اکتوبر ۲۰۲۱

فہرست مضامین

۱۱ستمبر: تفتیش کی ضرورت تھی، جنگ کی نہیں!

کلائیو اسٹافرڈ سمتھ | اکتوبر ۲۰۲۱ | اخبار اُمت

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ___ میرے نہایت ہی عزیز اور محترم بھائی سیّد علی شاہ گیلانی کا یکم ستمبر ۲۰۲۱ء کو انتقال ایک عظیم سانحہ ہے۔ موت ہرشخص کا مقدر ہے، لیکن کچھ افراد کی موت زندگی کا پیغام لے کر آتی ہے اور گیلانی صاحب کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔

سیّد علی شاہ گیلانی کی زندگی کا سب سے اہم پہلو مقصدیت اور یکسوئی ہے۔ جس چیز کو انھوں نے اپنی زندگی کا مقصد بنایا، یعنی اسلام سے شعوری و عملی وابستگی، اس کی دعوت اور اقامت، کشمیر کی آزادی، اسلام کی تقویت کے لیے پاکستان اور کشمیر کی یک جہتی اور پھر جس یکسوئی،جس   بالغ نظری اور جس اعتماد کے ساتھ، عملی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے انھوں نے اس مقصد کے لیے کام کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ پوری زندگی پر پھیلی اس طویل اور جان لیوا جدوجہد کے دوران قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، برسوں جیل اور نظربندی میں گزارے۔ علاوہ ازیں انھوں نے صحافتی، تدریسی، پارلیمانی اور سیاسی محاذ پر بھرپور خدمات انجام دیں۔

پاکستان اور کشمیر کو وہ یک جان سمجھتے تھے۔ کشمیر کا مستقبل پاکستان اور صرف پاکستان سے وابستگی میں دیکھتے تھے، لیکن اس کی بنیاد علاقائیت نہیں بلکہ اسلام اور دو قومی نظریہ تھا۔ جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو جس شخص نے سب سے زیادہ ہمت اور جرأت کے ساتھ چیلنج کیا، اور پھر اس کی آواز پر کشمیر کے نوجوانوں اور عوام نے اس کا ساتھ دیا، وہ علی گیلانی ہی تھے۔ یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں سیّد علی گیلانی سے بڑا لیڈر کوئی نہیں ہے۔ بلاشبہہ ایک زمانے میں شیخ عبداللہ کشمیر میں مقبول قائد تھے، لیکن بالآخر انھوں نے اپنی ذات، اپنی شہرت اور مناصب اور خاندان کے دُنیوی مستقبل کی خاطر ہندستان کے آگے سپر ڈال دی۔ شیخ صاحب نے جن کم سے کم مطالبات پر ہندستان سے معاملہ فہمی کی تھی، بعد میں خود ہی ان سب کو ترک کر دیا۔ اس طرح وہ ایک ناکام شخص کی حیثیت سے دُنیا سے رخصت ہوئے۔ سیّد علی گیلانی اگرچہ اپنے خواب کی حتمی تعبیر تو نہ دیکھ سکے، لیکن اس حیثیت سے وہ ایک کامیاب انسان کی طرح سے دُنیا سے رخصت ہوئے کہ انھوں نے آخری لمحے تک جس چیز کو مقصد ِ زندگی بنایا تھا، اس کے لیے جدوجہد کی ، قربانیاں دیں اور کبھی کمزوری نہیں دکھائی اور اس مقصد سے وابستگان کی ایک مستعد اور متحرک نسل چھوڑ کر گئے ہیں۔

اس معاملے میں پاکستان کے ساتھ بھی ان کے تعلق کی نسبت جرأت اور مقصدیت پر مبنی تھی۔ جب جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ مل کر استصواب رائے (Plebiscite) کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصول سے ہٹ کراپنے ایک منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تو اس کو روکنے کے لیے سب سے جان دار آواز سیّد علی گیلانی کی بلند ہوئی تھی۔ یہ شکر کا مقام ہے کہ جنرل مشرف سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں جلد نجات دلا دی اوروہ نامراد منصوبہ خاک میں مل گیا۔ سیّد علی گیلانی نے محض اس لیے کہ وہ پاکستان کے سربرا ہ تھے، ان کے رُوبرو کلمۂ حق بلند کرنے میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ مراد یہ کہ جس طرح انھوں نے بھارت کی حکومت و قیادت کو چیلنج کیا، اسی طرح پاکستان کی قیادت کے پایۂ ثبات میں تزلزل پر اسے بھی برملا چیلنج کیا اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کی ترجمانی کی۔

سیّد علی گیلانی  __ ایک نظریہ، ایک تحریک

آج سیّد علی گیلانی محض ایک شخص کا نام نہیں، وہ سوا کروڑ مظلوم انسانوں کی پون صدی پر پھیلی ہوئی تاریخی جدوجہد کا عنوان اور سنہری علامت ہیں۔ انھوں نے ایک سرفروش قوم کی رہنمائی، اپنی آزادی کے حصول اور اپنے دین و ایمان اور اپنی روحانی اور تہذیبی شناخت کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک ایسی وحشی اور قابض قوت کے خلاف کم از کم ۷۶ برس سے پوری استقامت کے ساتھ یہ جدوجہد کی۔ ایسی قوت کہ جس نے عسکری یلغار اور سیاسی عیاری کے بل پر اہل جموں و کشمیر کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی، اور خود اپنے عہدوپیماں کو تار تار کرکے ان پر اپنا ظالمانہ تسلط قائم کر رکھا ہے۔

اس استبداد کے نتیجے میں کشمیری صرف اپنی آزادی اور حق خود ارادیت ہی سے محروم نہیں کردیے گئے، بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کے جان ، مال، آبرو، اقدارِ حیات، تہذیبی اور نظریاتی تشخص، غرض ہرشے کو تہس نہس اور برباد کیا جارہا ہے۔ وہاں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی اور بستیوں اور کھیتوں اور کھلیانوں کی تباہی روزمرہ کا معمول بن گئی ہے۔  جموں و کشمیر کی سرزمین پر مسلمانوں کے خون کی اس ارزانی کی کیفیت کو نسل کشی (Genocide) کے سوا کسی اور لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ایک طرف ظلم کی نہ ختم ہونے والی خوں چکاں داستان ہے تو الحمدللہ، دوسری طرف ظلم کے اس نظام کو چیلنج کرنے اور تاریکیوں کا سینہ چاک کرکے آزادی کا پرچم لہرانے اور سرفروشی کے چراغوں کو روشن کرنے کی تابناک اور روزافزوں جدوجہد بھی جاری ہے، جو صبحِ نو کی آمد کی نوید دے رہی ہے۔

اس تاریکی میں علم و عمل کا نُور بکھیرتے رہنا سیّد علی گیلانی کی زندگی اور عصرِحاضر کا ایک جذبہ انگیز باب ہے، جس سے واقفیت پاکر ہر دل اپنے اندر ایک اُمنگ موج زن پاتا ہے۔ اس ضمن میں گیلانی صاحب کی خودنوشت ولّر کنارے میرے نزدیک ایک ایسی سوانح حیات ہے، جس میں سیّد علی گیلانی کی مقصدیت سے بھرپور مگر ہنگامہ خیز زندگی کی داستان رقم ہے۔ اس آئینے میں پوری کشمیری قوم کی روح پرور اور ایمان افروز مگر نشیب و فراز سے بھرپور زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ انھوں نے ہمیں اپنی زندگی سے روشناس کراتے ہوئے درس دیا ہے کہ :

جو غم ہمیں ملا ، غمِ دوراں بنا دیا

سیّد علی گیلانی ۳۳کتابوں کے مصنف ہیں، لیکن ان کی خود نوشت ایک منفرد علمی اور ادبی کاوش ہے۔امرواقعہ ہے کہ خود نوشت ایک سب سے زیادہ نازک ، حساس اور مشکل صنف ہے کہ اس میں کہیں پوری داستان ’در مَدح خود می گوید‘ کی گردان بن جاتی ہے اور کہیں کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں سب کچھ ہوتا ہے، مگر شخصیت کی اصل تصویر گم ہی رہتی ہے۔ لیکن سیّد علی گیلانی کی خودنوشت میں ان کی اصل شخصیت اپنی تمام تر تابانی کے ساتھ چلتی پھرتی دیکھی جاسکتی ہے۔  صرف ان کا ظاہر ہی نہیں بلکہ باطن بھی کسی تصنع اور پردہ داری کے بغیر دیکھا اور پہچانا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کی داستان کا اصل محور ان کی اپنی ذات نہیں بلکہ وہ مقصد ِ حیات ہے جس نے ان کی زندگی کو معنویت دی ہے۔ اس داستان کی بے ساختگی، ان کی زندگی کی سادگی، ظاہر اور باطن کی یکسانی، مصائب اور مشکلات پر صبرواستقامت، ورق ورق پر ثبت ہے۔ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے مقصد ِ حیات کی خدمت، اور زمانے کے تمام نشیب و فراز کا حکمت، دیانت، حلم اور توازن کے ساتھ سامنا ان کی شخصیت اور جدوجہد کو ایسا حُسن عطا کرتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام کہا جا سکتا ہے۔ خودپسندی، نفس کی پرستش، انتقام اور حُب ِ دُنیا کا کوئی شائبہ اس زندگی میں نظر نہیں آتا۔

ع        مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

مجھے محترم سیّد علی گیلانی سے صرف تین بار ملنے کا موقع ملا ہے۔ ایک بار کھٹمنڈو، نیپال میں ملا تھا۔ دوبار یہ سعادت حرمِ کعبہ کے زیرسایہ حاصل ہوئی، جس میں ایک مرتبہ عمرہ کے دوران اور دوسری بار حج بیت اللہ کے موقعے پر۔ ان ملاقاتوں میں گھنٹوں تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ان گفتگوئوں میں مَیں نے انھیں ایک بندۂ مومن، سچا انسان اور ایک مخلص رہنما پایا۔ ان کی تحریروں کا خاصا حصہ میری نظر سے گزرا ہے۔ اگرچہ ان کی تحریر اور تقریر دونوں اس پہلو سے متأثّر کن رہی ہیں کہ وہ فکری صحت کے ساتھ ساتھ حُسنِ خیال اور حُسنِ بیان کا بہترین مرقع ہیں۔ درحقیقت گیلانی صاحب کی زندگی ایک شخص کی زندگی کے آئینے میں ایک عہداور ایک عہدآفریں جدوجہد کی داستان ہے۔

دعوت اور داعی کی زندہ مثال

ان کی سادہ زندگی، اہلِ خانہ سے گہری محبت، خوش کن لمحات میں تشکر اور مصیبت اور رنج و غم کے موقعوں پر صبروتحمل، وسائل کی تنگی اور مشکلات کی یلغار کی صورت میں بھی مایوسی، غصے اور فرار سے گریز، اوقاتِ کار میں ڈسپلن اور تحریکی اور سیاسی مصروفیات کے ازدحام کے باوجود نجی معاملات میں دل چسپی اور ذمہ داری اور تعلقات کو نبھانے کی مسلسل سعی ___ یہ کردار کے وہ پہلو ہیں جو مسلم معاشرے کا طرئہ امتیاز رہے ہیں اور نئی نسلوں کی طرف ان کو منتقل کرنا گیلانی صاحب کی نسل کی ذمہ داری تھی، جسے انھوں نے بڑے سلیقے سے اس طرح پورا کیا ہے کہ وہ بہت کچھ جو ’حجاب‘ تھا ’پردہ ساز‘ بن کر جلوہ گر ہے۔

گیلانی صاحب کی شخصیت کا ایک بڑا متاثر کن پہلو ذاتی تعلقات اور انسانی بنیادوں پر دوست اور دشمن سبھی سے تعلق خاطر اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کا خاص اہتمام ہے۔ مخالفین کی خوبیوں کا اعتراف اور اپنوں کی کمزوریوں پر بے جا پردہ ڈالنے یا ان کے دفاع کی کوشش سے اجتناب بڑا جان دار پہلو ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بے جا تجسس، چغلی، غیبت اور دوسروں پر اپنی برتری کے اظہار سے بھی ان کا دامن پاک رہا ہے۔

شیخ عبداللہ سے سیاسی اختلاف کو انھوں نے ذاتی مراسم میں بگاڑ کا سبب نہیں بننے دیا۔ گیلانی صاحب نے سیاسی اور نظریاتی میدان میں شیخ صاحب پر بھرپور تنقید کی ہے، مگر ان کے مثبت رویوں، ان کے ہاں مشرقی اور خاندانی روایات کے اہتمام کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ اسی طرح سخت شدید مخالفین کے غم اور دُکھ درد میں شرکت سے اپنے کردار کی عظمت کا ثبوت دیا ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جس کی خود قرآن نے تلقین کی ہے، یعنی اخلاقِ نبویؐ ہے:

وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۝۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۝۳۴ (حم السجدہ ۴۱:۳۴) اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔

قرآن سے گیلانی صاحب کا گہرا تعلق اور زندگی کے ہرمرحلے اور ہرموقعے پر قرآن کریم سے استشہاد کا نقش ان کی تحریر اور تقریر پر بڑا نمایاں ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کے بارے میں مولانا سیّد سلیمان ندوی نے لکھا ہے کہ الہلال نے ہم پر یہ راز فاش کیا کہ قرآن ہمارے دور کے ہر مسئلے کے بارے میں بھی ایسی رہنمائی دیتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے، جیسے یہ ہدایت آج ہی نازل ہورہی ہے۔ گیلانی صاحب کی تحریر اور تقریر کا یہ کرشمہ ہے کہ ان میں ہرموقعے پر قرآن کی روشنی کا ہالہ نظر آتا ہے اور تفہیم القرآن کی تشریح اس کونُورٌ علٰی نُور کا رنگ دے دیتی ہے۔

فکری ترجمانی

سیّد علی گیلانی کی زندگی پر جن دو شخصیات کے اثرات سب سے زیادہ نمایاں ہیں، وہ علّامہ محمد اقبالؒ اور مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ ہیں۔ بجاطور پر یہ دونوں حضرات بیسویں صدی میں اسلامی احیا کے صورت گر ہیں۔ اقبالؒ نے فکر اور جذبہ دونوں کو صحیح راہ پر لانے کی تاریخ ساز کوشش کی اور سیّد مودودیؒ نے اسلام کے حقیقی وژن کو مسکت عصری دلائل کے ساتھ پیش کرکے نئی نسل کو اسلام کا صحیح شعور دیا اور اُن کو اسلام کے قیام کی جدوجہد کی انقلابی راہ بھی دکھائی۔ اس طرح نہ صرف فکری اور نظریاتی رہنمائی فراہم کی بلکہ اسلامی احیا کی جدوجہد کو برپا کرکے پوری اُمت کے لیے ایک روشن اور کشادہ شاہراہ کھول دی۔ سیّد مودودیؒ کی تحریریں زندہ اور جاوید اس لیے ہیں کہ ان کے پیچھے صرف فکر کی پختگی اور حُسنِ خیال کے ساتھ بلاغت اور اعجاز کا کمال ہی نہیں بلکہ کردار کی عظمت اور قول و فعل کی یکسانی بھی کارفرما ہے۔ ایسی تحریر اور تقریر نہ صرف زندہ رہتی ہے بلکہ دوسروں کو زندگی دیتی ہے اور مخالفت کے طوفان بھی نہ اسے محو کرسکتے ہیں اور نہ محدود۔

ایک روشن تحریکی زندگی

گیلانی صاحب کی زندگی کا ایک اور بڑا روشن پہلو یہ ہے کہ ان کے ہاں دعوتی اور تحریکی زندگی اور اس کے تقاضوں کا بڑا حسین امتزاج ہے۔ دعوتِ حق کو دل کی گہرائیوں سے قبول کرنے اور تحریک کے نظم سے رشتہ استوار کرنے کے بعد انسان میں کیا تبدیلی آنی چاہیےاور اسے کس طرح زندگی کے پورے طول وعرض میں جاری و ساری ہونا چاہیے، خواہ وہ ایک کارکن کی ذمہ داری ادا کررہا ہو یا قائد کی۔ اس کے چار پہلو سیّد علی گیلانی صاحب کی زندگی اور جدوجہد میں نمایاں ہیں:

  • حصولِ علم کی نہ ختم ہو نے والی لگن جسے ذاتی تعمیروترقی بھی کہا جاتا ہے۔
  • ابلاغ اور دعوت کا اہتمام، خواہ کہیں بھی ہو اور موقع و محل کی مناسبت سے اپنے پیغام کو حکمت اور جرأت کے ساتھ بیان کرنا اور اس کا موقع نکالنا۔
  • حصولِ علم اور ابلاغ کے ساتھ خوش خُلقی، انسانی خدمت، دوسروں کے دُکھ درد میں شرکت اور ان کو مادی اور اخلاقی ہردواعتبار سے اُوپر اُٹھانے کی جدوجہد کی فکر اور اس میں انہماک۔
  • نوجوانوں میں دعوت و تربیت پر خصوصی توجہ کہ مستقبل کی طاقت کا وہی سرچشمہ ہیں۔

یہ چارعناصر انسان کو داعی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے پشتی بان

گیلانی صاحب نے اپنی ساری زندگی میں کشمیر کے مقدمے کو بڑے سلیقے اور محکم دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کا سیاسی اور دینی پہلو ان کے یہاں ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں، جن کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

کشمیر کے مقدمے کا بہترین مرقع گیلانی صاحب کا وہ خط ہے، جو انھوں نے بھارت کے ایک وزیراعظم وی پی سنگھ کو ۳۱دسمبر ۱۹۸۹ء کو لکھا تھا۔ یہ خط سنہری حروف سے لکھنے کے لائق ہے۔ کشمیر کا مقدمہ پیش کرنے سے پہلے انھوں نے اسلام کی دعوت اور پیغام کو اختصار لیکن پوری دیانت اور حکمت سے بیان کیا ہے۔ اس میں بالکل وہی طریقہ اختیار کیا، جو حضرت یوسفؑ نے جیل میں خواب کی تعبیر بیان کرنے سے پہلے ربّ کی عظمت اور بندگی کی دعوت دی تھی۔ اسی طرح کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے ’مسلم متحدہ محاذ‘ کے نمایندے کے طور پر اپنے رفقا کے ساتھ جو استعفا انھوں نے ۳۰؍اگست ۱۹۸۹ء کو دیا تھا، وہ بھی ان کے موقف کی ترجمانی کا شاہ کار ہے۔ سیاسی میدان میں گیلانی صاحب نے جس حکمت اور فراست سے نازک ترین معاملات کو نبھایا ہے، اس کے اجروثواب کے لیے دل سے بہترین دُعائیں نکلتی ہیں۔

مقصد کی لگن اور ترجیحات کا صحیح ادراک کامیاب قیادت اور سیاست کے لیے ضروری ہے۔ مخالفین سے معاملہ کرنے سے بھی زیادہ مشکل کام ان لوگوں کے ساتھ چلنا اور ان کو اپنے ساتھ چلانا ہے، جو جزوی اتفاق کے ساتھ بڑے بڑے معاملات پر اختلافی رائے رکھتے ہیں۔ اس میں گیلانی صاحب ہراچھے سیاست دان کی طرح کبھی کامیاب ہوئے اور کبھی ناکام، لیکن جس طرح انھوں نے مشترکات کی خاطر دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ، وہ ایک قابلِ تقلید اور روشن مثال ہے۔

جمہوری عمل کی ناکامی کے بعد تحریکاتِ آزادی کا تحریک ِ مزاحمت میں تبدیل ہونا ایک بڑا نازک مسئلہ ہے۔ بنددروازوں کو توڑنے کے لیے قوت کے ناقابلِ تصور عدم تناسب کے باوجود کسی نہ کسی درجے میں متوازی قوت کا استعمال ایک حددرجہ حساس معاملہ ہے۔ بلاشبہہ اس سلسلے میں کم از کم دوسوسال کی تاریخ گواہ ہے کہ مغربی سامراج کے مقابلے میں ایک خاص مرحلے پر معروف جمہوری قوتوں اور تحریکات نے بھی مجبور ہوکر جمہوری طریقوں سے ہٹ کر ایک صحیح کاز اور حصولِ آزادی کے لیے راست اقدام اُٹھائے ہیں۔ خود برعظیم میں بھگت سنگھ [م: ۱۹۳۱ء]اور سبھاس چندر بوس [م: ۱۹۴۵ء]کی مثالیں آج بھی کانگریس کی تحریک ِ آزادی کی جدوجہد کا قابلِ فخر حصہ قرار دی جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سو سے زیادہ رکن ریاستیں وہ ہیں، جن کی آزادی میں عسکری جدوجہدکا بھی حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری غلبے کے خلاف عسکری جدوجہد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ’دہشت گردی‘ (Terrorism) تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔لیکن حالیہ دور میں اور خصوصیت سے نائن الیون [۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء]کے بعد اس سلسلے میں جنگ ِ آزادی اور دہشت گردی کے درمیان تسلیم شدہ فرق کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

گیلانی صاحب نے کشمیر کی جدوجہد کے پس منظر میں اس نازک مسئلے پر بڑے اعتدال اور دانش مندی کا ثبوت دیا ہے۔ دونوں کے جوہری فرق کو دلیل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ جائز اور ناجائز حدود کی وضاحت کی ہے۔ ان اسباب کی نشان دہی کی ہے، جن کی وجہ سے آزادی کے متوالے دوسرا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پھر ان حدود کو بھی نمایاں کیا ہے جن کا احترام اس پُرخار راستے کو اختیار کرنے کے باوجود ازبس ضروری ہے۔ انھوں نے یہ سب اسلام کے تصورِجہاد اور آدابِ جہاد کے نظامِ فکر کی روشنی میں نمایاں کیا ہے، جس کا ادراک گیلانی صاحب کو نوجوانی ہی سے ہوگیا تھااور جس کا اظہار طالب ِ علمی کے دور میں ہی گاندھی جی کے عدم تشدد کے موضوع پر سری نگر میں منعقدہ ایک مباحثے میں انھوں نے کیا تھا۔

قیدوبند کی آزمایش

محترم گیلانی صاحب کو اپنی طویل تحریکی اور سیاسی جدوجہد میں مخالفت و مخاصمت، قیدوبند، تشدد اور تعذیب کے جن مراحل سے گزرنا پڑا، ان سب آزمایشوں میں اللہ کے فضل و کرم سے وہ جس صبروثبات سے اپنے موقف پر قائم رہے، حددرجہ ناسازگار حالات میں بھی دعوت کے لیے راستے تلاش کرتے رہے، وہ سیاست اور دعوت کے تمام طالب علموں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ ان کے خلاف جسمانی تشدد سے لے کر نفسیاتی دہشت گردی تک کے تمام حربے اربابِ وقت اور سیاسی مخالفین نے آزما لیے۔ جب ظلم کے ہتھیار کارگر نہ ہوئے تو ترغیب کے حربے بھی استعمال کیے گئے اور وزارت اور ایک موقعے پر وزارتِ اعلیٰ تک کا لالچ بھی دیا گیا، مگر الحمدللہ، پوری زندگی میں ان کے پایۂ ثبات و استقلال میں کوئی ضُعف نہیں آیا۔

نئی نسل کے لیے ایک مثالی کردار

نئی نسل کے لیے گیلانی صاحب ایک رول ماڈل ہیں۔ تحریک ِ اسلامی کی نئی نسل کو دعوتِ حق کے مقاصد، مشن اور اس کے لائحۂ عمل اور مزاج سے روشناس کرانے کے لیے گیلانی صاحب کی حیات و خدمات کا مطالعہ ایک بہترین عملی ذریعہ ہے۔

ہمارے لیے زندگی گزارنے کا اصل نمونہ صرف رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک اور آپؐ کا اسوئہ مطہرہ ہے،لیکن یہ بھی اسی اسوۂ حسنہ کا کمال ہے کہ جس دور میں بھی جس نے آپؐ کے دامن سے نسبت کرلی، وہ خود بھی ایک روشن چراغ بن جاتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں کبھی کبھی بڑے نازک مقامات بھی آتے ہیں، ان میں کوئی بھی انسان سہووخطا سے پاک نہیں ہوسکتا لیکن بحیثیت مجموعی محترم گیلانی صاحب کی زندگی پوری یکسوئی اور تسلسل کے ساتھ، مقصد سے لگن اور وفاداری کے ساتھ بندھی نظر آتی ہے۔ اگر کہیں کوئی بھول چوک ہوئی ہے تو انھوں نے اسے درست کرنے کی مخلصانہ کوشش کی۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندے سیّد علی گیلانی صاحب کی مغفرت فرمائے۔ ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اُس کے پُر ہونے کا کوئی سامان پیدا کرے۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ جدوجہد جس کے لیے انھوں نے اپنی زندگی قربان کردی، وہ جدوجہد کامیاب ہو۔میں نے تاریخ کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس بنا پر میں کَہ سکتا ہوں کہ خصوصیت سے ۱۹۸۰ء کے بعد سے تحریکِ آزادیِ کشمیر جس طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے، وہ ان شاء اللہ کامیاب و کامران ہوگی اور بھارت کے تسلط سے ہمارے کشمیری بہن بھائی نجات پائیں گے اور پاکستان اور کشمیر یک جان ہوں گے۔

قرآن مجید تعلیماتِ الٰہی اور احکام کی تفہیم کے لیے مختلف اسلوب اختیار کرتا ہے ۔ کبھی قصے کا اسلوبِ بیان اختیار کرتا ہے، کبھی ترغیب وترہیب کا پیرایۂ بیان ، تو کبھی تشبیہ وتمثیل کا انداز۔ اس تبدیلی پیرایۂ بیان کا مقصد یہ ہے کہ حقائق ومعانی ، احکام وفرامین ،ذہنوں اور دلوں میں پورے طریقے سے بیٹھ جائیں۔

تمثیل (allegory) کا اسلوب بھی اسی مقصد کے لیے ہے، تا کہ اعلیٰ حقائق دل کی گہرائیوں میں اتر جائیں،ذہن ودما غ کے دریچوں میں اچھی طرح رچ بس جائیں۔ تمثیل ادب کی ایک دل نواز قسم ہے، جو بات کو سمجھانے کے لیے تیر بہ ہدف کا اثر رکھتی ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہر پیغمبر ، حکیم ، خطیب ، مصنف اور ہر استاد تمثیلات وتشبیہات کو بھی اختیار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے انبیا وحکما کے کلام میں اس کی بڑی کثرت پائی جاتی ہے۔

سیدنا مسیح علیہ السلام ایسی ایسی تمثیل دیتے ہیں کہ بڑے سے بڑا عقلی استدلال بھی وہاں پھیکا معلوم ہوتا ہے ۔ حکما وصوفیا میں تمثیلات کے امام مولانا رومی ؒ کو مانا جاتا ہے۔ احادیث بھی تمثیلات کی مثالوں سے بھری پڑی ہیں کیوں کہ اعلیٰ حقائق اور روحانی نکات کو جب تک تمثیل کی شکل میں نہ بیان کیا جائے، اس وقت تک وہ عام عقل کی گرفت میں نہیں آتے۔

تمثیل کی اسی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اہل قلم حضرات نے قرآنی تمثیلات کے مختلف موضوعات کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر مولانا مودودی ؒ کی تحریروں سے مرتب کردہ تمثیلات قرآنی، خالد محمود کی امثال القرآن اور عربی میں الامثال فی القرآن  محمود بن شریف کی تالیف ہے۔ اس کے علاوہ عربی زبان میں علوم القرآن کے موضوع پر موجود تقریباً تمام کتابوں میں اس عنوان کے تحت بحث ملتی ہے۔ مثال کے طور پر: مناہل العرفان فی علوم القرآن، مباحث فی علوم القرآن اور الاتقان فی علوم القرآن  وغیرہ۔

تمثیلاتِ قرآنی کی اقسام

تمثیلات قرآنی کی دو قسمیں ہیں:

۱- ایک تمثیل کی وہ صورت ہے، جس میں لفظ ’مثل‘ کی صراحت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ایسی بہت سی آیات ہیں جن میں لفظ ’مثل‘ مذکورہ ہے۔ مثلاً :

مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ كَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ۝۰ۭ وَاللہُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۝۲۶۱ (البقرہ۲:۲۶۱)جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیںان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اس طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی۔

اس آیت میں لفظ ’مثل ‘ کا استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کی گئی       مال ودولت کا اجر وثواب بتا رہا ہے۔ فرمایا جو مال اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کی خاطر لوگوں میں   خرچ کیا جائے گا اس کا اجر وثواب کیسے دوگنا،تین گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہو جائے گا ۔ تم اسے ایک دانے کی مثال سے سمجھو۔یہ بات سب کے مشاہدے میں ہے کہ ایک دانہ بویا جاتا ہے اس سے کئی بالیاں اور شاخیں نکلتی ہیں۔ پھر ان شاخوں اور بالیوں سے بے شمار غلے اور دانے پیدا ہوتے ہیں۔

ایک دانے کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سمجھا رہا ہے کہ جس ربّ کی یہ شان اور قدرت ہے کہ مناسب موسم اور صحیح طریقے سے بوئے گئے ایک دانے سے وہ کئی سو دا نے پیدا کرسکتا ہے، تو کیا اس ربّ کی یہ شان نہ ہو گی کی صحیح جگہ اور درست نیت سے خرچ کیا ہوا مال کا اجر وثواب بھی کئی سو گنا بڑھا کر دے۔

اس کے بالکل بر عکس جو لوگ مال ودولت لوگوں پر احسان جتانے کے لیے یا انھیں بُرا بھلا کہہ کر خرچ کرتے ہیں، انھیں اس خرچ کا ذرہ بھر بھی اجروثواب ملنے والا نہیں ہے۔ اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے کتنے دل نشین انداز میں مثال سے سمجھایا ہے کہ ہر خاص وعام کی سمجھ میں فوراً اور آسانی سے آ جائے ۔

فرمایا : ’’ریا کارانہ خرچ اور احسان جتا کر ،دلوں کو دُکھا کر کیا گیا خرچ ایسے ہی برباد اور    نیست ونابود ہو جائے گا جیسے ایک صاف شفاف چٹان ہو اور اس پر مٹی پڑی ہوئی ہو۔ جب اس مٹی پر بارش کی ایک ہلکی سی پھوار پڑتی ہے تو وہ چٹان بالکل صاف اور چکنی ہو جاتی ہے جیسے اس پر مٹی تھی ہی نہیں ۔ بالکل اسی طرح اس خرچ پر کوئی اجر وثواب نہیںملنے والا ہے جو لوگوں کو دکھانے کے لیے اور احسان جتا کر خرچ کیا گیا ہو گا‘‘۔

۲- دوسری وہ تمثیل ہے، جس میں لفظ ’مثل‘ کی صراحت نہ ہو، لیکن معنوی طورپر تمثیل کا انداز پایا جاتا ہے، جیسے غیبت کی کراہت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِہْتُمُوْہُ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ  تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ O (الحجرات ۴۹:۱۲) کیا تمھارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے۔ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو، اللہ سے ڈرو اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔

اس آیت میں لفظ ’مثل‘ کا ذکر نہیںہے، لیکن معنوی مثال دے کر غیبت کی شناعت ، حرمت اور اس کے گھنائونے پن کو واضح کر دیا ہے۔ آدمی کا کسی کی غیبت کرنا کتنا گھنائونا اور بدمزہ کام ہے کہ اسے مثال دے کر بتایا گیا کہ اگر کوئی مسلمان اپنے بھائی کی پیٹھ پیچھے برائی کرتا ہے تو گویا وہ اپنے ہی مُردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہے۔ اس مثال میں دو باتیں قابل غور ہیں۔ ایک تویہ کہ مُردہ گوشت کھانے سے طبیعت کو گھن آتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے گھنائونے پن میں اور اضافہ ہو جائے گا جب وہ مردہ گوشت خود اپنے بھائی کا ہو۔ گویا جب ہر آدمی اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانے سے گھن کھاتا ہے تو اس سے یہ لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر شخص کو اپنے بھائی کی غیبت سے بھی گھن آنی چاہیے اور اس سے بچنا چاہیے۔

تمثیلات کے فوائد

  • عقلی چیز کو حسی چیز میں پیش کرنا کیوں کہ کبھی کبھی عقلی باتیں اس وقت تک ذہن ودماغ میں پیوست نہیں ہو پاتیں جب تک انھیں حسی قالب میں نہ ڈھالا جائے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے نمودونمایش کے لیے خرچ کرنے والوں کا حال بیان کیا ہے کہ انھیں ان کے انفاق کا کوئی اجرو ثواب نہیں ملے گا۔ دکھا وا اور ریا کی غرض سے خرچ کیے ہوئے مال پر اجر و ثواب کا نہ ملنا ایک عقلی بات ہے۔ اسے حسی صورت میں یوں بیان کیا کہ اس ریا کارانہ صدقے کی حالت ایسی ہے جیسے پتھر کی چکنی چٹان جس پر خاک پڑی ہو اور موٹے قطروں کی بارش اس پر برسے اور اسے صاف چکنا کر کے چھوڑ دے۔
  • اصل حقیقت سے پردہ اُٹھانا ، پردئہ خفا سے معرض وجود میں لانا ، جیسے سورئہ بقرہ میں سود کھانے والوں کی حالت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اصل حقیقت سے پردہ اُٹھایا ہے: ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہ ہوں گے مگر اس طرح کہ جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے ‘‘۔

اس آیت میں سود خوروں کی اصل حقیقت بے نقاب کی گئی ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں نے حلال وحرام کو برابر کر دیا، سوداور بیع کو یکساں سمجھا۔ ظاہر ہے کہ حلال وحرام کو برابر سمجھنا حواس باختہ انسان کا ہی کام ہے۔ اسی لیے ان لوگوں کی سزا یہ قرار دی گئی ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنی قبروں سے دیوانوں کی طرح مخبوط الحواس اُٹھیں گے۔

  • تمثیل کا پیرایۂ بیان ترغیب وترہیب کے لیے بہت موزوں ہوتا ہے۔
  • دنیا میں بے شمار انسان ایسے ہیں جو باتوں کو بڑی دیر میں یا مشکل سے سمجھ پاتے ہیں۔ ان کے لیے تمثیلی انداز بیان زیادہ موزوں ہوتا ہے اور وہ مثالوں کو جلدی سمجھ جاتے ہیں ۔

تمثیلا ت کے مقاصد

تمثیلات کے ذریعے قرآن مجید فہمِ دین اور روحِ دین اپنے مخاطبین کے دلوں میں اتارنا چاہتا ہے تا کہ وہ حقیقت سے اچھی طرح واقف ہو جائیں اور دین پر عمل کرنا آسان ہو جائے۔ قرآن مجید نے خود ان تمثیلا ت کے دو مقاصد بتائے ہیں:

۱- تذکرہ اور یاد دہانی کے طور پر، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا :

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ O (الزمر ۳۹:۲۷) ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تا کہ لوگ یاددہانی حاصل کریں۔

شیخ عزالدین ؒ فرماتے ہیں کہ ’اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں امثال اس لیے بیان کی ہیں تاکہ اس سے بندوں کو یاد دہانی اور نصیحت کا فائدہ حاصل ہو۔

۲- تفکر، یعنی غور وفکر کرنے کے لیے، جیسا کہ اس آیت میں ہے :

وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَO(الحشر ۵۹: ۲۱)اور ہم  یہ مثالیں لوگوں کے لیے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ غور وفکر کریں۔

انھی اغراض ومقاصد کے لیے دیگر آسمانی کتابوں میں ضرب الامثال کا کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ انجیل کے ایک باب کا نام ہی سورۃ الامثال ہے۔

توحید اور رسالت کی گواہی کے بعد فرض عبادات: نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی ادایگی آداب و شرائط کے ساتھ مسلمانوں پر لازمی ہے۔فرض عبادات کی پابندی کرنے والوں کی تعداد مسلمانوں کے اندر کچھ زیادہ نہیں۔ تاہم، جو مسلمان بھی یہ کوتاہی کرتے ہیں وہ کم از کم یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ فرض عبادات کو بلا کسی عذر کے ترک کرنے کی وجہ سے وہ گناہگار ہو رہے ہیں۔

ان فرض عبادات کی طرح ایک اہم فریضہ دعوتِ دین کا ہے۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ اکثر مسلمان بالعموم اس فریضے کی ادایگی سے غافل رہتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں۔حتیٰ کہ مسلمانوں کا ’دین دار‘ کہلانے والا طبقہ بھی دعوت دین کی اہمیت اور ضرورت سے کافی حد تک بے خبر ہے۔ دعوتِ دین کو وہ فریضہ ہی نہیں سمجھتے، اس لیےاس کی ادایگی کا سوال ان کے لیےکہاں سے پیدا ہوگا۔ دعوت کی فرضیت کے سلسلے میں قرآن اور حدیث میں واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ دعوت سے غفلت کے ہولناک نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اس کی اہمیت اور بشارتوں کا تفصیلی تذکرہ ہے۔ دعوت کا اہم پہلو مسائل کا حل بھی ہے۔ درحقیقت انسانی زندگی کے جملہ مسائل کا واحد حل اسلام ہی پیش کرتا ہے۔

دعوت کا مفہوم

دعوت عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے معنی بلانا ، پکارنا اور مدعو کرنا ہے - پیغمبروں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کے مختلف خطوں اور مختلف ادوار میں قوموں کی ہدایت کے لیے بھیجا ۔ نبوت اور رسالت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا۔ لیکن فریضۂ دعوتِ دین جو نبیوں اور رسولوں کی سنت ہے اور ان کا بنیادی فرض منصبی رہا ہے، قیامت تک جاری رہے گا۔ کیونکہ دعوت کا بنیادی اور اصل مقصد اللہ کے بندوں کو الحاد، شرک اور کفر سے بچا کر انھیں ہدایت پر لگانے کی کوشش کرنا ہے اوراس کی ضرورت قیامت تک باقی رہے گی۔

قرآن میں دعوت کے لیے کئی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں: شہادتِ حق، تبلیغ، تبشیر، انذار، دعوت الی اللہ ، تذکیر، اور تبیین وغیرہ۔

دعوت سے مراد اللہ کے تمام بندوں( مرد و خواتین) کو اللہ تعالیٰ کی مکمل بندگی اختیار کرنے کی طرف بلانا اور ماسوا اللہ تعالیٰ کے کسی کی بندگی اختیار نہ کرنے کی تلقین کرنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد : توحید، رسالت اور آخرت کو دلائل اور حکمت کے ساتھ پیش کیا جائے۔ فریضۂ دعوت کی ادایگی کے سلسلے میں تفہیم کا سارا کام ایک ہی نشست یا چند نشستوں میں کرلینا ممکن نہیں ہوتا بلکہ مدعو سے بار بار ملاقات اور گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دعوت دینے والے کو نتیجہ حاصل کرنے میں نامناسب عجلت نہ کرنی چاہیے بلکہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہنا چاہیے۔ مدعو کی ہدایت کے لیےاللہ تعالی سے دعا بھی ضرور کرنی چاہیے۔ کیونکہ پیغام پہنچانا بندوں کا،جب کہ ہدایت عطا کرنا اللہ تعالی کا کام ہے۔ وہ جسے چاہتا ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔

فریضۂ دعوت

دعوت، نماز، روزہ اور دیگر فرائض اسلام کی طرح ایک اہم فریضہ ہے۔ یہ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے ۔ نماز، روزہ اور دیگر فرائض کو ادا کرنے کے لیے جس طرح مسلمان پابند ہیں اسی طرح فریضۂ دعوت کی ادایگی کے بھی پابند ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس فریضے کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جس طرح ترکِ نماز کے بعد، نماز کے فائدوں کو حاصل نہیں کیا جا سکتا، روزہ کو ترک کرنے کے بعد تقویٰ، تزکیہ اور روحانی و اخلاقی ارتقا ممکن نہیں ہے، اسی طرح دعوت کو ترک کرنے کے بعد اس کی ادایگی سے حاصل ہونے والے دُنیوی فوائد، برکتوں اور اخروی کامیابیوں کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اتنا ہی نہیں، دنیا میں ترکِ دعوت کے وبال اور مہلک نتائج سے بچنا ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ اُخروی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضی اور باز پُرس سے دوچار ہونا پڑے گا۔    اس ضمن میں قرآن مجید کے ارشاد پر غور فرمائیں:

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالْہُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ۝۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ يَلْعَنُہُمُ اللہُ وَيَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوْنَ۝۱۵۹ (البقرہ ۲:۱۵۹)جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، درآں حالیکہ  ہم انھیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں، یقین جانو اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔

دعوت کی تاکید رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی ہے۔ آپؐ کا دعوتی اسوہ کتب سیرت اور کتب احادیث میں محفوظ ہے۔دعوت کے ضمن میں قرآن اور حدیث کی تعلیمات پر عمل کرکے صحابہ کرامؓ نے واضح نمونہ بعد والوں کے لیے چھوڑا ہے۔ تابعین اور تبع تابعین کی پاکیزہ زندگیوں میں دعوت کے بہترین نمونے موجود ہیں۔ ان عظیم ہستیوں نے دعوت دین کے لیے دنیا کے مختلف حصوں کے کٹھن سفر کیےاور دنیا کی مختلف اقوام کو اسلام کی دعوت دی۔

دنیا کے بیش تر ممالک، قوموں اور آبادیوں میں اسلام دیکھتے ہی دیکھتے پھیل گیا۔ کوئی پہاڑ، صحرا اور سمندر اس دعوت کو نہ روک سکا۔ صدیوں سے جمی ہوئی سلطنتیں اس دعوت کو روک    نہ سکیں۔ اس کے فروغ کے نتیجے میں ایمان، خداپرستی، صلۂ رحمی، انسان دوستی، اخلاق اور روحانیت کی بہار آئی۔ انسانیت کا باغ لہلہا اٹھا۔ ظلم و ستم، کفروشرک، الحاد، بےانصافی، جنگ و جدال کے طوفانی بادل چھٹ گئے۔ عدل و انصاف اور امن وامان کی حکمرانی قائم ہوئی۔ ملک عرب سے نکل کر یہ دعوت ایک عالم گیر اور آفاقی دعوت بن گئی اور اس کے ماننے والے محض عرب نہیں رہے بلکہ ایک عالم گیر و آفاقی امت وجود میں آئی___ ’امت مسلمہ‘۔ صحابہ کرامؓ دعوت کی بنیاد پر ایک عالمی قوت بن گئے۔ دنیا کی مختلف قوموں قبیلوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے انسان ایک عالمی برادری کے پیکر میں ڈھل گئے، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

دعوت کا محرک

دعوت کا حقیقی محرک صرف رضاے الٰہی اور فلاحِ آخرت کا حصول ہے۔ داعی دعوت کے ذریعے ہدایت سے محروم انسانوں تک ہدایت پہنچا کر انھیں جہنم کی آگ سے بچانے کی تڑپ رکھتا ہے۔

دعوت کے اس پاکیزہ اورعظیم محرک کے علاوہ کوئی اور محرک نہیں ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دعوت سے مسلمانوں کی تعداد بڑھانی مطلوب ہے، یا دعوت کے نتیجے میں مسلمانوں کو دوبارہ اقتدار حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ اور اسی طرح کے دیگر محرکات صحیح نہیں۔ تاریخ میں ہمیشہ ایسا نہیں ہوا کہ دعوت پیش کی گئی تو سب نےقبول کرلیا۔ انکار کرنے والے ہر دور میں پائے جاتے رہے۔ کبھی کبھی تو پوری کی پوری آبادی اور قوم نے دعوت کا انکار ہی نہیں کیا، بلکہ اس کی شدید مخالفت کی۔ دعوت کا اصل محرک دنیوی فائدے نہیں، اگرچہ دعوت کے بہت سے ضمنی فائدے ہیں۔

دعوت کے محرک کے ضمن میں درج ذیل حدیث پر غور کریں، تاکہ یہ اہم نکتہ واضح ہوجائے: ’’حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قریشی لیڈروں نے پیش کش کی کہ آپؐ مال، قیادت اور اقتدار قبول کر کے اس دعوت سے دست بردار ہوجائیں۔ آپؐ نے فرمایا:مجھے اس چیز کی قطعاً حرص نہیں ہے جو تم پیش کر رہے ہو۔ جو دعوت میں تمھارے سامنے پیش کررہا ہوں اس کا یہ مقصد ہر گز نہیں ہے کہ میں مال جمع کرنا چاہتا ہوں، یا شرف و عزت کا طالب ہوں، یا تم پر حکومت و اقتدار کا بھوکا ہوں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھارے پاس نبی بنا کر بھیجا اور کتاب اتاری ہے۔ اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں غلط نظام زندگی کے عواقب اور نتائج سے آگاہ کردوں اور جو لوگ مان لیں انھیں کام یابی کی خوش خبری دوں۔ لہٰذا، میں نے اپنے رب کے پیغامات تم تک پہنچا دیے اور خیر خواہی سے سمجھایا۔ اگر تم میری دعوت کو اپنا لو تو یہ تمھاری خوش نصیبی ہوگی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی‘‘۔ (سفینۂ نجات،مولانا جلیل احسن ندویؒ، ص۱۶۴)

دعوت اسلامی کا جامع تعارف

دعوت اسلامی دنیا اور آخرت دونوں پر محیط ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی تاریخ میں بالعموم جن نظریات، فلسفوں اور مذاہب کی دعوت انسانوں کو دی گئی وہ ہمیشہ نامکمل، ناقص اور ادھوری رہی ہے۔

حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے ایرانی سپہ سالار اور اس کے فوجی کمانڈروں کی غلط فہمی کو دُور کرتے ہوئے کہا: ہم تاجر لوگ نہیں ہیں۔ ہمارا مقصد اپنے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا نہیں ہے، ہمارا نصب العین دنیا نہیں،بلکہ آخرت ہے، صرف آخرت۔ ہم حق کے علم بردار ہیں اور اسی کی طرف لوگوں کو بلانا ہمارا مطمح نظر (مقصد) ہے۔ یہ سن کر رستم نے کہا: وہ دین حق کیا ہے؟ اس کا تعارف کراؤ۔ 

حضرت مغیرہؓ نے فرمایا: ہمارے دین کی بنا اور مرکزی نکتہ، جس کے بغیر اس دین کا کوئی جز ٹھیک نہیں ہوتا، یہ ہے کہ آدمی اس حقیقت کا اعلان کرے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں (یعنی توحید کو اپنائے اور حضرت محمدؐ کی رسالت و قیادت کو تسلیم کرے)۔ ایرانی سپہ سالار نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی تعلیم ہے۔ کیا اس دین کی کچھ اور تعلیم بھی ہے؟ حضرت مغیرہؓ نے فرمایا: اس دین کی تعلیم یہ بھی ہے کہ انسانوں کو انسان کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں لایا جائے۔ ایرانی سپہ سالار نے کہا: یہ بھی اچھی تعلیم ہے۔ کیا تمھارا دین کچھ اور بھی کہتا ہے؟

حضرت مغیرہؓ نے فرمایا: ’’ہاں، ہمارا دین یہ بھی کہتا ہے کہ تمام انسان آدمؑ کی اولاد ہیں، پس وہ سب کے سب آپس میں بھائی ہیں، سگے بھائی، ایک ماں باپ کی اولاد!‘‘

اسی سپہ سالار کے سامنے حضرت ربعی بن عامرؓ نے اپنے مقصد کی ترجمانی ان الفاظ میں کی:’’اللہ نے ہم کو اس بات پر مامور کیا ہے کہ وہ جن کو توفیق دے انھیں ہم انسانوں کی بندگی سے نکالیں اور اللہ کی بندگی میں داخل کریں اور دنیا کی تنگی سے نکال کر وسیع و کشادہ دنیا میں لائیں، اور ظالمانہ نظام ہاے زندگی سے نکال کر اسلام کے عدل و انصاف کے سایے میں بسائیں۔ پس اللہ نے ہمیں اپنا دین دے کر اپنی مخلوق کے پاس بھیجا ہے، تاکہ ہم لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلائیں‘‘۔

اسلام میں حقوق العباد کا دائرہ پوری نوع انسانی پر پھیلا ہوا ہے۔ دوسری اہم بات وہ ہے جس کا اعلان حضرت ربعی بن عامرؓ نے کیا ہے، وہ یہ کہ امت مسلمہ کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالے اور اسلام کا نظام عدل قائم کرے، تاکہ ظلم و جور کی ماری ہوئی دنیا نظامِ عدل کے سایے میں امن و سکون سے رہ سکے‘‘۔ (سفینۂ نجات، ص۱۶۹-۱۷۰)

سماجی بگاڑ اور اخلاقی خرابیوں کا حل

دعوتِ اسلامی کو پیش کرنے کا مؤثر طریقہ ہے سماجی بگاڑ اور اخلاقی خرابیوں پر تنقید اور دعوتِ دین کو اس کے واحد حل کے طور پر پیش کرنا۔ ہم انبیاے کرامؑ کی سیرتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی دعوتی کوششوں میں اس کا ذکر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی قوم کے اندر پائی جانے والی سماجی اور اخلاقی خرابیوں پر کھل کر تنقید کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے، اس کی کامل بندگی اختیار کرنے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اپنی (یعنی پیغمبر کی) اطاعت کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ بگاڑ کو دُور کرنے اور سماجی و اخلاقی خرابیوں کی اصلاح کا یہ انبیائی نسخہ کام یاب ترین نسخہ تھا۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ دنیا میں کام یاب نہیں ہوا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں اسلام کے سوا کیا کوئی مذہب یا نظریہ ایسا پایا جاتا ہے، جس نے انسانی معاشرے کے سنگین مسائل کو حل کیا ہو؟

چند انبیاؑ کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے، تاکہ اس نکتے کی اچھی طرح وضاحت ہوسکے۔ حضرت صالح ؑ کی دعوتی کوششوں کا تذکرہ قرآن ان الفاظ میں کرتا ہے:

وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ۝۴۸ (النمل۲۷:۴۸)،اور اس شہر میں نو  جتّھےدار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے تھے اور کوئی اصلاح کا کام نہیں کرتے تھے۔

یعنی حضرت صالح علیہ السلام کی قوم میں فساد برپا تھا۔ امن و امان رخصت ہوچکا تھا۔ حضرت صالح ؑ نے قوم کو توحید اختیار کرنے، شرک سے باز آنے، اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اپنی پیروی کرنے کی دعوت دی۔ اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی مادی خوش حالی عطا کی تھی اور اسے نعمتوں سے نوازا تھا۔ پیغمبرؐ کی دعوت کے جواب میں قوم نے سرکشی کی، چنانچہ اللہ کا عذاب آیا اور قوم ثمود، جس میں حضرت صالح ؑ دعوت کا کام کر رہے تھے، صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئی۔

حضرت لوطؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے وہ ہم جنسیت، راہ زنی اور مجلسوں میں کھلی بدکاری میں مبتلا تھی۔ حضرت لوط ؑ نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، شرک کی خرابی اور اس کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے انھیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اطاعت کرنے کی طرف بلایا۔ ساتھ ہی انھوں نے قوم کی اخلاقی حالت پر شدید تنقید کی۔ قرآن مجید میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:

اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ۝۰ۥۙ  وَتَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ۝۰ۭ (العنکبوت۲۹:۲۹)،کیا تمھارا حال یہ ہے کہ تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور راہ زنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو؟

حضرت شعیبؑ کی قوم مدین کے ایک نہایت زرخیز اور سر سبز اور شاداب علاقے میں آباد تھی۔ معاشی خوش حالی عروج پر تھی، لیکن شرک کی بنیادی خرابی کی وجہ سے اس کے اندر تجارتی بے ایمانی،  راہ زنی اور ناجائز خراج کی وصولی جیسی بڑی بڑی خرابیاں موجود تھیں۔ قرآن نے ان کی خرابیوں پر ان الفاظ میں تبصرہ کیاہے:

وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاہُمْ شُعَيْبًا۝۰ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝۰ۭ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ بَيِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَہُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا۝۰ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝۸۵ (الاعراف۷:۸۵)،اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا: اے برادران قوم! اللہ کی بندگی کرو۔ اس کے سوا کوئی تمھارا خدا نہیں ہے۔ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح راہ نمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو، جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے۔ اس میں تمھاری بھلائی ہے، اگر تم واقعی مومن ہو۔

حضرت شعیبؑ کی قوم نے ان کی دعوت کو جھٹلا دیا اور بڑے تکبر اور رعونت کا مظاہرہ کیا، بلکہ اپنے پیغمبر سے عذاب لانے کا مطالبہ کیا۔ بالآخر اللہ کا عذاب آگیا اور قوم تباہ و برباد کردی گئی۔

انبیا کرامؑ کی دعوتی کوششوں کا یہ سلسلہ طویل ہے۔ آخر میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی کوششوں کو دیکھیے۔

نبوت سے پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی خرابیوں اور بدحالی پر کڑھتے تھے۔ اس ماحول سے دور رہ کر غور و فکر کرتے۔ حق کی طلب اور جستجو میں غارِ حرا کی تنہائیوں میں کئی کئی دن بسر کرتے تھے۔ نبوت ملنے کے بعد آپؐ نے اپنی قوم کو شرک اور اس کی ہلاکت خیزی پر متنبہ کیا، سماج میں پائی جائے والی خرابیوں پر تنقید فرمائی اور اصلاح کی دعوت دی۔ جن بڑی بڑی سماجی خرابیوں اور اخلاقی بگاڑ پر آپؐ نے تنقید فرمائی وہ یہ ہیں:

  • شرک اور بت پرستی
  • انسانی حقوق کی پامالی
  • ظلم و ستم، بالخصوص عورتوں، کم زوروں، یتیموں اور غلاموں پر
  • شراب، جوا، سود
  • زنا
  • لڑکیوں کو پیدایش پر زندہ گاڑ دینا
  • قتل و غارت گری
  • ڈاکا زنی اور لوٹ مار وغیرہ
  • بدامنی اور فساد۔

آج کے دور میں بھی شرک جیسی بنیادی خرابی کے ساتھ دیگر معاشرتی بُرائیاں موجود ہیں اور اخلاقی بگاڑ نہ صرف پایا جاتا ہے، بلکہ اس میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کا دور اس لحاظ سے ممتاز ہے کہ ماضی کے برعکس آج تعلیم عام ہے، سائنس اور ٹکنالوجی عروج پر ہے۔ علوم و فنون بلندی پر پہنچ چکے ہیں۔ قانون موجود ہے، عدالتیں کام کر رہی ہیں، جیل اور پولیس کا نظام ہے، لیکن ان سب کے باوجود انسانی زندگی زبردست بحران سے دوچار ہے۔ کوئی حل کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔ تعلیم، قانون اور عدالتوں کی ضرورت مسلّم ہے لیکن اس کے باوجود عدل قائم نہیں ہو رہا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا نمونہ آپؐ کی سیرت میں محفوظ ہے۔ آپؐ نے عرب میں پائی جانے والی بُرائیوں اور بگاڑ کے خاتمے کے لیے توحید کی دعوت بلند کی۔ آپؐ نے کہا کہ اللہ کو معبود تسلیم کرو، اس کی کامل بندگی اختیار کرو، اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور اس کے دیے ہوئے قانونِ زندگی پر عمل کرو۔ تم اس دنیا اور آخرت دونوں جہان میں فلاح یاب ہوگے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسی دعوت کے ذریعے سے آپ ایک پُرامن صالح انقلاب لے آئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عرب میں اُس دور کی پائی جانے والی بُرائیوں کا خاتمہ ہوگیا۔ امن و امان، صلۂ رحمی اور  عدل و انصاف قائم ہوا۔ خوش حالی اور ترقی کے نتیجے میں عامۃ الناس کو فائدہ ہوا، کوئی فرد محروم نہیں رہا۔

دعوت کی حکمت

ایک داعی کو لوگوں سے ملاقات اور گفتگو کے مواقع ملتے رہتے ہیں۔ داعی کو ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بالعموم لوگ ملاقاتوں اور اپنی مجلسوں میں حالات کے بگاڑ، سنگین مسائل اور اخلاقی خرابیوں پر تنقید کرتے ہیں اور ہر فرد ان خرابیوں سے نئی نسل کے متاثر ہونے کا رونا روتا ہے، لیکن عوام و خواص کی گفتگو میں حل کے طور پر نئی قانون سازی، نئے ضابطے اور تعلیم کے فروغ وغیرہ جیسی تدابیر کا ذکر ہوتا ہے۔ آج قانون کی کوئی کمی نہیں۔ تعلیم عام ہے، مزید عام ہوتی جارہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود کوئی اصلاح دُور دُور تک ہوتی نظر نہیں آتی۔ یہاں تک کہ بعض جرائم اور خرابیوں میں پڑھے لکھے لوگ زیادہ ملوث ہیں۔ ایسے مواقع پر لوگوں کے سامنے داعی، حکمت اور داعیانہ دردو سوز کے ساتھ اپنی بات پیش کرے۔ لوگوں کے دلوں میں دنیا کی بے ثباتی کا تصور اور فکر آخرت پیدا کرنا داعی کا بنیادی کام ہونا چاہیے ۔غرض یہ کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ حق کی بنیاد پر عرب کی جاہلیت قدیمہ کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں نئے انسان اور نئے معاشرے کو وجود بخشا۔ آج بھی جاہلیت جدیدہ کے اس دور میں مسائل سے نجات کے لیے دعوتِ حق کا سہارا لینا ہوگا۔

جنوری کے مہینے میں ویسے ہی کشمیر میں ہر چیز جم جاتی ہے، مگر شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں ۱۹۷۲ءکی سردیاں گرمی کا احساس دلاتے ہوئے ایک تاریخ رقم کررہی تھیں۔ جب ماضی کو کریدتے ہوئے میں معلوم کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ابّا جی، یعنی سیّد علی گیلانی کو میں نے پہلی بار کب اور کہاں دیکھا تھا؟ تو یادوں کی دھند صاف کرتے ہوئے مجھے ایک چار سالہ بچہ نظر آیا، جو اپنے چچا ڈاکٹر مشتاق گیلانی (جو ان دنوں سرینگر میڈکل کالج میں طالب علم تھے) کے کندھے پر سوار رات گئے میر سیّد علی ہمدانی کی درگاہ، یعنی خانقاہ کے صحن میں ایک پُرجوش ہجوم کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایک دراز قد، بارعب مگر شفیق اورخوش لباس شخص درگاہ کے دروازے سے نمودار ہوتا ہے اور نعروں میں مزید ارتعاش آجاتا ہے ۔ جوں جوں یہ شخص قد م بہ قدم سیڑھیوں سے نیچے اترتا ہے، ہجوم بے قابو ہوکر اس کے قریب جانے اور مصافحہ کرنے میں سبقت لینے کے لیے پُرجوش نظر آتا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ شخص علی شاہ گیلانی صاحب ہیں، جو ریاستی اسمبلی کا الیکشن جیت گئے ہیں۔

وہ ہمار ے قر یب آئے اور میرے چچا سے علیک سلیک کرکے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور گالوں پر تھپکی دی۔ ان کے خاندان کے ساتھ ہمارا بس اتنا تعلق تھا کہ وہ میرے تایا پروفیسر سعید گیلانی کے استاد تھے۔ بعد میں اباًجی بتاتے تھے کہ سوپور انٹرمیڈیٹ اسکول میں جب وہ سعید صاحب کو پڑھاتے تھے، تو ان کو اپنا بچپن اور غربت میں پڑھائی کے لیے تگ و دو یاد آجاتی تھی۔ اسی وساطت سے وہ میرے دادا غلام نبی کو، جو ابن حسام کے نام سے شاعر اور عربی فارسی کے عالم بھی تھے، بچوں کی تعلیم کے لیے ترغیب اور حوصلہ دیتے تھے۔ اس الیکشن میں انھوں نے دھاندلیوں کے باوجود اس خطے سے کانگریس کے ایک بت کو پاش پاش کردیا تھا۔

سوپور قصبہ اور اس کے اطراف میں ۶۰ اور ۷۰ کے عشرے میں پیدا ہونے والے افراد کے لیے شعلہ بیان سیّد علی گیلانی، انقلابی شخصیات چے گویرا، ہوچی منہ یاآیت اللہ خمینی تھے۔ وہ اپنے خطاب سے بدن میں بجلیاں بھر دیتے تھے۔ چاہے مقامی مسائل ہوں، یا ۱۹۷۹ءمیں افغانستان پر اشتراکی روسی فوجوں کی چڑھائی، یا اس کے ایک سال بعد اسرائیل کے ہاتھوں یروشلم شہر کو ضم کرنے کا واقعہ ہو، وہ اپنی اسٹریٹ پاور کا استعمال کرتے ہوئے ریاست کے تجارتی مرکز کو جام کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ جس طرح چے گویرا نے کہا ہے: ’’انقلاب کوئی پکا ہوا سیب نہیں ہوتا ہے، جو خود بخود ہی جھولی میں آگرے، اس کو گرانے کے لیے مشقت کرنی پڑتی ہے‘‘، ۱۹۸۹ء میں کشمیر میں جو بھارت مخالف انقلاب برپا ہوا، وہ اس کے اہم محرک تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ریاست کے حالات اور اندیشہ ہائے دُور دراز کے سبب ان کی اپنی پارٹی نے اس سیب کو حاصل کرنے میں خاصی ہچکچاہٹ دکھائی۔

  • تحریکِ آزادی کشمیر کے بـے باک ترجمان: ۱۹۷۵ءکے بعد کشمیر کی اکثر آزادی پسند تحریکیں زیرزمین ہوچکی تھیں۔ ویسے ۱۹۴۷ءکے بعدمسلم کانفرنس کی اعلیٰ لیڈرشپ چودھری غلا م عباس اور میر واعظ یوسف شاہ کی ہجرت کے بعد شیخ محمد عبداللہ کو سیاسی میدان میں چیلنج کرنے کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ ۱۹۷۵ء کے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ کے معاہدے کے بعد بھارت مخالف سیاست کو گیلانی صاحب کی صورت میں بلالحاظ نظریہ ایک آواز، ایک روشن چہرہ اور سدابہار سرپرست ملا۔ اگرچہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کو عسکری جدوجہد کا آغاز کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، لیکن اس کے بیج گیلانی صاحب نے ہی بوئے تھے۔ ۱۹۸۷ءکے ریاستی اسمبلی انتخابات میں بے انتہا دھاندلیوں سے قبل ہی بارہمولہ میں ایک درزی اور اس کے معاون کی بھارتی فوج کے ہاتھوں حراستی موت کے خلاف ایجی ٹیشن کی قیادت کرتے ہوئے انھوں نے تین الف، یعنی اتحاد، اسلحہ اور اسلام کا نعرہ دیا تھا ۔ ان کی تقریر کا مفہوم تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ’’اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ رکھا جائے کیونکہ سیاسی دروازے بند کیے جا رہے ہیں‘‘۔

ان کا بچپن نہایت ہی مفلسی کی داستان ہے۔ تب کئی کئی دن فاقے کرنے پڑتے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کے والد بچوں کو پڑھانا چاہتے تھے۔ منجھلے بچے علی پر تو علم حاصل کرنے کا جنون طاری تھا۔ گاؤں کے اسکول سے امتیازی نمبر حاصل کرکے ان کو نو کلومیٹر دور سوپور میں پرائمری اور مڈل میں داخلہ ملا۔ گاؤں سے اسکول جانے کے لیے یہ بچہ روز پیدل ۱۸کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا تھا۔ شاید اسی پس منظر نے ان کو سختیاں جھیلنے اور نظم و ضبط کی عادت ڈال دی تھی۔

۱۹۶۳ءمیں پہلی گرفتاری کے دوران ہی ان کے والد صاحب انتقال کرگئے۔ ان کو بعد میں بتایا گیا کہ ان کے والد ان کی یاد میں آنسو بہاتے ہوئے کھڑکی میں بیٹھ کر سوپور کی طرف کی سڑک پر نگاہ جمائے رہتے تھے اور جب کبھی دُور سے سیاہ قراقلی پہنے کسی شخص کو آتے دیکھتے تو علی علی پکار کر کمرے سے باہر آجاتے۔ آخرکار جدائی کا یہی گھائو لیے دارفانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے والد ایک معمولی یومیہ مزدور تھے۔ وسائل کی کمی کے باوجود بچوں کوپڑھانے کے لیے کوشاں تھے۔ یہی وصف بعد میں شاید گیلانی صاحب کی زندگی کا حصہ بن گیا۔ تمام تر مشکلات و طعنے سہنے کے باوجود انھوں نے اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ جیل سے جو خطوط بیٹیوں کو لکھتے تھے، ان میں بھی ان کو تعلیم جاری رکھنے کی تاکید کرتے تھے۔

گیلانی صاحب کے خاندان کے ساتھ میرا براہ راست تعلق ۱۹۹۶ء میں ہوا، جب ان کی صاحبزادی آنسہ میرے عقد میں آئیں۔ لیکن ایک لیڈر کی حیثیت اور میرے قصبہ سوپور کے ایک باسی کی نوعیت سے یہ تعلق میرے آنکھ کھولتے ہی شروع ہوگیا تھا۔ سوپور یا اس کے اطراف میں منعقد ہونے والا شاید ہی کوئی ایسا جلسہ ہوگا جس میں، مَیں نے شرکت نہ کی ہو۔ اپنے دیگر بھائیوں کے برعکس میرے والد کوروایتی پیروں کی طرح جماعت اسلامی سے چڑ تھی ۔ ان کولگتا تھا کہ ان جلسے ، جلوسوں کی وجہ سے میری پڑھائی میں ہرج ہوتا ہے۔ اسی فکرمندی میں کئی دفعہ میری پٹائی بھی کرتے تھے، مگر کبھی خود ہی جیب خرچ دے کر سرینگر عید گاہ میں جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں جانے کے لیے بھی کہتے تھے۔ ان کا یہ تضاد میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا۔ گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے انھوں نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر سرکاری ملازمت اختیار کی تھی اور اپنی محرومی کا ازالہ شاید مجھے زندگی میں کامیاب ہوتے دیکھ کر کرنا چاہتے تھے۔ اس دوران ان کی ڈیوٹی گیلانی صاحب کے گاوٗں ڈورو میں ہوتی تھی اور اس طرح ان کے گھر تک ان کی رسائی ہوئی ۔

 ان دنوں میں دہلی میں صحافت کی تعلیم مکمل کرکے برسر روزگار ہوا تھا، لہٰذا انھوں نے ہی میرے عقد کی بات چلاکر طے بھی کر لی۔ میری ساس بھی داماد کے طور پر ایسے فرد کو پسند کرتی تھیں، جس کا سیاست کے ساتھ دور دور کا واسطہ نہ ہو۔ اکثر افراد گیلانی صاحب کو طعنہ دیتے تھے کہ انھوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو تحریک میں شامل نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ایک داماد ظہور جو ان کے بھتیجے بھی ہیں، کشمیر کے اوّلین عسکریت پسندوں میں ہیں اور نوے کی ابتدا میں ہی گرفتار ہوکر نوسال قید میں رہے۔ ایک اور داماد الطاف احمد شاہ تو پہلے دن سے ہی سیاست سے وابستہ تھے۔ نیشنل کانفرنس فیملی سے تعلق رکھنے کے باوجود اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی سے ان کی وابستگی رہی۔ وہ پچھلے پانچ برسوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند ہیں اور اس سے پہلے بھی کئی بار جیل جاچکے ہیں۔

ان کے بڑے داماد ، غلام حسن، جن کا اب انتقال ہوچکا ہے، ان کے چچا جماعت اسلامی کے رکن تھے، جن کو سرکاری بندوق برداروں نے دن دہاڑے ہلاک کردیا۔ اور پھر آئے دن کے چھاپوں اور تلاشیوں سے ان کی پوری فیملی کو دردبد ر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا گیا۔ ۲۰۰۲ء میں جب ان کو قید کیا گیا، تو دہلی میں میرے مکان پر بھی بھارتی ایجنسیوں نے چھاپا مارا اور مجھے نو دن انٹروگیشن میں رکھنے کے بعد تہاڑ جیل پہنچادیا گیا۔ چونکہ لیڈران پر دبائو ڈالنے کے لیے ان کے قریبی رشتہ داروں پر شکنجا کسنا اور ان کے آس پاس کے افراد کا قافیۂ زندگی تنگ کرنا ایک آزمودہ فارمولا رہا ہے، اس لیے میری گرفتاری سے وہ گیلانی صاحب کو پیغام پہنچانا چاہ رہے تھے۔ مگر پانچ ، چھے ماہ تک ان کو میری گرفتاری کے بارے میں علم ہی نہیں تھا ، کیونکہ ان کو سرینگر سے سیدھے جھارکھنڈ کی رانچی جیل لے جایا گیا تھا اور پورے چھے ماہ تک ان کو اخبار، ریڈیو سے معلومات لینے یا کسی کو ان سے ملنے نہ دیا گیا۔ جب ان کے بھتیجے ظہور کی چھے ماہ بعد ان سے ملاقات ہوئی، تب ان کو میری گرفتاری کا پتہ چلا۔ انھوں نے رانچی جیل سے ایک پوسٹ کارڈ لکھ کر مجھے صبرکی تلقین کی۔

  • مجاہـدانہ طرزِ زنـدگی : ۹۰ کے اوائل میں، جب میں دہلی آیا تو دیگر کشمیری  طالب علموں کے ساتھ مل کر ہم نے ایسا ماحول بنایا تھا کہ کشمیر لیڈرشپ کے اختلافات سے بالاتر سبھی لیڈروں کی میزبانی کرکے ان کو فورم مہیا کروائے جائیں۔ اسی لیے چاہے شبیر شاہ ہوں یا یٰسین ملک، عبدالغنی لون ہوں یا سیّد علی گیلانی، سبھی کے لیے ملاقاتوں کا انتظام کروانا اور ان کی سہولت کا خیال رکھنے کی ذمہ داری اٹھاتے تھے۔ یہ سلسلہ ۱۹۹۵ء میں دہلی میں حریت کا دفتر کھلنے تک جاری رہا، جو ۲۰۰۳ء تک کشمیر ایورنس بیورو کے نام سے کام کرتا رہا۔

ایک بار حُریت لیڈران نے انسانی حقوق کی صورت حال پر توجہ حاصل کرنے کے لیے دہلی کے مرکز انڈیا گیٹ پر احتجاج کا پروگرام بنایا۔ اس دن سیّد علی گیلانی میری ہی رہایش گاہ پر ٹھیرے تھے، کیونکہ حُریت کے دفتر میں دیگر قائدین جمع تھے اور وہاں شاید رہنے کی گنجایش نہیں تھی۔ پروگرام تھا کہ سبھی لیڈران حریت دفتر سے انڈیا گیٹ کی طرف روانہ ہوں گے۔ صبح وہ جونہی گھر سے حریت آفس کی طرف روانہ ہوئے، کہ اسی دوران ہمارے گھر پر پولیس آدھمکی۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ وہ گھر سے نکل چکے ہیں، تو وہ ان کے تعاقب میں نکل پڑے۔ شاید گیلانی صاحب کو اندازہ تھا، کہ ان کو احتجاج کے لیے نہیں جانے دیا جائے گا، اس لیے حریت آفس جانے کے بجائے وہ سیدھے انڈیا گیٹ ہی پہنچ گئے، جہاں احتجاج کے بعد ان کو پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ باقی سبھی قائدین دن بھر آفس میں ہی نظر بند رہے۔کئی گھنٹے بعد جب ہم پولیس اسٹیشن ان سے ملنے گئے،تو میں نے ان سے کہا کہ ’’آپ کو گوریلا موومنٹ جوائن کرنی چاہیے تھی‘‘۔

۸۰ کے عشرے کے دوران سوپور میں ایک بار ان کی زبردست تلاش ہو رہی تھی۔ جگہ جگہ چھاپے پڑ رہے تھے۔ اسی اثناء میں معلوم ہوا کہ وہ جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرنے والے ہیں۔ کسی کو یقین نہیں آرہا تھا۔ جامع مسجد جانے والے راستوں اور اس کے آس پاس چپہ چپہ پر پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کا جال بچھا ہوا تھا۔خطبہ شروع ہونے سے بس پانچ منٹ قبل وہ محراب کے پاس نمودار ہوئے اور تقریر شروع کی۔ ۱۹۷۵ء میں جب بھارت میں ایمرجنسی نافذ ہوئی، تو شیخ محمدعبداللہ نے جموں و کشمیر میں بھی اس کا اطلاق کرکے جماعت اسلامی پر پابندی لگادی، اور اس کے لیڈروں اور ارکان کو پابند سلاسل کر دیا۔ کئی روز تک گیلانی صاحب کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے پڑتے رہے۔ سوپور میں معروف تاجران محمد اکبر بساطی و غلام حسن بساطی، جن کے ہاں وہ اکثر ٹھیرتے تھے، ان کے گھروں اور دکانوں کی ایسی تلاشی ہوئی ، جیسے سوئی ڈھونڈی جاری ہو۔ اسمبلی کا سیشن جاری تھا، اور وہاں بھی سخت پہرہ تھا۔ چند روز بعد وہ اسمبلی فلور پر نمودا ر ہوئے اور دھواں دھار تقریر کرکے باہر آئے اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا۔

  • عسکریت کا حقیقت پسندانہ تجزیہ : اگرچہ گیلانی صاحب عسکری تحریک کے حامیوں اور اس کے سرپرستوں میں شمار کیے جاتے ہیں، مگر وہ کسی رُو رعایت کے بغیر اس کی خامیوں پر براہ راست مخاطب بھی ہوتے تھے، جس کی وجہ سے کئی نوجوان اور لائن آف کنٹرو ل کے دوسری طرف کے لوگ بھی ان سے ناراض ہو گئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ فروری ۱۹۹۰ء، میں سوپور میں اور پھر یاری پوری اننت ناگ میں انھوں نے بھرے جلسہ میں کہا کہ ـ’’سفر بڑا طویل اور راستہ بڑا ہی کٹھن اور دشوار گزار ہے۔ ٹھیر ٹھیر کر اور سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے‘‘۔ انھوں نے عوام سے کہا کہ غلط اندازے نہیں لگانے چاہییں، کیونکہ پنجۂ استبداد ابھی کھل کر سامنے نہیں آیا ہے۔ ایک مثال دیتے ہوئے ، انھوں نے کہا، ’’ اگر آپ کے پاس گاڑی نہ ہو اور سرینگر جانا پڑے ، تودوڑ لگا کر زیادہ سے زیادہ ایک یا دوکلومیٹر تک چل کر پھر نڈھال ہو کر گر جائوگے۔ اس کے برعکس اگر آپ آہستہ آہستہ پڑاؤ بہ پڑاؤ چلنا شروع کریں گے۔ رات کسی بستی میں گزاریں گے اور کچھ زادِراہ ساتھ لے کر چلیں گے تو سلامتی کے ساتھ منزل پالیں گے‘‘۔

جذبات سے مغلوب نوجوانوں کو ان کی یہ باتیں بہت کھٹکیں۔چند لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ بوڑھا سنکی ہو گیا ہے، نہ خود کچھ کرنا چاہ رہا ہے، نہ ہمیں کچھ کرنے دے رہا ہے۔ اننت ناگ کے کھنہ بل میں جہاں وہ غلام نبی سمجھی کے گھر پر ٹھیرے تھے، نوجوانوں کا ایک گروپ ان سے ملنے آیا اور کہا کہ’’ آپ یہ کہہ کر کہ جدوجہد طویل اور صبر آزما ہے، مایوسی کی باتیں کر رہے ہیں۔ لوگ تو مارچ کے مہینے میں کھیتیاں جوتنے سے پہلے آزادی کی نیلم پری سے ہم کنار ہونا چاہ رہے ہیں۔سیاسی لیڈر ہماری غلط رہنمائی کر رہے ہیں یا خود بے بصیرت ہو گئے ہیں‘‘۔ گیلانی صاحب کی صاف گوئی نے ان کے لیے کئی دشمن پیدا کیے۔ کئی حضرات جو اس وقت ان کی موت کا سوگ منا رہے ہیں، ان دنوں ان کے قتل تک کے درپے تھے۔ سوپور میں ان کی سیاسی ساکھ کو ختم کرنے کے لیے نئی سیاسی بساط بچھائی گئی اور چہرے ڈھونڈے گئے، اور اُن کی سرپرستی بدقسمتی سے مظفر آباد اور اسلام آباد سے کی گئی۔ اگر ابتدا سے تحریک کی سیاسی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں رہنے دی گئی ہوتی، تو شاید منزل اتنی کٹھن نہ ہوتی۔

اس صاحب ِبصیرت نے نہایت ہی سلجھے ہوئے انداز میں کشمیر میں عسکری جدوجہد کی پرتیں کھول کر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پانچ فروگذاشتوں کا ذکر کیا ہے:

پہلی یہ کہ’’ سرفروش نوجوانوں نے سمجھا کہ انھوں نے بھارت کو بھگا دیا ہے اور مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے والے سیاسی گروہ یا لیڈروں کو اب ان کے ذریعے حاصل کیے ہوئے مقام و مرتبے میں شریک ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوامی جدوجہد سیاسی قیادت سے محروم ہو گئی‘‘۔ اس طرح کی ہدایات سرحد پار سے بھی ملتی تھیں۔

