۲۰۲۲ فروری

فہرست مضامین

اسلام: عصر حاضر اور مستقبل کا مذہب!

سیّدابو الاعلیٰ مودودی | ۲۰۲۲ فروری | نظامِ حیات

Responsive image Responsive image

مغربی میڈیا کے سوالوں کے جواب

[مختلف اوقات میں مختلف مغربی ذرائع ابلاغ کے نمایندوں نے مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے انٹرویو لیے۔ یہاں ہم انھی سوال و جواب کا ایک انتخاب مرتب کرکے پیش کر رہے ہیں۔ س م خ]

۲۵ نومبر ۱۹۷۵ء اور ۱۵جنوری ۱۹۷۶ء: بی بی سی ، لندن کے نمایندے ولیم کرالے نے یہ انٹرویو لیا، جسے حفیظ الرحمٰن احسنؒ [م:۲۲ فروری۲۰۲۰ء] نے ٹیپ کرلیا۔ یہ مکالمہ زیادہ تر اردو میں ہوا تھا۔[ہفت روزہ آئین،لاہور]

  •  بی بی سی :کیا آپ پاکستان کے دستور۱۹۷۳ء میں شامل اِسلامی دفعات پر مطمئن ہیں؟
    • سیّد مودودی: جی ہاں، ہم ان دفعات پر مطمئن ہیں اور درحقیقت [پاکستان کے] دستور میں ان دفعات کو شامل کرنے کے لیے ہم نے مسلسل جدوجہد کی ہے۔
  • بی بی سی :مثلاً اِسلامی نظریاتی کونسل وغیرہ؟
    • سیّد مودودی: اِسلام سے متعلق ہر وہ چیز جو دستور میںشامل ہے، دراصل ہماری [اجتماعی] کوششوں کے نتیجے میں شامل کی گئی ہے۔ جہاں تک اِن دفعات کے شامِل آئین ہونے کا تعلق ہے اس پرتو ہم مطمئن ہیں، لیکن اس بات پر مطمئن نہیں ہیں کہ ان پر عمل درآمد کِس طریقے سے ہورہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دفعات کو سردخانے میں ڈال دیا گیا ہے اور نہ صرف یہ کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ جتنے کام بھی کیے جار ہے ہیں وہ ان کے برعکس کیے جا رہے ہیں۔
  • بی بی سی :پاکستان کا موجودہ قانونی ڈھانچا ’اینگلو سیکسن قانون‘ کی بنیاد پر قائم ہے۔ کیا آپ اِسلام کے شرعی قوانین کو نافذ کرنے کے لیے پاکستان کے موجودہ قانونی نظام میں بنیادی تغیرات لائیں گے؟
    • سیّد مودودی: ہم صِرف اتنا ہی نہیں چاہتے کہ محض قانونی نظام [legal system] کو تبدیل کیا جائے، بلکہ ہمارے پیشِ نظر پورے معاشرے کو اسلامی بنیادوں پر استوار کرنا اور پورے نظامِ حکومت کو تبدیل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے صِرف قانونی نظام کو تبدیل کرنا کافی نہیں ہو سکتا۔

قانونی نظام کے ساتھ ایک بڑا تعلق ملک کے تعلیمی نظام کا ہے۔ اگر نظامِ تعلیم افرادِ قوم کو مسلمان بنانے والا نہ ہو تو محض قانونی نظام کے نفاذ سے اِسلامی معاشرے کی تشکیل کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہی معاملہ ملک کے معاشی نظام کا ہے۔ اگر اسے صحیح اِسلامی خطوط پر استوار نہ کیا جائے تواس صورت میں محض قانونی نظام کی اصلاح مفید اور مؤثر ثابت نہیں ہوسکتی۔ اس بنا پر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری پوری معاشرتی زندگی ، اِسلام کے مطابق ہو۔ ہماری حکومت کی نمایاں پالیسیاں اسلام کے مطابق ہوں اور حکومت کے سارے معاملات صحیح اِسلامی خطوط پر انجام پائیں۔

اس مقصد کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ سروسز کی ٹریننگ کے تمام اداروں کا تعلیمی اور تربیتی ڈھانچا تبدیل کیا جائے۔ سِول سروس کے تمام شعبوں اور فوج کی تربیت کے اداروں میں بھی اسلام کی اخلاقی تعلیم دینے کا انتظام کیا جائے اور زیرِ تربیت افسروں کے دِلوں میں اِسلام کا صحیح شعور [creed] بٹھایا جائے۔ اِن کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کی جائے، لیکن یہ کام نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس صورتِ حال یہ ہے کہ انگریزی حکومت کے زمانے میں سروسز کو جس طرز پر ٹریننگ دی جاتی تھی، اسی طرز پر اب بھی دی جا رہی ہے۔ اِسلامی تربیت کی کوئی فکر اب تک نہیں کی گئی۔ اس لیے ہمارے نقطۂ نظر سے محض لیگل سسٹم [قانونی نظام] میں تبدیلی کافی نہیں ہے۔ ہم مکمل تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔

  • بی بی سی:آپ نے ہر شعبۂ زندگی سے متعلق اداروں میں اسلامی تعلیم و تربیت کو لازمی قرار دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ایک جدید ریاست کی معیشت کو خالص اِسلامی اصولوں کے مطابق کیوں کر چلایاجاسکتا ہے؟
    • سیّد مودودی: ہم نے یہ بات ثابت کرنے میں کئی سال صرف کیے ہیں کہ ایک جدید ریاست کو مکمل طور پر اِسلام کے عطا کردہ اصُولوں پر چلایا جاسکتا ہے اور صرف چلایا ہی نہیں جاسکتا، بلکہ ثابت کیا جاسکتاہے کہ اسلامی بنیادوں پر قائم ہونے والی جدید ریاست دوسری تمام جدید ریاستوں سے زیادہ کامیاب اور بہتر ہے۔ چنانچہ ہماری کوشش صِرف یہی نہیں ہے کہ ہم پاکستان میں اِسلام کو نافذ کر کے یہ بتائیں کہ اِسلام کی بنیادوں پر ایک جدید ریاست چل سکتی ہے، بلکہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس جدید ریاست کو دیکھ کر دُنیا کی دوسری جدید ریاستیں اس بات کی قائل ہوجائیں کہ یہ ریاست ہم سے کہیں بہتر اور فائق ہے۔ اسلامی ریاست کے اصول باقی تمام سیاسی نظاموں پر فوقیت رکھتے ہیں… دُنیا کے مسلمان ممالک میں بھی ایک  [طاقت ور] عنصر موجود ہے جو اِسلام کے حقیقی اصولوں پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہے۔
  • بی بی سی: آپ پرانے طریقے کی طرف کیوں go back[واپس پلٹنا] چاہتے ہیں؟
    • سیّد مودودی: آپ نے یہ جو کہا ہے کہ ہم ایک پرانے طریقے کی طرف واپس کیوں جانا چاہتے ہیں تو [اس میں] یہ go back کا لفظ غلط ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ انسان کے لیے خدا کی طرف سے جو ہدایت آئی ہے وہ سب سے قدیم بھی ہے اور سب سے جدید بھی۔ خُدائی ہدایت کسی وقت اور مقام کی پابند نہیں ہے، [بلکہ] یہ ایک ازلی اور ابدی چیز ہے۔ اس وجہ سے go back کا لفظ استعمال کرنا بے معنی ہے۔

Truth is always truth, it can not be old or new, at any time and at every place it is truth

[صداقت ہرحال میں صداقت ہے، اس کے قدیم یا جدید ہونے کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔ صداقت ہر عہد میں اور ہر مقام پر صداقت ہے۔]

