سیّد ابوالاعلیٰ مودودی


حالیہ زلزلے کے بارے میں جب یہ کہا گیا کہ اللہ کی جانب سے گناہوں پر پکڑ اور گرفت ہے‘ تو بہت سے نیک نفس لوگوں نے یہ کہا کہ متاثرہ علاقے کے بے گناہ اور معصوم لوگوں کا کیا قصور ہے؟ کیسے کیسے بے گناہ لوگ کن کن مصیبتوں میں گرفتار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا نظام حکمت اور تدبر سے چلارہا ہے۔ گناہ گار علاقے تو ملک میں اس سے زیادہ دوسرے ہیں‘ وہ کیوں بچا دیے گئے؟ اسی نوعیت کے سوال پر سید مودودیؒ نے جو جواب دیا تھا وہ ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔ سائل نے اسے خالق کی پالیسی میں جھول قرار دیا تھا۔ (ادارہ)

آپ جن الجھنوں میں پڑے ہوئے ہیں ان کے متعلق میرا اندازہ یہ ہے کہ میں ان کو سلجھانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میرے نزدیک آپ کی فکر کا نقطۂ آغاز صحیح نہیں ہے۔ آپ جن سوالات سے غوروفکر کا آغاز کرتے ہیں وہ بہرحال کُلی سوالات نہیں ہیں بلکہ کُل کے بعض پہلوئوں سے متعلق ہیں‘ اور بعض سے کُل کے متعلق کوئی صحیح رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ آپ پہلے کُل کے متعلق سوچیے کہ آیا یہ بغیر کسی خالق اور ناظم اور مدبر کے موجود ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اگر خلقِ بے خالق اور نظمِ بے ناظم کے وجود پر آپ کا قلب مطمئن ہوجاتا ہے تو باقی سب سوالات غیرضروری ہیں‘ کیوں کہ جس طرح سب کچھ الل ٹپ بن گیا‘ اسی طرح سب کچھ الل ٹپ چل بھی رہا ہے۔ اس میں کسی حکمت‘ مصلحت اور رحمت و ربوبیت کا کیا سوال۔

لیکن اگر اس چیز پر آپ کا دل مطمئن نہیں ہوتا تو پھر کُل کے جتنے پہلو بھی آپ کے سامنے ہیں‘ ان سب پر بحیثیت مجموعی غور کرکے یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ ان اشیا کی پیدایش‘ ان کا وجود‘ ان کے حالات اور ان کے اوصاف میں ان کے خالق و مدبر کی کن صفات کے آثار و شواہد نظر آتے ہیں۔ کیا وہ غیرحکیم ہوسکتا ہے؟ کیا وہ بے علم و بے خبر ہوسکتا ہے؟ کیا وہ بے مصلحت اور بے مقصد اندھادھند کام کرنے والا ہوسکتا ہے؟ کیا وہ بے رحم اور ظالم اور تخریب پسند ہوسکتا ہے؟ اس کے کام اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ بنانے والا ہے یا اس بات کی کہ وہ بگاڑنے والا ہے؟ اس کی بنائی ہوئی کائنات میں صلاح اور خیر اور تعمیر کا پہلو غالب ہے یا فساد اور شر اور خرابی کا پہلو؟ ان امور پر کسی سے پوچھنے کے بجاے آپ خود ہی غور کیجیے اور خود رائے قائم کیجیے۔ اگر بحیثیت مجموعی اپنے مشاہدے میں آنے والے آثار و احوال کو دیکھ کر آپ یہ محسوس کرلیں کہ وہ حکیم و خبیر ہے‘ مصلحت کے لیے کام کرنے والا ہے‘ اور اس کے کام میں اصل تعمیر ہے نہ کہ تخریب‘ تو آپ کو اس بات کا جواب خود ہی مل جائے گا کہ اس نظام میں جن جزوی آثار و احوال کو دیکھ کر آپ پریشان ہو رہے ہیں وہ یہاں کیوں پائے جاتے ہیں۔ ساری کائنات کو جو حکمت چلا رہی ہے اس کے کام میں اگر کہیں تخریب کے پہلو پائے جاتے ہیں تو لامحالہ وہ ناگزیر ہی ہونے چاہییں۔ ہر تخریب تعمیر ہی کے لیے مطلوب ہونی چاہیے۔ یہ جزوی فساد کُلی صلاح ہی کے لیے مطلوب ہونا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ ہم اس کی ساری مصلحتوں کو کیوں نہیں سمجھتے تو بہرحال یہ واقعہ ہے کہ ہم ان کو نہیں سمجھتے۔ یہ بات نہ میرے بس میں ہے اور نہ آپ کے بس میں کہ اس امرواقعی کو بدل ڈالیں۔ اب کیا محض اس لیے کہ ہم ان کو نہیں سمجھتے‘ یا نہیں سمجھ سکتے‘ ہم پر یہ جھنجھلاہٹ طاری ہوجانی چاہیے کہ ہم حکیم و خبیر کے وجود ہی کا انکار کردیں؟

آپ کا یہ استدلال کہ ’’یا تو ہر جزوی حادثے کی مصلحت ہماری سمجھ میں آئے‘ یا پھر اس کے متعلق کوئی سوال ہمارے ذہن میں پیدا ہی نہ ہو‘ ورنہ ہم ضرور اسے خالق کی پالیسی میں جھول قرار دیں گے کیونکہ اس نے ہمیں سوال کرنے کے قابل تو بنا دیا لیکن جواب معلوم کرنے کے ذرائع عطا نہیں کیے‘‘، میرے نزدیک استدلال کی بہ نسبت جھنجھلاہٹ کی شان زیادہ رکھتا ہے۔ گویا آپ خالق کو اس بات کی سزا دینا چاہتے ہیں کہ اس نے آپ کو اپنے ہر سوال کا جواب پالینے کے قابل کیوں نہ بنایا‘ اور وہ سزا یہ ہے کہ آپ اسے اس بات کا الزام دے دیں گے کہ تیری پالیسی میں جھول ہے۔ اچھا‘ یہ سزا آپ اس کو دے دیں۔ اب مجھے بتایئے کہ اس سے آپ کو کس نوعیت کا اطمینان حاصل ہوا؟ کس مسئلے کو آپ نے حل کرلیا؟ اس جھنجھلاہٹ کو اگر آپ چھوڑ دیں تو بآسانی اپنے استدلال کی کمزوری محسوس کرلیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ سوال کرنے کے لیے جس قابلیت کی ضرورت ہے‘ جواب دینے یا جواب پانے کے لیے وہ قابلیت کافی نہیں ہوتی۔ خالق نے سوچنے کی صلاحیت تو آپ کو اس لیے دی ہے کہ اس نے آپ کو ’انسان‘ بنایا ہے اور انسان ہونے کی حیثیت سے جو مقام آپ کو دیا گیا ہے اس کے لیے یہ صلاحیت آپ کو عطا کرنا ضروری تھا۔ مگر اس صلاحیت کی بناپر جتنے سوالات کرنے کی قدرت آپ کو حاصل ہے ان سب کا جواب پانے کی قدرت عطاکرنا اس خدمت کے لیے ضروری نہیں ہے جو مقامِ انسانیت پر رہتے ہوئے آپ کو انجام دینی ہے۔ آپ اس مقام پر بیٹھے بیٹھے ہر سوال کرسکتے ہیں‘ لیکن بہت سے سوالات ایسے ہیں جن کا جواب آپ اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ مقامِ انسانیت سے اٹھ کر مقامِ الوہیت پر نہ پہنچ جائیں‘ اور یہ مقام بہرحال آپ کو نہیں مل سکتا۔ سوال کرنے کی صلاحیت آپ سے سلب نہیں ہوگی‘ کیوں کہ آپ انسان بنائے گئے ہیں‘ پتھریا درخت یا حیوان نہیں بنائے گئے ہیں۔ مگر ہرسوال کا جواب پانے کے ذرائع آپ کو نہیں ملیں گے‘ کیوں کہ آپ انسان ہیں‘ خدا نہیں ہیں۔ اسے اگر آپ خالق کی پالیسی میں ’جھول‘ قرار دینا چاہیں تو دے لیجیے۔(رسائل و مسائل‘ ج ۴‘ ص ۲۲-۲۵)

اقبال کے کارنامے کو ہم مختلف عنوانات کے تحت بیان کر سکتے ہیں:

  • مغربی تھذیب پر ضرب کاری: سب سے اہم کام جو اقبال نے انجام دیا وہ یہ تھا کہ انھوں نے مغربیت اور مغربی مادہ پرستی پر پوری قوت کے ساتھ ضرب لگائی۔ اگرچہ یہ کام اس وقت علماے دین اور اہلِ مدارس اور خطیب حضرات بھی انجام دے رہے تھے‘ مگر ان کی باتوں کو یہ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا تھا اور کیا جا سکتا تھا کہ یہ لوگ مغربی فلسفے اور مغربی تہذیب و تمدن سے واقفیت نہیں رکھتے۔ لوگ ان اہلِ علم کی بات کو کچھ زیادہ وزن نہیں دیتے تھے جو اگرچہ دین سے تو واقف تھے‘ لیکن مغربی علوم‘ مغربی فلسفے‘ مغربی تہذیب اور مغربی زندگی سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ ان کے برعکس اقبال وہ شخص تھا کہ وہ اس سے زیادہ مغرب کو جانتا ہے اور اس سے زیادہ مغرب کے فلسفے اور مغربی علوم سے واقف ہے۔ اس لیے جب اقبال نے مغربیت‘ مغربی مادہ پرستی‘ مغربی فلسفے اور مغربی افکار پر چوٹ لگائی‘ تو مسلمانوں پر مغرب کی جو مرعوبیت طاری تھی وہ کافور ہونے لگی‘ اور واقعہ یہ ہے کہ اس مرعوبیت کو توڑنے میں اکیلے اقبال کا کارنامہ سب سے بڑھ کر ہے…

اس کے ساتھ اقبال نے مسلمانوں کے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ اسلام کوئی پرانا اور ازکار رفتہ نظام نہیں ہے جو اس زمانے میں کام نہ کر سکتا ہو۔ انھوں نے اپنے شعر سے بھی اور اپنی نثر سے بھی یہ بات مسلمانوں کے ذہن نشین کی کہ اسلام ازلی و ابدی اصولوں کا حامل ہے۔ اسلام کسی وقت بھی پرانا نہیں ہو سکتا۔ اس کے اصول ہرزمانے میں یکساں قابلِ عمل ہیں…

  • وطنی قومیّت کی تردید: اس کے ساتھ علامہ اقبال نے جو عظیم کارنامہ انجام دیا وہ یہ ہے کہ انھوں نے وطنی قومیت اور قوم پرستی پر ایک شدید ضرب لگائی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر انھوں نے قوم پرستی‘ نیشنلزم اور وطنی قومیت پر بروقت ضربِ کاری نہ لگائی ہوتی تو آگے چل کر مسلمانوں کو کانگرس میں جذب کرنے کے لیے جو تحریک اٹھی تھی اس سے مسلمانوں کا بچ جانا محال تھا… اگر اقبال نے یہ تعلیم بروقت نہ دی ہوتی تو بعد میں کانگرس نے رابطہ عوام (mass contact) کی جو تحریک شروع کی تھی اور جس میں علما اور اشتراکی حضرات بھی شریک تھے‘ وہ تحریک مسلمانوں کو ہندوئوں کے اندر اس طرح سے گھلا دیتی جیسے نمک پانی کے اندر گھل جاتا ہے۔ لیکن اقبال نے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ قومیت‘ وطن اور زبان سے نہیں بنتی ہے بلکہ قومیت دین اور عقیدے سے بنتی ہے۔اس نے مسلمانوں میں اس شعور کو بیدار کیا کہ تم ایک عقیدہ اور  ایک تہذیب رکھنے والی قوم ہو‘ تمھاری قومیت ان لوگوں سے بالکل مختلف ہے جن کی تہذیب اور عقیدہ و مسلک تم سے الگ ہے۔
  • وحدتِ ملّی کا احساس: اس کے ساتھ اقبال نے مسلمانوں کے اندر یہ احساس بھی اُبھارا کہ تمام دنیا میں ملتِ اسلامیہ ایک وحدت ہے اور اس کو ایک وحدت ہونا چاہیے۔ اس طرح انھوں نے بیک وقت دو کام کیے___ باہر کی دنیا میں مسلمان جس طرح قوم پرستی میں مبتلا ہوکر ایک دوسرے سے کٹ رہے تھے اور ایک دوسرے کو کاٹ رہے تھے‘ اور جس طرح ترکوں اور عربوں کے درمیان ایک المناک کش مکش برپا ہوئی اور اس کے نتیجے میں شرق اوسط پر جو تباہی آئی اور تمام ممالکِ اسلامیہ جس مصیبت میں مبتلا ہوئے‘ وہ سب اس قوم پرستی کا نتیجہ تھا جس کی تبلیغ و اشاعت عیسائیوں نے عربوں اور ترکوں کے درمیان کی تھی۔ ایک طرف تو اقبال نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو اس بات کی دعوت دی کہ تم ایک ملتِ واحدہ ہو‘ اور جس قوم پرستی میں تم مبتلا ہو یہ ایک بالکل غلط اور مہلک تصور ہے ‘ دوسری طرف انھوں نے ہندی مسلمانوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ تم مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایک قوم اور ایک ملت ہو۔ تمھارا کسی دوسری قوم میں جذب ہونا سراسر ایک باطل نظریہ ہے۔ اگر اقبال نے بروقت یہ اقدام نہ کیا ہوتا اور اسلامی قومیت کے صحیح تصور کی تبلیغ کرکے مسلمانوں کے اندر اپنی اسلامی قومیت کا احساس پیدا نہ کر دیا ہوتا تو آج اس پاکستان کا کہیں وجود نہ ہوتا…
  • دین و سیاست کے باطل تصور کی بیخ کنی: اقبال نے ایک بڑا کارنامہ یہ بھی انجام دیا کہ دین اور سیاست کی علیحدگی اور دین و دنیا کی تفریق کا جو تصور مغرب سے آکر مسلمانوں میں پھیل رہا تھا اور جس کی وجہ سے لوگ یہ سمجھنے لگے تھے کہ اہلِ دین کو سیاست سے کیا تعلق اور دین کو سیاست میں گھسیٹنے کا کیا کام‘ اقبال نے اس باطل تصور کا ٹھیک وقت پر مقابلہ کیا۔ اس نے دین بے سیاست کی بھی برملا مذمت کی اور سیاستِ بے دین کو بھی علانیہ مذموم قرار دیا۔ سیاستِ بے دین کے متعلق اقبال کا ایک مصرع ایسا ہے کہ اس موضوع پر تمام دنیا کا لٹریچر ایک طرف اور وہ مصرع ایک طرف___ ان کا کہنا ہے کہ  ع

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

… اسی طرح سے مسلمانوں کے دماغوں میں جو یہ خیال جاگزیں ہوچکا تھا کہ اہلِ دین کا کام تو بس اللہ اللہ کرنا ہے یا مسجدوں اور مدرسوں میں فقط قرآن و حدیث پڑھنا ہے‘ ان کا سیاست سے بھلا کیا تعلق___ اس غلط تصور پر بھی اقبال نے ایک کاری ضرب لگائی ہے اور اس کو بھی ایک مصرع میں بیان کر دیا‘ اور واقعہ یہ ہے کہ اس موضوع پر جتنا کچھ لکھا جا سکتا ہے وہ سب ایک طرف اور وہ مصرع ایک طرف۔ اقبال کہتا ہے کہ  ع

عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

… اس کے ساتھ اقبالؒ نے مثبت طور پر یہ بات مسلمانوں کے ذہن نشین کی ہے کہ تمھاری مصیبتوں اور مسائل کا اگر کوئی حل ہے‘ تو وہ صرف یہ ہے کہ تم قرآن کی پیروی کرو اور اپنی زندگیوں پر اسلام کے آئین کو نافذ کرو۔ انھوں نے ۱۹۳۷ء میں قائداعظمؒ کے نام جو خط لکھا تھا اس میں واضح طور پر یہ بتایا تھا کہ مسلمانوں کے معاشی مسائل کا کوئی حل ہے تو وہ صرف اسلامی آئین کے نفاذ میں مضمر ہے۔

یہ وہ کارنامہ تھا جو اقبال نے اپنی زندگی میں انجام دیا…

  • اقبال اور عدلِ اجتماعی: سوشلزم یا کسی دوسرے غیر اسلامی نظریہ و فکر کے برعکس اقبالؒ نے تو بڑی وضاحت اور قطعیت کے ساتھ مسلمانوں کو یہ تصور دیا کہ محض سیاسی آزادی یا اقتصادی بہبود ہی تمھارا مقصود نہیں ہے بلکہ اسلام کی حفاظت تمھارا اصل مقصد ہے۔ اس نے بار بار یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کی تھی کہ ہمارا عقیدہ‘ ہماری تہذیب‘ ہماری روایات اور ہماری    اخلاقی اقدار ہی ہمارے لیے اصل چیزیں ہیں۔ محض روٹی یا زمین کا ٹکڑا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے لیے ایک مسلمان جئے یا مرے۔ اقبال نے واضح طور پر یہ کہا تھا کہ مسلمانوں کوایک وطن صرف اس لیے چاہیے کہ وہ وہاں اسلام کے اصولوں پر زندگی بسر کرسکیں۔ ان کی ۱۹۳۰ء کی تقریر سے جس میں انھوں نے پاکستان کی اصطلاح استعمال کیے بغیر پاکستان کا تخیل پیش کیا تھا‘ یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نظر میں اگر کوئی چیز اہم تھی تو صرف یہ کہ کسی طرح اسلام اور اہلِ اسلام کو سربلندی نصیب ہو۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہندستان میں ہندوئوں کے ساتھ رہ کر مسلمان اپنی تہذیب پر قائم نہیں رہ سکتے۔ اس لیے انھوں نے صرف مسلمانوں کی تہذیب کو زندہ رکھنے کے لیے ایک الگ اور آزاد مملکت کے حصول کا تصور پیش کیا___ ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد محض کسی ایسے لفظ یا اصطلاح کی بنیاد پر جو انھوں نے اتفاقاً کسی موقع پر کسی دوسرے سیاق و سباق (context) میں‘ کسی دوسرے مفہوم میں استعمال کی ہو‘ اس کی طرف کسی خاص نظریے کو منسوب کرنا صریح بددیانتی بھی ہے اور مسلمانوں کو دھوکا اور فریب دینا بھی ہے۔

آخری بات: اس سلسلے میں آخری بات یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ آپ کو اسلام کی بنیاد پر ایک وطن دے کر گئے ہیں۔ اقبال نے آپ کو فکر اور نظریہ دیا اور قائداعظم کی قیادت میں آپ کو یہ وطن حاصل ہوا۔ اس وطن کی انوکھی شان یہ ہے کہ اس کا نظریہ پہلے وجود میں آیا اور ملک بعد میں بنا۔ اگر اس ملک کے بنیادی نظریے کو یا دوسرے لفظوں میں اس کی نظریاتی بنیاد کو ہٹا دیا جائے‘ تو یہ ملک قائم نہیں رہ سکتا۔ آج اس ملک کی نظریاتی بنیاد پر مختلف اطراف سے حملے کیے جا رہے ہیں [اور اب ’’روشن خیالی‘‘ اور ’’اعتدال پسندی‘‘ کی آڑ میں یہ حملے جاری ہیں]‘ لیکن کیا آپ اس چیز کو جو اتنی محنتوں اور عظیم قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی یونہی اپنی غفلت اور کوتاہ ہمتی سے ضائع کر دیں گے___؟ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ نے اس کو کھو دیا تو گویا تاریخِ انسانی میں یہ بات ثابت کردیں گے کہ ایک بیوقوف قوم تھی جس نے لاکھوں جانوں‘اَن گنت عصمتوں اور کروڑوں اور اربوں روپوں کی جایدادیں قربان کر کے ایک وطن حاصل کیا‘ مگر وطن حاصل کرنے کے بعد ۲۳ برس کی مدت کے اندر ہی اندر اس کو کھو بھی دیا۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو تاریخ میں آپ کا مقام ایک بے وقوف اور ایک احمق قوم کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا (بشرطیکہ آپ کی تاریخ کو باقی رہنے دیا گیا)۔ اگر آج آپ نے اشتراکیت یا وطنی قومیت کے نظریے یا کسی اور باطل ازم کو اختیار کیا تو صرف یہی نہیں کہ آپ کی آزادی ختم ہوجائے گی‘ بلکہ میں کہتا ہوں کہ آپ کا وجود بھی ختم ہوجائے گا‘ اور مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ اسپین کے بعد تاریخ کا یہ دوسرا بھیانک المیہ ہوگا کہ اس برعظیم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا خاتمہ ہوگیا۔

اس وجہ سے یہ وقت ہے کہ مسلمانوں کے نوجوان‘ مرد اور عورتیں‘ بچے اور بوڑھے‘    سب اس بات کے لیے متحد ہوجائیں کہ وہ یہاں اسلام کا نظام ہی غالب کریں گے اور اُن لوگوں کی کوششوں کو قطعی طور پر ناکام بنا دیں گے جو مسلمانوں کو اسلام کے عقیدے اور نظامِ حق سے  منحرف کرنا چاہتے ہیں‘ اور اس طرح ان کو فتنوں میں مبتلا کر کے تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ (انتخاب از خطاب بموقع یومِ اقبالؒ، ۲۱ اپریل ۱۹۷۰ئ‘ پنجاب یونی ورسٹی ہال‘ لاہور)

(شخصیات‘ البدر پبلی کیشنز‘ اُردو بازار‘لاہور‘ ص ۲۳۲-۲۴۴)

یٰٓاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ o قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلًا o نِّصْفَہٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا o اَوْ زِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا o (المزمل ۷۳: ۱-۴)

اے اُوڑھ لپیٹ کر سونے والے‘ رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم‘ آدھی رات‘ یا اس سے کچھ کم کر لو‘ یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو‘ اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔

یہ ابتدائی دورکی سورتوں میں سے ہے۔ دوسرارکوع خاص طور پر معلوم ہوتاہے کہ مدینہ طیبہ کا ہے‘جوآخرمیں نازل ہوا۔پہلا رکوع ابتدائی دورکا ہے جس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت فرمائی جارہی تھی۔لیکن ایسے ابتدائی دورکا نہیں ہے کہ کفارسے کش مکش شروع نہ ہوئی ہو۔ ایک وہ دورتھاکہ جب کفار سے کش مکش شروع نہیں ہوئی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علانیہ تبلیغ نہیں فرماتے تھے‘ بلکہ الگ الگ لوگوں سے فرداً فرداً مل کربات کرکے فضیلت اورمعنی بتاتے تھے۔اس زمانے میں کش مکش میں شدت اختیارنہیں ہوئی تھی۔

جب آپؐ نے علانیہ تبلیغ کرنا شروع کی‘اس زمانے میں کش مکش شروع ہوئی۔اس   کش مکش کے زمانے میں اس بات کی ضرورت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کی جائے۔ اس کارِعظیم کے لیے آپؐ کوتیار کیاجائے۔اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے پیارے اندازسے حضوؐرکو خطاب کیا: یٰٓاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ ۔

عربی زبان میں اوڑھ لپٹ کربیٹھ جانے یا لیٹ جانے کو مزمل کہتے ہیں۔ یٰٓاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ کہہ کر خطاب کرنے کے دومفہوم ہوسکتے ہیں۔ایک مفہوم یہ ہوسکتاہے کہ اے شخص جواطمینان سے پاؤں پھیلائے پڑاہے‘اب تیرے اُوپر بہت بڑے کام کا بارہے۔دوسرامفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ   اے شخص جوبہت غمگین اور اُداس ہے‘اُٹھ کریہ کام کر۔ گویا ایک آدمی جس کے اُوپر کارِعظیم کابار ڈال دیاگیا ہے وہ اب پریشان ہے کہ میں ِاس بارکوکیسے اٹھاؤں اور یہ فریضۂ عظیم کیسے انجام دوں؟اس پریشانی میں آپؐ لیٹے تھے‘ یا آپؐ آرام فرما رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے خطاب کیاکہ میاں اَب تمھارے آرام کرنے کا زمانہ گیا‘اَب تمھارے اُوپر ایک عظیم الشان کام کابار ہے ۔ اُٹھواوراَب یہ مشقت کرو۔

اس کے بعد فرمایاکہ:

قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلًا o نِّصْفَہٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا o اَوْ زِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا o اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا o (۷۳: ۲-۵)

رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم‘ آدھی رات‘ یا اس سے کچھ کم کر لو‘ یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو‘ اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔

آدھی آدھی رات کھڑے رہوسے مراد تہجد کی نمازہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا گیا کہ وہ بارِ عظیم جوتمھارے اُوپرڈالا گیا ہے اس کو سنبھالنے کے لیے تمھیں جس طاقت کی ضرورت ہے وہ اس تہجد کی نمازسے حاصل ہوگی ۔یہ وہ چیز ہے جوتمھیں تیار کرے گی ۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ آدھی آدھی رات کھڑے رہویاآدھی رات سے کچھ کم یاآدھی رات سے کچھ زیادہ ۔

رسولؐ اللہ کا تہجد میں یہ طریقہ رہا کہ جب تک آپؐ کے جسم میں کافی طاقت تھی اُس وقت آپؐ بغیر درمیان میں بیٹھے ہوئے آٹھ رکعتیں مسلسل پڑھتے تھے۔ اس کے بعد بیٹھ کر آدھا تشہد پڑھتے تھے‘ پھر کھڑے ہوکرایک رکعت اُس میں اضافہ فرماتے تھے‘ اور نویں رکعت پڑھنے کے بعدآپؐ پھر بیٹھ کرپوراتشہدپڑھ کر سلام پھیرتے تھے۔پھر دورکعتیں اور پڑھتے تھے۔اس طرح کہ ۱۱رکعتیں آپؐ تہجد میں پڑھتے تھے۔ آپؐ کی ہر رکعت طویل ہوتی تھی کیونکہ قرآنِ مجید میں آپؐ کو ترتیل کا سبق دیا گیا ہے۔

