سیّد ابوالاعلیٰ مودودی


مَیں تحریک اسلامی کے مستقبل کے بارے میں بے حد پُرامید ہوں۔ حق و باطل کی جو قوتیں آج برسرِ پیکار ہیں، جب ہم ان کو دیکھتے ہیں اور ان کے حالات کا موازنہ کرتے ہیں، تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ حالات اسلام کی کامیابی اور سربلندی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ مَیں جن وجوہ کی بنا پر یہ بات کہتا ہوں، وہ یہ ہیں:

۱- اسلام کے علاوہ جتنے بھی نظریات ہیں ان سب کو دورِحاضر میں جانچ اور پرکھ کر دیکھا جاچکا ہے اوروہ سب ناکام رہے ہیں۔ باطل قوتوں کے پاس آج کوئی نظریہ باقی نہیں رہا ہے۔ لہٰذا اب ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں فی الواقع لوگوں کے لیے کشش ہو۔ ہم اِس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ انھیں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آنا پڑتا ہے۔ ان کے کھوکھلے پن کا اس سے واضح ثبوت اور کیا ہوگا۔

۲- اِس ملک میں جتنے بھی گروہ اور جتنی بھی قوتیں موجود ہیں، وہ ایک ایک کر کے آزمایش کے مقام پر آتا چلا جا رہا ہے، اور اپنی نااہلی اور نالائقی ثابت کرتا چلا جا رہا ہے۔ خواہ آپ سیاسی گروہوں کو لیں، خواہ دوسرے طبقات کو، ہر ایک آزمایش کی کسوٹی پر کھوٹا ثابت ہوا ہے اور ہورہا ہے۔ اس کے نتیجے میں قوم ان میں سے ایک ایک سے مایوس ہوتی جارہی ہے اور ایک وقت آئے گا کہ وہ ان سے بالکل مایوس ہوجائے گی۔ اور قوم میں خود ہی کسی قابلِ اعتماد عنصر کے لیے پیاس پیدا ہوگی، بلکہ ان حضرات کی کارگزاریوں کی وجہ سے پیدا ہونی شروع بھی ہوگئی ہے۔   جیسے جیسے یہ پیاس بڑھے گی___ اور اسے لازماً بڑھنا ہے ___ ویسے ہی ویسے ان شاء اللہ  تحریکِ اسلامی کے لیے مواقع پیدا ہوتے جائیں گے۔

۳- باطل کی قوتیں اگر متحد ہوتیں تو پھر شاید کچھ خطرناک ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ایک دوسرے کا حریف اور دشمن بنا دیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کی طاقت کو توڑنے اور اس کے اعتماد کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ ان کی مخالفت میں بہت سا کام جو تعمیری قوتوںکو کرنا تھا یہ حضرات خود اپنے ہی ہاتھوں کر رہے ہیں۔ اس نے تحریکِ اسلامی کی قوت کو بڑھا دیا ہے۔

۴- جن حالات سے آج ہمیں سابقہ پیش ہے اور جس سمت میںاس ملک کو لے جایا    جا رہا ہے، وہ ہمارے لیے بے شمار مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ خصوصیت سے معاشرے میں جو بگاڑ راہ پارہا ہے اور جس تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ ہمارے پاس اس وقت وہ ذرائع موجود نہیں جن سے ہم اس کو روک سکیں۔ لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ ان شاء اللہ اس بگاڑ کے باوجود تحریکِ اسلامی کا مستقبل نہایت روشن ہے۔ ہم اس مفروضے پر تو کام کر نہیں رہے کہ شیطان کو معزول کردیا جائے اور ہمیں کھلی چھٹی مل جائے گی، یا تحریک اسلامی کے لیے کوئی ایسا مخصوص میدان ہے جہاں شیطان کا عمل دخل نہ ہو۔ ہم اِس قسم کی کوئی توقع نہیں رکھتے اور انھی حالات میں اپنے لیے راہ نکال رہے ہیں اور ان شاء اللہ اس میں کامیاب ہوں گے۔

جو لوگ حالات کے بگاڑ سے مایوس ہوجاتے ہیں، مَیں ان سے کہتا ہوں کہ کیا یہ ایک حقیقت نہیں کہ اِس سے بدرجہا زیادہ خراب حالات کے باوجود اور انتہائی جبروتشدد کے استعمال کے باوجود آج تک [اشتراکی] روس سے اسلام کو خارج نہیں کیا جاسکا [بلکہ آج وسطی ایشیا کی مسلم ریاستیں روس کے چنگل سے نکلنے کے بعد آزاد ریاستیں ہیں]۔ ترکی میں اسلام کو غیرمؤثر بنانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا گیا؟ لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ وہاں آج بھی اسلام کے ساتھ دل چسپی اسی طرح ہے۔ یہ ان قوموں کا حال ہے جہاں دین سے انحراف اور معاشرتی بگاڑ کے خلاف کوئی جوابی چیز موجود نہ تھی، جہاں لوگوں کے لیے دُور دُور تک اُمید کی کوئی شعاع نہ تھی لیکن اس کے باوجود وہ اسلام سے وابستہ رہے اور کوئی طاقت اسلام کو مٹا نہ سکی۔ ہمارے ملک میں ایک مثبت جوابی تحریک موجود ہے۔ یہ مسلسل کام کر رہی ہے۔ لوگوں کو ایک سہارا نظر آتا ہے۔ اس لیے بگاڑ کی رفتار خواہ کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو مجھے مایوسی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، بلکہ جب خود اسلامی تحریک کی ترقی اور اس کے اثرات کا ہم جائزہ لیتے ہیں تو ہمارے سر خدا کے حضور شکر سے جُھک جاتے ہیں۔ میرے دل میں ایک لمحے کے لیے بھی مایوسی کے جذبات نہیں پیدا ہوتے۔ مَیں حالات کو ہر لحاظ سے اُمیدافزا سمجھتا ہوں۔

۵- پھر مجھے اِس بات پر مکمل یقین ہے کہ اگر کسی حق بات کے لیے موزوں طریقے پر  کام کیا جائے، اور کام کرنے والے بھی موزوں ہوں، اور کام بھی حکمت و دانش مندی کے ساتھ  کیا جائے تو ناکامی کی کوئی وجہ نہیں بلکہ کامیابی ناگزیر ہے۔ حق کی فطرت میں کامیابی ہے۔  ضرورت جس امر کی ہے وہ موزوں طریقے پر صحیح آدمیوں کے ذریعے اور حکمت و تدبر کے ساتھ  کام کرنا ہے اور الحمدللہ یہ کام ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مَیں تحریکِ اسلامی کے مستقبل کے بارے میں ہمیشہ پُرامید رہا ہوں اور آج بھی پُرامید ہوں۔ ان شاء اللہ اسلام غالب ہوکر رہے گا۔ (مولانا مودودی کے انٹرویو، اوّل، ص ۲۰۲-۲۰۴)

 

آج سے چار ہزار برس پہلے کی بات ہے کہ عراق کی سرزمین میں ایک شخص پیدا ہوا تھا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انسانی تاریخ پر اپنا ایک مستقل نشان چھوڑ گیا ہے۔ جس زمانے میں اس نے آنکھیں کھولیں اس وقت تمام دنیا شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھی۔ جس قوم میں وہ پیدا ہوا وہ ایک ستارہ پرست قوم تھی۔ چاند، سورج اور دوسرے سیّارے اس کے خدا تھے اور شاہی خاندان انھی خدائوں کی اولاد ہونے کی حیثیت سے اہلِ ملک کا رب مانا جاتا تھا۔ جس خاندان میں وہ پیدا ہوا، وہ پروہتوں کا خاندان تھا اور اپنی قوم کو ستارہ پرستی کے جال میں پھانسے رکھنے کا اصل ذمّہ دار وہی تھا۔

ایسے زمانے، ایسی قوم اور ایسے خاندان میں یہ شخص پیدا ہوا۔ دنیا کی عام روش پر چلنے والا ہوتا تو وہ بھی اسی راستے پر جاتا جس پر اس کے خاندان کے لوگ، اس کے ملک کے لوگ اور اس کے زمانے کے لوگ چلے جارہے تھے۔ کوئی ایسی روشنی بظاہر اس وقت دنیا میں کہیں موجود بھی نہ تھی جو کسی دوسرے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والی ہو۔ اور اس کے ذاتی و خاندانی مفاد کا تقاضا بھی یہی تھا کہ وہ کسی اور راستے کا خیال بھی اپنے دل میں نہ لاتا، کیونکہ اس کے خاندان کی مذہبی دکان تو اسی ستارہ پرستی کے بل پر زور شور سے چل رہی تھی لیکن وہ ان انسانوں میں سے نہ تھا جو بے شعور  خس و خاشاک کی طرح اسی رُخ پر اُڑنے لگتے ہیں جدھر کی ہوا ہو۔ وہ موروثی تعصب کی بنا پر باپ دادا اور قوم کے طریقے کو بے چون و چرا قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ اس نے ہوش سنبھالتے ہی یہ تحقیق کرنا ضروری سمجھا کہ جن عقیدوں اور اُصولوں پر اس کے بزرگوں نے اور اس کی ساری قوم نے اپنی زندگی کی عمارت قائم کر رکھی ہے، وہ بجاے خود صحیح بھی ہیں یا نہیں۔ اس آزادانہ تحقیقات کے سلسلے میں اس نے سورج، چاند، زُہرہ اور ان سب معبودوں پر نگاہ ڈالی جن کی خدائی کے چرچے وہ بچپن سے سنتا آیا تھا۔ ایک ایک کو جانچ کر دیکھا کہ اس پر خدائی کا گمان کہاں تک سچا ہے، اور آخرکار یہ بے لاگ راے قائم کی کہ دراصل یہ سب بندے ہیں، خدائی صرف اس ایک ہستی کی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیداکیا ہے۔

پھر جب یہ حقیقت اس پر منکشف ہوگئی تو اس نے اُن لوگوں کی سی روش اختیار نہیں کی جو ایک بات کو حق جاننے اور سمجھنے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتے۔ اس نے حق کو حق جاننے کے بعد اسے ماننے میں ایک لمحے کی بھی دیر نہ کی۔ فوراً اقرار کیا کہ ’’میں جھک گیا اُس خدا کے آگے جو زمین اور آسمانوں کا خالق ہے‘‘۔ اور اس اقرار کے ساتھ اپنی برادری اور قوم کے سامنے یہ اعلان بھی کردیا کہ میرا راستہ تم سے الگ ہے، میں اس شرک اور بت پرستی میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں___ یہ اُس شخص کی پہلی قربانی تھی۔ یہ پہلی چھری تھی جو اس نے باپ دادا کی اندھی تقلید پر، خاندانی اور قومی تعصبات پر، اور نفس کی ان تمام کمزوریوں پر پھیر دی جن کی وجہ سے آدمی اپنے ضمیر کی آواز کے خلاف ایک راستے پر صرف اس لیے چلتا رہتا ہے کہ برادری اور قوم اور دنیا اسی پر چلی جارہی ہے۔

اس اقرار و اعلان کے بعد یہ شخص خاموش نہیں بیٹھ گیا۔ اس پر یہ حقیقت کھل گئی تھی کہ کائنات کی اصل حقیقت توحید ہے اور شرک سراسر ایک بے بنیاد چیز ہے۔ اس حقیقت کو جان لینے کے بعد وہ خود ہی یہ بھی جان گیا تھا کہ وہ سب انسان جو توحید کے بجاے شرک کے عقیدوں اور مشرکانہ اُصولوں پر اپنے مذہب، اخلاق اور تمدن کی عمارت قائم کیے ہوئے ہیں، انھوں نے دراصل ایک ایسی شاخِ نازک پر آشیانہ بنا رکھا ہے جو سخت ناپایدار ہے۔ اس احساس نے اس کو بے چین کردیا۔ وہ پورے احساسِ فرض کے ساتھ کھڑا ہوگیا کہ اپنی قوم کو شرک سے روکے اور توحید کی طرف دعوت دے۔ اسے معلوم تھا کہ قومی مذہب کے خلاف اس طرح کی علانیہ تبلیغ کرکے وہ خود پروہت کی گدّی سے محروم ہوجائے گا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کا خاندان اگر قومی مذہب سے پھر گیا تو وہ ساری وجاہت ختم ہوجائے گی جو اسے ملک میں حاصل ہے۔ اس کو یہ بھی خبر تھی کہ اس تبلیغ کی وجہ سے ساری قوم کا غصہ اس پر بھڑک اُٹھے گا۔ وہ اس بات سے بھی بے خبر نہ تھا کہ یہ تبلیغ اسے حکومت کے عتاب میں مبتلا کر دے گی کیونکہ شاہی خاندان کے اقتدار کی بنیاد ہی وہاں یہ عقیدہ تھا کہ وہ دیوتائوں کی اولاد ہے اور اس بنا پر توحید لازماً حکومت کے بنیادی نظریے سے ٹکراتی تھی۔ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود وہ اپنا فرض ادا کرنے کے لیے اُٹھا، اپنے باپ کو، اپنے خاندان کو، اپنی قوم کو اور بادشاہ تک کو اس نے شرک سے باز آنے اور توحید کا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دی، اور جتنی زیادہ اس کی مخالفت کی گئی اتنی ہی زیادہ اس کی سرگرمی بڑھتی چلی گئی۔ آخرکار نوبت یہ آگئی کہ ایک طرف وہ تنِ تنہا انسان تھا اور دوسری طرف اس کے مقابلے میں بادشاہ، ملک، برادری، خاندان، حتیٰ کہ اس کا اپنا باپ تک صف آرا تھا۔ اب پورے ملک میں کوئی اس کا دوست نہ تھا۔ ہرطرف دشمن ہی دشمن تھے۔ ایک ہمدردی کی آواز بھی اس کے حق میں اٹھنے والی نہ تھی۔ اس پر بھی جب اس نے ہمت نہ ہاری اور توحید کی دعوت پیش کرنے سے اس کی زبان نہ تھکی تو فیصلہ کیا گیا کہ برسرِعام اسے زندہ جلا دیا جائے مگر اس ہولناک سزا کا خوف بھی اسے باطل کو باطل اور حق کو    حق کہنے سے باز نہ رکھ سکا۔ اس نے آگ کے الائو میں پھینکا جانا گوارا کرلیا مگر یہ گوارا نہ کیا کہ جس حقیقت پر وہ ایمان لاچکا تھا، اس سے پھر جائے اور اسے حقیقت کہنا چھوڑ دے___ یہ اس کی دوسری عظیم الشان قربانی تھی۔

نہ معلوم کس طرح خدا نے اُسے آگ میں جلنے سے بچا لیا۔ اس خطرے سے بخیریت گزر جانے کے بعد اس کے لیے ملک میں ٹھیرنا غیرممکن تھا۔ آخرکار اس نے جلاوطنی کی زندگی اختیار کی۔ آس پاس کے سارے ملک جن میں وہ جا سکتا تھا اُس وقت بت پرست تھے۔ کہیں کوئی ایسی چھوٹی سے چھوٹی برادری یا سوسائٹی بھی موجود نہ تھی جو توحید کی قائل ہوتی، جس کے پاس وہ پناہ لے کر امن کی زندگی پاسکتا۔ اس حالت میں امن پانے کی صرف یہی ایک صورت تھی کہ وہ اپنے ملک سے نکل جانے کے بعد دعوتِ توحید سے زبان بند کرلیتا۔ انفرادی طور پر اگر ایک اجنبی آدمی کسی مذہب کا پیرو ہو تو دوسرے ملکوں کے لوگ اسے خواہ مخواہ چھیڑنے کی تکلیف کیوں کرنے لگے تھے، بلکہ انھیں یہ معلوم ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں تھی کہ اس کا مذہب کیا ہے، مگر یہ خدا کا بندہ دوسرے ملکوں میں بھی جاکر خاموش نہ رہا۔ جہاں بھی گیا اس نے خدا کے سب بندوں کو یہی دعوت دی کہ دوسروں کی بندگی چھوڑو اور صرف اُسی ایک خدا کے بندے بن کر رہو جو حقیقت میں تمھارا خدا ہے۔ اس تبلیغ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے ملک سے نکل کر بھی اسے کہیں چین سے بیٹھنا نصیب نہ ہوا۔ کبھی شام میں ہے تو کبھی فلسطین میں، کبھی مصر میں ہے تو کبھی حجاز میں۔ غرض ساری عمر یوں ہی ملک ملک کی خاک چھانتے گزر گئی۔ اس کو آرام کے ٹھکانے کی طلب نہ تھی۔ اس کو گھر اور کھیت اور مویشی اور کاروبار کی طلب نہ تھی۔ اس کو دنیا کے عیش اور زندگی کے سروسامان کی طلب نہ تھی۔ اسے صرف اس چیز کی طلب تھی کہ جس حق پر وہ ایمان لایا ہے اس کا کلمہ بلند ہو، اور اس کے بنی نوع گمراہی کو چھوڑ کر اس سیدھی راہ پر چلنے لگیں جس میں ان کا اپنا بھلا ہے۔ یہی طلب اسے جگہ جگہ لیے پھرتی تھی اور اسی طلب کے پیچھے اس نے اپنے ہر مفاد کو تج دیا___ یہ اس کی تیسری قربانی تھی۔

اس خانہ بدوشی اور بے سروسامانی کے عالم میں پھرتے پھرتے جب عمر تمام ہونے کو آئی تو خدا نے اُسے ایک بیٹا دیا۔ اس بچے کو پالا پوسا یہاں تک کہ وہ اس عمر کو پہنچا جب اولاد والدین کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹانے اور زندگی کی دوڑ دھوپ میں ان کا ساتھ دینے کے قابل ہوتی ہے۔ بیٹا اور وہ بھی اکلوتا بیٹا، پھر عنفوانِ شباب کو پہنچا ہوا، اور باپ زندگی کے اُس مرحلے میں جب کہ آدمی جوان اولاد کے سہارے کا سب سے بڑا محتاج ہوتا ہے۔ ہرشخص اس صورت حال کا تصور کرکے اندازہ کرسکتا ہے کہ اس باپ کو وہ بیٹا کیسا کچھ عزیز ہوگا، مگر مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ اسے خدا اور اس کی مرضی سے بڑھ کر کوئی چیز بھی عزیز نہ ہو۔ اس لیے وہ ساری قربانیاں بھی کافی نہ سمجھی گئیں جو یہ بندہ اپنے خدا کے لیے ساری عمر کرتا رہا تھا۔ ان سب کے بعد اس کا آخری امتحان لینا ضروری سمجھا گیا اور وہ یہ تھا کہ یہ بندۂ مسلم اپنے اس عزیز ترین بیٹے کی محبت کو بھی خدا کی محبت پر قربان کرسکتا ہے یا نہیں۔ چنانچہ یہ امتحان بھی لے ڈالا گیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ بوڑھا انسان اپنے خدا کا صریح حکم نہیں، محض ایک اشارہ پاتے ہی اکلوتے نوجوان بیٹے کو خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ یہ اور بات ہے کہ خدا نے عین ذبح کے وقت لڑکے کی جگہ مینڈھے کو قبول کرلیا، کیونکہ خدا کو لڑکے کا خون مطلوب نہ تھا، محض محبت کی آزمایش مقصود تھی، لیکن اس سچے مسلمان نے اپنی نیت کی حد تک تو اپنا لختِ جگر اپنے خدا کے اشارے پر قربان کر ہی دیا تھا___ یہ تھی وہ آخری اور سب سے بڑی قربانی جسے اس شخص نے اپنے اسلام اور ایمان، اور خدا کے ساتھ اپنی وفاداری کے ثبوت میں پیش کیا تھا۔ اسی کے صلے میں خدا نے اسے تمام دنیا کے انسانوں کا امام بنایا اور اپنی دوستی کے مرتبے پر سرفراز کیا۔