جرائم کے خاتمہ میں اسلامی قانون کا کردار

  • بی بی سی:اِسلامی قانون کے بعض پہلوؤں، مثلاً قانونِ تعزیرات [criminal laws]کے بارے میں جدید ذہن کے اندر بعض اعتراضات اور شبہات پائے جاتے ہیں۔ موجودہ دور کی جدید مسلم ریاستیں بھی ان قوانین کو ترک کر چکی ہیں۔ شاید آپ اتفاق کریں کہ یہ تعزیری قوانین دراصل قرونِ وسطیٰ کی سوسائٹی کے لیے وضع کیے گئے تھے اور یہ قوانین [موجودہ] معاشرے کے لیے زیادہ موزوں نہیں ہوسکتے۔ اب جرم اور سزا کے بارے میں تصورات بھی تبدیل ہو چکے ہیں، اس لیے یہ معاملہ مذہبی نقطۂ نظر سے زیادہ معاشرتی ہے۔ کیا آپ اس بدلے ہوئے زمانے میں، اس دور کے تبدیل شدہ رویوں کے برعکس ان قوانین کو ان کی اسی پرانی شکل میں نافذ کرنا چاہیں گے؟
    • سیّد مودودی:آپ جس [عصر حاضر] کا ذکر کر رہے ہیں، اس میں امریکا اور یورپ کے اندر اور خود مسلمان ممالک کے اندر جِن میں اِسلامی قوانین پر عمل کرنا چھوڑ دیا گیا ہے، کیا [وہاں] ارتکابِ جرم کی رفتار [crime rate] بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے؟ کیا خیال ہے آپ کا؟
  • بی بی سی: in many countries it is increasing [بہت سے ممالک میں یہ رفتار بڑھ رہی ہے]۔
    • سیّد مودودی:ہمارے ہاں پنجاب کے بارے میں جو پولیس رپورٹ حال [۱۹۷۵ء] میں شائع ہوئی ہے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صرف ایک مہینے میں دو سو قتل ہوئے ہیں اور یہ رفتارِ جرم پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکا اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں رفتارِ جرائم کے بارے میں آپ [خوب] جانتے ہیں کہ اس وقت کیاہے اور وہ کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے؟ اب سوال یہ ہے کہ کِسی معاشرے میں جرائم کا موجود رہنا کچھ اچھا ہے؟
  • بی بی سی:اچھا نہیں ہے!
    • سیّد مودودی:اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ کے موجودہ criminal laws [تعزیری قوانین] جرائم کے خاتمے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ ان میں اضافے کے موجب بن رہے ہیں۔

اس کے برعکس ایک مسلمان ملک میں، جہاں اِسلام کا قانون صرف ایک حد تک ہی نافذ کیا گیاہے، یعنی چوری پر اِسلامی تعزیرات نافذ کی گئی ہیں، وہاں اس نے چوری کا خاتمہ کر دیا ہے۔ وہاں کیفیت یہ ہے کہ اگر آپ اپنا سامان سڑک پر چھوڑ کر چلے جائیں اور تین دن کے بعد واپس آئیں تو وہ آپ کو وہیں پڑا ملے گا، کوئی اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ اگر آپ اپنا گھر کھلا چھوڑ کر چلے جائیں اور کئی ہفتے کے بعد واپس آئیں تو آپ کو سارے گھر کا سامان جوں کا توں ملے گا۔ کوئی شحص گھر میں داخل تک نہیں ہو گا۔ یہ صرف اس چیز کا نتیجہ ہے کہ سعودی عرب میں ان سزائوں کے نفاذ پر شروع میں جو چند ہاتھ کاٹے گئے، ان کی وجہ سے چوری کا وہاں خاتمہ ہو گیا، تو کیا چند مجرموں کے ہاتھ کاٹ کر چوری ختم کر دینا بہتر ہے، یا یہ بہتر ہے کہ مجرموں کو جیل بھیج بھیج کر ان کو عادی مجرم بنایا جائے؟ وہ جیل سے نکلیں تو پھر چوری کریں اور پھر جیل جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے موجودہ تعزیری قوانین جرائم کی پرورش کر رہے ہیں، لیکن ہم اِسلامی قوانین کے نفاذ کے ساتھ جرائم کو ختم کر سکتے ہیں۔ اب کیا یہ بہتر ہے کہ ہم جرائم کو ختم کر دیں یا یہ بہتر ہے کہ جرائم ہوتے رہیں اور ان کے مؤثر انسداد کی کوئی تدبیر نہ کی جائے؟

  • بی بی سی:جدید معاشرے کے حالات و اطوار بہت بدل چکے ہیں۔ جرم اور سزا کا تصور بدل چکا ہے۔ ماضی کی اِسلامی ریاست میں اور موجودہ دور کی جدید ریاست میں بڑا فرق رونما ہو چکا ہے… شکاگو اور نیویارک جیسے بڑے بڑے شہروں کی معاشرتی کیفیت اور ساخت بالکل مختلف ہے۔ اس لیے ایک محدود شہری نظام کے لیے اگر اِسلامی سزائیں مفید بھی تھیں تو موجودہ بڑے بڑے شہروں کے لیے یہ کس طرح کارآمد ہو سکتی ہیں، جب کہ ان میں جرائم کا ہونا ایک حد تک فِطری بات ہے اور ان میں سزائوں کا عملی نفاذ کوئی آسان کام بھی نہیں؟
    • سیّد مودودی:آپ کا خیال یہ ہے کہ شکاگو اور نیویارک جیسے بڑے بڑے شہروں کی social life [معاشرتی زندگی] ہی ایسی ہے کہ ان کے اندر جرائم کا ہونا ایک فطری چیز ہے۔ اس لیے اس حالت کے خاتمے کے لیے ہاتھ کاٹنے جیسی سزائوں کا نفاذ ایک غیر ترقی پسندانہ بات ہے اور آپ کے خیال میں یہ عملاً ممکن بھی نہیں، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے اور اگر صرف چوری پر ہاتھ کاٹنے کا قانون جاری کر دیا جائے تو نیویارک اور شکاگو جیسے شہروں بلکہ پورے امریکا میں چوری کا ارتکاب کم ہو سکتا ہے۔ اس کا مکمل خاتمہ تو صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب کہ پورا سیاسی اور معاشرتی نظام اسلامی خطوط پر قائم کیا جائے، لیکن اسلامی سزائوں کے نتیجے میں بھی اس میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ اسلام کی تجویز کردہ سزائیں معاشرے سے جرائم کا مکمل انسداد کر سکتی ہیں اور ہم یہ چاہتے کہ پاکستان کے اندر اسلام کا مکمل ضابطۂ حیات جاری ہو اور اسلامی تعزیرات نافذ ہوں، پھر ہم دُنیا کو بتائیں گے کہ ہمارے ہاں جرائم کس طرح ختم ہو گئے ہیں۔ اگر ہمیں اس بات کا موقع ملا کہ ہم پاکستان میں صحیح اسلامی نظام قائم کر سکیں، ہم عملاً دُنیا پر یہ بات ثابت کر دیں گے کہ اِسلام کی بنیادوں پر ایک جدید ریاست چل سکتی ہے اور زیادہ بہتر طریقے سے چل سکتی ہے اور اِسلام کی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتاہے، جو جرائم سے پاک اور امن و امان کا گہوارہ ہوتا ہے۔

مجرم سے ہمدردی کا مغربی رجحان

  • بی بی سی:روایتی اِسلامی قانون کا یہ پہلو ایسا ہے کہ [آج کا] انسان اس کو قبول کرنے میں دقّت محسوس کرتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید ذہن کے لیے کسی جرم پر ایک شخص کا ہاتھ کاٹ کر اسے ایک عضو سے محروم کر دینا ایک وحشیانہ فعل معلوم ہوتا ہے… اسی لیے قرونِ وسطیٰ کے ایک نظام کو خواہ وہ اپنی جگہ پر مفید ہی تھا، جدید دَور میں رائج کرنا کُچھ عجیب سی بات معلوم ہوتاہے۔
    • سیّد مودودی: آپ کی موجودہ تہذیب، جسے آپ ’جدید تہذیب‘ کہتے ہیں، اسے جتنی ہمدردی مجرم کے ساتھ ہے، اتنی ہمدردی ان لوگوں کے ساتھ نہیں، جن پر جرم کا ارتکاب کیا جاتاہے۔

