جنوری ۲۰۲۱

فہرست مضامین

میں کیسے بھول جاؤں؟

مجیب الرحمٰن شامی | جنوری ۲۰۲۱ | یادداشت

کچھ عرصہ قبل لاہور - سیالکوٹ موٹر وے پر ہونے والے شرمناک واقعے کے ردعمل کے طور پر وزارتِ قانون نے ۲۶ نومبر۲۰۲۰ء کو ایک حکم نامے کا مسودہ جاری کیا ہے، جو گیارہ نکات پر مشتمل ہے۔ ان نکات میں مروجہ قانون میں وہ اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، جن پر عمل درآمد سے وزارتِ قانون و عدل کے ماہرین کے خیال میں اس انسانیت سوز جرم میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔  اَشک شوئی کے لیے ہی سہی، خلوصِ نیت اور ذمہ داری کے ساتھ جو اقدامات بھی کیے جائیں، ان سے وارداتوں میں کمی کا امکان ہو سکتا ہے۔

ہماری نگاہ میں مسئلہ محض کسی مروجہ قانون میں جزوی تبدیلی کا نہیں ہے بلکہ اس نظامِ قانون کے بنیادی تصورات کی تبدیلی اور ہمارے تصور معاشرہ ، معروف و منکر ، حلال و حرام ، جائز و ناجائز اور بنیادی اخلاقی اقدارکا ہے۔ اس لیے جب تک مسئلے کے قانونی پہلو کے ساتھ ساتھ اخلاقی، سماجی اور معاشرتی اقدار شامل کرکے ایک جامع اور قابل عمل حکمت عملی وضع نہیں کی جائے گی، صرف چند قانونی دفعات میں ردّوبدل سے حالات میں تبدیلی کی خواہش محض ایک خوش فہمی ہوگی۔

اصل مسئلہ

سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے جائزے یہ بتاتے ہیں کہ ملک میں تیزی کے ساتھ جرائم کے ارتکاب میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک صوبے کے فراہم کردہ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو ہولناک صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ صرف نوماہ کے عرصے (جنوری ۲۰۲۰ء تا ستمبر ۲۰۲۰ء) میں پنجاب میں پولیس کے ریکارڈ کے مطابق قتل کے ۳ہزار ۶سو۳۱، اقدام قتل کے ۵ہزار ۲سو ۶۳، مجروح کرنے کے۷۴ہزار ۹ سو ۱۴، اغوا اور اغوا برائے تاوان کے ۲لاکھ ۷۷ہزار ۱۲، زنا بالجبر کے ۳ہزار ۲سو ۶۴، اور ڈاکے اور چوری کے۷۲ہزار ۸۶ مقدمات درج ہوئے ہیں۔ ان میں مقدموں کی وہ بڑی تعداد شامل نہیں ہے جو پولیس تھانوں میں درج نہیں کروائی گئی اور خصوصاً زنا بالجبر کا جرم ان معاملات میں سے ہے، جس کی اطلاع عموماً بہ امر مجبوری ہی پولیس کو دی جاتی ہے۔ورنہ معاشرتی دباؤ اور پولیس پر عدم اعتماد کی بنا پر بہت سے واقعات پولیس کے علم میں آتے ہی نہیں اور نہ ابلاغ عامہ تک ان کی اطلاع پہنچتی ہے۔

جنسی استحصال کے حوالے سے اس سے قبل ۱۹۷۹ء میں حدود آرڈیننس اور ۲۰۰۶ء میں تحفظ ِخواتین بل اور اس کے ۱۰ سال بعد ۲۰۱۶ء میں جرم زنا بالجبر قانون میں ترمیم اور اب مزید تقریباً دس سال بعد حالیہ مجوزہ آرڈی ننس، جزوی تبدیلی کی ایک شکل ہے۔  چنانچہ صورت حال پر اس کا اثر بھی لمحاتی اور جزوی ہی ہو سکتا ہے۔ اصل مسئلے کے بنیادی (اخلاقی اوردینی) پہلوؤں کو سمجھے بغیر اس آرڈی ننس کی حیثیت ایسی ہی ہوگی، جیسے ایک طبیب کسی مریض کو بخار میں مبتلا دیکھ کر اسپرین یا پینا ڈول تجویز کر دے ، جب کہ بخار کا اصل سبب برقرار رہے۔

اخلاقی اور دینی پہلو

اسلامی نظام حیات دراصل ایک ایسے اخلاقی ضابطے کا نام ہے، جو انسان کی تمام سرگرمیوں کو الہامی اخلاقی اصولوں کا پابند بنا دیتا ہے۔ قرآن کریم میں مختصر ترین الفاظ میں اس حقیقت کو یہ کہہ کر واضح کر دیا گیا کہ وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍ (القلم۶۸:۴) ’’آپؐ اخلاق کے اعلیٰ ترین معیار پر فائز ہیں‘‘۔چنانچہ آپؐ نے زندگی کے تمام شعبوں کے لیے الہامی اخلاقی اصول متعین کردیے۔

یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ وہ اخلاق اور قانون کو دو الگ خانوں میں تقسیم نہیں کرتا بلکہ اخلاق کے دائرے کو قانون تک وسعت دیتا ہے۔ سود چونکہ ایک غیر اخلاقی کام ہے، اس لیے حرام ہے۔ زنا بالجبر ہو یا محض زنا، ایک غیر اخلاقی کام ہے، اس لیے قابلِ سزا ہے۔ چوری ایک غیر اخلاقی کام ہے۔ اس لیے چور سزا کا مستحق ہے۔ چونکہ ان تمام معاملات میں اخلاقی خلاف ورزی سے پورا معاشرہ خطرات کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے یہ معاشرتی جرائم بھی ہیں اور اسلامی ریاست  ان معاملات میں خاموش تماشائی نہیں بنی رہ سکتی۔ اس کے فرائض میں یہ بات داخل ہے کہ وہ تمام فواحش کو معاشرے سے ختم کرکے معروف، بِرّ ، حیا اور وفا کو معاشرے پر غالب کر دے۔ گویا اسلام میں اخلاق کا وجود نظری نہیں ہے بلکہ اطلاقی اور قانونی ہے۔

اخلاق سے مراد ایک مخصوص طرزِ عمل ہے۔ اس طرزِ عمل میں صنفی معاملات کو اوّلیت دینے کے ساتھ ان کی صحت اور مطالبات کے پیش نظر انھیں دنیاوی لذات سے وابستہ نہیں کیا بلکہ روح اور دین سے وابستہ کر دیا گیا ہے، تاکہ فرد دیگر مذاہب کی طرح کسی احساس گناہ کی جگہ حلال ، طیب اور احسن طریقے سے اپنی جنسی ضرورت کو پورا کرکے بھی دائرۂ عبودیت میں شامل ہو جائے۔

آج مغرب ’جنسی تعلیم‘ کو اسکولوں اور یونی ورسٹیوں میں متعارف کرانے کے بعد شرم وحیا اور حلال و حرام کی تمیز کو مٹانا چاہتا ہے۔ اسلام نے اس کے برعکس طہارت، بلوغت، رضاعت اور جنسی تعلق پر تعلیم و تربیت کے نظام کے ذریعے قرآن و حدیث اور سیرتِ پاکؐ کی مثالوں سے وہ تمام پہلو ذہن نشین کرائے ہیں جن کے بعد کوئی صاحب ِایمان زنا یا اس سےملتے ہوئے دیگر غیراخلاقی رویوں کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا۔ قرآن و سنت کا اندازتعلیمی ہے، جب کہ مغرب سے درآمد کردہ جنسی تعلیم کا مقصد ان کے اپنے الفاظ میں صرف’ محفوظ جنسی زندگی‘ (safe sex) ہے جس میں کہیں آس پاس بھی یہ احساس نہیں پایا جاتا کہ یہ حیوانات کی طرح ایک ضرورت نہیں بلکہ قرآن کریم نے حلال و حرام کے اسلامی اصولوں کی روشنی میں اسے اخلاقی قیود کا پابند کیا ہے اور حصولِ لذت کو بھی رضائے الٰہی کے تابع کر دیا ہے۔

لا دینی مغربی ذہن، اخلاق اور قانون کو دو الگ دائروں میں تقسیم کرتا ہے۔ قانون کو اجتماعی مگر اخلاق کو ہر فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیتا ہے۔اس ذہن کے ساتھ زیربحث معاملے پر جب کسی مسلم ملک میں قانون سازی کی جاتی ہے یا موجود قوانین میں ترمیم کی جاتی ہے تو بنیادی مفروضہ یعنی ’محفوظ جنسی زندگی‘ کے اخلاقی جواز اور شرعی حیثیت کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ صرف اس پہلو پر غور کیا جا تا ہے کہ کتنی عمر تک اگر یہ فعل کیا جائے تو اسے قانون کی نگاہ میں جرم کہا جائے گا اور کتنی عمر کے بعد اگر رضامندی سے یہ فعلِ بد کیا جائے، تو پھر یہ نام نہاد انفرادی انسانی حقوق اور Humanismکی بنا پر قانون کی دسترس میں نہیں آئے گا۔ یاد رہے ’ہیومنز ازم‘ مغرب کے معاشرے کو عیسائیت سے نجات دلانے کا علَم بردار ہے، اور ہر فرد کو یہ حق دینے کا نام ہے کہ کیا چیز اچھی اور اخلاقی ہےاور کیا چیز بُری اور غیر اخلاقی ہے۔ اسی تصور کو آج ہماری وزارتِ تعلیم ’اخلاقی اصلاح‘ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم بھی اسلام کو نظرانداز کرکے ذاتی پسند اور ناپسند کی بنا پر اپنا رویہ طے کریں۔

حالیہ ترامیم کے حوالے سے یہ بھی پیش نظر رہے کہ اگر مروجہ قوانین جنھیں ۱۸۶۰ء میں انگریز نے وضع کیا تھا، وہ آج تک اس گھناؤنے فعل میں کمی نہ کر سکے تو کیا اب ان قوانین میں چند تبدیلیاں یا ترامیم کرنے سے مسئلہ حل ہوجائے گا؟ ایسی پیوندکاری ہمیشہ ناکام رہتی ہے۔

نفسیاتی پہلو

ماہرین نفسیات اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کے بچپن کو ان ناخوش گوار واقعات کا  ذمہ دار ٹھیراتے ہیں۔ ماہرینِ سماجیات کے مطابق عموماً مجرم بعض اوقات خود کسی نہ کسی ذلت آمیز رویے کا شکار رہ چکا ہوتا ہے۔ قبلِ بلوغ یا بعد از بلوغ اس کے ساتھ کوئی اس سے ملتا جلتا واقعہ گزرا ہوتا ہے، جس میں خود اس پر زیادتی کی گئی اور پھر موقع ملنے پر بطور ایک انتقامی رویّے کے اسے ارتکابِ جرم پر اُبھارتا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی تجزیاتی طور پر کہی جاتی ہے کہ بعض اوقات انسانی نفس بعض ہیجانات کا تابع ہو جاتا ہے جن کا تعلق دوسرے کو تکلیف دے کر لذت حاصل کرنے سے ہوتا ہے۔ان اندورونی محرکات کے ساتھ بعض اوقات ہیجان انگیز لباس ، خوشبو یا ایسی جسمانی حرکت جو دیکھنے والے کے جذبات کو بھڑکا کر اسے جارحانہ رویوں پر ابھار دیتی ہے۔

بلاشبہہ ان اُمور کا تعلق بھی جرم کے ارتکاب سے ہوسکتا ہے، مگر انسانی نفسیات کے ان تمام امکانات کے پیش نظر اسلام کے نظام حیا اور قانون میں ان اندرونی اور بیرونی محرکات کے اثرات سے بچنے کے لیے قرآن نے غضِ بصر کی تاکید کی ہے۔ مزیدبرآں ساتر لباس کے استعمال اور لوچ نہ پیدا کرنے کے علاوہ، خون کے رشتوں میں بھی مخالف جنس کے جسم سے مس نہ کرنے اور تنہائی میں مخالف جنسوں کے جمع نہ ہونے کا حکم دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر اللہ کے خوف سے گناہ سے بچنے کے تصور کے ذریعے برائی کے امکانات کو کم سے کم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔چنانچہ جن مسلم معاشروں میں اسلامی اخلاقی اقدار پر عمل کیا جاتا رہا ہے، وہاں بےراہ روی کا تناسب حددرجہ کم دیکھنے میں آتا ہے۔

اس تناظر میں مجوزہ حکم نامے میں اس بُرے فعل کے عادی یا غیر عادی مجرم کو برضا یا آپریشن سے ایک ایسی صلاحیت سے محروم کرنا ہے جسے خالق کائنات نے تمام انسانوں کے خمیر میں رکھا ہے اور جسے اپنی حدود میں رکھنے اور اس کے صحت مند ، جائزاور حلال استعمال کو پسند فرمایا ہے۔کسی انسان کو اس صلاحیت سے محروم کر دینا نفسیاتی زاویے سے اس کے اندر جذبۂ انتقام کو مزید بھڑکانے کا سبب بن سکتا ہے اور شاید قانونی پیچیدگیوں کی بنا پر مزید مشکلات کا سبب بھی بن جائے۔ حکومت کے قانونی مشیر اور ان دوسرے ماہرین نے اس پہلو پر غور نہیں کیا ہے۔ ہم دوبارہ عرض کریں گے کہ چوری اور دیگر غیر انسانی افعال کا سدباب محض ایک نیا قانون بنادینے اور نظامِ قانون اور پولیس اور تفتیش کے نظام کو جوں کا توں رکھنے سے نہیں ہوسکتا۔

 انسانی جسم میں اصل خفیہ کیمرہ (hidden camera  )اس کا اپنا ایمان ہے ، اور احساس آخرت ہے، اور نفس انسانی یا انسانی جان کا احترام ہے جو قرآن وحدیث نے واضح طور پر بیان کردیا ہے کہ ایک فرد کا قتلِ ناحق تمام انسانیت کا قتل ہے۔ اور یہ کہ ایک فرد کی عزت کو مجروح کرنا پورے معاشرے کی عزت کو مجروح کرنے کے مترداف ہے۔  یہ چیز کسی درآمد شدہ ہیومنزازم سے حل نہیں کی جاسکتی اور نہ اقوام متحدہ کے عنایت کردہ اقوامِ عالم کے لیے ’ہزارسالہ ترقیاتی اہداف‘ (M.D.G's) کی فرماں بردارانہ پیروی ہی اس کا حل ہے۔

 اس مرحلے میں ہمیں خود اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے گھر میں یا ابتدائی اسکول میں اپنے بچوں اور بچیوں کو شرم وحیا ، پاکیزگیِ نگاہ و زبان ، رشتوں کے احترام، اللہ کی محبت اور اس کے تقاضوں،آخرت میں جواب دہی کے احساس کے بارے میں کچھ بتایا ہے؟ اور کیا انھیں یقین دلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے اور دو فرشتے ہمہ وقت ہمارے ہرعمل کو تحریری شکل میںقلم بند کر رہے ہیں اور یوم حساب ہمارا اعمال نامہ ہمارے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ ایک بچے یا بچی کو گھر کی ابتدائی تعلیم میں اسلام کے ابدی عالمی اخلاقی اصولوں کو ذہن نشین کرا دیا جائے تو ان شاء اللہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر کوئی غلط فکر یا غلط عمل اختیار کرنے کی طرف مائل نہیں ہوگا۔

شرعی پہلو

مسلمان کی زندگی ہو یا موت ، گھریلو معاملات ہوں یا معاشرتی اور معاشی سرگرمیاں، ہرچیز کی بنیاد شریعت پر ہے۔ شریعت نے بعض افعال کو سخت ناپسند کرتے ہوئے ’فحش ‘سے تعبیر کیا ہے اور غیر اخلاقی (ناجائز)جنسی تعلق کو چاہے وہ محض نگاہ کی آوارگی ہو ، یا زبان و بیان کے ذریعے دعوتِ گناہ ، یعنی ہرطرح کی بُرائی کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ایک نظام شرم وحیا دیا ہے، اور  بچوں کو ہوش سنبھالنے کے ساتھ اس کی تعلیم دینا والدین پر فرض کر دیا ہے۔ابھی بچہ محض دس سال کا ہے اور اس کا بستر الگ کر دینا ضروری ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جنسی فاصلے کا اہتمام کیا جائے۔ بلوغ کے بعد مزید واضح احکامات ملتے ہیں۔ تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود اگر ایک شخص ہوائے نفس کی غلامی اختیار کرتا ہے تو پھر غیرشادی شدہ ہونے کی شکل میں (زنا کی سزا کے طور پر) اُسے سوکوڑے کھلے عام لگائے جائیں تاکہ معاشرے میں فحش کام کرنے کی کسی میں ہمت نہ ہواور اگر یہ فعل کسی شادی شدہ فرد نے کیا تو اسے پورے معاشرے کے لیے عبرت بنانے کے لیے سنگسار کرنا نہ صرف شریعتِ محمدیؐ بلکہ شریعت موسویؑ اور شریعت عیسویؑ دو نوں میں فرض کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے جب تک مسلم معاشرے میں شرعی قوانین کا نفاذ رہا یہ برائی سر نہیں اٹھا سکی۔ آج بھی اگر اس بدفعلی کو ختم کرنا ہے تو اسلام کے ابدی اور عالم گیر قوانین کا نفاذ ہی اس کا حل ہے:

اَلزَّانِيَۃُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ ۝۰۠ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِيْ دِيْنِ اللہِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۚ وَلْيَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَاۗىِٕفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۲ (النور۲۴:۲) بدکاری کرنے والی عورت اور مرد(جب ثابت ہو جائے) دونوں میں سے ہر ایک کو سودُرّے مارو۔اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شریعت الہیٰ کے حکم میں تمھیں ان پر ہرگز ترس نہ آئے اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو ۔

فقہا اور مفسرین نے خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والوں پر وہی حکم لگایا ہے جو حرابہ  [فساد برپا کرنے] والوں پر نافذ ہوتا ہے۔ شریعت کے ہر حکم کی بنیاد وحی کی فراہم کردہ علت وحکمت پر ہے اور اگر شریعت کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ برائی کو اس کی جڑ سے ختم کرنے کا بہترین حل پیش کرتی ہے۔

اس کے برعکس ہمارے ابلاغ عامہ کے ادارے، مساوات مرد و زن کے مغربی تصور کے اظہار کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ ہرموقعے پر ، جب تک اسکرین پر ایک نوجوان اور جدید ترین مغربی فیشن سے  لیس ایک خاتون کو اُچھل کود اور حرکات کرتے ہوئے پیش نہ کریں تو ناظرین کو ان کی ’روشن خیالی‘ پر یقین نہیں آئے گا۔نیم عریا ں شکل میں ہندو ثقافت یا مغربی تہذیب کی پیروی کرتے ہوئے اشتہارات کا مسلسل نظر آنا بصری استحصال کے ساتھ احساسِ شرم و حیا کی حس کو غیرمحسوس طور پر بے حس بنانے کا ذریعہ ہے، تاکہ ناظرین غیر شعوری طور پر اس ہندوانہ اورمغربی ثقافت کی طرف راغب ہو جائیں۔

مجوزہ آرڈی ننس کا مختصر جائزہ

آئین پاکستان کسی پارلیمنٹ یا وزارت کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ کوئی بھی قانون اسلامی شریعت کی بنیادی تعلیمات کے منافی بنایا جا سکے۔ایسی قانون سازی آئین کی خلاف ورزی اور ریاست مدینہ کی ضد ہے۔اس لیے ایسی تجاویز کو کسی بھی صورت میں ملکی قانون کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا:

    ۱-      مجوزہ آرڈی ننس’ خصوصی عدالتوں‘ کے قیام کا مشورہ دیتا ہے۔ اگر معروضی طور پر دیکھا جائے تو حدود آرڈی ننس کا نفاذ بھی اسی غرض سے کیا گیا تھا، تو کیا اس کے جاری ہونے سے جرائم کے روک تھام میں کمی واقع ہوئی؟

    ۲-  ’زنا بالجبر سے حفاظت کے شعبے‘ (Anti Rape Crises Cells) کے قیام کی تجویز ہے ، جس کا سربراہ ایک کمشنر یا ڈپٹی کمشنر ہو گا۔سوال یہ ہے کہ کیابیوروکریسی ہی کے اختیارات میں اضافہ اس مسئلے کا حل ہے؟اور کیا یہ افسران اس خصوصی معاملے میں کسی خاص مہارت کی بنا پر مقرر کیے جائیں گے؟

    ۳-  ایف آئی آر کے جلد اندراج اور کیمیاوی اور فرانزک تجزیے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تو آج بھی موجود ہے، لیکن کیا یہ مؤثر ہے؟ہمارے موجودہ انتظامی اور سماجی نظام میں کیا ایک مجروح فرد کسی بااثر فرد کے خلاف ایف آئی آر کٹوا سکتا ہے؟

    ۴-  متاثرہ فرد سے عدالت کے کمرے میں جرح کا حق صرف وکیل کو دیا جا رہا ہے، کیا اس طریقے سے متاثرہ فرد کو اپنی بات کہنے میں سہولت ہو جائے گی ؟

    ۵-  کیا متاثرہ فرد کو سرکار کی جانب سے قانونی امداد ایک قابلِ عمل تجویز ہے ؟

    ۶-  کیا مقامی پولیس افسران پر مشتمل جے آئی ٹی کے قیام سے غیر جانب دار تحقیق و تفتیش ممکن ہوسکے گی؟

    ۷-  کیا صرف جنسی جرائم کرنے والوں کی تفصیلات یک جا کر کے اس برائی کو دُور کیا جا سکتا ہے؟

    ۸-  کیازنا کی ایک نئی تعریف جو دور غلامی میں انگریز کی وضع کردہ تعریف سےبہت مختلف نہیں ہے ، اس کی بنیاد پر جرم کی کثرت و شدت میں کمی یا قانون کی گرفت میں اضافہ ہوسکے گا؟

    ۹-      جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ ایک عادی مجرم کو جنسی صلاحیت سے کیمیاوی یا جراحی طریقے سے محروم کرنے کا عمل کیازنا کے (ماقبل) مختلف مراحل کو بھی روکنے کا باعث بن جائے گا؟عقل اور تجربہ اس بات کو ماننے پر آمادہ نہیں ہیں،یا ایک مجروح سانپ کی طرح ایسا مجرم مزید انتقامی جذبات میں مبتلا ہو جائے گا۔

اسلام نے تو ’توبۃ النصوح‘ کا مفہوم یہ سمجھایا ہے کہ فرد اپنے اندر سے یہ عہد کرے کہ  وہ خلوصِ دل کے ساتھ دوبارہ اس غلطی کا ارتکاب نہیں کرے گا۔کیا مروجہ فرسودہ نظام میں کوئی جزوی تبدیلی مجرم میں اس احساس کو بیدار کر سکتی ہے ؟

معاشرتی پہلو

جنسی اخلاقیات کا نظر انداز کیا جانا معاشرے کی صحت و استحکام کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ اگر رشتوں کی حرمت و احترام کی اہمیت کو کم یا ختم کر دیا جائے تو ایک بچہ اور بچی اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔

پاکستان میں بیرونی امدادسے چلنے والی این جی اوز، جو اسی موضوع پر کام کرنے کی دعوے دار ہیں۔ ان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مجرمانہ حملہ کرنے والے سب اجنبی نہیں تھے، ان میں رشتہ دار، پولیس والے، پڑوسی اور اجنبی کے علاوہ ڈرائیور، اور ڈاکٹر اور اساتذہ تک شامل ہیں۔ اس زمینی حقیقت کے پیش نظر ایک نام نہاد نظامِ عدل جو ۱۸۶۰ء کے برطانوی قانون میں  زنا کی تعریف ( ’’زنا دراصل ایک شادی شدہ خاتون کے اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف کسی دوسرے فرد سے تعلق کا نام ہے‘‘ )کے بل پر چل رہا تھا، اور جو تعریف حدود آرڈی ننس کے آنے تک ہمارے قانون میں برقرار تھی، وہ معاشرے کو کچھ نہ دے سکی۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ اسی قانون کے دفاع میں ایک معروف این جی او کی لیڈر نے یہ بات لکھی تھی کہ ’’۱۸۶۰ءکا قانون خواتین کے لیے رحمت تھا‘‘۔ایسے اسلام کے منافی قانون میں آپ جتنے پیوند اور ایسے دیمک شدہ درخت میں جتنے قلم صحت مند شاخوں کے لگالیں نتیجہ ڈھاک کے تین پات ہی ہوگا۔

دینی نقطۂ نظر

 اسلام دینِ کامل کے طور پر فرد اور معاشرے کے مسائل کو ایک فطری اور اخلاقی زاویے سے حل کرنا چاہتا ہے اور محض نظری طور پر نہیں بلکہ عملاً ٹھوس تاریخی حقائق کے ساتھ ان مسائل کا کامیاب حل ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ جو فساد اور غیر اخلاقی رویہ آج مغرب و مشرق کی پہچان بن گیا ہے، یہی مشکل کل اسلام سے قبل دنیا کی تھی۔ وہ عرب ہو یا عجم یا روم اور افریقہ کے افراد، سب اخلاقی زوال کا شکار تھے۔

اسلام کی عالمی اخلاقی اقدار نے محض ۲۳ سال کی مدت میں وہ فرد اور معاشرہ پیدا کر دیا، جو آج بھی للہیت، اعلیٰ اخلاق کریمانہ اور عفو درگذر، اُلفت و اخوت کے ساتھ قانون کے احترام کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ جو مقدمات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنسی معاملات میں پیش کیے گئے وہ کسی پولیس یا خفیہ ادارے کا کارنامہ نہیں تھے، بلکہ ایک فرد کا اپنا ضمیر اسے اس بات پر مجبور کرتا تھا کہ اس سے جس غلطی کا ارتکاب ہو گیا، اسے اس سے پاک و صاف کر دیا جائے۔ یہ اندر کا مفتی اسے بے چین رکھتا تھا۔ اسے کسی جابر و قاہر قاضی یا فوجی حکمران کا خوف اقرار پر نہیں اُبھارتا تھا۔

مسئلے کا حل محض بوسیدہ قانون میں پیوند کاری نہیں ہے۔ جس مقصد اور نصب العین کے لیے پاکستان وجود میں آیا، وہ قائد اعظم کے اپنے الفاظ میں اسلامی نظریۂ حیات کو اس خطے میں نافذ اور رائج کرنا تھا، اور یہ کام محض صدارتی حکم نامے سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے تعلیم، ابلاغ عامہ، قانون سازی،گھر کے اندر کے ماحول، نام نہاد ثقافتی سرگرمیوں، غرض تمام معاشرتی، معاشی، سیاسی، تعلیمی اور قانونی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ یہ ایک انفرادی اور اجتماعی شخصیت کی تعمیرنو ہوگی۔ ایک نیا انسان وجود میں آئے گا، جس کی زندگی ،جس کا مرنا ،جس کی عبادت و قربانی، جس کی فکر اور عمل، جس کی معیشت، سیاست، غرض اس کی تمام سرگرمیاں اس اخلاق فاضلہ کی پابند ہوں گی جسے قرآن کریم نے تمام انسانوں کے لیے اسوۂ حسنہ اورایک قابل عمل مثالی کردار و سیرت قرار دے کر ہم پر اپنے خصوصی فضل کا اظہار فرمایا ہے۔ قرآن اور سنت کا دیا ہوا اخلاق وہ قوت فراہم کرتا ہے جو شیطان کی ہر چال اور اس کے ہر جال کو تار تار کر سکتی ہے۔ یہ خاموش انقلاب کسی تشدد کے بغیر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری انسانیت کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچا سکتا ہے۔

ضرورت یہ ہے کہ زندگی سے دورنگی، دو عملی اور تضادات کو نکال کر، صرف اور صرف اللہ کو اپنا رب اور حاکم بنالیا جائے۔ یہ شعوری قدم قوم کی قسمت جگانے اور اسے اخلاقی زوال، فحاشی کے سیلاب اور بداعمالیوں کی دلدل سے نکالنے کے لیے کافی ہے۔ آغاز اپنے گھر سے کرنا ہوگا، اپنی تعلیم گاہ سے، اپنے کاروبار کے ادارے سے___ غرض جہاں کہیں بھی کوئی باشعور مسلمان ہے، وہ کسی بیرونی امداد کے بغیر اس مقدس کام کا آغاز کر سکتا ہے۔ یہ اجتماعی جدوجہد اس بڑے اور وسیع شیطانی سیلاب کےسامنے بند باندھ کر معاشرے کے رُخ کوتباہی کے بجائے بھلائی کی طرف موڑسکتی ہے۔ اس ابتدائی اور بنیادی کام کے بغیر محض قیادت یا چہروں کی تبدیلی سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔ ہمیں توحید، معروف، عدل، صداقت اور حیا کا نظام قائم کرنا ہو گا۔اسلامی نظام ایمان، عزم اور خونِ جگر کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ صبر و استقامت کے ساتھ طویل جدوجہد کا متقاضی ہے۔

اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ ہُمْ مُّحْسِنُوْنَ۝۱۲۸ۧ (النحل۱۶:۱۲۸)  بے شک اللہ پرہیز گاروں اور احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۝۴ (التوبۃ۹:۴،۷) بے شک اللہ پرہیز گاروں سے محبت رکھتا ہے۔

وَاللہُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ۝۱۹ ( الجاثیہ ۴۵:۱۹) اللہ تقویٰ والوں کا کارساز ہے۔

یہ آیات اس حقیقت کی وضاحت کے لیے کافی ہیں کہ گناہ سے اجتناب سے انسان کو اللہ کی رحمت اور اس کی نصرت نصیب ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو گناہوں سے بچاتے ہیں اور پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں، ا للہ ربُّ العزت انھیں پسند فرماتا ہے، اور جسے اللہ پسند فرمائے اور جسے مالک الملک اپنی نصرت کا یقین دلائے ،اس کی سرخروئی و کامیابی میں کیا شبہہ ہو سکتا ہے ۔

ان آیات سے اللہ کی نگاہ میں تقویٰ والوں کا محبوب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ تقویٰ ،جیسا کہ بخوبی معروف ہے، ایک ایسی باطنی صفت یا اندرونی خوبی کا نام ہے جو انسان میں گناہ سے نفرت اور نیکی کی رغبت پیدا کرتی ہے۔ اس صفت سے متصف یا متقی ہونے کا مطلب ہی ہے اللہ کی عظمت و کبریائی کے احساس، اس کے خوف اور روزِ جزا باز پرس کے ڈر سے گناہوں سے بچنے والا اور خیر کی راہ میں آگے بڑھنے والا۔ در حقیقت اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری و باز پرس کا احساس ہے جو انسان کو اللہ کی نافرمانی سے بچاتا ہے اور گناہوں سے دور رکھتا ہے۔ گناہ سے اپنے کو دُور رکھنا (جس کی طرف لوگوں کی توجہ کم جاتی ہے) بہت بڑی نیکی ہے۔ اسے دیگر متعدد آیات میں ’احسان‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ نکتہ ان آیات سے بھی منکشف ہوتا ہے، جن میں اللہ کے سامنے حاضری و جواب دہی کے خوف سے اپنے کو ہوا وہوس، یعنی گناہ کے کاموں سے بچنے والوں کو جنّت کی بشارت دی گئی ہے:

وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَى النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰى۝۴۰ۙ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِيَ الْمَاْوٰى۝۴۱ (النٰزعٰت: ۷۹ :۴۰-۴۱) اور جو بھی اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو بے جا خواہشات سے دور رکھا تو جنّت اس کا ٹھکانا ہے۔

یہاں یہ پیشِ نظر رہے کہ گناہ سے اجتناب اللہ کی نگاہ میں اس وجہ سے محبوب ہے کہ   اس میں نفس کے خلاف مجاہدہ ،خواہشات کی قربانی اور رضائے الٰہی کی خاطر لذائذ و مرغوبات کو تیاگ دینا ہے۔ ایک حدیث میں نفس کے خلاف جہاد کرنے والے کو اصل مجاہد کہا گیا ہے۔ ارشادِ نبویؐ ہے:

المُجَاھِدُ مَن جَاھَدَ نَفسَہٗ ،مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔ (جامع ترمذی، ابواب فضائل الجہاد،باب ماجاء فی فضل فی من مات مرابطاً ۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں: سید سلیمان ندوی ،سیرۃ النبیؐ ، محولہ بالا، ۵؍ ۲۷۶ )

قرآن کریم میں انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اللہ کی عبادت کو قرار دیا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۝۵۶  (الذاریٰت۵۱:۵۶) ’’اور میں نے جن وانسان کو اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے‘‘ ۔ حقیقت یہ کہ ممنوعات یا گناہوں سے بچنا اللہ کی عبادت و بندگی کا تقاضا ہے۔بلاشبہہ اللہ کی عبادت کا تقاضا اسی وقت پورا ہوسکتا ہے،جب عبادت بجا لانے والا اپنے کو اللہ ربُّ العزت کی مرضیات کے حوالے کردے ، ہر معاملہ میں اس کی اتباع کرے اور  ان تمام کاموں سے اپنے کو دُور رکھے جو اللہ کی ناراضی کا موجب بنتے ہیں۔

یہ بات یقینی ہے کہ منہیات سے قریب جانا اللہ کی ناراضی مول لینا ہے اور ان سے کُلّی اجتناب کرنا خوشنودیِ الٰہی کا مستحق بننا ہے۔ اس لیے کہ گناہ سے اجتناب میں بڑی آزمایشوں سے گزرنا پڑتا ہے اور ان میں سب سے سخت آزمایش اندرونی و بیرونی دشمن ( نفس و شیطان) سے جنگ ہے۔ اہم بات یہ کہ حدیث میں اس شخص کو سب سے بڑا عبادت گزار(أَعْبَدَ النَّاسِ) بتایا گیا ہے جو ’ محارم‘ ( حرام چیزوں) سے بچے ۔

 حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ایک طویل حدیث ِ نبویؐ کا پہلا حصہ ملا حظہ ہو: اتَّقِ المَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ(جامع ترمذی،ابواب الزہد عن رسولؐ اللہ،باب من اتّقٰی المحارم اعبد الناس )۔ حرام کاموں سے بچو تو سب سے زیادہ عبادت گزار بن جاؤ گے۔اس حدیث کے حوالے سے نامور فقیہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی یہ وضاحت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔خود انھی کے الفاظ میں:’’ پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا کہ اتَّقِ المَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ   ،یعنی تم حرام کاموں سے بچو تو تم تمام لوگوںمیں سب سے زیادہ عبادت گذار بن جاؤ گے۔حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملہ کے ذریعے یہ حقیقت واضح فرما دی کہ فرائض وواجبات کی تعمیل کے بعد سب سے زیادہ اہم چیز مومن کے لیے یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ناجائز وحرام کاموں سے بچائے،نفلی عبادتوں کا معاملہ اس کے بعد آتا ہے۔اگر کوئی شخص اس دنیا میں اپنے کو گناہوں سے بچالے تو ایسا شخص سب سے زیادہ عبادت گزار ہے،چاہے وہ نفل زیادہ نہ پڑھتا ہو۔

 حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملے کے ذریعے ایک بہت بڑی غلط فہمی کا ازالہ فر مایا ہے، وہ یہ کہ ہم لوگ بسااوقات نفلی عبادتوں کو تو بہت اہمیت دیتے ہیں،مثلاً نوافل پڑھنا، تسبیح، مناجات،تلاوت وغیرہ،حالانکہ ان میں سے کوئی ایک کام ایسا نہیں ہے جو فرض ہو۔ چاہے نفلی نمازیں ہوں،یا نفلی روزے ہوں یا نفلی صدقات ہوں،ان کوتو ہم نے بڑی اہمیت دی ہوئی ہے، لیکن گناہوں سے بچنے کا اور ان کو ترک کرنے کا اہتمام نہیں۔یاد رکھیں کہ یہ نفلی عبادات انسان کو نجات نہیں دلا سکتیں،جب تک انسان گناہوں کو نہ چھوڑے‘‘۔(اصلاحی خطبات، کتب خانہ نعیمیہ،دیوبند،۲۰۰۷ء، جلد۱۶،ص ۹۰-۹۱)

 انسان کے جسمانی نظام میں قلب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی صحت و درستی پر نہ صرف جسمانی نظام کی بہتری و عمدہ کارکردگی منحصر ہوتی ہے، بلکہ فکر ی و عملی نظام کی اصلاح و پاکیزگی بھی اسی پر موقوف ہے۔ اللہ کی نگاہ میں محبوب بننے اور اس کی قربت سے مشرف ہونے کے لیے قلب کی تطہیر،نفس کا تزکیہ، یعنی بُرے خیالات کی آلودگی و گناہ کی آلایشوں سے دل کو صاف رکھنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر دل اللہ کی محبت کے لائق نہیں بن سکتا۔  یہ حقائق ان آیات کی روشنی میں اچھی طرح سمجھے جاسکتے ہیں جن میں یہ ذکر ملتا ہے کہ اللہ ربّ العزت کن لوگوں کو پسند فرماتا ہے اور کن کو ناپسند ۔ قرآن کے مطابق اللہ ان لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے جو کفر و انکارِ حق، ظلم و زیادتی، فتنہ و فساد، کبر و غرور،خیانت و بد دیانتی،اسراف و فضول خرچی اور ناشکری یا کسی بھی گناہ کے کام میں مبتلا ہیں ( آل عمران ۳: ۳۲ ؛ ا لروم۳۰:۴۵؛ البقرۃ۲:۱۹۰؛ آل عمران ۳:۵۷،۱۴۰؛ المائدۃ ۵:۸۷؛ الشوریٰ۴۲:۴۰ ؛ البقرۃ ۲:۲۰۵؛ المائدۃ۵:۶۴؛ القصص ۲۸: ۷۷؛ النساء ۴:۳۶؛ النحل ۱۶:۲۳؛ الحدید۵۷:۲۳ ؛ القصص ۲۸:۶ ۷ ؛ النساء۴:۱۰۷؛ الانفال۸: ۵۸؛ الحج۲۲: ۳۸ ؛ الاعراف ۷:۳۱ ؛ البقرۃ ۲:۲۷۶ )۔

l آفات و مصائب کاسبب:اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے اعمال کیسے موجبِ خیر بنتے ہیں اور اسے ناراض کرنے والے اعمال کس طرح انسان کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں؟ اس کی وضاحت ایک حدیث قدسی سے ملتی ہے۔ حضرت ابو درداءؓ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مفہوم یہ ہے کہ فرمانِ الٰہی ہے کہ میں اللہ ہوں،میرے سوا کوئی معبود نہیں۔میں بادشاہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔میں بادشاہوں کا مالک ہوں، بادشاہوں کا بادشاہ ہوں…  لہٰذا اے میرے بندو! [ایسی حالت میں ] ان بادشاہوں کو کوسنے اور انھیں بد دُعا دینے کے بجائے میری یاد میں لگ جاؤ اور [حالات میں تبدیلی کے لیے] ذکر اورتضرع ( رو نے اور گڑگڑانے ) میں مصروف ہوجاؤ۔ میں ان بادشاہوں ( کے شر سے حفاظت کے) لیے تمھاری کفایت کروں گا،یعنی تمھیں اپنی نصرت سے نوازوں گا (محمدابن عبداللہ الخطیب تبریزی، تحقیق : محمد ناصر الدین الالبانی)، مشکوٰۃ المصابیح [کتاب الامارۃ والقضا، الفصل الثالث]، منشورات المکتب الاسلامی، دمشق، ۱۳۸۱ھ؍ ۱۹۶۱ء ، ۲؍ ۳۲۸۔۳۲۹)۔