آپ سمجھے کہ یہ کس شخص کا ذکر ہے؟ یہ اُس ذاتِ گرامی کا ذکر ہے جسے آج ہم سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے جانتے ہیں، اور یہی وہ قربانی ہے جس کی یادگار آج دنیا بھر کے مسلمان جانوروں کی قربانی کر کے مناتے ہیں۔ اس یادگار کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان کے اندر قربانی کی وہی روح، اسلام و ایمان کی وہی کیفیت اور خدا کے ساتھ محبت ووفاداری کی وہی شان پیدا ہو جس کا مظاہرہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی پوری زندگی میں کیا ہے۔ اگر کوئی شخص محض ایک جانور کے گلے پر چھری پھیرتا ہے اور اس کا دل اس رُوح سے خالی رہتا ہے تو وہ ناحق ایک جان دار کا خون بہاتا ہے۔ خدا کو اس کے خون اور گوشت کی کوئی حاجت نہیں۔ وہاں تو جو چیز مطلوب ہے  وہ دراصل یہ ہے کہ جو شخص کلمہ لا الٰہ الا اللہ پر ایمان لائے، وہ مکمل طور پر بندۂ حق بن کر رہے۔ کوئی تعصب، کوئی دل چسپی، کوئی ذاتی مفاد، کوئی دبائو اور لالچ، کوئی خوف اور نقصان، غرض کوئی اندر کی کمزوری اور باہر کی طاقت اس کو حق کے راستے سے نہ ہٹا سکے۔ وہ خدا کی بندگی کا اقرار کرنے کے بعد پھر کسی دوسری چیز کی بندگی قبول نہ کرے۔ اس کے لیے ہرتعلق کو قربان کر دینا آسان ہو، مگر اُس تعلق کو قربان کرنا کسی طرح ممکن نہ ہو جو اس نے اپنے خدا سے قائم کیا ہے۔ یہی قربانی اسلام کی اصل حقیقت ہے اور آج ہر زمانے سے بڑھ کر ہم اس کے محتاج ہیں کہ یہ حقیقت ہماری سیرتوں میں پیوست ہو۔ مسلمانوں نے جب کبھی دنیا میں چوٹ کھائی ہے اسلام کی اسی حقیقت سے خالی ہوکر کھائی ہے(اکتوبر ۱۹۴۷ء)۔ (نشری تقریریں، ص ۹۷-۱۰۴)

 

پاکستان میں نفاذِ شریعت کے امکانات کیا ہیں؟ ....[اس] سوال کے دو جواب ہیں:

تدبر و قربانی سے یہ کام ممکن ھے

ایک جواب یہ ہے کہ انسان پیہم اور مسلسل سعی کرے اور سوچ سمجھ کر سعی کرے، بیوقوفوں کی طرح نہیں، سوچ کر عقل مندی کے ساتھ، تو وہ بڑے سے بڑے پہاڑوں کے اندر سرنگ پیدا کرسکتا ہے۔ وہ سمندروں کے نیچے سے سرنگ نکال سکتا ہے، سمندروں کے اندر سے تیل نکال سکتا ہے، وہ چاند کے اُوپر پہنچ سکتا ہے۔ جب انسان یہ کچھ کرسکتا ہے تو انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایسی عظیم طاقتیں دی ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نظام نافذ کرنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا تو اس کو بھی نافذ کرسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے جان لڑانی ہے، محنت کرنی ہے، عقل مندی کے ساتھ کام کرنا ہے اور مسلسل جان کھپانی ہے، اور اس کام کو وہ لوگ کرسکتے ہیں جو یہ شرط نہ لگائیں کہ ہم اس کو اپنے سامنے نافذ ہوتے دیکھیں، اس لیے کہ نہ معلوم کتنوں کو اس کے نفاذ کی کوشش میں پہلے ہی جان دینی پڑے۔ بدر میں جن لوگوں نے شہادت پائی، اگر وہ جان نہ دیتے اور یہ کہتے کہ ہمیں تو اس وقت کے لیے زندہ رہنا ہے جب اس نظام کو نافذ ہوتے دیکھیں گے، دنیا پر غالب ہوتے دیکھیں گے تو دنیا پر اسلام غالب نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ غالب ہوا اس طرح کہ بکثرت لوگ اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ انھوں نے اس بات کی فکر نہیں کی کہ یہ نافذ ہوسکے گا یا نہیں۔ انھوں نے یہ دیکھا کہ یہ ہمارا فرض ہے، ہمیں اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنی ہے، جس کے نتیجے میں شہادت آتی ہے تو اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں۔ اس نظریے کے ساتھ، اس سوچ کے ساتھ وہ آئے اور انھوں نے آکر کام کیا اور ان کی قربانیوں کو اللہ تعالیٰ پہلے ہی قبول کرنے والا تھا، وہ قبول ہوگئیں، لیکن جو جان لڑانے والے تھے اور بچ رہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ ایسا دین غالب کیا کہ دنیا کے بڑے حصے پر چھا گیا، تو امکان یہ بھی ہے۔

دوسرا پھلو

اس امر کا بھی امکان ہے کہ آپ تمام عمر جدوجہد کریں اور پھر یہ نظام نافذ نہ ہو، اور اس کی وجہ اس نظام کی کمزوری نہیں ہوگی، اگر آپ اس نظام کے لیے سعی کرنے کا حق ادا کریں تو آپ کی بھی کمزوری نہیں ہوگی، وہ [اُس] قوم کی بدبختی ہوگی جو ایسے لوگوں کا ساتھ نہ دے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو وہ چیز نہیں دیتا جس کا وہ اپنے آپ کو اہل ثابت نہیں کرتی۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ قوم     اپنے آپ کو فساق وفجار کے لیے تیار کرے اور اس پر راضی ہوجائے اور چاہے کہ فساق و فجار ہی     ان کے اُوپر معاملات چلانے والے ہوں، تو اللہ تعالیٰ ان کو صالحین اور متقی نہیں دیں گے۔ یہ نہیں ہوتا۔ وہ لوگ جنھوں نے ایسی قوموں میں کام کیا اور اپنی عمریں ان کے اندر کھپا دیں اور ان کی قوم سیدھے راستے پر نہ آئی تو وہ ناکام نہیں تھے۔ وہ قوم ناکام تھی۔ حضرت لوط علیہ السلام کے قصے  میں آتا ہے کہ جس وقت فرشتے قومِ لوط پر عذاب دینے کے لیے بھیجے گئے تو انھوں نے کہا:        فَمَا وَجَدْنَا فِیْھَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ___ پوری قوم میں ایک مسلم گھر تھا۔ اس کے لوگوں سے کہا، نکل جائو اور حضرت لوط علیہ السلام سے کہا کہ بیوی کو چھوڑ جائو۔ یہ عذاب میں پکڑی جائے گی، یعنی اس گھر میں بھی کافرہ موجود تھی اور وہ بھی پورے کا پورا مومن نہیں تھا۔ ان کو چھوڑ دیا گیا اور اس کے بعد جو عذاب لایا گیا وہ آپ جانتے ہیں کہ قرآن پاک میں واضح ہے، تو ایک قوم نہ چاہتی ہو کہ ان کے اُوپر اسلامی نظام نافذ ہو، ایک قوم اگر نہ چاہتی ہو کہ اس کے معاملات ایمان دار اور خدا ترس لوگ چلائیں، ایک قوم خود بددیانت اور بے ایمان کو چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو زبردستی نیک لوگ نہیں دیتا۔ ان نیک لوگوں کا اجر اللہ کے پاس ہے۔ وہ ناکام نہیں ہیں۔ اگر ان کی بات نہ چلے تو وہ ناکام نہیں ہیں، ناکام وہ قوم ہے۔

امکان کو نگاہ میں رکھ کر کام نہ کریں

اس پہلو کو نگاہ میں رکھ کر کام کیجیے، اور یہ سمجھ کر نہ کیجیے کہ اس کا امکان ہو تو ہم کام کریں۔ یہ سوال جو لوگ کرتے ہیں کہ کیا امکان ہے، تو ان سے میں پوچھتا ہوں کہ بھائی فرض کرو کہ اس کا امکان نہیں ہے تو کیا آپ یہ رائے رکھتے ہیں کہ جس چیز کا امکان ہے اس کے لیے کام کریں۔ یہ تو پھر مومن کا کام نہیں ہے۔

مومن کا کام تو یہ ہے کہ اگر اس کے نافذ ہونے کا ایک فی صد امکان نہ ہو بلکہ ایک فی ہزار بھی امکان نہ ہو تب بھی وہ اس کے لیے جان لڑائے۔ اس راستے میں کوشش کرتے ہوئے     جان دے دینا کامیابی ہے اور کسی غلط راستے پر جاکر وزیراعظم یا صدراعظم بن جانا بھی کامیابی نہیں، کھلی ناکامی ہے۔

آپ کا فرض

اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ امکان کی شرط کے ساتھ آپ کو یہ کام نہیں کرنا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے کرنا ہے کہ یہ ہمارے کرنے کا کام ہے اور اس کے سوا ہمارے کرنے کا کوئی کام نہیں۔ مثلاً اگر ایک آدمی کے سامنے یہ سوال آئے کہ پیشاب بھی پینے کی چیز ہے تو جو آدمی طہارت کی ذرہ برابر بھی حِس رکھتا ہو تو وہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ یہ بھی کوئی پینے کے قابل چیز ہے۔  وہ برابر اسی تلاش میں رہے گا کہ اسے پینے کے لیے صاف پانی ملے لیکن کبھی اس کا ذہن اس طرف نہیں جائے گا کہ پیشاب بھی کوئی پینے کے قابل چیز ہے۔ اسی طرح وہ آدمی جو اسلام کا سچے دل سے قائل ہے وہ یہ سوچ نہیں سکتا کہ دوسرے جن راستوں میں آسانیاں ہیں، جن راستوں میں سہولتیں ہیں، عیش ہے،لذتیں ہیں، فائدے ہیں ان کی طرف جائے کہ ان کا امکان ہے اور اسلام کا کوئی امکان نہیں۔ اس کے سوچنے کے قابل بھی وہ چیز نہیں۔ وہ کبھی حسرت بھری نگاہ بھی نہیں ڈالے گا ان کے محلات پر، ان کی کوٹھیوں پر، ان چیزوں پر، وہ کبھی یہ نہیں سوچے گا کہ کاش! یہ دولت میرے پاس آئے۔ اس وجہ سے صرف وہ لوگ اس کام کو کرسکتے ہیں جو ’امکان ہے‘ کو چھوڑ کر یہ دیکھیں کہ ہمارا فرض کیا ہے۔ اور اس فرض کو ادا کرنے کے لیے ہرتکلیف، ہر مصیبت اور ہر مشکل برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہی ان کے کرنے کا کام ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگ پیدا کردیے اور انھوں نے پوری ہمت کے ساتھ اس کے لیے کام کیا تو میں یہ نہیں سمجھتا کہ کون سی طاقت یہاں ایسی ہے جو انھیں آگے بڑھنے سے روک سکے۔ اللہ نے چاہا تو اس میں کامیابی ہی ہوگی۔

میں نے دوسرا پہلو آپ کے سامنے پیش کیا وہ اس لیے کہ کامیابی کی شرط کے ساتھ آپ کام نہ کریں۔ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر اس ملک کے اندر ایک مٹھی بھر تعداد ایسے لوگوں کی موجود ہو جو پوری تنظیم کے ساتھ، پورے ڈسپلن کے ساتھ، عقل و ہوش کے ساتھ اور دیوانگی کے ساتھ، دونوں چیزیں ساتھ چاہییں، یہ کام کریں، اس میں جان لڑائیں اور مسلسل جان لڑاتے جائیں اور ہرتکلیف اور خطرے کو انگیز کرنے کے لیے تیار ہوں، تو وہ لوگ جو اس وقت ایک غیراسلامی نظام کو چلاتے ہیں وہ ایسی طاقت نہیں رکھتے کہ ان کے سامنے ٹھیرسکیں۔

نظامِ باطل کہوکہلا ھوتا ھے

واقعہ یہ ہے کہ آپ اس بات کو دیکھیے کہ جو لوگ اس نظام کو چلا رہے ہیں ان کی حالت کیا ہے۔ ان میں سے کوئی دو آدمی ایک دوسرے سے مخلص نہیں ہیں۔ ان کی دوستیاں بے غرضی پر مبنی نہیں، بے لوثی پر مبنی نہیں،قلبی محبت پر نہیں مفاد پر مبنی ہیں، جس کے ساتھ ہیں اس کا ساتھ بھی دے رہے ہیں اور دل میں گالیاں بھی دے رہے ہیں، بلکہ وہ اپنی پرائیویٹ مجلسوں میں جب دیکھتے ہیں کہ بات نہیں پہنچے گی تو وہ ان مجلسوں میں بھی کھلم کھلا کہتے ہیں۔ باطل نظام بظاہر بڑے زور کے ساتھ نافذ ہوتا ہے لیکن اصل میں کھوکھلا ہوتا ہے ٹھوس نہیں ہوتا۔ اس میں قائم رہنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے کہ ایسے لوگوں کو موقع دیا جائے تو ایسے لوگوں کو موقع ملتا ہے۔ وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے عقل مندی کرکے وہ تمام راستے بند کردیے ہیں جن سے خطرہ آسکتا ہے، لیکن ایک راستہ اللہ تعالیٰ نے ایسا رکھ چھوڑا ہے جدھر سے اس کو خطرہ لانا ہوتا ہے، وہ  اس راستے کو بند نہیں کرسکتے۔ اس طرح سے ایسے نظام قائم ہوتے ہیں، وہ بار بار جمتے اور اکھڑتے ہیں۔ اور لوگ اس انتظار میں ہیں کہ کوئی ایسا گروہ آئے جو ایک مضبوط بنیاد پر ان کے لیے ایک نظامِ حق قائم کرے۔ جب تک ایسا گروہ سامنے نہیں آئے گا اور اس مرحلے تک نہیں پہنچ جائے گا کہ وہ نظامِ حق کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرسکے، اس وقت تک یہاں کھوکھلے نظام قائم ہوتے اور بدلتے رہیں گے۔ آدمی بدلیں گے وہ کھوکھلا نظام جوں کا توں رہے گا۔ صرف اشخاص بدلتے چلے جائیں گے۔

حالات اھلِ حق کے منتظر ھیں!

آپ دیکھیے یہاں جو نظام [برسوں] سے چلا آرہا ہے اس میں صرف اشخاص بدلتے گئے، قسم ایک ہی رہی ہے، نظام کی نوعیت ایک ہی رہی ہے، اس کی فطرت ایک ہی رہی ہے۔ یہی صورت حال جاری رہے گی اس انتظار میں کہ کب وہ لوگ آتے ہیں۔ اگر وہ لوگ نہ آئے تو نہیں معلوم اس قوم کا کیا حشر ہوگا کہ یہ مسلسل انقلابات کو برداشت بھی کرسکے گی یا نہیں، اور یہ مسلسل انقلابات کے لیے زندہ بھی رہ سکے گی۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس قوم کو کوئی بھی چیز بچاسکتی ہے تو یہی نظامِ حق ہے، وہ یہاں مضبوط بنیادوں پر قائم ہو۔ قبل اس کے کہ خدا کا عذاب فیصلہ کردے کہ اس قوم کو زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ (جمعیت اتحاد العلما کے زیراہتمام راولپنڈی میں منعقدہ نفاذِ شریعت کانفرنس سے خطاب۔ ہفت روزہ   ایشیا ،۱۴ مارچ ۱۹۷۶ء)

 

اسلام کے شیدائی نوجوانوں کی یہ ہری بھری لہلہاتی فصل دیکھ کر میرے اُوپر اس طرح کا اثر ہوتا ہے جس کو قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِھِمُ الْکُفَّارَ [الفتح ۴۸:۲۹] ___ کسانوں کو اس کی بہار پسند آتی ہے اور کفار کا دل کڑھتا ہے۔ اس آیت میں ایک لطیفہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ کافر کا لفظ عربی زبان میں کسان کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ زرّاع کے مقابلے میں کافر کا لفظ ذومعنی استعمال کیا گیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ بھلائی کی فصل بونے والے خوش ہوتے ہیں اور بُرائی کی فصل بونے والے کڑھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دو تین سال سے میں لوگوں سے اس بات کو کہتا تھا۔ لوگ چاہتے تھے کہ موجودہ زمانے کے سیاسی مسائل حل کرنے کے لیے میں دوڑ دھوپ کروں اور میں ان سے یہ کہتا تھا کہ پچھلی نسل کی جو خدمت میرے بس میں تھی، وہ میں کرچکا۔ اب مجھے آیندہ نسل کے لیے کچھ کرنے دیجیے۔ چنانچہ اسی خواہش کے تحت میں نے اپنی تمام توجہ اور محنت تفہیم القرآنکی تکمیل پر صرف کر دی، یہ سمجھتے ہوئے کہ آیندہ نسلوں کو اسلام کے راستے پر قائم رکھنے میں یہ ان شاء اللہ مددگار ثابت ہوگی اور جب تک یہ موجود رہے گی ان شاء اللہ آیندہ نسلوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ نہیں رہے گا۔ آیندہ نسلوں کی خاطر ہی میں یہ کام کر رہا تھا اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہے کہ نئی نسل کو یہ چیز پسند آئی ہے اور اس کے اندر یہ مقبول ہو رہی ہے۔

اس موقع پر میں مختصر طور پر آپ کو یہ بتائوں گا کہ اس تفہیم القرآن میں اور اپنی دوسری کتابوں میں، میں نے جو طرزِ استدلال توحید اور رسالت اور وحی اور آخرت اور اسلام کے اخلاقی اصولوں کو برحق ثابت کرنے کے لیے اختیار کیا ہے، وہ درحقیقت میری اس ریسرچ اور تحقیقات کا نتیجہ ہے جو میں نے اپنی زندگی میں ہوش سنبھالنے کے بعد کی ہے۔ اگرچہ میں ایک دین دار گھرانے میں پیدا ہوا تھا، میرے والد مرحوم اور میری والدہ مرحومہ دونوں دین دار تھے اور میں نے ان سے پوری مذہبی تربیت پائی۔ لیکن جب میں ہوشیار ہوا اور جوانی کی عمر میں داخل ہوا تو میرا طرزِفکر یہ تھا کہ کیا میں صرف اس وجہ سے مسلمان ہوں کہ مسلمان کا بیٹا ہوں۔ اگر اس وجہ سے میرا مسلمان ہونا برحق ہے تو جو شخص ایک عیسائی کے گھر میں پیدا ہوا ہے، اس کا عیسائی ہونا برحق ہوگا اور جو ہندو کے گھر میں پیدا ہوا ہے، اس کا ہندو ہونا برحق ہوگا۔ اس لیے مجھے تحقیق کرنی چاہیے کہ حق   فی الواقع کیا ہے۔ چنانچہ اس حالت میں، مَیں نے اپنے فیصلے کو معطل رکھا۔ یہ نہیں ہے کہ میں دہریہ ہوگیا تھا یا ملحد ہوگیا تھا، دراصل میں تحقیقات کے بعد ایک مستقل فیصلہ کرنا چاہتا تھا۔