مثلاً ایک شخص کا بچہ کوئی اغوا کر کے لے جاتا ہے اور پھر اس کو اطلاع دیتا ہے کہ ’’اتنے ملین ڈالر مجھے دے دو تو بچّہ تمھیں مل جائے گا، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا‘‘ اور بعض اوقات وہ ایسا کر بھی گزرتا ہے، تو آپ کا کیا خیال ہے کہ اِس طرح کے آدمی کو پکڑ کر اگر کوئی سخت سزا دی جائے، مثلاً اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا جائے یا اس کی گردن اڑا دی جائے تو کیایہ وحشیانہ فعل ہو گا؟ یعنی آپ کے نزدیک والدین کو ان کے بچوں سے محروم کر دینا کوئی وحشیانہ حرکت نہیں، البتہ اس حرکت کے مرتکب کو اس کے جرم کی سزا دینا وحشیانہ فعل اور ظالمانہ فعل ہے، جس کی کم از کم ریاست کو ذمہ داری نہیں لینی چاہیے۔ آپ کی ساری ہمدردی اس شخص کے ساتھ ہے، جس نے ایک مجرمانہ اور غیر انسانی فعل کے ذریعے سے اپنے آپ کو مستوجبِ سزا ٹھیرایا ہے اور اس شخص کے بارے میں آپ بے حس ہیں، جسے ظلم اور سنگ دلی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ہم یہ کہتے ہیں کہ جو شخص معاشرے کے اندر جرم کا ارتکاب کر کے معاشرے کے امن و سکون کو غارت کرتاہے، وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو اتنی سخت سزا دی جائے کہ دوسروں کو اس سے عبرت ہو اور وہ اس قسم کے جرم کے ارتکاب کی جرأت نہ کر سکیں، یعنی ہمارے نزدیک سزا صرف سزا ہی نہیں ہے، بلکہ وہ ارتکاب جرم کو روکنے کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ جرم کی حوصلہ شکنی بھی کرتی ہے، چنانچہ ہماری ہمدردی مجرم کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ اس شخص کے ساتھ ہے جس پر ارتکابِ جرم کیا جاتا ہے اور اُس معاشرے کے ساتھ ہے جس کے اندر ارتکابِ جرم سے ناہمواری اور عدم ِتحفظ کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔

You think it is more social and more cultured to be a criminal. It is human to kill a man and it is inhuman to kill a murderer.

لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ اگر ہمیں موقع ملے تو ہم اِسلامی قوانین کو رائج کر کے دُنیا کو دکھا دیں کہ اِس طرح ایک پرامن معاشرہ [peaceful society] وجود میں آتا ہے۔ وہ معاشرہ مہذب اور ماڈرن بھی ہو گا اور امن و سلامتی کا گہوارہ بھی۔ اس کے قیام کے بعد آپ کے یہ سارے نام نہاد جدید تصورات و نظریات محض ایک داستانِ پارینہ بن جائیں گے۔ چنانچہ، اگر ہم اسلامی نظام زندگی کے قائل اور اسے دُنیا میں قائم کرنے کے آرزومند ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ہمارا قدیم مذہبی یا قومی نظام ہے، اور اس بنا پر اس کے ساتھ ہمیں محبت ہے، بلکہ اس کو ہم اس وجہ سے مانتے ہیں کہ وہ سرا سر ایک معقول اور عادلانہ نظام ہے، اور یہ ایک بالکل مطابق انصاف اور معقول بات ہے کہ سوسائٹی کو جرائم سے پاک کیا جائے۔ ہمارے نزدیک وہ معاشرہ نہایت بُرا ہے جس کے اندر جرائم پرورش پاتے ہوں، اور لوگوں کی ہمدردی کا اصل مرکز مجرم ہوں، نہ کہ وہ جن پر جرم کا ارتکاب کیا گیا ہو۔

مسلم اقلیتوں کا مطلوبہ کردار

  • بی بی سی: جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور وہاں اِسلامی قوانین نافذ نہیں بلکہ سیکولر نظام پایا جاتا ہے، ان ممالک میں مسلمانوں کا طرزِ عمل کیا ہو گا، جب کہ وہ کسی غیر اِسلامی قانون پر یقین نہیں رکھتے؟ کیا وہ اس قسم کی گورنمنٹ کے خلاف کوئی اقدام کریں گے؟
    • سیّد مودودی: نہیں، اگر ہم کسی غیر مسلم ریاست میں ہوں گے تو ہم اس ریاست میں یہ کوشش کریں گے کہ پرامن جمہوری ذرائع سے لوگوں کے خیالات کو تبدیل کریں اور دلائل کے ساتھ ان کو اِسلامی نظامِ زندگی کی معقولیت اور بَرتری کا قائل کریں۔ اس طریقے سے جب ہم اکثریت کے خیالات کو تبدیل کر لیں گے اور لوگوں کو اِسلامی نظامِ زندگی کا قائل کر لیں گے تو اس اکثریت کی بنا پر وہاں کا نظام تبدیل کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز جمہوری نقطۂ نظر سے بالکل درست ہو گی۔ ہم اس ریاست کے اندر غیر جمہوری ذرائع سے کوئی انقلاب نہیں لائیں گے۔

جمہوریت اور اسلام

  • بی بی سی: کیا آپ کے خیال میں جمہوریت کی اِسلامک سوشل فلاسفی کے اندر گنجایش پائی جاتی ہے؟
    • سیّد مودودی: Yes, but not in the western meaning. In western political philosophy sovereignty rests with people but in Islam it rests with God.

[جی ہاں، لیکن اہلِ مغرب کے نظریے کے مطابق نہیں۔ مغربی فلسفۂ سیاست میں تو  اقتدارِ اعلیٰ کے مالک عوام ہوتے ہیں، لیکن اِسلام میں اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔]

اس بنیادی فرق کے باوجود ہمارا نظامِ حکومت ایسا ہو گا کہ اس میںریاست کے سربراہ کا انتخاب لوگوں کی کثرتِ رائے کے ذریعے سے ہو گا۔ لوگوں کے نمائندے ان کی رائے سے منتخب ہوں گے، اور پارلیمنٹ ان منتخب نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔ کوئی حکومت،عوام الناس کا اِعتماد کھودینے کے بعد قائم نہیں رہ سکے گی۔ اس حد تک جمہوریت ہمارے ہاں موجود ہے۔ گویا، اللہ تعالیٰ کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کی مشینری جمہوری طریقے پر اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین نافذ کرے گی، عوام خود مقتدرِ اعلیٰ نہیں ہوں گے۔

  • بی بی سی:کیا اِس وقت ان معنوں میں کوئی صحیح اِسلامی جمہوری ریاست پائی جاتی ہے؟ یا ماضی قریب میں ایسی کوئی ریاست موجود تھی؟
    • سیّد مودودی: اگر فرض کیجیے کہ کِسی مسلمان ملک میں اس قسم کا اِسلامی جمہوری نظام موجود نہیں ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیںہے کہ اِسلام کا دیا ہوا جمہوری تصورِ ریاست اور قانونِ حکمرانی ناقص ہے، بلکہ یہ صورتِ حال ان لوگوں کی غلطی کا نتیجہ ہے جو مسلمان بھی کہلاتے ہیں، لیکن اِسلام کے جمہوری نظام کو رائج نہیں کرتے۔ چنانچہ ہماری کوشش یہ ہے کہ مسلمان، جہاں کہیں بھی ہیں، وہ محض Professing Muslims [نام کے مسلمان] نہ رہیں، بلکہ Practicing Muslim [عملی مسلمان] بنیں۔
  • بی بی سی: آپ موجودہ دور میں حکومت کا نظام کن خطوط پر استوار کریں گے؟
    • سیّد مودودی: اگر آپ جماعت اِسلامی کے Manifesto [منشور] کا مطالعہ کریں تو آپ کو پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم اِسلامی اصول ِحکمرانی پر مبنی ایک جمہوری حکومت کس طرح قائم کریں گے اور اس کے نمایاں خدوخال کیا ہوں گے۔

