جنوری ۲۰۱۹

فہرست مضامین

قرآن ، اقامت ِ دین اور مولانا مودودیؒ

پروفیسر خورشید احمد | جنوری ۲۰۱۹ | اشارات

تجدید و احیاے دین، اسلامی تاریخ کی ایک روشن روایت اور عقیدۂ ختم نبوت کا فطری نتیجہ اور دینِ اسلام کے مکمل ہونے کا تقاضا ہے۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ برگزیدہ بندوں کو اس توفیق سے نوازا کہ وہ دین کی بنیادی دعوت پر مبنی اللہ کے پیغام کو، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدینؓ کے نمونے کی روشنی میں، اپنے دور کے حالات کا جائزہ لے کر بلاکم و کاست پیش کریں۔ دورِحاضر میں جن عظیم ہستیوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی، ان میں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ء - ۱۹۷۹ء) کا نام سرفہرست ہے۔
ویسے تو مسلم تاریخ کے ہر دور میں نشیب و فراز نظر آتا ہے، لیکن ۱۹ویں صدی عیسوی اس اعتبار سے بڑی منفرد ہے کہ ساڑھے چودہ سو سال کی تاریخ میں پہلی بار مسلمان ایک عالمی قوت کی شناخت اور حیثیت سے محروم ہوئے۔ اس دوران چار کمزور ممالک اورنام نہاد حکومتوں کو چھوڑ کر پورا عالمِ اسلام مغرب کی توسیع پسندانہ اور سامراجی قوتوں کے زیرتسلط آگیا۔ یہ صورتِ حال ۲۰ویں صدی کے وسط تک جاری رہی۔ اس بات میں ذرا بھی مبالغہ نہیں کہ یہ دور مسلم تاریخ کا تاریک ترین دور تھا، جو فکری و نظریاتی اور اخلاقی انحطاط کے ساتھ ساتھ معاشی، سیاسی اور تہذیبی، گویا ہراعتبار سے اُمت کی محکومی کا دور تھا۔
پھر اسی دور میں،کسی نہ کسی پہلو سے تجدید و احیاے دین کی خدمت انجام دینے والی عظیم شخصیات: میں جمال الدین افغانی، مفتی محمد عبدہٗ، ابوالکلام آزاد، سیّد رشید رضا، حسن البنا، علّامہ محمد اقبال، سعید نورسی، سیّدقطب، سیّدابوالاعلیٰ مودودی اور مالک بن نبی جیسے نمایاں ترین رجال شامل ہیں۔ ان سب کی سوچ کا دھارا، کئی اُمور اورمعاملات میں اختلاف کے باوجود، مقصد اور ہدف کے اعتبار سے   ایک جیسا تھا، اور وہ یہ تھا: اللہ کے دین کو اس کی اصل شکل میں پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو اس دین کے مطابق اپنی اور انسانی زندگی کی تشکیلِ نو اور تعمیرِنوکی دعوت دی جائے۔ اللہ تعالیٰ ان سب محسنوں پر اپنی رحمت کی بارش فرمائے، اور ان کی اور ان کے رفقاے کار کی کاوشوں کو قبولیت اور فروغ عطا فرمائے۔یہی ہیں وہ رہنما کہ جن کی مساعیِ جمیلہ کے نتیجے میں، اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص سے تاریخ نے کروٹ لی اور محکومی کی تاریک اور طویل رات ختم ہوئی ۔ اسلام ایک بھرپور دعوت، انقلابی قوت اور ہمہ پہلو پیغام کی حیثیت سے ایک بار پھر اپناکردار ادا کرنے کی طرف رواں دواں ہے۔
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے ۱۹۲۰ء سے صحافت اور علم و ادب کے میدان میں  گراں قدر خدمات کا آغاز کیا۔ ۲۴برس کی عمر میں انھوں نے الجہاد فی الاسلام جیسی معرکہ آرا کتاب لکھی، جو ۱۹۳۰ء میں، برعظیم میں علمی، تحقیق اور اشاعت کے بڑے باوقار ادارے دارالمصنّفین، اعظم گڑھ نے شائع کی۔ اس کتاب کے لیے تحقیق و جستجو مولانا مودودی کے فکری ارتقا میں ایک سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ 
پھر یہی ہے وہ فیصلہ کن موڑ ( turning point) جہاں سے انھوں نے پیغامِ دین کے لیے عزم و ہمت کا عہد کیا اور عملی قدم اُٹھایا۔۱۹۳۳ء سے ماہ نامہ ترجمان القرآن ، حیدرآباددکن کے ذریعے اسلامی فکر اور دعوت کے نئے چراغ روشن کرتے رہے۔ ۱۹۳۸ء میں ادارہ دارالاسلام  کی تاسیس کی۔ ۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء کو جماعت اسلامی قائم کی اور اس کے امیر منتخب ہوئے۔ فروری ۱۹۴۲ء سے تفہیم القرآن کی تحریر واشاعت کا آغاز کیا۔ ستمبر۱۹۷۹ءیعنی اپنی وفات تک فکرورہنمائی کے ہر میدان اور تجدیدو احیاے دین اسلام کے بارے میں گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔مولانا مودودی کی زندگی اور ان کی فکر میں سب سے نمایاں چیز اللہ تعالیٰ سے  ان کا تعلق اور قرآنِ کریم کو زندگی کے ہرہرپہلو کے لیے اپنا رہنما بنانا ہے۔
الحمدللہ، ۳۰برس تک میرا، مولانا مودودی سے ایسا تعلق رہا ہے کہ جس میں وہ میرے استاد، قائد، محسن اور مربی کی حیثیت سے قدم قدم پر رہنمائی سے نوازتے رہے۔ اس مناسبت سے گواہی دیتا ہوں کہ مَیں نے جس چیز کو مولانا کی زندگی میں فکروعمل کا سرچشمہ اور روشنی و ہدایت کا منبع پایا ہے، وہ قرآن پاک ہے۔ اسی بنا پر مولانا کی زندگی کی اہم ترین متاع جن چیزوں کو قرار دیا جاسکتا ہے، ان میں سب سے پہلی، بنیادی اور مرکزی متاع قرآنِ کریم ہے۔ پھر قرآنِ کریم اور صاحب ِ قرآن خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک ہی کی روشنی میں دینِ حق کا تصور ہے، اور تیسری چیز ہے: ان دونوں کا تقاضا دعوت، اصلاح اور اقامت ِ دین کی منظم جدوجہد۔ یہی وہ  تین میدان ہیں، جن میں مولانا مودودی نے بڑا تاریخ ساز کردار (contribution) اداکیا ہے۔

قرآن ہی شاہِ کلید ہے !

قرآنِ پاک سے مولانا مودودی مرحوم و مغفور کے تعلق کو سمجھنے کے لیے تین چیزیں بڑی اہم اور چشم کشا ہیں:
۱۹۴۶ء میں مولانا محمد عمران خاں ندوی صاحب نے غیرمنقسم ہندستان کے اٹھارہ اکابر علما،   دانش وروں اور رہنمائوں سے دریافت کیا کہ ’’آپ کی محسن کتاب کون سی ہے؟‘‘ دیگر افراد نے اپنی اپنی پسندیدہ کتاب کے بارے میں بتایا، لیکن ان میں واحد مولانا مودودی تھے، جنھوں نے سب سے مختصر جواب دیا۔یہ جواب مولانا کی شخصیت اور ان کی پوری زندگی کا غماز ہے اور سب پہ بھاری بھی۔ انھوں نے لکھا:
جاہلیت کے زمانے میں، مَیں نے بہت کچھ پڑھا ہے۔ مَیں قدیم و جدید فلسفہ، سائنس، معاشیات، سیاسیات وغیرہ پر اچھی خاصی ایک لائبریری دماغ میں اُتار چکا ہوں ، مگر جب آنکھیں کھول کر قرآن کو پڑھا تو بہ خدا یوں محسوس ہوا کہ جو کچھ پڑھا تھا سب ہیچ تھا، علم کی جڑ اب ہاتھ آئی ہے۔ کانٹ، ہیگل، نٹشے، مارکس اور دنیا کے تمام بڑے بڑے مفکرین اب مجھے بچے نظر آتے ہیں۔ بے چاروں پر ترس آتا ہے کہ ساری ساری عمر جن گتھیوں کو سلجھانے میں اُلجھتے رہے اور جن مسائل پر بڑی بڑی کتابیں تصنیف کرڈالیں، پھر بھی حل نہ کرسکے، ان کو اِس کتاب نے ایک ایک دو دوفقروں میں حل کر کے رکھ دیا ہے۔ اگر یہ غریب اس کتاب سے ناواقف نہ ہوتے تو کیوں اپنی عمریں اس طرح ضائع کرتے؟ میری اصلی محسن بس یہی ایک کتاب ہے۔ اس نے مجھے بدل کر رکھ دیا ہے۔ حیوان سے انسان بنادیا ، تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئی، ایسا چراغ میرے ہاتھ میں دے دیا کہ زندگی کے جس معاملے کی طرف نظر ڈالتا ہوں، حقیقت اس طرح برملا مجھے دکھائی دیتی ہے کہ گویا اس پر کوئی پردہ ہی نہیں ہے۔  انگریزی میں اُس کنجی کو ’شاہ کلید‘ (Master Key) کہتے ہیں، جس سے ہرقفل کھل جائے۔ سو، میرے لیے یہ قرآن ’شاہ کلید‘ ہے۔ مسائلِ حیات کے جس قفل پر اسے لگاتا ہوں، وہ کھل جاتا ہے۔ جس خدا نے یہ کتاب بخشی ہے، اس کا شکر ادا کرنے سے میری زبان عاجز ہے۔

قرآن اور اقامتِ  دین

مولانا مودودی کے لیے سب سے بڑی دولت اور زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ،  اللہ کی آخری ہدایت یہ کتاب ہی ہے۔ قرآن ہی وہ اَبدی ہدایت ہے، جو خود خالق حقیقی نے اپنے بندوں کی رہنمائی اور ان کو زندگی میں کامیابی کا راستہ دکھانے کے لیے عطا فرمائی۔ مولانا مودودی کے نزدیک:قرآن کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا کتاب اللہ ہونا ہے، یعنی یہ رہنمائی کسی انسان کی طرف سے نہیں ہے۔ اس کا ذریعہ اور وسیلہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اللہ کو جاننے،    اللہ سے جوڑنے اور اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کا واحد راستہ قرآن کی ہدایت کو تسلیم کرنا،اور اس کے مطابق اپنی ذات کو اور ساری دنیا کو ڈھالنا ہے۔ اس کے تین پہلو ہیں: 
پہلا اور سب سے اہم خداشناسی ہے، جس سے ہم اللہ کو پہچان سکتے ہیں اور اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی کو ڈھال سکتے ہیں۔ اس لیے اللہ پر ایمان اور اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی کو ڈھالنا ، زندگی کو گزارنا، قرآن سے تعلق کو جوڑنا،اور قرآن کا فہم حاصل کرنا نہایت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قرآن کا اصل مخاطب انسان ہے اور قرآن کا اصل مقصودتمام انسانوں کی دست گیری ہے۔ جو اسے قبول کریں، ان کے لیے یہ سراپا ہدایت ہے اور رہنمائی عطا کرتا ہے۔ یہی خداشناسی اسلام کی بنیاد اور اسلام پر عمل پیرا ہونے کے لیے اصل سہارا اور قوت ہے۔
دوسرا پہلو خودشناسی ہے، یعنی یہ سمجھنا اور جاننا کہ اللہ ہمیں کیسے انسان کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے؟ یہ دیکھنا کہ ہمیں کیا کام سونپا گیا ہے، اور کس معیار پر ہمیں کامیابی اور اجر ملے گا؟ اس چیز کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تووہ ہے ’استخلاف‘۔ اس کے لیے فرد کا تزکیہ کرنا، اس کی کردار سازی کرنا اور علم وعمل کے اعتبار سے اس لائق بنانا کہ وہ اللہ کی زمین پر، اللہ کے خلیفہ کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرے، یعنی تقویٰ کا حصول۔
تیسرا پہلو ہے خلق شناسی۔ اس سے مراد ہے: انسانوں سے، اداروں سے، معاشروں سے، اقوام سے اور کائنات میں خلق کی ہوئی ہرشکل سے قرآن و سنت کی ہدایت کے مطابق ربط و تعلق قائم کرکے معاملہ کرنا، تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو اور دنیا عدل، امن اور احترامِ آدمیت کا گہوارا بن جائے۔
ان تینوں بنیادوں کو قرآن نے جامع اصطلاح ’اقامت ِ دین ‘ میں سمو دیا ہے اور یہی معنی عبادت کے ہیں۔یہ دوسرا پہلو ہے: قرآنِ کریم سے مولانا کے تعلق کا، جسے انھوں نے بڑی تفصیل سے مختلف اسالیب میں بیان کیا ہے اور وضاحت فرمائی ہے۔

اقامتِ  دین کا اہم تقاضا

مولانا نے بتایاہے کہ قرآن صرف اللہ کی کتاب اور کتابِ ہدایت ہی نہیں بلکہ کتابِ انقلاب ہے۔ جہاں اس کے مخاطب تمام انسان ہیں، وہاں اس کا خاص طور پر خطاب انسانوں کے ایسے گروہ سے ہے، جو اسے قبول کرتا ہے۔ قرآن انھیں رہنمائی فراہم کرتا اور تیار کرتا ہے کہ وہ کس طرح خود کو اور پوری انسانی زندگی کے ہر شعبے اور دائرہ کار کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے دعوت، شہادتِ حق اور امربالمعروف و نہی عن المنکر کو جہاد فی سبیل اللہ قرار دیا ہے اور ہدف دین کے پیغام کو عام کرنا اور اللہ کی مرضی کو غالب کرنا بتایا ہے۔ اس مقصد کو تفہیم القرآن  کے مقدمے میں مولانا مودودی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
 فہم قرآن کی ساری تدبیروں کے باوجود، آدمی قرآن کی رُوح سے پوری طرح آشنا نہیں ہونے پاتا، جب تک عملاً وہ کام نہ کرے جس کے لیے قرآن آیا ہے۔ یہ محض نظریات اور خیالات کی کتاب نہیں ہے کہ آپ آرام کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھیں اور اس کی ساری باتیں سمجھ جائیں۔ یہ دُنیا کے عام تصورِ مذہب کے مطابق ایک نری مذہبی کتاب بھی نہیں ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں اس کے سارے رُموز حل کرلیے جائیں۔  یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔ اس نے آتے ہی ایک خاموش طبع اور نیک نہاد انسان کو گوشۂ عزلت سے نکال کر، خدا سے پھری ہوئی دنیا کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ باطل کے خلاف اس سے آواز اُٹھوائی اور وقت کے علَم بردارانِ کفر و فسق و ضلالت سے اس کو لڑا دیا۔ گھرگھر سے ایک ایک سعید رُوح اور پاکیزہ نفس کو کھینچ کھینچ کر لائی اور داعیِ حق کے جھنڈے تلے ان سب کو اکٹھا کیا۔ گوشے گوشے سے ایک ایک فتنہ جُو اور فساد پرور کو بھڑکا کر اُٹھایا اور حامیانِ حق سے ان کی جنگ کرائی۔ ایک فردِ واحد کی پکار سے اپنا کام شروع کر کے خلافت ِ الٰہیہ کے قیام تک پورے ۲۳سال یہی کتاب اس عظیم الشان تحریک کی رہنمائی کرتی رہی، اور حق و باطل کی اس طویل و جاں گسل کش مکش کے دوران میں ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلے پر اسی نے تخریب کے ڈھنگ اور تعمیر کے نقشے بتائے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سرے سے نزاعِ کفرودین اور معرکۂ اسلام و جاہلیت کے میدان میں قدم ہی نہ رکھیں اور اس کش مکش کی کسی منزل سے گزرنے کا آپ کو اتفاق ہی نہ ہوا ہو اور پھر محض قرآن کے الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی ساری حقیقتیں آپ کے سامنے بے نقاب ہوجائیں؟ 
اسے تو پوری طرح آپ اُسی وقت سمجھ سکتے ہیں، جب اسے لے کر اُٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کریں اور جس جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی جائے ،اُس طرح قدم اُٹھاتے چلے جائیں۔ تب وہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گے، جو نزولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔ مکّے اور حبش اور طائف کی منزلیں بھی آپ دیکھیں گے اور بدر و اُحد سے لے کر حُنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابوجَہل اور ابولَہب سے بھی آپ کو واسطہ پڑے گا، منافقین اور یہود بھی آپ کو ملیں گے، اور سابقینِ اوّلین سے لے کر مؤلفۃ القلوب تک سبھی طرح کے انسانی نمونے آپ دیکھ بھی لیں گے اور برت بھی لیں گے۔ یہ ایک اور ہی قسم کا ’سُلوک‘ ہے، جس کو میں ’سُلوکِ قرآنی‘ کہتا ہوں۔ اس سُلوک کی شان یہ ہے کہ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے، قرآن کی کچھ آیتیں اور سورتیں خودسامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اسی منزل میں اُتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئی تھیں۔ اس وقت یہ تو ممکن ہے کہ لُغت اور نحو اور معانی اور بیان کے کچھ نکات سالک کی نگاہ سے چھپے   رہ جائیں، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ قرآن اپنی رُوح کو اس کے سامنے بے نقاب کرنے سے بُخل برت جائے۔
پھر اسی کُلیّے کے مطابق قرآن کے احکام، اس کی اخلاقی تعلیمات، اس کی معاشی اور تمدّنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اُصول و قوانین آدمی کی سمجھ میں اُس وقت تک آ ہی نہیں سکتے، جب تک کہ وہ عملاً ان کو برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد کررکھا ہو، اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہوسکتی ہے جس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی بنائی ہوئی روش کے خلاف چل رہے ہوں۔(تفہیم القرآن، اوّل، ص ۳۳-۳۵)

اسلام، ایک ہمہ گیر تحریک

قرآن سے اس تعلق کے ساتھ مولانا نے دوسری اہم فکری خدمت (contribution)  یہ انجام دی ہے کہ دین اسلام کو آج کی زبان میں، ایک مکمل لائحہ عمل کے طور پر بڑی وضاحت سے پیش کیا ہے، جس میں دین اور دنیا کی کوئی تقسیم نہیں ہے۔ ایمان اس کی بنیاد ہے اور عبادت اس کا مظہر بھی ہے اور اس کے تقاضوں کے لائق بنانے کا ذریعہ بھی۔ لیکن اصل ہدف اور مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ ہرشعبۂ زندگی کو اللہ کی مرضی کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرنا ہے۔    اس میں نجی، خانگی، اجتماعی، معاشرتی، معاشی، سیاسی، ملکی، عالمی سطح کے تمام تعلقات شامل ہیں۔
اس ضمن میں مولانا مودودی نے بنیادی نوعیت کے چار مزید کام انجام دیے، جو ان کی فکری خدمات میں نمایاں ترین مقام رکھتے ہیں:

  • اسلامی فکر ، بـے لاگ جائزہ: قرآنی بصیرت و رہنمائی کی روشنی میں، انھوں نے   مسلم معاشرے اور اُمت ِ مسلمہ کی فکر، اس کی تنظیم اور اس کے اجتماعی اہداف پر تنقیدی و تجزیاتی نظر ڈالی۔ جہاں اُن بنیادی وسائل کی قدر، تائید اور پشت پناہی کی جو اسلام کے پیغام اور دعوت کو محفوظ کرنے اور دین کے علم کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے موجود تھے، وہیں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا کہ عملاً ہردور میں اہلِ خیر کی کوششوں کے باوجود ایسی کمزوریاں اور خامیاں دَر آتی رہی ہیں، جو آخرکار مسلمانوں کی کمزوری اور زوال کی راہوں کو ہموار کرنے کاسبب بنیں اور آج بھی اسلام کی اشاعت اور مسلمانوں کے وقار میں اضافے کی راہ میںرکاوٹ ہیں۔

مسلم معاشروں میں دین سے عدم واقفیت، اور جاہلیت کی گرفت بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک صاحب ِ ایمان مسلمان علم، اخلاق اور دیانت کے بغیر کسی بھی میدان میں کام نہیں کرسکتا۔ علوم کی تقسیم دین اور دنیاوی دائروں میں اس حد تک تو گوارا کی جاسکتی ہے کہ مختلف علوم کے دائروں کو متعین کیا جائے، لیکن اسلام کے تصورِعلم میں اللہ کی مرکزیت اور اللہ کی ہدایت کو علم کے ہرشعبے میں مطابقت (relevance) کے ساتھ پیش کرنا اور ہروقت اس کا احساس بیدار کرنا فہمِ دین کا بنیادی اصول ہے۔ ہمارےدورِ زوال میں شعوری یا غیرشعوری طور پر علم کا تصور محدود تر ہوگیا۔ کم از کم علمی سطح پر دین کے دائروں اور دینی ہدایت کو شخصی زندگی اور عبادات تک محدود کردیا گیا۔ اجتماعی زندگی اور اجتماعی علوم کے باب میں دین حق نے جو رہنمائی فراہم کی ہے اور جو دورِ عروج میں ہماری شان رہی ہے، اس سے ہم بہت دُور ہوگئے ہیں۔ جب تک یہ ترتیب اور مطابقت علوم اور تربیت کا حصہ نہیں بنتی، احیاے اسلام ممکن نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے مولانا مودودی نے مسلم معاشروں کی فکری ساخت کا تجزیہ کرتے ہوئے بنیادی مرض کی نشان دہی کی۔

  • قانون سازی کی بنیاد : مولانا مودودی نے بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کے سلسلے میں جو ترتیب عطا فرمائی ہے، اس میں روشنی کا بلاشبہہ اصل سرچشمہ قرآنِ پاک ہی ہے۔ لیکن اللہ کی اس مکمل ہدایت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک پہنچایا ہے، اس کی تعلیم دی ہے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا نمونہ ہمارے لیے چھوڑا ہے۔ اس طرح قرآن کے بعد ہدایت کا دوسرا سب سے بنیادی اور مرکزی ذریعہ سنت ِ رسولؐ اور سیرتِ پاکؐ ہے۔

اس کے بعد قرآن و سنت کی روشنی میں نئے مسائل حل کرنے کے لیے استدلال، قیاس، استنباط اور اجتہاد کی بنیاد پر قانون سازی ہے۔ یہی ہے وہ عمل کہ جس سے فقہ کا قیمتی سرمایہ وجود میں آیا۔ پھر فقہ کے مطابق عمل کرتے ہوئے علم اور تقلید کی روایت نے سفر شروع کیا۔ مولانا مودودی کے نزدیک احیاے دین کے لیے صحیح ترتیب قرآن، سنت، فقہ اور تاریخ ہے۔ جس کی روشنی میں نئے مسائل کا حل قرآن و سنت اور اجتہاد و استنباط ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دورِ زوال میں یہ ترتیب اُلٹ کر رہ گئی۔   یوں تقلید و تاریخ نے عملاً اوّلیت اختیار کرلی، پھر فقہ، اس کے بعد سنت ِ رسولؐ، حکایاتِ بزرگانِ دین اور اس کے بعد قرآن۔ گویا کہ جس چیز، یعنی قرآن کو سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا، وہ سب سے آخر میں چلا گیا۔ یہی بدقسمتی مسلمانوں میں مروج نظامِ تعلیم کے ساتھ ہوئی اور وہاں پر بھی ترتیب اُلٹ گئی، اور قرآن سب سے آخر میں اور وہ بھی محدود تر دائرے میں شاملِ نصاب ہوا۔ 
مولانا مودودی نے اس بات کی طرف متوجہ فرمایا کہ مسلم معاشرے میں اصل اصلاح طلب چیز، حقیقی اور مطلوب ترتیب کو بحال کرنا ہے۔ فقہ کو نظرانداز کرنا یا دریابُرد کرنا خودکشی کے مترادف ہے، مگر رہنمائی کے لیے ترتیب میں قرآن ، سنت اور پھر فقہ وتاریخ کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ یہ ایک انقلابی نکتہ ہے، جسے مولانا مودودی نے ابن تیمیہ، امام غزالی اور شاہ ولی اللہ سے گاہے اتفاق اور کچھ اختلاف کے ساتھ پیش کیا اور اس جرأتِ اظہار کی بڑی قیمت ادا کی۔

  • مغربی فکر و تہذیب کا محاکمہ :تیسرا نکتہ ہے مغربی فکر اور مغربی تہذیب کے غلبے سے پیدا شدہ صورتِ حال اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کا اسلام سے معاملہ۔ بلاشبہہ مسلمانوں نے اپنی سیاسی اور دینی آزادی کے تحفظ کے لیے استعماری قوتوں کے خلاف جہاد کیا اور اس میدان میں بڑی روشن مثال قائم کی۔ تاہم، جہاد کے محاذ پر کامیاب نہ ہونے کے بعد اہلِ خیر کی ایک بڑی تعداد نے تصادم سے پسپائی کی روش ضرور اختیار کی، مگر اس کا مقصد دینی روایت کا تحفظ اور دینی علوم سے رشتے کو جاری اور مضبوط رکھنا تھا۔ اس محدود حد تک تحفظ دین کی یہ حکمت عملی مفید رہی، لیکن اس کا ایک نتیجہ یہ ضرور رُونما ہوا کہ اجتماعی زندگی اور اس کی رہنما اقدار سے اسلام بے دخل ہوتا گیا۔ کچھ حلقوں نے مغرب کی مکمل تقلید اور اپنے کو مغرب کے رنگ میں رنگنے کا راستہ اختیار کیا، تو کچھ دوسروں نے عملاً تو مغربی تقلید کی روش اختیار کی، مگر اس کے لیے بہت سی اسلامی اصطلاحات کا سہارا بھی لیا۔ ’اصلاح مذہب‘ کی تحریکیں مختلف شکلوں میں رُونما ہوئیں، جنھوں نے اصلاح کا کام کم اور دین میں تحریف اور مغرب کی نقالی کا کھیل زیادہ کھیلا۔ اس تہذیبی تبدیلی کو اکبرالٰہ آبادی نے اپنے مخصوص انداز میں اس طرح بیان کیا ہے:

نہیں اس کی کوئی پرسش کہ یاد اللہ کتنی ہے
یہی سب پوچھتے ہیں آپ کی تنخواہ کتنی ہے
اور یہ کہ :
ہم کیا کہیں، احباب کیا کارِ نمایاں کرگئے
بی اے ہوئے، نوکر ہوئے، پنشن ملی پھر مر گئے

مولانا مودودی نے اقبال اور دوسرے علما و مصلحین کے ساتھ مغربی تہذیب کا بھرپور محاکمہ کیا اور بہت صاف صاف الفاظ میں یہ بات کہی کہ: ’’مغربی سامراج سے صرف سیاسی آزادی مطلوب نہیں بلکہ فکری، نظریاتی، معاشی، معاشرتی، تہذیبی آزادی بھی مطلوب ہے، تاکہ مسلمان اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی کو مرتب اور منظم کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے محض مسجد بنادینا اور صرف نماز پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے خاندانی نظام کا تحفظ اور اجتماعی زندگی کی تشکیل و تعمیربھی ضروری ہے۔ نیز سیاسی آزادی اور اختیار بھی مطلوب ہے تاکہ دینی اقدار بالادست ہوں اور یوں اجتماعی زندگی اسلامی بنیادوں پر استوار ہو‘‘۔ اقبال نے بڑے لطیف انداز میں کہا:

مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
اور یہ کہ:
جدا ہو دیں سیاست سے،تو رہ جاتی ہے چنگیزی

اسلام، درحقیقت سیاسی و تہذیبی اور فکری و سیاسی میدان میں آزادی کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ غلامی کی ہر رمز اور محکومی کی ہر علامت کو رَد کرتا ہے، تاکہ اسے قبول کرنے والے زندگی کی تشکیلِ نو کرسکیں۔ مولانا مودودی نے اس موقف کو بڑی وضاحت سے پیش کیا ہے۔ ان کے متوازن ذہن اور محتاط قلم نے مغرب زدگان کو دلیل کے میدان میں بے بس کر دیا ہے اور یہی چیز مغرب کو کھائے جارہی ہے۔ جس کے لیے کبھی اس کے ترجمان ’سیاسی اسلام‘ جیسی نامعقول، مہمل اور مضحک (absurd) اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور کبھی اسلام کے ڈانڈے فاشزم اور انتہاپسندی سے جوڑتے ہیں ۔ حالاں کہ سچ بات یہ ہے کہ مسلمان اپنا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ حق کہ وہ اپنی انفرادی اور اپنی اجتماعی زندگی کو اپنی اقدار و تہذیب اور قانون و ضابطے کے مطابق گزار سکیں۔
جس طرح مولانا مودودی نے مسلم معاشروں کا جائزہ لے کر ان کی خامیوں کو متعین کیا، اسی طرح انھوں نے مغربی تہذیب کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ یہاں بھی انھوں نے اندھی تنقید اور اندھی تقلید دونوں کے مقابلے میں ایک آزاد، نظریاتی، منطقی اور اعتدال پر مبنی رویہ اختیار کیا۔ انھوں نے تعصب پر مبنی تحقیق و مطالعے کو عدل اور شرفِ انسانی دونوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ مولانا نے مغرب اور مغربی تہذیب کو اس کے مآخذ کے مطالعے اور سرچشموں کے مشاہدے سے جاننے کی جستجو کی ہے۔ پھر ان بنیادوں پر تنقید کی ہے، جو خدا ناشناسی یا خدا کی قدرت کے محدود تصور پر مبنی ہیں۔ 
مولانا مودودی نے مغرب کے سامراجی کردار اور نظریاتی و سیاسی پہلوئوں کا ہمہ پہلو محاکمہ کیا ہے۔ پھر مسلم دنیا کو مغرب کے اس اثر سے نکالنے کے لیے سیاسی، فکری، اجتماعی جدوجہد کی دعوت دی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ مغرب میں یا مغرب کی ہر چیز غلط نہیں، اور نہ مشرق میں اور مشرق کی ہر چیز خیرہے۔ ہمیں کھلے ذہن اور کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے کہ ’خیر‘ کے لیے   کس چیز سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اس ضمن میں انسانی زندگی کے معاملات، سیاسی تجربات اور  سائنسی علوم کو ایک صاحب ِ ایمان فرد کی حیثیت سے پرکھنا چاہیے کہ کہاں اور کس قدر خیر ہے، خیر کو شر سے چھانٹ کر انسانی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے اور شر سے انسانیت کو بچانا چاہیے۔ یہ حس اور یہ صلاحیت اس کھلے ذہن سے پیدا ہوسکتی ہے کہ جس کی میزان لازمی طور پر اسلامی ایمانیات پر استوار ہو اور جس کی کسوٹی اسلامی اصولوں کے ساتھ تصادم یا مطابقت کے سوال سے مشروط ہو۔
 جو چیز اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہیں، وہ انسانیت کی میراث ہے۔ البتہ اندھی تقلید اور اندھی تنقید غلط چیز ہے۔ جو اچھا ہے، اسے قبول کرلو اور جو بُرا ہے، اسے مسترد کردو۔ خیر تک رسائی اور خیر کے استعمال و اختیار کے لیے پوری دنیا ایک میدان ہے۔ ایک صاحب ِ ایمان فرد کسی ایک علاقے اور کسی ایک زمانے تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اسے معتدل طریقے سے یہ خدمت انجام دینی چاہیے۔
مسلم اور مغربی معاشروں کے تنقیدی جائزے کے بعد مولانا نے بتایا ہے کہ اسلامی احیا ہی انسانی زندگی کے لیے خیر اور فلاح کا سرچشمہ ہے، جس کا ماخذ قرآن ہے۔ قرآن کی بنیاد پر دین کو سمجھا جائے، قرآن کی حکمت عملی کو سمجھا جائے اور قرآن کے زیرسایہ اسلامی احیا کی تحریک کو  منظم کیا جائے۔ یہ کام دعوت اور نظم و ضبط سے، افراد کی تیاری اور اداروں کی تعمیروترقی ہی سے ممکن ہے، جس میں سب سے مرکزی اور بنیادی ادارہ خاندان ہے۔ مولانا محترم نے زور دے کربتایا ہے کہ جدید دور میں، جدید ذرائع اور جدید اسلوب کو دعوت و تنظیم اور عمومی بیداری کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اسی لیے انھوں نے جدید زمانے میں تنظیم سازی کے لیے بہترین انداز سے جماعت اسلامی اور دوسرے دعوتی اداروں کو منظم کیا۔

  • تبدیلی کا  اسلامی راستہ: چوتھا یہ کہ مولانا مودودی نے صرف دین ہی کا جامع تصور نہیں دیا، بلکہ عملاً یہ بھی بتایا کہ اسلامی نظام کے خدوخال کیا ہوں گے؟ تبدیلی کا عمل اور تدریج کیا ہوگی؟ انھوں نے جہاد اور قتال کے بارے میں معذرت خواہی یا مداہنت نہیں برتی بلکہ اس کی حدود کو واضح کیا ہے۔ آج کے معاشرے، ریاست اور قانون کو اسلامی شریعت سے قریب تر لانے کے لیے اجتہادی اُمور کی جانب متوجہ کیا ہے۔ یہ بھی بتایا ہے کہ آج ریاست کو کیسے چلانا ہے؟ دستور کس طرح بنانا ہے؟ اسلامی خاندان اور مسلم معاشرے کی وسیع بنیادیں کیا ہیں؟ مسلم اکثریتی علاقوں میں کس طرح زندگی بسر کرنی ہے؟ مسلم اقلیتی ممالک میں زندگی کو کس طرح برتنا ہے؟ انسانی معاشرہ مجموعی طور پر کن بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے یا اس کےاصول کیا ہونے چاہییں؟ خاص طور پر سیاست، معیشت اور تعلیم کے میدان میں بہت ہی متعین انداز میں رہنمائی دی اور درست سمت بتائی ہے۔اس پورے علمی و فکری سفر میں مولانا مودودی کے ہاں ارتقا ہے، تضاد نہیں۔ انھوں نے اجتہاد اور علم کی بنیاد پر کئی نئے راستے کھولے ہیں اور کئی شاہراہوں کی نشان دہی کی ہے۔

مولانا مودودی نے یہ بھی بتایا ہے کہ قومی ریاستیں (Nation States)مسلمانوں کی منزل نہیں، البتہ مسلم ممالک اور دنیا کے حالات کی روشنی میں وہ مسلم اُمہ کے اتحاد واشتراک کی جانب رواں سفر کا ایک ذریعہ بن سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ نظریاتی اساس پر اپنی تعمیر کریں۔ہماری قومی ریاستیں مغرب کی طرح علاقائی اور جغرافیائی اکائیاں نہیں ہیں، بلکہ ایک نظریے کی علَم بردار اور ایک جسد ِ واحد کا حصہ ہیں، جنھیں ایک جان دار جسم سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی ہے وہ سبق، جو قرآنِ کریم نے ہرمسلمان کو پڑھایا اور سمجھایا ہے۔ 
اس حوالے سے مولانا مودودیؒ کی فکر کو سمجھنے کے لیے بنیادی نکات دو ہیں: قرآن اور اقامت دین۔ ان کا سارا علمِ کلام اس کی تفسیر ہے اور ان کی تمام سرگذشت ِ زندگی انھی کے مدار میں رواں رہتی اور پھلتی پھولتی ہے۔
ایک اہم بات جس کا ادراک بہت ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ نے ایک طرف قرآن و سنت اور تاریخ تجدید و احیا کے گہرے مطالعے اور تجزیے کی روشنی میں اسلام کے تصورِحیات کو اس کی مکمل شکل میں پیش کیا۔ ایمان اور تزکیے کے ساتھ زندگی کے پورے نظام کی اسی بنیاد پر تعمیر و تشکیل کا واضح تصور اور نقشہ پیش کیا۔ پھر اس کے مطابق زندگی کے نقشے کو بدلنے کے لیے دعوت اور منظم تحریک کی ضرورت اور حکمت کو واضح کیا، وہیں سوچ کا ایک انداز، تحقیق کا ایک اسلوب اور افکار اور حکمت عملی کی تشکیل کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں خطوطِ کار مرتب کیے، جسے مَیں مولانا مودودی کا منہج (methodlogy ) کہتا ہوں۔ اس عمل میں انھوں نے قرآن و سنت سے مکمل وفاداری پر زور دیا ہے۔ تاریخی روایت کے تسلسل کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات اور زمانے کے تقاضوں کا ادراک کرنے اور اُن کی روشنی میں حدود اللہ کی پاس داری اور مقاصد ِ شریعت سے وفاداری کو لازم قرار دیا ہے۔ پھر زبان و بیان، دلیل و استدلال، تنظیم اور نظامِ کار اور پالیسی کے میدان میں نئے تجربات کی ضرورت اور حدود کو بھی معین فرمایا۔ ان اُمور کی روشنی میں مسلمانوں کی اپنی تاریخ اور دورِحاضر کی غالب تہذیب دونوں کا تنقیدی نظر سے جائزہ لیا اور نئے تجربات کیے۔ 
مولانا محترم کے اندازِ فکر اور تحقیق و تجزیے کے اسلوب، دونوں میں ہمارے لیے بہترین رہنمائی ہے۔ مسلمانوں کو عہد ِ حاضر میں تجدید و احیاے دین کے لیے سرگرم اور متحرک کرنے پر  اللہ تعالیٰ انھیں بہترین انعامات سے نوازے، آمین۔
[صحت کی خرابی کے باعث یہ مضمون، نائب مدیر کو املا کرایا گیا۔ مدیر]