دوسرا یہ بتایا کہ ’’مسلح جدوجہد شروع ہونے کے مرحلے میں اخلاقی تربیت پر توجہ نہیں دی گئی۔  کئی افراد نے بندوق اپنی ذاتی خواہشات اور انتقام گیری کی تکمیل کے لیے حاصل کی‘‘۔ گیلانی صاحب کے بقول ’’مسلح جدوجہد حصول آزادی کے لیے آخری مرحلہ ہوتا ہے اور اسی پر ان کی کامیابی اور روشن مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ اس کے لیے برسہا برس کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔

تیسری فروگذاشت کی طرف یوں توجہ دلائی کہ ’’مسلح نوجوانوں کی سرفروشانہ جدوجہد نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو سرد خانے سے نکال کر عالمی سطح پر ابھارنے میں کامیابی حاصل تو کرلی اور جمود توڑ دیا، مگر عوام کی بے پناہ پذیرائی نے ان میں سے بیش تر کو خود سری کے جنون میں مبتلا کر دیا ، جو گروہی تصادم کی شکل میں سامنے آیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام گروپ، مشترکہ دشمن کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے، یا اپنے اپنے دائرۂ کار کے اندر کام کرتے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس باہمی ٹکراؤ میں ایسے افراد قوم سے چھین لیے گئے ، جو ایک ایک ہزار افراد پر بھاری تھے ‘‘۔

چوتھی فروگذاشت یہ بیان کی ’’مسلح جدوجہد شروع کرنے والوں میں کوئی گروپ اس غلط فہمی میں مبتلا نہ تھا کہ کلا شنکوف کے بل بوتے پر بھارت کی فوجی قوت کو قبضہ سے دست برداری پر مجبور کیا جائے، بلکہ مقصد یہ تھا کہ بھارت کو متنازعہ حیثیت تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے اور نتیجہ خیز بامقصد اور دیرپا حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت کا آغاز کروایا جائے۔ مگر بہت جلد یہ ہدف نوجوانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ‘‘۔

پانچویں فروگذاشت یہ تھی کہ’’ہردور میں مسلح جدوجہد کے کھلے دشمن کے ساتھ چھپے دشمن بھی ہوتے ہیں۔اس تلخ حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم جدوجہد آزادی کے دوران فضائے بد ر پیدا نہیں کر سکے۔ اندھی فوجی قوت نے وسیع ترین پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کا ارتکاب کیا ہے، ان کے مقابلے میں ہمارا ریکارڈ صاف و شفاف ہو نا چاہیے تھا، جو نہیں رکھ پائے‘‘۔

  • پُرامن جدوجہد کے لیـے کوشاں  : ۱۹۹۹ء کی جنگ کرگل کے بعد حریت کانفرنس کے رہنماؤں میں تحریک کے حوالے سے رویہ میں تبدیلی آنی شروع ہوگئی تھی۔ میر واعظ عمر فاروق، عبدالغنی لون اور دیگر زعماء کا خیال تھا کہ ’’نئی دہلی کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھولنا چاہیے‘‘۔مگر گیلانی صاحب کا موقف تھا کہ ’’جب تک بھارت اٹوٹ اَنگ کی رٹ بند نہیں کرتا ہے اور مذاکرات کے لیے ماحول نہیں بناتا ہے ، تب تک اس کا کوئی مطلب نہیں ہے‘‘۔ ان اختلافات کی وجہ سے تحریک حریت تقسیم ہوگئی۔ گیلانی صاحب کا استدلال تھا کہ ’’سیاسی تحریک کی عدم موجودگی کی وجہ سے عسکری تحریک زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتی، اس لیے کھلے میدان میں جاکر سیاسی جدوجہد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

۲۰۰۳ء میں جیل سے رہائی اور پھر گردوں کے آپریشن کے بعد انھوں نے قریہ قریہ گھوم کر، حتیٰ کہ گریز ، پونچھ، راجوری، ڈوڈہ، کشتواڑ جیسے دُور دراز علاقوں کا دورہ کرکے سیاسی جدوجہد کے لیے راہ ہموار کی۔ اس دوران حکومت نے بھی موقف اپنایا تھا کہ ’’حریت کا سیاسی میدان میں مقابلہ کیا جائے‘‘۔ ان دنوں پٹن اور سنگرامہ حلقہ میںضمنی انتخابات منعقد ہونے تھے۔ امیدوار کی تقریر ختم ہوتے ہی ، گیلانی صاحب پہنچتے تھے، اور اسی اسٹیج سے عوام کو انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے تھے۔ حکومت ان کو تقریر یا دورہ کرنے سے روکتی نہیں تھی، مگر ان کی میزبانی کرنے والوں پر قہر ڈھاتی تھی۔ بارہمولہ شہر کے چوراہے پر جب انھوں نے تقریر ختم کی، تو پاس ہی رہایشی ایک رکن جماعت نے ان کو چائے کی دعوت دے دی۔ چائے پینے کے بعد گیلانی صاحب سرینگر روانہ ہوگئے، تو اس معمر رکن جماعت کی شامت آگئی اور اس کو پبلک سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس نے سیّد علی گیلانی کی میزبانی کی ہے۔ یہ حضرت کئی سال جیل میں رہے ۔ اس لیے ان دوروں کے دوران وہ کسی کے گھر کے بجائے مسجد میں رات بھر رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔

 ۲۰۰۸ء کے دوران میں کشمیر کی سڑکوں پر امرناتھ لینڈ ایجی ٹیشن اور پھر ۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۶ءمیں بُرہان وانی کی شہادت کے بعد جو تحریکیں برپا ہوئیں، وہ ان کی ۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۸ءتک اس زمینی جدوجہد کا نتیجہ تھیں۔ وہ جوانوں کی پرامن رہنے کی تاکید کرتے تھے اور بتاتے تھے، جب پولیس روکے گی تو بجائے محاذآرائی کے، سڑک پر دھرنا دیا کریں ۔ پلوامہ ضلع میں ایسا ہی ہوا۔ ایک بھاری جلوس نیوہ سے قصبہ کی طرف جارہا تھا کہ نیم فوجی دستوں نے ان کو آگے جانے سے روکا تو لوگ سڑک پر بیٹھ گئے۔ مگر اس پُرامن ہجوم پر گولیاں برسائی گئیں۔ ایک جوان ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ۱۱۷ دن کی ہڑتال اور ایک سو دن کے سخت کرفیو کے بعد انھوں نے کاروبار بتدریج کھولنے کی اپیل کی، جس پر ان کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی افراد نے لکھا کہ ’’گیلانی ، مہاتما گاندھی کا راستہ اپنا رہے ہیں‘‘۔ جس پر انھوں نے جواب دیا کہ ’’گاندھی کا فلسفہ تو خود ان کی زندگی میں ہی مسترد کیا جا چکا ہے۔ امن کا نعرہ ہم دیتے ہیں۔ امن سے ہی حل طلب مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ مگر بھارتی قیادت اس سنگین مسئلے کو طول دے کر خود بدامنی پھیلا رہی ہے اور الزام ہمارے سر تھوپ رہی ہے۔کب تک اس سلسلے کو جاری رکھا جاسکتا تھا‘‘۔

  • پاکستان سے محبت اور جرأت مندانہ موقف: پاکستان میں وقتاً فوقتاً جمہوریت کا خون ہوتے دیکھ کر وہ تاسف کا اظہار کرتے تھے۔ نومبر۱۹۹۶ء میں جب وزیراعظم بے نظیر بھٹوکی حکومت کو برطرف کیا گیا، تو وہ ان دنوں دہلی میں مقیم تھے۔ اس دوران ان کے سیکرٹری نے ان کو بتایا کہ ’’جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد صاحب فون لائن پر ہیں‘‘۔ گیلانی صاحب نے فون اٹھاتے ہی حکومت کی بر طرفی کے حوالے سے قاضی صاحب سے ناراضی کا اظہار کیا۔ گیلانی صاحب کے سیکرٹری نے کہاکہ یہ ’’پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ، آپ کیوں اس میں پڑتے ہیں؟‘‘ تو انھوں نے کہاکہ ’’ان کے اندرونی معاملات سے ہمارے معاملات بھی متاثر ہوتے ہیں‘‘۔

اسی طرح یہ اپریل ۲۰۰۵ء کی بات ہے۔پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے دورۂ دہلی کا اعلان ہوچکا تھا۔ چونکہ امن کوششیں عروج پر تھیں، بھارتی حکومت اور پاکستانی ہائی کمیشن، دورہ کو کامیاب بنانے کی کوششیں کررہے تھے۔ انھی دنوں اس وقت دہلی میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر منور سعید بھٹی صاحب نے مجھے فون کیا۔ بھٹی صاحب وضع داری،رواداری اور معاملات کو سلجھانے کے حوالے سے دہلی میں پاکستان کے مقبول ترین سفارت کار شمار ہوتے تھے۔فون پر انھوں نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ طے ہوا کہ سفارتی علاقہ چانکیہ پوری ہی میں ایک ریسٹورنٹ میں چائے نوش کریں گے۔مگر ریسٹورنٹ میں سیٹ پر بیٹھتے ہی، بھٹی صاحب مجھے بلوچستان کی تاریخ اور شورش کا پس منظر سمجھانے لگے۔ میں حیران تھا، کہ آخر اس بات کا مجھ سے کیا لینا دینا ہے۔ کچھ منٹ کے بعد وہ مدعا زبان پر لائے۔ کہنے لگے ، کہ ’’کیا آپ گیلانی صاحب کو آمادہ کرسکیں گے، کہ مشرف صاحب کے ساتھ ملاقات میں وہ بلوچستان کے مسائل کا تذکرہ نہ کریں؟‘‘ صدر پاکستان اپنے دورے کے دوران کشمیری رہنمائوں سے ملاقات کرنے والے تھے۔میں نے معذرت کی، کہ ’’گیلانی صاحب کی سیاست میں،میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور نہ میں ان کو کوئی مشورہ دینے کی حیثیت رکھتا ہوں‘‘۔

دراصل گیلانی صاحب نے سرینگر میں بلوچستان میں پاکستان کے فوجی آپریشن کے خلاف چند بیانات دیئے تھے اور نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ افہام و تفہیم سے معاملات حل کرنے کا پُرزور مشورہ دیا تھا۔بھٹی صاحب کا کہنا تھا کہ ’’کشمیری رہنمائوں اور خصوصاً گیلانی صاحب کا پاکستان کی چوٹی کی لیڈرشپ سے ملاقات کا موقع ملنا نا ممکنات میں سے ہے اور یہ ایک نایاب موقع ہے، جس میں کشمیر کی تحریک کو درپیش مسائل سے حل بھی کروایا جاسکتا ہے‘‘۔

چنانچہ میں معذرت کرکے رخصت ہوگیا اور گھر آکر میں نے اپنی اہلیہ سے کہا، کہ تمھارے والد (سیّد علی گیلانی) نے ایک تو بھارت کے خلاف علم بلند کیا ہوا ہے ، اور دوسر ی طرف ا ب’واحد دوست اور وکیل‘ پاکستان کی لیڈرشپ کی مخالفت پر بھی کمر بستہ ہیں۔آخر میڈیا کی رپورٹس کی بنیاد پر ان کو پاکستان کے صوبے بلوچستان کے مسائل پر بیان دینے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ میٹنگ سے ایک روز قبل ۱۶؍اپریل ۲۰۰۵ء کو گیلانی صاحب دہلی وارد ہوئے تو میری اہلیہ ان سے ملنے گئیں، اور یہ بات ان کے گوش گزار کی۔ اور دیگر ذرائع سے بھی پاکستانی حکومت نے شاید ان تک یہ بات پہنچائی تھی، کہ انھیں صدر پاکستان کے ساتھ ملاقات میں احتیاط سے کام لینا ہوگا۔اگلے روز صبح سویرے میرے گھر آکر پہلے انھوں نے مسکرا کر کہا کہ ’’اپنے دوست اور محسن کو یہ کہنا کہ اپنے گھر کاخیال رکھو، اور اس کو بے جا مصیبتوں سے بچنے کے لیے خبردار کرنا آخرکیوں کر سفارتی آداب کے منافی ہے ؟‘‘ و ہ شاید متفق ہو گئے تھے کہ گفتگو کشمیر تک ہی مرکوز رکھیں گے۔

 بہر حال دوپہرچار بجے جب وہ لیاقت علی خان مرحوم کی دہلی میں رہایش گاہ اور موجودہ پاکستان ہائوس میں پہنچے، تو طاقت کے نشے میں سرشار مشرف صاحب نے ان کے وفد میں شامل دیگر اراکین سے ہاتھ نہیں ملایا جن میں سیّد حسن الصفوی، صدر انجمن شرعی شیعان، نعیم احمد خاں، صدر نیشنل فرنٹ، سعداللہ تانترے، فریدآباد، شیخ علی محمد، جماعت اسلامی کشمیر بھی شامل تھے۔

کرسیوں پر بیٹھتے ہی گیلانی صاحب نے دوٹوک الفاظ میں صدرجنرل مشرف سے کہا کہ ’’ان سے ہاتھ ملانے سے آپ کے ہاتھ میلے نہیں ہوں گے‘‘۔ اس ’والہانہ‘ استقبال کے بعد مشرف نے چھوٹتے ہی کہا،‘گیلانی صاحب آپ آئے دن بلوچستان کے معاملات میں ٹانگ اڑاتے رہتے ہیں۔آخر آپ کو وہاں کی صورت حال کے بارے میں کیا پتہ ہے؟ آپ بلوچستان کی فکر کرنا چھوڑیں‘‘۔ اس طرح مشرف صاحب نے خود ہی بلوچستان کا ذکر چھیڑا اورتہذیب و شائستگی کا دامن چھوڑا۔ حاضرین مجلس کے مطابق گیلانی صاحب نے جواب دیا، کہ ’’کشمیر کاز پاکستان کی بقا سے منسلک ہے۔ اس لیے، اس کی جغرافیائی سلامتی اور اس کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کی ہم کو فکر ہے۔ آپ اپنے لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کریں‘‘۔ اس پر مشرف صاحب نے کہا: ’’گیلانی صاحب، آپ ہماری اپوزیشن کی بولی بولتے ہیں‘‘۔پھر جنرل مشرف نے اپنے کشمیر فارمولے کی مخالفت پر گیلانی صاحب سے ذرا تلخی سے بات کی۔ گیلانی صاحب نے جواب میں بڑے محتاط لفظوں میں مشرف صاحب کی افغانستان پالیسی اور امریکا کی مدد سے اپنے ہی شہریوں کو قتل کروانے کے عمل پر قدرے سخت بات کی۔ یوں صرف ۲۰منٹ کی یہ میٹنگ اس طرح کی ’خیر سگالی‘ پر ختم ہوئی توگیلانی صاحب ساتھیوں کے ساتھ اُٹھ کر کمرے سے باہر چلے گئے، اور وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری صاحب نے آگے بڑھ کر الگ کمرے میں ملاقات میں کہا: ’’ہمیں کشمیرپر کمپرومائز کے نکات پر غور کرنا چاہیے‘‘۔ گیلانی صاحب نے کہا: ’’محترم قصوری صاحب، اگر آپ لوگ یہ بوجھ نہیں اُٹھانا چاہتے تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں۔ ہم اللہ کے بھروسے پر جدوجہد جاری رکھیں گے‘‘۔ واپسی پر مشرف کے حکم پر پاکستان میں ان کے دفاتر بند کردیے گئے۔

ایک سال بعد نواب اکبر بگٹی کو جب ایک غار میں ہلاک کیا گیا، تووہ اس پر سخت نالاں تھے۔ اس کا ذکر بعد میں ۲۰۱۱ء میں دہلی میں انھوں نے اس وقت پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر صاحبہ کے ساتھ ملاقات میں بھی کیا۔

مشرف صاحب کی تجاویز پر میں نے بھی ایک بار ان کو قائل کرنے کی کوشش کی تو ان کا جواب تھا کہ’’ اگر یہ حل قابلِ عمل ہے اور اس میں واقعی کوئی جان ہے تو اس کو لاگو کرنے کے لیے علی گیلانی کو قائل کرنا کیوں ضروری ہے؟ اگر بھارت آمادہ ہے، تو جنرل مشرف صاحب کے بجائے اس کے لیڈراس کا اعلان خود کیوں نہیں کرتے؟‘‘۔

ریاستی کانگریس کے صدر غلام رسول کار اور معروف دانشور اور ممتاز قانون دان اے جی نورانی نے گیلانی صاحب کو ایک بار کہا کہ ’’آپ اس لیے اس امن مساعی کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ کوئی داغ لیے بغیر دنیا سے جانا چاہتے ہیں اور مرتے وقت شیخ عبداللہ کی طرح کا دھوم دھام کا جنازہ چاہتے ہیں‘‘۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ، ’’نُورانی صاحب، میں کوئی سودے بازی کرنے کے بجائے گمنامی کی موت پسند کروں گا‘‘۔دہلی سے سرینگر آتے ہوئے ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے ایک بار مجھے بتایا کہ ’’یہ واحد ناقابل تسخیر لیڈر ہے جس کو خریدا نہیں جاسکتا ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم کو معلوم ہے کہ ان کے پاس بھی مالی وسائل آتے ہیں ،مگر وہ ان کو اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے مستحقین تک پہنچاتے ہیں‘‘۔

حتیٰ کہ گیلانی صاحب نے اپنے آبائی گاؤںمیں اپنی اور اہلیہ کی پراپرٹی وہاں ایک اسکول کو وقف کر دی ہے۔ یہ وقف کرنے سے قبل گیلانی صاحب نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو جمع کرکے بتایا کہ ’’اگر آپ سب کو یا آپ میں سے کسی کو اعتراض ہے، تو وہ اپنا حصہ یا اس کی قیمت لے سکتے ہیں‘‘۔ سرینگر میں ان کی رہایش گاہ جماعت کی ملکیت تھی، جس کو بعد میں تحریک حریت سے متعلق ٹرسٹ کو ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ ۱۹۷۰ء میں ممبر اسمبلی بننے سے قبل ہی انھوں نے ڈورو گاؤں میں مکان بنانا شروع کیا تھا، جو کہیں ۱۹۸۸ء میں تیار ہوسکا۔ مگر اس میں ان کو رہنا ہی نصیب نہیں ہوا کہ وہ جلد ہی جیل چلے گئے اور پھر پارٹی اور احباب کی ہدایت پر سرینگر منتقل ہو گئے۔ اس مکان کو بعد میں سرکاری جنگجوؤں نے بلاسٹ کرکے تہس نہس کر دیا ۔ پھر جب ان سرکاری جنگجوؤں کا دبدبہ ختم ہوگیا اور وہ معتوب ہوئے، تو گیلانی صاحب نے ان سب کو جانتے ہوئے بھی معاف کردیا۔

بیس سے زائد مرتبہ ان پر قاتلانہ حملے ہوئے، بس یہ اللہ کا ہی کرم تھا کہ وہ ان سے بچتے رہے۔ ایک بار دہلی میں چند روز گزار کر وہ سرینگر چلے گئے۔ میں نے ہی ان کو ایر پورٹ پہنچا کر وداع کیا۔ اس دن موسم کی خرابی کے باعث سرینگر سے رات گئے فلائٹ واپس دہلی آگئی یا شاید ان کو امرتسر میں کسی ہوٹل میںٹھیرایا گیا۔ اسی را ت ان کی رہایش گاہ پر راکٹوں سے حملہ ہوا۔ ایک راکٹ دیوار کو گراتے ہوئے، ٹھیک اس مقام پر گرا، جہاں وہ عام طور پر سوتے تھے۔ ان کے اہل خانہ اور بیٹیاں مکان میں ہی موجود تھیں۔ ان کا بیڈ روم تو پوری طرح تہس نہس ہو چکا تھا۔

اے جی نورانی صاحب کی معیت میں ایک بار نیشنل کانفرنس کے ایک سینیر لیڈر اور فاروق عبداللہ کے کزن شیخ نذیر نے ہمیں بتایا کہ ’’وہ کشمیر میں بھارت کے سب سے بڑے مخالف شخص ہیں۔ جب شیخ محمد عبداللہ دہلی کے کوٹلہ لین میں نظر بند تھے، تو ان کو ان کی بیٹی ثریا کی شادی میں شرکت نہیں کرنے دی گئی تھی۔ شیخ صاحب نے میرے ہاتھ ثریا کے لیے تحفہ دے کر منہ دوسری طرف کرلیا تھا ، کیونکہ وہ رو رہے تھے‘‘۔

 بالکل یہی تاریخ اکتوبر ۱۹۹۹ء میں دہرائی جا رہی تھی۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ خود شیخ نذیر اور فاروق عبداللہ اس وقت اقتدار میں تھے ،اور گیلانی صاحب کی صاحبزادی ، جس کا نام بھی ثریا تھا، ان کی شادی ہو رہی تھی۔ پارلیمانی انتخابات کے موقعے پر ان کو گرفتار کرکے جودھ پور جیل میں بند کر دیا گیا تھا۔ جہاں طبیعت کی ناسازی کے باعث دہلی لاکر ان کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے آئی سی یو وارڈ میں داخل کر دیا گیا تھا۔  آئی سی یو کے باہر کسی رشتہ دار کا بطور اٹنڈنٹ ہونا ضروری ہے۔ اس رات میں آئی سی یو کے باہر بیٹھا رہا۔ تاہم، اگلے روز ان کو کمرہ میں منتقل کیا گیا۔ جہاں باہر پولیس کا پہرا تھا، جو فون اندر لے جانے نہیں دیتے تھے۔ ان کی بیٹی کی شادی کے دن میں نے ان سے درخواست کی کہ ان کو فون پر ہی نکاح کی تقریب میں شمولیت کی اجازت دی جائے۔ پولیس نے جس وقت اجازت دی، اُس وقت تک نکاح کی مجلس اختتام کو پہنچ چکی تھی اور ثریا وداع ہو کر گاڑی میں بیٹھ رہی تھی۔ وہ تقریباً ایک سال سے زائد عرصہ جودھ پور جیل میں رہے۔ کچھ مدت بعد اپریل ۲۰۰۱ء میں ثریا کا انتقال ہو گیا، اناللہ وانا الیہ رٰجعون۔

فن خطابت پر ان کو ملکہ حاصل تھا۔ بقول پروفیسر بھیم سنگھ، جو ان کے ساتھ اسمبلی میں ممبر تھے، ’’ گیلانی صاحب کی تقریر کے وقت سناٹا چھا جاتا تھا ۔ اراکین اسمبلی کے ساتھ اسٹاف سے گیلریاں بھر جاتی تھیں۔ان کی تقریر اردو لغت کا ایک ذخیرہ ہوتی تھی‘‘۔ ان کی کتاب رُوداد قفس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بار کلدیپ نیر نے کہا کہ ’’یہ اُردو ادب کی بدقسمتی ہے کہ یہ شخص سیاستدان بن گیا۔ کاش! ان کی تقریروں کے ریکارڈ محفوظ کیے جاسکتے‘‘۔ سوپور کالج میں پڑھائی کے دورا ن ہم ایک بار جنوبی کشمیر کے مقام پہلگام پکنک منانے گئے تھے۔ پہلگام قصبہ سے آرو پہاڑ پر چڑھائی کے دوران جنگل میں ایک کوٹھا نظر آیا، جہاں ایک گوجر فیملی چائے اور بسکٹ پیش کر رہی تھی۔ وہاں ہمارے رکنے کی وجہ یہ تھی کہ وہاں ٹیپ ریکارڈ پر گیلانی صاحب کی تقریر لوگ سن رہے تھے۔ جب ہم نے تعارف کرایا کہ ہمارا گرو پ سوپور سے آیا ہے، تو انھوں نے چائے، بسکٹ کے پیسے لینے سے انکار کردیا۔

  • غیر مسلم اقلیت کـے مخالف  کا پروپیگنڈا : ’انتہا پسند‘ قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کو ’غیر مسلم اقلیت کا مخالف‘ بھی مشہور کیا جاتا ہے۔ ۱۹۷۲ء سے ۱۹۸۳ء تک سوپور میں ٹاؤن ایریا کمیٹی کا چیئرمین ایک کشمیر ی پنڈت اوتار کشن گنجو تھا۔ جب نیشنل کانفرنس کے اراکین نے ایک بار ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی، تو گیلانی صاحب کی ایما پر جماعت اسلامی سے وابستہ وارڈ ممبران نے ان کو عہدہ پر برقرار رہنے میں مدد کی۔ ہاں، وہ کشمیری پنڈتوں کو علیحدہ کالونیوں میں بسانے کے مخالف تھے۔ سنجے صراف کی معیت میں انھوں نے کولگام میں دیسو کے مقام پر کشمیری پنڈتوں کی بستی میں جاکر ان کو بتایا کہ ’’آپ مطمئن رہیں، آپ کو پڑوسیوں کی طرف سے کسی خوف و ہراس کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ہماری جدوجہد فوجی قبضے کے خلاف ہے اور یہ کوئی نسل پرستانہ جدوجہد نہیں ہے‘‘۔

 دہلی میں حریت کے دفتر کے قیام سے قبل وہ شہید مقبول بٹ کے وکیل رمیش چندر پاٹھک کے گھر پر ہی ٹھیرتے تھے۔ رمیش چندر کی اہلیہ نے ان کو اور شبیر احمد شاہ کو اپنا بھائی بنایا ہوا تھااوروہ کسی بھی جیل میں ہوتے تو ہندوؤں کے تہوار رکھشا بندھن کے روز وہ ملنے چلی جاتی تھی۔۱۹۹۷ء میںپاٹھک کی اچانک موت نے ان کے خاندان کو بکھیر کر رکھ دیا تھا، کیونکہ ان کے تینوں بچے ابھی اسکول میں ہی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ یہ تو مجھے معلوم ہے کہ گیلانی صاحب نے اور شبیر احمد شاہ نے ہی ان کی فیملی کو مالی سہارا دیا۔ان کی لائق بیٹی وسندھرا پاٹھک اب ایک نامور وکیل ہیں۔ اسی طرح دہلی میں میرے گھرسے ذرا دوری پر جس دو کمرے کے فلیٹ میں وہ سردیوں میں رہنے آتے تھے، اس کے اوپر ایک کشمیری پنڈت فیملی رہتی ہے، جن کے ساتھ ان کا گھر جیسا تعلق تھا۔ خاص طور پر ان کے بچوں کو ان سے بڑی انسیت تھی۔ وہ بھی سرینگر سے ان کے لیے کوئی نہ کوئی چیز بھیجتے رہتے تھے۔ ان کا علاج بھی ایک کشمیر پنڈت ڈاکٹر سمیر کول کرتے تھے، جو اکثر ان کے پاس آتے تھے۔

۲۰۰۳ء میں رانچی جیل میں جب ان کے گردوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، تو اس ہسپتال کے چارو ں طرف سیکورٹی کا حصار بنا دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ ’’ایک خطرناک دہشت گرد‘‘ کو علاج کے لیے لایا جا رہا ہے۔ انھی دنوں میں ممبئی پریس کلب کے ایک پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے ممبئی آیا ہوا تھا۔ ایک عیسائی نرس نے گیلانی صاحب کو بتایا کہ ’’آپ تو دہشت گرد نہیں لگتے ہیں۔ آپ تو بہت نیک شخص ہیں۔ میں آپ کی دوسری دنیا کے لیے فکرمند ہوں۔ آپ عیسائی کیوں نہیں بن جاتے؟‘‘اور اس کے بعد وہ ڈھیر سارا لٹریچر ان کو دیتی رہی۔ مسکراتے ہوئے وہ وصول کرتے رہے، اور جواب میں اسے کبھی کبھی اسلام کی تعلیمات بھی سمجھاتے رہے۔

دہلی میں ان کے اسی فلیٹ میں ایک صبح دیکھا سفید قمیص اور خاکی نیکروں میں ملبوس ہندو انتہا پسندوں کی تنظیم آرایس ایس سے وابستہ افراد ان کے ساتھ ہم کلام ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر میں خاصا ڈر گیا اور اپنی اہلیہ سے بھی کہا کہ تمھارے والد صاحب کے ساتھ ہمارا اس کالونی میں رہنا بھی دوبھر ہو جائے گا‘‘۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مالویہ نگر کی پارک میں صبح سویرے آرایس ایس شاخ کی جسمانی مشق ہوتی ہے۔ وہ چونکہ اسی پارک میں چہل قدمی کرنے جاتے تھے، اس لیے ان کی اس گروپ کے ساتھ علیک سلیک ہوئی ہے ۔ وہ ان لوگوں کے لیے مرکز جماعت اسلامی ہند سے ہندی زبان میں اسلامی لٹریچر لاتے ہیں اور یہ افراد وہی لینے آئے تھے۔

۱۹۸۶ء میں وزیر اعلیٰ غلام محمد شاہ کو برطرف کرنے کا بہانہ ڈھونڈنے کے لیے کشمیر میں پہلا فرقہ وارانہ فساد برپا کروایا گیا۔ گیلانی صاحب نے جماعت کے کارکنوں کی قیادت کرتے ہوئے جنوبی کشمیر میں مختلف جگہوں پر ہجوم کو مندروں اور پنڈت علاقوں پر حملہ کرنے سے باز رکھا۔ ان کے حکم پر سوپور میں ان کے دست راست غلام رسول مہرو اور عبدالمجید ڈار ایک دیوار کی طرح مندر اور پنڈت دکانوں کے باہر کھڑے ہوکر پتھرائو کرنے والوں کو للکار رہے تھے۔ گیلانی صاحب  اس سعی میں خود بھی زخمی ہوگئے ۔ اس کا اعتراف اس وقت کے پولیس ایس ایس پی نے بھی کیا۔

  • آزادیِ اظہار کے داعی : وہ شاید کشمیر کے مزاحمتی اور بھارت نواز قیادت کے واحد لیڈر تھے، جو واقعی اظہار آزادی رائے کے قائل تھے۔ سرینگر میں کام کرنے والا کوئی بھی صحافی یہ شکایت نہیں کرسکتا ہے کہ اس کو کبھی ہراساں کیا گیا ہو، چاہے وہ ان کے خلاف لکھتے ہوں۔ کیونکہ ہر لیڈر نے جب بھی اس کے پاس وہاں کی کمانڈ تھی، کشمیر میں پریس کو ہراساں کیا ہے۔ ایک مزاحمتی لیڈر نے تو ایک بار ایک ایڈیٹر کو لال چوک میں جاڑوں کے دوران ننگے پیر دوڑایا۔ ایک اور لیڈر کے حامیوں نے ایک ہفت روزہ کے دفتر پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی۔یہ معمول کی کاروائیاں ہوتی تھیں۔ دراصل شیخ عبداللہ نے کشمیر میں جس سیاست کی بنیاد ڈالی تھی، و ہ غنڈہ گردی، دھونس اور کسی کو برداشت نہ کرنے کی سیاست تھی۔

سوپور کو گیلانی صاحب نے بڑی حد تک سماجی ناشائستگی سے پاک کردیاتھا۔ ہاں، وہ ہفت روزہ چٹان کے مدیر طاہر محی الدین سے خفا تھے اور کہتے تھے کہ وہ مایوسی پھیلا تے ہیں، اس لیے ایک مدت تک وہ ان کو انٹرویو نہیں دیتے تھے۔ ٹائمز آف انڈیا کے سرینگر کے نمایندے نے ان کے خلاف ایک بار انتہائی بہتان آمیز خبر شائع کی تھی۔ ان کے آفس کے ایک رفیق نے اخبار اور اس نمایندے کے خلاف عدالت میں ہتک عزّت کا کیس درج کیا تھا۔ مگر وہ اس اقدام کے خلاف تھے اور ان کو بار بار کہہ رہے تھے، کہ ’’اس کیس کی پیروی ختم کریں‘‘۔

  • متبادل قیادت کی فراہمی : ہر انسان مکمل نہیں ہوسکتا ہے۔ یقینا گیلانی صاحب میں بھی کمزوریا ںتھیں اور ان سے لغزشیں سرزد ہوئی ہوں گی۔ تحریک کی قیادت کرتے ہوئے وہ اپنے پیچھے متبادل قیادت چھوڑ نہیں سکے۔ ۸۰ کے عشرے میں سو پور میں انھوں نے غلام قادر وانی ، عبدالوحید کرمانی، غلام محمد صفی، محمداشرف صحرائی اور سرینگر میں شیخ تجمل اسلام اور کئی دیگر احباب کو تیار کرنے کی کوشش کی۔ مگر  ان حضرات میں سے اکثر جماعت اسلامی کے کڑے ڈسپلن کی تاب نہیں لاسکے۔صحرائی صاحب آخری دم تک ان کے ہم رکاب رہے، مگر کرشماتی شخصیت ان کی ذات میں منتقل نہیں ہوسکی۔ گیلانی صاحب کے خطبات میں بار بار اسلام، قرآن اور اقبال کے تذکرہ سے بھی سیکولر معاشرے کے کئی لوگ نالاں رہتے تھے۔ تاہم، بھارت میں بائیں بازو کے افراد کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے اور وہ بھی ان کو خوب نبھاتے تھے۔ ممبئی میں ایک بار آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے ایک لیڈر نے جن کا کشمیر آنا جانا رہتا تھا اوران کو میری رشتہ داری کا علم نہیں تھا، انھوں نے بتایاکہ ’’گیلانی صاحب کشمیر کے گنے چنے مخلص اور سنجیدہ لیڈروں میںسے ہیں‘‘۔ وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ ’’بطور کشمیری ان کی قدر کیا کروں‘‘۔
  • تادمِ  آخر جدوجہد : لا تعداد عارضوں کے باوجود ان کا چلنا پھرنا بس ان کے سخت ڈسپلن کی ہی بدولت ممکن تھا۔ تہجد اور پھر فجر کی نماز، تلاوت کے بعد خاصی دیر تک ورزش کرنا ان کا معمول تھا۔ چاہے کوئی ملاقاتی بھی آجائے، ورزش کرتے ہوئے ہی ان سے بات چیت کرتے تھے۔ اسی دوران وہ بی بی سی اردو سروس بھی سنتے تھے۔ پھر چہل قدمی کے بعد وہ ناشتہ کرتے تھے اور نہایت ہی سادہ کھانا کھاتے تھے۔ کسی دعوت میں جب ہم وازہ وان اڑاتے تھے، اگر ان کو بھی جانا پڑتا، تو نیم گرم پانی کے بس چند گھونٹ حلق سے نیچے اتارتے تھے۔

بطور ایک والد کے ان کا رویہ سبھی بچوں کے ساتھ مشفقانہ تھا۔ ان کی ضروریات اور آزادی کا خیال رکھتے تھے۔ میری بیٹی ابیض سرینگر میں ہی پیدا ہوئی تھی۔ ایک سال کے بعد جب اس کا دودھ چھوٹ گیا، تو وہ انھی کے پاس رہتی تھی۔ جب ان کو دہلی آنا ہوتا تھا، تو اس کو ساتھ لاکر ہمیں ملایا کرتے تھے۔ وہ ہماری اس کم سن بیٹی کو حریت کانفرنس کی میٹنگوں میں بھی کئی بار ساتھ لے جاتے تھے۔ فروری ۲۰۲۰ء میں جب وہ حالت نزاع میں تھے، ان کی موت کی افواہیں گردش کررہی تھیں اور میںترکی شفٹ ہو گیا تھا تو میری اہلیہ سری نگر چلی گئیں۔ اس کے وہاں پہنچتے ہی ان کی طبیعت میں بتدریج بہتری آنا شروع ہو گئی۔ کئی روز بعد مجھے فون کرکے خوب شکریہ ادا کیا کہ تم نے آنسہ کو سرینگر آنے اور میری تیمارداری کرنے کی اجازت دی۔

۱۴۷۰ء میں سلطان زین العابدین کے سنہری دور اور پھر ۱۵۸۵ء میںکشمیر پر مغل تسلط اور آخری بادشاہ یوسف شاہ چک کی قید و جلا وطنی کے بعد کشمیر ی مسلسل کسی ایسے لیڈر کی تلاش میں ہیں، جو ان کو صدیوں کے گرداب سے باہر نکالے اور قابض قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہوکر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے۔ اس دوران کئی سرابوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر وہ ویسے ہی پیاسے رہے۔ لوگوں کے خیال میں گیلانی صاحب میں کئی کوتاہیاں سہی، مگر وہ اس مذکورہ بالا معیار پر پورے اترے اور انھوں نے لوگوں کو مایوس نہیں کیا۔ کوئی بھی حاکم وقت ان کی گردن جھکا نہیں سکا۔

  • سفرِ آخرت : ان کے آخری سفر سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ مخالفین ان سے کس قدر خائف تھے۔ ۱۸سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد پچھلے گیارہ برسوں سے وہ گھر میں نظر بند تھے۔ اس دوران میرے والد ، ان کے بڑے داماد اور ان کے دو بھائیوں کے انتقال پر بھی ان کو سوپور نہیں جانے دیا گیا۔ حیدر پورہ کی مسجد کے پاس قبرستان میں انھوں نے دس سال قبل خود ہی دو قبروں کے لیے زمین خریدی تھی۔ مگر پچھلے سال جب وہ انتہائی علیل تھے، تو عید گاہ سے متصل مزارشہدا کے ذمہ داروں سے انھوں نے گزارش کی تھی، کہ ان کے جسد خاکی کو وہاں دفن کرنے کی اجازت دی جائے۔ مگر سرکاری حکام نے اس کی اجازت نہیں دی۔

حیدر پور ہ کے قبرستان میں سیکورٹی کے باوجود ان کواہل خانہ اور پڑوسیوں کی موجودگی میں باوقار طریقے سے دفنایا جا سکتا تھا ۔پورے کشمیر میں ویسے ہی کرفیو نافذ تھا۔ مگر طاقت کے نشے میں صبح تین بجے پولیس نے ان کے گھر پر دھاوا بول کر اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ مکان کی بجلی بند کرکے ان کی اہلیہ کو جوتوں تلے روند ڈالا گیا ۔ یہ دھاوا بولنے والی پارٹی اسٹریچر تک اپنے ساتھ نہیں لائی تھی۔ پہلے ان کی نعش کو اٹھانے کی کوشش کی گئی، مگر پھر گھسیٹتے ہوئے میّت کو باہر لے گئے۔ ۱۰محرم الحرام کو میدانِ کربلا میں امام عالی مقام حضرت امام حسین کی لا ش کو بعد از مرگ اسی طرح گھسیٹ کر پامال کیا گیا۔ ۲۳محرم الحرام ۱۴۴۳ھ ،یعنی ۲ ستمبر۲۰۲۱ء کا یہ واقعہ بھارت اور کشمیر کی تاریخ میں ایک سیاہ دھبے کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ جس طرح ابھی حال ہی میں سومنات میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ہزار سال بعد محمود غزنوی کو یاد کیا، اسی طرح کشمیر کی تاریخ اور اس کی نسلیں اس واقعہ کو یاد رکھیں گی۔ جس طرح دھرنوں کے دوران پولیس یا اسمبلی میں سیکورٹی گارڈ، ابّاجی کو اٹھا کر اور گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالتے تھے، بالکل اسی طرح کا سلوک ان کی میّت کے ساتھ، ان کے آخری سفر کے دوران کیا گیا۔

کسی نے کہا ہے کہ تارے تو ہمیشہ ٹوٹتے ہیں، اب کے مہِ کامل ٹوٹ گیا!

