؐ سب سے زیادہ شجاع اوربہادر تھے۔ ایک رات اہلِ مدینہ کسی آواز کی وجہ سے دہشت زدہ ہوگئے۔ کچھ لوگ دریافت حال کے لیے آواز کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی وہ راستے ہی میںتھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوتے ہوئے ملے۔ آپؐ دریافت حال کے لیے ان لوگوں سے پہلے آواز کی طرف جاچکے تھے۔ آپؐ ابوطلحہؓ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے اور گلے میں تلوارحمائل (لٹکی ہوئی) تھی اور آپؐ فرما رہے تھے: ڈرو نہیں، ڈرو نہیں (ڈر کی کوئی بات نہیں ہے) اور ابوطلحہ کے گھوڑے کے بارے میں جو اپنی چُست رفتاری کے لیے مشہور تھا، آپؐ نے فرمایا کہ میں نے تو اس کو دریا پایا، یہ کہ وہ دریا ہی ہے۔
l تیسرا ماخذ سیرت اور سوانح کی کتابیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح پر دُنیا کی ہر زبان میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں، لکھی جارہی ہیں اور لکھی جائیں گی۔ اوّلاً چونکہ یہ کتابیں عربی زبان میں لکھی گئی ہیں، اس لیے ان کتابوں کے اصل ماخذ وہی ہیں ۔ ان میں سیرت ابن ہشام اور علامہ ابن قیم کی زادالمعاد کا خاص طور پر مطالعہ کرنا چاہیے۔ مطالعہ سیرت کے لیے اُردو میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں درج ذیل مستند، مفصل اور اہم ہیں:
۱- علّامہ شبلی نعمانیؒ اور علّامہ سیّد سلیمان ندویؒ کی سیرت النبیؐ۔اس کتاب کی سات جلدیں ہیں۔ یہ سیرتِ نبویؐ کا دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) ہے۔۲- علّامہ سیّدسلیمان منصور پوری کی رحمۃ للعالمینؐ اور مولانا عبدالرؤف داناپوری کی اصح السیر۔۳- مولانا سیّدابوالاعلیٰ موددی کی سیرتِ سرورِ عالمؐ ۴- نعیم صدیقی کی محسنِ انسانیت ؐ ۵- مولانا ابوسلیم عبدالحی کی حیاتِ طیبہؐ ۶- مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری کی الرحیق المختوم  وغیرہ۔
l سیرتِ نبویؐ کا چوتھا ماخذ تاریخِ عالم کی کتابیں ہیں۔ ہماری رائے میں اگر اسی ترتیب سے سیرت کا مطالعہ کیا جائے، تو یہ سب سے زیادہ مستند اور معتبر طریقہ ہوگا،مثلاً قرآنِ کریم میں آپؐ کے بارے میں کوئی بات کہی گئی ہے وہ مجمل یا عمومی انداز میں ہے تواس کی تشریح پہلے احادیث میں تلاش کرنی چاہیے۔ وہاں نہ ملے تو سیرت و سوانح کی کتابیں پڑھنی چاہییں اور اگر ان کتابوں میں بھی نہ ملے تو تاریخِ عالم کی کتابیں پڑھنی چاہییں۔

استفادے کا طریقہ

استفادے کے دو طریقے ہیں:علمی اور عملی۔ علمی طریقے کی تفصیل اُوپر گزری۔ عملی طریقہ یہ ہے کہ دین سے تعلق رکھنے والے ہرمعاملے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور عمل کو سامنے رکھ کر اس پر اُسی طرح عمل کیا جائے، جس طرح نبی اکرم ؐ نے فرمایا، یا خود اس پر عمل کیا ہے ۔ انسان کے ظاہرو باطن کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس کی قولی و عملی تعلیم سیرتِ نبویؐ میں موجود نہ ہو۔
قرآنِ کریم نے تکمیل دین اور اتمامِ نعمت کا اعلان کیا ہے۔ ا س سے معلوم ہوا کہ انسانی نجات و فلاح اورانسان کے روحانی ارتقا سے متعلق کوئی چیز چھوڑی نہیں گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد میں بھی بات واضح فرمادی ہے۔ میں صرف ایک حدیث کے ایک جامع حصے کا ترجمہ یہاں پیش کرتا ہوں:
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے لوگو! ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو تمھیں جنّت سے قریب اور دوزخ سے دُور کرتی ہو، اِلا یہ کہ میں نے تمھیں اس کا حکم دے دیا ہے۔ اور ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو تمھیں دوزخ سے قریب اور جنّت سے دُور کرتی ہو، اِلا یہ کہ میں نے اس سے تمھیں منع کر دیا ہے۔ (مشکوٰۃ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر)
یہ حدیث امام بغوی نے شرح السنہ میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہے اور ترتیب و الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہ حدیث حضرت جابرؓ اور حضرت ابوامامہؓ سے بھی مروی ہے۔  ابن ابی الدنیا، ابونعیم، حاکم اورابن ماجہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔ یہ ایک عظیم الشان حدیث ہے۔
اس تفصیل سے ہمیں معلوم ہوا کہ سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟ آج کے پُرفتن دور میں ہمیں اپنے بچوں کو، اپنے نوجوانوں کو اور دوستوں کو سیرتِ نبویؐ کی کتابوں کے مطالعے کی طرف توجہ دلانا چاہیے۔ سیرت کی کتابوں کو گھروں میں لانا چاہیے۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔ آمین!
(مرتبہ: سیّد لطف اللہ قادری)

قرآن مجید ، تواریخ یا کہانیوں کی کتاب نہیں، لیکن اس میں تاریخ کے ان حقائق کا تذکرہ ہے، جن کے معلوم کرنے کا دوسرا کوئی ذریعہ انسانوں کو دستیاب نہیں ہے۔ قرآن مجید میں مذکور تاریخی واقعات اور ماضی کی تاریخ، سب سے زیادہ قابل اعتماد اور ثابت شدہ تاریخی حقائق ہیں ۔ قرآن مجید کا تاریخی واقعات وحقائق اور قوموں نیز شخصیات کے احوال بیان کرنے کا ایک منفرد اور خاص انداز ہے۔یہ حقائق و واقعات زمان ومکان اور غیر متعلقہ تفصیلات کے حوالے سے بالعموم خاموش ہیں ۔

قرآنی قصوں کی اہمیت ومقاصد

قرآنی قصوں، حکایات اور واقعات کے کچھ مخصوص اور متعین اغراض ومقاصد ہیں، جن کو پیش نظر رکھ کر وقتاً فوقتاً یہ قصے اور واقعات قرآن نے پیش کیے:

        •وحی ورسالت کا اثبات کہ خالقِ کائنات نے انسان کی رہنمائی کے لیے نبوت ورسالت کا سلسلہ قائم کیا اور ہمیشہ پیغمبر مبعوث فرمائے۔

        • انبیا کرام ؑاور ان کے بعد امت کے علما وصالحین نے دعوت الیٰ اللہ کا کام جانفشانی سے سرانجام دیا، اور اس مقصد کے لیےدستیاب مختلف وسائل کو اختیار کیا۔

        • انبیا کرامؑ کی دعوت پرایمان لانے والے پیروکاروں کے اچھے انجام اور مخالفین کے عبرت ناک انجام کا بیان بھی ان قصوں سے مقصود ہے ۔

        • اللہ تعالیٰ کے وعدوں،وعید،تبشیر اور اِنذار کا بیان۔

        • انبیا کرامؑ اور اولیاء اللہ پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ ۔

        • حق وباطل کے درمیان ازل سے جاری کشمکش میں، دشمن شیطان کے حربوں اور دشمنیوں سے واقفیت فراہم کرنا۔

        • انبیا کرامؑ کےمعجزات کے ذریعے نبیوں کی صداقت،اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان۔

’اصحاب الاخدود‘کے واقعے کی تربیتی اور دعوتی اہمیت اور دیگر کئی مقاصد کے پیشِ نظر اس کو قرآن مجید اور حدیث دونوں میں بیان کیا گیا۔ دوسرے یہ کہ اس کے راوی، صحابہ کرامؓ میں سے وہ لوگ ہیں، جو خود مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ کے شدید ظلم وستم اور تشدد کا شکار بنتے رہے۔

پہلے اور اصل راوی حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ ہیں ، جن کو قریش بہت ستاتے تھے، جسمانی اذیت کے علاوہ ،ہجرت مدینہ کے وقت ان کے مال وجایداد پر قبضہ کرلیا۔بے سروسامانی کی حالت میں آپ کی آمد قبا میں ہوئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش خبری دی: رَبِحَ الْبَیْعْ أَبَایَحْیٰی،  ابویحییٰ! { FR 651 }کامیاب تجارت کرکے آئے ہو۔

اس قصے کا ایک حصہ حضرت خبابؓ بن الارتّ سے روایت ہواہے۔ یہ ایک قریشی عورت کے غلام تھے، جو لوہے کی گرم سلاخوں پر ان کو لٹاتی تھی یہاں تک کہ ان کے جسم ، پشت کی چربی سے وہ سلاخیں بجھ جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ کعبہ کے سائےمیں بیٹھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’یارسولؐ اللہ! آپؐ ہماری مدد ونصرت کے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم سے پہلی امتوں میں گڑھا کھود کر ایک مسلمان فرد کو اس میں ڈال دیا جاتا پھر لوہے کی کنگھیو ں سے ہڈیوں تک اس کا گوشت نوچ لیا جاتا تھا۔ اس کے سر پر آرا رکھ کر اس کے جسم کو دو حصوں میں چیر ڈالا جاتا، اور وہ اپنے دین سے نہیں پھرتا تھا‘‘۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، حدیث: ۳۴۳۶)

اسی طرح یہ ابتدا سے آخر تک مجسمِ دعوت قصہ ہے، جس میں دعوتی ترجیحات واوّلیات کی وضاحت اور مراحلِ دعوت میں فطری ارتقا ہے۔ابتدا میں صرف ایک شخص، رازداری، خفیہ دعوت، پھر علانیہ دعوت کے عمل سے گزرتا ہے، اور پھر بڑے پیمانے پر لوگ دعوت قبول کرلیتے ہیں،  دعوت کے کارکنان وتنظیمات کے لیے ایک کامیاب تجربہ بطور نمونہ ومثال پیش کردیا گیا ہے، جس سےفکری وعملی تبدیلی پر مشتمل مکمل دعوت، اس کی اہمیت، ترجیحات، انفرادی واجتماعی دعوت کے مختلف مراحل میں واضح اور بہترین رہنمائی ملتی ہے۔

ہمیشہ دعوت کے نتیجے میں افرادبتدریج تبدیل ہوتے ہیں۔ قلیل تعداد آہستہ آہستہ مرور زمانہ سے کثیر تعداد میں تبدیل ہوتی ہے اوربالآخر تبدیلی مکمل ہوجاتی ہے، جب کہ اس قصے میں ابتدا سے آخر تک انقلاب اورتبدیلی کے صرف تین کردار ہیں۔

 اس قصے کے بارے ایک روایت کے مطابق، نجران میں منسوب جگہ کا مَیں مشاہدہ کرچکا ہوں، جہاں مقامی لوگ نوجوان کے مدفن کو حضرت عمرؓ کے دور میں کھولے جانے کا واقعہ ذکر کرتے ہیں ۔

 قرآن مجید نے اس قصہ کا ذکر مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ظلم وستم کے دور میں نازل ہونے والی سورۂ بروج میں کیا:

وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ۝۱ۙ  وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ۝۲ۙ وَشَاہِدٍ وَّمَشْہُوْدٍ۝۳ۭ  قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ۝۴ۙ  النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ۝۵ۙ  اِذْ ہُمْ عَلَيْہَا قُعُوْدٌ۝۶ۙ وَّہُمْ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ شُہُوْدٌ۝۷ۭ  وَمَا نَقَمُوْا مِنْہُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللہِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۝۸ۙ  الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدٌ۝۹ۭ  اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ۝۱۰ۭ  (البروج۸۵:۱-۱۰) قسم ہے برجوں والے آسمان کی، اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے (یعنی قیامت)، اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی۔ مارے گئے ایندھن بھری آگ کی خندق والے،جب کہ وہ اس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور جو کچھ وہ اہل ایمان کے ساتھ کررہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔ اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی صرف اس وجہ سے تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے، جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، اور اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں پر ظلم و ستم توڑا، پھر اس سے تائب نہ ہوئے، یقینا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلائے جانے کی سزا ہے۔

 امام ترمذی، مسلم، ا حمدبن حنبل، محمد بن جریر طبری، اور کئی دیگر محدثین٭  نے حضرت صہیب بن سنان رومیؓ سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد کچھ کلمات اس طرح دُہرا رہے ہوتے کہ ہمیں ہونٹ حرکت کرتے نظر آتے لیکن بات سمجھ نہ پاتے۔ پوچھا گیا تو آپؐ نےایک نبی کا واقعہ بیان کیا کہ وہ ایک مرتبہ اپنی فوج کی قوت پر کہنے لگے: ان کا مقابلہ کون کرسکتاہے؟! تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تین میں سے کسی ایک کا اختیار دیا، یعنی بیرونی دشمن کا تسلط وغلبہ، بھوک وقحط، یا موت۔ انھوں نے اپنی قوم کے مشورے سے موت کو منتخب کیا، جس پر ان کے ۷۰ ہزار آدمی تین روز میں موت کے منہ میں چلے گئے۔ تم جو مجھے ہونٹ ہلاتے دیکھتے ہو،میں اسی واقعے کو یاد کرکے اللہ سے یہ دعا کرتاہوں:اللّٰہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ وَبِکَ أُصَاوِلُ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللہِ، یعنی اے اللہ! میں تو تیری مدد وتوفیق سے ہی دشمن سے لڑتاہوں، اور برائی سے بچ کر نیک کام کرلینا اللہ ہی سے وابستگی اور اس کی توفیق سے ہے ۔

٭   مثلاً: l مصنف عبد الرزاق ۵/۴۲۰، کتاب المغازی، حدیث:۹۷۵۱، المؤلف: ابو بکر عبدالرزاق (م:۲۱۱ـ)المحقق: حبیب الرحمٰن الاعظمی، بیروت، ۱۴۰۳ھ، الاجزاء: ۱۱، l الآحاد والمثانی ۱/۲۱۹، الحدیث:۲۸۷،المؤلف: ابوبکر بن ابی عاصم احمد الشیبانی (م:۲۸۷) المحقق: باسم فیصل احمد، – الریاض،  ۱۴۱۱ھ، l مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار۶/۱۸، l مسند صہیب بن سنان، الحدیث:۲۰۹۰، المؤلف: ابوبکر احمد بن عمرو المعروف بالبزار (م:۲۹۲) المحقق: محفوظ الرحمٰن زین الله، المدینۃ المنورۃ، ۱۹۸۸ء، l الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان۳/۱۵۴-۱۵۷، الحدیث:۸۷۳، المؤلف: محمد بن حبان (م:۳۵۴) مرتبہ: الامیر علاء الدین الفارسی (م:۷۳۹)  بیروت،۱۹۸۸ء، الاجزاء:۱۸، l الطبرانی فی المعجم الکبیر۸/۴۱-۴۲، الحدیث:  ۷۳۱۹- ۷۳۲۰، المؤلف: سلیمان بن احمد الطبرانی (م:۳۶۰) المحقق: حمدی بن عبد المجید السلفی، – القاھرۃ، الاجزاء:۲۵  l  البیہقی فی شعب الایمان۳/۱۷۴، الحدیث:۱۵۱۸، المؤلف: احمد بن الحسین البیہقی (م:۴۵۸) المحقق: الدکتور عبد العلی عبد الحمید حامد، ریاض، ۲۰۰۳ء، الاجزاء:۱۴ (۱۳، ومجلد للفہارس)l  النسائی فی السنن الکبریٰ۱۰/۳۲۹، الحدیث:۱۱۵۹۷، المؤلف: ابو عبد الرحمٰن النسائی (م:۳۰۳) المحقق: حسن عبد المنعم شلبی، بیروت، ۲۰۰۱م، الاجزاء: (10 و 2 فہارس)

اصحاب الاخدود کا واقعہ

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے: تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور مجھے خدشہ ہے کہ کہیں میرا علم میرے ساتھ ہی دفن نہ ہوجائے، اس لیے آپ میرے پاس ایک ذہین،علم کے شوقین لڑکے کو بھیجیں تاکہ میں اسے اپنا علم/جادو سکھا سکوں ۔ اس پر بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لیے اس کے پاس بھیج دیا۔ جب اس لڑکے نے اس کے پاس جانا شروع کیا تو راستے میں ایک عیسائی عبادت گاہ (صومعہ) میں ایک راہب تھا۔ – ان عبادت گاہوں والے اس وقت کے مسلمان تھے۔  وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا، جو اسے پسند آئیں۔ پھر جب بھی وہ جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گزرتا تو اس کے پاس بیٹھتا اور اس کی باتیں سنتااور مختلف سوالات کرتا رہتا۔ ایک عرصے تک اس کا یہی معمول رہا اور بالآخر راہب نے یہ کہہ کر اسے بتادیاکہ میں تو اللہ کا بندہ ہوں۔ اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ اب وہ لڑکا جادوگر کے پاس جاتے ہوئے، راستے میں راہب کے پاس بیٹھ جانے کی وجہ سے جادوگر کے پاس تاخیر سے پہنچتا۔ دیر سے آنے کی وجہ سے وہ اس کو مارتا اور لڑکے کے گھر والوں کو بھی بتا دیا کہ یہ تو میرے پاس بہت کم حاضر ہوتا ہے ۔ اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر مارنے لگے تو کہہ دیا کر کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے پٹائی کا ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔

 اسی دوران ایک مرتبہ ایک درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا کہ ان کا گزرنا مشکل ہورہاتھا۔ جب لڑکا اس طرف آیا تو اس نے کہا کہ میں آج جاننا چاہوں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے؟ اور پھر ایک پتھر پکڑا اور کہنے لگا: ’’اے اللہ، اگر تجھے جادوگر کے معاملے سے راہب کا معاملہ زیادہ پسند یدہ ہے تو اس درندے کو مار دے تاکہ لوگوں کا آنا جانا ہو‘‘۔ اور پھر پتھر سے درندے کو مار دیا اور لوگ گزرنے لگے۔پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اور اسے یہ خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا: اے میرے بیٹے! آج تو مجھ سے افضل ہے کیونکہ تیرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جس کی وجہ سے تو عنقریب ایک مصیبت میں مبتلا کردیا جائے گا۔ پھر اگر تو کسی مصیبت میں مبتلا کردیا جائے تو کسی کو میرا نہ بتانا۔ وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کا بیماری سے علاج بھی کردیتا تھا ۔اسی دوران بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا۔ اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا: اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمھارے لیے ہیں۔ اس لڑکے نے کہا ’’میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ اگر تو اللہ پر ایمان لے آئے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفا دے دے‘‘۔ لڑکے نے اس کے لیے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی۔ نتیجے میں وہ شخص اللہ پر ایمان لے آیا۔

 وہ آدمی اپنے معمول کے مطابق بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا۔ بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹا دی؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے۔ بادشاہ نے کہا: کیا میں نے؟اس نے کہا: نہیں ، اللہ نے جو میرا اور تیرا دونوں کا رب ہے ۔ بادشاہ نے کہا: کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی ربّ بھی ہے؟ اس نے کہا : ہاں۔ اب بادشاہ اس کو پکڑ کر عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو اس لڑکے کے بارے میں بتادیا۔ اس لڑکے کولایا گیا تو بادشاہ نے اس سے کہا: ’’اے بیٹے ! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو بھی شفا دینے لگ گیا ہے اور ایسے ایسے کرتا ہے ؟‘‘ لڑکے نے کہا: ’’میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے‘‘۔

بادشاہ نے اسے پکڑ کر سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہاں تک کہ اس نے راہب کے بارے میں بادشاہ کو بتادیا۔ راہب کو پکڑ کر لایاگیا، تو اس سے کہا گیا: ’’تو اپنے اس دین سے پھر جا‘‘۔ راہب نے انکار کردیا۔ پھر بادشاہ نے آرا منگوایا اور اس راہب کے سر پر رکھ کر اس کا سر چیر کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے۔ پھر بادشاہ کے ہم نشین کو لایا گیا اور اس سے بھی کہا گیا کہ ’’تو اپنے دین سے پھر جا‘‘۔ اس نے بھی انکار کردیا۔ بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرا رکھ کر سر کو چیر کر اس کے دوٹکڑے کروا دئیے۔

 پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا۔ وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جا۔ اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ لوگوں کے حوالے کرکے کہا: ’’اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ۔ اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کر دے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا‘‘ ۔

چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے دعا کرتے ہوئےکہا: ’’اے اللہ تو مجھے ان سے بچانے کے لیے کافی ہے جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے‘‘۔ اس پہاڑ پر فوراً ایک زلزلہ آیا، جس سے بادشاہ کے وہ سارے کارندے گرگئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے واپس بادشاہ کی طرف آگیا ۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ ’’تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟‘‘  لڑکے نے کہا: ’’اللہ پاک نے مجھے ان سے بچا لیا ہے‘‘۔

بادشاہ نے پھر اس لڑکے کو اپنے کچھ دیگر لوگوں کے حوالے کر کے کہا: ’’اگر یہ اپنے دین سے نہ پھرے تو اسے ایک چھوٹی کشتی میں لے جا کر سمندر کے درمیان میں پھینک دینا‘‘۔ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو لے گئے تو اس لڑکے نے پھر دعا کی اورکہا :’’اے اللہ تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے‘‘۔ پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان کارندوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف واپس آگیا ۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا: ’’تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا ؟‘‘ اس نے کہا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے‘‘۔

پھر اس لڑکے نے بادشاہ سے کہا: ’’تو مجھے قتل نہیں کرسکتا، جب تک کہ اس طرح نہ کر     جس طرح کہ میں تجھے حکم دوں‘‘۔ بادشاہ نے کہا: ’’وہ کیا ؟‘‘ اس لڑکے نے کہا: ’’سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ۔ پھر میرے ترکش سے ایک تیر کو پکڑو پھر اس تیر کو کمان کے حلہ میں رکھ کر یہ کہو: ’’اس اللہ کے نام سے، جو اس لڑکے کا ربّ ہے۔ پھر مجھے تیر مارو۔ اگر تم اس طرح کرو، تو مجھے قتل کرسکتے ہو ‘‘۔

پھر بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکا دیا۔ پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا۔ پھر اس تیر کو کمان میں رکھ کر کہا: ’’اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا ربّ ہے‘‘۔پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا ۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مرگیا۔ اس پر سب لوگوں نے بیک آوازکہا: ’’ہم اس لڑکے کے ربّ پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے ربّ پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے ربّ پر ایمان لائے‘‘۔

 بادشاہ کو اس کی خبر دی گئی اور اس سے کہا گیا: ’’تجھے جس بات کا ڈر تھا، اب وہی بات آن پہنچی کہ سب لوگ لڑکے کے ربّ ، اللہ پر ایمان لے آئے‘‘۔

 تو پھر بادشاہ نے گلیوں کے دھانوں پر خندقیں کھودنے کا حکم دیا۔ خندقیں کھودی گئیں، تو ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی۔ بادشاہ نے کہا: ’’جو آدمی اپنے دین سے پھر جائے گا تو میں اس کو چھوڑ دوں گا،اور جو اپنے قدیم دین پر واپس نہیں آئے گا اس کو میں اس آگ کی خندق میں ڈلوا دوں گا‘‘۔ چنانچہ تیزی کے ساتھ مسلمانوں کو دہکتی ہوئی آگ میں دھکیل دیا گیا۔ اسی دوران ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ ایک دودھ پیتا بچہ بھی تھا۔ وہ عورت خندق میں گرنے سے گھبرائی تو اس کے بچے نے کہا: ’’اے امی، صبر کر، کیونکہ تو حق پر ہے‘‘۔

اس نوجوان کو شہادت کے بعد دفن کیاگیا۔ کہتے ہیں کہ حضرت عمرفاروقؓ کے عہدخلافت میں اس کی قبر کشائی کی گئی، تو اس کی انگلی کنپٹی کی اسی جگہ پر تھی جہاں اس کو تیرلگاتھا۔

دعوتی رہنمائی،دروس وعبر

اس قصے کی خوب صورتی،کثرتِ دروس،شدتِ تاثیر کونظر میں رکھیں، تو کہاجا سکتاہے کہ دنیا کا کوئی عظیم ادیب بھی اتنے خوب صورت انداز میں اس کو نہیں لکھ سکتا تھا، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امت کی رہنمائی کے لیے بیان فرمایا۔

ہمارے عوام بالعموم اور نوجوان نسل بالخصوص آج کل سوشل وپرنٹ میڈیا کے لچر وبیہودہ ڈراموں،افسانوں، کہانیوں اورناولوں میں اپنے قیمتی اوقات ہی نہیں صحت ومال اور اخلاق و کردار بھی برباد کر رہی ہے۔ ایسے میں شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ صاحب ایمان باغیرت مسلمان، عوام الناس اورنوجوان نسل کی تربیت کے لیے ان قرآنی ونبوی قصوں کو کام میں لائیں ۔

اس قصّے میں نوجوان کے لیے ’غلام‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو عربی میں دودھ چھڑانے کے بعد سے سن تمیز تک کی عمر کے بچوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔  آج بھی ہم اس بچے سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔

اس واقعے کے زمانے کے متعلق حدیث میں تین الفاظ ’قبلکم‘ اور ’راھب‘ اور ’صومعۃ‘  اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کا ہے ۔ البتہ اس کی سب عبرتیں، حکمتیں اور رہنمائی زمان ومکان اور قومیتوں کی حدود وقیود سے ماورااور قیامت تک کے لیے ہے :

۱- جابربادشاہوں اور ظالم حکمرانوں کی اولین ترجیح عوام کی خیر خواہی اور خدمت نہیں بلکہ عوام کواپنا غلام اور ماتحت سمجھ کر، اقتدار وسلطنت کا تحفظ سب سرگرمیوں کا مرکز ومحور ہوتاہے،جس کے لیے وہ ہر حربہ حتیٰ کہ جادو ٹونہ بھی اختیار کرتے ہیں ۔

۲- عالم یا کسی فن کے ماہر کو اگر ہونہار اور ذہین شاگرد میسر نہ ہوسکیں تو اس کا علم وفن اس کے ساتھ ہی دفن ہوجاتا ہے ۔

۳- حصول علم کا بہترین زمانہ بچپن کاعرصہ ہے۔

– ۴-یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم مشیت اور تدبیر تھی کہ عالم دین کی مجلس کا مقام،اس بچے اور جادوگر کے راستے میں تھا کہ جب ہونہار بچہ وہاں سے گزرے تو بیٹھ کر عالم دین سے سیکھے۔

– ۵-کوئی زمانہ اور ملک، ایمان اور علم نافع رکھنے والے علمائے ربانیین سے خالیٰ نہیں رہا۔

–۶- حُسن اخلاق اور شیریں کلامی کی بہت اہمیت ہے۔داعی اہل ایمان،صالحین اورعلما بالعموم حسن اخلاق اور شیریں کلامی سے عامۃ الناس کے دل ودماغ کو فتح کرلیتے ہیں ۔

–۷- فہم سلیم اور علم نافع میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھی ہے کہ انسان کوایک حلاوت و استقامت بخشتا ہے۔ عالمِ دین کی علم ومعرفت پر مبنی گفتگو کا اثر تھا کہ نوجوان نے گھر والوں اور جادوگر کی شدید مار پٹائی کے باوجود عالم دین کی مجلس نہیں چھوڑی۔ وہ آتے جاتے اس مجلس میں ضرور بیٹھتا۔

 ۸- عالم دین نے اس نوجوان کو رازداری کی غرض سے جادوگر اور اپنے والدین کے سامنے غلط بیانی کا مشورہ دیا۔ یہ اضطرار کی کیفیت تھی کہ اہل ایمان بہت کم اور مظلوم تھے۔ اس کا مشورہ ’توریہ‘ اور ’معاریض‘ کی قسم سے تھا، جس کی شریعت نے گنجایش دی ہے ۔

۹- یہ نوجوان عالم دین کے پاس بیٹھتا ، مگر شاہی فرمان کی وجہ سے جادوگر کے پاس بیٹھنے پر بھی مجبور تھا۔ لیکن اس نے درندے کے واقعے کو اپنے دلی اطمینان اور مستقبل کی راہ متعین کرنے کے لیے ایک کسوٹی کے طور پر استعمال کیا۔

۱۰-  اللہ جلّ جلالہ، اپنے نیک اور صالح بندوں کی دعا قبول کرتا ہے اور ان کے ہاتھ پر ایسی کرامات کا ظہور ہوتاہے، جس سے حق کے مخالفین پر واضح ہوتا ہے کہ وہ حق پر ہیں ۔

۱۱- درندہ جانور کے واقعے اور موقعے پر موجود لوگوں کو اس نوجوان کی کرامت واضح نظر آئی، اور ان کو یقین ہوگیا کہ وہ ایک ممتاز مقام کا مالک ہے ۔

۱۲- شاگرد مشکل امور میں رہنمائی کے لیے اپنے شیخ کے علم، حکمت اور تجربہ سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ نوجوان نے درندے کا راستہ روکنے کا واقعہ شیخ کو بتاکر ہدایات ورہنمائی طلب کی۔

۱۳- کبھی شاگرد، اپنے شیخ سے زیادہ ممتاز مقام حاصل کرلیتاہے: ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۝۴ (الجمعة۶۲:۴) ’’یہ اس کا فضل ہے ،جسے چاہتا ہے دیتا ہے ،اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے‘‘۔ عالمِ دین نے نوجوان کی زبان سے جانور کا واقعہ سن کر اعتراف کیا کہ وہ شیخ سے زیادہ بہتر وافضل ہے حالانکہ وہ اسی کا سکھا یا پڑھایا تھا۔

 ۱۴- اہلِ صدق واخلاص کی دل چسپی شہرت اور ریاست میں نہیں بلکہ خیر وحق کی نشرواشاعت میں ہوتی ہے۔ وہ ان کے ذریعے سے ہو یا کسی دوسرے کے ہاتھ سے۔

–۱۵- اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے کہ وہ کسی شیخ کو ایسا شاگرد نصیب کردے، جو اس کے علم وفضل اور دعوت کےپھیلانے میں مددگار ثابت ہو۔

 ۱۶-عالم دین نے اپنے علم وحکمت کی بنا پر اس کو بتادیا کہ عوام الناس جب گمراہی میں مبتلا ہوں تو ایسے میں سچے اورمخلص داعی آزمایشوں کا شکار ہوتے ہیں ۔

۱۷- مومن جان بوجھ کر کبھی اپنے آپ کو آزمایش اور امتحان میں نہیں ڈالتا۔ اسی لیے اس عالمِ دین نے رازداری کی تاکید کی۔ اس احتیاط کے باوجود اگر مسلمان آزمایشوں میں گھر جائے تو اللہ تعالیٰ سے صبر وثبات کی توفیق طلب کرنا چاہیے۔

۱۸-  اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو مستجاب الدعوٰۃ بنایا، تو اس نے اس خصوصیت کو   دعوت الیٰ اللہ کے لیے استعمال کیا۔ اس کے برعکس جعلی پیروںاور اپنے منہ سے مشایخ کہلوانے والے ایسی خصوصیات کو اپنی شخصی اغراض ومفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔

۱۹-نوجوان کوئی نذرانہ ،ہدیہ قبول نہیں کرتاتھا۔اس کی اوّلین ترجیح لوگوں کی ہدایت ہوتی تھی۔

۲۰-  نوجوان لوگو ں کے لیے شفا کی دعا کرتے وقت ہی بڑی وضاحت سے ان کو بتادیتا کہ وہ شفا کا مالک نہیں ہے ، بلکہ شفا صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، وہی شفا دیتا ہے ۔ اس طرح جس دروازہ سے شیاطین جِن وانس داخل ہوکر سادہ لوح لوگوں کے ایمان وعقائد پر ڈاکا ڈالتے اور غلط عقائد کی ترویج کرتے ہیں ، اس کوابتدا ہی میں بند کردیتا۔

۲۱- بادشاہ کےنابینا ہم نشین نے جب کہا کہ ’’اس کے ربّ نے میری بصارت دوبارہ لوٹائی ہے‘‘ تو بادشاہ نے تعجب سے خوش ہو کر پوچھا: میں نے؟!‘‘ یہ اہل کفر والحادکے کھلے تضاد و تناقض کی واضح دلیل ہے ۔ وہ کیسا ربّ ہے جو لوگوں کو صحت وشفا بخشے اور اس کو خود اس کا علم وادراک نہ ہو؟

۲۲- بادشاہ نے یہ سوچ کر کہ کہیں حقیقت کے ظہور سے اس کی خدائی اورسلطنت کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔ ظلم ،جبر اور تشدد کے حربے اختیار کرنے میں کچھ بھی دیر نہیں کی۔

۲۳-بادشاہ نے نوجوان کو ورغلانےاورگمراہ کرنےکی اپنی سی کوشش کی۔ اس کی کرامت کو جادوگر سے سیکھے جادو کی طرف منسوب کیا،لیکن نوجوان نے موقعے پر ہی اس جھوٹے دعوے کو ردکردیا اور صاف بتادیا کہ ’’مَیں شفا دینے کی قدرت نہیں رکھتا۔ شافی، اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ‘‘۔   اس پر بادشاہ فوراً جبروتشدد پر دوبارہ اتر آیا،ایک کم عمر،معصوم وبے گناہ نوجوان پر!