اللہ کی رضا کا حصول روحانیت کا سب سے بلند مرتبہ ہے۔ اس مرتبے کو حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مضبوط قلبی تعلق مطلوب ہے اور یہی عبادت کی روح ہے۔ جبریل امینؑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے ، آنجنابؐ نے پوچھا کہ احسان کیا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا: 
اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ (الجامع الصحیح مسلم) اللہ کی عبادت اس طرح کیجیے کہ گویا آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو تو اتنی کیفیت پیدا کیجیے کہ خد اآپ کو دیکھ رہا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کے رُوبرو ہونا بندگی کا کمال ہے، مگر اس کیفیت کا دل میں پیدا ہونا پاکیزگیِ  قلب اور انابت کی گہرائی چاہتا ہے۔خدا کو دیکھنے کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے اعضاو جوارح کی تربیت کے ساتھ نفس کا تزکیہ اور دل کی خشیت ضروری ہے ۔ اس سے نیچے کی منزل یہ ہے کہ یہ کیفیت پیدا ہوجائے کہ خدا ہم کو دیکھ رہا ہے۔ یہ تصور بھی انسان کے دل کو بدل دیتا ہے اور نفس کے شروروفتن کوزائل کر دتیا ہے۔ یہی اخلاص ہے۔

اخلاص 

ایک مزدور کو اگریہ معلوم ہو کہ اس کا مالک موقعے پر موجود نہیں ہے تو وہ کام میں سستی کرتا ہے، وقت ضائع کرتا ہے اور کام کرتا بھی ہے تو بے دلی سے کرتا ہے، کام کا مطلوبہ نتیجہ نہیں نکلتا ۔ لیکن اگر کسی مزدور کو یہ معلوم ہو کہ اس کا مالک اس کے سامنے کھڑا ہے تو کام میں چستی دکھاتا ہے ، جی لگا کر کام کرتا ہے اور وقت گذاری سے پرہیز کرتا ہے۔ اسی طرح بندے کو یہ احساس ہو جائے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے تو اس کے دل کی کیفیت اور جسمانی عمل کی حالت بدل جاتی ہے۔اس کی عبادت میں یکسوئی پیدا ہو جاتی ہے اور اسی سے اخلاص پیدا ہوتا ہے۔
عبادت سے مراد صرف نماز نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی عبادت ہے اور ہر عبادت اپنی قبولیت کے لیے اخلاص چاہتی ہے۔ اللہ کی رضا جوئی ، بے لوث بندگی ، اللہ سے خوف وامید کے ساتھ طلب، قبولیت کے دروازے کھولتی ہے۔ کسی عمل میں نام ونمود اور ریا کاری شامل ہو جاتی ہے تو اللہ اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے اور وہ عمل مقبول نہیں ہوتا ۔ اسی لیے اللہ کا حکم ہے: 
فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّيْنَ۝۲ۭ اَلَا لِلہِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ۝۰ۭ (الزمر ۳۹:۲-۳) اللہ کی عبادت کرو اس کے لیے دین کو خالص کر کے، آگاہ رہو کہ دین خالص اللہ کے لیے ہے۔ 
صدقہ ،زکوٰۃ ، خیرات ، غربا پروری اور ناداروں کی حاجت روائی سب انسانیت کی بھلائی اور روحانیت کی ترقی کا عمل ہے ،مگر اس کی شرط بھی اللہ کی رضا جوئی ہے۔ ارشاد ہے:
وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا۝۸ اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا۝۹ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْرًا۝۱۰ (الدھر ۷۶:۸۔۱۰) اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور ان سے کہتے ہیں کہ ) ہم تمھیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں،  ہم تم سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیںنہ شکریہ۔ ہمیں تو اپنے رب سے ا س دن کے عذاب کا خوف ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہو گا۔ 

اللہ کا ذکردل کی زندگی ہے 

اخلاص کے لیے اللہ کے حاضرو ناظر ہونے کا احساس ضروری ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی یاد، اس کا استحضار اور اس کا ذکر کرتے رہنا روحانیت کی شاہِ کلید ہے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: 
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى۝۱۴ۙ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰى۝۱۵ۭ بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا۝۱۶ۡۖ وَالْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى۝۱۷ۭ اِنَّ ہٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى۝۱۸ۙ صُحُفِ اِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى۝۱۹ۧ (الاعلٰی ۸۷: ۱۴-۱۹) بے شک وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنا تزکیہ کیا، اپنے رب کے اسم گرامی کا ذکر کیا اور نماز ادا کی ، بلکہ تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، جب کہ آخرت باقی رہنے والی اور بہترہے۔ یہ بات گذشتہ آسمانی صحیفوں میں بھی موجود ہے، صحیفہ ابراہیم ؑاور صحیفہ موسیٰ ؑ میں۔
اللہ کے ذکر سے روحانیت جِلا پاتی ہے اور روحانی ترقی نصیب ہوتی ہے۔ یہ بات پہلے بھی تمام آسمانی صحیفوں میں بیا ن کی گئی ہے اور اس قرآن میں بھی اس کی تائید کی گئی ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: 
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللہَ ذِكْرًا كَثِيْرًا۝۴۱ۙ وَّسَبِّحُــوْہُ بُكْرَۃً وَّاَصِيْلًا۝۴۲ (الاحزاب ۳۳:۴۱-۴۲) اے ایمان والو! اللہ کا کثرت سے ذکر کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح کرو۔ 
دل میں اللہ کی یاد اور زبان سے اس کا ذکر قلب انسانی کو تروتازہ رکھتا ہے۔ ذکر الٰہی روح کی غذا ہے۔جس دل میں خدا کی یاد ہو وہ زندہ ہے اور جو دل یادِ خدا سے غافل ہو وہ مُردہ ہے۔ قرآن نے یہ راز اس طرح عیاں کیا ہے:
 اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِكْرِ اللہِ ۝۰ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللہِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ۝۲۸ۭ (الرعد ۱۳:۲۸) جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے طمانیت پاتے ہیں۔ آگاہ ہو کہ اللہ کے ذکرہی سے دلوں کو تسکین ملتی ہے۔ 
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روحانی نکتے کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی ہے: 
مَثَلُ الَّذِیْ یَذْکُرُ رَبَّہٗ وَالَّذِیْ لَا یَذْکُرُہٗ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ (الجامع الصحیح     بخاری ) اس شخص کی مثال جو خدا کو یاد کرتا ہے زندہ کی ہے، اور اس شخص کی مثال جو خدا کو یاد نہیں کرتا مُردہ کی ہے۔ 
قرآن کی نظر میں ہر سانس لینے والا انسان زندہ نہیں ہے بلکہ ذکر کرنے والا انسان زندہ ہے۔ جسمانی زندگی کھانے سے اور سانس لینے سے قائم رہ سکتی ہے مگر روحانی زندگی یادِخدا کے بغیر قائم نہیںرہ سکتی۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا۔اسلام کے احکام تو بہت سے ہیں مجھے کوئی ایسی بات بتا دیجیے جسے میں لازم پکڑلوں۔رسولؐ پاک نے ارشاد فرمایا : 
لَا یَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًا مِنْ ذِکْرِ اللہِ (سنن ترمذی ) تمھاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تروتازہ رہے۔
اللہ کے ذکر کی ایک تو عمومی شکل ہے کہ اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے ، صبح وشام اللہ کے نام کا ورد کیجیے ، اس کی تسبیح کیجیے ، جس کا حکم قرآن پاک میں اس طرح دیا گیا ہے: 
وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَــہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ۝۲۰۵ (الاعراف ۷:۲۰۵) اپنے جی میں اپنے رب کا ذکر کرو،عاجزی اور خاموشی اور کم آواز سے صبح وشام اور غافلوں میںنہ ہوجائو۔ 
دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے: 
فَسُـبْحٰنَ اللہِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ۝۱۷ وَلَہُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْہِرُوْنَ۝۱۸ (الروم۳۰:۱۷-۱۸) اللہ سزا وارۂ تسبیح ہے،جب تمھاری شام ہو اور جب تمھاری صبح ہو،اسی کے لیے آسمان وزمین میں حمد ہے، رات میں بھی اور جب تمھارا دن ہو۔
اللہ کا ذکر انسان کے میل کچیل کو دھو دیتا ہے، دل کی سختی کو دور کر کے خشیت وانابت پیدا کر دیتا ہے، اور اسے بارگاہِ رب العزت میں نذر کے قابل بنادیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْہِمْ اٰيٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۝۲ۚۖ (الانفال ۸:۲)سچّے اہل دل تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں توان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمومی ذکر کے لیے بہت سے وظائف کی تعلیم فرمائی ہے۔ اس میں سب سے آسان ا ور مقبول ذکر ہے ـ: سُبْحَانَ اللہِ  وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ  الْعَظِیْمِ۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ، ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ ،حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحمٰنِ  سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ  الْعَظِیْمِ (الجامع الصحیح بخاری) دو جملے رحمن کو بہت بہت پسند ہیں، وہ جملے زبان پر ہلکے اور میزان میںبھاری اور رحمن کو محبوب ہیں۔ سُبْحَانَ اللہِ   وَ بِحَمْدِہٖ  سُبْحَانَ اللہِ  الْعَظِیْمِ ۔ 
اللہ کے ذکر کی دوسری شکل خاص اور ضابطۂ بند ہے اور وہ نماز ہے جو پانچ وقتوں میں فرض ہے اور بقیہ اوقات میں نفل ہے۔ نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
اَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ (طہٰ ۲۰:۱۴) نماز قائم کرمیری یاد کے لیے ۔ 
ذکر کی منظم اور مکمل صورت نماز ہے۔اسی لیے نماز کو مو من کی معراج فرمایا گیا ہے۔  رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا صَلّٰی یُنَاجِیْ رَبَّہُ ،’’جب تم میں سے  کوئی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے‘‘۔ 
بندہ کا خدا سے ،حبیب سے مکالمہ وجدانگیز ، روح پرور اور حاصل زندگی ہوتا ہے۔ یہ مقام انسان کو نماز سے حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَيِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ۝۰ۭ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْہِبْنَ السَّـيِّاٰتِ ۝۰ۭ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْنَ۝۱۱۴ (ھود ۱۱:۱۱۴) نماز قائم کرو دن کے کناروں میںاور رات کے حصے میں، بے شک نیکیاں برائیوں کو زائل کر دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے ذکر کرنے والوں کے لیے۔
عمومی ذکر کا اعتبار اسی وقت ہوتا ہے جب انسان ذکر خصوصی، یعنی نمازکااہتمام کرتا ہو۔ جو شخص فرض نمازوں کا پابند نہیں وہ لاکھ ذکر الٰہی کا دعویٰ کرے اس کا دعویٰ معتبر نہیں، کیوں کہ ایمان اور کفر کے درمیان حدِ فاصل نماز ہے۔ جو شخص خدا کا دوست ہونے کا دعویٰ کرتاہے وہ اس کے آگے سر جھکانے سے اور اس کے حکم کی تعمیل کرنے سے کیسے روگردانی کرسکتا ہے۔

اعمالِ صالحہ 

نماز کے علاوہ دوسری تمام عبادات کا اہتمام کرنا،جیسے صدقہ، زکوٰۃ ، خیرات، روزہ ،حج ، جہاداور ان عبادات کے علاوہ تمام اعمالِ صالحہ کا التزام کرنا روحانیت کے لیے لازم ہے۔ صرف کلمۂ توحید کا اقرار کرنا اور شرک وکفر سے پرہیز کرنا روحانی زندگی کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ نیک عمل کو زندگی کا طریقہ اور وظیفہ بنا لینا ضروری ہے۔ روحانیت کے لیے اعمال صالحہ کا اہتمام کرنے کی ضرورت اور حکمت کیا ہے؟ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے لکھا ہے: 
ــ’’عیسائیوں میں جیسا کہ پال کے خطوط میں ہے، صرف ایمان پر نجات کا دارومدار ہے، اور بودھ دھرم میں صرف نیکو کاری سے نروان کا درجہ ملتا ہے اور کہیں صرف گیان اور دھیان کو نجات کا راستہ بتایا گیا ہے ، مگر پیغمبر اسلام علیہ السلام کے پیغام نے انسانیت کی نجات کا ذریعہ ذہنی (ایمان) اور جسمانی (عمل صالح ) کو ملا کر قرار دیا ہے، یعنی پہلی چیز یہ ہے کہ ہم کو اصول کے صحیح ہونے کا یقین ہو، اس کو ایمان کہتے ہیں ، پھر یہ کہ ان اصولوں کے مطابق ہمارا عمل درست اور صحیح ہو،یہ عمل صالح ہے۔ ہر قسم کی کامیابیوں کا انحصار انھی دوباتوں پرہے۔کوئی مریض صرف اصول طبی کوصحیح ماننے سے بیماریوں سے نجات نہیں پا سکتا ، جب تک وہ ان اصولوں کے مطابق عمل بھی نہ کرے۔ اسی طرح صرف اصولِ ایمان کو تسلیم کر لینا انسانی فوز وفلاح کے لیے کافی نہیںہے جب تک ان اصولوں کے مطابق پورا پورا عمل بھی نہ کیا جائے‘‘۔(سیّد سلیمان ندوی، سیرت النبیؐ، ج۵، اعظم گڑھ، ۲۰۱۱ء، ص۱۱)
عمل صالح کا اہتمام کرنے سے انسان اللہ کی نظر میںبھی محبوب ہو جاتا ہے اور دوسرے انسان بھی اس سے محبت اور اس کی عزت کرنے لگتے ہیں،یعنی جو اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوتا ہے وہ بندوں کی نظر میں بھی محبوب ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: 
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۝۹۶ (مریم ۱۹:۹۶) جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کا اہتما م کیا عنقریب رحمٰن ان کو دوست بنائے گا۔ 

ترک  معاصی 

اعمالِ صالحہ کا فائدہ انسان کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ بُرے اعمال ، بُرے خیالات اور بُری باتوں سے اجتناب کرے۔ اعمالِ صالحہ روحانی امراض کے لیے دوا ہیں اور بری باتوں سے دُور رہنا پرہیز کے درجے میں ہے۔جب تک مریض پرہیز نہیں کرتا دوا کارگر نہیں ہوتی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَذَرُوْا ظَاہِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ ۝۰ۭ (الانعام ۶:۱۲۰) ظاہری اور باطنی ہر قسم کی برائی ترک کر دو۔
بُرے اعمال اور بُرے خیالات کا اثر انسان کے قلب وذہن پر پڑتا ہے اور اسے روحانی کیفیات کا حامل بننے سے روکتا ہے۔ قرآن پاک میںہے:
كَلَّآ بَلْ  ۝۰۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۝۱۴  (المطففین ۸۳:۱۴) ہرگز نہیں، بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے ۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب انسان کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر  سیاہ نکتہ بن جاتا ہے۔اگر وہ اس سے توبہ واستغفار کرتا ہے تو وہ سیاہی زائل ہو جاتی ہے، اور اگر وہ پھر گناہ کرتا ہے توسیاہی زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہی وہ زنگ ہے جس کاذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے۔
اس لیے روحانیت کی سب سے پہلی منزل یہ ہے کہ اوصاف رزیلہ انسان کے دل سے  نکل جائیں اوردوسری منزل یہ ہے کہ اوصاف حمیدہ کادل خوگرہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے  توبہ و استغفار کرنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللہِ جَمِيْعًا اَيُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۳۱ (النور ۲۴:۳۱)   اے مومنو! تم سب اللہ سے توبہ کرو تا کہ فلاح پائو۔ 

توبہ واستغفار 

انسان سے دانستہ خطائیں سر زد ہوتی ہیں۔توبہ ان خطائوںسے معافی کادروازہ کھولتی ہے اور اللہ کی رحمت کومتوجہ کرتی ہے۔اللہ کو وہ بندہ پسند ہے جو غلطی کرے تو اللہ سے توبہ واستغفار کرے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور حضرت آدم ؑ اور ابلیس دونوں سے غلطی سرزد ہوئی۔ حضرت آدمؑ کی غلطی یہ تھی کہ اللہ کے منع کرنے کے باوجود انھوں نے شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا اور ابلیس کی غلطی یہ تھی کہ  اللہ کے حکم دینے کے باوجود حضرت آدمؑ کو سجدہ نہ کیا۔ دونوں خطا کار تھے مگر ایک راندۂ دربار ہوا اور دوسرے نے معافی اور محبت پائی،اس لیے کہ دونوں کے رویے میں بڑا فرق تھا۔ 
پہلا فرق یہ تھا کہ حضرت آدم ؑنے اپنی غلطی کا اقرار کیا مگر ابلیس نے اپنی غلطی کا اقرار نہیں کیا ۔ دوسرا فرق یہ تھا کہ حضرت آدم ؑاپنی غلطی پر نادم ہوئے اور ابلیس کو اپنی غلطی پر ندامت نہیں ہوئی۔ تیسرا فرق یہ تھا کہ حضرت آدمؑ نے اپنی غلطی کو اپنے نفس کی خطا قرار دیا اور ابلیس نے اپنی غلطی کو خد ا سے منسوب کیا اور کہا: رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ(الحجر۱۵:۳۹)’’اے رب تو نے    مجھے گمراہ کیا‘‘۔ چوتھا فرق یہ تھا کہ حضرت آدمؑنے گڑگڑا کر توبہ کی اور کہا:
رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنفُسَنَا وَ اِن لَّمْ تَغفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الخٰسِرِینَ   اے ہمارے رب ہم نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور رحم نہ کرے تو ہم خسارے میں مبتلا ہو جائیں گے۔
اور ابلیس توبہ کرنے کے بجاے گناہ پہ قائم رہا۔ابلیس کا یہ رویہ غلطی پر اصرار اور سر کشی کا تھا۔ حضرت آدمؑ کا رویہ عاجزی کا تھا۔ ابلیس نے استکبار کیا،حضرت آدم ؑنے استغفار کیا۔ اسی فرق نے دونوں کے انجام کو جدا کیا۔ ابلیس ملعون ہوا اور حضرت آدمؑ محبوب ہوئے۔

صبر وتوکل کا التزام

روحانی اعمال ووظائف کی پابندی کرنا اور منکرات وخواہشات سے اجتناب کرنا صبر چاہتا ہے۔ اس راہ میں مشکلات وموانعات ہیں، تکالیف اور شدائد ہیں اور ان کو انگیز کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو صبر کی تلقین کی ہے اور صبر ہی پر آخرت کا اجر ملتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: 
 اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(الزمر۳۹:۱۰) صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔
صبر انسان کو حرص وہوس سے بچاتا ہے اور گناہ اور شہوت سے بھی دُور رکھتا ہے۔ صبر وقتی بھی ہوتا ہے اور دائمی بھی۔ روحانی زندگی دائمی زندگی ہے۔ اس لیے صبر کو ہمیشہ اختیار کرنا مومن کی شان ہے۔ اس کے لیے نمونہ انبیا علیہم السلام ہیں خصوصاً محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے جس کے اتباع کا حکم قرآن پاک میں اس طرح دیا گیا ہے: 
فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ(الاحقاف ۴۶:۳۵) جس طرح  عالی ہمت رسولوںؑ نے صبر کیا اس طرح صبر کرو۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سوال کیا، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عطا فرمایا ۔ انھوں نے پھر سوال کیا، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا فرمایا۔یہاں تک کہ آپؐ کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا مال ان کو دینے کے بعد فرمایا کہ میرے پاس جو مال آتا ہے وہ    تم سے بچا کر نہیں رکھتا۔ اب جو شخص اللہ سے عفت چاہتا ہے اللہ اس کو عفیف بنا دیتا ہے، اور جو استغناء طلب کرتا ہے اس کو مستغنی بنا دیتا ہے، اور جو کوشش کر کے صبر اختیار کرتا ہے اللہ اس کو صابر بنادیتا ہے اور کسی شخص کو صبر سے بہتر وسیع عطیہ نہیں دیا گیا ۔(الجامع الصحیح بخاری )
انسانی اذیتوں ، آسمانی بلائوں اور دنیوی مشکلات ومصائب پر صبر کرنے کے ساتھ ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرے۔اسباب ووسائل سے بھی کام لے مگر ان پر بھروسا      نہ کرے، بلکہ بھروسا صرف اللہ پر کرے ، کیوںکہ مشکلات اللہ کی طرف سے آتی ہیں، وسائل واسباب کو اللہ پیدا کرنے والا ہے اور وہی وسائل سے ماورا ہو کر انسان کی مدد کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ۝۰ۭ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا۝۳ (الطلاق ۶۵:۳) جو شخص اللہ پر بھروسا کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے، اللہ اپنا کام انجام تک پہنچاتا ہے، ہر چیز کے لیے اس نے پیمانہ مقرر کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب رسولوں کو توکّل کی تفہیم اس طرح دی ہے: 
وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللہِ وَقَدْ ہَدٰىنَا سُبُلَنَا ۝۰ۭ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰي مَآ اٰذَيْتُمُوْنَـا۝۰ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۝۱۲ۧ (ابراہیم۱۴:۱۲) اور ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ   ہم اللہ پر بھروسا نہ کریں ،جب کہ اس نے ہمیں ہماری راہیں دکھائیں ، اور ہم تمھاری اذیتوںپر صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ 

مال ودولت روحانیت کے منافی نہیں 

فقر ودرویشی روحانیت کے لیے موزوں ہے مگر لازمی نہیں ہے۔ مال ودولت روحانیت کے منافی نہیں ہے بشر طیکہ حلال طریقے سے کمایا جائے اور اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کیے جائیں۔ اگر حقوق اللہ ادا کرتے ہوئے مال ودولت حاصل کیا جائے تو یہ مذموم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: رِجَالٌ۝۰ۙ لَّا تُلْہِيْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِيْتَاۗءِ الــزَّ کٰــوۃِ ۝۰۠ۙ (النور ۲۴:۳۷) یہ وہ لوگ ہیں جن کو تجارت اور بیع اللہ کے ذکرسے اور نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ دینے سے نہیں روکتی ۔ غریبوں ، ناداروں اور محتاجوں پر مال ودولت خرچ کرنا روحانیت کا طریقہ ہے اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب انسان کے پاس مال ودولت ہو۔ مال داروں پر اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ فرض کی ہے اور ان کو صدقات کی تعلیم دی ہے۔ارشاد فرمایا: اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَۃً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۲۷۴ؔ (البقرہ ۲:۲۷۴) جو لوگ اپنا مال خرچ کرتے ہیں رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور ظاہری طور پر ، ان کے لیے ان کا اجر ہے، ان کے رب کے پاس، نہ ان کو کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ 
اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا تزکیہ نفس کا بڑا ذریعہ ہے۔ غریبوں پر مال خرچ کرنے سے دولت بھی پاک ہوتی ہے اور انسان کا نفس بھی پاک ہوتا ہے۔ صحابہ کرامؓ  میںبہت سے نادار تھے اور بہت سے مال دار ۔ مال دار صحابہ ،نادار صحابہ سے کسی طرح بھی روحانیت میں کم نہ تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ کے تمام احکام بجالاتے تھے اور جو دولت ان کے پاس تھی اسے ناداروں ،محتاجوں اور جہاد میں خرچ کرتے تھے۔ اگر مال داری روحانیت کے منافی ہوتی تو یہ حضرات ہرگز اسے گھر میں آنے نہ دیتے ، کیوں کہ یہ حضرات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ اور ان کے جانشین تھے۔ حضرت ابو بکر ؓ ، حضرت عثمان ؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ جیسے صحابہ وولت وثروت میںممتاز تھے، تو انفاق فی سبیل اللہ اور غربا پروری میںبھی بے مثال تھے،چنانچہ ان کا روحانی مقام بھی بہت بلند تھا۔ 

حکومت روحانیت کے منافی نہیں 

دولت کی طرح حکومت اور قیادت بھی روحانیت کے منافی نہیںہے، بشرطیکہ خواہش نفس کی تکمیل کے لیے اور عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے نہ کی جائے۔ حکومت اور قیادت کو  دُنیا داری کا کام سمجھا جاتاہے اور روحانیت کو اس سے دور خیال کیا جاتا ہے، مگر قرآن کی نظر میںحکومت اور روحانیت میں تضاد نہیں ہے۔ اگر حکومت اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے کی جائے، انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ کی جائے اور اللہ کے احکام کو اللہ کی زمین میں نافذ کرنے کے لیے کی جائے تو یہی روحانیت کا تقاضا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ۝۴۱(الحج ۲۲:۴۱) ان لوگوں کوجب ہم زمین میں اقتدار عطا کرتے ہیں تو وہ نماز قائم کرتے ہیں،زکوٰۃ دیتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
نماز قائم کرنا،زکوٰۃ ادا کرنا اور نیکی کی اشاعت کرنا خالص روحانی عمل ہے اور یہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ اس ذمہ داری کو نبھائیں تو مسند حکومت پر سرفراز ہونے کے باوجود وہ روحانی ہستیاں ہیں۔ انبیا علیہ السلام سے زیادہ روحانی شخصیت دنیا میں کس کی ہوسکتی ہے۔غور کیجیے کہ حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام اپنے وقت کے عظیم الشان باد شاہ ہیں اور ایسے صاحب شوکت وحشمت کہ چرند پرند اور ہوائوں پر بھی حکومت ہے، مگر اسی کے ساتھ وہ اللہ کے جلیل القدر نبی بھی ہیں اور روحانیت کے امام بھی ہیں۔ 
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی ہے: 
رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا۝۸۰ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۰) پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دنیا میںکوئی روحانی ہستی نہیںپیداہوئی،مگر آپؐ  کا اقتدار کے لیے دعا کرنا اور پھر مدینہ پہنچ کر اسلامی ریاست قائم کرنا روحانیت کے منافی نہیں ہے بلکہ روحانیت کو مضبوط اوروسیع کرنے کے لیے ہے،تا کہ زمین پر شیطان کی حکومت ختم ہو اور رحمٰن کی حکومت جاری وساری ہو۔اللہ کے بندوں کے لیے اللہ کی بندگی کا ماحول ساز گار ہو،نفسانیت کا خاتمہ ہو، روحانیت کا بول بالا ہو۔
جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاے راشدین ،حضرت ابو بکر ؓ ، حضرت عمر ؓ، حضرت عثمان ؓاور حضرت علی ؓ مثالی حکمران تھے۔دنیا کے تمام حکمرانوں کے لیے اسوہ اور رہنما تھے اوراسی کے ساتھ وہ روحانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔آج کی روحانی ہستیوں کا کمال یہ ہے کہ وہ ان خلفاے راشدین کے نقش قدم تک پہنچ جائیں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادایگی میں جس اعتدال وتوازن کی ضرورت ہے وہ ان پاک ہستیوں سے سیکھیں ۔ 

روحانیت مطلوب ہے رہبانیت نہیں 

قرآن نے روحانیت کی جو تعلیم دی ہے وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد، یعنی اللہ اور بندوں کے حقوق کی یکساں ادایگی کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے انسان سماج میں  رہ کر دنیا کی ضروریات کی تکمیل کرتے ہوئے اپنی روحانی پاکیزگی کا اہتمام کرے۔سماج سے کٹ جانا، گوشہ نشینی اختیار کرلینا ، لوگوں کی حاجت روائی سے رو گردانی کرنا اور انسانی حقوق کی ادایگی سے غفلت برتنا روحانیت کے منافی ہے ۔ انسانوں کی فیض رسانی کرنا اور ان کی تکالیف پر صبر کرنا روحانیت کا تقاضا ہے، جب کہ رہبانیت ترکِ دنیا کی تعلیم دیتی ہے،انسانی سماج سے علیحدہ ہوجانے اور گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر یاد ِخدا میں زندگی گزارنے کی تلقین کرتی ہے۔ رہبانیت اللہ کو مطلوب نہیں ہے اور اسلام اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادایگی کو روحانی زندگی کا مشن قرار دیتا ہے۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
اکثر مذاہب نے دین داری اور خدا پرستی کا کمال یہ سمجھا تھا کہ انسان کسی غار،کھوہ یا جنگل میں بیٹھ جائے اور تمام دُنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لے۔ اسلام نے اس کو عبادت کا صحیح طریقہ قرار نہیں دیا ہے۔ عبادت در حقیقت خدا اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کانام ہے۔ اس بنا پر وہ شخص جو اپنے تمام ہم جنسوں سے الگ ہوکر ایک گوشے میں بیٹھ جاتا ہے، وہ در حقیقت ابناے جنس کے حقوق کی ادایگی سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ کسی تعریف کا مستحق نہیں۔ (سیرت النبیؐ، ج۵، ص۳۱)

ازواج واولاد روحانیت کے منافی نہیں 

روحانیت کی راہ عبادت ہے اور عبادت کے لیے انسان یکسوئی چاہتا ہے ۔اس یکسوئی کے لیے کبھی وہ تجرد کی زندگی اختیار کر لیتا ہے،یعنی ازواج واولاد کی ذمہ داریوں سے گریز کرتا ہے، اگرچہ تجرد کی زندگی اسلام کی کی نظر میں حرام نہیںہے مگر مطلوب بھی نہیں ہے۔ انبیا علیہم السلام کی روحانی ہستیاں ازواج واولاد کی حامل تھیں۔ ان انبیا ؑمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اوررحضرت یحییٰ علیہ السلام نے گو کہ شادی نہیں کی اور ان کے بال بچے نہیں تھے مگر انبیا علیہ السلام کی عظیم اکثریت اُن پر مشتمل تھی جنھوں نے شادی کی اور ازواج واولاد کے حامل ہوئے۔ خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادیاں کیں اور صاحب ِاولاد ہوئے، اس لیے کہ روحانیت کے لیے تجرد کی زندگی مطلوب نہیں ہے بلکہ بال بچوں کی ذمہ داری کے ساتھ روحانی زندگی مطلوب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو یہ دعا کرنے کی تعلیم دی ہے: 
رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا۝۷۴ (الفرقان ۲۵:۷۴) اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اوراپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا۔

قبر پرستی روحانیت کے منافی

روحانیت کی علامت صرف تقویٰ اورخدا ترسی ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادایگی ہے۔ اس کے برعکس آج کے عہد میں روحانیت کے لیے مخصوص علامتیں اور رسمیں وضع کر لی گئی ہیں۔ اس ظاہرداری کا روحانیت سے تعلق نہیں ہے، بلکہ بعض رسمیں روحانیت کے لیے نقصان دہ اور مہلک ہیں۔ان ہی میں ایک رسم بزرگوں اور نیک بندوں کی قبروں کو مزین کرنا، ان پر چراغاں کرنا اور ان کو حاجت روائی کے وسیلے کے طور پر اختیار کرنا اور ان کو مذہبی سرگرمیوں کا مرکز بنانا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر جانے اور مُردوں کے لیے دعاے مغفرت کرنے کی تعلیم تو دی ہے مگر قبروں کوسجدہ گاہ بنانے کی ممانعت فرمائی ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے: 
وَ اِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا یَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ اَنْبِیَاءِ ھِمْ وَصَالِحِیْھِمْ مَسَاجِدً ا فَلَا تَتَّخِذُوْا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدًا اِنِّیْ اَنْھٰکُمْ عَنْ ذٰلِکَ (الجامع الصحیح مسلم ) تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے تھے، تم لوگ قبروں کو مسجد نہ بنا لینا۔ میں تم کو اس سے روکتا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں اُم المومنین حضرت ام سلمہ ؓ اور ام حبیبہ ؓ نے حبشہ کے ایک گرجے کا تذکرہ کیا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کے یہاں جب کسی نیک انسان کا انتقال ہوتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں اس کی تصویر لٹکا دیتے۔ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بد ترین مخلوق ہیں قیامت تک ۔ (الجامع الصحیح مسلم ) 
قبریں خواہ انبیا ؑکی ہوں یا بزرگوں کی، وہ حاجت روائی کا ذریعہ نہیں ہیں اور نہ عبادت کا مرکز ہیں، بلکہ وہ صرف موت کو یاد کرنے کا مقام ہیں۔ ان کے اسوہ پر چلنے کی ضرورت ہے اور ان کی روحانی تعلیم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مسجدیں روحانیت کا مرکز

قبروں کے مقابلے میں مسجدیں حاجت روائی کا وسیلہ اور روحانیت کا مرکز ہیں۔ چوں کہ مسجدمیں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے اور عبادت کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اس سے فریاد کی جاتی ہے، اس سے حاجت روائی کی دعا مانگی جاتی ہے اور خدا اپنے بندوں کی دعا قبول کرتا ہے۔اس لیے روحانیت کا اس سے بہتر اور کوئی مرکز نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللہُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْہَا اسْمُہٗ ۝۰ۙ يُسَبِّــحُ لَہٗ فِيْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۝۳۶ۙ (النور ۲۴:۳۶) اللہ کا نور ان گھروں میںپایا جاتا ہے جس میں اپنے نام کا ذکر کرنے اور اسے بلند کرنے کا حکم دیا ، ان گھروں میں صبح وشام اس کی تسبیح بیان کی جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ سات لوگ جو قیامت کے دن اللہ کے سایے میں ہوں گے ان میں ایک شخص وہ ہے جس کا دل مسجد میںلگا ہوا ہو ۔(الجامع الصحیح بخاری )۔ یعنی جس شخص نے مسجد میں پابندی سے نماز ادا کرنے کو وظیفۂ زندگی بنا لیا ہے وہی سایۂ خدا وندی کا مستحق ہے۔ 
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور بندگی روحانیت ہے۔ اللہ کے حکم پر عمل کرنا اور غیر اللہ سے کنارہ کشی کرنا روحانیت کی شاہ کلید ہے۔ 