معاشرے میں عورت کا مقام اور کردار

  • بی بی سی: ایک اور اہم مسئلہ ہے سوسائٹی میں عورت کے مقام اور حیثیت کا۔ اس معاملے میں اسلامی اقدار، مغرب کی صنعتی طور پر ترقی یافتہ سوسائٹی کی اقدار سے قطعی طور پر مختلف اور متضاد ہیں۔ آپ کی رائے کیا ہے اس معاملے میں، کہ کیا جدید زمانے کے بدلے ہوئے حالات اور جدید تہذیبی قدروں کی روشنی میں معاشرے کے اندر عورت کے بارے میں اِسلام کے نقطۂ نظر میں کوئی ترقی پسندانہ تبدیلی ممکن ہے؟
    • سیّد مودودی: دیکھیے ، آپ کے خیال میں آپ کی جو جدید تہذیب اور ماڈرن کلچر ہے، آپ سمجھتے ہیں کہ تہذیب اور ثقافت کا یہی ایک standard [معیار] ہے۔اس معیار پر آپ دوسری ہرتہذیب و ثقافت کو پَرکھتے ہیں، لیکن ہم اس کو نہیں مانتے۔ آپ اپنی جِس تہذیب اور کلچر کو ’ماڈرن‘ کہہ کر اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک backward [پس ماندہ] اور فرسودہ چیز ہے اور یہ تباہ کر رہی ہے آپ کی پوری سوسائٹی کو اور آپ کے پورے نظامِ تمد ّن کو۔ ہم نہیں چاہتے کہ اِس ’ماڈرن کلچر‘ کو اپنی سوسائٹی میں لائیں اور اسے بھی تباہ کر لیں۔

آپ کی جدید تہذیب یہی ہے نا کہ آپ نے اپنے ہاں خاندانی نظام کا خاتمہ کر دیاہے۔ آپ نے عورت کا جو مقام و مرتبہ سوسائٹی کے اندر متعین کیا، اِس کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ آپ نے عورتوں کے اخلاق بھی برباد کیے اور مردوں کے بھی۔ آپ نے لوگوں کو اخلاقی پستی کی انتہا تک گرا دیا۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی وہاں تک گر جائیں؟ ہم اس کے لیے تیار نہیں۔ ہم اپنی سوسائٹی کو ان تمام برائیوں سے پاک رکھنا چاہتے ہیں، جو آپ کی ماڈرن سوسائٹی میں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے نزدیک ترقی اور چیز ہے اور نام نہاد ماڈرن سوسائٹی کی بُری عادات و اطوار او رچیز۔ ہم ترقی کے قائل ہیں اور وہ ہم ضرور کریں گے، لیکن اس شکل میں نہیں کہ جِس طرح آپ کر رہے ہیں، ہم اس کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس کے بجائے ہم اپنے اصولوں پر تعمیر و ترقی کریں گے اور وہی صحیح معنوں میں تعمیر و ترقی شمار ہو گی۔

  • بی بی سی:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عورت کا مقام گھر کے اندر ہے اور اس کی معاشرتی زندگی کے جملہ معاملات اس کے شوہر سے ہی وابستہ ہونے چاہییں، اور وہ دوسرے مردوں سے رابطہ نہیں رکھ سکتی۔ اس صورت میں کیا آپ یہ بھی پسند نہ کریں گے کہ عورتیں ڈاکٹر یا معلمات بنیں؟
    • سیّد مودودی: جی ہاں، اسلامی اُصولِ معاشرت کی رُو سے عورت کا مقام اس کا گھر ہے اور اس میں مرد کی حیثیت نگران اور قو ّام کی ہے۔ البتہ جہاں تک عورتوں کے تعلیم پانے اور ڈاکٹر یا معلمہ وغیرہ بننے کا سوال ہے تو ہم نہ صرف یہ کہ اس کو درست سمجھتے ہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی خواتین کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں، لیکن اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ایک مسلمان عورت یہ سمجھتی ہے کہ اس کا اصل دائرہ کار اس کا گھر ہے۔ ہماری خواتین ڈاکٹر بھی بنیں گی لیکن وہ عورتوں کا علاج کریں گی، مردوں کا نہیں۔ ہم عورتوں کا ڈاکٹر بننا اِس لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کا علاج کریں اور عورتوں کو مردوں سے علاج نہ کرانا پڑے۔

ہم یہ چاہتے ہیں کہ عورتیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معلمات اور لیڈی لیکچرار اور پروفیسر بنیں، تاکہ وہ ہماری بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دے سکیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہماری عورتوں کو مرد پڑھائیں۔ چنانچہ ہمارے ملک میں ایسے بے شمار کالج موجود ہیں، جن میں صِرف خواتین پڑھاتی ہیں اور تمام علوم و فنون کی تعلیم دیتی ہیں۔ وہ سائنس بھی پڑھاتی ہیں اور دوسرے جدید علوم بھی۔    اِسی طرح دوسرے شعبوں میں بھی جہاں ضروری ہو ،ہم اپنی خواتین کو اعلیٰ تعلیم و تربیت سے آراستہ کرتے ہیں۔ لیکن ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ ہم اس اصول کو ہر گز تبدیل نہیں کریں گے کہ مسلمان عورتوں کا اصل مقام ان کا گھر ہے۔ مسلمان عورت سے ہم جو بھی کام لیں گے، وہ اس کے گھر کے اندر اور عورتوں کی سوسائٹی کے اندر لیں گے۔

عائلی قوانین اور عورت کا تحفظ

  • بی بی سی:جیسا کہ آپ نے فرمایا یہ درست ہے کہ مغربی سوسائٹی میں خاندانی نظام انتشار کا شکار ہے، لیکن اسلامی قانون کا یہ پہلو بھی غورطلب ہے کہ اس میں طلاق کے ذریعے شادی کے بندھن کو ختم کر دینا بہت آسان ہے۔ خاص طور پر موجودہ فیملی لاز [عائلی قوانین] سے پہلے تو ایسا ہی تھا۔ کیا یہ چیز عورتوں کے لیے عدم تحفظ کا موجب نہیں ہے؟
    • سیّد مودودی: طلاق میں اس آسانی کے باوجود آپ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں طلاقوں کی شرح بہت کم ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ مغربی ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے۔ وہاں خاندانی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ میں نے مغربی معاشرے اور مغربی تہذیب کی اس صورتِ حال کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔

ہمار ے یہاں تو کبھی اتفاق سے یہ سننے میں آتا ہے کہ کِسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اس پر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ اس طرح طلاق ہمارے ہاں آسان ہونے کے باوجوود عملاً ایک rare [کم یاب ] چیز ہے۔٭  لیکن آپ کے ہاں جو حالات ہیں وہ آپ خود جانتے ہیں کہ وہاں طلاقوں کی کِس قدر بھَر مار ہو رہی ہے۔

[٭یہ اب سے تقریباً نصف صدی پہلے کی بات ہے، لیکن اتنے عرصے میں مغربی تہذیب کی محبت اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے مغربی تمدن کی غلامی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب یہاں پر بھی طلاق و خلع کی رفتار کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔]