۲۴- بادشاہ نوجوان اور نابینا شخص سے تشدد کے ذریعے راز معلوم کرنے میں کامیاب ضرور ہوا، لیکن اس کی کوئی دھمکی اور بہیمانہ طریقے سے قتل و غارت بھی ان کو دین حق سے نہ پھیر سکی۔

۲۵- عالمِ دین اور نابینا،شاہی ہم نشین کوآرے سے سر چیرتے ہی موت نے آلیاتھا، لیکن بادشاہ نے ان کے پورے جسم کو دوٹکڑوں میں چیردیا تاکہ لاش کی قطع وبرید اور مثلہ کے ذریعے اپنا غصہ ٹھنڈا کرے، اور عام لوگوں میں خوف ودہشت پھیلا کر ان کو دین اسلام سے دُور رکھ سکے۔

۲۶-جبر وتشدد کے ان سب حربوں کے باوجود نوجوان اپنے دین پر ثابت قدم رہا،اور انجام سے قطع نظر، دین حق کو چھوڑنے سے انکار کردیا۔

۲۷- نوجوان کے دیگر دوساتھیو ں کو بے دردی سے قتل کیا۔ بادشاہ نے اس سے بھی زیادہ ظالمانہ طریقے سے نوجوان کوقتل کیا تاکہ عام لوگوں کو دہشت کے ذریعے دین اسلام سے دُور رکھا جاسکے۔

۲۸- اللہ تعالیٰ نے نوجوان داعی کو دو مرتبہ یقینی موت سے بچایا کہ زندگی اور موت کےفیصلے ہی نہیں بلکہ نفع ونقصان کے اموربھی صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : وَلَوِ اجْتَمَعُوا  عَلٰی اَنْ  یَضُرُّوْکَ  بِشَیءٍ لَمْ یَضُرُّوکَ  اِلَّا  بِشَیءٍ قَدْ  کَتَبَہُ اللہُ  عَلَیْکَ…… (مسنداحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۶۶۹،عن عبداللہ بن عباسؓ)۔ ایمان کی اس پختگی کے نتیجے میں اعتماد اور ثابت قدمی پیدا ہوتی ہے ۔ دنیا کے سب امکانات، اور دروازے بند نظر آئیں تو ہر در اورمشکل کی شاہ کلید صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

۲۹- نوجوان کو یقین ہوگیا کہ ظالم بادشاہ اس کو لازماً سزائے موت دے گا تو کیوں نہ موت کو بھی دعوت الیٰ اللہ اور اس کی سچائی کا ذریعہ بنایا جائے! قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ(الانعام۶:۱۶۲) ’’کہو،میری نماز ، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا،سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے‘‘۔

۳۰- ’بادشاہ‘ کواس نوجوان کے احکام کی تعمیل ذلت آمیز رسوائی سے کرناپڑی، حالانکہ نوجوان کے مقاصد کو سمجھنے کے لیے، عقل ودانش کی کسی بڑی مقدار کی ضرورت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا اور اس کی خدائی کے دعویٰ کو جھوٹا اور غلط ثابت کردیا۔

۳۱-  نوجوان کے قتل کے طریقے نے ثابت کردیاکہ وہ اپنی دعوت میں سچا ومخلص تھا، اور اس کی دعوت حق تھی۔کیونکہ ظالم بادشاہ اپنے سب ہتھکنڈوں سے ایک نہتے نوجوان کو قتل نہ کرسکا، آخرکار اسی کے ربّ کا نام لے کر اس کو قتل کرنے میں کامیاب ہوسکا۔

 ۳۲- اس کے بعد ظالم بادشاہ نے ظلم وتشدد اور نسل کشی کے ایسےحربوں کو اختیار کیا، جن سے انسانیت اب تک واقف نہ تھی۔

۳۳- جب لوگوں کو نوجوان کے ایمان اور دین کی سچائی کا یقین ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کے ساتھ ایسی ثابت قدمی نصیب کی کہ موت کو گلے لگالیا اور ہدایت الٰہی کا راستہ نہیں چھوڑا۔

۳۴-آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایک خاتون کو ثابت قدمی بخشی اور اس کے دودھ پیتے نومولود کی گفتگو کے ذریعے اس کو معجزہ دکھایا۔

 ۳۵- اس قصے کا اصل ہیرو ایک نوجوان تھا، جو دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں اصل اہمیت علم نافع اور عمل صالح کو ہے، نہ کہ عمر وتجربے کو۔ اللہ تعالیٰ نے دعوت کی تاریخ میں نوجوانوں میں خیر وبرکت کی بے شمار مثالیں رکھی ہیں : ابراہیم وعیسیٰ ویحییٰ علیہم السلام، اصحابِ کہف اور صحابہ کرامؓ۔

 ۳۶- اس دنیا میں اللہ تعالیٰ اپنی حکمت ومشیت سے اہل ایمان کو فتح ونصرت اور غلبہ عطا فرماتا ہے،تاکہ اللہ کی زمین میں خیروصلاح اور نیکی وتقویٰ عام ہو، اور اہل ایمان کو اقتدار وغلبہ دے کرآزمائیں کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں؟ لیکن یہ غلبہ ہمیشہ کے لیے اور دائمی نہیں ہوتا، کبھی بلکہ اکثر ایسے ہوتا ہے کہ وقتی غلبہ اور فتح، اسلام دشمنوں،کفار ومشرکین کو ملتی ہے جس میں کئی حکمتیں ہیں:

      معاندین ومخالفین کی رسی دراز کرنا، تاکہ خوب ادھم مچالیں۔

      مومنین صالحین میں کھرے اور کھو ٹے، سچے و مخلص اور جھو ٹے منافقین کی تمیز اور پہچان۔

      مومنین کی سیئات کا کفّارہ، درجات کی بلندی اور اجر عظیم عطا کرنا۔

اہل ایمان کو اگر کبھی کسی زمانے میں اس قسم کی صورت حال سے سابقہ پیش آئے تو یہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سب فیصلے علم،حکمت، مصالح اور مقاصد پر مبنی ہوتے ہیں۔

یہ قصّہ اہل علم کو مزید غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔

مغربی دُنیا، خصوصاً فرانس کی جانب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کوششیں محض ایک واقعہ نہیں ہیں، بلکہ کینسر سے متاثر جسم پر ابھر آنے والی اس پھنسی کی مانند ہیں، جو حقیقت میں کینسر کی ظاہر ی علامت کے طور پر ابھر کر آتی ہے، لیکن اسے محض ایک معمولی سی پھنسی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

یہ واقعات دراصل ان کوششوں کا نتیجہ ہیں کہ جن کے ذریعے مغربی مقتدر قوتیں، اسلام اور پیغمبرؐ اسلام کے خلاف اپنے عوام کے ذہنوں میں نفرت اور بے زاری بھرنا چاہتی ہیں۔ افسوس کہ اس پر عالم اسلام کی جانب سے سیاسی سطح پر توبالعموم کوئی خاص حرکت سامنے نہیں آتی،اس کی امید بھی نہیں کی جاتی، کیوں کہ بیش تر مسلم حکمران یا تو مغرب کے وظیفہ خوار ہیں یا اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کے لیے اس کے محتاج ہیں۔ البتہ مسلم عوام اور گروہ اپنے طور پرجو احتجاج کرتے ہیں، وہ بعض اوقات تشدد کی شکل بھی اختیار کرجاتا ہے۔ان واقعات پر محض عوامی احتجاج کی پالیسی کسی جوہری دباؤ کا ذریعہ نہیں بنی۔ تاہم اس بار چندمسلم حکومتوں کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا اور معاشی مقاطعے کی اپیل بھی کی گئی، جس کا خاطر خواہ اثر فرانس کے رویے اور عمل پر ظاہر ہوا ہے۔ جس سے یہ اندازہ ہوا کہ عالم اسلام کی حکومتیں اگر بزدلی اور بے حسی کا ثبوت نہ دیں تو عوام کے پاس معاشی مقاطعے کی ایسی طاقت ہے، جس کے ذریعے وہ ’دست درازی‘ کرنے والے کو اچھا سبق سکھا سکتے ہیں۔ چنانچہ معاشی مقاطعے کا سلسلہ دراز ہوتے دیکھ کر آخرکار فرانسیسی صدرمیکرون کو اپنے لہجے میں ترمیم کرنی پڑی اور انھوں نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا میرا مقصد نہیں ہے‘‘۔

اس کے بعد برطانیہ کے معر وف اخبار فنانشنل ٹائمز (۴ نومبر ۲۰۲۰ء) میں میکرون کا ایک مضمون شائع ہوا، جو دراصل اس اخبار کے ایڈیٹر کے نام خط ہے: ’’میں کسی بھی شخص کو ، خواہ وہ کوئی بھی ہو، یہ سوچنے کی اجازت نہیں دوں گا کہ فرانس اور اس کی حکومت، مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب کو گہرا کرے۔ حکومت کی غیر جانب دارانہ پالیسی میں عقیدے کی آزادی بھی شامل ہے‘‘۔

میکرون نے یہ بھی لکھا ہے کہ’’ فرانس، اسلامی تہذیب و ثقافت کے فضل و احسانات کامنکر نہیں ہے۔ اسلامی تہذیب نے ریاضی، فنِ تعمیر اور دیگر علوم میں جو خدمات پیش کی ہیں، فرانس نے ان سے خوب استفادہ کیا ہے‘‘۔  میکرون کے بقول: ’’مَیں نے اسلام پسندوں کی علیحدگی پسندی‘ (separatism Islamist) کی اصطلاح استعمال کی تھی، جسے بدل کر ’اسلامی علیحدگی پسندی‘  (Islamic separatism  )کر دیا گیا، حالانکہ میں نے ’اسلامی علیحدگی پسندی‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا ہی نہیں۔ آپ کے اخبار نے اس اصطلاح کو میری جانب غلط منسوب کرکے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنا چاہا ہے کہ مَیں انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں۔ میرے خیال میں ’اسلامی دہشت گردوں‘ کی جانب سے فرانس میں حملے اس لیے ہوئے کیوں کہ فرانس رائے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور لوگوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ جس طرح اپنی زندگی بسر کرنا چاہیں کریں‘‘۔ اپنے بیانات اور رویے کو درست ثابت کرنے کی غرض سے موصوف نے یہ بھی کہا ہے کہ ’شدت پسند اسلام‘سے وابستہ لوگ ہمارے بچوں کو ایسی تعلیم دیتے ہیں، جو جمہوریت سے نفرت اور ملک کے قوانین سے بے زاری پر آمادہ کرتی ہیں اور اسی لیے انھیں ’علیحدگی پسندی‘ کانام دیا گیا ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ صدر میکرون نے عالم اسلام کے شدید عوامی ردعمل سے مجبور ہو کر اپنی صفائی ضرور پیش کی ہے، لیکن اپنے نقطۂ نظر سے سرمو ہٹے نہیں ہیں۔ انھوں نے تین افراد کے قتل کا ذکر کیا ہے، لیکن دوسری جانب اس ذہنیت اور فکر کی بالکل تردید نہیں کی ہے جو پبلک مقامات پر باپردہ خواتین اورمسلم شناخت رکھنے والے افراد پر حملے کا موجب بن رہی ہے اور عام مسلمانوں کے لیے ہراسانی اور خوف کی فضا پیدا کررہی ہے۔ دراصل میکرون اوران جیسے دوسرے افراد بعض مسلمانوں کے انفرادی رویے کو بنیاد بنا کر اسلام اور پوری مسلم دُنیا کو ’موڈریٹ‘ اور’شدت پسند‘ کے الگ الگ خانوں میں بانٹ دیتے ہیں اور اس کی آڑ میں اسلام کے خلاف زہر افشانی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اگر مخالفت سر اٹھا لے تو فوراً یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ ’’ہم اسلام کے نہیں، بلکہ ’شدت پسند اسلام‘ کے خلاف ہیں‘‘۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے شدت پسنداسلام کیا ہے؟

میکرون نے ’ریڈیکل‘ مسلمانوں کی شبیہہ اس طرح پیش کی ہے: ’’حکومت فرانس کو سیکڑوں ’شدت پسندی‘ کے شکار افراد کا سامنا ہے جن کے بارے میں ہمیں یہ خطرہ لگارہتا ہے کہ کسی بھی وقت چاقو نکالیں گے اور لوگوں کو مار ڈالیں گے‘‘۔ گویا فرانس میں ہر مسلمان جیب میں خنجر لیے گھومتا پھرتا ہے، لیکن یہ غیرمتوازن ذہن کے صدر فرانس ، ایفل ٹاور کے پاس مسلم خاتون اور بچی پر  جان لیوا حملہ کرنے والوں کو نہ شدت پسند کہتے ہیں اور نہ ان سے یہ خطرہ منسوب کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت چاقو نکال کر کسی مسلمان عورت، بچے یا بوڑھے پر حملہ آور ہو جائیں گے۔

فرانس ہی کیوں؟

اگرچہ یورپ کے معروف سیاست دانوں کا ایک گروہ مختلف ملکوں میں اسلام کے خلاف محاذ آرا ہے اور کسی نہ کسی بہانے اسلام یا مسلمانوں کو نشانےپر لیے رکھنا ضروری سمجھتا ہے، لیکن فرانس اس معاملے میں پیش پیش ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہاں گستاخی پہلے بھی کی جاچکی ہے۔حجاب کا مسئلہ بھی یہاں بار بار پیدا ہوتا اور مسلمانوں پر پُر تشدد حملہ ہوتا رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال ایفل ٹاور کے پاس پیش آنے والا واقعہ ہے۔ فرانس وہ ملک ہے جو سیکولرزم، یعنی مذہب سے بیزاری کا سب سے بڑا علَم بردار سمجھا جاتاہے اور خود کو کسی مذہب سے جوڑنا پسندنہیں کرتا۔ ا س کے باوجود آخر فرانس میں صرف ایک مذہب، دین اسلام کی مخالفت کے زیادہ واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں؟ کیا فرانس سیکولرزم کی علَم برداری سے دست بردار ہونے لگا ہے؟ یا وہ کبھی خود کو مذہبی تعصب سے آزاد ہی نہیں رکھ سکا؟

قاہرہ یونی ورسٹی کی استاذ ڈاکٹر زینب عبدالعزیز ان سوالات کا بہتر جواب فراہم کرتی ہیں۔ ۸۵ سالہ زینب عبدالعزیز قاہرہ یونی ورسٹی میں ’فرانسیسی تہذیب و ثقافت‘ کی استاد ہیں ۔حال ہی میں انھوں نےفرانسیسی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر زینب کی شخصیت عیسائی مشنری اور سرگرمیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور وہ کئی بار بالخصوص شرق اوسط میں عیسائی مشنری منصوبوں کو بے نقاب کر چکی ہیں۔ اسی جرم کی پاداش میں انھیں تین بار قتل کی دھمکی بھی مل چکی ہے۔کویت کے مجلہ المجتمع  نے حال ہی میں ان کا ایک انٹرویو شائع کیا، جس میں انھوں نے فرانس کے سیکولر اور اسلام بے زار چہرے کےپس پردہ اس حقیقی چہرے کو عیاں کیا ہے، جو کیتھولک چرچ کا حامی ومبلغ ہے۔ یہ انٹرویو ایک خاص واقعے کے ضمن میں لیا گیا تھا۔

’’حال ہی میں صدر میکرون نے لبنان کا دورہ کیا تھا۔ شرق اوسط میں اس دورے کو محض ایک غیرملکی صدر کے خیرسگالی دورے کے طور پر نہیںلیا گیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ لبنان میں فرانس کی حد سے زیادہ دل چسپی اس لیے ہے کہ وہ اسے کیتھولک چرچ کی تابع ریاست بنانا چاہتا ہے، اور میکرون کے موجودہ دورے کو فرانس کی اس استعماری کوشش سے بھی الگ نہیں سمجھنا چاہیے، جو وہ شرق اوسط کے بعض ممالک اوربالخصوص لبنان کے سلسلے میں انجام دے رہا ہے‘‘۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’ ۱۹۴۳ء میں فرانس نےلبنان کو چھوڑ تو دیا تھا، لیکن اس کا وجود آج بھی وہاں اتنا ہی مستحکم ہے، جتنا پہلے تھا۔ لبنان سےرخصت ہونے سے پہلے اس نے دستور میں یہ شق شامل کرادی کہ یہاں کا صدر عیسائی ہوگا اوروزیر اعظم مسلمان ہوگا، حالانکہ ویٹی کن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق لبنان کی ۶۷فی صد آبادی مسلمان ہے اور محض ۳۲ فی صد آبادی مختلف مذہبی گروہوں پر مشتمل ہے، جن میں عیسائی بھی شامل ہیں۔ اتنی کم تعداد ہونے کے باوجود عیسائی اقلیتیں شرق اوسط میں جوکچھ کر رہی ہیں، وہ سب صلیب کے حامی مغرب کے لیے کر رہی ہیں۔ اور یہ سب کچھ اسلام کو اُکھاڑ پھینکنے کے مذموم مقاصد کے لیے کررہی ہیں، جس میں عربوں میں موجود عیسائی اقلیت کا اہم کردار ہے‘‘۔

ڈاکٹر زینب کہتی ہیں: ’’فرانس، سیکولرزم کا دعوے دار ہونے کے باوجود کیتھولک عیسائی مذہب کو غالب کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس کا یہ عزم ’فرنکوفونی‘(Francophonie )کو بتدریج راسخ کرنےکی ایک کوشش ہے۔ یاد رہے فرنکوفونی اور استعمار کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ اسی کے توسط سے وہ ثقافتی و تہذیبی تسلط اور عیسائی مشنری کی جڑیں پیدا کر سکتا ہے‘‘۔

فرانسیسی زبان و ادب کو ان خاص خطوں میں رواج دینے کے لیے فرانس نے Internationale Organisation de la Francophonie کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کی ہوئی ہے۔

کیمیل لورنس ایک محققہ ہیں، جو خلیجی امور پر تخصص کا درجہ رکھتی ہیں۔ان کی تحقیق کے مطابق:’’یہاں پہنچ کر شرق اوسط کے عیسائیوں کا مذہبی ہدف، سیاسی حکمت عملی سے مربو ط ہو جاتا ہے،  جو فرانس کے اندر جاری موجودہ کش مکش کو غذا فراہم کرتا ہے۔ بعض کیتھولک عیسائی فرانس میں بڑ ےپیمانے پر مذہبی[اسلامی] شعائر پر عمل کو فرانس میں اسلام کے اُبھرنے کا خوف سمجھتے ہیں‘‘۔

ایک اور مغربی محقق ولیم میری میرشا کا خیال ہے کہ کلیسا میں ایسے روایت پسند عناصر موجودہیں، جنھیں [شرق اوسط]کے عیسائیوں کی حالتِ زار میں ایک نئے صلیبی حملے کا جواز نظر آتاہے۔ جین کریسٹوف پوسیل فرانس کے ڈپلومیٹ برائے مذہبی اُمور سمجھتے ہیں کہ فرانس میں اسلام کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات اور شرق اوسط میں عیسائیوں کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات کے درمیان گہرا ربط ہے۔ فرانسیسی اخبارات میں شرق اوسط کے عیسائیوں اور اسلام سےمتعلق خاص طور پر خبریں اسی لیے شائع ہو رہی ہیں کہ یہ چیز مذکورہ ہدف کے لیے معاون ہے‘‘۔

ڈاکٹر زینب عبد العزیز، فرانس کے چہرے سے ایک اور پردہ اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں: ’’فرانس کا مطلب ہے کلیسا کی سب سے بڑی بیٹی‘‘۔ ہر فرانسیسی صدر پر یہ لازم ہے کہ وہ عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد ویٹی کن کا رُخ کرے اور ویٹی کن سے اپنی وفاداری کے اظہار کے لیے خطاب کرے۔

اس کلیے سے صرف فرانسو ہولینڈ [۲۰۱۲-۲۰۱۷ء] مستثنیٰ رہے، لیکن قدیم زمانے میں ویٹی کن اور فرانس کے درمیان جس معاہدے پر دستخط ہو چکےہیں، اس کی رُوسے وہ بھی ویٹی کن سے اپنی وفاداری سے باز نہیں رہ سکے۔ یہ معاہدہ فرانس کے اوپر رسمی طورپر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ ’’مشنری اور عیسائی تبلیغی سرگرمیوں کے دو تہائی اخراجات فرانس کے ذمے ہوں گے‘‘۔

فرانس سے متعلق یہ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام اور اسلام کی عظیم ترین ہستی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کےخلاف اس کے حملے محض اسلام اور پیغمبرؐ اسلام کی شخصیت سے عدم واقفیت یا ان کے بارے میں غلط فہمی کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک منصوبہ بند سازش ہے، جسے انجام دینا  اس کے مقاصد کی تکمیل کےلیے ضروری ہے۔

آذربائیجان کی فوجیں ۱۷نومبر ۲۰۲۰ء کو جب نگورنوقاراباغ کے اہم شہر شوشا میں داخل ہوگئیں ، تو ترکی کے دارلحکومت انقرہ کے نواح میں رہنے والی ایک ضعیف العمر آذربائیجانی خاتون زلیخا شاناراوف نے گھر کے اسٹور سے ایک پرانا زنگ آلود صندوق نکالا، جس کو اس کی فیملی نے ماضی میں کئی بار کوڑے میں پھینکنے کی کوشش تھی۔مگر بڑی بی کا اس صندوق کے ساتھ ایسا جذباتی رشتہ تھا کہ و ہ آسمان سر پر اٹھا کر ہرایسی کوشش کو ناکام بنا دیتی تھی۔ شوشا شہر کے آزاد ہونے کی خبر نے اس عمر رسیدہ خاتون کو گویا پھر سے جوان کردیا ، اوراس نے پورے خاندان کو جمع کرکے اس صندوق کو کھولنے کا حکم دیا۔ اس چھوٹے سے بکس میں اس نے شوشا میں واقع اپنے مکان کی چابی حفاظت کے ساتھ رکھی ہوئی تھی، جہاں سے اس کو ۱۹۹۲ء میں آرمینیائی قبضے کے بعد بے سرو سامانی کی حالت میں بچوں کے ساتھ نکالا گیا تھا۔

ترکی کے شہر انقرہ، عدبر اور آذربائیجان کے باکو اور دیگر علاقوں میں ہجرت کی زندگی بسر کرنے والے ایسے ہزاروں مہاجر خاندان اب اپنے آبائی گھرو ں کو جانے کے لیے بے تاب ہیں۔ فی الحال دسمبر تک علاقوں سے آرمینیائی افواج کا انخلا طے پایا ہے اور آذر بائیجانی افواج مفتوحہ علاقوں میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام کر رہی ہیں۔ اس کے بعد ہی شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دی جائے گی۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ پر پھیلی اس جنگ کے بعد آرمینیا نے جب اعتراف شکست کیا، تو یہ گذشتہ سو سالوں میں کسی مسلم ملک کی پہلی مکمل فوجی فتح تھی۔ گذشتہ ۲۷ برسوں کے بعد پہلی بار اعدام اور دیگر شہروں کی مسجدوں کے منارے اور منبر آباد ہوگئے، جہاں آذری افواج نے داخل ہوکر اذانیں دیں اور شکرانے کے نوافل پڑھے۔ پچھلی تین دہائیوں سے یہ مسجدیں جانوروں کے باڑوں یا موٹر گاڑی گیراج کا کام دے رہی تھیں۔ صرف اعدام کے علاقے سے ہی گذشتہ صدی کے آخری عشرے کے اوائل میں ۲لاکھ کے قریب آذری اپنے آبائی علاقے سے  نقل مکانی پر مجبور کر دیے گئے تھے۔ آرمینیوں نے قبضے کے دوران علاقے میں کافی لوٹ مار مچائی اور شہر کے مرکزی علاقوں کو تباہ کر دیا تھا۔

جنگ بندی اور آرمینیا کے وزیرا عظم نکول پاشہینان کے اعتراف شکست کے بعد جو معاہدہ طے پایا ہے، اس کے مطابق مفتوحہ علاقوں ، جن میں پانچ اہم شہر، چار قصبے اور ۲۸۶دیہات شامل ہیں، پر آذر بائیجان کا قبضہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دسمبر تک مزید سات علاقو ں سے آرمینیائی افواج کے انخلا کے بعد آذر بائیجان کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ قاراباغ علاقے سے ۱۹۹۰ء میں آرمینیا نے جس مسلمان آذری آبادی کو بے دخل کرکے، اس علاقے کاآبادیاتی تناسب تبدیل کر دیا تھا، ان سب افراد کو واپس اپنے علاقوں میں جانے اور بسنے کی نہ صرف اجازت ہوگی، بلکہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری مقامی حکمرانوں پر عائد ہوگی۔ آرمینیا سے آذربائیجان کے راستے ترکی جانے والے سبھی ٹرانزٹ راستوں کو کھولا جائے گا اور ترک افواج  ان کی نگرانی کریں گی۔ ان میں سب سے اہم ترکی اور آذر بائیجا ن کے درمیان قدیم سلک روٹ، یعنی ناچیوان کوریڈو ر کی بحالی ہے۔ اس سے ترکی کو براہِ راست چین تک رسائی حاصل ہوجائے گی اور یہ جلد ہی ’بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ‘ کا حصہ بن جائے گا۔ اس راستے کی عدم دستیابی کے نتیجے میں آذر بائیجان تک پہنچنے کے لیے ترکی کو ایران یا جارجیا کا راستہ اختیار کرنا پڑتا تھا۔ اگرچہ لنچن علاقے کو بھی آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے، مگر آرمینیا کو قاراباغ کے دارالحکومت اسٹیپن کرت تک رسائی کے لیے لنچن میں ایک کوریڈور کے ذریعے رسائی دی گئی ہے، جس کی حفاظت روسی افواج کریں گی۔