  • سوال: مارچ ۲۰۰۷ء میں آپ کو ہنگامی طور پر آپریشن کروانا پڑا،اس کی تفصیل بیان کیجیے، آپریشن کے بعد اب صحت کیسی ہے؟
    • جواب: بیماری کی تشخیص بالکل غیر متوقع طور پر ہوئی۔۲۲فروری۲۰۰۷ء کو ایسکارٹس ہاسپٹل میں معمول کے چیک اَپ کے لیے گیا تھا تو ڈاکٹر سیٹھی اور ڈاکٹر کھوسلا نے سی ٹی سکین کا مشورہ دیا، جس سے دائیں گردے میںMass جمع ہونے کا پتہ چلا۔ ڈاکٹر سمیر کول نے اس کے علاج اور آپریشن کے لیے امریکا جانے کا مشورہ دیا، تاکہ واحد گردے کو بچایاجاسکے۔ وزیراعظم ہند کی ہدایت پر ۲۶سال بعد ایک سال کے لیے پاسپورٹ دیاگیا، لیکن امریکی حکومت نے علاج کے لیے ویزا دینے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد ڈاکٹروں کے مشورے سے ممبئی میںعلاج کروانے پراتفاق ہوا، جہاں  الحمدللہ،۲۶مارچ کو چھےگھنٹے کاآپریشن کامیاب رہا۔ آپریشن کے بعد تین دن ناقابل برداشت درد رہا، اس دوران پانی کا ایک گھونٹ پینے سے بھی منع کیا گیا۔ بہرحال ۲۴؍اپریل کو علاج معالجے کے بعد سرینگر واپسی ہوئی،تاہم ڈاکٹروں نے کم ازکم تین ماہ تک طویل سفر اور مشقت سے منع کیا۔

متبادل قیادت

  •  اس دوران ایک بڑا اہم موضوع بحث ابھر کر سامنے آیا، جو آپ کے بعد لیڈرشپ یا مرکزی شخصیت کی تلاش سے متعلق ہے،اس کے بارے میں آپ کی رائے؟
    •  اس بارے میں خدشات کئی بار سامنے آئے ہیں۔ چند سال قبل اسلام آباد [اننت ناگ] میںایک جلسے کے دوران میںنے چند نام بھی پیش کیے تھے، لیکن بعد میںمحسوس ہوا کہ ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اس بات کا میںنے ٹیک ون ٹیلی ویژن چینل پر انٹرویو میںاظہار بھی کیا تھا۔ تاہم، اب میری رائے یہ ہے کہ تحریک حریت کا شورائی نظام خود لیڈرشپ کا انتخاب کرے گا، اور کُل جماعتی حریت کانفرنس میںبھی وہی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شخصیات کو محور بنانا نظریاتی تحریکوں کے لیے ٹھیک نہیں بلکہ شخصیات کے بجائے اصولوں، اور ان کے اتباع کو محور اورمعیار بنایا جائے۔ اگرایسا کیا گیا تو کسی بحران کاخدشہ نہیں ہے۔
  • آپ نے تحریک کا تذکرہ کیا ہے، تحریک حریت کے کیا اہداف ہیں؟
    •  ہمارے بنیادی اہداف تین ہیں:

 پہلا یہ کہ ہم اسلام کو زندگی کے لیے مکمل رہنمائی مانتے ہیں ،لہٰذا انفرادی واجتماعی زندگی کی تعمیر اسی رہنمائی کی روشنی میںکرنا ہمارا اوّلین ہدف ہے۔

دوسرا یہ کہ ہم سمجھتے ہیںکہ جموں وکشمیر پر بھارت کا قبضہ جبری ہے، غیر قانونی ہے اور عوام کی امنگوں کے برخلاف ہے، لہٰذا اس کا خاتمہ ضروری ہے۔

تیسرا یہ کہ امت کا اتحاد ہمارے پیش نظر ہے۔ آج ملت اسلامیہ وطن، زبان، رنگ، نسل، مسلک اور نہ جانے کس کس نام پر تقسیم ہوچکی ہے۔ ایک تسبیح ہے جس کی ڈورٹوٹ گئی ہے اور دانے بکھر گئے ہیں، یہی اس امت کا حال ہے ۔ امت کی شیرازہ بندی ہماری آرزو اورہمارا ہدف ہے۔

مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادیں

  • مسئلہ کشمیر کے حل کی مناسبت سے اقوام متحدہ کی قرار داد یں، ان بیان کردہ اہداف سے کہاں تک ہم آہنگ ہیں؟
    • یہ قرار دادیں تقسیم ہند کے اصولوں کی بنیاد پر ہمیں خودارادیت کا حق دیتی ہیں، جس کا حصول ہمارا ایک بنیادی ہدف ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا ہے۔ان قرار دادوں پر عمل سے تہذیبی، مذہبی، جغرافیائی اورعوامی اُمنگوں کاپاس ولحاظ ممکن ہوسکے گا۔ حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ پر حملوں کے وقت ہندستان نے یہی دعویٰ پیش کیا اور دلیل بیان کی تھی۔ لیکن کشمیر کے بارے میں اسی اصول کو پامال کیا گیا۔ کانگریس اور برطانیہ نے مل کر ریڈکلف ایوارڈ کی سازش رچائی، جس سے بھارت کو جموں وکشمیر پر فوج کشی کے لیے زمینی راستہ فراہم ہوا۔ پاکستان کمزور تھا، اسی لیے اپنے حق کادفاع نہیں کرسکا۔ تاہم، اخلاقی،سفارتی اور رائے عامہ کے دبائو کے پیش نظر بھارت نے اقوام متحدہ میں رائے شماری کرانے کا وعدہ کیا۔ اقوام متحدہ کی قرار دادیں بنیادی طورپر اسی عہد وپیمان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایسی دستاویزات وقت گزرنے سے غیر متعلق اور ناقابل عمل نہیںہوجاتی ہیں۔ اگر ایسا ہو تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ مقدس نہیں رہتا۔ انسانوں کے حقوق دریائوں کے پانی میںنہیں بہتے ہیں۔
  •  ایک خیال یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں قبائلی حملے سے کشمیر کا معاملہ الجھ گیا، اور بھارت کو براہِ راست فوجی مداخلت کا بہانہ مل گیا؟
    • بفرض محال پاکستان نے غلطی کی بھی تھی، تو اس کی سزاکشمیریوں کو کیوں دی جاتی ہے؟ یہ محض حیلہ سازی ہے۔ اس وقت کس نے غلطی کی، اس سے قطع نظر، کسی بھی بہانے سے کشمیری عوام کو اپنی آزادی کے مطالبے سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اس مسئلے میں ہم بنیادی فریق ہیں۔ کسی ایک فریق کے اقدامات سے ہمارے مطالبات ختم نہیںہوسکتے۔

کشمیر میں ہند نواز عنصر

  •  زمینی حقائق اور تلخ حقائق کے زیر اثر کچھ لوگ یہاں پر ہندنواز بن گئے ہیں ، اس سے کیا فرق پڑے گا؟
    •  اس سرزمین پر گذشتہ عشروں سے بھارت کا فوجی تسلط ہے۔ اتنے لمبے عرصے میں مفتوحہ عوام کا تقسیم ہونا، یا دیگر طور پر متاثر ہونا،ناممکن نہیں ہے۔ یہ فطری ہے، اور یہ تحریک آزادی کے لیے بالکل مایوس کن نہیں ہے۔ اقتدار کاچسکا بھی ایک وجہ ہے۔ ایسے لوگ کسی بھی قیمت پر اقتدار چاہتے ہیں، چاہے اس کے لیے ضمیر بیچناپڑے یا پوری قوم کو دائو پر لگانا پڑے۔لیکن اس سب کے باوجود آزادی کی امنگ ہر جگہ موجود ہے، اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔پونچھ راجوری میں سب سے زیادہ فوجی ارتکاز اور دبائو ہے، لیکن وہاں بھی عوام کے سینے جذبۂ آزادی سے خالی نہیں ہیں۔
  • حال ہی میں میرواعظ عمر فاروق نے آپریشن سدبھاونا کے تحت فوج کی طرف سے زیارت گاہوں کی تجدید ومرمت پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے اسے مداخلت فی الدین قرار دیا۔ کیا اس معاملے پر آپ ان سے تعاون کریں گے؟
    • ہم تو پہلے ہی فوج کی اس مہم کی مخالفت کرتے آئے ہیں، اور یہ سب اس کی جانب سے اپنے گھناؤنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ فی الحال اس سے بڑھ کرتعاون کی کوئی صورت نہیں ہے۔البتہ عمرفاروق صاحب کی بھارتی فوج کے خلاف گرم گفتاری ان کے بدلے ہوئے موقف پر عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش باور کی جاتی ہے۔ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے ۱۹۷۵ء میں اندرا گاندھی کے ساتھ معاہدے کے بعد چلّا چلّا کر کہا تھا کہ ’’اگر ہندستان نے کشمیریوں کو عزت کا مقام نہ دیا تو ہم دوسرا راستہ اختیار کریں گے‘‘۔اس طرح انھوں نے دلی کے ساتھ اپنے سمجھوتے کے لیے جواز پیدا کرنے اور عوامی جذبات کو مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ ایک استحصالی طریقۂ کار ہے۔ کانگریس کی تو بات ہی چھوڑیں ،وہ تو ام الخبائث ہے۔ البتہ نیشنل کانفرنس ایک زبردست فریب کار جماعت ہے۔ مجھے ان لوگوں کی عقل اور سوجھ بوجھ پر افسوس ہوتا ہے، جو اس پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ فاروق عبداللہ صاحب نے مندر میں جاکرقشقہ بھی کھینچا۔ کشمیر کو غلامی کی لعنت میں مبتلا کروانے میں اس پارٹی کا کلیدی رول ہے۔ اقتدار کے اندر ایک بات کرتے ہیں اور اقتدار سے باہر ہندستان کے خلاف مکے لہرا کر عوامی جذبات کا استحصال کرتے ہیں۔
  • ۱۹۴۷ء میں جموں میںجو قتل عام ہوا، اور چار سے پانچ لاکھ کے قریب افراد شہید کیے گئے ،اس کے بعد رواں تحریک میںمزید ایک لاکھ جانیں قربان کر دی گئیں، تو سوال یہ ہے کہ ان چھے لاکھ افراد کا ووٹ رائے شماری میںکیسے شمار ہوگا؟
    •  موجود لوگ اپنے شہداء اور قربانی کو یاد رکھ کر رائے استعمال کریں، تو ان شاء اللہ اس نقصان کا ازالہ ہوگا۔

امریکا کی جانب سے مخالفت کیوں؟

  •  مختلف معاملات پر امریکا مخالف بیانات دے کر کیا ہم اسے جان بوجھ کراپنا دشمن نہیں بنا رہے ہیں؟
    •  امریکا جو کچھ کر رہا ہے اس کو نظر انداز کیسے کریں؟ عراق پر فوج کشی کے لیے وہاں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروںکی موجودگی کے جھوٹ اور عراقی صدر صدام حسین کی القاعدہ سے وابستگی کے بہانے بنائے گئے۔ اب خود امریکی صدر بش نے ان دعوئوں کے غلط ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ عراق میںاب تک ساڑھے چھے لاکھ مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔ اس پر خاموش کیسے رہا جائے؟ ضمیر کو ٹٹولنے کی ضرورت ہے۔ نائن الیون کا واقعہ کھلی دہشت گردی ہے،لیکن افغانستان اور عراق پر حملہ اس سے ہزار گنابڑی دہشت گردی ہے۔ مانا کہ اسامہ بن لادن افغانستان میں کہیں موجود تھا، لیکن پورے ملک پر فوج کشی کا کیا جواز ہے؟ امریکا عالمی سطح پر انسانیت کا قاتل ہے۔ پاکستان ، ایران، افغانستان اور عراق کو تقسیم کرکے اورکمزور کرکے اسرائیل کے تحفظ اور اپنی بالادستی کو و ہ یقینی بنانا چاہتا ہے۔
  •  مسلمانوں کے اندرونی گروہی فسادات اور خون ریزی کی ذمہ داری امریکا کے سرتھوپنا کیا اپنے جرائم کی پردہ پوشی نہیںہے؟
    •  یہ تصویر کا ایک اورپہلوہے ۔مسلمانوںکی اندرونی کمزوریوں سے انکار نہیں ہے،جب ہی تو ہم ظالم کا ترنوالہ بن رہے ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں کہا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب دشمن تم پر ٹوٹ پڑیںگے جیسے کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ صحابہ کرام ؓ کے استفسار پر اس صورتِ حال کاسبب بھی بتادیا گیا، یعنی دنیا کی محبت اورموت سے خوف۔

 اندرونی کمزوریاں اپنی جگہ لیکن امریکا براہ راست یا اپنے آلۂ کار حکمرانوں اور سیاست دانوں کے ذریعے بیش تر معاملات میںذمہ دار ہے۔ ۲۰۰۶ء میں امریکا نے فلسطین میںالفتح کو حماس سے لڑنے کے لیے مبینہ طور پر ۲۷ملین ڈالر فراہم کیے ۔یہ صرف ایک مثال ہے، اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ حزب اللہ اور اسرائیل کی جنگ میںامریکا کی اسرئیل نوازی کیا ثابت کررہی ہے؟ اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے ذریعے جوکچھ کروایا جارہا ہے، کراچی سے لے کر وزیرستان تک، جہاں ایک دینی تعلیمی ادارے پر بمباری کی گئی اور ۸۲حفاظ قرآن شہید کردیے گئے___ یہ صرف چند مثالیں ہیں مسلم ممالک میں امریکی کردارکی۔

  •  صرف امریکا کیوں؟ روس نے بھی تو بوسنیا ، چیچنیا اور تاجکستان میں جو کچھ کیا اور کر رہا ہے، اس پر خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟
    • روس کا ریکارڈ ہرگزصاف نہیں ہے۔ یہ بات کون بھلا سکتا ہے کہ افغانستان اور وسط ایشیا میں روس کا خونیں کردار ہے۔ لیکن آج امریکا زیادہ اثرانداز ہورہا ہے۔
  • فلسطین اور دیگر مسلم ممالک مسائل کے بارے میں آپ بیانات دیتے ہیں۔ کیا وہاں کے لوگ اپنے لیے خودنہیں بول سکتے؟ آپ کا وہاں کے مسائل میں کیا رول بنتا ہے؟
    •  ایک حدیث مبارک میںہے کہ مسلمان جسدواحد کی مانند ہیں،کہیںبھی تکلیف ہوتو درد پورے جسم کو محسوس ہونا چاہیے۔ اگر کچھ لوگ امریکا سے حد سے زیادہ خوف زدہ ہیں اور براہِ راست بول نہیں پاتے تو یہ ان کی کمزوری ہے۔ ان کا یہ کردار ہمارے لیے قابل تقلید نہیں ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا اس بارے میں کردار بنتا ہے۔ لیکن وہ حق ادا نہیں کررہے ہیں۔ حج کے موقع پر ہم نے ان کوبتایا تھا کہ ان کا کیا رول بنتا ہے اور مظلوم مسلمانوں کی ان سے کیا اُمید یں وابستہ ہیں۔

بھارتی سامراج کے خلاف مزاحمت

  •  ۱۹۶۲ء میںآپ پہلی بار گرفتار ہوئے ۔ اس دوران کئی تحریکیں اور رہنماآئے۔ اُس وقت سے لے کر آج تک آپ ایک ہی سیاسی موقف کو لے کر جدوجہد کررہے ہیں۔ آپ کے جذبے کو توانائی بخشنے کا ذریعہ کیا ہے؟اپنی تحریر اور تقریر میں آپ لفظ استعمار بار بار استعمال کرتے ہیں۔ نیز استعمار سے کیا مراد ہے؟
    •  استعمار یا Imperialism،یعنی جو طاقت کے بل پر کسی قوم پر قابض ہوجائے۔ یہ صحیح ہے کہ ۲۸؍اگست۱۹۶۲ء کو میں پہلی بار گرفتار ہوا۔ میںاس وقت جماعت اسلامی ضلع بارہمولہ کا امیر تھا اور یہ بخشی غلام محمدصاحب کا دور حکومت تھا۔

میںچار سال مولانا محمد سعید مسعودی کے ساتھ سرینگر میںرہا۔ طیب شاہ صدیقی انسپکٹر اسکولز تھے۔ وہ ایک دن مجاہد منزل آئے تو مولانا مسعودی صاحب نے ان سے کہا کہ ’’اس لڑکے کو نوکری پرلگادو، لیکن رکھنا سرینگر ہی میں ہے‘‘۔ اس طرح میںپرائمری سکول میں ٹیچر ہوگیا۔ اس کے بعد میںنے ادیب فاضل اور منشی فاضل کے امتحان پاس کیے ،پھر رعناواری ہائی سکول مجھے بھیجا گیا۔ ان دنوں وہاں تاراچند ہیڈماسٹر تھے اور قاری سیف الدین،غلام حسن رضوی اور نبیہہ احمد اندرابی بطور استاد کام کررہے تھے۔ وہ مجھے مجاہد منزل سے آیا ہوا آدمی سمجھ کرمجھ سے کھچے کھچے رہنے لگے۔میری موجودگی میں پاکستان کے متعلق کوئی بھی بات کرنے سے پرہیز کرتے تھے۔ لیکن پاکستان کی محبت ان کے دلوں میںموجود تھی۔ آج آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ بھارت کے فوجی قبضے کا کتنا دبدبہ اور دہشت تھی۔ نجی محفلوں میںپاکستان اور سیاست کے بارے میں گفتگو کی جاتی تھی،لیکن میرے بارے میں ان کو لگتا تھا کہ مجاہد منزل کا آدمی ہے، رپورٹ پہنچائے گا۔

صبح کی اسمبلی میںبچوں کے سامنے تقریر کرنے کے لیے میری ذمہ داری لگادی گئی۔میں ہر روز دس پندرہ منٹ بچوں کو دین واخلاق کی باتیں بتایا کرتا تھا۔دس پندرہ دن کے اندر ہی ان لوگوں کو یقین ہوگیا کہ میں مجاہد منزل کے خیالات کاآدمی نہیں ہوں۔ میں عمر میں سب سے چھوٹا تھا، اور ان لوگوں کا دست شفقت ہمیشہ میرے سرپر رہا۔قاری صاحب نے سید مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب تفہیمات مجھے پڑھنے کو دی۔میںپوری دلچسپی سے کتابیں پڑھنے لگا۔ پھر ایک دن قاری صاحب نے کہا کہ ’’شاہ محلہ ،نواب بازار میں ہمارا اجتماع ہوتا ہے تم بھی آجایا کرو‘‘۔ اور میں باقاعدگی سے اجتماعات میںجانے لگا۔ وہاںمجھے اجلاس کی کارروائی قلم بند کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ چارسال تک میں نے بڑی محنت سے کارروائی کے نوٹس تیار کیے ۔ اس طرح تحریری طور پر بہت قیمتی مواد جمع ہوگیا تھا، لیکن وہاں آگ لگ گئی، جس میں یہ تمام نوٹس اور ڈائریاں ضائع ہوگئیں۔

اس دوران مسعودی صاحب اپنے والد کی آنکھوں میں تکلیف کے باعث ان کے ساتھ ہی ڈلگیٹ میں رہنے لگے۔ مجاہد منزل میں گاندربل کے غلام محی الدین صوفی کمیونسٹ آئیڈیالوجی سے متاثر تھے۔ انھوں نے مسعودی صاحب سے شکایت کی کہ ’’گیلانی کے پاس پاکستانی خیالات کے لوگ آتے رہتے ہیں اور مجاہد منزل پاکستان کا اڈہ بن گیا ہے‘‘۔ اصل بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے کچھ دوست میرے پاس آتے رہتے تھے۔چنانچہ میرا تبادلہ بمئی مڈل سکول،سوپور میں کروایا گیا۔اس سے میرا ذاتی طور پر کافی نقصان ہوا، کیونکہ میں سرینگر کے، ماحول میں کافی دلچسپی سے پڑھنے لگا تھا۔ خیر وہاں پہنچتے ہی اگست۱۹۵۳ء میں جماعت اسلامی کارکن بنادیاگیا۔ ان دنوں جماعت اسلامی کارکن بنناپل صراط عبور کرنے سے کچھ کم نہ تھا۔ میں بمئی (سوپور) میں چار سال رہا۔ پھر سوپور کے انٹرمیڈیٹ کالج میںتبادلہ کردیا گیا اور چھے سال وہاں رہا۔ اس دوران قرآن پاک اور اسلامی لٹریچر سے کافی شغف بڑھ گیا۔ اور یہی اسلامی فکر، جو یہاں سے حاصل ہوئی میرا اصل جذبہ حاصل کرنے کا سرچشمہ ہے۔

میں سرزمین کشمیر پر بھارتی فوج کے قبضے سے کبھی ذہنی طور پر مطابقت پیدا اور سمجھوتا نہ کرسکا۔ یہ موقف اور اس پر استقامت میں میری کوئی ذاتی خوبی نہیں بلکہ یہ سب اسلام کی دین ہے۔ میرا پختہ ایمان اور اعتقاد ہے کہ اسلام کامل ضابطۂ حیات ہے ۔اور دوم، یہاں بھارت کا قبضہ جبری اور بلا جواز ہے۔جتنا خدا وند کریم کے وجود پر یقین ہے اتنا ہی ان دو باتوں کی صداقت پر یقین ہے۔

  •  ۱۹۶۲ء میں موئے مقدس کاسانحہ پیش آیا، رائے شماری کی تحریک چل ہی رہی تھی، پھر اور کچھ جماعتیں وجود میںآگئیں۔ کیا ان دنوں بھی کشمیری مزاحمت کا سواداعظم پاکستان نواز ہی تھا؟
    • یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ جموں و کشمیر کا سواداعظم پاکستان کے حق میں تھا۔ پاکستان کے ساتھ بے پناہ محبت تھی۔ آپ اسی بات سے اندازہ کرلیجیے کہ کئی بزرگ وصیت کرجاتے تھے کہ ’’جب یہاں پاکستان قائم ہوگا تو ہماری قبور پرآکر کہہ دینا کہ پاکستان بن گیا ہے، تاکہ ہماری روحوں کو سکون مل سکے‘‘۔

دراصل ان دنوں یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ تنازع اس قدر طول پکڑے گا۔ اس وقت تو لگتا تھا کہ معاملہ اقوام متحدہ میںہے، وہاں قرار داد یںپاس ہوچکی ہیں، بس ان پر عمل درآمد کی دیر ہے، اور یہاںپاکستان بن جائے گا۔ یہ اندازہ نہ تھا کہ ہندستان، برطانیہ سے بھی زیادہ ظالم سامراج ثابت ہوگا۔

بعض اوقات پاکستانی حکومتوں کا رویّہ

  •  آپ نے کئی بار کہا ہے کہ پاکستان پیچھے ہٹ رہا ہے۔ آپ کی نظر میںکیا یہ پاکستانی ریاست کی دانستہ پالیسی ہے کہ اب تحریک کشمیر سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے،یا محض حکمرانوں کی وقتی پالیسی یا مصلحت؟
    •  اس رنج دہ صورت حال کا اپنا ایک پس منظر ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میںجب قیام پاکستان کی تحریک شروع ہوئی تو مسلم لیگ نے ’پاکستان کامطلب کیا لاالٰہ الااللہ‘ کا نعرہ لگایا ،لیکن خود مسلم لیگ میںبھی لوگوں کو اس کام کے لیے تیار نہیںکیاگیا کہ وہ قیام پاکستان کے بعد کلمہ طیبہ کی بنیاد پرنئے ملک کے خدوخال ترتیب دے سکیں۔ میںلاہور میںچار سال رہا ۔ موچی دروازہ میدان میںقائد اعظم کی تقریر سنی، عبدالرب نشتر اور نواب بہادر یار جنگ بھی تھے۔ قائد اعظم کا اپنا تصور پاکستان بڑا واضح تھا کہ ہم ایک الگ قوم ہیں ، ہماری الگ تہذیب ہے اورہم ہندواکثریت کے زیر سایہ اپنی تہذیب وثقافت کے تقاضوں پرعمل نہیں کرپائیں گے۔لیکن انھیں پاکستان بن جانے کے بعد زیادہ موقع نہ مل سکا۔ ان کے بعد جوقیادتیں آئیں، وہ تصور پاکستان کے شعور سے عاری تھیں۔ سید مودودی ؒ کے بارے میں ایک کتاب تذکرہ سیّد مودودی  ہے۔ اس میں تمام تفصیل درج ہے کہ قیام پاکستان کے بعد کیا ہوا۔مسلم لیگ کے ایک بڑے لیڈر تھے ڈاکٹرعمرحیات ملک صاحب جو پنجاب یونی ورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ پاکستان جب بنا تو قیادت کے بہت سے ارکان پر ہوس زر غالب ہوگئی۔ وہ الاٹمنٹوں کے بکھیڑے میںپھنس گئے۔ انھوں نے پاکستان کی اسلامی بنیادوں پر تعمیر کے لیے کبھی سوچا ہی نہیں ، بلکہ جو لوگ ان خطوط پر سوچتے تھے، اور پاکستان کو اسلامی بنیادوںپر استوار کرنا چاہتے تھے ان کو وہاں برداشت ہی نہ کیا گیا، جیسے سیّد ابوالاعلیٰ مودودی۔ تحریک پاکستان کے دوران سید مودودی نے مسئلہ قومیت، مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش اوّل، دوم جیسی کتابیں لکھ کر کُل ہند مسلم لیگ کی تحریک کو نظریاتی بنیاد اور پختہ دلیل فراہم کی تھی۔ چنانچہ مسلم لیگ نے بڑی تعداد میںوہ کتب چھپوائیں اور تقسیم کیں۔ اس کے بعد مولاناؒ نے خود مسلم لیگ کو بھی اس بات کے لیے ہدف تنقید بنایا کہ وہ نام تو اسلام کالے رہی ہے لیکن بنیادی سطح پر لوگوں کو اسلام کے لیے تیار نہیں کررہی ہے۔

متعدد پاکستانی حکمرانوںکی اقتدار پرستی، اسلام سے بے اعتنائی اور اسی طرح کی سازشوںکی وجہ سے اپنے قیام کے ۲۴ برسوں بعد ہی پاکستان دولخت ہوگیا۔پاکستانی معاشرہ اسلامی بنیادوں پرتعمیر نہ ہوسکا،اخوت کے بجائے علاقائی تعصبات نے جڑپکڑی،معاشی اونچ نیچ اور استحصال کو ختم نہ کیا جاسکا۔ وہاں استحصالی جاگیرداری نظام ابھی تک قائم ہے۔ وہاں زبانیں بت بن گئی ہیں، مسلکی عصبیت بھی زور وں پر ہے۔ یہ سب اسلام کو بطور دین اختیار نہ کرنے کی وجہ سے ہوا۔

اس وقت کشمیرکے معاملے میںجو موقف پایا جارہا ہے، اس میں نائن الیون کے بعد کے حالات اور امریکی مداخلت کا عمل دخل ہے۔ موجودہ حکمران اقتدار پر ست ہیں۔ وہ شاید کشمیر کو ایک بوجھ سمجھنے لگے ہیں اورچاہتے ہیں کہ یہ بوجھ ان کے سر سے اترجائے، جس کے بہت سارے محرکات ہیں جن میں سب سے بڑا موجودہ حکمران طبقے کا مرعوب ہونا ہے۔ وہ امریکا سے بھی مرعوب ہیں اور بھارت سے بھی۔ ان کا خیال ہے کہ کشمیری بھی اب تھک چکے ہیں ۔وہاں ایک عنصران لوگوں پر مشتمل ہے جواسلامی اخوت اور ملّی وحدت کے بجائے قوم پرستی اور مادی خوش حالی کوترجیح دیتے ہیں۔ رسول ؐاللہ کے اس فرمان سے کہ مسلمان ایک جسد واحد کی طرح ہیں، یہ لوگ اس سے کنی کتراتے ہیں۔

  • کیا ایک وجہ یہ تو نہیں ہے کہ تحریک کشمیر نے جو نہج اختیار کی اور اس کی جو بنیادیں یہاں پر استوار ہوئی ہیں، ان کی وجہ سے پاکستان کی اخلاقی برتری کو ضعف پہنچا ہے؟
    • پاکستان اسی صورت میں اپنی برتری قائم رکھ پاتا، جب وہ نظریاتی حیثیت برقرار رکھتا، کیونکہ وہی نظریاتی بنیاد خود پاکستان کی بھی اور تحریک کشمیر کی بھی وجۂ جواز ہے۔یہ بنیاد مضبوط ہوتی تو وہ احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوتے۔لیکن چونکہ وہ اب نظریاتی زاویے سے نہیں سوچتے ، لہٰذا ان کے اہلِ حل و عقد یا میڈیا میں مخصوص طبقوں کو لگتا ہے کہ ’کشمیر خواہ مخواہ ایک معاشی بوجھ بناہوا ہے‘۔ دراصل ان پر بھارت کا خوف بھی طاری ہے۔ جب میںنے دلی میں جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی، تو انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے تین جنگیں کشمیر کے لیے لڑیں اور آپ بھی ۵۰ سال سے جدوجہد کررہے ہیں لیکن حاصل کچھ بھی نہیں ہوا، لہٰذا ہمیں سمجھوتہ کرلینا چاہیے‘‘۔ میںنے کہا کہ ’’ہماری جدوجہد حق پرمبنی ہے، ہمارے ساتھ وعدے بھی کیے گئے تھے، لہٰذا ہمیں استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اپنی حقانیت وصداقت اور اللہ تعالیٰ کی نصرت پر بھروسا کرکے اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اور آپ بھی ہماری اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی سطح پر حمایت جاری رکھیں ،تو وہ شخص جواب میں بول پڑا کہ’ میرے ساتھ جارج بش اور ٹونی بلیئر ہیں‘۔ اللہ تعالیٰ کو بھول گئے کہ وہ کس کے ساتھ ہے، لہٰذاجب وہ اس طرح سوچتے ہیں تواس میں ملّی،دینی اور تہذیبی رشتے کی اہمیت نہیں رہتی۔
  •  پاکستانی حکومت کی ذہنی تبدیلی کے لیے کہیں وہاں کی دینی جماعتیں توذمہ دار نہیں ہیں کہ جو قومی انتخابی سیاست میں کشمیر کی تحریک کا ذکر کرتی ہیں اور اس سے شاید حکومت یہ سمجھتی ہو کہ کشمیر کی تحریک ہمارے لیے سیاسی چیلنج بن رہی ہے؟
    • دینی عناصر اور حکومت کے مابین تضاد ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ پاکستان کے عوام بھی دین پسند ہیں، اور اگر جنرل مشرف بھی دینی ذہن ہی رکھتے تو یہ صورتِ حال پیدا ہی نہ ہوتی ۔ دین پسندوں اور دین مخالفوں کا نظریاتی ٹکرائو پوری مسلم اُمت میں ایک بنیادی مسئلہ ہے۔
  •  اس ٹکرائو سے قومی اتفاق رائے نہیں ہوپاتا۔ جیسے وہاں کی حزب اختلاف نے آپ کو ۲۳ مارچ کی ایک تقریب میںمدعو کیا تھا۔ شاید اس طرح کے واقعات سے جنرل مشرف سوچنے لگے کہ کشمیر کے نام پر مجھے للکاراجارہا ہے،کیوں نہ اس باب ہی کو بند کریں؟
    • کشمیر پاکستانی سیاست میں ہمیشہ ایک مرکزی ایشو رہا ہے اور ہرکسی نے ہمیشہ برسرِاقتدار بھی نہیں رہنا۔ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ ہم کشمیر کی تحریک کو جائز جانتے ہیں اور اس کی اخلاقی و سفارتی معاونت کرتے ہیں، تو اس میںکون سی غلط بات ہے۔ بلاشبہہ پانچ ہزار پاکستانی نوجوان یہاں شہید ہوچکے ہیں، اس کو نظرانداز کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اس کا تذکرہ کیوں نہیںہوگا؟ اس لیے کہ یہ بات حکمرانوں کے مزاج پر گراںگزرے گی؟ بھلا دینی جماعتیں ہی اپنے ایجنڈے سے کیوںہٹیں؟ جنرل مشرف بھی توصدر کی حیثیت میں ’’انتہا پسندوں‘‘ کے خلاف ووٹ دینے کی اپیلیں کررہے ہیں، اوریہ انتہاپسند کون ہیں ؟ جنرل مشرف، امریکی بولی بول کر اسلام کا نام لینے والوں کوانتہاپسند کہتے ہیں۔
  •  صدر مشرف کے ہاتھوں یوں لگا کہ پاکستان، اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قرار دادوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اس صورتِ حال کے متعلق آپ کی کیارائے ہے؟
    •  یہ پاکستان کے ایک ڈکٹیٹر کا امریکی دبائو میں فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔ امریکا، اسلام دشمنی اورمسلم دشمنی کی قدر مشترک پرہندستان کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ ہندستان،امریکا اوراسرائیل تینوں اسلام اور اُمت مسلمہ کے قوت پکڑنے سے خائف ہیں، لہٰذا یہ سارا معاملہ ناقابلِ فہم نہیں ہے۔ اس صورتِ حال میں ہمارے پاس جدوجہد کی وجۂ جواز ہمارا اپنا جذبۂ حُریت ہے۔آزادی سے ہماری کمٹ منٹ، کسی پاکستانی حکومت کے بدلتے موقف سے مشروط نہیںہے۔
  •  کیا آپ کے نزدیک اقوام متحدہ اسلام دشمن تنظیم نہیں ہے؟
    •  اقوام متحدہ پر اسلام دشمنوں کاغلبہ ہے، لیکن ہمیں اس ادارے کی قراردادوں کے ذریعے عالمی رائے عامہ کے ریفرنس کے طور پر اپنے مقدمے کی ایک جائز اور مبنی برحق بنیاد مل رہی ہے، تو پھر کیوں اسے چھوڑیں گے؟
  • سردار عبدالقیوم صاحب،بھیم سنگھ کی دعوت پردلی آئے جہاںوہ غلام نبی آزاد ، فاروق عبداللہ اور مفتی سعید سمیت کئی لیڈروں سے ملے۔ انھوںنے جنرل مشرف کے اقدامات اور فارمولوں کی حمایت کی۔ سردار عبدالقیوم اس نتیجے پرکیوں پہنچے؟
    • سردار عبدالقیوم صاحب کی پارٹی اس وقت وہاں برسراقتدار ہے۔ انتخابات میں پاکستانی حکومت نے مسلم کانفرنس کی حمایت میںزبردست رول ادا کیا۔ اس لیے یہ حکومت مشرف صاحب کی ڈکٹیشن پر چل رہی ہے۔ اس میںحیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔
  •  ایک رائے یہ ہے کہ سردار عبدالقیوم اور ان کے ساتھیوں نے ۱۹۴۷ء میں تحریک شروع کی تھی۔ لیکن آج ان کو بزرگ مزاحمتی لیڈر کے طور پر تسلیم نہیں کیا جارہاہے۔ اس خیال کے مطابق تحریک چلانے والے آزاد کشمیر اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو ایک جیسا سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر جیسے غلام نبی آزاد، ویسے ہی سردار صاحب کوسمجھا جاتا ہے۔ اور ان کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا جاتا، جس سے یہ ردعمل پیدا ہوا ہے؟
    • ہم نے سردار عبدالقیوم صاحب کی جدوجہد کو ہمیشہ کھلے دل سے تسلیم کیا ہے۔ ہم ہمیشہ کہتے آئے ہیںکہ پاکستان ہمارامحسن ملک ہے، جس نے آج تک ہماری جدوجہد کی حمایت کی ہے۔ ہم آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کابیس کیمپ مانتے ہیں۔ یہاں سے جو لوگ ہجرت کرکے وہاں جاتے ہیں ، تو آزاد کشمیر ہی کے لوگ ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں اوران کو سرآنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ ہم اس بات سے بہ خوبی واقف ہیں، لہٰذا یہ تاثر غلط ہے۔ دراصل وجہ یہ ہے کہ وہ (سردارعبدالقیوم) جموں وکشمیر کے حوالے سے اپنے موقف پرقائم نہیں رہے، ان کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ انسان جو دعویٰ کرے،اسے چاہیے کہ پہلے خوب غور وفکر کرے کہ جس راستے کا وہ تعین کررہا ہے، وہ صحیح ہے یا نہیں۔ ایک بار سوچ سمجھ کرفیصلہ کرلیا تو پھر استقامت کا مظاہرہ کرناچاہیے۔چاہے دنیا مخالف ہوجائے اور گردوپیش کتنا ہی بدل جائے،لیکن وہ حق پرڈٹا رہے۔ جنرل مشرف ہی کی طرح انھیں بھی لگا کہ جنگیں بھی لڑیں، قربانیاں بھی دیں لیکن کچھ حاصل نہ ہوا تو وہ مایوسی کاشکار ہوئے۔ اوراگر بالفرض مان بھی لیتے ہیںکہ ہماری کسی بات سے انھیں لگا ہو کہ ان کو جائز مقام نہیں مل رہاہے، تب بھی جس چیز پر ان کا ایمان ہے، اس سے انحراف کے لیے یہ رویہ کس طرح وجۂ جواز بن سکتا ہے؟ ہم سردار عبدالقیوم خاں صاحب کی قربانیوں سے انکار نہیںکرتے، مگر قربانیوں کا تحفظ ان کی بھی تو ذمہ داری ہے۔ آج جو موقف انھوں نے اختیار کیا ہے، اس سے وہ ہمارے ساتھ ساتھ اپنی قربانیوں اور جدوجہد کو بھی بھلارہے ہیں۔
  •  ۲۰۰۵ء میں پاکستانی صحافیوں کاایک گروپ یہاں آیا۔انھوں نے حالات کا جائزہ لیا، ملاقاتیں کیں اوریہ تاثر قائم کیا کہ کشمیری نہ صرف خود پریشان ہیں بلکہ ہمیں بھی پریشان کریںگے۔ اس کے متعلق آپ کیاکہیںگے؟
    • کیا یہ ممکن نہیںکہ موجودہ پاکستانی حکومت ہی کا منصوبہ رہا ہو کہ اپنا نیا موقف مضبوط بنانے کے لیے صحافیوںسے یہ باتیں کہلوائے۔ ورنہ ہماری توان سے ایسی کوئی بات نہ ہوئی تھی کہ جس سے انھیں پریشانی لاحق ہوئی ہو۔ البتہ ان صحافیوں نے جموں میںجو کچھ کیا، گوّیوں، شرابیوں اور رقاصائوں پرڈالر نچھاور کیے،اسے دیکھ کر ہم پوچھتے ہیں کیا اسلامی جمہوریہ سے آنے والوں کے لیے یہ رویہ درست ہے؟
  • مگر اس سارے پس منظر میں اور تحریک آزادی میں،گلگت اور بلتستان کو فراموش کردیا جاتاہے۔ وہ کیا چاہتے ہیں؟ کیا اس کو نظرانداز نہیںکیا جارہا ہے؟
    •  یہ آزاد کشمیر میںبھی کہا جارہا ہے۔ میں نے کچھ روز پہلے آزاد کشمیر کے امیرجماعت اسلامی کا ایک بیان پڑھا۔ وہ بھی آج گلگت اور بلتستان کے حوالے سے کچھ ایسی ہی باتیں کررہے ہیںجیسا کہ ہمارے یہاں کچھ لوگ کررہے ہیں۔