بلاشبہہ گنا ہ کا ارتکاب،چاہے صغیرہ ہو یا کبیرہ، اللہ کی نافرمانی ہے۔ ( اگر اس کی معافی نہیں ہوئی تو ) ا نسان دنیا میں بھی اس کے وبال سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔اس کا خمیازہ کسی نہ کسی صورت میں اسے بھگتنا پڑتا ہے یا پڑے گا ۔ قرآن و حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ برے اعمال یا گناہ کے کام اللہ کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں اور ان کا وبال پریشانیوں و مصیبتوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے:

ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۴۱( الروم۳۰:۴۱) خشکی اور تری میں ہر طرف فساد برپا ہوگیا لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے،تاکہ وہ انھیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ اللہ سے رجوع کر لیں[ اور بُرے اعمال سے باز آجائیں ] ۔

صاحبِ معارف القرآن تفسیر روح المعانی  کے حوالے سے اس آیت کی تفسیر میں    رقم طراز ہیں: ’’ فساد سے مراد قحط اور وبائی امراض اور آگ لگنے اور پانی میں ڈوبنے کے واقعات کی کثرت اور ہر چیز کی برکت کا مٹ جانا،نفع بخش چیزوں کا نفع کم نقصان زیادہ ہو جا نا وغیرہ آفات ہیں اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان دنیوی آفات کا سبب انسان کے گناہ اوراعمالِ بد ہوتے ہیں،اور یہی مضمون ایک دوسری آیت میں اس طرح آیا ہے:  وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَۃٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۝۳۰ۭ (الشوریٰ ۴۲:۳۰ ) تمھیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمھارےہاتھوں کی کمائی کے سبب ہے،یعنی ان معاصی کے سبب جو تم کرتے رہتے ہو اور بہت سے گناہوںکو تو اللہ تعالیٰ معاف ہی کردیتے ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو مصائب اور آفات تم پر آتی ہیں ان کا حقیقی سبب تمھارے گناہ ہوتے ہیں۔گرچہ دنیا میں نہ ان گناہوں کا پورا بدلہ دیا جاتا ہےاور نہ ہر گناہ پر مصیبت و آفت آتی ہے،بلکہ بہت سے گناہوں کو تو معاف کردیا جاتا ہے۔بعض گناہ پر ہی گرفت ہوتی ہے اور آفت و مصیبت بھیج دی جاتی ہے۔اگر ہر گناہ پر دنیا میں مصیبت آیا کرتی تو ایک انسان بھی زمین پرزندہ نہ رہتا،مگر ہوتا یہ ہے کہ بہت سے گناہوں کو حق تعالیٰ معاف ہی فرمادیتے ہیں اور جو معاف نہیں ہوتے ان کا بھی پورا بدلہ دنیا میں نہیں دیا جاتا،بلکہ تھوڑا سا مزہ چکھایاجاتا ہے، جیساکہ اسی آیت کے آخر میں فرمایا:  لِيُذِيْقَهُمْ  بَعْضَ الَّذِىْ  عَمِلُوْا (الروم ۳۰:۴۱)،یعنی تاکہ چکھا دے اللہ تعالیٰ کچھ حصہ ان کے بُرے اعمال کا‘‘ (معارف القرآن، مکتبہ مصطفائیہ،دیوبند، ۶؍ ۷۵۲-۷۵۳) ۔

مذکورہ بالا آیت کی اس ترجمانی کے حوالے سے یہ اشکال ہو سکتا ہے کہ انبیا کرامؑ اور اللہ کے نیک و متقی بندے بھی مصائب و مشکلات سے دوچار ہوتے رہے ہیں۔ اس کا جواب مفسرین نے اس طور پر دیا ہے کہ آیت میں گناہوں کو مصائب کا سبب ضرور بتایا گیا ہے ،لیکن اسے علتِ تامّہ یا سببِ واحد کے طور پر نہیں ذکر کیا گیا ہے، یعنی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب بھی کسی پر کوئی مصیبت آپڑے اس کا گنہگار ہونا لازمی ہے۔بعض اوقات مصائب و مشکلات آزمایش و امتحان اور اس سے کامیابی کے ساتھ گزر جانے کی صورت میںرفعِ درجات کے لیے ہوتی ہیں۔انبیا کرامؑ کے تعلق سے مصائب و پریشانیوں سے یہی مقصود رہا ہے اور کسی بھی دور میں نیک لوگوں کے مصائب و پریشانی سے دوچار ہونے پر ان کی یہی علّت یا حکمت سمجھنی چاہیے(معارف القرآن، ۶؍۷۵۴-۷۵۵)۔

 ا وپر کی باتوں سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ انسان کے لیے مصائب و مشکلات سے نجات کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ وہ ربِّ کریم کو راضی کر لے ،یعنی اپنے آپ کو ان تمام کاموں سے دور رکھے جنھیں اللہ تعالیٰ نا پسند فرماتا ہے ۔ بلاشبہہ گناہوں سے بچنے سے اللہ کی خوش نودی نصیب ہو تی ہے اور یہ بالآخر موجبِ رحمت و قربتِ الٰہی بنتی ہے ۔ یہاں یہ واضح رہے کہ سورۃ البقرۃ میں اوامر یا نواہی کے ذکرکے بعد نو مقامات پر فرمانِ الٰہی ہے: وَاتَّقُوْااللہَ۔اس آیت کا ترجمہ مختلف طور پر (اللہ سے ڈرو، اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرو، اللہ کی ناراضی سے بچو،اللہ کے غضب سے بچو) کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ کہ یہ اللہ کا خوف ہی ہے جو انسان کو اللہ رب العزت کی نافرمانی،اس کی ناراضی کے کاموں یا اس کے غضب سے بچنے پر اُبھارتا ہے۔

 اسی ضمن میں اس جانب متوجہ کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ گنا ہ کا ایک دنیوی وبال یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے، اور گناہ سے بچنے کا ایک فیض یہ ہے کہ اس سے نیک اعمال کی توفیق نصیب ہوتی ہے ۔ یہ نکتہ خود قرآن کریم کی بعض آیات سے سامنے آتا ہے۔ سورۃ المومنون کی آیت:۵۱ يٰٓاَيُّہَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا۝۰ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ۝۵۱ۭ  ’’ اے رسولوؑ! پاک چیزیں کھاؤ اور عمل صالح کرو،بے شک میں اس سے با خبر ہوں جو تم کرتے رہتے ہو‘‘کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے یہ واضح فرمایا ہے : ’’علما نے فرمایا کہ ان دونوں( پاک روزی و عملِ صالح) کو ایک ساتھ لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ حلال غذا کا عملِ صالح میں بڑا دخل ہے۔جب غذا حلال ہوتی ہے تو نیک اعمال کی توفیق خود بخود ہونے لگتی ہے اور غذا حرام ہو تو نیک کام کا ارادہ کرنے کے باوجود بھی اس میں مشکلات حائل ہوجاتی ہیں ‘‘ (معارف القرآن، ۶؍ ۳۱۶)۔ بلا شبہہ حرام مال کمانا اور اسے استعمال کرنا سخت گنا ہ ہے۔ اس کے بہت نقصانات میں سے یہ بھی ہے کہ آمدنی یا مال سے برکت اُٹھ جاتی ہے، جسمانی، ذہنی و فکری صلاحیت متاثر ہوتی ہے، اور حرام مال سے اولاد کی پرورش پر بھی اس کا بُرا اثر پڑتا ہے۔

ایک جدید عربی تفسیر’ نظرات فی کتاب اللہ کی مؤلفہ محترمہ زینب الغزالی نے بھی مذکورہ آیت کے حوالے سے حلال روزی کی برکات کو بڑے اچھے انداز میں واضح کیا ہے۔ متعلقہ حصہ کا اردو ترجمہ ملا حظہ ہو: ’’ پھر اللہ نے اپنے رسولوں اور تمام مخلوقات کو حکم دیا کہ وہ حلال اور پاکیزہ کما ئی کھائیں اور نیک اعمال کریں۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حلال عملِ صالح میں معاون بنتا ہے۔  اللہ سبحانہٗ ظاہراو ر باطن ہر چیز سے واقف ہے۔حلال کی تلاش برکت کا سبب ہے۔اسی طرح حلال کی تلا ش سے انسان کو عمل صالح میں تعاون ملتا ہے۔حلال کھانے کا نفس پر بڑا اچھا اثر پڑتا ہے،جس کے نتیجے میں نفس خیر کی طرف متوجہ  ہوتا ہے اور برائی سے باز رہتا ہے،کیوں کہ بدن کی غذا اگر حرام ہے تو بدن پر تاریکی چھا جاتی ہے ،اگر حلال ہے تو جسم میں نور اور صالح قوت پیدا ہوتی ہے جو ہدایت کا سبب بنتی ہے‘‘ (زینب الغزالی، اردومترجم:عبد الحمید اطہر ندوی،نظرات فی کتاب اللہ، المنار پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی،۲۰۲۰ء،۲؍۴۹۸)

l دُعا     کی قبولیت:مزید یہ کہ گناہوں سے اجتناب کی ایک بہت بڑی برکت یہ ہے کہ اس سے دعاؤں کی قبولیت کی راہ ہموار ہوتی ہے،یعنی رزقِ حلال استجابتِ دعا کا مستحق بنا تا ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی لائقِ توجہ ہے کہ حرام کمائی دعاؤں کی قبولیت میں حارج بنتی ہے۔ ہادیِ برحق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکلِ حلال کی تعلیم دیتے ہوئے ایک دفعہ مذکورہ بالا آیت اور سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۶۸ (يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ كُلُوْا مِـمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا)کی تلاوت فرمائی اور پھر صاف لفظوں میں واضح کیا کہ حرام روزی کھانے والوں کی دعا قبول نہیں ہوتی، خواہ وہ بار باردونوں ہاتھ پھیلا کر رب سے دعا کیوں نہ کرتے رہیں۔ اس حدیث میں بڑی عبرت و نصیحت ہے:

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو! اللہ پاک ہے اور پاک چیزہی قبول کرتا ہے اور اللہ نے جس کا م کا حکم پیغمبروں کو دیا تھا اسی کا حکم مومنوں کو دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں سے فرمایا ’’تم سب پاک چیز کھاؤ اور تم جوکچھ کروگے میں اس سے با خبر ہوں‘‘۔ اور اللہ تعالیٰ نے مو منین سے فرمایا ’’مومنو! ہم نے جو چیزیں تم کو عطا کی ہیں ان میں سے پاک چیزیں کھاؤ‘‘۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا ذکر کیا جس نے لمبا سفر اختیار کیا اور جس کے بال پریشاں و گرد آلود ہورہے ہیں اور وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر کہہ رہا ہے: اے پروردگار، اے پروردگار (یعنی دعا مانگ رہا ہے) [ لیکن حالت یہ ہے کہ ] اس کا کھانا بھی حرام، پینا بھی حرام ہے، لباس بھی حرام ہے اور غذا بھی حرام۔ پھر کیوں کر اس کی دعا قبول ہوسکتی ہے] ۔ (صحیح مسلم )

مزید اہم بات یہ کہ روزانہ صبح کو جن دعاؤں کا مانگنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول رہا ہے، ان میں یہ دُعا بھی شامل تھی:

اللّٰھُمَّ اَنِّی اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَ رِزْقًا طَیَّبًا وَ عَمَلًا متقبّلًا  (سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلوٰۃ، باب یقالُ بعد التسلیم) اے اللہ میں تجھ سے نفع بخش علم ، پاک روزی او ر ( تیری بارگاہ میں ) مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن چیزوں کی توفیق طلب فرماتے تھے ان کے موجبِ خیر و برکت ہونے میں کیا شبہہ ہو سکتاہے۔

مختصر یہ کہ گناہ کے ارتکاب کے دنیوی و اخروی نقصانات میں سے سب سے بڑا نقصان اللہ ربّ العزت کی ناراضی ہے۔ سچ یہ کہ جس سے اللہ ناراض ہوجائے اسے کہاں پناہ مل سکتی ہے؟ بلاشبہہ ہر انسان ہر حال میں اللہ کی مدد کا محتاج ہوتا ہے اور ہر ایک اس کی نصرت کا طلب گار ہوتا ہے۔ قرآن کا بہت ہی صاف صاف اعلان ہے:

 يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللہِ۝۰ۚ وَاللہُ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ۝۱۵ (فاطر۳۵ :۱۵) اے لوگو! تم سب ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بے نیاز اوراللہ( ہر حال میں) لائقِ حمد و ستایش ہے۔

موجودہ حالات میں ، جب کہ طرح طرح کے مصائب و مسائل کا سامنا ہے،اللہ سے رجوع اور اس کی نصرت طلب کرنے کی ضرورت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔اس لیے یہ ہمارے لیے انتہائی ضروری ہوگیا ہے کہ ہم اپنے آپ کو ان تمام کاموں سے دور رکھیں جو اللہ کو ناپسند ہیں، گناہ سے خود بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں ۔ بلا شبہہ اللہ کو راضی کرنے کا یہ بڑا مؤثر ذریعہ ہے ۔ حقیقت یہ کہ ربِ کریم کو راضی کیے بغیر ہمارا کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں اور نہ مصائب و مشکلات ہی سے نجات ملنے والی ہے۔ اللہ کرے یہ حقیقت اچھی طرح ہم سب کے ذہنوں میں بیٹھ جائے۔

دعوت وتبلیغ کے دوران قرآن سنانے کا التزام جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، اسی چیز کا اہتمام کرنا آپؐسے تربیت پانے والے صحابہ کرامؓ کے مزاج کا حصہ بن گیا تھا۔

تلاوت قرآن سے نجاشی پر رقت طاری ہونا

نبوت کے پانچویں سال قریش کے مظالم سے تنگ سو کے قریب مسلمان مردوخواتین جب ہجرت کر کے حبشہ پہنچ گئے تو قریش کو یہ بھی گوارا نہ ہوا کہ ان کے آبائی دین کے باغی ایک دوسرے ملک میں امن وعافیت کی زندگی گزاریں اور ان کا دین وہاں پھلے پھولے۔چنانچہ قریش کے ایک اجتماعی فیصلے کے تحت سیاسی وسفارتی امور کے ماہر عمروبن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کی دورکنی سفارت حبشہ کے دربار میں بھیجی گئی۔ اس سفارت نے وہاں پہنچ کر پہلے درباری امرا اور عیسائی پیشواؤں کو قیمتی تحائف پیش کر کے انھیں اپنے موقف کا ہم نوا بنایا۔انھیں اس نئے دین کے خطرے سے آگاہ کیا جس کے ماننے والے حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا نہیں مانتے تھے اور کہا کہ یہ لوگ آپ کے مذہب کے لیے بھی اتنا ہی خطرہ ہیں جتنا ہمارے آبائی دھرم کے لیے۔

پھر نجاشی کے دربار میں پہنچ کر اسے شاہی آداب کے مطابق سجدہ کیا، رؤسائے مکہ کی طرف سے اعلیٰ عربی نسل کا گھوڑا اور نفیس ترین ریشمی جبہ بطور نذرانہ پیش کیا اور باد شاہ سے درخواست کی کہ آپ کے ملک میں ایک نئے دین کے پیرو کار ہمارے پیچھے بھاگ کر آ گئے ہیں ۔ ہمیں ان کے سرپرستوں نے اس لیے بھیجا ہے کہ آپ انھیں ہمارے ساتھ واپس بھیج دیں تا کہ وہ آپ کے پُرامن ملک میں اپنی تبلیغ سے کوئی فتنہ نہ کھڑا کر دیں جیسے انھوں نے مکہ میں کیا ہوا ہے ۔ درباری امرا اور پادریوں نے ان کے موقف کی حمایت کی لیکن نجاشی نے کہا کہ دوسرے فریق کی بات سنے بغیر فیصلہ کرنا خلاف انصاف ہو گا۔ چنانچہ مسلمانوں کو بھی دربار میں حاضری کا حکم ہوا۔ جب مسلمان دربار میں حاضر ہوئے تو انھوں نے شاہی آداب کے مطابق نجاشی کو سجدہ نہ کیا تو درباریوں نے اس پر ناک بھوں چڑھایا۔ مہاجرین کے ترجمان حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب نے عمروبن عاص کے پیش کیے گئے موقف کی ایک ایک دلیل کا توڑ کیا، پھر دین اسلام اور اللہ کے رسولؐ کی رسالت کے خصائص اور نمایاں تعلیمات بتائیں۔ اور آخر میںنجاشی کی خواہش پر سورئہ مریم، سورئہ کہف، سورئہ روم اور سورئہ عنکبوت کے ابتدائی حصے تلاوت کیے۔

اکثر روایات میں صرف سورۂ مریم کے ابتدائی حصے کے پڑھنے کا ذکر ملتا ہے لیکن شیخ عبداللہ بن محمدبن عبدالوہاب نے کتاب مختصر سیرت الرسول میں ان چار سورتوں کے پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔ یہ چاروں سورتیں ہجرت حبشہ کے قریبی زمانے میں نازل ہوئی تھیں اور سورۂ کہف کی ابتدا میں دین مسیح قبول کرنے کے نتیجے میں باد شاہ کے مظالم سے بچنے کے لیے غار میں پناہ لینے والے چند نوجوانوں کا تحسین آمیز ذکر ہے ۔ سورۂ روم میں روم کے عیسائی حکمرانوں کے غلبے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جب کہ اس وقت ایران نے رومی عیسائیوں کا بھرکس نکال دیا تھا اور سورۂ مریم میں حضرت یحییٰ ؑو مریم ؑکی پاکیزگیِ کردار اور حضرت عیسیٰؑ کی معجزانہ پیدایش کا ذکر ہے۔ اس لیے گمان غالب ہے کہ مسیحی باد شاہ کے دربار میں حکمتاً حضرت جعفرؓ نے ان حصوں کا انتخاب کیا۔

تمام روایات میں ذکر ہے کہ آیات الٰہی سن کر نجاشی پر رقّت طاری ہو گئی ،آنکھیں پُرنم ہوگئیں اور بے اختیار وہ پکار اُٹھا:’’خدا کی قسم! یہ کلام اور انجیل دونوں ایک ہی چراغ کے پر تو ہیں۔ یہ تو وہی رسول ہیں جن کی خبر یسوع مسیح ؑنے دی تھی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے ان کا زمانہ ملا‘‘۔

نجاشی نے مکے کی سفارت کو کہا کہ میں ان لوگوں کو تمھارے سپرد نہیں کروں گا۔اگلے دن عمروبن عاص نے پادریوں سے مل کر باد شاہ کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرنے کے لیے دربار میں یہ مسئلہ اٹھادیا کہ مسلمان حضرت عیسیٰ ؑکو عیسائیوں کی طرح اللہ کا بیٹا نہیں مانتے۔ یہ بڑا نازک مسئلہ تھا۔ اگر مسلمان نجاشی کے عقیدہ کے خلاف اپنا عقیدۂ توحید بیان کرتے تو نجاشی کی مذہبی عصبیت ان کے خلاف بھڑک سکتی تھی لیکن مسلمانوں نے سچی بات کے کہنے کا عزم کیا اور بھرے دربار میں کہا کہ حضرت عیسیٰؑ اللہ کے بندے ، اس کے رسول، اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری اور پاکدامن حضرت مریم ؑکی طرف القاء کیا اور یہ کہنے کے بعد حضرت جعفر طیارؓ نے سورئہ مریم کے ابتدائی دورکوع تلاوت کیے۔

یہ سن کر نجاشی نے اپنی مسواک سے ایک بار یک تنکا لیا اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’واللہ جو کچھ تم نے بیان کیا ہے، حضرت عیسیٰؑ اس سے اس تنکے کے برابر بھی بڑھ کر نہ تھے۔ یہ ضرور وہی رسول ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ ؑ نے دی تھی، جن کا تذکرہ ہم انجیل میں پاتے ہیں۔اللہ کی قسم! اگر باد شاہت کی ذمہ داری نہ ہوتی تو میں خود ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے جوتے اٹھاتا‘‘۔ اپنے غلط عقیدے کی عصبیت میں جب پادری بُڑ بُڑائے تو نجاشی نے انھیں بھی یہی حقیقت بیان کی ۔ نجاشی نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے والوں پر جرمانہ عائد کر دیا۔ اہل مکہ کے تحائف انھیں واپس لوٹا دیئے۔ شاہی مصلحت کے تحت اس نے اپنے قبولِ اسلام کا اظہار تو نہ کیا البتہ چند سال بعد وہ علانیہ مسلمان ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ حضرت جعفر طیارؓ نے دونوں مرتبہ اپنی تقریر کے دوران قرآن سنایا اور اس کے حیرت انگیز اثرات مسلمانوں کے حق میں ظاہر ہوئے (مسند احمد، فتح الباری، ج۲، ص ۱۳۰، البدایہ،ج۳،ص ۶۹، بیہقی، طبرانی،ج۶، ص۳۱)۔

یہ کلام الٰہی کا ہی اعجاز تھا کہ کافروں نے درباری امراء وپیشواؤں کو اپنا ہم نوا بنایا، باد شاہ کو قیمتی تحائف دیے ،باد شاہ کےعقیدے کے خلاف ایک نازک بحث کو چھیڑا ، اس کے باوجود باد شاہ مسلمانوں کے حق میں مہربان رہا۔ایک حکمران قوم کے دربار میں اس کے عقیدے کے خلاف عقیدے کے بیان کو نہ صرف برداشت کرنا بلکہ سراہنا قرآن کی تاثیر سے ہی ممکن ہوا۔

قرآن ___ فاتح مدینہ

حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ مدینہ کافاتح قرآن ہے۔ ابو نعیم نے امام زہری سے مروی یہ حدیث بیان کی کہ انصار مدینہ نے حضرت معاذ بن عفراء اور رافع بن مالک کو حضوؐرکی خدمت میں یہ پیغام دے کر مکے بھیجا کہ آپؐ اپنے ہاں سے ہمارے پاس ایک ایسا آدمی بھیج دیں جو لوگوں کو کتاب اللہ سنا کر دعوت دے ۔ کیونکہ اس کی بات ضرور قبول کی جائے گی۔ چنانچہ حضوؐر نے حضرت مصعب ؓ بن عمیر کو ان کے ساتھ مدینے بھیج دیا۔

اسی مضمون کی حامل ایک تفصیلی روایت حضرت عروہؓ بن زبیر سے مروی ہے کہ جب انصار قبول اسلام کے بعد یثرب چلے گئے تو اگلے سال حج کے موقع پرانھوں نے حضور ؐ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ دعوت دینے کے لیے کتاب اللہ کا عالم ان کے پاس بھیجیں ۔حضورؐ نے حضرت مصعب ؓ بن عمیر کو ان کے ساتھ یثرب روانہ کر دیا۔ وہ بنی غنم میں حضرت اسعدؓ بن زرارہ کے ہاں ٹھیرے۔ وہ لوگوں کو حضورؐ کی باتیں بتاتے اور قرآن پڑھ کر سناتے، حتیٰ کہ ہر گھر میں کچھ نہ کچھ مسلمان ہو گئے اور ان کے سرداروں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ یثرب میں حضرت مصعب ؓ بن عمیر کو ’مُقرِی(قرآن پڑھانے والا)کے نام سے پکارا جاتا تھا(حلیۃ الاولیاء،ج۱،ص۱۰۷)۔ طبرانی کی ایک روایت کے مطابق حضرت مصعب ؓ نے قرآن سنا کر انھیں حضورؐ اور دین کی طرف دعوت دی۔

حضرت مصعبؓ بن عمیر نے قرآن کے ذریعے کس طرح دعوت دی اور اس کے کیا اثرات ظاہر ہوئے؟ اس بارے میں عبداللہ بن ابی بکر کی ایک طویل اور دلچسپ روایت اوّلین سیرت نگار ابن اسحاق نے بیان کی ہے۔ ہم اختصار کے ساتھ وہ حصہ بیان کریں گے جو براہِ راست ان کی دعوت بالقرآن سے متعلق ہے:

  • حضرت اسعد ؓبن زرارہ ایک دن حضرت مصعبؓ بن عمیر کو تبلیغ کے لیے بنو عبدالا شہل اور بنو ظفر کے باغات میں لے گئے۔ وہ مرق نامی کنویں پر بیٹھے تھے۔ حضرت سعدؓ بن معاذ اور حضرت اُسیدؓ بن حضیر ان خاندانوں کے سردار تھے اور اس وقت تک مشرک تھے۔ انھیں جب اپنے باغ میں حضرت اسعد ؓ بن زرارہ اور حضرت مصعبؓکے مجلس لگانے کی خبر ملی تو سعد بن معاذ نے اپنے دوست اُسَید سے کہا:’’تم ان دونوں آدمیوں کے پاس جا کر انھیں کہو کہ وہ ہمارے آدمیوں کو بیوقوف نہ بنائیں اور یہاں سے چلتے بنیں۔ اسعدؓ بن زرارہ سے اگر میری رشتہ داری نہ ہوتی تو میں یہ کام خود کر لیتا ‘‘۔اسید بن حضیر اپنا نیزہ لے کر اہل مجلس کی طرف گئے اور مجلس سے دُور کھڑے ہو کر حضرت اسعدؓ اور حضرت مصعبؓ کو گالیاں بکنا شروع کر دیں اور کہا کہ اگر تم کو جان عزیز ہے تو یہاں سے چلتے بنو۔

حضرت مصعبؓ نے نہایت تحمل سے کہا: ’’ذرا بیٹھ کر ہماری بات تو سن لو ۔ اگر پسند نہ آئے تو ہم آپ کی ناپسندیدہ بات سے رک جائیں گے‘‘۔ اسید نے جواباً کہا:’’تم نے انصاف کی بات کی ‘‘۔ یہ کہتے ہوئے نیزہ زمین میں گاڑ کر مجلس میں بیٹھ گئے ۔حضرت مصعب ؓ نے اسلام کے بارے میں ان سے بات کی اور انھیں قرآن پڑھ کر سنایا۔ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ قرآن سنتے ہی اُسید کے چہرے کی چمک اور رقت سے انھیں محسوس ہو گیا کہ یہ اسلام ضرور قبول کر لیں گے۔ چنانچہ اُسید نے کہا:یہ کتنا اچھا اور عمدہ کلام ہے۔پھر کلمۂ شہادت پڑھ کر داخلِ اسلام ہوگئے۔اس کے بعد حضرت اُسیدؓ نے ان دونوں سے کہا:’’میرے پیچھے ایک شخص ہے، میں اسے تمھارے پاس بھیجتا ہوں۔ اگر اس نے تمھاری بات مان لی تو ان کے قبیلے کا کوئی فرد بھی ان سے پیچھے نہ رہے گا‘‘۔یہ دیکھ کر حضرت اُسید ؓ بن حضیر جلدی جلدی سعد بن معاذ کے پاس گئے اور انھیں ایسی بات کہی کہ وہ مجلس کی طرف چل پڑے۔

سعد بن معاذ نے بھی کھڑے کھڑے انھیں بُرا بھلا کہا اور پھر اسعدؓ بن زرارہ سے کہا:’’اللہ کی قسم !اگر تم میرے خالہ زاد بھائی نہ ہوتے تو تم ہمارے محلے میں ایسا کرنے کا سوچ بھی نہ سکتے‘‘۔حضرت مصعب ؓ نے ان سے کہا:’’اللہ کے بندے بیٹھ کر ہماری بات تو سن لو، اگر پسند آئے تو قبول کر لینا اور اگر پسند نہ آئے تو ہم آپ کی ناپسندیدہ بات پر اصرار نہیں کریں گے‘‘۔ یہ سن کر سعد نے کہا:’’آپ نے انصاف کی بات کہی ‘‘۔یہ کہہ کر انھوں نے اپنا نیزہ زمین میں گاڑا اور مجلس میں بیٹھ گئے۔ حضرت مصعبؓ نے اسلام پیش کیا اور انھیں قرآن پڑھ کر سنایا۔ موسیٰ بن عقبہ کا بیان ہے کہ انھوں نے سورئہ زخرف کی ابتدائی آیات سنائیں۔ قرآن سنتے ہی حضرت سعدؓ کے چہرے کی چمک اور نرمی سے دونوں مبلّغین نے محسوس کر لیا کہ یہ بھی اسلام قبول کر لیں گے۔ چنانچہ انھوں نے کلمۂ شہادت پڑھا۔ اور شام تک بنی عبدالا شہل کے تمام مردوعورت مسلمان ہو چکے تھے(البدایہ،ج۳،ص ۱۵۲)۔

  • ابن اسحاق کے مطابق یثرب کے قبیلہ بنو سلمہ کے ایک سردار عمروبن جموع کے بیٹے معاذ مسلمان ہو گئے ، لیکن عمروبن جموع سختی سے بت پرستی پر قائم رہے۔ ان کے بیٹے ان کے بت کو غائب کر دیتے اور وہ پھر تلاش کر کے اس کی پوجا کرتے بالآخر بت کی اس بے بسی سے مایوس ہوگئے اور ایک دن اپنے بیٹے سے کہنے لگے:’’اس آدمی (محمدؐ) کا جو کلام تم سنتے ہو،وہ مجھے بھی سناؤ‘‘۔ ان کے بیٹے معاذ نے سورئہ فاتحہ پڑھ کر سنائی تو عمرو نے کہا:’’کیا ہی حسین و جمیل کلام ہے! کیا ان کا سارا ہی کلام ایسا ہے؟‘‘بیٹے نے کہا:ابّا جان ، اس سے بھی زیادہ اچھا ہے‘‘۔چنانچہ عمروبن جموع مسلمان ہو گئے(حیاۃ الصحابہ ،ج۱،ص ۳۰۲)۔
  • حضرت ابو امامہؓفرماتے ہیں کہ مجھے حضورؐ نے میری قوم کی طرف دعوت دین دینے کے لیے بھیجا ۔ میں ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔بعد ازاں میں نے ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی۔ اسی دوران کھانے کا ایک بڑا برتن آیا جس کے گرد سب کھانے کے لیے بیٹھ گئے۔انھوں نے مجھے بھی کھانے کی دعوت دی تو میں نے کہا:’’میں ایسی ذاتِ گرامی کی طرف سے آیا ہوں جو اللہ کا نازل کردہ یہ حکم سناتے ہیں کہ جو جانور ذبح نہ کیا گیا ہو، وہ حرام ہے‘‘۔انھوں نے پوچھا:’’وہ حکم کیسے ہے؟‘‘۔ میں نے کہا:’’اللہ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی ہے:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُہِلَّ لِغَيْرِ اللہِ بِہٖ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوْذَۃُ وَالْمُتَرَدِّيَۃُ وَالنَّطِيْحَۃُ وَمَآ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ۝۰ۣ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ۝۰ۭ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ ط (المائدہ ۵:۳) تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیاگیا ہو، وہ جو گلا گھٹ کر، یا چوٹ کھاکر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو  سوائے اُس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کر لیا  اوروہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ نیز یہ بھی تمھارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب افعالِ فسق ہیں۔

میں ان کو اسلام کی دعوت دینے لگا لیکن وہ اس کا انکار کرتے رہےبالآخر کچھ عرصے بعد وہ مسلمان ہو گئے(طبرانی ، مستدرک حاکم، ج۳،ص ۶۴۱، ہیثمی، ج۹، ص ۳۸۷)۔

میدانِ جنگ میں دعوت بالقرآن

lصحابہ کرامؓ میدانِ جنگ میں بھی دعوت بالقرآن کا اہتمام کرتے تھے اور وہ اس طریقے پر حضوؐر کے بعد بھی کاربند رہے۔واقدی کے مطابق جنگ یرموک (عہد فاروقی میں لڑی گئی) کے دن رومی لشکر کے سرداروں میں سے جرجہ نامی ایک سردار نے حضرت خالدؓ بن ولید سے اسلام کے متعلق بہت سے سوال کیے۔ حضرت خالدؓ بن ولید نے اس کے تمام سوالوں کے جواب دیے۔ ایک جواب یہ دیا کہ نبیؐ کے پاس آسمان سے خبریں آتی تھیں۔ وہ ہمیں قرآن سناتے تھے اور ہمیں معجزے دکھاتے تھے۔ جرجہ کو جب اطمینان ہو گیا تو اسی موقع پر وہ مسلمان ہو گئے اور پھر رومی فوج کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہو گئے(البدایہ، ج۷،ص ۱۲، الاصابہ، ج۱، ص ۲۶۰)۔

ابن مسعودؓ کا بیت اللہ میں قرآن سنانا

عہد رسالتؐ میں باطل کے اوپر نظریاتی برتری کا سب سے بڑا ہتھیار مسلمانوں کی نظر میں قرآن تھا۔ جس کے سننے سنانے کے مواقع مسلمان پیدا کرتے رہتے تھے۔

مکے میں ایک مرتبہ اصحابِ رسولؐ آپس میں کہنے لگے کہ قریش نے آج تک با ٓواز بلند تلاوت نہیں سنی۔ کوئی ایسی صورت ہو کہ ان کے سامنے کلام الٰہی سنایا جائے۔یہ سن کر نوخیز لڑکے عبداللہ بن مسعودؓ نے فوراًخود کو اس کام کے لیے پیش کیا۔اگلی صبح جب حسب معمول حرم میں قریش کی مجالس برپا ہو گئیں تو حضرت عبداللہؓ بن مسعود نے با ٓواز بلند قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔ مشرکین مکہ کچھ دیر سکتے کے عالم میں سنتے رہے بالا ٓخر مشتعل ہو کر ابن مسعودؓ پر پِل پڑے۔ ان کے جسم کے کئی حصوں سے خون بہنے لگا۔ لیکن وہ پٹتے جا رہے تھے اور قرآن سناتے جا رہے تھے، حتیٰ کہ انھوں نے جو سورت شروع کی تھی وہ مکمل ہو گئی ۔ ابن مسعودؓ جب سوجے ہوئے چہرے کے ساتھ اصحابِ رسولؐ کے پاس پہنچے تو انھوں نے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا :’’اے ابن ام عبد! اسی خدشے کی وجہ سے ہم تمھیں روک رہے تھے‘‘۔یہ سن کر دبلے پتلے ابن مسعودؓ نے کہا:’’اللہ کی قسم! مشرکین کے بڑے بڑے سردار مجھے اتنے کمزور کبھی دکھائی نہ دیئے تھے جتنے وہ آج دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے توارادہ کر لیا ہے کہ کل پھر انھیں کلام الٰہی سناؤں گا۔ یہ سن کر سب صحابہؓ نے کہا:جس کلام کو سننا مشرکین کو سخت ناگوار تھا، اس کو تم نے ان کے کانوں تک پہنچانے کا حق ادا کردیا۔ اتنا ہی کافی ہے‘‘(سیرۃ ابن کثیر،ج۱،ص۴۴۴)۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بآواز بلند تلاوت

حضرت ابو بکرصدیقؓ بھی کافروں کو قرآن سنانے کے لیے دستیاب مواقع کو پورا استعمال کرتے تھے ۔حضرت ابو بکرؓ جب حبشہ کی طرف ہجرت کے ارادے سے نکل کر مکہ سے دور چلے گئے تو راستے میں انھیں قبائل احابیش کا سردار ابن دغنہ مل گیا۔ وہ آپؓ کے اخلاق فاضلہ کا قدر دان تھا۔ آپؓ کو اپنی پناہ میں لے کر واپس مکہ لے آیا۔ حضرت ابو بکرؓ جب اپنے گھر میں بلند آواز سے تلاوت کرتے اور کافروں کی عورتیں، بچے اور نوجوان مکانوں پر چڑھ کر اور دیواروں سے لگ کر آپؓ کی پُرسوز تلاوت قرآن سننے کے لیے جمع ہونے لگے تو کافروں نے ابن دغنہ پر دباؤ ڈالا۔ بالآخر اس نے حضرت ابو بکرؓ کو کہا کہ اگر وہ قرآن بلند آواز سے پڑھیں گے تو میں اپنی پناہ جاری نہ رکھ سکوں گا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ مجھے ایسی پناہ کی ضرورت نہیں جس میں مجھے تلاوت بھی اپنی مرضی سے کرنے کی اجازت نہ ہو (ابن ہشام ،ص۳۲۳)۔

قرآن___  تعلیمی و تربیتی نصاب

اللہ کے رسولؐ جس طرح دعوت دیتے ہوئے تلاوت قرآن کا اہتمام فرماتے تھے ایسے ہی لوگوں کے مسلمان ہو جانے کے بعد ان کی تربیت کے لیے بھی تعلیم قرآن کا اہتمام فرماتے۔

حضرت ابو ذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ قبول اسلام کے بعد میں مکہ میں حضوؐر کے پاس ٹھیرگیا۔ آپؐ نے مجھے اسلام سکھایا اور میں نے کچھ قرآن بھی پڑھ لیا‘‘(طبرانی)۔