بلاشبہہ آذربائیجانی صدر الحام علی یوف پر سخت دباؤ تھا کہ جنگ جاری رکھ کے شوشا شہر کے بعد ۱۰کلومیٹر دور دارلحکومت اسٹیپن کرت پر بھی فوج کشی کرکے آزاد کروائیں، مگر جس طرح آرمینیائی افواج آذربائیجان کے اند ر شہری علاقوں پر میزائلوں اور راکٹوں کی بارش کرکے سول آبادی کو نشانہ بنارہی تھی، اس میں بڑی طاقتوں کی طرف سے جنگ بندی کی اپیل کے بعد الگ تھلگ پڑنے کے خوف سے علی یوف نے امن کے دامن کو تھام لیا۔

کہتے ہیں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے، یہ خود مسائل کو جنم دیتی ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بار بار تاکید کے بعد بھی مذاکرات مسائل حل کرانے میں ناکام ہوجاتے ہیں، تو جوں کی توں صورتِ حال (اسٹیٹس کو) بدلنے کا واحد حل جنگ ہی رہ جاتا ہے۔ ۱۹۹۴ء سے قاراباغ پر بھی اقوام متحدہ نے چاربار قرار دادیں منظور کرکے آرمینیا کو یہ علاقے خالی کرکے آذربائیجان کے حوالے کرنے کی اپیل کی تھی، مگر طاقت کے زعم کے ساتھ روس اور فرانس کی پشت پناہی کی وجہ سے آرمینیا نے ان قراردادوں پر کوئی کان نہ دھرا۔ اس دوران آرمینیا نے ان علاقوں کو مکمل طور پر آذری مسلم آبادی سے خالی کرواکے وہاں آرمینیائی نسل کی حکومت قائم کردی۔ جس نے اس علاقے کے اصل باشندوں، یعنی آذری مسلم آبادی کی عدم موجودگی میں نام نہاد ریفرنڈم کروایا، اور قاراباغ کا الحاق آرمینیا سے کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم، بین الاقوامی برادری نے اس ریفرنڈم کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ آذربائیجانی صحافی جیحون علییوف کے مطابق ۱۹۹۰ء سے مذاکرات اور بین الاقوامی برادری کے توسل سے متواتر آذر بائیجان بتانے کی کوشش کررہا تھا ، کہ اگر آرمینیا ٹرانزٹ کوریڈورز میں آمد و رفت بحال کرنے، مہاجرین کی واپسی اور قاراباغ کے نچلے علاقوں کو واپس کرنے پر آمادہ ہوتا ہے ، تو وہ اس کو بطور حتمی حل ماننے کے لیے آمادہ ہے، مگر آرمینیا ہمیشہ اس پیش کش کو ٹھکراتا آیا ہے۔

اب جنگ کے بعد روس اور ترکی کی ایما پر ایسا ہی معاہدہ عمل میں آیا ہے۔ اب نچلے تمام علاقوں سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ آرمینیا کو بالائی قاراباغ کے اہم شہر شوشا سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے، جو اس علاقے کا ثقافتی اور تجارتی قلب ہے۔ تزویراتی لحاظ سے بھی اس کی اہمیت دوچند ہے، کیونکہ یہ اونچائی پر واقع ہے، اور اس کو حاصل کرنے کے لیے آذری افواج کو خاصی محنت کرنی پڑی ۔ یہاں آرمینیائیوں کا آپوسٹولک چرچ بھی واقع ہے۔

شمالی قفقاز ( North Caucasus) میں نگورنو قاراباغ کو ۱۹۲۳ء میں آذربائیجان کا علاقہ بنادیا گیا تھا۔ سوویت یونین کے آخری زمانے اور پھر تحلیل و انہدام کے بعد سے اس علاقے کے کنٹرول کے سوال پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۴ءتک چھے سال طویل جنگ ہوئی، جس میں ۳۰ہزار افراد ہلاک ہوئے، جب کہ لاکھوں افراد کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔ اس وسیع پیمانے کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے روس نے ثالث کا کردار ادا کیا ، لیکن کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ اس جنگ کی وجہ سے لاکھوںآذریوں کو ہجرت کرنا پڑی، جس کے نتیجے میں  یہاں آرمینیائی باشندوں کی اکثریت ہوگئی، جب کہ حکومت بھی آرمینیا کی حمایت یافتہ بن گئی۔

۲۰۱۶ءمیں بھی اس علاقے میں پانچ روز تک دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری رہی، جس کی وجہ سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے اور پھر روس کی مداخلت کی وجہ سے جنگ پھر رک گئی۔ مگر حال ہی میں اختتام پذیر جنگ ۹۰ء کے عشرے کے بعد چھڑنے والی سب سے بڑی جنگ تھی۔ اس میں خاص بات آذر بائیجان کو ترکی کی حمایت کا حاصل ہونا اور ڈرون طیاروں کا حصول، جس نے آرمینیا کی فضائی قوت کو تباہ کردیا۔ مزید یہ کہ آرمینیا کے اتحادیوں روس اور ایران کا  اس دورا ن غیر جانب دار رہنا بھی آذربائیجان کے حق میں گیا۔ تاہم روس نے خبردار کیا تھا کہ ’’آرمینیا کی سرحدوں کے اندر کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں وہ مداخلت کرنے پر مجبور ہوگا‘‘۔ آذربائیجان نے اسی لیے جنگ کو قاراباغ تک ہی محدود رکھا ۔ آرمینیا نے اگرچہ آذر بائیجان کے شہری علاقوں پر راکٹوں کی بارش کی، مگر روس کی مداخلت کے خوف سے آذر بائیجان نے ان کا جواب نہیں دیا،اور فوج کشی قاراباغ تک ہی محدود رکھی۔

معاہدے کی رُو سے جو علاقے اب آرمینیا خالی کر رہا ہے ، اس کی فوج اور لوگ مکانات، سرکاری عمارات اور جنگلاتی اراضی کو نذرِ آتش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور روسی نیوز سائٹ سے نشر ہونے والے ویڈیو مناظر میں کیل بیجیر کے مختلف علاقوں میں مقیم آرمینیوں کو نکلنے سے پہلے عمارتوں کو نذرِ آتش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ خاص طور پر ۲۷سال قبل آذریوں کے پیچھے چھوڑے ہوئے گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے توڑ کر انھیں آگ لگاتے ہوئے نظر آئے۔ صرف گھروں کو نہیں اسکولوں اور درختوں تک کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ قارا باغ  کے شمال مغربی علاقے کیل بیجیر پر ۱۹۹۳ء کو آرمینیا نے جب قبضہ کیا تھا تو اس علاقے میں مقیم تقریباً ۶۰ہزار آذری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ۱۰ نومبر کو طے پانے والے سمجھوتے کی رُو سے آرمینی فوج کو ۱۵ نومبر تک کیل بیجیر کو خالی کرنا تھا۔

آذربائیجان کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے پہاڑی علاقوں میں ازخود آگ بھڑک اٹھتی تھی۔ اس مناسبت سے زرتشت اس کو ایک مقدس جگہ مانتے تھے۔ مگر ماہرین کے مطابق اَزخود بھڑک اٹھنے والی آگ کا موجب علاقے میں پائے جانے والے تیل اور گیس کے ذخائر ہیں۔ بحرگیلان یا بحرکیسپین سی کے کنارے آباد اس علاقے میں ہمہ وقت چلنے والی تیز ہوائیں بھی ا س آگ کو بھڑکاتی رہتی ہیں۔

عالمی جریدے کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق آذربائیجان روزانہ آٹھ لاکھ بیرل تیل کی پیداوار کرتا ہے، جو یورپ اور وسطی ایشیا کو تیل برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے۔  اس تیل اور گیس کو یورپ پہنچانے کے لیے دوراستے ہیں، ایک شمال مغربی روس اور دوسرا جنوب مغربی  قفقاز یا کاکیشیائی ریاستوں سے ہوکر ترکی سے گزرتا ہے۔ یورپ اپنی گیس کی ضروریات کو یہاں سے پورا کرنے کے لیے مستقبل میں یہاں سے مزید پائپ لائنوں کی تعمیر کا خواہش مند ہے۔گو کہ قاراباغ کا پہاڑی علاقہ خود گیس یا تیل کی پیداوار نہیں کرتا، مگر اس کے کیل بیجیر ، لاچن، زنگی لان اور تار تار اضلاع میں سونے، چاندی، پارے، تانبے، جست اور کوئلہ کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

اس جنگ سے ایک بات تو طے ہے کہ شرق اوسط کے بعد قفقاز میں بھی ترکی کا قد خاصا بلند ہوا ہے۔ ایک طرح سے اس کا سفارتی اور عسکری رتبہ روس کے ہم پلہ ہوگیا ہے۔آذر بائیجان ، آرمینیا کی یہ جنگ شاید نئے ورلڈ آرڈر کی نوید ہے، جس میں ترکی، روس اور چین ایک اہم رول ادا کرنے والے ہیں۔جنگی برتری حاصل کرنے بعد ترکی اور آذر بائیجا ن کے لیے بھی لازم ہے کہ آرمینیا کی اشک شوئی کرکے اس کو بھی اتحاد میں شامل کرکے اقتصادی طور پر اس کی مدد کرکے اسے مغربی ممالک کا کھلونا نہ بننے دیںاور مفتوحہ علاقوں میں آرمینیائی مذہبی علامتوں کی حفاظت کی جائے۔ شاید اسی لیے ترکی کی ایما پر آذربائیجان کی افواج نے اسٹیپن کرت پر فوج کشی نہ کرکے مفاہمانہ پالیسی کی گنجایش رکھ دی ہے۔

قائد اعظم کے دست راست نواب زادہ لیاقت علی خان کو بھی ان حقائق کا اندازہ تھا ۔ چنانچہ ۱۶ فروری ۱۹۴۷ءکو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کےجلسۂ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے ، پارلیمنٹ کے کردار اور نام نہاد پارلیمنٹ کی بالا دستی کا رد کرتے ہوئے پاکستان میں حاکمیت اعلیٰ کس کی ہو گی___عوام یا پارلیمنٹ کی یا اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی؟ اس پر واضح اور دوٹوک بات کہتے ہیں:

There is one very important question that will be asked. We say we want to live in our own way and in order to be able to do so we want to have a free and independent state. What is that way of life and what are the principles on which our state will be based?? Such a question for a Muslim has only one answer. The Ideal which Muslim has before him is and can be non-other than the ideal that was set before the world by Muhammad P.B.U.H of Arabia over 13 hundred years ago.The message that Muhammad P.B.U.H brought is still with us, preserved for the whole of humanity in greatest of all books the Qur’an. Every Muslim should live and die for God. God is the only King the only Sovereign.

According to Islam no one can wield authority in his own right as all authority is derived from God and can be exercised only on His behalf. Islam aims at building of a society in which all possibilities of exploitation of man by man will disappear, in with all distinction of birth, colour and geographic origin will be wiped away. (M. Rafiq Afzal, Speeches, Statements of Quaid-e-Millat Liaqat Ali Khan, 1941-1951, Lahore, Research Society of Pakistan, University of the Punjab, 1987, p58-59).

ایک بہت اہم سوال ہے جو پوچھا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی کے مطابق رہنا چاہتے ہیں اوراس پر عمل درآمد کے لیے ہمیں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی ضرورت ہے۔ وہ طرزِ زندگی کیا ہے اوروہ کیا اصول ہیں جن پر ہماری ریاست انحصار کرے گی؟ ایک مسلمان کے لیے اس سوال کا ایک ہی جواب ہے۔ ایک مسلمان کے سامنے وہ تصور ہے اور اس کے علاوہ کوئی تصور نہیں ہوسکتا جو دنیا کے سامنے تیرہ سو سال قبل عرب کے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا۔ وہ پیغام جو حضرت محمدصلی اللہ    علیہ وسلم لے کر آئے تھے، ہمارے پاس آج بھی موجود ہے اور پوری انسانیت کے لیے دُنیا کی عظیم ترین کتاب قرآنِ مجید کی شکل میں محفوظ ہے۔ ہرمسلمان کو اللہ کے لیے جینا اور مرنا چاہیے۔ اللہ ہی واحد شہنشاہ اور واحد بااختیار ہستی ہے۔

اسلام کے مطابق کوئی بھی شخص اپنے استحقاق کی بناپر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ تمام اختیارات کا مالک صرف اللہ ہے اور صرف اسی کی مرضی کے مطابق ان پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے۔ اسلام کی غرض و غایت ایک ایسے معاشرے کی تعمیر ہے جس میں انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کے تمام امکانات کا خاتمہ کردیا جائے گا اور پیدایش، رنگ اور علاقائی تمام امتیازات کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔

لادینی مغربی جمہوریت موزوں نہیں

وہ پاکستانی دانش وَر جو اپنے آپ کو ’آزاد خیال‘ کہنا باعث فخر سمجھتے ہیں ۔کاش! کھلے ذہن کے ساتھ کبھی قائد اعظم اور ان کے رفقاء کارکے ارشادات کو پڑھ لیتے کہ کیا وہ اس مغربی جمہوریت کے پرستار تھے جس کی تبلیغ یہ دانش وَر کرتے ہیں یا ان کا تصور ان سے مختلف تھا؟ علمی دیانت (academic honesty)کا تقاضا ہے کہ جب کسی فرد سے کوئی بات منسوب کی جائے تو اس میں اپنی رائے کو شامل نہ کیا جائے۔ اس کے باوجود ایک صاحب ِقلم کو یہ آزادی رہتی ہے کہ وہ اس بیان سے اختلاف کرے اور اپنی رائے کو پیش کرے لیکن اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی رائے کو کسی دوسرے کے بیان میں پڑھ لے یا ایک بے بنیاد تصور اس سے منسوب کر دے۔ دُکھ کی بات ہے کہ قائد کے ساتھ یہی ظلم دانش وَری کے عنوان سے ایک طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے اورقائد کی اپنی آواز کو دبا کر ہمارے ’دانش وَر‘ یہ پیغام دیتے رہے ہیں کہ قائد مغربی سیکولر ڈیموکریسی کے قائل تھے۔۶ مارچ ۱۹۴۰ء کو قائد اعظم علی گڑھ میں اپنے خطاب میں فرماتے ہیں :

Two years ago at Simla I said that the democratic parliamentary system of government was unsuited to India. I was condemned everywhere in the Congress press. I was told that I was guilty of disservice to Islam because Islam believes in democracy. So far as I have understood Islam, it does not advocate a democracy which would allow the majority of non-Muslims to decide the fate of the Muslims. We cannot accept a system of government in which the non-Muslims merely by numerical majority would rule and dominate us. The question was put to me, if I did not want democracy what then did I want___ Fascism, Nazism or totalitarianism?? I say, what have these votaries, these champions of democracy done?? They have kept sixty millions of people as untouchables:; they have set up a system which is nothing but a 'Grand Fascist Council'. Their dictator (Gandhi) is not even a four anna member of Congress. They set up dummy ministries which were not responsible to the legislatures or the electorate but to a caucus of Mr. Gandhi’s choosing. Then, generally speaking, democracy has different patterns even in different countries of the West. Therefore, naturally I have reached the conclusion that in India where conditions are entirely different from those of the Western countries,the British party system of government and the so - called democracy are absolutely unsuitable. (Speeches, Statements and Messages of the Quaid-e-Azam, ed. Khurshid Ahmed Khan Yusufi, Lahore, Bazm-i-Iqbal, 1996, Vol.II, p1159)

دو برس قبل میں نے شملہ میں یہ کہا تھا کہ جمہوری پارلیمانی طرزِ حکومت ہند کے لیے ناموزوں ہے۔ اس پر کانگرسی اخبارات نے ہرجگہ میرے لتے لینے شروع کر دیئے تھے۔ یہ بھی کہا گیا کہ میں اسلام کی بدخدمتی کا مجرم ہوں۔ کیونکہ اسلام جمہوریت میں یقین رکھتا ہے۔جہاں تک مَیں نے اسلام کو سمجھا ہے،یہ ایسی جمہوریت کی قطعاً وکالت نہیں کرتا جس میں غیرمسلم اکثریت کو مسلمانوں کے مقدّر کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ ہم ایسے نظامِ حکومت کو قبول نہیں کرسکتے جس میں غیرمسلم محض کثرتِ تعداد کی بناپر ہم پر حکومت کریں اور ہم پر غالب آنے کی کوشش کریں۔ مجھ سے یہ سوال کیا گیا: اگرمیں جمہوریت نہیں چاہتا تو پھر میں کیاچاہتا ہوں؟___ فاشزم، نازی ازم یا آمریت! مَیں پوچھتا ہوں کہ جمہوریت کے اِن سورماؤں اورفدایوں نے کیا کیا ہے؟ انھوں نے ساٹھ ملین (چھے کروڑ) انسانوں کو اچھوت بنا رکھا ہے۔ انھوں نے جمہوریت کے لبادے میں جو نظام قائم کیا، وہ ایک ’گرانڈ فاشسٹ کونسل‘ کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا ڈکٹیٹر کانگرس کا چارآنے کا رُکن بھی نہیں۔ انھوں نے ڈمی وزارتیں بنارکھی ہیں جو نہ تو قانون ساز ادارے اور نہ ہی انتخاب کنندگان کے سامنے جواب دہ ہیں، بلکہ مشیرمطلق مسٹر گاندھی کے زیرفرمان ہیں۔ پھر میں یہ کہتا ہوں کہ مغرب کے مختلف ملکوں میں بھی جمہوریت کے مختلف سانچے ہیں۔ چنانچہ قدرتی طور پر مَیں  اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہند میں، جہاں کے حالات مغربی ملکوں سے قطعی طور پرمختلف ہیں، برطانیہ کا پارٹی سسٹم نظامِ حکومت اور نام نہاد جمہوریت قطعی طور پر ناموزوں ہے (پاکستان تصور سے حقیقت تک، تالیف و ترجمہ: پروفیسر غلام حسین ذوالفقار، بزمِ اقبال، لاہور،۱۹۹۷ء، ص ۵۸-۵۹)۔

قائد اعظم کے ان واضح الفاظ کی تعبیر اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ مغربی سیکولر جمہوریت کے نظام کو سمجھنے اور اس کا ذاتی تجربہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ وہ اندھی جمہوریت جو عقل و شعور کی جگہ صرف افراد کی گنتی اور شمار کی بنا پر کسی چیز کو جائز و ناجائز قرار دیتی ہے ، اسلام کے بنیادی اصولوں سے ٹکراتی ہے۔ جس کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ اسلام میں اکثریت کی رائے کی اہمیت نہیں۔ اسلام تو وہ واحد دین ہے جو اولین انسان حضرت آدم ؑسے لے کر آج تک فرد کے اختیار و آزادی کا علَم بردار اور مشاورت(شوریٰ)کے بغیر کوئی بھی معاملہ طے کرنا نہیں چاہتا ۔ اس کی روح ہی مشاورت میں ہے، آمریت میں نہیں۔ تاہم، یہ مشاورت انسان کو ، کسی پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ عقل و شعور کے خلاف محض اکثریت رائے کی بنا پر یہ فیصلہ کر دے۔

قائد اعظم کو اس بات کا پورا شعور تھا کہ اگر غیر منقسم ملک میں مسلمان اس وقت ۱۰ فی صد ہیں اور ۵۰ سال میں ۲۵ فی صد بھی ہو جائیں جب بھی وہ یکساں طور پر بڑھتی ہوئی ہندو آبادی کے تناسب میں ابدی طور پر محکوم قوم بن کر رہیں گے ۔ہندستان میں آج مسلمانوں کی حالت زار سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائد کا تجزیہ کتنا صحیح تھا ۔ آج جو کچھ اہل کشمیر کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور ان کے دستوری اور جمہوری حقوق کو نام نہاد ’سیکولرزم‘ کی بنیاد پر پامال کیا جار ہا ہے ۔اس کا ایک نابینا بھی منکر نہیں ہو سکتا ۔ قائد اعظم کا اس نتیجے تک پہنچنا ان کی سیاسی فراست کا ایک ثبوت ہے کہ ایک نظریاتی ملت اور قوم ہونے کی بنا پر مسلمان ایک سیکولر جمہوریت میں اپنا تشخص اور بقا برقرار نہیں رکھ سکتے ۔ اس لیے ایک نظریاتی مملکت کا وجود ہی ان کے تحفظ کی ضمانت دے سکتا تھا۔

آزاد مسلم ریاست وقت کا تقاضا  __ مکتوب اقبال

یہ بات محض قائد اعظم نہیں بلکہ ان کے فکری راہنما علامہ اقبال پر بھی واضح تھی ۔ قائداعظم کے نام ۲۸ مئی ۱۹۳۷ء کے خط میں لکھتے ہیں :

 The Muslim has begun to feel that he has been going down and down during the last 200 years. Ordinarily he believes that his poverty is due to Hindu money- lending or capitalism. The perception that it is equally due to foreign rule has not yet fully come to him. But it is bound to come. The atheistic Socialism of Jawahrlal is not likely to receive much response from the Muslims. The Question therefore is :how is it possible to solve the problem of the Muslim poverty?? And the whole future of the League depends on the League’s activity to solve this question. If the League can give no such promises I am sure the Muslim masses will remain indifferent to it as before.

Happily there is a solution in the enforcement of the Law of Islam and its further development in the light of modern ideas. After a long and careful study of Islamic Law I have come to the conclusion that if this system of Law is properly understood and applied, at least the right to subsistence is secured to everybody.

But the enforcement and development of the Shariat of Islam is impossible in this country without a free state or states. This has been my honest conviction for many years and I still believe this to be only way to solve the problem of bread for Muslims as well as to secure a peaceful India. If such a thing is impossible in India the only other alternative is a civil war which as a matter of fact has been going on for some time in the shape of Hindu-Muslim riots. (Dr. G. H. Zulfiqar, ed, Pakistan, as Visualized by Iqbal Jinnah, Lahore, Bazm-i-Iqbal, n.d. p32)

مسلمان محسوس کر رہے ہیں کہ گذشتہ دو صد سال سے وہ برابر تنزل کی طرف جارہے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ اس غربت کی وجہ ہندو کی ساہوکاری یا سرمایہ داری ہے۔ یہ احساس کہ اس میں غیرملکی حکومت بھی برابر کی شریک ہے، ابھی پوری طرح نہیں اُبھرا، لیکن آخر کو ایسا ہوکر رہے گا۔ جواہر لال نہرو کی بے دین اشتراکیت مسلمانوں میں کوئی تاثر پیدا نہ کرسکے گی۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی غربت کا علاج کیا ہے؟ مسلم لیگ کا سارا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا کوشش کرتی ہے۔ اگراس امر میں مسلم لیگ نے کوئی وعد ہ نہ کیا تو مجھے یقین ہے کہ مسلم عوام پہلے کی طرح اس سے بے تعلق رہیں گے۔ خوش قسمتی سے اسلامی قانون (شریعت) کے نفاذ میں اس کا حل ہے، اور موجودہ نظریات کی روشنی میں اس میں ترقی کا امکان ہے۔

اسلامی قانون کے طویل و عمیق مطالعہ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچاہوں کہ اگر اس نظامِ قانون کو اچھی طرح سمجھ کر نافذ کیا جائے تو ہرشخص کے لیےکم از کم حقِ معاش محفوظ ہوجاتا ہے۔ لیکن شریعت اسلام کا نفاذ اور ارتقا ایک آزاد مسلم ریاست یاریاستوں کے بغیر اس ملک میں ناممکن ہے۔ سالہاسال سے یہی میرا عقیدہ رہا ہے اور اب بھی مجھے یقین ہے کہ مسلمانوں کی غربت اور روٹی کا مسئلہ اور ہند میں امن و امان کا قیام اسی سے حل ہوسکتا ہے۔ اگر ہند میں یہ ممکن نہیں ہے تو پھر دوسری متبادل صورت صرف خانہ جنگی ہے جو فی الحقیقت ہندو مسلم فسادات کی شکل میں کچھ عرصہ سے جاری ہے(پاکستان تصور سے حقیقت تک، تالیف و ترجمہ: پروفیسر غلام حسین ذوالفقار، بزمِ اقبال، لاہور،  ص۳۴-۳۵)۔

دستورِ پاکستان کی بنیاد شریعت

نہ صرف علامہ اقبال بلکہ قائد اعظم جو بطور ایک اعلیٰ درجے کے قانون دان، اسلامی شریعت و قانون سے واقفیت رکھتے تھے ، اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ پاکستان میں اگر کوئی نظام ترقی کی ضمانت دے سکتا ہے تو وہ صرف اسلامی نظام ہے جسے ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً نافذ کرکے اس کی عملیت کو مستحکم فرما دیا ۔ چنانچہ ۲۵ جنوری ۱۹۴۸ء کو کراچی کی وکلا برادری (بارایسوسی ایشن ) کو خطاب کرتے ہوئے اس پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے شریعت کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یاد رہے یہ بھی ۱۱؍ اگست ۱۹۴۷ء کے بعد کا بیان ہے ۔ جو کسی سیاسی دباؤ میں نہیں دیا گیا،بلکہ قائد اعظم کی سوچی سمجھی رائے اور موقف کو ظاہر کرتا ہے :

He further said that he could not understand a section of the people who deliberately wanted to create mischief and made propaganda that the constitution of Pakistan would not be made on the basis of Shariat. The Qa‘id-e-Azam said the "Islamic principles today are as applicable to life as they were 1300 years ago". No doubt there are many people who do not quite appreciate when we talk of Islam. Islam is not only a set of rituals, traditions and spiritual doctrines. Islam is also a code for every Muslim which regulates his life and his conduct even in politics and economics and the like. It is based on the highest principle of honour, integrity, fair play and justice for all.

انھوں نے مزید فرمایا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لوگوں کا ایک طبقہ جودانستہ طور پر شرارت کرنا چاہتا ہے، یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی۔ قائداعظم نے فرمایا: ’’آج بھی اسلامی اصولوں کا زندگی پر اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح تیرہ سو برس پیشتر ہوتا تھا۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو بلاشبہہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس بات کو بالکل نہیں سراہتے۔ اسلام  نہ صرف رسم و رواج، روایات اور روحانی نظریات کا مجموعہ ہے، بلکہ اسلام ہرمسلمان کے لیے ایک ضابطہ بھی ہے جو اس کی حیات اور اس کے رویہ بلکہ اس کی سیاست و اقتصادیات وغیرہ پر محیط ہے۔ یہ وقار، دیانت، انصاف اور سب کے لیے عدل کے اعلیٰ ترین اصولوں پر مبنی ہے۔(قائداعظم: تقاریر و بیانات، جلدچہارم، ص۴۰۲-۴۰۳)

نواب بہادر یارجنگ کا موقف

قائد اعظم کے اس موقف اور تصور کا اظہار ایک نہیں سو سے زائد مواقع پر ان کے خطابات، بیانات ، اور انٹرویوز میں ہوا۔ لیکن ہمارے نام نہاد دانش وَر اور آزاد خیال محققین کی نگاہ صرف اور صرف ایک تقریر پر اٹک کر رہ گئی ۔ جس میں وہ بات نہیں کہی گئی جو وہ اس بات میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے دسمبر۱۹۴۳ ء کے سیشن میں نواب بہادر یار جنگ کی تقریر پر قائد اعظم کا تاثر اور رد عمل ان کے موقف کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے ۔ نواب بہادر یار جنگ نے کہا:

Gentlemen achievement of Pakistan is not that difficult as to make it true Pakistan and sustain it. Your Quaid have on several occasions mentioned that Muslims cannot frame their constitution and law by themselves. This constitution in the form of the Quran is already in their hands. How well taken is this vision and decision of ours. No one can deny the fact that, we do not want Pakistan simply as a land where they became instruments of shaytan like in so many other places in the world today. If this is the objective of our Pakistan , at least I am not in favour of such Pakistan.

Who can deny the fact that we want Pakistan in order to establish Qurani nizam hukumat.

This will be a revolution. It will be a renaissance, a new life in which our cherished Islamic ideas and dreams shall become a reality and Islamic way of life shall be revived. If constitutional and political system proposed by the planning committee does not have its foundations in the Book of Allah and the sunnah of Rasool sallallahu alaihi wasallam,it will be a satanic political system, we seek Allah’s protection from such politics.

The Qua’id banged forcefully on the table and said “you are absolutely right".