میں دنیا سے بے زارہوچکا ہوں،اس سے دور کہیں بھی بھاگ جانا چاہتا ہوں، لیکن کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ ملازمت بدلوں، گھر بدلوں، محلہ اور شہر بدلوں، یا ملک چھوڑ دوں، آخر کیسے جیتے جی اس دنیا سے پیچھا چھڑاؤں، کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ دنیا میرے ساتھ سایے کی طرح لگی رہتی ہے، اور میرے ہر فیصلے پر حاوی رہتی ہے۔ میرے مسائل اور پریشانیوں کی جڑ یہی دنیا نظر آتی ہے۔ 
دل میں اکثر خیال آتا کہ کسی طرح یہ دنیا میرے سامنے اس طرح آجاتی کہ میں اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتا اور اس کا گلا گھونٹ کر اس سے چھٹکارا پالیتا۔ آخر ایک دن تنہائی میں بیٹھاہوا تھا کہ مجھے یوں لگا جیسے دنیا میرے سامنے کھڑی ہے:
دنیا: تمھیں مجھ سے کس بات کا گلہ ہے، بولو، میں تمھارے سامنے ہوں؟
مـیں  : مجھے غم اس بات کا ہے کہ تم سے چھٹکارا پانے کا مجھے کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
دنیا: دیکھو، مجھ سے تعلق رکھنا تمھاری ایک فطری ضرورت ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ میرے بغیر جی سکتا ہے۔ میں اللہ کی مخلوق ہوں، اور میرے اندر دل موہ لینے کی صفت رکھی گئی ہے۔
مـیں: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم سے تعلق رکھنا ضروری ہو؟
دنیا: ہاں، ایسا ہی ہے۔ اس زندگی میں کوئی مجھ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، میں زندگی کی ضرورت ہوں، یہ فطرت کا قانون ہے۔ دراصل مجھ سے تعلق ہونا غلطی نہیں ہے، غلطی یہ ہے کہ مجھ کو آخرت پر ترجیح دے دی جائے۔ یہی وہ غلطی ہے جس کا ارتکاب اکثر لوگ کرتے ہیں۔
مـیں: تمھاری حقیقت کیسے معلوم ہوسکتی ہے؟
دنیا: میری حقیقت اللہ کے رسول ﷺ نے بہت اچھی طرح سمجھائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’دنیا حلاوت سے بھرپور اور سرسبزوشاداب ہے‘‘۔ البتہ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی آپؐ نے بتایا کہ: ’’دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے‘‘۔
مـیں: لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ بہت سے اہل ایمان بھی اس دنیا میں بڑی آسایشوں اور راحتوں میں رہتے ہیں۔
دنیا: قید خانے سے مراد کوئی آ ہنی قفس یا تعذیب خانہ نہیں ہے، کہ جہاں وحشیانہ سزائیں دی جاتی ہیں۔ قید خانے سے مراد یہ ہے کہ مومن اپنے آپ کو اللہ کے احکام کا پابند بنا کر رکھتا ہے، اور نفس کو آزاد نہیں چھوڑ دیتا ہے۔ ویسے دیکھو تو دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی طرح پابندیوں میں گھرا ہوا ہے۔ شیخ محمد بن سماک رحمۃ اللہ علیہ کی بات پر غور کرو، انھوں نے فرمایا: ’’ اے آدم کے بیٹے! تم ہمیشہ سے قید میں ہو۔ پہلے پیٹھ کی قید میں ، پھر پیٹ کی قید میں، پھراس کپڑے کی قید میں جس سے بچوں کو کس کر لپیٹ دیا جاتا ہے۔ پھر مکتب کی قید میں، پھر گھریلو ذمہ داریوں کی قید میں، پس کوشش کرلو کہ موت کے بعد آرام مل جائے، ورنہ پھر ایک انتہائی تکلیف دہ قید تمھاری منتظر ہے‘‘۔
مـیں: یہ بہت سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ اچھا یہ تو بتاؤ کہ تمھارا نام دنیا کیوں پڑا ہے؟
دنیا: اگر میرے نام کا مطلب لوگ سمجھ لیں، تو میری چمک دمک کے دام میں نہ آئیں۔ میرے نام کے دو مطلب ہیں: l ایک مطلب یہ ہے کہ میں عارضی ہوں، میری عمر بہت کم ہے، بہت جلدی فنا ہوجانے والی ہوں۔ lدوسرا مطلب یہ ہے کہ میں ایک معمولی اور بے وقعت چیز ہوں، آخرت کے مقابلے میں میری کوئی قیمت نہیں ہے۔
مـیں: میں تمھارے دام سے بچ کر زندگی گزاروں، اس کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا؟
دنیا: یہ بہت خطرناک سوال ہے۔ تم مجھ سے میرا راز اُگلوانا چاہتے ہو۔ میں لوگوں کو مختلف طرح سے اپنے جال میں پھنساتی ہوں۔ کسی کو مال ودولت کے جال میں، تو کسی کو جاہ ومنصب کے جال میں، اور یہ سب میری آرایش و زیبایش کا کمال ہے۔ پھر یہ بات تو تم بھی جانتے ہو کہ آرایش و زیبایش کتنی ہی دل کش ہو، وہ عارضی ہی ہوتی ہے۔ کیا تم نے کبھی کسی دلہن کی آرایش،   یا کسی شادی کے گھر کی سجاوٹ کو دیکھا ہے؟ کیا وہ کبھی ہمیشہ کے لیے باقی رہی ہے؟
مـیں: اے دنیا! تم میرے سوال سے فرار مت اختیار کرو، میرے سوال کا جواب دو۔
دنیا: جلدی مت مچاؤ، میں ضرور جواب دوں گی۔ دیکھو تمھیں یہاں میرے ساتھ ہی جینا ہے، لیکن میرے فتنوں سے بچتے ہوئے جینا ہے۔ یہی تمھاری نجات کا راستہ ہے۔ اس کے لیے سب سے ضروری صفت ہے ، ہوشیاری اور بیداری۔ میں لذتوں اور شہوتوں کے جلو میں رہتی ہوں، جو مجھے آخرت کی گزرگاہ سمجھ کر آخرت کی طرف چلتا رہتا ہے، وہ بچ نکلتا ہے اور منزل کو پالیتا ہے، اور جو مجھے مستقل ٹھکانہ سمجھتا ہے، وہ میرے جال میں پھنس جاتا ہے اور نامراد ہوجاتا ہے۔  میں منزل نہیں گزر گاہ ہوں۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے خبردار کیا تھا:
دیکھو ان چیزوں سے پرہیز کرو جو تمھیں دنیا میں مصروف کردیں، کیونکہ دنیا کی مصروفیتیں بہت زیادہ ہیں۔ انسان مصروفیت کا ایک دروازہ اپنے لیے کھولتا ہے، اور اس دروازے سے دس دروازے اور کھل جاتے ہیں۔
مـیں: تب تو میں تم سے بالکل قطع تعلق کرلوں گا،جبھی تو مجھے تم سے نجات مل سکے گی۔
دنیا: یہ نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب ہے، البتہ ہوشیار ضرور رہو۔ جب بھی دنیا کی مصروفیت کا کوئی دروازہ تمھارے لیے کھلے، تم آگے بڑھ کر آخرت کی مصروفیت کا ایک دروازہ بھی اپنے لیے کھول لو، تاکہ آخرت کے سفر پر بھی گامزن رہو اور دنیا میں جو تمھارے حصے کا ہے وہ بھی تمھیں    مل جائے۔ اس طرح اعتدال اور توازن کے ساتھ زندگی گزارو۔ یہی خالق کی ہدایت اور منشا ہے۔
مـیں: لیکن مجھے ڈر لگتا ہے۔
دنیا: ڈرو نہیں، بس اس کا خیال ہمیشہ رکھو کہ دنیا کی زندگی کس طرح ہوشیاری کے ساتھ گزارنی ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک بات ہمیشہ یاد رکھو۔
مـیں: وہ کیا بات ہے؟
دنیا: حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا:’’ تم میں سے کسی کو میں ہرگز اس طرح نہیں پاؤں کہ گویا رات میں مُردہ لاش ہے، اور دن میں پھدکنے والا کیڑا ہے‘‘۔
یہ حال بہت سے لوگوں کا ہے، راتیں غفلت بھری نیند کی نذر ہوجاتی ہیں، اور دن  غفلت بھری بھاگ دوڑ میں گزرتے ہیں۔ آخرت کی تیاری کا خیال نہ دن میں آتا ہے اور نہ رات میں۔ کسی نے بہت صحیح کہا ہے: ’’آدم کا بیٹا مسکین ہے، وہ جتنا فقر وفاقے سے ڈرتا ہے، اگر وہ اتنا ہی دوزخ کی آگ سے بھی ڈر جائے، تو جنت میں داخل ہوجائے‘‘۔
مـیں: تمھاری باتیں دل پر اثر کر رہی ہیں، مجھے کچھ اور نصیحت کرو۔
دنیا: اللہ کے اس فرمان کو ہمیشہ یاد رکھو:  
وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا كَمَاۗءٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَاۗءِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ ہَشِيْمًا تَذْرُوْہُ الرِّيٰحُ ۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا۝۴۵ (الکہف۱۸: ۴۵) اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کرو (وہ ایسی ہے)  جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا تو اُس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر  وہ چُورا چُورا ہو گئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اور دیکھو اگر پہلے تم مجھ سے ایک بار ہوشیار رہتے تھے تو آج کے بعد ہزار بار ہوشیار رہو۔
مـیں: کیا اتنی صاف صاف باتیں ہونے کے بعد بھی تم مجھے اپنے دام میں پھنساؤ گی؟ کیا مجھے تمھارے بارے میں مطمئن نہیں ہوجانا چاہیے؟
دنیا: دیکھو ایک کہاوت ہے کہ لوگوں نے کوّے سے پوچھا کہ تم آخر صابن کیوں اُچک لیتے ہو؟ کوّے نے جواب دیا: ’’کیونکہ ستانا میری فطرت ہے‘‘۔ میں بھی تم سے کہتی ہوں کہ دیکھو، پھنسانا میری فطرت ہے۔ اس لیے دنیا کے عاشق کبھی مت بننا، دنیا تمھاری وفادار نہیں ہوسکتی ہے۔ 
پھر دنیا اچانک غائب ہوگئی۔میں پکارتا رہ گیا، اس کے بعد میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے دنیا کی حقیقت سمجھنے کا موقع دیا۔
واقعی دنیا کی زندگی محض گھڑی بھر کی ہے۔ کیوں نہ اسے سنبھال کر نیکی کی راہ میں گزار دیا جائے۔

شروع سے میری عادت ہے کہ جہاز یا بس کے سفر پر ہوں یا کسی تقریب یا دفتر میں، کوشش کرتا ہوں کہ ساتھ بیٹھے ہوئے یا ملاقاتی سے بات چیت کروں۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ دوتین سوالات اور ان کے جوابات سے کسی مشترکہ تعلق کا علم ہو جاتا ہے اور پھر اگر ایک دوسرے کے مزاج اور خیالات میں کچھ ہم آہنگی ہو تو یہ ملاقات دوستی میں بھی بدل جاتی ہے۔مارچ ۲۰۱۸ء کے آخری ہفتے ایک بار پھر اللہ تعالیٰ نے عمرے کی سعادت بخشی۔ 
دوبئی کے راستے امریکا واپسی کا سفر شروع ہوا تو جہاز میں میری ملاقات ساتھ والی نشستوں پر بیٹھے پاکستان سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی سے ہوئی۔معلوم کرنے پر انھوں نے اپنا نام شعیب لاری بتایا۔ پھر چند سوالات پر جان پہچان کا تعلق قائم ہو گیا۔ اسی گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ امریکا کی مشہور یونی ورسٹی سٹن فورڈ  سے پی ایچ ڈی ہیں ۔ ہمارا سان فرانسسکو تک یہ تقریباً ۱۴گھنٹے کا سفر تھا۔ایک آدھ گھنٹے بعد ہم زیادہ بے تکلفی سے گفتگو کررہےتھے۔ اسی گفتگو کے دوران میری نگاہ ان کے ذرا بڑی اسکرین والے موبائل فون پر پڑی، جس کی اسکرین پر تفہیم القرآن   کا صفحہ صاف نظر آرہا تھا۔میں نے دل میں سوچا کہ کہ بندہ تو اپنا ہم خیال بھی ہے، جس سے  والہانہ پن محسوس ہوا۔اب ان سے بات چیت کا موضوع یہ صفحہ بن گیا۔ میں نے اپنے بارے میں کچھ بتائے بغیر پوچھا: ’’یہ فون کی اسکرین پر کیا عبارت ہے؟‘‘ انھوں نے جواب دیا: ’’یہ قرآن کی تفسیر تفہیم القرآن ہے، جس کا میں مطالعہ کرتا رہتا ہوں‘‘۔ میں نے مختصراً کہا کہ: ’’یہ میری بھی پسندیدہ تفسیر ہے، اور یہ میرے زیر مطالعہ رہتی ہے‘‘۔ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔اب ہمارے درمیان اجنبیت ختم ہوچکی تھی۔ انھوں نے پاکستان میں اپنی تعلیم اور امریکا آمد اور مزید تعلیم کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ 
کچھ دیر کے بعد انھوں نے ایک اہم ذاتی معاملے پر مشاورت کے سے انداز میں کہا: ’’میں ان شاء اللہ اپنے بیٹے ظافر کا آیندہ ماہ نکاح کرنا چاہتا ہوں اور ستمبر میں ولیمہ ہوگا، جس میں آپ کو آنا ہو گا۔ یہ چاہتا ہوں کہ ولیمہ کے موقعے پر شرکا کو ایسا تحفہ دوں، جس نے میری زندگی بدل دی تھی اور اب میں چاہتا ہوں کہ ان مہمانوں کو بھی وہی تحفہ دوں، تا کہ وہ اور ان کے اہل خانہ بھی اس سے استفادہ کر سکیں‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’آپ کیا تحفہ دینا چاہتے ہیں؟‘‘ ان کے جواب نے مجھے حیرت زدہ کر دیا: ’’میں اپنے مہمانوں کو مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی کی مشہور کتاب خطبات  تحفے کے طور پر دینا چاہتا ہوں‘‘۔ 
حیرانی اس بات پر نہیں تھی کہ وہ خطبات کا تحفہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ ان کی اس ہمت،جرأت اور حوصلے پر تھی کہ وہ یہ کام امریکا میں ولیمے کی ایک بڑی تقریب میں علانیہ کرنا چاہتے ہیں۔میں نے سوچا کہ اس شخص میں کتنا حوصلہ اور جذبہ ہے،حالاں کہ لوگ نام اور تعلق چھپانے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اگرچہ میں نے ان کی حوصلہ شکنی نہیں کی تاہم، یہ مشورہ ضرور دیا کہ: ’’آپ یہ کام اس کے سارے پہلوؤں کا جائزہ لے کر کریں‘‘۔ یہ خیال بھی گزرا کہ ممکن ہے وہ  اس وقت کسی خاص جذباتی کیفیت میں ہوں مگر شاید عملی طور پر وہ ایسا نہ کر سکیں گے۔ امریکا پہنچنے کے بعد دوچار بار فون پر ان سے بات ہوئی، مگر انھوں نے پھر دوبارہ اس بات کا ذکر نہیں کیا، جس سے میرے اس خیال کو تقویت مل رہی تھی کہ اب ان کا ایسا کرنے کا ارادہ نہیں۔ 
کچھ عرصے بعد ان کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا کہ ۳ ستمبر کو شہرسانتا کلارا  (کیلے فورنیا) کے چاندنی شادی ہال میں بیٹے کی تقریب ولیمہ ہے اور مجھے اس میں لازمی شرکت کرنا ہے ۔چنانچہ میں اپنے بیٹے اعجاز عارف کے ساتھ ولیمے کی تقریب میں شریک ہوا۔ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔میرا بیٹا چوںکہ ۱۹۹۸ء سے ۲۰۰۲ءتک اسی شہر میں رہ چکا تھا، اس لیے وہ بہت سے شرکا کو جانتا تھا۔ اس کے مطابق اس تقریب میں جدید ٹکنالوجی کے ماہرین، پروفیسر اور بڑی بڑی کمپنیوں کے چیف ،ڈاکٹر اور انجینیر موجود تھے۔مغرب کی اذان تک تمام مہمان آ چکے تھے۔ نماز مغرب کی ادایگی کے بعد پروگرام کا اعلان کیا گیا کہ پہلے امام احسن سید سہرا پیش کریں گے اور اس کے بعد دولہا کے والد ڈاکٹر شعیب مختصر تقریر کریں گے۔ میں اس سے قبل امریکا میں شادی کی درجنوں تقریبات میں دولھا اور دلھن اور ان کے والدین اور بہن بھائیوں کی ایسی تقاریر سن چکا تھا، اس لیے مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔لیکن ان کی تقریر سنی تو احساس ہوا کہ یہ تو شادیوں میں کی جانے والی مختصر تقاریر سے بڑی مختلف تھی۔ ڈاکٹر شعیب لاری کی یہ اپنی نوعیت کی وہ تقریر تھی، جس نے تمام شرکا کو حیران کر دیا تھا۔ انھوں نے خوشی کی اس تقریب کو بھی اسلام کا پیغام، اس کے شرکا تک پہنچانے کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ 
ڈاکٹر شعیب لاری نے دس پندرہ منٹ کی تقریر کا آغاز اس طرح کیا کہ: ’’میں اس موقعے پر آپ کو چند ایسے مشورے دینا چاہوں گا، جن کا مجھے اور میرے خاندان کو بڑا فائدہ ہوا، اور چاہتا ہوں کہ آپ کو بھی اس میں شریک کروں، تا کہ آپ اور آپ کی نئی نسل بھی ان سے استفادہ کرے۔ یہ گفتگو چار نکات کی صورت میں پیش خدمت ہے:
۱- Always Tell the Truth (ہمیشہ سچ بولیں): اپنی زندگی کا سب سے بڑا اصول یہ بنا لیں کہ کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے۔ اس لیے کہ : ¤ جھوٹ بولنا اللہ تعالی کو پسند نہیں۔ قرآن و سنت کی تعلیمات سے صاف ظاہر ہے کہ جھوٹ بولنے والا اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا ہے، جس سے ہرایک مسلمان کو ہر حالت میں پناہ مانگنی چاہیے۔ ¤ سچ اعتماد کی بنیاد ہے اور اعتماد ذاتی تعلقات اور ہر اچھے کام کو مضبوط کرتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اگر ایک شخص۹۹ء۹ فی صد جھوٹ نہیں بولتا تو اس کا صرف  ایک فی صد جھوٹ بھی آپ کے باہمی تعلقات اور کام میں فرق ڈال دے گا اور اعتماد کی پوری عمارت متزلزل ہو جائے گی۔¤ ہر وقت اور ہرمعاملے میں سچ بولنے کی کوشش ہمیشہ غلط کاموں سے رُکنے میں معاون ہو گی اور آپ زندگی بھر تمام دنیاوی اور دینی امور میں بھی دیانت داری کا مظاہرہ کریں گے۔¤ کسی کی عدم موجودگی میں اس کی بُرائی نہیں کریں گے،جو بجاے خود بہت   بڑا گناہ ہے۔ ¤ آپ جس ملک میں رہ رہے ہیں اس میں تو سب سے بڑا جرم ہی جھوٹ بولنا ہے۔ اس لیے یہاں اس اصول پر عمل کرنا وقت کی بھی ضرورت ہے۔ 
۲-  Pray Five Times (پانچ وقت کی نماز پڑھیے): ¤ کبھی نماز کی ادایگی سے غفلت نہ برتیں، اور کوشش کر کے با جماعت ادا کریں۔ ¤ ہمارے دین میں نماز وقت پر پابندی سے ادا کرنا فرض ہے،جو ہمارے ایمان کی بنیاد بھی ہے۔¤ایک مسلمان کی حیثیت سے ہماری ہرچیز کا انحصار اللہ اور آخرت پر ایمان ہے۔اگر ایمان ہمارے دین کا دل ہے تو نماز اس دل کی سانس اور دھڑکن ہے۔ ¤جب ہم دن میں پانچ بار نماز پڑھتے ہیں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے ایمان کے عہد کو تازہ کرتے ہیں۔ ¤ نماز بے حیا ئی اور فحاشی سے روکتی ہے۔ ¤ نماز سے زندگی میں ڈسپلن اور احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے، جو زندگی کے ہر کام میں مدد اور قناعت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ ¤ نماز زندگی کو گھڑی کی طرح وقت کا پابند بناتی ہے۔ ¤ نماز کی ادایگی سے ہماری جسمانی اور ذہنی صحت کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ ¤ دعا نماز کا اہم حصہ ہے۔ دعا میں ہم اللہ تعالیٰ سے براہِ راست بات کرتے اور جو چاہیں مانگ سکتے ہیں۔ نماز ہی اللہ تعالیٰ سے ہمارا براہِ راست تعلق قائم کرتی ہے۔ ¤ سب سے اہم نمازِ جمعہ ہے۔ جمعہ کے خطبے کو سننا کبھی نہ بھولیں کہ یہ    نمازِ جمعہ ہی کا لازمی حصہ اور فرض ہے۔ اس لیے خطبہ شروع ہونے سے پہلے مسجد آئیں۔ ¤ کوشش کریں کہ ہماری تمام نمازیں مسجد میں باجماعت ادا ہوں۔مسجد میں آنے سے جہاں بروقت ہر نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا موقع ملے گا، وہیں ہمیں دوسرے نمازیوں سے ملنے اور تعلقات قائم کرنے،ایک دوسرے کے حالات جاننے اور باہم اخوت اور بھائی چارے کے تعلقات قائم کرنے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ ¤ جب ہم نماز پڑھیں تو یہ تصور کرتے ہوئے پڑھیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں اور یہ ہماری آخری نماز بھی ہو سکتی ہے۔ یہ تصور ہماری کیفیت کو بدل دے گا،اور نماز میں خشوع و خضوع اور گریہ و زاری کی کیفیت پیدا ہو گی۔¤ نماز میں جو کچھ پڑھتے ہیں اس کا ترجمہ اس طرح سمجھ لیں کہ جب نماز پڑھ رہے ہوں تو اس کے ہرلفظ کا مفہوم ہماری  سمجھ میں آرہا ہو۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہماری توجہ صرف نماز پر اور اس میں ادا کیے جانے والے الفاظ پر مرکوز رہے گی۔ ¤ اگر کسی وجہ سے مسجد جانا ممکن نہ ہو تو دفتر یا گھر میں جہاں بھی ہوں با جماعت نماز کا ضرور اہتمام کریں، اور گھر کے افراد کے ساتھ تو ایک یا دونمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنا معمول بنالیں۔ اس طرح بچوں کو جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی عادت ہو جائے گی۔نماز کے اختتام کے بعد گھر کا ہر فرد کوئی ایک دعا بلندآواز میں مانگے اور باقی  سب بلند آواز ہی میں آمین کہیں۔ ¤ نماز کے بعد یہ بھی معمول بنائیں کہ پانچ یا ۱۰  منٹ کے لیے کسی قرآنی آیت یا کسی حدیث کو پڑھ کر اس کا مفہوم بیان کیا جائے۔ 
۳-  Be Likeable (پسندیدہ بنیے) : دوسروں کی نگاہ میں پسندیدہ شخصیت بننے کو لازم سمجھیں۔ ¤ میں نے پیشہ ورانہ زندگی کی ترقی میں اس کے بڑے فائدے دیکھے ہیں، اور یہ مشاہدہ کی بات ہے کہ بڑے بڑے ذہین انجینیر بھی ترقی کی سیڑھیاں چڑھ نہیں پاتے، اگر ان کے اخلاق اچھے نہ ہوں اور ان کی فرم یا ادارے میں انتظامیہ اور دوسرا عملہ انھیں پسند نہ کرتا ہو ۔ اس کے مقابلے میں وہ لوگ بہت جلد آگے کے عہدوں پر ترقی پا جاتے ہیں، جو ذہین اور اسمارٹ ہونے کے ساتھ سب کی نظروں میں پسندیدہ شخصیت کے بھی مالک ہو تے ہیں۔ یہی لوگ آگے جا کر اپنی کمپنیوں کے اعلیٰ ترین عہدوں تک جا پہنچتے ہیں۔ اس میں استثنا ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ تر با اخلاق لوگ ہی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ یہی لوگ نہ صرف پیشہ ورانہ زندگی میں، بلکہ عام زندگی میں بھی مقبول اور مطمئن رہتے ہیں۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اعلیٰ اور اچھے اخلاق کی تعلیم ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز تھے۔ ہمارے لیے اچھے اخلاق کا مالک ہونا اتنا ہی لازم ہے، جتنا کہ نماز،روزہ،زکوٰۃ،صدقہ،حج اور دیگر اچھے کام کرنا۔ ¤ میں گھر میں اکثر کہتا ہوں کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں: ایک ’چوزی‘ (Choosy) ہیں کہ جن کو لوگ پسند کرتے ہیں اور دوسرے ’موذی‘ ہیں جن سے لوگوں کو اذیت پہنچتی ہے، یا جو پسند نہیں کیے جاتے۔ آپ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جن کے بارے میں آپ کو کہنا پڑتا ہے کہ کاش!  ہم ان سے کبھی نہ ملے ہوتے۔اور بعض اچھے اور خوش اخلاق افراد سے مل کر آپ کو خوشی ہوتی ہے،اور پھر وہ زندگی بھر یاد رہتے ہیں۔ ¤ اچھے اور پسندیدہ بننے کے لیے ضروری کہ آپ کے چہرے پر مسکراہٹ ہو۔ خیال رہے کہ مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ ¤ ہمیشہ دوسروں سے ان کی اچھی بات کہیں۔ آپ دفتر جائیں یا گھر آئیں، کسی سے ملیں یا کوئی آپ سے ملے، ہمیشہ مسکراہٹ سے ملیں۔ یہ مسکراہٹ پہلی سیڑھی ہے، جو آپ کی شخصیت کو دوسروں سے ممتاز کر کے بلندی کی طرف لے جاتی ہے۔ پھر ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ نرم اور مہذب لہجے میں بات کریں۔ ¤ صبر اور توجہ کے ساتھ دوسروں کی بات سنیں اور ان کی مدد کریں۔ ¤ اپنی زندگی سے غصے کو ختم کر دیں کہ غصہ اسلام میں حرام ہے۔ ¤ دوسروں کے ساتھ ہمیشہ نیکی کرنے کی کوشش کریں اور کبھی ان پر احسان نہ جتائیں۔ ¤ پسندیدہ فرد بننے کا مطلب ہر گز یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اپنے اصولوں یا عقیدے پر سمجھوتا کیا جائے۔ ¤ اگر آپ کسی سے کسی وجہ سے کوئی اچھی بات نہیں کر سکتے تو پھر بہتر ہے کہ چپ رہیں۔ یہ کہ کسی کو بھی اپنے سے کم تر نہ سمجھیں اور نہ کبھی کسی پر طنز کریں اور نہ کسی کا مذاق اڑائیں۔ ¤ اگر آپ کسی اچھے عہدے پر ہیں تو ہمیشہ اپنے ماتحتوں کا خیال رکھیں، ان کے غم اور خوشی میں ان کا ساتھ دیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں، اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں۔ ¤ گھر میں بیوی اور بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔
۴- Read and understand the book Khutbat( خطبات پڑھیںاور سمجھیں): آخری گزارش کے طور پر میں آپ کو ایک ایسی کتاب کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جس نے میری زندگی پر نہایت گہرے اور مثبت اثرات مرتب کیے۔ اس کتاب نے مجھے اسلام کی صحیح روح اور عقیدے سے روشناس کرایا۔جسے میں نے سب سے پہلے۱۴ یا ۱۵ سال کی عمر میں پڑھا تھا اور اس کے بعد آج تک بار بار پڑھتا رہتا ہوں۔ ¤ قرآن کریم ہماری الہامی کتاب ہے اور ہمیں اس کو اچھے ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھتے رہنا چاہیے۔ قرآن میں بیان کیے گئے عقیدے اور تعلیمات اور عبادات کو مَیں نے بہتر انداز اور آسان اردو میں جس کتاب سے سمجھا وہ کتاب خطبات ہے، جس کے مصنف عالم اسلام اور دنیا کے مشہور اسکالر اور مصنف مولانا سیّد ابوالا علیٰ مودودیؒ ہیں۔ ¤ اس کتاب میں مولانا نے عقیدے اور ساری عبادات نماز، روزہ،زکوٰۃ اور حج کی ضرورت کو نہایت عقلی دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے۔آپ اس کتاب کو تسلسل کے ساتھ پڑھتے جائیے، آپ اپنی زندگی میں تبدیلی محسوس کریں گے۔ چوں کہ مجھے اس سے بڑا فائدہ پہنچا ہے، اس لیے چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس کو پڑھیں۔ ¤ اس کتاب کے انگریزی میں دو ترجمے ہوئے ہیں۔ ایک قدیم ہے جو Fundamentals of Islam کے نام سے ملتا ہے، اور دوسرا برطانیہ سے شائع ہوا ہے اور پہلے سے بہتر ہے، اور Let us be Muslims کے نام سے موجود ہے۔ میں خطبات اور اس کا ترجمہ اپنے بیٹے کی شادی کی خوشی میں آپ سب شرکا کو تحفے کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں۔ آپ جب یہاں سے جائیں تو دروازے کے قریب میز سے یہ تحفہ لے جانا نہ بھولیں۔ ¤ مولا نا نے اپنی سیکڑوں کتب کے ساتھ ساتھ توحید،رسالت اور زندگی بعد موت کا عقلی ثبوت کے نام سے بھی ایک مختصر کتابچہ لکھا ہے، جس کا انگریزی ترجمہ شائع ہو چکا ہےاور اس کا مطالعہ وقت کی ضرورت ہے۔ ¤ مولانا مودودی کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ان کی مشہور زمانہ تفسیر تفہیم القرآن ہے، جو انگریزی کے علاوہ دنیا کی درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے، اور بلاشبہہ اس وقت   دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی قرآن کی ایک تفسیر ہے۔ مجھے تفہیم القرآن کے مسلسل مطالعے سے بھی بڑا فائدہ ہوا ہے اورآپ سے بھی کہوں گا کہ اس کو پڑھیں۔اس کا مقدمہ تو مصنف کی شاہ کار تحریر ہے، جس کا انگریزی ترجمہ Introduction to the Understanding of the Quran (قرآن فہمی کے بنیادی اصول)کے نام سے موجود ہے۔
¤  انھوں نے تقریب میں موجود غیر مسلم مہمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے سفارش کی کہ : ’’آپ مولانا کی کتاب رسالہ دینیات   کا انگریزی ترجمہ Towards Understanding Islam  کے نام سے ضرور پڑھیے ۔ آپ کے لیے بھی شادی کا یہ تحفہ شادی ہال کے دروازے کے پاس میز پر رکھا ہوا ہے‘‘۔
جاتے وقت تمام مہمان ایک ایک پیکٹ اپنے ساتھ لے گئے۔ میں نے گھر آکر پیکٹ کو کھولا تو دیکھا کہ اس میں خطبات کے علاوہ سلامتی کا راستہ ، شہادت حق، فضائل نماز اور مولانا مودودی کا تعارف بھی موجود تھا۔ میں حیران تھا کہ ڈاکٹر شعیب لاری نے امریکا کے   ایک بڑے اہم شہر میں کس طرح اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب کو با مقصد بنا دیا تھا اور اس طرح انھوں نے ہم سب کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ شادی بیاہ کی خوشی کی تقریبات کو اس طرح بھی منعقد کیا جا سکتا ہے۔

ادب، تحریک اور اسلام کے باہمی تعلق اور تقاضوں پر اظہار خیال سے پہلے ان سوالوں پر غور کرلینا مناسب ہوگا: ادب کیا ہے؟ فرد و معاشرے اور زندگی سے اُس کا کیا تعلق ہے؟ 

  • ادب : ہمارے خیال میں ادب کی کوئی منطقی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ اگر ایک طرف ادب کو وقت اور زمانے کا آئینہ کہا جاسکتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ اسے ہم حُسن ِکلام اور تاثیرِ کلام کے نام سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔ دراصل ادب نام ہے احساسات کو لفظوں میں ڈھالنے کا، جذبات کو مترنم پیکر عطا کرنے کا، تصوّرات کو قابل فہم اشاروں میں تبدیل کرنے کا۔ ادب انسانی زندگی کا حسین ترجمان، اس کے افکار کا پر تو اور اس کے خیالات کا عکس ہوتا ہے۔ادب زندگی سے پیدا ہوتا ہے، زندگی کی ترجمانی کرتا ہے، اور زندگی ہی کے کام آتا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ کسی معاشرے کا ادیب اپنے آپ کو معاشرے سے خارج یا لاتعلق رکھ کے ادب پیش کرے، یا یہ کہ جو کچھ وہ پیش کرے وہ دوسروں پر اثر انداز نہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ وہ ادب ہی نہیں جو معاشرے اور اس میں رہنے والے فرد اور اس کی زندگی کو اپنے مخصوص رنگ سے متاثر نہ کرے۔
  • ادبی روایت :مغربی لادینی نظریات اور مختلف مادّی افکار کے حوالے سے ادب نے معاشرے کو جس طرح متاثر کیاہے، اس کے نتیجے میں نئے معاشرے کا انسان بحران، انتشار، ناآسودگی، روحانی کرب،اخلاقی انار کی ،جنسی بے راہ روی ، فحاشی وبے حیائی ،قتل وغارت گری ،معاشی استحصال، معاشرتی نابرابری ،منافقت ،فریب اور تہذیبی شکست وریخت سے دوچار ہے۔ آج کے ادب میں مسائل و معاملات کا اظہار بھی ہوا ہے اورمختلف الحادی اداروں کے ذریعے ان کا فروغ بھی۔  چنانچہ نیا ادب چاہے وہ ترقی پسند ہو یا جدید یت کا علَم بردار، لوگ اس کے پھیلائے ہوئے جراثیم سے مسموم ہوتی ہوئی فضاکو اب محسوس کرنے لگے ہیں اور اس سے نجات کی راہ ڈھونڈنے لگے ہیں۔ یہی وہ حالات تھے جنھوں نے ادب میں تحریک اسلامی کا شعور پیدا کیا۔ اسلامی رجحانات کے فروغ اور نشوونما کی منظم کوششیں شروع ہوگئیں ۔

ادب کی طاقت کو دنیا کی تمام تحریکات نے تسلیم کیا ہے اور اپنے نظریات کی اشاعت کے لیے اسے بطوروسیلہ استعمال کیا ہے ۔ ایک ایسی انقلابی تحریک جو زندگی کے ہر پہلو اور ہرادارے کی اصلاح چاہتی ہے،جو تعلیم ،سیاست اور معاشرت کو بدلنا چاہتی ہے ،وہ ادب کے شعبے کو کیسے نظر انداز کرسکتی ہے۔ سیّد اسعد گیلانی [م: ۳؍اپریل ۱۹۹۲ء]نے ایک جگہ بڑی عمدہ بات لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
کوئی تحریک بھی ادب کا تعاون حاصل کئے بغیر جڑ نہیں پکڑسکتی اور کسی تحریک کاکوئی پروگرام بھی بروے کار نہیں لایا جاسکتا،جب تک ادب اس پروگرام کو اپنی آغوش میں لے کر دل ودماغ میں اسے بٹھا نہ دے۔یہ دونوں چیزیں لازم وملزوم سی ہیں۔ ایک مسافر ہے تو دوسرا زادِراہ، ایک سپاہی ہے تو دوسرا اس کا اسلحہ، ایک قافلہ ہے تو دوسرا اس کا پیش رو۔
ہر تحریک اپنے دامن میں ایک انقلاب کا تصور رکھتی ہے۔ ہر انقلاب قلب و نظر کے زاویوں سے لے کر زندگی کے تمام مادی و اخلاقی پہلوؤں پر ہمہ گیر اثرات ڈالتا ہے۔ یہ اثرات ادب کے ذریعے غیر محسوس طریقے پر دل کی ایک لرزش سے جسد انسانی میں سرایت کرتے رہتے ہیں۔ دراصل دل ودماغ اور قلب ونظر کی تبدیلی اور تعمیر جدید میں ادب کسی بھی تحریک کا سب سے بڑا ایجنٹ ہوتا ہے، جو چپکے چپکے آنکھوں کے راستے دلوں میں اترتا ہے یا کانوں کے راستے قلوب میں گھر بناتا ہے۔ اس طرح آنے والے انقلاب کے لیے جذبات اور احساسات کے مورچہ بناتا ہے۔یہ ادب ہی ہے جو براہِ راست حملہ کرکے شکار کو پھڑکاتا نہیں، بلکہ اس کے گرد تصورات وتخیلات کی سوندھی سوندھی فضا پیدا کرتا ہے، کہ شکار خود بخود اس خوشبو کو اپنے دل میں جذب کرنے کے لیے اپنے جسم کے تمام بند ڈھیلے چھوڑدیتا ہے ۔ادب کی اسی طاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے نعیم صدیقی [م:۲۵ستمبر ۲۰۰۲ء] نے لکھا :
ادب خیال انگیز اور خیالات افروز قوت ہے۔ وہ معاشرے کی کھیتی میں خیالات کے بیج ڈالتا ہے اور پھر ان کی آبیاری کرتا ہے۔ وہ خیال کے جمود کو توڑتا ہے اور حرکت پیدا کرتا ہے۔ وحی الٰہی کے بعد اگر کوئی دوسرا ذریعہ انسانیت کو خیالات سے مالا مال رکھنے کا ہے تو وہ ادب ہے۔ ادب خیالات کو اُبھارتا ہے!
واقعہ یہ ہے کہ ادب انسانی خیالات ،جذبات اور اقدار کو زندہ رکھنے یا بنانے اور بگاڑنے والی عظیم طاقت ہے۔ دنیا کی تمام تحریکات نے اس طاقت کا خوب خوب ادراک بھی کیا ہے اور بہتر سے بہتر استعمال بھی۔ فرانس کا عوامی انقلاب والٹیر [م:۱۷۷۸ء] اور روسو [م:۱۷۷۸ء]کی تحریروں کونہیں بھول سکتا۔ ان کے قلموں کی روشنائی اس انقلاب کا موج زن خون ہے۔ روس کا اشتراکی انقلاب: مارکس [م:۱۸۸۳ء]، گورکی [م:۱۹۳۶ء]،ٹراٹسکی [م:۱۹۴۰ء]اور دوسرے اہل قلم حضرات کے قلموں کی جنبش پر چلتا ہو ا نظر آتا ہے۔ جرمنی کا نازی انقلاب، اُس تصور سے اُبھرا ہے ، جو نٹشے [م:۱۹۰۰ء]نے اپنی تحریروں میں چھوڑا تھا۔

  • ادب کی اسلامی روایت:  اسی طرح خود انبیائی تاریخ پر اگر آپ ایک نگاہ ڈالیں تو دیکھیں گے کہ انبیا علیہم السلام نے اپنے اپنے دور میں جو تحریکیں چلائیں، ان میں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اسالیب ِبیان کو اپنی دعوت کے فروغ کے لیے پورے طور پر استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی پیغمبر ایسا نہ تھا جو ادب کے بارے میں معمولی ذوق کا مالک ہو۔ الہامی کتابوں کے ذخیرے میں بھرپور ادبی قوت موجود ہے۔حضرت عیسیٰ ؑ کی دعوت کے انجیل میں جو چند در چند ٹکڑے ملتے ہیں، ان کی قدروقیمت دوامی ہے۔ یہی حال زبورکا ہے۔ اگرچہ ان میں تحریف ہوچکی ہے، لیکن آپ دیکھیں گے کہ ان میں ادب کا پورا پورا اہتمام ہے۔ قرآن مجید اس سلسلے میں آخری ربّانی ہدایت ہے، جسے ادبی چیلنج کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔عرب میں اسلام کی انقلابی تحریک جب اُٹھی، جاہلی ادب کے مقابلے میں قرآن کی ادبیت کو بھی استعمال کیا گیا اور جب جاہلی ادب کو قرآنی ادب نے چیلنج کیا تو عرب کے کسی بڑے سے بڑے ادیب کو اس کے مقابلے کی ہمت نہ ہوسکی کہ اس کی عظمت کے سامنے اپنا چراغ جلاسکے ۔

ادب کی طاقت کا پرتو تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے، بلکہ یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ اس کےعلَم بردار ادب کی طاقت کو معرکۂ خیروشرمیں استعمال کریں۔ خود مدینہ منّورہ میں جب اسلامی مملکت کا قیام عمل میں آیا اور بزم رسالت سجائی گئی تو آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ارشاد فرمایا:’’جنھوں نے اللہ اور رسولؐ کی مدد تلواروں سے کی ہے، آخر وہ شعر و ادب سے     اس مقصد ِخاص کی اشاعت کیوں نہیں کرتے؟‘‘ یہ سنتے ہی حضرت حسّان بن ثابت ؓ [م:۶۷۴ء] جو اپنے زمانے کے جلیل القدر شاعر تھے ،اُٹھے اور عرض کیا: ’’میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں‘‘ ۔ 
چنانچہ اس دور میں جب حق و باطل کی قوتیں نبر د آزماتھیں،اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ مخالفین کا سر نیچا کرنے کے لیے فن ہجو گوئی سے بھی کام لیا جائے۔عرب میں یہ صنف بہت زیادہ مقبول اور مؤثر تھی۔ اس وجہ سے مشرکین قریش کی ہجو شعراے اسلام نے لکھی۔ حضرت حسان بن ثابتؓ اس فن میں زیادہ دست گاہ رکھتے تھے۔ رسول اکرم ؐ نے ان کے بارے میںفرمایا کہ: ’’حسان کے اشعار مخالفین اسلام پرتیرسے کہیں زیادہ ضربِ کاری لگاتے ہیں‘‘۔ حضرت حسّان بن ثابت ؓ، کعب بن زہیرؓ [م: ۶۶۲ء] اور نابغتہ الجعدی [م: ۶۷۰ء] وغیرہ نے اپنے شعر و ادب سے اس عہد کی تحریکی ضرورتوں کو خوب خوب پورا کیا ہے۔