اس غرض کے لیے میں نے ویدوں کے تراجم لفظ بہ لفظ پڑھے، گیتا لفظ بہ لفظ پڑھی، ہندو مذہب کے فلسفے اور ہندو مذہب کی تاریخ کو پڑھا، بدھ مذہب کی اصل کتابیں جو انگریزی میں ترجمہ ہوئی ہیں ان کو پڑھا۔ اسی طرح بائیبل پوری کی پوری پڑھی اور پادری دومیلو کی تحقیق کی نظر سے پڑھی تاکہ یہ نہ ہو کہ میں کوئی متعصبانہ مطالعہ کروں۔ میں نے اپنے دماغ کے ہرتعصب کو نکال کر پوری دیانت داری کے ساتھ تحقیق کی کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ عیسائیت اور یہودی مذہب دونوں کے متعلق میں نے وسیع معلومات حاصل کیں۔ عیسائیوں کی اصل لکھی ہوئی کتابیں اور یہودیوں کی اصل لکھی ہوئی کتابیں پڑھیں۔ تلمود کے جتنے حصے مجھے مل سکے، میں نے پڑھے۔پھر میں نے دہریوں اور ملحدوں اور مادہ پرستوں کے فلسفے پڑھے اور جن لوگوں نے سائنس کے نام سے دنیا میں دہریت پھیلائی ہے، ان کو پڑھا۔ نہ صرف پڑھا بلکہ جن مغربی مفکرین کے پیچھے دنیا چل رہی ہے، ان کے حالات بھی پڑھے تاکہ یہ معلوم کروں کہ یہ لوگ معتدل مزاج اور سوبر ہیں بھی کہ نہیں۔کیونکہ ایک انسان ایک نظریہ پیش کرتا ہے اور بعض اوقات وہ نظریہ یہ پتا دیتا ہے کہ اس کے پیش کرنے والے کے دماغ میں کچھ نہ کچھ عدم توازن پایا جاتا ہے۔ میں نے ان لوگوں کی سوانح عمریاں پڑھیں تاکہ یہ معلوم کروں کہ فی الواقع ان کی زندگیاں کیا ہیں۔ اس سارے مطالعے کے بعد پھر میں نے قرآن مجید کو پڑھا۔ بچپن سے میری تعلیم عربی کی تھی، اس لیے مجھے اس کی ضرورت نہ تھی کہ میں اسے ترجمے سے پڑھتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر جو اصل کتابیں ہیں (بعد کے لوگوں کی لکھی ہوئی نہیں بلکہ اصل ماخذ) ان کو پڑھا اور احادیث کو پڑھا۔

اس کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس سے زیادہ معقول اور اس سے زیادہ مدلل مذہب اور کوئی نہیں ہے جیساکہ قرآن پیش کرتا ہے، اور اس سے زیادہ مکمل رہنما اور کوئی نہیں ہے جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور انسانی زندگی کے لیے اس سے زیادہ مفصل اور صحیح پروگرام کہیں نہیں پیش کیا گیا جیساکہ قرآن وحدیث میں پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح میں محض دین آبائی ہونے کی وجہ سے اسلام کا معتقد نہیں ہوں، بلکہ تمام مذاہب ِ عالم کا اچھی طرح مطالعہ کرنے اور تحقیق کرنے کے بعد میں نے یہ راے قائم کی ہے۔ اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میں تفہیم القرآن میں جہاں جہاں بھی قرآن مجید کی آیات کی تفسیر کرتا ہوں وہاں معقول طریقے سے دلائل کے ساتھ اس راے کا بھی اظہار کرتا ہوں۔ یہ وہ استدلال ہے جس سے میں نے درحقیقت اسلام حاصل کیا ہے۔ جس سے میں توحید کا قائل ہوا، جس سے میں رسالت کا قائل ہوا، جس سے میں وحی کا قائل ہوا، جس سے اسلام کے مکمل نظامِ زندگی ہونے کا قائل ہوا، جس سے میں اس بات کا قائل ہوا کہ اسلام ہر زمانے کے لیے بہترین رہنمائی ہے۔ اس وجہ سے میں نے یہ ضروری سمجھا کہ میں قرآن مجید کے ذریعے سے لوگوں کو سمجھائوں کہ اسلام حقیقت میں ہے کیا....

میری خواہش یہ تھی کہ میں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت لکھوں گا اور ایک حدیث کا مجموعہ مرتب کروں گا اور اس کی شرح بھی کروں گا لیکن ۳۰ سال تفہیم القرآن ہی لکھنے میں گزر گئے___ تاہم آپ دیکھیں گے کہ میں نے قرآن مجید کا سیرت سے تعلق جگہ جگہ دکھایا ہے۔ پوری ریسرچ کرکے، پوری تحقیقات کرکے میں نے یہ معلوم کیا ہے کہ قرآن مجید کی کون سی آیت اور کون سی سورہ کس زمانے میں نازل ہوئی اور اس زمانے کے حالات کیا تھے۔ اس طرح سیرت کے ساتھ قرآن مجید کا تعلق میں برابر تفہیم القرآن میں ہر جگہ ابتدا سے لے کر آخر تک دکھاتا رہا ہوں۔ یوں تفہیم القرآن ہی میں سیرت پر بھی خاصا مواد جمع ہوگیا ہے اور اگر کوئی شخص اس کو مرتب کرے تو سیرت پر ایک کتاب مکمل ہوسکتی ہے۔ احادیث کا مجموعہ بھی اگرچہ میں مرتب نہیں کرسکا، لیکن جہاں جہاں بھی موقع ہوا ہے، میں نے احادیث سے قرآن کی تفسیر کی ہے۔ اگر کوئی شخص چاہے تو احادیث کا مجموعہ بھی اس سے مرتب کرسکتا ہے۔ جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ قرآن اور حدیث کے درمیان باہم کیا تعلق ہے اور قرآن کو سمجھنے کے لیے حدیث کتنی ضروری ہے۔ حدیث اگر نہ ہو تو قرآن سمجھنے میں آدمی کو کتنا نقص واقع ہوتا ہے۔

میں اپنے تجربے اور مطالعے کی روشنی میں آپ لوگوں سے یہ درخواست کروں گا کہ آپ لوگ بھی صرف اس وجہ سے مسلمان نہ بنیں کہ مسلمانوں کی اولاد ہیں بلکہ شعوری طور پر ایمان لائیں۔ شعوری طور پر یہ تسلیم کریں کہ اللہ ہے اور یقینا وہ ایک ہے اور ساری کائنات اسی کی ہے۔ اور شعوری طور پر یہ تسلیم کریں کہ آخرت ہے اور یقینا مرنے کے بعد ہمیں اُٹھنا ہے اور اپنے خدا کو جواب دینا ہے۔ اور شعوری طور پر یہ بات تسلیم کریں کہ حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی تھے اور آپؐ پر وحی آتی تھی۔ اگر کوئی شخص شعوری طور پر ایمان نہ لائے اور محض تقلیدی ایمان کے ذریعے سے نماز روزے بھی کرتا رہے تو آپ اس کی زندگی میں وہ تمام منافقتیں اور وہ تمام تضادات دیکھیں گے جو اس وقت عام مسلمانوں کے اندر، مسلمانوں کے لیڈروں کے اندر اور مسلمانوں کی بڑی بڑی جماعتوں کے اندر پائے جاتے ہیں۔ خالص اسلام اس وقت حاصل ہوتا ہے جب آدمی شعوری طور پرسوچ سمجھ کر ایمان لائے اور جانے کہ جس چیز کو میں مانتا ہوں، اس کے ماننے کے تقاضے کیا ہیں، اس کے ماننے کے بعد کیا چیز لازم آتی ہے۔ پھر آدمی کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ اس کی زندگی میں تضاد ہو اور تناقض ہو، وہ کہے کچھ، کرے کچھ۔ اس کے اخلاق کچھ اور ہوں اور اس کے اعمال کچھ اور ہوں اور نماز وہ مسجد میں جاکر ادا کر رہا ہو۔ یہ صورت حال شعوری طور پر ایمان لانے سے باقی نہیں رہتی۔ پھر آدمی جو کچھ کرتا ہے سوچ سمجھ کر سچے دل سے کرتا ہے۔ وہ یکسو اور حنیف بن کر رہتا ہے۔ جیساکہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سب سے بڑی تعریف یہ کی گئی ہے، کان حنیفًا مسلمًا، ایسا مسلمان جو یکسو تھا ہر طرف سے مڑ کر ایک طرف کا ہوگیا تھا اور وہ شخص مسلم حنیف تھا۔

میں اپنی اس تقریر کو اس دعا کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مسلمان نوجوانوں کو سچا مسلمان بنائے اور ان کو اسلام کے لیے جان، مال،محنت، قابلیت، ہر چیز قربان کرنے کی توفیق عطافرمائے، اور وہ سرزمین جو اسلام کا گھر تھی اور اسلام کے لیے بنائی گئی تھی، اس سرزمین کو گمراہ کرنے والوں سے پاک کرے، اور ان لوگوں کی توفیق اور تائید فرمائے اور ان لوگوں کی مدد فرمائے جو اس سرزمین کودارالاسلام بنانا چاہتے ہیں___ وآخر دعوانا ان الحمدللّٰہ رب العالمین۔ (اسلامی جمعیت طلبہ کے زیراہتمام تکمیل تفہیم القرآن کی تقریب سے خطاب ،بحوالہ ایشیا، جولائی ۱۹۷۲ء)

 

پاکستان میں [جس صورتِ حال سے ہم دوچار ہیں] اس کا اگر تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی اصل وجہ اتفاق کی بنیادیں تلاش کرنے میں ہماری ناکامی ہے۔ ہمیں اپنی مرضی سے اپنی زندگی کی تعمیر کرنے کا اختیار حاصل ہوئے [برسوں] گزر چکے ہیں، مگر جہاں   ہم پہلے روز کھڑے تھے وہیں آج بھی کھڑے ہیں۔ بے اختیاری کے زمانے میں جو کچھ اور جیسے کچھ ہمارے حالات تھے، اختیار پاکر بھی ہم ان کو بدلنے اور بہتر بنانے کے لیے کوئی کامیاب اور قابلِ ذکر کوشش نہیں کرسکے ہیں.... آزادی کے لیے ہماری سعی و جہد تو اسی غرض کے لیے تھی کہ  ہم غلامی کے دور کی حالت پر راضی نہ تھے اور اسے بدلنے اور بہتر بنانے کے لیے اپنی مرضی استعمال کرنا چاہتے تھے، مگر کوئی چیز ایسی ہے جس کی وجہ سے ہم آزاد ہوجانے کے بعد بھی اپنی مرضی مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کرسکے۔

وہ چیز کیا ہے؟ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہمارے ہاں [زمانۂ دراز] سے اختلافات کی  فصلِ بہار آئی ہوئی ہے۔ فکرونظر کے اختلافات، اغراض اور خواہشات کے اختلافات، گروہوں اور ٹولیوں کے اختلافات [مسلکوں اور فرقوں کے اختلافات]، علاقوں اور صوبوں کے اختلافات نت نئی شان سے اُبھرتے رہے ہیں اور اُبھرتے چلے آرہے ہیں۔ جو کچھ ایک بنانا چاہتا ہے دوسرا اس میں مزاحم ہوتا ہے، اور دوسرا جو کچھ بنانا چاہتا ہے کوئی تیسرا اسے بگاڑنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوئی کچھ بھی نہیں بنا سکتا۔ اس صورت حال نے ہرپہلو میں تعمیر روک رکھی ہے اور تخریب آپ سے آپ اپنا کام کر رہی ہے خواہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا دل سے خواہاں نہ ہو۔

اگر ہم اپنے دشمن آپ نہیں ہوگئے ہیں تو ہمیں اختلاف اور مخالفت و مزاحمت کے اس اندھے جنون سے افاقہ پانے کی کوشش کرنی چاہیے ،اور اپنے ذہن کو اُن بنیادوں کی تلاش میں لگانا چاہیے جن پر سب، یا کم از کم اکثر باشندگانِ پاکستان متفق ہوسکیں، جن پر متفق ہوکر ہماری قوتیں اپنی تخریب کے بجاے اپنی تعمیر میں لگ سکیں۔

ایسی بنیادیں تلاش کرنا درحقیقت مشکل کام نہیں ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہمارے ذہن وجوہِ نزاع کرید کرید کر نکالنے کے بجاے اساساتِ اتفاق ڈھونڈنے کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ ذرا سا زاویۂ نظر بدل جائے تو ہم بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ اساساتِ اتفاق ہمارے قریب ہی موجود ہیں۔ ہم انھیں اپنے مذہب میں پاسکتے ہیں، اپنی تہذیب اور روایات میں پاسکتے ہیں، دنیا کے تجربات میں پاسکتے ہیں، اور عقلِ عام کی صاف اور صریح رہنمائی میں پاسکتے ہیں۔

[ہم یہاں] چند اُن بنیادی اصولوں کی نشان دہی [کرتے ہیں] جن پر اتفاق ممکن ہے.....

۱- صداقت اور باھمی انصاف: اوّلین چیز جس پر ملک کے تمام مختلف الخیال گروہوں اور اشخاص کو اتفاق کرنا چاہیے وہ صداقت اور باہمی انصاف ہے۔ اختلاف اگر ایمان داری کے ساتھ ہو، دلائل کے ساتھ ہو، اور اسی حد تک رہے جس حد تک فی الواقع اختلاف ہے، تو اکثر حالات میں یہ مفید ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس طرح مختلف نقطۂ نظر اپنی صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے آجاتے ہیں اور لوگ انھیں دیکھ کر خود راے قائم کرسکتے ہیں کہ وہ ان میں سے کس کو قبول کریں، تاہم اگر وہ مفید نہ ہو تو کم سے کم بات یہ ہے کہ مضر نہیں ہوسکتا۔ لیکن کسی معاشرے کے لیے اس سے بڑھ کر نقصان دہ کوئی چیز نہیں ہوسکتی کہ اُس میں جب بھی کسی کو کسی سے اختلاف ہو تو وہ ’’جنگ میں سب کچھ حلال ہے‘‘ کا ابلیسی اصول اختیار کر کے اُس پر ہر طرح کے جھوٹے الزامات لگائے، اُس کی طرف جان بوجھ کر غلط باتیں منسوب کرے، اُس کے نقطۂ نظر کو قصداً غلط صورت میں پیش کرے، سیاسی اختلاف ہو تو اسے غدار اور دشمنِ وطن ٹھیرائے، مذہبی اختلاف ہو تو اس   کے پورے دین و ایمان کو متہم کرڈالے، اور ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے اس طرح پڑجائے کہ گویا اب مقصدِ زندگی بس اسی کو نیچا دکھانا رہ گیا ہے۔ اختلاف کا یہ طریقہ نہ صرف اخلاقی لحاظ سے معیوب اور دینی حیثیت سے گناہ ہے، بلکہ عملاً بھی اس سے بے شمار خرابیاں پیدا ہوتی ہیں..... بھلائی اسی میں ہے کہ ہمیں کسی سے خواہ کیسا ہی اختلاف ہو، ہم صداقت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اس کے ساتھ ویسا ہی انصاف کریں جیسا ہم خود اپنے لیے چاہتے ہیں۔

۲- اختلافات میں رواداری : دوسری چیز جو اتنی ہی ضروری ہے، اختلافات میں رواداری ہے، [یعنی] ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش، اور دوسروں کے حقِ راے کو تسلیم کرنا ہے۔ کسی کا اپنی راے کو حق سمجھنا اور عزیز رکھنا تو ایک فطری بات ہے، لیکن راے رکھنے کے جملہ حقوق اپنے ہی لیے محفوظ کرلینا انفرادیت کا وہ مبالغہ ہے جو اجتماعی زندگی میں کبھی نہیں نبھ سکتا۔ پھر اس پر مزید خرابی اس مفروضے سے پیدا ہوتی ہے کہ ’’ہماری راے سے مختلف کوئی راے ایمان داری کے ساتھ قائم نہیں کی جاسکتی، لہٰذا جو بھی کوئی دوسری راے رکھتا ہے وہ لازماً بے ایمان اور بدنیت ہے‘‘۔ یہ چیز معاشرے میں ایک عام بدگمانی کی فضا پیدا کردیتی ہے، اختلاف کو مخالفتوں میں تبدیل کردیتی ہے اور معاشرے کے مختلف عناصر کو، جنھیں بہرحال ایک ہی جگہ رہنا ہے، اس قابل نہیں رہنے دیتی کہ وہ ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھ کر کسی مفاہمت و مصالحت پر پہنچ سکیں..... اس کا مداوا صرف اسی طرح ہوسکتا ہے کہ سب سے پہلے وہ لوگ جو اپنے اپنے حلقوں میں نفوذ و اثر رکھتے ہیں، اپنی ذہنیت تبدیل کریں اور خود اپنے طرزِعمل سے اپنے زیراثر لوگوں کو تحمل و برداشت اور وسعت ِ ظرف کا سبق دیں۔

۳- منفی کے بجاے مثبت طرزِعمل: تیسری چیز جسے تمام ان لوگوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے جو اجتماعی زندگی کے کسی شعبے میں کام کرتے ہوں، یہ ہے کہ ہرشخص اپنی قوتیں دوسروں کی تردید میں صرف کرنے کے بجاے اپنی مثبت چیز پیش کرنے پر صرف کرے۔ اس میں شک نہیں کہ بسااوقات کسی چیز کے اثبات کے لیے اس کے غیر کی نفی ناگزیر ہوتی ہے، مگر اس نفی کو اسی حد تک رہنا چاہیے جس حد تک وہ ناگزیر ہو، اور اصل کام اثبات ہونا چاہیے نہ کہ نفی۔ افسوس ہے کہ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں زیادہ تر زور اس بات پر صرف کیا جاتا ہے کہ دوسرے جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس کی مذمت کی جائے اور اس کے متعلق لوگوں کی راے خراب کر دی جائے.....

اِس وقت ہماری قومی زندگی میں ایک بڑا خلا پایا جاتا ہے جو ایک قیادت پر سے عوام کا اعتماد اُٹھ جانے اور دوسری کسی قیادت پر نہ جمنے کا نتیجہ ہے۔ اس خلا کو اگر کوئی چیز بھرسکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ مختلف جماعتیں اپنا جو کچھ اور جیسا کچھ بھی مثبت کام اور پروگرام رکھتی ہیں وہ لوگوں کے سامنے آئے اور لوگوں کو یہ سمجھنے کا موقع ملے کہ کون کیا کچھ بنا رہا ہے، کیا کچھ بنانا چاہتا ہے، اور کس کے ہاتھوں کیا کچھ بننے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ یہی چیز آخرکار ایک یا چند جماعتوں پر قوم کو مجتمع کرسکے گی اور اجتماعی طاقت سے کوئی تعمیری کام ممکن ہوگا۔ لیکن اگر صورت حال یہ رہے کہ ہر ایک اپنا اعتماد قائم کرنے کے بجاے دوسروں کا اعتماد ختم کرنے میں لگا رہے تو نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ کسی کا اعتماد بھی قائم نہ ہوسکے گا اور ساری قوم بِن سری ہوکر رہ جائے گی۔

۴- جبر و تشدّد کے بجاے دلائل: ایک اور بات جسے ایک قاعدۂ کلیہ کی حیثیت سے سب کو مان لینا چاہیے یہ ہے کہ اپنی مرضی دوسروں پر زبردستی مسلط کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ جو کوئی بھی اپنی بات دوسروں سے منوانا چاہتا ہو وہ جبر سے نہیں بلکہ دلائل سے منوائے، اور جو کوئی اپنی کسی تجویز کو اجتماعی پیمانے پر نافذ کرنا چاہتا ہو وہ بزور نافذ کرنے کے بجاے ترغیب و تلقین سے لوگوں کو راضی کرکے نافذ کرے۔ محض یہ بات کہ ایک شخص کسی چیز کو حق سمجھتا ہے یا ملک و ملّت کے لیے مفید خیال کرتا ہے، اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ وہ اُٹھے اور زبردستی اس کو لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش شروع کردے۔ اس طریق کار کا لازمی نتیجہ کش مکش، مزاحمت اور بدمزگی ہے۔ ایسے طریقوں سے ایک چیز مسلط تو ہوسکتی ہے مگر کامیاب نہیں ہوسکتی، کیونکہ کامیابی کے لیے لوگوں کی قبولیت اور دلی رضامندی ضروری ہے۔ جن لوگوں کو کسی نوع کی طاقت حاصل ہوتی ہے، خواہ وہ حکومت کی طاقت ہو یا مال و دولت کی یا نفوذ و اثر کی، وہ بالعموم اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ انھیں اپنی بات منوانے اور اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے رضاے عام کے حصول کا لمبا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بس طاقت کا استعمال کافی ہے لیکن دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی ہی زبردستیوں نے بالآخر قوموں کا مزاج بگاڑ دیا ہے، ملکوں کے نظام تہ و بالا کر دیے ہیں، اور ان کو پُرامن ارتقا کے راستے سے ہٹاکر بے تکے تغیرات و انقلابات کے راستے پر ڈال دیا ہے.....