حضرات! پاکستان کا حصول اس قدر مشکل نہیں ہے جتنا کہ اسے حقیقی پاکستان بنانا اور اس کو برقرار رکھنا۔ آپ کے قائد نے مختلف مواقع پر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسلمان اپنے لیے دستور اور قانون کی تشکیل خود نہیں کرسکتے۔ یہ دستور قرآن کی شکل میں ان کے ہاتھوں میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا یہ وژن اور فیصلہ کس خوبی سے لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ ہم پاکستان کو محض ایک ایسی سرزمین کے طور پر نہیں چاہتے جہاں ہم موجودہ دنیا کے بہت سے خطوں کی طرح شیطان کے آلۂ کار بن جائیں۔ اگر ہمارے پاکستان کا یہی مقصد ہے، تو کم از کم مَیں ایسے پاکستان کے حق میں نہیں ہوں۔

اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ہم پاکستان اس لیے چاہتے ہیں کہ قرآنی نظامِ حکومت قائم کرسکیں۔ یہ ایک انقلاب ہوگا۔ یہ ایک نشاتِ ثانیہ ہوگی، ایک نئی زندگی جس میں ہمارے انتہائی عزیز اسلامی تصورات اور خواب حقیقت میں ڈھل سکیں گے اور اسلامی طرزِ زندگی کا احیا ہوسکے گا۔ اگر منصوبہ بندی کمیٹی کے تجویز کردہ دستوری اور سیاسی نظام کی بنیادیں اللہ کی کتاب اور سنت ِ رسولؐ پر مبنی نہیں ہیں تو یہ ایک شیطانی سیاسی نظام ہوگا۔ ہم ایسی سیاست سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

 قائداعظم نے اس پر اپنی میز کو بہت زورسے بجایا اور کہا: ’’آپ بالکل حق بجانب ہیں‘‘ (تصورِ پاکستان بانیانِ پاکستان کی نظر میں، شریعہ اکیڈمی، اسلام آباد، ۲۰۱۳ء، ص ۸۲-۸۳)۔

لیاقت علی خان کا دستور ساز اسمبلی سے خطاب

نہ صرف نواب بہادر یار جنگ بلکہ قائد اعظم کے دست راست لیاقت علی خان نے قراردادِ مقاصد پیش کرتے وقت دستور ساز اسمبلی میں جو خطاب کیا وہ پاکستان کے نظریاتی تشخص اور پاکستان میں اسلامی نظام حکومت کے قیام پر ریاست کے سوچے سمجھے موقف کو واضح کر دیتا ہے اور اس کے لیے کسی پہاڑ کو کھود کر حقائق تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف ایک غیر جانب دار ذہن اور قلب کی ضرورت ہے ۔اور صرف وہ شخص جو یہ غیر جانبدار ذہن اور قلب رکھتا ہواپنے آپ کو طالب ِدانش کہہ سکتا ہے ۔ ہم اصولِ تحقیق کے خلاف قائد ملت کا یہ طویل اقتباس دینے پر مجبور ہیں کیوں کہ اس کا پورا متن مطالعہ کیے بغیر بات مکمل نہیں ہو سکتی ۔

قائد ملت لیاقت علی خان نے خطاب کا آغاز یوں کیا:

"Sir, I consider this to be a most important occasion in the life of this country, next in importance only to the achievement of independence, because by achieving independence we only won an opportunity of building up a country and its polity in accordance with our ideals. I would like to remind the House that the Father of the Nation, Quaid-e-Azam, gave expression to his feelings on this matter on many an occasion, and his views were endorsed by the nation in unmistakable terms.Pakistan was founded because they wanted to demonstrate to the world that Islam provides a panacea to the many diseases which have crept in to the life of humanity today...."

"We, as Pakistanis, are not ashamed of the fact that we are overwhelmingly Muslims and we believe that it is by adhering to our faith and ideals that we can make a genuine contribution to the welfare of the world. Therefore, Sir, you would notice that the Preamble of the Resolution deals with frank and unequivocal recognition of the fact that all authority must be subservient to God. It is quite true that this is in direct contradiction to the Machiavellian ideas regarding a polity where spiritual and ethical values should play no part in the governance of the people and, therefore, it is also perhaps a little out of fashion to remind ourselves of the fact that the State should be an instrument of beneficence and not of evil.But we, the people of Pakistan, have the courage to believe firmly that all authority should be exercised in accordance with the standards laid down by Islam so that it may not be misused...."

"Sir, I just now said that the people are the real recipients of power. This naturally eliminates any danger of the establishment of a theocracy.It is true that in its literal sense, theocracy means the Government of God;; in this sense, however, it is patent that the entire universe is a theocracy, for is there any corner in the entire creation where His authority does not exist? But in the technical sense, theocracy has come to mean a Government by ordained priests, who wield authority as being specially appointed by those who claim to derive their rights from their sacerdotal position.I cannot over emphasise the fact that such an idea is absolutely foreign to Islam. Islam does not recognise either priesthood• or any sacerdotal authority; ; and, therefore, the question of a theocracy simply does not arise in Islam.If there are any who  still use the word theocracy in the same breath as the polity of Pakistan, they are either labouring under a grave misapprehension, or indulging in mischievous propaganda.

You would notice, Sir, that the Objectives Resolution lays emphasis on the principles of democracy, freedom, equality, tolerance and social justice, and further defines them by saying that these principles should be observed in the constitution as they have been enunciated by Islam. It has been necessary to qualify these terms because they are generally used in a loose sense…”

“When we use the word democracy in the Islamic sense, It pervades all aspects of our life;; it relates to our system of Government and to our society with equal validity,; because one of the greatest contributions of Islam has been the idea of the equality of all men. Islam recognises no distinctions based upon race, colour or birth".

"In the matter of social justice as well, Sir, I would point out that Islam has a distinct contribution to make Islam envisages a society in which social justice means neither charity nor regimentation. Islamic social justice is based upon fundamental laws and concepts which guarantee to man a life free from want and rich in freedom. It is for this reason that the principles of democracy, freedom, equality, tolerance and social justice have been further defined by giving to them a meaning which, in our view, is deeper and wider than the usual connotation of these words".

"The next clause of the Resolution lays down that Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam as set out in the Holy Quran and the Sunna. It is quite obvious that no non-Muslim should have any objection if the Muslims are enabled to order their lives in accordance with the dictates of their religion".

"You would also notice, Sir, that the State is not to play the part of a neutral observer, wherein the Muslims may be merely free to profess and practice their religion, because such an attitude on the part of the State would be the very negation of the ideals which prompted the demand of Pakistan, and it is these ideals which should be the corner-stone of the State which we want to build. The State will create such conditions as are conductive to the building up of a truly Islamic society, which means that the State will have to play a positive part in this effort. You would remember, Sir, that the Quaid-e-Azam and other leaders of the Muslim League always made unequivocal declarations that the Muslim demand for Pakistan was based upon the fact that the Muslims have a way of life and a code of conduct. They also reiterated the fact that Islam is not merely a relationship between the individual and his God, which should not, in any way, affect the working of the  State.  Indeed, Islam lays down specific directions for social behaviour, and seeks to guide society in its attitude towards the problems which confront it from day to day. Islam is not just a matter of private  beliefs and conduct. It expects its followers to build up a society for the purpose  of   good life ___ as the Greeks would have called it, with this difference, that Islamic "good life" is essentially based upon spiritual values. For the purpose of emphasising these values and to give them validity, it will be necessary for the State to direct and guide the activities of the Muslims in such a manner as to bring about a new social order based upon the essential principles of Islam, including the principles of' democracy, freedom, tolerance and social justice. These I mention merely by way of illustration;; because they do not exhaust the teachings of Islam as embodied in the Quran and the Sunna. There can be no Muslim who does not believe that the word of God and the life of the Prophet are the basic sources of his inspiration. In these, there is no difference of opinion amongst the Muslims and there is no sect in Islam which does not believe in their validity".

"Therefore, there should be no misconception in the mind of any sect which may be in a minority in Pakistan about the intentions of the State. The State will seek to create an Islamic society free from dissensions, but this does not mean that it would curb the freedom of any section of the Muslims in the matter of their beliefs. No sect, whether the majority or a minority, will be permitted to dictate to the others and, in their own internal matters and sectional beliefs, all sects shall be given the fullest possible latitude and freedom. Actually we hope that the various sects will act in accordance with desire of the Prophet who said that the differences of opinion amongst his followers is a blessing. It is for us to make our differences a source of strength to Islam and Pakistan, not to exploit them for narrow interests which will weaken both Pakistan and Islam. Differences of opinion very often lead to cogent thinking and progress, but this happens only when they are not permitted to obscure our vision of the real goal, which is the service of Islam and the furtherance of its objects. It is, therefore, clear that this clause seeks to give the Muslims the opportunity that they have been  seeking, throughout these long decades of decadence and subjection, of finding freedom to set up a polity, which may prove to be a laboratory for the purpose of demonstrating to the world that Islam is not only a progressive force in the world, but it also provides remedies for many of the ills from which humanity has been suffering".

"In our desire to build up an Islamic society we have not ignored the rights of the non-Muslims. Indeed, it would have been un-Islamic to do so, and we would have been guilty of transgressing the dictates of our religion if we had tried to impinge upon the freedom of the minorities. In no way will they be hindered from professing or protecting their religion or developing their cultures. The history of the development of Islamic culture itself shows that cultures of minorities, who lived under the protection of Muslim States and Empires, contributed to the richness of the heritage which the Muslims built up for themselves. I assure the minorities that we are fully conscious of the fact that if the minorities are able to make a contribution to the sum total of human knowledge and thought, it will rebound to the credit of Pakistan and will enrich the life of the nation. Therefore, the minorities may look forward, not only to a period of the fullest freedom, but also to an understanding and appreciation on the part of the majority which has always been such a marked characteristic of Muslims throughout history". (M. Rafiq Afzal, Speeches, Statements of Quaid-e-Millat Liaqat  Ali Khan, 1941-1951, Lahore, Research Society of Pakistan, University of the Punjab, 1987, p58-59).

’’جناب والا، میں اس موقعے کو ملک کی زندگی میں بہت اہم سمجھتا ہوں۔ اہمیت کے اعتبار سے صرف حصول آزادی کا واقعہ ہی اس سے بلند تر ہے، کیونکہ حصول آزادی سے ہی ہمیں اس بات کا موقع ملا ،کہ ہم ایک مملکت کی تعمیر اور اس کے نظام سیاست کی تشکیل اپنے نصب العین کے مطابق کر سکیں۔ میں ایوان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے اس مسئلے کے متعلق اپنے خیالات کا متعدد موقعوں پر اظہار فرمایاتھا ،اور قوم نے ان کے خیالات کی غیرمبہم (unmistakable) الفاظ میں تائید کی تھی۔

پاکستان اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ اس برصغیر کے مسلمان اپنی زندگی کی تعمیر اسلامی تعلیمات اور روایات کے مطابق کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے کہ وہ دنیا پر عملاً واضح کر دینا چاہتے تھے، کہ آج حیات انسانی کو جو طرح طرح کی بیماریاں لگ گئی ہیں، ان سب کے لیے صرف اسلام ہی اکسیر اعظم (panacea) کی حیثیت رکھتا ہے‘‘....

’’ہم پاکستانی ہوتے ہوئے اس بات پر شرمندہ نہیں ہیں، کہ ہماری غالب اکثریت مسلمان ہے، اور ہمارا اعتقاد ہے کہ ہم اپنے ایمان اور نصب العین پر قائم رہ کر ہی دنیا کے فوز و فلاح میں حقیقی اضافہ کر سکتے ہیں۔

جناب والا، آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ اس قرارداد کی تمہید میں صاف اور صریح الفاظ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے، کہ تمام اختیار اور اقتدار کا ذاتِ الٰہی کے تابع ہونا لازمی ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ یہ نظریہ مغربی فلسفی میکیاولی کے خیالات کے بالکل برعکس ہے، جس کا تصور مملکت یہ ہے کہ: نظام سیاست و حکومت میں روحانی اور اخلاقی قدروں کا دخل نہیں ہونا چاہیے۔

اس لیے شاید اس بات کا خیال بھی رواج کے کسی قدر خلاف ہی سمجھا جاتا ہے کہ مملکت کے وجود کو خیر کا آلہ ہونا چاہیے، نہ کہ شر (evil) کا۔ لیکن ہم پاکستانیوں میں اتنی جرأتِ ایمان موجود ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ تمام(انسانی) اقتدار اسلام کے قائم کردہ معیارات کے مطابق استعمال کیا جائے، تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو سکے‘‘....

’’میں نے ابھی یہ عرض کیا تھا کہ:’ اختیارات کے حقیقی حامل عوام ہیں‘۔ چنانچہ اس راستے کو اختیار کرنے سے قدرتی طور پر ’تھیاکریسی ‘ (Theocracy) کے قیام کا خدشہ جاتا رہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ’تھیاکریسی ‘ کے لغوی معنی ’خدا کی حکومت‘ ہیں اور اس اعتبار سے تو پوری کائنات ہی ’تھیاکریسی ‘ قرار پاتی ہے۔ کیونکہ اس پوری کائنات کا کون سا گوشہ ایسا ہے، جہاں اﷲ تعالیٰ کو قدرت حاصل نہیں ہے؟ لیکن [علم سیاسیات کے] اصطلاحی معنوں میں تھیاکریسی ’برگزیدہ پادریوں کی حکومت‘ کو کہتے ہیں، جو محض اس بنا پر اختیار رکھتے ہوں کہ وہ ایسے اہل تقدس کی طرف سے خاص طور پر مقرر کیے گئے ہیں، جو اپنے مقام قدس کے اعتبار سے ان حقوق کے دعوے دار ہیں۔ اس کے برعکس میں اس امر پر جتنا بھی زیادہ زور دوں کم ہو گا، کہ اسلام میں اس تصورحکمرانی کی ہرگز کوئی گنجایش اور کوئی مقام نہیں ہے۔ اسلام، پاپائیت (Priesthood) یا کسی بھی حکومت مشائخ (Sacerdotal Authority) کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس لیے اسلام میں ’تھیاکریسی ‘ کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ اگر کوئی شخص اب بھی پاکستان کے نظام حکومت کے ضمن میں ’تھیاکریسی ‘ کا ذکر کرتا ہے، تووہ یا کسی شدید غلط فہمی کا شکار ہے یا پھر دانستہ طور پر شرارت آمیزی سے ہمیں بدنام کرنا چاہتاہے‘‘۔

’’جناب والا، اب میں آپ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کراتا ہوں، کہ قراردادِ مقاصد میں جمہوریت، حُریت، مساوات، رواداری، اور سماجی عدل کے اصولوں پر زور دیا گیا ہے۔ اس کی مزید صراحت یہ کی گئی ہے کہ دستور مملکت میں ان اصولوں کو اس تشریح کے مطابق ملحوظِ نظر رکھا جائے، جو وضاحت اسلام نے ان الفاظ کی بیان کی ہے۔ ان الفاظ کی صراحت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ یہ (الفاظ) بالعموم مبہم طور پر استعمال کیے جاتے ہیں‘‘....

’’جس وقت ہم ’جمہوریت‘ کا لفظ اس کے اسلامی مفہوم میں استعمال کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے، کہ جمہوریت ہماری زندگی کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے اور اس کا اطلاق جتنا ہمارے نظام حکومت پر ہے، اتنا ہی ہمارے معاشرے پر بھی ہے۔ کیونکہ اسلام نے دنیا کو جن  عظیم الشان صفات سے مالا مال کیا ہے، ان میں سے ایک صفت عام انسانوں کی مساوات بھی ہے۔ اسلام، نسل، رنگ اور نسب کے امتیازات (discrimination) کو کبھی اور کسی سطح پر بھی تسلیم نہیں کرتا‘‘۔

’’جہاں تک سماجی عدل (Social Justice) کا تعلق ہے، جناب محترم، میںیہ کہوں گا کہ اسلام اس میںشان دار اضافہ کرتا ہے۔ اسلام ایک ایسے معاشرے کے قیام کا حامی ہے، جس میں سماجی عدل کا تصور نہ تو بھیک اور خیرات پر مبنی ہے اور نہ ذات پات (اور رنگ و نسل) کی کسی تمیز پر موقوف ہے۔ اسلام جو سماجی عدل قائم کرنا چاہتا ہے، وہ ان بنیادی ضابطوں اور تصوارت پر مبنی ہے، جو انسان کی زندگی کو دوسروں کی محتاجی سے پاک رکھنے کے ضامن ہیں، اور جو آزادی و حریت کی دولت سے مالا مال ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ (قرارداد میں) جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی عدل کی ایسی تعریف کی گئی ہے، جس کی وجہ سے ہمارے خیال کے مطابق ان الفاظ کے عام معانی کی بہ نسبت زیادہ گہرے اور وسیع تر معانی پیدا ہوگئے ہیں‘‘۔

’’قرارداد مقاصد کی اس دفعہ کے بعد یہ درج ہے، کہ مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ  وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق جو قرآن مجید اور سنتِ رسولؐ میں متعین ہیں، ترتیب دے سکیں۔ یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ اگر مسلمان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی زندگی دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق بنا لے، تواس پر اصولی طور پر ہمارے کسی غیر مسلم بھائی کو کسی قسم کا اعتراض نہیں ہونا چاہیے‘‘۔

’’جناب والا، آپ اس امر کو بھی مدنظر رکھیں، کہ حکومت ایک غیر جانب دار تماشائی کی حیثیت سے اس بات پر اکتفا نہیں کرے گی، کہ مسلمانوں کو اس مملکت میں صرف اپنے دین (مذہب) کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ کیونکہ حکومت کے اس طرز عمل سے ان مقاصد کی صریحاً خلاف ورزی ہو گی، جو مطالبہ پاکستان کے بنیادی محرک تھے۔ حالانکہ یہی مقاصد تو اس مملکت کا سنگ بنیادہونے چاہییں، جسے ہم تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مملکت ایک ایسا ماحول پیدا کرے گی، جو ایک حقیقی اسلامی معاشرے کی تعمیر میں ممد و معاون ثابت ہو گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ مملکت پاکستان کو اپنی کوشش و کاوش میں مثبت پہلو اختیار کرنا ہو گا۔

جناب والا، آپ کو یاد ہو گا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور مسلم لیگ کے دوسرے مرکزی رہنماؤں نے ہمیشہ یہ بڑے واضح او ر غیر مبہم اعلانات (uniquivocal declarations) کیے ہیںکہ: ’پاکستان کے قیام کے لیے مسلمانوں کا مطالبہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ مسلمانوں کے ہاں اپنے ’طریق زندگی اور ضابطۂ اخلاق‘ موجود ہیں‘۔ انھوں نے بارہا اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ اسلام کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ اﷲ اور بندے کے درمیان ایک ایسا نجی تعلق قائم ہو، جسے مملکت کے کاروبارمیں کسی قسم کا دخل نہ ہو، بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اسلام سماجی اخلاق کے متعلق معاشرے کے طرز عمل کی رہنمائی کرتا ہے۔اسلام محض ذاتی عقائد اور انفرادی اخلاق کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے ماننے والوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کریں، جس کا مقصد حیات صالح ہو۔ اہل یونان کے برعکس اسلام نے صالح زندگی کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کی بنیادلازمی طور پر روحانی قدروں پہ قائم ہے۔

ان اقدار کو اہمیت دینے اور انھیں نافذ کرنے کے لیے مملکت پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی سرگرمیوں کی اس طریقے پر ہم نوائی کرے، کہ جس سے ایک ایسا نیا سماجی نظام قائم ہوجائے، جو اسلام کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہو۔ ایک ایسا سماجی نظام کہ جس میں جمہوریت، حُریت، رواداری اور سماجی عدل شامل ہیں۔ ان امور کا ذکر تو میں نے محض بطورمثال کیا ہے، کیونکہ وہ اسلامی تعلیمات جو قرآن مجید اور سنت نبویؐ پر مشتمل ہیں، محض اسی بات پر ختم نہیں ہو جاتیں۔ کوئی مسلمان ایسا نہیںہو سکتا جس کا اس پر ایمان نہ ہو کہ کلام اﷲ اور اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے روحانی فیضان کے بنیادی سرچشمے ہیں۔ ان سرچشموں کے متعلق مسلمانوں میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے اور اسلام کا کوئی ایسا مکتب فکر نہیں، جو ان کے وجود کو تسلیم نہ کرتا ہو‘‘۔

’’لہٰذا، کسی بھی ایسے فرقے کو جو پاکستان میں اقلیت میں ہو، اس مملکت کی نیت کی طرف سے اپنے دل میں کوئی غلط فہمی نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ مملکت ایک ایسا اسلامی معاشرہ پیدا کرنے کی کوشش کرے گی، جو باہمی تنازعات سے پاک ہو۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اعتقادات کے معاملے میں وہ مسلمانوں کے کسی مکتب فکر کی آزادی کو سلب کرے گی۔ کسی مکتب فکر کو خواہ وہ اکثریت میں ہو یا اقلیت میں، یہ اجازت نہیں ہو گی کہ دوسروں کو اپنا حکم قبول کرنے پر مجبور کرے، بلکہ اپنے اندرونی معاملات اور فرقہ وارانہ اعتقادات میں تمام فرقوں کے لیے وسعت خیال و عمل کا اہتمام ہوگا اور کامل آزادی کو یقینی بنایا جائے گا۔ درحقیقت ہمیں یہ امید ہے کہ مختلف مکاتب فکر اُس منشا کے مطابق عمل کریں گے، جو اس حدیث نبویؐ میں مذکور ہے: ’میری اُمت [کے لوگوں ]میں اختلاف راے ایک رحمت ہے‘۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے اس [فطری] اختلاف کو اسلام اور پاکستان کے لیے باعث استحکام بنائیں اور چھوٹے موٹے مفادات کے لیے کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں، کیونکہ اس طرح پاکستان اور اسلام دونوں کمزور ہو جائیں گے۔ بسااوقات اختلافات رائے ہم آہنگی اور ترقی کا ذریعہ بن جاتے ہیں، لیکن یہ صرف اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب رائے کے اختلافات میں اس امر کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ ہمارے حقیقی نصب العین کو جو اسلام کی خدمت اور اس کے مقاصد کو ترقی دیتا ہے، اسے نظروں سے اوجھل کر دیں۔ پس ظاہر ہے کہ قرارداد میں اس دفعہ کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک ایسا سیاسی نظام قائم کرنے کی سہولت دی جائے، جس کی تجربہ گاہ میں وہ دنیا کو عمل کر کے دکھا سکیں، کہ اسلام دنیا میں نہ صرف ایک متحرک اور ترقی پسند طاقت ہے، بلکہ وہ ان گوناگوں خرابیوں کا علاج بھی مہیا کرتا ہے، جن میں آج نوع انسانی مبتلا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کو اپنی پستی اور محکومی کے طویل دور میں ہمیشہ اس قسم کے موقع کی تلاش رہی ہے‘‘۔

’’ایک اسلامی معاشرہ تعمیر کرنے کے مقصد میں ہم نے غیر مسلموں کے حقوق کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔ اگر ہم اقلیتوں کی آزادی میں مداخلت کرنے کی کوشش کرتے تو یہ ایک غیراسلامی فعل ہوتا، اور ایسا کر کے ہم یقینا اپنے دینی احکام کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے۔ اقلیتوں کو اپنے اپنے مذہب پر چلنے، اس کی حفاظت کرنے یا اپنی ثقافت کو فروغ دینے سے کسی طرح روکا نہیں جائے گا۔ اسلامی ثقافت کے نشوونما کی تاریخ بتاتی ہے، کہ مسلمان حکومتوں اور سلطنتوں کے تحت زندگی بسر کرنے والی اقلیتوں کی ثقافتیں اس دولت میں اضافہ کرنے کا موجب ہوئی ہیں، جسے مسلمانوں نے بطور وراثت حاصل کر کے فروغ دیا ہے۔میں اقلیتوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمیں اس امر کا پورا پورا احساس ہے کہ اگر اقلیتیں انسانی علم و فکر کی دولت میں اضافہ کر سکنے کے قابل ہوں گی، تو یہ امر پاکستان کی نیک نامی میں چار چاند لگائے گا اور اس سے قوم کی زندگی اور توانائی میں قابل قدر اضافہ ہو گا۔ اس لیے اقلیتوں کو نہ صرف مکمل آزادی کی توقع کرنی چاہیے، بلکہ یہ امید بھی رکھنی چاہیے کہ اکثریت ان کے ساتھ قدر دانی اور احترام کا وہی برتاؤ کرے گی، جو تاریخ میں ہمیشہ مسلمانوں کا طرۂ امتیاز رہا ہے‘‘۔(اردو ترجمہ: س م خ)

اس طویل اقتباس کو پیش کر نے کا مقصد یہ بات واضح کر دینا ہے کہ نہ صرف علامہ اقبال ، قائد اعظم،علامہ اسد بلکہ ان کے قریبی رفقابہ شمول نواب بہادر یار جنگ، لیاقت علی خان ، سردار عبدالرب نشتر، خواجہ ناظم الدین ، ان میں سے ہر ایک اس حقیقت سے آگاہ تھا کہ پاکستان کیوں بنایا گیا اور پاکستان کے اسلامی تشخص اور نظریہ کا سبب کسی فرقہ یا گروہ کا دباؤ نہیں تھا۔ اگر یہ بے بنیاد ڈر اور خوف تسلیم کر لیا جائے تو قائد اعظم کی پوری سیرت اور کردار ہمارے لیے بے معنی ہو جاتا ہے۔ ان کا موقف آغاز سے انجام تک ایک تھا ۔ اس میں کہیں نہ تضاد ہے، نہ مفاہمت اور کمزوری۔ بلکہ اعتماد اور مطالعہ کی بنا پر ان کا موقف یہی رہا کہ پاکستانی قومیت کی بنیاد دین اسلام ہے ، علاقائیت ، نسلیت، لسانیت نہیں ہے اور پاکستان کو اسلامی ریاست کی حیثیت سے ایک عالمی کردار ادا کرنا ہے۔(جاری)

ایامِ اسیری کے دوران ایک فلسطینی دوست نے مجھے اپنے خط میں سیّد قطب شہیدؒ کے اس قول کا حوالہ دیا کہ’’تم مجھے قید رکھتے ہوتو مجھے تنہائی کی نعمت نصیب ہوتی ہے۔ تم مجھے ستاتے ہو تو مجھے محبوب کی خاطر اذیت اُٹھانے کا لطف ملتا ہے۔ تم مجھےقتل کرتے ہو تو مجھے شہات کا بلند مرتبہ ملتا ہے۔ تم میرا کچھ نہیں بگاڑسکتے‘‘۔

تاندہ ڈیم ریسٹ ہاؤس کوہاٹ سے ۱۰کلومیٹر دُور ایک پہاڑی چٹان پر بنا ہوا ہے۔  اس ریسٹ ہاؤس کو میرے لیے سب جیل قرار دیاگیا تھا۔ صرف میری ایک نحیف جان کی نگرانی کے لیے ایف سی، پولیس، جیل عملے اور اسپیشل پولیس،ایف بی آئی وغیرہ کے عملے کو ملا کر تقریباً ۶۰؍افراد تعینات کیے گئے تھے۔ ریسٹ ہاؤس میں چھوٹی سی مسجد تھی۔ میں اس میں نمازِ باجماعت پڑھاتا تھا۔ نگران عملے کے افراد میرے مقتدی تھے۔ ہرنماز کے بعد قرآن کی کسی ایک آیت یا حدیث سے تذکیربھی کرتا تھا۔ ملاقاتوں پر پابندی تھی۔ ریسٹ ہاؤس کا ٹیلی فون بھی منقطع کر دیا گیا تھا اور موبائل ٹیلی فون بھی مجھ سے لے لیا گیا تھا۔ تاہم، ریڈیو ٹرانزسسٹر اوراخبار کی اجازت تھی۔

حکومت نے مجھے تنہا کرنے کی کوشش کی لیکن الحمدللہ یہ مسلمانوں کا معاشرہ ہے۔ دین اور اہلِ دین کی ہرجگہ قدر کی جاتی ہے۔ مجھے تنہائی کا احساس تو نہیں ہوا، البتہ فرصت کے کچھ لمحات میسر آئے اور میں نے شاید زندگی میں پہلی بار تقریر کی بجائے تحریر کو لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کا ذریعہ بنایا۔

فرصت کے یہ لمحات بہت محدود ثابت ہوئے۔ جلد ہی مجھے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ہردس منٹ بعد ہسپتال کے عملے کا کوئی شخص اندر آجاتا تھا۔ پولیس کے عملے کے آٹھ دس بندوق بردار افراد دروازے کے عین سامنے مستعد کھڑے رہتے، جو ہسپتال کے عملے اور اہلِ خانہ کے لیے مستقل اذیت کا باعث بنے ہوئے تھے۔ ملاقات کے لیے آنے والوں کے ساتھ حفاظتی عملے کی روزانہ کسی نہ کسی وقت گرما گرمی ہوجاتی تھی۔ اس ماحول میں سوچنے اور لکھنے کا عمل جاری نہ رہ سکا۔

پونے چار ماہ کی اسیری (۴نومبر ۲۰۰۱ء تا ۲۷فروری ۲۰۰۲ء) میں تقریباً نصف عرصہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور اور ڈاکٹرز ہسپتال لاہور میں گزرا، جب کہ باقی ماندہ وقت تاندہ ڈیم ریسٹ ہاؤس کوہاٹ اورفاٹا ریسٹ ہاؤس پشاور میں گزرا۔

مجھے کیوں قید کیا گیا؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امریکا کے کہنے پر یا امریکا کو خوش کرنے کے لیے۔ لیکن پاکستان میں متعین ایک امریکی سفارت کار نے اس خیال کو لغو قرار دیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وزیرداخلہ جناب معین الدین حیدر سے ٹیلی فون پر ذرا تلخی ہوگئی تھی لیکن شاید معین الدین حیدر میری گرفتاری کا فیصلہ اپنے طور پر نہیں کرسکتے تھے۔