  • بی بی سی: مغربی سوسائٹی میں طلاقوں کی یہ کثرت عورتوں کے لیے کچھ زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ وہ معاشی طور پر آزاد ہیں اور مَرد کی محتاج نہیں ہیں، جب کہ اسلامی معاشرہ میں عورت کی یہ پوزیشن نہیں ہے؟
    • سیّد مودودی: آپ کو معلوم نہیں ہے کہ مسلمان عورت اپنے باپ سے ورثہ پاتی ہے، اپنے شوہر سے اور اپنے بیٹے سے بھی اس کو حصّہ پہنچتا ہے ۔اس طرح جِس شکل میں بھی اس کو کوئی ورثہ ملتاہے، وہ اس کی خود مالک ہوتی ہے اور اس کا شوہر، باپ، بیٹا یا کوئی اور شخص اس کو اس سے محروم نہیں کر سکتا۔ اِسی طرح ایک مسلمان عورت کاروبار کر سکتی ہے اور ان اداروں میں ملازمت کرسکتی ہے جن کا دائرۂ کار خواتین تک محدُود ہے۔ اس طرح اس کو معقول طریقے سے جو معاشی آزادی حاصل ہو سکتی ہے، ہم اِس کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ہم ایسی معاشی آزادی کو درست نہیں سمجھتے جس کے نتیجے میں وہ بالکل آزاد ہو جائے اور جِس کے نتیجے میں معاشرے کے اندر طلاقوں کی اس طرح بھرمار ہو جائے جیسی کہ مغربی معاشرے میں پائی جاتی ہے۔ جس سوسائٹی میںdivorce rate  [طلاق کی شرح] اس قدر بڑ ھ جائے، وہاں ان بچوں کا کیا حشر ہو گا، جِن کی مائوں نے طلاق لے لی ہو۔ طلاق لے کر پہلے وہ ایک شخص سے شادی کریں پھر کسی اور شخص سے اور پھر کسی اور شخص سے اور ادھر بچوں کا حال یہ ہو کہ کوئی ان کا والی وارث نہ ہو۔ آپ کے ہاں نئی نسل جرائم کی کیوں عادی ہوتی جارہی ہے اور Teen-agers [نو عمر طبقے ] میں جرائم کیوں ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں؟

آپ یہ تسلیم کریں گے کہ ایسی بات خُدا کے فضل سے ہمارے ہاں تقریباً ناپید ہے، اور ایسا شاذو نادر ہی کبھی ہوتا ہو گا کہ کِسی خاندان میں طلاق کے نتیجے میں بچے بگڑ کر مجرم بن جائیں۔ تو اس لحاظ سے ہم اپنے آپ کو مغربی معاشرے سے کہیں زیادہ بہتر اور قابلِ رشک پوزیشن میں پاتے ہیں اور یہ چیز اِسلام کے ان معاشرتی اصولوں کی بدولت ہے، جو ہمارے معاشرے میں اب تک برقرار ہیں اور ان کی پابندی کی جاتی ہے۔

بھارت کی مسلم کش پالیسی

  • بی بی سی: کیا آپ بھارت کے موجودہ حالات میں بھارتی مسلمانوں کی اخلاقی مدد اور حمایت کرنا چاہتے ہیں؟
    • سیدمودودی: بالکل، ہم بھارتی مسلمانوں کو moral support [اخلاقی مدد] دینا ضروری سمجھتے ہیں اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ دُنیا کی رائے عامہ کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ بھارت میں مسلم کشی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے اور بھارتی حکومت پر یہ دبائو ڈالے کہ وہ وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ عدل و انصاف کے ساتھ کام لے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر مسلسل ظلم و زیادتی کی جا رہی ہے، ظلم و زیادتی ہی نہیں، بلکہ ان کی نسل کشی کی جارہی ہے، جو کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھی جرم ہے۔ لیکن چونکہ بھارت ایک بڑا ملک ہے، اس لیے اس سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کر رہاہے؟ ہم یہ چاہتے ہیں کہ دُنیا کی رائے عامہ اس معاملے میں بھارت پراپنااخلاقی دبائو ڈال کر اسے اس نسل کشی سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔٭

[٭ نصف صدی گزرنے کے بعد آج، بھارت میں مسلمانوں کے وجود کو لاحق خطرات کی شدت میں وسعت آئی ہے۔ راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ (RSS) کی فسطائی حکمرانی کو جمہوری ووٹ کی مدد میسر ہے اور دنیا بھر کے کاروباری مفادات کے بھوکے ملکوں اور کثیر ملکی کمپنیوں کی معاشی ہوس بھی ساتھ ساتھ ہے۔ لیکن اقوام متحدہ اور مسلم دنیا کے سیاہ و سفید پر قابض حکمران طبقے بے حس خاموش تماشائی ہیں۔مرتب]

  • بی بی سی: آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ آیا تصنیفی کام میں تاریخی تحقیق کے جدید اصول اختیار کیے جا سکتے ہیں؟
    • سیّد مودودی: آپ تاریخی تحقیق و مطالعے کے جس ماڈرن سِسٹم کا حوالہ دے رہے ہیں، میرا خیال یہ ہے کہ اس مقابلے میں ہمارے ہاں جو طریقِ تحقیق ہے، اس کا ماڈرن ریسرچ اسکالرز کو کبھی خیال بھی نہیں آیا ہو گا۔ ہمارے ہاں جس طریقے سے روایات کو تحقیق و جستجو اور    چھان پھٹک کے بعد قبول کیا جاتا ہے، اس کا اہتمام کسی دور میں بڑے سے بڑے علمائے تاریخ نے کبھی نہیں کیا۔ ہمار ے ہاں روایات کی صحت کو عقلی معیار پر جانچنے کے ساتھ ساتھ ان کی اسناد کی تحقیق کی جاتی ہے۔ جب یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ان کی سند پُوری طرح متصل ہے اور اس میں سے کوئی کڑی غائب یا کمزور نہیں ہے، تب ان روایات کو قبول کیا جاتا ہے۔ احادیث اور کتب سیرت میں رسول اللہﷺ سے منسوب تمام روایات کو اس طریقِ تحقیق پر جانچنے کے بعد ان کو قبول یا رَد کیا جاتا ہے۔ آپ کے موجودہ ریسرچ سکالرز اِس طرزِ تحقیق سے بالکل ناآشنا ہیں۔
  • بی بی سی: میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے یہ گراں قدر لمحات مجھے عطا فرمائے۔ یہ میرے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ اب میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔بہت بہت شکریہ، خدا حافظ۔

     

[۲]

  • سوئس ٹیلی ویژن: آپ کے خیال میں پاکستان کا مقصدِ تخلیق پُورا ہو گیا ہے؟٭
    • سیّد مودودی: میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ابھی پُوری طرح وہ مقصد پُورا نہیں ہوا، تاہم اس نہج پر کچھ کام ہو رہا ہے اور مزید کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کچھ عرصہ کام ہوتا رہا تو وہ دن دُور نہیں جب پاکستان اپنے حقیقی مقصدِ وجود کو پالے گا، اور اس راہ میں موجود پیش آمدہ رکاوٹیں جن کے بہت سے تاریخی اسباب ہیں، ان شاء اللہ دُور ہو جائیں گی۔

[٭جرمن نژاد ڈاکٹر پیٹرشمڈ نے ۲۴ جون ۱۹۶۸ء کو Swiss TV کے لیے یہ انٹرویو فلم بند کیا، جس کا انگریزی سے اُردو ترجمہ پیش ہے۔ (ہفت روزہ ایشیا، لاہور، ۲۱ جولائی ۱۹۶۸ء)]

  • سوئس ٹیلی ویژن: جن لوگوں کے سامنے یہ انٹرویو ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا، وہ اصل مسئلے یعنی ’’پاکستان کس لیے حاصل کیا گیا؟‘‘ سے واقف نہیں ہیں، اس لیے آپ اپنے جواب کی تشریح کر دیں، تاکہ اصل مسئلہ نکھر کر سامنے آجائے۔
    • سیّد مودودی : اصل معاملہ یہ ہے کہ ہمارے اس ملک پر تقریباً ۱۹۰ سال تک انگریزی حکومت رہی ہے۔ اس بیرونی حکومت کے زمانے میں ہمارا نظامِ تعلیم بدل کر رکھ دیا گیا اور ایسا نظامِ تعلیم رائج کیا گیا، جو اُس دَور [غلامی] کے لیے کَل پُرزے فراہم کرنے کے لیے مناسب اور موزوں تھا۔ اسی طرح ہمارے قوانین تبدیل کر دیے گئے۔ ہمارے ملک کے تجارت کے طورطریقے، ہمارا معاشی نظام، اسلامی تہذیب و ثقافت، غرض ہر چیز کو تبدیل کر دیا گیا۔