۵- انفرادی عصبیت کے بجاے ملّی مفاد : اس سلسلے کی آخری بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی چھوٹی چھوٹی عصبیتوں کو ختم کر کے مجموعی طور پر پورے ملک اور ملّت کی بھلائی کے نقطۂ نظر سے سوچنے کا خوگر ہونا چاہیے۔ ایک مذہبی فرقے کے لوگوں کا اپنے ہم خیال لوگوں سے مانوس ہونا، یا ایک زبان بولنے والوں کا اپنے ہم زبانوں سے قریب تر ہونا، یا ایک علاقے کے لوگوں کا اپنے علاقے والوں سے دل چسپی رکھنا تو ایک فطری بات ہے۔ اس کی نہ کسی طرح مذمت کی جاسکتی ہے اور نہ اس کا مٹ جانا کسی درجے میں مطلوب ہے، مگر جب اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے گروہ اپنی محدود دل چسپیوں کی بنا پر تعصب اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنے گروہی مفاد یا مقاصد کے لیے معرکہ آرائی پر اُتر آتے ہیں تو یہ چیز ملک اور ملّت کے لیے سخت نقصان دہ بن جاتی ہے۔ اس کو اگر نہ روکا جائے تو ملک پارہ پارہ ہوجائے اور ملّت کا شیرازہ بکھر جائے جس کے بُرے نتائج سے خود یہ گروہ بھی نہیں بچ سکتے۔ لہٰذا ہم میں سے ہرشخص کو یہ اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ جس فرقے، قبیلے، نسل، زبان یا صوبے سے بھی اس کا تعلق ہو، اُس کے ساتھ اُس کی دل چسپی اپنی فطری حد سے تجاوز نہ کرنے پائے۔ یہ دل چسپی جب بھی تعصب کی شکل اختیار کرے گی، تباہ کن ثابت ہوگی۔ ہرتعصب لازماً جواب میں ایک دوسرا تعصب پیدا کردیتا ہے، اور تعصب کے مقابلے میں تعصب کش مکش پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پھر بھلا اُس قوم کی خیر کیسے ہوسکتی ہے جس کے اجزاے ترکیبی آپس ہی میں برسرِپیکار ہوں۔

ایسا ہی معاملہ سیاسی پارٹیوں کا بھی ہے۔ کسی ملک میں اس طرح کی پارٹیوں کا وجود اگر جائز ہے تو صرف اس بنا پر کہ ملک کی بھلائی کے لیے جو لوگ ایک خاص نظریہ اور لائحۂ عمل رکھتے ہوں انھیں منظم ہوکر اپنے طریقے پر کام کرنے کا حق ہے۔ لیکن یہ حق دو ضروری شرطوں کے ساتھ مشروط ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ فی الواقع نیک نیتی کے ساتھ ملک کی بھلائی ہی کے لیے خواہاں اور کوشاں ہوں، اور دوسری شرط یہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ ان کی مسابقت یا مصالحت اصولی ہو اور معقول اور پاکیزہ طریقوں تک محدود رہے۔ ان میں سے جو شرط بھی مفقود ہوگی اُس کا فقدان پارٹیوں کے وجود کو ملک کے لیے مصیبت بنا دے گا۔ اگر ایک پارٹی اپنے مفاد اور اپنے چلانے والوں کے مفاد ہی کو اپنی سعی و جہد کا مرکز و محور بنابیٹھے اور اس فکر میں ملک کے مفاد کی پروا نہ کرے  تو وہ سیاسی پارٹی نہیں بلکہ قزاقوں کی ٹولی ہے۔ اور اگر مختلف پارٹیاں مسابقت میں ہرطرح کے  جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرنے لگیں اور مصالحت کسی اصول پر کرنے کے بجاے اختیار و اقتدار کے بٹوارے کی خاطرکیا کریں تو ان کی جنگ بھی ملک کے لیے تباہ کن ہوگی اور صلح بھی۔

یہ پانچ اصول وہ ہیں جن کی پابندی اگر ملک کے تمام عناصر قبول نہ کرلیں تو یہاں سرے سے وہ فضا ہی پیدا نہیں ہوسکتی جس میں نظامِ زندگی کی بنیادوں پر اتفاق ممکن ہو، یا بالفرض اس طرح کا کوئی اتفاق مصنوعی طور پر واقع ہو بھی جائے توو ہ عملاً کوئی مفید نتیجہ پیدا کرسکے۔ (ترجمان القرآن ،جولائی ۱۹۵۵ء، ص ۲-۸)

 

اسلام کی نشاتِ ثانیہ اسی چیز کا نام ہے جس چیز کا نام دعوتِ اسلامی ہے۔ دعوتِ اسلامی ایک فرد سے شروع ہوتی ہے۔ دنیا میں جتنی بھی قومیں گزری ہیں ان کے اندر ایک نبی آیا۔ اس نے دعوتِ اسلامی شروع کی، اس دعوت کو جن لوگوں نے سمجھا اور سمجھ کر اس پر ایمان لائے اور جو اس کے لیے اپنی جان، مال، وقت اور محنت کی قابلیتیں صرف کرنے کو تیار ہوگئے، ان سے وہ دعوت شروع ہوئی۔ اب اس میں یہ کہنا کہ کتنے فی صد امکانات ہیں تو بعض انبیا ایسے گزرے ہیں جن کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ ایک دو آدمیوں کے سوا ان پر کوئی ایمان نہیں لایا۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں، مثلاً حضرت عیسٰی ؑکی ۳ سالہ تبلیغ پر کُل ۱۲ آدمی ان کے ساتھ ہوئے اور ان میں سے بھی ایک وہ غدار تھا، جس نے انھیں پکڑوا دیا۔ اس لیے سارا انحصار اس بات پر ہے کہ اس دعوت کو اور اس کی سچائی کو جاننے اور سمجھنے کے بعد کتنے لوگ اپنی جان، مال، وقت اور محنتیں اور قابلیتیں صرف کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔ اگر ایسے لوگ تیار ہو جائیں تو جتنی بڑی تعداد میں وہ تیار ہوں گے اتنے ہی زیادہ امکانات اس دعوت کے دنیا میں پھیلنے کے پیدا ہوجائیں گے۔ جتنے کم آدمی تیار ہوں گے، تو وہ درحقیقت اس دعوت کی ناکامی نہیں بلکہ اس قوم کی ناکامی ہے جس کے سامنے حق پیش کیا جائے اور وہ اس سے منہ موڑے۔

اگر حق کو پیش کرنے میں کوتاہی حق کو پیش کرنے والوں کی طرف سے ہو اور وہ اس کو واضح طور پر لوگوں کے سامنے ان کی عقل، ان کی فہم اور ان کی سمجھ بوجھ کے مطابق پیش نہ کرسکیں تو یہ ان کی طرف سے قصور ہے، اور اگر اس صورت میں نشاتِ ثانیہ نہیں ہوتی تو اس کا الزام ان کی طرف جاتا ہے۔ لیکن اگر انھوں نے کھول کر، وضاحت کے ساتھ ایک ایک پہلو کو پیش کر دیا کہ یہ حق ہے اور یہ ہیں اس کے تقاضے، اور یہ ہیں اس کے مطالبات، اور کس طرح سے اس حق کو زندگی کے اندر نافذ کیا جاسکتا ہے، اور زندگی کے ہر پہلو کی تعمیر ان اصولوں کے اُوپر کیسے ہوسکتی ہے___ اگر یہ کام انھوں نے کر دیا تو اس کے بعد ساری ذمہ داری اس قوم پر عائد ہوتی ہے جس قوم میں یہ کام پیش کیا گیا۔ اگروہ قوم اس کو قبول نہیں کرتی تو ناکام وہ ہے اور وہ لوگ ناکام نہیں ہیں جو اس دعوت کو پیش کریں۔

اب ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہماری قوم میں خدا کے فضل سے اس وقت   تعلیم یافتہ طبقے کا جہاں تک تعلق ہے وہ بڑی حد تک حق کو حق سمجھ رہا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ توحید کیا چیز ہے۔ وہ یہ جان گیا ہے کہ توحید کے تقاضے کیا ہیں۔ وہ جان گیا ہے کہ توحید کے مطالبات کیا ہیں۔ اس کے اندر اگر کوئی کوتاہی ہے تو یہ ہے کہ وہ اس کے لیے اپنی جان لڑانے اور خطرات مول لینے اور اپنا وقت کھپانے کی وہ ہمت نہیں دکھا رہا ہے جو ایمان لانے کے بعد دکھانی چاہیے۔ یہ اس کی طرف سے کوتاہی ہے۔ جہاں تک ہمارے عوام کا تعلق ہے وہ جانتے ہی نہیں کہ اسلام کس چیز کا نام ہے، کیا اس کے مطالبے ہیں اور کیا اس کے تقاضے ہیں۔ یہ ہمارے تعلیم یافتہ طبقے پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عوام کو خبردار کریں، ان کی جہالت دُور کریں، ان کو سمجھائیں، ان کے دین سے ان کو آگاہ کریں تاکہ ان میں اسلامی شعور پیدا ہو۔ اس کے لیے لوگوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں۔ اسلام کی ابتدائی تبلیغ جو ہوئی تھی وہ کتابوں اور رسالوں کے ذریعے سے نہیں ہوئی تھی، زبانی تلقین سے ہوئی تھی۔ اب بھی جو پڑھے لکھے لوگ ہیں، جو دین کو سمجھ چکے ہیں، ان کا کام ہے کہ عوام کے اندر جائیں اور جاکر زبانی تلقین کریں۔ ان کو بتائیں کہ تمھارا دین کیا ہے۔

رہا یہ سوال کہ اسلام کی نشاتِ ثانیہ میں کتنی مدت درکار ہے تو اس معاملے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کامیابی کے امکانات کتنے فی صد ہیں اور کتنے فی صد نہیں ہیں۔ ہمارا کام کوشش کرنا ہے۔ اپنی حد تک جہاں تک بھی ہمارے بس میں ہے کوشش میں ہم کوتاہی کریں تو ہم قصوروار، لیکن اگر ہم کوشش کا حق ادا کرتے رہیں تو ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس فرض سے سبکدوش ہیں۔ آگے جو کچھ بھی نتیجہ ہو اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جو اس کو قبول نہ کریں۔(۳ اکتوبر ۱۹۷۲ء کو   وکلا سے گفتگو بحوالہہفت روزہ ایشیا، ۱۲نومبر ۱۹۷۲ء)

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کو دعوت و تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات [سورئہ اعراف، آیات ۱۹۹-۲۰۲ میں] بتائے گئے ہیں اور مقصود صرف حضورؐ ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ حضوؐر کے ذریعے سے اُن سب لوگوں کو یہی حکمت سکھانا ہے جو حضوؐر کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اُٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے:

متحمل مزاجی اور عالی ظرفی

داعیِ حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو‘ متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق‘ عامۃ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی سختیوں کو بھی۔ اسے شدید سے شدید اشتعال انگیز مواقع پر بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے‘ نہایت ناگوار باتوں کو بھی عالی ظرفی کے ساتھ ٹال دینا چاہیے‘مخالفوں کی طرف سے کیسی ہی سخت کلامی‘ بہتان تراشی‘ ایذا رسانی اور شریرانہ مزاحمت کا اظہار ہو‘ اُس کو درگزر ہی سے کام لینا چاہیے۔ سخت گیری‘ درشت خوئی‘ تلخ گفتاری اور منتقمانہ اشتعالِ طبع اِس کام کے لیے زہر کا حکم رکھتا ہے اور اس سے کام بگڑتا ہے بنتا نہیں ہے۔ اسی چیز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نے یوں بیان فرمایاہے کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ ’غضب اور رضا‘ دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں‘ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں‘ جو مجھے میرے حق سے محروم کرے‘ میں اسے اس کا حق دوں‘ جو میرے ساتھ ظلم کرے میںاس کو معاف کردوں‘‘۔ اور اسی چیز کی ہدایت آپؐ ان لوگوں کو کرتے تھے جنھیں آپؐ دین کے کام پر اپنی طرف سے بھیجتے تھے کہ بشروا ولا تنفروا ویسروا ولا تعسروا، یعنی جہاں تم جائو وہاں تمھاری آمد لوگوں کے لیے مژدۂ جانفزا ہو نہ کہ باعث ِ نفرت‘ اور لوگوں کے لیے تم سہولت کے موجب بنو نہ کہ تنگی و سختی کے‘‘۔اور اسی چیز کی تعریف اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کے حق میں فرمائی ہے کہ فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ (اٰل عمرٰن۳:۱۵۹)یعنی ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے نرم ہو ورنہ اگر تم درشت خو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب لوگ تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘۔

سیدہی اور عام فھم دعوت

دعوتِ حق کی کامیابی کا گُر یہ ہے کہ آدمی فلسفہ طرازی اور دقیقہ سنجی کے بجائے لوگوں کو معروف یعنی اُن سیدھی اور صاف بھلائیوں کی تلقین کرے جنھیں بالعموم سارے ہی انسان بھلا جانتے ہیں یا جن کی بھلائی کو سمجھنے کے لیے وہ عقلِ عام (common sense) کافی ہوتی ہے جو ہر انسان کو حاصل ہے۔ اس طرح داعیِ حق کا اپیل عوام و خواص سب کو متاثر کرتاہے اور ہرسامع کے کان سے دل تک پہنچنے کی راہ نکال لیتا ہے۔ ایسی معروف دعوت کے خلاف جو لوگ شورش برپا کرتے ہیں وہ خود اپنی ناکامی اور اس دعوت کی کامیابی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ کیونکہ عام انسان ‘ خواہ وہ کتنے ہی تعصبات میں مبتلا ہوں‘ جب یہ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف ایک شریف النفس اور بلنداخلاق انسان ہے جو سیدھی سیدھی بھلائیوں کی دعوت دے رہا ہے اور دوسری طرف بہت سے لوگ اس کی مخالفت میں ہر قسم کی اخلاق و انسانیت سے گری ہوئی تدبیریں استعمال کر رہے ہیں‘ تو رفتہ رفتہ ان کے دل خود بخود مخالفینِ حق سے پھرتے اور داعیِ حق کی طرف متوجہ ہوتے چلے جاتے ہیں‘ یہاں تک کہ آخرکار میدانِ مقابلہ میں صرف وہ لوگ رہ جاتے ہیں جن کے ذاتی مفاد نظامِ باطل کے قیام ہی سے وابستہ ہیں‘ یا پھر جن کے دلوں میں تقلیدِ اسلاف اور جاہلانہ تعصبات نے کسی روشنی کے قبول کرنے کی صلاحیت باقی ہی نہ چھوڑی ہو۔ یہی وہ حکمت تھی جس کی بدولت نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کو عرب میں کامیابی حاصل ہوئی اور پھر آپؐ کے بعد تھوڑی ہی مدّت میں اسلام کا سیلاب قریب کے ملکوں پر اس طرح پھیل گیا کہ کہیں سو فی صدی اور کہیں ۸۰ اور ۹۰ فی صدی باشندے مسلمان ہوگئے۔

اُلجہنے سے احتراز

اس دعوت کے کام میں جہاں یہ بات ضروری ہے کہ طالبینِ خیر کو معروف کی تلقین کی جائے وہاں یہ بات بھی اتنی ہی ضروری ہے کہ جاہلوں سے نہ اُلجھا جائے خواہ وہ اُلجھنے اور اُلجھانے کی کتنی ہی کوشش کریں۔ داعی کو اس معاملہ میں سخت محتاط ہونا چاہیے کہ اس کا خطاب صرف ان لوگوں سے رہے جو معقولیت کے ساتھ بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہوں اور جب کوئی شخص جہالت پر اُتر آئے اور حجت بازی‘ جھگڑالوپن اور طعن و تشنیع شروع کر دے تو داعی کو اس کا حریف بننے سے انکار کر دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس جھگڑے میں اُلجھنے کا حاصل کچھ نہیں ہے اور نقصان یہ ہے کہ داعی کی جس قوت کو اشاعت ِ دعوت اور اصلاحِ نفوس میں خرچ ہونا چاہیے وہ اس فضول کام میں ضائع ہو جاتی ہے۔

اشتعال سے اجتناب

[گذشتہ] ہدایت… کے سلسلے میں مزید ہدایت یہ ہے کہ جب کبھی داعیِ حق مخالفین کے ظلم اور ان کی شرارتوں اور ان کے جاہلانہ اعتراضات و الزامات پر اپنی طبیعت میں اشتعال محسوس کرے تو اسے فوراً سمجھ لینا چاہیے کہ یہ نزعِ شیطانی (یعنی شیطان کی اُکساہٹ) ہے اور اسی وقت خدا سے پناہ مانگنی چاہیے کہ اپنے بندے کو اس جوش میں بہ نکلنے سے بچائے اور ایسا بے قابو نہ ہونے دے کہ اُس سے دعوتِ حق کو نقصان پہنچانے والی کوئی حرکت سرزد ہو جائے۔ دعوتِ حق کا کام بہرحال ٹھنڈے دل سے ہی ہو سکتا ہے اور وہی قدم صحیح اُٹھ سکتا ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر نہیں بلکہ موقع و محل کو دیکھ کر‘ خوب سوچ سمجھ کر اُٹھایا جائے۔ لیکن شیطان‘ جو اس کام کو فروغ پاتے ہوئے کبھی نہیں دیکھ سکتا‘ ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ اپنے بھائی بندوں سے داعیِ حق پر طرح طرح کے حملے کرائے اور پھر ہر حملے پر داعیِ حق کو اُکسائے کہ اس حملے کا جواب تو ضرور ہونا چاہیے۔ یہ اپیل جو شیطان داعی کے نفس سے کرتا ہے‘ اکثر بڑی بڑی پُرفریب تاویلوں اور مذہبی اصطلاحوں کے غلاف میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن اس کی تہہ میں بجز نفسانیت کے اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اسی لیے آخری دو آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ متقی (یعنی خدا ترس اور بدی سے بچنے کے خواہش مند) ہیں تو وہ اپنے نفس میں کسی شیطانی تحریک کا اثر اور کسی بُرے خیال کی کھٹک محسوس کرتے ہی فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انھیں صاف نظر آجاتا ہے کہ اس موقع پر دعوتِ حق کا مفاد کس طرزِعمل کے اختیار کرنے میں ہے اور حق پرستی کا تقاضا کیا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے کام میں نفسانیت کی لاگ لگی ہوئی ہے اور اس وجہ سے جن کا شیاطین کے ساتھ بھائی چارے کا تعلق ہے ‘ تو وہ شیطانی تحریک کے مقابلہ میں نہیں ٹھیرسکتے اور اس سے مغلوب ہو کر غلط راہ پر چل نکلتے ہیں۔ پھر جس جس وادی میں شیطان چاہتا ہے انھیں لیے پھرتا ہے اور کہیں جا کر ان کے قدم  نہیں رُکتے۔ مخالف کی ہر گالی کے جواب میں ان کے پاس گالی اور ہر چال کے جواب میں اس سے بڑھ کر چال موجود ہوتی ہے۔