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف صاحب نے قومی سطح کے سیاست دانوں کے ساتھ مجھے بھی دعوت دی۔ ہماری موجودگی میں انھوں نے کہا کہ ’’پاکستان بننے کے بعد ملک کو اتنے شدید بحران کا سامنا کبھی نہیں ہوا جتنا آج ہے۔ پھر انھوں نے امریکی فوجی اتحاد میں شامل ہونے اور افغانستان میں طالبان حکومت کے مقابلے میں امریکا کو لاجسٹک سپورٹ  [زمینی راستہ] دینے اور انھیں اپنی فضا دینے کے فیصلے کا ذکر کیا۔ اس پر میں نے گزارش کی کہ    ’’اگر ملک اتنے شدید بحران سے دوچارہے کہ بقول آپ کے پاکستان کو آزادی کے بعد سے لے کر  اب تک اتنے شدید بحران کا پہلے سامنا نہیں کرنا پڑا تو آپ نے یہ سارا بوجھ اپنے کندھوں پر کیوں  اُٹھا رکھا ہے۔شدید بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ آئین کو بحال کردیں، قومی اتفاق رائے کی عبوری سویلین حکومت بنا دیں، فوج کو اپنے کام کے لیے فارغ کر دیں اور آزاد الیکشن کمیشن کے تحت جو مکمل طورپر خودمختار ہو، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروا دیں تاکہ پوری قوم بحران کا مقابلہ کرنے میں شریک ہوسکے‘‘۔ پرویز مشرف صاحب کو میری یہ تجویز پسند نہیں آئی۔ اسی طرح میں نے جلسہ ہائے عام میں بھی یہی بات کہی اور شدید عالمی بحران کے موقع پر قوم کی تقدیر کو فردِ واحد کے ہاتھ میں دینے کو قومی بقا اور سالمیت کے لیے خطرناک قراردیا۔

پرویز مشرف صاحب نے پلٹ کر میرے اُوپر الزام لگا دیا کہ میں فوج میں اختلاف پیدا کرنا چاہتا ہوں۔ حالانکہ جماعت اسلامی نے اپنی پوری تاریخ میں کبھی فوج کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ ہم نے فوج کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے اور فوج کو سیاست میں اُلجھانے کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ فوج جب سیاسی میدان میں آتی ہے، تو اس کی تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوجاتا ہے، کیونکہ فوج کے تمام ارکان کو ایک سیاسی فکر پر جمع کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے فوج کو سیاست سے دُور رکھنا ہرمحب ِ وطن فرد اور حکومت کا فرض ہے۔

 فوج کے تمام ارکان فوج میں داخل ہوتے وقت دستورِ پاکستان میں درج جو حلف لینے کے پابند ہیں، اس کے مطابق وہ دستور کی حمایت کرنے اورسیاست میں حصہ نہ لینے کا عہد کرتے ہیں۔ دستور کو نقصان پہنچانا ، اسے معطل کرنا اور اسے منسوخ کرنا، دستورِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۶ کے تحت غداری اور بغاوت کے دائرے میں آتا ہے۔ ہم نے یہ بات قانون اوردستور کی دفعات کی روشنی میں دلائل کے ساتھ پریس اور عوام کے سامنے رکھی کہ ’’پرویز مشرف صاحب کی مداخلت بھی غیرآئینی ہے اور ان کا اَزخود صدر بننا بھی غیرآئینی ہے‘‘۔ یہی بات سابق چیف جسٹس سجادعلی شاہ نے بھی فرمائی ہے۔

ہم جب عوام کے بڑے اجتماعات میں دستور کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو حکمرانوں کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آنے لگتا ہے۔ہر محب ِ وطن پاکستانی کی دلی خواہش ہے کہ ملک کو جمہوری اسلامی پٹڑی پر لایا جائے۔ یہ خواہش اسی وقت پوری ہوسکتی ہے جب ہر پاکستانی دامے، درمے، قدمے، سخنے، اس کوشش میں شامل ہوجائے جو یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ہم کررہے ہیں۔ اس بڑے مقصد کی خاطر قیدوبند کی آزمایش سے گزرنا کوئی بڑی قربانی نہیں ہے۔ لوگ یقینا مبارک باد کے مستحق ہیں جو اس بڑے مقصد کی خاطر قربانی دے رہے ہیں۔ ان کے برعکس جو لوگ اپنی ذاتی خواہشات اوراغراض کی خاطر اس راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں وہ قومی مجرم ہیں۔ تاریخ اس طرح کے مجرموں کے لیے عبرت کی داستان ہے۔[۹؍اپریل ۲۰۰۲ء]

اکتوبر ۱۹۴۷ء کی صبح کو نواب افتخار حسین ممدوٹ نے مجھے اپنے دفتر بلایا۔ اس وقت ان کی عمر ۴۵سال کے لگ بھگ تھی۔ درازقد، صحت مند، خاموش طبع اور صاف ستھرے ذہن کے مالک اور تقسیمِ ہند سے قبل وہ ایک چھوٹی سی ریاست یا بالفاظ دیگر جاگیر کے کرتا دھرتا تھے۔ یہ جاگیر سترھویں صدی عیسوی میں [ان کے آبا کو] ایک مغل حکمران نے دی تھی۔ نواب صاحب تحریکِ پاکستان کے اکابرین میں شامل رہے اور اپنی ذاتی دولت کا بڑا حصہ اس تحریک کی نذر کر دیا۔ یہ جاگیر مشرقی پنجاب میں واقع تھی، چنانچہ تقسیم کے وقت اسے ہندستان ہی میں چھوڑ آئے اور لاہور آکر یہاں ایک متوسط درجے کے گھر میں سکونت پذیر ہوگئے۔ ان کی وفاداری اور راست بازی کے پیش نظر محمدعلی جناح نے پاکستان کے قائم ہوتے ہی انھیں مغربی پنجاب کا پہلا وزیراعلیٰ مقرر کردیا۔ اس بنا پر انھیں قائداعظم کے قریب ترین رفقا میں شمار کیا جانے لگا۔

جونہی میں ان کے دفتر میں داخل ہوا، ممدوٹ صاحب رسمی تکلفات کی پروا کیے بغیر کہنے لگے: ’’اسد صاحب، میرے خیال میں اب ہمیں نظریاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام اُٹھانے چاہییں۔ آپ نے ان کے بارے میں تقریراً اور تحریراً بہت کچھ کیا۔ اب آپ کیا تجویز کرتے ہیں؟ کیا ہمیں وزیراعظم سے رجوع کرنا چاہیے؟‘‘

کئی روز سے مجھے ایسے سوال کاانتظار تھا، چنانچہ میں نے پہلے ہی سے اس کا جواب سوچ رکھا تھا:’’ابھی مرکزی حکومت نے ان مسائل کا ذکر نہیں کیا، اس لیے نواب صاحب! آپ ہی اس ضمن میں پہل کیجیے۔ میری رائے میں آپ ہی کو پنجاب میں ایک ایسا خصوصی ادارہ قائم کرنا چاہیے، جو ان نظریاتی مسائل کو زیربحث لاسکے، جن کی بنیاد پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا ہے۔ خدا نے چاہا تو آیندہ حکومتِ کراچی بھی اس اہم فریضے کی جانب متوجہ ہوگی۔ اس وقت وہ اپنی خارجہ پالیسی کو تشکیل دینے میں مصروف ہے۔ ان حالات میں شاید وزیراعظم یا قائداعظم اِدھر زیادہ توجہ نہ دے سکیں‘‘۔

نواب صاحب فوری قوتِ فیصلہ کی صلاحیت کے مالک تھے، چنانچہ انھوں نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے پوچھا: ’’آپ کے اس مجوزہ ادارے کا کیا نام ہونا چاہیے؟‘‘

میں نے جواباً عرض کیا: ’’اس کا نام ’محکمہ احیائے ملّت اسلامیہ‘ مناسب رہے گا، کیونکہ اس سے ہمارے مقصد کی بھرپور ترجمانی ہوگی، یعنی صحیح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنی معاشرتی زندگی اور فکر کی تعمیرنو‘‘۔ ممدوٹ صاحب نے بلاتوقف کہا: ’’بالکل درست، ایسا ہی ہوگا۔ آپ اس ادارے کے قیام کا منصوبہ اور اس کے اخراجات کا ایک تخمینہ تیار کیجیے۔ آپ کو سرکاری طور پر اس ادارے کا ناظم مقرر کیا جاتا ہے اور آپ کی ماہوار تنخواہ شعبۂ اطلاعات کے ناظم جتنی ہوگی۔ مجھے اُمید ہے، آپ اسے قبول کرلیں گے‘‘۔

مجھے امید نہیں تھی کہ اتنی جلدی فیصلہ ہوجائے گا، لیکن نواب آف ممدوٹ کے فیصلوں کا یہی انداز تھا۔ چند دنوں کے اندر اندر اس ادارے کا رسمی میمورنڈم تیار ہوگیا۔ اس کے اخراجات کے تخمینے پر بحث ہوئی۔ شعبۂ مالیات کے سربراہ کے صلاح مشورے سے یہ منظور ہوگیا، اور سرکاری اطلاع نامہ بھی جاری کر دیا گیا۔ یوں دیکھتے دیکھتے محکمہ احیائے ملّت اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا۔ پوری اسلامی دنیا میں یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے پہلا ادارہ تھا۔

میں نے لاہور کے بعض معروف علمائے دین بالخصوص مولانا داؤد غزنوی امیرجماعت  اہلِ حدیث سے رابطہ قائم کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ ایسے دو اصحاب کے نام بتائیں جو ادارے میں کام کرسکیں، عربی اچھی جانتے ہوں اور میری آیندہ کی تجاویز کو عملی شکل دینے میں  جن ضروری حوالوں کی ضرورت پڑے، انھیں احادیث کے ضخیم مجموعوں میں سے تلاش کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ جلد ہی ایسے دو نوجوان اور باصلاحیت علما دستیاب ہوگئے اور انھیں یہ کام تفویض کردیا گیا۔ علاوہ ازیں مجھے پنجاب یونی ورسٹی کے ایک پُرجوش طالب علم کی جزوقتی خدمات بھی حاصل ہوگئیں۔ دفتر کے دیگر انتظامی اور مالیاتی امور کو بحسن و خوبی نبٹانے کے لیے مجھے اپنے قریبی دوست ممتاز حسن کا تعاون حاصل تھا، جو مغربی پنجاب کے شعبہ مالیات کے ایک اہم عہدے پر فائز تھے اور بعد میں اس کے سربراہ مقرر ہوگئے۔

اب میں باقاعدہ طور پر سرکاری ملازم تھا، اس لیے مجھے دو رویہ درختوں کے ایک خوب صورت علاقے چمبہ ہاؤس میں بلاکرایہ گھر بھی مل گیا (یہ لین مہاراجا آف چمبہ کے نام سے موسوم تھی۔ یہ ریاست کوہِ ہمالیہ کے دامن میں واقع تھی اور تقسیم ہند سے پہلے مہاراجا کا یہاں محل تھا)۔ اس گھر کے اردگرد چاروں طرف چھوٹا سا باغ تھا۔ یہ ایک تجارت پیشہ ہندو کی ملکیت تھا، جو ہندستان نقل مکانی کر گیا تھا۔ ممکن ہے،وہاں اسے کسی ایسے مسلمان کا گھر مل گیا ہو، جو اپنا سب کچھ چھوڑچھاڑ کر پاکستان آگیا ہو۔ نظربندی کیمپ سے میری رہائی کے بعد میرا بیٹا طلال کیتھولک اسکول میں بطور اقامتی طالب علم زیرتعلیم تھا۔ یہ لاہور کا اعلیٰ ترین ادارہ تھا جس کو آئرلینڈ کے ڈومینیکن چلا رہے تھے۔ اب میں اپنی بیوی کے ساتھ لاہور ہی میں مستقلاً رہایش پذیر تھا،اس لیے طلال اس گھر میں منتقل ہوگیا اور یہیں سے ہر روز اسکول جانے لگا۔ اب میرے لیے یہ نئی صورت حال خاصی اطمینان بخش تھی۔

۳۰ جنوری ۱۹۴۸ء کی صبح کو میں دفتر جانے کے لیے بذریعہ کار گھر سے نکل ہی رہا تھا (میں نے ایک متروکہ کار اپنے نام الاٹ کرا لی تھی) کہ اپنے ہمسائے اور دوست سرسکندر حیات خاں کے بھتیجے سردار شوکت حیات خاں سے میری ملاقات ہوگئی۔ وہ اس وقت خاصے پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ انھوںنے بتایا: ’’میں نے ابھی ریڈیو پر یہ خبر سنی ہے کہ گاندھی کو قتل کردیا گیا ہے۔ خدا کاشکر ہے کہ قاتل کوئی مسلمان نہیں ہے‘‘ ___ میں اس کی پریشانی میں برابر کا شریک تھا۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ اگر قتل کرنے والا مسلمان ہوتا، تو ہندستانی حکومت اپنی مسلمان رعایا کے ساتھ کیا سلوک کرتی۔ بہرحال چند گھنٹوں بعد آل انڈیا ریڈیو نے واضح بیان جاری کردیا کہ گاندھی کا قاتل راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ کا رکن ہے۔ یہ انھی متعصب ہندوؤں کی جماعت تھی، جس نے ڈلہوزی کے مسلمانوں کا قتل عام بھی کیا تھا۔

محکمہ احیائے ملّت اسلامیہ کا کام آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ ہم زکوٰۃ اور عشر کے اہم موضوع پر پورے انہماک سے تحقیق کر رہے تھے، کیونکہ کسی بھی اسلامی مملکت میں شرعی اعتبار سے محصولیات کی بنیاد انھی دو پر ہے۔ ابھی تلاش و تحقیق کا یہ مرحلہ طے ہو رہا تھا کہ ممدوٹ صاحب نے دوبارہ اپنے دفتر بلایا۔ میرے داخل ہوتے ہی وہ حسب معمول کسی تکلف کے بغیر گویا ہوئے: ’’میں نے ابھی ابھی آپ کا مضمون ’اسلامی دستورسازی کی جانب‘ پڑھا ہے، جو عرفات کے تازہ شمارے میں شائع ہوا ہے۔ آپ انھی خطوط پر قدرے شرح و بسط کے ساتھ ایک میمورنڈم تیار کیجیے۔ میں اسے مغربی پنجاب کی حکومت کی جانب سے شائع کراؤں گا اور اس کو دیکھ کر ممکن ہے، مرکزی حکومت بھی اس جانب متوجہ ہو‘‘۔ چنانچہ ۱۹۴۸ء میں میرا یہی انگریزی مضمون مع اُردو ترجمہ مغربی پنجاب کی حکومت کی زیرنگرانی طبع ہوا۔ کچھ ہفتوں بعد وزیراعظم کی جانب سے مجھے کراچی آنے کا پیغام موصول ہوا۔

لیاقت علی خاں سے یہ میری پہلی ملاقات نہیں تھی۔ میں قیامِ پاکستان سے قبل ان سے گاہے گاہے ملتا رہتا تھا۔ ان سے جب بھی گفتگو کا موقع ملتا، وہ کھلے ذہن اور پوری توجہ سے میری باتیں سنتے اور ساتھ ساتھ متواتر سگریٹ نوشی کرتے رہتے (میں نے جب بھی انھیں دیکھا، انھوں نے اسٹیٹ ایکسپریس کے ۵۰ سگریٹوں کا پیکٹ ہاتھ میں پکڑا ہوتا یا ان کے میز پر پڑا رہتا)۔ اس ملاقات میں بھی وہ سگریٹ سے سگریٹ سلگائے جا رہے تھے۔ انھوں نے مجھے بھی سگریٹ پیش کیا، چائے منگوائی اور مجھے اسلامی دستور پر قدرے تفصیل سے لکھنے کا مشورہ دیا۔ ہماری ابتدائی دو ملاقاتوں میں بھی وہ اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے گفتگو کرتے تھے۔ انھوں نے سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ’’لیکن ہم ابھی اس موقع پر خود دستورسازی کا عمل شروع نہیں کرسکتے۔ ہمیں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ کشمیر پر ہندستان نے قبضہ کرلیا ہے اور ہمارے پٹھان بھائیوں کی سری نگر پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ یہ بھی امرمسلّمہ ہے کہ فوجی اعتبار سے ہندستان ہم سے بہت مضبوط ہے۔ ہم تو ابھی حکومتی مشینری کے کل پرزے درست کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے لیے وقت اور سعی پیہم کی ضرورت ہے۔ ہم ایک ساتھ سارے کام شروع نہیں کرسکتے۔ میں مانتا ہوں کہ دستور سازی کا عمل اہم اور دور رس نتائج کا حامل ہے، لیکن اسے بھی فی الحال مؤخر کرنا پڑے گا‘‘۔

میں وزیراعظم کی اس گفتگو سے متاثر ہوا، کیونکہ انھوں نے بلاتکلف حکومت کو درپیش تمام مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ میں جانتا تھا کہ میری طرح وہ بھی پاکستان کے اسلامی تشخص کو اُجاگر کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے، لیکن ابھی حالاتِ حاضرہ کے دباؤ کے تحت اِدھر توجہ دینے سے گریز کرر ہے تھے۔ میں نے ان کے مؤقف سے اتفاق کیا اور رخصت ہوتے وقت انھوں نے مجھے کہا: ’’فی الحال ہمیں خود کو اس مسئلے پر سوچ بچار کرتے رہنا چاہیے‘‘۔

اس کے بعد کابینہ کے سیکرٹری چودھری محمدعلی سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور مجھے اندازہ ہوا کہ حکومت کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ معاشی استحکام کا ہے۔ انھوں نے بتایا: ’’قائداعظم نے امیرترین مسلمان حکمران نظام حیدرآباد دکن سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان کو سونے چاندی کی شکل میں چند لاکھ پاؤنڈ سٹرلنگ اُدھار دیں اور انھیں اپنے نام پر ہی بنک میں جمع کرا دیں، تاکہ پاکستانی کرنسی کو تحفظ مل سکے۔ لیکن نظام، دولت کے انبار کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے انھوں نے قائداعظم کی درخواست کو رد کر دیا ہے‘‘۔ چند ماہ بعد ہی ہندستان نے حیدرآباد ریاست کی خودمختار حیثیت ختم کر کے اسے اپنے ملک کا حصہ بنا لیا اور نظام کے سونے چاندی کے تمام ذخیرے بھی ہندوستانی حکومت کے تصرف میں چلے گئے۔ نظام کے ساتھ ساتھ خود ان کی آل اولاد اور پاکستان بھی ہمیشہ کے لیے ان خزانوں سے محروم ہوگئے۔

جب میں چودھری محمدعلی سے گفتگو کر رہا تھا، معاً مجھے نظام کے ذاتی خزانوں کی یاد آگئی۔ ۱۹۳۹ء میں، مَیں دوسری بار حیدرآباد گیا تھا اور اس وقت ریاست کے وزیرمالیات نے مجھے اس خزانے کا صرف ایک حصہ دکھایا تھا۔ متعدد کمروں میں قطار اندر قطار صندوق رکھے تھے اور یہ سب سونے اور قیمتی پتھروں سے بھرے پڑے تھے۔ ہیرے جواہرات سے بھرے لوہے کے تھال فرش پر رکھے تھے۔ مال و دولت کا ایک ناقابلِ یقین اور مُردہ ڈھیر، جو ایک فانی شخص کی مریضانہ اور عجیب وغریب حرص کا نمونہ تھا۔

لیاقت علی خاں نے اپنی گفتگو میں آزادیِ کشمیر کی جس جدوجہد کا ذکر کیا تھا، وہ ہمیشہ میری اور ہرپاکستانی کی سوچ پر غالب رہی ہے۔ اس کی جغرافیائی، نسلی اور مذہبی وضع قطع کے باعث اس حسین و جمیل سرزمین کو لازماً پاکستان کا حصہ بننا تھا۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔ تمام بڑے دریا (سندھ، جہلم، چناب اور راوی) مغربی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں اور یہاں کی معیشت کا انحصار مکمل طور پر انھی دریاؤں پر ہے۔ ہندستانی حکومت اور مہاراجا کے مابین اقرارنامہ کی وجہ سے ریڈکلف نے صریحاً دھوکے بازی سے مسلمانوں کی اکثریت کا ضلع گورداسپور ہندستان کے حوالے کر دیا۔ ریڈکلف کی یہ ’خصوصی نوازش‘ تقسیم ہند کے طے شدہ بنیادی اصول کی خلاف ورزی تھی اور اسے کوئی پاکستانی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس وقت پاکستان اپنی کٹی پھٹی فوج کے سبب ہندستان سے جنگ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا، اس لیے قائداعظم نے کسی فوجی مداخلت کے امکان کو بالکل رد کر دیا۔ حکومت پاکستان کی اس واضح پالیسی کے بعد صوبہ سرحد اور افغانستان کے ملحقہ علاقوں کے پٹھانوں کے قبائل پاکستان کے نام پر کشمیر کو فتح کرنے چل پڑے۔

اکتوبر ۱۹۴۷ء میں محسود، وزیری اور آفریدی قبیلوں کے بڑے بڑے جتھوں نے کشمیر کی سرحد عبور کرکے بارہ مولا اور مظفرآباد پر بلامقابلہ قبضہ کرلیا۔ سری نگر کے اردگرد جو فوج تعینات تھی، اس میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ انھوں نے بھی بغاوت کردی اور پٹھان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر آگے بڑھنے کو تیار ہوگئے۔ قبائلیوں کی پیش قدمی جاری تھی اور سری نگر تک پہنچنا انھیں آسان دکھائی دے رہا تھا، لیکن اس دوران میں ایک تکلیف دہ واقعہ رُوپذیر ہوگیا۔    یہ قبائل اپنی صدیوںپرانی غارت گری کی جبلت پر قابو نہ پاسکے اور سری نگر کی جانب قدم بڑھانے کے بجائے انھوں نے مظفرآباد کے شہریوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ دو دن تک لوٹ مار کا یہ بازار  گرم رہا۔ یہ بڑا نازک وقت تھا، جسے ان قبائلیوںنے ضائع کر دیا۔ چنانچہ اسی عرصے میں    ماؤنٹ بیٹن اور جواہر لال نہرو کی ملی بھگت سے جوابی حملے کے انتظامات مکمل کرلیے گئے۔ نئی دہلی میں برطانوی فوج کے تعاون سے ہندوؤں اور سکھوں پر مشتمل فوجی دستوں کو جلدی جلدی منظم کیا گیا۔ انھیں ہتھیار فراہم کیے گئے اور ایک ہلکے توپ خانہ کا بھی انتظام کر دیا گیا، تاکہ وہ سری نگر پر قبضہ کرکے وہاں کے ہوائی اڈے کو بھی اپنے دائرۂ اختیار میں لے آئیں۔ اس طرح فوجی اور غیرفوجی جہازوں کے ذریعے ہندستانی فوج کی خاصی بڑی تعداد کو سری نگر پہنچا دیا گیا، جہاں سے وہ ریاست کشمیر  کے دوسرے حصوں پر بھی اپنا تسلط جما لیں۔ آہستہ آہستہ پٹھانوں کو نکال باہر کیا گیا اور پھر ان کا جذبۂ جہاد مدہم پڑتے پڑتے ختم ہوگیا۔

تاہم، کشمیر کی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ اسی اثنا میں نئے قبائلی مجاہد اور ناگزیر طور پر پاکستانی فوج کے دستے بھی اس جنگ میں شامل ہوگئے۔ ہندستان نے وادیِ کشمیر پر قبضہ جمائے رکھا اور سرحد کے ساتھ ساتھ دُور تک پناہ گاہیں اور خندقیں بنالیں۔ آج تک ہندستان، کشمیر کے اس حصے پر قابض ہے، جو گلگت سے لداخ اور کارگل کے برفانی پہاڑوں تک پھیلا ہوا ہے۔ بالآخر [بھارت] مسئلہ کشمیر کو مجلس اقوام متحدہ میں لے گیا، جہاں استصواب رائے کی قرارداد منظور کی گئی، جو اس علاقے کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔ حکومت ہندستان نے اس قرارداد کو بڑی بے دلی سے قبول کیا، کیونکہ یہ کھلی ہوئی حقیقت تھی کہ اس قرارداد پر عمل درآمد کا نتیجہ پاکستان کی فتح کی صورت میں نکلے گا۔ چنانچہ ہندستان حیلے بہانے سے بار بار اس مسئلے کو ملتوی کرتا رہا۔ اب یہی مسئلہ کشمیر، پاکستان اور ہندستان کے اچھے ہمسایہ ممالک جیسے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے سپاہی خندقوں میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

ستمبر ۱۹۴۸ء میں مون سون کی بارشیں رُکتے ہی میں نے کشمیر محاذ پر جانے کا فیصلہ کرلیا۔

مغربی پنجاب کے فوجی افسران نے مجھے ایک جیپ اور دو سپاہی بطور محافظ مہیا کردیے اور میں کوہِ ہمالیہ کی جانب روانہ ہوگیا۔ مری کے بعد سڑک تنگ اور ڈھلوانی ہوتی گئی۔ کہیں کہیں اسے تھوڑا سا چوڑا کیاگیا تھا،تاکہ وہاں سے مقابل سمتوں سے آنے والی دو گاڑیاں گزر سکیں۔ اس سڑک پر ہندستان کے جنگی جہازاچانک یلغار کرتے اور مشین گنوں سے گولیاں بھی برساتے چلے جاتے تھے، اس لیے ہم رات کو روشنی کے بغیر سفر کرتے تھے۔ ہماری رفتار سُست تھی۔ پہاڑ اور ڈھلوان کے درمیان سرکتے ہوئے ہم آگے بڑھ رہے تھے اور کبھی کبھی چند لمحات کے لیے جیپ کی بڑی بتیاں جلا لیتے تھے۔

ہم مظفرآباد کے اردگرد چکر لگاتے ہوئے سورج طلوع ہونے سے پہلے بلندوبالا برف پوش چوٹیوں میں واقع پہلی فوجی چوکی تک پہنچ گئے۔ وہاں سے ہم پیدل چلتے ہوئے فوج کے ایک سپاہی کی رہنمائی میں اُونچی نیچی ڈھلوانوں سے گزرتے ہوئے خاصی بلندی پر آگئے۔ یہاں ایک چرواہے کی پرانی سی جھونپڑی تھی، جو اب فوجیوں کو اسلحہ بھجوانے کے لیے بطور ڈاک چوکی استعمال کی جارہی تھی اور محاذ پر لڑتے ہوئے جو فوجی زخمی ہوجاتے تھے، انھیں ابتدائی طبی امداد بھی یہیں فراہم کی جاتی تھی۔

یہ جھونپڑی پتھروں سے بنائی گئی تھی۔ اس کی چھت پتھریلے ٹکڑوں اور درختوں کی ٹہنیوں سے تیار کی گئی تھی اور یہ چٹان کی دو عمودی دیواروں کے درمیان شگاف میں واقع تھی۔ جب ہم اندر داخل ہوئے تو یہ جھونپڑی سپاہیوں سے بھری پڑی تھی۔ کچھ ابھی اگلے محاذ کے مورچوں سے واپس آئے تھے اور کچھ وہاں جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ نچلی چھت کے وسط میں پیرافن کا ایک لیمپ لٹک رہا تھا اور اس کی مدھم سی روشنی کئی چارپائیوں پر پڑ رہی تھی۔ چارپائی مخصوص پاکستانی بستر ہے، جو لکڑی اور انترچھال کی رسیوں سے بنایا جاتا ہے۔ ان چارپائیوں پر زخمی سپاہی آرام کررہے تھے۔ کمپنی کا طبی عملہ یہاں ان کا عارضی علاج معالجہ کر رہا تھا اور جونہی گاڑی پہنچتی، انھیں نیچے وادی میں قائم کردہ ہسپتال پہنچا دیا جاتا۔

یہاں دو آدمیوں نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا۔ وہ ساتھ ساتھ پڑی ہوئی دو چارپائیوں پر لیٹے تھے۔ مجھے پتہ چلا کہ وہ شدید زخمی تھے اور ان کے بچنے کی اُمید بہت کم تھی۔ اس کے باوجود وہ ہشاش بشاش اور ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ میرے جیسے کمزور دل شخص کے لیے یہ عجیب و غریب منظر تھا۔ ان میں ایک کہنے لگا: ’’یار! میں تمھیں بہت جلد دوزخ میں ملوں گا‘‘۔ اور دوسرے نے جواب دیا: ’’نہیں، ہم دوزخ میں نہیں جائیں گے۔ اگر ہم مرگئے تو یہ شہید کی موت ہوگی، کیونکہ ہم نے اللہ کی راہ میں جان قربان کی ہے‘‘۔ اسی لمحے سیکٹر کمانڈر کا بھیجا ہوا ایک ماتحت افسر آیا اور ہمیں مورچوں کی طرف لے گیا۔

میری سمجھ سے باہر ہے کہ کس طرح برف سے ڈھکی زمین پر دستی بیلچوں سے یہ مورچے بنائے گئے۔ یہ اتنے گہرے تھے کہ میرے جیسا درازقد شخص سر اور کندھوں کو جھکائے بغیر بآسانی ان میں چل پھر سکتا تھا۔ وہاں جگہ جگہ جال کے نیچے مشین گنیں نصب تھیں، جن کے بیرل عمودی پوزیشن میں تھے اور وہ اس لیے کہ دشمن کے جہاز نچلی پرواز کرتے ہوئے جو حملے کرتے تھے، اُن سے اِن مورچوں کو محفوظ کیا جائے۔ اس وقت یہاں بالکل خاموشی تھی، البتہ فوجی جوان تیار کھڑے تھے۔ بیش تر سپاہی آرام سے بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے یا سگریٹ نوشی کر رہے تھے، جب کہ کچھ اپنی بندوقوں کی نالیاں صاف کرنے میں مصروف تھے یا کارتوس لگانے والی پیٹیوں کی مرمت کر رہے تھے۔ اس سیکٹر کے تمام فوجی پنجابی تھے اور ان کا تعلق جہلم اور راولپنڈی سے تھا۔ یہ اعلیٰ قسم کے انسان ہیں۔ درازقد، دبلے پتلے، بعض چہرے مہرے یونانی دکھائی دیتے ہیں۔ فوراً مجھے یاد آیا کہ سکندراعظم اور اس کے وارثوں کی کئی نسلیں پنجاب کے اسی علاقے میں مستقلاً اقامت پذیر رہیں۔ ممکن ہے یہ لوگ انھی سے نسلی تعلق رکھتے ہوں۔