ترتیل سے مراد یہ ہے کہ آہستہ آہستہ قرآن مجیدکی ایک ایک آیت کوآپؐ  بڑے غور سے پڑھا کریں۔یہاں تک بھی آتاہے کہ ‘مثلاً اگر کوئی عذاب کی آیت آگئی ہے توآپؐ اس کے اُوپر ٹھیر گئے اور اللہ سے استغفار کیا اور رحم کی درخواست کی۔کوئی غوروفکر کی دعوت دینے والی آیت آئی تو اس کے اُوپر ٹھیر گئے اورغوروفکر کیا۔ اس طرح آپؐ  کی جوتلاوت ہوتی تھی وہ اس نوعیت کی نہیں ہوتی تھی کہ جیسے ہم آج کرتے ہیں‘ رواں دواں پڑھتے چلے جا رہے ہیں‘ بلکہ ٹھیر ٹھیرکر‘ ایک ایک آیت کے اُوپر‘ ایک ایک لفظ کے اُوپر غور کرتے اورپڑھتے تھے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسا مضمون آتا ہے اس کے مطابق اس کے جواب میں بات کرتے ہیں۔ اس طرح سے آپؐ  کی ۱۱ رکعتوں میں کئی گھنٹے گزر جاتے تھے۔بعد میں جب آپؐ  کے اندرطاقت کم ہوگئی توآپؐ نے دورکعتیں کم کردیں‘یعنی جب بڑھاپاآگیا تو آپؐ نے نورکعتیں پڑھنا شروع کر دیں۔

یہاں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ تم نماز ٹھیر ٹھیر کرپڑھو‘ آدھی رات یاآدھی رات سے کچھ کم یاآدھی رات سے کچھ زیا دہ ۔ اور قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھو‘یعنی آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ کو اداکرو۔حضرت عائشہ ؓ فر ماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر آہستہ آہستہ قرآن پڑھتے تھے کہ اگر کوئی چاہتاتوایک ایک حرف کو گن سکتاتھا۔اتنا آہستہ پڑھتے تھے آپؐ۔ کہا گیا کہ ایک بڑے بھاری کلام کا بوجھ تمھارے اُوپرڈالاگیاہے۔ اس کوسنبھالنے کے لیے یہ تربیت درکار ہے کہ تم رات کوتہجدپڑھو۔

اب یہ بھاری کلام ایسا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُوپراس کانزول ہوتا تھاتوآپؐ  فرماتے ہیں کہ مجھے ایسے معلوم ہوتاہے کہ جیسے میری جان نکل جائے گی۔ایک صحابیؓ فرماتے ہیںکہ آپؐ  میرے زانو پرزانو رکھ کربیٹھے ہوئے تھے کہ اس حالت میں وحی آئی تومجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرازانوٹوٹ جائے گا۔ایک اور روایت میں یہ آتاہے کہ آپؐ  ایک اونٹنی پر سوار تھے کہ اس حالت میں آپؐ  کے اُوپرقرآنِ مجید کا نزول شروع ہواتواونٹنی بوجھ کے مارے بیٹھ گئی اورتڑپنے لگی۔ یہ نزول وحی کی کیفیت ہوتی تھی۔ اس لیے فرمایا کہ یہ بھاری کلام جو تمھا رے اُوپر نازل کیا جا رہا ہے‘ اس کوسہارنے کے لیے تمھارے اندرجس روحانی قوت کی ضرورت ہے وہ اس چیزکے ساتھ آئے گی ۔

بھاری کلام وہ اِس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ ایک ایساکلام تھاکہ اس کے نازل ہونے کے بعدساری دنیا سے آپؐ  کی لڑائی ہو گئی اور وہ دشمنی کے لیے کھڑی ہوگئی۔ آپؐ  قرآن کے نزول کے وقت سے لے کرآخری سانس تک عمر بھر کی ایک جدوجہدمیں مشغول رہے۔ہر طرف جاہلیت کادوردورہ تھا۔ گردوپیش کی تمام طاقتیں سب کی سب آپؐ  کے اُوپرٹوٹ پڑیں۔ گویا یہ ایک بھاری کلام تھا جو اپنے ساتھ بڑی بھاری ذمہ داریاں لے کر آیا تھا۔ان کو نبھانے کے لیے جس طاقت کی ضرورت تھی اس کے لیے تہجد پڑھنے کی تاکید فرمائی گئی۔

اب مزیدوجہ بتائی جاتی ہے کہ یہ تہجد کی نماز تمھارے لیے کیوں ضروری ہے۔

اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ ھِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلًا o (۷۳: ۶)

درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

راتوں کو اُٹھنا یہ بہت زیادہ مؤثر ہے اس با رے میں کہ دل اور زبان کے درمیان موافقت پیداہو جائے۔ اس لیے جو آدمی اپنی نیند توڑ کر رات کو اُٹھتا ہے ‘بالکل اپنی خلوت میں ‘جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہے‘ اُٹھ کر نمازپڑھتاہے‘اوراپنے خداسے دیر تک خطاب کرتارہتاہے‘تویہ بغیرخلوص کے ممکن نہیں۔جب تک آدمی بالکل مخلص نہ ہوجائے‘ جب تک اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا انتہائی مخلصانہ تعلق نہ ہو‘اس وقت تک یہ کام ممکن نہیں ہے۔ آدمی باجماعت نماز میں اور پانچ وقت کی نماز میں ریاکاری کر سکتا ہے‘ نمایش کی خاطر کرسکتاہے ‘اس غرض کے لیے کرسکتاہے کہ میرا شمار صالحین میں کیاجائے اور میرالوگوں کے اندر اثرقائم ہو جائے۔ لیکن تہجد کی نماز جورات کواُٹھ کر پڑھی جائے‘  بغیر اِخلاص کے ممکن نہیں۔

اس لیے فرمایاکہ یہ راتوں کو اُ ٹھنا اس بارے میں سب سے زیا دہ مؤثر ہے کہ آدمی کے دل اور اُس کی زبان کے درمیان مطابقت پیدا ہو۔آدمی کا ظاہراورباطن یکساں ہوجائے۔ اگرایک آدمی یہ عمل کرتاہے اور اس کے بعد کھڑے ہوکر اللہ کے راستے کی طرف لوگوں کو دعوت دے گا‘ ظاہر بات ہے کہ یہ اخلاص کی بنیاد پر ہوگا۔کیونکہ وہ روز اخلاص کی تربیت (training) لے رہا ہے۔اگر اللہ کے ساتھ اس کا تعلق اخلاص کے ساتھ نہ ہوتووہ رات کو کیسے اُٹھے۔ رات کواُٹھ کر وہ اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ تعلق کوروزتازہ کرتا رہتاہے‘اس لیے اِس بات کا کوئی امکان باقی نہیں رہتاکہ وہ اللہ کے راستے میں دعوت دینے کے لیے ریا کاری کرے یااپنی کسی ذاتی غرض کے لیے‘کسی اپنے دنیوی مقصد کی خاطریہ کام کرے۔ اس طرح آدمی کاظاہر اورباطن یکساں ہوتاچلاجاتاہے۔ اس کے قول اور عمل میں مطابقت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔اس کی نیت درست ہوتی چلی جاتی ہے۔

وَّاَقْوَمُ قِیْلًا

اورآدمی کے قول کو زیادہ راست کردینے والا ہے۔

دوسرے الفاظ میں اس حالت میں جو آدمی دعوت الی اللہ کاکام کرے گاتووہ کامل راست بازی کے ساتھ کرے گا۔ اس آدمی میں کمال درجے کی راست بازی پیداہوجائے گی‘ جورات کو اُٹھ کر اپنے آپ کو اخلاص کی ٹریننگ دیتاہے۔

اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا o (۷۳: ۷)

دن کے اوقات میں تو تمھارے لیے بہت مصروفیات ہیں۔

یہ ممکن ہے کہ دن کے وقت تمھیں اس طرح کی خلوت کی نماز کا موقع مل جاتا۔یہ بھی آدمی کر سکتاہے کہ دن کو اپنے حجرے کے دروازے بندکرے اوردروازے بندکرکے خاموشی کے ساتھ نمازپڑھتا رہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ دن کوتمھارے لیے ایک دوسری مشغولیت ہے جو تمھارا پورا پورا دن لے لینے والی ہے‘یعنی تبلیغ کی‘دعوت کی ‘اللہ کے راستے کی طرف بلانے کی۔ لہٰذا تم رات کو ٹریننگ لواور دن کو پوراوقت اس کام پرصرف کروکہ اللہ کے راستے کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔ تمھارا دن کا وقت اس ٹریننگ کے لیے نہیں ہے۔

وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا o (۷۳: ۸)

اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اُسی کے ہو رہو۔

تبتل اس بات کو کہتے ہیں کہ آدمی سب سے اپنا تعلق توڑ کرایک طرف کا ہوجائے۔ حضرت فاطمہؓ کے لیے بتول کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہواکہ اپنے سارے تعلقات ختم کرو‘ایک اللہ کے ساتھ اپناتعلق جوڑو۔اس کے بعد اَب جو خلق کے ساتھ تعلق ہوگا وہ اللہ کے واسطے سے ہوگا‘براہِ راست نہیں ہوگا۔بیوی سے تعلق ہے تواللہ کی خاطرہے‘اولاد سے تعلق ہے تو اللہ کی خاطر ہے‘دوستوں سے تعلق ہے تو اللہ کی خاطر ہے‘محلے والوں سے تعلق ہے تو اللہ کی خاطرہے‘حتیٰ کہ دشمنوں سے جوتعلق ہے تووہ بھی اللہ کی خاطرہے۔اگر محبت ہے تو اللہ کے لیے اور دشمنی ہے تواللہ کے لیے۔ کسی قسم کی کوئی ذاتی آلایش اس کے ساتھ نہیں ہے۔یہ معنی ہیں  تبتلکے۔

اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آدمی سب کچھ چھوڑکر گوشہ نشین ہوجائے۔ تبتـل اس چیز کا نام نہیں ہے کہ آدمی تارک الدنیاہو کرجنگل میں جابیٹھے یاپہاڑوں پرچڑھ جائے ۔ تبتـل اس کا نام ہے کہ آدمی اِسی معاشرے میں رہے ‘انھی لوگوں میں رہ کرکام کرے‘اپنی روزی کمائے ‘ دنیاکے تمام تعلقات رکھے‘ اور ان تعلقات کو رکھتے ہوئے سب سے کٹ کراللہ کا ہوجائے ۔یہ بہت بڑاکام ہے آدمی کے لیے۔تارکِ الدنیا ہوکر‘بے نیاز ہو کرجنگل میں بیٹھ جانا بڑا آسان ہے۔ لیکن معاشرے کے اندر رہتے ہوئے پھر تبتل کرنا‘ یہ بہت عظیم الشان کام ہے۔یہ ہر ایک کے بس کا نہیں ہے۔ اس چیز کی تعلیم اسلام کے سوا کسی اور مذہب میں نہیںہے۔

دوسرے مذاہب نے جو کچھ سکھایا وہ یہ ہے کہ اگر خداکے ہوناچاہتے ہوتوخلق سے تعلق توڑواورجاکرپہاڑوں کے پہلومیں بیٹھ جاؤ۔جنگلوں میں بیٹھ جاؤاوروہاں بیٹھ کرتپسیّا کرو۔ اسلام نے یہ سکھایاہے کہ نہیں‘ تمھاراکام جنگلوں میں نہیں ہے ‘تمھاراکام انسانوں کے درمیان ہے۔تم یہاں انسانوں سے تمام تعلقات رکھ کر سارے معاملات چلا سکتے ہو‘ جس طرح سے کوئی دنیادار چلاسکتا ہے۔ اس لیے اس کے ساتھتبتـل اختیار کرو‘ سب  سے کٹ کر اسی کے ہوجاؤ۔

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلًا o (۷۳: ۱۹)

وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے‘ اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنالو۔

وکیل اُس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کے اُوپراعتمادکرکے آپ اپنے معاملات اس کے حوالے کردیتے ہیں۔ہم اپنی زبان میں بھی وکیل اس شخص کو کہتے ہیں جس پر ہم یہ اعتماد کرتے ہیں کہ ہمارامقدمہ یہ خود لڑے گا۔ اپنا مقدمہ اس کے حوالے کر کے آپ مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہما رے سرسے یہ بلاٹل جائے گی ۔یہاں اسی معنی میں وکیل کا لفظ استعمال کیاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپناوکیل بنالو‘ جب کہ تم نے اتنا بڑا جھگڑادنیا میں چھیڑ دیاکہ شرک کے خلاف تم تبلیغ کرنے کھڑے ہوگئے‘ تمام معبودوں کی تم نے تردید کردی‘تمام جاہلانہ رسموں کی تم مخالفت کرتے ہو‘ غرض یہ کہ دنیا میں جوکچھ خداکے قانون کے خلاف ہو رہاہے ‘ اُن سب سے تم نے اعلانِ جنگ کر دیا ہے۔اب یہ جنگ مول لینے کے بعد اگرتم اپنی طاقت پر بھروسا کروتو  اس سے بڑی کوئی نادانی نہیں ہوسکتی کہ آدمی دنیا بھر سے جھگڑامول لے رہاہو اوربھروسا اس کا اپنی طاقت پر ہو۔ اسی طرح کسی دوسری انسانی طاقت کے بل بوتے پر یاکسی دوسرے بندے کی طاقت کے بل بوتے پراگر یہ جھگڑا مول لے گا توتب بھی نادانی کرے گا۔اس لیے کہ کوئی ایسا طاقت ور نہیں ہے کہ آدمی کو تمام دنیا سے جو اس نے لڑائی مول لے رکھی ہے اورہرمیدان میں لے رکھی ہے___ عقیدے کے میدان میں بھی اور عمل کے میدان میں بھی‘ معاشرت‘ سیاست‘ تمدن اور معیشت غرض ہرچیز کے میدان میں___ اس انسان کا ساتھ دے اور اسے کامیاب کرے۔ کون سی جما عت ایسی ہو سکتی ہے جو اتنی طاقت ورہوکہ جو اس دنیا بھر سے لڑائی میں اُس کے ساتھ ہو اور مقابلہ کرسکے۔اس وجہ سے فرمایاکہ جو رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ہے‘جس کے سواکوئی الٰہ نہیں ہے ‘اس کواپنا وکیل بناؤ۔پھر یہ لڑائی مول لواوراس کے اُوپر بھروسا کروکہ وہ تمھاراخالق ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوئے تو بالکل اکیلے تھے ۔دنیا بھر میں ایک ہی کی اقلیت سے یہ کام شروع ہوا ہے۔ایک بندئہ خدا تمام دنیا کے مقابلے میں کھڑاہوگیا‘ اور اس کے لیے تیارہوگیاکہ کوئی نہیں مانے گا تب بھی میں یہ کام کروں گااور اگر کوئی ساتھ نہیں دے گاتب بھی میں یہ کام کروں گا۔مجھے ہر حال میں یہ کام کرنا ہے۔یہ ہمت انسان کے اندر اس کے بغیرپیدا ہی نہیں ہوسکتی کہ اس کا خداپر بھروسا نہ ہو۔اپنی طاقت کے بل بوتے پر آدمی یہ کام نہیں کرسکتا۔ کسی بندے کی‘ کسی انسان کی یاکسی غیرانسان کی طاقت کے بل بوتے یہ کام نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے فرمایاکہ جو مشرق اورمغرب کا مالک ہے اسی پر بھروسا کرو۔

مشرق ومغرب سے مراد محض مشرق اور مغرب نہیں ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ مشرق اور مغرب کا مالک تو ہماری مراد ساری دنیا کامالک ہے۔کیونکہ ساری دنیا مشرق اور مغرب کے درمیان میں ہے۔ لہٰذا جو ساری دنیا کا مالک ہے اور جس کے سواکوئی الہ نہیں ہے‘ اسی پر بھروسا کرنا چاہیے۔

جس کے سواکوئی الہ نہیں ہے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ اس کے سواکوئی پرستش کے قابل نہیں ہے ۔ظاہر بات ہے کہ اگر اس کے سواکوئی پرستش کرنے کے قابل نہیں ہے تواِس وجہ سے نہیں ہے کہ کسی کے ہاتھ میں کوئی اختیارات نہیں ہیں۔انسان کبھی اتنا بے وقوف نہیں رہاہے کہ کسی کی پرستش بغیر یہ سمجھے ہوئے کرے کہ اس کے اختیارات میں کچھ نہیں ہے۔اگر کوئی آدمی یہ سمجھے کہ کسی کے اختیار میں کچھ نہیں ہے توکبھی اُس کی پرستش نہیں کرتا۔اگر کوئی شخص کسی کے متعلق یہ سمجھتا ہو کہ بیمار ہو گیاہوں تو کوئی مجھے اچھا کرنے والانہیں ہے‘ اگر اولاد نہیں ہے تو کوئی مجھے اولاد دینے والا نہیں ہے‘ اگر روزگار نہیں ہے تو مجھے روزگار دلوانے والانہیں ہے ‘توظاہر بات ہے کہ اس کی پرستش کیسے کرنے جائے گا۔پرستش تب کرنے جائے گاجب یہ سمجھ کر جائے گاکہ مجھے بیماری سے تندرست کرنے والایہ ہے‘ رزق دینے والایہ ہے‘ مجھے روزگار دلوانے والایہ ہے‘ مجھے اولاد دلوانے والایہ ہے‘دنیا میں کامیابیاں دلوانے والایہ ہے‘ یاآخرت میں نجات دلوانے والایہ ہے۔ اسی لیے  فرمایاکہ اس کے سواکوئی الہ نہیں ہے‘ اور اس کامطلب یہ ہے کہ اس کے علاوہ کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔اس کے علاوہ کسی کے ہاتھ میں کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ چونکہ سارے اختیارات کا مالک وہ ہے ‘مشرق ومغرب کامالک وہ ہے‘ اِس وجہ سے اِس کو اپناوکیل بناؤ‘یعنی اسی کے سپرداپنے سارے معاملات کردو۔

وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلًا o (۷۳: ۱۰)

اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ اُن سے الگ ہوجائو۔

ھجرِ جمیل کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کسی نے آپ کوگالی دی ‘آپ یہ سمجھ کرکہ میں بے بس ہوں ‘کمزور ہوں‘مقابلہ کیاکروں‘ غم کاگھونٹ پی کر اورخوب اچھی طرح دل میں رو کر‘  آپ خاموش ہوگئے ۔اس کانام ھجرِ جمیلنہیں ہے۔اس کانام بے بسی ہے۔ ھجرِ جمیل یہ ہے کہ ایک آدمی اِتنا شریف ہو کہ اگر کوئی اُس کو گالی دے تووہ اس کی ذرابرابرپروا نہ کرے اور اس گالی کے باوجود اس کے دل میں نیت یہی رہے کہ موقع ملے گا تو اس کو درست کرنے کی کوشش کروں گا۔ اِس وقت یہ غصے میں ہے‘اس وقت اس سے مخاطب ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘ کوئی اور وقت آئے گاتو اس کی اصلاح کے لیے کوشش کروں گا۔اس غرض کے لیے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دینا‘یہ ھجرِ جمیل ہے۔اس کے خلاف دل میں میل تک نہ آئے‘اس کے خلاف دل میں کوئی غصہ اورکوئی نفرت پیدانہ ہو۔ یہ سمجھے کہ جیسے ایک بیمار تھا جس نے غصے اور تکلیف کی حالت میں مجھے گالی دے دی۔ فرض کیجیے کہ کوئی بیمار ہواور بیماری کے دورے کی حالت میں طبیب کو گالی دے توکوئی عقل مندطبیب غصے میں نہیں آئے گا اور اس سے نفرت پیدا نہیں ہوگی۔وہ یہ خیال نہیں کرے گا کہ کم بخت نے گالی دی ہے ‘اچھا !موقع ملے گا تو اسے زہردے کرمار دوں گا۔ اسے کبھی یہ خیال نہیں آئے گا۔ اگر اس کو کوئی خیال آئے گا تو یہ کہ اس پر سخت دورہ ہے اور وہ اس کے اور زیادہ علاج کی فکر کرے گا۔ لہٰذا ھجرِ جمیل اس چیز کانام ہے کہ آدمی کے دل میں کوئی غصہ اورکوئی نفرت پیدانہ ہو۔اس کے بجاے وہ کمالِ شرافت اورکمالِ خیر خواہی کی بنیاد پر اس کو نظرانداز کردے۔

وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (جو کچھ باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ‘ ان پر صبر کرو)‘یہ الفاظ خود بتارہے ہیں کہ یہ اس زمانے کی نازل شدہ سورہ ہے جب لوگوں نے آپؐ کے اُوپر باتیں بنانا شروع کر دی تھیں۔ قرآنِ مجید کے نزول کا زمانہ سمجھنے کے لیے خود قرآن میںکوئی اندرونی شہادت ایسی موجود ہوتی ہے جویہ بتا دیتی ہے کہ یہ کس دور کی نازل شدہ ہے۔ یہاں یہ الفاظ خود بتارہے ہیں کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُوپر طرح طرح کی باتیں بنائی جانے لگی تھیں۔کوئی گالیاں دے رہا تھا‘کوئی اعتراضات کر رہا تھا‘ کوئی الزامات اوربہتان چسپاں کررہا تھا‘کوئی طرح طرح سے نبی پاک ؐ کے خلاف لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا پھرتا تھا‘ کوئی طرح طرح کی تہمتیں جوڑ کرلوگوں کوبدگمان کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اسی لیے توفرمایا گیاکہ وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ ، جو کچھ باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ‘اُن کے اُوپر صبر کرو۔

صبر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے گھر بیٹھ جائے ۔صبر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کام کیے جاؤ جس کی وجہ سے یہ باتیں کر رہے ہیں اور پھر کسی سے جھگڑامت کرو۔ کسی سے مت اُلجھو۔جو باتیں وہ بناتے ہیں اُن کو نظر انداز کر دو اوراپناکام کیے جاؤ۔ صبر کے معنی محض برداشت کر لینے بھی نہیں ہیں۔صبر کے معنی یہ ہیں کہ جوکام آپ کو کرنا ہے وہ کام آپ کیے جائیں اور اس کے اُوپرآپ ٹھیریں نہیں۔صبر کے آخری معنی اپنے آپ کو روک لینے او رٹھیرانے کے ہیں۔ گویا اس کام کے اُوپر ڈٹے رہو ‘اس کے اُوپر جمے رہو‘ اوروہ سب باتیں برداشت کرو جو یہ لوگ آپ کے اُوپر بناتے ہیں۔

یہاں پھرآپ دیکھیے کہ تہجد کے ذریعے نبی پاکؐ کی تربیت کا جو انتظام کیا گیا تھا‘اس میں ایک چیز تو یہ پیشِ نظر تھی کہ کامل اخلاص پیدا ہوجائے اورکلام میں راست بازی پیدا ہوجائے اور آدمی کاظاہروباطن یکساں ہو جائے۔دوسری مصلحت یہ بیان کی گئی کہ تمھارے اُوپرایک ثقیل کلام کا بار ڈالاجانے والا ہے‘بہت بھاری کلام کا بارڈالاجانے والاہے‘اس کو سہارنے کی طاقت تمھارے اندر اس سے پیدا ہوگی۔ تیسری جو ضرورت تھی وہ یہ تھی کہ تمھارے اُوپرجو باتیں چھاپی جا رہی ہیں اس کے لیے صبرِ جمیل کی جو ضرورت ہے‘ یہ طاقت تمھارے اندرتہجد کی نماز سے پیدا ہوگی۔ تہجد کی نماز تمھارے اندر یہ صلاحیت اوریہ طاقت پیداکرے گی کہ تمھیں گالیاں دی جا رہی ہیں‘ تمھارے اُوپرالزامات کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے ‘لیکن تم صبر کے ساتھ اپنا وہ کام کیے جائو جو تمھارے سپرد   کیا گیاہے۔دل میں میل نہیں آتا‘دل کے اندر کوئی غصہ اور کوئی نفرت پیدانہیں ہوتی اور اس کے ساتھ آدمی اصلاحِ قلب کے لیے برابر کام کیے چلا جاتا ہے۔ یہ طاقت اس کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتی کہ آدمی اخلاص الی اللہ اور اخلاص فی الدین اپنے اندر پیداکرے۔ یہ چیز بھی تہجدکی نماز سے پیدا  ہوتی ہے۔

وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَۃِ وَمَھِّلْھُمْ قَلِیْلًا o (۷۳: ۱۱)

اِن جھٹلانے والے خوش حال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو اور انھیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت پر رہنے دو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا معاملہ میرے سپردکر دو میں ان سے نمٹ لوں گا۔فرمایا:  اس کو وکیل بنا لو‘ اور فرمایاکہ تم صبر جمیل کرواور ان کوباتیں کرنے دو‘اس کے بعد فرمایاکہ ان کوچھوڑ دو‘ میں ان سے نمٹ لوں گا‘ اِن کا معاملہ میرے حوالے کرو ۔ گویا تم میرے بھروسے کے اُوپر اپناکام کیے چلے جاؤاور اطمینان رکھو کہ میں ان سے نمٹ لوں گا‘تمھیں فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔

مکذبین کی صفت یہ بیان کی کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کوہم نے نعمت دی۔ بجاے اس کے کہ ان کے اندر کوئی شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہوتااور وہ اپنے خدا کے سامنے جھکنے والے ہوجاتے ‘ ان کا دماغ خراب ہوگیاہے۔ یہ بھول گئے ہیں‘ نمک حرام بن گئے ہیں اور اپنے رب کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ لہٰذا جو اس طرح سے کھاتے پیتے لوگ ہیں اور نعمتیں پانے کی وجہ سے جھٹلارہے ہیں اِن کو اور مجھے چھوڑ دو‘ میں ان سے نمٹ لوں گا۔

ذرا مہلت دے دو کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اپنے پاس سے ان کو کوئی مہلت دو‘بلکہ مراد یہ ہے کہ ذرا انتظار کرواس بات کاکہ ان کے ساتھ میں کیا معاملہ کرتاہوں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بے چین مت ہوکہ اِن کو جلدی سزادے دی جائے ۔بسااوقات آدمی پریشان ہوجاتا ہے ‘ جب دیکھتا ہے کہ چہارسو بندوں پر ظلم ڈھایا جارہاہے ‘خداکے بندوں کو ستایاجارہاہے محض اس لیے کہ خداکے دین کاکام کرنے والے ہیں ۔پھانسیوں پر ان کوچڑھایاجاتاہے‘ جیلوں میں ان کو ٹھونسا جاتا ہے ‘ طرح طرح کی مار ان کو دی جاتی ہے‘مگر اس ظالم کا کچھ نہیں بگڑ رہا‘تو بڑا بڑا نیک آدمی‘بڑا بڑا خداپرست آدمی ‘ بڑابڑاصابرآدمی بھی ایک مرتبہ تو پریشان ہوجاتا ہے کہ یااللہ یہ کیامعاملہ ہے ؟یہ کیا ہورہا ہے؟حضرت موسٰی ؑ تک نے یہ کہہ دیاکہ یااللہ فرعون کو برابرنعمتیں ملی چلی جا رہی ہیں‘اس کا زور بڑھتاہی چلاجا رہا ہے‘ اس کو دنیا کی زینتیں دی چلی جا رہی ہیں‘ حالانکہ یہ دنیا پر ظلم ڈھارہاہے۔ چونکہ اس طرح کی صورتِ حال کو دیکھ کر انسان بے صبرا ہوجاتاہے تو فرمایا کہ َمَہِّلْھُمْ قَلِیْلًا ، ذرا اِن کو مہلت تودوتم‘بے چین مت ہواس بات کے لیے کہ یہ ظلم ڈھارہاہے تو جلدی سے اس کوختم کردیا جائے۔اب اس مہلت میں جو اللہ تعالیٰ دیتاہے‘ بے شمار مصلحتیں ہوتی ہیں جن کوکوئی نہیں جانتا۔

اب دیکھیے‘ مثال کے طور اگر اس ابتدائی زمانے میں‘ جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم ڈھارہے تھے اور آپؐ کے خلاف طرح طرح کا جھوٹا پروپیگنڈاکر رہے تھے‘اگر اسی زمانے میں عذاب نازل ہوجاتا تو یہ خالدبن ولید کہاں سے آتے؟یہ بڑے بڑے مجاہدین جو اُسی شہر سے پیداہوئے ہیں‘ وہ کہاں سے آتے اگر اسی وقت عذاب نازل کردیاجاتا؟ اگر مسلمانوں نے تمام  ظلم وستم کے مقابلے میں صبر نہ دکھایاہوتا‘اس کے مقابلے میں ڈٹے نہ رہتے ‘ہر قسم کی تکلیف کا مقابلہ نہ کرتے‘خداپرستی پر قائم نہ رہتے تو ان کے اندر وہ زبردست روحانی طاقت کہاںسے پیداہوتی جس سے انھوں نے دنیا بھرکو فتح کیا۔وہ عزم کیسے پیدا ہو سکتاتھا؟اسی طرح سے اگر کفار کو ظلم کاموقع نہ دیاجاتااورمسلمانوں کو اس کے مقابلے میں صبراورصبرِ جمیل کا موقع نہ دیا جاتا تو سارا عرب کیسے قائل ہوجاتاکہ یہ گروہ واقعی دنیاکا نہایت نیک گروہ ہے‘ اور ساراعرب کیسے اس کا حامی ہوتا چلاجاتا؟لہٰذا اللہ تعالیٰ کی بے شمارمصلحتیں ہوتی ہیں کہ جس کی وجہ سے وہ کسی گروہ کوجوظالم ہے‘ دنیامیںبرائی پھیلانے والاہے‘ اس کومہلت دیتا ہے۔لیکن ان مصلحتوں کو آدمی سمجھ نہیں سکتا۔جس وقت وہ کام ہورہاہوتاہے اُس وقت آدمی کی سمجھ میں یہ نہیں آتاکہ آگے چل کر اس سے کیا خیر پیدا ہونے والی ہے؟آدمی یہ سمجھتاہے کہ یہ تو شرہی شرہورہاہے۔حالانکہ شر اس کائنات میں جہاں کہیں بھی ہے‘ کسی خیر کی خاطرہے‘ بجاے خود شر کی خاطر نہیں۔

اِنَّ لَدَیْنَـآ اَنْکَالًا وَّجَحِیْمًا o وَّطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّعَذَابَا اَلِیْمًا o یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَکَانَتِ الْجِبَالُ کَثِیْبًا مَّھِیْلًا o (۷۳: ۱۲-۱۴)

ہمارے پاس (ان کے لیے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور دردناک عذاب۔ یہ اُس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اُٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جارہے ہیں۔

یعنی وہ سزاجس کے لیے ہم کہہ رہے ہیں وہ سزاہما رے پاس تیارہے۔ ایساہوجائے گا جسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں۔ ایسے مواقعوں پر بالعموم قرآن مجید نے دنیوی عذاب کا کہیں ذکر ہی نہیں کیاہے۔کثرت سے ایسے مقامات ہیں کہ جہاں ظالموں کے ظلم کے مقابلے میں صبر کا مشورہ دیاگیاہے اور بتایا گیاہے کہ عالمِ آخرت میں اِن کے لیے ہما رے ہاں یہ سزاموجود ہے۔بعض مقامات پر دنیوی عذاب کی دھمکی دی گئی ہے ‘بعض مواقع پر خبر دی گئی ہے کہ ان کے اُوپر اب دنیا میں عذاب ہوگا‘لیکن ایسے مواقع کم ہیں۔زیا دہ تر مواقع وہ ہیں کہ جہاں یہ بتایاگیاہے کہ اِن ظالموں کے ظلم پرصبر کرو اور اِن کے لیے آخرت میں قیامت کے روزہمارے ہاں یہ سزاتیارہے۔

اِس کی مصلحت پرغورکیجیے کہ یہ بات کہی کیوں گئی ہے؟یہ بات اس لیے کہی گئی ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ ہرظالم کے اُوپراس دنیاہی میں عذاب آجائے۔تاریخ بھی بتاتی ہے ‘یہ انسانی مشاہدہ بھی ہے کہ ہر ظالم پر دنیامیں ہمیشہ عذاب نہیں آسکتا۔اگر دنیامیں کسی ظالم قوم پرکبھی عذاب آیابھی ہے تواُن لوگوں پر آیا ہے جو اس وقت موجود تھے ۔اس گھڑی سے ایک منٹ پہلے جوآدمی مرچکا تھا اُس پر کبھی کوئی عذاب نہیں آیا۔اس لیے اصل عذاب وہ ہے جوظالموں کو آخرت ہی میں دیا جائے۔

دوسری مصلحت اس میںیہ ہے کہ آدمی اس غرض کے لیے بیٹھ کر بے چین نہ ہوکہ جو لوگ ہم پر ظلم کررہے ہیں ‘اُن پر دنیا میں عذاب آئے گا۔ اور اس بھروسے کے اُوپر کہ دنیا میں اُن پر عذاب آئے گا‘ ان کو مہلت نہ دیں اور صبر نہ کریں اور نہ یہ ہی سمجھیں کہ یہ جیتے جی ساری عمربھی ظلم کرتے رہے توتب بھی کچھ نہیں بگڑتا‘ آخرکارآخرت میں ان کی شامت آنی ہے۔ مسلمان کو جس صبر کی تلقین کی گئی ہے اس میں نیکی کااَجر بھی اصل وہ ہے جو آخرت میں ملے گانہ کہ وہ جودنیا میں ملے گا۔اتنا صبر مسلمان میں ہونا چاہیے کہ عمر بھروہ نیکی کرتارہے‘ چاہے اُس نیکی کانتیجہ اُس کے حق میں اِس دنیامیں ‘عمربھر برانکلتا رہے‘اُس نیکی کی وجہ سے عمر بھر ستایاجاتا رہے ‘عمرقید اس کو دے دی جائے یاکوئی بھی ظلم وستم اُس کے اُوپر کیا جائے‘ تب بھی وہ اس یقین کے اُوپرصبر کر سکے کہ بہرحال آخرت میں میرا اجریقینی ہے۔جب تک کوئی شخص آخرت تک کے لیے صبر کرنے پر تیار نہ ہو‘ وہ اس دین کے راستے پر نہیں چل سکتا۔

اسی طرح سے ظالموں کو سزا دینے کے معاملے میں بھی قرآن جس چیز کا اطمینان دلاتا ہے وہ یہ ہے کہ چاہے اس دنیا میں وہ پھلتے پھولتے رہیں ‘مگر آخرت میں اُن کی شامت آکر رہے گی۔ بہت سے ظالم ایسے ہیں کہ جو مرتے وقت تک ظلم کرتے رہتے ہیں‘ مثلاً اسٹالن آخر وقت تک اس کا اعتبارقائم رہااورمرتے مرتے وہ ڈکٹیٹر بنارہا‘ اور مرتے مرتے وہ خلقِ خداپرظلم ڈھاتارہا‘ اس دنیا میں اس کی کوئی شامت نہیں آئی۔اگر کوئی شخص اسی دنیا کے اُوپر انحصار کرنے والاہواور آخرت کا قائل نہ ہوتو وہ یہ سمجھے گاکہ یہ سارانظامِ کائنات ظلم کے لیے بناہے کہ ایک شخص عمربھر ظلم کرتا رہااورمزے سے ٹانگیں پھیلاکرمر گیا‘ اوراس بات کی کوئی سزااُسے دنیامیں نہیں ملی۔ دنیا کو ایک عادل خداکی مملکت ہونے کا یقین اُسی آدمی کو ہوسکتا ہے جس کویہ یقین ہوکہ اس دنیاسے اگرظالم گزر بھی گیا توآخرت میں اُس کی شامت آنی ہے۔لہٰذا ایک مسلمان کویہاں جو صبر کی تلقین کی گئی ہے‘ یہ وہ صبر ہے کہ جو دنیا کے اندر آخرت تک انتظارکرسکتاہو۔ دنیا کے لیے بے چین نہ ہوکہ دنیاہی میں اس کو اجر بھی مل جائے اور دنیاہی میں ظالم کو بھی سزا مل جائے۔(جاری)

(کیسٹ سے تدوین:  امجدعباسی)

اُمت وسط ہونے کی حیثیت سے فریضہ اقامت دین اور شہادتِ حق اُمت مسلمہ کا بنیادی فریضہ ہے جو جماعت دعوتِ دین اور مجاہدہ فی سبیل اللہ کے لیے اُٹھے‘ اسے کن ناگزیر صفات سے متصف ہونا چاہیے؟ (ادارہ)

صبر کا وسیع مفھوم

سب سے پہلی صفت جس پر زور دیا گیا ہے‘ صبر ہے۔ صبر کے بغیر خدا کی راہ میں کیا کسی راہ میں بھی مجاہدہ نہیں ہو سکتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ خدا کی راہ میں اور قسم کا صبر مطلوب ہے اور دنیا کے لیے مجاہدہ کرتے ہوئے اور قسم کا صبر درکار ہے‘ مگر بہرحال صبر ہے ناگزیر۔ صبر کے بہت سے پہلو ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ جلدبازی سے شدید اجتناب کیا جائے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ کسی راہ میں جدوجہد کرتے ہوئے دشواریوں اور مخالفتوں اور مزاحمتوں کے مقابلے میں استقامت دکھائی جائے اور قدم پیچھے نہ ہٹایا جائے۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ کوششوں کا کوئی نتیجہ اگر جلدی حاصل نہ ہو‘ تب بھی ہمت نہ ہاری جائے اور پیہم سعی جاری رکھی جائے۔ ایک اور پہلو یہ ہے کہ مقصد کی راہ میں بڑے سے بڑے خطرات‘ نقصانات اور خوف و طمع کے مواقع بھی اگر پیش آجائیں تو قدم کو لغزش نہ ہونے پائے۔ اور یہ بھی صبر ہی کا ایک شعبہ ہے کہ اشتعال انگیز جذبات کے سخت سے سخت مواقع پر بھی آدمی اپنے ذہن کا توازن نہ کھوئے‘ جذبات سے مغلوب ہوکر کوئی قدم نہ اٹھائے‘ ہمیشہ سکون‘ صحت‘ عقل اور ٹھنڈی قوتِ فیصلہ کے ساتھ کام کرے۔

پھر حکم صرف صبر ہی کا نہیں مصابرت کا بھی ہے‘ یعنی مخالف طاقتیں اپنے باطل مقاصد کے لیے جس صبر کے ساتھ ڈٹ کر سعی کر رہی ہیں‘ اسی صبر کے ساتھ آپ بھی ڈٹ کر ان کا مقابلہ کریں۔ اسی لیے اصبروا کے ساتھ وصابروا کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ جن لوگوں کے مقابلے میں آپ حق کی علم برداری کے لیے اٹھنے کا داعیہ رکھتے ہیں ان کے صبر کا اپنے صبر سے موازنہ کیجیے اور سوچیے کہ آپ کے صبر کا کیاتناسب ہے؟ شاید ہم ان کے مقابلے میں ۱۰ فی صدی کا دعویٰ کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ باطل کے غلبے کے لیے جو صبر وہ دکھا رہے ہیں اس کا اندازہ کرنے کے لیے موجودہ جنگ [جنگ عظیم دوم] کے حالات پر نظر ڈالیے۔ کس طرح وقت آپڑنے پر ان لوگوں نے اپنے ان کارخانوں‘ شہروں اور ریلوے سٹیشنوں کو اپنے ہاتھوں سے پھونک ڈالا جن کی تعمیر و تیاری میں سالوں کی محنتیں اور بے شمار روپیہ صرف کیا گیا تھا۔ یہ ان ٹینکوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو فوجوں کو اپنے آہنی پہیوں تلے کچل ڈالتے ہیں۔ یہ دشمن کے ان بم بار طیاروں کے سائے میں استقامت سے کھڑے رہتے ہیں جو موت کے پر لگا کر اُڑتے ہیں۔ جب تک ان کے مقابلے میں ہمارا صبر ۱۰۵ فی صدی کے تناسب پر نہ پہنچ جائے ان سے کوئی ٹکر لینے کی جرأت نہیں کی جا سکتی۔ جب سروسامان کے لحاظ سے ہم ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تو پھر سروسامان کی کمی کو صبر ہی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔

جذبۂ ایثار

دوسری چیز جو مجاہدہ کا لازمہ ہے ‘ ایثار کی صفت ہے۔ وقت کا ایثار‘ محنتوں کا ایثار اور مال کا ایثار۔ ایثار کے اعتبار سے بھی باطل کا جھنڈا اٹھانے والی طاقتوں کے مقابلے میں ہم بہت ہی پیچھے ہیں۔ حالانکہ بے سروسامانی کی تلافی کے لیے ہمیں ایثار میں بھی ان سے میلوں آگے ہونا چاہیے۔ مگر یہاں صورت واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص بیس‘ پچاس‘ سو اورہزار روپے ماہانہ تنخواہ کے عوض اپنی پوری صلاحیتیں خود اپنے دشمن کے ہاتھ بیچ دیتا ہے اور اس طرح ہماری قوم کا کارآمد جوہر بیکار ہوجاتا ہے۔ یہ دماغی صلاحیتیں رکھنے والا طبقہ اتنی ہمت نہیں رکھتا کہ ایک بڑی آمدنی کو چھوڑ کریہاں محض بقدر ضرورت قلیل معاوضے پر اپنی خدمات پیش کر دے۔ پھر فرمایئے کہ اگر یہ لوگ اتنا ایثار بھی نہ کریں گے اور اس راہ میں پتہ مار کر کام نہ کریں گے تو پھر اسلامی تحریک کیسے پھل پھول سکتی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ کوئی تحریک محض والنٹیروں کے بَل پر نہیں چل سکتی۔

جماعتی نظم میں والنٹیروں کو اُسی درجے کی اہمیت حاصل ہے جیسی ایک آدمی کے نظامِ جسمانی میں ہاتھ اور پائوں کو ہے۔ یہ ہاتھ اور پائوں اور دوسرے اعضا کس کام کے ہوسکتے ہیں‘ اگر ان سے کام لینے کے لیے دھڑکنے والے دل اور سوچنے والے دماغ موجود نہ ہوں۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں والنٹیروں سے کام لینے کے لیے اعلیٰ درجے کے جنرل چاہییں۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ جن کے پاس دل اور دماغ کی قوتیں ہیں وہ دنیوی ترقیوں کے دل دادہ ہیں اور مارکیٹ میں اسی کی طرف جاتے ہیں جوزیادہ قیمت پیش کرے۔ نصب العین سے ہماری قوم کے بہترین افراد کی وابستگی ابھی اس درجے کی نہیں ہے کہ وہ اس کی خاطر اپنے منافع کو بلکہ منافع کے امکانات تک کو قربان کرسکیں۔ اس ایثار کو لے کر اگر آپ یہ توقع کریں کہ وہ مفسدین عالم جو روزانہ کروڑوں روپیہ اور لاکھوں جانوں کا ایثار کر رہے ہیں‘ ہم سے کبھی شکست کھاسکتے ہیں تو یہ چھوٹا منہ بڑی بات ہے۔

دل کی لگن

مجاہدہ فی سبیل اللہ کے لیے تیسری صفت دل کی لگن ہے۔ محض دماغی طور پر ہی کسی شخص کا اس تحریک کو سمجھ لینا اور اس پر صرف عقلاً مطمئن ہوجانا‘ یہ اس راہ میں اقدام کے لیے صرف ایک ابتدائی قدم ہے۔ لیکن اتنے سے تاثر سے کام چل نہیں سکتا۔ یہاں تو اس کی ضرورت ہے کہ دل میں ایک آگ بھڑک اُٹھے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم اتنی آگ تو شعلہ زن ہو جانی چاہیے جتنی اپنے بچے کو بیمار دیکھ کر ہوجاتی ہے اور آپ کو کھینچ کر ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے‘ یا اتنی جتنی گھر میں غلہ نہ پاکر بھڑکتی ہے اور آدمی کو تگ و دو پر مجبور کر دیتی ہے اور چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ سینوں میں وہ جذبہ ہونا چاہیے جو ہر وقت آپ کو اپنے نصب العین کی دُھن میں لگائے رکھے‘ دل و دماغ کو یکسو کر دے اور توجہات کو اس کام پر ایسا مرکوز کردے کہ اگر ذاتی یا خانگی یا دوسرے غیرمتعلق معاملات کبھی آپ کی توجہ کو اپنی طرف کھینچیں بھی تو آپ سخت ناگواری کے ساتھ ان کی طرف کھینچیں۔ کوشش کیجیے کہ اپنی ذات کے لیے آپ قوت اور وقت کا کم سے کم حصہ صرف کریں اور آپ کی زیادہ سے زیادہ جدوجہد اپنے مقصدحیات کے لیے ہو۔

جب تک یہ دل کی لگن نہ ہوگی اور آپ ہمہ تن اپنے آپ کو اس کام میں جھونک نہ دیں گے‘ محض زبانی جمع خرچ سے کچھ نہ بنے گا۔ بیش تر لوگ دماغی طور پر ہمارا ساتھ دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں لیکن کم لوگ ایسے ملتے ہیں جو دل کی لگن کے ساتھ تن من دھن سے اس کام میں شریک ہوں۔ میرے ایک قریبی رفیق نے جن سے میرے ذاتی اور جماعتی تعلقات بہت گہرے ہیں‘حال ہی میں دو برس کی رفاقت کے بعد مجھ سے یہ اعتراف کیا کہ اب تک میں محض دماغی اطمینان کی بنا پر شریکِ جماعت تھا مگر اب یہ چیز دل میں اُتر گئی ہے اور اس نے نہاں خانۂ روح پر قبضہ جما لیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر شخص اسی طرح اپنے اُوپر خود تنقید کر کے دیکھے کہ کیا ابھی تک وہ اس جماعت کا محض ایک دماغی رکن ہے یا اس کے دل میں مقصد کے عشق کی آگ مشتعل ہوچکی ہے۔ پھر اگر دل کی لگن اپنے اندر نہ محسوس ہو تو اسے پیدا کرنے کی فکر کی جائے۔ جہاں دل کی لگن ہوتی ہے وہاں کسی ٹھیلنے اور اُکسانے والے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس وقت کے ہوتے ہوئے یہ صورت حال کبھی پیدا نہیں ہو سکتی کہ اگر کہیں جماعت کا ایک رکن پیچھے ہٹ گیا یا نقل مقام پر مجبور ہوگیا تو وہاں کا سارا کام ہی چوپٹ ہوگیا۔ بخلاف اس کے پھر تو ہر شخص اس طرح کام کرے گا جس طرح وہ اپنے کو بیمار پاکر کیا کرتا ہے۔

خدانخواستہ اگر آپ کا بچہ بیمار ہو تو آپ اس کی زندگی و موت کے سوال کو بالکلیہ کسی دوسرے پر ہرگز نہیں چھوڑ سکتے۔ ممکن نہیں کہ آپ یہ عذر کر کے اس کے حال پر چھوڑ بیٹھیں کہ کوئی تیماردار نہیں‘ کوئی دوا لانے والا نہیں‘ کوئی ڈاکٹر کے پاس جانے والا نہیں۔ اگر کوئی نہ ہو تو آپ خود سب کچھ بنیں گے کیونکہ بچہ کسی دوسرے کا نہیں آپ کا اپنا ہے۔ سوتیلا باپ تو بچے کو مرنے کے لیے چھوڑ بھی سکتا ہے مگر حقیقی باپ اپنے جگر کے ٹکڑے کو کیسے چھوڑ دے گا۔ اس کے تو دل میں آگ لگی ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کام سے بھی اگر آپ کا قلبی تعلق ہو تو اس کو آپ دوسروں پر نہیں چھوڑ سکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ کسی دوسرے کی نااہلی‘ یا غلط روی یا بے توجہی کو بہانہ بناکر آپ اسے مر جانے دیں اور اپنے دوسرے مشاغل میں جاکر منہمک ہوجائیں۔ یہ سب باتیں اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ خدا کے دین اور اس کی اقامت و سربلندی کے مقصد سے آپ کا رشتہ محض ایک سوتیلا رشتہ ہے۔ حقیقی رشتہ ہو تو آپ میں سے ہر شخص اس راہ میں اپنی جان لڑا کر کام کرے۔ میں آپ سے صاف کہتا ہوں کہ اگر آپ اس راہ میں کم از کم اتنے قلبی لگائو کے بغیر قدم بڑھائیں گے جتنا آپ اپنے بیوی بچوں سے رکھتے ہیں توا نجام پسپائی کے سوا کچھ نہ ہوگا اور یہ ایسی بری پسپائی ہوگی کہ مدتوں تک ہماری نسلیں اس تحریک کا نام لینے کی جرأت بھی نہ کرسکیں گی۔ بڑے بڑے اقدامات کا نام لینے سے پہلے اپنی قوتِ قلب کا اور اپنی اخلاقی طاقت کا جائزہ لیجیے اور مجاہدہ فی سبیل اللہ کے لیے جس دل گردے کی ضرورت ہے وہ اپنے اندر پیدا کیجیے۔

منظم اور پیھم سعی

چوتھی ضروری صفت اس راہ میں یہ ہے کہ ہمیں مسلسل اور پیہم سعی اور منضبط (systematic) طریقے سے کام کرنے کی عادت ہو۔ ایک مدت دراز سے ہماری قوم اس طریق کار کی عادی رہی ہے کہ جو کام ہو‘ کم سے کم وقت میں ہوجائے۔ جو قدم اٹھایا جائے‘ ہنگامہ آرائی اس میں ضرور ہو‘ چاہے مہینہ دو مہینہ میں سب کیا کرایا غارت ہوکے رہ جائے۔ اس عادت کو ہمیں بدلنا ہے۔ اس کی جگہ بتدریج اور بے ہنگامہ کام کرنے کی مشق ہونی چاہیے۔ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی‘ جو بجاے خود ضروری ہو‘ اگر آپ کے سپرد کر دیا جائے تو بغیر کسی نمایاں اور معجل نتیجہ کے اور بغیر کسی داد کے آپ اپنی پوری عمرصبر کے ساتھ اسی کام میں کھپا دیں۔ مجاہدہ فی سبیل اللہ میں ہر وقت میدان گرم ہی  نہیں رہا کرتا ہے اور نہ ہر شخص اگلی ہی صفوں میں لڑسکتا ہے۔ ایک وقت کی میدان آرائی کے لیے بسااوقات پچیس پچیس سال تک لگاتار خاموش تیاری کرنی پڑتی ہے اور  اگلی صفوں میں اگر ہزاروں آدمی لڑتے ہیں تو ان کے پیچھے لاکھوں آدمی جنگی ضروریات کے ان چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگے رہتے ہیں جو ظاہر بین نظر میں بہت حقیر ہوتے ہیں۔ (رُوداد جماعت اسلامی‘ دوم‘     ص ۳۲-۳۶)