اعلانِ آزادی کے بعد قدرتی طور پر اس ملک کے مسلمانوں کی خواہش یہ تھی اور اس خواہش کے لیے برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں نے قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا تھا، کہ اس خطۂ زمین میں اُنھیں اپنے طرزِ تمد ّن اور اپنے قوانین، اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے مطابق زندگی بسر کرنے کا موقع ملے، لیکن ۱۹۰سالہ انگریزی دَورِ غلامی اور مروّجہ نظامِ تعلیم کی وجہ سے ملک میں وہ لوگ موجود نہیں تھے اور نہ تیار کیے گئے تھے جو اسلامی قوانین کو اچھی طرح سمجھتے ہوں اور ان پر نظامِ مملکت کو چلا سکیں۔ معدودے چند لوگ جو یہ صلاحیت رکھتے تھے ، اُنھیں اس نظام کو عملاً چلانے کا نہ موقع ملا اور نہ کوئی اختیار ان کے پاس تھا، اور جن لوگوں کے پاس اختیارات تھے، وہ زیادہ تر ایسے تھے کہ اسلام کو ایک نظامِ زندگی کی حیثیت سے سمجھتے ہی نہ تھے کہ اس کے مطابق معاملات چلاسکیں، اور ان میں سے کچھ اسلام کے مطابق اپنے معاملات چلانے کا ارادہ ہی نہ رکھتے تھے۔

ہم اس اصل سبب کو سمجھتے ہیں اور اس وجہ سے بڑے صبر کے ساتھ مدّت سے اُن اسباب کو دُور کرنے کی فکر کر رہے ہیں، جو اس راہ میں اصل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر اسی طرح صبر اور حکمت کے ساتھ مسلسل کام کیا جائے تو ان شاء اللہ ایک وقت آئے گا جب پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی اسٹیٹ بن جائے گا اور ایک صحیح اسلامی معاشرہ وجود میں آجائے گا۔

مغربی تہذیب کے بڑھتے ہوئے اثرات

  • سوئس ٹیلی ویژن: میں محسوس کرتا ہوں کہ اس ملک [یعنی پاکستان] میں مغربی تہذیب کے اثرات زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں اور نوجوان زیادہ تر ان اثرات کو قبول کر رہے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے اور کیا اس کا علاج ہو سکے گا؟
    • سیّد مودودی: مغربی تہذیب اور دوسرے بیرونی نظریات ہماری اصل قومی روایات کے متضاد ہیں۔ ہماری قومی روایات کو پنپنے کا موقع دیا جائے تو مجھے قوی اُمید ہے کہ بالآخر ہماری قومی روایات مغربی تہذیب کے اثرات اور دوسرے بیرونی نظریات پر غالب آجائیں گی۔

ہماری قومی روایات ملک کی صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتیںاور نہ ہمارا دین مغربی ٹکنالوجی یا سائنسی ترقی کی راہ میں حائل ہے،بلکہ ہمارا دین صرف اسلامی اخلاقی اورسماجی اُصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے اگر صحیح نہج پر کام کیا جائے تو ہماری اپنی مثبت روایات، مغربی تہذیب کے تباہ کن اثرات پر چھا جائیں گی۔ بیرونی نظریات کو پھر اس ملک میں پنپنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔

عورت کی آزادی اور مخلوط معاشرت

  • سوئس ٹیلی ویژن: Emancipation of Women [عورتوں کی خود اختیاریت] کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
    • سیّد مودودی: ہمارے نزدیک اس نعرے نے یورپی ممالک کے خانگی اور معاشرتی ڈھانچے کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے، اور ہم اُن کو تباہی کے گڑھے میں گرتے ہوئے دیکھ کر، اُن کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اسی گڑھے میں گرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
  • سوئس ٹیلی ویژن: مطلب یہ کہ آپ مرد و زن کی mixing [آزادانہ اختلاط] کے مخالف ہیں؟
    • سیّد مودودی: مَیں نے تو اس موضوع پر ایک مستقل کتاب [پردہ] لکھی ہے ،جس میں اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے اور مغربی تہذیب و تمدّن کے اس پہلو کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے۔

       

[۳]

مغربی تہذیب اور اسلامی روایات

  • ڈیلی سن: جو لوگ ترک وطن کر کے یہاں برطانیہ آئے ہیں، کیا وہ یہاں کے طرزِزندگی، روایات اور اقدار کو اپنا لیں گے؟[روزنامہ Sun، لندن، ۱۲دسمبر ۱۹۶۸ء، [انگریزی سے ترجمہ]]
    • سیّد مودودی: مسلمانوں کو مغربی تہذیب کے مقابلے میں اِسلامی روایات اور  تہذیب و ثقافت سے کسی قیمت پر بھی دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ آپ کا کام ہے کہ آپ اپنے لوگوں کو اِس رواداری اور وسیع الظرفی کی تعلیم دیں کہ وہ نہ صرف یہ کہ بہت سی نسلوں پر مشتمل سوسائٹی کو قبول کریں ،بلکہ Multicultural Society [کثیر قومی معاشرے] کی تشکیل کو بھی تسلیم کریں۔
  • ڈیلی سن: کیا یہ ممکن ہے؟مختلف ثقافتوں کی علم بردار قوموں پر مشتمل سوسائٹی تو ایک ناممکن سی بات معلوم ہوتی ہے۔
    • سیّد مودودی: بلاشُبہہ تعصّب ،ماحول پر بُری طرح چھایا ہوا ہے لیکن لوگوں کے لباس وغیرہ تو سطحی چیزیں ہیں، اصل تعصّب جس کا تَدارُک کرنے کی ضرورت ہے، وہ اس سطح کے نیچے، خیالات و افکار میں پایا جاتا ہے۔ برطانوی باشندے بھی تو آخر ہمارے ملک میں آکر رہے تھے، لیکن ہم نے تو انھیں کبھی مقامی معاشرے میں جَذب ہو جانے کے لیے نہیں کہا تھا اور نہ ہم نے ان سے کبھی اپنا مقامی لباس پہننے کا مطالبہ کیا تھا۔ موجودہ دَور میں یہ بات کچھ ضروری نہیں رہی ہے کہ لوگ اپنے ملکوں کے اندر ہی محدُود رہیں اور اُن سے باہر نہ نکلیں۔

تاہم، جو بات مَیں یہاں کے مسلمانوں سے کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اس ملک میں اِخلاص اور فرض شناسی کے جذبے کے ساتھ کام کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے مخلص اور سچّے پَیرو بنیں۔ یہاں کے لوگوں کے سامنے ایک اچھا نمونہ پیش کریں۔ اور یہ بات خاص طور سے سامنے رکھیں کہ وہ یہاں کسی قیمت پر بھی اپنی تہذیبی روایات سے اِنحراف نہیں کریں گے۔


[۴]