میں تقریباً ایک گھنٹہ سیکٹر کمانڈر سے گفتگو کرتا رہا۔ وہ ایک نوجوان میجر تھا۔ میں نے اس کے ساتھ چائے پی۔ وہ اور اس کے فوجی ساتھی مجھ جیسے ایک ایسے مہمان سے مل کر بہت خوش ہوئے جو ان کے بلند حوصلوں کا معترف تھا اور ان کے اس جذبے کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا، جس کے تحت وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کر رہے تھے۔ میں نے انھیں مغربی پنجاب کے وزیراعلیٰ [افتخار حسین ممدوٹ] اور ان کے توسط سے پاکستانی لیڈروں کی نیک خواہشات پہنچائیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں بلکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ دنیا میں پنجابی فوجیوں کا کوئی ثانی نہیں اور وہ اپنے فوجی اوصاف جن سے وہ خود کماحقہٗ آگاہ نہیں، کی اس قدر افزائی کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں۔ میں پہلی بار ان اگلے مورچوں تک آیا تھا اور یہاں کے ماحول نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں نے خود سے یہاں دوبارہ آنے کا وعدہ کرلیا۔

اب مجھے صحیح تاریخ کا تو علم نہیں، لیکن غالباً دسمبر ۱۹۴۸ء یا ۱۹۴۹ء کے اوائل میں مجھے غیرمتوقع طور پر یہاں آنے کی دعوت موصول ہوئی۔ایک روز لاہور کے سب سے بڑے کتب فروش کی دکان میں نئی مطبوعات کو اُلٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا کہ میری نظر میجر جنرل حمید پر پڑی۔ وہ بھی میری طرح ایسی کتابوں کی ورق گردانی میں مصروف تھے۔ لاہور کی بیش تر نام وَر شخصیات کی طرح میں انھیں بھی جانتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھ سے عمر میں چھوٹے تھے (اس وقت ان کی عمر ۴۰سے کچھ زیادہ تھی)، لیکن وہ کشمیر کے محاذ پر ایک اہم عہدے پر فائز تھے۔ میں نے انھیں پوچھا کہ وہ لاہور میں کیا کر رہے ہیں؟ تو انھوں نے بتایا: ’’محاذجنگ کی گھن گرج سے دُور چند روز کے لیے تعطیلات گزارنے یہاں آیا ہوں اور کل صبح واپس جا رہا ہوں‘‘۔ انھوں نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی جو میرے لیے خاصی پُرکشش تھی، لیکن میں اتنی جلدی اپنے محکمہ احیائے ملّت اسلامیہ کے کاموں کو یک لخت چھوڑ کر نہیں جاسکتا تھا۔ میں نے جواباً عرض کیا: ’’ابھی نہیں، لیکن ہفتے عشرے میں ایسا ممکن ہے‘‘۔

جنرل حمید کہنے لگے: ’’ٹھیک ہے اگلے ہفتے ضرور آجایئے۔ میں روانگی سے قبل جہلم سے محاذِ کشمیر تک آپ کے لیے گاڑی اور حفاظتی دستے کا انتظام کروں گا۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کی آمد کے وقت میں کہاں ہوں گا۔ میں سیکٹر کمانڈروں میں کسی ایک کے نام آپ کو خط دے دوں گا اور وہ آپ کو ہرطرح کی سہولت مہیا کر دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اسے پسند کریں گے‘‘۔

ایک ہفتے بعد میں جیپ میں سوار جہلم سے مشرق کی جانب جا رہا تھا، اور ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پر بیٹھا تھا۔ وہ پنجاب کی آٹھویں رجمنٹ میں دفع دار تھا۔ دوسرا فوجی پیچھے جیپ کے فرش پر تختوں پر مشین گن جمائے بیٹھا تھا۔ اس سفر کے دوران ہمارا رُخ پہاڑوں کی جانب نہیں تھا۔ ہماری سڑک آہستہ آہستہ دل کش مناظر سے گزرتی ہوئی کشمیر کے صوبہ پونچھ تک جاتی تھی، اور موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں تقریباً ایک لاکھ ہندستانی فوجی قبضہ جمائے بیٹھے تھے۔

پنجاب اور کشمیر کی برائے نام سرحد عبور کرتے ہی ہم پاکستانی فوج کے پڑاؤ پر جاپہنچے۔ یہاں سیکڑوں خیمے نصب تھے اور پیدل فوج کی خاصی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ یہ لشکرگاہ صوبہ پونچھ ہی کا حصہ تھی اور بھاری مشین گنیں اور چھوٹی توپیں اس کی حفاظت کے لیے لگائی گئی تھیں۔ بظاہر ہندستانی فوج کوئی بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، اسی لیے یہاں کا عمومی ماحول قدرے پُرسکون تھا۔ کیمپ میں فوجیوں اور اسلحہ کی نقل و حرکت میں ڈسپلن کی کمی کہیں نظر نہیں آتی تھی۔ یہاں میں نے پٹھان اسکاؤٹوں کے کچھ گروہ بھی دیکھے، جو اپنی پوشاک، یعنی ڈھیلی شلوارکُرتہ اور پگڑی سے بالکل الگ تھلگ نظر آتے تھے۔ سینوں پر کارتوسوں سے بھری ہوئی چمڑے کی پیٹیاں، کندھوں پر لٹکتی ہوئی بندوقیں اور کمربند میں خنجر۔ ان ہتھیاروں سے لیس جان کی پروا نہ کرنے والے یہ جنگجو، اب حقیقی فوجی ضابطوں کے آہستہ آہستہ پابند ہوتے جا رہے تھے (درحقیقت اس وقت پاکستان کے سرحدی محافظ یہی قبائل پٹھان تھے، جنھوں نے قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں کے دوران میں انتہائی مؤثر کردارادا کیا)۔

مجھے سیدھے سیکٹر کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل یعقوب خاں کے خیمے میں لے جایا گیا۔ وہ عمر میں مجھ سے چھوٹے تھے۔ غالباً اس وقت ان کی عمر ۳۵سال ہوگی۔ انھوں نے میرا پُرتپاک طریقے سے استقبال کرتے ہوئے کہا: ’’آپ میرے خیمے ہی میں رہیں گے۔ مجھے امید ہے آپ یہاں خوش رہیں گے‘‘۔ یعقوب خاں ہندستان کی امیرترین اور انتہائی اہم شمال مغربی مسلم ریاست رام پور (جو اَب ہندستان میں ضم ہوچکی ہے) کے موروثی وزیراعظم کے فرزند ہیں۔ وہ بڑے مہذب، دل کش اور خوش مزاج شخص ہیں، اس لیے ہم جلد ہی ایک دوسرے سے بے تکلف ہوگئے۔ یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ برسوں گزر جانے اور فاصلوں کے باوجود ابھی تک ہماری دوستی میں فرق نہیں آیا۔ کئی سال بعد وہ جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔ پھر وہ سفیرپاکستان کی حیثیت سے واشنگٹن میں تعینات ہوئے اور بالآخر صدر ضیاء الحق نے انھیں حکومت ِ پاکستان کے وزیرخارجہ کا قلم دان سونپا۔

لیفٹیننٹ کرنل یعقوب خاں نے بتایا: ’’میجر جنرل حمید آپ سے فوری ملنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو میں آپ کو کل صبح سویرے ان کے ہیڈکوارٹر روانہ کردوں گا‘‘۔ میں نے ان کی تجویز سے اتفاق کیا، کیونکہ اس طرح میں یہاں کے محاذ کی صورت حال کا بھی سرسری جائزہ لے لوں گا۔

رات کا کھانا سادہ، لذیذ اور پُرتکلف تھا۔ دیر تک سگریٹ نوشی اور چائے کے دور چلتے رہے۔ اس کے بعد میں سونے چلاگیا۔ اگلے روز علی الصبح میں تیار ہوگیا۔ سیکڑوں فوجیوں کے ساتھ نمازِ فجر ادا کی۔ یعقوب خاں کے ساتھ ڈبل روٹی، نمکین پنیر اور چائے کا ناشتہ کیااور ان سے عارضی رخصت لے کر اسی جیپ پر اور انھی محافظوں کے ساتھ ہیڈکوارٹر کی جانب روانہ ہوگئے۔

ایک گھنٹہ بعد وہاں پہنچے۔ اس وقت میجر جنرل حمید اپنے افسروں سمیت صوبہ پونچھ کے ایک بڑے نقشے کا جائزہ لے رہے تھے۔ میں نے ان کی محویت دیکھ کر ذرا پیچھے ہٹنا چاہا تو انھوں نے مجھے روکتے ہوئے کہا: ’’نہیں، آپ مت جایئے، آپ سے ہماری کوئی رازداری نہیں۔ درحقیقت آج میں آپ کو کچھ اور رازوں سے مطلع کروں گا‘‘۔

اس کے بعد میجر جنرل حمید صاحب نے مجھے اپنی جیپ میں بٹھا لیا اور ہم پونچھ اور ہندستان سے ملحقہ سرحدی علاقے کی طرف چل پڑے۔ کچھ دیر ہماری جیپ شمال کی طرف چلتی رہی۔ چند کلومیٹر کے بعد مغرب کی جانب مڑ گئی اور پھر بڑے سے نصف دائرے میں ذیلی سڑکوں سے ہوتی ہوئی، دوبارہ بڑی سڑک پر آگئی۔ پونچھ کا شہر پیچھے رہ گیا۔ اب نظروں سے بھی اوجھل ہوچکا تھا۔ شاید اس نصف دائرے کے درمیان میں کہیں تھا۔ سڑک پر آمدورفت کم تھی۔ اِدھر اُدھر فوجی ٹولیوں میں سڑک کے کنارے بیٹھے وقت گزار رہے تھے۔ ایک بار مخالف سمت سے آتی ہوئی ایک فوجی گاڑی ہمارے پاس سے گزری۔ دائیں جانب دُور فاصلے پر میں نے ایک گھنا جنگل دیکھا، لیکن وہاں بھی کوئی چلتا پھرتا نظر نہیں آتا تھا۔

یہاں سے آگے بڑھے تو میجر جنرل صاحب نے میری طرف منہ پھیرا اور پوچھا: ’’کیا آپ نے اس جنگل میں کوئی دل چسپ چیز دیکھی؟‘‘ میں نے جواب دیا: ’’کچھ خاص نہیں، صرف درخت ہی تو ہیں‘‘۔

میجر جنرل حمید مسکرائے: ’’آپ کو دیکھنا چاہیے تھا۔ اس چھوٹے سے جنگل میں پاکستان کے توپ خانے کا نصف حصہ چھپا بیٹھا ہے۔ جو سڑک پونچھ اور اس سے آگے جاتی ہے، وہ مکمل طور پر ہماری زد میں ہے اور جب ہم کل حملہ کریں گے، پونچھ میں مقیم ہندستانی فوجوں کا دونوں اطراف سے رابطہ منقطع ہوجائے گا۔ چونکہ ہمارا توپ خانہ ان سے بدرجہا بہتر ہے، اس لیے وہ مزاحمت نہیں کرسکیں گے۔ وقت کی کمی کے باعث انھیں کمک بھی نہیں پہنچ سکے گی۔ ہم نے اب اپنے تمام فوجی دستوں کو یہاں تعینات کر دیا ہے۔ ان حالات میں ہندستانی فوج ہتھیار ڈال دے گی یا تہس نہس ہوجائے گی۔ اس کے بعد ہم سری نگر کی طرف پیش قدمی کریں گے، ان شاء اللہ۔ ہمارے لیے اب یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے‘‘۔

میجر جنرل حمید کی اس پُرامید گفتگو میں کوئی مبالغہ بھی نہیں تھا۔ جوں ہی ہم واپس ہیڈکوارٹر پہنچے، انھیں ایک شدید دھچکا محسوس ہوا۔ اسی شام افواجِ پاکستان کے کمانڈر انچیف کے توسط سے انھیں وزیراعظم لیاقت علی خاں کا بذریعہ تار ایک خفیہ پیغام موصول ہوا:

 ’’اگلے روز حملے کا پروگرام منسوخ کردیا جائے‘‘۔

کئی ہفتوں بعد مجھے اصل صورت حال کا علم ہوا۔ ہندستان کی اعلیٰ فوجی کمان کو جونہی پاکستانی فوج کے اس متوقع حملے کا پتا چلا، اس نے فوراً اپنے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو تمام صورتِ حال اور اس کے مضر اثرات سے آگاہ کردیا۔ پنڈت صاحب نے اسی وقت برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ اٹیلی سے فون پر رابطہ قائم کیا اور ان پر زور دیا: ’’پاکستان کو ہرقیمت پر اس حملے سے روکنا ہوگا، کیونکہ اتنے مختصر وقت میں ہندستان کے لیے بذریعہ جہاز پونچھ کمک پہنچانا ممکن نہیں ہے۔ اگر انھیں پاکستانی افواج سے ہزیمت اُٹھانا پڑی تو وہ احتجاجاً دولت مشترکہ کی رکنیت چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں گے (کہیں اور کا اشارہ اشتراکی روس کی جانب تھا)۔ اگر پاکستان کو اپنا حملہ منسوخ کرنے پر آمادہ کرلیا جائے اور ضلع پونچھ ہندستان ہی کا حصہ رہے تو وہ، یعنی پنڈت صاحب اگلے سال کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دے دیںگے‘‘۔

تمام رات نئی دہلی اور لندن کے درمیان ٹیلی فون کی تاریں بجتی رہیں۔ وزیراعظم اٹیلی کو ہندستان جیسا بڑا ملک ہاتھ سے نکلتا دکھائی دینے لگا۔ اس نے فوراً لارڈ ماؤنٹ بیٹن (جو ۱۹۴۸ء کے آخر میں ہندستان کے گورنر جنرل کے عہدے سے مستعفی ہوکر اب انگلستان میں اپنی گذشتہ کامیابیوں پر شاداں و فرحاں زندگی گزار رہے تھے) سے مشورہ کیا اور کہا کہ برصغیر کے امورمختلفہ کے تجربہ کار ماہر کی حیثیت سے وہ نہرو کی تشویش دُور کرنے کی کوشش کریں اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔ چند گھنٹوں بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پاکستان کے وزیرخارجہ سر ظفراللہ خاں کو فون کیا اور انھیں بتایا کہ پنڈت صاحب نے کشمیری عوام کو حق رائے دہی کا یقین دلایا ہے اور برطانوی وزیراعظم اٹیلی نے بھی اس حملے کی منسوخی کے لیے ذاتی طور پر درخواست کی ہے۔ اس وقت وزیراعظم لیاقت علی خاں سوئے تھے۔ ظفراللہ نے انھیں جگاکر یہ پیغام پہنچایا اور انھیں اٹیلی کی معروضات پر خصوصی توجہ دینے کی استدعا کی۔

اثر و رسوخ کے ان الجھیڑوں میں وزیرخارجہ سرظفراللہ خاں نے جو کردار ادا کیا، اس کی تفہیم کے لیے ان کی مخصوص وفاداریوں کا مختصراً تذکرہ ضروری ہے۔ وہ جماعت احمدیہ کے سرگرم رکن تھے۔ تمام مسلمان اس جماعت کو دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ اس جماعت کے بانی قادیان کے مرزا غلام احمد تھے، جو پہلے پہل ایک عالمِ دین کی حیثیت سے مشہور تھے، لیکن بعد میں ان کے ذہن میں یہ خیال جاگزیں ہوگیا: وہ خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں۔ یہ ایسا دعویٰ ہے جس کو ہندستان کے تمام مسلمانوں نے چاہے وہ سُنّی ہیں یا شیعہ، قطعی طور پر مسترد کردیا۔ نصِ قرآنی سے  یہ بالکل واضح ہے کہ حضور اکرمؐ خاتم الانبیاء ہیں اور ان کے بعد کوئی پیغمبر کرئہ ارض پر مبعوث نہیں ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اسلام کے بنیادی عقیدے کی نفی ہے، اس لیے وہ اور ان کے پیروکار اسلام کی حدود سے باہر ہیں۔ ہندستان کے برطانوی حکمران، تحریکِ احمدیت کو بڑی پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے پیروکاروں کو ہمیشہ برسرِاقتدار اسلامی یا غیراسلامی حکومت کی اطاعت اور فرماں برداری کی سخت تاکید کررکھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ برطانوی حکومت کے مقتدر اصحاب، جماعت احمدیہ کے اراکین کی ہرطرح سے حمایت کرتے تھے۔ سر ظفراللہ خاں بھی ایک بااثر شخص تھے اور غلام احمد قادیانی سے گہری عقیدت رکھتے تھے، اس لیے وہ تمام عمر انگریزوں سے زیادہ برطانیہ کے خدمت گزار رہے۔

سرظفراللہ خاں باصلاحیت وزیرخارجہ تھے۔ مزید یہ کہ وہ کشمیر میں استصواب رائے کرانے کے بارے میں نہرو کے وعدہ پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ انھیں توقع تھی کہ جس مسئلے نے عرصۂ دراز تک پاکستان کی توانائیوں کو ضائع کردیا ہے، اس کا کوئی مستقل اور پائے دار حل تلاش کیا جاناچاہیے۔ یہی سوچ کر انھوں نے پاکستانی افواج کو پونچھ سے ہٹاکر بین الاقوامی سرحد پر بھجوانے کا حکم دے دیا۔ لیکن یہ خطرہ ٹلتے ہی بھارتی وزیراعظم نہرو فوری استصواب رائے کرانے کے وعدے سے منحرف ہوگیا اور یہ مسئلہ کشمیر غیرمعینہ عرصہ کے لیے معرض التوا میں ڈال دیا گیا۔

یہ اتنا بڑا قومی المیہ تھا کہ جس کی تلافی نہیں ہوسکتی تھی۔ پونچھ میں ہندستانی افواج نے خود کو مضبوط کرلیا، جب کہ پاکستان نے ایک نادر موقع کھو دیا، جو قوموں کی زندگی میں کبھی کبھار آتا ہے۔

وزیراعظم لیاقت علی خاں کا حکم نامہ پونچھ کے گردونواح محاذِ جنگ پر تعینات پاکستانی فوجیوں پہ بم بن کر گرا۔ جب انھیں علم ہوا کہ حملہ منسوخ کردیا گیا ہے، تو وہاں موجود بہت سے افسر اور جوان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ کشمیر کو ہندوؤں کے تسلط سے آزاد کرانے اور اسے پاکستان کا حصہ بنانے کا انھوں نے جو خواب دیکھا تھا، وہ چکنا چُور ہوگیا۔ کوئی سنجیدہ شخص یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا کہ یہاں مستقبل بعید میں بھی کبھی کشمیریوں کو موعودہ حق رائے دہی مل جائے گا۔

[اس صدمے کے بعد] میجر جنرل حمید نے خود کو ہیڈ کوارٹر میں بند کرلیا۔ پھر کئی مہینے تک ان سے میری ملاقات نہ ہوسکی۔ اس کے بعد وہ فوج سے مستعفی ہوگئے۔ (مآخذ: محمد اسد، بندۂ صحرائی (خود نوشت سوانح عمری)، مرتب: پولااسد، محمداکرام چغتائی، ناشر: دی ٹروتھ سوسائٹی، ۲-اے،۸۱، گلبرگ III، لاہور۔ فون: 0333-9807767)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کا ہرکام  منصوبہ بند، حکمت و تدبر اور فہم و فراست سے لبریزہوتاتھا۔آپ ؐ نے جنگ بدرکے موقع پر جو منصوبہ بندی کی وہ سیرت کی کتابوںمیں محفوظ ہے کہ سب سے پہلے آپ ؐ نے دو افراد مقررکیے، جنھیں ملک شام سے آنے والے مشرکینِ مکہ کے کارواںکی آمدکی اطلاع دینے پر مامورکیا۔ مدینہ سے روانہ ہوئے توآپؐ نے شمال کے بجائے مدینہ کے جنوب کی طرف کوچ کیا تاکہ وہ دشمن تک پہنچنے سے پہلے کسی محفوظ مقام پر پہنچ سکیں۔ آپؐ نے مناسب جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے کنویںکے قریب پڑاؤ ڈالا۔ دشمن کی تعداد معلوم کرنے کے لیے ایک نگراں دستہ بھیجا۔ دو آدمیوں کو گرفتار کرکے ان سے دشمنوںکی تعداد کے ساتھ یہ بھی معلوم کیا کہ کون کون سے سردار آئے ہوئے ہیں؟ آپؐ کے اصحاب کی تعداد ۳۱۳ تھی۔ مختلف حصوں میں انھیں تقسیم کیا۔ فوج کا مقدمہ، میسرہ، میمنہ وغیرہ ترتیب دیا، اس کے سردار مقرر کیے، پھر احتیاطی تدابیرا ختیار کیں۔ ایک جھونپڑی تیار کی، تاکہ آپ وہاں سے فوج کی حرکات پر نظر رکھ سکیں اوراس جھونپڑی کی حفاظت کا بھی انتظام کیا۔ دو تیز رفتار اونٹنیاں تیار رکھیں، تاکہ حالات خراب ہوں تو حفا ظتی تدابیر پر عمل در آمد کیا جاسکے۔

پھراللہ کے حضور سربہ سجود ہوئے اور تاریخی دعاکی۔ اس کے بعد باہر نکلے، فوج کو خطاب فرمایا، ان کے دلوں میں ولولہ انگیز جذبہ پیدا کیا۔ یہ کچھ تفصیلات ہیں جوجنگ سے پہلے کی منصوبہ بندی کی مختصرتصویرپیش کرتی ہیں۔ بدر کے میدان میں کیسے جنگ ہوئی،اس کے بعد کیاواقعات پیش آئے؟ یہ اوراس کے علاوہ سیرت کے مختلف واقعات میں آپؐ کی فہم وفراست اورمنصوبہ بندی کے نادرنمونے ملتے ہیں۔

دعوتِ دین کاکام منصوبہ بندی چاہتا ہے

دعوتِ دین کا کام تواس کے بغیرہوہی نہیں سکتا۔ دعوتِ دین کاکام ایک غیرمعمولی کام ہے اورا س کام کو کرنے کے لیے ہمیں ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ہمیں مرحلہ وار،اس کی میعاداورمقدارمقررکرکے آگے بڑھنا ہوگا اور درمیانی مدت میں ٹھیر کرجائزہ لیناہوگا کہ ہم نے جواہداف مقررکیے ہیں کیاوہ کافی ہیں؟ اور جوذرائع اختیارکررہے ہیں کیاوہ مفیداورنتیجہ خیزثابت ہورہے ہیں؟اس میں کمی یاخامی ہو تو اس کو دُورکرکے آگے بڑھنا چاہیے ،اہداف کا تعین اوراحتساب کا عمل دونوں ساتھ ساتھ جاری رہنا چاہیے۔

منصوبہ بندی میں ترجیحات مقرر ہوتی ہیں،جوکام کومرحلہ وارکرنے میں مدد دیتی ہیں۔ بعض کام اوّلین اہمیت کے اورناگزیر ہوتے ہیں،اس کے بغیر منصوبہ کی طرف پیش قدمی نہیں ہوسکتی۔منصوبہ بندی میں بعض امورکی منصوبہ بندی طویل المیعاد بنیادوں پر کی جاتی ہے اوربعض امورکی ایک قریبی متعین میعاد کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ منصوبہ بندی باقاعدہ اورزمانے وحالات کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

دعوتِ دین کا آخری مرحلہ اوراس کی تکمیل اظہاردین یا دین اسلام کے غلبے کی صورت میں ہوتی ہے۔ یہ ہماراہدف ہے جوایک طویل ،صبرآزمااورنتیجہ سے بے پرواہوکرکرنے کاکام ہے۔ یہاں چند گزارشات دعوت کی منصوبہ بندی کے متعلق پیش کی جارہی ہیں:

داعی افراد کی تیاری

سب سے پہلا اوربنیادی کام یہ ہے کہ امت مسلمہ کے ہرفردمیں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ وہ داعی ہے اورا س پیغام کا امین ہے، جواس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سپردکیاہے۔ آپؐ نے اپنے آخری حج میں اس کے ذمے یہ کام کیاتھا کہ وہ تمام انسانوںتک اپنے قول وعمل کے ذریعے اللہ کا پیغام بالکل اسی طرح پہنچائے،جس طرح خودآپؐ نے اس تک پہنچایاتھا۔دعوت کاکام کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں بلکہ پوری امت کاہے اوریہ امت داعی امت ہے۔ اسے خودکواورتمام انسانوں کوجہنم کی آگ سے بچانااورجنت کی ابدی کامرانیوںسے ہم کنارکرناہے۔ اُمت مسلمہ نے اپنے دورِ زوال میں اس کام سے غفلت برتی،جس کی وجہ سے آج اسے ذلت و رُسوائی سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ دعوت کی تڑپ اوراس پیغام کو پہنچانے کی فکر اگر امت کے ہرفرد میں پیدا ہو جائے تو دعوت کا یہ کام بہتے ہوئے پانی کی طرح اپنی راہیں خود متعین کرلے گا اور غیب سے نصرتِ خدا وندی حاصل ہوگی۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں اس امت میں داعیوں کا ایک گروہ تیار کرنا ہوگا، جو دعوت کی تڑپ رکھتے ہوں، دعوت کے مزاج ومنہاج کو بھی سمجھتے ہوں اور اس راہ کی آزمایشوں کو صبروہمت سے انگیز کرسکتے ہوں۔ ہماری سب سے اہم ترجیح ’’صلاحیت اور صالحیت والے افرادکی تیاری‘‘ ہونی چاہیے۔

مخاطب قوم کی نفسیات اور رجحانات کو سمجھنا

دوسری اہم بات مخاطب قوم کی نفسیات،نظریات اوررجحانات کوسمجھنا ہے۔فریقِ ثانی کی پسند اورناپسند کوجانناہے۔ آج ہمارا معاشرہ بہت سی ہندو روایات اور جاہلیت کی متعدد رسوم اور توہمات کا شکار ہوکر، دین سے بہت دُور جاپڑاہے۔ اسے سمجھنے کے لیے خود اس معاشرے سے قریب ہونے کی ضرورت ہے، ذاتی روابط سے اسے جاننے کی کوشش ہونی چاہیے۔مثال کے طورپر آج عیسائی مشنری تربیتی اداروںمیں جوعیسائی مبلغ تیارہوتے ہیں، ان کے نصاب میں دیگرمذاہب کے تعلق سے اسباق ہوتے ہیں اورچند ہفتے ان مبلغین کومتعلقہ مذہب کی سوسائٹی میں رکھ کرحقیقی صورت حال سے واقفیت حاصل کرائی جاتی ہے۔

ہر سال امریکا کے Olaf کالج سے طلبہ و طالبات کا ایک گروپ اسلامک فاؤنڈیشن ٹرسٹ، چنئی آتا ہے اور تقریباً پورا دن اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے میں گزارتا ہے۔ ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنا اور دین حنیف کی سادہ اور سچی تعلیمات کو اس کے سامنے اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ الحمد للہ یہ سلسلہ کئی برسوں سے چل رہا ہے اور اس کے مفید اور مثبت نتائج رونما ہوئے ہیں۔

مخاطب قوم کی زبان سے اچھی طرح واقفیت اوراس پر عبورحاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ یہ تھا کہ یُخَاطِبُ کُلَّ قَبِیْلَۃٍ  بِلِسَانِہَا وَیُحَاوِرُہَا بِلُغَـتِہَا    (الرحیق المختوم، صفی الرحمان مبارک پوری، ج۹، ص ۴۷۸)’’آپ ہر قبیلہ سے اس کی زبان میں گفتگوفرماتے اوراسی زبان کے محاورے استعمال فرماتے‘‘۔

دعوت کے کام کی اہمیت کے پیش نظراردوزبان ہی کافی نہیں ہے بلکہ مقامی زبانیں سیکھنے اوران میں ادبی کمال پیدا کرنے اور ان میں کلام کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

موجودہ دور میں کسی قوم کے رجحانات اورنظریات کو جاننے کے لیے شماریاتی جائزے (Statical Survey)کرائے جاتے ہیں۔ اس فن کے ذریعے سے بھی مخاطب قوم کی نفسیات اور رجحانات کو سمجھاجاسکتاہے۔ پھر نومسلم حضرات کے حالات زندگی سے بھی اس کا پتہ لگایاجاسکتاہے۔