  • حضرت انسؓ کی روایت کے مطابق حضرت عمرؓ جب اپنے بہنوئی سعید ؓ بن زید اور بہن فاطمہ ؓکی گوشمالی کے لیے ان کے گھر میں داخل ہوئے تو اس وقت حضرت خبابؓ بن ارت انھیں سورۂ طٰہٰ پڑھا رہے تھے۔ بہن اور بہنوئی کی مارپیٹ کے بعد جب حضرت عمر نرم پڑ گئے تو انھوں نے کہا کہ وہ کتاب جو تم پڑھتے ہو ، مجھے بھی دکھاؤ تا کہ میں بھی پڑھوں ۔پھر بہن کے کہنے پر غسل کیا اور صحیفہ سے سورۂ طٰہٰ پڑھنا شروع کی یہاں تک کہ وہ آیت ۱۴ پر پہنچے:  اِنَّنِيْٓ اَنَا اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا  فَاعْبُدْنِيْ۝۰ۙ وَاَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِذِكْرِيْ۝۱۴  ’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس میری ہی عبادت کیا کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو‘‘۔یہ پڑھتے ہی عمر بن خطاب نے کہا:’’مجھے محمدؐ کے پاس لے چلو‘‘!بعدازاں اسلام قبول فرمالیا (طبقات ابن سعد، ج۳، ص۱۹۱)۔
  • حضرت ضمادؓ ازدی جو زمانۂ جاہلیت میں جنّات وآسیب اور پاگل پن کے علاج کے لیے جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے اور ان کے دَم کی شہرت دُور دُور تک تھی،جب مکے آئے تو سردارانِ قریش نے انھیں نبیؐ کے علاج کے لیے آپؐ کے پاس بھیجا۔لیکن آپؐ کی گفتگو سے متاثر ہو کر انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔پھر وہ دین سیکھنے کے لئے ٹھیر گئے۔ان کے بقول اس دوران انھوں نے بہت سی سورتیں یاد کر لیں اور پھر اپنی قوم میں واپس چلے گئے (مسلم،بیہقی،البدایہ ،ج۳، ص۳۶)۔
  • حضرت رافعؓ سے صحیح سند کے ساتھ ایک واقعہ مستدرک حاکم میں مذکور ہے کہ حضرت رافع اور ان کے خالہ زاد حضرت معاذ بن عفراء عمرہ کے لیے مکہ پہنچے تو شہر سے باہر ہی ان کی ملاقات رسول اکرمؐ سے ہو گئی ۔آپؐ نے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ کچھ سوال جواب ہوئے اور بالآخر دونوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ حضورؐ نے انھیں سورۂ یوسف اور سورۃ العلق کی تعلیم دی (بحوالہ صالحی دمشقی،سہل الھدیٰ،ج۳،ص۲۶۴)۔
  • مستدرک حاکم میں حضرت جابرؓ بن عبداللہ کی ایک طویل روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضوؐر کی تصدیق کی اور یثرب میں آپؐ کو ٹھکانہ دینے کی پیش کش کی۔ پھر ہمارے آدمی ایک ایک کر کے حضورؐ کے پاس مکہ جاتے رہے اور آپؐ پر ایمان لاتے رہے اور آپؐ ان کو قرآن سکھاتے رہے۔وہاں سے جو آدمی مسلمان ہو کر گھر واپس آتا تو اس کے اسلام کی وجہ سے اس کے گھر والے مسلمان ہو جاتے(حیاۃالصحابہ،ج۱،ص۴۸۵)۔
  • حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے ہمارے پاس مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر اور عبداللہ بن اُمّ مکتوم آئے اور یہ دونوں ہمیںقرآن پڑھانے لگے (بخاری)۔
  • حضرت کعبؓ بن مالک کی روایت کے مطابق بیعت عقبہ ثانیہ میں جب انصار مدینہ نے عرض کی کہ آپؐ اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے ہم سے جو عہد لینا چاہیں ، لے لیں تو حضورؐ نے کچھ گفتگو فرمائی ، قرآن پڑھ کر سنایا، سب کو اسلام کی دعوت اور ترغیب دی اور اس بات پر بیعت لی کہ جن چیزوں سے تم اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہو، ان تمام چیزوں سے میری بھی حفاظت کرو گے(مجمع الزوائد،ج۶،ص۴۲،البدایہ،ج۳،ص۱۶۰)۔

تعلیم قرآن کی مجالس

روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضورؐ کی تعلیم وتربیت کے باعث صحابہ کرامؓ خود بھی اپنے طور پر تعلیم قرآن کی مجالس کا اہتمام کرتے اور حضورؐ ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔

  • حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ میں ضعفاء ومہاجرین میں بیٹھا ہوا تھا۔ ان لوگوں کے پاس اتنا کپڑا بھی نہ تھا کہ جس سے پورا بدن ڈھانپ سکیں۔ ایک شخص قرآن پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں حضوؐر تشریف لے آئے اور بالکل ہمارے قریب آ کر کھڑے ہو گئے۔ آپؐ کی آمد کے باعث پڑھنے والا چپ ہو گیا تو حضورؐ نے سب کو سلام کیا اور پوچھا کہ تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ ہم نے کہا:’’اللہ کا کلام سن رہے تھے‘‘۔حضوؐر نے فرمایا:’’تعریف اس اللہ کی جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے کہ مجھے ان میں ٹھہرنے کا حکم دیا گیا ہے‘‘۔ اس کے بعد حضورؐ ہمارے درمیان بیٹھ گئے(سنن ابو داؤد)۔
  • حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا:اشعری قبیلہ کے ساتھی جب رات کو قرآن پڑھتے ہیں تو میں ان کی آواز پہچان لیتا ہوں۔اور رات کو قرآن پڑھنے کی آواز سن کر ان کی قیام گاہوں کو معلوم کر لیتا ہوں چاہے میں نے دن کی روشنی میں ان کی قیام گاہیں نہ بھی دیکھی ہوں(بخاری،مسلم)۔
  • اللہ کے رسولؐ صحابہؓ کی تربیت اور خود اپنی تذکیر کے لیے صحابہ کرامؓ کی تلاوت سنا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔میں نے کہا:میں آپ کو کیا سناؤں گا ،آپ پر تو خود قرآن نازل ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:’’مجھے دوسروں سے سننا اچھا لگتا ہے‘‘۔پھر میں نے سورۂ نساء پڑھنا شروع کی یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچ گیا:

فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّۃٍؚ بِشَہِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي ہٰٓؤُلَاۗءِ شَہِيْدًا۝۴۱ۭ  (النساء۴:۴۱) ’’اس دن کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو بھی ان لوگوں پر گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے ‘‘۔پھر آپؐ نے فرمایا: ’’رُک جاؤ‘‘۔ میں جب تلاوت سے رک گیا تو دیکھا کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے(بخاری، کتاب التفسیر)۔

قرآن سیکھو اور سکھاو ٔ

قرآن کو سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا وہ عمل ہے جس کے کرنے والے کو اللہ کے رسولؐ نے سب سے بہتر قرار دیا: خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہٗ (بخاری، نسائی، ترمذی، ابوداؤد)۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام قبول کرنے والے ہر نو مسلم کے لیے دین کو سمجھنے کے لیے قرآن سیکھنا ضروری قرار دیا۔گویا یہ ہر مسلمان کی تربیت کے لیے لازمی نصاب ہے۔

عمیر بن وہب جمحی نبیؐ کو قتل کرنے کے ارادے سے مکے سے مدینے پہنچا۔ حضوؐر کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ اپنے قیدی بیٹے کی رہائی کے لیے آیا ہے جو جنگ بدر میں قید ہو گیا تھا۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم مجھے قتل کرنے کے ارادے سے آئے ہواور تم نے صفوان بن امیہ کے ساتھ حطیم کعبہ میں بیٹھ کر منصوبہ بنایا ہے۔ صفوان نے تیرا قرض اتارنے اور تیرے اہلِ وعیال کے زندگی بھر کے اخراجات اٹھانے کی ذمہ داری لی ہے۔ یہ ایسا معاملہ تھا کہ صفوان اور عمیر کے سوا کسی اور کو اس کا علم ہی نہیں تھا۔ عمیر سمجھ گئے کہ یہ ضروراللہ نے انھیں بتایا ہے چنانچہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔اب رسولؐ اللہ نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کر کے فرمایا: فقّھوا ،اپنے بھائی میں دین کی سوجھ بوجھ پیدا کرو، قرآن پڑھاؤ اور اس کے قیدی کو آزاد کر دو(سیرت ابن ہشام، ص۵۹۵) ۔

مذکورہ بالا بحث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ بھی حضورؐ کی طرح دعوت وتبلیغ میں تلاوتِ قرآن کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ حضورؐ نومسلموں کو قرآن کے مختلف حصوں کی تعلیم کا اہتمام کرتے اور تعلیم قرآن کا اہتمام کرنے والے صحابہ کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے ۔ صحابہ کرامؓ کافروں کو قرآن سنانے کے مواقع پیدا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قرآن کی عظمت کلام کے سامنے وہ بے بس ہیں۔ مشرکین بھی قرآن کی تاثیر کلام سے خوف زدہ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قرآن کے سننے سنانے کے عمل کے نتیجے میں ان کے غلبے کا ٹوٹ جانا یقینی ہے: 

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْہِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ۝۲۶ (حم السجدہ۴۱:۲۶) یہ کافر کہتے ہیں کہ اس قرآن کو ہرگز نہ سنو، اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو، شاید کہ اسی طرح تم غالب آجاؤ۔

آج ہم جدید تعلیم یافتہ اور مغربی فکر سے متاثر لوگوں کو جدت پسندانہ مباحث سے متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ دشمن کو زیر کرنے کے لیے ہمیں ہتھیار اس چیز کو بنانے کی ضرورت ہے جس کا توڑ ہمارے دشمن کے پاس نہیں ہے اور وہ ہے اللہ کا کلام۔

جاویدنامہ میں علامہ اقبالؒ پیرروم ،مولانا جلا ل الدین رومیؒ کےساتھ عالم خیال میں عالم علوی کی سیاحت پر جاتے ہیں۔ فلک قمر، فلک عطارد، فلک زہرہ، فلک مریخ، فلک مشتری اور فلک زحل سے گزتے ہوئے عالم بالا اور جنت الفردوس میں پہنچتے ہیں۔ ہرفلک پر ان کی ملاقات زمانہ ماضی کی بلند شخصیات کی اَرواح سے ہوتی ہے اور ہرشخصیت کےپیغام کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی زبانی اقبال اپنا پیغام، ملّت کو سناتے ہیں۔ فلک مشتری پر بھی بزرگ روحوں سے ان کی ملاقات ہوتی ہے۔ ان اَرواح جلیلہ میں منصور حلاج کی روح بھی شامل ہے۔ اقبالؒ جس کا نام پیرروم نے عالمِ اَرواح میں اس کا تعارف کرنے کے لیے ’زندہ رُود‘ رکھا ہے، حلاج سے سوال کرتا ہے:

نقشِ حق را در جہاں انداختند
من نمی دانم چساں انداختند

جن لوگوں نے دُنیا میں حق کا نقش قائم کر دیا ہے، میں نہیں جانتا کہ انھوںنے یہ کام کس طریق پر کیا ہے؟

حلاج جواب دیتے ہیں:

یا بزورِ دلبری انداختند
یا بزورِ قاہری انداختند

زانکہ حق در دلبری پیدا تراست
دلبری از قاہری اولیٰ تراست

یا محبت کے زور پر قائم کیا ہے یاقہر اور جبر کے زور پر قائم کیا ہے لیکن چونکہ ذاتِ حق محبت اور رحمت کی صفات میں نمایاں ہے، اس لیے دلبری، یعنی محبت، قاہری، یعنی جبروقہر سے بہترہے۔

دورِ جدید ایک نئے نظام کا محتاج ہے جو انسانوں کو واقعی ایک برادری میں پرو دے۔ اگرچہ فاصلے سمٹ گئے ہیں اور ذرائع مواصلات اور ابلاغ نے حقیقتاً دُنیا کو ایک گلوبل ولیج، یعنی ایک عالمی قریہ بنا دیا ہے، لیکن مل جل کر رہنے کا کوئی عادلانہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے اس عالمی قریے میں فساد برپا ہے۔ انسانیت خوف میں مبتلا ہے۔ انسان انسان کا دشمن اور اس کے خون کا پیاسا ہے۔ انسانوں نے اپنی تباہی کا سامان خود اپنے ہاتھوں کرلیا ہے۔ بڑی طاقتیں اس پورے کرئہ ارض پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ امریکا غروروتکبر میں مبتلا ہوکر دوسری قومیتوں کے لوگوں کو کم تر سمجھتا ہے اور ان کے خون کو کوئی وقعت نہیں دیتا۔ بے انصافی اور ظلم کی وجہ سے کمزور اور مظلوم اقوام میں ردعمل ہے اور وہ مایوسی کے عالم میں انتقام کا ہرحربہ استعمال کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ دنیا کو اس خوف اور فساد اور تباہی سے بچانے کے لیے نقش حق کیسے قائم ہوگا؟ اس سوال کا جواب حلاج نے دیا ہے کہ نقش حق کو قائم کرنے کے لیے محبت کا پیغام زیادہ مؤثر ہے۔ اگرچہ   اس نے اعتراف کیا ہے کہ قوتِ قاہرہ سے بھی حق کا کام لیا گیا ہے اورلیا جاسکتا ہے، لیکن اس کا اصل ذریعہ دعوت و محبت ہے۔ اسی مطلب کو اقبالؒ نے دوسری جگہ تفصیل سے بیان کیا ہے:

دبدبۂ قلندری ، طنطنۂ سکندری
آں ہمہ جذبۂ کلیمؑ، ایں ہمہ سحر سامری

آں بہ نگاہ می کُشد ، ایں بہ سپاہ می کُشد
آں ہمہ صلح و آشتی، ایں جنگ و داوری

ہر دوجہاں کشاستند ، ہر دو دوام خواستند
ایں بہ دلیلِ قاہری، آں بہ دلیلِ دلبری

ضرب قلندری بیار ، سدِّ سکندری شکن
رسمِ کلیمؑ تازہ کُن ، رونقِ ساحری شکن

دبدبۂ قلندری سراسر جذبۂ کلیم ہے اور طنطنۂ سکندری سراسر سحر سامری ہے۔ قلندری دبدبہ کردار کی قوت سے زیر کرتی ہے، جب کہ سکندری قوت افواج کے ذریعے زیر کرتی ہے۔ دونوں قوتیں عالم کو فتح کرنے والی ہیں اوردونوں قوتیں دائمی بالادستی کی تلاش میں ہیں لیکن قلندری اور روحانی قوت محبت اوردلبرانہ انداز سے غلبہ چاہتی ہیں، جب کہ سکندری قوت جوراور جبر سے فتح کرنا چاہتی ہیں۔ ایک قلندرانہ ضرب پیدا کرکے سدّسکندری کو توڑدے۔ کلیمی طریق کار کا احیا کرکے سامری کی چمک دمک کونابود کردے۔

مسلمانوں کے پاس اصل قوت دین حق کی قوت ہے۔ یہ عالمِ قرآنی ابھی ہمارے سینوں میں گم ہے اور دنیا سے بھی مخفی ہے اور خود ہماری نظروں سے بھی اوجھل ہے۔ ایک ایسا عالم جو رنگ ونسل کے امتیازات سے بالاتر ہے، جو بادشاہوں اورغلاموں کی تمیز سے ماورا ہے جو انسانوں کے اندر ہر طرح کی اُونچ نیچ سے آزاد ہے۔

اس عالمِ قرآنی میں انسان، زمین پر اللہ کا نائب ہے۔ انسان اس خلافت اورنیابت کا حقیقی حقدار اسی وقت بن سکتا ہے جب وہ اپنےاندر کے چھپے ہوئے اعلیٰ اخلاق وصفات کا ادراک پیدا کرے، ان اخلاق کو پروان چڑھائے اور ان بلند صفات اور اخلاق کا عملی نمونہ بن جائے۔ انسان کے اس بلندمقام کا ذکر کرتے ہوئے اقبال فرماتے ہیں:

برتر از گردوں مقامِ آدم است
اصل تہذیب احترامِ آدم است

انسان کا مقام آسمان سے بلند ہے۔ احترام آدم ہی اصل تہذیب ہے۔

مرد و زن ایک دوسرے سے وابستگی کے ذریعے کائنات کی صورت گری کرتے ہیں۔ خلافت ِ آدم کا فریضہ سرانجام دینے میں دونوں برابر کے شریک ہیں کیونکہ دونوں کو ایک نفسِ واحدہ سے پیدا کیا گیا ہے اور عورت کا احترام قائم کیے بغیر انسانی تہذیب حقیقی عروج تک نہیں پہنچ سکتی۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمارے لیے اور انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپؐ نے ایک مدت تک خلوت اختیار کی۔ اقبال نے اس کے اسرار کھولتے ہوئے بتایا ہے:

مصطفےٰؐ اندر حرا خلوت گزید
مدّتے جز خویشتن کس را ندید

نقشِ مارا دردلِ او ریختند
ملّتے از خلوتش انگیختند

مصطفےٰ ؐ نے غارِ حرا میں خلوت اختیار کی۔ ایک مدت تک اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھا۔ ہمارا نقش (ملت اسلامیہ کا نقش) اللہ نے اس کے دل میں ڈال دیا اور ان کی خلوت سے ایک قوم اُٹھائی۔

خلافت کے مقام بلند کا مستحق بننے کے لیے علم اور شوق دونوں کی ضرورت ہے۔ یہ عالمِ قرآنی کیا ہے؟ اس کی مختصر تشریح علامہ اقبالؒ ،سعید حلیم پاشاؒ کی روح کی زبانی عالمِ بالا کی سیرکے دوران فلک عطارد پر کرتے ہیں۔ فارسی اشعار کا اُردو ترجمہ پیش خدمت ہے:

سعیدحلیم پاشا کہتے ہیں: مغرب کے لوگوںکو زندگی علمی اور ذہنی ترقی سے ملی ہے، جب کہ مشرق کے لوگ عشق کو کائنات کاراز سمجھتے ہیں۔ علم کے ساتھ جب عشق شامل ہوجاتا ہے تو علم حق کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اور عشق کا کام علم اور زیرکی سے پختہ بنیادوں پر استوار ہوجاتا ہے۔ عشق جب علم اور ذہانت کے ساتھ مل کر برگ وبار لاتا ہے تو ایک نیاعالم وجود میں آتا ہے۔

اُٹھو اور ایک نئے عالم کی بنیاد ڈال دو اورعشق اور علم و عقل(زیرکی) دونوں کو اکٹھا کردو۔ مغربی اقوام کی روشنی ماند پڑگئی ہے۔ ان کی آنکھیں اگرچہ دیکھنے والی ہیں لیکن ان کے دل مُردہ ہوچکے ہیں۔ وہ اپنی ہی تلوار سے زخم خوردہ ہیںاور اپنے شکار کی طرح بسمل پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے انگور (شراب) سے سوزو مستی مت تلاش کرو۔ ان کے آسمانوں میں دوسرا عصر یا زمانہ نہیں ہے۔ زندگی کو سوزوساز تمھاری ہی آتش سے مل سکتا ہے۔ ایک نیاعالم پیدا کرنا تمھارا ہی کام ہے۔

مصطفےٰ کمال اتاترک نے تجدد کا نعرہ بلند کیا اور کہا کہ پرانے نقش کو مٹانے کی ضرورت ہے، لیکن اگر کعبہ میں فرنگیوں کے لات و منات رکھ دیئے جائیں تو اس کونئی زندگی نہیں مل سکتی۔ ترکوں کے ساز میں کوئی نیا آہنگ نہیں ہے۔ وہ جسے تازہ پیغام سمجھتا ہے، یہ فرنگیوں کا فرسودہ نظام ہے۔ مصطفےٰ کمال کے سینے میں دوسری سانس نہیں تھی اور اس کے ضمیر میں کوئی نیا عالم نہیں تھا۔  وہ موجودہ مغربی نظام کے ساتھ ہی جڑگیا اور موم کی طرح اسی کی تپش سے پگھل گیا۔

کائنات کے سینے میں نئے پہلو زمانے کی تقلید کرنے سے حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ ایک زندہ دل نئے زمانے اور نئے عصر پیدا کرتا ہے۔ تقلید کرنے سے اس کی جان چلی جاتی ہے۔ اگر مسلمان کی نظر رکھتے ہو تو اپنے ضمیر اور قرآن میں جھانک لے۔ قرآن کریم کی آیات میں سیکڑوں تازہ جہاں آباد ہیں۔اس کے ایک ایک لمحے میں بہت سارے زمانے لپٹے ہوئے ہیں۔ عصرحاضر کے لیے قرآن کا ایک جہاں کافی ہے۔ اگر تمھارے سینے میں سمجھنے والا دل ہے تو قرآن سے اس جہاں کوحاصل کرلو۔ بندۂ مومن اللہ کی آیات میں سے ہے۔ زمانہ اس کے جسم پر ایک قبا کی طرح ہے۔ جب اس کے جسم پر ایک جہان کہنہ اور بوسیدہ ہوجاتا ہےتو قرآن کریم اسے ایک دوسرا جہاں عطا کردیتا ہے۔

’زندہ رُود‘ اپنی بےبسی و بے کسی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے:

ہم زمین کے رہنے والوں کی کشتی ملاح سے محروم ہے۔ کسی کو معلوم نہیں ہے کہ عالمِ قرآن کہاں ہے؟

اس کا جواب جمال الدین افغانی ؒدیتے ہیں، وہ کہتے ہیں:

’’قرآنی جہاں ایک ایسا جہاں ہے جو ابھی ہمارے سینے میں گم ہے۔ ایک ایسا عالم جو ابھی ’قم‘ (اُٹھ کھڑا ہو جا) کے انتظار میں ہے۔ ایک ایساعالم جس میں خون ورنگ (نسل و نسب)کا امتیاز نہیں ہے،جس کی شام فرنگیوں کی صبح سے زیادہ روشن ہے۔ ایک ایسا عالم جوبادشاہوں اور غلاموں سے پاک ہے۔ مومن کے دل کی طرح وہ بے کراں ہے۔

’’یہ ایک ایسا خوب صورت عالم ہے کہ آپؐ کی ایک نظر کے فیض سے حضرت عمرؓکی زندگی میں اس عالم نے جڑ پکڑلی۔ وہ اَزل سے موجود ہے،لیکن ہرلمحہ نئے جلوؤں کے ساتھ جلوہ افروز ہوتا ہے اور اس عالم کے محکم اصول ہردم نیا برگ و بار لاتے ہیں۔ اس کا باطن ہرتغیر سے بے فکر ہے اوراس کا ظاہر ہردم ایک جہان تازہ کی نمود ہے‘‘۔

عالمِ قرآنی جس کی اس دنیا کو ضرورت ہے، خلافت آدم کے ساتھ ایک حکومت الٰہیہ کا تقاضا کرتا ہے، جس میں انسان انسان کا محتاج اور غلام نہ ہو۔ سب لوگ آپس میں بھائی بھائی ہوں اور ایک اللہ کی حکمرانی ہو۔ حکومت الٰہیہ کی تشریح علّامہ اقبالؒ سے سن لیجیے(ترجمہ:)

حق کا بندہ ہر مقام سے بے نیاز ہے۔ نہ وہ کسی کا غلام ہے نہ اس کا کوئی غلام ہے۔ بندۂ حق آزادبندہ ہے اوراس کی حکومت اورآئین اللہ کا عطا کردہ ہے۔ اس کی رسم و راہ اور اس کا دین اور آئین سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ کیا اچھا ہے، کیا بُراہے، کیا تلخ ہے اور کیا شیریں ہے، یہ سب وہ اللہ کے احکام سے معلوم کرتاہے۔ عقل خود غرض ہے اور وہ دوسروں کی بہبود اور فائدے کی بجائے صرف اپنے فائدے اور سود کی تلاش میں رہتی ہے، لیکن اللہ کی طرف سے جو وحی آئی ہے اس میں سب کی بھلائی اور بہبود کا خیال رکھا گیا ہے۔ مومن صلح اور جنگ کی حالت میں عدل کرنے والا ہوتا ہے۔ نہ وہ کسی سے رعایت برتتا ہے نہ کسی سے ڈرتا ہے۔ اللہ کے سوا جب کوئی دوسرا امرونہی کرنے والا بن جاتا ہے تو طاقت ور، کمزور پر ظلم ڈھاتا ہے۔ آسمان کے نیچے آمریت کے نتیجے میں جبر کا نظام قائم ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ کے سوا کسی کا آمر بن جانا کفر ہے۔

یہ حکومت الٰہیہ جو دورِ جدید کے مسائل کا حل ہے اور جو انسان کی مادی ضروریات کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی ضروریات کا بھی پورا لحاظ رکھتی ہے اور انسانوں کے درمیان عدل و انصاف اوربرابری کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے، کیسے قائم ہوسکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ قوتِ قاہرہ تو اس وقت حق کی قوتوں کے پاس نہیں ہے۔ حق کے پاس جو اصل قوت ہے، وہ تو بذاتِ خود حق ہی کی قوت ہے۔

لیکن حق کی قوت کے حُسن اور اس کی کشش کوآشکارا کرنے کے لیے لازم ہے کہ ایک گروہ ایسا موجود ہو، جس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اس حق کانمونہ ہو۔ اس کے لیے ایک نمونے کے معاشرے کی ضرورت ہے۔ یہ نمونے کا معاشرہ قائم کرنا، حق کا نقش قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمونے کا یہ معاشرہ مدینہ منورہ میں قائم کیا تھا۔ ابتدا میں یہ معاشرہ بزورِ دلبری، یعنی محبت کی قوت سے قائم کیا گیا تھا۔ اوس اور خزرج کے دونوں قبیلوں نے آپس میں صلح کرلی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ آنے کی دعوت دی اور بہ رضاورغبت ان کی حکومت کو تسلیم کیا۔ اس طرح مدینہ کی اسلامی ریاست بزور دلبری قائم ہوئی، لیکن حکومت قائم ہونے کے بعد ریاست کی قوت کو بھی اس ریاست کے استحکام، دفاع اور اس کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کیا گیا۔

ہمارے موجودہ زمانے میں محبت اوردعوت کے ذریعے دین اسلام کی اشاعت کا کام جاری ہے۔ مختلف جماعتیں اورمختلف مبلغین دین اسلام کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں اور خود امریکا اوریورپ میں اسلام اس وقت سب سے زیادہ تیزی کےساتھ پھیلنے والا دین ہے۔ اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اسلام دشمن قوتیں اسلام کے پھیلاؤ سے خائف ہیں۔ اگر دنیا میں کسی ایک ملک میں حقیقی اسلامی تعلیمات کے مطابق حکومت الٰہیہ قائم ہوجائے اور اس کی قیادت ایک ایسے گروہ کے پاس ہو جو دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیمات کے نفاذ کی حکمت سے آگاہی رکھتا ہو اوراس کی ترجیحات میں علم وحکمت کی اشاعت، عوام کی صحیح تعلیم و تربیت، تعلیمی اداروں اور میڈیا کے درست استعمال کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ یہ حکومت غربت اور احتیاج کو ختم کرنے اور عام آدمی کی بنیادی ضروریات روٹی، کپڑا اور مکان، تعلیم اور علاج کو اوّلیت دے اور بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرکے معیشت کو اپنے پاؤں پرکھڑا کردے، انسانی وسائل کو ٹھیک طرح ترقی دے، ٹکنالوجی اور صنعت کے میدان میں اور زرعی پیداوار میں خودکفالت حاصل کرلے توایک ترقی یافتہ اسلامی معاشرے کا نمونہ آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔

د نیا اُس اسلامی نمونے کی طرف متوجہ ہوگی جو بلند اخلاقی معیار بھی رکھتا ہو اور ساتھ ہی نظافت اور سلیقے میں بھی دوسرو ں سے آگے ہو۔ساتھ ہی وہ خوددار معاشرہ اور خوددار قوم ہو اور بھیک مانگ کر اپنی آزادی اور خودمختاری کو فروخت کرنےوالی قوم نہ ہو۔ اُمت مسلمہ کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اس کی تربیت اس نہج پر کرسکے۔ اس اُمت کے پاس انفرادی اورمادی وسائل موجود ہیں۔ جذبہ اور شوق موجود ہے لیکن قیادت کا فقدان ہے۔ یہ قیادت اس کے علما، صوفیا اور جدید تعلیم یافتہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردے اورانھیں اپنے اپنے تنگ دائروں سے باہر نکال کر مشترکات کی بنیاد پر اکٹھا کردے اور انھیں بلندی پر لے جاکر وسیع اُفق کا نظارہ کرادے۔ دُوراُفق کے پار گرد اُڑ رہی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ کوئی سوار اس گروہ سے نمودار ہونے والا ہے۔

مغرب کی چیرہ دستیوں سے انسانیت کراہ رہی ہے۔ دنیا کو ایک نئے نقش کی ضرورت ہے۔ ایک نئی زندگی ، ایک نیاعالم قرآنی جو اُمت مسلمہ کے ضمیر میں پوشیدہ ہے، اس جدید دنیا کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے جو اَزسرنو تعمیر جہاں کے لیے انسانیت کومتوجہ کرسکے:

فریاد ز افرنگ و دل آویزیٔ افرنگ
فریاد ز شیرینی و پرویزیٔ افرنگ

عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزیٔ افرنگ
معمار حرم! باز بہ تعمیر جہاں خیز

از خواب گراں ،  خواب گراں ، خواب گراں خیز
از خواب گراں خیز!

فرنگیوں اور ان کی دل آویزی سے فریاد ہے۔ فرنگیوں (مغربی اقوام) کی شیرینی اور پرویزی (استعمار) سے فریاد ہے۔ پوراعالم فرنگیوں کی چنگیزی و چیرہ دستیوں سے ویرانہ بنا ہوا ہے۔ اے حرم کے معمار! پھرسے دنیا کی تعمیر کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ گہری نیند سے بیدار ہوجاؤ۔ گہری نیند سے بیدار ہوجاؤ۔ گہری نیند سے بیدار ہوجاؤ۔

پلٹن میدان کے المیے کا آنکھوں دیکھا حال

یہ ۵۱ برس پہلے، ایک الم ناک دن تھا۔

جناب مجیب الرحمٰن شامی ، مدیر ہفت روزہ زندگی نے ۱۸جنوری ۱۹۷۰ء کو ڈھاکا میں جماعت اسلامی کے اس جلسۂ عام کی رُوداد ۲فروری ۱۹۷۰ء کو شائع کی، جس جلسے پر عوامی لیگ نے منظم حملہ کرکے جماعت کے تین کارکنوںکو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کیا، متعدد کو لاپتا کردیا اورمولانا مودودی کوجلسۂ عام میں تقریر نہیں کرنے دی۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے اخبارات نے اسے ’معمولی واقعے‘ کے طورپر ہی لیا۔سقوطِ مشرقی پاکستان،۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء سے ۲۳ماہ پہلے لکھی یہ تحریر، نوشتۂ دیوار تھی، جسے حکمرا ن فوجی گروہ نے پڑھنے کی زحمت نہ کی۔ اس ایک رُوداد میں شیخ مجیب اور عوامی لیگ کا فسطائی اور گھناؤنا چہرہ دیکھا جاسکتا ہے۔(ادارہ)

میں ۱۴جنوری [۱۹۷۰ء]کو ڈھاکا پہلی بار آیا تھا۔  پورے ڈھاکے میں شیخ مجیب الرحمٰن کےعظیم الشان جلسۂ عام کا چرچا تھا۔ہرشخص کی زبان پر تین روز پہلے [۱۱جنوری] منعقد ہونے والے اس اجتماع کا ذکر تھا۔ سیاسی سرگرمیوں سے پابندی ہٹنے کے بعد ڈھاکے میں شیخ صاحب کا یہ پہلا خطاب تھا اور اسے ان کے پالیسی بیان (Policy Statement) کی حیثیت حاصل تھی۔

۱۱جنوری کو شائع ہونے والے ایک عوامی لیگی انگریزی ہفت روزہ نے آٹھ کالمی شہ سرخی لگائی:’’مجیب آج پلٹن میدان میں تقریر کریں گے‘‘۔ دوسری سرخی تھی: ’’قوم رہنمائی کے لیے ان کی طرف دیکھ رہی ہے‘‘۔ متن پڑھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ قوم سے مراد ’بنگالی قوم‘ ہے۔ اس اخبار نے شیخ صاحب کو’ ’بنگال کی مکمل خودمختاری کے تصور کا اصلی مصنّف قرار دیا‘‘۔

پلٹن میدان میں شیخ صاحب نے ’قوم‘ کی رہنمائی یوں فرمائی کہ مغربی پاکستان کانام لیتے وقت بار بار ’آقا‘ کا لفظ استعمال کیا اور ’مغربی پاکستانی آقاؤں‘ کو مشرقی پاکستان کے تمام مصائب کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان ’آقاؤں‘ کےضمن میں انھوں نے مولانا مودودی کا نام بھی لیا اور فرمایا کہ ’’اب اسلام کے نام پر ہمارے حقوق کو غصب نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ ساتھ ہی یہ اعلان فرمایا:’’ہم قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نافذ نہیں کریں گے‘‘۔ شیخ صاحب نے [جنوری ۱۹۶۶ء سے شروع ہونے والی ]اپنی ’چھے نکاتی زندگی ‘ میں پہلی بار اسلام کا نام لینے کی ضرورت محسوس کی تھی اور ساتھ ہی ساتھ مولانا مودودی کے خلاف سامعین کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کی سعی فرمائی تھی۔ اس سے دو واضح نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں:

    ۱-  شیخ صاحب اسلامی قوتوں سے خائف ہیں، اس لیے اسلام کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے۔

    ۲-  مولانا مودودی کو اسلام کے نام پر مشرقی پاکستان کے ساتھ ناانصافی کا علَم بردار قراردے کر سامعین کو ان کے خلاف بھڑکایا گیا۔

ایک ہفتے بعد مولانا مودودی کو ڈھاکا کے اسی پلٹن میدان میں ہی جلسے سے خطاب کرنا تھا، جس کا اعلان جماعت اسلامی کی طرف سے کیا جاچکا تھا۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے، تو اس ’پالیسی بیان‘ میں شیخ صاحب کی طرف سے مولانا مودودی پر حملے کے لیے لوگوں کو رہنمائی مل سکتی تھی، کیونکہ ’’قوم ان کی طرف رہنمائی کے لیے دیکھ رہی تھی‘‘۔


آگے بڑھنے سے پیش تر پلٹن میدان میں جلسے کے لیے عوامی لیگ کی تمام ضلعی شاخوں کو پابند کیا گیا کہ سامعین بھیجے جائیں۔ ۵۰۰ ٹرک ڈھاکے سے آدمی ڈھونے اور ایک سو موٹررکشا جن میں لاؤڈاسپیکر نصب تھے، ڈھاکے کے اندر شیخ مجیب کی تقریر کا اعلان کرنے پر مامور تھے۔  جب شیخ مجیب الرحمٰن تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو اسٹیج سیکرٹری نے اعلان کیا: ’’بنگوبندو (بنگال کے دوست) بنگو شارورل (بنگال کے شیردل) بانگ لارمانی (بنگال کے موتی) آپ روائے تی ڈانڈی، جانا نیتا (عوام کے مسلّمہ اور متفقہ رہنما) قوم کو پیغام عطا فرمائیں گے‘‘۔

جلسے میں بار بار’تماردیش، اماردیش، بنگلہ دیش‘ اور’جاگو جاگو بنگالی جاگو‘ کے نعرے لگتے رہے ۔ جلسے کے جو پوسٹر چسپاں کیے گئے اور دیواروں پر جو نعرے لکھے گئے ، ان میں سے ایک یہ بھی تھا: ’’اگر تم آزادی چاہتے ہو تو متحد ہوجاؤ‘‘۔

شیخ صاحب نے اپنی تقریر میں صرف ایک یا دو بار پاکستان کا لفظ استعمال کیا۔ باقی سارا عرصہ وہ بنگال اور بنگال کا ورد فرماتے رہے اور یہ بھی ارشاد کیا:’’میرا کام ختم ہوچکا ہے، بنگالی جاگ اُٹھے ہیں‘‘۔ شیخ صاحب نے اپنی تقریر کے دوران فرمایا: ’’سہروردی اور فضل الحق کی طرح میں نے بھی برابری کے اصول کو تسلیم کرکے غلطی کی تھی‘‘۔

جلسہ ختم ہونے کے بعد اس کی حاضری کے بارے میں اخبارات اور ایجنسیوں نے دوڑ لگانا شروع کر دی۔ کسی نے چار لاکھ لکھا، تو کسی نے پانچ لاکھ۔ عوامی لیگ کے ترجمان انگریزی   ہفتہ روزہ نے تو کمال ہی کر دیا اور سامعین کی تعداد سات لاکھ لکھ ماری۔ اس سلسلے میں ایک دل چسپ بات یہ سننے میں آئی کہ جناب صدر ایوب خاں نے مادرِ ملّت فاطمہ جناح کے انتخابات کے بعد یہیں ایک جلسے سے خطاب فرمایا، تو مشرقی پاکستان کے گورنر عبدالمنعم خاں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’اس کی حاضری پانچ لاکھ تھی‘‘۔ اس کے جواب میں [عوامی لیگ کے حامی] روزنامہ اتفاق نے لکھا تھا کہ ’’پلٹن میدان میں ایک لاکھ سے زائد افراد سما ہی نہیں سکتے۔ یہ پانچ لاکھ کہاں سے آگئے؟‘‘، لیکن مجیب صاحب کے جلسے کے وقت شاید ’اتفاق‘ کو یہ بات یاد نہیں رہی۔