برصغیر میں اسلام کی آمداور اثرات

  • اٹلی ٹیلی ویژن: برِّصغیر میں اسلام کی آمد پر یہاں کے باشندوں کو بھلا کس چیز نے اپیل کیا تھا؟
    • سیّد مودودی: برِّصغیر میں اسلام پہلی صدی ہی میں آگیا تھا اور پہلی صدی سے میری مراد پہلی صدی ہجری ہے۔ اس زمانے میں اسلام کو دو مذہبوں سے سابقہ پیش آیا۔ ایک بودھ مت، دوسرے ہندو مذہب۔ بودھ ازم ایک ایسا مذہب ہے جو انسان کو ’رہبانیت‘ سکھاتا ہے اور ہندوازم ایک ایسا مذہب ہے، جو انسان کو ایسے مستقل طبقات میں تقسیم کرتا ہے، جو کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اس کے علاوہ ہندو مت شرک و بُت پرستی پر مبنی ہے۔ اسلام جب آیا تو اُس نے یہاں ایک طرف توحید کا عقیدہ پیش کیا۔ دوسری طرف اس نے ہندومت کی ننگ ِ انسانیت طبقاتی تقسیم کو فکری اور عملی سطح پر باطل ثابت کیا اور تمام انسانیت کی وحدت پر زور دیا۔ تیسری طرف اس نے انسان کو یہ بتایا کہ اس کی ترقی کا فطری راستہ ترکِ دُنیا اور ’رہبانیت‘ نہیں ہے، بلکہ اجتماعی زندگی میں رہتے ہوئے خدا اور اس کے بندوں اور خود اپنے نفس کے حقوق ادا کرنا ہے۔ جو اثرات اسلام نے برِّصغیر کے باشندوں پر ڈالے، ان کا اندازہ کرنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جہاں اسلام کی آمد سے پہلے ایک مسلمان بھی موجود نہ تھا ، وہاں آج کروڑوں مسلمان پائے جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے ذہن کو اسلام کی تعلیم توحید نے، وحدت ِانسانی کے تخیّل نے اور اجتماعی زندگی کی اصلاح کے پروگرام نے اپیل کیا۔ [اٹلی ٹیلی ویژن ، روم نے یہ مکالمہ فروری ۱۹۶۹ء میں ریکارڈ کیا۔ انگریزی سے اُردو ترجمہ دیاجارہا ہے۔ (ہفت روزہ ایشیا، ۱۷؍اپریل ۱۹۶۹ء)]

اسلام کا اجتماعی فلسفۂ زندگی

  • اٹلی ٹیلی ویژن : جدید دَور کے لیے اسلام کا اجتماعی فلسفۂ حیات کیا ہے؟
    • سیّد مودودی : اسلام کا اجتماعی فلسفۂ حیات ہر زمانے کے لیے ہے۔ وہ موجودہ دَور کے لیے بھی اسی طرح صحیح اور دُرست ہے، جس طرح قدیم دَور کے لیے تھا، اور آیندہ آنے والے ہزاروں سال کے لیے بھی اسی طرح قابلِ عمل اور درست رہے گا۔ دراصل اسلام کا فلسفۂ حیات اس تصور پر مبنی ہے کہ انسان کے لیے صحیح رویّۂ زندگی ،اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی و اطاعت اور اس قانون کی بندگی و اطاعت اور اس قانون کی پَیروی ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔چوں کہ یہ ساری کائنات، اللہ کی سلطنت ہے اور انسان فطری طور پر اس کا بندہ ہے۔ اس لیے ہرزمانے میں انسان کے لیے صحیح رویّہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ وہ خُدا کی بندگی اور اطاعت کرے اور اس قانون کی پَیروی کرے، جو اس کائنات کے بنانے والے نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔ یہی طریقِ زندگی ہر زمانے کے لیے ٹھیک اور دُرست ہے۔ جب کبھی انسان نے اس سے انحراف کیا، اس کو ایسے پیچیدہ مسائل سے سابقہ پیش آیا، جن کو وہ اپنی عقل سے کبھی صحیح طور پر حل نہ کر سکا۔ موجودہ دَور میں جو تمد ّن اور تہذیب کا نظام پایا جاتا ہے، وہ چوں کہ خُدا کی اطاعت سے منحرف اور اس کے قانون سے بے نیاز ہے ،اس لیے اس نے بھی بے شمار ایسے مسائل پیدا کر دیے ہیں،جن کے حل کرنے پر انسان قادر نہیں ہو رہا ہے:

- مثلاً، آج خاندانی زندگی کا نظام موجودہ تہذیب ہی کی وجہ سے درہم برہم ہو رہا ہے۔

- مثلاً، اسی تہذیب و تمدّن کی بدولت رنگ اور نسل کے امتیازات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ دُنیا میں کبھی انسانیت پراتنا ظلم و ستم نہیںہوا جتنا اس رنگ و نسل کے امتیاز کی بدولت آج ہورہا ہے۔

- مثلاً، اس تہذیب نے نیشنل ازم کا طوفان بَرپا کر دیا جس کی بدولت دُنیا میں دو عظیم جنگیں ہو چکی ہیں اور مزید ہوتی نظر آرہی ہیں۔

یہ سب کچھ اسی وجہ سے تو ہے کہ انسان نے علوم ِطبیعی کی طرح اپنی اجتماعی زندگی کے لیے بھی اپنی عقل ہی کو کافی سمجھ لیا ہے اور اپنی زندگی کا نظام اپنی عقل سے تصنیف کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اس فطری نظام کو اختیار کیاجائے جو انسان کے لیے خُدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے تو یہ مسائل کبھی پیدا نہ ہو ں، اور اگر کبھی پیدا ہو بھی جائیں تو ان کو آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔

رنگ و نسل کا مسئلہ اور حل

  • اٹلی ٹیلی ویژن : نسل اور رنگ کا مسئلہ اسلام کس طرح حل کرتا ہے؟
    • سیّد مودودی : نسل اور رنگ کے مسئلے کے پیدا ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ آدمی محض اپنی جہالت اور تنگ نظری کی بنا پر یہ سمجھتا ہے کہ :جو شخص کسی خاص نسل یا ملک یا قوم میں پیدا ہو گیا ہے وہ کسی ایسے شخص کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتا ہے جو کسی دوسری نسل یا قوم یا کسی دوسرے ملک میں پیدا ہواہے۔ حالاں کہ انسانوں کی پیدایش ایک قدرتی امر ہے، ان کے اپنے انتخاب کا نتیجہ نہیں ہے۔

اسلام ایسے تمام تعصبات کو ’جاہلیّت‘ قرار دیتاہے۔ وہ کہتا ہے کہ تمام انسان ایک ماں اور ایک باپ سے پیدا ہوئے ہیں اور انسان اور انسان کے درمیان فرق کی بنیاد اس کی پیدایش نہیں بلکہ اس کے اخلاق ہیں۔ اگر ایک انسان اعلیٰ درجے کے اخلاق رکھتا ہے تو خواہ وہ کالا ہو یا گورا، خواہ وہ افریقا میں پیدا ہوا ہو یا امریکا میں یا ایشیا میں بہرحال وہ قابلِ قدر انسان ہے۔ اور اگر ایک انسان اخلاق کے اعتبار سے بُرا آدمی ہے تو خواہ کسی جگہ پیدا ہوا ہو اور اس کا رنگ خواہ کچھ ہی ہو اور اس کا تعلق خواہ کسی نسل سے ہو، وہ ایک بُرا انسان ہے۔ اسی بات کو محمد رسول اللہﷺ نے اپنے آخری خطبے میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ :’’کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت اگر ہے تو وہ تقویٰ کی بنا پر ہے‘‘۔

جو شخص خدا کی صحیح صحیح بندگی کرتا ہے اور خدا کے قانون کی صحیح صحیح پیروی کرتا ہے، خواہ وہ گورا ہو یا کالا ،بہرحال وہ اس شخص سے افضل ہے جو خُدا ترسی اور نیکی سے خالی ہو۔

اسلام نے اسی بنیاد پر تمام نسلی اور قومی امتیازات کو مٹایا ہے۔ وہ پوری نوع ِانسانی کو ایک قرار دیتا ہے اور انسان ہونے کی حیثیت سے سب کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔ قرآن وہ پہلی کتاب ہے جس نے انسان کے بنیادی حقوق کو واضح طور پر بیان کیا ہے ۔اسلام وہ پہلا دین ہے، جس نے تمام انسانوں کو جو کسی مملکت میں شامل ہوں، ایک جیسے بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ فرق اگر ہے تو یہ ہے کہ اسلامی ریاست چوں کہ ایک نظریے اور اصُول [Ideology] پر قائم ہوتی ہے، اس لیے اس نظریے کو جو لوگ مانتے ہوں ،اسلامی ریاست کو چلانے کا کام انھی کے سپرد کیا جاتا ہے۔ کیوںکہ جو لوگ اسے مانتے اور سمجھتے ہیں وہی اس پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں، لیکن انسان ہونے کی حیثیت سے اسلام تمام ان لوگوں کو یکساں تمد ّنی حقوق عطاکرتا ہے جو کسی اسلامی ریاست میں رہتے ہوں۔