غیرمسلموں سے تعلقات موجودہ دورکی ضرورت

دعوتِ دین کاکام اس بات کا متقاضی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیرمسلموں میں بھی پوری لگن سے کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے غیرمسلموںسے تعلقات بڑھائے جائیں۔ نفرت، اجنبیت اورتعصب کی جودیواریں برسوںسے کھڑی ہوئی ہیں، انھیں منہدم کرکے بے لوث انسانی روابط قائم کیے جائیں۔ ہم دنیوی امورومعاملات کے لیے مختلف حیثیتوںسے روابط رکھنے پر مجبور ہیں،لیکن ہمارے درمیان برسوںسے غیرمسلم بھائی بہن رہتے ہیں،تعلقات بھی مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں مگردینی نقطۂ نظر سے ہم نے ان تک پیغام حق کبھی نہیں پہنچایا۔ ان کے دکھ درد میں کام آنا، ان کی خوشیوں میں شامل ہونا،انھیں مفید مشورے دینااوران کے اعتماد اورحُسن ظن کوحاصل کرنا ضروری ہے۔اس سلسلے میں تحفے تحائف کا لین دین بھی مفید اور مؤثرثابت ہوسکتا ہے۔ الفاروق  میں علامہ شبلی نعمانیؒ نے حضرت عمر فاروقؓ کا قول نقل کیا ہے کہ زکوٰۃ کی آٹھ مدات میں مسکین سے مراد ان کے نزدیک غیر مسلم فقراء اور مستحق تھے۔ بعض مشہور اہلِ علم جیسے ابو میسرہؒ، عمربن میمونؒ اور عمر بن شرحبیلؒ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ صدقۂ فطر سے عیسائی راہبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ بعض فقہائے کرام نے غیرمسلموںکوقربانی کا گوشت دیناجائز اور موجودہ حالات میں مستحب اورمستحسن قرار دیا ہے۔ تعلقات میں خوش گواری پیداکرنے اورروابط قائم کرنے کے جو بھی ذرائع اور معروف طریقے ہوں انھیں بھرپور استعمال کرنا چاہیے۔

اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ

اسلام اورمسلمانوں کے تعلق سے کئی قسم کی غلط فہمیاں غیرمسلموں کے اندر پائی جاتی ہیں۔ دعوتِ دین کی منصوبہ بندی میں ان غلط فہمیوں کو دور کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس لیے کہ الناس اعداء لما جہلوا ’’لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے‘‘۔ اسلام کے عدم مطالعہ،  غلط اورجھوٹے پروپیگنڈے اور خود مسلمانوں کے غلط کردار اور رویے کی وجہ سے بہت ساری غلط فہمیاں پیدا کر دی گئی ہیں۔اگرچہ پہلے بھی صورت کچھ اچھی نہ تھی، لیکن نائن الیون کے بعداسلام کو  دہشت گردی سے جوڑنے کی مذموم کوشش اپنے برگ و بار لارہی ہے۔ اسی طرح ایک غلط تصور ’وحدت ادیان‘کاہے کہ ’’تمام مذاہب ظاہری فرق کے باوجودحقیقت میں ایک ہیں۔وہ ایک ہی مشترک منزل کی طرف جانے کے متعدد راستے ہیں‘‘۔اس معاملے میں ہمیں اسلام کی صحیح ترجمانی کرنی ہوگی اوراسلام کودین حق اور نجات کا واحد حل ثابت کرنے کی حکمت ودانائی سے کوشش کرنی چاہیے۔ مذاہب کے بنیادی اختلاف کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا احترام (Respect) کرنے اور ایک دوسرے کوسمجھنے اورآپس کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔

مناظرہ کے بجائے مکالمہ کی ضرورت

اسلام اورمسلمانوںکے تعلق سے غلط فہمیوںکودورکرنے کے لیے انفرادی روابط، وفود کے ذریعے ملاقاتیں ،بالمشافہ گفتگوئیں، سمپوزیم، سیمینار، تقاریر و خطابات، کارنر میٹنگیںوغیرہ کا اہتمام کرنا ہوگا۔ مختلف مذہبی لیڈروں اورقائدین کے درمیان مذاکرات بھی اس سلسلے میں مفید اور مؤثرثابت ہوسکتے ہیں۔ مستشرقین اورآریہ سماجیوں نے ماضی میں اسلام اورپیغمبر اسلامؐ پر رکیک حملے کیے توہمارے علمائے کرام نے عیسائی پادریوں اور ہندو رہنماؤںسے مناظرے کیے اورکئی ایک کوشکست بھی دی۔اس قسم کے مناظروںسے اسلام کی عظمت ورفعت اورمسلمانوںمیں اعتماد اورحوصلہ توپیداہوتاہے، لیکن اس کے باوجود فریق ثانی کو اسلام کا قائل نہیں کرایا جاسکتا، کیوںکہ مناظرے میں ایک فریق ہارتااوردوسراجیتتاہے، جب کہ دعوت کا کام دلوں اور دماغوں کومتاثرکرنا اورمدعوکے دل میں داعی سے انس پیداکرنا اوراس کے دل و دماغ میں سوالات پیداکرکے اسے سوچنے اورغوروفکرکرنے کا موقع دینا ہے۔اس لیے آج کے دور میں مناظرہ (Debate) کے بجائے مکالمہ(Dialogue)کی ضرورت ہے۔ مکالمے ومذاکرے میں فریق کے دلائل کوسننا ،   اس کے اچھے نکات کی تعریف کرنااوربعض اختلافی باتوںپر دلائل کے ساتھ گفتگوکرنا ضروری ہے۔ مکالمے میں اپنی بات کوپوری سوجھ بوجھ کے ساتھ پیش کرنا ایک فن ہے اوراپنی بات کی مؤثر انداز میں ترسیل کرنا(Effective Communication)دور جدید کا ایک آرٹ ہے ۔ ہماری دعوتی منصوبہ بندی میں اس قسم کے ماہرین کو تیارکرنا بھی ضروری ہے۔

دوسری بیعت عقبہ کے بعد رسولؐ نے مدینہ کے سرداروںکی فرمایش پر کہ ان کے پاس ایسا معلم بھیجیں، جو انھیں اسلام کی تعلیم دے۔ آپؐ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو بھیجا جو بہت ہی مخلص اور ماہرنفسیات صحابی تھے۔لوگوںکواسلام پرآمادہ کرنے کی غیرمعمولی صلاحیتیں ان میں موجود تھیں۔

حضرت مصعب بن عمیرؓ قبیلہ بنی عبد الاشہل کے کچھ لوگوں کو اسلام کی دعوت سے روشناس کرا رہے تھے کہ قبیلۂ اوس کے سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر دونوں وہاں پہنچے۔ اسید جو دراصل اپنے قبیلے کے سردار اور سب سے زیادہ حلیم اور بردبار اور صاحب فضل و کمال شخصیت تھے ، حضرت مصعبؓ کی دعوتی سرگرمیوں سے سخت ناراض تھے اور اپنا نیزہ اٹھا کر آئے تھے۔

انھوں نےحضرت مصعبؓ کے پاس پہنچ کر سخت لہجے میں کہا:’ تم لوگوں کو ہمارے محلے میں آنے اور ہمارے کمزور لوگوں کو گمراہ کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ ‘مصعبؓ نے بڑے ہی خلوص اور دل کش لہجے میں مخاطب کر کے کہا: ’اے سردار، کیا آپ پسند کریں گے کہ میں آپ کے سامنے بھی اچھی بات پیش کروں؟‘۔ ’وہ کون سی بات ہے؟‘ اسید نے پوچھا۔

’آپ اطمینان سے یہاں تشریف رکھیں اور غور سے ہماری باتیں سنیں۔ اگر پسند آئیں تو قبول کر لیجیے گا اور ناپسند ہوں تو ہم یہاں سے واپس چلے جائیں گے اور پھر کبھی ادھر کا رخ نہیں کریں گے‘ حضرت معصبؓ نے فرمایا۔

’ تم نے انصاف کی بات کہی۔‘ یہ کہتے ہوئے اسید اپنا نیزہ زمین پر گاڑ کر وہیں بیٹھ گئے۔ پھر جب حضرت مصعبؓ نے انھیں اسلام کی حقیقت سمجھائی اور قرآن کریم کی آیتیں پڑھ کر سنائیں تو ان کی پیشانی پر پڑی ہوئی شکنیں دور ہوگئیں اور چہرہ خوشی سے چمک اٹھا اور وہ بول اٹھے کہ ہم اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔

قصہ گوئی (Story Telling)آج کے دورمیں افکار کو پھیلانے اور سمجھانے کا اسی طرح ایک بہترین ذریعہ سمجھا جاتاہے جس طرح ماضی میں تھا۔ یہاں تک کہ جدیدمینجمنٹ کے کورس میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ قرآن میں بھی قصص موجودہیں اورسورۂ یوسف کوتواحسن القصص قرار دیا گیاہے۔ اسی طرح نبی کریمؐ نے بھی تمثیل اور قصّے کے ذریعے دین وشریعت کے مقاصدومنہاج کو ساری انسانیت کے سامنے پیش کیا اور صحابہ کرامؓ کی تربیت فرمائی اوردعوت کا ذریعہ بھی بنایا۔ ان سب کو آسان اور عام فہم اندازمیں پیش کیاجائے تودعوت کے میدان میں مؤثر پیش رفت ہوسکتی ہے۔

مشترکہ امورمیں غیرمسلموں کے ساتھ تعاون

دعوتِ دین کومؤثربنانے میں غیرمسلموںسے تعاون اورمشترک امورمیں مل جل کر کام کرنے کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔بھلائیوںکے فروغ، برائیوںکے ازالے،سماجی ا ور  معاشی مسائل کے حل کے لیے باہم تعاون واشتراک کی صورتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے: تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ص وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ  ص  (المائدۃ۵:۲) کے تحت رشوت خوری، شراب، جوا اور خواتین پر ظلم وستم وغیرہ جیسے منکرات، صحت وصفائی، عفت وپاکیزگی اور خواندگی وغیرہ جیسے مسائل میں ہمیں ان کے ساتھ مل کرکام کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ اس سے ان کو یہ احساس دلایا جاسکے گا کہ اسلام ساری انسانیت کاخیرخواہ ہے اوریہ دین ربّ العالمین کا ہے اور اس کے پیغمبررحمۃ للعالمینؐ ہیں۔ ان مشترک کاموںکی وجہ سے روابط بڑھیں گے ۔ ایک دوسرے کوسمجھنے، غلط فہمیوںکودُورکرنے کا موقع ملے گا اور مسلمانوںکی حقیقی تصویر سامنے آئے گی کہ یہ انسانوںکے حقیقی خیر خواہ ہیں،جس سے دعوتِ دین کے کام میں بڑی مدد ملے گی۔

سیرتِ رسولؐ میں ’حلف الفضول‘کا ذکر آتا ہے جو جاہلیت کے دور میں شہر مکہ کے  صاحب ِدل و دردمند لوگوں نے مظلومین کی امداد کے لیے ایک انجمن بنائی۔ اس میں شریک لوگ متحدہوکر رضاکارانہ طور سے اپنے شہر میں مظلوموں کی مدد کرتے، ظالموں سے ان کا حق دلاتے اور انھیں ظلم سے باز رکھتے تھے۔ اس معاہدے میں شرکت آپ کی ابتدائی زندگی کا ایک اہم ترین واقعہ ہے اور آپ کی قومی زندگی (پبلک لائف) کا اولین سنگ میل ہے۔ سیرت نگاروں نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میں عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں حلف لینے میں شریک تھا اور سرخ اونٹوں کے گلے کے عوض بھی اس شرکت کے اعزاز سے دست بردار ہونا نہیں چاہتا، اور اگر اب زمانۂ اسلام میں بھی مجھے کوئی اس کی دہائی دے کر پکارے تو اس کی مدد کو دوڑ کر جاؤں گا۔

 ’حلف الفضول‘ کی تفصیلات کی روشنی میں آج کے دور میں عدل و قسط کے قیام اور ظلم و استحصال کے خلاف (غیر مسلموں کے ساتھ مل کر) مشترکہ طور پر فورم تشکیل دیں اور اس طرح سنت نبویؐ کی پیروی میں ان بنیادی انسانی اقدار کو اجاگر کر کے دین حق کی تعلیمات کو معاشرے کے تمام طبقات میں واضح طور پر عملی شکل میں پیش کرسکتے ہیں۔

دین کا جامع تصورپیش کیاجائے

اس بات کی بھی سخت ضرورت ہے کہ ملت میں رائج ’تصوردین‘کوکتاب وسنت کے مطابق صحیح رخ دیاجائے۔عام طورپر ’دین داری‘ اسی کوسمجھاجاتاہے کہ آدمی ذکروعبادات کا اہتمام کرے اوردنیوی کاروبارسے دوررہے ۔یہ تصوردراصل عجمی یا ویدانتی تصوف اور رہبانیت کاہے۔ اس کے برعکس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادہے:

الْمُوْمِنُ الَّذِیْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی اٰذَاھُمْ خَیْرٌ مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لَا یُخَالِطُ النَّاسَ وَلَایَصْبِرُعَلٰی اَذَاہُمْ (ابن ماجہ، کتاب الفتن باب الصبر، علی البلاء، حدیث: ۴۰۳۰) وہ مسلمان جو عوام سے میل جول رکھتا ہے اوران کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف کوبرداشت کرتا ہے، وہ یقینا اس مسلمان سے بہتر ہے جو نہ عوام سے روابط رکھتا ہے اورنہ ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کو برداشت کرتا ہے۔

فرمانِ رسولؐ میں لفظ ’الناس‘ قابل غور ہے۔

دعوت اسلامی کے سلسلے میں یہ بات بھی ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے مزاج میں خیرپسندی اور خیرخواہانہ جذبات کے فروغ کی پیہم کوشش کی جائے۔ جذباتی ردعمل کی بجائے مسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیاجائے، عجلت پسندی کے بجائے دوراندیشی سے کام لینے کی عادت ڈالی جائے۔ اسی طرح یہ بات بھی ضرو ری ہے کہ اختلافی اورفروعی مسائل میں لوگوں کے ساتھ نرمی برتی جائے اوراساسی واصولی باتوں کی طرف زیادہ توجہ دی جائے۔آپ ؐ نے حضرت معاذؓ بن جبل کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایاتھا:تم ایک ایسی قوم کے پاس جارہے ہوجواہل کتاب ہیں۔انھیں پہلے توحیدورسالت کی دعوتِ دینا،جب وہ مان لیں کہ اللہ ایک ہے اورمحمدؐ اس کے رسول ہیں تو پھر انھیں بتاناکہ ان پر اللہ نے زکوٰۃ فرض کی ہے (متفق علیہ)۔ یوں آپ ؐنے بتدریج کام کرنے کی ہدایت فرمائی۔اسی طرح مسلکی، گروہی اورجماعتی تعصبات اوراختلافات سے بلند ہوکر مبادیات دین کی طرف دعوت کا رخ کیاجائے۔دین کوآسان بنا کرپیش کیاجائے اورافراط و تفریط کی بجائے راہِ اعتدال کی طرف توجہ مرکوزکی جائے۔

دعوتِ دین کے کام میں قرآن وسنت سے راہ نمائی

قرآن حکیم کتاب دعوت ہے اورنبی کریمؐ داعی اعظم ہیں۔دعوتِ دین کے لیے خالص دعوتی نقطۂ نظر سے قرآن حکیم کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ آیات کے نزول کا پس منظراورداعی اعظم ؐکا اس سلسلے میں اسوہ وعمل پیش نظر رہنا چاہیے۔ آج کے درپیش مسائل میں اللہ کی کتاب سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ہمیں اس پر غور و فکر کرنا اورلائحۂ عمل کا نقشہ بنانا ضروری ہے۔

مثال کے طور پر حضرت موسٰیؑاور حضرت ہارونؑ کی طرف سے فرعون جیسے جابر بادشاہ کے سامنے دعوت حق دینے کے موقع پر اللہ کی ہدایت کہ نرمی سے بات کرو، حضرت یوسف ؑکا قید خانے میں قیدیوں کے ساتھ دعوتی گفتگو کرنا، حضرت ابراہیمؑ کا اپنے باپ اور قبیلے کے لوگوں کے ساتھ رویہ، اورحضرت یونسؑ کے واقعہ کے پس منظر و غیرہ کو سامنے رکھنے سے ہمیں دعوتی کاموں میں رہنمائی حاصل ہوگی۔

قرآن حکیم کی طرح اسوۂ رسولؐ سے بھی روشنی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ آپؐ نے مختلف کاموں کے لیے خود مشرکین وکفار سے بھی مختلف مواقع پر مدد حاصل کی ہے۔ مثلاً: آپؐ ، مطعم بن عدی کی حمایت میں مکہ میں داخل ہوئے۔ عبد اللہ بن اریقط کو ہجرت کے پُرخطر سفر کے لیے رہنما بنایا، اور غزوۂ بدر کے بعد دوسری بار نجاشی کے دربار میں عمربن امیہ المضری کو سفیر بنا کر بھیجا۔ اس طرح کیا آج ہم بھی اپنے دعوتی کاموںکے لیے مشرکوںاورکافروںسے مدد حاصل نہیں کرسکتے؟ کیا اس حکمت رسولؐ میں ہمارے لیے کوئی روشنی نہیں؟ عقبۂ ثانی کے بعدآپؐ نے بارہ آدمیوں کو جو بارہ قبیلوں کے نمایندے تھے، اپنی طرف سے نقیب یا سردار مقرر کیااوران میں سے ایک فرد کو ان کا سردار بنایا۔ ان کی فرمائش پر حضرت مصعب بن عمیرؓ کودین کی تعلیم و تربیت کے لیے بھیجا۔ کیا اس سے دعوت کے لیے تنظیم کی ضرورت کا احساس نہیں پیداہوتا؟

دعوتِ دین اورخواتین

دعوتِ دین کی منصوبہ بندی میں جہاں مردوںکاحصہ ہے وہیں خواتین کے لیے بھی بھرپور منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔پہلی وحی کے بعد حضرت خدیجہؓ کی جانب سے آپؐ کے لیے تسلی کے کلمات ، کارِ دعوت میں خواتین کی جانب سے ہم رکابی کی بہترین مثال ہیں۔ حضرت اُم سلمہؓ کا حدیبیہ کے موقع پر نبیؐ کومشورہ دینااورحضرت عائشہ ؓکا فقیہانہ کارنامہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ کارِ نبوت کی تکمیل و ترویج میں خواتین کا بھی بڑااہم رول رہاہے۔مکہ سے ہجرت حبشہ کی ساری داستان اور نجاشی کے دربار میں کفارمکہ کے سفیروںکی آمد، ان کی ریشہ دوانیوںکی تفصیلات، نجاشی اورحضرت جعفر طیارؓ کے مکالمے کے متاثرکن واقعات کا خاکہ حضرت ام سلمہؓ نے روایت کیا ہے جو تاریخ دعوت و عزیمت کا درخشاں باب ہے۔ اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر جو مشورہ حضرت اُم سلمہؓ نے آپؐ کو دیا ہے، اس سے بھی ان کی ذہانت ،معاملہ فہمی اور غیرمعمولی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج ہم ایسا رول خواتین کودینے کے لیے تیار ہیں؟

دورِ اوّل کے بعد بھی بہت سی روشن مثالیں ہیں، تاہم چغتائی خاندان مسلمانوںکا سب سے بڑادشمن تھا، مگر ہلاکوخان کی مسلمان بیوی نے اسے سب سے پہلے اسلام سے متعارف کیا اور اسی کے اثرسے مبارک شاہ اور براق خان مسلمان ہوئے۔ تاتاری فوجوںکے ہزارہا سپاہی اپنے ساتھ جن مسلم خواتین کولے گئے تھے، انھوں نے اسلام کو چھوڑ کر اپنے کافر شوہروں کے مذاہب کو اختیار کرنے کے بجائے اپنے شوہروں اور ان کے اکثر بچوں کو مسلمان کر لیا اور انھی کی بدولت تمام بلادِ تاتار میں اسلام پھیل گیا۔ آج بھی یورپ اورامریکا میں خاص طورپر ۱۱؍ ستمبر کے بعد مردوں سے زیادہ خواتین، اسلام کی دعوت قبول کر رہی ہیں۔ انھیں اسلام میں اپنی عزت وعفت کی حفاظت اور حقوق کے حصول کی رو شنی اورپر سکون خاندان کی چاشنی نظر آتی ہے۔ اس کے لیے مسلم خواتین میں بھی داعیہ ہونے کاجذبۂ صادق ابھارنے اورنومسلم خواتین کے مسائل کوحل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

دعوت اور خدمتِ خلق

دعوتِ دین کی منصوبہ بندی میں ایک اہم کام خدمت خلق کواس کا صحیح مقام دیناہے۔ آج مسلمانوںکی زیادہ ترتوجہ عالی شان مساجدکی تعمیر جیسے امورتک ہی محدود ہے،جب کہ بھوکوں کو کھاناکھلانا،ننگوںکوکپڑاپہنانا،قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے انسانوںکواس سے چھٹکارا دلانا، نادار بن بیاہی لڑکیوںکے نکاح کا انتظام کرنا،بیواؤںکی مددکرنا، ارضی وسماوی آفات اور وبائی امراض کے وقت بلاتفریق مذہب وملت فائدہ پہنچانا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ آج، جب کہ تعلیم اور علاج معالجہ ایک نفع بخش تجارت کی حیثیت اختیارکرچکاہے اورصرف مال دار طبقے کے لوگوں تک ہی اس کا فائدہ پہنچ رہاہے۔اس میدان میں آگے بڑھ کرخدمت خلق کے ذریعے دعوتِ دین کے لیے نرم گوشے پیداکیے جاسکتے ہیں۔یہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ دوسری اقوام،  خاص طورپر عیسائی برسوں سے یہ کام کررہے ہیں اورعیسائیت کے فروغ کے لیے اس کے اثرات بھی معاشروں میں ظاہرہورہے ہیں۔کیا ہم رحمۃ للعالمینؐ کے امتی بھی ایسا نہیں کرسکتے؟

دعوتِ دین کے جدید ذرائع

دعوتِ دین کے منصوبے میں معاشرے کے مختلف طبقوںکے لیے الگ الگ اندازسے اثرانداز ہونے کی ضرورت پر بھی غوروخوض کرناہوگا۔ہمارےمعاشروں میں ایک قابلِ لحاظ تعداد ناخواندہ اورکم تعلیم یافتہ لوگوںپر مشتمل ہے، جنھیں لکھنے پڑھنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کے لیے اسلام کے مختلف پہلوؤںکو ڈی وی ڈیز کے ذریعے اجاگرکیاجاسکتاہے ۔اسی طرح پڑھے لکھے احباب کے لیے ان کے ذہن وفہم کوسامنے رکھ کر خاص لٹریچر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز میڈیا کے اصحاب سے دوستی کرکے بھی مفیدنتائج برآمدکیے جاسکتے ہیں۔

جدیدذرائع ابلاغ نے دعوتِ دین کو وسیع طور پر پہنچانے کااچھا ذریعہ فراہم کیا ہے۔ رسول اکرمؐ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ ایک دور آئے گا کہ اسلام ہرکچے پکے گھر میں پہنچے گا۔ آج ایسا ممکن ہے۔ اس کے لیے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا صحیح اور بھرپور استعمال ہونا چاہیے۔ کمپیوٹر دورِ جدید میں قلم کی ایک اعلیٰ شکل ہے اور دعوتِ دین اور اپنی بات کو مؤثر اور بہ عجلت پہنچانے کا ایک مفید ذریعہ ہے، جو اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کے ذریعے سے بھی ہم اپنی بات کو لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو گھر بیٹھے پوری دنیا میں پہنچا سکتے ہیں اور تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔

بلاشبہہ ان جدید ذرائع میں فحاشی، عریانی اور گندگی کی بھر مار اور اختلاط مردوزن کی وجہ سے دین دار طبقوں میں اس کے استعمال کے سلسلے میں کافی تردُّد پایا جاتا ہے۔ ہمیں اس معاملے میں شرح صدرکے لیے اسوۂ رسولؐ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ اللہ کے رسولؐ نے ’عکاظ ‘کے میلے میں پہنچ کراپنی بات رکھی۔ اسی طرح آپؐ نے کوہِ صفا پر چڑھ کر ’یاصباحا‘کی آوازبلندکی، لیکن اسی دورمیں اس کام میں جوقباحت موجودتھی اسے دور کرکے اس ذریعے کااستعمال کیا،یعنی ’نذیرعریاں‘(برہنہ ڈرانے والا)۔ جاہلیت میں کوئی اہم خبر دینی ہوتی تواس پہاڑی پر ایک شخص بالکل برہنہ ہوکر لوگوںکواس سے آگاہ کرتا تھا۔آپؐ نے کپڑے اتارے بغیراس ذریعۂ پیغام رسانی کو دعوتِ دین کے لیے استعمال کیا۔ آج بھی ہمیں جدید ذرائع وسائل کودنیوی قباحتوںسے پاک کرکے وحی الٰہی اور پیغام محمدیؐ کو دنیاکے سامنے پیش کرنے کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ امیدہے کہ ہمارے علمائے کرام اس ضمن میں سنجیدگی سے غوروفکر فرمائیں گے اور جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال کے حدودو قیودکا مناسب انداز میں جائزہ لیں گے۔ دنیا جائز اور ناجائز کے دوکناروں پر کھڑی ہے۔ کیا دعوتِ دین اور کارِ رسالت کے لیے ان کے درمیان کوئی بیچ کی راہ نکالی نہیں جاسکتی؟

دُور اندیشی اور مستقبل بینی کی ضرورت

دعوتِ دین کی منصوبہ بندی جہاں دردمندی چاہتی ہے،وہیں دوراندیشی اورمستقبل بینی کی بھی دعوت دیتی ہے ۔سیرتِ نبویؐ کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ نبی اکرمؐ نے افراد ، حالات اور ضروریات کے پیش نظرمختلف فیصلے کیے ،ان سب میں دعوت وعمل کے لیے بڑی رہنمائی ملتی ہے۔ بعض قبائل کے قبول اسلام کے واقعات اس کی تائید میں پیش کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن افسوس اس نبویؐ دوراندیشی اورمستقبل بینی کوبھول جانے کی وجہ سے مسلمان اسلام کی ترویج واشاعت کی راہ میں خود رکاوٹ بن گئے اوربن رہے ہیں۔

 دعوت کی منصوبہ بندی کے لیے ملت کے ہر فرد کو اپنے اندرداعی ہونے کاشعور اوراس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اپنے قول وعمل میں صحیح اسلامی کردار کی تصویربننے کاعزم کرنا چاہیے۔ اس کے لیے اپنے خاندان اوراپنی معاشرت کوتضادات سے پاک کرکے ایک مثالی معاشرہ بنانے کی سعی وجہد کرنی چاہیے اورملک کے مختلف افراد کواپنی ذاتی وشخصی پسند و ناپسند اورمختلف جماعتوں، مسلکوں اور طبقوں کواپنے محدود دائرے سے باہر نکل کر اتحاد فکر و عمل کا نمونہ بننا چاہیے۔

جدید قومی ریاستوں کے وجود میں آنے سے قبل سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں یورپ میں آسٹریا، برطانیہ، فرانس، ہنگری، روس، پرتگال اور اسپین کی سلطنتیں اور بادشاہتیں قائم تھیں۔ دوسری جانب مسلم دنیا میں خلافت عثمانیہ، ایرانی سلطنت اور ہندستان میں زوال پذیر مغلیہ سلطنت وغیرہ مشہور تھیں اور ان کے علاوہ کئی اور بھی چھوٹی بادشاہتیں موجود تھیں۔ قومی تحریکیں اس تصور پر اٹھیں کہ روایتی سلطنتوں اور باشاہتوں میں ایک خاندان یا نسلی گروہ کا تمام وسائل پر تسلط ہوتا ہے اور ریاست کے وسائل پر وہاں کے عوام کو تصرف کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ ان کے برعکس ’’ قومی ریاستیں معاشی، معاشرتی اور ثقافتی زندگی میں قومی اتحاد کے اصول کے تحت تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر سیاسی، سماجی، معاشی حقوق دیں گی‘‘۔ لیکن قومی ریاستیں وجود میں آنے کے بعد ریاستوں میں کمزور علاقوں کے وسائل پر قبضے کی مسابقت شروع ہو گئی۔ اس طرح ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا میں بے شمار کمزور اقوام کو غلام بنا کر انھیں نوآبادیاتی کالونیوں کی شکل دے دی۔

طاقت ور اقوام میں معاشی مسابقت اور کمزور اقوام پر قبضے کی ہوس، جنگ عظیم اول، دوم کی ہولناک جنگوں کی شکل اختیار کر گئی، جس میں لاکھوں معصوم افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان ہولناک جنگوں کے بعد قومی ریاستوں نے انسانیت کو صفحۂ ہستی سے مٹادینے والاجدید اسلحہ، جبر، تشدد، دہشت گردی، منافرت، لسانیت، فرقہ واریت، ماحولیاتی آلودگی، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی بیماریاں، مہنگائی، بے روزگاری، جنسی بے راہروی، خاندانی نظام کی تباہی، جرائم، خودکشی، جیلوں میں اذیت ناک ماحول اور انسانیت سوز سزائیں اور درندگی و بہیمیت کے نہ جانے کیا کیا تحفے دیے۔ اس حیوانیت میں سب سے بڑا عذاب انسانوں کو 'بے ریاست (stranded) کرنے کا ہے۔

بے ریاستی کی بنیادی قسم یہ ہے کہ کسی قوم کے افراد سے ان کی ریاست چھین کر انھیں بے ریاست کیا جاتا ہے اور ان کی ریاست پر کوئی دوسری طاقت قبضہ کر لیتی ہے۔ سامراجی دور میں برطانیہ، فرانس، روس اور کئی دیگر طاقت ور ریاستوں نے جب اپنی سرزمین سے باہر اثر و رسوخ بڑھاکر ان نوآبادیاتی علاقوں کی خودمختاری ختم کردی تووہ قومیں بے ریاست ہو گئیں۔ پھر بہت سی قومیں اس وقت بھی بے ریاست ہو گئیں، جب سامراجی طاقتوں نے اپنی بدانتظامی کے نتیجے میں  مقبوضہ علاقوں سے بوریا بستر لپیٹا اور اپنے مستقبل کے مفادات کے تحت بہت سی قوموں کے جغرافیے کو کئی ممالک میں تقسیم کر دیا۔ اس طرح کئی اقوام مختلف ممالک کے اندر ٹکڑوں میں بٹ کر رہ گئیں۔

