اکتوبر ۲۰۲۱

فہرست مضامین

۱۱ستمبر: تفتیش کی ضرورت تھی، جنگ کی نہیں!

کلائیو اسٹافرڈ سمتھ | اکتوبر ۲۰۲۱ | اخبار اُمت

ایک ایسی سیاست جو لوگوں کو خوف میں مبتلا کردے، چاہے اس خوف کی بنیاد جھوٹ پر ہی رکھی ہو، کسی بھی معاشرے کے رائے دہندگان کو متاثر کرتی ہے۔ تاریخ میں اس حکمت عملی پر ۲۰۰۱ء کے بعد امریکا کے چاروں صدور نے بھرپور عمل کیا ہے۔ انھوں نے ’القاعدہ‘ کے دیو کو  کھڑا کرکے اسامہ بن لادن کو کچھ ایسی دیومالائی شخصیت بناکر پیش کیا کہ عوام الناس کے پاس اس بیانیے کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔

جب امریکا نے بن لادن کو قتل [۲مئی ۲۰۱۱ء]کیا تو اسے وہاں سے ملنے والی دستاویزات میں ۲۰۰۲ء کے القاعدہ کے اراکین کی ایک فہرست ملی، جس میں صرف ۱۷۰ نام تھے۔اسامہ نے ان میں سے ۲۰ کی اموات کا ذکر کر رکھا تھا۔ ان میں سے صرف سات نے مقابلے میں جان گنوائی اور گیارہ کو حکام نے گرفتار کرلیا، جب کہ ۱۹؍افراد تنظیم کو چھوڑ چکے تھے۔ بن لادن اپنے منصوبے پر کئی برسوں سے کام کر رہے تھے، لیکن اپنے افرادکار کی قلیل تعداد کو ۱۰۰ سے زیادہ دکھانے کے لیے اسامہ نے اس میں اپنے ۵۰بیٹوں کا بھی اضافہ کیا۔ ان میں عمر بن لادن بھی شامل تھا جو ۲۰۰۰ء میں تنظیم چھوڑ کر فرانس کے شہر نورمنڈی میں اپنی فرانسیسی بیوی جین فیکس برائون کے ساتھ پُرآسایش زندگی بسر کر رہا تھا۔

یہ القاعدہ کے افرادِ کار کی مکمل فہرست تھی یا نہیں، لیکن ۱۰ستمبر ۲۰۰۱ء کو یہ فہرست ایک مختصر  تنظیم کی تصویر پیش کرتی ہے۔ ایسی تنظیم کہ جس سے منسوب ہے: ’ اس نے انسانی تاریخ کے ایک عظیم جرم کا ارتکاب کیا‘‘۔

اس واقعے کے بیس برس گزرنے کے بعد ہمارے سامنے یہ چیلنج اُبھر کر آتا ہے کہ امریکا جیسی سوپرپاور نے اس چھوٹے سے گروہ کو کیوں اپنے حریف کے طور پر چُنا؟

غور طلب بات یہ ہے کہ کیا القاعدہ حقیقت میں ۱۲ستمبر ۲۰۰۱ء کو دُنیا کے امن کے لیے ایک خطرہ تھی؟ لیکن اس واقعے کے علاوہ بھی انسانی امن کے لیے دیگر اور بہت بڑے چیلنج موجود چلے آرہے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم نے عمر کا ایک بڑاحصہ ایٹمی جنگ کے خوف میں گزارا ہے۔

آج کے انسان کے سامنے اس کے علاوہ ایک اور یومِ بربادی موجود ہے۔ آج ہم اپنے کرئہ ارضی کو مادی اور سیاسی ہوس اور موسمی تبدیلی کے ذریعے تباہ کرنے کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ ۲۰۲۱ء تک تقریباً ۶۰ لاکھ افراد بھوک سے اور ۴۶ لاکھ ۷۰ ہزار افراد کووڈ سے وفات پاچکے ہیں۔