آزادی کا لفظ جب ہماری زبان پر آتا ہے تو ہمارا ذہن فوراً سیاسی اِستقلال اور اجنبی تسلُّط سے آزادی کی جانب منتقل ہوجاتا ہے۔ اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیاسی آزادی بھی    اللہ تعالیٰ کی ایک خاص نعمت ہے جس کی اسلام کی نگاہ میں بہت بڑی اہمیت ہے‘ کیونکہ اسلام جس نظریۂ حیات اور جس نظامِ زندگی کو دنیا میں برپا کرنا چاہتا ہے‘ اس کے قیام و استحکام کے لیے مسلم معاشرے کا بااختیار اور بیرونی اثرونفوذ سے آزاد ہونا بالکل ناگزیر ہے۔ لیکن یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے مسلمانوں کے ذہن و فکر کا دوسروں کی غلامی سے آزاد ہونا اوّلین مقصدی اہمیت رکھتا ہے‘ اور سیاسی آزادی کی جتنی بھی اہمیت ہے اسی وجہ سے ہے کہ وہ فکروعمل کے استقلال کا ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔

[۵۸] سال قبل ہم پاکستان کے مسلمان دہری غلامی میں مبتلا تھے۔ ہم سیاسی حیثیت سے بھی غیروں کے محکوم تھے اور ذہنی حیثیت سے بھی۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اغیار کی سیاسی محکومی سے تو آزاد کر دیا لیکن ان کی ذہنی غلامی اور ان کی غیراسلامی اقدار کے تسلط اور ان کی فکری محکومی میں جس طرح پہلے ہم مبتلا تھے‘ افسوس ہے کہ ابھی تک ہمیں اس سے رُستگاری نصیب نہ ہو سکی۔ ہماری درسگاہیں‘ ہمارے دفاتر‘ ہمارے بازار‘ ہماری سوسائٹی‘ ہمارے گھر‘ حتیٰ کہ ہمارے جسم تک زبانِ حال سے شہادت دے رہے ہیں کہ ان پر مغرب کی تہذیب‘ مغرب کے افکار‘ مغرب کی اقدار اور مغرب کے اخلاقی تصورات اور علمی نظریات حکمران ہیں۔ ہم مغرب کے دماغ سے سوچتے ہیں‘ مغرب کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں‘ مغرب ہی کی بنائی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں‘ خواہ اس کا شعور ہمیں ہو یا نہ ہو۔ یہ مفروضہ ہمارے دماغوں پر مسلَّط ہے کہ صحیح وہ ہے جسے مغرب نے صحیح سمجھا ہے اور غلط وہ ہے جسے مغرب نے غلط قرار دیا ہے۔ حق‘ صداقت‘ تہذیب‘ اخلاق‘ شائستگی‘ ہر شے کا معیار ہمارے نزدیک وہی ہے جو مغرب نے مقرر کر رکھا ہے۔

سیاسی آزادی کے باوجود آخر اس ذہنی غلامی کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ ذہنی آزادی اور غلبہ و تفوق کی بنا دراصل فکری اجتہاد اور علمی تحقیق پر قائم ہوتی ہے۔ جو قوم اس راہ میں پیش قدمی کرتی ہے وہی دنیا کی راہنما اور قوموں کی اِمام بن جاتی ہے اور اسی کے افکار دنیا پر چھا جاتے ہیں۔ اور جو قوم اس راہ میں پیچھے رہ جاتی ہے اسے مقّلِد اور متّبع ہی بننا پڑتا ہے۔ اس کے افکار اور معتقدات میں یہ قوت باقی نہیں رہتی کہ وہ دماغوں پر اپنا تسلّط قائم رکھ سکیں۔ مجتہد اور محقق قوم کے طاقت ور افکار و معتقدات کا سیلاب انھیں بہا لے جاتا ہے اور ان میں اتنا بل بوتا نہیں رہتا کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھیرے رہ جائیں۔ مسلمان جب تک تحقیق و اجتہاد کے میدان میں آگے بڑھتے رہے‘ تمام دُنیا کی قومیں ان کی پیرو اور مقلِّد رہیں۔ اسلامی فکر ساری نوعِ انسانی کے افکار پر غالب رہی۔ حُسن اور قُبح‘ نیکی اور بدی‘ غلط اور صحیح‘ شائستہ اور غیرشائستہ کا جو معیار اسلام نے مقرر کیا وہ تمام دنیا کے نزدیک معیار قرار پایا اور قصداً یا اضطراراً دنیا اپنے افکار و اعمال کو اسی معیار کے مطابق ڈھالتی رہی۔ مگرجب مسلمانوں میں اربابِ فکر اور اصحابِ تحقیق پیدا ہونے بند ہوگئے‘ جب انھوں نے سوچنا اور دریافت کرنا چھوڑ دیا‘ جب وہ اکتسابِ علم اور اجتہادِ فکر کی راہ میں تھک کر بیٹھ گئے تو گویا انھوں نے خود دنیا کی راہنمائی سے استعفا دے دیا۔ دُوسری طرف مغربی قومیں اس راہ میں آگے بڑھیں۔ انھوں نے غوروفکر کی قوتوں سے کام لینا شروع کیا‘ کائنات کے راز ٹٹولے اور فطرت کی چھپی ہوئی طاقتوں کے خزانے تلاش کیے۔ اس کا لازمی نتیجہ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ مغربی قومیںدنیا کی راہنما بن گئیں اور مسلمانوں کو اسی طرح ان کے اقتدار کے آگے سرِتسلیم خم کرنا پڑا جس طرح کبھی دنیا نے خود مسلمانوں کے اقتدار کے آگے خم کیا تھا۔

اب اسے بدقسمتی کے سوا اور کیا کہیے کہ مغربی تہذیب نے جس فلسفے اور سائنس کی آغوش میں پرورش پائی‘ وہ پانچ چھ سو سال سے دہریت‘ الحاد‘ لامذہبی اور مادّہ پرستی کی طرف جا رہا ہے اور جس صدی میں یہ نئی تہذیب اپنی دہریت اور مادّہ پرستی کی انتہا کو پہنچی‘ ٹھیک وہی صدی تھی جس میں مراکش سے لے کر مشرق بعید تک تمام اسلامی ممالک مغربی قوموں کے سیاسی اقتدار اور فکری غلبے سے بیک وقت مفتُوح اور مغلوب ہوئے۔ مسلمانوں پر مغربی تلوار اور قلم دونوں کا حملہ ایک ساتھ ہوا۔ جو دماغ مغربی طاقتوں کے سیاسی غلبے سے مرعوب اور دہشت زدہ ہوچکے تھے‘ ان کے لیے  یہ مشکل ہوگیا کہ مغرب کے فلسفے و سائنس اور ان کی پروردہ تہذیب کے رُعب داب سے محفوظ رہتے۔

اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا سوادِاعظم اب بھی اسلام کی تہذیب اور اس کی رُوح اور اس کے اصولوں سے منحرف ہو رہا ہے۔ ملکی آزادی اور سیاسی اِستقلال کے باوجود مغرب کا ذہنی اور تہذیبی تسلُّط ہمارے ذہنوں کی فضا پر چھایا ہوا ہے اور اس نے نگاہوں کے زاویے اس طرح بدل دیے ہیں کہ دیکھنے والوں کے لیے مسلمان کی نظر سے دیکھنا اور سوچنے والوں کے لیے اسلامی طریق پرسوچنا مشکل ہوگیا ہے۔ یہ حالت اس وقت تک دُور نہ ہوگی جب تک مسلمانوں میں آزاد اہلِ فکر پیدا نہ ہوں گے۔ اب ایک اسلامی نشاتِ ثانیہ کی ضرورت ہے۔

اگر ہم دوبارہ دُنیا کے راہنما بننا چاہتے ہیں تو اس کی بس یہی ایک صورت ہے کہ مسلمانوں میں ایسے مفکِّر اور محقق پیدا ہوں جو فکرونظر اور تحقیق و اِکتشاف کی قوت سے اُن بنیادوں کو ڈھا دیں جن پر مغربی تہذیب کی نظریاتی عمارت قائم ہوئی ہے۔ اسلام کے بنائے ہوئے طریق فکرونظر پر آثار کے مشاہدے اور حقائق کی جستجو سے ایک نئے نظامِ فلسفہ کی بنا رکھیں‘ ایک نئی حکمتِ طبیعی (natural science) کی عمارت اٹھائیں جو کتاب و سنت کی ڈالی ہوئی داغ بیل پر اُٹھے۔ ملحدانہ نظریے کو توڑ کر خدا پرستانہ نظریے پر فکروتحقیق کی اَساس قائم کریں اور اس جدید فکروتحقیق کی عمارت کو اس قوت کے ساتھ اٹھائیں کہ وہ تمام دنیا پر چھا جائے اور دنیا میں مغرب کی مادّی تہذیب کے بجاے اسلام کی حقّانی تہذیب جلوہ گر ہو۔ (مکاتیب سیدابوالاعلٰی مودودی‘ مرتبہ: عاصم نعمانی‘ حصہ اوّل‘ ص ۲۴۲-۲۴۶)

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْہِ شُرَکَـآئُ مُتَشٰکِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍط ھَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًاط  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِج بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ o (الزمر ۳۹: ۲۹)

اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیت میں بہت سے کج خُلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا ان دونوں کا حال یکساں ہو سکتا ہے؟___ الحمدللہ‘ مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں۔

اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور توحید کے فرق اور انسان کی زندگی پر دونوں کے اثرات کواس طرح کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ اس سے زیادہ مختصر الفاظ میں اتنا بڑا مضمون اتنے مؤثر طریقے سے سمجھا دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ بات ہر آدمی تسلیم کرے گا کہ جس شخص کے بہت سے مالک یا آقا ہوں‘ اور ہر ایک اس کو اپنی اپنی طرف کھینچ رہا ہو‘ اور وہ مالک بھی ایسے بدمزاج ہوں کہ ہر ایک اُس سے خدمت لیتے ہوئے دوسرے مالک کے حکم پر دوڑنے کی اسے مہلت نہ دیتا ہو‘ اور ان کے متضاد احکام میں جس کے حکم کی بھی وہ تعمیل سے قاصر رہ جائے وہ اسے ڈانٹنے پھٹکارنے ہی پر اکتفا نہ کرتا ہو بلکہ سزا دینے پر تُل جاتا ہو‘ اس کی زندگی لا محالہ سخت ضِیق میں ہوگی۔ اور اس کے برعکس وہ شخص بڑے چین اور آرام سے رہے گا جو بس ایک ہی آقا کا نوکر یا غلام ہو کسی دوسرے کی خدمت و رضا جوئی اسے نہ کرنی پڑے۔ یہ ایسی سیدھی سی بات ہے جسے سمجھنے کے لیے کسی بڑے  غورو تامل کی حاجت نہیںہے۔ اس کے بعد کسی شخص کے لیے یہ سمجھنا بھی مشکل نہیں رہتا کہ انسان کے لیے جو امن و اطمینان ایک خدا کی بندگی میں ہے وہ بہت سے خدائوں کی بندگی میں اسے کبھی میسر نہیں آسکتا۔

اس مقام پر یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ بہت سے کج خلق اور باہم متنازع آقائوں کی تمثیل پتھر کے بتوں پر راست نہیں آتی بلکہ اُن جیتے جاگتے آقائوں پر ہی راست آتی ہے جو عملاً آدمی کو متضاد احکام دیتے ہیں اور فی الواقع اس کو اپنی اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں ۔    پتھر کے بت کسے حکم دیا کرتے ہیں اور کب کسی کو کھینچ کر اپنی خدمت کے لیے بلاتے ہیں۔ یہ کام تو زندہ آقائوں ہی کے کرنے کے ہیں۔ ایک آقا آدمی کے اپنے نفس میں بیٹھا ہوا ہے جو طرح طرح کی خواہشات اس کے سامنے پیش کرتاہے اور اسے مجبور کرتا رہتا ہے کہ وہ انھیں پورا کرے۔ دوسرے بے شمار آقا گھر میں‘ خاندان میں‘ برادری میں‘ قوم اور ملک کے معاشرے میں‘ مذہبی پیشوائوں میں‘ حکمرانوں اور قانون سازوں میں‘ کاروبار اور معیشت کے دائروں میں‘ اور دنیا کے تمدّن پرغلبہ رکھنے والی طاقتوں میں ہر طرف موجود ہیں جن کے متضاد تقاضے اور مختلف مطالبے ہروقت آدمی کو اپنی اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں اور ان میں سے جس کا تقاضا پورا کرنے میں بھی وہ کوتاہی کرتا ہے وہ اپنے دائرۂ کار میں اس کو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ البتہ ہر ایک کی سزا کے ہتھیار الگ الگ ہیں۔ کوئی دل مسوستا ہے۔ کوئی روٹھ جاتاہے۔ کوئی نکو بناتا ہے۔ کوئی مقاطعہ کرتا ہے۔ کوئی دیوالہ نکالتا ہے۔ کوئی مذہب کا وار کرتا ہے اور کوئی قانون کی چوٹ لگاتا ہے۔ اِس ضیق سے نکلنے کی کوئی صورت انسان کے لیے اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ توحید کا مسلک اختیار کر کے صرف خدا کا بندہ بن جائے اور ہر دوسرے کی بندگی کا قلادہ اپنی گردن سے اُتار پھینکے ۔

توحید کا مسلک اختیار کرنے کی بھی دو شکلیں ہیں جن کے نتائج الگ الگ ہیں۔

ایک شکل یہ ہے کہ ایک فرد اپنی انفرادی حیثیت میں خداے واحد کا بندہ بن کر رہنے کا فیصلہ کر لے اور گردوپیش کا ماحول اس معاملے میں اس کا ساتھی نہ ہو۔ اس صورت میں یہ تو ہو سکتا ہے کہ خارجی کش مکش اور ضیق اس کے لیے پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جائے‘ لیکن اگر اس نے سچے دل سے یہ مسلک اختیار کیا ہو تو اسے داخلی امن و اطمینان لازماً میسر آجائے گا۔ وہ نفس کی ہر اُس خواہش کو رد کر دے گا جو احکامِ الٰہی کے خلاف ہو یا جسے پورا کرنے کے ساتھ خدا پرستی کے تقاضے  پورے نہ کیے جا سکتے ہوں۔وہ خاندان‘ برداری ‘ قوم‘ حکومت‘ مذہبی پیشوائی اور معاشی اقتدار کے بھی کسی ایسے مطالبے کو قبول نہ کرے گا جو خدا کے قانون سے ٹکراتا ہو۔ اس کے نتیجے میں اسے بے حد تکلیفیں پہنچ سکتی ہیں‘ بلکہ لازماً پہنچیںگی لیکن اس کا دل پوری طرح مطمئن ہو گا کہ جس خدا کا میں بندہ ہوں اس کی بندگی کا تقاضا پورا کر رہا ہوں‘ اور جن کا بندہ میں نہیں ہوں ان کا مجھ پر کوئی حق نہیں ہے جس کی بنا پر میں اپنے رب کے حکم کے خلاف ان کی بندگی بجالائوں۔ یہ دل کا اطمینان اور روح کا امن و سکون دنیا کی کوئی طاقت اس سے نہیں چھین سکتی۔ حتیٰ کہ اگر اسے پھانسی پر بھی چڑھنا پڑجائے تو وہ ٹھنڈے دل سے چڑھ جائے گا اور اس کو ذرا پچھتاوانہ ہوگا کہ میں نے کیوں نہ جھوٹے خدائوں کے آگے سرجھکا کر اپنی جان بچالی۔

دوسری شکل یہ ہے کہ پورا معاشرہ اِسی توحید کی نبیاد پر قائم ہو جائے اور اس میں اخلاق ‘ تمدّن‘ تہذیب ‘ تعلیم‘ مذہب ‘ قانون‘ رسم ورواج‘ سیاست‘ معیشت ‘ غرض ہر شعبۂ زندگی کے لیے وہ اصول اعتقاداً مان لیے جائیں اور عملاً رائج ہو جائیں جو خدا وندِعالم نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعے سے دیے ہیں۔ خدا کا دین جس کو گناہ کہتا ہے ‘ قانون اسی کو جرم قرار دے‘ حکومت کی انتظامی مشین اسی کو مٹانے کی کوشش کرے‘ تعلیم و تربیت اسی سے بچنے کے لیے ذہن اور کردار تیار کرے‘ منبر ومحراب سے اسی کے خلاف آواز بلند ہو‘ معاشرہ اسی کو معیوب ٹھیرائے اور معیشت کے ہر کاروبار میں وہ ممنوع ہو جائے۔ اسی طرح خدا کا دین جس چیز کو بھلائی اور نیکی قرار دے ‘ قانون اس کی حمایت کرے‘ انتظام کی طاقتیں اسے پروان چڑھانے میں لگ جائیں‘ تعلیم وتربیت کا    پورا نظام ذہنوں میں اس کو بٹھانے اور سیرتوں میں اسے رچا دینے کی کوشش کرے‘ منبر ومحراب  اسی کی تلقین کریں‘ معاشرہ اسی کی تعریف کرے اور اپنے عملی رسم رواج اُس پر قائم کر دے‘ اور کاروبارِ معیشت بھی اسی کے مطابق چلے۔ یہ وہ صورت ہے جس میں انسان کو کامل داخلی و خارجی اطمینان میسر آجاتا ہے اور مادی وروحانی ترقی کے تمام دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں‘ کیونکہ اس میں بندگی ٔ رب اور بندگی ٔ غیرکے تقاضوں کا تصادم قریب قریب ختم ہو جاتا ہے۔

اسلام کی دعوت اگرچہ ہر ہر فرد کو یہی ہے کہ خواہ دوسری صورت پیدا ہو یا نہ ہو‘ بہر حال   وہ توحید ہی کو اپنا دین بنالے اور تمام خطرات ومشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اللہ کی بندگی کرے۔لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام کا آخری مقصود یہی دوسری صورت پیدا کرناہے اور تمام انبیا علیہم السلام کی کوششوں کا مدعا یہی رہا ہے کہ ایک امتِ مسلمہ وجود میں آئے جو کفر اور کفار کے غلبے سے آزاد ہو کر من حیث الجماعت اللہ کے دین کی پیروی کرے۔ کوئی شخص جب تک قرآن و سنت سے ناواقف اور عقل سے بے بہرہ نہ ہو‘ یہ نہیں کہہ سکتا کہ انبیا علیہم السلام کی سعی وجہد کا مقصود صرف انفرادی ایمان و طاعت ہے‘ اور اجتماعی زندگی میں دین حق کو نافذو قائم کرنا سرے سے اس کا مقصد ہی نہیں رہا ہے…

[مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں]، یعنی ایک آقا کی غلامی اور بہت سے آقائوں کی غلامی کا فرق تو خوب سمجھ لیتے ہیں مگر ایک خدا کی بندگی اور بہت سے خدائوں کی بندگی کا فرق جب سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو نادان بن جاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن‘ ج۴‘ ص۳۶۹-۳۷۲)

اس کتاب [قرآن حکیم] کا لانے والا‘ ذاتی طور پر کس قسم کے اخلاق کا انسان تھا؟ اس سوال کے جواب میں‘ قرآن مجید نے دوسری رائج الوقت کتابوں کی طرح‘ اپنے لانے والے کی تعریف کے پُل نہیں باندھے ہیں‘ نہ آپؐ کی تعریف کو ایک مستقل موضوعِ گفتگو بنایا ہے۔ البتہ آمدِ سخن میں محض اشارتاً‘ آنحضرتؐ کی اخلاقی خصوصیات ظاہر کی ہیں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس وجودِ مسعودؐ میں کمالِ انسانیت کے بہترین خصائص موجود تھے۔

۱- اعلٰی اخلاق:  وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا‘اخلاق کے نہایت بلند مقام پر تھا:

وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم۶۸:۴)

اور اے محمدؐ! یقینا تم اخلاق کے بڑے درجے پر ہو۔

۲-  عزمِ راسخ :وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا‘ ایک ایسا راسخ العزم‘ مستقیم الارادہ اور اللہ پر ہر حال میں بھروسا رکھنے والا انسان تھا کہ جس وقت اس کی ساری قوم‘ اسے مٹا دینے پر آمادہ ہوگئی تھی اور وہ صرف ایک مددگار کے ساتھ‘ ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا‘ اُس سخت مصیبت کے وقت بھی اُس نے ہمت نہ ہاری اور اپنے عزم پر قائم رہا۔

اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْھُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا - (التوبہ ۹:۴۰)

یاد کرو جب کہ کافروں نے اس کو نکال دیا تھا‘ جب کہ وہ غار میں صرف ایک آدمی کے ساتھ تھا‘ جب کہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

۳-  فراخ حوصلہ: وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا‘ ایک نہایت فراخ حوصلہ اور فیاض انسان تھا جس نے اپنے بدترین دشمنوں کے لیے بھی بخشش کی دُعا کی اور آخر اللہ تعالیٰ کو اسے اپنا  یہ قطعی فیصلہ سنا دینا پڑا کہ وہ ان لوگوں کو نہیں بخشے گا:

اِسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَھُمْ - (التوبہ ۹:۸۰)

چاہے تم ان کے لیے معافی مانگو چاہے نہ مانگو‘ اگر تم ستّربار بھی ان کے لیے معافی مانگو گے‘ تب بھی اللہ ان کو معاف نہ کرے گا۔

۴- نـرم خُـو: وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کا مزاج نہایت نرم تھا۔ وہ کبھی کسی کے ساتھ درشتی سے پیش نہیں آتا تھا اور اسی لیے دنیا اس کی گرویدہ ہوگئی تھی:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَاَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ - (اٰل عمران ۳:۱۵۹)

یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان کے ساتھ نرم ہو‘ ورنہ اگر تم زبان کے تیز اور دل کے سخت ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چَھٹ کر الگ ہوجاتے۔

۵- دعوت کی تڑپ: وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا‘ بندگانِ خدا کو راہِ راست پر لانے کی سچی تڑپ‘ دل میں رکھتا تھا اور ان کے گمراہی پر اصرار کرنے سے‘ اُس کی روح کو صدمہ پہنچتا تھا‘ حتیٰ کہ وہ اُن کے غم میں گھلا جاتا تھا:

فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا - (الکھف۱۸:۶)

اے محمدؐ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم اُن کے پیچھے‘ رنج و غم میں اپنی جان کھو دو گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔

۶-  بہلائی کا حریص:  وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کو اپنی اُمت سے بے حد محبت تھی‘ وہ ان کی بھلائی کا حریص تھا‘ اُن کے نقصان میں پڑنے سے کُڑھتا تھا‘ اور ان کے حق میں سراپا شفقت و رحمت تھا:

لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ (التوبہ ۹:۱۲۸)

تمھارے پاس خود تم ہی میں سے ایک ایسا رسول آیا ہے جسے ہر وہ چیز شاق گزرتی ہے جو تمھیں نقصان پہنچانے والی ہو‘ جو تمھاری فلاح کا حریص ہے اور اہلِ ایمان کے ساتھ نہایت شفیق و رحیم ہے۔

۷-  رحمتِ عالم: وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا‘ صرف اپنی قوم ہی کے لیے نہیں‘ بلکہ تمام عالم کے لیے اللہ کی رحمت تھا:

وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ - (الانبیاء  ۲۱:۱۰۷)

اے محمدؐ! ہم نے تو تم کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

۸-  زھد و عبادت: وہ بتاتا ہے کہ اس کالانے والا راتوں کو گھنٹوں ‘اللہ کی عبادت کرتا اور خدا کی یاد میں کھڑا رہتا تھا:

اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ اللَّیْلِ وَنِصْفَہٗ وَثُلُثَہٗ - (المزمل۷۳:۲۰)

اے محمدؐ! تمھارا رب جانتا ہے کہ تم رات کو تقریباً دو تہائی حصے تک‘ اور کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی حصے تک نماز میں کھڑے رہتے ہو۔

۹-  صدق و ثبات: وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک سچا انسان تھا‘ نہ کبھی اپنی زندگی میں راہِ حق سے بھٹکا‘ نہ فاسد خیالات سے متاثر ہوا اور نہ کبھی اُس نے ایک لفظ خواہشِ نفس کی پیروی میں حق کے خلاف زبان سے نکالا:

مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی - (النجم۵۳:۲-۳)

لوگو! تمھارا صاحب نہ کبھی سیدھی راہ سے بھٹکا اور نہ صحیح خیالات سے بہکا اور نہ وہ خواہشِ نفس سے بولتا ہے۔

۱۰-  اسوۂ کامل: وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کی ذات ‘تمام عالم کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ تھی اور اس کی پوری زندگی کمالِ اخلاق کا صحیح معیار تھی:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ - (الاحزاب۳۳:۲۱)

تمھارے لیے رسولؐ اللہ کی ذات میں ایک اچھا نمونہ ہے۔

قرآن مجید کا تتبّع کرنے سے‘ صاحبِ قرآن کی بعض اور خصوصیات پر بھی روشنی پڑتی ہے لیکن اس مضمون میں تفصیل کی گنجایش نہیں۔ جو کوئی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ بخلاف دوسری موجود الوقت مذہبی کتابوں کے‘ یہ کتاب اپنے لانے والے کو جس رنگ میں پیش کرتی ہے وہ کس قدر صاف‘ واضح اور آلودگی سے پاک ہے۔ اس میں نہ اُلوہیّت کا کوئی شائبہ ہے‘ نہ تعریف و ثنا میں مبالغہ ہے‘ نہ غیر معمولی قوتیںآپ کی طرف منسوب کی گئی ہیں‘ نہ آپ کو خدا کے کاروبار میں شریک و سہیم بنایا گیا ہے‘اور نہ آپ کو ایسی کمزوریوں سے متہم کیا گیا ہے جو ایک ہادی اور داعی الی الحق کی شان سے گری ہوئی ہوں۔ اگر اسلامی لٹریچر کی دوسری تمام کتابیں‘ دنیا سے ناپید ہوجائیں اور صرف قرآن مجید ہی باقی رہ جائے‘ تب بھی رسول ؐاکرم کی شخصیت کے متعلق کسی غلط فہمی‘ کسی شک و شبہہ اور کسی لغزشِ عقیدت کی گنجایش نہیں نکل سکتی۔ ہم اچھی طرح معلوم کرسکتے ہیں کہ اس کتاب کا لانے والا ایک کامل انسان تھا‘ بہترین اخلاق سے متصف تھا‘ انبیاے سابقین کی تصدیق کرتا تھا‘ کسی نئے مذہب کا بانی نہ تھا اور کسی فوق البشر حیثیت کا مدعی نہ تھا۔ اس کی دعوت‘ تمام عالم کے لیے تھی‘ اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے چند مقرر خدمات پر مامور کیا گیا تھا اور جب اس نے خدمات کو پوری طرح انجام دے دیا‘ تو نبوت کا سلسلہ اس کی ذات پر ختم ہوگیا۔ (تفہیمات‘ حصہ دوم‘ ص ۳۵-۳۸)

 

 

ایک انتباہ!

سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد سید مودودی علیہ الرحمہ کے ایک اہم خطاب سے اقتباس۔ یومِ پاکستان پر یہ ایک انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ (ادارہ)

اسی شہر لاہور میں جس وقت مسلمانوں نے یہ طے کیا تھا کہ ہم ایک الگ خطۂ زمین حاصل کریں گے۔ اس وقت تمام متحدہ ہندستان کے مسلمانوں کا ارادہ یہ تھا کہ قطع نظر اس کے کہ وہ پاکستان میں شامل ہوسکیں یا نہ ہوسکیں‘ لیکن ایک خطۂ زمین ہندستان میں ایسا حاصل کیا جائے جس کے اندر اسلامی تہذیب کو زندہ کیا جائے‘ جس کے اندر اسلامی قوانین جاری ہوں‘ جس میں مسلمان اپنے نظریۂ حیات کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ یہ جذبہ جنوبی ہند کے آخری گوشوں سے لے کر شمالی اور مغربی ہندستان کے انتہائی گوشوں تک تمام مسلمانوں میں یکساں طور پر پایا جاتا تھا۔ اُن مسلمانوں میں بھی پایا جاتا تھا جن کو کبھی یہ توقع نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ کبھی پاکستان میں شامل ہوسکیں گے۔ اسی چیز کے نتیجے میں پاکستان بنا۔

اگر مسلمانوں میں مسلمان ہونے کا احساس تمام دوسرے احساسات پر غالب نہ ہوتا‘ اگر مسلمان اس بات کو بھول نہ گئے ہوتے کہ ہم مدراسی ہیں‘ پنجابی ہیں‘ بنگالی ہیں‘ گجراتی ہیں‘ پٹھان ہیں اور سندھی ہیں اور صرف ایک تصور ان کے اوپر غالب نہ ہوتا کہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کی حیثیت سے اس سرزمین میں جینا چاہتے ہیں تو پاکستان کبھی وجود میں نہیں آ سکتا تھا‘ بلکہ پاکستان کا تخیل سرے سے پیدا ہی نہیں ہو سکتا تھا۔

پاکستان کا تخیل ہمارے مسلمان ہونے کے احساس پر مبنی تھا۔ پاکستان کا تخیل ہمارے اس جذبے پر مبنی تھا کہ ہم اسلام کے مطابق زندگی بسر کریں گے۔ یہ عام مسلمانوں کے احساسات تھے۔ مجھے کچھ پتا نہیں کہ بڑے بڑے لیڈروں کے ارادے کیا تھے‘ اور ان کے احساسات کیا تھے؟ یہ بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ ہمارے کھاتے پیتے طبقوں کے احساسات کیا تھے؟ یہ بھی مَیں نہیں جانتا کہ جو لوگ ہمارے ہاں سرکاری ملازمتوں میں اُونچے مناصب پر تھے ان کے کیا خیالات تھے اور اس وقت وہ کیا سوچ رہے تھے‘ لیکن عام مسلمان یہی کچھ سوچ رہا تھا‘ اور اس نے یہی سمجھتے ہوئے اپنی جان و مال لٹائے کہ یہ سب کچھ غلبۂ اسلام کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس کو یقین تھاکہ ہندستان کے ہندو ان سے بدلہ لیے بغیر نہیں رہیں گے۔ ان کے خون کی ندیاں بہائیں گے‘ ان کی آبرو پر ہاتھ ڈالیں گے‘ ان کے مال برباد کریں گے‘ مگر اس کے باوجود انھوں نے اس خطرے کو مول لیا اور اس مملکت کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد کیا ایک دن کے لیے بھی یہاں اسلام کے لیے خلوص کے ساتھ کام کیا گیا۔ پوری تاریخ آپ کے سامنے ہے۔

پاکستان بننے کے بعد یہاں اسلام کو مملکت کی بِنا قرار دینے میں پس و پیش شروع کر دی گئی۔ بڑی جدوجہد اور مطالبوں کے بعد اگر قرارداد مقاصد پاس کی بھی گئی تو اس کی بنیاد پر اوّل تو دستور بنانے کے بعد بھی اس قرارداد کو محض ایک دیباچے کے طور پر اس میں شامل کیا گیا۔

اس کے ساتھ جس بات کی سب سے پہلے ضرورت تھی وہ یہ کہ نظامِ تعلیم کو تبدیل کیا جائے۔ طلبہ کے اندر اسلام کا فہم پیدا کیا جائے‘ ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے اس ملک کو اسلام کے مطابق چلا سکیں۔ لیکن اس چیز کی طرف بار بار توجہ دلانے کے باوجود اس کی کوئی فکر نہ کی گئی اور نظامِ تعلیم میں کوئی تغیر نہ کیا گیا۔ اسی طرح سے نشرواشاعت کے جو ذرائع موجود تھے جن سے لوگوں کی رائے تیار کی جاسکتی تھی‘ جن سے لوگوں کے ذہن اسلام کے مطابق بدلے جاسکتے تھے‘ ضرورت تھی کہ ان سے کام لے کر مسلمانوں کے اندر مسلمان ہونے کا جذبہ زیادہ سے زیادہ شدید کیاجائے۔ اس لیے کہ وہی ہماری مملکت کی بنیاد تھی اور ہے۔ اس کے مضبوط رہنے پر اس مملکت کو مضبوط رہنا ہے‘ اور اس کے کمزور ہونے پر اس مملکت کا کمزور ہونا منحصر ہے۔ لیکن اس چیز کی طرف بھی توجہ نہیں کی گئی‘ بلکہ اس کے بالکل برعکس نشرواشاعت کے تمام ذرائع کو اسلام سے لوگوں کو منحرف کرنے کے لیے استعمال کیا گیا اور ان کے ذریعے ہر طرح کے باطل خیالات اور نظریات پھیلائے گئے۔

تعلیم کے بعد جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت تھی وہ یہ کہ مسلمانوں کے اخلاق کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جاتی۔ کیونکہ ایک اسلامی مملکت کی بنیاد اسلامی فکر کے بعد اسلامی اخلاق ہے۔ اگر اسلامی فکر کے ساتھ اسلامی اخلاق موجود ہو تو ایک نہایت مضبوط و مستحکم مسلم مملکت تیار ہوسکتی ہے۔ لیکن نہ یہاں اسلامی فکر کو مضبوط کیا گیا اور نہ اسلامی اخلاق کو۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے اخلاق کو خراب کرنے کے لیے جو کچھ کیا جا سکتا تھا‘ وہ کیا گیا۔ مسلمانوں میں تقسیم سے قبل ناچ گانے کا وہ زور نہ تھا جو بعد میں ہوا۔ گویّے اور نچیّے تقسیم سے پہلے مسلمانوں کے ہیرو نہ تھے مگر تقسیم کے بعد [ان پیشوں سے وابستہ لوگ] ہمارے ہیرو قرار پائے۔ تقسیم کے بعد ملک کے دونوں حصوں کے درمیان جو ثقافتی وفود کا تبادلہ ہوتا تھا وہ ناچنے اور گانے والوں کا ہوا۔ گویا یہ تصور کیا گیا کہ ناچ اور گانے سے یہ مملکت قوی ہوگی ۔مسلمانوں میں شراب نوشی‘ بدکاری اور بے حیائی پھیلانے کے لیے جتنا کام انگریز نے ڈیڑھ سو برس کے اندر نہیں کیا تھا وہ ہمارے ہاں [چند] برس کے اندر کر ڈالا گیا۔ اس طرح سے ہمارے افکار کو اسلام سے منحرف کیا گیا۔ ہمارے اخلاق کو اسلام سے منحرف کیا گیا اور ہمارے اندر سے وہ تمام جڑیں کھودنے کی کوشش کی گئی جن کی بنا پر ہم مسلمان تھے اور مسلمان ہونے پر فخر کرتے تھے۔ جو تعلیم ہمیں دی جارہی تھی وہ لادینیت کی تعلیم تھی۔ اس کے اندر سب کچھ تھا مگر خدا نہ تھا۔ اس میں سب کچھ تھا مگر خدا کا رسولؐ اور خدا کی کتاب نہ تھی۔

لازمی طور پر اس ماحول میں جو ہماری نئی نسلیں اٹھیں‘ مشرقی پاکستان میں تھیں تو ان کے اندر بنگالیت کا احساس پیدا ہوا۔ مغربی پاکستان میں تھیں تو ان کے اندر پنجابی‘ سندھی‘ پٹھان اور بلوچی ہونے کا احساس اُبھرنا شروع ہوا۔ ظاہر بات ہے کہ جب مسلمان ہونے کا احساس دبے گا تو اس کے بعد اگر کوئی دوسرا احساس ہوسکتا ہے تو مقامی اور علاقائی قومیتوں کا احساس ہوسکتا ہے‘ اور وہی چیز پیدا ہوئی۔

بنگالی مسلمانوں میں بنگالی زبان‘ بنگالی تہذیب‘ بنگالی ثقافت‘ ساری کی ساری وہ پھیلائی گئی جو ان کو ہندوئوں کے ساتھ جوڑتی تھی‘ مسلمانوں سے الگ کرتی تھی۔ ان کے اسلامی احساسات کو زیادہ سے زیادہ فنا کرنے اور مٹانے کی کوشش کی گئی اور نتیجے میں ان کے اندر بنگالیت اور بنگالیت کے ساتھ ہندوئیت کے احساسات پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ آخرکار بنگالی مسلمان نوجوان اور ہندو نوجوان کے درمیان کوئی وجہ امتیاز باقی نہ رہی۔ نہ صرف مردوں میں بلکہ عورتوں میں جو عورتیں بھی نئی تعلیم پانے والی تھیں ان میں اور نئی تہذیب اختیار کرنے والی ہندو بنگالی عورت میں بظاہر کوئی فرق نظر نہ آتا تھا۔ وہی ان کی تہذیب‘ وہی ان کے تصورات اور وہی ان کا ناچ گانا....

آپ نے اس کا نتیجہ اب دیکھ لیا کہ آخرکار وہاں وہ تحریک اٹھی جس کے چلانے والے‘ جس کے لیڈر اور جس کے کارکن نہ صرف یہ کہ اسلام کے تصورات سے خالی تھے‘ نہ صرف یہ کہ اسلام سے منحرف تھے بلکہ ان کے اندر اسلام کے لیے چڑ پیدا ہوئی۔ وہ اسلام کا نام سننا گوارا نہیں کرتے تھے… ان کے اندر نفرت مغربی پاکستان کے خلاف اس حد تک پھیلی کہ آخرکار انھوں نے ارادہ کر لیا کہ چاہے کافروں سے بھی  مدد لینی پڑے لیکن ہم کو مغربی پاکستان سے الگ ہونا ہے۔ تاریخ میں بہت کم مثالیں آپ کو ایسی ملیں گی کہ مسلمانوں نے مسلمانوں سے لڑنے کے لیے کافروں سے مدد حاصل کی ہو۔ یہاں یہ مثال دیکھی گئی کہ مسلمان‘ بت پرستوں سے اس غرض کے لیے مدد لیتے ہیں کہ مسلمان مملکت سے الگ ہوں اور اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف لڑیں۔ اس طرح سے آخرکار مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا۔

ظاہر بات ہے کہ مشرقی پاکستان نہ فوج کی طاقت سے اور ہتھیاروں کی طاقت سے پاکستان میں شامل ہوا تھا اور نہ ان کی طاقت سے شامل رکھا جا سکتا تھا۔ وہ اگر شامل ہوا تھا تو اسلامی احساسات کی بنا پر‘ مسلمان ہونے کے جذبات کی بنا پر شامل ہوا تھا‘ اپنے ارادے سے شامل ہوا تھا‘ کسی نے اسے فتح کرکے شامل نہیں کیا تھا۔ اور آخرکار آپ نے اسلام سے اپنے انحراف کی بناپر ان کے اندر مسلمان ہونے کے احساس کو دبا دیا بلکہ مٹا دیا‘ تو ظاہر ہے کہ فوج کی طاقت سے ان کو مغربی پاکستان کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا تھا۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ پاکستان کی فوج کے مقابلے میں وہ نہیں لڑسکتے تو انھوں نے ہندستان کو دعوت دی‘ اس کی مدد حاصل کی اور اس کے ذریعے سے علیحدہ ہوگئے۔

اب اس کے بعد صرف مغربی پاکستان رہ گیا ہے جس کو ہندستان کے مقابلے میں تقریباً ایک اور گیارہ کی نسبت ہے‘ پہلے ایک اور پانچ کی نسبت تھی۔ اس خطے کے اندر بھی آپ دیکھیے کہ اسلام سے انحراف کے نتیجے میں کیا صورت پیدا ہوگی۔ اس خطے میں بھی چونکہ اسلامی تعلیم نہیں  دی گئی‘ نہ اسلامی اخلاق پیدا کیے گئے بلکہ اُلٹا اسلامی تصورات کو دبایا گیا اور غیراسلامی تصورات کو اُبھرنے کا موقع دیا گیا‘ اس لیے یہاں بھی الحاد‘ دہریت‘ سوشلزم اور دوسرے لادینی نظریات پھیلے اور اخلاقی اباحیت کو فروغ حاصل ہوا۔

اس کے نتیجے میں آپ دیکھیے یہاں پنجابی‘ پٹھان‘ سندھی اور بلوچی ہونے کے احساسات اُبھر رہے ہیں اور مسلمان ہونے کا احساس ختم ہو رہا ہے۔ اب اِس خطے کے ٹکڑے اڑتے نظرآرہے ہیں۔ اُس خطے کو بھی جمع کرکے رکھنے والی اگر کوئی چیز تھی تو وہ اسلام اور مسلمان ہونے کا احساس تھا۔ اگر اِس چیز کی اب فکر نہ کی گئی تو یہ بھی منتشر ہوجائے گا‘ اور پھر منتشر ہوجانے کے بعد اس کا کوئی حصہ بھی آزاد نہ رہے گا۔ یہ سب غلام بن جائیں گے اور یہ غلامی اس سے بدتر ہوگی جو تقسیم سے پہلے آپ کی غلامی تھی۔ (مولانا مودودی کی دو اہم تقاریر‘ مرکزی مجلسِ شوریٰ سے خطاب‘ ۱۲-۱۷ فروری ۱۹۷۲ئ‘ ص ۶-۱۰)

خالص علمی حیثیت سے ہم ان اسباب کا تجزیہ کرتے ہیں جن کی وجہ سے ’جہاد فی سبیل اللہ‘ کی حقیقت کو سمجھنا غیرمسلموں ہی کے لیے نہیں‘ خود مسلمانوں کے لیے بھی دشوار ہوگیا ہے تو ہمیں دو بڑی اور بنیادی غلط فہمیوںکا سراغ ملتا ہے۔

پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اسلام کو ان معنوں میں ایک مذہب سمجھ لیا گیا ہے جن میں یہ لفظ عموماً بولا جاتا ہے--- دوسری غلط فہمی یہ کہ مسلمانوں کو ان معنوں میں محض ایک قوم سمجھ لیا گیا ہے‘ جن میں یہ لفظ عموماً مستعمل ہے۔

ان دو غلط فہمیوں نے صرف ایک جہاد ہی کے مسئلے کو نہیں بلکہ مجموعی حیثیت سے پورے اسلام کے نقشے کو بدل ڈالا ہے اور مسلمانوں کی پوزیشن کلی طور پر غلط کر کے رکھ دی ہے۔

’مذہب‘کے معنی عام اصطلاح کے اعتبار سے بجز اس کے اور کیا ہیں کہ وہ چند عقائد اور عبادات اور مراسم کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے مذہب کو واقعی ایک پرائیویٹ معاملہ ہی ہونا چاہیے۔ آپ کو اختیار ہے کہ جو عقیدہ چاہیں رکھیں‘ اور آپ کا ضمیر جس کی عبادت کرنے پر راضی ہو اس کو جس طرح چاہیں پکاریں۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی جوش اور سرگرمی آپ کے اندر اس مذہب کے لیے موجود ہے تو آپ دنیا بھر میں اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے پھریئے اور دوسرے عقائد والوں سے مناظرے کیجیے۔ اس کے لیے تلوار ہاتھ میں پکڑنے کا کون سا موقع ہے؟ کیا آپ لوگوں کو مار مار کر اپنا ہم عقیدہ بنانا چاہتے ہیں؟ یہ سوال لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے‘ جب کہ آپ اسلام کو عام اصطلاح کی رو سے ایک’مذہب‘قرار دے لیں اور یہ پوزیشن اگر واقعی اسلام کی ہو تو جہاد کے لیے حقیقت میں کوئی وجۂ جواز ثابت نہیں کی جاسکتی۔

اسی طرح ’قوم‘ کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ وہ ایک متجانس گروہ اشخاص (Homogenous Group of Men) کا نام ہے۔ جو چند بنیادی امور میں مشترک ہونے کی وجہ سے باہم مجتمع اور دوسرے گروہوں سے ممتاز ہوگیا ہو۔ اس معنی میں جو گروہ ایک قوم ہو‘ وہ دو ہی وجوہ سے تلوار اٹھاتا ہے اور اٹھا سکتا ہے۔ یا تو اس کے جائز حقوق چھیننے کے لیے کوئی اس پر حملہ کرے‘ یا وہ خود دوسروں کے جائز حقوق چھیننے کے لیے حملہ آور ہو۔ پہلی صورت میں تو خیرتلوار اٹھانے کے لیے کچھ نہ کچھ اخلاقی جواز بھی موجود ہے (اگرچہ بعض دھرماتمائوں کے نزدیک یہ بھی ناجائز ہے) لیکن دوسری صورت کو تو بعض ڈکٹیٹروں کے سوا کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا‘ حتیٰ کہ برطانیہ اور فرانس جیسی وسیع سلطنتوں کے مدبرین بھی آج اس کو جائز کہنے کی جرأت نہیں رکھتے۔

جھاد کی حقیقت

پس اگر اسلام ایک ’مذہب‘ اور مسلمان ایک ’قوم‘ ہے تو جہاد کی ساری معنویت‘ جس کی بنا پر اسلام میں اسے افضل العبادات کہا گیا ہے‘ سرے سے ختم ہوجاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے  کہ اسلام کسی ’مذہب‘ کا اور ’مسلمان‘ کسی ’قوم‘ کا نام نہیں ہے۔ دراصل اسلام ایک انقلابی نظریہ و مسلک ہے جو تمام دنیا کے اجتماعی نظم (sanction) کو بدل کر اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق اسے تعمیر کرنا چاہتا ہے‘ اور مسلمان اس بین الاقوامی انقلابی جماعت (International Revolutionary Party) کا نام ہے جسے اسلام اپنے مطلوبہ انقلابی پروگرام کو عمل میں لانے کے لیے منظم کرتا ہے‘ اور جہاد اس انقلابی جدوجہد (Revolutionary Struggle) کا اور  اس انتہائی صرفِ طاقت کا نام ہے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اسلامی جماعت عمل میں لاتی ہے۔

تمام انقلابی مسلکوں کی طرح اسلام بھی عام مروج الفاظ کو چھوڑ کر اپنی ایک خاص اصطلاحی زبان (terminology) اختیار کرتا ہے تاکہ اس کے انقلابی تصورات عام تصورات سے ممتاز ہوسکیں۔ لفظ جہاد بھی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلام نے حرب اور اسی نوعیت کے دوسرے عربی الفاظ جو جنگ (war) کے مفہوم کو ادا کرتے ہیں قصداً ترک کردیے اور ان کی جگہ ’جہاد‘ کا لفظ استعمال کیا جو struggle کا ہم معنی ہے بلکہ اس سے زیادہ مبالغہ رکھتا ہے۔ انگریزی زبان میں اس کا صحیح مفہوم یوں ادا کیا جا سکتا ہے:

To exert one's utmost endeavour in furthering a cause

اپنی تمام طاقتیں کسی مقصد کی تحصیل میں صرف کر دینا۔

سوال یہ ہے کہ پرانے الفاظ کو چھوڑ کر یہ نیا لفظ کیوں اختیار کیا گیا؟ اس کا جواب بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ’جنگ‘ کا لفظ قوموں اور سلطنتوں کی ان لڑائیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا اور آج تک ہو رہا ہے جو اشخاص یا جماعتوں کی نفسانی اغراض کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ ان لڑائیوں کے محرک محض ایسے شخصی یا اجتماعی مقاصد ہوتے ہیں جن کے اندر کسی نظریے اور کسی اصول کی حمایت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ اسلام کی لڑائی چونکہ اس نوعیت کی نہیں ہے۔ اس لیے وہ سرے سے اس لفظ ہی کو ترک کردیتا ہے۔ اس کے پیشِ نظر ایک قوم کا مفاد یا دوسری قوم کا نقصان نہیں ہے وہ اس سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتا کہ زمین پر ایک سلطنت کا قبضہ رہے یا دوسری سلطنت کا‘ اس کی دل چسپی جس سے ہے‘ وہ انسانیت کی فلاح ہے۔ اس فلاح کے لیے وہ اپنا ایک خاص نظریہ اور ایک عملی مسلک رکھتا ہے۔ اس نظریے اور مسلک کے خلاف جہاں جس کی حکومت بھی ہے‘ اسلام اسے مٹانا چاہتا ہے قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی قوم ہو اور کوئی ملک ہو۔

اس کا مدعا اور اپنے نظریے اور مسلک کی حکومت قائم کرنا ہے بلالحاظ اس کے کہ کون اس کا جھنڈا لے کر اٹھتا ہے اور کس کی حکمرانی پر اس کی ضرب پڑنی ہے۔ وہ زمین مانگتا ہے--- زمین کا ایک حصہ نہیں بلکہ پورا کرئہ زمین--- اس لیے نہیں کہ ایک قوم یا بہت سی قوموں کے ہاتھ سے نکل کر زمین کی حکومت کسی خاص قوم کے ہاتھ میں آجائے‘ بلکہ صرف اس لیے کہ انسانیت کی فلاح کا جو نظریہ اور پروگرام اس کے پاس ہے‘ یا بالفاظِ صحیح تر یوں کہیے کہ فلاحِ انسانیت کے جس پروگرام کا نام ’اسلام‘ ہے‘ اس سے تمام نوعِ انسانی متمتع ہو۔ اس غرض کے لیے وہ تمام ان طاقتوں سے کام لینا چاہتا ہے جو انقلاب برپا کرنے کے لیے کارگر ہو سکتی ہیں‘ اور ان سب طاقتوںکے استعمال کا ایک جامع نام ’جہاد‘ رکھتا ہے۔ زبان و قلم کے زور سے لوگوں کے نقطۂ نظر کو بدلنا اور ان کے اندر ذہنی انقلاب پیدا کرنا بھی جہاد ہے ۔ تلوار کے زور سے پرانے ظالمانہ نظامِ زندگی کو بدل دینا اور نیا عادلانہ نظام مرتب کرنا بھی جہاد ہے‘ اور اس راہ میں مال صرف کرنا اور جسم سے دوڑ دھوپ کرنا بھی جہاد ہے۔

فی سبیل اللّٰہ کی لازمی قید

لیکن اسلام کا جہاد نرا ’جہاد‘ نہیں ہے ’جہاد فی سبیل اللہ‘ ہے۔ ’فی سبیل اللہ‘ کی قید اس کے ساتھ ایک لازمی قید ہے۔ یہ لفظ بھی اسلام کی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سے تعلق رکھتا ہے جس طرف ابھی میں اشارہ کر چکا ہوں۔ اس کا لفظی ترجمہ ہے ’راہِ خدا میں‘۔اس ترجمے سے   لوگ غلط فہمی میں پڑگئے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ زبردستی لوگو ں کو اسلام کے مذہبی عقائد کا پیرو بنانا    جہاد فی سبیل اللہ ہے‘ کیوں کہ لوگوں کے تنگ دماغوں میں ’راہِ خدا‘ کا کوئی مفہوم اس کے سوا نہیں سماسکتا۔ مگر اسلام کی زبان میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔

ہر وہ کام جو اجتماعی فلاح بہبود کے لیے کیا جائے اور جس کے کرنے والے کا مقصد اس سے خود کوئی دنیوی فائدہ اٹھانا نہ ہو بلکہ محض خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ہو‘ اسلام ایسے کام کو ’فی سبیل اللہ‘ قرار دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ خیرات دیتے ہیں‘ اس نیت سے کہ اسی دنیا میں مادی یا اخلاقی طور پر اس خیرات کا کوئی فائدہ آپ کی طرف پلٹ کر آئے تو یہ فی سبیل اللہ نہیں ہے۔ اور اگر خیرات سے آپ کی نیت یہ ہے  کہ ایک غریب انسان کی مدد کر کے آپ خدا کی خوشنودی حاصل کریں تو یہ فی سبیل اللہ ہے۔ پس یہ اصطلاح مخصوص ہے ایسے کاموں کے لیے جو کامل خلوص کے ساتھ‘ ہر قسم کی نفسانی اغراض سے پاک ہو کر‘ اس نظریے پر کیے جائیں کہ انسان کا دوسرے انسانوں کی فلاح کے لیے کام کرنا خدا کی خوشنودی کا موجب ہے‘ اور انسان کی زندگی کا نصب العین مالک کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

’جہاد‘ کے لیے بھی ’فی سبیل اللہ‘ کی قید اسی غرض کے لیے لگائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ جب نظامِ زندگی میں انقلاب برپا کرنے اور اسلامی نظریے کے مطابق  نیا نظام مرتب کرنے کے لیے اٹھے‘ تو اس قیام اور اس سربازی و جاں نثاری میں اس کی اپنی کوئی نفسانی غرض نہ ہو۔ اُس کا یہ مقصد ہرگز نہ ہو کہ قیصرکو ہٹا کر وہ خود قیصر بن جائے۔ اپنی ذات کے لیے مال و دولت‘ یا شہرت و نام وری‘ یا عزت و جاہ حاصل کرنے کا شائبہ تک اس کی جدوجہد کے مقاصد میں شامل نہ ہو۔ اس کی تمام قربانیوں اور ساری محنتوں کا مّدعا صرف یہ ہو کہ بندگانِ خدا کے درمیان ایک عادلانہ نظامِ زندگی قائم کیا جائے۔ اس کے معاوضے میں اسے خدا کی خوشنودی کے سوا کچھ بھی مطلوب نہ ہو۔ (اسلامی نظام اور اس کے بنیادی تصورات‘ ص ۲۴۰-۲۴۵)

قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں سید مودودی علیہ الرحمہ کی کتاب ہے جسے ان کی فکر میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس میں رب‘الٰہ‘ عبادت اور دین ان چار الفاظ کی لغوی تحقیق اور حقیقی مفہوم کی بنیاد پر کلامِ الٰہی میں اترنے کے لیے نئے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ اس کے مطالعے سے اسلام کا انقلابی تصور اجاگر ہوکر سامنے آتا ہے۔ آج جب اسلام پر مغرب کے حملوں کے دفاع میں بعض عناصر دین اور سیاست کے جداگانہ تصور کو پیش کر رہے ہیں‘ ہم مذکورہ کتاب سے ’’دین‘‘ کا باب پیش کررہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ قارئین مکمل کتاب کا مطالعہ کر کے اپنے علم کو تازہ کریںگے۔ (ادارہ)

الہ‘ رب‘ دین اور عبادت‘ یہ چار لفظ قرآن کی اصطلاحی زبان میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن کی ساری دعوت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا رب و الٰہ ہے‘ اس کے سوا نہ کوئی الٰہ ہے نہ رب‘اور نہ الوہیت و ربوبیت میں کوئی اس کا شریک ہے‘ لہٰذا اسی کواپنا الٰہ اور رب تسلیم کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی الہٰیّت و ربوبیت سے انکار کر دو‘ اس کی عبادت اختیار کرو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو‘ اس کے لیے اپنے دین کو خالص کر لو اور ہر دوسرے دین کو رَد کر دو…

اب یہ ظاہر بات ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھنے کے لیے ان چاروں اصطلاحوں کا صحیح اور مکمل مفہوم سمجھنا بالکل ناگزیر ہے۔ اگر کوئی شخص نہ جانتا ہو کہ الٰہ اور رب کا مطلب کیا ہے؟ عبادت کی کیا تعریف ہے؟ اور دین کسے کہتے ہیں؟ تو دراصل اس کے لیے پورا قرآن بے معنی ہوجائے گا۔ وہ نہ توحید کو جان سکے گا‘ نہ شرک کو سمجھ سکے گا‘ نہ عبادت کو اللہ کے لیے مخصوص کر سکے گا‘ اور نہ دین ہی اللہ کے لیے خالص کر سکے گا۔ اسی طرح اگر کسی کے ذہن میں ان اصلاحوں کا مفہوم غیر واضح اور نامکمل ہو تو اس کے لیے قرآن کی پوری تعلیم غیرواضح ہوگی اور قرآن پر ایمان رکھنے کے باوجود اس کا عقیدہ اور عمل دونوں نامکمل رہ جائیں گے۔ وہ لا الٰہ الا اللہ کہتا رہے گا اور اس کے باوجود بہت سے اربابٌ من دون اللّٰہ اس کے رب بنے رہیں گے۔ وہ پوری نیک نیتی کے ساتھ کہے گا کہ میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا‘ اور پھر بھی بہت سے معبودوں کی عبادت میں مشغول رہے گا۔ وہ پورے زور کے ساتھ کہے گا کہ میں اللہ کے دین میں ہوں‘ اور اگر کسی دوسرے دین کی طرف اسے منسوب کیا جائے تو لڑنے پر آمادہ ہوجائے گا۔ مگر اس کے باوجود بہت سے دینوں کا قلاوہ اس کی گردن میں پڑا رہے گا۔ اس کی زبان سے کسی غیراللہ کے لیے ’’الٰہ‘‘ اور ’’رب‘‘ کے الفاظ تو کبھی نہ نکلیں گے‘ مگر یہ الفاظ جن معانی کے لیے وضع کیے گئے ہیں ان کے لحاظ سے اس کے بہت سے الٰہ اور رب ہوں گے اور اس بیچارے کو خبر تک نہ ہوگی کہ میں نے واقعی اللہ کے سوا دوسرے ارباب و الٰہ بنا رکھے ہیں۔ اس کے سامنے اگر آپ کہہ دیں کہ تو دوسروں کی ’’عبادت‘‘ کر رہا ہے اور ’’دین‘‘ میں شرک کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ پتھر مارنے اور منہ نوچنے کو دوڑے گا مگر عبادت اور دین کی جو حقیقت ہے اس کے لحاظ سے واقعی وہ دوسروںکا عابداور دوسروں کے دین میں داخل ہوگا اور نہ جانے گا کہ یہ جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ حقیقت میں دوسروں کی عبادت ہے اور یہ حالت جس میں مبتلا ہوں یہ حقیقت میں غیراللہ کا دین ہے…

پس یہ حقیقت ہے کہ محض ان چار بنیادی اصطلاحوں کے مفہوم پر پردہ پڑ جانے کی بدولت قرآن کی تین چوتھائی سے زیادہ تعلیم‘ بلکہ اس کی رُوح نگاہوں سے مستور ہوگئی ہے‘ اور اسلام قبول کرنے کے باوجود لوگوں کے عقائدو اعمال میں جو نقائص نظر آرہے ہیں ان کا ایک بڑا سبب یہی ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کی مرکزی تعلیم اور اس کے حقیقی مدعا کو واضح کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان اصطلاحوں کی پوری پوری تشریح کی جائے۔(ص ۷-۱۳)

دین: لغوی تحقیق

کلامِ عرب میںلفظ دین مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے:

۱-  غلبہ و اقتدار‘ حکمرانی و فرمانروائی‘ دوسرے کو اطاعت پر مجبور کرنا‘ اس پر اپنی قوتِ قاہرہ (sovereinty) استعمال کرنا‘ اس کو اپنا غلام اور تابع امر بنانا۔ مثلاً کہتے ہیں دَانَ النَّاسَ، اَیْ قَھَرَھُمْ عَلَی الطَّاعَۃِ (یعنی لوگوں کو اطاعت پر مجبور کیا)۔ دِنْتُھُمْ فَدَانُوْا اَیْ قَھَرْتُھُمْ فَاَطَاعُوْا (یعنی میں نے ان کو مغلوب کیا اور وہ مطیع ہوگئے) دِنْتُ الْقُوْمَ اَیْ ذَلَّلْتُھُمْ وَاسْتَعْبَدْتُّھُمْ (میں نے فلاں گروہ کو مسخرکرلیا اور غلام بنالیا) دَانَ الرَّجُلُ اِذَا عَزَّ (فلاں شخص عزت اور طاقت والا ہوگیا) دِنْتُ الرَّجُلَ حَمَلْتُہٗ عَلٰی مَا یَکْرَہُ۔ (میں نے اس کو ایسے کام پر مجبور کیا جس کے لیے وہ راضی نہ تھا)۔ دِیْنَ فَلانٌ - اِذَا حَمَلَ عَلٰی مَکْرَوْہٍ (فلاں شخص اس کام کے لیے بزور مجبور کیا گیا)۔ دَنْتُہٗ اَیْ سُسْتُہٗ وَمَلَکْتُہٗ (یعنی میں نے اس پر حکم چلایا اور فرمانروائی کی) دَیَّنْتُہُ الْقَوْمَ وَلَّیْتُہٗ سَیَاسَتَھُمْ (یعنی میں نے لوگوں کی سیاست و حکمرانی فلاں شخص کے سپرد کردی) اسی معنی میں حطیّہ اپنی ماں کو خطاب کر کے کہتا ہے    ؎

لَقَدْ دَیَّنْتِ اَمْرَ بَنِیْکِ حَتّٰی

تَرَکْتِھِمْ اَدَقَّ مِنَ الطَّحِیْنِ

تو اپنے بچوں کے معاملات کی نگراں بنائی گئی تھی۔ آخرکار تو نے انھیں آٹے سے بھی زیادہ باریک کر کے چھوڑا۔

حدیث میں آتا ہے: اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمُوْتِ ، یعنی   عقل مند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو مغلوب کر لیا اور وہ کام کیا جو اس کی آخرت کے لیے نافع ہو۔ اسی معنی کے لحاظ سے دیّان اس کو کہتے ہیںجو کسی ملک یا قوم یا قبیلے پر غالب و قاہر ہو اور اس پر فرماں روائی کرے۔ چنانچہ اعشی الحرمازی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے کہتا ہے: یَاسَیِّدَ النَّاسِ وَدَیَّانَ الْعَرَبِ۔ اور اسی لحاظ سے مَدْیَنْ کے معنی غلام اور مَدِیْنَہ کے معنی لونڈی‘ اور ابن مدینہ کے معنی لونڈی زادے کے آتے ہیں۔ اخطل کہتا ہے ربت وربانی حجرھا ابن مدینۃ۔ اور قرآن کہتا ہے:

فَلَوْلَآ اِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْـنِیْنَ o تَرْجِعُوْنَھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ o  (الواقعہ: ۵۶: ۸۶-۸۷)

یعنی اگر تم کسی کے مملوک ‘ تابع‘ ماتحت نہیں ہو تو مرنے والے کو موت سے بچا کیوں نہیں لیتے؟ جان کو واپس کیوں نہیں پلٹا لاتے؟

۲-  اطاعت‘ بندگی‘ خدمت‘ کسی کے لیے مسخر ہوجانا‘ کسی کے تحتِ امر ہونا‘ کسی کے غلبہ و قہر سے دب کر اس کے مقابلے میں ذلّت قبول کرلینا۔ چنانچہ کہتے ہیں: دِنْتُھُمْ فَدَانُوْا اَیْ قَھَرْتُھُمْ فَاَطَاعُوْا (یعنی میں نے ان کو مغلوب کرلیا اور وہ لوگ مطیع ہوگئے) دِنْتُ الرَّجَلَ، ای خَدِمْتُہُ (یعنی میں نے فلاں شخص کی خدمت کی) حدیث میں آتا ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: اُرِیْدُ مِنْ قُرَیْشٍ کَلِمَۃً تَدِیْنُ لَھُمْ بِھَا الْعَرَبُ اَیْ تُطِیْعُھُمْ وَتَخْضَعُ لَھُمْ (میں قریش کو ایک ایسے کلمے کا پیرو بنانا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اسے مان لیں تو تمام عرب اُن کا تابع فرمان بن جائے اور اُن کے آگے جھک جائے)۔ اسی معنی کے لحاظ سے اطاعت شعار قوم کو قومِ دیّن کہتے ہیں۔ اور اس معنی میں دین کا لفظ حدیثِ خوارج میں استعمال کیا گیا ہے‘ یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیّۃ-۱؎

۳-  شریعت‘ قانون‘ طریقہ‘ کیش و ملت‘ رسم وعادت۔ مثلاً کہتے ہیں: مَازَالَ ذٰلِکَ دِیْنِیْ وَوَیْدَنِیْ ، یعنی یہ ہمیشہ سے میرا طریقہ رہا ہے۔ یُقَالُ دَانَ ’ اِذَا اعْتَادَ خَیْرًا وَشَرًّا، یعنی آدمی خواہ بُرے طریقہ کا پابند ہو یا بھلے طریقہ کا‘ دونوں صورتوں میں اس طریقے کو جس کا    وہ پابند ہے دین کہیں گے۔ حدیث میں ہے: کَانَتْ قُرَیْشٌ وَمَنْ دَانَ بِدِیْنِھِمْ، ’’قریش اور وہ لوگ جو اُن کے مسلک کے پیرو تھے‘‘۔ اور حدیث میں ہے اِنَّہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ عَلٰی دِیْنِ قَوْمِہٖ-نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے۔ یعنی نکاح‘ طلاق میراث اور دوسرے تمدّنی و معاشرتی امور میں انھی قاعدوں اور ضابطوں کے پابند تھے جو اپنی قوم میں رائج تھے۔

۴-  اجزاء عمل‘ بدلہ ‘ مکانات‘ فیصلہ‘ محاسبہ۔ چنانچہ عربی میں مثل ہے: کمَا تدین تدان، یعنی جیسا تو کرے گا ویسا بھرے گا۔ قرآن میں کفار کا یہ قول نقل فرمایا گیا ہے: اَئِ نَّا لَمَدِیْنُوْنَ ’’کیا مرنے کے بعد ہم سے حساب لیا جانے والا ہے اور ہمیں بدلہ ملنے والا ہے‘‘۔ عبداللہ ابن عمرؓ کی حدیث میں آتا ہے: لَا تَسُبُّوا السُّلْطٰنَ فَاِنْ کَانَ لَا بُدَّ فَقُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ دِنْھُمْ کمَا یدینون، ’’اپنے حکمرانوں کو گالیاں نہ دو۔ اگر کچھ کہنا ہی ہو  تو یوں کہو کہ خدایا جیسا یہ ہمارے ساتھ کر رہے ہیں ویسا ہی تو ان کے ساتھ کر‘‘۔ اسی معنی میںلفظ دیّان بمعنی قاضی و حاکمِ عدالت آتا ہے۔ چنانچہ کسی بزرگ سے جب حضرت علیؓ کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا : کان دیان ھذہ الامّۃ بعد نبیّھا،’’ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ اُمت کے سب سے بڑے قاضی تھے‘‘۔

قرآن میں لفظ دین کا استعمال

ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لفظ دین کی بنیاد میں چار تصورات ہیں‘ یا بالفاظِ دیگر یہ لفظ عربی ذہن میں چار بنیادی تصورات کی ترجمانی کرتا ہے:

۱-  غلبہ و تسلط‘ کسی ذی اقتدار کی طرف سے‘

۲- اطاعت ‘ تعبد اور بندگی صاحب ِ اقتدار کے آگے جھک جانے والے کی طرف سے‘

۳- قاعدہ و ضابطہ اور طریقہ جس کی پابندی کی جائے‘

۴- محاسبہ اور فیصلہ اور جزا و سزا۔

انھی تصورات میں سے کبھی ایک کے لیے اور کبھی دوسرے کے لیے اہلِ عرب مختلف طور پر اس لفظ کو استعمال کرتے تھے‘ مگر چونکہ ان چاروں امور کے متعلق عرب کے تصورات پوری طرح صاف نہ تھے اور کچھ بہت زیادہ بلندبھی نہ تھے۔ اس لیے اس لفظ کے استعمال میں ابہام پایا جاتا تھا اور یہ کسی باقاعدہ نظامِ فکر کا اصطلاحی لفظ نہ بن سکا۔ قرآن آیا تو اس نے اس لفظ کو اپنے منشا کے لیے مناسب پاکر بالکل واضح و متعین مفہومات کے لیے استعمال کیا اور اس کو اپنی مخصوص اصطلاح بنالیا۔ قرآنی زبان میںلفظ دین ایک پورے نظام کی نمایندگی کرتا ہے جس کی ترکیب چار اجزا سے ہوتی ہے:

۱- حاکمیت و اقتدارِ اعلیٰ‘

۲- حاکمیت کے مقابلہ میں تسلیم و اطاعت‘

۳- وہ نظامِ فکروعمل جو اس حاکمیت کے زیرِاثر بنے‘

۴- مکافات جو اقتدارِ اعلیٰ کی طرف سے اس نظام کی وفاداری و اطاعت کے صلے میں یا سرکشی و بغاوت کی پاداش میں دی جائے۔

قرآن کبھی لفظ دین کا اطلاق معنی ٔ اوّل و دوم پر کرتا ہے‘ کبھی معنی ٔ سوم پر‘ کبھی معنی ٔچہارم پر اور کہیں الدین بول کر یہ پورا نظام اپنے چاروں اجزا سمیت مراد لیتا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے حسب ذیل آیاتِ قرآنی ملاحظہ ہوں:

دین بمعنی غلبہ و تسلط اور اطاعت و بندگی

اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآئَ بِنَـآئً وَّصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَتَبٰـرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ - ھُوَ الْحَیُّ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَط اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (المومن ۴۰: ۶۴-۶۵)

وہ اللہ جس نے تمھارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس پر آسمان کا قبہ چھایا‘ جس نے تمھاری صورتیں بنائیں‘ جس نے پاکیزہ چیزوں سے تم کو رزق بہم پہنچایا‘ وہی اللہ تمھارا رب ہے اور بڑی برکتوں والا ہے‘ وہ رب العالمین ہے‘ وہی زندہ ہے‘ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہٰذا تم اسی کو پکارو‘ دین کو اسی کے لیے خاص کر کے‘ تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔

قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ … قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہُ دِیْنِیْ o فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ … وَالَّذِیْنَ اجْتَنَـبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَاَنَابُوْٓا اِلَی اللّٰہِ لَھُمُ الْبُشْرٰی - (الزمر ۳۹: ۱۱-۱۷)

کہو‘ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خاص کر کے اسی کی بندگی کروں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود سرِاطاعت جھکائوں… کہو میں تو دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کی بندگی کروں گا۔ تم کو اختیار ہے اس کے سوا جس کی چاہو بندگی اختیار کرتے پھرو۔ اور جو لوگ طاغوت کی بندگی کرنے سے پرہیز کریں اور اللہ ہی کی طرف رجوع کریں۔ ان کے لیے خوش خبری ہے۔

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَo  اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ - (الزمر  ۳۹: ۲-۳)

’’ہم نے تمھاری طرف کتاب برحق نازل کر دی ہے لہٰذا تم دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے صرف اسی کی بندگی کرو۔ خبردار! دین خالصتاً اللہ ہی کے لیے ہے۔

وَلَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَہُ الدِّیْنُ وَاصِبًا ، اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَتَّقُوْنَ (النحل ۱۶: ۵۲)

زمین اورآسمانوں میں جو کچھ ہے اللہ کے لیے ہے اور دین خالصتاً اسی کے لیے ہے۔ پھر کیا اللہ کے سوا تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے؟ (یعنی کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہے جس کے حکم کی خلاف ورزی سے تم بچو گے اور جس کی ناراضی سے تم ڈرو گے؟)

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَـہٓٗ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ( اٰل عمرٰن۳:۸۳)

کیا یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کادین چاہتے ہیں ؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چار و ناچار اللہ ہی کی مطیعِ فرمان ہیں اور اسی کی طرف ان کو پلٹ کر جانا ہے۔

وَمَآ اُمِرُوْآ اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَـآئَ (البینہ ۹۸:۵)

اور ان کو اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ یکسو ہوکر دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کریں۔

ان تمام آیات میں دین کا لفظ اقتدارِاعلیٰ اور اُس اقتدارکو تسلیم کرکے اُس کی اطاعت و بندگی قبول کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ کے لیے دین کو خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی حاکمیت‘ فرمانروائی‘ حکمرانی اللہ کے سوا کسی کی تسلیم نہ کرے‘ اور اپنی اطاعت و بندگی کو اللہ کے لیے اس طرح خالص کر دے کہ کسی دوسرے کی مستقل بالذّات بندگی و اطاعت اللہ کی اطاعت کے ساتھ شریک نہ کرے۔۲؎

دین بمعنی قانون و شریعت اور نظامِ فکروعمل

قُلْ یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ اَعْبُدُ اللّٰہَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ              مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ o وَاَنْ اَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ- (یونس ۱۰:۱۰۴-۱۰۵)

کہو کہ اے لوگو! اگر تم کو میرے دین کے بارے میں کچھ شک ہے (یعنی اگر تم کو صاف معلوم ہوتا ہے کہ میرا دین کیا ہے) تو لو سنو! میں ان کی بندگی و عبادت نہیں کرتا جن کی بندگی و اطاعت تم اللہ کو چھوڑ کر کر رہے ہو‘ بلکہ میں اس کی بندگی کرتا ہوں جو تمھاری روحیں قبض کرتا ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوجائوں جو اسی کے ماننے والے ہیں‘ اور یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ تو یکسو ہوکر اسی دین پر اپنے آپ کو قائم کر دے اور شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔

اِنِ الْحُکْمُ  اِلاَّ  لِلّٰہِط اَمَرَ  اَلاَّ  تَعْبُدُوْٓا  اِلَّا ٓ اِیَّاہُط  ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ-(یوسف۱۲:۴۰)

حکمرانی اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا فرمان ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو‘ یہی ٹھیک ٹھیک صحیح دین ہے۔

وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوْنَ … ضَرَبَ لَکُمْ مَّثَـلًا مِّنْ اَنْفُسِکُمْط ھَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ شُرَکَـآئَ فِیْ مَا رَزَقْنٰکُمْ فَاَنْتُمْ فِیْہِ سَوَآئٌ تَخَافُوْنَھُمْ کَخِیْفَتِکُمْ اَنْفُسَکُمْط … بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَھْوَآئَ ھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ … فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاط فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا ط لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (الروم ۳۰:۲۶-۳۰)

زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اسی کے مطیعِ فرمان ہیں… وہ تمھیں سمجھانے کے لیے خود تمھارے اپنے معاملہ سے ایک مثال پیش کرتا ہے۔ بتائو یہ غلام تمھارے مملوک ہیں؟ کیا ان میں سے کوئی ان چیزوں میں جو ہم نے تمھیں دی ہیں تمھارا شریک ہے؟ کیا تم انھیں اس مال کی ملکیت میں اپنے برابر حصہ دار بناتے ہو۔ کیا تم ان سے اپنے ہم چشموں کی طرح ڈرتے ہو؟… سچی بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ علم کے بغیر محض اپنے تخیلات کے پیچھے چلے جارہے ہیں… پس تم یکسو ہوکر اپنے آپ کو اس دین پر قائم کر دو۔ اللہ نے جس فطرت پر انسانوں کو پیدا کیا ہے اسی کو اختیار کرو۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلا نہ جائے۔۳؎ یہی ٹھیک ٹھیک صحیح دین ہے۔ مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں۔

اَلزَّانِیْۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ (النور ۲۴:۲)

زانی اور زانیہ دونوں کو سو سو کوڑے مارو اور اللہ کے دین کے معاملہ میں تم کو ان پر رحم نہ آئے۔

اِنَّ  عِـدَّۃَ  الشُّھُوْرِ  عِنْدَ  اللّٰہِ  اثْـنَا  عَـــشَرَ  شَـــھْرًا  فِــیْ  کِــتَابِ اللّٰہِ یَـوْمَ  خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط  ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ-(التوبہ ۹:۳۶)

اللہ کے نوشتے میں تو اس وقت سے مہینوں کی تعداد ۱۲ ہی چلی آتی ہے۔ جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ ان بارہ مہینوں میں سے ۴ مہینے حرام ہیں۔ یہی ٹھیک ٹھیک صحیح دین ہے۔

کَذَالِکَ کِــدْنَا لِــیُوْسُفَ مَــا کَـانَ لِیَأْخُذَ  اَخَــاہُ  فِـیْ دِیْنِ الْــمَلِکِ (یوسف ۱۲:۷۶)

اس طرح ہم نے یوسف ؑ کے لیے تدبیر نکالی۔ اس کے لیے جائز نہ تھا کہ اس بادشاہ کے دین میں اپنے بھائی کو پکڑتا۔

وَکَذٰالِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِھِمْ شُرَکَـآؤُھُمْ لِیُرْدُوْھُمْ وَلِیَلْبِسُوْا عَلَیْھِمْ دِیْنَھُمْ ط  (انعام ۶:۱۳۷)

اور اس طرح بہت سے مشرکین کے لیے ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں۴؎ نے اپنی اولاد کے قتل کو ایک خوش آیند فعل بنا دیا تاکہ انھیں ہلاکت میں ڈالیں اور ان کے لیے ان کے دین کو مشتبہ بنائیں۔۵؎

اَمْ لَـھُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَـھُمْ مِّـنَ الـدِّیْنِ مَالَمْ یَـاْذَنْم بِـہِ اللّٰہُ ط (الشوریٰ ۴۲:۲۱)