بہرحال، پلٹن میدان کے اس جلسے کے ساتھ ہی یہ خدشات اُٹھنا شروع ہوگئے کہ ’’آنے والا اتوار بخیریت نہیں گزرے گا اور مولانا مودودی بآسانی جلسے سے خطاب نہیں کرسکیں گے‘‘۔ خدشات شدید ہوتے گئے اور ۱۷جنوری آپہنچی۔ مولانا مودودی ا س دن ۲بج کر ۲۰منٹ پر تیج گاؤں، ڈھاکا کے ہوائی اڈے پر اُترنے والے تھے، یہ افواہ زور و شور سے پھیلائی گئی کہ: ’’مولانا مودودی کا جہاز ہوائی اڈے پر اُترنے نہیں دیا جائے گا‘‘۔ ہوائی اڈے پر جماعت کے ہزاروں حامی جمع ہوگئے ۔ یہاں شورش برپا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس کی دو ہی وجوہ ہوسکتی تھیں: ہنگامے کا پروگرام ختم کر دیا گیا، یا پھر ہوائی اڈے کے بجائے پلٹن میدان پر ہی مکمل نگہ ِ انتخاب پڑی۔

مولانا مودودی ہوائی اڈے پر پہنچے تو ہزاروں نوجوانوں نے ’شوتب دیرمکتی ددت‘ مولانا مودودیؒ (صدی کا عظیم مصلح) کے نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا۔ اسی روز شام کو مولانا مودودی نے اسلامی چھاترو شنگھو [اسلامی جمعیت طلبہ] کی صوبائی کانفرنس (یہ ۱۵ جنوری سے ہوٹل ایڈن میں شروع ہوئی تھی اور اس میں مشرقی پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہاتوں سے قریباً تین ہزار مندوبین شریک تھے) میں سوالات کے جواب دیے اور واضح طور پر یہ بات کہی کہ ’’جماعت اسلامی، مشرقی پاکستان کے ساتھ ناانصافیوں کی ذمہ دار نہیں کیونکہ وہ کبھی برسرِ اقتدار نہیں آئی‘‘۔


جلسے کی گھڑیاں جوں جوں قریب آرہی تھیں، تشویش میں اضافہ ہورہا تھا۔ عام خیال یہی تھا کہ ’’مولانا مودودی سے بنگالی میں تقریر کرنے کا مطالبہ کرکے ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے گی‘‘۔ ۴جنوری کو نیپ [نیشنل عوامی پارٹی:NAP] کے جلسے میں محمود الحق عثمانی سے خود انھی کے پارٹی کارکنان یہ سلوک کرچکے تھے۔ جماعت اسلامی کے کچھ مقامی رہنماؤں نے یہ تدبیر سوچی کہ مولانا کو چندبنگلہ فقرے لکھ کر دے دیے جائیں، جن میں وہ حاضرین سے اپنے بنگلہ نہ جاننے کی معذرت کرلیں، اس کے بعد شورش پسند اس معاملے میں جذبات کو بھڑکا نہیں سکیں گے۔ مولانا مودودی کے سامنے یہ تجویز رکھی گئی، تو مولانا نے ایسا کرنےسے انکارکردیا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ ’’بنگلہ سیکھ کر بولنے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اس طرح چند فقرے لکھ کر کہہ دینا محض تصنع ہے اور یہ ’مصنوعی حربہ‘ مجھے گوارا نہیں‘‘۔ اس پر سب لوگ خاموش ہوگئے اور کارکنوں کو چوکس رہنے کی تلقین کردی گئی۔ پروگرام یہ تھا کہ مولانا کی تقریر کے ساتھ ساتھ پروفیسر غلام اعظم اس کا بنگلہ ترجمہ سناتے جائیں گے۔

جماعت کے مقامی رہنماؤں کا خیال تھا کہ عوامی لیگ کی جانب سے متوقع ہنگامہ، جلسے میں نعرے وغیرہ لگانے تک محدود رہے گا۔ اس لیے وہ اسی کا سامنا کرنے کی تیاری میں لگے رہے، لیکن جن حالات سے سابقہ پیش آیا وہ کسی کے گمان تک میں نہیں تھے۔


۱۸ جنوری کا آفتاب طلوع ہوا۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے پلٹن میدان کے قریباً درمیان میں واقع چھوٹی سی مسجد کے ساتھ (یہ مسجد مغلیہ دور میں تعمیر کی گئی تھی) اسٹیج سجا دیا۔ تین لاؤڈاسپیکر نصب کیے گئے اورجلسہ گاہ میں جگہ جگہ بانس گاڑ کر ۴۰ہارن ان سے باندھے گئے۔ اسٹیج پر کرسیاں نہیں رکھی گئی تھیں۔ سفید چادر بچھی تھی کہ مشرقی پاکستان کے جلسوں کے اسٹیج ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اسٹیج  کے سامنے پریس گیلری تھی۔ اس کے بعد رسّی لگی ہوئی تھی۔ رسّی کے اس پار سامعین کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔ پلٹن میدان کے گرد تین طرف سیمنٹ کی دیوار کھینچی ہوئی ہے۔ ایک طرف اسٹیڈیم ہے اور مسجد بیت المکرم کو جانے کا راستہ۔ اس چاردیواری میں دو باقاعدہ دروازے ہیں اور ایک بے قاعدہ۔ ایک کو اسٹیڈیم والاگیٹ کہتے ہیں اور دوسرے کو ڈی آئی ٹی روڈ کا گیٹ۔ چھوٹی مسجد کے ساتھ ہی ایک بیڈمنٹن کورٹ ہے اور اس سے آگے چل کر دیوار کے پاس دو کلب۔ اسٹیج کی پچھلی طرف جو دیوار ہے، اس کے ساتھ ایک ٹین کی دیوار سے گھرا ہوا میدان ہے۔ اس کی حیثیت میدان اندر میدان کی سی ہے۔ ڈی آئی ٹی روڈ پر گورنر ہاؤس واقع ہے اور پلٹن میدان سے اس کا فاصلہ صرف سو میٹر کا ہے۔ ڈی آئی ٹی روڈ والے گیٹ کے بالکل سامنے ایوب چلڈرن پارک ہے، جس کے اندر ایک تالاب بنا ہوا ہے۔ پلٹن میدان کی عقبی دیوار اور اسٹیڈیم کی مارکیٹ دونوں کے درمیان ایک تنگ سی گلی ہے۔ اس سے گزرکر ڈی آئی ٹی روڈ پر پہنچا جاسکتا ہے۔

جلسہ ٹھیک تین بجے پروفیسر غلام اعظم کی صدارت میں شروع ہوگیا۔ پروفیسر صاحب اسٹیج کے درمیان میں بیٹھے تھے۔ ڈائس کے دونوں کونوں پر مائیک نصب تھا۔ پروگرام یہ تھا کہ ایک مائیک پر مولانا مودودی تقریر کریں گے اور دوسرے پر دورانِ تقریر ہی وقفوں وقفوں سے اس کا بنگلہ زبان میں ترجمہ سنایا جائے گا۔ تین بج کر ۲۰منٹ پر جلسہ گاہ میں تھوڑا سا شور برپا ہوا، اور کچھ لوگوں نے اسٹیڈیم کے قریب ’’بھاگو، بھاگو‘‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ اس طرح کی حرکتیں چونکہ جلسہ خراب کرنے کے لیے عموماً کی جاتی ہیں، اس لیے اس سے کوئی فرق نہ پڑسکا۔ چند منٹ بعد ایک صاحب سرخ کپڑوں میں ملبوس آپہنچے اور مجذوبوں کی سی حرکتیں کرنے لگے۔ انھیں جلسے سے باہر نکال دیا گیا، مگر وہ اسٹیڈیم کی عمارت پر چڑھ گئے (بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دیوانہ بڑا ہوشیار تھا، اور ہنگامے کے دوران یہ مسلسل سگنل دیتا رہا کہ اِدھرسے حملہ کرو یا اُدھر سے)۔

ساڑھے تین بجے کے قریب ایک صاحب نے مجھے کہا: ’’آپ نے دیکھا ہے کہ وہ چاقو لہرا رہے ہیں‘‘۔ اسٹیڈیم والے گیٹ سے اندر کی طرف واقعی چاقوؤں کی چمکتی ہوئی دھاریں نظر آرہی تھیں۔ چند ہی لمحے بعد جماعت کے حامی ایک نوجوان کو اُٹھاکر لایا گیا۔ اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا، اسے مسجد کے پاس لٹادیا گیا۔ اس کے بعد تو زخمیوں کا تانتا بندھ گیا۔ کچھ کارکنوں اور سامعین نے دفاع کے لیے اپنے بینر اُتار کر رکھ دیے اور اس طرح لاٹھیاں بن گئیں، پریس گیلری میںرکھی ہوئی کرسیوں کو توڑ کر ان کے ڈنڈے بنائے گئے اور حملہ آوروں کو روکنے کے لیے اسٹیڈیم کے گیٹ کا رُخ کیا۔ یہاں گھمسان کا معرکہ ہوا، حملہ آور پسپا ہوگئے اور بظاہر سکون ہوگیا۔

اسی دوران نمازِ عصر کا وقت ہوگیا۔ اسٹیج سے اعلان ہوا کہ ’’اب نماز ادا کی جائے گی‘‘۔ تمام کارکن اور دوسرے سامعین نماز کی تیاریوں میں مشغول ہوگئے، صفیں ترتیب دی گئیں اور اللہ کے بندے اس کے حضور میں جھک گئے۔ پلٹن میدان نے ایسا منظر اس سے پہلے شاید کبھی نہ دیکھا ہو۔ نماز کے اسی وقفے کے دوران فائدہ اُٹھا کرحملہ آوروں نے خود کو منظم کیا۔ جناح ایونیو روڈ اور ڈی آئی ٹی روڈ سے شدید پتھراؤ شروع ہوگیا اور ساتھ ہی حملہ آوروں نے اسٹیڈیم کی چھت پر بھی قبضہ کرلیا۔ اسٹیڈیم کی چھت ابھی زیرتکمیل ہے، اس لیے اینٹوں اور روڑوں کے حصول میں وہاں بھی کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ پتھروں کی بارش کے دوران نماز ادا ہوئی۔ اسی دوران حملہ آور دوبارہ اسٹیڈیم کے گیٹ سے اندر گھس آئے اور ڈی آئی ٹی روڈ والے گیٹ پر بھی قبضہ جمالیا۔اسٹیڈیم گیٹ کے پاس پھرمعرکہ پڑا اور حملہ آوروں کو ایک بار پھر پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ وہ جناح ایونیو روڈ سے نکل کر اس سے پیچھے واقع ایک ٹوٹی ہوئی سڑک کی طرف بھاگ گئے۔

ٹھیک پونے پانچ بج رہے تھے کہ پولیس آگئی۔ مگر پولیس کی یہ کھیپ صرف ایک ٹرک اور ایک جیپ پر مشتمل تھی۔ جیپ میں بیٹھے ہوئے افسر نے اُتر کر فریقین کو روکا اور پولیس اسٹیڈیم گیٹ پر کھڑی ہوگئی، جلسے کے منتظمین پولیس کی یقین دہانی پر اعتماد کرتے ہوئے اسٹیج کے پاس لوٹ آئے، اور یہی ان کی غلطی تھی۔ پولیس چند لمحے وہاں کھڑی رہی اور پھر اس نے شرپسندوں کو اندرجانے کا راستہ دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی اسٹیج کے سامنے کی دیوار پھلانگ کرسیکڑوں افراد اندر کود پڑے۔ اب حشر کا سماں تھا۔ پولیس دُور کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی اور چاروں جانب سے یلغار جاری تھی۔ اتنے میں جناح ایونیو روڈ پر دو دھماکے ہوئے، جن سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے دستی بم پھٹ پڑے ہوں۔

پروفیسر غلام اعظم نے اعلان کیا کہ ’’ہم جلوس بنا کر گورنر ہاؤس جائیں گے اور مَیں اس کی قیادت کروں گا‘‘۔پروفیسر صاحب اسٹیج سے اُترنے لگے ، مگر رضاکاروں نے انھیں روک دیا۔ کئی کارکنوں کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن پروفیسر غلام اعظم نے پیچھے ہٹنے سے انکارکر دیا۔ وہ ڈی آئی ٹی روڈ کی طرف بڑھے اور ان کے ساتھ ہی جلسہ گاہ میں موجود دوسرےسامعین (جن کی تعداد اب چند ہزار تک سمٹ آئی تھی) ا ن کے پیچھے چلنے لگے۔لیکن ڈی آئی ٹی روڈ پر اتنی شدید سنگ باری ہورہی تھی کہ آگے نہ بڑھا جاسکا۔ یہاں بھی جماعت اسلامی کے بے شمار حامی زخمی ہوئے۔ کارکنوں نے پروفیسر صاحب کواپنے بازوؤں کے حصار میں لیا اور زبردستی مسجد میں لاکر بٹھا دیا۔ چاروں طرف سے جلسہ گاہ کا گھیراؤ ہوچکا تھا۔ جلسے میں شرکت کی غرض سے آنے والوں کے لیے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور ڈائس پرکنٹرول ختم ہوچکا تھا۔اسٹیڈیم کے گیٹ سے [عوامی لیگی] حملہ آوروں کی تازہ کھیپ آپہنچی اور انھوں نے آگے بڑھ کر اسٹیج پر قبضہ کرلیا۔

جماعت کے نہتے کارکن اور سامعین اب باہر نکلنے پر مجبور تھے۔ اس کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ دیوارکے ساتھ ایک آدمی کھڑا ہوجاتا اور دوسرا اس کے کاندھوں پرپاؤں رکھ کر دیوارسے باہر پھلانگ جاتا۔ میں کچھ اخبار نویسوں کے ہمراہ ڈی آئی ٹی روڈ کی طرف جانے والے بے قاعدہ راستے سے باہر نکل آیا تھا اور گورنر ہاؤس کے پاس کھڑا تھا۔ اتنے میں پولیس کا ایک ٹرک ساڑھے پانچ بجے آیا، لیکن چندہی لمحوں بعد واپس ہوگیا۔ دیوارسے جو شخص بھی پھلانگ کرباہر آتا، حملہ آور لاٹھیوں سے اس پر پل پڑتے اور نوکیلے روڑے ان پر برسائے جاتے۔


مولانا مودودی نے سوا چار بجے تقریر کرنی تھی، لیکن وہ جلسہ گاہ پہنچ ہی نہ سکے۔ وہ چار بجے گھر سےروانہ ہوئے ، لیکن راستوں کو بند پایا۔ شرپسندوں نے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔ دو راستوں سے مایوس ہوکر وہ تیسرے راستے کی طرف مڑے ہی تھے کہ جماعت کا ایک کارکن  مل گیا۔ اس نے انھیں بتایا کہ ’’تیسرا راستہ بھی کھلا نہیں، اس لیے آپ گھر میں انتظار کیجیے‘‘۔ مولانا جائے قیام پر پلٹ آئے اور بلاوے کا انتظار کرتے رہے، مگر حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔


ایوب چلڈرن پارک سے پتھراؤ کے لیے حملہ آوروں کو روڑے فراہم ہورہے تھے۔ اس کی دیواروں کے کئی حصے توڑ ڈالے گئے تھے۔ اس کے درمیان میں واقع تالاب کی چار دیواری بھی توڑی جاچکی تھی، سیکڑوں افراد ان اینٹوں کے ٹکڑے بناکر جناح ایونیو روڈ اور ڈی آئی ٹی روڈ پر موجود لوگوں کو سپلائی کر رہے تھے۔ گورنر ہاؤس کے سامنے کھڑے ہوکر میں نے دل دہلا دینے والےمناظر دیکھے۔ ایک لڑکا چیخا: ’’مغربی پاکستان کا مولانا ہمیں اسلام سکھانے آتا ہے‘‘۔ایک اخبار نویس نے کہا کہ ’’میں اس لڑکے کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، یہ ہندو ہے‘‘۔جو شخص سڑک سے گزرتا، اگر وہ خود کو بنگالی کہتا اور ’شیخ مجیب الرحمٰن زندہ باد‘کا نعرہ لگاتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا۔ اگر کوئی ایسا کرنے سے انکار کر دیتا تو اس کی خوب پٹائی کی جاتی۔

ایک ٹوپی پہنے صاحب کو پیٹا جارہا تھا کہ چند لڑکے ادھرآنکلے۔ انھوں نے کہا: ’’یہ تو شیخ مجیب کے ساتھ ہے ، اسے چھوڑ دو‘‘۔ ایک لڑکا بولا: ’’شیخ مجیب کا حامی ہے، تو ٹوپی کیوں پہنتا ہے؟‘‘ یہ صاحب ایک مقامی کالج میں عربی کے لیکچرار اور چھے نکات کے پُرجوش مبلّغ ہیں، مگر ٹوپی انھیں بھی لے ڈوبی۔ میرےسامنے انسان انسانوں کو اور مسلمان مسلمانوں کو پیٹ رہے تھے۔ گورنر ہاؤس خاموش تھا۔ اپنے اردگرد سے بے خبر، بے حس اور پتھر تو ہوتے ہی بے حس ہیں۔ اس میں گورنر ہاؤس کا کیا قصور؟اس افراتفری کے درمیان مجھے روشنی کا ایک ہالا بھی نظر آیا، جو محض کچھ لمحے کے لیے ہی چمکا، لیکن پورے ڈھاکے کو جگمگا گیا۔ یہ ایک صحت مند اور مضبوط نوجوان تھا۔ اس نے ایک آدمی کو آٹھ دس لڑکوں سے پٹتے دیکھا ، تو ان لڑکوں کے سامنے کھڑے ہوکر للکارا: ’’مسلمان کو مسلمان نہیں مارسکتا‘‘۔ لڑکے اس نوجوان کی نظر کے شعلوں کی تاب نہ لاسکے اورچلے گئے۔ چند لمحے بعد یہ روشنی میری آنکھوں سے بھی دُور ہوگئی، جسے آج تک مَیں آنکھوں میں سموئے پھرتا ہوں۔ یہ نوجوان اُمید کی کرن ہے، متحدہ اور مضبوط پاکستان کا ’سمبل‘۔ جب تک ایسے نوجوان زندہ ہیں، پاکستان کیسے کمزورہوسکتا ہے؟


اسٹیج پر قبضہ کرنے والوں نے وہاں ایک مختصر سا جلسہ کیا، جس میں ’’بنگالی قومیت کے خلاف ہر تحریک کو کچل دینے کے عزم کا اعلان کیا گیا‘‘۔ جناح ایونیو روڈ پر موجود بے شمار لوگوں نے اس بات کی شہادت دی کہ اس جلسے سے عوامی لیگ کی حامی اسٹوڈنٹس لیگ کے ایک سابق سیکرٹری سراج الحق نے خطاب کیا تھا۔ انھوں نے جلسے کے بعد جماعت اسلامی کے مختلف بینروں کو اکٹھا کرکے آگ لگا دی، جن میں کلمے کا بینر بھی شامل تھا۔ اس کے بعد اسٹیج پر لہراتا ہوا پاکستانی پرچم بھی نوچ کر نذرِ آتش کر دیا گیا۔ ایک پٹھان جس نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا: ’’اب ہم یہاں نہیں رہے گا، یہ تو قیامت آگیا ہے‘‘۔ بے شمار زخمی اور کئی سامعین مسجد میں محصور تھے، پولیس نے مسجد کے اردگرد گھیرا ڈال رکھا تھا۔ سات بجے کے قریب ڈپٹی کمشنر صاحب ڈھاکا تشریف لائے۔ انھوں نے سوال کیا: ’’کیا کوئی لیڈر بھی یہاں موجود ہے؟‘‘ پروفیسر غلام اعظم کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ مسجد کے اندر داخل ہوئے اور ان سے چلنے کے لیے کہا، مگر پروفیسر موصوف نے انکار کر دیا اور کہا: جب تک مسجد میں ایک بھی آدمی پناہ لیے ہوئے ہے، میں یہاں سے نہیں جاسکتا۔ اس پر ایک ٹرک کا انتظام کیا گیا۔ اس کے ذریعے پہلے تو زخمی افراد ہسپتال تک پہنچائے گئے اور پھر دوسرے حاضرین۔پروفیسر غلام اعظم سب سے آخر میں باہر نکلے۔


موقعے پر موجود بے شمار افراد نے اس بات کی شہادت دی کہ چھے سات ٹرک آدمیوں سے بھر کر آئے اور گلستان سینما سے تھوڑا ساپیچھے رُکے تھے۔ ان میں سے آدمی اُترے اور جناح ایونیو روڈ اور ڈی آئی ٹی روڈ پر پھیل گئے۔ جناح ایونیو روڈ کے عقب میں واقع نسبتاً سنسان اور ٹوٹی ہوئی سڑک پر موجود دو افراد ہدایات دے رہے تھے ، ان میں سے ایک صاحب کے ہاتھ میں بریف کیس پکڑا ہوا تھا۔ دو نوجوان موٹرسائیکل پرسوار جلسہ گاہ کے باہر چکّر لگاتے ہوئے حملے کے مقامات کا جائزہ لینے میں مصروف تھے۔ ایک کار میںاسٹوڈنٹس لیگ کے صدر جناب طفیل احمد اور سیکرٹری جناب عبدالرب بھی موجود تھے۔ ا س کے علاوہ شیخ مجیب کے ایک فرزند ِ ارجمند کو بھی وہاں دیکھا گیا۔

ان حضرات کی موجودگی کواتفاقی امر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ طفیل احمد صاحب نے ہنگامے کے بعد جو بیان دیا، اس سے ان کے عزائم کی بخوبی نشان دہی ہوجاتی ہے۔ انھوں نے ارشاد فرمایا: ’’ہم امن پسند ہیں، لیکن کسی کو اس بات کی اجاز ت نہیں دے سکتے کہ ہماری چھے نکات اور گیارہ نکات کی عوامی تحریک کو سبوتاژ کرے‘‘ (یہ بیان اخبارات میں شائع ہواہے۔ جس کا صاف مطلب اور پیغام یہ ہے کہ چھے نکات اور گیارہ نکات پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنایا جائے)۔


میں جلسہ گاہ سے اپنے ہوٹل میں پہنچا ہی تھا کہ اطلاع ملی کہ لاہور کے ایک صحافی [مظفربیگ] شدید زخمی ہیں اور پریس کلب میں مجھے بلارہے ہیں۔ ڈھاکے کے ایک نیک دل شہری اپنی کار میں مجھے پریس کلب لے گئے۔ ہم مذکورہ صحافی کو لے کر ڈھاکا میڈیکل کالج ہسپتال پہنچے تووہاں کہرام مچا ہوا تھا۔ بے شمارلوگ ہسپتال کے باہر پریشان کھڑے تھے، اور زخمیوں کا تانتا بندھا تھا۔ ڈاکٹروں کے علاوہ طالب علموں کو بھی طلب کرلیا گیا تھا۔ لیکن پھر بھی سٹاف ضرورت کے مطابق نہیں تھا۔ منفورڈ ہسپتال کا بھی یہی عالم تھا۔ یہاں معلوم ہوا کہ پانچ سو سے زائد زخمی افراد آچکے ہیں۔ ہسپتال سے واپسی پر اطلاع ملی کہ ایڈن ہوٹل پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے یہاں مشرقی پاکستان اسلامی چھاترو شنگھو [اسلامی جمعیت طلبہ]کی سالانہ کانفرنس ہورہی تھی۔ یہاں اجتماع کے موقع پر بنائی گئی عارضی رہایش گاہوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ اگلے روز یہاں جمعیت طلبہ عربیہ کا کنونشن ہونے والا تھا، مگر غیریقینی حالات کی وجہ سے اسے منسوخ کردیا گیا۔


۱۸ اور ۱۹ جنوری کی درمیانی رات ایک بجے ایسٹ پاکستان رائفلز کو طلب کرلیا گیا تھا، لیکن پورے شہر پرکنٹرول کرنے میں بڑی دیر ہوچکی تھی، اس لیے قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی کھلی چھٹی تھی۔ مشرقی پاکستان میں بھاشانی صاحب کی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے جنرل سیکرٹری محمدطٰہٰ اورمشرقی پاکستان عوامی لیگ کے پبلسٹی سیکرٹری عبدالمومن اور ڈھاکہ عوامی لیگ کے سیکرٹری غلام مصطفیٰ نے ’’جماعت اسلامی کے فُاشسٹ طرزِعمل ، آمرانہ رویے اور غنڈا گردی‘ کی بھرپور مذمت کی تھی‘‘۔ پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی [صدرنورالامین] اور کونسل مسلم لیگ مشرقی پاکستان [صدرخواجہ خیرالدین] کے رہنماؤں نے بھی اپنے بیانات میں غنڈا گردی کی مذمت کے بیان دیے تھے، لیکن ان بیانات میں غنڈا عناصر کی نشان دہی نہیں تھی۔ اسے ’طلبہ حکام‘ سے خوف کا نتیجہ سمجھا جارہا تھا۔

۱۹جنوری بروز سوموار، صبح سے رکشاؤں میں لاؤڈ اسپیکر نصب کرکے عوامی لیگ کی حامی ’طلبہ مجلس عمل‘ (Students Action Committee) کی طرف سے ’جماعت اسلامی کی غنڈا گردی‘ کے خلاف بارہ بجے دن تک ہڑتال کرنے کی اپیل کی جانے لگی۔ صبح ہوئی تو تمام اخبارات نے جلسے کی عجیب و غریب خبرشائع کی۔ اس میں ہنگامے کی ذمہ داری جماعت اسلامی کے سر ڈال دی گئی اور ہنگامے کو ’جماعت اور سامعین‘ کے تصادم کا نام دیا گیا تھا۔ اس ہنگامے میں کچھ فوٹوگرافروں کو بھی چوٹیں آئیں۔ آزاد، اتفاق، پوربودیش، پیغام، ونیک پاکستان، سنگباد، پاکستان آبزور اور اے پی پی کے عملے نے ’’فوٹوگرافروں کے زخموں کا ذمہ دار جماعت‘‘ کو قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت میں قراردادیں پاس کی تھیں۔ ان قراردادوں کو بھی اخبارات نے بڑی تفصیل سے اورنمایاں طورپر چھاپا تھا۔ تمام قراردادو ں کا متن قریباً ایک جیسا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا، جیسے کسی آدمی نے قرارداد لکھ کر اس کی نقول مختلف دفاتر میں منظوری کے لیے بھیج دی تھیں۔

ایک طرف یہ سب ہو رہا تھا تو دوسری طرف جماعت اسلامی کے حامی بنگلہ روزنامے شنگرام اور ایک مقامی اُردو روزنامے کی فروخت پر عوامی لیگ کی ’طلبہ سرکار‘ نے پابندی لگادی تھی۔ ہاکروں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انھوں نے ان دو اخباروںکوبیچا تو ان کے تمام اخبارات جلادیے جائیں گے۔ مذکورہ دو اخباروں نے واقعاتی رپورٹنگ کی تھی اورعوامی لیگ کے حامی ’طلبہ حکام‘ کی پریس ایڈوائس تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کی ’’سزا انھیں ملنی ہی چاہیے تھی‘‘۔ عوام کو صحیح واقعات سے بے خبر رکھنے کی ان تمام کوششوں کے باوجود ہڑتال کامیاب نہ ہوسکی اور کاروبار حسب ِ معمول جاری رہا۔ ۲۰جنوری کو پاکستان آبزرور کی سرخی تھی: ’ہڑتال پر کان نہیں دھرے گئے‘۔اس پر ’طلبہ حکومت‘ کو بڑا غصہ آیا اور انھوں نے تین گاڑیوں کو آگ لگا دی، تاکہ دہشت پھیلے اور ہڑتال کامیاب ہوجائے۔


تصادم میں دوسرے افراد کی طرح پریس فوٹوگرافر بھی لپیٹ میں آگئے۔ اس میں جلسے کے منتظمین کا کیا قصور تھا ؟ لیکن کئی اخبارات نے اسے جس طرح اُچھالا، اس سے ان کے عزائم نظرآسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے صحافی مظفربیگ شدید زخمی ہوئے۔ انجمن صحافیانِ مشرقی پاکستان کے صدر جناب شہیداللہ قیصرنے مجھے اس امر کی اطلاع دی ، لیکن ان کے حق میں کسی کے منہ سے کلمۂ خیر نہیں نکلا۔ڈھاکے کے ایک انگریزی ہفت روزہ ینگ پاکستان کےایڈیٹر جناب عزیز الرحمٰن کو شدید چوٹیں آئیں، لیکن ان کا قصوریہ تھا کہ وہ مجیب صاحب کے حامی نہیں ہیں، اس لیے اخباری یونٹوں نے انھیں بھی نظرانداز کر دیا۔ اور تو اورروزنامہ شنگرام کےفوٹوگرافر لاپتا تھے (جب تک میں وہاں رہا، ان کی بازیابی کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی)، مگر اس پر بھی کسی اخبارنویس نے تشویش کااظہارنہ کیا۔

انجمن صحافیاں کے اس رویے کی وجہ یہی ہے کہ وہ خود ایک فریق بن چکی ہے۔ اس کے جنرل سیکرٹری جناب رمیش مترا نے ۲۰جنوری کو ایک بیان جاری کیا، جس میں جماعت اسلامی کے جلسے کے منتظمین کی مذمت کےعلاوہ یہ اعلان بھی کیا گیا ہے: ’’گیارہ نکاتی پروگرام کے لیے ہرقیمت پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی‘‘ [یاد رہے عوامی لیگی طلبہ کے ان ’گیارہ نکات‘ میں ’چھے نکات‘ کے علاوہ پانچ مزید نکات شامل تھے]۔

اس ہنگامے اور پیدا ہونے والے حالات تشویش ناک بھی ہیں اور افسوس ناک بھی۔ مشرقی پاکستان کے سنجیدہ حلقوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ دہشت اور خوف وہراس کے یہی لیل و نہار رہے تو انتخابات پُرامن نہیں ہوسکیں گے۔ اگر انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے کا عزمِ مصمم کرے، تو پھر عوام شرپسندوں سے نپٹ سکتے ہیں۔ ہزاروں رکشےاور ریڑھی والے ان ہڑتالوں کو عذابِ الٰہی سمجھتے ہیں۔ تاجر پیشہ حضرات اوردفاتر میں کام کرنے والے سبھی اس صورتِ حال سے بیزار ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی لاپرواہی اور اغماض برتنے کی پالیسی نے اُنھیں کہیں کا نہیں رکھا۔ وہ اگر عوامی لیگی ’طلبہ حکام‘ کا حکم ماننے سے انکار کر دیں، تو پھر آگ اور لُوٹ ماراُن کا مقدر ہیں۔


سیاسی حلقے اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے، حسب ذیل نکات بیان کرتے ہیں:

    ۱-  حکومت کی فراخ دلی اور نرم رویے کو کمزوری قرار دیا جارہا ہے۔ چند ماہ پیش تر کچھ طلبہ کو مارشل لا ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے پر سزائیں سنائی گئیں، لیکن انھیں گرفتار نہ کیا جاسکا۔ صدر یحییٰ جب ڈھاکے پہنچے، تو عوامی لیگ کے سیکرٹری تاج الدین کی اپیل پر ان طلبہ کو معاف کر دیا گیا۔ جسے وہ اپنی تقریروں میں حکومت کی کمزوری سے تعبیر کرچکے ہیں۔

    ۲-  مشرقی پاکستان کے گورنر [ایڈمرل سیّدمحمد حسن] کا رویہ بھی چند طلبہ گروپوں کے ساتھ بڑا دوستانہ ہے۔ انھوں نے ان طلبہ لیڈروں کو گھر پر بلایا اورانھیں عشائیہ دیا۔ ان کی جناب طفیل احمد سے دوستی کا یہ عالم ہے کہ وہ انھیں خود ٹیلی فون فرماتے ہیں اور ایک انتہائی ذمہ دار افسر کے بقول طفیل صاحب کہتے ہیں:’’آپ ٹیلی فون رکھ دیجیے۔ میں آپ کا نمبر ڈائل کرتا ہوں‘‘۔ ممکن ہے گورنر صاحب یہی سمجھتے ہیں کہ طلبہ سے دوستی بڑھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

    ۳-  مجیب الرحمٰن خود کو وزیراعظم سمجھتے ہیں، غیرملکی اخبارات بھی ان کی وزارتِ عظمیٰ کا خوب پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق انھوں نے ’شیڈو کابینہ‘  (Shadow Cabinet) بھی ترتیب دے لی ہے۔ اس میں ’اگر تلہ کیس‘ کے کچھ ملزمان کو بھی ’وزیر‘ لیا گیا ہے (جلسے میں ہنگامے سے چند روز پیش تر اس ’کابینہ‘ کا ایک اجلاس بھی ہوا تھا۔ خدا معلوم اس میں ’داخلی اُمور‘ کے بارے میں کیا فیصلے کیے گئے؟) اس فضا میں سول حکام، شیخ صاحب کے حامیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔ انھیں خدشہ ہے کہ شیخ صاحب وزیراعظم بننے کے بعد انھیں انتقام کا نشانہ بنائیں گے۔

    ۴-  جو سول حکام ان کے حامی اور پیروکار ہیں، وہ ان کے حامیوں کو کھلی چھوٹ دیے رکھتے ہیں۔

    ۵-  حکومت کو معلومات بہم پہنچانے کے ذرائع بڑے ناقص ہیں۔ ان پر بھی زیادہ تربنگالی قومیت کے حامی چھائے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ فیلڈ میں کام کرکے اطلاعات اکٹھی کرنے والوں میں سے بھی اکثر بنگلہ قومیت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ لوگ حکومت تک صحیح معلومات پہنچنے نہیں دیتے اور اپنی رپورٹوں کو بھی ’اینگلنگ‘ کی سان پر چڑھا دیتے ہیں۔ صحیح معلومات فراہم نہ ہونے کی وجہ سے صحیح اقدامات نہیں اُٹھائے جاسکتے۔

    ۶-  پولیس کی اکثریت ہنگامہ پروروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ اس لیے وہ پولیس سے نہیں ڈرتے بلکہ اکثر پولیس کی ’نگرانی ‘میں وہ اپنا کام سرانجام دیتے ہیں۔

    ۷-  نئے نئے فتنے جگانے میں ہندو حضرات بھی پیش پیش ہیں۔ کئی ہندو تو ایسے ہیں جنھوں نے اپنے پورے خاندان کو مغربی بنگال بھیج رکھا ہے۔ مگر خود شدید جذبہ ’حب الوطنی‘ کے تحت یہاں رہ رہے ہیں۔ درس گاہوں میں ہندو استاد بڑی تعداد میں ہیں، وہ اپنے طالب علموں کے ذہن سے نظریہ پاکستان کو محو کرانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ ’آزاد بنگال‘ کے مطالبے کا پوسٹر لگاتے ہوئے ایک ہندو طالب علم پکڑا گیا۔ اس نے بتایاکہ وہ یونی ورسٹی کا طالب علم نہ ہونے کے باوجود ڈھاکا یونی ورسٹی کے جگن ناتھ ہال میں رہ رہا ہے۔ اس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ میرے کئی اور بھائی بند بھی انھی کارروائیوں میں مشغول ہیں اور یونی ورسٹی کے مختلف ہاسٹلوں میں رہ رہے ہیں۔ پولیس نے اس گرفتاری کی تفتیش اتنی سی کی، کہ اس لڑکے کو بھی رہا کر دیا گیا۔

    ۸-  یونی ورسٹیوں میں اساتذہ طلبہ کو تشدد کی تعلیم دیتے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ ڈھاکا یونی ورسٹی کے شعبہ سیاسیات کےایک استاد نے طلبہ کو تلقین کی کہ ’’آپ ہرسیاسی جماعت کےجلسے میں پہنچیں اور اسے گیارہ نکات کی تائید کرنے کو کہیں۔ اگروہ ایسا نہ کرے تو اسٹیج پرقبضہ کرلیا جائے‘‘۔

اگر مندرجہ بالا نکات پر غور نہ کیا گیا تو پھر حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔ قانون کو سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اگراس پر عمل نہ ہو، تو پھراس کی ضرورت کیا ہے؟

پلٹن میدان میں ہنگامے نے جس موڑ کی نشان دہی کی ہے وہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ اگر مشرقی پاکستان میں حالات کی گاڑی موجودہ رُخ پر اور موجودہ ہاتھوں میں چلتی رہی تو کسی وقت کچھ بھی ناقابلِ تصور المیہ رُونما ہوسکتا ہے۔

یہ ۱۹۳۶ء کی بات ہے کہ جب کارل مارکس کا معاشی نظام، اشتراکیت، روس میںفروغ پارہا تھا۔ اس نظام سے مغرب کی سرمایہ دارحکومتیں خائف تھیں۔ اس زمانے میں، جب چاروں طرف اشتراکی لہر کا شور تھا۔ اقبال ایک بہت بڑادعویٰ کرتے ہیں   ع

مزدکیّت فتنۂ فردا نہیں ، اسلام ہے

قدیم ایران میں مزدک نامی ایک شخص گزرا ہے، جس نے سب سے پہلے اجتماعی ملکیت (زر، زمین اورزن) کا تصور پیش کیا۔ علامہ اقبال اشتراکیت کو ’مزدکیت‘ کے نام سے پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ سرمایہ داری کا اصل مقابلہ اسلام سے ہوگا۔ اس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ اشتراکیت کا خاتمہ ہوجائے گا اور سرمایہ داری کا اصل مقابلہ اسلامی نظام سے ہوگا، مگرآج یہ ایک حقیقت ہے کیونکہ ۱۹۹۰ء میں اشتراکیت کا سورج ڈوب گیا اور’تہذیبوں کے تصادم‘ کا نظریہ پیش کرتے ہوئے مغربی مفکرین نے پکارا کہ مغربی تہذیب سے اصل مقابلہ اسلامی تہذیب ہی کا ہے۔ اس نکتے کو سردست یہاں چھوڑکر اقبال کے اس شعر پرغوروفکر کرتے ہیں:

جو حرف قُلِ الْعَفْوَ میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار

قُلِ الْعَفْوَ‘ قرآن کے دو الفاظ ہیں۔ ان الفاظ میں کون سی حقیقت چھپی ہوئی ہے کہ  جس کےنمودار ہونے کے اقبال منتظر ہیں؟ دراصل یہاں بھی اقبال بہت بڑے راز سے پردہ اُٹھانے والے ہیں۔ کیونکہ اس شعرسے پہلے وہ قرآن کا ذکرکرتے ہیں  ؎