۱۱ستمبر کے المیے کو اس کی اصل حقیقت سے بڑھا کر پیش کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ امریکا میں پیش آیا، لیکن نوعِ انسانی کو درپیش خطرات کے سامنے اس حادثے کی حیثیت پرکاہ سے زیادہ نہیں ہے۔ ہم سفیدفام امریکی دوسری نسلوں کی اموات میں زیادہ دل چسپی نہیں رکھتے، لیکن ۲۰۲۰ء میں صرف افغانستان میں جنگ کے نتیجے میں ۱۹ ہزار ۴سو ۴۴ ؍ اموات ہوئیں اور یمن میں ۱۹ہزار ۵۶۔

۱۱؍ستمبر اس حوالے سے بھی کوئی بڑا نادر واقعہ نہیں ہے کہ ایک چھوٹے سے ٹولے نے اتنی بڑی تباہی برپا کی۔ ۱۹۹۵ء میں ٹموتھی مک ویج ایک اکیلا فرد تھا جس نے اوکلاہوما میں ۱۶۸؍افراد کہ جن میں ۱۹ بچے بھی شامل تھے، ان کو قتل کیا اور تقریباً ۶۸۰ افراد کو شدید زخمی۔اس طرح کے شدت پسند عناصر صرف مسلمانوں ہی میں نہیں پائے جاتے بلکہ دوسری قومیں اور مذاہب کے ماننے والے بھی خودکفیل ہیں۔ مسٹر ٹموتھی ویج ایک شدت پسند تنظیم Patriot Movement کا رکن تھا، جوکہ مغرب میں دائیں بازو کی تقریباً ۱۰۰۰ ذیلی تنظیموں کا مجموعہ ہے۔  یہ تنظیم صرف امریکا کے امن کے لیے خطرہ نہیں ہے،بلکہ اسی تنظیم نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسا صدر امریکا کو بطور تحفہ دیا ہے۔

حقیقی چیلنج

۲۰۱۷ء میں Investigative Fund of The Nation Institute کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۶ء کے درمیان دہشت گردی کے تقریباً ۲۰۱ واقعات ہوئے۔ ان میں سے ۱۱۵ واقعات دائیں بازو کی امریکی تنظیموں نے کیے، جن میں ۳۳ ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے مقابلے میں اسلامی انتہاپسندوں سے منسوب ۶۳ واقعات ہوئے، جن میں آٹھ افراد کی ہلاکت ہوئی۔ اس کا موازنہ ہرسال امریکا میں ۲۰ہزار قتل کے واقعات سے کیجیے، جس میں پچھلے نو برسوں کے دوران تقریباً ایک لاکھ ۸۰ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس لیے جہاں ۱۱ستمبر کی ہولناکی کو ہم نظرانداز نہیں کرسکتے، وہیں اس بات کی مبالغہ آرائی میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ مبینہ اسلامی انتہاپسندی ۳۳کروڑ ۳۰لاکھ کے اس ملک کے لیے کوئی حقیقی خطرہ ہے۔

عام افراد کے ہاتھوں میں اسلحہ تو ہمارے لیے ایک خطرہ ہوسکتا ہے اور موسمی تبدیلی بھی یقینا ایک بڑا خطرہ ہے لیکن ایک مجنون قسم کا مسلمان ہمارے ملک کے لیے کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہے۔ ہمیں اس بات پہ سوچ بچار کرنا چاہیے کہ اسلامی انتہاپسندی ہی امریکا کی خارجہ پالیسی کا کلیدی رکن چلی آرہی ہے ، جب کہ اس مسئلے کو ایک فوجداری مقدمے کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں ہم یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ ’اسامہ بن لادن، ایک قتل عام کے ذریعے کوئی مثالی معاشرہ قائم کرنے میں کتنا برحق ہے؟ وہیں یہ سوال بھی ہمارے سامنے آتا ہے کہ ’وہ سب نقشہ اور لائحہ عمل جو امریکی جرنیلوں نے اس کے جواب میں تشکیل دیا ہے، کیا اس کے نتیجے میں بھی کوئی خیر برآمد ہوسکتا ہے؟‘