کراچی معاہدے میں کہا گیا تھا کہ شمالی علاقہ جات میں پاکستان اپنی ذمہ داری ادا کرے گا مگر اس نے یہ ذمہ داری پوری نہیں کی۔ انھوں نے اس علاقے کے ساتھ ایک کالونی جیسا برتائو کیا۔ ان کو جمہوری حقوق سے محروم رکھا۔ ایسی صورت میںمزاحمت پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ اس کے لیے خود پاکستان کا رویہ ذمہ دار ہے۔

  •  شمالی علاقے فوجی اعتبار سے پاکستان کے لیے کافی اہم ہیں؟
    •  جب یہ خطہ پاکستان کے لیے اتنا اہم ہے تو ان کو اپنی کوتاہیوں اور کمیوں کا ازالہ کرنا چاہیے ، نہ کہ اس کے رد عمل میںکشمیر کاز ہی سے ہاتھ کھینچ لیں، یا اسے نقصان پہنچائیں۔
  •  ہر ایک ملک کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مفاد کے مطابق اپنی پالیسی میںتبدیلی لائے؟
    • روز مرہ پالیسی میں تبدیلی ہوسکتی ہے لیکن بنیادی ستون مسمار نہیںکیے جاتے ۔
  •  ستون کیا ہیں؟
    • بنیادی ستون جموں و کشمیر کے بارے میں ۱۹۴۷ء سے چلا آرہا مسلّمہ موقف ہے، جوکشمیریوں کی امنگوں اور حقوق سے ہم آہنگ ہے۔

عالمی ردعمل اور حمایت

  •  یہاں عالمی برادری کو متوجہ کرنے کے لیے ہزاروں ہڑتالیںکی گئیں مگر عالمی برادری کی طرف سے خاطرخواہ حمایت نہیںمل رہی ہے،جیسا کہ حال ہی میںایما نکلسن رپورٹ میں آیا ہے۔ کیا یہ آپ کی ناکامی نہیں ہے؟
    • اوّلاً آپ تسلیم کرلیں کہ عالمی سطح پر لوگوں کے برتائو کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیںہے۔ ۲۰۰۴ء میں یورپی یونین کے وفد نے کہا کہ جموں وکشمیر ایک خوب صورت جیل ہے اور یہاں کا پُرامن اور قابل قبول حل اقوام متحدہ کی قرارداوں پر عمل درآمد میں ہے۔پھر دوسال میںایسا کیا بدل گیا جس سے یورپی یونین کے خیالات ہی تبدیل گئے،بہر حال ایمانکلسن رپورٹ اور اس جیسی چیزوں سے ہماری تحریک متاثر نہیںہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ گلگت میںجمہوریت نہیں ہے، جب کہ وہ ہندستانی جمہوریت کی مدح خوانی کرتے ہیں۔بہتر ہوگا کہ وہ ہمیں ہندستانی جمہوریت کے بارے میں نہ بتائیں۔ ہم بہتر جانتے ہیں کہ یہاں کون سی جمہوریت ہے۔مغرب کی پالیسیاں اخلاقی بنیاد سے عاری ہیںاورصرف ان کے مادی مفادات کے تابع ہوتی ہیں۔
  • کشمیر کے تنازعے کا ایک حل خود مختار کشمیر کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے؟
    • ہم ایسا حل چاہتے ہیں جس سے مستقل طور پر تنائو ختم ہو، جو پائیدار ہو، اور جس سے مزید خون خرابے کا دروازہ نہ کھلے۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ اگر تنازعے کو اس کے تاریخی پس منظر میں، عوامی جدوجہد اور قربانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان ہی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔
  • جموں میں لوگ علیحدہ ریاست کا مطالبہ کررہے ہیں، جب کہ لداخ میں ۱۹۸۹ء سے ہی یونین ٹیرٹیری کے لیے تحریک چل رہی ہے، تو کیا ان کی امنگیں قابلِ قدر نہیں؟
    • جموں میں صرف ڈوگرے آباد نہیں ہیں۔ راجوری، پونچھ، ڈوڈہ، کشتواڑ، بھدرواہ، بانہال،گول گلاب گڑھ میں بہت بڑی تعداد میں مسلمان موجود ہیں۔ اسی طرح لداخ میں بھی۔  ان کی اُمنگیں بھی تو ہیں۔ کیا ہم ان کو نریندر مودیوں کے حوالے کریں جنہوں نے ۱۹۴۷ء میں پانچ لاکھ مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا اور مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش رچائی۔
  • تو کیا وہ اس وقت محفوظ ہیں؟
    • فی الحال تو جس طرح ہم غیر محفوظ ہیں، اسی طرح وہ بھی غیر محفوظ ہیں، لیکن ہم مستقبل کے انتظام کی بات کرتے ہیں۔ وہاں کے مسلمانوں کی امنگیں ہمارے ساتھ ہیں، اس لیے ہم انھیں علیحدہ کردیں تو اللہ کی نظر میں بڑے مجرم ٹھہریں گے۔ ان لوگوں نے سجاد لون فارمولے پر شدید تنقیدی رد عمل ظاہر کیاجو ان کی امنگوں کا اظہار ہے۔
  • سجاد لون کے فارمولے میں خطوں کی بنیاد پر آپشن دینے کی بات کی گئی ہے۔ کیا یہ ایک نئی کوشش نہیں ہے؟
    • اس سے دوبارہ ۱۹۴۷ء جیسی صورتِ حال پیدا ہوجائے گی، اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جموں شہرمیں اس وقت بھی کم از کم ۴۰ فی صد مسلمان آباد ہیں۔ کیا ہم ان کو شیوسینا کے حوالے کردیں؟
  •   شیو سینا والے ہندو کیا پاکستان کے ساتھ رہنا قبول کریں گے؟
    • کیا کہیں پر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی تصفیہ ہونے کے بعد کوئی اقلیت وجود میں نہ آئے۔  مسلم معاشرے میں اقلیتیں بالکل محفوظ ہوتی ہیں۔ تمام دنیا کے مسلم ممالک میں غیر مسلم اقلیتیں آباد ہیں اور اپنے عقائد کے مطابق سکون وچین سے زندگی بسر کررہی ہیں۔ پاکستان میں مسلمان بھلے ہی ایک دوسرے سے لڑبھڑ رہے ہوں، لیکن اقلیتیں محفوظ ہیں۔ آپ دکھائیے کوئی ایک جگہ جہاں اقلیتوں کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا جاتا ہو جو ہندستان میں مسلمانوں ، سکھوں یا عیسائیوں کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ خوشونت سنگھ کے مطابق۱۹۸۴ء میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد صرف دہلی میں ۳۵۰۰سکھ قتل کیے گئے اور دہلی سے باہر ۱۰ہزار سکھ تہہ تیغ کیے گئے۔ یعنی مجموعی طور پر ساڑھے تیرہ ہزار سکھوں کو چند دن کے اندر اندر موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ جموں وکشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے، ہندو اقلیت میں ہیں۔ یہ امر واقعہ ہے، اور اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ وہ یہاں باعزت زندگی گزار سکتے ہیں۔ میں کسی ہچکچاہٹ کے بغیر کہتا ہوں کہ یہاں ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوگا، جو ہندستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہماری طرف سے ان کو جان، مال اور عزت کے تحفظ کی مکمل ضمانت ہوگی۔

صحافتی خدمات

  • آپ صحافت سے بھی وابستہ رہے ہیں ،کتابیں بھی لکھی ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی مصروف رہے ہیں، اتنی مصروفیات کے باوجود مطالعہ اور تصنیف وتالیف کے لیے بھی آپ کیسے وقت نکالتے ہیں؟ کیسے دانش اور قیادت جیسی بالعموم متضاد صفات کو یکجا کردیا ہے؟
    •  وقت اللہ تعالیٰ کی سب سے قیمتی عطا ہے۔ اسی لیے وقت کی قسم کھائی گئی ہے۔ والعصر……  میں کوشش کرتا ہوں کہ کوئی لمحہ بے مقصد صرف نہ ہو، لکھنے پڑھنے میں زیاددہ وقت دینا چاہتا ہوں۔ البتہ لکھنے پڑھنے کا زیادہ موقع جیل میں ہی ملا ہے۔ رودادقفس اور مقتل سے واپسی، دونوں کتابوں کی تصنیف بھی جیل ہی میں ہوئی۔ مطالعہ اور تصنیف کا کام اکثر صبح اور شام کے وقت کرتا ہوں۔

۱۹۴۹ء سے ۱۹۵۳ء تک میں جماعت اسلامی کے اجتماعات کی کارروائی لکھتا رہا۔ یہ بڑی قیمتی روداد تھی جو آگ لگنے کی ایک واردات میں ضائع ہوگئی ، اس کا مجھے آج بھی صدمہ ہے۔ پھر ۱۹۶۴ء سے ۱۹۷۰ء تک میں جماعت کے اخبار اذان کا مدیر رہا۔ میں اکثر اداریے اور دیگر مضامین تحریر کرتا تھا۔ ’دیدوشنید‘ میرا مستقل کالم تھا۔ یہ سارا مواد بھی میرے پاس محفوظ نہیں ہے۔ اس طرح آہستہ آہستہ مطالعہ اور تصنیف کا ذوق پروان چڑھا۔

میرے والد صاحب سیزن قلی تھے، غریب گھرانہ تھا۔ زیری منز پہاڑیوں کی اوٹ میں ہونے کے باعث وہاں ظہر کے بعد ہی غروب آفتاب کا منظر ہوتا ہے۔ میں ننگے پائوں اسکول جاتا تھا، چھٹی کے وقت اکثر گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا۔

۱۹۳۹ء میں محمد دین فوق صاحب، شمس پورہ اپنے کسی رشتہ دار کے پاس آئے تھے۔ وہ ان دنوں لاہور کالج سے وابستہ تھے۔ غلام محمد صادق اور مس محمودہ بھی اس کالج میں زیر تعلیم تھیں۔ ان دنوں کشمیر کے تاجر اور طالب علم اکثر پنجاب کے شہروں ، راولپنڈی ، لاہور اور امرتسر آتے جاتے تھے، جب کہ سردی کے مہینوں میں مزدوری کی تلاش میں بہت سارے کشمیری پنجاب کے میدانوں کا رخ کرتے تھے۔ ہم بھی فوق صاحب سے ملنے گئے۔

فوق صاحب نے میری تعلیم کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتایا کہ شوق تو ہے البتہ یہاں سہولت نہیں ہے۔ فوق صاحب نے کہا کہ میرے ساتھ لاہور چلو۔ چنانچہ مجھے فوق صاحب کے ساتھ ہی لاہور بھیج دیا گیا۔ میں چھوٹا تھا، گھر کی بہت یاد آتی تھی، اکثر اقبال کی نظم پرندے کی فریاد گنگناتا تھا اور آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے تھے۔ایک سال بعد گھر واپس آیا، اگلے سال اپنے بھائی کے ساتھ جو لاہور کالج برائے خواتین میں کام کرتا تھا، واپس لاہور گیا۔

اس بار مسجد وزیرخان لاہور میں حفظ کے لیے میں نے داخلہ لیا، البتہ حفظ مکمل نہ ہوسکا۔ مزید تعلیم کے لیے اندرون دہلی دروازہ میں شام کے وقت کام کرنے والے نجی اورینٹل کالج میں داخلہ لیا۔ اس کے پرنسپل آقا بیداربخت تھے۔ وہاں پروفیسر عاشق حسین اقبالیات پڑھاتے تھے۔  لاہور میں قیام کے دوران اردو اور پنجابی دونوں زبانیں میں اچھی طرح بولنے لگا۔ پنجاب یونی ورسٹی سے ادیب عالم پاس کرکے ۱۹۴۴ء میں کشمیر لوٹ آیا اور ملازمت کی تلاش شروع ہوئی۔ میرے چچا یوسف گیلانی صاحب لانک ریشی پورہ کی مسجد کے امام تھے۔ انھوں نے کسی شناسا کی وساطت سے مولانا محمد سعید مسعودی سے رابطہ کروایا، جو ان دنوں اخبار خدمت کے نگران تھے۔ انھوں نے مجھے بطور رپورٹر تعینات کیا۔ نند لال واتل ایڈیٹر تھے۔ محمد یوسف قادری بھی ان دنوں خدمت میں تھے۔ اس دوران میں نے ادیب فاضل اور منشی فاضل بھی پاس کیا۔ مسعودی صاحب ایک عالم اور علم دوست انسان تھے۔ حافظہ بلا کا تھا، حوالہ دیتے وقت کتاب کے صفحے اور سطر تک کا حوالہ دیتے تھے۔ غیررسمی تربیت کرتے تھے، غلطیوں کی بروقت تصحیح کرتے تھے۔

۱۴نومبر ۱۹۶۲ء کو میرے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ میں اس وقت جیل میں تھا، جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ملی۔۱۹۶۴ء میں مجھے اذان کا ایڈیٹر بنایا گیا۔ غرض سخت زمانہ دیکھا ہے،کاندھوں پر پتھر بھی ڈھوئے ہیں۔ بلاشبہہ کم عمری میں محنت، آسایش پسندی سے بچاتی ہے۔

انتخابات کے بائیکاٹ کا سبب

  •  اگلے سال جموں و کشمیر کی ریاستی اسمبلی کا الیکشن ہورہا ہے۔ آپ نے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے، کیوں؟ کیا یہ مفید نہیں کہ نسبتاً بہتر لوگ اسمبلی میں جائیں؟
    •  میں پندرہ سال تک اس اسمبلی میں رہا ہوں۔ الیکشن عوام کا حق ہے۔ یہاں دو چیزیں ہوتی تھیں۔ سیاسی پارٹیاں مراعات، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، ملازمتوں اور ترقیاتی کاموں کے نام پر عوام سے ووٹ لیتی تھیں۔ لیکن اسمبلی میں جاکر شراب، سود، مخلوط تعلیم اور بے معنی معاملات کے متعلق قانون سازی کرتی تھیں۔ یہ عوامی اعتماد سے ان کی خیانت تھی۔ اگر وہ شراب اور غیر اسلامی قوانین کے لیے عوام سے ووٹ مانگتے تو عوام انھیں دھتکار دیتے۔ جماعت اسلامی نے سیاسی پارٹیوں کی اس بدمعاشی کا توڑ کرنے کے لیے الیکشن میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔ لوگ بھی الیکشن کے ماحول میں بات سننے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔ ہم نے اسلام کو بطور کامل نظام حیات متعارف کرنے کے لیے الیکشن میں بھرپور شرکت کا اقدام اُٹھایا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ہم کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو اُجاگر کرنا چاہتے تھے۔ عوام میں بھی اور اسمبلی میں بھی، تاکہ عوامی آواز کو منوایا جائے اور اسے مؤثر طور پر پیش کیا جائے۔ ۱۹۸۹ء تک ہم اسمبلی میں رہے۔ ۲۹؍ اگست۱۹۸۹ء کو ہم نے اسمبلی کی نشستوں سے استعفیٰ دیا۔ تب تک ووٹ ہی ایک ذریعہ تھا مسئلے کو اجاگر کرنے کا، لیکن ووٹ کی حرمت کو بھارتی کٹھ پتلیوں کے ہاتھوں مسلسل پامال کیا گیا۔ اس طرح جب ووٹ کا سب سے زیادہ جمہوری طریقہ صریح دھاندلی سے ناکام بنایا گیا تو مسلح تحریک نے جنم لیا۔ ہندستان اور اس کی پروردہ سیاسی پارٹیاں ہمیشہ دھاندلی ہی کے بل پر یہاں مسلط ہوتی رہیں۔ ۱۹۸۷ء میں بھی یہی تماشا ہوا۔ حالانکہ مسلمانوں نے مسلم متحدہ محاذ (MUF)کو وسیع پیمانے پرحمایت سے نوازا تھا۔ لیکن ہندستان نے ناکام کو کامیاب اور کامیاب کو ناکام بنادیا۔ لہٰذا ووٹ والا خیال زبردست مایوسی سے دوچار ہوا، اور رجحان بیلٹ سے بلٹ، یعنی صندوق کے بجائے بندوق کی طرف منتقل ہوا۔ خون بہنے کے بعد بیلٹ بے معنی ہوجاتا ہے۔ ایک لاکھ جانیں، عزتیں ، عصمتیں، جایدادیں، اتنی ساری قربانیوں کو الیکشن کے ذریعے دفن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس لیے ہم اس کی مخالفت کررہے ہیں۔

 ایک اور بات یاد رکھیں، بڑا مقصد حاصل ہوگا تو چھوٹی چھوٹی چیزیں خود بخود آجاتی ہیں۔ بڑی جدوجہد کے دوران چھوٹے اہداف پر توجہ مرکوز نہیں رہ سکتی۔ بیورو کریسی تو غالب قوت کی پیداوار ہوتی ہے۔ ہم شاخ تراشی کے بجائے کیکر کے درخت ہی کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے ہیں۔ مزاحمتی تحریکوں کا یہی انداز ہوتا ہے اور انھی اہداف پر توجہ مرکوز رہتی ہے۔

سامراجی غلبہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آبادی کی اکثریت دین اور تہذیب سے نا آشنا بھی ہے اور لاتعلق بھی۔ یہ چیز بھی استعماری قبضے کو مستحکم کرنے میں ایک عنصر ہے۔ لہٰذا وہ ہمارے دین اور تہذیب سے ہمارے رشتے کو ہدف بناتی اور اس کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ ملّی و دینی شعور کی بیداری اور قبضے کی مزاحمت ہماری جدوجہد کے دوبنیادی اہداف ہیں۔

  •  ان انتخابات کے بائیکاٹ سے کیا مدد ملتی ہے؟ بائیکاٹ ہو یا نہ ہو، حکومت تو بن ہی جاتی ہے، جو پھر من پسند قانون نافذکرتی ہے، اس میں بائیکاٹ پر زور کیوں؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ اچھے اور اہل تر لوگ اسمبلی میںجائیں؟
    •  ۱۹۷۷ء میں نیشنل کانفرنس دو تہائی اکثریت کے باوجود کچھ نہ کرسکی، حالانکہ شیخ محمد عبداللہ جیسا بلند قامت لیڈر بھی موجود تھا۔ نیشنل کانفرنس کے اٹانومی بل کا حشر تو سب نے دیکھ لیا۔  یہ واضح ہے کہ یہ اسمبلی کشمیر کے مفاد کے لیے کچھ نہیں کرسکتی ۔ پھر اچھے لوگ وہاں جاکر کیا کریں؟ الیکشن کا بائیکاٹ، ہم ہندستان سے عدم تعاون واضح کرنے اور بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دلانے کے لیے کر رہے ہیں۔
  •  جموں و کشمیر کے میڈیا سے آپ کتنا مطمئن ہیں؟
    •  میڈیا اداروں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ اگر حریت نوازی ظاہر کریں تو ان پر پابندی لگ سکتی ہے۔ اس لیے ہمدردی کے باوجود ان کے لیے کما حقہٗ تحریک نوازی بر تنا مشکل ہے۔ ہم اس کو سمجھتے ہیں۔ نیت پر شک نہیں کرتے ، چند اخباروں کے استشناء کے ساتھ یہاں کا مقامی پرنٹ میڈیا صورتِ حال کی صحیح عکاسی کی کوشش کرتا ہے۔

پُرامن جدوجہد اور عسکریت

  • عیدگاہ کے جلسے میں (۲۲؍اپریل ۲۰۰۷ء) اور اس کے بعد بھی آپ نے یہ کہا کہ ہماری جدوجہد پُرامن اور سیاسی ہے، جب کہ یہاں سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ عسکری جدوجہد بھی چل رہی ہے ۔ اس کی کیا وضاحت ہے؟
    • ہم نے عسکریت کے حوالے سے بات نہیں کی، بلکہ اپنے اور تحریک حریت کے حوالے سے یہ بات کی تھی۔ عسکریت کا ایک الگ میدان ہے، جس کے اپنے ضوابط اور تقاضے ہیں۔ لیکن عوامی جدوجہد کہ جہاںسب لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو، سیاسی نوعیت کی ہوتی ہے۔ سب لوگ عسکری میدان میں نہیں کود سکتے۔ البتہ یہ ساری کوششیں تحریک آزادی کا حصہ ہیں۔عسکری جدوجہد سے متعلق معاملات پر میں نے اپنی کتاب قصہ درد میں کچھ باتیں لکھی ہیں اور اس جدوجہد میں رونما ہوئی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے۔
  •  عسکری تنظیمیں اکثر آپ کے پروگراموں مثلاً ہڑتال وغیرہ کی حمایت کرتی ہیں۔ عیدگاہ ریلی میں عسکریت پسندوں کی شرکت سے متعلق خبروں کو بھی بعض ٹی وی چینلوں نے نشر کیا۔ کیا پروگرام طے کرنے سے قبل عسکری حلقوں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے؟
    • شاید وہ ہماری آواز کو اپنی امنگوں سے ہم آہنگ پاتے ہیں۔ البتہ پروگرام طے کرنے سے قبل کوئی مشاورت نہیں ہوتی اور نہ موجودہ حالات میں ایسا کرنا ممکن ہے۔
  •  جماعت اسلامی سے آپ کا نصف صدی تک تعلق رہا۔ اب تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟
    • تحریک حریت، جماعت اسلامی کے ساتھ ایک مفاہمت کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی۔ اس وقت صراحت کے ساتھ کہا گیا تھا کہ باہمی تعلقات وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۝۰۠ (المائدہ ۵:۲) کی قرآنی رہنمائی کی روشنی میں استوار ہوں گے ۔ تحریک حریت میں شامل ہونے والوں کی جماعتی حیثیت برقرار رکھنے کی بات بھی طے تھی، لیکن بعد میں ایسا نہ رہ سکا۔ جماعت اسلامی کے تنظیمی اتنخابات سے قبل تحریک حریت سے واپسی کی شرط رکھی گئی۔ محترم محمداشرف صحرائی صاحب اور میں نے ، اپنے طور پر جماعت کے تنظیمی انتخابات میں کسی بھی منصب یا ذمہ داری سے لاتعلق رہنے کا اعلان کیا اور ہمارے حق میں ووٹ نہ دینے کی اپیل کرنے کی پیش کش کی تھی۔ لیکن اس کو بھی قبول نہ کیا گیا ۔ البتہ یہ جماعتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان نہیں تھا بلکہ صرف اپنے حوالے سے ہم نے یہ بات کہی تھی۔

خفیہ مذاکرات

  •  محمد یاسین ملک صاحب نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ خفیہ مذاکرات پہلے بھی ہوئے ہیں، جب آپ حریت کانفرنس کے چیئرمین تھے۔ حقیقت کیا ہے؟
    •  میری کتاب دیدو شنید میں اس معاملے کی تفصیل درج ہے۔ جب میں چیئرمین تھا تو حریت ایگزیکٹیو کا اجلاس مرحوم عبدالغنی لون صاحب کی رہایش گاہ پر منعقد ہوا۔ ان دنوں اشارے مل رہے تھے کہ شاید ہندستان کشمیری لیڈر شپ کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ اس اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ اگر ہندستان بات چیت کے لیے کوئی پہل کرے، یا اس میں دلچسپی ظاہر کرے تو انھیں بتایا جائے گا کہ حُریت چیئرمین سے رابطہ کریں۔ اس پورے معاملے میں کوئی خفیہ بات نہیں تھی بلکہ حریت ایگزیکٹیو کا فیصلہ تھا۔ چنانچہ بعد میں وجاہت حبیب اللہ یہاں آئے۔ دوبار اسی کمرے میں ان سے بات ہوئی، دونوں فریقوں نے اپنا اپنا نقطۂ نظر بیان کیا۔ میں نے ان کو بتایا کہ ہماری گزارشات کی روشنی میں اگر نئی دلی بات چیت پر آمادہ ہوتی ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔ مگر وجاہت صاحب تیسری بار تشریف نہیں لائے، جس سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ دلی ہمارے موقف سے متفق نہیں تھی۔

اس کے بعد آر کے مشرا اور ریٹائرڈ میرل نیر دوبار یہاں تشریف لائے۔ مشرا صاحب سے دہلی میں حریت دفتر میں بھی ایک بار ملاقات ہوئی۔ ان کے سامنے بھی ہم نے اپنا موقف رکھا، البتہ وہ بھی جواب لے کر واپس نہیں آئے ۔ اس پر روابط کا یہ سلسلہ منقطع ہوا۔

  • یہاں گذشتہ دو دہائیوں میں کئی لوگوں کو سیاسی وابستگی کی بنیاد پر قتل کیا گیا، کیا یہ آپ کے نزدیک صحیح ہے؟
    • ہم اس کے خلاف ہیں۔ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اپنی کتاب قصۂ درد میں مَیںنے تفصیل سے اس پر بات کی ہے۔
  • کئی بار آپ نے لفظ Indigenousاستعمال کیا۔ اس سے کیا مراد ہے؟
    • Indigenousتحریک سے مراد یہ ہے کہ یہ تحریک جموں وکشمیر کی سرزمین سے برپاہوئی ہے اور یہاں کے لوگ ہی اصل فیصلہ کن قوت ہیں۔ یہ باہر سے کی گئی دراندازی کی وجہ سے برپا نہیں ہوئی ہے، بلکہ یہاں کے لوگوں نے اپنے خون جگر سے اس کی آبیاری کی ہے۔ جموں وکشمیر سے باہر بہت سے لوگ ہماری حمایت کرتے ہیں، تو وہ اپنا انسانی، اخلاقی اور دینی فریضہ بجالاتے ہیں۔ اس بنا پر کسی تحریک کو بیرونی سازش سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ۔

یکم ستمبر ۲۰۲۱ء کی شام تک وادیٔ کشمیر کے عوام حسب معمول ایک بڑے جیل نما خطے میں اپنا دن گزار کے رات کی تاریکی کی آغوش میں جانا ہی چاہتے تھے، کہ اچانک سماجی رابطہ کی ویب گاہ فیس بُک پہ ایک جانکاہ خبر دیکھتے ہی ساری وادی ماتم کناں ہو گئی ۔وہ خبر یہ تھی کہ جموں وکشمیر کی تحریک آزادی کے محبوب ترین رہنما سید علی شاہ گیلانی انتقال فرما گئے،انا اللہ وانا الیہ راجعون ۔

کشمیری عوام کو واقعتاً یہ محسوس ہوا کہ آج ہم قومی سطح پر یتیم ہوگئےہیں، فیس بُک اور ٹوئٹر صارفین نے اس کا اظہار بھی کیا ۔نہ جُھکنے والی اور نہ کبھی بکنے والی یہ وہ شخصیت تھی، جس نے نہ صرف اپنا سب کچھ ملت اسلامیہ کے عروج اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے قربان کردیا بلکہ دنیاکی ایک بڑی سامراجی طاقت کے سامنے کشمیر کے مظلوم عوام کی قیادت کر کے دنیا کو دکھلا دیا کہ ظالموں کو کیسے للکارا جاتا ہے اور عوام کے دلوں پہ کیسے راج کیا جاتا ہے ۔

اس قائدکی پیدایش دنیا کی خوب صورت ترین جیل اور دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی وادیٔ کشمیر کے علاقہ زینہ گیر کے’ زوری منز‘ گائوں میں ۱۹۲۹ء میں سید پیر شاہ گیلانیؒ کے  گھر پہ ہوئی۔اس علاقے کے ایک طرف طویل پہاڑی سلسلے کے دامن میں ایشیا کی سب سے بڑی جھیل وُلر ہے اور دوسری طرف ضلع بارہمولہ کے قصبے سوپور کے سر سبز و شاداب سیب کے باغات ہیں۔زوری منز میں ایک غریب اور شریف گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی ایام سے ہی اپنے اندر مومنانہ صفات اور قلندرانہ بے باکی رکھتا تھا ۔کہتے ہیں نا کہ عظیم شخصیات کا بچپن بھی غیر معمولی ہوتاہے ۔اللہ تعالیٰ بھی ایسی شخصیات کو روز اول سے ہی مختلف طرح کے امتحانات و مصائب کی بھٹی میں تپاکر تیار کرتا اور انسانیت کی بقا کے لیے میدان میں طاغوت سے مقابلہ کرنے اور مظلوموں کو انصاف دلانے کی خاطر لڑنے کی ہمت عطا کرتا ہے ۔

 اپنے بچپن کے چند واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے سید علی گیلانی مرحوم فرماتے ہیں کہ ’’میرے والد سید پیر شاہ گیلانی نہر زینہ گیر میں سیزنل قلی تھے۔ اَن پڑھ ہونے کے باوجود تعلیم سے  محبت رکھتے تھے ۔وہ چاہتے تھے کہ میرے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں۔میری پیدایش کے بعد میرے ساتھ دو ایک حادثے ہوئے ہیں جن میں بچنا صرف اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت اور اُس کی حفاظت سے ممکن ہوا ہے ۔بچپن میں سردیوں کے موسم میں میں کانگڑی لیے (سردیوں کے موسم میں اپنے آپ کو گرم رکھنے کا ایک آلہ ) لکڑیوں کے ایک ستون نماگٹھے پہ بیٹھا تھاکہ اچانک نیچے گرپڑا اور کانگڑی میری داہنی ران پرگر پڑی جو آگ سے بھری تھی۔ اس سے میری ساری ران جھلس گئی اور کئی ہفتوں تک میرا علاج ہوتا رہا۔ اُس زمانے میں ہمارے علاقے میں کوئی ہسپتال وغیرہ نہیں تھا۔ ہمارے یہاں جو گھاس سے بنی چٹایاں ہوتی ہیں اُس سے بنے کچھ ٹکڑے لائے گئے اور وہی جلاکر اُس کی راکھ بطور مرہم جلے ہوئے حصے پر ڈال دی گئی اور اُسی سے اللہ تعالیٰ نے شفا بخشی۔

ایک اور حادثہ بچپن کے دور میں درپیش آیا۔ ہماری جو بستی ہے اُس کا نام زوری منزہے۔ یہ ضلع بانڈی پورہ کے گائوں ’کیونس‘ کا ایک محلہ ہے۔ ہمارے گائوںکے پیچھے ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس سے’ زیرا‘ پیدا ہوتا ہے اور میں دیگربچوں کے ساتھ زیرا کاٹنے کے لیے ڈھلوان چوٹی پر گیا۔ واپسی پر زینہ گیرنہرپر پُل سے گزرنے لگا تو میں سیدھا نہر زینہ گیر میں جا گرا۔ اُس وقت نہر میں پانی بھی زیادہ تھا، تاہم میرے بچائو کا انتظام اللہ تعالیٰ نے اس طرح کیا کہ عین اُس وقت نہر پر کام کرنے والے ہمارے ایک ہمسایہ مرحوم محمد سبحان ڈار نے دیکھتے ہی بغیر کسی تاخیر کے نہر زینہ گیر میں کود کر مجھے اُس پانی سے سلامت نکال لیا‘‘۔

اپنے اسی بچے کی تعلیم کا خاص خیال کرتے ہوئے ان کے مرحوم والد نے سب سے پہلے بوٹینگو سوپور میں داخلہ کروایا۔پرائمری جماعت پاس کرنے کے بعد گورنمٹ ہائی اسکول سوپور میں داخلہ لیا، وہاں ساتویں تک تعلیم حاصل کی ۔موصوف کی بہن کی شادی ڈورو سوپور میں ہوئی تھی، وہاں کے اکثر طلبہ سوپور ہائی اسکول آتے تھے اور پھر وہ اپنی ہمشیرہ کے پاس ہی رہنے لگے۔ ان کی ہمشیرہ کے ایک دیور، جن کا مشہور مؤرخ اور صحافی مرحوم محمد الدین فوق کے ساتھ کوئی رشتہ تھا۔   فوق صاحب ان کے گھر آیا کرتے تھے۔ گیلانی صاحب بتاتے ہیں کہ اسی اثنا میں ایک روز میری بہن کے دیور مجھے محمد الدین فوق کے پاس لے گئے۔ وہاں سے وہ مجھے میرے والد کی اجازت کے بعد اپنے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور لے گئے۔لیکن لاہور پہنچ کے فوق صاحب نے مجھے کسی اسکول میں داخلے کے بجائے اپنی بیٹی کے گھر رکھا،جن کے شوہر ایک بڑے افسر تھے۔  یہ تقریباً ایک سال کا عرصہ تھا۔ اس عرصے میں گیلانی صاحب وہاں بہت پریشانی کی حالت میں رہے۔ پھر کسی طرح سے گیلانی صاحب لاہور سے واپس سوپور آ گئے اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔

بعدازاں دوبارہ لاہور گئے اور وہاں تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنے کی کوشش کی اور وہاں قرآن حفظ کرنا شروع کیا، لیکن وہ سلسلہ بھی منقطع ہوگیا۔ یہیں پر ادیب عالم کا امتحان دوسری پوزیشن میں پاس کیا۔ لاہور سے شائع ہونے والے رسالے پڑھنے کی کوشش کرتے۔ لاہور سے دوبارہ واپسی پر روزگار کی تلاش میں جدوجہد کرنی پڑی۔ اسی اثنا ء میں گیلانی صاحب کو ’کلوسہ بانڈی پورہ‘ کی ایک سیاسی و سماجی شخصیت ’مرحوم محمد انور خان‘ نے کشمیر کے ایک شعلہ بیان مقرر ،سیاست دان محمد سعید مسعودی ؒجو اُس وقت نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری تھے ان سے متعارف کرایا ،جہاں گیلانی صاحب کو نیشنل کانفرنس میں کام کرنے کی پیش کش کی گئی، لیکن گیلانی صاحب نے اُس پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ تاہم، اسی دوران مولانا مسعودی کی سرپرستی میں نیشنل کانفرنس کے ترجمان اخبار خدمت  میں کام کرنے کا موقع ملا جہاں آپ کی ادبی صلاحیتیں بھی پروان چڑھیں۔

اس کے بعد مولانا مسعودی نے ہی گیلانی صاحب کو مجاہد منزل، سرینگر کے ساتھ پتھر مسجد کے اسکول میں بطور اُستاد تعینات کیا۔یہاں گیلانی صاحب اپنے فرصت کے اوقات میںمطالعہ کیا کرتے تھے۔ اسی دوران مولانا مودودی ؒ کی حقیقت زکوٰۃ  پڑھ کے بہت متاثر ہوئے۔ انھی دنوں قاری سیف الدینؒ ( جو بعد میں امیر جماعت اسلامی کے منصب پہ فائز ہوئے) گیلانی صاحب کے ہم پیشہ تھے ، انھوں نے سید مودودی ؒ کی تفہیمات  اوّل پیش کی تو یہ کتاب تیر بہ ہدف ثابت ہوئی۔ اس طرح سے گیلانی صاحب جماعت اسلامی کے قریب آنے لگے ۔اسی اثناء میں جماعت اسلامی کے رکن بنے۔ اس کے بعد تنظیم میں مختلف ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد ۱۹۶۳ء میں قیم جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے منصب پر فائز ہوئے۔ ۱۹۸۴ء میں قائم مقام امیر جماعت بنے۔ لیکن اس کے ٹھیک ایک دن بعد انھیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔اس کے علاوہ آپ نے جماعت اسلامی جموں وکشمیر میں ناظم پارلیمانی امور،مدیر اخبار اذان اور مدیراخبار طلوع کی حیثیت سے فرائض انجام دیے ۔ساتھ ہی آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ تین بار اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے ہیں ۔ ۷؍اگست ۲۰۰۴ء کو جماعت اسلامی کے ساتھ ایک تحریری مفاہمت کے بعد آپ تحریک حُریت کو منصہ شہود پر لائے۔اس طرح سے محترم موصوف نے جماعت کے پلیٹ فارم پہ اللہ کی زمین پہ اللہ کے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد بغیر کسی خوف و تردید کے شروع کی۔

سیّد علی گیلانی جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے دلوںپہ راج کرنے والے رہنما تھے۔سب سے اہم وصف آپ کے اندر یہ تھا کہ آپ اپنے مخالفین کو بھی اپنے ساتھ چلانا جانتے تھے ۔گیلانی صاحب مولانا مودودی ؒ اور علامہ اقبالؒ سے خاصے متاثر تھے۔ انھوں نے مولانامودودیؒ کی لکھی تفسیر  تفہیم القرآن کو پڑھنےاور نوجوانوں تک اُن کی فکر کو منتقل کرنے کے لیے بہت مرکزی کردار ادا کیا۔ ۲۰۱۱ء میں سوپور میں گیلانی صاحب کا ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں راقم کوبھی شامل ہو نے کا شرف حاصل ہوا۔ انھوں نے اپنے پُراثر انداز میں بھاری مجمع سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: ’’قرآن ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔  میں آپ سب جوانوں اور بزرگوں سے کہوں گا کہ آپ سب کے گھروں میں تفہیم القرآن ہونی چاہیے۔ سارے لوگ ہاتھ اُٹھائو، کون سی تفسیر پڑھو گے؟‘‘ لوگوں نے زور دارانداز میں دونوں ہاتھ اوپر اُٹھا کے جواب دیا تفہیم القرآن ۔ یہ الفاظ گیلانی صاحب بار بار دہراتے رہے ۔اس کے بعد آگے فرمایا کہ ’’میں نے بہت ساری تفاسیر کا مطالعہ کیا ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کی تفسیر بھی پڑھی ہے ،مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ کی تفسیر بھی پڑھی ہے، میں نے اشرف علی تھانویؒ کی تفسیر بھی پڑھی ہے، سب تفسیریں اچھی ہیں، لیکن تفہیم القرآن میں جس سادگی کے ساتھ آسان زبان میں علامہ مودودی ؒ نے دین سمجھایا ہے، قرآن کا پیغام سمجھایا ہے، قرآن کی روح سمجھائی ہے، وہ بہرحال ایک بے نظیر تفسیر ہے‘‘ ۔ آگے زور دار آواز میں فرمایا کہ ’’اس وعدے پہ قائم رہو گے ناکہ ہر ایک گھر میں تفہیم القرآن کا مکمل سیٹ ہونا چاہیے اور پھر اُس کو پڑھا کرو۔ صرف اُس کو لائبریری کی زینت نہیں بنانا، اس کو پڑھنا بھی ہے‘‘۔ یہ تھا مولانا مودودیؒ اور تفہیم القرآن کے ساتھ جنون کی حد تک لگائو۔