  • موثر ادب کی شرائط :مختصر یہ ہے کہ اسلامی تحریک جو دنیا کی دوسری تحریکوں کے مقابلے میں انسانی فطرت سے سب سے زیادہ قریب ہے،وہ کبھی بھی ادب کی خدمت سے محرومی  کی نادانی کا مظاہرہ نہیں کرسکتی۔ چنانچہ تحریک ادب اسلامی کی ضرورت و اہمیت کے سلسلے میں مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ایک تقریر کا حصہ پیش خدمت ہے،جو انھوں نے حلقہ ادب اسلامی لاہور کے اجلاس (۱۱ جولائی ۱۹۵۲ء) میں کی تھی۔ یہ تقریر وابستگانِ تحریک ِ اسلامی کے لیے ایک واضح نشانِ راہ ہے۔ مولانا مرحوم فرماتے ہیں :

اسلامی ادب صرف اس ادب کا نام نہیں جو گندگی سے پاک ہو، غیرنجس ہو اور صاف ستھرا ہو، بلکہ اسلامی ادب وہ ہے جو اسلام کے نظریے پر مبنی ہو۔ جن باتوں کو اسلام حق کہتا ہے، مسلم ادیب انھیں حق سمجھے او دوسروں پر ظاہر کرے اور انھیں منوائے۔ جو باتیں اسلام کے نزدیک باطل ہیں، مسلمان ادیب انھیں جھوٹ سمجھے، ان کے جھوٹ ہونے کا اظہار کرے اور انھیں جھوٹ ثابت کرے۔ اسلام جس نظامِ زندگی کو قائم کرنا چاہتا ہے، مسلم ادیب اس کے لیے ادب کے دائرۂ عمل میں سعی کرے۔
علمی لٹریچر کا مقصد ذہنوں کو تیار کرنا ہوتا ہے لیکن ادب دلوں کو مسخر کرکے انھیں حرکت پر آمادہ کرتا ہے، اس لیے ادب کو مؤثر ہونا چاہیے۔ اگر وہ قلوب کو متاثر نہیں کرتا اور ان میں جوش و ولولہ بھر کر انسانوں کو آمادۂ حرکت نہیں کرتا تو وہ بے روح اور بے جان ادب ہے۔
ادب کو مؤثر بنانے کے لیے سات چیزوں کی ضرورت ہے: 

  • ادب کو مؤثر بنانے والی پہلی چیز یہ ہے کہ ادب میں ابتذال [platitude] نہ ہو۔ مسلم ادیب اپنے آپ کو مبتذل [vulgar] اور پامال راہوں سے بچاتے رہیں۔ مسلم ادیب میں اُپچ ہونی چاہیے، اس کا ذہن نئی راہیں نکال سکتا ہو۔ جو ادیب پٹی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں، وہ لوگوں کو بہت جلد تھکا دیتے ہیں۔
  • دوسری چیز یہ ہے کہ ادیب کی زبان عام فہم ہو۔ وہ گنجلک زبان اور ایسے الفاظ استعمال نہ کرے، جن سے ذہن آشنا نہ ہو۔ یہ کمزوری ان ادیبوں میں ہوتی ہے، جو غیر زبان میں پڑھتے اور سوچتے ہیں اور اپنی زبان میں ترجمہ کرتے ہیں۔ لیکن مناسب الفاظ نہ پاکر انھیں گھڑتے ہیں۔ ایسے ادیبوں سے لوگوں کے ذہن مانوس نہیں ہوتے اور وہ ایک اجنبیت سی محسوس کرتے ہیں۔ 
  •    تیسری چیز پختگی فکر ہے۔ مسلم ادیب کو اَدھ کچرے خیال ظاہر نہیں کرنے چاہییں، بلکہ انھیں اپنی فکر خوب اچھی طرح سلجھا لینی چاہیے۔ سلجھی ہوئی فکر، زبان اور اسلوبِ بیان میں کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہیں ہونے دیتی۔
  • چوتھی چیز یہ ہے کہ ادیب کی معلومات وسیع ہوں۔ اس کے بغیر ادیب نہ تو کوئی کام کی بات کہہ سکتا ہے، نہ دوسرے لوگوں پر اثرڈال سکتا ہے۔ اس کا سینہ اتھلے کنوئیں کی طرح ہوتا ہے جس کا ذخیرہ بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔ادیب کی معلومات جس قدر وسیع ہوں گی،اتنی ہی مؤثر بات وہ کہہ سکے گا۔ اس لیے اسلامی ادیبوں کو تاریخ، فلسفے وغیرہ کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔
  • پانچویں ضروری چیز ادیب کی قوتِ استدلال ہے۔ جس طرح علمی مضامین میں استدلال سے کام لینا پڑتا ہے، اسی طرح ایک ادیب اور ایک شاعر کو بھی استدلال کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن ادیب اور شاعر کا اندازِ استدلال منطقی ہونے کے بجاے شیریں اور دل کش ہوتا ہے۔ اس استدلال ہی سے وہ قاری سے اپنی بات منوا لیا کرتا ہے۔ استدلال کے بغیر ادب مؤثر نہیں ہوتا۔
  • چھٹی چیز یہ ہے کہ ادیب میں خلوص ہو۔ جو ادیب مخلص ہوتا ہے، اُس کے الفاظ اُس کے احساسات اور خیالات کے عین مطابق ہوتے ہیں۔اگر وہ اپنے احساسات کے خلاف کہنا بھی چاہے تو اس کی زبان اور قلم اُس کا ساتھ نہیں دیتے۔ مسلم ادیب حقیقی جذبات اور احساسات کے مطابق زبان اور قلم سے کام لیتا ہے جس سے اس میں بے پناہ طاقت پیدا ہوجاتی ہے۔
  • ساتویں چیز یہ ہے کہ ادیب کی زندگی اس کے خیالات کے مطابق ہو۔ جو لوگ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں، میرے نزدیک ان سے زیادہ فضول آدمی کوئی نہیں۔ ایسے لوگوں نے دُنیا میں کوئی کام نہیں کیا۔ سیرت و کردار ہی بیان اور قلم میں زور پیدا کرتا ہے۔ کردار سے خالی گفتار بے اثر چیز ہے۔ کوئی اسلامی ادیب اس ابوالفضولی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔(سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، تصریحات، ص ۵۹-۶۱)
  • عہد حاضر کے ادبی تقاضے :مولانا مودودی کا یہ فکر انگیز بیان نہ صرف موجودہ حالات میں شعرو ادب کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے، بلکہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ اگر ہم اب بھی اس طرف متوجہ نہ ہوں گے تو ابلاغ عامّہ کے جدیدوسائل ریڈیو،ٹیلی وژن اور اخبارات ورسائل پر باطل پرستوں کانہ صرف قبضہ برقرار رہے گا، بلکہ وہ اپنے ڈراموں ،نغموں ،حتیٰ کہ خبروں اور   ان پر تبصروں کے ذریعے اسلام دشمنی، الحادوبے دینی اور عریانی وفحاشی کے فروغ میں کوشاں رہیں گے اور ہم ان کا کوئی توڑ نہ کرسکیں گے۔ لہٰذا، اب بھی موقع ہے کہ ہم اپنے ادبی محاذکی اہمیت سمجھیں اور نہ صرف اُسے اپنا ہر طرح کا تعاون پیش کریں بلکہ ہمارے اہل فکروفن نوجوان اس میدانِ علم و دانش میں قدم رکھیں اور تمام اصنافِ ادب میں اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے نئی نئی راہیں تلاش کریں۔

تحریک ادب اسلامی سے وابستہ قلم کاروں کو ایک بار پھر اپنے عہد کے ادبی و تحریکی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے برسرِپیکار ہوناہے۔انھیں اُسی خلوص،جذبے اور نیّت سے قلم اُٹھانا ہے، جس نیت سے وہ مسجد میں نماز کے لیے، یا میدان میں جہاد کے لیے داخل ہوتے ہیں، کیوںکہ ان کا ادب عبادت کے لیے وقف ہے۔ 
اسی کے ساتھ دوسری اہم چیز’فن‘ ہے۔ادب میں فن کی کمزوری خلوصِ نیت اور جذبۂ نمود سے بے نیازی کا بدل نہیں بن سکتی۔ ہماری فنّی کو تاہیاں، مقصد و نصب العین کی خدمت کے بجاے اس کا وزن کم کر نے کا موجب ہوسکتی ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کن کن الفاظ کا استعمال کس کس جگہ مفید ہے کہ جس سے ہم اپنا راستہ نکال سکیں ۔الفاظ، ادیب کے لیے آلات کار ہیں۔ ان آلات کا مناسب اور بر محل استعمال ہی ایک سپاہی کو میدان جنگ میں کامران کرتا ہے۔ لہٰذا، موجودہ معاشرے کو رائج الوقت الحادی اور لادینی ادب کے پنجے سے نکال کر اپنے تحت لانے کے لیے ہمیں شدید محنت اور فنّی ریاض کرنا ہوگا۔
اس سلسلے کی تیسری اہم ترین چیز مطالعے کی وسعت ہے۔ موجودہ ادب اور اس کے سرچشمے کو اچھی طرح جانے بغیر ان پرغلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ماضی و حال کے تمام ادب، مختلف مادّی افکار ونظریات اور عقائدومذاہب کا تنقیدی وتقابلی مطالعہ ضروری ہے۔ اس سے فن میں گہرائی وگیرائی پیدا ہوتی ہے، ادبی رسوخ بڑھتا ہے، تخلیق کو عمر دوام نصیب ہوتی ہے ۔
چوتھی چیزجو ہمیشہ دل ودماغ میں تازہ رکھنے کی ہے ،وہ یہ کہ ہمیں بہرحال ایک نصب العین کی خدمت کرنی ہے اور ایک مقصد کو فروغ دینا ہے ۔چنانچہ اگر ہماری کوئی ایسی چیز میدانِ ادب میں آئے کہ جو اس نصب العین کو تقویت کے بجاے اس کی تذلیل اور سبکی کا باعث ہو، تو یہ خود اس نصب العین کو نقصان پہنچانے کا باعث ہوگا۔ لہٰذا، یہ کوشش بھی ہونی چاہیے کہ ہمارے ادبی محاذ پر کوئی ایسی چیز نہ آنے پائے جو اجتماعی نصب العین کو نقصان پہنچانے والی ہو ۔
 آخری بات یہ ہے کہ ادب میں الحاد وبے دینی کے غلبے اور فحاشی وبے حیائی کے سیلاب کو روکنے کے لیے منظّم جدّوجہد کا عزم اسلامی فنکاروں اور ادیبوں کا فرض ہے۔ہمارا کام یہ ہے کہ اس محاذ پر اپنی قوتوں کو ترقی دیتے ہوئے منظم کریں۔ جس محاذ پر جاہلیت کے کارندوں نے جاہلی ادب کے پہاڑ کھڑے کر رکھے ہیں، وہاں ہم حقائق کے پیکر تراش کر سامنے لائیں اور اس طرح اپنی اجتماعی کوششوں کے ذریعے ایک ایسی تحریک کا آغاز کریں، جس سے ادبی جاہلیت کا غلبہ ختم ہو، اور انسانی فطرت کے صحیح رجحانات کی حفاظت اور نشوونما ہو۔

بھارت میں دسمبر۲۰۱۸ء کے دوران پانچ صوبائی اسمبلی انتخابات میں جس طرح حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت انتخابی نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے، بالخصوص تین بڑی ریاستوں میں کانگریس کی پیش قدمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ بگڑتی معیشت، کسانوں کی بدحالی اور دو سال قبل نوٹ بندی اور نئے ٹیکس نظام کی وجہ سے بنیا اور تاجر طبقے میں موجود اس کا روایتی ووٹ بنک ٹوٹ رہا ہے۔ اوربی جے پی، جسے ’بنیا پارٹی‘ بھی کہتے ہیں، اس کی ریڑھ کی ہڈی ’بنیاکمیونٹی‘ سخت تذبذب کا شکار ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والے انتخابات میں پوزیشن بہتر بنانے کے لیے اگلے چند مہینوں میںکسانوں اور تاجروں کے لیے وزیر اعظم نریندرا مودی مراعات کی بارش کردیں اور اس کے لیے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس بھی جنوری کے آخری ہفتہ میں ہی بلانے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔ تاہم، تجزیہ یہی ہے کہ مئی ۲۰۱۹ء میں ہونے والے عام انتخابات تک اب شاید ہی عام ووٹر تک ان مراعات کا فیض پہنچ پائے گا۔ اس لیے پارٹی لیڈروں کا خیال ہے کہ معیشت کے بجاے جذباتی اور قوم پرستانہ ایشوز کی کشتی پر سوار ہوکر عام انتخابات کا پُرشور دریا عبور کیا جائے۔
اس سلسلے میں ذرائع کے مطابق فتح حاصل کرنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اور ان کے دست راست بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے تین ایشوز پر مشتمل ایک نقشۂ کار ترتیب دیا ہے۔ اس میں اوّلین ترجیح اترپردیش کے شہر ایودھیامیں مسمار شدہ بابری مسجد کی جگہ پر ایک عالی شان رام مندر کی تعمیر کا ہوّا کھڑا کرنا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق دیکھا جارہا ہے کہ ہندو انتہاپسندوں کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سیویم سنگھ ( آر ایس ایس) اور اس کی ذیلی تنظیم ویشوا ہندو پریشد    (وی ایچ پی) رام مندر کو اگلے ایک دو ماہ میں ایک عوامی مہم میں تبدیل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جموں و کشمیر میںمزید کشت و خون و غیرمستحکم حالات قائم رکھے جائیں اور اس خون سے تلک لگاکر ملک بھر میں ووٹ حاصل کیے جائیں۔ اگر یہ دو ایشوزعوامی جذبات ابھارنے میں ناکام ہوتے ہیں ، تو انتخابات سے قبل آخری حربے کے طور پر پاکستان کے خلاف کسی طرح کی جارحانہ کارروائی کے نتیجے میں ہندو ووٹروں کو بی جے پی کے حق میں موڑنا، تاکہ دفاعی سودوں اور بنکوں میں بد عنوانیوں اور دیگر ایشوز کو لے کر، حزب اختلاف پارٹیاں اورمیڈیا، مودی حکومت کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا نہ کرسکیں۔یاد رہے ۱۶دسمبر کو نریندرا مودی نے راے بریلی میں سونیا گاندھی کے حلقے میں تقریر کے دوران یہ کہا کہ: ’’کانگریس کے جیتنے پر پاکستان میں تالیاں کیوں بجتی ہیں؟‘‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت اپنے ووٹوں کو اکٹھا کرنے کے لیے ’مسلمان کارڈ‘ کے ساتھ ساتھ ’پاکستان کارڈ‘ بھی کھیلے گی۔ 
۱۵دسمبر کو ضلع پلوامہ میں جس طرح کشمیری نوجوانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی، وہ ظاہر کرتا ہے کہ مودی حکومت نے آخرالذکر روڑ میپ پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے تحت کشمیریوں اور پاکستان کو مشتعل کرکے کشیدگی کو ہوا دی جائے اور ملٹری آپریشنز کی راہ ہموار کرائی جائے۔ 
پلوامہ میں جس طرح نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا او ر ان کے سینوں اور سر وں میں گولیاں داغی گئیں، کسی بھی مہذ ب اور جمہوری معاشرے کا خاصہ نہیں ہوسکتا۔ جان سے گزرنے والوں میں آٹھویں جماعت کا طالب علم، شیر خوار بچے کے لیے دودھ خریدنے کی تگ و دو میں راستے میں کھڑا باپ، ایک دکان دار، پریکٹس سے واپس آرہا ایک کھلاڑی اور کئی راہگیر شامل تھے۔مقامی لوگوں کے مطابق پلوامہ کے ایک گائوں سرنو میں صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم ختم ہوگیا تھا۔ لوگ سڑکوں پر تھے، مگر مظاہرے ہو رہے تھے، تاہم پتھر باری نہیں ہورہی تھی۔بتایا جاتا ہے کہ جب فورسز کی ٹکڑی آپریشن ختم کرکے واپس جارہی تھی کہ کھار پورہ محلہ میں تنگ راستے کی وجہ سے ان کی بھاری بھرکم فوجی گاڑی کو موڑنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔  عوام کو سڑکوں سے ہٹانے اور راستہ بنانے کے لیے فورسز اہلکاروں نے بندوقوں کے دہانے کھول دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پیدل چلنے والے افراد زمین پر گرتے گئے۔اسی طرح کی صورتِ حال پلوامہ اسٹیڈیم کے پیچھے برپورہ میں بھی پیش آئی اور وہاں بھی ایک بھارتی فوجی گاڑ ی پھنس گئی تھی۔ یہاں بھی فورسز نے بندوقوں کے دہانے کھول کر اندھا دھند فائرنگ کی۔ ہلاک شدگان میں انڈونیشیا سے ایم بی اے ڈگری یافتہ عابد حسین لون بھی شامل ہے ، جو حال ہی میں اپنی انڈونیشین اہلیہ اور شیر خوار بچے کے ساتھ کشمیر منتقل ہوا تھا ۔ اسی طرح آٹھویں جماعت کے طالب علم عاقب بشیر کو گولیوں سے بھوننے کا الم ناک واقعہ ہے۔
شمالی آئر لینڈ، عراق، افغانستان ، کوریا اور فلسطین کا دورہ کرنے اور ان تنازعات کا مشاہد ہ کرنے کے بعد میرا خیال ہے کہ دنیا کے دیگر جنگ زدہ خطوں کے برعکس عالمی میڈیا نے بڑی حد تک اور شاید مکمل طور پر کشمیرکو نظر اندازکر رکھا ہے۔ حال ہی میں استنبول میں فلسطین پر منعقدہ بین الاقوامی میڈیا کانفرنس کے متعدد اجلاسوں میں جب شورش زدہ خطوں میں رپورٹنگ کے حوالے سے میں اپنے تجربات بیان کر رہا تھا، تو میری بات پر کسی کو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔
کئی عشروں سے فلسطین و مغربی ایشیا میں جنگی رپورٹنگ کرنے والے معروف صحافی جونانتھن اسٹیل حیران تھے، کہ وہ کیسے ان واقعات سے بے خبر اور ناواقف ہیں۔ وہ پوچھ رہے تھے کہ: ’’نئی دہلی میں مقیم بین الاقوامی میڈیا ان واقعات کا نوٹس کیوں نہیں لیتا ہے؟‘‘ جب میں نے ان سے کہا کہ: ’’بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر جانے کے لیے سرکاری اجازت کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ اس پر متعدد صحافیوں نے بھی کہا، کہ: ’’اس طرح کی کسی پابندی کا سامنا ان کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں کبھی نہیں کرنا پڑا ہے‘‘۔ 
کشمیر پر اگر رپورٹنگ ہوئی ہے تو بھی دور دراز علاقوں تک رسائی نہ ہوسکی ہے۔ حتیٰ کہ سرینگر کا  مقامی میڈیا بھی بیش تر علاقوں میں جانے سے قاصر ہے۔ چند برس قبل بھارت کے ایک معروف کالم نویس اور قانون دان اے جی نورانی کے ہمراہ میں نے شمالی کشمیر میں لنگیٹ تحصیل کے ایک خوب صورت مقام ریشی واری کا دورہ کیا تھا۔ سرسبز جنگلوں اور پہاڑی نالوں سے پُر اس وادی میں داخل ہوتے ہی تقریباً  ۳۰کلومیٹر تک سڑک سے ملحق سبھی گھروں کی دوسری منزل پر ہمیں بھارتی فوجی جوان نظر آئے۔ معلوم ہوا کہ: ’’گھروں کے مکین تو پہلی منزل پر رہتے ہیں اور دوسر ی منزل فوج کے لیے مخصوص ہے۔ یہاں دیہاتی کشمیریوں نے پہلی بار میڈیا سے وابستہ افراد کو  دیکھا تھا۔ اسی طرح اگر سرینگر کے شیرِکشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزکے آرکائیوزکو کھنگالا جائے، تو وہاں ایسے ہوش ربا زخمیوں کی تفصیلات ملیں گی، جو بقول کئی ڈاکٹروں کے: ’’میڈیکل ہسٹری میں آخری بار صرف جنگ عظیم دوم کے دوران جرمن انٹیلی جنس کے ادارے گسٹاپو کے انٹروگیشن سنٹروں میں رپورٹ ہوئے ہیں‘‘۔کشمیر میں پیلٹ [چھرے] لگنے سے زخمی ہونے والے افراد کی آنکھیں بچانے میں مصروف، باہر سے آئے ڈاکٹر تک ذہنی تنائو کا شکار نظر آتے ہیں، کیوںکہ ان کے بقول: ’’ہم نے اپنی پوری میڈیکل زندگی میں ایسی جنگ زدہ صورتِ حال کبھی نہیں دیکھی تھی‘‘۔  
قوم پرست بھارتی وزیر اعظم اور ان کی حکومت کے دیگر لیڈروں کے رویے سے ظاہر ہے کہ وہ کشمیری عوام اور پاکستان کو پیغام پہنچانا چاہ رہے ہیں کہ ان کی منزل ناقابلِ حصول ہے اور کسی عالمی اور بیرونی دبائو کی عدم موجودگی میں ریاست کا وسیع دائرہ بالآخر تحریک کشمیر کو تحلیل کردے گا۔ ان کو یقین ہے کہ ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں یہ طریقۂ کار ان کو فائدہ پہنچائے گا۔ بھارتی فوجی سربراہ جنرل بیپن راوت نے حالیہ بیان میں کہا کہ: ’’فوج، کشمیر میں ڈرون حملے کرسکتی ہے، لوگ اجتماعی نقصان کے لیے تیار رہیں اور ہم پتھر کا جواب گولی سے دیں گے ‘‘۔وہ اس حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ کشمیر میں بھارتی فوج کا مقابلہ کسی منظم عسکری گروہ سے نہیں بلکہ ناراض نوجوانوں اور عوام سے ہے۔
 مجھے یاد ہے کہ ۲۰۱۰ء میں کشمیر میں ایسی ہی صورت حال تھی کہ اس دوران بھارت کے سینیر صحافیوں کے ہمراہ مجھے اسرائیل اور فلسطین کے دورے کا موقع ملا۔ تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے مشیر ڈیوڈ رائزنر بریفنگ دے رہے تھے۔ وہ اسرائیلی فوج میں اہم عہدے دار رہ چکے تھے، لبنان کی جنگ میں ایک بریگیڈ کی کمان بھی کی تھی، اس کے علاوہ انتفاضہ کے دوران بھی فوج اور پولیس میں اہم عہدوں پر براجمان رہے تھے۔ اس اسرائیلی افسر نے بھارتی صحافیوں کو ششدر اور رنجیدہ کردیا، جب اس نے کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے افسروںکے ’کارنامے‘ سنانے شروع کیے۔ اس نے کہا: ’’بھارتی افسر اس بات پر حیران ہو جاتے ہیںکہ شورش زدہ علاقوں میں مسلح اور غیرمسلح کی تفریق کیوںکی جائے؟‘‘ انھوں نے کہا کہ: ’’حال ہی میں اسرائیل کے دورے پر آئے ہوئے ایک بھارتی جنرل نے مجھے بتایا کہ کشمیر میں ہم پوری آبادی کوگھیرکرگھروں میںگھس کر تلاشیاں لیتے ہیں کیوںکہ ہمارے نزدیک کشمیرکا ہر دروازہ دہشت گردکی پناہ گاہ ہے‘‘۔ اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد کسی بھی طور پر اسرائیلی جرائم کا دفاع کرنا نہیں بلکہ صرف یہ باورکرانا ہے کہ کشمیرکس حد تک عالمی ذرائع ابلاغ میں اور سفارتی سطح پر انڈر رپورٹنگ [صحافتی نظراندازی]کا شکار چلا آرہا ہے اور وہاں ہونے والے مظالم کی تشہیرکس قدر کم ہوئی ہے۔ ڈیوڈ رائزنرنے جنرل کا نام تو نہیں بتایا، مگر یہ ضرور کہا کہ: ’’ہم نے بھارتی فوجی وفد کو مشورہ دیا کہ عسکری اور غیر عسکری میں تفریق نہ کرکے وہ کشمیر میں صورت حال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں‘‘۔
کشمیر میں پلوامہ جیسے بہت سے خونیں المیے منظر عام پر لانے کے لیے تفتیشی صحافیوں، تحقیق کاروں اور مصنّفین کے منتظر ہیں۔ ان رُودادوں کی محض ایک جھلک بھارتی فلم ’حیدر‘ میں اور ایڈرین لیوی اورکیتھی اسکاٹ کی کتاب دی میڈوز  میں ملے گی۔ کشمیر پر چار صدیوں سے زائد طاقت اور خوف کے ذریعے حکمرانی کی جا رہی ہے۔خوف کی نفسیات بڑی حد تک ختم ہوچکی ہے، یہاں کہیں امن و سکون نہیں، مگراس کے باوجود اہل کشمیر آلام و مشکلات کی شدت برداشت کر کے بھی حالات کے سامنے سپر انداز ہونے کو تیار نہیں۔ اسی حقیقت کا اظہار بارھویں صدی کے مشہور مؤرخ کلہن پنڈت نے کیا تھاکہ: ’’اہل کشمیرکو محض زورِ بازو سے زیر نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
 اگلے مالی سال کے دوران تعمیر و ترقی و سرکاری تنخواہوں کے نام پر بھارتی حکومت، جموں و کشمیر میں ۸۸ہزار ۹سو۱۱ کروڑ روپے صرف کررہی ہے۔بھارتی حکومت کے سالانہ۵ء۳ لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی بجٹ کا نصف، یعنی تقریباً ۷ء۱  لاکھ کروڑ روپے بھی کشمیر ہی میں خرچ ہوتا ہے۔  اس حساب کے مطابق بھارتی حکومت کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے روزانہ ۷۳۷ کروڑ، یعنی سات ارب روپے خرچ کرتی ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ بھارتی ٹیکس دہندگان کے خون پسینے کی   یہ کمائی کسی مثبت اور تعمیری کام میں خرچ ہو ،جس سے جنوبی ایشیا میں غربت کا خاتمہ ممکن ہو۔ درحقیقت کشمیر میں ترقی کے نام پر فنڈ فراہم کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی جیل کا بجٹ بنانا۔ جیلر بھی قیدیوںکے کھانے پینے کا خیال تو رکھتا ہی ہے ۔ اگرچہ وہ کتنا ہی نرم دل کیوں نہ ہو ، اس کا اور قیدیوں کے درمیان تنائو کا رشتہ ہی رہتا ہے۔ اگر اب بھی حکومتیں اس نکتے کو سمجھنے سے قاصر رہیں گی تو یہ خطہ بدترین عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے لیے سنجیدہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔

۱۰  دسمبر انسانی حقوق کے دن کے طور پر منایا گیا۔ مختلف انجمنوں نے انسانی حقوق کی اہمیت و افادیت کی وضاحت کے لیے مختلف پروگرامات کیے۔ کچھ نے خوشیاں منائیں اور کچھ    ملول دل سے شکوے ہی کرتے رہ گئے۔ اقوام متحدہ کے عالمی اعلامیہ براے انسانی حقوق اوراس میں چند انسانی حقوق کا تذکرہ ایک بڑے سنگ میل کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ نے دنیاے انسانیت کو انسانی حقوق دیے؟ کیا اُس سے پہلے بھی کسی نے انسانی حقوق کی بات کی تھی یا نہیں؟
اس بحث کو نظرانداز کرتے ہوئے جب جموں و کشمیر میں حکومتی سطح پر قائم شہری حقوق کے کمیشن کو، انسانی حقوق کا دن منانے کی ضرورت پڑگئی تو انھوں نے اس دن منشیات سے تحفظ کی بات چھیڑی، جب کہ اسی کمیشن کی آنکھوں کے سامنے انسانی حقوق کی کتنی پامالیاں ہو رہی ہیں، مگر انھیں پوری ڈھٹائی کے ساتھ بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا۔ 
جموں و کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے مابین دونوں ملکوں کے یومِ آزادی ہی سے پیدا ہوا، جب جموں و کشمیر کے تاریخی پس منظر، مذہبی رجحان اور جغرافیہ کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اسے جبری طور پر بھارت کے قبضے میں معلق رکھا گیا۔ بہت سے اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لیے جد و جہد کر تے رہے۔ لیکن ۴۷ ء سے آج تک بھارت، کشمیر میں ایجنٹوں کی خرید کا کھیل کھیلتا رہا ، کبھی جمہوریت کے نام پر اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا، کبھی ترقی کے نام پر  سادہ لوح لوگوں کو فریب دیتا رہا اور پھر مظلوموں کے بنیادی حقوق دینے سے پہلو تہی کرتا رہا۔  ۹۰ء کے عشرے میں جب یہاں کے لوگوں کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ بھارت دھوکے سے کام چلارہا ہے تو کشمیر کے باسیوں نے عسکریت کی راہ اپناتے ہوئے اقوام عالم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی۔ 
اکیسویں صدی میں قدم رکھتے ہی کشمیریوں نے حکمت عملی تبدیل کی اور بھارتی رویے سے بغاوت کے طور پر عوامی احتجاج کی راہ اختیار کی۔ لوگ بلالحاظ جنس و عمر گلیو ں کوچوں کا رُخ کرتے ہوئے پُر امن طریقے سے استبداد کے خلاف صداے احتجاج بلند کرتے رہے اور اپنے اخلاقی حق کے مطالبے کو دُہراتے رہے ۔ پُر امن عوامی مظاہرے بھارت کے لیے وبالِ جان ثابت ہوئے، کیوں کہ لوگوں کے پاس نہ کوئی ہتھیار ہے اور نہ کوئی عسکری مواد۔ لیکن ان پُرامن مظاہرین کے ساتھ بھی ایساسلوک کیاجا رہا ہے، جیسے کوئی بندوق بردار فرد، انتظامیہ پر حملہ کرنے آ رہا ہو۔   
اب بھارت ، خاص طور پر نئی دہلی میں برسرِاقتدار حکمران پارٹی کشمیر کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق مختلف شوشے چھوڑ کر عوامی رد ِعمل کو کچلنے کے بہانے تراش رہی ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۸ء کے دوران اس سلسلے میں ایک باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں اگر کسی قسم کی گڑبڑ ہوئی تو ذمہ داری احتجاجی اپیل کرنے والوں کے کندھے پر ہوگی۔ اس حکم نامے کا مقصد ہند مخالف احتجاج پر قدغن لگانا ہے۔موجودہ حالات کو، ۲۰۱۶ء کی ہمہ گیر عوامی لہر کے پس منظر میں سمجھنا مناسب رہے گا۔ 
برہان مظفر وانی کے جاںبحق ہونے کے بعد، جموں و کشمیر کے طول و عرض میں عوامی احتجاجی لہر کے اثرات، اِس واقعے کو مزاحمتی تحریک میں ایک بڑے سنگ میل کی حیثیت دیتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے تناظرمیں عوامی احتجاجی لہر کی اس نئی تحریک کو اگر دورِ ما قبل برہان (Pre-Burhan Period) اورما بعدِ برہان (Post-Burhan Period) کے دو اَدوار میں تقسیم کیا جائے تو مناسب ہوگا۔ ان اَدوار کی تقسیم کی کئی وجوہ ہیں۔ جن میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اب اگر کہیں حکومتی فورسز کی مڈبھیڑ عسکریت پسندوں سے ہوتی ہے تو وہاں پرعسکریت پسندوںکے حق میں عوامی مظاہرین کا سیلاب اُمڈ آتا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ کشمیری نوجوان، بھارت کے جنگی جنون کو دیکھتے اور اس کے مقابلے میں یہ جانتے ہوئے کہ عسکریت پسندوں کی تعداد محض چند درجن نوجوانوں پر مشتمل ہے، دیگر نوجوان عسکریت کی طرف پے در پے مائل ہورہے ہیں۔ سری نگر کے ایک ہفت روزہ انگریزی اخبارنے حال ہی میں ریاستی پولیس کے اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ’’اس سال ۲۵۰ کے قریب عسکریت پسندوں کو مارا گیا لیکن ابھی اتنی ہی تعداد میں سرگرمِ عمل ہیں‘‘۔ جموںو کشمیر کی تحریک میں یہ پیش رفت برہان وانی کے جاں بحق ہونے کے بعد ہی دیکھنے کو ملی ۔ 
۲۰۱۶ ء کی عوامی لہر، کشمیر کی تاریخِ مزاحمت کی طویل مدتی احتجاجی لہر تھی،جو قریباً چھے مہینوں سے زیادہ وقت تک چلی۔ اس دوران اتحادِ ملت کانفرنسوں، ہڑتالوں ، احتجاجی دھرنوں ، شبینہ مظاہروں اور مختلف کثیرالتعداد پُرامن طریقوں سے بھارت کے جابرانہ قبضے کے خلاف ایک منظم آواز اٹھائی گئی۔ اِس پُرامن، جمہوری جدوجہد کو بندو ق کی نوک پردبانے کے لیے بھارتی جمہوریت کی فورسز نے ۱۰۰؍ سے زیادہ نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہزاروں کی تعداد میں مضروب کیے گئے، سیکڑوں پیلٹ (چھروں) سے آنکھوں کی بینائی سے محروم کیے گئے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس دوران بھارت کے متعصب میڈیا نے اس عوامی لہر کے خلاف پروپیگنڈے کا نہ تھمنے والا طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔ اس عوامی احتجاجی لہر کو دہشت گردی کا نام دینے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ پھر اس کو پاکستان کی پشت پناہی سے جوڑاگیا۔ اس کے بعد اوڑی کے فوجی بیس کیمپ پر حملے کی خود کارسازی کی گئی کہ کسی طرح سے عوامی اُبھار کو شوشے کی نذر کیا جائے۔پھر  سرجیکل اسٹرائک کا ہنگامہ گھڑکے عوام کو دھوکا دینے کی ناکامیاب کوشش کی گئی ۔ اُس پر بھی عوامی لہر نہ تھم سکی تو پاکستانی بلتستان کو میڈیا پر ایک فتنے کی صورت پیش کیا گیا۔ اُس سے بھی عوامی احتجاج کا سلسلہ نہ رُک سکا تو پھر آل پارٹی ڈیلی گیشن کے ذریعے مزاحمتی قائدین کے گھروں پر لایعنی دستک دی۔ وہ مستردہوئی تو مزاحمتی قائدین کے خلاف میڈیا کی عدالتیں بٹھاکر اُن کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دی۔ 
رات کے اندھیروں میں چھاپوں کا سلسلہ شروع کرکے عوامی و مبنی برحق احتجاجی لہر کو دبانے کی ناکام کوشش ہوئی۔ اس کے بعد متنا ز عہ و اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ چلایاگیا۔ کسی نے کہا کہ: ’’یہ۹۵ فی صد کے خلاف محض ۵  فی صد افراد کی مزاحمتی ہنگامہ آرائی ہے‘‘۔ پھر کٹھ پتلی حکومت کی وزیر اعلیٰ نے ڈھٹائی سے کہا کہ: ’’لوگوں کا حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں مرنا درست ہے کیوں کہ وہ وہاں مٹھائیاں لینے کے لیے نہیں جاتے‘‘۔ اسی طرح پاکستان کے ساتھ جنگ کا مفروضہ پیش کرکے لوگوں کو اتنا بہکایا کہ کنٹرول لائن اور اس کے ملحقہ دیہات میں جان کی حفاظت کے لیے مورچے تک کھود ڈالے گئے۔ اسی ضمن میں قومی تحقیقاتی ایجنسی کو میدان میں اُتارا اور مزاحمتی لیڈرشپ وتاجران کو ڈرانے، دھمکانے یا پابند سلاسل کرنے کا گُر آزمایا گیا، مگر پھر بھی عوامی بغاوت میںکوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ رفتہ رفتہ کشمیر کی عزت مآب خواتین کے بال تراشنے کے سنسنی خیز عمل کو بھی آزما یا گیا، لیکن کشمیر کے لوگوں نے اس آزمایش سے بھی لڑ کر استبداد کے مذموم مقاصد کو پیوند خاک کیا، اور اپنے مشن کی آبیاری کے لیے ا ٓگے کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ 
گذشتہ دوبرسوں کے دوران ان مثالوں سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ بھارت اپنی بے بسی پر سٹپٹا رہا ہے اور اقوام عالم کے ایوانوں میں دھوکا دہی کا معاملہ کر رہا ہے۔۲۰۱۸ ء کا سال اس حوالے سے سخت خون خرابے کی نذر ہو گیا ۔ وردی پوش اہلکاروں نے کشمیریوں کی ایک کثیر تعداد کو جرمِ بے گناہی کی پاداش میں موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ بھارتی جمہوریت نے جہاں ڈیڑھ سالہ ہبہ نامی بچی کی معصوم آنکھوں پر پیلٹ گن سے وار کرکے بینائی چھین لی، وہیں خواتین سمیت نوجوانوں اور بزرگوں کی ایک کثیر تعداد کو بھارت کی مختلف جیلوں میں ٹھونس دیا اور مختلف کالے قوانین میں جکڑکر ان سے جینے کا حق چھین لیا گیا ۔ 
ایک غیر سرکاری انجمن کی طرف سے ۱۰ دسمبر۲۰۱۸ء کو ایک تقریب میں جاری کردہ رپورٹ بعنوان خون میں لت پت وادی  میں اعداد و شمار کی زبانی کہا گیا کہ: گذشتہ برس میں وادی میں آٹھ خواتین سمیت ۱۰۳ عام شہریوں کو فورسز اور نامعلوم بندوق برداروں نے نشانہ بنایا، اور   کچھ شہری مظاہروں کی جگہ بارودی مواد پھٹنے کے نتیجے میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ پھر واشگاف الفاظ میں کہا گیا کہ ’’۲۰۱۰ ء کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سنگین اضافہ ہوا ہے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق ’’عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان مختلف خونیں معرکہ آرائیوں کے دوران جاے وقوع کے نزدیک ۴۰ ؍نہتے شہری لقمۂ اجل بن گئے، جب کہ ایک طالبہ اور آٹھ خواتین جن میں ایک حاملہ خاتون بھی تھی، جاں بحق ہوئے۔ علاوہ ازیں نامعلوم بندوق برداروں نے بھی ۱۶شہریوں کو ہلاک کیا اور دو بچوں سمیت آٹھ شہری آتشیں مواد کے پھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔ مرنے والوں میں مزاحمتی کیمپ کے سات سیاسی کارکنان بھی شامل ہیں، حتیٰ کہ دماغی طور پر معذور  دو افراد کو بھی نہیں بخشا گیا۔اس دوران احتجاجی مظاہروں میں شریک دونوجوانوں کو فورسز نے گاڑیوں کے نیچے کچل کر ہلاک کردیا۔ کشمیر کے ایک معروف صحافی اور مقامی انگریزی روزنامہ Rising Kashmir کے مدیر اعلیٰ شجاعت بخاری کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولیوں کا نشانہ بنایا‘‘۔ 
حکومتی ذرائع اور اخباری اطلاعات کے اعدادوشمار کے مطابق: ’’سال رفتہ میں (۱۷ دسمبر تک) کشمیر میں ۲۵۰ سے زائد عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا گیا، اسی طرح حکومتی فورسز کے ۹۰؍اہلکار بھی ہلاک ہوئے‘‘۔ عسکریت پسندوںمیں صدام پڈر، سمیر ٹائیگر، الطاف کاچرو،   توصیف شیخ، عمر گنائی، نوید جٹ کے علاوہ کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی جاں بحق ہوئے،جن میں پروفیسر رافی، ڈاکٹر منان وانی اور ڈاکٹر سبزار احمد صوفی قابلِ ذکر ہیں ۔
۹؍ دسمبر کو جب انسانی حقوق کا دن منانے کی تیاریاں کی جارہی تھیں، وہیں کشمیر میں سرینگر کے مضافات میں ۲ نوعمر عسکریت پسندوں سمیت ۳ نوجوان جاں بحق ہوئے۔ ان میں ایک کانام مدثر احمد تھا جو محض ۱۴ سال اور نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ دوسرا نوجوان ثاقب بلال ۱۷سال کی عمر اور بارھویں جماعت کا طالب علم تھا۔حیران کن طور پر ثاقب بلال نے کشمیر کے مسئلے پر بنائی گئی بالی وڈ فلم ’حیدر ‘ میں کردار بھی ادا کیا تھا۔ ۱۳ دسمبر کو سوپور کے علاقے میں مزید دو عسکریت پسند   جاں بحق ہوئے، جن میں ایک نے سائنس میں گریجویشن کی تھی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے پیشہ ورانہ کورس سے بھی فارغ التحصیل تھے۔ 
اس دوران ۱۵ دسمبر کو کشمیر میں اُس وقت قیامت صغریٰ برپا کر دی گئی، جب ۳ عسکریت پسندوں کے حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں جاں بحق ہونے کے بعد علاقے میں عام شہریوں پر براہِ راست فائرنگ کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سات نوجوانوںکو بھارتی افواج نے موت کا نوالہ بنا دیا اور ۶۰سے زیادہ افراد کو زخمی کردیا۔ ان میں ۳۲  سالہ عابد حسین ایم بی اے گریجویٹ تھے اور انڈونیشیا میں روزی کما رہے تھے اور وہیں ایک مقامی لڑکی سے شادی کی تھی۔ عابد اپنے پیچھے بیوی سمیت تین ماہ کی بچی زَیناکو چھوڑ گئے۔ دوسرے نوجوان لیاقت احمد نے گھر سے اسکول کے لیے داخلہ فیس لے کر ضلع پلوامہ کا رخ کیا تھا، لیکن حالات کی خرابی کی وجہ سے گھر کی طرف واپسی کی راہ لی، جہاں وہ گولی کا نشانہ بنے۔تیسرے نوجوان سہیل احمد نے نویںجماعت پاس کرکے حال ہی میں دسویں جماعت میں داخلہ لیا تھا۔ چوتھا نوجوان عامر احمد اپنے والد کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ پانچویں نوجوان اویس یوسف بارھویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ چھٹے نوجوان کی شناخت توصیف احمد کے طور پر ہوئی، جو پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ پھر ساتویں نوجوان عاقب بشیر جو کہ محض ۱۴سال کی عمر اور ساتویں جماعت کے طالب علم تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق عاقب بشیر کے والد مقامی ہسپتال سے گزر رہے تھے کہ اُن کو خیال آیا کہ زخمیوں کی عیادت کروں اور خون کا عطیہ دوں۔ وہاں زخمیوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے اُن پر اُس وقت قیامت ٹوٹ پڑی، جب وہ وہاں پر اپنے بیٹے کی نعش دیکھ کر چلّا اٹھے کہ ’’یہ ہو چھ میون نیچو ! ‘‘(یہ تو میر ا بیٹا ہے!)۔ عسکریت پسندوں کی شناخت ظہور احمد، عدنا ن حمید اور بلال احمد کے طور پر ہوئی ۔ ظہور احمد نے مقامی آرمی کے ایک یونٹ سے ۲۰۱۷ ء میں فرار ہوکر عسکریت کی راہ اختیار کی تھی۔ ان میں۲۴سالہ عدنان، ۱۹ سالہ بلال بھی تھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کب تک یہ خون کی ہولی کھیلتا رہے گا؟ کیاایسی دھونس، دبائو اور جبر و تشدد کی پالیسی سے کشمیریوں کو زیر کیا جا سکتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ متنازعہ خطے میں مظالم ڈھانے یا مار دھاڑ کی کارروائیاں عمل میں لانے سے کسی بھی انسان کو آزادی اور انصاف کے حصول سے روکا نہیں جا سکتا۔ پھر، جب کشمیر کے لوگ اپنے حق کی خاطر قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہیںکرتے، تو دنیا کی کوئی طاقت ان سے اِس حق کو بھلا دینے کا کیسے تصور کرسکتی ہے؟ اس بات کا قدم قدم پر ثبوت ملتا ہے کہ مقامی لوگ، عسکریت پسندوں اور حکومتی فورسز کے مابین تصادم کی جگہوں پر، عسکریت پسندوں کو بچانے کی خاطر باہر نکل آتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ کشمیر کے لوگ انکاؤنٹر یا تصادم کی جگہوںپر، گولیوں کی گھن گھرج میں کیوں عسکریت پسندوں کو بچانے کی خاطر نکلتے ہیں ؟ اس ’کیوں‘ پر اگر تھوڑا سا غورکیا جائے تو بات یہ سمجھ میں آجاتی ہے کہ عسکریت پسندوںکے ساتھ لوگ اپنی وابستگی کافطری اظہار کرتے ہیں اور اُن سے جذبۂ عقیدت کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اُن کی جانوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ یہ چندنوجوان ہیں جنھوںنے عسکریت کی راہ اپنالی ہے لیکن عام لوگ انھیں اپنے سے دور نہیںسمجھتے، بلکہ تصادم کی جگہوں پر نکل کر وہ اقوامِ عالم کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ: ’’اگرچہ بظاہر یہ چند نوجوان ہی ہیں، لیکن پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس لیے عسکریت پسندوںکو مارنے کے ساتھ ساتھ پہلے ہمارے سینوں پر گولیاں برسائو‘‘۔
 لوگوںکے اس غیر مبہم رجحان سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ کشمیر کی پوری قوم بھارت نواز سیاست دانوں سے بے زار ہے۔ بھارت اپنی فوجی طاقت کے بل پر بدمست ہو چکا ہے اور کشمیری قوم کے ساتھ بحیثیت مجموعی بر سرِ جنگ ہے۔ کشمیر کے متعلق دہلی کی پالیسی کاحاصل  اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ ریاست میں حالات اور زیادہ مخدوش ہو جائیں۔ زمینی صورتِ حال اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیر کی پوری قوم جابرانہ قبضے کے خلاف اپنا تن، من ،دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ 
کیا یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی کہ عسکریت پسند جب کسی تصادم آرائی میں پھنس جاتے ہیں اور اپنے والدین سے آخری ملاقات کی خاطر فون پر بات کرتے ہیں تو کشمیر کی عظیم مائیں انھیں دلاسہ دیتی ہیں کہ ’’میرے لاڈلے، تم نے نہیں جھکنا، میں نے تمھاری اسی لیے پرورش اور تربیت کی ہے، اسی لیے تو پڑھایالکھایا ہے کہ تیرے سینے پر گولی لگتے دیکھ لوں اور تو اپنے گھر شہادت کا   عظیم مرتبہ پاکر آئے، میں تمھیں دولھے کی طرح سجا کر رب ذُوالجلال کے حوالے کرنے کے لیے تیاربیٹھی انتظار کروں ‘‘۔بیٹا جب ماں سے دنیا میں اس کی کسی حق تلفی کی معافی طلب کرتے ہوئے کہتاہے کہ ’’ماں! اب تو میں بھاگتے بھاگتے تھک گیا ہوں، مجھے تو اللہ پاک کا بلاوا آیا ہے اور ہم وہیں ملیں گے‘‘ تو عزیمت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ماں کہتی ہے کہ ’’ بیٹے! تو مجھے معاف کرنا، مجھے نہیںمعلوم کہ اپنے رب کے راستے میں شہادت دینے کے لیے میں تمھاری تربیت صحیح طور پر کرسکی یا نہیں، میری جان تم پر فدا ہو، جائو! مَیں تم سے وہیں اللہ کی عدالت میںملاقات کروں گی ‘‘۔ 
اپنے مقصد کے لیے نظریاتی و جذباتی وابستگی کی اس انتہا کو دیکھ کر شاید ہی کوئی ذی حِس انسان اس خودفریبی کا شکار ہوسکتا ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو دبائے رکھنا ممکن ہے، یا اُن کی آواز کو کچل ڈالنا ، انھیں بدنام کرنا، یا انھیں اُن کے مقصد سے دور کرنے کا کوئی منصوبہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ 