اسی بنیاد پر اسلام نے ایک عالم گیر اُمت [World Community] بنائی ہے ، جس میں ساری دُنیا کے انسان برابر کے حقوق کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ حج کے موقعے پر ہر شخص جا کر دیکھ سکتا ہے کہ ایشیا، افریقہ، امریکا، یورپ اور مختلف ملکوں کے لاکھوں مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور ان کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں پایا جاتا۔ ان کو دیکھنے والا ایک ہی نظر میں یہ محسوس کر لیتا ہے کہ یہ سب ایک اُمت ہیں اور ان کے درمیان کوئی معاشرتی امتیاز نہیںہے۔ اگر اِس اصُول کو تسلیم کر لیا جائے تو دُنیا میں رنگ و نسل کی تفریق کی بنا پر آج جو ظلم و ستم ہو رہا ہے، اس کا یک لخت خاتمہ ہو سکتا ہے۔

شراب اور سود کی ممانعت کی حکمت

  • اٹلی ٹیلی ویژن: اسلام میں شراب اور سُود کی حُرمت کے کیا وجوہ ہیں؟
    • سیّد مودودی : سب سے پہلے آپ شراب کے مسئلے پر غور کریں: عملی بنیاد پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ شراب، انسان کے جسم کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور عقل کے لیے بھی۔ اس وقت دُنیا میں الکوہلزم [شراب نوشی] ایک خطرناک مسئلے کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ بکثرت انسان ایسے ہیں، جو اسی الکوہلزم کی بدولت عملاً اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں کھو چکے ہیں اور معاشرے کے لیے ایک مسئلہ بن چکے ہیں۔ اس بات کو بھی مانا جاتاہے کہ دُنیا میں بکثرت accidents [حادثات] اِس وجہ سے ہوتے ہیں کہ آد می کے خون میں اگر ایک خاص مقدار میں الکوہل موجود ہو اور اس حالت میں وہ گاڑی چلائے تو اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے اور دوسرے انسانوں کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ لیکن اس پر کوئی اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ وہ خاص مقدار کتنی ہے جس کا پایا جانا ذہنی توازن کو بگاڑ دیتا ہے، یا فلاں خاص مقدار تک الکوہل کا استعمال تمام انسانوں کے لیے یکساں مضر ہو گا اور اس سے زائد مقدار سب کے لیے مضر نہیںہو گی۔ بہرحال یہ امر طے شدہ ہے کہ شراب ایک ایسی چیز ہے، جو انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو متوازن نہیں رہنے دیتی۔ یہ نسبت مختلف انسانوں کے معاملے میں مختلف ہوتی ہے اور کوئی ایسا قاعدہ کلیہ نہیں بنایا جاسکتا ۔

اسی لیے اسلام نے شراب نوشی کو قطعی طور پرممنوع قرار دیا ہے اور یہ اصول قرار دیا ہے کہ جو چیز حرام ہے، اس کی کم سے کم مقدار بھی حرام ہے کیونکہ اس کی کم مقدار کو حلال قرار دینے کے بعد کوئی خط ایسا نہیں کھینچا جاسکتا، جہاں جواز کی حد ختم ہو سکے اور عدمِ جواز کی حد شروع ہو جائے۔ لہٰذا، قابلِ عمل صورت یہی ہے کہ اس کو قطعی طور پر ممنوع قرار دے دیا جائے۔ اسلام کے سوا کوئی دوسرا مذہب یا نظامِ تہذیب ایسا نہیں ہے جس نے انسان کو الکوہلزم سے بچانے میں وہ کامیابی حاصل کی ہو جو اسلام نے حاصل کی ہے۔ امریکا نے اسی صدی میں اس بات کی کوشش کی تھی کہ امریکی قوم کو شراب کے نقصانات سے بچایا جائے۔ چنانچہ، امریکی دستور میں ایک ترمیم کے ذریعے سے شراب کو ممنوع قرار دیا گیا، لیکن یہ تجربہ ناکام ہوگیا۔[امریکی کانگریس نے۱۸دسمبر ۱۹۱۷ء کو شراب پر پابندی کی ترمیم پیش کی، جو ۱۸ویں ترمیم کے طور پر، ۱۶جنوری ۱۹۱۹ء کو منظور ہوئی۔ ۱۷جنوری ۱۹۲۰ء سے اس پر عمل شروع ہوا۔مگر شدید عوامی ردعمل کے نتیجے میں دسمبر ۱۹۳۳ء کو ۲۱ویں ترمیم کی صورت میں یہ پابندی واپس لے لی گئی۔ یہاں مولانا محترم نے اس جانب اشارہ کیا ہے۔]

 اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ شراب کا ساینٹی فک معیار پر ’مضر ہونا پہلے ثابت ہو گیا تھا اور بعد میں اس کا غیر مضر ہونا ثابت ہو گیا، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ امریکا کی حکومت اور اس کا پورا قانونی نظام اپنا سارا زور لگا کر بھی لوگوں کو شراب نوشی چھوڑنے پر آمادہ نہ کر سکا۔ یہ دراصل امریکی تہذیب کے نظام کی کمزوری تھی۔ اس کے برعکس اسلام کا تہذیبی نظام اتنا طاقت ور تھا کہ ایک حکم مسلمانوں کو شراب سے روک دینے کے لیے کافی ہو گیا اور اس حکم میں آج تک اتنی طاقت ہے کہ دُنیا کی کوئی قوم اب بھی شراب سے اجتناب کے معاملے میں مسلمانوں کی برابری نہیں کر سکتی۔

جہاں تک سُود کا تعلق ہے، تمام آسمانی شریعتوں میں وہ ہمیشہ سے حرام رہا ہے۔ آج بھی بائبل میں اس کی حُرمت کا حکم موجود ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ’’میں آج سے سُود کو حلال قرار دیتا ہوں‘‘۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عیسائیت نے بھی اس حکم کو برقرار رکھا، جو پہلے سے بائبل میں سُود کی حرمت کے لیے موجود تھا۔ اگر سود کسی وقت بھی حلال کیا گیاہوتا تو اس کا ثبوت موجود ہوتا کہ فلاں پیغمبر نے یا خدا کی فلاں کتاب نے اس کو حلال قرار دیا ہے لیکن میرے علم میں نہیں ہے کہ کبھی خدا کی کسی کتاب میں اس کے حلال ہونے کا حکم آیا ہو۔

اب رہا یہ سوال کہ سُود کیوں حرام ہے؟ اس کے بارے میں یہ اُصولی بات سمجھ لینی چاہیے کہ انسان ان چیزوں کی برائی کو تو جان سکتا ہے جو جسمانی حیثیت سے اس کے لیے نقصان دہ ہوں، لیکن وہ آج تک کبھی یہ جاننے پر قادرنہیں ہوا ہے کہ کون سی غذائیں اس کے اخلاق پر بُرا اثر ڈالتی ہیں اور روحانی حیثیت سے اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔ غذائوں کے اخلاقی اثرات جاننے اور ٹھیک ٹھیک ان کو متعین کرنے کے ذرائع انسان کو حاصل نہیں ہیں۔ اسی لیے یہ کام خُدا نے اپنے ذمے لیا ہے کہ جو چیزیں انسان کے اخلاق اور اس کی رُوح کے لیے نقصان دہ ہیں، ان کی نشان دہی وہ خود کر دے اور انھیں حرام قرار دے۔ اب اگر کوئی شخص خدا پر اعتماد کرتا ہو تو اسے وہ چیزیں چھوڑ دینی چاہییں، جن سے اس نے منع کیا ہے اور جو خُدا پر اعتماد نہ رکھتا ہو وہ جو کچھ چاہے کھاتا رہے۔

[پمفلٹ، منشورات سے دستیاب ہے،]