بُرے خیال کی کہٹک

اس ارشاد کا ایک عمومی محل بھی ہے اور وہ یہ کہ اہلِ تقویٰ کا طریقہ بالعموم اپنی زندگی میں غیرمتقی لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ جو لوگ حقیقت میں خدا سے ڈرنے والے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ بُرائی سے بچیں اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ بُرے خیال کا ایک ذرا سا غبار بھی اگر ان کے دل کو چھو جاتا ہے تو انھیں ویسی ہی کھٹک محسوس ہونے لگتی ہے جیسی کھٹک اُنگلی میں پھانس چبھ جانے یا آنکھ میں کسی ذرے کے گر جانے سے محسوس ہوتی ہے۔ چونکہ وہ بُرے خیالات‘ بُری خواہشات اور بُری نیتوں کے خوگر نہیں ہوتے اس وجہ سے یہ چیزیں ان کے لیے اُسی طرح خلافِ مزاج ہوتی ہیں جس طرح اُنگلی کے لیے پھانس یا آنکھ کے لیے ذرہ یا ایک نفیس طبع اور صفائی پسند آدمی کے لیے کپڑوں پر سیاہی کا ایک داغ یا گندگی کی ایک چھینٹ۔ پھر جب یہ کھٹک انھیں محسوس ہو جاتی ہے تو اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کا ضمیر بیدار ہو کر اس غبارِشر کو اپنے اُوپر سے جھاڑ دینے میں لگ جاتا ہے۔ بخلاف اس کے جو لوگ نہ خدا سے ڈرتے ہیں‘ نہ بدی سے بچنا چاہتے ہیں‘ اور جن کی شیطان سے لاگ لگی ہوئی ہے‘ ان کے نفس میں بُرے خیالات‘ بُرے ارادے‘ بُرے مقاصد پکتے رہتے ہیں اور وہ ان گندی چیزوں سے کوئی اُپراہٹ اپنے اندر محسوس نہیں کرتے‘ بالکل اسی طرح جیسے کسی دیگچی میں سور کا گوشت پک رہا ہو اوروہ بے خبر ہو کہ اس کے اندر کیا پک رہا ہے‘ یا جیسے کسی بھنگی کا جسم اور اس کے کپڑے غلاظت میں لتھڑے ہوئے ہوں اور اسے کچھ احساس نہ ہو کہ وہ کن چیزوں میں آلودہ ہے‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ص ۱۱۱-۱۱۳)

حکمت اور عمدہ نصیحت

دعوت میں دو چیزیں ملحوظ رہنی چاہییں: ایک حکمت، دوسرے عمدہ نصیحت۔

حکمت کا مطلب یہ ہے کہ بے وقوفوں کی طرح اندھا دھند تبلیغ نہ کی جائے، بلکہ دانائی کے ساتھ مخاطب کی ذہنیت، استعداد اور حالات کو سمجھ کر، نیز موقع و محل کو دیکھ کر بات کی جائے۔ ہر طرح کے لوگوں کو ایک ہی لکڑی سے نہ ہانکا جائے۔ جس شخص یا گروہ سے سابقہ پیش آئے، پہلے اس کے مرض کی تشخیص کی جائے، پھر ایسے دلائل سے اس کا علاج کیا جائے جو اس کے دل و دماغ کی گہرائیوں سے اس کے مرض کی جڑ نکال سکتے ہوں۔

عمدہ نصیحت کے دو مطلب ہیں:

ایک یہ کہ مخاطب کو صرف دلائل ہی سے مطمئن کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اس کے جذبات کو بھی اپیل کیا جائے۔ برائیوں اور گمراہیوں کا محض عقلی حیثیت سے ہی ابطال نہ کیا جائے بلکہ انسان کی فطرت میں اُن کے لیے جو پیدایشی نفرت پائی جاتی ہے اسے بھی اُبھارا جائے اور ان کے بُرے نتائج کا خوف دلایا جائے۔ ہدایت اور عملِ صالح کی محض صحت اور خوبی ہی عقلاً ثابت نہ کی جائے بلکہ ان کی طرف رغبت اور شوق بھی پیدا کیا جائے۔

دوسرا مطلب یہ ہے کہ نصیحت ایسے طریقے سے کی جائے جس سے دل سوزی اور خیرخواہی ٹپکتی ہو۔ مخاطب یہ نہ سمجھے کہ ناصح اسے حقیر سمجھ رہا ہے اور اپنی بلندی کے احساس سے لذت لے رہا ہے، بلکہ اسے یہ محسوس ہو کہ ناصح کے دل میں اس کی اصلاح کے لیے ایک تڑپ موجود ہے اور وہ حقیقت میں اس کی بھلائی چاہتا ہے۔

بحث و مباحثہ

[دعوت میں اگر مباحثے کی نوبت آجائے تو] اس کی نوعیت محض مناظرہ بازی اور عقلی کُشتی اور ذہنی دنگل کی نہ ہو۔ اس میں کج بحثیاں اور الزام تراشیاں اور چوٹیں اور پھبتیاں نہ ہوں۔ اس کا مقصود حریفِ مقابل کو چپ کرا دینا اور اپنی زبان آوری کے ڈنکے بجا دینا نہ ہو بلکہ اس میں شیریں کلامی ہو، اعلیٰ درجے کا شریفانہ اخلاق ہو، معقول اور دل لگتے دلائل ہوں۔ مخاطب کے اندر ضد اور بات کی پچ.َ  [ضد] اور ہٹ دھرمی پیدا نہ ہونے دی جائے۔ سیدھے سیدھے طریقے سے اس کو بات سمجھانے کی کوشش کی جائے اور جب محسوس ہو کہ وہ کج بحثی پر اتر آیا ہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ گمراہی میں اور زیادہ دُور نہ نکل جائے۔ (ایضاً، ص ۵۸۱-۵۸۲)

مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ‘ مہذب و شایستہ زباں میں‘ اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے تاکہ جس شخص سے بحث کی جا رہی ہو اس کے خیالات کی اصلاح ہو سکے۔ مبلّغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اُتار دے اور اسے راہِ راست پر لائے۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مدمقابل کو نیچا دکھانا ہوتا ہے۔ بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گری کرنی چاہیے جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہر وقت یہ بات ملحوظ رکھتاہے کہ اس کی اپنی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ بڑھ نہ جائے‘ اور اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفایاب ہو جائے۔ یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملہ میں دی گئی ہے‘ مگر یہ اہل کتاب کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جو قرآن میں جگہ جگہ دی گئی ہے ۔مثلاً:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (النحل ۱۶:۱۲۵)  دعوت دو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ پندو نصیحت کے ساتھ۔ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔

وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ o (حم السجدہ ۴۱:۳۴) بھلائی اور برائی یکساں نہیں ہیں(مخالفین کے حملوں کی) مدافعت ایسے طریقہ سے کرو جو بہترین ہو‘ تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمھارے درمیان عداوت تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے گرم جوش دوست ہے۔

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ ط نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ o (المومنون ۲۳:۹۶) تم بدی کو اچھے ہی طریقہ سے دفع کرو، ہمیں معلوم ہے جو باتیں وہ (تمھارے خلاف ) بناتے ہیں۔

خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاھِلِیْنَ o وَاِمَّا یَنْزَ غَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ (الاعراف۷:۱۹۹-۲۰۰) درگزر کی روش اختیار کرو، بھلائی کی تلقین کرو، اور جاہلوں کے منہ نہ لگو، اور اگر (ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لیے) شیطان تمھیں اُکسائے تواللہ کی پناہ مانگو۔

یعنی جو لوگ ظلم کا رویّہ اختیار کریں ان کے ساتھ ان کے ظلم کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف رویّہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ہر وقت، ہر حال میں اور ہر طرح کے لوگوں کے مقابلہ میں نرم و شیریں ہی نہ بنے رہنا چاہیے کہ دنیا داعیِ حق کی شرافت کو کمزوری اور مسکنت سمجھ بیٹھے۔ اسلام اپنے پیرووں کو شائستگی ‘ شرافت اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر عاجزی و مسکینی نہیں سکھاتا کہ وہ ہر ظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہیں‘‘۔ (تفہیم القرآن ج۳:۷۰۸-۷۰۹)۔ (انتخاب و ترتیب: پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود ترمذی)

 

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ آدمی کی نماز، جماعت کے ساتھ ۲۵ درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، بمقابلہ اس نماز کے جو گھر یا بازار میں پڑھے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ جب وضو کیا، اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا خالص نماز کی نیت سے تو ہرقدم جوو ہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے، اس قدم کی بدولت ثواب کے ذریعے اس کا درجہ بلند کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک گناہ معاف کیا جاتا ہے۔ پھر جب وہ نماز پڑھتا ہے تو جب تک وہ نماز میں مشغول رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعاے رحمت و مغفرت کرتے ہیں، اور جب تک تم میں سے کوئی نماز کے انتظار میں رہتا ہے اس کا وہ وقت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب تک وہ کسی کو مسجد میں ایذا نہ دے اور جب تک اس کا وضو نہ ٹوٹے‘‘۔ (بخاری، مسلم)

اس حدیث میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا حساب لگا کر بتا دیا ہے کہ باجماعت نماز کا اجر انفرادی نماز سے ۲۵ گنا کیوں ہوتا ہے۔ سب سے پہلے نمازی نے وضو کیا پھر مسجد کی طرف روانہ ہوا،  تو چونکہ یہ سارا اہتمام اس نے نماز کی خاطر کیا، اس لیے گویا اس کا حساب کھل گیا۔ اب اس کے ہر قدم پر جو نیکی کی جانب اُٹھ رہا ہے اس کا ایک گناہ معاف ہوتا ہے، اور ایک درجہ اس کا بلند کردیا جاتا ہے۔ مسجد میں آیا، ابھی جماعت میں دیر ہے تو جتنی دیر وہ نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے گا اس کا یہ سارا وقت بھی نماز کے حساب میں لکھا جائے گا۔ پھر جب نماز پڑھے گا تو فرشتے اس پر رحمت بھیجیں گے۔ اس طرح یہ ساری چیزیں مل کر نماز باجماعت کے اجر کو بڑھا دیتی ہیں، بہ نسبت اس نماز کے جو گھر میں  ادا کی جائے۔

اس روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں کہ ’’جب تک وہ کسی کو مسجد میں ایذا نہ دے اور جب تک اس کا  وضو نہ ٹوٹے‘‘ یعنی اگر مسجد میں جاتا ہے اور وہاں جھگڑتا ہے، دوسرے نمازیوں کو اذیت پہنچاتا ہے،دھکے مار کر اور دوسروں پر سے پھلانگ کر اپنا رستہ بناتا ہے تو وہ اپنے اجر کو ضائع کرتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک آدمی نے وضو توڑ دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز میں نہیں۔ وضو کے ساتھ ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ نماز کے لیے تیار ہے۔


حضرت انسؓ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ مسجدیں بنانے میں لوگ فخر کیا کریں گے‘‘۔ (ابوداؤد، دارمی، نسائی، ابن ماجہ)

مطلب یہ ہے کہ ہر گروہ یہ چاہے گا کہ میری مسجد زیادہ شان دار اور زیادہ اُونچی ہو اور اس سلسلے میں لوگوں کے درمیان باہم مقابلہ شروع ہوجائے گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ بھی قربِ قیامت کی ایک علامت ہے۔ جب ایسا ہو تو دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خیر کم ہورہی ہے اور مسجدوں کو بھی لوگوں نے ایک دوسرے پر تکبر کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ تکبر کا اظہار محلات بنانے میں ہو تو یہ بھی گناہ ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ بڑا گناہ یہ ہے کہ لوگ مسجدوں کے ذریعے اپنے تکبر کا اظہار کریں۔


حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تمھارے بچے ۷ سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب ۱۰ سال کے ہوں (اور نماز نہ پڑھیں) تو ان کو مار مار کر نماز پڑھائو ۔اور علیحدہ کردو ان کی سونے کی جگہ (یعنی ان کو تنہا سلائو)۔ (ابوداؤد)

عام طور پر لوگ اس حدیث کا جو مطلب لیتے ہیں وہ اس حکمتِ مطلوب کے خلاف ہے جسے اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے ملحوظِ خاطر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کون سا حکم کس موقع پر عمل میں آنا چاہیے، اگر آدمی اس کو نہ سمجھے تو عموماً غلطی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی مسئلے کو لے لیجیے۔ جب یہ حکم دیا جارہا تھا تو عہدِ رسالتؐ میں لوگوں کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ کوئی شخص نماز پڑھے بغیر مسلمانوں میں سے نہیں ہوسکتا۔ ترکِ صلوٰۃ کا عمل اسلامی نظام جماعت سے علیحدہ ہوجانے کی علامت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ منافقین تک کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز ادا کرنی پڑتی تھی۔ یہ بات کسی مسلمان کے ذہن میں آ ہی نہیں سکتی تھی کہ نماز کے بغیر بھی آدمی کا ایمان و اسلام سلامت رہتا ہے۔ ایک مسلمان بچہ اس معاشرے میں اپنے گھر والوں اور اہلِ محلہ کو نماز پڑھتے دیکھ کر ۷ سال کی عمر سے پہلے ہی نمازی ہوچکا ہوتا تھا۔ نماز نہ پڑھنے پر اگر ۱۰ سال کی عمر میں اسے سزا دی جاتی وہ اسے ایک امر معقول تصور کرتا تھا، وہ جانتا تھا کہ نماز نہ پڑھنا ایک جرم ہے۔جس طرح چوری کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے اسی طرح جو شخص نماز نہ پڑھتا ہو اسے بھی سزا ملنی چاہیے۔ مگر آج صورت حال بالکل مختلف ہے۔

آج ایک مسلمان بچہ آنکھ کھولتا ہے تو مسلمانوں میں سے بمشکل ۵ فی صد افراد کو نمازی پاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ مسلمانوں کی سوسائٹی میں ایک شخص نماز پڑھے بغیر بڑی سے بڑی اعلیٰ پوزیشن بھی حاصل کرسکتا ہے۔ مسلمان ہی نہیں کہلاتا مسلمانوں کا رہنما اور حکمران بھی بن سکتا ہے۔ اس کے گھر کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ اگر اس کی ماں نماز پڑھتی ہے تو باپ نہیں پڑھتا، اور اگر باپ پڑھتا ہے تو بڑا بھائی نہیں پڑھتا۔ یہ منظر دیکھ دیکھ کر اس کی ذہنیت ہی کچھ اور ہوجاتی ہے۔ ۱۰ برس کی عمر تک پہنچتا ہے تو تین چار جماعتیں بھی پڑھ چکا ہوتا ہے۔ اسکول میں وہ دیکھتا ہے کہ اس کے استاد نماز نہیں پڑھتے۔ اس سلسلۂ واقعات میں سے گزرنے کے بعد اگر آپ اسے نماز نہ پڑھنے پر سزا دینی شروع کردیں تو وہ اسے زیادتی تصور کرے گا اور اس کے ذہن میں بغاوت پیدا ہوجائے گی۔ مار کے ڈر سے اس کا جسم نماز پڑھ بھی لے مگر دل نمازی نہیں بنے گا، اور بڑا ہوجانے پر اسے جب بھی باپ سے جدا ہونے کا موقع ملے گا وہ پہلا کام یہی کرے گا کہ نماز چھوڑ دے گا۔

آپ کا فرض یہ ہے کہ بچے کے دل میں نماز اُتارنے کی کوشش کریں۔ مارنے سے پہلے اسے دل سے نمازی بنائیں اور اس کا سینہ نورِ ایمان سے منور کریں۔ احساسِ فرض پیدا کرنے کے بعد آپ اسے جو نماز پڑھائیں گے وہ اسے عمر بھر جاری رکھے گا۔ اور اگر آپ چاہیں کہ یہ سب کچھ کیے بغیر انھی بگڑے ہوئے حالات میں اسے نماز نہ پڑھنے پر سزا دیں تو یہ نسخے کا غلط استعمال ہوگا۔ یہ کام اناڑی کیا کرتے ہیں کہ نسخہ پڑھ لیا اور اس کے بعد نہ موسم کو دیکھا نہ مریض کے خصوصی حالات کو، بلا سوچے سمجھے اس کا استعمال شروع کردیا۔


حضرت عبدؓاللہ ابن عمرو بن العاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ایک روز آپؐ نے نماز کا ذکر کیا اور فرمایا کہ جو شخص نماز کی محافظت کرتا ہے تو نماز اس کے لیے نور کا سبب اور برہان ہوگی، اور قیامت کے دن نجات کا سبب ہوگی۔ اور جو نماز کی محافظت نہ کرے تو اس کے لیے نہ یہ نور ہوگی، نہ برہان اور نہ نجات، اور وہ قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور  ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا‘‘۔(احمد، دارمی، بیہقی)

نماز کی محافظت سے مراد یہ ہے کہ دائماً اوقات کی پابندی اور اس کی جملہ شرائط کے ساتھ اس کی ادایگی۔ نماز کا ضائع کرنا یہ ہے کہ وقت آیا اور جانے کو ہے مگر آپ کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ آپ نے دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں تو وضو بے وضو ہی ٹرخا دی۔ صلوٰۃ کی محافظت یہ ہے: کپڑوں کا پاک صاف ہونا، کامل احتیاط کے ساتھ وضو کرنا اور نماز کے وقت پر اسے ادا کرنا، یہ ساری باتیں اس میں شامل ہیں۔ حضوؐر فرما یہ رہے ہیں کہ جو شخص نماز کو اوقات و شرائط کے ساتھ ادا کرے گا تو یہ نماز اس کے لیے نور بن جائے گی۔ دنیا میں اسے روشنی نظر آئے گی اور وہ صاف دیکھ لے گا کہ سیدھا راستہ کون سا ہے اور غلط کون سا؟ اس دنیا کی روشنی پر قیامت کے دن کی روشنی کا انحصار ہے۔ وہاں نماز ادا کرنے والے خلقِ خدا میں الگ چمکتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ نور اس کا پتا دے گا کہ نیک کون ہے؟ پھر آپؐ نے فرمایا کہ نماز برہان ہوگی، یعنی اس بات کی دلیل کہ نماز ادا کرنے والا نجات کا مستحق ہے۔ نماز کی پابندی اس کے لیے معافی کے مستحق ہونے کی دلیل ہوگی اور اس کے نتیجے میں وہ قیامت کے دن نجات سے ہم کنار ہوگا۔ اور جو لوگ نماز کی محافظت نہیں کریں گے تو آخرکار ان کا انجام ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کا ذکر حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جس طرح یہ لوگ غافل ہوکر زندگی گزارتے رہے اور انجامِ کار اللہ کے عذاب سے دوچار ہوئے، اس طرح وہ شخص جو غفلت سے زندگی گزارے گا اس کی عاقبت بھی بالآخر انھی جیسی ہوگی۔