ایک امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق: ’بھارت میں مئی ۲۰۱۹ء کے عام انتخابات کے دوران موجودہ وزیر اعظم نریندرا مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، ۵۴۳ رکنی لوک سبھا میں ۱۷۹نشستوں تک سمٹ جائے گی‘۔ گویا اگر موجودہ عوامی رجحان برقرار رہتا ہے ، تو۲۰۱۴ء کے مقابلے اس کی ۱۰۷نشستیں کم ہوجائیں گی۔ اسی لیے بھارتی حکمران پارٹی ۲۰۱۹ء میں اقتدار میں اعتماد کے واضح ووٹ (مینڈیٹ) کے ساتھ واپسی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ پانچ ریاستی انتخابات کے تلخ نتائج کے بعد اس انتہاپسند قیادت کے بیانات میں یہ پیغام واضح انداز میں سامنے آرہا ہے کہ: ’’اب تعمیر و ترقی کے بجاے پاکستان کے نام پر ہندو ووٹروں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے ووٹ بٹورنے ہیں‘‘۔
 فی الحال بی جے پی ، اس کی ذیلی اور مربی تنظیمیں اتر پردیش کے ایودھیا شہر میں مسمار شدہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے حوالے سے ایک عوامی تحریک برپا کرنے کی سوچ بچار میں اُلجھی ہوئی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معیشت کی بے حالی سے توجہ ہٹاکر ہندو ووٹروں کو ایک بار پھر جذباتی نعروں میں الجھا کر کامیابی کے جھنڈے گاڑے جاسکتے ہیں۔ پارلیمان کے موجودہ اجلاس سے قبل بی جے پی کے اراکین خم ٹھونک کر اعلان کر رہے تھے کہ: ’’اس سیشن میں قانون پاس کرواکر رام مندر کی تعمیر کا کام شروع کروایا جائے گا، کیوںکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے‘‘۔ شواہد واضح طور پر بتاتے ہیں کہ بی جے پی بھی اس قضیے کو سلجھانے کے بجاے عوامی جذبات کی بھٹی تپائے رکھنا چاہتی ہے۔ 
ہندی کے ایک معروف صحافی شتیلا سنگھ نے اپنی کتاب ایودھیا- رام جنم بھومی اور بابری مسجد  تنازعے  کا سچ میں انکشاف کیا ہے کہ: تین عشرے قبل ان کی موجودگی میں پرم ہنس رام چندر داس کی قیادت میں فریقین نے ایک فارمولے پر اتفاق کیا تھا۔ انتہا پسند تحریک ’ویشوا ہندو پریشد‘(VHP) کے سربراہ اشوک سنگھل جب اس فارمولے پر مہر لگانے کے لیے ہندو انتہا پسندو ں کی مربی اور سرپرست تنظیم آرایس ایس کے سربراہ بالا صاحب دیورس کے پاس پہنچے ، تو دیورس کا کہنا تھا:’’ رام مندر تو ملک میں بہت ہیں، اس لیے اس کی تعمیر کی فکر چھوڑ کر اس کے ذریعے ہندوؤں میں اُبھار پکڑتی بیداری کا فائدہ اٹھانا ہی مفید ہوگا‘‘۔ یعنی اگر معاملہ سلجھ جاتا ہے تو پھر فرقہ وارانہ سیاست کی آگ سلگا کر اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بند ہوجائے گا۔
جہاں دیدہ تجزیہ کاروں کے مطابق بابری مسجدکا سانحہ اس خطے کی جدید تاریخ کے     چھے بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔ پہلا ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی، دوسرا ۱۹۲۰ء میں گاندھی جی کی قیادت میں کانگریس کا نیا آئین اور ’سوراج‘ [آزادی] کا مطالبہ، تیسرا ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند اور آزادی، چوتھا ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کا وجود میں آنا‘ اور پانچواں ۱۹۸۴ء میں سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گولڈن ٹمپل پرحملہ، اور چھٹا ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کا انہدام، جو دراصل اعتماد کا انہدام تھا۔
سچی بات ہے کہ بابری مسجدکی شہادت میں بھارتی عدلیہ اور انتظامیہ نے بھرپور کردار ادا کرکے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کا پول کھول دیا، مگر اس کے باوجود آج تک بھارت کو ایک سیکولر اور لبرل ملک کے طور پر مغرب میں پذیرائی حاصل ہے۔ اعتبار کی رہی سہی کسر ۳۰ دسمبر ۲۰۱۰ء کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے بنچ نے اس وقت پوری کر دی، جب برسوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس نے قانون اور شواہد کو بالاے طاق رکھ کر، ایک فریق کے عقیدے اور یقین کو بنیاد بنا کر بابری مسجد پر حق ملکیت کا فیصلہ ہندوئوں کے حق میں سنا دیا۔ بنچ کے ایک جج نے زمین کے بٹوارے کی تجویز دی۔ پھر بنچ نے آگے بڑھ کر ان نکات پر بھی فیصلہ دیا جو بحث میں شامل ہی نہ تھے۔ 
یہ ایک سیدھا سادا سا ملکیتی معاملہ تھا۔ ۱۹۴۹ء میں جب چند فتنہ پرور افراد نے مسجد کے منبر پر مورتی رکھ دی اور مقامی انتظامیہ نے تالہ لگا کر مسجد میں مسلمانوںکے عبادت کرنے پر پابندی لگادی، تو مقامی ’وقف بورڈ‘ اور ایک ذمہ دار فرد ہاشم انصاری نے اس کے خلاف عدالت میں فریاد کی کہ: ’’اس جگہ کی ملکیت طے کی جائے‘‘۔ جج صاحبان نے برسوں کی عرق ریزی کے بعد قانون اور آئین کی پروا کیے بغیرکہا کہ:’’ Law of Limitations  [قانونِ تحدید]کا اطلاق ہندو دیوی دیوتائوں پر نہیں ہوتا ہے اور نہ ان جگہوں پر ہوتا ہے جہاں ان کی نشانیاں موجود ہوں‘‘۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا کہ کسی بھی جگہ پر اگر کوئی شخص کوئی مورتی، چاہے وہ پتھرکا ٹکڑا یا کسی درخت کی شاخ یا پتا ہی کیوں نہ ہو، رکھ کر اس پر مالکانہ حقوق جتلا سکتا ہے، چاہے اس جگہ کا مالک وہاں کیوں نہ صدیوں سے مقیم ہو۔ 
اس فیصلے کا اعتبار اس وقت اور بھی زیادہ مضحکہ خیز ہو جاتا ہے، جب جج صاحبان نے یہ تسلیم کرلیا کہ: ’’بھگوان رام کا جنم اسی مقام پر ہوا تھا، جہاں بابری مسجدکا منبر واقع تھا‘‘ اور یہ بھی کہا کہ: ’’ان کے مطابق رام آٹھ لاکھ سال قبل مسیح، اسی جگہ پر موجود تھے‘‘۔ دنیا بھر کے تاریخ دان اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اتنی پرانی آبادی کے کوئی آثار  ابھی تک نہیں ملے ہیں۔ پھر ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے اپنے طویل فیصلے میں سیاق و سباق کے برعکس مسلم حکمرانوں کے خلاف ایک لمبا چوڑا تبصرہ بھی تحریر کر ڈالا ہے اور ان کے دور میں ہندو عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے عمل کو بھی اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا ہے۔
 اگر یہ بات درست مان لی جاتی ہے تو پھر ہندو حکمرانوں کے ہاتھوں لاتعداد بدھ خانقاہوں کی بے حرمتی اور ان کی مسماری کس کے کھاتے میں ڈالی جائے گی؟ کشمیر کے ایک ہندو بادشاہ  ہرش دیو نے اپنے خالی خزانوں کو بھرنے کے لیے جنوبی کشمیر کے مندروں کو لوٹا اور جب پجاریوں نے مزاحمت کی تو ان کو بے دریغ تہہ تیغ کر دیا (جب کہ اس سے قبل ہندوئوں نے بڑے پیمانے پر جین مت اور بدھ مت کے مندروں کو توڑا، برباد کیا تھا)۔ اگر ان تاریخی واقعات کا انتقام موجودہ دور میں لینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، تو اس کا اختتام کہیں نہیں ہو گا، کیوںکہ ہر قوم نے، ماضی میں جب وہ غالب رہی، کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور کی ہوگی، جو کسی نہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا سبب بنی (ہم یہاں ان کہاوتوں، قصوں اور کہانیوں کی تصدیق کی بات نہیں کر رہے، محض انھیں دُہراتے رہنے کی بات کر رہے ہیں)، مگر اب آباواجداد کے گناہوںکی سزا سیکڑوں برس بعد ان کی اولادوں کو تو نہیں دی جا سکتی۔

  • مسجد شہید گنج: بابری مسجد کے قضیے کا لاہورکی مسجد شہید گنج [قائم شدہ: ۱۶۵۳ء] المیے کے ساتھ موازنہ کرنا بے جا نہ ہو گا۔ یہ کیس اور اس پر پاکستانی معاشرے کا رویہ، بھارتی سیکولرازم او ر اس کی لبرل اقدار پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ ۱۷۶۲ء میں لاہور پر سکھوں نے قبضے کے بعد اس مسجد کو فوجیوں کے ڈیرے میں تبدیل کر ڈالا اور بعد میں اس کوگوردوارہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ۱۸۴۹ء میں جب پنجاب برطانوی سامراج کی عملداری میں شامل ہوا، تو مسلمانوں نے اس مسجد کی بحالی اور واگزار کرنے کا مطالبہ کیا۔ پریوی کونسل نے ’قانونِ محدودیت‘ کو بنیاد بنا کر اس کا فیصلہ سکھوں کے حق میں دے ڈالا۔ ۱۷؍اپریل۱۸۵۰ء کو مسجد کے متولی نوراحمد نے بالاتر عدالت میں دادرسی کے لیے فریاد کی اور پھر ۱۸۸۳ء تک کے مختلف دروازوں پر دستک دیتے رہے، مگر ہر بار ’قانونِ محدودیت‘ کا حوالہ دے کر عدالتیں ان کی اپیلوں کو خارج کرتی رہیں۔ 

۱۹۳۵ء میں انگریز گورنر نے اس عمارت کو محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کرنے کی تجویز دی، جس پر ابھی راے عامہ ہموار ہو ہی رہی تھی کہ ۷جولائی کو سکھوں نے رات کے اندھیرے میں مسجد کی عمارت ڈھا دی۔ جب اس جارحانہ اور حددرجہ اشتعال انگیز اقدام پر تاریخی بادشاہی مسجد لاہور سے مسلمانوں نے ۲۰جولائی احتجاجی جلوس نکالا تو ایک درجن سے زیادہ مسلمان مظاہرین کو پولیس نے گولیوں کی بوچھاڑ سے شہید کردیا۔ پورے لاہور میں کرفیو نافذکرنا پڑا۔ عدالتی فیصلے کو رد کرنے کے لیے مسلم لیگ کے ارکان نے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے یہ جگہ مسلمانوں کے سپرد کرنے کی تجویز پیش کی۔ معروف قانون دان اے جی نورانی کے بقول: ’قائد اعظم محمد علی جناح نے اس تجویز کو رد کر دیا ‘۔ قائد اعظم کے شدید ناقد ہونے کے باوجود نورانی صاحب کا کہناہے کہ: ’’انھوں نے اس قضیے کو کبھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیںکیا، بلکہ قانون کی عمل داری کا پاس کیا‘‘۔ 
پاکستان بننے کے ۷۲سال بعد آج بھی یہ گوردوارہ لنڈا بازار میں موجود ہے،جب کہ شاید ہی اب کوئی سکھ اسے عبادت کے لیے استعمال کرتا ہو۔ لاہور میں جس طرح اس مسئلے نے جذباتی رخ اختیار کیا تھا، آزادی کے بعداندیشہ تھاکہ اس کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، مگر کسی پاکستانی سیاست دان یا پاکستان کی کسی مذہبی شخصیت نے عدالت کا فیصلہ رد کرنے کی کوشش نہیں کی [طرفہ تماشا دیکھیے کہ سیکولر، لبرل مخلوق پاکستان ہی کو عدم برداشت کا طعنہ دیتی ہے]۔ اس کے برعکس بھارتی عدلیہ کی جانب داری کا عالم یہ ہے کہ ایک سابق چیف جسٹس جے ایس ورما نے ’ہندوتوا‘ کو مذہبی علامت کے بجاے بھارتی کلچرکی علامت اور ایک نظریہ زندگی قرار دے ڈالا ہے۔ انھوں نے ہندو انتہا پسندوںکے گورو ویر ساورکر اور گولوالکر کی تصانیف کے بجاے ’روشن خیال‘ مولانا وحیدالدین خان کی تحریروںپر تکیہ کر کے ہندو انتہا پسندی کو جواز فراہم کردیا۔ ۱۹۹۲ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس وینکٹ چلیا کے طریق کار نے بھی بابری مسجد مسمارکرنے کی راہ ہموارکی۔ وہ مسجد کو بچانے اور آئین و قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے کے بجاے کار سیوکوں (مسجد کو مسمار کرنے والے) کی صحت کے بارے میں زیادہ فکرمند نظر آئے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ ۱۹۹۸ء میں بی جے پی حکومت نے ان کی فکری خدمات کے اعتراف میں انھیں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن کا سربراہ مقرر کر دیا۔
اے جی نورانی صاحب نے اس موضوع پر اپنی کتابDestruction of Babri Masjid:A National Dishonour (بابری مسجد کا انہدام: قومی روسیاہی)میں کئی حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ: ’’کانگریس کے اندرا گاندھی دورِ اقتدارمیں ہی  بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے ویشوا ہندو پریشد کے ساتھ سازباز ہوگئی تھی۔اگرچہ پریشد نے اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد اپنی تحریک روک دی، مگر راجیو گاندھی نے اس کو پھر زندہ کیا۔تاہم ، اس سے پہلے وہ مسلمانوں پر کوئی احسان کرنا چاہتے تھے۔اس کے لیے ان کے حواریوں نے ایک مسلم مطلقہ خاتون شاہ بانو کا قضیہ کھڑا کیا اور پارلیمنٹ سے ایک قانون پاس کروایا کہ مسلم پرسنل لا میں عدالت کوئی ترمیم نہیں کر سکتی‘‘۔
مصنف کے بقول: ’’انھوں نے راجیو گاندھی کو مشورہ دیا تھا کہ اس قضیے کو کھینچنے کا کو ئی فائدہ نہیں ہے، اور اس کو اینگلو محمڈن قانون کے بجاے شرعی قانون کے مطابق حل کیا جاسکتا ہے ،مگر وہ مسلمانوںکو سیاسی بے وقوف بنانے پر تلے ہوئے تھے، تاکہ پریشد کے ساتھ معاملہ فہمی کو آگے بڑھایا جاسکے، اور پھر یہی ہوا۔کانگریس کے علاوہ دیگر سیکولر جماعتوں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی، جن کی سانسیں ہی مسلمانوں کے دم سے ٹکی ہیں، ان سبھی کا رویہ افسوس ناک رہا ہے۔  ان دونوں پارٹیوں نے ،جو پچھلے ۲۰برسوں سے اتر پردیش میں حکومت کر رہی ہیں ،بابری مسجد کی مسماری کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں دکھائی۔حتیٰ کہ ایک معمولی نوٹیفکیشن تک کا اجرا نہیں کرسکیں، جس سے خصوصی عدالت میں ان افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا‘‘۔

گذشتہ تین عشروں کے دوران میں عالمی معاشی نظام وقفہ وقفہ سے بحران کا شکار ہوتا رہا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا بحران ۲۰ویں صدی کے شروع میں آیا تھا، جس نے دنیا کی تقریباً تمام معیشتوں کو بے پناہ مصیبتوں سے دوچار کردیا تھا۔ دو عالمی جنگوں نے بھی اس بحرانی کیفیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن ان جنگوں کے بعد دنیا میں معاشی استحکام اور ترقی کا ایک طویل دور بھی آیا، جہاں کوئی بڑا بحران پیدا نہیں ہوا، اور دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ترقی کے ثمرات سے فیض یاب ہوا۔ 
اس مضمون میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ معاشی بحران کیوںکر پیدا ہوتے ہیں اور، چند بڑے بحرانوں کا تذکرہ کرکے اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ ماہرین کی راے میں اگلا بحران کب متوقع ہے؟ علاوہ ازیں پاکستان جیسے ملک پراس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟

معاشی بحران کے محرکات

ان بحرانوں کی اصل وجہ مالی نظام اور اس سے وابستہ محرکات ہیں، جو احساسات اور نفسیات سے ترکیب پاتے ہیں۔ اس مالی نظام کی تنظیم ایسے عناصر پر مبنی ہے جو ’میری تعمیر میں مضمر ہے اِک صورت خرابی کی‘ کے مصداق مکروہ ترغیبات دے کر، اس میں ناگزیرعدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔ جدید معاشی نظام ایک ایسے نظامِ زر پر مبنی ہے، جہاں زر کی رسد اور پھیلاؤ پر کسی مقتدر ریاستی ادارے کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہے۔ بظاہر زر [یعنی نوٹوں]کی اشاعت مرکزی بنک ایک قانون کے تحت کرتا ہے۔ لیکن ایک مخصوص شائع شدہ مقدار جاری ہونے کے بعد جب وہ رسد کسی کے ہاتھ آتی ہے تو وہ اس کو بنک میں رکھواتا ہے۔ 
اب بنکنگ نظام کی تنظیم ایسی ہے کہ وہ بھی اس زر کے پھیلاؤ کو بڑھانے میں کردار ادا کرتا ہے ۔ بنک اس بات کے پابند نہیں ہوتے کہ وہ جمع شدہ رقم (deposits) کے سامنے اسی مقدار میں ریزروز (تحفیظ) رکھیں، بلکہ صرف ایک حصہ، مثلاً ۲۰فی صد ریزرو نقد کی صورت یا مرکزی بنک میں ڈپازٹ کی شکل میں رکھنا ہوتا ہے۔ باقی رقم کے معاملے میں بنک آزاد ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے گاہک کو قرض کی صورت میں یا کچھ صورتوں میں شراکتی سطح پر کسی کاروبار میں لگانے کے لیے دے دے اور اس سے منافع کمائے۔ یہ عمل تواتر سے ظہور پذیر ہوتا ہے کیونکہ اس قرضہ کی رقم کو بھی بالآخر کسی دوسرے بنک ہی میں جمع کرایا جاتا ہے اور پھر ایک نیا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس نظام کو فریکشنل ریزرو بنکنگ (Fractional Reserves Banking) کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے مرکزی بنک کی طرف سے ایک مقدار میں شائع کی ہوئی رسدِ زر بالآخر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ 
بظاہر یہ ایک سود مند عمل نظر آتا ہے کیونکہ زر کے اس اضافی پھیلاؤ سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے کھاتہ دار، بنک اور سرمایہ دار سب مستفید ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ نتیجہ اس وقت تک درست ہے، جب تک معیشت میں غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت موجود ہے اور یہ اضافی رسدِ زر ثمرآور معاشی عمل میں لگائی جارہی ہو۔ لیکن اس کے بیچ میں وہ مکروہ ترغیبات دَر آتی ہیں، جن کا ذکر ہم نے اوپر کیا تھا۔ بنک کی آمدنی قرضوں کے اجرا سے منسلک ہے، لہٰذا بنک ان کی مقدار بڑھانے کے لیےبے چین رہتا ہے۔ اس عمل میں بسا اوقات وہ دانش مندی کا دامن چھوڑ کر حرص کا شکار ہوجاتا ہے، اور پھر مطلوبہ معیار پر پورا نہ اُترنے والے گاہکوں کو بھی قرض دینا شروع کردیتا ہے جو اہل نہیں ہوتے، یا جہاں خطرات کی نوعیت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاتا یا اس سے جان بوجھ کر صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کوتاہی کے تباہ کن اثرات اس وقت عیاں ہوتے ہیں، جب کاروباری چکر (business cycle) میں مندی کا مرحلہ پیش آتا ہے۔
اس موقعے پر کاروبار کمزور پڑتا ہے، مقروض قرض کی ادایگی نہیں کر پاتا اور بنک قرض کی عدم وصولی کی وجہ سے یا تو اپنے سرمایے کو استعمال کرتا ہے، جو کہ بنک کے اثاثوں کا بمشکل ۱۰سے ۱۵ فی صد ہوتا ہے، یا پھر وہ خود دیوالیہ ہوجاتا ہے۔ اس بکھرنے کے عمل میں اس وقت شدت پیدا ہوجاتی ہے، جب کھاتے دار اپنی جمع شدہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ بنک کے پاس ریزرو صرف اتنے ہوتے ہیں کہ وہ روزہ مرہ کی ضرورتوں کو پورا کرسکے۔ لہٰذا، کھاتے داروں کی ادایگیوں کے لیے وہ اپنے مقروضوں (debtors)سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ رقم واپس کردیں۔ لیکن مقروضوں کے پاس بھی رقم موجود نہیں ہوتی کیونکہ وہ تو صرف اپنے ایسے اثاثے پیش کرسکتے ہیں جو قرٖض کی رقم سے بنائے گئے تھے اور قرضوں کے عوض رہن  (mortgage) کے طور پر رکھوائے گئے تھے، لیکن اگر ان اثاثوں کو اضطراری حالت میں فروخت کیا جائے گا تو ان کی مالیت وہ نہیں ہوگی، جو حقیقی مالیت یا کتابوں میں درج مالیت کے برابر ہوتی ہے، لہٰذا یہ مالیت قرض کی ادایگی کو پورا نہیں کرسکے گی اور یوں ایک دیوالیہ پن کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔ فریکشنل بنکنگ کا نظام زر کے پھیلاؤ کا ایک   ’الٹا اہرام‘ (inverted pyramid) کھڑا کرتا ہے۔ جب یہ تار و پود بکھرتا ہے تو اس کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ اُلٹے اہرام کی نوک ہی اصل سرمایہ ہوتی ہے اور اس پر کھڑی عمارت بے بنیاد ہوتی ہے۔
 بد قسمتی سے بنکوں کو اس بات کی بھی اجازت ہوتی ہے کہ وہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کریں۔ یہاں سٹہ بازی کی زبردست ترغیبیں ہوتی ہیں۔ سٹہ بازی، بنک کے اثاثوں کو پُرخطر بنادیتی ہے۔ جب اسٹاک مارکیٹ میں مندی آتی ہے تو ان اثاثوں کی مالیت میں زبردست کمی واقع ہوجاتی ہے، جس سے وہی عمل شروع ہوجاتا ہے جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے۔
علاوہ ازیں شرح سود جو ہمیشہ متعین اور غیر متغیر ہوا کرتی تھی، اس میں ردوبدل اب معمول بن گیا ہے۔ تمام مرکزی بنک جب زر کی رسد میں کمی بیشی کرنا چاہتے ہیں تو وہ شرح سود کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب ٹرژری بلز (Treasury Bills) اور بانڈز (Bonds) کی ہر دوہفتے اور ایک ماہ کے بعد نیلامی ہوتی ہے، جو زر کی رسد میں کمی بیشی کا طریقہ ہے، تو اس میں متعین ہونے والی شرح سود مارکیٹ پر لاگو ہوجاتی ہے۔ قرضوں پر سود کی ادایگی اب متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کو اسی نیلامی میں متعین ہونے والی شرح سے منسلک کردیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی بھی زر کی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب بنی ہے۔ 
ایک اور اہم عنصر جس نے اس نظام کو غیر مستحکم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے، وہ سرمایے کی دنیا بھر میں آزادانہ اور برق رفتاری سے آمد و رفت ہے۔ اس برق رفتار اور تازہ دم سرمایے کا اصل ہدف وہ ممالک رہے ہیں، جن کی معیشتوں کو ابھرتی ہوئی مارکیٹیں (emerging markets) کہا جاتا ہے۔ یہ سرمایہ جب صنعت و حرفت میں لگتا ہے تو اس کی آزادی محدود ہوجاتی ہے لیکن اگر یہ اسٹاک مارکیٹ میں لگا ہے یا قرضوں کی شکل میں آیا ہے، جیسا کہ یورو بانڈز وغیرہ تو اسے نکالنے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ عموماً سرمایہ ترقی یافتہ ممالک سے ابھرتی معیشتوں میں آرہا تھا، جو زیادہ تر ڈالر اور کچھ یورو میں ہوتا ہے۔ یہاں ڈالر اور مقامی کرنسی میں شرح تبادلہ اس سارے عمل پر  اثرانداز ہوتی ہے۔ مقامی کرنسی کی شرح تبادلہ میں گراوٹ، جو اکثر ڈالر اور یورو کی مضبوطی کی وجہ سے ہوتی ہے، وہ سرمایے کو واپسی کی طرف مائل کرتی ہے یا اگر قرضوں کی شکل میں ہے تو پھر مقامی کرنسی میں اس کی واپسی مشکل ہوجاتی ہے اور مقامی کاروبار بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ 