بے ریاستی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سامراج نےقبضہ ختم کرتے وقت جان بوجھ کر کچھ چھوٹی ریاستوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تاکہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ سودے بازی کرکے ان پر قبضہ کروایا جا سکے۔ پنجاب مسلم اکثریتی صوبہ ہونے کے باوجود پاکستان کے حوالے نہیں کیا گیا بلکہ ہندستان اور پاکستان میں اس طرح بانٹ دیا گیا کہ پاکستان کے آبی وسائل (یعنی دریائے بیاس، ستلج، راوی مکمل طور پر اور چناب جزوی طور پر) ہندستان کے کنڑول میں رہیں اور بوقت ضرورت ہندستان پاکستان کے معاملات میں مداخلت کرنے کا حق رکھے۔ ہندستان کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ کشمیر، حیدر آباد دکن، جونا گڑھ وغیرہ پر قبضہ کر ے اور کئی دیگر چھوٹی قوموں مثلاً مسلمان، سکھ اور گورکھوں وغیرہ کو خود مختاری نہ دے۔ سلطنت ِعثمانیہ کو کئی چھوٹی قومی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا اور فلسطینیوں کو اپنے علاقے سے بے دخل کرکے وہاں ایک غیر قانونی ریاست اسرائیل کی شکل میں قائم کر دی گئی۔ اسی طرح سنکیانگ کو چین نے اپنی ریاست میں ضم کرلیا، روہنگیا مسلمان، میانمار کے قبضے میں آگئے، کردوں کو ایران، شام، ترکی اور عراق میں تقسیم کر دیا گیا۔

۱۹۷۱ء میں جب سقوط ڈھاکہ ہوا اور بنگلہ دیش ایک الگ ملک بن گیا تو ۳ سے ۵ لاکھ بہاریوں کو بے ریاست کر دیا گیا جو آج تک کیمپوں میں پناہ گزینوں اور بے وطن پاکستانیوں کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان نے بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا کہ چونکہ بنگلہ دیش، مشرقی پاکستان کی جانشینی ریاست ہے اس لیے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہاری ہم وطنوں کو اپنی ریاست میں شامل کرے جیسے مغربی پاکستان نے اس خطے میں رہایش پذیر تمام اقوام کو ریاست پاکستان میں شامل کیا، لیکن بنگلہ دیش نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اسی طرح نیپال میں ایک لاکھ سے زیادہ بھوٹانی پناہ گزین ہیں جن کے پاس نہ بھوٹانی شہریت ہے اور نہ نیپال ان کو اپنا شہری تسلیم کرتا ہے۔

بے ریاستی کی ایک بڑی وجہ وہ امتیازی سلوک ہے، جو کچھ ریاستیں اپنے مخصوص شہریوں سے ان کی نسل، رنگ، زبان، مذہب یا ثقافت کی بنیاد پر روا رکھتی ہیں اورجس کی بنیاد پر انسانوں کے بڑے بڑے گروہوں کو ملکی شہریت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ نسلی امتیاز کے خاتمے کے بارے میں اقوام متحدہ کی کمیٹی نے یکم اکتوبر ۲۰۱۴ء کو کہا تھا کہ ’’نسل، رنگ، قوم، زبان یا مذہب کی بنیاد پر شہریت سے محروم کرنا اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جو تمام ریاستوں نے کیا ہوا ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں سے امتیازی سلوک کے خاتمے کو یقینی بنائیں گی‘‘۔ لیکن بہت ساری طاقت ور ریاستیں اقوام متحدہ کے احکامات کو خاطر میں نہیں لاتیں اور اپنے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہیں۔

 قومی ریاستوں کے وجود میں آنے سے قبل قومیت اور شہریت کے سخت قوانین موجود نہیں تھے۔ اس لیے لوگ دنیا کے کسی بھی خطے میں آسانی سے جا کر رہایش اختیار کرسکتے تھے۔ اس کے باوجود بے شمار ایسی قومیں بھی تھیں جن کی اپنی کوئی الگ ریاست نہیں تھی لیکن پھر بھی انھیں اپنے رہایش پذیر علاقوں میں تمام سہولتوں سے فیض یاب ہونے کی سہولتیں میسر تھیں۔ لیکن اب ایسی پس ماندہ قوموں کو اپنے ہی علاقے میں بے ریاست کرکے زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا۔

 بے ریاست شہریوں کی شہریت کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور اس وجہ سے انھیں جایداد رکھنے، بنک اکاؤنٹ کھولنے اور بیرونِ ملک سفر کے لیے پاسپورٹ رکھنے جیسے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی افراد کو طویل عرصے تک حراست میں رہنا پڑتا ہے کیونکہ وہ یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ وہ کون ہیں اور ان کا تعلق کس خطے سے ہے؟ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں ایک کروڑ ۲۰لاکھ لوگ ایسے ہیں، جو اپنے ہی علاقے میں اجنبی بن گئے ہیں۔ یہ لوگ جس ملک میں پیدا ہوئے، جہاں پرورش پائی وہی ملک ان سے کسی نسلی یا مذہبی امتیاز کی بنا پر شہریت کی پہچان دینے سے انکار کرتا ہے۔ایسے بنیادی حقوق سے محروم لوگوں میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔

۱۹۵۴ء میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے بے ریاست افراد کے ساتھ کم سے کم معیار کا سلوک قائم کرنے کے لیے ایک کنونشن منظور کیا گیا، جو بے ریاست افراد کو تعلیم، روزگار، رہایش، شناخت، سفری دستاویزات اور انتظامی مدد کا حق دیتا ہے۔ ۱۹۶۱ء میں ایک نیا کنونشن لایا گیا، جس میں شہریت کے لیے ہر بے ریاست فرد کے حقوق یقینی بنانے کے لیے، ایک بین الاقوامی فریم ورک قائم کیا گیا۔ اس کنونشن میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’اگر والدین نے کوئی دوسری قومیت حاصل نہیں کی تو بچوں کو اسی ملک کی شہریت حاصل ہوگی جس میں وہ پیدا ہوئے ہیں‘‘۔ اسی طرح یہ کنونشن بے ریاستی کی روک تھام کے لیے اہم حفاظتی اقدامات کا تعین بھی کرتا ہے۔ دنیا کے ۶۶ملکوں نے ابھی تک اقوام متحدہ کے ۱۹۵۴ء کے کنونشن پر دستخط کیے ہیں، جس میں بے ریاست افراد کے ساتھ برتاؤ کے کم سے کم معیار مقرر کیے گئے ہیں۔ جب کہ صرف ۳۸ ممالک اقوامِ متحدہ کے ۱۹۶۱ءکے کنونشن کے ارکان ہیں، جس میں بے ریاست افراد کی بے وطنی کم کرنے کے لیے قانونی دائرۂ کار کا تعین کیا گیا ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اور میانمار نے اقوام متحدہ کے ان کنونشنوں پر دستخط نہیں کیے۔

یورپی نوآبادیاتی حکمرانوں کی آمد سے قبل ایشیا میں جغرافیائی سرحدوں کا کوئی واضح تعین نہیں تھا۔ اس وقت علاقائی سطح پر ترک وطن عام تھا کیونکہ خود مختار نوابی ریاستوں کے مابین غیر واضح اور ڈھیلی ڈھالی سرحدیں تھیں۔ قومی ریاستیں وجود میں آنے کے بعد اب دنیا میں کوئی ایک چپہ بھی ایسا نہیں ہے، جو کسی ریاست کے قبضے سے باہر ہو اور جہاں کوئی بے ریاست قوم یا گروہ تصرف حاصل کر سکتا ہو۔ جنوبی ایشیا کے ممالک نے انتہائی معمولی یا کسی بھی ترمیم کے بغیر ہی زیادہ تر وہی قوانین اپنا لیے، جو پہلے سے موجود اور نوآبادیاتی طاقتوں کے بنائے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے شہریت سے متعلقہ قوانین کے باعث بھی کئی مسائل پیدا ہوئے۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک میں آج بھی کئی ملین انسانوں کے پاس ایسی قانونی دستاویزات موجود ہی نہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی مقامی شہریت ثابت کر سکیں۔ وہ جنھیں بے وطن قرار دیا جاتا ہے، زیادہ تر ترک وطن یا نقل مکانی کے پس منظر والے ایسے غریب انسان ہیں، جن کی اپنی کوئی زمینیں یا دیگر املاک نہیں۔

بھارت نے آسام میں 'شہریوں کے قومی رجسٹریشن، یا این آر سی کی تازہ فہرست جاری کی ہے، جس میں آسام میں عشروں سے رہنے والے مسلمان شہریوں کو بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس طرح غیر قانونی اور غیر ملکی قرار دیے جانے والے ۲۰ لاکھ افراد عملی طور پر بے وطن ہو چکے ہیں اور اگر وہ اپیل کرنے کے بعد بھی اپنی شہریت ثابت نہ کر پائے تو انھیں ملک بدری، گرفتاریوں اور حراست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شا نے ستمبر میں اپنے دورۂ آسام کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ ’’بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ان در اندازوں کو اٹھاکر خلیج بنگال میں پھینک دے گی‘‘۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ قانون باہر سے آنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو تو سہولت دیتا ہے لیکن یہ قانون بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ ریاست اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے، ان سے 'انتقام ' لیا جائے گا اور 'سرکاری املاک کے ہرجانے کے طور پر ان کی جایداد کی قرقی کی جائے گی۔ اس طرح صدیوں سے آباد مسلمانوں پر زمین تنگ کی جارہی ہے۔

بھارت کی موجودہ ہندو انتہاپسند حکومت آسامی مسلمانوں کی طرح کشمیر یوں کو بھی بے وطن کرنا چاہتی ہے۔ جس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کو بے وطن کیا۔

بھارت کی طرح میانمار کی فوج نے بھی سخت مظالم ڈھاتے ہوئے چھے لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر ہونے پر مجبور کر دیا ہے، جہاں وہ رخائن ریاست میں رہایش پذیر تھے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق ان مسلمانوں کے گھر بار، گاؤں، مویشی جانور اور کھیت نذر آتش کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ ملک میں واپس نہ آئیں۔ وہ روہنگیا مسلمان جو ان مظالم سے بچنے کے لیے پڑوسی ملک بنگلہ دیش جانے کی کوشش کرتے ہیں، میانمار کے حکام سیکورٹی نافذ کرنے کے لیے آپریشن کے نام پر ان شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں اورعورتوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے تعینات سفیر کے مطابق اکتوبر سے لے کر اب تک چھے لاکھ افراد سرحد عبور کر کے میانمار سے بنگلہ دیش داخل ہو چکے ہیں۔ ان روہنگیا پناہ گزینوں کو ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غذا کے بغیر پیدل چلنا پڑا، جس کے بعد بالآخر وہ بنگلہ دیش تک پہنچے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق میانمار کے سیکورٹی اہلکاروں نے جان بوجھ کر روہنگیا پناہ گزینوں کے سرحدی راستے میں بارودی سرنگیں نصب کر دی تھیں، جس سے ان بے خانماں لوگوں کا سفر اور بھی خطرناک ہوگیا تھا۔پھر خود بنگلہ دیشی حکومت نے بھی بے شمارروہنگیا مسلمانوں کو کھلے سمندر میں ڈوبنے اور مرنے پر مجبور کیا۔

ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق ۲۴؍ اگست سے اب تک ۲۸کشتیاں ڈوب چکی ہیں جن میں ۱۸۴؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بہت بحث کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’’روہنگیا مسلمانوں کے لیے پناہ گزین کیمپ قائم کریں گے جہاں ۸۰ہزار روہنگیا کو رہنے کی جگہ میسر ہو سکے گی‘‘۔ پناہ گزین کے مطابق رخائن ریاست میں کھانے کی قلت کی وجہ سے ان کو بھاگنا پڑا تھا کیونکہ وہاں موجود کھانے کی دکانیں بند کر دی گئی تھیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق کیمپوں میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب خواتین موجود ہیں جو ماں بننے کی عمر میں ہیں۔ ان میں سے ۲۴ہزار خواتین حاملہ ہیں اور ان کے پاس سڑک پر اولاد جنم دینے کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

روہنگیا اور آسامی مسلمانوں کی طرح فلسطینی مسلمان بھی اس وقت پناہ گزینی اور بے وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ برطانوی سامراج نے جب فرانس اور امریکا کے ساتھ مل کر سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کیے، تو یورپ کے لاکھوں یہودیوں کو فلسطین کی سرزمین پر لا کر بسایا۔ ان یہودیوں نے سامراج کی پشت پناہی سے اسرائیل کی غیر قانونی ریاست قائم کی، اور اس میں توسیع کرتے ہوئے فلسطینی عوام کو صدیوں سے رہایش پذیر علاقوں سے بے دخل کرکے بے ریاست کر دیا۔ اس وقت دو لاکھ سے زائد فلسطینی یورپ میں پناہ گزین ہیں اور باقی ماندہ اُردن، لبنان، شام اور غزہ کی پٹی میں بے وطن ہیں۔ جن علاقوں میں فلسطینی رہایش پذیر ہیں، عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ وہاں کے شہری ہیں حالانکہ وہ وہاں پناہ گزیں کی حیثیت سے رہتے ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں بسنے والے فلسطینیوں کو ’اوسلو معاہدے‘ کے تحت فلسطینی پاسپورٹ جاری کر دیے گئے تھے اور بین الاقوامی سطح پر ان کی قانونی حیثیت کو ۲۰۱۸ء میں کسی حد تک تسلیم کیا گیا تھا۔ کچھ ممالک ان کی سفری دستاویزات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کی فلسطینی شہریت کو تسلیم نہیں کیا جاتا کیونکہ صرف ان شہریوں کی شہریت کو تسلیم کیا جاتا ہے جو کسی باقاعدہ ریاست کے شہری ہوتے ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کوئی باقاعدہ ریاست نہیں ہے۔ یہ ۲۰۱۲ء سے اقوام متحدہ کی محض Nonmember Observer State ہے اور اسے بہت سارے ممالک نے تسلیم نہیں کیا ہے، لہٰذا فلسطینی جہاں بھی رہایش پذیر ہیں بے وطن اور بے ریاست ہیں۔

دنیا کی طاقت ور ریاستوں کی طرف سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ دنیا سے غلامی کا خاتمہ کر دیا گیاہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ طاقت ور قوموں کی طرف سے کمزور قوموں کے ساتھ غلامانہ سلوک کیا جارہا ہے اور بین الاقوامی فیصلہ سازی میں اس کی گنجایش موجود ہے۔ جب کوئی طاقت ور ریاست اپنے شہریوں کو حقوق شہریت سے محروم کر دیتی ہے تو خود بخود وہ تمام دیگر قانونی حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور جب طاقت ور ریاستیں دیگر کمزور ریاستوں پر دھونس ڈالتی ہیں کہ وہ ان بے ریاست شہریوں کو پناہ گزیں کے طور پر ملک میں نہ گھسنے دیں تو ان لوگوں کی حیثیت غلاموں سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح امریکا اور دیگر طاقتوں نے جن لوگوں کو ’جنگی مجرم‘ قرار دے کر گوانتاناموبے جیل، برطانیہ کی بل مارش جیل، عراق کی ابوغریب جیل اور افغانستان کی بٹگرام جیل میں ڈال دیا ہے، ان کی حیثیت بھی غلاموں سے بدتر ہے، اور وہ تمام انسانی حقوق سے محروم ہیں۔

اسی طرح بعض مسلم اور عرب ریاستوں میں ، بیرونِ ملک سے آنے والے ملازمین، وہاں پر ملازم کے طور پر نہیں بلکہ ایک بے زبان غلام کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

 شریعت ایک انسان کو جو حقوق عطا کرتی ہے وہ کسی آقا، مالک، حکمران اور ریاست کو چھیننے کا اختیار نہیں ہوتا۔ امت مسلمہ کے ہر فرد کو کسی بھی اسلامی معاشرے اور علاقے میں وہی حقوق حاصل ہوتے تھے، جو اسے اپنے پیدایشی علاقے میں حاصل ہوتے تھے۔ روایتی حکمران اور ریاستیں جب کسی مجرم کو علاقہ بدر کر دیتی تھیں تووہ اس کے لیے ایک جزوی سزا ہوتی تھی، اور اس سنگین جرم کی سزا کی وجہ سے وہ صرف اپنے علاقے میں داخل نہیں ہوسکتا تھا، باقی دنیا اس کے لیے کھلی ہوتی تھی اور وہ کہیں بھی انسانوں کی طرح زندگی بسر کر سکتا تھا۔ مثال کے طور پر جب یہودیوں کے لیے پورا یورپ مقتل بنا ہوا تھا اوروہاں ان کا جینا حرام کردیا گیا تھا تو انھیں مسلم دُنیا کی آغوش میں پناہ ملی۔ جب اسپین سے ڈھائی لاکھ یہودیوں نے ہجرت کی تو انھیں سلطنت عثمانیہ نے سلونیکا میں آبادکاری کی اجازت دی۔ اور اب احسان فراموش یہودی مقامی فلسطینیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی  کا ہرحربہ استعمال کرکے بھی مطمئن نہیں ہورہے۔

زینب الغزالی ۲ جنوری ۱۹۱۷ ء کو قاہرہ کے شمال میں ضلع دقہیلہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ گھر میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری اسکول میں سیکنڈری اسکول تک تعلیم حاصل کی۔ پھر  الازہر یونی ور سٹی کے معروف اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ زینب الغزالیؒ دور طالب علمی ہی سے خواتین اور طالبات میں پُرجوش اور شعلہ بیان خطیبہ کی حیثیت سے مشہور تھیں۔ان کے لیکچرز اور درس قرآن کے حلقوں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شرکت کرتی تھی اور یہ تعداد ہزاروں تک بھی پہنچ جاتی تھی۔ابن طلون مسجد میں ہر ہفتے ان کے دروس کا اہتمام ہوتا جس میں دُور دراز علاقوں سے خواتین شرکت کرتی تھیں ۔ ۱۹۳۷ء میں انھوں نے خواتین کی ایک تنظیم کی بِنا ڈالی جس کا نام ’السیدات المسلمات‘ تھا ۔اس تنظیم کو بعد میںانھوں نے حسن البنا شہیدؒکے کہنے پر الاخوان المسلمون میں ضم کر دیا۔آپ ایک بے باک داعیہ اور راہ حق کی ایک عظیم مسافراور مجاہدہ تھیں جنھیں مصری آمر جمال ناصر نے ۱۹۶۵ء میں قید کرکے طرح طرح کی اذیتیں دیں ۔

زینب الغزالیؒ نے مصر میں اباحیت پسندوں اور دین بے زار طبقوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں اور اسلام کو متبادل کے طور پرپیش کرنے کے لیے پوری قوت صرف کر دی تھی۔ انھوں نے خواتین میں اسلام کے دیے گئے حقوق کی بھر پور وضاحت کی، اور خواتین کے درمیان اسلامی بیداری کا علَم بلند کیا اور ان کے اندر حوصلہ ، جذبۂ ایمان اور عزم و استقلال پیدا کیا ۔ موصوفہ ایک بہترین مصنفہ بھی تھیں۔ ان کی چند اہم کتابوں کے نام یہ ہیں :(۱) ایام حیاتی (۲)نظرات فی کتاب اللہ (۳) غریرۃ المراۃ مشکلات الشباب والفتیات (۴) الی بنتی (۵) تاملات فی الدین و الحیاۃ ۔ ان میں سے کئی کتابوں کا دوسری زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ ان کے علاوہ السیدات المسلماتایک معروف ہفتہ وار رسالہ تھا ،اس میں بھی وہ مسلسل مضامین لکھتی رہتی تھیں۔ ۳؍اگست ۲۰۰۵ء کو اس عظیم داعیہ و مفسرہ کا انتقال ۸۸ برس کی عمر میں ہوا۔ { FR 645 }

تفسیری خدمات

زینب الغزالی کا قرآن مجید سے گہرا تعلق تھا۔ آپ قرآن مجید کے پیغام کو دوسری خواتین تک پہنچانے میں ہمہ وقت مصروف رہتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں نے ۶۰سال سے زائد کا عرصہ اللہ کی کتاب کو سمجھنے اوراس کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے لیے صرف کیا ہے‘‘۔ انھوں نے نظرات فی کتاب اللہ کے عنوان سے تفسیر لکھی۔ اس تفسیر کا پس منظر یہ ہے کہ ایک دن ایک اشاعتی ادارہ کی مالکہ خاتون کی جانب سے پیغام آیا کہ ’’میں کم عمر بچوں و بچیوں کے لیے ۲۸،۲۹اور ۳۰ویں پارے کی ایسی آسان تفسیر لکھوانا چاہتی ہوں، جو ان کی زبان اور معیار کے مطابق ہو‘‘۔ زینب نے جواب دیا کہ ’’میں نے کبھی تفسیر لکھنے کے بارے میں سوچا نہیں ہے‘‘۔ مگر جب اس خاتون نے اصرار کیا تو پہلے انھوں نے استخارہ کیا اور دعا کی ،پھر اللہ کے نام سے کام شروع کیا اور تین پاروں کی تفسیر تیار کر لی ۔جب وہ مسودہ لے کر اس خاتون کی تلاش میں نکلیں تو ان کا کہیں پتہ نہ چلا۔ واپس لوٹتے ہوئے شیخ محمد الملعم کے پاس چلی گئیں اور ان سے دریافت کیا کہ ’’کیا آپ اسے شائع کرسکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اسے دیکھا اور کہا: ’’ہاں، مگر ایک شرط ہے ،وہ یہ کہ آپ پورے قرآن کی تفسیر لکھیں ‘‘۔اس کے بعد انھوں نے مکمل تفسیر لکھی۔

تفسیرکے مقدمے میں موصوفہ لکھتی ہیں: ’’میں نے قرآن پڑھا ہی نہیں بلکہ اسے اپنی زندگی بنانے کی کوشش کی کہ جس کتاب سے میں اس قدر محبت کرتی ہوں ، اسے دوسرے لوگوں تک پہنچاؤںتاکہ وہ بھی اس سے محبت کرنے لگیں‘‘ ۔

زینب الغزالی نے تفسیر لکھتے وقت نہایت غور و فکر سے کام لیا ہے ۔ انھوں نے جیل کی کال کوٹھریوں اور تنہائیوں میں اور پھر رہائی کے بعد قرآن مجید کی آیات پر غور و فکر جاری رکھا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے قدیم و جدید عربی تفاسیر سے بھی بھر پور استفادہ کیا۔ وہ لکھتی ہیں: ’’میں نے قرطبی کی تفسیر ، حافظ ابن کثیر کی تفسیر کو بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پڑھا، اور پھر آلوسی، ابوالسعود، قاسمی اور رازی کی تفسیروں کے ساتھ سیّد قطب شہید ؒکی تفسیر فی ظلال القرآن سے بھی استفادہ کیا ہے‘‘۔ انھوں نے احادیث کے ذخیرے کو بھی قرآن مجید کی تشریح و توضیح کا ذریعہ بنایا۔ اس حوالے سے وہ لکھتی ہیں:’’ حدیث، اللہ کی کتاب قرآن کی بہترین تفسیر ہے‘‘۔ اس تفسیر میں جگہ جگہ اقوال صحابہ اور سلف صالحین کے اقوال سے بھی استدلال کیا گیا ہے ۔غرض کہ یہ تفسیر، تفسیر بالماثور کا بہترین نمونہ ہے ۔

انھوں نے تفسیر میں اسلام کو ایک مکمل نظام حیات کے طور پر پیش کیا ہے، اوراللہ تعالیٰ کے احکام کی عصری معنویت کو پیش نظر رکھا ہے ۔ قرآن مجید کے معنی و مطالب اور احکام کو ہمارے موجودہ زمانے کے حالات سے سچی اور مخلصانہ کوشش کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے ،تاکہ ان احکام کی رہنمائی میںاور ان مطالب کے دائرے میں ہمارے موجودہ حالات کو سنوارا جاسکے۔ اکثر وبیش تر متجددین ،مغربی مصنّفین اور مستشرقین اپنی کج روی میں یہ کہتے ہیں کہ ’’قرآنی تفاسیر میں ’مردانہ سوچ‘ غالب ہے اور نسائی اپروچ (Feministic Approach)کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں خواتین کو سماجی میدانوں میں نظر انداز کیا جاتا ہے‘‘۔ اس طرح مستشرقین ،متجددین اور ’فیمی نزم‘ کے علَم برداروں نے قرآن مجید کی ایسی تعبیر یں پیش کیں، جو ان کی مذموم ذہنی اختراعات اور موشگافیوں پر مبنی ہیں۔ ’فیمی نزم‘ کی علَم بردار خواتین ڈاکٹر فاطمہ مرنیسی ، ڈاکٹر آمنہ ودود ، اسماء برلاس ،  رفعت حسن وغیرہ نے اس اختراع کو عام کرنے کی کوششیں کیں ۔ان ’فیمی نسٹ‘ خواتین کا کہنا ہے کہ عالم اسلام میں خواتین کے حقوق غصب کرنے کے لیے دینی مصادر کی تشریح اپنی اپنی مرضی سے کرکے خواتین کے حقوق اور مقام کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ حالانکہ مسلم عالمات و فاضلات خواتین نے بھی تفاسیر لکھیں توانھوں نے روایتی فکر اور منہج کو ہی آگے بڑھایا ۔انھی میں سے ایک یہ تفسیر زینب الغزالی نے لکھی ہے، جس میں خواتین کی نفسیات و ضروریات ، جزبات و احساسات اور ان کے رجحانات کا بھرپورخیال رکھا گیا اور جہاں جہاں خواتین کے مسائل اور احکامات کے بارے میں ہدایات ہیں، ایک خاتون نے ہی ان کی مدلل تفسیر بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ۝۰ۭ (النساء۴ :۳۴) مرد عورتوں کے جملہ معاملات کے ذمہ دار اور منتظم ہیں اس لیے اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور اس لیے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں ۔

زینب الغزلی لکھتی ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طے کیا جارہا ہے کہ مرد، عورتوں پر ذمہ دار ہیں اور ان کو خاندان میں قیادت کا حق ہے ۔اس سے گھر میں عورت کے ذمہ دار ہونے اور گھر کی ملکہ ہونے کی نفی نہیں ہوتی ہے۔اسے حق ہے کہ اپنے گھر یلو معاملات میں تصرف کرے، تاکہ خاندان کے مفادات کی حفاظت ہو اور اس کا اتحاد اور یک جہتی قائم ہو ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد بیوی اور اولاد پر خرچ کرنے کا ذمہ دار ہے۔اسی طرح وہ گھریلو امور و معاملات میں اپنی بیوی کے ساتھ شریک ہے ۔ان دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن اور حدیث سے منہج اختیار کریں، کیوں کہ خاندان امت کا پہلا مدرسہ ہے اور بیوی اپنے گھر کے اندر اپنے خاندان کے امور و معاملات کی ذمہ دار ہے ۔شوہر اور اولاد کی سلامتی کے بارے میں اس سے اللہ کے سامنے سوال کیا جائے گا۔یہ سب اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب عورت رضا مندی ،محبت اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کے ساتھ اپنے اُوپر مرد کے قوام ہونے کو عین انصاف اور اپنے مفاد میں مان لے ،کیوںکہ یہ ذمہ داری مرد کو عورت کے ساتھ انصاف کرنے اور بہترین معاملات کرنے کا مکلف بناتی ہے ہراس چیز میں جس کی عورت کو ضرورت پڑتی ہے ‘‘.... مرد کے’ قوام‘ ہونے کا صحیح فہم عورت کو اپنے شوہر پر بھروسا اور اس پر اطمینان پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ازدواجی زندگی پُرامن اور پایدار بن جاتی ہے ۔اس طرح عورت اپنے گھر کو چلانے اور اپنی اولاد کی تربیت کے لیے فارغ ہوجاتی ہے ‘‘۔

 مفسرہ ہر سورہ کے آغاز میں نہایت عمدہ اور جامع تعارف پیش کرتی ہیں ۔ مثال کے طور پر سورئہ فاتحہ کا مختصر و جامع تعارف کراتے ہوئے لکھتی ہیں کہ: ’’فاتحہ الکتاب ،یہ سب سے پہلی سورہ ہے جو پوری سات آیتوں کے ساتھ یکبارگی نازل ہوئی ہے ۔یہ جامع سورت ہے۔اس کی آیات میں قرآن مجید کے سبھی مقاصد ،عقیدہ اور تشریع کو جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔اس کی چھوٹی چھوٹی چندآیتوں میں توحید ،توکل، مشرکین، گمراہوں اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل نہ کر کے ان کو معطل کرنے والوں کا کافی و شافی بیان ہے‘‘(ص:۴۱)۔

دارالتوزیع والنشر، قاہرہ نے شائع کیا ہے۔ ڈاکٹر عبد الحمید اطہر ندوی نے اس تفسیر کو اردو جامہ پہنایا۔ یہ ترجمہ بہت ہی آسان زبان میں ہے اور اصل تفسیر کی روح کو اُردو میں منتقل کیا گیا ہے۔ اردو ترجمہ کا مقدمہ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب نے لکھا ہے ۔ علاوہ ازیں تقریظ کے طور پر مولانا امین عثمانی مرحوم کی تحریر بھی جلد اول میں شامل ہے۔ یہ دعوتی نوعیت کی ایک بہترین تفسیر ہے اور مرووخواتین کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ المنارپبلشنگ ہاوس ،نئی دہلی نے ۲۰۲۰ء میں اس کو شائع کیا ہے ۔