حضرت عبداللہ ابن شفیق کہتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ اعمال میں سے کسی عمل کو ترک کرنے کو کفر خیال نہیں کرتے تھے مگر نماز کو‘‘۔ (ترمذی)

قرآن حکیم سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منافقین تک نماز پڑھنے پر مجبور تھے۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ منافقین نماز نہیں پڑھتے، بلکہ یہ ہے کہ شوق و رغبت سے نہیں پڑھتے: وَ اِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی (النساء ۴:۱۴۲) ۔ گویا وہ مجبوراً نماز اس لیے ادا کرتے تھے کہ ان کو مسلمان سمجھا جاتا رہے۔ صحابہؓ کی راے یہ تھی کہ نماز کا ترک، کفر ہے۔ جو شخص نماز ادا نہیں کرتا یا تو اس کا تعلق دین سے ٹوٹ گیا یا ٹوٹنے کے قریب ہے۔ دنیا میں یہ بھی دیکھ لیجیے کہ ایسی جماعتیں موجود ہیں جو کہتی ہیں کہ اگر ان کا کوئی رکن چار اجلاسوں میں شریک نہ ہو تو اسے رکنیت سے خارج کردیا جائے گا۔ یہ اخراج کیوں ہوتا ہے؟ اس لیے کہ غیرحاضر رکن نے مسلسل غیرحاضر ہوکر جماعت سے اپنی عدم دل چسپی کا ثبوت فراہم کردیا۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے پانچ وقت کی نماز مقرر کی ہے تاکہ یہ معلوم ہوتا رہے کہ دین سے آپ کا سرگرم تعلق ہے یا نہیں۔ اگر آپ نماز ادا نہیں کرتے تو یہ گویا اس کا ثبوت ہے کہ یا تو دین کے ساتھ آپ کا تعلق ٹوٹ گیا یا پھر ٹوٹنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔


حضرت ابن مسعودؓ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن، لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر اکثر درود بھیجتا ہے‘‘۔ (ترمذی)

المرء مع من احب، جس کو جس سے محبت ہوتی ہے، اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم اگر دو آدمیوں کو ہروقت ساتھ دیکھتے ہیں تو یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہے۔ اسی طرح حضور نبی کریمؐ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجنا اس بات کی علامت ہے کہ درود بھیجنے والے کو آپؐ سے محبت ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ آپؐ میرے سب سے بڑے محسن ہیں اور خدا کے بعد آپ ہی کے حقوق مجھ پر سب سے زیادہ ہیں۔ میرا سب سے زیادہ تعلق حضوؐر کے ساتھ ہے۔ حضور نبی کریمؐ فرماتے ہیں کہ جس طرح درود بھیج بھیج کر دنیا میں اس نے مجھے سے قریب ہونے کا ثبوت دیا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی وہ مجھ سے قریب ہوگا۔ یہاں یہ سمجھ لیجیے کہ آپؐ سے حقیقت میں تعلق ہو اور زبان سے درود بھیجا جائے، یہ نتیجہ تب برآمد ہوگا۔ محض زبان سے درود بھیجنے کا یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔


حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص ہر نماز کے بعد ۳۳مرتبہ سبحان اللہ، ۳۳مرتبہ الحمدللہ اور ۳۳ مرتبہ اللہ اکبر کہے، یعنی کُل ۹۹ مرتبہ اور ۱۰۰ کی تعداد پوری کرنے کے لیے یہ کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ پڑھے تو اس کی خطائیں بخشی جائیں گی، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں‘‘۔ (مسلم)

خطائوں کو سمندر کے جھاگ سے اس لیے تشبیہہ دی کہ یہ کوئی ٹھوس اور مستقل چیز نہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جس طرح جھاگ اُڑ جاتا ہے اسی طرح اس آدمی کی خطائیں معاف کردی جاتی ہیں، جو ہر نماز کے بعد یہ ذکر کرتا ہے۔

بعض لوگوں کو اس طرح کی روایات سن کر طرح طرح کے شکوک لاحق ہونے لگتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ زبان میں چند مرتبہ حرکت ہو، اس سے فضا میں لہریں پیدا ہوجائیں، تواس کا یہ نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے؟ اصل میں یہ نتیجہ محض زبان سے چند الفاظ نکال دینے سے ظاہر نہیں ہوتا، دل سے تسبیح و تحمید و تکبیر کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ جو آدمی ان کلمات کا مفہوم دماغ میں بٹھا لے، ذہن میں پیوست کرلے، اس سے خطائیں ہی کہاں سرزد ہوں گی؟ ہوں گی تو اس کا امکان نہیں کہ وہ خطا پر مصر ہو اور اللہ کے ہاں آدمی وہی پکڑا جاتا ہے جو اپنی غلطی پر اصرار کرے، لیکن اگر خطا کے بعد نادم ہو تو اسے معاف کردیا جاتا ہے۔ جو آدمی دل سے یہ کلمات کہتا ہے وہ ہیکڑی نہیں دکھا سکتا، کبھی نہ کبھی ضرور اسے توبہ کی توفیق ہوگی، اور توبہ سے ہر خطا معاف ہوجاتی ہے، حتیٰ کہ شرک بھی جو سب سے بڑا جرم ہے۔


حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ نماز کو مشتبہ کردے، یہاں تک کہ نمازی کو یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ جب تم میں سے کوئی اس صورت حال کو محسوس کرے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے‘‘۔ (بخاری، مسلم )

یعنی نماز میں شیطان پوری کوشش کرتا ہے کہ بندہ نماز نہ پڑھنے پائے۔ دوسری چیزیں تو وہ پھر بھی کسی طرح برداشت کرلیتا ہے، لیکن اس کے لیے نماز سے بڑھ کر ناگوار کوئی چیز نہیں۔ پہلے تو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ سرے سے نماز ہی نہ پڑھے، لیکن اگر وہ باز نہ آئے تو پھر نماز میں خلل ڈالتا ہے۔ مختلف شبہات پیدا کرتا ہے تاکہ بددل ہوجائے، اسے یہ یاد ہی نہ رہے کہ میں اب تک کتنی رکعتیں پڑھ چکا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمھیں بھول لاحق ہوجائے تو نماز سے بددل ہونے کے بجاے دو سجدے کرلو۔ یہ اس کے لیے کافی ہے کہ شیطان جو تم پر غالب آگیا تھا اس کا اثر ختم ہوجائے۔ یہ سجدے ان وسوسوں کا علاج ہیں جو تمھارے دل میں پیدا ہوگئے تھے۔ یہ سجدے ایک طرف اللہ کے حضور معافی چاہنا ہے، دوسری طرف شیطان کو یہ بتانا ہے کہ تو نے سارا زور لگا دیا، مگر کچھ نہیں کرسکا۔ یہ دو سجدے اور کر رہا ہوں۔ یہ دو سجدے گویا ارشاد رسولؐ کے مطابق شیطان کے چہرے پر دو دھپ یا دو چانٹے ہیں۔ (انتخاب: افاداتِ مودودیؒ، نماز کے متعلق احادیث، مشکوٰۃ کی تشریح، مؤلف: میاں خورشید انور)

 

اے لوگو! جن کو محمدؐ رسول اللہ کی بدولت راہِ راست نصیب ہوئی ہے، تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے احسانِ عظیم کا حق ادا کرو۔ تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے، اس شخص نے تمھیں علم کی روشنی دی۔ تم اخلاق کی پستیوں میں گرے ہوئے تھے، اس شخص نے تمھیں اٹھایا اور اس قابل بنایا کہ آج محسود خلائق بنے ہوئے ہو۔ تم وحشت اور حیوانیت میں مبتلا تھے، اس شخص نے تم کو بہترین انسانی تہذیب سے آراستہ کیا۔ کفر کی دنیا اسی لیے اس شخص پر خار کھا رہی ہے کہ اس نے یہ احسانات تم پرکیے، ورنہ اس نے کسی کے ساتھ ذاتی طور پر کوئی برائی نہ کی تھی۔ اس لیے اب تمھاری احسان شناسی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جتنا بُغض وہ اس خیرمجسم کے خلاف رکھتے ہیں اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ محبت تم اس سے رکھو، جتنی وہ اس سے نفرت کرتے ہیں، اتنے ہی بلکہ اس سے زیادہ تم اس کے گرویدہ ہوجائو، جتنی وہ اس کی مذمت کرتے ہیں، اتنی ہی بلکہ اس سے زیادہ  تم اس کی تعریف کرو، جتنے وہ اس کے بدخواہ ہیں اتنے ہی بلکہ اس سے زیادہ تم اس کے خیرخواہ بنو اور اس کے حق میں وہی دعا کرو جو اللہ کے فرشتے شب و روز اس کے لیے کر رہے ہیں کہ اے  ربِّ دوجہاں! جس طرح تیرے نبیؐ نے ہم پر بے پایاں احسانات فرمائے ہیں، تو بھی ان پر   بے حدوبے حساب رحمت فرما، ان کا مرتبہ دنیا میں بھی سب سے بلند کر اور آخرت میں بھی انھیں تمام مقربین سے بڑھ کر تقرب عطا فرما۔(جلد ۴، حاشیہ ۱۰۷، صفحہ ۱۲۴)


اِس جامع فقرے [مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں] کے کئی مطلب ہیں:

ایک مطلب یہ ہے کہ میں ان ساری گروہ بندیوں سے الگ رہ کر بے لاگ انصاف پسندی اختیار کرنے پر مامور ہوں۔ میرا کام یہ نہیں ہے کہ کسی گروہ کے حق میں اور کسی کے خلاف تعصب برتوں، میرا سب انسانوں سے یکساں تعلق ہے، اوروہ ہے سراسر عدل وانصاف کا تعلق۔ جس کی جو بات حق ہے، میں اس کا ساتھی ہوں، خواہ وہ غیروں کا غیر ہی کیوں نہ ہو۔ اور جس کی جو بات حق کے خلاف ہے میں اس کا مخالف ہوں، خواہ وہ میرا قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔

دوسرا مطلب یہ ہے کہ میں جس حق کو تمھارے سامنے پیش کرنے پر مامور ہوں اس میں کسی کے لیے بھی کوئی امتیاز نہیں ہے، بلکہ وہ سب کے لیے یکساں ہے۔ اس میں اپنے اور غیر، بڑے اور چھوٹے، غریب اور امیر، شریف اورکمین کے لیے الگ الگ حقوق نہیں ہیں، بلکہ جو کچھ ہے وہ سب کے لیے حق ہے، جو گناہ ہے وہ سب کے لیے گناہ ہے، جو حرام ہے وہ سب کے لیے حرام ہے اور جو جرم ہے، وہ سب کے لیے جرم ہے، اِس بے لاگ ضابطے میں میری اپنی دانست کے لیے بھی کوئی استثنا نہیں۔

تیسرا مطلب یہ ہے کہ میں دنیا میں عدل قائم کرنے پر مجبور ہوں۔ میرے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے درمیان انصاف کروں، اور اُن بے اعتدالیوں اور بے انصافیوں کا خاتمہ کروں جوتمھاری زندگیوں میں اور تمھارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔

ان تین مطالب کے علاوہ اس فقرے کا ایک چوتھا مطلب بھی ہے جو مکہ معظمہ میں نہ کھلا تھا مگر ہجرت کے بعد کھل گیا اور وہ یہ ہے کہ میں خدا کا مقرر کیا ہوا قاضی اور جج ہوں، تمھارے درمیان انصاف کرنا میری ذمہ داری ہے۔(ج ۴، ح ۲۸، ص ۴۹۵-۴۹۶)


جس سیاق و سباق میں یہ آیت (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ) ارشاد ہوئی ہے، اس کے لحاظ سے رسولِؐ پاک کے طرزِعمل کو اس جگہ نمونے کے طور پر پیش کرنے سے مقصود اُن لوگوں کو سبق دینا تھا جنھوں نے جنگ ِ احزاب کے موقع پر مفاد پرستی و عافیت کوشی سے کام لیا تھا۔ اُن سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم ایمان و اسلام اور اتباعِ رسولؐ کے مدعی تھے۔ تم کو دیکھنا چاہیے تھا کہ جس رسولؐ کے پیرووں میں تم شامل ہوئے ہو اُس کااس موقع پر کیا رویّہ تھا۔ اگر کسی گروہ کا لیڈر خود عافیت کوش ہو، خود آرام طلب ہو، خود اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کو مقدّم رکھتا ہو، خطرے کے وقت خود بھاگ نکلنے کی تیاریاں کر رہا ہو، پھر تو اس کے پیرووں کی طرف سے اِن کمزوریوں کااظہارمعقول ہوسکتا ہے مگر یہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ ہرمشقت جس کا آپؐ نے دوسروں سے مطالبہ کیا، اسے برداشت کرنے میں آپؐ خود سب کے ساتھ شریک تھے، بلکہ دوسروں سے بڑھ کر ہی آپؐ نے حصہ لیا۔ کوئی تکلیف ایسی نہ تھی جو دوسروں نے اٹھائی ہو اور آپؐ نے نہ اٹھائی ہو۔ خندق کھودنے والوں میں آپؐ خود شامل تھے۔ بھوک اور سردی کی تکلیفیں اٹھانے میں ایک ادنیٰ مسلمان کے ساتھ آپؐ کا حصہ بالکل برابر کا تھا۔ محاصرے کے دوران میں آپؐ ہر وقت محاذِ جنگ پر موجود رہے اور ایک لمحے کے لیے بھی دشمن کے مقابلے سے نہ ہٹے۔   بنی قریظہ کی غداری کے بعد جس خطرے میں سب مسلمانوں کے بال بچے مبتلا تھے اسی میں آپؐ کے بال بچے بھی مبتلا تھے۔ آپؐ نے اپنی حفاظت اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی خاص اہتمام نہ کیا جو دوسرے مسلمانوںکے لیے نہ ہو۔ جس مقصدِعظیم کے لیے آپؐ دوسروں سے قربانیوں کا مطالبہ کررہے تھے اُس پر سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر آپؐ خود اپنا سب کچھ قربان کردینے کو تیار تھے۔ اس لیے جو کوئی بھی آپؐ کے اتباع کا مدعی تھا، اسے یہ نمونہ دیکھ کر اس کی پیروی کرنی چاہیے تھی۔

یہ تو موقع و محل کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم ہے مگر اس کے الفاظ عام ہیں اور اس کے منشا کو صرف اسی معنی تک محدود رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ صرف اسی لحاظ سے اُس کے رسولؐ کی زندگی مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے، بلکہ مطلقاً اسے نمونہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان ہرمعاملے میں آپؐ کی زندگی کو اپنے لیے نمونے کی زندگی سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی سیرت و کردار کو ڈھالیں۔(ج ۴، ح ۳۴، ص ۸۰-۸۱)


شیطان کو سخت تشویش لاحق ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ حق و باطل کی جنگ میں کمینگی کا مقابلہ شرافت کے ساتھ اور بدی کا مقابلہ نیکی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ایک ہی مرتبہ سہی، حق کے لیے لڑنے والوں، اور خصوصاً اُن کے سربرآوردہ لوگوں، اور سب سے بڑھ کر اُن کے رہنما سے کوئی ایسی غلطی کرا دے جس کی بنا پر عامۃ الناس سے یہ کہا جاسکے کہ دیکھیے صاحب، برائی یک طرفہ نہیں ہے، ایک طرف سے اگر گھٹیا حرکتیں کی جارہی ہیں تو دوسری طرف کے لوگ بھی کچھ بہت اُونچے درجے کے انسان نہیں ہیں، فلاں رکیک حرکت تو آخر انھوں نے بھی کی ہے۔ عامۃ الناس میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ ٹھیک انصاف کے ساتھ ایک طرف کی زیادتیوں اور دوسری طرف کی جوابی کارروائی کے درمیان موازنہ کرسکیں۔ وہ جب تک یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ مخالفین ہرطرح کی ذلیل حرکتیں کر رہے ہیں، مگر یہ لوگ شائستگی و شرافت اور نیکی و راست بازی کے راستے سے ذرا نہیں ہٹتے، اُس وقت تک وہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر کہیں ان کی طرف سے کوئی بے جا حرکت، یا ان کے مرتبے سے گری ہوئی حرکت سرزد ہوجائے، خواہ وہ کسی بڑی زیادتی کے جواب ہی میں کیوں نہ ہو، تو ان کی نگاہ میں دونوں برابر ہوجاتے ہیں، اور مخالفین کو بھی ایک سخت بات کا جواب ہزار گالیوں سے دینے کا بہانہ مل جاتا ہے...