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں

اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار

مَاذَا یُنْفِقُوْنَ؟ تاریخِ انسانی کامنفرد سوال

اگرچہ اسلام کا ظہور مکّہ میں ہوا، اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے بعد ۱۳سال مکّہ میں گزارے، مگر وہاں اسلامی معاشرے کی تشکیل نہ ہوسکی، کیونکہ مکّے کے قریش تو مسلمانوں کی جان کے دشمن تھے۔ یہ اعزاز مدینے کے حصے میں آیا۔ قرآن نے ہجرت کے دوران نازل ہونے والی سورۃ الحج میں اس کی نشان دہی کردی تھی:

اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَــــوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ(الحج ۲۲:۴۱) یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گےاور بُرائی سے منع کریں گے۔

اب چونکہ اسلامی معاشرے کے قیام کا وقت آگیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک طرح سے ریاست ِ مدینہ کے خدوخال بیان کردیے۔ ہجرت کے بعد حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ترتیب سے اسلامی معاشرے کی بنیادیںاُٹھائیں۔ صلوٰۃ کے نظام کے لیے مسجد نبویؐ، قریش اور انصار کے درمیان مواخات اور میثاقِ مدینہ جیسےاقدام کیے۔ ان چیزوں سے ہم واقف ہیں، مگر ان کاموں سے فارغ ہوکر آپؐ نے معاشی نظام کی بھی تکمیل کی تھی، جس سے ہم اکثروبیش تر غافل اوربے خبر رہے۔ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ؟ (ہم کیا خرچ کریں؟) ایک ایسا سوال ہے جو ریاست ِ مدینہ کے معاشی نظام کے تناظر میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تھا۔دراصل ریاست ِ مدینہ کے معاشی نظام کا ایک مقصد ’مشترکہ خوش حالی‘ (Shared Prosperity) کا حصول تھا، جس کے باعث ایمان داری اورباہمی فلاح پر مبنی معاشی جدوجہد وجود میں آئی۔

اگرہم مدنی زندگی کے ۱۰ برسوں کا کھلی آنکھوں سے جائزہ لیں، تو سیرتِ نبویؐ کے حیران کن پہلو سامنے آتے ہیں۔ ہجرت کےپہلے سال ہی آپؐ نے مسجد نبویؐ کی تعمیر مکمل کرلی۔ مواخات اور میثاقِ مدینہ ہوا۔ زکوٰۃ بھی اسی سال فرض ہوئی اورآپؐ نے معاشی نظام کا نفاذ شروع کرنے کے لیے پہلی اسلامی مارکیٹ قائم کی۔ عبداللہ بن ابی کی مخالفت بھی اسی سال میں شروع ہوئی۔ اگلے چارسال بیرونی جارحیت اوراندرونی سازشوں کے ہیں۔ انھی پانچ برسوں میں قریشِ مکّہ کے حملوں (بدر،اُحد اور خندق) اوریہودیوں کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کیا گیا۔

اسی دوران میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں سیاسی اور معاشی نظام کے نفاذ کی تکمیل بھی کی۔ یہ پانچ سال بنیادی اصلاحات (reformation) کا دورہے، جس کے اثرات آنےوالے برسوں میں ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ چھٹی ہجری میں کفّارِ مکّہ کے ساتھ صلح حدیبیہ ہوئی اور ساتویں صدی ہجری میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے بادشاہوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت پر مبنی خطوط بھیجنا شروع کیے۔ غالباً اسی عرصے میںکئی صحابہؓ نےسوال پوچھا کہ ’’ہم اپنی آمدنی سے (زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد) دوسروں پر کیا خرچ کریں؟‘‘ اس سوال کا جواب قرآن نے یوں دیا:

يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ۝۰ۥۭ  قُلِ الْعَفْوَ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۲۱۹) اے نبیؐ! لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں ہم راہِ خدا میں کیا خرچ کریں؟ کہو: ’’جو کچھ تمھاری ضروریات سے زیادہ ہو‘‘۔

یہاں یہ بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تاریخِ انسانی میں اہلِ ثروت کی طرف سے ایسا سوال کبھی نہیں پوچھاگیا۔ اس کی بڑی وجہ قبل از اسلام تجارت کے طورطریقے تھے، جن کے باعث تجارت، لوٹ کھسوٹ اور استحصال کا ذریعہ بن چکی تھی۔ معاشرے میں تاجر کے پیشے کی عزّت نہ تھی۔ قدیم یونان میں اگرچہ علم و دانش کی عمل داری تھی، مگر تجارت اور تاجر کا معاشرے میں کوئی مقام نہ تھا۔ اس دور میں ہرطبقے کے لوگوں کا اپنا اپنا خدا تھا، مگر چور، ڈاکو اور تاجر کا ایک ہی خدا (Hermes) تھا۔ یونان کے لوگ تو فلسفہ اور عقل و دانش کے دلدادہ تھے، مگر چور، ڈاکو اور تاجر کو ایک ہی صف میں کھڑاکرنے کی بڑی وجہ ڈکیتی نما تجارت تھی، جس میں تاجر دھوکا دہی اور فریب سے اشیا کی خریدوفروخت کرتے تھے۔

ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ کے معاشی نظام کا یہ اعزاز ہے کہ اس نے تجارت اور تاجر کو عزّت واحترام کی نگاہ سے دیکھا۔ تجارت کو ایک معزز پیشہ بنایا اور تاجر کو معاشرے کا معزز ترین فرد قراردیا۔ اس سلسلے میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادیث ملتی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ مارکیٹ (منڈی) حرم کی مانند ہے یعنی مسلمان کی زندگی میں مارکیٹ مسجد کی طرح اہم اور پاک ہے۔ ایک اورحدیث میںآتا ہے کہ بازار (مارکیٹ) شیطان سے مقابلے کی جگہ ہے، یعنی زیادہ منافع کی ہوس سے بچاجاسکے۔ سچے تاجر کے رُتبے کے بارے میں فرمانِ رسولؐ نے گویا نجات کا راستہ دکھا دیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ سچے تاجر کا رُتبہ شہدا اور صالحین کے بعد ہے۔ بڑی غورطلب بات ہے کہ ایسا فرمان، طبیب (Doctor) یا کسی اور پروفیشن کے بارے میں نہیں ہے۔ اس حدیث میں پیغمبرانہ بصیرت اور دُور رس پیغام اور دعوت پوشیدہ ہے۔

 دورِ حاضر میں تجارت کی تعریف اشیا اور خدمات (goods and services) کی خریدوفروخت کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں بازار میں روزمرہ کے استعمال کی چیزیں فروخت کرنے والا شخص ہی تاجر نہیں بلکہ خدمات مہیا کرنے والےڈاکٹر، وکیل اور استاد وغیرہ سب تاجر کے زُمرے میں آتے ہیں۔ اگر یہ سب لوگ دیانت دار ہوجائیں تو انسانی زندگی اس کرئہ ارض پر خوش حالی اور امن کی ضامن بن جائے اور ایسا ہی ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں ہوا تھا۔جب معاشی جدوجہد میں کامیاب ہونے والے لوگوں نے معاشرے کے ان افراد کے بارے میں سوچا، جو زندگی کی معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تھے۔ قرآن نے قُلِ الْعَفْوَ کے مختصر مگر خوب صورت جواب میں معاشیات کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل کر دیا۔ اقبال نے اسی پوشیدہ حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

قُلِ الْعَفْوَکی حقیقت

معاشی جدوجہد انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے اور ہرفرد اپنی صلاحیتوں، ارادے اور دستیاب ماحول کے مطابق حصولِ معاش کی کوشش کرتا ہے مگرمعاشی تگ و دو کے ثمرات یکساں اور ہموار نہیں ہیں۔ معاشی دوڑدھوپ کے نتیجے میں کچھ لوگ بہت آگے نکل جاتے ہیں، جب کہ معاشرے کا بڑا حصہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ ساد ہ الفاظ میں معاشی جدوجہد کے باعث قدرِ زائد (Surplus Value) تو پیدا ہوتی ہے، جسے اکنامکس کی زبان میں بڑھوتری (Growth) کہتے ہیں مگر اس کی منصفانہ تقسیم (Judicious Distribution) معاشی نظام کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ منصفانہ تقسیم کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دستیاب بڑھوتری (Given growth) کو معاشرے کے سارے افراد میں یکساں طورپر تقسیم کر دیا جائے بلکہ معاشی دوڑ دھوپ کے لیے ایسا سازگار ماحول (Enabling environment) پیدا کر دیا جائے، جس میں معاشی ثمرات ممکن حد تک سارے معاشرے تک پہنچائےجاسکیں ۔ دورِ حاضر کی زبان میں اسے مشترکہ خوش حالی یا مربوط معاشی ترقی کہتے ہیں۔

قدرِ زائد یا بڑھوتری کی تین بڑی بنیادی وجوہ ہیں، جن میں دو تو فطری ہیں اور تیسری انسانی۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں وسائل کے حوالے سے فطری ودیعت (Natural Endowment) مختلف ہے۔ کچھ علاقے معدنی دولت (تیل، سونا اور ایسی دوسری اشیا) سے مالا مال ہیں، جب کہ کچھ محروم۔ اسی طرح انسانی زندگی بھی استعداد اور میلان طبیعت (Aptitude) کے باعث ایک جیسی نہیں ہے۔ اس فطری غیرہمواری کے باعث کچھ علاقے/ملک دوسرے علاقوں/ملکوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ اور ایک ہی علاقہ میں کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ خوش حال ہوجاتے ہیں۔

قدرِ زائد کی افزایش کی تیسری شکل انسانی ہے، یعنی سود کا کاروبار جس کے باعث سرمایہ کے ثمرات (return on capital) چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے کے باعث دولت کی تقسیم انتہائی غیرہموار ہوجاتی ہے جیساکہ دورِ حاضر کی معاشی ترقی سےظاہرہے۔ قدرِ زائد کی منصفانہ تقسیم کا انتظام آج کی معاشیات کا سب سے اہم مسئلہ ہے، جسے ہم انسانیت کے تینوں معاشی نظام (مدینہ اکنامکس، سرمایہ داری اوراشتراکیت) کی زبان میں بیان کرنا چاہتے ہیں۔

سرمایہ داری کی بنیاد سودی کاروبار اور Survival of the Fittest ہے۔ سودی کاروبار کی دوبڑی قباحتیں ہیں: ایک تو پیداواری عمل میں سرمایہ کامعاوضہ بطورِ سود دوسرے عاملینِ پیداوار (زمین، محنت اورآجر) سے زیادہ ہے۔ مشہورمعاشیات دان تھامس پکٹی نے یہ بات معاشی اعداد و شمارسے ثابت کی ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو کوئی اپنےزورِ بازو سے جس قدر کما لے وہ سب اس کا ہے۔

چونکہ سود کے کاروبار میںدوسرے عاملینِ پیداوار (خاص طور پر محنت) کا استحصال ہے، اس لیے ضروری تھا کہ Survival of the Fittestکے نظریے کا سہاا لیا جائے تاکہ دھوکا، فریب اور استحصال کے ذریعے کمائی ہوئی دولت چھپائی جاسکے اور اس کا ارتکاز ہوسکے۔ لہٰذا سرمایہ داری نظام میں قُلِ الْعَفْوَ جیسا سوال نہ پوچھا جاسکتا ہے اورنہ کبھی پوچھا گیا۔ سودی کاروبار کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آخرکاریہ ساری انسانی زندگی کو اپنےکنٹرول میں لے لیتا ہے۔ معاشی نظام کے نفاذ کے لیے حکومت کے ادارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے معاشی نظام سیاسی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ غالباً اسی لیے شروع میں اکنامکس کےمضمون کو Political Economy کہا جاتا تھا۔ چونکہ پچھلے ۵۰۰ برس سے سودی کاروبار سماجی و معاشی زندگی کا مرکز و محور ہے، اس لیے اس عرصے میں سودی کاروبار نے وہ زری طاقت (Money Might) حاصل کرلی ہے جس سے حکومت کی فیصلہ سازی کے عمل کو کنٹرول کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ حاضر کا سودی کاروبارحکومت کے تحفظ میں پرورش پاتا ہے۔ ۲۰۰۸ء کے مالی بحران کے بعد مغرب کے ترقی یافتہ مگر سود زدہ ممالک کے دانش ور اب ایسی باتیں کررہے ہیں، جیساکہ ۲۰۱۴ء میں شائع ہونے والی کتاب Barren Metal: A History of Capitalism as the Conflict between Labour and Usury کے نام سے ظاہر ہے۔ کتاب کے مصنف ای مائیکل جان کہتے ہیں کہ: Capitalism is state-sponsored usury ۔ سادہ الفاظ میں سرمایہ داری حکومتی تحفظ میں سود کا کاروبار ہے۔ آج کل امریکا اور یورپ میں ’مشترکہ خوش حالی‘ (Shared Prosperity)  کا بہت شوروغوغا ہے مگر نظامِ سرمایہ داری اس کا حامل نہیں ہے۔

قدرِ زائد کی منصفانہ تقسیم اشتراکیت میں انتہائی صورت میں سامنے آئی۔ اٹھارھویں صدی کے صنعتی انقلاب سے اگرچہ معاشی ترقی کے سارے پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے، مگر ایک سوسال بعدہی دولت کی انتہائی غیرمساوی تقسیم اوراس کے نتیجے میں وجود پذیر ہونےوالی غربت اورمزدور کی کسمپرسی اورزبوں حالی نے انسانیت کے تیسرے معاشی نظام، اشتراکیت کو جنم دیا۔ اس نظام کے بانی کارل مارکس کا کہنا تھاکہ ’’پیداواری عمل میں محنت بہت اہم عامل پیداوار (factor of production) ہے جس کے باعث قدرِ زائد پیدا ہوتی ہے مگر قدرِ زائد کا زیادہ حصہ سرمایہ لے جاتا ہے‘‘۔

اس صورتِ حال کی وضاحت کے لیے کارل مارکس نے نظریہ قدرِ زائد اور نظریۂ اجنبیت اوربیگانگی (Theory of Alleniation) پیش کیے۔ یہ دونوں نظریے مزدور (have nots) کے بارے میں تھے۔ پہلے نظریے کے مطابق مزدور کو پیداوار کے عمل میں مناسب حصہ نہیں ملتا کیونکہ   سرمایہ دار سرمایہ کے زور پر پیداوار کا بڑا حصہ لے جاتا ہے جس سے غربت میں تسلسل کے باعث امیر اورغریب کی خلیج بڑھتی جاتی ہے۔ غریب آدمی کی ساری زندگی پیٹ کےدوزخ کو بھرنے میں گزرجاتی ہے اوروہ اعلیٰ انسانی اقدار سے اجنبی اوربیگانہ ہوجاتا ہے۔ یہ نظریۂ اجنبیت اوربیگانگی ہے۔ انسانی غربت اوراجنبیت کو ختم کرنے کے لیے کارل مارکس نے تمام ذرائع دولت کو حکومتی کنٹرول میں لینے کی بات کی جس پر پہلی جنگ ِ عظیم کے بعد۱۹۱۷ء سے روس میں عمل ہوا۔ دراصل یہ قدرِ زائد کو نظم میں لانے کی کوشش تھی جس کانعرہ تھا:’’ہر ایک کو اس کی ضرورت اور صلاحیت کے مطابق ملے‘‘۔ یہ کوشش حقیقت میں معاشی ثمرات کو جبری طور پر تمام انسانوں میں برابر برابر تقسیم کرنے کا ایک غیرفطری عمل تھا۔ شروع کی کچھ کامیابیوں کے بعد یہ نظام ۷۰سال کے قلیل عرصے میں ہی زمین بوس ہوگیا۔

قُلِ الْعَفْوَ کا حصول ایسے ماحول کا متقاضی ہے جس میں ایک طرف افراد کو معاشی جدوجہد کی آزادی ہو، وہ محنت اور جانفشانی سے کام کریں اور منافع حاصل کریں۔اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے افراد اخلاقی اقدار کے بھی حامل ہوں، جس کے تحت وہ محنت سے کمائی ہوئی آمدنی اپنی مرضی سے ان لوگوں پر خرچ کریں جو زندگی کی معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں۔ مگر    سرمایہ داری میں سودی کاروبار کے باعث ایسے ماحول کی کوئی گنجایش سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مدینہ اکنامکس کی طرح اشتراکیت میں بھی سود کی مکمل ممانعت ہے مگر قدرِ زائد کی منصفانہ تقسیم کا اشتراکی تجربہ اس لیے بُری طرح ناکام ہوگیاکہ یہ طریق کار غیرفطری تھا۔ وسائلِ پیداوار پر جبری حکومتی قبضہ اور ہرقسم کی الٰہیات اور اخلاقیات سے مکمل دُوری نے ثابت کردیا کہ ایسے نظام کو دوام اوراستحکام حاصل نہیں ہوسکتا۔

روسی ادیب مائیکل شولوخوف کی دو کتابیں (اور ڈان بہتارہا اور کنوارے کھیت) اشتراکی نظام کی عملی کارکردگی پر بہت مؤثر انداز میں روشنی ڈالتی ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اجتماعی ملکیت کے تصور کی سمجھ نہیںآتی تھی۔ کمیون (Commune) سسٹم کے تحت گاؤں کے سارے گھوڑے اب سارے گاؤں کی ملکیت تھے۔ ناول میں ایک کسان کا ذکرہے جو انقلاب سے پہلے ایک گھوڑ ے کا مالک تھا۔ انقلاب کے بعد اس کی ڈیوٹی فارم ہاؤس پر لگا دی گئی، جس میں سارےگاؤں کے گھوڑے رکھے جاتے تھے۔ اشتراکی فلسفہ پر لیکچر کے دوران اسے بتایا جاتا کہ اب وہ سارے گاؤں کے گھوڑوں کا مالک ہے۔ کسان کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی کیونکہ اس کا تو اپنا گھوڑا بھی اس کی ملکیت میں نہیں رہا تھا، مگر گھاس ڈالتے وقت وہ زیادہ ہری گھاس اس گھوڑ ے کوڈالتا جو کبھی اس کا اپنا ہوتا تھا۔ اگرچہ یہ ایک افسانوی واقعہ ہے مگر اس سے بہت بڑی حقیقت کا سراغ ملتا ہے کہ ملکیت کا تصور (sense of ownership) انسانی سرشت میں شامل ہے۔ انقلاب کے بعد دو نسلوں نے بڑی محنت سے کام کیا جس سے پہلے ۵۰برسوں میں روسی معیشت نے خوب ترقی کی۔ تیسری نسل میں محنت اور جانفشانی سے کام کرنے کے لیے کوئی جذبۂ محرکہ (motivation to work) موجود نہیں رہا۔ الہامی اور اخلاقی جواز کی نفی کے باعث اشتراکیت وہ جوش اور ولولہ قائم نہ رکھ سکی، جس سے مشترکہ خوش حالی وجود میں آتی ہے۔

یہاں یہ ذکر کرنا بہت ضروری ہے کہ اسلام سے پہلے معاشیات منتشر حالت (fragmented)  میں موجود تھی مگر معاشی نظام ابھی تک وجودمیں نہیں آیا تھا۔ معاشیات کی تاریخ کے مطابق سرمایہ داری کا آغاز تو ایڈم سمتھ نے ۱۷۷۶ء میں کیا، جسے عام طور پر پہلا معاشی نظام کہا جاتا ہے۔ اس کے ۱۰۰ سال بعد کارل مارکس نے دوسرے معاشی نظام، اشتراکیت کی بنیاد رکھی۔یہ صورتِ حال بہت بڑے سوال کو جنم دیتی ہے۔ کیا تینوں ابراہیمی مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) معاشی نظام کے بغیر ہیں؟ حالانکہ تینوں مذاہب سرمایہ کا استعمال بطور سود کے بارے میں یکساں موقف رکھتے ہیں۔ یعنی سود تینوں مذاہب میں معاشی جدوجہد کا حصہ نہیں ہے مگر تینوں مذاہب میں قرض (بغیر سود کے) کی گنجایش موجود ہے۔ تورات میں اپنے بھائی کی مشکل وقت میں مدد کرنے کو کہا گیا ہے۔ بائبل میں قرض دینے کے بعداسے معاف کرنے (debt forgiveness) کا تصور بہت اہم ہے۔ بیان ہے کہ سات سال بعد اپنے بھائی اور دوست کا قرض معاف کر دیا جائے۔ بائبل میں اسے خداوند کی ادائیگی (Gods's Release) کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ اسلام میں یہی بیانیہ قرضِ حسن اور قُلِ الْعَفْوَ  کے نام سے ہے۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ سرمایہ داری انسانیت کا پہلامعاشی نظام ہے۔ تینوں مذاہب نے معاشی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں سود کو معاشی عمل کا حصہ نہیں بنایا اور سود کے انسانی زندگی پر بُرے اثرات کی بات کی ہے۔ ۲۰۱۹ء میں چھپنے والی کتاب Religion and Finance میں سود کا ابراہیمی مذاہب کے تناظر میں ذکر کرنے کے بعد ۲۰۰۸ء کے مالی بحران کی بڑی وجہ سودی کاروبار کو بیان کیا ہے۔

حقیقت میں معاشیات اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی سماجی زندگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شکلیں بدلتی رہیں۔ ابتدائی معاشی حالت کو ہم شکارچی دور (Hunter Gathere Age) سے جانتے ہیں جس میں خوراک اور پناہ گاہ ہی دو بنیادی مسئلے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی میں بہتری آتی رہی۔ منظم معاشرے اور حکومتیں وجود میں آئیں۔ ساتویں صدی میں دُنیا میں ایران اور روم دو بڑی طاقتیں تھیں۔ ان ممالک کی معاشیات بھی بہت مضبوط تھی۔ بڑی بڑی تجارتی منڈیوں میں زرعی اجناس اور صنعتی اشیا کی خریدوفروخت ہوتی۔ عوام اور بادشاہ ضرورت کے وقت ساہوکاروں سے اُدھار لیتے۔ ملکیت کے تصور کو قبولیت ِ عام کا درجہ حاصل تھا۔ تاجر کے پیشے نے تجارت کے فروغ کی نئی راہیں کھولیں۔ کرنسی کی ایجاد سے ادائیگیوں کے نظام میں بہتری آئی۔

معاشیات کے یہ بنیادی ستون تو موجود تھے مگر ابھی تک وہ معاشی قوانین اور ضوابط وجود میں نہیں آئے تھے، جنھیں ہم معاشی نظام کہہ سکیں، مثلاً مارکیٹ میں اشیاکی قیمتیں کیسے طے ہونی ہیں؟ اکثرقیمتیں منڈی کی رسد اور طلب کے مطابق ہی ہوتی تھیں مگر حکومتی مداخلت عام تھی۔ قحط اورسیلاب کی صورت میں حکمران قیمتیں اپنی مرضی سے مقرر کرتے۔ سودی قرض کی واپسی بھی بادشاہ اور امرا کی منشا کے مطابق تھی۔ تجارت اور تاجر کے پیشے کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ ملکیت (زمین، جاگیر وغیرہ) کا عطا ہونا یا ضبط ہوجانا، بادشاہ کی خوشی یا ناراضی کے مطابق ہوتا۔ اسلام کے ظہور نے اس منتشر معاشیات کو قانون و ضوابط عطا کرکے اسے ایک معاشی نظام میں منظم کر دیا، مثلاً تجارت کو معزز پیشہ قرار دیا اور تاجر کو معاشرے کا معزز ترین فرد بنادیا۔ قیمتوں کے تعین (determination of prices) کوہرحال میں منڈی کی طلب اور رسد سے جوڑ دیا۔ سود کو منع مگر قرض کی ادایگی کو لازمی کردیا۔ ایمان داری اور فلاح کو تجارت کی بنیاد بنا دیا۔ مارکیٹ میں اشیا کی خریدوفروخت پرٹیکس ختم کرکے زکوٰۃ کا نظام متعارف کرایا۔ صاحب ِ ثروت لوگوں کو ترغیب دی کہ وہ ان لوگوں کا بھی خیال کریں جو معاشی طور پرکمزور ہوں۔ یہ نظام قرآن میں نازل ہوا اور خود حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں نافذ کیا۔ اس طرح مدینہ اکنامکس دُنیا کا پہلا معاشی نظام ہے، جس میں دورِحاضر کےمعاشی نظام کےتمام اجزائے ترکیبی نہ صرف موجود ہیں بلکہ آج کے معاشی مسائل خاص طورپر ’مشترکہ خوش حالی‘ کا حل بھی دستیاب ہے۔

 ساتویں صدی کی مدینہ اکنامکس کی بنیاد ایمانیات اور اخلاقیات پر ہے۔ یہ ترتیب قرآن کے دو الفاظ صلوٰۃ اورزکوٰۃ فراہم کرتے ہیں۔ دل چسپ بات ہے کہ یہودیت اور عیسائیت میں بھی یہی ترتیب ہے۔ سورئہ مریم میں حضرت عیسیٰؑ جو ایک دن کے بچے ہیں لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ’’میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے نبی بنایا اور جب تک میں زندہ رہوں مجھے صلوٰۃ قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم ہے‘‘۔ قرآن کی اس آفاقی ترکیب (صلوٰۃ اور زکوٰۃ) کو جب ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں نافذ کیاگیا تو ایک مثالی معاشرہ وجود میں آیا جس میں تجارت معاشی فلاح پھیلانے کا ذریعہ بن گئی اور لوگوں نے خود اپنی مرضی سے محنت اور ایمان داری سے کمائی ہوئی آمدنی سے ان لوگوں پر خرچ کیا جو معاشی طور پر کمزور تھے۔ قُلِ الْعَفْوَ کی یہی حقیقت ہے جس کے نمودار ہونے کے علامہ اقبال منتظر ہیں۔

قُلِ الْعَفْوَ اور دورِحاضر

درج بالا بحث سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ’مشترکہ خوش حالی‘ کے لیے ضروری ہے کہ معاشی نظام سود سے پاک ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اخلاقی اقدار پرمبنی ہو۔ دونوں مشہور معاشی نظام (سرمایہ داری اور اشتراکیت) مشترکہ خوش حالی کےدرج بالا بنیادی لوازمات سے خالی ہیں۔ یہ اعزاز صرف ساتویں صدی کی مدینہ اکنامکس کو حاصل ہے، جس میں یہ دونوں عناصر بدرجۂ اتم موجود ہیں اوراس معاشی نظام کی بنیاد دانش و بُرہان پر ہے۔ پچھلے ۵۰سال معاشیات کی تاریخ میں بہت اہم ہیں کیونکہ ان برسوں میں اشتراکیت اور سرمایہ داری بطورِ معاشی نظام اپنی چکاچوند (glitter and shine) کھو بیٹھے۔ ۱۹۹۱ء میں اشتراکیت کے خاتمے پر نظامِ سرمایہ داری کی افادیت اور فعالیت کے بڑے ترانے گائے گئے۔ساری دُنیا کی معاشی قیادت سرمایہ داری کو سونپ دی گئی۔ اس بات کو بڑے متکبرانہ انداز میں بیان کیا گیا کہ سرمایہ داری ہی انسانیت کا اکلوتا معاشی نظام ہے جس سے معاشی فلاح کے چشمے پھوٹیں گے۔ ۲۰۰۸ء کے مالی بحران نے ان سارے دعوؤں کی نفی کردی۔

قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے ۱۹۴۸ء میں کہہ دیا تھا کہ کوئی معجزہ ہی اسے مکمل تباہی سے بچاسکتا ہے۔ علامہ اقبال تو اس سے پہلے ہی سرمایہ داری کے سفینےکے ڈوبنے کی بات کرچکے تھے۔ اس ماحول میں ضروری ہے کہ قُلِ الْعَفْوَ کی عالم گیر حقیقت کو آشکار کرنے کی کوشش کی جائے۔ ساتویں صدی کی مدینہ اکنامکس کو یونی ورسٹیوں میں پڑھایا جائے۔ اپنے نوجوانوں کو اسلام کی گمشدہ معاشی جنّت سے آگاہ کیا جائے کیونکہ اکیسویں صدی کی دُکھی انسانیت ایسے ہی معاشی نظام کی متلاشی ہے اور علّامہ اقبال بھی یہی چاہتے تھے:

خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نُورِ بصیرت عام کر دے

قائداعظم کا موقف ہمیشہ یہی رہا کہ پاکستانی قومیت کی بنیاد دین اسلام ہے ، علاقائیت ، نسلیت، لسانیت نہیں ہے اور پاکستان کو اسلامی ریاست کی حیثیت سے ایک عالمی کردار ادا کرنا ہے۔ اس کے برخلاف جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا نہ صرف دیو بند اور اس کے سربراہ مولانا حسین احمد مدنی بلکہ پوری انگریز سامراجیت اور انگریز کی تربیت یافتہ بیورو کریسی جو پاکستان کی قسمت میں آئی ، بہ شمول عسکری ادارہ جو انگریز ہی کا تربیت یافتہ اور انگریز ی ثقافت کا علم بردار تھا ۔ ان اداروں کے لیے اسلام کا دین ہونا اور محض پوجا پاٹ کا مذہب نہ ہونا ایک نئی بات تھی۔ انھیں روزِ اوّل سے سمجھایا گیا تھا کہ مذہبی آزادی کا مطلب جمعہ کے دن یا عیدین میں نیا لباس پہن کر نماز پڑھ لینا ہے ۔ بقیہ دنوں میں انگریز کی وفاداری اور اندھی پیروی ہی نجات دے سکتی ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جس سے ہم آج تک گزر رہے ہیں ۔

قومیت کا غلط تصور

علمائے دیوبند میں سے ایک مؤثر جماعت اور احرار جو نظریہ پاکستان اور دو قومی تصور کے مخالف تھے، ان پر تبصرہ کرتے ہوئے نامور مؤرخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کہتے ہیں :

As the congress ulema grew more unpopular, their writings became more and more vituperative …The main target of their abuse was the Qua’id -i-Azam, some of the maulvies drew special pleasure in distorting his name “Jinnah an Arabic word, into jina and when this failed to irritate him or his followers , they assigned him all kind of insulting sobriquets like kafir-i-A‘zam (this was invented by Ahrar leader Mazhar Ali Mazhar"). He further adds: The Ahrar ulma specially maulana ‘Ataullah Shah Bukhari and Habib-ur-Rehman Ludhianvi were strangers to a balanced  language. They seldom mentioned the Qua’id -i- Azam by his correct name. (Ishtiaq Husain Qurashi, Ulama in Politics, Karachi, Ma'aref Ltd,1974, p.354)

جیسے جیسے کانگریسی علما غیر معروف ہوتے گئے، ان کی تحریریں اور زیادہ دشنام طرازی پر مبنی ہوتی چلی گئیں… ان کی گالیوں کا مرکزی ہدف قائداعظم تھے۔ کچھ مولوی صاحبان کو ان کے نام جناح جو کہ عربی لفظ ہے کو Jina کہہ کر تضحیک کانشانہ بنا کر زیادہ خوشی ہوتی تھی۔ جب وہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو مشتعل کرنے میں ناکام رہے تو انھوں نے انھیں ہرطرح کے بُرے القاب جیسے ’کافراعظم‘ (یہ نام احرار کے لیڈر مظہرعلی ظہرنے رکھا تھا) سے پکارا۔ وہ مزید کہتے ہیں: احرار کے علما بالخصوص عطاء اللہ شاہ بخاری اور حبیب الرحمٰن لدھیانوی ایک متوازن زبان سے ناآشنا تھے۔ وہ کبھی کبھار ہی قائداعظم کو درست نام سے پکارتے تھے۔

 تصورِ پاکستان کی حمایت اور دو قومی نظریہ کے دفاع میں اوردیو بندی علما کا مدلل جواب اگر کوئی دیا گیا تو وہ صرف مولانا مودودی کا تحریر کردہ رسالہ مسئلہ قومیت  تھا۔ ڈاکٹر اشتیاق قریشی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

in fact Maulana Mawdudi’s rejoinder [to Mutahhidah qawmiyat aur Islam by Maulana Hussain  Madani]  was so logical, authoritative, polite and devastating that it was beyond the capacity of any supporter of a united nationhood to counter. Maulana Mawdudi pointed out that Maulana Hussain Ahmad had been carried away by his hatred of the British and had twisted history and facts. Are nations really created by political boundaries? If they are, why are ethnical, cultural and religious conflicts endemic in many states including the European countries? Maulana Husain Ahmad had indulged in willful distortion of the Arabic dictionary and even the meaning of verses of the Qur’an. He had no business to use a well-known word like  "nation" in any sense except the one internationally assigned to it. The Muslims and Jews of Madina did not form a single nation even after the Prophet had brought about an alliance between them for a short while after his migration from Mecca to that city. (Ibid, p 351)

درحقیقت مولانا مودودی کا جواب [متحدہ قومیت اور اسلام ، از مولانا حسین مدنی] اس قدر مدلل ، مستند، شائستہ اور زبردست تھا کہ متحدہ قومیت کے کسی حامی کی بساط سے باہر تھا کہ وہ اس کا ردکرسکے۔مولانا مودودی نےنشان دہی کہ مولانا حسین احمد انگریز سے نفرت کی وجہ سے حقیقت سے دُور ہوگئے اور انھوں نےتاریخ اورحقائق کو مسخ کردیا ہے۔ کیا قومیں واقعی سیاسی سرحدوں کی بنیاد پر بنتی ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر نسلی،ثقافتی، مذہبی تصادم مختلف ریاستوں بشمول یورپی ممالک میں کیوں پھوٹتے ہیں؟ مولاناحسین احمد عربی الفاظ حتیٰ کہ آیاتِ قرآنی کا مفہوم جانتے بوجھتے مسخ کرنے میں ملوث ہیں۔ انھیں ایک معروف لفظ ’قوم‘ کو کسی بھی مفہوم میں استعمال کرنے کا اختیار نہیں ہے  سوائے اس کے جوعالمی سطح پر مستعمل ہے۔جب رسولؐ اللہ نے مکہ سے اس شہر ہجرت کے بعد باہمی اتحاد تشکیل دیا تھا تو اس وقت بھی مدینہ کے مسلمانوں اوریہودیوں نے ایک محدود مدت کے لیے بھی ایک قوم کو اختیار نہ کیا۔

ڈاکٹر قریشی مزید کہتے ہیں :

"Maulana Mawdudi’s superior scholarship, his telling arguments, his cold logic and his knowledge of modern concepts in political science and law made it impossible for the Jami‘at group to answer his contentions.In fact Mufti Kifayatullah who was a faqih (jurist) and , therefore more cognizant of the demands of logic and academic debate, advised his colleagues against any attempt to continue the discussion, because he opined the Maulana Mawdudi was in the right and there was no point in attempting to defend the indefensible.(Ibid, p352)

مولانا مودودی کی علمی برتری، ان کے منہ بولتے دلائل، ان کی غیرجذباتی منطق اور جدیدسیاسیات اورقانون پران کے فہم نے جمعیت کے گروپ کے لیے ناممکن بنادیا کہ وہ ان کے دعویٰ کا جواب دے سکیں۔ درحقیقت مفتی کفایت اللہ نے جو کہ ایک فقیہہ تھے اوراس علمی و منطقی بحث کے تقاضوںسے بخوبی آشنا تھے ، اپنے ساتھیوں کو اس بحث کو مزید جاری رکھنے کی کسی بھی کوشش سے منع کیا کیونکہ ان کی نظر میں مولانامودودی کا موقف درست تھا اور اس ناقابلِ دفاع موقف کا دفاع کرنا کسی طرح ممکن نہ تھا۔

پاکستانی قومیت کی اساس

پھر پاکستانی قومیت کی صیحیح بنیاد کیا ہے ؟اس کا واضح اظہارقائد اعظم نے انتہائی مختصر الفاظ میں یوں فرمایا :

"What is that keeps the Muslims united, and what is bedrock and sheet anchor of the community? asked Mr. Jinnah, "Islam" he said and added "It is the great Book, Qur’an, that is the sheet- anchor of Muslim India. I am sure that as we go on and on there will be more and more of oneness ___ one God, one Book, one Qibla, one Prophet and one Nation". (K.A.K. Yusufi, Speeches, Statements and Messages of the Qua’id-i-Azam e.d. Lahore, Bazm-i-Iqbal, 1996, Vol 3.,Dawn , Dec27, 1943).