عالمی معاشی بحران کا آغاز

۲۰۰۸ء کے شروع میں جرمنی میں ایک چھوٹے سے قصبے کے بلدیاتی ادارے کے ناظم کو اس کے اکاؤٹنٹ نے ایک دن خبر دی کہ ادارے نے جو ایک بانڈ میں سرمایہ کاری کی ہے اور جس سے مستقل آمدنی موصول ہوتی رہتی تھی وہ بنک میں نہیں آئی اور کافی عرصے سے وہ کوشش کررہا ہے کہ بنک یہ بات بتائے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، لیکن اسے کوئی تشفی بخش جواب نہیں ملا ہے ۔ 
یہ کہانی ۲۰۰۸ء کے عالمی بحران کا نقطۂ آغاز تھا۔ بحران اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بڑے پیمانے پر قرض خواہان (creditors)،مقروضوں (debtors) سے اپنا اصل اور سود وصول  نہ کرسکیں، یعنی مقروضوں کا دیوالیہ نکل گیا ہو۔ علاوہ ازیں اسٹاک مارکیٹ میں جو سٹہ کھیلا جاتا ہے اس میں بھی ایک عنصر دیوالیہ ہونے کا بھی ہوتا ہے۔ عموماً لوگ مستقبل کے سودے کرتے ہیں جیسا یہ کہنا کہ:’’میں ایک ماہ کے بعد تمھیں فلاں کمپنی کے اتنے حصص (shares)، فلاں قیمت پر فروخت کروں گا‘‘۔ ایسا سودا کرنے کے لیے قانوناً یہ ضروری نہیں ہے (جیسا کہ اسلامی شریعت میں ضروری ہے) کہ سودا کرتے وقت حصص آپ کی ملکیت میں موجود ہوں۔ اب ایک ماہ بعد ہوسکتا ہے کہ قیمت اس سے مختلف ہو، جس پر سودا کیا گیا ہے۔ اگر کم ہوئی تو فروخت کرنے والے کو نفع ہوجائے گا اور اگر بڑھ گئی تو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اور کبھی یہ نقصان اتنی بڑی مقدار میں ہوگا کہ فروخت کرنے والا اپنے دیوالیہ پن کا اعلان کردے گا۔ 
لیہمین برادرز دنیا کا ایک نام ور ترین سرمایہ کاری بنک تھا، جو ۱۵۰ سال کامیابی سے منافع بخش کام کرتا رہا اور اس کی قابلیت اور صلاحیتوں کی ایک دنیا معترف تھی۔ ا۲ ویں صدی کے آغاز میں اس بنک نے ایک ایسا کام شروع کردیا جو ماضی میں اس کی پہچان نہیں تھی: گھروں کے لیے رہن پر قرضے دینا۔ در حقیقت لیہمین وال اسٹریٹ کی اشرافیہ کا کلیدی رکن تھا اور یہ ادارے پرچون کا کاروبار نہیں کرتے بلکہ یہ تو پرچون والوں کا سامان زیب و زینت سے آراستہ کرکے بڑے سرمایہ کاروں کو بیچتے ہیں۔ لیکن یہ ایسا وقت تھا جب امریکا میں شرح سود کم ترین تھی اور زر کی رسد بے پناہ تھی، کیونکہ چین اور دیگر ایشیائی ممالک اپنے زرمبادلہ کے بڑھتے ہوئے ذخائر کم ترین شرح پر امریکی حکومت کے بانڈز خرید کر قرض کی شکل میں فراہم کر رہے تھے، جس سے دو جنگوں پر بڑھتے دفاعی اخراجات اٹھانے کے باوجود امریکا میں افراط زر قابو میں تھا۔ رہن بردار قرضہ نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے کیونکہ رہن کی مالیت عام طور پر قرض سے زیادہ ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے، لہٰذا ڈیفالٹ کی صورت میں رہن بیچ کر قرض وصول کرلیا جاتا ہے، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جتنی مالیت رہن کی قرض ادایگی سے چھوٹتی رہتی ہے، اس کی جگہ بھی ایک اضافی قرضہ حاصل کرلیا جاتا ہے۔
اس پُرکشش پرچون کاروبار کو شروع کرنے کے لیے لیہمین نے دو ایسے مالیاتی اداروں کو خرید لیا، جو رہن بردار قرضے جاری کرتے تھے ۔ لیہمین نے کم شرح پر ملنے والے قرضوں کی ایک بڑی مقدار کو حاصل کرکے ان سے اپنے ذیلی اداروں کے توسط سے رہن بردار قرضے جاری کرنے کا عمل تیز تر کردیا۔ یہ کیوںکہ سرمایہ کار بنک تھا، اس لیے ان اداروں کے جاری کردہ رہن بردار قرضوں کو ان سے خرید کر اور ان کو بنیاد بنا کر نئے بانڈز تشکیل دینے اور انھیں فروخت کرنے لگا، جن کی آمدنی ان خریداروں کو دیے گئے قرضوں پر ملنے والی سود کی ادایگی سے ہوتی تھی۔ یہ بانڈز ساری دنیا میں فروخت ہوتے تھے اور ان کی زبردست طلب ہوتی تھی۔ ایسا ہی بانڈ جرمنی کے اس چھوٹے بلدیاتی ادارے نے بھی خرید رکھا تھا اور اس پر ابتدا میں مسلسل آمدنی ہورہی تھی جو بعد ازاں منقطع ہوگئی۔ 
یہاں ذرا ٹھیر کر ہم اس عمل کو مزید سمجھ لیں۔ عموماً ہم ایک بنک سے قرضہ لیتے ہیں تو اس کی ایک طے شدہ برانچ ہوتی ہے جس سے ہمارا لین دین ہوتا ہے۔ امریکا میں بھی یہی نظام ہوتا تھا۔ لیکن قرض کے کاروبار میں پھیلاؤ کی خاطر نت نئی راہیں تلاش کرنے کی جستجو نے یہ ستم ڈھایا کہ عام صارفین کے قرضے بھی فروخت ہونے لگے۔ قرض کی قسطوں کی ادایگیوں کے لیے یہ ضروری نہیں رہا کہ وہ اسی برانچ میں داخل کی جائیں بلکہ اس کے لیے ایک ٹرسٹی کی تعیناتی ہوجاتی ہے، جو وصولیاں کرکے قرض خواہ کے رجسٹر میں درج تازہ ترین مالک کو یہ وصولیاں پہنچا دیتا ہے۔ جب لیہمین برادرز نے یہ قرضے خریدے تو ساتھ ہی یہ اہتمام بھی کرلیا کہ اب ٹرسٹی وصولیاں اس کو پہنچائے گا۔ پھر اس نے جس کو نو تشکیل شدہ بانڈز فروخت کیے ان کو بھی یہ سہولت مہیا کردی  باوجودیہ کہ نیا بانڈ کئی قرضوں کے امتزاج سے نکلا ہوتا تھا۔ اس سارے عمل میں ایک عام صارف جس نے پہلے قرضہ لیا تھا اور ایک بانڈ ہولڈر جس نے لیہمین برادرز کا نو تشکیل شدہ بانڈ خریدا ہے، کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ فلوریڈا کا رہایشی جس نے مقامی بنک سے رہن بردار قرض لیا تھا بالآخر اس کا قرض خواہ جرمنی کے ایک چھوٹے سے قصبے کا بلدیاتی ادارہ بن گیا مگر ہر دو افراد ایک دوسرے سے مکمل لا تعلق ہیں۔  
لیہمین کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ ۲۰۰۰ء میں شروع کیے گئے اس کاروبار میں ۲۰۰۳ء تک اس کے اثاثوں کی مالیت ۱۸ ؍ارب ڈالر ہوگئی تھی اور وہ امریکا میں رہن بردار قرضوں کو جاری کرنے والوں میں تیسرے نمبر پر آگیا۔ ۲۰۰۷ء کی آمد تک یہ کاروبار اس قدر پھیلا کے وہ ۵۰؍ ارب ڈالر کے قرضے ماہانہ جاری کررہا تھا۔ ۲۰۰۸ء میں اس کے اثاثوں کی مالیت ۶۸۰؍ارب ڈالر ہوگئی تھی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس کے اپنے سرمایے کی مالیت فقط ۲۳؍ ارب ڈالر تھی،جب کہ بقیہ اثاثے قرضے حاصل کرکے بنائے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اثاثوں اور سرمایہ کا تناسب ۳۰:۱ کا تھا۔ اگر اس کے اثاثوں کی مالیت میں کسی حادثے کی صورت میں ۴فی صد کی کمی واقع ہوجائے تو سارا سرمایہ ختم ہوجائے گا اور ان بقیہ اثاثوں کے سامنے صرف وہ قرضے رہ جائیں گے، جن کے ذریعے یہ اثاثے بنائے گئے تھے۔ لیکن اضطراری فروخت میں ان کی مالیت اتنی نہیں ملے گی جس سے قرضوں کی مکمل ادایگی ممکن ہوسکے۔ اور یوں قرض سے بنائے گئے اثاثوں کی عمارت زمیں بوس ہوجائے گی۔ 
ہم نے ابتدا میں ان مکروہ ترغیبات کا ذکر کیا تھا جو جدید اور مروجہ مالیاتی نظام اِس کے منتظمین کو فراہم کرتا ہے۔ لیہمین برادرز کا خاتمہ اسی راستے پر چلنے سے ہوا۔ جب رہن بردار قرضوں کا سلسلہ تیز کرنے کا مرحلہ آیا تو لیہمین نے بھی نسبتاً کم کوالٹی کے قرضہ داروں کو قرضہ دینے کا کام شروع کردیا، جس کو سب پرائم (Sub-Prime) کہتے ہیں۔ عموماً بنک صرف پرائم کسٹمرز کو قرضے دیتے ہیں، جن کے ڈیفالٹ کرنے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ لیکن کیونکہ گھر کی بنیاد پر قرض دینے میں رہن موجود ہوتا ہے تو یہ فکر پیدا کی گئی کہ صارف کی نسبتاً کم کوالٹی کو رہن کی موجودگی پورا کرسکتی ہے۔ مغربی مالیاتی نظام کے تحت یہ مفروضہ بُرا نہیں سمجھا جاتا، لیکن اگر اس کو بے حد و حساب بڑھا دیا جائے تو شاہد یہ مفروضہ بھی غلط ثابت ہوسکتا ہے۔ اور کچھ ایسے ہی حالات نے بالآخر جنم لیا،  جس نے سارے مالیاتی نظام کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا۔
۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۸ء تک رہن بردار قرض اس بڑے پیمانے پر جاری کیے گئے، جن کا ماضی میں تصور ممکن نہیں تھا۔ خود لیہمین بردارز نے جس رفتار سے قرضوں کو جاری کیا اس کا ذکر ہم اُوپر کرچکے ہیں۔ بنکاروں نے ان قرضوں کو جاری کرنے کے لیے نہایت جارحانہ مہمات کا اہتمام کیا۔ اتوار بازار لگائے جاتے تھے جہاں سارا دن مفت سیر اور تفریح اور کھانا پینا ہوتا تھا اور    سادہ لوح لوگوں کو گھر خریدنے کی ترغیب دی جاتی تھی اور وسائل کے حوالے سے کہا جاتا تھا کہ: ’’فکر نہ کریں، اس کے لیے ہم آپ کو قرض دیں گے‘‘۔ گھر کے مالک کا اپنا سرمایہ کم سے کم کردیا کیونکہ مفروضہ یہ تھا کہ مستقبل میں گھر کی مالیت میں اضافہ ہی ہوگا کمی نہیں۔ دوسری طرف بڑے پیمانے پر گھروں کے کمپلیکس تیار تھے، جہاں صرف مکینوں نے داخل ہونا تھا۔ درخواست میں مقروض کی معاشی حالت کے پس منظر اور آمدنی سے متعلق کوائف دینے کی ضرورت تھی، وہ اس طرح درج کردیے جاتے تھے جو قرض کی منظوری کا باعث ہوں، قطع نظر اس سے کہ وہ حقیقتاً درست ہوں یا نہ ہوں۔ لوگ اپنی حیثیت سے کہیں بڑے گھروں میں داخل ہونے لگے، اگر حیثیت تھی بھی تو آمدنی میں وہ تسلسل نہیں تھا، جو عموماً رہن بردار قرض کا جواز پیدا کرتا، یا کم از کم اتنا بوجھ ڈالتا جو کسی حد تک پورا کیا جاسکتا۔  
۲۰۰۸ء میں وہ واقعہ رُونما ہوگیا، جس کے بارے میں گمان تھا کہ وہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ نہیں ہوتا: گھروں کی مالیت گرنے لگی۔ گھروں کی رسد میں بے محابہ اضافہ، کم شرح سود پر ملنے والے قرضے تھے۔ جب شرح سود میں اضافہ ہوا تو گھر کی مالیت گرنے لگی، کیوںکہ رہن بردار قرضوں کی شرح سود میں بھی اضافہ ہوگیا اور قرضوں کی ادایگی میں دقت پیش آنے لگی لہٰذا ڈیفالٹ کا آغاز ہوگیا، کیونکہ گھر کی مالیت قرض کی ادایگی کے لیے نا کافی تھی۔ لوگ گھروں سے بے دخل ہونے لگے، خالی کیے گئے گھروں کا کوئی خریدار نہ تھا، ان کی تعمیر میں لگے سرمایے کا نقصان کسی بنک نے تو اٹھانا تھا، جیسے لیہمین برادرز، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کسی کے پاس موجود نہیں تھا، لہٰذا بنک ڈوبنے لگے۔ 
ستمبر ۲۰۰۸ میں جب یہ خبر عام ہوئی کہ لیہمین برادرز دیوالیہ ہو گیا ہے تو یہ ایک سونامی کا آغاز تھا۔ وال اسٹریٹ میں ایک بھونچال آگیا تھا، جونائن الیون کے بعد پہلا بڑا حادثہ تھا۔ قریب تھا کہ سارا مالیاتی نظام درہم برہم ہوجائے کیوںکہ بنکوں نے قرضے جاری کرنے بند کردیے تھے اور کچھ ایسے کاروبار جو سرمایہ کاری کی انشورنس فراہم کرتے تھے وہ بھی ڈوبنے والے تھے۔  امریکی حکومت کو بالآخر یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اگر اس ڈوبنے کے سلسلے کو نہ روکا گیا تو ساری معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا، انھوں نے ان بنکوں اور مالیاتی اداروں کو قومی خزانے سے نہایت کم شرح پر سرمایہ فراہم کردیا، اور یوں یہ ادارے بچ گئے اور تباہی محدود ہوگئی۔ لیکن جو کچھ ختم ہوگیا وہ بھی ہولناک تھا: امریکا میں ۹۰ لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے؛ گھریلو دولت میں ۱۳ہزار ارب ڈالر کا نقصان ہوا؛ ایک مختصر سی مدت میں گھروں کی مالیت میں ۳۰ فی صد کمی واقع ہوئی اور اسٹاک مارکیٹ کی مالیت ۵۰ فی صد گر گئی؛ ایک اندازے کے مطابق امریکا کی سالانہ آمدنی کا ۴۰ فی صد اس بحران میں برباد ہوگیا۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے اور کھلے آسمان کے نیچے کیمپوں میں رہنے لگے۔ یورپ، جاپان اور ایشیا کی دوسری معیشتیں بھی اس سے متاثر ہوئیں اور ’مالیاتی سونامی‘ ساری دنیا پر اپنے بُرے اثرات چھوڑ گیا۔
۲۰۰۸ء کے ’مالیاتی سونامی‘ نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے مکروہ ترغیبات کے حامل بنکاری اور مالیاتی نظام کا پردہ چاک کردیا۔ چوں کہ اس نظام کے پشتیبان اثر و رسوخ کے حامل  اور طاقت کے مراکز پر قابض ہیں، اور بزعم خویش اتنے بڑے ہیں کہ انھیں گرنے نہیں دیا جا سکتا (too big to fail) لہٰذا، ان کو کھڑا رکھنے کے لیے ریاست نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ دوسری جانب اس میں گرنے والے وہ کمزور اور بے اثر افراد جن کی زندگی بھر کی کمائی خاک میں  مل گئی، جو اپنے گھروں سے بے دخل ہوکر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے، سرمایہ دارانہ معیشت کی سرخیل ریاست ِ امریکا ان کی کفالت کو نہیں آئی۔ گھروں سے بے دخل ہونے والوں کو اگر کسی بھی درجے میں دیوالیہ ہونے سے بچایا جاتا، اس خیال سے کہ ان کے گھروں کی مالیت اس سونامی کے بعد اپنی حقیقی مالیت کی طرف واپس آجاتی، تو یہ تباہی سے بچ سکتے تھے جیسا کہ بڑوں کو بچانے کے لیے کیا گیا۔ لیکن امریکی صدر اوباما نے اس طرح کی کسی تجویز کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ 

’مالیاتی سونامی‘ کا بنیادی سبب

جب یہ سونامی گزر گیا تو اس کے بعد کوئی احتسابی عمل شروع نہیں ہوا۔ کچھ افراد کو فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ بہت معمولی سزاؤں کے بعد چھوٹ گئے۔ زیادہ وقت اس بات پر صرف ہوا کہ آیندہ اس کے تدارک کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جائیں۔ ان اقدامات کو سمجھنے کے لیے ایک اور نام نہاد کاروبار سمجھنا ضروری ہے، جو سودی کاروبار سے آگے بڑھ کر صاف اور صریحاً قمار یا جوا ہے اور جو حقیقتاً اس سونامی کا اصل باعث بنا تھا۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا معاہدہ ہے، جو Derivative (ڈیریویٹو، جس کا ترجمہ ہم’متبدّل‘ کررہے ہیں) کہلاتا ہے، جس کے مطابق مستقبل میں پیش آنے والے ایسے واقعے سے بچائو کے لیے ایک قیمت ادا کرکے خریدار اپنا تحفظ کرسکتا ہے۔ مثلاً رہن بردار قرض خواہ، جس کو مقروض کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہو وہ ایک متبدّل خریدے گا کہ اگر مقروض نے قرض ادا نہیں کیا تو متبدّل فراہم کرنے والا ادا کردے گا۔ یقیناً یہ معاہدہ ایک طرح کا بیمہ یا انشورنس ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ کاروبار ان تمام قوانین اور نگرانیوں سے آزاد تھا جو انشورنس کے کاروبار پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس کو فروخت کرنے والا انشورنس کے معروف کاروبار کے لیے لائسنس کا نہ حامل تھا اور نہ اس نے اس کے لیے ضروری سرمایہ فراہمی کی پابندی تھی۔ متبدّل ضروری نہیں کہ صرف مالی اُمور تک محدود رہے۔ یہ اشیا کی قیمتوں میں   اُتار چڑھاؤ، شرح سود میں تبدیلی، متعین شرح کو غیر متعین سے تبادلہ کرنے وغیرہ سب میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ بس ایک قیمت کی ادایگی سے، ایک خاص مدت کے لیے، ایک ناپسندیدہ نتیجے سے بچنے کے لیے متبدّل خرید کر تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 
گذشتہ سال ۵۰۰ ٹریلین ڈالر سے زائد ’متصّور مالیت‘ (Notional Value) کے  ۲۵؍ارب متبدّل فروخت ہوئے ہیں۔ یہ مالیت ان معاہدوں کی ہے جن کے لیے متبدّلات خریدے گئے ہیں، مثلاً شرح تبادلہ یا کریڈٹ ڈیفالٹ وغیرہ۔ یہ واضح رہے کہ یہاں ایک معاہدہ کئی مرتبہ گنا جاتا ہے کیونکہ متبدّل فروخت کرنے والا خود اپنے تحفظ کے لیے بھی کسی دوسرے سے متبدّل خریدتا ہے، لہٰذا یہ ایک لامتناہی سلسلہ بن جاتا ہے۔ متبدّلات کی خرید و فروخت دو طرح سے ہوتی ہے: باہمی طور پر دو افراد یا کمپنیوں کے درمیان یا پھر کسی ایکسچینج میں۔ یہ ۹۵ فی صد تو  باہمی طور پر ہوتی ہے۔ دو قسم کے متبدّل سب سے زیادہ فروخت ہوئے: ایک کریڈٹ ڈیفالٹ سواپ (تبادلہ) اور دوسرا رہن بردار قرض ادایگیاں (CDO - Collarrized Debt Obligations)۔ آخرالذکر اصل میں مالیاتی سونامی کا باعث بنا۔
رہن بردار قرضوں کا زور یوں اور بڑھ گیا کہ مارکیٹ میں اس کا متبدّل بکنے لگا، اور امریکا کا ایک معتبر نام امریکا انٹرنیشنل گروپ (AIG) اس کام میں لیڈر تھا۔ لیکن جب شرح سود میں اضافے کی وجہ سے ڈیفالٹ کا آغاز ہوا تو CDO نے ابتدا میں ادایگیاں کرنا شروع کردیں، لیکن جلد اسے یہ احساس ہوگیا کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر ادایگیاں کرنے کے قابل نہیں ہے۔ قریب تھا کہ سارا نظام دھڑام سے گر جاتا کہ اس وقت کے امریکی وزیر خزانہ ہیری پالسن، گولڈ مین ساچس (Goldman Sachs)، جو سب سے بڑا بنک تھا اور اس کاروبار میں بھی چار بڑے اداروں میں شامل تھا، کے سابق سربراہ تھے۔ ان کی سربراہی میں ان اداروں کو بچانے کے لیے ایک اجلاس اکتوبر ۲۰۰۸ء میں منعقد ہوا، جس میں مرکزی بنک اور مرکزی انشورنس کے سربراہان بھی شامل تھے۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ حکومت ان اداروں کو سیکڑوں ارب ڈالر کے قرضے براہ راست اور مرکزی بنک کے ذریعے فراہم کرے گی تاکہ یہ اس ڈیفالٹ سے بچ جائیں۔ مرکزی بنک نے تقریباً صفر شرح سود پر اتنی بڑی مقدار میں قرضے جاری کیے، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔  اس کی بیلنس شیٹ دوگنی سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔ 
متبدّل کا کاروبار بلا روک ٹوک اور بغیر کسی قانونی عمل کے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت شروع کیا گیا تھا۔ ۲۰۰۰ء امریکی صدر بل کلنٹن کی حکومت کا آخری سال تھا اور اس سال دسمبر تک کا ان کا بجٹ کانگریس سے پاس نہیں ہورہا تھا۔ اس کے حصول میں جو چیز مانع تھی، وہ    ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر ز کا یہ اصرار تھا کہ بجٹ قانون کے اندر ایک اور قانون کی منظوری دی جائے جس کی صدر کلنٹن مخالفت کررہے تھے۔ یہ قانون متبدّل کے کاروبار کو ایک مستقبل (فیوچرز) کے سودوں کی مارکیٹ، جو ایک منظم مارکیٹ ہے اور تبادلۂ اشیا ایکٹ ۱۹۳۶ء کے تحت کام کرتی ہے، اس سےجدا ایک کاروبار تسلیم کروانا تھا ۔ یہ کاروبار باہمی سودوں کی بنیاد پر ماہر سرمایہ کاروں کے درمیان ہو اور اس پر کسی قسم کی کوئی نگرانی کا عمل نہ ہو خصوصاً ۱۹۳۶ء کا ایکٹ اس پر لاگو نہ ہو۔ بالآخر مجبوری میں بل کلنٹن نے بجٹ منظوری کی خاطر اس قانون کو منظور کرلیا۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ نگران ادارے جو بنکوں، غیربنک مالی اداروں، انشورنس وغیرہ کی نگرانی کرتے ہیں، اس کاروبار کے معاملات کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ مزید برآں ’وال اسٹریٹ‘ اور کوئی دوسرا اسٹاک ایکسچینج بھی یہ کام دیکھنے کا مجاز نہیں تھا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ متبدّل فروخت کرنے والوں کو کسی قسم کے ذاتی سرمایے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نئے کاروبار کی تشکیل نے ایک اور مکروہ ترغیب فراہم کردی، جو اس کی تباہی کا باعث بنی۔ متبدّل اتنی بڑی تعداد میں فروخت کیے گئے جتنی بڑی تعداد میں رہن بردار قرضے جاری کیے جارہے تھے۔ جب بڑے پیمانے پر رہن بردار قرضوں کا ڈیفالٹ شروع ہوا تو متبدّل بیچنے والوں کے پاس اتنا سرمایہ نہیں تھا کہ وہ اپنے سارے وعدے پورے کرسکتے۔ یہ نوبت جب AIG اور گولڈمین ساچس تک پہنچی تو’آپ کی زلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی‘ کے مصداق بڑی سرکار حرکت میں آگئی۔
ایک اور دل چسپ بات ہم یہاں بتاتے چلیں۔ جب لیہمین برادرز اپنے ذیلی اداروں کے جاری کردہ رہن بردار قرضوں پر مبنی بانڈز بنا کر وال اسٹریٹ میں فروخت کرتا تھا، تو اس کے لیے کسی نامور ریٹینگ ایجنسی سے ریٹنگ کروانی لازم ہوتی تھی۔ یہ تمام ریٹنگ عموماً AAA ہوتی تھیں، جس کا مطلب تھا کہ اس میں ڈیفالٹ کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ موڈیز، اسٹینڈرڈ اینڈ پور اور فیٹچ یہ تینوں ایجنسیز اس کام میں ملوث پائی گئی ہیں۔ موڈیز نے تو کمال کردیا۔ ۲۰۰۶ء میں اس نے تقریباً ۸۶۹؍ ارب ڈالر کے رہن بردار بانڈز کو AAA ریٹینگ جاری کی تھی۔ پھر  ’مالیاتی سونامی‘ کی آمد سے ذرا پہلے اس میں سے ۸۳ فی صد بانڈز کی ریٹنگ گھٹا دی، مگر اس وقت تک بہت تاخیر ہوگئی تھی۔ سونامی کے ذمہ داروں میں ان ایجنسیوں کا نام بھی سامنے آیا اور ان پر مقدمات قائم ہوئے۔ لیکن پھر جرمانے ادا کرکے فارغ ہوگئے اور آج بھی یہ اسی آن بان سے کام کررہے ہیں، اگرچہ موڈیز کو جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی ایک تحقیقات کا سامنا ہے۔
ہم یہاں سود کی تباہ کاریوں کا ذکر بھی کرنا چاہتے ہیں۔ سود کے کاروبار میں ایک عدم استحکام قدرتی طور پر پنہاں ہے۔ سود کا سودا طے شدہ مدت کے بعد مقروض سے سود کی ادایگی کا مطالبہ کرتا ہے، اگر یہ ادایگی نہیں ہوگی تو وہ رہن کو بیچ کر اپنا سود اور اصل سرمایہ پورا کرسکتا ہے۔ اگر یہ ناکافی ہے اور مزید کوئی اثاثہ بطور ضمانت موجود نہیں ہے تو قرض خواہ کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر یہ کاروبار شراکت کی بنیاد پر کیا جائے تو یہ عدم استحکام دور ہو جاتا ہے۔ کیوںکہ شراکت کی وجہ سے سرمایہ فراہم کرنے والے کے لیے یہ ترغیب نہیں رہتی کہ مندی کے حالات میں اگر اس نے رہن جلد فروخت نہ کیا تو اسے مزید نقصان اٹھانا پڑے گا، بلکہ شریک کی حیثیت سے اس کا حصہ ہمیشہ اپنی جگہ قائم رہے گا اور مندی کے حالات میں بیچنا مالیت کو خراب کرے گا۔ یوں سارے نظام سے وہ مکروہ ترغیب جو لوگوں میں اضطراب اور بے چینی (panic) کا باعث ہوتی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔
 متبدّل کا کاروبار جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں صاف جوا ہے جس کا اسلامی شریعت میں حرام ہونا واضح ہے۔ علاوہ ازیں شریعت یہ بھی پابندی لگاتی ہے کہ آپ وہ اشیا نہیں بیچ سکتے جو آپ کی ملکیت میں نہ ہوں یا جن کی بوقت ضرورت موجودگی میں کسی قسم کا شبہہ ہو۔ لہٰذا یہ واضح ہے کہ اسلامی نظام مالیات ان مکروہ ترغیبات کو مٹا کر ایک ایسا نظام فراہم کرتا ہے، جو اس عدم استحکام سے پاک ہے، جو سود اور متبدّل پر مبنی نظام میں بنیادی طور پر پایا جاتا ہے۔ 
[اگلی قسط میں ہم بتائیں گے کہ کس طرح یہ عدم استحکام ایک بار پھر دنیا کے مالیاتی نظام کو تہہ و بالا کرنے والا ہے۔]

پاکستان کے عظیم لیڈر قائداعظم محمد علی جناح سے منسوب قول: ’’میری جیب میں جو کھوٹے سکّے ہیں، ان کا کیا کروں؟‘‘پر علمی حلقوں میں آج بھی یہ بحث جاری ہے کہ انھوں نے یہ الفاظ اداکیے تھے یا نہیں؟ اور اگر ادا کیے تھے تو ان کا اشارہ کن کھوٹے سکّوں کی طرف تھا؟اس بحث سے قطع نظر کہ یہ بات تو غیر متنازعہ ہے، مگر اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ قائد کی وفات کے بعد پاکستان جس طرح اپنی منزل سے دُور ہوتاگیا، کم از کم اس طرزِعمل نے تو ان الفاظ کو سچ ثابت کردکھایا۔ 
مجھے عظیم قائد سے منسوب یہ الفاظ گذشتہ دنوں اس وقت بہت شدت سے یاد آئے، جب میں نے غیرمسلم اقلیتوں کے نام پر شراب کے گھناؤنے کاروبار کی روک تھام کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر میں واضح کردیا تھا کہ: مجھے کسی شخص کے ذاتی قول و فعل سے کوئی سروکار نہیں۔پاکستان میں شراب کے کاروبار پر پابندی عائد کرنے کے لیے میرا بل پیش کرنے کا واحدمقصد یہ تھا کہ اس غلیظ دھندے، کاروبار یا عمل کو کسی بھی مذہب سے منسلک نہ کیا جائے۔ 
اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ہر مذہب انسانیت کی بھلائی کے لیے خدا کے احکامات پر عمل کرنے کی تلقین کرتا ہے، تاکہ انسان خدا کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ایک مفید اور کارآمد شہری ثابت ہو، جب کہ شراب نوشی کرنے والا فرد، خدا کی نافرمانی کرکے معاشرے میں فساد پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔ ایک پُرامن معاشرے کا دارومدار دیگر تمام مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کرنے میں ہے۔ 
میں نے دنیا کے تمام مذاہب کا مطالعہ کیا ہے اور دلائل کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ   اُم الخبائث شراب تمام مذاہب میں حرام ہے۔ لیکن یہاں پر نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میںشراب کی خرید و فروخت غیرمسلموں کے نام پر کرنے کی اجازت ہے۔ دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل۳۷-ح کے مطابق:’’مملکت :نشہ آور مشروبات کے استعمال کی، سواے اس کے کہ وہ غیرمسلموں کی صورت میں مذہبی اغراض کے لیے ہو، روک تھام کرے گی‘‘۔ ملک بھر میںشراب پر پابندی ہے، ماسواے غیرمسلموں کے، جو اپنے مذہبی تہواروں پر شراب استعمال کرسکتے ہیں۔ 
مجھ سمیت پاکستان بھر کے غیرمسلموں کو اس شق کی موجودگی پر شدید تحفظات ہیں۔ میرے اس موقف کی تصدیق مذہبی علما، پنڈت، پادری اور محقق حضرات سے بھی کرائی جاسکتی ہے کہ پاکستان کے نمایاں بڑے غیر مسلم مذاہب بشمول ہندومت، سکھ مت، مسیحیت اور بدھ مت وغیرہ میں کسی مذہبی تہوار پر شراب استعمال نہیں کی جاتی، لیکن پاکستان میں سال کے ۳۶۵ دن شراب کی خرید و فروخت جاری رہتی ہے۔ پھر اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان میں غیرمسلموں کی اتنی آبادی نہیں جتنی یہاں پر شراب کی کھپت ہے ۔ 
میری نظر میں ہر مذہبی تہوار اپنے اندر ایک مقدس روحانی پیغام سموئے ہوتا ہے اور اس موقعے پر خدا کی خوش نودی حاصل کرنے کے بجاے عذابِ الٰہی کو دعوت نہیں دی جاسکتی۔ خدا کے واضح احکامات کے باوجود شراب نوشی ہر دور میں اورہر جگہ کی جاتی ہے۔ اس لیے شراب پینے والے کو فقط ایک شرابی سمجھا جانا چاہیے کہ جو کسی بھی مذہب کا پیروکار ہوسکتا ہے۔ ان حقائق کی بناپر میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں شراب نوشی کو اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب سے نتھی کرنا سراسر ناانصافی اورتوہینِ مذہب کے زمرے میں آتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ دنیا کی وہ تمام قومیں تباہ و برباد ہوئیں، جنھوں نے خدا کے راستے سے بھٹک کر منافقت کا راستہ اختیار کیا۔     ان سارے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے پاکستان سے مذہب کے نام پر شراب پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ میری یہ جدوجہد کوئی آج کی بات نہیں ہے بلکہ میں گذشتہ پانچ برسوں سے اس عظیم کاز (مقصد) کے لیے مصروفِ عمل ہوں۔ میں نے گذشتہ حکومت میں بھی اس سماجی ناسور کے خلاف بل پیش کیا تھا، مگر افسوس کہ اس پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
یہ ہماری قومی بدقسمتی ہے کہ گذشتہ ۷۰برسوں پر پھیلی تاریخ میں ہر حکومت نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ بنانے کے دعویٰ ضرور کیے، لیکن عملی طور پر پاکستانی معاشرے کو اکثریت اور اقلیت کے مابین تقسیم کرکے مفادات کی سیاست کی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرقیادت پاکستان تحریک انصاف نے ’نئے پاکستان‘ میں مدینہ ماڈل اپنانے کا واضح اعلان کیا۔مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست میں جب پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو حرام قرار دینے کا اعلان فرمایا تو اس موقعے پر بعض لوگوں نے پوچھا کہ: ’’ہم غیرمسلموںکوبطور تحفہ کیوں نہ دے دیں ؟‘‘ مگر آپ نے تحفہ دینے سے بھی منع کر دیا۔ پھر شراب کو ادویات کے استعمال کے حوالے سے فرمایا کہ: ’’نہیں، وہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے‘‘ اور یوں شراب مدینہ منورہ کی گلیوں میں بہا دی گئی۔ 
پاکستان میںشراب کا گھناؤنا کاروبار ہم جیسے محب وطن غیرمسلم پاکستانیوں کی نیک نامی کا بھی معاملہ ہے۔ معاشرہ ہماری تمام قابلیت اور صلاحیتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ہمیں شراب کے گھناؤنے کاروبار سے نتھی کرتا ہے۔ہمارے آس پاس ایسے بے شمارنامی گرامی لوگ پائے جاتے ہیں، جنھوں نے غریب غیرمسلم باشندے ملازم رکھے ہوئے ہیں اور ان کے نام پر شراب لے کر وہ خود پیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر انھیں شراب پینے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ اپنے نام پر خریدیں ، خدارا کسی مذہب کو بدنام نہ کریں۔ 
پارلیمان، عدلیہ اور میڈیا کے پلیٹ فارم پر اپنی پُرامن اور آئینی جدوجہد کو آگے بڑھانا میرا جمہوری اور شہری حق ہے۔ لیکن اس وقت مجھے نہایت دکھ ہوا جب قومی اسمبلی میں میرے پیش کردہ آئینی ترمیمی بل کی حمایت کرنے کے بجاے وہاں اراکین اسمبلی نے روڑے اٹکائے ۔ بالخصوص حکومتی ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، ملک بھر میں بسنے والے محب وطن پاکستانیوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا باعث بنےہیں۔ یہ کتنی مضحکہ خیزصورتِ حال ہے کہ ہم غیرمسلم کہہ رہے ہیں کہ: ’’ہمیں شراب پینا منع ہے ۔ ہمارے نام پر شراب کا کاروبار اور شراب نوشی بند کی جائے‘‘۔ لیکن مسلمان وزیر کہہ رہا ہے کہ: ’’جس کوشراب پینی ہے وہ پیے‘‘۔میں سمجھتا ہوں کہ غیرمسلم اقلیتوں کے خلاف ایسا ناپسندیدہ طرزِعمل ہی امریکا اور عالمی برادری کو مذہبی آزادی کے حوالے سے بنیاد فراہم کرتا ہے کہ وہ ہمارے پیارے وطن کو بلیک لسٹ میں شامل کرے۔ 
میںقومی اسمبلی میں ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) کے ارکان ، میڈیا کے دوستوں، معزز علماےکرام، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی سمیت ان تمام خواتین و حضرات کا شکرگزار ہوں، جنھوں نے میری اس عظیم جدوجہد کی حمایت کی۔خدا کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اس نیک نیتی پرمبنی میرے اقدام نے معاشرے کو جس مثبت انداز میں متحرک کیا ہے ، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت مثبت انداز سے ملک و قوم کی خدمت کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ 
میں جانتا ہوں کہ حق و سچائی کے راستے میں بے شمارمشکلات آتی ہیں ، اس لیے میں نے ہمت نہیں ہاری اور ایک بار پھر بل جمع کراتے ہوئے راے شماری کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ عوام    جان سکیں کہ کون ریاست مدینہ ماڈل نافذکرنے میں سنجیدہ ہے اور کون اسے محض سیاسی نعرہ سمجھتا ہے؟ یہ ایک ایسا اہم ایشو ہے کہ اس پر ریفرنڈم بھی کرایا جاسکتا ہے ۔ پاکستانی عوام عمران خان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ بطور وزیراعظم پاکستان، پارلیمنٹ میں آنے والے غیرضروری بیانات کا بروقت نوٹس لیں گے، ورنہ ’نئے پاکستان‘ کے لیے تحریک انصاف کے بلندعزائم کو، ’کھوٹے سکّوں‘ کی موجودگی کی بنا پر سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں مسلم عہد ِ حکومت (جسے عام طور پر عہد ِ وسطیٰ کے ہندستان (Medieval India ) کے نام سے جانا جاتا ہے) مذہبی و ثقافتی اور سماجی و سیاسی مختلف حیثیتوں سے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کی تاریخ میں بڑی دل چسپی پائی جاتی ہے۔  ایک جانب اس زمانے کے اندازِ سیاست، نظمِ حکومت ، مذہبی و تمدنی اور سماجی و معاشی حالات کو جاننے اور سمجھنے کی سنجیدہ و علمی کوششیں کی جاتی ہیں، تو دوسری جانب ایک طبقے کی مسلسل منصوبہ بند مہم  یہ ہے کہ اس عہد کی تاریخ کو مسخ کرکے اس کی ایسی گھنائونی تصویر پیش کی جائے کہ اس سے نہ صرف یہ کہ مسلم حکمرانوں سےبے زاری پیدا ہو بلکہ موجودہ دور میں ان کے ہم سخنوں کے خلاف جذبات بھی برانگیختہ ہوں۔ اس صورتِ حال میں اس بات کی ضرورت اور بڑھ گئی ہے کہ ہند میں مسلم عہدِحکومت کی تاریخ کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے ،اور اس زمانے کے سیاسی و اقعات، انتظامی اقدامات اور سما جی و معاشی کوائف کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے، تاکہ صحیح صورتِ حال سامنے آئے اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوششیں ناکام ہوجائیں۔
ہند کے ساحلی علاقوں میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ ساتویں صدی عیسوی کے آخرسے شروع ہوا۔ مغربی ساحل پر تھانہ اور بھروچ کے علاقے میں مسلمانوں کی اوّلین مہم حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت سے منسوب کی جاتی ہے۔۱    جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں میں مسلم (عرب) تاجروں کی آمد آٹھویں صدی عیسوی سے شروع ہوئی، جو اس علاقے میں اسلام کے تعارف کا ذریعہ بنی۔ بعدمیں یہاں مسلم معاشرت کے قیام اور مختلف مقامات پر ان کے مذہبی و ثقافتی مراکز کے وجود میں آنے سے اسلام کی اشاعت کی راہیں مزید ہموار ہوئیں۔۲  ہندستان میں مسلمانوں کی اوّلین حکومت ۷۱۲ء میں نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسم [۶۹۵ء-۷۱۵ء] کی قیادت میں سندھ میں قائم ہوئی، اور اس سرزمین میں اسلام کی اشاعت اور اسلامی تہذیب و تمدن کے فروغ کا سلسلہ اسی دور سے شروع ہوا۔
اگرچہ محمد بن قاسم کو پورے دو سال بھی سندھ میں حکومت کرنے کا موقع نہ مل سکا، اور ان کے جانشینوں کے عہد میں عربوں کی حکومت یہاں کچھ ہی علاقوں (منصورہ و ملتان) تک محدود ہوکر رہ گئی، لیکن ان کی حکومت کا یہ سلسلہ کسی نہ کسی طرح ۹۸۵ء تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ قرامطہ فرقے کے لوگ اس پر قابض ہوگئے۔۳  یہاں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ سندھ میں عربوں کی یہ حکومت ہندستان میں اسلام کی اشاعت اور اسلامی ثقافت کے فروغ کے اعتبار سے بہت مفید ثابت ہوئی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس سے ہندستان کے دوسرے حصوں میں مسلم فتوحات کی راہیں بھی ہموار ہوئیں۔ اسی لیے سندھ کی فتح ’باب الاسلام فی الہند‘ کے نام سے بھی معروف ہے۔
مزید یہ کہ سندھ میں محمد بن قاسم کی حکومت اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے کہ یہاں پہلی بار ہندستان میں مسلمانوں کو حکمران کی حیثیت سے ہندوئوں سے تعلقات و معاملات قائم کرنے اور ان کے ساتھ اپنے طرزِعمل کے مظاہرے کا موقع ملا، اور ان سب سے اہم یہ کہ سندھ کے فاتح و اوّلین حکمران محمد بن قاسم نے اپنی حکومت کے تحت ہندوئوں کی جو قانونی حیثیت (ذمّی) متعین کی اور ان کے تئیں جو روادارانہ رویہ اختیار کیا، وہ اسلامی اصول و ضوابط کے مطابق تھا، اور وہی بعد کے دور میں شمالی ہندستان میں ترک سلاطین و مغل بادشاہوں کے لیے نظیر بن گیا۔
تاریخی واقعات اسی حقیقت کے شاہد ہیں کہ پورے مسلم عہد ِ حکومت میں یہاں عام طور پر غیرمسلموں کے ساتھ مسلم حکمرانوں کا برتائو، رواداری و انصاف پر مبنی رہا ہے۔ اس پس منظر میں یہ مطالعہ بڑی اہمیت و معنویت رکھتا ہے کہ سندھ میں حکومت کے دوران محمد بن قاسم نے ہندوئوں کے ساتھ کیسا طرزِعمل اختیار کیا ؟اور ان کے ساتھ سلوک و برتائو کا کیا معیار قائم کیا؟