گیلانی صاحب جموں وکشمیر کے واحد سیاسی و سماجی رہنما تھے، جو تحریر و تقریر کی دونوں اصناف پہ دسترس رکھتے تھے ۔گیلانی صاحب کے شوقِ مطالعہ اور ادبیت کے حوالے سے ثروت جمال لکھتے ہیں کہ ’’آپ نے دوسرے سیکڑو ں ساتھیوںاور بزرگوں کے ساتھ جیل میں انفرادی مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھا۔ قرآن یا سیرت پاکؐ کے علاوہ آپ نے خاص طور پر مولانا محمد علی جوہر ؒ ، علامہ ابن تیمیہؒ ، مولانا حمید الدین فراہیؒ، اور مولانا مودودیؒ کی تصانیف سے بھر پور استفادہ کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ آپ نے ادبیات کے زمر ے میں اقبالیات کے علاوہ منشی پریم چنداور نسیم حجازی کے قریب قریب سارے تاریخی ناول مطالعہ میں رکھے ہیں ‘‘۔ گیلانی صاحب جموں وکشمیرکے واحد مزاحمتی قائد ہیں، جنھوں نے سب سے زیادہ تحریری سرمایہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔

محترم گیلانی صاحب کی لغت میں’سمجھوتے‘( کمپرومائز) کا لفظ نہیں تھا۔ نہ وہ اپنے کارکنان کو سمجھوتا کرنے دیتے تھے ۔ اسی وجہ سے اُن کو تحریک حُریت تشکیل دینی پڑی۔ بہت کوششیں ہوئیں کہ اُن کے عزم کو توڑا جائے یا اُن کوکمزور کیاجائے۔ اُن پہ دبائو ڈالا گیا اور قیدو بند کی سختیاں بھی پیش آئیں لیکن ناکامی و نامرادی طاغوت کے حصے میں آئی اور سیّد مودودی ؒ کے وارث سیّد علی گیلانی سرخرو ہو گئے۔

گیلانی صاحب ہی کا کہنا ہے کہ ’’بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایک آدمی نے ۲۴ مارچ ۲۰۰۲ء کو اُن کو اپروچ کرنے کی کوشش کی ۔وہ مجھے جانتا تھا کیوں کہ اُس نے میری جموں میں تفتیش کی تھی، جب میں قید تھا۔اُس نے کہا کہ میری مدد کریں کشمیر میں امن کی خاطر۔ جواباً گیلانی صاحب نے کہا کہ ’’کشمیریوں کے پاس امن کی خاطر ساری وجوہ موجود ہیں ،لیکن یہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ بھارت کے ہاتھ میں ہے۔ اُن کو چاہیے کہ اس تنازعے کا حل سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے نکالیں‘‘۔ وہ خفیہ ایجنسی کا افسر چاہ رہا تھا کہ حُریت والے انتخابات میں حصہ لیں۔گیلانی صاحب نے جواباً کہا کہ ’’ہمارے انتخاب لڑنے سے مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا۔ ہم نے یہ طریقہ ۱۹۸۷ء میں اپنایا تھا لیکن ناکامی ہی ہاتھ لگی‘‘ ۔پھر وہ افسر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ ’’میں گیلانی صاحب کو منا نہ سکا‘‘۔

بھارت کے سابق را چیف اے ایس دولت نے اپنی کتاب میں گیلانی صاحب کو اپنے عزم پر ڈٹا پختہ لیڈرلکھا ہے۔ اس کے بقول: ’’جب کوئی حُریت کے متعلق کہتا یا سوچتا ہے تو اُس کے سامنے گیلانی ہوتا ہے اوروہ ہمارے لیے اچھی خبر نہیں ہوتی ۔اسی لیے تو سابقہ نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی، گیلانی کے ساتھ بات چیت کے خلاف تھے۔ اس کتاب میں اے ایس دولت نے بتایا ہے کہ ہم نے دیگر حُریت پسند رہنمائوں تک رسائی حاصل کی اور کسی حد تک اُن کو انگیج کرنے میں کامیابی ملی۔ لیکن ایک واحدسید علی گیلانی ہے جس کو ہم انگیج نہیں کر پائے‘‘۔

گیلانی صاحب کے دل میں جو تھا، وہی وہ اپنی زبان سے ادا کرتے تھے۔ جب بھی مسئلہ کشمیر کے متعلق کسی سے ملنا ہوتا یا کہیں کوئی پروگرام ہوتا تو وہ پہلے عوام کو مطلع کرتے ۔ہر لمحہ ملت اسلامیہ کے متعلق سوچتے، لکھتے اور بولتے تھے۔ اخبارات کا مطالعہ کرنا ،حالات و واقعات پر نظر رکھنا اور پھر اُس کے مطابق قدم اُٹھانا کوئی گیلانی صاحب سے سیکھے۔

۲۰۱۶ء میں مَیں نے روزنامہ کشمیر عظمٰی میں ایک مضمون’ مطیع الرحمان نظامی‘ کی شہادت کے متعلق لکھا ۔ ایک دن گھر سے شہر کی طرف گاڑی میں محو سفر تھا کہ اچانک میں نے جیب سے اپنا موبائل فون نکالا تو ایک پیغام پڑھنے کو ملا جس میں کچھ اس طرح کے الفاظ تھے: ’’میں سیّدعلی گیلانی کاذاتی مشیر ہوں پیر سیف اللہ ( جو اس وقت تہاڑ جیل میں پابند سلاسل ہیں ) اور گیلانی صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ مہربانی کرکے فون رسیو کریں‘‘۔ جیسے ہی میں نے یہ الفاظ دیکھے تو میں یقین نہیں کر پایا۔ پھر پسینے سے شرابور ہو گیا اور آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی۔ گاڑی سے اُترنے کے بعد میں نے اسی نمبر پہ واپس فون ملا کے بات کی، تو قائد محترم کے ذاتی مشیر نے کہا یہ لیجیے ’’آپ سے گیلانی صاحب بات کرنا چاہتے تھے ‘‘۔میں حیران و پریشان کہ قائد محترم سے میں بات کرنے کے لیے وہ زبان کہاں سے لائوں ؟جو اُن سے ہم کلام ہو سکے۔ بہرحال اسی ہڑبڑاہٹ میں گیلانی صاحب کو سلام کیا۔ اس کے بعد انھوں نے مجھ سے میرا تعارف پوچھا اور پھر رُندھی ہوئی آواز میں کہا کہ ’’آپ کا مضمون پڑھنے کے دوران میری آنکھوں میں آنسوآ گئے!‘‘ میںہکا بکا قائد محترم کے مبارک الفاظ سُنتا رہا، لیکن میری کیفیت کچھ اور ہی تھی جس کو بیان کرنے سے میں آج بھی قاصر ہوں۔میں یقین ہی نہیں کر پار ہا تھا کہ کیا واقعتاً میں قائد محترم سے بات کر رہا ہوں یایہ محض ایک خواب ہے۔

اس کے بعد چند ملاقاتوں کا بھی مجھے شرف حا صل ہوا۔ وہ اکثر پیشانی اور ہاتھ کو چومتے اور حوصلہ بڑھاتے تھے۔ اپنی ملاقاتوں میں اکثر نوجوانوں کو مطالعہ قرآن، تفہیم القرآن کی روشنی میں کرنے کو کہتے۔ ساتھ ساتھ اُردو زبان کے فروغ و اشاعت کے لیے یہ کہتے کہ ’’ہمارا علمی سرمایہ برصغیر میں اُردو زبان ہی میں ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس زبان کو بچائیں۔ اس زبان کے خلاف اغیار کی بہت ساری سازشیں رچائی جا رہی ہیں جن کا توڑ ہمیں کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ غرض، ایک معمولی انسان کے مضمون کو پڑھنے کے بعد اتنے بڑے رہنما کا فون پہ بات کرنا پھر ملاقا ت کے دوران تو جہ سے بات سُننا اور سوالات کا جواب دینا، یہ کسی عام انسان کا کام نہیں ہو سکتا بلکہ اس طرح کی محبت اور شفقت غیر معمولی شخصیت کے مالک انسانوں سے ہی مل سکتی ہے ۔

 یہی وہ قائد ہیں جوگذشتہ چودہ سال سے ایک ہی جگہ گھر میں نظر بند رہنے کے بعد یکم ستمبر کو جموں وکشمیر کی مظلوم قوم کو سوگوار کر گئے۔ جیسے ہی ان کا انتقال ہوا تو پوری وادی میں انٹرنیٹ اور فون کی سہولیات کو معطل کرکے کشمیر ی عوام کو اپنے محبوب رہنما کے آخری دیدار سے محروم کر دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق گیلانی صاحب کے بڑے بیٹے نعیم گیلانی نے پولیس سے کہا تھا کہ ’’ہم انھیں صبح دفن کریں گے تب تک باقی رشتہ دار بھی پہنچ جائیں گے‘‘۔ تاہم، پولیس نے ان کی میّت گھر والوں سے چھین لی۔انتظامیہ کی ان ساری حرکات پہ بھارت نواز کشمیری لیڈروں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح کے قائدین نے بھی مذمت کی اور کہا کہ آخری رسومات کا حق دیا جانا چاہیے ۔نعیم گیلانی کے مطابق اُن کے صرف ایک رشتہ دار نے جنازے میں شرکت کی، جب کہ جنازے میں ایک سو افراد نے شرکت کی جن میں کچھ پولیس اہلکار اور کچھ مقامی لوگ تھے۔ غرض یہ کہ کشمیر کے نہ جُھکنے والے اور نہ بکنے والے قائد انقلاب سیّد علی گیلانی ؒکو فورسز کے کڑے پہرے میں رات کی تاریکی میں سپردِ لحد کر دیا گیا۔ ان کے انتقال سے کشمیر کی تحریک میں اب ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا پُر ہونا فی الحال مشکل نظر آ رہا ہے کیوں کہ سب کو ساتھ چلانے والا، اپنے مخالفین سے بھی ہمدردی رکھنے والا ایسا قائد بار بار نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ کشمیر کی لُٹی پٹی قوم کو اس کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے،آمین!

ایک سودا جس میں ہمارے تجدد پسند مبتلا ہیں،یہ ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کو ہر ممکن طریقے سے باور کرانا چاہتے ہیں کہ ’اسلامی طرزِ حیات کا عرب تہذیب وثقافت ، خصوصاً عربی زبان سے کوئی تعلق نہیں ہے‘۔ ان کے خیال میں ’قرآن کریم کی کلاسیکی عربی کی اشاعت اور عربی کا مسلمان ملکوں کی سرکاری زبان قراردینا کسی اعتبار سے بھی اسلام کی غرض وغایت کی تکمیل میں معاون نہیں ہوسکتا‘۔

مسلم معاشروں میں بعض حضرات تو اس سلسلے میں غلط طور پر خلط مبحث سے کام لیتے ہیں۔ انھیں یہ تسلیم کرنے میں تامّل ہے کہ نو مسلم عربی ناموں کو اپنا نا پسند کرتے ہیں۔  دلیل کے طور پر وہ قرآنِ کریم کے انگریزی مترجم محمد مارما ڈیوک پکتھال (۱۸۷۵ء - ۱۹۳۶ء) ایسے مشہور نو مسلموں کا نام لیتے ہیں اور بڑے اصرار کے ساتھ کہتے ہیںکہ وہ ایک مخلص مسلمان تھے، اس کے باوجود انھوں نے اپنا انگریزی نام برقرار رکھااور صرف ’ محمد ‘کا اضافہ کیا۔ مارما ڈیوک پکتھا ل کے مخلص اور سچے مسلمان ہونے میں کسے شک ہو سکتا ہے ؟ قطع نظر اس کے کہ انھوں نے اپنے لیے کون سا نام پسند کیا، دنیائے مغرب میں ان کی اسلامی خدمات پر شاذہی حرف گیری کی جا سکتی ہے ۔ تاہم، یہاں سوال جائز اور مباح کا نہیں مرجح اور مستحسن کا ہے۔

اگرچہ شریعت کی رُو سے غیرعربی نام برقرار رکھا جا سکتا ہے لیکن مستحسن یہ ہے کہ نو مسلم اپنا پورا نام مسلمانوں کا سار کھے اور کوئی ایسا نشان باقی نہ رہنے دے، جس سے اس کی سابقہ غیر اسلامی زندگی کا پتا چلتا ہو۔ ٹھیک یہی بات لباس کے متعلق بھی کہی جا سکتی ہے۔ مغربی لباس اگر معقول اور شائستہ ہو تو ایسی پوشش سے اسلام کی کسی تعلیم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ بے شک وہ جواز کی حد تک قابلِ قبول ہے لیکن کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار محبت اور اتّباعِ سنت کی خاطر    یہ زیادہ مستحسن نہ ہو گا کہ ہم حتی الوسع وہ لباس زیب تن کریں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا؟ جب ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث میں مسلمانوں کوغیر مسلموں کے طور اطوار اور لباس کی نقالی نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے تو اس عمل کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سنت کو سراہا اور اس کے اتّبا ع کی ہدایت فرمائی ہے اور یہ سنت چھوٹے چھوٹے امور پر بھی حاوی ہے، مثلاً ایک طباق میں بہت سے لوگوں کا مل کر کھانا، فرش پر بچھی ہوئی چٹائیوں اور بالوں کے کمبلوں پر بیٹھنا اور سونا، داڑھی رکھنا، جُبّے اور پگڑیاں پہننا اور عربی زبان بولنا ___ بے شک یہ اعمال نماز، روزے ، حج اور زکوٰۃ کی طرح فرض نہیں ہیں۔ ان کا اہتمام نہ کرنے سے آدمی گناہ گار نہیں ہوتا، لیکن انھیں محض ساتویں صدی کے بدوئوں کے لیے موزوں قرار دے کر ان کی تحقیر کرنا اور جدید مغربی اطوار کو فوقیت دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر وتضحیک کے مترادف ہے۔ پھر وہ شخص اپنے آپ کو ایک اچھا مسلمان کیسے سمجھ سکتا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کو بوجھ کے طور پر دیکھتا ہے۔

تنقیح طلب امر یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے عرب اجزاء کی اہمیت کو گھٹانے کی جو کوشش کر رہے ہیں، اس کا محرّک کیا ہے؟ یہی عرب خصوصیات اسلام کو امتیازی وجود اور تہذیب عطا کرتی ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس پر تجدّد پسند نہایت شدّومد سے اعتراض کرتے ہیں۔ تجدّد پسند تحریک کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو حتی الامکان زیادہ سے زیادہ تہس نہس کرلیں، مگر ایسے انداز سے کہ غافل مسلمان غضب ناک ہونے نہ پائیں۔ چنانچہ وہ اسلام کے بدن سے ہڈیوں تک گوشت نوچ لینے کی سعی میں مصروف ہیں،ان کابس چلے تو ہڈیاں بھی نہ چھوڑیں ۔ وہ اسلام کے ان تمام تصورات پر یلغار کر رہے ہیں جو اسے دوسرے مختلف نظام ہائے حیات سے الگ تہذیبی استقلال اور ٹھوس امتیازی خصوصیت عطا کرتے ہیں۔

ان مغرب زدہ نام نہاد مسلمانوں کا اصرار ہے کہ اسلام چند عمومی اصولوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک اسلام روا داری ، اخوت، خیر خواہی اور امنِ عالم کا نام ہے۔ فلاحی ریاست، لبرلزم، عقلیت پسندی،نظریۂ عملیت، انسان دوستی (Humanism)اور مادی ترقی ہی اسلام ہے۔ تجدّد پسندوں کا اسلام اتنا لچک دار اور لا محدود ہے کہ وہ کوئی بھی چیز بن سکتا ہے اور ہر سانچے میں ڈھل سکتا ہے۔ اور جب وہ کوئی بھی چیز بن سکتا ہے تو گویا کچھ بھی نہیں رہتا، چنانچہ ٹھیک یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے تجدّد پسند جدو جہد کر رہے رہیں۔

آج سے کم و بیش تیس برس پہلے واشنگٹن یونی ورسٹی کے پروفیسر سڈنی کابرٹ نے اردو زبان کی بین الاقوامی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے اسے’’دنیا کی دوسری بڑی زبان قرار دیا تھا‘‘۔ ایک اور سروے کے مطابق اردو برعظیم کے علاوہ دنیا کے چوالیس سے زیادہ ملکوں میں بولی جاتی ہے۔ عالمی زبانوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ایک سروے میں چینی اور انگریزی کے بعد اردو کو تیسری بڑی عالمی زبان قرار دیا گیا۔

یہ امر بہرحال ہرشبہے سے بالا ہے کہ اردو کا شمار عالمی زبانوں میں ہوتا ہے اور یہ بات بجائے خود اہلِ پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ اس عظیم زبان کو وطن عزیز میں ابھی تک وہ مقام نہیں ملا، جس کی یہ بجا طور پر مستحق ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قومی آئین میں آرٹیکل ۲۵۱ کے تحت یہ بات واضح طور پر تحریر ہے کہ ۱۹۸۸ء تک قومی زبان اردو کو پورے پاکستان میں سرکاری زبان کے طور پر نافذ کردیا جانا لازم ہے۔ یہ سنہ بھی گزر گیا اور اس پر ۳۳ برس کا مزید عرصہ بھی گزر چکا مگر اونٹ اب تک کسی کروٹ نہیں بیٹھا۔

اس دوران ملک کی سب سے بڑی عدالت میں رٹ دائر کی گئی اور ایک لمبی بحث و تمحیص اور حکومت کے تاخیری حربوں کے باوجود ۸ستمبر ۲۰۱۵ء کو اردو کے حق میں ایک تاریخ ساز فیصلے کا ظہور ہوا۔ یہ رٹ جو دراصل دو الگ الگ رِ ٹوں کی صورت میں محمد کوکب اقبال اور سیّد محمود اختر نقوی نے داخل کی تھی، اپنے نفسِ مضمون کے باعث ایک ہی قرار دی گئی اور اس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلہ صادر کیا۔ یہ فیصلہ ایک بنچ نے کیا جس میں خواجہ صاحب کی معاونت دوفاضل ججوں دوست محمد خاں اور قاضی فائز عیسیٰ نے کی۔ اس فیصلے تک پہنچنے میں اعلیٰ عدالت کو کس ہفت خواں سے گزرنا پڑا، آئیے ان مراحل پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

سال ۲۰۱۵ء میں جو اس کیس کا سالِ سماعت تھا، اس کیس کی اٹھارہ بار سماعت ہوئی اور ہر بار کوئی نہ کوئی حیلہ بہانہ تراشا گیا۔ چار بار تو ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوتے رہے اور جامع بیان جمع کرانے کے لیے ہر بار وقت مانگتے رہے۔ پانچویں پیشی پہ انھوں نے گویا ہتھیار ڈال دیے اور کہا کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت پاکستان کے کیبنٹ سیکرٹری اور سیکرٹری اطلاعات وغیرہ نے عدالتِ عظمیٰ کے احکامات پر کان نہیں دھرے۔ ایک مرحلے پر وفاقی حکومت ِ پاکستان کے غیر سنجیدہ رویے کے باعث حکومت پر ہرجانہ بھی عائد کیا گیا۔ پھر دوسرے مرحلے پر کہا گیا کہ وزیراعظم ملک سے باہر ہیں۔ ان افسوس ناک حیلہ تراشیوں پر یاد آتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دورِحکومت میں حنیف رامے صاحب نے، جو اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے (پروفیسر فتح محمد ملک ان دنوں ان کے مشیر تھے) یہ فیصلہ کیا کہ کم از کم پنجاب کی حد تک اردو کو سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر نافذ کر دیا جائے۔ رامے صاحب اور پروفیسر ملک صاحب اس معاملے میں بہت پُرجوش تھے، مگر جب بھٹو صاحب سے اس کا ذکر کیا گیا تو انھوں نے رامے صاحب سے کہا کہ ’’پنجاب میں ایسا کوئی اقدام نہ کیا جائے کیونکہ ہمیں سندھ میں الیکشن بھی لڑنا اور جیتنا ہے!‘‘

سچی بات تو یہ ہے کہ برعظیم کی زبانوں میں اردو ہی ایک ایسی زبان ہے، جو اس کے طول و عرض میں سمجھی جاتی ہے اور صرف وہی قومی اور سرکاری زبان بننے کی اہل تھی اور ہے، مگر اس سلسلے میں سوائے ظاہری عذر تراشیوں اور درپردہ سیاسی اور لسانی تعصبات نے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو طاقِ نسیاں پر رکھا ہوا ہے۔ بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی مصلحت کیشی اور ذاتی منفعت کوشی کی سپاہِ سیاہ نے اردو کے نفاذ میں کس قدر روڑے اٹکائے اور معاملے کو اس قدر اُلجھائے رکھا کہ اب تک یہ معاملہ سلجھتا نظر نہیں آتا اور افتخار عارف کا یہ شعر یاد آئے بغیر نہیں رہتا:

کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے     یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہو گا

مگر لگتا ہے کہ سازشوں اور لسانی تعصبات کے تماشے کے جلد ختم ہونے کا امکان نہیں گو کہ بالآخر نابود ہونا اس کا مقدر ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے مذکورہ حیلہ تراشیوں کے ضمن میں بڑا واضح موقف اختیار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’حکومت اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اسے آئین کے آرٹیکل ۲۵۱پر عمل نہ کرنے کا حق یا اجازت حاصل ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ آرٹیکل ۲۵۱ کی زبان پر غور کریں تو اس بارے میں کسی غلط فہمی کی گنجایش نہیں رہتی۔ اس کے متن میں لفظ ”شیل“ Shall کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ اس حکم پر عمل درآمد اختیاری یا کسی کی منشا کا پابند نہیں بلکہ یہ ایک لازمی امر ہے۔ لہٰذا آرٹیکل ۲۵۱کی حکم عدولی کی کوئی گنجایش نہیں۔

آگے چل کر عدالت نے آئین پاکستان کے آرٹیکل پانچ کا حوالہ دیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’آئین کی پابندی ہر شہری کا لازمی اور بلا استثنا فریضہ ہے‘‘۔ عدالتِ عظمیٰ نے یہ بھی یاد دلایا کہ ’’ریاست کے تمام اعلیٰ حکام آئین کی بقا اور تحفظ کا حلف اٹھاتے ہیں، لہٰذا وہ اپنی اس ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار نہیں دیے جا سکتے۔ آئین کی حکمرانی تب قائم ہو سکتی ہے جب اس کی ابتدا صاحبِ اقتدار طبقے سے ہو۔ اگر حکومت خود آئینی احکامات کی پابندی نہیں کرتی تو وہ قانونی طور پر عوام کو بھی آئین کی پابندی پر مجبور کرنے کی مُجاز نہیں سمجھی جا سکتی‘‘۔

 عدالتِ عظمیٰ نے اس ضمن میں ’سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بنام وفاق پاکستان‘ کے ایک مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’عدالت کا یہ اٹھایا ہوا سوال قابل توجہ ہے: یہ کام عوام کے نمایندوں اور تمام سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کا ہے کہ وہ یہ طے کریں کہ آیا اعلیٰ طبقات اور ریاست کے باقاعدہ قائم شدہ اداروں میں قانون کی حکمرانی غائب ہونے سے تو وہ لاقانونیت پیدا نہیں ہوئی جو ہمارے معاشرے میں آج سرایت کر چکی ہے؟‘‘ دراصل عدالت کے اس سوال کے پسِ پشت وہ بڑی صداقت کام کر رہی تھی کہ النَّاسُ عَلٰی دِینِ مُلوکِھِم ،یعنی عام لوگوں کا چلن اور طور طریقہ وہی ہوتا ہے جو ان کے حاکموں کا ہوتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ ’’آئینِ پاکستان کی دفعہ ۲۵۱باقی دستور سے کوئی الگ تھلگ شق نہیں بلکہ دستور کی اس دفعہ کا شہریوں کے بنیادی حقوق سے گہرا تعلق ہے۔ دستور میں مہیا کردہ ذاتی وقار کے حق کا لازمی تقاضا ہے کہ ریاست ہر مرد و زن کی زبان کو چاہے وہ قومی ہو یا صوبائی، ایک قابل احترام زبان کا درجہ ضرور دے۔ آرٹیکل ۲۵۱ کا عدم نفاذ پاکستانی شہریوں کی اکثریت کو، جو ایک غیر ملکی زبان، یعنی انگریزی سے ناواقف ہے، بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ حاکم طبقات ایک بدیسی زبان، یعنی انگریزی کے پاکستانی عوام پر تسلط سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ مقصد واضح ہے: حاکم طبقہ اور بیوروکریسی محدود مقاصد کی اسیر ہے اور یہ محدود مقاصد اس امر کے متقاضی ہیں کہ یہ لوگ ایک بدیسی زبان کے ذریعے طبقاتی اُونچ نیچ کا افسوس ناک کھیل جاری رکھ سکیں۔ حالانکہ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ: صاحب نظراں  نشۂ قوت ہے خطرناک!

نشۂ قوت میں مست و مغرور یہ طبقہ اپنے استعماری آقایانِ ولی نعمت کی تھپکیوں سے حوصلہ پکڑے ہوئے ہے۔ کاش! یہ طبقہ ہوش کے ناخن لے اور آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کو دیے گئے لسانی حقوق سے انھیں محروم کر کے فرنگی طالع آزما میکالے کی روح کو مسرور نہ کرے۔ وہی متکبر میکالے جو مغربی کتب کی ایک شیلف کو ایشیا اور عرب کے تمام ادبیات پر برتر اور بھاری گردانتا تھا۔ پاکستان کے عوام بیدار ہو رہے ہیں اور یہ بیداری اس خود غرض اسیرِ ذات استحصالی طبقے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے:

دل نامطمئن ایسا بھی کیا مایوس ہونا!
جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہو گا

مغرب ایک بار پھر افغان بحران کے بارے میں اپنے تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا شکار ہے۔ یہ مضمون ماضی اور حال کی ان غلط فہمیوں کو دُور کرنے کے ساتھ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ طالبان کی قیادت سے کیا توقعات رکھی جا سکتی ہیں۔

افراتفری کے عالم میں افغانستان سے ہونے والے امریکی فوجی انخلا کی اڑائی گئی دھول اب بہت حد تک بیٹھ چکی ہے۔اس کا آغاز اس ناقص امریکی پیش گوئی سے ہوا کہ وہاں پر اشرف غنی کی حکومت کم ازکم اٹھارہ ماہ تک توطالبان کو کابل میں داخل نہیں ہونے دے گی، اور اختتام اس ڈرون حملے پر ہوا، جس میں دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے ایک معصوم افغان شہری کو بچوں سمیت ہلاک کیا گیا۔

امریکا اور نیٹو پر طویل عرصے سے گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے لیے اس بات میں حیران ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ وہ انخلا کے حوالے سے باربار نئے شیڈول کا اعلان کیوں کرتے رہے اورپھر اپنے ہی دیے ہوئے اوقات میں تبدیلی پر اصرار کیوں کرتے تھے؟ افغانستان کے بارے میں اعداد و شمار و معلومات کا بڑا ذخیرہ جمع کرنے اور وسیع پیمانے پر تجزیہ کاروں ،سہولت کاروں اور ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے باوجود انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ISAF) اپنے دشمن کی پیش قدمی کی نوعیت کو سمجھنے میں بُری طرح ناکام رہی۔

القاعدہ کی واپسی

کابل سے امریکی فوجوں کے انخلا کے وقت برطانیہ کے وزیر دفاع بین والیس (Ben Wallace) نے اعلان کیا کہ ’’افغانستان ایک بارپھر خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے۔ افغانستان کی بکھری ہوئی تاریخ اور طالبان کی جنگجویانہ فطرت اس بات کے اشارے دے رہی ہے کہ شاید القاعدہ ایک بار پھر واپس آجائے‘‘۔ سابق امریکی سفیر ریان کروکر(Ryan Crocker)، امریکی ری پبلک پارٹی کے سینیٹر لینسے گراہم (Linsey Graham) اور بہت سے دیگر سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کی زبان سے بھی انھی خیالات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر   سی آئی اے ڈیوڈ کوہن اورڈائریکٹر ڈیفنس انٹیلی جنس اسکاٹ بیرئیر نے بھی انھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’القاعدہ اگلے چند برسوں میں امریکا پر ایک اور حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے اور افغانستان میں اس کی نقل و حرکت کے اشارے ملنا شروع ہو گئے ہیں‘‘۔

اس طرح کے پے درپے بیانات افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال کے بارے میں فرسودہ سوچ اور خیالات پر مبنی ہیں۔بنیادی سوال یہ ہے کہ القاعدہ کو صرف افغانستان تک ہی محدود کیوں سمجھا جاتا ہے؟ ۲۰۰۱ء کے بعد القاعدہ کو افغانستان کے علاوہ کئی ممالک میں پروان چڑھنے کے مواقع ملے، خاص طورپر ان ممالک میں جہاں امریکی بمباری اور مہمات کے نتیجے میں حکومتیں ختم ہوئیں اور عوام میں امریکا کے خلاف شدید غم و غصہ پیدا ہوا مثلاً عراق، یمن اور لیبیا وغیرہ۔ ان ممالک میں امریکی موجودگی اوراس کی پُرتشدد کارروائیاں ہی ان تنظیموں کے لیے عوام میں حمایت پیدا کرتی رہیں۔ درایں اثنا، داعش (ISIS) جیسی انتہا پسند تنظیموں نے تو القاعدہ کو امریکی سرزمین پر حملہ کرنے کی اہمیت اور صلاحیت رکھنےکے باوجود بہت پیچھے چھوڑ دیا۔

ان کے برعکس طالبان نے بہت سے مواقع مہیا ہونے کے باوجود افغان سرحدوں سے باہر اپنی جنگ لڑنے کی طرف کوئی جھکائو ظاہر نہیں کیا اور وہ افغانستان میں داعش کے خلاف کارروائیاں کرکے ایک طرح سے امریکی افواج کے ساتھ خاموش تعاون بھی کر رہے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں دُنیا کی کوئی بھی حکومت اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ اس کا کوئی بھی شہری کبھی کسی دوسرے ملک کے خلاف کسی حملے میں ملوث نہیں پایا جائے گا۔افغانستان میں پُرامن نظم قائم کرنے میں طالبان کی واضح دلچسپی کو سنجیدہ نہ لینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ کابل ہوائی اڈے پر داعش کا اندوہناک حملہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ طالبان حکومت پراعتماد کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ افغانستان میں داعش اور اس نوعیت کی دیگر تنظیموں کے ٹھکانوں کو ختم کریں۔

طالبان میں دھڑے بندی

طالبان کے بارے میں یہ کہنا کہ ’’وہ اندر سے متحد نہیں اور کسی بھی وقت متحارب گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے‘‘ ،غلط فہمی پر مبنی دعویٰ ہے۔ ۱۹۸۰ء کے عشرے میں اشتراکی روس کے قبضے کے خلاف منقسم مجاہدین گروہوں کی شورش اور طالبان جدوجہدکے درمیان مشابہت تلاش کرنا کسی طورپر درست نہیں۔ مغرب اس طرح کے غلط دعوے کئی بار دہراتا رہا ۔خاص طورپر اوباما کی صدارت کے دوران سنجیدہ مذاکرات سے بچنے کے لیے اس دعوے کوبہانے کے طورپر استعمال کیا گیا کہ’’ طالبان قیادت کا اپنے کمانڈروں پر کوئی کنٹرول ہی نہیں تو ہم مذاکرات کس سے کریں؟‘‘ اس طرح کے مفروضوں کی وجہ سے ہی اوباما حکومت کبھی مذاکرات شروع کرتی اور کبھی ختم کرتی اور اس کے ساتھ ساتھ ڈرون حملے بھی جاری رکھتی ۔ اپنے مفروضے کو سچ ثابت کرنے کے لیے امریکی کوششیں اس بات پر مرکوز رہیں کہ کمانڈروں کے درمیان اختلاف اور تقسیم پیدا کرکے انھیں انفرادی طورپر ختم کیا جائے، لیکن اس سلسلے میں انھیں نہ کوئی پائیدار عسکری فائدہ ہوا اور نہ کوئی سیاسی کامیابی حاصل ہو سکی۔

حقیقت یہ ہے کہ طالبان کئی برسوں سے مشاورتی قیادت اور طاقت کے متعدد مراکز کے ساتھ ایک مربوط مزاحمتی تحریک کے طورپر کام کررہے تھے۔بعض اوقات ان کے درمیان کشیدگی اور پُرتشدد کارروائیاں بھی ہوتی رہیں، لیکن مجموعی طورپر طالبان تحریک نے ان تنازعات سے نمٹنے اوراپنے اتحاد کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ظاہر کی۔امریکا کے ساتھ امن معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے گذشتہ سال اس ہم آہنگی اور اندرونی نظم و ضبط کا شان دار مظاہرہ کیا گیا۔اپنے عوامی وعدوں کے مطابق انھوں نے افغان حکومت کے ساتھ بھی امن مذاکرات کا آغاز کیا اور ان کی افواج پر حملے بھی جاری رکھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے افغان فورسز کے ٹھکانوں کو داعش کے حملوں سے بچانے کے لیے سیکورٹی کا ایک حلقہ بھی قائم کیے رکھا۔

اس سال موسم گرما میں طالبان کی انتہائی مربوط فوجی مہمات کا اگر ۱۹۸۹ء میں سویت انخلا کے بعد کی مجاہدین کی مہم سے تقابل کیا جائے تو ان میں ایک بڑا واضح فرق نظر آئے گا۔مجاہدین اپنی انتہائی کوشش کے باوجود جلال آباد پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے اور ان کی اس ناکامی نے صدر نجیب اللہ کی غیر مقبول کمیونسٹ حکومت کو اگلےتین سال تک زندہ رہنے کے قابل بنا دیا تھا ۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسری انتہا پر جا کر یہ دعویٰ کر دیا جائے کہ طالبان مکمل طور پرایک متحد فورس ہیں۔ تحریک میں ہمیشہ ڈھیلی ڈھالی مرکزیت اور انفرادی کمانڈروں کی ایک حد تک خودمختاری پر انحصار کرنا ہوتا ہے۔ طالبان کے جنگی ضابطۂ اخلاق میں بھی ناہمواری پائی جاتی رہی ہے، لیکن یہ بات عیاں ہے کہ ان کی لیڈرشپ نے تحریک کے لیے ایک واضح سرخ لائن اور اپنی پالیسیوں کے اردگرد ایک اتفاق رائے قائم کررکھا تھا۔ مجموعی طورپر تحریک بڑے پیمانے پران پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان سے تجاوز نہیں کرتی تھی۔

طالبان کی فتح میں غیر ملکی کردار

انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس(ISAF) اور افغان حکومت کئی برسوں کی ناکامیوں کے ساتھ ہمیشہ ’پاکستان کوقربانی کا بکرا بنانے‘ کے بیانیے پر قائم رہے اور یہ الزام عائد کرتے رہے کہ ’پاکستان طالبان کو مدد فراہم کرتا ہے‘۔ بغاوت اور رد بغاوت کی تاریخ کے طالب علموں کو اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہوگی کہ حکومتیں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے مزاحمت اوربغاوت کرنے والے گروہوں کی کارروائیوں کو باقاعدگی سے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے، ان کا تعلق غیر ملکی ایجنسیوں اور پشت پناہوں سے جوڑتی رہتی ہیں ۔

امریکا کی نظر میں ویت نام کے حُریت پسند ’ویت کانگ‘ اشتراکی روس اور شمالی ویت نام کے کٹھ پتلی تھے۔ فرانس کی نظر میں الجزائر کے قوم پرست مصر اور اشتراکی روس کے کٹھ پتلی تھے۔ اشتراکی روس کی نظر میں مجاہدین امریکا اور پاکستان کے کٹھ پتلی تھے اور آج امریکا، مغرب اور بھارت کی نظر میں ’طالبان پاکستان کے کٹھ پتلی ہیں‘۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہرگروہ کو کسی نہ کسی کی حمایت حاصل ہوتی ہے اورطالبان کو صرف پاکستان ہی نہیں خطے کی دیگر طاقتوں مثلاً ایران، چین، روس اور کئی عرب ریاستوں کی حمایت حاصل ہے، جنھوں نے گذشتہ عشروں میں طالبان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے اور اس کے ساتھ امریکا ،اس کے اتحادیوں اور افغان حکومت کی حمایت بھی جاری رکھی۔ ہتھیار اور مالی معاونت، بلیک مارکیٹ میں ہر کسی کو ریاستی یا غیر ریاستی مدد کے ذریعے میسرآجاتے ہیں، لیکن طالبان کے ہتھیاروں اورفوجی سازوسامان کا سب سے بڑا ذریعہ خود افغان سیکورٹی فورسز اور امریکی فورسز کا چھوڑا یا اُن سے لُوٹا اسلحہ ہی رہا ہے۔ نیٹو فورسز کواپنی ناکامی کا ملبہ غیر ملکی ایجنسیوں پر ڈالنے سے قبل اس بات پر غورکرنا چاہیے کہ اگر غیر ملکی حمایت ہی فتح میں فیصلہ کُن کردار ادا کرسکتی، تو پھر افغان حکومت کو فتح سے ہم کنار ہونا چاہیے تھا کیونکہ انھیں طالبان کی نسبت بہت بڑے پیمانے پر بیرونی فوجی اور مالی حمایت حاصل رہی لیکن اس کے باوجود وہ چند روز تک بھی طالبان کے سامنے ٹھیر نہیں سکے۔ بُری طرح شکست کھاکر اپنے انجام کو پہنچے۔