وہ کون سی چیز ہے جس نے فردِ واحد کی طرح مسلمانوں کو متحد کردیا ہے اور قوم کا ملجا و ماویٰ کیا ہے؟ انھوں نے خود ہی جواب دیا: ’اسلام‘ اور مزید کہا: ’’یہ عظیم کتاب قرآنِ کریم ہے جو مسلمانانِ ہند کی پناہ گاہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے چلے جائیں گے زیادہ سے زیادہ یکتائی آتی جائے گی___ ایک اللہ،ایک کتاب، ایک قبلہ، ایک رسولؐ اور ایک قوم‘‘۔(قائداعظم: تقاریرو بیانات، جلدسوم، ص ۲۵۱)

قائد کے نقطۂ نظر اور حد نظر تک ہدف کے واضح ہونے کی دلیل اس سے زیادہ کیا ہو سکتی ہے کہ دسمبر۱۹۴۳ء کو انھوں نے نپے تلے الفاظ میں دو قومی نظریہ اور خود مسلم قومیت کی سنگ بنیاد کو ایک تعریف کی شکل میں بیان کر دیا کہ اس کا لنگر جو اسے تحفظ فراہم کرتا ہے اور اس کی سنگ بنیاد اگر کوئی ہے تو وہ قرآن کریم ہے۔ پھر اس کی مزید وضاحت کر دی کہ کس طرح یہ کتاب مسلمانوں کو ایک قوم بناتی ہے، یعنی ایک اللہ ، ایک کتاب ، ایک قبلہ ، ایک رسول اور ایک ملت(یا قوم)۔

اسلام کس طرح پاکستانیت اور پاکستانی قومیت کی واحد بنیاد ہے ؟ اس بات کو سادہ الفاظ میں ڈاکٹر جا وید اقبال نظریۂ پاکستان کے تناظر میں یوں بیان کرتے ہیں:

"Pakistan claims itself to be an ideological state because it is founded on Islam …it is obvious that the people of Pakistan descend from different racial stock, different language, but live in geographically contiguous territories. The foundation of the state therefore could not possibly be laid on such principles as common race, common language and common territory… The real factor which sustains the state of Pakistan is the existence of a consciousness among the people of belonging to each other because a large majority of them adheres to a common spiritual aspiration i.e.faith in Islam… Consequently, the basis of nationhood in Pakistan is Islam. Islam acted as a nation –building force long before the establishment of Pakistan… Hence the historical fact which cannot be denied is that the formation of the Muslim nation preceded the demand for a homeland. Pakistan by itself did not give birth to any nation on the country, the Muslim nation struggled for and brought Pakistan into  being. therefore, Pakistan is not technically the cause of any kind of nationhood. It is only an effect, a result or a fruit of the strength of the Muslim nation for territorial specification.(Javid Iqbal, Ideology Of Pakistan, Lahore, Sang-e-Meel Publications,2005,p13)

پاکستانی ایک نظریاتی ریاست کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ یہ اسلام کے نام پر بنا ہے… یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کے لوگ مختلف نسلوں، مختلف زبانوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن جغرافیائی طور پرملحق خطوں سے وابستہ ہیں۔ لہٰذا ریاست کی بنیاد مشترکہ نسل، مشترکہ زبان اورمشترکہ خطے جیسے اصولوں پر نہیں رکھی جاسکتی… وہ حقیقی عنصر جو ریاست پاکستان کو قائم رکھتا ہے وہ لوگوں کے درمیان شعور کی بیداری ہے، اس لیے کہ ان کی اکثریت ایک مشترکہ روحانی اُمنگ رکھتی ہے، یعنی اسلام پرایمان… نتیجتاً پاکستان میں قومیت کی بنیاد اسلام ہے۔ اسلام نے قیامِ پاکستان سے کافی عرصہ پہلے ایک قومی تعمیرپر مبنی قوت کا کردارادا کیا ہے… لہٰذا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلم قوم کی تشکیل کے نتیجے میں ہی ملک کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پاکستان نے بذاتِ خود ملک میں کسی قوم کو پیدا نہیں کیا، بلکہ مسلم قوم نے جدوجہد کی اور پاکستانی کو معرضِ وجود میں لائی۔ لہٰذا تکنیکی طور پر پاکستان کسی قومیت کی تعمیر کی اساس نہیں ہے۔ یہ صرف مسلم قومیت کی علاقائی خصوصیت اورقوت کا نتیجہ اور ثمرہے۔

قائداعظم کا فکری تسلسل

قائد اعظم کا تصورِ پاکستان ان کے فکری تسلسل اور اعتماد کا ثبوت فراہم کرتا ہے ۔ وہ ایک بات کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر قبول کرنے کے قائل تھےاور لمحہ بہ لمحہ موقف تبدیل کرنے کو سخت ناپسند کرتے تھے ۔ چنانچہ یکم فروری ۱۹۴۳ء کو قیام پاکستان سے بہت پہلے ہوسٹل پارلیمنٹ اسماعیل یوسف کالج میں خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

"In Pakistan we shall have a state which will be run according to the principles of Islam.It will have its cultural, political and economic structure based on the principles of Islam....

The non-Muslims need not fear because of this, for fullest justice will be done to them, they will have their full cultural, religious, political and economic rights safeguarded.As a matter of fact they will be more safeguarded then in the present day so-called democratic parliamentary form of Government (Address at the Hostel Parliament of Ismail Yusuf College, Jogeshwari, Bombay, February 1, 1943.  M. A. Harris ed. Quaid-e-Azam, 1976, Karachi, Times Press, p 174)

پاکستان ایک ایسی ریاست ہوگی جسے اسلام کے اصولوں کے مطابق چلایا جائے گا۔ اس کا ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی ڈھانچا اسلام کے اصولوں پر مبنی ہوگا… غیرمسلموں  کو کسی قسم کے اندیشے میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے،ان سے پوری طرح عدل کا معاملہ کیا جائے گا۔ وہ مکمل طور پر اپنے ثقافتی، مذہبی ، سیاسی اورمعاشی حقوق میں محفوظ و مامون ہوں گے۔ درحقیقت انھیں آج کل کی نام نہاد پارلیمانی جمہوری حکومت سے زیادہ تحفظ ملے گا۔

قائد کے اتنے دوٹوک ، غیر مبہم اور پر اعتماد بیان سے جو کسی ’طبقہ علما‘ کے دباؤ پر نہیں دیا گیا قائد کے تصورِ پاکستان کی تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے لیکن پاکستان کے وہ دانش وَر جو بظاہر تاریخ کے شعبے میں دکتورہ(ڈاکٹریٹ)بھی رکھتے ہیں اور اصول تحقیق سے بھی آگاہ ہیں ، نہ معلوم کن وجوہات کی بنا پر ان تاریخی بیانات کو مکمل طورپرنظر انداز کر جاتے ہیں اور ان کی سوئی صرف ایک تقریر پر آکر رکتی ہے ۔جس میں قائد نے وہ بات نہیں کہی جو ان دانش وَروں کے ذہن میں پائی جاتی ہے ۔

علامہ اقبال، قائداعظم اور علامہ اسد اسلام کے دین ہونے اور مغرب یا مشرق کے  تصورِ ’مذہب‘ کے اسلام سے عدم تعلق پر یکسو اور متفق نظر آتے ہیں ۔قرآن کریم نے تقریباً  ۸۵مقامات پر اسلام کے لیے دین کی اصطلاح استعمال کی ہے،جب کہ مذہب جو ایک عربی اصطلاح ہے ایک مرتبہ بھی استعمال نہیں کی گئی۔ وجہ ظاہر ہے،کیوں کہ مذہب کا مفہوم وہ نہیں جو دین کا ہے۔ مذہب عموما ً عبادات اور رسومات تک محدودسمجھا جاتا ہے اور اسی بنا پر مغرب زدہ اور لبرل طبقہ اسلام کو مذہب کہہ کر پکارتا ہے ۔ یورپ اپنے تاریخی تناظر میں مذہب جس سے مراد اصلاً عیسائیت تھی ، سائنس، جدیدیت، عقلیت ، نشاتِ ثانیہ کی فکر وغیرہ سے ٹکراؤ کی بنا پر اس نتیجے پر پہنچا کہ مذہب ایک غیر عقلی ، اندھے عقیدہ کا نام ہے۔ چنانچہ یورپ میں سترھویں صدی سے لے کر آج تک ’مذہب‘کا رسمی مفہوم علمی مباحث میں یہی پایا جا تا ہے ۔ اسلام اس کے برعکس عقل اور عقلی استدال کے استعمال ، تجربہ اور تحقیق کو دین کا حصہ قرار دیتا ہے ۔اس لیے اس کے لیے مذہب کی اصطلاح استعمال کرنا کسی طرح بھی درست نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں کہ اسلام کسی ذاتی طریق عبادت کا نام نہیں بلکہ مکمل نظام حیات کا نام ہے ۔

پاکستان اور دیگر ممالک میں جو لوگ اپنے آپ کو لبرل کہلانا پسند کرتے ہیں ،وہ ہمیشہ یہی بات کہتے ہیں کہ مذہب ذاتی معاملہ ہے۔ یہی موقف کانگریس اور انگریز کا تھا کہ چونکہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے، اس لیے قومیت کی بنیاد نہیں بن سکتا، جب کہ ہم نے اوپر قائد اعظم اور علامہ اقبال کے جواقتباسات پیش کیے ہیں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ علامہ اقبال اور قائد اعظم یقین رکھتے تھے کہ اسلام بہ حیثیت دین سیاست ، معیشت ، معاشرت، ہر معاملے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔اور پاکستانی قومیت کی اگر کوئی بنیاد ہو سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف دین اسلام ہی ہے ۔اسی بات کو  ۲۲مارچ ۱۹۴۰ء کو اپنے صدارتی خطاب میں قائد اعظم نے وضاحت سے بیان کیا :

"It is extremely difficult to appreciate why our Hindu friends fail to understand the real nature of Islam and Hinduism. They are not religions in the strict sense of the word, but are, in fact, different and distinct social orders, and it is a dream that the Hindus and Muslims can ever evolve a common nationality, and this misconception of one Indian nation has gone far beyond the limits and is the cause of most of your troubles and will lead India to destruction if we fail to revive our nation in time. The Hindus and Muslims belong to two different religious philosophies, social customs and literatures.

They neither inter-marry nor inter-dine together and indeed they belong to two different civilizations which are based mainly on conflicting ideas and conceptions. Their aspects on life and of life are different. It is quite clear that Hindus and Musalmans derive their inspiration from different sources of history. They have different epics, different heroes and different episodes. Very often the hero of one is a foe on the other end, like wise their victories and defeats overlap. To yoke together two such nations under a single state, one as numerical minority and the other as a majority, must lead to growing discontent and final destruction of any fabric that may be so built up for the government of such a state". (K.A.K Yusufi,1996,  Vol-2, p 1881)

یہ سمجھنا بہت دشوار بات ہے کہ ہمارے ہندودوست اسلام اور ہندومت کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں۔ یہ حقیقی معنوں میں مذاہب نہیں ہیں۔ فی الحقیقت یہ مختلف اور نمایاں معاشرتی نظام ہیں اور یہ ایک خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترکہ قوم کی صورت میں منسلک ہوسکیں گے۔ ایک ہندی قوم کا تصور حدود سے بہت زیادہ تجاوز کرگیا ہے اورآپ کے بہت سے مصائب کی جڑ ہے۔ اوراگر ہم بروقت اپنے تصورات پر نظرثانی نہ کرسکے تو یہ ہند کو تباہی سے ہمکنار کردے گا۔ ہندوؤںاور مسلمانوں کا دومختلف مذہبی فلسفوں، معاشرتی رسم و رواج اور ادب سے تعلق ہے۔ نہ وہ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں نہ اکٹھے بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ دراصل وہ دو مختلف تہذیبوں سے متعلق ہیں جن کی اساس متصادم خیالات اور تصورات پر استوارہے۔ یہ بھی بالکل واضح ہے کہ ہندو اورمسلمان تاریخ کے مختلف ماخذوں سے وجدان حاصل کرتے ہیں۔ ان کی رزم مختلف ہے۔ ہیرو الگ ہیں اورداستانیں جدا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن ہوتا ہے اور اسی طرح ان کی کامرانیاں اور ناکامیاں ایک دوسرے پر منطبق ہوجاتی ہیں۔ ایسی دو قوموں کو ایک ریاست کے جوئے میں جوت دینے کا جن میں سے ایک عددی لحاظ سے اقلیت اوردوسری اکثریت ہو، نتیجہ بڑھتی ہوئی بے اطمینانی ہوگی اور آخرکار وہ تانا بانا ہی تباہ ہوجائے گا جو اس طرح کی ریاست کے لیے بنایا جائے گا۔ (قائداعظم:تقاریرو بیانات، دوم، ص۳۷۱)

اسلام ، مکمل نظامِ حیات

عموماً لبرل طبقہ یہ بات کہتا ہے کہ قائد اعظم نے پاکستان کے نظریہ اور نظام حکومت کے سلسلے میں اسلامی نظریۂ حیات یا Islamic Ideologyکی اصطلاح استعمال نہیں کی اوراس اصطلاح کو ایک معروف دینی جماعت کے ایک دانش وَر نے قائد اعظم سے منسوب کر دیا ۔حقیقت یہ ہے کہ ۱۸ جون ۱۹۴۵ء کو سرحد مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی کانفرنس کے نام اپنے تحریری پیغام میں قائد فرماتے ہیں :

I have often made it clear that if Musalmans wish to live as honorable and respectable People there is only one course open to them: fight for Pakistan, live for Pakistan, if necessary, die for the achievement of Pakistan or else Muslims and Islam are doomed.There is only one course open to us to organize our nation, and it is by our own dint of arduous and sustained and determined efforts that we create strength and support our people not only to achieve our freedom and independence but to be able to maintain it and live according to Islamic ideals and principles. Pakistan not only means freedom and independence but the Muslim ideology, which has been preserved, what has come to us as a precious gift and treasure, and which, we hope, others will share with us. (K.A.K Yusufi,1996,  Vol-3, p 2010)

میں نے اکثر یہ بات واضح کی ہے کہ اگر مسلمان باوقار اور لائق احترام لوگوں کی طرح سے زندہ رہناچاہتے ہیں تو ان کے سامنے ایک ہی راستہ ہے، پاکستان کے لیے لڑیئے، پاکستان کے لیے زندہ رہیے اور اگر ناگزیر ہو تو حصولِ پاکستان کے لیے مرجایئے، یا پھر مسلمان اور اسلام دونوں تباہ ہو جائیں گے۔ ہمارے سامنے ایک ہی راہ ہے: اپنی قوم کی تنظیم کرنا، اور یہ ہم اپنی محنت، مصمم اور پُرعزم مساعی کے ذریعے سے ہی قوت پیدا کرسکتے ہیں اور اپنی قوم کی حمایت کرسکتے ہیں، نہ صرف اپنی آزادی اور خودمختاری حاصل کرسکتے ہیں بلکہ اسے برقرار بھی رکھ سکتے ہیں، اور اسلامی آدرشوں اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ پاکستان کا مطلب نہ صرف آزادی اور خودمختاری ہے بلکہ مسلم نظریہ بھی ہے جسے ہمیں محفوظ رکھنا ہے۔ جو ایک بیش قیمت تحفے اور سرمایے کے طور پر ہم تک پہنچا ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں اور لوگ بھی اس میں ہمارے ساتھ شراکت کرسکیں گے۔( قائداعظم: تقاریر و بیانات ، سوم،ص۴۳۸)

اس تحریری پیغام سے دوسال قبل۲۶ دسمبر۱۹۴۳ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم اسی بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ برصغیر میں مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد اگر کوئی ہے تو وہ اسلام ہے:

What is that keeps the Muslims united, and what is bedrock and sheet anchor of the community, asked Mr. Jinnah  "Islam" he said and added "It is the Great Book, the Qur’an that is the sheet anchor of Muslims India. I am sure that as we go on and on there will be more and more of oneness ___one God, one Book, one Qibla, one Prophet and one Nation".(K.A.K. Yusufi, Speeches, Statements and Messages of the Qua’id-i-Azam, e.d. Lahore, Bazm-i-Iqbal, 1996, Vol 3, p 1821)

وہ کون سی چیز ہے جس نے فردِ واحد کی طرح مسلمانوں کو متحد کردیا ہے اورقوم کا ملجا و ماویٰ کیا ہے؟ انھوں نے خود ہی جواب دیا : ’اسلام‘ اور مزید کہا: ’’یہ عظیم کتاب قرآنِ کریم ہے جو مسلمانانِ ہند کی پناہ گاہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے چلے جائیں گے زیادہ سے زیادہ یکتائی آتی جائے گی___ ایک اللہ، ایک کتاب، ایک رسولؐ اورایک قوم‘‘۔ (قائداعظم: تقاریر و بیانات ، سوم، ص۲۵۱)

اس خطاب میں قائد اعظم نے واضح الفاظ میں اتحاد اور تنظیم کے لیے اسلام ہی کو قومیت کی بنیاد قرار دیا اورقومیت کے دیگر تصورات، یعنی نسل ،وطن اور زبان کی واضح تردید کر دی۔ قائداعظم کو اس بارے میں ذرہ برابر بھی شبہہ نہیں تھا کہ اسلام ذاتی مذہب نہیں ہے بلکہ مکمل نظام حیات ہے اور سیاست ، معیشت ، معاشرت ہر انسانی سرگرمی کا انحصار اسلام کی تعلیمات پر ہے ۔ ان کا دین کاتصور علامہ اقبال اور علامہ اسد سے مسلسل رابطہ اور تبادلۂ خیالات کے نتیجے میں بالکل واضح شکل اختیار کر چکا تھا۔ ۸ستمبر ۱۹۴۵ء کو عید کے پیغام میں فرماتے ہیں:

Everyone except those who are ignorant knows that the Qur’an is the general code of the Muslims.A religious, social, civil,  commercial, military, Judicial, criminal and penal code. It regulates everything from ceremonies of religion to those of daily life. It is a complete code regulating the whole Muslim society in every development of life, collectively and individually. (Eid message to the Muslims of India, September 8, 1945 in K.A.K. Yusufi, 1996, Vol-3, p 2053).

جہلا کے سوا ہرشخص اس امر سے واقف ہے کہ قرآن کریم مسلمانوں کا عام ضابطۂ حیات ہے۔ ایک دینی، معاشرتی، سول، تجارتی، فوجی، عدالتی، فوجداری ضابطہ ہے۔ رسوم مذہب ہی سے متعلق نہیں بلکہ روزانہ زندگی سے متعلق بھی۔روح کی نجات سے لے کر جرائم تک اس دنیا میں سزا سے لے کرعقبیٰ میں سزا تک۔(قائداعظم: تقاریر و بیانات ، سوم، ص ۴۷۴)

قائد اعظم اسلام کو ایک تہذیبی قوت سمجھتے تھے اور ان کے خیال میں پاکستان کا قیام اس روایت علم ، تحقیق و ایجادات کا احیا تھا جسے ناموران اسلام نے پہلی صدی سے عالمی سطح پر قائم کیا تھا۔

وہ اسلامی نشاتِ ثانیہ کے خواہاں تھے ۔ مسلمانان ہند کو ۳۰ ستمبر۱۹۴۳ء کو عید الفطر کے موقع پر اپنے پیغام میں فرماتے ہیں:

We are a nation of 100 million of people inhabiting this great sub-continent and we have a great history and great past behind us. Let us prove worthy of it and bring about true renaissance of Islam and revive its glory and splendor. (K.A.K. Yusufi, 1996, Vol-3, p 1766)

ہم ۱۰ کروڑ نفوس پر مشتمل ایک قوم ہیں جو اس برصغیر میں آباد ہے اور ہم ایک عظیم تاریخ اورماضی کے وارث ہیں۔ آیئے ہم خود کو اس کے اہل ثابت کریں اور اسلام کی حقیقی نشاتِ ثانیہ کا آغاز اور اس کی عظمت اورشان وشوکت کو زندہ کریں۔ (قائداعظم: تقاریر و بیانات ، سوم، ص۲۱۰-۲۱۱)

اسلام کا احیااور اس غرض سےپاکستان کا قیام قائد کے پسندیدہ موضوعات نظر آتے ہیں۔ اسی بات کو ایک دوسرے پیرائے میں ۱۸مارچ ۱۹۴۴ءکو پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن لاہور سے اپنے خطاب میں فرماتے ہیں :

 But on this auspicious day I would urge upon you in the name of our national cause and our cherished goal of Pakistan to stand united and unswerving in your determination and that you should hesitate to make every specific and prepared for all sacrifice for collective good and our national cause.

The league had give them a definite goal and taken them out of darkness and confusion and give them a clear cut and crystalized goal of Pakistan which was now an article of faith with the Muslim, millions of whom were prepared to fight with lives for its achievements.it was no more a slogan, it was something which the Muslims had to understand and in it lay their defence, deliverance and destiny which would once more bring to the world that there was a Muslim state which would revive the past glories of Islam. We want to rule our homeland and we shall rule.(K.A.K Yusufi, 1996,  Vol-3, p 1856-1857)

لیگ نے ان کے لیے قطعی منزل کی نشان دہی کر دی ہے اور انھیں واضح اور صاف شفاف نصب العین ’پاکستان‘ دے دیا ہے۔ جو اَب مسلمانوں کے عقیدے کا جزو بن گیا ہے جس کے حصول کے لیے لاکھوں مسلمان سردھڑ کی بازی لگانے کے لیے تیار ہیں۔ اب یہ محض ایک نعرہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی شے ہے جسے مسلمانوں نے سمجھ لیا ہے، اور اسی میں ان کا دفاع، نجات اور تقدیر مضمر ہے جس کی صدائے بازگشت ساری دنیا میں سنائی دے گی کہ ایک مسلم مملکت ہے جو اسلام کی عظمت رفتہ کو واپس لائےگی۔ انھوں نے کہا: ’’ہم اپنے وطن پر حکومت کرنا چاہتے ہیں اور حکومت کرکے رہیں گے۔ (قائداعظم:  تقاریر و بیانات ، سوم، ص ۲۸۰)

قائداعظم نے اپنے خطابات اور بیانات میں جن امور پر بار بار زور دیا ان کاواضح اور براہِ راست تعلق قوم کی فکری قیادت اور اسلام کی عظمت کے احیا سے بھر پور نظر آتا ہے۔چنانچہ ۱۱؍اکتوبر ۱۹۴۷ءکو اس تقریر کے پورے ایک ماہ بعد جس کی تسبیح لبرل حضرات صبح شام پڑھتے ہیں، فوج اور سول انتظامیہ کے افسران سے کراچی کے خالق دینا ہال میں خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

 The establishment of Pakistan for which we have been striving for the last ten years is, by the grace of God, an established fact today, but the creation of a State of our own was means to an end and not the end in itself. The idea was that we should have a State in which we could live and breathe as free men and in which we could develop according to our own lights and culture and where principles of Islamic social justice could find free play. (Address to civil, naval, and military officers, Khaliq Dena Hall, Karachi, Oct 11, 1947, in Speeches and Messages of the Quai’d-e-Azam,1947-48, Islamabad, Govt of Pakistan, 1989, p 74 ; also K.A.K Yusufi, VOL IV, P 2623-24).

قیامِ پاکستان ، جس کے لیے ہم گذشتہ دس برس سے کوشاں تھے، اللہ کے فضل وکرم سے آج ایک مسلّمہ حقیقت ہے لیکن اپنی مملکت کا قیام دراصل ایک مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں۔ تصور یہ تھا کہ ہماری ایک مملکت ہونی چاہیے جس میں ہم رہ سکیں گے اور آزاد افراد کی حیثیت سے سانس لے سکیں گے۔ جسے ہم اپنی صواب دید اور ثقافت کے مطابق ترقی دےسکیں اورجہاں اسلام کے معاشرتی انصاف کے اصول جاری و ساری ہوں۔ (قائداعظم: تقاریر و بیانات ، چہارم، ص۳۷۴-۳۷۵)

قائد نے بارہا یہ بات دُہرائی کہ ہمارے لیے مغربی جمہوریت نہ مثال بن سکتی ہے اور نہ اس میں سیاسی اور دیگر امور کو عقل اورعدل کے ساتھ چلانے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔۱۴ فروری ۱۹۴۸ء کو بلوچستان سبی دربار سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

In proposing this scheme, I have had one undelaying principle in mind, the principle of Muslim democracy. It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us by our great law-giver, the Prophet of Islam.Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic ideals and principles. Our Almighty has taught us that “our decisions in the affairs of the State shall be guided by discussion and consultation.(al-Shura 42:38). (K.A.K Yusufi op.cit,1996, Vol-4, p 2682)

اس اسکیم کو پیش کرتے ہوئے میرے پیش نظرایک ہی اصول تھا، یعنی اسلامی جمہوریت کا اصول۔ میرا عقیدہ ہے کہ ہماری نجات انھی سنہری قوانین کی پابندی میں ہے جو ہمارے شارع اعظم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے متعین کیے۔ آیئے ہم اپنی جمہوریت کی اساس صحیح اسلامی تصورات اور اصولوں پراستوار کریں۔ ہمارے خدائے عزوجل نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ’’کاروبار مملکت کے سلسلے میں ہمارے فیصلے، مباحثے اورمشاورت کے اصول کے تحت ہوں گے۔ (قائداعظم: تقاریر و بیانات ، چہارم، ص۴۱۲)

قائد اعظم کی فکر کا تسلسل و تواتر ان کے ہر بیان اور تقریر میں واضح نظرآتا ہے ۔سبی دربار میں اپنے خطاب کے تقریباً ایک ہفتے بعد ۲۱فروری ۱۹۴۸ءکو ملیر کراچی میں اک-اک رجمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے مزیدوضاحت کرتے ہیں :

You have fought many a battle on the far flung fields of the globe to get rid the world of the fascist menace and make it safe for democracy.Now you have to stand guard over the development and maintenance of Islamic democracy, Islamic social justice and the equality of mankind in your own native soil. You will have to be alert, very alert, for the time for relaxation is not yet there. With faith, discipline and selfless devotion to duty, there is nothing worthwhile that you cannot achieve.

آپ نےدنیا کو فسطائیت کی مصیبت سے نجات دلانے اور اسے جمہوریت کے لیے محفوظ کرنے کے لیے خطۂ ارض کے دُور دراز گوشوں میں بہت سی لڑائیاں لڑی ہیں، اب آپ کو اپنے وطن میں اسلامی جمہوری، معاشرتی عدل اور انسانی مساوات کے فروغ اور بقا کے لیے سینہ سپر ہونا ہوگا۔ آپ کو چوکنا رہنا ہوگا، بہت ہی چوکنا کہ ابھی آرام کا وقت نہیں آیا۔ یقین، نظم و ضبط اوربے لوث فرض کی لگن سے شاید ہی کوئی ایسی قابلِ قدر شے ہو جو آپ نہ حاصل کرسکیں۔  (قائداعظم: تقاریر و بیانات ،چہارم، ص۴۱۹)

اپنے خطاب میں وہ بار بار یہ بات واضح کررہے ہیں کہ اسلام ایک ذاتی مذہب نہیں ہے بلکہ سیاست ، معیشت ، معاشرت کی بنیاد اور جزو لاینفک ہے۔ اسے جدا نہیں کیا جا سکتا کہ ذاتی زندگی میں محدود کر دیا جائے ۔اس کی معاشرتی ، معاشی، سیاسی تعلیمات آج بھی ترو تازہ ہیں اور معاشرے کے لیے واحد حل کی شکل رکھتی ہیں اور یہی پاکستان کا مقصد ِوجود ہے۔

دستوری طور پر جب ۱۹۵۶ء کا دستور بنا تو ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان طے پایا لیکن اس سے بہت پہلے فروری ۱۹۴۸ء میں امریکا کے عوام کو ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے بطور خود ملک کا نام بنیادی طور پر ’اسلامی ریاست‘ قرار دے دیا تھا۔

This Dominion which represents the fulfillment, in a certain measure, of the cherished goal of 100 million Muslim of this sub-continent, came into existence on August 14, 1947.  Pakistan is the premier Islamic State and the fifth largest in the world. (K.A.K. Yusufi, Speeches, Statements and Messages of the Qua’id-i-Azam e.d. Lahore, Bazm-i-Iqbal, 1996, Vol 4, p 2692)

یہ مملکت جو کسی حد تک ا س برصغیر کے ۱۰کروڑ مسلمانوں کے حسین خواب کی تعبیر ہے، ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو معرضِ وجود میں آئی۔ پاکستان سب سے بڑی اسلامی مملکت اور دُنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔  (قائداعظم: تقاریر و بیانات ،چہارم،ص ۴۲۰)

اپنے اسی خطاب میں آگے چل کر قائد اعظم پاکستان کے زیر ترتیب دستور کے بارے میں یہ وضاحت کرتے ہیں :

constitution of Pakistan has yet to be framed by the Pakistan Constituent Assembly. I do not know what the ultimate shape of this constitution is going to be, but I am sure that it will be of a democratic type, embodying the essential principles of  Islam. Today, they are as applicable in actual life as they were 1,300 years ago. Islam and its idealism have taught us democracy. It has taught equality of men, justice and fair play to everybody. (K.A.K Yusufi,ibid,p2694)

مجلس دستورسازپاکستان کو ابھی پاکستان کے لیے دستور مرتب کرنا ہے۔ مجھے اس بات کا تو علم نہیں کہ دستور کی حتمی شکل کیا ہوگی، لیکن مجھے اس امرکا یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگاجس میں اسلام کے لازمی اصول شامل ہوں گے۔ آج بھی ان کا اطلاق عملی زندگی میں ویسے ہی ہوسکتا ہے جیسے کہ ۱۳سو برس قبل ہوسکتا تھا۔ اسلام نے ہرشخص کے ساتھ عدل اور انصاف کی تعلیم دی ہے۔ (ایضاً، ص۴۲۱)

نوجوانوں کا مطلوبہ کردار

قائداعظم کی تقاریر، بیانات اور انٹرویوزکے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاکستانی نوجوانوں سے غیر معمولی طور پر پُر امید تھے۔ مسلم اسٹوڈنس فیڈریشن ہو یا کسی کالج کی پارلیمنٹ یا طلبہ کی ریلی ، ہر موقعے پر وہ ایک ہی بات دُہراتے ہیں کہ نوجوان نسل اللہ تعالیٰ کے اس عظیم عطیہ کو جو ہمیں پاکستان کی شکل میں ۲۷رمضان المبارک ۱۹۴۷ء کو دیا گیا اور جس کا قیام ایک معجزے سے کم نہ تھا ، اس امانت کا حق اسی وقت ادا ہو سکتا ہے جب اس میں اسلامی معاشرت ،اسلامی قانون، اسلامی معیشت اور اسلامی ثقافت و تعلیم کو رائج کیا جائے۔یہی وہ فریضہ ہے جو نوجوانوں کو ادا کرنا ہے ۔ ۱۱؍اگست۱۹۴۷ء کی اس مشہور زمانہ تقریر کے بعد جس کے علاوہ کوئی تقریر ہمارے لبرل دانش وَروں کو یاد نہیں آتی ۔قائد نے پنجاب یونی ورسٹی کے طلبا کی ریلی ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اور ملک سے اسلام کے تعلق اور نوجوانوں میں روحِ جہاد کے حوالے سے جو بات کہی ہے وہ آج بعد از اسلامو فوبیا دور میں اچھے خاصے باشعور مسلمان قائدین بھی کہنے سے پہلے اپنے الفا ظ کو بہت ناپ تول کر استعمال کرتے ہیں، لیکن قائد اعظم اپنی روایتی جرأت، اعتماد ، یقین محکم اور ایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف نوجوانوں کو علامہ اقبال کی طرح روحِ جہاد پیدا کرنے پر ابھارتے ہیں بلکہ پاکستان کو ’اسلام کا قلعہ‘قرار دیتے ہیں :

Do not be overwhelmed by the enormity of the task.There is many an example in history of young nations building themselves up by sheer determination and force of character. You are made of sterling material and are second to none. Why should you also not succeed like many other, like your own forefathers. You have only to develop the spirit of the “Mujahids". You are a nation whose history is replete with people of wonderful gifts, character and heroism. Live up to your traditions and add to it another chapter of glory.

All I require of you now is that every one of us to whom this message reaches must vow to himself and be prepared to sacrifice his all, if necessary, in building up Pakistan as a bulwark of Islam and as one of the greatest nations whose ideal is peace within and peace without… Along with this, keep up your morale. Do not be afraid of death. Our religion teaches us to be always prepared for death. We should face it bravely to save the honor of Pakistan and Islam. There is no better salvation for a Muslim than the death of a martyr for a righteous cause. (K.A.K Yusufi Speech, Statements and Messages of the Qua’id-i-Azam e.d. Lahore, Bazm-i-Iqbal, 1996, Vol 4, p 2643)

کام کی زیادتی سے گھبرایئے نہیں۔ نئی اقوام کی تاریخ میں کئی ایک مثالیں ہیں جنھوں نے محض عزم اورکردار کی قوت کے بل پر اپنی تعمیر کی۔ آپ کی تخلیق ایک جوہرآبدار سے ہوئی ہے اور آپ کسی سے کم نہیں۔ اوروں کی طرح، اورخود اپنے آباؤاجداد کی طرح آپ بھی کیوں کامیاب نہ ہوں گے۔ آپ کو صرف اپنے اندر مجاہدانہ جذبے کو پروان چڑھانا ہوگا۔ آپ ایسی قوم ہیں جن کی تاریخ قابلِ صلاحیت کے حامل کردار اور بلندحوصلہ اشخاص سے بھری ہوئی ہے۔ اپنی روایات پرقائم رہیے اور اس عظمت کے ایک اورباب کا اضافہ کردیجیے۔

اب میں آپ سے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ ہرشخص تک میرا یہ پیغام پہنچادیں کہ وہ یہ عہد کرے کہ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اوراسے دنیا کی ان عظیم ترین قوموں کی صف میں شامل کرنے کے لیے بوقت ِ ضرورت اپنا سب کچھ قربان کردینے پر آمادہ ہوگا۔ جن کا نصب العین اندرونِ ملک بھی امن اور بیرونِ ملک بھی امن ہوتا ہے… اس کے ساتھ اپنا حوصلہ بلند رکھیے۔ موت سے نہ ڈریئے ۔ ہمارا مذہب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ موت کا استقبال کرنے کے لیے تیاررہنا چاہیے۔ ہمیں پاکستان اور اسلام کا وقار بچانے کے لیے اس کا مردانہ وارسامنا کرنا چاہیے۔ صحیح مقصد کے حصول کی خاطر ایک مسلمان کے لیے جامِ شہادت نوش کرنے سے بہتر کوئی راہِ نجات نہیں۔  (قائداعظم: تقاریر و بیانات ،چہارم، ص ۳۸۹-۳۹۰)

قائد اعظم کے ان تحریری پیغامات ، بیانات اور تقاریر سے یہ بات حتمی طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی فکر اور موقف جو ۱۹۴۳ء میں تھا ، وہی ۱۹۴۷ء اور۱۹۴۸ء تک رہا ۔اس میں کہیں نہ مفاہمت ہے نہ معذرت بلکہ پورے اعتماد سے مسلم آئیڈیالوجی ، اسلامی ریاست ، شریعت کی بالادستی ، اللہ کی حاکمیت اور مغربی سیکولر جمہوریت سے بے زاری صاف طور پر نظر آتی ہےاور ان کے تصورِ پاکستان کے بیانیہ کو غیر مبہم اور دوٹوک بنا دیتی ہے ۔ ۱۵ جون ۱۹۴۵ءکوفرنیٹئیر مسلم فیڈریشن پشاور کے نام اپنے تحریری پیغام میں جو بات قائد نے کہی تھی وہ اس پر قائم و دائم رہے اور بغیر کسی معذرت کے اعتماد کے ساتھ اپنے موقف کو بیان کرتے رہے ۔ہم ایک مرتبہ پھر اس بیان کو دُہراتے ہیں:

I have often made it clear that if Musalmans wish to live as honorable and respectable People there is only one course open to them: fight for Pakistan, live for Pakistan, if necessary, die for the achievement of Pakistan or else Muslims and Islam are doomed.  There is only one course open to us to organize our nation, and it is by our own dint of arduous and sustained and determined efforts that we create strength and support our people not only to achieve our freedom and independence but to be able to maintain it and live according to Islamic ideals and principles.