ہندوئوں کی شرعی حیثیت کا تعین

سندھ میں محمد بن قاسم کی حکومت کے قیام کے بعد سب سے پہلے یہ بنیادی سوال زیربحث آیا کہ: ’’ہندوئوں کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ ان کے ساتھ ذمّی کا برتائو کیا جائے یا غیرمسلموں کے کسی اور طبقہ (حربی و امانی وغیرہ) کی حیثیت سے ان کے ساتھ سلوک کیا جائے؟‘‘
تاریخ سندھ کے معروف ماخذ چچ   نامہ۴ کے بیان کے مطابق محمد بن قاسم نے سندھ کے مختلف علاقوں کے ان مفتوحین (جن میں برہمن اور بدھ دونوں شامل تھے) کو قانونی طور پر ذمّی کی حیثیت سے تسلیم کیا اور ان پر جزیہ عائد کیا ، جنھوں نے اپنے قدیم مذہب پر قائم رہتے ہوئے مسلم حکومت کے زیرنگیں رہنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس حیثیت سے انھیں مذہبی آزادی ملی اور قدیم مندروں کی مرمت و آبادکاری کی اجازت بھی مرحمت ہوئی۔(علی بن حامد الکوفی، چچ   نامہ ، ص۲۰۸، ۲۰۹ ، ۲۱۰، ۲۱۲)
ان ذمّیوں پر تین شرح (مال دار کے لیے ۴۸ درہم، متوسط کے لیے ۲۴ درہم اور ان سے کم آمدنی والوں کے لیے ۱۲ درہم) کے مطابق سالانہ جزیہ عائد کیا گیا۔ اس سے متعلق فاتح سندھ نے باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کیا اور سندھ کے ہندوئوں (ذمّیوں) کو واضح طور پر یہ یقین دہانی کرائی کہ: ’’انھیں مذہبی آزادی حاصل ہوگی اور ان کے مال و اسباب سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا‘‘۔(چچ نامہ، ص ۲۰۹)
اگرچہ تاریخی مآخذ میں صراحت نہیں ملتی، لیکن قرینِ قیاس یہی ہے کہ فاتح سندھ نے والیِ عراق سے استفسار کے بعد ہی سندھ کے ہندوئوں کی شرعی حیثیت متعین کی ہوگی۔ بعض جدید مؤرخین نے (بغیر کسی حوالے کے) پوری قطعیت کے ساتھ یہ ذکر کیا ہے کہ: محمد بن قاسم نے عراق کے گورنر اور علما سے صلاح و مشورے کے بعد ہی سندھ کے غیرمسلمین کے بارے میں اپنا مذکورہ بالا موقف اختیار کیا۔۵ 
یہاں پر یہ واضح رہے کہ فتح سندھ کی مہم کے دوران اور قیامِ حکومت کے بعد بھی محمد بن قاسم کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ اہم اُمور میں فیصلہ لینے سے قبل کوفہ کے اُموی گورنر حجاج بن یوسف [۶۶۱ء-۷۱۶ء]سے مشورہ کرتے تھے اور بعض اوقات ان میں شرعی نقطۂ نظر سے حل طلب مسائل بھی شامل ہوتے تھے۔ اس بات کے واضح شواہد ملتے ہیں کہ گورنر عراق مقامی علما سے مشورے کے بعد ہی اپنی راے سے محمد بن قاسم کو مطلع کرتے تھے، اور اہم بات یہ کہ بعض معاملات میں گورنر نے محمد بن قاسم کو جواب بھیجنے سے قبل خلیفہ کی راے بھی معلوم کی۔۶ 
رہا یہ سوال کہ: ’’سندھ کے ہندوئوں کو کس بنیاد پر ذمّی کی حیثیت دی گئی، جب کہ وہ ’اہلِ کتاب‘ میں سے نہیں تھے؟‘‘ چچ    نامہ اور دوسرے مآخذ کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ’شبہ اہلِ کتاب‘ کے زمرے میں شامل کر کے ذمّیوں کے حقوق دیے گئے(البلاذری، ص۶۱۷؛ چچ   نامہ، ص۲۱۴)۔متعدد جدید مؤرخین نے بھی اسی خیال کی تائید کی ہے۔۷  یہاں پر یہ وضاحت بھی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ تیرھویں صدی عیسوی کی ابتدا میں شمالی ہند میں ترکوں کی حکومت (یا دہلی سلطنت) کے قیام کے بعد ہندوئوں کی اس حیثیت کو نہ صرف سلاطین نے سرکاری طور پر تسلیم کیا، بلکہ اسی کے مطابق ان کے ساتھ عملی رویہ اختیار کیا اور بعد میں مغل دورِحکومت میں بھی ان کے ساتھ یہی طرزِعمل جاری رہا۔ مزیدبرآں اس عہد کے تاریخی مآخذ اور فقہی لٹریچر میں ہندوئوں کے لیے ’ذمّی‘ کی اصطلاح کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔۸ 
یہاں یہ ذکر بھی برمحل معلوم ہوتا ہے کہ عہد ِ مغلیہ کے آخری دور کے مشہور عالم اور نقشبندی صوفی مرزا مظہر جانجاناں (۱۶۹۸ء-۱۷۸۱ء) تو ہندوئوں کو واضح طور پر ’اہلِ کتاب‘ میں شمار  کرتے تھے۔۹  مولانا ابوالکلام آزاد [م: ۲۲فروی ۱۹۵۸ء]کی راے یہ تھی کہ اگر مجوسی و صابی ٔ ’شبہ اہلِ کتاب‘ میں شمار کیے جاسکتے ہیں تو ہندو بدرجہ اولیٰ غیرمسلموں کے اس طبقے میں شامل کیے جانے کے مستحق ہیں۔۱۰ 

ہندوؤں سے حُسنِ سلوک

چچ   نامہ اور دوسرے مآخذ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سندھ کی فتح کے بعد محمد بن قاسم نے یہاں کے انتظامی معاملات پر توجہ دی اور اُموی خلافت کی ہدایات کے مطابق وہ یہاں کا نظم و نسق چلاتے رہے۔ حکمراں (گورنر) کی حیثیت سے انھوں نے عوام کے ساتھ اچھے برتائو اور انصاف پسندی کا جو مظاہرہ کیا اور غیرمسلموں کے تئیں جو فراخ دلانہ سلوک روا رکھا، وہ تاریخی حقائق کا حصہ ہے۔
یہ عظیم فاتح بذاتِ خود شریف الطبع ، نیک طینت، نرم خو و انصاف پسند تھا۔ والیِ عراق، حجاج بن یوسف (جو ان کے چچا و خسر بھی تھے) بھی انھیں عوام سے اچھے تعلقات و حُسنِ معاملات کی تلقین برابر کرتے رہے۔ سندھ کی فتح کے دوران حجاج بن یوسف (جنھیں عام طور پر ایک جابر و ظالم حاکم کہا جاتا ہے) نے مختلف مواقع پر محمد بن قاسم کو تحریری ہدایات بھیجی تھیں۔ ان کی اوّلین تحریری ہدایت کے ایک حصے کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
جب علاقے پر حکومت چلانا یقینی ہوجائے اور قلعے مضبوط ہوجائیں تو جو کچھ بچے اس کو رعایا کی بہبودی میں خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو۔ تاجروں اور کاشت کاروں کے لیے ہرقسم کی رعایت روا رکھو، اس لیے کہ ان کی خوش حالی سے ملک آسودہ و خوش حال رہتا ہے۔ جو کوئی تم سے اقطاع (زمین کے عطیے) کا طلب گار ہو، اسے نااُمید نہ کرو۔ رعایا کو امان دے کر ان کے دلوں کو مضبوط کرو۔(چچ نامہ، ص ۱۱۶، اور ص ۱۲۷-۱۲۸)
اسی طرح ایک دوسرے موقعے پر والیِ عراق نے انھیں یہ تلقین کی:
اپنا ایک عام دستور یہ بنا لو کہ رعایا کے ساتھ نہایت لطف و کرم سے پیش آئو، تاکہ دشمن بھی اطاعت پر آمادہ ہوجائیں، رعایا کو ہروقت تسلی دیتے رہو۔(سیّد ابوظفر ندوی، تاریخ سندھ، ص ۹۶)
حقیقت یہ ہے کہ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے محمد بن قاسم نے عوام کی بھلائی و خبرگیری میں دل چسپی اور غیرمسلموں کے ساتھ اپنے روادارانہ و منصفانہ برتائو سے یہ ثابت کردکھایا کہ اہلِ اسلام جنگ کے بعد مفتوحوں و محکوموں کے ساتھ امن و آشتی کا معاملہ زیادہ پسند کرتے ہیں اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

مذہبی آزادی

سندھ کے مفتوحین میں جن لوگوں نے مسلم حکومت کی تابع داری اور جزیہ کی ادایگی قبول کی، انھیں محمد بن قاسم نے مذہبی آزادی عطا کی اور یہ اجازت دی کہ وہ اپنے مذہبی رسوم و روایات بلاخوف و خطر بجا لائیں۔ برہمن آباد کے زیراقتدار آنے کے بعد محمد بن قاسم نے وہاں کے غیرمسلموں کے لیے جو مشہور اعلامیہ جاری کیا تھا، اس میں یہ صاف صاف ذکر تھا کہ: جو لوگ مسلم حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے اپنے مذہب پر باقی رہنا پسند کریں گے، ان پر جزیہ عائد کیا جائے گا اور انھیں اپنے مذہب پر عمل کی آزادی حاصل ہوگی۔ اس سلسلے میں ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ کی جائے گی۔۱۱ 
اس مسئلے پر اس سے زیادہ وضاحت برہمن آباد کے مشہور قدیم مندر کے پجاریوں کی محمدبن قاسم کی خدمت میں پیش کردہ عرض داشت اور اس کے جواب میں ملتی ہے۔ اس قصبے پر مسلمانوں کے قبضے کے بعد وہاں کے عام لوگ اس قدر خوف زدہ ہوئے کہ انھوں نے مندر آنا جانا بند کر دیا۔ اس کی وجہ سے مندر کے پجاری اور دیگر خدام پریشانی میں مبتلا ہوئے، اس لیے کہ ان کا سارا گزر بسر مندر کے نذرانے و بھینٹ پر تھا۔ آخرکار انھوں نے محمد بن قاسم (جن کی رحم دلی و انسانی ہمدردی اس وقت تک معروف ہوچکی تھی) کے سامنے عرض داشت پیش کی، جس میں اپنی پریشانی کا ذکر کرکے یہ درخواست کی کہ: ’’اس مندر کی آبادکاری کے لیے ضروری قدم اُٹھایا جائے اور لوگوں کا خوف اور پریشانی دُور کی جائے، تاکہ ان کی آمدنی بحال ہوجائے‘‘۔ محمد بن قاسم نے اس عرض داشت کی اطلاع حجاج کو بھیج کر ان کی راے معلوم کی۔ گورنر نے اس کا جو جواب دیا وہ  مسلم حکومت کے تحت غیرمسلموں کے جانی و مالی تحفظ اور ان کی مذہبی آزادی کے مسئلے پر بہت ہی شافی و وافی ہے۔اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
تمھارا خط ملا اور حالات سے آگاہی ہوئی۔ اگر برہمن آباد کے مُکھیا [سردار] یا سربرآوردہ لوگ اپنا مندر آباد کرنا چاہتے ہیں تو اب، جب کہ انھوں نے ہماری اطاعت قبول کرلی ہے اور دارالخلافہ کو مال (جزیہ وغیرہ) ادا کرنے کا ذمہ لے لیا ہے تو اس محصول کے علاوہ ان پر ہمارا کوئی اور حق نہیں۔ جب وہ ذمّی ہوگئے تو ان کے جان و مال پر کسی طرح کی دست اندازی صحیح نہیں ہے۔ ان کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنے معبود کی عبادت کریں۔ کسی کو بھی اپنے مذہب کی پیروی سے روکا نہ جائے تاکہ وہ اپنے گھر میں جس طرح چاہیں زندگی بسر کریں۔(چچ نامہ، ص ۲۱۳، سیّد ابوظفر ندوی، ص ۹۳)
اس جواب کی وصولی کے بعد محمد بن قاسم نے شہر کے معززین و پجاریوں کو اس کے مندرجات سے آگاہ کیا اور ان کے سامنے یہ اعلان کیا کہ: 
ہرشخص بلاخوف و خطر مندر میں آجاسکتا ہے اور اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرسکتا ہے۔ اس باب میں ان سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔(چچ نامہ، ص ۲۱۳-۲۱۴)
دل چسپ بات یہ کہ اس موقعے پر محمد بن قاسم نے برہمن آباد کے شہریوں کو یہ نصیحت بھی کی کہ وہ قدیم رسم کے مطابق برہمن پجاریوں کو نذرو نیاز دینا جاری رکھیں اور بالخصوص برہمن فقرا پر خوب داد و دہش کریں۔ مزید برآں انھوں نے یہ ہدایت بھی جاری کی کہ مال گزاری میں سے تین فی صد برہمن پجاریوں کے لیے علیحدہ رکھے جائیں، تاکہ بوقت ِ ضرورت ان پر خرچ کیا جاسکے۔(چچ   نامہ، ص ۲۱۴)
پہلی نصیحت کا تعلق بظاہر ہندو عوام سے معلوم ہوتا ہے، دوسری کے مخاطب غالباً اہلِ حکومت تھے، لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا کہ برہمن پجاریوں کے لیے محصولِ اراضی کا تین فی صد مختص کرنا قدیم دستور تھا یا محمد بن قاسم نے یہ قانون وضع کیا۔ بصورتِ دیگر ممکن ہے یہ خصوصی رعایت کسی مصلحت کی بناپر رہی ہو، لیکن اسلامی نقطۂ نظر سے یہ بات محلِ نظرمعلوم ہوتی ہے۔
محمد بن قاسم کی حکومت کے تحت سندھ میں ہندوئوں کو اپنے مندروں میں نہ صرف پوجاپاٹ کی آزادی تھی، بلکہ انھیں اپنی قدیم عبادت گاہوں کی مرمت و تجدید کاری کی اجازت بھی حاصل تھی۔ یہ بات برہمن آباد کے پجاریوں کی عرض داشت کے جواب سے واضح ہوتی ہے۔ دوسرے محمد بن قاسم نے اس موقعے پر یہ صراحت کی کہ ان کے مندروں کی وہی حیثیت ہے جو عراق و شام میں یہود کے کنیسوں، نصاریٰ کے گرجوں اور مجوسیوں کے آتش کدوں کی ہے۔ (البلاذری ، ص ۶۱۷، چچ     نامہ، ص ۲۱۴)
یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ اُموی و عباسی دورِ خلافت میں ’اہلِ کتاب‘ (یہود و نصاریٰ) اور ’شبہ اہلِ کتاب‘ (مجوسیوں) کی قدیم عبادت گاہوں کو نہ صرف تحفظ فراہم کیا گیا تھا، بلکہ ان کے متعلقین کو اپنی عبادت گاہوں کے نظم و نسق اور بوقت ِ ضرورت ان کی مرمت کی آزادی بھی عطا کی گئی تھی۔ یہاں یہ واضح رہے کہ سندھ میں عربوں کی حکومت کے تحت یہ مذہبی آزادی نہ صرف برہمنوں یا ہندو مذہب کے ماننے والوں کو حاصل تھی، بلکہ پیروانِ بدھ مت بھی اس سے مستفیض ہوئے تھے۔

سماجی مراعات

محمد بن قاسم نے سندھ کے غیرمسلموں (ذمّیوں) کو مذہبی آزادی دینے کے ساتھ انھیں سماجی تحفظ فراہم کیا اور ان کے سماجی و معاشرتی حقوق کی پوری پوری رعایت کی۔ انھیں اس بات کی اجازت حاصل تھی کہ وہ اپنی سماجی مصروفیات و تقریبات کو انجام دیتے رہیں اور حسب ِ دستور سابق اپنے مخصوص تہوار مناتے رہیں۔ برہمن آباد کے شہریوں کے سامنے انھوں نے کھلے عام یہ اعلان کیا کہ انھیں اپنی رسوم و روایات کو بجا لانے اور تہواروں کا اہتمام کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے (واعیا و مراسم خود را بشرائط آباء و اجداد قیام نمایند)۔(چچ    نامہ، ص ۲۱۴)
مزید برآں ارضِ سندھ کے لوگوں میں جو پہلے سے اہلِ مناصب و اصحابِ حیثیت تھے، ان کے عہدہ و منصب کو فاتحِ سندھ نے بحال رکھا اور ان کے ساتھ معاملات میں ان کی سماجی حیثیت کی رعایت کی۔ اسی طرح جو لوگ یہاں کی قدیم رسم و رواج کے مطابق مخصوص لباس، زیور یا سواری استعمال کرتے تھے، انھیں اس کی اجازت باقی رہی۔(چچ نامہ، ص ۲۰۹-۲۱۰، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن، ص ۱۴)۔پھر یہ کہ ان میں جو مقامی رئیس یا مُکھیا کی حیثیت رکھتے تھے، انھیں ’رانا‘ کا خطاب عطا کیا گیا۔(چچ    نامہ، ص ۲۱۴)
محمد بن قاسم کی حکومت کے تحت سندھ کے ہندوئوں کو جو سماجی مراعات حاصل ہوئیں اور عزت و آرام کے ساتھ انھیں زندگی بسر کرنے کا موقع ملا، اس کا اندازہ خود ان کے بیانات سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب جزیہ و خراج کی ادایگی کی شرط پر حکومت کی جانب سے مہیا کردہ مذہبی، سماجی و معاشی آسانیاں وہاں کے اہم و بااثر لوگوں کے سامنے آئیں۔ انھوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ان کی سماجی حیثیت بحال کی گئی اور سابق حکمران خاندان کے افراد بالخصوص باصلاحیت و تجربہ کار لوگوں کو حکومت کے کاموں سے منسلک کیا گیا۔ انھیں عہدہ و خطاب سے نوازا گیا تو وہ دیہات میں جاجا کر لوگوں کے سامنے مسلم حکومت کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے اور حکومت کی تابع داری پر لوگوں کو آمادہ کرتے رہے۔ ان کے بیانات کا ایک حصہ یہاں قابلِ ذکر ہے:
اے لوگو، تمھیں معلوم ہے کہ راجا داہر مقتول ہوگئے اوریہاں کافروں کی حالت ابتر ہوگئی۔ سندھ کے مختلف حصوں میں اہلِ عرب کی حکومت قائم ہوچکی ہے۔ اس سلطنت کے تحت شہرو قریات میں بڑے چھوٹے یکساں ہوگئے ہیں۔ ہمارے معاملات اب (مسلم) حکمران سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ اگر سلطان کا فرمان نہ ہو تو ہمیں نہ مال ملے اور نہ معاش حاصل ہو۔ ہم پر یہ اہلِ حکومت کا فضل و کرم ہے کہ ہم اچھے عہدوں اور عزت کے مقام پر ہیں۔ نہ تو ہم اپنے وطن سے نکالے گئے اور نہ مال و اسباب سے محروم کیے گئے۔ ہماری جایداد و عیال ہر طرح یہاں محفوظ ہے۔(چچ نامہ، ص۲۱۰-۲۱۱، سیّد ابوظفر ندوی،ص ۹۲)
تاریخی مآخذ میں یہ صراحت بھی ملتی ہے کہ عام لوگوں کے سامنے مذکورہ بیانات کا یہ اثر ہوا کہ دیہی علاقوں سے لوگ کثیر تعداد میں محمد بن قاسم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کی حکومت کے تئیں اطاعت کا اظہار کیا اور اس کے محاصل (خراج وغیرہ) کے بارے میں براہِ راست ان سے استفسار کیا (پس جملہ روساے شہر حاضر آمدند و مال بخود قبول کردند و از محمد بن قاسم مبلغ خراج خود   را استخبار کردند)۔(چچ     نامہ، ص ۲۱۱، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن ، ص ۱۵)
اس کے علاوہ محمد بن قاسم نے شہر اور گائوں کے تمام لوگوں کو اطمینان دلایا کہ وہ بلاخوف و خطر اپنی اپنی مصروفیات جاری رکھیں، ہر طرح خوشی و اطمینان سے رہیں۔ ان کے حقوق پر کسی کو دست درازی کا حق حاصل نہ ہوگا۔(چچ       نامہ، ص ۲۱۲)

معاشی حقوق

اسلامی قانون کی رُو سے مسلم حکومت کے تحت جن غیرمسلموں کو ذمّی کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے، ان کی جان کے تحفظ کے ساتھ ان کے اموال و اسباب کی حفاظت کی ضمانت بھی حکومت لیتی ہے۔ اسلام میں ان کی جان کی طرح ان کے مال و اسباب کو بھی اس قدر محترم سمجھا جاتا ہے کہ اسلامی شریعت کسی کے لیے یہ بھی روا نہیں رکھتی کہ وہ ان کی چیزوں کو تباہ و برباد کرے جن کا قانونی طور پر ذمّی کے لیے مسلم شہرو ں میں لانا یا رکھنا جائز نہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اس قانون کی  خلاف ورزی کی وجہ سے تادیب یا سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔۱۲ 
اسی کے مطابق محمد بن قاسم نے دیبل، نیروں، برہمن آباد ، ارور اور دوسرے شہروں میں اپنا نظم و نسق قائم کرتے ہوئے مفتوحین کو یہ یقین دلایا تھا کہ حکومت ان کے جان و مال کی حفاظت کی ضمانت لیتی ہے اور وہ کسی کو یہ اجازت نہ دے گی کہ وہ ان کی جایداد و املاک کو نقصان پہنچائے۔ اپنے مشہور ’برہمن آباد اعلامیہ‘ (Declaration) میں انھوں نے یہ صاف طور پر واضح کیا کہ: 
مفتوحین میں سے جن لوگوں کو ذمّی کا مقام مل گیا ہے ان کے اموال و اسباب ان کی تحویل میں باقی رہیں گے اور ان کی کسی چیز میں کوئی تصرف نہ کیا جائے۔(چچ     نامہ، ص ۲۰۹)
مزید برآں محمد بن قاسم کے استفسار پر مفتوحین کی حیثیت واضح کرتے ہوئے حجاج بن یوسف نے صاف لفظوں میں یہ تحریر کیا کہ: ’’جب وہ ذمّی ہوگئے تو ان کے جان و مال میں تصرف کا ہمیں کوئی اختیار حاصل نہیں بلکہ انھیں جانی و مالی تحفظ فراہم کرنا ہم پر فرض ہوگیا‘‘ (چوں ذمی شدند در خون و مال ایشاں دست تصرف ما مطلق نباشد)۔(چچ    نامہ، ص ۲۱۳،سیّد ابوظفر ندوی، ص ۹۳)
اس سے اہم یہ کہ محمد بن قاسم نے صرف برہمن آباد کے علاقے میں ۱۰ ہزار ایسے تاجروں، دست کاروں اور کاشت کاروں کو مالی امداد فراہم کی، جنھیں اس علاقے میں جنگ کے دوران مالی نقصان اُٹھانا پڑا تھا(چچ    نامہ، ص ۲۰۹، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن ، ص ۱۴)۔ اس سے بڑھ کر معاشی تحفظ کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے!
محمد بن قاسم کی حکومت کے تحت سندھ کے ہندوئوں کو نہ صرف معروف ذرائع معاش (تجارت، زراعت و دست کاری) اختیار کرنے کی مکمل آزادی تھی بلکہ حکمران کی جانب سے انھیں یہ ترغیب بھی دی گئی کہ وہ بلاخوف و خطر اپنی معاشی سرگرمیاں جاری رکھیں اور مسلمانوں سے اقتصادی معاملات قائم کرنے میں بھی وہ کوئی خطرہ محسوس نہ کریں بلکہ مطمئن رہیں اور اپنی بہتری کے لیے کوشش کرتے رہیں (وبا مسلماناں خرید و فروخت کنند و ایمن باشند و در صلاح خود کوشند)۔ (چچ  نامہ، ص ۲۱۴)
ذمّیوں کے لیے معاشی سرگرمیوں کی آزادی اور ان کے مالی حقوق کے تحفظ کی یہی یقین دہانی، گورنر عراق کے اس خط میں بھی ملتی ہے، جسے قصبہ منھل کے محمد بن قاسم کے زیرنگیں آنے کے بعد ان کو لکھا تھا۔ اس کے ایک حصے کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
جو لوگ اطاعت قبول کرلیں انھیں امان دو، ان پر حکومت کے محصول مقرر کرو، اہلِ حرفت و تجارت پر زیادہ بار نہ ڈالو۔ جو لوگ کاشت کاری اور پیداوار بڑھانے میں محنت سے کام لیتے ہیں، ان سے خاص طور سے نرمی و فراخ دلی کا مظاہرہ کرو اور انھیں مالی مدد بھی بہم پہنچائو۔ جو لوگ مشرف بہ اسلام ہوجائیں، ان سے عشر (زمین کی پیداوار کا دسواں حصہ) وصول کرو اور جو اپنے مذہب پر قائم رہیں ان کی صنعت و زراعت پر مقامی دستور کے مطابق محصول عائد کرو۔(چچ   نامہ، ص ۲۱۹، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن ، ص ۱۸)
خراج کی ادایگی کی شرط پر غیرمسلموں کی اراضی پران کا قبضہ بحال رکھنا ذمّیوں سے متعلق اسلامی قوانین کا ایک حصہ ہے جس پر محمد بن قاسم کی حکومت کے تحت بھی عمل ہوا(چچ     نامہ، ص ۲۰۹، ۲۱۱، ۲۱۳، ۲۱۹-۲۲۰)۔مزید برآں انھوں نے سندھ کے ہندوئوں میں بااثر و تجربہ کار لوگوں بالخصوص سابق حکومت کے متعلقین کو خراج (مال گزاری) کی تشخیص و تحصیل کی ذمہ داری سپرد کی۔ اس طرح مقامی لوگوں کو ہی ’امین‘ و ’عامل‘ کے منصب پر مامور کیا (پس دہقان و رئیساں را بر تحصیل مال نصب فرمود تا از شہر ور وستا اموال در ضبط آرند۔ ایشاں را قوتی و استنطہارے باشد)۔ (چچ       نامہ، ص ۲۰۹- ۲۱۱)
یہاں یہ ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ خراج کی تحصیل کے لیے افسروں کو مقرر کرنے کے ساتھ محمد بن قاسم نے انھیں یہ ہدایت بھی جاری کی کہ کسانوں پر ان کی استطاعت سے زیادہ محصول نہ عائد کیا جائے، اس کی وصولی میں ان کے ساتھ نرمی و رعایت برتی جائے۔ حکمران اور رعایا کے مابین معاملات سچائی و انصاف کی بنیاد پر قائم کیے جائیں (راستی میان خلق و سلطان نگاہ دارید و بقدر احتمال ہرکس را خراج نہید و باہم دیگر ساختہ باشید و متردد نشوید تادلایت خراب     نگردد)۔(چچ        نامہ، ص ۲۱۱،۲۱۹، سیّد ابوظفر ندوی، ص ۹۱-۹۲)
محمد بن قاسم نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ افسرانِ محاصل کو مذکورہ ہدایات جاری کرنے کے بعد عوام کے مختلف طبقوں کو الگ الگ بلا کر انھیں یہ اطمینان دلایا کہ وہ نئی حکومت سے کوئی اندیشہ نہ کریں۔ محاصلِ واجبہ کے علاوہ ان سے اور کچھ نہ وصول کیا جائے گا۔ بس وہ حکومت کے مقررہ محصول کو ادا کرتے رہیں۔ ان کے ساتھ ہر طرح سے نرمی و رعایت کی جائے گی اور جو کچھ بھی عرض داشت وہ پیش کریں گے اس کی بروقت شنوائی ہوگی۔(چچ    نامہ، ص ۲۱۲، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن ، ص ۱۵)
مذکورہ بالا تفصیلات سے یہ بخوبی عیاں ہوتا ہے کہ محمد بن قاسم نے سندھ میں اپنی حکومت کے دورانِ مذہبی ، سماجی و معاشی تمام معاملات میں غیرمسلموں کے ساتھ روادارانہ و عادلانہ برتائو کا مظاہرہ کیا اور بلاکسی امتیاز جملہ عوام کے تئیں فراخ دلانہ رویہ اپناتے ہوئے انھیں ہرطرح سے مطمئن اور خوش رکھنے کی کوشش کی۔ سندھ کے ایک معروف علاقے نیروں کی فتح کے دوران حجاج بن یوسف نے مفتوحین (رعایا) کی دل داری و دل جوئی کی ترغیب دیتے ہوئے محمد بن قاسم کو لکھا تھا کہ: 
قیامِ سلطنت کے چار اہم ستون ہیں: ۱- مداراۃ (خاطرداری)، مواساۃ (ہمدردی)، مسامحت (رواداری)، مصاہرت (رشتہ داری) ۔ ۲- مال و عطیہ دینا ۳- دشمنوں کی مخالفت میں صحیح راے قائم کرنا ۴- رُعب و شہامت ، قوت و شوکت کا اظہار کرنا۔ (چچ       نامہ، ص ۲۱۲، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن ، حوالہ بالا، ص ۶)
اس میں کسی شبہے کی گنجایش نہیں کہ محمد بن قاسم نے اپنی سلطنت ان ستونوں پر قائم کی اور اپنے چچا کی اس نصیحت کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھا کہ رعایا کے ساتھ لطف و کرم اور ان کی فلاح و بہبود کو دستور بنایا جائے۔ اسی طرح یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ محمد بن قاسم نے غیرمسلموں کے مختلف طبقات کے لوگوں کو سماجی حقوق عطا کرنے میں رواداری کا مظاہرہ کیا، جن میں برہمن و بدھ، اعلیٰ و ادنیٰ، امیروغریب سبھی شامل تھے۔ لیکن تاریخی مآخذ بالخصوص چچ   نامہ میں برہمنوں کے سیاق میں اس کا زیادہ ذکر ملتا ہے جیساکہ اُوپر کے مباحث میں بھی بار بار ان کا حوالہ سامنے آیا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ برہمن اس وقت کے سندھی معاشرے میں پہلے سے معزز و بااثر لوگ شمار ہوتے تھے اور سیاست و حکمت کے دائرے میں بھی انھی کی بالادستی قائم تھی۔ اس لیے  ان کی خصوصی دل جوئی اور مدارات مصلحتاً مطلوب تھی۔ 
یہاں یہ ذکر بھی دل چسپی سے خالی نہ ہوگا کہ سندھ کی فتح کے دوران بعض اوقات مفتوحین کے ساتھ محمدبن قاسم کی ضرورت سے زیادہ رواداری کی مثالیں حجاج بن یوسف کے سامنے آئیں تو انھوں نے اس پر انھیں متنبہ کیا اور فہم و فراست اور احتیاط و ہوش مندی سے کام لینے اور دوست دشمن میں تمیز کرنے کی تلقین کی۔(چچ       نامہ، ص ۱۵۱-۱۵۲،سیّد ابوظفر ندوی، ص ۸۲-۸۲)
دوسرے مؤرخین کے یہاں برہمنوں کے ساتھ محمد بن قاسم کی حکومت کی مراعات کے زیادہ ذکر کی وجہ ایک یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سابق اہلِ حکومت کی حیثیت سے ان سے فاتح سندھ کا زیادہ واسطہ پڑا اور حکومت کی سطح پر انھی سے معاہدات و معاملات طے ہوئے، اس لیے وہی   خاص طور سے مؤرخین کی توجہ کا مرکز بنے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم فاتح کی رواداری و فراخ دلی اور اس کا کریمانہ و منصفانہ رویہ، غیرمسلموں کے دوسرے طبقے کے لوگوں اور عام رعایا کے ساتھ محقق و مسلّم ہے جس کا متعدد بار حوالہ اُوپر بھی دیا گیا۔اس کا مزید ثبوت مقامی لوگوں کی کثیر تعداد کے محمد بن قاسم کے تئیں حُسنِ اعتقاد، اظہارِ محبت و حمایت اور اطاعت و تابع داری سے ملتا ہے۔ اس بات کی توثیق اُس شدید رنج و غم سے بھی ہوتی ہے، جسے سندھ کی غیرمسلم رعایا نے اپنے محبوب حکمران محمد بن قاسم کی سندھ سے دمشق واپسی کے وقت ظاہر کیا تھا۔۱۳ 
مزید برآں مؤرخین اس کی بھی شہادت دیتے ہیں کہ گورنر عراق نے سندھ میں محمد بن قاسم کی حکومت کے دوران اپنے متعدد خطوط میں نظم و نسق کے باب میں ان کی بہترین کارکردگی کو سراہا اور بالخصوص ان کی رعیت نوازی اور عوام کے ساتھ ملاطفت و رواداری کی خوب تعریف کی ہے۔ مثال کے طور پر برہمن آباد اور لوہانہ میں ان کے حُسنِ انتظام کی تفصیلات ملنے پر وہ انھیں لکھتے ہیں:
آنچہ در سپہداری و رعیت نوازی و تربیت احوال رعایا و ترتیب امور کوشی ، محمدت وافر باشد۔ (چچ       نامہ، ص ۲۱۶)[تم نے فوجی انتظام، رعایا نوازی، ان کے حالات کی درستی اور انتظامی اُمور کی بہتری کے لیے جو اَن تھک کوشش کی ہے، وہ کافی قابلِ تعریف ہے۔]
قدیم و جدید مسلم مؤرخین میں محمد بن قاسم کے اوصافِ حمیدہ بالخصوص رعیت نوازی، رواداری، انصاف پسندی اور عوام کی بھلائی میں غیرمعمولی دل چسپی کو نمایاں کرنے والوں کی کمی نہیں۔ یہاں بعض غیرمسلم مؤرخین کے تاثرات نقل کرنا زیادہ مناسب و موزوں معلوم ہوتا ہے۔ History of Jahangir(تاریخِ جہانگیر)کے مصنف ڈاکٹر بینی پرشاد اسی کتاب میں ایک جگہ محمدبن قاسم کی حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ہندستان میں کسی حکومت کے مقبول ہونے کے لیے ایک ضروری شرط یہ بھی ہے کہ  اس کے باشندوں کو مذہبی فرائض انجام دینے اور عبادت کرنے میں آزادی ہو۔ ہندستان کے مسلم حملہ آوروں نے مذہبی رواداری کی اہمیت کو بہت جلد محسوس کرلیا تھا اور اپنی حکمت عملی اسی کے مطابق بنائی۔ آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم نے سندھ میں اپنی حکومت کا جو نظم و نسق قائم کیا، وہ اعتدال اور رواداری کی روشن مثال ہے۔۱۴ 
آخر میں اس جانب بھی اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اُوپر کے مباحث میں سندھ کے غیرمسلموں کے ساتھ محمد بن قاسم کے روادارانہ برتائو سے متعلق جو کچھ پیش کیا گیاہے، وہ زیادہ تر ذمّی کی حیثیت سے ان کے حقوق کی وضاحت پر مبنی تھا۔ اس کی وجہ اس اٹل حقیقت کی روشنی میں سمجھی جاسکتی ہے کہ ذمّیوں سے تعلقات کے بارے میں اسلام کی جو تعلیمات اور ان سے برتائو و معاملات سے متعلق جو قوانین ملتے ہیں، وہ مسلم حکومت کے تحت غیرمسلموں کے ساتھ رواداری، فراخ دلانہ سلوک و منصفانہ برتائو اور ان کی فلاح و بہبود کی بہترین ضمانت پیش کرتے ہیں۔
اسلام کے ان اصول و ضوابط پر عمل کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ غیرمسلموں کے جان و مال کے تحفظ کا اہتمام ، ان کے سماجی و معاشی حقوق کا احترام، بلاکسی امتیاز عوام کے ساتھ اچھا سلوک ، رعایا کے ساتھ اچھا برتائو اور محکوموں کی بھلائی اور اصلاحِ احوال میں دل چسپی۔۱۵  مولانا ابوالکلام آزاد نے بہت درست نشان دہی فرمائی ہے کہ اگر شریعت کی روشنی میں اہلِ ذمّہ کے حقوق و نفاذِ جزیہ کی غرض و غایت غیرمسلموں کے سامنے اچھی طرح واضح کر دی جائے، تو ان کے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہوجائے گی کہ ’ذمی‘ بنانے کا مطلب ان کی تذلیل و تحقیر نہیں بلکہ ’’یہ وہ بہتر سے بہتر سلوک ہے جو دنیا میں کوئی حاکم قوم محکوموں کے ساتھ کرسکتی ہے‘‘ ۔ ۱۶