بیرونی حمایت دودھاری تلوار کی مانند ہوتی ہے۔ دوسروں پر انحصار کرنے والی باغی تحریک یا حکومت، نہ صرف اپنی مزاحمتی اور عسکری صلاحیتیں کھو دیتی ہے بلکہ بیرونی امداداسے مقامی قوت کے طورپر غیر اہم بنانے کی بھی بھاری قیمت چکاتی ہے۔ افغان حکومت کو اپنےبجٹ کا چار یا پانچ گنا بیرونی امداد کے ذریعے حاصل ہوتا رہا۔ یہ حکومت طالبان کی نسبت کئی گنا بڑی فوج اوربیوروکریسی چلا رہی تھی، جسے یہ صرف اپنے اوپر انحصار کرکے چلانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔اس سارے پاور شو کو چلانے والے افسران کی ناکامی نے یہ ثابت کیا کہ وہ طالبان کی نسبت بیرونی امداد پر کہیں زیادہ انحصار کرتے تھے۔

جہاں تک طالبان کا تعلق ہے، اس بات کا صحیح طورپر اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ وہ افغانستان میں مقامی طوپر عوام میں کس قدرمقبول ہیں۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ کئی شہروں میں جب وہ داخل ہوئے تو لوگوں نے انھیں خوش آمدید کہا ، افغان فوجی اہل کاروں نے بغیر مزاحمت کے ہتھیار ڈالے اور بہت سےشہر بغیر لڑائی کے فتح ہوگئے اور ابھی ان کی حکومت کو کابل کی سابقہ حکومت پر بھی ترجیح دی جارہی ہے۔ طالبان کے اس بیانیے نے بھی بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کی کہ غیر ملکی طاقتوں کے بل بوتے پر کابل میں ایک بدعنوان حکومت مسلط تھی۔ ان حکومتی عناصر نے ’غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مل کر پورے ملک میں ایک ایسی جنگ مسلط کی، جس سے افغانستان کی اسلامی اقدار، ثقافت، یکجہتی ،خودمختاری اورسالمیت کو بری طرح نقصان پہنچا۔ طالبان کے بیانیے نے ان لوگوں کے دلوں کو متاثر کیا، جنھوں نے برطانوی حملوں کی تاریخ پڑھی تھی،جو اشتراکی روسی قبضے سے بُری طرح متاثر ہوئے تھے اور جو ۲۰۰۱ء میں نیٹو افواج کے قبضے کے بعد ظلم و ستم کا شکار ہوئے تھے۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی طالبان بیانیے کی حمایت کی، جنھیں خود یا ان کے رشتہ داروں کو نیٹو فضائی حملوں میں نقصان پہنچا، جنھوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں یا جوآئے روز سرکاری افسران کی بدعنوانی اور ناانصافی کا شکار ہوتے رہے۔

پچھلے بیس برسوں میں نظر آنے والے بے شمار عسکری گروہوں میں سے طالبان وہ واحد گروہ ہے، جنھوں نے اپنے بیانیے کا قابل اعتماد طریقے سے دفاع کیا اور اس کی خاطر بےشمار قربانیاں پیش کیں۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ انھیں ذہنی اور مالی کمک فراہم کرنے کے لیے بے شمار ہمدرد میسر آتے رہے اور میدان جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کے خلا کو پر کرنے کے لیے نیا جوان خون بھی میسر آتا رہا۔

جلدبازی اور افراتفری میں امریکی انخلا

افغانستان پر طالبان کے مکمل کنٹرول کے بعد سے امریکی صدر جوبائیڈن کو ری پبلکن پارٹی، جنگ کے حامی ذرائع ابلاغ، امریکی خارجہ پالیسی اور مسلح امریکی افواج اور برطانیہ جیسے اتحادیوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔بائیڈن حکومت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ’انھوں نے فوجی انخلا افراتفری کےماحول میں کیا اوراسے مشروط نہ بنا کر امریکی فوج اور اتحادیوں کی قربانیوں کو ضائع کیاجو قوم کے ساتھ غداری کے مترادف ہے‘۔ لیکن دوسری طرف یہ ناقدین اس بات کا تسلی بخش جواب دینے سے قاصر ہیں کہ آخر یہ انخلا کب انجام پذیر ہونا چاہیے تھا؟اس کا صحیح وقت اور شرائط کیا ہونی چاہیے تھیں؟جس انخلا کو جلد بازی کا نام دیا جا رہا ہے، اس کاآغاز تو ۲۰۱۴ء میں ہوا، جب آئی ایس اےایف کی اکثریت افغانستان سے نکل گئی۔فوجی انخلا کا یہ سلسلہ امریکی صدربارک اوباما کی طرف سے کیے گئے بے مقصد اضافے کے پانچ سال بعد شروع ہوا تھا۔ ۱۰،۱۵ ہزار فوج جو افغانستان میں رہ گئی تھی، اور اس کا مقصد طالبان کے خلاف کوئی بڑے آپریشن کرنا تو نہیں تھا بلکہ اس کا بڑا مقصد تو افغان سیکورٹی فورس کی مدد اور تربیت کرنا تھا، تاکہ اس میں خود اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ لیکن پچھلے سات برسوں میں بھی یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکا۔

آئی ایس اے ایف مشن پر ہونے والی ایک تحقیق نے اپنا نتیجہ ان الفاظ میں بیان کیا کہ '’اصل تجزیاتی مسئلہ اس بات کی وضاحت ہے کہ ۲۰۰۱ءکے بعد کی کوششیں ایسے راستے پر کیوں قائم رہیں، جو افغان ریاست کو دوسروں پر انحصار کرنے کی طرف لے جارہا تھا …ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ ۲۰۰۱ء کے بعد افغانستان کے حوالے سے جس مشن کا حصول مقصود تھا، بالکل وہی مشن حاصل کر لیا گیا۔ ۲۰۱۲ء میں افغانستان میں مغربی طاقتوں کی سیاست اورسفار ت کاری میں تیزی سے تبدیلی آئی، حالانکہ اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ افغانستان کی ریاست کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا جاتا، مگر اس پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔

صدر بائیڈن اپنے اس دعوے میں بالکل درست ہے کہ ’انخلا کے فیصلے میں تاخیر کرنے سے کچھ حاصل نہ ہوتا‘۔ اسی طرح بائیڈن صاحب اپنے کمانڈروں کے مزید فوج اور وقت کے بے مقصد مطالبات کے خلاف مزاحمت کرنے پر بھی کچھ نہ کچھ داد کے مستحق ہیں۔ سب لوگ ان پر یہ تنقید تو کر رہے ہیں کہ افراتفری کے عالم میں انخلا کیا، لیکن اس بات کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کو کوئی تیار نہیں کہ اٖمریکا نے افغانستان میں بری طرح شکست کھائی اور اس کا فرض بنتا تھا کہ آخری انخلا سے قبل وہ طالبان کے زیر قیادت نئےسیٹ اپ کو باقاعدہ طورپر اقتدار منتقل کرتا۔

مستقبل کے امکانات

افغانستان میں نیٹو کی طرف سے مسلط کردہ بیس سالہ جنگ بالآخر اختتام کو پہنچی ۔ اس میں  ۲لاکھ۴۳ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر افغان تھے۔ اس جنگ میں طالبان فاتح قرار پائے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ فتح کس قسم کی ہوگی؟ اب تک تو کچھ امید افزا علامات دکھائی دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر کابل تک کی طالبان نے پیش قدمی کے دوران خواہ مخواہ خون نہیں بہایا۔بہت سے شہروں کی انتظامیہ اور فورسز نے مذاکرات کے نتیجے میں ہتھیار ڈالے۔ سابق افغان صدرحامد کرزئی اور عبد اللہ عبداللہ سمیت کسی مخالف لیڈر کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی گئی۔ کابل کی فتح کے بعد پنج شیرمیں ہونے والی بغاوت کو بھی صرف طاقت کے زور پر کچلنے کے بجائے افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے ختم کیا گیا اور صرف چند جگہوں پر ناگزیر فوجی کارروائیاں کی گئیں۔

۱۹۹۴ءمیں جب طالبان تحریک کا آغاز ہوا تو اس میں صرف پختونوں کے مختلف قبائل کے لوگ شامل تھے۔ ۲۰۰۹ءکے اوائل میں طالبان کی ’پشاور شوریٰ ‘نے ایک ایسا محاذ قائم کیا، جو خصوصی طورپر غیر پشتونوں کے لیے مختص تھا۔ حالیہ برسوں میں تاجک،ترکمان،ازبک اورہزارہ قبائل کے لوگ بھی طالبان کی صفوں میں شامل ہوئے۔ اس تحریک میں جزوی طورپران قبائل کی شمولیت کی وجہ سے ہی طالبان اس قابل ہوئے کہ اوباما حکومت کے فوجی اضافے کے خلاف انھوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔اس حقیقت کو ان کی حالیہ پیش قدمی کے حوالے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے جس میں شمالی صوبوں نے تیزی سے ان کے سامنے لڑے بغیر ہتھیار ڈالے۔حالیہ برسوں میں شیعہ ہزارہ برادریوں نے بھی داعش کے حملوں کے خلاف طالبان سے تحفظ مانگا اوران کے تحفظ کے بعد ہی شیعہ برادری کابل میں محرم کے جلوس نکالنے کے قابل ہوئی۔بہرحال، افغانستان میں دیگر حکمرانوں کی طرح طالبان بھی سنی اور پشتون اکثریتی حکمران ہیں اور ان کی اعلان کردہ عبوری حکومت، فاتحین کی حکومت کا تاثر دیتی ہے۔لیکن یہ کھلا سچ ہے کہ یہ فاتحین مبینہ طورپر شکست خوردہ امریکا سے زیادہ کھلے دل کے ہیں اور اپنے تمام مخالفین سے بات چیت کے لیے آمادہ ہیں۔

طالبان کو بہرحال اس بات کی عکاسی کرنے کی ضرورت ہوگی کہ جب تک وہ افغانستان کی اقلیتوں کو حکومت میں شامل نہیں کریں گے، اس وقت تک مقامی اور بین الاقوامی سطح پر انھیں وسیع قانونی جواز کے حصول میں مشکل پیش آتی رہے گی۔ان کی حکومت میں خواتین کی حیثیت نے بھی بجا طورپر خدشات کو جنم دیا ہے۔انھوں نے اسلامی فریم ورک کے اندر یونی ورسٹی کی سطح پر خواتین کے کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے حق کی حمایت کی ہے، لیکن ابھی اس میں ابہام باقی ہے۔ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس سے متعلقہ جزئیات کے بارے میں ان کی کیا پالیسی ہوگی؟

تاہم، افغانستان میں خواتین کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی ایماندارانہ تجزیے کے لیے درج ذیل قابلیتوں کا نوٹس لینا ہوگا: پچھلے بیس برسوں میں اگر خواتین کے حوالے سے کوئی فوائد حاصل ہوئے ہیں تو وہ صرف افغانستان کے چند بڑے شہروں کی خواتین اور لڑکیوں کی ایک اقلیت ہی کو حاصل ہوئے ہیں، لیکن اگر سفاکانہ جنگ کے منفی اثرات کی بات کی جائے تو خود نیٹو افواج کے ہاتھوں افغان خواتین نے وسیع پیمانے پر اموات، صدمے، چوٹیں ،عدم تحفظ اور معاشی نقصانات برداشت کیے۔دوسری بات یہ ہے کہ مغربی طاقتوں نے جنگ جاری رکھنے کے جواز کے طورپر عورتوں کے حقوق کی وجہ کو نمایاں طورپر استعمال کیا اور اس طرح خواتین کے حقوق کو قبضے کے ساتھ جوڑ کر اس بات کو یقینی بنایا کہ جب لوگ امریکی قبضے کے خلاف اٹھیں تو خواتین کے حقوق کا مسئلہ بھی متنازعہ بنے اوروہ متاثر نظر آئیں، تاکہ اس مسئلے کو مزید اچھالا جا سکے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ افغانستان میں خواتین کے ساتھ قدامت پسندانہ رویہ نہ طالبان کی وجہ سے شروع ہوا اور نہ صرف ان تک محدود ہے۔ بہت سے علاقوں میں ثقافتی معیارقبائلی روایات کے مطابق ہیں اور ان کو تبدیل کرنا آسان نہیں۔ مجموعی طورپر ثقافتی تبدیلی ایک مشکل عمل ہے، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ ہی تبدیلی آ سکتی ہے۔

اگر بیانیے کو دیکھا جائے تو بلاشبہہ آج کی طالبان تحریک ماضی سے مختلف نظر آتی ہے۔ اس کی قیادت کی صفوں میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نوے کے عشرے میں انھوں نے جس طرح کی حکومت قائم کی تھی، وہ پایدار خطوط پر استوار نہیں تھی اورموجودہ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ اسےبین الاقوامی سطح پر جواز حاصل ہو۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ طالبان ہر لحاظ سے کوئی متحدہ قوت (unitary actor) نہیں۔ اس کے بیانات اور عمل میں ہم آہنگی کا امتحان اس کے طرزِ حکومت سے ہوگا ، جنگ کے دوران اس طرح کی جانچ نہیں ہوسکتی۔اس مرحلے پر بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں اس غالب طاقت کی حکومت کو تسلیم کرے، افغان ریاست کو منجمد اثاثوں تک رسائی دے، تاکہ وہ معاشی حوالے سے اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ ایسا کرتے ہوئے ایک جامع حکومت کے قیام، شہری حقو ق کی ضمانت کے عوامی وعدوں کو پورا کرنے پر زور دیا جا سکتا ہے۔

جو لوگ پابندیوں یا زیادہ جارحانہ مداخلت کی وکالت کرتے ہیں، ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ اس عمل سے افغان عوام کی کس طرح مدد ہوگی؟ اس طرح شاید وہ اپنے غصے، غضب اوراَنا کی تسکین کا سامان تو کر سکیں گے، لیکن افغانستان میں گذشتہ چالیس برسوں کی بیرونی مداخلت کی تاریخ اس کے بالکل برعکس حقائق پیش کرتی ہے۔(الجزیرہ، انگریزی، ۱۲ستمبر۲۰۲۱ء)

ایک ایسی سیاست جو لوگوں کو خوف میں مبتلا کردے، چاہے اس خوف کی بنیاد جھوٹ پر ہی رکھی ہو، کسی بھی معاشرے کے رائے دہندگان کو متاثر کرتی ہے۔ تاریخ میں اس حکمت عملی پر ۲۰۰۱ء کے بعد امریکا کے چاروں صدور نے بھرپور عمل کیا ہے۔ انھوں نے ’القاعدہ‘ کے دیو کو  کھڑا کرکے اسامہ بن لادن کو کچھ ایسی دیومالائی شخصیت بناکر پیش کیا کہ عوام الناس کے پاس اس بیانیے کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔

جب امریکا نے بن لادن کو قتل [۲مئی ۲۰۱۱ء]کیا تو اسے وہاں سے ملنے والی دستاویزات میں ۲۰۰۲ء کے القاعدہ کے اراکین کی ایک فہرست ملی، جس میں صرف ۱۷۰ نام تھے۔اسامہ نے ان میں سے ۲۰ کی اموات کا ذکر کر رکھا تھا۔ ان میں سے صرف سات نے مقابلے میں جان گنوائی اور گیارہ کو حکام نے گرفتار کرلیا، جب کہ ۱۹؍افراد تنظیم کو چھوڑ چکے تھے۔ بن لادن اپنے منصوبے پر کئی برسوں سے کام کر رہے تھے، لیکن اپنے افرادکار کی قلیل تعداد کو ۱۰۰ سے زیادہ دکھانے کے لیے اسامہ نے اس میں اپنے ۵۰بیٹوں کا بھی اضافہ کیا۔ ان میں عمر بن لادن بھی شامل تھا جو ۲۰۰۰ء میں تنظیم چھوڑ کر فرانس کے شہر نورمنڈی میں اپنی فرانسیسی بیوی جین فیکس برائون کے ساتھ پُرآسایش زندگی بسر کر رہا تھا۔

یہ القاعدہ کے افرادِ کار کی مکمل فہرست تھی یا نہیں، لیکن ۱۰ستمبر ۲۰۰۱ء کو یہ فہرست ایک مختصر  تنظیم کی تصویر پیش کرتی ہے۔ ایسی تنظیم کہ جس سے منسوب ہے: ’ اس نے انسانی تاریخ کے ایک عظیم جرم کا ارتکاب کیا‘‘۔

اس واقعے کے بیس برس گزرنے کے بعد ہمارے سامنے یہ چیلنج اُبھر کر آتا ہے کہ امریکا جیسی سوپرپاور نے اس چھوٹے سے گروہ کو کیوں اپنے حریف کے طور پر چُنا؟

غور طلب بات یہ ہے کہ کیا القاعدہ حقیقت میں ۱۲ستمبر ۲۰۰۱ء کو دُنیا کے امن کے لیے ایک خطرہ تھی؟ لیکن اس واقعے کے علاوہ بھی انسانی امن کے لیے دیگر اور بہت بڑے چیلنج موجود چلے آرہے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم نے عمر کا ایک بڑاحصہ ایٹمی جنگ کے خوف میں گزارا ہے۔

آج کے انسان کے سامنے اس کے علاوہ ایک اور یومِ بربادی موجود ہے۔ آج ہم اپنے کرئہ ارضی کو مادی اور سیاسی ہوس اور موسمی تبدیلی کے ذریعے تباہ کرنے کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ ۲۰۲۱ء تک تقریباً ۶۰ لاکھ افراد بھوک سے اور ۴۶ لاکھ ۷۰ ہزار افراد کووڈ سے وفات پاچکے ہیں۔

۱۱ستمبر کے المیے کو اس کی اصل حقیقت سے بڑھا کر پیش کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ امریکا میں پیش آیا، لیکن نوعِ انسانی کو درپیش خطرات کے سامنے اس حادثے کی حیثیت پرکاہ سے زیادہ نہیں ہے۔ ہم سفیدفام امریکی دوسری نسلوں کی اموات میں زیادہ دل چسپی نہیں رکھتے، لیکن ۲۰۲۰ء میں صرف افغانستان میں جنگ کے نتیجے میں ۱۹ ہزار ۴سو ۴۴ ؍ اموات ہوئیں اور یمن میں ۱۹ہزار ۵۶۔

۱۱؍ستمبر اس حوالے سے بھی کوئی بڑا نادر واقعہ نہیں ہے کہ ایک چھوٹے سے ٹولے نے اتنی بڑی تباہی برپا کی۔ ۱۹۹۵ء میں ٹموتھی مک ویج ایک اکیلا فرد تھا جس نے اوکلاہوما میں ۱۶۸؍افراد کہ جن میں ۱۹ بچے بھی شامل تھے، ان کو قتل کیا اور تقریباً ۶۸۰ افراد کو شدید زخمی۔اس طرح کے شدت پسند عناصر صرف مسلمانوں ہی میں نہیں پائے جاتے بلکہ دوسری قومیں اور مذاہب کے ماننے والے بھی خودکفیل ہیں۔ مسٹر ٹموتھی ویج ایک شدت پسند تنظیم Patriot Movement کا رکن تھا، جوکہ مغرب میں دائیں بازو کی تقریباً ۱۰۰۰ ذیلی تنظیموں کا مجموعہ ہے۔  یہ تنظیم صرف امریکا کے امن کے لیے خطرہ نہیں ہے،بلکہ اسی تنظیم نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسا صدر امریکا کو بطور تحفہ دیا ہے۔

حقیقی چیلنج

۲۰۱۷ء میں Investigative Fund of The Nation Institute کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۶ء کے درمیان دہشت گردی کے تقریباً ۲۰۱ واقعات ہوئے۔ ان میں سے ۱۱۵ واقعات دائیں بازو کی امریکی تنظیموں نے کیے، جن میں ۳۳ ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے مقابلے میں اسلامی انتہاپسندوں سے منسوب ۶۳ واقعات ہوئے، جن میں آٹھ افراد کی ہلاکت ہوئی۔ اس کا موازنہ ہرسال امریکا میں ۲۰ہزار قتل کے واقعات سے کیجیے، جس میں پچھلے نو برسوں کے دوران تقریباً ایک لاکھ ۸۰ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس لیے جہاں ۱۱ستمبر کی ہولناکی کو ہم نظرانداز نہیں کرسکتے، وہیں اس بات کی مبالغہ آرائی میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ مبینہ اسلامی انتہاپسندی ۳۳کروڑ ۳۰لاکھ کے اس ملک کے لیے کوئی حقیقی خطرہ ہے۔

عام افراد کے ہاتھوں میں اسلحہ تو ہمارے لیے ایک خطرہ ہوسکتا ہے اور موسمی تبدیلی بھی یقینا ایک بڑا خطرہ ہے لیکن ایک مجنون قسم کا مسلمان ہمارے ملک کے لیے کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہے۔ ہمیں اس بات پہ سوچ بچار کرنا چاہیے کہ اسلامی انتہاپسندی ہی امریکا کی خارجہ پالیسی کا کلیدی رکن چلی آرہی ہے ، جب کہ اس مسئلے کو ایک فوجداری مقدمے کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں ہم یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ ’اسامہ بن لادن، ایک قتل عام کے ذریعے کوئی مثالی معاشرہ قائم کرنے میں کتنا برحق ہے؟ وہیں یہ سوال بھی ہمارے سامنے آتا ہے کہ ’وہ سب نقشہ اور لائحہ عمل جو امریکی جرنیلوں نے اس کے جواب میں تشکیل دیا ہے، کیا اس کے نتیجے میں بھی کوئی خیر برآمد ہوسکتا ہے؟‘

میں اپنے بچے کے اسکول کے ہیڈماسٹر سے محو گفتگو تھا۔ اس نے تقریباً دو عشرے برطانوی بحری بیڑے میں صرف کیے تھے ۔ میں نے اس سے معلوم کیا کہ تمھارے نزدیک ’جنگی مہم جوئی‘ کی کیا افادیت تھی؟ اس نے جواب دیا کہ جنگ ِ عظیم دوم کے علاوہ تمام جنگی مہم جوئیاں لاحاصل تھیں۔ ہاں، ہمیں ظلم کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کا تو ساتھ دینا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ان کے ملکوں میں گھس کر ان کی حکومت گرا دیں۔ پچھلے دو عشروں میں ہم نے بالکل یہی کیا ہے۔

افغانستان کی حالیہ جنگ سیکولرزم کی ایک زندہ مثال ہے۔ اپریل ۲۰۲۱ء تک صرف افغانستان میں تقریباً ۲لاکھ ۴۱ہزار افراد کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ اس کے باوجود آج ہم وہیں کھڑے ہیں، جہاں سے شروع ہوئے تھے۔ طالبان حکومت میں واپس آچکے ہیں۔ وہ ہیجان جو ہم نے مشرق وسطیٰ میں عراق سے لیبیا تک برپا کیا تھا، وہ اپنے عروج پر ہے۔ کوئی ہمیں یہ بتائے کہ ہماری حکومتوں نے آزادی کی بہار جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ کہاں ہے؟

یہ صرف ہماری مہم جوئی ہی نہیں ہے، جس نے ہم کو عام مسلمانوں کی نفرت کا ہدف بنایا ہے۔ ۱۷۷۶ء سے اب تک صرف ۲۰ سال ایسے گزرے ہیں، جس میں ہم [اہلِ امریکا]کسی جنگ میں مصروف نہیں تھے۔ یہاں پر ہمیں بطور امریکی اپنے بہت سے سوالوں کے جواب ان حکمت عملیوں میں تلاش کرنے چاہییں، جو امریکا دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال کرتاہے۔ امریکا جب کسی جنگ کا آغاز کرتاہے تو وہ اس کا ہدف ’جمہوریت کے فروغ‘ کو قرار دیتا ہے۔ لیکن ۲۰۰۱ء کی جنگ میں سب سے پہلے جو اصول قربان ہوا وہ قانون کی بالادستی کا اصول تھا۔ ہم بہت جلدبازی میں ایک جنگ میں کود گئے، حالانکہ اس وقت ہمیں ۱۱ستمبرکے جرم کی تحقیقات پر زور دینا چاہیے تھا۔ ہمدردی کی اس لہر سے جو اس واقعے کے نتیجے میں امریکا کو حاصل ہوئی تھی، اسے اپنی حکمت عملی کے فروغ کے لیے استعما ل کرنا چاہیے تھا، لیکن یہ کہاں کی عقل مندی تھی کہ جو گروہ شہادت [موت] کو اپنا سب سے بڑا اعزاز سمجھتا ہے، آپ خود اس کو اس اعزاز تک پہنچا دیں۔

اس پر مستزاد یہ کہ گوانتاناموبے کے قیام پر ہم نے بڑے فخریہ ڈھول پیٹے، لیکن ہم شاید یہ بھول گئے کہ قانونی چارہ جوئی سے طویل مدت تک محرومی کسی بھی طرح امریکا کے امن کی ضامن نہیں بن سکتی۔ اس ضمن میں وہ تمام اصول جو ۱۲۱۵ء میں Magna Carta کے زمانے سے ہمارے لیے مشعل راہ تھے، انھیں ہم نے اس منطق کے تحت پسِ پشت ڈال دیا اور کہا کہ ’’جنگ میں گرفتار ہونے والے مسلمان عالمی قانونی ضمانتوں سے محروم قرار دیئے جائیں گے، کیونکہ وہ ہمارے اصولِ جنگ کو نہیں مانتے‘‘۔

اسی طرح گذشتہ کئی صدیوں سے دُنیا تشدد سے دُور ہونے کی شاہراہ پر چل رہی ہے اور اس تحریک کی انتہا ۱۹۸۵ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے تشدد کے خلاف قانون UN Convention Against Torture  کی صورت میں سامنے آیا۔ لیکن ہم نے ۱۱ستمبرکے بعد پلک جھپکنے میں اس سب کو فراموش کر دیا، جس وقت ہم نے اس بات کا اعلان کیا کہ ’’تشدد کی کارروائیاں ہی ایک ’مستحکم تفتیشی عمل‘ ہے‘‘۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ اصطلاح ہم نے ہٹلر کی بدنامِ زمانہ ’گسٹاپو‘ سے اُدھار لی، جب کہ قرونِ وسطیٰ میں اس کو ’پانی میں ڈبونے کے تشدد‘ کے نام سے یاد کیا جاتا رہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہم نے اس جنرل کو، جس نے گوانتاناموبے میں اپنی سفاکی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اسی کو ہم نے ابوغریب کے افراد کو ’جمہوریت کا سبق‘ سکھانے پر مامور کر دیا۔

اسی دوران میں ہم [۲۰۰۳ء میں]عراق پر حملہ آور ہوچکے تھے۔ جب ’بہارِ عرب‘ کی لہر نے روشنی کی ایک نئی کرن پیدا کی تو ہم نے یا تو ان نومولود اکائیوں کی پشت میں خنجر پیوست کیا جیساکہ مصر میں ہم نے ایک عسکری انقلاب کی صورت میں جمہوریت کی پھوٹتی کونپل کو جڑ ہی سے کاٹ کر رکھ دیا۔

اسی دوران دستوری قانون کے پروفیسر بارک اوباما، امریکی صدر بنے تو انھوں نے تشدد کی جگہ قتلِ ناحق اور حقِ دفاع کے لیے ڈرون کا بے دریغ استعمال کیا۔ گویا کہ ایک انسان کو لمحہ بھرمیں قیمے کا ایک ڈھیر بنا دینا، گوانتاناموبے میں کئی سال سڑنے سے بہترلائحہ عمل اختیار کیا گیا۔

ہم یہ کہنے کی کب کوشش کریں گے کہ ’’منافقت وہ خمیر ہے جس سے نفرت جنم لیتی ہے، اور اس سے بڑھ کر منافقت کیا ہوسکتی ہے کہ ہم ایک مہم برائے فروغ جمہوریت کا آغاز، لوگوں پر تشدداور اذیت ناک سزائوں کے ذریعے کریں‘‘۔ ان تمام غیرانسانی، غیراخلاقی اور غیرقانونی کارروائیوں کا وہی نتیجہ نکلا، جو نکلنا چاہیے تھا۔ جن لوگوں کو ہم نے اپنا گرویدہ بنانا تھا، ان تمام لوگوں کو ہم نے اپنے آپ سے دُور کر دیا۔

صدر بائیڈن نے حال ہی میں کہا ہے کہ ہم نے تقریباً دو کھرب ڈالر یا تقریباً ۵۰ہزار ڈالر ہر افغان فرد پر خرچ کیے ہیں۔ عالمی بنک کے مطابق اس غریب ملک کے فرد کی سالانہ آمدن تقریباً ۵۰۰ ڈالر ہے۔ گویا میرے ٹیکس سے حاصل افغانستان کی سوسال کی آمدن کے برابر ہے لیکن اتنی بڑی رقم سے ہم نے کیا حاصل کیا؟ ہم نے یہ خطیر رقم اپنی اسلحہ ساز کمپنیوں کے کاروبار اور افغان حکومت کے بددیانت افراد پر خرچ کی۔ افغانوں کو اس دولت سے کیا حاصل ہوا؟ [الجزیرہ، انگریزی، ۱۱ستمبر ۲۰۲۱ء]

افغانستان پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کس طرح سے حملہ کیا؟ اس کے بارے میں ٍمعروف ابلاغی مراکز بشمول بی بی سی ہمیں سچی کہانی نہیں سناتے۔ میڈابنجمن اور نکولس جے ڈویز نے افغانستان پر حملے سے متعلق ایک مضمون میں بیان کیا ہے کہ نائن الیون کے حملوں کے تھوڑی ہی دیر بعد پینٹاگون کے ایک محفوظ حصے میں، ڈونلڈ رمزفیلڈ نے اپنے رفقائے کار کے ساتھ ایک نشست میں کہا: ’’اس بات کا جائزہ لیں کہ عراقی صدر صدام حسین پر اسی وقت حملے کے لیے کافی معلومات موجود ہیں نہ کہ اسامہ بن لادن پر حملے کے لیے۔ یہ معلومات تیزی سے جمع کی جائیں خواہ وہ متعلقہ ہوں یا غیرمتعلقہ‘‘۔ چنانچہ نائن الیون کے چند ہی گھنٹوں بعد ملٹری لیڈر عالمی سطح پر جنگ کے جواز کے لیے متحرک ہوگئے۔

  • طالبان کی پیش کش: افغانستان پر امریکی قیادت میں حملہ نہ صرف مجرمانہ فعل تھا بلکہ مکمل طور پر غیرضروری تھا۔ طالبان نے اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے کی پیش کش کی تھی کہ اگر نائن الیون حملوں میں اس کی شمولیت کے ثبوت فراہم کر دیئے جائیں۔ مگر اس پیش کش کو نظرانداز کردیا گیا اور افغانی عوام پر بمباری شروع کر دی گئی اور اس مقصد کے لیے جھوٹ کا بھرپور سہارا لیا گیا۔

نیویارک میں نائن الیون حملوں کے بارے میں سچ کیا ہے؟ سی آئی اے کے ایک اندرونی کارکن سوسن لنڈیئر کے فراہم کردہ ثبوت کے مطابق، سی آئی اے عالمی تجارتی مرکز پر حملوں کی منصوبہ بندی سے اپریل ۲۰۰۱ء سے بھی قبل آگاہ تھا۔ لنڈیئر کے مطابق یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ عمارت سے جہازوں کے ٹکرانے سے یہ منہدم نہ ہوگی، اس لیے حادثے کو جانتے بوجھتے تباہ کن بنایا گیا اور امریکی خفیہ کارندوں نے دھماکے سے اُڑ جانے والے دھماکا خیز مادے کو نصب کیا۔

دیگر شہادتیں بھی لنڈیئر کے دعوے کی تائید کرتی ہیں۔ نیویارک میں بہت سے لوگوں نے عالمی تجارتی مرکز کی عمارت کے ٹکڑوں کو بطورِ نمونہ محفوظ کرلیا تھا۔ ان کے کیمیائی تجزیے سے ایک عنصر Nanothermite کی موجودگی کا ثبوت ملتا ہے، جو بڑی شدت سے حرارت پیدا کرتا ہے، اور مضبوط اور آسمان کو چھوتی عمارتوں کے سٹیل کے ڈھانچے کو پگھلانے میں استعمال کیا گیا۔ عمارت کے انہدام کی وڈیوز سے یوں دکھائی دیتا ہے، جیسے دونوں عمارتیں کسی ’کنٹرول سسٹم‘ کے تحت گرر ہی ہوں۔ وڈیوز میں عمارتوں سے پگھلا ہوا سٹیل باہر نکلتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے۔ مزید برآں کھنڈرات میں تازہ تازہ پگھلے ہوئے سٹیل کے تالاب بنے ہوئے پائے گئےمگر فی الفور عوام کو دیکھنے پر  پابندی عائد کر دی گئی۔عمومی آگ سے درجۂ حرارت اتنا زیادہ نہیں ہوتا کہ لوہا پگھل جائے۔ نیویارک فائرڈیپارٹمنٹ کے کارکنوں نے بتایا کہ ’’انھوں نے عالمی تجارتی مرکز کی عمارتوں کے انہدام سے قبل بہت سے دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں‘‘۔

اس طرح امرواقعہ ہے کہ نائن الیون کے بارے میں سرکاری موقف جھوٹ پر مبنی ہے اور امریکی حکومت نے خود آگے بڑھ کر تباہی کو بدترین بنایا، تاکہ ایک نہ ختم ہونے والی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے لیے جواز پیدا کیا جاسکے اور امریکا میں شہری آزادیوں پر قدغن لگائی جاسکے۔ حیرت کی بات ہے کہ عالمی تجارتی مرکز پر حملے کے سرکاری موقف کو بہت کم لوگ چیلنج کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور جو اسے چیلنج کرتے ہیں وہ ’لیفٹسٹ‘ہیں یا ’دہشت گردوں کے ہمدرد‘۔ جیساکہ امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا: ’’آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے مخالف ہیں‘‘۔

  • عالمی تجارتی مرکز کی تباہی - چند حقائق: ۲۰۱۵ء میں، نائن الیون کے بارے میں ماہر تعمیرات اور انجنیروں کی تنظیم ’نائن الیون کا سچ‘ نے Beyond Misinformation (غلط معلومات سے ماورا) کے عنوان سے ۵۲صفحات کی ایک رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ سے کچھ اقتباسات پیش ہیں:

’’سٹیل فریم کی بنی ہوئی بلندوبالا عمارتوں کے مکمل انہدام کو ’کنٹرول سسٹم‘ کے ذریعے ہی ممکن بنایا گیا ہے۔ آگ سے کبھی بلندوبالا عمارتوں کا مکمل انہدام نہیں ہوتا، اگرچہ بلند عمارتوں میں بکثرت آگ لگنے کے واقعات ہوتے ہیں۔

’’اگر عالمی تجارتی مرکز کی عمارت نمبر ایک، دو اور ساتویں کی تباہی کا سبب آگ لگنا ہے تو یہ اس نوعیت کی بلندوبالا سٹیل فریم عمارتوں کے مکمل طور پر انہدام کا تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے (بشمول پہلی اور دوسری عمارت کو جہاز کے ذریعے پہنچنے والا نقصان)، جب کہ آگ لگنے سے انہدام کی کوئی علامت نہیں نظر آتی ہے۔

’’ایڈورڈ منیاک، آگ سے محفوظ رکھنے والا انجنیرکہتا ہے:انہدام کا واقعہ ہونا ہی غیرمعمولی ہے، لیکن تین واقعات کا ایک ہی دن میں رُونما ہوجانا سمجھ سے بالاتر ہے‘‘۔

’’ ایک دوسرے ادارے کی رپورٹ میں عالمی تجارتی مرکز کی عمارتوں کے تیزی سے انہدام (free fall) کی وضاحت صرف نصف صفحے پر مبنی تھی، جب کہ مکمل رپورٹ ۱۰ہزارصفحات پر مشتمل ہے جس کا عنوان: ’انہدام کی ابتدا سے متعلق واقعات‘ہے‘‘۔اس رپورٹ میں انہدام کی رفتار پر صرف یہ کہا گیا ہے: ’’نیچے کے فرش اسے نہ روک سکے۔ اس لیے ہم نے اس بات کا تعین کرنے کے لیے کوئی اعداد و شمار جمع نہیں کیے… عالمی تجارتی مرکز کی دوسری عمارت سے پگھلا ہوا لوہا نہ صرف نظر آرہا تھا بلکہ درجنوں عینی شاہدوں نے تینوں عمارتوں کے ملبے میں انھیں دیکھا‘‘۔

شکوک و شبہات کو پرکھنا چاہیے:سیاسی قائدین عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بکثرت جھوٹ بولتے ہیں۔ ہم ہٹلر کے جھوٹ اور false flag  واقعات کو جو دوسری جنگ ِ عظیم کے آغاز پر پولینڈ پر حملہ آور ہونے کے لیے پیش آئے یاد کرسکتے ہیں۔ پنٹاگون کی دستاویزات کو ڈینیل ایلزبرگ نے بڑی جرأت سے شائع کیا ہے، جن سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ ویت نام کی جنگ کی بنیاد بھی جھوٹ پر مبنی تھی۔ عراق پر مارچ ۲۰۰۳ء میں حملے سے قبل بھی جھوٹ بولے گئے۔ غالباً یہ درست ہے کہ عوام کو ہرجنگ سے قبل، جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد میں جھوٹ بول کر ورغلایاجاتا ہے۔ ہمیں اپنے سیاسی قائدین اور ذرائع ابلاغ کے پیدا کردہ شکوک و شبہات سے ضرور سبق سیکھنا چاہیے۔ (کاؤنٹر پنچ، ۲ستمبر ۲۰۲۱ء)

جدید معاشروں کی سرگرمیاں پانچ وسائل سے متعین ہوتی ہیں: جدید سائنس، ٹکنالوجی، سرمایہ، انسانی عقل اور خواہشاتِ نفس۔ جدید مغربی تہذیب کے یہی پانچ بڑے خدا ہیں۔ جدید تعلیم یافتہ انسان اپنے ہرمسئلے کے حل کے لیے انھی پانچ خدائوں کی طرف دیکھتا ہے ۔ان کے ہاں کوئی مسئلہ اسی وقت بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، جب یہ پانچ خدا اس کا حل دینے میں ناکام ہوجائیں۔ ایسی صورت میں جدید معاشرہ شدید خوف، گھبراہٹ اور مایوسی کاشکار ہوجاتا ہے۔