Pakistan not only means freedom and independence but the Muslim ideology, which has to be preserved what has come to us as a precious gift and treasure and which, we hope, others will share with us. (K.A.K Yusufi op.cit ,1996ٍ Vol-3, p 2010)

میں نے اکثر یہ بات واضح کی ہے کہ اگرمسلمان باوقار اورلائق احترام لوگوں کی طرح سے زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے ایک ہی راستہ ہے: پاکستان کے لیے لڑیئے، پاکستان کے لیے زندہ رہیے اور اگر ناگزیر ہوتو حصولِ پاکستان کے لیے مرجایئے، یا پھر مسلمان اور اسلام دونوں تباہ ہوجائیں گے۔

ہمارے سامنے ایک ہی راہ ہے: اپنی قوم کی تنظیم کرنا، اور یہ ہم اپنی محنت،مصمم اور پُرعزم مساعی کے ذریعے سے ہی قوت پیدا کرسکتے ہیں اور اپنی قوم کی حمایت کرسکتے ہیں،نہ صرف اپنی آزادی اور خودمختاری حاصل کرسکتے ہیں بلکہ اسے برقرار بھی رکھ سکتے ہیں اور اسلامی آدرشوں اور اصولوں کے مطاق زندگی بسر کرسکتے ہیں۔

پاکستان کا مطلب نہ صر ف آزادی اور خودمختاری ہے بلکہ مسلم نظریہ بھی ہے جسے ہمیں محفوظ رکھناہے۔ جو ایک بیش قیمت تحفے اورسرمائے کے طور پر ہم تک پہنچا ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں اور لوگ بھی اس میں ہمارے ساتھ شراکت کرسکیں گے۔  (قائداعظم: تقاریر و بیانات ،سوم، ص ۴۳۸)۔ (جاری)

بھارت میں ۱۹۹۸ء کے عام انتخابات کے موقعے پر جب بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کی قیادت میں پارٹی اتحادی سطح پر انتخابی منشور تیار کیا جا رہا تھا ، تو اس کی ابتدائی ڈرافٹنگ کا کام ماہر اقتصادیات موہن گوروسوامی کو سونپا گیا تھا ۔ منشور کی تیاری کمیٹی میں اٹل بہاری واجپائی، لال کشن ایڈوانی، جارج فرنانڈیز، موجودہ نائب صدر وینکییا نائیڈو، پرمود مہاجن، شرد یادو اور چند دیگر لیڈران شامل تھے۔

گوروسوامی پر واجپائی صاحب نے زور دیا کہ ’’ملک کو جوہری طاقت بنانے اور تبدیلیٔ مذہب کو روکنے کے سلسلے میں قانون سازی کرنے کے وعدے منشور میں شامل ہونے چاہییں‘‘۔ جوہری دھماکا کرنے کے معاملے پر کمیٹی میں کچھ زیادہ بحث نہیں ہوئی، صرف اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس کو مبہم انداز میں لکھا جائے گا۔ تبدیلی ٔمذہب کے مسئلے پر اجلاس کے شرکا تذبذب میں تھے، کیونکہ تبدیلی ٔمذہب پر پابندی لگانا، بھارتی آئین کے بنیادی ڈھانچے اور اس کی روح، یعنی مذہبی شخصی آزادی کے منافی تھا۔

بھارت اور پاکستان کے جو لوگ بے جا غلط فہمی کا شکار ہوکر واجپائی کو ’سیکولر رواداری‘ کا منبع اور ’امن کا دیوتا‘ سمجھتے ہیں، ان کو جان لینا چاہیے کہ آنجہانی وزیر اعظم واجپائی، لازمی طور پر اپنی دھوتی کے نیچے راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ، یعنی آر ایس ایس کی نیکر پہنتے تھے۔ واجپائی کا اصرار تھا کہ ’’اگر تبدیلیٔ مذہب پر مکمل طور پرپابندی عائد نہیں کی جاتی ہے، پھر بھی اس کو لازمی طور پر ڈسٹرکٹ کلکٹر یا مجسٹریٹ کی اجازت کے ساتھ نتھی کردینا چاہیے‘‘۔ گورو سوامی نے پاس میں بیٹھے لال کشن ایڈوانی کو کان میں بتایا کہ ’’یہ وعدہ آج کربیٹھنا ایک تنازعے کا باعث ہوگا، جب کہ بی جے پی اقتدار کے بالکل قریب ہے‘‘۔ ایڈوانی ، جنھوں نے بابری مسجد کو مسمار کرنے کے لیے رتھ یاترا کی قیادت کرکے، بی جے پی کو اقتدار کی دہلیز تک پہنچایا تھا، اب اپنا تاثر (Image) درست کروانے میں لگے ہوئے تھے۔ اپنی اسی انتہاپسندانہ مشکل کی وجہ سے اتحادیوں کے لیے وہ وزارت عظمیٰ کے اُمیدوار کی حیثیت سے قبول کیے جانے کی دوڑ سے نکال دیے گئے تھے، اور دُور رس نتائج پر نظررکھنے والے پارٹی کے شہ دماغوں نے واجپائی کو آگے کردیا تھا۔ گوروسوامی کے بقول ۱۹۹۸ءمیں ایڈوانی ہندو قوم پرستی کا جامہ اتار کر اپنے آپ کو سماجی اور اقتصادی قدامت پسند لیڈر کے بطور متعارف کروانا چاہتے تھے‘‘۔

مجھے یاد ہے کہ جس دن یہ منشور جاری ہو رہا تھا ، دہلی کے ہماچل پردیش بھون میں تقریب کے بعد ظہرانے کا اہتمام تھا۔ میں جس کھانے کی میز پر بیٹھا تھا، اسی پر ایڈوانی ، معروف صحافی راج دیپ ڈیسائی اور چند دیگر صحافی بھی تشریف فرما ہوئے تھے۔ چونکہ تب تک بی جے پی کے لیڈران کو حکومت کی ہوا نہیں لگی تھی، اس لیے ان تک رسائی آسان تھی۔ ڈیسائی نے کسی غیر ملکی مصنف کا حوالہ دے کر بتایا کہ ’’دنیا بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے خائف ہے‘‘۔ تو ایڈوانی نے سوال کیا کہ ’’جرمنی میں کرسچن ڈیموکرٹیک پارٹی، امریکا میں ری پبلکن اور برطانیہ میں ٹوری پارٹی کام کررہی ہیں تو بطور کنزر ویٹو پارٹی کے بی جے پی سے خائف ہونے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

اس اجلاس میں جب گوروسوامی نے آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حوالہ دے کر تبدیلیٔ مذہب کے خلاف قانون بنانے کے وعدے کو منشور میں شامل کرنے سے انکار کردیا، تو ’امن کے دیوتا‘ واجپائی نے غصّے سے لال پیلا ہوکر کہا کہ ’’ہارورڈ اور اوکسفرڈ کے ڈگری یافتہ لوگ، تبدیلیٔ مذہب کی شدت اور ہندو سماج کے بچاؤ کے معاملات کو نہیں سمجھ سکتے ہیں‘‘۔ ایڈوانی نے مداخلت کرکے واجپائی کا غصّہ ٹھنڈا کرکے کہا کہ ’’اقتدار میں آنے کے بعد اس پر سوچا جاسکتا ہے‘‘۔ وزیراعظم بننے کے بعد واجپائی نے ایک عوامی جلسے میں اس ایشو کو اٹھایا اور کہا کہ ’’اس پر کھل کر بحث ہونی چاہیے‘‘۔ ان کی اس تقریر کے فوراً بعد مشرقی صوبہ اڑیسہ میں ایک آسٹریلین پادری گراہم اسٹین اور اس کے دو بچوں کو زندہ جلادیا گیا۔ اس واقعے میں ملوث ایک ملزم پرتاپ سارنگی آج کل مرکزی حکومت میں وزیر ہیں۔ گوروسوامی تب تک حکومت کے اقتصادی مشیر مقرر ہو چکے تھے۔ واجپائی کی تقریر اور پادری کی ہلاکت کے سانحے کے بعد انھوں نے انڈین ایکسپریس میں ایک مضمون لکھ کر وزیرا عظم واجپائی کا نام لیے بغیر تبدیلی ٔمذہب کی مخالفت کرنے والوں کی خوب خبر لی۔ چند روز بعد ہی واجپائی کی ایما پر انھیں حکومت کی پیش کردہ ذمہ داریوں سے فارغ کردیا گیا۔

آج اس واقعے کے تذکرہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تبدیلی ٔمذہب کے احق کو سخت مشکل بنانے کے ساتھ ساتھ اب ہندو قوم پرست بی جے پی کی قیادت والے صوبے یکے بعد دیگر ے بین المذہبی شادیوں کو روکنے کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔ خاص طور پر اس صورتِ حال میں، جب کہ لڑکا مسلمان اور لڑکی ہندو ہو۔

 ۲۰۱۷ءمیں جب اتر پردیش کی صوبائی اسمبلی کے لیے انتخابات کا بگل بج گیا، تو موجودہ وزیرا علیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے انتخابی حلقہ گھورکھپور اور خوشی نگر کے دورے کے دوران مسلم خواتین کے اغوا اور پھر ان کو ہندو مذہب قبول کروانے کے کئی واقعات میرے علم میں آئے۔اس سے دو سال قبل لوک سبھا کے انتخابات کے موقع پر آدتیہ ناتھ نے واضح طور پر دھمکی دی تھی:’’اگر وہ (مسلمان) ہماری (ہندؤ) ایک لڑکی لے جائیں گے، تو ہم ان کی ۱۰۰ لڑکیاں لے جائیں گے‘‘۔ ان کا اشارہ اس پروپیگنڈا کی طرف تھا، جس میں مسلمان نوجوانوں پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ہندو لڑکیوں کو دامِ محبت میں پھنسا کر ان کے ساتھ شادیاں رچاتے ہیں‘ اور اس کو ’لو جہاد‘ کا نام دیا گیاہے۔

 اترپردیش کے مشرقی حصے میں تو معاملہ بالکل اُلٹ ہے۔ایک خاتون ساتھی رپورٹر شوئیٹا ڈیسائی کے ساتھ اس علاقے کے کئی دیہات خاک چھاننے کے بعد معلوم ہوا کہ مسلم لڑکیوں کے اغوا اور غائب کر دیے جانے کی سیکڑوں وارداتیں پولیس اسٹیشنوں کی فائلوں میں بند ہیں۔ معلوم ہوا کہ ان لڑکیوں کا’شُدھی کرن‘ کرکے ان کی شادیاں ہندو نوجوانوں کے ساتھ کرا دی جاتی ہیں۔وہیں پر ہمیں بنجاریہ گاؤں کی ۱۷ سالہ آسیمہ نے بتایا کہ اغواکرنے کے بعد اس پر ایک ہندو لڑکے کے ساتھ شادی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا‘ مگر وہ کسی طرح ان کے چنگل سے بھاگ نکلی۔ صرف اس ایک گاؤں میں نو ایسے خاندان تھے، جن کی لڑکیوں کو اغوا کرکے بعد میں زبردستی شادیاں کر وا ئی گئی تھیں۔

چوپیہ رام پور گاؤں میں ’زبیدہ‘ اب ’امیشا ٹھاکر‘ کے نام سے ایک ہندو خاندان میں اروند ٹھاکر کی بیوی بن کر زندگی گزار رہی تھی۔ہلکےنیلے اور گلابی رنگ کی ساڑھی زیب تن کیے، ماتھے پر تلک اور مانگ میں سندور کو دیکھ کر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ لڑکی کبھی زبیدہ رہی ہوگی۔ اس کو ۱۳سال کی ہی عمر میں اغوا کیا گیا تھا۔ سڑک کی دوسری طرف ہی اس کی ننھیال ہے، جن کے لیے زبیدہ مرچکی ہے۔ اس کے ماموں عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’’اغوا کے کئی ہفتوں بعد ان کی بیٹی کو بھری پنچایت میں پیش کرکے زبردستی ہندو بنایا گیا اور اب وہ ایک زندہ لاش کی مانند زندگی گزارنے پر مجبور ہے‘‘۔ پولیس نے تو پہلے رامیشور ٹھاکر کے دو بیٹوں کے خلاف نابالغ لڑکی کو اغوکرنے کے الزام میں رپورٹ درج کی تھی مگر بعد میں اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’’طاقت وَر ٹھاکر خاندان کے خلاف لڑنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی‘۔ اپنے تین سالہ بیٹے کو گود میں لیے زبیدہ یا امیشہ نے ہم کو بتایا کہ ’’میں اب زندگی کے ساتھ سمجھوتا کر چکی ہوں، کیونکہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے‘‘۔ پولیس ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ اس علاقے میں ۳۸۹ نابالغ مسلمان لڑکیوں کے غائب ہونے کی وارداتیں ہوئی تھیں۔

دہلی واپس آکر ایک دن پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران میں نے آدتیہ ناتھ یوگی کو، جو ممبر پارلیمنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ گھورکھ پور کے سب سے بڑے مندر کے مہنت بھی تھے ، سینٹرل ہال کے ایک کونے میں اکیلے سوپ نوش کرتے دیکھا۔ بیٹھنے کی اجازت مانگنے کے بعد ان سے اس ’ریورس لو جہاد‘ کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مسلم لڑکیاں خود ہی ہندو لڑکوں سے شادیاں کرکے بہ رضاو رغبت مذہب تبدیل کرتی ہیں‘‘۔ میں نے پوچھا کہ ’’آپ آئے روز مسلمانوں کے خلاف بیانات داغتے رہتے ہیں۔ بھارت میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق ۱۷کروڑ سےزیادہ مسلمان بستے ہیں۔ ان سبھی کو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ پاکستان کی طرف دھکیلا جاسکتا ہے اور نہ ہندو بنایا جا سکتا ہے۔ کیا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ اس ملک میں ہندو اور مسلمان  شانہ بشانہ پُرامن زندگی گزار سکیں؟‘‘یوگی صاحب کہنے لگے :’’ہندو حکمرانوں کے کبھی توسیع پسندانہ عزائم نہیں رہے ہیں‘ مگر اب وہ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، کیونکہ ان کا مذہب، تہذیب و تمدن مسلمانوں اور عیسائیوں کی زد میں ہیں، اور ان مذاہب کے پیشوا اور مبلغ‘ ہندوؤں کو آسان چارہ سمجھتے ہیں‘‘۔ ٹوسٹ کا آخری لقمہ حلق میں اتارتے ہوئے آدتیہ ناتھ نے کہا: ’’مسلمان، ہندو دھرم کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور ہماری رسوم پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ پھر ہر روز پانچ وقت مساجد سے اذان کی آوازیں آتی ہیں‘‘۔ لوک سبھا کی کارروائی کے لیے کورم کی گھنٹی بجائی جارہی تھی۔ وہ ایوان میں جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور جاتے جاتے کہا:’’مسلمانوں کو دیگر اقلیتوں سکھوں، جین فرقہ اور پارسیوں کی طرح ہندو دھرم کی برتری تسلیم کرتے ہوئے چین سے رہنا سیکھنا چاہیے‘‘۔

آج یہی ادتیہ ناتھ بھارت کے سب سے بڑے صوبہ کے وزیرا علیٰ ہیں، اور وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شا کے بعد حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے تیسرے بڑے لیڈر ہیں، جو وزارت عظمیٰ کی کرسی حاصل کرسکتے ہیں۔

اتر پردیش کی بی جےپی حکومت نے ۲۶نومبر۲۰۲۰ء کو ایک آرڈی ننس منظور کیا اور پھر ۴۸گھنٹوں کے اندر اندر اس کا اطلاق کرکے لکھنؤ میں ایک ایسی شادی کو رکواتے ہوئے ایک مسلم نوجوان کو جیل بھیج دیا۔ اسی طرح ایک مسلم جوڑے کو نکاح کی تقریب کے دوران حراست میں لے کر ان کو پولیس اسٹیشن میں مبینہ طور پر اذیتیں دیں، اس سے ہلکا سا اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں اس قانون کی آڑ میں مسلم نوجوانوں کو کس طرح ہراساںکیا جائے گا۔ لگتا ہے کہ اب رفتہ رفتہ مسلمانوںکو شادی یا نکاح کی تقریب منعقد کرنے سے قبل مقامی پولیس سے باضابطہ اجازت لینی پڑے گی ، اور یہ یقین بھی دلانا پڑے گا ، کہ دلہن کسی دوسرے مذہب کی نہیں بلکہ پیدایشی اور نسلی مسلمان ہی ہے۔ جہاں ایک طرف اب حکومتی اداروں نے مسلمان لڑکوں کی دیگر مذاہب کی لڑکیوں کے ساتھ شادی پر سخت موقف اختیار کرکے قانون سازی تک کر ڈالی، وہیں دوسری طرف ہندو تنظیمیں باضابطہ مسلم لڑکیوں کے اغوا اور ہندو نوجوانوں کے ساتھ ان کی شادیاں کرنے کے واقعات سے صرفِ نظر کرتی آئی ہیں۔

بین المذہبی شادیوں میں مسلمانوں کو ’لوجہاد‘ کا نام دے کر مطعون کیا جارہا ہے۔ بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کرکے یہ بتایا جاتا ہے کہ ’’مسلمان لڑکے ہندوؤں کے بھیس میں دیہاتوں اور قصبوں میں گھومتے رہتے ہیں اور ہندو لڑکیوں کو محبت کے جا ل میں پھنساتے ہیں۔ شادی کے بعد جب پتہ چلتا ہے کہ لڑکا مسلمان ہے،تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور پھر لڑکی کا زبردستی مذہب تبدیل کیا جاتا ہے‘‘۔

اس بے بنیاد، مبالغہ آمیز اور لغو پروپیگنڈے کو نام نہاد تحقیقی رنگ دینے کی غرض سے ایک تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ’’ہمارے ہاتھ توایک ریٹ لسٹ بھی لگی ہے، جس کے تحت ایک برہمن لڑکی کو بھگانے اورنکاح کرنے پر مسلم نوجوانوں کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں سے ۱۰ سے ۱۵ لاکھ روپے دلائے جاتے ہیں، جب کہ دیگر ذاتوں کی لڑکیوں کے لیے سات سے دس لاکھ اور نچلی ذات، یعنی دلت لڑکیوں کے لیے یہ ریٹ پانچ لاکھ ہے‘‘۔شکر ہے کہ اس میں ابھی تک پاکستان یا اس کی کسی ایجنسی کا نام شامل نہیں ہوا۔ ایسی پروپیگنڈا بریگیڈ کے مطابق ’’ایک سازش کے تحت ہندو اکثریتی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی کوشش ہو رہی ہے‘‘۔

 اب ان کو کون بتائے کہ اگربھارت میں رہنے والے تقریباً ۲۰کروڑ مسلمان صرف  ہندو لڑکیوں سے ہی شادیا ں کرتے ہیں، تو اس کے باوجود ۹۸کروڑ ہندوؤں کو اقلیت میں تبدیل نہیں کرسکتے۔ اس نئے ’لو جہاد‘ کے نعرہ کے نام پر ہندو تنظیموں نیز کئی جگہوں پر مقامی انتظامیہ نے اترپردیش، راجستھان، کرناٹک میں مسلم نوجوانوں کی زندگیاں اجیرن بناکے رکھ دی ہیں۔اگر ان کو دہشت گردانہ واقعات کے ساتھ جوڑنے کے لیے ثبوت نہ مل رہے ہوں ، تو ’لو جہاد‘ کے نام پر یا کسی ہندو لڑکی کی طرف دیکھ لینے ہی کی پاداش میں انھیں نشانِ عبرت بنادیا جاتا ہے اوربنایا جاسکتاہے۔ ۲۰۱۳ء میں دہلی سے صرف ۱۰۰کلومیٹر دُور مظفر نگرکے خونیں فساد اسی طرح کی افواہ سے شروع ہوئے تھے۔ ان میں تقریباً ۶۰؍ افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

مغربی اتر پردیش اور ہریانہ میں ہندو جاٹوں کا سماجی تانا بانا خاصا پیچیدہ ہے۔ ایک تو ان علاقوں میں مردوںاور عورتوں کی آبادی کا تناسب سب سے کم ہے، دوسری طرف یہ ایک گوت اور ایک ہی گاؤں میں شادی نہیں کرتے۔ چچا زاد، ماموں زاد نیز گاؤںکی تمام لڑکیوں کو بہن کا درجہ دیا جاتا ہے، اور اس روایت کو اس حد تک سختی کے ساتھ نبھایا جاتا ہے، کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو کئی موقعوں پر گاؤں کی جاتی پنچایت یا ان کے اعزا و اقارب ہی موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ان علاقوں میں کئی مواقع پر لڑکیاںگاؤں کے مسلم یا نچلی ذات کے ہندو دلت نوجوانوں کو دل دے بیٹھتی ہیں۔ کیوںکہ صرف یہی دو گروہ بھائیوں کے زمرے میں نہیں آتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اس علاقے میں ابھی تک کوئی ایسا مقدمہ سامنے نہیں آیا ہے، جہاں کسی ہندو لڑکی نے باضابطہ طور پر کسی مسلم لڑکے کے ساتھ شادی کی ہو یا مذہب تبدیل کیا ہو۔

چند برس قبل تک اسرائیل میں بھی ’اسرائیلی عربوں‘ (یہ اصطلاح ان فلسطینیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جو اسرائیل کو اپنا وطن تسلیم کرتے ہیں) پر بھی یہودی لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر اپنے آپ کو یہودی جتلا کر ان کے ساتھ شادیا ں کروانے کے الزام لگائے جاتے تھے۔ اس سارے پروپیگنڈے کا ماخذ۲۰۱۰ء میں عدالت میں ایک یہودی لڑکی کی طرف سے دائر کیا گیا مقدمہ تھا، جس میں اس نے اپنی شادی منسوخ کرنے کی درخواست دی تھی کیونکہ ’’اس کے شوہر نے اپنی شناخت چھپا کر اور اپنے آپ کو یہودی جتلا کر اس کے ساتھ شادی کی تھی۔ بعد میں اس کو پتہ چلا تھا کہ وہ ایک عرب نوجوان تھا‘‘۔اس واقعہ کے نتیجے میںتل ابیب، عسقلان، بحرلوط اور دیگر تفریحی ساحلی مقامات پر اسرائیلی عرب نوجوانوں کا داخلہ بند کردیاگیا تھا۔

دوسری عالمی جنگ سے پہلے کچھ اسی طرح کے حربے نازی جرمنی نے یہودیوں کے خلاف اپنائے ، تاکہ ملک گیر سطح پر ان کے خلاف نفرت کا ایک طوفان کھڑا کیا جائے۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ہٹلر نے اس پروپیگنڈے کو عام کرنے میں خاصی دل چسپی دکھائی، کہ ’’یہودی نوجوان ایک پلاننگ کے تحت جرمن خواتین کی آبرو کے درپے ہیں‘‘، تاکہ بقول ہٹلر ’’اعلیٰ جرمن آرین نسل کو آلودہ کیا جائے‘‘۔ ایڈولف ہٹلر نے اپنی خود نوشت سوانح حیات مین  کیمف (Mein Kampf) میں لکھا ہے: ’’چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے کالے بالوں والے یہودی نوجوان، جرمن لڑکیوں کے لیے گھات لگائے بیٹھے ہیں ، تاکہ ان کے خون کو گندا کریں اور ان سے ان کی نسل چھین لیں‘‘۔ بالکل اسی طرح کا کھیل ۸۰برس کے بعد اب بھارت میں کھیلا جا رہا ہے۔

حیر ت کا مقام ہے کہ '’لو جہاد‘ کا یہ مفروضہ۲۰۰۶ء میں تعلیمی اور سماجی لحاظ سے ترقی یافتہ صوبہ کیرالا سے شروع ہوا، اور بعد میں یہ وبا پڑوسی صوبہ کرناٹک تک پہنچی۔حتیٰ کہ ۲۰۰۹ء میں کرناٹک کی ہائی کورٹ نے دونوں صوبوں کی پولیس سے رپورٹ طلب کی۔ پولیس نے بتایا کہ ’’محبت کا جھانسہ دے کر مسلمان بنانے کا کو ئی واقعہ ہمارے ریکارڈ پر نہیں ہے، تاہم ۲۵جون۲۰۱۴ء کو وزیراعلیٰ اومن چاندی نے اسمبلی میں انکشاف کیا کہ ان کے صوبہ میں ۲۰۰۶ء اور ۲۰۱۴ء کے درمیان ۲۶۶۷ہندو خواتین نے اسلام قبول کیا ہے۔ مگر پولیس تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے، کہ ان خواتین کو کسی نے زبردستی یا لالچ دے کر تبدیلیٔ مذہب پر مجبور نہیں کیا۔ ان میں سے اکثر خواتین نے یہ بتایا کہ وہ ہندو مذہب کے ذات پات کے بندھنوں سے چھٹکارا پانا چاہتی تھیں، یا پھر شادی کے لیے ان کی اپنی ذات یا معاشی سطح کے ہندو لڑکوں نے انکار کردیا تھا‘‘۔

چونکہ رام مندر کی تعمیر ، کشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن ختم کرنے جیسے امور پر عمل درآمد ہوچکا ہے۔ ہندو انتہا پسند تنظیمیں جو اعلیٰ ذاتوں کی نمایندہ ہیں، انھیں مسلمانوں کو ہدف بنانے کے لیے  ایک اور ایشو کی ضرورت ہے، جس سے اکثریتی آبادی کی توجہ بنیادی ایشوز سے ہٹائی جائے اور  منافرانہ ماحول گرم رکھ کر ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز فضا برقرار رکھی جائے۔ مظلوم اور کمزور طبقات میں بڑھتی ہوئی سماجی بیداری نے نسل پرست بی جے پی کی فکر مندی کو دوچند کردیا ہے۔ لہٰذا وہ اپنے پس پردہ اہداف کے حصول کے لیے پسماندہ طبقات اور دلتوں کو  نشانہ بنانے کی جرأت نہیں کر سکتے ہیں۔ البتہ انتہاپسند ہندو تنظیمیں مسلمانوںکو نرم چارا تصور کرتی ہیں۔ ان تنظیموں کے لیے بہتر تھا کہ ہندو معاشرہ کی معاشرتی خرابیوں کی طرف توجہ د یتیں، جن کے سبب ہندو خاندانوں کی خانگی زندگیاں عذاب بن جاتی ہیں۔ ایسے ایسے سماجی بندھن اور قانونی شقیں ہیں کہ نہ آسانی سے طلاق لے سکتے ہیں اور نہ کسی مجبوری کی وجہ سے دوسری شادی کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کے نزدیک یہ مسائل کوئی اہمیت نہیں رکھتے کیونکہ اس کی بنیاد پر سیاسی مفادات پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔

بہرحال ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت میں مسلمان خود کو اس شر و فساد کی سیاست سے محفوظ رکھیں۔ جو نوجوان غیر اخلاقی حرکتوں میں ملوث ہوتے ہیں، غیر مذہب کی خواتین کے ساتھ راہ و رسم بڑھاتے ہیں، ان کی اصلاح کی کوشش کریں اور ان کی حوصلہ شکنی کریں۔ کہیں ان کی حرکتوں کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا نہ پڑے۔ کیوںکہ آثار و قرائن بتا رہے ہیں، کہ ہندو انتہا پسندوںکا سازشی ٹولہ اسی بہانے مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ کی سازش کر رہا ہے۔

عصرحاضرکے پاور اسٹرکچر میں عسکری، معاشی اور علمی طاقت کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی طاقت کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ روایتی جنگیں مخصوص اوقات اور مقامات پر لڑی جاتی تھیں، لیکن آج کے دور کی جنگیں ہر وقت اور ہر مقام پر لڑی جا رہی ہیں۔ ان جنگوں میں سائنس و ٹکنالوجی کے علاوہ میڈیا بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ عسکری طاقت جہاں انسانوں کا وجود مٹانے کے لیے استعمال ہورہی ہے وہاں میڈیا کی طاقت کو انسانوں کے اذہان اور اعتقاد کو تبدیل کرنے کے لیے  استعمال کیا جاتا ہے۔ لوگوں کے نظریات اور خیالات تبدیل کرنے کے لیے میڈیا ایک ایسی جنگ مسلط کرتا ہے، جس کی حقیقت کو جاننا بہت مشکل، لیکن بہت ضروری ہے۔

پچھلے چند عشروں میں مغربی میڈیا نے شناخت کے خلاف ایک ایسی جنگ چھیڑی ہے، جس کے متاثرین میں صرف دین اسلام کے پیروکار ہیں۔ اسلام دشمنی میں بڑے پیمانے پر ہیجان اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ، میڈیا ایک ذریعے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ میڈیا پر جرائم اور دہشت گردی کی رپورٹنگ کرتے وقت اسلامی اصطلاحات کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ اسلام کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا ہو۔ ان اصطلاحات کو دینی و مذہبی سیاق و سباق سے ہٹا کر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ان کے اصل معنی و مفہوم پس منظر میں چلے جائیں اور میڈیا کے ذریعے تخلیق کردہ نئے معنی مقبول ہو جائیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے خلاف خوف پھیلانے کے لیے، میڈیا پر جو گمراہ کن بیان بازی اورغلط بیانی کی جاتی ہے اسے عرف عام میں ’اسلاموفوبیا‘ کہتے ہیں۔

  • مغربی میڈیا کا تعصب: میڈیا ہاؤسز کے ذریعے پھیلائے جانے والے 'عمومی تصور اسلام میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ’’اسلام کے تمام ماننے والے ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں‘‘۔جس کا اصل مقصد مغرب میں مسلمانوں کو معاشرے سے کاٹ کر الگ کرنا، دیوار سے لگانا اوردنیا بھر کے مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔ اسلام کا یہ عمومی تصور مغرب کے اورینٹل ازم یا مستشرقیت کی تخلیق ہے، جو 'غیرمغرب ثقافتوں کو مغرب سے متضاد اور متصادم دکھاتا ہے۔ اس اورینٹل ازم پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کو اجنبی، عجیب، پس ماندہ اورغیر معقول گروہوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ کسی مسلمان کے جرم میں ملوث پائے جانے پر کیا جاسکتا ہے، جب کہ مسلمانوں کی اکثریت اس کے جرائم سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہو لیکن پھر بھی پوری امت مسلمہ کو زبردستی اس فرد کے جرم سے جوڑا جائے۔

اسلام کے اندر کئی مکاتب فکر، متنوع آبادیاںاور بے شمار ثقافتوں کے حامل افراد و گروہ موجود ہیں،جنھیں بنیادی عقائد اور ایمان کے حوالے سے تو ایک امت مسلمہ کہا جا سکتا ہے، لیکن ہرحوالے سے انھیں ایک عمومی شناخت کے اندر نہیں لایا جا سکتا۔ دنیا کے کسی اصول کے تحت بھی کسی ایک فرد یا افراد کے ایک گروہ کے اعمال کے ذمہ دار دیگر تمام افراد قرار نہیں دیے جاسکتے۔ لیکن اسلام کے تمام پیروکاروں کو ایک عمومی شناخت دیتے ہوئے، میڈیا جب کسی فرد یا چند افراد کے اعمال کا ذمہ دار پوری امت کو ٹھیراتا ہے تو یہ تمام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ملزم کی مذہبی شناخت پر بھی حملہ ہوتاہے۔

مثال کے طور پر نیویارک میں نائن الیون حملے کے چھے ماہ کے اندر مغربی میڈیا میں شائع ہونےوالے تمام مضامین اورخبروں میں حملہ آوروں کی شناخت مسلم کے طور پر بتائی گئی۔ اس عمل سے میڈیا نےاپنے وسائل اور اثر ورسوخ کی وسعت کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے تنوع اور امتیازات کو نظر انداز کرکے چند افراد کے جرم کو پوری امت مسلمہ کے سر پر ڈال دیا گیا۔ اس ’جنرلائزیشن‘ یا ’عمومیت‘ سے دانستہ طور پر متعدد منفی نتائج پیدا کیے گئے، لیکن ان میں سے سب سے اہم منفی نتیجہ ’اسلاموفوبیا‘ ہی ہے۔

 پروفیسر رضا اصلان نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’ جب آپ لوگ ڈیڑھ ارب سے زیادہ افراد کے مذہب کی بات کرتےہیں تو ان مسلمانوں کو ایک ہی برش سے رنگتے ہیں جو بہت آسان کام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مذہب نہ پُرامن ہوتا ہے اور نہ پُر تشدد۔ یہ سب تو کسی فرد یا چند افراد کا ذاتی فعل اور رویہ ہوتا ہے، جو کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوسکتے ہیں۔ جس طرح کسی عیسائی، یہودی، ہندو یا بدھ مذہب کے ماننے والوں کے کسی فعل کا ذمہ دار ان کا مذہب نہیں، اسی طرح کسی مسلمان کے فعل کا ذمہ دار بھی اس کا مذہب نہیں ہو سکتا۔ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہر نظریہ اور عقیدہ کے ماننے والے کرتے ہیں، تاہم میڈیا مذہبی پس منظر کا ڈھول صرف اس وقت پیٹتا ہے، جب کوئی ملزم یا مجرم مسلمان ہوتا ہے۔ اگر یہی شخص کسی دوسرے مذہب کا ماننے والا ہو تو اس کی مذہبی شناخت نہیں بتائی جاتی اور نہ اس پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ مثلاً دسمبر ۲۰۱۴ء میں امریکا کے سینڈی ہوک اسکول، نیو ٹاؤن میں حملہ آور سفید فام کیتھولک عیسائی تھا اور اس نے ۲۰ بچوں کو قتل کیا تھا لیکن میڈیا نے اس کی مذہبی شناخت اور پس منظر پر کوئی سوال نہیں اٹھایا‘‘۔

 مغربی میڈیا کے تعصب کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اس غلط فہمی کو تو پھیلا تا ہے کہ مسلمان حملہ آور ہیں، جن کا شکار دیگر لوگ ہیں۔ لیکن یہی میڈیا کبھی یہ نہیں بتاتا کہ کسی حملے کے نتیجے میں متاثر ہونے والوں میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ مثلاً جس روزپیرس میں داعش نے تخریبی کارروائی کی، اسی روز بیروت میں بھی ایک بم دھماکے میں ۴۳؍ افراد جاں بحق ہوئے جو تمام مسلمان تھے۔ بیروت کے واقعہ کا تذکرہ تو میڈیا میں کیا گیا لیکن اس کی تشہیر کی وہ سطح نہیں تھی جو پیرس میں ہونے والے المیے کی تھی۔ دوسری بات یہ کہ پیرس کے حملوں میں بار بار یہ بتایا جا رہا تھا کہ ’’حملہ آور، مذہب اسلام کے پیروکار تھے‘‘ لیکن بیروت کے مرنے والوں کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ بھی اسلام کے ماننے والے تھے۔ میڈیا رپورٹس میں غیر مسلموں کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے، لیکن مسلمانوں کے احترام کو نہیں۔ یہ رویہ’ اسلاموفوبیا ‘کے پھیلاؤ میں مدد فراہم کرتا ہے۔

نائن الیون کے بعد فورٹ ہڈ شوٹنگ، متعدد ائیرپورٹس پر دھماکے اور بوسٹن میراتھون بمبنگ، فرانس کے چارلی ہیبڈو حملے وغیرہ جیسے واقعات کو ذرائع ابلاغ میں بہت زیادہ توجہ ملی۔ یہاں مشتبہ افراد کی شناخت مسلمان کے طور پر بتائی گئی ،حالانکہ ملزمان کی مذہبی شناخت اور پس منظر کو اُجاگر کرنا خبر کا تقاضا نہیں تھا۔ اگر مذہبی شناخت کو بیان کرنا خبر کے لیے ضروری ہوتا تو دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی طرف سے کی جانے والی دہشت گرد ی میں بھی ان کی مذہبی شناخت بتائی جاتی لیکن ایسا ہرگز نہیں کیا جاتا۔

اسی طرح اگر کوئی شخص جان دے کر دہشت گردی کی کارروائی کو روکنے کی کوشش کرے تو اس کی شناخت بھی نہیں بتائی جاتی، جیسے ۶جنوری ۲۰۱۴ءکو پاکستان کے ابراہیم زئی اسکول میں جب ایک خودکش بمبار نے اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی، تو پندرہ سال کے ایک طالب علم اعتزاز حسن بنگش نے دیکھتے ہی اس پر چھلانگ لگا دی۔ اعتزاز حسن کی جان کی قربانی سے سیکڑوں طالب علموں کی جانیں محفوظ رہیں۔ میڈیا کو چاہیے تھا کہ اعتزاز حسن کا مذہبی پس منظر بیان کرتا اور بتاتا کہ اسلام کے ایک پیروکار نے جان دے کر خود کش بمبار کے دھماکے کی وسیع تباہی کو کیسے ناکام بنایا۔ لیکن مغربی میڈیا نے اس کی مذہبی شناخت کا اظہار تو درکنار اس کی قربانی کا اعتراف کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اس سے میڈیا کا تعصب واضح ہوتا ہے کہ وہ صرف ان واقعات کو ہی اُجاگر کرتا ہے ،جو اس کے پروپیگنڈے کی حمایت اور ’اسلاموفوبیا‘ کے لیے دلیل کے طورپر پیش ہو سکتے ہیں۔

اسلام سے وابستہ امور کی میڈیا کوریج، اس صدی کے آغاز سے ہی مقدارو معیار کےلحاظ سے، ڈرامائی انداز میں تبدیل ہو چکی ہے۔ امریکا کے زیر قیادت ’وار آن ٹیرر‘ (دہشت گردی کے خلاف جنگ) کےدوران پوری دنیا میں سب سے زیادہ پھیلایاجانے والا گمراہ کن تصور یہ ہے کہ ’’امت مسلمہ انسانیت کی ایک باغی جماعت ہے۔ مسلمان ہونے کا لازمی مطلب عسکریت پسند یا دہشت گرد ہونا ہے، کیونکہ مذہب اسلام دہشت گردی کی نمایندگی کرتا ہے‘‘۔

مغرب سمیت دنیا بھر میں اس موضوع پر ہونے والی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اسلام سے متعلق خبروں کی اشاعت و تشہیر (coverage) کے دوران استعمال کی جانے والی اسلامی اصطلاحات کی، ابلاغی اداروں کی تعبیر سے اسکالراور مذہبی ماہرین اتفاق نہیں کرتے۔ لیکن یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب ان اصطلاحات کو ان کے اصل مفہوم کی پروا کیے بغیر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں یہ اصطلاحات اپنے اصل معنی کھو کر میڈیا کی تعبیر کا رُوپ دھار لیتی ہیں، اور لوگ اصل مفہوم پر غور کیے بغیر میڈیا کے تخلیق کردہ مطالب کو درست مان لیتے ہیں۔

  • متعصبانہ اصطلاحات __ ایک تحقیقی جائزہ: ان اصطلاحات کے مطالعے پر ایک تحقیق ملائیشین تحقیق کاروں زین بانی یونس اور اسحاق حسن نے پیش کی ہے۔ انھوں نے عرب میڈیا سے 'اُردن ٹائمز اور 'الجزیرہ اور مغربی میڈیا سے 'بی بی سی اور 'دی گارڈین کا انتخاب کیا۔ ان اداروں کے ۲۰۱۸ءسے لے کر ۲۰۱۹ءتک کے ۳۶۸مضامین جمع کیے گئے، جن میں یہ اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ اس تحقیقی مطالعے کی خاص توجہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں رہی ہے کہ مشرقی و مغربی ذرائع ابلاغ ’دہشت گردی‘ وغیرہ کو اسلام کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے ، اصل سیاق و سباق کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی اصطلاحات کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ ’مشرقی میڈیا‘ کی نسبت مغربی میڈیا میں ’اسلام پسندی‘ اور’جہاد‘ کی اصطلاحات کو منفی سیاق و سباق میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

ان محققین کا استدلال ہے کہ اسلام سے متعلق اصطلاحات کو منفی معنوں میں بیان کرنے سے مسلمانوں کے بارے میں ایک تعصب اور نفرت ابھارنے کا عمل تقویت پاتا ہے۔ نائن الیون کے بعد میڈیا نے اسلام سے متعلق خبروں پر جن مختلف اصطلاحات کوتخلیق کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ توجہ دی ہے، ان میں ’اسلامی دہشت گردی‘، ’اسلامی جنونیت‘، ’مسلم انتہا پسندی‘ اور ’سیاسی اسلام‘ وغیرہ شامل ہیں۔ اسلام کو بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کے رجحان کے ساتھ جب کسی خبر کی تفصیل میں اس قسم کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، تو وہ میڈیا کے متن کا ایک حصہ بن جاتی ہیں۔ اور ان کی غلط تعبیر پیش کرنے کے نتیجے میں میڈیا، اسلام کے بارے میں گمراہ کن تصورات اور ایک منفی منظر کشی کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

بہت سی تحقیقات میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دی جانے والی خبروں میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے، وہ بھی زیادہ تر مسخ شدہ ہوتی ہے۔ یہ تحقیقات زیادہ تر امریکا، برطانیہ اور یورپی میڈیا کے بارے میں کی گئی ہیں۔ سلطان(۲۰۱۶ء) نے ایک تحقیق میں یہ بات نوٹ کی ہے کہ مغرب میں پایا جانے والا ایسا بے شمار مواد دستیاب ہے جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ حقائق کو مسخ شدہ انداز سے پیش کرکے اسلام کی منفی تصویر کشی کی گئی ہے۔ میڈیا نے جو نظریات اور خیالات اسلام سے منسوب کیے ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کاحصہ معلوم ہوتے ہیں۔