میں اپنے بچے کے اسکول کے ہیڈماسٹر سے محو گفتگو تھا۔ اس نے تقریباً دو عشرے برطانوی بحری بیڑے میں صرف کیے تھے ۔ میں نے اس سے معلوم کیا کہ تمھارے نزدیک ’جنگی مہم جوئی‘ کی کیا افادیت تھی؟ اس نے جواب دیا کہ جنگ ِ عظیم دوم کے علاوہ تمام جنگی مہم جوئیاں لاحاصل تھیں۔ ہاں، ہمیں ظلم کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کا تو ساتھ دینا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ان کے ملکوں میں گھس کر ان کی حکومت گرا دیں۔ پچھلے دو عشروں میں ہم نے بالکل یہی کیا ہے۔

افغانستان کی حالیہ جنگ سیکولرزم کی ایک زندہ مثال ہے۔ اپریل ۲۰۲۱ء تک صرف افغانستان میں تقریباً ۲لاکھ ۴۱ہزار افراد کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ اس کے باوجود آج ہم وہیں کھڑے ہیں، جہاں سے شروع ہوئے تھے۔ طالبان حکومت میں واپس آچکے ہیں۔ وہ ہیجان جو ہم نے مشرق وسطیٰ میں عراق سے لیبیا تک برپا کیا تھا، وہ اپنے عروج پر ہے۔ کوئی ہمیں یہ بتائے کہ ہماری حکومتوں نے آزادی کی بہار جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ کہاں ہے؟

یہ صرف ہماری مہم جوئی ہی نہیں ہے، جس نے ہم کو عام مسلمانوں کی نفرت کا ہدف بنایا ہے۔ ۱۷۷۶ء سے اب تک صرف ۲۰ سال ایسے گزرے ہیں، جس میں ہم [اہلِ امریکا]کسی جنگ میں مصروف نہیں تھے۔ یہاں پر ہمیں بطور امریکی اپنے بہت سے سوالوں کے جواب ان حکمت عملیوں میں تلاش کرنے چاہییں، جو امریکا دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال کرتاہے۔ امریکا جب کسی جنگ کا آغاز کرتاہے تو وہ اس کا ہدف ’جمہوریت کے فروغ‘ کو قرار دیتا ہے۔ لیکن ۲۰۰۱ء کی جنگ میں سب سے پہلے جو اصول قربان ہوا وہ قانون کی بالادستی کا اصول تھا۔ ہم بہت جلدبازی میں ایک جنگ میں کود گئے، حالانکہ اس وقت ہمیں ۱۱ستمبرکے جرم کی تحقیقات پر زور دینا چاہیے تھا۔ ہمدردی کی اس لہر سے جو اس واقعے کے نتیجے میں امریکا کو حاصل ہوئی تھی، اسے اپنی حکمت عملی کے فروغ کے لیے استعما ل کرنا چاہیے تھا، لیکن یہ کہاں کی عقل مندی تھی کہ جو گروہ شہادت [موت] کو اپنا سب سے بڑا اعزاز سمجھتا ہے، آپ خود اس کو اس اعزاز تک پہنچا دیں۔

اس پر مستزاد یہ کہ گوانتاناموبے کے قیام پر ہم نے بڑے فخریہ ڈھول پیٹے، لیکن ہم شاید یہ بھول گئے کہ قانونی چارہ جوئی سے طویل مدت تک محرومی کسی بھی طرح امریکا کے امن کی ضامن نہیں بن سکتی۔ اس ضمن میں وہ تمام اصول جو ۱۲۱۵ء میں Magna Carta کے زمانے سے ہمارے لیے مشعل راہ تھے، انھیں ہم نے اس منطق کے تحت پسِ پشت ڈال دیا اور کہا کہ ’’جنگ میں گرفتار ہونے والے مسلمان عالمی قانونی ضمانتوں سے محروم قرار دیئے جائیں گے، کیونکہ وہ ہمارے اصولِ جنگ کو نہیں مانتے‘‘۔