اس مقام کی بہترین تفسیر وہ واقعہ ہے جو امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت ابوہریرہؓ سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بے تحاشا گالیاں دینے لگا۔ حضرت ابوبکرؓ خاموشی کے ساتھ اس کی گالیاں سنتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں دیکھ کر مسکراتے رہے۔ آخرکار جناب صدیقؓ کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا اور انھوں نے بھی جواب میں اسے ایک سخت بات کہہ دی۔ اُن کی زبان سے وہ بات نکلتے ہی حضوؐر پر شدید انقباض طاری ہوا جو چہرئہ مبارک پر نمایاں ہونے لگا اور آپؐ فوراً اُٹھ کر تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکرؓ بھی اُٹھ کر آپؐکے پیچھے ہولیے اور راستے میں عرض کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے، وہ مجھے گالیاں دیتا رہا اور آپؐ خاموش مسکراتے رہے، مگر جب میں نے اسے جواب دیا تو آپؐ ناراض ہوگئے؟ فرمایا: ’’جب تک تم خاموش تھے، ایک فرشتہ تمھارے ساتھ رہا اور تمھاری طرف سے اس کو جواب دیتا رہا، مگر جب تم بول پڑے تو فرشتے کی جگہ شیطان آگیا۔ میں شیطان کے ساتھ تو نہیں  بیٹھ سکتا تھا‘‘۔ (ج ۴، ح ۴۰،ص ۴۵۹)


 

حضرات! اتنی تفصیل مَیں نے اس لیے بیان کی ہے کہ پیش نظر مسئلے کی پوری نوعیت، نزاکت اور اہمیت اچھی طرح سمجھ لی جائے۔ جو کچھ مَیں نے عرض کیا ہے، اس سے چند باتیں بخوبی واضح ہوجاتی ہیں:

اول: یہ کہ یہودی آج تک اپنے منصوبوں میں اس بنا پر کامیاب ہوتے رہے ہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ان کی حامی و مددگار بنی رہی ہیں اور اُن کی اس روش میں آیندہ بھی کسی تغیر کے امکانات نظر نہیں آتے، خصوصاً امریکا کی پُشت پناہی جب تک اسے حاصل ہے، وہ کسی بڑے سے بڑے جرم کے ارتکاب سے بھی باز نہیں رہ سکتا۔

دوم: یہ کہ اشتراکی بلاک  سے کوئی اُمید وابستہ کرنا بالکل غلط ہے۔ وہ اسرائیل کا ہاتھ پکڑنے کے لیے قطعاً کوئی خطرہ مول نہ لے گا۔ زیادہ سے زیادہ آپ اس سے ہتھیار لے سکتے ہیں، اور    وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ اشتراکیت کا قلادہ اپنی گردن میںڈالیں اور اسلام کو دیس نکالا دے دیں۔

سوم: یہ کہ اقوامِ متحدہ ریزرولیوشن پاس کرنے سے بڑھ کر کچھ نہیں کرسکتی۔ اس میں یہ دم خم نہیں ہے کہ اسرائیل کو کسی مجرمانہ اقدام سے روک سکے۔

چہارم: یہ کہ عرب ممالک کی طاقت اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے قطعی ناکافی ہے۔ پچھلے۲۲ سال کے تجربات نے یہ بات پوری طرح ثابت کردی ہے۔

ان حقائق کے سامنے آجانے کے بعد نہ صرف مسجدِاقصیٰ، بلکہ مدینہ منورہ کو بھی آنے والے خطرات سے بچانے کی صرف ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی طاقت اس یہودی خطرے کا مقابلہ کرنے اور اسلام کے مقاماتِ مقدسہ کو مستقل طور پر محفوظ کردینے کے لیے مجتمع کی جائے۔ اب تک یہ غلطی کی گئی ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو ایک   عرب مسئلہ بنائے رکھا گیا۔ دنیا کے مسلمان ایک مدت سے کہتے رہے کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کا مسئلہ ہے مگر بعض عرب لیڈروں کو اس پر اصرار رہا کہ نہیں، یہ محض ایک عرب مسئلہ ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اب مسجداقصیٰ کے سانحے سے ان کی آنکھیں بھی کھل گئی ہیں اور ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ صہیونیت کی عظیم بین الاقوامی سازش کا مقابلہ، جب کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کی پوری تائید و حمایت بھی اس کو حاصل ہے، تنہا عربوں کے بس کا روگ نہیں ہے۔ دنیا میں اگر ایک کروڑ ۶۰لاکھ یہودی ایک طاقت ہیں تو ۷۰، ۷۵ کروڑ مسلمان بھی ایک طاقت ہیں، اور ان کی ۳۰-۳۲ حکومتیں اس وقت انڈونیشیا سے مراکو اور مغربی افریقہ تک موجود ہیں۔ ان سب کے سربراہ اگر سرجوڑ کر بیٹھیں، اور روے زمین کے ہرگوشے میں بسنے والے مسلمان ان کی پشت پر جان و مال کی بازی لگادینے کے لیے تیار ہوجائیں تو اس مسئلے کو حل کرلینا، ان شاء اللہ کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا۔

اس سلسلے میں جو عالمی کانفرنس بھی ہو اس کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اصل مسئلہ محض مسجد اقصیٰ کی حفاظت کا نہیں ہے۔ مسجداقصیٰ محفوظ نہیں ہوسکتی جب تک بیت المقدس یہودیوں کے قبضے میں ہے، اور خود بیت المقدس بھی محفوظ نہیں ہوسکتا جب تک فلسطین پر یہودی قابض ہیں۔ اس لیے اصل مسئلہ فلسطین کو یہودیوں کے غاصبانہ تسلط سے آزاد کرانے کا ہے۔ اور اس کا سیدھا اور صاف حل یہ ہے کہ اعلان بالفر سے پہلے جو یہودی فلسطین میں آباد تھے صرف وہی وہاں رہنے کا حق رکھتے ہیں، باقی جتنے یہودی ۱۹۱۷ء کے بعد سے اب تک وہاں باہر سے آئے اور لائے گئے ہیں انھیں واپس جانا چاہیے۔ ان لوگوں نے سازش اور جبروظلم کے ذریعے سے ایک دوسری قوم کے وطن کو زبردستی اپنا قومی وطن بنایا، پھر اسے قومی ریاست میں تبدیل کیا، اور اس کے بعد توسیع کے جارحانہ منصوبے بناکر آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا نہ صرف عملاً ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا، بلکہ اپنی پارلیمنٹ کی پیشانی پر علانیہ یہ لکھ دیا کہ کس کس ملک کو وہ اپنی اس جارحیت کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ ایسی ایک کھلی کھلی جارح ریاست کا وجود بجاے خود ایک جرم اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے اور عالمِ اسلامی کے لیے اس سے بھی بڑھ کر وہ اس بنا پر خطرہ ہے کہ اس کے ان جارحانہ ارادوں کا ہدف مسلمانوں کے مقاماتِ مقدسہ ہیں۔ اب اس ریاست کا وجود برداشت نہیں کیا جاسکتا، اس کو ختم ہونا چاہیے۔ فلسطین کے اصل باشندوں کی ایک جمہوری ریاست بننی چاہیے جس میں ملک کے پُرانے یہودی باشندوں کو بھی عرب مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرح شہری حقوق حاصل ہوں، اور باہر سے آئے ہوئے اُن غاصبوں کو نکل جانا چاہیے جو زبردستی اس ملک کو قومی وطن اور پھر قومی ریاست بنانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

اس کے سوا فلسطین کے مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ رہا امریکا، جو اپنا ضمیر یہودیوں کے ہاتھ رہن رکھ کر، اور تمام اخلاقی اصولوں کو بالاے طاق رکھ کر ان غاصبوں کی حمایت کر رہا ہے،    تو اب وقت آگیا ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان اس کوصاف صاف خبردار کردیں کہ اس کی یہ روش  اگر اسی طرح جاری رہی تو روے زمین پر ایک مسلمان بھی وہ ایسا نہ پائے گا جس کے دل میں   اُس کے لیے کوئی ادنیٰ درجے کا بھی جذبۂ خیرسگالی باقی رہ جائے۔ اب وہ خود فیصلہ کرلے کہ  اسے یہودیوں کی حمایت میں کہاں تک جانا ہے۔ (سانحۂ مسجداقصٰی، ص ۱۸-۲۰، ناشر: ادارہ ترجمان القرآن، لاہور)

 

دنیا میں ہر طریقِکار مقصد کی مناسبت سے طے کیا جاتا ہے۔ جب مقصد متعین ہوجاتا ہے تو پھر تمام وسائل حصولِ مقصد کے لیے لگا دیے جاتے ہیں اور آدمی جو بھی محنت اور مشقت کرتا ہے، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس مقصد کو اس کے قریب تر کر دے۔ اسی طرح ہمارا بھی ایک مقصد ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ایک طریقِکار ہے جس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی تمام صلاحیتوں، محنتوں اور وسائل کو اس میں صرف کردیں۔

ھمارا مقصد

ہمارا مقصد کیا ہے؟ جیسا کہ ہم میں سے ہر ایک جانتا ہے کہ ہمارا مقصد اقامتِ دین ہے، یعنی پورے کے پورے دین کو عملاً نافذ کرنا۔ اور یہ نفاذ صرف اپنے ہی ملک تک مقصود نہیں ہے بلکہ تمنّا یہ ہے کہ یہ پوری دنیا میں نافذ ہو اور پورا کرۂ ارضی حلقہ بگوشِ اسلام ہو جائے۔ لیکن اس کی ترتیب یہ ہے کہ یہ پہلے پاکستان میں نافذ ہو۔ اس کے بعد اس کے وسائل کو دین کی عالمی تبلیغ کے لیے استعمال کیا جائے۔

تبلیغ

تبلیغ کامفہوم اسلام کی تعلیمات کو فقط پہنچا دینا ہے، یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اخلاق، اعمال اور معاملات میں کیا کیا ہدایات دی ہیں، بندگانِ خدا کو ان چیزوں سے آگاہ کر دینے کا نام تبلیغ ہے۔ یہ سب امور واضح کر دینے کے بعد مبلغ کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی۔ لیکن اقامتِ دین کے کام کا آغاز اس نکتے سے ہوتا ہے، جہاں تبلیغ کا کام ختم ہوتا ہے۔ تبلیغ اقامتِ دین کی تمہید ضرور ہے، لیکن یہ ختم ہو جاتی ہے، جب تعلیماتِ دین پہنچ جائیں۔ ہمارا مقصد صرف تبلیغ نہیںبلکہ اقامتِ دین ہے اور یہ ذمہ داری ہم نے از خود نہیں لی، بلکہ ہم پر  ڈالی گئی ہے، جیسا کہ قرآن میں آتا ہے: اَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ (الشورٰی ۴۲:۱۳) کہ اس دین کو قائم کرو۔ چونکہ ہم انبیا کے وارث ہیں اس لیے یہ مقصد از خود ہمارا مقصد بن جاتا ہے۔

اقامتِ دین اور تبلیغِ دین

اگر ہم اپنے ذمے صرف تبلیغِ دین ہی کا فرض رکھتے تو ہمارا کا م بہت ہلکا تھا۔ تبلیغ کی   ذمہ داریاں زیادہ گراں نہیں ہیں۔ ایک شخص نماز کی تبلیغ کرتا ہے، وہ لوگوں کو ارکانِ نماز اور   طریقۂ نماز سے متعارف کراتا ہے اور مسجد کی ضرورت سے آگاہ کرتا ہے۔ مبلغ کی حیثیت سے اس کا کام یہاں ختم ہو گیا، کیونکہ تبلیغ کی حدود تلقین سے آگے نہیں بڑھتیں۔ لیکن جس شخص نے اپنے ذمے صرف تبلیغِ صلوٰۃ نہ لے رکھی ہو، بلکہ اقامتِ صلوٰۃ بھی ہو، اس کے کام کی حدود اس سے بہت آگے بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے ذمے یہ بات بھی ہوتی ہے کہ وہ مسجد بنائے بھی اور اس کا انتظام و انصرام بھی کرے اور اس کی تعمیر کے لیے اینٹ چونا سیمنٹ بھی فراہم کرے۔ یہ سارے کام جب وہ کر رہا ہوتا ہے تو دور سے دیکھنے والا اسے شاید کسی دُنیوی شغل میںمنہمک سمجھتا ہو اور یہ جان سکتا ہو کہ یہ شخص عمارت کے لیے جو عمارتی سامان فراہم کر رہا ہے، وہ اقامتِ صلوٰۃ کا ضروری حصہ ہے اور اقامتِ صلوٰۃ اس وقت تک ہو نہیں سکتی، جب تک مسجد نہ بنے اور مسجد کی تعمیر کے لیے لازم ہے کہ اینٹ، پتھر اور چونا بہم پہنچایا جائے۔ جب مسجد تعمیر ہوگئی اور اس کی شکل و صورت ہر نگاہ کو دکھائی دینے لگی، تب معلوم ہوگا کہ یہ اقامتِ صلوٰۃ کا کام ہے۔ کچھ لوگ شاید عمارت کا قبلہ رخ ہونا   دیکھ کر اندازہ کرلیں کہ یہ اقامتِ صلوٰۃ کا کام ہو رہا ہے لیکن عام لوگ اس کی نوعیت سے اسی وقت آگاہ ہوتے ہیں جب کام پورا ہو چکتا ہے۔

ایسا ہی معاملہ اقامتِ دین کا ہے۔ لوگ اقامتِ دین کے بنیادی تقاضوں کو جب نہیں سمجھتے تو وہ متعجب ہوتے ہیں کہ یہ اقامتِ دین کاکیسا کام ہو رہا ہے۔ درآں حالیکہ یہ ساری ضروریات فریضہ اقامتِ دین کی ہیں جو پوری ہوں گی تو اقامتِ دین کاکام ہوگا۔ لوگ عام طور پر تبلیغ کوتو سمجھتے ہیں لیکن اقامتِ دین کی اصطلاح اُن کے لیے اجنبی ہوتی ہے اور وہ اس کے مفہوم اور تقاضوں کو کماحقہ نہیں سمجھ پاتے۔

جماعتِ اسلامی کا مقصد

اقامتِ دین، جماعت ِاسلامی کا صرف اجتماعی مقصد نہیں بلکہ اس کے ایک ایک رکن کا ذاتی مقصد بھی ہے۔ تبلیغ انفرادی طور پر بھی ہو سکتی ہے مگر اقامت کے لیے جدوجہد اجتماعی اور منظم ہونی چاہیے۔ جو لوگ اقامتِ دین کے تقاضوں کا شعور رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسا عملی کام ہے، جس کے لیے اجتماعیت کی ضرورت ہے۔ یہ کام منظم محنت کامحتاج ہے اور منتشر اور غیر منظم افراداسے ہرگز انجام نہیں دے سکتے۔

دنیا میں بعض ایسے اجتماعی ادارے بھی ہیں، جہاں ایک فرد اپنا ذاتی مقصد الگ رکھتے ہوئے بھی ان کے محدود مقاصد کی تکمیل میں شریک ہو سکتا ہے، مثلاً کوئی کلب ہے جو بالکل محدود مقاصد کے لیے وجود پذیر ہوا ہے، لوگ اس کے رکن بنتے ہیں اور کلب کے مقصد کے لیے کام کرتے ہیں، لیکن کلب کا مقصد ان کی اپنی شخصی زندگیوںکا مقصد نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ اس جماعت کا ہر رکن جس کو اپنا اجتماعی یا جماعتی مقصد جانتا ہے وہ اس کا ذاتی مقصد بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص دین کو اپنا مقصدِ زندگی بنالے، اپنی انفرادی زندگی میںبھی اور اجتماعی زندگی میںبھی، وہ اپنی ہر سعی اور اپنی محنت کی ہر رمق اس میںکیوں نہ لگائے، وہ ضرور لگائے گا۔

جماعت اسلامی کے کارکنوں کو اچھی طرح سے یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے، یہ دین ان کا ذاتی مقصد بھی ہے۔ اگر ایک شخص نے اپنا کوئی مقصد زندگی مقرر کر لیا ہے تو پھر اس کے لیے فطری اور ضروری ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے اپنے تمام ذرائع، وسائل اور اپنا تمام وقت اور اپنی محنت و قابلیت اس میں لگا دے، کیونکہ وہ مقصد اس کا مقصدِ زندگی ہے اور وہ اسی کے لیے جیتاہے۔ اور اگر کوئی شخص اقامتِ دین کو اپنا مقصد زندگی قرار دے کر کام نہیں کرتا تو کہنا پڑے گا کہ وہ اس کا مقصد زندگی ہی نہیں۔ اگر اقامتِ دین اس کا مقصد زندگی ہوتا اور وہ اس کا شعور بھی رکھتا تو حضرت صدیق اکبرؓ کے طرز عمل کی یاد اسے ضرور بے چین کیے رکھتی ۔

اقامتِ دین : انفرادی تقاضے

  •  دین کا فھم: اِس مقصدِ زندگی کے کچھ تقاضے اور ضروریات ہیں۔ پہلی چیز یہ ہے کہ مقصدِ زندگی قرار دے لینے کے بعد اس کا علم وفہم ضروری ہے۔ جو شخص اپنے مقصد کا علم حاصل نہیں کرتا اور نہ اس کی فکر کرتا ہے، وہ اپنے مقصد کے شعور سے تہی دامن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مقصد کا علم و شعور حاصل کرے اور اس کے مطابق اپنے اندر استعداد پیدا کرے۔
  •  مطلوبہ اخلاقی اوصاف: دوسری چیز ہے، اپنے مقصد کے مطابق اپنے اندر اخلاق پیدا کرنا۔ مبلّغ کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ وہ اچھے اخلاق کا حامل ہو۔ لیکن اقامتِ دین کے لیے اس سے کہیں زیادہ طاقت ور اور مضبوط سیرت کی ضرورت ہے۔ یہاں قدم قدم پر مخالف ہوائوں اور مزاحم قوتوں کا سامنا ہوتاہے، چپے چپے پر رکاوٹوں کی باڑیں کھڑی ملتی ہیں اور مقابلہ ہوتا ہے۔ پھر اس راہ میں صرف مزاحمتوں ہی سے سابقہ نہیں پڑتا، زیادتیوں سے واسطہ بھی درپیش ہوتا ہے۔ یہاں گالیاں بھی ملتی ہیں اور بہتانوں کی غلاظت بھی اپنے اوپر برداشت کرنی پڑتی ہے، اور جیل بھی دیکھنی پڑتی ہے اور لالچ اور ترغیب کی وادیاں بھی قطع کرنی پڑتی ہیں۔
  •  حکمت: تیسری ضرورت اس راہ میں حکمت کی ہے۔ اس مقصد کے حامل میں اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ ہر بلا کا سامنا حکمت سے کر سکے۔ راستے کا کوئی کانٹا اگر اس کا دامن کھینچتا ہے تو وہ اس سے اپنا دامن چھڑائے۔ اگر وہ دامن نہیں چھوڑتا تو اپنے دامن کا اتنا ٹکڑا پھاڑ کر پھینک دے اور اپنی منزل کو چل کھڑا ہو۔ یہ مقصد نوعیت میں خالص علمی ہے اور اس کا تقاضا ہے  کہ وقت ضائع نہ ہو، یکسوئی ہو اور صرف ایسی چیزوں کی جانب توجہ ہو جو حصولِ مقصد میں معاون و مددگار ہو سکتی ہیں۔ اس مقصد کا حامل بیکار بحثوں میں نہیں الجھتا۔ اپنا وقت ضائع نہیں کرتا ہے اور  نہ گالی کا جواب گالی سے دیتا ہے۔ یہ تقاضے مقصد کو ذاتی حیثیت میں اختیار کرنے کے تھے۔ اب اس کے جماعتی حیثیت میں تقاضوں کو بھی سمجھ لیجیے۔