ایمان لانے والے فردکا معاملہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھلے مقصد کے لیے ان وسائل کو اپنے ایمانی نقطۂ نظر کے تحت دیکھے اور دین کی شرائط بندگی پر بروئے کارلائے۔ لیکن اس قابل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان پانچ وسائل کی پوشیدہ قباحتوں سے بخوبی واقف ہو اور ان کے امکانی شر سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے نفس کی نگرانی اورتزکیہ کرتا رہے۔ ایمانی تناظر میں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب مسلمان کا بھروسا، اعتبار، یقین اور اُمیدیں ان پانچ اسباب پر قائم ہوجائیں اور وہ ان اسباب کے نفسیاتی، معاشرتی اور ماحولیاتی نقصانات سے لاعلم رہتے ہوئے ان کا استعمال کرتا رہے۔

چونکہ جدید مغربی تہذیب کی ترقی کی بنیاد خدائے واحد اور روح کے انکار کو قرار دیا جاتا ہے، لہٰذا اس کا تصورِ مسئلہ بھی مادی ہے اور اس کی تشخیص کے اسباب اور حل کی نوعیت بھی مادی ہے۔ وہ مسائل جو غیرمادی یاروحانی نوعیت کے ہیں،ان کی شناخت جدید سائنس نہیں کرپاتی اور اگر کسی وجہ سے وہ عیاں ہو بھی جائیں تو انھیں توجہ کے لائق نہیں سمجھا جاتا۔ جدید سائنس، مادی دنیا کے حوالے سے اپنی دانست میں جو مفروضے اوراندازے قائم کرتی ہے اور انکشافات اورایجادات ممکن بناتی ہے، وہ عموماً انسان کی مادی خواہشات ہی کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کی زندگی کی معنویت کا نہیں۔زندگی کی معنویت کا تعین کرنے والا نظام، الہامی ہدایت سے استفادہ کرکے ہی ممکن ہے۔

انسان کی زندگی کا بامعنی ہونا، اس کی زندگی میں آسایشوں کے ہونے سے کہیں زیادہ ضروری اوراہم ہے۔ جدید سائنس اور ٹکنالوجی نے کائنات میں فساد پیدا کرنے کے علاوہ انسان کو سرمایہ دارانہ نظام کی غلام گردشوں میں اُلجھا کر رکھ دیا ہے۔ مسلمان کی ذمہ داری یہ تھی (اور یہ ہے) کہ جدید سائنس اور ٹکنالوجی کی بنائی ہوئی دُنیا کااسیر بننے کے بجائے اس فساد کی نشان دہی کرے، جو ہوس کے نتیجے میں سائنس اور ٹکنالوجی نے پیدا کررکھا ہے اور جس سے مغربی دنیا کا عام آدمی ابھی تک ناواقف ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آج کا مسلمان اپنے ضعف ِ علم و ایمان کے باعث اس فرق کو نہیں  پہچان پایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے، غالب مغربی تہذیب کے علمی اورعملی انکارکے بجائے اس کی مرعوبیت اورغلامی کا بُری طرح شکار ہیں اور ترجیحات کی لگ بھگ اُسی ترتیب میں اپنے معاملاتِ زندگی طے کر رہے ہیں، جو خدائے واحد کے انکار کرنےوالوں نے بنائی ہے۔

محض سرمایے کی محبت اور اس میں اضافے کی فکر اور اس سے اپنی توقعات کا وابستہ ہوجانا، مسلمان کے ایمان کے لیے انتہائی مہلک ہے۔مال اسی صورت میں اللہ کا فضل ہے، جب تک مسلمان کا دل اس کی محبت سے خالی ہے۔ بصورتِ دیگر یہ ایک بڑا فتنہ ہے۔ مسلمان کے پاس جتنی بھی دولت آجائے، اس کی اپنے مستقبل سے بے فکری کی بنیاد، سرمایے پر بھروسا یا انحصار نہیں بلکہ اللہ کی رزّاقی پریقین ہونا چاہیے۔ اسی طرح مسلمان کو تنگدستی میں بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے سرمایے کی تمنا کرنے کے بجائے اللہ کی مدد پر بھروسا کرتے ہوئے اپنے حصے کی کوششیں کرنی چاہییں۔

عقل اللہ کی دی ہوئی انتہائی اہم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ عقل کے تین بڑےامتیازات ہیں: پہلا یہ کہ عقل، حقیقت تک پہنچنے میں انسان کی مدد کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کا حقیقت تک پہنچنا اس کی روشن مثال ہے۔ دوسرا یہ کہ عقل ، علم نافع کی روشنی میں نفس کے میلانات اورداعیات کا محاسبہ کرتی ہے۔ تیسرا یہ کہ عقل، معاملاتِ زندگی کو سمجھنے اورمسائل کو حل کرنے میں انسان کی مدد کرتی ہے۔

انسان کی فطرت اسے فوری فائدے کی طرف للچاتی ہے اورعقل یہیں دھوکا کھاجاتی ہے۔ وہ بڑی تمکنت کے ساتھ چندروزہ زندگی کے فائدے کو ہمیشہ کی زندگی کے فائدے پر فوقیت دے کر یہ سمجھتی ہے کہ اس نے بڑا کمال کیا ہے۔ پھر غالب تہذیب کا تصورِ کامیابی اس کے ایمانی تصورِ کامیابی پر غالب آجاتا ہے۔ عقل کا دوسرا بڑا مسئلہ اس کا گھمنڈ اور اپنی استعداد پرناز ہے۔ عقل کی یہ ترنگ اسے وحی سے بے نیاز کردیتی ہے۔ انسان اس صورت میں اس زعم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ خیر اور حق کا تعین خود کرسکتا ہے۔ اس کا اپنی عقل پر یہ ایمان پیدا ہوجاتا ہےکہ میری عقل ہرمسئلے کا حل دے سکتی ہے۔ مجرد عقل کے ساتھ گمراہ ہونے کی بہت بڑی مثال ابوجہل کی ہے، جس کو اس کی قوم نے عقل میں بلند ہونے کی وجہ سے ابوالحکم کا خطاب دے رکھا تھا۔

ابلیس نے جب آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا، تو اس کی بنیاد عقل کی ایک منطق تھی کہ ’’مَیں جو آگ سے بنا ہوں، اس گارے سے بنی مخلوق کے آگے کیوں سر جھکا دوں‘‘۔ ابلیس نے اللہ کی اطاعت کو محض عقل کے تابع کرنے کی کوشش کی۔ دین کے تناظر میں عقل، منصف نہیں ہے۔ بلکہ بندگی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے وجود کو، جس میں عقل بھی شامل ہے، اللہ کا مطیع بنالے۔ سجدہ اسی بات کا علامتی اعتراف ہے کہ انسان اپنی عقل کو اللہ کے علم، حکمت، دانائی اورقدرت کے سامنے کچھ نہیں سمجھتا۔ اپنی عقل کے بھرپور استعمال کے باوجود اس کا اصل بھروسا اور یقین اللہ کے علم و حکمت پر ہے۔

یہی اس کا تصورِ عقل مندی ہے۔ بندۂ مومن کی عقل، اللہ کی اطاعت کرنے میں حیل وحجت نہیں کرتی۔ درحقیقت اسی عقل کو عقلِ سلیم کہتے ہیں۔ جدید مغربی تہذیب میں عقل کا بہت بڑا مصرف، نفسانی خواہشات کی تکمیل کے راستے تلاش کرنا اور ان پر چلتے رہنا ہے۔ ایمانی مناسبت سے عقل کا ایک بہت اہم مصرف ان خواہشات کا تجزیہ اور محاسبہ ہے۔ انسان کا اگر ہرلمحہ تزکیہ ہوتا رہے اور اسے نفسِ مطمئنہ حاصل ہوجائے تو اس کی خواہشات بہت نفیس اور پاکیزہ ہوجاتی ہیں۔

انسان کی بے پناہ خواہشات اسے نفس کی غلامی میں دھکیل دیتی ہیں۔ انسان کی خواہشات چپکے چپکے اس کا اِلٰہ بن جاتی ہیں۔ جھوٹے ربّ اور جھوٹے الٰہ کا فرق سمجھنا بھی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اگر انسان غیرمشروط طورپر اپنے دل کی خواہشات کے پیچھے چل رہا ہو یا اس کی پیروی کر رہا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ خواہشات اس کا الٰہ ہیں۔ اور اگر وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس کی عقل سارے مسائل حل کردے گی تو اس کا مطلب ہے کہ عقل کو ربّ کادرجہ مل گیا ہے۔ ربّ اور الٰہ کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ مسلمان خود کو جھوٹے خدائوں کے پھندے سے نکال سکے۔ جدید مغربی تہذیب اور سرمایہ دارانہ نظام ان پانچ جھوٹے خدائوں کے گٹھ جوڑ کی کہانی ہے۔ جس نے اللہ کی نشانیوں کو نظر سے اوجھل کرکے سارے عالم کو بُت کدہ نما بنا دیا ہے۔انھی جھوٹے خدائوں نے آج مسلمانوں کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے۔

اس وقت کرونا وائرس کے نتیجے میں جو صورتِ حال پیدا ہوئی ہے اسے دنیا کچھ وقت کے لیے تو سمجھ ہی نہیں پائی کہ یہ مسئلہ کیا ہے اور اس کو کیسے سنبھالنا ہے۔ کچھ سمجھ میں نہ آنے والی کیفیت ، گھبراہٹ اور شدید خوف کا باعث بن گئی۔ ایسا خوف جو انسان کی نفسیاتی اور جسمانی صحت کے لیے مضر ہو،وہ ایمان کی کمی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور پھر ایمان کو مزید کمزور تر کر دیتا ہے۔ خوف کی ایسی صورتِ حال پیداہوجائے تو پھر اللہ کے سوا دنیا کی کوئی طاقت اسے انسان سے نہیں نکال سکتی۔ وہ لوگ جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں، انھیں بے خوف اور بے غم رکھنے کے لیے اللہ، فرشتوں کو خصوصی احکامات کے ساتھ نازل کرتا ہے:

جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا ربّ ہے، اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقینا اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اُن سے کہتے ہیں کہ ’’نہ ڈرو نہ غم کرو ، اور خوش ہوجائو اُس جنّت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اس دُنیا کی زندگی میں بھی تمھارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمھیں ملے گا اور ہرچیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمھاری ہوگی، یہ ہے سامانِ ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے۔(حٰم السجدہ ۴۱: ۳۰-۳۲)

جب انسان ایک اللہ کو چھوڑتا ہے تو اسے بہت سارے خدا بھی کافی نہیں ہوتے۔ مغربی نفسیات میں ’ذہن کا مادّے پر تصرف‘ کے عنوان سے ایک پورا نقطۂ نظر موجود ہے۔ جو بتاتا ہے کہ ’’اگرآپ کو چوٹ لگ جائے لیکن آپ کو ذہنی طور پر اس بات کا یقین دلوا دیا جائے کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے تو وہ واقعی کچھ بھی نہیں ہوتا‘‘۔ اسی طرح ’مصنوعی دوا‘(placebo medicine) کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ’’ذہن کی کیفیت اوردل کے یقین کی اہمیت کسی مرض کے علاج میں دوا سے کہیں زیادہ ہے‘‘۔مراد یہ ہے کہ اللہ کے نہ ماننے والے اس نظریے تک پہنچ گئے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اللہ کو نہ ماننے والوں کے لیے اللہ کو ماننے کا بہت بڑا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

خوف اور گھبراہٹ کا تسلسل اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ آپ کسی معاملے، مسئلے یا خطرے کو بہت بڑا جان لیں اور اپنے وجود کی گہرائیوں میں اس کی بڑائی کو محسوس کرنا شروع کردیں۔ خوف کی یہ صورت فرد کی ایمانی اور نفسیاتی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ ایک بندۂ مومن کو ہرلمحہ اس بات کا احساس اور یقین ہونا چاہیے کہ اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ وہ کارسازضرور میری مشکل حل کر دے گا۔ مومن کے لیے صرف ایک ہی خوف جائز ہے اوروہ ہے روزِ آخرت اپنے عمل کی جواب دہی کا خوف۔ اسلام لانے اور اللہ کو اپنے معبود ہونے کا اقرار کرنے کا مطلب یہی ہے کہ اب دل میں کسی کی ایسی بڑائی اور عظمت قبول نہیں کی جاسکتی، جس سے اللہ کے ساتھ تعلق اور اس کی عظمت پر حرف آئے۔ خوف کا شدت اختیار کرجانا دراصل بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کے تعطل کا سبب بن جاتاہے۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب دل صرف اور صرف اللہ کا ہوگیا ہے۔ اس میں کسی اور کے آنے کی گنجایش اللہ کے دیے ہوئے احکامات کی تعمیل کے حوالے سے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔

ایک عالمی ادارے Worldmeters کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ انسان ایک دن میں موت کا شکار ہوجاتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایک ماہ میں تقریباً ۴۵لاکھ اور تین ماہ میں تقریباً ایک کروڑ ۳۵ لاکھ انسان اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، جب کہ کرونا وائرس سے گذشتہ آٹھ ماہ، یعنی فروری سے ستمبر۲۰۲۰ء کے دوران تقریباً ۹لاکھ ۴۲ ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ لاکھوں لوگ روزانہ مر کر کہاں جارہے ہیں؟ ان کا کیا بن رہا ہے؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ زمان و مکان اور جسم و عمر کی قید سے باہر نکل جاتے ہیں اور درحقیقت واپس بلا لیے جاتے ہیں۔

ان لاکھوں مرنے والوں میں سے بہت بڑی تعداد کو اپنی موت سے چند منٹ پہلے تک بھی یہ پتا نہیں تھا کہ یہ ان کے اس دُنیا میں آخری لمحات ہیں۔ عقیدے اور ایمان کے تناظر میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کسی وائرس یا بیماری سے کیسے بچا جائے؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اپنی موت کی تیاری کیسے کی جائے؟ جب کہ ربِّ کریم نے موت سے ہمکنار کرنے کا ایک اور ذریعہ بھی انسان کو دکھا دیا ہے۔

اس وقت دُنیا بھر کے سات ارب انسان اپنے آپ کو کورونا وائرس سے اور اس کی اگلی لہر سے بچانے میں مصروف اور خوف زدہ ہیں۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا کیا ہوگا؟ کافر اور مومن کی نفسیات میں ایک بنیادی فرق یہی ہے کہ کافر موت سے ڈرتا اورمومن جواب دہی سے۔ کافر موت کا ذکر نہیں سننا چاہتا اور مومن اپنی موت کو یاد رکھنے کے لیے اس کا روزانہ ذکرکرتا ہے۔اس کے لیے کسی بھی جنازے میں شرکت اپنے دل کے زنگ کی صفائی، ایمان کی تجدید، اور جواب دہی کی فکر کے احساس کو تازہ کرنے کا ایک اہم موقع ہوتا ہے۔ اسی لیے جنازوں میں شرکت کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ اورنمازِ جنازہ کے بعد تدفین کے لیے قبرستان میں موجودگی پراور بھی زیادہ زور دیا گیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے مسلمان میں اپنی ایمانی کمزوری کے باعث موت کا خوف طاری ہوگیا ہے۔ اور اس خوف نے زندگی سے تقویٰ اور احساسِ ذمہ داری کو شدید صد مہ پہنچایا ہے۔

گذشتہ پانچ صدیوں میں اور سقوط غرناطہ کے تھوڑے ہی عرصے بعد دنیا نے بہت بڑی بڑی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے ۔اسی عرصے میں یورپ اپنے عافیت کدے سے نکلا اور عالمی وسائل پر قبضہ جمانے اور انھیں اپنے ہاں منتقل کرنے کے لیےاپنے وقت کی مہذب دنیا پر درندےکی مانند ٹوٹ پڑا۔ مسلم مشرق پر براہِ راست یہ حملہ دو عنوان سے تھا:صلیبی فوجی حملوں کا تسلسل اور عالمی تجارت پر غلبہ ۔ نئی جغرافیائی دریافتوں نے یورپ کو مہمیز دی اور استعماری قبضہ بڑھانے کے لیے انھی کو یورپ نے وجۂ جواز بھی بنایا ۔’نئی دنیا‘یعنی شمالی امریکا کی دریافت بھی دراصل مشرق (خصوصاً مسلم ہندستان) تک رسائی ہی کی ایک کوشش تھی۔یورپی اقوام میں سخت مقابلہ تھا کہ نئے دریافت شدہ خطوں کے وسائل پر تسلط جما کر انھیں اپنے ہم عصر وں اور پرانی دنیا پر اپنی دھاک، دھونس جمانے کے لیے استعمال میں لایا جائے۔

اس دوران مسلم دُنیا کے اوّلین دفاعی مورچے اور مشرق کی طرف یورپی اقوام کے پہلے پڑاؤ، شمالی افریقہ(تیونس ،الجزائر ،مراکش اور لیبیا) پر کیا گزری ؟ خطے کی تاریخ کا یہ عرصہ جن اہم حوادث اور واقعات سے پُر ہے، اسے سمجھے بغیر خطے کے موجودہ حالات کو سمجھنا مشکل ہے ۔

سقوط غرناطہ اور اندلس سے مسلمانوں کو کھرچ کر نکالنے کا سلسلہ کم و بیش ایک سو برس تک جاری رہا۔ اس دوران اسپین اور پرتگال کی فوجیں مسلسل شمالی افریقہ کے ساحلوں کو تاراج کرتی رہیں۔ مراکش کے شہر سبتہ سے ملیلہ تک ،الجزائر اور تیونس کے ساحلوں سے لے کر طرابلس الغرب،   یعنی لیبیا کے ساحل تک، یہ سارا علاقہ ان ابھرتی ہوئی یورپی استعماری طاقتوں اور مقامی مسلمان حکمرانوں کے درمیان میدان جنگ بنا رہا ۔جلد ہی خطے کے مسلم حکمرانوں کو اندازہ ہوگیا کہ اس بڑھتے صلیبی حملے کو روکنا ان کے بس میں نہیں ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے بچاؤ کے لیے خلافت عثمانیہ سے مدد کی اپیل کی ۔خلافت کی مداخلت اور عملی فوجی مدد ہی کے نتیجے میں تیونس اور الجزائر اس ہلاکت خیز یورپی استعماری یلغار سے بچنے میں کامیاب رہے ۔ چنانچہ مراکش نے بھی عثمانیوں سے دفاعی معاہدہ کیا اور یوں شمالی افریقہ، یورپی سیلاب کے آگے بند باندھنے میں کسی حد تک کامیاب ہوگیا ۔مراکش کے صرف دو شہر سبتہ اور ملیلہ یورپیوں کے قبضے میں رہ گئے تھے ۔

اسپین اور پرتگال کے کمزور پڑجانے پر شمالی افریقہ کی صورت حال میں کچھ بہتری آئی اورانتظامِ حکومت مقامی لوگوں کے ذریعے چلایاجانے لگا۔ اس نئے انتظام کی سربراہی، سرپرست کے طور پر عملی یا رسمی خلافت عثمانیہ کرتی تھی۔

انقلاب فرانس کے بعد اور نپولین بونا پارٹ کے یورپ اور پوری دُنیا پر تسلط جمانے کے عزم نے مصر اور شمالی افریقہ کو ایک بار پھر فرانس کی سامراجی ریشہ دوانیوں کا شکار کردیا۔ ۱۹ویں صدی کےصنعتی انقلاب نے جارح یورپ کی طاقت میں بے تحاشا اضافہ کردیاتھا۔اب پورے  شمالی افریقہ پر قبضہ کا پرانافرانسیسی خواب پھر انگڑائی لینے لگا۔ یوں ۱۸۸۱ءتک تیونس اور الجزائر، فرانسیسی قبضے تلے سسک رہے تھے ۔

یورپی سامراج نے دونوں ملکوں پر تسلط جمانے کے لیے دو مختلف انداز اختیار کیے تھے۔ تیونس اور پھر مصر کو بھی بیرونی قرضوں کے جال میں جکڑاگیا۔ سرکاری سطح پر بے تحاشا اسراف، اشرافیہ کی شاہانہ زندگی اور ظاہری نمود ونمایش پر بے اندازہ خرچ کرنے کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جاتی رہی، بلکہ ہر سطح پر اس کے فروغ میں فعال کردار اداکیا گیا ۔دونوں ملک جب مالیاتی دیوالیہ پن کا شکار ہوئے تو قرض خواہوں کے حقوق کے نام پر دونوں ملکوں کو مالیاتی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا، جو آگے چل کر سیاسی غلبے اور پھر فرانس کےمکمل قبضے پر منتج ہوا ۔اس عرصے میں خلافت عثمانیہ پر جب بھی کڑا وقت آیا، ان قابض سامراجی طاقتوں نے اسے خطے میں اپنے اثر و نفوذ کو بڑھانے کے لیے سنہری موقعے کے طور پرلیااور اپنا استبدادی پنجہ محکوموں کی گردن پر گاڑتے چلے گئے ۔

تاہم، الجزائر کی مقامی حکومت نے شاہِ فرانس نپولین کے دور میں ہونے والےفرانس کے محاصرے سے فائدہ اٹھایا اور اپنے آپ کو اقتصادی طور پر کچھ مضبوط کرلیا ۔ مگر فرانس نے جنگ چھیڑنے کے لیے یہاں پر بھی بہانہ انھی پرانے قرضوں کو بنا یا، جو الجزائر کے ذمے واجب الادا تھے ۔جنگ بلقان کے دوران ایک ہی ہلے میں ایک طرف سربیا،یونان اور دوسری طرف الجزائر پر ہاتھ صاف کرلیے ۔یوں شمالی افریقہ کے یہ مسلم ملک طویل دور ظلمات میں دھکیل دیئے گئے۔ ایک ایسا تاریک عہد کہ جس میں استعمار ی قبضہ تھا،فرنچ تہذیب کا غلبہ تھا ،تیونس اور الجزائر کی اسلامی شناخت مٹانے اور جغرافیائی خدوخال بگاڑنے کے منصوبے تھے ۔

۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو شمالی افریقہ کی ان محکوم اقوام کو جنگ کی تپتی بھٹی  میں جھونک دیا گیا ۔اس بھٹی میں الجزائر اور سینی گال جیسے بڑے ملکوں کے باشندے ایک بڑی تعداد میں جل مر ے ۔ مارے جانے والے کتنی بڑی تعداد میں تھے ؟ اس کا اندازہ تیونس جیسے چھوٹے ملک کے ہلاک شدگان کی تعداد سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ پہلی جنگ عظیم میں تیونس کے ۸۰ ہزار مسلمان، فرانسیسی پرچم کی سربلندی کے لیے اپنی جان کی بازی ہارگئے۔

جنگ کے خاتمے پر اور خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد ’انجمن اقوام‘ (League of Nations) کی چھتری تلے نوآبادیاتی یورپی طاقتوں نے ’انتداب‘ (mandate)کا ڈول ڈالا ۔ انتداب کے اس نام نہاد نظام کے تحت قابض طاقت ہی کو یہ قانونی حق دے دیا گیا کہ وہ مغلوب قوم پر اپنا سامراجی شکنجہ مضبوط کرے اور اس کی اجتماعی زندگی ،سیاسی اداروں اور جغرافیے کی تشکیلِ نو کرے۔ اقبالؒ بالادست یورپی طاقتوں کی ان چیرہ دستیوں کی بہترین تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

آ بتاؤں تجھ کو رمز آیۂ ان الملوک

سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادو گری

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر

پھر سلادیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام

جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب

تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

مجلس آئین و اصلاح و رعایات و حقوق

طب مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری

’نظام انتداب‘ کے بعد داخلی خود مختاری کا ڈول ڈالاگیا ۔مقصدتھا مقامی چہروں مہروں کے ساتھ استبداد ی نظام قائم رکھنا ۔ تیونس میں سیاسی ادارے اور سیاسی جماعتیں بھی تھیں، لیکن سب کا اختیار و اقتدار انتہائی محدود ۔ملک اقتصادی اور ثقافتی طور پر پوری طرح فرانس کا محکوم اور باج گزار بنادیا گیاتھا۔جس نے رفتہ رفتہ تیونس کی اپنی شناخت، عقیدے ، اصول ،اس کی تہذیب و ثقافت ، زبان و تمدن سب کچھ کو مکمل بدل کر رکھ دیا۔

پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا درمیانی عرصہ نیشنل از م کے علَم برداروں کے لیے انتہائی مایوس کن تھا ۔ پہلی جنگ عظیم میں فرانس دنیا کی سپر پاور بن کر ابھرا  تھا۔اس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی بَری فوج تھی ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا ظالموں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ رکھی ۔اس کی سنت اس میں ہر دم جاری و ساری رہتی ہے: وَلَوْ لَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ۝۰ۙ  لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ(البقرہ ۲:۲۵۱) ’’اگر اس طرح اللہ، انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے ہٹاتا نہ رہتا، تو زمین کا نظام بگڑجاتا‘‘۔

دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوتے ہی نازی جرمنی کے ہٹلر نے فرانس پر قبضہ کرلیا ۔یہ فرانسیسی غرور اور نخوت کے لیے ذلت کا مقام تھا اور اسی سے فرانس کا اپنے طبیعی جغرافیائی حدود کی طرف واپسی کا سفر شروع ہوگیا۔ پھر فرانس کو ۱۹۵۴ء کی ویت نام جنگ میں بھی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ تھے وہ حالات جن میں الجزائر اور تیونس  میں آزادی کی تحریک نے زور پکڑ ا ۔یوں خطے میں سیاسی ،انقلابی اور فوجی جدوجہد کا آغاز ہوگیا۔فرانس نے اپنے نقصان کو کم سے کم رکھنے  کے لیے سیاسی تدبیروں کا آغاز کیا ۔ سب سے پہلے محکوم قوموں کو داخلی خود مختاری کی نوید سنائی گئی۔ لیکن کس نخوت کے ساتھ ؟ اس کے لیے فرانسیسی وزیر اعظم کا وہ خطاب پڑھنے کے لائق ہے، جو تیونس کے محمد الامین کے سامنےکیا گیا تھا:’’تیونسی قوم جس حد تک ترقی کرچکی ہے، ہمیں اس پر خوشی منانے کا پورا حق ہے، خصوصاً اس لیے کہ ہم نے ہی تیونس کو ترقی دینے میں اصل کردار ادا کیا ہے۔ یہاں کی اشرافیہ کی بالغ نظری قابلِ تحسین ہے اورجواز فراہم کرتی ہے کہ تیونسی قوم اپنے امور خود سنبھالے ۔اس لیے ہم تیار ہیں کہ داخلی امور تیونسی افراد اور اداروں کے سپرد کردیں‘‘۔

حبیب بورقیبہ نےبطور سربراہ دستوری فریڈم پارٹی مجوزہ داخلی خود مختاری کے لیے فرانس تیونس مذاکرات کی فوری تائید کردی۔مجاہدین آزادی اور مزاحمت کاروں کو پہاڑوں سے اتر آنے اور ہتھیارسپرد کردینے کا مشورہ دیا ۔تاہم، سویزر لینڈ میں مقیم پارٹی کے سیکرٹری جنرل صالح بن یوسف نے کھل کر حبیب بورقیبہ سے اختلاف کیا اوراس پر وطن سے غداری کا الزام عائد کیا ۔ مسلح مجاہدین کو نہ صرف تیونس بلکہ پورے شمالی افریقہ کی مکمل آزادی تک مزاحمت جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

تاہم، جنگ عظیم میں زخم خوردہ فرانسیسی حکومت نے منصوبے کے مطابق مئی ۱۹۵۵ء میں داخلی خود مختاری کے قانون پر دستخط کردئیے ۔جلا وطن بورقیبہ واپس وطن لوٹ آئے اور انھیں آزادی کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اورپھر مراکش کےبعد ۲۰ مارچ ۱۹۵۶ء کو تیونس کو بھی مکمل آزادی دے دی گئی۔

۲۵جولائی ۱۹۵۷ء کو پارلیمان کی تائید سے بورقیبہ نے بادشاہت ختم کردی اور خود تیونس کے صدر بن گئے ۔بورقیبہ نے اپنے اقتدار کے ابتدائی مہینوں سے ہی، تیونسی معاشرے کو فرانسیسی مقتدرہ کے حسب منشا ڈھالنے پر کام شروع کردیا تھا۔ اگست ۱۹۵۶ء کو سرکاری گزٹ میں ’نیاپرسنل لا‘ شائع ہوا، جس کے تحت دوسری اور تیسری شادی پر قانوناً پابندی عائد کردی گئی اور سول کورٹس کو طلاق کے معاملات پر نظرثانی کا اختیار دے دیا گیا۔اوقاف تحلیل کردئیے گئے اورشرعی عدالتوں کو ختم کرتے ہوئے فرنچ جوڈیشل سسٹم نافذ کردیا گیا ۔

۱۹۵۸ء میں جامعہ زیتونہ کے نظام تعلیم اور اس تاریخی اسلامی یونی ورسٹی کے زیر انتظام اداروں کو تعلیم کے عمومی سیکولر نظامِ تعلیم میں ضم کردیا گیا۔ اسی مہینے میں تیونس کی نیشنل آرمی تشکیل دی گئی اور اپریل ۱۹۵۶ء میں سکیورٹی سسٹم کو مکمل طور پر سیکولر تیونسی رنگ میں رنگ دیا گیا ۔

جون ۱۹۵۹ء میں جمہوریہ تیونس کا پہلا آئین نافذہوا اور اسی سال نومبر میں ایک مضحکہ خیز الیکشن میں بورقیبہ ۹۹ فی صد ووٹ لے کر پانچ برس کے لیے جمہوریہ کے پہلے صدر بن گئے اور ان کی فریڈم پارٹی نے پارلیمنٹ کی ۱۰۰ فی صد نشستیں حاصل کرلیں ۔

سیاسی محاذ پر صالح بن یوسف کے حامیوں کا گھیرا تنگ کیا جاتا رہا ۔ان کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں اور ان عدالتوں نے مخالفین کو پھانسیوں کی سزائیں سنانا شروع کردیں۔ حتیٰ کہ ۱۹۶۱ء میں صالح بن یوسف قتل کردئیے گئے۔

۱۹۶۲ء میں روزہ رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ سرکاری طور پر تجویز یہ کیا گیا کہ سرکاری ملازم اپنے روزوں کی قضا ریٹائرمنٹ پر ایک ساتھ یا دیگر مناسب اوقات میں اپنی مرضی سے پوری کرلے ۔بورقیبہ نے کوشش کی کہ تیونسی شہریوں کو مقدس مقامات کی زیارت خصوصاً حج بیت اللہ سے روکا جائے ۔دلیل یہ دی گئی کہ ’’حج پر جانے سے ملک کا قیمتی زر مبادلہ صرف ہوتا ہے‘‘۔ سرکاری سطح پر متبادل یہ تجویز کیا گیا کہ ’’حج کے بجائے اولیاء اللہ اور صالحین کے مقامی مزاروں سے خیر و برکت حاصل کرلی جائے ۔ابو زمعۃ البلوی یاابولبابۃ الانصاری کے مزار اقدس پر حاضری دے لی جائے ‘‘۔ یہ تجویز کسی ادنیٰ سرکاری ملازم کی نہیں تھی بلکہ جمہوریہ تیونس کے صدر حبیب بورقیبہ نے خود صفاقس شہر میں ۲۹؍اپریل ۱۹۶۴ء کو اپنے خطاب میں دی تھی ۔

جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فرانسیسی فوجیں ۱۹۶۳ء تک تیونس میں تھیں تو ہمیں پے درپے لوگوں کے عقیدے اور ایمان کے خلاف کیے گئے ان فیصلوں کی اصل وجہ سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ فرانس کامنصوبہ تھا کہ کہ تیونس پر اس کا غلبہ کمزور نہ ہو، بلکہ مقامی باشندوں کے بھیس میں اس کا اثر و نفوذ برقرار رہے ۔یوں بظاہر تیونس آزاد توہوا لیکن بورقیبہ کی وحشت انگیز ڈکٹیٹر شپ کے زیر سایہ چلاگیا۔ ۳۰ برس بعد بورقیبہ ڈکٹیٹر شپ اس عوامی انقلاب کے نتیجے میں ختم ہوئی جسے آج روٹی کا انقلاب کہا جاتا ہے ۔ تاہم، اس انقلاب کے بعد بھی تیونس، فرانس کے پروردہ گماشتوں کے پنجہ سے نہ نکل سکا کہ  نیا حکمران بن علی تھا، مکمل طور پر بورقیبہ کی فوٹو کاپی ۔

۲۰۱۱ءمیں پھر تیونس کے دبے ہوئے ،زیر دست ،مفلوک الحال عوام میں سے ایک، ریڑھی بان ،بوعزیزی کی خود سوزی نے ایک اور عوامی انقلاب کو جنم دیا۔بوعزیزی کے راکھ میں دبے شراروں سے اٹھے اس انقلاب نے جلد ہی پوری عرب دنیا کو ربیع عربی (عرب بہار ) کی لپیٹ میں لے لیا اور عشروں سے جمے عرب آمروں کے تخت الٹ گئے ۔

تیونس کا پھر ایک اور دستور بنا۔ اس نئے دستور اورنئے انتظام کے تحت ملک بظاہر جمہوری دور میں داخل ہوچکا تھا، لیکن صدر قیس سعید کے حالیہ ا قدامات سے ایسے لگتا ہے کہ تیونس پر ایک نیا بورقیبہ مسلط ہوچکا ہے ۔جو اگرچہ فصیح عربی بولتا ہے لیکن اپنے حقیقی خیالات کا اظہار اپنے آقاؤں کی زبان فرانسیسی میں کرتا ہے ۔ ایمرجنسی لگانے اور دستور کو معطل کرنے کے اقدامات سے دراصل یہ زمانے کے پہیے کو پھر سے الٹاگھمانے کا خواہش مند ہے ۔چاہتا ہےملک کو پھر سے واپس فرانسیسی دور میں لے جائے ۔

اگرچہ تیونس میں یہ بحث ابھی جاری ہے کہ صدر کا اقدام بغاوت تھی یا صحیح راستے کی طرف واپسی؟ تاہم، اطلاعات ہیں کہ امریکا کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ نے فون کرکے مطالبہ کیا ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل اور معطل پارلیمنٹ کو بحال کیا جائے ۔ باالفاظ دیگر صدر کے نام مغربی آقائوں کا پیغام یہ ہے کہ تم نے ایمرجنسی لگاکر اچھا کیا ہے لیکن ہمیں تمھاری کامیابی کا یقین نہیں ہے۔

تیونس میں لگی حالیہ ایمرجنسی کے دوران قصر صدارت میں یہ واقعہ بھی پیش آیا ہے کہ  یہاں کے دورے پر آئے ہوئے چند امریکی صحافی گرفتار ہوئے۔پھر انھیں صدارتی مہمان بناکر شرف ملاقات بخشا گیا۔ ملاقات میں صدر تیونس یقین دلاتے رہے کہ ’’میں ڈکٹیٹر نہیں ہوں‘‘ اور مہمانوں کو فرانسیسی زبان میں امریکی دستور کے اقتباسات سناتے رہے۔آخر میں جب ان صحافیوں نے اپنے سوالات صدر کے سامنے رکھنا چاہے تو انھیں نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کردیا گیا ۔

غالباً یہ صدارتی مہمان اپنے میزبان سے وہی سولات کرنا چاہتے تھے، جو آج کل تیونس میں زبان زد عام ہیں: کیا واقعی فرانس تیونس سے دست بردار ہوچکا ہے یا ہمیں آزاد ہونے کا صرف وہم لاحق ہے ؟

اس زمانے میں اسلامی نظام کو جو چیز نافذ ہونے سے روک رہی ہے اور جو رجحانات اور نظریات اس کے راستے میں سدِّراہ ہیں، ان کا اگر تجزیہ کرکے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ انھیں مسلمان ملکوں پر مغربی قوموں کے طویل سیاسی غلبے نے پیدا کیا ہے۔

مغربی قومیں جب ہمارے ملکوں پر مسلّط ہوئیں تو انھوں نے ہمارے قانون کو ہٹا کر اپنا قانون ملک میں رائج کیا۔ ہمارے نظامِ تعلیم کو معطل کرکے اپنا نظامِ تعلیم رائج کیا۔ تمام چھوٹی بڑی ملازمتوں سے اُن سب لوگوں کو برطرف کیا جو ہمارے تعلیمی نظام کی پیداوار تھے اور ہرملازمت ان لوگوں کے لیے مخصوص کردی جو اُن کے قائم کردہ نظامِ تعلیم سے فارغ ہوکر نکلے تھے۔ معاشی زندگی میں بھی اپنے ادارے اور طور طریقے رائج کیے اور معیشت کا میدان بھی  رفتہ رفتہ اُن لوگوں کے لیے مخصوص ہوگیا جنھوں نے مغربی تہذیب و تعلیم کو اختیار کیا تھا۔ اس طریقہ سے انھوں نے ہماری تہذیب اور ہمارے تمدن اور اس کے اصولوں اور نظریات سے انحراف کرنے والی ایک نسل خود ہمارے اندر پیدا کردی، جو اسلام اور اس کی تاریخ، اس کی تعلیمات اور اس کی روایات ہرچیز سے علمی طور پر بھی بیگانہ ہے اور اپنے رجحانات کے اعتبار سے بھی بیگانہ۔

یہی وہ چیز ہے جو دراصل ہمارے اسلام کی طرف پلٹنے میں مانع ہے۔جن لوگوں کو ساری تعلیم اور تربیت غیراسلامی طریقے پر دی گئی ہو وہ آخر اس کے سوا اور کہہ بھی کیا سکتے ہیں کہ اسلام قابلِ عمل نہیں ہے ۔ جس نظامِ زندگی کے لیے وہ تیار کیے گئے ہیں اسی کو وہ قابلِ عمل تصور کرسکتے ہیں۔ اب لامحالہ ہمارے لیے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا تو ہم من حیث القوم کافر ہوجانے پر تیار ہوجائیں اور خواہ مخواہ اسلام کا نام لے کر دُنیا کو دھوکا دینا چھوڑ دیں۔ یا پھر خلوص اور ایمان داری کے ساتھ (منافقانہ طریق سے نہیں) اپنے موجودہ نظامِ تعلیم کا جائزہ لیں اور اس کا پورے طریقہ سے تجزیہ کرکے دیکھیں کہ اس میں کیا کیا چیزیں ہم کو اسلام سے منحرف بنانے والی ہیں اور اس میں کیا تغیرات کیے جائیں جن سے ہم ایک اسلامی نظام کو چلانے کے لیے قابل لوگ تیار کرسکیں۔ (’رسائل و مسائل‘ ، ترجمان القرآن، جلد۵۷،عدد ۱،اکتوبر ۱۹۶۱ء، ص۵۰-۵۱)