اسی طرح گذشتہ کئی صدیوں سے دُنیا تشدد سے دُور ہونے کی شاہراہ پر چل رہی ہے اور اس تحریک کی انتہا ۱۹۸۵ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے تشدد کے خلاف قانون UN Convention Against Torture  کی صورت میں سامنے آیا۔ لیکن ہم نے ۱۱ستمبرکے بعد پلک جھپکنے میں اس سب کو فراموش کر دیا، جس وقت ہم نے اس بات کا اعلان کیا کہ ’’تشدد کی کارروائیاں ہی ایک ’مستحکم تفتیشی عمل‘ ہے‘‘۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ اصطلاح ہم نے ہٹلر کی بدنامِ زمانہ ’گسٹاپو‘ سے اُدھار لی، جب کہ قرونِ وسطیٰ میں اس کو ’پانی میں ڈبونے کے تشدد‘ کے نام سے یاد کیا جاتا رہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہم نے اس جنرل کو، جس نے گوانتاناموبے میں اپنی سفاکی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اسی کو ہم نے ابوغریب کے افراد کو ’جمہوریت کا سبق‘ سکھانے پر مامور کر دیا۔

اسی دوران میں ہم [۲۰۰۳ء میں]عراق پر حملہ آور ہوچکے تھے۔ جب ’بہارِ عرب‘ کی لہر نے روشنی کی ایک نئی کرن پیدا کی تو ہم نے یا تو ان نومولود اکائیوں کی پشت میں خنجر پیوست کیا جیساکہ مصر میں ہم نے ایک عسکری انقلاب کی صورت میں جمہوریت کی پھوٹتی کونپل کو جڑ ہی سے کاٹ کر رکھ دیا۔

اسی دوران دستوری قانون کے پروفیسر بارک اوباما، امریکی صدر بنے تو انھوں نے تشدد کی جگہ قتلِ ناحق اور حقِ دفاع کے لیے ڈرون کا بے دریغ استعمال کیا۔ گویا کہ ایک انسان کو لمحہ بھرمیں قیمے کا ایک ڈھیر بنا دینا، گوانتاناموبے میں کئی سال سڑنے سے بہترلائحہ عمل اختیار کیا گیا۔

ہم یہ کہنے کی کب کوشش کریں گے کہ ’’منافقت وہ خمیر ہے جس سے نفرت جنم لیتی ہے، اور اس سے بڑھ کر منافقت کیا ہوسکتی ہے کہ ہم ایک مہم برائے فروغ جمہوریت کا آغاز، لوگوں پر تشدداور اذیت ناک سزائوں کے ذریعے کریں‘‘۔ ان تمام غیرانسانی، غیراخلاقی اور غیرقانونی کارروائیوں کا وہی نتیجہ نکلا، جو نکلنا چاہیے تھا۔ جن لوگوں کو ہم نے اپنا گرویدہ بنانا تھا، ان تمام لوگوں کو ہم نے اپنے آپ سے دُور کر دیا۔

صدر بائیڈن نے حال ہی میں کہا ہے کہ ہم نے تقریباً دو کھرب ڈالر یا تقریباً ۵۰ہزار ڈالر ہر افغان فرد پر خرچ کیے ہیں۔ عالمی بنک کے مطابق اس غریب ملک کے فرد کی سالانہ آمدن تقریباً ۵۰۰ ڈالر ہے۔ گویا میرے ٹیکس سے حاصل افغانستان کی سوسال کی آمدن کے برابر ہے لیکن اتنی بڑی رقم سے ہم نے کیا حاصل کیا؟ ہم نے یہ خطیر رقم اپنی اسلحہ ساز کمپنیوں کے کاروبار اور افغان حکومت کے بددیانت افراد پر خرچ کی۔ افغانوں کو اس دولت سے کیا حاصل ہوا؟ [الجزیرہ، انگریزی، ۱۱ستمبر ۲۰۲۱ء]