اقامتِ دین: اجتماعی تقاضے

  •  موعظۂ حسنہ اور اس کے تقاضے: اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ آپ موعظۂ حسنہ کو اختیار کیجیے۔ اقامتِ دین کرنے والوں کو حکمت کے ساتھ جائزہ لینا پڑے گا کہ عہد جدید کی کون کون سی گمراہیاں ہیں اور ان کا تدارک کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک طبیب ِحاذق کی طرح دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گمراہی کے کیا اسباب ہیں۔ فرد اور معاشرے کے امراض کی  تشخیص کرنی پڑے گی کہ بگاڑ کے کیا محرکات ہیںاور لوگ دین کی جانب کیوں رغبت نہیں کرتے، اس سے رکنے کی کیا وجوہ ہیں؟ان تمام انحرافات کے عوامل معلوم کرنے ہوں گے تاکہ انھیں   معلوم کرکے ان کا سدباب اور استیصال کیا جائے۔ موعظۂ حسنہ کا مطلب صرف شیریں بیانی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اصلاح کیسے ہو؟ مناظرہ بازی نہیں بلکہ مرض کو دور کرنے کی کوشش ہے تاکہ مریض صحت یاب ہوجائے۔ مریض حکیم کو گالی دے گا تو حکیم بُرا نہیں مانے گا، نہ اپنا مقصد ترک   کرے گا۔ اسی طرح اقامتِ دین کرنے والے کی نگاہ اپنے مقصد پرلگی رہتی ہے اور وہ راہ کے کانٹوں اور ان کی چبھن کی کبھی پروا نہیں کرتا۔
  •  تنظیم و تربیت اور دعوت: اس مقصد کی راہ کا دوسرا کام تنظیم و تربیت اور دعوت ہے۔ اقامتِ دین ٹھنڈے ٹھنڈے وعظوں سے انجام نہیں پا جاتا۔ اس کے لیے جہاد کی پتّا ماری کی ضرورت ہے اور جہاد کے لیے ضروری ہے کہ تنظیم ہو۔ جو لوگ اس مقصد کے حامل ہوں انھیں ایک رشتۂ نظم میں پرو دیا جائے۔ ان کے اندر فوج کا سا ڈسپلن اور ویسا ہی نظم ہو۔ پھر وہ باطل کی قوتوں کا مقابلہ کر سکیں گے۔ ڈھیلے نظم والی فوج کبھی فتح نہیں پا سکتی۔ اقامتِ دین کی سعی کامیابی سے کبھی ہم کنار نہیں ہو سکتی، جب تک یہ منظم اور باسلیقہ نہ ہوگی۔ واضح رہے کہ اقامتِ دین کا مسئلہ ہی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دین بے چارگی کی حالت کو پہنچ چکا ہو اور باطل نظریات کا غلبہ ہو چکا ہو،  اب ان غالب اور طاقت ور نظریات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کوئی ڈھیلی ڈھالی قوت کار آمد نہیں ہوگی۔ اقامتِ دین کے لیے اجتماعیت کی نہ صرف مضبوط تنظیم ہونی چاہیے بلکہ اس کی تربیت بھی مسلسل ہونی چاہیے۔ جو مخالف قوتیں میدان میں اتری ہیں وہ رہنے کے لیے آئی ہیں، جانے کے لیے نہیں آئیں۔ اس لیے ان کا مقابلہ طاقت ور اور مضبوط تنظیم ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ نظم کی جانب سے جو ہدایات جاری ہوں ان پرپوری پابندی سے عمل کیا جائے اور کوئی کام خود سری سے  نہ کیا جائے۔ تنظیم کے استحکام کا یہی راز ہے۔ یہ تنظیم و تربیت انتہائی ضروری ہے، چاہے اس قافلے میں مٹھی بھر آدمی ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ تنظیم و تربیت ہی کی برکت ہے کہ مٹھی بھر آدمی لاکھوں کی بھیڑ پر غالب آئے۔
  •  توسیع دعوت: تیسرا کام اس سلسلے کا توسیع دعوت ہے۔ جو جماعت قائم ہوگی، ناگزیر ہے کہ وہ اپنی دعوت بھی پھیلائے اور عوام کی راے کو اپنے حق میں ہموار کرے۔ توسیع دعوت کا ایک راستہ اقتدار بھی ہے، لیکن یہ محض اتفاق ہے کہ کسی کو اقتدار مل جائے۔ یہ راستہ کوئی پایدار نہیں ہے اور اس کے بہت سے لوازمات ہیں، مثلاً اگر آپ کے ہاتھ میں اقتدار آتا ہے اور اقتدار کی مشینری آپ کی ہم نوا نہیںہوتی تو آپ اپنی تمام کوشش اور اخلاص کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکتے۔ پایدار راستہ صرف عوام کے ساتھ رابطے کا ہے۔ ایک ایک فرد تک دین کا پیغام پہنچایا جائے۔ وہ فرد زندگی اور مملکت کے جس بھی شعبے میں ہوگا، وہ بجاے خود دین کے لیے قوتِ نافذہ بن جائے گا۔ جب ملک کی فضا اور راے عامہ میں یہ نظریات رچ بس جائیں گے تو اس کے بعد کوئی مخالف قوت، وہ چاہے کتنی ہی مقتدر کیوں نہ ہو، ٹکنے نہ پائے گی، اور نہ دین کی راہ میں مزاحم ہو سکے گی۔ اس غرض کے لیے بڑی محنت اور جان ماری کی ضرورت ہے۔

توسیعِ دعوت کے ساتھ ساتھ اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کے اخلاق درست کرنے کی کوشش کریں۔ اگر اسلامی نظام یہاں قائم ہو بھی جاتا ہے توکیا ایسے بداخلاق لوگ اس کی غیر معاون رعایا ثابت نہ ہوں گے؟ معاشرے میں جتنی اخلاقی خرابیاں رونما ہوں گی، دین کی اقامت میں اتنی مشکلات پیدا ہوں گی۔ اس لیے آپ دعوت بھی پھیلائیں اور اخلاق کو بگڑنے سے بھی روکیں۔

  •  نـفاذِ اسـلام کے لیے تبدیلیِ اقتدار: اقامتِ دین کا چوتھا تقاضا تبدیلی ِاقتدار بہ حقِ اسلام ہے۔ جیساکہ آپ جانتے ہیں آپ کا مقصد معروف کا فروغ اور منکر کا استیصال ہے۔ مثال کے طور پر آپ قرآن میں سود کو حرام پاتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں جب آپ کوئی کاروبار کرتے ہیں تو آپ کو جگہ جگہ سود سے سابقہ در پیش آتا ہے۔ شریعت میں بدکاری اور فحاشی ممنوع ہے، آپ گھر سے نکلتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اسے ہر جگہ کھلی چھٹی ہے، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ حرام کو فروغ اور حلال کی راہ میں بندشیں ہیں۔ ایک حالت یہ ہے۔ دوسری حالت یہ ہے کہ ملک کی پوری انتظامی مشینری زور لگا دے کہ زنا بند ہو، سود ممنوع ہو، معروف پھیلے، منکر سکڑے۔ ان دونوں حالتوں میں کون سی حالت مطلوب ہے؟ ظاہر ہے دوسری حالت ہی مطلوب ہے۔

اب اگر دوسری حالت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، تو کیا یہ سیاست ہے؟ ہر شخص جانتا ہے کہ قرآن نافذ ہونے کے لیے آیا ہے، صرف تلاوت کے لیے نہیں۔ تعزیرات پاکستان پڑھنے کے لیے نہیں چلن کے لیے ہے۔ اگر کوئی شخص دوسری حالت کو مطلوب جانتا ہے، تو کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ حالت خود بخود پیدا ہو جائے گی۔ اگر یہ حالت خود بخود پیدا ہونے والی ہوتی تو حضوؐر کو معرکہ ہاے بدروحنین در پیش نہ آتے۔ کوئی نہر کبھی دعائوں سے نہیںکھودی جاتی، اس کے لیے ہاتھ پائوں ہلانے پڑتے ہیں۔ دعائوں سے علم دین حاصل ہو سکتا تو دینی مدرسے قائم نہ ہوتے۔ سعی کے بغیر کوئی کام نہیں ہو گا۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ، انسان کو بہرحال سعی کرنی پڑتی ہے۔ آج تک کسی کو یہ پھل انعام میں نہیں ملا۔

موجودہ حالات میں طریقِ کار

پاکستان بظاہر اس جماعت کو منتقل ہوا تھا جس نے مطالبہ پاکستان پیش کیا تھا، لیکن  بہ باطن یہ افسر شاہی [بیوروکریسی] کے ہاتھوں میںپہنچ گیا، اور بعد میں یہ بات بالکل کھل گئی کہ سب کچھ اتفاق سے نہیں ہوگیا بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کے تحت یہ ساری کارروائی کی گئی تھی۔ مصر میںلارڈ کرومر نے ایک مرتبہ کہا تھا: ’’ہم مسلمانوں کو آزادی تو دے دیں گے، لیکن اگر وہ اسلام کی طرف پلٹنا چاہیں گے، تو اسے ہم ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔‘‘ انگریزوں نے اسی پالیسی کے تحت جب اس امر کا پورا اطمینان کر لیا کہ وہ جن کو اقتدار دے رہے ہیں کیا وہ ان کے رنگ میں پورے رنگے جا چکے ہیں، تو اسی اطمینان کی بنا پر انھوں نے اقتدار کو اس بیوروکریسی کی طرف منتقل کیا تھا جو ان کے رنگ میںپوری طرح رنگی ہوئی تھی۔

یہ لوگ درپردہ مملکت کو لادینی بنانے کے لیے زور لگاتے رہے اور ملی بھگت میں بعض سیاست دان بھی ان کے ہم نوا تھے۔ ہم نے جب اسلامی دستور کا مطالبہ کیا تو ان لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے اور انھوں نے اس مطالبے کے اندر اپنی خواہشات کے خلاف ایک زبردست خطرہ پایا۔ لیکن وہ ابھی اس پوزیشن میںنہ تھے کہ اپنے آپ کو پوری طرح نمایاں کرکے میدان میں اتر آتے۔ سیاست دانوں میں بیش تر ایسے شریف النفس بھی تھے جنھوں نے اسلامی دستور کی پوری پوری حمایت کی۔ یہ کش مکش ۱۹۵۳ء تک اسی طرح جاری رہی۔ اس کے بعد اقتدار سیاست دانوں کے ہاتھ سے چھن کر سول سروس کے ہاتھ میں پہنچ گیا۔ ۱۹۵۴ء میں دستوریہ توڑ دی گئی۔ پھر۱۹۵۶ء میں دستور بنا، تو اس حلقے میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ جب مسلسل ٹال مٹول کے بعد عام انتخابات کی تاریخ مقرر ہوئی تو [اکتوبر ۱۹۵۸ء میں جنرل ایوب خان صاحب کا] فوجی انقلاب آگیا۔ یہ فوجی انقلاب اسلامی دستور کا راستہ روکنے کے لیے آیا تھا۔ اگر یہاں سیکولرزم ہوتا تو غالباً یہ انقلاب نہ آتا۔

اس کے بعد آمریت آئی، پریس اور پلیٹ فارم پر پہرے بٹھا دیے گئے اور ادارہ تحقیقات اسلامی جیسے ادارے وجود میں لائے گئے۔ ان سب چیزوں کو ایک ترتیب کے ساتھ اپنے سامنے رکھ کر دیکھیے تو آپ کو صاف معلوم ہوگا کہ یہ سب کچھ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اسلام اگر اب آسکتا ہے تو صرف جمہوریت کے راستے سے آسکتا ہے۔ اقتدار عوام کے نمایندوں کو ملے گا تو اسلام آئے گا۔ لیکن آمریت ہرگز پسند نہیں کرتی کہ یہاں اسلام آئے۔ یہ اس راہ میں ایک سدِّگراں ہے۔ جب تک یہ نہ ہٹے گی، نفاذِ اسلام کے تمام مواقع بند رہیں گے۔(رحیم یار خان میں اجتماعِ کارکنان سے خطاب، ۲۳ مارچ ۱۹۶۸ء، بہ شکریہ ایشیا ۱۹مئی ۱۹۶۸ء، ص ۷-۹)

 

ذرا میرے جلے دل کی کچھ باتیں سُن لو! تم نسلی مسلمانوں کا حال اُس بچے کا سا ہے جو ہیرے کی کان میں پیدا ہوا ہے۔ ایسا بچہ جب ہر طرف ہیرے ہی ہیرے دیکھتا ہے اور پتھروں کی طرح ہیروں سے کھیلتا ہے تو ہیرے اس کی نگاہ میں ایسے ہی بے قدر ہوجاتے ہیں جیسے پتھر۔ یہی حالت تمھاری بھی ہے کہ دنیا جن نعمتوں سے محروم ہے، جن سے محروم ہوکر سخت مصیبتیں اور تکلیفیں اُٹھا رہی ہے اور جن کی تلاش میں حیران و سرگردان ہے، وہ نعمتیں تم کو مفت میں بغیر کسی تلاش و جستجو کے صرف اس وجہ سے مل گئیں کہ خوش قسمتی سے تم مسلمان گھروں میں پیدا ہوئے ہو۔ وہ کلمۂ توحید جو انسان کی زندگی کے تمام پیچیدہ مسئلوں کو سلجھا کر ایک صاف سیدھا راستہ بتا دیتا ہے۔ بچپن سے تمھارے کانوں میں پڑا۔ نماز اور روزے کے وہ کیمیا سے زیادہ قیمتی نسخے جو آدمی کو جانور سے انسان بناتے ہیں، اور انسانوں کو خدا ترس اور ایک دوسرے کا بھائی، ہمدرد اور دوست بنانے کے لیے جن سے بہتر نسخے آج تک دریافت نہیں ہوسکے ہیں، تم کو آنکھ کھولتے ہی خود بخود باپ دادا کی میراث میں مل گئے۔ زکوٰۃ کی وہ بے نظیر ترکیب جس سے محض دلوں ہی کی ناپاکی دُور نہیں ہوتی، بلکہ دنیا کے مالیات کا نظام بھی درست ہوجاتا ہے، جس سے محروم ہوکر تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ دنیا کے لوگ ایک دوسرے کا منہ نوچنے لگے ہیں، تمھیں وہ اس طرح مل گئی ہے جیسے کسی حکیم حاذق کے بچے کو بغیر محنت کے وہ نسخے مل جاتے ہیں جنھیں دوسرے لوگ ڈھونڈتے ہیں۔ اسی طرح حج کا وہ عظیم الشان طریقہ بھی جس کا آج دنیا بھر میں کہیں جواب نہیں ہے، جس سے زیادہ طاقت ور ذریعہ کسی تحریک کو چاردانگِ عالم میں پھیلانے اور ابدالآباد تک زندہ رکھنے کے لیے آج تک دریافت نہیں ہوسکا ہے، جس کے سوا آج دنیا میں کوئی عالم گیر طاقت ایسی موجود نہیں ہے کہ آدم کی ساری اولاد کو زمین کے گوشے گوشے سے کھینچ کر خداے واحد کے نام پر ایک مرکز پر جمع کردے، اور بے شمار نسلوں اورقوموں کو ایک خدا پرست، نیک نیت، خیرخواہ برادری میں پیوست کرکے رکھ دے، ہاں ایسا بے نظیر طریقہ بھی تمھیں بغیر کسی جستجو کے بنا بنایا اور صدہا برس سے چلتا ہوا مل گیا۔ مگر تم نے اِن نعمتوں کی کوئی قدر نہ کی، کیونکہ آنکھ کھولتے ہی یہ تم کو اپنے گھر میں ہاتھ آگئیں۔ اب تم اُن سے بالکل اسی طرح کھیل رہے ہو، جس طرح ہیرے کی کان میں پیدا ہونے والا نادان بچہ ہیروں سے کھیلتا ہے اور اسے کنکر پتھر سمجھنے لگتا ہے۔ اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے جس بُری طرح تم اس زبردست دولت اور طاقت کو ضائع کر رہے ہو اس کا نظارہ دیکھ کر دل جل اُٹھتا ہے۔ کوئی کہاں سے اتنی قوتِ برداشت لائے کہ پتھر پھوڑوں کے ہاتھوں جواہرات کو برباد ہوتے دیکھ کر ضبط کرسکے؟

میرے عزیزو، تم نے شاعر کا یہ شعر تو سنا ہی ہوگا کہ

خرِ عیسٰی اگر بمکّہ رَود

چوں بیاید ہنوز خر باشد

یعنی گدھا خواہ عیسٰی ؑ جیسے پیغمبر ہی کا کیوں نہ ہو مکّہ کی زیارت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اگر وہ وہاں ہو آئے تب بھی جیسا گدھا تھا ویسا ہی رہے گا۔

نماز روزہ ہو یا حج، یہ سب چیزیں سمجھ بوجھ رکھنے والے انسانوں کی تربیت کے لیے ہیں، جانوروں کو سُدھانے کے لیے نہیں ہیں۔ جو لوگ نہ ان کے معنی و مطلب کو سمجھیں، نہ ان کے مدّعا سے کچھ غرض رکھیں، نہ اُس فائدے کوحاصل کرنے کا ارادہ ہی کریں کہ جیسا اگلوں کو کرتے دیکھا ویسا ہی خود بھی کر دیا، تو اس سے آخر کس نتیجے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ بدقسمتی سے عموماً آج کل کے مسلمان اسی طریقے سے ان افعال کو ادا کر رہے ہیں، مگر وہ شکل رُوح سے بالکل خالی ہوتی ہے۔

تم دیکھتے ہو کہ ہر سال ہزارہا زائرین مرکز ِ اسلام کی طرف جاتے ہیں اور حج سے مشرف ہوکر پلٹتے ہیں، مگر نہ جاتے وقت ہی ان پر وہ اصلی کیفیت طاری ہوتی ہے جو ایک مسافرِحرم میں ہونی چاہیے، نہ وہاں سے واپس آکر ہی اُن میں کوئی اثر حج کا پایا جاتا ہے، اور نہ اس سفر کے دوران میں وہ ان آبادیوں کے مسلمانوں اور غیرمسلموں پر اپنے اخلاق کا کوئی اچھا نقش بٹھاتے ہیں جن پر سے اُن کا گزر ہوتا ہے، بلکہ اس کے برعکس اُن میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو اپنی گندگی، بے تمیزی اور اخلاقی پستی کی نمایش کرکے اسلام کی عزت کو بٹّہ لگاتے ہیں۔ ان کی نگاہوں میں بھی وہ بے وقعت ہوجاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج خود ہماری اپنی قوم کے بہت سے نوجوان ہم سے پوچھتے ہیں کہ ذرا اس حج کا فائدہ تو ہمیں سمجھائو، حالانکہ یہ حج وہ چیز تھی کہ اگر اسے اس کی اصلی شان کے ساتھ ادا کیا جاتا تو کافر تک اس کے فائدوں کو علانیہ دیکھ کر ایمان لے آتے۔

کسی تحریک کے ہزاروں لاکھوں ممبر ہرسال دنیا کے ہرحصے سے کھنچ کر ایک جگہ جمع ہوں اور پھر زندگی، پاکیزہ خیالات اور پاکیزہ اخلاق کا اظہار کرتے جائیں، جہاں جہاں ٹھیریں اور جہاں سے گزریں وہاں اپنی تحریک کے اُصولوں کا نہ صرف زبان سے پرچار کریں بلکہ اپنی عملی زندگی سے ان کا پورا پورا مظاہرہ بھی کردیں، اور یہ سلسلہ ۱۰، ۲۰ برس نہیں بلکہ صدیوں تک سال بہ سال چلتا رہے، بھلا غور تو کیجیے کہ یہ بھی کوئی ایسی چیز تھی کہ اس کے فائدے پوچھنے کی کسی کو ضرورت پیش آتی؟ خدا کی قسم! اگر یہ کام صحیح طریقے پر ہوتا تو اندھے اس کے فائدے دیکھتے اور بہرے اس کے فائدے سن لیتے۔ ہر سال کا حج کروڑوں مسلمانوں کو نیک بناتا، ہزاروں پر اسلام کی بزرگی کا سکّہ بٹھا دیتا۔ مگر بُرا ہو جہالت کا، جاہلوں کے ہاتھ پڑ کر کتنی بیش قیمت چیز کس بُری طرح ضائع ہو رہی ہے ... اس ذکر سے میرا مقصد کسی کو الزام دینا نہیں ہے بلکہ صرف آپ لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ حج جیسی عظیم الشان طاقت کو آج کن چیزوں نے قریب قریب بالکل بے اثر بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ غلط فہمی کسی کے دل میں نہ رہنی چاہیے کہ اسلام میں اور اس کے جاری کیے ہوئے طریقوں میں کوئی کوتاہی ہے۔ نہیں، کوتاہی دراصل اُن لوگوں میں ہے جو اسلام کی صحیح پیروی نہیں کرتے۔ یہ تمھارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے کہ جو طریقے تم کو انسانیت کا مکمل نمونہ بنانے والے تھے اور جن پر ٹھیک ٹھیک عمل کر کے تم تمام دنیا کے مصلح اور امام بن سکتے تھے، ان سے آج کوئی اچھا پھل ظاہر نہیں ہورہا ہے، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگوں کو خود ان طریقوں کے مفید ہونے میں شک ہونے لگا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک طبیب حاذق چند بہترین تیربہ ہدف نسخے مرتب کر کے چھوڑ گیا ہو اور بعد میں اس کے وہ نسخے اناڑی اور جاہل جانشینوں کے ہاتھ پڑ کر بیکار بھی ہو رہے ہوں اور بدنام بھی۔ نسخہ بجاے خود چاہے کتنا ہی صحیح ہو، مگر بہرحال اس سے کام لینے کے لیے فن کی واقفیت اور سمجھ بوجھ ضروری ہے۔ اناڑی اس سے کام لیں گے تو عجب نہیں کہ وہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر ہوجائے اور جاہل لوگ جو خود نسخے کو جانچنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں اس غلط فہمی میں پڑ جائیں کہ نسخہ خود ہی غلط ہے۔ (خطبات، ص ۲۵۱ -۲۵۶)