سمیع اور مالمیر(۲۰۱۷ء) نے ایک تحقیق میں یہ مطالعہ پیش کیا ہے کہ امریکی میڈیا میں ۲۰۰۱ء سے لے کر ۲۰۱۵ء تک جو نیوز اسٹوریز شائع ہوئیں، ان میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں لکھے گئے ۶ لاکھ ۷۰ہزار الفاظ میں اسلام اور مسلمانوں کو ’بنیاد پرست‘ اور ’عسکریت پسند‘ پیش کرتے ہوئے ان نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا کہ ’اسلام اور مسلمان تشددپسند‘ ہوتے ہیں۔

بیکر، گیبریلاٹوس اور میکنیری (۲۰۱۳ء) نے برطانیہ میں۱۹۹۸ء سے لے کر ۲۰۰۹ء تک شائع ہونے والے ساڑھے چودہ کروڑ الفاظ پر مشتمل مختلف مضامین کا تجزیہ کیا، جن میں  قومی و نسلی شناخت، مختلف ثقافتی و مذہبی امور، کمیونٹیز، گروہوں اور تنازعات کے بارے میں متضاد خیالات و تصورات پر مبنی حوالہ جات تھے۔ مسلم دنیا اور مسلم معاشروں اور مغرب کے درمیان پائے جانے والے امتیازات و اختلافات کو اسلام اور مغرب کے تصادم کے طورپر پیش کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے بارے میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ’’ یہ 'ذرا ذرا سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں اور بڑے تصادم کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘‘۔ مسلمانوں کی جو شکل پیش کی گئی، اس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ’’مسلمان دہشت گردوں کے لیے ہمدردری اور نرم گوشہ رکھتے ہیں کیونکہ یہ معاشی طورپر پس ماندہ اور قدامت پسند ہیں‘‘۔ ان مضامین میں مسلمانوں کو جس طرح پیش کیا گیا، اسے پڑھنے کے بعد مسلم معاشروں اور مسلمانوں میں یقینی طورپر جذباتی تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

سعید(۲۰۰۷ء) نے ایک تحقیق میں استدلال کیا کہ ’’برطانوی میڈیا میں مسلمان شہریوں کو غیر ملکی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے‘‘۔ میڈیا کی اس غلط بیانی کا تعلق ’اسلاموفوبیا‘ سے ہے، جس کی جڑیں ثقافتی اختلافات میں ہیں۔ اس تحقیق نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ’’مغرب میں اگر کوئی غیر مسلم تشدد کرتا ہوا نظر آئے، تو اسے ’گھریلو تشدد‘ قرار دے کر انفرادی مسائل اور پریشانی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جب کہ یہی تشدد اگر کسی مسلمان کے ہاتھ سے وقوع پذیر ہو، تو اسے اسلامی اور عالمی دہشت گردی کے گروپوں سے جوڑا جاتا ہے۔ اس طرح کی متعصبانہ رپورٹنگ سے میڈیا ویورز کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور اسلام کے بارے میں گمراہ کن خیالات کی اشاعت کو فروغ ملتا ہے‘‘۔

اسلام سے متعلق سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اصطلاحات ’اسلام پسند‘،’قدامت پسند‘، ’جنگ جو‘ ، ’انتہا پسندی‘، ’دہشت گردی‘، ’تشدد‘ اور’عسکریت پسندی‘ ہیں۔ ان میں ’اسلام پسند‘ کی اصطلاح 'دہشت گردی کے مترادف ہے اور ’دہشت گردی‘ کے تناظر میں لکھے گئے تمام مضامین میں اس کو اسی مفہوم میں پیش کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر جون ۲۰۱۸ء کو بی بی سی کی ایک رپورٹ میں اصل خبر کا یہ نتیجہ اخذ کرکے بتایا گیا کہ ’’ سیکورٹی اداروں کی توقع ہے کہ اسلام پسند دہشت گردی کا خطرہ اب بھی برقرار ہے اور کم از کم دو مزید برسوں تک اس کی شدت کی سطح برقرار رہے گی‘‘ (دہشت گردی کی حکمت عملی، ۲۰۱۸ء،ص۳)۔ اسی طرح روزنامہ دی گارڈین ،لندن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’ایک عالمی انتہا پسند تحریک جو اَب بھی جاری ہے، اس سے دنیا کو خطرات لاحق رہیں گے‘‘ ( برک ۲۰۱۹ء، ص۱)۔ ان رپورٹوں کے متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ میں ’اسلام پسند‘ کا لفظ 'دہشت گرد کے طورپر استعمال ہوتا ہے۔ ۳جون۲۰۱۸ء کو دی گارڈین نے ایک خبر دی کہ ’’برطانیہ کو اسلام پسندوں کی اسلامی دہشت گردی سے سخت خطرے کا سامنا ہے‘‘ (پریس ایسوسی ایشن، ۲۰۱۸ء، ص۱) یعنی ’’اسلام، امن کے لیے خطرہ ہے‘‘۔

ایک اور مسئلہ ’اللہ اکبر‘ کی اصطلاح کو نامناسب ہدف بنانے کا بھی ہے۔ مسلمانوں کے ہاں یہ مقدس الفاظ ہیں، جب کہ مغربی میڈیا اس اصطلاح کو ایک ایسے نعرے کے طورپر پیش کرتا ہے، جسے دہشت گردی کی کارروائی کرنے والے لوگ اپنے ہدف سے نفرت کے اظہار کےطورپر لگاتے ہیں۔ مقدس الفاظ کو نفرت کے اظہار کے طورپر پیش کرنا ایک شدید غلط فہمی اور گمراہی کا نتیجہ ہے۔ مثلاً الجزیرہ نے ایک چینی سیاسی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’انھوں نے جہادمیں شہادت اور جنت کے حصول کے وقت نفرت انگیز الفاظ اونچی زبان میں دہرائے‘‘ (China Says 2019, p.3)۔

جیکبسن(۲۰۱۲ء) نے ایک تحقیق میں استدلال کیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے صرف باہر سے حملے نہیں کیے جا تے بلکہ مسلمانوں کے معاشروں اور مسلمان ناموں والوں کے ہاتھوں بھی حملے کرائے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کی غرض سے مسلمانوں میں سے ہی کچھ ایسےلوگ تیار کیے گئے ہیں جو مغرب کی ایما پر اپنے آپ کو ’اعتدال پسند‘، ’جدید‘ یا ’لبرل‘ مسلمان کہتے ہیں۔ ان اصطلاحات کے استعمال کا مقصد بالواسطہ طور پر عوام کو یہ باور کرانا ہوتاہے کہ اسلام کا ایک ورژن جدید اور اعتدال پسند ہے اور اس کے علاوہ پورا اسلام ’’انتہاپسند اور دہشت گرد ہے‘‘۔ ان اصطلاحات سے دنیا بھر کے غیر مسلم عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ’’اعتدال پسند مسلمان اچھے، مغرب نواز اور جنگ میں مغرب کا ساتھ دینے والے ہیں،جب کہ دیگر سب مسلمان ہمارے دشمن ہیں اوران سے جنگ کرکے انھیں ختم کرنا جائز اورقانونی عمل ہے‘‘۔

اسلام کو پس ماندہ اور جدید و قدیم تصورات میں منقسم مذہب ثابت کرنے کے لیے مغربی میڈیا، مسلم خواتین کو دو باہم متحارب گروہوں میں پیش کرتا ہے۔ مسلم خواتین کے ایک گروہ کوانتہائی پس ماندہ، مردوں کے ظلم و ستم کا شکار اور دوسرے گروہ کو انتہائی مضبوط، مردوں کی برابری اور مقابلہ کرنے والی ’فیمنسٹ وومنز‘ (خود اختیاریت پسند مسلم خواتین) کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح مغربی میڈیا اسلامی عقائد اور تعلیمات کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے مسلم عورت کی ’مظلومیت‘ کا رونا روتا ہے اور انھیں بغاوت پر اکساتے ہوئے اپنی حمایت اورمدد کا یقین دلاتا ہے۔

مغرب، مسلم خواتین کی سماجی آزادی و خود مختاری کو مذہب سے آزادی کے متبادل کے طور پر پیش کرتے ہوئےاس مقصد کے حصول کے لیے جدید، لبرل مسلم مردصحافیوں، دانش وروں اور سیاست دانوں کو بھی استعمال کرتا ہے۔ اسلامی اقدار پر عمل کرنے والی خواتین کی کردارکشی اور ان سے امتیازی سلوک کرنے کی غرض سے مغربی میڈیا ان کے لیے جو اصطلاحات استعمال کرتا ہے، جن میں مردوں سےپٹنے والیاں، گالیاں کھانے والیاں، پردے والیاں، نفرت کا شکار عورتیں، آزادی سے بے پروا عورتیں، حقوق سے نابلد خواتین اور انتہا پسند مسلم خواتین وغیرہ شامل ہیں۔

محمد جنید غوری (۲۰۱۹ء) نے اپنے تحقیقی پراجیکٹ میں آسٹریلیا کے اخبارات کے ایک سال (۲۰۱۶-۲۰۱۷ء) کے اداریوں کے نمونے جمع کیے۔ اس مطالعےکے بعد ڈاکٹر غوری نے  یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’’آسٹریلیا کے صرف ایک مشہور اخباردی ایج' کے اداریوں میں مسلمانوں کے خلاف سال بھر میں جس نفرت کا اظہار کیا گیا، اتنی نفرت کا اظہارشاید کسی میڈیا نے نہیں کیا ہوگا۔ اس اخبار کے اداریے ' اسلامی ریاست پر ہتھوڑا چلایا جائے، اور دیگر اداریوں میں مسلمانوں اور اسلام سے نفرت کے اظہار کے لیے جو اصطلاحات استعمال کیں وہ یہ ہیں:

 اسلامی شیطانی ریاست، نام نہاد خلافت، جہادی جعلی دعوے، اسلامی ریاست کے جنگجو، جہادی بھرتی، ناقابلِ برداشت جہادی، بنیاد پرست اسلامی طریقے، مذہبی غلامی، نام نہاد مذہبی آدرش، اسلامی خوف، عالمی اسلامی غم و غصہ، غیر منصفانہ متحرک لوگ، عالمی غم و غصے کے امین، مشتبہ اسلامی برادری، خونخوار اسلامی لاشیں، نفرت انگیز اسلامی مبلغین، اسلامی جہادی تارکین وطن، ہولناک اسلامی تبلیغی نفرت، انسانی حقوق کے دشمن، عالمی اسلامی بحران، خود ساختہ مسلم ائمہ، جہادی ملاؤں کا ٹولہ، بنیاد پرست پیغام رساں، مذہبی دعوؤں کے برے اعمال، مجرمانہ اسلامی عقیدے، مسلم ہجوم، فریب خوردہ مسلم، جنونی بوڑھے مسلمان، قرون وسطیٰ کے باسی، بدنظمی کے اسلامی مراکز (مساجد)، موت کے اسلامی گلے، آبائی اسلام پسند گروہ، بھڑک اٹھنے والے مسلم جہادی، اسلامی بھرتی زون، اسلامی شورش پسند، جنونی بندوق بردار، اسلامی جہادی لعنت وغیرہ۔

سان اور سبلی(۲۰۱۸ء) نے اس بات پر تحقیق کی کہ مذہبی تعلیمات کو فلموں میں کس طرح پیش کیا جاتا ہے؟ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ کچھ فلموں میں مذہبی تعلیمات، عبادات، اخلاقی اقدار، بزرگوں اور والدین کے ساتھ حُسن سلوک وغیرہ کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا تاکہ معاشرے کی ان مثبت خطوط پر تربیت کی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی تحقیق میں برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا میں ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۶ء تک شائع ہونے والے ۸لاکھ مضامین اور مراسلوں کا مطالعہ بھی کیا گیا، جن میں مذہبی تعلیمات کو معاشرے کے مفاد میں مثبت انداز سے پیش کیا گیا تھا۔ اس تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ’’اگر میڈیا چاہے تو دیگر مذاہب کی طرح اسلام اور مسلمانوں کی متوازن تصویر پیش کرکے اسلامی تعلیمات کو بھی سوسائٹی کے مفاد میں استعمال کر سکتا ہے، لیکن اسلاموفوبیا سے متاثر میڈیا ہاؤسز کی اکثریت ایسا نہیں کرتی‘‘۔

  • میڈیا کا جانب دارانہ رویہ: کچھ تحقیقات میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ بہت سے میڈیا ہاؤسز کسی خبر کے ماخذ، ذریعے یا پولیس وغیرہ کا حوالہ دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس خبر کی پیش کش غیرجانب دارانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس وغیرہ سے ایسی باتیں منسوب کرکے بقلم خود خبر کےمتن میں شامل کر دی جاتی ہیں جو پولیس نے رپورٹ میں نہیں لکھی ہوتیں۔ اس طرح دیکھنے اور پڑھنےوالوں کو یہ باور کرا کر گمراہ کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق مذہب اسلام سے ہے۔ مثلاً ۲۷؍ اپریل ۲۰۱۹ءکو الجزیرہ میں ایک خبر شائع ہوئی جس کا متن اس طرح پیش کیا گیا کہ ’’ پولیس نے کچھ ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے، ان کا نام ایسٹر سنڈے بم دھماکوں کے سرغنہ کے طور پر لیا جاتا ہے‘‘(Relatives of Suicide, 2019, p.2)۔ اسی طرح ایک اور خبر میں لکھا کہ ’’ پولیس کے مطابق ایک شخص ہجوم میں مارا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ (داعش) اور لیونٹ گروپ سے متاثر تھا‘‘ (Australia police 2018, p.1)۔ ان خبروں میں ’پولیس کے مطابق‘ اور ’کہا جاتا ہے‘ جیسے الفاظ استعمال کرکے ساری ذمہ داری پولیس پر ڈال دی گئی اور اپنے آپ کو غیر جانب دار بتاتے ہوئے جانب داری کا عمل برتا گیا۔

اسلام سے متعلق اصطلاحات کو غلط رنگ اور منفی معنوں میں پیش کرنے کی زیادہ تر ذمہ داری صحافیوں پر عائد ہوتی ہے۔ پولیس یا کسی اور ادارے پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ خبر کا متن نیوز روم میں تیار ہوتا ہے اور اس کی زبان اور بیان کے ذمہ دار صحافی اور میڈیا ہاوس ہوتے ہیں (اور صحافی اپنے آپ کو ایک مقدس اورسوال و جواب سے بالاتر مخلوق کے طور پر پیش کرکے، دوسروں کا منہ بند کردیتے ہیں )۔ ان اصطلاحات کو غلط رنگ دینے کا فیصلہ صحافیوں، ایڈیٹر اور میڈیا مالکان کا ہوتا ہے۔ خبر کی اشاعت سے قبل کے تشکیلی، تکمیلی، اوراشاعتی عمل میں کئی ذیلی کردار شامل ہوتے ہیں۔ خبروں اور مضامین کے متن لکھے جاتے ہیں، پھر پروف ریڈنگ ہوتی ہے، ان میں اضافہ اور ترامیم ہوتی ہیں اور پھر ایڈیٹر کی منظوری کے بعد ان کی اشاعت ہوتی ہے۔

کئی عشروں سے اسلام کے بارے میں ایک عمومی نفرت و حقارت پھیلانے اور خبروں کی سرخیوں میں اسلام کے لیے ’انتہاپسند‘ اور ’ریڈیکل مذہب‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے سے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ مغرب کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ اگر یہ سوچاسمجھا منصوبہ نہ ہوتا تو ’دہشت گردی‘ اور ’انتہاپسندی‘ جیسی اصطلاحات کو پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ اضافی طور پر اسلام کا اسم صفت لگاکر کیا مقاصد حاصل کرنا پیش نظر ہیں؟

 میڈیا لٹریچر پر کام کرنے والے بہت سے غیر جانب دار محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خبریں محض کسی عنوان پر حقائق پھیلانے کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ عوام کو آگاہ رکھنے کی ایک ایسی خدمت ہے، جس سے عوام کو اچھائی کی طرف راغب کرنے کی تربیت بھی دی جا سکتی ہے۔ لیکن مغرب یا سیکولر مسلم ملکوں اور حلقوں کے ہاتھوں میڈیا نے انفارمیشن کے نام پر ڈس انفارمیشن کا طوق ہمارے گلے میں ڈال رکھاہے۔ جو لوگ معلومات اور تعلیم و تربیت کے لیے صرف میڈیا پر انحصار کرتے ہیں، ان کوآج کے ماحول میں گمراہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ مگریہاںپر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورتِ حال کو جوں کا توں قبول کرلیاجائے یا اس کی بہتری کی کوششیں کی جائیں؟

ماخذ

1.    Jacobbsen, S.  J (2012) "Analysis of Danish Media Setting and Framing of Muslim, Islam and Racism".

2.  Conete, D. (2009) "Women: Strained Stereotypes". Source Link

    . Hussain, Tooba  "The Media’s Portrayal of Islam, An Analysis of Methods and Implications". Source Link

4.  Younes, Zein, Bani (2020) "A Pragmatic Analysis of Islam-related Terminologies in Selected Eastern & Western Mass Media". Source Link

5.  Baker, PGabrielatos (2013) "Sketching Muslims: A Corpus Driven Analysis of Representations around the World".

6.  Saeed, A (2007) "Media, Racism and Islamophobia: The Representation of Islam and Muslims in the Media".

7.  Sultan, K (2016) "Linking Islam with Terrorism: A Review of the Media Framing since 9/11 Global Media Journal

8.  Hassan, F. & Sabli (2018) "Islam as a Way of Life: The Representation of Islamic Teaching in Non-Islamic film". Source Link

کسی پارٹی یا گروہ کے متعلق لوگوں کا تصور کیا ہے؟ یہ بات اس کا تعین کرتی ہے کہ لوگ اس پارٹی یا گروہ کا ساتھ دیں گے یا نہیں؟ ہمارا عمومی خیال یہ ہے کہ انسان عقلی بنیادوں پر کسی کا ساتھ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں ، جب کہ حقیقی صورتِ حال یہ ہے کہ انسانوں کے اکثر فیصلے جذباتی سوچ پر مبنی ہوتے ہیں، اور یہ جذباتی سوچ اس تصور یا قیاس سے جنم لیتی ہے جو ’حقیقت‘ کے بارے ہمارا ’تصور‘ یا ’قیاس‘ ہوتا ہے۔ لوگوں کے اس تصور یا قیاس کو جاننا اور اسے متاثر کرنا ہی اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا لوگ کسی کا ساتھ دیں گے یا نہیں ؟

لوگوں کو دعوت دیتے وقت اس لازمی امر کو نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل کام لوگوں کا ہمارے متعلق تصور کو سمجھنا اور اُس کو سمجھ کر ان کے دل ودماغ کو اپیل کرنا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت ہے یا مذہبی گروہ اور آپ لوگوں کو اپنا ساتھی بنانا چاہتے ہیں، تو ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں اپنے متعلق بجاطور پر مثبت تصورپیدا کریں۔ سوال پیداہوتا ہے کہ لوگوں سے کیا مراد ہے؟ لوگوں سے مراد پورے ملک کے لوگ بھی ہوسکتے ہیں، کسی صوبے، ضلع یا شہر کے لوگ بھی ہوسکتے ہیں، اور لوگوں میں کوئی خصوصی گروہ بھی ہوسکتا ہے، مثلاً صحافی، اساتذہ، وکلا، تاجر، دیہاتی آبادی، شہری آبادی، نوجوان، بزرگ یا معاشرے کے بااثر لوگ جو دوسروں کے تصور، اِدراک، قیاس یا نقطۂ نظر کو متاثر کرسکتے ہیں، بدل سکتے ہیں اور اس طرح آگے بڑھنے میں ہماری مدد کرسکتے ہیں۔

سب سے پہلی بات یہ جاننی چاہیے کہ فی الوقت پیش نظر آبادی میں آپ کے متعلق  آپ کا تصور یا امیج کیا ہے؟ یہ کام اب مشکل نہیں رہا۔ بس ایسے ماہرین کی معاونت حاصل ہونی چاہیے جو اس تجزیے کی تکنیک کو جانتے ہیں۔ چونکہ ہم ایک دینی جماعت ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ خالص دینی بنیاد پر ہمارے ساتھ ہوں تو ہم کو جاننا ہوگا کہ لوگوں کے دینی رجحانات کیا ہیں اور آپ اپنی دعوت کو لوگوں کے دینی رجحانات سے کس طرح قریب تر کرکے پیش کرسکتے ہیں؟

لوگوں کے دینی رجحانات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے آپ کے پاس آبادی/آبادیوں کی مساجد اور جمعہ کی نماز میں نمازیوں کی تعداد کا اندازہ ہونا چاہیے اور یہ معلوم ہونا چاہیے کہ خطیب صاحب جمعہ کے خطبے میں کن موضوعات کو ترجیح دیتے ہیں؟ ایک عمومی مشاہدہ بھی ہوتا ہے جس کے مطابق نچلی اور عمومی سطح پر ملک بھر کے مختلف علاقوں کے مذہبی رجحانات کا اندازہ لگاسکتےہیں۔

وہ لوگ جن کو ساتھ لے کر چلنا ہے ان کی سوچ، فکر اور رجحانات کو جاننے کے بعد اگلا کام یہ ہے کہ کوئی ایسا موقف اختیار کیا جائے جو بالکل غیر متنازعہ ہو اور اکثریت کے لیے قابلِ قبول ہو۔موقف جتنا مضبوط ہوگا، جتنا دوامی نوعیت کا ہوگا، جتنا قبولیت ِ عامہ کا حامل ہوگا اور جتنا غیر متنازعہ فیہ ہوگا،  اتنا ہی اس کے اثرات دُور رس ، دیرپا اور دل و دماغ کو چھو لینے والے ہوںگے۔

اس مجوزہ موقف کو نہ صرف عام کریں بلکہ اپنے قول و فعل سے اس کے ساتھ اپنی وفاداری بھی ثابت کریں۔ ایک عمومی طریقہ سیاسی /مذہبی معاشرت میں یہ ہے کہ لوگ کسی شخصیت کو مرجع خلائق بناتے ہیں۔ اس کے گرد ایک روحانی، فکری، کرداری ہالہ بناتے اور لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اپنے دُنیا و آخرت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس شخصیت کا ساتھ دیں۔ اس عمل سے نظریہ پسِ پشت چلا جاتا ہے اور شخصیت اُبھر کرسامنے آجاتی ہے اور جب کبھی کسی بھی وجہ سے اُس شخصیت کا طلسم ٹوٹتا ہے تو خیالات اور عقیدتوں کی پوری عمارت دھڑام سے گر پڑتی ہے۔ اس لیے موقف تشکیل دیتے ہوئے، نظریہ پیش نظر ہو تو دعوت کے دوام کی اُمید ہوسکتی ہے۔ شخصیت کی طرف بلانے سے صرف دو ہستیاں مستثنیٰ ہیں:ایک اللہ تعالیٰ اور دوسری محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

ہم آسان لفظوں میں یہ موقف پیش کرسکتے ہیں: اللہ کی حکمرانی، اللہ کےرسولؐ کی حکمرانی، قرآن و سنت کی حکمرانی ۔

پاکستان کا آئین قرآن و سنت کی بالادستی قبول کرتا ہے، لہٰذا، ہم آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں۔اس پیغام کو عام کرنے کے لیے کئی چینلزاستعمال کیے جاسکتے ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس موقف کے ساتھ کوئی ایسا تصور یا لاحقہ سابقہ منسلک نہ ہوجائے جو عوام کے بعض حلقوں میں متنازعہ فیہ ہو۔ جن چینلز کو اس موقف کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ان میں سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا ، اخباری کالم، خطباتِ جمعہ اور جلسہ ہائے عام شامل ہیں۔ اس موقف کو جتنا عام کیا جاسکے، کیا جائے اور اسے ایک عوامی مطالبہ کی شکل دے دی جائے۔

جس طرح حُرمت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ختم نبوت عوامی مطالبہ ہے اور بجا طور پر، اسی طرح ’قرآن و سنت کی حکمرانی‘کو عوامی مطالبہ بنا دیا جائے۔ اقامت ِدین کی عوامی تفہیم کا حامل موقف قرآن و سنت کی حکمرانی ہے اور اس کے سیاسی، قانونی اور عوامی مضمرات ہیں۔ اس لیےلوگوں کے تصوراور ادراک میںقرآن وسنت کی حکمرانی کا موقف ان کے اسلام کے متعلق تصور و قیاس کو متاثر کرے گا اور جتنی اس مطالبے کی قبولیت بڑھتی جائے گی اتنی ہی اسلامی قوتوں کے آگے آنے کا امکان بڑھتا جائے گا۔ اس کا ضمنی فائدہ یہ ہوگا کہ مسلکی اورفرقہ وارانہ اختلافات پس پشت چلے جائیں گے۔جو دعوتی دینی و سیاسی قوت اس موقف کے فروغ کے لیے کام کرے، وہ اس امر سے بالکل نہ گھبرائے کہ اس موقف کو تو دیگر گروہ بھی قبول کر رہے ہیں بلکہ اس کو لے کر چل پڑے ہیں کیونکہ مقصود یہ نہیں ہے کہ اس بیانیے کے نفاذ کے لیے صرف انھیں حق حکمرانی ملے جو اس کو لے کر چلے تھے، بلکہ مقصود تو موقف کا فروغ، سربلندی، نفاذ اور اس کی خیروبرکت سے معاشرے کو فیض پہنچانا ہے، نہ کہ کسی خاص گروہ کا اقتدار یا حکمرانی۔ کیونکہ موقف جو آگے بڑھایا جارہا ہے، وہ ہے ’قرآن و سنت کی حکمرانی‘۔ کسی موقف کو عوامی آواز بنانے کے لیے بنیادی کردار بااثر اشرافیہ  کا ہوتا ہے۔ ہمارے اس موقف کے لحاظ سے بااثر اشرافیہ بنیادی طور پر ائمہ مساجد اور خطبا جمعہ ہیں۔

دوسری سطح پر اساتذہ، شاعر اور دانش ور ہوسکتے ہیں۔ تیسری سطح پر وکلا اور ڈاکٹر بھی مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ موقف کی مقبولیت عوامی جلسوں کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے، لیکن یہ دیرپا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے فرداً فرداً اور رُوبرو حکمت عملی اور مختصر اجتماعات زیادہ کارآمد ہوسکتے ہیں، جن میں براہِ راست ذاتی رابطہ بھی ممکن ہوتا ہے۔عوام عموماً خالی الذہن ہوتے ہیں۔ یہ بااثر اقلیت ہے جو عوام کی ذہن سازی کرتی یا کسی موقف کے پیچھے لگاتی ہے۔ عوامی رائے بنانے کے ماہرین کے مطابق اگر فعال آبادی میں شامل ۱۰ فی صد افراد کسی موقف کے پُرجوش حامی بن جائیں تو وہ موقف یا نقطۂ نظر عوامی تائید حاصل کرلے گا۔

سیّد سعادت اللہ حسینی صاحب رائے عامہ کی تیاری کے لیے یہ ضروری قرار دیتے ہیں کہ ’’اسلام کی نمایندگی کرنے والوں کے درمیان اعلیٰ درجے کے مصنّفین، محققین اور کالم نگار ہوں۔ ادب اور فنونِ لطیفہ کے تخلیق کار اورفن کار ہوں۔ ملک کے تمام مسائل میں بھرپور دل چسپی لینے اوران کا حل فراہم کرنے والے افراد،ادارے اور تنظیمیں ہوں۔ ملک کے سماجی ایشوز پر سرگرمی سے کام کرنے والے جہد کار ہوں جو ان ایشوز کے حوالے سے رائے عامہ ہموار کرسکیں۔ معاشرے کے بااثر طبقات پر توجہ مرکوز کی جائے اور بااثر طبقات کے درمیان جاری مباحثوں میں سرگرمی سے حصہ لیا جائے۔

عملی نمونوں کے ظہور کے ضمن میں وہ کہتے ہیں کہ  لوگ اُسی آئیڈیا پر بھروسا کرتے ہیں جو آئیڈیا پیش کرنےوالا خود عمل کرکے دکھائے، یا لوگوں کو یقین ہو کہ وہ عنقریب اسے رُوبہ عمل لاسکتا ہے، یا لوگ خود اس پر عمل کرکے اس کی سچائی جان سکتے ہیں۔ عمل کے واضح خاکے کے بغیر کسی آئیڈیا کو رائے عامہ قبول نہیں کرتی‘‘۔

اس کے علاوہ ہم سمجھتےہیں کہ:

    ۱-  موقف، نقطۂ نظر یا آئیڈیا پیش کرنے والے دعوتی گروہ کا اندرونی ڈھانچا مستحکم اور یکسو ہو۔ یک سمت ، یک ذہن، پُراعتماد اور ایک دوسرےسے محبت کرنے والے رجالِ کار کے بغیر کسی موقف کا فروغ ممکن نہیں۔ اُلٹی صفوں، پریشاں دلوں اوربے ذوق سجدوں کے حامل لوگوں میں جذبِ اندروں نہیں ہوتا اور جذبِ اندروں کے بغیر جدوجہد کا جذبہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں داعیانِ خیر کی قیادت کو ہرسطح پر اور ہرلمحہ بیدار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ۲- اللہ کی حکمرانی، اللہ کے رسولؐ کی حکمرانی، قرآن و سنت کی حکمرانی جیسے آفاقی اور انقلابی بیانیے کو لے کرچلنے والےرجالِ کار کے لیےضروری ہے کہ وہ اپنے دل و دماغ پر کسی اور حکمرانی کا پرتو نہ پڑنے دیں۔خصوصاً ایسے مفادات اور کاروبار کہ جن سے اُن کے موقف اور نظریے کی نفی ہوتی ہو، مثلاً ایسی مالی سرگرمیاں جن سے ذاتی مفادات کا شبہہ پڑتا ہو۔

یقینا اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے: اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے۔۸۵

۸۵- یعنی دشمن تم کو ایسا کمزور نہ پائیں کہ ان کے شوروغوغا سے تم دب جاؤ، یا ان کی بہتان و افترا کی مہم سے تم مرعوب ہوجاؤ،یا ان کی پھبتیوں اور طعنوںاورتضحیک و استہزاء سے تم پست ہمت ہوجاؤ ، یا ان کی دھمکیوں اور طاقت کے مظاہروں اور ظلم و ستم سے تم ڈرجاؤ، یا ان کے دیے ہوئے لالچوں سے تم پھسل جاؤ، یا قومی مفاد کے نام پر جو اپیلیں وہ تم سے کررہے ہیں، ان کی بناپر تم ان کے ساتھ مصالحت کرلینے پر اُتر آؤ۔

اس کے بجائے وہ تم کو اپنے مقصد کے شعور میں اتنا ہوش مند، اور اپنے یقین و ایمان میں اتنا پختہ، اور اپنے عزم میں اتنا راسخ اور اپنے کیرکٹر میں اتنا مضبوط پائیں کہ نہ کسی خوف سے تمھیں ڈرایا جاسکے، نہ کسی قیمت پر تمھیں خریدا جاسکے، نہ کسی فریب سے تم کوپھسلایا جاسکے، نہ کوئی خطرہ یا نقصان یا تکلیف تمھیں اپنی راہ سے ہٹا سکے۔ اور نہ دین کے معاملے میں کسی لین دین کا سودا تم سے چکایا جاسکے۔

یہ سارا مضمون اللہ تعالیٰ کے کلامِ بلاغت نظام نے اس ذراسے فقرے میں سمیٹ دیا ہے کہ ’’یہ بے یقین لوگ تم کو ہلکا نہ پائیں‘‘۔ اب اس بات کا ثبوت تاریخ کی بے لاگ شہادت دیتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا پر ویسے ہی بھاری ثابت ہوئےجیسا اللہ، اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھاری بھرکم دیکھنا چاہتا تھا۔آپؐ سے جس نے جس میدان میں بھی زور آزمائی کی، اس نے اسی میدان میں مات کھائی اور آخر اس شخصیت ِ عظمیٰ نے وہ انقلاب برپا ہی کرکے دکھادیا، جسے روکنے کے لیے عرب کے کفروشرک نے اپنی ساری طاقت صرف کر دی اور اپنے سارے حربے استعمال کرڈالے۔ (’تفہیم القرآن‘، سورئہ روم،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۵، عدد۴، جنوری ۱۹۶۱ء، ص۲۸-۲۹)

ہماری تعلیم اور ہماری جامعات

ڈاکٹر معین الدین عقیل ۔ ناشر:ادارہ تعلیمی تحقیق، تنظیم اساتذہ۔ ملنے کا پتا: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، لاہور۔ فون:۴۶۷۳۷۳۱  - ۰۳۲۲۔ صفحات: ۲۷۲، قیمت: ۶۰۰ روپے

ہر آنے والا دن تعلیم وتحقیق کی دوڑ میںبہترسے بہترین کا تقاضا کرتا ہے، لیکن پاکستان میں آنےوالاہر دن تعلیم کی تباہی کا نوحہ سناتا دکھائی دیتا ہے۔ کسی ملک میں تعلیم و تحقیق کا مرکز و منبع اس کی یونی ورسٹیاں ہوتی ہیں، جہاں تحقیق و جستجو میں مگن ماہرین اور نوجوان محققین کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی یونی ورسٹیاں اس باب میں ماتم کے مقبرں کی تصویر پیش کرتی ہیں ، خصوصاً ۲۰۰۰ کے بعد نجی شعبے میں یونی ورسٹیوں کا جو سیلاب آیا ہے ، اس نے تو علم و تحقیق کی روایات کو روند کر رکھ دیا ہے۔

ڈاکٹر معین الدین عقیل پاکستان کے ایک نام وَر محقق ہیں۔ تعلیم کے موضوع پر ان کی فکرمندی میں رچی دردمندی نے اس کتاب کی صورت گری کی ہے۔ مختلف اوقات میں انھوں نے تعلیمی زبوں حالی، یونی ورسٹیوں کے تدریسی ماحول کی پامالی اور تحقیقی ذوق کی روزافزوں بربادی پر قوم کو باربار متوجہ کیا۔ یہ مضامین اس کتاب میں یک جا ملیں گے۔

یہ کتاب یونی ورسٹی اساتذہ اور تعلیمی انتظامیات سے وابستہ اہل حل و عقد کے لیے ایک تازیانہ ہے، جسے ان کے دل و دماغ پر برسنا بھی چاہیے اور ان کی آنکھیںکھلنی بھی چاہییں۔ کتاب جتنی قیمتی ہے، اس کی اشاعت اتنی ہی بے توجہی سے کی گئی ہے۔  (س م خ)


سقوطِ ڈھاکہ کی حقیقت

سیّدابوالحسن۔ ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۲۵۵۰۱-۰۴۲۔ صفحات: ۲۰۸۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

مشرقی پاکستان کا المیہ اس بات کا تقاضاکرتا ہے کہ باریک بینی اور کھلی آنکھوں کے ساتھ اس المیے کی تَہ تک پہنچا جائے اور پھر اپنےموجودہ حالات کا جائزہ لے کر، مستقبل کو محفوظ اور شان دار بنانے کی کوشش کی جائے۔

زیرنظر کتاب، مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے مغربی پاکستان آنے والے ایک بنگلہ نژاد شہری کی تحریر ہے، جنھوں نے سقوطِ مشرقی پاکستان کے ان اسباب کی نشان دہی کی ہے کہ جو پاکستان کو دولخت کرنے کا سبب بنے۔ ان کا خیال ہے کہ ’مجیب صرف پاکستان کا اقتدار حاصل کرنا چاہتا تھا‘ (ص۲۰۵)، یعنی ’توڑنا نہیں چاہتا تھا‘ اور اس مفروضے کی تائید کے لیے وہ آخری زمانۂ جیل میں مجیب کی اس گفتگو کو بنیاد بناتے ہیں، جس کے راوی میانوالی سنٹرل جیل کے جیلر تھے۔ لیکن قرائن و شواہد اس دعوے کی تائید نہیں کرتے ، کیونکہ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد اوررفقا اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم مجیب کی سربراہی میں ۱۹۶۳ء سے پاکستان سے علیحدگی کی سازشوں میں مصروف تھے۔ اس لیے، مجیب کا جیل میں مذکورہ بیان ،ان کے تخریبی عزائم سے کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ (س م خ)

محمد اکرم حمیدی ، اسلام آباد / نعیم الاسلام ،کراچی

دسمبر کے شمارے میں محترم مدیر ترجمان کے ’اشارات ‘ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو درپیش خطرات کو بڑے مدلل انداز سے بیان کیا اور قوم کو متنبہ کیا ہے کہ اہلِ حل و عقد ہوش کے ناخن لیں۔ اسی طرح علامہ محمد اسد کی یادداشت نے مسئلہ کشمیر کی بنیاد کا ایک پوشیدہ گوشہ واضح کیاہے۔ ڈاکٹر عصمت اللہ نے قرآنی دعوت کے عظیم واقعے کی نہایت مؤثر ترجمانی کی ہے اور اس کے سدابہار دعوتی پہلو کو اُجاگر کیا ہے۔


احمد حسین جوہر ، ملتان

ایک عزیز کے دفتر سے دسمبر کا ترجمان القرآن دیکھنے کا موقع ملا۔ تمام مضامین دل چسپ معلومات سے بھرپور اور انفرادیت کے حامل ہیں۔ ایچ عبدالرقیب صاحب نے دعوتِ دین کے کام میں منصوبہ بندی کی روایت بیان کرکے، اسلام کے ذوق اور ڈسپلن کا شان دار خاکہ پیش کیا ہے۔ اور یہ بتایا ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی میں دُوراندیشی کو کیا مقام حاصل ہے۔


ساجدہ خلیل ، ایبٹ آباد

افتخار گیلانی نے آذر بائیجان کے مسئلے کی تفہیم کرکے معلومات میں اضافہ کیا۔ تنویرآفاقی نے فرانسیسی مسیحی عصبیت کا عجیب رُوپ پیش کیا ہے، جس پر وہ شکریے کے مستحق ہیں۔ مجتبیٰ فاروق نے مرحومہ زینب الغزالی کی تفسیر کا تعارف پیش کرکے، کتاب کے مطالعے کی طلب تیز تر کردی ہے۔دیگر تمام مضامین بھی فکرانگیز ہیں۔