کیا انھوں نے کچھ شریک ٹھہرا رکھے ہیں جو ان کے لیے دین کی قسم سے ایسے قوانین بناتے ہیں جن کا اللہ نے اذن نہیں دیا ہے؟

لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ  (الکافرون۱۰۹: ۶ )

تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین۔

ان سب آیات میں دین سے مراد قانون‘ ضابطہ‘ شریعت‘ طریقہ اور وہ نظامِ فکروعمل ہے جس کی پابندی میں انسان زندگی بسر کرتا ہے۔ اگر وہ اقتدار جس کی سند پر کسی ضابطہ و نظام کی پابندی کی جاتی ہے۔ خدا کا اقتدار ہے تو آدمی دین خدا میں ہے ۔ اگر وہ کسی بادشاہ کا اقتدار ہے تو آدمی دین بادشاہ میں ہے۔ اگر وہ پنڈتوں اور پروہتوں کا اقتدار ہے تو آدمی انھی کے دین میں ہے۔ اور اگر وہ خاندان‘ برادری‘ یا جمہورِ قوم کا اقتدار ہے تو آدمی ان کے دین میں ہے۔ غرض جس کی سند کو آخری سند اور جس کے فیصلے کو منتہاے کلام مان کر آدمی کسی طریقے پر چلتا ہے اسی کے دین کا وہ پیرو ہے۔

دین بمعنی محاسبہ اور جزا و سزا

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ o وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ o (الذاریات ۵۱:۶)

وہ خبر جس سے تمھیں آگاہ کیا جاتا ہے (یعنی زندگی بعد موت) یقینا سچی ہے اور دین یقینا ہونے والا ہے۔

اَرَ ئَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ o فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ o وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنٍ o  (الماعون ۱۰۷ : ۱-۳)

تم نے دیکھا اس شخص کو جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اُکساتا۔

وَمَآ اَدْرٰکَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ o ثُمَّ مَآ اَدْرٰکَ مَا یَـوْمُ الدِّیْنِ o یَـوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًاط وَالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ - (انفطار ۸۲: ۱۷-۱۹)

تمھیں کیا خبر کہ یوم الدین کیا ہے۔ ہاں تم کیا جانو کیا ہے یوم الدین۔ وہ دن ہے کہ جب کسی متنفس کے اختیار میں کچھ نہ ہوگا کہ دوسرے کے کام آسکے‘ اس روز سب اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔

ان آیات میں دین بمعنی محاسبہ و فیصلہ و جزائے اعمال استعمال ہوا ہے۔

دین ایک جامع اصطلاح

یہاں تک تو قرآن اس لفظ کو قریب قریب انھی مفہومات میں استعمال کرتا ہے جن میں یہ اہلِ عرب کی بول چال میں مستعمل تھا لیکن اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لفظ دین کو ایک جامع اصطلاح کی حیثیت سے استعمال کرتا اور اس سے ایک ایسا نظامِ زندگی مراد لیتا ہے جس میں انسان کسی کا اقتدارِ اعلیٰ تسلیم کر کے اس کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کرلے‘ اس کے حدود و ضوابط اور قوانین کے تحت زندگی بسر کرے‘ اس کی فرمانبرداری پر عزت‘ ترقی اور انعام کا امیدوار ہو اور اس کی نافرمانی پر ذلّت و خواری اور سزا سے ڈرے۔ غالباً دنیا کی کسی زبان میں کوئی اصطلاح ایسی جامع نہیں ہے جو اس پورے نظام پر حاوی ہو۔ موجودہ زمانے کا لفظ ’’اسٹیٹ‘‘ کسی حد تک اس کے قریب پہنچ گیا ہے۔ لیکن ابھی اس کو ’’دین‘‘ کے پورے معنوی حدود پر حاوی ہونے کے لیے مزید وسعت درکار ہے۔

حسبِ ذیل آیات میں ’’دین‘‘ اِسی اصطلاح کی حیثیت سے استعمال ہوا ہے:

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صَاغِرُوْنَ - (توبہ۹:۲۹)

اہلِ کتاب میں سے جو لوگ نہ اللہ کو مانتے ہیں (یعنی اس کو واحد مقتدراعلیٰ تسلیم نہیں کرتے) نہ یومِ آخرت (یعنی یوم الحساب اور یوم الجزائ) کو مانتے ہیں نہ ان چیزوں کو حرام مانتے ہیں جنھیں اللہ اور اس کے رسولؐ نے حرام قرار دیا ہے‘ اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور چھوٹے بن کر رہیں۔

اس آیت میں ’’دین حق‘‘ اصطلاحی لفظ ہے جس کے مفہوم کی تشریح واضح اصطلاح جل شانہ نے پہلے تین فقروں میں خود کو دی ہے۔ ہم نے ترجمہ میں نمبر لگا کر واضح کر دیا ہے کہ لفظ دین کے چاروں مفہوم ان فقروں میں بیان کیے گئے ہیں اور پھر ان کے مجموعے کو ’’دین حق‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْیَدْعُ رَبَّہٗ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَن یُّـبَدِّلَ دِیْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْھِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ (المومن۴۰: ۲۶)

فرعون نے کہا چھوڑو مجھے ‘ میں اس موسٰی ؑ کو قتل ہی کیے دیتا ہوں اور اب پکارے وہ اپنے رب کو۔ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ تمھارا دین نہ بدل دے‘ یا ملک میں فساد نہ کھڑا کر دے۔

قرآن میں قصۂ فرعون و موسیٰ کی جتنی تفصیلات آئی ہیں ان کو نظر میں رکھنے کے بعد اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ یہاں دین مجرد ’’مذہب‘‘ کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ ریاست اور نظامِ تمدن کے معنی میں آیا ہے۔ فرعون کا کہنا یہ تھا کہ اگر موسیٰ اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے تو اسٹیٹ بدل جائے گا۔ جو نظامِ زندگی اس وقت فراعنہ کی حاکمیت اور رائج الوقت قوانین و رسوم کی بنیادوں پر چل رہا ہے وہ جڑ سے اکھڑ جائے گا اور اس کی جگہ یا تو دوسرا نظام بالکل دوسری ہی بنیادوں پر قائم ہوگا‘ یا نہیں تو سرے سے کوئی نظام قائم ہی نہ ہوسکے گا بلکہ تمام ملک میں بدنظمی پھیل جائے گی۔

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ (اٰل عمرٰن ۳:۱۹)

اللہ کے نزدیک دین تو دراصل ’’اسلام‘‘ ہے۔

وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ - (اٰل عمرٰن ۳:۸۵)

اور جو ’’اسلام‘‘ کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا اس سے وہ دین ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔

ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ - (التوبہ ۹:۳۳)

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولوں کو صحیح رہنمائی اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کردے اگرچہ شرک کرنے والوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔

وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ - (انفال ۸:۳۹)

اور تم ان سے لڑے جائو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین بالکلیہ اللہ ہی کا ہوجائے۔

اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ o وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا o فَسَبِّحْ بِحَـمْدِ رَبِّکَ وَاسْـتَغْفِرْہُط اِنَّـہٗ کَانَ تَـوَّابـًا o (النصر ۱۱۰:۱-۳)

جب اللہ کی مدد آگئی اور فتح نصیب ہوچکی اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اب اپنے رب کی حمد وثنا اور اس سے درگزر کی درخواست کرو‘ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔

ان سب آیات میں دین سے پورا نظامِ زندگی اپنے تمام اعتقادی‘ نظری‘ اخلاقی اور عملی پہلوئوں سمیت مراد ہے۔

پہلی دو آیتوں میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان کے لیے صحیح نظامِ زندگی صرف وہ ہے جو خود اللہ ہی کی اطاعت و بندگی (اسلام) پر مبنی ہو۔ اس کے سوا کوئی دوسرا نظام‘ جس کی بنیاد کسی دوسرے مفروضہ اقتدار کی اطاعت پر ہو‘ مالکِ کائنات کے ہاںہرگز مقبول نہیں ہے‘ اور فطرۃً نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ انسان جس کا مخلوق‘ مملوک اور پروردہ ہے‘ اور جس کے ملک میں رعیت کی حیثیت سے رہتا ہے‘ وہ تو کبھی یہ نہیں مان سکتا کہ انسان خود اس کے سواکسی دوسرے اقتدار کی بندگی و اطاعت میں زندگی گزارنے اور کسی دوسرے کی ہدایات پر چلنے کا حق رکھتا ہے۔

تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اسی صحیح و برحق نظامِ زندگی‘ یعنی اسلام کے ساتھ بھیجا ہے اور اس کے مشن کی غایت یہ ہے کہ اس نظام کو تمام دوسرے نظاموں پر غالب کر کے رہے۔

چوتھی آیت میں دین اسلام کے پیروئوں کو حکم دیا گیا ہے کہ دنیا سے لڑو اور اس وقت تک دم نہ لو جب تک فتنہ‘ یعنی اُن نظامات کا وجود دنیا سے مٹ نہ جائے جن کی بنیاد خدا سے بغاوت پر قائم ہے اور پورا نظامِ اطاعت و بندگی اللہ کے لیے خالص نہ ہوجائے۔

پانچویں آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موقع پر خطاب کیا گیا ہے جب کہ ۲۳سال کی مسلسل جدوجہد سے عرب میں انقلاب کی تکمیل ہوچکی تھی‘ اسلام اپنی پوری تفصیلی صورت میں ایک اعتقادی و فکری‘ اخلاقی وتعلیمی‘ تمدنی و معاشرتی اور معاشی و سیاسی نظام کی حیثیت سے عملاً قائم ہوگیا تھا‘ اور عرب کے مختلف گوشوں سے وفد پر وفد آکر اس نظام کے دائرے میں داخل ہونے لگے تھے۔ اس طرح جب وہ کام تکمیل کو پہنچ گیا جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیا گیا تھا تو آپؐ سے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کارنامے کو اپنا کارنامہ سمجھ کر کہیں فخر نہ کرنے لگنا‘ نقص سے پاک بے عیب ذات اور کامل ذات صرف تمھارے رب ہی کی ہے‘ لہٰذا اس کارِعظیم کی انجام دہی پر اس کی تسبیح اور حمدوثنا کرو اور اس ذات سے درخواست کرو کہ مالک! اس ۲۳ سال کے زمانۂ خدمت میں اپنے فرائض ادا کرنے میں جو خامیاں اور کوتاہیاں مجھ سے سرزد ہوگئی ہوں انھیں معاف فرما دے۔ (ص ۱۲۱-۱۳۶)


حواشی

۱؎  اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خوارج دین بمعنی ملت سے نکل جائیں گے کیونکہ حضرت علیؓ سے جب ان کے متعلق پوچھا گیا: اَکُفّارٌھُمْ کیا یہ لوگ کافر ہیں؟ تو آپؓ نے فرمایا: من الکفر فروا، کفر ہی سے   تو وہ بھاگے ہیں۔ پھر پوچھا گیا: افمنافقون ھم، کیا یہ منافق ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: منافق تو خدا کو کم یاد کرتے ہیں اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ شب و روز اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اسی پر یہ متعین ہوتا ہے کہ اس حدیث میں دین سے مراد اطاعتِ امام ہے۔ چنانچہ ابن اثیر نے نہایہ میں اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں: اراد بالدین الطاعۃ ، ای انھم یخرجون من طاعۃ الامام المفترض الطاعۃ وینسلخون منھا، جلد۲‘ ص ۴۱-۴۲)

۲؎  یعنی اللہ کے سوا جس کی اطاعت بھی ہو اللہ کی اطاعت کے تحت اور اُس کے مقرر کردہ حدود کے اندر ہو۔ بیٹے کا باپ کی اطاعت کرنا‘ بیوی کا شوہر کی اطاعت کرنا‘ غلام یا نوکر کا آقا کی اطاعت کرنا اور اسی نوع کی دوسری تمام اطاعتیں اگر اللہ کے حکم کی بنا پر ہوں اور ان حدود کے اندر ہوں جو اللہ نے مقرر کردی ہیں تو یہ عین اطاعتِ الٰہی ہیں۔ اور اگر وہ اس سے آزاد ہوں‘ یا بالفاظِ دیگر بجاے خود مستقل اطاعتیں ہوں‘ تو یہی عین بغاوت ہیں۔ حکومت اگر اللہ کے قانون پر مبنی ہے اور اس کا حکم جاری کرتی ہے تو اس کی اطاعت فرض ہے اور اگر ایسی نہیں ہے تو اس کی اطاعت جُرم۔

۳؎  یعنی اللہ نے جس ساخت پر انسان کو پیدا کیا ہے وہ تو یہی ہے کہ انسان کی تخلیق میں‘ اس کی رزق رسانی میں‘ اس کی ربوبیت میں خود اللہ کے سوا کوئی دوسرا شریک نہیں ہے‘ نہ اللہ کے سوا کوئی اس کا خدا ہے‘ نہ مالک اور نہ مطاعِ حقیقی۔ پس خالص فطری طریقہ یہ ہے کہ آدمی بس اللہ کا بندہ ہو اور کسی کا بندہ نہ ہو۔

۴؎  شریک س مراد ہے خداوندی وفرماں روائی میں اور قانون بنانے میں خدا کا شریک ہونا۔

۵؎  دین کو مشتبہ بنانے سے مطلب یہ ہے کہ جھوٹے شریعت ساز اس گناہ کو ایسا خوش نما بنا کر پیش کرتے ہیں جس سے عرب کے لوگ اس شبہہ میں پڑ گئے ہیں کہ شاید یہ فعل بھی اس دین کا ایک جز ہے جو ان کو ابتداًء حضرت ابراہیم و اسماعیل سے ملا تھا۔

دنیا میں جہاں جو خرابی بھی پائی جاتی ہے اُس کی جڑ صرف ایک چیز ہے‘ اور وہ ہے اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت تسلیم کرنا۔ یہی اُمُّ الخبائث ہے۔ یہی اصل بِس کی گانٹھ ہے۔ اِسی سے وہ شجرِخبیث پیدا ہوتا ہے جس کی شاخیں پھیل پھیل کر انسانوں پر مصیبتوں کے زہریلے پھل ٹپکاتی ہیں۔ یہ جڑ جب تک باقی ہے‘ آپ شاخوں کی جتنی چاہیں قطع و برید کرلیں‘ بجز اِس کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا کہ ایک طرف سے مصائب کا نزول بند ہو جائے اور دوسری طرف سے شروع ہو جائے۔

ڈکٹیٹرشپ یا مطلق العنان بادشاہی کو مٹایا جائے گا توحاصل کیا ہوگا؟ یہی نا کہ ایک انسان یا ایک خاندان خدائی کے مقام سے ہٹ جائے گا اور اس کی جگہ پارلیمنٹ خدا بن جائے گی۔ مگر کیا فی الواقع اس طریقے سے انسانیت کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے؟ کیا ظلم اور بغی اور فساد فی الارض سے وہ جگہ خالی ہے جہاں پارلیمنٹ کی خدائی ہے؟

امپریلزم کا خاتمہ کیا جائے گا تو اس کا حاصل کیا ہوگا؟ بس یہی کہ ایک قوم پر سے دوسری قوم کی خدائی اُتر جائے گی۔ مگر کیا واقعی اس کے بعد زمین پر امن اور خوش حالی کا دَور شروع ہوجاتا ہے؟ کیا وہاںانسان کو چین نصیب ہے جہاں قوم آپ اپنی خدا بنی ہوئی ہے؟

سرمایہ داری کا استیصال ہوجائے گا تو اس سے کیا نتیجہ برآمد ہوگا؟ صرف یہ کہ محنت پیشہ عوام مال دار طبقوں کی خدائی سے آزاد ہو کر خود اپنے بنائے ہوئے خدائوں کے بندے بن جائیں گے۔ مگر کیا اس سے حقیقت میں آزادی‘ عدل‘ اور امن کی نعمتیں انسان کو حاصل ہوجاتی ہیں؟ کیا انسان کو وہاں یہ نعمتیں حاصل ہیں جہاں مزدوروں کے اپنے بنائے ہوئے خدا حکومت کر رہے ہیں؟

اللہ کی حاکمیت سے منہ موڑنے والے زیادہ سے زیادہ بہتر نصب العین جو پیش کرسکتے ہیں وہ بیش ازیں نیست کہ دنیا میں مکمل جمہوریت قائم ہوجائے‘ یعنی لوگ اپنی بھلائی کے لیے آپ اپنے حاکم ہوں۔ لیکن قطع نظر اس سے کہ یہ حالت واقعی دنیا میں رونما ہوبھی سکتی ہے یا نہیں(تجربات شاہد ہیں کہ حقیقی جمہوریت آج تک دنیا میں کبھی قائم نہیں ہوسکی اور عقلی دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ہونا عملاً محال ہے)‘ غور طلب سوال یہ ہے کہ ایسی حالت اگر رونما ہوجائے تو کیا اُس فرضی جنت میں انسان خود اپنے نفس کے شیطان‘ یعنی اُس جاہل اور نادان ’’خدا‘‘ کی بندگی سے بھی آزاد ہوجائے گا جس کے پاس خدائی کرنے کے لیے علم‘ حکمت‘ عدل‘ راستی کچھ بھی نہیں‘ صرف خواہشات ہی خواہشات ہیں‘ اور وہ بھی اندھی اور جابرانہ خواہشات۔

غرض دنیا کے مختلف گوشوں میں انسانی مصائب اور پریشانیوں کے جتنے حل بھی سوچے جارہے ہیں ان سب کا خلاصہ بس اتنا ہی ہے کہ خدائی یا حاکمیت بعض انسانوں سے سلب ہوکر بعض دوسرے انسانوں کی طرف منتقل ہوجائے۔ اور یہ مصیبت کا ازالہ نہیں ہے بلکہ صرف اُس کا اِمالہ ہے۔ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ سیلابِ بَلااب تک جس راستے سے آتا رہا ہے اُدھر سے نہ آئے بلکہ دوسرے راستہ سے آئے۔ اِس کو اگر حل کہا جا سکتا ہے تو یہ ایسا ہی حل ہے جیسے دق کی بیماری کو سرطان سے تبدیل کر لیا۔ اگر مقصود محض دِق کو دُور کرنا تھا تو بے شک آپ کامیاب ہوئے‘ لیکن اگر اصل مقصد جان بچانا تھا تو ایک پیامِ اجل کو دوسرے پیکِ اجل سے تبدیل کرکے آپ نے کوئی بھی کامیابی حاصل نہ کی۔

خواہ ایک انسان دوسرے کا خدا بنے‘ یا دوسرے کی خدائی تسلیم کرے‘ یا آپ اپنا خدا بن جائے‘ بہرحال ان تمام صورتوں میں تباہی اور خسران کا اصل سبب جوں کا توں باقی رہتا ہے۔ کیونکہ جو فی الواقع بادشاہ نہیں ہے وہ اگر بادشاہ بن بیٹھے‘ جو حقیقت میں بندہ اور غلام ہے۔ وہ اگر اپنے آپ کو خواجگی و خداوندی کے مقام پر متمکن سمجھ لے‘ جو دراصل ذمہ دار اور مسئول رعیت ہے وہ اگر غیرذمہ دار اور خودمختار حاکم بن کر کام کرنے لگے‘ تو اِس اِدّعا کی اور ایسے اِدّعا کو تسلیم کرنے کی حقیقت ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہ ہوگی۔ اصلیت جو کچھ ہے وہ تو بہرحال وہی کی وہی رہے گی۔حقیقت میں تو جو خدا ہے وہ خدا ہی رہے گا اور جو بندہ ہے وہ بندہ ہی رہے گا۔ مگر جب بندہ اس عظیم الشان بنیادی غلط فہمی پر اپنی زندگی کی ساری عمارت اٹھائے گا کہ وہ خود حاکمِ اعلیٰ ہے یا کوئی دوسرا بندہ اِس کا حاکمِ اعلیٰ ہے‘ اور جب وہ یہ سمجھ کر کام کرے گا کہ اس سے بالاترکوئی حاکم نہیں ہے جس کے سامنے وہ جواب دہ ہو اور اپنے امرونہی میں جس کی رضا لینے کا محتاج ہو‘ تو یقینا اس کی زندگی کی عمارت ازسرتاپا غلط ہوکر رہ جائے گی اور اس میں راستی و صحت کو تلاش کرنا حماقت کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

یہ بات آخر کس طرح انسان کی عقل قبول کر لیتی ہے کہ خلق کسی کی ہو اور امر کسی اور کا ہو؟ پیدا کرنے اور پالنے والا کوئی ہو اورحکم کسی اور کا چلے؟ ملک کسی کا ہو اور بادشاہت کسی اور کی ہو؟

جس نے انسان کو بنایا‘ جس نے انسان کے لیے زمین کی قیام گاہ بنائی‘ جو اپنی ہوا‘ اپنے پانی‘ اپنی روشنی اور حرارت‘ اور اپنے پیدا کیے ہوئے سامانوں سے انسان کی پرورش کر رہا ہے‘ جس کی قدرت انسان کا اور اُس پوری زمین کا‘ جس میں انسان رہتا ہے‘ احاطہ کیے ہوئے ہے‘ اور جس کے حیطۂ قدرت سے انسان کسی حال میں نکل ہی نہیں سکتا‘ عقل اور فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ وہی انسان کا اور اس زمین کا مالک ہو‘ وہی خدا اور رب ہو‘ اور وہی بادشاہ اور حاکم بھی ہو۔ اُس کی بنائی ہوئی دنیا میں خود اُس کے سوا اور کس کو حکومت و فرمانروائی کا حق پہنچتا ہے؟ کس طرح ایک مملوک یہ کہنے کا حق دار ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے مملوکوں کا مالک ہے؟ صانع اور پروردگار کے سوا اپنی مصنوعات اور اپنے پروردوں کی ملکیت اور کس کے لیے جائز ہوسکتی ہے؟ کون اتنی قدرت رکھتاہے‘ کس کے پاس اتنا علم ہے‘ کس کا یہ ظرف ہے کہ اس سلطنت میں فرمانروائی کرسکے؟ اگر انسان اس سلطنت کے اصلی سلطان کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتا اور اُس کے سوا کسی دوسرے کی حاکمیت مانتا ہے‘ یا خود اپنی حاکمیت کا اِدّعا کرتا ہے تو یہ صریح واقعہ کے خلاف ہے‘ بنیادی طور پر غلط ہے‘ ایک عظیم الشان جھوٹ ہے۔ سب سے زیادہ سفید جھوٹ‘ ایساجھوٹ جس کی تردید زمین و آسمان کی ہر شے ہر وقت کر رہی ہے۔ ایسے بے بنیاد دعوے اور ایسی غلط تسلیم و اطاعت سے حقیقتِ نفس الامری میں ذرّہ برابر بھی فرق واقع نہیں ہوتا۔ جو مالک ہے وہ مالک ہی رہے گا‘ جو بادشاہ اور حاکم ہے وہ بادشاہ اور حاکم ہی رہے گا‘ البتہ خود اُس انسان کی زندگی ازسرتاپا غلط ہوکر رہ جائے گی جو واقعہ کے خلاف دوسرے کی حاکمیت تسلیم کرکے‘ یا خود اپنی حاکمیت کا مدّعی بن کر کام کرے گا۔ حقیقت اِس کی محتاج نہیں ہے کہ تم اس کا ادراک کرو تب ہی وہ حقیقت ہو۔ نہیں! تم خود اس کے محتاج ہو کہ اس کی معرفت حاصل کر کے اپنی سعی و عمل کو اس کے مطابق بنائو۔ اگر تم حقیقت کو محسوس نہیں کرتے اور کسی غلط چیز کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہو تو اس میں نقصان تمھارا اپنا ہے۔ تمھاری غلط فہمی سے حقیقت میں کوئی تغیر رونما نہیں ہو سکتا۔

ظاہر ہے کہ جس چیز کی بنیاد ہی سرے سے غلط ہو اس کو جزوی ترمیمات اور فروعی اصلاحات سے کبھی درست نہیں کیا جاسکتا۔ ایک جھوٹ کے ہٹ جانے اور اس کی جگہ دوسرے جھوٹ کے آجانے سے حقیقت میں کوئی فرق بھی واقع نہیں ہوتا۔ اس قسم کی تبدیلی سے طفل تسلی تو ہوسکتی ہے مگر غیرحق پر زندگی کی عمارت قائم کرنے کا جو نقصان ایک صورت میں تھا وہی دوسری صورت میں بھی علیٰ حالہٖ باقی رہتا ہے۔

اس نقصان کو دُور کرنے اور انسانی زندگی کو حقیقی فلاح سے ہمکنار کرنے کی کوئی صورت اِس کے سوا نہیں ہے کہ غیراللہ کی حاکمیت سے کلیتاً انکار کیا جائے اور اُس کی حاکمیت تسلیم کی جائے جو فی الواقع مالک الملک ہے۔ ہر اُس نظامِ حکومت کو ردّ کر دیا جائے جو انسانی اقتدارِ اعلیٰ کے باطل نظریات پر قائم ہو اور صرف اُس نظامِ حکومت کو قبول کیا جائے جس میں اقتدارِ اعلیٰ اُسی کا ہو جو فی الحقیقت مقتدرِ اعلیٰ ہے۔ ہر اُس حکومت کے حق حکمرانی کو ماننے سے انکار کر دیا جائے جس میں انسان بذاتِ خود حاکم اور صاحبِ امرونہی ہونے کا مدّعی ہو‘اور صرف اُس حکومت کو جائز قرار دیا جائے جس میں انسان اصلی اور حقیقی حاکم کے ماتحت خلیفہ ہونے کی حیثیت قبول کرے۔ یہ بنیادی اصلاح جب تک نہ ہوگی‘ جب تک انسان کی حاکمیت‘ خواہ وہ کسی شکل اور کسی نوعیت کی ہو‘  جڑ پیڑ سے اُکھاڑ کر نہ پھینک دی جائے گی‘ اور جب تک انسانی حاکمیت کے غیر واقعی تصور کی جگہ خلافتِ الٰہی کا واقعی (realistic) تصور نہ لے لے گا‘اُس وقت تک انسانی تمدّن کی بگڑی ہوئی کَل کبھی درست نہ ہوسکے گی‘ چاہے سرمایہ داری کی جگہ اشتراکیت قائم ہوجائے‘ یا ڈکٹیٹرشپ کی جگہ جمہوریت متمکن ہوجائے‘ یا امپریلزم کی جگہ قوموں کی حکومت ِخود اختیاری کا قاعدہ نافذ ہو جائے۔