حواشی

۱-    تفصیل ملاحظہ ہو: قاضی اطہر مبارک پوری ، خلافت ِ راشدہ اور ہندستان، ندوۃ المصنّفین، دہلی ۱۹۷۲ء، ص ۵۲، ۹۸-۱۰۱
۲-    سیّد سلیمان ندوی، عرب و ہند کے تعلقات، مطبع معارف، اعظم گڑھ، ۱۹۷۹ء، (باب دوم، تجارتی تعلقات)، ص ۴۴-۹۶۔ ڈاکٹر تاراچند: Influence of Islam on Indian Culture ، الٰہ آباد، ۱۹۷۶ء، ص ۲۵-۲۹
۳-    تفصیلات کے لیے دیکھیں: سیّدابوظفر ندوی، تاریخ سندھ، اعظم گڑھ، ۱۹۷۰ء
۴-    یہ کتاب اصلاً عربی میں منہاج المسالک کے نام سے مرتب کی گئی تھی، جو اس وقت دستیاب نہیں ہے۔ اسے محمد علی بن حامد بن ابوبکر کوفی نے سندھ کے آزاد حکمران ناصرالدین قباچہ [م: ۱۲۲۸ء]کے عہد میں ۱۲۱۶ء میں فارسی میں منتقل کیا۔ اب یہ ترجمہ ہی اہلِ علم و مؤرخین میں متداول ہے۔ اس پر مفصل معلومات کے لیے ملاحظہ فرمائیں: مقدمہ مصحح و مرتب چچ نامہ، عمر بن محمد داؤد پوتہ، محولہ بالا، نیز دیکھیے: ڈاکٹر این اے بلوچ: Great Books of Islamic Civilization، نئی دہلی، ۱۹۹۷ء، ص۱۱۱-۱۱۲)
۵-    عبدالحفیظ صدیقی، برصغیر پاک و ہند میں اسلامی نظام عدل گستری، ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد، ۱۹۶۹ء، ص ۷۱
۶-    احمد بن یحییٰ البلاذری، فتوح البلدان، بیروت، ۱۹۵۷ء، ص ۶۱۳- ۶۱۴؛ چچ نامہ، ص ۲۱۳- ۲۱۴، ۲۱۸
۷-    سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن، ہندستان کے سلاطین ، علما اور مشائخ کے تعلقات پر ایک نظر، اعظم گڑھ، ۱۹۷۰ء، ص ۴۹؛ خلیق احمد نظامی، سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات، ص۶۷، عبدالحفیظ صدیقی، محولہ بالا، ص ۷۱۔
۸-    فخر مدبر، آداب الحرب والشجاعۃ  ،ص ۴۰۳؛ ضیاء الدین برنی ، تاریخ فیروز شاہی، ص ۸۷، ۱۴۱، ۲۹۰، ۲۹۱، ۵۷۳، ۵۷۵؛ شمس سراج عفیف، تاریخ فیروز شاہی، ص۱۸۰، ۳۶۶، ۳۸۲، ۳۸۴؛ فتوحاتِ فیروز شاہی ، ص، ۹، ۱۶، ۱۷، ۱۹، ۲۰؛سیرتِ فیروز شاہی، ص ۱۲۸
۹-    کلماتِ طیبات (مشتمل بر مکتوبات غوث الثقلین)، مرزا مظہر جانِ جاناں، قاضی ثناء اللہ پانی پتی و شاہ ولی اللہ دہلوی) مطبع مطلع العلوم، مرادآباد، ۱۸۹۱ء، ص ۲۷-۲۸۔ راقم کا مقالہ: ’ہندوئوں کے ساتھ سلطان فیروز شاہ تغلق کا برتائو‘، تحقیقاتِ اسلامی ، علی گڑھ،۱۲/۳، جولائی-ستمبر ۱۹۹۳ء، ص ۳۵- ۷۲
۱۰-    ابوالکلام آزاد، جامع الشواہد فی دخول غیرالمسلم فی المساجد، ۱۹۶۱ء ، ص ۸۱-۸۴
۱۱-    چچ نامہ، ص ۲۰۹؛ سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن: ہندستان کے عہدماضی میں مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری، اعظم گڑھ، ۱۹۷۵ء، ص ۱۴
۱۲-    ظفرالاسلام اصلاحی: اسلامی قوانین کی ترویج و تنفیذ، عہد  فیروز شاہی کے ہندستان میں ، مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ، ۱۹۹۸ء، ص ۷۱-۸۸
۱۳-    البلاذری، محولہ بالا، ص ۴۴۰، تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں: سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن، ص۲۱-۲۲، سیّد ابوظفر ندوی، ص ۱۲۳
۱۴-    ڈاکٹر بینی پرشاد:  History of Jahangir ، الٰہ آباد، ۱۹۶۲ء، ص ۸۰-۸۱؛ سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن: ہندستان کے عہد ِ ماضی میں مسلم حکمرانوں کی مذہبی رواداری، ص ۲۴
۱۵-     سیّدابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی حکومت میں غیرمسلموں کے حقوق، اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۷۰ء
۱۶-    ابوالکلام آزاد، جامع الشواہد فی دخول غیر المسلم فی المساجد، ص ۸۴

]ہم چین کی ترقی، یک جہتی اور دوستی کے قدر دان ہیں۔ یہی قدردانی اور دوستی تقاضا کرتی ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی سیاسی قیادت کے سامنے یہ حقیقت واضح کی جائے کہ: ’’دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے مسلمان، محض علاقائی یا نسلی اقلیت یااکثریت نہیں ہیں بلکہ (مسلمان ایک نبی کی ایک ہی اُمت کی حیثیت سے شناخت رکھتے ہیں)۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا مغربی و امریکی سامراج، مسلمانوں کو علاقوں، ملکوں اور نسلوں کی بنیاد پر دیکھنے کے بجاے، انھیں صرف مسلمان کی حیثیت سے مخاطب کرتاہے۔ اس ابدی حقیقت اور تاریخی سچائی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے یہ بات عرض کرنا چاہتے ہیں کہ چین کی جہاں دیدہ سیاسی قیادت کو ایغور مسلمانوں کے حوالے سے بھی یہی حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے۔ یہ امرواقعہ بھی ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ چین، تجارت اور اسٹرے ٹیجک تعلقات کے حوالے سے، سب سے زیادہ قریب مسلم ممالک ہی سے ہے۔ وہ اپنے ہاں بسنے والے مسلمانوں کے مسائل کو فوجی یا جبری انداز سے حل کرنے کے بجاے، وہاں رہنے والے مسلمانوں کے دینی، سماجی اور معاشی مفادات کو حق و انصاف کی بنیاد پر حل کرتا ہے اور ان کی تہذیب و ثقافت کا احترام کرتا ہے تو یہ بات خود چین کے مفاد میں ہوگی۔ اس طرح ایک جانب وہ مسلمان حکومتوں سے بڑھ کر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دل میں جگہ بنا سکے گا تو دوسری جانب اپنے لیے ملک اور ملک سے باہر خیرسگالی کے جذبات کو پروان چڑھاپائے گا۔ س م خ


یہ ایک دل چسپ اور رُلا دینے والا رپورتاژ ہے ___ رپورتاژ کو اہل نقد بالعموم افسانوی ادب (fiction) میں شمار کرتے ہیں، مگر زیر نظر کتاب میں حقیقت ہی حقیقت ہے، افسانہ نہیں ہے۔ قاری مطالعے کے دوران  ڈاکٹر شفیق انجم کی خوب صورت نثر کی بے ساختہ داد دیتا ہے۔
مصنف کو ملازمتی مصروفیات کے سلسلے میں کچھ عرصہ سنکیانگ میں رہنے کا موقع ملا۔ وہ لکھتے ہیں :’’مختصر مدّت کی یہ رفاقت عمر بھر کی رفاقت محسوس ہوتی ہے ۔ میں نے اسے صرف دیکھا ہی نہیں، سوچا، سمجھا، چکھااور بھگتا بھی ہے۔ اس قربت و رفاقت کے کچھ زاویے میں نے اپنی نظمیہ کہانیوں میں نقش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ نظمیہ کہانیاں: جلا وطن، خود کلامی اور سنکیانگ میں محبت کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہیں۔ زیر نظر تحریر سنکیانگ نامہ میں کچھ مزید زاویوں کو سمیٹنے اور بیان کرنے کی کوشش کی ہے‘‘۔ (ص۶) 
یہ کتاب سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے شان دار ’ماضی‘ اور درد ناک ’حال‘ کی رُودادِ زندگی ہے۔ جہاں تک سنکیانگ میں ایغور وں کے ’مستقبل‘ کا تعلق ہے: ’’زمین اس کی ہوتی ہے جس کے پاس طاقت ہو‘‘ (ص ۷)۔ اس اعتبار سے ایغوروں کا ’مستقبل‘ بظاہر دکھائی نہیں دیتا، کیوں کہ موجودہ حکومت ان سے جس طرح معاملہ کر رہی ہے، کوئی دن جاتا ہے (اور یہ چند برسوں کی بات ہے ) کہ وہ نابود کردیے یا دُور دُور بکھیر دیے جائیں گے۔ پھر وجود کہاں؟ اور زمین کا ذکر کہاں؟
مصنف کہتے ہیں : ’’چین سے ہمارا دوستی کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہے، یہ رشتہ قائم رہنا اور پھلنا پھولنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان پہلوئوں پر ضرور بات ہونی چاہیے، جو اس پُر خلوص رشتے میں دُکھ اور تکلیف کے عناصر شامل کیے جا رہے ہیں، انھی میں سے ایک سنکیانگ ہے‘‘۔ (ص ۱۲)
اس طرح یہ کتاب سنکیانگ کے ایغوروں کے دکھوں کی کہانی ہے۔ سنکیانگ ۱۶لاکھ ۶۴ہزار ۸سو ۹۷مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ چین نے جس کثرت سے یہاں سٹرکیں، پُل اور عمارتیں بنائی ہیں، اسی کثرت سے چین کے مختلف علاقوں سے چینی باشندوں کو لا لا کر سنکیانگ میں بسا یا ہے۔ بقول مصنف: ’’کسی زمانے میں یہاں مسلمان واحد اکثریت تھے، لیکن چینی عمل داری کے بعد منظم آباد کاری کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب یہ تناسب ۴۵/۵۵ کا ہو گیا ہے اور آنے والے برسوں میں مسلم اکثریت آٹے میں نمک کے برابر رہ جائے گی‘‘۔ (ص۱۸)
 مصنف نے سنکیانگ کے مختلف شہروں کے محل وقوع کے ساتھ ان کا تعارف کرایا ہے ۔ مختلف علاقوں کے لوگوں سے تبادلۂ خیال کیا ، ان کے ناگفتہ بہ حالات سنے اور ان میں سے بعض واقعات نقل کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’سنکیانگ مکمل طور پر ایک پولیس اسٹیٹ ہے۔ غیر ملکی سیّاح بکثرت آتے ہیںمگر ایک دودن کے قیام سے انھیں اصلیت کا پتا نہیں چلتا، ہاں طویل قیام سے بخوبی سمجھ لیتے ہیں کہ سنکیانگ میں ایغور ہونے کا مطلب سسکتی موت ہے ۔ بظاہر یہ لوگ زندہ ہیں لیکن انھیں اندر سے مار دیا گیا ہے۔ یہ خبریں تو اب عالمی میڈیا پر بھی عام ہیں کہ سنکیانگ میں ایغوروں کے لیے بڑے بڑے ’حراستی کیمپ‘ بنائے گئے ہیں، جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ لائے جاتے اور انھیں اذیت ناک مراحل سے گزار کر وفا دار بننے کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کیمپوں کی موجودگی سے چینی حکومت انکاری ہے اور اسے چین دشمن عناصر کا پروپیگنڈا کہہ کر رد کیا جاتا ہے۔ لیکن واقفانِ حال جانتے ہیں کہ ’حراستی کیمپ‘ ہونے نہ ہونے کی بات ایک طرف، یہاں تو گھر گھر ، گلی گلی، کوچہ کوچہ حراست معصوم لوگوں کو دبوچے بیٹھی ہے۔ ہر ایغور ’مشکوک‘ ہے، ہر ایغور ’دہشت گرد‘ ہے اور ہرایغور پر لازم ہے کہ وہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے چینی حکومت سے وفاداری کا ورد کرتا رہے۔ پولیس کی نگرانی کے ساتھ ہر ایغور گھرانے پر ایک چینی گھرانا مامور ہے۔ نجی معاملات میں یہ چینی گھرانا دوستی کے لیبل اور باہمی تعاون ومدد کے سلوگن کے ساتھ ایغور گھرانے کی کوتوالی کرتا ہے۔ باہمی شادیوں اورثقافتی اشتراک کی راہ نکالتا ہے اور اگر کہیں کسی طرح کی کم آمادگی یا گریز کی صورت دیکھتا ہے تو نہ جانے پولیس کو کیسے معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں ایغور گھرانے کے فلاں فرد یا پورے گھرانے کو ’خصوصی تربیت کی ضرورت ہے‘۔ پس ’تربیت‘ دی جاتی ہے ، اور ایسی کہ دائیں بائیں والوں کے بھی اوسان خطا ہوجاتے ہیں‘‘ ۔ (ص۵۳) 
ایک اور جگہ کہتے ہیں: ’’ارومچی کے جنوبی علاقے میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ یہاں مساجد موجود ہیں، جن کا احاطہ محدود کر کے ان کے گرد باڑیں لگا دی گئی ہیں۔ گیٹ میں سکینر اور کیمرے ، ہر مسجد کے سامنے پولیس بکتر بند گاڑیاں چوبیس گھنٹے کھڑی رہتی ہیں۔ مسجد صرف نماز کے وقت کھلتی ہے اور پھر مقفل۔ ہر نمازی کی شناخت نوٹ ہوتی ہے ۔ پس، گنے چنے بوڑھے ہی نماز کے اوقات میں نظر آتے ہیں۔ مساجد کے علاوہ گھروں میں قرآن شریف یا کوئی بھی مذہبی متن یا آثار رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ داڑھی رکھنے پر پابندی، روزے پربھی پابندی ، رمضان میں جان بوجھ کر دفتروں میں آفیشل لنچ رکھے جاتے ہیں۔ جو ایغور ملازمت میں ہیں، ان کی جامع رپورٹ بنتی ہے ، نگرانی ہوتی ہے۔ رات دن سولی پر لٹکتے رہتے ہیں، پھر بھی اعتباری قرار نہیں پاتے ‘‘ (ص۵۴- ۵۵) ۔اسی طرح: ’’مسلم ثقافت کا زور توڑنے کے لیے بدھ مذہبی ثقافت کو مقابل لایا جارہاہے‘‘ (ص۶۶)۔’’چینی حلقوں میں ان [ایغور مسلمانوں]کی کوئی عزت نہیں۔ یہ لوگ حکومتی مشینری میں اعلیٰ عہدے بھی رکھتے ہیں اور بہت قابل پروفیسر ، ڈاکٹر اور انجینیر اور کاروباری لوگ بھی ہیں، لیکن نسلاً ایغور ہونا ان کے لیے ایک تہمت بنا رہتا ہے‘‘۔  (ص۷۷)
مصنف نے اپنے مشاہدے کو صرف ایغوروں کی مظلومیت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ان کی ثقافت، تعلیم اور ان کے خوردو نوش کی عادت کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ ریستورانوں میں چائے ، کھانے، چکن تکے، سیخ کباب ، نمکین اور میٹھے بسکٹ ، کلچے ، کرانچی جلیبی، پیزہ اور یہاں کے پھل___ جو ایغور دُور دراز دیہی علاقوں میں رہتے ہیں ، وہ قدر ے عافیت میں ہیں (مگر تابکے ؟)۔ لوگ   حلیم اور خوش گفتار ہیں۔ دھول مٹی سے اَٹے ، لتھڑے، لیکن دل کے غنی وباد شاہ اور مہمان نوازی میں بے مثل ۔ مسافروں کے پہنچتے ہی ہر ایک بقدرِ استطاعت خدمت میں جُت جاتا ہے ۔ پانی،   دودھ اور میوے پیش کیے جاتے ہیں ۔ رسم کے مطابق بھیڑ یا دنبہ ذبح کر کے خوان سجایا جاتا ہے۔ اپنے پاس بھیڑ میسر نہ ہو تو ساتھ والوں سے اُدھار لے لی جاتی ہے۔ زبان اجنبی ہے، چہرے اجنبی ہیں، منظر وماحول اجنبی ہے، لیکن خلوص وایثار ومحبت کے جذبے اپنے اپنے سے ہیں۔ 
ایغوروں اور چینیوں کے عقائد و تجربات، نظریہ ہاے زندگی اور رسومات و مشاغل الگ الگ ہیں۔ مصنف کا اخذ کردہ نتیجہ انھی کے الفاظ میں درج ذیل ہے: 
’’چین، سنکیانگ سے جانے کا نہیں۔ سرحدیں سیل ہیں اور ایسی سیل کہ کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ہے ۔ شہروں شہر نا کہ بندی اور ایسی ناکہ بندی کہ ایک شہر کی ہوا بھی دوسرے شہر جانے سے گریز کرتی ہے۔ شہروں اور قصبوں کے اندر ہر ہر کالونی کی الگ الگ ناکہ بندی ہے۔ ہر کالونی کی ہر منزل کی الگ ناکہ بندی ۔ ہر منزل کے ہر گھر کی الگ ناکہ بندی ۔اور ہر گھر کے ہر فرد کی الگ ناکہ بندی۔ اتنے حصار اور اتنے کڑے حصار ہیں کہ بے بسی سینہ پیٹتی ، بین کرتی رہتی ہے، لیکن کوئی نہیں سنتا۔ جب جس کو اٹھانا ہو، اٹھا لیا جاتا ہے۔ ایک ایک قیدی کے لیے چھے چھے بم پروف گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہے، اور معلوم نہیں جانے والا کہاں جاتا ہے۔ شہروں شہر بکتر بند گاڑیوں میں دہشت گشت کرتی رہتی ہے۔ ٹینک اور راکٹ بردار گاڑیاں چوک چوراہوں میں کھڑے ہیں۔ جگہ جگہ پولیس سٹیشن ہیں۔ فوج الگ سے تیارو چوکس کھڑی ہے۔ تو ایسے میں یہ کہنا کہ یہ سارا اہتمام حفاظت کے لیے ہے، کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ کیا حفاظت کا یہ اہتمام چین کے باقی شہروں میں بھی ہے؟ کیا [اُن] عالمی اہمیت کے حامل شہروں میں بھی ہے؟ کیا بیجنگ ، شنگھائی اور گوانگ زو جیسے عالمی اہمیت کے حامل شہروں میں اس سے زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں ؟ جواب ملتا ہے: ’نہیں، کیونکہ وہاں ایغور نہیں‘۔توگویا ایغوروں کا ہونا چین کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھ لیا گیا ہے‘‘۔ (ص۷۸)
مصنف نے آخر میں لکھا ہے:’’سنکیانگ چینیوں کا ہے اور سنکیانگ کے باشندے بھی چینیوں کے ۔ کوئی کچھ نہیں کر سکتا___ مگر دوست کو دوستی کا حوالہ دے کر، درخواست تو کی جا سکتی ہے اگرچہ واضح ہے کہ شنوائی کی کوئی صورت نہیں۔ کسی طور کسی کا دل نہیں پسیجے گا، کسی طور کوئی آمادۂ رحم  نہ ہو گا کہ طاقت ، بے مہار طاقت فریادیں نہیں سنتی، حکم لگاتی ہے، حکم نافذ کرتی ہے۔ اور مظلوم وبے کس لوگ مرتے ، اذیت ناک موت مرتے رہتے ہیں___ تاریخِ انسانی میں ایسا ہوتا رہا ہے اور ہرجغرافیے سے جڑی کہانیوں میں یہ بات مشترک ہے کہ زور والے زیر دستوں پر چڑھ دوڑے اور انسانیت انھیں دیکھ دیکھ شرماتی رہی۔ ترقی اور ارتقا کے خروش میں خون کی ندیاں بہائی جاتی رہیں اور کوئی کسی کے لیے کچھ بھی نہ کرسکا۔ دُکھ ہوتا ہے اور سوچ غالب آتی ہے کہ آخر انسان ترقی اور کمال کی منزلوں پر پہنچ کر بھی دوسروں کو معاف کرنا اور جینے کا حق دینا کیوں نہیں سیکھ پاتا؟ اپنے بچے اپنے ہیں تو دوسروں کے بچے بھی اپنوں کی طرح کیوں نہیںلگتے؟ رنگ، نسل، قوم، قبیلے اگر تفاخر کا باعث ہیں تو اپنے تفاخر کے ساتھ دوسروں کے تفاخر کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟ تجارت ، کاروبار اور مال واسباب کی دوڑ دھوپ اگر زندگی کے لیے ہے تو پھر یہ سب کچھ پانے کی خواہش میں زندگی ، زندگی کو کیوں کاٹ کھاتی ہے؟ شاید انسان طاقت کے نشے میں اندھا ہو جاتا ہے۔ شاید انسان  خدا بننا چاہتا ہے؟ لیکن جان لینا چاہیے کہ زمین حاکم تو پالتی ہے لیکن کسی کو خدا نہیں بننے دیتی ___  یہ زمین کی سرشت ہے۔ اور یقینا آسمان کی سرشت بھی یہی ہے___  ایسے میں کیا ہی اچھا ہو کہ حاکم، محکوموں پر مہربانی کریں تو سب کی زندگیوں میں خوشیوں کے پھول کھل سکتے ہیں‘‘۔(ص ۷۹-۸۰)
مصنف کی اس درد بھری اپیل پر دوستوں کو بھی دھیان دینا چاہیے اور اپنے آپ کو اُمت ِ مسلمہ سے منسوب کرنے والے حاکموں کو بھی سفارتی اور اخلاقی سطح پر اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔ اس رُودادِ اَلم کو پڑھنے کے لیے ملاحظہ ہو:سنکیانگ نامہ ،ڈاکٹر شفیق انجم ۔ الفتح پبلی کیشنز، ۳۹۲-اے ،گلی نمبر ۵۔اے، لین نمبر ۵، گل ریز ہائوسنگ سکیم۔۲ ، راولپنڈی ۔ صفحات : ۸۰ ۔ قیمت :۲۵۰ روپے۔ 

رسولِ اکرم ؐ کی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی ،ڈاکٹر حسین بانو۔ ناشر:راحیل پبلی کیشنز،  ۳۱۴ بک مال ، اردو بازار کراچی ۔ فون :۸۷۶۲۲۱۳۔۰۳۲۱۔ صفحات :۴۹۱۔ قیمت :۸۵۰ روپے۔
عالمِ اسلام کے دینی ادب میں سب سے بڑا موضوع سیرت النبی ؐ ہے، اور عربی، اُردو، فارسی، انگریزی ، ترکی ، فرانسیسی اور دیگر متعدد زبانوں میں سیرت النبی ؐ کا ذخیرہ ہزاروں سے متجاوز ہے۔ صدر محمد ضیاء الحق کے دورِ حکومت (۱۹۷۷ء-۱۹۸۸ء) میں وزارتِ مذہبی اُمور نے سال کی بہترین کتاب پر ’سیرت ایوارڈ‘ دینا شروع کیا تھا۔ چنانچہ اس شعبے کی طرف اہل قلم کی توجہ اور بڑھ گئی۔ 
زیر نظر کتاب ایک تحقیقی مقالہ ہے جس پر کراچی یونی ورسٹی نے مصنفہ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔ پانچ ابواب اور ان کے تحت متعدد فصلوں پر عنوانات قائم کر کے بات کی گئی ہے۔ ہر باب کے آخر میں خلاصۂ کلام بھی دیا گیا ہے۔ حوالوں کا مقام تو مقالے میں ناگزیر ہوتا ہے، اس اعتبار سے مقالے کی ترتیب وتدوین بہت عمدہ ہے۔ مقالہ جس شکل میں پیش کیا گیا، غالباً اسی طرح شائع کر دیا گیا ہے۔ ہمارے خیال میں باب اوّل کو خصوصاً پہلی تین فصلوں کو مختصر کرلیا جاتا اور پہلے اور دوسرے باب کو ملا لیا جاتا تو بہتر تھا۔
رسولِ اکرم ؐ کی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کے مباحث جامع ہیں۔ مصنفہ نے ریاست ِ مدینہ کی سیاست خارجہ کے اصولوں کو واضح کیا ہے۔ اس کے ساتھ سفارت کاری کے سلسلے میں آںحضور ؐ نے مختلف حکمرانوں کو جو خطوط ارسال کیے، ان کا متن دیا ہے اور اس متن سے کچھ نتائج بھی اخذ کیے ہیں۔ اسی طرح آپ ؐ نے بعض صحابہ ؓ کو سفار ت کاری کے مشن پر بیرونِ حجاز بھیجا ۔ پھر اطرافِ مدینہ سے بلکہ بیرونِ ملکِ حجاز سے بھی چند وفود آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، مقالے میں ان سب صحابہ ؓ اور وفود کی تفصیل دی گئی ہے۔ خارجہ پالیسی میں معاہدوں کی بہت اہمیت ہے۔ آپؐ نے قریش ، اہلِ مکہّ، یہودیوں اور عیسائیوں سے مختلف مواقع پر جو معاہدے کیے ، ان کا ذکر بھی کتاب میں ملتا ہے۔ آخری حصے میں معروف سیرت نگاروں نے آپ ؐ کی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کو جو خراجِ تحسین پیش کیا ہے، اس کا ذکر کیا گیا ہے۔آپؐ کی سفارتی پالیسی کی وجہ سے عرب اور بیرون عرب کی اقوام ایک دوسرے کے قریب آئیں اور تعلقات کو فروغ ملا۔ اسی کی وجہ سے دنیاے عرب کے ساتھ ساتھ بیرون عرب بھی انسان کو اس کی جائز حیثیت ملی اور طاقت ور اور محکوم کی تفریق ختم ہوئی اور ہر انسان اپنی مرضی کی زندگی گزارنے لگا۔ (رفیع الدین ہاشمی) 

تعارف کتب

$ Islamic Perspective of Adulthood and Family Life ،[بلوغت اور خاندانی زندگی اسلامی تناظر میں] ڈاکٹر محمد آفتاب خاں۔ ناشر: ادبیات، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۷۲۳۲۷۸۸-۰۳۱۳۔ صفحات:۷۹۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔ [گذشتہ صدی کے وسط میں، مغرب میں جنسی تعلیم کا اجرا کیا گیا۔ مغربی فکر سے متاثر ’دانش ور‘ مسلم ممالک میں بھی اس کے اجرا پر زور دے رہے ہیں۔ پنجاب یونی ورسٹی کے تحت انٹرنیشنل کانفرنس میں مصنف نے اس موضوع پر تحقیقی مقالہ پڑھا ۔ جنسی تعلیم کا عمومی جائزہ،قرآن و حدیث کی تعلیمات، فقہا کی آرا اور جنسی تعلیم کے حوالے سے والدین کو درپیش مسائل کا احاطہ کیا اور نصاب سازی کی طرف توجہ دلائی۔]

ایچ  عبدالرقیب ،انڈین سنٹر فار اسلامک فنانس، نئی دہلی

اشارات: ’مدینہ کی ریاست، حکومت کے لیے رہنمائی‘ (دسمبر۲۰۱۸ء)سے مدنی معاشرے کے   کئی نئے پہلو سامنے آئے ہیں،جس کے لیے پروفیسر خورشید احمد شکریے کے مستحق ہیں۔نبی اکرمؐ کی قیادت میں مدینہ منورہ میں مثالی اسلامی معاشرہ قائم ہوا تھا۔ اس عظیم الشان اسلامی ریاست کی پانچ اہم مضبوط اور منظم بنیادیں تھیں: مذہبی، سیاسی، تعلیمی، سماجی اور معاشی۔ معاشی خوش حالی اور مادی ترقی کے لیے مدینہ مارکیٹ کا قیام اور اس کا انتظام وانصرام، سیرتِ نبویؐ کا ایک تاب ناک باب ہے، جو عام طور پر ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ اس کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مدینہ میں یہودیوں کے بازار میں استحصال اور اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے مسجد نبویؐ کے قریب ہی مارکیٹ قائم کی اور فرمایا: اَلْجَالِبُ اِلٰی سُوْقِنَا کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ  [مستدرک حاکم، کتاب البیوع، حدیث: ۲۱۶۷] ’’جو ہماری مارکیٹ میں خرید و فروخت کرے گا وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے‘‘۔ میری کتاب ہندستان میں اسلامی معاشیات اور مالیات: موانع اور مواقع میں اس موضوع پر ایک تفصیلی مضمون شامل ہے اور اسلامی ریاست کے معاشی استحکام کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔


آئی اے فاروق   ، لاہور

 ’مدینہ کی ریاست‘ کے حوالے سے یہ نکتہ نمایاں کرنا ضروری تھا کہ وہاں سود سے پاک معیشت کا نفاذ ہوا۔


ڈاکٹر طاہر سراج ، ساہیوال

دسمبر کے ’اشارات‘ نہایت مختصر، حددرجہ مؤثر ، بہت جامع اور دل پذیر ہیں۔


راجا محمد عاصم  ، کھاریاں

’۶۰ سال پہلے‘ میں مولانا مودودیؒ کی تحریر’’اگر خدا کا خوف نہ ہوتا…؟‘‘ ایک داعی کے لیے کام کو خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کے رہنما اصول بیان کرتی ہے۔


 زرتاج حسین ، اسلام آباد

ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے نام نہاد روشن خیالوں اور قادیانیوں کی ’تاریخ سازی‘ اور گمراہی پھیلانے کی کوششوں کو نہایت مدلل انداز سے بے نقاب کیا ہے۔ آج کل پاکستانی ذرائع ابلاغ کی حالت زار دیکھ کر لگتا ہے کہ تاریخ پاکستان کا مقدمہ بھی ترجمان القرآن ہی کو پیش کرنا چاہیے کہ دوسری جگہیں بے جا تعصب کی نذر ہوچکی ہیں۔


حاشر فاروقی، لندن

ڈاکٹر تحسین صاحب کی پُرشکوہ اور شان دار تحریر کی اشاعت پر ادارے اور مصنف کے لیے مبارک باد !


پروفیسر عبدالقادر خاں ، سرگودھا

جناب تحسین فراقی نے بلاشبہہ بہت عمدہ ’عالمِ آشوب‘ لکھا ہے، جو ان کی وسعت ِ مطالعہ، قدرتِ اظہار اور شان دار ابلاغ کی مثال ہے۔ ایسے عالی شان مضامین کی اشاعت پر مبارک باد قبول کیجیے۔


عبدالملک    مجاہد، شکاگو

ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کا مضمون: سبحان اللہ، کیا خوب صورت اُردو ہے اور کیا بلند خیال۔  بہت سادگی سے، زمان و مکان کے پھیلائو اور زیربحث موضوع کو حیرت انگیز طور پر پیش کیا ہے۔ اللہ کرے ترجمان کے قارئین اس خوب صورت اُردو اور شان دار مباحث سے لطف اندوز ہوسکیں۔


ڈاکٹر نواز حسین ، ریاض

علّامہ محمد اسد کا بلاخوف و خطر دوبارہ موت کے منہ میں جاکر دارالاسلام کے مکینوں کو لانے کا واقعہ بڑا ایمان افروز ہے، اور ساتھ ہی پاکستان کے لیے مظلوم خواتین کی قربانی کا ذکر ہلا دینے والا تازیانہ ہے۔


سلیم منصور خالد 

علّامہ محمد اسد کے حددرجہ قیمتی مضمون کے حوالے سے جب تفصیلات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا ہے کہ اسدصاحب لاہور سے جو تین بسیں لے کر دارالاسلام گئے تھے، ان میں: چودھری نیاز علی خاں صاحب، عبدالجبار غازی صاحب اور دارالاسلام میں محصور خواتین (جن میں مولانا مودودی کی والدہ، اہلیہ اور بچے بھی شامل تھے، انھیں لے کر) پاکستان آئی تھیں، جب کہ مولانا مودودی نے علّامہ اسد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ’’جب تک ہمارے ہاں پناہ لینے والے تمام لوگ یہاں سے محفوظ جگہ نہیں منتقل ہوجاتے، میں کہیں نہیں جائوں گا‘‘۔ اسی لیے وہ اس قافلے میں نہیں آئے بلکہ بعد میں ۳۰؍اگست ۱۹۴۷ءکو پاکستان پہنچے تھے۔


فہیم احمد  میر، کشمیر 

محمدبشیرجمعہ صاحب کا مضمون: ’عملی زندگی میں تنظیم‘ (نومبر ۲۰۱۸ء)بہت ہی کارآمد ثابت ہوا۔   


ریاض احمد شاہ ، ای میل

 ترجمان القرآن حق کا داعی اور رہنما مجلّہ ہے جو بڑی کامیابی سے لاکھوں دلوں کو حق کا راستہ اور استقامت کا درس دیتا ہے۔ تاہم، اکتوبر۲۰۱۸ء کے شمارے میں ’ہندو آر ایس ایس اور اخوان المسلمون ؟‘ مضمون میں ایک اسلامی تحریک اور ایک فاشسٹ تنظیم کے فرق پر سیرحاصل بحث نہیں ہوسکی۔

قریب ترین رشتہ داروں کے حق [وراثت] ادا ہوچکنے کے بعد، یا ان کی غیرموجودگی میں حقِ میراث ان قریب تر جدی رشتہ داروں کو پہنچے گا، جو ایک آدمی کے فطرتاً پشتی بان اور حامی و ناصر ہوتے ہیں۔ یہی معنی ہیں ’عصبات‘ کے ، یعنی آدمی کے وہ اہلِ خاندان جو اس کے لیے تعصب کرنے والے ہوں۔ اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو پھر یہ حق ’ذوی الارحام‘ (رحمی رشتہ داروں،مثلاً: ماموں، نانا، بھانجے اور بیٹی یا پوتی کی اولاد) کو دیا جائے گا۔ یہاں بھی نہ تو قائم مقامی کا اصول کام کرتا ہے اور نہ یہ اصول کہ جو محتاج اور قابلِ رحم ہو اس کو میراث دی جائے، بلکہ قرآن کے بتائے ہوئے چاراصول اس معاملے میں کارفرما ہیں: 

  • ایک یہ کہ قریب ترین کے بعد حصہ قریب تر کو پہنچے گا اور قریب تر کی موجودگی میں بعید تر حصہ نہ پائے گا (مِـمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُوْنَ)
  • دوسرے یہ کہ ’غیر ذوی الفروض‘ کو وارث قرار دینے میں یہ دیکھا جائے گا کہ میت کے لیے نفع کے لحاظ سے قریب تر ، یعنی اس کی حمایت و نصرت میں فطرتاً زیادہ سرگرم کون ہوسکتے ہیں (اَیُّھُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ  نَفْعًا)۔
  • تیسرے یہ کہ عورتوں کی بہ نسبت مرد فطرتاً عصبہ ہونے کے زیادہ اہل ہوتے ہیں۔ اسی لیے قرآن ماں اور باپ میں سے عصبہ باپ کو قرار دیتا ہے اور اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’فرض حصے ادا کرنے کے بعد مابقی ترکہ قریب ترین مرد کو دو‘۔ لیکن بعض حالات میں عورت بھی عصبہ ہوسکتی ہے، مثلاً یہ کہ میت کی وارث بیٹیاں ہی ہوں اور کوئی مرد عصبہ موجود نہ ہو، تو بیٹیوں کا حصہ فرض ادا کرنے کے بعد مابقی میت کی بہن کو دیا جائے گا، کیوںکہ وہ اس کی پشتی بان ہوتی ہے۔
  •  چوتھا اصول قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے کہ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ   (رحمی رشتہ داراجنبیوں کی بہ نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں)۔ اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَلْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ  لَہٗ  (جس کا کوئی اور وارث نہ ہو اس کا وارث اس کا ماموں ہے)۔

یہ ہیں تقسیمِ میراث کے اسلامی اصول، جن کو سمجھنے میں کوئی ایسا شخص غلطی نہیں کرسکتا، جس نے کبھی قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہو اور اس کے مضمرات پر غور کیا ہو۔ (’یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن ، جلد۵۱، عدد۴، جنوری ۱۹۵۹ء، ص۳۴-۳۵)