صرف خلافت ہی کا نظریہ انسان کو امن دے سکتا ہے‘ اُسی سے ظلم مٹ سکتا ہے اور عدل قائم ہو سکتا ہے‘ اور اسی کو اختیار کرکے انسان اپنی قوتوں کا صحیح مصرف اور اپنی سعی و جہد کا صحیح رخ پاسکتا ہے۔ ربُّ العالمین اور عالم الغیب والشہادۃ کے سوا اور کوئی انسان تمدّن و عمران کے لیے ایسے اصول اور حدود تجویز کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا جو بے لاگ ہوں‘ جن میں جانب داری‘ تعصب اور خودغرضی کا شائبہ تک نہ ہو‘ جو ٹھیک ٹھیک عدل پر قائم ہوں‘ جن میں تمام انسانوں کے مفاد اور حقوق کا یکساں لحاظ کیا گیا ہو‘ جو گمان و قیاس پر نہیں بلکہ حقائق فطرت کے یقینی علم پر مبنی ہوں۔ ایسے ضابطے کی نعمتوں سے انسان صرف اسی طرح بہرہ ور ہو سکتا ہے کہ وہ خود صاحبِ مراد اور قانون ساز بننے کے زعم سے دست بردار ہو جائے‘ خدا پر اور اس کے بھیجے ہوئے قانونِ زندگی پر ایمان لائے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس رکھتے ہوئے اُس ضابطے کو دنیا میں قائم کرے۔

اسلام انسانی زندگی میں یہی بنیادی اصلاح کرنے آیا ہے۔ اس کو کسی ایک قوم سے   دل چسپی اور کسی دوسری قوم سے عداوت نہیں ہے کہ ایک کو چڑھانا اور دوسری کوگرانا اُس کا مقصود ہو‘ بلکہ اُسے تمام نوعِ انسانی کی فلاح و سعادت مطلوب ہے جس کے لیے وہ ایک عالمگیر کلیہ و ضابطہ پیش کرتا ہے۔ وہ ایک تنگ زاویہ سے کسی خاص ملک یا کسی خاص گروہِ انسانی کو نہیں دیکھتا بلکہ وسیع نظر سے تمام روے زمین کو اُس کے تمام باشندوں سمیت دیکھتا ہے‘ اور چھوٹے چھوٹے وقتی حوادث و مسائل سے بالاتر ہوکر اُن اصولی و بنیادی مسائل کی طرف توجہ کرتا ہے جن کے حل ہوجانے سے تمام زمانوں اور تمام حالات و مقامات میں سارے فروعی و ضمنی مسائل آپ سے آپ حل ہو جاتے ہیں۔ اسے ظلم کی شاخوں اور فساد کی فروعی شکلوں سے بحث نہیں ہے کہ آج ایک جگہ ایک شاخ کو کاٹنے پر زور صرف کرے اور کل دوسری جگہ کسی دوسری شاخ سے طبع آزمائی کرنے لگے‘ بلکہ وہ ظلم کی جڑ اور فساد کے سرچشمے پر براہ راست حملہ کرتا ہے تاکہ اِن شاخوں کی پیدایش ہی بند ہو جائے اور جگہ جگہ آئے دن کی کاٹ چھانٹ کا جھگڑا ہی باقی نہ رہے۔

یہ چھوٹے چھوٹے ضمنی مسائل جن میں آج دنیا کی مختلف قومیں اور جماعتیں الجھ رہی ہیں‘ مثلاً یورپ میں ہٹلر کا طغیانِ ناز‘ یا حبش میں اٹلی کا فساد‘ یا چین میں جاپان کا ظلم‘ یا ایشیا و افریقہ میں برطانیہ و فرانس کی قیصریت‘ ] اسی طرح موجودہ عالمی مسائل کو قیاس کرلیجیے[ اسلام کی نگاہ میں اِن کی اور ایسے تمام مسائل کی کوئی اہمیت نہیں۔ اُس کی نگاہ میں ایک ہی سوال اہمیت رکھتا ہے۔ وہ تمام دنیا سے پوچھتا ہے:

ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ (یوسف۱۲:۳۹)

متفرق چھوٹے چھوٹے خدائوں کی بندگی اچھی ہے یا اُس ایک اللہ کی جو سب پر غلبہ و تسلّط رکھتا ہے۔

جو لوگ پہلی صورت کے پسند کرنے والے ہیں اسلام اُن سب کو ایک سمجھتا ہے‘ خواہ وہ آپس میں کتنے ہی مختلف شعبوں میں بٹے ہوئے ہوں۔ اُن کی ایک دوسرے کے خلاف جدوجہد‘ اسلام کی نظر میں ایک فساد کے خلاف دوسرے فساد کی جدوجہد ہے۔ ان میں سے کسی کی دشمنی بھی نفسِ فساد سے نہیں ہے بلکہ فساد کی کسی خاص شاخ سے ہے اور اس لیے ہے کہ جس فساد کا جھنڈا ایک فریق نے بلند کر رکھا ہے‘ وہ سرنگوں ہو اور اُس کی جگہ وہ فساد سربلند ہو جس کا جھنڈا دوسرا فریق اُٹھائے ہوئے ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے فریقین میں سے کسی کے ساتھ بھی اُس کا اشتراکِ عمل نہیں ہو سکتا جو اصل فساد کا دشمن ہو۔ اُس کے لیے تو ایک جھوٹے رب کے پرستاروں اور دوسرے جھوٹے رب کے بندوں میں ترجیح کا سوال ہی نہیں۔ اس کی تو بیک وقت سب سے لڑائی ہے۔ وہ تو اپنا سارا زور صرف ایک ہی مقصد پر صرف کرے گا اور وہ یہ ہے کہ انسان کو متفرق غیرحقیقی ربوں اور الٰہوں کی بندگی سے نکالا جائے اور اُس اللہ واحد قہار کی حاکمیت تسلیم کرائی جائے جو فی الحقیقت رَبُّ النَّاس، مَلِکَ النَّاس اور اِلٰہُ النَّاس ہے۔

لفظ ’’مسلمان‘‘ اگر کوئی بے معنی لفظ ہے اور محض علم کے طور پر انسانوں کے کسی گروہ کے لیے استعمال ہونے لگا ہے‘ تب تو مسلمانوں کو پوری آزادی حاصل ہونی چاہیے کہ اپنی زندگی کے لیے جو مقصد چاہیں قرار دے لیں اور جن طریقوں پر چاہیں کام کریں۔ لیکن اگر یہ لفظ اُن لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جنھوں نے اسلام کو بطورِ مسلک و مشرب قبول کیا ہے تو یقینا مسلمانوں کے لیے کوئی نظریہ‘ کوئی مقصد اور کوئی طریق کار اسلام کے نظریہ‘ مقصد اور طریق کار کے سوا نہیں ہو سکتا۔ غیر اسلامی نظریہ اور پالیسی اختیار کرنے کے لیے حالاتِ زمانہ اور مقتضیاتِ وقت کا بہانہ کوئی بہانہ نہیں ہے۔ مسلمان جہاں جس ماحول میں بھی ہوں گے ان کو وقتی حوادث اور مقامی حالات و معاملات سے بہرحال سابقہ پیش ہی آئے گا۔ پھر وہ اسلام آخر کس کا اسلام ہے جس کا اتباع صرف مخصوص حالات ہی میں کیا جائے اور جب حالات دگرگوں ہوں تو اسے چھوڑ کر   حسبِ سہولت کوئی دوسرا نظریہ اختیار کر لیا جائے؟

دراصل تمام مختلف حالات میںاسلام کے اساسی نظریہ اور بنیادی مقصد کے مطابق طرزِعمل اختیار کرنا ہی مسلمان ہونا ہے‘ ورنہ اگر مسلمان ہر حادثے اور ہر حال کو ایک جداگانہ  نقطۂ نظر سے دیکھنے لگیں اور ہمیشہ موقع و محل دیکھ کر ایک نئی پالیسی وضع کر لیا کریں جس کو اسلام کے نظریہ و مقصد سے کوئی لگائو نہ ہو تو ایسے مسلمان ہونے میں اور نامسلمان ہونے میں قطعاً کوئی فرق نہیں۔ ایک مسلک کی پیروی کے معنی ہی یہ ہیں کہ آپ جس حال میں بھی ہوں آپ کا   نقطۂ نظر اور طریق کار اُس مسلک کے مطابق ہو جس کے آپ پیرو ہیں۔ ایک مسلمان‘ سچا مسلمان اُسی وقت ہوسکتا ہے‘ جب کہ وہ زندگی کے تمام جزئی معاملات اور وقتی حوادث میں اسلامی نقطۂ نظر اور اسلامی طریقہ اختیار کرے ‘ جو مسلمان کسی موقع و محل میں اسلامی پہلو چھوڑ کر غیر اسلامی پہلو اختیار کرتا ہے اور یہ عذر پیش کرتا ہے کہ اِس موقع اور اِس محل میں تو مجھے غیراسلامی طریقے ہی پر کام کرلینے دو‘ بعد میں جب حالات سازگار ہوجائیں گے تو مسلمان بن کر کام کرنے لگوں گا‘وہ دراصل یہ ظاہر کرتا ہے کہ یا تو اسلام کو وہ بجاے خود کوئی ایسا ہمہ گیر    نظامِ زندگی ہی نہیں سمجھتا جو زندگی کے ہر معاملے اور زمانے کی ہر گردش پر یکساں حاوی ہوسکتا ہو‘ یا پھر اس کا ذہن اسلام کے سانچے میں پوری طرح نہیں ڈھلا ہے جس کی وجہ سے اس میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ اسلام کے کلُیات کو جزئی حوادث پر منطبق کرسکے اور یہ سمجھ سکے کہ مختلف احوال میں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کی پالیسی کیا ہونی چاہیے۔…

تمام مسلمانوں کو جان لینا چاہیے کہ بحیثیت ایک مسلم جماعت ہونے کے ہمارا تعلق اُس تحریک سے ہے جس کے رہبر و رہنما انبیا علیہم السلام تھے۔ ہر تحریک کا ایک خاص نظامِ فکر اور ایک خاص طریق کار ہوتا ہے۔ اسلام کا نظامِ فکر اور طریق کار وہ ہے جو ہم کو انبیا علیہم السلام کی سیرتوں میں ملتا ہے۔ ہم خواہ کسی ملک اور کسی زمانہ میں ہوں‘ اور ہمارے گردوپیش زندگی کے مسائل و معاملات خواہ کسی نوعیت کے ہوں‘ ہمارے لیے مقصد و نصب العین وہی ہے جو انبیا کا تھا‘ اور اس منزل تک پہنچنے کا راستہ وہی ہے جس پر انبیا ہر زمانے میں چلتے رہے۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہ (الانعام ۶:۹۰)’’وہی لوگ تھے جن کی اللہ نے رہنمائی کی تھی‘  لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کرو‘‘۔ ہمیں زندگی کے سارے معاملات کو اُسی نظر سے دیکھنا چاہیے جس سے اُنھوں نے دیکھا۔ ہمارا معیارِ قدر وہی ہونا چاہیے جو اُن کا تھا۔ اور ہماری اجتماعی پالیسی اُنھی خطوط پر قائم ہونی چاہیے جن پر انھوں نے قائم کی تھی۔ اس مسلک کو چھوڑ کر اگر ہم کسی دوسرے مسلک کا نظریہ اور طرزِعمل اختیار کریں گے تو گمراہ ہو جائیں گے۔ یہ بات ہمارے مرتبے سے فروتر ہے کہ ہم اُس تنگ زاویے سے معاملاتِ دنیا پر نگاہ ڈالیں جس سے ایک قوم پرست‘ یا ایک جمہوریت پسند‘یا ایک اشتراکی ان کو دیکھتا ہے۔ جو چیزیںان کے لیے بلند ترین منتہاے نظر ہیں وہ ہمارے لیے اتنی پست ہیں کہ ادنیٰ التفات کی بھی مستحق نہیں۔ اگر ہم ان کے سے رنگ ڈھنگ اختیار کریں گے‘ انھی کی زبان میں باتیں کریں گے‘ اور اُنھی گھٹیا درجے کے مقاصد پرزور دیں گے جن پر وہ فریفتہ ہیں‘ تو اپنی وقعت کو ہم خود ہی خاک میں ملا دیں گے۔ شیر اگر بکری کی سی بولی بولنے لگے اور بُزغالوں کی طرح گھاس پر ٹوٹ پڑے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جنگل کی بادشاہی سے وہ آپ ہی دست بردار ہوگیا۔ اب وہ اس کی توقع کیسے کر سکتا ہے کہ جنگل کے لوگ اس کی وہ حیثیت تسلیم کریں گے جو شیر کی ہونی چاہیے؟

… خدا نے ہمیں اس سے بہت اونچا منصب دیا ہے۔ ہمارا منصب یہ ہے کہ ہم کھڑے ہو کر تمام دنیا سے غیراللہ کی حاکمیت مٹادیں اور خدا کے بندوں پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت باقی نہ رہنے دیں۔ یہ شیر کا منصب ہے اور اس منصب کو ادا کرنے کے لیے کسی قسم کی خارجی شرائط درکار نہیں ہیں‘ بلکہ صرف شیر کا دل درکار ہے۔ وہ شیر‘ شیر نہیں ہے جو اگر پنجرے میں بند ہو تو بکری کی طرح مِمیانے لگے‘ اور شیر وہ بھی نہیں جو بکریوں کی کثرت تعداد کو دیکھ کر یا بھیڑیوں کی چیرہ دستی دیکھ کر اپنی شیریّت بھول جائے۔ (انتخاب: تحریکِ آزادی ہند اور مسلمان‘ حصہ دوم‘ ص ۹۴-۱۰۸)

خُذِ الْعَفْوَوَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَo وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِط اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌo اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَاھُمْ مُّبْصِرُوْنَo وَاِخْوَانُھُمْ یَمُدُّوْنَھُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ o (الاعراف ۷:۱۹۹-۲۰۲)

اے نبیؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو‘ معروف کی تلقین کیے جائو‘ اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔ اگر کبھی شیطان تمھیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو‘ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی بُراخیال اگر انھیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انھیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے۔ رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند‘ تو وہ انھیں کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیںاور انھیں بھٹکانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔

ان آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کو دعوت و تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات بتائے گئے ہیں اور مقصود صرف حضورؐ ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ حضوؐر کے ذریعے سے اُن سب لوگوں کو یہی حکمت سکھانا ہے جو حضوؐر کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اُٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے۔

۱-  داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو‘ متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق‘ عامۃ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی سختیوں کو بھی۔ اسے شدید سے شدید اشتعال انگیز مواقع پر بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے‘ نہایت ناگوار باتوں کو بھی عالی ظرفی کے ساتھ ٹال دینا چاہیے‘مخالفوں کی طرف سے کیسی ہی سخت کلامی‘ بہتان تراشی‘ ایذا رسانی اور شریرانہ مزاحمت کا اظہار ہو‘ اُس کو درگزر ہی سے کام لینا چاہیے۔ سخت گیری‘ درشت خوئی‘ تلخ گفتاری اور منتقمانہ اشتعالِ طبع اِس کام کے لیے زہر کا حکم رکھتا ہے اور اس سے کام بگڑتا ہے بنتا نہیں ہے۔ اسی چیز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نے یوں بیان فرمایاہے کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ ’’غضب اور رضا‘ دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں‘ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں‘ جو مجھے میرے حق سے محروم کرے‘ میں اسے اس کا حق دوں‘ جو میرے ساتھ ظلم کرے میںاس کو معاف کردوں‘‘۔ اور اسی چیز کی ہدایت آپ ان لوگوں کو کرتے تھے جنھیں آپ دین کے کام پر اپنی طرف سے بھیجتے تھے کہ بشروا ولا تنفروا ویسروا ولا تعسروا، یعنی ’’جہاں تم جائو وہاں تمھاری آمد لوگوں کے لیے مژدۂ جانفزا ہو نہ کہ باعث ِ نفرت‘ اور لوگوں کے لیے تم سہولت کے موجب بنو نہ کہ تنگی و سختی کے‘‘۔اور اسی چیز کی تعریف اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کے حق میں فرمائی ہے کہ فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ،یعنی ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے نرم ہو ورنہ اگر تم درشت خو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب لوگ تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘۔ (اٰل عمرٰن۳:۱۵۹)

۲-  دعوتِ حق کی کامیابی کا گُر یہ ہے کہ آدمی فلسفہ طرازی اور دقیقہ سنجی کے بجائے لوگوں کو معروف یعنی اُن سیدھی اور صاف بھلائیوں کی تلقین کرے جنھیں بالعموم سارے ہی انسان بھلا جانتے ہیں یا جن کی بھلائی کو سمجھنے کے لیے وہ عقلِ عام (common sense) کافی ہوتی ہے جو ہر انسان کو حاصل ہے۔ اس طرح داعی حق کی اپیل عوام و خواص سب کو متاثر کرتاہے اور ہرسامع کے کان سے دل تک پہنچنے کی راہ اب نکال لیتا ہے۔ ایسی معروف دعوت کے خلاف جو لوگ شورش برپاکرتے ہیں وہ خود اپنی ناکامی اور اس دعوت کی کامیابی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ کیونکہ عام انسان ‘ خواہ وہ کتنے ہی تعصبات میں مبتلا ہوں‘ جب یہ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف ایک شریف النفس اور بلنداخلاق انسان ہے جو سیدھی سیدھی بھلائیوں کی دعوت دے رہا ہے اور دوسری طرف بہت سے لوگ اس کی مخالفت میں ہر قسم کی اخلاق و انسانیت سے گری ہوئی تدبیریں استعمال کر رہے ہیں‘ تو رفتہ رفتہ ان کے دل خود بخود مخالفینِ حق سے پھرتے اور داعیِ حق کی طرف متوجہ ہوتے چلے جاتے ہیں‘ یہاں تک کہ آخرکار میدانِ مقابلہ میں صرف وہ لوگ رہ جاتے ہیں جن کے ذاتی مفاد نظامِ باطل کے قیام ہی سے وابستہ ہیں‘ یا پھر جن کے دلوں میں تقلیدِ اسلاف اور جاہلانہ تعصبات نے کسی روشنی کے قبول کرنے کی صلاحیت باقی ہی نہ چھوڑی ہو۔ یہی وہ حکمت تھی جس کی بدولت نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کو عرب میں کامیابی حاصل ہوئی اور پھر آپ کے بعد تھوڑی ہی مدّت میں اسلام کا سیلاب قریب کے ملکوں پر اس طرح پھیل گیا کہ کہیں سو فی صد اور کہیں ۸۰ اور ۹۰ فی صدی باشندے مسلمان ہوگئے۔

۳-  اس دعوت کے کام میں جہاں یہ بات ضروری ہے کہ طالبینِ خیر کو معروف کی تلقین کی جائے وہاں یہ بات بھی اتنی ہی ضروری ہے کہ جاہلوں سے نہ اُلجھا جائے خواہ وہ اُلجھنے اور اُلجھانے کی کتنی ہی کوشش کریں۔ داعی کو اس معاملہ میں سخت محتاط ہونا چاہیے کہ اس کا خطاب صرف ان لوگوں سے رہے جو معقولیت کے ساتھ بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہوں اور جب کوئی شخص جہالت پر اُتر آئے اور حجت بازی‘ جھگڑالوپن اور طعن و تشنیع شروع کر دے تو داعی کو اس کا حریف بننے سے انکار کر دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس جھگڑے میں اُلجھنے کا حاصل کچھ نہیں ہے اور نقصان یہ ہے کہ داعی کی جس قوت کو اشاعت ِ دعوت اور اصلاحِ نفوس میں خرچ ہونا چاہیے وہ اس فضول کام میں ضائع ہو جاتی ہے۔

۴-  نمبر۳ میں جو ہدایت کی گئی ہے اسی کے سلسلے میں مزید ہدایت یہ ہے کہ جب کبھی داعی حق مخالفین کے ظلم اور ان کی شرارتوں اور ان کے جاہلانہ اعتراضات و الزامات پر اپنی طبیعت میں اشتعال محسوس کرے تو اسے فوراً سمجھ لینا چاہیے کہ یہ نزعِ شیطانی (یعنی شیطان کی اُکساہٹ) ہے اور اسی وقت خدا سے پناہ مانگنی چاہیے کہ اپنے بندے کو اس جوش میں  بہ نکلنے سے بچائے اور ایسا بے قابو نہ ہونے دے کہ اُس سے دعوتِ حق کو نقصان پہنچانے والی کوئی حرکت سرزد ہو جائے۔ دعوتِ حق کا کام بہرحال ٹھنڈے دل سے ہی ہو سکتا ہے اور وہی قدم صحیح اُٹھ سکتا ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر نہیں بلکہ موقع و محل کو دیکھ کر‘ خوب سوچ سمجھ کر اُٹھایا جائے۔ لیکن شیطان‘ جو اس کام کو فروغ پاتے ہوئے کبھی نہیں دیکھ سکتا‘ ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ اپنے بھائی بندوں سے داعی حق پر طرح طرح کے حملے کرائے اور پھر ہر حملے پر داعی حق کو اُکسائے کہ اس حملے کا جواب تو ضرور ہونا چاہیے۔ یہ اپیل جو شیطان داعی کے نفس سے کرتا ہے‘ اکثر بڑی بڑی پُرفریب تاویلوں اور مذہبی اصطلاحوں کے غلاف میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن اس کی تہ میں بجز نفسانیت کے اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اسی لیے آخری دو آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ متقی (یعنی خدا ترس اور بدی سے بچنے کے خواہش مند) ہیں تو وہ اپنے نفس میں کسی شیطانی تحریک کا اثر اور کسی بُرے خیال کی کھٹک محسوس کرتے ہی فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انھیں صاف نظر آجاتا ہے کہ اس موقع پر دعوتِ حق کا مفاد کس طرزِعمل کے اختیار کرنے میں ہے اور حق پرستی کا تقاضا کیا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے کام میں نفسانیت کی لاگ لگی ہوئی ہے اور اس وجہ سے جن کا شیاطین کے ساتھ بھائی چارے کا تعلق ہے ‘ تو وہ شیطانی تحریک کے مقابلہ میں نہیں ٹھیرسکتے اور اس سے مغلوب ہو کر غلط راہ پر چل نکلتے ہیں۔ پھر جس جس وادی میںشیطان چاہتا ہے انھیں لیے پھرتا ہے اور کہیں جا کر ان کے قدم نہیں رُکتے۔ مخالف کی ہر گالی کے جواب میں ان کے پاس گالی اور ہر چال کے جواب میں اس سے بڑھ کر چال موجود ہوتی ہے۔

اس ارشاد کا ایک عمومی محل بھی ہے اور وہ یہ کہ اہل تقویٰ کا طریقہ بالعموم اپنی زندگی میں غیرمتقی لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ جو لوگ حقیقت میں خدا سے ڈرنے والے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ بُرائی سے بچیں اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ بُرے خیال کا ایک ذرا سا غبار بھی اگر ان کے دل کو چھو جاتا ہے تو انھیں ویسی ہی کھٹک محسوس ہونے لگتی ہے جیسی کھٹک اُنگلی میں پھانس چبھ جانے یا آنکھ میں کسی ذرے کے گر جانے سے محسوس ہوتی ہے۔ چونکہ وہ بُرے خیالات‘ بُری خواہشات اور بُری نیتوں کے خوگر نہیں ہوتے اس وجہ سے یہ چیزیں ان کے لیے اُسی طرح خلافِ مزاج ہوتی ہیں جس طرح اُنگلی کے لیے پھانس یا آنکھ کے لیے ذرہ یا ایک نفیس طبع اور صفائی پسند آدمی کے لیے کپڑوں پر سیاہی کا ایک داغ یا گندگی کی ایک چھینٹ۔ پھر جب یہ کھٹک انھیں محسوس ہو جاتی ہے تو اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کا ضمیر بیدار ہو کر اس غبارِشر کو اپنے اُوپر سے جھاڑ دینے میں لگ جاتا ہے۔ بخلاف اس کے جو لوگ نہ خدا سے ڈرتے ہیں‘ نہ بدی سے بچنا چاہتے ہیں‘ اور جن کی شیطان سے لاگ لگی ہوئی ہے‘ ان کے نفس میں بُرے خیالات‘ بُرے ارادے‘ بُرے مقاصد پکتے رہتے ہیں اور وہ ان گندی چیزوں سے کوئی اُپراہٹ اپنے اندر محسوس نہیں کرتے‘ بالکل اسی طرح جیسے کسی دیگچی میں سور کا گوشت پک رہا ہو اوروہ بے خبر ہو کہ اس کے اندر کیا پک رہا ہے‘ یا جیسے کسی بھنگی کا جسم اور اس کے کپڑے غلاظت میں لتھڑے ہوئے ہوں اور اسے کچھ احساس نہ ہو کہ وہ کن چیزوں میں آلودہ ہے۔

(تفہیم القرآن‘ ج۲‘ص ۱۱۰-۱۱۳)